حیات و تصانیفِ اقبال کا معروضی جائزہ
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ، ڈاکٹر عظمیٰ نورین
ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا نمونہ پڑھیں
اقبال پر مطبوعہ کتابیات
سوانح و شخصیت
اقبال درُونِ خانہ
(جلد اول) خالد نظیر صوفی اقبال دَرُونِ خانہ
(جلد دوم) خالد نظیر صوفی
اقبال کے حضور سید نذیر نیازی زِندہ رُود (تین جلدیں) ڈاکٹر جاوید اقبال
اقبال: ابتدائی دور (1904ء) خرم علی شفیق
اقبال: تشکیلی دور (1905ء تا 1911) خرم علی شفیق
اقبال: درمیانی دور (1914ء تا 1922) (خرم علی شفیق) نوادرِ اقبال
(پورپ میں) ڈاکٹر سعید اختر درانی
علامہ اقبال شخصیت اور فن ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
حیاتِ اقبال (عہد بہ عہد) سید سلطان محمود حسین
تنقیدی و فکری مطالعہ
اقبال کا تصورِ تاریخ ڈاکٹر راشد حمید
ایقانِ اقبال پروفیسر محمد منور
بیانِ اقبال: نیا تناظر ڈاکٹر ارشاد شاکر
میزان اقبال پروفیسر محمد منور
برہانِ اقبال پروفیسر محمد منور
قِرطاسِ اقبال پروفیسر محمد منور
تصوراتِ عشق و خِرد: اقبال کی نظر میں ڈاکٹر وزیر آغا
اقبال: مجددِ عصر ڈاکٹر سہیل بخاری
جہانِ اقبال ڈاکٹر معین الرحمٰن
اقبال: چند نئے مباحث ڈاکٹر تحسین فِراقی
اساسیاتِ اقبال ڈاکٹر وحید قریشی
مطالعہ تلمیحات و اشاراتِ اقبال ڈاکٹر اکبر قریشی
اقبال۔ شاعرِ فردا غلام صابر
اقبال کا تصورِ اجتہاد ڈاکٹر ایوب صابر/محمد سہیل عمر
اقبال: فکری تناظر اور عصری معنویت محمد سہیل عمر
معاصر تہذیبی کشمکش اور فکرِ اقبال ڈاکٹر حمید تنولی
اقبالیاتِ تاثیر افضل حق قریشی
استقرائی استدلال اور فکرِ اقبال خالد الماس
فکرِ اقبال کا عُمرانی مطالعہ ڈاکٹر صدیق جاوید
اقبال: ایک تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر ملک حسن اختر
اقبالیات: تفہیم و تجزیہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اقبال: عہد ساز ساز اور مفکر ڈاکٹر اسلم انصاری
فکرِ اقبال کے تحقیقی پہلو ڈاکٹر نذیر قیصر
اقبالِ بہ حیثیتِ مفکرِ تعلیم بختیار حسین صدیقی
کلام اقبال میں فطرت نگاری ڈاکٹر منور ہاشمی
علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد ڈاکٹر ندیم شفیق ملک
اقبال کا تصورِ بقائے دوام ڈاکٹر نعیم احمد
مطالعہ خطباتِ اقبال
خطباتِ اقبال (نئے تناظر میں) محمد سہیل عمر
خطباتِ اقبال (تسہیل و تفہیم) ڈاکٹر جاوید اقبال
موضوعاتِ خطاباتِ اقبال محمد شریف بقا
درِ آئینہ باز ہے محمد سہیل عمر
اقبال نامہ (مجموعہ مکاتیب اقبال) شیخ عطا اللہ
اقبال کے خطوط (جناح کے نام) محمد جہانگیر عالم
مکاتیبِ اقبال بنام نیاز الدین خان عبد اللہ شاہ ہاشمی
شعری اور اُسلوبیاتی مطالعہ
اقبال کی فارسی شاعری کا تنقیدی جائزہ ڈاکٹر عبد الشکور احسن
اقبال کا نظامِ فن ڈاکٹر عبد المغنی
اقبال کا ادبی نصب العین ڈاکٹر سلیم اختر
شکوہ اور جوابِ شکوہ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
اقبالیات نذیر نیازی عبد اللہ شاہ ہاشمی
اقبال اور قرآن ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں
اقبال اور محبتِ رسولؐ ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی
اقبال اور قائد اعظم پروفیسر احمد سعید
اقبالیات اور قرۃ العین حیدر نسیم عباس چودھری
کلامِ اقبال میں انبیاء کرام کا تذکرہ زیب النساء سرویا
اقبالیات بحوالہ شخصیات
اقبالیاتِ اسد ملتانی پروفیسر جعفر بلوچ
شمس العلما مولوی میر حسن ڈاکٹر سلطان محمود حسین
اقبال: مولوی احمد دین
مشفق خواجہ پروفیسر محمد منور بطور اقبال شناس زبیدہ جبیں
حوالہ جاتی کُتب
اشاریہ مکاتیب اقبال ڈاکٹر صابر کلوروی
اشارہ اقبالیات و اقبال ریویو اختر النسا
اقبالیاتی ادب (1985ء تک) ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
تحقیقِ اقبالیات کے مآخذ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
پاکستان میں اقبالیاتی ادب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اشاریہ کلیاتِ باقیاتِ شعرِ اقبال سمیرا نسرین
شعرِ دلاویز (اشعار بہ ترتیب حروفِ تہجی) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
جوئے کارواں (اشاریہ کلیاتِ اقبال اُردو) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
درسیات
پیام اقبال بنام نوجوانانِ مِلّت سید قاسم محمود
سلسلہ درسیاتِ اقبال پروفیسر عبد الرشید فاضل
حکایاتِ اقبال (بچوں کے لیے) محمد یونس حسرت
حکایاتِ اقبال (جوانوں کے لیے) محمد یونس حسرت
متفرق تحقیقی و تنقیدی کُتب
اقبال: شاعر اور فلسفی ڈاکٹر سید وقار عظیم اقبال: معاصر ین کی نظر میں ڈاکٹر سید وقار عظیم
اقبال اور اُس کا عہد جگن ناتھ آزاد اقبال اور جمالیات نصیر احمد ناصر
اقبال اور شولزم حنیف رامے
اقبال: پیامبرِ انقلاب شورش کاشمیری
تلمیحاتِ اقبال سید عابد علی عابد
شعرِ اقبال سید عابد علی عابد
اقبال کا فلسفہ خودی محمد عثمان
اقبال کا تصورِ عشق ڈاکٹر غلام عمر خاں
مقاماتِ اقبال ڈاکٹر سید عبد اللہ
اقبال کا تصورِ خودی سید عابد حسین
سیرتِ اقبال ڈاکٹر طاہر فاروقی
سیاحتِ اقبال حق نواز
تصوراتِ اقبال صلاح الدین احمد
اقبال سب کے لیے ڈاکٹر فرمان فتح پوری
اقبال مجنوں گورکھپوری
آثارِ اقبال غلام دستگیر رشید
نقوشِ اقبال سید ابو الحسن ندوی
آئینہ اقبال محمد عبد اللہ قریشی
نقدِ اقبال میکش اکبر آبادی
نذرِ اقبال محمد حنیف شاہد
ملفوظاتِ اقبال محمود نظامی
شُذراتِ اقبال ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی
اقبال نئی تشکیل عزیز احمد
کلیدِ اقبال محمد یونس حسرت
معاصرین: اقبال کی نظر میں عبد االلہ قریشی
فرہنگِ اقبال نسیم امروہوی
اقبال اور مُلّا ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم
روحِ اقبال یوسف حسین خاں
جدید تشکیل الٰہیات مترجم: نذیر نیازی
خطبات اقبال کے تراجم (فارسی) شہزاد احمد/ وحید عشرت
اقبال کا علم الکلام علی عباس جلال پوری
اقبال اور علم جدید ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اقبال کا فنی ارتقا جابر علی سید
اقبال: ایک مطالعہ جابر علی سید
اقبال کی تیرہ نظمیں اُسلوب احمد انصاری
حکمتِ اقبال ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
جامعات میں اقبالیات پر تکمیل شُدہ مقالاجات (ایم فل/پی ایچ۔ ڈی)
اقبال اور شخصیات
اقبال اور ابنِ تیمیہ: افکار کا تقابلی جائزہ،ایم فل، سمیع اللہ
علامہ اقبال پر ابنِ خلدون کے عُمرانی و تاریخی اثرات،ایم فل، سراج الدین
اقبال اور ابن رُشد کے ذہنی روابط، ایم فل، غزالہ ہمایوں
مولانا احمد رضا خاں اور علامہ اقبال کے تعلیمی افکار کا تحقیقی جائزہ، ایم فل، عظیم اللہ
اقبال اور اِشپنگر کے تصورِ تاریخ کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل، رانا افتخار احمد
علامہ اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی: افکار کا تقابلی جائزہ، ایم فل، محمد یونس میو
اقبال اور افغان شخصیات، ایم فل،اکرام اللہ شاہد
علامہ اقبال اور سید جمال الدین افغانی، ایم فل۔ غلام مصطفی
اقبال اور افلاطون، ایم فل۔ مزمل حسن اکبر
اقبال کی تنقید مغرب: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل، محمد شمیم بٹ
امام غزالی، شاہ ولی اللہ اور اقبال کے تعلیمی افکار کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ بختیار معراج
غزالی: اقبال کی غزل کے تناظر میں، ایم فل۔ طارق احمد مسعود
کلام اقبال میں انبیاء کا تذکرہ، ایم فل۔ زیب النساء سرویا
اقبال اور ٹی ایس ایلیٹ، ایم فل۔ شاہدہ یوسف
کلام اقبال میں تاریخی شخصیات کے ساتھ اقبال کے ذہنی روابط کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد اکرام
اقبال اور جوش کی شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ رانا فضل الرحمان
اقبال اور جیمس وارڈ کی نغمی مماثلتیں، ایم فل۔ کنور ظفر اقبال
چودھری رحمت علی اور علامہ اقبال کے تصورِ پاکستان کا تقابلی جائزہ، (ایم فل)۔ نیلم ملک
حال: پیش رو اقبال، ایم فل۔ خادم حسین رضوی
حالی، اکبر اور اقبال کی پیامِ شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ نصرت بانو اندرابی
علامہ اقبال کی اُردو شاعری میں فطرت نگاری اور ہم عصر شاعر، پی ایچ ڈی۔ سید منور ہاشمی
اقبال اور حسرت موہانی کے لسانی و سیاسی نغمیات کا تحقیقی مطالعہ، ایم فل۔ کوثر اظہار
اقبال اور حفیظ جالندھری کی شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ رضیہ شیخ
علامہ اقبال اور خواجہ غلام فرید کے افکار و نغمیات کا تحقیقی و تقابلی جائزہ، ایم فل۔ شاہد مصطفی
خوشحال خٹک اور اقبال مردِ مومن کے تناظر میں، ایم فل۔ خورشید حسن خاں
اقبال اور سر راس مسعود، ایم فل۔ فتح خاں ملک
علامہ اقبال اور رشید احمد صدیقی کے ذہنی و فکری روابط، ایم فل۔ مسرت شاہین
علامہ اقبال اور مولانا روم کے تصور فقرِ کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ عزیز الرحمن
اقبال اور رومی کے تصورِ عشق کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ شبیر احمد
سرسید اور اقبال کے عُمرانی تصورات کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ بشریٰ خاں
سر سید احمد خاں اور علامہ اقبال کے ذہنی روابط، ایم فل۔ طاہر مسعود
تلسی، رحیم اور اقبال کے یہاں فکری ہم آہنگی کا تقابلی جائزہ، ڈی لٹ۔ عبد القیوم
اقبال اور شیخ سعدی کا فلسفہ اخلاق۔ ایم فل۔ شیر محمد بزدار
اقبال اور سیالکوٹ کی معاصر شخصیات۔ ایم فل۔ صوفیہ بٹ
علامہ شبلی نعمانی اور اقبال۔ ایم فل۔ شکیل احمد چودھری
اقبال اور شیکسپئر: شاعری کے حوالے سے تقابلی جائزہ، ایم فل۔ محمد اعجاز الحق
علامہ اقبال اور پنجاب کے صوفیا، ایم فل۔ نعمت علی کوکب
اقبال اور عاکف۔ ایم فل۔ مصباح شاہین
عبد الرحمن بابا اور علامہ اقبال کے افکار کا جائزہ۔ ایم فل۔ مشتاق علی عطیہ
فیضی، شبلی نعمانی، علامہ اقبال اور دیگر مشاہیر: روابط کی نوعیت، اثر پذیری کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ایم فل۔ محمد یامین
اقبال اور علی شریعتیؒ فکری روابط کا تحقیقی مطالعہ، ایم فل۔ شبیر افضل خاں
غالب اور اقبال کے فکری روابط، ایم فل۔ نبیلہ سجاد
غالب کا فکر و فن اور اقبال۔ ایم فل۔ زاہدہ پروین
فرائڈ اور اقبال کی نغمیاتِ شخصیات کا تقابلی جائزہ۔ایم فل۔ خالد الماس
اقبال، فیض، راشد، مجید اور مختار صدیقی کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ امبرین منیر
اقبال اور قائد اعظم کے روابط: تحقیقی جائزہ، ایم فل۔ محمد نذیر
اقبال اور مجدد الف ثانی: افکار و نغمیات۔ ایم فل۔ بابر بیگ
علامہ اقبال اور محمود شبتری۔ ایم فل۔ محمد الیاس چیمہ
اقبال اور مرتضیٰ مطہری کے افکار کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ سکندر عباس
اقبال اور مِلٹن۔ ایم فل۔ احمد محمود الزماں
اقبال اور میاں محمد بخش کے افکار و نغمیات کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ عابدہ خاتون
میر ولی اللہ اور علامہ اقبال کے ذہنی و فکری روابط: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ (ایم فل)۔ شاہ زیب
اقبال اور ورڈورتھ، ایم فل۔ شاہدہ لطیف
اقبال شناسی پر مشتمل مقالات
پروفیسر آلِ احمد سرور بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ ساجدہ پروین
پروفیسر آل احمد سرور کی اقبال شناسی: ایک مطالعہ۔ ایم فل۔ نصرت آرا
ابو اللیث صدیقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ خالد محمود
ابو الحسن علی ندوی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ رفیق احمد
مولانا ابو الحسن علی ندوی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد اکرام
اُسلوب احمد انصاری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ سفیرہ بیگم
افتخار احمد صدیقی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ملک ریحانہ
اکبر حسین قریشی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ فرحت زہرہ
اے ڈی نسیم بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ نجف علی سید
بشیر احمد ڈار بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ شہزاد اسلام
غلام احمد پرویز کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ارشاد حسین شاہ
جابر علی سید بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد حبیب اللہ خاں
اقبال شناسی کی روایت میں ڈاکٹر جاوید اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ فرح عزیز خاں
جگن ناتھ آزاد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ رافعہ وانی
چراغ حسن حسرت کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نائیلہ ارم نیازی
اقبالیات: چودھری محمد حسین: اقبال شناسی کے تناظر میں۔ ایم فل۔ فریال ارشاد
حامدی کشمیری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ریاض احمد جٹ
خانوادہ اقبال کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ توکل حسین
خلیفہ عبد الحکیم بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ریاض احمد
خواجہ عبد الحمید بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ امان اللہ
راجا حسن اختر بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ طالب حسین بخاری
رفیع الدین ہاشمی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ظہور احمد مخدومی
سلیم احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ عبد الواحد
سید عبد اللہ کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ شمیم احمد
آغا شورش کاشمیری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ عاشق حسین
(اقبالیات) شیخ عبد القادر۔ ایم فل۔ محمد اقبال گل
مولانا صلاح الدین احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ حلیمہ سعدیہ
سید عابد علی عابد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ثریا مسعود
حافظ عباد اللہ فاروقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ تنویر حسین
پروفیسر ڈاکٹر عبد المغنی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد سلیم
پروفیسر عبد المغنی کی اقبال شناسی: تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ پروینہ حبیب
عبد الوہاب عزام کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ مینر احمد
(اقبالیات) عرشی امرتسری، ایم فل۔ زاہد حسین چغتائی
عزیز احمد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ محمد طاہر اشرف
اُردو اقبال شناسی کی روایت میں حسن انور کا مقام و مرتبہ۔ ایم فل۔ شکیلہ فیض
پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تاران بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ خالد مبین
غلام رسول بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ زفیل فردوس
ڈاکٹر غلام جلانی برق بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد سہیل سرور
سید خادم رضا سعیدی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ سمیع اللہ
فتح محمد ملک بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ فارحہ ناز
ڈاکٹر فرمان فتح پوری بطور اقبال شناس: (بحوالہ: "اقبال سب کے لیے”)۔ ایم فل۔ آنسہ زیب النسا
فقیر سید وجہہ الدین کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نسیمہ مسعود
محمد دین تاثیر بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد ارشد خاں
(اقبالیات) محمد دین فوق۔ ایم فل۔ افتخار احمد
ڈاکٹر رفیع الدین بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد شفیق عجمی
ڈاکٹر محمد ریاض بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ سعیدہ مہتاب
(اقبالیات) محمد شفیع: تدوین و تحقیق۔ ایم فل۔ محمد یوسف
(اقبالیات) محمد عبد اللہ چغتائی۔ ایم فل۔ محمد اسلم
پروفیسر محمد عثمان بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ غلام یٰسین
ڈاکٹر ملک حسن اختر بطور اقبال شناس۔ ایم۔ فل۔ زبیدہ جبیں
ڈاکٹر ملک حسن اختر بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد عتیق خاں
ڈاکٹر ممتاز احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ امتیاز حسین
میر عبد الصمد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ شہباز فیصل
پروفیسر نظیر صدیقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔
سلیم تقی شاہ
سید وقار عظیم بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ثمرین اختر
یوسف حسین خاں کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ فوزیہ بتول
اقبال کے اثرات
اُردو شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ آفتاب احمد
اقبال اور جموں کشمیر کا ادب۔ ایم فل۔ اسد اللہ وانی
کلامِ فقیر پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ امیر حمزہ
اُردو غزل کو اقبال کی دین۔ ایم فل۔ انجم سلطانہ
اقبال کے مقلد اُردو شعرا۔ ایم فل۔ جمیل اصغر
میر غلام رسول ناز کی شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ جہاں آرا کاملی
بیسویں صدی کی اُردو شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ رئیسہ پروین
جدید اُردو شاعری اور اقبال۔ ایم فل۔ سبھاش چندر ایمہ
مابعد کی شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ شاہ نواز عالم
جدید اُردو غزل پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ صادق حسین گوہر
پشتو شاعری میں اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ عبد الرؤف رفیقی
بلوچی ادب پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ غلام قاسم مجاہد
کشمیری شعرا پر اقبال کا اثر۔ ایم فل۔ محمد شفیع سنبھلی
اُردو نظم پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ مظہر علی خاں
قرۃ العین حیدر پر اقبال کے اثرات کا جائزہ۔ ایم فل۔ نسیم عباس
نسیم حجازی پر اقبال کے اثرات کا جائزہ۔ ایم فل۔ طاہرہ ناز
اقبال کی تخلیقات پر مقالات
کلام اقبال کی اُردو بیاضوں میں لسانی ترامیم کا جائزہ۔ ایم فل۔ سید عابد حسین
اقبال کی اُردو نثر کا فکری و فنی مطالعہ۔ ایم فل۔ عبد الجبار شاکر
اقبال کی اُردو نظموں کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد عبد الحفیظ
ارمغانِ حجاز: (حصہ سوم) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ دبیر حسین دبیر
ارمغانِ حجاز کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ ریاض احمد شاہد
ارمغانِ حجاز (فارسی) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ محمد طیب اللہ
اسرارِ خودی کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ رعنا مشتاق
اسرارِ خودی: نقد متن، حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ روزینہ انجم
اصلاحاتِ اقبال کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ اسفند یار
اصلاحاتِ اقبال کی تدوین۔ ایم فل۔ عبد الستار
اقبال نامہ کا تحقیقی جائزہ شبیر حسین خاں
انوار اقبال (خطوط) : ترتیب و تحشیہ۔ ایم فل۔ زیب النسا
باقیاتِ شعر اقبال کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پی ایچ ڈی صابر حسین کلوروی
باقیاتِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ عبد المجید اندرابی
بال جبرئیل کی شرحوں کا توضیحی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ افشاں منیر بھٹی
بالِ جبرئیل: اسلامی تاریخ کے حوالے سے۔ ایم فل۔ سحر افروز
لفظیاتِ بالِ جبرئیل کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ فرحت ریاض
بال جبرئیل میں امیجری۔ ایم فل۔ توقیر احمد خاں
بال جبرئیل کی منظومات پر محققانہ حواشی و تعلقیات۔ ایم فل۔ محمد قاسم
بال جبرئل میں تاریخی حوالہ جات: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ میاں محمد صدیق
بالِ جبرئیل کی غزلیات، رُباعیات، قطعات پر محققانہ حواشی، تعلیقات (ایم فل)۔ نجیبہ ظفر
بانگِ درا (حصہ سوم) [نظم "ارتقا” کے بعد] ایم فل۔ محمد قمر اقبال
بانگِ درا کی منظوم نظمیں۔ ایم فل۔ صورت جہاں
بانگِ درا کی منتخب منظومات کا اُسلوبیاتی تجزیہ۔ ایم فل۔ حفیظ الرحمن
بانگِ درا (حصہ دوم) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ عبد الوحید فیصل
اقبال کی امیجری (بانگِ درا کے حوالے سے)۔ ایم فل۔ فرودس جہاں
بانگِ درا کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ چودھری محمد بشیر
بانگِ درا مین آتش کا اعیانی پیکر۔ ایم فل۔ محمد علی رضوی
اقبال کے کلام کی تدوین۔ ایم فل۔ محمد یوسف
اعوان پس چہ باید کرد اے اقوام شرق: فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ نگہت پروین
پیامِ مشرق کے اُردو انگریزی تراجم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سید عنصر اظہر
تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، پی ایچ ڈی۔ رفیع الدین ہاشمی
جاوید نامہ کا فنی جائزہ۔ ایم فل۔ فوزیہ اقبال
خطباتِ اقبال: نئے تناظر میں۔ پی ایچ ڈی۔ محمد سہیل عمر
خطبہ الٰہ آباد: مقدمہ، حواشی، تعلیقات۔ ایم فل۔ ندیم شفیق ملک
اقبال کا تصورِ انسان: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ نصرت حسین
رموزِ بے خودی کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ صفیہ صلاح الدین
زبورِ عجم کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ شگفتہ صابر
شذراتِ فکر اقبال: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ طلعت کلثوم
ضربِ کلیم: ابتدائی تین حصے۔ حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ طفیل احمد گوہر
ضربِ کلیم کی امیجری۔ ایم فل۔ محمد ظہیر
لفظیاتِ ضربِ کلیم۔ ایم فل۔ مقبول حسین
ضربِ کلیم کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ حافظ منیر احمد
علم الاقتدار: مقدمہ، ترتیب و تحشیہ۔ ایم فل۔ عابدہ مبشر
علامہ اقبال کی غیر مدون نثر: حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ عبد الجبار شاکر
فلسفہ عجم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سید قمر الدین
قادیانیت پر اقبال کی تحریروں کی تدوین۔ ایم فل۔ محمد عاصم رشید
گفتارِ اقبال: متن کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ اختر النساء
مکاتیبِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ رحیم بخش شاہین
مکاتیب اقبال کے ادبی پہلو (ایم فل)۔ ایم فل۔ پروین شاہ نواز
مکاتیبِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد امین اندرابی
ملفوظاتِ اقبال: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ طالب حسین اشرف
اقبالیاتی ادب (جائزے اور تبصرے)
علامہ اقبال کے فارسی کلام کے پشتو تراجم کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ آدم خان مروت
تصانیف اقبال کے پنجابی تراجم: تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ ارشاد افضل احمد
شیخ عبد الماجد کی قادیانیت پر کتب کا جائزہ۔ ایم فل۔ ارشد خاتم
اقبال پر معاندانہ کتب اُردو کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد ایوب صابر
جامعہ پنجاب میں اقبال پر ایم اے کی سطح کے تحقیقی مقالات کا تنقیدی جائزہ (ایم فل)۔ بشریٰ ناہید
بانگِ درا کی شرحوں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ خضر حیات خان
علامہ اقبال کی سوانح عمریوں کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ خورشید احمد شکوری
جاوید نامہ کے اُردو تراجم و شروح کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ رشید احمد شاہ
اقبال اور بچوں کا ادب۔ ایم فل۔ زیب النساء
کلام اقبال کے پشتو تراجم۔ ایم فل۔ زینت الرحمان
اقبال پر مطبوعہ سوانحی کتب کا تحقیقی جائزہ۔ پی ایچ ڈی، سجاد حسین شاہ
اقبال کو منظوم خراجِ عقیدت: تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سعدیہ حسن
کلامِ اقبال کے منظوم پنجابی تراجم۔ ایم فل۔ سعدیہ نورین
اقبال: درسیات پاکستان میں: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ شاہد اقبال کامران
اقبال کی اسرارِ خودی پر تنقیدی کُتب و مضامین کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ شگفتہ شہناز
اسرارِ خودی کے انگریزی تراجم کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ شوکت حسین بھٹی
اقبالیات کا تنقیدی ادب۔ ایم فل۔ شوکت حیات خاں
اقبال بطور مصورِ پاکستان: کے کے عزیز کی تحقیق کا تنقیدی مطالعہ۔ ایم فل۔ ضیا الرحمان گُجر
اقبالیات کا تنقیدی مطالعہ (1956 تا 2000)، پی ایچ ڈی، طاہرہ منظور
اقبالیات کا تنقیدی جائزہ، پی ایچ ڈی۔ عبد الحق صدیقی
افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت۔ عبد الروف خاں رفیق
اسرار و رموز کی شرحوں کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ علی محمد ضیاء
تفہیمِ اقبال: ایک جائزہ غلام قدوس
فروغ اُردو کے سلسلے میں اقبال کی خدمات کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ گلشن طارق
اقبال اور قرآن کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا جائزہ۔ ایم فل۔ لبنیٰ کوثر
آپ بیتیوں میں ذکرِ اقبال: حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ محمد ارشد چودھری
علامہ اقبال کے تعلیمی نغمیات پر مطبوعہ کتب۔ ایم فل۔ محمد اسلم تبسم
کلامِ اقبال کی خطاطی۔ ایم فل۔ محمد اقبال تغو
پنجابی میں اقبال شناسی کی روایت۔ ایم فل۔ محمد بشیر چودھری
پیامِ مشرق کے اُردو تراجم و شروح کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد محمود
ناقدینِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ محمد وسیم
کلامِ اقبال کی شرحیں۔ ایک جائزہ۔ ایم فل۔ مدثر ماجد
اُردو میں ادبی تنقید میں اقبال شناسی کا مطالعہ۔ ایم فل۔ نذیر احمد بٹ
سندھی زبان میں اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نُزہت جبیں
حوالہ جاتی مقالات
حیاتِ اقبال کا اشاریہ۔ ایم فل۔ زوبیہ لطیف
اقبال کا سوانحی اشاریہ۔ ایم فل۔ فرخ طاہرہ
اقبالیات کی وضاحتی کتابیات۔ ایم فل۔ مشتاق احمد
اقبال کے فروغ میں "امروز” کا کردار۔ ایم فل۔ اشفاق حسین بخاری
اقبال کا فن
علامہ اقبال کی اُردو نظم کا ارتقاء۔ ایم فل۔ افضال احمد انور اقبال کی شاعری میں تلمیحات، پی ایچ ڈی۔ اکبر حسین قریشی
اُردو نظم میں اقبال کا کارنامہ، پی ایچ ڈی۔ بلقیس سراج
اقبال کی شاعرانہ فنکاری: حیات و کلام۔ ایم فل۔ انیس فاطمہ فاروقی
علامہ اقبال کی شاعری میں امیجری۔ ایم فل۔ توقیر احمد خاں
اُردو نظم گوئی میں اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ روبینہ رشید
اقبال کی شاعری میں ہیئت کے تجربات کی روایت۔ ایم فل۔ زاہدہ پروین
فارسی نظم گوئی میں اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ عبد المغنی
اقبال کا فن: تشبیہات، استعارات اور علامات کی روشنی میں (اُردو کلام)۔ پی ایچ ڈی۔ عبید الرحمن ہاشمی
اُردو شاعری میں فطرت نگاری: علامہ اقبال کے خصوصی تناظر میں۔ پی ایچ ڈی۔ محمد فیاض ظفر
تشبیہات و استعاراتِ اقبال۔ پی ایچ ڈی۔ گوہر علی انعرری
اقبال کی لغوی اور لسانی بحثیں۔ ایم فل۔ لیاقت علی
قابل کی شاعری میں پیکر تراشی۔ پی ایچ ڈی۔ محمد شعیب قاضی
اقبال کی امیجری۔ ایم فل۔ محمد نعیم بزمی
اقبال بہ حیثیت اُردو فارسی شاعر۔ پی ایچ ڈی۔ محمد آفتاب ضیا
اقبال کی اُردو شاعری میں پرندوں کی علامتی معنویت۔ ایم فل۔ مدثر ماجد
زبورِ عجم میں تشبیہات کا جائزہ۔ ایم فل۔ سرفراز کوثر
دانائے راز کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ میمونہ ناز
اقبال کے افکار و تصورات
اقبال کا فلسفہ خودی اور اس کے مقاصد۔ ایم فل۔ آصف جاہ کامرانی
اقبال کے فکری سر چشمے۔ پی ایچ ڈی۔ آفاق فاخری
اقبال اور کمیونزم۔ ایم فل۔ ابو الحسنات
اسلامی تصوف اور اقبال۔ پی ایچ ڈی۔ ابو سعید نورالدین
اقبال کی شاعری میں اولیا اور مشائخ: ایک جائزہ۔ ایم فل۔ احسان الحق
اقبال اور دو قومی نظریہ: متونِ اقبال کی روشنی میں۔ ایم فل۔ ارشاد احمد شاکر
اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور، پی ایچ ڈی۔ اشتیاق احمد
اقبال اور تصورِ اہلِ بیت۔ ایم فل۔ اشتیاق حسین وانی
اقبال کی شاعری کا اصلاحی پہلو۔ ایم فل۔ اعجاز اشرف شاہ
اقبال کا شعورِ جمہوریت۔ ایم فل۔ اکرام الحق گوہر
علامہ اقبال کا تصورِ توحید۔ ایم فل۔ انیلہ محمود
علامہ اقبال کے تصورِ اخلاق کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ بابر جاوید
اقبال اور تصوف۔ ایم فل۔ بشیر احمد نحوی
اقبال کی شاعری میں کشمیری شعرا۔ ایم فل۔ بشیر احمد
اقبال اور ایران دوستی۔ ایم فل۔ بنتِ حیدر
اقبال کی شاعری۔ پی ایچ ڈی۔ بیگم فردوس جہاں
اقبال کی شاعری میں ارضی مقامات کی اہمیت و معنویت۔ پی ایچ ڈی۔ مسز پری بانو
اقبال کے کلام میں آزادی کی اہمیت۔ ایم فل۔ تسنیم رضا رضوی
فوق البشر کا تصور اور اقبال کا مردِ مومن۔ ایم فل۔ حاتم رامپوری
اقبال اور ترقی پسند تحریک۔ ایم فل۔ حامد اقبال بٹ
عالمِ اسلام کے زوال کا سبب: کلامِ اقبال کے تناظر میں۔ ایم فل۔ حمیرا خالد
اقبال پر ادبی تحریکوں کے اثرات۔ ایم فل۔ خالد اقبال یاسر
اقبال کی شاعری میں عورت کا تصور۔ ایم فل۔ خدیجہ طاہر
اقبال اور دعوتِ دین۔ ایم فل۔ دلاور خان
اقبال کا تصورِ تاریخ: تحقیقی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ راشد حمید
مطالعہ اقبال: تاریخِ اسلام کی روشنی میں۔ ایم فل۔ رضوان الحق صدیقی
اقبال کی اُردو شاعری میں عورت کا مقام۔ ایم فل۔ رضیہ سلطانہ
اقبال کا تصورِ محنت۔ ایم فل۔ سبحان الدین
اقبال اور ہندو مذہب سینتا کماری
اقبال کا تصورِ کشف: تجزیاتی مطالعہ۔ ایم فل۔ شاہدہ رسول
کلام اقبال کے اعلام و مشاہیر، پی ایچ ڈی۔ شبیر احمد سعید
فکرِ اقبال اور ہم عصر فکری میلانات۔ ایم فل۔ شجاع الدین فاروقی
اقبال کی شاعری میں شخصیات، پی ایچ ڈی۔ شرافت علی ندوی
اقبال اور ہیومینزم۔ ایم فل۔ شفیقہ رسول
سامراجیت پر اقبال کی تنقید۔ ایم فل۔ شیراز علی زیدی
فکرِ اقبال کا عُمرانی مطالعہ، پی ایچ ڈی۔ صدیق جاوید
اقبال پر قادیانیوں کی تنقید۔ ایم فل۔ صغریٰ بی بی
اقبال بہ حیثیت شاعرِ فطرت۔ ایم فل۔ صورت جہاں
اقبال اور فنونِ لطیفہ۔ ایم فل۔ طلحہ افروز
اقبال کا فلسفہ زمان۔ ایم فل۔ طاہر حمید تنولی
اقبال اور سیاسیاتِ کشمیر۔ ایم فل۔ ظہور احمد
فارسی مثنوی گوئی میں اقبال کا مقام، پی ایچ ڈی۔ عابدہ مبشر
اقبال کے محبوب دیار و امصار۔ ایم فل۔ عبد الباسط خان
اقبال اور تحریک خلافت۔ ایم فل۔ عبد الحق
اقبال اور جدید ذہن۔ ایم فل۔ عرفان احمد ملک
اقبال کی شاعری میں طنز۔ ایم فل۔ نعد محمد ملک
اقبال کے اُردو کلام میں اصحابِ رسولؐ کا تذکرہ۔ ایم فل۔ عتیق الرحمان بٹ
اقبال اور رومانیت۔ ایم فل۔ عظمت رُباب
اقبال کا تصورِ قوت و مزاحمت۔ ایم فل۔ غزالہ توحید
اقبال کی شاعری میں تصوف، پی ایچ ڈی۔ غلام نبی میر
علامہ اقبال کی مستقبل شناسی۔ ایم فل۔ غلام یٰسین
اقبال کے معاشی افکار۔ ایم فل۔ فاروق عزیز
شعرِ اقبال کا سیاسی اور سماجی مطالعہ۔ ایم فل۔ فردوس جہاں
اقبال اور رسالت۔ ایم فل۔ فرزانہ ہُما
اقبال کا ذوقِ جمال۔ ایم فل۔ فقیر خان فقری
اقبال کی شاعری میں ہندوستانی تصور، پی ایچ ڈی۔ فہمیدہ بیگم
اقبال پر قرآن کا اثر۔ ایم فل۔ قمر جہاں
شعرِ اقبال میں اہلِ بیت اطہار کا تذکرہ۔ ایم فل۔ گلفام علی ناصر
اقبال اور احیائے علوم۔ ایم فل۔ مبشر حسین
علامہ اقبال کا تصورِ ارتقا۔ ایم فل۔ محمد آصف اعوان
اقبال کا سیاسی شعور۔ پی ایچ ڈی۔ محمد راشد
علامہ اقبال کا تصورِ وجود و شہود۔ ایم فل۔ محمد اشفاق چغتائی
علامہ اقبال پر برطانوی شعرا کے اثرات۔ ایم فل۔ شیخ محمد اقبال
اقبال اور مسئلہ جبر و قدر۔ ایم فل۔ محمد اقبال
اقبال کی نفسیاتِ مذہب۔ ایم فل۔ محمد انور صادق
کلام اقبال میں مقاماتِ ارضی کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد ذاکر اللہ
اقبال کی فطرت شناسی (بانگِ درا کے حوالے سے)۔ ایم فل۔ محمد شمیم بٹ
اقبال اور تصورِ ولایت۔ ایم فل۔ سید محمد افضل اللہ
اقبال اور تصورِ امامت۔ ایم فل۔ محمد افضل
اقبال اور مسئلہ آبادی۔ ایم فل۔ محمد فیاض
اقبال کا تصورِ حقیقتِ مطلق۔ ایم فل۔ محمد قمر
اقبال صورِ خیال اور شعر فارسی اقبال۔ ایم فل۔ محمد ناصر
افکارِ اقبال اور غلامی۔ ایم فل۔ مسرت امیر
کلام اقبال میں قرآنی آیات و احادیث اور مذہبی اصطلاحات کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد منظور عالم
اُردو شعرا اور اقبال۔ ایم فل۔ مسرت پروین نیلم
ملوکیت اور اقبال۔ ایم فل۔ مسرت پروین
اقبال اور اندلس کی اسلامی میراث۔ پی ایچ ڈی۔ مشتاق احمد
اقبال کی شاعری پر انگریزی رومانوی شاعری کے اثرات م ایم فل۔ ناظر اسد
اقبال اور وسط ایشیا۔ ایم فل۔ منظور حسین
اقبال کی دُعائیہ شاعری۔ ایم فل۔ منیر حسین
کلامِ اقبال میں اعلام و اماکن کی معنوی اہمیت۔ ایم فل۔ ناہید سلطانہ
اقبال اور وجودیت۔ ایم فل۔ ناہید گل
اقبال کا تصورِ بقائے دوام۔ ایم فل۔ نعیم احمد
کلام اُقبال اُردو کے کردار۔ ایم فل۔ یاسمین اقبال بٹ
مقالاتِ اقبالیات: (متفرق موضوعات)
اقبال اور اسلامیہ کالج لاہور۔ ایم فل۔ احمد سعید منہاس
اقبال بہ حیثیت وکیل۔ ایم فل۔ بشیر احمد بشیر
اقبال کا بر صغیر میں لاہور سے باہر قیام اور سر گرمیوں کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ رحیم بخش شاہین
دستاویزاتِ اقبال: انگلستان میں۔ ایم فل۔ حفصہ خالدی
کشمیری شخصیات سے اقبال کے ذاتی و فکری روابط۔ ایم فل۔ خالد محمود
حیات و شخصیت اقبال: خطوط کے آئینے میں۔ ایم۔ فل۔ خالدہ سلطانہ
اقبال اور سائمن کمیشن۔ ایم فل۔ خدیجہ یٰسین
تقسیم بر صغیر کی دستاویزات میں اقبال کی سیاسی خدمات کا جائزہ۔ ایم فل۔ راجا عبد القیوم
علامہ اقبال اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی۔ ایم فل۔ راشدہ نورین
اقبال کا جرمنی قیام۔ ایم فل۔ ریحانہ کوثر
1947ء تک اقبال پر مطبوعہ اہم کُتب میں شخصیتِ اقبال کا تحقیقی مطالعہ ایم فل زمرد کوثر
آفتاب اقبال۔ ایک مطالعہ۔ ایم فل۔ سخاوت خاں
علامہ اقبال کا دورہ جنوبی پنجاب۔ ایم فل۔ ظفر السلام
علامہ اقبال کی مسلم لیگ سے وابستگی۔ ایم فل عبد الرشید ملک
علامہ اقبال کے اساتذہ۔ ایم فل۔ عبد الکریم قاسم
علامہ اقبال بہ حیثیت ممبر لیجیسلٹو کونسل (ایم فل) محمد ارشد جاوید العزیز
علامہ اقبال کے بیرون برصغیر سفر: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ محمد علی خاں
علامہ اقبال اور شیخ نور محمد کے روابط۔ ایم فل۔ محمد وقار چیمہ
اقبال کی سیاسی زندگی کا ارتقا۔ ایم فل۔ منظور حسین
اسلامیہ یونی ورسٹی بہالپور، شعبہ اقبالیات
اقبال و آفتاب از بیگم رشیدہ آفتاب اقبال سیّد ریاض ہمدانی
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ اُردو و اقبالیات میں تحقیق کی روایت۔ بشریٰ اکرم
اُردو اقبال شناسی کی روایت میں ڈاکٹر عشرت حسن انور کا مقام و مرتبہ۔ شکیلہ فیض
عنواناتِ بانگ درا (حصہ اوّل) کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔ رانا محمد اکبر
بانگ درا اور نسخہ حیدر آباد دکن کے متن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ محمد رمضان
اُردو کلام اقبال اور عرب شاعر احمد شوقی بک کی فکری جہات کا موازنہ۔ سعیدہ نواب
ڈاکٹر سلیم اختر بطور اقبال شناس۔ رابعہ بی بی
کلامِ اقبال میں جغرافیائی حوالے۔ حمیرا اکرم
اقبال کے مقبول اشعار کا انتخاب مع مآخذات
(اِساسی نسخہ: کلیات اقبال، اقبال اکادمی لاہور)
v بانگِ درا [1924ء]۔ (1905ء تک)۔ حصہ اول۔ (منظومات)
- اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھُک کر آسماں
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ درا۔ ص: 51]
- آتی ہے نّدی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ دراص: 52]
- ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تُو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تو
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ درا]
- ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشکِ جامِ جم مرا آئینہ حیرت نہ ہو
[نظم: گلِ رنگین۔ بانگِ درا۔ ص: 53]
- فکرِ انساں پر تری ہستی یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 55]
- آہ! تو اُجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں ترا ہم نوا خوابیدہ ہے
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 56]
- گیسوئے اُردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی و دلسوزی پروانہ ہے
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 57]
- نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں
[نظم: ایک پہاڑ اور گلہری۔ ماخوذ (ایمرسن) بانگِ درا۔ ص: 62]
- زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے خدا نہ کرے [نظم: ایک گائے اور بکری۔ بانگِ درا۔ ص: 63]
- یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
[نظم: ایک گائے اور بکری۔ بانگِ درا۔ ص: 64]
- ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
[نظم: ہمدردی۔ ماخوذ۔ ولیم کوپر۔ بانگِ درا۔ ص: 66]
- کیا بد نصیب ہوں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں، میں قید میں پڑا ہوں
[نظم: پرندے کی فریاد۔ بانگِ درا۔ ص: 69]
- آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے
میں بے زباں ہوں قیدی، تُو چھوڑ کر دُعا لے
[نظم: پرندے کی فریاد۔ بانگِ درا۔ ص: 69]
- تھم ذرا بے تابیِ دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے
[نظم: خُفتگانِ خاک سے استفسار۔ بانگِ درا۔ ص: 70]
- علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تُو خدا جُو، خدا نما ہوں میں
[نظم: عقل و دل۔ بانگِ درا۔ ص: 73]
- وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیبِ درختِ طُور مرا آشیانہ تھا
[نظم: شمع۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- قیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں میں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں
[نظم: شمع۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!
کیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 78]
- شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- پانی کو چھو رہی ہو جھُک جھُک کے گُل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ در۔ ص: 79]
- مہندی لگائے سورج جب شام کی دُلہن کو
سُرخی لیے سنہری پر پھول کی قبا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 79]
- اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
[نظم: زُہد اور رِندی۔ بانگِ درا۔ ص: 93]
- نہیں منت کشِ تاب شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ 98]
- یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ 98]
- وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندستان والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیچ سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 102]
- جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 107]
- اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اِک بہانہ بنی
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 107]
- سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بُلبُلیں ہیں اِس کی یہ گُلستاں ہمارا
[نظم: ترانہ ہندی۔ بانگِ درا۔ ص: 109]
- جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
[نظم: جگنو۔ بانگِ درا۔ ص: 110]
- سچ کہہ دوں اے برہمن!گر تُو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: ص: 114]
- تنگ آکے میں نے آخر دَیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: 115]
- پتھر کی مورتیوں میں سمجھا ہے تُو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: 115]
- چل بسا داغؔ آپ! میّت اِس کی زیبِ دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے
[ نظم: داغ۔ بانگِ درا۔ ص: 116]
- لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خوابِ جوانی! تیری تعبیریں بہت
[نظم: داغؔ۔ بانگِ درا۔ 116]
- ایک ہی قانونِ عالم گر کیے ہیں سب اثر
بُوئے گُل کا باغ سے گلچیں کا دُنیا سے سفر
[نظم: داغؔ۔ بانگِ درا۔ ص: 117]
- شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھُپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا
[نظم: کنارِ راوی۔ بانگِ درا۔ ص: 121]
- وہ میرا یوسفِ ثانی وہ شمعِ محفلِ عشق
ہوئی ہے جس کی اخوت قرارِ جاں مجھ کو
[نظم: اِلتجائے مسافر۔ بانگِ درار۔ ص: 123] یوسف ثانی ( اقبال کے بھائی: عطا محمد)
v بانگِ درا [1924ء]۔ (1905ء تک)۔ حصہ اول۔ (غزلیات)
- گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- نہ آتے ہمیں اِس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
[غزل 02۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں
کہاں جاتا ہے آتا ہے کہاں سے
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں
لرز جاتا ہے آوازِ اذاں سے
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے
[غزل 04۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا، صبر آزما کیوں کر ہوا
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 126]
- انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- پھلا پھولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے دے کے یہ بُوٹے میں نے پالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- اُمیدِ حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- مرے اشعار اے اقبال! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
[غزل 07۔ بانگِ درا۔ ص: 128]
- اَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طُور پر کلیم
طاقت ہو دِید کی تو تقاضا کرے کوئی
[غزل 07۔ بانگِ درا۔ 128]
- جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 129]
- مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 129]
- تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- نہ پوچھ اِن خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ اِن کو
یدِ بیضا لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- خموش اے دل! بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 1131]
- ذرا سا تو دِل ہوں مگر شوخ اِتنا
وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بِٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ! خدا وہ کیا جو بندوں سے احتراز کرے
[غزل 11۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہو
تُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں
[غزل 12۔ بانگِ درا۔ ص: 132]
- ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ! اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں
[غزل 12۔ بانگِ درا۔ ص: 132]
- مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کُشی
رَستہ بھی ڈھُونڈ اور خِضر کا سَودا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- اچّھا ہے دِل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبالؔ کو یہ ضِد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ دوم (1905ء 1908ء تک)۔ (منظومات)
- اوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مندوں کا طرزِ کلام اور ہے
[نظم: طلبہ علی گڑھ کالج کے نام۔ بانگِ درا۔ ص: 140]
- کام اپنا ہے صبح و شامل چلنا
چلنا، چلنا، مدام چلنا
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 144]
- ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 145]
- چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کُچل گئے ہیں
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 145]
- جستجو کُل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے
حُسن بے پایاں ہے، دردِ لا دوا رکھتا ہوں میں
[نظم: عاشقِ ہرجائی۔ بانگِ درا۔ ص: 149]
- مجھ کو پید اکر کے اپنا نُکتہ چیں پیدا کیا
نقش ہوں۔ اپنے مصور سے گِلا رکھتا ہوں ہوں [نظم: عاشقِ ہرجائی (۲)۔ بانگِ درا۔ ص: 149]
- اے دل! تُو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
[ایک شام (نظم: ہائیڈل برگ کے کنارے پر)۔ بانگِ درا۔ ص: 155]
- کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل! قُدرت تری ہم نَفس ہے اے دل
[نظم: تنہائی۔ بانگِ درا۔ ص155]
- اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں
[نظم: عبد القادر کے نام۔ بانگِ درا۔ ص: 158]
- رَو لے اب دل کھول کے اے دیدۂ خُوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار
[نظم: صقیلیہ (جزیرہ سِسلی)۔ بانگِ درا۔ ص: 159]
- میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں، اوروں کو وہاں رُلواؤں گا
[نظم: صقیلیہ (جزیرہ سِسلی)۔ بانگِ درا۔ ص: 160]
بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ دوم (1905ء 1908ء تک)۔ (غزلیات)
- زندگی اِنساں کی اِک دَم کے سِوا کچھ بھی نہیں
دَم ہوا کی موج ہے، رَم کے سوا کچھ بھی نہیں
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 161]
- سِپاس شرطِ ادب ہے ورنہ
کرم ترا ہے سِتم سے بڑھ کر
ذرا سا اِک دِل دیا ہے، وہ بھی
فریب خوردہ ہے آرزو کا
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 163]
- میں نے اقبالؔ یورپ میں اُسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیماؤں میں تھی
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 165]
- جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ
بُلا کے دَیر سے مجھ کو اِمام کرتے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 165]
- زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکارا ہو گا
[غزل 07۔ (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 166]
- گزر گیا وہ دور ساقی کہ چھُپ چھُپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں میخانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 166]
- نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قُدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- دیارِ مغرب کے رہنے والو!خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زر کم عیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازُک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اِس دِکھاوے سے دل جلوں میں شُمار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بَنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُس کا بندہ بنُوں گا؛ جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 168]
- میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 168]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (منظومات)
- جب تلک باقی ہے تُو دُنیا میں، باقی ہم بھی ہیں
صبح ہے تو اِس چمن میں گوہرِ شبنم بھی ہیں
[نظم: بلادِ اسلامیہ۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے!
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے
[نظم: ستارا۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- سکُوں مُحال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اِک تَغیّر کو ہے زمانے میں
[نظم: ستارا۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- زندگی اِنساں کی ہے مانندِ مُرغِ خوش نوا
شاخ پر بیٹھا کوئی دَم چہچہایا، اُڑ گیا
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- آہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم، کیا گئے
زندگی کی شاخ سے پھُوٹے، کھِلے، مُرجھا گئے
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- موت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہے
اِس سِتم گر کا سِتم انصاف کی تصویر ہے
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- عشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیں
روح میں غم بن کے رہتا ہے مگر جاتا نہیں
[فلسفۂ غم(نظم: میاں فضل حسین بیرسٹر ایٹ لاء لاہور کے نام)۔ بانگِ درا۔ ص: 183]
- مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں
[نظم: فلسفۂ غم۔ بانگِ درا۔ ص: 184]
- الٰہیٰ! پھُولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے
کلی سے رشکِ گلِ آفتاب مجھ کو کرے
[نظم: پھُول کا تحفہ عطا ہونے پر۔ بانگِ درا۔ ص: 185]
- چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سُو بار کر چکا ہے تُو امتحان ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اِس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
[نظم: وطنیت۔ بانگِ درا۔ ص: 187]
- سُنے گا کون اِن کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سُنا رہے ہیں
[نظم: قطعہ۔ بانگِ درا۔ ص: 189]
- کیوں زِیاں کار، سُود فراموش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں محوِ غمِ دوش رہوں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 190]
- ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- قہر تو یہ ہے کہ کافر کو مِلیں حور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 194]
- ہم تو جیتے ہیں کہ دُنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے! [نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 195]
- آئے عُشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 195]خاکوں کی کتاب: ڈاکٹر علی محمد خاں
- بُوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- ایک بُلبُل ہے کہ ہے محوِ ترنّم اب تک
اِس کے سِینے میں ہے نغموں کا طلاطم اب تک
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- لطف مرنے میں ہے باقی، نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- چاک اس بلبل تنہا کی نَوا سے دل ہوں
جاگنے والے اِسی بانگِ درا سے دل ہوں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]بانگِ درا کا نام اِس سے ماخوذ ہے۔
- عجمی خُم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری! [نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 199]
- میں ترے چاند کی کھیتی میں گُہر بَوتا ہوں
چھُپ کے انسانوں سے مانندِ سَحر روتا ہوں
[نظم: رات اور شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 200]
- آئین نو سے ڈرنا، طرز کُہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
[نظم: بزمِ انجم۔ بانگِ درا۔ ص: 202]
- اِک عُمر میں نہ سمجھے اِس کو زمین والے
جو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی میں
[نظم: بزمِ انجم۔ بانگِ درا۔ ص: 202]
- کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیاتُو نے
وہ کیا گَردُوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فَزُوں تر ہے وہ نظّارا
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- مگر وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں اِن کو یورپ میں تو دِل ہوتا ہے سِیپارہ
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- تھا جنھیں ذوق تماشا، وہ تو رُخصت ہو گئے
لے کے اب تُو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 212]
- محفل سے وہ پُرانے شُعلہ آشام اُٹھ گئے
ساقیا! محفل میں تُو آتش بجام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 213]
- آخرِ شب دِید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 213]
- رو رہی ہے آج اِک ٹُوٹی ہوئی مینا اُسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 214]
- وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 214]
- کہہ گئے ہیں شاعری جُزویست از پیغمبری
ہاں سُنا دے محفلِ مِلّت کو پیغامِ سروش
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 216]
- زندگی قطرے کو سکھلاتی ہے اسَرارِ حیات
یہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہوا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 217]
- فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 217]
- آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا!
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 219]
- بے خبر!تُو جوہرِ آئینہ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 220]
- آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 222]
- یاد عہدِ رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے اِستقبال کی تفسیر ہے
[نظم: مُسلم (جون 1912ء)۔ بانگِ درا۔ ص: 224] عبادت بریلوی کی آپ بیتی
- دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 227]
- ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 228]
- ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دِکھلائیں کسے، رہرو منزل ہی نہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 228]
- کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 228]
- کس قدر تم پہ گِراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمھیں پیاری ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 229]
- تھے آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوۂ طُور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالیؓ نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالیؒ نہ رہی
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 231]
- یوں تو سیّد بھی تو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر از بر ہو
پھر پِسر قابلِ میراثِ پِدر کیونکر ہو!
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ حصہ سوم۔ ص: 234]
- ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں کو مل گئے کعبے کے صنم خانے سے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ حصہ سوم۔ ص: 235]
- وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 236]
- قّوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 236]
- کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 237]
- نشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہے ساقی
مزا تو جب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی
[نظم: ساقی۔ بانگِ درا۔ ص: 237]
- ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ [نظم: تعلیم اور اِس کے نتائج۔ بانگِ درا۔ ص: 238]
- اہلِ زمیں کو نسخۂ زندگیِ دوام ہے
خونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوری
[نظم: شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 240]
- گلشنِ دہر میں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
[نظم: شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 240]
- یارب! دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
[نظم: دُعا۔ بانگِ درا۔ ص: 241]
- میں بُلبُلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے!
[نظم: دُعا۔ بانگِ درا۔ ص: 242]
- فاطمہ! تو آبروئے اُمتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
[نظم: فاطمہ بنتِ عبد اللہ۔ بانگِ درا۔ ص: 243
- مگر یہ راز آخر کھُل گیا سارے زمانے پر
حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
[نظم: غلام قادر روہیلہ۔ بانگِ درا۔ ص: 247]
- ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرازِ بولہبی
[نظم: ارتقا۔ بانگِ درا۔ ص: 251]
- پروانے کو چراغ، بُلبُل کو پھول بس
صِدیق کے لیے ہے خُدا کا رسُول بس
[نظم: صِدیقؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 253]
- پھول بن کر تُربت سے نکل آتا ہے یہ
موت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 262]
- زندگی کی اَوج گاہوں سے اُتر جاتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طِفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 256]
- کتنی مشکل ہے زندگی، کس قدر آساں ہے موت
گُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 258]
- آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 266]
- پھر اُٹھی صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
[نظم: نانک۔ بانگِ درا۔ ص: 269]
- اقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رُومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 271]
- اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
[نظم: مذہب۔ بانگِ درا۔ ص: 277]
- مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ
[نظم: پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ۔ بانگِ درا۔ ص: 278]
- نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیلؑ کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری تو قتیلِ شیوۂ آزری
[نظم: میں اور تُو۔ بانگِ درا۔ ص: 280]
- دَمِ زندگی، رَم زندگی، غمِ زندگی، سَم زندگی
غم رَم نہ کر، سِم غم نہ کھا کہ یہی ہے شان قلندری
[نظم: میں اور تُو۔ بانگِ درا۔ ص: 280]
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبح دوام زندگی
[نظم: ہمایوں (مسٹر جسٹس ہمایوں شاہ دیں مرحوم)۔ بانگِ درا۔ ص: 282]
- ‘کشتی مسکیں، و ‘جانَ پاک’، ‘دیوار یتیم’
علمِ موسیٰؑ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
[نظم: خِضر راہ (جُز: شاعر)۔ بانگِ درا۔ ص284
- آگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے! [نظم: خِضر راہ (جُز: شاعر)۔ بانگِ درا۔ ص: 285]
- زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شِیر و تِیشہ و سنگِ گِراں ہے زندگی
[نظم: جوابِ خضر (جُز: زندگی)۔ بانگِ درا۔ ص: 288]
- خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حکمراں کی ساحری
[نظم: جوابِ خضر (جُز: سلطنت)۔ بانگِ درا۔ ص: 289]
- اُٹھ کہ بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
[نظم: جوابِ خضر (جُز: سرمایہ و محنت)۔ بانگِ درا۔ ص: 292]
- ربط و ضبط ملّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اِس نُکتے سے اب تک بے خبر
[نظم: جوابِ خضر (جُز: دُنیائے اِسلام)۔ بانگِ درا۔ ص: 294]
- ایک ہوں مُسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کرتا بخاکِ کاشغر
[نظم: جوابِ خضر (جُز: دُنیائے اِسلام)۔ بانگِ درا۔ ص: 295]
- مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 297]
- کتابِ مِلّت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگِ و بر پیدا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 298]
- اگر عثمانیوں پر غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحر پیدا [نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 298]
- ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دِیدہ ور پیدا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 299]
- سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 300]
- بُتانِ رنگ وخوں کو توڑ کر مِلّتِ بیضا میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 300]
- مٹایا قیصر و کسریٰ کے اِستبداد کو کس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فَقرِ بوذر، صِدقِ سلمانیؓ
[ نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- یقیں مُحکم، عمل پَیہم، محبّت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 302]
- جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 303]
- تُو رازِ کُن فَکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا نوعِ انساں کو
اخوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَر فِشاں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سراسر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھوٹے نَگوں کی ریزہ کاری ہے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 305]
- عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 305]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (غزلیات)
- زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل
یہ سمجھ لے کہ کوئی مِینا خانہ بارِ دوش ہے
[غزل 02۔ بانگِ درا۔ ص: 310]
- بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 310]
- مِل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبالؔ!
کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر
[غزل 04۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- تُو جنسِ محبت ہے، قیمت ہے گِراں ہے تیری
کم مایہ ہیں سوداگراِس دیس میں، اَرزاں ہو
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- کبھی اے حقیقتِ منتظر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے، ترا ٓئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شُوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زُلفِ ایاز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- جو میں سر بَہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
[غزل 08۔ بانگِ درا۔ ص: 314]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (ظریفانہ کلام)
- لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ ڈراما کیا دکھائے گا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ انتہا بھی اِس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک
چھتریاں، رُومال، مفلر، پیرہن جاپان سے [ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 315]
- اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی
آئیں گے غسّال کابل سے، کفن جاپان سے
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 317]
- اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن، ممبری، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادی کے پھندے میاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 323]
- مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 324]
- اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گُفتار کا یہ غازی تو بنا، کِردار کا غازی بن نہ سکا
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 324]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ حصہ اول۔ (غزلیات)
- اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں
نفسِ سوختۂ شام و سحر تازہ کریں
[سرِ ورق شعر۔ بال جبرئیل۔ ص: 327]
- پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
[بالِ جبرئیل کتاب کا سروق شعر جو "بھرتری ہری” شاعر کا ہے۔ ص: 345]
- میری نوائے شوق سے ہے شور حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بُت کدۂ صفات میں
[بالِ جبرئیل کتاب کا پہلا شعر (حصہ غزلیات میں)۔ ص: 345]
- تُو نے یہ کیا غضب کِیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
[غزل 01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 345]
- اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟
[غزل02۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 346]
- ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
بتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے [قطعہ غزل 01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 246]
- عشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکارا ہو یا مجھے آشکار کر
[غزل03۔ بالِ۔ جبرئیل۔ ص: 347]
- باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 347] آپ بیتی: قرۃ العین حیدر
- کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے جو سینے میں غمِ منزل نہ بن جائے
[غزل06۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 350]
- عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
[غزل06۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 350]کتاب: غلام علی خان کامل
- پھر اُٹھا پھر کوئی رومیؔ عرب کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گِل ایراں وہی تبریز ہے ساقی
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کِشت ویراں سے
ذرا نَم ہو تو یہ مَٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]کتاب: قاسم علی شاہ
- لا پھر اِک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- شیر مَردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دُنیا نہ وہ دُنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 352]
- گزر اُقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذِلّت ہے کارِ آشیاں بندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شِکایت زمانہ
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا، یہ کمالِ نَے نوازی
[غزل13۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- اِسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوزو ساز رومیؔ، کبھی پیچ و تاب رازیؔ
[غزل13۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- عشق کی اِک جست نے طے کر دیا قِصّہ تمام
اِس زمین و آسماں کو بے کِراں سمجھا تھا میں
[غزل14۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 355]
- مجھ کو تو سِکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اِس دور کے مُلّا کیوں ننگِ مسلمانی!
[غزل15۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 356]
- تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]پہلا ناول: قرۃ العین حیدر
- فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہرِ ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
- اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلال کو کبھی کہہ نہ سکا قند
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
- چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اِس بندۂ گستاخ کا منہ بند!
[غزل 16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ حصہ دوم۔ (غزلیات)
- نِگہ پیدا کر اے غافل تجلّی عینِ فطرت ہے
کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا
[غزل01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 359]
- اِسی دریا سے اُٹھتی ہی وہ موجِ تُند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا
[غزل02۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 361]
- عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 362]
- وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 364]اوریا جان مقبول کے اخباری مکالمے کا عنوان
- سبق مِلا ہے یہ معراجِ مُصطفیٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زَد میں ہے گَردُوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 364]
- اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے ؛آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- مسلماں کے لہو میں ہے، سلیقہ دل نوازی کا
مُرّورت حُسنِ عالم گیر ہے مردانِ غازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- شکایت ہے مجھے یارب!خاوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 369]
- اگر ہو عشق تو ہے کُفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافرو زندیق
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 370]
- کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
[غزل12۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 370]
- خداوند یہ تیرے سادہ بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیّاری ہے، سُلطانی بھی عیّاری
[غزل14۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 372]
- تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھُونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چُکا میں صَدف صَدف
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی
[غزل17۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
خُدا ہو دِیں سِاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
[غزل17۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 374]
- عقل گو آستاں سے دور نہیں
اِس کی تقدیر میں حضور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- دلِ بِینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- عِلم میں بھی سَرُور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حُور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحبِ سَرُور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
[غزل22۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم377]
- نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تُو نے
مجھے کیا گِلہ ہو تجھ سے، تُو نہ رہ نشیں نہ راہی
[غزل22۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم377]بالِ جبرئیل کا پہلا مجّوزہ نام
- گَلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا اِلہٰ اِلّا للہ
[غزل23۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 377]
- خِرد کے پاد خبر کے سِوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سِوا کچھ اور نہیں
[غزل23۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 378]
- بُتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خُدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- فقط نِگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دِل کا
نہ ہو نِگاہ میں شُوخی تو دلبری کیا ہے
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- خوش آ گئی جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- نہ تُو زمیں کے لیے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
[غزل26۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- نِگہ بُلند، سُخن دلنواز، جاں پُر سُوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
[غزل26۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 380]
- مَیں تُجھ کو بتاتا ہوں کہ تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سَناں اوّل، طاؤس و رُباب آخر
[غزل29۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 382]
- ہر شے مُسافِر، ہر چِیز راہی
کیا چاند تارے کیا مُرغ و ماہِی
[غزل30۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 382]
- خودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
[غزل33۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 384]
- اگر ہوتا مجذوبِ فرنگی اِس زمانے میں
تو اِقبالؔ اُس کو سمجھا تا کہ مقامِ کِبریا کیا ہے
[غزل33۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]جرمنی کا فلسفی "نِطشے”
- جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھُلتے ہیں غلاموں پر اسَرارِ شہنشاہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]
- اے طائرِلاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رِزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]ایوب خاں کی آپ بیتی کا اُردو ترجمہ
- آئینِ جوانمرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر
یہ ناداں گِر گئے سجدوں میں جب وقتِ نماز آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مُشکل مَقام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- دِیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اِک مردِ تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- اِسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- یقیں کر پیدا اے ناداں!یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری
[غزل38۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 388]
- عقل عَیّار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلّا نہ زاہد نہ حکیم!
[غزل39۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 389]
- سِتاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے اِمتحاں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 389]
- اگر کھو گیا اِک نشیمن تو کیا غم
مَقاماتِ آہ و فُغاں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 390]
- تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم390]
- عشق تری اتنہا، عشق میری انتہا
تُو بھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام
[غزل 41۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 391]
- عِلم کی حد سے پرے، بندۂ مومن کے لیے
لذّتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے
[غزل43۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 392]
- نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سِپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
[غزل48۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 395]
- رِشی کے فاقوں سے ٹُوٹا نہ برہمن کا طِلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
[غزل50۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 396]
- کر بُلبُل و طاؤس کی تقلید سے توبہ
بُلبُل فقط آواز ہے، طاؤس فقط رنگ!
[غزل58۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 401]
- اندازِ بیاں گرچہ بہت شُوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
[قطعہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 403]
- سُن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بَتّر ہے بے یقینی
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 406]
- گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
[رباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 409]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ (رُباعیات)
- جوانوں کو مری آہِ سَحر دے
پھر اِن شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے [رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 411[
- خِرد کی گُتھیاں سُلجھا ہوں
مرے مَولا مجھے صاحبِ جُنُوں کر
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 412]
- اگر کوئی شعیب آئے میسّر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 413]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ (منظومات)
- ہے یہی میرا نماز۔ ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کالہو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 417]
- راہِ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 417]
- فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنّا جسے کہہ نہ سکیں رُوبرو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 418]
- مردِ خُدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اِس پر حرام
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 420]
- عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ
عشق خدا کا رسُول، عشق خدا کا کلام
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 421]
- شوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے
نغمہ ‘اللہ ہُو’ میرے رَگ و پَے میں ہے
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 422]
- ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کُشا، کارساز
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 424]
- نرم دم گفتگو، کرم دم جُستجو
رزم ہو یا بزم، پاک دل و پاک باز
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 426]
- کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 426]
- نقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 247]
- مومن کے مقام کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
[نظم: عبد الرحمن کے ہاتھ کا بویا ہوا کھجور کا درخت۔ بال جبرئیل۔ ص: 430]
- یہ غازی، یہ تیرے پُر اسَرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی
[نظم: مَسجدِ طارق کی دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 432]
- شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کُشائی
[نظم: مَسجدِ طارق کی دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 432]
- یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 434]
- یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُر، یہ حکومت
پِیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 435]
- ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مُروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 435]
- اُٹھو! مری دُنیا کے غریبوں کو جَگا دو
کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437]
- جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جَلا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437]
- تہذیبِ نوی کارگہ شیشہ گِراں ہے
آدابِ جُنوں شاعرِ مشرق کو سِکھا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437] عوام کا دیا ہوا خطاب
- آیۂ کائنات کا معنی دیر یاب تُو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440] مستنصر حسین تارڑ کا پہلا سفر نامہ 1971ء
- مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
نوٹ۔ اس شعر سے آتشِ رفتہ کا سُراغ از مشرف عالم ذوقی (ناول) ، سرگشت از سید ذوالفقار علی بخاری (سوانح عمری) ، کھوئے ہوؤں کی جستجو ازشہرت بخاری (سوانح عمری) ماخوذ ہیں
- لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
- شوق ترا گر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 441]
- حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
[نظم: جاوید کے نام۔ بال جبرئیل۔ ص: 443]
- ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
[نظم: جاوید کے نام۔ بال جبرئیل۔ ص: 443]
- مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے نہ مانے، میرو سلطاں سب گدا!
[نظم: گَدائی (ماخوذ: انوریؔ)۔ بال جبرئیل۔ ص: 444]
- ترے صوفی ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 447]
- عُقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 447]
- نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تُو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی کا انگبیں
[نظم: نصیحت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں
[نظم: نصیحت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- اُٹھا ساقیا پردہ اِس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا اُستاد کر
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 452]
- پسند اِس کو تکرار کی خُو نہیں
کہ تُو میں نہیں، اور میں تُو نہیں
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 453]
- خودی کا نشیمن ہے ترے دِل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 456]
- جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
قریب تر ہے نمود جس کی، اُسی کا مشتاق ہے زمانہ[نظم: زمانہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 458]
- کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ
[نظم: فرشتے آدمؑ کو جنت سے رخصت کرتے ہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 460]
- گر کبھی خلوت میسّر ہو تو پوچھ اللہ سے
قِصۂ آدمؑ کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
[نظم: جبرئیل و ابلیس۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 474]
- میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
[نظم: جبرئیل و ابلیس۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
[نظم: جاوید کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 477]
- مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
[نظم: جاوید کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 477]
- جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
[نظم: فلسفہ و مذہب۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 478]
- محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
[نظم: خوشحال خاں کی وصیت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 484]
- پرواز ہے دونوں کی اِسی ایک فضا میں
کَرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
[نظم: حال و مقام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 486]
- تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
[نظم: ابو العلا معریؔ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 487]
- کیا میں نے اُس خاکداں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں ہوں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تَصرّف میں عقابوں کے نشیمن
[نظم: باغی مرید۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 496]
- خود بخود گرنے کو ہے پکے ہُوئے پھل کی طرح
دیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ!
[نظم: یورپ (ماخوذ: نطشے)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 497]
- زہراب ہے اُس قوم کے حق میں مئے افرنگ
جس قوم کے بچے نہیں خوددار و ہُنر مند
[نظم: قطعہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 500]
v ضربِ کلیم [1936ء سرورق کلمات: (افکارِ تازہ: اعلانِ جنگ: دورِ حاضر کے خلاف]۔
جُز اول: اسلام اور مسلمان۔ (منظومات+غزلیات)
- زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی
[نظم: تمہید۔ ضرب کلیم۔ ص: 523]
- وہ سَحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
[نظم: صُبح۔ ضرب کلیم۔ ص: 526]
- یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا اِلٰہ اِلّا اللہ
[نظم: لا اِلٰہ اللہ۔ ضرب کلیم۔ ص: 527]
- خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
[نظم: اجتہاد۔ ضرب کلیم۔ ص: 534]
- قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اِس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
[نظم: توحید۔ ضرب کلیم۔ ص: 537]
- زندگانی ہے صدف، قطرۂ نیساں ہے زندگی
وہ صَدف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے
[نظم: حیاتِ ابدی۔ ضرب کلیم۔ ص: 543]
- مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزا
د! [نظم: ہندیِ اسلام۔ ضرب کلیم۔ ص: 548]
- یہ ایک سجدہ جسے تو گِراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
[نظم: نماز۔ ضرب کلیم۔ ص: 550]
- وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رَگ و پَے میں فقط مستیِ کردار
[نظم: مستیِ کردار۔ ضرب کلیم۔ ص: 553]
- کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اِس میں ہیں آفاق
[نظم: کافرو مومن۔ ضرب کلیم۔ ص: 557]
- ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
[نظم: مومن (دُنیا میں)۔ ضرب کلیم۔ ص: 558]
- محکوم کے اِلہام سے اللہ بچائے
غارت گرِ اقوام ہے وہ صُورتِ چنگیز
[نظم: الہام اور آزادی۔ ضرب کلیم۔ ص: 567]
- ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گُفتار میں، کِردار میں، اللہ کی بُرہان
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- قہاری و غفّاری و قُدّوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے۔ حقیقت میں ہے قُرآن
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- ہے مملکتِ ہند میں اک طُرفہ تماشا
اِسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد!
[نظم: آزادی۔ ضرب کلیم۔ ص: 575]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ دوم: تعلیم و تربیت۔ (منظومات+غزلیات)
- ڈھونڈے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا
[نظم: زمانۂ حاضر کا انسان۔ ضرب کلیم۔ ص: 583]
- اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولاد
[نظم: اسَرارِ پیدا۔ ضرب کلیم۔ ص: 585]
- شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا
پُر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد
[نظم: اسَرارِ پیدا۔ ضرب کلیم۔ ص: 586]
- محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات!
[نظم: ہندی مکتب۔ ضرب کلیم۔ ص: 592]
- پختہ افکار کہاں ڈھونڈے جائے کوئی
اِس زمانے کی ہوا رکھی ہے ہر چیز کو خام
[نظم: عصرِ حاضر۔ ضرب کلیم۔ ص: 594]
- مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
[نظم: عصرِ حاضر۔ ضرب کلیم۔ ص: 594]
- خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
[نظم: طالبِ علم۔ ضرب کلیم۔ ص: 595]
- کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کُہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پَیرو!
[نظم: اسَاتِذہ۔ ضرب کلیم۔ ص: 598]
- فطرت افراد سے اِغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں مِلّت کے گناہوں کو معاف
[نظم: دین و تعلیم۔ ضرب کلیم۔ ص: 599]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ سوم: عورت۔ (منظومات)
- وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اِسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دَرُوں
[نظم: عورت۔ ضرب کلیم۔ ص: 606]
- جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اُس علم کو اربابِ نظر موت
[نظم: عورت اور تعلیم۔ ضرب کلیم۔ ص: 608]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ چہارم: ادبیات، فنونِ لطیفہ۔ (منظومات)
- وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نَفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیدا
[نظم: تخلیق۔ ضرب کلیم۔ ص: 613]
- مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر
فِطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سَحر کر
[غزل 3۔ ضرب کلیم۔ ص: 620]
- نگاہ شوق میسّر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی
[نظم: نگاہِ شوق۔ ضرب کلیم۔ ص: 623]
- فطرت کو دکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تُو نے
آئینۂ فطرت میں، دکھا اپنی خودی بھی
[نظم: مُصوّر۔ ضرب کلیم۔ ص: 636]
- ہر لحظہ نیا طُور، نئی برق تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!
[نظم: شاعر۔ ضرب کلیم۔ ص: 639]
- ہند کے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس
آہ، بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!
[نظم: ہُنروارانِ ہند۔ ضرب کلیم۔ ص: 640]
- بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا
روشن شر رِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!
[نظم: ایجادِ معانی۔ ضرب کلیم۔ ص: 643]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ پنجم: سیاسیاتِ مشرق و مغرب۔ (منظومات)
- قرآں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار
[نظم: اِشتراکیت۔ ضرب کلیم۔ ص: 648]
- وہ قوم نہیں لائقِ ہنگامۂ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے!
[نظم: آج اور کل۔ ضرب کلیم۔ ص: 653]
- خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خُوئے غلامی میں غلام
[نظم: خواجگی۔ ضرب کلیم۔ ص: 655]
- وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اِس کے بدن سے نکال دو
[نظم: اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام۔ ضرب کلیم۔ ص: 658]
- جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
[نظم: جمہوریت۔ ضرب کلیم۔ ص: 661]
- تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
[نظم: نصیحت۔ ضرب کلیم۔ ص: 666]
- ہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دُنیا میں
انھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمتوں کے نظام
[نظم: غلاموں کی نماز۔ ضرب کلیم۔ ص: 670]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ ششم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ (20 نظمیں)
تعارف: محراب گل ایک افغانی کا نام ہے۔ یہ ناول اور افسانہ کے کرداروں کی طرح ایک فرضی کردار کا نام ہے۔ جس کے ذریعے علامہ نے پٹھانوں (افغانوں) کی خودی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر سرحد کے غیور افغان اپنی خودی کو پہچان کر اٹھ کھڑے ہوں تو برصغیر کو انگریزوں سے آزاد کرانا آسان ہو گا اس عنوان کے تحت اقبال نے بیس نظمیں لکھی ہیں۔
- تری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 676]
- تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین و ایمان
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 681]
- فِطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 691]
- کون کر سکتا ہے اِس کے آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 702]
- اِس میں کیا شک ہے کہ مُحکم ہے یہ اِبلیسی نظام
پُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 702]
- ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نِگر
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 704]
- تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 704]
- کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشُفتہ مغز، آشُفتہ مُو
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 709]
- ہے اگر مجھ کو خطر تو اُس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 70۹]
- جانتا ہوں میں یہ اُمت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 70۹]
- مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اِسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اِسے
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 712]
- غیرت بڑی چیز ہے جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
[نظم: بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- افراد کے ہاتھوں میں ہے عوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا
[نظم: بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ ملوکانہ کی ایجاد
[نظم: دوزخی کی مناجات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 722]
- حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹے میں ہو خُوئے حریری
[رباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
v ضربِ کلیم [1938ء]۔ تین حصے:
([نظمیات+رُباعیات+ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض]۔ حصہ اول: [منظومات])
- یہ عناصر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 701]
- کون کر سکتا ہے اُس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 702]
- اِس میں کیا شک ہے کہ مُحکم ہے یہ ابلیسی نظام
پُختہ تر اِس سے ہوئے خُوئے غلامیں عوام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 702]
- یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 703]
- ہے طوائف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر عہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 703]
- ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 704]
- تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 704]
- اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 705]
- ہے مرے دستِ تصّرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماں تُو بتُو
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 708]
- کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اِشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مُو
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 708]
- جانتا ہوں یہ اُمتِ حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 709]
- مست رکھو ذکر و فکر و صبحگاہی میں اِسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اِسے
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 712]
- غیرت ہے بڑی چیز جہانِ گت و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
[نظم: بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- افراد کے ہاتھوں میں قوم کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا
[نظم: بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
v ضربِ کلیم [1938ء]۔ حصہ دوم: [رُباعیات]
- حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری
[رُباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
- ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
[رُباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
v ارمغانِ حجاز (حصہ اُردو) [1938ء]۔ حصہ اول: [ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض]
- آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 739]
- آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 739]
- نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری[
مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 741]
- نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صُبح و شام بدلتی ہیں اِن کی تقدیریں
[ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 747]
- خودآگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی
حرام آئی ہے اُس مردِ مجاہد پر زِرہ پوشی
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 751]
v ارمغانِ حجاز (حصہ اُردو) [1938ء]۔ متفرق منظومات
- یہ دُنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو
کہ ہر مَستُور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی
[نظم: حضرتِ انساں۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 755]
اہم معروضی سوالات مع جوابات
(LECTURER, SSS, SS, SSE, SESE, NTS, GAT etc)
o علامہ کے کس شعری مجموعہ میں امریکی اور برطانوی شعرا کی نظمیات کے تراجم ملتے ہیں؟ [بانگِ درا]
o علامہ نے کن مغربی شعرا کی نظمیات کو اُردو کے قالب میں ڈھال کر امر کر دیا؟ [ایمرسن، براؤنگ، ٹینی سن، سمویل راجرز، لانگ فیلو، ولیم کوپر]
o علامہ کے پہلے اُردو شعری مجموعے کی ابتدائیہ طویل نظم کون سی ہے؟ [تصویرِ درد۔ آٹھ بند]
o علامہ نے مسجدِ قرطبہ کے نماز کے بعد کون سی نظم بطور مناجات پڑھی تھی؟ [دُعا]
o عطیہ بیگم سے علامہ کا پہلا تعارف سفرِ حیدر آباد میں کس نے کروایا تھا؟ [سر اکبر حیدری]
o علامہ کی نماز جنازہ دو دفعہ پڑھائی گئی۔
o علامہ نے "بانگِ درا” میں کن دو عظیم شعرا کا ذکر مرثیہ ہیئت میں کیا ہے؟ [مرزا غالب+داغ دہلوی]
o ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم نے "فکرِ اقبال” میں علامہ کی کس نظم کو "اشتراکیت کا ترانہ” قرار دیا ہے؟ [فرشتوں سے فرمانِ خدا]
o علامہ نے اپنے شعری مجموعے "بالِ جبرئیل” میں ایک ہندو شاعر کا ذکر کیا ہے۔ نام بتائیے۔ [سوامی رام تیرتھ]
o علامہ نے "جاوید نامہ” میں سیرِ سلوک یعنی سفرِ افلاک کے لیے کس عظیم روحانی شخصیت کو اپنا راہنما بنایا ہے؟ [مولانا جلال الدین رومی]
o علامہ کی پہلی نظم "ہمالہ” ماہنامہ "مخزن” لاہور 1901ء میں چھپی۔ یہ بتائیے کہ علامہ کی پہلی غزل کب اور کس رسالے میں چھپی؟ [ماہنامہ "زبان” دہلی۔ 1893ء]
o 1933ء میں شاہ افغانستان یعنی نادر شاہ کی دعوت پر علامہ نے افغانستان میں مغل بادشاہ "ظہیر الدین بابر” کے علاوہ کس مشہور حکیم فلسفی کے مزار پر حاضری دی؟ [حکیم سنائی]
o اٹلی کے فلسفی مسولینی سے علامہ کی ملاقات ملک "روم” میں ہوئی۔ یہ بتائیے کہ ان دونوں فلسفیوں میں کس موضوع پر گفتگو ہوئی [اشتراکیت اور فاشزم]
o علامہ کے اُردو شعری مجموعے "بانگِ درا” میں ایک فارسی نظم بھی شامل ہے۔ نام بتائیے۔ [شمع اور شاعر۔ تحریر: فروری 1912ء]
o علامہ نے معاشیات پر اُردو میں پہلی کتاب "علم الاقتصاد” علامہ شبلی نعمانی کی راہنمائی میں کس اُستاد کی تحریک پر تالیف کی تھی؟ [پروفیسر آرنلڈ]
o نواب بھوپال نے علامہ کے لیے کتنا وظفیہ مقرر کیا تاکہ علامہ شاعری کرتے رہیں اور روزگار سے بے فکر ہو جائیں۔ [پانچ سو روپے]
o علامہ نے افغان قوم کے ترجمان یعنی خوشحال خان خٹک کے لیے کون سی نظم لکھ کر ان کے افکار کی ترجمانی کی تھی؟ [محراب گل خاں]
o بانگِ درا کی ابتدائی طویل نظم "تصویر درد” کو انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں سُن کر خوشی سے بطور انعام کس شخصیت نے علامہ کو دس روپے دیئے تھے؟ [مولانا حالیؔ]
o علامہ نے "بانگِ درا” میں اپنے ایک انگریز اُستاد کی یاد میں نظم "نالہ فراق” لکھی تھی۔ نام بتائیے۔ [پروفیسر آرنلڈ]
o علامہ کی انگریز خاتون اُستاد این میری شمل نے کن شعری مجموعوں کو جرمن زبان میں ترجمہ کیا؟ [جاوید نامہ+بال جبرئیل+پیام مشرق]
o پروفیسر نکلسن نے علامہ کی کس فارسی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا؟ [اسرارِ خودی۔ The Secret of the Self]
٭٭٭
کتابیات
(علامہ اقبال کی سوانحِ حیات اور تصانیف کا معروضی جائزہ لینے کے لیے ذیل میں دی گئی کُتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔)
v غلام دستگیر (مرتب) ، سید عبد الرزاق آثارِ اقبال،، دکن، 1946
v جاوید اقبال، جسٹس، اپنا گریبان چاک، اقبال اکادمی، لاہور، 2006ء
v محمد باقر، ڈاکٹر، احوال و آثارِ اقبال، بزمِ اقبال، لاہور، 1988ء
v عطیہ بیگم، اقبال، مترجم، ضیا الدین، اقبال اکادمی، کراچی، 1956ء
v حسن ملک، ڈاکٹر، اقبال: ایک تحقیقی مطالعہ، یونیورسل بک، لاہور، 1988ء
v رفیع الدین ہاشمی، اقبال: شخصیت و فن، اقبال اکادمی، لاہور، 1994
v رفیع الدین ہاشمی، تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، اقبال اکادمی لاہور، 1982ء
v خالد نظیر صوفی، اقبالِ درونِ خانہ، بزم اقبال، لاہور، 1971ء
v حمید احمد خان، پروفیسر، اقبال کی شخصیت اور شاعری، بزم اقبال، لاہور، 1983ء
v عاشق حسین بٹالوی، اقبال کے آخری دو سال، اقبال اکادمی، کراچی، 1961ء
v نذیر نیازی، سید، اقبال کے حضور، اقبال اکادمی، لاہور، 2000ء
v غلام رسول مہر، اقبالیات، مہر سنز، لاہور، 1988ء
v محمد عثمان، پروفیسر، حیات اقبال کا ایک جذباتی دور، مکتبہ جدید لاہور، 1975ء
v عبد المجید سالک، ذکرِ اقبال، بزم اقبال، لاہور، 1955ء
v جاوید اقبال، زندہ رُود، سنگِ میل، لاہور، 2004ء
v عبد السلام خورشید، ڈاکٹر، سرگذشتِ اقبال، اقبال اکادمی، لاہور، 1977ء
v سلیم اختر، ڈاکٹر، علامہ اقبال: حیات، فکر و فن، سنگ میل، لاہور، 2003ء
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

