FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

پیمانۂ دل

 

 

محمد ضیاء الحسن رضویؔ

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

 

جو سرور و کیف اپنے دل کے پیمانے میں ہے

چشم ساقی میں وہ مستی ہے نہ میخانے میں ہے

 

رضویؔ

 

 

 

انتساب

 

ان آرزوؤں تمناؤں حسرتوں کے نام

جنہوں نے غزلوں کا پہنا ہے جامۂ گلفام

اور

اپنے پیارے دلارے بیٹے سید محمد خورشید الحسن رضوی کے نام جن کی مسلسل کاوشوں سے ہماری چیزیں منصۂ شہود پہ آئیں۔

 

محمد ضیاء الحسن رضویؔ

 

 

پیش لفظ

 

’’مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطا بگوید‘‘

تعارف

نام:          محمد ضیاء الحسن رضویؔ

تخلص:        رضویؔ

تاریخ پیدائش:  ۲؍ اکتوبر ۱۹۳۰ء مطابق  ۹؍ جمادی الاول ۱۳۴۹ھ

مقام پیدائش:  حضرت سائیں ضلع پٹنہ

آبائی وطن:  اسلام پور کونند ضلع نالندہ

تعلیمی لیاقت:  فاضل حدیث مدرسہ بورڈ، بی۔ اے آنرس (گولڈ مڈلسٹ)

مجموعہ کلام ؛ (۱) گوہر و خذف (۲) صدائے دل

پیشہ:  ہائی اسکول مدرسی ۱۹۵۵ تا ۱۹۹۹ء

حال مقام:  مسجد گلی، انصار نگر، نوادہ (۸۰۵۱۱۰)

موبائیل؛۰۰۹۱۹۹۳۴۴۲۶۷۳

٭٭٭

 

 

 

عرض حال

 

بتاریخ ۹ جمادی الاول ۱۳۴۹ھ مطابق ۲ اکتوبر ۱۹۳۰ء یوم پنجشنبہ بوقت ۷ بجے صبح اپنی نانیہال اور راسخ عظیم آبادی کے وطن حضرت سائیں ضلع عظیم آباد حال پٹنَہ میں میری پیدائش ہوئی۔  یہ تاریخ جناب والد صاحب کے بیاض میں درج ہے۔  والد صاحب کا بسلسلہ طبابت منگیر میں قیام تھا۔  اس لئے ابتدائی زندگی وہیں گذری ابتدائی تعلیم و الد صاحب سے حاصل کی۔  ۱۲ برسی عمر میں مدرسہ محمدیہ استھاواں ضلع پٹنہَ حال نالندہ میں داخل کرا دیا گیا۔  چار سال وہاں زیر تعلیم رہا۔  یہ زمانہ ہندوستان کی جنگ آزادی کے شباب کا تھا۔  ۱۹۴۷ء میں مدرسہ عزیز یہ بہار شریف آ گیا۔  اس وقت مدرسہ میں بڑا اچھا ادبی ماحول تھا۔  ماہانہ مشاعرہ ہوا کرتا تھا مدرسہ میں طلباء اپنا پرچہ نکالا کرتے تھے جس کا نام عروج تھا۔ مشاعرہ میں طرح دی جاتی لڑکے شعر کہتے وہیں میرے اندر کے شعری جذبے کو مہمیز ہوئی۔  جہاں تک مجھے یاد آتا ہے سب سے پہلی غزل ۱۹۴۷ء میں کہی جبکہ ۱۶ برس کی عمر تھی

؎ یہ ہے آپ بیتی کہانی نہیں ہے

کی طرح پہ کہی گئی اس وقت ہم سے دو سال سینیر طالب علم جناب صفی احمد غنچہ تھے۔  میں انہیں سے اصلاح لینے لگا۔  اور اس طرح پر مشاعرہ کے لئے کچھ نہ کچھ لکھنے کا سلسلہ چلتا رہا۔  دو تین سال بعد صفی صاحب نے پٹنَہ میں داخلہ لے لیا۔  ان دنوں ترقی پسند تحریک کا بڑا چرچہ تھا کچھ اس سے بھی متاثر ہوا۔  ذکی انورؔ صاحب کے دولت کدہ پر با ضابطہ نشستیں ہوا کرتی جس میں اکثر شرکت کرتا۔  اس طرح ۱۹۵۴ء تک بہار شریف کے ماحول اور مدرسہ کے ادبی فضا میری شاعری کی نشو و نما کرتی رہی۔  ۱۹۵۴ء میں تعلیم مکمل کر کے منگیر چلا آیا۔  یہاں بھی حکیم باقر شاعر لکھنوی اور چند با ذوق احباب کی صحبتوں سے میری شاعری کو زندگی کی رمق ملتی رہی۔  لیکن اصل متحرک جُو ذات تھی جُو میری شاعری کا موضوع تھی وہ میرے ہمیشہ ساتھ رہی اور میں اس کے سہارے شاعری کرتا رہا۔

۱۹۵۵ء میں گاندھی ہائی اسکول میں ملازمت ہو گئی اور میں نوادہ چلا آیا اور اب تک یہیں ہوں۔  نوادہ انتہائی پسماندہ جگہ ہے۔  یہاں زبان و ادب تو کیا بے ادبی کا بھی ستھرا ذوق نہیں۔  یہاں آ کر میں سخت الجھن میں مبتلَا ہو گیا۔  میں نے اپنے طور پر اسکول میں بچوں کے ساتھ ماحول بنانے کی کوشش کی چنانچہ بزم اردو کی بنیاد ڈالی۔  مشاعرہ کرایا مگر بات آگے نہیں بڑھ سکی۔  ۱۹۵۸ء میں میری شادی ہو گئی میرے نظم و غزل کا موضوع میرے سامنے تھا۔  بس میری شاعری ٹھٹک گئی۔

۱۹۶۴ء میں بسلسلہ ٹیچر ٹریننگ پٹنَہ جانا ہوا۔  وہاں عربی اینڈ پرشین رسرچ انسٹی چیوٹ میں کلاسز ہوتے تھے۔  ہمارے ساتھ حسن اتفاق سے اخترؔ کاکوی منیر اسکول کے ہیڈ مولوی اور چند اچھے شعرا شریک درس تھے۔  مدرسہ شمس الہدی کا مشاعرہ، حلقہ ادب اور مرکز ادب وغیرہ کے مشاعروں نے پھر میرے اندر کے شعری صلاحیت کو متحرک کیا۔  چنانچہ بہت دنوں کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ پھر سے میں شاعر ہو گیا ہوں۔  ۱۹۶۹ء میں پورے ہندوستان میں غالبؔ صدی بڑے دھوم دھام سے منائی گئی میں نے بھی ایک نظم کہی جو الحمد اللہ بہت پسند کی گئی۔  پھر نوادہ آ جانے کے بعد میں خاموش ہو گیا۔  اس طرح دس دس برس کی خاموشی کے بعد کسی تحریک پر کچھ کہہ لیتا ہوں۔  اب جُو بھی رطب و یابس چیزیں ہیں وہ آپ کے سامنے ہے رطب کم اور یابس ہی زیادہ ہیں۔  نجی طور پر دل گذاری کے لئے جذبۂ دروں کے ہاتھوں کبھی کبھی کہہ لیتا ہوں۔  نہ کبھی چھپنے کا شوق اور نہ کبھی میں نے اپنی تحریر کسی اخبار یا رسالہ میں بھیجی۔  مشاعروں میں شرکت کا موقع ضرور ملا اس لئے مجھے اعتراف ہے کہ میں باضابطہ شاعر نہیں ہوں۔  مجھ میں بہت ساری خامیاں بھی ہیں۔  انہیں نقائص اور خامیوں کے ساتھ ساری چیزوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔  اگر انتخاب کا موقع ملا تو ممکن ہے کچھ چیزیں کام کی نکل آئیں

تمام اچھا برا سامنے نظر کے ہے

جو دل کو بھائے وہ اچھا بقیہ قابل رد

 

’’پمانۂ دل‘‘ میرا تیسرا مجموعہ کلام ہے۔  اس سے قبل ’’گوہر و خزف‘‘ ۲۰۰۶ء اور صدائے دل ۲۰۱۰ء میں عزیزی خورشید سلمہ نے اپنے طور پر مرتب کر کے میری چیزوں کو محفوظ کر دیا جن کے کچھ ہی جلدیں بن سکیں۔

 

رضویؔ

 

 

 

اظہارِ رائے

 

محترم ضیاء الحسن رضوی صاحب سے ملاقات کا شرف مجھے چند سال قبل حاصل ہوا جب وہ ایک مقامی مشاعرے میں اپنے ہونہار صاحبزادے، خوش گلو اور خوش ادا شاعر خورشید الحسن نیّر کے ساتھ وہاں تشریف لائے۔  ان کا ایک مجموعہ کلام ’’صدائے دل‘‘ بھی نظر سے گزرا ہے، جس کی تمام تر غزلیں شاعر کے دلی جذبات کی بھرپور عکّاسی کرتی ہیں۔  معروف شاعر جناب سعید قیس کہا کرتے تھے ’’شاعری ماں کی گود کی طرح ہے، جو شاعر کے سارے دکھ سمیٹ کر اپنی جھولی میں ڈال لیتی ہے۔‘‘ رضوی صاحب کے کلام سے اس مقولے کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔  زیرِ نظر مجموعہ ’’پیمانۂ دل‘‘ ان کی بہت سی اور بہت ہی نئی غزلوں پر مشتمل ہے اور یہ مجموعہ بھی اندازِ بیان میں عموماً ’’صدائے دل‘‘ کا تسلسل ہی لگتا ہے۔

شعری اور ادبی تخلیقات کا تنقیدی جائزہ لینا میری بساط سے باہر ہے۔  رضوی صاحب کی شاعری میں کیا ہے اور کیا نہیں، اس پر تو مستند ناقدین اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔  لیکن میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کی شاعری میں پختگی ہے، ان دنوں متواتر شایع ہونے والے مجامیع اور ادبی رسائل میں چھپنے والی غزلوں سے کافی حد تک مختلف ہے، اور پڑھنے والے کو سوچنے اور محسوس کرنے پر مائل کرتی نظر آتی ہے۔

رضوی صاحب کا تعلق بہار سے ہے۔  چنانچہ، ان کی شاعری میں کئی جگہ وہاں کا خاص لب و لہجہ جھلکتا ہے۔  صاحبِ ذوق قاری یقیناً ان کے کلام میں کہیں کہیں وہی چاشنی، نغمگی اور روانی محسوس کرے گا جو شاد عظیم آبادی، یاس یگانہ چنگیزی، کلیم عاجز وغیرہ جیسے شعراء کے ہاں پائی جاتی ہے۔

 

اک اژدہام ہے، اک بھیڑ، ایک میلہ ہے

ہجومِ دہر میں لیکن ہر اک اکیلا ہے

 

ایسا کھرا اور دل میں اتر جانے والا شعر کہنے والے شاعر کے کلام میں گہرائی اور معنویت کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی۔  یقیناً رضوی صاحب نے ان غزلوں کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا ہے۔۔  لکھتے رہیں گے، اور موجودہ دور کے شعراء میں اپنی ایک انفرادی حیثیت برقرار رکھیں گے۔

 

شوکت جمال

ریاض، سعودی عرب

 

 

 

 

حمدیہ غزل

 

زندہ ہوں اور کرتا ہوں شکر خدا مدام

فضل و کرم سے جس کے نکلتے ہیں سارے کام

 

وہ رب عالمین ہے تنہاؤ بے نیاز

محتاج سب اسی کے ہیں ہر ایک خاص و عام

 

ہر ایک کے تمام حوائج کا وہ کفیل

اس کے بغیر اذن نہ ہوتا ہے کوئی کام

 

لازم ہے ہم اسی کی عبادت کیا کریں

اس کے دلارے پاک نبیؐ پر ہو سو سلام

 

اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں

سارے جہاں کو آپ کے ذریعہ ملا پیام

 

نیکوں کی خاکِ پا میں تو رضویؔ کو دے ملا

یارب کسی طرح تو نکل جائے اس کا کام

 

جو ذریعۂ ہدایت ہر انس و جاں ہوئے

ان کے طفیل دنیا میں نکتہ ہوا یہ عام

٭٭٭

 

 

 

 

حمدیہ غزل

کرم ہے لطف و عنایت ہے دل نوازی ہے

گناہ گار کی یہ کیسی سرفرازی ہے

 

کسی کے سامنے کس منہ سے کل کو جاؤ گے

برا ہے حال تو بد تر بہت ہی ماضی ہے

 

نوازتا ہے جسے وہ نوازنا چاہے

وہ خود ہی مالک و منصف ہے اور قاضی ہے

 

کسی کے پاس بھی اپنا نہیں ہے کچھ ذاتی

اسی کی دین ہے بالکلیہ عزازی ہے

 

اس کے لطف سے ہے جو کسی مقام پہ ہے

خود اپنے آپ نمازی نہ کوئی غازی ہے

 

وہ کل تھا آج ہے کل بھی وہی رہے گا سدا

حقیقت ایک ہے باقی تو سب مجازی ہے

 

زمین و آسماں اور اس کے درمیاں کا نظام

اسی کی خلقت و صنعت ہے کار سازی ہے

 

کرم ہے لطف ہے رضویؔ کے حال پر بے حد

اگر چہ حاجی و غازی نہ یہ نمازی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

عجب جمال دیا خُلق بے مثال دیا

کسی کو حسن کے سانچے میں کس نے ڈھال دیا

 

بنا کے اپنا سوالی غنائے حال دیا

اٹھا کے فرش سے عرش بریں پہ ڈال دیا

 

نہ جام جم سی کوئی چیز کہنہ سال دیا

ہمیں تو روز نیا کاسۂ سفال دیا

 

نہ کوئی رنج دیا نا کوئی ملال دیا

بٹھا کے بزم میں حیلے سے پھر نکال دیا

ا

اب اور لطف و کرم اس سے بڑھ کے کیا ہو گا

جواب پہلے سکھایا تو پھر سوال دیا

 

عطا کے قرباں کہ اک مشت خاک کو جس نے

حسیں قوام دیا حسن خد و خال دیا

 

میں کب کا زندۂ درگور ہو گیا ہوتا

کسی کی چشم کرم نے مجھے سنبھال دیا

 

خدا ہمیشہ اسے آخرت میں خوش رکھے

کہ جس نے اپنی جدائی کا ہے ملال دیا

 

بڑا کرم کیا وقت اخیر رضویؔ پر

سرہانے آ کے مری روح کو نکال دیا

٭٭٭

 

 

 

 

خدا بندے کو ہے کافی اگر ہو گا یقیں محکم

کسی بھی حال میں اس کو نہ ہو گا کوئی رنج و غم

 

یقیں اللہ کے وعدوں پہ جس کا ہو گا مستحکم

قدم چومے گی اس کی کامرانی ہر جگہ پیہم

 

خدا کی ذات عالی ساتھ ہو گی ہر جگہ اس کے

کہیں بھی وہ رہے تنہا کبھی بھی ہو گا نا ایکدم

 

خدا جس کا نصیر و دستگیر و رہنما ہو گا

بنیں گے کام اس کے ہر جگہ بے ریب و شک ہر دم

 

منا لو اپنے مولی کو بنا لو اس کو ساتھ اپنے

تو پھر دونوں جہاں کا دور ہو جائے گا سارا غم

 

خدا کی معیت کی فکر ہی ہے اصل دیں رضویؔ

یہی ہے دین خالص اور یہی ہے راہ مستحکم

٭٭٭

 

 

 

خدا ہے ساتھ ہمارے تو کوئی غم کیسا

سدا کرم ہے تو پھر شکوۂ ستم کیسا

 

ہر ایک حال میں انداز خسروانہ ہے

ہمیشہ بندہ نوازی ہے کوئی غم کیسا

 

نوازتی ہی ہے اک شان کبریائی جہاں

وہاں پہ حرماں نصیبی کا ہو بھرم کیسا

 

ہر ایک حال میں ہیں مہرباں وہ بندوں پر

پھر ان کی ذات سے ہو خطرۂ ستم کیسا

 

کسی کا کچھ بھی نہیں جو ہے سب انہیں کا ہے

انا بڑھاتا ہے پھر بیچ میں قدم کیسا

 

ہمارا کام تو بس بندگی ہی کرنا ہے

یہی سچائی ہے اس میں کوئی بھرم کیسا

 

جو بات آخری تھی کہہ دیا ہے رضویؔ نے

قبول کر لیں تمام اس میں بیش و کم کیسا

٭٭٭

 

 

آؤ انسان میں انسانیت بیدار کریں

ہے بڑا کام یہی کام چلو یار کریں

 

سارے انسان کریں ساری ہی سرکار کریں

دن کریں رات کریں کوچہ و بازار کریں

 

دل کی قوت سے کریں اور لگاتار کریں

ساری دنیا کو یہاں تک کہ چمن زار کریں

 

فوج اک آشتی و امن کی تیار کریں

جنگ جوؤں کو محبت سے گرفتار کریں

 

اسلحہ بیچنے والوں کو خبردار کریں

زندگی امن میں ہے امن کا بیوپار کریں

 

شہر در شہر دکانیں ہیں کھلی نفرت کی

ہم بھی تقسیم محبت سر بازار کریں

 

دوست بن جائے گا پکا جو ہے جانی دشمن

ہم عداوت کے عوض اس کو اگر پیار کریں

 

ایک آدم کی ہی اولاد ہیں سارے انساں

قوم اور نسل کی دیوار کو مسمار کریں

 

دور جمہور گیا دور عوام آ پہنچا

نقلی جمہور کے گرگوں کو سر دار کریں

 

ہے بڑا ئی تو فقط ایک کو زیبا رضویؔ

آؤ اللہ و اکبر کا ہی پرچار کریں

 

 

 

نعت نبیﷺ

 

وہی جو روٹھ گئے پھر کوئی ٹھکانہ نہیں

سوائے ان کے کوئی اور آستانہ نہیں

 

زمانہ روٹھے تو روٹھے مگر نہ وہ روٹھیں

سوائے ان کے کسی کو بھی ہے منانا نہیں

 

وہی پسند ہو اپنی جو ہے پسند ان کی

کہیں کبھی بھی ہے اس بات کو بھلانا نہیں

 

انہیں کے قدموں میں دونوں جہاں کی نعمت ہے

سوائے ان کے کسی نقش پا پہ جانا نہیں

 

وہی ہیں شوق و تمنا کی آخری منزل

کوئی حسیں ہو کسی سے بھی دل لگانا نہیں

 

ہمارا راستہ منزل و رہنما طے ہے

کسی بھی اور طرف اب قدم بڑھانا نہیں

 

بھروسہ آپ پہ رکھنا ہے رضویؔ عاصی

سوائے آپ کے در کے کوئی ٹھکانہ نہیں

٭٭٭

 

 

 

جو سرور و کیف اپنے دل کے پیمانے میں ہے

چشم ساقی میں وہ مستی ہے نہ میخانے میں ہے

 

ایسی کیاری پھول کی گلشن نہ ویرانے میں ہے

زخم کا جو سلسلہ دل کے نہاں خانے میں ہے

 

کیسی تنہائی کہاں کا حزن اور کیسا ملال

اک ہجوم یاد ان کا خیال آ جانے میں ہے

 

دکھ دکھانے کا نہیں اور کرب کہنے کا نہیں

ایک کیف سرمدی ان سب کو پی جانے میں ہے

 

کیا رہے گی گلستاں میں رونقِ فصل بہار

ہجر کی شب جتنی رونق دل کے ویرانے میں ہے

 

جتنا غم پا کر کسی کو یک بیک کھونے میں تھا

اس سے دس گونہ خوشی کھو کر انہیں پانے میں ہے

 

اک زمانہ ہو گیا دیکھے ہوئے رضویؔ انہیں

کرب ہی کرب ہر گھڑی اب تو جئے جانے میں ہے

٭٭٭

 

کسی کے لطف و کرم کا کوئی شمار نہیں

گناہگار مگر پھر بھی شرم سار نہیں

 

کوئی بھی ایسا نہیں جو گناہگار نہیں

کسی کے لطف کا پھر بھی کوئی شمار نہیں

 

رجوع کرتے ہیں اس کے علاوہ غیروں سے

ذرا بھی آتی انہیں اس میں شرم و عار نہیں

 

غرض کسی سے نکلتی نہیں ہے جب ان کی

اسی کے در پہ کیا آتے ہیں بار بار نہیں

 

سوائے اس کے کہیں بھی نہیں ہے داتا کوئی

دلوں کو اس کا کیوں آتا ہے اعتبار نہیں

 

وہی ہے خالق و رازق تمام عالم کا

سوائے اس کے کوئی اور پالنہار نہیں

 

ہمیشہ توبہ استغفار کرتا رہ رضویؔ

کہ تجھ سے بڑھ کے کوئی بھی گناہگار نہیں

٭٭٭

 

 

کوئی ملتا تو اس سے اپنے دل کی بات کہہ دیتے

گذرتی ہے جو ہم پر آج کل دن رات کہہ دیتے

 

اذیت ہجر کی فرقت کے احساسات کہہ دیتے

جدائی کے ستم سنگینئی حالات کہہ دیتے

 

جدائی، بے بسی، بے چارگی، تنہائیوں میں اب

گذرتے ہیں ہمارے کس طرح اوقات کہہ دیتے

 

کسی صورت گذر جاتے ہیں دن احباب کے اندر

مگر کاٹے نہیں کٹتی ہے تنہا رات کہہ دیتے

 

بھلاتے ہیں تو دل کو اور بھی آتی ہے یاد انکی

بھلانا اب نہیں ہے دل کے بس کی بات کہہ دیتے

ہے دل میں جمع برسوں سے جو ہم ان کو نہ کہہ پائے

انہیں نزدیک کر کے کان میں سب بات کہہ دیتے

 

کسی کے بعد اب اپنے بھی بیگانے سے لگتے ہیں

بڑے اوپرے سے لگتے ہیں یہ دن اور رات کہہ دیتے

 

اب اپنوں میں بھی اس جیسا نہیں باقی رہا کوئی

ہر اک لمحہ جو رہتا ہو ہمارے ساتھ کہہ دیتے

 

کسی نے دیکھتے ہی دیکھتے تھیں موند لیں آنکھیں

دل رضویؔ پہ نقش اب تک ہیں وہ لمحات کہہ دیتے

٭٭٭

 

 

 

کہیں بھی دل نہیں لگتا ہے ایکدم

اب ایسے میں کہاں جا کے رہیں ہم

 

فضا خاموش ہر سو ہو کا عالم

نکل جائے نہ ایسے میں کہیں دم

 

اکیلے مبتلائے کرب پیہم

کوئی بھی بانٹنے والا نہیں غم

 

نہ کوئی مونس و غمخوار و ہمدم

ہر اک سو اجنبیت کا ہے عالم

 

سکون اور چین عنقا ہو گیا ہے

بساط زندگی ہے درہم برہم

 

بتائیں کیا کہ کیسی کٹ رہی ہے

کہیں کیا جی رہے ہیں کس طرح ہم

 

نہ پوچھو حال دل رضویؔ سے للّہ

بھرا بیٹھا ہے رو اٹھے گا ایکدم

٭٭٭

 

 

 

 

جہاں کہیں بھی رہوں دل ذرا نہیں لگتا

کوئی نہیں ہے تو کچھ بھی بھلا نہیں لگتا

 

سب اپنے ہی ہیں مگر اس کو کیا کرے کوئی

کہ ان میں کوئی بھی دل آشنا نہیں لگتا

 

کوئی بھی ایسا نہیں جس کو کہہ سکیں اپنا

کہ اس کے جیسا کوئی دوسرا نہیں لگتا

 

جو اپنا تھا وہ جدا گر چہ ہو گیا کب کا

جدا بھی ہوکے مگر وہ جدا نہیں لگتا

 

میری اداؤں سے مانوس میرا طبع شناس

جہاں میں اب تو کوئی دوسرا نہیں لگتا

 

یہ کائنات ہی ویران ہو گئی ایکدم

اجاڑ بستی میں اب دل مرا نہیں لگتا

 

چلو اب ایسی جگہ چل کے بس رہیں رضویؔ

جہاں کے باسیوں کا کچھ پتا نہیں لگتا

٭٭٭

 

 

 

پڑا ہوا میں اکیلا یہ سوچتا ہوں سدا

سبھوں سے رشتہ ہے لیکن کوئی نہیں ہے مرا

 

براہ راست کسی سے بھی کوئی رشتہ نہیں

مرا جو اپنا تھا مجھ سے وہ ہو چکا ہے جدا

 

کسی کے بعد میں بالکل ہی ہو گیا تنہا

نہ کوئی ہمدم و مونس نہ ہے کوئی اپنا

 

میں دل کی بات کسی سے بھی کہہ نہیں سکتا

کوئی بھی دوست رہا اب نہ میرا اس جیسا

 

میں کیا کروں کہاں جاؤں کہاں سے لاؤں اسے

دل حزیں کی سمجھ میں نہیں ہے کچھ آتا

 

عجیب ضیق میں یہ جان مدتوں سے ہے

رہائی کا نظر آتا نہیں کوئی رستا

 

امید مرگ پر بیٹھا ہوں آسرا کر کے

سوائے اس کے ہے رضویؔ نہیں کوئی رستہ

٭٭٭

 

 

اکیلے پن سے نہیں بڑھ کے ہے سزا کوئی

ہے ایک کرب مسلسل میں مبتلا کوئی

 

کوئی ندیم نہ مونس نہ ہم نوا کوئی

اک اجنبی سی فضا میں ہے جی رہا کوئی

 

ہر ایک غم کا مداوا کوئی نہ کوئی ہے

یہ روگ وہ ہے کہ جس کی نہیں دوا کوئی

 

پڑا ہوں تنہا کوئی بات کرنے والا نہیں

کہ دل کی بات ہے سنتا نہ بولتا کوئی

 

کسی کو دل کی حکایت سنا نہیں سکتا

زبان دل کی یہاں ہے نہ جانتا کوئی

 

پکارتا ہی رہے ہے یہ دل کسی کو سدا

مگر کہیں سے بھی آتی نہیں صدا کوئی

 

گیا تو ایسا کہ آیا نہ خواب میں وہ کبھی

رہا نہ دید کا اب اس کے آسرا کوئی

 

سب اپنے ہی ہیں مجھے دل سے چاہتے بھی ہیں

پر اس کے جیسا نہیں میرا ہو سکا کوئی

 

کسی کو کیسے بھلا دوں بھلا میں اے رضویؔ

روئیں روئیں میں میرے ہے رچا بسا کوئی

 

کسی کی ایسی محبت کہاں سے دیگا کوئی

نثار مجھ پہ بھلا خود کو کیوں کرے گا کوئی

 

وہ پر خلوص اداؤں کا اک حسیں پیکر

کہاں سے نقش وہ کاغذ پہ لائے گا کوئی

 

وہ بات کرنے کا انداز خاص کیا کہئے

کسی کا وصف کہاں تک بیاں کرے گا کوئی

 

ہر اک ادا میں وہ حسن و جمال نو کی جھلک

سراپا حسن کو تشبیہ کس سے دے گا کوئی

 

سرور قلب و نظر زندگی کی روح رواں

بغیر اس کے بھلا کس طرح جئے گا کوئی

 

نہیں ہے کوئی تو یہ کائنات ویراں ہے

اجاڑ بستی میں اب کس طرح رہے گا کوئی

 

کسی کی یاد ہی سرمایہ خاص ہے رضویؔ

اسی کو اوڑھنا بچھونا بنائے گا کوئی

٭٭٭

 

 

 

یہ دل کبھی کبھی ایسا اداس ہوتا ہے

زفرق تا بقدم غرق یاس ہوتا ہے

 

خود اپنی ذات سے جو ناشناس ہوتا ہے

وہ آدمی ہی خدا ناسپاس ہوتا ہے

 

برہنگی کی اب اس دور میں یہ حد ہے کہ

لباس میں بھی بشر بے لباس ہوتا ہے

 

کوئی مقام ہو کوئی بھی حال کیوں نا ہو

کوئی ہمیشہ مرے دل کے پاس ہوتا ہے

 

ادب، لحاظ، مروت تمام جاتے رہے

بڑوں کا چھوٹوں کو اب کچھ نہ پاس ہوتا ہے

 

خدا کا خوف دلوں میں اگر سما جائے

تو پھر ہر ایک کا انساں کو پاس ہوتا ہے

 

جناب رضویؔ کریں آخرت کی تیاری

یہاں کا معاملہ سب بے اساس ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

عجب زندگی ہے عجب بے بسی ہے

کہ دنیا میں اپنا نہیں اب کوئی ہے

 

اکیلے ہیں دن اور اکیلی ہیں راتیں

بڑے کرب میں کٹ رہی زندگی ہے

 

یوں کہنے کو تو سب ہی اپنے ہیں لیکن

پر اپنائیت کی ہر اک میں کمی ہے

 

وہ بے غرض چاہت وہ بے لوث خدمت

کہاں اب کسی میں وہ دریا دلی ہے

 

بہت ہم نشیں ہیں بہت مہرباں ہیں

مگر اس کے جیسا کہاں اب کوئی ہے

 

کہاں سے اسے جا کے لاؤں میں رضویؔ

اسی بات پر زندگی سے ٹھنی ہے

 

رہ وصل میں زندگی ہی ہے حائل

خدا جانے ہٹتی یہ کب مُنہ جلی ہے

 

غم دل سناؤں تو کس کو سناؤں

زمانہ میں قحط شکستہ دلی ہے

 

کوئی جب سے رخصت ہوا ہے ائےر ضویؔ

زمانہ پہ چھائی ہوئی خامشی ہے

٭٭٭

 

 

 

کوئی امید کسی سے نہ آسرا ہے کوئی

نہ کوئی منت و احسان نا گلہ ہے کوئی

 

کوئی طلب ہے نہ چاہت نہ کوئی فرمائش

کسی کے بعد بڑا بے نیاز سا ہے کوئی

 

کسی کو اس کی طرح اپنا کس طرح کہہ دوں

کہ اس کے جیسا مجھے اب نہ جانتا ہے کوئی

 

جہاں بھی جائیے تنہائیوں کا عالم ہے

اک اجنبی سی فضاؤں میں جی رہا ہے کوئی

 

اب ایسے اجنبی ماحول میں جئے جانا

خدا کے فضل کا یہ بھی کرشمہ ہے کوئی

 

بتائے کیا کوئی کیسے یہ دل تڑپتا ہے

اکیلی راتوں میں جب یاد آتا ہے کوئی

 

گذر رہی ہے جو رضویؔ پہ کوئی کیا جانے

کوئی ندیم نہ مونس نہ آشنا ہے کوئی

٭٭٭

 

پڑا ہوا ہوں اکیلے کوئی بھی پاس نہیں

کسی کے آنے کی بھی اب تو کوئی آس نہیں

 

نہ جانے پھر بھی یہ دل کس سے بات کرتا ہے

اگر چہ ہوتا ہے کوئی بھی آس پاس نہیں

 

عجیب چیز ہے تنہائیوں کا عالم بھی

وہ ہر گھڑی ہے مرے پاس گر چہ پاس نہیں

 

یہ بے نیاز ہے سب سے وہ دوست ہو کہ عدو

دل حزیں کو کسی سے بھی کوئی آس نہیں

 

کسی کے بعد اب اپنوں سے ایک ہی ہے گلہ

کہ آشناؤں میں کوئی بھی دل شناس نہیں

 

ادب کا دور گیا اب تو عصر دانش ہے

بڑوں کا چھوٹوں کو کچھ بھی لحاظ و پاس نہیں

 

کلام رضویؔ پہ وہ تمکنت سے بول اٹھے

بجز شکستہ دلی بات کوئی خاص نہیں

٭٭٭

 

یقیں بدلا عمل بدلا تو ساری خصلتیں بدلیں

رفیق و ہم نشیں بدلے نشست اور صحبتیں بدلیں

 

طبیعت کا ہر اک انداز بدلا ہر ادا بدلی

نگاہ و دل کی اور کام و دہن کی لذتیں بدلیں

 

بصارت میں جو فرق آیا تو کھوئی گئی بصیرت بھی

تمنا آرزو بدلی دلوں کی حسرتیں بدلیں

 

جمی جب سطح پر نظریں تو معنی ہو گیا اوجھل

ہماری سوچ کا انداز بدلا حالتیں بدلیں

 

ہوا کالا جو تھا اجلا یہ کڑوا ہو گیا میٹھا

بصارت آنکھ کی بدلی زباں کی لذتیں بدلیں

 

نکل جاؤ فریب و مکر سے دنیا کے دھوکے سے

یہاں روزانہ اک اک پل میں کتنی ساعتیں بدلی

 

یقیں محکم عمل صالح بنا لو جتنا ہو رضویؔ

اسی پونجی سے قوموں نے ہیں اپنی قسمتیں بدلیں

٭٭٭

 

کوئی نہیں ہے تو تنہائیوں نے گھیرا ہے

نہ میں کسی کا ہوں کوئی نہ اور میرا ہے

 

سرور و کیف ہے کیا دل یہ جانتا ہی نہیں

بلاؤ کرب کا ہر آن ہی بسیرا ہے

 

کوئی بھی فرق نہیں چاہے رات ہو یا دن

غموں کا سایہ بہت ہو گیا گھنیرا ہے

 

کسی کی یاد ہے جینے کا اک سہارا ہوئی

وگرنہ زیست تو اب سر بسر بکھیڑا ہے

 

کسی کی یاد کبھی بھی نہ دل سے جا پائی

نہ میں ہی اپنا نہ میرا یہ دل ہی میرا ہے

 

کسی کے بعد سکوں کی کہیں جگہ نہ ملی

کہیں رہے کوئی ہر جا ہی بے بسیرا ہے

 

اب انتظار کا عالم ہے ہر گھڑی رضویؔ

نہ رات جاتی نہ آتا کبھی سویرا ہے

٭٭٭

 

کسی کے بعد زمانے کو کیا ہوا جانے

کہ آشنا بھی نظر آ رہے ہیں بیگانے

 

نگاہیں سب کی پھری اور اجنبی سی ہیں

شناسا لوگ بھی لگتے ہیں جیسے انجانے

 

دلوں سے انس و محبت ہوئی ہے یوں رخصت

کہ غمزدوں کو نہ آتا ہے کوئی سمجھانے

 

کسی کو کام کسی سے رہا نہیں کچھ بھی

تمام رشتوں کے ٹوٹے ہیں تانے اور بانے

 

بصد خلوص چلیں ہیں تو اس سے ملنے مگر

خدا کرے ہمیں وہ بے وفا بھی پہچانے

 

مزاج یار کا رنگ آگے اور کیا ہو گا

ابھی سے حسن پہ اپنے لگے ہیں اترانے

 

بچا کے رکھیو ذرا رضویؔ آبروئے وفا

نہ باندھیو کس و ناکس سے عہد و پیمانے

٭٭٭

 

 

تمام زخم مجسم ہوں حال مت پوچھو

نہ زیر منت مرہم ہوں حال مت پوچھو

 

فراق یار میں بے دم ہوں حال مت پوچھو

سدا بدیدۂ پر نم ہوں حال مت پوچھو

 

کسی کے بعد مرے کٹ رہے ہیں دن کیسے

اک اضطراب مجسم ہوں حال مت پوچھو

 

کسی کی دید کی تشنہ نگاہی کے صدقے

سراپا یاس کا عالم ہوں حال مت پوچھو

 

مرا سراپا ہی روشن ہے مثل آئینہ

تباہ حال مجسم ہوں حال مت پوچھو

 

ہوں آدمی مگر عاری ہوں آدمیت سے

میں ننگ حضرت آدم ہوں حال مت پوچھو

 

ہے دل میں آگ محبت کی آنکھ میں آنسو

میں عکس شعلہ و شبنم ہوں حال مت پوچھو

 

تباہ حالی کمائی ہے اپنے ہاتھوں کی

میں اپنے آپ سے برہم ہوں حال مت پوچھو

 

پریشاں حال ہوں کیوں پوچھتے ہو کیا رضویؔ

گزیدہ کاکل پر خم ہوں حال مت پوچھو

٭٭٭

 

 

 

کسی کی چاہ نے کیسا کمال کر ڈالا

متاع زیست ہی نذر جمال کر ڈالا

 

ہم ان کی بزم میں آئے تو بدر کی صورت

ہوا یہ حال کہ خود کو ہلال کر ڈالا

 

کسی کی یاد ہمہ دم ہے اور کچھ بھی نہیں

کسی کے نام ہی سب ماہ و سال کر ڈالا

 

گنوا کے لہو لعب میں تمام فرصت عمر

حیاتِ دائمی وقفِ ملال کر ڈالا

 

جو آشنا تھے سبھی اجنبی سے ہو بیٹھے

کسی کی چاہ نے ایسا بد حال کر ڈالا

 

ہر ایک چیز کسی پر نثار ہے اب تو

کسی نے نفس کو اپنے حلال کر ڈالا

 

کسی کے بعد بھی کیوں جی رہے ہو اے رضویؔ

یہ بے تکا سا کسی نے سوال کر ڈالا

٭٭٭

 

 

چوٹ جب دل پہ ہے لگتی تو غزل بنتی ہے

آگ سینے میں ہے جلتی تو غزل بنتی ہے

 

وصل جاناں میں غزل کہنے کی فرصت ہے کسے

ہجر میں رت ہے بدلتی تو غزل بنتی ہے

 

موسم ہجر کے سناٹے میں جب پچھلے پہر

دل میں پروائی ہے چلتی تو غزل بنتی ہے

 

زخم دل میں مرے جب رات گئے رہ رہ کر

ٹیس کروٹ ہے بدلتی تو غزل بنتی ہے

 

شب کی تنہائی میں اس شوخ کی یاد آآ کر

غنچۂ دل ہے مسلتی تو غزل بنتی ہے

 

اس کی بے درد اداؤں کی جب یاد آئے

دل پہ تلوار ہے چلتی تو غزل بنتی ہے

 

کسی بد عہد کی پیمان فراموشی سے

ٹھیس سی دل پہ ہے لگتی تو غزل بنتی ہے

 

شادی و غم کا ہو موقع کہ کوئی موسم ہو

جب کمی اس کی ہے کھلتی تو غزل بنتی ہے

 

عالم ہجر میں رضویؔ کی نگاہوں کے قریب

اس کی صورت ہے مچلتی تو غزل بنتی ہے

٭٭٭

 

 

 

کسی کو ڈھونڈھتے رہئے نہ مل سکے گا کوئی

تمام پوچھتے پھرئے پتہ نہ دیے گا کوئی

 

کہاں چلا گیا کچھ بھی پتہ نہیں چلتا

کسی کے نام پہ کب تک جیا کرے گا کوئی

 

صبا سے خوشبو سے پھولوں سے چاند تاروں سے

ہر اک سے اس کا پتہ پوچھتا پھرے گا کوئی

 

تمہارے جیسا وہ معصوم اور پیارا سا

تم ہی بتاؤ مجھے اب کہاں ملے گا کوئی

 

گیا ہے جب سے کبھی بھی نہ لوٹ کر آیا

تمام عمر مگر منتظر رہے گا کوئی

 

کسی کی یاد سے دل کو سکون ملتا ہے

نہ اس کو یاد کرے گر تو کیا کرے گا کوئی

 

کسی کے بعد تو جینا محال تھا رضویؔ

نہ مر سکا ہے تو کیا خودکشی کرے گا کوئی

٭٭٭

 

 

برا ہوں گندا ہوں بے شرم و بے حیا ہوں میں

مگر یہ سچ ہے بہر حال با خدا ہوں میں

 

خطا و سہو مری زندگی کا حصہ سہی

کئے پر اپنے مگر منفعل رہا ہوں میں

 

گنہ پہ توبہ کی توفیق بھی ملی ہے مجھے

امید سے کبھی خالی نہیں ہوا ہوں میں

 

میں بخشا جاؤں گا کامل یقین رکھتا ہوں

شمع امید کی دل میں جلا رہا ہوں میں

 

میں کچھ نہیں ہوں یہ سچ ہے مگر یہ کیا کم ہے

خدا کا بندہ ہوں اور آل مصطفےﷺ ہوں میں

 

باذن رب مرے آقا سفارشی ہوں گے

گنہ کے ساتھ اس امید سے بھرا ہوں میں

 

میں روکے پیٹ کے بخشاؤں گا گنہ سارے

لا تقنطو پہ لگائے ہی آسرا ہوں میں

 

ہے کون ان کے علاوہ جو بخشے رضویؔ کو

سوائے ان کے کسی کو نہ جانتا ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

کہاں کا چین سکوں اور کہاں کی دل جمعی

گیا تو لے کے گیا ساتھ سب ہی کچھ کوئی

 

دل و نظر کو کہاں سے ملے گا چین سکوں

جو وجہ راحت جاں تھی وہ ذات ہی نہ رہی

 

وہ پاک صاف محبت وہ بے غرض چاہت

نہ دے سکا ہے کوئی اور نہ دے سکے گا کوئی

 

وہ بے سوال کرم اور بے طلب خدمت

وہ خود سپردگی و دلداری وہ خلوص دلی

 

جو بات خاص تھی اس میں وہ مل سکی نہ کہیں

اگر چہ چاہنے والوں کی ہے نہ اب بھی کمی

 

تمام عمر کسی کو اگر کوئی رولے

وفا کا حق نہ ادا کر سکے گا پھر بھی کوئی

 

کرے بھی صبر تو کس دل سے کوئی صبر کرے

کسی نے دل کی جگہ رکھ دیا ہے بے صبری

 

نہ کوئی ہمدم و ہمراز ہو کوئی دمساز

کہیں تو کس کے کہیں بات اپنے ہم دل کی

 

کمی کسی کی کھٹکتی رہیگی اب تو سدا

کوئی بھی حال ہو کوئی مقام ہو رضویؔ

٭٭٭

 

 

 

سرور و کیف و سر مستی نہیں ہے

کلی دل کی کبھی ہستی نہیں ہے

 

طبیعت اب کہیں لگتی نہیں ہے

جسے چاہا تھا وہ ہستی نہیں ہے

 

کہاں جا کر رہوں کہ چین آئے

کہیں ایسی کوئی بستی نہیں ہے

 

دل اندوہگیں ہے اور ہم ہیں

کوئی بھی تیسری ہستی نہیں ہے

 

ہوئی سستی ہے جتنی زندگی اب

کوئی شئی اس قدر سستی نہیں ہے

 

زمانہ سے اسے دیکھا کئے ہیں

نظر کی پیاس پر بجھتی نہیں ہے

 

کسی کے بعد ان آنکھوں میں رضویؔ

حسیں صورت کوئی جچتی نہیں ہے

٭٭٭

 

میں کیا کروں کہاں جاؤں کہاں میں جا کے رہوں

دل حزیں کو جہاں مل سکے قرار و سکوں

 

ہر ایک آن ہر اک پل یہ دل پریشاں ہے

اکیلے پن نے کیا اور بھی ہے حال زبوں

 

کسی بھی شغل سے یہ دل بہل تو جاتا ہے

مگر جہاں ہوا بے شغل پھر ہے جوں کا توں

 

میں اپنی غزلیں اکیلے میں جب بھی پڑھتا ہوں

گذشتہ یادوں سے بڑھتا ہے اور کرب دروں

 

کسی کو بھولنا چاہوں بھی تو بھلا نہ سکوں

وہ جان میں ہے کہ جیسے رگوں کے اندر خوں

 

کبھی بھی بھولنا اس کو نہیں ہے اب ممکن

میں خودکشی ہی کروں گا اگر اسے بھولوں

 

وہ کیا ہے میرے لئے کیا بتاؤں اے رضویؔ

جو باتیں راز کی ہیں کیسے میں تمہیں کہہ دوں

٭٭٭

 

 

پڑا ہوں تنہا کوئی جھانکنے نہیں آتا

نگاہیں چار بھی کرتے ہوئے ہے شرماتا

 

اک اجنبی کی طرح اپنے گھر میں رہتا ہوں

کسی کو پھوٹی نظر بھی نہیں ہوں میں بھاتا

 

وفا و مہر و محبت لحاظ و پاس و خیال

بجز لغات کہیں بھی نظر نہیں آتا

 

کسے میں اپنا بناؤں کہاں سے لاؤں اسے

مری نگاہوں کو کوئی بھی اب نہیں بھاتا

 

میں اس کو ڈھونڈ کے لاتا ثریا تا بہ سری

سراغ اس کا کہیں بھی اگر جو مل پاتا

 

جناب رضویؔ مشیت یہی ہے دم لیجئے

جو صبر کرتا ہے حد سے سوا ہے وہ پاتا

٭٭٭

 

 

 

جب سے جدا ہوئے ہیں کسی کی گلی سے ہم

دن رات کاٹتے ہیں بڑی بے کلی سے ہم

 

دل چاہتا ہے ربط نہ رکھیں کسی سے ہم

مایوس ایسے ہو گئے ہیں زندگی سے ہم

 

اک آن کو بھی دل نہیں لگتا ہے اب یہاں

اٹھنا نہ چاہتے تھے کبھی جس گلی سے ہم

 

دنیا میں کوئی اب نہیں اپنا کسی کے بعد

بے زار ہو گئے ہیں بقیہ سبھی سے ہم

 

اہل چمن ہم ہی کو اب پہچانتے نہیں

واقف ہیں جبکہ باغ کی اک اک کلی سے ہم

 

امید وار خیر کسی سے نہیں ہیں اب

گذرے ہیں جیسی بے بسی و بے کسی سے ہم

 

جب سے گیا ہے چھوڑ کر رضویؔ کوئی ہمیں

اک بار بھی ہنسے ہیں نہ اپنی خوشی سے ہم

٭٭٭

 

 

کسی کو مجھ سے غرض ہے نہ میں کسی کا فقیر

نہ میں کسی کا ہوں قیدی نہ کوئی میرا اسیر

 

میں وزن کم بھی ہوں بے کار بھی بہت ہی حقیر

کہ نقش ہو کوئی بے رنگ کوئی پھیکی لکیر

 

حیات بے حس و حرکت ہے کوئی شوق نہ خوف

بس ایک حال ہوں پتھر پہ جیسے کوئی لکیر

 

زبان بندی و طیرہ خموش رہنا شعار

نہ گفتگو نہ تکلم نہ کوئی حسیں تقریر

 

حیات کٹتی ہے دن رات کاٹنے میں اسے

نہ خوں ٹپکتا نہ چلتی کہیں بھی ہے شمشیر

 

نگاہ تشنہ کی تسکین کے لئے رضویؔ

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا کریں تدبیر

٭٭٭

 

 

 

 

کسی کی یاد ہمہ دم ہے اور کچھ بھی نہیں

یہی حیات کا مرہم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

کوئی نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے دنیا میں

تمام ہو کا ہے عالم جز اور کچھ بھی نہیں

 

دل و نظر میں سمایا ہے کچھ اس طرح کوئی

وہی ہمیشہ ہمہ دم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

کسی کی دید کی چاہت میں دل تڑپتا ہے

اک انتظار کا عالم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

کہیں ہے نالہ و شیون کہیں ہے جشن طرب

حیات شعلہ و شبنم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

ہمیں گروہوں میں جس شی نے بانٹ رکھا ہے

وہ اپنے پن ہی کا اک ہم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

حرم میں بیٹھ کے ماء زلال کا پینا

کھلی اہانتِ زم زم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

سبب فساد زمانہ کا اور کیا ہو گا

مزاج یار ہی برہم ہے اور کچھ بھی نہیں

 

فراق یار میں رضویؔ کی پوچھتے کیا ہو

بس ایک کرب مجسم ہے اور کچھ بھی نہیں

٭٭٭

 

 

 

بہت جینا یہ مانا کہ گراں ہے

مگر مرنے کی حسرت بھی کہاں ہے

 

حیات ہر ایک کو بے حد ہے پیاری

ہر اک اس پر چھڑکتا اپنی جاں ہے

 

زبانی موت کا چرچہ بہت پر

کوئی مرنے کو آمادہ کہاں ہے

 

ہر اک دل موت سے اتنا ہے خائف

کہ نام مرگ بھی سننا گراں ہے

 

بایں کرب و بلا دنیائے دوں کو

خوشی سے چھوڑتا کوئی کہاں ہے

 

یہ سب ہے بے یقینی کی سبب سے

وگرنہ لاکھ بہتر وہ جہاں ہے

 

قوی ایمان و اعمالِ محمد

وہاں تو بس یہی سکہ رواں ہے

٭٭٭

 

لگاؤں کس سے دل دنیا کی ہر اک چیز فانی ہے

کسی کو کھوکے میرے دل نے اب یہ بات جانی ہے

 

محل عشق و محبت کا وہ ہے جو کھو نہیں سکتا

بقیہ داستاں ہے خوبصورت سی کہانی ہے

 

جمال و حسن کا مرکز وفا و شوق کا محور

وہی ہے اصل باقی سب اسی کی ترجمانی ہے

 

یہ دل جس نے دیا ہے یہ اسی کی اک امانت ہے

حوالہ اس کے کرنا ہے یہ دل جس کی نشانی ہے

 

طلب، شوق و تمنا کا وہی تو ایک ہے مرکز

نچھاور اس یہ کرنے کو ملی یہ زندگانی ہے

 

اسی سے دل لگانا ہے اسی پر جاں دینی ہے

وگرنہ زندگی کا کوئی مطلب ہے نہ معنی ہے

 

اب اس کے ما سوا سے دل لگانا ہے عبث رضویؔ

اس کی یاد سے وابستہ حسن زندگانی ہے

٭٭٭

 

مرے قریب نہ آؤ نہ مجھ سے بات کرو

میں غم زدہ ہوں ذرا مجھ سے احتیاط کرو

 

ہمیشہ مجھ سے ملو ایک اجنبی کی طرح

نہ آشنا کی طرح مجھ پہ التفات کرو

 

میں التفات کا مارا ہوں مر نہ جاؤں کہیں

مزید لطف و کرم اب نہ میرے ساتھ کرو

 

مرا جو اپنا تھا وہ کب کا ہو گیا رخصت

اب اپنا بن کے خدارا نہ کوئی گھات کرو

 

سوائے درد و الم میرے پاس کچھ بھی نہیں

قرار و چین سکوں کی نہ مجھ سے بات کرو

 

کسی کے نام سے دل کو سکون ملتا ہے

ہمیشہ ذکر اسی کا اسی کی بات کرو

 

کوئی بھی خیر نہیں اب جہاں میں ائے رضویؔ

یہاں سے کوچ کی ہر لمحہ اب تو بات کرو

٭٭٭

 

 

زمانہ بیت گیا اب نہ آئے گا کوئی

نگاہ راہ میں کب تک بچھائے گا کوئی

 

کوئی امید نہیں کوئی آسرا بھی نہیں

سو کس بھروسے پر دل کو لگائے گا کوئی

 

جہاں گیا ہے وہاں سے کوئی نہ لوٹا ہے

میں دل کو کیسے کہوں لوٹ آئے گا کوئی

 

کسی کی یاد ہی جینے کا اک سہارا ہے

اسی میں زندگی ساری بتائے گا کوئی

 

امید و آرزوئے خام سے نکل اے دل

یقین مان کبھی بھی نہ آئے گا کوئی

 

وصال یار کی تیاری بھی کرو رضویؔ

بغیر سعی کے جنت نہ پائے گا کوئی

٭٭٭

 

 

 

 

طبیعت اب نہیں لگتی کہیں بھی

نہیں راس آتی ہے کوئی زمیں بھی

 

سکوں اور چین ملنے کو نہیں اب

کوئی جا کر رہے چاہے کہیں بھی

 

سکوں کے واسطے کوئی در بدر ہے

سکوں ملتا نہیں لیکن کہیں بھی

 

کسے احوال غم کوئی سنائے

رہا ہمدم نہ کوئی ہم نشیں بھی

 

بسی آنکھوں میں ہے صورت کسی کی

نہیں جچتا ہے اب کوئی حسیں بھی

 

دل زخمی تڑپ اٹھتا ہے اک دم

کوئی دل ٹوٹتا ہے جب کہیں بھی

 

جنازہ جب کسی کا گھر سے نکلا

بہت روئی وہ چشم سرمگیں بھی

 

ہمارے آشیاں پر ہی گری ہے

اگر چہ برق چمکی ہو کہیں بھی

 

نہ دل سے کوئی جا پائے گا رضویؔ

نگاہوں سے چھپے جا کر کہیں بھی

٭٭٭

 

 

 

کسی کی دید کی پیاسی نگاہ ہے کب سے

کسی کے واسطے دل فرش راہ ہے کب سے

 

کسی کی دل میں لئے کوئی چاہ ہے کب سے

کسی کے دل سے کسی دل کو راہ ہے کب سے

 

بلا و کرب و اذیت ملال حسرت و یاس

فراق یار میں کوئی تباہ ہے کب سے

 

زمانہ بیت گیا ختم ہو گئیں گھڑیاں

کسی کی دیکھ رہا کوئی راہ ہے کب سے

 

چلے بھی آؤ کہ اب تاب انتظار نہیں

کسی کے جاں پہ بنی جاں پناہ ہے کب سے

کوئی بھی جانتا پہچانتا کہیں بھی نہیں

بنائے بھیس فقیرانہ شاہ ہے کب سے

 

میں زندگی کے ہی ہاتھوں بہت پریشاں ہوں

وصال یار میں یہ سد راہ ہے کب سے

 

سوائے اس کی گلی کے کوئی ٹھکانہ نہیں

فقیر کی وہی جائے پناہ ہے کب سے

 

کسی کا آئینۂ دل نہ ٹوٹنے پائے

اس احتیاط میں کوئی تباہ ہے کب سے

 

کسی کو ٹھیس نہ پہنچے نہ خود لگے ٹھوکر

سنبھل کے یوں کوئی سرگرم راہ ہے کب سے

 

ہمیشہ آپ کو اللہ سرخرو رکھے

دعا گو آپ کا یہ روسیاہ ہے کب سے

٭٭٭

 

 

کسی کے بعد ترستا ہے چاندنی کو کوئی

نظر نہ آیا مہہ نیم ماہ ہے کب سے

 

کبھی بھی لطف و کرم ہم پہ کیوں نہیں کرتے

ہمارے حق میں ہوا یہ گناہ ہے کب سے

 

کسی کو چاہنے کی کیسی یہ شراپ ملی

پڑا ہوا کوئی یوں زیر چاہ ہے کب سے

 

کسی سے حاشا و کلآ نہیں کوئی شکوہ

مگر کوئی بایں حال تباہ ہے کب سے

 

جو تھی پناہ کی صورت وہ کب کی جاتی رہی

بتائیں کیا کہ کوئی بے پناہ ہے کب سے

 

کہیں بھی کوئی ٹھکانا نہیں ہے رضویؔ کا

خود اپنے گھر ہی میں یہ بے پناہ ہے کب سے

٭٭٭

 

 

 

 

ضعیفی بے بسی بے چارگی ہے

کسی کے بعد بے حد بے بسی ہے

 

انیس و ہم نوا ہم درد و ہم دم

نظر آتا نہیں اب ایک بھی ہے

 

پڑا رہتا ہوں تنہا بے سہارا

نہیں اب جھانکنے آتا کوئی ہے

 

کوئی شدت سے کیوں نا یاد آئے

کسی کی ہر گھڑی کھلتی کمی ہے

 

وہی اپنوں میں اپنا تھا ہمارا

بھرے گھر میں نہیں ویسا کوئی ہے

 

بہت ڈھونڈو گے انساں کم ملیں گے

زمانہ بھر میں قحط آدمی ہے

 

بھلایا جب سے ہے فرمان احمدؐ

ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے

 

شناسا کی طرح ملنے پہ ہر اک

ملا ہے اس طرح کے اجنبی ہے

 

جدائی میں کسی کی اب تو رضویؔ

کسی کی جان ہی پر بن گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

مصیبت ہے جو سر پر آج آئی

یہ اپنے ہاتھ ہی کی ہے کمائی

 

وہی اگتا ہے جو ہے بویا جاتا

ہمیشہ جو سے جو رائی سے رائی

 

وہی آئے گی کل کو کام اپنے

جہاں تک ہو سکے کر لو بھلائی

 

جسے خون جگر سے سیچتے ہو

وہی اولاد کل ہو گی پرائی

 

جسے چاہا کیا تھا عمر ساری

اسی سے ہو گئی یک بیک جدائی

 

نظر کے سامنے جاتا رہا وہ

کوئی تدبیر مطلق بن نہ آئی

 

ہر اک لمحہ ہے تنہائی کا عالم

کسی سے بھی نہیں ہے آشنائی

 

مصیبت میں جو کام آئے کسی کے

اسی کے ہاتھ میں دو رہنمائی

 

بڑی ہی ضیق میں رضویؔ کی جاں ہے

ملے گی جانے کب اس کو رہائی

٭٭٭

 

 

 

 

اکیلی رات میں جب کوئی یاد ہے آتا

پریشاں زلفوں کی مانند دل ہے بل کھاتا

 

کبھی کبھی دل تنہا ہے ایسا گھبراتا

نہ ضبط کرتا جو کوئی تو جان سے جاتا

 

کسی کی موت بلا سے خوشی میں ہو جاتی

اے کاش کوئی اچانک کبھی تو آ جاتا

 

کسی سے ملنے کی ہے آرزوئے خام اسے

اک آشنا کی طرح دل کو کوئی سمجھاتا

 

سرور و کیف سے خالی ہے زندگی یکسر

کسی کے ساتھ تھا جینے میں کیا مزہ آتا

 

ہمیشہ کرب مسلسل میں دن گذرتے ہیں

کہیں بھی چین کا لمحہ نہیں ہے مل پاتا

 

یہاں سے جائے بھی کوئی اگر تو جائے کہاں

جہاں بھی جاتا ہے تنہائیوں کو ہے پاتا

 

جناب رضویؔ بھی جیتے ہیں یا کہ مرتے ہیں

کبھی بھی پوچھنے کوئی کبھی نہیں آتا

٭٭٭

 

 

 

نہ بیٹھے چین ملتا نہ ٹہلتے چین ملتا ہے

شب ہجراں میں نا کروٹ بدلتے چین ملتا ہے

 

نہ ہنستے چیس ملتا ہے نہ روتے چین ملتا ہے

کسی کے غم میں نا گرتے سنبھلتے چین ملتا ہے

 

جدائی ایک لمحہ کی بھی جس کی شاق ہوتی تھی

کہو اب رت پہ رت کیسے بدلتے چین ملتا ہے

 

کسی صورت کوئی دن کو چھپا لیتا ہے غم اپنا

مگر راتوں کو نا کروٹ بدلتے چین ملتا ہے

 

کسی کی یاد تنہائی میں جب راتوں کو آتی ہے

چھپا کر منہ کو تکئے میں بلکتے چین ملتا ہے

 

وہ صبح و شام ہو دن رات ہو بس شمع کی مانند

دل مہجور کو ہر وقت جلتے چین ملتا ہے

 

شب رنجور میں رضوی کی جب بڑھتی ہے بے چینی

کسی کے نام پر دل کو مچلتے چین ملتا ہے

٭٭٭

 

پہروں خاموش پڑا رہتا ہے تنہا کوئی

بھول کر بھی ہے نہیں پوچھنے آتا کوئی

 

ہر گھڑی ہے غم و اندوہ میں ڈوبا کوئی

اسی عالم میں پلک لیتا ہے جھپکا کوئی

 

سوچتے سوچتے کھو جاتا ہے سو جاتا ہے

چین کی نیند کو لیکن ہے ترستا کوئی

 

راز کی باتیں جو برسوں سے جمع ہیں دل میں

خواب میں بھی کوئی آ جاتا تو کہتا کوئی

 

ایک عرصہ سے نہ دیکھی ہے کسی کی صورت

ہر گھڑی دید کو اس کی ہے ترستا کوئی

 

لوٹ کر آئے نہ آئے کوئی پر ساری عمر

انتظار اس کا ہی اب کرتا رہے گا کوئی

 

بے بسی بے کسی بے چارگی کے عالم میں

کوئی مونس ہے نہ غمخوار نہ اپنا کوئی

٭٭٭

 

 

لگاؤ جان کی بازی کفن بدوش رہو

وفا کی راہ میں ہر لمحہ سرفروش رہو

 

زبان کھولو نہ بولو ذرا خموش رہو

یہ بزم ناز ہے کس کی بقید ہوش رہو

 

زبان رکھتا ہے کوئی اور بھی تمہاری طرح

زباں خدارا نہ کھلواؤ بس خموش رہو

 

کہو تو خوب کہو اور سنو تو خوب سنو

بلحن قند و شکر انگبیں بگوش رہو

 

رواں دواں ہے زمانہ قدم ملا کے چلو

بچھڑ نہ جاؤ کہیں با حواس و ہوش رہو

 

سوائے اپنی ہی کوشش کے کچھ نہیں ہے کہیں

ہمیشہ بر سر ایوان جہد کوش رہو

 

بچاؤ اپنے کو ہر نوع کے داغ دھبوں سے

سنبھل سنبھل کے چلو اور سفید پوش رہو

 

جہان حیرت و حسرت میں غرق ہو جاؤ

نہ ذی شعور رہو اور نہ اہل ہوش رہو

 

کوئی بھی قدر زمانہ میں جب نہیں رضویؔ

اٹھاؤ ڈیرا یہاں سے نہ بار دوش رہو

٭٭٭

 

 

 

 

جہاں کہیں بھی رہو کوئی یاد آئے گا

کسی کا پیار کوئی کیسے بھول پائے گا

 

کوئی نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے دنیا میں

اب ایسی دنیا میں رہ کیسے کوئی پائے گا

 

خلوص و پیار کسی کا کسی کا حسن سلوک

ہر اک مقام پہ ہر آن یاد آئے گا

 

جدائی دل کو کسی کی نہیں سہی جاتی

بایں ملال کوئی جان ہی سے جائے گا

 

ہمارے گھر میں اندھیرے کا راج پاٹ سا ہے

کبھی بھی چاند نہ اس گھر میں جگمگائے گا

 

کسی کے پاس و لحاظ و خیال کا انداز

دل حزیں کو ہر اک آن یاد آئے گا

 

نہ دیکھ راہ کسی کی مزید اور اے دل

نہ کوئی آیا ہے اور اب کبھی نہ آئے گا

 

اب اس کے جیسا کوئی بھی نہیں زمانہ میں

کسی کو اپنا کوئی کس طرح بنائے گا

 

اکیلے رہتے ہوئے برسوں ہو گئے رضویؔ

ابھی بھی دل کو ہے امید کوئی آئے گا

٭٭٭

 

 

 

بہت رہے اب اکیلے رہا نہیں جاتا

فراق یار کا غم اب سہا نہیں جاتا

 

گذرتی ہے جو دل زار پر کسی کے بغیر

میں کیا کہوں کہ زباں سے کہا نہیں جاتا

 

زمانہ بیت گیا اب نہ آئے گا کوئی

اب انتظار کسی کا کیا نہیں جاتا

 

تمام چیزیں ہیں سب ہیں نہیں ہے کوئی کمی

بایں ہمہ بغیر اس کے رہا نہیں جاتا

 

میں دل کی بات کسی اور سے کہوں کیوں کر

کہ حرف راز ہر اک سے کہا نہیں جاتا

 

غموں کو سہتے ہوئے اک زمانہ بیت گیا

مزید کرب و الم اب سہا نہیں جاتا

 

بہت ہی بکتے ہو رضویؔ ذرا خموش رہو

کہ دل کا راز ہر اک سے کہا نہیں جاتا

٭٭٭

 

 

نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں اب

بھٹکتا پھر رہا ہے کارواں اب

 

یہاں سے جائے گا کوئی کہاں اب

اسی در پر نکل جائے گی جاں اب

 

کوئی جائے بھی تو جائے کہاں اب

نہ دل بر ہے نہ کوئی دلستاں اب

 

کسی کے بعد کیونکر جی رہے ہو

کسی کی یاد ہی ہے روح جاں اب

 

کسی پیارے کا غم ہو کیوں نہ پیارا

اسی سے ہے حیات جاوداں اب

 

شب تاریک تنہائی کا عالم

کہیں پر چاند ہے نا کہکشاں اب

 

بتائیں کیا کہ کیسی کٹ رہی ہے

کہیں کیا ضیق میں کیسی ہے جاں اب

 

لو صبر و ضبط سے کچھ کام رضویؔ

سناؤ نا کسی کو داستاں اب

٭٭٭

 

 

 

 

غم کے ماروں کا کہیں بھی کوئی غمخوار نہیں

بے نواؤں کا کہیں کوئی مدد گار نہیں

 

حال دل کس سے کہیں کوئی بھی غمخوار نہیں

درد دل بانٹنے والا کوئی دل دار نہیں

 

ضبط غم کیجئے تو سینے میں سلگتی ہے الاؤ

اور آمادہ فغاں پر دل خود دار نہیں

 

پیرس و لندن و نیویارک کے متوالے بہت

جنت عدن کا کوئی بھی طلب گار نہیں

 

عقل و دانش کے ہے بازار میں میلا ٹھیلا

جنس دل کا کہیں کوئی بھی خریدار نہیں

 

آستانوں پہ بڑی بھیڑ سروں کی دیکھی

نظر آیا مگر اک سر بھی سر دار نہیں

 

چاہنے والے تو اب بھی ہیں نہیں کم لیکن

دے سکا کوئی بھی اس جیسا مگر پیار نہیں

 

دل سا انمول رتن کیسے حوالہ کر دیں

جاں اگر مانگتے تو کوئی بھی انکار نہیں

 

حال دل غزلوں کے پردے میں ہیں کہتے رضویؔ

سیدھے سیدھے کوئی سننے کو روادار نہیں

٭٭٭

 

 

 

سوچا ہے دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

مجبور ایسے ہو گئے ہیں اپنے جی سے ہم

 

امید کوئی رکھتے نہیں اب کسی سے ہم

گذرے ہیں ایسی ابتلاء و بے بسی سے ہم

 

شکوہ کسی سے ہے نہ شکایت کسی سے اب

خوگر ہوئے ہیں ایسے غم دائمی سے ہم

 

اپنی غرض سے خالی کوئی بھی نہ مل سکا

ملتے ہیں روز کیسے کیسے آدمی سے ہم

 

اپنے کو بھی ہم اندنوں پہچانتے نہیں

چوندھیا گئے ہیں آج نئی روشنی سے ہم

 

انساں میں آج جوہر انسانیت نہیں

ملتے ہیں ہر جگہ ہی نرے آدمی سے ہم

 

اوروں میں نقص ڈھونڈھتے رہتے ہیں ہر گھڑی

واقف نہیں ہیں رضویؔ کچھ اپنی کمی سے ہم

٭٭٭

 

وہ گرچہ پاس نہیں اس کی یاد ساتھ تو ہے

کسی کے بعد یہ اک ذریعہ نشاط تو ہے

 

درازے شب ہجراں ہے گرچہ دل پہ گراں

کسی کی یاد سے روشن مگر یہ رات تو ہے

 

شب فراق میں دن کا گمان ہوتا ہے

یہ رات اتنی ہے روشن تو کوئی بات تو ہے

 

خوشی کا وقت بہت جلد ہو گیا رخصت

یہ دور غم ہے مگر یہ بھی بے ثبات تو ہے

 

کس کی دید میسر نہ ہو سکی ہے تو کیا

اسی امید پہ قائم مگر حیات تو ہے

 

شب فراق میں غرق تصور جاناں

کسی کے خیال سے یہ شب شب برات تو ہے

 

یہاں سے کوچ کی تیاری اب کرو رضویؔ

رہا ہے کون یہاں سوچو کوئی بات تو ہے

٭٭٭

 

انتظارِ التفات دوستاں

اے دل ناداں کہاں ہے تو کہاں

 

اپنی دنیا میں مگن ہر ایک ہے

دوستوں کی لے خبر فرصت کہاں

 

مورد لطف و کرم ہوتا ہے وہ

جو ہو لوگوں کے لئے نفع رساں

 

کون سی خوبی بھلا ہے آپ میں

آپ ہر کاندھے پہ ہیں بار گراں

 

جس کے صدقے میں تھی قدر و منزلت

کب کا وہ رخصت ہوا سوئے جناں

 

بار دوش اہل خانہ آپ ہیں

منتظر ہیں لوگ کب جاتی ہے جاں

 

کوئی بھی اپنا نہیں دنیا میں اب

کون سے دھوکے میں ہیں رضویؔ میاں

٭٭٭

 

 

بہت جینے کا ثمرہ مل رہا ہے

کہ ہر پل کوئی تنہا مل رہا ہے

 

مصائب دم بدم جو آ رہے ہیں

کئے کا اپنے بدلا مل رہا ہے

 

حیات عارضی کے بدلے جنت

بہت سستا یہ سودا مل رہا ہے

 

ملا وہ اجنبی کی طرح لیکن

لگا کے کوئی اپنا مل رہا ہے

 

ہر اک دن وہ ستم ڈھاتے ہیں تازہ

صلہ اپنی وفا کا مل رہا ہے

 

اکیلے میں بھی ان سے گفتگو کا

کہاں کوئی بھی موقع مل رہا ہے

 

کروں کیوں میں نہ ان کو یاد ہر دم

زباں کو خوب چسکا مل رہا ہے

 

ہر اک جا ڈھونڈتے پھرتے ہیں رضویؔ

کہیں کوئی نہ اپنا مل رہا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

کسی کی یاد جب آتی ہے پیہم

نظام ضبط ہو جاتا ہے برہم

 

کسک سینے میں اٹھتی ہے دمادم

نہ چارہ گر ہی کوئی ہے نہ مرہم

 

کوئی کرب دروں سے مضطرب ہے

بتائیں کیا کہ کیسا ہے یہ عالم

 

نمونہ ہے قیامت تک وہ جس کا

لب دریا ہے نکلا پیاس سے دم

 

نہ آنا تھا کسی کو اور نہ آیا

ہمیشہ راہ ہی دیکھا کئے ہم

 

بڑی مجبوریاں دونوں طرف تھیں

نہ وہ آئے نہ ان تک جا سکے ہم

 

کرم کا شکریہ لیکن ہوں حیراں

’’سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم‘‘

 

بتائیں کیا زباں سے حال اپنا

گذرتی ہے جو دل پر کیا کہیں ہم

 

تمنا ہے کہ رضویؔ وقت آخر

نکل جاتا کسی کے پاؤں پر دم

٭٭٭

 

 

 

 

بہت جینے میں کیا لطف و مزا ہے

بتائے گا وہی جو جی رہا ہے

 

اکیلے پن کی یہ بھی انتہا ہے

بھرے گھر میں کوئی تنہا پڑا ہے

 

نہ کوئی ہم نشیں نا آشنا ہے

نہ اپنا ہے کوئی نا ہم نوا ہے

 

نہ کوئی جانتا پہچانتا ہے

ہر اک جا اجنبی سی اک فضا ہے

 

خموشی ہی شعار اپنا بنی ہے

کسی سے بات کرنی بھی خطا ہے

 

نظر بیزار سی پڑتی ہے ہر کی

ہر اک شانہ پہ کوئی بوجھ سا ہے

 

پذیرائی نہیں ملتی کہیں بھی

جہاں بھی ہے وہاں ناخواندہ ہے

 

کہیں بھی منزلت ہوتی نہیں کچھ

ہر اک شئی پر بڑھاپا چھا گیا ہے

 

تخاطب ہے نہ کوئی مشورہ اب

بہت جینے کی رضویؔ یہ سزا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

سدا کسی کے لئے محو انتظار رہے

کسی کی دید کو ہر لمحہ بے قرار رہے

 

رہے چمن میں تو ہم مثل نو بہار رہے

گلوں میں نکہت و رنگ نغمہ ہزار رہے

 

روش روش پہ چمن کی نسیم وار رہے

کلی کلی کے لئے شبنمی پھوار رہے

 

ہمیشہ اہل چمن کے لئے حصار رہے

گلوں کے کنج میں مانند نوک خار رہے

 

چمن پہ جب بھی کوئی وقت آ پڑا نازک

لگائی جان کی بازی تو سر بہ دار رہے

 

کبھی بھی اپنی روش سے علاحدہ نہ ہوئے

جہاں کہیں بھی رہے بن کے وضعدار رہے

 

گیا جو پہلو سے اٹھ کر تو پھر نہ آیا کبھی

تمام عمر ہی کرتے ہم انتظار رہے

 

کوئی بھی دے نہ سکا جیسا پیار اس نے دیا

اگر چہ ہم سے بہت لوگ کرتے پیار رہے

 

کسی کے بعد سکوں پا سکے نہ رضویؔ کہیں

جہاں کہیں بھی رہے دل سے بے قرار رہے

٭٭٭

 

 

 

کسی کی یاد کبھی دل سے جا نہیں سکتی

حیات اس کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتی

 

روئیں روئیں میں بسی ہے کسی کی نکہت یاد

اب اس میں اور کوئی شئی سما نہیں سکتی

 

میرے رگوں میں کوئی دوڑتا ہے خوں کی طرح

کوئی بھی سانس بغیر اس کے آ نہیں سکتی

 

وہ میری روح میری جان میرا سب کچھ ہے

اب اس کو مجھ سے کوئی شئی چھڑا نہیں سکتی

 

اگر اسی کو بھلا دوں تو کس کو یاد کروں

مقام اس کا کوئی چیز پا نہیں سکتی

 

اسی کے رحم و کرم پر ٹکا ہے سارا جہاں

یہ دنیا اس کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتی

 

کسی کا نام لئے جاؤ دم بدم رضویؔ

وگرنہ زندگی منزل کو پا نہیں سکتی

٭٭٭

 

غزل بنا کے اکیلے میں گنگنایا کرو

فراق یار کا غم اس طرح بھلایا کرو

 

غزل کے کہنے سے دل کو سکون ملتا ہے

کہذا گیت ہمیشہ کسی کے گایا کرو

 

کسی کا ذکر بڑی چیز ہے زمانے میں

زباں پہ ذکر ہمیشہ کسی کا لایا کرو

 

سکوں کی آرزو بیکار سی تمنا ہے

امید خام سے دامن سدا بچایا کرو

 

کسی کا ذکر ہی قائم مقام ہے اس کا

فراق میں بھی مزے وصل کے اٹھایا کرو

 

کسی کا حسن تصور بھی کم نہیں ہے حسیں

کسی کے بحر تصور میں ڈوب جایا کرو

 

کسی کی یاد میں رضویؔ سکون دل ہے چھپا

اسی کی یاد میں ہر لمحہ تم بتایا کرو

٭٭٭

 

 

صدائے دل ہی نہیں یہ کتاب دل بھی ہے

وفا و شوق کا دفتر حساب دل بھی ہے

 

کہیں پہ جذب و کشش اور کہیں پہ حسرت و یاس

کہ اس میں قصۂ عہد شباب دل بھی ہے

 

فراق یار کا پر درد المیہ قصہ

وصال یار کا رنگین باب دل بھی ہے

 

سرور وصل صنم اور فشار ہجر یار

یہ انبساط نظر اضطراب دل بھی ہے

 

خمار آور ہستی بغیر جام و سبو

کہ اس میں تشنۂ صہبائے ناب دل بھی ہے

 

یہ ایک شعلۂ دل سوز شبنم جاں بخش

یہ آب حیواں بھی ہے اور سراب دل بھی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

رقص سیماب

 

رقص سیماب ملا گوہر نایاب ملا

دیدۂ آرزو کو ایک نیا خواب ملا

فرط جذبات کا امڈا ہوا سیلاب ملا

گلشن شاعری کو موسم خوں ناب ملا

دلِ پر درد ملا دیدۂ بے خواب ملا

دل گرفتہ کوئی اک گوشے میں بے تاب ملا

چمن زیست کو اک غنچۂ شاداب ملا

جس کی خوشبو سے معطر دل احباب ملا

شب ہجراں کہیں کوئی بھی نہ اسباب ملا

چشم پر آب ملی اک دل بے تاب ملا

اس میں حالاتِ زمانہ کا بھی کئی باب ملا

طنز و نشتر کا سلیقہ ملا آداب ملا

پا بہ سیماب ملا غرق مئے ناب ملا

بزم میں جو بھی ملا آپ کی بے تاب ملا

شکوۂ تشنہ لبی عام ہے اب تو ساقی

تیرے میخانے میں کوئی بھی نہ سیراب ملا

میرے آگے نہ چلی ایک کسی کی بھی کوئی

مجھ سے ہر دور کا رستم ملا سہراب ملا

خوبیاں اس میں نظر آتی ہیں زیادہ رضویؔ

دل مرا خوش ہوا جب تحفۂ نایاب ملا

٭٭٭

 

 

 

جب کسی سے لگاؤ ہوتا ہے

تب کہیں دل کا بھاؤ ہوتا ہے

 

ایک بے لاگ دل کا دنیا میں

پھوٹی کوڑی نہ بھاؤ ہوتا ہے

 

باندھ ہر گز وہ تھم نہیں سکتا

جس کے اندر رساؤ ہوتا ہے

 

مرد میداں ہے بس وہی انساں

جس کے اندر جماؤ ہوتا ہے

 

رستا رہتا ہے زخم دل ہر دم

جان لیوا یہ گھاؤ ہوتا ہے

 

آنکھ سب کچھ ہے دیکھنے لگتی

جس گھڑی چل چلاؤ ہوتا ہے

 

اشک آنکھوں سے گرتے ہیں رضویؔ

جب غموں کا دباؤ ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

کسی کے پیار کی غزلوں کو بار بار پڑھو

بدن تپیدہ و با چشم اشک بار پڑھو

 

حسین غزلوں میں سحر جمال یار پڑھو

کتاب عشق کا پڑھ لو تو باب پیار پڑھو

 

چمن کے سرخ گلابوں کو تاکنے والو

روش پہ برگ بریدہ کا حال زار پڑھو

 

ہمیشہ راہ وفا کا فسانۂ دلدوز

کلیجہ تھام کے بچشمِ اشک بار پڑھو

 

کسی کے واسطے جب دل بہت پریشاں ہو

کسی کے پیار بھرے خط کو بار بار پڑھو

 

ہمیشہ مرکز سب و شتم بنا جو رہا

قصیدہ اس کے ہی اب بر سر مزار پڑھو

 

کہیں بھی شکوہ شکایت کا کوئی نام نہیں

خلوص و نیاز کا افسانہ شاہکار پڑھو

 

اذیتوں کا ستم کا کہیں بھی ذکر نہیں

سو ابتداء پڑھو انتہا میں پیار پڑھو

 

اگر ہے شوق مطالعہ تو پھر سنو رضویؔ

کتاب شوق کا باب صلیب و دار پڑھو

٭٭٭

 

 

 

 

پچاسی سال کے ہونے کی سر خوشی کیسی

ذرا یہ سوچو کہ گذری ہے زندگی کیسی

 

ہر ایک لمحہ گناہوں میں جس کا گذرا ہو

یہاں سے ہو گی بے چارے کی واپسی کیسی

 

خدا کرے کہ اسے توبۃ النصوح ملے

نظر شفاعت احمدؐ پہ ہے ٹکی کیسی

 

خدا کی نعمتیں جن کا کوئی شمار نہیں

ادا ہوئی ہے مگر ان میں بندگی کیسی

 

ہر ایک عضو ہے انمول بے بدل نعمت

ضیا پہ اس کے الجھتی ہے زندگی کیسی

 

تمام انفس و آفاق پر ہیں نعمت سے

خدا نے رکھی ہے ان سب میں دل کشی کیسی

 

انہیں میں کھوئے ہم ایسے کہ کچھ نہ یاد رہا

خدا کے ساتھ ہی یہ خود فرامشی کیسی

 

سبھوں کے پھیرے میں رب کو ہی بھول بیٹھے ہم

غرور و خود سری کیسی یہ سرکشی کیسی

 

وہ ہم کو بخشیں نہ بخشیں پہ ہم انہیں کے ہیں

کسی بھی اور سے رضویؔ امید ہی کیسی

٭٭٭

 

 

 

ہمیشہ جس کا میں پاس و لحاظ کرتا رہا

وہ میرے حق میں سدا ساز باز کرتا رہا

 

حضور حسن وہ عجز و نیاز کرتا رہا

سراپا حسن مگر مشق ناز کرتا رہا

 

کسی کا عشق کوئی بھی کبھی چھپا نہ سکا

کہ اس کا حال ہی افشائے راز کرتا رہا

 

خود اپنی ذات کی اصلاح حیف ہو نہ سکی

اگر چہ شیخ سدا پند و وعظ کرتا رہا

 

خدا کی یاد سے غافل کبھی وہ ہو نہ سکا

خضوع دل سے جو ہر دم نماز کرتا رہا

 

کسی کی طبع پر وہ بار بن سکا نہ کبھی

جو ہر طلب سے سدا احتراز کرتا رہا

 

کسی کی چاہ چھپائے نہ چھپ سکی رضویؔ

اگر چہ کوشش اخفائے راز کرتا رہا

٭٭٭

 

 

کسے میں دل کے تقاضوں سے روشناس کروں

ہے کون ایسا کہ جس سے میں التماس کروں

 

کسی کے بعد کہیں بھی نہیں کوئی ہم راز

کہ جس کے سامنے میں راز دل کا فاش کروں

 

وہ ایک ذات جو کھوئی گئی ہے عرصوں سے

کہاں کہاں اسے دنیا میں میں تلاش کروں

 

وہ میری روح مری زندگ مری دنیا

نہیں ہے وہ تواب بن میں ہی جاکے باس کروں

 

گلی میں کون پڑا ہے شکستہ و خستہ

مری طرح ہی کوئی ہو گا اس کا پاس کروں

 

رہ مراد کا دیرینہ شہ سوار ہے وہ

قیام کچھ دنوں رضویؔ کے جا کے پاس کروں

٭٭٭

 

 

 

زمانہ گرچہ کوئی ایسا سازگار نہیں

مگر ہے جینا کہ مرنے پر اختیار نہیں

 

ہم اس لئے نہیں کہتے ہیں حال زار اپنا

کہ بزم میں کوئی ہو جائے شرمسار نہیں

 

خدا کے فضل سے کوئی بھی کار گر نہ ہوا

وگرنہ کون سا ہم پہ ہوا ہے وار نہیں

 

کسی کے ساتھ کے لمحوں کی جب ہے یاد آتی

تو دل کو پہلو میں ملتا ہے پھر قرار نہیں

 

عجب زمانہ ہے یہ دوست ہو کہ بھائی ہو

کسی کو آج کسی پر ہے اعتبار نہیں

 

تمام رشتوں کی تقدیس ہو گئی غارت

غضب ہے کوئی بھی ہوتا ہے شرمسار نہیں

 

جو پیار ہم کو ملا تھا کسی سے اے رضویؔ

سو اس کے جیسا کوئی دے سکا ہے پیار نہیں

٭٭٭

 

ہم نشیں و ہم مذاق و ہم سخن کوئی نہیں

ہیں تو اپنے پر ہے ان میں اپنا پن کوئی نہیں

 

ہم زبان و ہم خیال و ہم سخن کوئی نہیں

جاں نثار و جاں فدا و جان من کوئی نہیں

 

اب تو تنہائی کے عالم میں ہے کٹتی صبح و شام

محفل جام و سبو بزم سخن کوئی نہیں

 

ایک ہم ہیں اور چاروں سمت تنہائی کا راج

نا کوئی عذرا نہ سلمی گلبدن کوئی نہیں

 

روز و شب یکساں کسی کے بعد ہے میرے لئے

کلبۂ احزاں میں سورج کی کرن کوئی نہیں

 

اٹھ گیا پہلو سے یار غمگسار و دردمند

جاں جاں کوئی نہیں ہے جان من کوئی نہیں

 

کیسا تھا کڑیل جواں رضویؔ کو یہ کیا ہو گیا

تمکنت کوئی نہیں ہے بانکپن کوئی نہیں

٭٭٭

 

کھونا یاں پانے سے بھی کچھ کم نہیں

دل کے جانے کا ذرا بھی غم نہیں

 

دید جاناں گرچہ ہے معراج شوق

آرزوئے دید بھی کچھ کم نہیں

 

درد دل بڑھ کر دوا خود ہو گیا

زخم دل منت کش مرہم نہیں

 

آج دنیا کا سنورنا ہے محال

زلف جاناں کا یہ پیچ و خم نہیں

 

زخم شمشیر و سناں کا ہے علاج

پر زباں کی کاٹ کا مرہم نہیں

 

آدمی حرص و ہوس کا ہے شکار

ہے محبت اس لئے باہم نہیں

 

جب سے پہلو سے کوئی اٹھ کر گیا

چین کیا ہے جانتے ہیں ہم نہیں

 

گرچہ رضویؔ رنج و غم سے چور ہے

حوصلہ جینے کا پھر بھی کم نہیں

٭٭٭

 

 

 

اپنی غزلیں مجھے کافی ہیں بہلنے کے لئے

صحنِ گلزار تخییل میں ٹہلنے کے لئے

 

اس کی خوشبو سے معطر ہے مشامِ دل و جاں

اب کوئی عطر نہیں چاہئے ملنے کے لئے

 

میکدہ کی ہے ضرورت نہ مئے مینا کی

دل کی سرمستی ہی کافی ہے مچلنے کے لئے

 

رہ نوردی کے لئے شہر کی حاجت کیا اب

دشت وحشت کا وسیع صحن ہے چلنے کے لئے

 

جن کے محلوں میں چراغاں کا سماں رہتا تھا

اک دیا بھی سر تربت ہے نہ جلنے کے لئے

 

میری چاہت نے اسے بقع انوار کیا

شمع اب اور کہاں جائے گی جلنے کے لئے

 

اب تو عقبہ کی کریں فکر جناب رضویؔ

آپ کو عمر ملی ہے یہ سنبھلنے کے لئے

٭٭٭

 

غزل کہہ کہہ کے گاتے ہیں تو کچھ تسکین ہوتی ہے

اسی سے کچھ تسلیِ دل غمگین ہوتی ہے

 

طبیعت جب کسی کے واسطے غمگین ہوتی ہے

اسی کے فکر سے پھر دل کو کچھ تسکین ہوتی ہے

 

امید وصل سے تنہائی بھی رنگین ہوتی ہے

جدائی دائمی لیکن بہت سنگین ہوتی ہے

 

اسی کی بات ہو چرچا ہو اس کا ذکر ہو اس کا

دل رنجور کو اس طرح کچھ تسکین ہوتی ہے

 

کوئی بھی عمر ہو لیکن جواں سالی نہیں جاتی

طبیعت شاعروں کی ہر زماں رنگین ہوتی ہے

 

نشان جادۂ منزل نہ کوئی رہ رو و رہبر

مسافت اسطرح تنہا بڑی سنگین ہوتی ہے

 

کس و ناکس سے اپنا حال کہتے پھرئے مت رضویؔ

خود اپنے آپ کی اس میں بہت توہین ہوتی ہے

٭٭٭

 

کوئی بتاؤ کہ دل کیوں کہیں نہیں لگتا

کوئی حسین بھی اب کیوں حسیں نہیں لگتا

 

کشش نہ چاند ستاروں نہ چاندنی شب میں

کوئی بھی دلکش و دلبر کہیں نہیں لگتا

 

چمن میں فصل گل آئے کہ رت خزاں کی رہے

نظر کو فرق ذرا بھی کہیں نہیں لگتا

 

غموں کو جھیلنے کی ایسی ہو گئی ہے لت

کہ بار غم سے دلِ اندوہ گیں نہیں لگتا

 

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا ہوا ہے مجھے

کسی کے بعد یہ دل کیوں کہیں نہیں لگتا

 

کوئی جمال کا پرتو ہو چاہے پیکر حسن

کسی کے سامنے کوئی حسیں نہیں ملتا

 

جناب رضویؔ ہیں گوشے میں مضمحل سے پڑے

کوئی بھی شعر کا حلقہ کہیں نہیں لگتا

٭٭٭

 

کہاں جاؤں ملوں کس سے شناسا نا رہا کوئی

بہت ہیں لوگ لیکن اس کے جیسا نا رہا کوئی

 

اکیلا در بدر گلیوں میں اوارہ سا پھرتا ہوں

کہاں ٹھہروں کہیں بھی اب ٹھکانا نا رہا کوئی

 

نظر جس پر بھی پڑتی ہے وہ بے گانہ سا لگتا ہے

کسی کے بعد دنیا میں اب اپنا نا رہا کوئی

 

بناؤں کس کو حصہ دار اپنے رنج و راحت کا

کہ دل کی بات کہنے سننے والا نا رہا کوئی

 

مرے غم سے ہو رنجیدہ مری خوشیوں سے جو خوش ہو

اب ایسا با صفا اخلاص والا نا رہا کوئی

 

اب اس کی یاد ہی جینے کا اک واحد سہارا ہے

کسی کے بعد دنیا میں سہارا نا رہا کوئی

 

جدائی پر کسی کی روئیے گا کب تلک رضویؔ

کسی کے پاس بھی اپنا کسی کا نا رہا کوئی

٭٭٭

 

یہ کیا ہوا کہ اچانک پیار کر بیٹھے

متاع دل ہی کسی پر نثار کر بیٹھے

 

نہ سوچا سمجھا نہ موقع نہ مصلحت دیکھی

کسی کی ذات پر بس اعتبار کر بیٹھے

 

کسی کا جلوہ ہمیشہ ہے اب تو پیشِ نظر

حجاب جتنے تھے سب تاتار کر بیٹھے

 

تجلیِ رخ جاناں ہے ہر طرف ہر دم

ضیاء و نور کا ہم کاروبار کر بیٹھے

 

یہ کائنات سمٹ کر کے ہو گئی نقطہ

جو فکر قدرت پروردگار کر بیٹھے

 

اب اس کے سامنے کوئی بھی قیمتی نہ رہا

تمام دنیا کو ہم بے اعتبار کر بیٹھے

 

جناب رضویؔ کو پوچھے ہے اب کہیں نہ کوئی

یہ خود کو کس طرح کچھ میں شمار کر بیٹھے

٭٭٭

 

 

میں کس سے بات کروں کوئی میرے پاس نہیں

کوئی انیس نہیں کوئی دل شناس نہیں

 

اک اجنبی سی فضاؤں میں کٹ رہے ہیں دن

مرا شناسا کوئی میرے آس پاس نہیں

 

شریک کر کے کسی کو بڑھاؤں کیسے خوشی

گٹھائے غم میرا کوئی یہ التماس نہیں

 

خودی نے ایسا مجھے کر دیا ہے بے پرواہ

نجی تقاضوں کا بھی اب تو کوئی پاس نہیں

 

کسی بھی چیز کی اب کیوں ہوس کروں رضویؔ

یہ حد ہے اب کہ تجھے موت کی بھی آس نہیں

٭٭٭

 

 

 

بے بسیِ دل وارفتہ کا اقرار کریں

سامنے آئے تو ہم کیوں نہ اسے پیار کریں

 

حسن و زیبائی سے کیوں کر نہ سدا پیار کریں

اپنے منصب سے بھلا کس طرح انکار کریں

 

ہم نے خود پہلے ہی وارا تھا دل و جاں اس پر

کیوں نہ برداشت اب اس شوخ کا ہر وار کریں

 

مہر و الفت کے عوض کو ہی ہوس کہتے ہیں

صلۂ عشق کی امید نہ زنہار کریں

 

زیب دیوار ہے تصویر بہت خوب مگر

حق تو یہ ہے کہ اسے نقش دل زار کریں

 

برفِ باطل کو پگھلنا ہے پگھل جائے گی

حق کے سورج کی کرن گرم لگاتار کریں

 

حق کی آواز لگاتے رہیں رضویؔ ہر دم

خود بھی بیدار ہوں لوگوں کو بھی بیدار کریں

٭٭٭

 

زمیں پہ کوئی بھی بغیر اذن چل نہ سکا

بغیر اس کے کوئی اپنے چاہے مل نہ سکا

 

کوئی بھی چشمۂ شیریں کہیں ابل نہ سکا

کوئی بھی سبزہ زمیں سے کہیں نکل نہ سکا

 

تمام خلق کا مالک ہے وہ تن تنہا

کہ کار خلق کسی سے کبھی بھی چل نہ سکا

 

وہی ہے آمر و حاکم تمام عالم کا

کوئی بھی اس کا ارادہ کبھی بدل نہ سکا

 

وہی ہے قوت و طاقت وہی ہے غلبۂ تام

کسی کا داؤ بھی اس کے حضور چل نہ سکا

 

وہی ہے نور وہی روشنی وہی جلوہ

خضور اس کے کسی کا چراغ جل نہ سکا

 

دئے تو اس نے مواقع بہت سنبھلنے کے

مگر صد حیف کہ رضویؔ کبھی سنبھل نہ سکا

٭٭٭

 

 

یہ شاعری ہے مری جس سے میں بہلتا ہوں

روش پہ گلشن تخئیل کی ٹہلتا ہوں

 

فراق یار کی تاریک تنگ گلیوں میں

انہیں حسین چراغوں کے ساتھ چلتا ہوں

 

کسی کے نام کی غزلیں ہی میری پونجی ہیں

انہیں اکیلے میں گاتا ہوں اور مچلتا ہوں

 

یہی نشاط دل ناتواں و مضطر ہیں

انہیں کے زور سے راہ وفا میں چلتا ہوں

 

حصار زیست کی تنگی و بے نیازی سے

نہ جانے کون سی ساعت میں اب نکلتا ہوں

 

وہ برشگال کاموسم ہو یا کہ فصل بہار

ہر ایک فصل میں مثل چراغ جلتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

سبھوں کے درمیاں رہ کر بھی تنہائی کے شاکی تھے

مزہ ہے تنہا بالکل خانۂ خالی میں اب رہئے

 

مکاں سے دو قدم پر تربت محبوب واقع ہے

اب اس ترتب کی قربت کو بھی کس دل سے کوئی چھوڑے

 

کسی کی ذات سے دوری کا غم تو جھیلتے ہی تھے

اب اس کی خاک تربت سے بھی کیسے دور ہو جائے

 

کہاں جائے گا کوئی چھوڑ کر محبوب کی نگری

یہی پر دفن جب سرمایہ اپنی زندگی کا ہے

 

کسی کی نعمت ہمسائے گی تج دے کوئی کیوں کر

کس کو کھو کے اس نعمت کو بھی کیسے کوئی کھو دے

 

ترے ترتب کے سایہ میں بسر کرنا ہے دن باقی

مقدر میں ہمارے کیا ہے لکھا یہ خدا جانے

 

کسی کو کھو کے رضویؔ تربت محبوب بھی کھو دے

کہیں بھی اب لے جاؤ نا اس کو شہر جاناں سے

٭٭٭

 

نوادہ چھوڑ کے جانا بہت ہی مشکل ہے

اسی زمیں میں کسی کا گڑا ہوا دل ہے

 

نگاہ مہر و وفا پر تو رخ زیبا

کسی کی دید کا جلوہ یہیں پہ حاصل ہے

 

اسی زمین سے آتی ہے پیار کی خوشبو

کسی کا عکس حسیں ہر کلی میں شامل ہے

 

یہیں پہ تاج محل ہے کسی کی الفت کا

اسی زمین کو مشہد کا فخر حاصل ہے

 

کسی کی زلف معنبر کی مست خوشبو سے

مہکتی شہر خموشاں کی ساری ہی گل ہے

 

یہ سر زمین بہت پر کشش و جاذب ہے

اسی زمیں میں میری زندگی کا حاصل ہے

 

اب اس زمین کو کیسے میں چھوڑ دوں رضویؔ

جہاں پہ جان ہے اپنی گڑا ہوا دل ہے

٭٭٭

 

وہ جو کل تھے ہیں وہی آج وہی کل ہوں گے

بغیر ان کے نہ ہم بھی کبھی اک پل ہوں گے

 

وہی دن رات وہی آج وہی کل ہوں گے

بغیر اس کے مسائل کبھی نہ حل ہوں گے

 

وہی سب کچھ ہیں نہیں کوئی بھی ہے ان کے سوا

ما سوا ان کے جو ہوں گے سبھی باطل ہوں گے

 

وہی خلاقِ دو عالم وہی رزاق جہاں

ہم کبھی بھی نہ کسی سمت ہی مائل ہوں گے

 

اپنے اعمال کی جھلسی ہوئی کھیتی پہ ضرور

عفو کے ان کے برستے ہوئے بادل ہوں گے

 

وہی آمر وہی منصف وہی ہے رب کریم

ہم بھکاری ہیں سدا اس کے ہی سائل ہوں گے

 

رضویؔ عاصی کے دل میں ہے یہ یقینِ کامل

آج جو ہیں وہی مائل بہ کرم کل ہوں گے

٭٭٭

 

نہ کوئی آس نہ امید و آرزو کوئی

مگر ہمیشہ ہے سرگرم جستجو کوئی

 

کسی سے ربط و تعلق نہ کوئی لاگ لگاؤ

بھٹک رہا ہے مگر پھر بھی کو بکو کوئی

 

نہ کوئی سمت سفر ہے نہ جادۂ و منزل

بھٹکتا پھرتا ہے گلیوں میں زرد رو کوئی

 

کسی خیال میں ہر وقت کھویا کھویا سا

گلوں کے بیچ ہے بیزار رنگ و بو کوئی

 

کبھی جو غرق تصور ہوا تو ایسا لگا

کھڑا ہوا ہے میرے جیسے روبرو کوئی

 

میری نگاہوں نے بس چن لیا جسے چاہا

اب اس کے بعد رہا اب نہ خوبرو کوئی

 

کسی کے بعد نہ پوچھے ہے کوئی رضویؔ کو

خدا کرے کہ نہ ایسا ہو زرد رو کوئی

٭٭٭

 

کسی سے دل کی لگی اب نہیں رہی میری

وہ ایک ذات تھی جس سے تھی دل لگی میری

 

نہ دشمنی ہے کسی سے نہ دوستی میری

کچھ ایسی ہو گئی یکسو ہے زندگی میری

 

نہ آرزو نہ تمنا نہ کوئی حسرت و یاس

لوِ حیات اچانک ہے بجھ گئی میری

 

بہت سی دل میں امیدیں تھیں آرزوئیں تھیں

مگر نکل نہ سکی ان میں ایک بھی میری

 

لباس میں بھی نظر آتے ہیں برہنہ لوگ

نگاہ رہتی ہے ہر لمحہ جھینپتی میری

 

چراغ لے کے زمانے میں ہر طرف ڈھونڈھا

ملا نہ انساں نظر تھک کے رہ گئی میری

 

میں کہہ دوں رضویؔ بھلا دوسروں کو کیسے برا

کچھ ایسی اچھی نہیں خود ہے زندگی میری

٭٭٭

 

کوئی خیر و خبر لیتا نہیں ہے

ہر اک دن تنگ سے تنگ تر زمیں ہے

 

ہے تنہائی کا عالم اور میں ہوں

نہ کوئی ہم نفس نہ ہم نشیں ہے

 

کہوں کس سے میں اپنے دل کی باتیں

کوئی بھی سننے والا اب نہیں ہے

 

گھٹن اندر ہے باہر بے پناہی

بڑی ہی ضیق میں جانِ حزیں ہے

 

ضعیفی اور تنہائی کا عالم

کہیں کوئی پذیرائی نہیں ہے

 

تماشہ سا بنا تو ہوں مگر حیف

تماشہ بیں نہیں کوئی کہیں ہے

 

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہی ہیں رضویؔ

بڑی ہی ضیق میں جان حزیں ہے

٭٭٭

 

سزائے قید تنہائی سے بڑھ کر

سزا کوئی نہیں دنیا کے اندر

 

بظاہر جسم و جاں آزاد سے ہیں

مگر احساس پر چلتا ہے خنجر

 

کہیں بھی جی نہیں لگتا ہے ایکدم

رہیں گھر میں کے جائیں گھر کے باہر

 

کسی کو ڈھونڈھتی رہتی ہیں نظریں

ہمیشہ دل میں ہے تصویر دلبر

 

کسی کا خیال رہتا ہے مسلسل

کمی کھلتی کسی کی ہے برابر

 

کہاں جائیں کہاں جاکے رہیں ہم

سکوں پائے جہاں یہ قلب مضطر

 

جگہ بس ایک ہی ایسی ہے رضویؔ

جہاں پر جائیں گے بس آپ مر کر

٭٭٭

 

ایک دم تنہا ہو گیا کوئی

دیکھنے والا نا رہا کوئی

 

جس طرف بھی نگاہ جاتی ہے

ہے نہ ہمدم نہ ہم نوا کوئی

 

کوئی خیر و خبر نہیں لیتا

جی رہا ہے کہ مر رہا کوئی

 

بے سہارا پڑا اکیلے ہے

کوئی اپنا نا آشنا کوئی

 

کیا کرے کوئی اب کہاں جائے

سوجھتا ہے نہ راستہ کوئی

 

اک عجب سا گھٹن کا عالم ہے

ایسے ہی میں ہے جی رہا کوئی

 

اک خدا مجھ کو ہے کافی رضویؔ

ہے بلا سے نہ دوسرا کوئی

٭٭٭

 

خیریت دور سے ہیں پوچھتے پیارے اپنے

کبھی نزدیک نہ آنے ہیں ہمارے اپنے

 

ان کی مشغولیت مہلت نہیں دیتی ہے انہیں

کیسے مجبور ہیں یہ وقت کے مارے اپنے

 

دور سے دیتے تسلی ہیں دلِ مسکیں کو

اس سے زیادہ نہیں کر سکتے بچارے اپنے

 

بڑے مجبور ہیں معذور ہیں بے بس ہیں بہت

ورنہ اپنے ہی ہیں یہ سارے کے سارے اپنے

 

اپنے حالات سے مجبور بچارے ہیں بہت

ورنہ ہمدرد بہت ہیں یہ ہمارے اپنے

 

اپنے اپنے ہیں سدا غیر تو پھر غیر ہی ہیں

وقت پر آئیں گے یہ کام ہمارے اپنے

 

لیں تحمل سے ذرا کام جناب رضویؔ

قابل رحم و کرم ہیں یہ بچارے اپنے

٭٭٭

 

ذرا بھی فکر و تردد کی کوئی بات نہیں

مزے سے جیتے ہیں گرچہ ہے کوئی ساتھ نہیں

 

خدا کا شکر ہے محروم معمولات نہیں

رہین منت بیگانگاں حیات نہیں

 

مدد خدا کی ہمیشہ لگی ہے ساتھ مرے

وگرنہ چین سے کٹتی کبھی حیات نہیں

 

کمی کسی کی کھٹکتی مگر ہے ہر لمحہ

کبھی کسی سے بھی کہہ سکتے دل کی بات نہیں

 

کسی کے جانے سے کیسا زمانہ بدلا ہے

کوئی نہیں ہے تو کوئی بھی اپنے ساتھ نہیں

 

کوئی خوشی ہو کہ غم ہو کہیں تو کس سے کہیں

کہ اس کی طرح اثر لیگی کوئی ذات نہیں

 

کسی کی یاد کو کیسے بھلا دیں ائے رضویؔ

کسی کی یاد نہیں ہے تو پھر حیات نہیں

٭٭٭

 

 

ہمارے چاہنے والے ہیں گرچہ پاس نہیں

خدا کا شکر کہ ہم پھر بھی ہیں اداس نہیں

 

تقاضے وقت پہ ہوتے ہیں سب کے سب پورے

کبھی بھی رب کے ہم ہو سکتے ناسپاس نہیں

 

ہم اپنے محسنوں کے گرچہ معترف ہیں بہت

مگر کسی سے بھی رکھتے ہیں کوئی آس نہیں

 

خلوص و پیار ہے ان کا ہمیشہ وجہ سکوں

اگر چہ ان میں سے کوئی ہمارے پاس نہیں

 

جہاں کہیں بھی رہیں وہ سدا ہمارے ہیں

مغائرت کی تو ایسی کوئی اساس نہیں

 

کسی کے بعد بڑی ہی سپاٹ سی ہے حیات

کوئی تمنا کوئی آرزو و آس نہیں

 

حیات جتنی مقدر ہے جی رہا ہے کوئی

کسی سے کوئی تقاضہ و التماس نہیں

 

پڑا ہے گوشۂ گمنامی میں کوئی ہر دم

خدا کا شکر کہ مرجوعہ عام و خاص نہیں

 

زبانی پوچھنے والوں کہ کہہ دے اے رضویؔ

بفضلہ وہ توانا ہے ذی فراش نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

خیریت دور سے سب پوچھ کے رہ جاتے ہیں

اور ہم پر جو گذرتی ہے وہ سہہ جاتے ہیں

 

سوچتے ہیں کہ یہ مجبور ہیں لیکن پھر بھی

چند فطرے نگہِ ضبط سے بہہ جاتے ہیں

 

اپنی حالت کا کریں ذکر تو ہم کس سے کریں

گھر کی دیوار سے بے ساختہ کہہ جاتے ہیں

 

ہم پہ اپنے کو بھلا کون کرے گا قرباں

لوگ کہنے کو تو کیا کچھ نہیں کہہ جاتے ہیں

 

اپنوں کی آج بھی ایکدم ہے نہیں کوئی کمی

وقت آتا ہے تو سب پیچھے ہی رہ جاتے ہیں

 

رضویؔ اس دور میں اس کو بھی غنیمت سمجھو

لوگ دو بول محبت کا تو کہہ جاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

میرے لئے جو اپنے کو کلفت میں ڈال دے

میری خوشی کے واسطے خود کو ملال دے

 

عیش و طرب کے نقشوں کی جب بھی ہو پیش کش

اک شان بے نیازی سے ہنس کر تو ٹال دے

 

ایسا خلوص ایسی محبت فدائیت

عنقا ہے دہر میں کوئی کس کی مثال دے

 

خالی قلوب ہو گئے اخلاص و مہر سے

یارب دلوں میں شمۂ اخلاص ڈال دے

 

حرص و ہوس پہ مبنی ہیں سارے معاملے

اس مکر و زور سے ہمیں یارب نکال دے

 

ہر کام میں خلوص و محبت عطا کرے

بد نیتی کے جال سے اللہ نکال دے

 

شفافیت خلوص عطا کر تو اے خدا

رضویؔ کے دل سے مکر و ریا کو نکال دے

٭٭٭

 

کسی کی یاد نہاں گیر حافظہ ہے بنی

سوائے اس کے نہیں یاد آتا ہے کوئی

 

دل و دماغ پہ چھایا ہے اس طرح کوئی

سوائے اس کے کسی کی نہیں ہے یاد آتی

 

جہاں بھی دیکھئے تصویر ایک ہی سی ہے

نگاہ میں کوئی تصویر اس طرح ہے بسی

 

یہ کائنات سمٹی تو اس کی ذات بنی

ہماری ذات اسی میں ہے گویا ڈوبی ہوئی

 

اب اس کو یاد کروں نا تو کس کو یاد کروں

نفس کی آمد و رفت ہر گھڑی ہے جس سے بندھی

 

میں مر ہی جاؤں اسی لمحہ گر بھلا دوں اسے

مری حیات تو ہے اس کی یاد پر ہی ٹکی

 

وجود رضویؔ کا قائم ہے اس کے دم سے سدا

وگرنہ رضویؔ کا اپنا نہیں وجود کوئی

٭٭٭

 

ہمارے پاؤں میں بیڑی پڑی ہے

سزا چلنے کی یہ ہم کو ملی ہے

 

سدا بیٹھے رہیں اب گھر کے اندر

مسافت اب ہوئی دشوار سی ہے

 

سفر کرنا بہت مشکل ہوا اب

بہت تکلیف بائیں پاؤں کی ہے

 

کہیں کیا کیسے ہیں معذور و بے بس

خدا کا شکر لیکن ہر گھڑی ہے

 

خدائے پاک بر تر سے دعا ہے

شفا ان کے اشارے میں دھری ہے

 

وہ چاہیں تو بھلا چنگا بنا دیں

شفا ہر ایک کو ان سے ملی ہے

 

یہ رضویؔ بھی شفا پائے گا اک دن

کہ شمعِ آس اک دل میں جلی ہے

٭٭٭

 

نہ ہم بھولیں ہیں ان کو اور نہ وہ ہم کو بھلا سکتے

کبھی بھی آخری حد تک نہیں ہم دونوں جا سکتے

 

بہت مجبور ہیں دونوں ہی اپنے دل کے ہاتھوں سے

کہ اپنے آپ پر دونوں کبھی قابو نہ پا سکتے

 

ہیں گرچہ بزم میں دونوں ہی چاہے اجنبی جیسے

مگر آنکھوں کی چوری سے نہیں ہم باز آ سکتے

 

غضب کے تاڑنے والوں سے بچنا ہے بہت مشکل

چھپائیں لاکھ لیکن وہ کبھی دھوکا نہ کھا سکتے

 

کسی کے پیار کی نکہت سے ایسے ہو گئے بے خود

کبھی بھی اپنے آپے میں نہیں ہم اب تو آ سکتے

 

غزل کے لہجۂ رنگیں میں کوئی بولتا ہے جب

یہ حسرت دل میں اٹھتی ہے کہ کاش ہم اس کو پا سکتے

 

درون پردۂ محمل تماشہ جو بھی ہوتا ہے

کبھی اے کاش رضویؔ پردہ ہم اس سے اٹھا سکتے

٭٭٭

 

بڑا ہی لطف و کرم ہے بڑی عنایت ہے

ہر ایک نوع کی حاصل تمام راحت ہے

 

سکونِ قلب سے بڑھ کر بھی کوئی دولت ہے

کسی بھی چیز کی اب اور کیا ضرورت ہے

 

خدا کا شکر کریں اس کی بندگی میں رہیں

یقین مانیں کہ سب اس کی ہی بدولت ہے

 

سوائے اس کے کسی کو بھی ساری دنیا میں

نہ اختیار ہے کوئی نہ دست قدرت ہے

 

جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے دم کے دم میں سدا

کوئی بھی چوں و چرا کر لے کس میں ہمت ہے

 

وہی اکیلا ہے خالق وہی ہے رب جہاں

اس کی ہر طرح محتاج ساری خلقت ہے

 

حضورؐ جیسا دیا رہنما ہمیں رضویؔ

انہیں کی پیروی میں رکھ دیا سعادت ہے

٭٭٭

 

 

نہ صوفی ہوں نہ سوقی ہوں بس اتنا جانتا ہوں میں

نبیؐ کا امتی ہوں ایک رب کو مانتا ہوں میں

 

خدا کو واحد و بے مثل و یکتا جانتا ہوں میں

بجز اس کے کسی کو بھی نہیں پہچانتا ہوں میں

 

وہی خالق وہی رازق وہی مالک وہی حاکم

تمام افعال کا فاعل اسے گردانتا ہوں میں

 

وہی بس ایک داتا ہے بقیہ سب تو منگتا ہیں

ہر کو سائل و محتاج اس کا مانتا ہوں میں

 

بلا اذن خدا کوئی ہو کچھ بھی کر نہیں سکتا

حضور اس کے سبھی کو دست بستہ جانتا ہوں میں

 

وہی مالک کل جس کو چاہے بخش دے رضویؔ

بے استحقاق جنت اپنے رب سے مانگتا ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

کوئی اگر ہو آپ سے نا مائل خطاب

اپنوں سے دور رہنے کی مشق کیجئے جناب

 

جس عالم ضعیفی میں پہونچے ہوئے ہیں آپ

کس کو پڑی ہے آپ کا بن جائے ہمرکاب

 

دل کو دبائیے ذرا انگیز کیجئے

دن کو نہ دیکھئے کبھی حسن ادب کا خواب

 

پاس و لحاظ خیال ادب اور احترام

دانش گہہ جدید میں ہیں خارج نصاب

 

یہ دور عقل و دانش و علم و نظر کا ہے

حاصل نہیں ہے نقد تو پھر کیجئے اجتناب

 

اس ہاتھ دیجئے تو بس اس ہاتھ لیجئے

سودا ہے نقد کل کا نہیں ہے کوئی حساب

 

رضویؔ کو طول عمری ہی دکھلا گیا یہ دن

چارہ سوائے صبر نہیں کوئی بھی جناب

٭٭٭

 

 

اسی کی حمد کرو اس کے گیت گاتے رہو

اسی کے نام کی رٹ ہر گھڑی لگاتے رہو

 

سوائے اس کے نہیں ہے کہیں کوئی موجود

اسی کے سامنے سر کو سدا جھکاتے رہو

 

صفات و ذات میں اس کا کوئی شریک نہیں

ہر ایک شرک سے دامن سدا بچاتے رہو

 

وہی ہے قوت و طاقت وہی ہے صاحب امر

اسی کے پاس حوائج کو لے کے جاتے رہو

 

بڑائی، خوبیاں، تعریف، ملک اور نعمت

اسی کو زیب ہیں دیتی صدا لگاتے رہو

 

وہی ہے خالق و مالک وہی ہے پالنہار

اسی سے پیار کرو اس سے دل لگاتے رہو

 

یہ زندگی ہے اسی کی اسی کا سب کچھ ہے

دل و دماغ میں اس بات کو اٹاتے رہو

 

تمہارا کام ہے دعوت نبیؐ کی امت ہو

صدائے لا الہ ہر سمت ہی لگاتے رہو

 

خدا نے داعی بنایا ہے تم کو اے رضویؔ

تمام ازم سے دامن ذرا بچاتے رہو

٭٭٭

 

 

 

کرم ہے لطف ہے احسان ہے عنایت ہے

گناہگار پہ کیسی یہ چشم رحمت ہے

 

کسی کے پاس نہ اپنی کوئی لیاقت ہے

جو کچھ بھی ہے وہ فقط ان کی ہی عنایت ہے

 

نوازتے ہیں کسی کو تو ان کی چاہت ہے

وگرنہ حق ہے کسی کا نہ کوئی نسبت ہے

 

غنی ہیں صرف وہی باقی سب بھکاری ہیں

ہر ایک ہاتھ میں کشکولِ عجز و حاجت ہے

 

ہر ایک چیز ہے اک خالی ظرف کی مانند

جو چیز ڈالی گئی اس سے اس کی قیمت ہے

 

خدا کا شکر ہر اک حال میں کیا جائے

یہ شان بندہ و اقرار آدمیت ہے

 

اگر جو وہ نہ نوازیں تمہیں تو اے رضویؔ

کوئی بھی قدر تمہاری نہ کوئی قیمت ہے

٭٭٭

 

ادھر ادھر کی گلیوں میں اے کاش نہ کوئی مارا جائے

جس کوچے میں قتل ہوئے ہم وہیں ہمارا پیارا جائے

 

جان بدن سے جائے تو جائے زباں سے نہ یہ نعرہ جائے

لا الہ الا للہ کا کلمہ خوب پکارا جائے

 

ہم ہیں اک اللہ کے سپاہی اپنے نبیؐ کے ہم شیدائی

سیدھی راہ کے راہی ہم رستہ نہ ہمارا مارا جائے

 

سارے دکھ کی ایک دوا ہے یعنی وہ احکام خدا ہے

ملکوں کے ایوانوں میں دستور خدا کا دھارا جائے

 

جب اللہ کا نام چلے گا تب دنیا کا کام چلے گا

دنیا کے گوشے گوشے میں دور تلک یہ نعرہ جائے

 

ہم ہیں خیر امت و داعی کام ہمارا امر و نواہی

اپنے اپنے نفس کو یارو اس رخ پر للکارا جائے

 

ساری امت داعی بنی ہے دنیا کی رکھوالی بنی ہے

اس مقصد کے خاطر رضویؔ سب کچھ اپنا وارا جائے

٭٭٭

 

کہاں کہاں نہ گئے اس کی جستجو میں ہم

کھنگال ڈالا ہر اک چپہ چپۂ عالم

 

فلک پہ مارا زقند اترے تحت ارض کہیں

کبھی خلاؤں میں تیرا کئے برابر ہم

 

حسین چاند ستاروں کے سمت لپکے کبھی

کبھی چمکتے سے سورج کو جانا اپنا صنم

 

اسی تلاش میں ارض و سما کو چھان دیا

مگر یہ شوق کبھی بھی نہ ہو سکا کچھ کم

 

پتہ بتا نہ سکا کوئی بھی زمانے میں

تھا سب کے پاس تراشیدہ اپنا اپنا صنم

 

اگر میں حستہ و درماندہ کبھی بھی ہو نہ سکا

برائے غور تفکر کیا جو سر کو خم

 

ندا یہ آئی کہ رضویؔ وہی ہے رب جہاں

کہ جس نے پیدا کیا ہے تمام ہی عالم

٭٭٭

 

 

کہیں بھی چین میسر نہیں زمانے میں

سہم سی چڑھتی ہے اب تو کہیں بھی جانے میں

 

کوئی بھی قدر ہے اپنے میں نا بیگانے میں

اب احتیاط ہی اچھا ہے آنے جانے میں

 

بہت تپاک سے ملتے ہیں لوگ پہلے پہل

نہ دیر کرتے ہیں پھر منزلت گھٹانے میں

 

ہیں بار دوش اگر آپ نے نفع نہ دیا

جتن کریں گے ہر اک طرح کا بھگانے میں

 

اگر ہے آپ سے مطلب تو سو خوشامد ہے

کوئی کسر نہیں رکھیں گے دل لگانے میں

 

تمام قدریں میاں ختم ہو گئیں ایسی

کوئی شناخت کسی کی نہیں زمانے میں

 

جناب رضویؔ کی ڈرتے گذرتی ہیں گھڑیاں

کسی کا پاس کسی کو نہ ہے زمانے میں

 

ایک ازدہام ہے اک بھیڑ اور میلا ہے

ہجوم دہر میں لیکن ہر اک اکیلا ہے

 

کوئی شناخت کوئی ربط نہ ہے کوئی رشتہ

غرض ہر ایک کی تفریح اور میلا ہے

 

ہر ایک اپنی ہی دھن میں ہے تنہا تنہا سا

کسی سے بھی نہ کسی کا کوئی جھمیلا ہے

 

نہ کوئی سمت نہ منزل نہ کوئی خاص ڈگر

ہما ہمی ہے، بنا ہو کوئی چھبیلا ہے

 

تماش بیں تو ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں

عروج پر نہ پہنچتا کبھی یہ میلا ہے

 

زوال دائمی ہے نقطۂ عروج اس کا

برسنے لگتا ہے جب ہر طرف سے ڈھیلا ہے

 

کوئی بھی سر ہو سلامت نہیں امکاں

پتہ یہ چلتا ہے کیسے مزے کا میلا ہے

٭٭٭

 

کسی کے لطف و کرم سے ہی جی رہا ہے کوئی

دریدہ پیرہن زیست سی رہا ہے کوئی

 

لٹا دی پونجی جو دی تھی کسی نے وقت وداع

اب اپنے ہاتھوں ہی تنگی میں جی رہا ہے کوئی

 

خصوصی لطف سے ان کے حیات پھر سے ملی

وگرنہ جینے کو بدنام ہی رہا ہے کوئی

 

حیات و موت کے مالک جہان کے خالق

شناخت سے سدا محروم ہی رہا ہے کوئی

 

نگاہ لطف میں ہردم یہ گندہ بندہ رہا

کرم کے قرباں کہ مرمر کے جی رہا ہے کوئی

 

حیات تیری ہے دیتا ہے چاہتا ہے جسے

ترے کرم کے سہارے ہی جی رہا ہے کوئی

 

تو اپنے رضویؔ مردہ کو کر دے پھر زندہ

یہی امید لئے دل میں جی رہا ہے کوئی

٭٭٭

 

یہ بات جان لیں اب ساکنان اہل چمن

خزاں رسیدہ نہیں ہو گا اب کبھی بھی چمن

 

ہمیشہ صحن چمن میں رہے گی فصل بہار

صبا نسیم رہے گی ہمیشہ خیمہ زن

 

نظر پڑے گی نہ گلچیں کی شاخ گل پہ کبھی

شکار مرغ چمن پر لگے گی اب قدغن

 

کوئی بھی مرغ چمن اب نہ قید ہو گا کبھی

تمام شاخوں پہ طائر رہیں گے نغمہ زن

 

یہ جشن فصل بہاراں ہے خوب رقص کریں

ہر اک روش پہ ہو فصل بہار کا جوبن

 

تمام اہل چمن اب رہیں سدا بیدار

چمن پہ پھیلا رہیگا بہار کا دامن

 

یہی پیام ہے رضویؔ کا سن لیں اہل چمن

رہیں گے مل کے تو قائم سدا رہیگا چمن

٭٭٭

 

 

خدا کا شکر کہ دل کو سکون حاصل ہے

ہر ایک حال میں خوش اور مطمئن دل ہے

 

کسی کا لطف کسی کی طرف جو مائل ہے

سکون قلب گنہگار کو بھی حاصل ہے

 

کسی کا حق ہے نہ دعوہ نہ زور باطل ہے

وہ چاہیں تو بھی کریں اختیار کامل ہے

 

کوئی اٹھا نہ سکا بوجھ جس امانت کا

شرف اٹھانے کا انسان ہی کو حاصل ہے

 

مرے کرم سے نہ مایوس ہوں مرے بندے

نثار جائیے کیسی نوید خوشدل ہے

 

دیا کی بھیک تو اب دے ہی دیجئے اس کو

در کرم پہ کھڑا کب سے ایک سائل ہے

 

تمام کون مکاں تنگ ہیں ترے آگے

ترے قیام کے قابل تو میرا ہی دل ہے

 

برا ہے رضویؔ زمانہ میں گرچہ اے آقا

مگر یہ آپ کے محبوب ہی کا گھائل ہے

٭٭٭

 

 

 

فقیر ان کے ہیں کاسہ بدست رہتے ہیں

غنی کے در پہ بہر حال ہست رہتے ہیں

 

نبی وقت ہوں چاہے ہوں جبرئیل امیں

حضور اس کے سبھی پست پست رہتے ہیں

 

کوئی بھی دینے کی حالت میں ہے نہ ہو گا کبھی

سب اس کے کوچہ میں کاسہ بدست رہتے ہیں

 

وہی ہے پالنے والا تمام عالم کا

یقیں ہے جن کو وہ مستِ الست رہتے ہیں

 

گناہ کرتے ہیں پھر بھی نوازتے ہیں ہمیں

ہم اس کے بعد بھی غفلت میں مست رہتے ہیں

 

مئے و صراحی بھی تسبیح و جانماز بھی ہے

فقیر کے یہاں سب بندوبست رہتے ہیں

 

گناہ گار ہیں عاصی ہیں گرچہ رضویؔ بہت

کسی کے وعدۂ فردا پہ مست رہتے ہیں

٭٭٭

 

کرم کا مینہ نہ برستا تو سب ہی مر جاتے

اگر معاف نہ کرتے تو ہم کدھر جاتے

 

گناہ گار خطا کار عاصی و مجرم

ترے علاوہ بھلا اور کس کے در جاتے

 

وہی ہے خالق و رازق تمام عالم کا

نہ اس سے مانگتے تو یونہی در بدر جاتے

 

تمام نفع و ضرر کا وہی تو مالک ہے

مرادیں مانگنے ہم اور کس کے در جاتے

 

وہ درگذر نہیں کرتے تو سارے اہل جہاں

ہلاک ہوتے جہنم میں سر بسر جاتے

 

کسی کے عفو نے سب کو بچا لیا یکسر

وگرنہ آگ میں دوزخ کی جل کے مر جاتے

 

کسی کے عفو و کرم کا ہی بس سہارا ہے

وگرنہ جیتے جی رضویؔ تو کب کے مر جاتے

٭٭٭

 

کسی کا فضل خصوصی ہے میری طول عمری

گناہ گار کو مہلت ملی ہے توبہ کی

 

خدا کرے کہ تجھے توبۂ النصوح ملے

سفارشی مرے ہو جائیں کل کو پیارے نبیؐ

 

نماز و روزہ و حج و زکوۃ کچھ بھی نہیں

فقط کرم پہ اسی کی یہ بس نظر ہے ٹکی

 

امید کامل و راسخ ہے بخشے جائیں گے

دلارے پیارے نبیؐ کے گناہ گار سبھی

 

خدا کے عفو کا جب مینہ کھل کے برسے گا

گناہ گار کی دیکھے بنے گی تربتری

 

نہ کوئی حق ہے نہ دعوی نہ کوئی کسب و ہنر

برحم خاص خطائیں ہوں معاف بندہ کی

 

عمل تو کچھ بھی نہیں اس پہ دعوے الفت

کوئی یہ جرأت رندانہ دیکھے رضویؔ کی

٭٭٭

 

سدا حدود تعلق کا پاس و خیال رہے

نہ سر چڑھے کوئی، کوئی نہ پائیمال رہے

 

بڑھائیں پینگ محبت کی جتنا جی چاہے

مگر جدائی کے لمحوں کا بھی خیال رہے

 

سدا یقین بچانے کا غم جو کھاتے رہے

بہت ہی خندہ بلب وقت انتقال رہے

 

سوائے اس کے کوئی اور دینے والا نہیں

یقین اس کا ہمیشہ دم سوال رہے

 

وہی ہے فاعل اصلی یقیں ہو اس کا اگر

خوشی میں مست نہ غم سے کوئی نڈھال رہے

 

زمانہ روٹھے تو روٹھے مگر نہ وہ روٹھیں

ہمیشہ ہر گھڑی اس بات کا خیال رہے

 

ہمیشہ مفلس و نادار ہی رہے رضویؔ

مگر یقین کی دولت سے مالامال رہے

٭٭٭

 

 

رنگ مغفرت

 

جب فرشتہ یہ کہے گا ایک وقت

پھر چلے گی کوئی بھی نا معذرت

بیت دنیا میں رہے حضرت بہت

اب تو چلئے سوئے دار آخرت

کون دنیا میں ہمیشہ ہے رہا

جز خدا حاصل ہے کس کو مقدرت

جو بھی سرمایہ ملا تھا آپ کو

سب لٹا ڈالا پئے نفسانیت

اب تو خالی ہاتھ ہے اور آپ ہیں

راستہ کرنا ہے طے لمبا بہت

گھاٹیاں ہیں ایک سے اک راہ میں

دیکھیں کیسی آپ کی بنتی ہے گت

اب تو ان کی راہ میں بچھ جائیے

کام آتی ہے یہاں نا تمکنت

بے بسی محتاجگی بے چارگی

جتنی ہو گی اتنی ہو گی منزلت

اپنے کو قدموں میں ان کے ڈالئے

مانگئے رو رو کے ان سے مغفرت

واسطہ دیجئے کسی کے پیار کا

ہیں دلارے پیارے وہ ان کے بہت

وہ نہ ہوتے تو سبھی بیمار تھے

ان کے دم سے ہے ملی سب کو صحت

کوئی جنت میں نہ جا سکتا کبھی

ان کے قدموں میں ہے حسن آخرت

نام پر ان کے ہی ہو گا بیڑا پار

ان کی مرضی میں ہے رکھی مغفرت

جس کسی کی بھی سفارش وہ کریں

اس کی بن جائے گی پھر تو آخرت

رضویؔ ان کے رنگ میں خود کو رنگو

اور یقیں مانو کہ ہو گی مغفرت

٭٭٭

 

 

 

 

بات مت کیجئے

 

خلوص و پیار محبت کی بات مت کیجئے

جدید عہد میں الفت کی بات مت کیجئے

یہ دور عقل و خرد عصر علم و دانش ہے

جزاء و عقبی و جنت کی بات مت کیجئے

ہر اک قدم پہ ہے سود و زیاں کا جھگڑا یہاں

فراست اور حمیت کی بات مت کیجئے

کئے کا اپنے کسی کو بھی کوئی خوف نہیں

تمیز بار امانت کی بات مت کیجئے

کسی کے چہرے پہ شرم و حیا کا رنگ نہیں

یہاں کسی سے ندامت کی بات مت کیجئے

بزعم خود یہاں ہر ایک حاکم و آمر

کسی بھی طرز حکومت کی بات مت کیجئے

ہر ایک بات کے پیچھے غرض چھپی ہے کوئی

عوام و قوم کی خدمت کی بات مت کیجئے

نہ کوئی پیر نا استاد نہ کوئی رہبر

انابت اور عقیدت کی بات مت کیجئے

بہت ہی رحم کے قابل ہے آج کا انساں

دعا تو کیجئے اجابت کی بات مت کیجئے

خدا ہی رحم کرے اس مریض پر رضویؔ

اب اس کی طاقت و صحت کی بات مت کیجئے

٭٭٭

 

 

 

کسی کے بعد کا رمضان

 

مہینہ روزوں کا آیا ہے تم نہیں ہو مگر

کمی کو جھیل رہا ہے تمہاری سارا گھر

وہ اہتمام خصوصی جو اس مہینہ میں

تمہاری ذات سے وابستہ تھا مہینہ بھر

ہماہمی دم افطار اب نہیں کوئی

سحر تو اور بھی خالی ہے لطف سے یکسر

تمہاری ذات سے رونق ہر ایک چیز میں تھی

نہال رہتا تھا گھر کا ہر ایک فرد بشر

سحر کے پہلے وہ نفلوں کا اہتمام بہت

دعائیں کرنا سبھی کے لئے بچشم تر

ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے تم جیسا

تمہارے فیض سے محروم ہو گیا گھر بھر

تمہارے دم سے ہر اک چیز میں تھی رعنائی

جو تم نہیں ہو تو ہر چیز بد سے ہے بدتر

کسی میں لطف نہیں ہے مزہ کسی میں نہیں

میں کیا بتاؤں کہ کیسی مری رہی ہے گذر

تمہارے بعد اب رمضان کیا ہے عید ہے کیا

تمہارے ساتھ کے رمضان کی تھی بات دیگر

تمہارے داد و دہش کے جو لوگ عادی تھے

تمہاری کھوج میں وہ لوگ آتے ہیں اکثر

تمہاری جود و سخا کا پتہ وہ دیتے ہیں

وگرنہ کا ہے کو ہوتی کسی کو اس کی خبر

بروز حشر جو گرمی شباب پر ہو گی

ہر اک کو سایہ ملے گا اسی کے صدقہ بھر

تم اپنے صدقہ کے سائے میں ہو گی آسودہ

کرم کریگا خدائے بزرگ یہ تم پر

تمہارے بعد تمہارے بغیر آئے گی عید

اک حشر برپا پھر ہو گا تمہارے رضویؔ پر

٭٭٭

 

 

عید فراق

 

تمہارے بعد مرے پاس آ گئی ہے عید

مری تو عید تھی حاصل تھی جب تمہاری دید

تمہارے ساتھ کی ہر شب سب برات مری

تمہارے ساتھ ہر اک روز میرا روز عید

تمہارے بعد مزا عید کا نہ رمضاں کا

تمہارے ہجر کا احساس اس قدر ہے شدید

ہمیشہ دل مرا بے زار شادی و غم سے

تمہارے غم کے سوا کوئی غم نہیں ہے مزید

خدا کا حکم بہر حال پورا کرنا ہے

وگرنہ دل میں کوئی آرزو نہ شوق جدید

خدا نے چاہا تو جنت میں ہو گی عید سعید

تمہارے چاند سے مکھڑے کی جبکہ ہو گی دید

کوئی بھی وقت ہو دن رات کہ کوئی گھڑی

تمہارے رضویؔ کے دل کو تمہارا غم ہے شدید

٭٭٭

 

 

 

 

سالگرہ فراق

 

ملن کی سالگرہ پر کبھی لکھی تھی نظم

فراق یار پہ اب کر رہا ہوں نظم رقم

وہ دن بھی کیا تھے کہ ہم دونوں ہو گئے تھے بہم

یہ دن بھی کیا کہ کبھی بھی نہ مل سکیں گے ہم

زمیں پہ چاند ستارا کبھی اتارا تھا

گرا رہا ہوں اب آنکھوں سے اشک ہی پیہم

مری حیات کا ساتھی مرا رفیق سفر

بچھڑ گیا ہے تو تنہا بھٹک رہے ہیں ہم

نہ کوئی عیش و مسرت نہ کوئی کیف و سرور

مرے رفیق ہیں حزن و ملال رنج و غم

اب اس کی یاد ہے تنہائیاں ہیں اور میں ہوں

نہ کوئی دوست نہ ہم درد نے کوئی ہم دم

جناب رضویؔ کی حالت ہے دید کے قابل

دل فگار لب خشک دیدۂ پر نم

٭٭٭

 

 

 

قطعات

 

انہیں بلا نہ سکوں ان کے پاس جا نہ سکوں

جو دل سے چاہوں بھلانا انہیں بھلا نہ سکوں

وہ اتنی دور ہیں کہ اب کسی بھی ذریعہ سے

پیام دے نہ سکوں خیریت منگا نہ سکوں

 

غموں نے زیست کی کیسی ادا دیا ہے مجھے

سبھوں کے ساتھ نبھانا سکھا دیا ہے مجھے

کسی کا غم ہو مرے دل پہ چوٹ لگتی ہے

غموں نے اک دل درد آشنا دیا ہے مجھے

 

غموں کی آگ کسی دل میں جب سلگتی ہے

تو پھر جمی ہوئی سل درد کی پگھلتی ہے

پھر ایک ہوتا ہے اپنا ہو یا پرایا ہو

کہیں بھی چوٹ لگے دل پہ چوٹ لگتی ہے

 

کسی کی یاد ہی اب کائنات ہے میری

چھپی ہوئی اسی شئی میں حیات ہے میری

بغیر اس کے مری ذات کا وجود نہیں

کوئی نہیں ہے تو معدوم ذات ہے میری

 

جہان فانی سے تیاری کوچ کی کر لو

تمام خیر سے دامن کو جتنا ہو بھر لو

سوائے نیک عمل کچھ نہ کام آئے گا

عمل کی پونجی بجائے جواہر و زر لو

٭٭٭

تشکر: خورشید رضوی نیّر

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل