FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

نسوانیت کا استحصال

غلام علی گلزار

 

8 مارچ کو کئی دہائیوں سے دنیا کے بیشتر ممالک میں ’خواتین کا بین الاقوامی دن‘ منایا جاتا ہے، یہ خوش آیند بات ہے کہ چند برس سے متعدد مشرقی ممالک میں عورت کے مثبت رول کے حوالہ سے اس یوم کا انعقاد کیا جانے لگا ہے، اگرچہ اس کو متعارف کرنے کی تحریک میں زیادہ تر وہی حلقے پیش پیش رہ چکے ہیں، جنہوں نے ’نسوانیت‘ کا استحصال کر رکھا ہے، ذیل میں اُنیسویں صدی عیسوی کے اواخر سے سرمایہ دارانہ نظریہ کے حامل اداروں کی طرف سے اس سمت میں مذموم رول کی اجمالی نشان دہی کی جاتی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے خاتون کی اصلیت و افادیت کو مادّی منفعت کی بھینٹ چڑھا کر رکھا ہے اور اسطرح نسوانی ماہیت کا استحصال کیا ہے، جس کے نتیجہ میں عورت “عافیت و آبرو” کے مقام سے گِر کر ذلّت و خطرات کی منزل تک پہنچ چکی ہے۔

یورپی مفکرین اور سیاست دان اسلام کے بارے میں ایک مبہم تصور کے حامل تھے، انہوں نے اپنے سماج میں انیسویں صدی کے دوران پرانی روایات کے اندر اصلاح کی غرض سے چند تبدیلیاں لانے کی کوشش کی، اس سلسلے میں انہوں نے مسلمانوں میں بعض سطحی طور پر پائی جانے والی باتوں کو اچھال کر اسلام کے متعلق غلط تاثر پیش کیا، لیکن اُن کی صفوں میں چند ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے اسلام کے اعلٰی اصولوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی تھی، خصوصاً خواتین کے حقوق اور انکے اختیارات کے بارے میں، اس لئے ان خطرات سے اپنے معاشرہ کو آگاہ کرنے کی کوشش کی جو اسلام کے حوالے سے مذکورہ غلط تاثر کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتے تھے۔ اس دور کے متعلقہ مکار سیاست کاروں کو بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر مسلمان اسلام کی سماجی خوبیوں کو قول و فعل کی ہم آہنگی کے ساتھ اپنائیں، اُس کے مثبت اثر و نفوذ کی چھاپ پورے انسانی معاشرہ پر پڑ سکتی ہے، کیونکہ ایسا تاثر دنیا کو اُن محرکات کے حوالے سے متوجہ و مربوط کر سکتا ہے، جن کی رُو سے اس دور میں مغربی معاشرہ فرسودگی سے نکلنے کے لئے آب و تاب کے ساتھ متمنّی تھا۔

یورپ کی سطح پر عورت ایک گڑیا کی طرح رہ گئی تھی، بلکہ مبالغہ نہ ہو گا اگر کہا جائے کہ سماج میں وہ ایک غلام کی طرح تھی، کئی تحریکیں اس کو اپنے شوہر کی غلامی اور اُس ماحول میں اُسکی پسماندہ صورتحال سے نکالنے کے لئے شروع کی گئیں، چنانچہ ایک یورپی مفکر ڈاکٹر شیگان (بہ حوالہ مسلم میڈیا،بواسطہ کریسنٹ انٹر نیشنل وسط 1948ء) نے مذکورہ سِمت میں بعض مغربی ممالک کے اندر، اُٹھائے گئے چند اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے اُس رجحان پر افسوس کا اظہار کیا ہے جو مذکورہ تحاریک کے نفوذ میں کارفرما رہا، چنانچہ انکا کہنا تھا کہ، ’اس قسم کی آزادی اور اختیار مسلم خواتین کو چند شرائط کے ساتھ پہلے ہی حاصل ہے لیکن جس طریقہ سے اس کا نفاذ، اصلاحی تحاریک کی مناسبت سے یورپ میں کیا جا رہا تھا اس کا قطعی نتیجہ عورت کی نسوانیت کے استحصال کے سِوا کچھ نہ ہو سکتا تھا‘ حالانکہ برطانیہ میں اس حوالے سے جو قوانین1870ء اور 1882ء کے دوران نافذ کئے گئے، ان میں اہم حصہ سرمایہ دار طبقہ نے ادا کیا تھا۔

متعلقہ ’اعلامیہ‘ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ عورتوں کو آزادی کے ساتھ کارخانوں، ملوں اور دفتروں میں جا کے پیسہ کمانا چاہئے اور جس طرح وہ چاہیں صرف کریں، اس میں شوہروں کی کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سماج میں کثرت سے خواتین کارخانوں اور بازاروں میں کام کرنے لگیں، جس کا سب سے زیادہ نفع سرمایہ دار طبقہ نے کمایا، اسی طرح اٹلی میں 1919ء تک عورت شوہر کی نوکرانی کی طرح ہوتی تھی۔ تقریباً یہی حالات جرمنی میں بھی 19 ویں صدی کے اواخر تک تھے، البتہ سویڈن میں یہ حالت1907ء تک رہی، جبکہ فرانس میں 1939ء تک اس قسم کی پائی جانے والی صورتحال میں تبدیلیاں رونما نہ ہوئیں، چنانچہ مذکورہ تبدیلیوں کے بعد خواتین زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ٹوہ میں رہیں، اکثر یورپی ممالک کے اندر سرعت کے ساتھ شرم و حیا اور مہرو وفا کے اقدار روز افزوں ماند پڑتے گئے۔

پہلے گھروں میں جو خلوت گزینی اور امن و آشتی کا ماحول دیکھنے کو ملتا تھا وہ افراد خانہ خصوصاً میاں بیوی کے درمیان محبت اور کشش کو بڑھاوا دینے کا باعث ہوتا تھا جس کے اثر سے شوہروں کے اندر شام کو دیر تک آوارہ گردی میں گھومتے رہنے کی بجائے جلدی گھر پہنچ جانے کی لگن جلا پاتی تھی، لیکن یہ آہستہ آہستہ ماضی کی داستان رہ گئی، دوسری جانب تبدیل پذیر ماحول میں، کرایہ کی خواتین، نائٹ کلبوں میں مردوں کے لئے مصنوعی مسکراہٹوں اور راحتوں کا اہتمام مہیا رکھتی تھیں، جس کا روح اور وجدان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا، ان حالات میں ایک کام کرنے والی خاتون کے لئے یہ ناگزیر بنتا گیا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کی جانب توجہ سے دامن چھڑائے یا جی چرائے، اس کا بیشتر کمایا ہوا مال میک اپ اور بدلتے فیشنوں کے بڑھتے رجحانات کا شکار ہو جاتا تھا، پہلے تو عموماً یہ صورتحال تھی کہ عورت اپنے شوہر یا قبیحہ بندھنوں کی سینہ زوری کی شکار تھی، لیکن اب ’نئے نظام‘ کی زور زبردستی کی چکی میں اُن کی نسوانیت پستی رہی، زنا بالجبر، خودکشی، قتل و اغوا اور دیگر قسم کی اذیتیں عام نوعیت کی جھلکیاں ہیں، جو دوسرے نفسیاتی امراض کے علاوہ ’کنبہ‘ اور ’خانوادگی‘ کی مرکزیت کو تباہ کرتی رہی۔

شادی اور گھرانہ کے بارے میں مغربی ماحول اوائل بیسویں صدی عیسوی سے عموماً گھناونی اور تخریبی صورتحال پیش کرتا رہا ہے، شہری مراکز میں روز افزوں اُن (غیر قانونی) جوڑوں کی بڑھتی جا رہی بھیڑ ہوتی ہے، جن میں جوان بھی ہوتے ہیں اور اوسط عمر کے مرد و خواتین بھی، تاکہ وہ شادی کی رجسٹریشن کرائیں۔ ان میں اکثریت ایسے جوڑوں کی ہوتی ہے جن کے لئے شادی کا اشتیاق اور ایک دوسرے کی قُربت کا جذبہ تازہ نہیں ہوا کرتا ہے، کیونکہ برسوں تک آپس میں جنسی تعلقات کا مادّی جذبہ، روحانی تقدس، احساس ذمہ داری اور نکاح کے ثوابی تصور کی عدم موجودگی میں محبت کی گرمجوشی کا حامل نظر نہیں آتا ہے، زیادہ تر جوڑے چرچ میں رسم نکاح پورا کرنے کی بجائے حکومت کے میسر کردہ سٹی سنٹروں میں رجسٹریشن کو ترجیح دیتے ہیں، (سٹی سنٹروں کے سہولیت حکومت نے مہیا کر رکھی ہوتی ہے)۔

چنانچہ رجسٹریشن کے بعد کئی برسوں تک عموماً (شادی شدہ/رسم شادی سے فراغت پانے والے جوڑے) بچہ کی تولید نہیں چاہتے ہیں، جب اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے یا کنبہ والی زندگی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے اس وقت خاصی تعداد جوانی کی حدوں کو پار چکے ہوتے ہیں، اس طرح بچوں کی صحت مند اور تعمیری تربیت و پرورش کی خاطر مہر و جذبہ، حرکت و ولولہ نہیں پایا جاتا ہے جو اُن کو فیملی لائف سے جڑا رکھنے کا باعث بن جاتا! عموماً ننھے بچوں کے لئے اطفال کی پرورش گاہوں (Creches) میں پال پوس کا اہتمام کیا جاتا ہے، یہ بچے ماں کی آغوش کی ممتائی آہٹوں کی لوریوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

 مذکورہ مجموعی مغربی ماحول کے مقابلے میں جب ہم مشرقی معاشرتی ماحول کا مشاہدہ کرتے ہیں، عام طور پر دو قسم کے لوگ دکھائی دیتے ہیں، ایک وہ جو مغربی طرز زندگی سے مختلف تو ہیں لیکن کئی پہلوؤں سے قابل مذمت طریقہ کار اپنا رکھا ہے، نیز ایسے لوگوں کا حلقہ اُبھر چکا ہے جو مغرب کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی نفوذ کے تحت موہومیت کی صورتحال میں ہو بہو مغربی معاشرہ کی نقالی کرتے ہیں حالانکہ یہ براہ راست اپنے اخلاقی و تمدنی اقدار میں خود اعتمادی نہ ہونے (مشرق کے) اقتصادی نظاموں کی ناکامی اور کمزور سیاسی حکمت عملی کے نتائج ہیں، جس نے یہاں گروہی طبقاتی اور مذہبی تعصب اور توہمات کی وجہ سے سر اٹھا رکھا ہے۔

اکثر مشرقی اقوام کے اندر شادی بیاہ کے رسوم میں اسراف و تبذیر کا شدید مظاہرہ ہوتا ہے، کبھی کبھی اس طرح کی مجالس کو سماجی یا سیاسی دبدبہ کے مظاہرہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، متعدد حلقوں/علاقوں میں نجومی علامات و اوقات سے جڑے اثرات کے خوف و توہم سے سرگرمئی حیات کو مفقود و محدود رکھا جاتا ہے جس سے متعلقہ لوگوں کے اندر امتزاجی اور نفسیاتی قوتوں کے صحیح و مثبت استعمال کی جہت و جہد سرد پڑ جاتی ہے، اس سے انکی مثبت فکر اور تعمیراتی نظر کا جذبہ کمزور ہو جاتا ہے، مشرق میں لوگ عام طور پر ذات پات، قبیلہ بندی، لسانی طبقوں اور قومیاتی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان اتحاد کا اصلی و داخلی جذبہ نہیں پایا جاتا ہے، بلکہ نفرت، عدم رواداری اور خاندانی و قبائلی دبدبہ کے منفی جذبات پائے جاتے ہیں، کبھی وہ ایک دوسرے کو وقتی طور یا مصلحتاً برداشت کر لیتے ہیں، یہ ایسی نازک صورتحال ہے جو کبھی اور کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے اور مغربی استعمار اس سے سُوء استفادہ کرتا ہے اور کر سکتا ہے!

سرمایہ دارانہ نظام سرعت کے ساتھ عالمی سطح پر مادیّت زدہ ذہنیت کے ساتھ نفاذ کر چکا ہے، ایک ایسے معاشرہ میں جہاں قریباً تمام سوچ پیداوار، سپلائی اور کھپت کے تناسب اور مادّی منفعت کے گرد گھومتی ہو، ایک خاتون کی جبلت و حیثیت کی صحیح شناخت کا اندازہ ممکن نہیں، اس کی وفا کا تقدس، اطاعت کا اخلاص، رحم دلی کا جذبہ، شفقت کا سرمایہ، صبر کی اصالت اور شرم و حیا کی فطرت، نیز اس کی شخصیت سے مربوط صلاحیتوں سمیت دیگر نسوانی خصوصیات کو ایسے ماحول میں محسوس کرنا یا بار آور کرنا مشکل ہے، بلکہ ان کا نکھار و سُدھار نہایت مشکل ہے۔

افسوس ہے کہ مالی مفادات کے لئے، جنسی خواہشات کو برانگیختہ کر کے پُر کشش طرز اَدا کے ذریعے اُنکا استحصال کیا جاتا ہے، خواتین کی مذکورہ طبعی خصوصیات سے ناجایز فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے، چنانچہ عالمی سطح پر مادی منافع کے لئے مختلف حربے حتٰی کہ شرمناک ذرائع آزمانے کی لَت پڑی ہے، روحانی اور اخلاقی اقدار زندگی گزارنے کی واقعیت کے اسرار ناپید ہوتے جا رہے ہیں، حتٰی کہ واضح طور پر ایڈز کی بیماری کا پھیلاؤ 37 فیصد جنسی بے راہ روی کا نتیجہ ہوتا ہے، پھر بھی عریانیت اور شہوانی نظاروں اور آوازوں کو حق شمار کر کے آڈیو وِژول (Audio Visual) اشتہارات کے ذریعے بھڑکاتے رہنے میں سرعت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

لواطہ(homosexuality) کو کئی امریکی اور یورپی ممالک میں آئینی حق دیا گیا ہے، جو واضح طور پر مجموعی و اصولی معنوں میں حقوق خواتین کے ساتھ خیانت ہے، ہمارے معاشرہ میں خواتین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، شادی کے لئے نوکر پیشہ (employed) خواتین کو ’سیرت و صورت‘ پر ترجیح دی جاتی ہے، بعض حلقوں میں مشاہدہ کے مطابق، لالچی مرد اور لالچی عورتیں نکاح کرنے اور طلاق لینے کو تجارت بنا چکے ہیں، ننھے بچے اس معاشرتی انحطاط کا بری طرح شکار ہو رہے ہیں، نونہالوں کو فلموں کے ذریعے قتل، ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم کی تربیت دی جا رہی ہے، الیکٹرانک میڈیا سے تخریبی نقالی کو ہوا ملتی جا رہی ہے، اس ماحول میں نفس انسانی زوال پذیر ہوتا ہے۔

اس باب میں ہم اسلامی قانون و اخلاق کی رُو سے عورت کی حیثیت پر گفتگو کریں گے تاکہ اس عظیم خاتون کی منزلت معلوم ہو جائے اور فی الوقت رائج حقوق خواتین کی پامالیاں پتا چل سکیں۔ قرآن و حدیث(متفقہ) کی رُو سے عورت کی حیثیت، اس کے حقوق اور فرائض کو درج ذیل نکات میں اجمالاً پیش کیا جا سکتا ہے:

۱۔ جنّت ماں کے قدموں میں ہے۔

۲۔ ماں کے حقوق، باپ کے حقوق کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

۳۔ بیٹیوں کے ساتھ اچھے سلوک کے بارے میں تاکید کی گئی ہے۔ بیٹی کو نیکی اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔

۴۔ ماں کی خدمت بہت سے گناہوں سے پاک کرتی ہے۔

۵۔ ماں اگرچہ غیر مسلم بھی ہو، اس کے ساتھ اچھا برتاو لازمی ہے۔

۶۔ بیوی سے متعلق حقوق اور ذمہ داریوں کو خاص فوقیت دی گئی ہے۔

۷۔ رسول اللہ کا برتاؤ اپنی بیویوں کے ساتھ مثالی تھا۔

۸۔ نکاح کے سلسلے میں ایک عورت/لڑکی سے اس کی رضا مندی معلوم کر نا واجبی ہے۔ بروئے سنت

۹۔پیغام نکاح کا اقدام مرد(صاحب پسر) کی جانب سے عورت(صاحب دختر) کی طرف رُو بہ عمل لایا جا تا ہے۔

۱۰۔ ایجاب و قبول کے ساتھ مہر کا تعیّن اور اس کی ادائیگی واجب ہے۔

۱۱۔ لواطہ(Homosexuality) کر نے والے پر اللہ کہ لعنت ہے۔

۱۲۔ ایک سے زیادہ بیویاں ہونے پر، اُن کے درمیان مساوی برتاؤ اور انصاف ضروری ہے۔

۱۳۔ طلاق کو اسلام میں قبیح عمل سمجھا جاتا ہے (یعنی اس سے جس قدر ممکن ہو بچنا چاہئے)۔

۱۴۔ جو کچھ (مال) دلہن کو شادی کے موقع پر بشمول مہر دیا جائے وہ اس کی ملکیت ہے، اس کا واپس لینا حتیٰ کہ طلاق کی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔

۱۵۔ باپ اور شوہر کی حیثیت میں مرد پر اپنے اہل و عیال (بیوی، بچوں) کی کفالت و پرورش واجب ہے۔

۱۶۔ اگر اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے علاوہ کوئی عورت (بیوی) فالتو وقت کے دوران کسی کام سے کچھ کماتی ہے، وہ اس کی اپنی جائیداد ہے۔

۱۷۔ رسول اکرمؐ ان کے اصحاب اور آل (اہل بیت ع) کی سیرت میں بیویوں سے برتاو کی شاندار عکاسی ملتی ہے، وہ اُن کے گھریلو کام میں اُن کا ہاتھ بٹاتے تھے۔

۱۸۔ بحیثیت بیوی شوہر کے تئیں، اور بحیثیت ماں بچوں کے تئیں، اُس کے حقوق و فرائض کے علاوہ گھریلو امور کے دوسرے مساعی، عورت کے حق میں مستحب امور قرار دئیے گئے ہیں، اس کے عوض اُس کے لئے جہاد کا ثواب لکھا جا تا ہے، اگر بچے کو جنم دیتے ہوئے کسی ماں کی موت واقع ہو جائے، اس کا انعام ایک شہید کے برابر ہے۔

۱۹۔ رسول اللہ نے اس شخص کے حق میں جنّت میں داخلہ کی بشارت دی ہے، جو شفقت کے ساتھ ایک بیٹی یا ایک بہن (یا زیادہ کی) پرورش کرے۔

۲۰۔ حدیث نبویؐ کی رُو سے اگر (تحفہ/کھانے کی) کوئی چیز گھر میں لاؤ، بانٹنے کی پہل بیٹی/بیٹیوں سے کرو۔

۲۱۔ اسلام کی رُو سے حصول علم مسلم مردوں اور مسلم عورتوں پر فریضہ ہے۔

حدیث کی رُو سے تمام کتابوں میں بطریق شیعہ و سنی، عورت کی خصوصی حیثیت اور اس کے مخصوص حقوق کے بارے میں روایات موجود ہیں، مثال کے طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث رسول ص، بی بی عائشہ کی روایت سے ہے کہ فرمایا رسول اکرمؐ نے کہ جس کسی مرد یا عورت پر بیٹیوں کی پرورش کی ذمہ داری آ چکی ہے، اگر وہ مہربانی کے ساتھ اُن سے بر تاؤ کرے، وہ جہنم کی آگ سے اُس کے حق میں سپر ثابت ہو گی، کئی ذرائع سے من جملہ بخاری و مسلم ایک واقعہ حضرت نعمان بن بشیر کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اُس کے حق میں اس کے والد کے ’ھبہ نامہ‘ پر گواہ رہنے سے انکار کر دیا جس کے ذریعے، اُس کی والدہ کے اصرار پر، نعمان کے والد نے بیٹیوں کو نظر انداز کر کے اپنی جائیداد نعمان کے نام کر دی تھی۔ اس موقع پر رسول اکرمؐ نے فرمایا، ’میں نا انصافی کے نوشتہ کا گواہ نہیں رہوں گا‘۔

کتاب حدیث ’الکافی‘ کے حوالہ سے حضرت امام جعفر صادقؑ کی نقل کردہ حدیث رسولؐ کی رُو سے، ایک مرد کے لئے ہدایت دی گئی ہے کہ کسی عورت سے نکاح کے وقت اس کو ان الفاظ میں اِعادہ کر نا چاہئے، کہ اُس نے اللہ کو حاضر و ناظر مان کر قسم کھائی ہے کہ وہ ہونے والی بیوی کے ساتھ مناسب برتاؤ کر ے گا، اور اگر طلاق کی نوبت ناگزیر ہو جائے، اُس صورت میں اِس کو مہربانی اور احسان کے ساتھ الگ کر دے گا‘، یہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے کہ ایک شخص بیوی کو معطل حالت میں رکھے، نہ بسالے نہ طلاق دے!

قرآن سورۃ النساء کی آیت ۵۳ میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان (کسی) تضاد کو حل کر نے کے لئے ہدایات جاری فرمائی ہیں کہ ’ایک مُنصف کو مرد کے خاندان سے اور ایک کو عورت کے خاندان سے مقرر کر دو، اگر وہ دونوں معاہدہ صلح کرنا چاہیں، اللہ میاں بیوی کے درمیان تسلیم و آشتی کو فروغ دے گا، چنانچہ بعض شرائط کے ساتھ اسلام کے اندر دونوں مرد اور عورت کو حق طلاق (مرد کی طرف سے طلاق دینا عورت کی طرف سے خُلع حاصل کرنا) سے نوازا ہے۔ عورت کے لئے اسلام نے پردہ (حجاب) کو ضروری قرار دیا ہے اگرچہ اس کی شکل و طریقہ کے بارے میں ماحول، جغرافیہ اور قومیات کے مطابق اختلاف پایا جاتا ہے، البتہ قرآن و سنت کی رُو سے غالب نظریہ یہ ہے کہ عورت کے لئے بالوں اور جسم کو چھپانا وجوبی ہے، چہرہ کی گولائی اور کلائی سے نیچے ہاتھوں کو کھلا رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بعض حلقے آنکھوں اور اس کے ارد گرد کے کچھ حصہ کے کھلا رکھنے کی حد پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ پردہ کا بنیادی مقصد اس کے قواعد کی پیروی کر کے عصمت کی حفاظت ہے، اس سے خواتین کی نسبت احترام کا احساس بھی اُبھرتا ہے اور مردوں کے اندر ضبط کا احساس بھی نکھرتا ہے۔

اسلام میں ہو نے والے شوہر اور بیوی کا شریفانہ ماحول میں ایک بار ایک دوسرے کو دیکھنے، بات کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے، سیرت کو زیادہ مقدم قرار دے کر شادی کی حقیقی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد نبویؐ ہے کہ جو شخص ظاہری خوبصورتی کی بنا پر کسی عورت سے شادی کر ے گا وہ اس میں اپنی محبوب چیز نہیں پائے گا، شادی (نکاح) کی تقریب/رخصتی وغیرہ سے پہلے میل جول کے (مغربی) طریقہ سے اکثر اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے ہیں اور نہ مذکورہ حدود کے علاوہ یہ جائز ہے، حدیث کی رُو سے خوبصورت اور نیک سیرت بیوی اللہ کی طرف سے نعمت ہے، نعمت کا شکریہ ہے کہ شوہر بیوی باہم محبت و مروّت، عفت و امانت کی پاسداری کے ساتھ رہیں، آج کل دنیا میں ہر سطح پر جو آزادانہ میل جول کی فضا قائم ہو تی جا رہی ہے، اس سے نوع انسانی کے لئے تباہ کن مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا علاج اشد ضروری ہے۔

اس سلسلے کے آخری باب میں ہم فاطمہ زہراؓ کی سیرت طیبہ پر گفتگو کرتے ہیں تاکہ آپؓ کی سیرت طیبہ جان کر ہمیں مسلمان خواتین کی عظمت و بلندی کا مکمل اندازہ ہوسکے اور ہم یہ بھی جان سکیں کہ آج کی مغرب زدہ عورت کو کس قدر ذلیل و رسوا کیا گیا ہے، تو آئیے حضرت فاطمۃ ا لزّہراؓ کے رہنما کردار کو جان لیں، انسانی تاریخ کے نشیب و فراز میں وہ عظیم کردار کی خواتین بھی گزری ہیں، جنہوں نے اپنے مقدس، کردار اور دور اندیشی کے آئینہ دار رول سے نوعِ انسانی کی تباہی کا رُخ موڑ دیا، انہوں نے انسانی سلوک کی اصالت اور تعلقات کے جوہری اقدار جن کی تعلیم انسان کو پیغمبروں نے دی کو محفوظ رکھا۔

مثال کے طور پر حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ حضرت ہاجرہؑ ، حضرت عیسیٰؑ کی والدہ حضرت مریمؑ اور اسی طرح حضرت خدیجہؓ جو اعلیٰ، دولتمند، شریف اور محترم خاندان کے پس منظر سے وابستہ عظیم خاتون تھیں، جس نے اسلام کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰؐ کی زوجیت میں آ کر عین وقت پر اُن کو رفاقت دی جب سارا زمانہ کا دشمن ہو گیا تھا، اپنے شوہر کی خدمت میں اپنی ساری دولت پیش کر دی تا کہ اسلام کی تبلیغ و سر بلندی، مساکین اور حاجت مندوں کی بہبودی کے لئے اس کو صرف کیا جائے، اعلیٰ مقصد کے تئیں حضرت خدیجہؓ کی وفاداری، کوشش میں اخلاص، مشرکانہ طریقوں اور سماجی برائیوں کے مقابلے میں ثابت قدمی اُن کے صبر و استقلال، عقل و حوصلہ، نظر کی گہرائی اور دور اندیشی کی واضح عکاسی ہے۔

حضرت فاطمہؓ جو پیغمبر اسلامؐ کو سب سے زیادہ عزیز تھیں، کو اپنی والدہ حضرت خدیجہؓ نے بڑی شفقت اور توجہ کے ساتھ پالا، انہوں نے اُن حالات میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں جب دعوت اسلام کھل کر پیش کرنے کا وقت آ چکا تھا، چار برس آپؓ کی عمر تھی جب دعوتی مشن پورے جو بن پر تھا، جو لوگ پیغمبر کی مخالفت پر کمر بستہ ہو چکے تھے، اُن کو اذیتیں دیتے، اُن کو پتھر مار تے تھے، شفیق فاطمہؓ اپنے والد کے زخموں کو تسلی و تشفّی کے الفاظ کا اظہار کر تے ہوئے دھوتیں اور ان پر پٹی باندھ لیتی تھیں، پیغمبرؐ انکو چوم کر کہتے، ’اپنے باپ کی ماں!‘۔

بچپن سے ہی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں یہ بات پھیل چکی تھی کہ پیغمبرؐ فاطمہؓ کو بڑے پیار و محبت سے رکھتے ہیں، اور بہت احترام بھی کر تے ہیں، وہ سنگ دل افراد جو شانِ ریاست کے اظہار کے طور پر ننھی بچیوں کو زندہ دفن کر تے تھے، یہ دیکھ کر حیران رہ جا تے تھے کہ اتنے بڑے ریاست والے خاندان سے وابستہ ہونے کے باوجود  محمدؐ  اپنی اس بیٹی سے کس قدر شفقت کرتے ہیں۔ فاطمہؓ بچپن سے ہی قرآنی آیات ماں کو سنا سنا کر یاد رکھتی، اُن کو احساس تھا کہ اُن کی والدہ حضرت خدیجہؓ بنت خویلد بہت دولتمند گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، جہاں (یعنی اُن کے نانہال میں) رہن سہن کا معیار خانہ پیغمبرؐ کے مقابلے میں ہر لحاظ سے خرچہ داری کا متحّمل بھی تھا اور حامل بھی، لیکن اس کے ساتھ ہی اُن کو یہ احساس تھا کہ پیغمبرؐ کے گھرانے کی ترجیحات کا اُس مشن سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے، جس کی ذمہ داری اللہ نے ان کے والد رسولؐ پر عائد کی ہے۔

وہ یہ بھی اچھی طرح سے جانتی تھیں کہ اُن کی والدہ محترمہ نے اپنی ساری دولت کو اسلام کے لئے وقف کر دیا تھا، اُن ضرورت مند مظلوموں کی کفالت کے لئے جن کو اسلام کی دعوت تسلیم کرنے کی پاداش میں جانی اور مالی نقصان پہنچایا جاتا تھا، بیواؤں،مفلسوں اور یتیموں کی امداد میں انہوں نے اپنا مال صرف کیا تھا، اس دولت سے وہ متعدد غلام بھی آزاد کرا دئیے جاتے تھے جن کو رسول اللہ پر ایمان لانے پر قید کیا جاتا یا کوڑے برسائے جاتے!

حضرت فاطمہؓ کو اپنی حیثیت کا بخوبی اندازہ تھا، آپؓ نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ راہ اسلام میں آپ کا کیا فریضہ بنتا ہے، اس وقت عورت زمانہ میں پھیلی ہوئی ہوس رانی اور تہذیبی جارحیت کے تلے دب کر رہ گئی تھی، اس قید و بند سے آزادی و نجات حاصل کر کے آبرومندانہ حیثیت کا حصول صرف اسلامی اصول و اخلاق اور قوانین شریعت کے اپنانے میں مضمر تھا، فاطمہ زہراؓ نے غلاموں اور پسماندہ طبقوں کو عزّت و آزادی دلانے کے لئے عملی کردار پیش کیا۔

مسلمانوں کے خلاف سخت زمانہ، اقتصادی ناکہ بندی اور اپنے گھر میں ناداری کے باوجود آپ نے ضرورت مندوں، مسکینوں، یتیموں کو کبھی خالی ہاتھ واپس نہ کیا، حتیٰ کہ ایک غریب الوطن مسافر مسکین کی حاجت روائی کے بارے میں جب حضرت سلمانؑ کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کی سفارش کا پتہ چلا تو اپنی (نئی تیار کردہ) چادر یہودی سرمایہ دار کے ہاتھ فروخت کر نے کے لئے بھیج دی، اس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ ایمان لے آیا، چادر سمیت چادر کی قیمت حضرت فاطمہ زہراؓ کی خدمت میں بھیجی۔ جب حضرت فاطمہؓ کی شادی حضرت علیؑ کے ساتھ ہوئی، آپ کو بخوبی معلوم تھا کہ علیؑ مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ میں خالی ہاتھ ہیں، پھر مختلف مشرک عرب قبائل کے اقتصادی و سماجی دباؤ کا ماحول بھی ہے، پھر جہاد کے علاوہ حضرت علیؑ پر رسول اکرمؐ کی ہم رکابی کی خصوصی ذمہ داری بھی ہے، وہ بطور محافظ و معتمد ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔

ان حالات میں معمولی ضرورت کا سامان لے کر آپ نے نیا گھر آباد کرنے کا اہتمام فرمایا، یہ ضروری اشیاء خانہ جو رسول اکرمؐ نے نیا گھر بسانے کے لئے فاطمہؓ کے ساتھ دی تھیں اس مہر کی رقم کے قریباً ایک تہائی حصہ سے خریدے گئے تھے جو علیؑ نے اپنی زرہ فروخت کر کے (مہر کی رقم) رسول اکرمؐ کی خدمت میں پیش کی تھی۔

حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؓ کا باہم رہن سہن مہر و وفا کی عظیم مثال پیش کرتا ہے، یہ زندگانی انسانیت کے کمال اور جسم خاکی میں الٰہی صفات کی جلوہ گری کی عطائی انعام کے نکھار کا مظہر تھی، یہ گھرانہ جنت کا نمونہ تھا، چھوٹا مکان اور زندگی گزارنے کا معمولی سامان تھا، لیکن مُطمئن نفوس کا نورانی ماحول! جس دوران علیؑ خندق و خیبر کے بڑے معرکے سر کر تے رہے۔ فاطمہؓ حسینؑ و زینبؓ کو کربلا کے لئے تیار کرتی رہیں تا کہ مومنین و مجاہدین کے خون پسینہ سے سیراب کئے گئے گلشن کو امن و انسانیت کی شادابی کے لئے بچایا جا سکے، زندگی کی عملی سرگرمیوں کے دائرہ اہداف کو صبر و شکر کے ساتھ محبت احساس ذمہ داری اور سنجیدہ عمل کے ذریعے جادہ پیما رکھنے کے لئے دونوں علیؑ اور فاطمہؓ کا رول اہمیت کا حامل ہے۔

بقول علامہ اقبال  ’ آسیا گرداں و لب قرآن سرا‘ (یعنی چکی کے آسیا کو ہاتھ سے تھام کر گھماتی ہوئی دامن قبا میں حسنؑ یا حسینؑ یا زینبؓ یا ام کلثومؓ کو آیات قرآن کی لوری سناتی ہوئی) ایک شاعر نے کیا ہی خوب انداز سے درج ذیل شعر میں اس حال و منظر کی عکاسی کی ہے:

        علی نے کھائی ہے زہرا کے ہاتھ کی روٹی

         جبھی تو قوت پروردگار ہاتھ میں ہے

جب حضر ت علیؑ جنگ خندق کے لئے گھر سے رخصت ہوئے، حضرت فاطمہ زہراؓ نے اس مقصد کی مطابقت کے قرآنی آیات تلاوت کر کے ان کے حق میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اس سے حضرت علیؑ کے بازوؤں میں وہ قوت متحرک ہو گئی جس کو انعام کے طور پر لا سیف الِاّ ذوالفقار کی ہم آہنگی کے مصداق اللہ نے اُن میں ودیعت کیا تھا، چنانچہ عام حالات میں جب حضرت علیؑ گھر لوٹتے تو امور خانہ داری کے سلسلے میں حضرت فاطمہؓ کی مدد کرتے، علیؑ کبھی حضرت فضہؑ کو کھانا تیار کرتے ہوئے پاتے جبکہ اس دوران کبھی حضرت فاطمہؓ آرام کر رہی ہوتیں یا کبھی سوت کاتنے میں مصروف ہوتی یا کبھی قرآن کی تلاوت کر رہی ہوتیں یا کبھی چند خواتین کو دینیات و اخلاق کا درس دے رہی ہوتیں۔

حضرت زہراؓ نے منافقت و ملوکیت کے خطرات کی علامات کو محسوس کر لیا تھا، وہ اس بجلی کا اندازہ کر چکی تھیں جو آشیانہ اہل بیتؑ پر میدان کربلا میں گرنے والی تھی تاکہ بزعم دشمنانِ رسول ص، حفظ دین کی مرکزیت کے وجود کو خاکستر کرنے کا منصوبہ کامیاب ہو، فاطمہ زہراؓ نے ایسا نہ ہونے دیا، آپ نے اُن منڈلاتے خطرات کو ناکام کر نے کے لئے حضرت حسن ع، حضرت حسینؑ اور حضرت زینبؓ کو عظیم الشّان تربیت اور فقید المثال مہر و محبت سے پال پوس کر تیار کر لیا!

علامہ اقبال (فارسی نظم رموز بے خودی میں) بعنوان، ’سیدۃ النساء فاطمہ زہراؓ اسوہ کاملہ ایست برائے نِساء اسلام‘ (یعنی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ زہرا س، مسلم خواتین کے لئے اسوہ کاملہ ہیں) میں عصر حاضر میں معاشرہ کے اصلاحی محرکات کی نشاندہی کر تے ہوئے خراج عقیدت پیش کر تے ہیں، چند اشعار:

    طینت پاک تو مارا رحمت است قوتِ دین و اساسِ ملّت است

    می تراشد مہر تُو اطوارِ ما فکر ما گفتارِما  کر دارِ ما

     ہوشیار از دستبُرد روزگار گیر فرزندانِ خودرادرکنار

    (مومن خاتون کو مخاطب کر کے مذکورہ اسوہ کاملہ کی روشنی میں اس کو احساس دلاتے ہوئے) اے مومنہ! تیری پاک طینت ہمارے لئے رحمت ہے، اس سے دین قوی ہو جاتا ہے اور امّت کی بنیاد استوار ہو جاتی ہے، تیری محبت ہمارے (یعنی فرزندان اسلام کے) طور طریقہ کو تعمیر کرتی ہے۔ ہماری فکر ہماری گفتگو اور ہمارے کردار کو نکھارتی ہے، زمانہ کی ستم رانیوں سے ہوشیار رہنا! تباہی کے اس طوفان سے اپنی اولاد کو الگ رکھنا/بچا لینا۔

چنانچہ آگے علامہ اقبال حضرت فاطمہؓ کی ہمہ جہت عصمت و عظمت کے پہلوؤں کی عکاسی کر تے ہوئے ایمان و عشق کے معنوں اور برکتوں کے اسرار سے پردہ کشائی کر کے خانہ اہل بیت رسولؐ کے عظیم کرداروں کا حوالہ دیتے ہیں، چند اشعار:

    مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

         نورِ چشمِ رحمۃ للعالمین آں امام اولین و آخرین

    بانوئے آں تاجدار ھل اَتیٰ مرتضی مشکل کُشا شیر خدا

       مادرِ آں مرکزِ پر کارِ عشق مادرِ آں کارواں، سالارِ عشق

      مزرعِ تسلیم را حاصل بتول مادراںِ رااسوئہ کامل بتول

     اشکِ اوبر چید جبرئیل از زمین ہمچو شبنم ریخت بر عرشِ بریں

(یہاں اختصار کے پیش نظر سارے اشعار نہیں دئیے گئے ہیں، ترجمہ پورے بند کا پیش کیا جا تا ہے)

حضرت مریم حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ نسبت رکھتی ہیں، اس لئے اس ایک لحاظ سے معزز ہیں لیکن حضرت زہراؓ کو تین نسبتوں کا اعزاز حاصل ہے، وہ امام اولیں و آخرین رحمۃ للعالمین کی نور چشم ہیں، جنہوں نے اس دنیا میں سخت صعوبتیں سہہ کر انسان کے لئے ایک لائحہ عمل رائج کیا، وہ تاجدار ھل اتی مرتضیٰ، مشکل کشا، شیر خدا علیؑ کی زوجہ ہیں، جو بادشاہ ہیں لیکن فقر کی حالت یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی ان کا محل ہے اور اثاثہ ایک تلوار اور ایک زرہ ہے، وہ دائیرہ عشق الٰہی کے مرکز (امام حسین ع) کی مادر گرامی ہیں، جو کاروان عشق کے سالار ہیں، چراغان حرم کی وہی ایک شمع ہیں جو امت محمدیؐ کے اتحاد کی محافظ ہیں، وہی ہیں جنہوں نے شرک و کفر کے حسد و جدال کی آگ ٹھنڈی ہونے تک آرام کا سانس نہ لیا، اُن کے فرزندان دنیا کے نیک لوگوں کے آقا ہیں، دنیا کے مردانِ حُر کے لئے قوت بازو ہیں، زندگی کی نواؤں میں سوز و اثر حسینؑ سے ہے، اہل حق نے آزادی کا سبق حسینؑ سے سیکھا۔

فرزندان کی سیرت ماؤں کی دین ہوتی ہے، صدق و صفا کا جوہر ماؤں سے مہیا ہوتا ہے، جناب بتولؓ ماؤں کے لئے اسوۂ کامل ہیں، ایک محتاج کی حالت دیکھ کر ان کا قلب مبارک اس قدر تڑپ اُٹھا کہ اپنی چادر یہودی کو فروخت کر کے اس مسکین کی ضرورت کو پورا کر دیا، راحت اور مصیبت ان کی فرمانبرداری میں ہیں کہ وہ ہر حال میں راضی ہیں اُن کی رضا رضائے شوہر پر قربان ہو گئی۔ صبر و رضا کی آغوش میں حسنینؑ کو یوں پروان چڑھایا کہ چکی کی مٹھیا کو گھماتی رہتی تھیں اور آیات قرآن کی لوری سناتی جاتی تھیں، محراب عبادت میں چشمانِ مبارک سے والہانہ ٹپکنے والے آنسو دامن نماز پر موتیوں کی بارش کرتے تھے، جبرئیل امینؑ اس طرح ان آنسوﺅں کو زمین سے چُن لیتے تھے جیسے عرش بریں پر شبنم کے قطرے ٹپک پڑے ہوں، مذکورہ نظم کے حصہ اول کے آخری اشعار میں وہ خاتون جنت کے کمالات کے حضور سر تسلیم خم کر تے ہوئے انتہائی وجدانی کیفیت کے ساتھ عقیدت و اِرادت کا اظہار کر تے ہوئے کہتے ہیں۔

     رشتہ آئین حق زنجیر پاست پاسِ فرمانِ جناب مصطفی است

          ورنہ گردِ ترُبتش گردیدمی سجدہ ھا بر خاک او پاشیدمی

   ترجمہ: آئین حق سے واسطہ ہے اور اس کی پابندی کا خیال ہے، نبی اکرمؐ کے حکم کو ملحوظ رکھنا ہے ورنہ میں ان معظمہ (حضرت زہراؓ) کی تربت کے گرد طواف کرتا رہتا اور اُن کی خاک قبر پر سجدوں پر سجدے کر تا رہتا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://islamtimes.org/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید