ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
شام کنارا
فلمی نغمے
گلزار
انتخاب و ترتیب: اعجاز عبید
فلم: موسم
موسیقی: مدن موہن
آواز: لتا منگیشکتر
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار لے کے تیرے در سے بے قرار چلے
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
رکے رکے سے قدم
صبح نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے
کہ ایک رات کی یہ زندگی گزار چلے
رکے رکے سے قدم
اٹھائے پھرتے تھے احسان دل کا سینے پر
لے تیرے قدموں پہ یہ قرض بھی اتار چلے
قرار لے کے ترے در سے بے قرار چلے
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر، بھوپیندر
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
جاڑوں کی نرم دھوپ ہو، آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کھینچ کر تیرے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں کبھی کروٹ لئے ہوئے
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
یا گرمیوں کی رات، جو پروائیاں چلیں
ٹھنڈی سفید چادروں پہ جاگیں دیر تک
تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن۔۔۔
برفیلی سردیوں میں کسی بھی پہاڑ پر
وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
آنکھوں میں بھیگے بھیگے سے لمحے لئے ہوئے
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن۔۔۔
٭٭٭
فلم: انوبھو
موسیقی: کنو رائے
آواز: گیتا دت
میرا دل جو میرا ہوتا
پلکوں پہ پکڑ لیتی
ہونٹوں پہ اٹھا لیتی
ہاتھوں میں خدا ہوتا
میرا دل جو میرا ہوتا
سورج کو مسل کے میں
چندن کی طرح ملتی
سونے کا بدن لے کر
کندن کی طرح جلتی
اس گورے سے چہرے پر
آئینہ فدا ہوتا
میرا دل جو میرا ہوتا
برسا ہے کہیں پر تو
آکاش سمندر میں
اک بوند ہے چندہ کی
اترے نہ سمندر میں
دو ہاتھوں کے اوکھ میں یہ
گر پڑتا تو کیا ہوتا
ہاتھوں میں خدا ہوتا
میرا دل جو میرا ہوتا
٭٭٭
آواز: گیتا دت
میری جاں
مجھے جاں نہ کہو میری جاں
میری جاں، میری جاں
مجھے جاں نہ کہو میری جاں
میری جاں، میری جاں
جاں نہ کہو انجان مجھے
جان کہاں رہتی ہے سدا
انجانے، کیا جانے
جان کے جائے کون بھلا
میری جاں
مجھے جاں نہ کہو میری جاں۔۔۔
سوکھے ساون برس گئے
کتنی بار ان آنکھوں سے
دو بوندیں نہ برسیں
ان بھیگی پلکوں سے
میری جاں
مجھے جاں نہ کہو میری جاں۔۔۔
ہونٹ جھکے جب ہونٹوں پر
سانس الجھی ہو سانسوں میں
دو جڑواں ہونٹوں کی
بات کہو آنکھوں سے
میری جاں
مجھے جاں نہ کہو میری جاں۔۔۔
٭٭٭
فلم: سیما
موسیقی: شنکر، جے کشن
آوازیں؛ محمد رفیع، شاردا
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
ہونٹ چپ چاپ بولتے ہوں جب
سانس کچھ تیز تیز چلتی ہوں
آنکھیں جب دے رہی ہوں آوازیں
ٹھنڈی آہوں میں سانس جلتی ہوں
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
آنکھوں میں تیرتی ہے تصویریں
تیرا چہرہ ترا خیال لئے
آئنہ دیکھتا ہے جب مجھ کو
ایک معصوم سا سوال لئے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن
کیوں ترا انتظار رہتا ہے
بے وجہ جب قرار مل جائے
دل بڑا بے قرار رہتا ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
٭٭٭
فلم: آنند
موسیقی: یوگیش
آواز: مکیش
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے
سپنے سریلے سپنے
کچھ ہنستے، کچھ غم کے
تیری آنکھوں کے سائے چرائے
رسیلی یادوں نے
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے
سپنے سریلے سپنے
چھوٹی باتیں
چھوٹی چھوٹی باتوں کی ہیں یادیں بڑی
بھولے نہیں بیتی ہوئی ایک چھوٹی گھڑی
جنم جنم سے آنکھیں بچھائیں
تیرے لئے ان راہوں میں
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے
سپنے سریلے سپنے
بھولے بھالے
بھولے بھالے دل کو بہلاتے رہے
تنہائی میں تیرے خیالوں کو سجاتے رہے
کبھی کبھی تو آواز دے کر
مجھ کو جگایا خوابوں نے
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے
سپنے سریلے سپنے
روٹھی راتیں
روٹھی ہوئی راتوں کو جگایا کبھی
تیرے لئے بیتی صبح کو بلایا کبھی
تیرے بنا بھی تیرے لئے ہی
دیئے جلائے راتوں میں
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے
سپنے سریلے سپنے
٭٭٭
فلم: جسٹ میریڈ
موسیقی: پریتم چکرورتی
آواز: سُنیدھی چوہان
جب بھی ذرا تم نے چھوا
زندگی ہلکی سی گدگدی کر گئی
جب بھی ذرا تم نے چھوا
زندگی ہلکی سی گدگدی کر گئی
چھلکی ہوئی تھی پہلے سے میں
تھوڑی سی اور بھی بھر گئی
اور بھی بھر گئی
گدگدی کر گئی
سوچا تھا تم سے ملے تو پاؤں زمیں پہ پڑیں گے
یہ کیا پتہ تھا کہ پھر سے خوابوں میں اڑنے لگیں گے
ڈر تو رہی تھی پہلے سے میں
تھوڑی سی اور بھی ڈر گئی
اور بھی بھر گئی
گدگدی کر گئی
انجان لوگوں کا ملنا پہلے بھی ہوتا رہا ہے
پڑھ کے بتاؤ ستارے یہ رشتہ کہاں پہ لکھا ہے
مرنے لگی تھی پہلے سے میں
تھوڑی سی اور بھی مر گئی
اور بھی بھر گئی
گدگدی کر گئی
جب بھی ذرا۔۔۔
٭٭٭
آواز: سونو نگم
جاگتے رہو
ہتھیلی کھلنے لگی
کہ رات اب اڑنے لگی
کہانیوں کی
شام تو چلی
سلگنے دو ذرا شب کو
کہ خوشبو آئے گی سب کو
ہرے خوابوں کی
پہلا پہلا یہ قدم ہے
چاہت ہے پر زور کم ہے
پہلی پہلی رات ہے یہ
آگے جو ہو
آخر اگر ٹھیک ہے تو سبھی ٹھیک ہے
جاگتے رہو۔۔۔
جب رات کی تھیلی کھلے
کیا جانئے کیا کچھ ملے
شہنائی بھی، سناٹے بھی
سپنے کہیں، خراٹے بھی
چھلکے چھلکے نین بھی ہیں
بے چینی میں چین بھی ہے
پہلی پہلی رات ہے یہ
آگے جو ہو
آخر اگر ٹھیک ہے تو سبھی ٹھیک ہے
جاگتے رہو۔۔۔
یہ رات ہے فرمان کی
امید کی، ارمان کی
شکوے، گلے، ناراضگی
آنکھوں میں اوس کی تازگی
قطرہ قطرہ جب گھلے گی
نکھری نکھری شب کھلے گی
پہلی پہلی رات ہے یہ
آگے جو ہو
آخر اگر ٹھیک ہے تو سبھی ٹھیک ہے
جاگتے رہو۔۔۔
٭٭٭
فلم: گڈی
موسیقی: وسنت دیسائی
آواز: وانی جے رام
بولے رے پپیہرا پپیہرا
نت من ترسے، نت من پیاسا
نت من پیاسا، نت من ترسے
بولے رے پپیہرا پپیہرا
بولے رے پپیہا را
پلکوں پر اک بوند سجائے
بیٹھی ہوں، ساون لے جائے
جائے پی کے دیس میں برسے
نت من پیاسا، نت من ترسے
بولے رے پپیہرا پپیہرا
بولے رے پپیہا را
ساون جو سندیسا لائے
میری آنکھ پہ موتی چھائے
جائے ملے بابل کے گھر سے
نت من پیاسا، نت من ترسے
بولے رے پپیہرا پپیہرا
بولے رے پپیہا را
٭٭٭
فلم: سوئمبر
موسیقی: راجیش روشن
آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر
رفیع: مجھے چھو رہی ہیں تری گرم سانسیں
مرے رات اور دن مہکنے لگے ہیں
لتا: تیری نرم سانسوں نے ایسے چھوا ہے
کہ میرے تو پاؤں بہکنے لگے ہیں
رفیع: لبوں سے اگر تم بلا نا سکو تو
نگاہوں سے تم نام لے کر بلا لو
لتا: تمہاری نگاہیں بہت بولتی ہیں
ذرا اپنی آنکھوں پہ پلکیں گرا دو
رفیع: مجھے چھو رہی ہیں تری گرم سانسیں
مرے رات اور دن مہکنے لگے ہیں
رفیع: پتہ چل گیا ہے کہ منزل کہاں ہے
چلو دل کے لمبے سفر پہ چلیں گے
لتا: سفر ختم کر دیں گے ہم تو وہیں پر
جہاں تک تمہارے قدم لے چلیں گے
رفیع: مجھے چھو رہی ہیں تری گرم سانسیں
مرے رات اور دن مہکنے لگے ہیں
لتا: تیری نرم سانسوں نے ایسے چھوا ہے
کہ میرے تو پاؤں بہکنے لگے ہیں
۔۔۔۔
مجھے چھو رہی ہیں تری نرم سانسیں
مرے رات اور دن مہکنے لگے ہیں
جس دل میں بستے تھے طوفان کے بادل
وہاں اب عشق کے دیئے جل رہے ہیں
گمراہ پھرتا تھا میں، ایک کھویا پروانہ
ترے دل کی شمع نے مقصد دیا مجھ کو
جو سپنے تھے مردہ تاریکی میں کھوئے
اس محبت کی روشنی سے جینے لگے ہیں
کانٹوں سے بھرا تھا، یہ سفر میرا
ترے دم سے گلابوں کا فرش بچھ گیا
وہ پھول جو کبھی بھی کھل نہ سکے تھے
آج شبنم کی بدولت مسکرا رہے ہیں
وعدہ ہے یہ میرا، نہ چھوڑوں گا ساتھ تیرا
مرتے دم تک ترا ساتھ دوں گا
جس روح پہ لوگ ترس کھاتے تھے
آج فرشتے بھی مجھ سے عشق کرنے لگے ہیں
مجھے چھو رہی ہیں، تیری نرم سانسیں
میرے رات اور دن مہکنے لگے ہیں
٭٭٭
فلم: گھروندہ
موسیقی: جے دیو
آواز: بھوپیندر
ایک اکیلا اس شہر میں، رات میں اور دوپہر میں
آب و دانہ ڈھونڈھتا ہے، آشیانہ ڈھونڈھتا ہے
دن خالی خالی برتن ہے، اور رات ہے جیسے اندھا کنواں
ان سونی اندھیری آنکھوں میں، آنسو کی جگہ آتا ہے دھواں
جینے کی وجہ تو کوئی نہیں، مرنے کا بہانا ڈھونڈھتا ہے
ایک اکیلا اس شہر میں، رات میں اور دوپہر میں
آب و دانہ ڈھونڈھتا ہے، آشیانہ ڈھونڈھتا ہے
اک عمر سے لمبی سڑکوں کو منزل پہ پہنچتے دیکھا نہیں
بس دوڑتی پھرتی رہتی ہیں ہم نے تو ٹھہرتے دیکھا نہیں
اس اجنبی سے شہر میں، جانا پہچانا ڈھونڈھتا ہے
ایک اکیلا اس شہر میں، رات میں اور دوپہر میں
آب و دانہ ڈھونڈھتا ہے، آشیانہ ڈھونڈھتا ہے
٭٭٭
آوازیں: رونا لیلیٰ، بھوپیندر
بھوپیندر: دو دیوانے شہر میں، رات میں اور دوپہر میں
آب و دانہ ڈھونڈھتے ہیں ایک آشیانہ ڈھونڈھتے ہیں
رونا: دو دیوانے شہر میں، رات میں اور دوپہر میں
آب و دانہ ڈھونڈھتے ہیں ایک آشیانہ
ڈھونڈھتے ہیں
رونا: ان بھول بھلیّاں گلیوں میں اپنا بھی کوئی گھر ہو گا
امبر پہ کھلے گی کھڑکی یا کھڑکی پہ کھلا امبر ہو گا
بھوپیندر: ان بھول بھلیّاں گلیوں میں اپنا بھی کوئی گھر ہو گا
امبر پہ کھلے گی کھڑکی یا، کھڑکی پہ کھلا امبر ہو گا
اسمانی رنگ کی آنکھوں میں
رونا: اسمانی یا آسمانی؟
بھوپیندر: اسمانی رنگ کی آنکھوں میں
بسنے کا بہانا ڈھونڈے ہیں، ڈھونڈے ہیں
رونا: آب و دانہ ڈھونڈتے ہیں ایک آشیانہ ڈھونڈتے ہیں
بھوپیندر: جب تارے زمیں پر چلتے ہیں
رونا: تارے، اور زمیں پر؟
بھوپیندر: of course
جب تارے زمیں پر چلتے ہیں
رونا: Hmmm hmmm
بھوپیندر: آکاش زمیں ہو جاتا ہے
اس رات نہیں پھر گھر جاتا، وہ چاند یہیں سو جاتا ہے
رونا: جب تارے زمیں پر چلتے ہیں
آکاش زمیں ہو جاتا ہے
اس رات نہیں پھر گھر جاتا، وہ چاند یہیں سو جاتا ہے
بھوپیندر: پل بھر کے لئے
رونا: پل بھر کے لئے
بھوپیندر: پل بھر کے لئے ان آنکھوں میں ہم ایک زمانہ ڈھونڈتے ہیں، ڈھونڈتے ہیں
رونا: آب و دانہ ڈھونڈتے ہیں ایک آشیانہ ڈھونڈتے ہیں
٭٭٭
فلم: دو دونی چار
موسیقی: ہیمنت کمار
آواز: کشور کمار
ہواؤں پہ لکھ دو ہواؤں کے نام
ہم انجان پردیسیوں کا سلام
ہواؤں پہ لکھ دو۔۔۔
یہ کس کے لئے ہے، بتا کس کے نام
او پنچھی ترا یہ سریلا سلام
شاخ پر جب، دھوپ آئی، ہاتھ چھونے کے لئے
چھاؤں چھم سے نیچے کودی، ہنس کے بولی ’آئیے‘
یہاں صبح سے کھیلا کرتی ہے شام
ہواؤں پہ لکھ دو۔۔۔
چلبلا یہ، پانی اپنی، راہ بہنا بھول کر
لیٹے لیٹے، آئنہ چمکا رہا ہے پھول پر
یہ بھولے سے چہرے ہیں معصوم نام
ہواؤں پہ لکھ دو۔۔۔
٭٭٭
فلم: تھوڑی سی بے وفائی
موسیقی: خیام
آواز: بھوپیندر
آج بچھڑے ہیں، کل کا ڈر بھی نہیں
زندگی اتنی مختصر بھی نہیں
زخم دکھتے نہیں ابھی لیکن
ٹھنڈے ہوں گے تو درد نکلے گا
طیش اترے گا وقت کا جب بھی
چہرہ اندر سے زرد نکلے گا
کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا
سہنے والے کمال کرتے ہیں
کون ڈھونڈھے جواب دردوں کے
لوگ تو بس سوال کرتے ہیں
کل جو آئے گا جانے کیا ہو گا
بیت جائے جو کل نہیں آتے
وقت کی شاخ توڑنے والو!
ٹوٹی شاخوں پہ پھل نہیں آتے
کچی مٹی ہے دل بھی، انساں بھی
دیکھنے ہی میں سخت لگتا ہے
آنسو پوچھے تو آنسوؤں کے نشاں
خشک ہونے میں وقت لگتا ہے
٭٭٭
فلم: دل سے
موسیقی: اے آر رحمان
آواز: سپنا اوستھی، سکھوندر سنگھ
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
پاؤں کے نیچے جنت ہو گی
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں
سر ہو عشق کی چھاؤں، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں چیّاں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں
وہ یار ہے جو خوشبو کی طرح
ہے جس کی زباں اردو کی طرح
میری شام رات، میری کائنات
وہ یار میرا سیّاں سیّاں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں
گل پوش کبھی اترائے کہیں
مہکے تو نظر آ جائے کہیں
تعویذ بنا کے پہنوں اسے
آیت کی طرح مل جائے کہیں
وہ یار ہے جو ایماں کی طرح
مرا نغمہ وہی، مرا کلمہ وہی
مرا نغمہ نغمہ، مرا کلمہ کلمہ
یار مثال اوس چلے
پاؤں کی تلے، فردوس چلے
کبھی ڈال ڈال، کبھی پات پات
میں ہوا پہ ڈھونڈھوں اس کے نشاں
سر ہو عشق کی چھاؤں، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں۔۔۔
میں اس کے روپ کا سودائی
وہ دھوپ چھاؤں سا ہرجائی
وہ شوخ نظر کو بدلتا ہے
میں رنگ روپ کا سودائی
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
پاؤں کے نیچے جنت ہو گی
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں
سر ہو عشق کی چھانو، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں چیّاں
پاؤں چلت چلیں، چل چیّاں
چل چیّاں چیّاں چیّاں چیّاں
٭٭٭
آواز: اے آر رحمان
اک سورج نکلا تھا، کچھ تارا پگھلا تھا
اک آندھی آئی تھی، جب دل سے آہ نکلی تھی
دل سے رے
دل تو آخر دل ہے نا، میٹھی سی مشکل ہے نا
پیا پیا، جیا جیا، پیا پیا
دل سے رے۔۔۔
دو پتے پت جھڑ کے، پیڑوں سے اترے تھے
پیڑوں کی شاخوں سے اترے تھے
پھر اتنے موسم گزرے، وہ پتے دو بیچارے
پھر اگنے کی چاہت میں، وہ سحروں سے گزرے
وہ پتے دل دل دل تھے، وہ دل تھے دل تھے دل دل تھے
دل ہے تو پھر درد ہو گا، درد ہے تو دل بھی ہو گا
موسم گزرتے رہتے ہیں
دل سے دل سے دل دل سے، دل سے رے
دل تو آخر دل ہے نا۔۔۔
بندھن ہے رشتوں میں، کانٹوں کی تاریں ہیں
پتھر کے دروازے، دیواریں
بیلیں پھر بھی اگتی ہیں، اور غنچے بھی کھلتے ہیں
اور چلتے ہیں افسانے
کردار بھی ملتے ہیں
وہ رشتہ دل دل دل تھے، وہ دل تھے دل تھے دل دل تھے
غم دل کے بس چلبلے ہیں، پانی کے یہ بلبلے ہیں
بجھتے ہیں بنتے رہتے ہیں
دل سے دل سے دل دل سے، دل سے رے
دل تو آخر دل ہے نا۔۔۔
٭٭٭
آوازیں: سونو نگم، کویتا کرشنامورتی
تو ہی تو، تو ہی تو سترنگی رے
تو ہی تو، تو ہی تو من رنگیں رے۔۔۔
دل کا سایا ہمسایہ سترنگی رے، من رنگیں رے
کوئی نور ہے تو کیوں دور ہے تو
جب پاس ہے تو احساس ہے تو
کوئی خواب ہے یا پرچھائیں ہے سترنگی رے، من رنگیں رے
اس بار بتا منظور ہوا ٹھہرے گی کہاں
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
آنکھوں نے کچھ ایسے چھوا، ہلکا ہلکا انس ہوا
ہلکا ہلکا انس ہوا دل کو محسوس ہوا
تو ہی تو، تو ہی تو، جینے کی ساری خوشبو
تو ہی تو، تو ہی تو، آرزو، آرزو
تری جسم کی آنچ کو چھوتے ہی
مرے سانس سلگنے لگتے ہیں
مجھے عشق دلاسے دیتا ہے
مرے درد بلکنے لگتے ہیں
تو ہی تو، تو ہی تو، جینے کی ساری خوشبو
تو ہی تو، تو ہی تو، آرزو آرزو
چھوتی ہے مجھے سرگوشی سے
آنکھوں میں گھلی خاموشی سے
میں فرش پہ سجدے کرتا ہوں،
کچھ ہوش میں کچھ بیہوشی سے
دل کا سایا ہمسایہ۔۔۔
تری راہوں میں الجھا الجھا ہوں،
تری باہوں میں الجھا الجھا
سلجھنے دے ہوش مجھے تیری چاہوں میں الجھا ہوں،
مرا جینا جنوں مرا مرنا جنوں
تو ہی تو، تو ہی تو، سترنگی رے
تو ہی تو، تو ہی تو من رنگیں رے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
مجھے موت کی گود میں سونے دے
تیری روح میں جسم ڈبونے دے
سترنگی رے، من رنگیں رے
٭٭٭
آوازیں: ادت ناراین، مہالکشمی ایّر
او پاکھی پاکھی پردیسی
اے اجنبی تو بھی کبھی آواز دے کہیں سے
میں یہاں ٹکڑوں میں جی رہا ہوں،
تو کہیں ٹکڑوں میں جی رہی ہے
اے اجنبی تو بھی کبھی آواز دے کہیں سے
روز روز ریشم سی ہوا، آتے جاتے کہتی ہے
بتا ریشم سی ہوا کہتی ہے بتا
وہ جو دودھ دھلی، معصوم کلی
وہ ہے کہاں کہاں ہے وہ روشنی، کہاں ہے
وہ جان سی کہاں ہے
میں ادھورا، تو ادھوری جی رہی ہے
اے اجنبی تو بھی کبھی آواز دے کہیں سے
او پاکھی پاکھی پردیسی
تو تو نہیں ہے لیکن، تیری مسکراہٹ ہے
چہرہ کہیں نہیں ہے پر، تیری آہٹ ہے
تو ہے کہاں کہاں ہے، تیرا نشاں کہاں ہے
میرا جہاں کہاں ہے
میں ادھورا، تو ادھوری جی رہی ہے
اے اجنبی تو بھی کبھی آواز دے کہیں سے
٭٭٭
فلم: بندنی
مویقار: سچن دیو برمن
آواز: لتا منگیشکر
مورا گورا انگ لئی لے
موہے شام رنگ دئی دے
چھپ جاؤں گی رات ہی میں
موہے پی کا سنگ دئی دے
ایک لاج روکے پیّاں
ایک موہ کھینچے بیّاں
جاؤں کدھر نہ جانوں
ہم کا کوئی بتائی دے
مورا گورا انگ لئی لے
موہے شام رنگ دئی دے
چھپ جاؤں گی رات ہی میں
موہے پی کا سنگ دئی دے
بدری ہٹا کے چندا
چپکے سے جھانکے چند1
تو ہیرا ہو لاگے بیری
مسکائے جی جلائی کے
مورا گورا انگ لئی لے
موہے شام رنگ دئی دے
چھپ جاؤں گی رات ہی میں
موہے پی کا سنگ دئی دے
کچھ کھو دیا ہے پائی کے
کچھ پا لیا گوائی کے
کہاں لے چلا ہے منوا
موہے بانوری بنائی کے
مورا گورا انگ لئی لے
موہے شام رنگ دئی دے
چھپ جاؤں گی رات ہی میں
موہے پی کا سنگ دئی دے
٭٭٭
فلم: دیوتا
موسیقی: راہل دیو برمن
آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار
لتا: گل مہر گر تمہارا نام ہوتا
موسم گل لو ہنسانا بھی ہمارا کام ہوتا
گل مہر گر تمہارا۔۔۔
کشور: آئیں گی بہاریں تو، اب کے انہیں کہنا ذرا، اتنا سنے
میرے گل بنا، ان کا کہاں بہار نام ہوتا
لتا: گل مہر گر تمہارا نام ہوتا
موسم گل لو ہنسانا بھی ہمارا کام ہوتا
گل مہر گر تمہارا۔۔۔
لتا: شام کی گلابی سے، آنچل میں یہ دیا جلا ہے چاند سا
میرے گل بنا، ان کا بھلا کیا نام ہوتا
کشور: گل مہر گر تمہارا نام ہوتا
موسم گل لو ہنسانا بھی ہمارا کام ہوتا
لتا: گل مہر گر تمہارا نام ہوتا
موسم گل کو ہنسانا بھی ہمارا کام ہوتا
٭٭٭
فلم: آندھی
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: لتا منگیشکر، کشور کمار
لتا: اس موڑ سے جاتے ہیں
کچھ سست قدم رستے کچھ تیز قدم راہیں
کشور: پتھر کی حویلی کو شیشے کے گھروندوں میں
تنکوں کے نشیمن تک اس موڑ سے جاتے ہیں
لتا: آندھی کی طرح اڑ کر اک راہ گزرتی ہے
شرماتی ہوئی کوئی قدموں سے اترتی ہے
ان ریشمی راہوں میں اک راہ تو وہ ہو گی
تم تک جو پہنچتی ہے اس موڑ سے جاتی ہے
اس موڑ سے جاتے ہیں۔۔۔
کشور: اک دور سے آتی ہے پاس آ کے پلٹتی ہے
اک راہ اکیلی سی رکتی ہے نہ چلتی ہے
لتا: یہ سوچ کے بیٹھی ہوں، اک راہ تو وہ ہو گی
تم تک جو پہنچتی ہے اس موڑ سے جاتے ہیں
اس موڑ سے جاتے ہیں
کچھ سست قدم رستے کچھ تیز قدم راہیں
کشور: پتھر کی حویلی کو شیشے کے گھروندوں میں
تنکوں کے نشیمن تک اس موڑ سے جاتے ہیں
لتا: اس موڑ سے جاتے ہیں
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر، کشور کمار
لتا: تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں،
شکوہ نہیں
شکوہ نہیں، شکوہ نہیں
تیرے بنا زندگی بھی لیکن زندگی تو نہیں،
زندگی نہیں
زندگی نہیں، زندگی نہیں
کاش ایسا ہو تیرے قدموں سے چن کے منزل چلے
اور کہیں دور کہیں
تم اگر ساتھ ہو، منزلوں کی کمی تو نہیں
تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں، شکوہ نہیں
٭٭٭
فلم: بھول نہ جانا
موسیقی: دان سنگھ
آواز: مکیش
پکارو مجھے نام لے کر پکارو
مجھے تم سے اپنی خبر مل رہی ہے
کئی بار یوں بھی ہوا ہے سفر میں
اچانک سے دو اجنبی مل گئے ہوں
جنہیں روح پہچانتی ہو کہیں سے
بھٹکتے بھٹکتے وہی مل گئے ہوں
کنوارے لبوں کی قسم توڑ دو تم
ذرا مسکرا کر بہاریں سنوارو
پکارو مجھے نام لے کر پکارو
خیالوں میں تم نے بھی دیکھی تو ہوں گی
کبھی میرے خوابوں کی دھندلی لکیریں
تمہاری ہتھیلی سے ملتی ہیں جا کر
میرے ہاتھ کی یہ ادھوری لکیریں
بڑی سر چڑھی ہیں یہ زلفیں تمہاری
یہ زلفیں میرے بازوؤں میں اتارو
پکارو مجھے نام لے کر پکارو
٭٭٭
فلم: سات خون معاف
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: ماسٹر سلیم
آوارہ آوارہ
ہوا پہ رکھے سوکھے پتے آوارہ
پاؤں زمیں پہ لگتے ہی اڑ لیتے ہیں دوبارہ
نہ شاخ جڑے نہ جڑ پکڑے
موسم موسم بنجارہ
جھونکا جھونکا یہ ہوا
روز اڑائے رے
جا کی ڈار گئی وہ تو بیت گیا
جا کی ماٹی گئی وہ تو میت گیا
کوئی نہ بلائے رے
رت رنگ لئے آئی بھی گئی
مٹیا نا کھلی بیرنگ رہی
سوکھا پتہ بنجارہ
ہولے ہولے یہ ہوا
کھیل کھلائے رے
کھولے دھوپ کبھی گھلے چھاؤں کبھی
کبھی پنکھ بنے بنے پاؤں کبھی
دھول دکھائے رے
کوئی تھاہ نہ ملی نہ ہوا نہ زمیں
نہ امید اگی نہ دلاسہ کہیں
اڑتا جائے بیچارہ
آوارہ آوارہ آوارہ
٭٭٭
آواز: وشال بھاردواج
بیکراں ہیں بیکراں
آنکھیں بند کیجئے نا
ڈوبنے لگے ہیں ہم
سانس لینے دیجئے نا
اللہ!
ایک ذرا چہرہ ادھر کیجئے
عنایت ہو گی
آپ کو دیکھ کے بڑی دیر سے میری سانس رکی ہے
ایک ذرا دیکھئے تو
آپ کے پاؤں تلے
کچھ تو اٹکا ہے کہیں
وقت سے کہیئے چلے
اڑتی اڑتی سی نظر
مجھ کو چھو جائے اگر
ایک تسلیم کو
ہر بار میری آنکھ جھکی ہے
آپ کو دیکھ کے بڑی دیر سے میری سانس رکی ہے
آنکھ کچھ لال سی ہے
رات جاگے تو نہیں
رات جب بجلی گئی
ڈر کے بھاگے تو نہیں
کیا لگا ہونٹ تلے
جیسے کوئی چوٹ جلے
جانے کیا سوچ کے
اس بار مری آنکھ جھکی
آپ کو دیکھ کے
بڑی دیر سے میری سانس رکی ہے
بیکراں ہیں بیکراں
آنکھیں بند کیجئے نا
ڈوبنے لگے ہیں ہم
سانس لینے دیجئے نا
اللہ!
٭٭٭
آواز: سریش واڈکر
تیرے لئے تیرے لئے
لفظوں میں لمحوں کی ڈولیاں لائے ہیں
شعروں میں خوشبو کی بولیاں لائے ہیں
ہم نے سو سودے کئے تیرے لئے تیرے لئے
آنکھوں میں نہ چبھیں تاروں کی کرچیاں
شیشے کا آسماں لائے ہیں تیرے لئے
تارے جڑے ہیروں سے بھی کتنے بڑے
ہم نے آسمانوں میں لاکھوں کے سودے کئے
تیرے لئے تیرے لئے
ہلکی سی سردیاں اور سانس گرم ہو
شاموں کی شال بھی تھوڑی سی نرم ہو
تیرے لئے کشمش چنے، پستے چنے تیرے لئے
ہم نے تو پرندوں سے باغوں کے سودے کئے
تیرے لئے تیرے لئے
٭٭٭
فلم: انگور
موسیقی: راہل دیو برمن
آوازؒ: آشا بھوسلے
روز روز ڈالی ڈالی کیا لکھ جائے
بھنورا باورا
کلیوں کے نام کوئی لکھے پیغام کوئی
باورا بھنورا باورا
روز روز ڈالی ڈالی کیا لکھ جائے
بھنورا باورا
بیتے ہوئے موسم کی کوئی نشانی ہو گی
درد پرانا کوئی یاد پرانی ہو گی
کوئی تو داستان ہو گی نا
روز روز ڈالی ڈالی کیا لکھ جائے
بھنورا باورا
ہو گا کوئی وعدہ ہو گا وعدہ نبھاتا ہو گا
شاخوں پہ لکھ کر یاد دلاتا ہو گا
یاد تو آتی ہی ہو گی نا
روز روز ڈالی ڈالی کیا لکھ جائے
بھنورا باورا
٭٭٭
فلم: بسیرا
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: لتا منگیشکر
کبھی پاس بیٹھو، کسی پھول کے پاس
سنو جب یہ مہکتا ہے، بہت کچھ یہ کہتا ہے
کبھی گنگنا کے، کبھی مسکرا کے
کبھی چپکے چپکے، کبھی کھلکھلا کے
جہاں پہ سویرا ہو بسیرا وہیں ہے
کبھی چھوٹے چھوٹے شبنم کے قطرے
دیکھے تو ہوں گے صبح اور سویرے
یہ ننھی سی آنکھیں جاگی ہیں شب بھر
بہت کچھ ہے دل میں بس اتنا ہے لب پر
جہاں پہ سویرا ہو بسیرا وہیں ہے
نہ مٹی نہ گارا، نہ سونا سجانا
جہاں پیار دیکھو وہیں گھر بنانا
یہ دل کی عمارت بنتی ہے دل سے
دلاسہ کو چھو کے امیدوں سے مل کے
جہاں پہ بسیرا ہو سویرا وہیں ہے
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
جانے کیسے بیتیں گی یہ برساتیں
مانگے ہوئے دن ہیں، مانگی ہوئی راتیں
دھواں دھواں سا رہتا ہے، بجھی بجھی سی آنکھوں میں
سلگ رہے ہیں گیلے آنسو، آگ لگاتی ہے برساتیں
بھرا ہوا تھا دل شاید چھلک گیا ہے سینے میں
بہنے لگے ہیں سارے شکوے
بڑی غمگین ہیں دل کی باتیں
٭٭٭
فلم: چاچی ۴۲۰
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: کمال حسن
دوڑا دوڑا بھاگا بھاگا سا
وقت، یہ وقت ہے تھوڑا تھوڑا سا
دوڑا دوڑا بھاگا بھاگا سا
گرا ٹھوکر کھا کے وہ، دن رات نے اٹھا لیا
ہاتھ پاؤں پونچھ کے تخت پہ بٹھا دیا
چاند کا چراغ ہے کھونٹیوں پہ
کھونٹیوں پہ ٹنگا ٹنگا سا
دوڑا دوڑا بھاگا بھاگا سا
سو جا رے نینوں کے پاس رے سو جا سو جا
ٹکا ٹکا ٹک سوئیاں گھڑی کی رکتی ہی نہیں
رسیاں یہ وقت کی گلے سے کھلتی ہی نہیں
جسم کا لباس ہے چِرا چِرا سا
چِرا چِرا سا دھاگہ دھاگہ سا
دوڑا دوڑا بھاگا بھاگا سا
٭٭٭
فلم: ڈیڑھ عشقیہ
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: راحت فتح علی خان
نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے، جو بول دوں تو زباں جلے ہے
سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ، جو بات میری زباں تلے ہے
نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے، جو بول دوں تو زباں جلے ہے
لگے تو پھر یوں کہ روگ لاگے، نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
یہ عشق ہے نامراد ایسا
یہ عشق ہے نامراد ایسا، کہ جان لیوے تبھی ٹلے ہے
ہماری حالت پہ کتا رووے ہے آسماں بھی تو دیکھ لیجو
کہ سرخ ہو جاویں اس کی آنکھیں
کہ سرخ ہو جاویں اس کی آنکھیں بھی جیسے جیسے یہ دن ڈھلے ہے
نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے، جو بول دوں تو زباں جلے ہے
سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ، جو بات میری زباں تلے ہے
٭٭٭
فلم: دل پڑوسی ہے
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: آشا بھوسلے
ہاں مرے غم تو اٹھا لیتا ہے غم خوار نہیں
دل پڑوسی ہے مگر میرا طرفدار نہیں
جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی
گھر میں دروازہ تو ہے پیچھے کی دیوار نہیں
آپ کے بعد یہ محسوس ہوا ہے ہم کو
جینا مشکل نہیں مرنا کوئی دشوار نہیں
٭٭٭
آواز: آشا بھوسلے
رشتے بنتے ہیں بڑے دھیرے سے، بننے دیتے
کچے لمحے کو ذرا شاخ پہ پکنے دیتے
ایک چنگاری کا اڑنا تھا کہ پر کاٹ دیئے
آنچ آئی تھی ذرا آگ تو جلنے دیتے
کچے لمحے کو ذرا شاخ پہ پکنے دیتے
ایک ہی لمحے پہ اک ساتھ گرے تھے دونوں
خود سنبھلتے یا ذرا مجھ کو سنبھلنے دیتے
کچے لمحے کو ذرا شاخ پہ پکنے دیتے
رشتے بنتے ہیں بڑے دھیرے سے بننے دیتے
کچے لمحے کو ذرا شاخ پہ پکنے دیتے
٭٭٭
آواز: آشا بھوسلے
رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
رات خاموش ہے روتی نہیں، ہنستی بھی نہیں
رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
کانچ کا نیلا سا گنبد ہے اڑا جاتا ہے
پال کھولے کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے
ایک سیلاب ہے ساحل پہ بچھا جاتا ہے
رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں
چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے
اور سناٹوں کی اک دھول اڑی جاتی ہے
رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
کاش اک بار کبھی نیند سے اٹھ کر تم بھی
ہجر کی راتوں میں یہ دیکھو تو کیا ہوتا ہے
٭٭٭
فلم: فی الحال
موسیقی: انو ملک
آوازیں: آشا بھوسلے
اے زندگی، یہ لمحہ جی لینے دے
پہلے سے لکھا کچھ بھی نہیں
روز نیا کچھ لکھتی ہے تو
جو بھی لکھا ہے، دل سے جیا ہے
یہ لمحہ فی الحال جی لینے دے
معصوم سی ہنسی بے وجہ ہی کبھی، ہونٹوں پہ کھل جاتی ہے
انجان سی خوشی بہتی ہوئی کبھی، ساحل پہ مل جاتی ہے
یہ انجانا سا ڈر، اجنبی ہے مگر خوبصورت ہے
جی لینے دے، یہ لمحہ فی الحال جی لینے دے
دل ہی میں رہتا ہے، آنکھوں میں بہتا ہے، کچا سا ایک خواب ہے
لگتا سوال ہے، شاید جواب ہے، دل پھر بھی بیتاب ہے
یہ سکون ہے تو ہے، یہ جنون ہے تو ہے، خوبصورت ہے
جی لینے دے، یہ لمحہ فی الحال جی لینے دے
٭٭٭
آواز: چترا سنگھ
کیوں بار بار آنکھوں میں تم کروٹ لیتے ہو
نہ سوتے ہو، نہ مجھ کو تم سونے دیتے ہو
کہاں چھپے ہو سینے میں تم سانسیں بھاری رہتی ہیں
نیند میں ہو یا سپنوں میں، کیوں پلکیں بھاری رہتی ہیں
کیوں بار بار آنکھوں میں تم کروٹ لیتے ہو
نہ سوتے ہو، نہ مجھ کو تم سونے دیتے ہو
سارے انگ تم اپنے رکھنا، آنکھ کا رنگ تو میرا ہو
تھوڑی تھوڑی شام کی رنگت، ہلکا ہلکا سویرا ہو
کیوں بار بار آنکھوں میں تم کروٹ لیتے ہو
نہ سوتے ہو، نہ مجھ کو تم سونے دیتے ہو
٭٭٭
فلم: فضا
موسیقی: انو ملک
آواز: الکا یاگنک، سونو نگم
تو ہوا ہے، فضا ہے، زمیں کی نہیں
تو گھٹا ہے تو پھر کیوں برستی نہیں
اڑتی رہتی ہے تو پنچھیوں کی طرح، آ میرے آشیانے میں آ
تو ہوا ہے، فضا ہے، زمیں کی نہیں
میں ہوا ہوں، کہیں بھی ٹھہرتی نہیں
رک بھی جاؤں کہیں پر تو رہتی نہیں
میں نے تنکے اٹھائے ہوئے ہیں پروں پر، آشیانہ نہیں میرا
تو ہوا ہے، فضا ہے، زمیں کی نہیں
گھنے ایک پیڑ سے مجھے جھونکا کوئی لے کے آیا ہے
سوکھے ایک پتے کی طرح، ہوا نے ہر طرف اڑایا ہے
آ نا آ! ایک دفعہ، اس زمیں سے اٹھیں، پاؤں رکھے ہوا پر، ذرا سا اڑیں
چل چلیں ہم جہاں کوئی رستا نہ ہو
کوئی رہتا نہ ہو، کوئی بستا نہ ہو
کہتے ہیں آنکھوں میں ملتی ہے ایسی جگہ
تم ملے تو کیوں لگا مجھے، خود سے ملاقات ہو گئی
کچھ بھی تو کہا نہیں مگر زندگی سے بات ہو گئی
آ نا آ، ساتھ بیٹھیں ذرا دیر تو، ہاتھ تھامے رہیں اور کچھ نہ کہیں
چھو کے دیکھیں تو آنکھوں کی خاموشیاں
کتنی چپ چاپ ہوتی ہیں سرگوشیاں
سنتے ہیں آنکھوں میں ہوتی ہے ایسی صدا
٭٭٭
آوازیں: الکا یاگنک، ادت نارائن
آ جا ماہی میرے، آ جا ماہی میرے، آ جا ماہی میرے آ
آ دھوپ ملوں میں ترے ہاتھوں میں
آ سجدہ کروں میں ترے ہاتھوں میں
صبح کی مہندی چھلک رہی ہے آ جا
آ جا ماہیا، آ جا ماہیا
آہستہ پکارو سب سن لیں گے
بس لبوں سے چھو لو لب سن لیں گے
آنکھ بھی کل سے پھڑک رہی ہے آ جا
آ جا ماہیا، آ جا ماہیا
ایک نور سے آنکھیں چونک گئی
دیکھا جو تجھے آئینے میں
کوئی نور کرن ہو گی وہ بھی
جو چبھنے لگی ہے سینے میں
آ جا ماہیا، آ جا ماہیا
لال ہو جب یہ شام کنارا
اوڑھا دینا سر پہ سارا
چل روک لے سورج چھپ جائے گا
پانی میں گر کے بجھ جائے گا
آ جا ماہیا، آ جا ماہیا
٭٭٭
فلم: گھر
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز:لتا منگیشکر
آج کل پاؤں زمیں پر نہیں پڑتے میرے
بولو دیکھا ہے کبھی تم نے مجھے اڑتے ہوئے
جب بھی تھاما ہے ترا ہاتھ تو دیکھا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ بس ہاتھ کی ریکھا ہے
ہم نے دیکھا ہے دو تقدیروں کو جڑتے ہوئے
آج کل پاؤں زمیں پر نہیں پڑتے میرے
نیند سی رہتی ہے، ہلکا سا نشہ رہتا ہے
رات دن آنکھوں میں اک چہرہ بسا رہتا ہے
پر لگی آنکھوں کو دیکھا ہے کبھی اڑتے ہوئے
آج کل پاؤں زمیں پر نہیں پڑتے میرے
جانے کیا ہوتا ہے ہر بات پہ کچھ ہوتا ہے
دن میں کچھ ہوتا ہے اور رات میں کچھ ہوتا ہے
تھام لینا جو کبھی دیکھو ہمیں اڑتے ہوئے
آج کل پاؤں زمیں پر نہیں پڑتے میرے
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
تیرے بنا جیا جائے نا
بن تیرے تیرے بن ساجنا
سانس میں سانس آئے نا
تیرے بنا جیا جائے نا
جب بھی خیالوں میں تو آئے
میرے بدن سے خوشبو آئے
مہکے بدن میں رہا نہ جائے
رہا جائے نا
تیرے بنا جیا جائے نا
ریشمی راتیں روز نہ ہوں گی
یہ سوغاتیں روز نہ ہوں گی
زندگی تجھ بن راس نہ آئے
راس آئے نا
تیرے بنا جیا جائے نا
٭٭٭
آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار
کشور: آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہیں
آپ سے بھی خوبصورت آپ کے انداز ہیں
آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہے
لب ہلے تو موگرے کے پھول کھلتے ہیں کہیں
آپ کی آنکھوں میں کیا ساحل بھی ملتے ہیں کہیں
آپ کی خاموشیاں بھی آپ کی آواز ہیں
لتا: آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہیں
آپ سے بھی خوبصورت آپ کے انداز ہیں
آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہیں
آپ کی باتوں میں پھر کوئی شرارت تو نہیں
بے وجہ تعریف کرنا آپ کی عادت تو نہیں
آپ کی بد معاشیوں کے یہ نئے انداز ہیں
کشور: آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہیں
لتا: آپ سے بھی خوبصورت آپ کے انداز ہیں
آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے سے راز ہے
٭٭٭
فلم: غلامی
موسیقی:لکشمی کانت، پیارے لال
آوازیں: لتا منگیشکر، شبیر کمار
ز حال مسکیں، مکن بہ رنجش، بحال ہجر بیچارہ دل ہے
سنائی دیتی ہے جس کی دھڑکن تمہارا دل یا ہمارا دل ہے
وہ آ کے پہلو میں ایسے بیٹھے
کہ شام رنگین ہو گئی ہے
ذرا ذرا سی کھلی طبیعت
ذرا سی غمگین ہو گئی ہے
کبھی کبھی شام ایسے ڈھلتی ہے
کہ جیسے گھونگھٹ اتر رہا ہے
تمہارے سینے سے اٹھتا دھواں
ہمارے دل سے گزر رہا ہے
یہ شرم ہے یا حیا ہے کیا ہے
نظر اٹھاتے ہی جھک گئی ہے
تمہاری پلکوں سے گر کے شبنم
ہماری آنکھوں میں رک گئی ہے
٭٭٭
فلم: ہپ ہپ ہرے
موسیقی: ون راج بھاٹیا
آوازیں:آشا بھوسلے، بھوپیندر
جب کبھی مڑ کے دیکھتا ہوں میں
تم بھی کچھ اجنبی سی لگتی ہو
میں بھی کچھ اجنبی سا لگتا ہوں
ساتھ ہی ساتھ چلتے چلتے کہیں
ہاتھ چھوٹے مگر پتہ ہی نہیں
آنسوؤں سے بھری سی آنکھوں میں
ڈوبی ڈوبی ہوئی سی لگتی ہو
تم بہت اجنبی سی لگتی ہو
جب کبھی مڑ کے دیکھتا ہوں میں
ہم جہاں تھے وہاں پہ اب تو نہیں
پاس رہنے کا بھی سبب تو نہیں
کوئی ناراضگی نہیں ہے مگر
پھر بھی روٹھی ہوئی سی لگتی ہو
تم بھی اب اجنبی سی لگتی ہو
جب کبھی مڑ کے دیکھتا ہوں میں
رات اداس نظم لگتی ہے
زندگی سے رسم لگتی ہے
ایک بیتے ہوئے سے رشتہ کی
ایک بیتی گھڑی سے لگتے ہو
تم بھی اب اجنبی سے لگتے ہو
جب کبھی مڑ کے دیکھتا ہوں میں
٭٭٭
آواز: بھوپیندر
ایک صبح ایک موڑ پر میں نے کہا اسے روک کر
ہاتھ بڑھا اے زندگی، آنکھ ملا کر بات کر
روز تیرے جینے کے لئے
ایک صبح مجھے مل جاتی ہے
مرجھاتی کوئی شام اگر تو
رات کوئی کھل جاتی ہے
میں روز صبح تک آتا ہوں،
اور روز شروع کرتا ہوں سفر
ہاتھ بڑھا اے زندگی، آنکھ ملا کر بات کر
تیرے ہزاروں چہروں میں
ایک چہرا ہے مجھ سے ملتا ہے
آنکھوں کا رنگ بھی ایک سا ہے
آواز کا انگ بھی ملتا ہے
سچ پوچھو تو ہم دو جڑواں ہیں
تو شام میری میں تیری سحر
ہاتھ بڑھا اے زندگی، آنکھ ملا کر بات کر
٭٭٭
فلم: اجازت
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: آشا بھوسلے
چھوٹی سی کہانی سے، بارشوں کے پانی سے
ساری وادی بھر گئی
نہ جانے کیوں دل بھر گیا
نہ جانے کیوں آنکھ بھر گئی
رکتی ہے چلتی ہے
کبھی برستی ہے
بادل پہ پاؤں رکھ کے
بارش مچلتی ہے
چھوٹی سی کہانی سے۔۔۔
شاخوں پہ پتے تھے
پتوں میں بوندیں تھیں
بوندوں میں پانی تھا
پانی میں آنسو تھا
چھوٹی سی کہانی سے۔۔۔
پہلے ملے بھی تھے
دل میں گلے بھی تھے
مل کے پرائے تھے
دو ہمسائے تھے
چھوٹی سی کہانی سے۔۔۔
٭٭٭
آواز: آشا بھوسلے
قطرہ قطرہ ملتی ہے
قطرہ قطرہ جینے دو
زندگی ہے، بہنے دو
پیاسی ہوں، میں پیاسی رہنے دو
تم نے تو آکاش بچھایا
میرے ننگے پیروں میں زمین ہے
دیکھے تو تمہاری آرزو ہے
شاید ایسے زندگی حسین ہے
آرزو میں بہنے دو
پیاسی ہوں، میں پیاسی رہنے دو
کل بھی تو کچھ ایسا ہی ہوا تھا
نیند میں تھی تم نے جب چھوا تھا
گرتے گرتے باہوں میں بچی میں
سپنے پہ پاؤں پڑ گیا تھا
سپنوں میں رہنے دو
پیاسی ہوں، میں پیاسی رہنے دو
٭٭٭
آواز: آشا بھوسلے
خالی ہاتھ شام آئی ہے
خالی ہاتھ جائے گی
آج بھی نہ آیا کوئی
خالی لوٹ جائے گی
خالی ہاتھ شام آئی ہے
خالی ہاتھ جائے گی
آج بھی نہ آئے آنسو
آج بھی نہ بھیگے نینا
آج بھی یہ کوری رینا
کوری لوٹ جائے گی
خالی ہاتھ شام آئی ہے
خالی ہاتھ جائے گی
رات کی سیاہی کوئی
پائے تو مٹائے نا
آج نہ مٹایا تو یہ
کل بھی لوٹ آئے گی
خالی ہاتھ شام آئی ہے
خالی ہاتھ جائے گی
٭٭٭
آواز: آشا بھوسلے
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
اور میرے ایک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بجھا دو، میرا وہ سامان لوٹا دو
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
پت جھڑ ہے کچھ۔۔۔ ہے نا ؟
پت جھڑ میں کچھ پتوں کے گرنے کی آہٹ
کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی
پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے
وہ شاخ گرا دو، میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک اکیلی چھتری میں جب آدھے آدھے بھیگ رہے تھے
آدھے سوکھے آدھے گیلے، سوکھا تو میں لے آئی تھی
گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ہو!
وہ بھجوا دو، میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک سو سولہ چاند کی راتیں ایک تمہارے کاندھے کا تل
گیلی مہندی کی خوشبو، جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ
جھوٹ موٹ کے وعدے سب یاد کرا دوں
سب بھجوا دو، میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک اجازت دے دو بس، جب اس کو دفناؤں گی
میں بھی وہیں سو جاؤں گی
میں بھی وہیں سو جاؤں گی
میرا وہ سامان لوٹا دو
٭٭٭
فلم: عشقیہ
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: راحت فتح علی خاں
ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں
عمر کب کی برس کے سفید ہو گئی
کاری بدری جوانی کی چھٹتی نہیں
واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی
دل تو بچہ ہے جی، تھوڑا کچا ہے جی
کس کو پتہ تھا پہلو میں رکھا
دل ایسا پاجی بھی ہو گا
ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی
ہم جیسا حاجی ہی ہو گا
ہائے زور کریں، کتنا شور کریں
بے وجہ باتوں پہ ایویں غور کریں
دل سا کوئی کمینہ نہیں
کوئی تو روکے، کوئی تو ٹوکے
اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی، تھوڑا کچا ہے جی
ایسی اداسی بیٹھی ہے دل پہ
ہنسنے سے گھبرا رہے ہیں
ساری جوانی کترا کے کاٹی
پیڈی میں ٹکرا گئے ہیں
دل دھڑکتا ہے تو ایسے لگتا ہے وہ
آ رہا ہے یہیں دیکھتا ہی نا ہو
پریم کی ماریں قطار رے
توبہ یہ لمحے کٹتے نہیں کیوں
آنکھوں سے میری ہٹتے نہیں کیوں
ڈر لگتا ہے مجھ سے کہنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی، تھوڑا کچا ہے جی
٭٭٭
فلم: جب تک ہے جان
موسیقی: اے آر رحمان
آوازیں: موہت چوہان، شرےیا گھوشال
سانس میں تیری … ملی تو
مجھے سانس آئی
روح نے چھو لی جسم کی خوشبو
تو جو پاس آئی …
سانس میں تیری … ملی تو
مجھے سانس آئی
کب تک ہوش سنبھالے کوئی
ہوش اڑے تو
اڑ جانے دو
تیرے خیال میں ڈوب کے اکثر۔۔
اچھی لگی تنہائی
سانس میں تیری … ملی تو
مجھے سانس آئی
رات تیری باہوں میں کٹے تو
صبح بڑی ہلکی لگتی ہے
آنکھ میں رہنے لگے ہو کیا تم
کیوں چھلکی چھلکی لگتی ہے
مجھ کو پھر سے چھو کے بولو
میری قسم کیا کھائی
سانس میں تیری … ملی تو
مجھے سانس آئی
روح نے چھو لی جسم کہ خوشبو
تو جو پاس آئی
٭٭٭
آوازیں: نِتی موہن، صوفیہ اشرف
چلی رے، چلی رے
جنوں کو لئے
قطرہ، قطرہ
لمحوں کو پئے
پنجرے سے اڑا
دل کا شکرا
خود ہی سے میں نے عشق کیا رے
جیا، جیا رے جیا رے
چھوٹے چھوٹے لمحوں کو
تتلی جیسے پکڑو تو
ہاتھوں میں رنگ رہ جاتا ہے
پنکھوں سے جب چھوڑو تو
وقت چلتا ہے
وقت کا مگر رنگ
اترتا ہے اکھرا
اڑتے اڑتے پھر ایک لمحہ
میں نے پکڑ لیا رے
جیا جیا رے جیا رے۔۔۔
ہلکے ہلکے پردوں میں
مسکرانا اچھا لگتا ہے
روشنی جو دیتا ہو تو
دل جلانا اچھا لگتا ہے
ایک پل سہی، عمر بھر اسے
ساتھ رکھنا اکھرا
زندگی سے پھر ایک وعدہ
میں نے کر لیا رے
جیا جیا رے جیا رے۔۔۔
٭٭٭
فلم: جہاں تم لے چلو
موسیقی: وشال بھاعدواج
آواز: ہری ہرن
کبھی چاند کی طرح ٹپکی، کبھی راہ میں پڑی پائی
اٹھنّی سی زندگی، یہ زندگی
کبھی چیک کی طرح کھنکی، کبھی جیب سے نکل آئی
اٹھنّی سی زندگی، یہ زندگی
کبھی چہرے پہ جڑی دیکھی، کہیں موڑ پہ کھڑی دیکھی
شیشے کے مرتبانوں میں، دکان پہ پڑی دیکھی
چوکنی سی زندگی، یہ زندگی۔۔۔
اٹھنّی سی زندگی، یہ زندگی
تمغے لگا کے ملتی ہے، معصومیت سی کھلتی ہے
کبھی پھول ہاتھ میں لے کر، شاخوں پہ بیٹھی ہلتی ہے
اٹھنّی سی زندگی، یہ زندگی
اٹھنّی سی زندگی، یہ زندگی
٭٭٭
فلم: کابلی والا
موسیقی: سلیل چودھری
آواز: ہیمنت کمار
گنگا آئے کہاں سے، گنگا جائے کہاں رے
آئے کہاں سے، جائے کہاں رے
لہرائے پانی میں جیسے دھوپ چھاؤں رے
گنگا آئے کہاں سے، گنگا جائے کہاں رے
لہرائے پانی میں جیسے دھوپ چھاؤں رے
رات کاری دن اجیارا مل گئے دونوں سائے
سانجھ نے دیکھو رنگ روپ کے کیسے بھید مٹائے
لہرائے پانی میں جیسے دھوپ چھاؤں رے
گنگا۔۔۔۔
کانچ کوئی ماٹی کوئی رنگ برنگے پیالے
پیاس لگے تو ایک برابر جس میں پانی ڈالے
لہرائے پانی میں جیسے دھوپ چھاؤں رے
گنگا۔۔۔۔
نام کوئی بولی کوئی لاکھوں روپ اور چہرے
کھول کے دیکھو پیار کی آنکھیں دبتے رے سنگ میرے
لہرائے پانی میں جیسے دھوپ چھاؤں رے
گنگا۔۔۔۔
٭٭٭
فلم: خاموشی
موسیقی: ہیمنت کمار
آواز: لتا منگیشکر
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ہاتھ سے چھو کے اسے رشتوں کا الزام نہ دو
صرف احساس ہے یہ روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو
پیار کوئی بول نہیں، پیار آواز نہیں
ایک خاموشی ہے سنتی ہے کہا کرتی ہے
نہ یہ بجھتی ہے نہ رکتی ہے نہ ٹھہری ہے کہیں
نور کی بوند ہے صدیوں سے بہا کرتی ہے
صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو، کوئی نام نا دو
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو
مسکراہٹ سی کھلی رہتی ہے آنکھوں میں کہیں
اور پلکوں پہ اجالے سے چھپے رہتے ہیں
ہونٹ کچھ کہتے نہیں، کانپتے ہونٹوں پہ مگر
کتنے خاموش سے افسانے رکے رہتے ہیں
صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو، کوئی نام نا دو
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو
پیار کو پیار ہی رہنے دو، کوئی نام نا دو
٭٭٭
آواز: کشور کمار
وہ شام کچھ عجیب تھی، یہ شام بھی عجیب ہے
وہ کل بھی پاس پاس تھی، وہ آج بھی قریب ہے
جھکی ہوئی نگاہ میں، کہیں مرا خیال تھا
دبی دبی ہنسی میں اک حسین سا گلال تھا
میں سوچتا تھا میرا نام گنگنا رہی ہے وہ
نہ جانے کیوں لگا مجھے کہ مسکرا رہی ہے وہ
وہ شام کچھ عجیب تھی
میرا خیال ہے ابھی جھکی ہوئی نگاہ میں
کھلی ہوئی ہنسی بھی ہے، دبی ہوئی سی چاہ میں
میں جانتا ہوں میرا نام گنگنا رہی ہے وہ
یہی خیال ہے مجھے کہ ساتھ آ رہی ہے وہ
وہ شام کچھ عجیب تھی، یہ شام بھی عجیب ہے
وہ کل بھی پاس پاس تھی، وہ آج بھی قریب ہے
٭٭٭
آواز: ہیمنت کمار
تم پکار لو، تمہارا انتظار ہے،
تم پکار لو
خواب چن رہی ہے رات، بے قرار ہے
تمہارا انتظار ہے، تم پکار لو
ہونٹ پہ لئے ہوئے دل کی بات ہم
جاگتے رہیں گے اور کتنی رات ہم
مختصر سی بات ہے
تم سے پیار ہے
تمہارا انتظار ہے، تم پکار لو
دل بہل تو جائے گا اس خیال سے
حال مل گیا تمہارا اپنے حال سے
رات یہ قرار کی
بے قرار ہے
تمہارا انتظار ہے، تم پکار لو
٭٭٭
فلم: کھٹا میٹھا
موسیقی: راجیش روشن
آوازیں:لتا منگیشکر، کشور کمار
لتا: تم سے ملا تھا پیار کچھ اچھے نصیب تھے
ہم ان دنوں امیر تھے جب تم قریب تھے
سوچا تھا مے ہے زندگی اور زندگی کی مے
پیالہ ہٹا کے
پیالہ ہٹا کے تیری ہتھیلی سے پئیں گے
وہ خواہشیں عجیب تھیں سپنے عجیب تھے
تم سے ملا تھا پیار کچھ اچھے نصیب تھے
ہم ان دنوں امیر تھے جب تم قریب تھے
پوچھیں گے ایک بار کبھی ہم تم سے روٹھ کر
ہم مر گئے
ہم مر گئے اگر تو آپ کیسے جئیں گے
کشور: وہ خواہشیں عجیب تھیں سپنے عجیب تھے
جینے کو تیری پیار کی دولت ملی تو تھی
جب تم نہیں تھے ان دنوں ہم بھی غریب تھے
دونوں: تم سے ملا تھا پیار کچھ اچھے نصیب تھے
ہم ان دنوں امیر تھے جب تم قریب تھے
٭٭٭
آوازیں: کشور کمار، اوشا منگیشکر۔ ساتھی
کورس: کھٹا میٹھا
کھٹا میٹھا
کشور: یہ جینا ہے انگور کا دانہ
اوشا: کچھ کچا ہے کچھ پکا ہے
کشور: ارے جتنا کھایا میٹھا تھا
جو ہاتھ نا آیا کھٹا ہے
کورس: یہ جینا ہے۔۔۔
کشور: یہ گھومتا پہیا گول روپئیا ہاتھ نہ آئے رے
ارے میں ہوں، اس کے ساتھ اے ساتھی ساتھ نا جائے رے
ارے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے دل بولے
کہ ہائے دل بولے
ہاتھ نہ آئے تو سمجھو ہے سپنا
جیب میں ہے تو مال ہے اپنا
یہ جینا ہے۔۔۔
جی کے دیکھو جینے والے یوں بھی جیتے ہیں
اوشا: دن کی چادر پھٹ جائے تو رات کو سیتے ہیں
کشور: ارے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے دل بولے
کہ ہائے دل بولے
اوشا: تھوڑا سا رو کے تھوڑا سا ہنسنا
تھوڑا سا رکنا تھوڑا سا چلنا
یہ جینا ہے۔۔۔
٭٭٭
فلم: خوشبو
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: آشا بھوسلے
بیچارہ دل کیا کرے، ساون جلے بھادوں جلے
دو پل کی راہ نہیں، اک پل رکے اک پل چلے
گاؤں گاؤں میں گھومے رے جوگی، روگی چنگے کرے،
میرے ہی من کی تڑپ نہ جانے، ہاتھ نہ دھرے
تیرے واسطے لاکھوں راستے، تو جہاں بھی چلے،
میرے لئے ہے، تیری ہی راہیں، تو جو ساتھ لے
٭٭٭
آواز: کشور کمار
او مانجھی رے، اپنا کنارا ندیا کی دھارا ہے
او مانجھی رے۔۔۔
ساحلوں پہ بہنے والے
کبھی سنا تو ہو گا کہیں۔۔۔
کاغذوں کی کشتیوں کا
کہیں کنارا ہوتا نہیں
او مانجھی رے۔۔۔ مانجھی رے
کوئی کنارا جو کنارے سے ملے وہ،
اپنا کنارا ہے۔۔۔
او مانجھی رے۔۔۔
پانیوں میں بہہ رہے ہیں
کئی کنارے ٹوٹے ہوئے
راستوں میں مل گئے ہیں
سبھی سہارے چھوٹے ہوئے۔۔۔
کوئی سہارا منجھدھارے میں ملے
وہ اپنا سہارا ہے۔۔۔
او مانجھی رے، اپنا کنارا، ندیا کی دھارا ہے
او مانجھی رے۔۔۔
٭٭٭
فلم: کنارہ
موسیقی: راہل دیوق برمن
آواز: لتا منگیشکر، کشور کمار
میٹھے بول بولے، بولے پایلیا
چھوم چھنن بولے، جھنک جھن بولے
میٹھے بول بولے۔ بولے پایلیا
پگ پگ ناچے رے گھنگرو کی داسی
اک پگ رادھا جیسی، اک پگ میرا جیسی
سانورے کی بولی بولے
پایلیا بولے
میٹھے بول بولے۔ بولے پایلیا
نینوں کی بانسری کوئی سنائے
انکھیوں کی جیوتی سے جیوت جلائے
باورے سے ڈھولی ڈھولے
پایلیا بولے
میٹھے بول بولے۔ بولے پایلیا
٭٭٭
آوازیں: لتا منگیشکر، بھوپیندر
نام گم جائے گا، چہرہ یہ بدل جائے گا
میری آواز ہی پہچان ہے
گر یاد رہے
وقت کے ستم کم حسیں نہیں
آج ہیں یہاں کل کہیں نہیں
وقت سے پرے اگر مل گئے کہیں
میری آواز ہی پہچان ہے
گر یاد رہے
جو گزر گئی کل کی بات تھی
عمر تو نہیں ایک رات تھی
رات کا سرا اگر پھر ملے کہیں
میری آواز ہی پہچان ہے
گر یاد رہے
دن ڈھلے جہاں، رات پاس ہو
زندگی کی لو اونچی کر چلو
یاد آئے گر کبھی، جی اداس ہو
میری آواز ہی پہچان ہے
گر یاد رہے
٭٭٭
آواز: کشور کمار
جانے کیا سوچ کر نہیں گزرا
اک پل رات بھر نہیں گزرا
اپنی تنہائی کا اوروں سے نہ شکوہ کرنا
تم اکیلے ہی نہیں ہو سبھی اکیلے ہیں
یہ اکیلا سفر نہیں گزرا
جانے کیا سوچ کر نہیں گزرا
اک پل رات بھر نہیں گزرا
دو گھڑی جینے کی مہلت تو ملی ہے سب کو
تم بھی مل جاؤ گھڑی بھر تو یہ غم ہوتا ہے
اس گھڑی کا سفر نہیں گزرا
جانے کیا سوچ کر نہیں گزرا
اک پل رات بھر نہیں گزرا
٭٭٭
فلم: لیکن
موسیقی: ہردے ناتھ منگیشکر
آواز: لتا منگیشکر
میں ایک صدی سے بیٹھی ہوں،
اس راہ سے کوئی گزرا نہیں
کچھ چاند کے رتھ تو گزرے تھے
پر چاند سے کوئی اترا نہیں
میں ایک صدی سے بیٹھی ہوں۔۔۔
دن رات کے دونوں پہئے بھی
کچھ دھول اڑا کر بیت گئے
میں من آنگن میں بیٹھی رہی
چوکھٹ سے کوئی گزرا نہیں
میں ایک صدی سے بیٹھی ہوں۔۔۔
آکاش بڑا بوڑھا بابا
سب کو کچھ بانٹ کے جاتا ہے
آنکھوں کو نچوڑا میں نے بہت
پر کوئی آنسو اترا نہیں
میں ایک صدی سے بیٹھی ہوں۔۔۔
٭٭٭
آواز: سریش واڈکر
سرمئی شام اس طرح آئے
سانس لیتے ہیں جس طرح سائے
سرمئی شام اس طرح آئے
کوئی آہٹ نہیں بدن کی کہیں
پھر بھی لگتا ہیں تو یہیں ہے کہیں
وقت جاتا سنائی دیتا ہے
تیرا سایا دکھائی دیتا ہے
جیسے خوشبو نظر سے چھو جائے
سانس لیتے ہیں جس طرح سائے
سرمئی شام اس طرح آئے
دن کا جو بھی پہر گزرتا ہے
کوئی احسان سا اترتا ہے
وقت کے پاؤں دیکھتا ہوں میں
روز یہ چھاؤں دیکھتا ہوں میں
آئے جیسے کوئی خیال آئے
سانس لیتے ہیں جس طرح سائے
سرمئی شام اس طرح آئے
٭٭٭
فلم: لباس
موسیقی: راہل دیو برمن
آوازیں: لتا منگیشکر، سریش واڈکر
خاموش سا افسانہ پانی سے لکھا ہوتا
نہ تم نے کہا ہوتا نہ ہم نے سنا ہوتا
دل کی بات نہ پوچھ دل تو آتا رہے گا
دل بہکتا رہا ہے، دل بہکتا رہے گا
دل کو ہم نے کچھ سمجھایا ہوتا
خاموش سا افسانہ پانی سے لکھا ہوتا
سہمے سے رہتے ہیں، جب یہ دن ڈھلتا ہے
ایک دیا بجھتا ہے، ایک دیا جلتا ہے
تم نے کوئی تو دیپ جلایا ہوتا
خاموش سا افسانہ پانی سے لکھا ہوتا
اتنے ساحل ڈھونڈھے، کوئی نہ سامنے آیا
جب منجدھار میں ڈوبے، ساحل تھامنے آیا
تم نے ساحل کو پہلے بچھایا ہوتا
خاموش سا افسانہ پانی سے لکھا ہوتا
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
سیلی ہوا چھو گئی
سیلا بدن چھل گیا
نیلی ندی کے پرے
گیلا سا چاند کھل گیا
تم سے ملی جو زندگی
ہم نے ابھی بوئی نہیں
تیرے سوا کوئی نہ تھا
تیرے سوا کوئی نہیں
سیلی ہوا چھو گئی۔۔۔
جانے کہاں کیسے شہر
لے کے چلا یہ دل مجھے
تیرے بغیر دن نہ جلا
تیرے بغیر شب نہ بجھے
سیلی ہوا چھو گئی۔۔۔
جتنے بھی طے کرتے گئے
بڑھتے گئے یہ فاصلے
میلوں سے دن چھوڑ آئے
سالوں سے رات لے کے چلے
سیلی ہوا چھو گئی
٭٭٭
فلم: ماچس
موسیقی: وشال بھاردواج
آوازیں: ہری ہرن، سریش واڈکر، کے کے
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں تیرے پیروں کے کنول گرا کرتے تھے
ہنسے تو دو گالوں میں بھنور پڑا کرتے تھے
تیری کمر کے بل پہ ندی مڑا کرتی تھی
ہنسی تیری سن سن کے فصل پکا کرتی تھی
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں تیری ایڑی سے دھوپ اڑا کرتی تھی
سنا ہے اس چوکھٹ پہ اب شام رہا کرتی ہے
لٹوں سے الجھی لپٹی، اک رات ہوا کرتی تھی
کبھی کبھی تکئے پہ وہ بھی ملا کرتی تھی
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
دل درد کا ٹکڑا ہے پتھر کی ڈالی سی ہے
اک اندھا کنواں ہے یا اک بند گلی سی ہے
اک چھوٹا سا لمحہ ہے، جو ختم نہیں ہوتا
میں لاکھ جلاتا ہوں، یہ بھسم نہیں ہوتا
یہ بھسم نہیں ہوتا۔۔۔
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
٭٭٭
آوازیں: ہری ہرن، سریش واڈکر
چپہ چپہ چرخہ چلے
اونی پونی یاریاں تیری
بونی بونی بیریوں تلے
چپہ چپہ چرخہ چلے۔۔۔
یارا وے، یارا وے، یارا وے
نانیاں پردیسیا
چپہ چپہ چرخہ چلے۔۔۔
گوری چٹخوری جو کٹوری سے کھلاتی تھی
جمعے کے جمعے جو سرما لگاتی تھی
کچی منڈیر تلے
چپہ چپہ چرخہ چلے۔۔۔
جھوٹی موٹی موئی نے رسوئی میں پکارا تھا
لوہے کے چمٹے سے لپٹے تو مارا تھا
بیبا تیرا چولھا جلے
چپہ چپہ چرخہ چلے۔۔۔
چنی لے کے سوتی تھی، کمال لگتی تھی
پانی میں جلتا چراغ لگتی تھی
بیبا تیرا یاد نہ ٹلے
چپہ چپہ چرخہ چلے۔۔۔
٭٭٭
فلم: معصوم
موسیقی: راہل دیو برمن
آوازیں: گوری باپت، گرپریت کور، ونیتا مشرا
لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا
گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائی
گھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائی
چگ بگ چگ بگ چگ بگ چگ بگ
گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائی
گھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائی
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈی
سبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ٹھنڈی
چگ بگ چگ بگ چگ بگ چگ بگ
گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈی
سبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ٹھنڈی
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
گھوڑا اپنا تگڑا ہے دیکھو کتنی چربی ہے
چلتا ہے مہرولی میں پر گھوڑا اپنا عربی ہے
چگ بگ چگ بگ چگ بگ چگ بگ
گھوڑا اپنا تگڑا ہے دیکھو کتنی چربی ہے
چلتا ہے مہرولی میں پر گھوڑا اپنا عربی ہے
بانہہ چھڑا کے دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا
گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
٭٭٭
آوازیں: لتا منگیشکر، انوش گھوشال
تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں
پریشان ہوں میں
جینے کے لئے سوچا ہی نہ تھا درد سنبھالنے ہوں گے
مسکراؤں تو مسکرانے کے قرض اٹھانے ہوں گے
مسکراؤں کبھی تو لگتا ہے
جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے
تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
حیران ہوں میں
آج اگر بھر آئی ہیں، بوندیں برس جائیں گی
کل کیا پتہ ان کے لئے آنکھیں ترس جائیں گی
جانے کہاں گم کہاں کھویا
ایک آنسو چھپا کے رکھا تھا
تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
حیران ہوں میں
زندگی تیرے غم نے ہمیں رشتہ نئے سمجھائے
ملے جو ہمیں دھوپ میں ملے چھاؤں کے ٹھنڈے سائے
تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
حیران ہوں میں
٭٭٭
فلم: میرے اپنے
موسیقی: سلیل چودھری
آوز: لتا منگیشکر
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
چاند کٹورا لئے بھکارن رات
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
موتیوں جیسے تارے، آنچل میں ہیں سارے
جانے یہ پھر کیا مانگے بھکارن رات
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
جوگن جیسی لاگے، نہ سوئے نہ جاگے
گلی گلی میں جائے بھکارن رات
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
روز لگائے پھیرا، ہے کوئی ننھا سویرا
گود میں بھر دو، آئی بھکارن رات
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
چاند کٹورا لئے بھکارن رات
روز اکیلی آئے، روز بچاری جائے
روز اکیلی آئے، روز اکیلی جائے
٭٭٭
آواز: کشور کمار
کوئی ہوتا جس کو اپنا
ہم اپنا کہہ لیتے یارو
پاس نہیں تو دور ہی ہوتا
لیکن کوئی میرا اپنا
آنکھوں میں نیند نہ ہوتی
آنسو ہی تیرتے رہتے
خوابوں میں جاگتے ہم رات بھر
کوئی تو غم اپناتا
کوئی تو ساتھی ہوتا
کوئی ہوتا جس کو اپنا۔۔۔
بھولا ہوا کوئی وعدہ
بیتی ہوئی کچھ یادیں
تنہائی دہراتی ہے رات بھر
کوئی دلاسہ ہوتا
کوئی تو اپنا ہوتا
کوئی ہوتا جس کو اپنا۔۔۔
٭٭٭
فلم: مایا میم صاب
موسیقی: ہردیہ ناتھ منگیشکر
آواز: لتا منگیشکر
اس دل میں بس کر دیکھو تو
یہ شہر بڑا پرانا ہے
ہر سانس میں کہانی ہے
ہر سانس میں افسانہ ہے
یہ شہر بڑا پرانا ہے۔۔۔
یہ بستی دل کی بستی ہے
کچھ درد ہے کچھ رسوائی ہے
یہ کتنی بار اجاڑی ہے
یہ کتنی بار بسائی ہے
یہ شہر بڑا پرانا ہے۔۔۔
یہ جسم ہے کچی مٹی کا
بھر جائے تو رسنے لگتا ہے
بانہوں میں کوئی تھامے تو
آغوش میں گھرنے لگتا ہے
یہ شہر بڑا پرانا ہے۔۔۔
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
مرے سرہانے جلاؤ سپنے
مجھے ذرا سی تو نیند آئے
مرے سرہانے جلاؤ سپنے۔۔۔
خیال چلتے ہیں آگے آگے
میں ان کی چھاؤں میں چل رہی ہوں،
نہ جانے کس موم سے بنی ہوں،
جو قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں،
میں سہمی رہتی ہوں، نیند میں بھی
کہیں کوئی خواب ڈس نہ جائے
میرے سرہانے جلاؤ سپنے۔۔۔
کبھی بلاتا ہے کوئی سایا
کبھی اڑاتی ہے دھول کوئی
میں ایک بھٹکی ہوئی سی خوشبو
تلاش کرتی ہوں پھول کوئی
ذرا کسی شاخ پر تو بیٹھوں
ذرا تو مجھ کو ہوا جھلائے
مرے سرہانے جلاؤ سپنے
٭٭٭
فلم: نمکین
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: کشور کمار
راہ پہ رہتے ہیں یادوں پہ بسر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں
جل گئے جو دھوپ میں تو سایا ہو گئے
آسماں کا کوئی کونا لے کے تھوڑا سو گئے
جو گزر جاتی ہے بس اس پہ گزر کرتے ہیں
راہ پہ رہتے ہیں یادوں پہ بسر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہو ہم تو سفر کرتے ہیں
اڑتے پیروں کے تلے جب بہتی ہے زمین
مڑ کے ہم نے کوئی منزل دیکھی ہی نہیں
رات دن راہوں پہ ہم شام و سحر کرتے ہیں
راہ پہ رہتے ہیں یادوں پہ بسر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہو ہم تو سفر کرتے ہیں
ایسے اجاڑے آشیاں میں تنکے اڑ گئے
بستیوں تک آتے آتے راستے مڑ گئے
ہم ٹھہر جائیں جہاں اس کو شہر کہتے ہیں
راہ پہ رہتے ہیں یادوں پہ بسر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہو ہم تو سفر کرتے ہیں
٭٭٭
فلم: اومکارا
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: سریش واڈکر
جگ جا ری گڑیا
مصری کی پڑیا
میٹھے لگیں دو نینا
نینوں میں تیرے ہم ہی بسے تھے
ہم ہی بسے ہیں، ہے نا
او ری رانی
گڑیا
جگ جا
اری جگ جا
مری جگ جا
جگ جا ری گڑیا۔۔۔
ہلکا سا کوسہ
صبح کا بوسہ
مان جا ری اب جاگ جا
ناک پہ تیرے
کاٹے گا بچھو
جاگ جا تو مان جا
جو چاہے لے لو، دشرتھ کا وعدہ
نینوں سے کھولو جی رینا
او ری رانی، گڑیا
جگ جا
اری جگ جا
موئی جگ جا
کرنوں کا سونا
اوس کے موتی
موتیوں سا موگرا
تیرا بچھونا
بھر بھر کے ڈاروں
گل مہر کا ٹوکرا
اور جو بھی چاہو، مانگو جی مانگو
بولو جی میری مینا
او ری رانی، گڑیا
جگ جا
اری جگ جا
اوئے جگ جا
جگ جا ری گڑیا۔۔۔
٭٭٭
آوازیں: ریکھا بھاردواج، راکیش پنڈت
چاند نگل گئی
ہو جی میں چاند نگل گئی دیّا رے
بھیتر بھیتر آگ جلے
بات کروں تو سینک لگے
میں چاند نگل گئی
انگ پہ ایسے چھالے پڑے
تیز تھا چھونکا کا کروں
سی سی کرتی، سی سی سی سی کرتی میں مروں
زبان پہ لاگا لاگا رے
نمک اسک (عشق) کا ہائے، تیرے اسک (عشق) کا
بلم سے مانگا مانگا رے، بلم سے مانگا رے
نمک اسک کا، تیرے اسک کا
زبان پہ لاگا لاگا رے۔۔۔
سبھی چھیڑے ہیں مجھ کو، سپہیے بانکے چھمیے
ادھاری دینے لگے ہیں گلی کے بنئے بنئے
کوئی تو کوڑی تو بھی لٹا دے، کوئی تو کوڑی
اجی تھوڑی تھوڑی شہد چٹا دے، تھوڑی تھوڑی
تیز تھا تڑکا کا کروں۔۔۔
رات بھر چھانا رے
رات بھر چھانا، رات بھر چھانا چھانا رے
نمک اسک کا۔۔۔
ایسی پھونک لگی جالم (ظالم) کی
کہ بانسری جیسی باجی میں
ارے جو بھی کہا اس چندر بھان نے
پھٹ سے ہو گئی راجی (راضی) میں
کبھی انکھیوں سے پینا، کبھی ہونٹوں سے پینا
کبھی اچھا لگے مرنا، کبھی مسکل (مشکل) لگے جینا
کروٹ کروٹ پیاس لگی تھی
اجی بلم کی آہٹ پاس لگی تھی
تیز تھا چھونکا۔۔۔
ڈلی بھر ڈالا جی۔۔۔ جی رے
ڈلی بھر ڈالا، ڈالا ڈالا رے
نمک اسک کا ہائے۔۔
٭٭٭
فلم: پلکوں کی چھاؤں میں
موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال
آواز: کشور کمار
ڈاکیا ڈاک لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
خوشی کا پیام کہیں
کہیں دردناک لایا
دیور کے بھتیجے کی سالی کی سگائی ہے
آتی پورن ماشی کو قرار پائی ہے
ماما آپ کو لینے آتے مگر مجبوری ہے
بچوں سمیت آنا آپ کا ضروری ہے
دادا تو گزر گئے، دادی بیمار ہے
نانا کا بھی تیرہواں آتے سوموار ہے
چھوٹوں کو پیار دینا، بڑوں کو نمسکار
دیری مجبوری سمجھو کارڈ کو تار
شادی کا سندیسا تیرا اے سومناتھ لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
اے ڈاکیا بابو
کیا ری؟
چھ مہینہ ہوئی گوا کھتو ناہیں لکھن
کھتو ناہیں لکھن؟
بول کیا لکھوں
بس جلدی سے آوے کا لکھ دیو نا
برہا میں کیسے کیسے کاٹوں رتیاں
ساون سنائے بیری، بھیگی بھیگی بتیاں
اگنی کی بوندوں میں جلے، جلے باوریا
نوکریا چھوڑ کے تو آ جانا سانوریا
آ جا رے سانوریا آ جا، آیا بیساکھ آیا
ڈاکیا ڈاک لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
اے منیا،
ہولی کے ہولی، منی آرڈر سے مال بھیجے
ڈال کے لفافے میں سین یا گلال بھیجے
کسی کی دوالی آئی کسی کا دیوالا
نمو کی گود بھری، کھیرو کا پیالا
سات رپیئے لایا
لایا کیا خاک لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
ڈاکیا ڈاک لایا
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
گھونگھٹا گرا ہے ذرا گھونگھٹا اٹھا دے
کوئی میرے ماتھے کی بندیا سجا دے رے
میں دلہن سی لگتی ہوں، دلہن بنا دے رے
آنکھوں میں رات کا کاجل لگا کے
میں آنگن میں ٹھنڈے سویرے بچھا دوں
جو پیروں میں مہندی سی اگنی لگا دے رے
نہ چٹھی ہی آئی نہ سندیسا آیا
ہر آہٹ پہ آنے کا اندیسا آیا
کوئی جھوٹی موٹی کِوَڑیا ہلا دے رے
کوئی میرے آنگن میں ٹھہرے، نہ اترے
اندھیری گلی سے کئی لوگ گزرے
کوئی رک کے تیری کھبریا سنا دے رے
٭٭٭
فلم: پریچے
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: لتا: منگیشکر، بھوپیندر
بیتی نہ بتائی رینا برہا کی جائی رینا
بھیگی ہوئی انکھیوں نے لاکھ بجھائی رینا
بیتی نہ بتائی رینا
بیتی ہوئی بتیاں کوئی دوہرائے
بھولے ہوئے ناموں سے کوئی تو بلائے
چاند۔۔۔ چاند۔۔۔
بھوپندر: چاند کی بن دیوانی، بن دیوانی رتیاں
جاگی ہوئی انکھیوں میں رات نہ آئی رینا
بیتی نہ بتائی رینا برہا کی جائی رینا
بیتی نہ بتائی رینا
یگ آتے ہیں اور یگ جائے
چھوٹی چھوٹی یادوں کے
لتا: پل نہیں جائے
جھوٹ سے کالی لاگے، لاگے کالی رتیاں
روٹھی ہوئیں انکھیوں نے لاکھ منائی رینا
دونوں: بیتی نہ بتائی رینا برہا کی جائی رینا
بیتی نہ بتائی رینا
٭٭٭
آواز: کشور کمار
مسافر ہوں، میں یارو
نہ گھر ہے نہ ٹھکانا
مجھے چلتے جانا ہے، بس، چلتے جانا
مسافر ہوں، میں یارو
ایک راہ رک گئی، تو اور جڑ گئی
میں مڑا تو ساتھ ساتھ راہ مڑ گئی
ہوا کے پروں پہ میرا آشیانہ
مسافر ہوں، میں یارو
دن نے ہاتھ تھام کے ادھر بٹھا لیا
رات نے اشارے سے ادھر بلا لیا
صبح سے شام سے میرا دوستانہ
مسافر ہوں، میں یارو
٭٭٭
فلم: پورنما
موسیقی: کلیان جی، آنند جی
آوازیں: مکیش، لتا منگیشکر
ہمسفر میرے ہمسفر، پنکھ تم پرواز ہم
زندگی کا ساز ہو تم، ساز کی آواز ہم
ہمسفر میرے ہمسفر، پنکھ تم پرواز ہم
زندگی کا گیت ہو تم، گیت کا انداز ہم
آنکھ نے شرما کے کہہ دی
دل کے شرمانے کی بات
پیار کی تم انتہا ہو
پیار کا آغاز تم
ہمسفر میرے ہمسفر۔۔۔
جی میں ہو جب آسماں کی
یا زمیں کی بات ہو
ختم ہوتی ہے تمہیں پر
اب کہیں کی بات ہو
ہو حسیں تم، مہ جبیں تم
اور تمہارا ناز ہم
ہمسفر میرے ہمسفر۔۔۔
٭٭٭
فلم: رتن دیپ
موسیقی: راہل دیو برمن
آوازیں: کشور کمار، آشا بھوسلے
کشور: کبھی کبھی سپنا لگتا ہے
کبھی یہ سب اپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
آشا: کبھی کبھی سپنا لگتا ہے
کبھی یہ سب اپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
آشا: مجھے اگر باہوں میں بھر لو، شاید تم کو چین ملے
کشور: چین تو اس دن کھویا میں نے، جس دن تم سے نین ملے
پھر بھی یہ اچھا لگتا ہے، مگر ابھی سپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
آشا: کبھی کبھی سپنا لگتا ہے
کبھی یہ سب اپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
کشور: چہرے پہ ہے اور ایک چہرہ، کیسے اسے ہٹاؤں
میرا سچ گر تم اپنا لو، جنم جنم ترساؤں
ایسے سب اچھا لگتا ہے، سب کا سب سپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
دونوں: کبھی کبھی سپنا لگتا ہے
کبھی یہ سب اپنا لگتا ہے
تم سمجھا دو، من کو کیا سمجھاؤں
٭٭٭
فلم: صدمہ
موسیقی: ایلیا راجا
آواز: یشو داس
سرمئی اکھیوں میں ننھا منا ایک سپنا دے جا رے
نندیا کے ادتے پاکھی رے، انکھیوں میں آ جا ساتھی رے
را ری را رماو راری رم
سچا کوئی سپنا دے جا
مجھ کو کوئی اپنا دے جا
انجانا سا مگر کچھ پہچانا سا
ہلکا پھلکا شبنمی
ریشم سے بھی ریشمی
سرمئی اکھیوں میں ننھا منا ایک سپنا دے جا رے
رات کے رتھ پر جانے والے
نیند کا رس برسانے والے
اتنا کر دے کہ میری آنکھیں بھر دے
آنکھوں میں بستا رہے، سپنا یہ ہنستا رہے
سپنا یوں چلتا رہے
انکھیوں میں بستا رہے
سرمئی اکھیوں میں ننھا منا ایک سپنا دے جا رے
٭٭٭
فلم: سنّاٹا
موسیقیِ: ہیمنت کمار
آواز: ہیمنت کمار
بس ایک چپ سی لگی ہے، نہیں اداس نہیں
کہیں پہ سانس رکی ہے، نہیں اداس نہیں
بس ایک چپ سی لگی ہے
کوئی انوکھی نہیں ایسی زندگی لیکن
خوب نہ ہو
ملی جو خوب ملی ہے۔ نہیں اداس نہیں
بس ایک چپ سی لگی ہے۔۔۔
سحر بھی، رات بھی، دوپہر بھی ملی لیکن
ہمیں نے شام چنی
ہمیں نے شام چنی ہے نہیں اداس نہیں
بس ایک چپ سی لگی ہے۔۔۔
وہ داستاں جو ہم نے کہیں بھی ہم نے لکھی
آج وہ خود سے سنی ہے نہیں اداس نہیں
بس ایک چپ سی لگی ہے
٭٭٭
آواز: لتا منگیشکر
کوئی بیچارہ، کوئی بیچارہ
دل کو کھو کر کھوج رہا ہے چاہت کا مارا
جیسے جیسے بوند بوند چاند گھلے گا
انکھیوں میں ایک اور خواب گھلے گا
روشنی کی دور دور دھول اڑے گی
دھیرے دھیرے راستا یہ راز کھلے گا
ایک دیوانہ جاگ رہا ہے سپنوں کا مارا
کوئی بیچارہ۔۔۔
مت جاؤ اوس کے شیشوں سے پاؤں نہ کٹ جائیں
ذرا راہوں سے یہ کانچ اٹھا لوں
بیری چاندنی کی آنچ بجھا لوں
مت جاؤ اوس کے شیشوں سے پاؤں نہ کٹ جائیں
جھک گئی ہے آنکھ تو سلام کیا ہو گا
دل نے شاید ہنس کے ترا نام لیا ہو گا
کل کیا ہو گا آج نہ جانے راہی بنجارہ
کوئی بیچارہ۔۔۔
٭٭٭
فلم: ستیہ
موسیقی: وشال بھاردواج
آواز: لتا منگیشکر
گیلا گیلا پانی
پانی سریلا پانی
ہم ہم ہم ہم برسے
آیا ہے کس کے گھر سے
پانی، پانی
آسماں چھلکا ہے
آسماں بھر گیا۔۔۔
شیشوں پہ بجتی ہیں بوندیں
چہرے پہ چلتی ہیں بوندیں
نی پا، پانی
گن گن کرتا پانی
کلشی میں بھرتا پانی
ہم ہم ہم ہم برسے، آیا ہے کس کے گھر سے۔۔۔
رک رک کے چلتا ہے یہ دل
مجرم سا لگتا ہے یہ دل
نی پا، پانی
ہونٹوں نے چکھا پانی
بوندوں میں رکھا پانی
ہم ہم ہم ہم برسے، آیا ہے کس کے گھر سے۔۔۔
گیلا گیلا پانی۔۔۔
٭٭٭
فلم: شریمان ستیہ وادی
موسیقی: دتا رام
آواز: مکیش
رت البیلی مست سماں
ساتھ حسیں ہر بات جواں
ہوا کا آنچل بڑا ہے چنچل
دھیرے دھیرے گائے من تیری قسم
ان مچلتے پانیوں میں سن گنگناتے ساحلوں کی دھن
رت حسیں ہم جواں ہائے توبہ!
نازنیں جو کوئی ہنس پڑی موتیوں کی کھل گئی لڑی
لا جواب ہے کیا شباب ہائے توبہ!
ریشمی نظر پڑ گئی جدھر کھل گئی دنیا
ارے رت البیلی مست سماں۔۔۔
یہ محل نہ دیکھے کہیں آسماں کو چومے زمیں
کیا خیال ہے بے مثال ہائے توبہ!
آرزو لئے نگاہ میں منزلیں بلائیں راہ میں
انتظار میں بے قرار ہائے توبہ!
خواب تو نہیں یہ زمیں کہیں خوب ہے یہ دنیا
ارے رت البیلی مست سماں۔۔۔
٭٭٭
فلم: ستارا
موسیقی: راہل دیو برمن
آواز: لتا منگیشکر، بھوپیندر
تھوڑی سی زمیں تھوڑا آسماں
تنکوں کا بس اک آشیاں
تھوڑی سی زمیں۔۔۔
مانگا ہے جو تم سے وہ زیادہ تو نہیں ہے
دینے کو تو جاں دے دے وعدہ تو نہیں ہے
کوئی تیرے وعدوں پہ جیتا ہے کہاں
تنکوں کا بس اک آشیاں
تھوڑی سی زمیں۔۔۔
میرے گھر کے آنگن میں چھوٹا سا جھولا ہو گا
سوندھی سوندھی مٹی ہو گی لپا ہوا چولہا ہو گا
تھوڑی تھوڑی آگ ہو گی تھوڑا سا دھواں
تنکوں کا بس اک آشیاں
تھوڑی سی زمیں۔۔۔
رات کٹ جائے گی تو کیسے دن بتائیں گے
باجرے کے کھیتوں میں کوے اڑائیں گے
باجرے کے سٹوں جیسے بیٹے ہوں جواں
تنکوں کا بس اک آشیاں
تھوڑی سی زمیں۔۔۔
٭٭٭
فلم: گرہ پرویش
موسیقی: کنو رائے
آواز: بھوپیندر
زندگی پھولوں کی نہیں، پھولوں کی طرح مہکی رہے
زندگی بھولوں کی نہیں، پھولوں کی طرح مہکی رہے
زندگی
جب کوئی کہیں گل کھلتا ہے، آواز نہیں آتی لیکن
خوشبو کی خبر آ جاتی ہے، خوشبو مہکی رہے
زندگی
جب راہ کہیں کوئی مڑتی ہے، من۔ کا پتہ تو ہوتا نہیں
اک راہ پہ راہ مل جاتی ہے، راہیں مڑتی رہیں
زندگی۔۔۔
٭٭٭
آواز: بھوپیندر
مچل کے جب بھی آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں دو آنسو
سنا ہے آبشاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
خدارا اب تو بجھ جانے دو اس جلتی ہوئی لو کو
چراغوں سے مزاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے،
مچل کے جب بھی آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں دو آنسو
کہوں کیا وہ بڑی معصومیت سے پوچھ بیٹھے ہیں
کیا سچ مچ دل کے ماروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
مچل کے جب بھی آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں دو آنسو
تمہارا کیا تمہیں تو راہ دے دیتے ہیں کانٹے بھی
مگر ہم خاکساروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
مچل کے جب بھی آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں دو آنسو
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

