لفظ لفظ
فیض احمد فیضؔ
ترتیب و تدوین : اعجاز عبید
ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا نمونہ پڑھیں
لفظ لفظ
کلیات فیضؔ
فیض احمد فیضؔ
پیشکش: اعجاز عبید
ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے
پہلا لفظ
فیض جیسے اہم شاعر کی کلیات یوں تو پہلے بھی شائع ہو چکی ہیں، ’حرف حرف‘، ’سارے سخن ہمارے‘ اور ’نسخہ ہائے وفا‘ کے نام سے جو اکثر فیض کی حیات میں ہی شائع ہو چکی تھیں۔ اگرچہ ان میں ترتیب میں کچھ کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ آخر اس مزید کلیات کی ضرورت کیا تھی؟
لیکن ذرا آپ پیچھے ۲۰۰۶۔۲۰۰۷ کی صورت حال پر غور کریں۔ اردو (اور یہاں اردو سے میری مراد محض یونیکوڈ اردو ہے، تصویری شکل میں جو اردو ادب کا جو مواد دستیاب تھا، وہ اردو نہیں، محض تصویریں تھیں جو گوگل جیسے متلاشی انجن کے اختیار سے باہر تھیں) کے نقوشِ قدم انٹرنیٹ پر بہت موہوم تھے۔ فیض کا کچھ ہی کلام دستیاب تھا۔ اس وقت ۲۰۰۶ء میں اردو ویب داٹ آرگ کی اردو محفل فورم وجود میں آئی۔۲۰۰۷ء کے ابتدائی مہینوں میں ہی محفل کے رکن وہاب اعجاز خان نے فیضؔ کے پہلے دونوں مجموعے ’نقش فریادی‘ اور ’دست صبا ‘ ٹائپ کر کے پوسٹ کر دئے تھے، تب اگست ۲۰۰۷ء میں مجھے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ مکمل کلیات جمع کی جائے۔(اور اس کا نام ’حرف حرف‘ سے امتیاز کرتے ہوئے ؔلفظ لفظ‘ رکھا جائے)۔ معلوم ہوا کہ ایک اور رکن سیدہ شگفتہ پہلے ہی ’شام شہر یاراں‘ ٹائپ کر چکی ہیں مگر اردو محفل میں پوسٹ نہیں کر سکی تھیں۔ ’دست تہہ سنگ‘ بھی اسی طرح کچھ حد تک دستیاب تھا۔ ’مرے دل مرے مسافر‘ اور ’غبار ایام‘ اور بقیہ متن ٹائپ کرنے میں محفل کےہی ارکان فاتح الدین بشیر، محمد وارث (اسدؔ ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے) سیدہ شگفتہ اور میں لگ گئے اور ۲۰۰۸ء میں ’لفظ لفظ‘ میری لائبریری میں، جو اب مرحوم ہو چکی، مکمل ٹائپ ہو کر شامل ہو چکی تھی۔ بعد میں اسے ۲۰۱۱ء میں اردو ویب کی ہی چینل پر منتقل کیا گیا۔۲۰۱۳ء میں پہلے ریختہ وجود میں آیا، لیکن اب تک بھی کچھ منتخب متن ہی ریختہ پر یونیکوڈ اردو میں موجود ہے، اگرچہ سکین کی ہوئی کلیات شامل ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں ہی جب بزم اردو لائبریری وجود میں آئی تو اس کا مواد وہاں بھی ۲۰۱۷ء میں پہنچا دیا گیا۔ اس زمانے میں یہ کوشش ہوتی تھی کہ فائلیں زیادہ بڑی نہ بنیں کہ اس دور کی سست رفتار انٹر نیٹ پر بھی ڈاؤن لوڈ کی جا سکیں۔ اس لئے یہ کلیات تین حصوں میں بنائی گئی تھی۔ بزم اردو لائبریری پر کیونکہ صرف متن پوسٹ کیا جاتا تھا، اس لئے اس میں بھی تین حصے ہی رکھے گئے۔
اب پہلی بار اسے مفت کتب ڈاٹ کام پر مزید تصحیح اور ترمیم کے ساتھ واحد فائل کی صورت مہیا کیا جا رہا ہے۔ترمیم سے مراد ترتیب کی تبدیلی، یا کچھ مجموعوں میں بغیر عنوان کے یا قطعہ کے عنوان سے چار مصرعے شائع ہوئے ہیں جب کہ ان میں موجود تخئیل کے لحاظ سے یہ غزل کے اشعار زیادہ محسوس ہوتے ہیں، انہیں ’اشعار‘ کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔ اور اس بار اس کلیات میں صرف شاعری رکھی گئی ہے، اور فیض’ کے سارے مجموعوں میں شامل نثری مواد کو ایک علیحدہ ای بک میں شامل کیا گیا ہے جو ’متاع لوح و قلم‘ کے نام سے الگ سے شائع کی جا رہی ہے۔
اس پر ہمیں فخر ہے کہ اصل اردو، یونیکوڈ اردو میں فیض ہی نہیں، دوسرے ادیبوں کی معیاری تخلیقات کا ماخذ اب بھی اردو محفل کے ان ہی دیوانوں کی محنتوں کا ثمر ہے۔
امید ہے ہماری یہ کوشش پسند خاطر ہو گی۔
اعجاز عبید
نقشِ فریادی
برو اے عقل و منہ منطق و حکمت درپیش
کہ مرا نسخۂ غمہائے فلاں درپیش است
عرفی
قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
٭٭٭
دل رہینِ غمِ جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفلِ ہستی
اے غمِ دوست تو کہاں ہے آج
٭٭٭
خدا وہ وقت نہ لائے۔۔۔۔۔۔
خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے
تری مسرّتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے
وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
فریبِ وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے
٭٭٭
حسن مرہونِ جوشِ بادۂ ناز
عشق منت کشِ فسونِ نیاز
دل کا ہر تار لرزشِ پیہم
جاں کا ہر رشتہ وقفِ سوز و گداز
سوزشِ دردِ دل کسے معلوم!
کون جانے کسی کے عشق کا راز
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز
ہو چکا عشق، اب ہوس ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز
تو ہے اور اک تغافلِ پیہم
میں ہوں اور انتظارِ بے انداز
خوفِ ناکامیِ امید ہے فیض
ورنہ دل توڑ دے طلسمِ مجاز
٭٭٭
انتہائے کار
پندار کے خوگر کو
ناکام بھی دیکھو گے؟
آغاز سے واقف ہو
انجام بھی دیکھو گے
رنگینیِ دنیا سے
مایوس سا ہو جانا
دکھتا ہوا دل لے کر
تنہائی میں کھو جانا
ترسی ہوئی نظروں کو
حسرت سے جھکا لینا
فریاد کے ٹکڑوں کو
آہوں میں چھپا لینا
راتوں کی خموشی میں
چھپ کر کبھی رو لینا
مجبور جوانی کے
ملبوس کو دھو لینا
جذبات کی وسعت کو
سجدوں سے بسا لینا
بھولی ہوئی یادوں کو
سینے سے لگا لینا
٭٭٭
انجام
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں
محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے
سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں
مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں
تڑپتی ہیں آنکھوں میں لاکھ التجائیں
تغافل کے آغوش میں سو رہے ہیں
تمہارے ستم اور میری وفائیں
مگر پھر بھی اے میرے معصوم قاتل
تمہیں پیار کرتی ہیں میری دعائیں
٭٭٭
عشق منت کش قرار نہیں
حسن مجبور انتظار نہیں
تیری رنجش کی انتہا معلوم
حسرتوں کا مری شمار نہیں
اپنی نظریں بکھیر دے ساقی
مے باندازۂ خمار نہیں
زیر لب ہے ابھی تبسم دوست
منتشر جلوۂ بہار نہیں
اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں
چارۂ انتظار کون کرے
تیری نفرت بھی استوار نہیں
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں
٭٭٭
آخری خط
وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے
جب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں
اور حد سے گزر جائے گا اندوہِ نہانی
تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں
چھن چائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیں
چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی
شاید مری الفت کو بہت یاد کرو گی
اپنے دلِ معصوم کو ناشاد کرو گی
آؤ گی مری گور پہ تم اشک بہانے
نوخیز بہاروں کے حسیں پھول چڑھانے
شاید مری تربت کو بھی ٹھکرا کے چلو گی
شاید مری بے سود وفاؤں پہ ہنسو گی
اس وضع کرم کا بھی تمہیں پاس نہ ہوگا
لیکن دلِ ناکام کو احساس نہ ہوگا
القصّہ مآل غمِ الفت پہ ہنسو تم
یا اشک بہاتی رہو، فریاد کرو تم
ماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرت
خاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت
٭٭٭
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
کافروں کی نماز ہو جائے
دل رہین نیاز ہو جائے
بے کسی کارساز ہو جائے
جنت چارہ ساز کون کرے؟
درد جب جاں نواز ہو جائے
عشق دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہو جائے
لطف کا انتظار کرتا ہوں
جور تا حد ناز ہو جائے
عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض
کاش افشائے راز ہو جائے
٭٭٭
حسینۂ خیال سے!
مجھے دے دے
رسیلے ہونٹ، معصومانہ پیشانی، حسیں آنکھیں
کہ میں اک بار پھر رنگینیوں میں غرق ہو جاؤں!
مری ہستی کو تیری اک نظر آغوش میں لے لے
ہمیشہ کے لیے اس دام میں محفوظ ہو جاؤں
ضیاء حسن سے ظلماتِ دنیا میں نہ پھر آؤں
گزشتہ حسرتوں کے داغ میرے دل سے دھل جائیں
میں آنے والے غم کی فکر سے آزاد ہو جاؤں
مرے ماضی و مستقبل سراسر محو ہو جائیں
مجھے وہ اک نظر، اک جاودانی سی نظر دے دے
(بروئننگ)
٭٭٭
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
ابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہے
ترے جلووں سے بزمِ زندگی جنت بدامن ہے
مری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہے
ہر اک تارِ نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھی
ہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کی
نگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ از کار ہے اب بھی
مگر جانِ حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تک
تری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تک؟
تیری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخر
مرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گی
یہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیں
تری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گی
پکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذّت نہ پائیں گے
گلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گے
مبادا یاد ہائے عہدِ ماضی محو ہو جائیں
یہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیں
مرے دل کی تہوں سے تیری صورت ڈھل کے بہہ جائے
حریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائے
مبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کو!
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
٭٭٭
بعد از وقت
دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
سازِ خوابیدہ کو بیدار نہ کر دینا تھا
اپنے معصوم تبسم کی فراوانی کو
وسعتِ دید پہ گلبار نہ کر دینا تھا
شوقِ مجبور کو بس ایک جھلک دکھلا کر
واقفِ لذّتِ تکرار نہ کر دینا تھا
چشمِ مشتاق کی خاموش تمناؤں کو
یک بیک مائلِ گفتار نہ کر دینا تھا
جلوۂ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے
حسرتِ دل کو گنہگار نہ کر دینا تھا
٭٭٭
سردوِ شبانہ
گم ہے اک کیف میں فضائے حیات
خامشی سجدۂ نیاز میں ہے
حسنِ معصوم خوابِ ناز میں ہے
اے کہ تو رنگ و بو کا طوفاں ہے
اے کہ تو جلوہ گر بہار میں ہے
زندگی تیرے اختیار میں ہے
پھول لاکھوں برس نہیں رہتے
دو گھڑی اور ہے بہارِ شباب
آ کہ کچھ دل کی سن سنا لیں ہم
آ محبت کے گیت گالیں ہم
میری تنہائیوں پہ شام رہے؟
حسرتِ دید نا تمام رہے؟
دل میں بیتاب ہے صدائے حیات
آنکھ گوہر نثار کرتی ہے
آسماں پر اداس ہیں تارے
چاندنی انتظار کرتی ہے
آ کہ تھوڑا سا پیار کر لیں ہم
زندگی زر نگار کر لیں ہم!
٭٭٭
اشعار
وہ عہدِ غم کی کاہش ہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے
یہاں وابستگی، واں برہمی، کیا جانیے کیوں ہے؟
نہ ہم اپنی نظر سمجھے نہ ہم اُن کی ادا سمجھے
فریبِ آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آوازِ پا سمجھے
تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
نہ پوچھو عہدِ الفت کی، بس اک خوابِ پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے نہ دل کا مدعا سمجھے
٭٭٭
قطعات
وقفِ حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے، اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
٭٭٭
فضائے دل پہ اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریبِ زیست سے قدرت کا مدّعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
٭٭٭
انتظار
گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں
ریاضِ زیست ہے آزردۂ بہار ابھی
مرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی
جو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاری
ابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیں
طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری
اداس آنکھوں تری دید کو ترستی ہیں
بہارِ حسن، پہ پابندیِ جفا کب تک؟
یہ آزمائشِ صبرِ گریز پا کب تک؟
قسم تمہاری بہت غم اٹھا چکا ہوں میں
غلط تھا دعویِ صبر و شکیب، آ جاؤ
قرارِ خاطرِ بیتاب، تھک گیا ہوں میں
٭٭٭
تہِ نجوم
تہِ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میں
ہجومِ شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھی
خمارِ خواب سے لبریز احمریں آنکھیں
سفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیں
چھلک رہی ہے جوانی ہر اک بنِ مو سے
رواں ہو برگِ گلِ تر سے جیسے سیلِ شمیم
ضیاء مہ میں دمکتا ہے رنگِ پیراہن
ادائے عجز سے آنچل اُڑا رہی ہے نسیم
دراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہے
ادائے ناز سے رنگِ نیاز پیدا ہے
اداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیں
دل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیں
تہِ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں
کسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھی
کہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میں
ہے ایک گل کہ ہے ناواقفِ بہار ابھی
٭٭٭
حسن اور موت
جو پھول سارے گلستاں میں سب سے اچھا ہو
فروغِ نور ہو جس سے فضائے رنگیں میں
خزاں کے جورو ستم کو نہ جس نے دیکھا ہو
بہار نے جسے خونِ جگر سے پالا ہو
وہ ایک پھول سماتا ہے چشمِ گلچیں میں
ہزار پھولوں سے آباد باغِ ہستی ہے
اجل کی آنکھ فقط ایک کو ترستی ہے
کئی دلوں کی امیدوں کا جو سہارا ہو
فضائے دہر کی آلودگی سے بالا ہو
جہاں میں آ کے ابھی جس نے کچھ نہ دیکھا ہو
نہ قحط عیش و مسرت، نہ غم کی ارزانی
کنارِ رحمتِ حق میں اسے سلاتی ہے
سکوتِ شب میں فرشتوں کی مرثیہ خوانی
طواف کرنے کو صبح بہار آتی ہے
صبا چڑھانے کو جنت کے پھول لاتی ہے
٭٭٭
تین منظر
تصور
شوخیاں مضطر نگاہِ دید سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگِ غازۂ رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مے گلنار میں
سامنا
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں، افسانے، مہتاب، تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
رخصت
فسردہ رخ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا، مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں
٭٭٭
سرود
موت اپنی، نہ عمل اپنا، نہ جینا اپنا
کھو گیا شورشِ گیتی میں قرینہ اپنا
ناخدا دور، ہوا تیز، قریں کامِ نہنگ
وقت ہے پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا
عرصۂ دہر کے ہنگامے تہِ خواب سہی
گرم رکھ آتشِ پیکار سے سینہ اپنا
ساقیا رنج نہ کر جاگ اُٹھے گی محفل
اور کچھ دیر اٹھا رکھتے ہیں پینا اپنا
بیش قیمت ہیں یہ غم ہائے محبت، مت بھول
ظلمتِ یاس کو مت سونپ خزینہ اپنا
٭٭٭
یاس
بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے
ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل
مٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!
بزمِ ہستی کے جام پھوٹ گئے
چھن گیا کیفِ کوثر و تسنیم
زحمتِ گریۂ و بکا بے سود
شکوۂ بختِ نارسا بے سود
ہو چکا ختم رحمتوں کا نزول
بند ہے مدتوں سے بابِ قبول
بے نیازِ دعا ہے ربِ کریم
بجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل
یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل
اِنتظارِ فضول رہنے دے
رازِ الفت نباہنے والے
یارِ غم سے کراہنے والے
کاوشِ بے حصول رہنے دے
٭٭٭
آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھر پور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم
دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود
ہو نہ ہو اب سحر، کسے معلوم؟
زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات
ایزدیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکرِ فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پہ اشکبار نہ ہو
عہدِ غم کی حکایتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
٭٭٭
ہمّتِ التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنی مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھینچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
تیری چشمِ الم نواز کی خیر
دل میں کوئی گلا نہیں باقی
ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی
٭٭٭
ایک رہگزر پر
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں
ہزار فتنے تہِ پائے ناز، خاک نشیں
ہر اک نگاہِ خمارِ شباب سے رنگیں
شباب جس سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں
وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں
بیاضِ رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں
سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم
وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اِترائے
زبانِ شعر کی تعریف کرتے شرم آئے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش
گداز جسم، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے
غرض وہ حسن جو محتاجِ وصف و نام نہیں
وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں
کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا
بصد غرور و تجمّل، ادھر سے گزرا تھا
اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں
ہے اس کی خاک میں کیفِ شراب و شعر مکیں
ہوا میں شوخیِ رفتار کی ادائیں ہیں
فضا میں نرمیِ گفتار کی صدائیں ہیں
غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزوِ منظر ہے
نیازِ عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
٭٭٭
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
دست قدرت کو بے اثر کر دے
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخی مے کو تیز تر کر دے
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تا جگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے
لٹ رہی ہے مری متاع نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کر دے
فیض تکمیل آرزو معلوم
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے
٭٭٭
ایک منظر
بام و در خامشی کے بوجھ سے چور
آسمانوں سے جوئے درد رواں
چاند کا دکھ بھرا فسانۂ نور
شاہراہوں کی خاک میں غلطاں
خواب گاہوں میں نیم تاریکی
مضمحل لَے رباب ہستی کی
ہلکے ہلکے سروں میں نوحہ کناں
٭٭٭
میرے ندیم!
خیال و شعر کی دنیا میں جان تھی جن سے
فضائے فکر و عمل ارغوان تھی جن سے
وہ جن کے نور سے شاداب تھے مہ و انجم
جنونِ عشق کی ہمت جوان تھی جن سے
وہ آرزوئیں کہاں سو گئیں ہیں میرے ندیم؟
وہ ناصبور نگاہیں، وہ منتظر راہیں
وہ پاسِ ضبط سے دل میں دبی ہوئی آہیں
وہ انتظار کی راتیں، طویل تیرہ و تار
وہ نیم خواب شبستاں، وہ مخملیں باہیں
کہانیاں تھیں، کہیں کھو گئی ہیں، میرے ندیم
مچل رہا ہے رگِ زندگی میں خونِ بہار
الجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار
چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیارِ حبیب
ہیں انتظار میں اگلی محبتوں کے مزار
محبتیں جو فنا ہو گئی ہیں میرے ندیم!
٭٭٭
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بُنوائے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں میں محبت کے سوا
راحتیں او ر بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سے محبت مری محبوب نہ مانگ
٭٭٭
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصتِ گناہ ملی، وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے
٭٭٭
سوچ
کیوں میرا دل شاد نہیں
کیوں خاموش رہا کرتا ہوں
چھوڑو میری رام کہانی
میں جیسا بھی ہوں اچھا ہوں
میرا دل غمگیں ہے تو کیا
غمگیں یہ دنیا ہے ساری
یہ دکھ تیرا ہے نہ میرا
ہم سب کی جاگیر ہے پیاری
تو گر میری بھی ہو جائے
دنیا کے غم یونہی رہیں گے
پاپ کے پھندے، ظلم کے بندھن
اپنے کہے سے کٹ نہ سکیں گے
غم ہر حالت میں مہلک ہے
اپنا ہو یا اور کسی کا
رونا دھونا، جی کو جلانا
یوں بھی ہمارا، یوں بھی ہمارا
کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں
بعد میں سب تدبیریں سوچیں
بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں
سپنوں کی تعبیریں سوچیں
بے فکرے دھن دولت والے
یہ آخر کیوں خوش رہتے ہیں
ان کا سکھ آپس میں بانٹیں
یہ بھی آخر ہم جیسے ہیں
ہم نے مانا جنگ کڑی ہے
سر پھوڑیں گے، خون بہے گا
خون میں غم بھی بہہ جائیں گے
ہم نہ رہیں، غم بھی نہ رہے گا
٭٭٭
وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
وہ مجھ سے روٹھے تو تھے، لیکن اس قدر بھی نہیں
برس رہی ہے حریمِ ہوس میں دولتِ حسن
گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں
نہ جانے کس لیے امّید وار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں
نگاہِ شوق سرِ بزم بے حجاب نہ ہو
وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں
یہ عہد ترکِ محبت ہے کس لیے آخر
سکونِ قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
٭٭٭
رقیب سے
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھُلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
آشنا ہے ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں
عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس حرماں کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈ لاتے ہوئے آتے ہیں
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
٭٭٭
تنہائی
پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہگزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
٭٭٭
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
٭٭٭
کچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہے
وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے
سیکھی یہیں مرے دلِ کافر نے بندگی
ربِ کریم ہے تو تری رہگزر میں ہے
ماضی میں جو مزا مری شام و سحر میں تھا
اب وہ فقط تصوّرِ شام و سحر میں ہے
کیا جانے کس کو کس سے ہے اب داد کی طلب
وہ غم جو میرے دل میں ہے تیری نظر میں ہے
٭٭٭
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہو جائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
٭٭٭
چند روز اور مری جان!
چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رولیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس کے
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر، کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد
اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار
چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد
دل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایوس پکار
چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
٭٭٭
مرگِ سوز محبت
آؤ کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
آؤ کہ حسنِ ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراقِ قامت و رخسارِ یار سے
سرو گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانیِ حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامنِ ابرِ بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاسِ ضبط کی تلقین کر چکیں
اور امتحانِ ضبط سے پھر جی چرائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستانِ عشق
اب ختمِ عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
٭٭٭
کتے
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈّیاں تک چبا لیں
کوئی ان کو احساسِ ذلّت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
٭٭٭
بول
بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں
تند ہے شعلے، سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
٭٭٭
پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سے
پھر نورِ سحر دست و گریباں ہے سحر سے
پھر آگ بھڑکنے لگی ہر سازِ طرب میں
پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدۂ تر سے
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگزر سے
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوارِ قفس حدِ نظر سے
ساغر تو کھنکتے ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
پا پوش کی کیا فکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزر جائے گی سر سے
٭٭٭
اقبال
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا
سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں
ویران میکدوں کا نصیبہ سنور گیا
تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا
اب دور جا چکا ہے وہ شاہِ گدا نما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں
چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
وہ اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں
پر اُس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کی لَے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں
اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال
اس کا وفور اس کا خروش، اس کا سوز و ساز
یہ گیت مثلِ شعلۂ جوالہ تند و تیز
اس کی لپک سے بادِ فنا کا جگر گداز
جیسے چراغ وحشتِ صر صر سے بے خطر
یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر
٭٭٭
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشمِ حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاعِ لعل و گوہر کی گراں یابی
متاعِ غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سرِ خسرو سے نازِ کج کلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
٭٭٭
موضوع سخن
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
اور۔۔مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی
اور۔۔ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات
ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں
جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں
آج پھر حسن دلآرا کی وہی دھج ہو گی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر
رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار
صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر
اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی
جان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہی
آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے
آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے
٭٭٭
ہم لوگ
دل کے ایواں میں لیے گُل شدہ شمعوں کی قطار
نورِ خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے
حسنِ محبوب کے سیّال تصور کی طرح
اپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے لپٹائے ہوئے
غایتِ سود و زیاں، صورتِ آغاز و مآل
وہی بے سود تجسس، وہی بے کار سوال
مضمحل ساعتِ امروز کی بے رنگی سے
یادِ ماضی سے غمیں، دہشتِ فردا سے نڈھال
تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں
سوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیں
اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں
دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں
اور اک الجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش
دشت و زنداں کی ہوس، چاکِ گریباں کی تلاش
٭٭٭
شاہراہ
ایک افسردہ شاہرہ ہے دراز
دور افق پر نظر جمائے ہوئے
سرد مٹی پہ اپنے سینے کے
سرمگیں حسن کو بچھائے ہوئے
جس طرح کوئی غمزدہ عورت
اپنے ویراں کدے میں محوِ خیال
وصلِ محبوب کے تصور میں
مو بمو چور، عضو عضو نڈھال
٭٭٭
نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آ رہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب اُن کو سنانے کے دن آ رہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سرِ راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں
ٹپکنے لگی اُن نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آ رہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آ رہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

