ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
ہر ثمر میٹھا نہیں ہوتا
عثمان شوقینؔ
انتساب
والدِ محترم شاکر علی صاحب کے نام…
جن کی شفقت کے زیرِ سایہ میں اپنے ہر ذوق کو پروان چڑھایا ہے۔ جن کی دی محبت اور تربیت نے مجھے ہر میدان میں نڈر بنا رکھا ہے۔
وحشتِ دشت میں دریا بابا
زندگی کے مرے سہیا بابا
عثمان شوقینؔ
پیشِ لفظ
زندگی کا سب سے بڑا المیہ انسان کے ظاہر اور باطن کا تصادم ہے۔ بظاہر ہر شے خوبصورت اور دلکش نظر آتی ہے، مگر حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔ جب زندگی کی دھوپ کسی چیز پر پڑتی ہے تو اس کی اصل حقیقت سامنے آتی ہے۔ لیکن آنے والے ثمرات ہمیشہ میٹھے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر چمکتی چیز سونا ہوتی ہے۔
یہ کہانی لکھتے ہوئے مجھے خصوصاً ان اشخاص کی یاد آئی جو شب و روز اپنی ذات کو قربان کر کے اپنے پیاروں کے لیے خاموش محنت کرتے ہیں۔ ہم ان کی محبتوں کو معمول سمجھ لیتے ہیں، مگر ہمیں اس بات کا ادراک نہیں ہوتا کہ بعض اوقات حد سے زیادہ لاڈ پیار کے سائے میں پلنے والا انسان حقیقت کی سختیوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جو آسانیاں ہمیں پلیٹ میں رکھ کر مل رہی ہیں، ان کے پیچھے کسی کی عمر بھر کی محنت، قربانی اور خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔
وہ لاڈ جو ہمیں دنیا کی تلخیوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے، بعض اوقات ہمیں اتنا بے حس بنا دیتا ہے کہ ہم اپنے مخلص وجودوں کی خاموش ریاضتوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار، انور صاحب، اگرچہ میرے ذہن کی تخلیق ہے، لیکن وہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قاری کو اپنے آس پاس کے کئی چہرے نظر آئیں گے۔ انور صاحب کے فیصلے، ان کی خاموشیاں اور ان کے حصے میں آنے والے "ثمر” در اصل اسی معاشرتی سچائی کے عکس ہیں جن سے ہم اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔
اس ناول کو لکھنے کا میرا مقصد محض ایک افسانوی داستان سنانا نہیں، بلکہ قاری کے دل پر دستک دینا ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اردگرد موجود مخلص رشتوں کی خاموش زبان کو سمجھیں، ان کی قدر کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
یہ ناول خوابوں کے ٹوٹنے، حد سے زیادہ لاڈ پیار کے عبرتناک نتائج اور تلخ حقیقتوں کو قبول کرنے کی داستان ہے۔
مجھے امید ہے کہ میرے تخیل سے جنم لینے والا یہ سفر آپ کے دلوں کو چھوئے گا اور آپ کو اپنے اردگرد بکھری ہوئی محبتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور سمجھنے کا حوصلہ دے گا۔
عثمان شوقینؔ
01 مئی 2026
باب اول
رات کا وقت تھا آٹھ بج کے تیس منٹ ایک چیخ، (آہ) چیخ کے فوراً بعد ایک بچے کی کلکاری، بچے کے رونے کی آواز پر وہاں موجود سب لوگوں پر خوشی کا سماں چھا گیا۔
چوہدری انور جو کہ اردو کے پروفیسر ہیں۔ آج ان کے گھر شادی کے اٹھارہ برس بعد اولاد ہوئی ہے۔ انور صاحب کو ان کے قریبی رشتہ دار (ان کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خوشی میں) مبارک ہو، مبارک ہو کہہ کر مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔
اک صاحب نے مبارک باد دیتے ہوئے کہا: مبارک ہو انور میاں اور خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ کو خدا نے آپ کے اٹھارہ سالوں کے صبر کا پھل عطا فرمایا ہے۔
انور صاحب: خیر مبارک جناب واقعی میں خدا کا مشکور ہوں۔ میں اس ذات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ آج اس نے مجھے بھی اولاد جیسی نعمت سے نواز دیا۔ مجھے خدا کے گھر کی پوری امید تھی اس کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں (آنکھوں میں خوشی کے موتی نما اشک لیے ہوئے کہا)۔
اتنے میں انور صاحب کے بڑے بھائی چوہدری اسلم نے پوچھا: انور کچھ سوچا ہے بچے کا کیا نام رکھنا ہے (اپنی کڑک دار آواز میں)؟
انور صاحب: بھائی صاحب یہ میرے اٹھارہ برس کے صبر کا پھل ہے میں نے سوچ لیا تھا کہ میں اس کا نام "ثمر” رکھوں گا۔
اسلم صاحب: ہیں "ثمر” یہ کیسا نام ہے (حیرت انگیز نظروں سے دیکھتے ہیں)۔
مگر یہاں انور صاحب نے ٹھان لی تھی کہ اب نام تو "ثمر” ہی رکھنا ہے۔ انور صاحب کھلے دل کے مالک تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے مالی حالات کچھ ایسے نہیں تھے جیسے کہ چوہدریوں کے ہوتے ہیں۔ آپ اپنے ہر ایک رفیق کے ہر بھلے بُرے وقت میں شانہ بشانہ کھڑے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے گاؤں کی زمین بھی بیچ دی تھی کہ اب شہر میں ایک مکان ہی تھا جس کے صرف دو کمرے تھے۔ مگر پھر بھی وہ اپنے خدا کی ہر عطا پر راضی رہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا سب یہیں رہ جائے گا بندے کے ساتھ اس کے صالح اعمال ہی ہوں گے یا بد۔
ایک دیوار کا سہارا لیے کھڑے انور صاحب دل ہی دل میں سوچ رہے ہیں ؛
"میں اپنے ثمر کو کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا۔ اُس کے ہر اک شوق کو پروان چڑھانے میں اس کی مدد کروں گا۔ اُس کے ایک بار کہنے پہ اُس کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ خواہ اس کے لیے مجھے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑے۔”
یہ تمام باتیں سوچتے سوچتے انور صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے۔ کمرے میں سلمیٰ جو ان کی بیگم ہیں بچے کے ساتھ ایک پلنگ پر لیٹی ہیں۔
انور صاحب: کیسی ہو سلمیٰ (اپنی بیوی کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا)؟
سلمیٰ: اوہ! ٹھیک ہوں (درد میں مسکراتے ہوئے)۔ منّے کا نام کیا رکھا آپ نے؟
انور صاحب: منّے کا نہیں ہمارے شہزادے کا کہو (نہایت مان کردہ ادا سے)
سلمیٰ: جی جی ہمارے شہزادے کا نام (ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ)۔
انور صاحب: ثمر، ثمر رکھا ہے میں نے اپنے شہزادے کا نام۔
سلمیٰ: نام تو بے حد عمدہ ہے۔ میرا ثمر (انتہائی لاڈ لڈاتے ہوئے)۔
اگلی صبح معمول کے مطابق انور صاحب چار بج کے چالیس منٹ پر نیند سے بیدار ہوئے۔ بغیر زیادہ آواز کیے بیت الخلا کی جانب چل دیے۔ بیت الخلا سے باہر نکل کر نلکے سے نماز کے لیے وضو کیا اور مسجد چلے گئے۔ جہاں دو رکعات سنت ادا کی اور سلام پھیر کر دعا کرنے لگے۔
دعا کے فوراً بعد امام مسجد نے انتہائی سلیقے سے کہا: انور صاحب مبارک ہو آخر کار خدا نے آپ کی فریاد سن ہی لی۔
انور صاحب: جی بالکل اس خدا نے میری فریاد سن ہی لی اور مجھے میرے صبر کا ثمر عطا فرمایا ہے (بے حد خوشی سے کہا)
امام مسجد: آپ نے بچے کا نام کیا رکھا ہے (تجسّس سے)؟
انور صاحب: امام صاحب! ثمر رکھا ہے نام۔
امام مسجد: ماشاء اللہ بہت پیارا نام ہے۔
اتنے میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد انور صاحب گھر چلے آتے ہیں۔ گھر پہنچ کر انور صاحب قرآن المجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ جب تلاوتِ قرآن سے فارغ ہوتے ہیں تو اپنی چھوٹی سالی عائشہ کو آواز دیتے ہیں۔ جو اپنی بہن کے یہ مشکل ایام گزروانے کی غرض سے وہاں موجود تھی۔
انور صاحب: عائشہ بہن ناشتہ تیار کر دو گی؟
عائشہ: جی بھائی ناشتہ تیار ہے بس لا رہی ہوں (باورچی خانے سے اک آواز گونجی)۔
عائشہ نے انور صاحب کے لیے دو پراٹھے، انڈے کا آملیٹ اور ایک کٹوری رات کا بچا ہوا سالن اور پانی وغیرہ کھانے کی میز پر لا کر رکھ دیئے۔ انور صاحب نے بڑی رغبت سے ناشتہ کیا اور کالج جانے کے لیے اپنی پرانی موٹر سائیکل نکالی۔ جو چلتی کم اور رُکتی زیادہ تھی مطلب بار بار بند ہو جاتی تھی۔ جب چلتی تو شور اور دھواں ہی کرتی تھی۔ اس پر سوار ہو کر کالج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ روزانہ کا یہی معمول رہا اور کئی دن گزر گئے۔
باب دوم
آج ثمر دو اڑھائی ماہ کا ہو گیا ہے۔ ثمر کی امی (سلمیٰ) اب گھر کے تمام کام کرتیں ہیں۔ اس کی خالہ (عائشہ) بھی اپنے ہاں جا چکی ہیں۔ انور صاحب کی خوشی دیدنی ہے جب وہ ثمر کو گود اٹھاتے ہیں۔ بیٹے سے لاڈ لڈانے کے بعد انور صاحب ناشتہ کرتے اور اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کالج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔
کالج پہنچ کر انور صاحب معمول کے مطابق جب اپنی جماعت کو لیکچر دے کر اسٹاف روم کی طرف جا رہے تھے۔ تبھی ان کے پسندیدہ اور ہونہار شاگرد حمزہ نے آواز دی:
حمزہ: سر! انور سر بات سنیں۔
انور صاحب: ارے حمزہ آؤ آؤ(مسکراتے ہوئے)۔
حمزہ: سر آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ (دور سے کہا)۔
انور صاحب: ہاں ہاں بات بھی کرتے ہیں پہلے آ تو جاؤ (بلاتے ہوئے کہا)۔
حمزہ: سر میں نے دو اشعار لکھے ہیں جو سب سے پہلے آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔
انور صاحب: جی جی ارشاد ارشاد (خوش ہوتے ہوئے کہا)۔
حمزہ: جی سر سنیں عرض کیا کہ:
عصرِ حاضر میں سب مطلبی ہیں
انور صاحب: واہ واہ! تم نے تو حقیقت بیان کر دی (داد دیتے ہوئے کہا)
حمزہ:
عصرِ حاضر میں سب مطلبی ہیں
میرا مطلب میاں ہم سبھی ہیں
انور صاحب: ہاہاہا بھئی تمھارا تو دوسرا مصرع بھی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ انسان جو کام کرتا اپنے فائدے کے لیے ہی کرتا۔ وہ کچھ کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے، جگتا ہے یہاں تک کہ عبادت بھی اپنی ہی غرض سے ہی کرتا ہے۔
حمزہ: سر آگے کہوں۔
انور صاحب: جی جی ارشاد ارشاد (بات کو سمیٹتے ہوئے)۔
حمزہ:
عصرِ حاضر میں سب مطلبی ہیں
میرا مطلب میاں ہم سبھی ہیں
اک مجھے اک تجھے اور اُس کو
چھوڑ کر ہم سبھی اجنبی ہیں
انور صاحب: ارے بھئی واہ مزہ آ گیا "اُس کو چھوڑ کر” (خدا کو چھوڑ کر) اگر ہم اُسے چھوڑ دیں (اس کے حکم کو نا مانیں) تو ہم واقعی اجنبی ہو جائیں۔
یہ بات تو سچ ہے اب یہی دیکھو کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اگر قابیل اپنی بات پر نہ ڈٹتا اور خدا کے حکم کو نہ چھوڑتا تو اس کو قاتل کا لقب نہ ملتا۔
حمزہ: بالکل سر بالکل۔
انور صاحب: ویسے کس بحر کا انتخاب کیا ہے؟
حمزہ: سر بحرِ متدارک میں طبع آزمائی کی ہے اس بار۔
انور صاحب: کافی مترنم بحر ہے۔ خیر لکھتے رہو اک روز نہ صرف مشہور بلکہ مقبول شاعر بنو گے۔
حمزہ: ان شاء اللہ سر۔
اوقات بدلے، ایام گزرے، حالات بدلے آج انور صاحب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ وجہ آج ثمر نے پہلی بار دو الفاظ کہے۔ کیا کہے "با، با” ایک باپ کے لیے وہ لمحہ بے حد خوش گوار ہوتا ہے۔ جب اس کی اولاد بولنا سیکھتی ہے۔ لیکن اب انور صاحب خوشی کا اندازہ خود لگائیں کہ ان کا بیٹا جو اٹھارہ سال پیدا ہوا اور اس نے بولنا شروع کیا تو ابتدا بھی "بابا” سے کی۔ انور صاحب نے اپنی اس خوشی میں شمولیت کے لیے اپنے بڑے بھائی چوہدری اسلم اور ان کے اہلِ خانہ کو کھانے کی دعوت دی۔ انور صاحب ہر بچے بڑے کے سامنے بیٹھ کر ثمر سے بابا کہلواتے اور بے حد خوش ہوتے۔
انور صاحب: میرا بیٹے نے بابا کہا ہے بابا (ثمر کے ساتھ کھیلتے ہوئے)۔
اسلم صاحب: انور کو تو دیکھو پھولا نہیں سما رہا (اپنی بیوی بشریٰ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا)۔
بشریٰ: بھلا خوش کیوں نہ ہو پہلی اولاد جو ہے۔ آپ کو ہی دیکھتے جب شبیر نے بولنا شروع کیا تھا۔ آپ کی خوشی کا بھی کہاں ٹھکانہ باقی رہا تھا۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد اسلم صاحب اور ان کے گھر والے اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔
روز بروز انور صاحب کی محبت ثمر کے لیے بڑھتی جاتی ہے۔ انور صاحب بڑے لاڈ پیار سے ثمر کی پرورش کرتے ہیں۔ وہ اس کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ اچھے لباس اچھے جوتے اچھے اچھے کھلونے تمام تر آسائشوں سے نوازتے ہیں۔ یوں اس کی دیکھ بھال کی مانو ایک باغبان اپنے باغ کی کرتا ہے۔
ثمر پانچ سال کا ہے۔ انور صاحب گھر کے آنگن نے بڑے خوش بیٹھے تھے۔ اچانک ثمر کے رونے کی آواز آتی ہے۔ انور صاحب اور سلمیٰ ثمر کی جانب دیکھتے ہیں۔ ثمر کھیلتے ہوئے زمین پر گر گیا تھا۔ جس سے ثمر کو ذرا سی چوٹ لگی اور خون نکلنے لگے۔ یہ چوٹ زیادہ گہری نہیں بلکہ ہلکی پھلکی سی تھی۔ ثمر کی حالت دیکھ کر انور صاحب اور سلمیٰ بے حد پریشان ہو گئے۔ انور صاحب نے ثمر کو گود اٹھایا اور ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے پیدل ہی دوڑ پڑے۔ پل بھر میں وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ آج بے حد صابر انسان میں بھی صبر نہ تھا۔ ڈاکٹر کے کلینک میں انور صاحب کی آنکھیں ڈاکٹر کو تلاش کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر کو دیکھ کر انور صاحب نے کہا
انور صاحب: ڈاکٹر صاحب! میرے بچے کو دیکھیں اسے شدید چوٹ لگی ہے۔ کتنا خون بہہ رہا ہے۔
ڈاکٹر: چوٹ دکھائیں کہاں لگی ہے۔
انور صاحب: یہ دیکھیں کتنی چوٹ لگی ہے (ذرا سی رگڑ دکھاتے ہوئے کہا)
ڈاکٹر: کچھ بھی نہیں ہوا ذرا سی رگڑ ہے۔ خون بھی رک گیا ہے۔ پریشان مت ہوں مرہم پٹی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بچوں کو ایسی چھوٹی موٹی چوٹیں لگتی رہتی ہیں۔
انور صاحب: ڈاکٹر صاحب! دیکھیں تو سہی کتنا بڑا زخم ہے۔ آپ اس کی پٹی کریں۔
ڈاکٹر: اچھا اچھا سر! کرتا ہوں۔
ڈاکٹر نے انور صاحب کی تسلی کے لیے نام کی پٹی کر دی۔ انور صاحب نے کہا
انور صاحب: ڈاکٹر صاحب! اس کی پٹی کب تک تبدیل کرانی ہے؟
ڈاکٹر: بس کل پٹی کو اتار دینا۔ دوسری پٹی کی ضرورت نہیں ہے۔
انور صاحب: ڈاکٹر صاحب پیسے کتنے دوں۔
ڈاکٹر صاحب: بس کوئی نہیں رہنے دیں ذرا سی پٹی ہی تو کی ہے۔
اس کے بعد انور صاحب ثمر کو گھر لے آئے۔ انور صاحب جو پہلے ہی ثمر کی ہر بات مانتے تھے۔ اب وہ اور بھی سنجیدہ ہو گئے تھے۔ ثمر ایک منھ سے کچھ بھی نکالتا اس کی کو مانتے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ثمر کی خواہشات بڑھتی گئی۔ وہ انور صاحب سے پورے حق سے کسی بھی شے کو طلب کرتا تھا۔ انور صاحب بھی اس کی ہر خواہش سر کرتے تھے۔
باب سوم
چند سال گزر چکے ہیں آج ثمر دس سال ہو چکا ہے۔ انور صاحب آنگن میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ سلمیٰ دھُلے ہوئے کپڑوں کو دھوپ میں سوکھنے ڈال رہی تھی۔ ثمر ریموٹ والی گاڑی کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ کھیلتے ہوئے ثمر نے انور صاحب کی کرسی کے پاس لا کر گاڑی کو روکا۔
ثمر: بابا آج میری سالگرہ ہے آپ جب شام کو گھر لوٹیں گے تو کیک لائیے گا۔
انور صاحب: جی بابا کی جان میں بھلا یہ دن کیسے بھول سکتا ہوں۔
ثمر: امی میں نے کہا تھا نا بابا کو میری سالگرہ یاد ہو گی (کہتے ہوئے سلمیٰ کے پاس چلا گیا)۔
سلمیٰ: ہاں ہاں تم اور تمہارے بابا دونوں کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اس قدر تنگ دستی ہونے کے باوجود تمھاری ہر ضد پوری کرتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر کسی کی ہر خواہش پوری کی جائے تو اس میں صبر نام کی شے باقی نہیں رہتی۔
انور صاحب: ارے سلمیٰ خدا نے ایک ہی اولاد سے نوازا ہے۔ اگر اس کی بھی خواہشات پوری نہ کیں تو کیا فائدہ۔
سلمیٰ: آپ اور آپ کی بادشاہوں والی باتیں (کہتے ہوئے کمرے میں چلی گئی)
سارے معاملے کے بعد انور صاحب اپنے خیالات کی دنیا میں کھو گئے اور دل ہی دل میں اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے ؛
"سلمیٰ کو کیا خبر میری خواہشات کی۔ کتنی میری امیدیں وابستہ ہیں اپنے ثمر کے مستقبل سے۔ میں اُسے ایک کامیاب شخص کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُسے جس شے کی بھی آرزو ہو گی میں اپنی جان داؤ پر لگا دو گا پر اس کی ہر تمنا پوری کروں گا۔ میں ان پرندوں کی مثل ثمر کو اپنی آغوش میں ڈھانپ کر رکھوں گا۔ جو اپنے بچوں پر طوفانوں میں اپنے پروں کا سایہ کر لیتے ہیں اور کسی بھی قسم کے شر کی آنچ نہیں آنے دیتے۔” یہ سب سوچتے ہوئے انور صاحب نے اخبار کو ایک طرف رکھا اور اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کالج کے لیے روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد ثمر کو اسکول لے کر جانے والی بس بھی آ گئی اور ثمر اسکول چلا گیا۔
سارا دن گزر گیا شام کے پانچ بج گئے ہیں انور صاحب ابھی تک گھر نہیں لوٹے۔ سلمیٰ باورچی خانے میں رات کے کھانے کا انتظام کر رہی۔ ثمر کا اپنے کھیل میں من نہیں لگ رہا۔ وہ سات آٹھ مرتبہ کمرے سے گھر کی چوکھٹ کے چکر لگا چکا تھا۔ اب تھک کر وہ گھر میں دروازے کے سامنے بیٹھ گیا ہے۔ ثمر دل میں خود سے باتیں کر رہا ہے ؛
"میں نے بابا سے کہا بھی تھا آج میری سالگرہ ہے۔ شام کو جلدی آئیے گا۔ بابا آنے میں اتنی دیر کیوں کر رہے ہیں۔ کیا وہ میری سالگرہ کا کیک لائیں گے یا وہ مجھے ٹالنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں کبھی بابا سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ بابا جلدی آ جائیں۔ "
وہاں انور صاحب کی تیز رفتار گاڑی مطلب وہی کھٹارا موٹر سائیکل جواب دے چکی تھی۔ موٹر سائیکل کی حالت دیکھ کر ریپئرنگ والے نے بھی جواب دے دیا تھا۔
ریپئرنگ والا: ارے کس قدر کھٹارا موٹر سائیکل ہے۔ اسے کوئی چور بھی چرانے کی کوشش کرے گا تو یہ سوچ کر چھوڑ دے یہ کباڑ میں بھی نہ بکے گی (منھ بناتے ہوئے)۔
انور صاحب: ارے بھئی اس قدر باتیں مت بناؤ بن پائے گی یا نہیں یہ بتاؤ۔
ریپئرنگ والا: بن تو جائے گی آخر آئے کس کے پاس ہو۔ علاقے میں سب پرانا کاریگر ہوں۔ پچیس سال ہو گئے ہیں موٹر سائیکل کی مرمت کرتے ہوئے۔ لیکن مرمت کے لیے پانچ سے چھ گھنٹے درکار ہیں۔
انور صاحب: پانچ سے چھ گھنٹے (حیران کن تاثرات کے ساتھ)۔
ریپئرنگ والا: اور آج کافی دیر ہو چکی رات ہونے کو ہے۔ کل مرمت کروں گا۔ آپ کی مرضی ہے ابھی چھوڑ جائیں یا صبح کو لے آنا۔
انور صاحب: بھائی اگر ابھی ٹھیک کر دو گے تو مہربانی ہو گی۔ آج میرے بیٹے کی سالگرہ ہے اور بیکری سے کیک بھی اُٹھانا ہے۔ بیکری سے گھر تک کا فاصلہ دو اڑھائی گھنٹے جتنا طویل ہے (التجا کرتے ہوئے کہا)۔
ریپئرنگ والا: ارے بھائی بن پاتی تو کب کا بنا چکا ہوتا۔ ویسے بھی بنانے پر مجھے پیسے ملنے ہیں اور بھلا پیسے کسے برے لگتے ہیں؟
انور صاحب: نہیں آپ بجا فرماتے ہیں۔ چلیں میں اپنی موٹر سائیکل یہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ کب تک ٹھیک ہو جائے گی۔
ریپئرنگ والا: کل شام کو چار پانچ بجے لے جائیے گا۔ ببلو موٹر سائیکل کو دکان کے اندر لگا (کہہ کر ملازم کو آواز دی)۔
ملازم (ببلو) موٹر سائیکل دھکیل کر دکان کے اندر لے گیا۔ انور صاحب ثمر کی محبت میں وہاں سے پیدل بیکری کی جانب روانہ ہو گئے۔ آدھا گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعد انور صاحب بیکری پہنچے۔ وہاں سے کیک خریدہ اس پر ثمر کا نام لکھوایا۔ پھر ایک اور دکان پر گئے جہاں سے انھوں نے سجاوٹی سامان مثلاً غبارے، سالگرہ مبارک ہو والی ٹوپیاں، چمکدار پنی کی لڑیاں اور فانوس خرید کر گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
یہاں ثمر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ وہ جی ہی جی یہ گماں کر چکا تھا کہ؛ "شاید بابا مجھے ٹالنے کی غرض سے دیر کر رہے ہیں۔ زیادہ رات ہونے سے میں سو جاؤں گا اور بابا کیک نہیں لائیں گے۔” مگر ثمر کیا علم کہ اس کے بابا یعنی انور صاحب اس سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور کس طرح اس کے لیے کیک لا رہے ہیں۔
وہاں انور صاحب کو مسلسل چلتے اڑھائی گھنٹے ہو گئے ہیں۔ انور صاحب اپنے گھر کی گلی کے نکڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ انور صاحب دل میں سوچتے جا رہے ہیں ؛ "جب ثمر مجھے دیکھے گا تو مجھ سے لپٹ جائے گا۔ بابا، بابا کرتا ہوا آئے گا۔ جب وہ میرے پاس کیک دیکھے گا اس کا چہرہ مثلِ گلاب کھِل اُٹھے گا اور اُسے دیکھ کر میرا۔ میرا بیٹا بھی مجھے اپنے ہیرو مانتا ہو گا۔” یہ سب سوچتے سوچتے انور صاحب نے گھر کے دروازے پر دستک دی۔
انور صاحب: ثمر دروازہ کھولو بابا آئے ہیں (پکار لگائی)۔
سلمیٰ: آ رہی ہوں (آواز گونجی)۔
سلمیٰ کمرے سے باہر آتی ہے اور اپنے بیٹے کی جانب دیکھتی ہے اور کہتی ہے ؛ "تمھارے بابا کب سے دروازہ کھٹ کھٹا رہے ہیں۔” بیٹا آنگن سے اٹھ کر چپ چاپ کمرے میں چلا گیا۔ سلمیٰ کو ثمر کی یہ ادا عجیب لگی تھی۔ خیر اس معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے سلمیٰ دروازے کی جانب بڑھ کر دروازہ کھولنے لگتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے سلمیٰ انور صاحب کی حالت دیکھ پریشان ہو جاتی ہے اور ان سے سوال کرتی ہے۔
سلمیٰ: انور صاحب کیا ہوا اس قدر پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں؟، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟، آپ کی موٹر سائیکل کہاں ہے؟ (یک مشت سوال کیے)۔
انور صاحب: آج پھر موٹر سائیکل نے بے وفائی کر دی (ہانپتے ہوئے کہا)۔
سلمیٰ: لیکن موٹر سائیکل ہے کہاں؟
انور صاحب: خدا تیرا بھلا کرے پہلے اندر تو آ لینے دو (ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا)۔
سلمیٰ: اوہ ہو میں بھی کن باتوں پڑ گئی۔ آئیے اندر…
انور صاحب اور سلمیٰ گھر میں داخل ہو گئے۔ پسینے سے شرابور انور صاحب کی حالت دیکھ کر سلمیٰ بے حد پریشان تھی۔ بھلا ہوتی بھی کیوں نہ ہم اگر کسی واقف شخص کی اجنبی حالت دیکھتے ہیں تو ایک پل کے لیے ساکت رہ جاتے ہیں۔ آنگن میں لکڑی کی کرسی پڑی تھی۔ کیک اور دیگر اشیا سلمیٰ کے ہاتھوں میں تھما دی اور نڈھال ہو کر انور صاحب اس کرسی پر بیٹھ گئے۔
سلمیٰ: پانی لادوں آپ کو۔
انور صاحب: نہیں (بند کمرے کے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں ثمر اپنی کم عقلی کے باعث ناراضی کی دیوار بنا بیٹھا تھا)۔
سلمیٰ: انور صاحب آپ کی موٹر سائیکل کہاں ہے؟ (سلمیٰ نے دوبارہ پوچھا)
انور صاحب: موٹر سائیکل خراب ہو گئی تھی مستری نے کہا کہ "آج کی آج ٹھیک ہونا ممکن نہیں ہے” سو وہیں چھوڑ کر چلا آیا۔ کل تک مرمت کر دے گا تو ٹھیک ہو جائے گی۔ کل شام کو مل جائے گی۔ لگتا ہے ثمر سو گیا ہے۔ چلو دوسرے کمرے کو سجاتے ہیں پھر اسے جگا کر سالگرہ کی مبارک باد دیں گے۔ جب وہ سب سجاوٹ دیکھے گا تو اس کی خوشی دیدنی ہو گی۔
انور صاحب اور سلمیٰ کمرے کو سجانے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ وہاں دوسرے کمرے میں موجود ثمر جو اپنے باپ سے اس کی وفا پر خفا تھا۔ اس کی بد گمانی بڑھتی جا رہی تھی۔ ثمر دل میں "بابا نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ وہ برے بابا ہیں۔ میں نے انہیں بولا بھی تھا۔ آج میری سالگرہ ہے شام کو کیک ضرور لائیے گا۔ پر وہ کیک نہیں لائے اگر وہ کیک لائے ہوتے تو کب کا مجھے بلا لیا ہوتا۔ "
یہاں انور صاحب سلمیٰ کے ساتھ کمرے کی سجاوٹ میں جی جان سے لگے تھے۔ آخر کار کمرہ جب مکمل طور پر سج گیا تو انور صاحب نے سلمیٰ سے کہا؛
انور صاحب: سلمیٰ جاؤ ثمر کو نیند سے بیدار کرو اور کہو؛ "تمھیں تمھارے بابا بلا رہے ہیں "۔
سلمیٰ: جی اچھا میں بھیجتی ہوں۔
سلمیٰ سجاوٹ والے کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف چلی جاتی ہے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ لیکن دروازہ کھولا ہوا تھا۔ اندر ثمر ایک پلنگ پر بیٹھا تھا۔ سلمیٰ اندر گئی اور اس نے ثمر سے وہی کہا جو انور صاحب نے کہنے کو کہا تھا "ثمر تمھیں تمھارے بابا بلا رہے ہیں "۔ سلمیٰ کا کہنا مان کر ثمر اٹھتا ہے اور دوسرے کمرے کو چل پڑتا ہے۔ دوسرے کمرے کا دروازہ ہلکا سا بند کیا ہوا تھا۔ ثمر نے جب دروازے کو ہاتھ لگایا تو دروازہ کھل گیا۔ جب ثمر نے سجے ہوئے کمرے کو دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ جو چہرہ ناراضی کے باعث اداس تھا وہ ایک دم سے کھل اٹھا۔ انور صاحب نے جب ثمر کو خوش دیکھا تو ان کی دو اڑھائی گھنٹے کی محنت کا ہرجانہ وصول ہو گیا۔ ظاہر سی بات والدین کا کل اثاثہ ان کی اولاد ہوتی ہے۔ جب اولاد ناخوش ہو تو والدین کہاں قرار پاتے ہیں۔ ثمر کمرے میں دوڑ داخل ہوا اور انور صاحب سے جا کر لپٹ گیا۔
ثمر: بابا مجھے لگا تھا کہ شاید آپ کیک نہیں لائیں گے۔
انور صاحب: بابا کی جان بھلا یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کچھ کہو اور بابا نا لائیں (مسکراتے ہوئے کہا)۔
اتنے میں سلمیٰ وہاں آ گئی۔ تینوں نے مل کر ثمر کی سالگرہ منائی۔ سالگرہ منانے کے بعد زیادہ رات ہونے کے باعث سب سو جاتے ہیں۔ جہاں ذہن میں نا امیدی کے تصورات جنم لے رہے اب وہ ذہن پُر اعتماد اور پُر سکون تھا۔ اگلی صبح ایک نئے روز کے آغاز نظم و ضبط کے پابند انور صاحب چار بج کے چالیس منٹ پر الارم کی آواز کے باعث نیند سے بیدار ہوتے۔ وہی بیت الخلا کے لیے جاتے ہیں، باہر نکل کر وضو کرتے ہیں اور نماز کے لیے چلے جاتے ہیں۔ نماز ادا کرنے کے بعد واپس گھر آ کر قرآن المجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ سلمیٰ ان کے لیے ناشتہ لے آتی ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد انور صاحب اخبار پڑھنے لگتے ہیں۔ اخبار پڑھتے ہوئے ان کے ذہن میں خیال آیا اور اچانک اخبار ایک طرف رکھ کر چل دیے "سلمیٰ میں جا رہا ہوں” کہتے ہوئے۔
سلمیٰ: پر کہاں جا رہے ہیں انور صاحب (برجستگی سے کہا)۔
انور صاحب: ارے میرے ذہن سے نکل گیا تھا کہ موٹر سائیکل تو مرمت کے لیے دی۔ کالج پیدل چل کر جانا ہے اگر ابھی نا نکلا تو پہنچنے میں دیر ہو جائے گی (دروازے سے نکلتے ہوئے کہا)۔
انور صاحب کالج چلے جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ثمر کی اسکول بس کے ہارن کی آواز آنے پر سلمیٰ ثمر کو بھی اسکول کے لیے روانہ کرتی ہے۔ انور صاحب جب کالج پیدل پہنچتے ہیں۔ تو ان کے ہم پیشہ رفیق احمد صاحب جو کہ حیاتیات (بیالوجی) کے استاد ہیں۔ ان سے مذاق کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
احمد صاحب: آج تو خبر ہی نہ ہوئی کہ انور صاحب کالج بھی پہنچ گئے۔ لگتا شاید آج میرے کان بند ہیں (ہنستے ہوئے کہا)۔
انور صاحب: احمد میاں ! آپ کے گوش برابر کام کرتے ہیں مگر مسئلہ یہ کہ ہماری سواری نے بے وفائی کر دی سو اسے مرمت کی غرض سے مستری کے ہاں چھوڑا ہے۔
احمد صاحب: آپ کی حسِ مزاح کا کوئی جواب نہیں انور صاحب بھلا آپ کی موٹر سائیکل کی حالت ٹھیک کب تھی (ٹھٹھہ مارتے ہوئے کہا)۔
انور صاحب: جناب اُڑا لیجیے اُڑا لیجیے ہماری حالت کا مذاق (مسکراتے ہوئے کہا)۔
احمد صاحب: ارے نہیں نہیں انور صاحب مذاق نہیں کر رہا میں۔ در اصل میرے کہنے کی مراد یہ تھی کہ اب نئی موٹر سائیکل خرید کیوں نہیں لیتے۔ اب تو اُس کی حالت کافی خستہ ہو گئی ہے۔
انور صاحب: میاں تنگ دستی کا عالم آپ سے چھوپا تو ہے نہیں۔ آپ کے سامنے ہی ہیں حالات ایسے میں کوشش تو بڑی بات سوچنا بھی محال ہے۔
خاصے تبصرے کے بعد دونوں حضرات اپنی اپنی جماعتوں میں لیکچر دینے چلے جاتے ہیں۔ کالج سے لوٹتے وقت انور صاحب ریپئرنگ والا کی دکان جاتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ریپئرنگ والے نے کہا "آئیے صاحب آئیے "۔ انور صاحب بھی اس سے موٹر سائیکل کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔
انور صاحب: بھائی صاحب! میری موٹر سائیکل ریپئر ہو گئی؟
ریپئرنگ والا: جی جی بالکل آپ کی موٹر سائیکل تیار ہے۔
انور صاحب: ریپئرنگ کے کتنے پیسے بنتے ہیں؟
ریپئرنگ والا: ویسے تو اتنے کام ہم آٹھ سو یا ہزار روپے مانگتے ہیں پر آپ ساڑھے چھ سو دے دیں۔
جب انور صاحب ریپئرنگ والے کو پیسے دے کر گھر پہنچتے ہیں۔ تو ثمر انہیں بابا بابا کہہ کر لپٹ جاتا ہے۔
ثمر: بابا آپ کو پتہ ہے آج میرا جماعت میں امتحان ہوا تھا اور میں نے پرچے کو بڑی آسانی سے حل کر لیا تھا۔ پوری جماعت میں سب سے زیادہ نمبر میرے آئے ہیں۔ استانی صاحبہ نے بھی مجھے شاباشی دی ہے۔
انور صاحب: واہ بھائی واہ ماشاءاللہ میرا بیٹا تو سیانا ہو گیا اور کتنا ہونہار اور قابل شاگرد بن گیا ہے۔ مجھے تم پر مان ہے بچے اللّٰہ تمہیں یوں ہی صدا بہار رکھے۔ ہنستا مسکراتا خوش رکھے۔ ایک روز تم میرا نام روشن کرو گے۔ دنیا والے کہیں گے یہ ہے پروفیسر انور کا بیٹا۔ ہونہار لائق محنتی قابل اور سچا (انتہائی خوش ہوتے ہوئے کہا)۔
ثمر: بابا مجھے جماعت میں اول آنے پر آپ کیا انعام دیں گے۔
انور صاحب: میرے بیٹے کو کیا انعام چاہیے۔ جو چاہیے بابا سے مانگیں بابا ضرور لا کر دیں گے۔ میرے لیے تمہاری خوشی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔
ثمر: بابا مجھے نئی سائیکل چاہیے۔
انور صاحب: اچھا تو میرے بیٹے نے سائیکل لینی ہے۔ لیکن اچانک آپ کو سائیکل کا خیال کیسے آیا (تجسّس سے پوچھا)۔
ثمر: بابا آج میرا ایک دوست بھی نئی سائیکل لے کر آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کے بابا نے اسے لے کر دی ہے۔ میں نے جب اسے کہا کہ میں جو بھی اپنے بابا کو کہتا ہوں بابا ضرور لا کر دیتے ہیں۔ تو اس نے کہا لگا لو شرط تمہارے بابا تمہیں سائیکل نہیں لا کر دیں گے۔ پتہ ہے کتنی مہنگی ہے۔ پورے تین ہزار روپے کی تین ہزار روپے کی۔ بابا کیا تین ہزار روپے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
انور صاحب: بالکل بھی نہیں
ثمر: آپ مجھے سائیکل لا کر دیں گے نا (معصومیت سے انور کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا)؟
انور صاحب: تم فکر مت کرو میں تمہارے لیے ضرور لا کر دوں گا اور اُس سے بھی اچھی سائیکل لا کر دوں گا۔
ثمر: اُس سے بھی اچھی۔
انور صاحب: ہاں ہاں اُس سے بھی اچھی۔
سلمیٰ: اس کی خواہشات اور فرمائشیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسے لفظ نا کا مطلب بھی سمجھاؤ ورنہ یہ ہو گا کہ اس کے اندر صبر نام کی کوئی شے باقی نہ رہے گی (اکھڑے اکھڑے لہجے میں انور صاحب سے کہا)۔
انور صاحب: وقت آنے پر سب باتیں سمجھ جائے گا تم خواہ مخواہ ہر بات پر نقطہ چینی کیوں کرتی ہو۔
سلمیٰ: پھر آپ ہی بتائیں کہاں سے آئیں گے سائیکل کے لیے پیسے اور سائیکل بھی پانچ، چھ سو کی نہیں پورے تین ہزار روپے کی ہے۔ کہاں سے آئیں گے اتنے پیسے اور آپ نے تو عہد بھی کر لیا۔
انور صاحب: میں کر لوں گا کچھ نہ کچھ
سلمیٰ: کیسے کر لیں گے کچھ نہ کچھ تنخواہ آنے کو ابھی پورا مہینہ پڑا ہے اور جو پیسے تھے کل اس کی سالگرہ میں آپ نے خرچ کر دیے اور کچھ پیسے اگر بچے بھی ہوں گے تو وہ موٹر سائیکل پر لگ گئے ہوں گے۔ اب کیا گھر کا راشن بیچ کر آپ سائیکل لائیں گے (سخت لہجے میں کہا)۔
انور صاحب: کچھ پیسے پڑے ہیں میرے پاس یہی کوئی بارہ سو روپے کچھ اپنے رفیق احمد صاحب سے اُدھار مانگ لوں گا تنخواہ آنے پر لوٹا دوں گا۔
سلمیٰ: اب یہی کسر باقی رہ گئی تھی۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بیٹے کی فرمائش پوری کرنے کے لیے اُدھار لینا پڑ رہا ہے۔ آپ اس کو منع کیوں نہیں کرتے دیتے کہہ دیجیے کہ اتنے پیسے نہیں ہیں۔
انور صاحب: تم نے سنا نہیں کہ اس کے دوست نے اسے کیا کہا ہے۔ تم شرط لگا لو تمہارے بابا سائیکل نہیں لے کر دیں گے۔ اب بتاؤ میں اپنے بیٹے کو پشیمان ہوتا کیسے دیکھ سکتا ہوں۔
سلمیٰ: کوئی پشیمانی نہیں ہوتی آپ کے بیٹے کی۔ اب بڑا ہو رہا ہے اس کو حالات کو سمجھنا چاہیے کہ میرے بابا میرے لیے سائیکل کہاں سے لائیں گے۔ کل ہی تو وہ سالگرہ کے لیے کتنی مشقت سے کیک لائے ہیں۔
انور صاحب: اچھا چھوڑو سلمیٰ بچہ ہے سمجھ جائے گا (بات کو ٹالتے ہوئے کہا)۔
انور صاحب کے اسی لاڈ پیار نے ثمر کی عادت خراب کر دی۔ جمعہ کا دن ہے جب انور صاحب کالج پہنچتے ہیں تو احمد صاحب سے اُدھار مانگتے ہوئے کہتے ہیں ؛
انور صاحب: احمد میاں آپ سے ایک عرض کرنی تھی۔ اگر آپ مصروف نہ ہوں تو بات سماعت فرمائیے گا۔
احمد صاحب: جی جی انور صاحب حکم کریں۔ کیا بات ہے؟
انور صاحب: احمد میاں کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔
احمد صاحب: پیسوں کی ضرورت تھی۔ کتنے پیسوں کی (حیران کن تاثرات کے ساتھ)۔
انور صاحب: احمد میاں کچھ اٹھارہ سو روپے کے قریب۔
احمد صاحب: اٹھارہ سو روپے کے قریب کب تک چاہییں۔
انور صاحب: احمد میاں چند ایام کے لیے آئندہ تنخواہ میں سے سب سے پہلے آپ کا قرض ادا کروں گا۔
احمد صاحب: نہیں نہیں انور صاحب میرے کہنے کا مطلب ہے آپ کو پیسے کس وقت چاہییں۔
انور صاحب: آج چاہییں تھے۔
احمد صاحب: اٹھارہ سو روپے فی الحال تو میرے پاس نہیں ہوں گے البتہ کالج سے جب ہم گھر کے لیے روانہ ہوں گے تو میں آپ کو اپنے گھر سے دے دوں گا۔
انور صاحب: بہت شکریہ احمد میاں۔
احمد صاحب: نہیں نہیں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ تو میرا فرض ہے آپ ہی تو کہتے ہیں ؛ "ہمیشہ ایک دوسرے کے کام آنا چاہیے آج ہم آپ کے آئے ہیں۔ کل کو آپ ہمارے آئیں گے۔ یہی تو زندگی کی ریت ہے۔ "
انور صاحب: بہت شکریہ میاں خدا آپ کو سلامت رکھے۔
جب کالج سے چھٹی ہوتی ہے تو دونوں حضرات احمد صاحب کے ہاں جاتے ہیں۔ جہاں پہنچ کر احمد صاحب، انور صاحب کو اٹھارہ سو روپے دیتے ہیں۔ جسے لے کر انور صاحب سائیکلوں والی دکان پر پہنچتے ہیں۔ جہاں سے قریباً تین ہزار روپے کی ایک سائیکل پسند آتی ہے۔ انور صاحب اُسے خرید کر گھر چلے جاتے ہیں۔ جب گھر پہنچتے ہیں تو دروازے کے باہر کھڑے ہو کر انور صاحب سائیکل کی گھنٹی بجاتے ہیں۔ سائیکل کی گھنٹی کی آواز سن کر ثمر باہر دوڑ کر آتا ہے اور سائیکل کو دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے۔ انور صاحب بھی اپنے لاڈلے کو اس قدر خوش ہوتا دیکھ پھولے نہ سمائے۔
ثمر سائیکل پر سوار ہو کر گلی کے چکر لگا رہا ہے اور بہت خوش ہو رہا ہے۔ انور صاحب اور سلمیٰ وہ دونوں بھی خوش تھے۔
باب چہارم
اگلے دن ثمر جب اسکول جاتا ہے تو وہ اپنے دوست عامر کو اپنی نئی سائیکل دکھاتے ہوئے کہتا ہے ؛
ثمر: دیکھا میں نے کہا تھا نا میں جو بھی اپنے بابا کو کہتا ہوں میرے بابا ضرور لا کر دیتے ہیں۔
عامر: تمہارے بابا نے تمہیں اتنی مہنگی سائیکل لا دی۔ وہ بھی تمہارے ایک بار کہنے پر (حیران کن تاثرات کے ساتھ دوست نے کہا)-
ثمر: دیکھ لو میں اپنے بابا کا لاڈلا ہوں بابا میری ہر بات مانتے ہیں۔
ارسلان: ایسا ہے تو میرے جیسا بستہ منگوا کر دکھاؤ۔ دیکھ لینا تمہارے بابا یہ نہیں لا کر دیں گے۔ اس کے نیچے پہیے بھی لگے ہیں۔ اسے ہاتھوں میں یا کندھوں پر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جہاں بھی لے کر جانا ہے بس ذرا سا کھینچو اور یہ خود بخود تمہارے پیچھے چلتا جاتا ہے (اپنے بستے کی واہ واہی کرتے ہوئے کہا)۔
ثمر: اگر میں بابا کو بستے کا کہوں گا تو ضرور لا کر دیں گے۔ مگر ابھی میرا بستہ دو ماہ قبل ہی تو بابا نے لا کر دیا ہے۔
عامر: باتیں مت بناؤ مجھے معلوم تمھارے بابا تمھیں نیا بستہ نہیں لا کر دیں گے۔
دوست کے سامنے اپنا سکہ جمانے کی غرض سے ثمر کے ذہن میں اک نئی سیاست نے جنم لیا۔ اسکول سے گھر لوٹ کر ثمر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ پہلے اس نے شدت سے بستہ کی زپ کو کھینچا پھر اسے لگا شاید اتنا کافی نہیں ہے۔ پھر اس نے ایک میز پر پڑی قینچی کو اٹھا کر بیک کو کاٹ دیا۔ اس قدر کاٹا کے بستے کی کتابیں بھی نظر آنے لگیں۔ شام کو جب انور صاحب گھر آتے ہیں۔ تو ثمر آنگن میں اشک لیے بیٹھا تھا انور صاحب جب اپنے بیٹے کی ایسی حالت دیکھتے ہیں تو اس سے پوچھتے ہیں ؛
انور صاحب: کیا ہوا رو کیوں رہے ہو امی نے ڈانٹا ہے کیا؟
ثمر: نہیں بابا میرے کلاس کے کچھ لڑکوں نے مجھے دھکا دیا تو میرا بیگ دیوار سے رگڑ کر پھٹ گیا اب میں صبح اسکول کیسے جاؤں گا سب میرا مذاق اڑائیں گے۔ بابا آپ مجھے نیا بستہ لادیں۔ ویسے بھی یہ بستہ کتنا پرانا ہے ہے اور جب میں اسے اٹھاتا ہوں تو میرے کندھے بھی درد کرتے ہیں مجھے ارسلان جیسا پہیوں والا بستہ چاہیے۔
انور صاحب: اچھا بیٹا لادوں گا۔
اتنے میں سلمیٰ باورچی خانے سے باہر آتی ہے اور سلمیٰ نے بستے کی حالت کا بغور جائزہ لیتی ہے۔ ماں تو ماں ہوتی ہے جب اولاد بولنا بھی نہیں جانتی وہ تب بھی اس کی بات سمجھ جاتی ہے۔ خیر ثمر تو دس سال کا تھا۔ وہ انور صاحب کو بستہ دکھاتے ہوئے کہتی ہے۔
سلمیٰ: دیکھیں انور صاحب آپ کے بے جا لاڈ نے اسے جھوٹ بولنا بھی سکھا دیا۔ یہ بستہ دیوار کی رگڑ سے نہیں کسی تیز دھار آلے سے پھٹا ہے یا تو سوچ سمجھ کر کسی چیز سے کاٹا گیا ہے۔ خبر دار اگر آپ نے اسے نیا بستہ لا کر دیا۔ میں اسی بستے کو سل دو گی۔ اسے جھوٹ پر سزا ملنی چاہیے۔
تبھی ثمر ایک دم سے گھبرا گیا اور زور زور سے چیختے ہوئے کہا؛
ثمر: امی آپ ہمیشہ مجھے غلط کہتی رہتی ہیں۔ آپ کو میں ہمیشہ برا ہی لگتا ہوں۔ بابا میں جھوٹ نہیں بول رہا سچ میں کچھ لڑکوں کی وجہ سے بستہ پھٹا ہے (آنکھوں میں آنسوں لیے)۔
انور صاحب: اچھا کوئی نہیں میں نے تو آپ کو کچھ نہیں کہا۔ میں تو پہلے ہی کہہ رہا ہوں آپ کو نیا بستہ لا دوں گا (پیار سے چپ کراتے ہوئے کہا)۔
یہ سب باتیں سن کر سلمیٰ ناراض ہو کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہم یہ سوچتے ہیں کہ شاید یہی پیار ہے۔ مگر نہیں کسی کی ہر خواہش پوری کرنا اسے بے حس، سنگ دل اور انا پرست بنانے کے مترادف ہے۔ سلمیٰ کے اندیشے سچ ہو چلے تھے یعنی "کسی کی ہر خواہش پوری کرنے سے اس میں صبر نام کی شے باقی نہیں رہتی”۔ انور صاحب بے شک با کردار شخصیت ہیں مگر یہاں وہ غلط ہیں۔ ثمر کو اپنی دی خاموش قربانیوں سے آشنا کرایا جاتا تو بہتر تھا۔ خیر سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں۔
انور صاحب کے سامنے ایک اور امتحان آ گیا جو پہلے سے ہی مقروض ہیں۔ اب بھلا بیٹے کی اس نئی خواہش کو پورا کیسے کریں گے۔
اگلی صبح ایک نئے دن کا آغاز سب لوگ اتوار ہونے کے باعث دیر سے بیدار ہوتے ہیں۔ مگر وقت کے پابند اور منظم کردار شخص انور صاحب پانچ بجنے میں ابھی بیس منٹ باقی تھے الارم کی آواز پر نیند سے بیدار ہوئے۔ آپ بیت الخلا جاتے ہیں پھر وضو کر کے نماز کے لیے مسجد پہنچتے ہیں۔ جہاں سنت ادا کرنے کے بعد اللّٰہ سے اپنے بیٹے کی لمبی عمر صحت اور ترقی کی دعا کے ساتھ ایک اور دعا بھی مانگتے ہیں ؛
انور صاحب: "اے اللّٰہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر نوازا ہے۔ مگر میں انسان ہوں اور میری خواہشات کی انتہا نہیں۔ اے اللّٰہ آج جو کام میں کرنے جا رہا ہوں۔ اس میں آسانی کرنا ‘فان مع العسر یسرا’ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے "۔
نماز ادا کرنے کے بعد انور صاحب گھر چلے آتے ہیں۔ آج روز کی بنسبت کچھ الگ ہوا۔ آج انور صاحب نے پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ایک آدمی جو خود دار ہے۔ اپنی مفلسی جھلکنے نہیں دیتا۔ آج اس قدر پرانا لباس۔ سلمیٰ جب ان کے لیے ناشتہ لائی۔ تو ان کے پرانے کپڑے دیکھ کر محوِ حیرت رہ گئی۔ کیوں کہ انور صاحب کبھی بھی یوں ہی پرانے کپڑے نہیں پہنتے تھے۔ وہ بے حد نفیس آدمی ہیں بغیر استری کے کبھی کپڑے پہنے نہیں دیکھا۔ سلمیٰ انور صاحب سے پوچھتی ہے
سلمیٰ: آپ نے پرانے کپڑے کیوں پہن لیے میں نے تو آج آپ کا نیا جوڑا استری کر کے ٹانگ رکھا ہے۔
انور صاحب: نہیں ویسے ہی پہنے ہیں (کہہ کر ناشتہ شروع کر دیا)۔
سلمیٰ: آج چھٹی کا دن ہے کیوں نہ آج شہر گھومنے نکلیں (کریدنے کے لیے کہا)۔
انور صاحب: حالات تمھارے سامنے ہیں ثمر کی سائیکل کے لیے بھی احمد صاحب سے اُدھار مانگا تھا۔ ویسے بھی آج مجھے ایک ضروری کام ہے لوٹنے میں دیر بھی ہو سکتی ہے۔ تم پریشان مت ہونا (نوالہ چباتے ہوئے کہا)۔
سلمیٰ: اچھا چلیں اگلے اتوار چل پڑیں گے۔
اس کا شک ٹھیک نکلا انور صاحب کچھ نہ کچھ ضرور چھپا رہے ہیں۔ انور صاحب نے کھانا ختم کیا اور گھر سے باہر نکل گئے۔ دھیمے دھیمے قدم اچانک تیز ہو گئے۔ مانو کہیں پہنچنے کی جلدی ہو۔ دوڑ کر انور صاحب ایک گودام میں پہنچے۔ انہوں نے گودام کے منشی سے پوچھا ؛
انور صاحب: بھائی مزدور کی ضرورت ہے؟
منشی: ہاں ہے تو سہی آج ویسے بھی اتوار ہے ہمارے کافی مزدور چھٹی پر ہیں۔ مگر مزدور کون ہے؟
انور صاحب: جی میں ہوں مزدور۔
منشی: تم ہو مزدور لگتے تو نہیں ہو۔
انور صاحب: جی کچھ پیسوں کی ضرورت تھی سوچا مزدوری ہی کر لیتا ہوں۔ آپ کام اور اس مزدوری بتا دیں۔
منشی: دیکھو بھائی مزدوری کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پسینہ نہیں لہو نکلتا ہے اور تمھیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ تم مزدوری کر لو گے۔
انور صاحب: سب جان کر یہاں آیا ہوں اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں۔ ورنہ میں کسی دوسرے گودام پر جا رہا ہوں (کہہ کر پلٹے)۔
منشی: رکو رکو آج گندم کا ایک ٹرک آنا ہے۔ اگر گندم کی بوریاں گودام میں لاد سکو۔
انور صاحب: جی میں کر لوں گا مگر اس کی اجرت (مزدوری) کتنی ملے گی۔
منشی: ایک بوری کے بدلے بارہ روپے ملتے ہیں۔ تمہیں بھی بارہ روپے کے حساب سے پیسے ملیں گے۔
منشی کی بات سن کر انور صاحب نے ایک گہرا سانس لیا۔ بارہ روپے فی بوری! ذہن نے فوراً حساب لگایا، اگر پانچ یا چھ سو روپے کا وہ پہیوں والا بستہ خریدنا ہے تو کم از کم پچاس بوریاں اٹھانی ہوں گی۔ پچاس بوریاں ! یعنی دو اڑھائی ہزار کلو گرام وزن۔ انور صاحب نے اپنے ان ہاتھوں کو دیکھا جن کی پوریں ہمیشہ چاک کی سفیدی اور قلم کی سیاہی سے مانوس رہی تھیں، آج پٹ سن کی کھردری بوریوں کو تھامنے والی تھیں۔
انہوں نے قمیض کے کف اوپر چڑھائے اور منشی سے کہا، "ٹھیک ہے بھائی، مجھے منظور ہے۔ ٹرک کہاں ہے؟”
کچھ ہی دیر میں گندم سے لدا ہوا ٹرک گودام کے کچے احاطے میں آ کر رکا۔ ٹرک کا انجن بند ہوتے ہی فضا میں مٹی اور ڈیزل کا دھواں پھیل گیا۔ انور صاحب نے آگے بڑھ کر ٹرک کی باڈی کے ساتھ کمر لگا دی۔ دو مزدوروں نے گندم کی پہلی بوری اٹھا کر انور صاحب کی پیٹھ پر لادی۔
بوری کا پیٹھ پر آنا تھا کہ انور صاحب کے منھ سے ایک دھیمی سی "آہ” نکل گئی۔ پچاس کلو گرام کا وہ بوجھ ان کی ریڑھ کی ہڈی پر کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور گھٹنے لرزنے لگے۔ لیکن اسی اندھیرے میں انہیں ثمر کا وہ روتا ہوا چہرہ دکھائی دیا جو کہہ رہا تھا، "بابا! سب میرا مذاق اڑائیں گے، مجھے ارسلان جیسا بستہ چاہیے۔ "
انور صاحب نے دانت بھیچ لیے، قدموں کو جمایا اور گودام کے تاریک دالان کی طرف بڑھ گئے۔ پٹ سن کی بوری ان کی گردن کی نرم جلد کو چھل رہی تھی، لیکن وہ قدم بہ قدم آگے بڑھتے گئے۔ پہلی بوری گودام کے فرش پر رکھ کر جب انہوں نے سیدھا ہونے کی کوشش کی، تو کمر میں ایک شدید کڑک دار درد اٹھا۔ انہوں نے تڑپ کر ہاتھ اپنی پیٹھ پر رکھا، مگر ہمت نہیں ہاری۔ وہ دوبارہ ٹرک کی طرف چل پڑے۔
دو گھنٹے گزر گئے۔ انور صاحب بیس بوریاں لگا چکے تھے یعنی دو سو چالیس روپے کما چکے تھے۔ اب ان کے جسم کا جوڑ جوڑ چیخ رہا تھا۔ ماتھے سے پسینہ بہہ کر آنکھوں میں جا رہا تھا۔ جس سے نظر دھندلا رہی تھی۔ نفیس مزاج پروفیسر کا پورا وجود گندم کے چورے اور مٹی سے اٹ چکا تھا اور تپتے ہوئے گودام میں خارش کے باعث ان کی جلد سرخ ہو رہی تھی۔ توازن برقرار رکھنا اب ایک عذاب بن چکا تھا۔
"بس کر دو، تمہارا کام نہیں ہے یہ۔” ایک بوڑھے مزدور نے انور صاحب کی ہانپتی ہوئی حالت دیکھ کر ہمدردی سے کہا۔
انور صاحب نے میلے رو مال سے چہرے کا پسینہ پونچھا، ایک گھونٹ گھڑے کا گرم پانی پیا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولے، "نہیں بھائی! ابھی بستہ دور ہے … مجھے ابھی اور چلنا ہے۔ "
دوپہر ڈھلنے لگی اور شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔ پورے چھ گھنٹے کی اس ہڈی توڑ مشقت کے بعد، جب ٹرک خالی ہوا، تو انور صاحب گودام کے ایک کونے میں لکڑی کے تختے پر ڈھیر ہو گئے۔ ان کے ہاتھ اس قدر کانپ رہے تھے کہ وہ پانی کا گلاس بھی نہیں اٹھا پا رہے تھے۔ قمیض کی پشت پٹ سن کی رگڑ اور پسینے کے نمک سے تار تار ہو چکی تھی۔
منشی نے گنتی کی اور اپنے گندے ہینڈ بیگ سے نوٹ نکالتے ہوئے بولا، "لو بھائی! اکاون بوریاں ہوئی ہیں۔ یہ لو تمہاری مزدوری… چھ سو بارہ روپے !”
انور صاحب نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ میلے اور پسینے سے نم نوٹ لیے۔ یہ صرف چھ سو بارہ روپے نہیں تھے، یہ پروفیسر انور کی خود داری، ان کا خون اور ان کے جگر کا گوشت تھا جو انہوں نے اپنے بیٹے کی ایک جھوٹی ضد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ وہ پیسے جیب میں رکھتے ہوئے انور صاحب نے دل میں سوچا، "چھ سو روپے بارہ ہو گئے ہیں۔ چلو، ثمر کا پہیوں والا بستہ آ جائے گا۔ "
وہ گودام سے باہر نکلے۔ اتوار کی شام ساڑھے چار کا وقت۔ انور صاحب اپنا ایک ایک قدم گھسیٹتے ہوئے بازار کی طرف بڑھ رہے تھے، جہاں سے انھوں نے ثمر کا پہیوں والا بستہ خریدنا تھا۔ انور صاحب بازار پہنچے۔ ایک بستوں والی دکان پر چڑھے۔ جہاں انھیں ایک پہیوں والا بستہ بے حد پسند آیا۔ انھوں نے بستے کی قیمت پوچھی۔
انور صاحب: بھائی یہ بستہ کتنے کا ہے؟
دکان دار: یہ آپ کے مطلب کا نہیں ہے۔ بہت مہنگا بستہ ہے پہیوں والا۔
انور صاحب: جی جی بھائی میں نے بھی پہیوں والا بستہ ہی لینا ہے۔ کتنے کا ہے؟
دکان دار: بھائی پانچ سو اسی روپے کا ہے۔ پیور لیدر کا ہے۔
انور صاحب: بھائی مجھے زیادہ بحث کرنے کی عادت نہیں ہے آپ یوں کیجیے پانچ سو روپے پکڑیے اور بستہ ادھر دیجیے۔
پانچ سو روپے کا سن کر دکان دار نے بستہ تھیلی میں ڈال دیا۔ انور صاحب بستہ تھام کر گھر کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ انور صاحب کا بدن اب کانپ رہا تھا۔ ان قدم لڑکھڑا رہے تھے پسینہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
انور صاحب تیز دھوپ اور سخت مشقت کے بعد سڑک پر چلے جا رہے تھے۔ بدن کا ایک ایک جوڑ دکھ رہا تھا، اور نقاہت کے مارے پاؤں من من بھر کے ہو رہے تھے۔ انور صاحب کو علم نہیں تھا کہ ثمر نے اس نئے بستے کے لیے اتنی ضد کیوں کی تھی، اس کے پیچھے عامر اور ارسلان سے جیت جانے کا کون سا بھوت سوار تھا؛ وہ تو بس اتنا جانتے تھے کہ ان کے بچے کی آنکھوں میں ایک حسرت تھی، جسے پورا کرنا ان کا فرض تھا۔ ہاتھ میں تھامے ثمر کے اسی نئے بستے پر جب بھی نظر پڑتی، ان کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آ جاتی۔
ابھی وہ گھر کے راستے میں ہی تھے کہ اچانک ان کے قدم ایک فٹ پاتھ پر لگے کھلونوں کے اسٹال کے پاس رک گئے۔ انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر باقی بچے ہوئے پیسے نکالے۔ چند مڑے تڑے نوٹ اور کچھ سکے ان کی ہتھیلی پر تھے۔
"بچہ ہے … بستہ دیکھ کر تو خوش ہو گا ہی!” انور صاحب نے دل میں سوچا، "اگر ان پیسوں سے اس کے لیے کچھ کھلونے بھی لے جاؤں، تو اس کی خوشی دگنی ہو جائے گی۔”
انور صاحب نے اپنی تھکن اور جسم کے درد کو ایک طرف رکھا، اور دکاندار سے ثمر کے لیے کچھ سستے مگر رنگ برنگے کھلونے خرید لیے۔ اب ان کے ایک ہاتھ میں نیا بستہ تھا اور دوسرے میں وہ کھلونے، ایک باپ اپنی تمام تر ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اپنے بچے کے لیے خوشیوں کا پورا سنسار سمیٹے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔
جب وہ گھر پہنچے، تو ثمر کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ نیا بستہ پا کر دل میں یہ گمان لیے کہ وہ عامر سے جیت گیا ہے، وہ ایک پل کو بھی نہ رکا۔ وہ بستہ اور کھلونے ہاتھ میں تھامے سیدھا اندر کمرے کی طرف بھاگ گیا۔ معصومیت کی اس دوڑ میں پسِ منظر کے سارے دکھ کہیں پیچھے چھٹ گئے تھے۔
دروازے کی اوٹ میں کھڑی سلمیٰ ہکا بکا رہ گئی۔
اس کی نظریں ثمر کے چمکتے چہرے سے ہٹ کر جیسے ہی انور صاحب پر پڑیں، اس کے سانس حلق میں اٹک گئے۔ سامنے انور صاحب کھڑے تھے یا شاید ان کا ایک تھکا ہارا، نڈھال سایہ۔ مٹی سے اٹے ہوئے کپڑے، ماتھے پر جمی پسینے اور گرد کی لکیریں، اور وہ جھکے ہوئے کندھے جو عمر بھر کی غیرت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔
انور صاحب نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے ٹوٹے ہوئے بدن کو گھسیٹتے ہوئے صحن میں رکھی پرانی لکڑی کی کرسی پر ڈھیر ہو گئے۔ وہ کرسی پر بیٹھے نہیں تھے، بلکہ ایسا لگا جیسے ان کے وجود کا بچا کچا حوصلہ جواب دے گیا ہو اور وہ خود کو کرسی کے حوالے کر بیٹھے ہوں۔ جوں ہی ان کی پیٹھ کرسی سے ٹکراتی ہے اک ہلکی سی ‘آہ’ نکلتی ہے۔
سلمیٰ کی آنکھوں میں اشک تیرنے لگے۔ وہ ساکت کھڑی انور صاحب کی جانب دیکھتی رہی۔ اس کی خاموش، نمناک آنکھوں میں ایک تڑپتا ہوا سوال تھا، ایک ایسا سوال جس نے پورے صحن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا:
"آپ نے … آپ نے صرف ایک بستے کی خاطر یہ مزدوری کی؟ اس عمر میں خود کو یوں توڑ دیا؟”
انور صاحب نے اپنی بوجھل نظریں اٹھائیں اور سلمیٰ کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان کے چہرے پر نہ کوئی پچھتاوا تھا، نہ اپنی مجبوری کا اشتہار۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ زبان گنگ تھی، لیکن انہوں نے آہستہ سے اپنی تھکی ہوئی آنکھیں بند کر لیں اور سر کو ایک ہلکی سی جنبش دی۔
اس ایک خاموش "ہاں” میں دنیا بھر کا درد اور ایک باپ کی لازوال محبت سمٹ آئی تھی۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا، مگر وہ خاموشی پورے گھر میں کسی چیخ کی طرح گونج اٹھی ایک ایسی گونج، جس نے صحن کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ سلمیٰ نے تڑپ کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اس کی سسکی باہر نہ نکل سکے۔ وہ باپ جو کل تک کالج کے اسٹاف روم میں خود داری کی مثال تھا، جو اپنے طالبِ علم حمزہ کو خدا کے احکام پر راضی رہنے کا درس دیتا تھا، آج وہ اپنے بچے کی ایک مسکراہٹ کے لیے چپ چاپ اپنا لہو بہا آیا تھا۔
سلمیٰ نے آگے بڑھ کر کانپتے ہاتھوں سے انور صاحب کے چہرے کا پسینہ پونچھا۔ اس کی نظریں جب انور صاحب کی ہتھیلیوں پر پڑیں، تو اس کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ چاک اور قلم تھامنے والی نرم پوریں پٹ سن کی بوریوں کی رگڑ سے جگہ جگہ سے چھل چکی تھیں اور ان سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔
سلمیٰ: انور صاحب! یہ کیا…؟
سلمیٰ کی آواز گلے میں پھنس گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر انور صاحب کے زخمی ہاتھوں پر گرنے لگے۔
سلمیٰ: ایک بستے کے لیے اس عمر میں آپ نے خود پر یہ قیامت کیوں ڈھائی؟
انور صاحب نے اپنی بوجھل آنکھیں کھولیں۔ ان کے چہرے پر نہ تو کوئی شکوہ تھا اور نہ ہی کوئی ملال۔ انہوں نے اپنے زخمی اور کانپتے ہوئے ہاتھ کو دھیرے سے سلمیٰ کے ہاتھوں پر رکھا اور ہمیشہ کی طرح ایک متبسم اور صابرانہ لہجے میں کہا:
انور صاحب: سلمیٰ! جب میں نے اس بوری کا بوجھ اپنی پیٹھ پر اٹھایا تھا، تو مجھے اس تنگی میں بھی اپنے رب کی ایک آیت یاد آ رہی تھی… فان مع العسر یسرا۔ یہ مشقت تو عارضی ہے، مگر جب میرا ثمر اسکول جائے گا اور اس کا چہرہ خوشی سے چمکے گا، تو میری یہ ساری تھکن مٹ جائے گی۔ میں نے اس کی ہر خواہش پوری کرنے کا عہد کیا ہے، اور ایک باپ اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
سلمیٰ نے نم آنکھوں سے انور صاحب کو دیکھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس انسان کی محبت کو مصلحت کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ وہ چپ چاپ اندر چلی گئی تاکہ ان کے زخموں کے لیے مرہم لا سکے۔
ادھر اندر کمرے میں، ثمر اپنے نئے بستے کو فرش پر رکھ کر اس کے پہیوں کو گھما رہا تھا۔ وہ عامر اور ارسلان پر اپنی جیت کے تصور میں مگن تھا اور کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔ لیکن کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے باہر صحن میں ہونے والی گفتگو کے کچھ الفاظ اور اس کی ماں کے رونے کی آواز دھیرے سے اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ وہ کھیل ہی کھیل میں ایک لمحے کے لیے رکا، اس کے چھوٹے سے معصوم ذہن میں ایک عجیب سی ہلچل ہوئی، مگر وہ دوبارہ اپنے کھلونوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ ابھی بہت چھوٹا تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ اس نئے بستے کے پہیے اس کے باپ کے خون اور پسینے سے رنگ کر آئے ہیں۔
رات گہری ہو چلی تھی۔ انور صاحب اپنے کمرے میں لیٹے تھے، ان کا پورا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا مگر ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ ایک ایسا سکون جو صرف اپنی قربانی مکمل کرنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔
اگلی صبح، معمول کے مطابق چار بج کر چالیس منٹ پر انور صاحب کی آنکھ کھلی۔ جسم کا جوڑ جوڑ چیخ رہا تھا، مگر ان کا نظم و ضبط اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ اٹھے، وضو کیا اور مسجد کی طرف چل دیے، جہاں اب انہیں اپنے بیٹے کے لیے ایک نئی دعا مانگنی اور واپس آ کر لیٹ گئے۔
باب پنجم
ثمر کا نیا بستہ گلی کی کچی پکی سڑک پر گھسیٹتے ہوئے جب پہیوں کی "گھڑ گھڑ” کی آواز پیدا کرتا، تو ثمر کو لگتا جیسے یہ آواز اس کی کامیابی کا کوئی شاہی اعلان ہو۔ اس نے چمکیلی نئی سائیکل پر اپنا نیا پہیوں والا بستہ پیچھے لوہے کے فریم پر بڑی شان سے ٹکایا۔ صبح کی دھوپ میں سائیکل کا ہینڈل اور بستے کا چمڑا دونوں چمک رہے تھے۔
گھر کے دروازے کی اوٹ سے انور صاحب نے اپنے بیٹے کو جاتے دیکھا۔ ان کی کمر کا درد اب بھی ایک کسک بن کر اٹھ رہا تھا، اور ہتھیلیوں کی چھلی ہوئی جلد پر سرسوں کے تیل کی جلن برقرار تھی، مگر ثمر کے چہرے کی وہ مغرور مسکراہٹ دیکھ کر پروفیسر نے اپنے سارے دکھ ایک گہرے سانس کے ساتھ اندر ہی کہیں دفن کر دیے۔
اسکول کے پھاٹک میں داخل ہوتے ہی ثمر کی سائیکل کی گھنٹی بجی۔ عامر اپنے پرانے کندھے والے بستے کا بوجھ اٹھائے گھریلو کام کی کاپی ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ ثمر نے جان بوجھ کر عامر کے بالکل پاس لا کر سائیکل کا بریک مارا۔ بستہ پیچھے سے اتارا اور اس کا ہینڈل اوپر کھینچ کر اسے زمین پر ٹکایا۔
"بولا تھا نہ عامر؟” ثمر نے اپنی گردن کو ایک خاص تکبر سے لچکاتے ہوئے کہا۔ "شرط یاد ہے؟ تم کہہ رہے تھے میرے بابا نہیں لا کر دیں گے۔ یہ دیکھو، پہیوں والا بستہ! پورے پانچ سو اسی روپے کا ہے۔ اور سائیکل دیکھ رہے ہو؟ تین ہزار روپے کی!”
عامر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس نے آگے بڑھ کر بستے کے چمڑے کو چھوا اور پھر پہیوں کو گھما کر دیکھا۔ اس کے چہرے پر شکست کے تاثرات دیکھ کر ثمر کے دل کو جو تسکین ملی، وہ اس کے لیے انمول تھی۔
"ارے ثمر! یہ بستہ تو سچ مچ پہیوں والا ہے۔” جماعت کے دو تین اور لڑکے بھی وہاں جمع ہو گئے۔ جماعت کا نگران ارسلان، جو ایک امیر گھرانے سے تھا، وہ بھی دیکھنے لگا۔
"یار ثمر، تمہارے بابا تو بہت زبردست ہیں۔ جو مانگو فوراً لا دیتے ہیں” عامر نے حسرت سے کہا۔
"اور نہیں تو کیا!” ثمر نے اپنے حلقہ احباب میں گھیرتے ہوئے لڑکوں کو دیکھا اور اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لیے جھوٹ اور مبالغے کا سہارا لیا۔ "میرے بابا کالج کے پروفیسر ہیں۔ چوہدری ہیں وہ! میں ایک بار منہ سے کچھ نکالوں، وہ اسی وقت شہر کے سب سے بڑے بازار سے سواری منگوا کر چیز لا دیتے ہیں۔ ہمارے گھر میں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔ "
لڑکوں کے ٹولے میں ثمر کی ‘واہ واہی’ شروع ہو چکی تھی۔ کوئی اس کی سائیکل کی تعریف کر رہا تھا تو کوئی اس کے بستے کو چلا کر دیکھ رہا تھا۔ ثمر اس وقت خود کو جماعت کا سب سے اہم لڑکا محسوس کر رہا تھا۔ عامر سے جیتی ہوئی شرط اور دوستوں کی نظروں میں ملنے والی اس سستی عزت نے ثمر کے اندر ایک خطرناک بیج بو دیا تھا-یہ بیج تھا ‘انا’ اور ‘مایوسی سے نفرت’ کا۔ اسے لگنے لگا کہ دنیا کی ہر چیز اس کا حق ہے، اور اسے حاصل کرنے کے لیے اسے بس ایک بار ضد کرنی ہے۔
مدرسے کا پورا دن ثمر نے اسی فخر کے خمار میں گزارا۔ آدھی چھٹی کے وقت بھی وہ لڑکوں کو اپنی سائیکل کی خوبیاں گنواتا رہا۔
شام کو جب اسکول سے چھٹی ہوئی، تو ثمر اسی شان سے سائیکل چلاتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اب اس کے ذہن میں عامر کی وہ حیرت زدہ شکل بار بار گھوم رہی تھی، اور اس فتح کے نشے نے اس کی پیاس کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگلی بار وہ اپنے دوستوں کو کون سی نئی اور مہنگی چیز دکھا کر حیران کرے گا۔
وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ اس کی اس ‘واہ واہی’ کی قیمت اس کے باپ نے گودام کی تاریکی میں پچاس کلو کی بوریاں اپنی نحیف پیٹھ پر اٹھا کر چکائی ہے۔
ثمر نے جیسے ہی گھر کا دروازہ دھکیلا اور صحن میں داخل ہوا، اس کے چہرے پر عامر کو ہرانے کی فاتحانہ چمک اب بھی برقرار تھی۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن، پہیوں والے بستے کو کچی زمین پر گھسیٹتا ہوا سیدھا کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔
صحن کے کونے میں لکڑی کی پرانی کرسی پر انور صاحب بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے کھانے کی چھوٹی میز پر اردو کی کچھ کتابیں اور امتحانی پرچے بکھرے پڑے تھے، جن پر وہ سرخ روشنائی سے نمبر لگا رہے تھے۔ کل کی ہڈی توڑ مشقت کا اثر ان کے بوڑھے جسم پر صاف نمایاں تھا؛ قلم تھامتے ہوئے ان کی زخمی پوروں میں جب درد کی ٹھیس اٹھتی، تو ان کے ہاتھ ہلکے سے کانپ جاتے۔ مگر جیسے ہی ان کے کانوں میں ثمر کے قدموں کی آہٹ پڑی، انہوں نے عینک کے شیشوں کے پیچھے سے اپنے بیٹے کو دیکھا اور چہرے پر ایک عمیق، پتافی مسکراہٹ سجا لی۔
انور صاحب نے شفقت بھری آواز میں پکارا:
"آ گئے بابا کی جان؟ اِدھر آؤ، اپنے بابا کے پاس بیٹھو۔ بتاؤ، آج اسکول کا دن کیسا گزرا؟ دوستوں کو بستہ پسند آیا؟”
ثمر ایک لمحے کے لیے رکا، لیکن اس کے انداز میں وہ روایتی معصومیت نہیں تھی جو ایک بچے میں اپنے باپ کے لیے ہونی چاہیے۔ اس نے دور سے ہی لاپروائی سے بستہ ایک طرف رکھا اور بولا:
"جی بابا! عامر تو دیکھتا ہی رہ گیا! وہ کہہ رہا تھا کہ آپ مجھے کبھی بستہ نہیں لا کر دیں گے، میں نے اسے دکھا دیا کہ میرے بابا کے پاس بہت پیسے ہیں اور وہ میرے کہنے پر کچھ بھی لا سکتے ہیں۔ اب کلاس میں کوئی میرا مذاق نہیں اڑائے گا۔ "
انور صاحب نے بیٹے کے لہجے میں چھپی اس ‘انا’ کو محسوس تو کیا، لیکن ایک باپ کا دل ہمیشہ اولاد کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ انہوں نے نرمی سے کہا:
"بیٹا، یہ بستہ یا سائیکل اس لیے نہیں ہے کہ ہم دوسروں کو نیچا دکھائیں یا اپنی امیری کا جھوٹا رعب جمائیں۔ یہ تو آپ کی سہولت کے لیے ہے۔ آپ محنت سے پڑھو، یہی ہمارے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔ "
سلمیٰ، جو باورچی خانے سے پانی کا گلاس لیے باہر آ رہی تھی، ثمر کی باتیں سن کر تڑپ اٹھی۔ اس نے پانی کا گلاس میز پر رکھا اور ثمر کو گھورتے ہوئے غصے سے کہا:
"سنا انور صاحب آپ نے؟ یہ ہے آپ کے لاڈ پیار کا نتیجہ! کل آپ گودام میں …۔ "
"سلمیٰ!” انور صاحب نے کڑک دار تو نہیں، مگر ایک ایسی فیصلہ کن اور التجائیہ آواز میں اپنی بیگم کو ٹوکا کہ سلمیٰ کے الفاظ اس کے حلق میں ہی جم کر رہ گئے۔ انور صاحب نے نظروں ہی نظروں میں اسے التجا کی کہ وہ ثمر کے سامنے اس مزدوری کا ذکر نہ کرے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اپنے باپ کی مفلسی اور مجبوری سے واقف ہو کر احساسِ کمتری کا شکار ہو۔
سلمیٰ نے ایک سرد آہ بھری، اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو دوپٹے کے پلو سے چھپایا اور پیر پٹختی ہوئی واپس باورچی خانے میں چلی گئی۔
ثمر، جسے ماں کی بات ادھوری رہنے کا کوئی ملال نہیں تھا اور نہ ہی اس کا دھیان باپ کے کانپتے ہوئے ہاتھوں پر گیا، وہ اپنی سائیکل کی طرف بڑھ گیا۔ وہ گلی میں دوبارہ چکر لگانے کے لیے نکلنے ہی والا تھا کہ اچانک اسے ایک بات یاد آئی۔ اس نے مڑ کر انور صاحب کو دیکھا، جن کی نظریں اب بھی اسی پر ٹکی تھیں۔
"بابا!” ثمر نے ایک نئے حق اور ضد کے ساتھ کہا
ثمر: اگلے مہینے اسکول کی طرف سے مری کی سیر کے لیے ٹرپ جا رہا ہے۔ ارسلان اور عامر سب جا رہے ہیں۔ سر کہہ رہے تھے کہ اس کے لیے دو ہزار روپے فیس جمع کرانی ہو گی۔ میں نے ارسلان سے کہہ دیا ہے کہ میرے بابا چوہدری ہیں، وہ مجھے ضرور بھیجیں گے۔ آپ مجھے اگلے مہینے دو ہزار روپے دے دیں نا؟
دو ہزار روپے ! یہ لفظ سنتے ہی پروفیسر انور کے دل پر جیسے کوئی بھاری بوجھ آ گرا۔ ابھی احمد صاحب کا اٹھارہ سو روپے کا قرض سر پر تھا، مہینے کی تنخواہ آنے میں بیس دن باقی تھے، اور کل کی مزدوری کے بعد ان کے جسم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ کسی گودام کا رخ کر سکیں۔
انور صاحب نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، مگر ان کا گلا خشک ہو چکا تھا۔ انہوں نے میز پر رکھے پانی کے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن نقاہت اور زخموں کی وجہ سے ان کی انگلیاں گلاس پر گرفت نہ رکھ سکیں اور گلاس ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر میز پر گر گیا، جس سے پانی انور صاحب کے اچھے کپڑوں اور سامنے پڑے امتحانی پرچوں پر پھیل گیا۔
ثمر نے یہ سب دیکھا، مگر اس کے چہرے پر باپ کے لیے کسی ہمدردی کے بجائے ایک عجیب سی بے صبری ابھری۔ "بابا! آپ بتائیں نا، آپ مجھے ٹرپ پر بھیجیں گے نا؟ آپ خاموش کیوں ہو گئے؟”
پروفیسر انور نے گیلے پرچوں کو ایک طرف ہٹایا، اپنی لرزتی ہوئی عینک کو درست کیا اور ثمر کی معصوم مگر ضدی آنکھوں میں جھانکا۔ ان کے سامنے ایک بار پھر امتحان تھا ایک طرف ان کی سفید پوشی، ان کا ٹوٹا ہوا وجود اور قرض کا پہاڑ تھا، اور دوسری طرف ان کے اکلوتے بیٹے کی وہ انا تھی جسے انہوں نے خود اپنے لاڈ پیار سے پروان چڑھایا تھا۔
انور صاحب نے گیلے پرچوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور ثمر کے سر پر ہاتھ رکھ کر دھیمے سے بولے، "ٹھیک ہے بابا کی جان، اگلے مہینے جانا ہے نا؟ آپ فکر نہ کرو، آپ کے بابا انتظام کر دیں گے۔” ثمر یہ سنتے ہی خوشی سے اچھل پڑا اور اپنی سائیکل لے کر گلی کی طرف دوڑ گیا۔
کمرے کے دروازے پر کھڑی سلمیٰ نے حسرت بھری نظروں سے انور صاحب کو دیکھا اور بنا کچھ کہے اندر چلی گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس انسان کو روکنا اب اس کے بس میں نہیں تھا۔ انور صاحب رات بھر بستر پر کروٹیں بدلتے رہے ؛ ایک طرف جسم کا درد تھا اور دوسری طرف اگلے مہینے کے دو ہزار روپے کا پہاڑ جیسا بوجھ۔
اگلی صبح، معمول کے مطابق انور صاحب کالج کے وقت پر بیدار ہوئے، نماز ادا کی اور اپنی اسی دھواں چھوڑتی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کالج پہنچے۔ سٹاف روم میں ابھی وہ اپنی کرسی پر بیٹھے ہی تھے کہ ان کے دیرینہ رفیق، حیاتیات کے استاد احمد صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ احمد صاحب کے چہرے پر روز جیسی مسکراہٹ نہیں تھی، بلکہ ایک گہری سنجیدگی اور فکر مندی تھی۔
احمد صاحب انور صاحب کے قریب آئے، کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئے اور دھیمی آواز میں بولے
احمد صاحب: انور میاں ! کل اتوار کو میں کسی کام سے غلہ منڈی کی طرف گیا تھا۔ وہاں گودام کے باہر… میں نے آپ کو دیکھا تھا۔
یہ سنتے ہی انور صاحب کے ہاتھوں سے قلم چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ ان کے چہرے کا رنگ یکدم اڑ گیا، لیکن انہوں نے اپنی خود داری کا بھرم رکھنے کے لیے فوراً مسکرانے کی ناکام کوشش کی اور انکاری ہوتے ہوئے بولے
انور صاحب: ارے نہیں احمد میاں ! آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ میں بھلا اتوار کو گودام میں کیا کرنے جاؤں گا؟ میں تو گھر پر تھا، کچھ پرچے دیکھ رہا تھا۔
احمد صاحب نے انور صاحب کے چھلے ہوئے ہاتھوں اور ان کی لرزتی ہوئی آواز کو دیکھا۔ انہوں نے بڑھ کر انور صاحب کا زخمی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا
احمد صاحب: انور صاحب! خدا کے لیے ہم پیشہ رفیقوں سے تو پردہ نہ رکھیے۔ میں نے اپنی ان آنکھوں سے آپ کی پیٹھ پر پچاس کلو کی بوری دیکھی ہے۔ ایک پروفیسر… گندم کی بوریاں اٹھا رہا تھا؟ آخر ایسی کیا قیامت آ گئی تھی؟
احمد صاحب کے خلوص اور محبت کے سامنے آخر کار پروفیسر انور کی خود داری کا بندھن ٹوٹ گیا۔ انہوں نے بوجھل دل کے ساتھ اپنا سر جھکا لیا اور تسلیمِ خم کرتے ہوئے بولے۔ ان کی آنکھوں کے گوشے نم ہو چکے تھے
انور صاحب: احمد میاں … بس کیا بتاؤں۔ ثمر کی ضد تھی۔ اس نے پہیوں والے بستے کے لیے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ دوستوں میں پشیمانی سے بچانے کے لیے میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اور اب… اب ایک اور نئی آزمائش منہ کھولے کھڑی ہے۔
انور صاحب نے ایک گہری آہ بھر کر ثمر کے مری والے ٹرپ اور دو ہزار روپے کی نئی فرمائش کا سارا احوال سنا دیا۔
احمد صاحب نے پوری بات غور سے سنی، پھر صدمے اور ملوکیت بھرے لہجے میں کہنے لگے
احمد صاحب: انور صاحب! میری ایک بات کا برا نہ مانیے گا۔ آپ وہ کام بھلا کیوں کرتے ہیں جو آپ کر ہی نہیں سکتے؟ آپ کا یہ نحیف جسم، یہ عمر… کیا یہ مزدوری کے لائق ہے؟
انور صاحب نے بے بسی سے احمد صاحب کی طرف دیکھا:
انور صاحب: مگر احمد میاں، پھر میں کیا ہی کروں؟ مجھے تو اس پڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام اتا ہی نہیں ہے۔ میں اپنے بچے کی حسرت کیسے مار دوں؟
احمد صاحب مسکرائے اور ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولے:
احمد صاحب: انور صاحب! میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ وہ کام کرو جو تم بخوبی جانتے ہو! جس کے تم ماہر ہو!
انور صاحب: مگر کون سا کام (انور صاحب نے حیرت سے پوچھا)۔
احمد صاحب: یہی پڑھانے کا کام! مگر کالج کی حد تک نہیں، کیونکہ کالج کی تنخواہ محدود ہے۔ تم ایسا کرو کہ شام کے وقت کچھ کمزور بچوں کو اکیڈمی میں پڑھاؤ، یا اپنی کوئی چھوٹی سی اکیڈمی کھول لو۔ اس سے تمہاری آمدنی میں اچھا خاصا اضافہ ہو گا اور اخراجات کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔
احمد صاحب کا یہ مشورہ انور صاحب کے دل کو لگ گیا۔ انہیں اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن نظر آئی۔ انہوں نے وقت ضائع کیے بغیر شہر کی ایک معروف اکیڈمی کے مینیجر سے رابطہ کیا، جو پہلے ہی پروفیسر انور کے نام اور علمی مرتبے سے واقف تھا۔ انہوں نے فوراً انور صاحب کو شام کے وقت اردو کے اعلیٰ درجے کے طلبہ کو پڑھانے کی پیشکش کر دی۔
اگلے ہی دن سے انور صاحب نے اکیڈمی جوائن کر لی۔ اب ان کا شام کا وقت گودام کی تاریکی اور مٹی میں نہیں، بلکہ ایک روشن کلاس روم میں گزرنے لگا۔ جہاں وہ چاک ہاتھ میں تھامے، بلیک بورڈ پر اردو ادب کے موتی بکھیرتے تھے۔
وہ اکیڈمی کے طلبہ و طالبات کو اردو زبان کی باریکیوں، بحروں کے اوزان، غزل کی نزاکتوں اور نثر کے اسالیب سے شناسا کرتے۔ ان کا پڑھانے کا انداز اس قدر دلنشین تھا کہ کچھ ہی دنوں میں اکیڈمی میں ان کے نام کی دھوم مچ گئی۔ طلبہ دور دور سے ان کا لیکچر سننے آنے لگے۔
اب انور صاحب کے ہاتھ پٹ سن کی بوریوں سے نہیں، بلکہ علم کی روشنی پھیلانے سے معطر ہو رہے تھے۔ ان کی محنت رنگ لا رہی تھی اور اگلے مہینے ثمر کے ٹرپ کے پیسے اب ان کے لیے کوئی پریشانی کا باعث نہیں رہے تھے، کیونکہ انہوں نے اپنی عزتِ نفس کو گنوائے بغیر رزقِ حلال کا ایک بہترین راستہ چن لیا تھا۔
باب ششم
آخر کار وہ دن آ ہی گیا جس کا ثمر کو بے صبری سے انتظار تھا۔ انور صاحب نے اکیڈمی کی پہلی کمائی سے پورے دو ہزار روپے بڑی خوشی سے ثمر کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ ثمر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اس نے اسکول میں ارسلان اور عامر کے سامنے فیس جمع کرائی اور اپنی جیت کا اعلان کیا۔
سفر کی رات ثمر کو جوش کے مارے نیند نہیں آئی۔ اگلی صبح، جب ابھی فجر کا وقت تھا، منظم اور وقت کے پابند انور صاحب ہمیشہ کی طرح چار بج کر چالیس منٹ پر بیدار ہوئے۔ انہوں نے وضو کیا اور مسجد کی طرف چل دیے۔ مصلے پر بیٹھ کر انہوں نے اپنے بیٹے کے حق میں لمبی عمر، ایمان اور سفر کی خیریت کی دعا مانگی۔ جب وہ گھر لوٹے تو ثمر اپنا پہیوں والا بستہ اور ضرورت کا سامان اٹھائے بالکل تیار کھڑا تھا۔ انور صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، پیار کیا اور اسے اسکول بس تک چھوڑنے آئے۔
اسکول کی ہائی روف گاڑی جب مری کے بل کھاتے راستوں پر گامزن ہوئی، تو مناظر بدلنے لگے۔ میدانی علاقوں کی تپش پیچھے چھوٹ گئی اور پہاڑوں کی خنکی نے گاڑی کے شیشوں پر دھند کی ہلکی سی چادر تان دی۔
ثمر کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا۔ اونچے کٹیلے پہاڑ، ان پر بنے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے مکانات، اور گہری کھائیاں دیکھ کر اس کا دل اچھلنے لگتا۔ جیسے جیسے گاڑی مال روڈ کی طرف بڑھ رہی تھی، سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑے صنوبر اور چیڑ کے بلند و بالا درخت ایسے لگتے تھے جیسے آسمان کو چھونے کی کوشش کر رہے ہوں۔ فضا میں صنوبر کے پتوں اور گیلے پائن کونز کی ایک سوندھی سی خوشبو رچی ہوئی تھی، جو مری کی خاص پہچان ہے۔
گاڑی جب تھوڑی بلندی پر پہنچی تو بادلوں کے آوارہ ٹکڑے کھڑکیوں کے راستے اندر آنے لگے۔ عامر نے حیرت سے کہا
عامر: ارے ثمر دیکھو! ہم بادلوں کے اندر چل رہے ہیں !
ثمر نے ہمیشہ کی طرح اپنی گردن کو ایک خاص غرور سے جھٹکا اور بولا
ثمر: ہاں، میرے بابا کہہ رہے تھے کہ مری میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمارے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، چوہدریوں کے لیے یہ سب عام ہے۔
ٹرپ کی گاڑی مال روڈ کے ایک خوبصورت ہوٹل کے سامنے رکی۔ سب لڑکے گاڑی سے اترے تو ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے نے ان کا استقبال کیا۔ ارسلان نے چمڑے کا ایک مہنگا جیکٹ پہن رکھا تھا، جبکہ ثمر کے پاس انور صاحب کا لایا ہوا ایک عام سا مگر گرم سویٹر تھا۔
جب ہوٹل کے کمروں کی تقسیم ہونے لگی، تو ثمر نے جان بوجھ کر عامر اور ارسلان کے ساتھ ایک کمرہ لیا۔ کمرے کی بالکونی سے دور برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں صاف نظر آ رہی تھیں جن پر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ مال روڈ کی بتیاں ایک ایک کر کے روشن ہو رہی تھیں، جیسے پہاڑ پر کسی نے موتیوں کی مالا بکھیر دی ہو۔
کھانے کی میز پر جب سب لڑکے بیٹھے، تو ارسلان نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنے مہنگے کیمرے کو میز پر رکھا۔
ثمر کی نظر اس کیمرے پر پڑی، تو اس کے اندر کی ‘انا’ ایک بار پھر جاگ اٹھی۔ عامر نے کہا
عامر: واہ ارسلان! تمہارا کیمرہ تو بہت زبردست ہے، اس سے مری کے مناظر بہت اچھے آئیں گے۔
ثمر سے عامر کا ارسلان کی تعریف کرنا ہضم نہ ہوا، وہ تڑپ کر بولا:
ثمر: اس میں کیا خاص ہے؟ میرے بابا کے پاس اس سے بھی بڑا کیمرہ ہے، وہ تو چونکہ کالج اور اکیڈمی کے کاموں میں مصروف تھے، اس لیے انہوں نے مجھے لانے نہیں دیا، ورنہ میں اس سے بہتر کیمرہ لاتا۔
عامر نے ثمر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا،
عامر: یار ثمر! تم ہر بات پر اپنے بابا کا رعب کیوں جماتے ہو؟ ہم یہاں مری گھومنے آئے ہیں، چلو باہر چل کر برف باری کا منظر دیکھتے ہیں۔
جہاں مری میں ثمر اس جھوٹے رعب اور خمار میں مبتلا تھا، وہیں شہر میں رات کے اس پہر پروفیسر انور اکیڈمی کے لیکچر سے فارغ ہو کر محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے۔ نماز کے بعد انہوں نے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں میں انس و محبت کے آنسو تھے۔ وہ خدا کے حضور گڑ گ ڑا کر دعا کر رہے تھے: "اے اللّٰہ! اے میرے مالک! میرے ثمر کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا، اسے دنیا کے ہر شر سے بچانا اور اسے ایک صالح انسان بنانا۔ "
انور صاحب کو یہ علم نہیں تھا کہ جس بیٹے کے لیے وہ ہر نماز میں، ہر سجدے میں جھک رہے ہیں، وہ مری کی یخ بستہ رات میں ان کی سفید پوشی کا تماشا بنا رہا ہے۔
باہر مال روڈ پر ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو چکی تھی۔ سفید گالے آسمان سے یوں اتر رہے تھے جیسے روئی کے ٹکڑے تیر رہے ہوں۔ سب لڑکے برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مار رہے تھے، لیکن ثمر کا ذہن مناظر کے سحر میں کھونے کے بجائے اس نئے کیمرے اور ارسلان کی امیرانہ وضع قطع پر اڑا ہوا تھا، اور اس کے اندر ایک نئی ضد انگڑائی لے رہی تھی۔
مال روڈ پر لگی ایک پی سی او کی دکان کے اندر ثمر کھڑا تھا، جبکہ عامر اور ارسلان باہر کھڑکی کے شیشے سے اسے دیکھ رہے تھے۔ فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے پروفیسر انور صاحب کی مانوس اور شفیق آواز آئی: "ہیلو، ثمر بیٹا؟”
ثمر نے جوشیلے انداز میں مری کے مناظر کا حال سنانا شروع کیا:
"جی بابا! میں ثمر بول رہا ہوں۔ بابا، مری تو بہت خوبصورت ہے ! ہر طرف پہاڑ ہیں، اور یہاں تو بادل بالکل ہمارے پاس سے گزرتے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہلکی ہلکی برف باری بھی ہو رہی تھی، دیکھ کر مزہ آ گیا۔ "
انور صاحب کے چہرے پر بیٹے کی خوشی کا سن کر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ ابھر آئی، انہوں نے کہا: "شکر ہے اللّٰہ کا بیٹا، تم خوش ہو، بس اپنا خیال رکھنا۔ "
لیکن اگلے ہی لمحے ثمر کا لہجہ بدل گیا، اس کی آواز میں شکایت اور حسد نمایاں ہونے لگا:
"لیکن بابا! یہاں سردی بہت زیادہ ہے، اور یہ جو سویٹر آپ لائے تھے، یہ تو بالکل بے کار ہے۔ اس میں سے ٹھنڈ آر پار ہو جاتی ہے۔ میرے دوست ارسلان نے چمڑے کی اتنی شاندار اور مہنگی جیکٹ پہنی ہوئی ہے، اسے تو بالکل سردی نہیں لگ رہی۔ سب لڑکے اسی کی تعریف کر رہے ہیں۔ "
انور صاحب کا دل بیٹے کی یہ بات سن کر تھوڑا سا کٹ گیا، لیکن انہوں نے خود کو سنبھالا۔ ابھی وہ کچھ بولنے ہی والے تھے کہ ثمر نے اپنی اصل ضد سامنے رکھ دی:
"اور ہاں بابا! ارسلان کے پاس ایک بہت زبردست کیمرہ بھی ہے، وہ اس سے مری کی تصویریں کھینچ رہا ہے۔ میں نے یہاں سب کو کہہ دیا ہے کہ میرے بابا کے پاس اس سے بھی بڑا کیمرہ ہے اور آپ مجھے نیا کیمرہ لے کر دیں گے۔ آپ پلیز کل ہی بازار جا کر میرے لیے ایک اچھا سا کیمرہ خرید لیں، میں واپس آ کر سب کو دکھاؤں گا۔ "
انور صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی: "بیٹا، تصویریں تو دوست کے کیمرے سے بھی کھینچ سکتی ہیں، تم مری گھومو…” لیکن ثمر نے بات کاٹتے ہوئے ضد کی: "نہیں بابا! مجھے اپنا کیمرہ چاہیے، ورنہ میری بے عزتی ہو گی۔ آپ کل ہی پتا کیجیے گا۔” اور اس نے فون بند کر دیا۔
اگلے دن، اپنے اکیڈمی کے لیکچر سے فارغ ہو کر، انور صاحب بھاری قدموں سے شہر کے سب سے بڑے الیکٹرانکس بازار کی طرف چل دیے۔ ثمر کی ضد ان کے دماغ میں گونج رہی تھی۔ وہ ایک دکان پر پہنچے جہاں چمکتے ہوئے نئے کیمرے شیشے کے شوکیس میں سجے ہوئے تھے۔
انہوں نے دکاندار سے ایک اچھے کیمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے پوچھا: "بھائی، یہ کیمرہ کتنے کا ہے؟”
دکاندار نے سرسری نظر انور صاحب کے سادہ لباس اور سفید پوشی پر ڈالی اور سپاٹ لہجے میں بولا:
"پروفیسر صاحب! یہ جاپانی کیمرہ ہے، بالکل نیا ماڈل۔ اس کی قیمت پانچ ہزار روپے ہے۔ "
"پانچ ہزار روپے؟” یہ لفظ انور صاحب کے کانوں میں کسی دھماکے کی طرح گونجے۔ ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ پانچ ہزار روپے اس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ ان کی اکیڈمی کی مہینے بھر کی کمائی سے بھی زیادہ۔ ابھی تو انہوں نے پورے مہینے کے گھر کے اخراجات، راشن کا بل اور یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے تھے۔ دو ہزار روپے وہ پہلے ہی بڑی مشکل سے جوڑ کر ثمر کو ٹرپ کے لیے دے چکے تھے۔
انور صاحب نے لرزتے ہاتھوں سے دکان کے کاؤنٹر کو چھوا۔ ان کی سکت جواب دے چکی تھی۔ وہ دکاندار کو مزید کچھ کہے بغیر، سر جھکائے دکان سے باہر نکل آئے۔
سڑک پر چلتے ہوئے ان کی آنکھوں کے سامنے ثمر کا معصوم بچپن اور اس کی موجودہ ضد گھوم رہی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے اپنی جان تو دے سکتا ہے، لیکن اس پانچ ہزار روپے کی قیمت چکانے کی سکت اس سفید پوش استاد میں کہاں تھی؟ وہ ایک بار پھر اپنے رب کے حضور دل ہی دل میں پکار اٹھے: "یا رب! مجھے میرے بیٹے کی نظروں میں شرمندہ ہونے سے بچا لے۔ "
مری کے یادگار ٹرپ کے بعد اسکول کی ہائی روف گاڑی واپس شہر پہنچی۔ سب لڑکے خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے، مگر ثمر کے قدموں میں ایک عجیب سی بے صبری تھی۔ اس کے ذہن میں مری کی برف باری سے زیادہ اپنے دوستوں کے سامنے کیا ہوا وہ وعدہ گھوم رہا تھا کہ واپسی پر اس کے بابا اسے "جاپانی کیمرہ” دکھائیں گے۔
وہ جیسے ہی گھر کے دروازے سے داخل ہوا، اس نے اپنا پہیوں والا بستہ ایک طرف پٹخا اور صحن میں بیٹھے انور صاحب کی طرف لپٹا۔ اس کی آنکھوں میں امید اور ایک فاتحانہ چمک تھی:
ثمر: بابا! میں واپس آ گیا۔ آپ نے کیمرہ خرید لیا؟ کہاں ہے میرا کیمرہ؟ میں کل اسکول لے کر جاؤں گا!
انور صاحب، جو پچھلے کئی گھنٹوں سے اسی لمحے کے خوف میں مبتلا تھے، انہوں نے عینک اتاری اور بوجھل نظروں سے اپنے دس سالہ بیٹے کو دیکھا۔ ان کا دل لرز رہا تھا، مگر انہوں نے ہمت جمع کی اور دھیمی، لرزتی آواز میں بولے:
انور صاحب: ثمر بیٹا… میں شہر کے سب سے بڑے بازار گیا تھا… دکان دار سے پوچھا بھی تھا… مگر بیٹا، وہ جاپانی کیمرہ پانچ ہزار روپے کا تھا… میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے بابا کی جان۔ اکیڈمی کی پہلی کمائی تو میں نے خوشی خوشی تمہارے ٹرپ کے لیے دے دی تھی، اور اس مہینے کا راشن اور بل بھی ابھی باقی ہیں …
ثمر کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا، اور اگلے ہی لمحے وہ غصے اور مایوسی کی آگ میں جلنے لگا۔ اس کے اندر کی جھوٹی چوہدراہٹ اور انا کو جیسے کسی نے پامال کر دیا ہو۔ اس نے تڑپ کر کہا:
ثمر: میں جانتا تھا بابا! آپ ایسا ہی کرتے۔ آپ کو میری عزت کا کوئی خیال نہیں ہے ! میں نے ارسلان اور عامر کے سامنے شرط لگائی تھی کہ میرے بابا کے پاس اس سے بھی بڑا کیمرہ ہے۔ اب میں اسکول میں انہیں کیا منہ دکھاؤں گا؟ سب میرا مذاق اڑائیں گے کہ چوہدریوں کے پاس پانچ ہزار روپے بھی نہیں ہیں !
سلمیٰ: ثمر! تم اپنے بابا سے کس لہجے میں بات کر رہے ہو (باورچی خانے سے باہر آتی ہوئی سلمیٰ کی کڑک دار آواز صحن میں گونجی)؟
مگر ثمر نے ماں کی بات پر کان دھرنے کے بجائے پیر پٹخے، اپنے کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا اور اندر سے کنڈی لگا لی۔
رات کے ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔ پورا گھر ایک گہری، اداس خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ کچن میں سلمیٰ نے بھاری دل کے ساتھ روٹیاں بنائیں، سالن گرم کیا اور کھانے کی ٹرے سجا کر ثمر کے کمرے کے باہر آئی۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔
سلمیٰ: ثمر بیٹا! دروازہ کھولو۔ تم سفر سے تھکے ہارے آئے ہو، دیکھو میں تمہاری پسند کا کھانا لائی ہوں۔ کچھ کھا لو بیٹا…”ل
کمرے کے اندر سے ثمر کی غصیلے اور اکھڑے لہجے میں آواز آئی۔
ثمر: مجھے نہیں کھانا آپ کا کھانا! لے جائیں یہاں سے ! میں بھوکا ہی سو جاؤں گا، جب تک بابا مجھے کیمرہ نہیں لائیں گے، میں اس گھر میں کچھ نہیں کھاؤں گا!
سلمیٰ نے دو تین بار اور پکارا، مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ٹرے اٹھائے واپس صحن میں آئی، جہاں انور صاحب مصلے پر بیٹھے سر جھکائے خاموشی سے رو رہے تھے۔ ان کی پشت پر گودام کی بوریوں کے زخم شاید اب بھی دکھ رہے تھے، مگر اس وقت ان کے دل کا زخم زیادہ گہرا تھا۔
سلمیٰ نے کھانے کی ٹرے میز پر پٹخی اور تڑپ کر انور صاحب کے سامنے کھڑی ہو گئی:
"انور صاحب! دیکھ لیا آپ نے اپنے لاڈ کا نتیجہ؟ لڑکا مری سے تھکا ہارا آیا ہے، غصے میں تڑپ رہا ہے اور اس نے شام سے ایک نوالہ نہیں توڑا۔ ماں کا دل یہ کیسے برداشت کرے کہ اس کا اکلوتا بچہ بھوکا سوئے؟ لیکن میں اس کے جھوٹ اور ضد کے آگے گھٹنے بھی نہیں ٹیکنے دوں گی۔ آپ کی یہ بادشاہوں والی باتیں اور ہر ضد پوری کرنے کی عادت نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ اب بتائیں، کیا گھر کا چولہا بند کر کے ہم اس کی جھوٹی انا کی قیمت چکائیں؟
انور صاحب نے اپنی نم ناک آنکھیں اٹھا کر سلمیٰ کو دیکھا۔ ان کے پاس بیگم کے اس شکوے کا کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ سلمیٰ کی فکر بالکل سچی تھی۔ ایک طرف باپ کی بے لوث محبت تھی اور دوسری طرف زندگی کے تلخ حقائق۔
باب ہفتم
رات کی اداسی گہری ہو چکی تھی۔ صحن میں سلمیٰ کے شکوے اور مصلے پر بہتے انور صاحب کے آنسوؤں کے درمیان ایک طویل، بوجھل خاموشی چھا گئی تھی۔ اچانک پروفیسر انور صاحب کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ انہوں نے اپنے چہرے سے پسینہ اور آنسو پونچھے، مصلے سے اٹھے اور دھیمے مگر مصمم قدموں سے ثمر کے بند کمرے کی طرف بڑھے۔
انہوں نے دروازے کی لکڑی پر نرمی سے دستک دی:
انور صاحب: ثمر! ثمر بیٹا، دروازہ کھولو… بابا آئے ہیں۔
اندر سے وہی پرانی غصیلی اور ضدی آواز گونجی:
ثمر: بابا! میں نے کہہ دیا ہے، جب تک میرا کیمرہ نہیں آئے گا، میں دروازہ نہیں کھولوں گا اور نہ ہی کھانا کھاؤں گا!
انور صاحب نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بڑے مان بھرے لہجے میں بولے:
انور صاحب: بابا کی جان! دروازہ کھولو اور کھانا کھاؤ۔ میں وعدہ کرتا ہوں، تمہارا کیمرہ کل تک آ جائے گا۔
"کل تک آ جائے گا؟” کا لفظ ثمر کے کانوں میں پڑتے ہی جادو کا اثر کر گیا۔ اندر سے کنڈی کھلنے کی کڑک دار آواز آئی اور دروازہ یکدم کھل گیا۔ ثمر کے چہرے پر ابھی بھی خفگی کے آثار تھے، مگر آنکھوں میں کیمرہ پانے کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ سلمیٰ جو صحن میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی، آگے بڑھی اور خاموشی سے کھانے کی ٹرے ثمر کے آگے رکھ دی۔ ثمر نے بغیر کچھ کہے رغبت سے کھانا شروع کر دیا، جبکہ انور صاحب اسے کھاتا دیکھ کر دل ہی دل میں اپنے رب سے کل کی سرخروئی کی دعا مانگنے لگے۔
اگلی صبح، معمول کے مطابق انور صاحب چار بج کر چالیس منٹ پر اٹھے، نماز ادا کی اور کالج کے لیے روانہ ہو گئے۔ سارا دن کالج کے لیکچرز میں ان کا ذہن اسی پانچ ہزار کی رقم کے جوڑ توڑ میں لگا رہا۔ کالج سے فارغ ہو کر وہ شام کو اکیڈمی پہنچے۔ روز کی طرح اپنی جماعت کو پوری لگن سے پڑھانے کے بعد، جب سب طلبہ چلے گئے، تو انور صاحب بھاری قدموں سے اکیڈمی کے اونر کے کیبن کی طرف بڑھے۔
انور صاحب نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے کہا:
"سر! مجھے کچھ پیسوں کی اشد ضرورت آن پڑی ہے … اگر آپ مجھے پانچ ہزار ایڈوانس دے دیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔ "
اکیڈمی کا اونر، جو ایک کاروباری ذہن کا مالک تھا، عینک کے اوپر سے انور صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا
اونر: انور صاحب! پانچ ہزار روپے؟ یہ تو آپ کی دو ماہ کی پوری تنخواہ بنتی ہے۔ میں رقم تو آپ کو دے دوں گا، کیونکہ آپ کا نام اور علمی مرتبہ ہماری اکیڈمی کے لیے بہت اہم ہے … مگر میری بھی ایک شرط ہے۔
انور صاحب: کیسی شرط؟
اونر نے سپاٹ لہجے میں کہا
اونر: آپ کو روزانہ شام کے کلاسز کے بعد دو گھنٹے ایکسٹرا پڑھانا پڑیں گے۔ رات کی آخری شفٹ میں ہمارے پاس بچوں کا ایک نیا گروپ آیا ہے، آپ کو انہیں بھی وقت دینا ہو گا۔
دو گھنٹے ایکسٹرا پڑھانا! یہ بات انور صاحب کی گرتی ہوئی صحت اور نحیف جسم کے اعتبار سے ایک انتہائی سخت اور جان لیوا کام تھا، کیونکہ دن بھر کالج اور پھر شام کو اکیڈمی کے بعد ان کے جسم میں اتنی سکت نہیں بچتی تھی۔ لیکن انور صاحب کی آنکھوں کے سامنے ثمر کا وہ چہرہ گھوم گیا جو کیمرے کے بغیر اسکول جانے سے انکار کر رہا تھا۔
انہوں نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا:
انور صاحب: ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے۔
انور صاحب کانپتے ہاتھوں میں پانچ ہزار روپے کا لفافہ لیے اکیڈمی سے نکلے اور سیدھا الیکٹرانکس مارکیٹ پہنچے۔ انہوں نے دکاندار کو رقم تھمائی اور وہ چمکتا ہوا نیا جاپانی کیمرہ خرید لیا۔
جب وہ رات گئے گھر پہنچے اور کیمرے کا ڈبہ ثمر کے ہاتھ میں تھمایا، تو ثمر خوشی سے نہال ہو گیا! وہ کیمرے کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا، مانو اسے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت مل گئی ہو۔ اس کی یہ بے پناہ خوشی دیکھ کر انور صاحب کے چہرے پر ایک پھیکی سی مگر صابرانہ مسکراہٹ آ گئی، اور وہ چپ چاپ صحن کی اس پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گئے۔
ثمر تو کیمرہ پا کر خوش ہو گیا، مگر اس کے بدلے اب پروفیسر انور صاحب کے شب و روز ایک عذاب بن چکے تھے۔ اب ان کا کوئی دن سکون کا اور کوئی رات آرام کی نہیں رہی تھی۔ صبح کالج، شام کو اکیڈمی اور پھر رات دیر تک وہ اضافی دو گھنٹے کی ہڈی توڑ مشقت… اس سخت محنت نے ان کے بوڑھے اور صابر جسم کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا تھا، مگر وہ اپنے بیٹے کے سامنے اپنے اس درد کو کبھی ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔
اگلے دن ثمر کیمرہ اسکول لے کر جاتا ہے۔ وہ دوستوں میں اپنی واہ واہی تو کرا لیتا ہے۔ مگر اس واہ واہی کی قیمت انور صاحب کو چکانا پڑے گی۔ انور صاحب پر لگا تار دو ماہ کام کا بوجھ بڑھ گیا اور وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔
دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔ انور صاحب کے چہرے کی جھریاں گہری اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے واضح ہونے لگے۔ اب ان کا شیڈول ایک ایسی مشین جیسا تھا جس میں آرام کا کوئی پرزہ نہ تھا۔ رات کے دس بجے جب وہ اکیڈمی کی آخری اضافی کلاس لے کر نکلتے، تو اسکول کی ٹھنڈی سڑکوں پر ان کے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے۔ شدید تھکن کی وجہ سے اکثر ان کے سر میں درد رہتا اور کھانسی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا، مگر وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتے۔
دوسری طرف، ثمر کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔ اسکول میں اب وہ ایک "معزز” طالب علم بن چکا تھا۔ ہر فنکشن، ہر میچ اور ہر پکنک پر ثمر کا جاپانی کیمرہ مرکزِ نگاہ ہوتا۔ دوست اس کے گرد گھیرا ڈالے رہتے اور وہ فخر سے گردن اکڑا کر تصویریں کھینچتا۔
ایک شام، جب انور صاحب گھر لوٹے تو نقاہت سے ان کا برا حال تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح صحن کی اسی پرانی لکڑی کی کرسی پر ڈھیر ہو گئے۔ سلمیٰ پانی کا گلاس لیے آئی، تو انور صاحب کا زرد چہرہ دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔
سلمیٰ: انور صاحب! آپ کی یہ حالت…؟ آپ دن بہ دن گھلتے جا رہے ہیں۔ یہ دو گھنٹے کی اضافی مشقت آپ کی جان لے لے گی۔ خدا کے لیے اکیڈمی کے اونر سے بات کریں، اب تو دو مہینے پورے ہونے کو ہیں (فکر مندی سے کہا)
انور صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس لیا اور ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولے:
انور صاحب: سلمیٰ، بس چند دنوں کی بات اور ہے۔ قرض اتر جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم دیکھتی نہیں ہو، ہمارا ثمر اب کتنا خوش رہتا ہے؟ اسکول جانے سے کتراتا تھا، اب روز صبح شوق سے جاتا ہے۔ اولاد کی خوشی سے بڑھ کر ایک باپ کے لیے اور کیا ہو گا؟
سلمیٰ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کمرے کی طرف دیکھا، جہاں ثمر اپنے دوستوں کی تصاویر کمپیوٹر پر ایڈٹ کرنے میں مگن تھا اور اسے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کے کمرے کی روشنی اس کے بوڑھے باپ کی زندگی کے چراغ کو مدھم کر رہی ہے۔
دو ماہ کی آخری رات آ پہنچی۔ انور صاحب نے اکیڈمی میں اپنے خون پسینے سے کمائے ہوئے قرض کی آخری قسط اتاری۔ اکیڈمی کے اونر نے کچھ لفافہ دراز میں رکھتے ہوئے روکھے پن سے کہا:
اونر: مبارک ہو انور صاحب! آپ کا قرض تو اتر گیا، لیکن اگر آپ یہ اضافی کلاسز جاری رکھنا چاہیں تو میں آپ کو الگ سے کچھ پیسے دے سکتا ہوں۔
انور صاحب نے صابرانہ انداز میں سر ہلایا اور کہا،
انور صاحب: شکریہ سر، لیکن میرا جسم اب مزید اجازت نہیں دیتا۔
جب وہ اکیڈمی سے باہر نکلے، تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سرد ہوا کے جھونکے ان کے سینے میں تیر کی طرح لگ رہے تھے۔ وہ بمشکل قدم گھسیٹتے ہوئے گھر کی گلی میں پہنچے۔ ان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ جیسے ہی انہوں نے گھر کا دروازہ کھولا، ان کے حلق سے ایک شدید کھانسی کا دورہ اٹھا اور وہ صحن کے فرش پر گر پڑے۔
آواز سن کر سلمیٰ اور ثمر دوڑتے ہوئے باہر آئے۔
سلمیٰ: ثمر! جلدی آؤ، دیکھو تمہارے بابا کو کیا ہوا! (چیختے ہوئے)
ثمر نے آگے بڑھ کر اپنے بابا کا ہاتھ تھاما، جو برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ انور صاحب بے ہوش ہو گئے تھے۔
جب ڈاکٹر گھر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ انہیں شدید کمزوری ہے اور کمزوری کے مارے بے ہوش ہو گئے ہیں انہیں مکمل بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے انہیں کچھ ایام سکون کے دیجئے کام کا بوجھ کم کر دیجئے۔
باب ہشتم
جب انور صاحب کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو انہوں نے کہا کہ "زیادہ سٹریس کے باعث ان کی یہ حالت ہوئی ہے۔ اگلا جھٹکا جان لیوا ثابت ہو گا۔” اس واقعے نے ثمر کو کچھ عرصے کے لیے تو خاموش اور سنجیدہ کر دیا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، انور صاحب کی صحت سنبھلنے لگی اور ثمر کی عمر کے ہند سے بدلنے لگے، وہ پرانی ضد اور خواہشات ایک بار پھر نئے روپ میں جاگ اٹھیں۔
اب ثمر سولہ، سترہ سال کا ایک خوبرو اور پرکشش نوجوان بن چکا تھا، جو میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر چکا تھا۔ دوسری طرف، پروفیسر انور صاحب اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکے تھے اور اب وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو رہے تھے۔ تمام عمر اسکول، کالج اور اکیڈمیوں کی خاک چھاننے کے بعد، اب ان کا نحیف جسم مکمل آرام مانگ رہا تھا۔
کالج میں الوداعی تقریب کے بعد جب انور صاحب گھر لوٹے، تو ان کے ہاتھ میں ریٹائرمنٹ کے کاغذات اور ایک چیک بک تھی، جس میں ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی-گریجویٹی اور فنڈز کی رقم-موجود تھی۔ یہ وہ رقم تھی جس سے انور صاحب اپنی باقی ماندہ زندگی میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر عزت کی روٹی کھانا چاہتے تھے اور سلمیٰ کی دیرینہ خواہش کے مطابق حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
خوابوں کی اونچی اڑان
ایک شام، جب انور صاحب صحن میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے اور اپنے مستقبل کا حساب کتاب لگا رہے تھے، ثمر ہاتھ میں ایک چمکتا ہوا برو شر لیے داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر وہی پرانی چمک اور آنکھوں میں ایک نئی دھن تھی۔
وہ سیدھا انور صاحب کے پاس آیا اور برو شر ان کے سامنے میز پر رکھ دیا۔
ثمر: "بابا! مجھے شہر کے سب سے مہنگے اور نامور ‘روئل انٹرنیشنل کالج’ میں داخلہ لینا ہے۔ میں نے میٹرک میں اچھے نمبر لیے ہیں، وہاں میرا داخلہ پکا ہے !”
انور صاحب نے عینک درست کی، برو شر اٹھایا اور جب اس کی فیسوں کے ڈھانچے پر نظر ڈالی تو ان کے ہاتھ کانپ گئے۔ داخلہ فیس، سیکیورٹی فنڈ، لائبریری فنڈ اور ماہانہ اخراجات ملا کر وہ ایک خطیر رقم بن رہی تھی۔
انور صاحب: (دھیمے اور سمجھانے والے لہجے میں) "بیٹا! یہ تو بہت بڑا اور مہنگا کالج ہے۔ ہمارے شہر کا سرکاری کالج بھی بہت اچھا ہے، میں نے خود وہاں پڑھایا ہے۔ وہاں سے پڑھے ہوئے بچے بھی بڑے بڑے عہدوں پر پہنچتے ہیں۔ "
ثمر کا چہرہ یکدم اتر گیا، اور اس کے لہجے میں وہی پرانی تلخی لوٹ آئی جو کیمرے کے وقت ہوا کرتی تھی۔
ثمر: "بابا! سرکاری کالج میں کون پڑھتا ہے؟ وہاں نہ تو کوئی ماحول ہے اور نہ ہی وہ سٹیٹس۔ میرے سارے دوست روئل کالج جا رہے ہیں۔ اگر میں وہاں نہ گیا تو سب میرا مذاق اڑائیں گے۔ آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا بیٹا ایک بڑے کالج سے پڑھے؟”
سلمیٰ جو باورچی خانے سے نکل رہی تھی، ثمر کی بات سن کر ٹھٹک گئی۔ اس نے انور صاحب کے چہرے پر ابھرتی ہوئی تشویش کی لکیروں کو صاف پڑھ لیا۔
سلمیٰ: "ثمر بیٹا! ضد نہیں کرتے۔ تمہارے بابا اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اب ہماری آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہو گا۔ ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔ "
زندگی بھر کی کمائی کا سودا
ثمر نے سلمیٰ کی بات کو بالکل ان دیکھا کیا اور سیدھا انور صاحب کے گھٹنوں کے پاس بیٹھ گیا۔ اس بار اس کا انداز غصیلا نہیں، بلکہ شدید جذباتی اور مانگنے والا تھا۔
ثمر: "بابا! مجھے معلوم ہے آپ کو ریٹائرمنٹ کے پیسے ملے ہیں۔ وہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں پڑی ہے۔ اگر آپ وہ پیسے میری تعلیم پر، میری زندگی بنانے پر خرچ نہیں کریں گے تو کس کام آئیں گے؟ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، وہاں سے پڑھ کر میں ایک بڑا افسر بنوں گا اور آپ کی ساری جمع پونجی سود سمیت واپس لوٹا دوں گا۔ بس ایک بار… میری زندگی کا سوال ہے بابا، مجھے اس مہنگے کالج میں داخلہ دلا دیں۔ "
ثمر کے الفاظ انور صاحب کے دل پر تیر کی طرح لگے۔ ایک باپ کے لیے یہ سننا کہ "وہ اپنی اولاد کی زندگی نہیں بنانا چاہتا” سب سے بڑی گالی کے مترادف تھا۔ انور صاحب نے اپنی زندگی بھر کی کمائی پر نظر ڈالی، جس سے انہوں نے اپنے بڑھاپے کا سہارا بنانا تھا، اپنی بیماری کا علاج کرنا تھا، اور خدا کے گھر کی زیارت کرنی تھی۔
لیکن سامنے ان کا جوان بیٹا تھا، جس کی آنکھوں میں اونچے خواب تھے -چاہے وہ خواب کتنے ہی سطحی اور دکھاوے کے کیوں نہ ہوں۔
انور صاحب نے ایک لمبا، سرد سانس لیا۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا، مانو اپنے رب سے کہہ رہے ہوں کہ ‘میں نے اپنی زندگی میں کبھی اپنے لیے کچھ نہیں مانگا، آج پھر خود کو ہار رہا ہوں ‘۔
انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی جیب سے چیک بک نکالی۔ قلم اٹھایا اور ثمر کے داخلے اور پہلے سال کے اخراجات کی بھاری رقم اس پر لکھ دی۔ چیک پر دستخط کرتے وقت ان کا ہاتھ لرز رہا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ صرف کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دستخط نہیں کر رہے، بلکہ اپنے بڑھاپے کے تحفظ اور اپنی زندگی کے آخری خوابوں کا سودا کر رہے ہیں۔
انہوں نے وہ چیک ثمر کے ہاتھ میں تھما دیا۔
انور صاحب: (بوجھل مگر شفقت بھرے لہجے میں) "یہ لو بیٹا… یہ میری تمام عمر کی جمع پونجی کا بڑا حصہ ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا ہر قطرہ تمہارے مستقبل کے نام کر دیا۔ بس ایک بات یاد رکھنا… اس پیسوں میں صرف رقم نہیں، تمہارے باپ کے بوڑھے جسم کا خون اور تمہاری ماں کی دعائیں شامل ہیں۔ وہاں جا کر صرف نام کی نہیں، کام کی واہ واہی کمانا۔ "
ثمر نے چیک دیکھا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے انور صاحب کو گلے سے لگایا، "تھینک یو بابا! آپ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں !” اور وہ چیک لے کر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا تاکہ اپنے دوستوں کو فون پر یہ بڑی خوشخبری سنا سکے۔
انور صاحب وہیں کرسی پر بیٹھے رہ گئے۔ سلمیٰ ان کے پاس آئی اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔ انور صاحب نے سلمیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولے:
"سلمیٰ… حج تو دل کی نیت کا نام ہے نا؟ اللہ نیتیں دیکھتا ہے۔ اگر میرا بیٹا بڑا انسان بن گیا، تو سمجھو میرا حج قبول ہو گیا۔ "
صحن میں اندھیرا پھیل رہا تھا، اور انور صاحب ایک بار پھر خالی ہاتھ، مگر ایک صابر باپ کا مان لیے خاموش بیٹھے تھے، جبکہ وقت کا پہیہ ایک نئے امتحان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
باب نہم
روئل کالج کی چمک دمک، اونچی سوسائٹی کے دوستوں کے قہقہے اور مصنوعی شان و شوکت میں گم ثمر کے دن اب صرف برانڈڈ کپڑے پہننے، کیفے ٹیریا میں اڑانے اور اپنی جھوٹی امارت کا رعب جمانے کی کوششوں میں گزر رہے تھے۔ اسے اس بات کی رتی برابر پرواہ نہیں تھی کہ اس کے نخرے کہاں سے پورے ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، انور صاحب کے بوڑھے اور خستہ حال گھر کی دیواروں پر اکیلاؤ، مایوسی اور محرومی کا سایہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا اور ہولناک ہوتا جا رہا تھا۔
ثمر کی آئے روز کی نئی فرمائشیں اور کالج کے اخراجات پورے کرتے کرتے گھر کے ماہانہ راشن میں کٹوتی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اب دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہوتی تھی۔ بنیادی ضرورتوں، جیسے دودھ، پھل اور ضروری دواؤں کو تو جیسے گھر سے دیس نکالا مل چکا تھا۔ اس شدید مالی تنگی اور غذائی قلت کا اثر اب سیدھا گھر کے بزرگوں کی صحت پر پڑ رہا تھا، لیکن ثمر ان سب باتوں سے بے خبر اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔
ایک تپتی اور جھلساتی ہوئی دوپہر، جب سورج آگ برسا رہا تھا، انور صاحب کسی کام کے سلسلے سے باہر گئے ہوئے تھے اور ثمر ہمیشہ کی طرح کالج کے دوستوں کے ساتھ کہیں تفریح میں مصروف تھا۔ سلمیٰ باورچی خانے کے شدید حبس اور گرمی میں اکیلی کام کر رہی تھی۔ پچھلے کئی ماہ سے اس کی طبیعت اندر ہی اندر گر رہی تھی۔ اکثر اس کے سینے میں ایک ایسا شدید اور جان لیوا درد اٹھتا تھا کہ اس کی سانس رکنے لگتی تھی، اور نقاہت اس حد تک تھی کہ جسم کا وزن سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ لیکن جب بھی وہ انور صاحب کے چہرے پر پریشانی کی جھریاں اور ثمر کی بھاری فیسوں کا کاغذ دیکھتی، وہ ایک گہرا سانس لے کر سارا درد پی جاتی اور اف تک نہ کرتی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیماری اس غریب گھرانے پر ایک نیا بوجھ بن جائے۔
آج کچن میں کام کرتے ہوئے اچانک اس کے سینے میں ایک تیز، نوکیلی لہر اٹھی، جس نے اس کے پورے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، سر چکرایا، اور دیوار کا سہارا لینے کی کوشش میں اس کا ہاتھ ہوا میں لہرایا۔ وہ ایک دھیمی، دردناک سسکاری کے ساتھ صحن کے تپتے ہوئے پکے فرش پر بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ باورچی خانے کا برتن زمین پر گرا اور دور تک اس کی گونج سنائی دی، مگر اس گونج کو سننے والا وہاں کوئی نہ تھا۔
کئی گھنٹوں بعد جب انور صاحب تھکے ہارے گھر لوٹے، تو صحن کا منظر دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے سلمیٰ تپتے فرش پر بے سدھ پڑی تھی۔ انور صاحب کے حواس معطل ہو گئے۔ انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دوڑ کر اس کا سر اپنی گود میں لیا، اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، بار بار اس کا نام پکارا: "سلمیٰ! اٹھو سلمیٰ! دیکھو میں آ گیا ہوں!” مگر سلمیٰ کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ وہ شدید بدحواسی کی حالت میں باہر بھاگے اور محلے کے ایک نوجوان لڑکے کی منت سماجت کر کے، ایک ٹیکسی کا انتظام کیا اور اسے قریبی ہسپتال لے گئے۔
ہسپتال کی سرد، سفید اور کلوروفارم کی بو سے مہکتی راہداریوں میں گھنٹوں کی تگ و دو، منتوں اور کئی تفصیلی ٹیسٹوں کے بعد، جب ڈاکٹر صاحب نے رپورٹس تیار کیں تو انور صاحب کو اپنے چیمبر میں بلایا۔ ڈاکٹر کے چہرے پر چھائی گہری سنجیدگی اور خاموشی نے انور صاحب کے دل کی دھڑکنوں کو جیسے ایک پل کے لیے روک دیا۔
ڈاکٹر نے اپنی عینک کو ناک پر ٹکاتے ہوئے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
ڈاکٹر: جناب! مجھے انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ محترمہ ‘کینسر’ جیسے موذی اور بے رحم مرض میں مبتلا ہیں … اور ستم یہ ہے کہ یہ بیماری اب اپنے آخری اسٹیج پر پہنچ چکی ہے۔ جسم کے اندر یہ کینسر بہت پھیل چکا ہے۔ سچ کہوں تو، آپ نے انہیں یہاں لانے میں بہت دیر کر دی۔
لفظ ‘کینسر’ انور صاحب کے کانوں میں کسی خوفناک آسمانی بجلی کے دھماکے کی طرح گونجا۔ ان کی بوڑھی، ضعیف آنکھوں کے سامنے سارا چیمبر گھومنے لگا اور اندھیرا چھا گیا۔ انہوں نے میز کا کنارہ تھاما تاکہ وہ گر نہ جائیں۔ ان کی کانپتی ہوئی آواز ہلکے سے بمشکل نکلی۔
انور صاحب: ڈاکٹر صاحب… خدا کے لیے ایسا نہ کہیں۔ کوئی تو علاج ہو گا اس کا؟ دنیا نے اتنی ترقی کر لی ہے … کوئی مہنگی دوا، کوئی بڑا آپریشن؟ آپ جو کہیں گے، میں وہ کروں گا۔ میں اپنا گھر بیچ دوں گا، اپنی جان لگا دوں گا، بس میری سلمیٰ کو بچا لیجیے۔
ڈاکٹر: علاج ممکن تو ہے جناب، لیکن بہت کٹھن ہے۔ کیموتھراپی کے سیشنز اور انتہائی مہنگی غیر ملکی ادویات کے ذریعے ہم شاید ان کی زندگی کے چند دن بڑھا سکیں، ان کی تکلیف کم کر سکیں … لیکن اس کے لیے بہت بڑی، خطیر رقم درکار ہو گی۔ ہسپتال کا روز کا خرچہ، قیمتی انجکشن اور روزانہ کے ٹیسٹ… یہ لاکھوں کا سودا ہے، جو ایک عام انسان کے لیے برداشت کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔
انور صاحب نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے نفع نقصان کا نہیں سوچا۔ ان کے پاس ریٹائرمنٹ کے بعد جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچی تھی (جس کا بڑا حصہ وہ پہلے ہی ثمر کے داخلے پر اڑا چکے تھے)، اور جو چند تولے سونا سلمیٰ کے پاس اس کی شادی کا بچا ہوا تھا، انہوں نے اسی وقت سب کچھ داؤ پر لگانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے سونا سنار کو سستے داموں بیچا اور بینک کا اکاؤنٹ خالی کر دیا۔
دن گزرتے گئے، اور انور صاحب کی عمر بھر کی جمع پونجی ہسپتال کے بلوں کی بھٹی میں برف کی طرح پگھلنے لگی۔ ہر ہفتے مہنگے کیمو کے انجکشن، ہسپتال کے روزانہ کے اخراجات، اور نئے ٹیسٹ… انور صاحب نے زندگی میں کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا، لیکن اب انہوں نے اپنی عزتِ نفس کا جنازہ اٹھاتے ہوئے چند قریبی دوستوں اور رشتہ داروں سے ادھار مانگنا شروع کر دیا۔ جب وہاں سے بھی جواب مل گیا، تو گھر کا قیمتی سامان، فریج، ٹی وی، اور یہاں تک کہ بستر اور برتن بھی ایک ایک کر کے بکنے لگے۔ وہ خود کئی کئی دن بھوکے رہتے تاکہ سلمیٰ کی دوا کا ایک پتا خریدا جا سکے، جبکہ ثمر اب بھی اپنے دوستوں میں مصروف تھا اور ہسپتال کے چکر کاٹنے سے کتراتا تھا۔
لیکن انسانی کوششوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ سرمایہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا اور دوسری طرف سلمیٰ کی سانسوں کی ڈور بھی لمحہ بہ لمحہ کمزور سے کمزور تر ہو رہی تھی۔ جب دواؤں کے لیے پیسے بالکل ختم ہو گئے، میڈیکل اسٹور والے نے مزید ادھار دینے سے صاف انکار کر دیا، تو انور صاحب بالکل لاچار اور خالی ہاتھ ہسپتال کے وارڈ میں بیڈ کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر نے آ کر نبض دیکھی اور صدمے سے سر ہلا دیا، جس کا مطلب صاف تھا کہ اب معجزہ ہی اسے بچا سکتا ہے۔
ایک انتہائی خاموش اور بوجھل رات تھی، جب ہسپتال کے اس نیم اندھیرے کمرے میں صرف کارڈیئک مانیٹر کی دھیمی اور منحوس ‘بیپ بیپ’ کی آواز آ رہی تھی۔ سلمیٰ نے بڑی مشکل سے، اپنی نقاہت سے چور، کانپتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور اپنا ٹھنڈا پڑتا ہوا ہاتھ انور صاحب کے کھردرے اور آنسوؤں سے گیلے ہاتھ پر رکھا۔ اس کی آواز اتنی نحیف تھی کہ لگ رہا تھا جیسے دور کہیں سے آ رہی ہو:
سلمیٰ: انور صاحب… مجھے … مجھے معاف کر دیجیے گا… میں آپ کا ساتھ عمر بھر نبھانا چاہتی تھی، مگر میری سانسوں کا سفر یہیں تک تھا… میں آپ کا ساتھ یہیں تک دے سکی۔ ثمر… ثمر کا خیال رکھیے گا… وہ نادان ہے، دنیا کی چمک میں اندھا ہو گیا ہے، اسے معاف کر دیجیے گا…
اور اس آخری لفظ کے ساتھ ہی، مانیٹر کی وہ چلتی ہوئی لکیر اچانک سیدھی ہو گئی اور ایک مسلسل، لمبی ‘ٹیں۔۔ ۔ ‘ کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔ سلمیٰ اس بے وفا دنیا، غربت کے دکھوں اور اپنے سگے بیٹے کی بے رخی سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ کر رخصت ہو چکی تھی۔
انور صاحب پاگلوں کی طرح سلمیٰ کے اس بے جان، ٹھنڈے ہاتھ کو اپنے چہرے اور آنکھوں سے رگڑنے لگے اور اس مردہ وجود سے باتیں کرنے لگے، جیسے وہ ابھی بول اٹھے گی۔
انور صاحب: سلمیٰ! تم ایسے کیسے جا سکتی ہو؟ تم ہی تو میرے ہر دکھ سکھ کی سچی ساتھی تھی۔ جب دنیا نے منھ موڑا، تم میرے ساتھ کھڑی رہیں۔ اب تم ہی مجھے اس طوفان میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں؟ اب میری ہمت کون باندھے گا؟ مجھے کون سنبھالے گا سلمیٰ؟ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاؤ…” (وہ سسک سسک کر، بچوں کی طرح بلکتے ہوئے اس کے بیڈ پر گر پڑے)۔
انور صاحب کی پوری دنیا یکلخت اندھیر ہو گئی۔ وہ وہیں فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سب کچھ اپنی عمر بھر کی سفید پوشی کی کمائی اور اپنی سب سے عزیز شریکِ حیات کو کھو دیا تھا۔ اب ہسپتال کے اس سرد کمرے میں، موت کے سائے تلے، وہ اس بے رحم اور مطلبی دنیا میں بالکل، بالکل اکیلے رہ گئے تھے۔
باب دہم
گھر کے دالان میں پھیلا ہوا گھپ اندھیرا اب محض سورج ڈوبنے کے بعد کی کوئی عام رات نہیں تھی، بلکہ یہ اس ابدی، مہیب تنہائی کا پیش خیمہ تھا جو سلمیٰ کے رخصت ہو جانے کے بعد انور صاحب کا مقدر بن چکی تھی۔ وہ صحن کے ایک الگ تھلگ کونے میں پڑی، دیمک زدہ پرانی لکڑی کی کرسی پر کسی پتھر کے مجسمے کی طرح ساکت بیٹھے تھے۔ وقت جیسے کسی دلدل میں پھنس کر تھم سا گیا تھا، یا شاید انور صاحب کے وجود کے اندر کا وقت سلمیٰ کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے رک چکا تھا۔
ہوا کا ایک سرد، نم آلود اور مٹیالا جھونکا دالان کی سونی فضا سے گزرا، تو چھت سے لٹکا ہوا پرانا، مٹی سے اٹا ہوا زرد بلب ہلکے سے لرزا۔ اس لرزش سے نیم تاریک دیواروں پر بننے والے ہیبت ناک سائے دیوار کی دراڑوں پر رینگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے، گویا وہ بے جان سائے نہیں تھے بلکہ انور صاحب کے ماضی کے پچھتاوے اور ادھوری حسرتیں تھیں جو دیواروں سے اتر کر ان کے جھریاں زدہ وجود کو نوچنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔
انور صاحب نے سینے کے گہرے خانے سے ایک طویل، یخ بستہ آہ بھری۔ انہوں نے اپنی لرزتی ہوئی، کمزور انگلیوں سے موٹے شیشوں والی عینک اتاری اور ہمیشہ کی طرح قمیص کے دامن سے اس کے شیشے صاف کرنے لگے۔ یہ ان کی برسوں پرانی عادت تھی جب وہ کسی ذہنی الجھن یا گہری سوچ کے گرداب میں ہوتے تھے، مگر آج شیشے دھندلے نہیں تھے ؛ اصل دھند تو ان کی اپنی بوڑھی، ویران آنکھوں میں اتری ہوئی تھی، جو اس شدید صدمے پر آنسو بن کر بہنے سے بھی انکاری تھیں۔ سلمیٰ کا غم انہیں اندر ہی اندر اس طرح چاٹ رہا تھا جیسے کوئی خاموش دیمک کسی مضبوط اور صدیوں پرانی لکڑی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور باہر صرف ایک بھربھرا، فریب نما ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔
پرانی لکڑی کا وہ بھربھرا ڈھانچہ، جو ایک تیز ہوا کے جھونکے کی مار تھا،
آج خاندانی بھرم کی آخری کڑی بنا کھڑا تھا۔
وہ بار بار حسرت اور یاسیت سے مڑ کر صحن کے پار بند کمرے کے اس بوسیدہ کواڑ کو دیکھتے، جہاں کبھی سلمیٰ کی مٹیالی چوڑیوں کی چھن چھن، اس کے پازیب کی دھیمی آہٹ اور اس کی نرم، دلنشین ہنسی گونجتی تھی۔ وہ ہنسی جو اس ویران مکان کو ‘گھر’ بناتی اور اس کی روح تھی۔ اب وہاں صرف ایک بھیانک، بوجھل اور سنگین خاموشی کا راج تھا جو کانوں کے پردوں کو پھاڑنے لگی تھی۔ وہ غم جو وہ کسی سے بانٹ نہیں سکتے تھے، جو مردانگی، خاندانی وقار اور "لوگ کیا کہیں گے” کے جھوٹے بھرم کے لبادے میں چھپا ہوا تھا، اب ان کے بوڑھے سینے پر ایک وزنی چٹان بن کر بیٹھ گیا تھا، جس کے نیچے دبا ہوا ان کا سانس لینا بھی ایک عذابِ مسلسل لگ رہا تھا۔
مگر اس جان لیوا تنہائی اور اندوہناک ماتم سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ ناسور تھا جو ان کا اپنا خون، ان کا اکلوتا بیٹا ثمر، ان کے بوڑھے وجود پر روز لگا رہا تھا۔ ثمر کی سرکشی اور نافرمانی اب ابلیسیت کے عروج کو چھو رہی تھی۔ وہ اب وہ معصوم، فرمانبردار بچہ نہیں رہا تھا جسے کبھی انور صاحب کی ایک سخت نظر یا ایک دھیمی سی ڈانٹ سہم جانے پر مجبور کر دیتی تھی۔ اب اس کی آنکھوں میں باپ کے لیے احترام کی جگہ ایک عجیب سی وحشت، بیگانگی اور خونی بغاوت نے لے لی تھی۔ وہ روز انور صاحب کی انا، سفید بالوں اور باپ کی بے غرض محبت کا سرِ عام خون کرتا تھا اور انور صاحب صرف بے بس تماشائی بنے اپنی لکڑی کی کرسی سے یہ سب دیکھنے پر مجبور تھے۔
ابھی رات کے سیاہ بارہ بج رہے تھے۔ دالان کا سناٹا اتنا گہرا اور پراسرار تھا کہ انور صاحب کو اپنے بوڑھے دل کی گرتی ہوئی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں کہ اچانک باہر کا بھاری، لوہے کا زنگ آلود دروازہ ایک زوردار، بے رحم جھٹکے سے کھلا۔ لوہے کی اس تیز، کانوں کو چبھتی چڑچڑاہٹ نے رات کے بھیانک سکوت کو بے دردی سے چیر کر رکھ دیا۔ انور صاحب کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا اور ان کی ریڑھ کی ہڈی میں برفانی سنسناہٹ دوڑ گئی۔
ثمر اندر داخل ہوا۔ اس کے قدموں میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی، جیسے وہ زمین پر نہیں بلکہ اپنے ہی ہوش و حواس اور اخلاقیات کے ملبے پر چل رہا ہو۔ اس کے سیاہ، بکھرے ہوئے بال پیشانی پر پسینے سے چپکے ہوئے تھے اور چہرے پر ایک ایسی غلیظ بیزاری، تکبر اور فرعونیت لکھی تھی جو کائنات کے کسی قانون، دنیا کے کسی پاکیزہ رشتے اور دل کے کسی خوف کو تسلیم کرنے سے صاف انکاری تھی۔
انور صاحب صدمے، خوف اور دکھ کے ایک طوفان کے ساتھ اپنی لکڑی کی کرسی کا سہارا لے کر اٹھے۔ اس وقت ان کی بوڑھی ہڈیاں چٹخ رہی تھیں، بدن جواب دے رہا تھا، مگر ایک باپ کی غیرت اور وقت کی سنگین نزاکت نے انہیں اس سرکش جوان کے سامنے کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔
انور صاحب: اس وقت آ رہے ہو ثمر؟” انور صاحب کی آواز دالان کی سرد ہواؤں میں لرزتی ہوئی گونجی۔ اس آواز میں کسی حاکم باپ کا رعب نہیں تھا، بلکہ ایک ہارے ہوئے، اندر سے ٹوٹ کر بکھرے ہوئے بوڑھے کی التجا تھی، "کہاں تھے اب تک؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ گھر کس کربِ مسلسل سے گزر رہا ہے؟ تمہاری ماں کو قبر میں اترے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے اور تم۔۔ ۔ "
ثمر کے لڑکھڑاتے قدم ایک لمحے کے لیے رکے۔ اس نے دھیرے سے اپنا بوجھل سر اٹھایا اور اپنی سرخ، نشیلی اور خوف سے عاری آنکھیں اپنے بوڑھے باپ کے سفید بالوں اور جھریاں زدہ چہرے پر ٹکائیں۔ اس کی نظروں میں ندامت کا ایک ادنیٰ سا سایہ بھی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا زہریلا طنز تھا جو کسی زہر بجھے تیر کی طرح انور صاحب کے نحیف سینے کے آر پار ہو گیا۔
ثمر: آپ کا کرب آپ کا اپنا ہے، بابا ثمر نے (انتہائی سرد، کھردرے اور کٹیلے لہجے میں کہا، جیسے وہ کسی باپ سے نہیں بلکہ اپنے کسی خونی دشمن سے مخاطب ہو) اور مجھے اس قید خانے میں اب دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ میری زندگی میں دخل اندازی کرنا بند کر دیں تو آپ کے لیے اور میرے لیے، دونوں کے لیے بہتر ہو گا۔
انور صاحب ‘ زبان کو لگام دو ثمر!
انور صاحب کے اندر کا باپ تڑپ اٹھا۔ ان کا نحیف، جھریاں زدہ ہاتھ غصے اور بے بسی کے عالم میں ہوا میں اٹھا، مگر ان کے نحیف وجود میں اب اتنی سکت کہاں تھی کہ وہ اس سرکش، تندرست اور جاہل جوانی کی وحشت کا مقابلہ کر سکتے۔ ان کا وہ ہاتھ، جس کی ایک جنبش سے کبھی پورا گھر سہم جاتا تھا، آج ہوا میں ہی پتے کی طرح بری طرح کانپ کر رہ گیا اور دھیرے سے نیچے گر گیا۔
انور صاحب: سلمیٰ چلی گئی۔۔ ۔ اور تم۔۔ ۔ تم اس گھر کو جہنم کا نمونہ بنا رہے ہو؟ کیا اسی دن کے لیے تمہیں پالا تھا؟ کیا یہی سکھایا تھا میں نے تمہیں؟
ثمر نے انور صاحب کی اس آخری حد کو چھوتی بے بسی پر ایک زوردار، تلخ اور سفاکانہ قہقہہ لگایا۔ وہ قہقہہ جب دالان کی پرانی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آیا، تو انور صاحب کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترا، جس نے ان کی روح تک کو جھلسا کر رکھ دیا۔
ثمر: امی کا نام مت لیں آپ اپنے منہ سے ! (ثمر کی آواز میں اب چنگاریاں ابل رہی تھیں اور آنکھیں وحشت سے پھیل گئی تھیں) آپ نے ان کے جیتے جی بھی اس گھر کو اپنے جابرانہ اصولوں اور اپنے خود ساختہ نظم و ضبط کا ایک زندہ قبرستان بنا رکھا تھا، جہاں کسی کو کھل کر سانس لینے کی آزادی نہیں تھی۔ اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں بھی اس قبرستان کا ایک بے جان کتبہ بن جاؤں؟ اب ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ میں اپنی زندگی اپنے طریقے سے جیوں گا، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو
یہ زہریلے الفاظ کسی خنجر کی طرح انور صاحب کے دل میں پیوست کر کے ثمر نے انہیں وہیں اندھیرے دالان میں اکیلا، تنہا اور تڑپتا ہوا چھوڑا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بھاری، بے پروا قدموں کی چاپ اور پھر اس کے کمرے کے دروازے کا دھماکے سے بند ہونا، انور صاحب کے دل پر ایک اور قیامت کا ٹوٹنا تھا۔ وہ دھماکا جیسے ان کے ارمانوں کی آخری دیوار کو بھی زمین بوس کر گیا۔
انور صاحب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ وہیں، اسی ٹھنڈے، گرد آلود فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ ان کے لرزتے ہاتھ زمین پر ٹک گئے اور سفید بالوں سے بھرا سر جھک گیا۔ صحن کے ایک دور افتادہ، اندھیرے کونے میں لگا ہوا رات کی رانی کا پودا، جس کی دھیمی خوشبو کبھی سلمیٰ کی محبت بھری موجودگی کا احساس دلاتی تھی، آج اس کی وہی خوشبو انور صاحب کا دم گھوٹ رہی تھی، گویا وہ خوشبو نہیں بلکہ ماضی کی تلخ یادوں کا کوئی زہر ہو جو ہوا کے دوش پر پھیل گیا ہو۔
انہوں نے انتہائی بے بسی اور یاسیت سے سر اٹھا کر سیاہ، لامتناہی آسمان کی طرف دیکھا، جہاں دور دور تک امید کی کوئی روشنی نہیں تھی، تارے بھی شاید اس بدقسمت باپ کا دکھ دیکھنے کی تاب نہ لا کر بادلوں کے سیاہ لبادے کے پیچھے منھ چھپا چکے تھے۔ انور صاحب اب اس بے کراں، ظالم کائنات میں، اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے گھر کے ملبے پر، بالکل اکیلے، بے یار و مددگار اور تنہا رہ گئے تھے۔ ثمر اب ہمیشہ کے لیے انور صاحب کے دائرہ اختیار اور اخلاقی حدود سے باہر نکل چکا تھا، اور پیچھے صرف ایک بوڑھا باپ اور اس کی لکڑی کی پرانی کرسی باقی رہ گئے تھے۔
باب یازدہم
گھر کی فضا میں ایک عجیب، بھاری اور منجمد کر دینے والا جمود اس طرح طاری تھا جیسے وقت کی رفتار ان دیواروں کے بیچ آ کر ہمیشہ کے لیے تھم گئی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہوا بھی یہاں سانس لینے سے کتراتی ہے اور وقت کی سوئی ایک ہی مقام پر اٹک کر رہ گئی ہے۔ کمرے کی کھڑکی کے نیم وا پردوں سے چھن کر آنے والی دوپہر کی تیکھی اور بے رحم دھوپ، انور صاحب کے چہرے پر اس طرح پڑ رہی تھی جیسے کسی پرانے کاغذ کو جلا رہی ہو۔ اس روشنی کی شدت میں ان کے چہرے پر پڑی بیماری، نحیف عمری اور گہری لاچاری کی لکیریں مزید نمایاں ہو کر ابھر آئی تھیں، جو ان کی گزشتہ زندگی کے دکھوں، محرومیوں اور پچھتاووں کی ایک طویل اور کربناک داستان سنا رہی تھیں۔ انور صاحب کے وہ ہاتھ، جو کبھی قلم تھام کر محبت، انسانیت اور درد کے شاہکار افسانے تخلیق کیا کرتے تھے اور جن کی تحریریں لوگوں کے دلوں میں اتر جاتی تھیں، اب محض بے بس اور بے جان لوتھڑے بن کر بستر کی چادر پر پڑے تھے۔ ان ہاتھوں میں اب لکھنے کی سکت تو دور کی بات، خود کو سنبھالنے کی طاقت بھی نہیں رہی تھی؛ وہ صرف بے بسی سے تھر تھر کانپ سکتے تھے، جیسے کسی اندرونی سردی نے انہیں مفلوج کر دیا ہو۔
اچانک، کمرے کا وہ گہرا اور دم گھٹنے والا سکوت ثمر کے بھاری اور غصیلے قدموں کی چاپ سے ٹوٹا۔ ثمر جب کمرے میں داخل ہوا تو اس کے چہرے پر وہ گہری اکتاہٹ اور شدید بیزاری تھی، جو پچھلے کئی دنوں سے اس کا مستقل اوڑھنا بچھونا بن چکی تھی۔ اس کے چہرے کے نقوش میں ہمدردی کی بجائے ایک ایسی نفرت رقصاں تھی جو اسے اپنے باپ کے قریب آنے سے بھی روکتی تھی۔ اس نے کمرے میں قدم رکھتے ہی اپنی آستینیں جھاڑیں، جیسے وہ اس کمرے کی فضا سے، وہاں موجود بیماری کی بو سے، ادویات کے کڑوے پن سے اور اپنے باپ کی نحیف موجودگی سے شدید گھن کھا رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ہمدردی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا، بلکہ وہاں صرف دنیاوی مصروفیات کی جھنجھلاہٹ تھی۔
"تم سے کتنی بار کہا ہے، میرے پاس وقت نہیں ہے ! دفتر میں کتنا اہم کام پڑا ہے، میٹنگز کا انبار لگا ہے اور مجھے یہاں تمہارے لیے رکنا پڑ رہا ہے !” ثمر کی آواز میں ایک ایسا تیکھا پن اور زہر تھا جس نے کمرے کی ساکن فضا کو کاٹ کر رکھ دیا، جیسے کسی نے خاموشی کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔
انور صاحب نے اپنی سوجی ہوئی اور نم آنکھیں بڑی مشکل سے کھولیں، ان کے خشک حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور زبان تالو سے چپک رہی تھی۔ انہوں نے اپنی نحیف اور کپکپاتی آواز میں پانی کا ایک گھونٹ مانگا، مگر ثمر نے ان کی طرف مڑ کر دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی ٹائی کو بڑی نفاست اور تکبر سے ٹھیک کرنے میں مگن رہا، جیسے اس کے لیے اپنے باپ کی پیاس سے زیادہ اپنی ظاہری شخصیت کی درستگی اہم ہو۔ پھر اس نے مڑ کر ایک ایسا زہریلا جملہ کہا جس نے بسترِ مرگ پر پڑے انور صاحب کی روح کو اندر تک لرزا کر رکھ دیا اور انہیں زندگی سے مکمل طور پر مایوس کر دیا۔
"تم بھی امی کے ساتھ مر کیوں نہیں گئے؟ میری زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے تم نے۔ سارا دن تمہاری تیمار داری، ہسپتال کے چکر، تمہاری مہنگی دواؤں کے بھاری اخراجات… تم میرے گلے کا ایک ایسا طوق اور عذاب بن گئے ہو کہ مجھے اب اپنی سانسیں بھی بھاری لگتی ہیں۔ انور صاحب! مجھ سے اور نہیں ہوتا یہ ڈرامہ، اپنی زندگی کا بوجھ اب خود اٹھاؤ اور مجھے اس اذیت سے نجات دو!”
یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔ وہ مڑا اور دروازے کو اتنی زور سے پٹختا ہوا باہر نکلا کہ کمرے کی بوسیدہ دیواریں تھر تھرا گئیں، جیسے وہ بھی اس ظلم کو سہنے سے انکار کر رہی ہوں۔ وہ پیچھے ایک ایسی ہولناک اور سناٹے زدہ خاموشی چھوڑ گیا جو موت کی آہٹ سے بھی زیادہ خوفناک اور کربناک تھی۔ انور صاحب نے اپنی زندگی کی آخری امید بھی اس لمحے اپنے سامنے دم توڑتے دیکھی۔ انہوں نے بستر سے اٹھنے کی ایک آخری، ناکام اور تڑپا دینے والی کوشش کی، مگر ان کا نڈھال جسم، جو اب روح کا ساتھ دینے سے بھی انکاری تھا، وہیں ڈھیر ہو گیا۔ ان کی ہچکیوں کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس پلٹتی رہی۔
اگلے دس طویل اور کربناک دن، اس گھر کی بے حس دیواریں صرف انور صاحب کی آخری ہچکیوں، سسکیوں، تڑپ اور ان کی لاجواب تنہائی کی خاموش گواہ رہیں۔ باہر کی دنیا میں زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں تھی؛ لوگ ہنس رہے تھے، راستے چل رہے تھے، اور ثمر اپنی بے فکر اور خود غرض دنیا میں مگن تھا۔ اسے کوئی پروا نہ تھی کہ گھر کے اندر اس کا اپنا باپ موت کے پنجوں میں گرفتار ہے اور شاید اب آخری سانسیں گن رہا ہے۔ دس دن بعد، جب محلے کے لوگوں کو کمرے سے ایک ناگوار، تعفن زدہ اور موت کی خبر دیتی بو آتی محسوس ہوئی، تو خدشات کے پیشِ نظر انہوں نے دروازہ توڑ دیا۔
کمرے کا اندرونی منظر قیامت خیز اور دل دہلا دینے والا تھا۔ انور صاحب کی لاش بستر کے پاس زمین پر اوندھے منہ پڑی تھی، جیسے وہ آخری دم تک پانی کے لیے یا مدد کے لیے رینگتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہوں۔ میز پر ایک کاغذ رکھا تھا، جس پر ان کے لرزتے اور کانپتے ہاتھوں سے لکھا ہوا آخری جملہ وہاں کی منجمد ہوا میں کسی تازیانے کی طرح گونج رہا تھا، جسے پڑھ کر ہر دیکھنے والے کی آنکھ اشک بار ہو گئی:
"میں نے تو اسے اپنی آنکھوں کا نور، اپنی امیدوں کا مرکز اور اپنی زندگی کا ثمر سمجھا تھا، مگر آج بسترِ مرگ پر یہ تلخ اور کڑوا سچ سمجھ آیا کہ… ہر ثمر میٹھا نہیں ہوتا، کچھ ثمر زہر بھی ہوا کرتے ہیں۔”
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

