FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

رنگوں کے چراغ

 

 

پروین فنا سید

جمع و ترتیب: اعجاز عبید، محمد عظیم الدین

ماخذ: ریختہ ڈاٹ آرگ

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

وقت

 

اندھے وقت کے

گہرے کنویں میں

ماضی کی ہر یاد چھپی ہے

کچھ لمحوں کی کرنیں

زرد سنہری آنچل میں لپٹی ہیں

کچھ پل ایسے بھی ہیں

جن کے آئینے میں

دکھ کے انمٹ عکس

ابھر کر

آنکھوں کے گرداب میں رقصاں

لوح دل پر

نقش ہوئے ہیں

دھوپ اور چھاؤں کے اس کھیل کو

حال کا ہر پل دیکھ رہا ہے

دکھ کے بھاری بوجھل پتھر

سکھ کی نرم سنہری کرنوں کو

میزان میں رکھ کر

تول رہا ہے

مستقبل

اک دھند کی چادر میں لپٹے

درویش کی صورت

وقت کے اس تاریک کنویں سے

جھانکتے ماضی

حال کے اک اک نقش کا پرتو

دیکھ رہا ہے

سوچ رہا ہے

٭٭٭

 

دشت میری ہی دہائی دے گا

پھر مجھے آبلہ پائی دے گا

 

روشنی روح تلک آ پہنچی

اب اندھیرے میں دکھائی دے گا

 

زرد پتوں کا دھڑکتا ہوا دل

خامشی میں بھی سنائی دے گا

 

توڑ کر دیکھ تو آئینۂ دل

شہر کا شہر دکھائی دے گا

 

کشف و آگاہی کے آئینے میں

اپنا بہروپ دکھائی دے گا

٭٭٭

 

 

 

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا

 

ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے

لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا

 

تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ

ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا

 

غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا غم

زہر بھی ہم کو بصد شوق گوارا ہوتا

 

باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کھلتا

ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا

 

تم پہ اسرار فنا راز بقا کھل جاتے

تم نے اک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا

٭٭٭

 

 

 

 

پل صراط

 

تمہارا دل

تجلیوں کے طور کی ضیا سے

آگہی تلک

ریاضتوں کے نور میں گندھا ہوا

امانتوں کے بار سے دبا ہوا

تمہاری روح کے لطیف آئینے میں

اپنا عکس ڈھونڈنے

عقیدتوں کی گرد سے اٹی ہوئی

انا کے پل صراط سے گزر کے آ رہی ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں

یہ مگر ترک محبت تو نہیں

 

میری آنکھوں میں اترنے والے

ڈوب جانا تری عادت تو نہیں

 

تجھ سے بیگانے کا غم ہے ورنہ

مجھ کو خود اپنی ضرورت تو نہیں

 

کھل کے رو لوں تو ذرا جی سنبھلے

مسکرانا ہی مسرت تو نہیں

 

تجھ سے فرہاد کا تیشہ نہ اٹھا

اس جنوں پر مجھے حیرت تو نہیں

 

پھر سے کہہ دے کہ تری منزل شوق

میرا دل ہے مری صورت تو نہیں

 

تیری پہچان کے لاکھوں انداز

سر جھکانا ہی عبادت تو نہیں

٭٭٭

 

 

 

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ

ہمدمو مر کے بھی جیے جاؤ

 

امتحان وفا ہمیں منظور

انتہائے ستم کیے جاؤ

 

کھل نہ جائے فریب چارہ گری

زخم ہر حال میں سیے جاؤ

 

راکھ کا ڈھیر ہیں مہ و انجم

راکھ میں جستجو کیے جاؤ

 

رہروی کا یہی تقاضا ہے

راہزن کو دعا دیے جاؤ

٭٭٭

 

 

 

 

درد کی رات نے یہ رنگ بھی دکھلائے ہیں

میری پلکوں پہ ستارے سے اتر آئے ہیں

 

دل کے ویرانے میں کس یاد کا جھونکا گزرا

کس نے اس ریت میں یہ پھول سے مہکائے ہیں

 

ہم نے سوچا تری آنکھیں تو اٹھیں لب تو ہلیں

اس لیے ہم تری محفل سے چلے آئے ہیں

 

جن سے انسان کے زخموں کا مداوا نہ ہوا

آج وہ چاند ستاروں کی خبر لائے ہیں

 

چند سکوں کی طلب حسرت بے جا تو نہ تھی

پھر بھی ہم پھیلے ہوئے ہاتھ سے گھبرائے ہیں

٭٭٭

 

 

 

اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیں

گر خزاں ہے تو چلو شغل بہاراں کر لیں

 

پھر تو ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا

پو پھٹی ہے تو لٹی بزم چراغاں کر لیں

 

دل کی ویرانیاں آنکھوں میں اڑاتی ہیں غبار

مل کے رو لیں تو کچھ ان کو بھی فروزاں کر لیں

 

قہقہوں سے تو گھٹن اور بھی بڑھ جائے گی

آؤ چپ رہ کے ہی اس درد کا درماں کر لیں

 

شاید اس طرح بگولوں کا گزر ممکن ہو

اپنے ویرانے کو کچھ اور بھی ویراں کر لیں

 

ہم جو زندہ ہیں تو سب کہتے ہیں کیوں زندہ ہیں

آؤ مر کر بھی مسیحاؤں کو حیراں کر لیں

٭٭٭

 

 

 

اک اک کو عتاب بانٹتے ہو

کس طرح کے خواب بانٹتے ہو

 

ہر چہرے پہ جھریاں لکھی ہیں

تم کیسا شباب بانٹتے ہو

 

فردوس تمہارے ہاتھ میں ہے

بندوں کو عذاب بانٹتے ہو

 

اک ایک کلی کا رنگ فق ہے

یہ کیسے گلاب بانٹتے ہو

٭٭٭

 

 

 

 

آنکھوں میں تو رت جگے لکھے ہیں

تم سمجھے کہ خواب بانٹتے ہو

 

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا

پھر کیسا حساب مانگتے ہو

 

سب ہونٹوں پہ مہر لگ چکی ہے

اب کس سے جواب مانگتے ہو

 

کلیوں کو مسل کے اپنے ہاتھوں

پھولوں سے شباب مانگتے ہو

 

ہر لفظ صلیب پر چڑھا کر

تم کیسی کتاب مانگتے ہو

 

سب روشنیوں کو چھین کر بھی

دیوانوں سے خواب مانگتے ہو

 

فردوس بریں میں مل سکے گی

اس یگ میں شراب مانگتے ہو

٭٭٭

 

 

 

سنوارے آخرت یا زندگی کو

کہاں اتنی بھی مہلت آدمی کو

 

بجھائی آنسوؤں نے آتش غم

مگر بھڑکا دیا ہے بے کلی کو

 

بھرم کھل جائے گا دانائیوں کا

پکارو تو ذرا دیوانگی کو

 

جو سر جھکتا نہیں ہے دل تو جھک جائے

فقط اتنی طلب ہے بندگی کو

 

جو دل سے پھوٹ کر آنکھوں میں چمکے

ترستے رہ گئے ہم اس ہنسی کو

٭٭٭

 

 

 

کیا غضب تو نے اے بہار کیا

پتی پتی کو بے قرار کیا

 

اب تو سچ بولنے کی رسم نہیں

کس نے پھر اہتمام دار کیا

 

آتش درد میں کمی نہ ہوئی

لاکھ آنکھوں کو اشک بار کیا

 

روشنی کی تلاش میں ہم نے

بارہا ظلمتوں سے پیار کیا

 

موج در موج تھے دکھوں کے بھنور

ہم نے تنہا سبھی کو پار کیا

 

جب بنایا تھا چاند اتنا حسیں

اس کا انجام کیوں غبار کیا

٭٭٭

 

 

 

بظاہر یہ جو بیگانے بہت ہیں

ہمارے جانے پہچانے بہت ہیں

 

خرد مندو مبارک عزم افلاک

زمیں پر چند دیوانے بہت ہیں

 

شبستانوں سے تم نکلو تو دیکھو

بھرے شہروں میں ویرانے بہت ہیں

 

تمہارا مے کدہ تم کو مبارک

ہمیں یادوں کے پیمانے بہت ہیں

 

گلا کیا غیر کی بیگانگی کا

کہ جو اپنے ہیں بیگانے بہت ہیں

 

نظام زیست کا محور محبت

حقیقت ایک افسانے بہت ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے

وہ شمعیں اور بھڑکیں اس بہانے

 

نقابیں بجلیوں کی رخ پہ ڈالے

چمن والوں نے لوٹے آشیانے

 

یہ کیوں وحشت سے لپکا دست گلچیں

کلی شاید لگی تھی کچھ بتانے

 

ابھی موہوم ہے سجدے کا مفہوم

جھکا پھر کس لیے سر کون جانے

 

شعور زندگی کی ڈھال لے کر

چلے ہم موت سے آنکھیں ملانے

٭٭٭

 

 

 

دل جلایا تری خوشی کے لیے

یا خود اپنی ہی آگہی کے لیے

 

ہاتھ پر رکھ کے اپنی روح تپاں

ہم چلے اپنی رہبری کے لیے

 

نور کی محفلوں میں رہتے ہیں

جو ترستے ہیں روشنی کے لیے

 

کتنے آلام سہہ گئے ہم لوگ

ایک بے نام سی ہنسی کے لیے

 

آب حیواں بھی گر ملے تو نہ لیں

اپنے معیار تشنگی کے لیے

 

پھر کوئی قہر حضرت یزداں

کوئی تحریک بندگی کے لیے

٭٭٭

 

 

 

 

دم بخود گلشنوں کی رعنائی

کیسی کھوئی ہوئی بہار آئی

 

تم کو سودائے محفل آرائی

اور ہمیں جستجوئے تنہائی

 

راحتیں تم کو رنج ہم کو عزیز

اپنی اپنی نظر کی گہرائی

 

کتنی بے گانگی سے دیکھتے ہو

جب غم زندگی کی بات آئی

 

زخم در زخم ہے حیات فناؔ

کیسے کر پاؤ گے مسیحائی

٭٭٭

 

 

 

 

ہر سمت سکوت بولتا ہے

یہ کون سے جرم کی سزا ہے

 

ہیں پاؤں لہولہان لیکن

منزل کا پتہ تو مل گیا ہے

 

اب لائے ہو مژدۂ بہاراں

جب پھول کا رنگ اڑ چکا ہے

 

زخموں کے دیے کی لو میں رقصاں

ارباب جنوں کا رت جگا ہے

 

اب تیرے سوا کسے پکاروں

تو میرے وجود کی صدا ہے

٭٭٭

 

 

 

بصارت

 

تیرے ہاتھوں میں پیوست

میخوں سے بہتا لہو

کور آنکھوں پہ چھڑکا

تو پلکوں کی چلمن سے

تا حد امکاں

بصارت کے ہر زاویے پر

عجب نور کی دھاریاں

تہہ بہ تہہ تیرگی کی روا چیرتی

ان گنت مشعلیں

آگہی کے دریچوں میں

عرفان کے آئینوں میں

دمکنے لگیں

٭٭٭

 

 

 

جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے

ہماری زندگی کیا زندگی ہے

 

یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل

یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے

 

یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی

نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے

 

یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد

یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے

 

خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو

جب اس کی ابتدا دیوانگی ہے

 

اسے خطرہ ہے صرف اک فصل گل کا

خزاں کو کس قدر آسودگی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

کہاں ہے شوریدہ سر مسافر

 

 

وہ جس کی آنکھوں میں رت جگوں کی بصیرتیں ہیں

وہ مشعل جاں سے دشت کی ظلمتوں میں

رستے بنا رہا ہے

وہ جس کے تن میں ہزاروں میخیں گڑی ہوئی ہیں

کہاں ہے شوریدہ سر مسافر

کہ آج خلق اس کو ڈھونڈتی ہے

٭٭٭

 

 

 

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

یہ چہرہ کتنا جانا پہچانا ہے

 

ساری بستی چپ کی دھند میں ڈوبی ہے

جس نے لب کھولے ہیں وہ دیوانا ہے

 

آؤ اس سقراط کا استقبال کریں

جس نے زہر کے گھونٹ کو امرت جانا ہے

 

اک اک کر کے سب پنچھی دم توڑ گئے

بھری بہار میں بھی گلشن ویرانہ ہے

 

اپنا پڑاؤ دشت وفا بے آب و گیاہ

تم کو تو دو چار قدم ہی جانا ہے

 

کل تک چاہت کے آنچل میں لپٹا تھا

آج وہ لمحہ خواب ہے یا افسانا ہے

٭٭٭

 

 

 

کہاں جا رہی ہو؟

 

ہوا کس قدر تیز ہے

اجنبی شام سنولا گئی

وقت دونوں گلے مل چکے

سر پہ رکھو ردا

سن رہی ہو

مساجد سے اٹھتی ہوئی

روح پرور صدا

اٹھ کے دیکھو تو

آنگن کا در بند ہے

یا کھلا

لیکن اس وقت تنہا

کھلے سر

کہاں جا رہی ہو

٭٭٭

 

 

 

 

سفرِ آگہی

 

عجیب ہے

دشت آگہی کا سفر

وفا کی ردا میں لپٹی

برہنہ قدموں سے چل رہی ہوں

تپے ہوئے ریگزار میں بھی

مگر چبھن ہے نہ پاؤں میں کوئی آبلہ ہے

تھکن کا نام و نشاں نہیں ہے

٭٭٭

 

 

 

کہاں جا رہی ہو

ہوا کس قدر تیز ہے

اجنبی شام سنولا گئی

وقت دونوں گلے مل چکے

سر پہ رکھو ردا

سن رہی ہو

مساجد سے اٹھتی ہوئی

روح پرور صدا

اٹھ کے دیکھو تو

آنگن کا در بند ہے

یا کھلا

لیکن اس وقت تنہا

کھلے سر

کہاں جا رہی ہو

٭٭٭

 

 

 

سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں

ہم تو منجدھار میں اترتے ہیں

 

موت سے کھیلتے ہیں ہم لیکن

غیر کی بندگی سے ڈرتے ہیں

 

جان اپنی تو ہے ہمیں بھی عزیز

پھر بھی شعلوں پہ رقص کرتے ہیں

 

دل فگاروں سے پوچھ کر دیکھو

کتنی صدیوں میں گھاؤ بھرتے ہیں

 

جن کو ہے اندمال زخم عزیز

آمد فصل گل سے ڈرتے ہیں

 

چھپ کے روتے ہیں سب کی نظروں سے

جو گلہ ہے وہ خود سے کرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

خود کو جب تیرے مقابل پایا

اپنی پہچان کا لمحہ آیا

 

عکس در عکس تھے رنگوں کے چراغ

میں نے مٹی کا دیا اپنایا

 

ایک پل ایک صدی پر بھاری

سوچ پر ایسا بھی لمحہ آیا

 

پاؤں چھلنی تو وفا گھائل تھی

جانے اس موڑ پہ کیا یاد آیا

 

ایک لمحے کے تبسم کا فسوں

جاں سے گزرے تو سمجھ میں آیا

٭٭٭

ماخذ: ریختہ ڈاٹ آرگ

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل