ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

زیرِ نظر

 

(تنقیدی و تحقیقی مضامین)

محمد اسد اللہ

 

 

پیش لفظ

 

ادبی دنیا میں کسی قلم کار کی شناخت عموماً کسی ایک مخصوص صنفِ ادب سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ بعض تخلیق کار شاعری کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں، بعض افسانہ نگاری یا تنقید کے حوالے سے، لیکن جب تخلیقی جبلت تحقیقی بصیرت اور تنقیدی شعور کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو فکر و نظر کے ایسے نئے دریچے وا ہوتے ہیں جو قاری کو ادب کے وسیع تر جہان سے روشناس کراتے ہیں۔ محترم ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا شمار اردو دُنیا میں بنیادی طور پر ایک معتبر، سنجیدہ اور صاحبِ طرز انشائیہ نگار کے طور پر ہوتا ہے۔ انشائیے کی صنف سے آپ کا تعلق محض فنی وابستگی کا نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور جمالیاتی نسبت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ نگاری کے موضوع پر آپ کے تحقیقی کام اور ڈاکٹریٹ کے مقالے نے نہ صرف آپ کے علمی مرتبے کو استحکام بخشا بلکہ تحقیق و تنقید کے وسیع میدان میں بھی آپ کے لیے نئے امکانات روشن کیے۔

ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا نام محض انشائیہ نگاری تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ تعلیمی، نصابی اور لسانی میدان میں بھی ایک نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ آپ برسوں سے ادارۂ بال بھارتی، پونہ سے وابستہ ہیں اور ان دنوں اردو لسانی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے درسی کتب کی تیاری، تدوین، نظرِ ثانی اور نصابی مواد کی تشکیل کے اہم فریضے کو نہایت ذمے داری اور علمی بصیرت کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اردو زبان و ادب کی تدریس اور ترویج کے سلسلے میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ کے متعدد انشائیے مختلف ادوار میں درسی کتب کے مشمولات میں شامل کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے نئی نسلوں نے نہ صرف زبان کی لطافت اور شگفتگی سے آشنائی حاصل کی بلکہ ادب کے جمالیاتی پہلوؤں کو بھی محسوس کیا۔

زیرِ نظر کتاب آپ کے اسی تنقیدی و تحقیقی سفر کا ایک اہم اور روشن سنگِ میل ہے، جو آپ کی پہلی کتاب ’’پیکر اور پرچھائیاں‘‘ کے تسلسل میں ’’نقشِ ثانی‘‘ کی صورت سامنے آئی ہے۔ یہ کتاب در اصل آپ کے علمی مطالعے، تنقیدی بصیرت اور تحقیقی انہماک کا ایسا مظہر ہے جو آپ کے فکری سفر کے ارتقا کا واضح پتا دیتا ہے۔

اس مجموعے میں شامل مضامین کا بغور مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب صرف انشائیہ اور طنز و مزاح کے میدان کے شہسوار نہیں ہیں بلکہ ادب کی دیگر اصناف پر بھی آپ کی نظر یکساں گہری، متوازن اور بصیرت افروز ہے۔ کتاب کی فہرستِ مضامین آپ کے مطالعے کے تنوع، وسعت اور علمی گیرائی کی بھرپور ترجمان ہے۔ شاعری کے باب میں آپ نے جدید اردو شاعری کی عصری معنویت، فلسفۂ خودی اور فکری جہات پر اظہارِ خیال کیا ہے، تو دوسری جانب شاد عارفی، عادل ناگپوری اور ظفر کلیم جیسی اہم ادبی شخصیات کے فن اور خدمات کا بھی عالمانہ جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ادبِ اطفال، افسانوی ادب اور دیگر نثری موضوعات پر آپ کے مضامین آپ کے ہمہ گیر ادبی شعور اور وسیع المطالعہ شخصیت کا پتا دیتے ہیں۔

اس کتاب کی ایک نمایاں انفرادیت یہ بھی ہے کہ مصنف نے ودربھ کے ادبی منظر نامے کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ آپ اس خطے میں تخلیق ہونے والے ادب، وہاں کی ادبی روایت، معاصر ادبی رجحانات اور سرگرمیوں سے نہ صرف مکمّل طور پر واقف ہیں بلکہ اس ادب کو قومی سطح پر متعارف کرانے کا ایک مخلصانہ جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ ودربھ میں طنز و مزاح کی روایت، خواتین افسانہ نگاروں کی خدمات اور خطے کے ادبِ اطفال سے متعلق آپ کے مضامین اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ آپ اپنے ادبی ماحول سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں اور اس کی علمی و تخلیقی روایت کو محفوظ اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان مضامین کی تیاری میں مصنف نے محض تاثراتی انداز اختیار نہیں کیا بلکہ موضوعات سے متعلق معلومات، حوالہ جات، شواہد اور جزئیات کو یکجا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہی تحقیقی رویہ آپ کی تحریروں کو محض تاثراتی یا معلوماتی سطح سے بلند کر کے علمی استناد عطا کرتا ہے۔ آپ کا یہ طرزِ عمل ایک سچے محقق اور سنجیدہ نقاد کی شناخت ہے۔۔

طنز و مزاح اور انشائیہ نگاری کے باب میں ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا ایک اہم علمی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے مروجہ تنقیدی رویوں سے ہٹ کر ان دونوں اصناف کے مابین موجود باریک خطِ امتیاز کو واضح کرنے کی سعی کی ہے۔ آپ کے نزدیک ہر طنزیہ یا مزاحیہ تحریر کو انشائیہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ دونوں اصناف کے مزاج، اسلوب، فکری جہات اور فنی تقاضے جداگانہ ہیں۔ اس نظریے کی توضیح میں آپ کی تنقیدی بصیرت اور فنی آگہی پوری طرح جلوہ گر ہوتی ہے۔

ان تمام مضامین کا اسلوب سادہ، رواں، شگفتہ، عام فہم اور علمی وقار سے مزین ہے۔ مصنف نے زبان و بیان میں نہ تو غیر ضروری پیچیدگی پیدا کی ہے اور نہ ہی ثقالت کو راہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری علمی مباحث سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قسم کے بوجھل پن کا احساس بھی نہیں کرتا۔ آپ کی تحریروں میں سنجیدگی اور شگفتگی کا ایسا حسین امتزاج موجود ہے جو اچھی علمی نثر کی بنیادی شناخت سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب نے حسبِ روایت کسرِ نفسی اور انکسار کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ایک طالبِ علم اور اپنی ان تحریروں کو محض ایک ’’بیاض‘‘ قرار دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اردو تحقیق و تنقید کے سرمایے میں ایک اہم، وقیع اور خوش آئند اضافہ ہے۔ اس میں شامل مضامین نہ صرف مصنف کی علمی بصیرت کے آئینہ دار ہیں بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین، طلبہ، محققین اور ناقدین کے لیے بھی فکر و مطالعے کے نئے زاویے فراہم کرتے ہیں۔

مجھے کامل یقین ہے کہ علمی و ادبی حلقوں میں اس کتاب کا خیر مقدم کیا جائے گا اور یہ اہلِ علم و ادب کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ یہ کتاب نہ صرف مطالعۂ ادب کے نئے در وا کرے گی بلکہ اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی اپنی ایک معتبر جگہ بنانے میں کامیاب ہو گی۔

میں محترم ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علمی، تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی سفر میں مزید وسعت، گہرائی اور برکت عطا فرمائے، آپ کو صحت و عافیت سے نوازے، اور اردو زبان و ادب کی خدمت کے لیے آپ کی صلاحیتوں سے مزید کام لے۔ اپ کا یہ بوقلمون اور ثمر آور سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری رہے اور آنے والی نسلیں آپ کے علمی سرمایہ سے فیض یاب ہوتی رہیں۔

خان نوید الحق انعام الحق

خصوصی افسر برائے اردو، عربی و فارسی، بال بھارتی، پونہ

 

اپنی بات

 

میرے تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے، اسی نوعیت کی میری پہلی کتاب، ’پیکر اور پرچھائیاں‘ ۲۰۱۲ء میں شائع ہو چکی ہے۔

’زیرِ نظر‘ میں بھی میں نے حسبِ سابق، اپنے مطالعے کی روشنی میں مختلف اصناف کے حوالے سے، مشاہدات اور نتائجِ فکر کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔

’پیکر اور پرچھائیاں‘ میں علاقہ ودربھ کے ادب کو مرکزی حیثیت حاصل تھی تاہم نئے مجموعے میں اس دائرۂ کار کو وسعت دیتے ہوئے چند اہم کتب پر تحریر کئے گئے پیش لفظ اور تبصرے بھی شامل کر دئے گئے ہیں۔

انشائیہ ہمیشہ میری دلچسپی کا محور رہا ہے۔ اسی تخلیقی سفر نے تنقید و تحقیق کے دیاروں کی سیر کروائی۔ اس صنف سے میری دلچسپی محض ایک ادبی میلان نہیں بلکہ ایک فکری وابستگی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ’انشائیہ مشرق و مغرب کے تناظر میں‘ (۲۰۱۵) اسی ادبی تحقیق کا مظہر ہے اور میرے مضامین کا مجموعہ ’انشائیہ‘ ایک خوابِ پریشاں (۲۰۲۱) اسی صنف کے فہم ادراک کی ایک سعی ناتمام۔

از راہِ انکسار عرض ہے کہ میں خود کو تخلیقی، تحقیقی و تصنیفی اعتبار سے ان خدمات کا اہل نہیں سمجھتا اور نہ ہی اپنی تصانیف و مرتبہ مضامین کے مجموعوں (’یہ ہے انشائیہ‘، ’انشائیہ شناسی‘، ’زعفران زار‘ اور ’مزاحیہ مضامین (درسی کتابوں سے)‘ کو کسی اہم ادبی کام کا درجہ دے سکتا ہوں۔

کوئی اسے حقیقت بیانی سمجھ لے تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا۔ میں خود کو ایک طالبِ علم ہی تصور کرتا ہوں اور یہ تمام تحریریں اسی طالبِ علم کی ایک بیاض کی حیثیت رکھتی ہیں۔

طنز و مزاح اور انشائیے کے باب میں جب بھی میں نے قلم اٹھایا یا کسی کتاب پر اپنی ناقص رائے پیش کی، ہمیشہ میری یہ کوشش رہی کہ مروجہ روش سے ہٹ کر ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے خطِ امتیاز کو واضح کیا جائے۔ ہر طنز یہ و مزاحیہ تحریر کو انشائیہ قرار دینا مناسب نہیں، ان کے مزاج، اسلوب اور فکری جہات کے فرق کو اجاگر کرنا ضروری ہے، اسی احساس کے تحت یہ تحریریں وجود میں آئی ہیں۔

میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی، ممبئی کا ممنون ہوں جس کے مالی تعاون سے اس کتاب کی اشاعت ممکن ہوئی ہے۔ محترم خان نوید الحق انعام الحق، (خصوصی افسر برائے اردو، عربی و فارسی، بال بھارتی پونہ) نے اس کتاب کے لیے پیش لفظ تحریر فرمایا، میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ میرے بیٹے توصیف احمد نے اس کتاب کی اشاعت کے ہر مرحلے میں میرا ساتھ دیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسے دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین

محمد اسد اللہ

 

شاعری

جدید اردو شاعری کی عصری معنویت

 

جدید اردو شاعری کی تفہیم کے لیے بیسویں صدی میں ابھرنے والی دو اہم ادبی تحریکات، ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ دونوں رجحانات نہ صرف عالمی ادبی فضا سے ہم آہنگ تھے بلکہ اردو ادب کی فکری و فنی تشکیل میں بھی انھوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ترقی پسند تحریک کے عطا کر دہ ادبی سرمائے کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمینی حقیقتوں کی عکاسی، بعض روایات سے بغاوت، احتجاج اور سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اس کی امتیازی خوبیاں تھیں۔ یہی ترقی پسندی کی پہچان بھی تھی۔

وقت کے ساتھ اشتراکیت کے سماجی اور سیاسی سروکار جب مخصوص نظریات کی ترویج کی دھن میں ادب اور تخلیقی سرگرمیوں سے انحراف کرتے ہوئے کھوکھلی نعرے بازی میں ڈھل گئے تو اس کا دامن تھامنے والے بعض فنکاروں نے اس تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ جدیدیت کے متعلق یہ خیال عام ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے رد میں وجود میں آئی تھی۔ جدیدیت محض ترقی پسندی سے انحراف نہ تھا بلکہ اس تحریک کی بنیاد عصری زندگی کے وہ نئے مسائل تھے جن کے فنی اظہار کے لئے نئے وسیلے، اسالیب اور طریقے درکار تھے۔ جدیدیت نے تخلیقی سطح پر یہ لوازمات مہیا کئے۔ اسی کے ساتھ عصری شعور کے اظہار نے اسے ترقی پسندی سے الگ کر دیا تھا۔

یوں تو ہر زمانے میں نئے مسائل سر اٹھاتے ہیں اور ان میں سے کچھ شعر و ادب کا موضوع بھی قرار پاتے ہیں۔ یہ مسائل فرد کی اپنی ذات کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں اور بعض بیرونی معاملات بھی ہو سکتے ہیں جن کا ادراک فنکار کو ذاتی شعور، تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں طبع آزمائی پر آمادہ کرتا ہے پھر وہ انھیں ادب کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ جدیدیت نے ادب میں ایک بدلتی ہوئی زندگی اور بڑے تغیرات کی زد پر موجود دنیا کو اپنا موضوع بنایا اور اس کے لیے اپنے اظہار کے طور طریقے اپنائے جن میں موضوعات کے ساتھ زبان، بیان، لفظیات اور طرزِ اظہار سب میں نمایاں تبدیلیاں موجود تھیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے جدیدیت کی تحریک کو ماہ و سال کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

خالص میکانیکی اور زمانی نکتۂ نظر سے نئی شاعری سے میں وہ شاعری مراد لیتا ہوں جو ۱۹۵۵ کے بعد تخلیق ہوئی ہو۔ ۱۹۵۵ کے پہلے ادب کو میں نیا نہیں سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ۱۹۵۵ کے بعد جو بھی کچھ لکھا گیا وہ سب نئی شاعری کی زمرے میں آتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ ۱۹۵۵ کے پہلے کے ادب میں جدیدیت کے عناصر نہیں ملتے۔۔۔۔ داخلی اور معنوی حیثیت سے میں اس شاعری کو جدید سمجھتا ہوں جو ہمارے دور کے احساسِ جرم، خوف، تنہائی، کیفیتِ انتشار اور اس ذہنی بے چینی کا (کسی نہ کسی نہج سے) اظہار کرتی ہو جو جدید صنعتی اور مشینی اور میکانیکی تہذیب کی لائی ہوئی مادی خوش حالی، ذہنی کھوکھلے پن، روحانی، دیوالیہ پن اور احساسِ بے چارگی کا عطیہ ہے۔ ۱

یوں تو حالی اور محمد حسین آزاد کی ان کوششوں کو نئی شاعری کا نقطۂ آغاز خیال کیا جاتا ہے جس کے تحت انھوں نے روایتی شاعری سے قدرے انحراف کر کے نئے زمانے کے تقاضوں کو موضوعِ سخن بنانے پر زور دیا اور غزل کے مقابلے میں نظم کے فارم کو بروئے کار لانے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ وہ ان شعبوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلیاں پیدا نہیں کر پائے۔ اس سلسلے میں خلیل الرحمٰن اعظمی لکھتے ہیں:

شاعری کے سلسلے میں ’’جدید‘‘ کی صفت بطور اصطلاح ہمارے ہاں اس وقت استعمال میں آئی جب آزاد اور حالی نے شعوری طور پر مقصدی، افادی اور اصلاحی قسم کی نظمیں لکھنے اور اس رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اس وقت سے لے کر اب سے کچھ دنوں پہلے تک جدید شاعری کے جتنے رجحانات سامنے آئے ہیں ان کے پیچھے زمانۂ حاضر سے متعلق کسی نہ کسی مسلک یا نصب العین کا تصور کار فرما رہا ہے۔ بعض اوقات ایک رجحان دوسرے رجحان کی ضد یا ردّ عمل کے طور پر وجود میں آیا۔ ۲

حالی اور محمد حسین آزاد کی کوششوں سے اردو شاعری نے ایک نئی سمت میں تختِ سفر باندھا، جو تخلیقات منظرِ عام پر آئیں ان میں قدیم طرزِ شاعری سے انحراف کا پہلو نمایاں تھا،

اسی کے ساتھ غزل کے مقابلے میں انھوں نے نظم کو ترجیح دی کیونکہ شاعری کا یہ فارم نئے عہد کے اظہار اور نئے موضوعات کو بڑے پیمانے پر پیش کرنے کے لیے مناسب تھا۔ مذکورہ دونوں فنکاروں کی جدت پسندی اس رجحان سے قدرے مختلف تھی جو آگے جا کر جدیدیت کے نام سے پہچانا گیا۔ حالی اور آزاد کے متعلق شمیم حنفی لکھتے ہیں:

حالی اور آزاد کی اصلاح پسندی ان کے تخلیقی مزاج سے زیادہ ان کے عہد کی ترجمانی ہے۔ ان کے خیالات میں تضاد نیز ان کے انفرادی میلانِ طبع اور ان کے عہد کے تقاضوں میں کش مکش کا سبب یہی ہے کہ ان کی شخصیتیں اس مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں تھیں اور اس مزاج سے ان کا رشتہ تخلیقی یا فنی کم، شعوری زیادہ تھا۔ ۳

جدید شاعروں نے زندگی کے ابھرتے ہوئے زاویوں کو محسوس کر کے نئی واردات مرتب کی اور اپنے مشاہدات اور تجربات کو لسانی پیرائے میں پیش کیا۔ انھوں نے روایتی شاعری کے متعین وسائل کے بجائے اپنے ادبی وسائل کو استعمال کیا۔ جدید شاعری کے علمبرداروں کے ذہن میں مخصوص لائحہ عمل اور منصوبہ بندی ضرور تھی جس نے اس رجحان کی تشکیل کی تھی۔ اس مخصوص رجحان کی طرف چند اشارے شمس الرحمٰن فاروقی کے مذکورہ بالا بیان میں بھی ملتے ہیں۔ حالی اور محمد حسین آزاد کے بعد حسرت موہانی کی غزلوں میں جو نیا پن نظر آتا ہے اسے غزل کے احیا سے تعبیر کیا گیا۔ اسی دور میں شاد عظیم آبادی اور بعض دیگر شعرا کی غزلیں بھی ایک نئے انداز کا احساس دلاتی ہیں۔

جدید شاعری کے تحت رو نما ہونے والا نیا پن داخلی اور خارجی تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ جدیدیت کا تصور ادب میں نئے پن کو اختیار کرنے اور روایتی موضوعات اور طرزِ اظہار کے برتنے سے زیادہ بدلتی ہوئی زندگی کو ادب میں پیش کرنے پر زور دیتا ہے۔ انیسویں صدی اور اس سے پہلے سے وجود میں آنے والے سائنسی نظریات، ایجادات اور علمی انکشافات نے انسانی سوچ کو عالمی پیمانے پر متاثر کیا جن کا اثر حیاتِ انسانی پر پڑنا لازمی تھا۔ جن ذہنی اور قلبی سہاروں نے صدیوں سے انسانی زندگی کی راہیں ساری دنیا میں متعین کر رکھی تھیں، کائنات اور انسان کے متعلق سائنسی انکشافات نے عقائد اور نظریات کے وہ قلعے مسمار کر دئے۔

وہ تجلی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے تیر

آئینے ٹوٹ گئے آئینہ بردار گرے

(شکیب جلالی)

دو عظیم جنگوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ انسانی زندگی کے اتحاد اور امن و امان، آسودگی کو ان آفات نے نہ صرف ختم کیا بلکہ خوف، دہشت تشکیک اور سراسیمگی پیدا کر دی۔ ان حالات کی سب سے بڑی ضرب مذہبی عقائد پر پڑی۔ انسان اپنے ذہنی سہارے چھن جانے اور تشکیک میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو کائنات میں تنہا محسوس کرنے لگا۔ موجودہ دور میں زندگی کی قدریں بدل چکی ہیں۔ نئے انسان کا طرزِ زندگی ہی نہیں اس کی سوچ بھی جدا گانہ ہے۔ قدیم دور کا انسان زرعی معاشرے کا پروردہ تھا۔

اس وقت مشترک خاندان کی روایت بہت مضبوط تھی۔ نیا معاشرہ صنعتی معاشرہ ہے۔ مشترک خاندان کی روایت اب بہت کمزور ہو چکی ہے اسی طرح انسانی شعور پر مذہبی عقائد کی گرفت بھی اس قدر مضبوط نہیں رہی۔ اس زبردست انقلاب نے ادب کے پیمانوں کو بھی تبدیلی پر مجبور کیا اور جدیدیت اسی نئے دور کی تصویر کشی سے عبارت ہے۔ اس سلسلے میں کمار پاشی کے خیالات ملاحظہ فرمائیں۔

آج کا انسان اب سے پہلے کے انسان سے ذہنی طور پر بہت ہی مختلف ہے۔ وہ اب زمینی فاصلوں کے کم یا ختم ہو جانے سے بین الاقوامی سطح پر ایک عالمگیر قوم میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کا کرب اب محدود نوعیت کا نہیں رہا۔ آج جب کہ پوری کائنات کے اسرار کی گر ہیں کھل چکی ہیں، اس کے کرب کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نیا انسان خارجی وسعتوں کے سامنے خود کو ہیچ پا کر اب اپنے وجود کو تلاش کرنے نکلا ہے۔ اس کا سفر اب خارج سے باطن کی جانب ہے۔ اس لیے آج وہ خود سے ہم کلام ہے۔ سوالات نئے ہیں اور پیچیدہ ہیں۔ ۴

جدیدیت اسی نئے عہد میں سانس لینے والے انسان کی محسوسات اور خیالات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ ذیل کے اشعار ان کیفیات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بوڑھی چیلیں بارہا اٹکھیلیاں بھرتی رہیں

اپنا میر کارواں اکثر جواں مارا گیا

(شمس الرحمٰن فاروقی)

سارا لہو بدن کا رواں مشتِ پر میں تھا

شام ہو چکی تھی اور پرندہ سفر میں تھا

(وزیر آغا)

جواں ہے شہر تمنا فریب کھانے تک

یہ ہاؤ ہو ہے فقط میرے بیت جانے تک

(کمار پاشی)

سرائے دل میں جگہ دے تو کاٹ لوں اک رات

نہیں یہ شرط کہ مجھ کو شریک خواب بنا

(حسن نعیم)

بین کرتی ہے دریچوں میں ہوا

رقص کرتی ہیں سیہ پرچھائیاں

(سلیم احمد)

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا

خبر کی آگ میں جل کر بھی بے خبر رہنا

(وزیر آغا)

آ گیا میں کسی جگنو کی نظر میں کیسے

بوند بھر نرم اجالا مرے گھر میں کیسے

(مظفر حنفی)

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے

تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

(پروین شاکر)

آؤ چپ کی زبان میں ناصر

اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں

(ناصر کاظمی)

پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیں

وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے

(احمد مشتاق)

میں بکھر جاؤں گا زنجیر کی کڑیوں کی طرح

اور رہ جائے گی اس دشت میں آواز مری

(ظفر اقبال)

نہ اتنا تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتہ دکھائی دیتا ہے

(شکیب جلالی)

ایک مدت سے چراغوں کی طرح جلتی ہیں

ان ترستی ہوئی آنکھوں کو بجھا دو کوئی

(ساقی فاروقی)

لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا

پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا

(محمد علوی)

وقت بے رحم ہے لمحوں کو کچل جائے گا

دن کو روکو کہ مہینوں میں بدل جائے گا

(شاذ تمکنت)

جنسی بے راہ روی، فحاشی، عریانی اور جنسی مسائل بھی جدید شاعری کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ہر چند قدیم شاعری میں اس پہلو کو اشاروں اور کنایوں میں اور واضح طور پر بھی خوبصورت انداز میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ جدید شاعر کا اس طرف دیکھنے کا انداز الگ ہے۔ فرائیڈ اور یونگ کے نظریات نے سیکس کے متعلق نئے زمانے کی سوچ کو بدل دیا۔ انسان کی اس جبلت کے نفسیاتی تعبیریں اور سائنسی نظریات کے فروغ کے ساتھ ہی زمانے نے کروٹ بدلی تو اب وہ قدیم معاشرہ جس میں عورت پردوں کے پیچھے پوشیدہ تھی اور جنسی معاملات ڈھکے چھپے انداز میں بیان کئے جاتے تھے، نئے زمانے نے اسے آزادی اور

بے باکی عطا کر دی۔ ان معاملات کی طرف دیکھنے کا نظریہ بھی بدل گیا ہے اسی لئے جدید شاعری میں اس سلسلے کا اظہار بھی قدرے بے باک ہے۔ جدید شاعری میں کھلے طور پر جنسی معاملات اور مسائل کے اظہار کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔ جس طرح جدید افسانوں میں ان معاملات کو بے باکی سے کریدا گیا ہے اسی طرح جدید شاعری بھی اپنی ابہام گزیدگی کے ساتھ جنسیت کی فراوانی، فحاشی اور آزادی اظہار کے لیے معتوب بھی رہی ہے۔

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا

کھڑکی کے پردے کھینچ دئے رات ہو گئی

(ندا فاضلی)

الف سیر کرنے گیا نون میں

ملے میم کے نقشِ پا نون میں

(عادل منصوری)

رات کا انتظار کون کرے

آجکل دن میں کیا نہیں ہوتا

(بشیر بدر)

بارش میں بھیگنے کا مزہ اس کو آ گیا

کپڑوں کے ساتھ ساتھ بدن کو نچوڑ کے

(شاہد کبیر)

روایتی شاعری کے متعلق سر سری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ گل و بلبل کی شاعری ہے حالانکہ ہمارا یہ شعری سرمایہ ان ہی علامات، تشبیہات و استعاروں میں زندگی اور کائنات کے بے شمار پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ جو کل کہا جا چکا ہے آج بھی اسی کو بہ اندازِ دیگر کہا جائے گا۔ موضوعات تمام تر تبدیل نہیں ہوتے ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ نیا زمانہ اظہارِ خیال اور طبع آزمائی کے لیے نئے موضوعات مہیا کرتا ہے، مگر سب کچھ نہیں بدلتا۔

روایتیں بہر حال کسی کسی نہ شکل میں برقرار رہتی ہیں۔ روایتی شاعری نے بھیا پنے مخصوص علامتوں اور لفظیات کے ساتھ زندگی کی بھر پور عکاسی کی اور موضوعِ بحث موضوعات کے لئے تشبیہات اور استعاروں کے نئے معنوی لبادے تیار کئے۔ اسی بات کی تصدیق غالبؔ کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے۔

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

نئے عہد کے مسائل اور نئے انسان کے احساسات اب انوکھا لب و لہجہ اور نئے انداز کے طلب گار تھے۔ ایک طرف جدید شاعری نے اس تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کی اور بعض انوکھے مفاہیم کے لیے الگ زبان کی تشکیل عمل میں آئی۔

دوم بیشتر جدید شاعروں نے کلاسیکی شاعری کے قابلِ قدر نمونے اپنے اندر جذب کئے اور اسی کے ساتھ نئے انسان کی زندگی کے اہم پہلوؤں سے متاثر ہو کر انھیں اپنی شاعری کا جزو بنایا۔ اسے در پیش مسائل اور اس کے اندر ابھر نے والی آوازوں کو جدید شاعری کے قالب میں ڈھالا جس کی زبان، علائم، شعری تراکیب، اسلوب اور طرزِ اظہار قدیم شاعری سے قدرے مختلف تھا اور بہت حد تک نا مانوس بھی۔ بقول صفدر

الفاظ استعارے اشارے ہمارے اپنے ہیں

انداز شعر گوئی کے پیارے ہمارے اپنے ہیں

مختلف رجحانات اور تحریکات اپنے منفرد انداز میں ادبی سرمائے میں اضافہ کرتی ہیں۔ روایتی شاعری اب بھی از کارِ رفتہ نہیں ہے، نہ ہی مذکورہ تحریکات۔ خاص طور پر جدیدیت کی تحریک کے ادبی سرمایے کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اہمیت اور افادیت کھو چکا ہے۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ جدیدیت نے جس عہد کے مسائل اور اس سے ابھر نے والے احساسات کو شعری قالب عطا کیا، اس کا بڑا حصہ اب بھی برقرار ہے اور مستقبل میں اس کی توسیع اور اس میں شدت اختیار کرنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

آج بھی جدید شاعری اپنی مبہم علامتوں اور استعاروں کے باوجود وہ کیفیت و تاثر پیدا کرنے پر قادر ہے جسے سن کر یا پڑھ کر ہم یہ کہہ اٹھیں:

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔

اس سلسلے میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

زنجیر کی لمبائی تک آزاد ہے قیدی

جنگل میں پھرے یا کوئی گھر بار بسا لے

(ندا فاضلی)

ذرے کی شکل میں مجھے سمٹا ہوا نہ جان

صحرا کے روپ میں مجھے سمٹا ہوا بھی دیکھ

(شکیب جلالی)

رہ گیا مشتاق دل میں یادِ رنگِ رفتگاں

پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

(احمد مشتاق)

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہو گا

جیا تو ہو گا مگر کس طرح جیا ہو گا

(عبدالرحیم نشتر)

وہ خود نمائی پہ اتنا یقین رکھتا ہے

نہیں ہے ہاتھ مگر آستین رکھتا ہے

(حفیظ مومن)

اے تنگیِ دیارِ تمنا بتا مجھے

وہ پاؤں کیا ہوئے جنھیں صحرا عزیز تھا

(نشتر خانقاہی)

بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے

ہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں

(شکیب جلالی)

طے ہو سکا نہ خود سے تعارف کا مرحلہ

چھوٹی سی ایک موج سمندر بنی رہی

(بشر نواز)

سبز پتّوں پہ چمکتی ہوئی شبنم نے کہا

رات ڈھل جائے تو ہر رنگ نیا لگتا ہے

(رشید افروز)

نئے زمانے کی بے مروتی، بے گانگی، منافقت، منافرت اور سفاکی کے علاوہ آزادی کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی فر قہ وارانہ کشیدگی اور فسادات بھی جدید شاعری میں ایک الگ موضوع کا احساس دلاتے ہیں۔

کوئی نہیں جو دشمن کے خنجر پر خنجر رکھ دے

سب پستے بادام دکھائیں کیا خانم کیا خان

(بشیر بدر)

کیوں دشمنوں کے بیچ کھڑا کر دیا مجھے

کیا کہہ کے اب خطاب کروں سامعین کو

(محمد علوی)

ملنے والے لاکھ ہوں پھر بھی خفا کوئی نہ ہو

یعنی ہونٹوں کا تبسم بھی مشینی چاہئے

(مدحت الاختر)

کراں تا کراں پھیلا یہ کرۂ باد ہے ایک صحرا

کہیں گونجتی ہیں درندوں کی بھوکی صدائیں

کہیں غول در غول وحشی کتے کہ مٹّی کی بو سونگھتے پھر رہے ہیں

زمیں ایک بھٹکا مسافر ہے کتوں سے بچتی ہوئی راستہ ڈھونڈتی ہے۔

(ایک فساد زدہ نظم۔ صفدر)

جدید شاعری ہئیت کے تجربات کے لیے بھی کی جاتی ہے ہر چند اس کا بیشتر سرمایہ غزلوں میں موجود ہے، تاہم نظم، آزاد نظم، نثری نظم وغیرہ میں بھی اظہار و بیان کی وسعتیں یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جدید نظموں میں اس عہد کا چہرہ اور انسان کا اندرونی کرب موثر انداز میں مختلف علامات اور استعاروں کی زبانی اور اکثر ان لوازمات کے بغیر بھی صفحۂ قرطاس پر پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

کوہ ساروں، ریگ زاروں سے ندا آنے لگی

ظلم پروردہ غلامو، بھاگ جاؤ

پردۂ شب گیر میں اپنے سلاسل توڑ کر

چار سو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ

اور اس ہنگامِ باد آور کو

حیلۂ شب خوں بناؤ۔

(زنجیر۔ ن۔ م۔ راشد)

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں؟ کہہ دو

یہ کیسا پھیر ہے، تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں، لیکن یہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا۔ حیاتِ مختصر سب کی بہی جاتی ہے اور میں بھی

ہر اک کو دیکھتا ہوں، مسکراتا ہے کہ ہنستا ہے

کوئی ہنستا نظر آئے، کوئی روتا نظر آئے

میں سب کو دیکھتا ہوں، دیکھ کر خاموش رہتا ہوں

مجھے ساحل نہیں ملتا۔

(مجھے گھر یاد آتا ہے۔ میراجی)

یہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوں

وہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور، اضطراب آسا

جسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالم

اسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر غریبوں کا

اسی کی لحد میں پھینک آیا ہوں!

(ایک لڑکا۔ اختر الایمان)

شامیانے کے پرلی طرف

وقت کے جبر کے سامنے

چپ کھڑی مامتا

جس کے چاروں طرف

تشنہ ہونٹوں

گرسنہ نگاہوں، لٹکتی زبانوں

بدن گیر غراہٹوں کا عجب غول ہے

اور اسی غول سے

اپنی نازوں کی پالی کی خاطر

بڑے صبر سے ایک مجبور ہرنی کی صورت وہ چن لائی ہے

اک ذرا کم ضرر بھیڑیا!

(پروین شاکر)

کون کہتا ہے

کہ صورتوں کی لپی سے

میں واقف نہیں؟

اس مرستھل میں تحریر طوفان میں پڑھ چکا ہوں

مجھے خوف کی سب فصلوں کے اندر کا منظر

دکھائی دیا ہے

میں نے

امکان کی سب دراڑوں کو دیکھا ہے

میں جانتا ہوں

ان کی پسلیوں میں

جو اسرار ہیں

غیر مطلوب ہیں

(گواہی۔ صادق)

مندرجہ بالا جدید نظموں کے اقتباسات اور ان جیسی بے شمار نظموں میں ہماری زندگی کی جیتی جاگتی تصویریں مل جاتی ہے اور عام انسان کا کرب جدید شاعری میں نظر آتا ہے۔ پروین شاکر، کشور ناہید اور فاطمہ شعریٰ جیسی کئی خواتین تخلیق کار بھی ہیں جنھوں نے عورت پر ہونے والے ظلم اور استحصال کو نظموں میں موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ ہمارے عہد کی عکاسی ہے اور انسانی درد کی وہ تصویریں جو اس سے پہلے ناپید تھیں، جدید شاعری ان احساسات اور خیالات کا فنی اظہار ہے جس نے نئے عہد کے مسائل سے سر اٹھایا تھا۔ موجودہ زمانے میں بھی وہ معاملات، حالات اور مسائل اسی طرح برقرار ہیں اور ان کی وہی گونج نئے انسان کے اندر موجود ہے اس لیے جدید شاعری موجودہ زمانے میں بھی اپنی معنویت کے لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔

حواشی

۱۔ ڈاکٹر مظفر حنفی (مرتب)، جدید شاعری (ایک سمپوزیم)، مشمولہ ’جدیدیت تجزیہ و تفہیم‘ نسیم بک ڈپو، لکھنو، ۱۹۸۵،ص ۶۴۰

۲۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی، ’جدید تر غزل‘، ایضاً۔ ص ۳۷۵

۳۔ شمیم حنفی۔ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ۱۹۷۷،ص ۶۰

۴۔ ڈاکٹر مظفر حنفی، (مرتب)، جدید شاعری، (ایک سمپوزیم) ص۶۳۱

٭٭٭

 

اقبال کا فلسفہ خودی

 

دنیا کے عظیم شعراء کی طرح کلام اقبالؔ بھی دل کے تاروں کو چھوکر ہمیں مسحور کر دیتا ہے۔ اقبال کو ہم شاعر سے زیادہ مفکر، دانشور، فلسفی، اور حکیم الامت کے روپ میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر شاعر ہونے کے باوجود، شاعری سے زیادہ، شیوۂ پیغمبری یعنی رہنمائی اقبال کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کا اعتراف ان کے کئی اشعار میں موجود ہے۔

میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرمِ رازِ درونِ مے خانہ

نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانہ ایست

سوئے قطار می کنم ناقۂ بے زمام را

اقبالؔ کے ہاں سازِ سخن ایک بہانا ہے اس اونٹنی کو راہِ راست پر لانے کا جو اپنے راستے سے بھٹک گئی ہے، قوم کے لیے اونٹنی کا استعارہ بھی خوب ہے۔ اقبالؔ کی شاعری، ایک آفاقی پیغام کی ترسیل کے نیک مقصد سے وجود میں آئی تھی اسی مناسبت سے عشق کے اس درد مند کا پیام اور طرزِ کلام اوروں سے مختلف تھا۔

شاعری میں اقبال کے سماجی اور مذہبی سروکار کے سبب انھیں فلسفی شاعر کہا جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں اور کئی اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

فلسفی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کائنات اور اس کے مظاہر کے متعلق اساسی مسائل کا منطقی اور تنقیدی ادراک کرتا ہے۔ انسانی زندگی، موت، عالمِ فطرت، کائنات کی تخلیق، اور معاشرت کے بنیادی اقدار اس کے مطالعے کا موضوع ہیں۔

فلسفہ سراسر علم و دانش ہے۔ انسانی ذہن فلسفیانہ افکار کا سر چشمہ ہے۔

اس کے بر عکس شاعری کا تعلق دل سے ہے شاعری جذبات و احساسات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ شاعر کائنات اور اس کے مظاہر کا ذہنی ادراک نہیں کرتا بلکہ اس سے جذبات و احساسات میں پیدا ہونے والے ارتعاش کو نغموں کی صورت عطا کرتا ہے۔

آلِ احمد سرور لکھتے ہیں:

’یہ کہنا اقبالؔ بہت بڑا فلسفی ہے اقبال کی بہت بڑی توہین ہے۔ فلسفی حقیقت کی خشک اور بے جان تفسیر کرتا ہے۔ وہ کائنات کا ادراک صرف اپنے ذہن سے کرنا چاہتا ہے وہ مادّہ اور روح کی بحث میں الجھا رہتا ہے۔ اقبالؔ کو ہم ان معنوں میں فلسفی نہیں کہہ سکتے ان کا فلسفہ وہ ہے جو خونِ جگر سے لکھا جائے وہ مستیِ احوال یا مستیِ گفتار پر جان دیتے ہیں۔ ان کا اپنا فلسفہ حیات ہے۔‘

علامہ اقبالؔ ان نابغۂ روزگار شعرا میں شامل ہیں جن کی شعری کائنات ماضی، حال اور عصری زندگی کی ان سرگرمیوں کو سمیٹے ہوئے ہے جن سے نہ صرف احساسات و خیالات کے نئے گوشے روشن ہوئے بلکہ ان کے افکار سے تشکیلِ حیاتِ کا عمل بھی ظہور پذیر ہوا۔ اقبال کے فلسفیانہ افکار میں خودی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انسانِ کامل کا نظریہ اس کا مطمحِ نظر ہے۔ عرفان ذات کے مراحل اور اس کی عظمت و اہمیت اس میں نمایاں ہے۔ اقبال کے یہاں خودی کے نظریے میں اسلام کی بنیادی تعلیمات شامل ہیں جس میں اسلامی اقدار اور روحانیت کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں۔ فلسفۂ خودی کا نقطۂ عروج در اصل انسانِ کامل ہے۔ خودی کی تعلیم اور خودی کو بلند کرنے کی ترغیب بھی در اصل انسان کے مادی وجود اور حیوانی سطح سے بلند ہو کر اپنی تکمیل کی راہ پر گامزن ہونا ہے۔ انسان کا یہ بلند مقام وہ ہے جسے مسجودِ ملائک، خلیفۃ الارض اور احسن تقویم سے تعبیر کیا گیا ہے۔

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

خودی کی بلندی کا یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے خالق کی مرضیات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے تو اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات اس کی مرضی کے مطابق حالات کو اس کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

کی محمد ؑسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اگرچہ انسانِ کامل کے ساتھ خودی کا تصور مغربی فلسفیوں اور مفکرین کے ہاں مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ اقبالؔ ان کے افکار سے متاثر ہے، ممکن ہے بعض معاملات میں اقبال نے ان سے استفادہ بھی کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسفۂ خودی قرآن حکیم، حیاتِ نبویؐ اور سیرتِ صحابہؓ سے، ماخوذ ہے۔ قرآن مجید ہی اس کا سر چشمہ ہے۔

سید نظیر نیازی کے بیان کے مطابق اقبالؔ نے ان کے استفسار پر اس کا منبع قرآن کی یہ آیت بتائی تھی۔

و لا تکونوا کالّذین نسوا اللہ فاَنسٰھم اَنفسھَم۔ اولٰئِک ہم الفاسقون۔ لا یستوی اصحٰب النارِ و اصحٰبُ الجنّہ۔ اصحٰب الجنّہ ہم الفائزون۔

ترجمہ: اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے ان کو خود ان کی جانوں سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔ دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہو سکتے۔ جنت والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ (سورہ حشر آیت نمبر ۱۹)

اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کی تشریح ان کی دو تصانیف میں ملتی ہے اس سلسلے میں پروفیسر ظہیر علی لکھتے ہیں۔

’اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کا مربوط اور جامع اظہار ان کی انگریزی تصنیف Reconstruction of Religious Thoughts in Islam میں ہوا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ’اسلام میں مذہبی فکر کی تشکیل جدید‘ کیا جاتا ہے۔ یہ اقبال کے سات خطبات کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح ان کی دوسری تصنیف Development of Metaphysics in Persia ہے۔ ان دونوں تصانیف میں انھوں نے ایک مکمل تصور حیات پیش کیا ہے جسے عرف عام میں فلسفۂ خودی کہا جاتا ہے۔۔۔‘

اردو اور فارسی کی کئی نظموں میں ان کے فلسفے کے متعلق ایسے نکات کا اظہار ہوا ہے جو ان کی نثری تصانیف میں زیرِ بحث نہیں آئے ہیں۔

اقبالؔ نے مغربی مفکرین اور فلسفیوں سے استفادہ کیا اور مشرق و مغرب کے فلسفے کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ مغربی مفکرین میں وہ روسو، ہیگل، نطشے اور برگساں سے بہت متاثر تھے۔ ان کے بعض خیالات سے اقبالؔ نے انحراف بھی کیا۔ اس دور میں مغرب میں سائنسی ایجادات اور نظریات کی تبدیلی نے زندگی کے متعلق تصورات کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

مغرب اپنی تمام ایجادات اور انکشافات کے باوجود مادی ترقی پر نازاں تھا، قیام یورپ کے زمانے میں اقبالؔ کو مشرقی افکار اور روحانی قدروں کی عظمت کو احساس ہوا۔ اس عہد میں جاری مشرقی مفکرین کے منفی نظریات نے اقبالؔ کو متنفر کر دیا جن کے سبب مشرقی اقوام نے نہ صرف اپنا سیاسی اقتدار اور معاشی طاقت کھوئی بلکہ ذہنی طور پر مفلوج ہو کر بے عملی اور پستی کا شکار ہوئیں تھیں۔ اقبالؔ کا فلسفۂ خودی ان ہی منفی افکار اور فلسفے کے خلاف ایک رد عمل تھا۔ مغرب کے ان نظریات میں انسانی ارتقا کا نظریہ بھی شامل تھا جس نے انسان کو حیوانی سطح پر لا کھڑا کیا تھا۔

اقبالؔ کا مرد مومن اور انسان کامل کا تصور روحانی قدروں کا حامل اور الوہی صفات سے متصف ہے۔ مغربی مفکرین کے ہاں اس قسم کے مکمل انسان کے تصورات مذہب سے نا آشنا ہیں مگر اقبالؔ اسے ایک خدا پرست شخصیت کے روپ میں دیکھتے ہیں جس کی خودی اپنے خالق کے سوا کسی کے آگے سر نگوں ہونے کے لئے تیار نہیں۔

خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الّا للہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہٰ الّا للہ

فساں سے مراد وہ پتھر ہے جو ہتھیار کو تیز کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا خدا سے وفا داری مومن کی خودی کو اس طرح مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی اور طاقت کی غلامی قبول نہیں کرتا،

یہ موجِ خودی کیا ہے تلوار ہے

خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے

مومن دنیا کی کسی طاقت کے سامنے جھکنے کو گوارا نہیں کرتا خواہ وہ سامراجی طاقتیں ہوں، حکومتِ وقت یا دنیاوی حرص و ہوس۔

خودی نہ دے سیم و زر کے عوض

نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض

اردو میں خودی کا لفظ غرور تکبر اور انا کے معنوں میں استعمال ہوا کرتا تھا جو اس کے لفظی معنی ہیں۔ اقبالؔ نے اپنی انگریزی تصانیف میں اس کے لیے Ego کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اقبالؔ کا اردو زبان کو ایک اہم عطیہ یہ ہے کہ اس نے جہاں متعدد نئی شعری تراکیب سے اردو ادب کا دامن بھر دیا، وہیں کئی الفاظ اور تراکیب کو نئی معنویت سے آشنا کیا۔

اسرارِ خودی کے دیباچے میں اقبالؔ نے لکھا ہے:

یہ لفظ (خودی) اس نظم میں بہ معنی غرور استعمال نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ عام طور پر اردو میں مستعمل ہے۔ اس کا مفہوم محض احساسِ نفس یا تعین ذات ہے۔

ڈاکٹر سید عبداللہ اس فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’خودی خود حیات کا دوسرا نام ہے۔ خودی عشق کے مترادف ہے۔ خودی ذوقِ تسخیر کا نام ہے۔ خودی سے مراد خود آگاہی ہے۔ خودی ایمان کے مترادف ہے۔ خودی یقین کی گہرائی ہے۔‘

اقبالؔ نے فلسفۂ خودی کے ذریعے اپنی شاعری کے توسط سے قوم کو بیدار کرنے اور اس میں عمل کی روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔ خودی اقبالؔ کے نزدیک غیرت مندی کے احساس کا نام ہے۔ جذبہ خود داری کا اور اپنی ذات و صفات کے پاس و احساس کا نام ہے۔ خودی اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنا ہے۔ خودی کا استحکام زندگی کا استحکام ہے۔

خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات

خودی کیا ہے بیداریِ کائنات

خودی کا نشیمن تیرے دل میں ہے

فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

کہیں اقبالؔ نے یہ بتایا ہے۔

خودی کا سرِ نہاں لا اِلہٰ اِلّا اللہ

خودی ہے تیغ فساں لا اِلہٰ اِلّا اللہ

یہ موجِ خودی کیا ہے تلوار ہے

خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے

اقبالؔ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کی تمام تر کامیابیوں کا دارومدار خودی پر ہے۔ یہی توحید کی اصل ہے اور اسی سے دنیا کے طلسم رنگ و بو کو توڑا جا سکتا ہے۔ اپنی خودی کے حفاظت کر کے ہی انسان قابلِ قدر بنتا ہے۔ اقبالؔ کے نزدیک انسانیت کا جوہر خودی ہے۔

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ

گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

خودی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی معرکہ آرائی میں فتح حاصل کی ہے۔ خودی کے سبب فقر میں بھی شہنشاہی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔

خودی ہو زندہ تو فقر بھی شہنشاہی

ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہ فقیر

کسی بھی نظریے کی تشکیل میں شعوری اور لا شعوری طور پر کئی عوامل کار فرما ہوا کرتے ہیں۔ اقبالؔ کی نظموں میں فلسفہ خودی کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔ خودی کو کہیں وہ ملتِ اسلامیہ کے پسِ منظر میں بیان کرتے ہیں، کہیں مشرق و مغرب کے طرزِ حیات کے پیمانے سے دیکھتے ہیں اور کہیں ملکوں کی آزادی اور قوموں کی غلامی کے نکتہ نظر سے نمایاں کرتے ہیں۔ فلسفۂ خودی کے تشکیل کے زمانے میں ہندوستان میں انگریزوں کی معاشرت پورے ملک کی مختلف قوموں پر اثر انداز ہونے لگی تھی۔ وطن کے دانشوروں اور اہلِ بصیرت کے لئے یہ قومی زوال کی نشانی ایک تشویش ناک مسئلہ تھا۔ مغرب کی اندھی تقلید سے مشرقی قدروں کا زوال اور قومی شناخت کے ختم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اسی لئے پیرویِ مغرب کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ راجہ رام موہن رائے کی تحریک بھی اسی زمانے میں اپنی اصل کی طرف لوٹنے کے رجحان کو مضبوط کرنے کی غرض سے وجود میں آئی تھی۔ اکبر الہٰ آبادی کی شاعری کا موضوع بھی یہی تھا۔ اقبالؔ نے اس فکر کو اپنی شاعری میں اپنے انداز سے برتا۔ وطنی سطح پر اقبالؔ کی خودی جذبۂ حریت سے عبارت ہے۔ اپنی نظم، ’محراب گل افغان کے افکار‘ میں جب وہ کہتے ہیں:

رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندوستان

تو بھی اے فرزندِ کہستاں! اپنی خودی پہچان

اپنی خودی پہچان او غافل افغان!

تو یہی فکر نمایاں ہے جو امّت محمدیہ کو سنوارنے کے لئے ان کے اشعار میں موجزن ہے۔ خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف

کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتشِ ہمہ سوز

کلام اقبال میں خودی فقر و استغنا کا استعارہ بھی ہے۔ انسان اپنی خودی کے شعور کے ساتھ زندگی گزارے تو وہ استعماری طاقتوں کے آگے نہ سرنگوں ہوتا ہے اور نہ دنیاوی حرص و ہوس کا شکار ہوتا ہے۔

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

اقبال نے خودی کو مختلف سطحوں پر نمایاں کیا ہے۔ اس کے فقدان نہ صرف کسی قوم کے لیے انحطاط ہے بلکہ یہ ایک آفاقی مسئلہ ہے۔ خودی کی موت کو اقبال مغرب کے لئے بے نوری اور مشرق کے لئے جذام جیسا مرض قرار دیتے ہیں۔ خودی کی کمی نے ہر مرحلے میں قوموں کو زوال آمادہ کیا ہے۔

خودی کی موت سے مغرب اندروں بے نور

خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام

خودی کی موت سے ہندی شکستہ بال و پر

قفس ہوا ہے ہلال اور آشیانہ حرام

خودی کی موت سے پیرِ حرم ہوا مجبور

کہ بیچ کھائے مسلماں کا جامۂ احرام

اقبال کے اردو کلیات میں متعدد مقامات پر اس موضوع پر اشعار موجود ہیں، فارسی کلام میں اسے مزید شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا گیا ہے

حواشی

۱۔ آل احمد سرور، اقبال اور ان کا فلسفہ خودی، مشمولہ: ریڈیائی تحریروں میں فکر اقبال کی عکاسی از۔ ڈاکٹر احمد شکیل احمد۔ ص۔ ۸۱

۲۔ قرآن مجید۔ سورہ حشر آیت نمبر ۱۹۔

۳۔ پروفیسر ظہیر احمد، اقبال کا فلسفۂ خودی، ص ۳۵

٭٭٭

 

 

شاد عارفی کی شاعری میں طنز

 

آبِ حیات کی ایک روایت کے مطابق مرزا غالبؔ نے بہادر شاہ کے استاد ذوق کو ہاتھی پر سوار دیکھ کر کہا تھا:

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

اور جب بادشاہ کے دربار میں پیشی ہوئی تو اس طنز کا رخ اپنی ذات کی طرف پھیر کر یہ دفاعی پینترا اختیار کیا: وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے۔

حقیقت خواہ جو بھی ہو اس شعر سے مزاح نگاری کے اس اصول کی تصدیق ہوتی ہے کہ بہترین مزاح نگار وہ ہے جو اپنی ذات پر ہنس سکے اور اس انداز میں ہنسے کہ اس کا قہقہہ سماج کے لئے ایک آئینہ بن جائے۔ طنز اور مزاح ایک دوسرے سے اس طرح باہم گتھے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنا دشوار ہے۔ ممکن ہے کوئی فقرہ یا ظریفانہ نکتہ خندہ دنداں نما کو تحریک دے اور ہمارا یہ بے ضرر سا عمل طنز کا تیر بن کر کسی کے سینے کو چھلنی کر دے۔ نشانہ جب تک متعین نہ ہویا تیر نشانہ پر نہ لگے، طنز کی کاٹ مزہ نہیں دیتی۔ اپنی ذات پر طنز تو گویا خود کُشی کے مترادف ہے اور طنز نگار کی حقیقی کامیابی مر نے سے زیادہ مارنے میں ہے۔ بقول ڈاکٹر وزیر آغا:

’طنز میں نشتریت کا پہلو غالب رہتا ہے اور یہ اپنے نشانہ تمسخر کے خلاف نفرت کے جذبات کا اظہار ضرور کرتی ہے۔‘

شاد عارفی کی شاعری کا امتیازی پہلو طنز نگاری ہے۔ وہ بنیادی طور پر طنز نگار ہیں، بلکہ شاعر بعد میں، طنز نگار پہلے ہیں۔ اس قسم کے ہر فنکار کی خصوصیت یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ جس چیز پر نظر ڈالتا ہے اس میں دو ہی چیزیں تلاش کرتا ہے۔ ایک عیب اور دوسرے اس عیب پر طنز کرنے کا موقع۔ شاد عارفی کا ایک شعر ہے۔

تمیزِ نقدِ انجمن کچھ اس قدر نکھر گئی

جہاں جہاں بھی جھول تھے وہیں وہیں نظر گئی

شاد عارفی نے اسی قسم کے مواقع سے فائدہ اٹھایا اور طنز کی سرمایہ کاری کر کے اپنا بہترین شعری اثاثہ جمع کیا۔ طنز کی شمولیت نے ان کی غزلوں کو ایک جداگانہ اسلوب عطا کیا ہے۔ طنز کی نمکینی ہی کے سبب شاد عارفی کا رنگِ سخن اوروں سے مختلف ہے۔ ان کے ہاں کثرت سے ایسے الفاظ اور تراکیب ملتی ہیں جو غزل کے ڈکشن سے میل نہیں کھاتیں۔ مثلاً چکمہ، مکڑیوں کے جالے، چھچھوری، اوچھے، کمینہ، جے ہو، جھول، ٹخنے، ریتنا، کھردرا، یادوں کے دانت، حیا خو، جھک مارنا وغیرہ۔ اس سلسلے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

مُصرے ہے اگر آپ برا مان نہ جائیں

اوچھوں سے کوئی کارِ نمایاں نہیں ہوتا

وہ کھردرا کلام جس کا ریتنا بھی وصف ہے

جو زیرِ بحث آ گیا تو شادؔ پر نظر گئی

ناجائز پیسے کی اجلی تعمیروں کے ماتھے پر

آپ نے لکھا دیکھا ہو گا یہ سب فضلِ باری ہے

بقول احتشام حسین:

’ظرافت کے لئے کسی حقیقت کا تصور ضروری ہے۔ شاد عارفی کے ہاں حقیقت کا تصور ہی ہے جو دین داری کے پردے میں چھپی ہوئی منافقت، بے روح مذہبیت، خود غرضی میں ملوث سیاست اور عوامی سطح پر پائی جانے والی نا سمجھی کو نشانہ طنز بناتا ہے۔ اسی لئے ان کی غزلوں میں سب سے زیادہ اشعار جند و موضوعات پر ملتے ہیں وہ ہیں۔ شیخ جسے وہ زاہد، واعظ، شیخ حرم وغیرہ الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ سیاست داں جس کے لئے، راہبر، راہنما، میرِ کارواں، راہ نمایانِ قوم اور رہبرِ ملت جیسے الفاظ لائے ہیں۔ ان دونوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ریاکاری، اپنے منصب سے وفاداری کے فقدان، خلوص کی کمی، بے روح قسم کی دین داری، منافقت، چالاکی اور نا سمجھی کے علمبردار ہیں۔ سیاست کے متعلق شاد کے چند اشعار سے ان کے طنز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ہمارے ہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو

گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

جلوسِ رہبرِ ملت نہ سمجھو

سیاست کا جنازہ جا رہا ہے

ہے تو احمق چونکہ عالیشان کاشانے میں ہے

اس لئے جھک مارنا بھی اس کے فرمانے میں ہے

چور کی ڈاڑھی میں تنکے کا منظر اکثر دیکھا

میرے رہزن کے فقرے پر راہ نما نے مڑ کر دیکھا

سرشتِ میرِ کارواں بھرے گی روپ دفعتاً

تم اس سے مطمئن رہو، نقاب اس کے پاس ہے

تمہیں علم و عمل سے واسطہ کیا

سکندر بخت کے پوتے ہو یارو

سادہ دلوں نے راہ نمایانِ قوم سے

اتنے فریب کھائے کہ چالاک ہو گئے

مذہب بیزار شعراء کو اگر استثنیٰ قرار دیا جائے تو ہماری شاعری میں شیخ، ملا اور زاہد پر طنز کے تابڑ توڑ حملے در اصل ان کے خلاف محاذ آرائی نہیں ہے بلکہ یہ اس رویے کی مذمت ہے جو اصل مذہبی قدروں کو چھوڑ کر بے جان اور بے روح قسم کی مذہبیت اور رسم و رواج کے علاوہ دغا بازی اور فریب کاری کو جنم دیتا ہے جو دین کی حقیقت سے نا آشنائی اور نا سمجھی کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں شاد کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:

شیخ پر ہاتھ اٹھانے کے نہیں ہم قائل

ہاتھ اٹھانے کی جو ٹھانی ہے تو باطل سے اٹھا

اور ان ہی صالح اقدار کی جستجو شاد سے یہ شعر کہلواتی ہے۔

ہاتھ میں جام اٹھانا تو بڑی بات نہیں

کوئی پتھر کوئی کانٹا رہِ منزل سے اٹھا

اس سلسلے کے چند اشعار یہ ہیں

بتوں کی محبت میں شیخِ حرم تک

جبینوں پہ قشقے سجائے کھڑے ہیں

بادہ گلرنگ بھی ہے یوں تو اک خاصے کی چیز

حضرتِ زاہد مگر ساقی بھی خاص الخاص ہے

شاد عام طنز نگاروں کی طرح طنز کے نشتر کو سماجی اصلاح کے مقصد کے تحت استعمال کرتے ہیں اور ہر زندگی کے ہر اس پہلو پر اسے آزماتے ہیں جس میں انھیں خرابی نظر آتی ہے۔ طنز و ظرافت فنکاروں ہی کا نہیں سماج کا بھی ایک ایسا سہارا ہے جس سے نا پسندیدہ اور ناگوار سرمیوں کو روکنے کا مبارک کام انجام دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں۔

ہنسی ایک ایسی لاٹھی ہے جس کی مدد سے سوسائٹی کا گلہ بان محض غیر شعوری طور پر ان تمام افراد کو ہانک کر اپنے گلّے میں دوبارہ شامل کرنے کی سعی کرتا دکھائی دیتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے سوسائٹی کے گلّے سے علاحدہ ہو کر بھٹک رہے تھے۔ یعنی ہنسی ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے سوسائٹی ہر اس فرد سے انتقام لیتی ہے جو اس کے ضابطہ حیات سے بچ نکلنے کی سعی کرتا ہے۔ سماجی لحاظ سے ہنسی کا یہ پہلو اس لئے زیادہ اہم ہے کہ اس کی بدولت سوسائٹی بیشتر بیرونی مضر اثرات سے محفوظ رہتی ہے۔

شاد کے ہاں طنز و ظرافت کے استعمال کا شعوری احساس بھی موجود ہے۔

بے کسوں پر ظلم ڈھا کر ناز فرمایا گیا

طنز کی جانب میں خود آیا نہیں لایا گیا

اس انجمن سے اٹھوں گا کھری کھری کہہ کر

پھر انجمن میں نہ آنے کی بات کرتا ہوں

یہاں چراغ تلے لوٹ ہے اندھیرا ہے

کہاں چراغ جلانے کی بات کرتا ہوں

شاد کی غزلوں میں عام انسانی رویوں پر بھی طنز کے عمدہ نمونے موجود ہیں۔

بانس تیری بھینگی آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں اور چپ ہوں

دیکھ لیا ہے تو نے میری پلکوں پر تنکا تو کیا

آغازِ مشورہ میں کہاں مر گئے تھے آپ

اب روکنے چلے ہیں قدم جب بڑھا لیا

کہیں جھپٹ نہ پڑیں دن میں مشعلیں لے کر

عوام کو نہ سجھاؤ کہ روشنی کم ہے

تو اور پوچھے میرا حال

آگ لگا پھر پانی ڈال

جوانی ہے، دل آ جانے کے دن ہیں

عقلمندو! یہ سمجھانے کے دن ہیں!

جو چاہتے ہیں ہمیں بے قرار فرمائیں

کہیں وہ خود نہ ستارے شمار فرمائیں

شاد کی غزلوں میں شعر و ادب کے دگر گوں حالات اور فنکاروں کی زندگیوں میں پائی جانے والی ناہمواریوں پر بھی زبردست طنز کیا گیا ہے۔ مثلاً جوش ملیح آبادی پاکستان ہجرت کرنے کے بعد متوقع پذیرائی سے محروم رہے اور اپنی پشیمانی کو اس طرح بیان کیا تھا۔

یوں کراچی میں ہوں جس طرح سے کوفہ میں حسین

سب تباہی کے ہیں آثار چنا جور گرم

اب اس پر شاد عارفی کا طنزیہ شعر ملاحظہ فرمائیں:

یہ دوسری بات ہے کہ ہجرت نہ کر کے در در کی خاک چھانے

چنے نہ بیچے گا جوشؔ کی طرح ذوقِ شعر و سخن ہمارا

اسی طرح عام شاعروں اور شاعری کے حالات حاضرہ کی عکاسی اس طرح کی گئی ہے۔

شاعر سے یوں جان بچائے پھرتے ہیں سنجیدہ لوگ

گویا اڑ کر لگنے والی شعروں کی بیماری ہے

چمن سے آج کل یوں نکہتِ معلوم غائب ہے

کہ جیسے فی زمانہ شعر سے مفہوم غائب ہے

طنز نگاری کے اہم آلات میں تحریف نگاری کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ شاد نے اس کا استعمال بھی عمدگی سے کیا ہے۔

خلد میں ہم ان پری زادوں سے لیں گے انتقام

اب یہ روحیں ہوں کہ حوریں ہوں جو انساں ہو گئیں

غالبؔ کے ہم بے تکے نقال شاد

مشکلیں ہم پر پڑیں کب تھیں کہ آساں ہو گئیں

شاد نے زندگی کے تمام مظاہر کو عموماً ترچھی نظروں سے ضرور دیکھا ہے۔ بھلا اس کی طنز اور شوخی سے اس کا محبوب کیسے بچ سکتا ہے۔

بقول آلِ احمد سرور:

’شاد کے ہاں صرف سماجی کی خرابیوں پر طنز ہی نہیں ہے محبت اور نفسیات انسانی کی سچی تصویریں بھی ہیں اور انھیں ایک ایسے تیور اور بانکپن سے پیش کیا گیا ہے کہ فوراً ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں۔‘

یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ اردو شاعری میں عام طور پر محبوب کا جو تصور ابھرتا ہے شاد عارفی کی شوخی تحریر میں اس کی تصویر بہر حال کچھ مختلف ہے۔

آج اس کفر سراپا نے سنوارے گیسو

آج بکھرا ہوا پردہ رخِ باطل سے اٹھا

شاد غیر ممکن ہے شکوہ بتاں مجھ سے

میں نے جس سے الفت کی اس کو با وفا پایا

دیر سے پہنچنے پر بحث تو ہوئی لیکن

اس کی بے قراری کو حسبِ مدعا پایا

مشکبو زلفیں جنھیں کافر کہا جاتا رہا

عارض گل رنگ پر آ کر مسلماں ہو گئیں

شاد عارفی نے مختلف اور متنوع موضوعات کے حوالے سے اپنی نظموں اور غزلوں میں طنز کا استعمال کیا ہے اور ان کا یہی فنکارانہ بر تاؤ ان کی انفرادی شناخت کا ضامن ہے۔

٭٭٭

 

عادل ناگپوری۔ فن و شخصیت

 

وسط ہند کا شہر ناگپور ادب کے مشہور مراکز مثلاً دہلی، لکھنو، لاہور، حیدر آباد وغیرہ کی طرح ابتدا ہی سے علمی و ادبی سرگرمیوں کی آماجگاہ نہیں تھا لیکن ان تہذیبی مراکز کی دھڑکنوں سے بیگانہ بھی نہیں رہا۔ اس دعوے کے ثبوت میں شہر ناگپور کی ادبی روایات اور تخلیق کاروں کے رشحاتِ قلم کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک اہم نام عادل ناگپوری (۱۸۲۳۔ ۱۸۹۴) کا بھی ہے۔ عادل ناگپوری ناگپور، ناگپور کے ایک اہم قدیم شاعر کے طور پر معروف ہیں وہیں ان کی انتظامی خدمات بھی ان کی شخصیت کو قد آوری عطا کرتی ہے۔ وہ ناگپور کے فرمانروا رگھوجی بھوسلہ ثالث کے عہد میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

حالاتِ زندگی:

عادل ناگپوری فارسی اور اردو کے قادر الکلام شاعر تھے، مختلف زبانوں پر انھیں عبور حاصل تھا۔ عادل کا نام سید محمد عبد العلی، کنیت ابو الکاظم اور تخلص عادل تھا۔ وہ ۱۸۲۳ میں ناگپور میں پیدا ہوئے تھے۔۔ ٹیپو سلطان کی شہادت ۱۷۹۹ کے بعد عادل ناگپوری کا خاندان ریاست میسور سے ناگپور میں منتقل ہوا تھا۔ عادل ناگپوری نے دینیات کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی تھی۔ اس میں قران مجید حفظ کیا اور قرات اور تجوید کے بنیادی اصول سیکھے۔ اس کے بعد وہ ناگپور کے سب سے بڑے مدرسے رسولہ میں تعلیم میں داخل کئے گئے۔ عادل ناگپوری رگھوجی بھوسلہ ثانوی کے عہد میں حکومت کی انتظامیہ میں شامل ہوئے اور رگھوجی بھوسلہ ثالث کے دور میں پہلے جمعدار اور پھر رسالدار کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ عادل کو دینی علوم اور تصوف سے خصوصی شغف تھا۔ اذکار اور شرعی امور پر سختی سے کاربند ہونے کے علاوہ تلاوت کلام پاک کا معمول تھا۔ آخر عمر میں وہ کئی عوارض کے سبب بہت کمزور ہو گئے تھے۔ ۱۹۹۴ میں ان کا انتقال ہوا۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مشہور محقق اور ادیب و شاعر ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل نے عادل ناگپوری کو ان کی تمام تر ادبی خدمات کے ساتھ اردو دنیا سے متعارف کروایا اور اس عظیم شاعر کے متعلق تحقیقی کاموں کے لئے راستے ہموار کئے۔ انھوں نے کلیاتِ عادل کو مرتب کرنے کے علاوہ عادل ناگپوری شخص، شاعر، نثر نگار (مطبوعہ ۲۰۱۱) جیسی کتاب لکھ کر عادل ناگپوری کے حالاتِ زندگی اور ان کے فکر و فن کا احاطہ کیا۔ اس کے علاوہ ماہنامہ قرطاس کا عادل ناگپوری نمبر بھی ان کی رہنمائی میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر ساحل نے نہ صرف عادل ناگپوری کے اردو اور فارسی کلام کو محفوظ کیا بلکہ اس پر تحقیق کا حق بھی ادا کیا۔ وہ عادل ناگپوری کے حالاتِ زندگی کے متعلق لکھتے ہیں۔

’عادل جب سنِ شعور کو پہنچے تو رگھوجی ثالث کی انتظامیہ سے وابستہ ہوئے ابھی ترقی کر کے نائب رسالدار کے منصب پرفائز ہوئے تھے کہ ۱۱ دسمبر ۱۸۵۳ کو راجہ کا انتقال ہو گیا اور اسی کے ساتھ بھوسلہ حکومت کا چراغ بھی گل ہو گیا۔ انگریزوں کا دورِ حکومت شروع ہوا تو انتظامِ حکومت کی نئی پالیسی وضع ہوئی۔ مراٹھی اور فارسی کی جگہ انگریزی زبان نے لی اس سیاسی انقلاب کے باعث عادل کی نوکری جاتی رہی اب وہ خاندانی جاگیر اور کھیتی باڑی کی آمدنی پر گزر بسر کرنے لگے ان کے لیے ۱۸۶۲ میں برٹش گورنمنٹ نے کچھ رقم بھی وظیفہ کے طور پر مقرر کی تھی۔۔۔ عادل بھوسلہ راجہ کے خاندان اور انگریز افسران کے بے انتہا وفادار تھے اس لیے ۱۸۵۷ کے تاریخی انقلاب کے بعد ان کی جاگیر محفوظ رہی۔ اس انقلاب کے بعد بیشتر مسلم خاندان تلاشِ معاش میں دوسرے شہروں میں منتقل ہو گئے عادل ناگپور ہی میں مقیم رہے۔‘ ۱

عادل ناگپوری غالبؔ، مومن اور ذوق کے ہم عصر تھے اور غالب گمان ہے کہ یہ شعرا ان کے کسبِ نور کا منبع رہے ہوں۔ ان میں لکھنو کے شعرا ناسخ، آتش، انیس، دبیر کے کلام کا اثر عادل کے ہاں نمایاں ہے۔ عادل نے جن شعرا کی زمینوں میں بھی طبع آزمائی کی ان میں غالب،ؔ میرؔ ، سوداؔ، آتشؔ، ناسخؔ اور ممنون، بھی شامل ہیں البتہ ان کے کلام کا سر سری مطالعہ بھی یہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ انھوں نے لکھنو کے طرزِ فکر اور اندازِ سخن کو قبول کیا اور اپنی شاعری کو ان ہی خطوط پر آگے بڑھایا تھا۔ ان کے کلام میں خارجیت، مضمون آفرینی، معنی آفرینی، قادر الکلامی زبان و بیان کی رنگینی اور لطافت، صنائع بدائع کا بڑے پیمانے پر استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ لکھنوی طرزِ شاعری کے دلدادہ تھے۔ یہی وہ رنگ ہے جس کی توضیح ہمیں آتش کے اس شعر میں دکھائی دیتی ہے۔

بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

عادل ناگپوری کے ہاں عاشقانہ متصوفانہ اور رندانہ مضامین بھی ملتے ہیں۔ عادل کی شعریت اور تغزل فارسی و عربی الفاظ کی مدد سے خیال آفرینی کی بہار دکھاتی ہے۔

یہ خوبیاں لکھنوی طرزِ سخن کا طرۂ امتیاز ہے البتہ معروف ناقد سلیم شہزاد ان کے کلام کے عمیق مطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عادل ان تمام شعرا کے مقابلے میں مرزا غالبؔ سے زیادہ متاثر تھے۔ وہ عادل کے متعلق لکھتے ہیں:

’ان کا اردو کلام بآوازِ بلند اعلان کر رہا ہے کہ میں اپنے پیش روؤں کے علاوہ سب سے زیادہ نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا اسد اللہ خان غالبؔ سے متاثر ہوں۔ غالبؔ کی طرح عادل بھی کثیر الاطراف اظہار کے فنکار تھے۔ فارسی نظم و نثر، مکتوب نگاری، تفسیر و فقہ، تصوف و تاریخ اور لغت نگاری جیسے لسانی تعاملات ان کے حیطۂ اظہار میں شامل تھے۔ ان کی اردو شاعری کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آنجناب غزلیہ اظہار پر بھی غالبیت کا غلبہ ہے۔ عربی فارسی الفاظ و تراکیب، خیالات اور شعری نحو میں غالبؔ کی سی لسانی پیچیدگی عادل کے کلام کی نمایاں خصوصیت ہے۔‘ ۲

غزل گوئی:

عادل ناگپوری کا اردو کلام ان کی قادرالکلامی استادانہ مہارت، صنائع بدائع کے بھر پور استعمال کی قدرت اور سخت و مشکل زمینوں میں طبع آزمائی کی صلاحیت کا بین ثبوت ہے۔ انھوں نے طویل غزلیں کہیں، ان کے کلام میں دو غزلہ، سہ غزلہ، پنچ غزلہ اور بعض قافیوں میں کئی اشعار کہنے کی مثالیں موجود ہیں۔ عادل ناگپوری نے قوافی اور ردیفوں کے استعمال میں یہ کمال دکھایا کہ معنی آفرینی کیے جس قدر امکانات ان الفاظ میں موجود تھے انھیں اپنے تخلیقی جوہر سے چمکایا۔ اپنی مشکل پسندی کے با وصف وہ محبوب کے سراپے کو معنی آفرینی اور مضمون آفرینی کے ساتھ رعایتِ لفظی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

عیاں زلفوں میں ایسا نور ہے رُوئے درخشاں کا

کہ جیسے سنبلستاں میں ہو جلوہ ماہِ کنعاں کا

آنکھ اس کی نرگسِ مخمور سے کچھ کم نہیں

لب مذاقِ بادۂ انگور سے کچھ کم نہیں

اس مستِ ناز کے لبِ میگوں کے سامنے

ہوتی ہے فرطِ شرم سے خُم میں شراب آب

گر الٹ دے رخِ پر نور سے اپنے وہ نقاب

ہو شبِ ماہ سے روشن، شبِ تار آپ سے آپ

عادل کی شاعری میں درد و غم، اضطراب اور سوز و گداز کا اظہار بھی پر اثر انداز میں ہوا ہے۔ چمن سے ماخوذ وہ پیکر اور نور و نکہت کے تصورات جو عادل کی شاعری میں محبوب کا سراپا بیان کرتے ہیں، حسبِ ضرورت زندگی کے دکھ درد کے استعارے بھی بن جاتے ہیں۔

ہنستا ہے گل تو روتی ہے شبنم تمام رات

خالی غم و طرب سے جہاں کا چمن نہیں

تصور ہے دم گریہ یہ کس کے روئے تاباں کا

کہ ہر قطرے میں عالم ہو گیا برقِ درخشاں کا

دمِ تحریر حالِ سوزشِ داغِ دلِ مضطر

قلم میں دفعتاً عالم ہوا سروِ چراغاں کا

خبر یوسف کی لائی تب صبا

صورتِ یعقوب زائل جب بصر اپنا ہوا

سدا رہتا ہے دل مشغولِ ماتم

مرا سینہ ہے یا بزمِ عزا ہے

تجھ کو پہلے ہی قدم میں آبلہ پائی ہوئی

منزلِ غم کا ہنوز اے دل بیاباں دور ہے

قصیدہ نگاری:

عادل ناگپوری نے اردو اور فارسی میں قصائد قلم بند کئے ہیں۔  اردو میں ان کے چار قصائد کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔

۱۔  قصیدہ ( در) مسند نشیں رگھوجی بھونسلہ چہارم۔ ۲۔۔  قصیدہ ختنہ ( کذا) اعظم شاہ بہادر راجہ قلعہ ناگپور۔ ۳۔۔  قصیدہ در مدح شیو شنکر لال۔ ۴۔  ایضاً

مشہور محقق ڈاکٹر نور السعید اختر ان کے متعلق لکھتے ہیں:

عادل نے غزلوں سے زیادہ قصائد میں اپنی قادر الکلامی کا ثبوت دیا ہے۔  فارسی میں ان کے کل قصائد کی تعداد ۱۸ ہے۔  فارسی شاعری اور انشا پردازی میں جو کارنامے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں میں یہ بات مکمل وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ پورے مہاراشٹر میں اتنا زبردست کارنامہ کسی شاعر نے انجام نہیں دیا ہے۔  فکری و معنوی لحاظ سے بھی عادل کے کارنامے منفرد ہیں۔ اس تبحر علمی اور فنی لیاقت کے باعث انھوں نے تقریباً ڈیڑھ درجن کتابیں اردو اور فارسی میں تصنیف و تالیف کیں۔  ان میں زیادہ تر کتابیں فارسی میں ہیں۔  دیوانِ فارسی، دیوانِ قصائد، دیوانِ تاریخات، مثنوی سحرِ بابل اور مثنوی ریاض العمارب وغیرہ اس کا بیّن ثبوت ہیں۔  ۳

عادل ناگپوری کی تخلیقی قوتیں، ان کی تشبیہات اور استعاروں میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتی ہیں عادل کے ہنر کے غماز ان کے قوافی بھی ہیں۔ عادل نے اپنے زمانے کے اہم واقعات سے متاثر ہو کر متعدد تاریخیں کہی ہیں۔ ان تاریخی قطعات میں زبردست علمیت اور استادانہ مہارت کا مظاہر کیا ہے۔

مرثیہ نگاری:

عادل ناگپوری نے مرثیہ نگاری میں بھی اپنے جوہر نمایاں کئے ہیں۔  امام حسین کی شہادت سے متعلق ان کے تین مرثیے ان کے کلیات میں موجود ہیں۔  یہ ان فنی خوبیوں سے آراستہ ہیں جو انیس و دبیر کے ہاں پائی جاتی ہیں۔ ان میں صنائع بدائع کا استعمال اور احساسات و جذبات کی عکاسی پر اثر انداز میں کی گئی ہے۔

دیدہ دمِ تحریر مرا اشکِ فِشاں ہے

آنسو کے عوض آنکھ سے خون ناب رواں ہے

چشم ابر کی مانند سدا گریہ کناں ہے

بلبل کی صفت سینے میں دل نعرہ زناں ہے

پیدا سرِ ہر موئے بدن گر چہ زباں ہو

یہ وہ ہے الم جس کا زباں سے نہ بیاں ہو

مثنوی نگاری:

عادل ناگپوری نے مثنوی نگاری میں بھی اپنی قادر الکلامی کے نقوش ثبت کئے ہیں۔  انھوں نے فارسی میں سحرِ بابل، ریاض المعارب اور نور الہدیٰ نامی مثنویاں تحریری کی ہیں۔  مجموعی طور پر ان تینوں مثنویوں کے اشعار کی تعداد پانچ ہزار سات بیس (۵۷۲۰) ہو جاتی ہے۔  البتہ اردو میں ان کی دو ہی مثنویاں ہیں جن کے اشعار کی مجموعی تعداد ۲۹۰ ہے۔

پہلی مثنوی میں محبوب سے خط نہ ملنے کی شکایت ہے اور دوسری دوسری مثنوی ایک منفرد موضوع کا احاطہ کرتی ہے جس میں ایک ماں کے دکھ کو بیان کیا گیا ہے جو اپنی بیٹی کے شوہر کی بے اعتنائی سے اس قدر غم زدہ ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی کا پہلا نکاح فسخ ہو جائے اور اور وہ کسی دوسرے نوجوان سے شادی کر لے۔  یہ مثنوی شاعر کی عصری حسیت اور سماجی صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے۔

چاہتی ہوں میں اپنی دختر کو

یعنی برجِ حیا کے اختر کو

نامزد کوئی اور سے کر لوں

پہلے شوہر سے فسخ عقد کروں

عادل نے دو کتابوں کے دیباچے بھی مثنوی کی طرز پر لکھے ہیں۔ پہلی کتاب راجہ جانوجی بھوسلے کی تصنیف ہے۔  یہ منظوم دیباچہ ۱۰۱ اشعار پر مشتمل ہے۔

اگر یوں ہی منظور ہے سیرِ گلشن

ہے مطلوب سمعِ صفیر نوا زن

ذرا چل کے اب دیکھ دربار اس کا

کہ کیسا ہے محفل میں گلزار اس کا

جسے دیکھ کر پیرِ فلک با قدم خم

ادب سے کھڑا بہرِ مجرا دما دم

عادل ناگپوری کی تصانیف:

عادل ناگپوری کی تصانیف میں کلیاتِ عادل ۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے جو ۲۰۰۶ میں شایع ہوا تھا۔  اس میں دیوانِ اردو، خزائن الاشعار، جیش المضامین، دیوانِ قصائد اور دیوانِ تاریخات شامل ہیں۔  اسے مختلف مخطوطات کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے۔  شرح کریما سعدی شیرازی کی مشہور فارسی نظم ہے عادل ناگپوری نے اس کا منظوم اردو ترجمہ ۱۸۳۷ میں اس وقت کیا تھا جب ان کی عمر صرف ۱۴ سال تھی۔

عادل ناگپوری کو تاریخ گوئی میں بھی مہارت حاصل تھی، انھوں نے ایک مکمل دیوان دیوانِ تاریخات کے نام سے ترتیب دیا تھا جس میں ۱۹۰ قطعاتِ تاریخ اردو اور فارسی میں موجود تھے۔  خزائن الاشعار، عادل کا پہلا شعری مجموعہ ہے جسے ۱۸۵۴ میں مرتب کیا تھا۔

جیش المضامین، عادل کا دوسرا مجموعۂ کلام ہے جو ۱۸۶۸ میں مرتب کیا گیا تھا۔ دیوانِ اردو، ۴۸ صفحات پر اور دیوانِ فارسی ۳۲ صفحات پر مشتمل ہے۔  دیوانِ قصائد میں فارسی کے ۱۸ قصائد اور اردو کے دو قصائد شامل ہیں۔ ان تصانیف کے علاوہ، سحر بابل، ریاض العارب نور الہدیٰ، چہل حدیث مترجم، نثر المتین، فقہ اکبر، مفتاح الفتوح، حقیقت خواب، نصاب گونڈی اور شرح علوم ان کی کتابیں ہیں۔  غرض عادل ناگپوری نے مختلف شعری و نثری اصنافِ میں اپنے تخلیقی جوہر کو نمایاں کر کے ادب کو نئی فنی جہات سے آشنا کیا اور فکری و معنوی اعتبار سے ادبی روایت کو توانائی عطا کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی

۱۔ ڈاکٹر شرف الدین ساحل، عادل ناگپوری، شخص، شاعر، نثر نگار، ۲۰۱۱، ص۔ ۲۷

۲۔ سلیم شہزاد، رزم کی زبان، مطبوعہ عادل ناگپوری، مرتبہ ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل۔ ۲۰۱۱ ص ۱۳

۳۔ ڈاکٹر نور السعید اختر، عادل فارسی کا ایک قادر الکلام شاعر، ماہنامہ قرطاس، اگست ۲۰۱۰، ص ۳۹

٭٭٭

 

 

نواب محمد عبدالوحید غازی آف گیوردھا

 

اردو زبان و ادب کی ترویج و بقا یوں تو عوام الناس کی محبت و اپنائیت کا ثمرہ ہے، مگر حکومت وقت کے سر برا ہوں کی دلچسپی اور اعانت نے بھی اس زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض حکمرانوں اور صاحب اثر ہستیوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس زبان کی آبیاری کی ہے، ایسی مقتدر شخصیات میں مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اور دکن کے فرمانروا قلی قطب شاہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ایسی ادب دوست شخصیات کے نام تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں ان میں ایک نام نواب غازی آف گیوردھا کا بھی ہے۔

حالاتِ زندگی:

بیسویں صدی کے ودربھ کے شعرا میں عکاسِ فطرت، نواب غازی آف گیوردھا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ؛ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے، اس سخنوری کا فیضان اردو زبان تک محدود نہ تھا۔ انھوں نے فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کر کے شاعری کا بڑا ذخیرہ چھوڑا۔ نہ صرف ناگپور بلکہ ملک بھر کے مشاعروں میں انھیں شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا تھا، جہاں وہ صدر مشاعرہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ نواب غازی اپنی گوں ناگوں صلاحیتوں اور خوبیوں کے سبب جانے جاتے ہیں۔ ان کی حمدیہ و منا جاتی شاعری ان کے کلام کا طرۂ امتیاز ہے۔ انھیں کئی زبانوں مثلاً عربی، فارسی، انگریزی، اردو، ہندی، گونڈی اور مراٹھی میں بولنے اور لکھنے پر پوری قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے عربی زبان میں روز نامچہ لکھا اور علاقائی گونڈی زبان کا گرامر بھی مرتب کیا تھا۔ ان کے متعلق ڈاکٹر سید عبد الرحیم لکھتے ہیں:

نواب محمد عبدالوحید غازیؔ آف گیوردھا ۲۱ اکتوبر ۱۹۰۷ کو بڑ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ غازی ان کا تخلص تھا۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ ان کے بڑے بھائی محمد عبد الحمید جو علی گڑھ میں زیرِ تعلیم تھے، انیس سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ ان کی ایک ڈائری پر لفظ غازی لکھا ہوا دیکھ کر بھائی کی یاد میں نواب صاحب نے اسے بطور تخلص اختیار کیا۔ نواب محمد عبدالوحید غازی کے آباء و اجداد شاہ عالم کے عہد میں کشمیر سے وسطِ ہند منتقل ہوئے اور بھوسلہ راجہ کے ماتحت پرگنہ ویرا گڑھ کے دیوان مقرر ہوئے تھے حقِ خدمت کے صلے میں انھیں گیوردھا کی زمینداری ملی۔ گیوردھا اس وقت گڑھ چرولی ضلع میں ایک چھوٹا سا دیہات ہے۔ اسی دیہات کے نام سے گیوردھا اسٹیٹ کہلائی۔ ابتدا میں اس اسٹیٹ کا رقبہ ۱۶۰ مربع میل تھا۔ جس میں ایکسٹھ گاؤں تھے۔ ۱۸۵۴ کو بھونسلہ حکومت سلطنت برطانیہ کی قلمرو میں شامل کر لی گئی۔ لیکن برطانیہ حکومت نے چند چھوٹی ریاستوں کو بحال رکھا ان میں گیوردھا اسٹیٹ بھی تھی۔ آپ کے جد امجد محمد بہا الدین اور والد بزرگوار محمد زین الدین صاحب نے حسنِ انتظام کے ذریعے اس زمینداری کو بہت ترقی دی۔ ۱

نواب محمد عبدالوحید غازی کی ایک بہن بھی نو عمری میں قضا کر گئی تھی۔ نواب غازی ابھی پانچ سال کی عمر ہی کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا والدہ حفیظ بیگم نے بڑی شفقت سے آپ کی پرورش کی حکومت برطانیہ آپ کو لندن میں تعلیم دلوانا چاہتی تھی لیکن آپ کی والدہ اس بات پر راضی نہ ہوئیں۔ آخر خان بہادر ایچ ایم ملک صاحب کی ایما پر انجمن ہائی اسکول میں داخلہ کروایا گیا۔ انجمن کے ہوسٹل میں گورنر کی خصوصی نگرانی میں آپ کو رکھا گیا۔ دورانِ تعلیم انھیں سپہ گری ؎ کی بھی مشق کروائی جاتی۔ گیوردھا اسٹیٹ کے نظم و نسق کے لیے اردو کے بلند پایہ صاحبِ دیوان شاعر حضرت زیبا کوٹی (بی اے علیگ) کو مینیجر مقرر کیا گیا۔

۱۹۲۷ء میں نواب صاحب کی باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا، البتّہ علمی و ادبی مشاغل جاری رہے۔ آپ نے اپنے استاد سے شاعری کے رموز و نکات کے بارے میں تین برس تک استفادہ کیا۔ اسی طرح ایک راجستھانی عالم مولوی نور الحق سے فارسی میں مہارت حاصل کی اور ایک گرو جی سے ہندی بھی سیکھی اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب حضرات نے غازی صاحب کو خاطرِ خواہ فیض پہنچایا۔

۱۹۳۹ء میں نواب غازی گیوردھا اسٹیٹ سے شہر ناگپور کے قریب واقع کامٹی میں منتقل ہو گئے۔ وہاں کنہان ندی کے کنارے ایک خوبصورت بنگلہ خریدا جس کا نام ‘کاشانہ‘ رکھا۔ اس میں ان کا ایک ذاتی کتب خانہ بھی تھا جس میں موجود کتابوں کے وقیع ذخیرے سے نواب صاحب کے علمی و ادبی ذوق کا پتہ چلتا ہے۔ اس علاقے میں افسانہ نگاری کے پیش رو معروف ادیب عبد الستار فاروقی سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ نواب صاحب ان کے رسالے ہفتہ وار ’الفاروق‘ کی سر پرستی فرماتے رہے۔ ۱۹۶۴ میں وہ کامٹی سے شہر ناگپور آ گئے اور علاقہ مانکا پور میں انھوں نے ایک وسیع و عریض بنگلہ خرید کر اس کا نام ’باغ منزل‘ رکھا۔ تا دمِ آ کر وہ وہیں قیام پذیر رہے۔ ۶ فروری ۱۹۷۹ء کو نواب غازی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔

نواب غازی کے حالاتِ زندگی اور ان کے کلام کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ ایک خدا ترس انسان تھے۔ اپنے علاقے کے نظم و نسق کو سنبھالنے والے اس شخص کے سینے میں ایک شاعر کا دل تھا۔ وہ آسودگی اور ہر طرح کے سامان عیش مہیا ہونے کے باوجود شانِ بے نیازی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ وہ مذہبی اور اخلاقی قدروں پر پختہ یقین رکھتے تھے ان کی شخصی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبد الرحیم لکھتے ہیں:

مبدائے فیاض سے نواب صاحب سے حافظہ بھی بلا کا پایا تھا۔ مولانا محمد خاں صاحب اور عبد اللہ عرب سے آپ نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ عبد اللہ عرب عربی النسل تھے۔ ان سے عربی میں گفتگو کرتے، حضرت زیبا کوٹی کی تعلیم و تربیت نے ان میں شعری ذوق پیدا کر دیا تھا۔ آپ کے تلامذہ میں شاطر حکیمی خورشید تابش نوید بلاس پوری اختر نظمی ڈاکٹر رندھیر اور جعفری صاحب قابلِ ذکر ہیں نواب صاحب صوفی منش انسان تھے۔ تصوف سے آپ کو گہرا لگاؤ تھا۔ گیوردھا اسٹیٹ میں آپ نے ایک خانقاہ تعمیر کی تھی جہاں ذکر و فکر کا مشغلہ تھا۔ بزرگانِ دین سے گہری عقیدت مندی تھی خصوصاً بابا تاج الدین اولیا سے بہت گہرا تعلق تھا۔ معمولات کی بڑی پابندی تھی۔ جو ظاہر تھا وہی باطن۔ مذاق میں بھی کبھی جھوٹ نہیں کہا۔ قرآن کریم سے بڑا تعلق تھا۔ نمازِ فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرتے اور سونے سے قبل کچھ آیتیں ضرور پڑھتے۔ عسکری صفات کے حامل اور داد و دہش کے پیکر تھے۔ علمی مجلس میں بلا سند نہ کوئی بات کہتے نہ کسی کی بات قبول کرتے۔ سند حاصل ہونے کے بعد فوراً اپنی بات سے رجوع کر لیتے چاہے وہ سند کسی شاگرد کی جانب سے ملی ہو۔ ۲

شاعری:

نواب غازی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے علاوہ ایسے موضوعات پر مشتمل ہے جو تصوّف سے قریب تر ہیں۔ اس دور کے مسلمانوں کی زبوں حالی پر اپنے رنج و غم کا اظہار بھی انھوں نے بڑے پر اثر انداز میں کیا ہے۔ نواب غازی کے محدود صفحات پر مشتمل چند شعری مجموعے شائع ہوئے جن کے نام حسب ذیل ہیں۔ نوائے نیم شب، ذکر و فکر، مُزدد و خدمت اور ارتقاء اور تلخیات۔ ان کے علاوہ نواب غازی کا مجموعۂ کلام ’گلستان معرفت‘ جو ۱۰۲ صفحات پر مشتمل ہے ۱۹۳۲ء میں منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کے ابتدائی صفحے پر ’تخیلات معجز نشاں’ کے ذریعے اس کے سالِ اشاعت کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ٍ ’’نوائے نیم شب‘‘ آپ کی دعائیہ نظموں کا مجموعہ ہے۔ ’’گلستانِ معرفت‘‘ میں ۱۹۲۳ء سے ۱۹۳۲ء تک کلام موجود ہے۔

نواب غازیؔ کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خواجہ میر دردؔ اور علّامہ اقبالؔ سے بہت متاثر تھے اسلامی تصوّف کا گہرا اثر ان کے کلام پر نظر آتا ہے۔ نواب غازی کی شاعری میں مذہبی اخلاقی موضوعات پر نظمیں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ’گلستان معرفت‘ میں غزلوں کے مقابلے میں منظومات کی تعداد زیادہ ہے۔ چند نظموں کے عنوانات ملاحظہ فرمائیں۔ مجاہدِ اسلام، بختِ نا رسا، رہنمایان گمراہ، درسِ روحانیت، دردِ دل، جبر و اختیار اور برسات کی شام وغیرہ۔ گلستان معرفت کا آغاز جس حمد سے ہوتا ہے اس کے تقریباً سبھی اشعار خوبصورت تلمیحات سے مزین ہیں:

پژ مردہ دل ہزاروں تو نے کھلا دئے ہیں

یعقوب جیسے لاکھوں روتے ہنسا دئے ہیں

نارِ خلیل دم میں گلزار ہو گئی تھی

آتش کدوں سے تو نے گلشن بنا دئے ہیں

دارِ مسیح کیا تھی اک زینۂ فلک تھا

سولی چڑھا کے لاکھوں زندہ بچا دئے ہیں

ذراتِ رنگ ابھرے قطراتِ موج بن کر

زمزم سے لاکھ چشمے تو نے بہا دئے ہیں

دریا نے خشک ہو کر موسیٰ کو راہ دے دی

موجِ کرم نے تیرے قلزُم ہٹا دئے ہیں

مچھلی بھی بن گئی تھی یونس کے حق میں کشتی

ساحل پہ تو نے کتنے بیڑے لگا دئے ہیں۔ ۳

نواب محمد غازی کی شاعری کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے حافظ محمد ولایت اللہ، ’گلستان معرفت‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

نواب محمد غازی اپنے صوبے کے ایک دقیقہ رس اور بلند پایہ شاعر ہیں۔ آپ کا کلام بحیثیت مجموعی معارف و حقائق کا ایک گنجینہ ہے۔ جس میں حیاتِ انسانی کے مختلف نازک اور اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ موسیقیت شعری اور تمام اصنافِ سخن کو نمایاں رکھتے ہوئے فلسفیانہ مضامین کو جس خوبی اور قادر الکلامی سے تمثیلی پیرائے میں واضح کیا ہے اسے وہی خوب سمجھ سکتا ہے جس کی نگاہ جناب غازی کی طرح غائر اور نکتہ رس ہو۔ ۴

نواب غازی کی غزلوں میں جہاں نازک خیالی، حالات کی زبوں حالی کا تذکرہ اور عشق و محبوب کا بیان اس عہد کی شعری روایات کی پاسداری کرتا ہوا نظر آتا ہے، وہیں ان کی منظومات میں عشق حقیقی اور تصوف کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل نے ان کی شاعری میں پائے جانے والے مذہبی افکار کو حمد اور مناجات کے تناظر میں دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ

’نواب غازی کی حمد و ثنا میں فکر و خیال کی گہرائی و گیرائی، تخیل کی بلند پروازی اور علمیت پوری آن بان شان کے ساتھ نظر آتی ہے۔ انھوں نے بعض نئی لفظیات اور نئی تراکیب کا بھی استعمال کیا ہے۔ اور خدا کی توحید اور اس کی ربوبیت کو ظاہر کرنے کے لیے نئے نئے خیالات بھی پیش کئے ہیں۔‘ ۵

غزلیات:

نواب غازی کی غزلوں میں روایتی مضامین اور وارداتِ قلبی کا بیان پر اثر انداز میں موجود ہے۔ ان میں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں تصوف کے زیر اثر دنیا سے بے گانگی کا اظہار کیا گیا ہے اور ان میں محبوب کی بے اعتنائی کا شکوہ بھی ہے۔

سنبھل کر تیغ اے قاتل لگانا میری گر دن پر

کہیں اس خونِ ناحق کا لگے دھبہ نہ دامن پر

پیوندِ خاک ہونا انجامِ زندگی ہے

کیا دردناک اللہ انجامِ زندگی ہے

بجلیاں ابر نے لا لا کے گرا دیں لاکھوں

ہم نے چاہا جو کبھی گھر کا چراغاں ہونا

قصۂ درد کے اظہار پہ ہنس کر بولے

بات کرنے کا سلیقہ کوئی تم سے سیکھے

بے وفائی کا نہ کر بلبلِ ناشاد گلہ

پھول کے چاک گریباں کو ذرا دیکھ تو لے

دیکھ مشاطگیِ زلف نہ کر بادِ صبا

اور الجھیں گے یہ گیسو تیرے سلجھانے سے

فارسی شاعری:

’گلستانِ معرفت‘ میں اردو کے علاوہ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ ایک فارسی نظم، بہ عنوان، ’قصیدہ بتقریب تہنیتِ شفا یابی مَلِک معظم حضور شہنشاہ جارج پنجم فرمانروائے انگلستان و ہند‘ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

تا حشر زندہ باد شہنشاہ انگلستان

بر مانگاہ او است نگاہِ خدا براں

باشند شاد کام محبانِ پادشاہ

پسپا شکست خوردہ فنا باد دشمناں

غازی بحیرتم چہ دعائے کند گدا

مستغنی از دعا ست خدا دوست حکمراں ۶

نواب غازی نے رباعیات کا ایک قلمی نسخہ بھی چھوڑا ہے جس میں ۷۴۹ رباعیات موجود ہیں۔ ان میں فارسی رباعیات بھی ہیں۔

اپنی وفات سے قبل تحریر کی گئی ایک فارسی رباعی میں انھوں نے مرض الوفات کے حالات پر صبر و شکر کا اظہار کیا ہے۔

شاکی نیم ارچہ درد مندم کر دی               بہراف و آہ کار بندم کر دی

چشمےز تو شاہ التفاتے باشد

نادم بنواز شی کہ خرسندم کر دی

ہندی شاعری:

نواب غازی نے ہندی شاعری میں بھی طبع آزمائی کی تھی۔ انھوں نے اس زبان کی ادبی روایات اور متعلقہ اصناف کی شعریات کو بخوبی سمجھتے ہوئے اپنے خیالات کو شعری پیکر عطا کیا تھا۔ چند نظموں کے اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

لوبھ ترنگیں بھاری بھاری

پھنس گئے پاپ بھنور نر ناری

پربھو راکھیں لاج ہماری

ڈوب نہ جائیں پاپی سارے

گانٹھ میں جب تک دمڑی ہے

لوگ پکاریں بابوجی

دام درم جب جات رہیں

سدھ بدھ نہ بچارے کوئی

ہندی پد:

پیت کا گاوے گیت کوئی

کوئی کہے میں بلیہاری

اَوسر پا کر وار کرے

دھر دے جھٹ کنٹھ کٹاری

بس دیکھ چکے ہم بھائی

سب کھوٹی ہے یہ نگری   ۷

نواب غازی کی شاعری جہاں ان کے ذاتی جذبات و احساسات کی آئینہ دار ہے وہیں ان کے عقائد اور خدا کی ذات و صفات پر پختہ یقین کا شاعرانہ اظہار بھی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی

۱۔ ڈاکٹر سید عبدالرحیم، نواب محمد غازی حیات اور علمی خدمات، بحوالہ کلمات، ۱۹۹۵۔ ص، ۱۴۱

۲۔ ڈاکٹر سید عبدالرحیم، نواب محمد غازی حیات اور علمی خدمات، بحوالہ کلمات، ۱۹۹۵۔ ص، ۱۴۲

۳۔ نواب محمد غازی، مطبوعہ گلستانِ معرفت۔ ۱۹۲۳ء ناگپور، ص نمبر۔ ۱

۴۔ عالی جناب خان بہادر حافظ محمد ولایت اللہ صاحب (مقدمہ) گلستانِ معرفت۔ از نواب محمد غازی۔ ۱۹۲۳ ناگپور ص۔ ب

۵۔ ڈاکٹر شرف الدین ساحل۔۔ درِ معانی، مطبوعہ۔ ۲۰۲۲، ناگپور۔ ص نمبر ۲۴

۶۔ نواب محمد غازی، گلستانِ معرفت،۔ ۱۹۲۳ء ناگپور ص نمبر۔ ۴۳

نواب محمد غازی، گلستانِ معرفت،۔ ۱۹۲۳ء ناگپور ص نمبر۔ ۱۰۱

٭٭٭

 

 

ایک نوائے حرفِ خموش۔ ظفر کلیم

 

جب بھی ہم کسی ایسے شہر کا نام لیتے ہیں جو علم و ادب کی روایات کا امین رہا ہو تو شعر و ادب کے حوالے سے چند نام ضرور یاد آتے ہیں۔ وسط ہند (مہاراشٹر) کے شہر ناگپور کے اہم شعرا میں ایسا ہی ایک نام ظفر کلیم بھی ہے۔ ظفر کلیم کئی دنوں کی علالت کے بعد ۱۳ دسمبر ۲۴ ۲۰ کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔

نرم لہجہ، مہذب طرزِ گفتگو اور وضع داری، غرض متاثر کرنے والے کئی عناصر ظفر کلیم کی شخصیت میں موجود تھے۔ ان کا مخصوص انداز یہ باور کروانے کے لیے کافی تھا کہ یہ شخص عام لوگوں سے مختلف ہے۔ ہر ملاقات پر خلوص، شفقت و محبت کا اظہار ان کی شخصیت کو دل و دماغ میں بسا دیتا تھا۔ مشرقی تمدّن کی پہچان مخصوص تہذیب، شرافت رکھ رکھاؤ اور حسن اخلاق جیسی خوبیاں ان کی شخصیت اور شاعری دونوں میں رچی بسی ہوئی تھیں۔

ظفر کلیم کا اصل نام شمشیر خاں تھا، وہ ۵ دسمبر ۱۹۳۸ کو ناگپور میں پیدا ہوئے۔ ایچ ایس سی ڈی ایڈ کرنے کے بعد اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت اختیار کی۔ انھوں نے لائف انشورنس ایجنٹ کی حیثیت سے بھی کام کیا اور زمینوں کی خرید و فروخت کے میدان میں اتر کر بلڈر بن گئے۔ ناگپور کے علاقۂ چھاؤنی میں واقع ظفر کلیم کا تعمیر کردہ ’غزل اپارٹمنٹ‘ ان کے ادبی ذوق کا ضامن ہے۔ ظفر کلیم کی ابتدائی زندگی ایک آسودہ حال گھرانے میں بسر ہوئی لیکن ان کے والد کے انتقال کے بعد انھیں مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں ظفر کلیم کی اہلیہ اور جوان بیٹے کی رحلت بھی شامل ہے۔ انھوں نے ان مصائب کا صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کیا۔ ان کی شاعری میں ان سانحات اور زندگی کی جد و جہد کی جھلکیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ ظفر کلیم اپنی زندگی کے آخری دور میں سماجی طور پر مشہور شخصیات کے رابطے میں رہے۔ ان کا کلام مختلف ذرائع سے اور مشاعروں کے توسط سے مقبولیت حاصل کرتا گیا۔

ظفر کلیم نے ۱۹۵۳ سے شاعری شروع کی جب ان کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔ ان کی پہلی غزل ادبی رسالے ’پیامِ نو‘ میں شائع ہوئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’طلسمِ غزل‘ ۱۹۸۱ میں اور دوسرا مجموعہ ’نوائے حرفِ خموش‘ ۲۰۰۷ میں منظرِ عام پر آیا۔ ’نوائے حرفِ خموش‘ ۴۷۲ صفحات پر مشتمل ہے جس میں گیارہ پابند، معریٰ اور آزاد نظمیں اور غزلوں کے علاوہ قطعات بھی شامل ہیں۔ ظفر کلیم کے دوسرے مجموعۂ کلام ’نوائے حرفِ خموش‘ کی اشاعت سے پہلے اس کے دو بار گم ہونے کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ اس کتاب کی ابتدا میں ظفر کلیم نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے اپنے مضمون ’سر نامۂ ماضی و حال‘ میں اس کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

’تبدیلیِ مکان کے درمیان کچھ ذہنی الجھنوں اور کچھ لا پرواہی کے سبب ’نوائے حرفِ خموش‘ کا مسودہ کہیں چھوٹ گیا۔ مگر مسودہ کی زیراکس کاپی کے سبب حوصلہ نہیں ٹوٹا لہٰذا از سر نو مسودہ تیار کرنا شروع کیا‘۔

دوسری مرتبہ ممبئی سے ناگپور ٹرین میں سفر کرتے ہوئے جو حادثہ پیش آیا اس کے متعلق لکھتے ہیں:

’بس ایک ہی بات ذہن میں تھی کہ ناگپور پہنچتے ہی مسودہ پریس کے سپرد کر کے فوراً اشاعت کا کام شروع کروا دوں گا کہ آنکھ لگ گئی اور صبح ۶ بجے سے کچھ پہلے آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا کہ سوٹ کیس اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ زنجیر کھینچی، گاڑی رکی، تلاش کیا لیکن سوٹ کیس نہیں ملا۔‘

اس سانحے نے انھیں ذہنی طور پر بری طرح متاثر کیا، یہ ان کے لیے کسی عزیز کی موت سے کم نہیں تھا۔ چند دنوں بعد پھر ان کے دوسرے شعری مجموعے کی تیاری کی سبیل نکل آئی اس کا حال ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

سوچ لیا تھا کہ اب مکمل طور پر شاعری ہی ترک کر دوں گا کہ ایک دن اچانک ایک گٹھے میں بندھے ہوئے ردی پیپیرس الٹ پلٹ کر رہا تھا کہ ’نوائے حرفِ خموش‘ میں شامل غزلیات کے مصرعوں کی فہرست ملی تو جیسے یوں لگا کہ جیسے میرے بے جان حوصلوں میں جان پڑ گئی۔ خدا کا شکر ادا کیا اور ایک بار پھر بسم اللہ کہہ کر تیسری بار اپنے دوسرے شعری مجموعے ’نوائے حرفِ خموش‘ کی تیاری میں جی جان سے جٹ گیا۔ جتنے اشعار یاد آتے لکھتا اور باقی نئے اشعار کہہ کر غزل پوری کرتا۔ غرض کہ سیکڑوں اشعار نئے کہے طبع موزوں نے بھی خوب ساتھ دیا اور اللہ کی جانب سے اس طرح غیبی مدد ہوئی کہ محض تقریباً ڈھائی سال کے مختصر سے عرصے میں نوائے حرفِ خاموش کا نیا ضخیم مسودہ گم شدہ دونوں ہی مسودوں سے میرے تئیں بہتر ثابت ہوا۔‘ ۱

ظفر کلیم کی شاعری میں غزل کے روایتی موضوعات کے علاوہ زندگی کے نئے ہیں جنھیں جدید شاعری نے متعارف کروایا۔ ان کے متعلق ڈاکٹر آغا غیاث الرحمان لکھتے ہیں:

’ظفر کلیم اپنے ہم عصروں میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ان کا شعری اسلوب سب سے جداگانہ اور منفرد ہے۔ انھوں نے شاعری میں نئی نئی راہیں اور جہتیں نکالیں ہیں۔ نئی علامتوں اور استعاروں سے اپنے اشعار میں زور اور نیا پن پیدا کیا ہے۔ انھوں نے تمام اصناف میں شعر کہے ہیں۔ لیکن غزل ان کی پسندیدہ صنف ہے۔‘ ۲

ظفر کلیم کا کلام روایتی شاعری سے جدیدیت کی طرف سفر کا ایک سلسلہ ہے۔ جس زمانے میں انھوں نے طبع آزمائی شروع کی ناگپور میں پیرِ مغان خمخانۂ سخن مولانا ابو الحسن ناطق اور ضمیر الشعرا امین الفن، حضرت طرفہ قریشی اپنے اپنے تلامذہ کے ساتھ پرورشِ لوح و قلم کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ ظفر کلیم نے صوفی شاعر ڈاکٹر عبدالحمید خاں آذر سے شاعری کی تربیت حاصل کی اور علم وا دب کے رموز سیکھے۔ مشاعروں میں ہونے والی ہوٹنگ، نوک جھونک اور روایتی شاعری کے عروج کے اس زمانے میں منظور حسین شور جیسے شاعر بھی یہاں موجود تھے جو ترقی پسند تحریک کے ہمنوا تھے۔ اسی کے ساتھ جدیدیت کی ہوائیں بھی ادیبوں اور شاعروں کے ذہنوں میں تخلیقی شگوفے کھلا رہی تھیں۔ ناگپور اور اس سے دس کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کامٹی جسے ناگپور کے ادبی منظر نامے کی توسیع کہا جا سکتا ہے، ان دونوں مقامات کے فنکار جدیدیت کے ان رجحانات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس وقت یہاں شاہد کبیر، مدحت الاختر، عبد الرحیم نشتر، س۔ یونس، غیور جعفری، ضیا انصاری، شریف احمد شریف، اقبال اشہر، ڈاکٹر بدرِ جمیل وغیرہ موجود تھے۔ ان فنکاروں کا کلام ماہنامہ شب خون، کتاب، جواز، شاعر وغیرہ میں شائع ہونے لگا۔ اسی ادبی فضا میں ظفر کلیم نے اپنے مشاہدات، احساسات اور تجربات کو شعری پیکر عطا کئے۔ ظفر کلیم کی شاعری جدید رجحانات کے ساتھ اخلاقی قدروں کو بھی بحسن و خوبی پیش کرتی ہے۔ اس پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ملک زادہ منظور لکھتے ہیں۔

تہذیب، شرافت، اخلاقیات جو ہمارے مشرقی معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں ان کی ترجمانی بھی بہت خوبصورت انداز میں ان کے کلام میں ملتی ہے۔ فنی سطح پر معتبر اور فکری سطح پر ’روحِ عصر‘ سے باخبر ظفر کلیم ہمارے ان شعرا میں ہیں جو ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر شعر و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ ۳

اس خیال کی تصدیق ظفر کلیم کے ان اشعار سے ہوتی ہے۔

بچا سکو تو بچا لو وجود کو اپنے

ضمیر بیچ کے جینے سے فائدہ کیا ہے

نادان یاد رکھ کہ عداوت وہ آگ ہے

بھڑکے تو بجھ نہ پائے گی پھر انتقام تک

اجسام بے ضمیر میں روحیں علیل ہیں

اس عہد میں بدن کی نفاست کے باوجود

نہ دے مجھے وہ بلندی خدائے ارض و سما

جو پستیوں سے مرا سلسلہ ختم کر دے

ظفر کلیم کے ہاں ندرتِ خیال ہے، وہ برتے ہوئے موضوعات کو نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بقول حسن کمال ظفر کلیم کئی خرمنوں کے خوشہ چیں نظر آتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی ایسا خیال ڈھونڈ لائیں جو بالکل اچھوتا ہو۔ پامال موضوعات کو بھی اپنا لہجہ دے دینا ایک قابلِ قدر فن ہے اور ظفر کلیم کے یہی نیا پن مجھے کئی جگہ نظر آتا ہے۔ (حسن کمال)

جب ملے رفیقوں سے زخم ہی ملے ہم کو

بے سبب رہا دل میں دشمنوں کا ڈر برسوں

سوال یہ ہے کہ خاموش کیوں ہیں لوگ اتنے

جواب یہ ہے سوالات کر کے دیکھتے ہیں

پیرہن تن پہ نہ جا جوہری

دام بتا گوہرِ نایاب کے

ظفر کلیم کی نظموں میں عصری زندگی کے مسائل کی گونج سنائی دیتی ہے ان کے ہاں نا انصافیوں اور بے اعتدالیوں پر احتجاج میں درد مند دل کی پکار موجود ہے۔ ان کی نظم

’فساد اور یکجہتی‘ میں فسادات کی تباہ کاریوں کی منظر کشی پوری شدت کے ساتھ ابھر آئی ہے۔

شاعر فسادات کے پیچھے کار فرما سیاست دانوں کی سازشوں کو گہرے دکھ کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

اس کے پیچھے ہے تعصب کی نوازش کا اثر

شہر در شہر ہے اس آگ کی سازش کا اثر

یہ سلگتی ہے رئیسوں کے گھروں سے پہلے

یہ دہکتی ہے پراگندہ سروں سے پہلے

ہر طرف لوٹ کے بازار سجے ہوتے ہیں

گھات میں اپنی سیاہ کار لگے ہوتے ہیں

ان لعینوں سے بھلائی کی کوئی آس نہیں

ان کو مریم کے تقدس کا بھی احساس نہیں

نظم ’اردو‘ میں اس ملک میں قومی اردو کو قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ظفر کلیم کی نظم ’پیاس‘ شدتِ پیاس اور کربِ ذات کی ترجمانی کرتی ہے۔ نظم ’بوڑھا برگد‘ میں بزرگوں کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ ان کی دیگر نظموں میں شہر کی ہنگامہ آرائیاں اور سیاست، فسادات اور تعصب کی تباہ کاریوں پر صدائے احتجاج بلند کی گئی ہے۔

ظفر کلیم کی نظم نگاری کے متعلق ڈاکٹر شرف الدین ساحل لکھتے ہیں۔

’”بمبئی” میں اس شہر کی ہنگامہ آرائیوں کا تفصیلی ذکر ہے۔ نظم ’فیصلہ‘ جو انتیس اشعار پر مشتمل ہے سب سے طویل ہے، گودھرا کانڈ کے تناظر میں کہی گئی ہے، جس نے ریاست گجرات میں انسانیت کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ اس بیانیہ نظم میں اس فساد کی جڑ کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘ ۴

ظفر کلیم کی شاعری میں زندگی کی بے ثباتی، انسانی رشتوں کی شکست و ریخت اور اخلاقی قدروں کے زوال کے مناظر اور ان پر افسوس کا اظہار بھی ملتا ہے۔

ہنسے کوئی مگر رونے میں کتنی دیر لگتی ہے

اچانک حادثہ ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے

یوں دوستوں میں ڈھونڈ رہے ہیں خلوص ہم

صحرا میں جیسے کھوج کسی سائبان کی

کون جانے تیری آنکھوں سے چھلکتا آنسو

کتنے سوئے ہوئے طوفان جگا کر آیا

ظفر کلیم نے حمد و نعت میں اپنے احساسات اور و جذبات کو بحسن و خوبی بیان کیا ہے۔ درج ذیل اشعار ان کی شخصیت کے مذہبی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔

اسی کے نام سے اپنا سخن منسوب کرتا ہوں

زبان گونگوں نے پائی ہے جس کے اعجازِ تکلم سے

چھین لیں جب بلندیاں اس نے

یاد آیا کہ ہے خدا سب کچھ

ہر اک عروج کے پیچھے زوال ہے لیکن

مجھے عروج دے ایسا جسے زوال نہ ہو

ظفر کلیم کی رحلت سے نہ صرف شہر ناگپور کے ادبی حلقے نے ایک معتبر اور پر اثر آواز کو کھو دیا بلکہ جدید شاعری کی دنیا بھی ایک اہم شاعر سے محروم ہو گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:

۱۔ ظفر کلیم، سر نامۂ ماضی و حال، نوائے حرفِ خموش، ناگپور ۲۰۰۷،ص ۲۶

۲۔ ڈاکٹر آغا غیاث الرحمٰن، شخصیات ودربھ۔ ناگپور ۲۰۱۵۔ ص ۱۵۰

۳۔ نوائے حرفِ خموش، ناگپور ۲۰۰۷، فلیپ پر تحریر

۴۔ ڈاکٹر شرف الدین ساحل۔ ناگپور میں اردو شاعری، ۲۰۱۶ ناگپور ص ۱۹۰

زیادہ اس عجیب و غریب رشتے کو پورا افسانہ اپنی مختلف جزئیات کی مدد سے گرہ در گرہ کھولتا ہے۔‘

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل