FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل
ورڈ فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل

 

…..کتاب کا نمونہ پڑھیں

 

 

فہرست مضامین

ترجمہ مفہوم القرآن

 

 

رفعت اعجاز

 

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

۵۵۔ سورۃ الرحمٰن

۱.      اللہ جو نہایت مہربان ہے

۲.      اسی نے قران سکھایا

۳.      اسی نے انسان کو پیدا کیا

۴.      اسی نے اس کو بولنا سکھایا

۵.      سورج اور چاند ایک مقرر حساب سے چل رہے ہیں

۶.      ستارے اور درخت دونوں سجدہ کر رہے ہیں۔

۷.      اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان رکھی۔

۸.      کہ میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو

۹.      انصاف سے تولو اور تول کم مت کرو

۱۰.     اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔

۱۱.     اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

۱۲.     اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبو دار پھول

۱۳.     تو (اے گروہ جن و انس) تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۱۴.     اسی نے انسان کو ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی سے بنایا

۱۵.     اور جنات کو آگ کے شعلے سے بنایا (پیدا کیا)

۱۶.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۱۷.     وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے

۱۸.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

۱۹.     اسی نے دو دریا رواں کئے ہیں جو آپس میں ملتے ہیں

۲۰.     دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے

۲۱.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۲۲.     دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔

۲۳.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۲۴.     اور جہاز بھی اسی کے ہیں اور دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

۲۵.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۲۶.     جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

۲۷.     اور تمہارے رب ہی کی ذات با برکات جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

۲۸.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۲۹.     آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے

۳۰.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۳۱.     اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

۳۲.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۳۳.     اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے

۳۴.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۳۵.     تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو تم پھر مقابلہ نہ کر سکو گے۔

۳۶.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۳۷.     پھر جب آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے نری کا چمڑا ہو۔ (کیسا ہولناک دن ہو گا)

۳۸.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۳۹.     اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

۴۰.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ کے

۴۱.     گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لیے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لیے جائیں گے

۴۲.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۴۳.     یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے

۴۴.     وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے۔

۴۵.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۴۶.     اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہیں

۴۷.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۴۸.     ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں۔

۴۹.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۵۰.     ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں

۵۱.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۵۲.     ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں

۵۳.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

۵۴.     اہل جنت ایسے بچھونوں پر جن کے استر موٹے ریشم کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور دونوں باغوں کے میوے قریب جھک رہے ہیں

۵۵.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۵۶.     ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔

۵۷.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۵۸.     گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔

۵۹.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۶۰.     نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں

۶۱.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

۶۲.     ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں

۶۳.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

۶۴.     دونوں خوب گہرے سبز

۶۵.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

۶۶.     ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں

۶۷.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

۶۸.     ان میں میوے کھجوریں اور انار ہیں۔

۶۹.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

۷۰.     ان میں نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں ہیں

۷۱.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟۔

۷۲.     وہ حوریں ہیں جو خیموں میں مستور ہیں

۷۳.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟۔

۷۴.     ان کو جنت میں اس سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے

۷۵.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟۔

۷۶.     سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔

۷۷.     تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

۷۸.     اے محمدﷺ تمہارا رب جو جلال و عظمت والا ہے اس کا نام بڑا با برکت ہے۔

۵۶۔ سورۃ الواقعہ

۱.      جب واقع ہونے والی واقع ہو جائے

۲.      اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

۳.      کسی کو پست کرے کسی کو بلند۔

۴.      جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

۵.      اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں۔

۶.      پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں۔

۷.      اور تم تین قسم کے ہو جاؤ

۸.      تو داہنے ہاتھ والے سبحان اللہ، داہنے ہاتھ والے کیا ہی چین میں ہیں

۹.      اور بائیں ہاتھ والے؟ کیا برے لوگ ہیں بائیں والے۔

۱۰.     اور جو آگے بڑھنے والے ہیں! ان کا کیا کہنا، وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔

۱۱.     وہی اللہ کے مقرب ہیں

۱۲.     نعمتوں کے باغوں میں

۱۳.     زیادہ ہیں پہلوں میں سے

۱۴.     اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

۱۵.     قیمتی پتھروں سے جڑاؤ تختوں پر۔

۱۶.     آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے۔

۱۷.     نوجوان خدمت گزار لڑکے جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

۱۸.     یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

۱۹.     اس (شراب) سے نہ تو سر میں درد ہو گا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی

۲۰.     اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

۲۱.     اور پرندوں کا گوشت جس کی ان کو خواہش ہو

۲۲.     اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

۲۳.     جیسے صدف کے اندر چھپے ہوئے آبدار موتی۔

۲۴.     یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے

۲۵.     وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

۲۶.     مگر ہر طرف سلام ہی سلام ہو گا۔

۲۷.     اور داہنے ہاتھ والے سبحان اللہ، داہنے ہاتھ والے کیا ہی عیش میں ہیں

۲۸.     یعنی بغیر کانٹوں کی بیریوں کے درختوں

۲۹.     اور تہہ بہ تہہ کیلوں۔

۳۰.     اور لمبے لمبے سایوں

۳۱.     اور پانی کے جھرنوں

۳۲.     اور بیشمار میووں کے باغوں میں۔

۳۳.     جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے۔

۳۴.     اور اونچے اونچے بچھونوں میں۔

۳۵.     ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا۔

۳۶.     اور ان کو کنواریاں بنایا۔

۳۷.     شوہروں کی پیاریاں اور ہم عمر

۳۸.     یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لیے

۳۹.     یہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں

۴۰.     اور بہت سے پچھلوں میں سے

۴۱.     اور بائیں ہاتھ والے؟ افسوس بائیں ہاتھ والے کیا ہی عذاب میں ہیں۔

۴۲.     یعنی دوزخ کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

۴۳.     اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

۴۴.     جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ خوشنما

۴۵.     یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

۴۶.     اور بڑے سخت گناہ پر اڑے ہوئے تھے۔

۴۷.     اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہو گئے اور ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ گئے تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہو گا؟۔

۴۸.     اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟

۴۹.     کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

۵۰.     سب ایک روز، مقرر وقت پر جمع کئے جائیں گے

۵۱.     پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو!

۵۲.     تھوہر کے درخت کھاؤ گے

۵۳.     اور اسی سے پیٹ بھرو گے۔

۵۴.     اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔

۵۵.     اور پیو گے بھی اس طرح، جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔

۵۶.     جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہو گی

۵۷.     ہم نے تم کو پہلی بار بھی تو پیدا کیا ہے تو تم دوبارہ اٹھنے کو کیوں سچ نہیں سمجھتے؟

۵۸.     دیکھو تو کہ جس نطفے کو تم عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو

۵۹.     کیا تم اس سے انسان کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔

۶۰.     ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں

۶۱.     کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں۔

۶۲.     اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟۔

۶۳.     بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو۔

۶۴.     تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟

۶۵.     اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر دیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔

۶۶.     کہ ہائے ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے

۶۷.     بلکہ ہم ہیں ہی بد نصیب

۶۸.     بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

۶۹.     کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟

۷۰.     اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کر دیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟

۷۱.     بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

۷۲.     کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا یا ہم پیدا کرتے ہیں؟

۷۳.     ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے۔

۷۴.     تو تم اپنے خدائے بزرگ کے نام کی تسبیح کرو

۷۵.     پس نہیں، ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم

۷۶.     اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔

۷۷.     کہ یہ بڑے رتبہ کا قرآن ہے

۷۸.     جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے

۷۹.     اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

۸۰.     رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے

۸۱.     کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟

۸۲.     اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو۔

۸۳.     بھلا جب روح گلے تک (میں) آ پہنچتی ہے

۸۴.     اور تم اس وقت کی حالت دیکھا کرتے ہو

۸۵.     اور ہم اس مرنے والے سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے

۸۶.     پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو

۸۷.     تو اگر سچے ہو تو روح کو تم واپس کیوں نہیں لے آتے۔

۸۸.     پھر اگر وہ اللہ کے مقربوں میں سے ہے۔

۸۹.     تو اس کے لیے آرام اور خوشبو دار پھول اور نعمت بھرے باغ ہیں۔

۹۰.     اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے

۹۱.     تو کہا جائے گا کہ تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام

۹۲.     اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے

۹۳.     تو اس کے لیے کھولتے پانی کی ضیافت ہے

۹۴.     اور جہنم میں داخل کیا جانا

۹۵.     یہ داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی سچ اور حق ہے

۹۶.     تو تم اپنے رب کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔

۵۷۔ سورۃ الحدید

۱.      جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب و حکمت والا ہے۔

۲.      آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور ہر چیز پر قادر ہے۔

۳.      وہ سب سے پہلے اور سب سے پچھلا اور اپنی قدرتوں سے سب پر ظاہر اور اپنی ذات سے پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے۔

۴.      وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے، جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے، اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

۵.      آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

۶.      وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

۷.      تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اس نے تم کو اپنا نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور مال خرچ کرتے رہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے

۸.      اور تم کیسے لوگ ہو کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ اس کے پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو یقین ہو تو وہ تم سے اس کا عہد بھی لے چکا ہے

۹.      وہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے بیشک اللہ تم پر بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

۱۰.     اور تم کو کیا ہوا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت اللہ ہی کی ہے۔ جس شخص نے تم میں سے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ اور جس نے یہ کام بعد میں کئے وہ برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں مال خرچ کئے اور کفار سے جہاد و قتال کیا، اللہ نے سب سے نیک ثواب کا وعدہ کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے واقف ہے۔

۱۱.     کون ہے جو اللہ کو خلوص نیت سے قرض دے تو وہ اس کو دگنا عطا کرے اور اس کے لیے عزت کا بدلہ (یعنی جنت) دے۔

۱۲.     جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے ایمان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو بشارت ہو کہ آج تمہارے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے

۱۳.     اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف مہربانی کی نظر کیجئے کہ ہم بھی آپ کے نور سے روشنی حاصل کر لیں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور وہاں نور تلاش کرو، پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب۔

۱۴.     تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ مگر تم نے خود کو بلا میں ڈالا اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے رہے اور اپنے خیالوں میں بہک گئے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور اللہ کے بارے میں تم کو شیطان دغا باز دغا دیتا رہا۔

۱۵.     تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی وہ کافروں سے قبول کیا جائے گا تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

۱۶.     کیا ابھی تک مومنوں کے لیے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد کرتے ہوئے اور برحق قرآن جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کو سنتے ہوئے ان کے دل نرم ہو جائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر طویل مدت گزر کئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

۱۷.     جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

۱۸.     جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور نیک نیت و خلوص سے اللہ کو قرض دیتے ہیں ان کو دو گنا ادا کیا جائے گا اور ان کے لیے عزت کا بدلہ ہے

۱۹.     اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ ہو گا اور ان کے ایمان کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

۲۰.     جان رکھو کہ دنیا کی زندگی مخص کھیل تماشہ، زینت و زیبائش اور تمہارے آپس میں فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اگتی ہے کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر اے دیکھنے والے تو اسے دیکھتا ہے کہ پک کر زرد ہو جاتی ہے پھر چورا چورا ہو جاتی ہے۔ اور آخرت میں کافروں کے لیے عذاب شدید اور مومنوں کے لیے اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو صرف متاع فریب ہے

۲۱.     بندو! اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں۔ جلدی کرو یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے

۲۲.     کوئی مصیبت تم پر اور ملک پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

۲۳.     تاکہ غم نہ کھایا کرو اس پر جو ہاتھ نہ آیا اور نہ شیخی کیا کرو اس پر جو اس نے تمہیں دیا، اور اللہ کسی اترانے والے شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا

۲۴.     جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص رو گردانی کرے تو اللہ بھی بے پرواہ ہے اور وہی حمد و ثناء کے لائق ہے۔

۲۵.     ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو۔ (یعنی شرعی قوانین) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، لوہا پیدا کیا اس میں جنگ کے لحاظ سے خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں اور اس لیے کہ جو لوگ بن دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں، اللہ ان کو معلوم کرے بیشک اللہ زبردست اور غالب ہے

۲۶.     اور ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب کے سلسلے کو وقتاً فوقتاً جاری رکھا، بعض تو ان میں ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں۔

۲۷.     پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی اور ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی، ہم نے ان کو اس بات کا حکم نہیں دیا تھا مگر انہوں نے اپنے خیال میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آپ ہی ایسا کر لیا تھا پھر جیسا کہ اس کو بنا رہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

۲۸.     مومنو! اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطاء فرمائے گا اور تمہارے لیے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۲۹.     یہ باتیں اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے

۵۸۔ المجادلۃ

۱.      (اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتی اور اللہ سے رنج و ملال کا شکوہ کرتی اللہ نے اس کی التجا سن لی اور اللہ تم دونوں کی بات چیت سن رہا تھا کچھ شک نہیں اللہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔

۲.      جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہو جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو پیدا کیا بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

۳.      اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کر لیں تو ان کو ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔ (مومنو!) اس حکم سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

۴.      جو غلام آزاد نہ کر سکے وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے بیوی سے ملنے سے پہلے (کفارے کے طور پر) جو یہ بھی نہ کر سکے اسے ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلانا چاہیے یہ حکم اس لیے ہے کہ تم اللہ اور رسولﷺ کے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اور یہ اللہ کی مقرر کی گئی حدود ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔

۵.      جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کر دی ہیں اور کفار کو ذلت کا عذاب ہو گا

۶.      جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا اللہ کو وہ سب کام یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے

۷.      کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ کو سب معلوم ہے۔ کسی جگہ تین لوگوں کا مجمع اور کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ خواہ وہ کہیں ہوں پھر بھی جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ ایک ایک ان کو بتائے گا بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

۸.      کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول اللہﷺ کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو جس کلمے سے اللہ نے آپ کو دعا نہیں دی اس سے آپ کو دعا دیتے ہیں اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے پیغمبر!) ان کو دوزخ کی سزا ہی کافی ہے یہ اسی میں داخل ہوں گے اور وہ بری جگہ ہے

۹.      مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاروں اور پرہیز گاری کی باتیں کرنا اور اللہ سے جس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے ڈرتے رہنا

۱۰.     کافروں کی سرگوشیاں تو شیطان کی حرکات سے ہیں جو اس لیے کی جاتی ہیں کہ مومن ان سے رنجیدہ ہوں مگر اللہ کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں

۱۱.     مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھا کرو اللہ تم کو کشادگی بخشے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطاء کیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔

۱۲.     مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کرنے سے پہلے مساکین کو کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور پاکیزگی کی بات ہے اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۳.     کیا تم اس سے ڈر گئے کہ پیغمبر کے کان میں بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو؟ پھر جب تم نے ایسا نہ کیا اور اللہ نے تمہیں معاف کر دیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبر دار ہے۔

۱۴.     بھلا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

۱۵.     اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً ان کے لیے برا ہے

۱۶.     انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روک دیا ہے سو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

۱۷.     اللہ کے عذاب کے سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی کچھ فائدہ دے گی یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے

۱۸.     جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا۔ تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اسی طرح اللہ کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ ایسا کرنے سے وہ کچھ بھلی راہ میں ہیں۔ سن لو یہی ہیں جھوٹے

۱۹.     شیطان نے ان کو قابو میں کر لیا ہے اور اللہ کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ جماعت شیطان کا لشکر ہے اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

۲۰.     جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے

۲۱.     اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔ بیشک اللہ زبردست اور زور آور ہے

۲۲.     جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو اللہ اور رسولﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔ اور روح قدس کے ذریعے سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہی گروہ اللہ کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ اللہ ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے۔

۵۹۔ سورۃ الحشر

۱.      جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

۲.      وہی تو ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے مگر اللہ نے ان کو وہاں سے آ لیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو اے اہل بصیرت عبرت حاصل کرو

۳.      اور اگر اللہ نے ان کے بارے میں جلا وطن ہونا نہ لکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے آگ کا عذاب تیار ہے۔

۴.      یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

۵.      مومنو! کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑے رہنے دیا یہ سب اللہ کے حکم سے تھا، تاکہ وہ (اللہ) نافرمانوں کو رسوا کرے۔

۶.      اور جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (لڑائی کے بغیر) دلوایا ہے (اس میں تمہارا کچھ حق نہیں) کیونکہ اس کے لیے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

۷.      جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ اللہ کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابتداروں کے، یتیموں، حاجتمندوں، اور مسافروں کے لیے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولتمند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تمہیں پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

۸.      اور ان غریب وطن چھوڑنے والوں کے لیے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے بے دخل کر دئیے گئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے ایماندار ہیں

۹.      اور ان لوگوں کے لیے بھی جو مہاجرین سے پہلے ہجرت کے گھر مدینہ میں مقیم اور ایمان میں مستقل رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور ان کو اپنے آپ سے مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ خود ضرورت مند ہوں اور جو شخص نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں

۱۰.     اور ان کے لیے بھی جو ان مہاجرین کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ و حسد پیدا نہ ہونے دے۔ اے ہمارے رب تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

۱۱.     کیا آپ نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے گر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

۱۲.     اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو کہیں سے بھی مدد نہیں ملے گی۔

۱۳.     مسلمانو! تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں اللہ سے بھی بڑھ کر ہے یہ اس لیے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے

۱۴.     یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے آمنے سامنے لڑ نہیں سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں پناہ لے کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر، ان کی آپس میں لڑائی سخت ہے۔ آپ شاید سمجھتے ہو کہ یہ اکھٹے اور ایک جان ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں، یہ اس لیے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔

۱۵.     ان کا حال ان لوگوں جیسا ہے جو ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

۱۶.     (منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا، کافر ہو جا۔ جب وہ کافر ہو گیا تو کہنے لگا، مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھے تو اللہ الہ العالمین سے ڈر لگتا ہے

۱۷.     تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔

۱۸.     اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا سامان بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبر دار ہے

۱۹.     اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں ایسا کر دیا کہ خود اپنے آپ کو بھول گئے یہ بدکردار لوگ ہیں

۲۰.     اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

۲۱.     اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اس کو دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں

۲۲.     وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

۲۳.     وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، بادشاہ ہے، پاک ذات سب عیبوں سے سالم امان دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست بڑائی والا، اور اللہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

۲۴.     وہی اللہ تمام مخلوقات کا خالق ایجاد و اختراع کرنے والا، صورتیں بنانے والا، اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب، حکمت والا ہے۔

۶۰۔ سورۃ الممتحنۃ

۱.      مومنو! میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ تمہارے دین حق سے منکر ہیں اور اس لیے کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو، پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف چپکے چپکے دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم چھپا کر یا اعلانیہ کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

۲.      اگر یہ کافر تم پر قدرت پا لیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تکلیف دینے کے لیے تم پر ہاتھ بھی چلائیں اور زبان بھی اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ

۳.      قیامت کےن نہ تمہارے رشتے ناطے کام آئیں گے اور نہ اولاد اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

۴.      تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے پیرو کاروں کی زندگی نمونہ ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ، ہم تم سے اور ان سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بے تعلق ہیں۔ اور تمہارے معبودوں کے کبھی قائل نہیں ہو سکتے اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ، ہم میں اور تم میں کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ ضرورکہا کہ، میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگوں گا اور میں اللہ کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا، اے ہمارے رب تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور ہمیں لوٹ کر آنا ہے

۵.      اے ہمارے رب ہم کو کفار کے ہاتھوں عذاب نہ دلوانا، اور اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

۶.      جو کوئی اللہ کے سامنے جانے اور روز آخرت کے آنے کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال پر چلنا ضروری ہے اور جو نافرمانی کرے تو اللہ بے پرواہ ہے۔ اور اللہ پاک ہے حمد و ثنا اسی کے لیے ہے

۷.      اُمید ہے کہ اللہ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کر دے، اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۸.      جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمہیں منع نہیں کرتا اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

۹.      اللہ انہی لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں

۱۰.     مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کر لو۔ اور اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہے اور نہ وہ ان کو جائز اور جو کچھ انہوں نے ان پر خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کر لو۔ اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو (کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو ان سے طلب کر لو اور جو کچھ انہوں نے اپنی عورتوں پر خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کر لیں یہ اللہ کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

۱۱.     اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے اور اس کا مہر وصول نہ ہوا ہو پھر تم ان سے جنگ کرو اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو اس مال میں سے اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور اللہ سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔

۱۲.     اے پیغمبر! جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی نہ چوری کریں گی، نہ بد کاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں پر کوئی بہتان باندھ لائیں گی نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۳.     مومنو! ان لوگوں سے جن پر اللہ غصہ ہوا ہے، دوستی نہ کرو کیونکہ جس طرح کافروں کو مُردوں کے جی اٹھنے کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت آنے کی امید نہیں

۶۱۔ سورۃ الصف

۱.      جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ کی تعریف کرتی ہیں اور وہ (کیونکہ) غالب، حکمت والا ہے

۲.      مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو، جو کیا نہیں کرتے

۳.      اللہ اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

۴.      اللہ ان لوگوں کو چاہتا ہے جو اس کی راہ میں یوں قطار بنا کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی دیواریں ہیں

۵.      (اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ، بھائیو! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے نافرمانی کی تو اللہ نے ان کے دل پھیر دیے، اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۶.      اور وہ وقت بھی یاد کرو جب مریم کے بیٹے عیسیٰؑ نے کہا کہ، اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں اور جو کتاب مجھ سے پہلے آ چکی ہے یعنی تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہو گا ان کی بشارت سناتا ہوں۔ پھر جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

۷.      اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

۸.      یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے چراغ کی روشنی کو پھونک مار کر بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر نا خوش ہی ہوں

۹.      وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے، خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے

۱۰.     مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے

۱۱.     اور یہ کہ اللہ پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

۱۲.     وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات ہیں جو ہمیشہ رہنے والے باغات میں تیار ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

۱۳.     اور ایک چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں اللہ کی طرف سے مدد نصیب ہو گی اور عنقریب فتح ہو گی اور مومنوں کو اس کی خوشخبری سنا دو

۱۴.     مومنو! اللہ کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰؑ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ بھلا کون ہیں جو اللہ کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں؟ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا پھر ہم نے ایمان والوں کو طاقت دی دشمنوں کے مقابلہ میں اور وہ غالب ہو گئے

۶۲۔ سورۃ الجمعۃ

۱.      جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔

۲.      وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور اللہ کی کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

۳.      اور ان میں سے اور لوگوں کو بھی بھیجا ہے جو ابھی ان مسلمانوں سے نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

۴.      یہ اللہ کا فصل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے،

۵.      جن لوگوں کے سر پر تورات لداوئی گئی پھر انہوں نے اس کے بار تعمیل کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۶.      آپ فرما دیں کہ اے یہود! اگر تم کو دعویٰ ہو کہ تم ہی اللہ کے دوست ہو اور دوسرے لوگ نہیں تو تم اگر سچے ہو تو پھر ذرا موت کی آرزو تو کرو۔

۷.      اور یہ اپنے کیے گئے اعمال کی وجہ سے اس کی آرزو ہرگز نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔

۸.      آپ فرما دیں کہ موت جس سے تم بھاگتے ہو آ کر رہے گی پھر تو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا،

۹.      مومنو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کی یاد (نماز) کے لیے جلدی کرو اور خرید و فروخت ترک کر دو اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

۱۰.     پھر جب نماز ہو چکے تو (اپنی اپنی راہ لو) زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔

۱۱.     اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ کر ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ فرما دیں کہ جو چیز اللہ کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

۶۳۔ سورۃ المنافقون

۱.      (اے نبیﷺ!) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپﷺ بیشک اللہ کے پیغمبر ہیں ٖاور اللہ جانتا ہے کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ظاہر کرتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے) جھوٹے ہیں۔

۲.      انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

۳.      یہ اس لیے کہ یہ پہلے تو ایمان لائے پھر کافر ہو گئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

۴.      اور جب آپ ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول اچھے لگیں اور جب بولتے ہیں تو آپ ان کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل اتنے) کہ ہر زور کی آواز کو سمجھیں کہ ان پر بلا آئی۔ یہ آپ کے دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہنا، اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

۵.      اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لیے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

۶.      آپ ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

۷.      یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق نہیں سمجھتے۔

۸.      کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، حالانکہ عزت اللہ کی ہے۔ اس کے رسولﷺ کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔

۹.      مومنو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

۱۰.     اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس وقت سے پیشتر خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو اس وقت کہنے لگو کہ اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کر لیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہو جاتا

۱۱.     اور جب کسی کی موت آ جاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔

۶۴۔ سورۃ التغابن

۱.      جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، اس کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف لا متناہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

۲.      وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

۳.      اسی نے آسمان اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔

۴.      جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور اللہ دل کے بھیدوں سے واقف ہے۔

۵.      کیا آپ کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

۶.      یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آتے تو یہ کہتے کہ، کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے ان کو نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور اللہ نے بھی بے پروائی کی اور اللہ بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے۔

۷.      جو لوگ کافر ہیں ان کو یقین ہے کہ وہ دوبارہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرما دیں کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو جو کام تم کرتے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

۸.      تو اللہ اور اس کے رسول پر اور قرآن جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

۹.      جس دن وہ تمہیں اکٹھا کرنے کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور بہشت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

۱۰.     اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔

۱۱.     کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے

۱۲.     اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

۱۳.     اللہ جو برحق معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

۱۴.     مومنو! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے

۱۵.     تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے

۱۶.     سو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کو سنو اور اس کے فرمانبردار رہو اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہا رے حق میں بہتر ہے اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

۱۷.     اگر تم اللہ کو خلوص اور نیک نیت سے قرض دو گے تو وہ تم کو اس سے دگنا دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا۔ اللہ قدر شناس اور بردبار ہے۔

۱۸.     پوشیدہ اور ظاہر کا جا ننے والا غالب اور حکمت والا۔

۶۵۔ سورۃ الطلاق

۱.      (اے پیغمبرﷺ!) مسلمانوں سے فرما دیں کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے جو تمہارا رب ہے۔ اس سے ڈرو۔ نہ تو تم ان کو (عدت کے دوران) گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بے حیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدود ہیں جو اللہ کی حدوں سے نکلے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم کہ شاید اللہ اس کے بعد رجعت کی کوئی صورت پیدا کر دے

۲.      پھر جب وہ اپنی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح زوجیت میں رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کرو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ بنا لو اور اللہ کے لیے درست گواہی دو۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے (رنج و پریشانی سے) نجات کی صورت پیدا کر دے گا

۳.      اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو گا، اور جو اللہ پر بھروسہ رکھے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے اللہ جو کام کرنا چاہتا ہے پورا کر دیتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

۴.      اور تمہاری عورتیں جو حیض سے نا امید ہو چکی ہوں اگر تم کو ان کی عدت کے بارے میں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا ان کی عدت بھی یہی ہے اور حمل والی عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے کام میں سہولت پیدا کر دے گا

۵.      یہ اللہ کے حکم ہیں جو اس نے تم پر نازل کیے ہیں اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا،

۶.      مطلقہ عورتوں کو عدت کے دوران اپنی حیثیت کے مطابق اپنے پاس ہی رکھو اور ان کو تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ دو، اگر حمل سے ہوں تو بچہ پیدا کرنے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ تمہارے کہنے سے بچہ کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کی اجرت دو اور بچے کے بارے میں آپس میں پسندیدہ طریقہ اختیار کرو اور اگر آپس میں ضد اور نا اتفاقی کرو گے تو پھر بچے کو باپ کے کہنے پر کوئی دوسری عورت دودھ پلائے۔

۷.      امیر کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جو غریب ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق۔ (خوش دلی سے) خرچ کرے۔ اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جتنی استطاعت اللہ نے اس کو دی ہو۔ اور اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔

۸.      اور بہت سی بستیوں کے رہنے والوں نے اپنے رب اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر ایسا عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

۹.      سو انہوں نے اپنے کاموں کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا

۱۰.     اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ نے تمہارے پاس نصیحت کی کتاب بھیجی ہے۔

۱۱.     اور اپنے پیغمبر بھی بھیجے ہیں جو تمہارے سامنے کھول کر سنانے والی اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ اور جو شخص ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ان کو بہشتوں کے باغوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیجے نہریں بہہ رہی ہیں وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اللہ نے ان کو خوب رزق دیا ہے

۱۲.     اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں اللہ کے حکم اترتے رہتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ اللہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

۶۶۔ سورۃ التحریم

۱.      (اے پیغمبرﷺ!) جو چیز اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے آپ اسے حرام کیوں کرتے ہو؟ کیا اس سے اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۲.      اللہ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ ہی تمہارا کار ساز ہے اور وہ دانا اور حکمت والا ہے

۳.      اور یاد کرو جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہہ دی تو اس نے دوسری کو بتا دی جب اس نے اس کو افشا کیا اور اللہ نے پیغمبرﷺ کو اس بات سے آگاہ کیا تو پیغمبرﷺ نے ان بیوی کو وہ بات کچھ تو جتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ، آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ، مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبر دار ہے

۴.      اگر تم دونوں اللہ کے آگے توبہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں کجی آ گئی ہے اور اگر پیغمبر کی ایذا پر دونوں چڑھائی کرو گی تو اللہ، جبرائیل، اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی و مددگار ہیں اور ان کے علاوہ اور فرشتے بھی مددگار ہیں

۵.      اگر پیغمبرتم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا رب تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیویاں دے دے، مسلمان ایماندار، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے رکھنے والیاں، بن شوہر اور کنواریاں۔

۶.      مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش جہنم سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے پورا کرتے ہیں۔

۷.      کافرو! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے ہو انہی کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔

۸.      مومنو! اللہ کے آگے صاف دل سے توبہ کرو، امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو جنت کے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی داخل کرے گا۔ اس دن اللہ پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور (ایمان) ان کے آگے اور داہنی طرف روشنی کرتا ہوا چل رہا ہو گا اور وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

۹.      اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔

۱۰.     اللہ نے کافروں کے لیے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں۔ اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان دونوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔

۱۱.     اور مومنوں کے لیے ایک مثال تو فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے اللہ سے التجا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے بچا نکال اور ظالم لوگوں سے مجھے نجات دے

۱۲.     اور دوسری عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور وہ اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں

۶۷۔ سورۃ الملک

۱.      وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲.      اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے وہ زبردست اور بخشنے والا ہے۔

۳.      اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے اے دیکھنے والے! کیا تو اللہ رحمن کی تخلیقات میں کوئی فرق دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟

۴.      پھر دوبارہ سہ بارہ نظر کر تو نظر ہر بار تمہارے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔

۵.      اور ہم نے قریب کے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۶.      اور جن لوگوں نے اپنے رب سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

۷.      جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی

۸.      گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت۔ (گروہ) ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟

۹.      وہ کہیں گے کیوں نہیں ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی تم تو بڑی غلطی میں پڑے ہوئے ہو

۱۰.     اور کہیں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

۱۱.     پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے۔ سو دوزخیوں کے لیے رحمت خدا سے دوری ہے

۱۲.     اور جو لوگ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

۱۳.     اور تم لوگ بات چھپا کر کہو یا اعلانیہ کہو وہ دل کے بھید تک سے واقف ہے

۱۴.     بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔

۱۵.     وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کیا تم اس کی راہوں میں چلو پھر و اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور تم کو قبروں سے نکل کر اسی کے پاس جانا ہے

۱۶.     کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بے خوف ہو؟ کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

۱۷.     کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے ڈرتے نہیں؟ کہ تم پر پتھروں کی (بارش) ہوا چلا دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔

۱۸.     اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا ہوا

۱۹.     کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلاتے ہیں کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں اللہ کے سوا ان کو کوئی تھام نہیں سکتا بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

۲۰.     بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر اللہ کے سوا تمہاری مدد کر سکے کافر تو دھوکے میں ہیں۔

۲۱.     بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کر لے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

۲۲.     بھلا وہ شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو۔

۲۳.     وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم احسان مانتے ہو۔

۲۴.     فرما دیں کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے سامنے تم جمع کئے جاؤ گے

۲۵.     اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب پوری ہو گی؟

۲۶.     فرما دیں کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں

۲۷.     سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ وعدہ قریب آ گیا تو کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جسے تم مانگ رہے تھے

۲۸.     کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟

۲۹.     فرما دیں کہ جو رب رحمن ہے ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تم کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

۳۰.     فرما دیں کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور استعمال کرتے ہو) اگر خشک ہو جائے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہارے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بہا لائے؟

۶۸۔ سورۃ القلم

۱.      ن۔ (حروف مقطعات میں سے ہے) قسم ہے قلم کی اور جو لکھتے ہیں اس کی قسم

۲.      کہ (اے نبیﷺ!) تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

۳.      اور آپ کے لیے بے انتہا اجر ہے

۴.      اور آپ کے اخلاق بڑے بلند ہیں

۵.      سو عنقریب آپ بھی دیکھ لو گے اور یہ کافر بھی دیکھ لیں گے

۶.      کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔

۷.      تمہارا رب اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں

۸.      تو آپ جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

۹.      یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہو جائیں

۱۰.     اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آ جانا جو قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے۔

۱۱.     طعنہ دینے اور چغلی کھانے والا

۱۲.     مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بد کار

۱۳.     سخت خو اور بد نام بھی

۱۴.     اس واسطے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

۱۵.     جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

۱۶.     ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

۱۷.     ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

۱۸.     اور انشاء اللہ نہ کہا۔

۱۹.     سو ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے راتوں رات اس پر ایک آفت پھر گئی۔

۲۰.     تو وہ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔

۲۱.     صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

۲۲.     اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔

۲۳.     تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

۲۴.     کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

۲۵.     اور کوشش کر کے سویرے ہی جا پہنچے گویا کھیتی پر قدرت رکھتے ہیں۔

۲۶.     جب باغ کو دیکھا تو ویران کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں

۲۷.     نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی ہے

۲۸.     ایک جو ان میں درمیانہ تھا بولا کیا میں نے تم سے نہیں بولا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے

۲۹.     تب وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے۔

۳۰.     پھر ایک دوسرے کی طرف الزام دھرنے لگے۔

۳۱.     کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

۳۲.     امید ہے کہ ہمارا رب اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے گا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

۳۳.     دیکھو عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

۳۴.     پرہیز گاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔

۳۵.     کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح نعمتوں سے محروم کر دیں گے

۳۶.     تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسی تجویزیں کرتے ہو؟

۳۷.     کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں یہ پڑھتے ہو؟۔

۳۸.     کہ جو چیز تم پسندکرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی

۳۹.     یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لیے حاضر ہو گی

۴۰.     ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے

۴۱.     کیا اس قول میں ان کے اور بھی شریک ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لاسامنے کریں

۴۲.     جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا اور کفار سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے

۴۳.     ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہو گی حالانکہ پہلے سجدے کے لیے بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے

۴۴.     تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو گی

۴۵.     اور میں ان کو مہلت دئیے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے

۴۶.     کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

۴۷.     یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ اسے لکھتے جاتے ہیں

۴۸.     تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی کا لقمہ ہونے والے یونسؑ کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے اللہ کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

۴۹.     اگر تمہارے رب کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دئیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہو جاتا۔

۵۰.     پھر رب العزت نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکو کاروں میں کر لیا۔

۵۱.     اور کفار جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

۵۲.     اور لوگو! یہ قرآن تو اہل عالم کے لیے نصیحت ہے

۶۹۔ سورۃ الحاقۃ

۱.      وہ سچ مچ ہونے والی

۲.      وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟

۳.      اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟۔

۴.      وہی کھڑکھڑانے والی جس کو ثمود اور عاد دونوں نے جھٹلایا۔

۵.      سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کر دئیے گئے۔

۶.      تو عاد کا نہایت تیز آندھی سے ستیا ناس کر دیا گیا

۷.      اللہ نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگا تار چلائے رکھا تو اے مخاطب تو ان کو اس میں اس طرح ڈھئے اور مرے پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے

۸.      بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے

۹.      فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

۱۰.     انہوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی تو اللہ نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا۔

۱۱.     جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لوگوں کو کشتی پر سوار کر لیا

۱۲.     تا کہ اس کو تمہارے لیے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں

۱۳.     تو جب صور میں ایک بار پھونک مار دی جائے گی

۱۴.     زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لیے جائیں گے پھر انہیں ایک ہی دفعہ (یکدم) کوٹ دیا جائے گا۔

۱۵.     تو اس روز ہو جانے والی، یعنی قیامت (بپا) ہو جائے گی

۱۶.     اور آسمان پھٹ جائے گا پھر وہ اس دن کمزور ہو جائے (بکھر جائے) گا

۱۷.     اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے اور تمہارے رب کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے

۱۸.     اس روز تم سب لوگوں کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی

۱۹.     تو جس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ دوسروں سے کہے گا کہ لیجیے میرا اعمال نامہ پڑھیں

۲۰.     مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب کتاب ضرور ملے گا

۲۱.     پس وہ شخص من مانے عیش میں ہو گا

۲۲.     یعنی اونچے اونچے محلوں کے باغ میں

۲۳.     جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

۲۴.     جو عمل تم گزرے ہوئے دنوں کے بھیج چکے اس کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

۲۵.     اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا

۲۶.     اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے

۲۷.     اے کاش موت ہمیشہ کے لیے میرا کام تمام کر چکی ہوتی

۲۸.     آج میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا

۲۹.     ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی

۳۰.     حکم ہو گا کہ اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو۔

۳۱.     پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو۔

۳۲.     پھر زنجیر سے جس کی لمبائی ستر گز ہے جکڑ دو

۳۳.     یہ نہ تو اللہ جل شانہ پر ایمان لاتا تھا

۳۴.     اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔

۳۵.     سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوست دار نہیں۔

۳۶.     اور نہ پیپ کے سوا اس کے لیے کھانا ہے۔

۳۷.     جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

۳۸.     تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

۳۹.     اور ان کی جو نظر نہیں آتیں۔

۴۰.     کہ یہ قرآن فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

۴۱.     اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم لوگ بہت کم ہی ایمان لائے ہو

۴۲.     اور نہ کسی کاہن کے اقوال ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو

۴۳.     یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔

۴۴.     اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔

۴۵.     تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

۴۶.     پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

۴۷.     پھر تم میں سے کوئی ہمیں روکنے والا نہ ہوتا

۴۸.     اور یہ کتاب تو پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔

۴۹.     اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلانے والے ہیں

۵۰.     نیز یہ کافروں کے لیے موجب حسرت ہے۔

۵۱.     اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے۔

۵۲.     سو تم اپنے رب عز و جل کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔

۷۰۔ سورۃ المعارج

۱.      ایک مانگنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا۔

۲.      یعنی کافروں پر اور کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا۔

۳.      اور اللہ صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہو گا)۔

۴.      جس کی طرف روح الامین اور فرشتے چڑھتے ہیں اور اس روز (نازل ہو گا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہو گا

۵.      تو تم کفار کی باتوں کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو

۶.      وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں دور ہے

۷.      اور ہماری نظر میں قریب

۸.      جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔

۹.      اور پہاڑ ایسے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون

۱۰.     اور کوئی دوست کسی کا پُرسان نہ ہو گا

۱۱.     حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے اس روز گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی، اپنے بیٹے۔

۱۲.     اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی۔

۱۳.     اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا

۱۴.     اور جتنے آدمی زمین پر ہیں غرض سب کچھ دے دے اور خود کو عذاب سے چھڑا لے

۱۵.     لیکن ایسا ہرگز نہ ہو گا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے

۱۶.     کھال ادھیڑ ڈالنے والی۔

۱۷.     ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے دین حق سے اعراض کیا اور منہ پھیر لیا

۱۸.     مال جمع کیا اور بند کر رکھا

۱۹.     کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے

۲۰.     جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

۲۱.     اور جب آسائش ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

۲۲.     مگر نماز گزار۔

۲۳.     جو باقاعدہ نماز پڑھتے ہیں

۲۴.     اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

۲۵.     یعنی مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کا

۲۶.     اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں

۲۷.     اور جو اپنے رب کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں

۲۸.     بیشک ان کے رب کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بے خوف نہ ہوا جائے

۲۹.     اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

۳۰.     مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ ان کے پاس جانے پر انہیں کچھ ملامت نہیں

۳۱.     اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

۳۲.     اور جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا پاس رکھتے ہیں

۳۳.     اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں

۳۴.     اور جو اپنی نماز کو ہمیشہ پڑھتے ہیں

۳۵.     یہی لوگ بہشت کے باغوں میں عزت و اکرام سے ہوں گے

۳۶.     تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں

۳۷.     اور دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر جمع ہوتے جاتے ہیں

۳۸.     کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا؟

۳۹.     ہر گز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

۴۰.     ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

۴۱.     اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں

۴۲.     تو (اے پیغمبر!) ان کو باطل میں پڑے رہنے دو اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا وعدہ ان سے کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو

۴۳.     اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے۔ (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں

۴۴.     ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

۷۱۔ سورۃ نوح

۱.      ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ بیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب نازل ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو

۲.      انہوں نے کہا کہ بھائیو! میں تمہیں کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

۳.      کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

۴.      وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور موت کے مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے۔

۵.      جب لوگوں نے نہ مانا تو نوحؑ نے اللہ سے دعا کی کہ اے رب میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

۶.      لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گریز کرتے رہے۔

۷.      جب میں نے ان کو بلایا کہ توبہ کرو اور تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لیے اڑ گئے اور بڑا غرور کیا

۸.      پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا۔

۹.      ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

۱۰.     اور کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

۱۱.     وہ تم پر آسمان سے مینہ برسائے گا

۱۲.     مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لیے نہریں بہا دے گا

۱۳.     تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

۱۴.     حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح کی حالتوں میں پیدا کیا ہے۔

۱۵.     کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

۱۶.     اور چاند کو ان میں زمین کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے

۱۷.     اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

۱۸.     پھر اسی میں تمہیں لوٹا دے گا اور اسی سے تم کو نکال کھڑا کرے گا

۱۹.     اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا

۲۰.     تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ رستوں پر چلو پھرو

۲۱.     (اس کے بعد) نوحؑ نے عرض کی کہ میرے رب! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

۲۲.     اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

۲۳.     اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔

۲۴.     پروردگار انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا تو تو ان کو اور گمراہ کر دے

۲۵.     آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرق کر دیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے اللہ کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

۲۶.     اور پھر نوحؑ نے یہ دعا کی کہ میرے رب کسی کافر کو روئے زمین پر بستا نہ رہنے دے

۲۷.     اگر تو ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہو گی وہ بھی بد کار اور نا شکر گزار ہو گی

۲۸.     اے میرے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا

۷۲۔ سورۃ الجن

۱.      (اے پیغمبر!) لوگوں سے کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے اس کتاب کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

۲.      جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

۳.      اور یہ کہ ہمارے رب کی عظمت، شان بہت بڑی ہے وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد۔

۴.      اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف اللہ کے بارے میں جھوٹ افترا کرتے ہیں

۵.      اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن اللہ کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

۶.      اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے اس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی۔

۷.      اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں جلائے گا۔

۸.      اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

۹.      اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات پر خبریں سننے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے۔

۱۰.     اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کے لئے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

۱۱.     اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

۱۲.     اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا ہے کہ ہم زمین میں خواہ کہیں ہوں اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں

۱۳.     اور جب ہم نے ہدایت کی کتاب سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے، نہ ظلم کا

۱۴.     اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض نافرمان گناہ گار ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔

۱۵.     اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

۱۶.     (اور اے پیغمبرﷺ! یہ بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے

۱۷.     تا کہ اس سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

۱۸.     اور یہ کہ مسجدیں خاص اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

۱۹.     اور جب اللہ کے بندے (محمدﷺ) اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کر لینے کو تھے

۲۰.     کہہ دو کہ میں تو اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

۲۱.     یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نفع اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

۲۲.     یہ بھی کہہ دو کہ اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی بچا نہیں سکتا اور میں اس کے سوا کہیں پناہ کی جگہ نہیں دیکھتا

۲۳.     ہاں اللہ کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا ہی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

۲۴.     یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ دن دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

۲۵.     کہہ دو کہ جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ عنقریب آنے والا ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کر دی ہے

۲۶.     وہی غیب کی بات جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔

۲۷.     ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اس کے آگے اور اس کے پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے

۲۸.     تا کہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دئیے ہیں۔ اور یوں تو اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

۷۳۔ سورۃ المزمل

۱.      (اے نبیﷺ!) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

۲.      رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

۳.      یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

۴.      یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

۵.      ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔

۶.      کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا نفس کو خوب کچل دیتا ہے اور بات کو بہت درست کر دیتا ہے

۷.      دن میں تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

۸.      تو اپنے رب کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ

۹.      وہی مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بناؤ۔

۱۰.     اور جو جو دل آزار باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان کو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو۔

۱۱.     اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولت مند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو

۱۲.     کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے

۱۳.     کانٹے دار کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب ہے

۱۴.     جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ایسے بھربھرے گویا ریت کے ٹیلے ہو جائیں

۱۵.     (اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس موسیٰؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اسی طرح تمہارے پاس بھی رسول بھیجے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہوں گے

۱۶.     سو فرعون نے ہمارے پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا

۱۷.     اگر تم بھی ان پیغمبر کو نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

۱۸.     اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا یہ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا

۱۹.     یہ قرآن تو نصیحت ہے سو جو چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

۲۰.     تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور اللہ تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نبھا نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی پس جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض اللہ کے فضل یعنی معاش کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو نیک اور خلوص نیت سے قرض دیتے رہو اور جو عمل نیک تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں زیادہ پاؤ گے اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۷۴۔ سورۃ المدثر

۱.      اے کپڑے میں لپٹے ہوئے

۲.      اٹھو اور ہدایت کر دو

۳.      اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو

۴.      اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔

۵.      اور ناپاکی سے دور رہو۔

۶.      اور اس نیت سے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

۷.      اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔

۸.      جب صور پھونکا جائے گا۔

۹.      وہ دن مشکل کا دن ہو گا

۱۰.     یعنی کافروں پر آسان نہ ہو گا

۱۱.     ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

۱۲.     اور مال کثیر دیا۔

۱۳.     اور ہر وقت اس کے پاس حاضر رہنے والے بیٹے دئیے۔

۱۴.     اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی۔

۱۵.     ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں۔

۱۶.     ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔۔ یہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے۔

۱۷.     ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

۱۸.     اس نے فکر کی اور تجویز کی۔

۱۹.     یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔

۲۰.     پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

۲۱.     پھر تامل کیا

۲۲.     پھر تیوڑی چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

۲۳.     پھر پشت پھیر کر چلا اور قبول حق سے غرور کیا

۲۴.     پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے

۲۵.     پھر بولا یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔

۲۶.     ہم عنقریب اس کو آگ میں ڈالیں گے

۲۷.     اور تم کیا سمجھے کہ آگ کیا ہے

۲۸.     (وہ آگ ہے) کہ نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے

۲۹.     اور بدن کو جھلس کر سیاہ کر دے گی

۳۰.     اس پر داروغہ ہیں

۳۱.     اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے اور اس لیے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا یقین اور زیادہ بڑھے اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لیے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور جو کافر ہیں کہیں کہ اس مثال کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا مقصد ہے۔ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بنی آدم کے لیے نصیحت ہے۔

۳۲.     ہاں ہاں ہمیں چاند کی قسم

۳۳.     اور رات کو جب پیٹھ پھیرنے لگے

۳۴.     اور صبح کی جب روشن ہو

۳۵.     کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے

۳۶.     اور بنی آدم کے لیے خوف کا موجب ہے

۳۷.     جو کوئی تم میں سے آگے بڑھے یا پیچھے رہے

۳۸.     ہر ایک اپنے کئے ہوئے کاموں میں پھنسا ہے

۳۹.     مگر داہنی طرف والے نیک لوگ

۴۰.     کہ وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے اور پوچھتے ہوں گے۔

۴۱.     یعنی آگ میں جلنے والے گنہگاروں سے

۴۲.     کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ہو؟

۴۳.     وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے

۴۴.     اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے

۴۵.     اور اہل باطل کے ساتھ مل کر حق سے انکار کرتے تھے

۴۶.     اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے

۴۷.     یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔

۴۸.     تو اس حال میں سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی

۴۹.     ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں

۵۰.     گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں

۵۱.     یعنی شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں

۵۲.     اصل میں ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے

۵۳.     ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں

۵۴.     کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے

۵۵.     تو جو چاہے اسے یاد رکھے۔

۵۶.     اور یاد بھی تبھی رکھیں گے جب اللہ چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے

۷۵۔ سورۃ القیامۃ

۱.      ہم کو روز قیامت کی قسم

۲.      اور قسم ہے نفس لوامہ کی کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے

۳.      کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی بکھری ہوئی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے

۴.      ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کر دیں گے

۵.      مگر انسان چاہتا ہے کہ ہمیشہ خود سری سے کام لے

۶.      پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہو گا؟

۷.      جب آنکھیں چندھیا جائیں

۸.      اور چاند گہنا جائے

۹.      سورج اور چاند جمع کر دئیے جائیں

۱۰.     اس دن انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ جاؤں؟

۱۱.     بیشک کہیں پناہ نہیں

۱۲.     اس دن اللہ کے پاس ہی ٹھکانا ہے

۱۳.     اس دن انسان نے جو عمل آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دئیے جائیں گے

۱۴.     بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

۱۵.     اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

۱۶.     اور (اے نبیﷺ!) وحی کے پڑھنے کے لیے زبان کو حرکت نہ دیا کرو کہ اس کو جلدی یاد کر لو۔

۱۷.     آپﷺ کے سینہ میں اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

۱۸.     جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اس کو سنا کرو اور پھر اسی طرح پڑھا کرو۔

۱۹.     پھر اس کے معنی کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے

۲۰.     مگر لوگو! تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

۲۱.     اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

۲۲.     اس روز بہت سے منہ تازہ ہوں گے

۲۳.     اپنے رب کی طرف دیکھنے والے

۲۴.     اور بہت سے چہرے اس دن اداس ہوں گے

۲۵.     وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت آنے والی ہے۔

۲۶.     دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے۔

۲۷.     اور لوگ کہنے لگیں اس وقت کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

۲۸.     اور اس نے سمجھا کہ اب جدائی کا وقت آ گیا

۲۹.     اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

۳۰.     اس دن تجھ کو اپنے رب کی طرف چلنا ہے

۳۱.     تو اس نے نہ یقین کیا اور نہ نماز پڑھی

۳۲.     بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا

۳۳.     پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

۳۴.     افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

۳۵.     پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

۳۶.     کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟۔

۳۷.     کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟

۳۸.     پھر لوتھڑا ہوا پھر اللہ نے اس کو بنایا پھر اس کے اعضاء کو درست کیا۔

۳۹.     پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

۴۰.     کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے

۷۶۔ سورۃ الانسان

۱.      بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

۲.      ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا

۳.      اور اسے راہ بھی دکھا دی اب وہ چاہے شکر گزار ہو چاہے ناشکرا

۴.      ہم نے کفار کے لیے زنجیریں طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

۵.      جو نیک لوگ ہیں وہ ایسی شراب پئیں گے جس میں کافور ملا ہو گا

۶.      یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے بندے پئیں گے اور اس میں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال لیں گے۔

۷.      یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہو گی خوف رکھتے ہیں

۸.      اس کے باوجود کہ ان کو خود کھانے کی ضرورت ہے مگر یہ فقیروں یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

۹.      اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض اللہ کے واسطے کھلاتے ہیں نہ تم سے معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری کے خواہش مند ہیں۔

۱۰.     ہمیں اپنے رب سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو چہروں کو خراب اور دل کو سخت پریشان کر دینے والا ہے۔

۱۱.     تو اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا۔

۱۲.     ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم کے ملبوسات عطا کر دے گا۔

۱۳.     ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ کی تپش ہو گی نہ سردی کی شدت

۱۴.     پھلوں سے بھری ٹہنیاں اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

۱۵.     خدام چاندی کے پیالے لئے ہوئے ان کے ارد گرد پھر رہے ہوں گے اور شیشے کے نہایت شفاف گلاس

۱۶.     شیشے اور چاندی کے جو بڑے اندازے سے بھرے ہوئے ہوں گے۔

۱۷.     اور ان کو ایسی شراب بھی پلائی جائے گی جس میں سونٹھ ملی ہوئی ہو گی

۱۸.     یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

۱۹.     اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جب تم ان کو دیکھو تو ایسے ہوں جیسے بکھرے ہوئے موتی۔

۲۰.     اور بہشت میں جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت دیکھو گے

۲۱.     ان کے جسموں پر دیبا و حریر کے سبز کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو بہترین پاکیزہ شراب پلائے گا

۲۲.     یہ تمہاری کوشش اور صلہ اللہ کے ہاں مقبول ہوا

۲۳.     ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

۲۴.     تو اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی گناہ گار ناشکرے کا کہا نہ مانو۔

۲۵.     اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو

۲۶.     اور رات کو رات گئے تک اپنے رب کے آگے سجدے کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

۲۷.     یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں

۲۸.     ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم جب چاہیں انہی کی طرح ان کے بدلے میں اور لے آئیں

۲۹.     یہ تو نصیحت ہے جو چاہے اپنے رب کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے۔

۳۰.     اور تم بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

۳۱.     جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

۷۷۔ سورۃ المرسلات

۱.      ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیں

۲.      پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہو جاتی ہیں۔

۳.      بادلوں کو پھاڑ کر پھیلا دیتی ہیں

۴.      ان کو پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں۔

۵.      پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں

۶.      تاکہ عذر دور ہو اور ڈر سنایا جائے

۷.      کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گا

۸.      جب تاروں کی چمک جاتی رہے

۹.      اور جب آسمان پھٹ جائے

۱۰.     اور جب پہاڑ اڑتے پھریں

۱۱.     اور جب پیغمبروں کا وقت مقرر ہو جائے

۱۲.     بھلا ان کاموں میں تاخیر کس لیے کی گئی؟

۱۳.     فیصلے کے دن کے لیے

۱۴.     اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے۔

۱۵.     اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے

۱۶.     کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا؟

۱۷.     پھر ان پچھلوں کو بھی ان کے پیچھے بھیج دیتے ہیں

۱۸.     ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں

۱۹.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۲۰.     کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟

۲۱.     پہلے اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا

۲۲.     ایک معین وقت تک

۲۳.     پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں

۲۴.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔

۲۵.     کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا

۲۶.     یعنی زندہ اور مردوں کو

۲۷.     اور اس پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دئیے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا

۲۸.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۲۹.     جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو

۳۰.     یعنی اس سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں

۳۱.     نہ ٹھنڈی چھاؤں اور نہ لپٹ سے بچاؤ۔

۳۲.     اس سے آگ کی اتنی بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل

۳۳.     گویا زرد رنگ کے اونٹ ہیں

۳۴.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۳۵.     یہ وہ دن ہے کہ لوگ لب تک نہ ہلا سکیں گے

۳۶.     اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر کر سکیں

۳۷.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۳۸.     یہی فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے

۳۹.     اگر تم کو کوئی داؤ آتا ہو تو مجھ سے کر لو

۴۰.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۴۱.     بیشک پرہیز گار سایوں اور چشموں میں ہوں گے

۴۲.     اور میوے جو ان کو پسند ہوں

۴۳.     جو عمل تم کرتے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ پیؤ۔

۴۴.     ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

۴۵.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۴۶.     اے جھٹلانے والو! تم کسی قدر کھالو اور فائدے اٹھا لو تو تم بیشک گنہگار ہو

۴۷.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۴۸.     اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکو تو جھکتے نہیں

۴۹.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۵۰.     اب اس کے بعد یہ کونسی بات پر ایمان لائیں گے؟

۷۸۔ سورۃ النباء

۱.      یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں

۲.      کیا بڑی خبر کے بارے میں؟

۳.      جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

۴.      دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

۵.      پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

۶.      کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟

۷.      اور پہاڑوں کو (اس کی) میخیں نہیں ٹھہرایا؟

۸.      بیشک بنایا اور تم کو جوڑا جوڑا بھی بنایا

۹.      اور نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا۔

۱۰.     اور رات کو پردہ مقرر کیا

۱۱.     اور دن کو محنت کمائی کا ذریعہ بنا دیا

۱۲.     اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے

۱۳.     اور آفتاب کا روشن چراغ بنایا۔

۱۴.     اور بھر پور بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا

۱۵.     تا کہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

۱۶.     اور گھنے گھنے باغ

۱۷.     بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے

۱۸.     جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ گروہ در گروہ چلے آؤ گے

۱۹.     اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہو جائیں گے

۲۰.     اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

۲۱.     بیشک دوزخ گھات میں ہے۔

۲۲.     یعنی سرکشوں کا وہی ٹھکانا ہے

۲۳.     اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔

۲۴.     وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ کچھ پینا نصیب ہو گا

۲۵.     مگر گرم پانی اور بہتی پیپ

۲۶.     یہ پورا پورا بدلہ ہے

۲۷.     یہ لوگ آخرت کے حساب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

۲۸.     اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے

۲۹.     اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے۔

۳۰.     سو اب مزہ چکھو ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے

۳۱.     بیشک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے

۳۲.     یعنی باغ اور انگور

۳۳.     اور ہم عمر نوجوان عورتیں

۳۴.     اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس

۳۵.     وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ خرافات

۳۶.     یہ بدلہ ہو گا تیرے رب سے حساب سے دیا ہوا

۳۷.     وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے۔ بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کی ہمت نہ ہو گی

۳۸.     جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو اللہ رحمن اجازت بخشے اور جو ٹھیک بات بولے۔

۳۹.     یہ دن برحق ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے

۴۰.     ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان اعمال کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

۷۹۔ سورۃ النازعات

۱.      ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

۲.      اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

۳.      اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

۴.      پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

۵.      پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں

۶.      کہ وہ دن آ کر رہے گا جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

۷.      پھر اس کے پیچھے اور بھونچال آئے گا

۸.      اس دن لوگوں کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

۹.      اور آنکھیں جھکی ہوئی

۱۰.     (کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے؟

۱۱.     بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے تو پھر زندہ کئے جائیں گے؟

۱۲.     کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو پھر نقصان کا ہے

۱۳.     وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہو گی

۱۴.     اس وقت وہ سب میدان حشر میں آ جمع ہوں گے

۱۵.     بھلا تم کو موسیٰؑ کی حکایت پہنچی ہے؟

۱۶.     جب ان کے رب نے ان کو پاک میدان طویٰ میں پکارا

۱۷.     اور حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

۱۸.     اور اس سے کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے

۱۹.     اور میں تجھے تیرے رب کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھے خوف پیدا ہو

۲۰.     غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

۲۱.     مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔

۲۲.     پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

۲۳.     لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارا

۲۴.     کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

۲۵.     تو اللہ نے اس کو دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑ لیا۔

۲۶.     جو شخص اللہ سے ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس میں عبرت ہے

۲۷.     بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

۲۸.     اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کر دیا

۲۹.     اسی نے رات تاریک بنائی اور دن کو دھوپ نکالی

۳۰.     اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

۳۱.     اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارہ اگایا

۳۲.     اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

۳۳.     یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے کیا

۳۴.     تو جب بڑی آفت آئے گی

۳۵.     اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

۳۶.     اور دوزخ دیکھنے والوں کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی

۳۷.     تو جس نے سرکشی کی

۳۸.     اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

۳۹.     اس کا ٹھکانا دوزخ ہے

۴۰.     اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا

۴۱.     اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔

۴۲.     اے پیغمبر! لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی؟

۴۳.     سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو؟

۴۴.     اس کے آنے کا وقت تمہارے رب کو ہی معلوم ہے۔

۴۵.     جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

۴۶.     جب وہ اس کو دیکھیں گے تو ایسا سوچیں گے کہ گویا دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے

۸۰۔ سورۃ عبس

۱.      وہ (نبیﷺ) ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

۲.      کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

۳.      اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے

۴.      یا سوچتا تو سمجھانا تیرا اس کے کام آتا

۵.      جو پرواہ نہیں کرتا

۶.      اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

۷.      حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ الزام نہیں

۸.      اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

۹.      اور اللہ سے ڈرتا ہے۔

۱۰.     اس سے تم بے رخی کرتے ہو

۱۱.     دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے

۱۲.     پس جو چاہے اسے یاد رکھے

۱۳.     قابل ادب ورقوں میں لکھا ہوا

۱۴.     جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں

۱۵.     ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں

۱۶.     جو سردار اور نیکو کار ہیں

۱۷.     انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے

۱۸.     اسے اللہ نے کس چیز سے بنایا

۱۹.     نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

۲۰.     پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا

۲۱.     پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کروایا

۲۲.     پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

۲۳.     کچھ شک نہیں کہ اللہ نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا

۲۴.     تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

۲۵.     بیشک ہم ہی نے پانی برسایا

۲۶.     پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

۲۷.     پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

۲۸.     اور انگور اور ترکاری

۲۹.     اور زیتون اور کھجوریں

۳۰.     اور گھنے گھنے باغ

۳۱.     میوے اور چارا

۳۲.     یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

۳۳.     تو جب قیامت کا غل مچے گا

۳۴.     اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

۳۵.     اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

۳۶.     اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے

۳۷.     ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے مصروفیت کے لیے بس کرے گی

۳۸.     اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

۳۹.     خوش باش۔ (ہنستے مسکراتے) یہ نیکو کار ہیں

۴۰.     اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی

۴۱.     اور سیاہی چڑھ رہی ہو گی۔

۴۲.     یہ کفار بد کردار ہیں۔

۸۱۔ سورۃ التکویر

۱.      جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

۲.      جب تارے بے نور ہو جائیں گے

۳.      اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

۴.      اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی

۵.      اور جب وحشی جانور سمیٹ کر جمع کئے جائیں گے

۶.      اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

۷.      اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی

۸.      اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا

۹.      کہ وہ کس گناہ پر مار دی گئی

۱۰.     اور جب عملوں کے دفتر کھولے جائیں گے

۱۱.     اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

۱۲.     اور جب دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی

۱۳.     اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

۱۴.     تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

۱۵.     ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹتے ہیں

۱۶.     اور جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

۱۷.     اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

۱۸.     اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

۱۹.     کہ بیشک یہ قرآن فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

۲۰.     جو صاحب عرش قوت والے کے ہاں اونچے درجہ والا ہے

۲۱.     سردار اور امانت دار ہے

۲۲.     اور مکہ والو! تمہارے رفیق (محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں

۲۳.     بیشک انہوں نے اس فرشتے کو آسمان کے کھلے یعنی شرقی کنارے پر دیکھا ہے

۲۴.     اور وہ پوشیدہ باتوں کے ظاہر کرنے میں بخیل نہیں

۲۵.     اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

۲۶.     پھر تم کدھر جا رہے ہو

۲۷.     یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے

۲۸.     یعنی اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

۲۹.     اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ رب العالمین چاہے

۸۲۔ سورہ الانفطار

۱.      جب آسمان پھٹ جائے گا

۲.      اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔

۳.      اور جب دریا بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے

۴.      اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی

۵.      تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

۶.      اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکہ میں ڈال دیا؟

۷.      وہی تو ہے جس نے تمہیں بنایا اور تیرے اعضاء کو ٹھیک کیا اور تیرے بدن کو مناسب رکھا

۸.      اور جس صورت میں چاہا تمہیں جوڑ دیا

۹.      مگر افسوس کہ تم لوگ جزا کے دن کو جھٹلاتے ہو

۱۰.     حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

۱۱.     عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے

۱۲.     جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں

۱۳.     بیشک نیکو کار نعمتوں کی بہشت میں ہوں گے

۱۴.     اور بد کردار دوزخ میں

۱۵.     یعنی جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

۱۶.     اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے

۱۷.     اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے

۱۸.     پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے

۱۹.     جس روز کوئی کسی کا کچھ بھلا نہ کر سکے گا۔ اور حکم اس روز اللہ ہی کا ہو گا

۸۳۔ سورۃ المطففین

۱.      ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے

۲.      جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

۳.      اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیں تو کم دیں

۴.      کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

۵.      یعنی ایک بڑے سخت دن میں

۶.      جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

۷.      سن لو کہ برے لوگوں کے اعمال سجین میں ہیں

۸.      اور تم کیا جانتے ہو کہ سجین کیا ہے

۹.      دفتر ہے لکھا ہوا

۱۰.     اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

۱۱.     یعنی جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

۱۲.     اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگا رہے

۱۳.     جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

۱۴.     دیکھو یہ جو اعمال بد کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔

۱۵.     بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب کے دیدار سے اوٹ میں ہوں گے

۱۶.     پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

۱۷.     پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلاتے تھے

۱۸.     یہ بھی سن رکھو کہ نیکو کاروں کے اعمال علیین میں ہیں

۱۹.     اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے

۲۰.     ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔

۲۱.     جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں

۲۲.     بیشک نیک لوگ چین سے ہوں گے

۲۳.     تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

۲۴.     تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے

۲۵.     ان کو شراب خالص سر بمہر پلائی جائے گی

۲۶.     جس کی مہر مشک پر ہو گی تو نعمتوں کے شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

۲۷.     اس میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہو گی

۲۸.     وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے مقرب پئیں گے

۲۹.     جو گنہگار یعنی کفار ہیں وہ دنیا میں مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

۳۰.     اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

۳۱.     اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

۳۲.     اور جب ان مومنوں کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں

۳۳.     حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

۳۴.     تو آج (روز آخر) مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

۳۵.     اور تختوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہوں گے

۳۶.     کیا کفار کو ان کے عملوں کا پورا پورا بدلہ مل گیا

۸۴۔ سورۃ الانشقاق

۱.      جب آسمان پھٹ جائے گا

۲.      اور اپنے رب کا حکم بجا لائے گا اور اسے یہی واجب بھی ہے

۳.      اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی

۴.      اور اپنے اندر سے سب کچھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائے گی

۵.      اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے تو قیامت واقع ہو جائے گی

۶.      اے انسان تو اپنے رب کی طرف پہنچنے میں خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا۔

۷.      تو جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

۸.      اس سے حساب کتاب لیا جائے گا

۹.      اور وہ اپنے لوگوں کے پاس خوش خوش آئے گا

۱۰.     اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا

۱۱.     وہ موت کو پکارے گا

۱۲.     اور دوزخ میں داخل ہو گا

۱۳.     یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا

۱۴.     اور سوچتا تھا کہ اللہ کی طرف پھر کر نہ جائے گا

۱۵.     کیوں نہیں! اس کا رب اس کو دیکھتا تھا

۱۶.     مجھے شام کی سرخی کی قسم

۱۷.     اور رات کی اور ان کی جو چیزیں اس میں سمٹ آتی ہیں

۱۸.     اور چاند کی جب پورا ہو جائے۔

۱۹.     کہ تم درجہ بدرجہ رتبہ عالی کو چڑھو گے

۲۰.     تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

۲۱.     اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔

۲۲.     بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

۲۳.     اور اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جن کو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں

۲۴.     تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

۲۵.     ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے

۸۵۔ سورۃ البروج

۱.      آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

۲.      اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

۳.      اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی

۴.      کہ خندقوں کے کھودنے والے ہلاک کر دئیے گئے

۵.      یعنی آگ کی خندقیں جن میں ایندھن جھونک رکھا تھا

۶.      جب کہ وہ ان کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے

۷.      اور جو سختیاں اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

۸.      ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور تعریفوں کے قابل ہے۔

۹.      جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے

۱۰.     جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا اور عذاب بھی ہو گا اور جلنے کا عذاب بھی ہو گا

۱۱.     اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

۱۲.     بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے

۱۳.     وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا

۱۴.     اور بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

۱۵.     عرش کا مالک بڑی شان والا

۱۶.     جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔

۱۷.     بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہے

۱۸.     یعنی فرعون اور ثمود کا

۱۹.     لیکن کافر جان بوجھ کر تکذیب میں گرفتار ہیں

۲۰.     اور اللہ بھی ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے

۲۱.     یہ (کتاب) قرآن بلند پایہ ہے

۲۲.     اس لوح محفوظ میں

۸۶۔ سورۃ الطارق

۱.      آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

۲.      اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے؟

۳.      وہ تارا ہے چمکنے والا۔

۴.      کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں۔

۵.      تو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے

۶.      وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

۷.      جو پیٹھ اور سینے کے درمیان میں سے نکلتا ہے۔

۸.      بیشک اللہ اس کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے

۹.      جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

۱۰.     تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا

۱۱.     آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے۔

۱۲.     اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے۔

۱۳.     کہ یہ کلام حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے

۱۴.     اور یہ کوئی ہنسی کی بات نہیں

۱۵.     یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں۔

۱۶.     اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں

۱۷.     تو تم کفار کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو

۸۷۔ سورۃ الاعلیٰ

۱.      اے پیغمبر اپنے رب اعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو

۲.      جس نے پیدا کیا پھر اس نے ٹھیک کیا

۳.      جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی

۴.      اور جس نے چارہ اگایا

۵.      پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا۔ (سیلاب میں تبدیل کر دیا)

۶.      ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے

۷.      مگر جو اللہ چاہے وہ کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی جانتا ہے

۸.      ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے

۹.      سو جہاں تک نصیحت کے فائدہ مند ہونے کی امید ہو نصیحت کرتے رہو۔

۱۰.     جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا

۱۱.     اور بے خوف بد نصیب اس (نصیحت) سے لا تعلقی۔ (لا پرواہی) کرے گا

۱۲.     جو قیامت کو بڑی تیز آگ میں داخل ہو گا

۱۳.     پھر وہاں نہ مرے گا نہ جیئے گا

۱۴.     بیشک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

۱۵.     اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا۔ اور نماز پڑھتا رہا

۱۶.     مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

۱۷.     حالانکہ آخرت کا گھر بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے

۱۸.     یہی بات پہلے صحیفوں میں لکھی گئی ہے

۱۹.     یعنی ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں

۸۸۔ سورۃ الغاشیۃ

۱.      تمہیں کچھ خبر پہنچی اس ڈھانپ لینے والی کی

۲.      کتنے چہرے اس دن ذلیل

۳.      سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ہوں گے

۴.      دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

۵.      کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

۶.      اور خار دار جھاڑ کے علاوہ ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہو گا

۷.      جو نہ موٹا کرے اور نہ بھوک مٹائے

۸.      اور بہت چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے

۹.      اپنی کمائی سے راضی

۱۰.     بہشت بریں میں

۱۱.     وہاں کسی طرح کی لغویات نہیں سنیں گے

۱۲.     اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے

۱۳.     وہاں اونچے بچھے ہوئے تخت ہوں گے

۱۴.     اور آبخورے قرینے سے رکھے ہوئے۔

۱۵.     اور گاؤ تکیے لگے ہوئے

۱۶.     اور مخمل کے گدے جا بجا بچھے ہوئے

۱۷.     یہ لوگ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب بنائے گئے ہیں

۱۸.     اور آسمان کی طرف کہ کیسے بلند کیا گیا ہے

۱۹.     اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑے گئے ہیں

۲۰.     اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے

۲۱.     تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو

۲۲.     تم ان پر داروغہ نہیں ہو

۲۳.     ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا۔

۲۴.     تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا

۲۵.     بیشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے

۲۶.     پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

۸۹۔ سورۃ الفجر

۱.      فجر کی قسم

۲.      اور دس راتوں کی

۳.      اور جفت اور طاق کی

۴.      اور رات کی جب جانے لگے

۵.      بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)

۶.      کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عاد والوں کے ساتھ تمہارے رب نے کیا کیا

۷.      جو ارم کہلاتے تھے اتنے دراز قد

۸.      کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے۔

۹.      اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی قریٰ میں پتھر تراشتے اور گھر بناتے تھے

۱۰.     اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو خیمے اور میخیں رکھتے تھے

۱۱.     یہ لوگ ملکوں میں سر کش ہو رہے تھے

۱۲.     اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

۱۳.     تو تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا (برسایا) نازل کیا

۱۴.     بیشک تمہارا رب تاک میں ہے

۱۵.     مگر انسان عجیب و غریب ہے کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا ہے اور نعمت بخشتا ہے تو کہتا ہے آہا میرے رب نے مجھے عزت بخشی

۱۶.     اور جب دوسری طرح آزماتا ہے تو اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ ہائے میرے رب نے مجھے ذلیل کیا

۱۷.     نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

۱۸.     اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

۱۹.     اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

۲۰.     اور مال کو بہت زیادہ عزیز رکھتے ہو

۲۱.     تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پست کر دی جائے گی

۲۲.     اور تمہارا رب جلوہ افروز ہو گا اور فرشتے قطار در قطار موجود ہوں گے

۲۳.     اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر اب سوچنے کا کیا فائدہ

۲۴.     کہے گا کاش میں نے اپنی ہمیشہ والی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا

۲۵.     پھر اس دن اللہ کے عذاب جیسا کوئی عذاب نہ ہو گا

۲۶.     اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا

۲۷.     اے اطمینان پانے والی روح!

۲۸.     اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

۲۹.     تو میرے بندوں میں شامل ہو جا

۳۰.     اور میری بہشت میں داخل ہو جا۔

۹۰۔ سورۃ البلد

۱.      میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی

۲.      اور آپ اس شہر کو حلال کرنے والے ہیں

۳.      باپ اور اس کی اولاد کی قسم

۴.      ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

۵.      کیا اس کا خیال ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا

۶.      کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا ہے

۷.      کیا وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا۔

۸.      بھلا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں؟

۹.      اور زبان و دو ہونٹ نہیں دئیے

۱۰.     اور خیر و شر کے دو راستے بھی دکھا دئیے۔

۱۱.     مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

۱۲.     اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟

۱۳.     کسی کی گردن کا چھڑانا۔

۱۴.     بھوک کے دن کھانا کھلانا

۱۵.     یتیم رشتہ دار کو

۱۶.     یا فقیر خاکسار کو۔

۱۷.     پھر ان لوگوں میں بھی داخل ہوا جو ایمان لائے اور لوگوں کو صبر اور رحم کی نصیحت کرتے ہیں

۱۸.     یہی لوگ دائیں طرف والے ہیں

۱۹.     اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بائیں طرف والے ہیں

۲۰.     یہ لوگ آگ میں بند کر دئیے جائیں گے

۹۱۔ سورۃ الشمس

۱.      سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

۲.      اور چاند کی جو اس کے بعد نکلے

۳.      اور دن کی جب اسے چمکا دے

۴.      اور رات کی جب اسے ڈھانک لے

۵.      اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

۶.      زمین کی اور جس نے اسے بنایا پھیلایا

۷.      اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو برابر کیا

۸.      پھر اس کو بد کاری سے بچنے اور پرہیز گاری اختیار کرنے کی سمجھ دی

۹.      کہ جس نے اپنے نفس یعنی روح کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا

۱۰.     اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

۱۱.     قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب پیغمبر کو جھٹلایا

۱۲.     جب ان میں سے ایک نہایت بد بخت اٹھا

۱۳.     تو اللہ کے پیغمبر (صالحؑ) نے ان سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار رہو

۱۴.     مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے اس کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو ہلاک کر کے برابر کر دیا

۱۵.     اور اس کو (اللہ کو) ان سے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔

۹۲۔ سورۃ اللیل

۱.      رات کی قسم جو دن کو چھپا لے

۲.      اور دن کی قسم جو چمک اٹھے

۳.      اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کئے

۴.      کہ تم لوگوں کی کوشش مختلف کی ہے

۵.      تو جس نے اللہ کے رستے میں مال دیا اور پرہیز گاری کی۔

۶.      اور نیک بات کو سچ جانا

۷.      اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے

۸.      اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا رہا۔

۹.      اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا

۱۰.     اسے سختی میں پہنچائیں گے

۱۱.     اور جب گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا

۱۲.     ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے۔

۱۳.     آخرت اور دنیا ہماری ہی چیز ہیں

۱۴.     سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے خبردار کر دیا

۱۵.     اس میں وہی داخل ہو گا جو بڑا بد بخت ہے

۱۶.     جس نے جھٹلایا اور منہ پھیر لیا

۱۷.     اور جو پرہیز گار ہے اسے بچا لیا جائے گا

۱۸.     جو مال دیتا ہے پاکیزہ ہونے کی خاطر

۱۹.     اور اس لیے نہیں دیتا کہ اس پر کسی کا احسان ہے جس کا وہ بدلہ اتارتا ہے۔

۲۰.     بلکہ اپنے رب اعلی کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے

۲۱.     اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا

۹۳۔ سورۃ الضحیٰ

۱.      آفتاب کی روشنی کی قسم

۲.      اور رات کی تاریکی کی جب چھپ جائے۔

۳.      (اے نبیﷺ!) تمہارے رب نے نہ تو تمہیں چھوڑا اور نہ تم سے ناراض ہوا

۴.      اور آخرت تمہارے لیے پہلی حالت یعنی دنیا سے کہیں بہتر ہے

۵.      اور تمہیں رب العزت عنقریب وہ کچھ دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

۶.      بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ بیشک دی ہے۔

۷.      رستہ سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا۔

۸.      تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔

۹.      تو تم بھی یتیم پر ظلم نہ کرنا

۱۰.     اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا

۱۱.     اور اپنے رب کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا

۹۴۔ سورۃ الشرح/ الانشراح

۱.      (اے نبیﷺ!) کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بیشک کھول دیا ہے)۔

۲.      اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا

۳.      جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

۴.      اور تمہارا ذکر بلند کیا

۵.      البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے

۶.      اور بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

۷.      تو جب فارغ ہوا کرو تو عبادت میں محنت کیا کرو

۸.      اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جایا کرو

۹۵۔ سورۃ التین

۱.      انجیر کی قسم اور زیتون کی

۲.      اور طور سینین کی

۳.      اور اس امن والے شہر کی

۴.      کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

۵.      پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت کو بدل کر پست سے پست کر دیا

۶.      مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے

۷.      تو اے آدم زاد! پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟

۸.      کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟

۹۶۔ سورۃ العلق

۱.      پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا ہے

۲.      جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ (جمے ہوئے خون)۔

۳.      پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے

۴.      جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا

۵.      اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

۶.      مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے

۷.      جب کہ خود کو غنی دیکھتا ہے

۸.      کچھ شک نہیں کہ اس کو تمہارے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

۹.      بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے

۱۰.     یعنی ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے۔

۱۱.     بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو

۱۲.     یا پرہیز گاری کا حکم کرے تو۔ (منع کرنا کیسا)

۱۳.     اور دیکھ تو نے اگر جھٹلایا اور منہ موڑا۔

۱۴.     کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ دیکھتا ہے۔ (دیکھ رہا ہے)

۱۵.     دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

۱۶.     یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

۱۷.     تو وہ اپنے دوستوں کو بلا لے

۱۸.     ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے

۱۹.     دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور سجدہ کرنا اور قرب الٰہی حاصل کر لو

۹۷۔ سورۃ القدر

۱.      ہم نے اسے اتارا شب قدر میں۔

۲.      اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟

۳.      شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے

۴.      اس میں فرشتے اور روح اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے۔

۵.      یہ رات طلوع صبح تک امان اور سلامتی ہے

۹۸۔ سورۃ البینہ

۱.      جو لوگ کافر ہیں اہل کتاب اور مشرک وہ کفر سے باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل نہ آتی

۲.      یعنی اللہ کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں

۳.      جن میں مستحکم آیات لکھی ہوئی ہیں

۴.      اور اہل کتاب دلیل آنے کے بعد متفرق ہوئے ہیں

۵.      اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ خلوص دل سے اللہ کی عبادت کریں یکسو ہو کر نماز پڑھیں زکوٰۃ دیں کہ یہی سچا دین ہے

۶.      اور جو لوگ کافر ہیں یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بد تر ہیں

۷.      اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام مخلوقات سے بہتر ہیں۔

۸.      ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہاں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہ اجر اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔

۹۹۔ سورۃ الزلزلہ

۱.      جب زمین زلزلہ سے ہلا دی جائے گی

۲.      اور زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال ڈالے گی

۳.      اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا؟

۴.      اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی

۵.      کیونکہ تمہارے رب نے اس کو حکم بھیجا ہو گا

۶.      اس دن لوگ گروہوں میں آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دئیے جائیں

۷.      تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا

۸.      اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا

۱۰۰۔ سورۃ العادیات

۱.      ان سر پٹ دوڑنے والوں۔ (گھوڑوں) کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں

۲.      پھر۔ (پتھروں پر نعل مار کر) آگ نکالتے ہیں

۳.      پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں

۴.      پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں

۵.      پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں۔

۶.      کہ انسان اپنے رب کا احسان فراموش اور ناشکرا ہے

۷.      اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

۸.      وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے

۹.      کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جب۔ (مُردے) قبروں سے نکال لیے جائیں گے

۱۰.     اور دلوں کے بھید ظاہر کر دئیے جائیں گے

۱۱.     بیشک ان کا رب اس روز ان سے خوب واقف ہو گا

۱۰۱۔ سورۃ القارعۃ

۱.      کھڑکھڑانے والی۔ (القارعہ کا لفظی مطلب ہے ٹھونکنے والی)

۲.      کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟

۳.      اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے

۴.      (وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔

۵.      اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون

۶.      تو جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے

۷.      وہ دلپسند عیش میں ہو گا

۸.      اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

۹.      تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہو گا

۱۰.     اور تم کیا سمجھے کہ گڑھا کیا چیز ہے

۱۱.     وہ دہکتی ہوئی آگ ہے

۱۰۲۔ سورۃ التکاثر

۱.      لوگو! تم کو مال کی زیادہ طلب نے غافل کر دیا

۲.      یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں

۳.      دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

۴.      دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا

۵.      اگر تم جانتے۔ (یعنی) علم الیقین رکھتے تو غفلت نہ کرتے۔

۶.      تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے

۷.      پھر اس کو ایسا دیکھو گے کہ عین الیقین ہو جائے گا

۸.      پھر اس دن تم سے آرام کی حقیقت پوچھیں گے۔

۱۰۳۔ سورۃ العصر

۱.      عصر کی قسم

۲.      کہ انسان نقصان میں ہے

۳.      مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

۱۰۴۔ سورۃ الہمزہ

۱.      خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے کی

۲.      جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

۳.      اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہے گا

۴.      ہرگز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا

۵.      اور تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا ہے

۶.      وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے

۷.      جو دلوں پر جا لپٹے گی

۸.      اور وہ اس میں بند کر دئیے جائیں گے

۹.      لمبے لمبے ستونوں میں

۱۰۵۔ سورۃ الفیل

۱.      کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا

۲.      کیا ان کا داؤ غلط نہیں کر دیا؟

۳.      اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے

۴.      جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے

۵.      تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس

۱۰۵۔ سورۃ القریش

۱.      کیونکہ قریش مانوس ہوئے

۲.      جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس ہوئے

۳.      لوگوں کو چاہیے کہ اس نعمت کے شکر میں اس گھر کے مالک کی عبادت کریں

۴.      جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا

۱۰۷۔ سورۃ الماعون

۱.      بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے

۲.      یہ وہی بد بخت ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

۳.      اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے ترغیب نہیں دیتا

۴.      تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے

۵.      جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں

۶.      جو ریا کاری کرتے ہیں

۷.      اور برتنے کی چیزیں عاریتاً نہیں دیتے

۱۰۸۔سورۃ الکوثر

۱.      بیشک ہم نے تجھے (نبیﷺ!) کوثر دی

۲.      تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو

۳.      بیشک تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے

۱۰۹۔ سورۃ الکافرون

۱.      تو کہہ دو اے منکرو!

۲.      جن بتوں کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا۔

۳.      اور جس اللہ کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔

۴.      اور میں نہ اسے پوجتا ہوں جسے تم نے پوجا

۵.      اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں

۶.      تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین

۱۱۰۔ سورۃ النصر

۱.      جب اللہ کی مدد آ پہنچی اور فتح حاصل ہو گئی

۲.      اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول در غول دین خدا میں داخل ہو رہے ہیں

۳.      تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے

۱۱۱۔ سورۃ لہب/ المسد

۱.      ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ نامراد ہو گیا

۲.      اس کا مال اور اعمال اس کے کسی کام نہ آئے

۳.      وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا

۴.      اور اس کی جورو بھی جو سر پر ایندھن اٹھائے پھرتی ہے

۵.      اس کے گلے میں مونج کی رسی ہو گی

۱۱۲۔ سورۃ الاخلاص

۱.      تو کہہ وہ اللہ ایک ہے

۲.      اللہ بے نیاز ہے

۳.      نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے

۴.      اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

۱۱۳۔ سورۃ الفلق

۱.      کہو میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی

۲.      ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی

۳.      اور اندھیری رات کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے

۴.      اور گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکنے والیوں کی برائی سے

۵.      اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرے

۱۱۴۔ سورۃ الناس

۱.      کہو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں

۲.      لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی

۳.      لوگوں کے معبود برحق کی

۴.      شیطان وسوسے ڈالنے والے کی برائی سے جو اللہ کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

۵.      جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔

۶.      خواہ وہ جنات سے ہوں یا انسانوں میں سے

٭٭٭

ماخذ: قرآن و حدیث سافٹ وئر اور

http://equranlibrary.com

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل
ورڈ فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل