FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

مقدمہ

 

 

ناہید وحید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

روکو روکو گاڑی روکو نصیب خان۔

اچانک ملنے والے اس حکم پہ ڈرائیور نے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی۔

کیا ہوا ہانیہ بی بی۔

ڈرائیور نصیب خان نے گھبرا کر سوال کیا۔ سامنے لگے ونڈ مرر کو درست کرنے کی کوشش کی کہ جیسے کہیں کچھ پیچھے اس کی نظر سے اوجھل ہو گیا ہو۔

کچھ نہیں تم گھر جاؤ۔ میں یہاں سے پیدل آ جاؤں گی۔ کچھ دیر پارک میں چہل قدمی کرنا چاہتی ہوں۔ یہ فائلز امی کے ہاتھ میں دینا اور ان کو یہ بتا دینا۔ بلکہ۔ میں۔ ان کو میسج کر دیتی ہوں۔ تم جاؤ۔

جی بہتر۔ نصیب خان نے حکم کی تعمیل کی۔

ہانیہ فائلز پچھلی سیٹ پہ چھوڑ کر گاڑی سے اتر گئی وہ پارک کی اس سمت بڑھی جہاں لوگ صرف جاکنگ کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

بغیر سوچے سمجھے اس نے بھی ٹریک پہ چلنا شروع کر دیا۔

کتنا سکون ہے یہاں۔ لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا میں ہر طرف یہی سکون بھرا ہوا ہو لیکن نہیں، حقیقت اس کے کتنی برعکس ہے۔ ہر طرف عجیب افراتفری کی کیفیت ہے اور ہانیہ کتنی پریشان۔ ۔ اتنی کہ اس کی سوچ بھی بھٹک کر اس طرف نہیں گئی تھی۔ جہاں اب وہ چند دنوں سے سوچ رہی تھی۔ اس نے اپنے ذہن کو ان خیالات سے آزاد کرانے کی کوشش کی۔ جو پچھلے چند دنوں سے اس کے دماغ کو جکڑے ہوئے تھے لیکن اس کی چہل قدمی کرنے کی کوشش بھی بے سود ہی ثابت ہوئی، پارک میں موجود پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو بھی اس حبس کو کم نہ کر سکی جو اسے معاشرہ میں گرتے اقدار کو دیکھتے محسوس ہونے لگی تھی۔ چھوٹے موٹے محلے کے لڑائی جھگڑوں میں لوگ زندہ جلائے جائیں گے۔ پھانسی چڑھیں گے، قتل ہوں گے۔ افف۔ سب کچھ کتنا بھیانک ہے۔ وہ بھی اس معاشرہ میں جو خاندانی روایات پیار محبت اور بھائی چارگی میں خود کو معتبر سمجھتا رہا ہے۔

کل ایک عورت پھانسی پہ چڑھنے والی ہے۔ صرف اسلئے کہ اس کی جہالت اس کی زبان سے ٹپکنے لگی تھی اور ہانیہ اپنی وکالت کے پیشہ کا پہلا مقدمہ بری طرح ہارنے والی ہے۔ صرف اسلئے کہ بولنے کے لئے معتبر الفاظ کم پڑ گئے تھے یا مل نہیں رہے تھے۔ یا وہ الفاظ کے چناؤ میں پھنس کے رہ گئی تھی۔ زبان کا تو مسئلہ تھا جو اس عورت کے گلے میں آ پڑا تھا۔ ہانیہ کے پاس اپنے دلائل دینے کے لئے کوئی مواد بھی میسر نہ تھا ماسوا ان کے جو اسی طرح کے کئی اور مقدمات میں دیئے گئے تھے، لیکن سب ابھی تک ناکافی رہے تھے یا پھر اس مقدمے کے لئے مناسب نہیں تھے۔ تو کیا وہ یہ مقدمہ ہار جائے گی۔ آنسو اس کی آنکھوں میں امڈ آئے۔ لیکن ہارنے کا خوف اسے نہیں دہلا رہا تھا۔ اسے جو چیز دہلا رہی تھی وہ اس عورت کا پھانسی چڑھنا تھا۔ یا کسی کے ہاتھوں قتل ہونا۔ اوہ۔ یہ عورت جو سچ بول کر بیچارگی کی انتہا پہ آ کھڑی ہوئی تھی خود کو مجرم ثابت کر چکی تھی صرف اسی وجہ سے ہانیہ کو مظلوم لگنے لگی تھی کہ سچ بول رہی تھی اور سچ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اس نے جھوٹ کا سہارا بھی نہیں لیا تھا۔

۔ ۔

ہانیہ ایمان اور سچ کی طاقت کھوجنے میں تذبذب کا شکار تھی۔

گھر آ کر وہ اپنے بستر پہ نیم دراز ہو گئی، بمشکل چند لمحے گزرے ہوں گے کہ دروازے پہ آہٹ ہوئی۔

کیا ہوا؟ ٹھیک تو ہو؟ نہ سلام نہ دعا۔ تم نے فون بھی نہیں کیا۔ وہ تو نصیب خان نے تمھاری فائلیں دیں تو بتا دیا تھا کہ تم قریبی پارک پہ اتر گئی ہو۔ خیر ہے سب؟

ہانیہ کی امی شیریں بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کئی سوالات یکے بعد دیگرے داغ دئے۔

السلام علیکم امی جی میں ٹھیک ہوں۔ سر میں درد تھا سوچا شاید فریش ائیر میں بہتر ہو جائے گا۔ اسی لئے واک کے لئے اتر گئی تھی۔

ہانیہ نے بات بنائی۔

اس کی امی متفکر لہجے میں بولیں۔

اب کیسا ہے سر درد۔ کھانا کھا کے دوا لے لو۔ خواہ مخواہ میں سر کا درد پکڑا ہے۔ وکالت کرو گی۔ ارے کس چیز کی کمی ہے شادی کرو، خوش باش رہو۔

امی صرف ایک سال کی بات ہے جو بات طے ہو گئی تھی ہو گئی تھی۔ اب بار بار کیوں شادی کا ذکر کرتی ہیں۔ جاب ابو کی اجازت سے ہی کر رہی ہوں

ہانیہ نے قدرے ناراضی سے کہا۔

کوئی کیس بھی تو نہیں آیا ناں۔ اگر اس لئے پریشان ہو تو نہ ہو۔ میں تو دعا کرتی ہوں۔ بس ایسے ہی سال نکل جائے۔ ایک سے ایک بڑا وکیل بیٹھا ہے ان کے پاس جائیں جسے جانا ہے۔ چند مہینوں میں کیا حالت ہو گئی ہے میری بچی کی۔ کبھی پہلے سر میں درد ہوا تھا؟

ہانیہ بے بسی سے شیریں بیگم کو دیکھتی ہے۔

خواہ مخواہ جان کو ہلکان کرنا۔ پریکٹس کا شوق چڑھا۔ اور احمد صاحب کو دیکھو اجازت بھی دے دی۔

ہانیہ بیچارگی سے بولی۔

امی کئی بار ہو چکی ہے یہ بات۔

ہاں ہو چکی ہے۔ خود تو تبلیغ میں چلے جاتے ہیں۔ تمہاری یہ حالت تو میں دیکھ رہی ہوں نا۔ چند دن سے تم بالکل گم ہو۔ ۔ کوئی پریشانی ہے؟

ہانیہ کی خاموشی نے ان کو جذباتی کر دیا۔

اپنے ابو کو ہی بتاؤں گی

ظاہر ہے۔ ان ہی کو بتاؤ گی میں تو تمھاری کچھ لگتی نہیں۔

ہانیہ منمنا کے رہ گئی۔

امی۔

میں بھیج رہی ہوں کھانا۔

شیریں بیگم نہ جانے کیا کیا کہتی کمرے سے چلی گئیں۔

ہانیہ نے ان کے جانے کے بعد سکون کا سانس لیا۔ کم از کم ایک بات ہانیہ نے سمجھداری کی کی کہ اپنے امی ابو کو اپنے پہلے مقدمہ کی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔ ورنہ اس کی امی ضرور اس سے وکالت چھڑوا کے رہتیں۔ اسی قسم کے دو کیسیز پہلے بھی ہو چکے تھے جس میں نہ صرف شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے بلکہ حالات اس قدر کشیدہ اور سنگین رہے تھے کہ چند لوگوں کی جانیں چلی گئیں تھیں۔ ایسے میں ہانیہ کی خاموشی بہتر تھی۔

اس کے چہرے پہ اطمینان کی ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

کچھ تو ہے جو خدا نے یہ کیس اس کے حصے میں ڈالا ہے۔

ہانیہ پھر سے اسی کیس کے متعلق سوچنے لگی۔ جس نے واقعی اس کے دماغ کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ کیس کی سنگینی نے اس کی نیند اڑا دی تھی۔ اس کے پاس اپنی موکلہ کی صفائی میں کوئی دلیل تک موجود نہ تھی۔ یہ کیس جو اس کے حصے میں آ پڑا تھا جو اس نے خود لیا نہیں تھا۔ کیس بھی کوئی معمولی نوعیت کا نہ تھا توہین رسالت کا کیس تھا اور وہ اس کیس میں اپنی کمزور ترین موکلہ معینہ مسیح جو اقبال جرم کر چکی تھی اس کی وکیل تھی۔

کھانے کے بعد اس نے اپنا بیگ ڈالا اور کہہ کر گھر سے نکل گئی کہ اپنی چھوٹی پھوپو کے ہاں جا رہی ہے۔

امی سے بات چھپانے کے لئے عجلت میں جو اسے ٹھیک لگا اس نے کہہ دیا لیکن اسے جانا اپنے فاضل وکیل کے گھر تھا جو کل یہ مقدمہ جیتنے والے تھے۔ وہ ان سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کرنے والی تھی۔ کم از کم مقدمہ خارج کرنے کی کوشش کروا سکتی تھی۔ آخر مقدمہ بنا ہی کیوں؟ سرمد بیگ سنیئر وکیل تھے۔ ہانیہ ان کے ساتھ وکالت کی پریکٹس پہ تھی اسے وکالت کے پیشہ میں آئے ہوئے چند مہینے گزر چکے تھے اور امی ابو سے وعدے کے مطابق اسے ایک سال پریکٹس کا ملا تھا اس کے بعد شادی۔

اب سے پہلے کیس نہ ملنے کی مایوسی اپنی جگہ تھی۔ لیکن وکالت اور جاب کی خوشی اپنی جگہ تھی۔ آہستہ آہستہ ہانیہ نے سمجھوتا کر لیا تھا کہ وہ کوئی مقدمہ خود نہ بھی لڑے تو سنیئر وکلاء کی ٹیم میں ہونے سے وہ بہت کچھ سیکھ جائے گی، سیکھ گئی ہے۔ شاید زندگی میں کبھی کام آ جائے۔ ورنہ امی تو بچپن سے رٹا رہی تھیں

جو شوہر کی مرضی ہو، وہی کام کرنا۔ گھر پہلے نوکری بعد میں۔

تو وکالت یا جاب کی نوبت شاید ہی آئے۔

لیکن پھر پیشہ وارانہ صلاحیتیں سر اٹھاتیں کہ کچھ تو کیا جائے۔ اور کوئی ایک کیس وہ دھواں دار طریقہ سے لڑے۔ اور جیت جائے۔ اور ہار بھی جائے تو کچھ نہیں۔ کم از کم مقدمہ لڑ کے ہاری ہو گی۔

جج کے سامنے اپنے دلائل دینے کی بات ہی کچھ اور ہو گی۔ جرح ہو گی۔ گرما گرمی بحث مباحثہ۔

اور اب جبکہ اسے معینہ کا کیس مل گیا تھا تو یہاں معاملہ ہی دوسرا تھا۔

یہ جو کیس اس کے ہاتھ آیا تھا اس میں جذبات سے زیادہ فہم و فراست کی ضرورت تھی۔ شدت پسندی پورے ملک میں فساد پیدا کر سکتی تھی۔ بلکہ شہر بھر میں احتجاج ہوئے تھے۔

اسے وہ دن یاد آیا جب وہ سرمد بیگ سے بار بار سوال پوچھتی کہ

اسے کب کوئی کیس ملے گا۔ اور سرمد قدرے لاپروائی سے جواب دیتے۔

نئے وکلاء کے پاس کیسز آتے نہیں وہ خود لیتے ہیں۔

ہانیہ منہ بسورتی رہ جاتی۔ یعنی وہ محض سنیئر وکلاء کی فائل لانے لے جانے تک کا کام کرتی رہے گی۔ اور سال گزر جائے گا

اور سال تقریباً نصف گزر چکا تھا۔

یہ خیال اس کو کبھی کبھی پریشانی میں ڈال دیتا تھا۔ اس کا یہ مسئلہ سرمد بیگ نے کسی حد تک حل کر دیا تھا سرمد اپنے مقدمات کی کاروائی میں ہانیہ کو ساتھ بلا لیتے اور یوں وہ بار میں وکلاء کی بحث و مباحث دیکھتی اور موقع لگتا تو سرگوشی میں ایک آدھ نکتہ دے بھی دیتی۔ وہ اب مطمئن تھی۔

کار کے ہارن کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر گاڑی سے باہر دیکھا۔

رش ہے۔ کچھ وقت لگے گا۔

جی بی بی جی۔ نصیب خان نے جواب دیا۔

وہ سرمد سے ملنے کیوں جا رہی ہے۔ انھوں نے کونسا دلائل دے کر ملزمہ کا جرم ثابت کیا ہے۔ ملزمہ جرم خود قبول چکی ہے۔ بار بار قبول رہی ہے۔ سرمد بیگ محض عدالت کی کاروائی بڑھانے تک اس مقدمے کا حصہ تھے۔ کیا یہ واقعی مقدمہ جیتنا ہو گا؟

شاید نہیں۔ تو وہ سرمد بیگ سے کیا کہے گی۔ اور کیوں۔ تو کیا وہ راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی۔

ملزمہ معینہ کے لئے عدالت نے کھلی اجازت دی تھی کہ جو چاہے ملزمہ کی طرف سے وکیل بنے۔ کیس لڑنا تو دور کی بات کسی نے حامی نہیں بھری۔ سب کو جان پیاری تھی۔ سب ہی کیس کو لیتے ہوئے تذبذب کا شکار تھے۔ نہ جانے کس انجانے خوف سے ڈرے ہوئے تھے۔ شاید ماضی میں ہونے کے واقعات سے جو اقلیتی کمیونٹی کے حق میں بولا تھا۔ مارا گیا۔

کسی بھی جانے انجانے کے ہاتھوں قتل ہونے کی کئی واردات ہوئی تھیں گو کہ قتل کرنے والے بھی قانون کے شکنجے سے نہ بچ سکے پھانسی چڑھے لیکن پتہ نہیں کیوں اور کون اور کس لئے پاکستانیوں میں، مسلمانوں میں اس حد تک تفرقہ اور نفرت ڈال دیتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے انسان کی توہین پہ اترا ہوتا ہے۔

کیا انسانیت کا درس یہی ہے؟

اس نے سوچا۔

انتہا پسندی عروج پہ ہوتی ہے ایسے واقعہ کے رد عمل میں۔ لگتا ہے پاکستان میں صرف دو نظریات کے لوگ رہتے ہیں ایک ترقی پسند یا سیکیولر اور دوسرے شدت پسند ملّا۔ دونوں طرف سے یہی الزامات اور نام دیئے جاتے ہیں۔

ایسے میں دونوں طرف سے ایک ماحول بنتا ہے۔ انتہا پسندی کا ماحول۔

ایسے میں پتہ نہیں کیوں اقلیتی پاکستانی بھی تصور نہیں ہوتے۔

تمام مذاہب کی بنیاد انسان ہے۔ کوئی مذہب انتہا پسندی کا درس نہیں دیتا یہ تو انگریز کی حکومت تھی جس نے مذہب کے نام پر لڑنا سکھایا تھا۔ اور اس خطہ میں رہنے والے ہندو مسلم سکھ عیسائی نے انگریز سرکار سے یہی انتہا پسندی سب سے بہتر سیکھی تھی۔ جبکہ انگریز سرکار خود کو ہر نسل ہر فرقہ سے اعلیٰ سمجھتے تھے یہی تمھارے سوال کا جواب ہے بیٹا۔

ہانیہ کو اپنے ابو کا جواب یاد آیا جب اس نے اپنے ابو سے اسی کیس کے حوالے سے چند سال پہلے یہ سوال پوچھا تھا کہ

کیا مذہب انسان کو لڑنا سکھاتا ہے؟ یہ آئے دن بلاسفیمی کا واقعہ کیوں ہو رہا ہے ابو؟؟

اپنے ابو کے جواب سے وہ مطمئن تھی۔ جب اسے یہ ہوا تک بھی نہ تھی کہ وہ وکالت پڑھے گی۔ اور اس کے پاس یہ مقدمہ خود چلا آئے گا۔

معینہ مسیح کیس میں زیادہ تر کی رائے یہی تھی کہ یہ مقدمہ درج ہونا ہی نہیں چاہئیے تھا۔ پر اب تو عدالت میں آ چکا تھا۔ اور عدالت از خود خارج بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کیونکہ جس جگہ یہ جھگڑا ہوا تھا اس کی ضلعی عدالت نے، لوگوں کی عدالت لگوا کر معینہ مسیح کو پھانسی کی سزا سنا دی تھی۔

مسیح برادری نے جرگہ نما اس خود ساختہ عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اور یوں یہ مقدمہ ہائی کورٹ تک آ گیا تھا اور اخبارات اور میڈیا کی بدولت گھر گھر پہنچ چکا تھا۔ شہر بھر سے نفرت انگیز بیانات کی بھر مار تھی۔ ملک بھر سے اتنے سنگین حالات دیکھتے ہوئے معینہ کے حامی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ یہاں تک کہ اس کے آس پڑوس کے لوگ بھی کہیں چھپے ہوئے تھے۔

یوں یکطرفہ کاروائی سے عدالت کو فیصلہ سنانا تھا۔

یہ معاملہ جس کی نوعیت گلی محلے کے جھگڑے کی سی تھی۔ یہ جھگڑا مقدمہ بن کر عدالت میں انصاف کے لئے آ پڑا تھا۔ اور اب عدالت کو اپنی ذمہ داری نبھانی تھی۔ حالات دیکھتے ہوئے عدالت نے فیصلہ کی تاریخ میں توسیع کر دی تھی۔ اور یہ توسیع سالہا سال ہوتی گئی تھی۔

ہانیہ ان دنوں اپنی ایف اے کی تعلیم مکمل کرنے والی تھی۔ اس نے بھی یہ خبر اخبارات میں پڑھی تھی، میڈیا پہ دیکھی تھی۔ اور اپنی ذہنی الجھن کو اپنے ابو سے سوال پوچھ کر سلجھا لیا تھا۔ اس سے زیادہ اس کا کام بھی کیا تھا۔ وہ کیوں اوروں کی طرح سوشل میڈیا پہ دہائی دیتی پھرے۔ بڑے بڑے مباحثہ کرتی پھرے۔ وہ کسی کی حمایت اور کسی کی مخالفت میں بولے تو کیسے؟ جب وہ وقوعہ پہ موجود نہ تھی۔ سچ جھوٹ کا تعین نہیں کر سکتی تھی۔ سوشل میڈیا پہ محض رائے زنی سے قابلیت جھاڑتے رہنا اس کا شیوا نہیں تھا۔

عدالت نے انصاف کے تقاضے کے تحت دونوں طرف کے گواہان اور وکلاء کو سننا تھا۔ لیکن مجرمہ کی طرف سے نہ کوئی وکیل تھا نہ گواہ۔ بلکہ جو گواہان اس کے مخالف تھے آہستہ آہستہ کم ہوتے جا رہے تھے۔ شاید محلے میں پھیلنے والے غم و غصہ اور نفرت کی جگہ وہ محبت پھر سے سر اٹھا رہی تھی جس نے اس قصبے میں ہر طبقے ہر مذہب کے ماننے والوں کو برسوں سے بسایا ہوا تھا۔ اب مقدمہ واپس لینے والے بھی واپس نہیں لے سکتے تھے۔ کیونکہ اب یہ معاملہ مذہب اور توہین سے زیادہ انتہا پسندوں کی من مانی اور توہین کا بن چکا تھا۔ اور ان کے مطابق توہین کا بدلہ صرف موت ہے۔

ہانیہ اپنے خیالات سے واپس پلٹی۔

ایسا کرو کہ چھوٹی پھوپو کی طرف موڑ لو۔

اس نے گاڑی کے باہر روڈ پہ نظریں گاڑنے کی کوشش کی لیکن اس کا منتشر دماغ یکجا نہ ہوا۔ اسے صرف اندھیرا نظر آیا۔

کہاں پہنچ گئے ہم۔

اس نے بیزاری سے پوچھا۔

نصرت بی بی کا گھر پیچھے رہ گیا ہے۔ آپ وکیل صاحب کے ہاں نہیں جا رہیں۔ اب تو گھر آنے والا ہے۔

نصیب خان نے گھڑی دیکھ کر جواب دیا۔

ہوں۔ نہیں۔ نہیں جا رہی۔ گاڑی تم واپس لو۔ پھوپو کے ہاں چلو۔ بس آدھے ایک گھنٹے بیٹھوں گی۔

ہانیہ نے آہستگی سے حکم دیا۔

دیر ہو گئی آج تو عشاء بھی یہیں ہو گی۔

میں عشاء پڑھ لوں گا۔ تب تک آپ آرام سے بیٹھو وہاں۔

نصیب خان نے اپنا مدعا بیان کر دیا۔

ٹھیک ہے۔ دس بجے سے پہلے گھر واپس پہنچ جائیں گے۔ بے فکر رہو۔ اب تو کبھی کبھی نکلنا ہوتا ہے اس وقت۔ روز تو رات آٹھ سے پہلے ڈیوٹی آف کر کے چلے جاتے ہو۔

نصیب خان نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔

ہانیہ پھر خیال میں کھو گئی۔

ہفتہ بھر پہلے کی بات تھی۔ جب وہ سرمد بیگ کے ساتھ عدالت کی کاروائی دیکھ کر آفس کی طرف جا رہی تھی کہ ایک طرف سے اٹھنے والے شور نے ان دونوں کے قدم روک لئے۔ اس ہجوم میں آگے آنے والوں میں لیڈی پولیس کے ساتھ کئی جوان اور چند ادھیڑ عمر عورتیں تھیں۔ جن میں سے ایک کے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ پولیس کی ایک آواز پر سارا کا سارا مجمع وہیں ٹھہر گیا۔ ایک طرف سے ایک وکیل برآمد ہوا۔ سرمد بیگ کے ہاتھ میں فائل دے کر سرگوشی کی۔

اس دوران پولیس نے مجمع کو بھی چھانٹ دیا۔ پیچھے نعرے بازی والے تھے جن کو پولیس نے باہر روک دیا تھا۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی کشیدگی ایسی تھی کہ جیسے ابھی ابھی خون خرابہ ہو جائے گا۔

سرمد نے فائل دیکھی، سرمد بڑبڑاتے ہوئے مجمع کی طرف بڑھے۔

لوگوں کوکیسے خبر ہو جاتی ہے؟

ساتھ آنے والے وکیل نے کہا۔

سر گواہان کے بیانات کے لئے ان کو بلوایا تھا۔ بیان تو ہو گئے آپ سے ملوانا بھی تھا اچھا ہوا آپ یہیں مل گئے۔ عدالت کی طرف سے اب آپ اس مقدمہ کی پیروی کریں گے۔ ملزمہ کی طرف سے کوئی گواہ تک نہیں ہے اور یہ تمام عورتیں وہی ہیں جن کے درمیان یہ لڑائی ہوئی تھی۔ جبکہ وہ لوگ جنھوں نے مقدمہ دائر کیا تھا اب سامنے نہیں آ رہے اور وہ بھی جنھوں نے ہائی کورٹ سے اپیل کی تھی۔ یہ عینی شاہدین بھی ہیں اور گواہ بھی۔ اور اب یہ لوگ بھی نہیں آنا چاہتے تھے۔ پولیس کی مدد لینی پڑی۔

کہہ رہے تھے مقدمہ انھوں نے درج نہیں کرایا تھا وہ تو صرف صلح صفائی چاہتے تھے۔ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے پولیس آ گئی تھی۔ پھر ضلعی کمیٹی کے لوگ آ گئے تھے۔ بس پھر جو ہوا وہ سب کو پتہ ہے۔

اور وہ جو نعرے بازی کر رہے ہیں؟

سرمد نے سوال کیا۔

پولیس والے نے بیچ میں لقمہ دیا۔

سر یہ انہی زنانیوں کے گھر والے ہیں اپنی عورتوں کو بچانے کے لئے اپنے اپنے علاقے کے اثر رسوخ والوں کو چڑھا کے لے آئے ہیں۔ کہیں عدالت ان کی زنانیوں کو پھانسی نہ دے دے۔

سرمد غصہ میں بڑبڑائے۔

گلی محلے کی لڑائی میں اب پھانسیوں کی سزا تجویز ہو گی!!

بس سر آپ ہی دیکھیں۔

پولیس والا یہ کہتے ہوئے پیچھے کھسک گیا۔

سرمد مجمع کی طرف بڑھے عورتوں میں شور مچ گیا سب اپنی اپنی صفائی دینے لگیں جیسے نہ بولیں تو ابھی ابھی پھانسی پہ لٹکا دی جائیں گی۔

سرمد ان کی بے تکی دہائیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے عورتوں کے قریب جا کر گرجے۔

تم سب کو پھانسی لگے گی۔ ۔ کچھ پتہ ہے تو اثر رسوخ۔ جا کے اس اثر رسوخ والے کے آگے ہاتھ جوڑ لو اس کے پیر پڑ جاؤ۔ بس۔

مجمع میں خاموشی چھا گئی۔

کچھ پتہ ہے تو یہ اثر رسوخ۔ جہالت میں تم کیا کیا کر رہے ہو۔ ؟؟

تمھاری جہالت کی وجہ سے کتنے لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کچھ پتہ ہے تم کو۔ تم جیسوں کی وجہ سے کیسے کیسے مفاد پرستوں کے الو سیدھے ہوتے ہیں۔ کچھ اندازہ ہے تم لوگوں کو۔

سرمد بیگ غصہ سے آنکھیں نکالتے ہوئے عورتوں کے مجمع پر گرجے۔ عورتوں کی آوازیں ان کے حلق میں دب گئیں۔

میں نے کچھ نہیں کیا وکیل صاب۔ یہ سب میرے محلے دار ہیں سب ہی مجھ پہ جوتیاں مار رہے تھے۔ مجھے مار رہے تھے گھسیٹ رہے تھے۔ میں اکیلی تھی جی۔

ملزمہ، جسے سرمد بیگ کی بات سے کچھ حوصلہ ملا، فوراً بولی۔

جھوٹ بول رہی ہے یہ گالیاں دے رہی تھی مجھے۔ میں نے تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

اس کے ساتھ کھڑی اس کی ہم عمر عورت نے غصے سے جواب دیا۔

توبہ توبہ۔ ایسی۔ گندی زبان۔

اس نے روایتی جاہلانہ انداز سے اپنے کان پکڑے، منہ پیٹا۔ باقی عورتوں نے بھی اسی انداز سے منہ کھولنے کی کوشش کی جو سرمد نے بھانپ لی اور رعب دار آواز میں جھاڑ پلائی۔

خاموش۔ بکواس بند کرو۔ جیسے تم لوگوں کی زبانیں میں نہیں جانتا۔ تم سب کو اسی وقت ڈنڈوں سے مارنا چاہیے تھا۔ اور ان مردوں کو بھی جو یہ تماشہ دیکھ رہے تھے اور دیکھنے جمع ہو رہے تھے اور تمہاری جہالت سے محظوظ ہو رہے تھے۔ نان سینس۔

درست کہہ رہے ہیں سر۔ میرا دل تو یہی کر رہا تھا پر پولیس تو ڈنڈے برسانے میں بدنام ہے جی۔ کچھ دیر پولس موقعے پہ نہ پہنچتی تو یہ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ چکی ہوتیں۔ مار کٹائی بھی چل رہی تھی۔ دل تو یہی کر رہا تھا ڈنڈے مار مار کے سیدھا کر دوں ان کو۔

ایک پولیس والی سے برداشت نہیں ہوا اور وہ بھی ڈنڈا لہراتی بیچ میں بول پڑی۔

ہانیہ کو مقدمہ کی نوعیت کا اندازہ تو نہ ہو سکا لیکن وہ ذرا فاصلے پہ کھڑی معاملہ کی سنگینی کو سمجھ رہی تھی۔ اس نے پہلی بار سرمد بیگ کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔

سرمد سر کے حکم سے اب وہ، معینہ ایک لیڈی پولیس کے ہمراہ کورٹ میں ان کے آفس میں موجود تھے۔

ہانیہ کے سامنے آنے والا یہ پہلا مقدمہ تھا جس کے ساتھ پورا جلوس آیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کسی کچی آبادی کا ٹبر کا ٹبر اٹھ آیا ہو۔

سرمد فائیلز دیکھنے میں گم تھے۔ ہانیہ سے صبر نہ ہوا اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

زمین کا جھگڑا ہے یا پھر کسی سرمایہ دار کا عتاب آ پڑا ہے ان پہ سر؟

سرمد نے ایک نظر سامنے کھڑی معینہ پہ ڈالی ایک ہانیہ پہ اور پھر سے فائل دیکھنے لگے۔

یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان پر ان کی جہالت ہی سب سے بڑا عتاب ہے مس ہانیہ۔

مطلب۔ سر۔ ؟

ہانیہ کے یہ بات اوپر سے گزر گئی۔

بلاسفیمی کا کیس ہے۔ توہین رسالت کا۔

یہ ملزمہ اور باقی وہ سارے جو باہر ہیں اس واقعہ کے عینی شاہد اور وہ عورت جو اس کے ساتھ کھڑی تھی اسی سے جھگڑا ہوا تھا اس کا۔ یہ جھگڑا کئی سال پہلے ہوا تھا۔ اب اس ہفتے اس کیس کا فیصلہ ہونا ہے۔

سرمد سب ایک ہی سانس میں کہہ گئے۔

ہانیہ یقین نہ آنے والی نظروں سے سرمد اور معینہ کو تکنے لگی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے سامنے ایسا کیس بھی آئے گا جو برسوں پہلے اس نے خبروں میں سنا تھا۔ یہ واقعہ بہت دن میڈیا کا موضوع بنا رہا تھا۔ معینہ جو ایک گٹھے جسم، چھوٹے قد کی ادھیڑ عمر عورت تھی۔ ہانیہ کو یقین نہ آیا کہ یہ وہی عورت ہو گی۔ اس کی بد زبانی کتنوں کی جان لے چکی تھی۔ ہانیہ خود کو بار بار یقین دلانا چاہتی تھی۔ ایسا واقعی ہوتا ہے۔ کتنی سادہ لوح لیکن بد زبان۔

پورے ہجوم کا حال کچھ یوں ہی تھا۔

ملکی اور غیر ملکی سطح پہ مذہبی شدت پسندی عروج پہ تھی جو محض ان کی بدز بانی کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔

یہ تمام مناظر جو ابھی اس کی نظروں کے سامنے ہو گئے تھے، کتنے حیران کن تھے، کتنی بے یقینی تھی ان میں۔

کوئی کسی معتبر شخصیت کو لڑائی جھگڑے میں نہیں گھسیٹتا۔ تو وہ جو انسانوں میں سب سے معتبر ہیں، انسانیت کے علمبردار ہیں محسن انسانیت ہیں۔

ہانیہ کی آنکھیں جلنے لگیں۔

نہیں نہیں اس کی آنکھیں دھوکہ کھا رہی ہیں وہ ایسی عورت یا مرد کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی جس نے ایسی گھناؤنی حرکت کی ہو۔ وہ ایسی غلیظ بستی سے گزرنا بھی نہیں چاہتی جہاں جہالت کا راج ہو، لڑائی جھگڑے میں دین گھسیٹا جاتا ہو۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو کسی بھی علاقے میں کسی بھی ملک میں۔

جہالت کی اندھیری بستی سے بھلا وہ کیوں گزرے؟ ایسے جاہل سے وہ کیوں ملے؟

جن پر وہ کافی دیر سے غور کر رہی تھی یہ وہی سب تھے۔ جو وحشی درندے بھی نہیں تھے۔ سادہ لوح تھے۔

اس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا ایسی گھناؤنی حرکت کی مرتکب اس کے سامنے کبھی موجود ہو گی۔ وہ یہ دیکھ رہی تھی۔ وہ ٹبر جسے وہ مظلوموں کا سمجھ بیٹھی تھی، ملعونوں کا تھا۔ جہالت میں پڑے ہوئے خود ساختہ جہنم بنا کر رہنے والے مکین ملعونوں کا۔

جس طرح زبان سے نکلا حرف واپس نہیں ہو سکتا، اسی طرح ابھی ابھی اس کی آنکھ نے جو دیکھا، کانوں نے جو سنا، اس سے کیسے منکر ہو سکتی تھی۔ یکدم اسے معینہ سے نہایت نفرت محسوس ہونے لگی۔ اس کا دل چاہا کہ وہاں سے بھاگ جائے۔ وہ یہ سب کیوں دیکھ رہی تھی؟ وہ انجانے میں کہاں آ کھڑی ہوئی تھی؟

اسی لمحے اس کے اندر سے کوئی پکارا۔

نہیں نہیں۔ وہ یہیں رہے گی۔ وہ کیوں بھاگے گی؟

صدیوں پہلے ہمارے نبی پاکﷺ کو اس سے بھی بدتر جہلا پہ اتارا گیا تھا۔ تو انھوں نے کیا کیا تھا؟ ۔ کیا نفرت کی تھی؟ کیا وہاں سے چلے گئے تھے؟ آپﷺ نے کتنی ثابت قدمی سے کتنی محبت سے علم کی روشنی پھیلائی تھی۔ اب انﷺ کے کردار اور عمل کی روشنی کی ضرورت آ پڑی تھی۔

اس وقت بھی دین، جہالت کے ماروں تک آ پہنچا تھا، جہالت اپنی پوری سنگینی سے دین کی روشنی کو دبانے پر تلی ہوئی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ جہالت دین کا نام لے لے کر دین کو کچل رہی ہے۔

کیا اسے بھاگ جانا چاہئیے!

نہیں وہ کیوں بھاگے گی؟ کیوں۔

وہ خود سے سوال جواب میں مبتلا تھی۔ وہ دین کی روشنی کھوجنے لگی۔

اسے دین اس جہلا کے ٹبر سے زیادہ پتہ ہے۔ وہ علم کی روشنی سے واقف ہے؟

وہ کیوں کہیں جائے گی۔ وہ علم سے جہالت کی تاریکی مٹا سکتی ہے۔ ہانیہ کے اندر کی آواز نے اس کا اعتماد لوٹا دیا۔

اسے جہالت سے نفرت ہے، انسان سے نہیں۔

اس کے اندر ایمان یکدم پختہ ہو گیا۔

جہالت سے نفرت اس کی آنکھوں میں تھی۔ اس کی زبان سے ایک حرف بھی نہ نکلا۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ملزمہ معینہ مسیح کی طرف نفرت سے گھورنے لگی۔

معینہ نے ہانیہ کو اپنی طرف گھورتے ہوئے پایا تو عجیب نفرت سے ہانیہ کو تکنے لگی۔

پھر اسی لمحے اس کے چہرے پہ بیچارگی چھا گئی اور آنکھوں میں آنسو امنڈ آئے۔ بھرائی ہوئی آواز میں ہانیہ سے کہنے لگی۔

مجھے پتہ ہے جی آپ لوگوں کی نفرت مجھے مار دے گی۔ پھانسی لگ جائے گی میرے گلے میں۔

پر میں انسان ہوں جی نکل گئی گالی۔ میں نے سچ بولا۔ مکر جاتی تو بچ جاتی۔ وہ شیداں دوست تھی میری۔

پر شیداں نے کونسا بخشا۔ ایسی گندی گندی گالیاں دیں مجھے بھی اور۔ اور میرے منہ میں خاک،کیڑے پڑیں میرے دین کو بھی۔

میرا کوئی بولنے والا نہیں۔ اس کے ساتھ سب ہیں یہ تو نا انصافی ہے۔ میں پھانسی چڑھ جاؤں گی وہ بچ جائے گی۔ وہ شیداں بچپن کی ساتھی ہے جی۔ وہیں محلے میں کھیلے کودے۔ اور اسی علاقے میں شادی بیاہ ہوئے۔

خوب گانے بجانے ساتھ ہوتے تھے۔ عید ہوتی یا کرسمس یا کوئی اور تہوار

ایک دوسرے کے منہ میں لڈو ٹھونس دیتے تھے ہم۔

تہوار میں کوئی کسی کو پوچھ کر چراغ جلاتا ہے، بتیاں لگاتا ہے۔ تو کون ہے؟

یہ لنگر کیوں کھاتا ہے۔ ؟

سب کے تہوار سانجھے ہوتے ہیں۔ خوشی میں شریک غم کے ساتھی تھے ہم۔ ایک دوسرے کے کپڑے بھی مانگ کے پہن لیتے تھے اور پھر اپنی اپنی برادری میں چلے جاتے تھے۔ سب کچھ کھلم کھلا ہوتا تھا کوئی پوچھتا نہیں تھا یہ کہاں سے آیا کس کے ہاں دعوت کھائی۔ ایسا پیار تھا۔

کبھی کسی نے گالی نہیں دی۔

کپڑے، برتن۔ ۔ ان کا بھی دین ایمان ہوتا ہے کیا جی۔ ؟؟

ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوتا تھا۔ ۔ ہوتا،تو ہمارے علاقے کے قریب ایک پرانے مندر میں مسلمان کیسے رہتے ہیں؟ بتاؤ!

وہاں تو کوئی نہیں پوچھتا۔ ہمارے محلے کے حافظ جی وہاں بچوں کو دین بھی سیکھاتے ہیں، کوئی مار پیٹ نہیں ہوتی۔

ہم بھی تو مسلمان کے بنائے ہوئے مکان میں رہتے ہیں۔ محنت مزدوری میں اجرت لیتے ہیں۔ سبزی، گارا، بجری ساتھ اٹھا تے ہیں۔

پر آپ کی نفرت۔ آپ کی آنکھوں میں کتنی نفرت ہے جی۔

یہ مجھ کو پھانسی لگا دے گی۔ آپ سب اس محبت سے نفرت کرتے ہیں جو ہم میں تھی۔ آپ لوگوں کی طرح ہم بھی نفرت کرنے لگے ہیں جی۔ اس کو بھی پھانسی دو، جو میرے ساتھ لڑ رہی تھی۔ ہم برابر، برابر سے گالیاں دے رہے تھے۔

ہانیہ اور سرمد کی خاموشی سے وہ اور بپھر گئی۔

دہائی دیتے سر پیٹنے لگی۔

ہائے غلطی ہو گئی مجھ سے۔ وکیل جی۔ میں سچ کیوں بولی۔ وہ جھوٹ بول کر گھر پر بیٹھی ہوئی ہے۔ میں مجرم بن گئی، میں معافی مانگتی رہی۔ کوئی تو مجھے سنے۔ میری مدد کو آئے۔ میرے تو گھر والے بھی مجھے چھوڑ گئے۔

آپ کے دین میں معافی دیتے ہیں پر انھوں نے مجھے معافی نہیں دی۔ میرے گھر والے محلے والے ڈر سے نہیں بول رہے۔

کہیں ان کو بھی پھانسی نہ لگ جائے۔ وہ کمیٹی والے کہنے لگے سچ بولو گی تو چھوڑ دیں گے۔ لیکن نہیں چھوڑا۔

آپ کے سبز گنبد والے سرکار کی قسم دے رہی ہوں سچ بول رہی ہوں۔ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ بس نکل گئی تھی گالی۔

وہ روتے ہوئے گڑگڑانے لگی۔ لگتا تھا کہ اسے پھانسی سے زیادہ اپنی سہیلی

شاہدہ کے بدلنے پہ غم تھا۔

پر شیداں سچ نہیں بولی۔ کہتی رہی میں نے گالی دی اور اس نے کچھ نہیں کیا۔

وہ سر پکڑے انجانے میں زمین پہ اکڑوں بیٹھ گئی، جیسے وہ خود سے باتیں کر رہی ہو۔ پولیس والی نے جھڑک لگانی چاہی تو سرمد نے ہاتھ کے اشارہ سے منع کر دیا۔ معینہ اپنی رو میں بولتی جا رہی تھی۔

وکیل جی ہم لوگ اب ویسے نہیں رہے جیسے تھے۔ پتہ نہیں کیوں ہم سہیلیاں ہمجولیاں بکھر گئیں۔ محلے ٹوٹ گئے۔ ہم ایک ساتھ فلم بھی دیکھتے تھے۔

اس نے اپنے دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھے۔

سارے علاقے کی زنانیاں ایک ساتھ ٹی وی بھی دیکھتے تھے۔ اب تو دروازے کی طرف نہیں دیکھتے۔ وہ بھی دین والے ہو گئے ہم بھی دین والے ہو گئے۔ پر اپنے اپنے خدا کے، اپنے اپنے نبی کے۔

پر آپ کے نبی سرکار سب سے بڑے ہیں۔ ہیں جی؟ ان کا پیغام بھی بڑا ہے

ایسا ان کے ماننے والے کہتے ہیں۔ آپ لوگ کہتے ہیں۔

تو پھر معافی کیوں نہیں دی انھوں نے۔ یہی ہوا تھا بس۔ یہی ہوا تھا۔

پھر پولیس مجھے پکڑ کے اپنے ساتھ لے گئی۔

معینہ آنسو پونچھتے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

آپ کسی کو بھی بلا کر پوچھ لو۔

وہ اپنے طور پہ اپنی صفائی دے چکی تھی۔ شاید بے بسی محسوس کر رہی تھی۔

سرمد اور ہانیہ دونوں اسے خاموشی سے سن رہے تھے۔

ہانیہ اب گہری سوچ میں مبتلا تھی۔

ہانیہ نے سرمد کی طرف دیکھا جو ہانیہ کی طرف فکر مندی سے دیکھ رہے تھے۔

ہانیہ کے پاس الفاظ نہیں تھے اور سرمد بیگ مصلحتاً خاموش رہے شاید۔

اس عورت کے سامنے کچھ کہنا بے سود تھا۔ سمجھانے کا وقت گزر چکا تھا۔

معینہ ان کی لمبی خاموشی بھانپ کر گھبرا گئی پھر دھڑ لے سے بولی۔

توہین تو مجھے پتہ نہیں کیا ہے جی۔ کیسے ہوتی ہے ہمیں تو ہمارا دین سمجھانے والا کوئی نہیں ہے۔

پر شیداں نے کونسا دین سیکھا۔ ہم سارے ایک جیسے ہیں۔ دین کو مانتے ہیں لیکن دین کبھی پڑھا نہیں ہے۔ سب میرے جیسے ہیں۔ پاکی، ناپاکی تو میں نہیں جانتی لیکن یہ ضرور جانتی ہوں کہ میں جی آپ کے سبز گنبد والی سرکار کی ویسی عزت کرتی ہوں جیسے ہمارے یسوع مسیح کی۔ وہ پاک ہیں نبی ہیں۔

مریم بی بی کی قسم! ہمارے عیسیٰ مسیح کی قسم۔

جو ہماری پاک مریم بی بی کے سچے بیٹے ہیں، نبی ہیں اور خدا کے بیٹے ہیں۔

ہانیہ جو معینہ کی باتوں سے اب تک واقعہ کی حقیقت اور نوعیت جانچ رہی تھی۔ اس جھگڑے اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا رہی تھی اس کا آخری جملہ سن کر بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

کیا کہا تم نے؟

معینہ کے دین اور عقیدے کی بات تھی سو اس نے مستند لہجہ میں دھرائی۔

یسوع مسیح نبی ہیں، پاک ہیں اور خدا کے بیٹے ہیں۔

سرمد بھی ہانیہ کی بے ساختہ ہنسی پر اپنی مسکراہٹ نہ روک سکے۔

ہانیہ!!

سرمد نے بردباری سے انتباہ کیا۔

معینہ اتنا بولنے کے بعد نڈھال تھی۔ اس نے کوئی توجہ نہ کی۔

ہانیہ سرمد کے قریب جھک کر سرگوشی میں بولی۔

اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی محبت اور عقیدت خدا نے ہمارے نبی پاکﷺ جیسی لازم کر دی ہوتی تو خود عیسائی اپنے اس عقیدے پر کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ توہین کے مرتکب ٹھہرائے جاتے۔ یہاں روز ہی کوئی نہ کوئی عیسی علیہ السلام کے ماننے والے عیسائیوں میں سے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین میں پکڑا جاتا۔

سرمد مسکرا دیئے۔ انھوں نے ہانیہ کے پر اعتماد چہرے کو غور سے دیکھا۔

جو،اب قدرے دلچسپی سے معینہ کو دیکھ رہی تھی۔

پھر انھوں نے سنجیدگی سے سوال کیا۔

کیا تم ہانیہ احمد، معینہ کی طرف سے کیس لڑو گی؟

معینہ کی طرف سے ہانیہ کے کاغذات عدالت میں جمع ہو چکے تھے اور عدالت نے تین دن بعد ہانیہ کے معینہ کے حق میں دلائل سننے تھے۔ ہانیہ اسی وقت سے بے چین تھی، کاغذات اس نے جمع کرا دئیے تھے لیکن وہ تذبذب میں مبتلا تھی۔ کیونکہ وہ معینہ کے حق میں کوئی ایک دلیل دینا ہی نہیں چاہتی تھی۔

۔ ۔ ۔

 

چھوٹی پھوپو سے اس کی خوب بنتی تھی۔

پھوپو کے گھر پہنچنے پر پھوپو سے اور ان کے بچوں سے علیک سلیک ہوئی، کچھ دیر کے بعد بچے اپنے کمروں میں گھس گئے۔

یہ سب ہانیہ سے کم عمر تھے۔ لیکن اس کے باوجود پھوپو کے ہاں اس کا بڑا دل لگتا تھا ہفتے میں دو چکر لازمی ہوتے۔ لیکن اب جاب کی وجہ سے ہانیہ کئی ہفتوں بعد آئی تھی۔

بھابھی کو بھی لے آتیں۔ بھائی جان کیسے ہیں؟ آ گئے تبلیغ سے۔

پھوپو نے روایتی حال احوال پوچھا۔

ہانیہ مسکرانے لگی۔ قریب تھا کہ جواب دیتی، پھوپو پھر پوچھ بیٹھیں۔

شکل سے تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔ بات تو میری دونوں سے روز ہو جاتی ہے۔ چھوڑو انھیں۔ تم سناؤ۔ خیر سے کوئی مقدمہ وغیرہ آیا۔ ہم بھی دیکھیں ہماری ہانیہ کیسے جرح کرتی ہے۔ مجھے ضرور بلا لینا عدالتی کاروائی دیکھنے کے لئے۔ بڑا شوق ہوتا ہے۔

پھوپو بولنے پر آتیں تو موقع کم ہی آتا ہے کہ کوئی بیچ میں بول سکے۔

باتوں باتوں میں ان کے قصے شروع ہو جاتے۔ جو کم از کم ہانیہ بڑے شوق سے سنتی تھی۔ اور اس کی چھوٹی پھوپو نصرت اسے بڑی تفصیل سے سنایا بھی کرتی تھیں۔

ہانیہ منمنا کے رہ گئی۔

جی۔

خطرہ تو نہیں ہوتا کوئی۔ میں نے سفارش تو تمھاری کر دی تھی تمھارے والدین سے۔ پر سچ پوچھو تو دل ڈرا رہتا ہے۔ حالات دیکھ کر دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔

ارے نہیں پھوپو۔ اللہ کا شکر ہے اور پھر آپ ہوں، ابو یا امی، اتنی دعائیں دیتے ہیں اتنی دعائیں کرتے ہیں۔ تو کیسے کوئی مشکل ہو سکتی ہے۔

ابو تو اکثر آپ کی بات دہراتے ہیں۔

ہانیہ نے لقمہ دیا۔

ہیں۔ ں۔ ۔ کونسی؟

پھوپو نے پوچھا۔

جب آپ میری حمایت میں بول رہی تھیں۔ یاد کریں۔

احمد بھائی! آپ دینیات کی کتاب بن بیٹھے تھے، کسی نے منع کیا۔ اس بچی کو کیوں وکالت پڑھنے سے روکتے ہیں پڑھنے کو تو کہہ رہی ہے، کونسا پڑھائی چھوڑنے کی بات کر رہی ہے۔

اس کی پھوپو یہ بات کہتے کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

احمد بھائی کا فق چہرہ دیکھنے والا تھا احمد بھائی بولے۔

اچھا تو۔ وہ دینیات کی کتاب میں تھا۔

دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

تم نے خوب بڑی آپا کا انداز اپنایا۔ واہ بھئی کیا بات کو دھرایا ہے

ہانیہ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔

گاہے بگاہے آپا باہر نہ جائیں تو ہم تینوں بہت مزے کریں۔

نصرت بولیں۔

ہو سکتا ہے۔ مجھے تو آپ سے بات کر کے اتنا مزہ آتا ہے سچی سے۔ آپ نے ابو کو خوب قائل کیا تھا۔ ویسے ابو بھی تو آپ کی باتیں دہراتے ہیں۔ باتیں دہرانے کا کام ہمارا خاندانی لگتا ہے۔

ہانیہ نے مذاقاً کہا۔

لیکن نصرت نے قدرے سنجیدگی سےجواب دیا۔

میری باتیں تو تمھارے پھوپا جلیل بھی دہراتے ہیں محض بات پکڑنے کے لئے۔

پھوپو کی خفگی غیر متوقع تھی۔ ہانیہ نے بے ساختگی سے کہا۔

مجھے تو وہ بھی بہت سوئیٹ، بہت لوونگ لگتے ہیں بالکل ابو جیسے۔

رہنے دو اپنے پھوپا کو۔ اپنے وقت پہ سب نے، سب ہی کچھ کیا۔

تم کیوں پیچھے رہو۔ یا میرے بچے۔ بچوں کے وقت میں خواہ مخواہ آڑے آنا۔ جلیل تو یہی کرتے ہیں۔ لیکن احمد بھائی ہر اچھی بات پہ قائل ہوتے ہیں ایسے کتنے مرد ہوتے ہوں گے۔ احمد بھائی جیسے۔ جلیل ہی نہیں ہیں۔

پھوپو نے پھر شکایتی لہجہ میں کہا۔

اس بار ہانیہ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ بات بدلنے کے لئے پوچھ بیٹھی۔

اچھا تو یہ بتائیں۔ ابو کا خفیہ نام کیوں رکھا گیا تھا۔ اور ابو کا نام "دینیات کی کتاب” تھا۔ ان کو کبھی پتہ نہیں چلا۔ کیسے؟

پھوپو ہنستے ہوئیں بولیں۔

ہاں۔ کوئی تیس پنتیس سال پہلے کی بات ہے۔ گھر میں اماں ابا تو باقاعدگی سے نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں اور بڑی آپا اکثر سستی دکھاتے۔ ابا احمد بھائی کو اپنے ساتھ مسجد ضرور لے کر جایا کرتے تھے اور پھر احمد بھائی۔

نصرت نے ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کی۔

وہ کالج نئے نئے جانے لگے تھے سترہ اٹھارہ سال کے ہوں گے۔ ادھر نماز کا وقت ہوا تو عین اسی وقت گھر سے غائب۔ کالج کی ہوا لگ گئی تھی شاید۔

ابا امی کو تلقین کر کے چلے جاتے تھے۔ احمد بھائی کچھ عرصے یہی کرتے رہے۔ ابا برداشت کرتے رہے۔

نالائق آئے تو مسجد بھیج دینا۔

ابا اماں کو روز بلا ناغہ کہتے اور چلے جاتے۔

اماں ابا دونوں ان پڑھ تھے لیکن اپنے بچوں کی تعلیم میں ان کی توجہ بڑی تھی۔ نصیحت بھی بڑی فضیحت کے ساتھ کرتے تھے۔ میں ان دنوں اسکول میں تھی۔ میری بڑی آپا سے بہت اچھی دوستی تھی سو وہ مجھے جہاں شرارتوں میں اپنا ساتھی بنا لیتی تھیں وہیں کوئی بات سمجھا نے میں بھی پیچھے نہیں ہوتی تھیں۔ اماں نے بھی چند دن صبر سے احمد بھائی کے عین نمازوں کے وقت غائب ہونے کو برداشت کیا۔ بلکہ یہ تاثر بھی نہ دیا کہ ایسا کچھ ہوتا ہے اور ابا روز ان کی وجہ سے اماں کو تلقین کرتے ہیں۔

ایک دن ابا نماز کے لئے نکلے پیچھے احمد بھائی گھر میں داخل ہوئے۔

اماں نے بڑے اطمینان سے کہا۔

کالج والے حاضری لگاتے ہیں۔

احمد بھائی نے بڑے فخر سے جواب دیا۔

روز بلا ناغہ۔ حاضری کا رجسٹر ہے۔ روز حاضری لگتی ہے ماسٹر صاحب نہ آئیں تو بھی حاضری ضرور ہوتی ہے چاہے کوئی بھی لے اماں۔

اور کوئی غیر حاضر ہو تو؟

اماں نے اطمینان سے سوال کیا۔

احمد بھائی بڑے تن کے بولے۔

نہ جانے کا سوال ہی نہیں۔ روز کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ پڑھائی ہوتی ہے کالج سے غیر حاضر رہنے والا نالائق معلوم ہوتا ہے۔ پر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں اماں۔

اماں نے اسی شفقت سے جواب دیا۔

ان پڑھ ہیں، کبھی کالج نہیں دیکھا۔ کیا پتہ کیا ہوتا ہے۔ تو تم کسی دن غیر حاضر ہوئے؟

ایک دن بڑی آپا کو ان کے کالج چھوڑتے ہوئے دیر ہو گئی تھی۔ دیر سے پہنچنے پر کلاس میں داخل نہیں ہو سکا تھا اس وقت بہت خالی خالی لگتا رہا۔ افسوس ہوا کہ آیا بھی اور بے سود رہا۔ حاضری الگ رہ گئی تھی۔

حاضری رہ گئی تھی میرے بیٹے کی۔ اماں کا لہجہ مزید میٹھا ہو گیا۔

احمد بھائی سوچ میں پڑ گئے معاملہ کیا ہے۔ اماں پھر گویا ہوئیں۔

اچھا تو یہی حاضری اللہ کے دربار میں بھی لگتی ہے پانچ وقت بلا ناغہ۔ نماز وقت پہ ادا ہو جائے تو اچھا۔ نہ ہوئی تو بھی خدا کے دربار میں دیر سے جانا بھی بے سود نہیں ہوتا۔ ہاں اس کے پاس حاضری کا کوئی رجسٹر نہیں ہے۔ لیکن ہمیں بندوں کو اپنی حاضری خود لگانی ہوتی ہے۔ جب اس کے دربار میں جائیں گے تو جس کی حاضری زیادہ وہی آگے۔ اب حاضری لگ جائے۔ دل نہ چاہے تو خدا خود ان سے پوچھ لے گا۔ کم از کم بندہ کی طرف سے حاضری تو پوری ہو گی۔ اپنی نالائقی تو نہیں ثابت کرے گا وہ۔ باقی کام اس کا ہے جس نے اپنے دربار میں بلایا ہے۔ وہ جانے اس کا کام۔

پھوپو کہتے کہتے آبدیدہ ہو گئیں۔

اماں کی یہی باتیں ہمیں اب تک یاد آتی ہیں کچھ تمھاری بڑی پھوپو احمد بھائی کو چھیڑا کرتی تھیں تو اماں کے لب و لہجے میں اماں کی ڈانٹ اور نصیحتیں یاد دلاتیں۔ مجھے تو ذہن نشین ہو گئی تھیں۔

میں نے تو دادی اماں کو دیکھا ہی نہیں۔

ہانیہ نے خالی پن سے کہا۔

ہمارے بچوں نے کونسا دیکھا ہے۔ لیکن میں اکثر اماں کی باتیں بتایا کرتی ہوں۔ احمد بھائی والی نہیں اور نہ تھارے پھوپا والی۔ بس روز کی۔ وہ بھی کبھی کبھار۔

ہانیہ پھوپو سے قریب ہو کر یاد دلاتے ہوئے بولی۔

پھوپو۔ آج وہ تصویر دکھائیں نا۔ جس میں آپ پھوپا اور ابو ہیں۔ پھوپا نے آپ کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ آپکی شادی سے پہلے کی تصویر جو ہے۔

پھوپو ذرا سنجیدگی سے بولیں۔

کتنی بار دیکھو گی۔

لیکن آپ نے تفصیل تو کبھی نہیں بتائی نہ۔

ہانیہ نے خوش دلی سے کہا، لیکن ان کو افسردہ دیکھا تو بات بنانے لگی۔

پہلے یہ بتائیں کہ ابو کا نام دینیات کی کتاب کیسے پڑھا جب وہ نماز سے بھاگتے تھے۔ پھر کیا ہوا؟

پھوپو ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔

وہ بھی کیا اچھا وقت تھا۔ سب کچھ کتنا پیارا پیارا ہوتا تھا۔ بھائی بہن میں سچائی، پیار اور برداشت تھی۔ بس پھر شائستہ آپا نے نوٹ کیا کہ احمد کو جب سے اماں نے جھاڑ پلائی ہے۔ جب سے وہ کچھ کچھ سنجیدہ ہو گئے ہیں۔ جب دیکھو اپنی شلوار اوڑستے نظر آتے ہیں۔ اور شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے لگے ہیں۔ ابا اماں نے راز داری سے ایک دوسرے کو آگاہ کر دیا۔ معاملہ ہے کیا۔ دونوں انجان بنے رہے۔ لیکن تمھاری بڑی پھوپو شائستہ آپا کہاں نچلی بیٹھنے والی تھیں، لگ گئیں احمد بھائی کی ٹوہ میں۔ کہ چل کیا رہا ہے۔ اس نصیحت کا اثر تھا یا کیا۔ ۔ اللہ جانے۔ بس پھر احمد بھائی بدل گئے۔ پھر شاید ہی کوئی نماز چھوڑی ہو۔

شائستہ آپا ابا سے کبھی کبھی کہتیں کہ ابا آپ کا نالائق اتنا لائق فائق ہو گیا۔

اب آپ تعریف تو کر دیں۔ ابا مسکرا کر رہ جاتے۔ بزرگوں کی کیا اچھی روش تھی۔ کون سمجھے گا اب اسے۔ بات کبھی جتلاتے نہیں تھے۔

خیر بھئی پھر تمھارے ابو نے کالج کی پڑھائی بھی خوب کی اور دین کی بھی۔

کئی کتابیں گاہے بگاہے لے آتے۔ شروع میں شائستہ آپا نے کافی آڑے ہاتھوں لئے رکھا کہ اماں ابا کو بھرم دینے کا ناٹک کب تک چلے گا۔

کب تک بھرم کراؤ گے میاں احمد۔ اب وہ کچھ پکڑیں تو اماں ابا کو آگاہ کریں۔ لیکن وہ غلط ثابت ہوئیں۔ ہوتے ہوتے جو کتابیں احمد بھائی لاتے، بڑی آپا بھی لگے ہاتھوں پڑھنے لگیں۔ فلسفہ، تاریخ، اسلام، جیوگرافی سب پڑھ لیتیں۔ کہ کچھ بڑے ہونے کا رعب ڈالیں۔

ذرا جانچتی رہیں۔ اسی پہ آپس میں دونوں میں بحث مباحثے بھی خوب ہونے لگے۔ ا نہی دنوں آپا نے احمد بھائی کا نام دینیات کی کتاب ڈال دیا۔ احمد بھائی کا تمام فلسفہ اسلام پہ آ کر ختم ہو جاتا تھا۔ اور آپا احمد بھائی کی تعریف کچھ یوں کرتیں کہ کسی کو خبر نہ ہو۔

ہماری دینیات کی کتاب یوں، دینیات کی کتاب ووں۔ دینیات کی کتاب نے یہ کہا وہ کہا۔ یہ کتاب لایا۔ دینیات کی کتاب ایسی ایسی لاجک لاتا ہے اور یوں کہ آپا کو وہ کتاب پڑھتے ہی بنتی ہے۔

البتہ میں کتابوں سے ذرا دور تھی۔ آپا ہم کو کبھی کبھی کوئی اچھی کتاب سنا دیا کرتیں۔ کبھی پتلی سی کوئی کتاب ہمیں بھی پڑھنے کو کہہ دیتیں۔ ۔ احمد بھائی جوں جوں کلاسوں میں آگے جاتے رہے ان کی کتابوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ان کی شیلف میں ہر طرح کی کتاب نے جگہ بنا لی تھی۔

مجال ہے اماں ابا نے احمد بھائی کو پھر کسی بات پہ روکا ہو ٹوکا ہو۔ یا خواہ مخواہ کی جھڑک لگائی ہو۔

اماں اتنی برد بار اور سمجھدار تھیں آج بھی یقین نہیں ہوتا کہ وہ ان پڑھ تھیں۔ آج کے کئی تعلیم یافتہ سے آگے۔ ابا تو پھر باہر کی دنیا سے واقف تھے۔ پر اماں تو گھر سے باہر کم جاتی تھیں لیکن اماں کے پاس دین کی تعلیم اور آداب کے علاوہ کیا تھا وہی انھوں نے کمال سمجھداری سے اپنائے ہوئے تھے۔ ارے ہماری تو اماں تھیں ہم میں وہ سمجھداری نہیں جو اماں میں تھی۔ کبھی کبھار تو ہم دونوں بہنیں تعلیم یافتہ ہو کر ان کے آگے جاہل لگتے تھے۔ یہی سوچ کر تمھاری حمایت میں بول لی۔ کہیں احمد بھائی بھی یہی نہ کر رہے ہوں جو اکثر میں کرتی ہوں۔ بلاوجہ کی روک ٹوک۔

یہ تھی اتنی ذرا سی بات۔ بس اس بنا پہ احمد بھائی کا نام ڈال دیا۔

لیکن یہ صرف ہم دونوں بہنوں کے درمیان تھا۔ احمد بھائی کے کان میں تو پڑتا تھا لیکن انھوں نے کبھی پوچھا نہیں "دینیات کی کتاب ” کس کی بات ہو رہی ہے۔

نصرت پھوپو نے سچائی سے کام لیتے ہوئے بات مکمل کی۔

بہت اچھا زمانہ ہو گا پھوپو۔ آپ میری بہت اچھی پھوپو ہیں بہت لوونگ ہیں۔ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔ آپ کی انکنڈیشنل سپورٹ کا بہت شکریہ۔

ہانیہ جو اب ہشاش بشاش تھی محبت سے بولی۔

نصرت پھر بولیں۔

ہم اکثر و بیشتر بچوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ جان ہلکان کئے دیتے ہیں۔ کہ یہ کرو وہ کرو۔ ۔ میں ایسی اماں کی بیٹی ہو کر اپنی اماں کے پاسن نہیں۔ احمد بھائی جیسی عادت جلیل میں نہیں ہے۔ نہ ان جیسی دینی تعلیم۔ دنیاوی بہت تھی۔ کچھ سال پہلے سب ترک کر دیا۔ تمھیں شاید یاد نہ ہو تم کافی چھوٹی تھیں۔

اچھا۔ ۔ !!!

ہانیہ کے لئے گویا یہ انکشاف تھا۔ کہنے لگی۔

لیکن وہ تو ابو سے بھی کہیں زیادہ مذہبی لگتے ہیں میرا مطلب ایسے ہی ہوں گے ینگ ایج سے۔ لگتا تو ایسا ہی ہے۔

ہمارے کزن تھے بچپن سے ہم ان سے منسوب تھے۔ اب کیا ذکر کرنا۔

ہانیہ کو سمجھ میں نہ آیا اب وہ کیا کہے۔ اس نے اپنی پھوپو کو جذباتی کر دیا تھا۔

وہ خود کو اپنے خیالات سے آزاد کرانے کی کوشش میں شاید ان کے ماضی کو کھینچ لائی تھی۔

پھوپو جا کر وہ ڈبہ ہاتھ میں اٹھا لائیں یہ پرانی تصاویر کا ڈبہ تھا اس میں پھوپو کی شادی کی چند تصاویر رکھی تھیں۔ ہانیہ نے یہ فوٹو کئی بار کے دیکھے ہوئے تھے۔ لیکن اس میں دو چار بلیک اینڈ وائٹ تصاویر نئی تھیں۔

جو ہانیہ نے چند سال پہلے پہلی بار دیکھی تھیں۔ ایک تصویر میں دادا،دادی بہت جوان تھے اور ان کے بچے اتنے چھوٹے تھے کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو نہ پہچان سکی تھی۔

ارے بھئی ہم ہیں بہنیں بھائی اور اماں ابا۔

اس کی نصرت پھوپو نے اس کے پوچھنے پہ بتایا تھا۔

وہ تصویر بغور دیکھتی چلی گئی، وہ اپنے دادا دادی کی فین ہو گئی تھی۔

کیا پہناوا اور سادگی تھی۔ وہ دونوں بہت پر وقار شخصیت کے مالک تھے۔ اور وہ بھی اتنی جوانی میں۔ دوسری تصویر میں اس کے جلیل پھوپا، نصرت پھوپو اور ابو سمندر کے کنارے کھڑے تھے۔ یہ ان لوگوں کی نوجوانی کی تصویر تھی۔ تصویر لینے والی اس کی بڑی پھوپو شائستہ تھیں۔

اسی تصویر میں پھوپا، نصرت پھوپو کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں تینوں مسکرا رہے ہیں۔ تینوں پینٹ بشرٹ پہنے ہوئے تھے۔

ہانیہ کے ذہن میں اس تصویر کو دیکھ کر کئی سوالات ابھرتے تھے لیکن پھوپو جواب دینے کے بجائے ہر بار اس کے ہاتھ سے فوٹو لے کر ڈبہ میں بند کر دیتی تھیں۔ بس یہ بتایا تھا کہ تصویر شائستہ آپا نے کھینچی تھی۔ شادی سے کہیں سال پہلے کی تصویر تھی۔

آج ہانیہ کے پوچھنے پر وہ ڈبہ اٹھا لائیں اور وہی تصویر ہانیہ کے ہاتھ میں تھما دی۔ انتظار میں تھیں کہ اب ہانیہ کوئی سوال پوچھے۔ ۔

ہانیہ نے سمجھداری کا مظاہر کرتے ہوئے پوچھا۔

اچھا تو کیمرہ کس کا تھا؟ اس وقت کیمرہ نایاب ہو گا۔

بالکل نایاب۔ تمھارے جلیل پھوپا کا تھا۔ وہ بہت فیشن ایبل تھے۔ قسم قسم کے ہیئر اسٹائل بنانا۔ نئے نئے شوق اپنانا ان کا یہی کام تھا۔ ہر وقت بنے ٹھنے رہتے تھے۔ پرفیومز کی ایک بڑی کلیکشن تھی۔ میرے تو سمجھو کزنز میں آئیڈیل تھے۔ پھر جب ہمیں یہ خبر لگی کہ ہم تو ان ہی سے منسوب ہیں تو گویا ہماری تو لاٹری نکل آئی ہو۔ تمھارے ابو اس وقت تک باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگے تھے۔

یہ تصویر اس واقعہ کے بعد کی ہے جو میں نے ابھی سنایا ہے۔ زیادہ نہیں بس چند ماہ بعد کی ہے۔ جلیل کسی بیرون ملک کا چکر لگا کر آئے تھے اور جلیل کی خواہش پہ یہ پروگرام احمد بھائی نے بنایا تھا۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔ ہانیہ نے اجازت چاہی۔

ڈرائیور ہو گا، میں چلتی ہوں۔

ہانیہ کو جانا ہی مناسب لگا۔ اس کی پھوپو شاید ہانیہ کی بہت دن کی غیر حاضری پر باتوں کے موڈ میں تھیں۔ بولیں۔

تھوڑی دیر اور بیٹھ جاؤ گھر اتنا دور بھی نہیں ہے کہ بھاگو۔ آدھی رات کو پہنچو گی۔

وہ اب پھوپو سے زیادہ خود اپنے جذبات اور تذبذب کو چھپانا چاہتی تھی جس کا وہ شکار تھی۔

اسے محسوس ہوا پھوپو کہیں اسے جذباتی نہ کر دیں اور وہ جذباتی ہو کر ان کو بتا نہ بیٹھے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کا پہلا کیس لڑنے کا راز فاش ہو جائے گا۔ اور پھوپو اس کیس کی سنگین نوعیت جانتے ہوئے اسے کیس واپس لینے کو نہ کہہ دیں۔ یا امی ابو کو بتا دیں اور وہ بھی یہی حکم دے ڈالیں۔

بات اب کسی بھی حکم سے آگے کی تھی۔ ہانیہ یہ بات جان چکی تھی۔

بات اب اس فیصلے پہ قائم رہنے کی تھی۔ وہ کیس لے چکی تھی۔

اس کا دین جہالت کے درمیان آ پڑا تھا۔ اور اسے دین کی حفاظت کرنی تھی۔ اس دین کی جو کسی ظلم و جبر، سزا و قتل، احتجاج و جذبات اور شدت پسندی و انتہا پسندی سے بالا تھا۔ لیکن اسی جہالت کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا۔ ان سب سے بلند پیغام برداشت، عفو و درگزر اور معافی تھا جو اس کیس میں کہیں نہیں تھا۔

اسوقت اسلام کے پیغام پہ جہالت کا اندھیرا چمٹا ہوا تھا۔ انہی حالات میں اسے علم اور دینی تعلیمات کی اہمیت کا بھرپور اندازہ ہوا تھا۔

وہ معینہ یا شاہدہ کے حق میں بولنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے لئے حضورﷺ کا عمل و کردار ہی سب سے بڑا جواب تھا یہی اس کیس کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ ننانوے ناموں میں سے ایک نام، رحمت العالمین اس مقدمہ کا جواب تھا۔

صرف ایک نام۔

حضورﷺ رحمت العالمین تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے یہی عدالت میں اس کی اس کیس میں دلیل تھی۔

کیا ہوا۔

پھوپو اس کی گہری سوچ پہ پوچھ بیٹھیں۔

اس کی نصرت پھوپو شاید یہ سمجھیں کہ ہانیہ کی افسردگی کی وجہ وہ ہیں سو لگیں پھر تفصیل بتانے۔ اپنی دانست میں گویا ہانیہ کو منانے۔

اب تم پوچھو جب جلیل ہمارے آئیڈیل تھے تو پھر ہم اب ان کی تعریفیں کیوں نہیں کرتے؟

ہانیہ نے مسکرا کر پھوپو کو دیکھا۔ ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ پھوپو ابھی تک وہیں تھیں اسی موضوع پہ اور وہ ایک آن میں پوری کائنات کا گویا چکر لگا آئی ہو یا تمام علوم کا مطالعہ کر لیا ہو۔ اسے واقعی ان بدلتے معاملات اور رویوں کی خبر بھی نہ تھی جو اس خاندان میں ہوئے تھے۔ جبکہ وہ اس خاندان کا حصہ تھی اور ہے۔

ہم کتنا کم جانتے ہیں نا پھوپو۔ اور دعوی ساری دنیا کو جاننے کا کرتے ہیں۔ اچھا بتائیں پھوپو۔ کیوں تعریف نہیں کرتیں۔ میں تو سمجھتی تھی پھوپا شروع سے ابو جیسے ہیں نماز روزے کے پابند، مذہبی۔ بلکہ ابو کو میں نے کبھی مساجد،مدارس میں چندہ دیتے نہیں دیکھا۔ پھوپا تو کتنے شوق سے اہتمام کرتے ہیں، ابو کو بتاتے ہیں میں تو ان کو ابو سے بہتر عمل کرنے والا سمجھتی ہوں۔

ہانیہ نے دبے دبے لہجہ میں کھل کر اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔

اس کی پھوپو کا منہ اتر گیا۔ قدرے افسردگی سے بولیں۔

ہانیہ میرے بچی شاید تم کبھی نہ سمجھو۔ لیکن کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، میں بھی دوسری عورتوں کی طرح ان پڑھ ہوتی تو جلیل کے ان رویوں پہ کڑھتی نہیں، بلکہ کتنی خوش ہوتی۔ جگہ جگہ ان کے گن گاتی۔ وہ اس تعریف سے بہت خوش رہتے۔ لیکن یہ کتنا جھوٹ ہوتا۔ اور مجھے اپنی کم علمی، کم فہمی، ان پڑھ ہونے کا شائبہ بھی نہ گزرتا۔ میری اس ستائش پہ میری قدر ہوتی۔ میں اچھی بیوی کہلاتی۔ کتنا جھوٹ ہوتا میرے بچے، کتنا جھوٹ ہوتا یہ سب۔ میں بے خبر رہ کر خود کو جنتی مان بیٹھتی۔ فخر کرتی کہ میں ایک بہترین عورت ہوں جس کو اتنا اللہ والا شوہر ملا ہے۔

تمھیں ابھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔

بس یہ سمجھو احمد بھائی نے اسلام دینی و دنیاوی تعلیمات کے بعد سمجھا ہے۔

تمھارے پھوپا کو معاشرے نے اور بڑھتی عمر کے تقاضوں نے دین کی طرف دھکیلا ہے۔

مجھے دکھ اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ دین کی طرف آئے مجھے دکھ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ کسی ان پڑھ کی طرح دین پہ قابض ہوئے۔ وہ تو پڑھے لکھے ہیں، پڑھنے لکھنے کی اہمیت جانتے ہیں، پھر صرف نماز روزہ صدقہ خیرات دین کی مکمل تعلیم کیسے ہو سکتا ہے۔ دین کی تعلیم ضروری ہے۔

وہ دین میں محض اپنے حلیہ اور لباس کی وجہ سے داخل ہو گئے ہیں، معتبر کہلائے جاتے ہیں۔ کیونکہ صدقہ خیرات کرتے ہیں۔ پر در حقیقت دین کے معاملے میں ان پڑھ ہیں۔ بالکل نابلد، ان پڑھ۔

پھوپو کی آواز ان کے آخری جملے پہ لرز گئی اور یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔

پھوپو پلیز۔ روئیں تو نہیں۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔ میں آپ سے کبھی نہیں پوچھتی۔

اپنی پھوپو کے ساتھ وہ بھی آبدیدہ ہو گئی، ان سے لپٹ گئی۔

پھوپو کل ایک کیس کا فیصلہ ہونا ہے یاد ہے،چند سال پہلے بلاس فیمی کا ایک کیس ہوا تھا۔ گلی محلے کا روز مرہ کا جھگڑا تھا۔ جس میں ایک عیسائی عورت نے بد زبانی کی تھی۔ اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے پہ نظر ثانی کی اپیل ہائی کورٹ میں داخل ہوئی تھی۔ کئی سال اس کے فیصلے میں توسیع ہوتی رہی، لیکن کل اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس مقدمہ میں اب ایک وکیل میں بھی ہوں۔

وہ ایک سانس میں سب کہہ گئی۔ کہیں پھوپو اس سے جرح نہ شروع کر دیں۔

پھوپو نے اسے خود سے دور کیا۔ اسے بغور دیکھنے لگیں۔

ہانیہ نے بات جاری رکھی۔

اس عیسائی عورت کی طرف سے اس کی وکیل۔

پھوپو کا ہاتھ ان کے منہ پہ خود بہ خود اٹھ گیا۔ حیرت سے بولیں۔

ہانیہ۔ پر مجھے تو کسی نے بتایا بھی نہیں۔ نہ بھابھی نے نہ بھائی نے۔

ہانیہ نے اعتماد سے کہا۔

پھوپو ان کو بھی نہیں پتہ۔ میں نے اس ڈر سے نہیں بتایا کہیں واویلا نہ ہو جائے۔ مجھے یقین تھا ابو کچھ نہیں کہیں گے۔ آخر ابو نے وکالت کی پریکٹس کی اجازت بھی تو دی تھی آپ کی سفارش کے بغیر۔ لیکن امی ان کو اتنا ہولائیں گی کہ ابو بے سکون ہو جاتے۔ اور امی۔ وہ تو اب بھی صاف صاف منع کر دیں گی۔ بس اسی وجہ سے نہیں بتایا۔

اس کی پھوپو نے فوراً شیریں بھابی کی طرفداری میں جملہ داغا۔

شیریں بھابی بھی ماں ہیں۔ ماؤں کو ڈر تو اپنی اولاد کا، اپنی ممتا کا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ان کی پریشانی، ان کا ہولنا جائز ہوتا بیٹا۔

ہانیہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بولی۔

پھوپو یہ سب میں نہیں جانتی۔ مجھے اگر فکر تھی تو ابا کی۔

نصرت نے پوچھا۔

وہ کیوں؟ وہ تمھاری رہنمائی کر سکتے تھے۔

ہانیہ نے اپنا اندیشہ، اندر کا خوف بیان کیا۔

لوگوں کی ذہنیت اور جہالت دیکھتے ہوئے مجھے ڈر تھا کہ کہیں محلے میں خبر ہو گئی یا یہ بات پھیل گئی اور۔ میڈیا میں بھنک پڑ گئی تو؟؟

پھوپو نے پوچھا۔

تو!! تو کیا؟؟ خبر پھیلتی تو کیا ہوتا۔

ہانیہ زچ ہو کر بولی۔ جیسے یہ بات نہ بتانا چاہتی ہو۔ یہ ہانیہ کے اندر کا ڈر تھا جو بول رہا تھا۔

یہی کہ ابو تو تبلیغ میں ہیں، نہ بھی ہوتے تو بہترین انسان ہیں، انسان دوست ہیں۔ اچھے مسلمان ہیں۔ تبلیغ میں تو وہ ابھی چند سال میں گئے، وہ ایک اچھے مسلمان پہلے سے تھے۔ اگر میں یہ مقدمہ ہار جاتی ہوں اور معینہ کو پھانسی ہو جاتی، تو میرے باپ ہونے کی وجہ سے ابو کو مذہبی انتہا پسند اپنا ہیرو سمجھتے اور آزاد انتہا پسند مذہبی جنونی گردانتے جو کہ مجھے گوارا نہ ہوتا۔ اور اگر مقدمہ جیت جاتی ہوں اور معینہ مسیح بری ہو جاتی ہے تو مذہبی انتہا پسند میرے ابو کو ڈھونگی، کافر اور ایجنٹ کے نام دیتے اور آزاد انتہا پسندوں کے وہ ہیرو ہوتے۔

میری وجہ سے میرے ابو کا دین و ایمان گھسیٹ لیا جاتا پھوپو۔

بس یونہی نہیں بتا سکی۔ میں ڈری ہوئی تھی۔ میں ڈری ہوئی ہوں۔

میری وجہ سے میرے ابو کا ایمان گھسٹ لیا جاتا۔ انہیں طرح طرح کے نام ملتے، جو سارے انتہا پسند پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ آپس میں ایک دوسرے کو دیتے ہیں وہی نام اس مسلمان کو بھی ملتے، جس کا اس مقدمے میں کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ میں اپنے ابو پہ ان کے نہ کئے کی کوئی سزا کوئی جزا

مسلط نہیں کرا سکتی۔ اور نہ ہی کسی کو یہ حق ہے کہ بلاوجہ بلا جواز کسی کو کسی اور کی سزا و جزا مسلط کرے۔ یہ مقدمہ لڑنے کا فیصلہ میرا ہے۔ اور میں اس پہ قائم ہوں۔ میں انتہا پسند سوچ سے برداشت کا عمل بہتر سجھتی ہوں۔ اس کیس سے بھاگنا بھی جہالت ہوتا۔

پھوپو نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا۔ گلے لگا لیا۔

مجھے فخر ہوا۔ تمھاری بات سن کر بہت فخر ہوا۔ تم تو صحیح وکیل بنی ہو۔

ماشا اللہ! احمد بھائی خوش نصیب ہیں۔ اب تو مجھے کوئی فکر نہیں۔ بس تو،کل میں آ رہی ہوں کاروائی دیکھنے۔

پھوپو کے اس رد عمل پہ وہ حیران بھی تھی اور خوش بھی۔ لیکن ان کی طرف سے یہ رویہ غیر متوقع نہیں تھا۔ پھر بھی ان کے آج کے انکشافات کے بعد وہ پوچھ بیٹھی۔

جلیل پھوپا کو معلوم ہوا تو؟

پھوپو پہلی بار فکر مند ہونے کے بجائے مسکراتی نظر آئیں۔ بولیں۔

جلیل لاکھ دین میں ان پڑھ سہی۔ اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ معاشرے میں چند برسوں سے پھیلی جہالت، گرتے اخلاق اور بگڑی اقدار سے واقف ہیں۔ وہ یہ جہالت دیکھ سکتے ہیں۔ اسی دینا داری پہ تو سمجھتے ہیں دین آتا ہے۔ ان ہی انسانیت کے برابر اصولوں پہ تو سمجھتے ہیں کہ اسلام بھی آ گیا ہے۔

وہ بھی اس پھانسی کے خلاف ہوتے۔ بہت ممکن ہے اس بات کے جاننے کے بعد وہ بھی دین کی تعلیم لے لیں۔

ہانیہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ پھوپو کے ساتھ وہ بھی ہنس پڑی۔ اس کا یہاں آنا غیر ارادی سہی لیکن بے سود نہیں گیا۔

چلتی ہوں پھوپو۔

ہانیہ نے اجازت لی۔ پھوپو گیٹ تک آئیں تو چلتے چلتے پوچھا۔

کل تمھارا جواب کیا ہو گا؟ میں نے خوامخواہ تمھارا وقت لیا۔ تم کو تیاری کرنی ہو گی؟

تیاری کیا کرنی ہے پھوپو۔ یہ تو بحیثیت مسلمان ہم سب کو پتہ ہونا چاہئیے۔

اس کیس کے جواب میں ہمارے نبی پاکﷺ کا نام ہی کافی ہے۔

رحمت العالمین۔

پھوپو بر جستہ بولیں۔

بے شک۔

ہانیہ عدالت میں یہی بات دہرا رہی تھی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔

وہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ جناب والا۔

انھوں نے اپنے لئے کسی کی جان نہیں لی۔ اپنے لئے کوئی لڑائی نہیں لڑی۔

یہاں تک کے اپنی آل کو بچانے کیلئے ایک یزید کو قتل نہیں کیا نہ کرایا۔

جنگ و جدل کا خدشہ ہوا تو ہجرت کر لی اپنے لئے لوگوں کی جانیں نہیں لیں۔ ان کی کوئی تعلیم ان کی ذات کے لئے نہیں ہے۔ ان کے نام و ناموس کو خطرہ کیسے ہو سکتا ہے ان کا نام ہی اسلام ہے۔

اور ہمیں اپنا دین اسلام اپنا ایمان بچانا ہے،وہ بھی اسلام کی رو سے،اپنے نبیﷺ کے کردار کی روشنی میں۔ یہ ہمارے کردار کا امتحان ہے۔

کوئی بھی انسان پڑھا لکھا پیدا نہیں ہوتا علم اور تعلیم حاصل کرتا ہے یا حاصل نہیں کر پاتا۔ یہیں سے اس کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

دین اور ایمان کا معاملہ پھر خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔

انسان خدا اور بندے کے درمیان کے معاملات میں فیصلے سے مستثنیٰ ہے۔

ہانیہ نے عدالت میں اعتماد کے ساتھ اپنی بات مکمل کی۔

وہ شدت جذبات سے بھری ہوئی تھی لیکن اس نے تحمل سے اپنی دلیل پیش کر دی تھی۔ عدالت میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ پیچھے سے تالی ابھری۔ ہانیہ نے پلٹ کر دیکھا تو سرمد بیگ اپنی بینچ کے ساتھ کھڑے اس کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ تالی بجا رہے تھے۔

پیچھے کاروائی دیکھنے والوں میں پھوپو اور اس کی امی بھی موجود تھیں۔

اس کی پھوپو اپنے آنسو پونچھ رہی تھیں،امی کو دیکھ کر اسے حیرانی ضرور ہوئی لیکن ان کو مسکراتا دیکھ کر ہانیہ بھی اعتماد سے مسکرا دی۔

عدالت اور سرمد بحیثیت سنیئر وکیل کے، دونوں نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا تھا۔

عدالت نے فوراً ہی اپنا فیصلہ سنا دیا۔ معینہ مسیح کو بری کر دیا گیا تھا۔

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں