ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا اقتباس پڑھیں…..
آدم خور کا بلاوا
کینیتھ انڈرسن
ترجمہ: محمد منصور قیصرانی
تعارف
میں نے اس کتاب میں بڑے جنگلی جانوروں کے تعاقب سے ہٹ کر اس خوبصورت دھرتی کے بارے میں بھی بات کرنے کی کوشش کی ہے جہاں میں رہتا ہوں۔ کوشش ہے کہ نہ صرف واقعات بلکہ ان کے پسِ منظر میں ہونے والے واقعات کو بھی بیان کروں تاکہ آپ کی دلچسپی برقرار رہے۔
میں نے ’کیمپ میں الاؤ کے پاس‘ باب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیمپ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر رات کو کیسی آوازیں اور کیسے مناظر دکھائی دے سکتے ہیں اور رات کو تاریکی میں کیا واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ اگلے دو ابواب میں ایک طرح سے میں بہ آوازِ بلند سوچ رہا ہوں کہ جنگل میں گزارے گئے دن رات میں کیسے کیسے دلچسپ اور بسا اوقات احمقانہ واقعات پیش آئے تھے۔ مجھے ان یادوں سے پیار ہے اور دعا کرتا ہوں کہ میں کبھی ان سے الگ نہ ہوؤں۔ اگر ان کہانیوں کو پڑھ کر قاری کو تھوڑا سا بھی مزہ آئے تو مجھے اطمینان ہو گا۔
میں نے اس دلچسپ سرزمین کی کچھ کم دلچسپ مخلوقات کے بارے میں بھی بات کی ہے تاکہ قاری کو جنگل کی مشہور مخلوقات کے ساتھ ساتھ ان کم دلچسپ مخلوقات کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہوں۔
ہندوستان میں اب ایک بڑی تحریک شروع ہوئی ہے جو تاخیر سے سہی، مگر خوش آئند ہے۔ اس تحریک میں عوام الناس کو جنگلی حیات کی اہمیت سے روشناس کرایا جا رہا ہے تاکہ یہ مخلوقات ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے نہ مٹ جائیں۔ بہت سی جگہوں پر جہاں کبھی جنگلی حیات کی آواز دن رات سنائی دیتی تھی، اب سناٹے کا شکار ہیں۔ قبل اس کے کہ جنگلی حیات کا یہ خزانہ یکسر ناپید ہو جائے، حکومت ہند کے ساتھ ساتھ یہ ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وقت جاری ناجائز شکار کو ہر ممکن طور پر بند کرائے۔ مستقبل کے شکاری کے لیے میں رائفل اور بندوق کی بجائے کیمرے کا مشورہ دوں گا۔ اس طرح بہت مزہ بھی آئے گا اور اس میں خون اور بارود کی بو، موت کا منظر اور ضمیر کی چبھن سے نجات بھی مل جائے گی۔
سو آئیے اور میرے ساتھ اس سفر پر چلیے جہاں بے شمار خوبصورت مناظر ہمارے منتظر ہیں اور یہ جنگل ہر قسم کی جنگلی حیات کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں۔ رات کو آپ اس کو اپنے اردگرد محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ جانور ان کی حرکات و سکنات آپ کی بصارت کے دائرے سے ذرا باہر ہوتے ہیں۔ الاؤ کی روشنی ایک حد تک جاتی ہے اور پھر اس کے بعد تاریکی کی چادر تنی ہوتی ہے جو بہت دور تک جاتی ہے۔ چاندنی رات ہو یا اماوس کی رات، جنگل میں بہت کم ہی جگہیں اتنی روشن ہوتی ہیں کہ انہیں انسان آسانی سے دیکھ سکے۔ لارنس ہوپ کے الفاظ میں:
کوئی آواز نہ آئی کہ وہ چپ رہا
بے پروا ستارے دیکھتے رہے۔
جنگل کی واردات
ان سنی، ان دیکھی اور ان کہی رہی
رات کی ہوا جب اونچے درختوں سے سرسراتی ہے اور لاکھوں پتے ہلتے ہیں تو ایسا سنائی دیتا ہے کہ جیسے دور سے سمندر کی آواز آ رہی ہو، شاخوں اور پتوں کے درمیان جگنوؤں کی ٹمٹماہٹ، چاروں اور چھائی تاریکی اور تاریکی میں دور کہیں شکار پر نکلا گیدڑوں کا غولِ بیابانی بولتا ہے۔ پھر پہاڑوں سے ٹکراتی ہوئی شیر کی دہاڑ سنائی دیتی ہے۔ یہ آدم خور کا بلاوا ہے۔
سو انسانی فکروں سے آزاد ہو کر میرے ساتھ ان جنگلوں کی سیر کو چلیں جہاں جنگل میں قانونِ قدرت چلتا ہے۔ ایک اور شاعر کے الفاظ میں:
سو میرے جنگل میں آپ جانتے ہیں
کہاں جنگلی مخلوقات سوئی ہیں،
فطرت کا احترام
جس سے شہری گلیاں نا آشنا ہیں،
آپ کو ان کی اصل قدر پتہ چلتی ہے
کہ انسان کیسے بنتا ہے،
سو ادب سے جھکیں اور اپنے خالق کا شکر ادا کریں
گھر کی راہ پر چلتے ہوئے
ڈبلیو جے کے ایس
٭٭
۱۔ آدم خور کا بلاوا
نصف شب کے بعد باہر تاریکی بہت شدید تھی۔ میں فارسٹ بنگلے میں آرام کرسی پر بیٹھا پائپ پیتے ہوئے جنگل کی آوازیں سن رہا تھا جو میرے کانوں کے لیے موسیقی اور شکاری کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔
چشمِ تصور میں مجھے شیر کا سراپا دکھائی دے رہا ہے۔ گہری تاریکی میں اس کی نارنجی مائل جلد پر سیاہ دھاریاں اور کانوں کے پیچھے اور گلے پر سفید بال ہیں۔ تاہم اگر کوئی اس تاریکی میں شیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو اسے رنگ نہیں دکھائی دیں گے۔ اسے تاریک جنگل میں ایک اور نسبتاً تاریک تر سایہ حرکت کرتا دکھائی دے گا۔
اگر اسے دیکھنے والا انسان ہوا تو ٹارچ یا چاندنی کے بغیر اسے کچھ بھی نہیں دکھائی دے گا کہ انسان گہری تاریکی میں دیکھنے سے قاصر ہے۔ شیر کی دہاڑ سے اسے پتہ چل جائے گا کہ شیر قریب ہی ہے۔ دہاڑ سے نہ صرف جنگل بلکہ انسان بھی کانپتا ہے۔ اگر یہ انسان تجربہ کار شکاری ہو تو اسے دہاڑ کے علاوہ پتوں کے مسلے جانے کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دے گی۔ مگر اسے سوکھی شاخوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں آئے گی کہ شیر کبھی لاپرواہی سے قدم نہیں رکھتا۔ شیر خود شکاری ہے اور شکاری نہ تو کبھی اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی غلطی کرتے ہیں۔
اگر یہ شخص کسی درخت کی نچلی شاخ پر بیٹھا ہو اور شیر اس کے عین نیچے سے گزرے تو اسے عجیب سی بو محسوس ہو گی جیسے گلی سڑی سبزیوں سے آتی ہے۔ ایسے مواقع پر نہ تو کوئی حرکت کرنی چاہیے اور نہ ہی پلکیں جھپکائی جائیں۔ یاد رہے کہ شیر میں سونگھنے کی حس بالکل بھی نہیں ہوتی مگر اس کی بصارت اور سماعت انتہائی تیز ہوتی ہیں۔ انتہائی معمولی سی حرکت ہو یا ہلکی سی آواز، شیر کو فوراً پتہ چل جاتا ہے۔ سو اگر اس شیر کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو انجام یقینی موت ہو سکتی ہے کہ یہ شیر کوئی عام شیر نہیں بلکہ آدم خور شیر ہے۔
اب آپ سوچیں گے کہ چھپ کر چلنے، بہترین سماعت اور بصارت، چھٹی حس کے باوجود یہ احمق شیر اس طرح کیوں دہاڑتا ہوا چل رہا ہے؟ اس طرح تو میل دور سے ہر جاندار اس کی آمد کو سن لیتا ہے۔ یہ سوال مناسب ہے مگر اس کا جواب شیر کے سوا اور کوئی بھی یقین سے نہیں دے سکتا۔ میں اس بارے میں محض اپنی رائے دے سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ طاقتور لوگ مثلاً مکے باز اور پہلوان وغیرہ ہمیشہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ ویسے بھی اکثر لوگ شیخی بگھارنے سے نہیں کتراتے۔ شاید شیر اس طرح اعلان کر رہا ہو کہ دور دور تک اس سے زیادہ نڈر، طاقتور اور حکمرانی کے لائق اور کوئی نہیں۔ جب اس کی دہاڑ وادیوں اور پہاڑیوں سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہو گی تو وہ خوش ہوتا ہو گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شیر تنہائی سے اکتا گیا ہو اور اب خوبصورت شیرنی کی تلاش میں نکلا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے پیٹ بھر کر کھایا ہو اور اب چہل قدمی پر نکلا ہو جیسے ہم رات کو چہل قدمی پر نکلتے ہوئے گاتے یا سیٹی بجاتے ہیں۔
خیر، میں نے کہانی کی ابتدا غلط کی ہے کہ مجھے ابتدا سے بات شروع کرنی چاہیے تھی۔ یہ شیر جنگل میں کیوں تھا؟ شیر جنگل میں ہی رہتے ہیں۔ ہاں میں جولڈال کے فارسٹ بنگلے کے برآمدے میں رات گئے کیوں بیٹھا پائپ پیتے ہوئے جنگل کی آوازیں سن رہا تھا، یہ اب بتاتا ہوں۔
ہوا کچھ یوں کہ ریاست میسور (اب کرناٹکا: مترجم) میں ضلع شموگا (اب شوا موگا)کے شہر شموگا سے بارہ میل دور اور اتنے ہی بڑے شہر بھدراوتی کی اہمیت وہاں قائم صنعتوں بالخصوص فولاد اور سٹیل کی فاؤنڈریوں کی وجہ سے بڑھ گئی۔ خام لوہا کمان گونڈی نامی مقام سے نکلتا ہے جو چند میل دور بابا بدان کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ اسے پہاڑ سے نیچے لانے کے لیے دھاتی بالٹیاں استعمال ہوتی ہیں۔ آس پاس کے جنگلات کاٹ کر کوئلہ بنتا ہے جو خام لوہا پگھلانے کے کام آتا ہے۔ بھدراوتی کی بلاسٹ فرنیس سے نکلنے والی روشنی کئی میل دور سے دکھائی دیتی ہے اور بادل ہوں تو ان سے منعکس بھی ہوتی ہے۔
جولڈال بھدراوتی سے ۱۵ میل دور ہے اور بھدراوتی سے چیتل دورگ (اب چترا درگا/چتر درگ) کو جانے والی سڑک مشرق کی سمت یہاں سے گزرتی ہے۔ اس کے چاروں طرف گھنا جنگل ہے اور محکمہ جنگلات کا ایک خوبصورت بنگلا موجود ہے۔ جولڈال سے دس میل دور گھنے جنگل میں ہی گنجور کے مقام پر ایک اور فارسٹ بنگلا ہے۔
میں یہاں اکثر آیا کرتا تھا کہ گنجور بہت خوبصورت جگہ ہے۔ مگر یہاں آنے والی سڑک عذاب سے کم نہیں۔ بنگلور سے تاری کیرے اور بھدراوتی کو جانے والی سڑک سے مشرق کی جانب یہاں کو آنے والا راستہ نکلتا ہے۔ یہ مقام بھدراوتی سے پانچ میل دور ہے۔ بیل گاڑی کا یہ راستہ انتہائی مخدوش ہے۔ شروع میں یہاں آنے کے لیے میں فورڈ ماڈل ٹی استعمال کرتا تھا اور پھر یہ ذمہ داری سٹڈبیکر نے لے لی۔ اس بیس میل کے راستے پر میرے دل سے ہنری فورڈ اور سٹڈبیکر بھائیوں کے لیے دعائیں نکلتی رہتی تھیں۔ میرے اعصاب کشیدہ سہی مگر اس راستے پر کبھی گاڑی کا سپرنگ یا ایکسل نہیں ٹوٹا۔
گنجور کے بنگلے کا چوکیدار بہت محنتی اور خوش اخلاق آدمی تھا اور میرے قیام کے لیے وہ ہر ممکن سہولت مہیا کرتا تھا۔ اس کی بارہ سال کی خوبصورت بیٹی تھی جو ہمیشہ میری کاروں اور اسلحے کا بغور مشاہدہ کرتی تھی مگر اس نے کبھی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اپنے باپ کی مانند وہ بھی بہت مددگار ثابت ہوتی تھی اور میرے لیے ایک فرلانگ دور چشمے سے پانی لا کر باتھ ٹب میں پانی بھرتی۔
یہ بچی جلد ہی سترہ سال کی جوان لڑکی بن گئی۔ اس کے باپ نے رواج کے مطابق اس کی شادی ایک مناسب مقامی دیہاتی لڑکے سے طے کر دی۔ شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی۔
ایک دن یہ لڑکی اپنے اور اپنے باپ کے استعمال کے لیے پانی لانے نکلی۔ باپ بیٹی فارسٹ بنگلے کے پیچھے گیراج اور باورچی خانے کے درمیان بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے۔ یہ لڑکی واپس نہ لوٹی۔ جب وہ چشمے سے پانی بھرنے کے لیے جھکی تو آدم خور اسے اٹھا کر لے گیا۔
چلاتی ہوئی لڑکی کو اٹھا کر شیر چشمے کے پاس جنگل میں گھس گیا۔ اس کے باپ نے چیخیں سنیں مگر اس کے پاس بندوق نہیں تھی۔ اس نے لکڑی کاٹنے کا ٹوکا اٹھایا اور شور مچاتے ہوئے پیچھے بھاگا اور شیر کو جا لیا اور اپنی مادری زبان کنڑ میں چلایا، ’میری بچی کو چھوڑو ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا‘۔
شیر نے جب یہ سنا تو اس نے مڑ کر دیکھا۔ یہ شخص اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ تاہم اس نے لڑکی کو چھوڑنے کی بجائے اپنی رفتار بڑھا دی اور جلد ہی اس آدمی کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ مجھے بعد میں اس آدمی نے بتایا کہ اسے اپنی بیٹی کی باقیات نہ مل سکیں۔
گنجور اور جولڈال کے درمیان سڑک نہیں ہے مگر گھنے جنگل اور وادیوں سے دس میل طویل پگڈنڈی بل کھا کر پہاڑوں سے گزرتی ہے۔ جولڈال اور بھدراوتی کا فاصلہ پندرہ میل بنتا ہے جو چیتل درگ والی سڑک پر ہے۔ یہ سڑک کافی مناسب حالت میں ہے۔
مجھے بتایا گیا کہ دو ماہ قبل ایک چھوٹا مسلمان بچہ چھ فرلانگ دور ایک چھوٹے تالاب سے مچھلیاں پکڑنے گیا۔ یہ بچہ کافی ماہر ہو گا کہ اس کی ٹوکری میں درجن بھر مچھلیاں موجود تھیں اور ساتھ ہی دو بنسیاں بھی۔
ویسے آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہندوستان میں مچھلی پکڑنے کے لیے جدید بنسیاں نہیں استعمال ہوتیں اور نہ ہی دیگر مغربی لوازمات ہوتے ہیں۔ بنسی کی خاطر پتلا بانس استعمال ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ڈوری بندھی ہوتی ہے۔ کانٹے کو تیرانے کے لیے مور کے پر استعمال ہوتے ہیں تو کبھی الو یا باز کے پر۔ چارے کے لیے تالاب کے کنارے مٹی کھود کر کینچوے پکڑے جاتے ہیں۔
چونکہ اس بچے نے کافی مچھلیاں پکڑی تھیں، سو اس کا قیام ضرورت سے زیادہ طویل ہو گیا۔ جب تاریکی چھانے لگی تو اس نے واپسی کا سوچا۔ مگر یہ عین وہی وقت ہے جب شیر اپنے شکار کے لیے نکلتے ہیں۔ آدم خور بھی شیر ہی تھا۔
بچہ واپس نہ لوٹا۔ آٹھ بج گئے اور رات کے کھانے کا وقت ہو چلا۔ اس کے باپ اور بڑے بھائی نے لاٹھیاں اور لالٹینیں اٹھائیں اور تالاب کو چل دیے۔ تالاب پر پہنچ کر انہیں مچھلیاں، ٹوکری اور بنسیاں مل گئیں مگر بچہ غائب تھا۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں انہیں کیچڑ پر ایک بڑے شیر کے پنجوں کے نشان (پگ) دکھائی دیے۔ شیر جنگل سے آیا، کیچڑ میں اس کا پیر پھسلا اور پھر واپس جنگل کو لوٹ گیا۔ تاہم واپسی پر اس نے بچے کو منہ میں دبوچا ہوا تھا۔
باپ اور بھائی کو گھاس پر کچھ چمکدار سیاہ رنگ کی چیز دکھائی دی۔ جب انہوں نے انگلی سے چھوا تو وہ خون تھا۔ دونوں سر پر پیر رکھ کر گاؤں کو بھاگے۔
پھر تیسری واردات ہوئی مگر اس کے بارے میں کسی نے توجہ نہ دی۔ جولڈال میں ایک دیوانہ آیا تھا۔ چونکہ وہ پوری طرح دیوانہ تھا، سو اس کے بارے میں میں کوئی معلومات نہ تھیں کہ وہ کب اور کہاں سے آیا ہے۔ ہندوستان میں دیوانوں کو عموماً کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی کبھار بچے انہیں تنگ کرتے ہیں تو بڑے انہیں روک دیتے ہیں۔ عام لوگ دیوانوں کو کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ دیتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
لوگوں سے ملنے والی خوراک پر زندہ رہنے والا یہ دیوانہ ہر روز گلی میں سوتا تھا۔ ایک صبح جب لوگ اٹھے تو انہیں دیوانہ دکھائی نہ دیا۔ کسی نے توجہ نہ دی۔ دو روز بعد گاؤں کے پاس سے جنگل کے دو چوکیدار گشت پر تھے کہ انہیں آسمان پر گِدھ منڈلاتے دکھائی دیے۔ ان لوگوں نے جب گِدھوں کو نیچے اترتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کوئی جنگلی جانور مارا گیا ہو گا اور شاید اس پر کچھ گوشت باقی ہو۔ یہ دونوں بھاگم بھاگ اس مقام کو گئے تو دیکھا کہ وہاں اسی دیوانے کی ہڈیاں پڑی تھیں۔ اس کا سر کچھ دور پڑا تھا جس کی وجہ سے لاش کی شناخت ہو گئی۔ اس کے گرد نرم زمین پر ایک بڑے نر شیر کے پنجوں کے نشان واضح تھے۔
مجھے ان وارداتوں کا علم نہ تھا۔ میرے ایک دوست کا دوست چیتل درگ سے بھدراوتی جاتے ہوئے جولڈال کے بنگلے میں شکار کی نیت سے رکا۔ اس دوران اسے آدم خور کی تینوں وارداتوں کے بارے میں پتہ چلا۔ جولڈال کے فارسٹ بنگلے کا چوکیدار گنجور کے فارسٹ بنگلے کے چوکیدار کا دور کا رشتہ دار تھا۔ اس نے میرے دوست کے دوست کو بتایا کہ پہلی واردات میں اس کے رشتہ دار کی خوبصورت اور نوجوان بیٹی ماری گئی تھی۔ جب یہ آدمی بنگلور لوٹا تو اس نے میرے دوست جو تھامپسن کو اس کے بارے میں بتایا۔ میرا دوست جانتا تھا کہ مجھے ایسی خبروں کی تلاش رہتی ہے، سو اس نے فوراً مجھے ساری تفصیل بتا دی۔
میں اس بچی کو ذاتی طور پر جانتا تھا، سو میں نے جولڈال کے فارسٹ رینج افسر کو خط لکھ کر اس بات کی تصدیق چاہی۔ اس کا جواب پانچ روز بعد ملا اور میرے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔
میں اپنی سٹڈبیکر میں سوار ہو کر سیدھا جولڈال پہنچا اور مندرجہ بالا تفصیلات معلوم کیں۔ یہ سب میرے اس بنگلے پہنچنے سے دو روز قبل کی بات ہے۔ پھر میں دس میل پیدل چل کر گنجور پہنچا اور چوکیدار سے معلومات لیں۔ وہ بیچارہ اپنی بیٹی کی ناگہانی موت کے بارے میں بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں اس شیر سے اس کی بیٹی کا بدلہ لینے کی پوری کوشش کروں گا۔ پھر میں نے اسے کہا کہ اس ہفتے اسے شیر کے بارے میں کوئی بھی معلومات ملیں تو فوراً مجھ تک پہنچائے۔
اس نے مشورہ دیا کہ میں گنجور کو ہی مرکز بناؤں مگر میں نے دو وجوہات کی بنا پر جولڈال کو ترجیح دی۔ پہلی تو یہ کہ وہاں دو وارداتیں ہو چکی تھیں۔ دوسرا وہاں آنے جانے کی خاطر سٹڈبیکر موجود تھی کہ پیدل سفر خطرناک تھا۔ پھر میں واپس اسی راستے سے جولڈال آ گیا۔
میں بنگلے میں سو رہا تھا کہ نصف شب کے فوراً بعد مجھے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ اسی وجہ سے میں اٹھ کر باہر برآمدے میں آ گیا اور آرام کرسی پر بیٹھ کر پائپ پینے اور آدم خور کی دہاڑ سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اس کی آواز سنتے ہوئے مجھے بار بار اس بچی کا خوبصورت چہرہ یاد آتا رہا جو میری کاروں اور میرے اسلحے میں ہمیشہ دلچسپی لیتی تھی اور میرے لیے غسل کا پانی بھر کر لاتی تھی اور اب اس کی شادی کی عمر ہو چلی تھی کہ آدم خور اسے ہڑپ کر گیا۔
آدم خور کی دہاڑ پھر سنائی دی۔
بے اختیار میں نے جھرجھری لی۔ یہ آواز فاصلے پر گم ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ شیر کا رخ گنجور کی طرف ہے اور شاید اسی پگڈنڈی پر جا رہا ہے جس پر میں نے دن کو سفر کیا تھا۔ سو میں نے اگلی صبح اٹھتے ہی اس پگڈنڈی پر تفتیش کا سوچا اور وہیں سو گیا۔
مچھر پو پھٹنے تک کافی تنگ کرتے رہے۔ روشنی ہونے سے قبل ہی میں نے بیدار ہو کر کافی اور چپاتیاں کھائیں اور جب سورج تھوڑا چڑھ آیا تو میں نکل کھڑا ہوا۔ مناسب روشنی ہونے سے قبل نکلنا خطرناک ہوتا کہ شیر کہیں بھی موقع کی تلاش میں چھپا ہوا ہو سکتا تھا۔ صبح اور شام کا ملگجا اندھیرا بہت خطرناک ہوتا ہے جبکہ دن کی روشنی ہونے پر آدم خور اپنی کچھار کو واپس لوٹ چکا ہو گا تاکہ کہیں سائے میں دن کا گرم وقت گزار کر شام کو ہی نکلے۔
بنگلے سے نکلنے کے ایک میل بعد مجھے شیر کے پگ دکھائی دیے۔ شیر ایک تنگ کھائی میں چلتا ہوا اس کے کنارے پر چڑھا اور گنجور کے راستے پر چلنے لگا۔ طشتری کے برابر اس کے پگ نصف شب سے ذرا قبل کے تھے اور راستے کی دھول پر واضح دکھائی دے رہے تھے۔ مداخلت سے بچنے کے لیے وہ دہاڑتا رہا تاکہ اس کی آواز سن کر سبھی مخلوقات اس کے راستے سے ہٹ جائیں۔
یقین سے کہنا تو ممکن نہیں کہ یہی شیر ہی آدم خور تھا مگر مجھے پورا شبہ اسی پر تھا۔ سو میں نے سوچا کہ گنجور تک جا کر دیکھتا ہوں کہ آیا شیر وہاں گیا تھا یا کہ راستے سے ہی لوٹ آیا۔
دو میل تک شیر اسی پگڈنڈی کے وسط میں چلتا رہا۔ پھر راستہ نیچے اتر کر ایک خشک ندی کی تہہ سے گزرتا ہے اور شیر بھی یہیں سے گزرا۔ سورج کے مقام سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ ندی جنوب مشرق کو جا رہی ہے اور شیر اسی ندی میں گیا تھا۔ تاہم یہ ندی نہ تو جولڈال کو جاتی تھی اور نہ ہی گنجور کو۔ خیر، نصف میل چل کر شیر ندی کے دائیں کنارے پر چڑھا اور جنگل میں گھس گیا۔ جنگل میں زمین سخت تھی سو جلد ہی مجھے پگ دکھائی دینے بند ہو گئے۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ کہیں شیر نے واپسی کا رخ کر کے پھر سے پگڈنڈی تو نہیں پکڑ لی ہو گی۔ اس خیال کے تحت میں نے جھاڑیوں میں شیر کی تلاش کا خیال چھوڑا اور سیدھا واپس اس جگہ پہنچا جہاں نالہ گنجور والے راستے سے جا ملتا ہے۔ یہاں میں نے تلاش شروع کی تو جلد ہی علم ہو گیا کہ اس جگہ سے ایک میل دور شیر دوبارہ پگڈنڈی پر چلنا شروع ہو گیا تھا۔ میرا اندازہ درست نکلا۔ شیر نے یہ حرکت محض وقت بچانے کے لیے کی تھی۔
اس سے ظاہر ہوا کہ شیر کسی خاص جگہ جانے کا منصوبہ بنا چکا تھا اور جب تک کوئی غیر معمولی بات نہ ہو، اس نے اپنا ذہن نہیں بدلنا تھا۔ میرا یہ خیال بھی درست نکلا اور لگ بھگ سارا راستہ اسی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے شیر گنجور جا پہنچا۔ پگوں کا پیچھا کرتے ہوئے میری رفتار سست تھی، سو دس میل کا فاصلہ طے کرنے میں مجھے چار گھنٹے لگ گئے۔ گیارہ بجے میں بنگلے کے چوکیدار سے ملا۔
اس شخص کا نام اننت سوامی تھا اور میں نے اسے بتایا کہ نصف شب کے بعد مجھے آدم خور کی دہاڑیں جولڈال کے فارسٹ بنگلے میں سنائی دی تھیں اور اب اس کے پگوں کا پیچھا کرتا میں یہاں تک آن پہنچا۔ اننت سوامی نے بتایا کہ وہ صبح چار بجے جاگ گیا تھا مگر اس نے شیر کی آواز نہیں سنی۔ ساڑھے چار بجے کے بعد اس نے دو یا تین سانبھروں کی آواز سنی تھیں اور پھر چیتل بھی پو پھٹنے کے وقت سے بے چین تھے اور ان کی آوازیں بنگلے سے جنوب کی سمت واقع چھوٹی پہاڑی کے دامن سے آتی رہی تھیں۔ ہم دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شیر کی خاموشی اور دیگر جانوروں کی طرف سے خطرے کی آوازوں کا مطلب یہی ہے کہ شیر شکار کی تلاش میں نکلا ہے۔
یہ سوچنا کہ تمام آدم خور تیندوے اور شیر محض انسانی گوشت پر ہی زندہ رہتے ہیں، غلط ہے۔ شیر زیادہ کھاتے ہیں مگر پھر بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ شروع میں بہت بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتیں ہوں گی کہ عام شیر ہفتے میں کم از کم دو بار شکار کرتا ہے۔ دوسرا اتنی بڑی تعداد میں انسانی ہلاکتوں کے بعد باقی لوگ محتاط ہو جائیں گے اور شیر کے لیے انسانی شکار کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جائیں گے اور آدم خور بھوکوں مر جائے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ آدم خور کو انسانی گوشت کا ذائقہ پسند آ جاتا ہے۔ دوسرا یہ بھی کہ انسان کی تلاش اور شکار جنگلی جانوروں کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آدم خور کو جنگلی سور، ہرنوں اور مویشیوں کی بجائے انسانی شکار آسان لگنے لگتا ہے۔ جب انسانی شکار ممکن نہ ہو، آدم خور بلا جھجھک جانوروں کو بھی شکار کرتا ہے تاکہ بھوکا نہ رہے۔ اس دوران جب بھی ممکن ہو، آدم خور انسانوں پر بھی ہاتھ صاف کرتا رہتا ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ آدم خور شیر ہو یا تیندوا، چاہے وہ جتنے انسان ہلاک کر لے، اس کے دل میں نسلِ انسانی کا خوف رہتا ہے۔ جب بھی آدم خور کے حملے کے دوران اس کا شکار ذرا سی بھی مدافعت یا جوابی حملہ کرے تو خطرناک سے خطرناک آدم خور بھی فرار ہو جاتا ہے۔ جنگلی جانوروں کا شکار ہو یا مویشیوں کا، شیر اور کسی مخلوق سے نہیں ڈرتا۔ بالغ جنگلی بھینسے اور ہاتھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔
جب آدم خور کو جولڈال میں انسانی شکار نہ ملا تو اس نے گنجور کا رخ کیا جہاں نیچی پہاڑیاں اور گھاس سے بھری وادیاں ہرنوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ آدم خور یہاں کچھ روز گزارتا اور کئی سانبھر اور چیتل اس کا شکار بنتے۔ پھر اسے دوبارہ انسانی شکار کا خیال ستانے لگتا۔
گنجور کا چوکیدار اکیلا رہتا تھا اور اس کے علاوہ گنجور میں کوئی انسانی آبادی نہ تھی۔ چند دن بعد شیر واپس جولڈال لوٹ جاتا یا پھر بھدراوتی اور چیتل درگ والی سڑک پر واقع کسی اور انسانی بستی کا رخ کرتا۔ امید تھی کہ شیر اب شکار کرنے کے بعد یہ روز اور اگلے دو روز اس سے پیٹ بھرتا اور اس جنگل میں ہرن، سانبھر، چیتل، جنگلی بھیڑ اور چوسنگھے بکثرت تھے۔
شیر کے لیے چارا باندھنا بھی ممکن تھا۔ جنگل میں کچھ جگہ صاف کر کے بنگلا بنا تھا اور یہاں سے چشمہ بھی دور نہ تھا۔ سو جب شیر بنگلے کے قریب سے گزرتا تو اسے چارا بھی دکھائی دیتا اور ساتھ موجود چشمہ بھی۔
بدقسمتی سے رائفل کے سوا میرے پاس اور کچھ نہ تھا۔ میری ٹارچ، رت جگے کے لیے سیاہ رنگ کے گرم کپڑے، مٹی کے تیل کا چولہا اور کھانے کی چیزیں سبھی جولڈال والے بنگلے میں تھیں جو یہاں سے دس میل دور تھا اور میں یہی دس میل طے کر کے یہاں پہنچا تھا۔ اب اگر میں واپس جاتا تو سارے دن میں تیس میل کا سفر بن جاتا۔ ویسے بھی اتنا وقت نہیں بچا تھا کہ میں اندھیرا چھانے سے قبل لوٹ سکتا۔
اننت سوامی نے مجھے دو سیلوں والی اپنی ٹارچ ادھار دی۔ اس کے علاوہ رہائش اور کھانا پینا بھی اس نے اپنے ذمے لے لیا مگر اس کے پاس کھانے کے لیے محض راگی تھی۔ یہ لوگ راگی کو موٹا پیس کر ابالتے اور پھر اس کا گولا سا بنا کر کھاتے ہیں۔ اس سے پیٹ تو آسانی سے بھر جاتا ہے مگر بے ذائقہ ہوتی ہے۔
اس کی دعوت قبول کرنے کے بعد ایک اور مسئلہ پیدا ہوا کہ اننت سوامی کے پاس چارے کے لیے کوئی جانور نہ تھا۔ اس کے پاس کافی لاغر ایک کتا تھا۔ شیر کے لیے کتا بیکار ہوتا ہے۔ ویسے بھی مجھے کتے پسند ہیں، سو میں اسے نہ باندھتا۔
یہ بات بھی کافی غور طلب تھی کہ میں کہیں زیادہ خوش فہم تو نہیں۔ عین ممکن تھا کہ یہ شیر عام مویشی خور اور جنگلی جانوروں پر خوش رہنے والا شیر ہو؟ میں نے اس کے بارے میں اننت سوامی سے بحث کی۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں دو دن یہاں اس کے ساتھ رکوں گا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس علاقے میں یہی ایک شیر ہے، سو غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ جہاں تک رہا چارے کا سوال تو وہ خود چارا بننے کو تیار ہے۔ پھر اس نے فوراً ہی کہا کہ وہ میری خاطر چارا نہیں بن رہا اور نہ ہی وہ بہت بہادر ہے۔ اس کا مقصد محض اپنی بیٹی کے قاتل کی ہلاکت ہے۔ سو وہ کھلے میں بیٹھ جائے گا جبکہ میں کہیں نزدیک ہی درخت کے پیچھے یا مچان پر چھپ کر بیٹھ جاؤں گا اور جب آدم خور اس کے قریب پہنچے تو اسے شکار کر لوں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس بچی کی پیدائش پر اس کی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کا بڑا لڑکا کچھ دن بعد چیچک سے چل بسا۔ اب یہ بچی ہی اس کی واحد وارث تھی جسے آدم خور لے گیا۔
مجھے اس کی کہانی سن کر بہت ترس آیا مگر یہ وقت جذبات میں آنے کا نہ تھا۔ میں اس معصوم انسان کا خون اپنے سر لینے کو تیار نہ تھا۔ یاد رہے کہ راتیں بہت تاریک تھیں اور واحد ٹارچ جو اس کے پاس تھی، وہ محض دو سیل والی تھی۔ رائفل پر ٹارچ لگانے کے لیے میرے پاس کلیمپ بھی نہ تھے۔ مجھے ٹارچ بائیں ہاتھ سے نالی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہوئے گولی چلانی ہوتی۔ اس طرح گولی چلنے میں کم از کم دو سیکنڈ کا وقفہ آ جاتا۔ آدم خور کے معاملے میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی اننت سوامی کی ہلاکت کے لیے کافی ہوتی۔
میں نے پر زور انداز میں انکار کیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ وہ میرے پاس بیٹھ کر ٹارچ کی روشنی شیر پر ڈالے جبکہ میں گولی چلاؤں گا۔
اننت سوامی کو میری بات پر یقین نہ آیا۔ اس نے کہا، ’دورائی، بائیں ہاتھ میں ٹارچ کو رائفل کے ساتھ تھام کر بھی آپ گولی چلا سکتے ہیں‘۔
میں نے دیکھا کہ بحث شروع ہو رہی ہے تو میں نے اسے سختی سے منع کر دیا۔
اس کے بعد ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھ کر سوچتے رہے۔ پھر مجھے ایک خیال آیا۔ آدم خور نے اننت سوامی کی بیٹی کو چشمے سے پکڑا تھا۔ اسے یاد ہو گا کہ اس نے کتنی آسانی سے شکار کیا تھا۔ آدم خور نے اس لڑکی اور اننت سوامی کو بہت مرتبہ چشمے سے پانی لاتے دیکھا ہو گا۔ اسے معلوم ہو گا کہ چشمے کے پاس انسانی شکار مل سکتا ہے۔ بنگلے اور چشمے کا فاصلہ ایک فرلانگ تھا اور نشیب میں ہونے کی وجہ سے صاف نظر آتا تھا۔ یہ مقام آس پاس کی پہاڑیوں سے بھی واضح دکھائی دیتا تھا۔ سو اس جگہ چارہ باندھنا بہتر رہتا۔ راتیں بہت تاریک تھیں، اننت سوامی یا میرا اپنا چارہ بننے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ایک حل یہ تھا کہ ہم ایک پتلا بنا کر اسے چشمے کے پاس رکھتے جیسے وہ پانی بھر رہا ہو اور میں کہیں قریب ہی چھپ جاتا تاکہ دو سیل والی ٹارچ کی روشنی میں شیر کو شکار کر سکتا۔ دو سیل والی ٹارچ کی روشنی کافی مدھم ہوتی ہے۔
میں نے جب اننت سوامی کو یہ منصوبہ بتایا تو وہ بہت خوش ہوا اور بولا، ’دورائی، ابھی چل کر چشمے پر مناسب جگہ چنتے ہیں جہاں آپ چھپ سکیں اور آج ہی پتلا بنا کر رکھ دیں گے تاکہ آج رات آدم خور کا قصہ پاک ہو جائے‘۔
جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کتنا بے چین ہے۔ سو ہم اٹھ کر چشمے کو چل دیے۔ چشمہ کیا تھا، زمین میں دبی ہوئی چٹان میں ایک رخنے سے پانی نکل کر چند گز دور ایک تالاب میں جمع ہو رہا تھا۔ یہ تالاب تین فٹ گہرا اور دس فٹ چوڑا تھا۔ اسی تالاب سے باپ بیٹی برسوں سے پانی بھرتے آئے تھے۔ تالاب سے آگے چل کر پانی زمین میں جذب ہو جاتا تھا۔ نمی کی وجہ سے یہاں پچیس گز تک گھاس اگی ہوئی تھی۔ اس کے بعد جنگل شروع ہو جاتا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ یہاں پہلی بار آیا تھا تو جھاڑیاں تالاب کے گرد اگی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر انہیں صاف کیا تھا۔ اب اس جگہ جھاڑیوں کی بجائے گھاس اگ آئی تھی۔
اب مسئلہ یہ تھا ہم کہاں چھپیں؟ مچان کے لیے مناسب درخت سو گز دور تھا۔ یہ فاصلہ ٹارچ کی روشنی کے لیے بہت زیادہ ہے اور دو سیل والی ٹارچ جو میرے پاس تھی، اس کے سیل بھی پرانے تھے۔ پتلے کو بٹھانے کا سارا منصوبہ بکھرنے لگا کہ ہمیں بیٹھنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہ مل رہی تھی۔
میں نے اننت سوامی سے پوچھا کہ اس کے ذہن میں کوئی خیال ہو تو اس نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے بتایا کہ اس کے ذہن میں کوئی خیال نہیں آ رہا۔ اب یا تو ہم پورا منصوبہ ہی ترک کر دیتے یا پھر زمین پر ہی کہیں بیٹھ کر خود کو چھپانے کی کوشش کرتے۔ میں نے بنگلے کے گودام میں جب اننت سوامی کی ٹارچ جلائی تو سیل کافی کمزور نکلے۔
باہمی رضا مندی سے ہم دونوں گھاس پر پچیس گز چلے اور اس کے بعد جھاڑیاں شروع ہو گئیں۔ ہم نے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا مگر ہمیں علم تھا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمیں یہیں کہیں چھپ کر بیٹھنا تھا۔
جھاڑیاں عام خار دار تھیں جن میں امبل اور دیگر مڑے ہوئے کانٹوں والی جھاڑیاں زیادہ تھیں۔ مڑے ہوئے کانٹوں والی جھاڑی کو نہ تو انسان پسند کرتے ہیں اور نہ ہی جانور۔ جب یہ جھاڑی گھنی ہو تو ہاتھی کے سوا کوئی جانور یا انسان اس میں سے نہیں گزر سکتا۔ اس جھاڑی کی معمولی سی ٹہنی بھی اگر کپڑے پر لگ جائے تو نکلتے ہوئے ایک یا دو منٹ لگ جاتے ہیں۔ اگر یہ جلد پر لگے تو کھال کا چھوٹا سا حصہ ساتھ لے جاتی ہے کہ اس کے کانٹے سوئی کی مانند تیز ہوتے ہیں۔
ایک جگہ جہاں جھاڑیاں شروع ہو رہی تھیں، وہاں ایک کافی بڑی خار دار جھاڑی تھی۔ داؤ کے بغیر انسان اس سے نہ گزر سکتا تھا۔ ہاتھی کے سوا اور کوئی جانور بھی اس میں سے نہ گزر سکتا تھا۔ اس لمحے مجھے یہ جھاڑی نعمتِ غیر مترقبہ دکھائی دی۔ اس کی مدد سے ہم خود کو چھپا سکتے تھے۔
پھر میں نے پوچھا، ’اننت سوامی، بنگلے میں ابھی تک دو پلنگ موجود ہیں؟‘
اس نے جواب دیا، ’ہاں دورائی‘۔ تاہم اسے یہ بات بہت عجیب لگی کہ اس وقت اس سوال کا کیا محل تھا۔ سو اس نے پھر پوچھا، ’اگر دورائی تھک گئے ہیں تو میں بنگلا کھول دیتا ہوں، آپ چل کر آرام کر لیں‘۔
میں نے اس کا دوسرا فقرہ ان سنا کر کے پوچھا کہ کیا وہاں تیسرا پلنگ بھی ہے۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور میں نے بمشکل قہقہہ دبایا۔ ظاہر ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں تین پلنگوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں کہ اکیلا آدمی ایک پلنگ پر ہی سوئے گا، دوسرے یا تیسرے سے اس کا کیا واسطہ؟ اسے میرا سوال سمجھ نہ آیا۔
میں نے سوال دہرایا، ’اننت سوامی، تیسرا پلنگ بھی ہے؟‘
اس نے شدید حیرت سے جواب دیا، ’نہیں دورائی، بس وہی دو پلنگ ہی ہیں‘۔
میں نے بنگلے کی طرف مڑتے ہوئے اسے کہا، ’آؤ اننت سوامی، بنگلے کا دروازہ کھولو۔ میں سارے فرنیچر کا جائزہ لوں گا‘۔
بیچارہ اننت سوامی سوچ میں پڑ گیا کہ دورائی کو کیا ہو گیا ہے۔ شاید لو لگ گئی ہو؟ افسوس، اتنے اہم موقعے پر دورائی بیمار پڑ گیا ہے۔ خیر، اس نے جب صاف الفاظ میں پوچھا تو میرا قہقہہ نکل گیا۔
میں نے اسے پھر سمجھایا، ’دیکھو اننت سوامی، میں پاگل نہیں ہوا اور نہ ہی بیمار ہوں۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ اس خار دار جھاڑی کے پاس ہم ایک پنجرہ سا بنائیں گے جس میں ہم دونوں چھپ کر بیٹھیں۔ اس مقصد کے لیے دو پلنگ اطراف اور ایک اوپر رکھ لیں گے تاکہ شیر ہمیں نہ تو دیکھ سکے اور نہ ہی حملہ کر سکے۔ سامنے کا حصہ ہم خالی چھوڑ دیں گے تاکہ شیر دکھائی دے۔ اس کے علاوہ پلنگ کے سپرنگوں میں ہم جھاڑیاں کاٹ کر اس طرح اڑس دیں گے کہ وہ جھاڑی کا ہی حصہ دکھائی دیں گے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف ایک سمت کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں تیسری چیز چاہیے ہو گی جو تیسری سمت کو چھپا سکے۔ یاد رکھو کہ تمہاری ٹارچ کے سیل کافی کمزور ہیں اور ہم انہیں زیادہ استعمال نہیں کر سکیں گے اور راتیں بہت تاریک ہیں‘۔
اسے میرا منصوبہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ ہم بات کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ اچانک اننت سوامی رکا اور جھک کر اپنی رانیں پیٹتے ہوئے قہقہے پر قہقہہ لگانے لگا۔
’کرشنا کرشنا دورائی، میں نے ایسا منصوبہ کبھی نہیں سنا۔ دو پلنگوں اور تیسری کسی چیز سے ہم پنجرہ بنا کر شیر کا انتظار کریں گے اور بچاؤ کے لیے خار دار جھاڑیاں استعمال ہوں گی؟ دورائی، میں یہ اپنے بچوں کو بتاؤں گا اور وہ اپنے بچوں کو اور پھر وہ اپنے بچوں کو‘۔
بے چارہ اننت سوامی بھول گیا تھا کہ اب اس کی کوئی اولاد نہیں رہی۔ شیر نے اس کی آخری بیٹی کھا لی تھی۔ مزید بچے کے امکانات اس لیے نہ تھے کہ اس کی بیوی بھی مر چکی تھی۔
اس نے بنگلے کا دروازہ کھولا اور ہم اندر داخل ہوئے۔ دونوں خوابگاہوں میں ایک ایک پلنگ موجود تھا۔ باقی فرنیچر کے نام پر کھانے کی ایک بڑی میز، دو چھوٹی میزیں، دو سنگھار میزیں (ایک کا آئینہ ٹوٹا ہوا تھا اور دوسری کا آئینہ تھا ہی نہیں)، ایک بڑی الماری، ایک آرام کرسی اور نصف درجن لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ غسل خانے میں ایک چھوٹا جستی ٹب، ایک چلمچی اور ایک تولیہ رکھنے کی تپائی تھی۔ کموڈ نہیں تھے کہ اس مقصد کے لیے باہر مٹی کا ایک کمرہ نما لیٹرین تھی جہاں زمین میں سوراخ کر کے رفع حاجت کی جگہ بنائی گئی تھی۔
میں نے ڈوبتی ہوئی امید سے فرنیچر کا جائزہ لیا۔ الماری بہت بھاری تھی اور ایک فرلانگ دور لے جانے کے لیے دو آدمی ناکافی تھے۔ چھوٹی میزیں بہت چھوٹی تھیں۔ ہمیں کھانے کی میز اور آرام کرسی میں سے ہی انتخاب کرنا تھا۔ کھانے کی میز بہتر انتخاب تھا مگر اس کی ہموار سطح کو چھپانا مشکل تھا۔ شیر اسے دیکھتے ہی مشکوک تو کیا الٹا ڈر کر بھاگ جاتا۔ آرام کرسی کو چھپانا نسبتاً آسان تھا۔
میں نے اننت سوامی سے کہا، ’آرام کرسی سے کام چلاتے ہیں‘۔
میں نے گھڑی دیکھی تو ساڑھے بارہ بجنے والے تھے۔ میں نے اسے کہا، ’اگر تمہاری راگی تیار ہے تو جلدی سے اسے کھا کر کام شروع کرتے ہیں۔ ہمیں بہت کام کرنا ہو گا‘۔
میں نے راگی کا نصف گولہ کھایا کہ اس بے ذائقہ چیز کو نگلنے کے لیے بار بار پانی پینا پڑ رہا تھا۔ اننت سوامی نے دو گولے کھائے۔ پھر اس نے دیگچی میں پانی ڈال کر اسے انگاروں پر رکھ دیا۔ سو جب ہم واپس لوٹتے تو کافی تھکے ہوئے ہوتے اور چائے تیار کرنا آسان ہو جاتا۔
اننت سوامی اپنی کلہاڑی ساتھ لایا اور ایک اضافی ٹوکہ بھی مجھے دے دیا۔ ہم چشمے پر واپس لوٹے اور فوراً کام میں جٹ گئے۔ پہلے ہم نے اس خار دار جھاڑی کو کاٹ دیا اور اس دوران خونم خون بھی ہوئے۔ اس سے فارغ ہو کر ہم نے جنگل کے اندر دو سو گز دور سے عین اسی قسم کی جھاڑیاں کاٹیں۔ یہ امبل وغیرہ پر مشتمل جھاڑیاں تھیں۔ پھر ہم ان سب کو اٹھا کر مطلوبہ مقام تک لائے کہ گھسیٹنے کے نشانات سے آدم خور خبر دار ہو سکتا تھا۔ دو بجے ہم نے اپنی خفیہ کمین گاہ تیار کر لی تھی۔
پھر ہم بنگلے کو لوٹے اور ایک ایک کر کے دونوں پلنگ اپنی کمین گاہ کو لائے۔ ہماری کمین گاہ کا عقبی حصہ ہمارے لیے خطرناک ہو سکتا تھا۔ ہم نے ایک پلنگ کو دوسرے کے ساتھ زاویہ قائمہ پر اس طرح رکھا کہ دونوں کی ٹانگیں باہر کی جانب تھیں۔ پھر ہم بنگلے سے آرام کرسی لائے اور اسے تیسری جانب رکھ دیا۔ کرسی کو ہم نے بنگلے کی سمت رکھا کہ اس طرف سے شیر کی آمد کے امکانات کافی کم تھے۔ چوتھی جانب ہم نے کھلی رکھی۔ اس کا رخ اسی گھاس کے قطعے کی طرف تھا جہاں ہم نے پتلا رکھنا تھا۔
اب اصل مشکل کام شروع ہوا کہ ہمیں اب پلنگ میں ان خار دار جھاڑیوں کو اڑسنا تھا تاکہ آدم خور کو دکھائی نہ دے سکے۔ ہم نے اضافی کاٹی ہوئی جھاڑیوں بھی استعمال کیں۔
جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ہم اپنی کمین گاہ کو چھپا نہیں سکیں گے۔ ہمیں مزید چھ سات چکر لگا کر اور جھاڑیاں کاٹنی پڑیں تب جا کر گزارے لائق آڑ بنی۔ میں نے مختلف جگہوں سے دیکھا تو اس کی جسامت لگ بھگ جھاڑی جتنی ہی تھی۔ مگر میں مطمئن نہیں تھا کہ شیر جیسے چالاک جانور کو دھوکا دینا اتنا آسان نہیں۔
ہماری امید کا مرکز یہ نکتہ تھا کہ آدم خور کی ساری توجہ پتلے پر رہے گی، سو وہ ہماری جانب نہیں دیکھے گا۔ ہماری کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آدم خور کس جانب سے آتا ہے۔ اگر وہ پہلو سے آتا تو ہم چھپے رہتے، اگر شیر سامنے سے آتا تو ہمیں واضح دیکھ لیتا۔ پیچھے سے شیر آتا تو یا تو ہم پر حملہ کرتا یا پھر فرار ہو جاتا۔
پھر ہمیں پتلا بنانا تھا۔ پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی تھی۔ خیر، ہم اننت سوامی کے کمرے کو لوٹے جہاں ہم نے اس کے صندوقوں، بستر اور کپڑوں کو زمین پر جمع کیا۔ ہمارے پاس نہ تو وقت اور نہ ہی مناسب ساز و سامان تھا کہ اچھا پتلا بنا سکتے۔ اس کا پرانا تکیہ جو تیل کی وجہ سے سیاہ ہو چکا تھا، پتلے کا دھڑ بنا۔ میں نے اس کے دونوں جانب سوراخ کیے اور بانس گھسا دیا۔ بانس دونوں طرف اتنا نکلا ہوا تھا کہ جیسے بازو ہوں۔ ایک اور سوراخ میں ایک چھوٹی سی دیگچی رکھ دی جو سر بنی۔ ٹانگوں کے لیے بانس نہیں تھے، ہم نے اس طرح بنایا جیسے پتلا زمین پر بیٹھا ہوا ہو۔ یہ کیفیت عام طور پر پانی بھرنے والے آدمی کی ہوتی ہی ہے۔
تکیے پر اننت سوامی کی ایک قمیض چڑھا دی گئی اور بانس اس کی آستینوں سے نکلے ہوئے تھے۔ دیگچی پر ہم نے پگڑی باندھ دی۔ یہاں تک کام آسان تھا۔
مگر ہم اس پتلے کو کھڑا کیسے رکھیں گے؟ میں نے ہر طرف دیکھا۔ آخرکار مجھے احساس ہوا کہ تولیہ رکھنے والی تپائی کا ایک حصہ یہ کام دے سکتا ہے۔ تکیے کے نیچے سوراخ کر کے میں نے یہ تپائی کا حصہ گھسایا اور اوپر تک لے گیا جہاں اس نے گردن کی شکل اختیار کر لی۔
اب ہمارا کام اتنا رہ گیا تھا کہ ہم تپائی کا نچلا حصہ زمین میں اس طرح گاڑ دیتے کہ پتلا گرنے سے بچ جاتا۔ پانچ بج چکے تھے۔ کھانے کا وقت نکل چکا تھا۔ راگی کا خیال ہی بھوک اڑانے کو کافی تھا۔ چائے کا وقت بھی نہ بچا تھا۔ مجھے چائے نہ پی سکنے کا افسوس ہوا۔ ہماری مصروفیت کی وجہ سے پانی ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
پھر میں نے اننت سوامی سے کہا، ’ٹوکہ اور کلہاڑی لاؤ اور اپنا گرم کوٹ پہن لو۔ ٹارچ مت بھولنا۔ دو گھڑے بھی ساتھ جائیں گے۔ جلدی کرو‘۔
ہم بھاگم بھاگ چشمے پر پہنچے جہاں اننت سوامی نے ٹوکے سے زمین میں مناسب جگہ بنا دی اور میں نے اس میں پتلے کو اچھی طرح گاڑ کر مٹی برابر کر دی۔ پھر ہم نے اس کے پاس دو گھڑے رکھ دیے۔ پتلا چشمے کے کنارے بیٹھا تھا۔ ہماری دعا تھی کہ آدم خور کو یہ پتلا سچ مچ کا انسان لگے جو پانی بھرنے آیا ہو۔ مجھے تو پتلے کی ہیئت پر ہنسی آ رہی تھی۔ گرد و پیش پر نظر ڈال کر ہم ’کمین گاہ‘ میں گھس گئے۔
چونکہ میں دائیں شانے سے گولی چلاتا ہوں، سو میں نے روشنی ڈالنے کی خاطر اننت سوامی کو دائیں جانب بٹھایا۔ میرے بائیں جانب آرام کرسی تھی۔
اس وقت ساڑھے پانچ بجنے میں تین منٹ رہتے تھے۔ مجھے علم تھا کہ ہمیں یہاں ایک گھنٹہ قبل ہی بیٹھ جانا چاہیے تھا۔ ہمارا رخ مشرق کو تھا اور سورج ہمارے عقب میں پہاڑیوں کے پیچھے چھپ چکا تھا۔ میں نے اننت سوامی کو چند فقروں میں ہدایات دیں:
’کسی بھی قیمت پر اپنا سر، ہاتھ یا پیر مت ہلانا۔ مچھر کاٹیں تو انہیں پھونک مار کر اڑانا۔ اگر کچھ دکھائی یا سنائی دے تو بائیں گھٹنے سے مجھے ہلکا سا دھکا دینا مگر کوئی آواز نہ نکلے۔ اگر شیر آ گیا تو میں تمہیں دو مرتبہ ٹہوکا دوں گا۔ یہ اشارہ ہو گا۔ جب شیر پتلے پر جست لگائے گا تو اسے احساس ہو گا کہ گوشت اور خون تو ہے ہی نہیں، پھر شاید وہ غرائے۔ پھر تم ٹارچ جلا کر اس پر روشنی ڈالنا۔ ہاتھ نہ کانپے اور نہ ہی ٹارچ گرے ورنہ ہم مر جائیں گے۔ یاد رکھو کہ مجھے تاریکی میں کچھ نہیں دکھائی دیتا جبکہ شیر کو سب دکھائی دیتا ہے‘۔
اس نے جواب دیا، ’فکر نہ کریں دورائی، میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ مجھے رجما کی قسم‘۔
اس کی بیٹی کا نام رجما تھا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ نہ بولے۔
ہمارے پیچھے جنگل میں ایک درخت پر ہدہد سوراخ کر رہا تھا۔ پھر خوبصورت جنگلی مرغ ہمارے پاس ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ کافی دور ہمیں کوئل کی آواز سنائی دی۔ پھر ایک اور پرندہ بولا جس کی آواز کوئل سے بھی بلند تھی۔ پھر کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر پرندے بولنے لگے۔ اس طرح پرندوں کا شور وقفے وقفے سے آتا رہا کہ وہ دن کو رخصت کر رہے تھے۔
دھندلکا تیزی سے چھانے لگا اور ہر چیز جیسے دھوئیں میں تحلیل ہوتی جا رہی ہو۔ چند ہی منٹوں میں تاریکی چھانے لگی اور نظر اپنا کام چھوڑنے لگی۔
دن کے آخری پرندے یعنی مور کی آواز آئی جو کافی درد بھری ہوتی ہے۔ اس آواز سے واضح ہو گیا کہ اب دن ختم ہوا اور رات شروع ہے۔ شب بیدار پرندوں بشمول جنگلی چمگادڑ کی آواز آنے لگی۔ اگلے ہی لمحے رات ہو چکی تھی۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ دن کے پرندوں کی آخری آوازوں کا جواب رات کے اولین پرندے دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ دن کے پرندے سو جاتے ہیں تو رات کے پرندے پیٹ بھرنے لگتے ہیں۔ واحد آواز یا تو پتنگے کھانے والی چمگادڑ کے اڑنے کی تھی یا پھر ایک جھینگر میرے قدموں کے عین قریب بولنے لگا۔
ستارے خوب روشن تھے اور شام کا ستارہ اور بھی تیزی سے چمک رہا تھا۔ آسمان صاف تھا اور اس کا گہرا نیلا رنگ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں کافی جگنو وقفے وقفے سے چمک رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ان کی روشنی ایک ساتھ پیدا ہوتی تو آس پاس کی نباتات ہلکی سی روشن دکھائی دیتیں اور اگلے لمحے تاریکی پھر سے چھا جاتی۔
ہم خاموشی سے بیٹھے رہے۔ مچھر ہمارے آس پاس اڑتے رہے اور پھر ہمارے اوپر ان کا بادل سا چھا گیا۔ ہر بار جب وہ میرا خون چوستے تو ان کے ڈنک کی چبھن صاف محسوس ہوتی۔ مچھر میرے چہرے، گردن، ہاتھوں غرض ہر وہ جگہ جو انہیں دکھائی دیتی، وہاں سے خون چوسنے میں لگے تھے۔ میں چہرے کے مچھروں پر پھونک مارنے کی کوشش کر کے انہیں بھگاتا رہا اور ہاتھوں اور گردن کو حرکت نہ دی۔ خوش قسمتی سے میری پتلون، جرابیں اور جوتے میرے نچلے دھڑ کو محفوظ کیے ہوئے تھے۔ اننت سوامی میری ہدایات کے عین مطابق آہستہ آہستہ پھونک مار کر مچھروں کو بھگا رہا تھا۔
تاہم اس طرح بیٹھنا کوئی آسان کام نہیں اور بہت جلد تھکا دیتا ہے۔ شکر ہے کہ اس میں اتنا خطرہ نہیں کہ یہ ملیریا والے مچھر نہیں تھے۔ ملیریا والا مچھر آپ کو کاٹتے ہوئے اپنے سر کے بل کھڑا ہوتا ہے اور دم اوپر کو اٹھی ہوتی ہے۔ اس کے کاٹنے کا درد نہیں ہوتا۔ اب یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس دوران کتنے ملیریا والے مچھر بھی کاٹ چکے ہوں گے کہ ان کا درد ہی نہیں ہوتا۔ کتنے مزید ملیریا والے مچھر اس رات کاٹتے۔
میں نے گھڑی دیکھی تو ساڑھے نو بجنے والے تھے۔ ابھی ایک طرح سے پوری رات پڑی تھی۔ دس بجنے کا احساس بھی نہ ہوا کہ وقت تیزی سے گزرا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہمارے آس پاس کوئی زندہ مخلوق موجود نہیں۔ ہمیں بخوبی علم تھا کہ خطرہ ہمارے اردگرد کہیں موجود ہو گا کہ کئی انسانی جانوں کو تلف کرنے والا آدم خور اسی علاقے میں ہے۔ کیا خاموشی اس وجہ سے ہے کہ آدم خور جا چکا ہے؟ کیا اسی وجہ سے ہمیں کسی ہرن کی خطرے کی آواز سنائی نہیں دی؟ یہ سوچ کافی مایوس کن تھی۔
پھر جیسے اس کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ایک عجیب سی آواز آئی۔ میں نے یہ آواز بہت عرصے بعد سنی تھی اور بخوبی جانتا تھا کہ یہ آواز تنہا گیدڑ کی ہے اور بہت کم سنائی دیتی ہے۔ جنگل کی کہانیوں کے مطابق اکیلا گیدڑ کسی شیر یا تیندوے کے ساتھ دوستی کر لیتا ہے اور ان کو مختلف شکاروں کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اس کے بدلے درندے کے شکار کردہ جانور کا بچا کھچا حصہ کھانے کی اسے آزادی ہوتی ہے اور تیندوا یا شیر اسے کچھ نہیں کہتا۔
گیدڑ کی آواز لمحہ بہ لمحہ قریب تر ہو رہی تھی اور درمیانی وقفہ بھی کم ہوتا جا رہا تھا۔
میں نے پھر متذکرہ بالا کہانی کا دوسرا حصہ یاد کیا جس کے مطابق گیدڑ جس کو شکار چن لے، اس کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔ میرے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی۔ اسی وقت اننت سوامی کا بایاں گھٹنا میرے بدن سے لگا۔ وہ بھی لرز رہا تھا۔
میں نے تاریکی میں دیکھنے اور سننے کی کوشش کی۔ ماسوائے قریب ہوتی ہوئی گیدڑ کی منحوس آواز کے سوا اور کچھ نہ سنائی دیا۔ یہ آواز بار بار آتی رہی۔
اننت سوامی نے کچھ اور بھی دیکھا یا سنا تھا جو وہ مجھے بتانا چاہ رہا تھا یا وہ بھی گیدڑ کی آواز سے پریشان تھا۔ شاید اسے اس گیدڑ سے وابستہ کہانی کا علم تھا۔ اسے علم نہ ہو گا کہ میں بھی اس کہانی کو جانتا ہوں۔ وہ مجھے خبردار کرنا چاہ رہا ہو گا کہ میں نے ہی اسے کچھ بولنے سے منع کیا تھا۔ میں نے اس بات کو بھلانے کی کوشش کی کہ اس میں سچائی سے زیادہ توہم پرستی کا عنصر غالب تھا۔ میرے لیے یہی حقیقت تھی کہ ایک گیدڑ غیر معمولی طور پر اس طرح آواز نکال رہا تھا۔ یہ آواز لمحہ بہ لمحہ قریب تر آتی جا رہی تھی۔ اب یہ میری ذمہ داری تھی کہ میں یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ یہ گیدڑ اکیلا ہے یا دیگر گیدڑوں یا کسی اور جانور کے ساتھ۔
ایک بار پھر کافی قریب سے اس گیدڑ کی آواز سنائی دی۔ کیا اس آواز میں ایک طرح کی کمینگی واضح تھی؟ جیسے وہ خوش ہو رہا ہو؟ میں نے اس سوچ پر خود کو کوسا اور ساری توجہ سامنے کو مرکوز کر دی۔ اس آخری آواز کے بعد خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جو محسوس کی جا سکتی ہے، ایسی خاموشی جو بہت بھاری محسوس ہوتی ہے۔
اننت سوامی بیدِ مجنوں کی مانند لرز رہا تھا اور اس کا گھٹنا مسلسل میرے گھٹنے سے ٹکرا رہا تھا۔ اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا اور میرے دائیں بازو اور پہلو پر اس کی بے ساختہ حرکت صاف محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے گھٹنے پر رکھا اور پھر اسے نرمی سے تھپکا۔ کئی برس قبل بنگلور سے تیس میل دور واقع کلوزپیٹ میں میرے ساتھ جو دلچسپ واقعہ ہوا تھا، میں کسی قیمت پر اس واقعے کو یہاں نہیں دہرانا چاہتا تھا کہ موجودہ صورتحال کافی گمبھیر تھی اور اگر وہی غلطی دہرائی جاتی تو شاید یہ ہماری زندگیوں کی آخری غلطی ثابت ہوتی۔
ہوا کچھ یوں تھا کہ کئی برس قبل میری ایک جاننے والی خاتون میرے پاس آئی اور بولی کہ اسے تیندوا شکار کرنا ہے۔ چونکہ یہ خاتون کافی مشہور ہے، سو میں اس کا نام نہیں لکھ سکتا۔ ہم کار میں کلوزپیٹ روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر میں نے چارے کے لیے دو گدھے بندھوا دیے۔ دو روز بعد پتہ چلا کہ ایک گدھا مارا گیا ہے اور جب ہم جائے واردات پر پہنچے تو پتہ چلا کہ گدھے کو مناسب طریقے سے نہیں باندھا گیا تھا۔ سو تیندوا اسے ہلاک کرنے کے بعد گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ گدھا جہاں بندھا تھا، وہاں مچان کے لیے مناسب درخت تھا مگر تیندوا اسے گھسیٹ کر جھاڑیوں میں لے گیا جہاں کوئی درخت پاس نہ تھا۔ اب یا تو ہم جھاڑیوں میں ہی چھپ کر بیٹھتے یا پھر بنگلور واپس روانہ ہو جاتے۔ اس خاتون نے اصرار کیا کہ ہم زمین پر ہی بیٹھ جاتے ہیں۔
اس روز ہمارے ساتھ تھنگاویلو اور اس کا بھائی بھی تھے اور انہوں نے جس مہارت سے ہمارے لیے جھاڑیوں میں کمین گاہ بنائی، وہ کمال کی تھی۔ تیندوے کو آتے ہوئے ذرا سا بھی اندازہ نہ ہوا کہ ہم اندر بیٹھے ہیں۔ کافی دیر تک وہ لاعلم ہی رہا۔ اس بارے میں دونوں بھائی داد کے مستحق ہیں۔
وہ رات بھی تاریک اور چاند کے بغیر تھی۔ ہم اس کمین گاہ میں ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ کچھ دیر بعد جھاڑیوں کے دوسری جانب سے سرسراہٹ سنائی دی جو اس خاتون کے بائیں جانب سے آ رہی تھی۔ میں دائیں جانب بیٹھا تھا۔
یہ سرسراہٹ عجیب سی تھی، جیسے کوئی سخت چیز کسی نرم چیز کے اوپر سے گزر رہی ہو۔ سانپ ہوتا تو یہ سرسراہٹ متواتر جاری رہتی اور اگر یہ چوہا تھا تو یہ آواز وقفے وقفے سے آتی۔ دیمک پتے کھاتے ہوئے ایسی آواز پیدا نہیں کرتی۔ کیڑے اور رات کو نکلنے والے حشرات بھی ایسی آواز نہیں پیدا کرتے۔ مگر یہ آواز ایسی کسی مخلوق کی نہیں تھی۔ میں نے کافی سوچا تو اچانک مجھے جواب سوجھ گیا۔ یہ تیندوا تھا جو اپنی کھال چاٹ رہا تھا۔ تیندوا ہم سے محض دو فٹ دور ہماری کمین گاہ کی دوسری جانب بیٹھا اپنی کھال چاٹ رہا تھا اور اسے ہماری خبر ہی نہ تھی۔
میں نے اس خاتون کا بازو پکڑا، اپنی انگلی اس کی آنکھ کے سامنے لا کر اسے اشارے سے بتایا۔ اسے سمجھ نہ آئی۔ پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اس کی ہتھیلی سیدھی کی اور پھر اس پر انگلی سے بڑے حروف میں لکھنے لگا۔ پی، اے، این، ٹی، ایچ۔۔۔
وہ فوراً سمجھ گئی اور انتہائی عجلت میں ردِ عمل بھی دکھایا۔ میں نے آج تک کسی انسان کو بیٹھی حالت سے اتنی جلدی کھڑا ہوتے نہیں دیکھا۔ پلک جھپکتے میں ہی وہ اٹھی، ٹھوکر کھا کر نیچے میرے پیچھے جھاڑیوں میں گری اور گرتے گرتے اس کا جوتا زور سے میرے منہ پر لگا۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جب تیندوے نے یہ شور سنا تو اس کا ردِ عمل بھی عین یہی تھا۔ اسے شاید لگا ہو کہ اس کے قریب سے شیطان یا تیندوے کی زبان میں شیطان کے متبادل مخلوق کی حرکت ہوئی ہے۔ اس نے جست لگائی اور قلا بازی کھا کر سیدھا ہماری کمین گاہ کی بائیں دیوار سے ٹکرایا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اندھا دھند فرار ہونے کی کوشش میں تیندوا ہمیں پنجے بھی مار سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کاٹ بھی لے۔ سو میں نے بھی اٹھ کر پیچھے کو جست لگائی۔
خیر، کہانی کا اختتام اچھا ہی ہوا کہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ہم اس واقعے پر بہت ہنسے اور ایک دوسرے کا مذاق اڑایا۔ بعد میں اس خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ کسی قیمت پر بھی اس دلچسپ واقعے سے محروم ہونا پسند نہ کرتی۔ تیندوا یکسر غائب ہو گیا تھا۔ اب سوچیے کہ یہ تو بے ضرر تیندوا تھا۔ اگر اس کی جگہ ہمارا سامنا آدم خور شیر سے ہوتا تو کیا یہ اتنا ہی بے ضرر ثابت ہوتا؟
خیر، مجھے ڈر ہوا کہ اننت سوامی کا حوصلہ جواب نہ دے جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا، چیختا، رونے لگتا، کچھ بھی ممکن تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو مشکل بڑھ جاتی کہ ہمارا سامنا بے ضرر تیندوے کی بجائے آدم خور شیر سے تھا۔ مجھے علم تھا کہ اننت سوامی بہادر انسان ہے اور شیر سے نہیں ڈرے گا۔ مگر گیدڑ کی موجودگی اسے بد روح لگ رہی تھی جو آدم خور شیر کو ہمارے پاس لا رہا تھا۔ میں نے اس کے گھٹنے کو زور سے دبایا اور پھر بار بار تھپک کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
پھر واقعات تیزی سے رونما ہونے لگے۔ مجھے خشک پتوں پر اپنی بائیں جانب سے کسی جانور کے چلنے کی آواز آئی۔ ہماری کمین گاہ کی یہی سمت سب سے کمزور تھی کہ اس سمت ہم نے آرام کرسی رکھی تھی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ چونکہ یہ سمت بنگلے کی جانب ہے، سو یہاں سے شیر کے آنے کی امید کم ہو گی۔
قدموں کی آواز ہماری سمت آ رہی تھی اور خشک پتوں کی وجہ سے ہم یہ آواز سن رہے تھے۔ اگر یہ جانور کسی اور سمت سے آتا تو ہمیں اس کی آواز نہ سنائی دیتی کہ خشک پتے محض اسی ایک جانب تھے۔ باقی ہر طرف چشمے کے پانی کی وجہ سے اگنے والی گھنی سبز گھاس تھی۔
ایک بار یہ آواز رکی اور پھر دو یا تین قدم چل کر پھر رک گئی۔
واحد جانور جو اس طرح چلتا ہے وہ گیدڑ ہے، وہی تنہا گیدڑ۔ مگر وہ اس طرح رکا کیوں؟ کیا اسے شک ہو گیا ہے؟ یا اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے؟ شاید کسی اور وجہ سے رکا ہو؟ کیا اب اس کا کام بطور رہنما ختم ہو گیا ہے اور اب شیر کی باری ہے کہ حملہ کر سکے؟
اس دوران ہمیں شیر کی ذرا سی بھی آہٹ نہ سنائی دی تھی مگر مجھے شیر کی موجودگی کا علم تھا۔ میرے بدن کا رواں رواں جانتا تھا کہ ہم خطرے میں ہیں۔ آدم خور قریب ہی ہے۔
پھر اچانک ایک اور پریشان کن خیال آیا۔ عین ممکن ہے کہ گیدڑ نے جان بوجھ کر خشک پتوں پر چلنے کا فیصلہ کیا ہو تاکہ ہماری توجہ دوسری جانب مبذول ہو اور آدم خور ہمارے دائیں یا عقب سے حملہ کرنے والا ہو۔ چونکہ اس جانب سبز گھاس تھی، سو ہم اس کی آہٹ نہ سن پاتے۔
میں نے اننت سوامی کے گھٹنے سے اپنا ہاتھ ہٹایا کہ میں بھی لگ بھگ اسی کی مانند کانپ رہا تھا۔ میں نے پوری توجہ سے سامنے دیکھنے اور سننے کی کوشش کی۔ لمحے گزرتے رہے اور ہر لمحہ یہی لگتا تھا کہ شاید یہ آخری ہو۔ رائفل میرے شانے سے لگی ہوئی تھی اور میرے چہرے سے بہنے والا پسینہ اس کو بھگو رہا تھا۔ رائفل کو تھامے میرے ہاتھ پسینے سے بھیگ چکے تھے۔
مجھے علم نہیں کہ گیدڑ ہمارے عقب تک کیسے پہنچا ہو گا مگر اس کی آواز وہیں سے آئی۔ پھر پہلی بار ہمیں شیر کی آواز بھی سنائی دی جو پتلے کو نوچ رہا تھا۔ ہم پتلے کو بھول چکے تھے اور ہمیں یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ اگر گیدڑ شیر کو شکار تک ہی لائے گا تو وہ اسے پتلے تک لے جائے کہ پتلا دکھائی دے رہا تھا جبکہ ہم چھپے ہوئے تھے۔
اننت سوامی اتنا ڈرا ہوا تھا کہ وہ حرکت نہ کر سکا حالانکہ اسے ٹارچ روشن کر کے شیر پر ڈالنی تھی۔ مگر وہ سیاہ تاریک رات میں اپنی جگہ بے حس و حرکت بیٹھا رہا جبکہ شیر اپنے بے جان شکار کو بھنبھوڑتا رہا۔
عین اسی لمحے ہمیں ایک دوستانہ آواز سنائی دی۔ اننت سوامی کا کتا بھونک رہا تھا۔ شاید وہ اپنے مالک کو تلاش کرتے یہاں تک آن پہنچا تھا اور اب اس کا سامنا گیدڑ اور شیر سے ہو گیا۔ اس نے فرار ہونے کی بجائے دیوانہ وار بھونکنا شروع کر دیا۔
میں نے اننت سوامی کی ران پر مکا مار کر سرگوشی کی، ’بیٹری پوڑو (بیٹری جلاؤ)‘۔
اس نے ٹارچ جلائی مگر بدقسمتی سے اس کا رخ سیدھا میرے چہرے کی جانب تھا۔ میں لمحے بھر کو اندھا ہو گیا۔ پھر میں نے بیٹری چھین کر بائیں ہاتھ میں پکڑ کر سامنے کو ڈالی۔ پتلے کی سمت سے شیر کی چمکتی ہوئی آنکھیں اور اس کا ہیولا دکھائی دیا۔ میں نے کوشش کی کہ ٹارچ کو رائفل کی نال سے اس طرح لگاؤں کہ دیدبان اور شیر کی آنکھیں دکھائی دیتی رہیں۔
قسمت ہمارے خلاف تھی۔ آدم خور ہمیشہ کی طرح بزدل نکلا اور ایک اونچی دہاڑ کے ساتھ اس نے جست لگائی اور غائب ہو گیا۔
میں نے ٹارچ ہر سمت ڈالی مگر شیر تو شیر، اس کا دوست گیدڑ بھی غائب ہو چکا تھا۔ اگر گیدڑ دکھائی دیتا تو میں اس منحوس کا قصہ پاک کر ہی دیتا۔ اچانک ہمیں بھورے اور سفید رنگ کا چھوٹا سا جانور آتا دکھائی دیا جو بھونک رہا تھا۔ یہ اننت سوامی کا کتا تھا۔ پندرہ منٹ بعد ہم تینوں اپنی جگہ سے اٹھے اور بنگلے کو چل پڑے۔ اب مزید انتظار بیکار تھا۔ آدم خور کو پتلے والی دھوکہ بازی کا علم ہو چکا تھا۔ گیدڑ اور آدم خور، دونوں ہی جان گئے تھے کہ ان کا سامنا دو انسانوں سے ہے جو ان کو مارنے پر تلے ہیں۔ سو انہوں نے فرار کو ترجیح دی۔
جب ہم بنگلے کو روانہ ہوئے تو میں نے سوچا کہ یہ رات ہمارے لیے بدقسمتی نہیں بلکہ خوش قسمتی کا باعث تھی۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تنہا گیدڑ اتنا مکار نہیں تھا کہ وہ آدم خور کو ہم تک لاتا الٹا اس نے ہمیں آدم خور کی موجودگی کی اطلاع دی۔ دوسرا یہ کہ جب میں نے ٹارچ جلائی تو گولی چلانے کے لیے تیار نہ تھا۔ آدم خور چاہتا تو جست لگا کر ہمارا خاتمہ کر سکتا تھا۔ تیسرا یہ کہ اننت سوامی کے کتے نے بروقت بھونک کر آدم خور کو تذبذب میں ڈال دیا اور وہ فرار ہو گیا۔
یہ رات ہمارے لیے خوش قسمت تھی۔ ہم دونوں دہشت زدہ سہی مگر زندہ سلامت تو تھے۔ اب پچھتانے سے کیا ہوتا؟ سو ہم بنگلے میں پہنچ کر سو گئے۔
جب ہم اگلی صبح اٹھے تو سورج چمک رہا تھا۔ اننت سوامی نے بتایا کہ اسے آدم خور سے نہیں بلکہ اس منحوس گیدڑ سے ڈر لگ رہا تھا جو بد روح تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں بھی اتنا ہی ڈرا ہوا تھا مگر گیدڑ سے نہیں بلکہ آدم خور شیر سے ڈرا تھا۔ سو اب ہم نے اپنی بزدلی کا اعتراف کر کے دل صاف کیے اور نیا منصوبہ سوچنے لگے۔
پتلے کو دوبارہ آزمانا تو ممکن نہ تھا کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے آدم خور کو دو مرتبہ دھوکا دینا نا ممکن تھا۔ جب شیر نے پتلے پر حملہ کیا ہو گا تو اسے پتہ چل گیا ہو گا کہ مٹی کے گھڑے اور پرانے کپڑوں کا ذائقہ گوشت اور خون سے کتنا فرق ہوتا ہے۔ سو ہمیں کچھ اور کرنا ہو گا۔
میں نے آدم خور کے پگ دیکھے جو چشمے کے کنارے تھے۔ جب اس نے پتلے پر حملہ کیا تو اس کا پیر پھسل گیا تھا اور وہ نیچے گرا۔ اس جگہ اگلے دو پنجوں کے واضح نشانات تھے۔ گزشتہ روز گنجور والے راستے پر اسی شیر کے پگ ثبت تھے۔ گھاس پر شیر کے پگ غائب تھے اور اس کے بعد پتھریلا علاقہ تھا۔
ایک بات واضح تھی کہ شیر کافی بھوکا تھا۔ اس نے پتلے کو دیکھتے ہی اس پر حملہ کیا تھا اور اب اس کی بھوک اور بھی چمک گئی ہو گی۔ سو رات گئے اس نے کوئی جانور مارا ہو گا یا پھر علی الصبح۔ اصولی طور پر شیر دن میں جنگلی جانوروں کو شکار نہیں کرتے اور گنجور میں مویشی بھی نہیں تھے۔ ایک امکان یہ تھا کہ ڈر کر شیر یا تو پہلے ہی یہ جگہ چھوڑ چکا ہو گا یا پھر آج شام کو چھوڑ جاتا۔
ہم دونوں جولڈال کے راستے پر ایک میل تک گئے مگر شیر کی واپسی کے پگ دکھائی نہ دیے۔ گنجور واپس لوٹ کر ہم نصف میل دور ایک چھوٹے ٹیلے پر چڑھے۔ اس بلندی سے ہم نے آسمان چھانا کہ کہیں گِدھ دکھائی دے جائیں جو شیر کے شکار کی باقیات پر منڈلا رہے ہوں۔ مگر کوئی گِدھ نہ دکھائی دیا۔
دوپہر تک ہم کافی مایوس اور ناکام محسوس کر رہے تھے۔ پھر ہم نے بظاہر ایک احمقانہ حرکت کی۔ ہم نے پتلے کو دوبارہ سے بنایا اور اپنی کمین گاہ میں بیٹھ گئے۔ یہ دو وجوہات کی بنا پر احمقانہ تھی۔ ایک تو یہ کہ شیر پتلے سے دوسری مرتبہ دھوکہ نہ کھاتا۔ دوسرا یہ کہ جب ہم بیٹھ گئے تو ہمیں احساس ہوا کہ آدم خور پچھلی رات ہمارے مقام کو جان چکا ہے اور اب سیدھا ہماری جانب آئے گا۔
آٹھ بجے کے بعد چیتل بولنا شروع ہوئے۔ یہ آوازیں اس ٹیلے کے پاس جنگل کی جانب سے آ رہی تھیں جہاں ہم دوپہر کو چڑھے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انہوں نے شیر کو دیکھا یا اس کی بو سونگھ لی ہے۔ اس سے ہماری ہمت بڑھی۔ آخرکار یہ واضح ہو گیا کہ آدم خور شیر ابھی تک اسی علاقے میں موجود ہے۔ مگر ہمیں شیر یا تنہا گیدڑ کی آواز نہ سنائی دی۔
دس بجے جیسے شیر کی حرکات کا وقت مقرر ہو، ہمیں جنوب کی سمت ایک دردناک چیخ سنائی دی۔ یہ چیخ دو بار آئی اور جیسے کسی کا گلا گھونٹا جا رہا ہو۔ ہم جان گئے کہ آدم خور نے چیتل یا سانبھر مارا ہے۔ ہم نے سمت یاد کر لی۔
باقی رات کچھ نہ ہوا اور نہ ہی چیتل بولے۔ دو بجے اننت سوامی سو گیا۔ نیند تو مجھے بھی بہت آئی تھی مگر دونوں کا بیک وقت سونا خطرے کی بات تھی۔
جونہی دن کی روشنی ہوئی تو ہم دونوں کمین گاہ سے نکلے اور اس سمت چل پڑے جہاں پچھلی رات کوئی جانور مارا گیا تھا۔ ہم نے سوچا کہ اگر شیر لاش پر ہی موجود ہوا تو اس کا قصہ وہیں تمام کر دیں گے۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ ہمیں شکار کے درست مقام کا علم نہ تھا۔ ہم نو بجے تک تلاش کرتے رہے۔ سورج گرم ہونے لگا تو میں بہت تھک گیا کہ میں نے رات جاگ کر گزاری تھی۔ سو ہم بنگلے کو لوٹ آئے۔
اننت سوامی نے راگی پکانا شروع کر دی تو میں سونے چلا گیا۔ راگی کے گولے اب مجھے توپ کے گولے لگتے تھے۔ ایک بجے اٹھا تو دیکھا کہ بستر کے ساتھ راگی کا ایک بڑا گولہ اور چائے کا ٹھنڈا پیالہ رکھا تھا۔ اننت سوامی کمرے کے دوسرے کونے میں سو رہا تھا۔ میں نے بمشکل راگی نگلی کہ چینی یا نمک کے بغیر اس کا کوئی ذائقہ نہیں تھا۔ پھر چائے پی کہ چائے ٹھنڈی سہی، مگر اس کا ذائقہ تو تھا۔
پھر میں باہر برآمدے میں نکلا اور جنوب کی سمت نگاہ ڈالی تو آسمان پر منڈلاتے گِدھ دکھائی نہ دیے۔ اب پچھلی رات شیر کے شکار کے مقام کے بارے میں مجھے کوئی علم نہ تھا۔ اس لیے رات کا اندھیرا ہونے سے قبل کچھ کرنا ممکن نہ تھا۔
مجھے اطمینان تھا کہ شیر نے چاہے چھوٹا جانور مارا ہو یا بڑا، کم از کم اگلے ۲۴ گھنٹے وہ اس علاقے سے دور نہ جاتا۔ اگر اس کا شکار چھوٹا جانور ہوتا جسے وہ پورا کھا چکا ہوتا تو بھی چوبیس گھنٹے بعد جا کر اسے بھوک لگتی اور پھر شکار کا سوچتا۔
اب دس میل دور جولڈال جا کر چارا خریدنے کے بعد اسے اندھیرا ہونے سے قبل واپس لانا ممکن نہ تھا۔ سو میں نے سوچا کہ یہ کام اگلے روز کروں گا۔ رات کے لئے وہی پرانا منصوبہ ہی تھا کہ ہم پتلے کی جگہ تھوڑی بدل کر اسے وہیں رکھتے اور ہم اپنی کمین گاہ میں چھپ جاتے۔ ابھی چونکہ دو نہیں بجے تھے، سو میں نے سوچا کہ دو گھنٹے کے لیے بنگلے سے اس ٹیلے کی سمت مختلف پگڈنڈیوں کو چھانتا ہوں۔
مجھے پورا یقین تھا کہ پچھلی رات آدم خور نے شکار کیا تھا کہ اس جانور کے مرنے کی آواز ہم دونوں نے ہی سنی تھی۔ اس بار میں دوسری جانب سے ٹیلے کو گیا اور راستے میں جہاں مٹی یا ریت ہوتی، شیر کے پگ تلاش کرتا۔ اس کے علاوہ آسمان پر گِدھ وغیرہ اور درختوں پر بیٹھے کوے تلاش کرتا رہا۔ سارا وقت میں نے اونچی گھاس اور جھاڑیوں وغیرہ سے اتنا فاصلہ رکھا کہ ان کے پیچھے چھپ کر شیر حملہ نہ کر سکتا۔
بے شک میں آدم خور کو شکار کرنے نکلا تھا مگر آدم خور ہونے کے ناطے وہ بھی مجھے شکار کر سکتا تھا۔ اس کھیل میں ہم دونوں معمولی سی بھی غلطی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کا مطلب غلطی کرنے والے کی موت تھا۔ اس وجہ سے پیش قدمی بہت آہستہ تھی۔ آخرکار میں ٹیلے کے نیچے موجود نالے کو پہنچا جو ٹیلے کے گرد گھوم کر جاتا تھا۔ یہاں میں کچھ دیر رک کر بائیں جانب مڑا تاکہ نالے کے ساتھ چل کر شیر کے پگ تلاش کروں۔ کچھ دیر بعد مجھے ریت میں شیر کے پگ دکھائی دیے مگر یہ پگ ہفتہ یا دس دن پرانے تھے۔ مایوس ہو کر میں نالے کو عبور کر کے ٹیلے پر چڑھنے لگا۔
زمین پر کنکری نما پتھر زیادہ ہونے لگے جو ریاست میسور میں ایسی جگہوں پر عام بات ہے۔ سبزہ کم ہوتا گیا اور اکا دکا پودے، بونی گھاس اور امبل وغیرہ بڑھ گئے۔ یہ علاقہ نسبتاً کھلا تھا اور یہاں شیر سے خطرہ کافی ہو گیا۔ مگر ایسی جگہ شیر اپنا شکار بھی نہیں لاتا کہ اسے چھپانا ممکن نہیں تھا۔ سو یہاں تلاش کرنا بیکار تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو تین بج کر بیس منٹ ہوئے تھے۔ اب مجھے واپسی کا رخ کرنا تھا کہ پانچ بجے تک ہم پتلا تیار کرنے کے بعد خود بھی چھپ کر بیٹھ سکیں۔
واپسی کا سفر تیز تھا کہ میں نے شیر کے پگ یا گِدھ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ میں جھاڑیوں وغیرہ سے ہٹ کر چلتا رہا۔ چار بجے بنگلے کو پہنچا تو اننت سوامی میری عدم موجودگی سے پریشان دکھائی دیا۔ شکر ہے کہ اس نے چائے بنا لی تھی جو میں نے خوب مزے سے پی مگر راگی کو نرمی سے رد کر دیا۔ پھر ہم نے پتلے کو ذرا بنا سنوار کر پھر واپس چشمے سے بیس گز دور رکھ دیا۔ یہ مقام ہماری کمین گاہ سے چند گز دور تھا۔ پانچ بجتے ہی ہم اپنی کمین گاہ میں تھے۔
مجھے علم تھا کہ پچھلی رات اور دن کو سونے کے باوجود اننت سوامی رات کو جلدی سو جائے گا۔ سو میں نے اسے کہا کہ وہ سات بجے تک نگرانی کرے اور جب اندھیرا ہونے لگے تو مجھے بیدار کر دے۔ اس بار چونکہ میں سو گیا تھا، سو مجھے جنگل کے پرندوں اور جانوروں کی آوازیں نہ سنائی دیں کہ وہ کیسے دن کو رخصت کر رہے تھے۔
میں جب جاگا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔ اننت سوامی نے میرا شانہ ہلا کر مجھے جگایا۔ صاف آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے۔ گھڑی پر دیکھا تو آٹھ بج کر بارہ منٹ تھے۔ اننت سوامی نے مجھے توقع سے زیادہ دیر سونے دیا تھا۔ ہر ممکن خاموشی سے میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
عین اسی وقت مجھے کافی دور سے اسی تنہا گیدڑ کی آواز پھر سنائی دی۔
بے اختیار میرا ہاتھ رائفل کے دستے سے جا لگا کہ میرے ذہن میں پھر سے جنگل کی کہانیاں گردش کرنے لگیں۔ ایسا لگتا تھا کہ گیدڑ اور شیر پھر سے گشت پر نکلے ہیں۔ کیا اس بار گیدڑ شیر کو ہمارے پاس لائے گا؟
جواب میں مجھے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔
شیر دہاڑ رہا تھا اور یہ آواز عین اسی جانب سے آ رہی تھی جہاں سے گیدڑ بولا تھا۔ جنگل کے باسیوں میں شور مچ گیا۔ شمال میں بنگلے کے دوسری جانب سے سانبھر بولا۔ اسی سمت مگر ہم سے کافی قریب ایک کاکڑ بھی بول پڑا۔
خطرے کی ان آوازوں کو سن کر چیتل بھی تال دینے لگے۔ ان کا شور سن کر سویا ہوا ایک مور جاگ گیا اور اس نے بھی اپنی پکار شروع کر دی۔
سارا جنگل بیدار ہو گیا۔ چشمے کے پانی پر موجود مینڈک خاموش ہو گئے۔ جھینگروں کی آواز تھم گئی۔ ہر زندہ چیز چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی، جان گئی کہ شیر کی صورت میں خطرہ ان کے قریب آ رہا ہے۔
ہم انتظار کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے تھے کہ ہمارا مقصد ہی شیر کا سامنا کرنا تھا۔ تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ ہم لوگ انتظار کرتے رہے کہ اب کیا ہو گا۔
دور والے جانوروں کی آوازیں ختم ہو گئیں کہ وہ محفوظ تر مقامات کو چلے گئے تھے۔ ان کے لیے شیر کی قربت کا مطلب موت تھا۔ جنگل پر پھر سے خاموشی چھا گئی جو کافی عجیب لگ رہی تھی۔ پھر مجھے خیال آیا کہ اننت سوامی کی ٹارچ کی روشنی کتنی کمزور ہو چکی ہے۔ شیر کی آمد پر ٹارچ ہی کی مدد سے ہم اسے دیکھ پاتے اور میں اس پر گولی چلا سکتا تھا۔
خاموشی رہی۔ گھنٹوں پر گھنٹے گزرتے گئے۔ مینڈک اور جھینگر بھی خاموش رہے۔ مزید وقت گزر گیا۔ جب میں نے گھڑی دیکھی تو دس بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔ مجھے سخت بھوک لگ گئی۔
پھر اچانک میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ اننت سوامی کا سرد اور پسینے سے بھیگا ہاتھ میرے بازو سے لگا۔ وہ بری طرح کانپ رہا تھا۔
ہمارے پیچھے کسی جانور کے چلنے کی آواز آئی۔ پھر یہ آواز اسی جھاڑ جھنکار سے آئی جس میں ہم چھپے تھے۔ ہمارے دفاع کے لیے محض ہلکا پھلکا فرنیچر تھا۔ کوئی جانور زمین پر بچھے خشک پتوں پر چل رہا تھا۔ جب یہ جانور جھاڑیوں میں گھسا تو کئی ٹہنیوں کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔
یہ آواز شیر کی نہیں ہو سکتی کہ یہ آواز کسی بہت کم وزن جانور کی تھی جو تیزی سے چل رہا تھا۔ شاید یہ وہی تنہا گیدڑ ہو؟ مجھے اننت سوامی کا کتا بہت یاد آیا جس نے دو روز قبل ہماری جان بچائی تھی۔ ہم نے مداخلت سے بچنے کے لیے اس کتے کو بنگلے کے اندر باندھ دیا تھا۔
پھر سے خاموشی چھا گئی۔ ستاروں کی چھاؤں میں ہمیں بیس گز دور پتلا دکھائی دے رہا تھا۔ ہمارے پیچھے جھاڑ جھنکار میں شور کیے بغیر گھسنا کسی جانور کے لیے ممکن نہ تھا۔
کچھ دیر بعد ہمیں دائیں جانب سے کسی جانور کے تیز قدم چلنے کی آواز آئی۔ یہ سمت جنوب کی تھی۔ پھر خاموشی چھا گئی اور پھر سرمئی رنگ کی کوئی چیز گھاس میں ہمارے سامنے تیرتی ہوئی گزری۔ ہمارے اور پتلے کے عین درمیان ہمارے سامنے یہ چیز رک گئی۔ اس کی جسامت کافی چھوٹی اور تیز حرکات تھیں۔
ستاروں کی روشنی میں اس سے زیادہ کچھ دکھائی دینا ممکن نہ تھا۔ پھر ایسا لگا کہ یہ چیز سکڑ کر اپنی جسامت کا نصف ہو گئی ہو۔ مجھے علم ہو گیا کہ یہ جانور اب ہماری جانب مڑا ہے۔ پھر اس کا سر اوپر نیچے ہونے لگا تاکہ وہ ہمیں غور سے دیکھ سکے۔ ہمارے سامنے کچھ پتے اور ٹہنیاں تھیں۔
ایک چیز یقینی تھی کہ ہماری موجودگی اب راز نہیں رہی۔ اس جانور کو پتہ تھا کہ وہ پتوں کے پیچھے کسی اور کو دیکھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے پتلے پر توجہ نہیں دی تھی اور اس کی جانب پشت کر کے ہمیں دیکھنے لگا۔ پھر اس نے سر اٹھایا اور اپنی منحوس لے میں بولا۔ یہ وہی تنہا گیدڑ تھا۔
اگلے لمحے اس نے تیزی سے حرکت کی اور چند گز دور جا کر رکا اور ہماری جانب دیکھنے لگا۔
میں اس کی حرکات کو اتنی توجہ سے دیکھ رہا تھا کہ اننت سوامی نے میرے بازو کو انتہائی مضبوطی سے پکڑا۔ میں نے سر موڑا تو دیکھا کہ جہاں سے گیدڑ نے حرکت کی تھی، عین اسی جگہ اب ایک اور جانور تھا جو گیدڑ سے کہیں بڑا تھا۔ ستاروں کی روشنی میں اس کی جسامت کسی گھوڑے کے برابر دکھائی دے رہی تھی۔
مجھے علم ہو گیا کہ ہمارے سامنے شیر ہے۔ شیر ہمارے سامنے اس طرح کھڑا تھا کہ اس کا پہلو ہمیں دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے اننت سوامی کو دو بار ٹہوکا دیا۔ یہ ٹارچ روشن کرنے کا اشارہ تھا۔ مگر اننت سوامی نے حرکت نہ کی۔ مجھے احساس ہوا کہ ایک بار پھر عین وقت پر اس کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ میں نے مکے مارے مگر وہ دم سادھے بیٹھا رہا۔ مجھے اپنی ٹارچ بہت یاد آئی۔ مگر کسے اندازہ تھا کہ واقعات اس طرح ہوں گے۔
شیر نے یا تو میری حرکت دیکھ لی یا پھر جب میں نے مکے مارے تو اسے وہ آواز سنائی دی ہو گی۔ اس نے دہاڑ لگائی اور پھر گھاس میں گم ہو گیا۔ مجھے علم تھا کہ شیر جست لگانے کو تیار ہے اور اب دو تین چھلانگوں میں ہمارے سر پر ہو گا۔
اننت سوامی کے ہاتھ سے ٹارچ چھین کر میں نے فوراً اس کا بٹن دبایا۔ روشنی سیدھا شیر کی آنکھوں پر پڑی مگر رائفل کا دیدبان دکھائی نہ دیا۔ روشنی اتنی تیز نہ تھی پھر بھی شیر جھجکا۔ شاید اسے یاد ہو کہ دو روز قبل اس نے پتلے کے پاس یہی روشنی دیکھی تھی۔ خیر، اس کی جھجھک کی وجہ سے مجھے نشانہ لینے کا موقع مل گیا۔
شیر کے سر پر اس حالت میں گولی چلانا مناسب نہیں کہ اگر گولی اوپر لگے تو ماتھے کی ہڈی سے لگ کر اچٹ جائے گی۔ دوسرا یہ بھی تھا کہ میرے ایک ہاتھ میں ٹارچ اور دوسرے میں رائفل تھی۔ خیر، چونکہ یہ سب سوچنے کا وقت نہیں تھا، سو میں نے نشانہ لیتے ہی گولی چلا دی۔
رائفل کے دھماکے کے ساتھ ہی شیر کی سماعت شکن دہاڑ سنائی دی اور شیر پچھلے قدموں پر اٹھا اور اپنے چہرے کو نوچنے لگا جہاں گولی لگی تھی۔ تیزی سے کر میں نے دوسری گولی بھری اور اسے شیر کے سینے میں اتار دیا۔
شیر نیچے گرا اور زمین کو نوچنے لگا۔ مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اور گھاس اس کے ناخنوں کی زد میں آ کر اڑنے لگے۔ دہاڑ پر دہاڑ سنائی دیتی رہی اور میں نے میگزین میں موجود تمام گولیاں شیر کے جسم میں اتار دیں۔ شیر ابھی تک تڑپ رہا تھا مگر اس کی دہاڑ اب ختم ہو چکی تھی۔ اب محض دم توڑتے شیر کے عالمِ نزع کی آواز تھی۔
میں نے اننت سوامی کے ہاتھ میں ٹارچ تھمائی اور اسے کہا کہ وہ اسے پکڑے اور خود اتنی دیر رائفل میں تین اور گولیاں بھر لیں۔
مجھے گھاس میں لیٹے شیر کے پھولتے پچکتے سینے کی حرکت دکھائی دے رہی تھی۔ پھر اچانک ہر قسم کی آواز اور حرکت تھم گئی تو مجھے علم ہو گیا کہ شیر مر چکا ہے۔ مزید پندرہ منٹ انتظار کیا مگر شیر کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔
تنہا گیدڑ پھر دکھائی نہ دیا۔ شاید وہ پشیمان ہو کہ اس کی وجہ سے اس کا ساتھی مارا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ کسی اور شیر یا تیندوے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ہو۔
اگلی صبح ہم نے شیر کا بغور جائزہ لیا۔ یہ کافی بوڑھا شیر تھا جس کے بڑے دانت جڑوں تک گھِس چکے تھے۔ اس کے علاوہ اور کوئی جسمانی نقص نہ دکھائی دیا۔ اب یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ وہ کس وجہ سے آدم خور بنا ہو گا۔ شاید بڑھتی عمر کی وجہ سے انسان کا شکار اسے آسان لگا ہو۔ شاید اسے تنہا گیدڑ ہی اننت سوامی کی بیٹی تک لایا ہو اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ہو۔ کون جانے؟
٭٭
۲۔ امبل میرو کا بھوت
جنگل کی زردی مائل بھوری گھاس جو پہلے بارشوں سے خوب نرم اور سبز ہوتی ہے اور پھر بے رحم سورج ان سے پانی کو چوس کر انہیں خشک کر دیتا ہے تو یہ گھاس اس جنگل میں ہر طرف بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ہر پہاڑی کے دامن میں تنگ اور ڈھلوان وادیاں ہوتی ہیں جو بارش کے پانی کے بہاؤ سے بنتی ہیں۔ ان سے بہنے والا پانی انتہائی تیزی سے نیچے کو جاتا ہوا آخرکار دریائے کلیانی میں جا ملتا ہے جس کی جنوب مشرقی شاخ یہاں سے گزرتی ہے۔
ان چھوٹی وادیوں میں جھاڑ جھنکار بکثرت ہے جس میں بانس، امبل اور مختلف طفیلی بیلیں شامل ہیں۔
بہت برس قبل ایک طفیلی بیل کا پھل کھانے کے بعد ایک پرندہ یہاں کے ایک بہت بڑے درخت پر آن بیٹھا اور اس کی بیٹ سے اس بیل کے غیر ہضم شدہ بیج نیچے گرے۔ بارشیں آئیں تو ایک بیج پھوٹا اور ایک ماہ میں اس کی شاخیں نکلنا شروع ہو گئیں۔
یہ پودا تیزی سے بڑا ہوتا گیا اور اس کی شکل سے پتہ چل گیا کہ یہ پودا طفیلی بیل ہے جو دوسرے درختوں کا رس چوس کر اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔ بڑھتے بڑھتے یہ بیل ایک سال کے دوران اس درخت کے ایک تہائی حصے پر قابض ہو گئی۔ اس کے تنے کی موٹائی انگلی کے برابر تھی۔ دو سال میں یہ بیل پورے درخت پر چھا گئی اور پھر اس کی شاخیں آس پاس موجود دوسرے درختوں تک پھیلنے لگیں جو ایک یا دو صدیاں پرانے تھے۔ اس وقت اس بیل کے تنے کی موٹائی آپ کی کلائی سے زیادہ نہ رہی ہو گی۔
برسوں پر برس گزرتے رہے اور اس بیل نے اپنے پہلے شکار کو پوری طرح چھپا لیا۔ اس کا تنا جو پہلے ایک انگلی اور پھر کلائی کے برابر موٹا تھا، اب ران کے برابر اور پھر انسانی جسم کے برابر موٹا ہو گیا۔ اس کا وزن بہت زیادہ تھا اور اس نے اصل درخت کے تنے کے گرد خود کو کسنا شروع کیا اور اس کے اندرونی گودے تک اس کی جڑیں پہنچنے لگیں۔
آہستہ آہستہ اس نے اپنے میزبان درخت کی جان نکال لی۔ بہت برس گزرے اور ایک طوفان سے یہ درخت گر گیا جس نے ایک معصوم کونپل کو اپنا سایہ پہنچایا تھا، وہی معصوم کونپل اس کی ہلاکت کا سبب بنی۔ اس درخت کے گرتے ہی طفیلیہ بیل ساتھ والے درختوں کی جانب بڑھنے لگی اور یہ داستان بار بار دہرائی جاتی رہی۔
ایسی گھنی جھاڑیوں اور پودوں کی بدولت انسان اور زیادہ تر جانور ان میں سے نہیں گزر سکتے۔ ایسی جگہوں پر کترنے والے جانور عام رہتے ہیں اور ان پر پلنے والے سانپ بھی۔ موسم سے بے نیاز، یہ مقام ہمیشہ سرسبز رہتا ہے۔ شاید آس پاس موجود پہاڑیوں کے وزن سے پانی خودبخود زمین سے نکل کر ان کو پالتا ہو۔ یہاں ہمیشہ سایہ اور تاریکی چھائی رہتی ہے اور یہاں دن دیہاڑے بھی ملگجا اندھیرا رہتا ہے اور جھینگر بولتے رہتے ہیں۔ سورج کی روشنی کبھی یہاں زمین تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہاں کسی بیج کے اگنے میں چند لمحوں کی تاخیر بھی اسے دوسرے پودوں کے مقابلے میں ناکام کر سکتی ہے۔
وادیوں سے اوپر پہاڑیوں پر اور ڈھلوانوں پر صورتحال فرق ہے۔ یہاں سورج کی بے رحم کرنیں پڑتی ہیں اور گرمیوں میں یہاں کسی درخت پر پتے نہیں بچتے۔ زمین پر خشک پتوں کی تہہ بچھی ہوتی ہے۔ بارشیں ہوں تو پھر یہ پتے گل سڑ کر زمین کی زرخیزی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
زیادہ اونچی پہاڑیوں پر موسم نسبتاً سرد اور علاقے پتھریلے ہوتے ہیں۔ یہاں بڑے پتھر ملتے ہیں اور کائی بھی۔ اونچے درختوں سے پھولوں کے غنچے لٹکتے ہیں جن کو چہچہاتے پرندے کھانے آتے ہیں۔
میری کہانی کا آغاز دوپہر کے وقت سے ہوتا ہے جب پرندے اور جانور پیٹ بھرنے کے بعد قیلولے میں مصروف تھے۔ شفاف سرد پانی کی ندی بہہ رہی تھی۔ ہوا بالکل بند تھی اور درخت کی ٹہنیاں اور گھاس کی پتیاں ساکن تھیں۔ دوپہر کے وقت یہ عجیب خاموشی ہوتی ہے۔ جھینگر تک چپ کر جاتے ہیں اور کسی قسم کی آواز نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ساری دنیا ہی چپ کر گئی ہو۔
مگر ندی کے دوسرے کنارے سے ہلکی سی آواز آ رہی تھی جو وقفے وقفے سے آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی کھدائی کر رہا ہو۔ یہ آواز لگ بھگ پچاس گز دور سے آ رہی تھی۔
وہاں ایک انسان جھکا ہوا دکھائی دیا جس کا کالا سیاہ بدن وہاں موجود نباتات کے سائے کی وجہ سے جیسے چھپا ہوا ہو۔ اس آدمی نے غلیظ لنگوٹی پہنی ہوئی تھی اور باقی بدن پسینے سے لشک رہا تھا۔
یہ شخص کوتنڈا ریڈی تھا جو اپنے گاؤں سے کافی دور نکل آیا تھا۔ اس کا گاؤں رنگم پیٹ یہاں سے بارہ میل دور تھا۔ یہ آدمی اس جگہ ایک پودے ’کُلو‘ کی جڑیں نکالنے آیا تھا کہ ان جڑوں سے جنسی طاقت کی لاجواب دوا بنتی ہے۔ یہ پودا کنول کے پودوں کے پاس ہی اگتا ہے اور اس کے تین پتے ہوتے ہیں اور یہ پودا کنول کے بڑے پتوں کے نیچے ایک طرح سے چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس پودے کی جڑوں کو خشک کر کے پیسنے کے بعد ان میں انسانی مادیہ منویہ ملا کر اماوس کی رات کچھ منتر پڑھے جائیں تو ان کی جادوئی طاقت بیدار ہو جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ محبوبہ کی خوراک یا قہوے میں اس سفوف کی ایک چٹکی ملا کر کھلا دی جائے تو محبوبہ اپنی تمام تر انا اور ضد کو چھوڑ کر آپ کے قدموں میں ڈھیر ہو جائے گی۔ قہوے میں کافی گڑ ملانا پڑتا ہے تاکہ اس پودے کا کسیلا ذائقہ چھپ جائے۔ اس پودے کی افادیت ہو یا نہ ہو، شہرت کافی ہے۔ اس لیے کوتنڈا ریڈی یہاں اسے تلاش کرنے آیا ہوا ہے کہ وہ اس سفوف کی چٹکی ایک روپے میں بیچتا ہے۔ اسے اس بات پر فخر ہے کہ گاؤں میں بہت سے ناجائز بچے پیدا ہوئے ہیں جو اس کی دوائی کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
کوتنڈا ریڈی اس طرح کھدائی اور تلاش میں جٹا رہا اور اس کی کھدائی کی آواز ندی کے شور سے بمشکل ہی بلند ہوتی تھی۔ وہ اتنا مصروف ہو گیا تھا کہ اسے اپنی گھات میں لگی ہوئی دو بے رحم آنکھیں دکھائی نہ دیں جو اس کے اوپر کنارے پر تھیں۔
اس مخلوق نے پوری توجہ سے اسے دیکھنے کے دوران کسی قسم کی آہٹ نہ پیدا ہونے دی۔ حتیٰ کہ اس جانور نے پلکیں تک نہ جھپکیں۔
آخرکار ایسا وقت آیا کہ کوتنڈا ریڈی نے مطلوبہ پودے کی جڑ کے گرد مٹی ہٹائی اور ہاتھوں سے اس کی جڑیں توڑنے لگا کہ گڑھے میں بار بار پانی بھر جاتا تھا۔
اس کے اوپر موجود خاموش نگران اس کی ہر حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے تھا۔ جب وہ نیچے جھکا تو اس کے نگران کو یقین ہو گیا کہ اب اس کا دکھائی دینا ممکن نہیں۔ سرخ رنگ کی زبان نے نچلا ہونٹ چاٹا۔ پھر یہ جانور نیچے کو جھکا اور جست لگانے کو تیار ہوا۔ پھر اس نے اپنی آدم خوری کا آغاز کیا۔ اس آدم خور کو وادی چملا میں بھکرا پیٹ کے محفوظ جنگل اور آس پاس کی بستیوں میں شیطان کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ اس کی شہرت آندھرا پردیش کے ضلع چتور میں ماماندر کے بلندی پر واقع جنگلات تک پھیل گئی تھی۔
خیر، اس جانور نے جست لگائی تو کوتنڈا ریڈی کو بھاری جسم کا بوجھ سہنا پڑا اور پہلو میں گڑنے والے ناخنوں سے تکلیف پہنچی مگر اگلے ہی لمحے اس جانور کے دانت اس کی گردن اور گدی میں دھنسے تو کوتنڈا ریڈی کی جان نکل گئی۔
رنگم پیٹ میں کوتنڈا ریڈی کی عدم موجودگی کا احساس لوگوں کو کافی دیر سے ہوا کہ وہ جڑی بوٹیوں وغیرہ کی تلاش اور اپنی ادویات بیچنے کے چکر میں اکثر دور نکل جاتا اور کئی کئی دن غائب رہتا تھا۔ اس کی وجہ شہرت دور دور تک اسی وجہ سے پھیلی ہوئی تھی۔ جب لوگوں کو اس کی گمشدگی کا احساس ہوا تو اتنی دیر ہو چکی تھی کہ اس کی ہڈیاں بھی نہ مل پائیں اور لوگوں کو اس ’شیطان‘ کے وجود کا علم نہ ہو پایا۔ کئی ہفتے بعد جنگل کے دو چوکیدار گشت کرتے ہوئے ایک پہاڑی ڈھلوان پر چڑھے تو ایک چھوٹی ندی کے کنارے پانی پینے کو رکے۔ وہاں انہیں لوہے کی مڑی ہوئی سلاخ اور گندی پوٹلی دکھائی دی جس کا کچھ حصہ تو دیمک چاٹ چکی تھی۔ پھر انہیں احساس ہوا کہ کوتنڈا ریڈی بہت دنوں سے غائب ہے اور لوگ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ اب رنگم پیٹ چھوڑ کر جا چکا ہے۔ اب پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ کوتنڈا ریڈی کہیں گیا نہیں بلکہ غائب ہوا ہے۔
ان چوکیداروں کو آس پاس کوئی نشان نہ ملا جس سے قاتل کی نشاندہی ہو سکتی، انہوں نے سمجھ لیا کہ اس واقعے کو ہوئے بہت دن ہوئے۔ انہوں نے لوٹ کر رنگم پیٹ کی پولیس چوکی پر رپورٹ درج کرا دی جہاں ان کا بیان درج ہوا۔
اس آدم خور کی سرگرمیوں کی ابتدا کی پوری تفصیل نہیں لکھی گئی تاہم اگلے واقعے کے بارے میں لوگوں سے معلوم ہوا۔
ہوا کچھ یوں کہ دن کے تین بجے سات بیل گاڑیاں سات میل دور سے رنگم پیٹ کو آتے ہوئے پلی بونو کے مقام پر دوسرا واقعہ ہوا۔ سڑک سے چوتھائی میل دور ایک تالاب ہے جسے نرسیما چیروو کہتے ہیں۔ یہ مقام رنگم پیٹ کے چوتھے سنگِ میل کی مخالف سمت ہے۔ ساتوں گاڑی بانوں نے اپنی گاڑیاں سڑک سے اس تالاب کو موڑیں اور وہاں پہنچ کر پانی سے ہاتھ منہ دھوئے اور کلیاں کیں۔
پھر یہ ساتوں آدمی تالاب کے کنارے ببول کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر بیڑیاں پینے لگے۔ بیڑی پینے کے بعد سب قطار کی صورت میں واپس اپنی بیل گاڑیوں کو چل پڑے۔ جب گاڑیوں تک پہنچے تو پتہ چلا کہ چھ آدمی ہیں، ساتویں آدمی کا کوئی نشان نہ تھا۔ چونکہ ہندوستان میں دیہاتیوں کو وقت کی اہمیت احساس نہیں، سو یہ لوگ وہیں بیٹھ کر بیڑیاں پینے اور اپنے ساتویں ساتھی کا انتظار کرنے لگے۔ ایک گاڑی بان نے ایسے ہی تذکرہ کر دیا کہ ان کا ساتواں ساتھی پتو ریڈی قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ اس آدمی نے جب آخری بار مڑ کر اسے دیکھا تو پتو ریڈی بیڑی جلا رہا تھا کہ اسے تمباکو نوشی کی عادت تھی۔
وقت گزرتا رہا مگر پتو ریڈی نہ پہنچا۔ یہ لوگ عام حالات میں اور بھی انتظار کر سکتے تھے مگر اب تاریکی چھانے میں زیادہ وقت نہ بچا تھا اور اگر وہ واپس نہ روانہ ہوتے تو یہاں رہ جاتے۔
اب انہوں نے چلا چلا کر آوازیں دینا شروع کر دیں، ’پتو، پتو، کہاں مر گئے؟ جلدی آؤ‘۔ پتو نہ آیا۔
یہ لوگ پریشان ہو گئے۔ ان کی ہمت نہ ہوئی کہ تالاب تک جا کر پتو کو دیکھ آتے۔ اب انہوں نے اندازے لگانا شروع کر دیے کہ شاید پتو کو کوئی بد روح لے گئی ہو گی یا سانپ نے ڈس لیا ہو گا یا شیر لے گیا ہو گا یا پھر تیندوا یا ریچھ بھی اسے مار سکتے ہیں۔ زیادہ تر کا خیال یہی تھا کہ ماورائی مخلوق پتو کی گمشدگی کی ذمہ دار ہے۔
چند ہی لمحوں میں یہ لوگ اپنی بیل گاڑیوں پر سوار ہوئے اور بیلوں کو بھگاتے ہوئے جلد از جلد رنگم پیٹ پہنچ گئے۔ ساتویں گاڑی وہیں رہی اور پتو ریڈی کے بیل اس کا انتظار کرتے رہے۔ پتو ریڈی کبھی نہ لوٹا۔
رات کو جب سردی ہوئی اور شبنم گرنے لگی تو بیلوں نے بھی رنگم پیٹ کا رخ کیا۔ اندھیرے میں چلتے ہوئے بیل گاڑی سمیت چار بجے پتو ریڈی کے گھر پہنچ گئے۔ اس علاقے میں کوئی شیر نہ تھا کہ بیلوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔
پتو ریڈی بھی کوتنڈا ریڈی کی مانند دن دیہاڑے گم ہوا اور اس کا کوئی نشان نہ ملا۔ جب دو ماہ کے اندر تیسرا اور پھر چوتھا انسان غائب ہوا تو چملا وادی کے لوگوں کو ’شیطان‘ پر یقین ہونے لگا کہ اس بار شیطان نے انسان کو غائب کیا تھا مگر کسی قسم کا کوئی نشان نہ چھوڑا تھا۔
تیسرا شخص ایک دکاندار تھا جو دس یا بارہ گدھوں پر غلہ لاد کر رنگم پیٹ سے تیرہ میل شمال مغرب کی سمت ایک چھوٹی بستی کو جا رہا تھا۔ پلی بونو کے کنویں پر اس آدمی کو دوپہر کا کھانا کھاتے دیکھا گیا کہ اس نے ایک مقامی لکڑہارے سے پانی پیا تھا۔ چونکہ اس دکاندار کے پاس رسی نہیں تھی، سو وہ کنویں سے خود پانی نہیں نکال سکتا تھا۔ لکڑہارے نے اسے پانی نکال کر دیا۔ پھر وہ اپنے گدھوں کو ہانکتا ہوا چل دیا۔
اگلے روز مخالف سمت سے آنے والے کچھ مسافروں نے غلے سے لدے ہوئے گدھے دیکھے جو دسویں سنگِ میل کے پاس چر رہے تھے۔ ان کا مالک غائب تھا۔
غائب ہونے والا چوتھا شخص وہی لکڑہارا تھا جس نے دکاندار کو پانی پلایا تھا۔ یہ واقعہ بھی پلی بونو کے قریب ہوا۔ یہ لکڑہارا دیگر ساتھیوں سمیت اس مقام پر بانس کاٹ رہا تھا اور ایک ماہ سے وہیں جھگیاں بنا کر مقیم تھا۔ دکاندار کے غائب ہونے کے چند دن بعد یہ لکڑہارا اپنے دیگر ساتھیوں سمیت کھانا کھانے کو بیٹھا اور پھر سب واپس اپنے کاموں کو لوٹ گئے۔ شام کو اکٹھا ہوتے ہوئے انہیں علم ہوا کہ ان کا ساتھی غائب ہے۔ اس کا کوئی نشان نہ مل سکا۔
دیگر لکڑہارے زیادہ پریشان نہ ہوئے اور اگلی صبح اپنے گمشدہ ساتھی کی تلاش کو نکلے۔ سب سے پہلے وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان کا ساتھی پچھلی شام لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ یہاں سے کچھ دور انہیں اس آدمی کا داؤ ملا جس سے وہ لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس لکڑہارے کی پگڑی ملی جیسے اس نے خود آرام سے اتار کر رکھی ہو۔
ان سب نے دائرے کی شکل میں بکھر کر تلاش شروع کر دی اور زمین کا جائزہ لیتے ہوئے چلنے لگے۔ اگر اس آدمی کو کسی جنگلی جانور نے ہلاک کیا ہوتا تو کوئی نشان تو ضرور ملتا چاہے وہ خون کے نشانات ہوتے یا پھر گھسیٹنے کی علامات یا پھر پگ۔ مگر ایسا کچھ نہ دکھائی دیا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ اس آدمی نے اپنی پگڑی اتار کر نیچے رکھی اور پھر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ لکڑہاروں کو اور کوئی وجہ سمجھ نہ آئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی بد روح اسے لے گئی ہو گی۔ انہوں نے سوچا کہ یہ بد روح بہت طاقتور ہے کہ اس نے گاؤں کے مشہور جادوگر کوتنڈا ریڈی کو بھی غائب کر دیا تھا۔ شاید یہ بد روح گھومتی پھرتی ان کے جنگل کو آئی اور اب یہیں مقیم ہو گئی ہے۔
رنگم پیٹ کے لوگ پریشان ہو گئے۔ جوں جوں یہ خبر بستی بستی پھیلتی گئی، دہشت کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ پولیس کو بھی اطلاع کی گئی اور محکمہ جنگلات کے افسران کو بھی پیغام بھیج دیا گیا۔ چتور کے کلکٹر کو بھی مطلع کیا گیا۔ رنگم پیٹ کے بڑے بوڑھے سر ہلاتے اور کہتے کہ پولیس یا دیگر سرکاری آدمی بد روح کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔
اس بد روح کو خوش کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ قربانی دی جائے تاکہ بہتا ہوا خون دیکھ کر بد روح خوش ہو جائے۔ عموماً اس کام کے لیے مرغے یا بکری کی قربانی کافی رہتی ہے یا پھر کسی انسان کی قربانی دی جائے گی۔ یہاں انسانی قربانی بالخصوص بچوں کی قربانی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
رنگم پیٹ کی پولیس چوکی کے سربراہ یعنی دفعدار یعنی ہیڈ کانسٹیبل یا سارجنٹ نے گاؤں کے نئے جادوگر کرشنپّا ریڈّی کو بلوا کر صاف بتا دیا کہ اگر آس پاس کے کسی دیہات کا بچہ غائب ہوا تو پولیس اسے حوالات میں بند کر دے گی۔
دھمکی کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا کہ یہ اس کے کاروبار کا مسئلہ تھا۔ چند روز بعد پتہ چلا کہ چندراگیری سے تعلق رکھنے والی ایک اچھوت عورت آدیما کا نو سال کا بیٹا آدیراج لاپتہ ہو گیا ہے۔
چندراگیری کا فاصلہ رنگم پیٹ سے محض چھ میل ہے اور ضلعی صدر مقام ہے۔ یہاں ہر پیر کے روز ہفتہ وار منڈی لگتی تھی اور آس پاس کے دیہاتوں سے لوگ یہاں سامان کی خرید و فروخت کے لیے آتے تھے۔ اس روز صبح کے وقت کرشنپّا ریڈی کو کئی لوگوں نے اسی منڈی میں دیکھا تھا۔ اتوار کی رات آدیراج اپنی ماں کے ساتھ سویا اور اگلی صبح ماں کو منڈی کی سیر کا کہہ کر نکلا اور واپس نہ لوٹا۔
جمعے کو جا کر آدیما کو اتنی ہمت ہوئی کہ وہ پولیس کو اپنے بچے کی گمشدگی کا بتا سکے۔ سب انسپکٹر کو پہلے سے ہی اندازہ تھا، سو وہ جھٹکے (خچر گاڑی) پر بیٹھ کر سیدھا رنگم پیٹ پہنچا۔ یہاں اس نے کرشنپا ریڈی کے گھر کا بغور جائزہ لیا تاکہ خون آلود کپڑے، چاقو یا بچے کے جسم کا کوئی حصہ مل جائے (بلیدان چڑھائے جانے والے انسان کے جسمانی اعضا جادو ٹونے کے بھی کام آتے ہیں) مگر ناکام رہا۔
مایوس اور ناکام ہو کر سب انسپکٹر نے کرشنپّا ریڈی کو ہتھکڑی لگائی اور ایک ہفتہ چندراگیری بند رکھا مگر کوئی اس کے خلاف گواہی دینے نہ آیا کہ اس نے گمشدہ بچے آدیراج کو کرشنپّا ریڈی کے آس پاس بھی کہیں دیکھا ہو۔ یاد رہے کہ کرشنپّا ریڈی جادوگر مشہور تھا۔ اب اگر کوئی آدمی اس کے خلاف گواہی دیتا تو نتیجے کا سامنا بھی اسے ہی کرنا پڑتا۔
گمشدگی کے نویں روز پولیس انسپکٹر نے مجبور ہو کر کرشنپّا ریڈی کو چھوڑ دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ پیدل چھ میل دور اپنے گاؤں جائے اور پولیس کی اجازت کے بغیر اس گاؤں سے قدم باہر نہ نکالے۔ کرشنپّا ریڈی نے سب انسپکٹر سے کہا، ’لومڑی جتنی چالاک ہو، گیدڑ کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘۔
سب انسپکٹر اس بات پر کئی دن غور کرتا رہا۔ آدیراج کے بارے میں علم نہ ہو سکا کہ اس کا کیا بنا۔ مگر اس کی قربانی دی بھی گئی ہو تو بھی ’شیطان‘ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کہ ایک ہفتے کے دوران پانچواں انسان غائب ہوا۔
اس مرتبہ ایک عورت غائب ہوئی۔ یہ عورت راگیمان کونار نامی نالے کے کنارے پگڈنڈی پر چلتی ہوئی اس جگہ غائب ہوئی جہاں یہ پلی بونو سے رنگم پیٹ جانے والے راستے سے الگ ہوتی ہے۔ یہ جگہ رنگم پیٹ سے ۳ میل دور ہے۔
یہ عورت وینکٹمّا تھی جو اپنے شوہر کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کر کے اسے پہچانے جا رہی تھی۔ اس کا شوہر صبح سویرے مویشی چرانے جنگل میں گیا ہوا تھا۔ یہ عورت دوپہر کے وقت کھانا تیار کر کے نکلی اور اس نے راگیمان کونار نالے کے کنارے اگے ہوئے پیپل کے مقدس درخت کے نیچے اپنے شوہر سے ملنا تھا۔ اس جگہ نالہ تیس فٹ گہرا ہے اور اس میں پانی محض برسات میں ہی آتا ہے۔
اس کے شوہر کو بھوک لگی تو غصے ہوا کہ اس کی بیوی کو بہت تاخیر ہو گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ جب وہ آئے گی تو خوب مرمت کرے گا تاکہ آئندہ تاخیر نہ ہو۔
وینکٹما پھر کبھی دکھائی نہ دی۔ اس کا شوہر سہ پہر کو وقت سے قبل مویشی لے کر گھر لوٹا کہ کھانا کھا کر بیوی کی ٹھیک ٹھاک مرمت کرے تاکہ اسے پھر کبھی ایسی غفلت کی جرأت نہ ہو۔ گھر پہنچا تو پھر مایوسی ہوئی کہ اس کی چھوٹی بیٹی نے بتایا کہ ماں تو دوپہر کو ’چاٹی‘ میں کھانا لے کر جا چکی ہے۔
چند روز بعد تلاش کرنے والوں کو متذکرہ بالا پیپل کے درخت سے نصف میل پہلے چاٹی کے ٹکڑے دکھائی دیے۔ مگر وینکٹمّا غائب تھی۔
ایک روز میں اپنے ایک دیسی دوست کے ہمراہ ناگاپاٹلا کے فارسٹ بنگلے میں ہفتے بھر چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ یہ بنگلا رنگم پیٹ سے ایک میل دور پلی بونو کے راستے پر ہے۔ یہاں میری آمد کافی غیر معمولی حالات میں ہوئی تھی۔ میرے پاس میری رائفل اور بندوق تو تھیں ہی مگر ہم یہاں محض شکار کے لیے نہیں آئے تھے۔ میرا دوست دیوا سندرم مصیبت میں تھا اور میں اس کی مدد کے لیے یہاں آیا تھا۔ اسے 38 سال کی عمر میں کالی کھانسی لاحق ہو گئی تھی۔
مجھے بیماریوں کا زیادہ علم نہیں مگر یہ علم ہے کہ یہ بیماری محض بچوں کو ہی لگتی ہے اور بالغوں میں شاید ہی کبھی ہوتی ہو۔ شاید اسے یہ بیماری اپنے چھوٹے بیٹے سے لگی ہو۔ دستیاب ادویات سے اس کی بیماری دور نہ ہوئی۔ میں ایک بار اس کے گھر بنگلور گیا تو وہ صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں ابلی ہوئی اور کھانس کھانس کر بے حال تھا۔ اٹک اٹک کر اس نے مجھے کہا کہ اسے کالی کھانسی ہے، سو میں اس سے دور ہی رہوں۔ اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ ہر ممکن دوا اور ڈاکٹر آزما چکے ہیں مگر افاقے کی بجائے الٹا طبعیت اور بھی بگڑ گئی ہے۔
اب ہوا کچھ یوں کہ چند برس قبل میری بیٹی جون اور بیٹے ڈونلڈ کو کالی کھانسی ہوئی تھی۔ میں ان دنوں ناگاپاٹلا جانے والا تھا۔ میری بیوی جو کہ کچھ حد تک نرس کا کام جانتی ہے، نے کہا کہ اگر میں بچوں کو اپنے ساتھ لے جاؤں تو ناگاپاٹلا کی گرم اور خشک آب و ہوا سے ان کی بیماری کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔ ہم بچوں کو ساتھ لے گئے اور واقعی دو روز میں ان کی کھانسی ختم ہو گئی تھی۔
میں نے یہ بات سندرم کی بیوی کو بتائی کہ کھانسی کی وجہ سے سندرم نیم غشی کی حالت میں تھا۔ اسے جنگلی حیات سے لگاؤ تھا سو اس نے بات سنتے ہی اٹکتے ہوئے کہا کہ فوراً چلتے ہیں۔
اس وجہ سے اگلی صبح ہم فورڈ ٹی کار میں ناگاپاٹلا روانہ ہو گئے۔ ہم بنگلور سے جلدی نکلے تاکہ دن کی روشنی میں منزل پر پہنچ جائیں۔ فورڈ ٹی کار کی تمام تر خوبیاں اپنی جگہ مگر اس کی رفتار اتنی تیز نہیں۔ ہماری منزل 170 میل دور تھی۔ صبح جلدی نکل کر ہم بیس میل فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے چلتے ہوئے کئی جگہوں پر ریڈی ایٹر میں اضافی پانی ڈالنے کے لیے رکتے رہے۔ شام کو پانچ بجے ہم منزل پر پہنچ گئے۔ یہاں موسم کافی گرم تھا اور دیوا کو خوشی ہوئی کہ ہم یہاں آئے ہیں۔ فورڈ پر سفر اتنا آرام دہ نہیں اور طویل سفر کے بعد بھی جب ہم چتور کو عبور کر رہے تھے تو اس کی کھانسی کم ہونے لگی تھی۔
بنگلے میں لالٹین کی روشنی میں گھاس پھونس سے بنی چھت کے نیچے کھانا کھاتے ہوئے میں نے چوکیدار سے گپ شپ شروع کر دی۔ میں اسے پہلے سے جانتا تھا۔ میں نے اس سے خبر پوچھی کہ آس پاس جنگلوں میں کیا ہو رہا ہے۔
اس آدمی نے فوراً ہی امبل میرو کے اس ’شیطان‘ کے بارے میں بتانا شروع کر دیا کہ کیسے چند ماہ کے دوران پانچ افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
اپنے اندازوں کے ساتھ ساتھ افواہوں اور جادو ٹونے کے حوالے سے بچپن سے سنی ہوئی کہانیوں سمیت اس نے ماہر داستان گو کی مانند سماں باندھ دیا کہ کیسے پانچ افراد غائب ہوئے۔
اس داستان کو سن کر ہمیں شوق ہوا۔ اتفاق دیکھیے کہ اس کہانی کو سنتے ہوئے بنگلے کے قریب سے تیندوے کی آرہ کشی سنائی دینے لگی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ تیندوا ہم سے نصف میل دور دریائے کلیانی کی سمت جا رہا ہے۔
تیندوے کی آواز سے ہم اس کی نقل و حرکت کو سمجھ رہے تھے۔
ہم نے بنگلے کے اندر سونے کی کوشش کی مگر رات بہت گرم تھی۔ چھت کی گھاس پھونس میں بہت سے چوہے بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک چوہا چند سیکنڈ تک دردناک آواز نکال کر چپ کر گیا۔ دیوا نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا۔ میں نے بتایا کہ اسے سانپ نے پکڑ لیا ہو گا۔
سانپ کا سنتے ہی دیوا پریشان ہو گیا کہ اسے سانپوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم اپنے پلنگ گھسیٹ کر برآمدے میں لے جاتے ہیں۔ برآمدے میں ہوا چل رہی تھی تو اتنی گرمی نہ لگتی۔ دوسرا برآمدے کی چھت جست سے بنی تھی جہاں چوہوں کے لیے چھپنا ممکن نہ تھا اور نہ ہی سانپ ان کے پیچھے آتے۔
خیر ہم برآمدے میں لیٹ کر جلد ہی سو گئے۔ باقی رات سکون سے گزری۔ دیوا کی کھانسی پہلے ہی بہتر ہو رہی تھی۔
صبح سب سے پہلا پرندہ جو بیدار ہوتا ہے وہ جنگلی مرغ ہے۔ اس کی آواز نے ہمیں صبح کاذب کے وقت جگا دیا۔ پھر کچھ دیر بعد پو پھٹنے لگی اور بتدریج آس پاس کی پہاڑیاں اور ان پر موجود جنگل کے خد و خال واضح ہونے لگے۔ میں نے ان جنگلوں میں بہت مرتبہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے مناظر دیکھے ہیں مگر کبھی دل نہیں بھرا۔
بنگلے کے جنوب میں بستی کی جانب سے پالتو مرغے کی بانگ سنائی دی جو ایک میل دور تھی۔ جب اس مرغے نے جنگلی مرغوں کی آوازیں سنیں تو وہ بھی بول پڑا۔ اندازہ کیجیے کہ بستی اور جنگلی مرغوں کے درمیان کم از کم دو میل کا فاصلہ تو ضرور رہا ہو گا۔ پھر دیوا سندرم کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کہنیوں کے بل اٹھ کر جنگل سے آنے والی آوازیں سننے لگا۔
کہیں دور سے درخت پر بیٹھے مور کی آواز آئی۔ شاید اس نے کسی تیندوے کو اپنی کچھار کو جاتے ہوئے دیکھ لیا ہو گا۔
میں نے مٹی کے تیل کا چولہا جلا کر بیکن تلے اور بنگلور سے ہمراہ لائی ہوئی چپاتیوں کے ساتھ کھائے۔ پھر ہم نے پانی ابالا تاکہ دیوا اپنے وعدے کے مطابق اپنی خاص کافی بنائے۔ واقعی اس کی کافی لذیذ تھی۔
ہم لوگ کچھ تاخیر سے جنگل کی سیر کو نکلے اور راگیمان کونار والے پیپل کے درخت تک گئے جس کے پاس وینکٹمّا غائب ہوئی تھی۔ جاتے ہوئے میں نے راستے پر پگوں کی تلاش پر کافی توجہ دی۔ جب ہم دریائے کلیانی تک پہنچے تو ایک بڑے نر تیندوے کے پگ دکھائی دیے۔ ایک میل آگے ایک ریچھنی اور اس کے دو بچوں کے پگ ملے۔ ریچھ کے بچوں کے پگ انسانی بچوں کے پیر کے نشانات سے مشابہ ہوتے ہیں۔ یہ ریچھنی جامن کے درخت کے نیچے کچھ دیر رکی تھی۔ پھر ایک سانبھر، چیتل اور جنگلی سور کے پگ دکھائی دیے اور اس کے علاوہ بھی کئی جانور رات کو یہاں سے گزرے تھے۔
میں جس نشان کی تلاش میں تھا، اس میں ناکام رہا۔ مجھے شیر کے پگوں کی تلاش تھی۔ اس راستے پر کوئی شیر نہ گزرا تھا۔ ہم بنگلے لوٹے اور مزید کافی پی کر ہم رنگم پیٹ کی سمت جنوب کو روانہ ہو گئے۔ ہم بنگلے کے چوکیدار کی سنائی ہوئی داستانوں کی تہہ کو پہنچنا چاہ رہے تھے۔ رنگم پیٹ کے منصف اور پٹیل دونوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہمارے سامنے کافی رکھ دی۔ دیہاتی ہمارے اردگرد جمع ہو گئے۔ ایسی جگہوں پر جہاں دور سے مہمان آئے ہوں، خوب گپ شپ ہوتی ہے۔
ایک بہت ہی ضعیف آدمی بولا، ’دورائی، "شیطان” جب سے جنگل میں آیا ہے، زور شور سے اپنی موجودگی دکھا رہا ہے۔ اس نے اب تک پانچ لوگ کھا لیے۔ آپ کے ہتھیار بیکار ہیں کہ وہ کبھی آپ کا سامنا نہیں کرے گا کہ وہ بہت مکار ہے۔ اگر وہ دکھائی دے بھی گیا تو آپ کی گولی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آپ اجنبی اور غیر ملکی ہیں اور ہم سے مختلف ہیں۔ یہ شیطان کسی بھی جھاڑی کے پیچھے چھپ کر، کسی گڑھے میں دبک کر، حشرات کی شکل اختیار کر کے، کسی اونچے درخت پر چڑھ کر ہم مقامی لوگوں میں سے کسی کے تنہا ہونے کا انتظار کرے گا۔ جب اسے موقع ملے گا تو پلک جھپکتے میں وہ اپنی اصل شکل میں ظاہر ہو کر اپنا شکار لے جائے گا۔ پھر اپنے شکار کے جسم کا کوئی حصہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہے گا جب تک یا تو ہم سب اس کی خوراک نہ بن جائیں یا پھر اس علاقے کو چھوڑ کر نہ چلے جائیں‘۔
سب دیہاتی اس کی بات پر سر ہلانے لگے۔ ایسی توہم پرستی کے سامنے میرا کیا زور چلتا۔ پھر بھی میں نے کوشش کی اور بولا، ’بابا، تمہاری عقل اور تجربے والا انسان ایسی لغو بات کرے تو عجیب لگتا ہے۔ یہ تو شیر یا تیندوا ہے جو آدم خور بن گیا ہے‘۔
بڈھا مسکرایا اور بولا، ’دورائی، میں آپ کو پہلے سے جانتا ہوں۔ جب میں جوان تھا تو مجھ پر امبل میرو کے پیچھے کھائی کے کنارے ایک آدم خور نے حملہ کیا تھا۔ میرے ہاتھ میں کلہاڑی تھی جو میں نے اسے ماری۔ خوش قسمتی سے وار سیدھا شیر کی آنکھوں کے درمیان ہوا اور آدم خور کا پتہ پانی ہو گیا اور مجھے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ مگر یہ معاملہ یکسر الگ ہے۔ آپ شیروں اور تیندوؤں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں کہ آپ بڑے شکاری ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ کبھی ایسا تیندوا یا شیر دیکھا کہ جس کے پگ نہ بنتے ہوں؟ پانچ انسان مارے گئے اور خون کا ایک قطرہ نہ دکھائی دیا، گھسیٹنے کے نشانات اور لاش کی باقیات کا تو سوال ہی کیا۔ اگر یہ شیر یا تیندوا اسی جنگل میں رہتا ہے تو ہمیں مٹی پر، پگڈنڈی پر، ریت پر، نالے میں اور دریائے کلیانی کی خشک تہہ میں بھی اس کے پگ کیوں نہیں ملتے؟ کبھی اس کی آواز کیوں نہ سنائی دی؟ یہاں کئی بے ضرر تیندوے موجود ہیں مگر ان سے کبھی مسئلہ نہیں ہوا۔ آپ جانتے ہیں کہ تیندوا اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ لاش کو اٹھا کر دور لے جائے۔ ویسے بھی آدم خور ہمیشہ رات کی تاریکی یا شام کو شکار کرتا ہے جب تاریکی زیادہ دور نہیں ہوتی۔ مگر یہ پانچوں انسان دن دیہاڑے گم ہوئے ہیں، دوپہر یا سہ پہر کے وقت جب سبھی درندے آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ اب بتائیے کہ اس کی کیا وجہ ہو گی؟ میں اس کی وجہ جانتا ہوں کہ ہمارا سامنا "شیطان” سے ہے جو اپنی مرضی سے حاضر اور غائب ہو سکتا ہے، کسی بھی جاندار کی شکل اختیار کر سکتا ہے چاہے وہ چھوٹا کیڑا ہو یا شیر یا تیندوا۔ آپ کی بندوقیں بیکار رہیں گی۔ آپ کا سامنا کسی جیتے جاگتے تیندوے یا شیر سے نہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ گھر واپس لوٹ جائیں۔ اگر اسے غصہ آ گیا تو آپ دونوں کو بھی کھا جائے گا‘۔
بات پوری کرنے کے بعد اس کے چہرے پر بے جان مسکراہٹ پھیل گئی۔ پھر اس نے پان کی پیک تھوکی اور وہاں موجود سبھی لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ پٹیل اور منصف بھی اس کی بات پر سر ہلا رہے تھے۔
دیوا اور میں واپس ناگاپاٹلا لوٹے۔ بزرگ کے الفاظ میرے ذہن میں گونج رہے تھے۔ ایسی کون سی مخلوق ہے کہ جس کے پگ نہیں بنتے، اس کے مارے ہوئے انسانوں کا خون نہیں بہتا اور نہ ہی کسی قسم کا گھسیٹنے کا نشان ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شکار سبھی انتہائی خاموشی سے اور دن دیہاڑے ہوئے تھے۔ مجھے یہ بھی علم تھا کہ بد روح یہ کام نہیں کر سکتی۔ اس کی عقلی توجیہ ہونی چاہیے۔
وقفے وقفے سے پانچ افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان سب کی موت یا کم از کم گمشدگی کا ایک مشترک پہلو ہی تھا کہ سب دوپہر کو غائب ہوئے تھے۔ کوتنڈا ریڈی کی گمشدگی کے معاملے میں تو محض اندازہ تھا مگر گاڑی بان، دکان دار، لکڑہارے اور خاوند کے لیے کھانا لے جانے والی عورت سبھی اکیلے تھے۔ دکاندار والا معاملہ کچھ مختلف تھا کہ اس کے ساتھ گدھے بھی تھے مگر گدھے بول نہیں سکتے۔ کسی گدھے کو خراش تک نہ آئی اور نہ ہی وہ خوفزدہ دکھائی دیے کہ اگلے روز وہ سکون سے گھاس چرتے دکھائی دیے۔ اگر انہیں کسی قسم کا خوف ہوتا تو وہ ایک ہی جگہ اکٹھے نہ ملتے۔ اگر شیر یا تیندوا بھی دکھائی دے جائے تو گدھے کا حوصلہ جواب دے جاتا ہے۔
ہم بنگلے کو لوٹے اور دوپہر کا کھانا بنانے لگے۔ دیوا نے مجھ سے پوچھا، ’جوک (وہ مجھے پچھلے اٹھائیس سال سے جوک کہتا ہے)، تمہارا کیا خیال ہے؟‘
میں نے جواب دیا، ’دیوا، یہ شیر یا تیندوا ہی ہو سکتا ہے مگر انتہائی غیر معمولی قسم کا۔ یہاں ہاتھی اور جنگلی سور بھی نہیں ہیں۔ ایسا حملہ کرنے والا ایک اور جانور ریچھ ہے مگر ریچھ احمق جانور ہے اور کبھی اتنی مہارت سے بغیر کوئی نشان چھوڑے ایسی واردات نہیں کر سکتا۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ ریچھ اپنے شکار کا جسم اٹھا کر نہیں لے جا سکتا اور اپنے شکار کو وہیں چھوڑ جاتا ہے‘۔
دوپہر کے کھانے کے بعد میں نے کہا، ’دیوا، مجھے یہ سارا معاملہ بہت دلچسپ لگ رہا ہے۔ میں اسے حل کیے بغیر نہیں جاؤں گا۔ تم بتاؤ کہ کیا لیلا (دیوا کی بیوی) دس دن کی غیر حاضری برداشت کر لے گی؟‘
دیوا فوراً تیار ہو گیا۔ ان وارداتوں کے بارے میں سن کر دیوا کو کالی کھانسی بھول گئی تھی جو ویسے بھی اب لگ بھگ ختم ہو چکی تھی۔ ہم دونوں نے اپنی اپنی بیویوں کو خط لکھے کہ ہم یہاں زیادہ رکنے کا سوچ رہے ہیں اور بہانہ یہ کیا کہ اس طرح دیوا کی کھانسی اور بھی بہتر ہو جائے گی۔
تین بجے ہم لوگ جنگل میں واپس پہنچ گئے اور ہر جگہ شیر کے پگ تلاش کرنے لگے۔ کہیں بھی ایسا نشان نہ ملا۔ ہم لوگ چوتھے سنگِ میل سے بھی آگے گئے اور پھر جنگل میں مشرق کی سمت گھسے اور دو فرلانگ دور اس تالاب کو گئے جہاں گاڑی بان غائب ہوا تھا۔ تالاب کے کنارے کیچڑ میں بھی ہمیں شیر کا کوئی پگ نہ ملا۔ تیندوا یہاں کچھ دن قبل آیا تھا اور بہت سی اقسام کے ہرن بھی یہاں پانی پینے آتے رہتے تھے۔
سڑک کے راستے واپسی کی بجائے ہم نے سوچا کہ ہم دریائے کلیانی کے کنارے کنارے واپس جاتے ہیں۔ یہاں ہمیں ایک اور تیندوے کے پگ دکھائی دے جس سے لگ رہا تھا کہ یہ تیندوا کافی بڑا ہے اور تالاب کے کنارے جس تیندوے کے پگ ملے تھے، اس سے الگ جانور ہے۔ شاید یہ وہی تیندوا ہو جو پچھلی رات بول رہا تھا۔
ایک بات واضح ہو چکی تھی کہ اس جگہ کوئی شیر نہیں رہتا تھا۔ مگر یہاں دو تیندوے تو یقینی تھے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتے تھے۔
کیا ان میں سے ایک تیندوا آدم خور ہو گا؟ اگر ایسا ہی تھا تو پھر غائب ہونے والے کسی نہ کسی انسان کے حوالے سے نشان ضرور ملتے کہ تیندوا جتنا بھی بڑا ہو، شیر کی مانند انسان کو ہوا میں اٹھا کر نہیں لے جا سکتا۔ کئی بار تو وہ جائے واردات پر ہی اپنا پیٹ بھرنے لگتا ہے مگر زیادہ تر اپنے شکار کو گھسیٹ کر جھاڑیوں میں لے جاتا ہے تاکہ سکون سے پیٹ بھرے۔ ایسی صورت میں بہت سے واضح نشانات ملتے۔
ہم اور زیادہ الجھ گئے۔
اگلی صبح ہم سات میل دور پلی بونو گئے اور جنگل میں مقیم لکڑہاروں سے بات کی۔ ان واقعات کی عقلی توجیہ کوئی نہ دے سکا اور سبھی ان واقعات کا ذمہ دار بد روح کو گردانتے تھے۔
ہم نے دریائے کلیانی کے کناروں کو چھانا اور پلی بونو سے نکلنے والی تمام پگڈنڈیوں کو بھی بغور دیکھا۔ ان میں سے ایک پگڈنڈی تقسیم ہو کر شمال مغرب کی سمت جاتی ہے اور اسی پر دکاندار گم ہوا تھا۔ دوسرا راستہ شمال مشرق کو گنڈال پنٹہ کے پتھریلے تالاب کے گرد چکر کاٹ کر امبل میرو کے تالاب کو جاتا تھا۔ امبل میرو ایک اونچے پہاڑی چھجے کے پاس تھا۔ امبل میرو کے آس پاس ہی کہیں پہلا آدمی کوتنڈا ریڈی غائب ہوا تھا۔
یہ راستہ جو پلی بونو سے دو شاخوں میں بٹ جاتا تھا، اصل میں رنگم پیٹ سے پلی بونو کو آتا تھا۔ ہم نے امبل میرو کی جانب ایک میل سے زیادہ کا سفر کیا تو ایک جگہ ہمیں شیر کے کئی روز پرانے پگ دکھائی دیے۔ یہ بات واضح ہو گئی کہ اس علاقے میں ایک شیر ضرور ہے۔ دوسری شاخ اور رنگم پیٹ سے پلی بونو والے راستے پر ہمیں کئی جگہ تیندوؤں اور ایک بہت بڑے لگڑبگڑ کے پگ بھی ملے۔ شیر کے پگ پھر دکھائی نہ دیے۔
دیوا نے پوچھا کہ آیا لگڑبگڑ تو ان گمشدگیوں کے پیچھے نہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ بہت جگہوں پر بہت سارے لگڑبگڑ دیکھنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ یہ جانور انتہائی بزدل ہے اور بالغ انسان کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن سکتا۔ یہ جانور مردار کھاتا ہے اور درندوں کے ہاتھوں یا بیماری سے مرنے والے جانور اسی کا کھاجا بنتے ہیں۔ میں نے کئی بار سنا ہے کہ لگڑبگڑ دفن کی ہوئی لاشوں کو نکال کر کھا جاتا ہے اور ایک یا دو مرتبہ اخبار کی خبر بھی نظر سے گزری ہے کہ مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں کئی بار لگڑبگڑ انسانی بچوں کو اٹھا کر لے گیا تھا۔ میرے تجربے میں پورے جنوبی ہندوستان میں ایسا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا کہ لگڑبگڑ انسانی بچے کو اٹھا لے گیا ہو۔ جنوبی ہندوستان کا لگڑبگڑ ہر قسم کا مردار، جانور یا پرندے کے فضلے اور ہر قسم کی گندگی کو کھا لیتا ہے اور اس کے علاوہ چھوٹے موٹے حشرات اور گزندے بھی اس کے ہاتھ چڑھ جائیں تو تکلف نہیں کرتا۔ ایک یا دو بار بھیڑ اور بکری پر بھی اس کے حملے کی اطلاع ملی تھی۔
جب ہم ناگاپاٹلا بنگلے کو پہنچے تو بہت تھک چکے تھے۔ دن بھر میں اٹھارہ میل کا سفر طے کر کے ہم رات کے اندھیرے میں بنگلے کو پہنچے۔ ہمیں شدید بھوک لگی تھی۔ سو جب ہم رات کو سوئے تو صبح دن چڑھے جا کر بیدار ہوئے۔
تین روز بعد لکڑہاروں نے ہمیں ایک خبر دی۔ یہ اس ’شیطان‘ کی شناخت کے سلسلے کی پہلی گواہی تھی۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ پلی بونو کے کنویں کے پاس بانسوں کا ایک جھنڈ گرانے کے بعد جب فارغ ہوئے تو انہیں ٹھیکیدار ایک اور جھنڈ کے پاس لے گیا۔ پلی بونو سے نکلنے والے راستے کی شاخ کے انتہائی سرے پر یہ مقام تھا اور امبل میرو کے تالاب سے نصف میل سے بھی کم فاصلے پر۔ اسی جگہ وادی چملا ریزرو فارسٹ کی شمال مشرقی سرحد کا کام دینے والے پہاڑ شروع ہوتے ہیں۔ اسی جگہ ’شیطان‘ نے اپنی شکل دکھائی۔
یہ سارا علاقہ بانس کے گھنے جنگلات سے بھرا ہوا ہے اور محکمہ جنگلات نے اس کے مختلف حصے کیے ہوئے ہیں اور ہر حصے کو بلاک یا ’کُو‘ کہتے ہیں اور محکمہ جنگلات ہر بلاک کو الگ نیلام کرتا ہے۔ ٹھیکیدار ان کی کٹائی کا ٹھیکہ لے کر کٹائی کرواتے اور پھر کٹے بانس بیچتے ہیں۔ ٹھیکہ عموماً سب سے اونچی بولی دینے والے کو ملتا ہے۔ سو وقت کی قدر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ٹھیکیدار لکڑہاروں کو وقت ضائع نہیں کرنے دیتا اور جونہی ایک جگہ کام پورا ہو، انہیں دوسری جگہ لے جاتا ہے۔
جب یہ لکڑہارے نئی جگہ پہنچے تو پہلے ہی روز دوپہر کو جب ایک آدمی نے کمر سیدھی کرنے کے لیے اوپر دیکھا تو اسے چٹان کے چھجے پر موجود شیر اسے گھورتا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے دوڑ لگا دی۔
لکڑہاروں نے جنگل میں قیام کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے ٹھیکیدار سے کہا کہ وہ بارہ میل کا سفر کر کے رنگم پیٹ جایا کریں گے اور ہر صبح پھر لوٹ آیا کریں گے اور اس جھنڈ کی کٹائی کریں گے۔
ٹھیکیدار کو یہ بات پسند نہ آئی کہ ہر روز اڑھائی گھنٹے آنے اور اڑھائی گھنٹے جانے پر لگتے، سو ہر روز پانچ گھنٹے کا کام ضائع ہو جاتا۔ ٹھیکیدار نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر وہ کم کام کریں گے تو بانس کم کٹیں گے اور ٹھیکیدار کو کم آمدنی ہو گی۔ مزدوروں نے یک زبان ہو کر کہا کہ انہیں ٹھیکیدار کی آمدنی سے زیادہ اپنی جان کی فکر ہے۔ ٹھیکیدار بولا کہ وہ انہیں ہر روز پانچ گھنٹے کام نہ کرنے کی وجہ سے کم پیسے دے گا تو سب لکڑہارے بولے کہ اگر پیسے کم ہوئے تو وہ کام ہی چھوڑ دیں گے۔ ٹھیکیدار سمجھ گیا کہ اگر یہ مزدور کام چھوڑ گئے تو پھر اسے اور کوئی آدمی کام کے لیے نہیں ملے گا۔ سو اس نے بات مان لی۔
اسی شام یہ سب آدمی اور ٹھیکیدار رنگم پیٹ جانے کے لیے ناگا پاٹلا کے فارسٹ لاج کے سامنے سے گزرے تو اندر آئے۔ اندر میں اور دیوا تھے۔ جس آدمی نے شیر کو دیکھا تھا، اس نے ہمیں تفصیل سے واقعہ بتایا۔ ٹھیکیدار نے بھی اپنی داستانِ غم سنائی۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ اب یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ شیر ہی ہے، کوئی بد روح نہیں۔ میرا اپنا اندازہ بھی یہی تھا۔
اگلے ہی روز شیر نے وار کیا۔ اگلی صبح لکڑہارے واپس کام پر لوٹے۔ لکڑہاروں نے فیصلہ کیا تھا کہ جہاں انہیں شیر دکھائی دیا تھا، وہ اس جگہ سے دور ہی رہیں گے۔ جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو مستری نے سیٹی بجائی۔ سب اپنا اپنا کام چھوڑ کر املی کے درختوں کے نیچے بیٹھ گئے اور دال چاول کھانے اور پانی پینے لگے۔ پھر انہوں نے بیڑیاں پینی اور پان کھانے شروع کر دیے اور کچھ لوگ اونگھنے لگے۔
گھنٹہ پورا ہوا تو مستری نے پھر سیٹی بجائی۔ بانسوں کی کٹائی شروع ہو گئی۔
پچھلے روز ان کے ساتھی نے شیر کو دیکھا تھا اور اسی وجہ سے سب کافی محتاط تھے۔ اسی وجہ سے اس روز ان کا ایک ساتھی بچ گیا۔ خوفزدہ ہونے کی وجہ یہ سے آدمی بار بار اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈال لیتا تھا۔ ایک بار اس نے دیکھا کہ بانس کے ایک جھنڈ میں کچھ پودے ہل رہے ہیں اور ان کے پیچھے اسے سبزی مائل زرد آنکھیں دکھائی دیں اور ساتھ ہی سفید اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بھی۔
جونہی شیر نے جست لگائی، لکڑہارا مڑا اور اس نے اپنا داؤ اٹھایا۔ شیر کو پتہ چل گیا کہ اس کے شکار کو نہ صرف اس کی آمد کا پتہ چل چکا ہے بلکہ وہ حملے کے لیے تیار بھی ہے۔ شیر نے جست کے دوران اپنا جسم سکیڑا اور لکڑہارے کے قریب زمین پر گرا۔ لکڑہارے نے جب داؤ سے وار کیا تو شیر بال بال بچا۔
مگر آدم خور کو اس سلوک کی توقع نہیں تھی۔ وہ تو حملہ کر کے اپنے شکار کو لے جانے کا عادی تھا۔ زمین پر پہنچ کر آدم خور نے دہاڑ لگائی اور حملے ختم کر کے مڑا اور بانس کے جھنڈ میں غائب ہو گیا۔
اب اس آدمی نے شور مچا دیا، ’ائیو ائیو، پِلی پِلی (مدد مدد، شیر شیر)‘۔ شور مچانے کے ساتھ ساتھ وہ املی کے جھنڈ کی طرف بھاگا۔ اس کے ساتھی چاروں سمت پھیلے ہوئے تھے مگر انہوں نے بھی یہ سب آوازیں سنیں اور شور مچاتے اس کی مدد کو لپکے۔ ٹھیکیدار کی اسی وقت آنکھ لگی تھی کہ اچانک یہ سب شور مچاتے اس کے پاس پہنچ گئے۔
باقی سارا دن کسی نے کام کا سوچا بھی نہیں۔ لکڑہارے اور ٹھیکیدار، دونوں ہی تیزی سے چل کر امبل میرو آئے۔
دیوا اور میں سڑک کے کنارے تیسرے سنگِ میل پر چائے پینے کو بیٹھے تھے کہ ہمیں لکڑہارے اور ٹھیکیدار ایک گروہ کی شکل میں بھاگتے دکھائی دیے۔ ہمارے پاس پہنچ کر سبھی ایک ساتھ بولنے لگے اور ان کی بات سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ پھر جب ہمیں پتہ چلا کہ فلاں لکڑہارے کے ساتھ یہ ہوا ہے تو ہم نے اس سے تفصیل پوچھی۔ اس آدمی نے ہاتھ کو اپنی چھاتی تک لا کر بتایا کہ شیر اتنا اونچا تھا۔ اتنا بڑا شیر سچ مچ دیو قامت ہوتا۔
اس وقت پونے چار بج رہے تھے سو میں نے اس آدمی سے کہا کہ جلدی کرے اور ہمیں اس جگہ لے جائے جہاں یہ واقعہ ہوا تھا۔ میں در اصل شیر کے پگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا کہ ابھی تک ہم نے محض ’شیطانی مخلوق‘ کے بارے میں ہی افواہیں سنی تھیں۔ پہلے بھی بہت مرتبہ میں ایسی کہانیاں سن چکا تھا جس میں رائی کا پہاڑ بنایا دیا جاتا تھا۔
میری بات سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔ ایسی خوفناک جگہ کون جائے گا؟ اس نے اپنی زبان میں نہ جانے مجھے کس طرح برا بھلا کہا ہو گا۔ مگر مجھے تصدیق کرنی تھی، سو میں نے سختی کی۔ تفصیل میں جائے بغیر بتاتا ہوں کہ کچھ دیر بعد لکڑہارا، دیوا اور میں، ہم تینوں اس جگہ جا رہے تھے۔
ہماری منزل نو میل دور تھی مگر ہم ساڑھے چھ بجے پہنچ گئے۔ جلد ہی تاریکی چھانے لگی مگر ہمیں فکر نہ تھی کہ ہمارے پاس برقی ٹارچیں تھیں۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم اپنی مٹر گشت سے رات کو ہی واپس لوٹیں گے۔ میرے لیے تو یہ رات بالکل بھی سرد نہ تھی مگر دیوا کی کالی کھانسی ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی تھی، سو رات کو ہونے والی ٹھنڈ اور پھر اوس گرنے سے اس کی طبعیت بگڑ سکتی تھی۔ میں نے اسے اشارتاً اسے یہ بات سمجھائی۔
دیوا بولا، ’کالی کھانسی؟ کس نے کہا؟ مجھے کالی کھانسی ختم ہوئے مدت ہوئی‘۔
لکڑہارے نے ہمیں وہ جگہ دکھائی جہاں شیر دکھائی دیا تھا۔ ہم نے جگہ کا معائنہ کیا اور گہرے ہوتے دھندلکے کے باوجود ہم نے شیر کے واضح پگ دیکھ لیے۔ اس کی جسامت بھی کوئی خاص بڑی نہ تھی مگر ہم نر یا مادہ کا فرق نہ کر سکے کہ روشنی بہت کم تھی اور بانس کے گرتے پتوں نے ان نشانات کو مدھم کر دیا تھا۔ مگر تھے شیر کے ہی پگ۔
زمین کا معائنہ کرنے کے بعد مجھے تسلی ہوئی۔ ہم نے معمہ حل کر لیا تھا کہ یہ کوئی غیر مرئی مخلوق نہیں بلکہ ایک عام سا شرمیلا مگر کمینہ صفت اور بزدل شیر تھا۔
ہمارے پاس چارا نہیں تھا۔ پانی بھی ہر سمت بکثرت ملتا تھا۔ اب بنگلے کو واپسی کا سفر بارہ میل کا تاریکی میں ہی طے کرنا پڑتا اور سفر کے دوران ٹارچ کے سیل بھی ختم ہو جاتے۔ کیوں نہ رات ہم یہیں جنگل میں گزاریں؟ ہو سکتا ہے کہ کچھ دکھائی دے جائے یا کچھ سنائی دے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ رات بیکار گزرتی۔ مگر رات دلچسپ ہونے کے امکانات بھی تھے۔ کم از کم ناگا پاٹلا کے چوہوں سے بھرے بنگلے میں رہائش سے تو کہیں بہتر رات گزرتی۔
میں نے تجویز دی تو دیوا پر جوش چڑھ گیا۔ ہمارا ساتھی لکڑہارا جیسے سکتے میں آ گیا ہو۔ مگر وہ بیچارہ اکیلا بارہ میل کا سفر اندھیرے میں طے کرنے سے تو رہا۔ سو اسے ہمارے ساتھ ہی رکنا پڑا۔
اگلا سوال یہ تھا کہ بیٹھیں کہاں۔ امبل میرو کا تالاب کافی عمدہ مقام تھا۔ موجودہ مقام پر جنگل اتنا گھنا تھا کہ یہاں پہلے ہی تاریکی چھا چکی تھی۔ رات گہری ہونے پر تو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دیتا۔
تاریکی گہری ہونے لگی تھی تو ہم تالاب کے کنارے جا پہنچے۔ یہاں زمین پر کمین گاہ یا درخت پر مچان بنانے کا وقت نہ تھا۔ پاس برگد کا ایک بہت بڑا درخت تھا۔
برگد کی شاخوں سے جڑیں نکل کر زمین میں جاتی ہیں اور اس طرح یہ درخت پھیلتا جاتا ہے اور اس کے بہت سے تنے بن جاتے ہیں۔ برگد کا ہندوستان میں سب سے بڑا درخت کلکتہ کے باغِ عامہ میں ہے۔ اس کے علاوہ بنگلور سے 42 میل دور بھی تالی نامی گاؤں میں تقریباً اتنا ہی بڑا درخت ہے۔ اس کے نیچے ایک سنگی مندر ہے۔ اس مندر کو برگد کی شاخوں نے مکمل طور پر ڈھک لیا ہے مگر اس کا داخلی راستہ کھلا ہے۔ دور سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ برگد کی جڑوں میں ایک غار بنی ہوئی ہے۔ اتفاق سے ایک کالا ناگ یہاں آن کر رہنے لگا تو لوگوں نے کہانیاں گھڑ لیں کہ یہ سو سال پرانا ناگ ہے اور اس مندر میں رہتا ہے۔ مندر کی دیکھ بھال اور پوجا کرنے والا پنڈت اسے دودھ اور مرغی کے انڈے پیش کرتا ہے۔ پجاری نے مجھے بتایا ہے کہ یہ درخت کم از کم ۲۰۰۰ سال پرانا ہے۔
خیر، اب امبل میرو کو لوٹتے ہیں۔ برگد کا درخت پانی سے زیادہ دور نہ تھا۔ یہ درخت بہت بڑا یا قدیم نہیں تھا مگر پھر بھی اس کی بہت ساری جڑیں اس کے تنے کے آس پاس اگ رہی تھیں اور نئے تنے بنتے جا رہے تھے۔ ان میں سے دو تنے ایک دوسرے سے چار فٹ کے فاصلے پر اگے تھے اور ان کا گھیرا آٹھ آٹھ فٹ رہا ہو گا۔
ہم دو جڑوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ میرا منہ جنگل کی جانب تھا جبکہ دیوا میری پشت کی جانب تالاب کو منہ کر کے بیٹھا۔ میرے پاس رائفل تھی جبکہ دیوا نے میری بارہ بور کی بندوق اٹھائی ہوئی تھی جس کی دائیں نال میں گولی اور بائیں میں ایل جی کا کارتوس تھا۔ ہم دونوں کے پاس ٹارچیں تھیں۔ رائفل پر ٹارچ لگانے کے لیے کلیمپ میرے پاس تھے مگر بندوق پر ٹارچ لگانے کے لیے کلیمپ نہ تھے۔ سو لکڑہارے کو ٹارچ دے کر دیوا کے ساتھ بٹھا دیا تھا۔ ہمارے پہلو میں درخت کی جڑیں تھیں مگر باقی ہر جانب سے ہم صاف دکھائی دیتے تھے۔
دیوا کے سامنے تالاب تھا۔ اگر شیر کنارے سے ہو کر آتا تو اور بات تھی ورنہ اسے تالاب سے گزر کر آنا پڑتا۔ اس طرح ہمیں اس کی آمد کی خبر ہو جاتی۔ میرے سامنے جنگل تھا مگر تاریکی چھاتے ہی مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ سو اب ہمیں اپنے کانوں پر بھروسہ کرنا تھا۔ شیر تالاب کی جانب اور جنگل سے آتا تو ہمیں فوراً دیکھ لیتا۔ اس کے بعد قسمت اور شیر کی ہمت پر منحصر تھا کہ وہ تین آدمیوں پر حملہ کرتا ہے یا فرار ہو جاتا ہے۔
دیوا میلے پر آئے بچے کی مانند خوش تھا۔
جلد ہی اندھیرا چھا گیا۔ اس مقام پر آنے سے قبل ہی جنگل کے پرندے سو چکے تھے۔ کچھ دیر بعد محض الو کی آواز سنائی دینے لگی جو ہم سے شاید ایک میل دور ہو گا۔ مگر اس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
اچانک تالاب سے بڑے مینڈک ٹرٹرانے لگے۔ جلد ہی ان کی آواز ہر طرف پھیل گئی۔ مجھے اندازہ تھا کہ لکڑہارا بیچارہ تاریکی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہو گا مگر اسے مینڈک دکھائی نہیں دے رہے ہوں گے۔ اس نے شور سے پریشان ہو کر بار بار مجھے کہنی مارنا شروع کر دی۔
چھوٹے مینڈکوں کی پچھلی ٹانگیں کافی لمبی اور طاقتور ہوتی ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ کنارے کے پانی میں اس طرح بیٹھتے ہیں کہ آنکھیں اور آدھا سر باہر ہوتا ہے۔ جب ان کے دل میں آئے، یہ اپنی پچھلی ٹانگوں کے زور پر پانی کی سطح پر اچھلتے ہوئے چند گز دور جاتے ہیں تو کھچ کھچ کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ شاید اسی آواز سے لکڑہارے کو ڈر لگ رہا تھا۔
مجھے علم تھا کہ جب تک اکا دکا مینڈک ایسا کرتے رہے، ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ جب کافی سارے مینڈک اچانک اس طرح تالاب کے وسط کا رخ کریں تو وہ کسی جانور سے ڈر کر کریں گے۔ یعنی ہمارے لیے ممکنہ خطرہ ہو گا۔
امبل میرو کا تالاب زیادہ بڑا نہیں اور اس کی شکل بیضوی ہے۔ اس کی لمبائی ساٹھ گز اور چوڑائی تیس گز ہے۔ اس کے شمالی تنگ سرے کی جانب ایک بڑی چٹان ہے جو اس سمت پہاڑی کے دامن میں ہے۔ باقی تین اطراف جنگل ہے۔ ہم تالاب کے مشرقی سرے پر تھے۔ جب ہم بیٹھنے لگے تو میں نے اندازہ لگایا کہ شمالی پہاڑی پانچ سو فٹ بلند ہو گی۔ اب تاریکی میں ہمیں کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔
مینڈکوں کے سوا اور کوئی آواز نہ سنائی دے رہی تھی۔ ایک طرح سے ہر طرف خاموشی تھی۔ الو پھر بولا۔
ہمارے نیچے وادی میں اچانک ایک فاختہ کے بولنے کی آواز آئی۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے خطرہ محسوس ہوا ہے۔ ابھی میں اس کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے اپنے عقب میں دیوا سندرم اور لکڑہارے کی کمریں سیدھی ہوتی محسوس ہوئیں۔ جس چیز سے فاختہ ڈری تھی، وہ چیز ہم سے کچھ فاصلے پر تھی اور ہم تک پہنچنے میں پانچ یا دس منٹ لگتے۔ یعنی ابھی ہمارے پاس وقت تھا۔
میرے سامنے جنگل میں کسی چھوٹے جانور کے گزرنے کی آواز آئی جو شاید نیولا یا بجو یعنی ریتل ہو گا۔ ویسے جنوبی ہندوستان میں ریتل کم ملتے ہیں۔ یہ جانور چلتے ہوئے رکتا گیا جیسے پیٹ بھرنے یا اپنے دشمن کو بھانپنے کے لیے رکتا ہو۔ پھر اس نے زمین کھودنا شروع کی۔
۵ منٹ بعد اس کی آواز رک گئی۔ کیا اس نے کسی بڑے جانور کی آمد کو بھانپ لیا ہے؟ عین اسی وقت دیوا اور لکڑہارے کی کہنیاں مجھے ٹہوکے دینے لگیں۔
آہستگی سے میں نے سر موڑا اور آنکھوں کو تاریکی سے واقف ہونے میں کچھ وقت لگا۔ پھر مجھے کسی جانور کا دھندلا سایہ دکھائی دیا جو تالاب میں چلتا ہوا ہماری طرف آ رہا تھا۔ جب یہ جانور برگد کے سائے میں پہنچا تو نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ غائب ہونے تک اس کا رخ ہماری ہی جانب تھا۔ اب تاریکی میں ہماری جانب آنے والا یہ جانور آدم خور بھی ہو سکتا تھا اور اب مزید انتظار مناسب نہ تھا۔ سو میں نے گھوم کر گھٹنے کے بل اپنا جسم اٹھایا اور رائفل کو شانے سے لگا کر ٹارچ جلائی۔ تیز روشنی کی لکیر سیدھا اس جانور کے عجیب الخلقت سر پر پڑی اور اس کی نیلگوں مائل سبز آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس کا ڈھلوان جسم، بڑا سر اور لمبے کان واضح دکھائی دے رہے تھے۔ لگڑبگڑ حیرت سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔
میں نے ٹارچ جلائے رکھی۔ ہم تینوں خاموشی سے بیٹھے دیکھتے رہے۔
پہلے پہل تو لگڑبگڑ کو سمجھ نہ آئی کہ روشنی کے پیچھے انسان بھی ہیں۔ مگر پھر اس کی ناک یا اس کی چھٹی حس نے اسے بتایا ہو گا تو اس نے اپنی منحوس لے میں بولتے ہوئے دوڑ لگائی۔ دوڑتے ہوئے یہ جانور بہت مضحکہ خیز لگتا ہے کہ اس کی اگلی ٹانگیں بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں جبکہ پچھلی ٹانگیں چھوٹی اور کمزور۔
جب لگڑبگڑ جھاڑیوں میں غائب ہوا تو دکھائی دینا بند ہو گیا مگر اس نے ہمارے گرد چکر کاٹنے شروع کر دیے اور عجیب نحوست بھری لے میں بولتا رہا۔
جب وہ ہوا کے رخ پر پہنچا تو اسے ہماری بو آئی تو ہمیں بھگانے کے لیے شور مچانے لگا۔ جب ہم اپنی جگہ رکے رہے تو اس نے پورے جنگل کو ہماری موجودگی کی اطلاع دینا شروع کر دی۔ اس کا شور میل بھر سے سنائی دے رہا ہو گا۔ اگر لگڑبگڑ کو بھگایا نہ جاتا تو ساری رات یہاں بیٹھنا بیکار ہوتا۔ سو ہم نے مختلف آوازیں نکال کر اسے بھگانے کی کوشش کی مگر اسے کوئی فرق نہ پڑا۔
میں نے زمین سے ٹٹول کر مٹی کا ڈھیلا اٹھایا اور اسے مارا۔ اس کا شور اور بھی بڑھ گیا۔ لکڑہارے نے لگڑبگڑ کو زیرِ لب گالی دی اور مجھے بولا کہ اسے گولی مار دوں۔ ظاہر ہے کہ لگڑبگڑ کا شور ہمارے لیے نقصان دہ تھا مگر گولی چلانے کو دل نہ چاہا۔ اتنی دیر میں لگڑبگڑ تالاب میں پہنچا تو ہمیں پھر سے اس کا دھندلا سایہ دکھائی دینے لگا۔
عین اسی وقت تالاب کے دوسرے کنارے سے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔
دہاڑ سنتے ہی لگڑبگڑ اپنی جگہ رکا جیسے پتھر ہو گیا ہو۔ اس کے کانوں نے حرکت اور مڑ کر شیر کی سمت دیکھا۔ اگلے لمحے اس نے پوری قوت سے دوڑ لگا دی۔
ہمیں چند لمحے اس کے بھاگنے کی آواز آئی۔ پھر ڈرا دینے والی خاموشی چھا گئی۔
ہم جانتے تھے کہ جب شیر دہاڑا تو وہ تالاب کے دوسرے سرے پر موجود تھا۔ مگر اب کہاں ہو گا؟ اسی جگہ، اس کے آس پاس یا چکر کاٹ کر ہمارے عقب میں آ گیا ہو گا؟ شیر اپنی حرکات و سکنات کے بارے میں اعلان نہیں کرتا۔
اسے لگڑبگڑ بتا چکا تھا کہ گڑبڑ ہے۔ اب وہ تحقیق کرنے آئے گا یا لگڑبگڑ کی مانند گم ہو جائے گا؟ اگلے چند لمحوں میں ہمیں پتہ چلتا۔ سو ہم خاموشی سے بیٹھے رہے۔
وقت گزرتا رہا اور ایک گھنٹہ گزر گیا۔ جھینگر اور مینڈکوں کے سوا اور کوئی آواز نہ سنائی دے رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ کاش لگڑبگڑ لوٹ آتا۔ اس کے شور سے ہمیں ایک طرح سے تسلی رہتی۔
نصف شب ہوئی اور سردی بڑھنے لگی۔ پھر ہمیں آس پاس گرے ہوئے پتوں سے سرسراہٹ کی آوازوں نے بتایا کہ چوہے اور دیگر چھوٹے جانور اپنی پیاس بجھانے آئے ہوئے ہیں۔
پھر ہمیں اپنے اوپر بڑے پروں کا سایہ دکھائی دیا کہ الو نے کسی جانور پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے دیکھا تو نہیں مگر آواز سے اندازہ ہوا کہ اس نے خرگوش پکڑا ہے۔ جونہی الو کے تیز پنجے خرگوش کی کمر میں گڑے، اس نے چیخ ماری۔ پھر ہمیں ’دھپ دھپ‘ کی آواز آئی اور خرگوش کی چیخ تھم گئی۔ الو نے اپنی طاقتور چونچ سے خرگوش کے سر پر وار کیا تھا اور خرگوش مارا گیا۔
کئی گھنٹے گزر گئے اور سردی بڑھنے لگی۔ ہمارے اوپر درخت کا سایہ تھا، سو ہمیں آسمان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک دو ستارے چمکتے دکھائی دیے۔
بادل نہ ہونے کی وجہ سے زمین سے حرارت کا اخراج بڑھ گیا اور سردی زیادہ محسوس ہونے لگی۔ پھر اوس گرنے لگی۔ ہمارے اوپر برگد کا درخت تھا سو ہم تو شبنم سے بچ گئے۔
بیچارے لکڑہارے نے مناسب لباس نہ پہنا تھا، سو وہ سردی سے کانپ رہا تھا اور اس کے دانت بج رہے تھے۔ میرے ہاتھ میں رائفل کی نال یخ بستہ ہو رہی تھی اور اس پر شبنم کے قطرے رینگ رہے تھے۔ میں نے رائفل کی نال کو نیچے کی طرف کیا تاکہ شبنم اندر نہ جائے۔
سردی کی وجہ سے مچھروں کی سرگرمی کم ہو گئی ورنہ غروبِ آفتاب سے وہ ہمارا خون چوس رہے تھے۔ چوہوں وغیرہ کی آواز بھی تھم گئی اور مینڈکوں کا شور بھی ختم ہو گیا تھا۔ اکا دکا مینڈک بولنے کی کوشش کرتا اور پھر چپ کر جاتا۔ صبح سے قبل کا یہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ جنگل کی تمام تر مخلوقات آرام کرتی ہیں۔
تین بجے ہوا چلنے لگی۔ ہمارے نیچے وادی سے گرم ہوا اوپر کو اٹھنے لگی اور ہم تک پہنچنے سے قبل سرد ہوتی گئی۔ ہوا کے جھونکوں سے درخت جھولنے لگے۔
میں شیر کو بھلا کر اونگھنے کی کوشش کرنے لگا مگر سردی سے وہ بھی ممکن نہ ہوا۔ دور سے جنگلی مرغ کی آواز آئی یعنی چار بج گئے تھے۔ ہماری شب بیداری تمام ہوئی اور شیر نہ آیا۔
پانج بجے صبحِ کاذب ہوئی اور پھر چند منٹ کے لیے تاریکی چھا گئی۔ پھر مشرق میں پہاڑیوں کے اوپر آسمان کا رنگ ہلکا پڑنے لگا۔ ابھی نیچے وادی میں یکسر اندھیرا ہی تھا۔
پھر اوپر پہاڑی سے ہمیں نر لنگور کی آواز آئی جو خوشی سے سب کو جگا رہا تھا۔ جلد ہی ان سب لنگوروں کا شور دور دور تک سنائی دینے لگا۔
جہاں ہم بیٹھے تھے، وہاں کافی روشنی ہو گئی تھی مگر سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ ہم اٹھے اور اپنے اعضا کو ہلا کر دورانِ خون بحال کرنے لگے۔ پھر ناگا پاٹلا کا بارہ میل کا سفر شروع ہوا تو ہم سبھی خاموش رہے۔
بنگلے پر پہنچے تو وہاں باقی لکڑہارے ملے جو گاؤں سے واپس آ گئے تھے۔ ان لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ شیر آیا، ہم نے دیکھا، کیا اس نے ہم پر حملہ کیا؟
میں نے اپنے ہمراہی لکڑہارے کو اشارہ کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے سوال جواب کرے اور میں نے اس دوران مٹی کے تیل کا چولہا جلا کر چائے کا پانی رکھ دیا۔ ابھی لکڑہاروں کی گفتگو جاری تھی کہ میں اور دیوا چائے پینے کے بعد سو گئے۔
چار بجے ہماری آنکھ کھلی تو ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور کافی چائے پی۔ پھر ہم نے سر جوڑ کر شیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
سب سے پہلا نکتہ یہ تھا کہ یہ شیر دیگر آدم خوروں کی کسی بھی عادت پر عمل نہیں کرتا۔ اس نے تمام انسان دوپہر کو مارے تھے۔ اس کے علاوہ یہ سبھی شکار امبل میرو سے چند میل کے دائرے میں ہی ہوئے تھے۔ عام آدم خور شیر کافی بڑے علاقے میں گشت اور شکار کرتا ہے جو عموماً سو مربع میل پر بھی محیط ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آدم خور کے مارے ہوئے انسانوں کا کوئی نشان نہ ملا تھا۔ یہ شیر کافی بزدل بھی تھا اور جب اکیلے لکڑہارے نے داؤ لہرایا تو بھاگ نکلا۔ اس شیر کے پگ ہمیں جنگل میں مٹرگشت کرنے کے دوران نہ دکھائی دیے، یعنی یہ شیر گھومنے پھرنے کا بھی عادی نہیں۔ اس علاقے کے کسی مویشی کے مارے جانے کی اطلاع بھی نہ ملی تھی۔
ہم کوئی فیصلہ نہ کر سکے تو سوچا کہ امبل میرو کے تالاب کے پاس ایک یا دو گارے بندھوا دیتے ہیں۔ توقع تو نہ تھی کہ آدم خور انہیں مارتا مگر آزمانے میں کیا حرج تھا۔
یہ سوچ کر ہم رات کو رنگم پیٹ گئے۔ دیہاتی فوراً مدد کو تیار ہو گئے اور ہم نے نوجوان اور فربہ بیل چالیس روپے میں خرید لیا۔ برطانوی رقم میں یہ تین پاؤنڈ بنتی ہے۔ ہم نے دو بیل خریدے۔ ایک کا رنگ خاکستری تھا جبکہ دوسرا بھورے رنگ کا۔ ہم نے سفید اور کالے بیل جان بوجھ کر نہ خریدے تھے کہ بعض شیر ان رنگوں کے گارے کو مارنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم ہر ممکن کوشش کو تیار تھے۔ گارے خرید کر ہم انہیں فارسٹ لاج لائے اور انہیں گیراج میں باندھ دیا۔ ہم نے فورڈ ٹی کو باہر کھلی ہوا میں کھڑا کر دیا۔
اگلی صبح سویرے ہم دو لکڑہاروں کی مدد سے ان بیلوں کو امبل میرو لائے۔ ایک کو ہم نے تالاب کے کنارے برگد کے درخت کے قریب باندھا جبکہ دوسرے کو پلی بونو جانے والے راستے کے قریب ایک مناسب درخت کے پاس باندھا۔ شیر کے لیے گارا باندھتے وقت ہمیشہ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اس کے پاس ہی مچان کے لیے مناسب درخت موجود ہو تو آسانی رہتی ہے۔
دوپہر کے بعد ہم اس کام سے بھی فارغ ہوئے اور سیدھا ناگا پاٹلا کے ریسٹ ہاؤس کا رخ کیا۔
اگلی صبح ہم نے کار میں بیٹھ کر پلی بونو کی طرف سات میل سفر کیا۔ یہاں سڑک ختم ہوتی ہے اور کار آگے نہیں جا سکتی۔ یہاں ہم نے دونوں گاروں کا پیدل معائنہ کیا اور دونوں ہی زندہ ملے۔
ہم نے باری باری انہیں کھول کر انہیں پانی پلایا اور پھر دوبارہ وہیں باندھ دیا۔ اس سے زیادہ کچھ کرنا ممکن نہ تھا۔ دیوا نے کہا کہ وہ تروپتی کے مندر کی سیر کو جاتا ہے جو یہاں سے پندرہ میل دور تھے۔ سو ہم نے وہاں کا چکر لگایا۔
تروپتی ہندو مذہبی مقام ہے اور بھگوان گووند کی پوجا کرنے کے لیے ملک بھر سے ہزاروں لوگ آتے ہیں اور یہ سلسلہ سال بھر چلتا رہتا ہے۔ یہ لوگ بھجن بھی گاتے ہیں۔ ان مندروں کی زیارت کرنے والی تمام خواتین کو اپنے سر کے بال منڈوانے پڑتے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں خواتین کی آمد سے حساب لگائیے کہ کتنے بال جمع ہوتے ہوں گے۔
واپسی سے ذرا قبل ہم ریلوے کے ریفریشمنٹ کے کمرے میں رکے۔ ٹرین کی آمد کی توقع نہیں تھی، سو مینیجر فارغ تھا۔ جب اس نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ عام افراد کی طرح اس نے پوچھا کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کیا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دیوا نے ہنسی خوشی اسے سب بتایا۔ مینیجر نے بتایا کہ اسے بھی شکار کا کافی شوق ہے اور کہنے لگا کہ یہ عام آدم خوروں سے کہیں مختلف آدم خور ہے۔
پھر اس نے ایک ایسی بات کہی جس سے میرے کان کھڑے ہوئے۔ وہ بولا، ’مجھے شک ہے کہیں یہ وہی شیرنی تو نہیں جو یہاں کچھ ماہ قبل سرکس سے نکل بھاگی تھی‘۔
اب میں نے اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کون سا سرکس؟ کب کی بات ہے؟ شیرنی کس مقام پر نکل بھاگی؟ اس کے بارے میں رپورٹ ہوئی؟ شیرنی دوبارہ پکڑی گئی؟
اس کے جواب سے واضح ہوا کہ تروپتی میں ایک چھوٹا سرکس آیا جس میں یہ شیرنی اور کچھ اور جانور تھے۔ ان کا قیام شہر سے ایک میل دور تھا۔ سرکس کا مالک کھانا کھانے سٹیشن پر آیا تو اس سٹیشن ماسٹر سے اس کی دوستی ہو گئی۔ دونوں ہی شراب کے عادی تھے اور یہاں اس علاقے میں شراب پر پابندی تھی۔ سو اس مشترکہ غم کی بدولت دونوں ہی دوست بن گئے۔
ایک شام شراب پینے کے بعد سرکس کا مالک بولا کہ دو رات قبل شیرنی اپنے پنجرے سے نکل بھاگی تھی۔ شاید اس کا رکھوالا دروازہ پوری طرح بند کرنا بھول گیا تھا۔ چونکہ اس راز کو اس کے ماتحت ہی جانتے تھے اور ان کی طرف سے مخبری کا کوئی امکان نہ تھا، سو مالک نے پولیس کو بتانے سے احتراز کیا۔ ان لوگوں نے شیرنی کو تلاش کرنے کی نیم دلانہ کوشش کی تھی مگر ناکام رہے۔ تروپتی سے جنگل ایک ہی میل دور ہے، سو ان کا اندازہ تھا کہ شیرنی جنگل میں خود سے رہنے کے قابل ہو جائے گی۔ اس نے اپنے نقصان پر تین حرف بھیجے اور سرکس لے کر چلا گیا۔
میں نے مینیجر سے پوچھا کہ اس نے شیرنی کو فرار سے قبل دیکھا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ سرکس مالک اس کا دوست تھا اور اس نے بہت مرتبہ مفت میں اس کا شو دیکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ شیرنی کی جسامت بہت بڑی تو نہیں تھی مگر پوری طرح بالغ تھی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ یہ شیرنی غیر معمولی طور پر غصیلی تھی اور اسے دن میں ایک بار کھانے کو گائے کا گوشت ملتا تو بہت شور کرتی تھی۔ مینیجر کا خیال تھا کہ اسے پوری طرح سدھایا نہیں گیا تھا کہ اس نے کبھی سرکس کے عام شیروں والے کرتب نہیں دکھائے تھے۔
اس موقعے پر میرے ذہن میں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوا جو میں نے فوراً پوچھ لیا، ’سرکس میں شیرنی کو کس وقت کھانا دیا جاتا تھا؟‘
مینیجر حیران ہوا مگر فوراً بولا کہ جب دوپہر کو سرکس کے ملازمین کھانا کھا چکے ہوتے تھے تو شیرنی کو راتب دیا جاتا تھا۔
سو معمہ حل ہو گیا تھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ یہ آدم خور وہی شیرنی ہے۔
اس نے دوپہر کو کھانے کی عادت قائم رکھی۔ اسے لوگوں سے ڈر لگتا تھا اور ان کی بے خبری میں ہی ان پر حملہ کرتی تھی۔ چونکہ اس نے کبھی جنگل میں زندگی بسر نہیں کی تھی، سو اسے جنگلی جانوروں کو مارنے کا تجربہ نہ تھا۔ سرکس میں قید کی عادتیں اس نے نہیں چھوڑی تھیں اور اپنا شکار ہلاک کرنے کے بعد اسے اٹھا کر بہت دور کسی محفوظ کمین گاہ یا غار کو لے جاتی تھی۔ سو اسی وجہ سے وہ بے مقصد نہیں پھرتی تھی اور اس کے پگ ہمیں کم ہی دکھائی دیے۔
میں اس بارے میں جتنا سوچتا گیا، اتنا ہی یقین بڑھتا گیا۔ اس کی کمین گاہ امبل میرو کے آس پاس ہی ہو گی جو شاید غار ہو۔ تروپتی سے امبل میرو کا درمیانی فاصلہ بمشکل بیس میل تھا۔ یہ فاصلہ کسی شیر کے لیے طے کرنا مشکل نہیں۔
میں نے دیوا کو یہ بات نہیں بتائی البتہ مینیجر سے مسلسل سوالات کرتا رہا۔ جلد ہی علم ہو گیا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ سرکس کے مالک سے اس کی خط و کتابت چلتی رہی اور یہاں سے جانے کے بعد سرکس رینی گنٹا گیا، پھر پُتور اور پھر اراکنم (یہ جگہ مدراس سے چالیس میل دور ہے)۔ پھر خطوط کی آمد رک گئی۔ اب معلوم نہیں کہ سرکس کہاں ہو گا۔
میں نے آخری سوال پوچھا کہ شیرنی کا نام کیا تھا تو پتہ چلا کہ اسے رانی کہتے تھے۔
جب ہم تروپتی سے روانہ ہوئے تو اندھیرا ہو چکا تھا۔ مگر مجھے خوشی تھی کہ ہمارا چکر بیکار نہیں گیا۔
اگلی صبح پو پھٹنے سے قبل ہم پلی بونو روانہ ہوئے اور کار کو راستے میں چھوڑ کر چارے کو دیکھنے گئے۔ دونوں زندہ سلامت تھے۔ پھر ہم نے کئی نالوں اور پگڈنڈیوں کا جائزہ لیا کہ کہیں آدم خور دکھائی دے جائے یا اس کے پگ ملیں مگر ناکامی ہوئی۔ شام کو ہم بنگلے کو لوٹے۔ رات کا کھانا کھا کر ہم رنگم پیٹ گئے تاکہ وہاں کے ایک آدمی رمیّا کی خدمات حاصل کریں۔ یہ شخص پہلے بھی میرے ساتھ وادیِ چملا میں شکاروں میں مدد دے چکا تھا۔ اس بار بھی میں اس کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔
رمیّا دلچسپ آدمی ہے۔ عام دیہاتیوں کے برعکس اسے ہر بات میں دلچسپی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے آٹھ یا دس سال قبل میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے وادی میں ایک جگہ اگنے والی ایک خفیہ جڑی بوٹی تلاش کی ہے کہ جس کے پتے اگر مار گزیدہ کو کھلا دیے جائیں تو زہر کا اثر نہیں ہوتا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اس بوٹی کے بہت سارے پتے خشک کر کے پیسنے کے بعد محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور اس کی مدد سے اس نے بستی کے بہت سارے مار گزیدہ لوگوں کو بچایا ہے۔ انسانوں کے علاوہ جانوروں کے لیے بھی یہ بوٹی کارآمد ہے۔ یہ کوبرے اور رسلز وائپر کے زہر کو بھی بیکار کر دینے والی جڑی بوٹی ہے۔ میں اس بوٹی کا ایک پودا اپنے ساتھ بنگلور لایا تاکہ اسے اپنے باغ میں لگاؤں مگر یہ پودا جلد ہی سوکھ گیا۔ اس کے علاوہ رمیا نے ایک اور جڑی بوٹی تلاش کی ہے کہ چائے بناتے ہوئے اس کے دو پتے چائے میں ملا دیں تو چائے کا ذائقہ بہت عمدہ ہو جاتا ہے۔ میں نے اسے کئی بار آزمایا ہے اور مزیدار چائے سے لطف اندوز ہوا ہوں۔ ایک بار اس نے مجھے انڈے کی شکل کا ایک پتھر دیا ہے جو ٹینس کی گیند کے برابر ہے۔ اس نے بتایا کہ اس پتھر سے ہمیشہ نمی نکلتی رہتی ہے۔ صبح سویرے ایسا زیادہ ہوتا ہے۔ میں اس پتھر کو بنگلور ساتھ لایا اور خود اس نمی کا مشاہدہ کیا ہے۔ پھر اس پتھر کو ایک ماہرِ ارضیات کے پاس لے گیا جو اس پتھر کی یہ خوبی دیکھ کر حیران ہوا مگر اس کی وجہ نہ بتا سکا۔
ایک بار شکار کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد جب میں رمیا کو معاوضہ دینے لگا تو اس نے درخواست کی کہ میں پیسے کی بجائے جنگل کے کنارے ایک زمین کا ٹکڑا خرید لوں جس پر وہ بلا معاوضہ کاشتکاری کرے گا اور جب بھی اسے میری مدد کی ضرورت ہو گی، وہ مفت کام کرے گا۔ زمین کا یہ ٹکڑا سوا دو ایکڑ کا تھا اور اس کی قیمت پچاس روپے (برطانیہ کے اعتبار سے چار پاؤنڈ بھی نہیں بنتے) ادا کی۔ تب سے رمیا اس زمین پر مفت کاشتکاری کرتا ہے اور جب بھی میں نے اسے بلایا، بھاگا بھاگا میری مدد کرنے چلا آیا۔
اس رات ہم رمیا کی جھگی کو پہنچے اور اسے باہر بلایا۔ اس کے دروازے پر بیٹھ کر میں نے اسے ساری کہانی سنائی۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے اس سے بات کی تھی مگر رمیا اسے بد روح سمجھ رہا تھا۔ سو اب جا کر میں نے اسے اپنے ساتھ شکار پر جانے کا کہا۔
اسے شیرنی کے فرار کا بتا کر پھر پوچھا، ’مجھے معلوم ہے کہ وادئ چملا کے چپے چپے سے اگر کوئی بندہ واقف ہے تو وہ تم ہو۔ اب تم بتاؤ کہ امبل میرو کے تالاب سے دو یا تین میل کے فاصلے پر کوئی غار ہے؟‘
اس نے فوراً جواب دیا، ’ہاں صاحب۔ ایک، دو، تین، چار بلکہ پورے پانچ غار ہیں۔ دو شمال کی جانب جبکہ باقی تین مشرق میں ہیں۔ شمال کی جانب والا ایک تو پہاڑی پر کافی اوپر ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اتنی مشکل چڑھائی پر کوئی شیر رہنا پسند کرے۔ غار کے آس پاس میں نے لنگوروں کو کھیلتے دیکھا ہے مگر وہ اس میں نہیں رہتے۔ باقی چار جگہیں ایسی ہیں جہاں شیر کے لیے رہنا آسان ہے‘۔
میں یہ سن کر بہت خوش ہوا اور بولا، ’شاباش رمیا، شاباش۔ اب مجھے ان سب غاروں کی سیر کراؤ‘۔
اس نے فوراً ہی حامی بھری اور بولا، ’ہاں صاحب۔ وعدہ، آپ جہاں چاہیں گے اور جب چاہیں گے، میں آپ کے ساتھ جنگل چلوں گا۔ میں اتنے سال سے آپ کی دی ہوئی زمین کاشت کر کے آپ کا ہی نمک کھا رہا ہوں‘۔
میں نے اس سے مزید سوالات کیے اور جانا کہ ان میں سے تین غار نسبتاً چھوٹے ہیں۔ چوتھا غار جو مشرق کی سمت ہے، وہ نسبتاً بڑا ہے اور اسے ’مداپنٹہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ غار پہاڑی سے اترنے والے جھرنے سے بنے ایک چھوٹے تالاب کے پاس ہے۔ پنٹہ مقامی زبان میں تالاب کو کہتے ہیں۔
میں نے پوچھا، ’کیا ہم ایک ہی دن میں ان سب غاروں کا چکر لگا سکیں گے؟‘
اس نے جواب دیا، ’جی صاحب۔ شمالی غار امبل میرو سے ایک میل دور ہے۔ باقی مشرق والی تینوں غاریں اس سے دو سے تین میل دور ہیں مگر ان کا درمیانی فاصلہ ایک میل سے زیادہ نہیں‘۔
میں نے کہا، ’ٹھیک ہے۔ میں صبح پو پھٹنے سے قبل کار میں آؤں گا۔ تم تیار رہنا۔ یہاں سے ہم سیدھا پلی بونو جائیں گے۔ امبل میرو کا باقی فاصلہ ہم پیدل طے کریں گے اور سب سے پہلے شمالی غار کا چکر لگائیں گے‘۔
اس نے فوراً حامی بھر لی، ’جیسا آپ کہیں گے صاحب، ویسا ہی کروں گا‘۔
دیوا اور میں خوشی خوشی واپس لوٹے۔ دیوا نصف شب تک بارہ بور کی بندوق اور میری رائفل کو صاف کرتا رہا۔
صبح چار بجے ہم کار میں سوار ناگا پاٹلا کے ریسٹ ہاؤس سے نکلے اور پانچ بجے سے ذرا قبل رمیّا کی جھگی کو جا پہنچے۔ کار کی آواز سن کر وہ باہر نکلا اور پھر اسے ساتھ بٹھا کر ہم چل دیے۔
پلی بونو تک کا سات میل کا گاڑی کا سفر طے ہوا اور چھ بج کر پانچ منٹ پر ہم کار سے اتر کر پیدل چل پڑے۔ ہمارا رخ امبل میرو کے تالاب کی سمت تھا۔ ہم آٹھ بجے سے ذرا قبل تالاب تک پہنچے تو صاف آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔
رمیّا نے بتایا کہ ان غاروں کی طرف تالاب سے کوئی باقاعدہ راستہ یا پگڈنڈی نہیں جاتی۔ ہمیں اس کی رہنمائی میں ہی جانا تھا۔
رمیّا نے ہاتھ میں راستہ بنانے کی خاطر داؤ (لمبا چاقو جس کا اگلا سرا مڑا ہوا ہوتا ہے، جیسے سوالیہ نشان ہو) تھا اس میں ایک فٹ لمبا بانس کا دستہ تھا۔ راستہ بنانے کے لیے داؤ بہت مناسب اوزار ہے۔
ہمیں جگہ جگہ جانوروں کی گزرگاہیں ملتی رہیں۔ یہ گزرگاہیں چیتلوں، جنگلی سوروں اور جنگلی ریچھوں کی تھیں۔ جنگلی ریچھ دیمک کی تلاش میں نکلتا ہے تو تباہی پھیلاتا جاتا ہے۔ ہمارا رہنما راستہ بھولے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ اس کا رخ شمال کو تھا اور اس کے عین پیچھے میں اپنی اعشاریہ ۴۰۵ کی رائفل کے ساتھ جبکہ ہمارے عقب میں دیوا بندوق سے نگرانی کرتا آ رہا تھا۔
پہاڑی کے دامن سے زمین مسلسل بلند ہوتی گئی۔ جلد ہی اونچے درختوں کی جگہ جھاڑ جھنکار بڑھنے لگا۔ بڑے بڑے پتھر یا ٹول بھی جگہ جگہ دکھائی دینے لگے۔
نصف گھنٹے بعد رمیّا رکا اور بولا کہ اب ہم پہلی غار کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہم مزید محتاط ہو گئے۔ آدم خور کہیں قریب چھپا ہوا ہو سکتا تھا۔
پھر رمیّا دوسری مرتبہ رکا اور سر کے اشارے سے اس نے مجھے غار دکھائی۔ غار کیا تھی، کچھ بڑے پتھر بے ترتیبی سے گرے تھے اور غار نما شکل بن گئی تھی۔ اس کا دہانہ ایک گز چوڑا تھا مگر شیر کے چھپنے کے لیے یہ کافی بڑی تھی۔
میں نے بائیں ہاتھ سے رمیّا کا کندھا پکڑ کر اسے اپنے پیچھے کر لیا۔ دیوا سب سے پیچھے تھا۔ پنجوں کے بل چلتے ہوئے میں غار کے منہ سے پندرہ فٹ دور پہنچ گیا۔ غار کے دہانے والی جگہ پتھریلی تھی اور جگہ جگہ گھاس اگی ہوئی تھی۔ ایسی جگہ پر کسی قسم کے پگ دکھائی نہیں دیتے۔
میں نے رمیّا اور دیوا کو اشارہ کیا کہ وہ پتھر اٹھا کر غار میں پھینکیں۔ انہوں نے چند ہی سیکنڈ میں پتھروں کی برسات کر دی۔
کچھ بھی نہ ہوا۔ مجھے پتھروں کے گرنے اور لڑھکنے کی آوازیں آتی رہیں۔ ظاہر ہے کہ شیرنی اندر نہ تھی ورنہ فوراً نکل آتی۔ پتھروں کی آواز کے سوا غار میں خاموشی ہی رہی۔
مزید پتھر پھینکے گئے۔ دس منٹ بعد بھی یکسر خاموشی رہی تو مجھے یقین ہو گیا کہ غار خالی ہے۔ میں نے آگے بڑھ کر غار کے دہانے میں جھانکا۔ یہاں میں نے زمین پر پگ دیکھنے کی کوشش کی تو مایوسی نہیں ہوئی۔ زمین پر موجود پگ بتا رہے تھے کہ غار کے اندر سیہ کی رہائش ہے۔ سیہ شب بیدار جانور ہے اور اسے کسی قیمت پر دن کے وقت غار سے باہر نکلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ واحد طریقہ دھوئیں کا تھا کہ اسے دھواں دے کر زبردستی باہر نکالا جاتا۔ اس میں بھی اکثر سیہ دھوئیں سے دم گھٹ کر مر جانا پسند کرتی ہے مگر باہر کم نکلتی ہے۔
واپس مڑنے سے قبل رمیّا نے ہمیں مزید اونچائی کی جانب رخ کر کے بتایا کہ ایک اور غار شمال کی جانب ہے جس کا دہانہ اونچی گھاس کی وجہ سے کچھ چھپا ہوا تھا۔ یہ غار ہم سے دو فرلانگ دور اور دو سو فٹ اوپر تھی۔
رمیّا نے درست کہا تھا کہ اس غار کی چڑھائی اتنی دشوار تھی کہ شیر وہاں تک نہ جا سکتا۔ اس کے علاوہ اس غار کے دہانے پر ایک لنگور بیٹھا ہمیں لاتعلقی سے دیکھ رہا تھا۔ اگر شیر قریب ہو تو لنگور اتنے سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔
ہم امبل میرو کی جانب نیچے اترے اور باقی تین غاروں کی طرف چل پڑے۔ رمیّا کو نہ صرف سمتوں کا بلکہ فاصلے کا تعین بھی بالکل درست اندازہ کرنے میں ملکہ حاصل تھا۔ ۴۵ منٹ میں ہم تالاب کو پہنچ گئے جو لگ بھگ دو میل سے ذرا زیادہ فاصلہ بنتا ہے۔ یہاں کی سرزمین پچھلی غار سے مشابہ تھی مگر غار کی جگہ یہ محض ایک گڑھا نما جگہ تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے دس فٹ نیچے پڑا ہوا بڑا پتھر یہاں سے نیچے لڑھک گیا تھا۔ تاہم اس جگہ امبل وغیرہ اگی ہوئی تھیں کہ اس کی چھت نہیں تھی۔ سو بارش کا پانی براہ راست آتا تھا۔
اس جگہ شیر عارضی طور پر تو رکتا مگر مستقل رہائش کے لیے یہ جگہ بالکل مناسب نہیں تھی کہ یہاں نہ تو سایہ تھا اور گھاس وغیرہ بھی بہت گھنی تھی۔ شیر کبھی ایسی جگہ قیام نہیں کرتا کہ جہاں اس کے دشمن چھپ کر اس تک پہنچ سکیں۔
میں نے رائفل تان کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اس جگہ پتھر پھینکیں۔ توقع کے عین مطابق یہ جگہ خالی تھی۔ پھر ہم آگے بڑھے اور دیکھا کہ زمین بہت پتھریلی تھی اور پگ ملنا ممکن نہ تھا۔ پتھروں کی برسات کے بعد یہ توقع رکھنا کہ شیر وہاں چھپا ہو گا، بیکار تھا۔
ہم پھر چکر کاٹ کر جنوب کی سمت اگلی غار کو گئے جو محض پندرہ منٹ کی مسافت پر تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ غار جیسے پہاڑ کے اندر گزرگاہ ہو۔ اس کا دہانہ کافی چھوٹا اور محض دو فٹ اونچا تھا۔ یہاں بھی ہم نے پتھر وغیرہ پھینک کر شیر کی عدم موجودگی کی تصدیق کی۔ یہاں زمین پتھریلی تھی، سو پگ نہ دکھائی دیے۔ ہم نے اس کے دہانے پر موجود گھاس کو آگ لگا دی۔
اگر شیر سنگ باری پر چپ رہا ہو تو آگ کے شعلوں اور دھوئیں کو دیکھ کر خاموش نہ رہتا۔ مگر خاموشی رہی۔ ہم نے اگلے دس منٹ میں آگ کو پوری طرح بجھا دیا۔ ہمیں علم تھا کہ ایک چنگاری بھی بچ گئی تو پورا جنگل جل کر راکھ بنانے کو کافی ہو گی اور ہزاروں ایکڑ جنگل تباہ ہو جائے گا۔
اب یہ کہنا کہ ہمیں کافی مایوسی ہوئی، کافی نہیں۔ مگر ابھی ایک غار باقی تھی جو ان میں سب سے بڑی اور پانی کے تالاب کے پاس تھی۔ رمیّا نے بتایا کہ یہ غار ایک میل دور ہے۔
کامیابی کی توقع نہ ہوتے ہوئے بھی ہم روانہ ہوئے۔ غار سے پہلے ہم تالاب تھا۔ جب ہم اس کے قریب پہنچے تو ہماری امیدیں بلند ہو گئیں کہ تالاب کے کنارے کیچڑ پر شیرنی کے بہت سے پگ موجود تھے۔ یعنی شیرنی یہیں سے پانی پیتی تھی۔
دو سو گز دور غار تھی اور ہم پہلے کی مانند خاموشی سے آگے بڑھے۔ اس کا دہانہ پانچ فٹ چوڑا اور پانچ فٹ اونچا تھا۔ اس کے علاوہ دہانے پر کسی قسم کی جھاڑیاں یا گھاس نہیں تھی اور غار کی سمت پیش قدمی شیرنی کو فوراً دکھائی دے جاتی۔ قریب پہنچ کر میں نے دیوا اور رمیّا کو اشارہ کیا کہ پتھر پھینکیں۔ پہلا پتھر گرتے ہی غار کے اندر سے اونچی دہاڑ سنائی دی اور شیرنی جست لگا کر باہر نکلی۔
چند لمحے کے لیے تیز روشنی نے جیسے شیرنی کو اندھا کر دیا ہو۔ پھر اس نے فوراً ہی ہمیں دیکھ لیا۔ ایک لمحے کو ٹھٹھک کر شیرنی نے سوچا مگر پھر اس کی فطری بزدلی آڑے آئی اور شیرنی فرار ہونے کے لیے دائیں جانب گھومی۔
عین اسی لمحے میں نے بغیر سوچے اسے آواز دی، ’رانی، رانی‘۔
شیرنی وہیں رک گئی۔ اس نے مڑ کر مجھے دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصہ نمایاں تھا مگر اس کے علاوہ تابعداری اور پہچان کا تاثر بھی تھا۔ اسے ہماری موجودگی کی وجہ کا علم نہ ہو سکا کہ میں نے اس کے رکتے ہی فوراً اس کے سینے پر گولی چلا دی۔ جب شیرنی نیچے گری تو میں نے دوسری گولی اس کے دماغ میں اتار دی۔
یہ شیرنی ابھی کچھ عرصہ قبل ہی بلوغت کو پہنچی ہو گی اور کم خوراک کی وجہ سے کمزور تھی۔ مگر وہ آدم خور کیسے بنی؟
اس کا جواب آسان تھا۔ برسہا برس کی قید سے اسے جنگلی جانوروں کا شکار کرنے کا ہنر سیکھنے کا موقع نہ ملا تھا۔ اسے انسانوں سے واقفیت تھی اور ہمیشہ انسان سے گھبراتی رہی۔
اس وجہ سے اس کے پاس زندہ رہنے کا یہی ایک نسخہ تھا کہ وہ انسانوں پر اچانک حملہ کر کے انہیں اٹھا لے جاتی۔ لاش کو اٹھا کر لے جانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ کوئی اس کے پیچھے نہ آئے۔
یہ واقعہ تمام کرنے سے قبل میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں جو ہندوستان، افریقہ اور دیگر ممالک کے لیے بھی مفید ہو گا جہاں لوگ جنگلی جانوروں کو قید کر کے پالتو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے ایک واقف کار خاتون نے ایک بار بتایا کہ اس نے تیندوے کے بچے کو پال پوس کر اتنا بڑا کیا کہ اسے مزید گھر پر رکھنا ممکن نہ رہا۔ اس خاتون کو اس تیندوے سے بڑا لگاؤ تھا اور تیندوا بھی اپنی مالکن سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک دن ایسا آیا کہ مالکن کو فیصلہ کرنا پڑا کہ تیندوے کے ساتھ کیا کیا جائے۔ اسے چڑیا گھر یا سرکس کو دینے کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا کہ وہاں اس کے ساتھ برا سلوک ہوتا۔ اسے جان سے مارنا بھی ممکن نہ تھا۔ اس خاتون نے تیندوے کو ایک بڑے جنگل میں لے جا کر چھوڑ دیا۔ پھر اس نے مجھے بعد میں روتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کار پر واپس روانہ ہوئی تو تیندوا اس کے ساتھ ساتھ بھاگتا ہوا کار پر چڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔
اب میں سوچتا ہوں کہ کیا اس خاتون نے کبھی سوچا کہ اس نے ایک انتہائی خطرناک جانور ابلے گوشت، چاول، روٹی، کھیر اور دلیے وغیرہ پر پالا تھا۔ اب یہ جانور اچانک اس طرح بے سہارا جنگل میں چھوڑ دیا گیا اور اسے وہاں رہنے کے لیے کسی قسم کی تربیت بھی نہ دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ اب ان تین باتوں میں سے ایک ہو سکتی تھی۔ اول تو یہ کہ جب اس تیندوے کو انسان دکھائی دیتا تو وہ دوستانہ انداز میں اس سے ملنے کی کوشش کرتا اور مارا جاتا۔ دوسرا یہ کہ بھوک سے مر جاتا جس کا امکان بہت کم تھا کہ بھوک کی شدت سے اناڑی سے اناڑی تیندوا بھی شکار کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ تیندوا آدم خور بن جاتا۔
اس خاتون نے بتایا کہ وہ اس تیندوے کو ایک ہفتہ قبل چھوڑ آئی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اب وہ ایک دو ماہ تک اخباروں کو پڑھتی رہے۔ میں بھی اخباروں کا مطالعہ کرتا رہا۔
چند ہی روز میں خبر آئی کہ ایک عجیب و غریب اور لاغر تیندوا ایک بستی (یہ بستی اس مقام سے چند میل دور تھی جہاں خاتون اسے چھوڑ کر آئی تھی) میں آیا اور ایک جھگی میں گھس کر سو گیا۔ پھر افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ دیہاتیوں نے اس جھگی کا دروازہ بند کر کے اس پر مٹی کا تیل چھڑکا اور اس تیندوے کو زندہ جلا دیا۔
اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس خبر کو پڑھ کر خاتون پر کیا بیتی ہو گی۔ اسے اتنی ہی تکلیف پہنچتی اگر یہ تیندوا آدم خور بن جاتا کہ اس خاتون کی حماقت کی وجہ سے ہی ایسا ہوتا۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

