ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

پاکستان کی نمائندہ اُردو نظم میں رجائی عناصر

 

(پی ایچ ڈی مقالہ) 

 

محمد زمان پرویز

 

 

 

باب دوم: پاکستان کی نمائندہ اُردو نظم میں رجائی عناصر (۱۹۴۷ء تا۱۹۷۰ء)

 

قیامِ پاکستان کے بعد شعر و ادب میں نئے موضوعات کا اضافہ ہوا۔ شعری فضا یکسر تبدیل ہو گئی اور نئے موضوعات نے شعری حسن میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ اسے دوام بھی بخشا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جو مسائل مسلمانوں کی زندگی میں در آئے، ناقابل بیان ہیں۔ مکان، رہائش، قیام و طعام اور پھر جائیدادوں کا مسئلہ بھی زیرِ غور رہا۔ معاشرتی عدم توازن اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غریبوں کی زندگی کو اجیرن کر دیا ایسے افراد جن کے اپنے اُن کی آنکھوں کے سامنے قتل ہوئے تھے اُن کی کیفیت بیان کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کے مسائل نے انسانوں کو ایک نئے موڑ پر لا کر چھوڑ دیا اور مایوسی اور قنوطیت نے تمام پاکستانیوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ اس عہد کی شاعری میں جہاں قنوطی مضامین کو پیش کیا گیا وہیں پر ایسی نظمیں بھی تخلیق ہوئیں جن میں رجائیت سے بھرپور مضامین کو پیش کیا گیا۔ ایسی نظمیں لکھی گئیں جن میں جینے کا حوصلہ عزم اور ہمت سے بھرپور عناصر کو بیان کیا جا سکے۔ بہت سارے شعرا نے مایوسی کو گناہِ عظیم قرار دے کر رجائی نظمیں لکھیں۔ ان نظموں نے جہاں پاکستانی لوگوں کے غم غلط کیے وہیں پر اُن کو روشن مستقبل کی نوید بھی سنائی۔

قیامِ پاکستان کے بعد بہت سارے شعرا نے رجائیت سے بھرپور نظمیں لکھیں۔ اب ہم ذیل میں پاکستانی نمائندہ نظموں کا جائزہ لیں گے اور اُن نظموں میں رجائی عناصر کو تلاش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اہم اور نمائندہ نظم گو شعرا کے کلام کی فکری خصوصیات کو بھی پیش کریں گے اور اُن محرکات کو بھی بیان کریں گے جن کی بدولت رجائی شاعری بامِ عروج پر پہنچی۔

جیلانی کامران

جیلانی کامران کی شاعری میں موضوعات زندگی کی کثرت ہے۔ انہوں نے زندگی کے تسلسل اور حیات و کائنات کے فلسفہ کو بڑی عمیق نظری کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی نظموں میں زندگی اور انسانی وجود کے محرکات کے ساتھ ساتھ حیات و ممات کی جنگ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ”نقش کف پا“ میں ایک قیدی کی سوچ افکار اور دعائیہ انداز کو پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک ”نقش کف پا“ کا قیدی خدائے واحد سے التماس کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے علم و نور کی روشنی چاہتا ہے۔ پابند سلاسل میں جذبات کا بدل جانا فطری عمل ہے۔ انسان قید میں مایوس ہو جاتا ہے اور اپنی زندگی کو تنہائی اور اداسی کا ساتھی بنا لیتا ہے۔ لیکن انہوں نے ایسے قیدی کے جذبات کو پیش کیا ہے جس کے دل میں اچھے مستقبل کی خواہش، امید اور علم کی طلب پائی جاتی ہے جو کہ ایک مثبت عمل ہے۔ علم سیاسی بصیرت اور آگاہی کا سبب ہے اس لیے علم کا حصول انسان کو اصل حقائق زندگی سے آگاہ کرتا ہے اور انسان اچھے اور برے میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

درس و تدریس سے بے بور ہیں! جملے عاری

فہم محروم ہے! پڑھ لوں = اشرف

حق کے اوصاف کی تلقین ہے۔۔، خالی باتیں

محض الفاظ کی تبلیغ ہے، برحق! ناقص

جھوٹ، سب جھوٹ ہے! میں نے فقر سے

ان گنت لفظ پڑھے، جھوٹ کے لمبے قصے

جھوٹ کا نام پڑھا ہے!

اے مرے جسم، مری آنکھ مرے دل! میری

زندگی راکھ ہے؟ مجھ سے راحت

روشنی دور ہے! کالی راتیں

مجھ سے مانوس ہیں، جینا یہ ہے؟ (۱)

جیلانی کامران کے نزدیک مسلمانوں کو ایسی جنت ملے گی جہاں تمام برائیوں سے نجات، امن، سکون اور تمام خواہشات کی تکمیل ہو گی۔ ’’باغِ دنیا‘‘ نظم چار کرداروں پر مشتمل ہے۔ انسان، ملائکہ، محبوب اور ابلیس۔ انہوں نے ان کرداروں کے ذریعے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا۔ نظم نگار کے مطابق یہ نظم مسلمانوں کو ایک اچھے مستقبل اور جنت کی امید سے پیوستہ کرتی ہے۔ یہ نظم محض لفظوں کا پٹارہ نہیں بل کہ اس میں تاریخی پہلوؤں اور قصوں کو زمانی ترتیب اور تسلسل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد خان نظم کی ترتیب اور منازل کو یوں پیش کرتے ہیں:

”منزل اور حالیہ صورت حال کا بیان ہے کہ اخلاقی تنزلی باعث آلِ آدم سسک رہی ہے جب کہ منزل آخر میں شہر محبوب میں احیا کی آمد ہوتی ہے اور شہر لاہور کی پیشانی پر نئی صبح کا تارا نظر آتا ہے۔ یوں شاعر صدیوں کی فکری تلاش کو ایک بشارت میں ڈھلتے ہوئے پاتا ہے۔“ (۲)

نظم ”باغ دنیا“ کی پہلی منزل میں انسانی خواہش، بد امنی اور انتشار کے ساتھ ساتھ اقتدار کی خواہش کو موضوع شعر بنایا گیا ہے۔ اس حصہ میں نظم نگار نے انسانوں میں شعورو ادراک پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے انسانی خیالات اور اخلاقیات کے مختلف مراحل کو شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ نظم مسلمانوں کے زوال و انحطاط کا عکس نہیں بل کہ بدلتے رجحانات و تغیرات کی تصویر بھی ہے۔ پروفیسر انیس ناگی کے بقول:

”یہ باغِ دنیا خوشیوں کا باغ ہے جسے ابلیسی قوتوں نے جہنم بنا دیا ہے۔ انسان اپنی خواہشوں کا غلام ہو کر اپنی باطنی دنیا سے محروم ہو چکا ہے۔ اسی لیے وہ کسی کشف کا اہل نہیں رہا۔ باغِ دنیا میں جیلانی نے لاہور کو منتخب کر کے اس کی گراوٹ سے مسلمانوں کے تہذیبی زوال کو رقم کیا ہے۔ “ (۳)

نظم نگار نے مسلمانوں کے زوال اور پستی کی وجہ عدم اتفاقی اور آپسی بغض کو قرار دیا ہے۔ شاعر کے نزدیک وہ وقت قریب ہے جب تمام مسلمان عالمِ ابلیس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور مغربی چالوں کو تباہ کر کے اپنا حق حاصل کریں گے۔ شاعر نے انقلاب کو امید کے لیے ضروری خیال کیا ہے۔ شاعر کے نزدیک انقلاب کے بغیر حقوق کی پاسداری سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ احیا اس نظم میں ایک علامت ہے جو کہ انقلاب اور اچھے مستقبل کی نشانی ہے۔ یہ مسلمانوں میں غیرت اور جذبہ جہاد پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے اس مرحلے میں عزم اور حوصلہ سے لبریز خیالات کو پیش کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

احیا۔۔۔

آج ایران میں اتری ہے

کل وہ لبنان میں، سوڈان میں، عمان میں اترے گی

مصر اور شام میں اترے گی

عہدِ امروز کے انجام میں اترے گی

احیا۔۔۔

وقت کے لکھے ہوئے انجام سحر میں اترے گی

احیا اپنے ارادوں کے پرستان میں اترے گی

احیا۔۔۔

آج ایران میں اتری ہے۔۔۔

کیا خبر اور کہاں اترے گی۔۔۔ (۴)

ان کا فن کمال یہ ہے کہ وہ ہر موضوعِ زندگی کو ایک مخصوص ترتیب سے بیان کرتے ہیں تا کہ واقعات اور کرداروں کی پیش کش میں تضاد نہ آ سکے۔

ہر مصرعے، ہر شعر سے رجائیت کی خوشبو، عزم اور ہمت کا عنصر قاری کو اچھے مستقبل سے جوڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی نظموں میں رجائیت اور قنوطیت کی ضد پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ضیا الحسن لکھتے ہیں:

”جیلانی کامران کی فکر اساس رجائیت ہے۔ چنانچہ شاعر کا احساس یہ ہے کہ آخر کار اس دنیا کا مقدر ایک روشن اور شاداب مستقبل ہی ہے۔ وہ اس سفر کی تمام خامیوں اور انسانی فکری بے راہ روی کے باوجود یہ باور کر لیتے ہیں کہ بہ ہر حال وہ دن مقرر ہے جب انسان اس معراج تک پہنچ جائے گا کہ زمین بہشت صورت نقشہ پیش کرے گی۔ “ (۵)

اچھے حالات اور مستقبل کی امید اور نشانی ہی انسانی ہمت کو بڑھاتی ہے۔ جب انسان مایوس ہو جاتا ہے تو کائنات کا ہر ذرہ اسے سنگِ جاناں لگتا ہے۔ ہر چیز اسے تکلیف پہنچاتی ہے۔ انسانوں کے دکھ، غم، پریشانی اور تکلیف کی وجہ بیرونی قوتوں کی نا انصافی اور ظلم و ستم ہے۔ شاعر نے اس نظم میں ایران کے انقلاب کو اچھے اور روشن مستقبل کی نشانی قرار دیا ہے۔ نظم نگار کے نزدیک وہ دن دور نہیں جب تخت گرائے جائیں گے، تاج اچھالے جائیں گے اور انصاف کابول بالا ہو گا اور عالمِ اسلام کی دیرینہ خواہش پایہ تکمیل کو پہنچے گی:

اک خبر عام ہوئی۔۔۔

ختم دنیا سے پریشانی آلام ہوئی!

اس نے بتوں سے کہا

اس نے پھولوں سے کہا

اس نے شاخوں کے پرندوں سے کہا

روشنی خواب میں پاؤ گے تو پہچانو گے!

اپنے آئینے کی صورت میں مجھے جانو گے

آلِ آدم نے کہا ہست کی صورت ہے بہشت

اپنی اولاد کی قسمت ہے بہشت

رسم انسان کی حکمت ہے بہشت

روشنی خُلد کے انداز میں اب اتری ہے

ایسی تقدیر زمانے کی گزر گاہ سے کب گزری ہے؟ (۶)

مختصر یہ کہ جیلانی کامران کی نظمیہ شاعری رجائیت سے بھر پور خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔

حفیظ جالندھری

ابو الاثر حفیظ جالندھری کی شاعری حسن و جمال اور رومانویت کا حسین شاہکار ہے۔ ان کی تمام نظموں میں رومانویت کے عناصر اور رجائیت کے مختلف عناصر نئے امکانات ظاہر کرتے ہیں۔ قاری جب اُن کی نظموں کا عمیق نظری سے مطالعہ کرتا ہے تو وہ مادیت اور مادہ پرستی سے آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کے مکاروں اور مادہ پرستوں کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ ان کی شاعری میں موضوعاتِ زندگی کی کثرت ہے۔ ان کے کلام میں زندگی کے مشکل لمحات پر نوحہ خوانی ملتی ہے۔ کبھی کبھار وہ آنسو بہاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نظموں سے قنوطیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ سعدیہ نور کے بہ قول:

’’لاہور کے رومانوی شعرا کی صف میں حفیظ جالندھری کا ممتاز مقام ہے۔ انھوں نے مادہ پرستی سے نقاب اتارنے کی کوشش کی۔ ان کے اسلوب میں عنفوانِ شباب کی بے فکری بکھری ہوئی ہے۔ اس میں خود نظری، لطافت، نزاکت، راحت کے مظاہر بیان ہوئے ہیں۔ وہ قنوطیت، مسکراہٹ، آنسو، طلب، تلاش، استغنا اور انانیت کے میلانات متعارف کرواتے ہیں۔۔۔ علاوہ ازیں انقلاب کی خواہش، جذبات کا اظہار، وطن سے محبت، فطرت سے لگاؤ اور مسلمانوں کی عظمت کے عناصر بھی ان کا تعلق رومانیت سے جوڑتے ہیں۔‘‘ (۷)

ان کی نظم ’’جاگ سوزِ عشق‘‘ رجائیت اور رومانویت سے بھرپور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے عشق کی تڑپ پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔ ایسا عشق جو مادی نظریات اور مادیت کے خلاف آوازِ حق بلند کرے جو کھرے اور کھوٹے میں فرق واضح کرے اور نئی اُمنگ اور اُمید سے وابستہ کر کے جینے کا حوصلہ فراہم کرے۔ وہ ایسے عشق اور جنون کے ہرگز قائل نہیں ہیں جس سے انسانی صفات متاثر ہوں اور انسان مایوسی اور گناہ میں ڈوب جائے۔ اس کے اندر ایک نیا خوف پیدا ہو جائے اور زندگی کی تڑپ ختم ہو جائے اور وہ گوشہ نشین ہو کر دنیا سے تعلق ختم کر دے۔ در اصل انھوں نے انسانی ضمیروں کو جگانے کی سعی کی ہے۔ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کے لیے انسانی ضمیروں کو جھنجھوڑا ہے۔

وہ ایسے عشق اور محبت کے قائل ہیں جو محبت اور امن کا درس دے اور مایوسی کے بجائے نشاط سے رشتہ جوڑے۔ اس نظم میں شاعر نے عشق کی مختلف کیفیات اور خصوصیات کو پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک عشق جینے کی ترنگ اور امنگ ہے یہ تاریکی سے نکال کر روشنی کی فضا میں لے جانے والا راہنما ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

جاگ سوزِ عشق جاگ!

تو جو چشم وا کرے

ہر امنگ جاگ اُٹھے

آہ و نالہ جاگ اٹھے

راگ رنگ جاگ اُٹھے

جوگ سے ملے بہاگ

جاگ سوزِ عشق جاگ (۸)

اگر اُن کی شاعری کا بغور مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے تو فطرت سے لگاؤ اور محبت کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ ان کے کلام میں جہاں مثبت رجحان ملتا ہے وہیں پر وہ مناظر فطرت اور اُس کے حسین و جمیل نغموں کے راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے روشن پہلو رومانیت سے قربت کا ذریعہ ہیں۔ وہ فطرت کے حسن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ فطرت کی جلوہ گری اور انسانیت سے محبت اور روشن مستقبل کی اُمید، ان کی شاعری کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ شاعر فطرت کے نغموں میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ فطرت اُن کے داخلی و خارجی محسوسات کو اپنی آغوش میں جکڑ لیتی ہے۔ وہ اُس حسن کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں جو روحِ انسانی کو عصری تناظرات سے محفوظ رکھے اور انسان دنیاوی مسائل کو بھول کر ایک نئی تمنا کو اپنے اندر بسا لے۔ ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:

’’حفیظ کی شاعری میں فطرت کا جمال ایک نغمہ سرور بن کر ابھرا ہے۔ وہ فطرت کی آغوش میں سر رکھ کر ان حیات آفریں لوریوں کو سنتے ہیں اور فطرت کے نغمے سے قلب روح کو تازگی عطا کرتے ہیں۔‘‘ (۹)

حفیظ کی شاعری میں مناظرِ فطرت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کی نظم ’’پریت کا گیت‘‘ میں رجائی عناصر کے ساتھ ساتھ فلسفۂ زندگی کو بڑی عرق ریزی سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ محبت سے نفرت کے قلعے فتح کرنے کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک محبت کا نغمہ اور راگ پتھر دلوں میں پریم کی جوت جگا سکتا ہے۔ وہ محبت کو زندگی کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر محبت کو انسان اپنے دل میں بسا لے تو اُس کے دل کی نگریا ہمیشہ کے لیے روشن ہو جائے گی اور وہ نفرت کو بھول جائے گا۔ ان کے خیال میں اچھے مستقبل اور اچھے لمحات کی پہلی سیڑھی محبت ہے۔ اگر انسان کو اپنی منزل کو آسان بنانا ہے تو وہ محبت کو اپنے سینے میں بسا لے۔ وہ نفرت کو مایوسی سے وابستہ کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ جن کے دلوں میں نفرت بھری ہے وہ اچھے حالات کی امید نہ رکھیں اچھے مستقبل اور اچھے حالات تک رسائی کے لیے محبت سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ اگر نفرت کو انسان اپنا ساتھی بنا لیتا ہے تو اُس کی زندگی دکھوں اور پریشانیوں کی آماج گاہ بن جاتی ہے۔ نفرت اُس کے تمام اعصاب اور تمام کیفیات و احساسات کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ لیکن جذبۂ محبت ہر دکھ اور غم کا علاج ہے۔ اگر اچھے حالات اور اچھے مستقبل کی خواہش کو پروان چڑھانا ہے تو محبت کو اپنے سینے میں بسانا ضروری ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

نفرت اک آزار ہے پیارے

دکھ کا دارو پیار ہے پیارے

آ جا اپنے روپ میں آ جا

تو ہی پریم اوتار ہے پیارے

یہ ہارا تو سب کچھ ہارا

من کے ہارے ہار ہے پیارے

من کے ہارے ہار ہے پیارے

من کے جیتے جیت

بسا لے

اپنے من میں پریت (۱۰)

ان کی نظم ’’پریت کا گیت‘‘ جہاں اپنے اندر رجائی پہلوؤں کو سمائے رکھتی ہے وہیں پر اس میں نغمگی اور موسیقیت پائی جاتی ہے۔ اس نظم کا ہر مصرع دل میں نئی امنگ اور ترنگ پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے جیسے قاری مصرعے پڑھتا جاتا ہے اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگ جاتا ہے اور اُس کا دل رقص کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ نظم گو نے ایسے الفاظ کا استعمال کیا ہے جو نغمگی پیدا کریں۔ بہ قول عبادت بریلوی:

’’حفیظ کی شاعری میں مخصوص نغمگی اور موسیقیت ایسی ہے جو دل کو موہ لینے کا انداز پیدا کرتی ہے۔‘‘ (۱۱)

بعض ناقدین کا خیال ہے کہ رومانوی شاعری عصری تناظرات اور مسائل سے کنارہ کشی کرتی ہے۔ رومانوی شعرا اپنے عہد کے مسائل اور حالات و واقعات سے دور نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مناظرِ فطرت اور رومانویت ہی وجۂ تخلیقِ کائنات ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حفیظ کے کلام میں جہاں رومانوی خیالات اور جذبات ملتے ہیں۔ وہیں پر وہ اپنے عہد کے مسائل کو بیان کرتے ہیں۔ ہم اُن کی شاعری کو عہدِ جوانی یا عہد بلوغت کی شاعری کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی رومانوی شاعری در اصل اُن کی پہچان ہے۔ صدیق کلیم لکھتے ہیں:

’’میں نغمہ زار کے ساتھ سوز و ساز کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔۔۔ ہماری رومانوی شاعری کے غم زندگی اور مسائل زندگی سے یکسر کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے اسے شبابیات کی شاعری کہنا زیادہ موزوں ہے۔‘‘ (۱۲)

حفیظ کے خیال میں اگر انسان سخت محنت کرتا ہے تو کامیابی اُس کا دامن چومنے لگتی ہے۔ مستقل مزاجی اور محنت سے کام اور پھر امید ہی انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ ایسی قومیں جو سستی اور کاہلی کا شکار رہتی ہیں مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے اور وہ اچھے حالات سے محروم کر دی جاتی ہیں۔ ان کے خیال میں اگر انسان نیک نیتی سے کام کرتا ہے تو اس کی تمام منازل آسان ہو جاتی ہیں اور روشن مستقبل اُسے دنیاوی مسائل سے بچا لیتا ہے۔ روشن مستقبل کی امید ہی در اصل محنت کا ثمر ہوتی ہے۔ اس لیے اس امید کے ساتھ سخت محنت کرنی چاہیے۔ اپنی منزل کو آسان بنا کر ہی اچھے حالات اور اچھے مستقبل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

راحت پسندِ ہستی

کچھ کام کاج کر لے

ان محنتوں کا خوگر

اپنا مزاج کر لے

جو کام کل کرے گی

وہ اٹھ کے آج کر لے (۱۳)

ماضی کے حالات اور واقعات سے نتائج اخذ کرنا شاعر کا شیوہ ہے۔ وہ جمالیات اور حسن کے مختلف پہلوؤں کو ماضی اور حال کے تضادات سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اسلام سے محبت اور تصوف سے لگاؤ اور مذہب سے وابستگی قابلِ غور ہے۔ وہ ماضی کے حالات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ تمام مناظر قاری کی آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتے ہیں۔ وہ ہندوستانی تہذیب اور اُس کے ٹکراؤ کو رومانوی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس لیے اُن کی شاعری میں ماضی اور حال کی جھلک ایک ساتھ ملتی ہے۔ وہ ماضی پرستی کو رومانویت کا حسن خیال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ کے مطابق:

’’حفیظ جالندھری کے ہاں عظمت ماضی میں رومانوی رویے پائے جاتے ہیں نیز وہ ان کے ہاں مذہبی اقدار کا بتاتے ہیں اور یہی نظریہ انھیں دوسرے رومانوی شاعروں سے الگ کر دیتا ہے۔‘‘ (۱۴)

حفیظ مشکل اسلوب کو شاعری کے لیے سُقم خیال کرتے ہیں ان کے کلام میں سادگی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ اگر ان کی شاعری کو ترنم کے ساتھ پڑھا جائے تو ہر مصرع ایک پیغام نو دیتا ہے۔ لفظ اس قدر سادے ہیں کہ عام قاری بھی اصل حقائق تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ قاری اُن کے کلام کو آسانی کے ساتھ پڑھ کر حظ اٹھاتا ہے اور پسِ پردہ حقائق بھانپنے کی سعی کرتا ہے۔ ان کا یہ فن کمال ہے کہ وہ سادہ لفظوں میں گمبھیر اور مشکل کیفیات کو ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔ قاری اُن کے اس ہئیتی تجربہ اور مہارت کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں غم و یاس کو رجائیت کے لبادے میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ نظم گو گلشن و خار کو ایک ساتھ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ مختلف رنگوں کی آمیزش نظر آنے لگتی ہے۔ رشید نثار کے مطابق:

’’حفیظ کا یہ قطعیت کا اسلوبی انداز حفیظ کا تخلیقی سرمایہ کہا جاتا ہے اور اس کو اکہری سادگی حفیظ کی افادی شاعری میں اہم مقام رکھتی ہے اور یہی ان کی شعری کائنات بھی ہے۔‘‘ (۱۵)

اُن کی نظم ’’اک دن ہم بھی جیتیں گے‘‘ رجائیت سے بھرپور مضامین کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نظم میں لفظی بازی گری قاری کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے بے بسوں اور لاچاروں کو یہ اُمید اور حوصلہ عطا کیا ہے کہ اُن کے برے دن ضرور اچھے دنوں میں تبدیل ہوں گے۔ شاعر کے خیال میں ایسے افراد جن کا مقصد محض دولت اکٹھی کرنا ہے اور غریبوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ہے وہ ایک دن ضرور ناکام ہوں گے۔ جو لوگ محبتِ وطن میں قربانیاں دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی وطن میں اُن کو اُن کا حق نہیں ملتا، ضرور اپنا حق حاصل کریں گے۔ ظالم اور جابر حکمرانوں سے نجات حاصل کر لیں گے۔ اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے مقصد اور حق کے لیے ڈٹے رہیں گے تو کامیابی ضرور اُن کے ہاتھ چومے گی لیکن اگر انسان ہار کے ڈر سے مایوس ہو جائے تو اس کی تمام عمر تاریکی میں گزر جاتی ہے۔ لیکن جیت کی امید اسے ہمیشہ جوان رکھتی ہے اور وہ اپنے منزل کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا ہے۔ حفیظ نے اس نظم میں وطن سے محبت کا اظہار کیا ہے اور جابر حکمرانوں اور وڈیروں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مزدوروں اور مایوس لوگوں کو جیت کی امید سے وابستہ کیا ہے ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

ہم ہیں بازی ہارنے والے

جان وطن پر وارنے والے

آج تو بے شک جیت گئے ہیں

ہم کو بھوکا مارنے والے

لیکن اک دن

اک دن ہم بھی جیتیں گے (۱۶)

مختصر یہ کہ حفیظ کی شاعری کا غالب عنصر رومانویت ہے لیکن انھوں نے رومانویت کے لبادے میں رجائی عناصر کو لپیٹ کر پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں رومانویت ہی اچھے مستقبل کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

زاہد ڈار

زاہد ڈار شعر و ادب میں معتبر حوالہ رکھتے ہیں۔ ان کی شعری کائنات موضوعات زندگی سے بھر پور ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے مسائل، معاشی تعصب، تنگ نظری، معاشرتی عدم توازن، غربت اور عظمت انسان کے احساس کو شعری حسن عطا کیا۔ ان کی بیشتر نظموں میں انسانی زندگی اور انسان کے تصور کو موضوع بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی نظموں کے اندر ایسے مضامین پیش کیے ہیں جو انسان کو عزم و ہمت عطا کرتے ہیں اور انسان معاشرتی مسائل کی زد میں آنے سے بچ جاتا ہے۔ ان کی نظم ”نئے شہر“ میں منفی رجحانات کے ساتھ ساتھ مثبت رویہ اور امید کی کرن نظر آتی ہے۔ قاری اس نظم کے مطالعہ کے بعد مسائل زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے انسانی سوچ اور انسانی خیالات کے اندر پائے جانے والے مبہم پہلوؤں کو اس طرح لفظی پیکر میں ڈھالا ہے کہ قاری انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور اس کی رسائی تمام تر حقائق تک ہو جاتی ہے۔ البتہ کہیں کہیں پیچیدہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علامتی انداز قاری کو اُلجھائے رکھتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

اب بستی کی سب گلیوں میں چلنے کی آزادی ہے

اب بستی کی گلیوں کے ناموں میں نیکی اور بدی کا نام نہیں

سیدھے سادھے نام ہیں جیسے لالچ، غصہ، بھوک، محبت، نفرت

گلیوں میں چلنے کی آزادی ہے

چاروں جانب شور ہی شور ہے، کیا ہے

گہرے شہروں میں رہنے سے عظمت کا احساس مٹا

لمبے حملوں پر جانے کا، قدرت سے ٹکرانے کا ارمان مٹا

اب آرام ہے شہروں میں۔۔۔۔ انسان مٹا (۱۷)

زاہد ڈار نے انسانی ظاہر و باطن کے تضاد کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ ا نہوں نے دیہاتی و شہری زندگی کے بدلتے رجحانات و ہیجانات کو منظر عام پر لانے کی سعی کی۔ ان کے خیال میں شہری زندگی حسد و عداوت، نفرت اور کینہ سے بھر پور ہے لیکن شخصی آزادی کا تصور انسان کو امید سے وابستہ کرتا ہے۔ راہزنی اور مفاد پرستی کا گمان زندگی کو مایوس نہیں کرتا۔ ان کے نزدیک نئی آبادیوں میں انسان مایوسی اور بزدلی کی طرف جا رہا ہے۔ جدید دور کا انسان نت نئے مسائل کی جکڑ میں آ چکا ہے اور سماجی تغیرات نے اس سے صفتِ انسانی چھین لی ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب انسان مسائل اور دکھوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے تو مایوسی اس کو اپنے چنگل میں جکڑ لیتی ہے۔ وہ تنہائی اور مایوسی کو اپنا ساتھی سمجھ لیتا ہے اور کائنات کی رنگینی اور حسن فطرت اسے بے معنی اور بے سود نظر آتا ہے۔ لیکن زاہد ڈار کی نظموں میں ایسے متعدد عناصر موجود ہیں جو قاری کو مایوسی سے لذت فراہم کرتے ہیں اور اسے غمِ زندگی سے نجات دے کر اچھے مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اداسی اور مایوسی ہر سو پھیل جائے تو اسے محض آزمائش سمجھا جائے اور اس سے گھبرانے کے بجائے لذت حاصل کی جائے:

اداسی شہر کی سڑکوں پہ بھوکے شیر کی مانند پھرتی ہے

اداسی شہر کی سڑکوں پہ ٹھنڈی اوس کی مانند گرتی ہے

اداسی خواب میں آتی ہے سندر پریوں کے روپ میں اکثر

اداسی نیند کی، آرام کی دشمن

اداسی ہی اداسی ہے

مکانوں میں، درختوں میں

نگاہوں میں، خیالوں میں

غرض اس شہر کے ہر ایک گوشے میں اداسی ہی اداسی ہے (۱۸)

ان کی نظم ”واپسی“ دورِ جدید کے پاکستانی معاشرے کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں انہوں نے انسان کو مخصوص عقائد اور روایات سے انحراف کرنے کی تلقین کی ہے کیوں کہ انسان محض غموں اور دکھوں سے اپنی زندگی کو تباہ و برباد کر لیتا ہے۔ ان کے خیال میں دکھوں اور غموں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے اور اچھے حالات کے لیے تمام غموں کو بھول جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی چشمِ تصور سے انسانوں کے داخلی و خارجی جذبات و خیالات کو پیش کرنے کی عمدہ سعی کی ہے۔ انہوں نے انسان کو تخیل اور ماورائی دنیا سے نکلنے پر آمادہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں تخیل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے انسان کو حقیقت کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا چاہیے تا کہ زندگی کا پہیہ صحیح سمت چل سکے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

دل کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس

سب بکواس

لرمنتوف اور دوستوفسکی، بودلیئر اور استاں دال

ایک سے ایک وبال

گوتم بدھ اور افلاطون

محض جنون

آنکھیں کھول نہ اندھا بن

تن اور من ہے تیرا دھن

تارے چھوڑ، زمیں کو دیکھ

اس کے ساتھ بندھے ہیں لیکھ

محنت کر اور روٹی کھا

آ جا بھائی واپس آ جا (۱۹)

”درد کا شہر“ میں شامل نظموں کے اندر گہرا فلسفہ حیات و کائنات پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی قباحتوں اور قدغنوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ انہوں نے انسان کو زندگی کے مبہم پہلوؤں سے آگاہ کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کی نظموں میں علاقائی تعصب اور نسلی تعصب دکھائی دیتا ہے۔ بعض دفعہ یوں گمان ہوتا ہے کہ وہ علاقائی روایت کو تخلیق کا عنصر سمجھ کر پیش کرتے ہیں۔ جیلانی کامران کے بقول:

”زاہد ڈار کی نظمیں علاقائی روایت کی تخلیقی ذمہ داریوں کا ایک ابتدائی نقطہ ہیں۔ ایک سفر کا آغاز ہیں اور بعض اوقات احساس ہوتا ہے کہ شاید اس سفر کے شروع ہونے میں کچھ دیر ہے۔ ان نظموں میں فکری اور شعری سفر کی تیاری دکھائی دیتی ہے۔“ (۲۰)

ڈار کے خیال میں انسانوں کے اندر خوف، لالچ اور حسد پایا جاتا ہے اس لیے ان سے الگ اور دور رہنے میں ہی بہتری ہے۔ انسان کو مایوسی سے گھبرانا نہیں چاہیے اور تنہائی سے پریشان ہونے کے بجائے اپنی الگ اور منفرد دنیا بسانی چاہیے۔ شاعر کے خیال میں زندگی حسین پیکر ہے۔ زندگی انسان کو خوشیوں اور غموں سے شناسا کرتی ہے۔ اس لیے پریشانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیوں کہ دکھ اور تکالیف انسان کی سب سے بڑی آزمائش ہوتے ہیں۔ زندگی کے تلخ تجربات اور واقعات کا صبر اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے:

سچ پوچھو تو دھرتی مجھ کو بھاتی ہے

انسانوں کی باتوں سے تو لالچ کی بُو آئی ہے

سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں،

دنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں

غفلت ہو،

یا اس جیون کو موت کہو

موت بھلی

ایسی بستی کی گلی گلی

چاند ستاروں سے بہتر ہے

سچ پوچھو تو طوفانوں میں چکر کھاتی ناؤ مجھ کو غیر آباد

کناروں سے بہتر ہے (۲۱)

ان کے خیال میں انسانی فہم و فراست دکھوں اور غلط فہمیوں اور کج رویوں کا مجموعہ ہے۔ انسان زندگی کے حقائق سے دور نہیں ہو سکتا اور دکھ اور تکالیف انسانی زندگی کا اہم حصہ ہیں لیکن اگر ہمت سے کام لیا جائے تو سکھ اور دکھ میں فرق ختم کیا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ ان کی نظموں میں رجائیت سے بھر پور مضامین پائے جاتے ہیں۔

شکیب جلالی

شکیب جلالی اردو ادب کا وہ واحد شاعر ہے جس نے وقتِ مختصر میں ایسا ادب تخلیق کیا جو اردو میں معتبر حوالہ رکھتا ہے۔ انھوں نے کم عمری میں ہی غزلیں اور نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔ ان کی غزلوں میں معاشی حالات کی عکاسی اور اقتصادی مسائل کی جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں ایک نیا آہنگ اور لب و لہجہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کی نظمیں بھی غزلوں کی کیفیات سے مزین ہیں۔ ان کی نظموں میں نئی تراکیب اور نئے استعارے قاری کو ایک جہانِ نو کی طرف منتقل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نظموں میں معاشی مسائل اور اقتصادی مسائل کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے معاشی و معاشرتی مسائل کو عمیق نظری سے دیکھا اور پھر اُن کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں علامتی انداز کو اپنایا ہے۔ ان کی زیادہ تر نظمیں علامتی ہیں۔ ذوالفقار احسن لکھتے ہیں:

’’شکیب جلالی نے قیامِ پاکستان کے بعد غزل کی نسبت بہت کم توجہ نظم گوئی کو دی مگر پھر بھی اُس نے نظم نگاری کے حوالے سے بہت اچھی اور معیاری نظمیں اردو ادب کے دامن میں ڈالیں۔ شکیب نے غزل کی طرح اپنی نظم میں بھی استعاروں اور تراکیب کا استعمال کیا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ نظم کو روایتی چنگل سے آزاد کرانے کا حامی تھا اس نے غزل کی طرح نظم میں بھی تجربات کیے ہیں۔ جو نہ صرف پسند کیے گئے بل کہ اُن کی تقلید بھی کی گئی۔‘‘ (۲۲)

شکیب نے محبت کے لطیف جذبات کو قلم بند کیا ہے۔ اُن کی نظم ’’اندِمِال‘‘ میں محبت میں ناکامی اور مایوسی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس نظم میں انھوں نے مایوس ہونے والے دکھی دل کی کیفیات اور جذبات کو قلم بند کیا ہے۔ انھوں نے جہاں مایوس اور پریشان عاشق کے جذبات کو قلم بند کیا ہے وہیں پر انھوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ جدائی کی وجہ سے ہونے والے حالات کی عکاسی اور موسمی تبدیلی بھی اس نظم کا خاصا ہے۔ نظم گو نے اس نظم میں ایک پریشان دل کی تمام کیفیات کو ایک ساتھ پیش کر کے اُسے خوشی عطا کرنے کی سعی کی ہے۔ انسان غموں اور دکھوں کی وجہ سے مایوسی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے اور قنوطیت اور غمِ زندگی اسے دکھوں کی نگری کا مسافر بنا دیتی ہے۔ وہ مایوسی کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنا لیتا ہے۔ لیکن وہ ایسے حالات سے انسان کو لڑنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اُس کے دل میں ایک نیا جذبہ اور آہنگ پیدا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ اُن محرکات کو قاری کے سامنے لاتے ہیں جن کی بدولت روشن مستقبل کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں

باد مسموم نے توڑ کر کتنے پتے سپردِ خزاں کر دئیے

بہہ کر مشکیزہ ابر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں

غیر ممکن تھا ان کا شمار

تھک گئیں گننے والے ہر اک ہاتھ کی انگلیاں

’’ان گنت‘‘ کہہ کے آگے بڑھا وقت کی کارواں

ٹوٹی کرنوں، بکھرے ہوئے زرد پتوں، برستی ہوئی بوند یوں کی طرح

اور مرہم بھی ناپید تھا

لیکن اس روز دیکھا جو اک طفلِ نوزائیدہ کا خندۂ زیرلب

زخم دل مند ہو گئے سب کے سب (۲۳)

ان کی شاہکار نظم ’’نئی کرن‘‘ میں مشکل تراکیب اور تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے جو ان کی شاعری کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اس نظم میں انھوں نے عصر حاضر کے حالات کی تصویر کشی کی ہے اور مسائل سے گھبرائے ہوئے افراد کی ذہنیت کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ ان کے خیال میں ظلم و ستم کی انتہا ہونے کو ہے اور غریب جو امیروں کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہیں وہ اس ظلم سے ضرور نجات حاصل کریں گے۔ مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے اور فضائے منحوس و مایوس ایک دم خوش گوار اور تازہ ہو جائے گی۔ مشکل اوقات اور برے حالات سے گھبرائے ہوئے ایسے افراد جواپنی زندگی کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن شکیب اُن کو حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ شاعرکے نزدیک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور پریشانی کے بعد خوشی ہے۔ انھوں نے مشرقی معاشرہ میں سانس لینے والے افراد کو ایک نئی روح عطا کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ ان کے نزدیک غم عارضی ہوتے ہیں اور یہ وقت کی بہتی ناؤ میں ڈوب جاتے ہیں۔

’’نئی کرن‘‘ در اصل ایک علامت ہے۔ یہ ایسی علامت ہے جو امید اور روشن مستقبل کی نوید سناتی ہے:

نئی کرن سے اندھیروں میں برہمی ہی سہی

نئی کرن کو اندھیرے نگل نہیں سکتے

جہاں پناہ! اجمال سحر کی جوئے رواں

افق افق کو درخشاں بنا کے دم لے گی

پلک پلک سے مٹائے گی داغ اشکوں کے

نظر نظر کو تبسم دکھا کے دم لے گی

خزاں رسیدہ چمن ہوں کہ ریت کے ٹیلے

قدم قدم پہ شگوفے کھلا کے دم لے گی

ازل سے سینۂ ویراں ہے منتظر جس کا

نفس نفس وہی خوشبو رچا کے دم لے گی (۲۴)

شکیب جلالی کے فن پر غم اور مایوسی کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ بعض اوقات یوں گمان ہوتا ہے کہ شکیب کو غمِ زندگی نے گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیا اور وہ تا دمِ آخر اُسی دلدل میں رہے۔ ان کی شاعری میں جہاں رجائی مضامین ملتے ہیں وہیں پر وہ مایوسی اور نا امیدی کو بھی اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پروفیسر صاحب زادہ عبد الرسول لکھتے ہیں:

’’شکیب جلالی کے کلام میں جو عنصری غالب نظر آتا ہے وہ یاس اور احساس محرومی ہے۔ اس کے ساتھ جب شاعر کے لاشعور میں خود اپنی عظمت کا یقین اور زمانے کی بے قدری شامل ہو جاتی ہے تو یہ احساس دوچند ہو جاتا ہے۔ اس احساس کی شدت سے نجات پانے کا ایک ذریعہ خودکشی بھی ہے اور یہی ذریعہ شکیب جلالی نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ ” (۲۵)

شاعر کے ذاتی حالات سے خارجی مشاہدات اور حالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے شکیب کی نظموں میں جہاں غم و حزن ملتا ہے وہیں پر رجائیت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ انھوں نے عوام کے جذبات کا احترام کر کے اُن کو ایک جہان نو کی فضا سے روشناس کیا ہے۔ ان کی نظموں میں رجائیت ملتی ہے۔ جب کہ غزلوں میں کہیں کہیں مایوسی اور نا امیدی کے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاہکار نظم ’’جیت کی تلاش‘‘ میں علامتی انداز کو اپنایا گیا ہے۔ شاعر نے علامت کے ذریعے اپنے عہد کے مسائل کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے سماجی قدغنوں کو واضح کرنے کی سعی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے اپنے عہد کے مسائل اور معاشرہ کی مکمل عکاسی کی ہے۔ انھوں نے مسائل کی دلدل میں پھنسے افراد کو نکال کر ایک نئی زندگی کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے۔ خاور اعجاز اُن کی شعری خصوصیات کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’شکیب کے کلام میں اکثر مقامات پر یہ احساس ہوتا ہے کہ چند مخصوص اشارے یا تشبیہات ایسی ہیں جو اس کی ذات کا حصہ ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں استعارہ ’’روشنی‘‘ کا ہے جو کبھی چاند، کبھی سورج، کبھی ستاروں اور کبھی دیدہ بینا سے پھوٹنے والی چمک کے پیرائے میں جگہ جگہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘ (۲۶)

ان کی شاعری ایک مکمل عہد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انھوں نے درخت کے استعارے کے ذریعے ایک مکمل معاشرے کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے ایسے معاشرے کی تصویر کشی کی ہے جو مسائل کی آماج گاہ ہے اور جہاں ہر فرد الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اُن کا یہ فن کمال ہے کہ انھوں نے گھبرائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی زندگی اور جلابخشی ہے۔ ان کی شاعری میں رجائیت کی مختلف صورتیں اور عناصر دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے مشکل تراکیب اور علامات کا استعمال کر کے خیالات کو گنجلک اور پیچیدہ ضرور بنایا ہے لیکن مشکل علامات اور تراکیب ہی ان کے اسلوب کی جان ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

یہاں درخت کے اوپر اُگا ہوا ہے درخت

زمین تنگ ہے (جیسے کبھی فراخ نہ تھی)

ہوا کا کال پڑا ہے، نمی بھی عام نہیں

سمندروں کو بلو کر، فضاؤں کو متھ کر

جنم دئیے ہیں اگر چند ابر کے ٹکڑے

جھپٹ لیا ہے انھیں یوں دراز شاخوں نے

کہ نیم جان تنے کو ذرا خبر نہ ہوئی

جڑیں بھی خاک تلے ایک ہی لگن میں رواں

نہ تیرگی سے مفر ہے، نہ روشنی کا سوال

زمین میں پاؤں دھنسے ہیں، فضا میں ہات بلند

نئی جیت کا لگے اب درخت میں پیوند (۲۷)

شکیب کی نظم ’’دلاسہ‘‘ میں محبت کی مختلف کیفیات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک محبوب کی جدائی میں گھبرانا نہیں چاہیے کیوں کہ ہجر کی کیفیات بھی روح پرور ہوتی ہیں ہجر انسان کو لذتِ عشق سے آشنا کرتا ہے۔ ہجر و وصال کی کیفیات اور جذبات در اصل ہر عاشق کی زندگی کو ہجر و وصال کی لذت سے آشنا کرتے ہیں۔ وہ عاشق کو بے بس اور مایوس ہونے کے بجائے آگے بڑھنے اور ہجر سے نجات حاصل کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غمِ دنیا عارضی ہے اس لیے اس سے گھبرانا گناہِ کبیرہ ہے۔ غمِ دنیا کو بھلا کر اچھے دنوں کی خواہش اور امید کو اپنے اندر بسانا ضروری ہے۔ ان کی نظم ’’دلاسہ‘‘ میں رجائیت سے بھرپور اشعار موجود ہیں جو قاری کو نیا حوصلہ اور ہمت فراہم کرتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

ہم ملے کب تھے

جدائی پر جو ہوں ویراں نگاہِ و غم بجاں

ہات میں ہو نرم ہات

لب ہوں لب پر مہرباں

اس پہ کیا موقوف ہے ربط بہم کی داستاں (۲۸)

ان کی نظم ’’دعوتِ فکر‘‘ میں مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اس نظم میں رجائی عناصر کو بڑی عرق ریزیے ساتھ پیش کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

فکر سقراط ہے کہ زہر کا گھونٹ

باعثِ عمر جاوداں ہے سوچو

لوگ معنی تراش ہی لیں گے

کوئی بے ربط داستاں سوچو (۲۹)

مختصر یہ کہ شکیب کی نظموں میں رجائیت اور رجائی عناصر موجود ہیں لیکن قنوطیت بھی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے مایوس اور گھبرائے لوگوں میں جینے کی امنگ پیدا کی ہے۔

شورش کاشمیری

شورش کاشمیری کی نظموں میں پاکستانی معاشرے کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں اپنے عہد کی جو تصویر کھینچی ہے وہ قاری کی آنکھوں کو بہت زیادہ خیرہ کرتی ہے اور اس کے شعور کو ایک نیا حسن عطا کر کے اُسے غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی نظموں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے پاکستانی لوگوں کے جذبات، احساسات اور خیالات کو جس عرق ریزی سے پیش کیا ہے اُسے انسانی عقل ناقص تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ شورش کی نظموں میں غریبوں کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کو لفظوں میں اس طرح ڈھالا ہے کہ قاری ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ ان کی نظموں میں جہاں غم و حزن کی فضا دکھائی دیتی ہے وہیں پر وہ قاری کو جینے کی امید اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔

شورش نے پاکستانی لوگوں کی ذہنیت اجتماعی احساسات اور شعور کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کا یہ فن کمال ہے کہ وہ لوگوں کے حالات کو اپنی ذات سے وابستہ کر کے پیش کرتے ہیں۔ وہ حالات کی ستم ظریفی کے آگے سر بسجود ہونے کے بجائے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قائل ہیں۔ ان کی نظم ’’واردات‘‘ میں رجائی عناصر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے اس نظم میں غموں اور دکھوں کے مارے افراد کو اچھے مستقبل اور اچھے حالات کی نوید سنائی ہے۔ ان کی یہ نظم در اصل انسانی خیالات کو یکسر بدل دینے کا ہنر رکھتی ہے۔ وہ ایسے افراد کو جوحالات کی ستم ظریفی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ چکے ہیں ان کو حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر انسان ثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کرے تو اچھے حالات اور روشن مستقبل اس کے قدم چومے گا۔ مایوسی اور بے بسی خوشی میں بدل جائے گی اور تمام اندھے قانون ختم ہو جائیں گے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

صد شکر کہ یہ شام و سحر میرے لیے ہے

کونین بہ الفاظِ دِگر میرے لیے ہے

شاخوں میں گل و لالہ کھلے ہیں تو مجھی سے

ذروں پہ ستاروں کی نظر میرے لیے ہے

ثابت ہے یہ رخشندگیِ ارض و سما سے

تابندگی شمس و قمر میرے لیے ہے

یہ کوہ و دمن میری فراست کا صلہ ہیں

یہ سلسلہ شام و سحر میرے لیے ہے (۳۰)

عورت کے جذبات احساسات اور خیالات کو اردو نظم میں بہت سارے شعرا نے پیش کیا ہے۔ ہر شاعر نے صنفِ نازک پر قلم اٹھایا ہے اور اُسے کائنات کی رنگینی قرار دیا ہے۔ جہاں شعرا نے عورت کے لطیف جذبات کو قلم بند کیا ہے، وہیں پر انھوں نے عورت کی زندگی کے مختلف گوشوں کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ شورش کاشمیری نے بھی صنف نازک کے جذبات احساسات و خیالات کو حسن عطا کیا ہے۔ نظم نگار کے نزدیک عورت پر بہت سارے ظلم و ستم کیے جاتے ہیں اور وہ بے بس اور لاچار سب کچھ چپ چاپ سہہ جاتی ہے۔ وہ حالات کی ستم ظریفی اور ظلمت کے آگے گھٹنے ٹیک کرتا ریکی کو اپنا گوشہ بنا لیتی ہے۔ ان کے نزدیک عورت معصومیت کا پیکر ہے۔ یہ تمام غموں کو برداشت کرتی ہے۔ انھوں نے عورت کو مایوسی کے بجائے اچھے حالات کی طرف گامزن کرنے کی سعی کی ہے۔ انھوں نے عورت کو اپنے حق کے لیے لڑنے پر آمادہ کیا ہے۔ انھوں نے ایسے معاشرے کی تصویرپیش کی ہے جہاں وڈیرے غریب عورتوں کی عصمت کا جنازہ سرِ عام نکالتے ہیں۔ وہ مظلوم عورتوں کو ایک نیا جذبہ اور ولولہ عطا کرتے ہیں جو اُن کی زندگی کو ایک نئے موڑ لا کر چھوڑ دے جہاں ان کو انصاف مل سکے۔ وہ ایسے معاشرہ کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں جہاں پر عورت کو اُس کے تمام حقوق فراہم کیے جائیں۔ ان کی نظم ’’عید آئی ہے‘‘ میں عورت کی زندگی کے مختلف جذبات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں رجائی عناصر کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

لڑکھڑاتا ہوا جسونت چلا آتا ہے!

مسخ فطرت کے گنہ گار ارادے لے کر

ٹھیٹھ لہجے میں سکینہ کو پکارا اُس نے

نشے کی رَو میں سیہ کار ارادے لے کر

کل وہ اِک پارہ عصمت تھی اسی بستی میں

آج بازیچہ عشرت کے سوا کچھ بھی نہیں

اس پہ جو بیت گئی بیت رہی ہے اب تک

رہنماؤں کی سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں

کملا بولی یہ سکینہ سے کہ ’’عید آئی ہے‘‘

سن کے یہ روئے سکینہ یہ ملال آ ہی گیا (۳۱)

عصرِ حاضر میں عورت کو ایک نئے شعری روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ صنف نازک سے معصومیت چھین کر اُسے نئے خیالات اور جذبات عطا کیے جا رہے ہیں۔ عورت جو صنفِ نازک ہے اُسے جنسی تسکین کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ عصرِ حاضر کے ادب میں عورت کے خلاف ہونے والے تشدد کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ عورت کے جذبات اور تصورات کو دبایا جا رہا ہے اور عورت محض آرائش و زیبائش کی زینت بن رہی ہے۔ شورش نے بھی عورت کے جذبات کو قلم بند کیا ہے اور اُس پر ہونے والے ظلم کی داستان قلم بند کی ہے۔ ہنس راج رہبر لکھتے ہیں:

’’انفرادی جائیداد کے ارتقا نے سماج کو طبقات میں تقسیم کیا تو اس کے ساتھ بیاہ کے ارادے سے رسم و رواج اور جنسی اخلاق کا بھی ارتقا ہوا۔ اس کے نتیجہ کے طور پر سماج پر مادری اقتدار کی جگہ پدری اقتدار مسلط ہوا۔ جب جب سماج میں انسانوں کے اقتصادی تعلقات بدلتے ہیں، جنسی اخلاق بھی بدلتا ہے۔۔۔ ذاتی جائیداد سے پہلے کی جنسی نراجیت کو دور کرنے کے لیے، پتی ورت اور پتنی ورت کے اصول بنے۔ لیکن ان اصولوں کی پابندی صرف عورت پر ہی عائد ہوتی ہے جب کہ مرد من مانی کرنے میں آزاد اور خودمختار رہا۔۔۔‘‘ (۳۲)

ان کی نظم ’’تغیرات‘‘ میں آنے والے کل کی نوید سنائی دیتی ہے۔ یہ نظم رجائی عناصر سے بھرپور ہے۔ اس نظم میں انھوں نے اچھے مستقبل کی پیشین گوئی کی ہے۔ ان کے خیال میں غریبوں پر ظلم و ستم کرنے والوں کی انتہا ہونے کے قریب اور ایسے افراد جو مزدوروں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں۔ ان کے زوال کا وقت قریب آنے والا ہے۔ وہ ایک نئے موسم اور نئی فضا کی نوید سناتے ہیں۔ نظم گوکے نزدیک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس میں انصاف، امن، مساوات اور عدم توازن نہیں ہو گا اور لوگ آپس میں محبت اور الفت کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔ وہ گھبرائے ہوئے اور مایوس افراد کے اندر نیا ولولہ پیدا کر کے اُن کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر ہمت سے کام لیا جائے تو ہر مشکل آسانی میں بدل سکتی ہے۔ ظلم انصاف کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور سرمایہ دار مزدور کے حقوق کی پاسداری کرے گا۔ وہ بے بسوں اور لا چاروں کو نئی زندگی اور اچھے حالات کی نوید کچھ یوں سناتے ہیں:

کچھ دنوں بعد زمانے کی ہوا بدلے گی

وقت کے ساتھ رہ و رسمِ وفا بدلے گی

آگ لہرائے گی بام و درِ سرمایہ دار پر

نوجوانوں کی جسارت سے فضا بدلے گی

ہاتھ لپکیں گے امیروں کے گریبانوں پر

خانقاہوں میں فقیروں کی صدا بدلے گی

ٹوٹ جائے گا ہر اک حلقۂ زنجیر ستم

بے نواؤں کی زبانوں پہ دعا بدلے گی (۳۳)

بغاوت بھی ایک رجائی عنصر ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ بغاوت بھی حق اور اچھے مستقبل کے لیے کی جائے۔ ان کی نظموں میں بغاوت کی ایک نئی صورت ملتی ہے جو امید اور روشنی کی کرن دکھاتی ہے۔ ان کے نزدیک حاکمِ وقت کے مظالم اور ایسے دستورجو لوگوں کے حقوق سلب کریں اُن کے خلاف بغاوت ضروری ہے اور یہی اچھے مستقبل اور روشن مستقبل کی نوید سناتی ہے۔ وہ ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارے اندھے قانون کی انتہا ہونے والی ہے اور جو تم نے تاریک فضا قائم کر رکھی ہے یہ روشن مستقبل میں بدلنے والی ہے۔ وہ روشن صبح اور روشن مستقبل قریب ہے جب تمہارے قوانین کے خلاف بغاوت ہو گی اور تمہاری دولت اور جاہ و حشمت خاک میں مل جائے گی۔ غموں کے مارے ہوئے افراد اپنے حق کے لیے لڑیں گے اور تم کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ وہ مایوس لوگوں کو جینے کا حوصلہ کچھ یوں فراہم کرتے ہیں:

اور کچھ روز عزیزوں کا تماشا کر لو!

ڈوب جائے گی، شب تا سویرا ہو گا

سُرخ پرچم کی اڑانوں کا سہارا پا کر

رنگ محلوں میں فقیروں کا بسیرا ہو گا (۳۴)

مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شورش کاشمیری کی نظموں میں امید کی کرن، جینے کا حوصلہ، ہمت اور روشن مستقبل کی نوید سنائی دیتی ہے۔ وہ روشن مستقبل کو قاری کے لیے نعمتِ عظیم تصور کر کے اُسے آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تمام نظموں میں رجائیت کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔

عباس اطہر

عباس اطہر کا شمار اردو کے بڑے شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری میں جنسی جذبات کے اندر رجائیت موجود ہے۔ نظم نگار نے اپنی نظموں میں جنس سے بھر پور مضامین کو پیش کیا ہے۔ ان کی بیشتر نظموں کے عنوان بھی جنسی لذت فراہم کرتے ہیں۔ جنس عباس اطہر کا ہی نہیں بل کہ تمام شعرا کا من پسند موضوع ہے۔ اردو کے دیگر شعرا کی طرح انہوں نے بھی جنسی جذبات و خیالات سے لبریز مضامین کو شعری حسن عطا کیا۔ نظم نگار نے جدید انسانی معاشرے اور میکانکی معاشرے کی گھٹیا ذہنیت کو منظر پر لایا۔ نظم نگار نے ایسے جذبات پیش کیے ہیں جو خیالات انسانی کو مجروح کرتے ہیں اور قاری کے دل میں انگیخت پیدا ہو جاتی ہے۔ منیر شیخ رقم طراز ہیں:

”جنسی فعل کا تجربہ عباس اطہر کے یہاں ہمیشہ فرد کی مریضانہ ذہنیت کا زائیدہ ہے۔ “ (۳۵)

دورِ جدید کی ٹیکنالوجی کا انسانی زندگی میں بڑا عمل دخل ہے۔ دورِ جدید کا انسان مشینی زندگی جی رہا ہے وہ اپنے رشتہ داروں، گھر والوں اور احباب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے اس کی ذہنی استعداد، ذہنی افق اور سوچ کو متاثر کیا ہے۔ دورِ جدید کا انسان محض مٹی کا پتلا بن کر رہ گیا ہے۔ عباس اطہر نے اپنی نظم ”سال کا آخری سانس“ میں انسانی لا تعلقی اور انسانی کند ذہنی کو شعری رنگ میں پیش کیا ہے۔ ان کی نظم ”جسم کا دروازہ کھلے اور زمیں منہ کھولے“ میں سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ساتھ انسانوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی عمدہ کاوش نظر آتی ہے۔ نظم نگار نے انسانوں کے ضمیر کو ملامت کیا ہے اور آپس میں الفت اور محبت سے رہنے کا درس دیا ہے:

میں کاغذ کا مہکتا پھول ہوں

کبھی شہر میں فساد

کبھی بھیڑ میں بھٹک جانے والے بچوں کی پکار

کبھی لہو کی بارش میں بھیگے حادثے

شہر کے آغاز کا دن انجام کی رات سے آشنا نہیں

لیکن نئے شہر کی گلیاں بھی بھول بھلیاں ہیں

دور پہنچوں تو بھٹک جاؤں

میری تصویر کہاں ہے (۳۶)

نظم نگار نے جس موضوع زندگی کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے بام عروج تک پہنچایا ہے۔ ان کی نظموں سے جنسی لذت کی بو آتی ہے اور اس بو میں جنسی رجائیت پائی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر ان کی نظمیں جنسی رجحان اور رجائیت سے بھر پور ہیں۔

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض کی شاعری میں موضوعات زندگی کا بحر بیکراں ملتا ہے وہ غم زندگی کو ایک نعمت تصور کر کے اس سے حظ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں موجود استعارات، تشبیہات اور قوت متخیلہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑنے کا فن رکھتی ہے۔ ان کی نظموں میں موضوعات کی بھر مار ہے اور وہ جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں اسے بام عروج پر پہنچا دیتے ہیں۔ وطن سے محبت ہو یا محبوب سے محبت اور لگاؤ ہو، ان کی شاعری میں ایسے مضامین اپنے اندر نئے افکار اور جہاں بسائے رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا اگر باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو ان کی شاعری میں رجائیت سے بھرپور نظمیں قاری کو ہمت، حوصلہ اور جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ قاری جب ان کی نظموں کو بغور پڑھتا ہے تو وہ غم زندگی اور غم دنیا کو بھول کر اچھے دنوں کی امید اپنے دل میں بسا لیتا ہے۔ ان کی نظموں میں قنوطیت اور مایوسی سے بھرپور مضامین اشک بلبل کی طرح ہیں۔ لیکن رجائیت ان کی نظموں پہچان ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اردو نظم میں ایک نئی فضا اور خوشبو دکھائی دیتی ہے۔ معاشرتی تقسیم اور خوف و ہراس کی فضائے منحوس نے نظم کو تجریدی اور علامتی لبادہ پہنا دیا۔ بہت سارے شعرا کے ہاں ذاتی درد، تنہائی، خوف اور شکست ریخت اور منفی رجحان کی ٹوٹ پھوٹ کو پیش کیا جانے لگا۔ اسی عہد میں شاعری مایوسی اور کھوکھلے پن کے اظہار کے لئے استعمال کی جانے لگی۔

تقسیم ہندوستان کے بعد فیض وہ واحد شاعر ہے جس کی شاعری میں رجائی عناصر سے بھرپور نظمیں ملتی ہیں۔ انھوں نے کبھی علامتی تو کبھی استعاراتی و تشبیہائی انداز میں رجائی عناصر کو پیش کیا ہے۔ ترقی پسند شاعر ہونے کے بجائے ان کا انداز ترقی پسند شعرا سے یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے استعاروں اور علامتوں سے بہت کم کام لیا ہے اور نئے استعارات کو بروئے کار لانے کے بجائے پرانے استعاروں کو ایک نئی صورت اور معنویت عطا کی ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کے بقول:

’’پاکستان میں نظم نگاری کے تعلق سے جن شاعروں نے ایک خاص امتیاز اور اہمیت کا ثبوت دیا ان میں بہرحال فیض کا نام نمایاں ہے۔ غزل کی طرح نظم میں یوں لگتا ہے جیسے فیض کی طبیعت اور مزاج کے عین مطابق ہے فیض بنیادی طور پر ترقی پسند نظریات کے حامل شاعر ہیں۔ لیکن جس کامیابی سے انھوں نے اپنے کلام کو نعرہ بازی سے محفوظ رکھا ہے اس کی مثال ترقی پسند شاعروں میں بہت شاذ ہے۔ انھوں نے نظم کو بھی غزل کی روایت اور زبان سے آشنا کیا ہے اور اس میں کسی ہیئتی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ان کی کامیابی اس میں ہے کہ انھوں نے پرانے استعاروں اور علامتوں کو نئے معنی دیے۔‘‘ (۳۷)

عقل انسانی خیرو شر میں فرق واضح کرتی ہے اور خیرو شر کے جذبات و احساسات کو انسان بڑی عرق ریزی سے محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات غم دنیا اور جذبات دنیا عقلِ انسانی کو ایک نئی فضا میں دھکیل دیتے ہیں اور انسان غموں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے، اجنبی راستے اور سنسان گھڑیاں جب انسان کو اپنی آغوش میں جکڑ لیتی ہے تو وہ بے بس اور مجبور ہو جاتا ہے اور حالات کی ستم ظریفی اور محبوب کی بے وفائی کو اپنے اعصاب پر سوار کر لیتا ہے، اس کی یہ کیفیت اسے مایوسی اور قنوطیت کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ فیض کا یہ فن کمال ہے کہ وہ کلام میں ایسے عناصر کو شامل کرتے ہیں جو انسانی اعصاب کو مضبوطی عطا کرتے ہیں اور وہ عزم و استقلال اور ہمت سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ مشکل لمحاتِ زندگی کو ایک بھول تصور کر کے ان کو بھولتا جائے اور جینے کی تمنا کو اپنے اندر بسالے۔ وہ کہتے ہیں کہ غمِ دنیا انسان کو ایسی سنسان راہوں پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں سے واپسی نہ ممکن ہے۔

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دل یہ تو فقط ایک گھڑی ہے

ہمت کرو، جینے کی تو اک عمر پڑی ہے (۳۸)

غم دنیا کو فیض ذاتی نوعیت کے پیکر میں ڈھالنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ ان کا غم ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ آفاتی نوعیت کا ہے۔ ان کا غم ذاتی نہیں بلکہ معاشرتی نا انصافی اور ظلم و ستم کی مکمل داستان ہے۔ وہ غم دنیا کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ہر شخص ان کے غم کو اپنا غم تصور کرتا ہے۔ وہ خزینہ مضامین کو بیان کرتے وقت قنوطیت کی طرف نہیں جاتے بلکہ رجائیت کا دامن تھا متے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں غم دنیا کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس میں لذت کشش، چشم و کوش، انبساط آشوب آگہی دکھائی دیتی ہے۔ وہ نئے نئے مضامین کے اندر ایسے موضوعات کو پیش کرتے ہیں کہ قنوطیت بھی رجائیت میں بدل جاتی ہے۔ ان کے کلام کے اندر ایک مخصوص لب و لہجہ پایا جاتا ہے جو قاری کو تاریکی کے بجائے روشن پہلو دکھاتا ہے۔ وہ درو غم کی کیفیات کو رجائیت کا لبادہ پہنا کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کا ایک مخصوص لہجہ ہے جو قاری کو رجائیت اور قنوطیت کی تمام کیفیات سے روشناس کراتا ہے۔ ڈاکٹر شفیق اشرفی کے مطابق:

’’ فیض کے یہاں سوز و گداز پایا جاتا ہے یا جو غم کی شدید کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس میں قنوطیت کا پہلو ہرگز نہیں ہوتا۔ فیض کا یہی خوش گوار لہجہ ان کو قنوطی ہونے سے روکتا ہے۔‘‘ (۳۹)

فیض کی شاعری میں امت مسلماں کے لئے نیک خواہشات اور نیک جذبات ملتے ہیں۔ ان کی شاعری میں رجائیت کے ساتھ ملی و قومی جذبات کا بھی بحر بیکراں ملتا ہے جو قنوطیت کی ناؤ کو اپنی لہروں کے بھنور میں جکڑ لیتا ہے۔ ان کی عالم اسلام سے محبت اور پھر تمام مسلمانوں کو ہمت اور حوصلہ دینا قابل داد ہے۔ ان کی نظم ’’ایک ترانہ مجاہدین فلسطین کے لیے‘‘ میں رجائی عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں یہ نظم رجائی عناصر اور رجائیت کا ایسا شاہکار ہے جس کی مثال اردو نظم میں نہیں ملتی۔ وہ مجاہدین جو غموں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر حوصلہ ہار چکے ہیں ان کو فیض جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان کافروں کی چالوں اور دقیانوسی سے نہیں گھبراتا بل کہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر قنوطیت کے جال میں پھنسنے کے بجائے رجائیت کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔ ان کے خیال میں ایسی قومیں جو حوصلہ ہار جاتی ہیں ان پر غیر مسلط ہو جاتے ہیں اور دم آخر تک ان کے جذبات و خیالات کو مجروح کرتے ہیں۔ فیض نے فلسطینی مجاہدین کو ہمت و عظمت سے وابستہ کر کے آگے بڑھنے اور غیر کی طاقت سے بلا خوف لڑنے اور حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ فراہم کیا۔ وہ مایوسی کو گناہ تصور کرتے ہیں، قنوطیت ان کے نزدیک تمام تر انسانی صفات کو چھین لیتی ہے اور انسان محض دکھوں اور غموں کا پتلا بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے وہ رجائیت سے بھرپور مضامین کو اپنی نظموں میں شامل کرقاری کو جینے کا حوصلہ دیتے ہیں تا کہ وہ مایوسی سے دامن چھڑا کر ہمت و عظمت کا ساتھ دے۔ وہ مجاہدین فلسطین کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر وہ مایوسی اور قنوطیت کو چھوڑ کر آگے بڑھیں گے تو جیت ان کے پاؤں چومنے لگے گی:

ہم جیتیں گے

حقا! ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے

کیا خوف زیلغارِ اعداء

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف زیورشِ جیش قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہداء

ڈر کا ہے کا

ہم جیتیں گے

حقا ہم جیتیں گے

قد جاء الحق و زہق الباطل

فرمودۂ رب اکبر

ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایہ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے

ہم جیتیں گے

حقا ہم ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے (۴۰)

ان کی سیاسی رجحانات اور ملکی حالات کے متعلق لکھی جانے والی نظموں میں بھی رجائیت ملتی ہے وہ سیاست کو رجائیت سے منسلک کر کے اشعار کو گہری معنویت عطا کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں موجودسیاسی جھلک قاری کو محض بغاوت پر ہی نہیں اکساتی بل کہ اسے عصری رجحانات اور حالات سے آگاہ کرتی ہے۔ ان کی نظموں میں حکومتی پابندیوں کے خلاف ایک بغاوت ملتی ہے جس میں رجائیت کا غالب رجحان دکھائی دیتا ہے۔ وہ قاری کو اچھے وقات اور اچھے مستقبل کے حصول کے لئے آمادہ کرتے ہیں اور ایسے قوانین جو حقوق انسانی کو سلب کرتے ہیں ان کے خلاف آواز اٹھانے پر اکساتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سیاسی شعور در اصل اچھے مستقبل کی نوید سناتا ہے۔ وہ سیاسی رجحان کو ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

ان کی نظموں میں جہاں سیاسی حالات کی عکاسی ملتی ہے وہاں پر سچائی اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا دریا بہتا دکھائی دیتا ہے، وہ ایسے امکانات اور ہیجانات کے خلاف ہیں جو رجائیت کے بجائے قنوطیت کی جانب گامزن کریں۔ ڈاکٹر فوزیہ یاسمین کے مطابق:

’’جہاں تک فیض کا تعلق ہے انھوں نے اپنے زمانے کے سیاسی اور سماجی کرب کو آخر تک برداشت کیا۔ ان کی انقلابی شاعری نے ہمیں راستہ دکھانے کا فرض انجام دیا۔‘‘ (۴۱)

فیض کی نظموں میں قنوطیت کو تلاش کرنا کوہ بیستوں سے دودھ نکالنے کے مترادف ہے۔ وہ غم دنیا کو بھی ایک نعمت تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں انسان کو اپنے تمام تر دکھوں اور غموں کو بھول کر اچھے مستقبل کی امید رکھنی چاہیے۔ وہ قوانین اور حاکم وقت کے مظالم کو ہنس کر سہ لینے کا ملکہ رکتھے ہیں اور تمام تر پابندیوں کو توڑ کر اپنی زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور بغیر خوف و خطر کے اپنے مقصد کی طرف مگن دکھائی دینا چاہئے۔ وہ تمام تر معاشرتی قدغنوں اور پابندیوں کے خالف بغاوت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے حق کے لئے ڈٹ جانا چاہئے۔ انسان کو بغیر خوف کے اور بغیر ڈر کے مقاصد کی تکمیل کے لیے لڑنا چاہیے۔ ان کے خیال میں اگر انسان غم دنیا سے اکتا جائے تو اسے اشک بہانے کا مکمل حق ہے۔ وہ اگر اپنی قسمت پر ہنسنا چاہتا ہے تو اسے ہنسنے کا مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ وہ بجائے اس کے کہ معاشرتی پابندیوں اور خوف کے آگے گھٹنے ٹیک دے اسے چاہیے کہ جو اس کے دل میں جو خواہش ہے تو سے بلا خوف و خطر پورا کرے۔ وہ انسان کے اندر حوصلہ اور ہمت پیدا کرنے کی مکمل سعی کرتے ہیں:

اب کیوں اس دن کی فکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا (۴۲)

فیض کی شاعری میں عصری شعور واضح دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں اپنے عہد کے تمام تر سیاسی سماجی حالات کی تصویر قاری کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ انھوں نے بہت ساری قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی شاعری میں ایامِ سلاسل کی جو جھلک دکھائی دیتی ہے وہ قاری کو اس عہد کے حالات سے آگاہ کرتی ہے۔ انھوں نے استعارات اور تشبیہات کے ذریعے عصری ظلم و ستم کی جو داستان قلم بند کی ہے اس کی مثال اردو ادب میں نہیں ملتی۔ انھوں نے لفظوں کی ہیر پھیر نہیں کی بل کہ نئے رجحانات اور میلانات کو قبول کر کے شعری حسن میں اضافہ کیا ہے۔ اگر ان کی شاعری کا عمیق نظری سے مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے تو ان کی شاعری ظلم و ستم کے خلاف ایک علم بغاوت بلند کرتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ غلامی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے افراد کو مایوسی کے بجائے اچھے مستقبل کی نوید سنا کر جینے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جدائی در اصل وصل کی لذت کا ذریعہ ہے اور اگر جدائی نہیں تو وصل کی لذت بے معنی ہے۔ وہ رقیب کی سازشوں کو اور خدائی کے دعوؤں کو محض ایک تخیل تصور کر کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرتے دکھائی دیتے ہیں:

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اوج یہ ہے طالع رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں

علاج گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں (۴۳)

فیض کی شاعری محض سیاسی رجحانات اور معاشرتی حالات کی عکاس نہیں بلکہ اس میں آفاقیت بھی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کے مظالم کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے قاری کو عصری حالات سے آگاہ کیا ہے۔ ان کی شاعری میں بغاوت کی اصل صورت رجائیت ہے اور بغاوت ہی رجائیت کی بنیاد بنتی دکھائی دیتی ہے۔ اور قاری کو اصل حقائق سے آگاہ کرتی ہے۔ فیض کی شاعری میں رجائیت کے ساتھ ساتھ حسن و عشق کی سیکڑوں کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ حسن و عشق کے موضوعات کو سطحی طور پر دیکھتے ہیں اور واردات زندگی کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس میں سیاسی و سماجی نا ہمواریاں خود بہ خود شامل ہو جاتی ہیں۔ انھوں نے سیاسی حالات کو بیانیہ انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ سماجی بدحالی کی فضا ان کی شاعری پر چھا جاتی ہے۔ وہ کبھی حالات کی ستم ظریفی سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ حالات کا سینہ تان کر مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیض کی شعری خصوصیات پر ڈاکٹر نصرت چودھری کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں:

’’فیض کے کلام میں دل کو چھو جانے والے ایسے مثالی پہلو ہیں جن کو پڑھ کر طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ فیض کا منفرد لہجہ، فیض کے عشقیہ موضوعات، فیض کے اشعار میں سیاسی اور سماجی حالات کا جاگتا ہوا شعور، سوز و گداز کی کیفیات، شدت احساس کی کار فرمائی، کلاسیکیت، رجائیت، علامتوں اور اشاروں کا بر محل استعمال، رمزیت اور ایمائیت کا حسین انداز ایک ایک مصرع سے جھلکتا نظر آتا ہے۔‘‘ (۴۴)

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مایوسی اور ظلم ستم کی فضا عقل انسانی کو جب اپنی آغوش میں لے لیتی ہے تو انسان ظلم و ستم اور معاشرتی پابندیوں کو اپنی قسمت اور وراثت کا حصہ سمجھ لیتا ہے اور اسے اپنے اعصاب پر سوار کر لیتا ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں انسانی خیالات اور جذبات پر پابندی ہو جب کوئی اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرے اس کو سخت سزا دی جائے، تو اس معاشرہ میں انصاف اور روشن خیالی دم توڑ جاتی ہے اور مایوسی کی فضا چھا جاتی ہے۔ فیض نے ایسے معاشرے کے لوگوں کو بیدار کیا ہے اور ان کے اندر ہمت پیدا کی ہے تاکہ وہ اپنے حق میں بول سکیں اور حاکم وقت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں۔ ان کی نظم ” چند روز اور میری جان!” میں رجائی عناصر کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے ظلم و ستم کو برداشت کرنے والوں کو اچھے مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ ان کے خیال میں ایسے لوگ جن کے جذبات اور خیالات محض حالات کی ستم ظریفی کے آگے بے بس ہیں وہ لوگ محض گوشت پوست کے پتلے ہیں انسان نہیں۔ انھوں نے معاشرتی پابندیوں اور ظلم و ستم کو ہمیشہ کے لیے خوش آمدید کہا ہے اور اسے محض تخیلاتی قصہ سمجھ کر برداشت کیا۔ ان کے نزدیک تاریکی در اصل روشنی کی پہلی سیڑھی ہے جوبرے حالات ہی اچھے حالات کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ وہ معاشرتی نا انصافی اور طبقاتی تقسیم کو ظلم عظیم تصور کر کے اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں

فکر محبوس ہے، گفتار پر تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیئے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر، کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں (۴۵)

فیض کی نظموں میں رجائی عناصر کی مختلف صورتیں ملتی ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں رجائی عناصر کو اس لیے شامل کیا ہے کہ قاری ظلم و ستم کے عہد میں کہیں مایوسی کے دامن کو نہ تھام لے اور عمر بھر گمراہی اور جہالت کو اپنا وطیرہ نہ بنا لے۔ وہ غم دنیا اور غم زندگی کو ایک ساتھ اس طرح سمو کر پیش کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے امید کی کرن پھوٹتی دکھائی دیتی ہے جو اس غم کو دور کرتی ہے۔ ان کا یہ فن کمال ہے کہ وہ زندگی کے مسائل کو اور قلبی کیفیات کو ایک ساتھ پیش کرتے ہیں:

’’ ان کا کمال یہ ہے کہ زندگی کے ایک سنجیدہ شعور کی توانائی میں واردات قلب کی گرمی اور گداز پیدا کرتے ہیں۔۔۔۔ ان کی شاعری میں رجائیت، زندگی پر اعتماد اور قوت شفا آئی ہیں۔ میں ان کی بصیرت کو مانتا ہوں۔‘‘ (۴۶)

محبوب کی ستم ظریفی اور بے وفائی انسان کو لاچار اور بے بس کر دیتی ہے اور انسان محبوب کی جدائی میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ است دنیا و مافیہا کی پرواہ نہیں رہتی، اس کی روح بے چین ہو جاتی ہے اور ہجر اس کی اندرونی کیفیات کو ایک نئے موڑ پر لا کر چھوڑ دیتا ہے جہاں سے واپسی نہ ممکن ہے۔ فیض محبت کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں کرتے اور نہ ہی محبوب کی جدائی میں مایوسی اور قنوطیت سے رشتہ جوڑتے ہیں۔ وہ محبت کے راگ الاپنے کے بجائے محبت سے دور بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک محبت در اصل ایک سلاسل ہے جس سے نجات نہ ممکن ہے۔ وہ محبت کو بھول کر آگے بڑھنے کی سعی کرتے ہیں:

مچل رہا ہے رگ زندگی میں خونِ بہار

الجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار

چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیار حبیب

ہیں انتظار میں اگلی محبتوں کے مزار

محبتیں جو فنا ہی گئی ہیں میرے ندیم! (۴۷)

ان کی شاعری میں سیاسی رجحان اور رومانویت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ وہ مختلف استعاروں اور تشبیہات کے ذریعے ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں کہ رجائیت رقص کرنے لگتی ہے۔ وہ بعض علامتوں کے ذریعے محبوب کی مختلف کیفیات اور جذبات کو بیان کر کے قاری کو لذتِ جنس سے شناسا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبوب ایک استعارے کے طور پر جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔ استعارات اور علامات در اصل فیض کی شاعری کا حسن ہیں۔ بعض ناقدین اس کو نفی پہلو قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق:

’’فیض کے مزاج کی رومانویت ان کو انقلابی بننے سے روکتی رہی، ہاں ان کے انقلاب پسندی میں رومانویت کے عناصر شامل ہوتے رہے اور وہ اس طرح رومانی باغی بن کر رہ گئے۔۔۔۔ آج تک وہ اسی دورا ہے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔‘‘ (۴۸)

فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے لیکن کبھی بھی ترقی پسندیت کو ذاتی خیالات اور جذبات پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے ہمیشہ حق کا بول بالا کیا ہے، ان کی شاعری میں غریبوں کی آواز سنائی دیتی ہے اور وہ غریبوں کے دکھ درد بانٹے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں اور غریبوں پر ہونے والے مظالم کو صفحہ قرطاس کی زینت بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جب مزدوروں کا استحصال ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوتا ہے اور مایوس ہونے کے بجائے رجائیت کا دامن تھام لیتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں:

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کر ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے (۴۹)

بعض ناقدین کو فیض کے رومانوی شاعر ہونے پر اس لئے اعتراض ہے کہ وہ رومانوی لبادے میں انقلابی پہلوؤں کو پیش کیا ہے۔ وہ حالات کی ستم ظریفی اور معاشرتی پابندیوں کو استعاروں اور علامتوں کے ذریعے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں موضوعات کا دریا بہتا دکھائی دیتا ہے جس میں رومانیت بھی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے کلام میں حسن پیدا کرنے کے لئے مختلف تجربات ضرور کیے ہیں لیکن یہ تجربات قاری کو کسی بھی الجھن میں نہیں ڈالتے، بلکہ وہ اور رومانوی لمحات کے ساتھ ساتھ رجائی عناصر سے لطف اٹھانے لگتا ہے۔ علی جواد زیدی کے بقول:

’’ان کے یہاں اتنی گہری آفاقیت ہے کہ ہم ان کی نظموں کے ساتھ ساتھ چلنے لگتے ہیں۔ یہ نظمیں اپنی معلوم ہونے لگتی ہیں ان میں نظریات کا وہ بوجھل پن نہیں جو دوسروں کو کنارے ہٹا دے۔‘‘ (۵۰)

جنسی رجحانات اور جنسی کیفیات کا بیان اردو نظم میں جا بجا ملتا ہے، ہر شاعر نے جنسی پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ محبوب سے ملنے کی خواہش اور پھر اس کا لمس، ہونٹ خطوط اور جسمانی لطف عاشق کی کیفیات اور جذبات کو مجروح کرتا ہے تو حسن و عشق کی کیفیات میں جنس کا عنصر شامل ہو جاتا ہے، کیونکہ جنس حسن و عشق کی درمیانی کڑی ہے، اس لئے انھوں نے محبوب کے خد و خال کو بڑی باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک محبوب کا حسن در اصل اس شاعری کی مانند ہے جس میں حسن و گل کی تمام کیفیات بیان کی جاتی ہیں۔ در اصل محبوب سے ملنے کی خواہش ہر عاشق کے دل میں ہوتی ہے، جب عاشق محبوب سے ملتا ہے تو اس کی حالت قابل رشک ہوتی ہے۔ محبوب کی ستم ظریفی عاشق کو مایوسی کی طرف دھکیل دیتی ہے اوروہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر اپنی الگ دنیا بسا لیتا ہے، مایوسی اور قنوطیت اس کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور وہ بے بس اور لاچار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ فیض کی شاعری عاشق کو مایوس کرنے کے بجائے اس کے دل میں ایک نیا جذبہ اور امنگ پیدا کرتی ہے اور اس کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے:

یہ بھی ہیں، ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے

لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کم بخت دل آویز خطوط

آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے

اپنا موضع سخن ان کے سوا اور نہیں

طبعِ شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں (۵۱)

خلاصہ بحث یہ ہے کہ فیض کی ہر نظم رجائیت سے بھرپور ہے اور حقیقت میں وہ رجائی شاعری کے شہنشاہ ہیں۔

قیوم نظر

قیوم نظر کی نظمیہ شاعری منفرد حوالہ رکھتی ہے۔ ان کی نظموں کا اگر عمیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تو اُن میں موضوعات زندگی بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں وہ فلسفۂ غم تو کہیں لذتِ غم کو بیان کرتے ہیں۔ وہ فلسفہ زندگی اور زندگی کے بدلتے رجحانات اور میلانات کو ایک ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ غم کی فضا سے خوشی کے پہلو تراشنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ غم ان کی شاعری کا اہم پہلو ہے جو ان کی ذات کی احساسیت کو بیان کرتا ہے۔ ان کے دل میں غریبوں کی ہم دردی اور اصلاحِ معاشرہ کی خواہش ہچکولے لیتی دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے خود کو شکست و ریخت سے بچانے کے لیے غموں سے پناہ لینے کے بجائے اُن سے خط اٹھایا ہے اور نئے امکانات تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔ شاعر نے زندگی کے نشیب و فراز کو زندہ دلی کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ ان کی زندہ دلی ہی اُن کی شاعری کو رنگین کرتی ہے۔ وہ غم، ہیجان اور رجائیت کو ایک ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اگر اُن کی شاعری میں غم کی کیفیت موجود ہے تو اس کی وجہ بدلتے حالات کی ستم ظریفی ہے انھوں نے بدلتے رجحانات اور خیالات کو اپنی شاعری میں پیش کر کے عصری میلانات کی عکاسی کی ہے۔ ان کی شاعری غم کی فضا کے خلاف احتجاج کرتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ غم کو وہ زندگی کا اہم حصہ تصور کرتے ہیں لیکن اُس کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں کرتے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے بہ قول:

’’بحیثیت مجموعی قیوم نظر کی نظر میں ہیجان، بغاوت، رجائیت یا رفعتوں کی طرف بڑھنے کا رجحان موجود نہیں اس کے برعکس اُس نے بڑے ٹھنڈے دل کے ساتھ نشیب کی طرف اپنی لڑکھڑاہٹ کو اداس اداس نظروں سے دیکھا ہے۔ اُسے وقت گزاری کا نہایت شدید احساس ہے لیکن اس کی مدافعت زیادہ سے زیادہ ماضی کی یادوں میں خود کو منہمک کرنے کی حد تک ہے۔ اُسے آگے نہیں۔ یہ چیز قیوم نظر کی خشک مزاجی کے باعث بھی ہے۔ وہ بحرانی کیفیت میں مبتلا ہونے کے باوجود باہر نکلنے کے امکانات پر بڑے ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ چناں چہ اس کا رد عمل اداسی اور افسردہ دلی کی ہموار رو سے متاثر ہے۔‘‘ (۵۲)

قیوم نظر کی نظموں میں وطن سے محبت کا ایک مخصوص پہلو نظر آتا ہے۔ اُن کا یہ فنِ کمال ہے کہ وہ نوجوانوں کے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیتے۔ وہ اُن کے دلوں میں جیت کی لگن اور امید کو پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت میں اُن کی شاعری میں جذبہ حب الوطنی ہی وہ محرک ہے جو اُن کے کلام میں رجائیت کو پروان چڑھاتا ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کے نوجوانوں کی ہمت اور جواں مردی کو سراہا ہے اور اُن کو آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کیا ہے۔ ان کی نظموں میں جہاں وطن سے محبت دکھائی دیتی ہے وہیں پر وہ نوجوانوں کے حوصلے بلند کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا، ہر لفظ، ہر مصرع قاری کے اندر جینے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے اُن لوگوں کے جذبات کو بھی پیش کیا ہے جن کے اندر جینے کی امنگ موجود ہے اور وہ وطنِ عظیم کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اُن کی نظموں میں رجائیت موجود ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو:

رکھوالا ہے آزادوں کی آزادی کا

متوالا ہے انسانوں کی آبادی کا

یہ کلمہ پڑھنے والا حق کے باری کا

ہر عالم میں اپنے ایمان میں ہے کامل

لاہور ہے پاکستان کا دل (۵۳)

نظم نگار نے اپنی نظموں میں مختلف جذبات اور کیفیات کو یکجا کر کے پیش کیا ہے۔ کبھی وہ ترنم تو کبھی نغمگی کے راگ الاپنے لگتے ہیں۔ اُن کے لفظوں میں اُمید کی فضا رقص کرنے لگتی ہے۔ وہ ہیجانی کیفیت کو ایک نئے انداز میں اُس طرح ڈھالتے ہیں کہ جینے کی نئی اُمنگ اور ترنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کی نظمیں ہر طرح کا عکس پیش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کے مطابق:

’’قیوم نظر کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے ہر لمحہ رنگ بدلتی دنیا کو اپنا موضوع بنایا اور اُن کیفیتوں کو پیکر شعر عطا کیا جو کبھی نغمہ بن کر فضا کو مترنم کر دیتی ہیں اور کبھی کسک بن کر فضا کو سوگوار کر ڈالتی ہیں۔ قیوم نظر معنوی طور پر حیرت اور استعجاب کے شاعر ہیں ان کی تحیر میں دل گرفتگی اور ان کے استعجاب میں معصومیت ہے۔ چناں چہ وہ قاری کی روح کو ٹٹولنے اور پاؤں اس سے دل کے نہاں خانوں میں گھس کر اُسے جمالِ فطرت کی طرف متوجہ ہونے اور اس کے کیف و کم سے سرشار ہونے کا موقع دیتے ہیں۔‘‘ (۵۴)

قیوم نظر کی شاعری (خصوصاً نظم) میں رومانوی جذبات کی جھلک پائی جاتی ہے۔ وہ محبوب کی محبت کے راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہجر و وصال کی کیفیات کو ہر شاعر نے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا ہے لیکن قیوم نظر کا انداز ہی الگ اور منفرد ہے۔ وہ محبوب کی جدائی میں رونے دھونے اور حزن و الم میں مبتلا نہیں ہوتے بل کہ وہ ہجر سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ اُن کی نظموں کا اگر عمیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تو وہ اپنی نظموں میں اُمید کے دامن سے جڑے نظر آتے ہیں۔ وہ اداس موسموں کے عکس اور کیفیت سے گھبرانے کے بجائے موسمِ بہار کی خواہش کو اپنے دل میں بسائے رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ موسم اور وہ وقت ضرور آئے گا جب اُن کا محبوب اُن کے ساتھ ہو گا اور پھر کلیوں اور پھولوں کا رقص فضا کو خوشبو سے معطر کر دے گا۔ وہ اس امید سے زندہ رہتے ہیں کہ اُن کی اداسی خوشی میں بدل جائے اور جب موسم بہار آئے گا تب پرندوں کی آوازیں اور شور کانوں میں رس گھول دے گا۔ حقیقت میں وہ پریشان اور گھبرائے ہوئے لوگوں کو اچھے وقت کا دلاسہ دیتے ہیں ان کے نزدیک وہ وقت ضرور آئے گا جب اداسی اور مایوسی خوشی اور نشاط میں بدل جائے گی۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

کبھی تو آئے گی

کبھی تو میرے گیت کی اداس ریت

خوشی کو جیت جائے گی

چہکتی بولتی پھر آئے گی وہ رت

جو تجھ کو میرے ساتھ پائے گی

کبھی تو آئے گی (۵۵)

قیوم نظر حقیقت میں اچھے مستقبل اور بہتر حالات کے خواہاں ہیں۔ وہ ملکی حالات اور صورت حال کو اپنی نظموں میں پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں وہ وطن کے نوجوانوں کو اچھے حالات کی نوید سناتے ہیں۔ ان کے نزدیک اچھے مستقبل اور حالات کے خواب دیکھنا ضروری ہے لیکن ان خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنے اندر آگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ وہ شخصی آزادی اور جبر و استعداد کے سخت مخالف تھے۔ ان کے نزدیک اپنے حق میں لڑنے والا اپنی منزل کو حاصل کر سکتا ہے۔ وہ قاری کو غلامی اور اُس کے محرکات سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غلامی کی وجہ در اصل معصومیت اور بے بسی اور مایوسی ہے۔ اگر امید کے ساتھ جبری قوانین کے خلاف بغاوت کی جائے تو اپنے حقوق کو با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خیال میں اگر انسان کے اندر احساسِ زندگی ہے تو وہ کبھی بھی غلامی کی زندگی بسر نہیں کرے گا۔ وہ حاکم وقت کے خلاف آوازِ حق بلند کرے گا۔ اُن کی نظم ’’شاعر کا یقین‘‘ میں رجائی عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ اس نظم میں انھوں نے بغاوت کے ذریعے روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اُس کی آنکھوں میں

اتر آیا ہے احساس

خوں

سرد لوہے کی

سلاخیں، یہ گراں

دیواریں

توڑ ہی ڈالے گا اب

ٹھان چکا ہو جیسے (۵۶)

قیوم نظر وطن سے محبت کو ایمان کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ انسان کو اپنے وطن کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے وطن کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔ ایسے نظریات اور خیالات کو نظم میں پیش کرنا چاہیے جو حق و باطل میں فرق واضح کریں۔ ان کی نظموں میں جذبۂ حب الوطنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظموں میں جنگی احوال خال خال ہیں لیکن ملی و قومی جذبات ضرور پائے جاتے ہیں۔ وہ باطل کے سامنے کلمہ حق کہنے کو زندگی کی بقا تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں ایسے جذبات کو پیش کرتے ہیں جو قاری کو وطن سے محبت کی طرف راغب کریں۔ وہ محبت میں بغاوت کے قائل نہیں ہیں خصوصاً جب وطنِ محبت کی بات ہو تو وہ مخلصی کا اظہار کرتے ہیں اور دشمنوں کے خلاف خود کو صف آرا تصور کرنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ قاسم یعقوب کے مطابق:

’’قیوم نظر کا عدو بھی کافر ہے، گویا وطن کی پاسبانی کا جو معاملہ درپیش ہے۔ یہ در اصل معرکہ حق و باطل ہے۔ دشمن کا لہو آرزوؤں کی کلی کھلنے کا باعث ہو گا۔‘‘ (۵۷)

ان کی نظموں میں مثبت رویہ اور عزم و حوصلہ پایا جاتا ہے لیکن کہیں قنوطی جذبات پائے جاتے ہیں۔ انھوں نے قاری کو اچھے مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ ان کے نزدیک اگر انسان فہم و فراست کے ساتھ قدرت کے حالات کا جائزہ لیتا ہے تو اُسے نئے حالات اور روشنی کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں ایسے مضامین کو پیش کیا ہے جو اچھے مستقبل کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان کی نظمیں جہاں سماجی مسائل اور عصری حالات کی عکاسی کرتی ہیں، وہیں پر وہ اُن میں رجائی عناصر کو پیش کرتے ہیں۔ ان کی نظمیں حالات کی بہتری کی ضامن ہیں اور وہ قاری کو غموں کی فضا سے نجات دلاتے ہیں۔ قاری جب اُن کی نظموں کو پڑھتا ہے تو اُسے اپنا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے اور اس کے دل میں آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہوتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

جی کیوں ہو اُداس

کوئی نہ آئے پاس

جی کیوں ہو اُداس

رُت بدلی ہر بات نئی ہے

دیکھتے دیکھتے پھیل گئی ہے

انگ انگ میں رنگ رنگ کی باس (۵۸)

۱۹۶۵ء کی جنگ کے حوالے سے قیوم نظر کی لکھی گئی نظموں میں رجائیت موجود ہے۔ ان نظموں میں انھوں نے جوانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ان کے نزدیک ایسے جوان جو وطن کی محبت میں سرشار ہوتے ہیں کامیابی اُن کے قدم چومنے لگتی ہے۔ وہ وطن کے سپاہیوں کو وطن سے محبت کرنے کا درس دیتے ہیں اور آگے بڑھ کر دشمنوں کو ختم کرنے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی نظموں میں یہ پیشین گوئی بھی کی ہے کہ دشمن وطن خاک میں مل جائے گا اور وطن کے سپاہی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ انھوں نے سپاہیوں کو ہمت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دشمنوں کی صفوں کو اُلٹ دیں اور ستم گروں کو نیست و نابود کر دیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

پڑا جو وقت کو میداں میں تھی شتابی سے

بڑھی جدھر بھی، بڑھی پوری کامیابی سے

جلائے دل کے لہو کے چراغ بڑھتے ہوئے

اڑائے فتح کے پرچم عدو پہ چڑھتے ہوئے

وطن میں لائی ہے رعنائیاں پہاروں کی

یہ پاک فوج۔۔۔ جوانوں کی کام گاروں کی (۵۹)

کوثر مظہری اُن کی وطن سے محبت اور دشمنوں سے عداوت کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’انھوں نے فوجیوں کے لیے خاک وطن (پاکستان) سے محبت کے جو نغمے گائے ہیں ان میں بھی جوش و جذبے کا ایسا وفور یا شدت نہیں جو قاری کو اپنی سوچ میں اپنی راہ سے منحرف کر دے۔ یعنی ان نظموں میں بھی ایک طرح کا ٹھہراؤ ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ انھوں نے نیشن اور محض انقلابی دعویٰ کر کے شاعروں کو کھوکھلا نہیں بنایا۔ حب الوطنی نیچر اور مناظر فطرت سے لگاؤ انسانی جذبات کی غمازی بھی کرتا ہے۔‘‘ (۶۰)

مختصر یہ کہ قیوم نظر کی نظموں میں جذبۂ حب الوطنی موجود ہے۔ انھوں نے جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ ایسے مضامین پیش کیے ہیں جو قاری کو جینے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔

مجید امجد

مجید امجد کی شاعری اردو ادب میں معتبر حوالہ رکھتی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں جو تجربات کیے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان کی شاعری لسانی تجربات کی عمدہ مثال ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں پاکستانی تہذیب و ثقافت لفظوں میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ انھوں نے دیہاتی لوگوں کے جذبات اور شہری باشندوں کے احساسات کو جس طرح پیش کیا ہے شاید ہی کوئی دوسرا شاعر پیش کر سکے۔ ان کی شاعری میں پائے جانے والے مسائل اور حالات و واقعات قاری کو ایک ایسی فضا میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ نا ممکن ہے۔ وہ ہر ایک چیز کے تمام اجزا کو نہایت عرق ریزی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں منظر کشی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ قاری جب اُن کی شاعری کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے مختلف مناظر آ جاتے ہیں اور وہ ان مناظر میں اپنی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ نظم نگار نے اپنے عہد کے خارجی جبر و استعداد کو داخلی کیفیات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بلراج کومل لکھتے ہیں:

’’مجید امجد جس معاشرے میں پیدا ہوئے، پلے، بڑھے، جوان ہوئے اور حدود حیات و مرگ کے پار چلے گئے، غلاظتوں اور ناہمواریوں کا معاشرہ تھا، اس میں اندرونی اور خارجی جبر و استعداد بھی تھا اور استحصال بھی۔ اس لیے مجید امجد کے کلام کی ایک واضح سطح ایک ایسے حساس انسان کے رویہ عمل کی سطح ہے جو زندگی کے مظاہر کی ارضی تفصیلات روز و شب بغور دیکھتا ہے لیکن ان فراموشوں اور زخموں کو دیکھ کر اداس ہو جاتا ہے جس سے اس کے معاشرے کے زیادہ تر چہرے ملوث ہیں۔‘‘ (۶۱)

انھوں نے اپنے عہد کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ ان کے نزدیک ایسے لوگ جو اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے غریبوں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں اور اُن کی عزتوں کی پامالی کرتے ہیں معاشرے کے معزز ین کہلاتے ہیں۔ ان کی شاعری در اصل ایسے معاشرے کا عکس پیش کرتی ہے جہاں جذباتِ انسانی کو بڑی آسانی کے ساتھ مجروح کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری محض مناظر فطرت تک محدود نہیں بل کہ پورے ہندوستان کا عکس پیش کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کے لوگوں کے جذبات کو قلم بند کیا ہے اور ایسے افراد کو طنز کا نشا نہ بنایا ہے جو اپنے ظلم و ستم سے غریب لوگوں کے حقوق سلب کرتے ہیں۔ ان کی شاعری در اصل مایوس اور غریبوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کو ایک نئے اور منفرد انداز میں پیش کر کے مسیحائی کا عمدہ ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے ایسے افراد کی ذہنی استعداد اور خیالات کو پیش کیا ہے جو اپنے زورِ بازو سے غریبوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں اور اُن کو ہمیشہ دباتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انھوں نے طنز کا نشانہ بنایا ہے اور مایوس اور حالات کے مارے ہوئے لوگوں کو جینے کا حوصلہ عطا کیا ہے۔ انھوں نے لوگوں میں آگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کی نظم ’’درسِ ایام‘‘ میں رجائی عناصر کے ساتھ ساتھ معاشرتی عدم توازن اور فسادات کی عمدہ تصویر دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے جہاں معاشرتی ناہمواریوں کو پیش کیا ہے وہیں پر وہ لوگوں کے اندر نیا جذبہ زندگی اور نئی امنگ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو حالات کی ستم ظریفی اور وڈیروں کے ظلم و ستم سے اُکتا چکے ہیں اُن کے اندر ایک نیا حوصلہ اور ہمت پیدا کی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے

یہ ہات، جھریوں بھرے، مرجھائے ہات، جو

سینوں میں اٹکے تیروں سے رستے لہو کے جام

بھر بھر کے دے رہے ہیں تمہارے غرور کو

یہ ہاتھ، گلشنِ غم ہستی کی ٹہنیاں

۔۔۔ اے کاش، انھیں بہار کا جھونکا نصیب ہو

ممکن نہیں کہ ان کی گرفتِ تپاں سے تم

تادیر اپنی ساعدِ نازک بچا سکو

تم نے فصیل قصر کے زخنوں میں بھر تو لیں

ہم بیکسوں کی ہڈیاں، لیکن جان لو

اے وارثانِ طرہ طرفِ کلاہ کے

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے! (۶۲)

مجید امجد کی شاعری میں جدت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے نئی زندگی اور نئے تغیرات کو قبول کر کے نئے احساسات اور خیالات کو پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ وہ ایسے نظام کے خلاف ہیں جس میں غریبوں کے حقوق کو سلب کیا جائے۔ وہ جذباتِ انسانی کو ایک نیا حسن عطا کرتے ہیں۔ وہ فطرت کے مناظر میں تبدیلی کی خواہش کو اپنے اندر سموئے رکھتے ہیں۔ انھوں نے ایسے مناظر اور حقائق کو پیش کیا ہے جن کو جان کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے عمیق مطالعہ سے یوں احساس ہوتا ہے کہ اُن کی شاعری میں گہرا سائنسی شعور موجود ہے۔ خواجہ محمد زکریا لکھتے ہیں:

’’مجید امجد نے اردو شاعری۔۔۔ کے روایتی پس منظر کو بالکل بدل دیا ہے۔ وہ حیاتیات کے علما کی پیروی میں جمادات، نباتات، حیوانات اور انسانوں کو ایک سلسلے سے منسلک کر دیتا ہے۔ وہ ماہرین طبقات الارض کی تحقیقات کی طرف واضح اشارے کرتا ہے۔ اس طرح جدید علم ہیئت کے افسانوں سے مدد لیتے ہوئے مسدود اور مقفل کائنات کے تصورت کو بے حد و بے کنار کائنات کے تصورات میں بدل دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل بجا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جدید شاعری میں سائنسی پس منظر رکھنے والا پہلا شاعر ہیں۔‘‘ (۶۳)

مجید امجد نے جہاں اپنے کلام میں سائنسی شعور اور رموزِ کائنات کو پیش ہے وہیں پر انھوں نے عصری مسائل اور ان کے محرکات کو ایک نئی صورت عطا کر کے پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں حالات کی ستم ظریفی کے آگے بے بسی کا اظہار کرنے والوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری انسانی زندگی کا نوحہ پیش کرتی ہے۔ وہ اپنے قاری کو گھبرانے کے بجائے جینے کا حوصلہ اور اچھے مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ ان کا قاری عصری میلانات و ہیجانات سے گھبرانے کے بجائے اچھے مستقبل کی امید سے وابستہ رہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان زندگی کے اسرار و رموز اور مشکلات سے گھبرا جائے تو کیا اُسے زندگی کی تمام تر آفات سے محفوظ رکھے گی؟ کیسے ممکن ہے کہ ایک جیتا جاگتا انسان معاشرتی راہ رویوں اور ناہمواریوں سے دور رہے اور زندگی کے پیچ و خم اُسے آسائشوں میں مبتلا رکھیں۔ وہ دورِ جدید کے قاری کو حوصلہ دیتے ہوئے کہتے ہیں اگر وہ صبر کا دامن تھام لے اور پریشانیوں اور مصائب کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرے تو زندگی اُسے مزہ دے گی۔ ان کے نزدیک حالات چاہے جس طرح کے ہوں اور زندگی کی حقیقت جتنی بھی تلخ ہو اُسے سمجھنا چاہیے۔ وہ حضرت انسان کو جینے کا حوصلہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالات کی ستم ظریفی محض ایک خواب ہے حقیقت مگر کچھ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک مصائب اور پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں اس لیے انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے اور اچھے مستقبل اور حالات کی خواہش کو اپنے دل میں زندہ رکھنا چاہیے۔ مجید امجد کی رجائیت سے بھرپور اور شاہکار نظم ’’ایک نظم‘‘ میں زندگی کے مختلف واقعات کا عکس نظر آتا ہے۔ اس نظم میں رجائی عناصر کی کثرت ہے۔ نظم گو نے زندگی کے مختلف گوشوں کو عرق ریزی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

دوست، یہ سب سچ ہے، لیکن زندگی

کاٹنی تو ہے بسر کرنی تو ہے!

گھات میں جو منتظر، چلے یہ تیر

ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

کاٹ دیں کتنی رُتوں کی گردنیں

بھاگتے لمحوں کے چلتے آروں نے

ہاں یہ سب سچ ہے، اس کا کیا علاج

چار دن جینا ہے ہم بے چاروں نے

ہم نے بھی اپنی نحیف آواز کو

شاملِ شورِ جہاں کرنا تو ہے

زندگی ایک گہری کڑی لمبی سانس

دوست پہلے جی بھی لیں، مرنا تو ہے (۶۴)

مجید امجد کی شاعری میں گہرا غم اور مایوسی کی فضا پائی جاتی ہے۔ لیکن وہ فضائے منحوس اور فضائے مایوس میں جینے کی امنگ اور حوصلہ کو زندگی کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بکھرے موضوعات اور احساسات قاری کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں غم اور بکھرے جذباتِ انسانی ایک ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں گہرے غم کے اندر بھی جینے کا حوصلہ ملتا ہے۔ انھوں نے عہدِ زوال میں بھی فکر روشن اور فکرِ انسانی کو تراشنے کی سعی کی ہے۔ ان کے کلام میں شالاط سے محبت اور اس محبت سے پیدا ہونے والے حالات کی جو تصویر ملتی ہے وہ قاری کو غور و فکر کی مکمل دعوت دیتی ہے۔ فکرِ شالاط اور لمسِ زن اُن کی شاعری میں بارش کی طرح برستا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے عورت کے جذبات اور لمس کو نہایت خوب صورت انداز میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنے محبوب کے بچھڑنے کے غم کو اپنی ذات پر مسلط نہیں کیا بل کہ اُسے لذتِ زندگی قرار دے کر اس سے حظ اٹھایا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

’’۱۹۵۸ء اور اس کے فوراً بعد مجید امجد کی شاعری میں شالاط کا وجود واضح جسمانی حوالوں کے ساتھ تو موجو ہے۔ ۶۶۔ ۱۹۶۵ء تک پہنچتے پہنچتے بھی ایک جڑی ہوئی شبیہ اور اس کی بے آواز چاپ کے شواہد مل جاتے ہیں مگر اس کے بعد تمثال دار آئینے کی طرح جو ٹوٹ کر ہزار چھوٹی چھوٹی کرچیوں میں بٹ جاتا ہے۔ مجید امجد کے ہاں بھی شالاط کا حوالہ کچھ یوں تقسیم ہوا ہے کہ آواز، آنکھ، خوشبو، سرسراہٹ اور لمس زندگی کے دیگر لاتعداد موضوعات کی نسبت میں چمکتے ہوئے ذرات کی طرح شامل ہو کر لو دینے لگے ہیں۔‘‘ (۶۵)

محبوب کی محبت اُس کا لمس ہر عاشق کے لیے ایک نعمت ہے۔ محبوب سے ملنے کی خواہش اور پھر اُس سے بات کرنا اور اس کے ناز نخرے اٹھانا، تقریباً عاشق کی خواہش ہوتی ہے۔ انھوں نے بھی اپنے محبوب سے ملنے کی خواہش اور امنگ کو تمام عمر اپنے سینے میں سمائے رکھا۔ ان کی شاعری میں محبوب سے محبت کے اصولوں کو پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے محبوب سے ملنے کی خواہش کو زندگی کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ شاعر کے خیال میں اگر محبوب کا دیدار ہو جائے تو تمام غم دنیا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبوب سے ملنے کی امنگ اور حوصلہ ملتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’’ایک پُر نشاط جلوس کے سات‘‘ میں رجائی عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس نظم میں جنسی رجائیت کو ایک علامتی انداز میں پیش کیا ہے:

میں بھی آ نکلا ہوں۔۔۔ اتنی دور سے، دردوں سے چُور۔۔۔

صرف اس امید پر، شاید کہ گزرے اب کے بھی

تیرے گھر کے سامنے والی سڑک کے پاس

اس حسیں تہوار کی رنگینیوں کا کارواں۔۔۔

شاید اب کے پھر بھی شوقِ دید کے احساس سے

تو بھی آ نکلے سرِ بام۔۔۔ آہ یہ سودائے خام! (۶۶)

ہر شاعر کی شاعری میں جذبات انسانی پائے جاتے ہیں۔ ہر شاعر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جذبات انسانی کو عصری میلان اور ہیجانات کے تناظر میں پیش کرے۔ مجید امجد نے بھی اپنے عہدے کے مسائل اور حالات کو پیش کیا ہے۔ افتخار بیگ کے بقول:

’’شاعر ماحول اور لمحوں کو جذبوں اور جذبوں کی کیفیات کے حوالے سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ اس کے ہاں کبھی ایک لمحہ۔۔۔ لمحۂ موجود زمانوں پر محیط ہوتا ہے اور کبھی زمانے لمحوں میں ڈھل جاتے ہیں کبھی پل کی اذیت ناکی صدیوں کے دکھ میں ڈھل جاتی ہے اور کبھی ازلوں ابدوں کے اندوہ لمحوں میں آن بستے ہیں۔‘‘ (۶۷)

مجید امجد کی شاعری میں فلسفۂ زندگی واضح دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق اور عصری میلانات اور مناظر فطرت کی عکاسی اُن کی شاعری کا خاصا ہے۔ انھوں نے جذباتِ زندگی کو ایک مخصوص انداز میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ قاری جب ان کی شاعری کا عمیق مطالعہ کرتا ہے تو وہ فلسفۂ غم سے منسلک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے قاری کو زندگی کے مختلف حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے جینے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک غمِ زندگی سے لذت اٹھا کر اسے محض ایک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہیے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ مجید امجد کی شاعری میں رجائی عناصر کا بحرِ بیکراں پایا جاتا ہے۔ ان کی شاعری فلسفۂ زندگی کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ کہیں کہیں غم کی ہلکی سی چبھن موجود ہے۔

مختار صدیقی

مختار صدیقی نظمِ جدید کے اہم شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں سماجی مسائل، اخلاقی اقدار کی تنزلی، معاشی تنگدستی سے نجات، قومی و بین الاقوامی مسائل و واقعات کی پیش کش، تقسیم پاکستان کے محرکات و مسائل، ذہنی انتشار، خوف اور رجائیت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے مسائل اور مبہم واقعات و حقائق کو علامتی انداز میں ڈھالنے کی سعی کی ہے۔ ان کے خیال میں شاعری کو کسی مخصوص علاقے، قوم یا تہذیب و تمدن سے وابستہ نہیں کرنا چاہیے بل کہ اسے عالم انسان کے تمام تر پہلوؤں کے پیش کرنے کے لیے برتنا چاہیے۔ انہوں نے کسی مخصوص انسان کے جذبات اور خیالات کو پیش نہیں کیا بل کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری آفاقیت سے بھر پور ہے اور اس میں تمام انسانوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ وہ منزل شب کے دیباچے میں یوں رقم طراز ہیں:

”کسی فن پارے کو ایک خاص زمانے کا ترجمان ہی نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اگر اسے ادب پارے کا مقام حاصل کرنا ہے تو انہی وقتی اور ہنگامی باتوں کو دوامی مسئلوں اور ان کی دوامی علامتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔ اگر شاعر اپنے ماحول کی باتوں کو انہی دوامی علامتوں میں ڈھال کر پیش نہیں کر سکتا تو (ماحول کا ترجمان ہو تو ہو) شاعر نہیں۔ “ (۶۸)

مختار صدیقی کی نظم ”لب ساحل“ میں علامتی انداز اپنا کر معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس نظم میں قدر انسانی کے مٹنے کا نوحہ بھی ملتا ہے اور زندگی کو جینے کا سہارا بھی۔ انہوں نے اس نظم میں زندگی کے تلخ حقائق کو پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی دکھوں کا مجموعہ ہے لیکن تمام پریشانیوں اور مسائل کا اگر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے تو اچھے مستقبل کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ انسان ہمیشہ سست الوجودی کا شکار رہا ہے۔ وہ محض تخیل کی دنیا میں جینے کا عادی ہے۔ اگر انسان کائنات کے اسرار و رموز تک رسائی حاصل کر لے تو نئی منازل اسے سکوں و راحت عطا کریں گی۔ زندگی ایک دفعہ آتی ہے اور اسے ہنسی خوشی گزارنا چاہیے اور حالات کی ستم ظریفی کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے مسائل کا مقابلہ کرنا چاہیے:

گفت گو کی رو میں دن رات کی باتیں چلیں

یہ ہے مشقت چار دن کی زندگی کا صلہ ہے

آپ ہم جس میں نہیں بولیں کہ دکھ سہتے رہیں

دور یہ ہے اتنا، بے اقدار، ایسا نا سزا

جس میں سب موقع پرستی کے سہارے جی سکیں (۶۹)

تقسیم ہندوستان اردو شاعری کا اہم موضوع ہے۔ مختار صدیقی نے بھی تقسیم کے مراحل کی داستان قلم بند کی۔ انہوں نے تقسیم کے مراحل اور واقعات کو لفظی پیکر میں یوں تراشا ہے کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر صابرہ شاہین کے بقول:

”تقسیم ہند کے تناظر میں شاعر نے انسانی وجود کے ریزہ ریزہ ہونے کی دل گداز سرشت پورے سوز کے ساتھ سنائی ہے اور انسانی رشتوں ناطوں کی بگڑی صورتوں اور سسکتی زندگی کی عبرت انگیز داستان کو سرگوشیوں اور خود کلامی کے انداز میں اس طرح بیان کیا ہے کہ دل و دماغ اور جسم و روح سب پر ایک لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔ “ (۷۰)

مختار صدیقی نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا۔ ان کے خیال میں زندگی تضادات کا نام ہے۔ کبھی خوشی تو کبھی غم انسانی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ انسان ہمیشہ خوشیوں کو پسند کرتا ہے اور غموں کے نشتر سے گھبرا جاتا ہے۔ ان کی نظموں میں ایسے عناصر ملتے ہیں جو انسان کو ہر حال میں ثابت قدم رکھنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں ایسے متعدد واقعات کو پیش کیا گیا ہے جن تک رسائی عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ شاعر کے خیال میں زندگی بدلتے تغیرات کا مجموعہ ہے، اس لیے حالات سے گھبرانے کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

منزلیں ان پہ کبھی ہیں بڑی بھاری

تو یہ پرواز کے فاصلے آساں ہیں کبھی!

یہ چنے لوگ، کبھی پیکر خاکی ہیں

تو انساں ہیں کبھی

وقت آئے تو گراں جاں ہیں کبھی

اور تن آساں ہیں کبھی (۷۱)

ان کی نظمیں ایسے مضامین سے بھر پور ہیں جو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ انہوں نے زندگی سے محبت کا درس دیا۔ نظم گو کے خیال میں زندگی سے پیار کرنا چاہیے اور مشکل حالات سے گھبرا کر مایوس ہونے کے بجائے اچھے حالات کی امید رکھنی چاہیے۔ وہ انسانی تگ و دو اور کوششوں کو سراہتے ہیں اور انسانوں میں محبت پیدا کرنے کا شعور اور ادراک پیدا کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں انسانوں سے محبت اور انسانی آبادیوں کا عکس نظر آتا ہے۔ فتح محمد ملک لکھتے ہیں:

”تباہی اور موت کے موضوعات سے ایک گو ناگوں لگاؤ کی وجہ یہ ہے کہ مختار صدیقی آبادی اور زندگی کے رسیا ہیں۔ “ (۷۲)

زندگی سے محبت اور پیار قنوطیت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ موت سے محبت اور مایوسی ان کے کلام میں خال خال ہے۔ وہ معاشرتی عدم توازن اور نا انصافی سے گھبراتے نہیں بل کہ تمام حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک انسان کی اَنا اور ہمت اسے مضبوط کرتی ہے اور اس کے دل میں خوف کو جنم نہیں لینے دیتی۔ اگر انسان ہمت اور حوصلہ کے ساتھ زندگی کو جینے لگے تو مایوسی کے بادل فضائے منحوس میں بکھر جائیں گے اور خوشیوں کی نئی کرن آنکھوں کو نئی روشنی عطا کرے گی۔ اگر انسان اس جذبے کے ساتھ وابستہ ہو جائے کہ سب کچھ کر سکتا ہے تو مسائل اور مایوسی اس کے قریب بھٹکنے سے خوف کھائیں گے۔ شاعر انسانوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ان کی نظم ”لہریں“ میں عظمتِ انسان اور انسانی خود اعتمادی اور حوصلہ پایا جاتا ہے:

اپنی صدیوں کی طرح، زندہ و پائندہ بھی میں

محورِ حال بھی میں ہی ہوں، اور جادہ آئندہ بھی میں (۷۳)

مختصر یہ کہ مختار صدیقی کی نظمیہ شاعری میں موضوعات زندگی کی بھر مار ہے۔ انہوں نے ایسے بے شمار مضامین پیش کیے جن میں قنوطیت اور مایوسی کے خلاف اعلان جنگ نظر آتا ہے۔۔ قاری جب ان کی نظموں کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر، خود اعتمادی، حوصلہ، عزم اور احساسِ ذات کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی شعر و ادب میں منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ نظم نگار نے محبوب سے محبت اور محبوب کے احساس کو ایک نیا روپ عطا کیا ہے۔ نظم نگار کے نزدیک ان کا محبوب ہی ان کی پوری کائنات ہے۔ وہ ہر غم کو غلط کرتا ہے اور مایوسی کی دلدل سے نکالنے کا سبب بھی ہے۔ شاعر کے نزدیک عاشق اپنے محبوب کی خاطر ہر حد پار کر جاتا ہے۔ دنیا کی رکاوٹیں اور مسائل اس کے ارادوں اور محبت کو کم نہیں کر سکتے۔ وہ اس کی زندگی میں خوشی لاتا ہے اور اس کا وصل ہی جینے کا مزہ دیتا ہے۔ وصل کی راہ میں رخنہ ڈالنے والوں سے ڈرنا ضروری نہیں ہے لیکن محبت کے دیدار کی خاطر آگے بڑھنا ہے۔ ان کے نزدیک محبوب عاشق کی زندگی میں بہار لاتا ہے اور محبوب کا ملاپ اسے تسکین عطا کرتا ہے۔ اگر ان کی نظم ”ماہیت“ کا عمیق جائزہ لیا جائے تو اس نظم میں معاشی مسائل کو بھی محبوب پر ترجیح دی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس نظم میں مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ نظم نگار کے خیال میں عشق ہی سب کچھ نہیں بل کہ معاشی آسودگی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے قاری کو گہرے خیالات سے نوازا ہے اور قاری اس نظم کے گہرے مطالعے کے بعد مثبت رجحانات اور امید سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ یہ نظم محض لفظی بازی گری نہیں بل کہ شعور و وجدان سے بھر پور مضامین کا مجموعہ ہے:

میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میں

افق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تُم

کسی کا خواب میں نکھرا ہو تبسم ہو

کسی کا پیار سے آیا ہوا خیال ہو تم

مگر یہ آج زمانے نے کر دیا ثابت

معاشیات کا سیدھا سا اک سوال ہو تم (۷۴)

نظم نگار نے زندگی کے تلخ حقائق سے پردہ ہٹانے کی عمدہ سعی کی ہے۔ ان کی نظم ”فرار، شکست، انتقام وغیرہ‘‘میں عشق سے فرار، بغاوت اور انتقام کی آگ شعلہ بن کر ابھرتی نظر آتی ہے۔ اس نظم میں انہوں نے محبوب کی کج رویوں، بے اعتنائیوں، بے وفائیوں سے انکار کیا ہے اور اسے یہ باور کرایا ہے کہ وہ اس کے بغیر بھی اچھی زندگی گزار سکتا ہے۔ محبت ہی سب کچھ نہیں ہے بل کہ اس کے علاوہ بھی غم اور کام ہیں۔ محبوب ہمیشہ ان پر ظلم ڈھاتا ہے لیکن اب وہ اس کی ستم ظریفی کا نشانہ نہیں بنیں گے اور اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ یہ نظم ان کے ذہنی اُپج کی عمدہ عکاسی کرتی ہے۔ نظم نگار نے معاشرتی مسائل اور حقائق کو نظم کے اندر نہایت نفاست کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ نظم تین حصوں پر مشتمل ہے، ہر حصہ میں امید، مثبت رجحان، مثبت رویہ، عزم، حوصلہ اور اچھے مستقبل کی جھلک اور نوید سنائی دیتی ہے۔ قاری نظم کے مطالعہ کے بعد خود کو ایک نئی دنیا میں سانس لیتا، چلتا پھرتا اور ہنستا مسکراتا محسوس کرتا ہے:

اچھا ہو اکہ رسمِ مروت بھی اٹھ گئی

اچھا ہوا کہ آنکھ کا پانی بھی ڈھل گیا

تاروں میں جس خلوص کے نکھرے تھے خد و خال

وہ دن کی تیز دھوپ میں آیا تو جل گیا

اک لمحہ جاوداں نہ اگر ہو سکا تو کیا

ہم کو شکست حرفِ تمنا کا غم نہیں

آئینِ سنگ باری فطرت کا رنج ہے

شیشوں کے سوداگر مسیحا کا غم نہیں (۷۵)

مختصر یہ کہ زیدی کی نظموں میں ذاتی کرب، انسانی شکست و ریخت، بغاوت اور عزم و حوصلہ سے بھر پور مضامین پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے انحراف کے لبادے میں رجائیت کو پیش کر کے اپنے عہد کے قاری کو بل کہ اردو کے قاری کو مایوسی سے نجات دی ہے۔ مصطفیٰ زیدی کی شعری کائنات، سرکشی، رومانویت، جنسیت، شعور و ادراک و آگہی، وجدان، مسائل زندگی اور جنس سے لبریز مضامین اور رجائیت سے بھر پور خیالات و جذبات کی عمدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ بعض اوقات یوں گمان ہوتا ہے کہ نظم نگار نے پاکستانی معاشرہ کو لفظی رنگ میں ڈھال دیا ہے۔ ان کی نظموں میں موسموں کا عکس پایا جاتا ہے جو قاری کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔

ن۔ م راشد

ن۔ م راشد وہ واحد شاعر ہیں جن کی شاعری میں عصری مسائل اور عصری رجحانات و ہیجانات کی تصویر جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظموں میں برصغیر کے لوگوں کے مسائل اور اُن کے جذبات و احساسات کی مکمل ترجمانی کی گئی ہے۔ راشد نے اپنی نظموں میں اپنے عہد کے معاشرے کو لفظوں کی زینت بنایا ہے۔ ان کا یہ فن کمال ہے کہ وہ غم کو بھی خوشی کے ترانوں میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔ راشد نے جس عہد میں آنکھ کھولی وہ معاشی تنگ دستی اور تنگ نظری کا عہد تھا۔ ہر انسان معاشرتی مسائل اور معاشرتی حدود و قیود کی زد میں تھا۔ انھوں نے اپنے عہد کی مکمل تصویر کشی کر کے قاری کو تاریخی حالات سے آگاہ کیا ہے۔ اُن کی نظموں میں جہاں حزن و الم کے نغمے ملتے ہیں وہیں پر سرور و نشاط کی محفلیں بھی قاری کی آنکھوں کو خیرہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انھوں نے غموں کو بھلا کر جینے کی خواہش کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں رجائیت سے بھرپور نظمیں قاری کو جینے کا حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔ قاری جب اُن کی شاعری پڑھتا ہے تو اُس کے دل میں ایک نیا شعور اور جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جو اُسے مایوسی اور قنوطیت سے نجات دیتا ہے۔ اُن کی نظم ’’نیا آدمی‘‘ میں عصری حالات کی عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے۔ انھوں نے اس نظم میں انسانوں کے اندر جینے کا حوصلہ پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔ شاعر نے کہا کہ انسان کو بغیر خوف کے آگے بڑھتا چاہیے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تمام تر رکاوٹوں کو عبور کر کے جہالت اور مایوسی کو ختم کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کو بغیر مایوسی کے اور خوف کے غلامی اور معاشرتی پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے۔ شاعر کے نزدیک اگر انسان کے دل میں نیا جذبہ اور اُمنگ ہو گی اور ہمت اُسے آگے بڑھانے میں مدد دے گی تو وہ حالات کو یکسر بدل دے گا۔ وہ ایسے معاشرے کی بنیاد رکھے گا جہاں معاشرتی نا انصافی اور ظلم و ستم کی سزا ہو گی اور مکمل شخصی آزادی ہو گی۔ وہ اپنے حق کے خلاف لڑے گا اور تمام لوگوں کو بھی مکمل شخصی آزادی دے سکے گا۔ لیکن یہ سب اُس وقت ممکن ہے جب وہ اپنے اندر جینے کی تمنا رکھے گا اور ہمت کے دامن کو تھام کر آگے بڑھے گا۔

ان کے خیال میں نئے عہد کا ہر شخص دانا اور عقل مند ہو گا اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دے گا۔ وہ ’’نیا آدمی‘‘ میں کہتے ہیں:

نئے آدمی کا گماں بھی یقیں

گماں جن کا پایاں نہیں

گمانوں میں دانش

برہنہ درختوں میں بادِ نسیم

برہنہ درختوں کا دل چیرتی (۷۶)

راشد نے انسان کو آنے والے حالات سے آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے انسانوں کو مایوسی اور قنوطیت سے بچانے کے لیے ’’نیا آدمی‘‘ جیسی خوبصورت نظم تخلیق کی ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید لکھتے ہیں:

’’ن م راشد نے نئے انسانوں کے جس تصور کا ادراک کیا ہے وہ آزادی اور بشارت کے جذبات اور احساسات سے پُر ہے۔ وہ نہ تو ملکی و شخصی سطح پر استحصال کا قائل ہے اور نہ ہی معاشرتی ہوس کا شکار ہے۔ نہ وہ نوآبادیاں بنانے کے حق میں ہے، نہ رنگ و نسل کے تعصبات میں مبتلا ہے۔ اُسے جنگ سے نفرت ہے۔ وہ حرف و معنی کی آبرو ہے، جمالیاتی اقدار کا علم برقرار ہے اور جسم و روح کی ترفع کا قائل ہے۔ راشد کا آدم نو بھائی چارے دوستی مساوات اور ہم دردی کے رویوں سے مالا مال ہے وہ نہ آمر ہے۔ جو عوام کا لہو پیتا ہے اور نہ اُن پر جبریت مسلط کرتا ہے۔۔۔ بین الاقوامی طور پر انسان جس آشوب میں مبتلا ہے، یہ نیا انسان ان حالات کا تجزیہ کر کے انسانوں کو آزادی کامل کے خواب عطا کرتا ہے۔‘‘ (۷۷)

ان کی نظم ’’نارسائی‘‘ میں لوگوں کو بیدار کیا گیا ہے۔ انھوں نے ایشیائی لوگوں کو اپنا حق حاصل کرنے کی طرف آمادہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک ایشیاء کے لوگ مغربی چالوں اور پالیسیوں سے مایوس ہو کر گمراہ ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے ماضی کو مایوسی اور کاہلی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایشیائی لوگوں میں مایوسی اور قنوطیت کی اصل وجہ تعلیمی فقدان اور سیاسی شعور ہے۔ نظم نگار کے نزدیک اگر ایشیائی لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو نئی دنیا اور راہیں اُن کا انتظار کریں گی۔ وہ ایشیا کے لوگوں کو مایوس ہونے کے بجائے ہمت و حوصلہ سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتے دکھائی دیتی ہے۔ وہ سب ایشیائی لوگوں کو ایک ساتھ متحد ہو کر آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں اور ان کو اصل حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جو مغرب کی دقیانوسی اور چال سے مفلوج الحال اور مایوس ہو چکے ہیں اُن کے اندر نئی ہمت اور عزم پیدا کرتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

اور اب عہد حاضر کے ضحاک سے

رستگاری کا رستہ یہی ہے

کہ ہم ایک ہو جائیں ہم ایشیائی!

وہ زنجیر، جس کے سر سے بندھے تھے کبھی ہم

وہ اب سست پڑھنے لگی ہے،

تو آؤ کہ ہے وقت کا تقاضا

کہ ہم ایک ہو جائیں۔۔۔ ہم ایشیائی! (۷۸)

راشد نے مغرب کے لوگوں کی فریبی اور مکاری کو بے نقاب کیا ہے۔ انھوں نے ایشیا کے لوگوں کو متحد ہو کر آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک اگر ایشیائی لوگ سستی اور کاہلی کا شکار ہو کر مایوس ہو جائیں گے تو مغرب والے اُن کی شناختی حیثیت اور مالی حیثیت کو تباہ کر دیں گے۔ مغرب کے لوگ اُن کے تمام تر وسائل کو اپنی مٹھی میں بند کر کے تمام ایشیائی لوگوں کو برباد کر دیں گے۔ مغرب یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ایشیا کے لوگ اُن کے خلاف آوازِ حق بلند کریں اور اپنے حق اور دفاع کے لیے لڑیں۔ وہ ہمیشہ لوگوں میں تفرقہ اور نفرت پھیلا کر اپنا مفاد تلاش کرتا ہے۔ راشد نے اپنی نظم ’’تیل کے سوداگر‘‘ میں ایشیا کے لوگوں کو متحد ہو کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے۔ نظم گو کے خیال میں اگر ایشیائی لوگ متحد ہو جائیں اور مایوسی کو چھوڑ دیں تو یہ اپنے حق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ ان کی یہ نظم رجائی عناصر اور رجائی پہلوؤں کا عمدہ شاہکار ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

مرے ہاتھ میں ہاتھ دے دو!

مرے ہاتھ میں ہاتھ دے دو!

کہ دیکھی ہیں میں نے

ہمالہ و الوند کی چوٹیوں پر شعاعیں

اُنھیں سے وہ خورشید پھوٹے گا آخر

بخاراسمرقند بھی سالہا سال سے

جس کی حسرت کے دریوزہ گر ہیں! (۷۹)

’’تیل کے سوداگر‘‘ میں راشد نے در اصل ایشیائی لوگوں کو مغربی چالوں سے آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ انگریز سے دور رہیں اور جینے کی تمنا اور خواہش کو اپنے دل میں پیدا کریں۔ در اصل وہ مسلمانوں کو فرنگی چالوں سے آگاہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انگریز معاشی طور پر مسلمانوں کو تباہ و برباد کرتے ہیں اور پھر اُن کے جذبات و خیالات کو مجروح کرتے ہیں۔ فتح محمد ملک کے بقول:

’’اس نظم کا فوری محرک ایران پر اشتراکی روس کے ساتھ تیل کی تلاش کے معاہدے پر رضامند ہو جانے کے لیے سامراجی دباؤ ہے۔ راشد نے سامراجی حکمتِ عملی کے بھیانک نتائج کو بھانپ لیا تھا لہٰذا نظم میں نہ صرف اہلیانِ ایران کو سنٹرل ایشیاپر اشتراکی تسلط سے آگاہ کیا گیا ہے۔ بل کہ اپنی سیاسی بصیرت کے ساتھ تیل کے سوداگروں کے بھیس میں آنے والے مہمانوں کی سامراجی ذہنیت اور طرزِ عمل کو نمایاں کیا ہے۔‘‘ (۸۰)

راشد کی نظم ’’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘‘ میں ان کے دانش مندانہ رویے کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے انسانوں کو آگے بڑھنے کی طرف مائل کیا ہے۔ انھوں نے ایک نئے جذبے کو پروان چڑھانے کی جو محنت کی ہے وہ اس نظم میں واضح دکھائی دیتی ہے۔ انسان جب مایوس ہو جاتا ہے تو اُس پر آزادی اور خوشی کی نعمت حرام ہو جاتی ہے۔ انھوں نے انسانوں میں ایسی قوت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو مایوسی کی فضاؤں کو اپنی آغوش میں لے کر دبوچ لے۔ آزادی کی خواہش اور محبت کی تسکین اور جذبۂ محبت ہر انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ پابند سلاسل نہ رہے بل کہ اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کھل کر کر سکے۔ انھوں نے اس نظم میں انسانوں کو قنوطیت سے نجات دلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک انسانوں کو ایسے خواب دیکھنے چاہیے جو زمانے میں انقلاب برپا کر یں۔ آزادی کی لگن اور حصول کے خواب در اصل غلامی سے نجات کا ذریعہ ہوتے ہیں اس لیے انھوں نے آگے بڑھنے اور اپنے حق کے لیے لڑنے کی ہمت پیدا کی ہے۔ نظم نگارکے نزدیک اپنے ملک کی خاک ایک نعمت ہے۔ لیکن دیارِ غیر کی زنجیریں یہ نعمت بھی انسان سے چھین لیتی ہیں اور مایوسی انسان کی تمام خصوصیات کو تباہ کر دیتی ہے۔ انھوں نے مایوسی کو گناہِ عظیم قرار دے کر رجائیت کا بول بالا کیا ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر انسان ہمت و عزم سے آگے بڑھے تو نئے جہان تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ غم اگرچہ زندگی کا حصہ ہیں لیکن حزن و الم کے بعد ہی خوشی کے جشن کا لطف آتا ہے۔ اس لیے انسان کو مایوسی ہونے کے بجائے عزم و ہمت سے کام لینا چاہیے اور جس طرح کا بھی ماحول ہو گھبرانے کی بجائے ہمت سے کام لینا چاہیے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

اے عشقِ ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب ہیں آزادیِ کامل کے نئے خواب

ہر سعیِ جگر دوز کے حاصل کے نئے خواب

آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب

اس خاک سطوت کی منازل کے نئے خواب

یا سینۂ گیتی میں نئے دل کے نئے خواب

اے عشقِ ازل گیر و ابد تاب

میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب (۸۱)

راشد نے عشق کے جذبہ کو ہمت سے پیوستہ کر کے پیش کیا ہے۔ ان کا دانش مندانہ رویہ در اصل امید کی نئی کرن تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے عشق کے فتور اور جنون کو اپنی شاعری کا حصہ نہیں بنایا۔ ان کے خیال میں عشق اور جنون انسان سے قوتِ متخیّلہ چھین لیتا ہے اور انسان بس مادیت کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے اور مایوسی اور خجالت کی طرف گامزن ہو کر یاسیت کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے زاہدہ زیدی کے مطابق:

’’راشد کی Muture شاعری خالص دانش ورانہ انداز کی شاعری ہے اور اس میں عشق اور جنون کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔ البتہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ راشد کی دانش وری بھی غالب اور اقبال کی سطح تک نہیں آتی اور مجموعی طور پر ایک دانش ور کی حیثیت سے ان کا قد و قامت اوسط درجے کا ہے یا اس سے بھی کچھ کم، البتہ شاعر کی حیثیت سے کہیں کہیں انھوں نے فن کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔‘‘ (۸۲)

ان کی نظم ’’مری محبت جواں رہے گی‘‘ رومانویت سے بھرپور مضامین کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے حرماں نصیبی اور مایوسی کی فضا سے رجائی پہلوؤں کو تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔ انھوں نے اس نظم میں زندگی کو ایک بہت بڑی نعمت تصور کر کے اُس کے پیچ و خم میں رجائی عناصر کو تلاش کیا ہے۔ ان کی یہ نظم رجائیت اور رجائی پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہے۔ عہد جوانی میں انسان محبت کی ناکامی کی وجہ سے مایوس ہو جاتا ہے اور دنیاوی حقائق اور مسائل سے منہ موڑ لیتا ہے لیکن راشد نے اس نظم میں ناکام محبت سے کامیابی کے پہلوؤں کو تلاش کیا ہے اور حرماں نصیبی کی فضا سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس نظم میں اپنی محبت کی کامیابی کے حقائق کو جس انداز سے پیش کیا ہے ناقابلِ یقین ہے۔ شاعر کے نزدیک محبت کا روگ اور جدائی انسان کو ادھورا کر دیتی ہے اور وہ بے بسی اور یاسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ انھوں نے جہاں ایامِ جوانی میں حرماں نصیبی کی شکایت کی ہے وہیں پر انھوں نے منفرد رجائی پہلوؤں کو پیش کیا ہے۔ بہ قول سعید الظفر چغتائی:

’’راشد کے قلم سے اسی عنفوانِ شباب میں جب وہ حرماں نصیبی کی عام شکایت کر رہے تھے، ایسی ولولہ خیز رجائی نظم کسی بڑے والہانہ اور معتبر تجرے کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس کا مصرع مصرع پکارتا ہے، میں شاعر کے حقیقی محسوسات بیان کر رہا ہوں، جو کمالِ مسرت پر مبنی ہوتے ہیں یا حقیقی دکھ پر!‘‘ (۸۳)

ان کی نظم ’’مری محبت جواں رہے گی‘‘ سے چند رجائی اشعار ملاحظہ ہوں جو قاری کے اندر نئی ہمت اور جینے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں:

مجھے محبت نے ذوقِ تقدیس مثلِ رنگ سحر دیا ہے

زمانہ بھر کی لطافتوں سے مری جوانی کو بھر دیا ہے

مرے گلستاں کو آشنائے بہارِ جاوید کر دیا ہے

مرے گلستاں میں رنگ و نگہت کی نزہتِ جاوداں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی (۸۴)

راشد نے محبت اور عشق کی کیفیات کو جہاں صفحۂ قرطاس کی زینت بنایا ہے وہیں پر انھوں نے قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اپنے تاریخی شعور کی بنیاد پر مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اُن تمام محرکات اور وجوہات کو بیان کیا ہے جو مسلمانوں کی کمزوری اور غلامی و مایوسی کا سبب بنے۔ ان کے خیال میں جو قومیں کاہلی اور سستی کا شکار ہو جاتی ہیں اور مایوسی کے بندھن میں بندھ کر خدا کے رحم و کرم پر جینے لگتی ہیں ان کے مقدر میں بس غلامی ہے۔ وہ مسلمانوں کو مایوس ہونے کے بجائے اپنے ماضی سے سبق حاصل کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کو اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ مغربی چالوں نے مسلمانوں کے حقوق اور خیالات کو برباد کیا ہے اور ذہنوں کو غلامی سے پیوستہ کر دیا ہے۔ ان کے خیال میں در اصل مسلمان قوم اپنے اجداد کے کارناموں کی سزا بھگت رہی ہے اور اسے مزید دکھ سہنے ہوں گے۔ لیکن ایک وقت ضرور آئے گا جب وہ اپنے حق کا دفاع کر سکیں گے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیں گے۔ راشد نے مسلمانوں کو مایوسی سے نجات دلانے کی جو کوشش کی ہے وہ ان کی نظم ’’پہلی کرن‘‘ میں واضح دکھائی دیتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

اسے بھی تو ذلت کی پایندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گا

بہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں

آج بے دست پا ہیں،

اس آیندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں! (۸۵)

راشد کی شاعری سیاسی و سماجی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ انھوں نے سیاسی شعور اور تاریخی شعور سے مسلمانوں کے ماضی و حال کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جب مسلمانوں کی حالتِ زار بیان کرتے ہیں تو حزن و الم کی فضا چھا جاتی ہے لیکن رجائیت کے بادل برسنے سے یہ فضا خوشی و نشاط میں بدل جاتی ہے۔ شاعر نے مغربی چالوں اور مکاریوں کو بے نقاب کر کے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے۔ بہ قول صفدر میر:

’’پرانی تہذیبوں کے گرتے ہوئے کھنڈر، شان دار، ماضی کے خواب، انقلاب کی بے دلانہ کوشش سب کی سب اس بپھرے ہوئے طوفان کی زد میں آ چکی تھیں، جو مغربی طاقتوں نے اپنی ’’تہذیب‘‘ کو بچانے کے لیے برپا کیا تھا۔۔۔ شاعر نے استعمار زدہ ملکوں کے اندر اصل توانائی اور آزادی کی نئی قوتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، جن کی آخری فتح ہو گی۔۔۔‘‘ (۸۶)

خلاصہ بحث یہ ہے کہ راشد کی نظموں میں رجائیت اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ ان کی ہر نظم رجائی عناصر کو اپنے اندر سموئے دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے ہم ان کو رجائی نظموں اور رجائی شاعر کا ترجمان کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔

ناصر کاظمی

ناصر کاظمی کی شاعری مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ ان کی غزلوں میں زیادہ تر ہجرت کے مسائل اور محرکات کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری اپنے اندر کئی جہان آباد کیے ہوئے ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں رجائیت سے بھرپور مضامین کو قلم بند کیا ہے۔ اُن کی نظموں میں امید، حوصلہ اور مثبت رویہ قاری کو جینے کا حوصلہ اور اچھے وقت کی امید سے وابستہ رکھتا ہے۔ ان کی نظموں میں زیادہ تر نظمیں وقت کی تبدیلی اور ملی و قومی جذبات سے بھرپور ہیں۔ اگر ان کی شاعری کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو ان کی نظموں میں وطنِ عظیم سے محبت کے بے شمار گوشے دکھائی دیتے ہیں۔ ناصر پرویز کے مطابق:

’’ناصرؔ کاظمی کی نظمیہ شاعری صحیح معنیٰ میں وطنی اور ملی شاعری ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں جس کثرت سے وطن کے تئیں والہانہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اُسے دیکھ کر اکثر یہ گمان گزرتا ہے کہ ناصر کاظمیؔ نے صرف اپنے جذبہ وطنیت کو شعری پیکر میں ڈھالنے کے لیے نظمیں کہی ہیں۔‘‘ (۸۷)

ناصر کاظمی کی نظمیہ شاعری میں جہاں وطنیت کا تصور ملتا ہے وہیں پر وہ اپنی قوم کو جذبۂ وطنیت اور جینے کی امید دلاتے ہیں۔ ان کی نظم ’’ہنستے پھولو، ہنستے رہنا‘‘‘ میں قوم کو ایک ساتھ رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور ساتھ ہی انھوں نے مشکل حالات میں مل کر لڑنے کی نصیحت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مشکل اوقات میں گھبرانے کے بجائے امید کے دامن سے وابستہ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ وطن عظیم کو تباہ و برباد کرنے والے آپس میں مل چکے ہیں اور وہ آپسی نفرت سے فائدہ اٹھا کر ملک کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اگر تمام پاکستانی ایک ہو کر اُن دکھوں اور سازشوں کا مقابلہ کریں گے تو خوشیاں اُن کی راہوں میں پھول نچھاور کریں گی۔ وہ اچھے مستقبل اور اچھے حالات میں زندگی بسر کر سکیں گے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

تم ہو شہیدوں کا نذرانہ

تم کو قسم ہے سر نہ جھکانا

آپس کے دُکھ مل کر سہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

راوی اور چناب کے پیارو

جہلم، سندھ کی آنکھ کے تارو

آج سے میرے دل میں رہنا

ہنستے پھولو، ہنستے رہنا (۸۸)

ناصر کاظمی جب غداروں اور نفسانفسی کے شکار لوگوں پر غور و فکر کرتے ہیں تو ان کی شاعری نیا رُخ اختیار کر لیتی ہے۔ ان کی زندگی غموں کی آماج گاہ بن جاتی ہے تمام غم دنیا اور پھر غم عشق کی کیفیات و واردات اُسے لاچار اور بے بس کر دیتی ہے۔ ان کی تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔ وطن سے محبت اور غمِ عشق کی کیفیات اُسے حزنیہ شاعر بنا دیتی ہے اور اُس کی زندگی شکستہ کیفیات سے مزین ہو کر خاتمے کی طرف سفر کرنے لگتی ہے۔ حامدی کاشمیری نے ناظر کاظمی کی ایسی کیفیات کی عکاسی کچھ یوں کی ہے:

’’ناصر کاظمی کی حقیقی شخصیت مجموعی طور پر یکسانیت، اکتاہٹ، محرومی، محدودیت اور یک رنگی کا احساس دلاتی ہے، ان کی شعری شخصیت اتنی ہی پہلو دار، متنوع، حرکی اور توسیع پذیر نظر آتی ہے۔‘‘ (۸۹)

حامدی کاشمیری کی رائے کو اگر بہ غور دیکھا جائے تو اُس میں ناصر کاظمی کی شخصیت کے مختلف پہلو نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اُن کی شخصیت کو حرکی اور توسیع پذیر کہا ہے۔ ان کی شخصیت اور شاعری میں جمود کی کیفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ ایک مقام خاص پر رُکنے کے قائل نہیں ہیں۔ ان کی زندگی میں اگر دکھوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں تو وہ کہیں نہ کہیں سے خوشی اور اچھے حالات کو تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کی وطن سے محبت کو اگر دیکھا جائے تو اس قدر جوشیلے نظر آتے ہیں کہ عقل ناقص دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر وطن کی بقا اور ترقی کے لیے جان بھی دی جائے تو یہ قربانی قابلِ رشک ہو گی۔ انھوں نے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مایوس نہیں ہوں گے اور مشکل حالات کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیں گے۔ ہم ہر محاذ چاہے وہ جنگی ہو یا امن کا، ہم دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ان کے نزدیک ایسی قومیں جو مشکل حالات سے گھبرا جاتی ہیں۔ اُن کے مقدر میں غلامی کی زنجیریں ہوتی ہیں اور اُن کے خیالات اور جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔ شاعر کے نزدیک اگر اپنے وطن کو مضبوط رکھنا ہے تو ہر شعبہ زندگی میں دشمنِ وطن سے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ دشمن کی طاقت سے گھبرانا نہیں چاہیے بل کہ اُس امید سے مقابلہ کرنا چاہیے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جیت ہماری ہو گی۔ ان کی شاہکار نظم ’’ہر محاذِ جنگ پر‘‘ میں رجائی عناصر جا بجا ملتے ہیں۔ انھوں نے اس نظم میں رجائی عناصر کو نئے اور منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

ارضِ پاک تیرے صبر کی قسم!

تیرے غازیوں، شہیدوں کی قسم!

جب تلک ہے دَم میں دَم

جب تلک ہے اپنی سرحد وں پر یورشِ ستم

عدو سے پنجہ آزما رہیں گے ہم

ہر محاذ جنگ پر

قلب و چشم و گوش کے محاذ پر

عقل و تاب و ہوش کے محاذ پر

خواب و خیال کے محاذ پر

شعر اور ساز کے محاذ پر

شہر شہر گاؤں گاؤں

گلیوں اور کھیتوں میں

جنگلوں، پہاڑوں میں

وادیوں، جزیروں اور جھیلوں میں

میگھنا سے راوی تک

سبز اور سنہرے دیس کے چمکتے رمنوں میں

نشرگاہوں، درس گاہوں

کار خانوں، دفتروں میں اور گھروں میں

بحر و بر میں اور فضا میں

دشمنوں کے راستوں میں

دشمنوں کی بستیوں میں

ہر نئے محاذ پر

ہر محاذ جنگ پر

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم (۹۰)

ناصر کاظمی کی شاعری میں ہجرت اور اُسے پیدا ہونے والے مسائل کو بڑی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ ہجرت نے اُن کی شاعری کو ایک نئے باب سے نوازا ہے اور اس کے حسن میں اضافہ کیا ہے۔ ہجرت کے مختلف تجربات اور ماضی کے واقعات نے مسائل کی مختلف گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ ہجرت نے ان کی شاعری میں اداسی اور یادِ ماضی جیسے موضوعات کو جنم دیا ہے۔ بعض اوقات یہ موضوعات اور کیفیات اُن کی شاعری کو غموں اور دکھوں کی آماج گاہ بنا دیتے ہیں۔ ثمینہ ندیم کے بہ قول:

’’ناصر کاظمی کے پاس ہجرت کا المیہ اور ماضی کی یاد ایک پورا تخلیقی حوالہ رکھتی ہے۔ اں کے ہاں پائی جانے والی اداسی بہت سی نفسیاتی گتھیاں سلجھاتی ہے۔ جو اس تبدیلی کی شاخسانہ ہیں جس تبدیلی نے ایک نسل کے دیکھے ہوئے خواب چکنا چور کر دئیے۔‘‘ (۹۱)

اسی طرح اُن کی نظم ’’نیا سفر‘‘ رجائیت کی عمدہ ترجمانی اور عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے ایسے مضامین اور حقائق کو پیش کیا ہے جو امید اور مثبت رجحان رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس نظم میں ایسے حالات کو پیش کیا ہے جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور اسے اچھے مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ شاعر نے مایوس اور بے بسوں کو ایسے حالات کی خوش خبری سنائی ہے۔ جن میں ہر مشکل آسانی میں بدل جائے گی۔ غم خوشی اور دکھ سکھ میں بدل جائیں گے۔ تمام مشکل حالات یکسر بدل جائیں گے اور دکھوں کے مارے انسانوں کی زندگی خوشی میں بدل جائے گی۔ نئے نئے پھول کھلیں گے اور گلشن میں رونق لگ جائے گی۔ نا اُمیدی اور یاسیت، خوشی میں بدل جائے گی اور فضائے منحوس اور مشکل حالات ایک دم بدل جائیں گے۔ ایسی فضا اور ماحول بنے گا جہاں ہر سو، ہر جا خوشی ہی ہو گی لیکن اس کے لیے انھوں نے مستقل مزاجی اور مل جل کر کام کرنے پر زور بھی دیا ہے۔ نظم گوکے نزدیک ایسی قومیں جو مل کر کام کرتی ہیں اچھے حالات اُن کی راہیں تکنے لگ جاتے ہیں۔ ’’نیا سفر‘‘ در اصل اچھے مستقبل کی خبر ہے۔ یہ رجائیت سے بھرپور نظم قاری کی تمام اداسی اور قنوطیت کو ختم کرتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

اندھیروں کی نگری سے پھوٹی کرن

مہکنے لگا خاک دانِ کہن

اُٹھا محملِ وقت کا سارباں

نئی منزلوں کو چلے کارواں

نئے پھول نکلے نئے روپ میں

زمیں جھم جھمانے لگی دھوپ میں (۹۲)

ان کی نظموں میں جہاں جذبہ حب الوطنی ملتا ہے وہیں پر وہ مسائل زندگی کی اوٹ میں معاشرتی عدم توازن کے محرکات تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ وہ مشکل حالات سے گھبرانے کے بجائے اچھے مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کیا ہے اور اچھے مستقبل کی امید کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔ ان کی تمام نظموں میں رجائی عناصر کی جھلک ملتی ہے:

’’ناصر کاظمی نے صبر و استغنا، انسان دوستی، برداشت، مشکلات میں امید پر بھروسہ کرنا قرآن سے سیکھا۔ یہی ان کا مذہبی عقیدہ تھا کہ غم میں خوشی محسوس کرتے اور اللہ کی رضا کو تسلیم کرتے۔ سیاسی و سماجی مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود ناصر کاظمی کبھی نہیں گھبرائے اور لوگوں کی مدد ہمیشہ جاری رکھی۔‘‘ (۹۳)

ناصر کاظمی کی شاعری میں جنسی جذبات پائے جاتے ہیں۔ ان کی نظم ’’ساتواں رنگ‘‘ میں جنسی جذبات اور خواہشات کا اظہار ملتا ہے۔ انھوں نے محبوب کے حسن اور جسم کی جزئیات کو نفاست سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے محبوب کے ہر جزو اور ہر حصے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے محبوب کی جدائی کو بھی ایک نعمت تصور کر کے ہجر کی کیفیات کو پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ محبوب سے ملنے کی خواہش اس نظم میں بڑی شدت سے پائی جاتی ہے۔ ان کے دل میں یہ امید ہے کہ اگر اُن کا محبوب اُن سے ملنے آئے گا تو وہ اس کے حسن لازوال کو اپنی دونوں آنکھوں سے بہ غور دیکھیں گے یہی امید اُن کو زندہ رکھتی ہے اور اُن کے دل میں محبوب کی محبت کو بڑھاتی ہے۔ وہ اس امید سے وابستہ ہیں کہ اُن کے محبوب کا دیدار ضرور ہو گا اور وہ اس کے جسم کی جزئیات کو عمیق نظری سے دیکھ سکیں گے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

بال کالے، سفید برف سے گال

چاند سا جسم، کوٹ بادل کا

لہریا آستین، سُرخ بٹن

کچھ بھلا سا تھا رنگ آنچل کا

اب کے آئے تو یہ ارادہ ہے

دونوں آنکھوں سے اُس کو دیکھوں گا (۹۴)

ناصر کی غزلوں میں اگرچہ اداسی، ہجرت کا دکھ، فسادات کا تذکرہ، یادِ ماضی، قنوطیت، یاسیت اور بے بسی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ لیکن اُن کی ہر نظم اپنے اندر رجائی عناصر کا بحر بیکراں لیے پھرتی ہے۔ ان کی ہر نظم میں رجائی عناصر ملتے ہیں جو قاری کو فضائے منحوس سے نجات دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ناصر کاظمی کی نظموں میں رجائی عناصر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نظمیں رجائیت کی علمبردار ہیں۔

یوسف ظفر

یوسف ظفر کی شعری کائنات سب سے الگ اور منفرد ہے۔ ان کی نظموں میں انسانی زندگی جلوہ گر نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے معاشرے کا گہرا مطالعہ کیا اور جو کچھ سماج میں دیکھا اسے بغیر کسی لجاجت کے شعری قالب میں ڈھالا۔ ان کی نظموں میں ہر موضوع زندگی پایا جاتا ہے، کہیں رومانویت، کہیں جنسیت، کہیں بغاوت، کہیں رجائیت، کہیں معاشی تنگ نظری و تعصب تو کہیں حسنِ جاناں سے بھر پور مضامین قاری کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ ان کی نظم ”پیش کش“ میں جنگی اثرات و محرکات کے ساتھ ساتھ عزم حوصلہ اور جہاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس نظم میں ظلم ڈھانے اور عصمتوں کی نیلامی کرنے والوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ انہوں نے اس نظم میں بد امنی اور انتشار پیدا کرنے والوں کو خبردار کیا ہے تا کہ معاشرے میں امن قائم کیا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے نوجوانوں کے اندر جذبہ جہاد پیدا کرنے کی سعی کی ہے اور نوجوانوں کو جنگ کے لیے تیار کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

جاؤ اب وقت ہے، پھر وقت نہیں آ سکتا

جاؤ۔۔۔ سنگینوں کو، توپوں کو نگوں سر کر دو

جاؤ۔۔۔ ان ماؤں کے سینوں میں چراغاں کر دو

جن کے دل سونے ہیں، گھر سونے ہیں، آنکھیں سونی

جاؤ ان بہنوں کی تسکین کا سامان بن جاؤ

جن کی نظریں ہیں کہیں دور، بہت دور کہیں

کسی جنگ گاہ، کسی راہ، کسی مرقد پر (۹۵)

یوسف ظفر کی نظم ”طوفان“ میں دورِ جدید کی ترقی و تنزلی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اس نظم میں اچھے حالات کی نوید سنائی ہے اور ساتھ ہی علامتی پیرائے میں انسانی کند ذہنی اور دور جدید کی برق رفتاری کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی سکوت کا نام نہیں بل کہ یہ موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ کبھی غم تو کبھی خوشی انسانی زندگی کا خاصا بنتی ہے۔ دورِ جدید کی ٹیکنالوجی نے جہاں انسانوں کو کند ذہن بنایا ہے وہیں پر انسان سست الوجودی کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ شاعر نے انسانوں کے اندر شعور پیدا کرنے کی جو سعی کی ہے وہ ان کی نظم ”طوفان“ میں واضح دکھائی دیتی ہے:

ابھی دن پھوٹ کے سہلائے گا ان موجوں کو

ابھی ساحل پہ حبابوں کا تلاطم ہو گا

لاکھوں انسانوں۔۔۔ سفید اور سید لاکھوں احباب!

لاکھ رقصندہ حبابوں میں سکوں گم ہو گا (۹۶)

ان کی نظموں میں دورِ جدید کا معاشرہ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ کہیں انسانی غم تو کہیں احساس کمتری کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے دورِ جدید کے انسان کی ذہنی استعداد کر پرکھنے کی سعی کی ہے۔ ان کی نظمیں دورِ جدید کے انسان کے گرد رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بعض اوقات یوں گمان ہوتا کہ انسان ہی ان کی نظموں کا محور و محرک ہے۔ عارف عبد المتین اس ضمن میں یوں رقم طراز ہیں:

”یوسف کی نظمیں جدید انسان کے ذہنی افق کی نمائندہ ہیں۔ ان کے کلام میں موجود دبی ہوئی آگ، اس صدی کے انسان کے رگ و پے میں خون بن کر گردش کرتی آتش سیال ہے، جدید انسان تمام سائنسی انکشافات و ایجادات اور ان کے حوالے سے میسر آنے والی تسخیر کائنات کے باوجود نایافت کے جس عظیم کرب سے دو چار ہے، یوسف ظفر کی نظمیں اس امر کی درخشاں مظہر ہیں۔ یوسف کے ہاں روایتی انسان کی پرچھائیاں کم ملتی ہیں اور جدید انسان کا احساس بے چارگی شدید تر ہے۔ “ (۹۷)

زیر تبصرہ نظم نگار نے انسانی شکل میں چھپے شیطان صفت انسانوں کو منظر پر لانے کی عمدہ سعی کی ہے۔ نظم گو کے خیال میں انسان محض نقالی کرتا ہے اور مذہبی علما اور سیاست دانوں کے چکر میں آ چکا ہے۔ ایک مخصوص روایت پر قائم ہے اور ایسی رسم و رواج کو پسند کرتا ہے جو اسلام کے منافی ہیں۔ اس میں سوچ اور فکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ”بت کدہ“ میں منفی انسانوں کے جذبات و خیالات اور کند ذہنی کو نہایت نفاست کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس نظم کے ذریعے انسانوں میں گہرا شعور اور فکر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کے نزدیک انسان عارضی خداؤں کے جکڑ میں آ چکا ہے اور انسان اپنے مفاد کی خاطر اپنی ذات اور مذہب کا سودا کر رہا ہے۔ شاعرنے انسان کے اندر سوچ اور فکر پیدا کرنے کی سعی کی ہے تا کہ انسان اچھے اور برے میں تمیز کر سکے۔ ان کی بیشتر نظموں میں اصلاح معاشرہ، انسانی بقا اور انسانی توہمات کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

مری نگاہ میں شامل فطرتِ آدم

مگر یہ دیکھا ہے میں نے، ہر دریچے میں

کہیں خدا کار کہیں نا خدا ہے پرچم

ملے ہیں ورثے میں سجدے کہیں بتوں کے لیے

کہیں ستاروں میں روشن ہیں قسمتوں کے چراغ

کہیں مزاروں پہ تسکین قلب بکتی ہے

کہیں عقیدوں کے شعلوں سے جل بجھتے ہیں دماغ

نہ سوچ ہے، نہ تفکر سے کام لیتے ہیں

یہاں بتوں سے خدا کا پیام لیتے ہیں (۹۸)

یوسف ظفر کی شاعری کا اصل محور انسان اور انسانی بستی ہے۔ انہوں نے معاشرے کے گوناگوں مسائل، مبہم پہلو، منفی انسان کی دقیانوسی، کند ذہنی اور سست الوجودی اور عدم توجیہی کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی نظموں میں منفی انسان کی سوچ اور انسانی معاشرے کا عکس پایا جاتا ہے۔ قاری جب ان کی نظموں کا عمیق مطالعہ کرتا ہے تو اسے انسان کے اندر کئی انسان دبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کامقصد اصلاح معاشرہ ہے اور انسان کے اندر مثبت رجحان اور مثبت سوچ پیدا کرنا ہے۔ ڈاکٹر صمدانی لکھتے ہیں:

”ان کی شاعری کا اہم موضوع منفی انسان اور اس کی بستی کے مسائل ہیں۔ “ (۹۹)

مختصر یہ کہ یوسف ظفر نے انسانی خیالات کو بدلنے کی سعی کی۔ انہوں نے دور جدید کا مکمل عکس پیش کیا۔ ایسے مضامین پیش کیے جن کے اندر فکر، سوچ اور مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔

مجموعی جائزہ

قیامِ پاکستان کے بعد لکھی جانے والی نظموں میں قنوطیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے لیکن ایسی نظمیں جن کے اندر عزم، حوصلہ، ہمت، مثبت رجحان، مثبت سوچ موجود ہے ان کی مثال شعری ادب میں کم ہی ملتی ہے۔ زاہد ڈار کی نظم ”نئے شاعر“، ”واپسی“، ”درد کا شہر“ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جن میں رجائیت پائی جاتی ہے۔ ان نظموں کا عمیق جائزہ لیا گیا ہے۔ مختار صدیقی کی رجائی نظموں کا جائزہ عمیق نظری سے لیا گیا ہے۔ یوسف ظفر کی نظموں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کی نظموں میں رجائیت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ جیلانی کامران کی نظموں میں عزم، حوصلہ اور اچھے مستقبل کی جھلک نظر آتی ہے۔ عباس اطہر کی نظمیہ شاعری میں رجائیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان کی رجائی نظموں کا گہرا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصطفیٰ زیدی کی نظموں میں مثبت رجحان کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ ان کی نظموں کا عمیق جائزہ لیا گیا ہے۔ ن۔ م راشد کی نظموں میں رجائیت پائی جاتی ہے۔ عزم، حوصلہ، مثبت رجحان اور رویہ ان کی نظموں کا خاصا ہے۔ ان کی نظموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فیض کی نظموں سے ایسے عناصر کو تلاش کیا گیا ہے جن میں رجائیت موجود ہے۔ لسانی تشکیلات سے بھر پور شاعری کو منظر عام لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجید امجد کی نظموں میں رجائیت موجود ہے۔ ان کی نظموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ناصر کاظمی کی نظم ”ہنستے پھولوں ہنستے رہنا“، ”مہر محاذ جنگ پر“، ”نیا سفر“ اور ”ساتواں رنگ“ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حفیظ جالندھری کی نظم ”جاگ سوز عشق“، ”پریت کا گیت“، ”اک دن ہم بھی جیتیں گے“ میں ایسے عناصر جن میں عزم اور حوصلہ موجود ہے ان کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شکیب جلالی کی نظمیہ شاعری البتہ حزنیہ ہے لیکن ان کی نظموں میں رجائی عناصر موجود ہیں۔ ان عناصر کا عمیق جائزہ لیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۰تک لکھی جانے والی نظموں میں ایک نیا معاشرہ، نئی فضا، نئے مسائل اور محرکات پائے جاتے ہیں۔ اس عہد میں تخلیق کی جانے والی نظمیں اپنے عہد کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ تقسیم پاکستان کے بعد لکھی جانے والی نظموں میں جہاں فسادات، مسائل، مسائل ہجرت، معاشرتی عدم توازن اور معاشرتی تقسیم ملتی ہے وہیں پر رجائی عناصر بھی قاری کی آنکھوں کو خیرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ تقسیم پاکستان کے بعد لکھی جانے والی نظموں میں امید، مثبت رویہ اور رجحان پایا جاتا ہے تقسیم کے مسائل سے گھبرائے ہوئے لوگوں کو ایک نیا جذبہ، ولولہ اور امید سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اُن کو گھبرانے کے بجائے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ رجائیت سے بھرپور نظموں کے ذریعے مایوسی اور قنوطیت سے نجات دلا کر لوگوں کو امید اور روشن مستقبل کی نوید سنائی گئی ہے۔

حوالہ جات

۱۔     جیلانی کامران، نقش کف پا، لاہور: مکتبہ ادب جدید، ۱۹۶۲ء، ص: ۵

۲۔     سہیل احمد خان، مجموعہ سہیل احمد خان، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۹ء، ص: ۴۰۴

۳۔     انیس ناگی، معاصر ادب، لاہور: جمالیات پبلی کیشنز، ۱۹۹۷ء، ص: ۵۰

۴۔     جیلانی کامران، جیلانی کامران کی نظمیں ( کلیات)، لاہور: ملٹی میڈیا افیئرز، ۲۰۰۲ء، ص: ۲۰۸

۵۔     ضیاء الحسن، ڈاکٹر، جدید اردو نظم، آغاز و ارتقا، لاہور: سانجھ پبلی کیشنز، ۲۰۱۲ء، ص: ۱۴۵

۶۔     جیلانی کامران، جیلانی کامران کی نظمیں (کلیات)، ص: ۳۲۷۔ ۳۲۸

۷۔     سعدیہ نور، شعرائے لاہور کی شاعری میں ہیئت و اسلوب کے تجربات، مقالہ برائے پی ایچ۔ ڈی اردو، لاہور: جی سی یونیورسٹی، ۲۰۰۶ء، ص: ۱۲۳

۸۔     حفیظ جالندھری، کلیاتِ حفیظ جالندھری، مرتب: خواجہ محمد زکریا، نئی دہلی: فرید بک ڈپو، ۲۰۰۸ء، ص: ۲۷۱

۹۔     انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی تحریکیں، کراچی: انجمن ترقی ادب پاکستان، ۱۹۸۷ء، ص: ۴۴۵

۱۰۔    حفیظ جالندھری، کلیات حفیظ جالندھری، ص: ۲۸۲

۱۱۔    عبادت بریلوی، ڈاکٹر، شاعری کیا ہے؟ لاہور: ادارہ ترقی ادب، ۱۹۸۹ء، ص: ۷۳

۱۲۔    صدیق کلیم، فکر و سخن، لاہور: ارسلان پبلشرز، ۱۹۸۳ء، ص: ۴۲

۱۳۔    حفیظ جالندھری، کلیات حفیظ جالندھری، ص: ۲۹۹

۱۴۔    عبد اللہ، سید، ڈاکٹر، حفیظ جالندھری کی شاعری، سخن ور نئے اور پرانے، لاہور: اردو اکیڈمی، ۱۹۷۶ء، ص: ۱۴۵

۱۵۔    رشید نثار، مضمون: حفیظ جالندھری کی شعری کائنات، مشمولہ: اوراق، (مدیر: وزیر آغا)، جون۱۹۹۱ء، ص: ۳۲۴

۱۶۔    حفیظ جالندھری، کلیات حفیظ جالندھری، ص: ۸۲۷

۱۷۔    زاہد ڈار، تنہائی، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۱۹۸۸ء، ص: ۲۲۷۔ ۲۲۸

۱۸۔    ایضاً ، ص: ۲۲۳

۱۹۔    زاہد ڈار، درد کا شہر، لاہور: نئی مطبوعات، ۱۹۶۵ء، ص: ۳۸

۲۰۔    ایضاً ، ص: ۱۹

۲۱۔    ایضاً ، ص: ۳۶

۲۲۔    ذوالفقار احسن، شکیب جلالی ایک مطالعہ، راول پنڈی: نقش گر، ۲۰۰۹ء، ص: ۶۷

۲۳۔    شکیب جلالی، روشنی اے روشنی، لکھنؤ: مکتبہ دین و ادب، س ن، ص: ۱۰۸

۲۴۔    ایضاً ، ص: ۱۲۱

۲۵۔    صاحب زادہ عبد الرسول، پروفیسر، شکیب جلالی کے فن پر ایک نظر، مشمولہ: شکیب جلالی شخصیت اور فن، مرتب: ذوالفقار احسن، راول پنڈی: نقش گر، ۲۰۰۹ء، ص: ۵۶

۲۶۔    خاور اعجاز، شکیب اور چاند، مشمولہ: شکیب جلالی شخصیت اور فن، مرتب: ذوالفقار احسن، راول پنڈی: نقش گر، ۲۰۰۹ء، ص: ۶۸

۲۷۔    شکیب جلالی، روشنی اے روشنی، ص: ۱۰۹

۲۸۔    ایضاً ، ص: ۱۱۰

۲۹۔    ایضاً ، ص: ۱۱۸

۳۰۔    شورش کاشمیری، گفتنی و ناگفتنی، لاہور: مطبوعاتِ چٹان، ۱۹۶۳ء، ص: ۲۴۷

۳۱۔    ایضاً ، ص: ۲۱۹

۳۲۔    ہنس راج راہبر، ترقی پسند ادب ایک جائزہ، دہلی: آزاد کتاب گھر، ۲۰۰۰ء، ص: ۲۶۷

۳۳۔    شورش کاشمیری، گفتنی نا گفتنی، ص: ۱۰۲

۳۴۔    ایضاً ، ص: ۱۰۸

۳۵۔    افتخار جالب، مرتب: نئی شاعری ایک تنقیدی مطالعہ، لاہور: نئی مطبوعات، ۱۹۶۶ء، ص: ۱۰۳

۳۶۔    عباس اطہر، دن چڑھے دریا چڑھے، کراچی: نیا ادارہ، ۱۹۶۳ء، ص: ۷۲

۳۷۔    معین الدین عقیل، ڈاکٹر، پاکستان میں اردو ادب محرکات اور رجحانات کا تشکیلی دور، کراچی: مولانا آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان، ۱۹۹۵ء، ص: ۲۶۔ ۲۷

۳۸۔    فیض احمد فیض، نسخۂہائے وفا، لاہور: مکتبہ کاروں ، س ن، ص: ۶۸۲

۳۹۔    شفیق اشرفی، ڈاکٹر، فیض: افکار و اقدار، دہلی: نیو پبلک پریس، ۱۹۹۳ء، ص: ۱۰۱

۴۰۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۶۳

۴۱۔    فوزیہ یاسمین، ڈاکٹر، اردو نظموں میں سیاسی رجحانات کی جھلک، مرتب: ڈاکٹر سید عبد الباری، نئی دہلی: ثمر آفسیٹ دریا گنج، ۲۰۰۵ء، ص: ۱۵۶۔ ۱۵۷

۴۲۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۵۳۲

۴۳۔    ایضاً ، ص: ۱۶۳

۴۴۔    نصرت چودھری، ڈاکٹر، فیض احمد فیض رجائیت اور انفرادیت، کلکتہ: اثبات و نفی پبلی کیشنز، ۲۰۰۹ء، ص: ۱۰۱

۴۵۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۶۷

۴۶۔    وصی احمد سندیلوی، انقلابی شاعر، فیض احمد فیض، لکھنؤ: نسیم بک ڈپو، ۱۹۷۷ء، ص: ۲۴

۴۷۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۵۷

۴۸۔    رشید حسن خاں، فیض کی شاعری کے چند پہلو، مشمولہ: فیض احمد فیض عکس اور جہتیں، مرتبہ: شاہد ماہلی، نئی دہلی: معیار پبلی کیشنز، ۱۹۸۷ء، ص: ۷۱

۴۹۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۷۰

۵۰۔    علی جواد زیدی، عظیم دور کا عظیم نمائندہ، فیض، مشمولہ: فیض احمد فیض شخص اور شاعری، مرتب: اطہر نبی، نئی دہلی: سیمانت پرکاش، ۱۹۹۱ء، ص: ۴۱

۵۱۔    فیض احمد فیض، نسخۂ ہائے وفا، ص: ۸۳

۵۲۔    وزیر آغا، ڈاکٹر، اردو شاعری کا مزاج، نئی دہلی: سیمانت پرکاش، ۱۹۹۱ء، ص: ۴۱۲

۵۳۔    قیوم نظر، قلب و نظر کے سلسلے، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۱۹۸۷ء، ص: ۸۵۸

۵۴۔    انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی تحریکیں ، ص: ۵۹۱

۵۵۔    قیوم نظر، پون جھکولے، لاہور: کتاب خانہ پنجاب، ۱۹۴۸ء، ص: ۲۷

۵۶۔    قیوم نظر، قلب و نظر کے سائے ، ص: ۵۹۷

۵۷۔    قاسم قیوم، اردو شاعری پر جنگوں کے اثرات، فیصل آباد: مثال پبلشرز، ۲۰۱۱ء، ص: ۱۲۲

۵۸۔    قیوم نظر، پون جھکولے ، ص: ۲۵

۵۹۔    قیوم نظر، قلب و نظر کے سلسلے ، ص: ۸۷۳

۶۰۔    کوثر مظہری، جدید نظم حالی سے میراجی تک، لاہور: الوقار پبلی کیشنز، ۲۰ٍ۱۵ء، ص: ۴۰۶

۶۱۔    بلراج کومل، مضمون: مجید امجد__ایک مطالعہ، مشمولہ: اوراق، جدید نظم نمبر، سجاد نقوی، ( مدیر: وزیر آغا)، لاہور: دفتر اوراق، جولائی، اگست ۱۹۷۷ء، ص: ۲۶۱

۶۲۔    مجید امجد، شبِ رفتہ، لاہور: نیا ادارہ، ۱۹۵۸ء، ص: ۹۷

۶۳۔    محمد زکریا، خواجہ، چند اہم جدید شاعر، لاہور: سنگت پبلشرز، ۲۰۰۳ء، ص: ۱۵۱

۶۴۔    مجید امجد، شبِ رفتہ، ص: ۶۳

۶۵۔    وزیر آغا، ڈاکٹر، مجید امجد کی داستان محبت، لاہور: معین اکادمی، ۱۹۹۱ء، ص: ۱۱۶

۶۶۔    مجید امجد، شب رفتہ، ص: ۶۸

۶۷۔    افتخار بیگ، مجید امجد کی شاعری اور فلسفہ وجودیت، مقالہ برائے ایم۔ فل اردو، اسلام آباد: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، ۱۹۹۵ء، ص: ۱۳۸

۶۸۔    مختار صدیقی، منزل شب، لاہور: سویرا آرٹ پریس، ۱۹۵۵ء، ص: ۸

۶۹۔    ایضاً ، ص: ۵۷

۷۰۔    صابرہ شاہین، ڈاکٹر، مختار صدیقی۔۔۔ حیات و ادبی خدمات، لاہور: الوقار پبلی کیشنز، ۲۰۱۴ء، ص: ۹۷

۷۱۔    مختار صدیقی، آثار، لاہور: ماورا پبلشرز، ۱۹۸۸ء، ص: ۱۶۵

۷۲۔    ملک، فتح محمد، ڈاکٹر، تعصبات، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ۱۹۹۱ء، ص: ۳۰۷

۷۳۔    مختار صدیقی، آثار، ص: ۵۵

۷۴۔    مصطفیٰ زیدی، سوچ میری صدف صدف، لاہور: اردو اکیڈمی، ۱۹۶۰ء، ص: ۳۳

۷۵۔    ایضاً ، ص: ۲۳

۷۶۔    راشد، کلیاتِ راشد، دہلی: کتابی دنیا، ۲۰۰۴ء، ص: ۵۱۵

۷۷۔    سعادت سعید، ڈاکٹر، راشد اور ثقافتی مغائرت، مشمولہ: جدید اردو نظم میں تصورِ انساں، مقالہ برائے پی ایچ۔ ڈی، لاہور: شعبۂ اردو، اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، ۲۰۱۶ء، ص: ۲۵۸

۷۸۔    ن۔ م راشد، کلیاتِ راشد، ص: ۲۰۱

۷۹۔    ایضاً ، ص: ۲۳۸

۸۰۔    فتح محمد ملک، پروفیسر، راشد کی استعمار شناسی، مشمولہ: کس دھنک سے مرے رنگ آئے، مرتبین: ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر ضیاء الحسن، لاہور: پنجاب یونیورسٹی، ۲۰۱۰ء، ص: ۲۹۱

۸۱۔    ن۔ م راشد، کلیاتِ راشد، ص: ۲۹۱

۸۲۔    زاہدہ زیدی، مضمون: ن۔ م راشد کی شاعری ایک اجمالی جائزہ، مشمولہ: اردو ادب، (مدیر: اسلم پرویز)، نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند)، ۲۰۱۰ء، ص: ۵۹

۸۳۔    سعید الظفر چغتائی، مضمون: راشد کی شاعری، مشمولہ: اردو ادب، (مدیر: اسلم پرویز)، نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند)، ۲۰۱۰ء، ص: ۷۳

۸۴۔    ن۔ م راشد، کلیاتِ راشد، ص: ۳۶

۸۵۔    ایضاً ، ص: ۱۳۱

۸۶۔    صفدر میر، مضمون: راشد کی طنزیہ شاعری، مشمولہ: شعر و حکمت، نم راشد نمبر، (مدیر: اختر جہاں)، حیدرآباد: مکتبہ شعر و حکمت، س ن، ص: ۱۵۴

۸۷۔    ناصر پرویز، ناصر کاظمی، حیات اورادبی خدمات، مقالہ برائے پی ایچ۔ ڈی، بریلی: ایم۔ جے۔ پی۔ روہیل کھنڈ یونیورسٹی، ۲۰۱۴ ء، ص: ۶۴

۸۸۔    ناصر کاظمی، نشاطِ خواب، لاہور: مکتبۂ خیال، ۱۹۹۶ء، ص: ۶۴

۸۹۔    حامدی کاشمیری، ناصر کاظمی کی شاعری، الٰہ آباد: اردو رائٹرس گلِڈ، ۱۹۸۲ء، ص: ۳۴

۹۰۔    ناصر کاظمی، نشاطِ خواب، ص: ۷۱۔ ۷۲

۹۱۔    ثمینہ ندیم، پاکستان میں اردو غزل ایک حسیاتی مطالعہ، فیصل آباد: قرطاس، ۲۰۰۶ء، ص: ۱۲۷

۹۲۔    ناصر کاظمی، نشاطِ خواب، ص: ۲۱

۹۳۔    محمد زمان پرویز، ناصر کاظمی اور ساغر صدیقی کی شاعری میں سماجی مسائل کا تقابلی جائزہ، مقالہ برائے ایم۔ فل اردو، فیصل آباد: رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، فیصل آباد کیمپس، ۲۰۱۹ء، ص: ۵۰۔ ۵۱

۹۴۔    ناصر کاظمی، نشاطِ خواب، ص: ۳۳

۹۵۔    یوسف ظفر، زہر خند، لاہور: مکتبہ اردو، س۔ ن، ص: ۱۴۔ ۱۵

۹۶۔    ایضاً ، ص: ۲۹

۹۷۔    عارف عبد المتین، امکانات، لاہور: ٹیکنیکل پبلشرز، ۱۹۷۵، ص: ۲۲۸

۹۸۔    یوسف ظفر، صدا بہ صحرا، لاہور: گلڈ پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۶۱ء، ص: ۱۳۳

۹۹۔    افتخار احمد نیئر صمدانی، یوسف ظفر، حیات اور فن، مقالہ برائے پی ایچ۔ ڈی، پنجاب یونیورسٹی لاہور، ۱۹۹۰، ص: ۱۲۹

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل