FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

صدر مسلم لائبریری ناگپور کا شعری و ادبی مجلّہ

زرنگار

۲۰۰۸ء

صدر۔ ناگپور  ۰۰۱  ۴۴۰

 

عُہدہ داران و اراکین صدر مسلم  لائبریری۔ ۲۰۰۸

عالیجناب سیدّ مکّرم حسین خطیب صاحب                                           صدر

عالیجناب سراج الحسن صاحب                                                        نائب صدر

عالیجناب حامد بن خالد قریشی صاحب                                                سکریٹری

عالیجناب مجیب الّدین صدّیقی صاحب                                               جوائنٹ سکریٹری

عالیجناب عرفان حسین خان صاحب                                                خازن

عالیجناب عبدالقدیر صاحب                                                          ممبر

عالیجناب عبدالرشید سوبانی صاحب                                       ممبر

عالیجناب ایڈوکیٹ قطب ظفر صاحب                                              ممبر

عالیجناب ایڈوکیٹ سیّد سعادت علی صاحب                          ممبر

عالیجناب ڈاکٹر شیخ شبیّر صاحب                                            ممبر

عالیجناب شیخ حسنین شاکر صاحب                                         ممبر

عالیجناب ایڈوکیٹ غلام عباّس کبّاوالا صاحب                         ممبر

عالیجناب عثمان اقبال غنی صاحب                                        ممبر

عالیجناب سیّد آصف علی صاحب                                         ممبر

عالیجناب ابوالکلام ساجد صاحب                                         ممبر

پیش لفظ

             صدر مسلم لائبریری ناگپور شہر کے  ایک ایسے  علاقہ میں واقع ہے  جہاں بیشتر علمی درس گاہیں تشنگانِ علم و فن کی پیاس بجھا رہی ہیں۔ اسی جگہ پر ۱۹۲۲ء میں شہر کے  با شعور و حساس لوگوں بالخصوص اردو ادب سے  دلچسپی رکھنے  والے  جیالوں نے  صدر مسلم لائبریری کی بنیاد ڈالی۔ یہ ادارہ وقت کے  ساتھ ساتھ ترقی کرتا گیا اور آج الحمد للہ ایک بہترین عمارت کے  ساتھ علمی، ادبی، سماجی، ثقافتی اور مختلف موضوعات پر کتابوں کا ایک عمدہ ذخیرہ اس لائبریری میں موجود ہے۔ جس  سے  تشنگانِ علم و فن بلا تفریق مذہب و ملّت فائدہ اٹھا رہے  ہیں۔ فی الوقت اس کے  تا حیات اراکین کی تعداد ۵۵ اور عام ممبران کی تعداد بھی سینکڑوں پر مشتمل ہے۔ ادارہ ہٰذا کو ہمیشہ سے  ہی اچھے  لوگوں کا تعاون حاصل رہا ہے۔ جنہوں نے  بڑھ چڑھ کر اپنی خدمات پیش کیں۔ اس وقت بھی مخلص، تعلیم یافتہ اور دور اندیش افراد کی قیادت میں یہ ادارہ دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔

            راقم الحروف کا بھی اس ادارہ سے  پرانا تعلق ہے۔ میں اس کا لائف ممبر ہوں۔ آج سے  تقریباً ۲۷ ماہ قبل یعنی دسمبر ۲۰۰۵ء میں صدر مسلم لائبریری کے  سکریٹری عالی جناب حامد بن خالد قریشی صاحب جو میرے  اچھے  دوست بھی ہیں، لائبریری کے  تعلق سے  تفصیلی گفتگو کی اور خیال ظاہر کیا کہ لائبریری ایک اچھے  مقام پر واقع ہے۔ الحمد للہ تمام سہولتیں  یہاں موجود ہیں۔ نشستوں کا معقول انتظام ہے۔ کیوں نہ یہاں شعری، ادبی، سماجی، ثقافتی سرگرمیاں بھی جاری کی جائیں اور قوم کے  افراد اس سے  فائدہ اٹھائیں۔ چونکہ وہ میرے  مزاج سے  واقف ہیں لہٰذا انہوں نے  یہ درخواست کی کہ میں شعری و ادبی پروگراموں کی ذمہ داری لوں۔ اور اس منصوبے  کو جلد از جلد عملی جامہ پہناؤں۔ مجھے  اور ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ ہم ہر مہینے  کے  چوتھے  سنیچر کی شب ایک شعری نشست منعقد کریں۔ جس میں ہر مہینے  شہر کے  منتخب شعرائے  کرام اپنے  کلام سے  سامعین کو محظوظ فرمائیں۔ لہٰذا پہلی ماہانہ شعری نشست بروز سنیچر ۳۱/ دسمبر ۲۰۰۵ء کو منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت عالیجناب ڈاکٹر پروفیسر منشاء الرحمان خاں منشاء ؔ صاحب نے  فرمائی۔ دیکھتے  دیکھتے  یہ سلسلہ چل نکلا۔ کچھ لوگوں نے  اس کی درازیِ عمر کی دعائیں دیں اور کچھ نے  چند مہینوں میں اس کے  ختم ہو جانے  کی وعیدیں سنائیں۔

            بہر حال لائبریری کے  عہدیداران و اراکین اور عملے  کا بھر پور تعاون، ناگپور و اطراف کے  شعراء و ادباء اور اہلِ ذوق سامعین کی لگاتار شرکت نے  اس شعری محفل کو ہر مہینہ کامیابی سے  ہمکنار کیا۔ چار پانچ نشستوں کے  بعد سے  ہی اس میں ہم نے  تبدیلیاں کیں۔ ہر تیسری نشست کو طرحی نشست کی شکل دی جس سے  یہ فائدہ ہوا کہ نہ صرف ناگپور و کامٹی میں ایک صحت مند شعری ماحول پیدا ہوا بلکہ نئے  لکھنے  والوں کو بھی ترغیب ملی۔ اور اس طرح کئی نئے  شعراء متعارف ہوئے  اور پرانے  شعراء کا تازہ کلام سننے  کو ملا۔ ساتھ ہی ساتھ ناگپور و کامٹی کے  مرحوم شعراء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے  اور ان پر تعارفی مضامین کا مفید سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ اسے  بھی حاضرین نے  بیحد پسند کیا۔ اور اس طرح کئی نامور مرحوم شعراء پر وقیع مقالے  لکھوائے  گئے  اور ان کی تحریر کردہ نعتیں بہترین آواز میں پڑھوا کر ان کی یاد تازہ کی گئی۔ اس سے  ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ شہر کے  اچھے  لکھنے  والوں نے  اپنے  قلم کو جنبش دی اور صفحۂ قرطاس پر علاقے  کے  شعراء کے  حالاتِ زندگی، ان کی شاعری اور ان کے  فن کو محفوظ کر دیا جو انشاء اللہ آنے  والی نسلوں کے  لئے  مشعلِ راہ ثابت ہو گی۔

            ہم نے  ہر نشست میں ہمیشہ یہ اعلان کیا کہ شعراء کرام اپنا کلام اور مقالہ نگار اپنے  مقالے  جمع کروائیں تاکہ انہیں کتابی شکل میں محفوظ کیا جا سکے۔ جن حضرات نے  اس ضمن میں تعاون کیا ان کا کلام اور مقالے  آج آپ کے  سامنے  ہیں۔ اس اثناء میں ’’ یادِ طرفہؔ ‘‘ کے  نام سے  دو شاندار مشاعرے  بھی ہوئے۔ جس میں بیرونی شعراء کرام نے  بھی شرکت کی۔ جن بیرونی شعراء کرام نے  ہماری محفلوں میں شرکت کی ہیں ان میں باالخصوص جناب شمسؔ جالنوی، جناب ملک بزمیؔ (پاتھری)، جناب عبد الرحیم نشترؔ (رائے  گڑھ)، جناب حبیب راحت حبابؔ (کھنڈوہ)،  جناب خلشؔ تسکینی(اچلپور)،  جناب احسانؔ بھنڈاروی (بھنڈارہ)، جناب کاملؔ بہزادی (بھوپال)، جناب عزیزؔ بیلگامی(بنگلور)، جناب غفّار عزمؔ (لندن) اور محترمہ نورالعین علی صاحبہ (ممبئی) قابلِ ذکر ہیں۔

            ان شعری نشستوں کو کامیاب بنانے  میں صدر مسلم لائبریری کے  تمام عہدیدار و اراکین کا زبردست تعاون رہا۔ باالخصوص حامد بن خالد قریشی صاحب، عبدالرشید سوبانی صاحب، عبدالقدیر صاحب، مجیب الدین صدیقی صاحب، مکرم حسین خطیب صاحب، ایڈوکیٹ قطب ظفر صاحب، سراج الحسن صاحب وغیرہ۔ جناب محمد ایوب صاحب کی بہترین نظامت۔ محفل کو سنوارنے  میں ان کی برجستہ گوئی۔ ان کے  قیمتی مشورے۔ شعراء کو محفل میں پیش کرتے  وقت ان کا مناسب تعارف نیز ماحول سازی قابلِ تعریف ہے۔ میں ادارہ کی جانب سے  ان کا بیحد ممنون و مشکور ہوں۔ محمد ایوب صاحب کی عدم موجودگی میں محترم ڈاکٹر محمد اظہر حیات صاحب نے  بڑی خوش اسلوبی اور منفرد انداز سے  نظامت کے  فرائض انجام دیئے  جسے  کافی پسند کیا گیا۔ جناب کلیم احمد اور ڈاکٹر خواجہ غلام ربّانی صاحبان نے  بھی وقتاً فوقتاً اپنی نظامت سے  ان محفلوں کو کامیاب بنایا ہے۔ غرضیکہ شہر کے  اکثر اہل علم، اہل فن، دانشور اور  با ذوق حضرات کا ہمیں تعاون حاصل رہا جس کی بناء پر ہم اپنے  کارواں کو پچیسویں منزل تک لانے  میں کامیاب ہو سکے۔

            میں دل کی گہرائیوں کے  ساتھ شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں صدر مسلم لائبریری کے  تمام عہدیدار و اراکین کا، ان تمام شعراء کرام و مقالہ نگار حضرات کا جن کی تخلیقات اس میں شائع ہوئیں اور جن کی شرکت نے  ہماری محفلوں کو کامیاب بنایا۔ ان تمام معزز سامعین حضرات کا بیحد ممنون و مشکور ہوں جن کے  بغیر ہماری محفلیں کامیاب نہیں ہو سکتی تھیں۔ اگر کسی کا ذکر یہاں رہ گیا ہو تو اسے  بشری غلطی پر محمول کیا جائے۔

            جنوری ۱۹۷۵ء میں صدر مسلم لائبریری کی گولڈن جوبلی کے  موقعہ پر ایک شاندار مجلّہ ترتیب دیا گیا تھا۔ جسکا نام ’’ زرنگار‘‘ تھا۔ ہم نے  بھی اس موقعہ پر اسی نام کو اختیار کیا۔ گویا یہ تجدید عہد ہے  کہ آئندہ بھی ہم اسی نام سے  شعراء و ادباء کی تحریریں آپ تک پہنچائیں گے۔ مجلّہ آپ کے  ہاتھوں میں ہے۔ ہم اپنی کوششوں میں کتنے  کامیاب ہیں یہ تو آپ ہی بتا سکتے  ہیں۔ بس ایک درخواست ہے  کہ   ؂

دعا کرو مری خوشبو پہ تبصرہ نہ کرو

مشتاق احسنؔ

                                                                            ناگپور

                                                                              مورخہ ۲۴/ فروری ۲۰۰۸ء

 

ناطقؔ گلاوٹھوی

(  یہ مقالہ چھٹی ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۷/ مئی ۲۰۰۷ء کو پڑھا گیا )

               از۔ محمّد سکندر حیات

            قابلِ مبارک باد ہیں صدر مسلم لائبریری کے  عہدیداران و اراکین کہ انھوں نے  ماہانہ شعری نشستوں کے  سلسلہ کو استواریت کے  ساتھ جاری رکھا ہے۔ جو نہایت کامیابی سے  رواں دواں ہے۔ ان شعری نشستوں کا مقصد جہاں عصری رجحانات سے  روشناس ہونا ہے  وہیں ہی مقصد بھی زیرِ نظر ہے  کہ ہم ناگپور کے  مرحوم اساتذہ کو بھی یاد کریں اور ان کے  شعری رسالوں سے  استفادہ حاصل کریں۔

            معزّز سامعین !

            جہاں شہر ناگپور سنتروں کے  منفرد ذائقہ کے  لیے  جانا جاتا ہے  وہیں دو اور شخصیتیں اس شہر کے  لئے  باعثِ عزّ و شرف ہیں۔ اوّل حضرت بابا تاج الدّین ؒ اور مولیٰنا  ابوالحسن ناطقؔ گلاٹھوی، دونوں ہی بزرگ قابل تعظیم ہیں۔ ایک صوفی، کیفیتِ جذبات سے  سرشار، دوسرے  عالمِ دین اور اردو شاعری کے  علمبردار، دونوں ہی حضرات کا جائے  پیدائش ناگپور سے  قریب شہر کامٹی ہے۔ اور دونوں ہی بزرگ شخصیتیں ناگپور میں سپرد خاک ہیں۔

            مرحوم نیاز فتحپوری اردو کے  مستند نقّاد میں شمار کئے  جاتے  ہیں۔ اپنے  رسالہ نگار ۱۹۴۱ء کے  مشاہیر نمبر میں مولیٰنا ناطقؔ سے  متعلق رقمطراز ہیں کہ ناطقؔ گلاوٹھوی تغزل کے  دیرینہ گفتار ہیں۔ اور با وصف کسی خاص ا سکول کے  پابند نہ ہونے  سے  ان کا اندازِ بیان ہمیں اساتذہ دہلی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ معاملاتِ حسن و عشق کو اُسی زبان میں ادا کرتے  ہیں جو تغزل کے  لحاظ سے  معیاری سمجھی جاتی ہے۔ اور بعض اوقات یہ اپنے  خیال کو ایسے  پہلو سے  پیش کرتے  ہیں کہ سننے  والا دفعتاً چونک پڑتا ہے۔ ان کے  کلام میں ایک خاص تیکھا پن پایا جاتا ہے  جو پرانی بات میں بھی نئی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ سلاست و روانی جو تغزّل کی جان ہے  ان کے  کلام میں ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

            مولیٰنا خود اپنی شعر گوئی کے  متعلق فرماتے  ہیں۔ ؂

شعر گوئی نئے  انداز کی، تجدیدِ خیال             دیکھنا چاہے  تو ناطقؔ مرا دیوان اٹھا

            حضراتِ گرامی! پیرِ مغاں، خمخانۂ سخن، فخر المتاثّرین، استاذ الاساتذہ حضرت مولیٰنا ناطقؔ گلاوٹھوی کو ان القاب کے  لئے  ذاتی طور پر تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔ اور نہ ہی یہ القاب کسی مال و ثروت سے  حاصل ہوئے  ہیں۔ اس کے  علاوہ بھی آپ کو کئی خطابات ملک کی مختلف انجمنوں کی طرف سے  ملے  مگر آپ نے  خود ان القاب و خطابات کو اپنے  نام کے  ساتھ نہ کبھی استعمال کیا اور نہ دوسرے  صاحبان کے  استعمال پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

            ۱۹۴۰ء کو  لکھنؤ میں ایک عظیم الشان کل ہند طرحی مشاعرہ ہوا۔ صدرِ مشاعرہ آنجہانی سر تیج بہادر سپرو تھے۔ اُسی مشاعرے  میں مولیٰنا مرحوم کے  علاوہ اس زمانے  کے  بعض نامور اساتذہ اور مشہور مترنّم شعراء شریک تھے۔ مولیٰنا کی غزل مشاعرہ میں بہت پسند کی گئی۔ سر تیج بہادر سپرو نے  آپکی غزل پر تبصرہ کرتے  ہوئے  وہاں آپ کو استاذ الاساتذہ کے  گرانقدر الفاظ سے  خطاب کیا۔ اسی  دن سے  لوگ آپ کو استاذ الاساتذہ لکھنے  لگے۔ اسی طریقہ سے  جلوۂ یار میرٹھ نے  پیر مغاں خمخانۂ سخن اور فخر المتاخرین کا خطا ب لکھنؤ کے  مشہور ادبی ادارہ انجمنِ فردوسِ ادب نے  ۱۹۳۰ء میں دیا۔

            جلوۂ یار میرٹھ کی بات آئی تو یاد آیا کہ مولیٰنا کی غزلیں اس رسالہ میں شائع ہوتی تھیں۔ میرے  جدّ امجد حضرت منشی ولی اللہ مرحوم و مغفور کی فارسی غزلیں بھی اسی رسالہ میں شائع ہوتی تھیں۔ یہ دونوں حضرات اس وقت ایک ہی محلہ میں رہتے  تھے۔ چنانچہ ان میں گہری ادبی دوستی بھی تھی۔ ادبی نشستیں جو محلہ جونا جیل خانہ کی رہائش پر ہوئیں مولیٰنا اس میں شرکت کرتے۔ منشی ولی اللہ مرحوم کے  انتقال کے  بعد بھی ہمارے  گھر سے  مولیٰنا کا دیرینہ تعلق رہا۔ والد محترم جناب سعید حیات ایڈوکیٹ مرحوم سے  ملنے  اکثر و بیشتر گھر تشریف لاتے۔ میرا بچپن تھا۔ کبھی کبھی مجھ سے  فرمائش ہوتی کہ غالبؔ کی غزل سناؤں اور میں شروع ہو جاتا۔ ’’دل ہی تو ہے  نہ سنگ و خشت، درد سے  بھر نہ آئے  کیوں ‘‘

            مولیٰنا بہت خوش ہوتے۔ مولیٰنا ۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئے  اور ٹھیک ۳۷/ سال پہلے  یعنی ۲۷/ مئی ۱۹۶۹ء کی شب اس دارِ فانی سے  کوچ کر گئے۔ ۸۳/ سال کی عمر پائی۔ جن حضرات کو آپکی زود گوئی اور قادرالکلامی کا علم ہے  وہ جانتے  ہیں کہ اس مکثِ طویل میں آپ نے  کس قدر کلام کہا۔ اگر یہ تمام کلام محفوظ ہوتا تو موجودہ دیوانِ ناطقؔ سے  دس گنا ضخیم ہوتا جو اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہوتا اور ہزاروں تشنگانِ ادب کیلئے  استفادہ کا باعث ہوتا۔ مگر یہ اردو شاعری کا زبردست المیہ ہے  کہ مولیٰنا کا کلام کئی وجوہات کی بناء پر محفوظ نہیں رہا۔ بڑی محنت و جانفشانی سے  مولیٰنا کے  معتقد اور عزیز بابو عبدالحلیم صاحب نے  مولیٰنا کی غزلوں کو مرتّب کیا۔ ۲۷۳ غزلیں شاملِ دیوان کیں اور مولیٰنا کے  انتقال کے  بعد زیورِ طباعت سے  آراستہ کیا۔ اردو والوں پر یہ ان کا خاموش احسان ہے۔

            ابتدائی تعلیم کامٹی میں آپ کے  نجی مکان میں ہوئی جہاں عربی، اردو، فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۰۰ء میں مولیٰنا دیوبند حصولِ علم کے  لئے  تشریف لے  گئے۔ وہیں مولیٰنا نے  سید معشوق حسین اطہر ہا پوڑی کی تحریک پر شاعری شروع کی۔ اس زمانہ میں دیوبند میں انسان کے  لئے  بلبلۂ معقول حیوانِ ناطق کی اصطلاح عام تھی۔ جب آپ کو تخلص کی فکر ہوئی تو لفظ ناطق آپ کو مناسب لگا چنانچہ آپ نے  یہی تخلص کو لیا۔      مرزا داغؔ دہلوی کے  کلام سے  آپ بہت متاثّر تھے۔ داغؔ دہلوی کے  مجموعوں میں آفتابِ داغ کا عمیق مطالعہ فرمایا۔ اس زمانہ میں آپ کو یہ دیوان حفظ ہو گیا تھا۔ ۱۹۰۴ء میں اپنے  والد محترم کے  مشورہ سے  بذریعۂ خط و کتابت داغؔ دہلوی کے  حلقۂ تلامذہ میں داخل ہو گئے۔ لیکن ایک سال بعد ہی حضرت داغؔ بھی داغِ مفارقت دے  گئے۔ ا سکے  بعد پھر آپ نے  کسی کو کلام نہیں دکھا یا۔ ہمیشہ اپنے  کلام پر خود ہی اصلاح کی نظر کی۔ آپ نے  تقریباً تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ لیکن نظم نگاری اور غزل مر غوب طبع رہی۔ آپکے  شعر پڑھنے  کا انداز بڑا دلکش اور موثّر ہوتا تھا۔ حالانکہ تحت اللفظ پڑھتے۔ با محاورہ زبان اور کسے  ہوئے  مصرعے  اور اپنی با رعب اور پُر کشش شخصیت کی وجہ سے  مشاعروں میں چھا جاتے  تھے۔ کیا مجال کہ سامعین سے  کوئی چوں چراں کی آواز آئے۔

            آپکے  شاگرد برِّ صغیر ہند و پاک میں پھیلے  ہوئے  ہیں۔ کچھ معروف شاگردوں کے  اسمائے  گرامی یہ ہیں۔ سید امیر حسن امیرؔ گلاؤٹھوی۔ مولیٰنا عبدالباری آسیؔ ۔ مولیٰنا غضنفر حسین شاکرؔ نائطی۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خان خوشترؔ کھنڈوی۔ مرزا ظفر حسین ظفرؔ ناگپوری۔ مولوی جلیلؔ مانکپوری۔ تصوّرؔ سورتی۔ قدیم شاگردوں میں کامٹی کے  منشی ابوبکر صاحب مشہور ہیں۔ ان کے  علاوہ بھی ایک لمبی فہرست ہے  آپ کے  شاگردوں کی۔ جنہوں نے  اپنے  شعری سرمایہ سے  اردو ادب میں ایک مقام بنایا۔

            مولیٰنا ایک ہمہ جہت شخصیت کے  مالک تھے۔ جہاں وہ ایک مستند شاعر کی حیثیت سے  معروف و مقبول تھے۔ وہیں وہ مستند عالم دین بھی تھے۔ کامیاب صحافی بھی تھے۔ سیاست سے  بھی لگاؤ تھا۔ کانگریس کے  حامی تھے۔ ناگپور میونسپل کمیٹی کے  ۹۱۲۱ء سے  ۱۹۵۰ء تک ممبر رہے۔ مرکزی حکومت کی لیجسلیٹیو اسمبلی میں بحیثیت رکن ریاستِ متوسط برار کی نمائندگی کی۔ میونسپل کونسل ناگپور میں علاقہ سیتا بلڈی سے  الیکشن جیت کر اس علاقہ کی نمائندگی کی۔

            آپکی تصانیف میں دیوانِ ناطقؔ ۔ کنزالمطالب جو شرحِ دیوانِ غالبؔ ہے  اور سبع سیارہ کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخر وقتوں میں مختلف عوارض نے  گھیر لیا۔ لیکن تا دمِ آخر صوم و صلوٰۃ کے  پابند رہے۔ ۲۷/ مئی ۱۹۶۹ء کو آپکی روح قفسِ عنصری سے  پرواز کر گئی۔ آپکی قیام گاہ محلہ لشکری باغ سے  جنازہ اٹھا۔ مسلم قبرستان مومن پورہ میں سپرد خاک کئے  گئے۔ جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ بلا لحاظ مذہب و ملّت، عقیدہ و مسلک جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے  کہ وہ مقبولِ عام تھے۔ اور آپکی عظمت کے  سب معترف۔

روتے  ہیں وہ ناطقؔ کیلئے  بیٹھ کے  پہروں                     جو لوگ ابھی زندہ ہیں اسے  دیکھنے  والے

 

نواب غازی آف گیوردھا، شخصیت اور شاعری

(یہ مقالہ ۱۶/ ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۱/ اپریل ۲۰۰۷ء کو پڑھا گیا)

               از۔ کلیم احمد

            محمد عبدالوحید غازی، نواب آف گیوردھا اسٹیٹ ضلع چاندہ،  ۳۱/ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو گیوردھا میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ زندگی کے  چار سال بھی مکمل نہ کر پائے  تھے  کہ ۱۹/ جنوری ۱۹‍۱۱ء کو ان کے  والد نواب زین الدّ ین کا انتقال ہو گیا۔ یوں نواب غازی کم سنی میں ہی تمام جائیداد و املاک کے  وارث ہو گئے۔ چونکہ ان کی عمر بہت کم تھی لہٰذا حکومت نے  تمام انتظامات اپنے  ذمّہ لے  لیے۔ حکومت کی نگرانی میں رئیس زادوں کی طرح ان کی تعلیم و تر بیت ہوئی۔ مختلف استادوں سے  متعدّد زبانیں اور متعدّد علوم سیکھنے  کا موقع ملا۔ جسکا فائدہ اٹھا کر انھوں نے  اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر مکمل عبور حاصل کیا۔ ساتھ ہی گونڈی، ہندی اور مراٹھی سے  بھی قدرے  واقفیت حاصل کی۔

            ان کے  متعدد استادوں میں ایک عبدالحمید خان زیبا کوٹی بھی تھے۔ جو اپنے  وقت کے  ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ نواب صاحب نے  انہی سے  شاعری کا فن سیکھا اور اس فن میں بہت جلد وہ مقام حاصل کیا کہ ۲۰/ برس کی عمر میں صوبۂ متوسّط و برار میں پوری طرح مشہور ہو گئے۔ حالیِ ادب، خلّاقِ معنی، نکتہ سنج اور عکّاسِ فطرت کہلانے  والے  علم و فضل کے  مثال پیکر نواب غازی ۳۰/ سال کی عمر میں ۱۹۳۷ء میں کامٹی آئے۔ اور پھر ۱۹۵۸ء میں باغ منزل ناگپور میں سکونت اختیار کی۔ مطالعٔہ کتب ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ بلا شبہ وہ ادبی دنیا کی ایک ممتاز اور پر وقار شخصیت تھے۔ اعلیٰ خاندان کے  چشم و چراغ، مختلف زبانوں کے  عالم، اردو شاعری کے  بہترین ورثے  کے  محافظ، با وقار اور ذی وجاہت بزرگ۔ گیوردھا اسٹیٹ کے  مالک مگر اتنا کچھ ہونے  پر بھی زمیندارانہ غرور اور تمکنت نے  انھیں چھوا بھی نہیں۔

            نواب صاحب نے  ہندوستان کے  بڑے  بڑے  شہروں میں ہونے  والے  کل ہند مشاعروں کی صدارت کی۔ مقامی اخبارات و رسائل کی سر پرستی اور مالی اعانت کی۔ ان کا کلام ملک کی مختلف جرائد و رسائل میں امتیازی حیثیت سے  شائع ہوا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ان کا دیوان دیوان زیورِ طبع سے  آراستہ نہ ہو سکا۔ ان کی ابتدائی غزلوں اور نظموں پر مشتمل ۱۰۴ /صفحات کا ایک مختصر سا مجموعہ ’ گلستانِ  معرفت،  کے  نام سے ۱۹۳۲ء میں دہلی سے  شائع ہوا۔ اس کے  علاوہ ان کی چند حقیقت افروز اردو نظموں پر مشتمل ۱۸/ صفحات کا ایک کتابچہ ’’ تلخیات ‘‘ کے  نا م سے  کامٹی سے  چھپا۔ علاوہ ازیں اور کئی کتابچے  اردو، ہندی، فارسی اور انگریزی میں مختلف وقتوں میں شائع ہوئے۔ شاطرؔ حکیمی، ڈاکٹر ایل۔ سی۔ رندھیرؔ ۔ شوکتؔ جعفری، فروغؔ نقّاش، تابشؔ حلیمی اور اخترؔ نظمی نے  نواب صاحب کے  علم و فضل سے  بھر پور استفادہ کیا۔ نواب صاحب ۱۶/ فروری ۱۹۷۹ء کو اس دارِ فانی سے  کوچ کر گئے۔ انھیں ناگپور کے  زری پٹکا مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ حکیم عزیزؔ قدّوسی نے  سنِ ہجری میں قطعۂ تاریخِ وفات کہا کہ   ؂

شاعرِ عکّاسِ فطرت، صاحبِ فکرو نظر                      نام کی برکت سے  جو اپنے  وحید العصر تھے

ناز تھا علم و ادب کو جن کی ہستی پر عزیزؔ                     اس جہاں سے  ہائے  وہ نواب غازی چل بسے

            نواب صاحب کی زندگی ان کی وفات کے  ساتھ بھلے  ہی فوت ہو گئی ہو مگر ان کی شخصیت،  شاعری اور فن آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ شاعری میں انھوں نے  مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ غزلیں بھی کہیں، نظمیں بھی لکھیں، قطعات بھی کہے  اور رباعیات بھی جن میں تخیّل کی بلند پرواز ی،  فصاحت و بلاغت،  فارسی تراکیب، موسیقیتِ شعری، تشبیہات و استعارات، فلسفے  اور تصوّف کے  مشکل مضامین، پاکیزہ تغزّل اور زندگی کے  مسائل کی بھر پور ترجمانی دیکھنے  کو ملتی ہے۔ نواب غازی کی شعری تخلیقات کے  مطالعے  سے  پتہ چلتا ہے  کہ نواب صاحب کی شاعری ان کی طبیعت کی عکّاس تھی۔ نوابی آن بان کے  باوجود وہ اپنے  رب سے  فقر کے  طلبگار نظر آتے  ہیں۔ وہ گنج و مال کو ہیچ جانتے  ہیں اور ایک اچھّے  انسان کی طرح انھیں خدائے  بزرگ و برتر پر یقین کامل ہے۔ دیکھیے  وہ بارگاہِ الٰہی میں کس عاجزی اور انکساری سے  یہ اعتراف کرتے  ہیں   ؂

تو باغِ جہاں کا مالی ہے

برگ و ثمر کا رکھوالی ہے

فہم سے  اونچا وہم سے  بالا

پروازِ خرد سے  عالی ہے

ہر دل تیرا جانچا پرکھا

ہر نیّت دیکھی بھالی ہے

            ایک جگہ ہندی زبان کے  الفاظ اور محاورات کا بر محل استعمال کرتے  ہوئے  یوں دعاگو ہیں کہ  ؂

پرم وشواس  ہے  پرماتما د ے

مہا بلوان،  نربل کو بنا دے

 مرے  سر پر ہو گیان امرت کی برکھا

جٹاؤں سے  مری گنگا بہا دے

            نواب صاحب کے  کلام میں ہمیں قومی اتّحاد اور قومی یکجہتی کا ایک ایسا پیغام ملتا ہے  جو اردو شاعری کی صحت مند اور توانا روایت کے  شانہ بشانہ نظر آتا ہے۔ اپنی ایک ربائی میں نواب غازی کہتے  ہیں کہ  ؂

انسان سب ایک ہیں، جدا  طور نہیں

کس دل میں طلب، کس سر میں غور نہیں

غم سے  وہی نفرت، وہی راحت کی تلاش

مسلم اور نہیں،  ہندو اور نہیں

            خصوصاً نواب صاحب کی نظموں میں عصری حسّیت، بے  اعتدالی و بے  راہ روی پر بھر پور تنقید ہم صاف طور پر محسوس کر سکتے  ہیں۔ اپنی ایک نظم ’’  رہنمایان گمراہ ‘‘ میں مذہبی رہنماؤں اور ان کے  قول و فعل کے  تضاد کو دیکھ کر وہ پکار اٹھتے  ہیں کہ  ؂

رہنما ہی بے  خبر ہیں جب صلوٰۃ و صوم سے

کیا فلاحِ قوم ہو پھر ان کی ہائے  قوم سے

کیا اثر صوتِ اذاں کا ہو، عوام النّاس پر

رہ نما خود صبح دم چونکے  نہیں ہیں نوم سے

            اس طرح اپنے  ایک قطعے  میں بے  شعور اور فن سے  بے  خبر شعراء پر لطیف طنز کے  پیرایہ میں نواب صاحب یوں چوٹ کرتے  ہیں کہ  ؂

ہر چند عقل کم ہے، ذرا بے  شعور ہیں

دنیائے  شاعری کے  مجدّد حضور ہیں

 جب سے  غزل سنی ہے  مجھے  بھی ہے  اعتراف

فنّی اگر نہیں، متفنّی ضرور ہیں

            نواب صاحب کے  کلام میں قنوطیت اور یاسیت نہیں بلکہ نا مساعد حالات میں بھی با حوصلہ زندگی جینے  کا درس ملتا ہے  ثبوت میں ایک رباعی پیشِ خدمت ہے   ؂

خوش ہوئے  ابھی چارۂ ناچار تو ہے

سامانِ تسلّیِ دلِ زار تو ہے

غازیؔ یہ غمِ خانہ خرابی کب تک

چھپّر نہ سہی، سایۂ دیوار تو ہے

            نواب غازیؔ آف گیوردھا اپنے  کلام میں بہ اعتبارِ فن روایت کے  پاسدار اور بہ اعتبارِ خیال جدّت کے  علمبردار نظر آتے  ہیں۔ جہاں تک ان کی غزلوں کا معاملہ ہے  تو نواب صاحب کی غزلوں کی رعنائی و د لبری، رنگینی اور حسن، داخلیت اور غنائیت، رمزیت او ر اشاریت دلوں کو تسخیر کر لیتی ہیں۔ ان کی غزلوں میں بڑا ہی پاکیزہ تغزّل پایا جاتا ہے۔ کچھ شعر سماعت فرمائیں۔ کہتے  ہیں۔  ؂

رخ نہ یوں پھیر، ستم کوش نہ جا

بے  وفا، عہد فراموش نہ جا

دل کو مشکل سے  قرار آیا ہے

رحم کر راحتِ آغوش نہ جا

            دو کیفیت بھرے  شعر اور سن لیں کہتے  ہیں۔

اضطرابِ ہجر کے  سب مرحلے  طئے  ہو چکے

ہچکیاں کچھ رہ گئیں ورنہ مجھے  آرام ہے

شمع کی آنکھوں میں آنسو، چاند کا دل داغ داغ

سوگ میں غمخوار ہیں کیا زندگی کی شام ہے

            اسی غزل میں عکّاسِ فطرت نواب غازی نے  اپنے  مصوّرِ فطرت ہونے  کا ثبوت دیا۔ لفظوں میں یہ تصویر کھینچ کر کہا  ؂

مدّعا کیا کہہ سکوں لکنت زباں کی الاماں

تم مقابل ہو تکلّم لرزہ بر اندام ہے

خونچکاں آنکھیں پریشاں مو لبِ گویا خموش

دیکھ جاؤ خوب تصویرِ غمِ ایّام ہے

            نواب صاحب کی غزلوں کا پاکیزہ تغزّل اپنی جگہ مسلّم ہے۔ لیکن ا سکے  علاوہ بھی ان کی غزلوں میں ’’بہت کچھ ہے ‘‘اور یہی ’’بہت کچھ‘‘ انھیں اپنے  ہم عصر شعراء میں ممتاز کرتا ہے۔ وہ کہتے  ہیں  ؂

کون طوفان میں ہو، شرم سے، پانی پانی                         نا خدا کا، میری کشتی نہ سہارا لے  گی

انھوں نے  اپنی غزلوں میں غزل کے  زیرِ لبی لہجے  کو بھی بڑی خوبی سے  برتا ہے۔ ایک شعر سنیے                                                                                                                                      ؂

 وہ نیم جاں ہو ں کہ ہچکی سے  د م نکل جاتا                نہ یاد کی،  یہ ثبوتِ وفا دیا تم نے

            آئیے  اب آخر میں ’’نواب صاحب کی شخصیت اور شاعری ‘‘  کے  اس تذکرے  کے  مقطع کے  طور پر میں نواب صاحب کا ایک بے  پناہ مقطع آپکی سماعتوں کے  حوالے  کرتا چلوں۔ سنیے  اور شعر و سخن کے  اس گم گشتہ امام کی یاد تازہ کیجئے  کہ  ؂

میخانے  سے  مسجد میں غازیؔ کی پھر آمد ہے

مژدہ با مسلماناں گم گشتہ امام آیا

 

حضرت آذر سیمابی : شخصیت اور فن

(یہ مقالہ ۱۷/ ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۶/ مئی ۲۰۰۷ء کو پڑھا گیا)

               از : خواجہ ربّانی

            شہر ناگپور بجا طور پر اپنی اردو شاعری کی روایات پر فخر کر سکتا ہے  کہ اس کی سر زمین سے  ایسے  اساتذہ اُٹھے  جن کی خدمات کے  نتیجے  میں ناگپور کا نام برّصغیر کی ادبی تاریخ میں درج ہو گیا۔

            ڈاکٹر صوفی حمید اﷲ خاں آذرؔ سیمابی اُن اساتذۂ فن میں شمار کئے  جاتے  ہیں جنہوں نے  نہ صرف معیاری کلام سے  اہلِ ذوق کو نوازا بلکہ آئندہ نسل کو زبان کے  برتنے  کا سلیقہ سکھایا اور فنِ شاعری کے  گلشن کی آبیاری کی۔

۱۵/ جنوری  ۱۹۲۱ ء کو محمد یٰسین خاں کے  گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام حمید اﷲ رکھا گیا۔ محمد یٰسین خاں معاشی طور پر بہت خوش حال نہیں تھے  اس لئے  یہ مشیّت الٰہی تھی کہ حمید اﷲ خاں کا بچپن افلاس میں گزرے۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جس طرح سونا آگ میں تپ کر کندن ہوتا ہے  اسی طرح حمید اﷲ خاں نے  غربت میں بھی علم کی دولت کا اکتساب جاری رکھا اور اپنی شخصیت کو علم سے  سنوارا۔ دسویں جماعت تک تعلیم پوری کرنے  کے  فوراَ بعد انہیں مجبوراً انجمن ار دو مڈل ا سکول میں مدرسی کی ملازمت اختیار کرنی پڑی۔ دینی علوم کی تحصیل کے  لئے  آپ نے  مولانا مفتی عبدالرشید خان فتح پوری کا تلمّذ حاصل کیا۔ آپ سلوکِ تصوف کے  بھی راہی ہوئے  اور صوفی عبد الرؤف ساکنِ مؤناتھ  بھنجن سے  بیعت ہوئے۔ خانگی طور پر ناگپور یونیورسٹی سے  بی۔ اے۔ اور اردو ادب میں ایم۔ اے۔ کے  بعد ’اردو ادب میں تصوف، کے  عنوان سے  ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا جس پر ناگپور یونیورسٹی نے  انہیں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ سے  نوازا۔

            آپ  ۱۹۶۳ء میں پاکستان تشریف لے  گئے  اور وہیں کی شہریت اختیار کر لی۔ آپ کے  قیامِ پاکستان کے  زمانے  میں ناگپور سے  ربط برابر قائم رہا لیکن ان کی روح اور جسم کا ربط  ۱۹۹۷ء میں ٹوٹ گیا۔ ناگپور کے  ادبی حلقوں کے  لئے  ان کا انتقال ایک بڑا صدمہ تھا وہ ہر کام ادھورا چھوڑ کر اس جہاں سے  گزر گئے، چنانچہ خود کہا  :

ہر کام رہ گیا ہے  ادھورا  تو کیا کریں

دن بھی تو زندگی کے  بہت مختصر ملے

            آذر سیمابی کو زمانۂ طالب علمی سے  ہی شاعری سے  رغبت تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا ناطقؔ گلاؤٹھی اپنی فکر و فن سے  ایک دبستان ناگپور میں قائم کر چکے  تھے۔ اور منظور حسین شورؔ علم و ادب کے  چراغ جلا رہے  تھے۔ ۔ ۔ ۔ اُسی فضا میں آذرؔ سیمابی نے  اپنی فکر اور شاعری سے  ایک نئی شمع روشن کی۔  ۱۹۴۱ء میں آپ نے  سیمابؔ اکبر آبادی کی شاگردی اختیار کی۔ دھیرے  دھیرے  اُن کے  اطراف روشنی کا ایک ہالہ بننے  لگا اور پروانے  شمع کے  گردِ جمع ہونے  لگے۔

            ایک طرف حضرت طرفہؔ قریشی بھنڈاروی سیمابؔ کے  جوہروں سے  روشنی کشید کر کے  فانوسِ حرم روشن کر رہے  تھے  تو دوسری طرف آذرؔ سیمابی  پگھلی ہوئی چاندی یعنی آبِ سیم سے  شاعری کا نیا صنم کدہ بنا رہے  تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت آذرؔ کے  نام کی رعایت سے  ان کی شعری خدمات کو ’’شاعری کا صنم کدہ بنانا‘‘ کہا جا سکتا ہے  لیکن حقیقتاً حضرت آذرؔ سیمابی صوم و صلواۃ کے  پابند ایک ذاکرِ تہجّد گزار تھے۔ وہ تصوّف اور عرفان کی منزلوں کے  راہی تھے  اس لئے  ان کی فکر اور شاعری میں توحید اور معرفتِ الٰہی کے  انوار کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔

            ایک جگہ فرماتے  ہیں :  ؂

اے  نگاہِ شوق اب تو کچھ نہ کچھ جرأت دِکھا                طورِ دل تک لا چکا ذوقِ کلیمانہ مجھے

            آذرؔ سیمابی شاعری کے  تقاضوں کو پورا کرنے  کے  لئے  زبان اور اس کے  برتنے  کے  اصولوں سے  انحراف کو پسند نہیں کرتے  تھے۔ زبان و ادب میں تحقیق و مطالعہ آپ کا مستقل شغل تھا اس لئے  وہ اپنے  اشعار میں الفاظ اور محاوروں کو بہت احتیاط اور اہتمام سے  استعمال کرتے  تھے۔ مضمون کی رعایت سے  الفاظ کا رکھ رکھاؤ ان کے  یہاں ایک عجیب سا تاثر پیدا کرتا ہے۔ کہتے  ہیں    ؂

آذرؔ کچھ اس طرح سے  وہ جلوہ نما ہوئے

جلوے  ہی سامنے  تھے  جہاں تک نظر گئی

            ان کی شاعری میں زندگی کی مقصدیت کا واضح تصور پایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے  کہ اکثر زندگی گزارنے  والے  اس سر نہاں تک نہیں پہنچ سکتے  اور زیست کو A time segment without purposiveness سمجھتے  ہیں لیکن آذرؔ کہتے  ہیں  :

اُس کا عنوان جنونِ غم ہستی ہو گا

جس فسانے  کی حقیقت کا مجھے  ہوش نہیں

ایک اور جگہ وجود اور اس کی مقصدیت کے  لئے  کہا ہے  :   ؂

تعمیرِ کائنات میں کام آ رہا ہوں میں

دنیا سمجھ رہی ہے  مٹا جا رہا ہوں میں

حضرت آذرؔ سیمابی عشق کو عرفانِ ذات کا ذریعہ سمجھتے  تھے  کہتے  ہیں کہ    ؂

میرا وجود برزخِ  راز و نیاز ہے

پیغامِ عشق حسن کو پہنچا رہا ہوں میں

            قبائے  زندگانی کی شکستگی، جسم اور روح کو باندھنے  والے  تارِ نفس کی نزاکت، محبوب کی خواہش کا احترام اور مضمون کی رعایت سے  الفاظ کا انتخاب اس شعر کو عشقِ حقیقی کی عظیم بلندی عطا کرتا ہے۔

            شعر دیکھئے   :   ؂

قبائے  زندگانی میں نہیں ہے  اور کچھ باقی

بس اک تارِ نفس ہے  حکم ہو تو توڑ دوں وہ بھی

حضرت آذرؔ سیمابی نے  اپنے  اطراف شاگردوں کی بھیڑ کبھی جمع نہیں کی۔ بہت چھان پھٹک کر با صلاحیت تلامذہ کو اپنے  حلقۂ شاگردی میں جگہ دی جن میں مولانا مصطفیٰ شائقؔ ، یونس انیسؔ ، ظفر کلیمؔ ، عاجزؔ ہنگن گھاٹی، نظیر احمد نظیرؔ مرحوم، محمد حسین شاغلؔ ، افضل حیدریؔ ، کلیم احمد کلیمؔ قابلِ ذکر ہیں۔

            حضرت آذرؔ سیمابی محض شاعر نہیں تھے  بلکہ اردو ادب کے  ایک محقق اور مقتدر زبان دان تھے  جو اشتقاق اور الفاظ کی اصل کا علم بھی رکھتے  تھے  اور آپ کو اردو نثر پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے  ناگپور سے  شائع ہونے  والے  ادبی جریدے  ’بنائے حق‘ اور ’نباّض‘ کے  مدیر کی حیثیت سے  بھی ادب کی خدمت انجام دی ہے۔   ۱۹۴۴ء میں آپ ایک ملک گیر ادبی انجمن ’ادبیہ سیمابیہ‘ کے  ناظم مقرر ہوئے۔ ترنّم حیدرآبادی کے  ساتھ مل کر آذرؔ سیمابی نے  ’سیماب لٹریری سوسائٹی، قائم کی تھی۔ ماہ نامہ ’شاعر‘ بمبئی کے  ماہانہ طرحی  مشاعروں میں آپ ہمیشہ شریک رہتے  تھے۔

            آذرؔ سیمابی آج ہمارے  درمیان موجود نہیں ہیں لیکن اُن کا فن آج بھی باقی ہے  اُن کی شمعِ سخن آج بھی ادبی محفلوں میں روشنی بکھیر رہی ہے۔

(نوٹ  :  اِس مقالے  کے  لئے  مواد جناب عاجزؔ ہنگن گھاٹی کے  ایک مضمون سے  لیا گیا ہے  جو ’اُردو ٹائمز۔ ممبئی‘ میں ۸/ ستمبر  ۲۰۰۶ء کو شائع ہوا تھا۔ )

 

طرفہؔ قریشی

(یہ مقالہ ۲۵ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۴/فروری ۲۰۰۸ء کو پڑھا گیا)

               از۔ ڈاکٹر شاکر حسین عبّاسی

            کسی بھی زبان کے  ادب کے  لئے  پچاس سال کا عرصہ اس لحاظ سے  کافی سمجھا گیا ہے  کہ اس دور میں ادب میں جو فکری شعوری، عروضی اور اظہاری تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ان کے  نتیجے  واضح طور پر ہمارے  سامنے  آ جاتے  ہیں۔ طرفہؔ قریشی پچاس سال پہلے  کے  شاعر ہیں جب ہم ان کی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس نکتہ کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔

            طرفہؔ قریشی کا شہر–آج کے  ناگپور سے  بہت مختلف تھا اور ادبی لحاظ سے  ممتاز بھی۔ وہ ناگپور کا ایسا دور تھا جس پر ہم بجا طور پر ناز کر سکتے  ہیں۔ مولانا ناطقؔ کا طوطی بول رہا تھا ان کی شاعرانہ عظمت اور علمی وقعت کے  سامنے  اچھے  اچھوں کا پتّہ پانی ہو جاتا تھا۔ ظفرؔ   ۲۰۰۸ائبریری ناگپور کا کلیم نے  اس دور کی اچھی تصویر کشی کی ہے  کہ  ؂

یہ شہر ناگپور ہے  ناطقؔ کا شہر ہے                   کم بولئے  جناب ذہانت کے  باوجود

            اس کا غیر شعوری طور پر یہ اثر تھا کہ شاعر اپنے  کلام پر ہر اعتبار سے  بار بار نظر ڈالتے  تھے۔ اسے  زیادہ سے  زیادہ نکھارتے  تھے۔ معتبر بناتے  تھے۔ اس طرح خود بخود شاعری کا معیار ہر لحاظ سے  بلند سے  بلند تر ہوتا چلا گیا۔ اس زمانے  کے  شاعروں پر نظر ڈالئے۔ شاطرؔ حکیمی، طرفہؔ قریشی،  حمید آذرؔ ، نواب غازیؔ ، یعقوب ساقیؔ ، ظفرؔ ناگپوری، شوکت جعفری، حافظ بیکسؔ ، نواب بلقیس خجستہ بیگم سب کے  یہاں الفاظ کی در و بست، خیال کی بلندی اور فن کی آبرو ملتی ہے۔ یہ اس زمانے  کے  شاعرانہ ماحول کی تربیت کا تمام اثر تھا۔

            شاعروں اور ادیبوں کی بے  تکلف محفلوں کے  لئے  جس طرح لکھنؤ کا امین آباد پارک اور دہلی کی جامع مسجد کو شہرت ملی۔ ناگپور میں اپنے  زمانے  کا آفتاب ہوٹل بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ مومن پورہ میں جیسے  ہی داخل ہوں مورچے  پر ہی یہ ہوٹل واقع تھا۔ عصر کے  بعد پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور میز اور کرسیاں سلیقہ سے  لگا دی جاتی تھیں۔ اس وقت کے  اکثر و بیشتر ادب کے  متوالوں کی بے  تکلف نشست یہیں جمتی تھی۔ میں نے  طرفہؔ قریشی کو سب سے  پہلے  یہیں دیکھا۔

            اوسط قد۔ منحنی جسم اور سر پر اونچی دیوار کی جناح ٹوپی۔ ۔ ۔ ترچھی لگی ہوئی۔ طرفہؔ صاحب پر جب بھی پہلی نظر پڑتی ٹوپی ہی ٹوپی نظر آتی۔ کچھ دیر کے  بعد معلوم ہوتا کہ ٹوپی کے  علاوہ انسانی خدوخال بھی موجود ہیں۔ ان کی پوری شخصیت میں ایک  تھما تھما سا۔ ایک دھیما دھیما سا انداز تھا۔ ان کی چال دھیمے  رفتار کی، ان کی گفتگو دھیمے  لَے  کی، کلام بھی سناتے  تو دھیمے  لہجے  میں۔ ان کی شاعری میں اونچے  نعرے ، اونچے  الفاظ، اونچا لہجہ اور اونچے  دعوے  کم ملتے  ہیں۔ ’’جس میں طوفاں نہیں آتا وہ سمندر ہوں میں ‘‘۔ ۔ ۔ ان کی شاعری میں استقلال اور استقامت کی ایک یکساں لَے  کا احساس ہوتا ہے  جو ان کی فکر و شعور کی پختگی اور ان کے  انداز کے  یقین کا نتیجہ ہے۔ جو کچھ کہا جا رہا ہے  اس پر اعتماد۔ ۔ جس طرح کہا جا رہا ہے  اس پر اعتماد۔ ۔ یہی ان کی شاعری کا بنیادی وصف ہے۔ جو بہت کم شاعروں کے  حصہ میں آیا ہے۔

            طرفہؔ قریشی کی ابتدائی ذہنی نشو و نما رسالہ ’’شاعر‘‘ کے  مطالعہ سے  ہوئی جس میں با قاعدہ ہر ماہ طرحی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ یہ علامہ سیمابؔ اکبر آبادی کا رسالہ تھا۔ یہی تعلق آگے  جا کر شاگردی کا وسیلہ بنا۔ استاد داغؔ دہلوی کے  جو نہ رتن مشہور ہوئے  اس میں سے  ایک سیمابؔ اکبر آبادی تھے۔ جن کے  طرفہؔ شاگرد ہوئے۔ داغؔ کے  دوسرے  رتن مولانا ناطقؔ ناگپور ہی میں موجود تھے  اور دنیا مانتی ہے  کہ مولانا ناطقؔ الفاظ سے  کھیلنے  میں کتنی ماہرانہ قدرت رکھتے  تھے۔ اس دور میں غزل میں اس کا عام استعمال تھا۔ طرفہؔ نے  بھی اس ہنر کو اپنایا۔ اس کو اپنانے  میں علامہ سیمابؔ سے  زیادہ مولانا ناطقؔ کی موجودگی اپنا اثر ڈال رہی تھی۔ یہاں صرف ایک مثال دونگا۔

            طرفہؔ کا شعر ہے   ؂

                                                اٹھا نہ رکھ حشر پر یہ جھگڑا عذاب کو اب ثواب کر دے

                                                وہاں یہ زحمت کسی کو کیوں ہو یہیں ہمارا حساب کر دے

            اور یہی مضمون مولانا ناطقؔ کے  یہاں دیکھئے۔ کہتے  ہیں۔ ۔ ۔

                                                ہوئی ختم عمر رواں جہاں،  وہیں رہ گیا و ہ لیا دیا

                                                سرِ حشر کس کا حساب دوں مجھے  آپ نے  ہی تھا کیا دیا

            یہ الگ بات ہے  کہ روانی کے  اعتبار سے  میزان کیجئے  تو استاد استاد ہیں اور شاگرد شاگرد۔ پھر بھی طرفہؔ نے  اس میں اپنا رنگ دکھایا ہے۔ اس ہنر کے  اور کچھ اشعار دیکھئے۔

دیکھا ہے  منہ کسی نے  خوشی کا، تو منہ دکھائے   رونا رہا ہے  سب کو غمِ روزگار کا

ہو گئی طرفہؔ بہت کہنہ بساطِ زندگی               پھینک لے  جا کر کہیں اس کو، کھڑا ہو، چل، اٹھا

اک عرضِ التفات پہ اب تک کھنچے  ہیں وہ                  اتنی سی بات نے  انھیں تلوار کر دیا

لگانے  جا رہا ہے  العطش کا تو کہاں نعرہ                        زباں باہر نکل آئے گی دیوانے، بیاباں کی

اللہ ری ان کی شوخیِ  رفتار کا  فسوں                محشر نے  آنکھ کھول دی، فتنے  اچھل پڑے

اس منصبِ جلیل کے  قربان جائیے               سر دار یوں کیا کہ سرِ دار کر دیا

            ایک اور شعر دیکھئے  شطرنج کے  کھیل میں بساط، شرط، پیدل اور مہرے  مخصوص الفاظ ہیں۔ طرفہؔ کی مشاقی دیکھئے۔

میں بساطِ شوق بچھاؤں کیا، غمِ دل کی شرط لگاؤں کیا

جو پیادہ چلنے  میں طاق تھے  وہ تمام مہرے  بکھر گئے

            طرفہؔ قریشی کا اصلی رنگ غزل میں ہی ابھرتا ہے  مگر ان کے  دور میں ادب میں گاہے  گاہے  جو نئے  رجحانات ابھرتے  رہے  ہیں انھوں نے  ان کا بھی اثر قبول کیا کہیں کم کہیں زیادہ۔ طرفہؔ قریشی کی جوانی کے  زمانے  میں ترقّی پسند تحریک کا غلغلہ بڑے  زور شور سے  اٹھا تھا۔ ایسے  ڈھول پیٹے  گئے  کہ دوسری آوازیں وقتی طور پر سہی اس میں دب کر رہ گئی تھیں۔ کچھ ادیب و شاعر وقتی طور پر متاثر ہوئے  کچھ ہمیشہ کے  لئے  اس کارواں کا حصّہ بن گئے۔ طرفہؔ نے  اثر قبول کیا۔ ان کا یہ قطعہ دیکھئے :

اک شعاع سرخ کر دے  گی اجالا ہر طرف      یہ جبال و دشت و صحرا آتشیں ہو جائیں گے

 اہلِ محنت کو ذرا سا مسکرا لینے  تو دو    جتنے  ہیں بے  حسن گوشے  سب حسیں ہو جائیں گے

                        مگر طرفہؔ اس غبار سے  جلد ہی باہر نکل آئے  کیوں کہ ان کا تجربہ بڑا تلخ تھا اور نتیجہ مایوس کن۔ انھوں نے  اس تحریک کو تنبیہ کی کہ :

                               یہ ترا نقصِ جلی، اے  انقلابِ عصرِ نو        آدمیت ختم ہو اور آدمی باقی رہے

            طرفہؔ غزل کے  شاعر تھے  لہٰذا ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کی اچھل کود کی بجائے  ان کے  اشعار میں ’’شعاعِ سرخ‘‘۔ ’’اہلِ محنت‘‘۔ ’’بے  حُسن گوشے ‘‘ اور ’’نقصِ جلی‘‘ جیسی ترکیبیں استعمال ہوئی ہیں۔ یہ ان کے  شعور کی پختگی اور فکر کی گہرائی کی غماز ہیں۔ کچھ اور شعر دیکھیے  جن میں غزلیت کے  لوازمات کے  ساتھ فکر و نظر کی بالیدگی بھی ملتی ہے۔

اک حرفِ مدعا سے  ہوئی کتنی آگہی      دنیا ذرا سی بات سے  پہچان لی گئی

گئی کچھ اس طرح، بے  درد نے  مڑ کر نہیں دیکھا              ابھی تک بے  وفائی یاد ہے، عمر گریزاں کی

بجھائے  تھے  جہان تُم نے  دیے  میرے  تبسم کے            ترستی ہیں وہ گلیاں آج تک جشن چراغاں کو

مری تخئیل میں بنتی نہیں بے  ربط تصویریں      مرا ہر شعر طرفہؔ فکر کے  سانچے  میں ڈھلتا ہے

      اپنے  پائے  عمل پہ جھک ناداں       سجدۂ شکر ماسوا کیا ہے ؟

رحمت کا ذکر رندوں میں کرنا نہ تھا تجھے           واعظ، اسی عطا پہ، خطا اور بڑھ گئی

            طرفہؔ قریشی کا پہلا مجموعۂ کلام ’’پہلی کرن‘‘ کے  نام سے  شائع ہوا۔ دوسرا مجموعۂ غزل ’’ نصف النہار‘‘ کے  نام سے  چھپا ڈاکٹر شرف الدّین ساحلؔ نے  تبصرہ کرتے  ہوئے  لکھا ہے  کہ ’’فکری لحاظ سے  پہلی کرن کا کلام صاف، سُتھرا، پاکیزہ اور لطیف ہے  لیکن بعد کے  مجموعوں میں یہ خوبی زائل ہو گئی ہے۔ ‘‘ مجھے  ڈاکٹر ساحلؔ صاحب کی رائے  سے  اتفاق نہیں ہے۔ پہلے  مجموعے  کا نام ہے۔ ’’پہلی کرن‘‘ یعنی ابتدا۔ دوسرے  مجموعے  کا نام ہے  ’’نصف النہار‘‘ یعنی عروج کی انتہا۔ اور دونوں کے  درمیان پچیس سال کا عرصہ ہے۔ کیا کوئی شاعر زندگی، وقت اور زمانے  کے  ارتقائی کارواں سے  کچھ بھی حاصل نہیں کرتا اور وہ بھی پچیس سال کے  طویل عرصہ میں ؟اور اگر واقعی ایسا ہے  تو پھر وہ شاعر، شاعر کہلانے  کا ہی مستحق نہیں۔ لیکن طرفہؔ کا دیوان ’’نصف النہار‘‘ ثابت کرتا ہے  کہ طرفہؔ قریشی شاعر تھے  اور قابل شاعر۔ جنہوں نے  زندگی کو جیا بھی اور وقت کی رفتار پر نظر بھی رکھی۔ ان کے  دیوان، ’’پہلی کرن‘‘ اور ’’نصف النہار‘‘ کو سامنے  رکھ کر موازنہ کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے  کہ وقت کے  ساتھ ساتھ طرفہؔ کی گرفت غزل پر مستحکم ہوتی چلی گئی، زبان نکھرتی گئی، الفاظ کی نشست کی باریکیوں سے  وہ آشنا ہوتے  چلے  گئے  اور تخئیل کی دھنک رنگ بکھیرنے  لگی۔ بے  شمار اشعار پیش کیے  جا سکتے  ہیں مگر میں یہاں تین اشعار پیش کروں گا۔ آپ خود دیکھیے  ذہنی طور پر شاعر کی پختگی اور بالیدگی۔ ’’پہلی کرن‘‘ کا شعر ہے :

جمالِ ابتدا ہو کر، جلالِ انتہا ہو کر     بشر دنیا میں آیا مظہرِ شانِ خدا ہو کر

            جو حضرات شاعری کا ذوق رکھتے  ہیں وہ آسانی سے  کہہ دیں گے  کہ یہ شعر بالکل حالیؔ کے  رنگ کا ہے۔ اب ’’نصف النہار‘‘ میں اسی موضوع کو دیکھیے :

مرا وجود ہے  اسرارِ کائنات کا دل     مذاقِ خلقتِ کون و مکاں کا حاصل ہوں

            یہ شعر سن کر ذہن بے  ساختہ ’’اقبالؔ ‘‘ کی طرف جاتا ہے۔ حالیؔ اور اقبالؔ میں کیا فرق ہے  یہ دنیا جانتی ہے۔ اس شعر میں ’’خلقتِ کون و مکاں ‘‘ سے  اضافت کے  ساتھ لفظ ’’مذاق‘‘ کو کتنا مقدس اور محترم بنا دیا۔ ایک اور شعر دیکھیے۔ ’’پہلی کرن‘‘ میں کہتے  ہیں :

                                ذکر غم پر وہ تبسم بھی نہ فرماتے  تو پھر                سن کے  پتّھر کی طرح خاموش رہ جاتے  تو پھر

            اور یہی بات جب ’’نصف النہار‘‘ میں کہتے  ہیں تو انداز دیکھئے۔

                        کہتا نہ تھا کہ عرضِ غمِ دل ہے  بے  اثر               لے  اے  شعورِ درد ، ترے  بات بھی گئی

            اس’’ شعورِ درد‘‘ میں جو کیفیت اور کرب ہے  بس اس کی شدّت محسوس کیجئے۔ ایک اور شعر ہے ’’پہلی کرن‘‘ کا۔ کہ

                  تجھ سے  غرض ہے  تیری حضوری سے  کام ہے            کونین میرے  سامنے  آئے  تو کیا کروں

                        لیکن جب ’’ نصف النہار‘‘ میں یہی خیال پیش کرتے  ہیں تو تیور دیکھئے۔

وہ عروج ہے  کہ فرشتے  بھی نہ اٹھا سکے  یہاں سر کبھی

کوئی کیسے  آنکھ ملا سکے  ترے  در کے  سجدہ گزار سے

            ان اشعار کا موازنہ بتا رہا ہے  کہ ’’پہلی کرن‘‘ کے  مقابلے  میں  ’’نصف النہار‘‘ میں شاعر کے  تخئیل کی اڑان کتنی بلند ہوئی اس کا شعور کتنا جِلا پا گیا اور پیش کرنے  کا ہنر کتنا نکھر گیا۔ اس لئے  انھوں نے  اعلان کیا کہ۔

نہیں ہے  کیا میرے  پاس طرفہؔ خدا نے  کیا کچھ نہیں دیا ہے

کرے  گا کوئی طلب جو مجھ سے  شعور دونگا شعار دونگا

            اور جنابِ عالی۔ ۔ ۔ شاعری۔ ۔ ۔ ۔ نام ہی ہے  شعور اور شعار کے  مرکب کا۔ کہتے  ہیں۔

ہمارے  دم سے  سب کچھ ہے  نہ ہوں گے  ہم تو اے  ساقی

یہ مینا، یہ سبو، یہ خم ُ، یہ ساغر، کون دیکھے  گا

            ان کی بعض غزلیں تو ایسی ہیں کہ پوری کی پوری غزل، غزلیت میں غرقاب ہے  اور بے  ساختہ مومنؔ کی یاد دلاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مچلتی ہوئی غزل دیکھئے  کتنی سجل، شگفتہ اور شاداب ہے۔ کہتے  ہیں۔

یہ تن تن کے  چلنا، یہ تیور بدلنا، قیامت کو سائے  میں لے  کر نکلنا

فلک ہے  کہ سہما ہوا سا کھڑا ہے  زمیں ہے  کہ ڈر سے  دبی جا رہی ہے

تم اچھے  تمھاری ہر اک بات اچھی، ہنسی تم پہ صدقے، خوشی تم پہ قرباں

مگر اپنی چتون کے  بل تو نکالو، یہ کچھ اور ہی چغلیاں کھا رہی ہیں

یہ طرفہؔ تمہیں آج کیا ہو گیا ہے، یہ کس رو میں بہتے  نظر آ رہے  ہو

گیا اب کہاں وہ تخیّل تمہارا، غزل آج کس رنگ میں جا رہی ہے

            طرفہؔ کیا بتاتے  کہ انہیں کیا ہو گیا ہے۔ انسان کی زندگی میں ایسا لمحہ آ ہی جاتا ہے  جب وہ دل کو کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ پروفیسر منشاء الرحمان خاں منشاء ؔ نے  ان کے  ایک اور مجموعہ کلام ’’فانوس حرم‘‘ میں اپنی رائے  لکھی ہے  کہ۔ ’’شعور کی پختگی اور شعر گوئی کی مہارت جہاں ان کی غزلوں میں امتیازی طور پر پائی جاتی ہے  وہیں نعتوں میں بھی ان کی جلوہ گری جا بجا نظر آتی ہے۔ ‘‘

            طرفہؔ قریشی کے  کلام پر یہی تبصرہ صحیح، صائب اور صحت مند ہے۔ ہر سخن فہم اور سخن شناس طرفہؔ کا کلام پڑھ کر ماننے  پر مجبور ہو گا۔ بات ’’فانوس حرم‘‘ کی آ گئی ہے  تو ایک قصیدہ کا ایک بند بھی ملاحظہ کیجئے۔ حضور اکرمؐ کی دنیا میں آمد ہے  اور شاعر نے  نقشہ کھینچا ہے۔

رات کی پلکوں پہ مہتابی اجالے  رولتی                        ہر سیاہی میں، جمالِ حسن فطرت گھولتی

چاند کی زرّیں شعاعوں کو پروں پر تولتی                     قصرِ باطل میں حقیقت کے  دریچے  کھولتی

عرش سے  اُتری زمیں پر ناز فرماتی ہوئی

کفر کر رُخ کو، کرن ایماں کی،  جھلساتی ہوئی

            مہتابی کے  اجالے  رولنا، جمالِ حسن فطرت گھولنا، پروں پر تولنا، حقیقت کے  دریچے  کھولنا۔ کیا یہ ترکیبیں اظہار نہیں ہیں کہ شاعر کو الفاظ پر کتنی قدرت اور اندازِ بیان پر کتنی مہارت حاصل ہے۔ جہاں ترکیبیں بے  مثال ہیں تو تخئیل کی رو بھی رواں دواں ہے۔

            ان کی نظموں میں بھی غزل کی نغمگی اور جذباتی فضا خود بخود بنتی چلی جاتی ہے  ان کی ایک نظم ہے۔ ’’آ میرا وطن دیکھ‘‘ پوری نظم مخمور اور مسرور فضا سے  معمور ہے۔ ایک بند دیکھئے  کہ کس جذبے  کی مٹھاس، الفاظ کی شیرینی میں پگھل رہی ہے۔

                        آ میرا وطن، میرا وطن، میرا وطن دیکھ

                                    بال اپنے  یہاں بنتِ عنب کھول رہی ہے

                                    تسنیم کی بوندوں کو گھٹا رول رہی ہے

                                    زمزم کے  پیالوں میں شکر گھول رہی ہے

                        او خانہ بر اندازِ چمن، نازِ چمن دیکھ

                        آ میرا وطن، میرا وطن، میرا وطن دیکھ

            یہ تفصیل اور تجزیہ ظاہر کرتا ہے  کہ طرفہؔ قریشی قادر الکلام شاعر تھے۔ زبان آشنا تھے۔ شعر کہنے  کا فن جانتے  تھے۔

مگر یہ حقیقت بنیادی ہے  کہ وہ غزل کے  شاعر تھے۔ اور غزل کا شاعر ہونا خود ایک کمال ہے۔ غزل کو غزل کی طرح کہنے  میں شاعر کا

تخیّل، الفاظ پر اس کی گرفت اور مصرعوں میں ان کی مینا کاری۔ محنت بھی چاہتی ہے  اور جودت بھی۔ اور طرفہؔ کو قدرت نے  یہ دونوں چیزیں عطا کی تھیں۔ لہٰذا انھوں نے  اردو کو ’’ نصف النہار‘‘ جیسا دیوان دیا۔ یہی ایک دیوان ان کے  اس دعوے  کو سچ ثابت

کرنے  کے  لئے  کافی ہے  کہ  ؂

میں تخت نشینِ ادب و شعر ہوں طرفہؔ

برسوں مجھے  یاد، اہلِ قلم کرتے  رہیں گے

 

حمیدؔ ناگپوری

(یہ مقالہ پانچویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۲/ اپریل ۲۰۰۶ء کو پڑھا گیا)

               از۔ محمد سکندر حیات

            سب سے  پہلے  مبارکباد پیش ہے  صدر مسلم لائبریری کے  عہدیدارو اراکین کی خدمت میں کہ انھوں نے  ماہانہ شعری نشستوں کا اہتمام کیا اور اُسے  استواریت سے  چلانے  کی ذ  مّہ داری جناب مشتاق احسن اور ان کے  رفقاء کار کو سو نپی جسے  وہ انتہائی خوش اسلو بی سے  پوری کر رہے  ہیں۔ ان شعری نشستوں کا مقصد جہاں نئے  شعری رجحانات سے  روشناس ہونا ہے  وہیں یہ مقصد بھی زیر نظر ہے  کہ ہم ناگپور کے  اساتذہ کے  شعری تخلیقات سے  استفادہ حاصل کریں۔

            حمیدؔ ناگپوری کا نام شعری حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ البتہ ہماری نئی نسل کو شاید ان کی شاعرانہ عظمت و حسیت کا علم نہ ہو۔ اس زمانہ میں شاید ہی کوئی ادبی نشست ہوتی جس میں حمیدؔ صاحب موجود نہ ہوتے۔ وہ وسیع النظر۔ بلند خیالات کے  حامل۔ پیکر اخلاص و محبت تھے۔ ان کے  کلام میں فطری بہاؤ اور آمد ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ ان کے  اشعار آسانی سے  دل میں اُتر جاتے  ہیں اور زبان زد ہیں۔ آل احمد سرور کے  یہ جملے  ان کے  محاسن کلام پر روشنی ڈالتے  ہیں۔

            ’’ میں وسطِ ہند کے  اِس شاعر سے  اب تک واقف نہ تھا۔ کلام پڑھا تو حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ حیرت، کلام کی خوبی پر اور افسوس اپنی لا علمی پر۔ حمیدؔ ناگپوری کی فکر پر تغزل کا گہرا اثر ہے۔ حسن اظہار اور لب و لہجہ کی سنجیدگی اور روانی کی وجہ سے  ان کے  بیشتر اشعار مقبول ہیں اور زبان زد ہیں۔ ‘‘

            پیر مغاں خم خانۂ سخن حضرت مولیٰنا ناطقؔ گلاؤٹھوی  اپنے  تاثرات میں رقم طراز ہیں کہ ’’ انسان عمر بھر غلط فہمیوں کا  شکار ہوتا رہتا ہے۔ حمیدؔ صاحب کی ابتدائی شاعری میں حسنِ کلام و بیان کی خوبیوں کو دیکھ کر اور ان کی محدود علمی قابلیت کا اندازہ لگاتے  ہوئے  میں یہ سمجھتا تھا کہ حمیدؔ صاحب کو ضرور کوئی دوسرے  صاحب لکھ دیتے  ہوں گے۔ مگر جب نظر آیا کہ حمیدؔ صاحب کے  کلام اور حسنِِ بیان کی خوبیاں روز افزوں ہیں، میں نے  یہ خیال کیا کہ ان خوبیوں کے  ساتھ لکھنے  والا دوسرا کوئی شخص ناگپور میں موجود نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سوچا کہ اگر اس عظمت کے  ساتھ کوئی دوسرا لکھنے  والا ہوتا تو وہ خود ضرور میدانِ شاعری میں آ گیا ہوتا۔ ان کا کلام جو میں نے  سنا اسے  محاسنِ لفظی اور معنوی سے  پُر پایا۔ اس لئے  میری وابستگی حمیدؔ صاحب سے  بڑھتی گئی۔ ‘‘

            مولانا ناطقؔ نے  آج تک کسی صاحب کی تصنیف پر کوئی مقدمہ نہیں لکھا۔ لیکن حمیدؔ ناگپوری کے  مجموعہ کلام ’’حرفِ خاموش‘‘ پر اپنے  تاثرات ضرور قلمبند کئے۔ اس سے  بھی حمیدؔ صاحب کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف  ہوتا ہے۔ ان کی شاعری زندگی کے  تلخ حقائق پر محیط ہے۔ انھوں نے  جو محسوس کیا ا سکا بر محل اظہار کیا۔ کسی مخصوص طرزِ فکر سے  وابستگی یا کسی نظریے  کی تبلیغ نہیں کی۔ محبت ان کا شعار تھا۔ ؂

حمیدؔ مجھ کو زمانہ مٹا نہیں سکتا

بنا لیا ہے  محبت کو زندگی میں نے

            حمیدؔ صاحب کے  مجموعہ کلام ’ حرف خاموش، کو ادبی حلقوں نے  سراہا۔ اس میں نظمیں۔ غزلیں۔ قطعات۔ رباعیات شامل ہیں۔ حرف خاموش پر پروفیسر ڈاکٹر سید رفیع ا لدین صاحب دامت برکاتہ کا تبصرہ اس طرح روشنی ڈالتا ہے۔ ’’ حرفِ خاموش میں جو رنگ غالب ہے  وہ ان کا تغزل ہے۔ شاعر کا مذاق نہایت شستہ، پاکیزہ اور رومانیت آمیز ہے۔ نکھرے  ستھرے  جذبات کیلئے  حسنِ اظہار کا جامہ بھی نہایت سادہ اور لطیف ہے۔ ان کی شاعری پامال راہوں سے  گریزاں ہے  اور رسمی قید و بند سے  آزاد ہے۔ ‘‘

            ان کے  کلام میں زمانہ کی شکایت کے  مضامین جا بجا پائے  جاتے  ہیں۔ جو تغزل کے  رنگ میں حسنِ اظہار کا اچھا نمونہ ہے۔

حمیدؔ رسمِ زمانہ سے  ہم نہ تھے  واقف کسے  خبر تھی کہ اپنے  بنیں گے  بیگانے

پوچھو نہ کس عذاب میں کاٹی ہے  زندگی           ناکام حسرتوں کا سہارا لئے  ہوئے

            حوادثِ زمانہ نے  شاعر کو بے  حد حساس بنا دیا تھا۔ اس کا اظہار وہ اس طرح کرتے  ہیں۔ ؂

فکر پابندیِ حالات سے  آگے  نہ بڑھی              زندگی قیدِ مقامات سے  آگے  نہ بڑھی

سر خوشی بن نہ سکی زہر الم کا تریاق                  زندگی تلخیِ حالات سے  آگے  نہ بڑھی

            حمیدؔ کے  یہاں چھوٹے  پیرائے  میں اخلاقی مضامین نہایت خوبصورتی کے  ساتھ ادا ہوتے  ہیں۔

الفت میں یہ نفرت کا ابھرنا کیسا

تفریق کی راہوں سے  گزرنا کیسا

اب تک یہ سمجھ میں نہیں آیا اپنی

انسان کا انسان سے  ڈرنا کیسا

کردار ہے  کیا چیز خبر ہو تو سہی

اس راز سے  آگاہ بشر ہو تو سہی

دنیا سے  برائی کا تصوّر مٹ جائے

عیبوں پہ مگر اپنے  نظر ہو تو سہی

یہ تفرقۂ شیخ و برہمن کیوں ہے

یہ برق دوئی شامت گلشن کیوں ہے

مذہب ہے  اگر صدق و محبت کی دلیل

انسان پھر انسان کا دشمن کیوں ہے

نا مساعد حالات کے  باوجود وہ مایوس نہیں ہیں۔ انھوں نے  امید کا دامن تھامے  رکھا ہے۔ دیکھئے  یہ شعر  ؂

حمیدؔ شامِ غریباں کا کس لئے  شکوہ          وہ دیکھ جانبِ منزل چراغ جلتا ہے

اور وہ اس طرح سکون بھی تلاش کرتے  ہیں۔

سکونِ دل کہاں انساں کو حاصل           سوائے  زیر دامانِ محمد

            حمیدؔ صاحب کا کلام اپنے  شعری محاسن کی وجہ سے  اربابِ علم و ادب سے  دادِ تحسین حاصل کرتا رہے گا اور لوگ انہیں یاد

کرتے  رہیں گے۔

ستم رسیدۂ الفت کوئی حمیدؔ بھی تھا    زمانہ دے  تمھیں فرصت تو یاد کر لینا

 

حافظ محمد ولایت اﷲ حافظ

               از  :  ڈاکٹر محمد اظہر حیات

(ریڈر  (اردو)،  یشودا گرلز آرٹس اینڈ کامرس کالج، ناگپور)

            ناگپور میں اردو زبان و ادب کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے  ہی ہمیں ایسے  نام مل جائیں گے  جن کے  علم و فضل کی بنیاد پر ہندوستان میں ناگپور کو پہچانا جاتا ہے۔ ان چند ہستیوں میں حافظ محمد ولایت اﷲ کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔

            حافظ صاحب ہندوستان کے  سابق نائب صدر اور سپریم کورٹ کے  چیف جسٹس محمد ہدایت اﷲ صاحب کے  والد بزرگوار تھے۔ ان کے  آباء و اجداد کا وطن بنارس تھا۔ حافظ صاحب کے  والد کا نام محمد قدرت اﷲ تھا۔ وہ زود گو شاعر کثیر التصانیف بزرگ اور با اثر شخصیت کے  مالک تھے۔ غدر کے  زمانے  میں قومی و ملکی افراتفری کے  سبب انہوں نے  ہجرت کر کے  بھوپال کے  پاس سیہور نامی شہر میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے  قدرت اﷲ ریاست بھوپال میں کئی اہم منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے  چار بیٹے  تھے۔ محمد ولایت اﷲ ان کے  دوسرے  نمبر کے  فرزند تھے۔

            محمد ولایت اﷲ ۴/ ستمبر ۱۸۷۳ء کو سیہور میں پیدا ہوئے۔ صرف نو سال کی عمر میں انھوں نے  قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔ اس سے  ان کی غیر معمولی ذہانت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم سیہور میں حاصل کی بعد ازاں جبلپور سے  انٹرنس کے  امتحان میں نمایاں کامیابی کے  بعد اعلیٰ تعلیم کے  لیے  محمڈن اینگلو اور ینٹل کالج علی گڈھ میں داخلہ لیا۔  ۱۸۹۵ء میں بی۔ اے۔ کا امتحان امتیازی نمبروں سے  پاس کیا۔

            ایم۔ اے۔ او  کالج میں حافظ صاحب کا زمانہ طالب علمی بڑا یادگار رہا۔ ایک طرف مولانا محمد علی جوہرؔ ، مولانا شوکت علی، بابائے  اردو مولوی عبدالحق وغیرہم جیسے  با کمال حضرات ان کے  ہم مکتب تھے  تو دوسری طرف سر سید احمد خاں، مولانا الطاف حسین حالی، محسن الملک اور مولانا شبلی نعمانی جیسی قد آور شخصیات ابھی بقید حیات تھیں۔ جن کے  افکار و خیالات سے  پوری قوم متاثر ہو رہی تھی۔ حافظ ولایت اﷲ کو بھی ان بزرگوں کی صحبت نصیب ہوئی۔ جس سے  ان کے  خیالات میں وسعت پیدا ہوئی اور فطری صلاحیتوں کو جِلا ملی۔

            ۱۸۹۰ء میں بی۔ اے۔ پاس کرنے  کے  بعد حافظ صاحب اپنے  وطن لوٹ آئے۔ اور روزگار کی تلاش میں  ۱۸۹۷ء میں ممالک متوسط و برار کی طرف رخ کیا۔ یہاں پہلی تقرری چاندہ میں تحصیلدار کی حیثیت سے  ہوئی۔ بعد ازاں ایڈیشنل کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے  عہدے  پر فائز ہوئے۔  ۱۹۲۹ء میں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے  ریٹائر ڈ ہوئے۔ اور ناگپور کو ہمیشہ کے  لیے  جائے  مسکن بنا لیا۔

            حافظ صاحب نے  سرکاری ملازمت کے  فرائض نہایت حسن و خوبی کے  ساتھ انجام دئیے  جس کے  صلے  میں حکومت نے  انہیں خان بہادر ’قیصر ہند، آئی ایس او اور بیج آف سینٹ جونس  ایمبولبنس جیسے  گراں قدر خطابات سے  سرفراز کیا۔

            حافظ صاحب خوش مزاج ظریف طبیعت اور بذلہ سنج تھے۔ بے  تکلّف دوستوں کی محفل میں ان کی گلفشانیِ گفتار سننے  کے  قابل ہوتی۔ ان کی ظریفانہ طبیعت کا اندازہ اس واقعہ سے  لگایا جا سکتا ہے  جس کے  راوی مرحوم پروفیسر ڈاکٹر سید عبدالرحیم صاحب تھے۔ انہوں نے  کہا کہ ایک شام حافظ صاحب دوستوں کے  ساتھ اپنے  مکان کے  سامنے  باغ میں بیٹھے  تھے۔ ایک شادی شدہ جوڑا سامنے  کی سڑک پر سے  گزر رہا تھا ایک دوست نے  حافظ صاحب کی طرف معنی خیز نظروں سے  دیکھا اور کہا حافظ صاحب آپ کو بھی اسی طرح جوڑے  کے  ساتھ گھومنا چاہئے۔ حافظ صاحب کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی انھوں نے  برجستہ کہا ’’لوگ کہیں گے  کیا اس لیے  ایسی صورت کو چالیس سال تک پردے  میں رکھا تھا۔ ‘‘

            طبیعت کی شگفتگی اور بذلہ سنجی کا اثر کلام میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

            ’’سوز و گداز‘‘ کے  نام سے   ۱۹۴۱ء میں ایک مجموعہ کلام شائع ہوا۔ ۳۳۰ صفحات پر محیط اس مجموعہ میں غزلیں، نظمیں، قصائد اور قطعات شامل ہیں۔ حافظ صاحب کی دوسری تصنیف ’’تعمیرِ حیات‘‘ اگست  ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں اصلاحی پہلو غالب ہے۔

            حافظ صاحب کا مخصوص میدان یوں تو نظم گوئی تھا۔ اس میں وہ مزاحیہ نظموں کے  بادشاہ کہے  جا سکتے  ہیں۔ لیکن اردو کے  بیشتر شعراء کی طرح انہوں نے  بھی شعر گوئی کی ابتداء غزل سے  ہی کی تھی۔ ’’سوز و گداز‘‘ میں غزلیات کے  تحت ۵۳ غزلیں شامل ہیں۔ سادگی، سلاست، ندرت خیال اور جدّت تخّیل ان کی غزلوں کے  نمایاں اوصاف ہیں۔ مثال کے  طور پر یہ چند اشعار دیکھئیے  :

عشق کہتا ہے  میرے  نالوں سے

دل لگی تھی جو دل لگا بیٹھے

دل یہ کہتا ہے  بار بار مرا

کوئی کرتا ہے  انتظار مرا

غیر کی اتنی کہاں ہمّت کہ وہ آئے  یہاں

کس طرح ہم کو یقیں ہو آپ کا ایما نہ تھا

ناصح کو نہ سمجھا تھا کہ کم ظرف ہے  ایسا

کیا دھوم مچائی ہے  جو تھوڑی سی پلا دی

            دنیا کی بے  ثباتی اور شہر خموشاں کی ویرانی پر کیا ہی بلیغ تبصرہ ہے    ؂

ہزاروں نامور آ کر بسے  شہر خموشاں میں

مگر اس سر زمیں کی پھر بھی ویرانی نہیں جاتی

            حیات بعد الممات کی گتھی کس طرح سلجھاتے  ہیں  ؂

مرنا جسے  کہتے  ہیں وہ ہے  زیست کا آغاز

ملتی ہے  بقا سب کو اسی راہ فنا میں

            حافظ صاحب نے  سہل ممتنع میں بڑی کامیاب غزلیں کہی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے   :

راہ پر مڑ کے  کیوں مجھے  دیکھا

کی محبت کی ابتداء تو نے

نہیں پہلو میں جب قیام و قرار

اے  خدا کیوں یہ دل دیا  تو نے

            اس بحر میں ایک حمدیہ غزل کے  یہ اشعار بھی دیکھیے  :

مجھ کو پیدا کیا خدا تو نے

اور سب کچھ عطا کیا تو نے

دور پھینکا نہ بعد مردن بھی

پاس اپنے  بلا لیا تو نے

            حافظ ولایت اﷲ حافظ کا اصلی جوہر تو میدانِ ظرافت میں کھلتا ہے۔ اکبر الہ آبادی کے  رنگ میں انھوں نے  خوب کہا ہے۔ اکبر کا تتبع اور تقلید انھوں نے  کچھ اس طرح کیا کہ لوگ انہیں اکبر ثانی کہنے  لگے۔ سوز و گداز میں مزاحیات کا الگ عنوان قائم کیا گیا ہے  جس میں مختلف عنوانات کے  تحت ۸۶ نظمیں شامل ہیں۔ اکبر کی طرح وہ بھی مسلمانوں کی زبوں حالی، اخلاقی پستی اور اسلامی اقدار سے  بیزاری پر کڑھتے  ہیں۔ مولویوں اور علماء کی بے  حسی پر جا بجا طنز کرتے  ہیں۔

            اکبر نے  جن موضوعات پر اشعار کہے  ہیں کم و بیش وہی موضوعات ہمیں حافظ صاحب  کے  کلام میں بھی نظر آتے  ہیں۔ مثلاً پردہ، حالات حاضرہ، زبان، مسلمانوں کی زبوں حالی  فیشن پرستی اور قوم و وطن کی محبت کے  موضوعات دونوں کے  یہاں مشترک نظر آتے  ہیں۔

            پردہ کے  متعلق اکبر الہ آبادی کے  اشعار زبان زد خاص و عام ہیں۔

بے  پردہ کل جو آئیں نظر چند بی بیاں

اکبر زمیں میں غیرت قومی سے  گڑ گیا

پوچھا جو ان سے  آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے  لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

            حافظ صاحب کے  یہ اشعار دیکھیے

ایک دن وہ تھا کہ ہر جانب یہ ہوتی تھی پکار

بیبیاں پردہ میں ہو جائیں کہ مرد آتے  ہیں یاں

پھر یہ دیکھا لوگ کہتے  تھے  بہ آواز بلند

مرد کر لیں اس طرف منہ آ رہی ہیں بیبیاں

مرد اب رہتے  ہیں پیچھے  بیبیاں ہیں پیش پیش

اور سب ان کے  لیے  کرتے  ہیں خالی کُرسیاں

عام جلسوں میں صفِ اوّل میں ہے  ان کی نشست

بیوی لکچر دیتی ہیں خاموش بیٹھے  ہیں میاں

شکل جس کی نہ ہو اچھی وہ رکھے  پوشیدہ

اچھی صورت کے  لیے  حاجتِ پردہ کیا ہے

            شیخ واعظ، مولوی پنڈت کی ظاہرداری و ریاکاری اکبر کا محبوب موضوع تھا۔ حافظ صاحب نے  بھی اس موضوع پر خوب شعر کہے  ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے   :   ؂

شیخ کی عادت ہوئی اتنی خراب

ان کو زمزم بھی کشیدہ چاہئیے

شیخ صاحب برسر منبر بہت آساں ہے  وعظ

پستیِ اخلاق کی حالت مگر کیسے  بنے

آپ نے  اپنا بنا رکھا ہے  دستور العمل

دعوتیں کھائیں لیا نذرانہ اور چلتے  بنے

            اکبر کے  یہاں سماجی برائی چندہ اور غیر ضروری کمیٹیاں اس موضوع پر بھی اشعار ملتے  ہیں۔ اکبر کی طرح حافظ صاحب کی گلفشانی دیکھئیے  :  ؂

چلتے  ہیں سارے  کام چندوں سے

صرف ان کا حساب ہے  غائب

لسٹ چندوں کی چند روزہ ہے

بعد میں وہ کتاب ہے  غائب

نقد تحویل کے  امین بنے

اب جو پوچھو جواب ہے  غائب

سخت مشکل حساب میں یہ ہے

کہ وہاں بے  حساب ہے  غائب

            ایک طویل نظم ’’تذکیر و تانیث  بزُبان اردو‘‘ کے  منتخب چند اشعار ملاحظہ کیجئے  :   ؂

بہت پر لطف گو اردو زباں ہے

مذکر اور مونّث کی ہے  دقّت

حجاب و پردہ گھونگھٹ اور برقع

مذکر ہے  یہ کل سامانِ عورت

مونث ہے  جناب شیخ کی ریش

ہو کچھ بھی اس کی مقدار و طوالت

مذکر ہو گیا گیسوئے  جاناں

ہوئی اس کی طوالت کی یہ عزّت

دُوپٹّہ عورتوں کا ہے  مذکر

مونث کیوں ہے  دستارِ فضیلت

فراق و وصل ہیں دونوں مذکر

مونث ہے  مگر واعظ کی صحبت

ہوئیں جب مونچھ اور داڑھی مونث

تو پھر کرنا پڑا دونوں کو رخصت

            حافظ صاحب ہندی اور انگریزی کے  الفاظ بڑی بے  تکلفی سے  استعمال کرتے  تھے  ایک طویل طنزیہ نظم ’’نوجوانوں سے  خطاب‘‘ کا مطلع بھی دیکھئے :

نوجواں تجھ کو سزاوار ہو یورپ کا چلن

یہ دعا ہے  کہ مبارک ہو تجھے  یہ فیشن

            اس نظم میں ڈائمن، مینشن، سیمی کولن، کٹھن، آرگن، رشین، لوشن، انجن، جرمن، لندن، لیٹن، کچن، ٹفن، سمّن، رن، وغیرہ انگریزی قوافی کا استعمال بڑی خوبی سے  کیا گیا ہے۔ ۷۲ اشعار کی اس نظم میں ۶۰ مقامات پر انگریزی لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

            حافظ صاحب کے  ہاں طنز و مزاح ایک خاص رنگ و آہنگ کا حامل ہے۔ وہ مزاج کے  ساتھ طنز کی آمیزش اس طرح کرتے  کہ قاری  زیر لب مسکراتا اور پھر سنجیدہ بھی ہو جاتا۔ آخر میں شاعر کے  جذبہ خلوص کا قائل ہو جاتا۔ در حقیقت حافظ صاحب کے  کلام کی یہی خوبی انہیں وسط ہند کا اکبر ثانی بناتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے  کہ ناگپور میں حافظؔ صاحب طنز و ظرافت کے  نقشِ اوّل ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ اب تک ان کا کوئی ثانی نہیں ہے  تو شاید غلط بھی نہ ہو۔

            حافظؔ صاحب نے  پیرانہ سالی کے  سبب ۱۲/ نومبر ۱۹۴۹ء کو رحلت فرمائی۔ اس وقت ان کی عمر  ۷۶/ برس تھی۔ زری پٹکا قبرستان، ناگپور میں تدفین عمل میں آئی۔ بیدلؔ نے   تاریخ وفات نکالی :

ہے  مرگ حضرت حافظ گراں بار

ادب کی محفلیں تھیں ان کے  دم سے

ہوئے  بے  چین سب اپنے  پرائے

جدائی ہے  بزرگِ محترم سے

بزرگوں کی گئی آخر نشانی

جہاں خالی ہوا اہلِ قلم سے

دعا بیدلؔ کی ہے  یہ بہتر تاریخ

الٰہی بخش دے  ان کوکر م سے

’’شاطرؔ حکیمی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نہ ہوتا تو زندگی کیا تھی‘‘

               از۔  : خلیل انجمؔ کامٹی

(یہ مقالہ ۲۳/ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۹/ دسمبر ۲۰۰۷ء کو پڑھا کیا)

اشارہ ان کی جانب سے  اگر پہلے  نہیں ہوتا                 تو کیوں برباد کرتے  مفت میں ہم زندگی اپنی ؟

            ایک شعر کی صحیح تعریف یہ ہے  کہ اسے  سنتے  یا پڑھتے  ہی وہ ہمارے  دل میں اتر جائے۔ اس کا کوئی لفظ اپنی جگہ سے  ہٹایا جائے  اور نہ ہی اس میں کسی ترمیم و اصلاح کی گنجائش نظر آئے۔ غرض وہ ایسی ڈھلی ڈھلائی شئے  ہو جو کسی خوبصورت مجسمہ سے  کم نہ ہو جسے  دیکھ کر ہم بیساختہ کہہ اٹھیں ’’واہ!کیا چیز ہے  !‘‘۔ اس سے  بہتر تعریف کسی معیاری شعر کی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر شعر پڑھنے  یا سننے  کے  بعد ہم کو یہ سوچنا پڑے  کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے  ؟ تو سمجھ لیجئے  شعر اپنی تعریف میں نا مکمل ہے۔ حسرتؔ موہانی نے  ایک معیاری شعر کی تعریف یوں کی ہے   :

شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ                      سنتے  ہی دل میں جو اتر جائیں

            بالکل یہی کیفیت ’’اشارہ ان کی جانب سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ والا شعر سننے  یا پڑھنے  کے  بعد ہوتی ہے۔ اس شعر کے  شاعر ہیں شاطرؔ حکیمی جو آج میرا موضوع سخن ہیں۔ گرچہ وہ آج ہمارے  درمیان نہیں ہیں مگر ان کی یادیں آج بھی دل و دماغ کو تر و تازہ کر دیتی ہیں۔

            شہر کامٹی جو ہمیشہ سے  اردو زبان کا مرکز رہا ہے  یہی شاطرؔ حکیمی کی جائے  پیدائش ہے  اور جائے  وصال بھی۔ ان کے  والد محترم الحاج صوفی عبد الحکیمؒ کا شمار کامٹی کی ان علمی و ادبی شخصیات میں ہوتا ہے  جن کے  فیض و اثر سے  کامٹی کو آج علم و ادب کے  میدان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ شاطرؔ حکیمی جب تک حیات میں رہے  ہر سال ۲۲/ محرم کو اپنے  والد محترم کا عرس پورے  اہتمام کے  ساتھ مناتے  اور ۲۳/محرم کی شب میں کبھی طرحی اور کبھی غیر طرحی مسالمہ بیاد شہدائے  کربلا کا اہتمام بھی کیا جاتا۔ مسالمہ بڑے  پیمانے  پر ہوتا جس میں ملک کے  چند نامور شعرائے  کرام شرکت فرماتے۔ عالمی شہرت یافتہ ناظم مشاعرہ ثقلین حیدر شاطرؔ حکیمی کے  بڑے  معقّد تھے۔ جب تک شاطرؔ حکیمی حیات میں رہے  ہر سال ثقلین حیدر نہ صرف مسالمہ میں حاضری دیتے  بلکہ اپنے  ساتھ دوچار نامور شعراء کو بھی لاتے۔ اہلِ ذوق سامعین کثیر تعداد میں جمع ہوتے  اور رات بھر مسالمہ سے  لطف اندوز ہوتے۔ خواتین سامعین کی تعداد بھی خاصی ہوتی۔ مسالمہ کو کامیاب بنانے  میں ثقلین حیدر کی کوششیں معاون ثابت ہوتیں۔ شاطرؔ حکیمی کے  وصال کے  بعد مسالمہ کا انعقاد شاذونادر ہی ہوا مگر عرس کی تقریب اب بھی ہر سال منعقد ہوتی ہے  مگر شاطرؔ حکیمی صاحب کے  زمانے  کی بات ہی کچھ اور تھی۔

            اپنے  مضمون کا آغاز راقم التحریر نے  شاطرؔ صاحب کے  ایک مشہور شعر سے  کیا تھا مگر اس پر اپنی بات کو ادھورا چھوڑ کر دوسری طرف چلا گیا۔ اردو شاعری کے  عشقیہ مضامین میں اس خیال سے  ملتے  جلتے  شعر ترقی یافتہ صورت میں بہت سے  ملیں گے  اس کی ایک مثال مجازؔ لکھنوی کا یہ شعر بھی ہے   :

عشق کا ذوقِ نظارہ مفت میں بدنام ہے                        حسن خود بیتاب ہے  جلوہ دکھانے  کے  لیے

            اگر تقابلی جائزہ لینا مقصود ہو تو یہ بتائے  بغیر کہ شاعر کون ہے   ؟ یہ دونوں شعر کسی کے  سامنے  رکھئے  پھر دیکھئے  کس کے  شعر پر کتنی داد ملتی ہے  :۔ ۔ ۔ ۔ اندازِ بیان یا اسلوب دونوں میں ایک جیسا ہے  مگر سادگی اور بے  تکلفی کے  اجزا شاطرؔ حکیمی کے  شعر میں زیادہ ہیں۔ یہ اور بات ہے  کہ فرق لکھنؤ اور کامٹی کا ہے۔ دراصل آج بھی ہم میں سے  بہت سے  لوگ یہ دیکھتے  ہیں کہ شعر کس کا ہے  ؟  یہ نہیں دیکھتے  کہ بات کیا کہی گئی ہے  اور اس کا اندازِ بیاں ذہن و دل کو کس طرح اپیل کرتا ہے  ؟

            ایک اندازے  کے  مطابق شاطرؔ حکیمی نے  چارسو سے  زائد غزلیں کہی ہوں گی۔ نظم، مرثیہ، تاریخی قطعات وغیرہ بھی اچھی معقول تعداد میں ان کے  یہاں مل جائیں گے۔ مگر افسوس کہ ان کا ایک ہی شعری مجموعہ ہے  جو ’’موت و حیات‘‘ کے  نام سے   ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا۔ یعنی ’’موت و حیات‘‘ کی تمام غزلیں اور نظمیں انگریزی دور کی ہیں۔ شاطرؔ حکیمی کا وصال  ۱۹۸۸ء میں ہوا۔ اس اعتبار سے  ان کی شاعری کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے  اور ظاہر ہے  ان دونوں حصوں کی شاعری میں فرق و امتیاز بھی ہونا چاہیے۔ ’’موت و حیات‘‘ کی شاعری میں جوش اور ولولہ اپنے  عروج  پر نظر آتا ہے  کہ ہندوستان آزادی کے  لیے  جدوجہد میں مصروف تھا اور آزادی کے  بعد کی شاعری میں جوش اور ولولہ کی تپش قدرے  مدھم ہو گئی تو متانت اور سنجیدگی کی فضا ہموار ہوئی۔ گویا ایک دریا پہاڑی راستوں سے  گزرتا ہوا کھلے  اور ہموار میدان میں آ گیا جہاں دریا کی رفتار تو سست ہو جاتی ہے  مگر اس کی قدرو قیمت بڑھ جاتی ہے۔

            نظم کا عنوان مجھے  یاد نہیں مگر یہ نظم ’’موت و حیات‘‘ میں محفوظ ہے  اور ۱۹۴۴ء ہی میں یہ نظم ریڈیو ما سکو (روس) سے  نشر ہوئی تھی۔ میں سمجھتا ہوں اس نظم کا پسِ منظر لوکمانیہ تلک کا وہ  نعرہ تھا جسے  سنتے  یا پڑھتے  ہی دلوں کے  چراغ روشن ہو جاتے  ہیں۔ تلک نے  فرمایا تھا ’’آزادی میرا پیدائشی حق ہے  اور اسے  میں لیکر رہوں گا۔ ‘‘ اس نظم کو سننے  کے  بعد احساس ہوتا ہے  کہ شاطرؔ حکیمی پکّے  محب وطن تھے۔ وہ ہندوستان کو مکمل طور پر آزاد دیکھنے  کے  دل سے  خواہاں تھے  اور اپنے  ملک پر غیر ملکی تسلط کو ہر گز برداشت نہیں کر سکتے  تھے۔ پوری نظم ان کے  جذبات و احساسات کی آئینہ دار ہے۔ نظم کے  بول بڑے  اثر انگیز ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں :

بہادرو نہ جانے  پائے  ہاتھ سے  یہ سرزمین                  وطن ہی سے  جہان ہے  وطن نہیں تو کچھ نہیں

            ’’موت و حیات‘‘ میں وطن پرستی کے  جذبات سے  معمور اس فکر و خیال کی اور بھی نظمیں ہیں جنھیں پڑھ کر نہ صرف یہ محسوس ہوتا ہے  کہ شاعر کو اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس ہے  بلکہ قاری کو بھی جدوجہد آزادی کے  لیے  اکساتی ہیں۔ شاطرؔ حکیمی بنیادی طور پر غزل کے  شاعر ہیں مگر ملک کے  حالات کے  پیشِ نظر انہوں نے  نظمیں بھی کہیں کیونکہ نظم کا دامن وسیع ہوتا ہے۔ اس میں جذبات و احساسات کو احسن طریقے  سے  پیش کرنے  کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔

            ’’موت و حیات‘‘ پر بیشتر اہلِ علم و دانش نے  تبصرے  کئے  ہیں اور مختلف رسائل و جرائد میں شائع بھی ہوئے  ہیں۔ تمام تبصروں کو احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے  تاہم نیازؔ فتح پوری اور مجنوںؔ گورکھپوری نے  جس انداز میں تبصرے  فرمائے  ہیں ان کا ذکر اختصار میں کیا جا تا ہے۔ نیازؔ فتح پوری اپنے  رسالہ ’’نگار‘‘ میں لکھتے  ہیں کہ شاطرؔ حکیمی بڑی سے  بڑی بات آسانی سے  کہہ جاتے  ہیں۔  یہ خصوصیت بڑی خصوصیات میں سے  ہے۔ شاطرؔ حکیمی کا شمار ترقی پسند شعراء میں ہوتا ہے  مگر ان کے  کلام میں ان کی بے  راہ روی نہیں پائی جاتی۔ مجنوںؔ گورکھپوری نے  لکھا کہ ’’موت و حیات‘‘ شروع سے  آخر تک پڑھ جائیے، شاطرؔ حکیمی مرکزی خیال سے  نہیں ہٹتے۔ ‘‘

            میرے  خیال سے  اس سے  بڑی سند کسی فنکار کو مشکل سے  ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے  شاطرؔ حکیمی خوش نصیب ہیں کہ اتنا بڑا اعزاز انھیں اس وقت ملا جب ان کی شاعری کی عمر نصف بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ محفل مشاعرہ ہو، شادی خانہ آبادی کی تقریب ہو یا کوئی سیاسی جلسہ، شاطرؔ حکیمی ہر محفل کی جان ہوتے  تھے۔ بخشی غلام محمد جموں کشمیر کے  وزیر اعظم تھے۔ آج بھی مسئلہ کشمیر ہند و پاک کے  درمیان زیر بحث ہے۔ اس مسئلہ پر دونوں ملکوں کے  درمیان جنگیں بھی ہوئیں۔ بخشی غلام محمد کامٹی تشریف لائے  تھے  اور یہیں گاندھی چوک پر ان کے  اعزاز میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ کثیر تعداد میں لوگ بخشی غلام محمد کی تقریر سننے  آئے  تھے  شاطرؔ حکیمی نے  ان کے  استقبال میں ایک نظم پیش کی تھی جس میں مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے  موقف کی حمایت کی گئی تھی۔ نظم چھ یا سات بند پر مشتمل تھی اور ہر بند کا آخری مصرع  تھا ’’جان کر دیں گے  فدا  کشمیر دے  سکتے  نہیں ‘‘، شاطرؔ صاحب تحت میں پڑھ رہے  تھے  اور جب اس مصرع پر آتے  تو لوگ بھی ان کی آواز میں آواز ملا دیتے۔ ان کے  پڑھنے  کا انداز بھی بہت خوب تھا۔ بخشی غلام محمد نے  اس جلسہ میں کیا کچھ کہا وہ تو لوگ جلد ہی بھول گئے  مگر شاطرؔ حکیمی کی نظم کا مصرع ’’جان کر دیں گے  فدا کشمیر دے  سکتے  نہیں ‘‘ آج بھی ان لوگوں کو یاد ہے  جو اس جلسہ میں موجود تھے۔

            شاطرؔ حکیمی مشاعروں میں بھی اپنا کلام سناتے  تھے  اور اپنا نقش چھوڑ جاتے۔ تقسیم ہند سے  پہلے  برہان پور کے  ایک طرحی مشاعرے  میں وہ مدعو تھے۔ طرحی مصرع تھا ’’زندگی کا مزہ گناہ میں ہے ‘‘ یہ مصرع جگرؔ مراد آبادی کا ہے  اور جگرؔ مرادآبادی خود اس مشاعرے  میں شریک تھے۔ جگرؔ کے  علاوہ ماہرؔ القادری، ادیبؔ مالیگانوی اور آزادؔ انصاری جیسے  ماہرین فن بھی اس مشاعرے  میں شریک تھے۔ جگرؔ جب اپنے  اس شعر پر پہنچے  تو دادو تحسین کی صداؤں سے  مشاعرے  کی چھت اڑنے  لگی  :

میں جہاں ہوں ترے  خیال میں ہوں            تو جہاں ہے  مری نگاہ میں ہے

            مشاعرہ ہوتا رہا لیکن اس شعر سے  زیادہ کوئی شعر مقبول نہیں ہوا اور جب شاطرؔ حکیمی مائک پر آئے  اور اپنے  اس شعر پر پہونچے  تو ایک بار پھر ’’واہ /واہ‘‘ کے  شور سے  مشاعرہ گونج اُٹھا  :

تم نہ سمجھو تو کیا کرے  کوئی دل کا ہر مدعا نگاہ میں ہے

            ماہرؔ القادری سرِ مشاعرہ فرمانے  لگے  کہ بعض اوقات شخصیتیں کام کرتی ہیں۔ ان کی بلند آواز اور شہرت کے  غلغلے  کے  آگے  دوسری آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً سچ پوچھئے  تو شاطرؔ حکیمی کا یہ شعر مشاعرے  کی مقبولیت کا حامل ہے  جسے  میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

            اسی دوران آکولہ میں شکیلؔ بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ ترتیب دیا گیا۔ طرحی مصرع تھا  ؂ ’’اک فرشتہ بھی انتظار میں ہے ‘‘ شکیلؔ بدایونی کے  علاوہ صباؔ افغانی اور حسرتؔ جے  پوری وغیرہ بھی اس مشاعرے  میں شریک تھے۔ مشاعرہ پوری کیفیت کے  ساتھ چل رہا تھا۔ دوسرے  شعراء کے  مقابلے  میں شاطرؔ حکیمی کے  اس شعر کو زیادہ پسند کیا گیا  :

شبِ ہجراں گزار دی ہم نے         روزِ محشر تو کس شما ر میں ہے  ؟

            شکیلؔ بدایونی نے  جب اس مشاعرے  کی روداد لکھی تو اس شعر کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

            ۲۴!نومبر ۱۹۷۴ء کو کامٹی میں شمع لائبریری کے  ایک یادگار آل انڈیا مشاعرے  میں جب شاطرؔ حکیمی اپنی نظم ’’سینۂ کائنات کا اضطراب و کرب‘‘ پڑھ کر رخصت ہوئے  تو ناظمِ مشاعرہ ڈاکٹر ملک زادہ منظور نے  نظم پر تبصرہ کرتے  ہوئے  فرمایا کہ آج کا نوجوان شاعر بیس سال بھی کوشش کرے  تو شاطرؔ حکیمی کے  اس مقام تک نہیں پہونچ سکتا۔

            پیشے  کے  اعتبار سے  شاطرؔ حکیمی مونسپل اردو پرائمری ا سکول، کامٹی میں مدرس تھے۔ ان کی اہلیہ جو آج بھی حیات ہیں، بڑی صابر و شاکر اور وفا شعار ہیں۔ سات بچوں (دو بیٹیاں اور پانچ بیٹوں ) کی تعلیم و تربیت کا بوجھ تنہا شاطرؔ حکیمی کے  کاندھوں پر تھا۔ گھر کا خرچ مشکل سے  چلتا تھا۔ تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی تھی۔ تین تین، چار چار ماہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔ ظاہر ہے  ادھار لیکر گھر کے  اخراجات کو پورا کرنا پڑتا تھا۔ اس کے  باوجود کوئی مہمان آ جاتا تو خندہ پیشانی سے  اس کا استقبال کرتے۔ ان کی بڑی بیٹی اپنی تعلیم مکمل کر کے  معلّمہ بنی تو گھر میں آسودگی کے  آثار نمایاں ہوئے۔ کچھ دنوں بعد دو بیٹیوں کو بھی ملازمت مل گئی تو مزید آسودگی حاصل ہوئی مگر تب تک شاطرؔ حکیمی اپنے  درس و تدریس کے  شعبے  سے  سبکدوش ہو چکے  تھے۔

            کامٹی میں ناگپور، جبل پور روڈ پر آزاد لائبریری کے  سامنے  ایک چھوٹی سی ہوٹل تھی جو ’’غفور ہوٹل‘‘ کے  نام سے  مشہور تھی۔ آس پاس اور بھی اس طرز کی ہو ٹلیں تھیں مگر اب وہاں ’’شہید سمارک‘‘ بن گیا ہے۔ آزاد لائبریری بھی اب نہیں رہی۔ ’’غفور ہوٹل‘‘ کی چائے  بہت مشہور تھی۔ ہم لوگ شام میں وہیں ہوٹل کے  عقبی حصّے  میں کرسیاں لگا کر بیٹھ جاتے۔ میرے  دوستوں میں ممتاز قادری، ماسٹر اسماعیل، نسیم مظہری وغیرہ بھی وہیں مل جاتے۔ فلم، کرکٹ اور شاعری ہماری گفتگو کے  موضوعات ہوا کرتے۔ اکثر شاطرؔ حکیمی بھی ہمارے  ساتھ شامل ہو جاتے۔ اگر حسنِ اتفاق مولوی سعید اعجازؔ کامٹی میں ہوتے  تو وہ بھی ہمارے  ساتھ بیٹھ جاتے  مگر ان کے  سامنے  فلم کا موضوع غائب ہو جاتا۔ پاکستان کے  نامور کرکٹ کھلاڑی حنیف محمد، شاطرؔ حکیمی کے  رشتہ دار ہیں۔ شاطرؔ حکیمی کبھی کبھی فلم بھی دیکھ لیا کرتے  تھے۔ دلیپ کمار اور وحیدہ رحمٰن کی اداکاری سے  وہ بہت متاثر تھے۔ محبوب خان اور بی آر چوپڑہ ان کے  پسندیدہ ڈائرکٹر تھے۔ فلم ’’نیا دور‘‘، ’’پیاسا‘‘، ’’مغلِ اعظم‘‘، ’’دھرم پتر‘‘ اور مشہور انگریزی فلم ’’دی ٹین کمانڈ منٹس‘‘ (The Ten Commandments)  وغیرہ انہوں نے  ہمارے  ساتھ ہی دیکھی تھیں۔ ان کی شخصیت میں بڑی کشش تھی۔ ۶۰۔ ۶۵/سال کی عمر میں بھی تندرست و چست نظر آتے۔ اتنی عمر میں بھی تیز قدموں سے  چلتے  تھے۔ چہرے  مہرے  کے  بھی خوب تھے۔ چھوٹی سی داڑھی تھی اور اس  پر سفّتی بال، سفید کرتہ اور تنگ مہری کا پاجامہ ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ کسی خاص مشاعرے  میں جا نا ہو یا کسی خاص شخصیت سے  ملاقات کرنا مقصود ہو تو شیروانی بھی زیب تن کر لیتے۔ شیروانی میں ان کی شخصیت مزید پر کشش نظر آتی۔ مجھے  یاد ہے  وہ عید کا ہفتہ تھا۔ غالباً   ۱۹۶۱ء کا ذکر ہے۔ ان دنوں لبرٹی ٹاکیز (ناگپور) میں ’’دی ٹین کمانڈمنٹس‘‘ چل رہی تھی۔ ناگپور ہی میں محلّہ بھالدارپورہ میں ان کے  ایک قریبی رشتہ دار رہتے  تھے۔ ۔ وہ ان سے  ملنا چاہتے  تھے۔ میں ان کے  ساتھ ہو لیا۔ وہ شیروانی  پہنے  ہوئے  تھے۔ اپنے  ر شتہ دار سے  عید ملنے  کے  بعد ہم دونوں لبرٹی کی طرف کوچ کر گئے۔ جب ہمارا رکشا لبرٹی پہنچا تو ہم اتر گئے۔ میں رکشا والے  کو پیسے  دینے  میں رہ گیا اور شاطرؔ حکیمی صاحب آگے  بڑھ گئے۔ رکشا والا شاید شاطرؔ صاحب کی شخصیت اور اندازِ گفتگو سے  مرعوب تھا۔ مجھ سے  پوچھنے  لگا۔ ’’یہ کہاں کے  باشندے  ہیں ؟، ، میں نے  مسکرا کے  جواب دیا ’’یہیں کے  ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں سمجھا لکھنؤ سے  آئے  ہیں۔ ‘‘ رکشا والے  نے  کہا اور آگے  بڑھ گیا۔

            اردو شاعری میں گروپ بندی کا رواج بہت پہلے  سے  ہے  اور آج بھی ہے۔ شاطرؔ حکیمی کا شمار معتبر اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کے  بہت سے  شاگرد ہیں جنھوں نے  ان سے  استفادہ کیا۔ مشاعروں میں اکثر دیکھا گیا ہے  کہ اساتذہ اپنے  شاگردوں ہی کے  معیاری اور اچھے  شعر کی داد دیا کرتے  ہیں مگر شاطرؔ حکیمی کسی بھی اچھے  اور معیاری شعر کی کھل کر داد دیتے  تھے  بھلے  ہی وہ ان کا شاگرد نہ ہو۔ یہ ان کی ایسی خصوصیت تھی جس نے  انھیں مزید مقبول و ممتاز بنایا۔

            مارچ ۱۹۶۴ء میں ممتاز قادری کراچی چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد میرا بھی کامٹی سے  تبادلہ ہو گیا تو ’’غفور ہوٹل‘‘ کی بیٹھک ہی ختم ہو گئی۔ بہت دنوں بعد ممتاز قادری کا خط کراچی سے  آیا۔ اس نے  لکھا تھا ’’جب سے  کراچی آیا ہوں نہ تو اچھا شعر پڑھنے  میں آیا اور نہ ہی سننے  میں۔ جی چاہتا ہے  اڑ کر کامٹی آ جاؤں اور شاطرؔ حکیمی صاحب کے  پاس بیٹھ کر اچھے  شعر سنوں۔ ‘‘

            غرض شاطرؔ حکیمی میں فنِ شاعری کے  علاوہ اور بھی بہت سی خوبیاں تھیں۔ اگر وہ شاعری نہ بھی کرتے  تو ایک اچھے  انسان کی حیثیت سے  معاشرے  میں جانے  جاتے۔ ان کے  وصال سے  اردو شاعری کو نقصان ہوا ہی ہے۔ ایک انسانیت نواز شخصیت سے  بھی معاشرہ محروم ہو گیا ہے۔ اپنا مضمون انھیں کے  اس شعر پر ختم کرنا چاہوں گا جس نے  مجھے  ان کے  ساتھ گزارے  ہوئے  لمحات کی یاد دلائی اور ہمیشہ یاد دلاتے  رہیں گے   :

’’تو نہ ہوتا تو زندگی کیا تھی  اے  غمِ عشق تیری عمر دراز‘‘

 

شاکر اورنگ آبادی کی ادبی خدمات

               از : ڈاکٹر شاکر حسین عبّاسی

(یہ مقالہ ۱۸/ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۳/ جون  ۲۰۰۷ء کو پڑھا گیا)

            شاکرؔ اورنگ آبادی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اردو کے  ایسے  ادیب تھے  جو شاعر بھی تھے۔ مضمون نگار بھی اور افسانہ نویس بھی۔ اور اس پر امتیاز یہ کہ اپنے  وقت کے  بہترین مقرر بھی تھے۔ انھوں نے  شاعری کی مگر ’’صاحبِ دیوان‘‘ نہ ہو سکے۔ انھوں نے  افسانے  لکھے  مگر ’’صاحبِ کتاب‘‘ نہ بن سکے، ہاں تقریر کے  میدان میں ان کا طوطی بولتا تھا اور وہ یقیناً ’’صاحبِ بیان‘‘ کے  درجہ پر متمکن تھے۔

            شاکرؔ صاحب کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے  ہوا۔ شاکرؔ ان کا تخلص تھا ورنہ ان کا نام تو منور حسین تھا۔ ابتدائی چند سالوں کو چھوڑ کر شاعری پر انھوں نے  بہت کم توجہ دی حالانکہ فن شاعری پر ان کی نظر اہل نکتہ سنج کی طرح تھی۔ اسی طرح انھوں نے  نثر میں مضامین اور افسانے  بھی لکھے  ان کا قلم اس محفل کا بھی نکتہ داں تھا۔ نثر کیسے  لکھی جائے، نثر کی اچھائیاں، اس کی خوبیاں، اس کی کمزوریاں، اس کی بے  اعتدالیاں، اس کی جولانیاں اور اس کی پستیاں ان سب پر ان کی گہری نظر تھی۔ کیا مجال کے  کوئی اچھا ادیب یا شاعر ان کے  مطالعے  سے  بچ نکلے۔ کسی کتاب کا نام لیجئے  ان کے  پاس موجود، کسی رسالے  کا ذکر کیجئے  ان کا پڑھا ہوا۔

            آج سے  تقریباً ساٹھ سال پہلے  جنوری  ۱۹۴۴ء میں ناگپور میں انجمن ترقی اردو ہند کی تیسری آل انڈیا کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس شاکرؔ اورنگ آبادی کی زندگی کا ایک اہم موڑ بن گئی۔ پورے  ہندوستان سے  تقریباًَ تین سو ادیب، شاعر اور اہل فن اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ بابائے  اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق، انجمن کے  سیکریٹری تھے  ان کے  علاوہ مولانا حبیب الرحمٰن خاں شروانی، پروفیسر غلام مصطفٰی خاں، ڈاکٹر احتشام حسین، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، مولانا امتیاز عرشی، پروفیسر شہاب رضوی، ڈاکٹر عبادت بریلوی، جیسے  نامور ادیب تشریف لائے۔ شعراء کرام میں ماہرؔ القادری، خمارؔ بارہ بنکی، اخترؔ شیرانی ، سلیمان ادیب، محویؔ صدیقی، علامہ دتاتاریہ کیفی، ظریفؔ دہلوی اور شعریؔ بھوپالی جیسے  آسمان شاعری کے  ستارے  اس کانفرنس میں جمع ہوئے۔ تین دن کی اس کانفرنس کے  عام اجلاسوں میں دس دس ہزار کا مجمع تھا۔

            کانفرنس کا اہتمام انجمن ہائی ا سکول، صدر ناگپور کے  میدان میں ایک خوبصورت اور وسیع شامیانے  میں کیا گیا تھا۔ کانفرنس بہت کامیاب اور شاندار رہی۔

            کانفرنس کی تیاری، انتظامات اور کامیابی کے  لئے  جہاں ایک طرف نواب محی الدین خاں کھجی، نواب صدیق علی، ابراہیم فنا اور عبدالستار فاروقی کے  نام لئے  گئے  وہیں ایک بیس سالہ نوجوان کا نام بھی سب کی زبان پر تھا۔ یہ نوجوان تھے۔ ۔ ۔ شاکرؔ اورنگ آبادی۔ ان کے  جوش و خروش، جذبہ خدمت اور ان تھک محنت کا یہ ثمرہ تھا کہ کانفرنس کے  بعد انجمن ترقی اردو کے  سیکریٹری ڈاکٹر مولوی عبد الحق نے  خاص طور سے  اس نوجوان کو نجی ملاقات کے  لئے  بلوایا۔ یہ ایک ملاقات اپنا رنگ دکھا گئی۔ شاکر صاحب اردو کے  عاشق تو تھے  ہی مرشد کی ایک صحبت نے  انہیں اردو کا مجذوب بنا دیا۔ اس کے  بعد آنے  والے  برسوں میں اس علاقے  سے  اردو کی جو بھی تحریک اٹھی، جو بھی تنظیم ابھری، جو کارواں چلا، شاکرؔ صاحب اس کے  لازمی اور فعالی رکن ہوا کرتے  تھے۔

            کانفرنس کے  ایک سال کے  بعد ہی ان کی مرتب کر دہ کتاب ’’سمن زار‘‘ شائع ہوئی جس میں اس زمانے  کے  چند مقامی شاعروں کا مختصر تعارف اور ان کے  کلام کا نمونہ دیا گیا ہے۔ خود شاکرؔ صاحب کی دو نظمیں ’’گدگدی‘‘ اور ’’ماہ درخشاں سے ‘‘ اس مجموعہ میں شامل ہیں۔

            انجمن ترقی اردو کی سالانہ کانفرنس سے  جو جذبہ اور جوش پیدا ہوا تھا اس کے  نتیجے  میں ناگپور میں ادارہ ادبیہ سیمابیہ کے  نام سے  ایک ادارہ قائم ہوا۔ اس ادارہ کے  تحت بڑے  پیمانے  پر کامیاب مشاعروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ طرفہؔ قریشی اور آذرؔ سیمابی کے  ساتھ شاکرؔ اورنگ آبادی بھی اس ادارہ کے  فعالی رکن تھے۔ اس ادارہ نے  اس علاقے  میں مشاعروں کا ایک نیا جہاں آباد کیا۔

            اس علاقے  سے  نکلنے  والے  ماہ نامے  جیسے  ماہنامہ راہیؔ ، ماہنامہ پروازؔ ، ماہنامہ نباضؔ اور ماہنامہ خیالؔ میں شاکرؔ اورنگ آبادی کے  مضامین اور افسانے  شائع ہوئے۔ افسانوں میں ’’ناسور‘‘، ’’صبح و شام‘‘ اور ’’یہ مرد‘‘ کامیاب افسانے  مانے  جاتے  ہیں۔ انجمن جوانانِ حسینی، ناگپور نے  ’’نفس نبی‘‘ کے   نام سے  ایک شاندار اور ضخیم مجلّہ شائع کیا اس میں شاکرؔ اورنگ آبادی کا ایک مضمون مولانا علی ابن ا بی طالب کی شاعری پر بڑا وقیع اور علمی مضمون ہے۔ یہ رسالہ  ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا اس  کے  بعد ان کا کوئی مضمون نظر سے  نہیں گزرا۔

            شاکرؔ صاحب کو دور سے  دیکھ لینے  اور ان سے  ملنے  میں بڑا تضاد تھا۔ دیکھئے  تو گہرا سانولا رنگ، گول مٹول چہرا، قد ذرا کم مگر چست ضخامت کی طرف مائل، ان پر نظر پڑتے  ہی ذہن میں ایک قسم کی گولائی کا تصور ابھر آتا تھا۔ مگر جب ملئے  تو لبوں پر تبسم کی باریک لکیر، شستہ لہجہ، صاف الفاظ، نرم دم گفتگو اور سراپا منکسر۔ ان سے  مل کر ہمیشہ اپنائیت کا احساس ابھرا۔

            ایک زمانہ میں شاکرؔ صاحب کا گھر ناگپور آنے  والے  ادیبوں اور شاعروں کے  لئے  ایک آستانہ تھا۔ بہت سے  ایسے  شاعر اور ادیب جو آگے  چل کر قد آور اور نام ور ہوئے  ابتدائی ایام میں شاکر صاحب کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا چکے  تھے، ان کو اس کا چٹخارہ تھا۔

            تخلص۔ ۔ ۔ ۔ شاکرؔ ۔ ۔ ۔ زندگی بھر ساتھ چلتا رہا مگر شاعری بہت پہلے  ہی کہیں راستے  میں پیچھے  رہ گئی۔ یہی حال کچھ سالوں کے  بعد نثر کا بھی ہوا۔ قلم سے  بھی ناطہ ٹوٹ گیا اور وہ پورے  کے  پورے  تقریر کے  ہو کر رہ گئے۔ ان کی تقریروں میں زبان کا رسیلا پن، الفاظ کا جڑاؤ، محاوروں کی کاٹ، فی البدیہہ اشعار کی آرائش اور لطیفوں کی جھالر ہمیشہ سجی رہی لیکن موضوع کا حق برابر ادا کرتے  تھے۔ اردو والوں کا کہیں بھی کیسا ہی اجتماع ہو اگر شاکرؔ صاحب نظر آ جائیں تو سامعین آس لگا لیتے  تھے  کہ ایک اچھی، شگفتہ اور پر مغز تقریر سننے  کو ملے گی۔ قدرت نے  انہیں ویسا ملکہ بھی دیا تھا اندر کی آواز میں بڑی لچک اور لئے  تھی، لہجے  کے  اتار چڑھاؤ پر کمال کی مہارت تھی۔ قدرت نے  جذبات کی عکاسی کا پورا فن انہیں عطا کر دیا تھا ان کی تقریر میں الفاظ اور لہجہ مل کر جذبے  کی پوری پوری تصویر کھینچ دیتے  تھے۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا تھا کہ شاکر اورنگ آبادی اپنے  پورے  وجود میں آواز  ہی آواز ہوں،

            وہ آواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو ذاتی نشستوں میں اپنی شیرنی، شگفتگی اور اپنائیت کی مٹھاس بھرتی رہی۔

            وہ آواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اپنی مجلسوں میں ایمان اور ایقان کی جوئے  نغمہ خواں بنی رہی۔

            وہ آواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو شاعروں میں زبان و بیان کی گل کاریاں کرتی رہی۔

            وہ آواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو ۲۶/نومبر  ۱۹۹۰ء کو شام ۶ بجے  ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  خاموش ہو گئی۔ ایسا بولنے  والا انسان چند دنوں بیمار رہ کر ایسی خاموشی سے  چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ چلا گیا اور وہ بھی ایسی جگہ کہ   ؂

مر بھی جاؤں تو نہیں ملتے  ہیں مرنے  والے

موت لے  جا کے  خدا جانے  کہاں چھوڑتی ہے

 

حضرت حکیم شیخ محبوب واقفؔ برہانپوری (مرحوم)

               از  :  حاجی عبدالجبّار سحرؔ ناگپوری

            حکیم شیخ محبوب واقفؔ بُرہانپوری ۸/ فروری  ۱۹۰۱ء میں پیدا ہوئے۔ اُنکے  والد شیخ قاسم مرحوم ایک نامور زمین دار تھے۔ اور اپنے  دور کی معزز ہستیوں میں شمار کیے  جاتے  تھے۔

            حضرت حکیم واقفؔ مرحوم نے  اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم حکیم علامہ حاذقؔ (مرحوم) ملکہ پوری (جو اُستاد شمشاد لکھنوی، فرنگی محلی کے  شاگردِ عزیز تھے ) سے  حاصل کی۔ آپ کو جہاں شاعری میں مہارت حاصل تھی، وہیں حکمت میں کمال، لہذا حضرت واقفؔ نے  شاعری اور حکمت کے  لئے  انہیں کے  آگے  زانوئے  تلمذ تہہ کیا۔

            موصوف بہترین شخصیت کے  مالک تھے۔ آپ نے  ہمیشہ ماحول اور روایت کا احترام کیا۔ اسلیے  آپ کی شاعری، روایت سے  نہ صرف وابستگی کا، بلکہ مرعوُبیت کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ آپ نے  روایتی اسلوب میں اپنی شاعری کا بہترین معیار پیش کیا۔ اور پوری خود اعتمادی کے  ساتھ اپنے  فن اور فکری صلاحیتوں کو بروئے  کار لانے  میں اپنی مدد آپ کی۔ ذوق شاعری کا یہ سلسلہ حضرت واقفؔ کی وفات تک قائم رہا۔

            اسلیے  بزمِ سخن ہو، یا دانشوروں کی محفل، آپ ہر خاص و عام میں قدر کی نگاہوں سے  دیکھے  جاتے  تھے۔ آپ کی عمر کا پورا  زمانہ نیک نامی میں گُزرا، صورت و سیرت سے  بُزرگانِ سلَف کی یاد تازہ ہو جاتی۔ طبیعت میں حد درجہ وضع داری اور نفاست تھی۔ دلکش شخصیت، سلیقے  کا لباس، دکنی وضع کی شیروانی آپکی بزرگی میں چار چاند لگا دیتے  تھے۔

            عمر کے  آخری حصّے  میں کینسر کے  مرض میں مبتلا ہوئے۔ ناگپور میں علاج کے  باوجود افاقہ نہیں ہوا۔ تو ڈاکٹروں کے  مشوروں پر علاج کے  لئے  بمبئی گئے۔ مگر مرض بڑھتا گیا، جُوں جُوں دوا کی۔ اور پھر زندگی کا آخری سفر تمام ہوا۔ ۱۷/ نومبر  ۱۹۶۶ء جمعرات کے  دن اپنے  خالق حقیقی سے  جا ملے، مقام ناریل باڑی (بھائیکلہ) کے  قبرستان میں سُپردِ خاک کیے  گئے۔

            اپنے  پیچھے  تین لڑکے  اور ایک لڑکی چھوڑ گئے۔ دوسرے  نمبر کے  (درمیانی) فرزند شیخ اسمعٰیل واقفؔ تین سال پہلے  داغِ مفارقت دے  گئے۔ اِس وقت اُنکے  بیٹوں میں جناب ڈاکٹر شیخ ابراھیم واقف ہیں جو N۔ M۔ C۔ میں میڈیکل آفیسر کے  عہدے  سے  ریٹائیرڈ ہو چکے  ہیں۔ اور سب سے  چھوٹے  بیٹے  شیخ اسحاق واقف بقید حیات ہیں اور خوشگوار زندگی گزار رہے  ہیں۔

            آپ کا مجموعۂ کلام ’’نبض کو نین‘‘ آپکی حیات ہی میں مکمل ہو چکا تھا۔ جس پر حضرت ابر اؔ حسنی (مرحوم) نے  آپکی شاعری پر تبصرہ لکھا ہے۔ اور’’ نبض کونین‘‘ کا پیش لفظ استاذالاساتذہ،  فخرالمتاخرین پیر مغانِ خم خانۂ سخن حضرت مولانا ناطقؔ گلاوٹھی نے  تحریر کیا ہے۔ جو فرماتے  ہیں  :

            حکیم شیخ محبوُب واقفؔ برہانپوری میرے  ایک خاص کرم فرما ہیں۔ اور مجھے  بھی اُن سے  کافی محبت اور لگاؤ ہے۔ آپ اپنے  بُلند اخلاق اور کامیاب طبابت کی بدولت نا گپور میں کافی مقبوُل ہیں۔ آپکی عام ہمدردی کا دہ عالم ہے  کہ امیر و غریب جو آپکے  پاس کسی غرض سے  آتا ہو۔ مستفیض ہی ہو کر جاتا ہے۔

            واقفؔ صاحب کی حدِ علمی، قابلیت بہت اچھی ہے۔ اور آپ کی خصوصیت یہ ہے  کہ ہمیشہ تحصیل علم کے  شوق میں رہتے  ہیں۔ موصوف ناگپور کے  ایک مقبول شاعر بھی ہیں۔ میرا تجربہ ہے  کہ شہر کے  کچھ بد مذاق لوگ اچھی اور قابل ہستیوں کو ہمیشہ دبانے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ جس سرگرمی کا میں خود یہاں ۵۰ برس رہ کر شکار رہا ہوں۔ تو حکیم صاحب کے  ساتھ بھی یہاں یہی ہوا۔ آپ کو فنِ شاعری سے  بے  دل اور دوُر کرنے  کی کوشش کی گئی۔ میں حکیم صاحب کے  مقام کو جانتا ہوں۔ خدا کا شُکر ہے۔ موصوف کے  کلام میں بہت کچھ ایسا سرمایہ ہے  جو نہ صرف قابل قدر ہے  بلکہ اپنی خوبیوں کی بدولت، میں سمجھتا ہوں کہ اُنکے  بہت اشعار زندہ و جاوید ہو کر رہیں گے۔

            ’’مشک آنست کہ خوُد بگوید‘‘، نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں  :   ؂

مانگ کا بوسہ نہ دینا غیر کو

پہلے  ہم لینگے  ہماری  مانگ ہے

تو مالکِ ازل ہے  خداوندِ حشر ہے

آغاز کا حکیم تو انجام کا حکیم

میری طرف علاج ہے  تیری طرف شفا

میں نام کا حکیم ہوں تو کام کا حکیم

ایک طوفاں محبت کا رگ رگ میں ہے

یم بہ یم، جُو  بہ جُو، تند رَو موجزن

کبھی جب سُست گامی آ گئی ہے

مجھے  منزل نے  خود آواز دی ہے

لباسِ گل ہو یا پوشاک انجم

تمہیں میری نظر پہچانتی ہے

مجھے  اظہارِ غم کی کیا ضرورت

نگاہِ یار سب کچھ جانتی ہے

خوشی میں اپنے، بیگانے  نہیں ہوتے

حقیقت غم کی منزل پر کھلی ہے

کیا ہے  عجب ہر تارے  میں ہو

جیسی تہہ ا فلاک ہے  دُنیا

دوُر جھٹک دیتی ہے  سب کو

پھر بھی گلے  کا ہار ہے  دُنیا

انساں اِس سے  پیٹھ نہ ٹیکے

گرتی ہوئی  دیوار ہے  دُنیا

سینے  کے  زخم، داغِ جگر، دل کے  آبلے

سب کو ملا کے  ایک گلستاں بنائیے

آخری شعر  :

طوافِ ماہ و انجم، سوز باطن کا نتیجہ ہے            بشر کو آسماں پر لے  اُڑی سینے  کی چنگاری

            ایسے  لا تعداد اشعار ہیں جو حکیم واقفؔ مرحوم کی ’’نبض کونین‘‘ کی زینت بنے  ہیں۔

 

شاعر ہمہ صفات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت جلیل سازؔ

(یہ مقالہ ۲۰/ ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۵/اگست ۲۰۰۷ء کو پڑھا گیا)

               از  :  ڈاکٹر محمد اظہر حیات

(ریڈر۔ صدر شعبہ اردو، یشودا گرلز آرٹس اینڈ کامرس کالج، ناگپور)

            حضرت جلیل سازؔ وسطِ ہند کے  معتبر شعراء میں شمار کیے  جاتے  ہیں ۷/ اگست ۲۰۰۷ء کو جب ان کی رحلت ہوئی تو وہ اپنی زندگی کے  ۷۶ سرد گرم موسم دیکھ چکے  تھے۔ وہ جئے  اور بھر پور جئے۔ زندگی کے  نشیب و فراز سے  گزرے، قسمت کی ستم ظریفیاں جھیلیں، تقدیر کی یاوری کے  لطف اٹھائے۔ ناگپور میں بے  شمار ادبی علمی چپقلش کے  روح رواں رہے۔ سماجی و ثقافتی سرگرمیاں برپا کیں اور اس کے  محور و مرکز رہے۔

            جلیل سازؔ مرحوم کہنہ مشق شاعر تھے۔ انھوں نے  دشتِ ادب میں عرصۂ دراز تک سیّاحی کی۔ اس طویل سفر میں انھوں نے  محض شاعری نہیں کی بلکہ شاعروں کی ایک نسل کی ادبی و شعری تربیت بھی کی۔ اس اعتبار سے  وہ ایک ایسے  مرکز و سر چشمہ تھے  جہاں سے  تشنگانِ شعر و ادب حسبِ استعداد سیراب ہوتے۔ وہ دنیائے  ادب میں استادی و شاگردی کے  رشتے  کی قدر کرتے  تھے۔ یہ روایت ناگپور میں ان کے  دم سے  زندہ بھی تھی۔

            جلیل سازؔ کو میں تب سے  جانتا ہوں جب میں ۷ یا ۸ برس کا تھا۔ مجھے  خوب یاد ہے  ڈھیلا ڈھالا سفید قمیض پائیجامہ پہنے  لمبے  لمبے  پیروں سے  چھوٹے  چھوٹے  قدم اٹھاتے  جلدی جلدی چلتے  وہ ہمارے  گھر کے  سامنے  سے  جاتے  آتے  تھے۔ وہ ہمارے  گھر کے  قریب مومن بنکر کو آپریٹیو سوسائٹی میں معمولی تنخواہ پر کلرک تھے۔ اس لیے  ان کا آنا جانا روز کا معمول تھا۔ کبھی کبھار میرے  والد صاحب کو سلام بھی کر دیتے  اور والد صاحب بڑے  تپاک سے  ان کے  سلام کا جواب دیتے۔ ایک روز میں نے  والد صاحب سے  پوچھ لیا ابّاجی یہ کون صاحب ہیں ؟ انھوں نے  کہا ان کا نام جلیل سازؔ ہے۔ اچھے  شاعر ہیں۔

            ’’اچھے  شاعر ہیں ‘‘ میرے  تحت ا لشعور میں چپک کر رہ گیا۔ گویا ۷۔ ۸ سال کی عمر میں میرا ان کا تعارف ہو گیا۔ اس کے  بعد تو جلیل سازؔ صاحب سے  میری ملاقات ہر رہ گزر پر ہونے  لگی۔

            قریبی رشتہ داروں میں شادیاں ہوتیں وہ سربراہی کرتے  نظر آتے۔ مشاعرہ ہوتا تو وہاں کرسیِ صدارت پر جلوہ افروز ہوتے۔ تعلیمی جلسوں میں مہمانانِ خصوصی کے  صف میں ہوتے  اور کبھی سیاسی پارٹی کے  جلسوں میں تقریر کرتے  نظر آتے  گویا ہر جگہ جلیل سازؔ کا نام سننے  کو ملتا۔

            ۱۹۶۹ء میں جب وہ ناگپور کارپوریشن کے  وارڈ الیکشن میں کھڑے  ہوئے  تو دیگر بچوں کے  ساتھ میں بھی گلی گلی ’’ساز صاحب کو ووٹ دو‘‘ کے  نعرے  لگاتے  پھرتا رہا۔ ہم نے  ان کے  لیے  خوب محنت کی نتیجہ آیا ساز صاحب کثیر ووٹوں سے  وارڈ کے  ممبر منتخب ہو گئے۔ پھر وہ پانچ سال تک ہمارے  وارڈ کے  معزز ممبر ر ہے۔ مجھے  بہت بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے  صرف آٹھویں کلاس تک ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کی تحریر پڑھ کر یا ان کی تقریر سن کر یا ان سے  گفتگو کر کے  اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ڈگریاں رکھتے  ہوں گے۔

            سازؔ صاحب ہمہ جہت صلاحیتوں کے  مالک تھے۔ ان کی شخصیت پر کشش اور جاذب نظر تھی وہ بلا کے  معاملہ فہم تھے۔ سنجیدگی اور متانت ان کے  بشرے  سے  ظاہر ہوتی تھی۔ ان کا قد ایسا تھا کہ سیکڑوں میں الگ پہچانے  جاتے  تھے۔ مطالعہ وسیع تھا اور حافظہ غضب کا پایا تھا، غالبؔ ، اقبالؔ ، جگرؔ ، فیضؔ ، سیمابؔ ، ساحرؔ اور شکیلؔ بدایونی کے  بے  شمار اشعار انہیں ازبر تھے۔ وہ اکثر کہتے  تھے  میاں خوش بختی اور اکتساب علم بزرگوں کی صحبت کا فیض ہوتا ہے  جو مجھے  نصیب ہوا۔

            ایک زمانے  میں سازؔ صاحب کی تحریر کر دہ ’بدائی، ، ’’چلی میکے  سے  دلہن دے  کے  صد رنج و محن‘‘ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب تک یہ پڑھی نہ جاتی تب تک دلہن وداع ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس کے  پڑھنے  والوں کی مخصوص جماعت ہوتی جو پر سوز ترنم کے  ساتھ اس وداعی کو پڑھتے  تو سارا ماحول غمگین ہو جاتا اور گھر ماتم کدہ بن جاتا کیا مرد کیا عورتیں، بچے  بوڑھے  دھاڑیں مار مار کر روتے  تھے۔ ایک روز میں نے  سازؔ صاحب سے  پوچھا حضرت آپ نے  یہ وداعی گیت کس عالم میں لکھا تھا کہنے  لگے  عالم والم تو کچھ نہیں تھا بلکہ یہ تو میں نے  اپنے  چھوٹے  بھائی وکیل پرویز کی شادی کے  موقع پر اس کی بیوی کے  میکے  والوں کی فرمائش پر لکھا تھا۔ مجھے  بھی گمان نہیں تھا کہ یہ گیت اس قدر مقبول ہو جائے  گا۔ سچ تو یہ ہے  کہ یہ وداعی گیت زبان و بیان کے  اعتبار سے  ایسا مرصّع اور پر اثر ہے  کہ اگر سازؔ صاحب صرف یہ گیت لکھ کر ہی چلے  جاتے  تو ناگپور کی ادبی تاریخ میں اپنا نام درج کرا جاتے۔

            سازؔ صاحب کے  کاموں پر غور کرو تو احساس ہوتا ہے  کہ اگر وہ صرف یہی کام کر جاتے  تو امر ہو جاتے۔ دیکھئے  انھوں نے  لڑکیوں کے  لیے  ڈاکٹر ذاکر حسین کے  نام سے  ایک ڈی ایڈ کالج کی بنیاد رکھی جسکے  ذریعے  سیکڑوں نہیں ہزاروں بچیوں نے  ڈی ایڈ کیا اور برسر روزگار ہوئیں۔ آج ۳۰۔ ۳۵ سال قبل لڑکیوں کے  لیے  کالج کھولنا گناہ کے  برابر سمجھا جاتا تھا۔ سماج میں کالج کے  معنی محض عیاشی کا اڈّہ گردانہ جاتا تھا۔ سازؔ صاحب نے  سماج کے  ان طعنوں کی پرواہ بھی نہ کی اور ڈی ایڈ کالج قائم کر دیا جو آج بھی شان سے  جاری ہے۔ اگر ہم کہیں کہ سازؔ صاحب صرف یہی کام کر کے  دنیا سے  رخصت ہو جاتے  تو اہل ناگپور ان کے  احسان کو کبھی نہ بھولتے۔

            ان میں انتظامی صلاحیتیں بھی خوب تھیں وہ بیک وقت ڈی ایڈ کالج کے  صدر کے  ساتھ مجیدیہ گرلز ا سکول ناگپور کی مجلس انتظامیہ کے  صدر، اور یعقوبیہ مدرسہ مومن پورہ کے  سکریٹری بھی تھے۔ اس کے  علاوہ شہر کی بے  شمار ادبی و سماجی سرگرمیوں سے  وابستہ تھے۔

            سازؔ صاحب سادہ مزاج، مخلص اور ملنسار تھے۔ ان میں غرور نام کو نہیں تھا۔ وہ ہر خاص و عام سے  یکساں پیش آتے۔ محلّے  کے  لڑکوں سے  ایسی بات کرتے  گویا وہ ان کے  ہم راز ہوں۔ ان کا ذہن ہمیشہ ادبی، علمی، تعلیمی و سیاسی سر گرمیاں کرنے  پر آمادہ ہوتا۔ در اصل ناگپور میں بیشتر سماجی و ثقافتی سرگرمیاں ان کے  دم سے  رواں دواں تھیں۔ رمضان کا مہینہ آتا۔ مومن پورہ میں گہماگہمی اور چہل پہل اپنے  شباب پر ہوتی اس عالم میں نوجوان لڑکوں کی ٹولی ’’قصیدہ‘‘ پڑھنے  نکلتی۔ فلمی دھن اور طرز پر حالاتِ حاضرہ پر چوٹیں ہوتیں۔ بیشتر قصیدے  سازؔ صاحب کے  تحریر کر دہ ہوتے  جو رات میں پڑھے  جاتے  اور راتوں رات پورے  شہر میں مشہور ہو جاتے۔ انہوں نے  دلہوں کے  لیے  سہرے  بھی خوب لکھے۔ اگر ان سہروں، قصیدوں، وطن کے  گیتوں اور قومی نظموں کو یک جا کر دیا جائے  تو سازؔ صاحب کی شاعری کے  حوالے  سے  سماجی منظر نامہ بھی مرتب ہو سکتا ہے۔

            انھیں اردو اور اردو کے  لکھنے  والوں سے  والہانہ محبت تھی۔ وہ شہر کے  لکھنے  والوں کی ہمت افزائی کرتے۔ میری کتاب ’’حافظ ولایت اﷲ حافظ حیات و خدمات‘‘ شائع ہوئی تو میں نے  اس کی ایک جلد ان کی خدمت میں پیش کی۔ فوراً جیب سے  ۱۰۰ روپیے  نکالے  اور مجھے  عنایت کیے   میں نے  کہا حضرت اس کی ضرورت نہیں ہے  کہنے  لگے  دیکھو جب کبھی کوئی مصنف یا شاعر کتاب دے  تو اس کا ہدیہ ضرور دیا کرو۔ ہاں ایک زمانہ تھا کہ میری مالی حالت اس قدر خستہ تھی کہ مجھے  کتابیں مانگ کر پڑھنی پڑتی تھیں مگر اب تو اﷲ کا فضل و کرم ہے۔ میں نے  کہا حضرت اس کی قیمت تو صرف ۴۰ روپیے  ہے  کہنے  لگے  میں قیمت کب دے  رہا ہوں۔ ہدیہ قبول کرو۔ اور زبردستی میری جیب میں سو کا نوٹ ڈال دیا۔

            مہاراشٹر اردو اکادیمی کے  زیر اہتمام اردو طنز و مزاح پر ایک سیمینار تھا۔ بڑے  بڑے  اشتہارات شہر میں چسپاں تھے۔ شفیقہ فرحت، زہرہ موڈک، ڈاکٹر شیخ رحمن آکولوی اس میں شامل تھے۔ سازؔ صاحب اس کے  کنوینر تھے۔ میں نے  سازؔ صاحب سے  سر راہ یوں ہی کہہ دیا کہ سازؔ صاحب میں بھی طنز و مزاح لکھتا ہوں آپ مجھے  بھول گئے  کہنے  لگے  ہاں بابا تمہارا نام رہ گیا۔ لیکن تم اپنی تحریر ضرور پڑھو گے  اور پھر شام میں میرے  نام علیحدہ سے  ایک دعوت نامہ خود لے  کر آئے  اور اصرار کیا کہ تمھیں اس سیمینار میں ضرور شرکت کرنی ہے۔

            سازؔ صاحب کا مجموعۂ کلام ’’نگاہ‘‘ ۲۰/ اگست ۲۰۰۶ء کو منظرِ عام پر آیا۔ اجراء کی تقریب ہندی مور بھون سیتا بلڈی میں تزک و احتشام سے  منعقد کی گئی۔ کامریڈ اے  بی بردھن کے  ہاتھوں اجراء ہوا۔ محترم شمیم  فیضی دہلی سے، شگوفہ کے  مدیر مصطفےٰ  کمال حیدر آباد سے  اور ہارون بی۔ اے  مالیگاؤں سے  اور عبدالاحد ساز بمبئی سے  بطور خاص تشریف لائے  تھے۔ اسی دن کثیر الاشاعت مراٹھی روزنامہ ’’دیش انّتی‘‘ میں ساز صاحب کی شخصیت اور شاعری پر میں نے  ڈاکٹر کرن دھوڑ کے  تعاون سے  ایک مضمون مراٹھی میں لکھا جو اسی دن شائع ہوا۔ دیکھ کر بہت خوش ہوئے  کہنے  لگے  جو کام اردو والے  نہ کر سکے  مراٹھی والوں نے  کر دکھایا۔

            سازؔ صاحب کی شخصیت کو ان کی شاعری سے  جدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی زندگی کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے  تو یہ بات معلوم ہوتی ہے  کہ ان کی شاعری دراصل ان کی شخصیت کا آئینہ ہے۔ ان کے  کلام میں عصری آگہی کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کی غزلوں میں گرد و پیش کی زندگی کا گہرا مشاہدہ ملتا ہے۔ وہ فلسفی نہیں تھے  اور نہ ہی فلسفیانہ شاعری کرتے  تھے۔ سیدھی سادی زبان میں بات کہتے۔ سماجی زندگی کی ناہمواری، استحصال، جبر و ستم، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہمارے  سماج و معاشرے  کی بے  بسی ان کی شاعری کا موضوع تھے۔

            میرے  ان دعووں کو پرکھنا ہو تو ان کے  مجموعہ کلام ’’نگاہ‘‘ پر نظر ڈالیے  جہاں پر غزل میں ایسے  اشعار ضرور مل جائیں گے  جو نگاہ کے  ذریعے  دل میں اتر جانے  کی صلاحیت رکھتے  ہیں۔ تاہم اشعار ملاحظہ فرمائیے   :

بساط یہ ہے  کہ بس ایک مشتِ خاک ہیں ہم

کمال یہ ہے  کہ کون و مکاں پہ چھائے  ہیں

تمھیں خوشی کی تمنّا تھی، سو ملی تم کو

خدا نے  بخشی متاعِ غمِ حیات مجھے

ملو تو سازؔ خلوص اور سادگی سے  ملو

نہیں پسند یہ بے  جا تکلّفات مجھے

الگ یہ بات کہ میں ہنس نہیں پایا ہوں برسوں سے

مری تقدیر لیکن مجھ پہ اکثر مسکراتی ہے

کوئی آئے  گا آ کر زندگی میں رنگ بھر دے  گا

یہی امید ہر انسان کو جینا سکھاتی ہے

انہیں سمٹتی ہوئی زندگی کا علم نہیں

بڑے  گھروں میں جو سوتے  ہیں پاؤں پھیلا کر

میں اپنے  عہد سے  آنکھیں چرا نہیں سکتا

تری یہ ضد کہ فقط میری سمت دیکھا کر

عشق وہ چیز ہے  واعظ تجھے  معلوم نہیں

ہوش مندوں کو یہ دیوانہ بنا دیتا ہے

            ’’نگاہ‘‘ میں ایسے  اشعار کی تعداد بے  شمار ہے  جسے  سنبھال کر رکھا جانا چاہئے۔

            سازؔ صاحب نے  منہ پھٹؔ ناگپوری کے  نام سے  بھی طنز و ظرافت کے  پیرائے  میں دل کے  پھپھولے  پھوڑے  ہیں۔ اب ناگپور کے  ادبی حلقوں کی ذمہ داری ہے  کہ سازؔ صاحب کے  مزاحیہ کلام کو سنجیدگی سے  یکجا کر کے  کتابی صورت میں شائع کروائیں۔ سازؔ صاحب اس معاملہ میں قدرے  سست واقع ہوئے  تھے۔ ۷/اگست ۲۰۰۷ء کو سازؔ ہمیشہ کے  لیے  خاموش ہو گئے۔ مگر سازؔ کے  نغمات ہنوز زندہ ہیں اور آئندہ بھی زندہ رہیں گے۔ بقول سازؔ مرحوم  :

یہ زندگی ہے  سفر، صرف چند سانسوں کا

طویل اس کی مگر داستان کتنی ہے

 

حضرت پیر غلام سالم، عرف سالمؔ ناگپوری، کے  شعری محاسن

                از۔  وکیل نجیب

            ۲۸ /جولائی ۲۰۰۷ ء کو حضرت سالمؔ بھی ہم سے  جدا ہو کر عالمِ ارواح کی سمت روانہ ہو گئے۔ ناگپور کے  ادبی ماحول سے  ایک اور ادبی و علمی شخصیت نے  اپنا تعلق توڑ لیا۔ حضرت شارقؔ جمال، جناب شاہدؔ کبیر، پروفیسر سیّد یونس ؔ کے  بعد سالمؔ ناگپوری کا انتقال ایک ایسا ادبی المیہ تھا جس نے  شہر ناگپور کی ادبی محفلوں کو سونا کر دیا۔ (یہاں میں نے  جلیل سازؔ کا نام شامل نہیں کیا ہے  کیوں کہ سازؔ صاحب کا انتقال جناب سالمؔ کے  بعد ہوا ہے )۔

            حضرت سالمؔ ناگپوری نعت کے  ایک شعر کے  حوالے  سے  پوری دنیائے  اردو ادب میں ہمیشہ ہمیشہ یاد کئے  جائیں گے۔ نعت کا وہ شعر اِس طرح ہے  کہ  ؂

 اک نام مصطفےٰ ٰ ہے  جو بڑھ کر گھٹا نہیں       ورنہ ہر اک عروج میں پنہاں زوال ہے

            جو لوگ حضرت سالمؔ ناگپوری کو قریب سے  جانتے  ہیں وہ اچھی طرح جانتے  ہیں کہ حضرت نام و نمود کی تمنّا اور شہرت  و ناموری کی آرزو کے  بغیر نہایت خاموشی سے  ادب کی خدمت کرتے  رہے۔ نہ ستائش کی تمنّا تھی اور نہ ہی کبھی صلے  کی پرواہ کی۔ اچھّے  خاصے  آسودہ حال زندگی گزارنے  والے  چند شعراء گھس پیٹھ کر کے  یا خوشامد و چاپلوسی سے  سرکاری وظائف حاصل کرنے  میں کامیاب ہو گئے  لیکن سالمؔ ناگپوری صاحب کنجِ تنہائی میں صرف اور صرف خدا کے  بھروسے  اپنی زندگی کے  دن گزارتے  رہے  اور بالآخر ۲۸ /جولائی کو اس عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے۔

            حضرت سالمؔ ناگپوری نے  اپنے  پیچھے  تلامذہ کی کثیر تعداد بھی نہیں چھوڑی کہ اُنکے  لیے  ان کی زندگی میں یا بعد از مرگ کچھ کرتے  لہٰذا ناگپور کی سر زمین پر نمودار ہونے  والا ادب کا یہ جیّد عالم ایک طرح سے  گُمنامی کے  کٹہرے  میں روپوش ہو گیا۔ ویسے  بھی ناگپور کی ادبی فضا میں یہ ہوتا آیا ہے  کہ ’’ جو چلا گیا اسے  بھول جا‘‘ اور  اسی روایت کو بر قرار رکھا جاتا ہے۔ جناب شارقؔ جمال، جناب شاہدؔ کبیر اور جناب پروفیسر سیّد یونس ؔ صاحب کے  ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں اس کمیٹی کے  اراکین کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس ماہانہ شعری نشست میں اعلیٰ پیمانے  پر نہ سہی چھوٹے  پیمانے  پر ہی مرحومین کو یاد تو کر لیا جاتا ہے۔

            جہاں تک جناب سالمؔ ناگپوری کی شاعری کا تعلق ہے  تو مو صوف نے  ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی اور خوبصورت شاعری کی۔ حمد، نعتیں، منقبت، تضمینات، قومی گیت، مرثیے  نوحے، قطعات، رباعیات، نظمیں، پوربی زبان کے  پچرے  اور رمضانُ المبارک میں پڑھے  جانے  والے  قصیدے  ہر صنف میں طبع آزمائی کی اور دادو تحسین سے  نوازے  گئے۔ رہی بات غزل کی تو پچھلی کئی دہائیوں سے  غزل تمام ہی شعراء کی پسندیدہ صنف رہی ہے  لہٰذا جناب سالمؔ نے  بھی غزلیہ شاعری میں بہت سی یادگار غزلیں کہی ہیں۔

            غزل کا دامن بہت وسیع ہے۔ بس یہ سمجھ لیجئے  کہ ادب کا ایک سمندر ہے  بلکہ سار سمندروں کا ایک سمندر ہے  جس سے  ہر شاعر اپنی مرضی و منشاء کے  مطابق، اپنی ضرورت کے  مطابق، اپنی استطاعت کے  مطابق کچھ نہ کچھ لیتا رہتا ہے  اور قارئین و سامعین کو دیتا رہتا ہے۔ آج اردو دنیا میں غزل گو شعراء کی تعداد شمار کی جائے  تو لاکھوں سے  تجاوز کر جائے  گی۔ اردو کا کوئی اخبار ہو یا رسالہ اردو غزلوں سے  سجا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر شاعر اس صنف میں طبع آزمائی کرنے  میں لگا ہوا ہے  حسرت سے  کہ برسوں سے  جاری اس کی طغیانی میں کسی طرح کی کمی نہیں ہونے  پا رہی ہے۔ چھوٹے  بڑے  مشاعرے  ہو رہے  ہیں۔ دیوان شائع ہو رہے  ہیں۔ گوشے  اور نمبر شائع ہو رہے  ہیں۔ کیا ہند، کیا پاکستان، کیا سعودی عربیہ،  کیا عرب امارات، کیا امریکہ کیا روس، کیا انگلینڈ کیا فرانس، دنیا کا ہر وہ ملک جہاں چند ایک بھی اردو بولنے  والے  ہیں شاعری ہو رہی ہے۔ اور زیادہ تر شعراء غزل گوئی میں اپنی ذہنی اور کچھ حد تک جسمانی توانائی خرچ کرتے  رہتے  ہیں پھر بھی غزل کے  دامن کی تنگی کبھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اردو کی سب سے  سہل اور سب سے  آسان صنف بن کر رہ گئی ہے  غزل۔

            جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے  انھوں نے  غزل میں نئی بات کہنے  کی کوشش کی ہے۔ صرف ردیف اور قافیے  ہی برت کر الگ نہی بدلے  گئے  ہیں۔ ایسے  ہی غزل گو اساتذہ میں حضرت سالمؔ ناگپوری کا بھی شمار ہوتا ہے۔ جوہر جسے  انگریزی میں  ATOM کہا جاتا ہے  ایک زمانے  تک یہ محسوس کیا جاتا رہا کہ کسی بھی عنصر کا یہ نا قابل تقسیم ذرّہ ہے۔ لیکن سائنس دانوں نے  اپنے  تجربات سے  یہ بات ثابت کر دی کہ جوہر کو بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے  کیونکہ جوہر تین دیگر چھوٹے  ذرّات سے  مل کر بنا ہو تا ہے  جسے  علمِ کیمیا کی زبان میں الیکٹرون نیوٹرون اور پروٹون کہا جا تا ہے  اور جب یہ ذرّات ایٹم سے  الگ ہو جا تے  ہیں تو زبردست توانائی پیدا ہو تی ہے  اور جوہر اپنا وجود کھو دیتا ہے جناب سالمؔ ناگپوری حالانکہ سائنس داں نہیں تھے  لیکن لفظ جوہر کی اہمیت سے  واقف تھے  اسی لئے  آپ نے  اپنے  ایک شعر میں کیا خوبصورت بات کہی ہے  ملاحظہ فرمائیں  ؂

داغِ دل، زخمِ جگر، خونِ تمنّا، شبِ غم               جوہرِ عشق کی تقسیم ہے  ان چاروں میں

            عشق ایک جوہر ہے  اور یہ جوہر ایسا ہے  کہ اگر اس کا اشقاق کیا جائے  تو یہ اپنے  اجزاء میں تقسیم ہو جائے  گا اور اس کے  اجزاء ہیں داغِ دل، زخمِ جگر، خونِ تمنّا اور شبِ غم۔ سائنس کے  اس عمل سے  استفادہ کرتے  ہوئے  غزل کے  اس شعر میں حضرت سالمؔ نے  لفظ جوہر نہایت خوبصورت طریقے  سے  برتا ہے۔ ویسے  جوہر اپنے  اندر معانی کا جہان رکھتا ہے  اور اسے  الگ الگ مفہوم میں خوبصورت طریقے  سے  بیان کیا جا سکتا ہے۔

            جس طرح جوہر کے  تین اجزاء ہوتے  ہیں جنہیں جوہر کو  توڑ کر الگ الگ کیا جا سکتا ہے  اسی طرح ایک زمانے  تک یہ تصوّر رہا کہ جانداروں کا جسم بھی چار عناصر سے  مل کر بنا ہے۔ خاک، آگ، پانی اور ہوا۔ مرنے  کے  بعد جاندار کا جسم انھیں چار اجزاء میں تقسیم ہو جا تا ہے  جیسا کہ جنابِ چکبست نے  اپنے  ایک شعر میں کہا ہے   ؂

زندگی کیا ہے  ؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب                     موت کیا ہے  انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا

            یہ تصوّر سراسر مادّیت پرستی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں پر روح کا کوئی تصوّر نہیں ہے۔ روح کا کہیں وجود نہیں ہے۔ لیکن اسلامی نظریے  کے  مطابق انسان کا جسم اسی وقت تک زندہ رہتا ہے  جب تک روح اس میں موجود ہوتی ہے۔ روح جسم سے  الگ ہو گئی تو جسم پھر مٹّی کا ڈھیر ہے۔ اس روح کا تعلق ایک ایسی دنیا سے  ہے  جہاں کبھی نہ فنا ہونے  والی زندگی کی شروعات ہو گی۔ روح کی موجودگی کو ہندو دھرم کے  لوگ بھی مانتے  ہیں۔ جسم کے  ختم ہوتے  ہی آتما کسی اور جاندار میں منتقل ہو جاتی ہے۔ لیکن اسلام نے  یہ بتایا ہے  کہ مرنے  کے  بعد ہر انسان کی روح عالمِ ارواح میں چلی جاتی ہے  جہاں وہ قیامت تک رہے  گی اور قیامت کے  بعد پھر سے  تمام انسانوں کو ان کی اصلی شکل و صورت میں زندہ کیا جائے گا۔ روح ان کے  جسم میں داخل کر دی جائے  گی اور اعمال کے  حساب سے  انہیں جنّت یا جہنّم میں داخل کیا جائے گا۔ جہاں انہیں ہزاروں لاکھوں سال تک رہنا ہے۔ اسی بات کو جناب سالمؔ ناگپوری نے  کیسی خوبصورتی سے  اپنے  ایک شعر میں بیان کیا ہے   ؂

شروع ہو گی اسی دن سے  حقیقی زندگی سالمؔ     ہماری روح جس دن جسمِ خاکی سے  جدا ہو گی

            زندگی ایک امتحان گاہ ہے  جیسا جو عمل کرے  گا اسی حساب سے  بعد از مرگ اسے  اپنی زندگی گزارنی ہو گی اور وہی زندگی اصل زندگی ہے۔ یہ زندگی تو عارضی ہے۔ فانی ہے۔ غزل کو محبوب سے  بات چیت کی صنف کہا جاتا ہے۔ ابتدا ء میں شاعروں نے  غزل کو اسی طرح برتا ہے  لیکن اب تو غزل ہر مضمون کو اپنے  اندر سمو لیتی ہے۔ لیکن آج بھی جب غزل کے  اشعار میں حسن و عشق کی بات ہو تی ہے  تو شعر دل میں سوز و گداز کی کیفیات پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھئے  جناب سالمؔ نے  غزل کا کیا خوبصورت شعر کہا ہے   ؂

نظر  جو آتے   کہیں  وہ  ہم کو یہ  عرض کرتے  سلام کر کے

ہمیں سے  پردہ، ہمیں سے  دوری، ہمارے  دل میں قیام کر کے

            قدیم اور جدید شعراء نے  اپنی غزل کے  اشعار میں۔ ’’   تصویر ‘‘  کو نہایت خوبصورتی سے  استعمال کیا ہے  مثلاً۔

تیری صورت سے  نہیں ملتی کسی کی صورت          ہم جہاں میں تری تصویر لئے  پھرتے  ہیں

یا

تصویر تری دل میرا بہلا نہ سکے  گی

یا

 چند تصویر بتاں چند حسینوں کے  خطوط                    بعد مرنے  کے  مرے  دل سے  یہ ساماں نکلا

            جناب سالمؔ ناگپوری نے  تصویر کو اپنی غزل کے  ایک شعر میں نئے  انداز سے  پیش کرنے  کی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

               رخ بدل سکتے  نہیں آنکھ چرا سکتے  نہیں             کتنے  مجبور نظر آتے  ہو تصویر میں تم

            آج کل پوری دنیا میں مسلمانوں پر مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں۔ ہم دیکھ رہے  ہیں عراق میں مسلمان مسلمان سے  بر سرِ پیکار ہے  افغانستان میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ پاکستان بھی اس سے  بچا ہوا نہیں ہے۔ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے  ہو کسی سے  پوشیدہ نہیں۔ لبنان اور روس سے  الگ ہونے  والے  ممالک چیچینیا اور ازبکستان بھی انھیں حالات سے  دو چار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے  کہ مسلمانوں میں اتّحاد و اتّفاق نہیں ہے۔ اسلام نے  مسلمانوں میں اتّحاد و اتّفاق پر بہت زور دیا ہے  اور قرآن شریف نے  تنبیہ کی ہے  کہ ’’  اگر تم نے  آپس میں اتّحاد نہ رکھا تو تمھاری ہوا اکھڑ جائے  گی‘‘  اتّحاد کی قوت مسلمانوں میں موجود نہیں ہے  اس لئے  جگہ جگہ مسلمانوں کی ہوا اکھڑتی جا رہی ہے۔ جناب سالمؔ ناگپوری نے  بھی اپنے  ایک شعر میں اسی عالمگیر حقیقت کو بیان کیا ہے   ؂

رہو یاروں جو مل کر لائق فضل خدا تم ہو                     اگر الجھے  رہے  یونہی تو آپ اپنی قضا تم ہو

            حضرت سالمؔ کی مکمل زندگی ایک گوشہ نشین شاعر کی زندگی تھی۔ سردار گلی میں آپ کا مکان آپ کی تمام تر کاوشوں کا مرکز تھا۔ حضرت نہ تو کسی پان کے  ٹھیلے  پر نہ ہی کسی ہوٹل میں اور نہ ہی کسی دوکان میں بیٹھ کر وقت گزاری کرتے  تھے۔ اذان ہوتی تو تکیہ دیوان شاہ کی مسجد میں چلے  جاتے  نماز ادا کر کے  پھر سے  اپنے  ٹھکانے  پر واپس آ جاتے۔ حضرت کی آخر آخر عمر میں کسی سے  ایسی دوستی بھی نہیں تھی جس کے  ساتھ چہل قدمی کرتے  یا کھلے  ماحول میں اپنا وقت گزارنے  کے  لئے  نکل پڑتے۔ یہی کہا جا سکتا ہے  کہ وہ قناعت پسند اور وضع دار آدمی تھے۔ قناعت پسند کہنا اس لئے  بھی صحیح ہے  کہ چاہے  شاعری کا معاملہ ہو یا کاروبار یا اولاد کی تعلیم و تربیت کا، ہر معاملہ میں آپ نے  رضائے  خداوندی کو فوقیت و اوّلیت دی۔ یہی وجہ ہے  کہ آبائی مکان وقت کے  ساتھ ساتھ چھوٹے  چھوٹے  کمروں میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔ ان کمروں سے  حاصل ہونے  والا کرایہ ہی گزر بسر کے  لئے   ایک بڑا سہارا تھا۔ آپ کا کوئی بھی بچّہ اونچی تعلیم حاصل نہیں کر سکا  اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو جہاں adjust   ہوا وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ قناعت پسندی کو پسند کیا اور اچھی چیزوں کی آرزو کو تو بالائے  طاق رکھ دیا اور اسی مفہوم کو ادا کرتے  ہوئے  انہوں نے  یہ شعر کہا ہے  جو ان کے  حسب حال ہے   ؂

وہ بزم ہے  بزم غیر فانی، تجھے  مناسب ہے  فکر فردا                یہ انجمن  تو فنا ہے  سالمؔ ،  یہاں پہ کیا ہو گا نام کر کے

            جناب سالمؔ ناگپوری نے  اچھا خاصہ شعری سرمایہ چھوڑا ہے  جسکا کتابی شکل میں شائع ہو کر منظر عام پر آنا اس لئے   ضروری  ہے  کہ نئے  شعراء کو ہمارے  بزرگوں کی شاعری کا انداز معلوم ہو سکے۔ ان موضوعات کا علم ہو سکے  جنہیں انھوں نے  اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے  ان سب سے  بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن فی زمانہ کتاب شائع کرانا بھی کچھ لوگوں کے  لئے  جوئے  شیر لانے  سے  کم  دقّت کا کام نہیں ہے۔ ہمارے  یہاں ایسے  ادارے  نہیں ہیں جو یہ کام انجام دے  سکیں۔ لے  دے  کے  ایک مہاراشٹر اسٹیٹ  اردو اکادمی تھی لیکن اس کی لاش بھی ممبئی کے  اکادمی کے  دفتر کے  سرد خانے  میں رکھی ہوئی ہے۔ ہمیں سیکولر پارٹیوں کی حکومت سے  بڑی امیدیں  ہوئیں ہیں لیکن در حقیقت مسلمانوں کے  تابوت میں کیل ٹھوکنے  کا کام یہی کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ امید کرنا کہ حضرت سالمؔ کا مجموعہ کلام زیور طباعت سے  آراستہ ہو ماضی قریب میں  ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

            جناب ارشدالقادری صاحب کی صحبت میں رہنے  والا ناگپور شہر کا یہ ایک بڑا شاعر جس نے  ابتدائی دنوں جناب خلیل جونپوری سے  اپنے  کلام پر اصلاح لی تھی شاعری کی باریکیوں کو سمجھا تھا بالآخر  ۲۸  / جولائی ۲۰۰۷ء کو اپنے  مالک حقیقی سے  جا ملا۔ مومن پورہ، جہاں ان کے  دن رات گزرے، جہاں انھوں نے  اپنی شاعری کو پروان چڑھایا۔ جہاں انہوں نے  مشاعروں میں اپنے  اثر انگیز کلام سے  دادو تحسین پائی، اسی بستی سے  بہت دور یہاں صدر میں حضرت سالمؔ کو یاد کرنے  کے  لئے  اس شعری نشست کا انعقاد ہوا اس کے  لئے  بانیانِ مشاعرہ یقیناً اہل اردو زبان کے  شکریہ کے  مستحق ہیں۔

 

شاہدؔ کبیر اور ان کا شعری اسلوب

               از۔ محمد سکندر حیات

            یادِ رفتگان کے  سلسلہ کو قائم رکھتے  ہوئے  آج باری ہے  مشہور شاعر شاہدؔ کبیر کی نعت کی۔ حسبِ روایت صاحبِ کلام کی ادبی اور شعری محاسن کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اس بات سے  واقف ہیں کہ شاہدؔ کبیر نے  حمد اور نعت میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ شاہدؔ کبیر کی پہچان ناگپور سے  پھیلی اور ہر اس جگہ موجود ہے  جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پر وقار۔ دراز قد۔ بیباک و جاذب شخصیت، دوستی میں اخلاص۔ ان کا طبعی قد تو بلند تھا ہی وہ جدید لب و لہجہ کے  قد آور شاعر تھے۔ ان کی شخصیت پر ان کا ہی یہ شعر موضوع ہے۔ ؂

وہ سر و قد پسِ دیوار بھی نہیں چھپتا

              ہزار جھُک کے  چلے  سر دکھائی دیتا ہے

            پہلی مئی ۱۹۳۲ء کو ناگپور میں محفوظ الکبیر بن محمّد اسرائیل پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مومن پورہ اردو پرائمری ا سکول میں ہوئی۔ ثانوی تعلیم انجمن ہائی ا سکول ناگپور سے  مکمل کی۔ ۱۹۵۰ء میں میٹرک پاس کیا۔ ۱۹۵۶ء میں سنٹرل گورنمنٹ کے  فوڈ اینڈ مارکیٹنگ محکمہ میں ملازمت کی۔ ۱۹۹۰ء میں ملازمت سے  وظیفہ یاب ہوئے۔ ۱۹۵۷ء میں ڈرامہ مرزا غالب کے  ا سکرین رائٹر تھے۔ جسے  فائن آرٹس ڈرامہ مقابلہ میں راشٹرپتی بھون دہلی میں پیش کیا گیا۔

            وہ ۱۹۵۲ء سے  ہی نثر نگاری کرتے  تھے۔ ان کے  کئی مضامین۔ افسانے۔ منی افسانے  اور غزلیں ہندوستان کے  موقر جرائد و اخبارات میں شائع ہوتے  رہے  ہیں۔ انھوں نے  ہندوستانی فلموں کے  لئے  گیت بھی قلمبند کئے۔ کئی یادگار غزلیں کہیں جسے  ہندوستان کے  معروف فنکاروں نے  اپنی آواز سے  عوام تک پہنچایا۔ یہ غزلیں برصغیر ہندو پاک کے  حصار سے  باہر یورپ اور امریکہ میں بھی سنی جاتی ہیں۔ جگجیت سنگھ۔ ہری ہرن۔ چندن داس۔ انور اور عزیز نازاں جیسے  شہرہ آفاق فنکاروں نے  ان کے  کلام کو اپنی آواز کیلئے  منتخب کیا جو مقبول عام ہے۔ سب سے  عظیم ترین نام ان فنکاروں میں لتا منگیشکر کا ہے۔ آپ نے  بھی غزلِ شاہدؔ کبیر کو اپنی آواز دی۔

            ۔ ’’ چاروں اور‘‘  جدید غزلوں کا ان کا مرتب کر دہ مجموعہ۔ مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے  گریجویشن کورس کے  لئے  شاملِ نصاب ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف ایجوکیشن نے  بھی بارہویں جماعت کیلئے  ان کی غزلوں کو شاملِ نصاب کیا ہے۔ ۹۵۔ ۱۹۹۱ء سے  وہ ناگپور یونیورسٹی بورڈ آف اسٹڈیز کے  رکن رہے۔ ان کی حیات ہی میں ان کی کئی کتابیں اور مجموعہ کلام شائع ہو چکے  تھے۔  ملازمت کے  سلسلے  میں شاہدؔ کبیر کا قیام ۱۹۵۳ء سے  ۱۹۵۸ء تک دہلی میں رہا۔ اور یہی دور وسیلۂ اظہار کی تلاش و جستجو کا دور تھا۔ ۱۹۵۶ء میں وہ نثر نگاری کی طرف مائل رہے۔ ’ ’ کچّی دیواریں ‘‘ ان کا ناول اسی سال منظرِ عام پر آیا۔ جسے  اہلووالیا بکڈپو، کرول باغ دہلی نے  شائع کیا۔ بالآخر انھوں نے  غزل کی شاعری کے  حق میں فیصلہ کیا۔ اور بقول پروفیسر سید یونس ’’ شاہدؔ کے  مجموعہ کلام، پہچان کا دیباچہ آپکی تراوشِ قلم کا نتیجہ ہے۔ اُس وقت سے  آج تک شاہدؔ یکسو ہو کر شاہدِ غزل کی زلفیں سنوارنے  میں منہمک ہیں۔ بقول پروفیسر عشرت ظفر ’’ میں شاہدؔ کبیر کی غزل کو مملکتِ شعرو سخن میں ایک توانا آواز مانتا ہوں۔ حالانکہ وہ خود یہ کہتے  ہیں   ؂

کسی امیر کو کوئی فقیر کیا دے  گا        غزل کی صنف کو شاہدؔ کبیر کیا دے  گا

      سکوتِ آب سے  جب دل مرا گھبرانے  لگتا ہے

تو سطحِ آب پر کنکر گرا کر دیکھ لیتا ہوں

            محترم سامعین! حقیقی شاعر کا امتیازی وصف یہ ہے  کہ وہ سوچتا زیادہ ہے  اور جب ہر پہلو سے  نقش مکمل ہو جاتا ہے  تب ہی وہ کچھ اظہارِ خیال کرتا ہے۔ اسی کیفیت کو شاہدؔ کبیر کے  اس شعر سے  جو میں نے  ابھی سنایا دیکھا جا سکتا ہے۔ سکوتِ آب ایک منظر کا استعارہ ہے  جو تحریک سے  خالی ہے۔ اب ایسا نہیں کہ سکوتِ آب میں تحرک پیدا نہیں ہو سکتا۔ یقیناً ہو سکتا ہے۔ تو شاعر اس میں ایک کنکر پھینکتا ہے  تاکہ کچھ ہلچل پیدا ہو۔ دائرے  بنیں۔ لکیریں متشکل ہوں۔ ارسطو نے  بھی اسی خیال کو لیا کہ زندگی اس سطح پر بھی اپنا اظہار کرتی ہے  جب اسے  باہر سے  متحرک کیا جا سکے۔

            صدر مسلم لائبریری کے  عہدیداران لائقِ مبارکباد ہیں کہ انھوں نے  اس فلسفہ کو عملی جامہ پہنایا اور ادبی سکوت کو عمل سے  محرک بنایا۔ اس کیفیت کو شاہدؔ کبیر کے  یہاں دیکھئے۔

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا        کوئی کسی سے  بچھڑ کر جدا نہیں ہوتا

            شاہدؔ کبیر کے  اسلوبِ اظہار میں ایک تنوع ہے، متانت ہے  جو اسے  پر شِکوہ بناتی ہے۔ اور یہی بڑی شاعری کی پہچان ہے۔ شاہدؔ کبیر نے  اپنے  عہد کو سمیٹا ہے۔ ان کے  یہاں جمالیاتی نظام ایک خاص سطح سے  کلام کرتا ہے  اور منفرد نقوش بناتا ہے۔ بقول پروفیسر سید یونس۔ ’’ وہ ہمارے  شاعر کیا کرے  جس کے  اعصاب پر ابتدائے  شاعری کے  دور ہی سے  مرزا غالبؔ سوار ہو چکے  ہوں ‘‘ موجودہ دور میں استادی شاگردی کی روایت معدوم سی ہو گئی ہے۔ مگر اس قسم کی تلمذ ذہنی کو کون روک سکتا ہے۔ شاہدؔ کا نظریۂ شاعری بھی یہ ہے  کہ میرؔ و غالبؔ کے  بعد شاعری کی جائے  تو کم از کم وہ کچھ الگ تو ہو۔ چنانچہ شاہدؔ کی غزل کے  تمام رنگِ قدیم سے  ابھرتے  ہیں لیکن وہ جن آبشاروں میں نہا کر ترو تازہ ہوتے  ہیں وہ آج کا عہد ہے۔ وہ عہد جو ہمارے  چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ اشعار میں تازگی زیادہ نظر آتی ہے۔ یہ اشعار دیکھئے

اب بتا تجھ سے  بچھڑ کر میں کہاں جاؤں گا                   تجھ کو پایا تھا قبیلہ سے  بچھڑ کر میں نے

ہر چند مجھے  ریت پہ تو لکھ کے  مٹا دے                        میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

            اس شعر پر ایک ذاتی واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ اپنے  کسی کام کے  سلسلے  میں شاہدؔ کبیر امراؤتی تشریف لائے۔ اس دوران میں بسلسلۂ ملازمت امراؤتی قیام پذیر تھا۔ ایک صاحب سے  خاکسار نے  ان کا تعارف کروایا۔ اور کہا کہ ان کا یہ شعر مقبول عام ہے۔

تو لاکھ مجھے  ریت پر لکھ کر کے  مٹا دے                      میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

            بڑی نرمی سے  شاہدؔ کبیر نے  میری تصحیح فرمائی اور صحیح شعر سنایا۔ بہر حال مدّعا یہ کہ جنبشِ انگشت میں محفوظ رہنے  کی جو بات کہی گئی ہے  وہ ظاہر کرتی ہے  کہ جسمانی طور پر تو اشیاء ہم سے  دور چلی جاتی ہے  اور بحرِ فنا ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ ہمارے  ساتھ رہتی ہے  اور ان کا انعکاس، پرچھائیوں، تصویروں  یا لفظوں کی شکل میں ہوتا رہتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے  جو ہمیں ان اشیاء سے  قریب رکھتی ہے  جو بادی النظر میں تو ہمارے  پاس نہیں ہوتی مگر ہوتی ہے۔ اور ہم ان کے  ہونے  کا احساس پیکروں میں کرتے  ہیں۔ غزل کا یہی کمال ہے  کہ وہ انتہائی تیزی سے  ہر کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ ان کی شاعری علامتی شاعری رہی ہے۔ مروجّہ علامتوں مثلاً پانی۔ ریت۔ صحرا۔  پتھر۔ آئینہ۔ سایہ۔ موج۔ ساحل۔ رات۔ دیوار وغیرہ کی نئی توجیہات کی ہیں اور نئے  ادراک عطا کئے۔ اشعار دیکھئے۔

پانی کا پتھّروں پہ اثر کچھ نہیں ہوا

روئے  تمام عمر مگر کچھ نہیں ہوا

میں تو بہتا ہوا پانی ہوں نہ ہاتھ آؤ ں گا

لاکھ ساحل سے  تو آئینہ بنا لے  مجھ کو

باندھ رکھا ہے  کسی سوچ نے  گھر سے  ہم کو

ورنہ اپنا در و دیوار سے  رشتہ کیا ہے

شجر سے  گرتی ہیں کٹ کٹ کے  پتّیاں شاہد

نہ کوئی ہاتھ نہ خنجر دکھائی دیتا ہے

کونسا کرب چھلکتا ہے  ہنسی سے  میری

کیسے  ہنستا ہوں کہ دنیا کو رلا دیتا ہوں

پیروں سے  زمیں نکل رہی ہے

اور ہاتھوں میں آسماں نہیں ہے

تمام حادثے  احساس کھو چکے  اپنا

یہ آرزو ہے  کوئی آنکھ میری نم کر دے

کب کی پتھّر ہو چکی تھیں منتظر آنکھیں مگر

چھو کے  جب دیکھا تو میرے  ہاتھ گیلے  ہو گئے

بس اک گماں کے  تعقب میں لوگ چلتے  ہیں

سفر کو سمت کوئی راہ گیر کیا دے  گا

            غزل کے  ان اشعار کو لتا منگیشکر نے  آواز دی ہے۔

نیند سے  آنکھ کھلی ہے  ابھی دیکھا کیا ہے

دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے

گھیر کر مجھ کو بھی لٹکا دیا مصلوب کے  ساتھ

میں نے  لوگوں سے  یہ پوچھا تھا کہ قصّہ کیا ہے

 اپنی دانست میں سمجھے  کوئی دنیا شاہدؔ

ورنہ ہاتھوں میں لکیروں کے  علاوہ کیا ہے

            یہ شعر دیکھئے  کہ احساسِ حسن میں کس طرح ایک استعجابی کیفیت پیدا  ہو گئی ہے

اتنا بھی سرور ہو نہ رشتے  میں                        چھونے  کا خیال مست کر دے

جائے  گا بھی تو کہاں جائے  گا پاؤں والا                      گھر سے  نکلے  کہ اٹھا ہاتھ دعاؤں والا

            اس شعر کے  مفہوم اور ندرت بیانی پر پروفیسر یونس صاحب نے  کہا کہ یہ شعر اردو شاعری میں ایک نادر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے

روٹھ کر جاتے  ہوئے  محبوب کی کیسی بولتی تصویر کھینچی ہے۔

جیسے  گل ہوتی چلی جائے  چراغوں کی بہار

جب کوئی روٹھ کے  جاتا ہو تو منظر دیکھو

جیسے  کوئی لباس نہ ہو اس کے  جسم پر

یوں راستہ چلے  ہے  بدن کو سمیٹ کر

            جدید صنعتی شہر اور اس کی مصروفیات نے  افراد کی مذہب اور روحانیت سے  محرومی کو کس بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

ان کو بھی بہا لے  گئے  ناقوس ملوں کے

جو صبح کو جاگے  تھے  موذّن کی اذاں سے

خود کو آئینے  میں ہم ڈھونڈ رہے  ہیں شاہد

اپنی پہچان نظر آئے  تو گھر سے  نکلیں

            حضرات محترم ! آپ نے  دیکھا شاہدؔ کی ادبی کاوشیں  اور خدمات کا تذکرہ کرتے  کرتے  میں ان کے  اشعار میں اس قدر غرق ہو  گیا کہ وہ بات ادھوری رہ گئی۔ بہر حال میں اس موضوع پر دوبارہ آتا ہوں کہ شاہدؔ کبیر کی پہلی غزل شب خون دسمبر ۱۹۶۷ء میں شائع ہوئی تھی۔ ۱۹۶۰ء سے  ۱۹۷۰ء کے  درمیان نئی غزل کے  افق پر ابھرنے  والے  شعراء تو بہت سے  ہیں لیکن ماہنامہ شب خون کے  ہمہ گیر شعلوں کی روشنی میں جن چہروں کے  خدوخال نمایاں ہوئے  انھیں شاہدؔ کبیر کے  ساتھ کرشن کمار۔ عقیل شاداب۔ ظفر غوری اور مقامی شاعر پروفیسر مدحت الاختر جیسی اہم شخصیتیں ہیں۔

            ان کی غزلوں کا مجموعہ مٹی کا مکان ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا جسے  حکومتِ مہاراشٹر سے  اول انعام حاصل ہوا۔ ٹھیک ۲۰ سال بعد شاہدؔ کبیر کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ’ پہچان‘ شائع ہوا۔ اسے  بھی حکومتِ مہاراشٹر کی اردو اکادمی نے  اول انعام کا مستحق قرار دیا۔ یہی مجموعہ کلام پہچان ۲۰۰۲ء میں دیوناگری رسم الخط میں ان کے  صاحبزادے  ثمیر کبیر نے  ترتیب دیا اور شائع کروایا۔ یہ مجموعہ کلا م ان کے  انتقال کے  بعد شائع ہوا۔ ۲۰۰۱ء میں  شاہدؔ کبیر کو حجّ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اور فریضۂ حج کے  ٹھیک چالیس دن بعد یعنی ۱۱/ مئی ۲۰۰۱ ء بروز جمعہ دوپہر دنیائے  آب و گل سے  رخصت ہوئے۔ سچ تو یہ ہے  کہ شاہدؔ کبیر نئی غزل کی غیر فانی آواز ہے۔

اب لوگ ترس جائیں گے  آواز کو میری

گونجوں گا فضاؤں میں سنائی نہیں دوں گا

 

موجودہ عہد کا نوحہ گر۔ ۔ ’’ میکشؔ ناگپوری‘‘

               از۔ ڈاکٹر محمّد اظہر حیات

            کپڑوں کا ہوش نا خود کا خیال،  پراگندہ بال، لڑکھڑاتی چال، درمیانہ قد،  منحنی جسم۔ میکش کا خیال آتے  ہی ذہن کے  قرطاس پر یہ تصویر ابھر آتی ہے  گویا میکشؔ ناگپوری اسمِ با مسمّیٰ تھے۔ میکش رندِ بلا نوش تھے۔ ہمیشہ شراب کے  نشے  میں دھت اور مد مست رہتے  تھے۔ یار دوست ان کی کیفیت سے  خوب فائدہ اٹھاتے  تھے۔ لیکن ایسی مد ہوشی میں بھی ان کا شعور جاگتا رہتا تھا۔ حافظہ غضب کا پایا تھا۔ ایسے  ایسے  اشعار زبان سے  ادا ہوتے  کہ سننے  والے  حیرت سے  میکشؔ کا منہ تکتے۔

            میکشؔ ناگپوری کا پورا نام محمّد یونس تھا۔ وہ یکم جولائی ۱۹۳۳ء کو ناگپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے  والد عظمت علی ایک اچھّے  جرّاح تھے  اور یہی ان کا پیشہ تھا۔ محمّد یونس میکشؔ نے  میٹرک تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے  ناگپور پاور ہاؤس اور انڈین جیولاجی اینڈ مائننگ میں بالترتیب ملازمت کی لیکن اپنی لا ابالی طبیعت و مزاج کی وجہ سے  بہت جلد دونوں ملازمتوں کو یکے  بعد دیگرے  چھوڑ دیا۔ میکشؔ کی شادی بھنڈارہ میں جناب احمد خان پٹھان کی صاحبزادی محترمہ طاہر النساء سے  ۱۲! دسمبر ۱۹۷۱ء میں ہوئی۔ ان کی اہلیہ بھنڈارہ ضلع پریشد ا سکول میں مراٹھی کی ٹیچر تھیں۔ ابھی میکشؔ زندگی سے  لطف اندوز ہو رہے  تھے  کہ شادی کو صرف پانچ سال بعد طاہرالنساء نے  انہیں مفارقت کا داغ دے  دیا۔ اور ایک لڑکا اور ایک لڑکی اپنی یادگار چھوڑ گئیں۔ میکش جو بے  روزگار ی سے  نبرد آزما تھے  رفیقِ حیات کی دائمی جدائی سے  ٹوٹ کر رہ گئے۔ اور کہہ اٹھے۔  ؂

مرے  رفیقِ سفر کو کس نے  چھین لیا            نہ جانے  کھانی ہے  ٹھوکر کہاں کہاں مجھ کو

            میکشؔ نے  شاعری کی ابتداء زمانۂ طالب علمی سے  شروع کر دی تھی۔ ا سکول میں ان کے  استاد حضرت حمید اللہ خان آذرؔ سیمابی نے  ان کی شعری صلاحیتوں کو پرکھا اور نکھارا۔  ۱۹۶۳ء میں آذرؔ صاحب پاکستان ہجرت کر گئے  تو اس کے  بعد میکشؔ نے  کبھی کسی سے  مشورۂ سخن نہیں کیا۔ اور واقعہ یہ ہے  کہ انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے  کلامِ بلاغت سے  ناگپور کے  اہلِ ادب کو متاثر کر رہے  تھے۔ حضرت مولانا ناطقؔ گلاوٹھوی،  نواب غازیؔ آف گیوردھا، حافظ انورؔ کامٹوی،  جناب حمیدؔ ناگپوری اور حضرت طرفہؔ قریشی جیسے  با کمال شعراء کرام میکشؔ کی شاعرانہ صلاحیتوں کے  مدّاح تھے۔

            میکشؔ ذہین، بے  باک اور منہ پھٹ تھے۔ وہ سچ کو سچ کہنے  میں کبھی نہیں چوکتے  تھے۔ ریاکاری، مکّاری اور فریب کاری سے  دور تھے۔ ان خوبیوں کی وجہ سے  وہ عوام النّاس میں بیحد مقبول تھے۔ مشاعرے  میں ان کی شرکت مشاعرے  کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ وہ محفل میں مرکزِ نظر ہوتے۔ اپنی حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت سے  ہر خاص و عام کو متاثر کرتے  تھے۔ ایک مرتبہ ایک مشاعرے  میں کلام سنا کر بیٹھے  ہی تھے  کہ مولانا ناطقؔ گلاوٹھوی نے  داد کے  انداز میں فرمایا۔ ’’ میاں یہ کہاں سے  لاتے  ہو‘‘

میکشؔ نے  بر جستہ جواب دیا۔ حضرت آپ جہاں سے  لاتے  ہو۔ اور پھر اپنا ہی ایک شعر برجستہ پڑھا۔  ؂

جہاں ان کا ٹھکانہ ہے  وہاں میری رسائی ہے                مقیّد کر نہیں سکتا کوئی پروازِ انساں کو

            میکشؔ بادہ نوشی میں بھی شعر کبھی غلط نہیں پڑھتے  تھے۔ مجھے  ایک نعتیہ مشاعرہ خوب یاد ہے  جب میکشؔ نے  نشے  کی     حالت میں ایک نعت پاک ترنّم سے  سنا کر خوب داد پائی تھی۔ گویا مشاعرہ لوٹ لیا تھا۔ مگر کسی کی ہمت نہیں تھی کہ کوئی اس حالت میں انہیں ٹوک دیتا۔ اسی مشاعرے  میں انہوں نے  نعت کا یہ مطلع کہا تھا۔

یادِ حبیب آئی تو جی بھر کے  رو لئے    پھولوں کے  ہو لئے  کبھی کانٹوں کے  ہو لئے

            ملک کے  معیاری رسائل و جرائد میں میکش کا کلام چھپتا اور قوال حضرات ان کی تحریر کر دہ قوّالیاں جھوم جھوم کر گاتے  تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر انھوں نے  بے  شمار سہرے  لکھے۔ محرم کے  ایّام میں ان کے  تحریر کر دہ نوحے  اور مرثیے  آج بھی جوش و خروش کے  ساتھ پڑھے  جاتے  ہیں۔ رمضان کے  مہینے  میں قصائد اور فلمی گیتوں کی دھن پر حالاتِ حاضرہ پر طنز بھرے  نغمے  اب تک لوگوں کے  ذہنوں میں محفوظ  ہیں۔ میکشؔ نے  عجیب طبیعت پائی تھی۔ وہ نشہ میں ہوتے  تو بھی شریف، ملنسار، نیک دل، نیک طبیعت ہوتے۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے  ہی وہ  میخانے  کی بجائے  مسجد کی راہ لیتے۔ سر پر ٹوپی۔ گردن نیچی۔ خراماں خراماں راہ چلتے۔ کم بولتے  اور رمضان کے  پورے  روزے  اہتمام سے  رکھتے۔ اکثر تلاوت میں مصروف نظر آتے۔ گویا روزوں سے  ان کا ظاہر بدل جاتا تھا۔ مگر شراب ان کا باطن بدلنے  میں کبھی کامیاب نہ ہو ئی۔ وہ ہر حال میں شریف النفس اور پاکباز تھے۔ بزرگوں کا ادب کرنا ان کی فطرت میں تھا۔ میں نے  سنا کہ وہ اپنی والدہ کا اس قدر خیال کرتے  تھے  کہ ایک مرتبہ بمبئی کے  سفر پر گئے  اور کام ہونے  سے  قبل محض یہ کہہ کر لوٹ آئے  کہ ’’والدہ کی یاد آ رہی ہے ‘‘۔

            ایک دن برادرِ محترم جناب قمر حیات صاحب سے  سر راہ ملاقات ہوئی۔ نشے  میں تھے۔ دیکھتے  ہی کہنے  لگے۔ قمر حیات فی البدیہہ شعر سنو۔  ؂

قمر کی چاندنی شب کو،  اجالا مہر کا دن کو                    یہ دنیا روشنی ہی روشنی معلوم ہوتی ہے

یہ دنیا ہے، محبت ہے  اسے  باطل پرستوں سے                      خدا لگتی یہاں سب کو بری معلوم ہوتی ہے

            محترم قمر حیات صاحب ایک اور واقعہ  بیان کرتے  ہیں کہ ایک روز میکشؔ صاحب حسبِ عادت اپنے  پورے  سرور میں تھے۔ قمر صاحب کو دیکھا تو آواز دی  اور وہی قطعہ پڑھ دیا۔ قمر صاحب نے  کہا۔ میکشؔ صاحب نے  کہا میرا شعر سنو۔ پھر میکشؔ ایک دم سنجیدہ ہو گئے  اور کہا سناؤ۔ قمر صاحب نے  کہا  ؂

زندگی میں مقام پیدا کر                  عمل صالح سے  نام پیدا کر

            میکشؔ نے  فوراً کہا خیال اچّھا ہے  مگر بحر سے  بالکل خارج ہے  اور کہا اسے  یوں کر دو  ؂

زندگی میں مقام پیدا کر                  نیک سیرت سے  نام پیدا کر

            یہ کہہ کر میکشؔ اپنی ترنگ میں آگے  بڑھ گئے۔ اس واقعہ سے  یہ بتانا مقصود ہے  کہ میکشؔ شعر کے  معاملہ میں بھی کتنا ہوش رکھتے  تھے۔ جنابِ میکشؔ نے  ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی لیکن غزل اور قطعات میں انہیں  خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ وارداتِ قلب و نظر کو کیف و سرور میں ڈوب کر بیان کرتے  تھے  اس لیے  ان کے  کلام میں زندگی کی تازگی اور حرارت محسوس ہوتی ہے۔ ان کی غزلیں تغزل کی بھر پور ترجمانی کرتی ہیں۔ زبان و بیان میں سلاست و روانی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے  اشعار زبان زد خاص و عام ہو نے  کی صلاحیت رکھتے  ہیں۔ اپنی اس خوبی کا انہیں بھی احساس تھا۔ کہا ہے   ؂

ترکیب میں جدّت ہے  تو الفاظ میں شوکت               میکشؔ ترا نکھرا ہوا اندازِ بیاں ہے

            میکشؔ حسّاس با شعور اور باخبر شاعر تھے۔ عصری حسّیت ان کے  کلام کی نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ سماج میں عدم مساوات، نا انصافی، ظلم و تشدّد سے  تڑپ جاتے  تھے۔ اس اعتبار سے  ہم میکشؔ کو موجودہ عہد کا نوحہ گر کہہ سکتے  ہیں۔ شعر کا تیور دیکھئے۔

بے  سود کٹ رہے  ہیں لاکھوں حسین میکشؔ

بھارت کی سر زمیں بھی میدانِ کربلا ہے

کیا بجھتی مجھ سے  آگ کسی کے  مکان کی

اپنے  ہی گھر کی آگ بجھانے  میں رہ گیا

            میکشؔ کو میکشی میں اپنی بربادی کا احساس تھا مگر مجبور تھے۔ اس کا اظہار انھوں نے  کئی اشعار میں کیا ہے۔ کہا ہے   ؂

میرے  دلِ تباہ کا عالم نہ پوچھیے               خانہ خراب کر دیا ذوقِ شراب نے

باہر کوئی سکون نہ گھر میں قرار ہے                  مجھ کو کہیں کا رکھا نہیں اس شراب نے

ہم نے  خود بڑھ کے  جلایا ہے  نشیمن اپنا              اس میں اے  برقِ تپاں تیرا کوئی دوش نہیں

            کبھی میکشؔ اپنی اس کمزوری کو فطرت کا نام دیتے  تھے   ؂

ابتدائے  حیا ت سے  میکشؔ                اپنی قسمت کو رو رہا ہوں میں

ازل سے  اپنی قسمت میں لکھا ہے  ٹھوکریں کھانا          نہ دیکھیں اہلِ دانش یوں مجھے  چشمِ پریشاں سے

                              برائی مے  پرستی کی کروں یہ ہو نہیں سکتا             ازل سے  پائی ہے  میکشؔ طبیعت میں نے  رندانہ

                        میکشؔ اکثر اشعار میں میکشی، میکدہ اور شراب سے  خوب فائدہ اٹھاتے  تھے۔ ایک جگہ کہا ہے   ؂

                                         یہ میکدہ ہے  مگر ہوش مند آتے  ہیں         یہاں سمجھ کے  کرو جس کسی سے  بات کرو

                        کیفؔ بھوپالی نے  میکشؔ کے  کلام پر تبصرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’  میکشؔ کے  کلام کی یہ خصوصیت مجھے  بے  حد پسند ہے  کہ وہ پیچیدگیوں سے  پاک و صاف اور آمد سے  لبریز ہوتا ہے۔ ‘‘ کیفؔ مرحوم کے  دعوے  پر بطور دلیل یہ اشعار دیکھئے۔

               آب و تابِ آئینہ کم ہو گئی تو کیا ہوا               رفتہ رفتہ رنگ اڑ جاتا ہے  ہر تصویر کا

                        جو بھی کر نا ہے  آج کر لیجے               کل یہ دنیا رہی رہی نہ رہی

      اب درد محبت مری رگ رگ میں رواں ہے               صرف ایک جگہ ہو تو بتاؤں کہ یہاں ہے

      میں خوب سمجھتا ہوں دو عالم کی حقیقت                     آرام سے  انسان یہاں ہے  نہ وہاں ہے

       اک روز رہا تھا ترے  جلوؤں کی فضا میں                      آنکھوں میں ابھی تک وہی رنگین سماں ہے

            غزل کے  یہ اشعار دیکھئے۔

 تم اپنی آنکھوں میں کیفِ شراب بھر لینا                   ہمارے  آنے  سے  پہلے  یہ کام کر لینا

 تمھارے  جلوؤں سے  کھیلے  گا میرا ذوقِ نظر                نقاب الٹنے  سے  پہلے  ذرا سنور لینا

الجھ رہے  ہیں جو کانٹے  ذرا ادھر دیکھو                        پھر اپنے  دامنِ رنگیں میں پھول بھر لینا

ہے  کارِ عشق جہاں میں محال اے  میکشؔ              بہت ہی سو چ کے  یہ کام اپنے  سر لینا

            یہ مختلف اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

مجھے  نہ دیکھ میں نبّاض ہوں زمانے  کا              میں تیرے  رُخ سے  تری بات کو سمجھتا ہوں

               یہ دیکھنا ہے  کدھر ٹوٹتے  ہیں پروانے                    میں دل جلاتا ہوں اپنا تو آفتاب جلا

                             زخموں کی تعداد نہ پو چھو            چھوٹا گھر مہمان بہت ہیں

                یوں تو کہنے  کو ایک کانٹا ہوں                    خاص نسبت ہے  پھر بھی پھول کے  ساتھ

               نارِ دوزخ حرام ہے  مجھ پر           ہے  محبت مجھے  رسول کے  ساتھ

            جنابِ میکشؔ نے  اپنی زندگی میں ہی ’ بادہ نو، کے  نام سے  اپنا مجموعہ کلام ترتیب دے  دیا تھا۔ مگر افسوس ان کی زندگی میں وہ زیورِ طباعت سے  آراستہ نہ ہو سکا وہ یہ حسرت لیے  ۹  جنوری  ۱۹۸۷ء بروز جمعہ ۸ بجے  شب اس دنیائے  فانی سے  رحلت کر گئے۔ دوسرے  دن مومن پورہ قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

ہو گا جس دِن نہ یہ میکشِ خوش نوا               سونی ہو جائے  گی بزمِ شعرو سخن

 

عبد الحفیظ پاگل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نام کے  پاگل

(یہ مقالہ ۲۴  ویں ماہانہ شعری نشست مورخہ ۲۶/ جنوری  ۲۰۰۸ء کو پڑھا گیا)

               از  :  ڈاکٹر محمد اظہر حیات

(ریڈر صدر شعبہ اردو، یشودا گرلز آرٹس اینڈ کامرس کالج، ناگپور)

            اب سے  تقریباً ۳۰۔ ۳۵ سال قبل کی بات ہے  مومن پورہ میں ایک گوشت کی دکان پر میں کھڑا تھا۔ کسی نے  زور سے  آواز لگائی ’’پاگل صاحب آپ کی قمیض جل رہی ہے۔ ‘‘ پاگل صاحب نے  فوراً اپنی انگلیوں میں پھنسی بیڑی کو پیروں تلے  دبا دیا اور دامن جھٹکتے  ہوئے  کہنے  لگے  :’’یار گریبی میں آٹا گیلا ہو گیا۔ ‘‘ پاگل انصاری سے  پہلی بار میں یوں متعارف ہوا۔ اس واقعہ کے  بعد اکثر مشاعروں میں ان سے  کلام سنتا۔ دوسروں کے  ساتھ مجھے  بھی لطف آتا ان کے  اشعار سن کر مجھے  ان کی شخصیت میں دلچسپی سی پیدا ہو گئی۔ وہ میرے  ہم محلہ تھے  اکثر ان سے  ملاقات ہوتی۔ پر گندہ کھچڑی بال، ڈھیلا ڈھالا قمیض پائجامہ اور سلیپر پہنے  انگلیوں میں بیڑی دبائے  اور گاہے  بگاہے  دھواں اڑاتے  وہ روایتی انداز کے  غریب شاعر نظر آتے  بلکہ سچ تو یہ اسمِ بامسمّٰی نظر آتے۔

            پاگلؔ انصاری کا پورا نام عبدالحفیظ انصاری تھا۔ ۱۹۱۶ء میں وہ ناگپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے  کے  بعد معاش کے  جھمیلے  میں پڑ گئے۔ شعر و سخن کا فطری مزاج پایا تھا اس لیے  غزلوں سے  ہی شاعری کا آغاز کیا مگر بعد میں ہزلوں کی طرف مائل ہو گئے  اور آخر تک ہزل کہتے  رہے۔ ابتداء میں مرحوم مولانا ناطقؔ گلاؤٹھوی سے  مشورۂ سخن کرتے  رہے  مگر اس کے  بعد کسی کو اپنا کلام نہیں دکھا یا بلکہ شہر کے  بیشتر شعراء ان سے  مشورۂ سخن کرتے  رہے۔ پاگلؔ صاحب کی اہلیہ کا نام قمر النساء تھا جن کی وفات ۱۹۹۲ء میں ہوئی۔ ان کے  تین بیٹیاں اور تین بیٹے  تھے۔ نور محمد ان کے  بڑے  صاحبزادے  تھے  جن کا انتقال دو سال قبل ہوا۔ خلیل تابش اور شکیل احمد بقید حیات ہیں۔

            عبدالحفیظ کو معاشی بحران نے  پاگل بنا دیا تھا۔ شاید اسی لیے  انھوں نے  اپنا تخلّص ہی پاگلؔ کر لیا تھا۔ کہا ہے    ؂

پاگل ترے  نصیب میں آرام ہے  کہاں

اک دن بھی جب کہ چین کی روٹی نہیں ملی

            پاگل صاحب شروع سے  غربت کے  شکار رہے۔ لیکن اس غربت و افلاس میں بھی ہمیشہ ہنستے  رہے  اور دوسروں کو ہنساتے  رہے۔ اﷲ پر یقین، توکل اور قناعت ان کی طبیعت کا خاصّہ تھا۔ کہتے  ہیں   ؂

ارے  پاگل خدا پر رکھ بھروسہ

تجھے  کیوں فکر ہے  شام و سحر کی

            ایک جگہ اﷲ کی عنایت کا ذکر کس طرح کیا ہے  ملاحظہ کیجئے  :

مجھ سے  سڑے  گلے  ہوئے  مٹی کے  پینڈ پر

اﷲ میاں کی خاص عنایت ہے  زندگی

            اکثر اشعار میں وہ اپنی غربت و پریشانی کا ذکر کرتے  تھے۔ یہ اشعار دیکھئے  جس میں طنز زیادہ ہے۔ اسے  سن کر ہمیں شاعر سے  ہمدردی ہو جاتی ہے  :

روز اول سے  پاؤں ہے  بھاری

زندگی پیٹ لے  کے  آئی ہے

اب تو خدا ہی حافظ ہے  اپنی زندگی کا

چھو ہو گیا زمانہ سارا ہنسی خوشی کا

روز اول سے  شاید اﷲ میاں سے  ہم نے

بیمہ کرا لیا تھا غربت کی زندگی کا

            وہ غالبؔ کے  اس شعر کی تشریح و تفسیر معلوم ہوتے  تھے  جس میں غالبؔ اہلِ کرم کا تماشہ دیکھنے  کے  لیے  فقیروں کا بھیس اختیار کرتے  تھے۔ پاگل بھی در حقیقت نام کے  ہی پاگل تھے۔ ان کا کلام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے  کہ وہ فرزانوں سے  بڑھ کر فرزانہ تھے۔ زمانے  پر ان کی گہری نظر تھی۔ روز مرّہ کی باتوں میں بھی وہ نکتہ پیدا کرنے  کا ہنر جانتے  تھے۔ یہ اشعار دیکھئے۔

کردار جانور کا کرتے  ہیں ہم ادا یوں

کھاتے  ہیں گھاس لیکن لیتے  ہیں نام گھی کا

دنیا سیدھے  سادوں کے  لیے  ذلّت کا باعث ہے

یہ دنیا اس کی ہے  جس نے  اِدھر مارا اُدھر دیکھا

یہ شعر دیکھیے۔

رونا تو سبھی روتے  ہیں اس دور میں لیکن

رکھتا ہے  کوئی اپنے  بھی عیبوں پہ نظر کیا

میری بربادیوں پر ہنسنے  والوں

خبر لینا ذرا اپنے  بھی گھر کی

            پاگل صاحب وضع دار، منکسر المزاج اور شریف النفس شاعر تھے۔ اس لیے  لوگ ان کی عزت کرتے  تھے  اور انہیں پاگل صاحب کہتے  تھے  وہ  مشاعروں میں دور دور مدعو کیے  جاتے  تھے۔ تحت میں کلام سناتے  مگر اس انداز میں کہ سامعین ٹوٹ کر داد دیتے  تھے۔ کلام سن کر محفل زعفران زار ہو جاتی مگر پاگل صاحب بڑی سنجیدگی سے  اپنے  بکھرے  بالوں میں انگلیوں سے  کنگھی کرتے  اور کنکھیوں سے  ادھر ادھر دیکھتے۔ ایک مشاعرے  میں انہوں نے  جب یہ قطعہ سنایا تو سامعین لوٹ پوٹ ہو گئے    ؂

میں یہ سمجھا کہ انھیں مجھ سے  محبت ہو گی

وہ یہ سمجھے  کہ مری جیب میں پیسہ ہو گا

جب پڑیں جیب پہ نظریں تو وہ ہنس کر بولے

تم ہی بتلاؤ بھلا ایسے  سے  کیسا ہو گا

            دنیا کے  تجربات و حوادث نے  انہیں سنجیدہ بنا دیا تھا۔ اس سنجیدگی میں وہ مزاح کا پہلو نکال لیتے  تھے  اور مزاح میں طنز کی آمیزش کر کے  سنجیدگی پیدا کر دیتے  تھے۔ یہ متفرق اشعار ملاحظہ کیجئے   :

اب تک دل و جگر میں نشتر سا چبھ رہا ہے                  کہہ دینا مجھ کو پاگل یک بارگی کسی کا

انوکھے  قسم کی فرمائش ہوتی ہے  روزانہ                    محبت آجکل ایک نوکری معلوم ہوتی ہے

بھروسہ کیا کرے  کوئی کسی کے  عہد و پیماں کا                        زمانے  کی فضا منہ چوپڑی معلوم ہوتی ہے

مجھے  وعدوں ہی وعدوں پر ٹلایا                    محبت کی، مگر اس نے  اُدھر کی

ذخیرہ عیب کا ہو گا بر آمد                تلاشی لیں اگر اہل ہنر کی

            پاگلؔ صاحب کے  کلام میں خالص مزاح کی بھی کمی نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ ہے  کہ وہ اسی خوبی کی وجہ سے  جانے  اور مانے  جاتے  تھے۔ لیکن یہاں بھی وہ مزاح کو مزاح کے  معیار سے  گرنے  نہیں دیتے  تھے۔ یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں  :

           تو مجھ کو قتل کرتا ہے  تو کر، لیکن بتا پاگلؔ             شب وعدہ تیری زلفوں کی جھالر کون دیکھے  گا

سڑکیں سدھر گئی ہیں گلیاں سدھر گئی ہیں              سدھرا نہیں اگر تو میدان شاعری کا

      آؤ ملنے  کو تو دَلنے  لگا دیتے  ہیں              ہے  یہ پھٹکار تو کوئی نہ پھٹکتا ہو گا

                         وفا کی راہ میں پھسلن بہت ہے             ضمانت ضبط ہو جاتی ہے  سر کی

                        تعجب ہے ، نہ ہوں بولو نہ ہاں کچھ             یہ تم ہو یا کوئی گڑیا ربر کی

              آج ہوٹل میں تری یاد جو آئی مجھ کو             چائے  میں بھیگا ہوا میں نے  بٹر چھوڑ دیا

       توبہ توبہ عشق کی دھن میں یہ کیا سمجھے  تھے  ہم              تھا وہ انجن کا دھواں جس کو گھٹا سمجھے  تھے  ہم

                        غیر تمہارا کون ہے  لگتا              ا  بّا ہے  یا چاچا ماما

                           اس کے  آگے  انڈے  انڈے              میرے  آگے  بیگن بیگن

            ایک روز پاگل صاحب سے  میں نے  مجموعہ کلام شائع کرنے  کے  لیے  کہا تو انتہائی سادگی اور سنجیدگی سے  کہنے  لگے  بھائی! کلام تو بہت ہے۔ ترتیب دیا رکھا ہے۔ پھر وہ خلاء میں دیکھنے  لگے۔ کچھ روز قبل میں نے  ان کے  صاحبزادے  شکیل احمد سے  کلام کے  متعلق کہا تو انھوں نے  بتایا کہ ابّا کے  انتقال کے  بعد دو شاعر حضرات اظہارِ تعزیت کے  لیے  آئے  اور امّاں سے  مجموعہ کلام شائع کرانے  کے  لیے  ڈائری لے  گئے  مگر آج تک نہ مجموعہ کلام منظر عام پر آیا اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ وہ لوگ کون تھے۔

            یہ بات قابلِ ذکر اور شکر ہے  کہ جب میں نے  پاگلؔ صاحب پر مقالہ لکھنے  کا ارادہ کیا اور ان کے  کلام کی جستجو میں کچھ لوگوں سے  ذکر کیا تو بہت جلد مجھے  حضرت کی چھ ہزلیں اور کئی متفرق اشعار مل گئے۔ اس سے  اندازہ لگایا جا سکتا ہے  کہ پاگلؔ صاحب لوگوں کے  ذہن و دل میں اب بھی محفوظ ہیں۔

            ۹!نومبر ۱۹۷۹ء کی صبح جب پاگلؔ انصاری کی وفات کا علم ہوا تو مجھے  یوں محسوس ہوا کہ اردو طنز و مزاح کی چھوٹی سی دیوار کے  بیچ سے  ایک اینٹ کھسک گئی ہے۔ ناگپور کے  ادبی حلقوں میں رنج و غم کی فضا چھا گئی۔ بعد نماز عصر مومن پورہ قبرستان میں تجہیز و تکفین عمل میں آئی۔

            دوسرے  روز یعنی ۱۰! نومبر کی شب اسلامیہ ا سکول، مومن پورہ میں نواب غازیؔ مرحوم کی یاد میں ایک سیمینار اور مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ ناظم مشاعرہ ثقلین حیدر نے  بڑے  ہی پر سوز اور جذباتی انداز میں پاگلؔ صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے  ہوئے  کہا ’’شاعر امیر ہو یا غریب، شاعر غزل گو ہو یا ہزل گو، شاعر غازی ہو یا پاگل، شاعر شاعر ہوتا ہے۔ تخلیق کار ہوتا ہے  اور تخلیق کار عظیم ہوتا ہے۔ اس کا نقصان قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ ادب کا نقصان ہوتا ہے۔ پاگلؔ انصاری کی وفات ہمارے  سماج کا نقصان ہے۔ اردو ادب کا نقصان ہے۔ ‘‘سامعین پر ایک سکتہ طاری ہو گیا۔ انھیں پاگلؔ انصاری کی موت کھلنے  لگی۔

            اگر پاگلؔ صاحب زندہ ہوتے  اور ثقلین حیدر کی یہ باتیں سنتے  تو ہر گز وہ یہ نا کہتے    ؂

موت پر مفلس کی، تھا اس کا پڑوسی بے  خبر

اہلِ زر کوئی مرا تو شہر بھر ماتم ہوا

            سچ تو یہ ہے  کہ پاگل معاشی طور پر مفلس ضرور تھے  لیکن وہ شعر و سخن کی دولت سے  مالامال تھے۔

حق مغفرت کرے  عجب آزاد مرد تھا

 

وسط ہند کے  اکبر ثانی: غزل کے  مزاج داں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظیر احمد نظیر

               از  :  ڈاکٹر محمد اظہر حیات

            مجھے  ذہن پر بہت زیادہ زور ڈالنے  کی ضرورت نہیں ہوئی مرحوم نظیر احمد نظیر کو ذہن کے  قرطاس پر وا کرنے  میں۔ کشادہ پیشانی، ذہانت کی نشانی، کالے  گھنے  گھنگریالے  بال۔ فارغ البال، شرافت کی چمک روشن آنکھوں پر۔ پان کی لالی پتلے  لبوں پر، صحت مند نکلتا قد، کبھی کرتہ پاجامہ میں ملبوس تو کبھی پنٹ شرٹ زیب تن۔ مومن پورہ میں ہوں یا کسی مشاعرہ گاہ یا ادبی نشستوں میں۔ قد و قامت کی وجہ سے  الگ پہچانے  جاتے۔ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو۔ مشاعرے  میں کلام سناتے  تو سامعین و ناظرین ہمہ تن گوش ہوتے  اور ’’تجھ کو دیکھیں کہ تجھ سے  بات کریں ‘‘ کی تصویر ہوتے۔

            ناظرین کرام!

            آپ کے  ذہن پر جو تصویر ابھری ہے  وہی تو نظیر احمد نظیر ہیں جن کی شاعری بے  نظیر ہے۔ نظیر یکم جولائی ۱۹۳۴ء کو ناگپور میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک خوشحال گھرانے  کے  چشم و چراغ تھے۔ ان کے  والد کا نام بشیر احمد اور دادا کا نام کریم بخش تھا۔ دادا مسجد بقر قصاب میں عمر بھر امامت کے  فرائض انجام دیتے  رہے۔ نظیر صاحب ابھی صرف ایک سال کے  تھے  کہ والد کا سایہ سر سے  اٹھ گیا، چار سال کی عمر کو پہنچے  تو والدہ کے  دستِ شفقت سے  محروم ہو گئے۔ چچا رفیق احمد نے  ان کی پرورش کی۔ نظیر صاحب نے  ۱۹۵۷ء میں انجمن ہائی ا سکول، صدر سے  میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ کچھ دنوں بعد ہی انہیں  ناگپور الیکٹریسٹی بورڈ میں ملازمت مل گئی۔ نظیر صاحب کی شادی کامٹی کے  مولا شریف کی صاحبزادی محترمہ قمر جہاں سے  ہوئی۔ ان کا سسرال بھی کامٹی کا متمول خاندان تھا۔ زندگی خوب گزر رہی تھی کہ نظیرؔ صاحب کو کینسر جیسے  موذی مرض نے  آن گھیرا اور وہ ۲ سال تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے  کے  بعد ۷! اپریل ۱۹۸۲ء کو اس جہانِ فانی سے  رحلت کر گئے۔ مومن پورہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

            مرحوم کی اہلیہ قمر جہاں ماشاء اﷲ بقیدِ حیات ہیں اور اپنے  اکلوتے  بیٹے  بشر نظیف کے  ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ بشر صاحب بھی M.S.E.B  میں برسرِ روزگار ہیں۔ بیٹی نصرت فردوس، انیق احمد صاحب سے  بیاہی گئی ہیں جو ائیر انڈیا میں انجینیر ہیں اور فی الحال دبئی میں مقیم ہیں اور بال بچّوں کے  ساتھ خوش و خرّ م ہیں۔

            مرحوم نظیرؔ صاحب ملنسار، منکسر المزاج اور باغ و بہار طبیعت کے  مالک تھے۔ ایک روز اسٹیشن سے  ایک شخص کو گھر لے  آئے۔ اسے  نہلایا دھلایا، اپنے  کپڑے  پہنائے  اور کھانا کھلا کر روانہ کیا۔ پوچھا گیا، کون تھے  تو کہنے  لگے  بیچارہ ضرورت مند مسافر تھا اپنے  ابو کے  اس واقعہ کو بیان کرتے  ہوئے  بشر صاحب کی آنکھوں میں کچھ شرمندگی کا احساس میں نے  محسوس کیا۔ شاید وہ سوچ رہے  ہوں کہ ان کے  ابّو کو کوئی پاگل نہ سمجھے ! اس نفسہ نفسی کے  دور میں یہ حرکت پاگل پن کے  زمر  ے  میں آ سکتی ہے  لیکن بشر بھائی تمھیں کیا معلوم کہ تمھارے  ابّو کتنے  عظیم تھے۔ ان میں انسانی ہمدردی کتنی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ان کے  اندر کتنا اخلاص تھا۔ جس میں ریا کاری نام کو نہ تھی۔ میں تو کہوں گا کہ نظیرؔ صاحب بے  نظیر انسان تھے۔ ایسی باتیں تو پرانے  وقتوں کی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر نظیرؔ صاحب تو ہمارے  ہی عہد کے  انسان تھے۔ اچھّے  تھے  نیک تھے۔ اسی لیے  تو اﷲ نے  انہیں بہت جلد بلا لیا۔

            نظیرؔ صاحب کی شاعری کا آغاز طالب علمی کے  زمانے  سے  ہی ہو چکا تھا۔ کلام پر اصلاح آذرؔ سیمابی سے  حاصل کی۔ شاعری ان کے  مزاج اور مذاق میں رچی بسی تھی۔ انھوں نے  نعت، منقبت، رباعی، قطعہ، نظم اور غزل سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے  لیکن غزل کا خاص میدان تھا۔ زندگی میں اپنے  کلام کا مجموعہ ’’عکسِ احساسات‘‘ کے  عنوان سے  ترتیب دیا تھا افسوس کہ اب تک شرمندۂ طباعت نہ ہو سکا۔

            نظیر صاحب شاعری میں روایات کے  پاسدار تھے  لیکن شاعری میں مضامین کا تنّوع اور اظہار خیال میں جدّت کا رجحان پایا جاتا تھا۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے  ہوئے  پہلا تاثر یہی ہوتا ہے  کہ وہ آسان و سہل انداز میں ایسے  اشعار کہنا جانتے  تھے  جس کو سن کر سامع سر دھنتا ہے  اور جو سنتے  ہی دل میں اتر جانے  کی صلاحیت رکھتے  ہیں۔

            جمالیاتی احساس ان کی غزلوں کا خاصّہ ہے۔ اس کے  اظہار کے  لیے  انھوں نے  کہیں بھی معیار سے  سمجھوتا نہیں کیا۔

            مجروحؔ سلطان پوری نے  ان کی شاعری پر تبصرہ کچھ یوں کیا ہے   :

            ’’نظیرؔ صاحب غزل کو عشق و محبت کے  دائرہ سے  باہر ذرا کم ہی پسند کرتے  ہیں۔ غزل کے  مزاج داں ہیں جبھی تو بات ندرت و ذہانت کی آمیزش کے  ساتھ ساتھ پورے  طور پر غزل کے  رنگ و آہنگ میں ڈوبی ہوئی کہتے  ہیں۔ ‘‘

            مجروحؔ صاحب نے  یہ رائے  ۲۱! مارچ ۱۹۸۲ء کو نظیرؔ صاحب کے  مجموعہ کلام کے  مسودے  پر دی تھی۔ کیسا جچا تلا تبصرہ ہے  نظیرؔ صاحب کی شاعری پر اس کے  بعد مزید کچھ کہنا محض بات کو الفاظ بدل کر دہرا نا ہی ہو گا۔

            نظیر احمد نظیرؔ فطری شاعر تھے۔ شاعری ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ شب و روز شاعروں کی صحبت میں گزرتے  تھے۔ ان کا گھر اردو شاعری کا آماجگاہ معلوم ہوتا۔ کیا مقامی شعراء اور کیا بیرونی شعراء اکثر نظیرؔ صاحب کے  دسترخوان کے  خوشہ چیں ہوتے۔ مجروحؔ سلطان پوری، شعریؔ بھوپالی اور کاملؔ بہزادی کا اکثر آنا جانا رہتا۔ ان کے  صاحبزادے  بشر نظیف کا کہنا ہے  کہ ابّو کے  انتقال کے  بعد ان کے  شاعر دوستوں نے  آج تک پلٹ کر نہیں دیکھا کہ ان کے  مرحوم دوست کے  بچے  کس حال میں ہیں۔

            ’’عکس احساسات‘‘ میں سے  کچھ متفرق اشعار پیش ہیں جس سے  نظیرؔ صاحب کی شاعری کے  مزاج اور اسلوب کا اندازہ ہو گا  :

غم سے  پائی اگر ذرا بھی نجات                      آپ فوراً ہی یاد آئے  ہیں

حشر کے  طالبو! مبارک ہو               مدتوں میں وہ مسکرائے  ہیں

یہ عالمِ شباب یہ دل کی تباہیاں                      ایسا بہار میں نہ کوئی آشیاں لُٹے

رُخ پریشاں آنکھ میں ہیں سرخ ڈورے  کس لیے

رات بھر شاید تصوّر میں تمھارے  ہم رہے

تمھاری یاد بھی شاید اس مقصد سے  آتی ہے

اگر تھوڑا سا باقی ہو تو مٹ جائے  سکوں وہ بھی

اس قدر باغباں کی نگہبانیاں            گل ترسنے  لگے  ناز و انداز کو

نظیرؔ اگر ہوں لاکھ غم زباں سے  اف نہ کیجیے                اسی بس ایک بات پر وفا کا انحصار ہے

اُدھر ہے  ظلم و بے  رخی ادھر ہے  ضبط و انکسار             وہ حسن کا شعار ہے  یہ عشق کا وقار ہے

کیا مری سانس کی آس باقی نہیں                   دیکھتا ہوں فسردہ میں دمساز کو

نظیرؔ آج بساطِ جہاں سے  اٹھا ہے       ہر ایک بزم میں رنج و الم کی بات چلی

            آخر میں ہم دعا کرتے  ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نظیر احمد نظیرؔ کو کروٹ کروٹ جنّت سے  نوازے  اور ان کے  خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کر دے،  آمین!

 

غزلیں

 

               ڈاکٹر منشاء الرحمان خاں منشاء ؔ

آنکھوں کے  ہوتے  جو کوئی صاحب نظر نہ ہو

اہلِ جہاں کی نظروں میں وہ معتبر نہ ہو

زندہ حقیقتوں سے  نہیں ہوتا آشنا

خود آپ اپنی ذات سے  جو با خبر نہ ہو

کردار کی بلندیاں ہوتی نہیں نصیب

پہلو میں جب تلک دلِ پاکیزہ تر نہ ہو

بس ایک در پہ جو کرے  سجدہ گزاریاں

رسوا کسی بھی حال میں وہ در بدر نہ ہو

خواب و خیال میں جو رہے  رات دن مگن

نخلِ حیات اس کا کبھی بار ور نہ ہو

اخلاصِ دل سے  اس کو مزیّن تو کیجئے

ممکن نہیں کہ حرفِ دعا با اثر نہ ہو

سیرِ جہاں کی آرزو لے  کر چلو مگر

’’گھر ہی پہ ختم زیست کا سارا سفر نہ ہو

ہوتا ہے  منشاء ؔ قابلِ تحسین وہ کلام

بازی گریِ لفظ کا جس میں گزر نہ ہو

 

               محمد فرید خاں تنویرؔ

اس طرح انسان ہے  بے  بس قضا کے  سامنے

ایک چھوٹا سی دیا جیسے  ہوا کے  سامنے

کیا زمانہ آ گیا پہچان بھی باقی نہیں

اجنبی بن کر کھڑا ہوں آشنا کے  سامنے

حادثے  سے  بچ گیا، بچنا مرا دشوار تھا

ٹل گئی آئی بلا، ماں کی دعا کے  سامنے

حکم پر سردار کے  سارا قبیلہ کٹ گیا

ہو گئی ویران بستی اک انا کے  سامنے

سر کٹا کے  کر بلا والوں نے  ثابت کر دیا

حق کبھی جھکتا نہیں جور و جفا کے  سامنے

کون کہتا ہے  نہیں ہوتی دعائیں اب قبول؟

شرط ہے  پہلے  کرے  توبہ خدا کے  سامنے

فکرو فن کی بات اور تنویرؔ نادانوں کے  ساتھ

کیوں دکھاتے  ہو گہر پارے  گدا کے  سامنے

 

               حضرت پیر غلام سالم ناگپوری (مرحوم)

یوں مری چشم تمنا ترا  آنچل دیکھے

فصل گل جیسے  کڑی دھوپ  میں بادل دیکھے

کاش اک دن وہ گلے  آ کے  ملے  مجھ سے  اور

دل کی  آنکھوں سے  مرے  سینے  کی ہلچل دیکھے

جانے  کیا اس کو نظر آتا ہے  سناٹے  میں

ایک ٹک ایک نظر ہوکے  وہ پاگل دیکھے

آج دنیا میں کوئی ایسا نہیں آتا نظر

بند آنکھوں سے  جو حالات کے  ہر پل دیکھے

ہم کو سچاّئی کا نقصان  بتانے   والے

تو بھی کس  درجہ کا مکاّر ہے ، چل چل  دیکھے

جس کی دنیا میں مصیبت کا اندھیرا ہو سدا

’’وہ تری آنکھ کا کس آنکھ سے  کاجل دیکھے ‘‘

اُس  کے   ا نجام سے   اللہ بچائے  سبکو

دین کی راہ میں دنیا کے  جو دلدل دیکھے

کوئی دو دن میں ہو دینا کے  ستم سے  بیزار

کوئی تا عمر ستم اور مسلسل دیکھے

کمسنی ہو کہ جوانی ہو کہ پیری باب

ہم نے  سالمؔ کو تو ہر عمر میں بیکل دیکھے

 

               بختیار قیسیؔ

بن کے  مہتاب و آفتاب آئے

کتنے  ٹکڑوں میں میرے  خواب آئے

سازو آہنگ پر شباب آئے

رقص میں ساغرِ شراب آئے

کوئی تو ہو جو ان کی محفل سے

کامیاب اٹھے  کامیاب آئے

سطح بینوں کو کچھ خبر ہی نہیں

کتنے  طوفان زیرِ آب آئے

ان پہ نیندیں حرام ٹھیری ہیں

جن کے  حصّے  میں صرف خواب آئے

جو  جہاں کو  دبائے   رکھتے   تھے

لوگ مٹّی میں ان کو داب آئے

وہ تو آزادی تھی جو آئی تھی

اب ضرورت ہے  انقلاب آئے

 

بٹ گئیں دوسروں میں تعبیریں

میرے  حصّے  میں صرف خواب آئے

تیری زلفوں کے  سامنے  ساقی

کیا گھٹا اٹّھے  کیا سحاب آئے

قیسیؔ یکساں ہے ، موج دریا ہو

یا مرے  سامنے  شراب آئے

***

گلچیں سے  الجھنے  کی جسارت نہیں کرتے

اب خار بھی پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے

یہ بات الگ ہے  کہ بغاوت نہیں کرتے

لیکن ترے  ظلموں کی حمایت نہیں کرتے

دل جوئی بھی از راہ مرّوت نہیں کرتے

تھوڑی سی بھی وہ ہم پہ عنایت نہیں کرتے

بڑھتے  نہیں آلام جہاں ذہن سے  آگے

یہ زہر مرے  خوں میں سرایت نہیں کرتے

بے  لوث محبتّ کا صلہ مانگنے  والے

اس دور میں بے  لوث محبتّ نہیں کرتے

کچھ لوگ حدوں سے  بھی گزر جاتے  ہیں اپنی

کچھ ہوتے  ہیں وہ بھی جو محبتّ نہیں کرتے

سر میں کوئی سودا ہی نہیں نفع و زیاں کا

ہم دوستی کرتے  ہیں تجارت نہیں کرتے

ملتے  ہیں تو دشمن سے  بھی مل لیتے  ہیں کھل کر

ہم بغض نہیں رکھتے  سیاست نہیں کرتے

کچھ اور بڑھا لیتے  ہیں تکلیف وہ اپنی

محسوس جو تکلیف میں راحت نہیں کرتے

سچ بولنے  والوں کا ہے  انجام نظر میں

سچ بول کے  ہم اپنی فضیحت نہیں کرتے

حد تیرے  تغافل کی کوئی ہے  کہ نہیں ہے

مانا ترے  دیوانے  شکایت نہیں کرتے

دل دیکھ کے  وہ درد دیا کرتے  ہیں یارو

ضائع وہ  کسی پر بھی عنایت نہیں کرتے

قیسیؔ ہمیں اسلام کی تعلیم ملی ہے

انسان ہے  انسان سے  نفرت نہیں کرتے

***

 

نا بینوں کے  کانوں تماشائے  نظر سیکھ

آواز  سے   تصویر  بنا نے   کا  ہنر  سیکھ

کس  طرح  جھپک سکتی ہیں تاروں کی نگاہیں

آ مجھ سے  ملا آنکھ یہ اعجازِ نظر سیکھ

پھونکوں سے  کوئی شمع بجھا دی تو کیا کیا

پھونکوں سے  چراغوں کو جلانے  کا ہنر سیکھ

گھر بیٹھ کے  دشواریِ منزل کی نہ کر فکر

کس طرح سے  طے  ہو گی کٹھن راہگزر سیکھ

کس طرح مہِ نو کو ملا مرتبۂ بدر

تاروں سے  نہیں چاند سے  مل طرزِ قمر سیکھ

راتیں یہ پہاڑ ایسی نہ کٹ پائیں گی قیسیؔ

فرہاد سے  مل تیشہ چلانے  کا ہنر سیکھ

 

               عبد الجباّر سحر

وہ مسافر ہوں  مری سمت  سفر کوئی نہیں

زندگی کا بوجھ کاندھوں پر ڈگر کوئی نہیں

سچ کو تنہا کر گیا آخر سیاست کا ہنر

جھوٹ والے  سب اُدھر ہیں  اور اِدھر کوئی نہیں

راہ گم ہے  دور منزل اور اندھا راستہ

چل رہے  ہیں ساتھ سامان سفر کوئی نہیں

آ مصیبت زندگی کی میں نبھاؤں گا تجھے

فکر مت کر کیا ہوا جو تیرا گھر کوئی نہیں

اب کہاں وہ جلوہ آرائی کہاں وہ شوق دید

شہر میں اب اہل دل اہل نظر  کوئی نہیں

آپ ہی کے  پاس ہیں دل لینے  کے  سارے  ہنر

ہم کو  بھی تسلیم ہم سا بے  ہنر کوئی نہیں

کھوکھلے  نعرے  بدل سکتے  نہیں تقدیر کو

رہنمائے  با عمل اپنا سحرؔ کوئی نہیں

***

جذبوں کو کبھی نذر سیاست نہیں کرتے

ہم لوگ دکھاوے  کی محبّت نہیں کرتے

رکھتے  ہیں یقین اپنا سدا عزم و عمل پر

ہم کاغذی کردار کی زحمت نہیں کرتے

افسوس جواں ہوکے  مرے  دور کے  بچے

ماں باپ  کے  خوابوں کی حفاظت نہیں کرتے

دنیا میں  منافق کی طرح چہرہ بدل کر

ہم کھوکھلے  وعدوں کی سیاست نہیں کرتے

ہیں مصلحت اندیش جو سنسد میں پہونچ کر

گھر اپنا بھرا کرتے  ہیں  خدمت نہیں کرتے

اس درجہ ہیں مجبور ترے  شہر میں کچھ لوگ

سہہ لیتے  ہیں  ہر ظلم شکایت نہیں کرتے

ایواں میں ترے  جھوٹ کا ہے  دبدبہ ایسا

سچ بولنے  کی لوگ جسارت نہیں کرتے

جباّر سحرؔ کہہ دو یہ ارباب ہوس کو

حق والے  ضمیروں کی تجارت نہیں کرتے

***

 

کاش اک ایسا انقلاب آئے

ان کی آنکھوں میں میرا خواب آئے

کبھی بدلے  ہیں ہم نہ بدلیں گے

آئے   سو بار انقلاب آئے

اس طرح  دل پہ آئے   زخم وفا

جس  طرح شاخ پر گلاب آئے

جو اندھیرا ہے  سو اندھیرا ہے

لاکھ دن نکلے  آفتاب آئے

حسن بے  پردہ کی نمائش پر

دیکھنے  والوں کو حجاب آئے

دل شکستہ چلے  ہیں  محفل سے

اب شراب آئے  یا شباب آئے

ان کے   کوچے   میں ہم جو  پہنچے   سحرؔ

شور اٹھا  خانماں خراب آئے

***

گھر مرے  دل میں کر گئے  شاید

درد بن کر اتر گئے  شاید

فصلیں لالچ کی کاٹنے  والے

بانجھ دھرتی کو کر گئے  شاید

وہ غریبوں کا خون پی پی کر

موت سے  پہلے  مر گئے  شاید

دل میں جذبہ نہیں مرّوت کا

جیتے  جی لوگ مر گئے  شاید

وقت نے  کر دیا ہے  سنجیدہ

تجربوں سے  سنور گئے  شاید

ٹیس چبھتی نہیں ذرا سی بھی

“زخم سب دل کے  بھر  گئے  شاید‘‘

کوئی غمخوار بن کے  آتا نہیں

اہل دل اے  سحرؔ گئے  شاید

 

               خضر ناگپوری

بازار محبّت کی تو اپنی ہی ہوا ہے

بکتی ہی نہیں جو کبھی و جنسِ وفا ہے

دشمن کو بھی ڈالے  نہ خدا شک کے  مر ض میں

اس کے  لٹے  دنیا میں دوا ہے  نہ دعا ہے

سنتا ہی نہیں وہ بُتِ بے  مہر کسی کی

معلوم نہیں کونسی مٹی کا بنا ہے

پیری میں جوانی کے  خیالات ارے  توبہ

راحت کا زمانہ بھی بڑا درد بھرا ہے

کونین کی تعمیر میں مصروف ہے  دن رات

وہ شخص جو جینے  کی سزا کاٹ رہا ہے

دل توڑ کے  جاتے  ہو تو کچھ غم نہیں جاؤ

پھولو پھلو سرسبز رہو میری دعا ہے

اوقات میں رہنا ہی یہاں خضرؔ ہے  بہتر

یہ وقت دغا باز ترا ہے  نہ مرا ہے

***

عنوانِ خلوصِ دل کہیں ایسا نہ کر لینا

تماشا بن کے  اپنے  آپ کو رسوا نہ کر لینا

تقاضا ابر باراں کا ہے  پی لے  جھوم کر واعظ

پھر اس کے  بعد سو  توبہ سر میخانہ کر لینا

بہت نازک زمانہ ہے  ضمیر اپنا سلامت رکھ

کہیں نا سمجھی میں ایمان کا سودا نہ کر لینا

ضرورت مطلبی دنیا سے  ہے  ہشیار رہنے  کی

کوئی مطلب سے  آتا ہو تو دل دریا نہ کر لینا

زمانہ سیدھا چلنے  والوں ہی سے  الٹا چلتا ہے

تو سیدھا چل کے  اپنے  کام کو الٹا نہ کر لینا

وہی دنیا تماشا دیکھو اب ہے  میری دیوانی

کہ جو آساں سمجھتی تھی مجھے  دیوانہ کر لینا

یہ دنیا ہے  یہاں ولیوں یہ بھی اٹھ جاتی ہے  انگلی

کرے  طعنہ زنی کوئی تو دل چھوٹا نہ کر لینا

یہاں تو یاروں کی یاری میں بھی ہے  خضرؔ عیاری

سبق تو اچھاّ ہے  دشمن سے  بھی یارانہ کر لینا

***

آپ حد سے  گزر گئے   شاید

پستیوں میں اتر گئے  شاید

غم، خوشی بے  اثر ہیں دونوں ہی

اپنے  جذبات مر گئے  شاید

ہے  پریشاں خیال د ل جمعی

ٹوٹ کر ہم بکھر گئے  شاید

ساتھ چلنے  لگے  زمانے  کے

ہم زمانے  سے  ڈر گئے  شاید

دیکھ کر حالتِ مریضِ غم

وہ بھی دل تھام کر گئے  شاید

کیا کہوں میں نوازشِ احباب

یہ بھی کچھ آپ پر گئے  شاید

آپ کو کیا کہوں مرے  دل کا

خون ارمان کر گئے  شاید

بزم رنداں ہے  خضرؔ گم صم سی

واعظ معتبر گئے  شاید

***

کیا کرے  گا دوسروں کو جان کر

پہلے  اپنے   آپ کی پہچان کر

یہ زمانہ لا ابالی کا نہیں

پھونک کر پی چھاچھ پانی چھان کر

کیوں الجھتے  جا رہے  ہو بار بار

دل میں آخر آئے  ہو کیا ٹھان کر

روکھا روکھا جا رہا ہے  یار کیوں

مدّتوں بعد آیا ہے  جل پان کر

بھول کر وعدہ شب مہتاب کا

تم تو سو جاتے  ہو لمبی تان کر

دشمنوں نے   میرا چمکایا نصیب

چل رہا ہوں خضرؔ میں یہ مان کر

               نذیر ضامنؔ ناگپوری

دوستوں کی بھیڑ ہے  دشمن مگر کوئی نہیں

ہو بھروسہ مند ایسا خاص کر کوئی نہیں

آپ ہر گز یہ نہ سمجھیں جلوہ گر کوئی نہیں

دیدنی ہے  سارا منظر دیدہ ور کوئی نہیں

رہنمائی پر ہوں جس کی رہنما کُل متفّق

آج ملّت کا اب ایسا راہ بر کوئی نہیں

زندگی میں اُس کے  مرنے  کی دُعا مانگیں ہیں لوگ

اور مر جائے  تو اُس کا نوحہ گر کوئی نہیں

ڈالیاں بارِ وفا سے  جن کی سجدہ ریز تھیں

آج اُن شاخوں پہ چاہت کا ثمر کوئی نہیں

اک نگاہِ لُطف کے  صدقے  ہے  دم اٹکا ہوا

وہ مرض لاحق ہے  جسکا چارہ گر کوئی نہیں

اُن کی نسبت سے  اے  ضامنؔ کچھ تو خبریں ہیں اہم

کچھ میں سچّائی ہے  لیکن معتبر کوئی نہیں

***

جو اُنسیت ہمیں آسائش و طرب سے  ہے

خدا کے  دین سے  دُوری اِسی سبب سے  ہے

مرے  لبوں پہ ترا پاک نام جب سے  ہے

مرا حریف یہ عالم تمام تب سے  ہے

بڑھی ہوئی ہے  کجی ظلمت و ذلالت کی

جہاں میں آج بھی کچھ روشنی ادب سے  ہے

زمین آج بھی ہابیل کا لہو مانگے !!

یہ خلفشار اُس اوّل لہو لہب سے  ہے

میں شوقِ دید لئے  آج بھی بھٹکتا ہوں

میں کیا بتاؤں کہ دل بیقرار کب سے  ہے

ہے  جس کے  نقشِ کفِ پا کی آرزو سب کو

مرے  وجود کا رشتہ اُسی نسب سے  ہے

وہی ہے  مردِ مجاہد حقیقتاً ضامنؔ

ترے  حضور جو لرزاں ترے  غضب سے  ہے

               خلیل صادقؔ

تجھ کو دیکھے  کہ ادائیں تری چنچل دیکھے

’’وہ تری آنکھ کا کس آنکھ سے  کاجل دیکھے ‘‘

مضطرب دل کی ہو کس طرح عیاں بیتابی

کون سینے  میں دھڑکتی ہوئی ہلچل دیکھے

اف یہ مستانہ روی یہ ترے  جلووں کا ہجوم

چشمِ گستاخ سے  کیا کیا ترا پاگل دیکھے

ان کی پر کیف نگاہوں سے  ذرا سی پی لی

ہم نے  جب چھائے  ہوئے  پیار کے  بادل دیکھے

ہائے  یہ حسن نظر ہے  کہ ٹھہرتی ہی نہیں

جسمِ گلنار پہ دیکھے  کوئی ململ دیکھے

ہوش کھو بیٹھے  وہ رکھ پائے  نہ دل پر قابو

جو ترے  رخ سے  سرکتا ہوا آنچل دیکھے

غم کے  طوفان سے  صادقؔ کو گزر جانے  دے

زندگی کون تیری روز کی کل کل دیکھے

***

قبائے  زیست جو تارِ محبت سے  رفو ہوتی

ہماری چاک دامانی نہ رسوا کو بکو ہوتی

اگر وہ دیکھتے  اک بار بھی مئے  پاش نظروں سے

نہ پھر بادہ کشوں کو خواہشِ جام و سبو ہوتی

اشاروں سے  بھلا کیا مدعائے  دل بیاں ہو گا

اکیلے  میں جو تم ملتے  تو کوئی گفتگو ہوتی

تمھاری آمدِ پر لطف کا اعجاز ہے  ورنہ

 بڑی بے  کیف بزمِ آرزوئے  رنگ و بو ہوتی

امید و حسرت و ارمان پہ قائم ہے  یہ دنیا

نہ ہوتی آرزو تو آرزو کی آرزو  ہوتی

سفر اس دارِ فانی کا بہت دشوار ہو جاتا

تمھیں پانے  کی اس دل میں اگر نہ جستجو ہوتی

تھے  جتنے  پیچ و خم گیسوئے  ہستی کے  سنور جاتے

کرم فرما جو صادقؔ پر نگاہِ یار تو ہوتی

***

جرم سب ان کے  سر گئے  شاید

دن ہمارے  سنور گئے  شاید

سہمی سہمی ہوئی نظر توبہ

اپنے  سائے  سے  ڈر گئے  شاید

حسن کا جن کے  خوب چرچا تھا

 وہ حسینوں پہ مر گئے  شاید

آج محفل میں کیوں اندھیرا ہے

ان کے  گیسو بکھر گئے  شاید

پڑھ لیا کرتے  تھے  جو چہروں کو

اب وہ اہل نظر گئے  شاید

اُڑ رہے  تھے  جو کل بلندی پر

آسماں سے  اتر گئے  شاید

راستے  ہی میں تھک کے  بیٹھ گئے

اب وہ عزمِ سفر گئے  شاید

ناز تھا جن پہ اہلِ دنیا کو

لوگ ایسے  گزر گئے  شاید

اپنی شہرت کے  واسطے  صادقؔ

مجھ کو بدنام کر گئے  شاید

***

اس طرح عالمِ شباب آئے

لے کے  سوغات ماہتاب آئے

سارے  عالم میں بے  نظیر ہیں وہ

حسن کا ان کے  کیا جواب آئے

عمر بھر پا سکے  نہ وہ فرصت

عاشقی کے  جنھیں نصاب آئے

دیکھنے  کو ترس گئی آنکھیں

وہ نہ آئے  نہ ان کے  خواب آئے

ایک انسان ان گنت حالات

’’جان کے  ساتھ سو عذاب آئے ‘‘

کانٹے  بونا ہی جن کی عادت ہو

ان کے  حصّے  میں کیا گلاب آئے

اپنے  پیش آئے  اجنبی کی طرح

جب کبھی ہم پہ دن خراب آئے

یہ بھی تہذیب ہے  کوئی تہذیب

دیکھنے  سے  جسے  حجاب آئے

ہم بڑے  خوش نصیب ہیں صادقؔ

بزمِ الفت سے  کامیاب آئے

***

چلمنِ شرم و حیا رخ سے  اٹھا دی جائے

اب نہ جذبات کے  شعلوں کو ہوا دی جائے

پیار کرنا ہے  اگر جرم تو دنیا والو

میں بھی مجرم ہوں جو جی چاہے  سزا دی جائے

رکھ کے  مرہم کوئی مظلوم کے  زخموں پہ نیا

داستاں ظلم و تشدد کی دبا دی جائے

دوستوں کے  لئے  کرتے  ہیں دعا سب لیکن

 بات تو جب ہے  کہ دشمن کو دعا دی جائے

ہر طرف دوستو نفرت کے  اندھیروں کا ہے  راج

لو محبت کے  چراغوں کی بڑھا دی جائے

اپنی عادت سے  نہ بعض آئیں گے  ہر گز یہ کبھی

بے  وفاؤں کو نہ ترغیب وفا دی جائے

اک نئے  دور کا کرنا ہے  ہمیں اب آغاز

عہدِ ماضی کی ہر اک بات بھلا دی جائے

اجنبی شہر بھی ہے  رات کا سنّاٹا بھی

کس کے  دروازے  پہ اب جا کے  صدا دی جائے

ان کی ہر بات زمانے  سے  جدا ہے  صادقؔ

ان کی تمثیل کسی اور سے  کیا دی جائے

***

سو نہ یوں غفلت کی چادر تان کر

جاگ اپنے  آپ پر احسان کر

کامیابی کی تمنا ہے  اگر

دل میں پیدا جذبۂ ایمان کر

ابنِ آدم چھوڑ کر شیطانیت

اب تو اپنے  آپ کو انسان کر

خواہشاتِ نفس کو جو دے  ہوا

ایسی چیزوں کا نہ تو ارمان کر

کیا بتائے  گا وہ منزل کا پتہ

رک گیا جو خود کو منزل جان کر

یہ گزر جائے  تو پھر آتا نہیں

وقت کی تو قدر اے  نادان کر

ہو گئے  بیماریوں میں مبتلا

جو بہت پیتے  تھے  پانی چھان کر

پھر نئے  انداز سے  دھوکہ دیا

ہم بہت پچھتائے  دل کی مان کر

ساتھ برسوں جو مرے  صادقؔ رہے

بن گئے  کیوں اجنبی پہچان کر

 

                ڈاکٹر زینت اﷲ جاوید

یاروں نے  محبت کا کچھ قرض اتارا ہے

کانٹے  بھی نکالے  ہیں خنجر سے  بھی مارا ہے

امواجِ تلاطم کو الزام نہیں دینا

سازش یہ ہوا کی ہے  دریا کا اشارہ ہے

انسان کی خدمت سے  خالق کی عبادت کی

دنیا بھی سنواری ہے  عقبٰی بھی سنوارا ہے

ہم عمر دو روزہ بھی مِل جُل کے  گزاریں گے

میں دل کا سہارا ہوں، دل میرا سہارا ہے

ہم کشتی جاں لے  کر صحرا میں بھٹکتے  ہیں

بیکار کی باتیں ہیں دریا نہ کنارا ہے

تتلی بھی نہیں دیکھی جگنو بھی نہیں دیکھے

بیٹے  نے  مرے  بچپن رو رو کے  گزارا ہے

سایا بھی نہیں اپنا ہم خود بھی نہیں اپنے

کس وقت کے  مارے  نے  بے  وقت پکارا ہے

***

یہ کسی ایک کی ہوتی نہیں ہرجائی ہے

بوئے  گل سے  مری برسوں کی شناسائی ہے

چڑھ کے  دیوار پہ یہ قد نہیں بڑھنے  والا

آپ شہرت جسے  کہتے  ہیں وہ رسوائی ہے

سیر دنیا کی کرا دیتا ہے  سبکو لیکن

دل کی قسمت میں وہی گوشۂ تنہائی ہے

کیوں چراغوں کو ہواؤں میں کھلا رکھا تھا

آپ نے  اپنے  کیے  کی یہ سزا پائی ہے

آج بھی دل کو ترے  شہر سے  چاہت ہے  وہی

آج بھی لوٗ میں وہی لذتِ پروائی ہے

ہم تو بنیاد کے  پتھر ہی رہیں گے  صاحب

اپنے  حصہ میں نمائش ہے  نہ رعنائی ہے

آئینہ یوں تو سمندر نہیں لیکن جاویدؔ

اس کے  ٹھہرے  ہوئے  پانی میں بھی گہرائی ہے

***

یاروں نے  محبت کا کچھ قرض اتارا ہے

کانٹے  بھی نکالے  ہیں خنجر سے  بھی مارا ہے

امواجِ تلاطم کو الزام نہیں دینا

سازش یہ ہوا کی ہے  دریا کا اشارہ ہے

انسان کی خدمت سے  خالق کی عبادت کی

دنیا بھی سنواری ہے  عقبٰی بھی سنوارا ہے

ہم عمر دو روزہ بھی مِل جُل کے  گزاریں گے

میں دل کا سہارا ہوں، دل میرا سہارا ہے

ہم کشتیِ جاں لے  کر صحرا میں بھٹکتے  ہیں

بیکار کی باتیں ہیں دریا نہ کنارا ہے

تتلی بھی نہیں دیکھی جگنو بھی نہیں دیکھے

بیٹے  نے  مرے  بچپن رو رو کے  گزارا ہے

سایا بھی نہیں اپنا ہم خود بھی نہیں اپنے

کس وقت کے  مارے  نے  بے  وقت پکارا ہے

***

 

               رجب عمرؔ

سامنے  حُسن بے  حجاب آئے

میری آنکھوں میں کیسے  خوب آئے

بند کر دی گئی کتابِ عشق

جب بھی مہرو وفا کے  باب آئے

جان لیوا ہے  یہ سکوت کہ اب

دل کی موجوں میں اضطراب آئے

اپنا دامن ہنوز خالی ہے

یوں تو کہنے  کو انقلاب آئے

پھر پڑھیں ہم سبق صداقت کا

درس گاہوں میں وہ نصاب آئے

تجھ سے  ناراض ہے  عمرؔ ساقی

تیرے  حصّے  میں کیوں شراب آئے

 

                ڈاکٹر رفیق سحرؔ

جو بے  خودی میں کوئی محوِ جستجو ہو گا

رُخ حبیب نگاہوں کے  روبرو ہو گا

سکوتِ شام کے  شیشے  پہ آئے گی جو خراش

ترے  خیال کا چہرہ لہو لہو ہو گا

صدائیں دیتی ہیں خاموشیاں یہ مقتل کی

جیالے  سو گئے، کیا شورِ ہاؤ ہُو ہو گا

بھرے  گا رنگ جو بے  کیف زندگی میں وہی

کتابِ زیست کے  عنواں کی آبرو ہو گا

خبر نہ تھی ہمیں رُسوا بھی اسطرح ہوں گے

ہمارے  عشق کا چرچا بھی کُو بہ کُو ہو گا

چلو کہ آج مٹا دے  نہ کیوں سحرؔ خود کو

ہمیں نہ ہوں گے  تو کیا خونِ آرزو ہو گا

***

سمجھا لوگوں نے  جنھیں امن کے  خوگر آئے

اپنے  ہاتھوں میں لئے  آج وہ پتھّر آئے

رقص کرنے  لگا ذہنوں میں تباہی کا سماں

جب بھی بستی میں اجالوں کے  پیمبر آئے

کانپ اٹھتی ہے  جسے  دیکھ کے  وحشت بھی یہاں

اب نہ خوابوں میں وہی قتل کے  منظر آئے

اپنے  لہجے  کی حرارت سے  جو پتھر کے  جگر

موم کر دے  کوئی ایسا تو سخنور آئے

جن کے  ہونٹوں پہ دعائیں تو ہیں تاثیر نہیں

اُن کے  کوُزے  میں بھلا خاک سمندر آئے

چوم سکتی ہے  قدم فتح و ظفر اب بھی مگر

کاش اسلاف کے  ہم میں بھی وہ جوہر آئے

آج جو زخم ملے  اپنوں سے  حیرت کیوں ہے

زندگی میں یہ مواقع بھی تو اکثر آئے

ہم کو جو بات سنانی تھی سنا دی اے  سحرؔ

خوف کیا ہم پہ اگر طنز کے  پتھّر آئے

 

               رحمت اﷲ راشدؔ احمد آبادی

وہ میری تباہی کا سبب ڈھونڈ رہا ہے

جو شخص مری گود میں پروان چڑھا ہے

جگنو کی چمک ہے  نہ ستاروں کی ضیا ہے

انسان مگر اپنا سفر کاٹ رہا ہے

ہر شخص گناہوں میں یہاں ڈوبا ہوا ہے

ڈرا پنے  بڑوں کا نہ کوئی خوفِ خدا ہے

کب ہم پہ اثر گردشِ عالم کا پڑا ہے

’’کہہ دو یہ ہوا کچھ نہیں، دو دن کی ہوا ہے ‘‘

وہ آدمی رہتا ہے  بشاشت سے  ہر اک پل

ماں باپ کی جس آدمی کے  ساتھ دعا ہے

پھولوں کی طرف ہاتھ بڑھانا تو سنبھل کر

کانٹوں سے  ہر اک پھول گلستاں کا گھرا ہے

سر اپنا کٹانے  کو ہے  تیار ہر اک پل

ہر شخص ترے  شہر کا پابند وفا ہے

ہے  آگ اگر عشق تو شعلے  بھی اٹھیں گے

مجھ کو مرے  محبوب کی آنکھوں نے  کہا ہے

تو خود کو سمجھ لے  تو بڑی بات ہے  راشدؔ

ورنہ یہاں ہر رنگ میں انسان رنگا ہے

 

               ظہیر عالم

آ گیا تو خاطر مہمان کر

جو بھی ہے  وہ زیب دستر خوان کر

خود غرض دنیا کو اپنا مان کر

آخرت کا اپنی مت نقصان کر

عمر بھر گنتا رہا لوگوں کے  عیب

کیا ملا چھلنی سے  پانی چھان کر

عاجزی کو بے  بسی کہتے   ہیں لوگ

چلئے  اب چلتے  ہیں سینہ تان کر

تو دھنی ہے  تو یہ سکے  مت بتا

اپنی خوشیوں میں سے  خوشیاں دان کر

اپنے  دل کو تو خدا کا گھر بنا

مردہ جذبوں کا نہ قبرستان کر

وقت کا سور ج تو کب  کا ڈھل چکا

سو رہے  ہیں لوگ لمبی تان کر

تو ہی میرا ہے  تو پھر کیا پوچھنا

مطمئن ہوں تجھ کو اپنا  مان کر

***

حادثے  پر کتر گئے  شاید

حوصلے  دل کے  مر گئے  شاید

خود میں ڈوبے  تویوں ہوا محسوس

ہم کنوئیں میں  اتر گئے  شاید

سخت لہجے  میں گفتگو ہم  سے

دن تمہارے  بھی بھر گئے  شاید

ناز کرتی  تھیں جن پہ تلواریں

شاخ گل سے  وہ ڈر گئے  شاید

آندھیوں کی مراد بھر آئی

آشیانے  بکھر گئے  شاید

جب محبّت کی  قدر ہوتی تھی

وہ زمانے  گزر گئے  شاید

آئے  تھے  پھول بانٹنے  والے

آگ ہاتھوں پہ دھر گئے  شاید

جو اندھیروں  میں چھپ  کے  بیٹھے  ہیں

وہ اجالوں سے  ڈر گئے  شاید

***

یہ اپنے  اصولوں سے  بغاوت نہیں کرتے

بنجارے  کسی سے  کبھی نفرت نہیں کرتے

اپنوں سے  بھی اظہار ضرورت نہیں کرتے

یہ کام  کبھی صاحب غیرت نہیں کرتے

یہ اہل ہوس کرتے  ہیں بیوہ پہ نوازش

مقتول کے  بچّوں سے  محبّت نہیں کرتے

دے دیتے   اگر جھوٹی تسلّی بھی ہمیں وہ

ان آنکھوں سے  آنسو کبھی ہجرت نہیں کرتے

بچوّں نے  بھی ماں باپ کا دکھ بانٹ  لیا ہے

بھوکے  بھی اگر ہوں  تو شکایت نہیں کرتے

اس دور کے  انسانوں  کی حس مر گئی شاید

اب لوگ کسی بات پہ حیرت نہیں کرتے

یہ اہل سیاست ہیں ہمیں اس سے  غرض کیا

یہ وہ ہیں دلوں پر جو حکومت نہیں کرتے

ہم اپنا ضمیر اپنی انا بیچ چکے  ہیں

سچ یہ ہے  کہ  سچ کہنے  کی جرأت نہیں کرتے

عالم کوئی ان سے  بھی محبّت نہیں کرتا

جو لوگ پڑوسی سے  محبّت نہیں کرتے

***

احسان گنا ہوں کا میرے  پیچھے  پڑا ہے

دن رات جو دیمک کی طرح  چاٹ رہا ہے

انسان کبھی جرم پہ آمادہ نہ  ہو گا

گر اتنا سمجھ لے  کہ کوئی دیکھ رہا ہے

کچھ لوگ اسی بات پہ ناراض ہیں مجھ سے

شہرت کی بلندی پہ  میرا نام لکھا ہے

جوگی ہیں  ہمیں آتا ہے  جینے  کا سلیقہ

پرجہ  سے  شکایت ہے  نہ راجہ سے  گِلا ہے

کہنے  کو   زمیں پاؤں کے  نیچے  تو ہے  لیکن

سچ پوچھو تو ہر آدمی پانی پہ کھڑا ہے

 

               نظیرؔ نخشب ناگپوری

شوق سے  قربان اپنی جان کر

خیرو شر پہلے  مگر پہچان کر

عیش و عشرت میں گزار اپنی مگر

کچھ پڑوسی کا بھی اپنے  دھیان کر

گھر سے  نکلا ہوں تلاشِ رزق میں

یا خدا منزل مری آسان کر

کچھ سبب تھا، ترک رشتہ کر دیا

مطمئن ہوں بات دل کی مان کر

شاعری مین بے  لگامی کفر ہے

دیکھ بحروں کو ذرا اوزان کر

 بے  خبر آرائشِ ہستی کا ساتھ

آخرت کا بھی کوئی سامان کر

کر دیا گمراہ نخشب زعم نے

’’رک گیا تھا خود کو منزل جان کر‘‘

               امر اﷲ عنبرؔ خلیقی

چارہ گر کام کر گئے شاید

’’زخم سب دل کے بھر گئے شاید‘‘

گردنوں میں تناؤ کیوں کم ہے

بام سے وہ اتر گئے شاید

شب کی تاریکیوں میں کوئی نہیں

لوگ سوئے سحر گئے شاید

فکر کی ہے، دین کی پرواز

قوم کے بال و پر گئے شاید

کیوں ہے حالات سے یہ بے خوفی

تقویٰ سے خوف مر گئے شاید

جس خبر سے ملے نجات کی راہ

اس سے ہی بے خبر گئے شاید

جن سے عنبرؔ عروج فکری تھا

آج وہ ہی ہنر گئے شاید

 

               شمیم اقبال

یورشِ غم سے ڈر گئے شاید

جو تھے کم ظرف مر گئے شاید

وہ نظر پھیر کر گئے شاید

دے کے دردِ جگر گئے شاید

الجھنیں ختم ہو گئیں اپنی

ان کے گیسو سنور گئے شاید

دل کے رشتے کی ڈور الجھی ہے

وہ گرہ ڈال کر گئے شاید

منزلیں کھو گئیں دھند لکوں میں

اشک آنکھوں میں بھر گئے شاید

سر بلندی عطا ہوئی جن کو

ان کے نیزوں پہ سر گئے شاید

جن سے زیر و زبر ہوئ صدیاں

قافلے وہ گزر گئے شاید

کچھ مداوا نہ ہو سکا غم کا

نالے سب بے اثر گئے شاید

اب نہ ٹیسیں نہ درد کا احسا س

’’زخم سب دل کے بھر گئے شاید‘‘

آؤ اقبالؔ اب چلیں ہم بھی

سارے احباب گھر گئے شاید

 

               اسرارالحق فیّاضیؔ

طوفان ہے، آندھی ہے، تلاطُم ہے، بلا ہے

وہ کرب جو احساس کے  پردے  میں چھپا ہے

بُجھنا تو مقدر ہے  چراغوں کا ازل سے

جلنے  کا شرف صرف جہنّم کو ملا ہے

دونوں کی پسند ہے  مرے  افکار پہ روشن

دولت میں ہے  شیطان، قناعت میں خدا ہے

اِس دَورِ ترقی میں اُجالوں کی کمی ہے

انسان اندھیروں کی طرف لوٹ رہا ہے

بے  وجہ نہیں آیا ہے  ظالم کو پسینہ

حسرت سے  کوئی سوئے  فلک دیکھ رہا ہے

کھاتا ہوں، کھلاتا ہوں پرندوں کو بھی دانہ

سرپر مرے  معصوم پرندوں کی دعا ہے

اچھّائی کو فرسودگی اب کہتی ہے  دنیا

یہ مغربی تہذیب کے  چشمے  کی عطا ہے

***

اب وہ اثر نہیں ہے  کسی کی پُکار میں

ایماں کا آفتاب ہے  گویا اُتار میں

شدّت پسند ہو گئے  بیزار آدمی

ہیں مُبتلا ہزاروں ہوس کے  بخار میں

رفتارِ اسپ عمر رواں سست پڑ گئی

گرمی کہاں سے  لاؤ گے  اُترے  خُمار میں

یہ انقلابِ دَورِ مُہذّب تو دیکھئے

نوکر بتائے  باپ کو بیٹا ہزار میں

محفوظ رہ نہ پائے  گا شہر اماں بھی اب

بھونچال گھر بنا چُکا دل کے  دیار میں

دنیا کی ہر برائی چلی آئی اپنے  گھر

کس پر اٹھائیں انگلی، کہاں بیٹھیں چار میں

***

ہے  یہ دشمن جان کی، یہ جان کر

روز مئے  پیتا ہے  میکش چھان کر

زخم پر رکھ دے  مرے  تازہ گلاب

ہے  مسیحِ عشق کا فرمان، کر

ساتھ میں لے  کر بہاریں آئے  گا

گھر سے  نکلا ہے  جو دل میں ٹھان کر

حوصلوں کو قوّتِ پرواز دے

دور ہے  منزل، سفر آسان کر

ناقدوں کے  حق میں کر دل سے  دعا

تجربہ اُستاد ہے  یہ مان کر

آنکھ سے  بارش سوالوں کی نہ کر

آہٹوں کی سمت اپنا کان کر

ناریل کے  پیڑ سے  کیا ہو بھلا!

سائے  کی حسرت نہ اے  نادان کر

***

عزم و ہمّت سے  اُٹھا، جذبۂ کامل سے  اُٹھا

بوجھ ہستی کا گراں بار تھا مشکل سے  اٹھا

اُس کے  کھانے  سے  ہوا ہو گئی برکت ساری

جب بھی مفلس کسی زر دار کی محفل سے  اٹھا

ایک بچّہ بھی ڈرا سکتا ہے  تجھ کو ناداں

خوف اﷲ کا جس روز ترے  دل سے  اٹھا

جانے  کیا جان کے  سچّائی بیاں کر ڈالی

جل گئی نوکِ زباں، شعلہ مرے  دل سے  اٹھا

شعر کہتا نہیں واہ وائی کا مقصد رکھ کر

بات اچھی لگے  کوئی تو اٹھا دل سے  اٹھا

کیا ضروری ہے  کہ یہ کام کریں موسیٰ ہی

تو بھی شیطان کو انساں کے  مقابل سے  اٹھا

جھوٹ کے  پیڑ اکھڑ جاتے  ہیں اک جھٹکے  میں

بار سچاّئی کا اے  حقؔ کسی باطل سے  اٹھا ؟

 

               صمد قیصرؔ

ہم ایسے  نقیبوں کی حمایت نہیں کرتے

حق بات جو کہنے  کی جسارت نہیں کرتے

تنہائی شب میں بھی جو ہیں محوِ ریاضت

وہ لو گ دکھاوے  کی عبادت نہیں کرتے

محفوظ کیا رہ پائے  گا محلوں کا تقدّس

جو اپنے  اساسوں کی حفاظت نہیں کرتے

راضی بہ رضا رہنا ہی شیوہ ہے  ہمارا

’’ہم اپنے  مقدّر کی شکایت نہیں کرتے ‘‘

جو ڈرتے  ہیں دنیا کے  مصائب سے  الم سے

قیصرؔ وہی نادان محبت نہیں کرتے

***

جانِ جاناں نہ رہا، جان پہ بن آئی ہے

زندگی پیار کی ہم کو نہ ذرا بھائی ہے

خوفِ دوزخ سے  نہ جنّت کی طلب میں سجدہ

میری بے  لوث عبادت تری شیدائی ہے

ٹوٹ کر رہ گئی ہر شاخِ شجر آندھی میں

اب چمن میں یہ صبا کس کے  لیے  آئی ہے  ؟

منتشر ہونے  پہ اعداء کا تسلّط ہو گا

کیوں نہ یہ بات مری قوم سمجھ پائی ہے

اُف یہ مجبور محبت کا پشیماں ہونا!

’’اب تیرا دوُر سے  دیدار بھی رسوائی ہے ‘‘

قابلِ ناز ہے  یہ میرا مقدّر قیصرؔ

دولتِ غم مرے  ورثہ میں چلی آئی ہے

***

گردش میں غریبوں کا ہر وقت ستار ا ہے

کہنے  کو ہیں سب اپنے، پر کون ہمارا ہے  ؟

تزئینِ بہاراں میں یہ خون ہمارا ہے

برباد گلستاں کو ہم نے  ہی سنوارا ہے

یوں امن کی بستی میں طوفاں نہ بپا ہوتا

’’کچھ اپنوں کی سازش ہے  کچھ اُن کا اشارا ہے ‘‘

ہر ایک قدم میرا بڑھتا ہوا رُک جائے

دورانِ سفر مجھ کو پھر کس نے  پکارا ہے

آکاش میں اُڑنے  کی حسرت ہی رہی قیصرؔ

آزاد پرندہ کا، پنجرہ میں گزارا ہے

 

                ریاض الدین کاملؔ

جب سے  وہ میرے  خواب کی تعبیر بن گئے

میرے  لئے  اندھیرے  بھی تنویر بن گئے

تھا ناز اپنے  حسن پہ ہم کو بہت مگر

دیکھا انھیں تو حیرتِ تصویر بن گئے

ان کے  نگاہِ شوخ کے  انداز پر نثار

برچھی کبھی بنے  تو کبھی تیر بن گئے

پوچھا جو حالِ یار تو آنکھیں چھلک پڑیں

قطرے  گرے  جو اشک کے  تحریر بن گئے

یاروں بہت قریب تھی منزل مری مگر

چھالے  ہی میرے  پاؤں کی زنجیر بن گئے

پھولوں میں تھی گزرتی کبھی اپنی زندگی

کانٹے  ہی اب تو دامنِ تقدیر بن گئے

کاملؔ جو لوگ ہم پہ اٹھاتے  تھے  انگلیاں

وہ بھی اسیرِ زلف گرہ گیر بن گئے

***

جنونِ عشق میں دیکھو کہیں ایسا نہ کر لینا

تم اپنے  دامنِ احساس کو میلا نہ کر لینا

زلیخا آپ ہیں یہ سچ ہے  لیکن میں نہیں یوسف

غلط فہمی میں اپنے  آپ کو رسوا نہ کر لینا

نمک پاش اپنی فطرت سے  نہ ہر گز باز آئیں گے

تم اپنے  زخمِ دل کو چھیڑ کر گہرا نہ کر لینا

زمانے  کی نگاہوں سے  گرے  تو اٹھ نہ پاؤ گے

بلندی پر پہونچ کے  اپنا قد اونچا نہ کر لینا

غلامی نفس کی بربادیوں کا پیش خیمہ ہے

کہیں ویران اپنے  زیست کی دنیا نہ کر لینا

اٹھا کر انگلی دانستہ کسی مجبور کی جانب

غرور و کبر میں نقصان تم اپنا نہ کر لینا

خدا کے  واسطے  تم چند سکوں کے  لئے  کاملؔ

کسی مکّار سے  معیار کا سودا نہ کر لینا

***

زیست کے  پورے  سبھی ارکان کر

ہاں مگر مرضی خدا کی جان کر

بڑھ رہا ہے  خواہشوں کا دائرہ

اے  خدا مشکل میری آسان کر

اجنبی کی طرح تیرے  گاؤں سے

ہم ہوئے  رخصت تجھے  پہچان کر

جانتے  ہیں خاک میں مل جائیں گے

چل رہے  ہیں پھر بھی سینہ تان کر

پل میں تولہ پل میں ماشہ ہے  مزاج

روٹھ جاتے  ہیں وہ اکثر مان کر

خود کی خاطر تو ُجیا تو کیا جیا

دوسروں پر زندگی قربان کر

خیر و برکت کا اگر طالب ہے  تو

احترام و خدمتِ مہمان کر

کہہ رہی ہے  چار دن کی زندگی

زندگی کے  بعد کا سامان کر

موم کی مانند کاملؔ ہو گیا

سنگ دل بھی درد میرا جان کر

***

مانا کے  مخالف یہ زمانے  کی ہوا ہے

لیکن مرے  ہمراہ میری ماں کی دعا ہے

میں بھول گیا اپنے  ہر اک رنج و الم کو

جب سے  ترے  حالات کے  بارے  میں سنا ہے

نادم ہو گناہوں پہ تو اپنے  ارے  ناداں

ہے  وقت ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے

ہاتھوں میں کبھی جس کے  تھا میزانِ صداقت

افسوس وہی اب صفِ مجرم میں کھڑا ہے

کیا میرا بگاڑے  گی یہ حالات کی آندھی

جب سر پہ مرے  سایہ فگن فضلِ خدا ہے

رت رنگ بدلتی رہی آئے  گئے  موسم

میں پھول ہوں ایسا جو خزاں میں بھی کھلا ہے

ہوتا ہے  گماں دیکھ کے  مقبولیت اس کی

اردو کو ولیؔ ، میرؔ کی غالبؔ کی دعا ہے

ہم کیسے  بھلائیں چھ دسمبر کا سانحہ

ہر چشم ہے  خونبار ہر اک زخم ہرا ہے

دشمن کے  بھی دکھ درد کا احساس ہو جس کو

کاملؔ وہی انسان زمانے  میں بڑا ہے

***

کاغذ پہ دل کے  مشق کتابت نہیں کرتے

ہم عقل کے  اندھوں کی امامت نہیں کرتے

قرآن سے  ان لوگوں کو کچھ بھی نہیں ملتا

جو طاق پہ رکھتے  ہیں تلاوت نہیں کرتے

دشمن کا بھلا چاہنا سنّت ہے  مگر ہم

خود اپنے  رفیقوں کی عیادت نہیں کرتے

ہر حال میں اﷲ سے  راضی بہ رضا ہیں

’’ہم اپنے  مقدر کی شکایت نہیں کرتے ‘‘

مقبول کبھی ان کی عبادت نہیں ہوتی

ماں باپ کی جو لوگ اطاعت نہیں کرتے

نظروں کو سدا رکھتے  ہیں میزان کی صورت

مکّاروں کی ہم لوگ حمایت نہیں کرتے

رہ رہ کے  بدلتا ہے  مزاج آپ کا توبہ

دیوانے  محبت میں تجارت نہیں کرتے

دنیا میں کئی لوگ تو مظلوم کے  حق میں

ہمدردی دکھاتے  ہیں عنایت نہیں کرتے

تا عمر زمانے  میں بھٹکتے  ہیں وہ کاملؔ

جو اپنے  اصولوں کی حفاظت نہیں کرتے

***

بیٹھے  ہیں اس طرح سے  وہ آنسو نکال کر

رکھّا ہے  جیسے  گل کوئی خوشبو نکال کر

تصویر دیکھتی تھی وہ عہد شباب کی

صندوق میں رکھے  ہوئے  گھنگرو نکال کر

مل جائے  گا تمہارے  ہر اک مسئلے  کا حل

سوچیں اگر نئے  نئے  پہلو نکال کر

بھٹکا ہوا تھا میں مجھے  رستہ دکھا دیا

اﷲ نے  اندھیرے  میں جگنو نکال کر

ا سکو زمانے  والوں نے  مجرم سمجھ لیا

عزّت بچا رہی تھی جو چاقو نکال کر

جی نہ سکے  گا چین سے  پچھتائے  گا بہت

اپنے  حسین دل سے  مجھے  تو نکال کر

کہنے  سے  پہلے  سوچ لیں بیٹھے  ہیں کتنے  لوگ

تنقید و تبصرے  کے  ترازو نکال کر

میں نے  کہا کہ موتی کو دیکھا بھی ہے  کبھی

آنکھوں سے  اس نے  رکھ دیئے  آنسو نکال کر

کاملؔ گماں سے  آگے  زمانہ نکل گیا

اڑتے  ہیں لوگ خواب میں بازو نکال کر

***

فطرت کا اس کی آج پتہ سب کو چل گیا

واعظ کا خود بیاں کے  مخالف عمل گیا

پنہاں روش میں اپنی زمانے  کی ہے  روش

جب ہم نے  خود کو بدلا زمانہ بدل گیا

نکلا تھا آفتاب جو میرے  مکان سے

سنتا ہوں تیرے  در پہ وہ پہنچا  تو ڈھل گیا

دشمن تھا جس کی جان کا فرعونِ نامراد

گھر میں اسی کے  دیکھو وہی بچہ پل گیا

ہم ظالموں کے  بیچ کوئی نیک ہے  ضرور

جس کی دعا سے  قہرِ خدا آ کے  ٹل گیا

ناسور بن نہ جائے  کہیں زخمِ زندگی

میں تو سمجھ رہا تھا کہ کانٹا نکل گیا

آمادہ دشمنی پہ جو رہتا تھا ہر گھڑی

بغض و حسد کی آگ میں وہ خود ہی جل گی

جو کام آج کرنا ہے  کر لیجئے  ابھی

پچھتاؤ گے  جو آج بھی کل میں بدل گیا

جھک جھک کے  مشکلیں مجھے  کرنے  لگیں سلام

جس وقت گرتے  گرتے  میں کاملؔ سنبھل گیا

***

میں سمجھتا تھا جسے  غیر نہیں بھائی ہے

سر پہ تلوار اسی نے  میرے  لٹکائی ہے

جائیں تو جائیں کدھر جان پہ بن آئی ہے

دائیں جانب ہے  کنواں بائیں طرف کھائی ہے

پیش کیوں کرتے  ہو شیشے  کے  مشابہ خود کو

ہم نے  یہ زندگی ہیرے  کی طرح پائی ہے

مشورے  میں مرے  کیا خامی نظر آئی تمہیں

تم نے  تجویز میری کس لئے  ٹھکرائی ہے

جس طرح تو دبے  پاؤں چلی آتی تھی کبھی

وہ ہی ترکیب تری یاد نے  اپنائی ہے

آئینہ ٹوٹ کے  بکھرے  تو تعجّب کیسا

سحر انگیز صنم آپ کی انگڑائی ہے

مٹ نہیں سکتی مٹانے  سے  زبانِ اردو

میرؔ و غالبؔ سے  نئی اس نے  جلا پائی ہے

تیری آواز میں آواز ملاؤں کیسے

خود غرض تو ہے  تو پیاری مجھے  سچّائی ہے

کہکشاں اس کے  قدم چوم رہی ہے  کاملؔ

آج بھی فہم و فراست میں وہ اونچائی ہے

               ظفر علی راہیؔ

کوئی آئے  تو یہاں اور یہ ہلچل دیکھے

امن کا شہر بنا کس طرح مقتل دیکھے

جو ہو نابینا تو پھر اس کی بصارت کیسی

’’وہ تری آنکھ کا کس آنکھ سے  کاجل دیکھے ‘‘

پرچمِ امن کا اس کو بھی گماں ہو جائے

تیرا لہراتا ہوا جو کوئی آنچل دیکھے

دید کی پیاس نہ بجھ پائے  کسی بھی صورت

تیری تصویر جو دیکھے  وہ مسلسل دیکھے

قحط کے  دور میں قلت رہے  جو پانی کی

ہر کوئی سر کو اٹھائے  ہوئے  بادل دیکھے

تشنگی اور بھی بڑھ جائے  گی سوکھے  لب کی

کوئی پیاسا جو کسی کاندھے  پہ چھاگل دیکھے

جس کو خوش حالی کا کرنا ہو نظارہ راہیؔ

آ کے  جنگل میں رچایا ہوا منگل دیکھے

***

وہ حشر کے  میدان میں بے  خوف کھڑا ہے

جو راہِ صداقت پہ ہر اک لمحہ چلا ہے

آسودگی کیوں مجھ کو نہ آ جائے  میسر

ماں باپ کی ہر لمحہ مرے  ساتھ دعا ہے

بے  گانہ ہے  دنیا سے  کہاں خود کا اسے  ہوش

جو عشق میں اس شوخ کے  دیوانہ ہوا ہے

بارود کی اس درجہ ہوئی عام تجارت

ہر شخص زمانے  کا مصیبت میں پڑا ہے

 انسانوں نے  انسانوں پہ ڈھائے  تھے  مظالم

اور آج مساجد میں بھی بم پھٹنے  لگا ہے

خود بن کے  رہا کرتا تھا دنیا میں جو چھوٹا

وہ آج زمانے  کی نگاہوں میں بڑا ہے

انسانوں کے  حالات درندوں سے  ہیں بدتر

انسان کا انسان لہو چاٹ رہا ہے

اﷲ مسلمانوں کی تو کرنا حفاظت

ہر ایک قدم پر یہاں طوفان بپا ہے

راہیؔ کا زمانے  میں کہاں ہے  کوئی رہبر

منزل کی طرف آج اکیلا ہی چلا ہے

 

               غریب پرورؔ سمندر

حق بیاں، حق آشنا اور حق نِگر کوئی نہیں

’’دوست سب ہیں اپنے  لیکن معتبر کوئی نہیں ‘‘

یوں تو ہیں لاکھوں عمر، ویسا عمرؓ  کوئی نہیں

جلوہ گاہیں، ہیں سلامت جلوہ گر کوئی نہیں

مر گئے  کچھ جل گئے، کچھ چل دئے  گجرات سے

پوچھ اس سے  حال اس کا جس کے  گھر کوئی نہیں

زر پرستی چھین لیتی ہے  محبت اور خلوص

جانتے  سب ہیں، عمل پیرا مگر کوئی نہیں

سننے  والے  اٹھ چکے  بس بولنے  والے  بچے

سب یہاں اہلِ ہنر ہیں، بے  ہنر کوئی نہیں

آئینہ رکھا ہے  پرورؔ سامنے  حالات کا

اہلِ علم و فن تو ہیں، اہلِ نظر کوئی نہیں

***

قسمت سے  زر و مال جسے  ہاتھ لگا ہے

کم ظرف سمجھتا ہے  وہی سب کا خدا ہے

ناقدریِ انصاف کا جو زہر پیا ہے

آمادہ بغاوت پہ وہی آج ہوا ہے

وہ شخص جو قدرت کی نگاہوں کا ہے  محور

ساحل کو سفینے  کی طرف لے  کے  چلا ہے

کٹ کٹ کے  سر صحنِ چمن پھول گرے  ہیں

طوفانی ہواؤں کا گزر برق نما ہے

کرتا ہے  مرے  حق میں دعا کوئی تو پرورؔ

طوفاں نے  مجھے  گھیر کے  بھی چھوڑ دیا ہے

***

جب سے  تمھیں دیکھا ہے  بس ایک ہی نعرہ ہے

یہ جاں بھی تمھاری ہے  یہ دل بھی تمھارا ہے

اک تیری محبت پر دیتی ہے  سزا دنیا

یہ جرم اگر ہے  تو یہ جرم گوارا ہے

یوں ہی نہیں عالم میں ہم لوگ ہوئے  رسوا

’’کچھ اپنوں کی سازش ہے  کچھ ان کا اشارا ہے ‘‘

روداد سنائیں کیا ہم اپنی تباہی کی

اب اپنے  وطن میں ہی دشوار گزارا ہے

ایمان بچانا بھی اس دور میں ہے  مشکل

ہر سمت زمانے  میں تقلید نصاریٰ ہے

تاریک فضائیں ہیں ہر سمت جہالت کی

اک تیرے  سوا یا رب اب کون ہمارا ہے

کہتا ہے  شریفؔ احقر لوگوں سے  یہی اکثر

اب ذکرِ خدا میرے  جینے  کا سہارا ہے

 

               عابد حسین عابدؔ

تہذیب کے  گلشن کو کیا خوب سنوارا ہے

جس سمت نظر ڈالو پر کیف نظارہ ہے

شب ہونے  کو آئی ہے  پھر دور چلا ساقی

بے  تابی کے  عالم میں دن رات گزارا ہے

یکتائے  زمانہ ہے  ہر ایک ادا اس کی

اس شوخ نے  کتنوں کو بے  مو ت ہی مارا ہے

بادل میں نہ چھپ جائے  کیوں چاند بھی شرما کر

پھر شام ڈھلے  اس نے  زلفوں کو سنوارا ہے

ٹوٹی ہوئی شاخوں میں تاراجیِ گلشن میں

’’کچھ اپنوں کی سازش ہے  کچھ ان کا اشارہ ہے ‘‘

ہم نے  بھی چمن اپنا سینچا ہے  لہو دیکر

حق جتنا تمہارا ہے  اتنا ہی ہمارا ہے

اک تیری محبت میں اے  منتظرِ عالم

جینا بھی گوارہ ہے  مرنا بھی گوارہ ہے

کس طرح سہوں عابدؔ غم ان کی جدائی کا

احساس ہے  مردہ سا بے  کیف نظارہ ہے

***

غموں کی دھوپ سے خود کو بچانے آئے ہیں

ہم آج جشن مسرّت منانے آئے ہیں

حیات و کشمکشِ روزگار میں ہم تو

کتابِ زیست کا عنواں بتانے آئے ہیں

جلا کے خانۂ دل میں چراغ الفت کے

ہم اپنے عشق کے جلوے دکھانے آئے ہیں

نظام گلشنِ ہستی سنوارنے کیلئے

’’کلی کلی کو تبسم سکھانے آئے ہیں ‘‘

سہانی رات کی تنہائیوں کا حال نہ پوچھ

خیال و خواب میں منظر سہانے آئے ہیں

ادائے چشم تغافل کا دیکھیئے عالم

نظر کا تیر وہ دل پر چلانے آئے ہیں

جنھیں سمجھتے تھے ہم اپنا مونس و ہمدم

ہماری راہ میں کانٹے بچھانے آئے ہیں

جو ہم کو زخم ہی دیتے رہے ہیں برسوں سے

وہ آج زخم پہ مرہم لگانے آئے ہیں

مٹا دو نفرتیں دل سے ملو گلے سے گلے

نفاق و رنجشِ باہم مٹانے آئے ہیں

قدم قدم پہ ہوئے جن کے نام کے چرچے

وہ اپنے نام کا جادو جگانے آئے ہیں

ہمیں نہ دیکھو حقارت سے اسطرح عابدؔ

تمہارے واسطے ہم سر کٹانے آئے ہیں

***

دل فرطِ مسرت سے مرا جھوم اٹھا ہے

اب عالم تنہائی کا ہمراز ملا ہے

تہذیب و تمدن کی بہاروں کو جلاہے

شوریدہ زمیں  پربھی جہاں پھول کھلا ہے

ہم کو یہ سبق روزِ ازل سے ہی ملا ہے

اک ذاتِ خدا باقی ہر اک چیز فنا ہے

دل ہے کہ ہر اک لمحہ مرا ٹوٹ رہا ہے

تھا ناز بہت جس پہ وہی آج خفا ہے

انگشت نمائی مرے کردار پہ کر کے

دشمن مرا ہر گام پشیمان ہوا ہے

نادان یہاں آتے ہی بن جاتے ہیں دانا

اس محفل خوش رنگ کی تہذیب جدا ہے

دل میں بھی ہے موجود رگِ جاں سے بھی نزدیک

جس سمت نظر ڈالئے وہ جلوہ نما ہے

اک جرمِ محبت کو بھی بخشا نہ جہاں نے

رسوا سر بازار مجھے خوب کیا ہے

افشا ں نہ کبھی ہوتا مرا راز محبت

اک تیرے تبسم کا ہی افسانہ بنا ہے

اﷲ بچائے نظرِ بد سے ہمیشہ

ہاتھوں پہ ترے رنگ حنا خوب چڑھا ہے

ساحل پہ کھڑا رہ کے بھی پانی سے رہا دور

ہے کون لبِ دریا جو پیاسا ہی مرا ہے

کیا رکھا ہے بیکار کی باتوں میں اے عابدؔ

’’کہہ دو یہ ہوا کچھ نہیں دو دن کی ہوا ہے‘‘

 

               وحیدؔ شیخ

رسم ایسی بھی یہاں ایک بنا دی جائے

جو صحیح بات کہے  اس کو سزا دی جائے

سارے  ہنگاموں کے  ملزم ہمیں ٹھہرا ہی چکے

کوئی تہمت ہو بچی، وہ بھی لگا دی جائے

جو ہے  قاتل، وہی منصف، وہی حاکم ہے  یہاں

کون سنتا ہے  یہاں، کس کو صدا دی جائے

ظلمتیں پھیل چکیں چاروں طرف نفرت کی

شمع اک پیار کی ایسے  میں جلادی جائے

زندگی ایک سزا ہے  تو چلو آج وحیدؔ

کیوں نہ دشمن کو بھی جینے  کی دعا دی جائے

***

آج شہروں کی یہی پہچان ہے

اک مسلسل دوڑ میں انسان ہے

کھو گئے  ہیں سارے  رشتے  بھیڑ میں

اپنے  گم ہونے  کا بھی امکان  ہے

وہ پڑوسی کی رکھے  گا کیا خبر

اپنے  گھر میں آپ جو انجان ہے

بس مشینوں کی ہے  مانند ہر نفس

چل رہی ہے  سانس، پر بے  جان ہے

دیکھ کر رک جائے  یہ ہوتا ہے  کم

بات کر لے  گر کوئی، احسان ہے

چلیئے  واپس گاؤں کو اپنے  وحیدؔ

پھر ملیں لوگوں سے  یہ ارمان ہے

***

عزمِ محکم ڈٹ گیا، جھوٹی انا کے  سامنے

اک دیا جلتا رہا پاگل ہوا کے  سامنے

امتحان ظرف تھا مقصود رند مست کا

’’ہم نے  ساغر رکھ دیا کالی گھٹا کے  سامنے ‘‘

مبتلائے  زیست ہوں یہ بھی کوئی کم تو نہیں

اور سزا ہو گی کوئی کیا اس سزا کے  سامنے

حق فرزندی و طاعت کی ہوئی یہ انتہا

جان اپنی پیش کی اس کی رضا کے  سامنے

چل پڑے  لمبے  سفر پر چھوڑ کر سب کچھ وحیدؔ

زور کس کا ہے  چلا دستِ قضا کے  سامنے

 

               مشتاق احسنؔ

پناہ مانگنے  خانہ خراب آئے  گا

میری زمین پر وہ آفتاب آئے  گا

نوشتہ میرے  مقدر کا ڈھونڈتے  پھرتے

کہیں نہ جائے  گا، میری جناب آئے  گا

مجھے  سنبھال کے  رکھنا کہ قیمتی شئے  ہوں

میں ٹوٹ جاؤں تو اک انقلاب آئے  گا

یہ عین حق ہے  کہ اک روز وہ مرے  حق میں

جو میرا دوست ہے  بن کر عذاب آئے  گا

ابھی تو رات ہے  چھیڑو نہ پھول بننے  دو

کلی پہ دن چڑھے  کافی شباب آئے  گا

انھیں منانے  کی کوشش نہ کیجئے  احسنؔ

وہ منہ پھلائے  ہیں الٹا جواب آئے  گا

***

میں تو صدا لگا چکا اُس کے  دیار میں

اب دیکھنا ہے  کتنا اثر ہے  پُکار میں

ہر ہر قدم سنبھال کے  رکھّا، بہ احتیاط

 اُلجھا کبھی نہ گردشِ لیل و نہار میں

جتنا کہ صبح و شام کی رنگت میں ہے  تضاد

اُتنا ہے  فرق آپ کے  قول و قرار میں

ہر دم اسے  پرکھنے  کی کوشش نہ کیجئے

انساں سمجھ میں آتا ہے  بس ایک بار میں

 دورِ خزاں تو چین سے  آ کر گزر گیا

یہ کیسی آگ لگ گئی فصلِ بہار میں

ہے  بات گھر کی گھر میں رہے  تب تو ٹھیک ہے

اچھّا نہیں ہے  عام کریں اس کو چار میں

احسنؔ کسی کے  وعدے  پہ مت کیجئے  یقین

کتنے   ہی خواب ٹوٹ چکے  انتظار میں

***

تم عمل کیے  جاؤ تم کو کس نے  روکا ہے

ہم تو خواب دیکھیں گے  یہ ہمارا حصّہ ہے

آشیاں کو جلتے  تو ہر نظر نے  دیکھا ہے

کتنے  جل چُکے  ارماں کیا کسی نے  سوچا ہے

حسرتیں زمانے  کی پال کر کرو گے  کیا

وہ ہی فصل کاٹو گے  بیج جس کا بویا ہے

اُس سے  غیر اچھّے  ہیں ہنس کے  مل تو لیتے  ہیں

بھائی نے  مجھے  اکثر گھور کر ہی دیکھا ہے

نہ زبان شیریں ہے  نہ بیان سنجیدہ

مقتدی پریشاں ہیں یہ امام کیسا ہے

رات دن کے  سجدے  ہیں مسجدوں میں جھگڑے  ہیں

بے  اثر دعاؤں کا حشر یہ ہی ہوتا ہے

باغباں کی محنت ہوں اور خدا کی رحمت ہوں

خار دار شاخوں پر تب گلاب کھِلتا ہے

دوسروں کی عینک سے  خود کو دیکھیے  احسنؔ

 آپ اپنی نظروں سے  سبز سبز دکھتا ہے

***

غیر میں اپنوں میں کچھ پہچان کر

ہر کسی کو گھر میں نہ مہمان کر

کون کس کے  کام آتا ہے  یہاں

اپنی مشکل خود میاں آسان کر

یاد کرنا موت کو تو ٹھیک ہے

جیتے  جی مرنے  کا نہ ارمان کر

بازوؤں میں زور جب ہوتا نہیں

کیوں نکل پڑتے  ہو سینہ تان کر

جھوٹ کہہ کر اُس نے  بازی مار لی

ہم ہوئے  بدنام غلطی مان کر

اس کو خالص گھر خدا کا رہنے  دے

جنگ کا مسجد کو نہ میدان کر

جن کو کرنا ہے  کریں وہ شوق سے

دیکھ احسنؔ تو نہ جھوٹی شان کر

***

پڑھ کے  دو چار کیا کتاب آئے

اُن کے  حصّے  میں دس خطاب آئے

میرے  لب پر سوال کیا آیا

جو جواب آئے  لا جواب آئے

اک تصوّر میں کٹ گئیں راتیں

نیند آئی نہ کوئی خواب آئے

اُن کو محشر میں مل گئی راحت

کر کے  اپنا جو احتساب آئے

آپ نظریں جھکا کے  چلیے  جناب

اُن کے  چہرے  پہ کیوں نقاب آئے

قبر سے  کہہ رہا تھا اک منکر

ہائے  پرچے  بڑے  خراب آئے

 ہم نے  احسنؔ روش نہیں بدلی

لاکھ دنیا میں انقلاب آئے

***

فتنوں کو دبا دیتے  ہیں شہرت نہیں کرتے

ہم سنتے  ہیں سب، رائی کو پربت نہیں کرتے

کیا لوگ تھے  کل رات کیا کرتے  تھے  سجدے

ہم لوگ تو دن میں بھی عبادت نہیں کرتے

پردہ کیے  لوگوں پہ تو مٹ جاتے  ہیں ہم لوگ

ماں باپ جو زندہ ہیں تو خدمت نہیں کرتے

اے  کاش کہ مل جائے  اسے  رشد و ہدایت

ہم اس لیے  کافر پہ بھی لعنت نہیں کرتے

اپنوں نے  کیا ظلم تو خود اپنے  اکابر

چُپ رہتے  ہیں ظالم کی مذمّت نہیں کرتے

جو کام ہے  جس وقت کا کرتے  ہیں وہی ہم

بیمار کو بستر پہ نصیحت نہیں کرتے

لٹ جاتے  ہیں مٹ جاتے  ہیں پر اپنے  وطن سے

ہم لوگ وفادار ہیں ہجرت نہیں کرتے

خاموشی کو ترجیح دیا کرتے  ہیں احسنؔ

ہم سچّے  ہیں اس بات پہ حجّت نہیں کرتے

***

دل میں حق بات جب اترتی ہے

تب کہیں عاقبت سنورتی ہے

عزم جن کے  جواں نہیں ہوتے

ان کی دنیا کہاں سنورتی ہے

فقر و فاقہ میں گاؤں کی بیٹی

شہر جانے  کی بات کرتی ہے

کیوں برہنہ بدن  ہیں یہ بچے

تم سے  ممتا سوال کرتی ہے

ہوتے  ہوتے  گناہ ہوتے  ہیں

مرتے  مرتے  نگاہ مرتی ہے

زندگی میری ہر نفس احسنؔ

دوستوں کے  کرم سے  ڈرتی ہے

 

                ڈاکٹر عمران علی خان عمرانؔ

پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے  آئے  ہیں

یا میرے  زخم پہ نشتر چلانے  آئے  ہیں

ہمارے  بانکپن کی کچھ تو داد دے  قاتل

کس اطمینان سے  ہم سر کٹانے  آئے  ہیں

مزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھا

سو دل کو مار کے  ہم مسکرانے  آئے  ہیں

الٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنا

نئی دوا ہے  اِدھر آزمانے  آئے  ہیں

بس ایک وقتِ ملاقات ہم نے  مانگا تھا

ہزار اُن کے  لبوں پر بہانے  آئے  ہیں

ہمیں پتہ ہے  کہ عمرانؔ کہہ نہیں سکتے

بڑے  وثوق سے  لیکن سُنانے  آئے  ہیں

***

ہم دار پہ بھی ترک حقیقت نہیں کرتے

ناکردہ گناہوں پہ ندامت نہیں کرتے

خاموش رہیں، ظُلم سہیں، مسکرائیں بھی

ہم ایسی حماقت کی حمایت نہیں کرتے

کر جانِ وفا مشقِ ستم اور زیادہ

ہم چاہنے  والے  ہیں شکایت نہیں کرتے

پوچھے  گا بھلا کون بُرے  وقت میں انہیں

 جو اپنے  پڑوسی کی عیادت نہیں کرتے

اس ڈر سے  کہ شکوے  پہ وہ روٹھے  نہ مستقل

’’ہم اپنے  مقدّر کی شکایت نہیں کرتے ‘‘

کرتے  ہیں اُسے  یاد اکیلے  میں ہی اکثر

ہم صرف دکھاوے  کی عبادت نہیں کرتے

اکثر وہی رہ جاتے  ہی ناکام و نامراد

جو لوگ سرابوں کو حقیقت نہیں کرتے

کچھ تو خیال کیجے  روایت کا بھی عمرانؔ

اشعار میں یوں شدّتِ جدّت نہیں کرتے

 

               ضمیرؔ ناگپوری

رابطہ ٹوٹا ہوا ہے  نامہ بر کوئی نہیں

اب انھیں میری، مجھے  ان کی خبر کوئی نہیں

گریۂ غم سے  تو تھرّا اٹھتا ہے  چرخِ کہن

میرے  اشکوں کا مگر ان پر اثر کوئی نہیں

اک خلا سا کار زارِ عشق میں ہے  میرے  بعد

ہے  کوئی جو معرکہ یہ کر لے  سر کوئی نہیں

اس نے  مجھ سے  پھیر لیں نظریں زمانہ پھر گیا

اب ادھر ساری خدائی ہے  ادھر کوئی نہیں

ہے  اجل کے  سامنے  بے  بس یہاں ہر آدمی

جو ہرا دے  موت کو ایسا بشر کوئی نہیں

کاروانِ شوق کی اﷲ نگہبانی کرے

رات اندھیری لوٹ کا ڈر، راہبر کوئی نہیں

اے  ضمیرؔ آخر بناؤں کس کو اپنا راز دار

دوست کہنے  کو بہت ہیں معتبر کوئی نہیں

***

سامانِ تعیّش کڑی محنت کا صلہ ہے

محنت کے  بنا کب کوئی دھنوان بنا ہے

نکلا ہوں مصیبت سے  تو احساس ہوا ہے

مشکل میں جو کام آئی ہے  وہ ماں کی دعا ہے

جو اپنی خطا پر کرے  اظہارِ ندامت

سچ پوچھئے  دنیا میں وہی شخص بڑا ہے

چلتا تھا کبھی جسکے  اشاروں پہ زمانہ

وہ آج زمانے  کی نگاہوں سے  گرا ہے

خنجر پہ لہو اور نہ دامن پہ کوئی داغ

قاتل نے  تو لگتا ہے  کرامات کیا ہے

ممکن ہے  کے  دنیا اسے  صدّام ہی کہہ دے

جو اپنے  وطن کے  لئے  سولی پہ چڑھا ہے

حالات جسے  جو بھی بنا دے  سو بنا دے

فطرت سے  تو انسان بھلا ہے  نہ برا ہے

کیوں سمجھوں ضمیرؔ اپنے  کو دینا میں اکیلا

کہتے  ہیں نہیں جسکا کوئی ا سکا خدا ہے

 

                ڈاکٹر وکرم چودھری ساگرؔ

چھت کی بوسیدگی دیکھے  کہ وہ بادل دیکھے

اپنی تقدیر کا مفلس تو فقط بل دیکھے

وہ بھی بچے  ہیں للک ان میں یقیناً ہو گی

ہائے  قسمت نہ کبھی اطلس و مخمل دیکھے

فن دیا اپنا، انگوٹھا بھی دیا شاہوں کو

ہم نے  اس دنیا میں کچھ ایسے  بھی پاگل دیکھے

گھر کے  باہر نہ پیا مانگ کے  پانی جس نے

اس کے  ہاتھوں میں بھلا کیا کوئی بوتل دیکھے

پھیر لی آنکھ توجہ سے  نہ دیکھا اس کو

پاؤں تقدیر نے  جس شخص کے  بوجھل دیکھے

ہم نے  دنیا کے  ہر اک گوشے  میں پایا تجھ کو

گردشِ وقت ستم تیرے  مسلسل دیکھے

آج بھی ایسے  جیالے  ہیں زمیں پر ساگرؔ

دیکھا بازار کبھی اور نہ ہی ہوٹل دیکھے

***

حسین پھولوں کے  موسم سہانے  آئے  ہیں

’’کلی کلی کو تبسّم سکھانے  آئے  ہیں ‘‘

رکھے  ہیں خار گلوں کی قبا بچانے  کو

یہ معتبر ہیں گلوں کو بچانے  آئے  ہیں

بھری بہار میں پھولوں کے  چہرے  اترے  ہیں

چمن میں جیسے  فراشی پرانے  آئے  ہیں

ہمیں پتہ ہے  وہ نا آشنائے  منزل ہیں

جو ہم کو راستہ سیدھا بتانے  آئے  ہیں

عجیب لوگ ہیں یہ کنبھ کرن کی بستی میں

بغیر باجے  کے  کس کو جگانے  آئے  ہیں

گلے  میں مالا ہے  منکوں کی، شنکھ ہاتھوں میں

پیام امن کا سادھو سنانے  آئے  ہیں

جلا کے  بستیاں نیتا ہمارے  اے  ساگرؔ

اجاڑ گاؤں میں آنسو بہانے  آئے  ہیں

***

ٹھہرے  گا جانے  کیسے  زمانے  کی دھار میں

’’وہ کم نظر جو آنکھ نہ کھولے  غبار میں ‘‘

آنکھوں میں تاب ہے  نہ زباں میں ہے  چاشنی

جلوہ کہاں سے  آئے  نظر کے  حصار میں

پٹتا ہے  جب کسی سے  تو بکتا ہے  اول فول

انسان بڑ بڑا تا ہے  اکثر بخار میں

نا آشنا بھی انگلی نچاتے  ہیں بیچ میں

خاصا دباؤ ہوتا ہے  قینچی کی دھار میں

ارتھی پہ میری پھول دکھانے  کو رکھ دئے

خوشبو ذرا نہ آئی کبھی جن کے  پیار میں

رکھّو نہ ان سے  دیش کی سیوا کی تم امید

زہریلے  ہیں یہ زہر بھرا ہے  وچار میں

رکھتے  ہیں ناگ پال کے  اب آستیں میں لوگ

دن ان کا گھر میں کٹتا ہے  اور رات بار میں

قدرت نے  جس میں رکھ دی ہے  سچائیوں کی آب

ساگرؔ وہ جگمگائے  گا گردو غبار میں

***

یہ گھاؤ میرے  دل پہ جو تحفے  میں ملا ہے

نظروں کا نشانہ ہے  محبت کی سزا ہے

محفوظ سفینہ لبِ ساحل جو کھڑا ہے

ناکام تلاطم کی نظر تول رہا ہے

دھوکے  ہی ملے  مجھ کو محبت میں ہمیشہ

وشواس میرا دل کی طرح ٹوٹ چکا ہے

کب جانے  مجھے  پھونک دے  یہ سر پھری آندھی

میں بھی تو اک چراغ ہوں یہ مجھ کو پتہ ہے

بچوں کے  لگی پیٹ میں جب آگ تو ساگرؔ

مزدور لہو بیچنے  بازار چلا ہے

 

               ڈاکٹر محمد اسد اﷲ

دعویٰ یہ نہیں ہے  کہ عداوت نہیں کرتے

سچّائی تو یہ ہے  کہ سیاست نہیں کرتے

میں نے  بھی مکھوٹوں کو ہلا ڈالا ہے  جڑ سے

اب لوگ یہاں مجھ کو ملامت نہیں کرتے

ہے  شہر کے  لوگوں سے  اسے  ایک شکایت

تعظیم تو کرتے  ہیں محبت نہیں کرتے

مدّت ہوئی خوشیاں یہ پتہ بھول گئیں ہیں

اس گھر کی طرف آپ بھی زحمت نہیں کرتے

الفاظ کی حُرمت کا ہمیں پاس بہت ہے

’’ہم اپنے  مقدّر کی شکایت نہیں کرتے ‘‘

 

               مظفّر علی مظفّرؔ ناگپوری

آپ حق سے  مکر گئے  شاید

مصلحت پر اتر گئے  شاید

بات والے  کہیں نہیں ملتے

بات پر اپنی مر گئے  شاید

آپ اور ہم سے  التفات کی بات

ہم بگڑ کر سنور گئے  شاید

وہ کبھی ہم سے  دور کیا ہوتے

ہم ہی حد سے  گزر گئے  شاید

جو وفادار سر بکف تھے  بہت

آج سر لانے  گھر گئے  شاید

وہ کنارا تو کوئی دور نہ تھا

لو گ طوفاں سے  ڈر گئے  شاید

اب زباں پر نہیں کوئی تلخی

’’زخم سب دل کے  بھر گئے  شاید

اے  مظفّرؔ زمانہ دشمن ہے

ہم زیادہ ابھر گئے  شاید

 

               اشتیاق کاملؔ

بزرگوں کی انا سے  کوئی سمجھوتا نہ کر لینا

کبھی پگڑی کے  بدلے  تاج کا سودا نہ کر لینا

غریبی میں سبب رسوائی کا پیدا نہ کر لینا

کسی کم ظرف دولت مند سے  رشتا  نہ کر لینا

مقابل آندھیوں کے  تجھ کو مثلِ سبزہ رہنا ہے

تو خود کو شاخ کا سوکھا ہوا پتا نہ کر لینا

سمندر کی طرح رہنا ہمیشہ ظرف میں اپنے

تم اپنے  آپ کو برسات کا نالا نہ کر لینا

حقیقت آشنا ہوں اس لئے  لگتا ہوں دیوانہ

کہیں اس سے  مری حالت کا اندازا نہ کر لینا

تو خوش رہنا نئے  رشتوں کے  گلشن میں مرے  ہمدم

مری یادوں سے  دل کو درد کا صحرا نہ کر لینا

مقام برتری پانے  کا یہ آسان نسخہ ہے

تم اپنے  نفس کو رکھنا غلام، آقا نہ کر لینا

جہاں کو ئی نہیں رہتا وہاں آسیب بستے  ہیں

مجھے  دل سے  ہٹا کر اس میں سناٹا نہ کر لینا

ہر اک پر شک تجھے  اپنوں سے  اک دن دور کر دے گا

غلط فہمی سے  اپنے  آپ کو تنہا نہ کر لینا

اے  میرے  ہمسفر تجھ سے  بچھڑ کر جی نہ پاؤں گا

الگ مجھ سے  کبھی تو راستہ اپنا نہ کر لینا

تمھیں احسان کا بدلہ نہیں دے گی کبھی دنیا

کسی کے  واسطے  برباد گھر اپنا نہ کر لینا

اگر خواہش ہے  دو عالم میں تجھ کو سرخروئی کی

رہِ حق سے  الگ اپنا کبھی رستا نہ کر لینا

زمانہ آج ہے  جیسے  کو تیسا، اس لئے  کاملؔ

کبھی پتھر کے  آگے  خود کو تم شیشا نہ کر لینا

***

ان کے  خط کا اگر جواب آئے

شاخِ امید پر گلاب آئے

دل کی دنیا میں انقلاب آئے

پھر کوئی موج اضطراب آئے

اف یہ تہذیب نو کی عریانی

بے  حجابی کو بھی حجاب آئے

چاند کو آئینہ دکھانا ہے

اس سے  کہہ دو کہ بے  نقاب آئے

فکر و آزار، رنجش و آلام

میرے  حصّے  میں بے  حساب آئے

دید کی ضد فضول ہے  موسیٰ

اس کے  جلوے  کی کس کو تاب آئے

منکرِ ربِّ نوح ہے  دنیا

یہ زمیں پھر نہ زیرِ آب آئے

امتحانِ وفا تھا سخت مگر

ہم وہاں سے  بھی کامیاب آئے

کور دیدہ کو کیا غرض اس سے

چاند نکلے  کہ آفتاب آئے

خیریت تو ہے  آج اچانک کیوں

یاد ہم خانماں خراب آئے

جس سے  پھوٹے  خلوص کی کرنیں

کسی دن ایسا آفتاب آئے

حاصلِ جنگ بس تباہی تھی

کیسے  کہہ دیں کہ کامیاب آئے

پھر یزیدوں کا راج ہے کاملؔ

کاش پھر کوئی انقلاب آئے

 

               جمیلؔ آرٹسٹ

خدا کے  در پہ سر اپنا جھکانے  آئے  ہیں

ہم اپنے  اشکوں کو گوہر بنانے  آئے  ہیں

مری انا کی وہ قیمت لگانے  آئے  ہیں

جو مفلسی میں مجھے  آزمانے  آئے  ہیں

بجائے  پرسشِ غم، دل دکھانے  آئے  ہیں

ہمارے  حال پہ وہ مسکرانے  آئے  ہیں

وہ جیتے  جی تو نہ آئے  مری عیادت کو

میں مر گیا تو جنازہ اٹھانے  آئے  ہیں

ہماری ذات کے  شیشے  میں جو سنور تے  رہے

ہمیں کو آج وہ شیشہ دکھانے  آئے  ہیں

کراہ، چیخ، تڑپ، درد، اشک، آہ، الم

مرے  نصیب میں کیا کیا خزانے  آئے  ہیں

رُکی نہ آنکھوں سے  برسات آنسوؤں کی جمیلؔ

کبھی جو یاد پرانے  زمانے  آئے  ہیں

 

                 اصغر علی اصغرؔ

راہ چلتے  ہوئے  جب پاؤں میں چھالے  دیکھے

ہم نے  پوشیدہ اندھیروں میں اجالے  دیکھے

عیش و عشرت میں گزرتی تھی کبھی جن کی حیات

ان کے  محلوں میں لگے  مکڑی کے  جالے  دیکھے

زہر نفرت کا فضاؤں میں وہ پھیلاتے  ہیں

جس نے  مسجد نہیں دیکھی نہ شوالے  دیکھے

جن کی باتوں سے  کبھی پھول جھڑا کرتے  تھے

ان زبانوں پہ لگے  ظلم کے  تالے  دیکھے

جن کتابوں سے  عیاں ہونے  لگی سچائی

ان کتابوں کو بھی شعلوں کے  حوالے  دیکھے

تابِ نظارہ کہاں اتنی نگاہوں میں مری

چاند سے  چہرے  پہ جو زلف کے  ہالے  دیکھے

بات ہی بات میں دل جیت لیا ہے  میرا

ان کی گفتار کے  انداز نرالے  دیکھے

پیار کرنا کوئی آسان نہیں ہے  صاحب!

آپ کے  جیسے  کئی چاہنے  والے  دیکھے

ناؤ کاغذ کی ہمیشہ نہیں چلتی اصغرؔ

ہم نے  ساحل پہ کئی ڈوبنے  والے  دیکھے

***

کتنی کشش ہے  آج بھی رشتوں کے  تار میں

کٹتی ہے  صبح شام میری انتظار میں

ہر ہر قدم سنبھال کے  رکھنے  کے  باوجود

ہم نے  فریب کھائے  بہت تیرے  پیار میں

ساقی تیری نگاہ سے  پینے  کے  باوجود

باقی ہے  اب بھی ہوش تیرے  بادہ خوار میں

لمحے  خوشی کے  ہوتے  ہیں کیا ان سے  پوچھئے

وہ لوگ جو اسیر ہیں غم کے  حصار میں

وہ مسکرا کے  کہنے  لگے  لے  کے  میرا دل

وہ جیت میں کہاں ہے  مزہ ہے  جو ہار میں

یہ اور بات مجھ سے  وہ برہم ہیں آج کل

اب بھی مگر خلوص و محبت ہے  یار میں

جب سے  کرم نواز ہے  ان کی نگاہِ ناز

برکت بہت ہے  تب سے  میرے  روز گار میں

پھیکا ہے  تیرے  آگے  حسیں چاندنی کا نور

تجھ سا کوئی حسین نہیں ہے  ہزار میں

اک دل ہے، خواہشاتِ زمانہ ہے ، بے  شمار

اصغرؔ نہیں ہے  کچھ بھی میرے  اختیار میں

***

آج بدلا ہوا اندازِ خود آرائی ہے

حسنِ رنگیں کا ہر اک شخص تمنّائی ہے

دیکھ لیتا ہے  جو تجھ کو وہ سنبھلتا ہی نہیں

اک قیامت، ارے  ظالم تیری انگڑائی ہے

کل جو کرتے  تھے  بہت مجھ سے  وفا کی باتیں

آج غیروں سے  بہت ان کی شناسائی ہے

عزم سچّا ہے  تو گر جائے  گی کٹ کر اک دن

وقت نے  پاؤں میں زنجیر جو پہنائی ہے

آج کے  دور میں بے  مول ہے  انساں کا لہو

ہر طرف ظلم کا بازار ہے  رسوائی ہے

مجھ کو ہوتا ہے  گماں کالی گھٹا کا اصغرؔ

اس نے  جب زلف کبھی چہرے  پہ بکھرائی ہے

***

وہاں نہ پہنچے  تخیّل جہاں سے  گزری ہے

حقیقتِ غمِ ہستی وہاں سے  گزری ہے

فضائیں آج معطّر ہیں رہگزاروں کی

مہک کسی کے  وفا کی یہاں سے  گزری ہے

شکستہ حال ہے، کیا ان سے  پوچھئے  صاحب

بلائے  مفلسی جن کے  مکاں سے  گزری ہے

جلا نہ دے  وہ مرے  صبر و ضبط کا دامن

جو برقِ عشق مرے  درمیاں سے  گزری ہے

شعورِ بندگی حاصل ہے  جن کو قسمت سے

حیات ان کی ہی امن و اماں سے  گزری ہے

الہٰی اب تو کرم اپنا مجھ پہ فرما دے

جبینِ شوق ترے  آستاں سے  گزری ہے

زمانے  والے  میرا امتحاں نہ لیں اصغرؔ

یہ چشمِ شوق کئی امتحاں سے  گزری ہے

 

                حاجی خلیل احمد حیرتؔ

آج کے  دور میں چپ رہنا بھی رسوائی ہے

ہم زباں کھولیں تو کہتے  ہیں کے  بلوائی ہے

جب کبھی گردشِ دوراں نے  چلایا جادو

کام اس وقت مرے  ماں کی دعا آئی

آپ کے  تلخ ارادوں سے  یہ ہوتا ہے  گماں

آپ نے  مجھکو مٹانے  کی قسم کھائی ہے

کیوں نکل سکتے  نہیں دورِ خرافات سے  ہم

رسمِ بیہودہ نے  کیا بیڑیاں پہنائی ہے

رب کے  ہوتے  ہوئے  کیوں غیر کے  در پر جاؤں

جبکہ وہ بھی تو مرے  رب کا ہی شیدائی ہے

چھوڑ کر چل دیئے  سب راہِ سفر میں افسوس

کل بھی تنہائی تھی اور آج بھی تنہائی ہے

لوگ اچھوں کو بھی کہتے  نہیں اچھا حیرتؔ

اس لئے  آج برے  لوگوں کی بن آئی ہے

***

اﷲ کی رحمت سے  وہ سرشار ہوا ہے

سن کر جو اذاں صبح کی بستر سے  اٹھا ہے

میں کیسے  یہ کہہ دوں کے  وہ انسان برا ہے

وہ جب بھی ملا مجھ کو محبت سے  ملا ہے

آئے  جو پریشانی تو حالات پہ کر غور

بے  وجہ نہیں تجھ پہ مسلط یہ بلا ہے

آوارہ ہواؤں کی طرح اڑتا رہا جو

کاسہ لئے  ہاتھوں میں سر راہ کھڑا ہے

قاتل کو قتل کرتے  ہوئے  جس نے  تھا دیکھا

پوچھے  ہے  تعجب سے  وہی ماجرا کیا ہے

مت بیچ ضمیر اپنا تو دولت کی ہوس میں

ہر خاک کے  پتلے  کو خدا دیکھ رہا ہے

انصاف بھی خیرات میں منصف نہیں دیتا

قانون بھی دولت کا پرستار رہا ہے

کرتے  سلام لوگ ہیں چہروں کو دیکھ کر

اب شہر میں اپنے  یہ چلی کیسی ہوا ہے

جس راستے  پہ میں تھا چلا اتفاق سے

 وہ راستہ جا کر ترے  کوچے  سے  ملا ہے

حسرت بھری نظروں سے  مجھے  دیکھ نہ حیرتؔ

جو بھی ہے  ملا مجھ کو مقدر سے  ملا ہے

***

میرا کوئی دشمن ہی جب نہیں زمانے  میں

آگ لگ گئی کیسے  میرے  آشیانے  میں

انگلیاں اٹھاتے  ہیں لوگ کس لئے  مجھ پر

ذکر جب نہیں میرا آپ کے  فسانے  میں

یہ اگر حقیقت ہے  میں تمھارا مجرم تھا

قید کر لیا ہوتا دل کے  قید خانے  میں

تجھ کو ناز ہے  عابد اپنے  چند سجدوں پر

عمر بیت جاتی ہے  عاقبت بنانے  میں

مجھ سے  روٹھنے  والے  کچھ خبر بھی ہے  تجھ کو

کتنے  رنج جھیلے  ہیں تجھ کو بھول جانے  میں

ایسی پھر کوئی عاشق کھائے  نہ کبھی دل پر

ہم نے  جیسی کھائی ہے  چوٹ دل لگانے  میں

بات وہ گئی باہر کل جو گھر میں تھی حیرتؔ

کیا ملا تمھیں آخر مجھ کو آزمانے  میں

***

جس نے  بھی ترے  آگے  دامن کو پسارا ہے

قدرت نے  تری اس کی سیرت کو نکھارا ہے

اڑتی ہے  پتنگ اس کی بے  ڈور فضاؤں میں

 جو رب کی اطاعت میں ہر لمحہ گزارا ہے

جاتے  ہوئے  میکش نے  واعظ سے  کہا ہنس کر

 نیت کی خرابی میں پوشیدہ خسارا ہے

فرقت میں تڑپتا ہے  بسمل کی طرح ہر دم

ہونٹوں پہ فقط اس کے  بس نام تمھارا ہے

بتلائیں تمھیں کیسے  دل چیر کے  ہم اپنا

جو حال تمہارا ہے  وہ حال ہمارا ہے

ماں باپ سے  جب اپنے  اولاد کرے  نفرت

آثارِ قیامت کا سمجھو یہ اشارا ہے

کانٹوں سے  گھرے  گل کو ہنستے  ہوئے  دیکھا تو

یہ اہلِ چمن بولے  کیا خوب نظارا ہے

ناسور نہ بن جائے  باتیں تری بے  پر کی

تو دے  جو محبت سے  ہر زخم گوارا ہے

تعریف کروں اس کی جتنی بھی ہے  کم حیرتؔ

گیسو کو ترے  جس نے  فرصت سے  سنوارا ہے


               عکسؔ لکھنوی

گرداب میں کشتی ہے  اور دور کنارا ہے

اب ڈوبنے  والے  کو تنکے  کا سہارا ہے

ہم نے  بھی ہرے  نازک پودوں کی طرح اکثر

ہر دور مصیبت کا ہنس ہنس کے  گزارا ہے

دل چونک سا جاتا ہے  اپنی بھی صدا سنکر

یادوں کے  جھروکوں سے  تو نے  بھی پکارا ہے

کچھ اور سمجھتے  ہو تم جس کو دلِ مضطر

نظروں سے  مری دیکھو وہ بھور کا تارا ہے

پھولوں کی طرح کانٹے  مرجھایا نہیں کرتے

یہ سوچ کے  گھر ہم نے  کا نٹوں سے  سنوارا ہے

بربادی کو کافی ہے  اک وقت کی ٹھوکر ہی

سامانِ بقاء کیا ہے  سب جھوٹا پسارا ہے

افسانۂ دل اپنا اوروں کو سنائیں کیا

جب تو ہی نہیں واقف، کیا حال ہمارا ہے

کم ظرف بشر دریا قطرے  کو بنائے گا؟

احسان رذیلوں کا ہر گز نہ گوارا ہے

 

جو آج ہواؤں کے  ہونٹوں پہ ہے  نام اپنا

’’کچھ اپنوں کی سازش ہے  کچھ ان کا اشارا ہے ‘‘

جینے  کی تمنّا میں ہر بار مرے  ہیں عکسؔ

ائے  زیست ترا ہم نے  ہر قرض اتارا ہے

***

غیر کے  در پہ تری آج پذیرائی ہے

’’اب ترا دور سے  دیدار بھی رسوائی ہے ‘‘

آج بھی تیرے  خیالوں سے  بہل جاؤں گا

دل کو بہلانے  تری یاد چلی آئی ہے

رات کی رانی بھلا کیوں نہ ہو پانی پانی

ساتھ میرے  جو مہکتی ہوئی تنہائی ہے

عشق ہر حال میں رکھتا ہے  برابر آباد

اگر اس اور کنواں ہے  تو ادھر کھائی ہے

بال کی کھال اتارا نہ کریں ائے  صاحب!

ورنہ دریاؤں میں گہرائی ہی گہرائی ہے

میں شرافت کا چلن چھوڑ دوں منظور نہیں

تیری مانند ہی میں نے  بھی قسم کھائی ہے

ایک ہی جھٹکے  میں سب ٹوٹ گئے  بندِ قباء

سر پھری تیز ہوا سی تیری انگڑائی ہے

دلِ حسّاس کبھی مر نہیں سکتا ائے  عکسؔ !

میرا دل آج بھی دیوانہ ہے  سودائی ہے

 

               سراج الحسنؔ

ساقی ہے  گلہ تجھ سے  تو اتنا ہی گلہ ہے

مئے  خانے  سے  تیرے  کوئی تشنہ ہی چلا ہے

یہ بات حقیقت ہے  بزرگوں نے  کہا ہے

کر سب سے  بھلائی کہ بھلائی میں بھلا ہے

شاید یہ میری ماں کی دعاؤں کا صلہ ہے

لوگوں کو بھرم ہے  مرا بھنڈار بھرا ہے

ظاہر نہ سہی نہ سہی درپردہ ہی لیکن

ہر شخص ترے  نقشِ قدم چوم رہا ہے

انسان کے  اعمال سے  شرمائیں درندے

جس سمت نظر ڈالئے  دہشت کی فضا ہے

پابندیِ اظہار حسنؔ ہے  تو ہمیں پر

اغیار کو ہر ظلم و تشدّد بھی روا ہے

***

دردو غم خود سہہ کے  لوگوں کو ہنسایا کیجئے

زندگی جیتے  ہیں کیسے  یہ بتایا کیجئے

اک سے  بڑھ کر ایک قابل آج بھی اپنوں میں ہیں

ایسے  ہی لوگوں کو بس آگے  بڑھایا کیجئے

جام سے  مجھ کو پلانے  کی ضرورت ہی نہیں

آپ اپنی مست آنکھوں سے  پلایا کیجئے

دیکھ کر زخموں کو میرے  آپ کیوں رونے  لگے

یوں نہ میرے  واسطے  آنسو بہایا کیجئے

عاشقی میں آہ بھی کرنا یہاں جائز نہیں

آنسوؤں سے  آگ نہ دل کی بجھایا کیجئے

آپ کی گلیوں میں پھرتا ہے  گریباں چاک حسنؔ

اپنے  عاشق کو کبھی گھر پر بلایا کیجئے

 

               محمد سعید حضرتؔ ناگپوری

مذہب کے  اور دھرم کے  دھندے  میں ففٹی ففٹی

ہر اک کما رہا ہے  چندے  میں ففٹی ففٹی

صدقہ ہو یا ہو عطیہ سب کچھ ہمیں چلے  گا

مرغا ہو یا کہ مرغی انڈے  میں ففٹی ففٹی

وہ بھیک دے  رہے  ہیں سب کو دکھا دکھا کر

ظاہر میں پوری پوری پردے  میں ففٹی ففٹی

بس گر گئی ندی میں الٹی بہاؤ گنگا

زندے  کو لاکھ روپئے  مردے  میں ففٹی ففٹی

حضرتؔ بتا دو نمبر کیا ہے  کہ میں لگاؤں

دے  دونگا آئے  گا تو سٹّے  میں ففٹی ففٹی

یہ غزل صدر مسلم لائبریری کے  جشن طلائی سال ۱۹۷۵ء کے  موقع پر شائع کیے  گئے  مجلہ ’’زرنگار‘‘ میں شائع ہوئی تھی، جو قارئین کے  لیے  ایک بار پھر پیش ہے۔

 

               کیفِ تغزّل   طرفہ قریشیؔ

مذاقِ عشق کو ہم نے  وسیع المدّعا پایا

تقدّس کی نظر پائی، دلِ عرش آشنا پایا

تمہارے  ناوکِ غم نے  بدل دی دل کی فطرت ہی

محبت نے  دکھائی ہیں یہی دو صورتیں ہم کو

ہُوا تھا روشنی میں جس کی رسوا قیس بیچارہ

لُٹی دُنیا، گئی عقبٰی، خوشی آئی، نہ غم ٹھہرا

ہمیں دونوں ہی سے  بیگانہ رکھا وحشتِ دل نے

کیا خلوت نشیں مجھکو مرے  عجز محّبت نے

نیازِ عشق میں ہے  آج نازِ بندگی کیسا

جلا دے  کر مرے  دل کو ازل کی روشنی بخشی

بُتوں کی دوستی نے  ہم کو عرفانِ خودی بخشا

ترے  جلوے  کی حیرت زائیوں نے  کھول دی آنکھیں

نہ دی غم نے  کبھی طرفہؔ کو مہلت مسکرانے  کی

***

بہ فیضانِ محبّت درد کو پہلو کشا پایا

تمہاری دین کے  صدقے  طلب سے  بھی سوا پایا

خلش میں بھی ملی لذّت، تڑپ میں بھی مزا پایا

کسی کو مدّعی دیکھا کسی کو مدّعا پایا

وہی اک داغِ دل ہم نے  بعنوانِ وفا پایا

بتا تو اے  دلِ برباد سب کھو کر بھی کیا پایا

نہ مسند ہو سکی حاصل، نہ ہم نے  بوریا پایا

زمانے  بھر کو جب اپنا حریف مدّعا پایا

بتا تو اے  جبینِ شوق کس کا نقشِ پا پایا

ترے  غم کو خدا رکھّے  بڑے  ہی کام کا پایا

خودی نے  انتہا پر جب نظر ڈالی خدا پایا

مجھے  جس وقت آیا ہوش خود کو آئینا پایا

ہمیشہ ہم نے  اس کو آنسوؤں سے  کھیلتا پایا

***

تشکر: مشتاق احسنؔ جنہوں نے فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید