FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

سائنس اور اقدار کا مسئلہ

 

 

 

                محمد ذکی کرمانی

 

 

 

 

 

محمد ذکی کرمانی نے 1979ء میں IITدہلی سے کیمسٹری میں Ph.Dکی تکمیل کے بعد سائنس کی سوشیالوجی اور فلاسفی کو اپنا میدان کار بنایا۔ سینٹر فاراسڈیز آن سائنس (CSOS) اور مسلم اسوسی ایشن فار دی ایڈوانس مینٹ آف سائنس (MAAS)کے موئسس اور شش ماہی جرنل آف اسلامک سائنس (JIS) اور ’’آیات‘‘ کے تاسیسی ایڈیٹر ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں پیدا ہوئے اور P.Gتعلیم تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ kirmanimz@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

 

 

 

 

اسلامائزیشن آف نالج کے پس منظر میں سائنس سے متعلق مباحثہ کوئی چالیس   سال قبل شروع ہوا اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا جس میں اسلامک سائنس کی بازیافت کی باقاعدہ اور اور خاصی منظم کوششیں شامل ہیں آج ایک ایسے مقام پر ٹھہر گیا ہے جو اس مباحثے کے مستقبل کے لئے فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اس دوران یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ابھی تک اسلامک سائنس کی اصطلاح ایک پر جوش نعرہ ہی ہے لیکن سائنس میں اقدار اور ورلڈ ویو کا کردار اب قطعاً اختلافی نہیں رہا۔یقیناً کچھ لوگ اب بھی اس نقطۂ نظر کے حامل ہیں کہ سائنس اقدار سے کلیتہً آزاد ہے لیکن ان کی تعداد اب کم ہوتی جا رہی ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس اقدار سے نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ انہیں متاثر بھی کرتی ہے اور یہ اقدار ورلڈویوسے تشکیل پاتی ہیں۔ البتہ اصل اہمیت اس ثقافتی اور تہذیبی ماحول کی ہے جس میں سائنس کا ارتقاء ہوتا ہے۔ اسلامائزیشن آف نالج کے پس منظر میں سائنس کی بحث ہمارے نزدیک اس سوال کی بنا پر زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ ابھرتے ہوئے مسلم معاشروں میں سائنس کن ثقافتی اور فکری بنیادوں پر استوار ہو۔ یہ بحث ابتداً مسلمان معاشروں کے لئے ہے لیکن اصولاً ان معاشروں کے لئے بھی فائدہ مند ہے جن کی ثقافتی بنیادیں قرآن سے تو متغائر ہیں لیکن وہ بہتر نمونوں کی تلاش میں خلوص کے ساتھ سرگرداں ہیں۔

اسلام اور سائنس کی بحث کا آغاز دو طریقوں سے ہوا ہے۔ قرآن یا اسلامی روایت سے آغاز کر کے سائنس کے مسائل اور اس کے مقاصد اور اس کی ساخت تک پہنچنا ایک طریق کار ہے۔ا ور دوسرا طریق کار موجودہ سائنس سے آغاز کے ذریعہ اس کے مسائل اور مقاصد وغیرہ کو اقدار کی روشنی میں دیکھنے اور انہیں حل کرنے کی کوششوں پر مشتمل ہے۔ واضح وجوہات کی بنا پر ہم نے دوسرے طریقہ کو استعمال کیا ہے۔ اوّل الذکر میں یہ مسلۂ درپیش ہوتا ہے کہ ہم اکثر اسلامی معاشروں میں پہلے سے موجود فلسفیانہ بحثوں اور ما بعد الطبیعاتی فکری چوکھٹوں میں اقدار کو پیوست کر کے ان کی فعالیت (dynamism) کو نہ صرف کھو دیتے ہیں بلکہ بسااوقات مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی سائنس کو محروم کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح یہ بحث قلب و نظر اور روح کو تو بخوبی متاثر کرتی ہے لیکن عملی مسائل جوں کہ توں رہتے ہیں۔

ہمارے خیال میں موجودہ سائنس سے آغاز کے ذریعہ ہم ایک طرف تو اسلامی قدروں کی فعّالیت کو برقرار رکھ سکیں گے اور دوسری طرف سائنس میں مسائل کو حل کرنے کا وصف بھی برقرار رہے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہماری اپروچ مسائل اور سوالات سے بالکل محفوظ ہو جائے گی۔ نئے سوالات اٹھتے رہیں گے لیکن ان کی نوعیت ضرور بدل جائے گی۔ اقدار کی فعّالیت کو کوئی نقصان نہ پہنچنے کا فائدہ بھی بڑا ہے۔

اس مضمون میں ہم نے پانچ نکات پر بحث کی ہے۔ اوّل یہ کہ کیونکہ سائنس کی بحث میں ثقافت اور تہذیب کی اہمیت کو زیر بحث لائے بغیر سائنس اور اسلامی اقدار کے مسلۂ کی بہتر تفہیم نہیں ہوسکتی اس لئے ثقافت اور تہذیب کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور کسی حد تک یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سائنس کے ارتقاء میں کس طرح ثقافتیں موثّر ہوتی ہیں۔

دوسری بحث کا تعلق علم، اس کی فطرت، اس کے دائرہ کار اور نظریۂ و علم کے تعلق سے ہے۔ یہ بحث سائنس اور اقدار کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہے جس سے یہ انداز ہ ہو گا کہ اسلام کے قالب میں ڈھالنے کے عمل کے معنی کیا ہیں اور اس کی جہات کیا کیا ہیں مزید یہ کہ قرآن کریم کے نزدیک سائنس کو ’علم‘ کا مقام کب اور کس طرح حاصل ہوتا ہے۔

تیسرا نکتہ اس پس منظر کی وضاحت سے متعلق ہے جس میں اسلامائزیشن آف نالج کے تصور اور اس کی سرگرمیوں کا ارتقاء ہوا ہے اور یہ بھی کہ سائنس کے اسلامی قالب کی تلاش کے محرکات کیا ہیں۔

چوتھے نکتہ میں ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامائزیشن کی بحث کے سائنس کے پس منظر میں کیا معنی ہوتے ہیں یعنی سائنس کے کن پہلوؤں، کن نکات اور کن مراحل میں اسلامائزیشن کا عمل متحرّک ہوسکتا ہے اور یہ بھی کہ کہاں کہاں اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

اور آخری یعنی پانچواں نکتہ یہ ہے کہ جو افراد اس میں دل چسپی لے رہے ہیں یا کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں انہیں کیا کرنا چاہئے۔

 

                علم اور ثقافت و تہذیب

 

علم کا ارتقاء خلا میں نہیں بلکہ ایک ثقافت اور تہذیب میں ہوتا ہے۔ گویا کہ علم کی ترقی کے لئے کسی ثقافت کا قائم اور تہذیب کا موجود ہونا لازمی شرط ہے۔ ثقافت سے مراد ایسے اصول و نظریات ہیں جو انسان، دنیا اور خدا کے مابین رشتوں کو بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف تہذیب سے مراد ایسے آلات ہیں جو ایک مخصوص وقت میں دنیا میں رہنے اور اسے برتنے اور استعمال کرنے کے لئے وجود میں آتے ہیں یہ انسانوں کے باہمی رشتوں کو استوار بھی کرتے ہیں اور انہیں متاثر بھی کرتے ہیں۔ ثقافت کے مثبت بنیادوں پر قائم ہونے کے لئے ماورائے انسان ہدایت اور ذہن انسانی کے مابین ایک گہرے ارتباطی عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ تہذیب کے ارتقاء کے لئے ذہن انسانی اور دنیا کے مختلف اجزا ء اور وسائل کا ارتباط لازمی ہے۔ ثقافت کو استوار کرنے والے کیونکہ اصول و نظریات ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تبدیل نہیں ہوتے البتہ محض مخصوص حالات میں ان کے ادراک اور فہم میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ البتہ تہذیبی عناصر میں بنیادی تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ آج کی تحقیقات جن کے نتیجہ میں تہذیبیں آگے بڑھی ہیں آنے والی تحقیقات سے بالکل مختلف ہوسکتی ہیں لیکن اس سے تہذیب کے ارتقائی مسلۂ پر منفی اثر نہیں پڑتا۔ تہذیبی عناصر کے ارتقاء میں اہمیت طریقہ کار کو بھی حاصل ہے۔

البتہ یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ ثقافتی عناصر جہاں تہذیبی عناصر سے ممتاز ہیں وہیں بعض اجزاء دونوں میں یکساں بھی ہیں۔ ثقافت سے متعلق سوال میں انسان اور کائنات کا تصور ان کاباہمی تعلق اور پھر خالقِ کائنات کے ساتھ ان کا انفرادی اور اجتماعی تعلق جن اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے وہ اصول و نظریات تہذیب کے عناصر کو بھی کسی حد تک متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً کسی تہذیب میں انسان اور دنیا کے باہمی رشتے یا اس دنیا کو استعمال کرنے کے لئے تیار کئے گئے آلات کا استعمال اکثر و بیشتر ان عناصر سے متاثّر ہوتا ہے جو ثقافت کی تشکیل کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اصلاً تو ثقافت اور تہذیب علیحدہ علیحدہ میدان ہیں لیکن بعض جہتوں میں یہ مدغم بھی ہوتے رہتے ہیں۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ثقافتی عناصر کی اہمیت تہذیبی عناصر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ اور بنیادی ہے۔ اگر ثقافتی بنیاد مستحکم نہ ہو تو آلات کا ارتقاء ظلم و بربریت اور استحصال کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ بہتر اور مضبوط ہو تو تہذیبی ارتقاء انسانیت کے لئے وجہ سکوں، آسائش اور آرائش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کوئی گروہ ثقافتی اعتبار سے مضبوط مگر تہذیبی اعتبار سے کم مایہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ ماضی کا کوئی گروہ آج کے مقابلہ میں ثقافتی اعتبار سے بلند ترین مقام پر فائز رہا ہو لیکن تہذیبی اعتبار سے آج کے مقابلے میں بہت پیچھے ہو۔

اپنی اصل کے اعتبار سے ثقافتی عناصر اشیاء کے علم اور دنیا کو برتنے کے لئے آلات کی تیاری کے لئے مہمیز عطا کرتے ہیں اور یقیناً ان عناصر کا معیار یعنی ان کے حقیقت پر مبنی ہونے یا اس سے کم یا زیادہ قریب ہونے کا اثر آلات کی تیاری پر کم ان کے استعمال پر زیادہ ہوتا ہے۔ البتہ بعض ثقافتوں کے عناصر ترکیبی دنیا کو برتنے اور آلات کی تیاری کے لئے زیادہ موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں لیکن ان کے استعمال کے لئے ان کے پاس مستحکم قدریں کمیاب ہوتی ہیں۔ چنانچہ توازن بگڑتا ہے۔ اگر دنیا اور اس کی اشیاء کے بارے ہیں خوف یا تقدس کا عنصر نمایاں ہو تو وہ ثقافتیں تہذیب کے ارتقاء میں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ ثقافتیں جو دنیا کو اپنی ملکیت قرار دیتی ہیں وہاں تہذیب کی ترقی کی رفتار تو بہت تیز ہوتی ہے لیکن عموماً یہ بہت جلد ظلم و استحصال کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ البتہ وہ ثقافتی عناصر جو دنیا کو ایک امانت کی حیثیت سے دیکھتے اور اسے انسانی استعمال اور زندگی کی بہتری کا ذریعہ تصور کرتے ہیں وہاں تہذیبی ارتقاء کی رفتار تیز تو ہوتی ہی ہے اس کی عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور پائداری میں بھی۔

چنانچہ علم کو پھلنے پھولنے کے لئے جہاں ثقافت عمودی سطح پر موزوں ماحول فراہم کرتی ہے وہیں تہذیب اس کے عرضی پھیلاؤ کے لئے مناسب زمین مہیّا کرتی ہے۔ اگر تہذیب چل نکلے تو علم کے ارتقاء کی رفتار بھی تیز تر ہو جاتی ہے۔ وہ ثقافتی عناصر جو علم کے ارتقاء کے لئے لازمی ہیں ان میں آزادی اظہار رائے اور ایسی معاشرت بھی شامل ہے جو علم کی ترقی کو اہمیت دیتی ہو اور علماء اور ماہرین فن کو تسلیم بھی کرتی ہو اور ان کااحترام بھی۔ اگر معاشرت علم و فن کو ضروری اہمیت نہ دے اور انہیں تسلیم نہ کرے تو ان معاشروں میں یہ صلاحیتیں ٹھٹر  جاتی اور آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہیں اور دوسرے معاشرے ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

 

                علم کا عقل اور حواس خمسہ سے تعلق

 

یہ سوال کہ علم کیا ہے خاصی اہمیت کا حامل ہے ہمارے خیال میں علم ان معلومات کو کہتے ہیں جو باالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر حواس خمسہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہوں اور جن کا اثبات عقل اور تعقل کے ذریعہ سے ہو جائے۔ گویا معلومات یا خبر اس وقت علم کے مقام پر فائز ہو پاتی ہے جب وہ حواس خمسہ کے ذریعہ ہم تک پہنچے اور ہماری عقل اسے تسلیم کر لے۔ اسی طرح وحی کے ذریعہ حاصل شدہ معلومات بھی اس وقت ہی علم کا مقام حاصل کرتی ہیں جب عقل انسانی انہیں تسلیم کر لیتی یا یہ معلومات عقل کے معیار پر پوری اترتی ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن اپنے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کرنے کے لئے ہمیشہ عقل انسانی کو اپیل کرتا ہے اور اپنے احکام کو بھی محض اس بنا پر نہیں منواتا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ حواس خمسہ کے ذریعہ حاصل ہوئے علم میں یقین ہوتا ہے۔ یہی علم آگے چل کر سائنس کے نام سے موسوم ہونے لگتا ہے۔ سائنس کو یقین کا یہ مقام اصلاً حواسہ خمسہ ہی کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ ابتداً  انفرادی سطح کا یہ علم سائنس کی شکل میں پوری اجتماعیت کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ ’’علم‘‘ جو وحی اور عقل کے ارتباط کے ذریعہ علم کے مرتبہ کو پہنچتا ہے اس کی یقینی کیفیت میں کمی پیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس علم کی بدولت ایمان پیدا ہوتا ہے جس میں یقین کی کیفیت تغیّر پذیر رہتی ہے۔ گو کہ یہ علم سائنس کا قائم مقام نہیں ہوسکتا لیکن فرد اور معاشرہ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ علم سائنس کو فروغ دیتا اور اس کے لئے اقدار کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ سائنس کے لئے صحت مند رویہ پیدا ہوتا اور سائنس کا ارتقاء کس رخ پر ہو اس کے لئے ضروری رہنمائی مہیا ہوتی ہے۔

حصول علم کے باب میں ایک اور ذریعہ الہام کو بھی تسلیم کیا گیا ہے(۱)۔گو کہ یہ تسلیم شدہ سائنسی طریقہ کار کی فہرست میں شامل نہیں لیکن سائنس سرگرمی کے دوران بعض اوقات نتائج پر پہنچنے میں الہام کا رول تسلیم شدہ ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ الہامی معلومات کو علم کا درجہ کم از کم سائنس کے میدان میں اس وقت ہی حاصل ہوتا ہے جب یہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعہ ثابت ہو جائے۔ کیونکہ الہامی علم سائنسی تیقّن تک سائنسی طریقہ کار کے ذریعہ ہی پہنچ پاتا ہے اس لئے اس کے تیقّن کی سطح مصنوعی (Pseudo) کہلاتی ہے۔البتہ الہام کا ایک اہم رول داخلی بینائی اور قوت ادراک کو متحرّک کرنا بھی ہے۔ اور اس طرح یہ متاع اندرون کی فراوانی کا باعث ہو کر سائنس اور اس کے فروغ کے رخ کو حکمت و دانائی سے ہمکنار کرتا ہے۔ ہماری نظر میں الہام کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ سائنسی طریقہ کار کو جو غیر حقیقی برتری اور غالب مقام دے دیا گیا ہے اور جس کے نتیجہ میں غرور و تکبر سائنس کی اقدار کا ایک جزو لاینفک بن گئے ہیں۔الہام کے تسلیم کئے جانے کے نتیجہ میں یہ قدریں کمزور پڑتی اور سائنس اور سائنسی طریقہ کار اپنے صحیح تر مقام پر فائز ہو جاتے ہیں (۲)۔ دوسری طرف الہام کو بلا نقد تسلیم کر لینے سے نقصان بھی ہوتا ہے اور اکثر سائنسی روایت صوفیانہ روایت کا ایک پر توبن جاتی ہے جس کے نتیجہ میں سائنس انسانی تہذیب کے ارتقاء کا ذریعہ نہ بن کر انفرادی ’’ادراک‘‘ کی فراوانی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔

 

                علم، مقصد علم اور نظریہ کا تعلق

 

یہاں نظریہ سے مراد اسلام باالفاظ دیگر قرآن کریم ہے۔ وہ اشیاء یا مظاہر فطرت جو سائنس کا ہدف بنتے ہیں قرآن کریم انہیں آیت کہتا ہے اور اس طرح سائنسی عمل اور سرگرمی کے ساتھ قرآن ایک انتہائی قریبی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ گویا اشیاء اور مظاہر جو سائنسی مطالعہ میں ہمارے پیش نظر رہتے ہیں اللہ کی ایسی ہی آیات ہیں جیسی کہ قرآن کریم کی آیات اور جس طرح قرآنی آیات خدائے لم یزل سے انسان کے تعلق کا معتبر ترین ذریعہ ہیں یہی نوعیت اصولاً ان آیات کی ہے جو سائنس کے پیش نظر ہیں۔ اس طرح سائنسی عمل اور وہ تمام طریقے مثلاً مشاہدہ، غور و فکر تدبر اور اسی طرح مشاہدہ کے ذریعہ نتائج اخذ کرنے کا عمل بلکہ خود تجربہ بھی جو مشاہدہ ہی کی ایک وسعت پذیر شکل ہے یہ سب خدا سے انسان کے تعلق کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف ان اعمال پر مشتمل سرگرمی کے نتیجہ میں جو نتائج نکلتے اور پھر وہ جس طرح اس زمین پر انسانی زندگی کی نشو نما، آبیاری اور آسانیوں و آسائشوں میں اضافہ کا باعث بنتے اور بحیثیت مجموعی انسانی زندگی کو بہتر اور اس دنیا کو زیادہ سے زیادہ آرامدہ اور قابل رہائش بناتے ہیں، یہ سب مل کر قرآنی مقاصد کو پورا کرتے اور اس طرح اپنے نتائج کے اعتبار سے بھی آیات قرآنی سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

ایک اور اعتبار سے نظریہ علم کو متاثّر کرتا ہے۔ وہ ہے علم یا سائنس کے مقاصد کی وضاحت کے ذریعہ۔ حصول علم یا سائنس کا ارتقاء کس لئے ہو ؟ اس سوال کا ایک جواب حصول معرفت کو مقصد علم بتاکر دیا گیا ہے۔ قرآن کریم ایک جگہ غور و فکر کے نتیجہ میں بعض افراد کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جو نتائج پر پہنچ کر پکار اٹھتے ہیں کہ اے خدا تو نے اس دنیا کو عبس پیدا نہیں کیا۔ یہ مقام معرفت ہے اور سائنسی سرگرمی کے پیچھے اس کا حصول بھی ایک بنیادی مقصد کی حیثیت رکھتا ہے۔ معرفت دراصل اشیاء اور مظاہر کو انسانی فلاح کے رشتوں سے جوڑ کر بالآخر ذات خداوندی سے ان کے انسلاک کے ادراک کا نام ہے۔ اسی طرح خالص مادّی رشتے روحانی رشتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں خالص سائنسی سرگرمی روحانی ضروریات کی تکمیل کرنے لگتی ہے۔

علم کا ایک دوسرا مقصد انسان کی اس خواہش کی بجا آوری ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب جاننا چاہتا ہے۔ چنانچہ محض جاننا بھی حصول علم کا ایک مقصد ہے۔ جاننے کا عمل چاہے اس شکل میں ہو جسکا اظہار نبی کریم کی اس دعاء سے ہوتا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اے اللہ مجھے چیزوں کی حقیقت کا علم عطا فرما اور چاہے اس کی نوعیّت وہ ہو جسکا اظہار حضرت ابراہیم کی ذات باری کو پہچاننے یا مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین میں اضافہ کی خواہش سے ہوا جس کا ذکر قرآن کریم کرتا ہے۔

مقصد علم کے پس منظر میں نظریہ کی کارفرمائی ہمیں مسائل کو حل کرنے کی شکل میں بھی نظر آتی ہے۔ اس فہم کے تحت علم طب اور علم زراعت جیسی انفرادی اور اجتماعی ضروریات ہمارے یہاں فرض کفایہ ہیں (۳)اور آج کے دور میں بھی بعض مفکر سائنس پالیسی جیسے علم کو، علوم شرعیہ میں شمار کرتے ہیں (۴)۔علم کس رخ پر ترقی کرے اور معاشرہ کی کن ضروریات مثلاً دفاع و صحت سے متعلق مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دے یا وقتی ضروریات کے مطابق بعض دوسری ضروریات پر ان سب سوالات کے سلسلہ میں نظریہ ہی علم کو متاثّر کرتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم کا ارتقاء اس کے رخ کا تعیّن اور اسلام کے اعتبار سے علم فی نفسہہ نظریہ کا ہی مرہون منت رہتا ہے اور اسلام میں کیونکہ اشیاء و مظاہر آیات کے منصب عالیہ پر فائز ہیں چنانچہ ان کا علم بالفاظ دیگر سائنس مکمل طور پر مذہبی مقاصد کی آسودگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

ابھی تک یہ بحث اصلاً دو موضوعات پر مرتکز رہی ہے۔ ایک یہ کہ علم کا ارتقاء کسی خاص ثقافتی و تہذیبی پس منظر کے بغیر ممکن نہیں یعنی علم ثقافت کے عناصر ترکیبی سے کسی نہ کسی شکل میں متاثّر ہوتا ہے یا اس کا پر تو ہوتا ہے۔ دوسری قدرے تفصیلی بحث فی نفسہہ علم سے متعلق ہے جس میں ہم نے یہ بتایا ہے کہ علم اپنی اصل کے اعتبار سے حواس خمسہ کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس کی مخصوص فطرت اور اس کا scope یہ سب دراصل نظریہ سے ترکیب پاتے ہیں۔ با الفاظ دیگر علم کا ارتقاء جس معاشرہ میں بھی ہو گا اس معاشرہ کی نظریاتی اساس علم کی مختلف سطحوں اور پہلوؤں کو ضرور متاثر کرے گی۔

مذکورہ بالا بحث علم یا سائنس کے اسلامیانے کی بحث کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اس کو سمجھے بغیر ہم Islamization of Knowledge کے پورے عمل، اس کے تقاضے اور اس کی محدودیت کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ اور اس طرح اس عظیم تحریک کو جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں زور و شور سے شروع ہوئی تھی اور بہت جلد ہی جوش و خروش کے عنصر سے خالی بھی ہو گئی سمجھ نہ پائیں گے۔

 

                سائنس کے اسلامائزیشن کے محرّکات

 

علم کے اسلامیانے کا تصور بہت پرانا نہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں جب اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کی حیثیت میں ازسر نو سمجھا گیا تو زندگی کی مختلف جہتوں میں اسلام کے قالب کی تلاش ایک بہت اہم دینی اور فکری ضرورت بن کر ابھری(۵)۔ نظام حیات کی اس فکری بازیافت میں اسلام کے سیاسی نظام اور اس کی تفہیم جدید کو تو ترجیح حاصل تھی ہی لیکن وسیع تر ہوتے ہوئے ادراک سے یہ واضح ہوتا گیا کہ سیاست بالکل آزاد ادارہ نہیں بلکہ خاصا گنجلک میدان ہے جو اپنے دوسرے مختلف لاحقوں سے وابستہ ہے۔ یہ لاحقے خود اسے بھی متاثر کرتے ہیں اور وہ خود بھی اس کے ذریعہ متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس امر کے پیش نظر اور اس وجہ سے بھی کہ غالب نظام معیشت میں ظلم اور استحصال کے عناصرمثلاًسود بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیمات ان سے براہ راست متصادم بھی ہیں اسلام کی معاشی تعلیمات پر خاص توجہ دی گئی۔ اور بہت جلد  ایک باقاعدہ مضمون کی شکل میں Islamic Economics مستحکم ہو گئی (۶)اور اسلامی بینکوں کی شکل میں اس کے products بھی سامنے آنے لگے۔ گو کہ علم نفسیات اور علم تعلیم پر بھی توجہ ہوئی لیکن کوئی قابل ذکر کام اس میدان میں نہ ہوسکا۔

ان کوششوں کے درمیان یہ احساس ناقابل ردّ یقین میں بدلنے لگا کہ جدید علم اپنی غالب شکل میں مکمّل طور پر مادّی اقدار اور مادّی طرز فکر میں ڈوبا ہوا ہے اور یہی اقدار ہر اُس خاص و عام کو منتقل بھی ہو رہی ہیں جو جس حد تک بھی اس کے زیر اثر ہے۔ احساس کی اس شدت نے علم کو اسلامیانے کی تحریک پیدا کی۔ گو کہ حسین نصر کی تحریروں میں سائنس کی اسلامی نقد کی شکل میں ایک گرانقدر لٹریچر پہلے سے موجود تھا(۷)۔ لیکن الہام اور صوفیانہ طرز فکر کا غلبہ ہونے کی وجہ سے اسے وہ قوت اور توانائی حاصل نہ ہوسکی تھی جو سائنسی عمل کے لئے ذہنوں کو متحرک کرسکے۔ چنانچہ نقیب العطّاس(۸) اور اسمعیل الراجی الفاروقی(۹) کی Islamization of Knowledge کی باقاعدہ اور منتظم تحریک کے جلو میں جدید سائنس پر اسلامی نقد کا آغاز ہوا(۱۰) جسکا سرخیل ضیا الدین سردار کو کہا جا سکتا ہے۔

سائنس کو اسلامیانے کی خواہش کے پیچھے کارفرما ایک اور محرّک تشخص کا وہ احساس بھی تھا جو اسلام سے شعوری طور پر وابستہ ہونے اور ایک نظام حیات کی حیثیت میں اس کی دریافت نے پیدا کیا تھا۔ دوسرا محرّک جس نے اس کو مہمیز عطا کی تھی وہ خود سائنس میں بڑھتی ہوئی ناکامیوں اور اس کے نتیجہ میں روز افزوں مسائل اور یہ احساس تھا کہ سائنس ظلم و استبداد کا ایک بڑا ذریعہ بنتی جا رہی ہے اور غالب قدریں اسے روکنے میں ناکام ہیں۔ گویا کچھ تو سائنس کے اندرونی مسائل تھے اور کچھ بیرونی جنہوں نے سائنس کو اسلامیانے کے خواہش کو ایک تحریک کی شکل دی۔ اندرونی مسائل کے سلسلہ میں مسلمان مفکر ین کے اس اعتماد نے بھی ان کوششوں کو جلا بخشی کہ اسلامی عقائد اور ان کی فکریات کو جب سائنس کے ان مسائل پر منطبق کیا جائے گا تو یہ حل ہو جائیں گے۔

تیسرا اہم سبب جس نے سائنس کو اسلامیانے کے لئے راہ ہموار کی وہ مسلمانوں کی علوم جدیدہ اور بالخصوص سائنس میں دلچسپی کے باوجود اس میں کوئی بنیادی اضافہ نہ کر پانا تھا۔ مسلم معاشروں میں سائنس میں عدم دلچسپی اور مسلم اداروں میں رسرچ کے باوجود بالعموم غیر معیاری سائنسی رسرچ ایسے نتائج تھے جنہوں نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا سائنس میں کوئی بنیادی کمی ہے ؟جس کی بنا پر مذہبی معاشروں اور بالخصوص اسلامی معاشرہ میں یہ جڑیں پکڑنے سے قاصر ہے(۱۱)۔ گو کہ مسلمان تقریباً ہر میدان میں بالکل کنارے پر نظر آتے تھے اور سائنس کے ساتھ کوئی استشنائی صورتحال نہ تھی لیکن اس کے باوجود یہ سوال اہم تھا کہ غور و خوض اور تفکّر تدبر کی حوصلہ افزائی کے باوجود آخر مسلم معاشروں میں سائنس کا ارتقاء کیوں نہیں ہو پا رہا۔ اس صورتحال نے مسلمان مفکرین کو سوچنے پر مجبور کیا اور سائنس کی اسلامی بنیادوں کی تلاش کے لئے ابھارا تاکہ مسلمان سائنس کو اپنے ذہنی عمل کے ایک داخلی جز کے طور پر سمجھ سکیں اور اس طرح سائنس میں ان کی دلچسپی کو دینی عمل کا درجہ حاصل ہو جائے۔ ۱۹۷۰؁ء اور اس کے بعد کے اسلامی سائنس سے متعلق لٹریچر میں یہی کوششیں غالب نظر آتی ہیں (۱۲)۔

ایک اور وجہ یہ تھی کہ سائنس کو اب طاقت اور حصول طاقت کا واحد ذریعہ ہونے کا مقام حاصل ہو گیا تھا۔ جو اقوام سائنس کی دنیا میں آگے تھیں انہیں قائدانہ مقام حاصل تھا اور دنیا کے معاملات میں وہی غالب تھیں۔ معیشت، صنعت و حرفت               ٹکنالوجی گو یا ہر میدان میں وہی غالب تھیں اور باقی اقوام اور بالخصوص مسلم اقوام قدرتی وسائل سے بہرہ مند ہونے کے باوجود مکمل طور پر ان کی دستنگر تھیں۔ مسلمان اپنے شاندار ماضی کو پھر زندہ دیکھنے کے آرزو مند تھے لیکن قوت و توانائی کے جدید ذرائع نہ تو ان کے پاس تھے ہی اور نہ ہی ان کے اذہان اس طرف مائل ہو رہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ان علوم کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کی منصوبہ بندی کی اور اس طرح یہ صورتحال سائنس کے اسلامیانے کی کوششوں کا ایک اہم جواز بنکر سامنے آئی۔

 

                اسلامائزیشن سے مراد کیا ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟

 

اسلامیانے کا مطلب ہے کسی چیز کو اسلام کے قالب میں ڈھالنا۔ سائنس کو اسلامیانے کا مطلب یہ ہے کہ سائنس کو اسلامی قالب عطا کیا جائے۔ یہ بظاہر انتہائی سادہ لیکن خاصا پیچیدہ عمل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ علوم کا ارتقاء ہوا کرتا ہے اور اس ارتقائی عمل کے دوران ورلڈ ویو World View، افراد، معاشرہ، ان کی ضروریات اور اٹھنے والے سوالات یہ سب مل کر ہی علم کے ارتقائی عمل کی رفتار اور اس کی پہچان وغیرہ کو متعین کرتے ہیں۔

اسلامی معاشرہ کا اجتماعی شعور جب متحرک تھا تو جو بھی علوم پیدا ہوئے یا جن کا ارتقاء ہوا اس عمل میں ورلڈ ویو اور اگر مختصراً کہا جائے تو انفرادی و اجتماعی مقاصد کی کارفرمائی شامل تھی۔ اس لئے اس وقت ان علوم کے اسلام کے مطابق یا اس سے متغائر ہونے کا سوال بہت زیادہ اہم نہیں تھا۔ لیکن دور جدید میں جو علوم ہم تک پہنچ رہے ہیں ان کا ارتقاء بنیادی طور پر ایسے ماحول میں ہوا ہے جسکا ورلڈ ویو اور مقاصد بڑی حد تک اسلام سے متغائر ہیں۔ چنانچہ ہمارے معاشروں میں ان کا چلن نہ ہو سکنے کی ایک بڑی وجہ غیریت کا یہ عنصر بھی ہے۔ کیونکہ اس وقت اسلام کے ورلڈ ویو کو عالمی فکری سطح پر وہ مقام حاصل نہیں ہے کہ علوم و فنون اس کے زیر سایہ ترقی کرسکیں۔ اس لئے Islamization of Knowledge اور Islamization of Science کا عمل ایک بڑے سوالیہ نشان سے دوچار ہے۔ یہ سوال کہ ایک غیراسلامی ورلڈ ویو کے غالب ماحول میں کیا قالب میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس سلسلہ کی بحثوں سے الجھے بغیر ہمارا جواب یہ ہے کہ اس وقت جب کہ  عالمی سطح پر interaction اور intervention نسبتاً آسان ہے اور خود غالب ورلڈ ویو میں شک و شبہ اور بے یقینی کی دراڑیں واضح ہوتی جا رہی ہیں، محدود سطح پر سائنس کی ماہیت قلب ناممکن نہیں بس شرط یہ ہے کہtargetsواضح ہوں اور جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے اس کو اپنی ہی متاع سمجھتے ہوئے ہمارے رویّے تشکیل پائیں۔ آغاز اس وضاحت سے کرتے ہیں کہ سائنس کو اسلامی قالب میں ڈھالنے سے مراد کیا ہے اور اسلامیانے کے عمل میں کیا شامل ہے اور کیا شامل نہیں ہے۔یہاں ہم سائنسی عمل میں کار فرما ان مختلف مراحل کا تذکرہ کریں گے جن سے سائنس کا ہر محقق گزرتا ہے اور یہ بتائیں گے ان مراحل میں اقدار کس طرح شامل ہوتی ہیں اور یوں یہ اسلامائزیشن کے لئے scope فراہم کرتی ہیں۔

٭پہلا مرحلہ: سائنس میں سب سے پہلا کام یہ جاننا ہے کہ مسئلہ یا بالفاظ دیگر سوال کیا ہے؟  یعنی  problem  کیا ہے ؟  کیونکہ سائنس اندرون میں جاری یا عمل کو جاننے اور مسائل حل کرنے کا عمل ہے اس لئے اوّلاً یہ دیکھا جائے گا کہ کس نوعیت کے مسلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یعنی کیا وہ مسئلہ انسانوں کو درپیش ہے؟ مثلاً کیا وہ لوگوں کی صحت و تندرستی سے جڑا ہوا ہے یا اس کا تعلق انسانوں کی بنیادی ضروریات مثلاً خورد و نوش رہائشی سفری سہولیات یا لباس وغیرہ کی فراہمی اور اس نوعیت کی دوسری بنیادی ضروریات سے متعلق ہے۔ چنانچہ مسائل حل کرنے کی کوششوں میں ترجیحات کا انحصار مسائل کی نوعیت پر ہو گا۔ عام حالات میں یہی ترجیحات ہونگی لیکن حالات کی تبدیلی کے نتیجہ میں یہ ترجیحات بدل بھی سکتی ہیں۔ اس وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ ترجیحات کے تعیّن کا دارو مدار نظریہ پر ہے۔

٭دوسرا مرحلہ:  دوسرا مرحلہ زیر تحقیق مسلۂ سے متعلق اب تک کئے گئے کام کا علم اور اس کا جائزہ لینا ہے۔ یہ جائزہ معلوماتی کے ساتھ تجزیاتی اور ناقدانہ بھی ہوتا ہے جسکے نتیجہ میں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کام کی ممکنہ نئی راہیں کیا کیا ہیں۔ یہی مقام مفروضہ قائم کرنے یا hypothesis کی تشکیل کا ہے۔ اس مرحلہ میں مسئلہ کی شناخت اور اس سے متعلق کئے گئے اب تک کے کام کی معلومات کے حصول میں گہرائی اور گیرائی جتنی زیادہ ہو گی مفروضہ کی تشکیل اتنی ہی کارگر ہو گی۔ اس مقام پر مسلۂ سے جذباتی وابستگی اور کئے گئے اب تک کے کام سے معروضی تعلق ضروری ہے۔ اگر مسلۂ سے تعلق جذباتی حد تک نہیں ہے یعنی اس مسلہ کو حل کرنے میں محقق جذباتی حد تک دلچسپی نہیں لے پا رہا ہے تو خود مسلۂ کی شناخت کے مرحلہ پرہی غلطی کا امکان ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کئے گئے کام کا تجزیہ اگر معروضی نہ ہو کر جذباتی انداز میں ہو گا تو مسئلہ کے حل میں ایمانداری کا عنصر باقی نہ رہ پائے گا۔ کیونکہ جذباتیت اور معروضیت دونوں ہی مسئلہ کے حل کے لئے ضروری ہیں اس لئے اوّلین دونوں مراحل یعنی ترجیحات اور مفروضہ کا قیام دونوں ہی اسلامی اقدار کے دائرہ اثر میں آتے ہیں۔ اور یقیناً  متاع سمجھتے ہوئے ہمارے روٍنالون اسلامیانے کے عمل میں یہ دونوں مراحل پیش پیش ہونگے۔ لیکن یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ مذکورہ جذباتیت اور معروضیت شعوری طور پر کسی نظریہ سے وابستہ ہوئے بغیر بھی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر و بیشتر جدید سائنسی عمل میں ہوتا ہے(۱۳)۔

ٍ٭تیسرا مرحلہ: تیسرا مرحلہ اعداد شمار اکٹھا کرنے کا ہے۔ سائنس میں یہ کام زیادہ تر تجربات کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اکثر ہم پہلے سے موجود ذہنوں میں قائم مفروضوں یاپ ہلے ہی سے ثابت شدہ مفروضات ہی کی روشنی میں نئے تجربات اور ان سے ماخوذ اعداد و شمار کو دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہمارے ذہن کی یہ محدودیتیں تحقیق کو بڑھاتی ہیں اور بعض اوقات نئے نتائج تک پہنچنے میں رکاوٹ بھی ڈالتی ہیں۔ چنانچہ تیسرے مرحلہ کا یہ جز جس کا تعلق  ایمانداری سے اعداد و شمار جمع کرنے سے ہے اس میں نظریہ کا رول نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ اس کا دوسرا جز یعنی نتائج اخذ کرنے میں جو قدریں کام کرتی ہیں وہ کافی حد تک ہمت اور عزائم کی بلندی سے عبارت ہیں۔ یعنی محقق کو اپنے اعداد و شمار کی صحت اور ان سے نکلنے والے نتائج پر کتنا اعتماد ہے کہ وہ پہلے سے قائم نتائج سے اختلاف کرتے ہوئے نئے نتائج کا اعلان کرسکے۔چنانچہ اس تیسرے مرحلہ کا پہلا جز نظریہ کے اثر سے محفوظ رہتا ہے لیکن دوسرا جز مذکورہ قدروں کی شکل میں نظریہ سے باالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متاثر ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں غالب گروہوں کے تئیں احساس کمتری کا بھی رول ہے۔ اس مرحلہ میں بھی نظریہ کا غیر شعوری کردار خاصا معتبر ہے۔

سائنسی تحقیق اکثر و بیشتر تو تیسرے مرحلہ کے نتائج کے اعلان کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن بعض اوقات ان کے انطباق کا مرحلہ بھی سائنسی تحقیق کے ایک جز کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔انطباق کے مرحلہ میں سائنسی نتائج کی guinea pig پر جانچ کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ جانچ جب غیر انسانی نمونوں پر ہوتی ہے تب بھی اقدار کا سوال کھڑا ہوتا ہے لیکن جب یہی جانچ عام انسانی آبادیوں یا بعض منتخب گروہوں پر ہوتی ہے تب تو بڑے اہم سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں (۱۴)۔ چنانچہ یہ پورا مرحلہ اقدار کے دائرہ میں آتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے جن تین مراحل کی نشاندہی ہم نے کی ہے ان کا تعلق ان اقدار سے ہے جنہیں ہم سائنس کی داخلی قدریں کہہ سکتے ہیں یعنی یہ اقدار فی نفسہہ سائنس کی اپنی اقدار ہیں۔ سائنس کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کا عمل ان اقدار کو بدلنے اور ان کی جگہ اسلامی اقدار کو متعارف کرانے سے عبارت ہے۔

 

                سائنس کی خارجی اقدار

 

سائنس کی بعض اقدار کا تعلق اس کے خارج سے ہے جس میں کچھ تو خود انسان کی ذات سے متعلق ہیں اور کچھ کو ہم انسان اور اشیاء و مظاہر کے مابین رشتوں کی شکل میں بیان کرتے ہیں۔ یہ دونوں ہی سائنسی سرگرمی کو متاثر کرتی ہیں اور نظریہ سے مربوط ہوتی ہیں۔

انسانی اقدار:وہ اقدار جو انسان کی ذات سے متعلق ہیں اور سائنس کو خارج سے متاثر کرتی ہیں ان میں اوّلین وہ ہیں جو خود انسان کے اپنے بارے میں تصور سے ماخوذ ہیں۔ انسان کا اپنے بارے میں یہ تصور کہ وہ عمل کے لئے جوابدہ ہے اور اس دنیا میں ایک خلیفہ یعنی نگراں کی حیثیت سے ہے اس کی سائنس سرگرمی کو براہ راست متاثّر کرتا ہے۔ اس حیثیت میں ایک سائنسداں یہ کہہ کر چھوٹ نہیں سکتا کہ اس کی تحقیقات یا ایجادات کا استعمال کس طرح ہوا اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس نے تو صرف تحقیق کے ذریعہ ایک ایجاد سامنے لاتی تھی۔ یہ قدر انسان کی تحقیقی قوت کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ اسے زیادہ ذمہ داری سے تحقیق کرنے کے لئے تیار کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں آیت اور خلافت کی قدروں کو ہم آغاز ہی میں واضح کر چکے ہیں۔

مکمل حقیقت ہمارے سامنے نہیں ہے :ایک اہم تصور توحید جو بظاہر تو اپنی دینیاتی جہت کے لئے معروف ہے، لیکن یہ مختلف تخلیقات میں باہمی رشتوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے(۱۵)۔ یعنی یہ بات کہ تمام مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ مختلف رشتوں میں بندھی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ سائنسی تحقیق ان رشتوں کی پردہ کشائی تو کرتی ہی ہے لیکن یہ بھی ایک مسلمّہ حقیقت ہے کہ سائنسی تحقیق ان رشتوں کی تمام جہتوں کو ایک ساتھ نہ تو کھول سکتی ہے اور نہ اس کا ادراک کرسکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سائنسی تحقیق کے دوران ہم صرف چند جہتیں ہی جان پاتے ہیں۔ چنانچہ جب ہمارے سامنے ا س نوعیت کی بعض تحقیقات سامنے آتی ہیں تو دراصل حقیقت کا ایک محدود حصہ ہی ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ انسان نے اسے مکمل حقیقت سمجھ کر بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ ماحولیات کا پورا مسلۂ اس غلط فہمی کے نتیجہ میں ہی کھڑا ہوا ہے۔ چنانچہ تصور حقیقت اور سائنسی تحقیق کا اس سے تعلق ایک ایسی جہت ہے جس میں اسلام کی تعلیمات براہ راست سائنسی عمل کو متاثر کرسکتی ہیں۔

مقاصد تحقیق :مقاصد تحقیق کا تذکرہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ جو قدریں مقاصد مثلاً مسائل کا حل، محض جاننا یا معرفت کا حصول وغیرہ کا تعیّن کرتی ہیں نظریہ سے ماخوذ ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اسلام کے براہ راست دائرہ میں آتی ہیں۔

طریقہ کار کی محدودیت:سائنسی طریق کار اور پھر اس کے نتیجہ میں سائنس کی دوسرے علوم پر برتری کے تصور نے نہ صرف سائنس کے اندر کِبر کے اظہار کو ہوا دی ہے بلکہ سائنسداں کی ذات کو بھی متاثر کیا ہے۔ دوسرے علوم کو سائنس کے پیمانہ پر ناپنا اور اس کے مطابق معیار متعین کرنا، علوم عمرانی میں سائنسی طریقہ کار کا استعمال اور گونگے بہرے objects اور زندہ متحرک object کے درمیان انتہائی اہم فرق سے صرفِ نظر کرنا ان سب نے غیر سائنسی علوم کو عظیم نقصان سے دوچار کیا ہے۔

سائنسی طریقہ کار کی بالادستی کا نظریہ یہ تسلیم کراتا ہے کہ حقیقت صرف وہ ہے جو سائنسی طریقہ کار کی گرفت میں آ سکے۔ گو کہ یہ نقطہ نظر آج اتنا قابل اعتبار نہیں رہا جتنا چند دہائی قبل تھا لیکن سائنس کی پوری عمارت اب بھی اسی پر استوار چلی آ رہی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق حقیقت اپنے کئی مختلف لیکن مستقل وجود رکھتی ہے جنہیں سمجھنے اور جاننے کے طریقہ بھی مختلف ہیں۔ منبع ایک ہی ہونے کی بنا پر ان حقائق میں کسی حد تک پائی جانے والی یکسانیت بہت دور تک ساتھ نہیں دیتی۔ اس بنا پر عمرانی علوم میں سائنسی طریقہ کار کے ذریعہ حاصل ہونے والی معلومات خاصی محدود ہوتی ہیں اور اسی طرح مادّی اشیاء کے وہ پر پیچ پہلو جو دوسری اشیاء سے ان کے منسلک ہونے سے تعلق رکھتے ہیں سائنس طریقہ کار کی جو لانیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اس طرح کثرتِ وجود طریق کار کی تکثیر کی دلالت کرتا ہے۔ یہ پوری بحث خالص نظریہ سے متعلق ہے چنانچہ یہ بھی وہ میدان ہے جہاں قالب کو اسلامیانے کا عمل متحرک ہو گا۔

مربوط کائنات  کے لئے مربوط عمل:ایک پہلو سائنسی دریافتوں اور انکشافات کا یہ بھی ہے کہ ان کے نتیجہ میں کائنات کا حسن، ہارمنی اور اس میں کارفرما اصولوں اور قوانین کا انسان دوست ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا ایک اثر قلب انسانی پر روحانی رفعت کی شکل میں ہونا چاہئے۔ یہ اثر اگر شعور کو متحرّک کرسکے تو کائنات کے ساتھ انسانی رشتوں سے فساد کا عنصر ختم ہو کر میزان اور عدل کے رشتے قائم ہوسکیں گے۔ سائنس تحقیقات کے نتائج جب ایک ecofunctioning کائنات کا پتہ دیں گے تو فساد سے محفوظ رکھنے کے لئے ecoaction کی ضرورت ہو گی۔ یقینا سائنس اس کی ضرورت کی طرف تو اشارہ کرتی ہے لیکن یہ عمل کیا ہو یہ سائنس نہ بتا سکے گی۔ چنانچہ مختلف روایتیں بشمول مذہبی روایتیں ایک ایسی ضرورت بن کر سامنے آتی ہیں جو اس کائنات کی صحت مند بقا کے لئے ضروری ہیں۔ سائنس کی اس ضرورت کا حصول ایک multidisciplinary طریقہ کار ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس میں سائنس کی اسلامی نقد پر کام کرنے والوں نے فکریات کا خاصا وقیع اور قیمتی کا ذخیرہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بھی وہ میدان ہے جہاں اسلامی نظریہ کا رول بہت واضح ہے۔

 

                ضروری اقدامات

 

ان مختلف مراحل اور پہلوؤں پر غور خوض کے نتیجہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سائنس کو اسلامیانے کا عمل اصلاً سائنس کو اقدار سے روشناس کرانے کا عمل ہے۔ اس کا بڑا محرّک انسان اور معاشرے کی بہتری ہے۔ بہتری کی اس کھوج میں یہ بھی ضروری ہے کہ سائنسی جستجو میں محض موجود نسلوں کے مفادات کا ہی خیال نہیں رکھنا بلکہ آئندہ آنے والوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے یہ جستجو کرنی ہے۔ اس پورے عمل میں ہمارا تصور کائنات سب سے اہم رول ادا کرتا ہے۔

اس مقالہ کے اختتام میں ہم ان ضروری اقدامات کا تذکرہ کریں گے جو مذکورہ بالا پہلوؤں پر توجہ رکھتے ہوئے اسلامی اقدار کی روشنی میں جدید سائنسی روایت میں زیادہ پر جوش انداز سے حصہ لینے کے لئے ہماری نئی نسل کو آمادہ کرسکتی ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذیل میں مذکور اقدامات نا مکمّل رہیں گے کیونکہ ان کی کامیابی کا دارو مدار بہت بڑی حد تک ثقافتی اور تہذیبی تعاون پر منحصر ہے۔ ہمارے جدید معاشروں میں اسلامی ثقافتی عناصر یا تو متحرّک نہیں ہیں یا بہت کم متحرّک ہیں اور تہذیب بھی ان عناصر کی مرہون منت نہیں۔ اس لئے بحیثیت مجموعی معاونت کا ماحول نہ ہو گا۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ان اقدامات کے شانہ بشانہ ثقافتی عناصر بھی متحرک ہوتے جائیں گے۔ اور اس کے نتیجہ میں تہذیب کی تشکیلِ نو بھی ہونے لگے گی جو سائنس کے اسلامیانے کے عمل کو تعاون بھی دیتی رہے گی۔

 

۱۔تاریخ کا شعور

 

اپنی سائنسی تربیت کو اسلامی رخ دینے کے لئے کوشاں افراد کو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اسلام کی تہذیبی روایت میں یعنی مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں تاریخ کے اپنے دور میں کیا کچھ کیا؟ اس کا رخ کیا تھا؟ اور کن عناصر نے انہیں اس عمل میں مہمیز عطا کی تھی۔انفرادی اور اجتماعی شعور کو وہ ضروری توانائی جسے خود اعتمادی کہا جاتا ہے اس کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے اور اس طرح کام کرنے کی خواہش جوش و خروش میں تبدیل ہوتی ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو بہترین ذہن محض نقّالی تک ہی محدود رہتے ہیں اور اپنے ہر عمل میں معیار اور excellence کے لئے دوسروں کے دستنگر بنے رہتے ہیں۔

 

۲۔   جاری روایت سے اکتساب فیض

 

سائنس کی موجودہ روایت اس کے داخلی میکانزم اور خارجی محرکات کو جاننے اور ان میں داخل ہوئے بغیر ہمارے ذہنوں پر وہ امور منکشف ہو ہی نہیں سکتے جو اسلامائزیشن کے دائرہ میں آتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ سائنس کی تعلیمی اور رسرچ کی روایت میں پورے اخلاص کے ساتھ داخلہ ضروری ہے۔ اور یہ داخلہ اتنا گہرا اور اتنے اخلاص پر مبنی ہونا چاہئے کہ ہم فکر و تفکر اور تجربہ و مشاہدہ کے اس مقام پر پہنچ سکیں جہاں پہنچ کر نظریات مفروضے اور تجربات کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس کے فلسفہ سے بھی اس حد تک واقفیت ضروری ہے تاکہ سائنسی نظریات اور نتائج کی فطرت واضح ہو جائے۔ مثلاً سائنس کی یہ فطرت کہ اس کے اصول و نظریات اور نتائج final  اور certain   نہیں ہوتے۔اس کا اندازہ کرنے کے لئے Popperکی falsifiability کے نظریہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ جسکے تحت کوئی نتیجہ سائنسی ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کے غلط ثابت ہونے کا امکان نہ ہو(۱۶)۔ گویا سائنسی نتائج زمان و مکان کی قید میں تو certain ہیں اور اس حد تک کہ ان کی بنیاد پر پوری عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ لیکن زمانی و وقتی قید ختم ہو جانے یا اس کے بدل جانے کے نتیجہ میں یہ certainty بھی ختم ہوسکتی ہے۔ بالفاظِ دیگر سائنس کے نتائج suspended ہوتے ہیں۔ بس مسلمان سائنسدانوں کو چاہے کہ وہ سائنس کے اصولوں، نظریات اور نتائج کے باب میں اپنے ماضی کے بزرگوں کی روایت واللہ عالم بالصواب (یعنی صحیح بات تو بس اللہ ہی کو معلوم ہے) میں کار فرما روح کا خیال رکھیں۔ اس روایت سے ایک تو صورت واقعہ کا اظہار ہوتا تھا اور دوسری طرف انسان کی arroganceکی نفی بھی ہوتی تھی۔ جسکی آج شدید ضرورت ہے۔

 

۳۔   غور و فکر اور تدبّر

 

ہمارے حلقوں میں بالخصوص اور تیسری دنیا کی اقوام میں بالعموم سائنسی ریسرچ میں normal science  یعنی جو سائنس چل رہی ہے اس کا اس جیسی یا دوسری اشیاء یا  processes  پر انطباق کا چلن عام ہے اس کی وجوہ متعدد ہیں جن کا تعلق نہ تو فلسفہ سے ہے اور نہ ہی سائنس کی سوشیالوجی سے،بلکہ اس کا زیادہ تعلق ملک کی سیاست اور تعلیمی و سائنسی پالیسیوں سے ہے۔ عام طور پر اس نوعیت کی سائنسی سرگرمی میں بنیادی سطحوں، اصولوں اور مفروضوں و نظریات پر غور و فکر کے مواقع نہیں ہوتے۔ یہ عمل عام طور پر محض ایک میکانیکی عمل ہوتا ہے۔ جو اعداد و شمار متوقع ہوتے ہیں انہیں محفوظ کر کے آگے بڑھا دیا جاتا ہے اور جو اختلافی یا contradictory ہوتے ہیں انہیں عام طور پر زیر غور لایا ہی نہیں جاتا۔ سائنسی  لٹریچر میں بالعموم ان ناکام اعداد شمار کو محفوظ کرنے یا   شائع کرنے کا رواج بہت کم ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو سائنس کی تصویر خاصی متاثر ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اچھی سائنس کرنے کے لئے ان بظاہر deviations کا مطالعہ اور ان پر غور و خوض ضرور ہو۔یہ محض عملی سائنس کے لئے نہیں بلکہ نظری سائنس میں بھی اور سائنس کے متعلق جو کچھ لکھا جائے اس کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سائنس اور اقدار کے پس منظر میں سائنسی تحقیقات بالخصوص سائنس کے تشریحی اظہار یعنی جو کچھ شائع ہو کر سامنے آتا ہے وہ بھی اور وہ بھی جو laboratories کے رکارڈ کی شکل میں میسّر ہو اس پر بھی غور و خوض کیا جانا چاہئے۔ اس میں جو مواد نظریاتی اثرات کا حامل ہو اس پر گہرے غور و خوض کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں اس کے استعمال کی بابت بھی غور وخوض کیا جائے حالانکہ یہ موجد اور محقق کے براہ راست دائرہ کار سے باہر کا میدان ہے۔ اسی طرح ان تحقیقات اوران کی اشاعت میں بھی اقدار کے رول کی بابت غور و خوض ضروری ہے اور اس پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا جو اقدار operative ہیں ان کی جگہ کچھ اسلامی اقدار لے لی تو آخری product پر کیا اثر ات پڑیں گے۔

 

۴۔   حقائق

 

حقائق چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور دوسری اشیاء کے حقائق سے بڑے گہرے مربوط بھی۔ سائنسی تحقیق اور تجربوں اور نظریوں کی منصوبہ بندی اور تشکیل میں یہ ہمیشہ واضح رہنا چاہئے کہ جو اشیاء اور مظاہر ہمارے زیر مطالع ہیں وہ آپس میں بڑے گہرے رشتوں سے مربوط ہیں۔ مروّجہ سائنسی طریقہ کار کے مطابق ہماری تحقیقات اکثر رشتوں کے اس ارتباط کا ادراک کرنے سے قاصر رہتی ہیں چنانچہ ہم حقیقت کی صرف وہ سطح ہی منکشف کر پاتے ہیں جو اس شئے یا نظریہ سے متعلق ہوتی ہے۔ یہ انکشاف جب منطبق ہوتا ہے تو بڑے دشوار مسائل پیدا کرتا ہے۔ اس کی سب سے اچھی مثال ماحولیاتی مسائل ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی تک کوئی ایسی تکنالوجی وجود میں نہیں آ سکی ہے جو اشیاء کا مطالعہ holistic انداز سے کرسکے اور ہمیں شئے واحد کی کیفیت ان مختلف رابطوں کے حوالے سے بتائے جو وہ دور دراز اور اور نزدیک کی اشیاء کے ساتھ قائم کئے ہوئے ہیں۔ کائنات کے متعلق یہ holisticنقطہ نظر چند دہائیوں قبل ہی زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

 

۵۔   حرّیت فکر اور آزادیِ فکر

 

سائنسی تحقیق میں دوسروں کی رائے اور تحقیق کا احترام اس وقت تک ہی ہے جب تک کہ وہ اسی طریق کار کے تحت ہوتی ہو جو سائنسی حلقوں میں معروف ہے۔ لیکن اس کے باوجود ثابت شدہ سائنس حقائق کی جانچ پڑتال اور ان کی صحت کی جانچ کرنے دینا سائنسداں کا ایک بنیادی حق ہے اور اس مسلہ میں تجربہ اور عمر اور شہرت و پوزیشن کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ چنانچہ اس سللسہ میں اپنے خیالات کا اظہار ایمان داری سے کرنا سائنسی حقائق کی آبیاری اور ان کے استحکام کا ایک حصہ ہیں۔ محض اس طریق کار کی بدولت ہی بہت سے ایسے سائنسی حقائق غلط بھی ثابت ہو جاتے ہیں جو یا تو بعض غلطیوں یا سائنسدانوں کی بدنیتی کی بنا پر سائنسی لٹریچر میں جگہ پا لیتے ہیں۔ سائنس کا یہ خود حفاظتی انتظام کارگر اور موثّر ہے۔ سائنس کی ہر روایت بشمول اسلامی روایت میں اس کی بڑی اہمیت ہے اور اسے جاری رکھنا اور اس نوع کے کاموں کی ہمت افزائی کرنا ایک اسلامی ذمہ داری ہے۔

اس سلسلہ میں بڑی اہمیت اس امر کی بھی ہے کہ ہمارے محقّقین کو اپنی آرا کا اظہار اس وقت ہی کرنا چاہئے جب وہ رائج  طریقوں کے مطابق ان کی صحت کی جانچ کر چکے ہوں۔ اور اس کے با وجود بھی جو کچھ حقائق وہ منظر عام پر لائیں وہ وقتی حالات میں ہی حقائق تسلیم کئے جائیں گے۔ یہ تسلیم کر لینا ہو گا کہ آج کے حقائق کل غلط ثابت ہوسکتے ہیں چنانچہ ہر       سائنس دراصل معلق یعنیsuspended truth (۱۷)ہے یعنی اس کی یقینیت میں غیر یقینیت کا عنصر خود بخود شامل  ہے۔ یہ تسلیم کرنا اور اپنے عمل اور رویہ میں برتنا دراصل سائنسی اخلاقیات کا ایک مقصد ہے اور یہ اسلامی اخلاقیات کا بھی ایک اہم جز ہے۔

اسی طرح سائنسی حقائق کی چھان بین کے دوران کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مکمل کھلے پن کا ماحول ہو اور     تبادلہ خیال کے مواقع نہ صرف حاصل ہوں بلکہ فراہم بھی کیے جائیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے ذریعہ ایک طرف تو خود علم میں اضافہ ہو گا دوسری طرف تحقیق کے لئے بھی راہیں کھلیں گی۔

 

۶۔   گروہی اخوّت

 

سائنسی ترقی کے لئے ایک اور اہم عنصر قومی یا ملی اخوّت بھی ہے اس کا ایک تعلق عام انسانی برادری کے تئیں ہمارے بہتر اور ترجیحی سلوک سے بھی ہے(۱۸)۔ سائنسمیں، چاہے وہ مسائل کے حل کے لئے استعمال کی جائے یا طاقت کے حصول کے لئے قومی، اور ملی اخوّ ت کا در آنا یعنی اپنی قوم و ملّت کو سائنس سے ترجیحی طور پر مستفید کرنا ایک فطری عمل ہے۔ یہ عصبیتی عناصر اگر دوسروں کو نقصان پہنچانے کی نیت یا اس نوع کی پالیسیوں پر مشتمل نہ ہو ں تو سائنس کے ارتقاء میں ایک مثبت رول ادا کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ملّی اخوّت اور اس نوع کے جذبات کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے ایک مناسب حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ معاشرتی ارتقاء کے عمل میں اس اخوّت کو عصبیہ کا نام دے کر ابن خلدون نے واضح کیا ہے اور اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

 

                اداروں کا مسئلہ

 

اس سلسلہ میں آخری نکتہ ان اداروں سے متعلق ہے جہاں سطور بالا میں مذکور طرز پر سائنس کی نمو ہو سکتی ہے۔ جدید یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اس وقت سائنس کی معتبر ترین آما جگاہ سمجھے جا رہے ہیں۔ اعتبار اور وسائل بھی انہی کو حاصل ہیں اور بالعموم جو لوگ سائنس میں کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کی توجہ بھی انہیں کی طرف جاتی ہے البتہ ان اداروں میں اس وقت درج ذیل کمزوریاں در آئی ہیں جن سے سائنس کے ارتقاء پر منفی اثر پڑا ہے۔

 

i     فطرت سے دوری

 

اس وقت سائنس میں رسرچ و تحقیق فطرت اور فطری مظاہر سے تقریباً لا تعلق ہے ایسا لگتا ہے کہ آج کا سائنس داں فطری سچائیوں سے بالکل واسطہ نہیں رکھتا۔ اختصاص کے پس منظر میں ارضی خصوصیات سے دوری نے سائنس کو عوام کے لئے نہیں بلکہ مخصوص گروہوں کے لئے زیادہ فائدہ مند اور کار آمد بنا دیا ہے۔ جدید یونیورسٹیوں میں تعلیم انہیں مقاصد کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔

 

ii     ٹکنالوجی پر انحصار

 

جدید سائنس کے فطرت سے دور ہونے کی بنا پر اس کا زیادہ انحصار ٹکنالوجی پر ہے اور کیونکہ ٹکنالوجی کا پورا ارتقاء ترقی یافتہ اقوام میں ہوا ہے اس لئے یہ سائنس کم ترقی یافتہ ممالک میں جڑ پکڑ ہی نہیں پاتی۔

 

iii    کار فرما مقاصد

 

سائنس کا بڑا حصہ ملٹری اور دفاعی مقاصد یا پھر صنعتی مقاصد یا ان کے مہیّا کردہ وسائل کی بدولت ہی فروغ پارہا ہے۔اسلئے وسائل فراہم کرنے والوں کے لئے فائدہ مند سائنس کے ارتقاء کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

چنانچہ جدید یونیورسٹیوں میں سائنس کے ارتقا کے لئے وہ آزادانہ ماحول جسکی ضرورت کا اظہار ہم ان صفحات میں کیا ہے اس کا  میسر آنا محال نظر آتا ہے۔ مدراس میں اس نوع کی سائنس کا اصولاً تو امکان ہے بشرطیکہ جدید طرز کے مدارس کو فروغ دیا جا سکے جہاں تفہیم جدید کے مطابق سائنس کی تعلیم، تدریس اور تحقیق کو جلا مل سکے۔ مدارس میں سائنس کے ارتقاء سے فائدہ یہ ہو گا کہ ہم ان اقدار کے ماحول میں اور اعلی تر مقاصد کے تحت سائنسی ارتقاء کرسکیں گے۔ جہاں سائنس انسانی مسائل کو حل کرنے اور فرد کے روحانی ارتقاء کا ذریعہ بھی بن سکے گی اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بھی۔

البتہ یہ بات واضح رہنا چاہے کہ یہ مقاصد نہ تو موجودہ یونیورسٹیوں میں حاصل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ مدرسوں میں سائنس داخل کر کے ان کا حصول ممکن ہے۔ ہمیں ان دونوں کے درمیان کے راستے کی تلاش ہے۔

واللہ اعلم باالصواب

 

 

                نوٹس اور حوالے

 

(۱)    محمد ذکی کرمانی کی کتاب The Quran and Future of Scienceجو 2001میں Global Vision Publishing Houseدہلی نے شائع کی۔

(۲)    سید حسین نصر کا مضمون Reflections on Methodology in Islamic Scienceجو Hamdard Isalmicusمیں ۱۹۸۰ء میں شائع ہوا۔

(۳)   سید وقار احمد حسینی کی کتاب Islamic Environmental Systems Engineeringجو ۱۹۸۰ء میں شائع ہوئی۔

(۴)   سید وقار احمد حسینی کا مضمون جو اسماعیل فاروقی اور عبداللہ عمر نصیف کی ادارت میں ۱۹۸۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Social and Natural Sciencesمیں دیکھا جا سکتا ہے۔

(۵)   مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کو بطور نظام حیات پیش کرتے ہوئے اپنی متعدد کتابوں میں علم کی اہمیت واضح کی ہے اور اس کے مختلف تصورات میں اصلاح کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔’’ تعلیمات‘‘،’’ تجدید احیائے دین‘‘ اور’’ اسلام ایک سرچشمہ قوت ‘‘وغیرہ کتابوں سے ان کانقط نظر واضح ہوتا ہے۔ ’’سود‘‘ اور ’’برتھ کنٹرول‘‘ پر ان کی کتابیں ان کے رسرچ و تحقیق کے طریقہ کار کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح نتائج اخذ کر کے تصور کائنات کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اپنے بعض مضامین میں انہوں نے اسلام کی بنیاد پر نظری سائنس کے خصوصی تجزیہ کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس طرح کا ان کا ایک خط محمد ریاض کرمانی نے اپنی کتاب ’’بصائر مودودی‘‘ میں شامل کیا ہے۔

(۶)    اکنامکس پر اسلامی تحقیق گذشتہ صدی کے نصف آخر سے شروع ہوئی اور بتدریج علمی دنیا میں فکرِ اسلامی سے متاثر متعدد جدید معاشی نظریات اور تصورات سامنے آئے۔ آج اسلامک اکنامکس ایک باقاعدہ ڈسپلن کے طور پر یونیورسٹیوں کے تدریسی نظام میں شامل ہو چکی ہے۔ اس سلسلہ میں محمد نجات اللہ صدیقی کی کتاب Muslim Economic Thinking : A Survey of Contemporary Literatureجو اسلامک فاؤنڈیشن (U.K) سے 1981میں شائع ہوئی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

(۷)   سید حسین نصر کے مندرجہ ذیل مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔

“Our Perspective”, Journal of Islamic Science 1 (2) 1985, p.6

“What is Islamic Science?”, Journal of Islamic Science 10 (1) 1994, p. 12

“The Islamic World View and Modern Science Journal of Islamic Science 10 (2) 1994 p. 33

(۸)   نقیب العطاس کی کتاب Islam and Secularismجو ۱۹۷۸ء میں کوالالمپور ملیشیا سے شائع ہوئی۔

(۹)    اسماعیل فاروقی کی معروف کتاب Islamization of Knowledge :General Principles and Work Plan  جو IIITامریکہ سے شائع ہوئی۔

(۱۰)   ضیاء الدین سردار کی کتاب Islamic Futures: The Shape of Ideas to come اور دیگر مضمون’’ “Where’s where? Mapping out the Islamic Science   جو  Journal of Islamic Science 5 (1), 1989, p. 90میں شائع ہوا۔ پرویز منظور کا مضمون: Islam and the West: Synthesis or Con-fusionجو ضیاء الدین سردار کی کتاب Touch of Midasمیں شامل ہے۔ اسی طرح پرویز منظور کے دوسرے متعدد مضامین جن کا حوالہ محمد ذکی کرمانی نے اپنی کتاب The Quran and Future of Scienceمیں دیا ہے۔

(۱۱)   دیکھیں ضیاء الدین سروار کا مضمون’’ Arguments of Islamic Sciences‘‘جو Quest for New Science نامی کتاب جو CSOSعلی گڑھ کی طرف سے ۱۹۸۴ء میں شائع ہوئی تھی، میں شامل ہے۔

(۱۲)   ضیاء الدین سردار کی معروف کتاب Touch of Midas: Science, values and Environment in Islamic and the Westجو ۱۹۸۴ء میں Manchester University Pressسے شائع ہوتی۔

(۱۳)  جدید سائنسی سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے جو خالص سیکولر ماحول میں انجام دی جاتی ہیں۔ یہاں پر ابلم سے جذباتی وابستگی کے بغیر تحقیق آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ اگر یہ وابستگی پیدا نہ ہو تو بار بار کی ناکامیوں کے باوجود ایک محقق کس طرح اس پرابلم پر اپنی توجہ مرتکز کیے رہے گا۔ معروضیت (objectivity) اس طرح بحال رہتی ہے کہ ہر وقت یہ خیال رہتا ہے کہ اس پرابلم پر دوسرے کام کرنے والے افراد اسے کہیں غلط ثابت نہ کر دیں۔

(۱۴)  نئی نئی دواؤں کو امتحاناً جانوروں پر استعمال کرنے کے سلسلہ میں جو مخالفت ہو رہی ہے وہ واضح ہے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض کمزور ادویہ انسانوں پر بھی استعمال ہو جاتی ہیں جن کے مضر اثرات انہیں جھیلنے پڑتے ہیں۔

(۱۵)  اصطلاحاً توحید کے معنی اللہ کی وحدانیت کے ہیں۔ مختلف مخلوقات میں یکسانیت اور ربط باہمی کا پایا جانا واحد خالق کی بنا پر ہے۔ مختلف مخلوقات کے آپسی رشتے اور خود ایک مخلوق کے مختلف حصوں میں رشتوں کا پھیلا ہوا جال ہمارے پاس تا حال موجود آلات تحقیق کی پہنچ سے باہر ہے۔

(۱۶)   Popperکا نظریہ falsifiabilityسائنس کی سچائی پرکھنے کا معیار بن گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ تصور دراصل اس خوف سے پیدا ہوا ہے کہ اگر ایک بار pولر حوالے :طہ نہٰیہ دعویٰ کر دیا جائے کہ سچ معلوم ہو گیا ہے تو پھر مزید تحقیق کے امکانات ختم ہو جائیں گے جو ایک منفی رویہ ہے اور جس کے نتیجہ میں ارتقاء اور بالخصوص سائنسی ارتقاء رُک جائیگا۔  اس بناپر Popperکے نزدیک یہ ضروری ہے کہ سائنس حقائق ایسے ماحول میں کارفرما ہوں جو provisional(عارضی) ہو اور جس میں ان حقائق کو رد کیا جا سکتا ہو۔

(۱۷)  سائنسی حقائق دراصل خاص وقت اور جگہوں پر ہی صحیح ہوتے ہیں۔ وقت اور جگہوں میں تبدیلی حقائق میں تبدیلی کا باعث ہوسکتی ہے۔ چنانچہ سائنسی حقائق کی حقانیت دراصل عارضی ہے۔ لیکن suspe nsionان حقائق کی فعالیت کو متاثر نہیں کرتا اور وہ کام کرتے رہتے ہیں۔ Provisional Truthکا یہ تصور سائنس ترقی کی رفتار کو بحال رکھتا ہے اور نئی نئی تحقیقات کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

(۱۸)  ابن خلدوں کا نظریہ عصبیت معاشرتی تاریخ میں تو صحیح ہے ہی سائنس کی سوشیالوجی میں بھی کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سائنس کے ذریعہ کسی قوم یا کمیونٹی کا ارتقاء ایک قابل فہم اور فطری خواہش ہے بشرطیکہ یہ کسی دوسری قوم یا کمیونٹی کی قیمت پر نہ ہو۔ آج کی جدید مہذب دنیا میں بھی یہ عصبیت کام کرتی ہے اور بعض نسلوں اور ملکوں میں سائنس کی زیادہ ترقی پر اس کی کارفرمائی دیکھی جا سکتی ہے۔

٭٭٭

ماخذ: آیات، ۲۰۱۴، شمارہ ۲

تشکر: مصنف اور عرفان  جنہوں نے آیات کی فائلیں فراہم کیں

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید