ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا اقتباس پڑھیں…..
رسول اکرمﷺ کی سیاسی زندگی
ڈاکٹر محمد حمید اللہ
پیشکش: وصی اللہ کھوکھر، اعجاز عبید
رسولِ اکرمؐ کی سیرت کا مطالعہ کس لیے کیا جائے؟
اَللّٰہمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاء وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِیدِكَ الْخَیرِ اِنَّكَ عَلىٰ كُلَّ شَى قَدِیرٌ تُوْلِجُ اللیلَ فِی النَّہارِ وَتُوْلِجُ النَّہارَ فِی اللَّیلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیتِ وَتُخْرِجُ المَیتَ مِنَ الْحَی وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَیرِ حِسَابٍ۔
اِن اللہ وَمَلٰكتہ یصَلُّون عَلَى النَّبی یا ایہا الَّذِینَ اَمَنُو اصَلُّو اعَلیہ و سلموا تَسِلِیمًا۔
نبی اور رسول کا تصور مختلف قوموں، زبانوں میں مختلف ہو گا۔ بہرحال اشرف المخلوقات میں سے بھی اس اشرف ترین مخلوق کا تصور مسلمانوں میں یہ رہا ہے کہ وہ انسان کامل ہے۔ یہ کاملیت ظاہر ہے کہ صرف اچھے انسانی پہلوؤں کے متعلق ہے۔ انسانی زندگی کے دو ہی بڑے شعبے ہیں۔ ایک معاش اور دوسرے معاد۔ دوسرے الفاظ میں ایک تو انسان کے تعلقات انسان اور دیگر مخلوقات کے ساتھ اور دوسرے انسان کے تعلقات اپنے خالق و مالک جلّ شانہٗ کے ساتھ۔ پہلی قسم میں اعلیٰ ترین مرتبہ حکمرانی ہے تو آخر الذکر میں عقائد و عبادات کے متعلق رہنمائی یعنی پیغمبری۔
رسول عربی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو بیک وقت یہ دونوں کمالات حاصل تھے۔ آپؐ کی زندگی کے ان دونوں پہلوؤں کا استقصاء طویل عمل ہے۔ اس جلد میں آپؐ کی صرف اوّل الذکر یعنی سیاسی زندگی کا مطالعہ پیش نظر ہے۔
لیکن ہر سنجیدہ طالبِ علم اور ذاتی غور و فکر کر کے ذمہ دارانہ اور مستقل رائے قائم کرنے کے خواہش مند کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسولِ اسلامﷺ کی سیرت یعنی سوانح حیات و تعلیمات کا مطالعہ بھی کیوں کیا جائے جب کہ آپؐ کی وفات پر ساڑھے تیرہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ علوم و فنون میں بے اِنتہا ترقی ہو چکی ہے۔ متمدن قوموں کے ماحول اور تصور حیات میں زمین و آسمان کا فرق ہو چکا ہے۔ اور آپؐ بھی ہمارے جیسے ہی ایک انسان تھے؟
اُصولی حد تک تو اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ انسانی تمدن و ثقافت کی ترقی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ "ہر کہ آمد عمارت نو ساخت” لیکن اس طرح نہیں کہ اُدھیڑ بُن کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ (كاتتی نقضت غزلہا من بعد قوۃ انکاثا) جاری رکھا جائے، بلکہ اس طرح کہ تعمیر سابق پر جدید کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ قدیم و جدید دونوں عمارتوں کا مالک متمول تر ہو گا بہ نسبت اس شخص کے جس کے قبضے میں صرف کوئی ایک قدیم یا جدید عمارت ہو۔ البتہ یہ سوال ایک تفصیلی جواب چاہتا ہے کہ خاص محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (روحنا فداہ) کی سیرت کا کیوں مطالعہ کیا جائے اور اس غرض کے لیے کسی اور کا کیوں نہیں؟
مسلمانوں کا دعویٰ اپنے رسول و ہادی کے متعلق تو یہ ہو گا ہی کہ آپؐ ہی کی ذاتِ والا صفات ہے جس نے ایسے زمانے میں مبعوث ہو کر جب کہ دُنیا جہالت و گمراہی کے اِنتہائی حدود پر پہنچ چکی تھی۔ اس کو ایک مرتبہ انسانیت صحیحہ کے سیدھے راستے پر کھڑا کر دیا۔ آج بھی جب کہ ہم مختلف وجوہ کی بنا پر اُن ایام جاہلیت سے قریب تر ہو رہے ہیں تو صرف اس شمعِ ہدایت سے اکتساب بھی ہماری نجات کا حقیقی باعث ہو سکتا ہے۔
لیکن ذاتی عقیدے سے قطع نظر، ایک جویائے حق طالبِ علم اور ایک ناطر ف دار لیکن با مقصد مؤرخ کو اس سوال کے جواب میں جو کہنا ہے اس میں سے بعض باتیں صرف مسلمانوں سے متعلق ہیں، بعض باتیں دوسروں سے متعلق ہیں اور بعض باتیں دونوں سے مشترکہ طور پر متعلق ہیں۔
مسلمانوں کے لیے
آپؐ کی سیرت جو اہمیت رکھتی ہے وہ کسی تفصیل کی محتاج نہیں اُصول فقہ کی کتابوں میں یہ امر مسلمہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے ہر قول کی طرح آپؐ کا ہر فعل بھی قانونی حیثیت رکھتا ہے اور سنتِ نبویؐ سے بھی واجبات، مستحبات، مباحات، مکروہات وغیرہ قائم ہوتے ہیں۔ یوں تو کسی مسلمان کی زندگی اسی وقت اسلامی کہلاتی ہے جب وہ قرآنِ مجید کے احکام کے مطابق ہو۔ لیکن خود قرانِ کریم نے متعدد موقعوں پر سنتِ نبویؐ کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ اور اُسے واجب التعمیل قرار دیا ہے۔ اس سے سنتِ نبویؐ یا صحیح و مسلمہ سیرت کی حیثیت بھی جُزء قرآن نہیں تو کم از کم ضمیمۂ قرآن اور تتمۂ قرآن کی سی ہو جاتی ہے۔ ایسی چند آیتوں کی طرف یہاں توجہ منعطف کرائی جاتی ہے۔
"جو آنحضرتﷺ تم کو جو دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اُس سے رُک جاؤ۔”
"آنحضرتﷺ تمھارے لیے بہترین نمونہ عمل ہیں۔”
"آنحضرت اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ خدا ہی کے ارشاد پر مبنی ہوتا ہے۔”
ان اور دیگر آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ پیشوائے اعظم سردارِ دو عالم کا قول، آپؐ کا فعل اور جن چیزوں کو آپؐ نے اپنے صحابہ میں روا و برقرار رکھا اُن سب پر عمل کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا خود احکام قرآنی۔
غیر مسلموں کے لیے
رسول عربیؐ کی سیرت کا مطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ جب ایک شخص ہم سے یہ بیان کرے کہ میں تمھارے فائدے کی کچھ بات کہنا چاہتا ہوں، تو کون عقل سلیم رکھنے والا ایسا ہے جو اس بات کو سننے سے اِنکار کر دے۔ آنحضرتﷺ نے اپنی زندگی میں جب پہلی مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ میں تمام عالموں کے لیے رحمت بن کر آیا ہوں، اور میرے لائے ہوئے دین اسلام کے بغیر دُنیا اور آخرت کی بھلائی حقیقت میں حاصل نہیں ہو سکتی تو اس پر اوچھی طبیعت رکھنے والوں نے تو ٹھٹھول شروع کیا اور مخالفت پر اُتر آئے۔ سنجیدہ لوگوں نے اس کے برخلاف یہ پوچھا کہ دینِ اسلام کس کو کہتے ہیں، اور آپؐ کی رائے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے پھر جواب اور توضیح پر ٹھنڈے دل سے غور کیا۔ اور جس کی رائے میں بات معقول تھی اُس نے اس دین کو قبول کر لیا۔ ہادیِ عالم کے اقوال و افعال اور آپؐ کا پیش کیا ہوا دین اب تک محفوظ و موجود ہیں اور محض آثار قدیمہ کی رتّی سے ہاتھی بنانے اور قیاس آرائی و خوش عقیدگی کی ضرورت نہیں۔
اس کی کچھ تشریح بے محل نہ ہو گی۔ اور دیگر ادیان و مذاہب کی مقدس و اِلہامی کتابوں میں سے گوتم بدھ کے صرف اقوال ملتے ہیں کوئی کتاب نہیں اور یہ اقوال بھی بروقت قلم بند نہیں ہوئے تھے۔ ہندو مذہب میں پُران، مسرتی، وید کئی چیزیں ہیں۔ لیکن یہ سب ہزاروں برس صرف سینہ بہ سینہ چلتی رہیں۔ آخر تدوین ہوئی بھی تو ایک ہی شخص کے حافظہ کی بنا پر۔ توریت کی اصل بھی ناپید ہے۔ اس سے زیادہ مرتبہ وہ دنیا سے ناپید ہو گئی۔ اور محض حافظوں سے اس کو دوبارہ لکھا گیا ہے۔ اور اب جو نسخے ملتے ہیں ان میں باہم ہزاروں الفاظ و آیات کے متعلق اختلافِ روایات پایا جاتا ہے۔ اس میں کی بہت سی چیزیں لاپتہ ہیں۔ بہت سے اجزاء کے متعلق صاف نظر آتا ہے کہ وہ بعد کے اضافے ہیں (مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کتاب میں خود ان کے وفات پانے کا ذکر وغیرہ) ۔ انجیل کا حال یہ ہے کہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی نہیں لکھوایا (اگر لکھوایا ہے تو وہ اصل انجیل اب لاپتہ ہے) ۔ جو چیز اب ملتی ہے وہ ان کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں کا چشم دید و گوش شنید بیان ہے کہ اُن کے پیغمبر اس طرح پیدا ہوئے، زندگی بھر فلاں طرح رہے، فلاں وقت فلاں بات کی وغیرہ۔ گویا یہ سوانح عمری ہے کہ کوئی اِلہامی کتاب اور ربانی ہدایت نامہ نہیں۔ ایک مزید بات یہ قابلِ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی سوانح عمریاں انجیلیں بھی بکثرت تھیں۔ اور لازماً ان میں بڑا اِختلاف بھی تھا۔ ایک مرتبہ ان سب کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر ہلایا گیا اور جو گر پڑیں وہ الگ اور جو نہ گریں وہ الگ کر لی گئیں، اور اس طرح آج کل کی مروّجہ چاروں انجیلیں صحیح قرار پا کر اختیار کر لی گئیں، اور باقی تلف کر دی گئیں۔
اب قرآنِ مجید کو دیکھیے، جیسے ہی کوئی آیت نازل ہوتی، ابتدائے نبوت ہی سے رسول اکرمﷺ اس کو فوراً لکھوا دیتے رہے، اور کاتبوں کو یہ بھی ہدایت کرتے تھے کہ فلاں آیت کا مقام تا حال نازل شدہ قرآن میں فلاں سورۃ میں فلاں آیت کے بعد ہے۔ اس کو ساتھ ساتھ بہت سے صحابہؓ زبانی بھی نماز کی ضرورتوں سے یاد کرتے جاتے تھے اور یاد کی ہوئی چیزوں کو رسول اکرمﷺ کو سنایا بھی کرتے تھے۔ لوگ تحریری نقلیں بھی لے لیا کرتے تھے۔ جب آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی تو چند ماہ بعد ہی خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عہدِ نبویؐ کے سرکاری کاتبینِ وحی کی ایک کمیٹی مقرر کی کہ پورا قرآن مجید ایک کتاب کی صورت میں لکھا جائے، اور ہدایت دی کہ ہر ہر لفظ و آیت کو علاوہ حفظ کے دو دو تحریری ثبوتوں کے بعد درج کیا جائے۔ عہدِ نبوی کے آخر میں کامل قرآن کے کم سے کم چار پانچ سو حافظ تھے، جن میں ارکانِ مجلس تدوین بھی شامل تھے، اور متفرق سورے جن کو یاد تھے ان کی تعداد ہزاروں تھی۔ اس احتیاط سے تدوین ہونے اور پھر آئندہ بھی حفاظ کا سلسلہ اب تک جاری رہنے سے قرآن مجید اس قدر صحت کے ساتھ اب تک محفوظ ہے کہ کسی اور بانیِ مذہب کی الہامی کتاب اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچتی۔
غرض ہم ایک ایسی شخصیت کا مطالعہ کر سکتے ہیں جس کے عام حالات بھی تفصیل سے محفوظ ہیں اور جس کی تعلیم کی اساس یعنی اس پر نازل شدہ اِلہامی کتاب بھی ہو بہو و بجنسہٖ محفوظ و موجود ہے، اس کے مندرجات کے متعلق کوئی چھوت چھات بھی نہیں کہ اجنبیوں کو پڑھنے بلکہ سننے سے بھی روکا جائے۔ بلکہ صلائے عام ہے کہ ہر شخص اس کو پڑھے اور بطور خود اپنے لیے فیصلہ کر لے کہ وہ اس کو قبول کر سکتا ہے یا نہیں۔ اور جو قبول نہ کرے اس کے لیے بھی صاف حکم ہے کہ لَا اِکْراہَ فی الدّین (دین کے بارے میں کوئی جبر نہیں) اور پھر یہ قرآن وہ ہے جو فصاحت میں ہومر اور ڈیما سیتھنس کے، قانون سازی جسٹی نین کے، فی الدنیا حسنۃ میں کاوٹلیا کے، فی الاخرۃ حسنۃ میں گوتم بدھ کے، ادب احترام سلف میں کنفوشس کے چیلنج کا جواب تھا۔ اور اس کا اپنا یہ چیلنج ہے کہ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری، اس نے مرکز گریز اولادِ آدم و حوا کو دوبارہ مرکز کشی کی تعلیم دی۔ اور ان میں فطری مساوات اور اختیاری فضیلت (اعمالِ صالح کی بنا پر) قائم کی اور جملہ سابقہ مذاہب کا احترام و اعتراف کرتے ہوئے ان کے مقابل اپنی حیثیت صرف یہ بیان کی کہ یہ ایک تجدید صداقت اور بنیادی و لابد و اقل قلیل مذہب ہے۔
ہر کسی کے لیے
چند بنیادی اُصول و حقائق سے خود فیصلہ کر لینا ممکن ہے۔
اِسلام کا اصل اُصول یہ ہے کہ فِی الدُّنْیا حَسَنَۃ وَ فِی الْآخِرَۃ حَسَنَۃ (یعنی دُنیا میں بھی اچھے رہیں اور آخرت میں بھی) دیکھنا یہ ہے کہ دنیوی معاملات میں آنحضرتﷺ کی سیرت اور طرزِ زندگی میں ہمارے لیے کیا سبق ہیں۔
دُنیا میں یک حیثیتی بڑے لوگوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے۔ لیکن اگر ہم مثلاً سکندرِ اعظم اور نپولین و ہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی صرف ایک سپہ سالارِ جنگ اور فاتح کے لیے مفید مواد مطالعے کے لیے پیش کر سکتی ہے۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت و عبادت میں خصوصی دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہی سبق آموز ہو سکتی ہے۔ ہومرؔ صرف ایک شاعر تھا۔ افلاطونؔ و ارسطوؔ صرف حکیم و فلسفی تھے۔ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ان کی کوئی بڑی وقعت نہیں۔ اس کے برخلاف رسول عربیؐ کی زندگی پر نظر ڈالیے۔ اُس کی ہمہ جہاتی حیثیت، قول و فعل کی یکسانی تعلیم میں ناقابلِ عمل مطمحیت کی جگہ معتدل عملیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی ہی میں کامیابی کے لحاظ سے ایک بے نظیر چیز ہے۔ سیاسی حیثیت کو لیجیے تو آپؐ نے دس سال کے قلیل عرصے میں جزیرہ نمائے عرب کے نراج (لا حکومتی) میں جہاں زیادہ خود سر خانہ بدوش قبائل میں خانہ جنگیاں ہی رہا کرتی تھیں، ایک بڑی مستحکم اور بڑی مملکت قائم کر دی بحیثیت سپہ سالار کے آپؐ کی لڑائیوں میں فریقین کے بمشکل چند سو آدمی مارے گئے۔ لیکن دس سال کے عرصے میں تقریباً بارہ لاکھ مربع میل کا رقبہ مطیع اور ماتحت ہو گیا۔ اور عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسی حکومت قائم ہوئی جو پورے جزیرہ نما کو حلقہ بگوش بنا سکی۔ اور یہ آنحضرتﷺ ہی کی تعلیم اور تربیت کا نتیجہ تھا کہ عرب جیسی گم نام اور جاہل قوم نے بین الممالک تعلقات میں پہلا قدم رکھا تو کیمرج کے ایک عیسائی مورخ کے الفاظ میں اُن سے زیادہ "مہذب وحشی” کبھی فتوحات کے لیے نہیں نکلے تھے اور فتوحات کی وسعت اور گہرائی کا جو ریکارڈ انھوں نے قائم کیا ہے وہ اب تک کسی قوم سے تو ڑا نہیں جا سکا ہے۔ چنانچہ دس ہی سال میں انھوں نے عراق، ایران، فلسطین، شام، مصر، طرابلس، تیونس، ترکستان اور آرمینیا کو زیر کر لیا۔ یہ سب علاقے قریب قریب آج بھی ٹھوس اسلامی علاقے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر کی زبان تک عربی ہی ہو گئی ہے۔
انتظامی حیثیت لیجیے جس ملک میں کبھی کوئی حکومت قائم ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے باوجود آنحضرتﷺ نے جو دستورِ مملکت مرتب اور جو نظامِ حکمرانی قائم فرمایا اس پر عمل دنیا کی ایک عظیم الشان مملکت کے لیے نہ صرف ہر طرح کارآمد و کافی ثابت ہوا۔ بلکہ جب تک اس پر عمل رہا وہ دنیا کی مہذب ترین حکومت بنی رہی۔ گاندھی جیسے کٹّر ہندو بھی اُسے انسانیت کا دورِ زریں سمجھتے اور کانگریسی ہند و حکومتوں کو مشورہ دیتے رہے کہ اُسی کو اپنے لیے نمونہ بنا ئیں۔
عمرانی حیثیت سے تقسیم و گردشِ دولت کا اُصول رسول اکرمﷺ کے ہر مالی حکم میں نظر آتا ہے۔ تقسیمِ ترکہ،تجدید وصیت، ممانعت سود، پس انداز دولت اور جائیداد پر محصول (زکوٰۃ) وغیرہ کی طرف اشارہ کافی ہے، جن کا اُصول یہ تھا کہ دولت صرف مالداروں میں نہ گھومتی ر ہے۔ اور مال والوں سے لیے ہوئے محصول سے حکومت اپنے ملک کے جملہ محتاجوں کو روٹی مہیا کرنا اپنا اوّلین فریضہ سمجھے اور اشتراکیت و سرمایہ داری کے تصادم کو (جو آج بے دین دنیا میں رونما ہے) پیش بینی کر کے شروع ہی میں حل کر دیا اور روک دیا۔
عورت، مزدور، اور غلام کی حیثیت کے متعلق بھی پیغمبر اسلام کی تعلیم معتدل اور اسی لیے مفید و قابل عمل ہونے میں بے مثل ہے۔
سماجی اور اَخلاقی حیثیت سے آپؐ نہ صرف اچھے معلم اَخلاق تھے، بلکہ ایک نادر بات یہ تھی کہ آپؐ اپنی تعلیم کی سب سے پہلے خود تعمیل کر کے اور دوسروں کو جتنا حکم دیتے اس سے زیادہ خود عمل کر کے اوروں کے سامنے زندہ نمونہ پیش فرماتے تھے۔ ایک باپ، ایک شوہر، ایک دوست اور حاکم ایک تاجر، ایک انسان کی حیثیت سے آپؐ کا کردار اتنا بے داغ ہے کہ دشمن بھی اس کو سراہنے کے بغیر چارہ نہیں دیکھتے۔ علاوہ اور اسلامی اصلاحات کے بُت پرستی، شراب اور جوے، سٹے کی ممانعت مسلمانوں کی ایسی خصوصیت ہے کہ باقی دنیا بھی اب خواہی نہ خواہی اس کو ماننے پر مجبوری ہو چلی ہے۔
دُنیا میں بہت سے معلم، ہادی اور پیغمبر آئے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ کسی کو اپنی زندگی میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جو نبی عربیؐ کو ہوئی۔ ۱۰ ھ میں جب آپؐ حج کو تشریف لے گئے تو آپؐ کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ مسلمان تھے، جو ملک کے ہر حصے سے آئے تھے۔ آنحضرتؐ نے دنیا میں جو دین پیش فرمایا اس نے اپنے لیے خود بخود جگہ پیدا کر لی۔ چین میں کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ مگر چین کے کروڑوں مسلمان اور ہندوستان کے روز افزوں نو مسلم اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ اسلام کی اندرونی کشش کتنی ہے۔ وہ آپؐ ہی تھے کہ تعصبات سے بھری دنیا میں برملا فرما گئے کہ نسل، رنگ یا زبان سے انسان کو دوسرے پر کوئی فوقیت بالکل نہیں۔ حقیقی فضیلت نکو کاری اور خدا ترسی ہے (خدا کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ جو سب سے زیادہ متقی ہو) ۔ آپؐ نے اسلام کے اُصول پر جس زور سے عمل کرایا اسی کا نتیجہ ہے کہ تمام پست قومیں اس کو اپنی نجات کا واحد ذریعہ سمجھتی رہی ہیں۔ اسلام سے زیادہ مساوات کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتی اور مثلاً رنگ و زبان کے متعلق فطرت کی تنوع پسندی کو بے اثر بنانے میں اسلام سے زیادہ کسی مذہب و مسلک کو کامیابی نہیں ہوئی۔
انسانی آبادی کے ہر گروہ کی اپنی الگ تاریخ، الگ تعصبات، الگ روایات ہیں۔ اور انسان کو اپنے محسنوں یا بزرگوں کے احترام سے روکنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی اِس میں کوئی فائدہ۔ آسان اور مفید طریقہ یہی ہے کہ پرانی روایات اور تعصبات و تخیلات کو چھیڑے بغیر (اگرچہ اس کو ایک نیا پس منظر، ایک نئے رُخ میں رواں دواں کر کے) کچھ نئی چیزوں کے احترام اور، اوروں سے زیادہ احترام کی تعلیم دی جائے، اس کے بغیر مرکز گریز اولادِ آدم و حوا کو دوبارہ ایک مرکز پر آنے کے لیے آمادہ کرنا ممکن نہیں۔
یہودیوں کو اپنے ہمعصروں میں واحد موحد قوم ہونے وغیرہ کی بنا پر ناز تھا۔ اگرچہ باقی دنیا میں وہ ملعون تھے۔ اسلام نے برملا اعتراف کیا کہ (خدا نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی) عیسائیوں کو اپنے آبائی مذہب کی بعض خصوصیتوں پر ناز تھا۔ جس سے باقی ساری دُنیا کو انکار تھا۔ قرآن نے اس کو بھی قبول کیا کہ عیسیٰؑ بن مریم (وہ اللہ کے رسول، کلمۃ اللہ اور روح اللہ تھے) لیکن ان دونوں قوموں کو بتایا کہ محض پدرم سلطان بود کافی نہیں، عمل کے متعلق خدا کا حساب و کتاب فرداً فرداً ہر ایک انسان سے ہو گا۔ جس خدا نے موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام کو کچھ خصوصیتوں سے نوازا، اُسی خدا نے ان سابقہ انبیاء کی تعلیمات کے صحیفوں کے حوادث زمانہ کا شکار ہو کر تلف ہو جانے کی وجہ، اپنی وفور نوازش سے انسانوں پر اُن تعلیموں کی پھر سے تلقین و تجدید کرنے کے لیے ایک نبی بھیجا۔ اور جب تک اس نبی کی تعلیم محفوظ و موجود ہے۔ کسی مزید نبی کی ظاہر ہے کہ کوئی ضرورت نہیں۔
انبیاء بنی اسرائیل ہی نہیں، اُن سے قبل اور ان کے بعد کے بھی و ان من امۃ الا خلافیہا نذیر، کہہ کر دنیا کی ہر قوم کا دل موہ لیا۔ آدمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک آنے والے رسولوں میں سے ایک دو درجن کا نام بھی لیا اور یہ بھی فرمایا دیا کہ و رسلاً قد قصصناہم علیك من قبل و رسلا لم لقصصہم علیک (۶۴/۴) اور کسی کے لیے رنجش کی وجہ نہ رہی اس حیثیت سے بھی آپؐ رحمۃ للعالمین ثابت ہوئے۔
مذہب سابق میں ایک گورکھ دھندہ بن کر عبادت گاہوں کے افسروں پجاریوں کی اجارہ داری بن گیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ نہیں الدین یسر وہ ہر ایک فرد انسانی کا معاملہ ہے اور ایک بنیادی مذہب، ایک خلاصہ اور نچوڑ پیش کیا کہ انسان مہد یا کم از کم سن رُشد سے لحد تک اپنے آپ اس کا ذمہ دار ہے۔ اور وہ مذہب (اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور عمل صالح کرتار ہے) (ہر شخص پر اس کی استطاعت کے مطابق ہی ذمہ داری ہے) ۔
یہ سب ایک طرح سے دینوی پہلو تھا۔ اسلام کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ دنیا و دین دونوں کی بیک وقت بھلائی چاہتا ہے۔ روحانی ترقی اور تزکیہ نفس کے لیے توحید سے بڑھ کر کوئی وسیلہ تصور میں نہیں آتا۔ اگر کوئی شخص خدا کو ایک مان لے اور خیر و شر میں اس کے سوا کسی اور کی قدر نہ سمجھے اور حشر و حساب کو مان لے تو پھر اس دنیا میں گناہ کا سر زد ہونا محال نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ ہر شخص کے ایمان کی پختگی اس کے اعمال میں ہویدا رہتی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ ایسے احکام ہیں جن سے انسان فرشتوں سے بھی سبقت لے جاتا ہے۔ جس میں عدول حکمی کی صلاحیت ہی نہ ہو (مثلاً فرشتہ) اور وہ کسی کَل کی طرح بے اختیار حرکت کرتا چلا جائے، تو نہ وہ ثواب کا مستحق اور نہ عذاب کا مستوجب۔ جس میں خیر و شر کی بہ یک وقت قدرت ہو اور وہ اپنی قوتِ ارادی و اختیار سے کام لے کر صرف خیر پر عمل کرے تو یقیناً اشرف المخلوقات کہلانے کا اسی کو حق ہو سکتا ہے۔
یہی چیزیں نتیجہ ہیں سیرتِ پاک کے مطالعے کا اور یہی چیزیں ہیں جو سیرتِ پاک کے مطالعے کی دعوت دیتی ہیں۔
مواد اور ماخذ
مختلف اشخاص کی سوانح عمریاں مختلف قسم کے ماخذوں اور مواد کی مدد سے مرتب ہوتی ہیں۔ مواد کبھی زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کم، بعض وقت تو کسی زبان کی کوئی کہاوت، کوئی ضرب المثل یا کوئی تلمیح ہی اپنے ہیرو کے متعلق معلومات کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی بادشاہ ہو، کوئی ممتاز سیاسی شخصیت ہو، کوئی کاریگر یا پیشہ ور ہو، کوئی عامی فلسفی ہو، کوئی شاعر و ادیب ہو، کوئی درویش و صوفی ہو، کوئی نیک شخص ہو، کوئی بد شخص ہو، عقل مند ہو، بے وقوف یا سادہ لوح ہو، غرض ہر ایک قسم کی شخصیت الگ الگ نہج سے کام کرنے پر مجبور کرے گی۔ اگر کسی معمار کی سوانح عمری کا تکملہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی عمارت کی فنکارانہ اور معاشی و دیگر حیثیتوں سے جانچ کی جائے تو کسی قائد و مصلح کی قیادت میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے اثرات کتنے گہرے، کتنے دیرپا کتنے وسیع ہوئے۔ اور اگر کوئی بہت سی حیثیتوں کا جامع رہا ہو تو سوانح نگار کا کام بھی پھیل جاتا ہے۔ پھر ولادت سے لے کر وفات تک جسمانی حیثیت سے کیسے گزری، دماغی ارتقا کیا ہوا، گھریلو زندگی، پبلک زندگی، احباب سے برتاؤ، دشمن سے سلوک، اور اس کے متعلق اس کے اپنے خیالات، نیز غیروں کے تاثرات بھی دلچسپ دریافت کا سامان ہیں۔ کسی پیغمبر کی حیاتِ طیبہ کا کام جہاں باعثِ سعادت ہے وہیں مشکلات سے لبریز بھی ہے۔ وہاں مادی اور عام مسائل سے بھی سابقہ ہوتا ہے۔ اور وحی و معجزات سے بھی۔
دُنیا میں کسی پیغمبر ہی نہیں، کسی بھی انسان کے حالات اتنے گوناگوں نہیں ہوں گے جتنے رسول مقبول حضرت محمدﷺ کے۔ سیرتِ پاک کے مواد اور ماخذوں کا سرسری اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ آپؐ کے اپنے اقوال و احکام تئیس (۲۳) سالہ پیغمبرانہ زندگی میں جس مقدار میں زبان سے نکلے اُن کا مختصر و محدود حصہ جو محفوظ رہا اور ہم تک پہنچا ہے وہ بھی ہزاروں ہی نہیں لاکھوں حدیثوں کی صورت رکھتا ہے۔ اگر آپﷺ کے افعال اور آپ کی اپنوں میں روا رکھی ہوئی چیزیں بھی لے لی جائیں تو سنت کا یہ مجموعہ بیسیوں مجلدات میں آتا ہے۔
کسی شخص سے ملنے والے سینکڑوں چیزیں بیان کر سکتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کے صرف عقیدت مند ہی ۱۰ ہجری کے موقع پر لاکھ ڈیڑھ لاکھ تھے اس سال حج کو نہ آئے ہوئے خانہ نشینوں کی تعداد یقیناً اس سے کئی گنا زائد ہو گی۔ ماہرین حدیث نے لکھا ہے کہ صحابہ کا وہ حصہ جس سے آنحضرتﷺ کے متعلق کوئی نہ کوئی حدیث مروی ہے ایک لاکھ سے زائد تعداد رکھتا ہے۔ دنیا کی کسی شخصیت کے حالات کے شاہدانِ عینی اتنے کیا اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ملیں گے۔ آنحضرتﷺ سے ملنے والوں میں آپﷺ کے بزرگ یا خورد، رشتہ دار ہیں، گھر والے ہیں، ملازم ہیں، دوست ہیں، اتفاقی ملاقاتی ہیں۔
آپﷺ کی ۶۳ سالہ واقعات سے پُر زندگی میں نہ معلوم کتنے خطوط آپﷺ کو لکھنے پڑے، ڈھائی تین سو تو تاریخ نے عہدِ نبوت کے متعلق اب بھی محفوظ کیے ہیں۔ صرف اُنھیں کو لیجیے تو کب لکھا، کیوں لکھا، لکھنے کا نتیجہ کیا ہوا، وغیرہ کئی ضخیم جلدوں کا طالب ہو گا۔
معلومات کا ایک اور اہم ماخذ ہمعصر شعراء کا کلام ہے۔ ان کے اشعار کے اشاروں کی توضیح و تشریح، شاعر کی پرکھ، قوتِ فیصلہ اور قوتِ اظہار اور دیگر بہت سے اُمور اس سلسلے میں لحاظ میں آتے ہیں۔
بیرونی لوگوں کے ہمعصر سفر نامے ہیں، بیرون میں آپﷺ کے حالات کی جو اطلاع پہنچی اُس کے بیرونی مؤرخوں کے ہاں تذکرے بھی ہیں۔
پھر آپﷺ کی دی ہوئی اور پیش کی ہوئی تعلیم ہے۔ اس مشن کا مقصد، اس کی تکمیل کے لیے اختیار کی ہوئی تدبیریں، ان وسائل و تدابیر کا اثر و نتیجہ اور اثرات کا استحکام و دیر پائی نیز اُن اثرات کی رفتہ رفتہ ترمیم و تبدیل و تجدید کے وجود و اسباب سے بحث کی ضرورت ہو گی۔ اور چونکہ کسی ایک زمانے کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اور انسانیت ارتقائی مدارج طے کرتے ہوئے آغازِ عہد رسالت میں جس درجے پر پہنچ چکی تھی، اس کو بھی شامل کر لیں۔ اور کام پھیلا کر جامع بنانا چاہیں تو ایک طرح سے ایک ذات قدسی صفات کی زندگی کے لیے ابتدائے آفرینش سے نفخ صور تک کی انسانیت کی تاریخ پر تبصرہ کرنا پڑے گا، خاص کر اس شخصیت کے متعلق جس کی نسبت عقیدہ ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک۔
کسی شخص کے بہت سے کارناموں کی صحیح اہمیت کے لیے کمیت کی جگہ کیفیت دیکھنی پڑتی ہے۔ ۱۹۱۴ ء کی جنگ عظیم میں سب کے اعداد ملا کر کہتے ہیں کہ ایک کروڑ آدمی مارے گئے۔ اور ۱۹۳۹ء کی جنگ میں چار کروڑ۔ مگر تاریخ عالم میں اُن کی وہ اہمیت نہیں جو جنگِ بدر کی ہے۔ جس میں فریقین کے مجموعی طور سے مارے جانے والوں کی تعداد سو بھی نہیں ہے۔ اسی طرح کسی ارب پتی راک فیلر کا ایک کروڑ روپیہ خیرات کر دینا یا مرتے وقت وصیت کرنا کردار کی وہ عظمت نہیں رکھتا جو چند سو روپے کا چندہ دینے والے کا جس سے یہ پوچھا گیا تھا کہ اس چندے کے بعد گھر میں کیا رکھ چھوڑا ہے تو جواب ملا تھا "کہ بس صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت” مزید برآں بہت سے واقعات اُس وقت تک پوری طرح یا تو سمجھے ہی نہیں جا سکتے یا اُن کی صحیح قدر و قیمت نہیں معلوم ہو سکتی جب تک اُن واقعات کے پیش آنے کے مقام کا جغرافیہ معاشی و سیاسی حالت وہاں والوں اور اس واقعے میں حصہ لینے والوں کی نفسیاتی کیفیت، اس مقام کے ماحول اور ہمسائے کی داخلی اور اثر انداز حالتیں اور دیگر بہت سے اُمور کا مطالعہ نہ کیا جائے اور اوروں کے حالات سے مقابلہ بھی ایک مزید پہلو ہے۔
لکھنے والے کی عقیدت، اہمیت، سہولت، حالات کی مساعدت، وسائل کی فراہمی وغیرہ کا بھی خیال کیا جاتا ہے۔
ایک ہی واقعے سے مختلف ذہن مختلف نتائج کا استنباط کرتے ہیں۔ سیرتِ نبویہؐ اس وقت دنیا کی ہر مہذب زبان میں ملتی ہے۔ اور بعض زبانوں میں ہزاروں کتابیں اس ایک موضوع پر ملتی ہیں۔ اگر مکررات کو حذف بھی کر دیں تو بھی ہر کتاب میں کوئی نہ کوئی خاص پہلو اہمیت رکھتا ہے۔ صرف آپﷺ کی جنگوں ہی کو لیجیے کوئی ان کا ذکر کہانیوں کے طور پر کرتا ہے۔ کوئی فنِ حرب کی تاریخ میں جگہ دینے کے لیے بیان کرتا ہے۔ کوئی قانون بین الممالک کے قواعدِ جنگ کی نظیروں کے لیے اُن کا مطالعہ کرتا ہے۔ کوئی عربی سپاہی کی نفسیات، قوتِ برداشت، بہادری، موقع محل سے استفادے کی اہلیت وغیرہ کا مواد اُن میں تلاش کرتا ہے۔
جس مقام پر کوئی شخص زندگی گزار چکا ہو، وہاں عرصۂ دراز تک اس کے متعلق تاثرات، کہانیاں اور کہاوتیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں حذف اور اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اتنی قسم کی اور اتنی کثیر چیزوں کی موجودگی میں سوانح نگار کیا کرے؟ ان ہزاروں پہلوؤں میں سے ایک آدھ پر اکتفا کیے بغیر چارہ نہیں۔ اگر اس میں بھی کچھ کامیابی ہو جائے یعنی کسی کو اس میں کچھ کام کی چیز ملے تو فبہا۔ ورنہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ اپنے ذاتی استفادے ہی کے لیے ہے اور بس!
بعثتِ نبویؐ کے وقت دُنیا کی حالت
دنیا میں بُرائی اور گناہ کو فن لطیف بنا دینے والے بھی اور قوم کی حالت پر کُڑھنے اور درد مند دل رکھنے والے بھی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔ برائی اور اَخلاقی پستی جتنے بڑے طبقے میں پھیلتی اور شدّت اختیار کرتی ہے اتنے ہی بڑے کردار کے مصلح کی ضرورت ہوتی ہے۔ انبیائے سلف کے زمانے میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک قوم، کسی ایک بستی میں برائی کو بھلائی سمجھنے لگنا عام ہوتا تھا۔ اور باقی دنیا ایک حد تک گوارا کرنے کے قابل کردار رکھتی تھی۔ اور نبی بھی خاص مقام کے لیے روانہ کیے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عہد نبویؐ کے آغاز پر دُنیا کے کس کس ملک میں مصلح کی ضرورت تھی۔ ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہونے کے باوجود روز افزوں پھیلنے والی نسل انسانی قدیم زمانے میں ذرائع معیشت کی ضرورتوں سے جب اپنوں سے بچھڑتی اور رشتہ داروں سے دُور دوسری جگہ جا بستی تو پھر اپنے مرکز سے تعلق رکھنے کی ضرورت یا موقع کم ہی پیش آتا تھا۔ ایک تو ذرائع حمل و نقل کی کمی تھی۔ دوسرے ہر مقام اپنی ضرورتوں کے لیے جو زیادہ تر غذا، لباس وغیرہ پر مشتمل ہوتیں، خود اکتفا ہوتا۔ یہ نہ تھا کہ آج کل کی طرح ہر کوئی اپنی کسی نہ کسی ضرورت کے لیے دوسروں کا محتاج ہو، کہیں غلہ نہ ہو، کہیں رُوئی نہ ہو، کہیں لوہا، کہیں کوئلہ یا پٹرول نہ ہو، کہیں کاغذ کا مواد نہ ہو۔ اس کا نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں بین الاقوام اور بین الممالک تعلقات ناپید سے تھے۔ ناگزیر نبی اور مصلح بھی قومی ہوتے تھے (عالمگیر اور بین الاقوامی نہیں) ، اور ان کی تعلیم کسی بربری، کسی غیر بنی اسرائیل، کسی غیر آریہ سے متعلق ہی نہ ہوتی تھی۔ انسانیت میں بین الاقوامی احتیاج رفتہ رفتہ ہی پیدا ہوئی۔ اور عہد نبویؐ کے آغاز پر اس کا عبوری دور اس حد تک گزر چکا تھا کہ مہمات پسند عرب تاجر ایک طرف حبش و مصر و شام کو تو دوسری طرف چین و ایران و ہند کو کارواں لے جایا کرنے لگے تھے۔ بڑے بڑے جہاز بنانا اور زمین کے قلابے ملانا انسان سیکھ چکا تھا۔ ناگزیر اب نبی بھی مختص المکان، اور مختص الزمان ہونے کی جگہ ایسا ہونا ضروری تھا جو معتدل اور مستقل تعلیم دے۔ سرد ممالک ہوں یا گرم، شہری باشندے ہوں کہ خانہ بدوش، سب کو ایک مرکز سے دوبارہ جوڑنا اور سب کے لیے بنیادی مذہب لا ناممکن ہو۔ تعلیم میں مستحب اور نفل کی تھوڑی سی لچک ضرور ہے۔ لیکن اقل قلیل فرائض بنیادی مذہب کا کام دے سکیں، اور وہ سب ہی کے لیے یکساں ہوں۔ یونان کسی زمانے میں حکمت اور فصاحت کے دریا بہا چکا تھا۔ دنیا کو اس کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے کے لیے حکمت اور فصاحت کے ایک بہتر اور بلند تر نمونے کی ضرورت تھی۔ روما نے قانون سازی میں کمال پیدا کیا تھا۔ اور رسول عربیؐ کی ولادت سے پانچ ہی سال پہلے مرنے والے شہنشاہ جسٹی نین نے رومی قوانین کی تدوین کا کارنامہ انجام دلا کر دنیا کو ایک چیلنج دے دیا تھا کہ اس سے بہتر قانون لاؤ۔ اسی طرح ہندوؤں نے کچھ، مصریوں نے کچھ، ایرانیوں نے کچھ، ایسے کارنامے چھوڑے تھے جن سے خاص خاص شعبوں میں انسانی ذہنیت پر اُن کی برتری مسلم ہو چکی تھی اور ضرورت تھی کہ انسانی ذہن کی صحت مند بالیدگی کے لیے ان کچلنے والے مواقع کو دُور کر دیا جائے۔ اور انسان کو عقل، فکر، نظر، بصر، سمع، تفقہ، تدبر، شعور، علم وغیرہ سے خود کام لینے پر آمادہ کیا جائے۔ ان عطایائے فطری کو معطل کر لینا اسے انفرادی جواب دہی سزا و جزاء سے بھی علیحدہ کر لینا فی الحقیقت اطاعت شعار فرشتوں اور کش شیطانوں سے الگ ایک احسن تقویم والی مخلوق کے پیدا کرنے کی غرض کو فوت کر دینا ہے۔ ان تمہیدی نکات کے ساتھ دنیا کے بڑے ممالک کی عام حالت سے جو بعثت نبویؐ کے وقت تھی، ضروری واقفیت حاصل کر لینی چاہیے۔
چین
چین نے اقصائے مشرق میں اپنی صلاحیتوں کے معراجِ کمال کا مظاہرہ اپنے مصلح کونگ فوت سیو (کنفوشیوس) (زمانہ ۵۵۱ تا ۲ ۴۹ ھ ق م) کی صورت میں کر دیا تھا۔ عہد نبویؐ کے آغاز پر وہاں عجیب حالت تھی۔ کنفوشسی نظام پارہ پارہ ہو چلا تھا۔ ہند کا بدھ مت وہاں گھسنے اور ایک عبوری دور پیدا کرنے کا باعث بنا ہوا تھا۔ متاخر خاں (Huns اہن) خانوادے کی حکومت عرصہ ہوا ختم ہو چکی تھی۔ اور اس کی جگہ وائی Wu” Wai” اور شو (Shu) کی تین حکومتیں قائم ہوئی تھیں کہ خانہ جنگیوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ چھڑ گیا اور ملک کو انسانیت کی کسی خدمت کے ناقابل بنا چکا تھا۔ گھر یلو فتنے پر مستزاد تا تاریوں، ہسیونگ نو اور تبت والوں کے حملے بھی تھے۔ عرصۂ دراز کے افتراق کے بعد خانوادہ سوئی نے ۵۸۹ تا ۶۱۸ء تئیس سال کے قلیل عرصے کے لیے ملک میں بہت کچھ وحدت پیدا کی۔ مگر ہجرت نبویؐ سے دو سال پہلے ہی اس کا خاتمہ ہو گیا۔ پھر ٹئانگ خانوادہ برسرِ اقتدار آیا تو آہستہ آہستہ حالت کچھ سدھری اور ملک میں امن اور یکجہتی تو پیدا ہوئی مگر ہم چو من دیگرے نیست کا ترقی سوز جذبہ انھیں کچھ سیکھنے میں مانع ہی رہا۔ (تفصیلات انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا وغیرہ میں) ۔
ہند
ہند میں ایک ہزار سال قبلِ مسیح آریہ قبائل آ گھسے تھے۔ جات پات کے نظام، مظاہر پرستی کی سطحیت کے تحت کروڑوں دیوتاؤں کی ایجاد، رہبانیت، ترکِ دنیا کو انسانیت کا کمال سمجھنے کا جذبہ اور ہر طرح کی چیزیں اُسے پوری انسانیت کی اجتماعی زندگی کی خدمت کے ناقابل بنا چکی تھیں۔ کنفوشیوس کے ہمعصر زمانے میں گوتم بدھ نے برہمنوں کی مراسم پرستی کے خلاف احتجاج کر کے ایک دوسری اِنتہا پسندی کی تعلیم دی۔ علاج صحیح تھا مگر ظاہر ہے کہ وہ عارضی ضرورتوں کے لیے تھا، چند دن وہ پھلا پھولا۔ مگر ایک تو معتدل حالات کے لیے اس میں ٹھوس بنیادیں نہ تھیں دوسرے بدھ مت اور برہمنیت کی کشش ایک دوسرے پر عارضی فتح کے بعد بالآخر بدھ مت کو بڑے مظالم کے بعد ہند سے خارج کر دینے کا باعث بنی۔
عہد نبویؐ سے پہلے ہند پر وسطِ ایشیاء کے سفید خان (Huns) خانوادے کی حکومت تھی مگر دلادتِ نبوی سے پانچ سال پہلے ۵۶۵ء میں دریائے جیحوں پر اس حکومت کو شکست ہوئی، تو ہند پر سے بھی اس کا تسلط جاتا رہا۔ پھر تھانیسر کے راجہ کا چھوٹا بیٹا ہرش (زمانہ ۲۰۶ / ۴۸ء) شمالی ہند کا مالک بنا۔ آسام، بنگال، نیپال، مالوہ، گجرات، کاٹھیاواڑ وغیرہ اس نے رفتہ رفتہ فتح کیے۔ مگر ۶۱۰ء میں ہجرت نبویؐ سے کچھ پہلے اس نے دکن کا رُخ کیا تو چلوکیاؔ خاندان کے راجہ پلی کے سن دوم نے اُسے دریائے نربدا پر شکست دے دی۔ اس کی اولاد نہ تھی۔ اپنی رعایا کو اس نے آرام طلب بنا لیا تھا۔ اس کی موت کے ساتھ اس کی شہنشاہی کا خاتمہ ہو گیا اور پھر صدیوں تک تباہ کارانہ خانہ جنگیاں ہوتی رہیں۔ چلوکیاؔ والوں نے ہرشؔ کو شکست تو دی، مگر کاورم کے پلوا والوں کے ہاتھوں خود بھی تباہ ہو گئے اور ان کی سلطنت پنپ نہ سکی۔
(ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا وغیرہ)
ترکستان
یہ بڑا مردم خیز خطہ ہے۔ مگر سنہ عیسوی کی سات صدیوں تک یہاں کی حالت کا ہمیں کچھ بھی علم نہیں۔ عہد نبویؐ کے ہمعصر خان (Huns) تبت پر چھا گئے تھے اور مغربی ترکوں کی مدد سے براج رہے تھے۔ مگر ان میں نہ کوئی تمدن تھا اور نہ خود غرضی کے سوا انسانیت کی خدمت کے لیے ان میں کوئی بلند مطمح نظر ہی۔ (ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا)
رومی و ایرانی
یونان تو کبھی کا ختم ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ یورپ میں رومی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ مگر جب وہ مشرقی و مغربی دو حصوں میں بٹ گئی تو ہم دیکھتے ہیں کہ عہد نبویؐ کے زمانے میں مغربی رومیوں پر جرمن وغیرہ قبائل ٹوٹ پڑے اور پایۂ تختِ روما کے بھی مالک بن گئے تھے۔ اِن اَن پڑھ وحشیوں نے جو کچھ کیا ہو گا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انھوں نے محبت کے مذہب یعنی عیسائیت کو قبول کیا تو غیر عیسائیوں سے زیادہ بے رحمی اور بے اُصولی دکھاتے رہے ادھر مشرقی رومی حکومت قسطنطنیہ کے صدر مقام سے ہمسایہ ایرانیوں کے ساتھ صدیوں تک آویزش میں مبتلا رہی۔ عہد نبویؐ کے ابتدائی زمانے میں ایرانیوں نے اپنے حریفوں سے مصر اور شام وغیرہ تک چھین لیے تھے، اور قرآن مجید میں غلت الروم فی ادلئی الارض کا اعلان کیا۔ مگر ۶ ھ یعنی صلح حدیبیہ کے زمانے میں نینوی (موصل) کے میدان پر رومی شہنشاہ ہرقل نے ایرانیوں کو ایسی فیصلہ کن شکست دی کہ ان کے ہاں شاہ گردیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور ایران سنبھل ہی نہ سکا۔ قسطنطنیہ کے رومی (بازنطینی) اس فتح سے کیا فائدہ اُٹھاتے جب کہ صدیوں کی بیرونی جنگوں نے ایک طرف ملک کو تباہ و تاراج کر دیا تھا، تو دوسری طرف مذہبی فتنے بھی ان کے ہاں ناقابل بیان تھے۔
چنانچہ حضرت مسیحؑ میں صرف خدائی طبیعت کا ہونا یا خدائی اور انسانی ہر دو طبیعتوں کا پایا جانا یا دو طبیعتوں مگر ایک مشیت کا پایا جانا وغیرہ نظریے فرقہ بندی پیدا کر رہے تھے۔ اور ہر فرقہ اتنا تنگ نظر تھا کہ دوسرے پر اتنے مظالم کرتے رہے کہ جب حکمران فرقے سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو دوسرے فرقے کے عیسائی دل و جان سے ان اجنبی غیر مذہب والوں کو خوش آمدید کہتے اور ان کو مدد دیتے رہے۔ اور مسلمانوں کے ماتحت رہنا اُن کو غیر فرقے کے عیسائیوں کے ماتحت رہنے سے کہیں زیادہ اچھا معلوم ہوتا تھا۔
(انحطاط و زوال روما مؤلفہ گبن)
یہی حال ایران کا تھا۔ مزدکیتؔ کی دولت اور عورت میں اباحت پسندانہ اشتراکیت نے عرصے تک ملک کو نہ صرف خانہ جنگی میں مبتلا رکھا بلکہ ملک کے اخلاق کو ناقابلِ اِصلاح طور پر تباہ کر دیا تھا۔ حد ہو گئی کہ مزدک نے بھرے دربار میں شہنشاہ سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یہ تیری ملکہ بھی صرف تیری نہیں ہے بلکہ اِس سے ہر شخص استفادہ کر سکتا ہے اور اس پر نہ اُسے غیرت آئی اور نہ یہ شرمائی۔ پھر نوشیرواں تخت نشین ہوا تو اس نے اپنے باپ کے عمل کو اُلٹ دیا۔ اور اب آتش پرستی نے مزدکیت کے خلاف وہ وہ ظلم ڈھائے کہ بیان سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اسی زمانے میں رسول اکرمﷺ کی ولادت ہوئی۔ مگر جیسا کہ ہم نے دیکھا رومیوں نے ایرانیوں کو کچھ ایسی زک دی تھی کہ وہ پنپ نہ سکے۔
(کرسٹین سین، ساسانی)
حبش
حبش بھی کافی بڑا علاقہ ہے اس نے ایرانیوں سے یمن کو چھین لیا تھا۔ مگر جب یہ شمالی عرب میں بڑھے تو ولادتِ نبویؐ کے سال یہ "اصحاب الفیل” کیڑا کھائے ہوئے کھوکھلے دانوں (عَصفِ ماکول) کی طرح ختم ہو گئے۔ اور جلدی ہی عہدِ نبویؐ میں ان کی حکومت عرب میں اور خود حبش میں بھی خانہ جنگیوں وغیرہ میں پھنس کر بےکار و معطل ہو گئی۔ اور مسلمان مہاجرین ہمیشہ خود حش کی ان خانہ جنگیوں سے پریشان رہے۔
غرض اس زمانے میں جدھر دیکھو دنیا میں تباہی اور فتنہ و فساد ہی تھا۔ کسی جگہ بلند نظرانہ عالی ہمتی اور دردمندانہ انسانیت پروری نظر ہی نہ آتی تھی۔ ضرورت تھی کہ پوری دنیا کو اب جھنجھوڑ کر یاد دلایا جائے کہ وہ سب ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں اور ملک وار، قوم وار، نسل وار، اور ایسے ہی دیگر محدد و مذاہب سے نجات دلائی جائے۔ اور تمام انسانی دنیا کے لیے ایک "بنیادی مذہب ” پیش کیا جائے جو زماں و مکان کے فرق سے بالا اور جاتیوں اور طبقوں کے امتیاز سے بری ہو۔ اور ہر انسان کو انفرادی حقوق اور ذمہ داریاں عطا کر کے نوع بشری کی تخلیق کی اصلی غرض و غایت پوری کرنے کا انتظام کیا جائے۔
عرب اور مکہ معظمہ کا انتخاب دعوتِ اِسلام کے مرکز کے طور پر
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام ہی دنیا کی حالت اصلاح طلب تھی تو اس کی اصلاح کی دعوت کا مرکز کہاں ہو؟
جغرافی وجہ
پُرانی دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیے تو نظر آ جائے گا کہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور اوقیانوسیہ کے براعظموں میں جزیرہ نما عرب کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ مرکز بھی ایسا کہ ایشیا میں ہوتے ہوئے بھی وہاں سے افریقہ اور یورپ بہت قریب ہیں۔ خاص کر ان دونوں براعظموں کے اس زمانے کے متمدن ترین علاقے یعنی یونان، مصر، روما سے بھی مرکزیت تھی، جس نے عرب کے بھی مرکز مکہ معظمہ کو نافِ زمین کا نام دلا دیا تھا۔
کسی مرکز سے ہر اِنتہائی حصہ قریب ترین ہوتا ہے۔ اور ہر جگہ پہنچنا مرکز ہی سے سہل ترین ہوتا ہے۔ آب و ہوا کا اثر طبائع اور اَخلاق پر جو کچھ پڑتا وہ اب مسلّم ہے۔ سرد ممالک والوں کی ذکاوت، پہاڑی اور صحرائی لوگوں کی جفا کشی، زرخیز ممالک والوں کی تمدنی ترقیاں وغیرہ مسلّمہ قانونِ قدرت پر مبنی معلوم ہوتی ہیں۔ ایک بہت ہی محدود رقبے کے اندر مکّے کی وادی غیر ذی زرع، طائف کی رشک شام و روم خنکیاں، مدینے کی زرخیزی وغیرہ کا ایسا اجتماع حجاز میں عمل میں آیا کہ اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ ایشیا، یورپ اور افریقہ سے طبعی مماثلت کے ساتھ ساتھ عرب میں ان تینوں براعظموں کے سیاسی مفادات بھی آنحضرتﷺ کی ولادت کے وقت پوری قوت سے اثر انداز تھے۔ قسطنطنیہ کے رومیوں نے شمالی عرب پر، ایرانیوں نے مشرقی، اور حبشیوں نے جنوب مغربی عرب پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اور عرب تینوں براعظموں کا سنگم اور عمل در عمل کا مرکزی نقطہ بنا ہوا تھا۔
عمرانی وجہ
تاریخ عالم پر محض ایک سرسری نظر سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وحشیت و بدویت کے بعد ہی کسی قوم کا ارتقاء اور اس کے ہاتھوں انقلاب آفریں کارنامے انجام پاتے ہیں۔ اور عروج و تمدن کے زمانے میں کسی قوم میں برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو وہ اپنی آپ اصلاح نہیں کر سکتی، بلکہ جلد ہی انحطاط و زوال کے ذریعے سے اس کا رہنمایانہ وجود دنیا سے ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا کی متمدن قوموں کو عموماً وحشیوں اور بدویوں ہی نے اپنی بے سرو سامانی کے با وجود مغلوب کر لیا، رومی شہنشاہی کو جرمنوں نے، چینیوں کو تر کمانوں نے جس طرح زیر کیا، وہ دنیا کو معلوم ہے۔ عہد نبویؐ کی متمدن دنیا کو صحرائے عرب کے بدویوں کے ذریعے سے جھنجھوڑنے کی ضرورت تھی۔
کوئی ملک پوری طرح حضری اور متمدن زندگی گزارنے لگے تو اس میں زندگی پیدا کرنے والے نئے پیوند کا لگنا اندرونی وسائل سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف اگر خانہ بدوش بدویوں کے ماحول میں کہیں کہیں شہری زندگی کے آثار پیدا ہو گئے ہوں تو ایسا علاقہ وقتاً فوقتاً صحرا نشینوں کو اپنے اندر کھینچ اور جذب کر کے تازہ قوت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بات عرب میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
نامعلوم وجہ سے دنیا کے تین حصے بڑے نسل کش ہیں۔ صحرائے گوپی، جرمنی کا کالا جنگل اور عرب سینکڑوں ہزاروں سال سے انھیں علاقوں سے اجتماعی ہجرتوں کی موجیں اُٹھتی رہی ہیں اور آس پاس کے علاقوں پر چھا جاتی رہیں۔ کیونکہ خود ان کے اپنے اندر آبادی کی تیز ترقی کی تو قوت ہے۔ لیکن آبادی کی پرورش کے لیے غذا وغیرہ کے وسائل بہت کم ہیں۔ یہ بات جو عرب کو حاصل ہے دنیا کے مرکز میں ہونے کے باعث مزید اہمیت پیدا کر دیتی ہے۔
عرب، خاص کر حجاز میں اب تک کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے اب تک اپنی ذہنی قوتیں کسی کام میں خرچ نہ کی تھیں۔ اور ان کی توانائیاں سب محفوظ بلکہ لبریز تھیں۔ نپولین کے استنباط کے مطابق سینکڑوں سال سے خانہ جنگیوں اور بے امنیوں کے باعث اُن میں جفا کشی، جاں فروشی، صبر و ضبط، مستعدی، سادگی اور اسی طرح کے دیگر بلند کردار جو ترقی کناں قوموں کے لیے درکار ہیں خوب پرورش پا چکے تھے۔ بعض دیگر وجوہ سے بات کا پاس، خود داری، عزتِ نفس بھی اُن میں مستحکم تھے۔ صحرائی زندگی اور کھلی فضا میں پرورش کے باعث اُن کی بصارت، سماعت اور دیگر حواس بھی شہریوں کے مقابل غیر معمولی طور پر تیز تھے۔ لکھنے پڑھنے کا (گنتی کے پندرہ میں آدمیوں کو چھوڑیں تو) چونکہ کوئی رواج نہ تھا اس لیے حجازیوں کے حافظے بہت زبردست تھے۔ غذا میں سادگی صحرا کا ناگزیز نتیجہ تھا۔ اور برسوں میں بھی کوئی بیمار نہ ہوتا تھا۔
زراعت پیشہ لوگوں میں جو وابستگی وطن بلکہ زمیں زندگی ہوتی ہے، اس کے باعث اُن کا مہمات پسند ہونا، وطن سے کسی بھی لمحے دُور و در از مقام پر جانے پر آمادہ رہنا، اور اسی طرح کے مستعدی کے دیگر اُمور ممکن نہیں، صنعت و حرفت میں بھی زمیں زندگی کافی ہوتی ہے۔ صرف تجارت پیشہ ہی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو سفر و سیاحت کی ترغیب بھی پاتے اور اس پر مجبور رہ کر اس کے عادی بھی ہو جاتے ہیں۔ مکہ والوں کی بستی قرآنی الفاظ میں "بن کھیتی” کی وادی ہے۔ یہاں زراعت تو کیا صنعت و حرفت کے لیے بھی کوئی سہولت نہیں۔ اور تو اور غذا تک کی درآمد کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی مستعدی اور تیار باشی کے کیا کہنا۔
فتوحات اور توسیع نیز اُن کے استحکام کے لیے حرکت پذیری (Mobility) کو جو اہمیت ہے وہ آج مسلّم ہے۔ جس زمانے میں بے جان سواریاں بجز سمندری جہاز کے اور کچھ نہ تھیں اور برق اور بھاپ پر ابھی انسان کو تسخیر حاصل نہیں ہوئی تھی تو تیز تر سواری گھوڑے کی تھی اور کارآمد ذریعۂ حمل و نقل اُونٹ جس کا صبر و تحمل، غذا کی سادگی و کمی، کثیر بوجھ کا اُٹھا سکنا، دودھ اور گوشت وغیرہ کا قابلِ غذا ہونا سب جانتے ہیں۔ گھوڑوں اور اُونٹوں سے عرب کو جو خصوصیت ہے وہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہزاروں کی عربی فوج اپنے اُونٹوں کی مدد سے جس تیزی سے حرکت کر سکتی اور لمبے لمبے، دھاوے مار سکتی تھی وہ عربی فتوحات کی سرعت، کامیابی اور استحکام کے اہم وسائل میں سمجھی جاتی ہے۔ اور ماہرین حربیات قدیم سے عربوں پر رشک کرتے رہے ہیں۔
چین اور ہندوستان کی تجارت عرب ہی سے ہو کر یورپ جاتی تھی۔ قریش کا عرب کی تجارت پر حاوی رہنا مصر و شام، عراق و ایران، یمن و عمان حبش و سندھ وغیرہ سے انھوں نے جو تجارتی معاہدے (ایلاف) کر رکھے تھے اور "رحلۃ الشتاء و الصیف“ کے باعث شمال و جنوب کے جس طرح قلابے ملاتے رہتے تھے وہ سب جانتے ہیں۔ ان سے بڑھ کر اقوام کی مزاج شناس، ملکوں کی راہ شناس، سب سے واقفیت کے باعث خود شناس قوم اس وقت کم ہو گی۔
حکمرانی کا سلیقہ
مکّے اور طائف اور پھر مدینے کی شہری مملکتوں میں جو تھوڑا بہت سیاسی نظام تھا وہ خوش قسمتی سے سماجی مساوات پر مبنی تھا۔ سرداری اور اعیانیت سے کوئی جات پات کے ناقابلِ شکست بندھن نہیں پیدا ہو گئے تھے۔ سب آزاد اور سب برابر کے ہوتے تھے۔ محض عقل و تجربہ کسی کو سردار منتخب کراتے تھے۔ اس ماحول میں رچے ہوئے ہونے کے باعث انھیں جب دُنیا پر حکمرانی کا موقع ملے تو انسانوں میں مساوات کی جیسی توقع اُن سے ہو سکتی اور رنگ و زبان و وطن کے اختلافات کو بے اثر قرار دینے کی اُن سے جتنی اُمید ہو سکتی تھی نہ برہمنیت میں ممکن تھی نہ ایرانیت میں، نہ رومیت میں، نہ طبقات کا تفرقہ ذہنوں میں اتنا راسخ تھا کہ نکالے نہ نکل سکتا تھا۔
لِسانی وجہ
عربی زبان بھی انتخاب کا ایک باعث ہو سکتی تھی۔ اس کا خط جمالیاتی اور خطیاتی نقطۂ نظر سے جو صلاحیتیں رکھتا تھا اور خود زبان ادائے مطالب اور فصاحت و بلاغت کی جو غیر متناہی قابلیتیں رکھتی تھی وہ دیگر ہمعصر متمدن زبانوں مثلاً پہلوی، یونانی، سنسکرت اور لاطینی نہ چینی پر بدر جہا تفوق رکھتی تھی۔
نفسیاتی وجہ
چند ساحلی یا سرحدی رقبوں کو چھوڑ کر عرب پر اب تک کسی بیرونی سلطنت کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔ بلکہ وہ اپنی آزادی کے ساتھ ہمیشہ بیرونی پناہ جویوں کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوتا رہا۔ دنیا کی رہنمائی کے لیے کسی غلامانہ ذہنیت رکھنے والی قوم کی جگہ وہی قوم اوروں پر ترجیح رکھتی سمجھی جا سکتی ہے جو آ زادوں کی بھی آزاد ہو۔
مکّے کی حالت ولادتِ با سعادت سے قبل
یہ ہم معلوم کر چکے ہیں کہ مکّہ نافِ زمین پر آباد اور پرانی دنیا کے بیچوں بیچ تین براعظموں کے وسط میں واقع ہے، جس سے بہتر کوئی مرکز کسی عالمگیر تحریک و تبلیغ کا نہیں ہو سکتا اِس طرح اس کا "وادی غیر ذی زرع” بن کھیتی کی بلکہ بے آب و گیاہ سر زمین میں ہونا طماعوں کی طمع سے اس کو محفوظ رکھنے کا باعث تھا۔ تجارتی "رحلۃ الشتاء و الصیف” سے یہاں دولت جمع ہو سکتی تھی۔ اس کی حفاظت قدرت نے یوں کر دی کہ ایک تنگ درّے کو چھوڑ کر وہ وادی جہاں شہر مکہ آباد ہے، بلند اور نا قابل عبور و مرور پہاڑیوں سے چاروں طرف گھری ہوئی ہے اور مدافعتی اغراض کے لیے بہت موزوں ہے۔ بنجر مکہ اور اس کے ہمشیر شہر یعنی زرخیز طائف نے مل کر یہاں کی آبادی میں وہ خصلتیں اور خصوصیتیں طبعاً پیدا کر دی تھیں جن کا اجتماع نادر ہی ہوتا ہے۔ جب ہی تو انھوں نے رومی، ایرانی اور حبشی شہنشاہیوں کے قبضے کے لیے مسلسل جدوجہد کے باوجود اپنی چھوٹی سی شہری مملکت کو آزاد اور خود مختار رکھا اور کبھی اس پر اجنبیوں کا تسلط نہ ہونے دیا۔ اب ہم دیگر احوال کا مطالعہ کریں گے۔
سیاسی حالت
مکّہ ایک خود مختار شہری مملکت تھا۔ بستی کا رقبہ تو چند مربع میل سے زائد نہیں لیکن اُس کے اطراف کا وہ حصہ جہاں تک اس کا مؤثر تسلط تھا اور جسے وہ حرم کہتے تھے تقریباً سوا سو میل مربع پر مشتمل تھا۔ یہاں مختلف زمانوں میں مختلف قبائل کی حکمرانی رہی۔ سرورِ کائناتﷺ کی ولادتِ با سعادت کے وقت یہاں آپ ہی کے خاندانِ قریش کو سرکردگی حاصل تھی۔ اگرچہ دیگر لوگ بھی بستے تھے لیکن فردی حکومت کا وجود نہ تھا۔ آنحضرتﷺ کے پردادا کے دادا قصّی نے تقریباً بادشاہ کی سی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ لیکن اپنی وفات کے وقت اپنے سیاسی فرائض اپنے بچوں میں بانٹ دیے تو پھر کسی ایک فرد میں دوبارہ جمع نہ ہو سکے بلکہ منتشر تر ہی ہوتے چلے گئے اور ابن عبدربہ کے مطابق دس قبائلی سرداروں کی اعیانیت قائم ہو گئی گویا دس وزراء تھے اور کوئی بادشاہ نہ تھا۔ دار اللہ وہ کی پارلیمان کسی متعلق تھی، تو عبادت گاہ کعبہ کا انتظام کسی اور سے، کوئی قوم علم بردار اور سپہ سالار تھا تو ضمان اور ہرجانوں کا تعین کرنا کسی اور کا کام تھا، کوئی افسر خارجہ تھا اور بوقت ضرورت خود ہی سفیر بھی بن کر چلا جاتا تھا تو کیش کی وصولی اور خرچ کسی اور کے ذمے تھی۔ اُن کی تفصیلوں کی تو یہاں گنجائش نہیں۔ لیکن ان اشاروں سے اتنا ضرور معلوم ہو چکا ہو گا کہ اُن ذہین قریشیوں نے ایک خاصا ترقی یافتہ دستورِ مملکت قائم کر لیا تھا، جس میں تمام ہی اہم اور بنیادی امور کا انتظام تھا۔ ایک نہیں دس گھرانوں میں نظم و نسق کی روایتیں اور تجارب پیدا ہو گئے تھے۔ ایک عالمگیر شہنشاہی کے ہونے والے مالکوں کو ضرورت بھی اِسی کی تھی۔
فوج کے سلسلے میں تو یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ غلاموں اور ملازموں کے ذریعہ سے ایک مستقل فوج قائمہ بھی ان کے ہاں قائم ہو گئی تھی، جو قومی جنگوں میں ہاتھ بٹاتی اور کاروانوں کے ساتھ حفاظت کے لیے بھی جایا آیا کرتی۔ عدالتی نظام کے سلسلے میں خاندان دار اور قبیلہ دار حکم بھی تھے خانہ کعبہ میں قرعہ و فال بھی تھا۔ موقتی ثالث بھی مقرر ہوتے تھے۔ لیکن ان سب کے علاوہ ایک رضاکار انصاف رسانوں کی جماعت بھی بن گئی تھی۔ اس حلف الفضول میں شریک ہونے والے یہ اقرار کرتے ہیں کہ حدودِ شہر میں کسی پر ظلم نہ ہونے دیں گے، چاہیے شہری پر ہو یا اجنبی مسافر پر اور اس وقت تک ظالم حق رسانی نہ کرے۔
سیاسی سلسلے میں مکے والوں نے آس پاس کے بہت سے قبائل سے حلیفیاں بھی قائم کر لی تھیں جو جنگی اہمیت بھی رکھتی تھیں اور تجارتی کاروانوں کو آنے جانے سے محفوظ رہ گزر بھی مہیا کرتی تھی اور اُن کی اپنی قوت بھی اتنی تھی کہ دور و دراز مثلاً مدینے کے قبائل ان سے حلیفی کی کوشش میں رہنے لگے تھے۔
کچھ تھوڑا سا خانوادہ داری تذکرہ پس منظر کے لیے مفید ہو گا۔ مکّے میں یوں تو ہزاروں کی آبادی تھی لیکن قبائلِ قریش کو وہاں سرداری حاصل تھی۔ ان میں دس قبیلے ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ وہ اور ان کے سردار تھے۔
ان میں سے مکّے پر قریش کے قبضے کے وقت اعلیٰ ترین سرداری قصّی کو حاصل ہو گئی تھی قصّی کے بعد اس کی اولاد میں عہدے بٹ گئے اور خانہ جنگیاں اور رقابتیں چھڑ گئیں۔ عہد نبویؐ کے آغاز پر عبد مناف کے خاندان میں سے بنی ہاشم اور بنی اُمیہ میں رقابتیں تھیں اور عبد المطلب کی وفات کے بعد ابو طالب کے افلاس وغیرہ نے بنی اُمیہ کا پہلو مضبوط تر کر دیا تھا۔ ابو سفیان جیسے پیدائشی لیڈر اور عثمان غنی جیسے کاروباری مہارت رکھنے والے اسی قبیلے میں تھے۔ خود پیغمبر اسلامؐ اگرچہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایک تو عبد المطلب کے بڑے بیٹے کے بڑے بیٹے یا اور طور پر جانشین نہ تھے۔ بلکہ یتیم پیدا ہوئے تھے، اور چچا نے پرورش کی تھی۔ یہ کہنا گستاخی کے لیے نہیں امر واقعہ کا اظہار کرنا ہے، کہ آنحضرتﷺ ایک جونیئر گھرانے کے جونیئر فرد تھے۔ آپﷺ کو نبی تسلیم کرنا بنی اُمیہ ہی کو نہیں خود بنی ہاشم کے سینیئر افراد کو گراں گزرتا تھا۔ ظالم چچا ابو لہب ہی نہیں بلکہ ہمدرد سر پرست چچا ابو طالب کو زندگی بھر اپنے سے چھوٹے کی یہ حیثیت تسلیم کرنا وقار کے خلاف ہی نظر آتا رہا۔ قریش کے دیگر قبائل میں بھی بڑی بڑی شخصیتیں تھیں قبیلہ مخروم میں ابولید بن المغیرہ اور اس کے فرزند حضرت خالد بن ولیدؓ نیز ولید کا بھتیجا ابو جہل زمانہ جاہلیت میں اتنی ممتاز حیثیت رکھتے کہ اس کا ذکر کیے بغیر چارہ نہیں۔ آنحضرتﷺ نے نبوت کا دعویٰ فرمایا تھا تو بروایت طبری چھوٹتے ہی قریش نے کہا کہ ولید اس کا زیادہ مستحق ہے، جو "ریحانۂ قریش” (قریش کا پھول) کہلاتا تھا۔ خالد اگرچہ کم عمر تھے۔ لیکن حضرت عمرؓ کا قول تھا کہ عورتیں خالد جیسا بچہ پھر جننے سے عاجز ہیں۔ ابو جہل زمانۂ جاہلیت میں اپنی قابلیت اور عمدہ رائے کے باعث "ابو الحکم” کہلاتا تھا۔ اور دار الندوہ کی پارلیمان میں جہاں چالیس برس کی عمر سے کم کوئی رکن نہ ہو سکتا تھا تیسں ہی برس کی عمر میں اسے بطور خاص نشست دے دی گئی تھی۔ خود داری اس میں ہٹ دھرمی بن گئی تھی۔ اس کی غربا پروری و فیاضی کے بھی افسانے ملتے ہیں۔ جیسا کہ ابن حبیب نے کتاب المنتمق وغیرہ میں بیان کیا ہے۔
ان سماجی رقابتوں کو ذہن میں رکھے بغیر آغازِ اسلام کے قریشی معاندین اور مخالفین اسلام کی نفسیات کا سمجھنا آسان نہ ہو گا۔
علمی حالات
مکّے میں لکھنے پڑھنے کا رواج بالکل نہ تھا۔ گنتی کے دس بارہ آدمیوں کو لکھنا آتا تھا۔ لیکن شعر و شاعری اور فصاحت و خطابت کے خوب چرچے تھے۔ وہ اپنے بچوں کو گھر میں رکھنے کی جگہ بدوی قبائل میں بھیج دیتے تھے۔ تاکہ ٹھیٹ عربی لہجہ اور خالص عربی زبان سیکھیں۔ یہ مکّے ہی کا قومی معبد کعبہ تھا جس میں لٹکانے کی عزت حاصل ہو تو کوئی قصیدہ معلقات میں شامل ہونے کی زندہ جاوید عزت حاصل کرتا۔ عکاظ کی سالانہ بین العرب موتمر ادبی گویا قریش ہی کی سرپرستی کی رہینِ منت تھی اور ادائے حج کعبہ پورے عرب زبان کو ایک بنانے اور قریشی علاقے کی بولی کو معیار اور ٹکسالی بنانے میں خاموش لیکن نہایت مؤثر حصہ لے رہے تھے۔ یہ قریش کی ادب نوازی ہی تھی کہ ان کو نہ تو یدِ بیضاء کے معجزے کی ضرورت تھی، اور نہ دم عیسیٰ کی۔ بلکہ تھی تو ایک ادبی شہ پارے کی۔ جسے سُن کر وہ جھومنے لگتے۔ اور جس کی تلاوت کو سننے کے لیے وہ باوجود اپنی ضرب المثل مخالفت کے چھُپ چھپ کر آتے۔
یہ ادبی ذوق لیکن نوشت و خواند سے اُمی محض ہونا نسل ہا نسل کی خصوصیت تھا۔ اسی لیے انھیں اپنے مطلب کی چیزیں خاص کر اپنے کاروباری حسابات اور قرض داروں کے نام اور رقمیں یاد رکھانے پر مجبور کر کے اُن کے حافظے کی قوت کو غیر معمولی طور پر مستحکم کر دیا تھا، جو ناگریز تھا۔ اس سے بعد کو قرآن و حدیث کے تحفظ کا خود بہ خود انتظام ہو گیا۔
معاشی حالات
وادیِ "غیر ذی زرع” کے باشندوں کے لیے تجارت کے سوا کیا چارۂ کار تھا۔ ان کے پاس صنعت و حرفت کے لیے خام مواد بھی بالکل نہ تھا۔ اس طرح یک سو ہو کر انھوں نے اپنی قابلیتوں کو تجارت پر مرتکز کر دیا تو نتائج اس زمانے کا خیال کرتے ہوئے حیرت ناک معلوم ہوتے ہیں۔
عرب ایک صحرائے اعظم تھا۔ باہر والے ان کے لق و دق ملک میں کیا آتے انھیں کو حاجت تھی کہ باہر جایا کریں۔ ہندوستان کے برابر بڑے اس صحرائی براعظم کی پوری داخلی و خارجی تجارت کو قریش ہی نے منظم کیا۔ اور اپنے کو اس کا مرکز و محور بنا دیا تھا۔
چنانچہ آنحضرتﷺ کے پردادا عمرو بن عبد مناف (جو اپنی غرباء پروری کے باعث ہاشم کے لقب سے مشہور ہیں) اتنے کاروان و کار برآر تھے کہ قیصر روم اور کسریٰ ایران اور نجاشی حبش اور اقبال یمن سے ایلاف یعنی "منشور تجارت” حاصل کر لیے تھے کہ ان ممالک کو بے کھٹکے کاروان لایا اور لے جایا کریں، مکّے سے عراق نیز عمان (جہاں سے مختصر بحری راستے سے بلوچستان و سندھ اور ہندوستان کے ساتھ اتصال ہو جاتا ہے) ایک طرف فلسطین و شام و عراق، دوسری طرف مصر، تیسری طرف حبشہ، چوتھی طرف یمن اور پانچویں طرف سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں میل کی مسافت پر واقع ہیں ششماہی "رحلہ الشتاء و الصیف” آج چودھویں صدی کے نصف دوم میں بھی تصور کے ساتھ رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ مگر قریشی تاجر برابر جاتا تھا۔ سفر کی مسافت اور راستے کے خور و نوش اور تکان سے بڑھ کر گزرگاہ کے لٹیرے خود مختار فاقہ مست قبائل سے سر برارا ہونا تھا۔ اس کے لیے ان کا حیرت زا نظام حلیفی و خفارہ (یا بدرقہ) وجود میں کیا آیا تھا کہ عرب کے کسی شخص کو بھی تجارتی سامان لے کر حجاز، نجد وغیرہ کے وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے مصری قبائل کی سرزمین سے گزرنا پڑتا تھا تو قریشی بدرقے حاصل کرتا۔ قریش کی طئی اور کلب قبائل سے حلیفی تھی جو شمالی عرب میں خیبر اور دومۃ الجندل کے اہم رقبے پر چھائے ہوئے تھے اور یہیں سے عراق، شام اور مصر کو راستے پھوٹتے تھے۔ بنی عمرو بن مرشد سے دوستی کی بنا پر قبائل ربیعہ کی سرزمین قریش کے لیے محفوظ تھی، جس سے بحرین و عمان یعنی پورے مشرقی عرب کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گئی تھی۔ حتیٰ کہ اگر کسی کو بحرین کے سُوقِ مشقر جانا ہو تو قریشی خفارہ ہی حاصل کیا جاتا۔ جنوبی عرب میں مہرہ اور خضر موت کے علاقے ہیں۔ سُوق مہرہ جانا ہوتا تو بنی مخارب کا بدرقہ حاصل کیا جاتا، خضر موت کے سُوق را بیہ جانے کے لیے قریشی قبیلہ۔ آل کل المرار کا خفارہ حاصل کرتے اور دیگر لوگ کندہ کے آلِ مسروق کا لیکن قریشی سر پرستی کے باعث آکل المرار کو اپنے حریفوں پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ غرض عرب کا شمال، جنوب مشرق، مغرب اور وسط ہر حصہ قریشی ایلاف کی زنجیروں سے جکڑ گیا تھا۔ ان کے میلے اور ان کے کاروان جتنے مفید ثابت ہوئے اُن کو قرآن نے دو معجز نما لفظوں میں یوں یاد دلایا ہے۔ کہ اَطْعمہم مُن جُوع و اٰمَنَہُم مِن خوف (فاقے کی جگہ کھانا اور خوف کی جگہ امن) اس نے قریش کو پورے عرب میں ایک مرکزیت و مرجعیت دے دی ہو اور حج کعبہ و عرفات کے لیے عرب کے اِنتہائی کونوں سے لوگ ہر سال آیا کرتے ہوں تو کیوں حیرت ہو۔[1]
مذہبی حالات
مکّے والے بُت پرست بن گئے تھے۔ لیکن وہ بتوں کو خدا نہیں بلکہ خدا کے پاس (جو واحد اور خالق السماوات و الارض تسلیم کیا جاتا تھا) سفارشی سمجھتے تھے اسی لیے بُتوں کے بارے میں ان کے ہاں بڑی رواداری نظر آتی ہے۔ نہ صرف اُن کے اپنے شہر ہی کا بُت ہبل کعبے کے پاس تھا، بلکہ جملہ قبائل عرب کے تین سو ساٹھ بت کعبے کے اطراف تھے، نیز صفا و مروہ پر خود کعبے کی کوٹھڑی کے اندر علاوہ دیگر تصاویر و اصنام کے حضرت ابراہیمؑ ہی نہیں حضرت عیسیٰؑ اور بی بی مریم کی تصویریں بھی تھیں، جو عیسائی مذہب سے روادارانہ سلوک ظاہر کرتی تھیں۔ ایک ہی گھر میں کوئی بت پرست ہوتا تو کوئی نصرانی اور کوئی دہریہ لا مذہب (جس کی تفصیلیں معارف ابن قیتبہ وغیرہ میں ملتی ہیں۔ نیز ارزقی کی تاریخِ مکہ میں) ۔
بُت پرستی کے علاوہ وہ سالانہ حج کا مذہبی تہوار بھی مناتے۔ جس میں طواف کعبہ اور وقوف عرفات کے علاوہ اور طرح طرح کی رسمیں انجام پاتیں۔
معاد (مذہب) و معاش میں ہر ملک اور ہر زمانے میں جو قریبی تعلق رہا ہے اس کا مظاہرہ ہم دیکھتے ہیں کہ حج کے موقع پر ایک بین العرب عظیم الشان تجارتی میلہ لگتا ہے۔ حج کے مہینے (ذی الحجہ) ہی میں نہیں بلکہ اس سے ایک مہینہ پہلے اور ایک مہینہ بعد پورے تین مہینے "حرام مہینے” کہلاتے، جس میں قتل و خونریزی حرام تھی۔ حتیٰ کہ قاتل سے انتقام تک اس زمانے میں نہیں لیا جا سکتا۔ تجارتی کاروانوں کو عرب کے بعید ترین گوشوں سے ذی الحجہ کے میلوں کے لیے آنے اور وطن واپس جانے کے لیے تین مہینوں کے اس پُر امن زمانے کے سوا اور کیا مطلوب ہو سکتا تھا۔ اس طویل پُر امن زمانے کے وسط میں جو تہوار اور میلے پڑتے ہوں اُن کی مرکزیت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے؟
اَخلاق و عادات
مکّے والے اسلام سے عین ماقبل زمانے میں زندہ قوموں کی جملہ مطلوبہ صفتوں میں اعلیٰ ترین مراتب پر فائز تھے۔ وہ فیاض تھے، بہادر تھے، مہمات پسند اور دُور دُور کے سفروں کے شائق و عادی تھے۔ امانت و دیانت کی ان کے ہاں بڑی قدر تھی۔ بات کا پاس تھا۔ غرض ہر چیز تھی لیکن ان پر ایک غلاف چڑھا ہوا تھا۔ توانائیاں تھیں لیکن مرکز گریز اس لیے بے اثر تھیں۔ جان لینے یا دینے میں باک نہ تھا لیکن بے اُصول طور پر۔ اس لیے یہ خصوصیت بے سود ثابت ہو رہی تھی۔ دھُن کے پکے اور استقلال کے پتُلے تھے۔ لیکن کوئی مقصد و مطمح نظر سامنے نہ تھا۔ جس کی تکمیل انھیں عالم انسانیت میں کوئی مرتبہ دلاتی۔ بہادری تھی تو خانہ جنگیوں میں غیرت و خود داری تھی تو لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے میں، فیاضی تھی تو بے اُصول اور زیادہ تر مالداروں کی باہمی ضیافتوں میں، ادبی ذوق تھا تو عیاشی کی غزلیات میں، غرض اعلیٰ سے اعلیٰ ادنیٰ ترین مقاصد کے حصول میں لگا ہوا تھا۔ شیر کی قوت خرگوش کے شکار میں ضائع ہو رہی تھی اور قریش جانور کی طرح پیدا ہوتے اور کھاتے پیتے، زندگی گزار کر جانور ہی کی طرح ختم ہو جاتے۔ اور دنیائے انسانیت میں ان کے مرنے کا نہ کسی کو افسوس ہوتا اور نہ خبر۔
اِسلام نے جو کچھ کیا وہ ان ہی صلاحیتوں کو اُجاگر اور منظم کرنا تھا۔ اور (دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہو کر اللہ ہی کا بول بالا ہو جائے) کا مطمحِ نظر ان کو دے دینا تھا۔ ماسوا اللہ کی اُلوہیتوں کا خاتمہ اور امن چین کا دور دورہ پوری دنیا میں (صرف مکّہ یا عرب ہی میں نہیں) کرایا جائے۔ اس مشن کو پورا کرنے کے لیے اس زمانے میں قریش سے بڑھ کر کوئی اور موزوں قوم پوری دنیا میں ناپید تھی۔
اب ہم دیکھیں گے کہ عبد اللہ کے یتیم و یسیر بیٹے محمدﷺ (ارواحنا فدہ) ہی کا اس غرض کے لیے کیوں انتخاب ہونا تھا۔
ختم المرسلینی کے لیے آپؐ کے انتخاب کی وجہ
یوں تو کارِ ساز عالم اپنی مخلوق میں سے جس سے جو چاہے کام لے سکتا تھا۔ اُس کی قدرت کی کوئی حد نہیں، اور اس کی مشیت پر کسی کا بس نہیں۔ لیکن اس نے اپنی ہی مرضی سے جب ہماری زمینی دُنیا کو عالم اسباب قرار دے دیا ہے تو کوئی بات بے سبب نہیں ہونی چاہیے۔ چاہے ہماری نظر ہر صورت میں حقیقی سبب کو معلوم کرنے سے قاصر کیوں نہ رہے۔
مباحث بالا سے یہ تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ کسی عالمگیر تحریک کے لیے عرب سب سے موزوں مقام تھا اور عرب میں بھی حجاز اور حجاز میں مکہ۔
مکّہ میں قریش[2] کی سرداری اور سر برآوردہ حیثیت مسلّم تھی۔ لیکن ماہرین عمرانیات کا سر استقراء و استنباط ہے کہ مسلسل کئی نسلوں تک کوئی سرداری کرے تو زمین کی قوت نمو کی طرح انسانوں کی نئی نسل بھی اپنے بہت سے جوہر ختم کر چکتی ہے۔ آنحضرتﷺ کے دادا عبد المطلب بے شک سردار تھے۔ لیکن آنحضرتﷺ کے والد عبد اللہ کا انتقال اپنے بوڑھے باپ کی موجودگی ہی میں ہو گیا تھا اور عبد اللہ کو اپنی وفات کے بعد اپنی حاملہ بیوی سے جو بچہ پیدا ہوا اس کے لیے امارت و حکومت اور سرداری کا بظاہر حالات کوئی امکان نہ تھا۔ اوّل تو دولت، معاملہ فہمی وغیرہ کی بناء پر عبد المطلب کے بعد قریش کے مختلف گھرانوں خاص کر بنی اُمیہ میں سرداری بٹ گئی تھی۔ اور خود بنی ہاشم و بنی مطلب کی سرداری بھی چھوٹے بیٹے عبد اللہ کو نہیں مل سکتی تھی اور نہ ملی ہی تھی جو اُن کے اکلوتے یتیم کو وراثت میں ملتی۔ آنحضرتﷺ کی وِلادت کے چند ہی سال بعد جب عبد المطلب کی وفات ہوئی تو ابو طالب بزرگِ خاندان ہے۔ ان میں دل کی خوبیاں چاہے جتنی بھی رہی ہوں، کاروباری سلیقہ اتنا نہ تھا کہ اپنی سرداری کے لیے اپنی دولت کو اپنا مددگار بنا سکتے۔ ابو طالب کے بعد اُن کے بچوں میں دل کی خوبیاں بھی اتنی نہ تھیں کہ بے رحم چچا ابو لہب کو سردار بننے سے روکتیں۔ آنحضرتﷺ ہجرت پر مجبور ہوئے تو عقیل بن ابی طالب نے آنحضرت (بی بی خدیجہؓ) کا مکان تک بیچ کھانے میں باک نہ کیا تھا۔
غرض سرداری کا خون تو رگوں میں ہو لیکن سرداری کا کوئی امکان نہ رہے تو متاخر پشتوں کے ایسے شخص میں سرداری کی خوبیاں تو بہت سی ہوتی ہیں، لیکن موروثی سرداری کی برائیاں یعنی غرور، جلد بازی، آرام پسندی، نا تجربہ کاری وغیرہ نہیں ہوتیں۔ ورنہ ہونے والے جانشین کو ماں باپ کا لاڈ پیار، ماحول کی خوشامد و ناز برداری وغیرہ بگڑنے سے بہت کم باز رکھ سکتی ہیں اور ایک جونیئر گھرانے کا جونیئر فردہی پورے خانوادے کا چشم و چراغ ہو سکتا تھا۔
یہ خصوصیت دوسرے افراد میں پائی جاتی تھی۔ اب یتیم پیدائش نے رہا سہا غرور اور لاڈ پیار ختم کر دیا ہو گا۔ پھر خاندانی رواج نے ماں کی محبت و توجہ تک سے محروم کر دیا اور کئی سال تک ایک اجنبی دودھ پلائی کے ساتھ اجنبی ماحول میں خالص صحرا کی بدوی زندگی نصیب ہوئی۔ بی بی حلیمہ کا گھرانہ خود غریب تھا۔ وہاں سوائے اپنی مدد آپ کرنے اور سب کا ہاتھ بٹایا کرنے کے سوا کیا امکان تھا۔ بدویوں کے خانہ بدوش ماحول سے زیادہ کون سی چیز انسان کو "وطن ہے سارا جہاں ہمارا” کی تربیت بچپن کے تاثر پذیر دور میں دے سکتی ہے۔ جب کوئی گھر نہ ہو حتیٰ کہ کوئی مستقل سرزمین بھی اپنی نہ ہو جہاں خدا کا فضل نظر آیا اور پانی، چارہ موجود ملا خیمے ڈال پڑے اور موسموں کی گردش نے وہ جگہ بے سود بنا دی تو خیمے اُکھیڑ پھر خدا کے وسیع ملک میں کسی اور بہتر (گو پھر بھی عارضی) رہائش گاہ کی تلاش میں چل پڑے۔ یہ بدوی زندگی ہے۔ سالہا سال تک ایسی متوکلانہ زندگی عادت کر لینے کے بعد جب گھر آنا پڑا تو دیکھتے کے دیکھتے ماں اور دادا کی مہر و شفقت بھی خدا کی مشیت نے ختم کرا دی اور کثیر العیال چچا کے گھر جا رہنا پڑا۔ ایسے فرد میں سرداری کے غرور خود نمائی کے آنے کا کیا امکان رہ جاتا ہے۔
پھر آنحضرتﷺ کا رشتہ ننھیال کی طرف سے مدینے والوں سے تھا اور مامووں کی طرف سے رشتہ طائف والوں سے۔ مکہ، مدینہ، طائف، فطری و انسانی ہر جہت سے باہم اِنتہائی مختلف حیثیتیں رکھنے والی ان تینوں بستیوں سے یکساں تعلق رکھنے کی وجہ سے مقامی وطنیت کی جگہ خود بخود عالمگیر وطنیت کی طرف آپؐ کو مائل ہونا پڑا ہو گا اور کسی عالمگیر رہنما کے لیے اسی کی ضرورت تھی۔
وطن آنے پر نوعمری میں چرواہا گری سے سابقہ رہا۔ بے زبان اور مسکین بھیڑ بکریوں کی خدمت جہاں چوکسی، فرض شناسی، پابندیِ اوقات، نرمی اور محنت و مشقت سکھلاتی ہے وہیں خدمت گار میں "سید القوم خادمہم” کے بمصداق رہنمائی و سرداری کے حقیقی اوصاف پیدا کر دیتی ہے۔
چرواہا گری ختم ہوئی تو تجارت کرنی پڑی۔ یہاں بھی گاہکوں کی مزاج شناسی و مزاج داری، امانت و دیانت، محنت وغیرہ سے سابقہ تھا۔ جس کے بغیر تجارت چل نہیں سکتی اور سب متفق ہیں کہ آپ بہت اچھے تاجر تھے۔ پھر جلد ہی کاروانی تجارت میں حصہ لینا پڑا۔ فلسطین، یمن اور عمان جیسے شمالی جنوبی اور مشرقی کالے کوسوں دور علاقوں کا سفر کرنا اور رومی، ایرانی اور حمیری علاقوں کے انتظامات سے عہدہ برآ ہونا پڑا تھا۔ اور بعض معقول استنباطات صحیح ہوں تو حبش اور بحری سفر سے بھی آپ کو سابقہ رہا ہو گا۔ ایسے جہاں دیدہ اور تجربہ کار شخص ہی کو چالیس سال کی پختہ عمر میں سرداری کے فرائض سپرد کیے جائیں تو اور کسی کے مقابلہ میں بہتر ہو سکتا ہے۔
تربیت انسان کے لیے صیقل کا کام دیتی ہے اور جوہر نکھار دیتی ہے دیکھنا اب یہ ہے کہ آپ میں فطری جوہر کیا تھا۔
ہر محتاج کو مدد دینا، حق رسانی میں پیش پیش لیکن حق طلبی میں سب سے پیچھے رہنا، (جیسا کہ آپ کے شرکاء تجارت کی شہادت ہے) سادگی پسند، ملنسار، مخلص، فیاض، محنتی، فرض شناس، پابندِ وقت، غرض فطرت نے مکارم اخلاق کا آپؐ کو وافر حصہ دیا تھا۔ یہ چیزیں بچپن ہی سے آپؐ میں نظر آتی تھیں۔ اور مذکورۂ بالا شدائد و مصائب نے ان کو اتنا مجلّا کر دیا تھا کہ نبوت سے پہلے ایک طرف زبان خلق آپﷺ کو الامین کا خطاب دلا کر آپﷺ کی سرداری کو معنوی طور سے تسلیم کرتی ہے تو بقول ابو طالب:
ترجمہ: "وہ گورا چٹا جس کے روئے انور کا واسطہ دے کر بارش کی دُعا مانگی جاتی تھی اور جو یتیموں اور بیواؤں کا ملجا و ماویٰ تھا۔ کہہ کر آپ کی انسانی خوبیوں اور فطری و صفوں کی شہادت دی جاتی ہے فرداً فرداً ایسے اوصاف اوروں میں بھی ہو سکتے ہیں اور رہے ہوں گے۔ لیکن ان سب کا اجتماع کسی اور میں نہ تھا اور ضرورت اس اجتماع کی تھی، جس کے بعد عالمگیر و دائمی نبوت کی خدمت پر مامور کیا جا سکتا تھا۔”
ولادت با سعادت
ہمارے اس عالمِ اسباب میں عمل ہی کسی کو چھوٹا یا بڑا بناتا ہے۔ سکندر و افلاطون کے بچوں سے کوئی واقف نہیں اور نہ سیزر و ارسطو کے والدین سے حقیقی عظمت کا آغاز اکثر غیر متوقع حلقوں ہی سے ہوتا ہے۔
عام حالتوں میں ہم عصر معتقدین و واقفین کی قدر نا شناسی سے ایک ہی دو نسلوں میں قیمتی معلومات ہمیشہ کے لیے کم ہو جاتے ہیں۔ رسول کریمﷺ کے متعلق اُمی عرب میں کون جانتا تھا کہ آپﷺ رحمتِ عالم ہونے والے ہیں۔ آپؐ کی نبوی زندگی کا آغاز بھی چالیس سال کی پختہ عمر میں ہوتا ہے۔ جب کہ آپﷺ کے بچپن کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور واقف لوگوں میں سے بہت سے ختم ہو گئے تھے۔ ہم عمروں کو بچپن کی باتیں کتنی یاد رہ سکتی ہیں؟ پھر ہمیں قلم و کاغذ سے قطعاً ناآشنا ملک سے سابقہ ہے۔ خاندانی ڈائریوں اور دوستوں کے روزنامچوں کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔
بہرحال ۵۳ ق ھ کا واقعہ ہے (جسے عموماً ۵۷۰ء کے اور کبھی کبھی ا۵۷ء کے مطابق سمجھا جاتا ہے) کہ سرکارِ دو عالم کی تشریف آوری سے دنیا کو سرفرازی حاصل ہوئی۔ آپ محمل ہی میں تھے کہ باپ یتیم کر گئے۔ ماں سسرال ہی میں مقیم رہیں۔
صحیح تاریخِ ولادت کے متعلق بڑا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ہماری ضرورتوں کے لیے اس کو کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ سُنّی مسلمانوں میں یوم ولادت ربیع الاوّل کی بارھویں کو منایا جاتا ہے۔
یہ زمانہ سچ مچ عالمِ آشوب تھا۔ خدا کو اپنے بندوں پر رحم آیا اور ایک رحمۃ للعالمین پیدا کیا گیا، جو اُن کو درندگی اور شیطنت سے نکالے اور انسان اور خدا کا سچا بندہ بننا سکھائے۔ آپؐ کے بچپن کے حالات اپنے ہم شہریوں ہی کی طرح گزرے ہوں گے اور کسی بچے سے کارنامے ہو بھی کون سے سکتے ہیں۔
شرفاء مکہ میں روج تھا (جو آج بھی وہاں بڑے گھرانوں میں برقرار ہے) کہ بچہ کسی صحرا نشین دودھ پلائی کے سپرد کر دیا جائے اور کئی سال تک جنگل کی کھلی اور آزاد فضا میں پرورش پانے کے بعد گھر واپس ہو۔ یقیناً بچے کو دکھانے کے بہانے لیکن درحقیقت کچھ انعام و امداد حاصل کرنے ہر چند ماہ میں دو چار دن کے لیے دودھ پلائی کے ساتھ ماں کے پاس واپس آتا ہو گا۔
تاریخ اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺ کو بھی یہی پیش آیا[3]اور آپؐ کو دودھ شریک کے طور پر ایک بھائی ضمرہ کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ حلیمہ سعدیہ ایک حلیم الطبع بدون تھیں۔ زیادہ حریص و طماع نہ تھیں اور قناعت پسند، ملنسار اور با محبت تھیں۔ غریب اور بے وسیلہ بھی تھیں۔ بہرحال یہ جانتے ہوئے بھی بچے کو لے لیا کہ بچے کا باپ نہیں ہے، جو دودھ پلائی کی ناز برداریاں کرے۔ اور دادا اگرچہ وجاہت رکھتا ہے لیکن ایک درجن بیٹوں اور اُن کی کثیر ذُریّت کی پرورش کا ذمہ دار ہونے سے اس پوتے پر واجبی ہی خرچ کر سکتا ہے۔
تاریخیں تو تفصیل نہیں دیتیں لیکن ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ایک بدون کی کس طرح گزرتی ہو گی۔ سال کے مختلف حصوں میں مختلف مقاموں پر خیمہ زنی، دن بھر بچوں کا اُونٹ بکریاں چرانا، یا خیمے کے آس پاس آپس میں کھیلنا، عورتوں کا لکڑیاں جمع کرنا، اُون کا تنا، کبھی صرف کھجور اور دودھ پر قناعت کرنا اور کبھی گوشت ترکاری پکانا، اور اسی طرح کی چند سادہ ضرورتیں رکھنا۔
سیرت کی کتابوں میں اس زمانے کے صرف دو ایک ہی واقعے درج ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آنحضرتﷺ اپنی رضاعی ماں کا صرف ایک طرف کا دودھ پیتے تھے اور ماں دوسری طرف سے پلانا بھی چاہتی تو نہ پیتے کہ وہ بھائی کا حصہ ہے۔ دوسرا واقعہ یہ کہ جب آپؐ ذرا اور بڑے ہوئے تو نہ معلوم کس بات پر مچل کر ایک مرتبہ اپنی بڑی دودھ بہن شیماء کو جو آپ کو کھلایا کرتی تھیں کچھ اس زور سے کاٹا کہ ان کے کندھے پر عمر بھر اس کا نشان رہ گیا۔ (اور اتفاقاتِ زمانہ نے اسے شیماء کے حق میں ہی مفید ثابت کیا) ہونہار اور تیز بچوں کی بے قرار طبیعتیں نو عمری میں اس طرح کی معصوم شرارتوں کے سوا اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ صحرا کی زندگی سے محنت پسندی کی عادت ہونے کے باوجود آپؐ کی صحت نازک ہی رہی اور خاص کر جب شہر کو آتے تو بیمار ہو جاتے اور دوبارہ جنگل کو جانے پر بھی سنبھلنے میں عرصہ لگتا چنانچہ دودھ پلائی کے ساتھ بسر کرنے کی مدت اسی لیے معمول سے بہت زیادہ رہی۔
بہرحال جب شہر واپس تشریف لائے تو جلدی ہی ماں آپؐ کو اور خادمہ اُم ایمن کو بھی مدینہ ساتھ لے گئیں۔ جہاں بنی النجار کی بستی میں آپ کا ننھیال تھا۔ یہ سفر ممکن ہے کہ شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے ہو، سکونت بھی اُسی مکان میں رہی جہاں آنحضرتﷺ کے باپ کی قبر تھی۔ (اور یہ اب ۱۳۶۹ ھ تک مسجد نبوی کے مغرب میں چند منٹ کے فاصلہ پر موجود ہے) مکہ تو وادیِ غیر ذی زرع ہے۔ وہاں پانی کہاں؟ مدینے کی شاداب بستی میں بڑے بڑے کنویں تھے۔ چنانچہ آپؐ نے یہاں پیراکی اچھی سیکھ لی۔ غالباً یہ گرمی کا زمانہ ہو گا ابن سعد کے مطابق آنحضرتؐ بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ زیادہ یاد ہے۔ بنی النجار کے اُطم (گڑھی) کے سامنے ہم کھیلا کرتے۔ اُطم پر کوئی چڑیا آ کر بیٹھتی تو اُسے اُڑانا ہمارا دلچسپ مشغلہ تھا۔ ہم عمروں میں اُنیسہ نامی ایک لڑکی بھی کھیل میں شریک رہا کرتی۔” جب مہینہ بھر قیام کے بعد واپس ہونے لگے تو ماں کے ساتھ آپؐ نابغہ سے بھی راستے میں ملے اور اُسی کے خیمے میں اُترے (معلوم نہیں یہ قبائل انصار کا کوئی رشتہ دار فرد تھا یا مشہور شاعر) آخر الذکر نے (بروایت ابن حبیب) جاہلیت میں بھی شراب نوشی ترک کر رکھی تھی۔ اگر وہی تھا تو ایسے کردار والے نے کم سن مہمان پر اچھا ہی اثر چھوڑا ہو گا۔ گو بقول ابن سعد مدینے ہی میں نابغہ کے گھر میں قیام رہا تھا۔ اُس وقت آپؐ کی عمر چھ سال کی بیان کی جاتی ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا گھر یلو واقعہ بیان کرتے چلیں۔ بعد کی زندگی میں رسول اکرم کو یاد تھا کہ آپؐ کی والدہ سوکھا گوشت (قدید) کھایا کرتی تھیں کہ تازہ ہر روز کہاں ملتا۔ کفایت شعاری اور سلیقہ مندی ہی ہو گی کہ قربانی، تحفے وغیرہ موقع کا گوشت محفوظ کرتی تھیں۔
مدینے سے واپس ہو رہے تھے کہ اثنائے راہ ابواء کے مقام پر والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔ ماں کو اپنے اکلوتے اور یتیم بچے سے جو اُنس ہو گا وہ ظاہر ہے۔ آپؐ کو بھی اپنی والدہ سے اپن کی شفقت اور اپنی سعادت مندی کے باعث محبت تھی۔ اس نوعمری میں یہ دائمی جدائی جتنی جگر پاش ہو گی ظاہر ہے۔ چنانچہ بڑی عمر میں جب کبھی آپؐ کو ابواء سے گزرنے کا موقع ہوتا تو آپؐ ماں کی قبر پر بھی ضرور حاضری دیتے اور آپؐ کا دل بھر آتا۔ جب کسی نہ کسی طرح گھر مکہ واپس پہنچے تو ایک سو آٹھ سال کی عمر کے بوڑھے دادا کے سوا اور کس کے ہاں آپ رہ سکتے تھے۔ دادا کو اپنے سب سے زیادہ چہیتے بیٹے کی یتیم و یسیر اور واحد یادگار سے یوں بھی محبت ہونی چاہیے۔ پھر آپؐ کی سعادت مندی اور اطاعت شعاری اور مستعدی و ذہانت وغیرہ نے سونے پر سہاگہ کر دیا تھا اور درونِ خانہ کی بے تکلف زندگی ہی میں نہیں، سنجیدہ شہر دارا نہ محفلوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب دادا قبیلے کے اہل رائے لوگوں کے ساتھ ہم بزم ہوتے اور سرداری اور حاکم عدالت یا پنچ کی حیثیت سے اُن کے لیے مسند بچھائی جاتی تو اس وقت بھی لاڈلا ہوتا ساتھ رہتا اور مسند ہی پر اپنے لیے جگہ چاہتا۔ لوگ منع کرتے اور کسی کونے میں بیٹھنے کو کہتے۔ لیکن دادا فوراً دخل دے کر اپنے بازو بلا لیتے اور بتاتے کہ "بچے میں خود شناسی کا نادر وصف ہے اور وہ اپنے آپ کو بزرگ سمجھتا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ بہت بڑے مرتبے والا ہو گا”۔ آپ کا ادب تمیز محفل میں پھر کوئی شکایت کا باعث نہ بنتا۔
دادا کو یہاں تک محبت تھی کہ کہتے ہیں ایک مرتبہ خشک سالی میں اپنے اس پوتے کی خوبیوں کا واسطہ دے کر خدا سے بارش کے لیے گڑگڑا گڑگڑا کر اِلتجا بھی کی تھی۔ بروایت ابن سعد وہ تنہا کھانا نہیں کھاتے تھے اور پوتے کو بلانے کا حکم دیتے تھے۔ (طبقات ۷۴)
دادا کی شفقت و تربیت کو مشکل سے دو سال گزرے تھے کہ قدرت کو اِس کو آٹھ سالہ دل و دماغ پر ایک اور صدمہ پہنچانا منظور ہوا۔ اب ہشام وغیرہ نے لکھا ہے کہ آپؐ دادا کے جنازے کے پیچھے روتے جاتے تھے۔ عبد المطلب نے بستر مرگ پر فیاض و فراخ حوصلہ بیٹے ابو طالب کو وصیت کی تھی کہ اپنے حقیقی مرحوم بھائی عبد اللہ کی یادگار کو اپنی کفالت میں لے لیں اور پوری خبر گیری کریں۔ نئے سر پرست چچا ابو طالب کا دل تو فراخ تھا لیکن کثیر العیال ہونے سے ہاتھ تنگ تھا۔ پھر بھی وہ اپنے عزیز بھائی کی واحد یادگار کو اس محبت و شفقت سے اپنے گھر لے جاتے ہیں کہ اس کا غم غلط ہو جاتا ہے اور ناخواندہ مہمان کی جو تکلیفیں ایسی صورتوں میں ہوتی ہیں پیش نہیں آتیں۔ آنحضرتؐ کام سے پیچھے نہ ہٹتے تھے اور جب چچا کے گھر کی حالت دیکھی تو اس میں ذرا بھی عار محسوس نہ کی کہ اپنی بساط بھر روزی کمانے میں ہاتھ بٹائیں۔ چنانچہ آپؐ شہر والوں کی بکریوں کو چرانے لے جاتے تھے اور مقررہ خفیف اُجرت حاصل کرتے تھے۔ بکریوں کے گلّے کی چوپانی سے شفقت، چوکسی اور حکومت کی تربیت ملی گئی۔ ایک مرتبہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ اراک کے وہ پھل کھاؤ جو سیاہ ہو چکے ہوں۔ چوپانی کرتے وقت میں بھی کھایا کرتا تھا۔(ابن سعد ۱/۱- ۸)
مکّہ ایک تجارتی شہر تھا۔ شہر میں مالدار بھی تھے اور وقتاً فوقتاً ان کی خانگی تقریبیں شہر میں چہل پہل پیدا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی ایسی ہی تقریب میں گانے بجانے کا بھی انتظام ہوا تھا، جو کسی قدر نادر موقع کہا جا سکتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے اپنے ایک ہم کار چرواہے لڑکے سے انتظام کیا کہ وہ ایک دن کے لیے دونوں گلّوں کی رکھوالی کرے (یقیناً دوسرے مواقع پر آنحضرتؐ نے بھی اس طرح ان رفقاء کا کام کیا ہو گا) اور یہ کہ آپﷺ شہر جا کر گانا سُنیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ گرمی کے دن تھے اور جب آپؐ شہر پہنچے تو ابھی تقریب کو شروع ہونے میں دیر تھی۔ آپؐ تقریب گاہ کے باہر سائے میں انتظار میں بیٹھے تو غنودگی سے آنکھ لگ گئی اور جب بیدار ہوئے تو بعد از وقت تھا۔ اس قدرتی سزا کا آپؐ کے حساس اور غیور دل پر بڑا اثر ہوا اور پھر کبھی اس طرح فرض کی نظر اندازی اور بے سُود دل بہلائی سے جی نہ بہلانے کا عہد کر لیا۔
نوعمری
متفرقات
بی بی آمنہ نے اپنے شوہر عبد اللہ کی جوانامرگی پر جو دلدوز مرثیہ کہا تھا اس کے چند شعر نووی ابن سعد (۱/۱-۶۲) وغیرہ مؤلفوں نے محفوظ کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ کریمﷺ کے گھرانے کے مرد ہی نہیں عورتیں بھی ذہنی حیثیت سے کتنا ممتاز اور بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔
بی بی آمنہ نے اپنے مرتے وقت بھی کہتے ہیں کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر چند اشعار پڑھے جو تاریخوں نے نقل کیے ہیں۔ مگر ان کی زبان بعد کے زمانے کی معلوم ہوتی ہے۔ بی بی آمنہ کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ عسرت سے زندگی گزارتی تھیں۔ چنانچہ سوکھے گوشت کے کباب کھایا کرنا خود آنحضرتﷺ سے مروی ہے۔ آنحضرتﷺ کی لوری بھی مشہور ہے جو بی بی حلیمہ دیا کرتی تھیں:
یا رب اذا اعطیتہ فابغہ
واعلمہ الى العلى وارقہ
وادحض اباطیل العدىٰ بحقہ
ایک لوری آپؐ کو جو دودھ (شریک) بہن شیماء سے (جو عمر میں آپؐ سے بڑی تھیں اور آپؐ کو کھلایا کرتی تھیں منسوب سیرۃ حلبیہ میں منقول ہوئی ہے۔ مگر اس کے مندرجات عام بچوں پر صادق نہیں آتے ہیں۔ خاص آنحضرتﷺ سے مخصوص معلوم ہوتے ہیں۔ اور ایک جاہل بدوی نوعمر لڑکی سے ایسی لوری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنے گھر کی مروّجہ لوریاں ہی سُنا سکتی تھیں۔
بی بی حلیمہ کی بدویانہ زندگی میں آس پاس کے میلوں کو جایا کرنا عادتی بات ہو گی۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کبھی نوعمری میں سوق عکاظ میں بی بی حلیمہ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ عکاظ میں خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، شعر بازی بھی، کشتی کا دنگل بھی لگتا تھا۔ غیب داں نجومیوں کی دکانیں بھی سجتی تھیں۔ بی بی حلیمہ بھی ایک ہذلی عرّاف (غیب داں) کے پاس دل بہلانے پہنچیں۔ وہ بچوں کا زائچہ بتانے سے اختصاص رکھتا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس نے کچھ واہی تباہی باتیں کی ہوں گی۔ آپؐ کو سات برس کی عمر میں آنکھوں میں تکلیف اور سخت آشوب چشم کا بھی ایک بار پتہ چلتا ہے اور لکھا ہے کہ مکہ میں علاج ناکام رہا تو لوگوں کے مشورے سے آپؐ کے دادا عبد المطلب آپ کو عکاظ لے گئے، جہاں قریب میں ایک عیسائی خانقاہ تھی۔ وہاں کے راہب نے آنحضرتﷺ کے لیے علاج کا نسخہ تجویز کیا تھا (جیسا کہ ابو الجوزی نے لکھا ہے) قفطی نے اخبار الحکماء میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو بھیج کر حارث بن کلدہ نامی طبیب کو مکّے میں اپنے علاج کے لیے بلایا تھا۔ معلوم نہیں کس زمانے کا ذکر ہے۔
نوعمری میں آپؐ اتنے ذہین تھے کہ کبھی دادا وغیرہ بزرگ کوئی چیز گھر میں کھو دیتے اور آپؐ کو ڈھونڈ لانے کے لیے کہتے تھے کبھی آپؐ خالی ہاتھ واپسی نہ آتے۔ ایک دفعہ عبد المطلب کے کچھ اُونٹ کھو گئے۔ بہت کچھ ملازموں سے تلاش کے بعد دادا نے آپؐ کو بھیج دیا لیکن جب آپؐ کو واپسی میں دیر ہوئی تو پریشان ہوئے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے کہ سات آٹھ برس کے بچے کو کس کام پر بھیج دیا اور نہ معلوم اُسے پہاڑوں، وادیوں میں کیا اُفتاد پیش آئے۔ چنانچہ کعبے کا طواف کر کے خدا سے گڑگڑا کر آپؐ کی سلامتی کی دعا کی تھی اور کچھ دیر بعد آنحضرتﷺ نے آ کر اُونٹوں کے ملنے کی اطلاع پہنچائی تو بوڑھے دادا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور عہد کیا کہ آپؐ کو آئندہ ایسے کاموں پر نہیں بھیجیں گے۔
ابن حبیب نے کتاب المحبر میں لکھا ہے کہ عبد المطلب مکّے کے اُن چند لوگوں میں تھے جو شراب نہیں پیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے گھرانے میں پلنا نو عمروں کو تاثر پذیر عمر میں بہت سی برائیوں سے خود بخود ہی دُور رکھنے کا باعث تھا اور چچاؤں، پھوپھیوں وغیرہ کی مدہوش بد مستیوں سے جو بُری تربیت ہو سکتی تھی اُس سے آپؐ محفوظ رہے تھے۔
دادا کی وفات پر آپؐ کی عمر آٹھ سال کی بتائی جاتی ہے۔ پھر چچا ابو طالب نے آپؐ کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ اور ابو طالب کے ہمراہ پہلی مرتبہ آنحضرتﷺ کے سفر کا پتہ آپ کی نو سالہ عمر ہی میں چلتا ہے۔ آپؐ کے مچلنے اور اصرار کرنے ہی پر چچا آپؐ کو ساتھ لے گئے ہوں گے لیکن سعادت مند نو عمر جتنے چھوٹے چھوٹے بے شمار کام اپنی پھُرتی سے کر کے ہاتھ بٹاتے میں اس کے باعث ابو طالب کو آپؐ کے ساتھ لینے پر پچھتاوا نہیں ہوا ہو گا۔ اس سفر میں بحیراء راہب سے آنحضرتﷺ کی ملاقات بیان کی جاتی ہے۔
ابو طالب مکّے سے چل کر بصری پہنچے (جو بیت المقدس اور دمشق کے مابین اس زمانہ میں ایک اہم تجارتی منڈی اور کاروانی اسٹیشن تھا) یہ علاقہ چونکہ بیزنطینی رومیوں کے قبضے میں تھا اس لیے ہوشیار عیسائی پادریوں نے کوئی تعجب نہیں جو اسے مسیحی تبلیغ کے لیے تاک لیا ہو۔ اور یہاں خانقاہ اور راہب رہتے ہوں جو ہر نووارد غیر عیسائی سے تپاک سے ملتے اور ان میں اپنے مذہب کا پر چار کرتے ہوں۔ اوّل تو ایک نو برس کے بچے کی تعلیم و تلقین ہی کیا ہو سکتی ہے اور دوسرے اس زمانے میں عیسائیوں میں اتنی پھوٹ اور سر پھٹوّل ہو رہی تھی کہ راہبوں کا آس پاس کی مناظرہ بازی سے اجنبیوں میں تبلیغ کے لیے وقت نکالنا مشکل ہی تھا۔ یوں بھی بحیراہ راہب کا ابو طالب اور اُن کے ساتھیوں کو ضیافت پر مدعو کرنا اور کھانے کے بعد رخصت گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ کی صحبت نہیں رہی ہو گی اور زیادہ تر سالارِ کارواں اور معمر لوگوں ہی سے بات چیت ہو رہی ہو گی۔ گو سب سے کم سن مہمان پر بھی شفقت اور دو چار بچوں کی سمجھ کی باتیں بھی ناممکن نہیں ہیں۔ عرب مؤلفوں کا یہ بیان چاہے صحیح ہو یا نہ کہ بحیرا راہب نے قیافے سے پتہ چلا کر آنحضرتﷺ کے متعلق بیان کیا کہ آپؐ نبی بننے والے ہیں۔ لیکن کا سانوا وغیرہ عیسائی مؤلف یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں عیسائی دنیا میں یہ عام عقیدہ تھا کہ ایک مسیحا اور آخری نبی جلد مبعوث ہونے والا ہے اور سب لوگ اس کے انتظار میں تھے۔ ممکن ہے کہ بحیرا نے بھی اس کا ذکر کیا ہو۔ عیسائی عقیدہ بہرحال یہ نہیں تھا کہ مسیحا کی آمد حجاز میں ہو گی۔ ان حالات میں بحیرا کی گفتگو سے آنحضرتﷺ میں نبی بننے کا شوق پیدا ہونا قرین قیاس نہیں۔
بصری الشام سے واپسی کے بعد دس گیارہ سال تک زندگی کیسے بسر ہوتی رہی ہمارے مؤلف ساکت ہیں۔ بہرحال اعتدال اور شرافت کی زندگی گزارنا، اپنے سر پرست چچا کا ان کے کاروبار تجارت میں ہاتھ بٹانا اور شہری زندگی میں عفاف اور غریب نوازی کے شہرے کے ساتھ شریک رہنا فرض کر لیا جائے، ابن سعد کے مطابق ابو طالب کے گھر میں بچوں کا ناشتہ جب آتا سب مل کر "لوٹ لیتے” لیکن جب چند مرتبہ دیکھا کہ یتیم بھتیجا اس "لوٹ” میں شریک نہیں رہتا تو پھر آپ کا ناشتہ الگ اور مستقل دیا جانے لگا۔ نوعمری میں یہ سنجیدگی مستقبل کی شخصیت کی ضمیر کا پتہ دے کر اپنی وقعت ابھی سے پیدا کرانا شروع کر چکی تھی۔ سیرۃ حلبیہ میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابو طالب نے مکّے والوں کی ایک بت پرستانہ عید میں حصہ لینے کے لیے آپؐ کو بہت بُرا بھلا کہہ کر مجبور کیا لیکن کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ ابو طالب نے پھر کبھی آپؐ کو اس پر مجبور نہیں کیا۔ کلبی کی کتاب الاصنام کا واقعہ بھی غالباً اسی موقعہ کا جُز ہے کہ آنحضرتﷺ نے جاہلیت میں ایک بھُوری بھیڑ قربانی دی تھی۔ اس کے بعد عالم نو جوانی میں چند واقعات ملتے ہیں جن سے:
بالائے سرش ز ہوش مندی
می تافت ستارۂ بلندی
تنبیہہ
ابھی اُوپر سیرۃ حلبیہ کے حوالے سے زمانۂ جاہلیت کی جس جاترا کا ذکر کیا گیا، اس کی کچھ مزید تفصیل رسول اکرمﷺ کی کھلائی بی بی اُم ایمن کی ایک روایت میں ملتی ہے (جو اگرچہ واقدی کے حوالے سے نقل ہوئی ہے لیکن وہ قرین قیاس ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ واقدی کی ہر بات غلط ہی ہو) اور وہ یہ ہے کہ یہ بوانہ نامی بُت کی سالانہ تقریب تھی۔ لوگ اس کی پوجا کے بعد سر منڈاتے تھے۔ جب وہاں جانے سے سال بہ سال آنحضرتﷺ نے انکار کیا تو ایک سال ابو طالب بھی خفا ہوئے اور پھوپھیاں بھی اور کہا کہ اپنی قوم کی عید میں شریک نہ ہونا اور مجمع کو بڑھانے میں حصہ نہ لینا بڑی بُری بات ہے اور پھوپھیاں اتنی بضد ہوئیں کہ آنحضرتﷺ بھی ساتھ جانے پر آمادہ ہوئے۔ اور پھر غیبی حوادث پیش آئے وغیرہ اور یہ سب نوعمری اور زمانہ جاہلیت کا واقعہ ہے۔ اور نصحوائے آیت "ماكنت تدرى ما الكتب و الایمان” (سورہ شوریٰ آیت نمبر ۵۲) کبھی نبی بننے سے پہلے پیش بھی آیا ہو تو ناممکن نہیں ہے۔
نوجوانی
حرب فجار
اہلِ عرب نے اپنی آمدنی کے پُر امن وسائل میں ایک محصول درآمد یا عُشر بھی قائم کر رکھا تھا اور میلوں جاتر اوں میں جو لوگ تجارتی سامان فروخت کے لیے لاتے اس کا دسواں حصہ (عُشر) میلے کے مقام کے سردار کو ملتا۔ زیادہ لوگوں کو آنے اور زیادہ سامان لانے کی تشویق دِلانے کے لیے قدیم زمانے سے انھوں نے حرام مہینوں کا اِدارہ قائم کر رکھا تھا۔ مختلف قبائل کی یہ تقریبیں مختلف زمانوں میں ہوتی تھیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میلے سے پندرہ دن پہلے اور پندرہ دن بعد جملہ ایک مہینہ "حرام” سمجھا جاتا تھا جس میں انتقام جوئی اور معمولی قتل لوٹ نا جائز سمجھے جاتے تھے۔ اور دشمن بھی امن و امان سے بازو سے گزر سکتا۔ قبائل مضر رجب کے مہینہ کو حرام سمجھتے۔ قبائل ربیعہ کا کوئی اور زمانہ تھا[4]۔ اور کعبے کے حج اور منیٰ کے میلے کے سلسلے میں تین مہینوں کا زمانہ حرام سمجھا جاتا تھا۔ یعنی ذی القعد، ذی الحجہ اور محرم، ان حرام مہینوں کی کبھی حرمت شکنی ہو جاتی تو اسے فجار یعنی بُرا کام سمجھا جاتا۔
آنحضرتﷺ کے زمانۂ ماقبل نبوت میں ایسے چار واقعے بیان کیے جاتے ہیں جن میں سے بظاہر دو کے وقت آپؐ کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ اُن ہنگاموں کے وجوہ و اسباب سے یہاں بحث نہیں، وہ عام جاہلی ہنگامے ہیں۔ کبھی قرضے کی ادائیگی میں ٹال مٹول، کبھی کسی عورت سے چھیڑ چھاڑ، کبھی ذاتی لن ترانیاں اور کسی غیر قبیلے والے کے جواب پر خفگی اور کبھی حرام مہینوں کی تازہ حرمت شکنی کا انتقام وغیرہ۔
عرب میں ابو براء ملاعب الاسنہ نامی ایک مشہور نیزہ باز تھا۔ کہتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ایک حرب فجار میں بڑی بہادری سے اس کو نیزہ مارا تھا۔ ابن ہشام نے چوتھے فجار کے متعلق لکھا ہے۔ کہ آنحضرتؐ اُن تیروں کو روکنے میں حصہ لیتے جو آپؐ کے چچاؤں پر اُن کے دشمن نشانہ لگا کر چلاتے تھے۔ ابن سعد نے اس وقت آنحضرتﷺ کی عمر بیس سال بتائی اور آپؐ کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ "میں تب وہاں اپنے چچاؤں کے ساتھ شریک تھا اور کچھ تیر بھی چلائے اور مجھے پسند نہیں ہے کہ میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔”
حلف الفضول
چوتھے فجار میں بنی ہاشم کے سردار زبیر بن عبد المطلب تھے جیسا کہ ابن حبیب نے لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ خوں ریزی زیادہ ہوئی تھی۔ اور بات بھی زیادہ معمولی تھی۔ چنانچہ قریش اس پر پشیمان ہوئے اور جلدی ہی ایک نیا واقعہ پیش آیا (جس کا ذکر نیچے آئے گا) تو فجار کی لڑائی میں جو قریشی سردار شریک ہوئے تھے۔ خاص کر زبیر بن عبد المطلب (آنحضرتؐ کے چچا) اور قبیلۂ تیم کے عبد اللہ بن جدعان نے اہلِ شہر کو اُس "حِلف الفضول” کے تازہ کرنے کی دعوت دی، جو جرہمی دور میں (قصّی کے مکے پر قبضہ سے پہلے) پایا جاتا تھا۔ اور یہ حرب فجار کے چند ہفتے بعد کا واقعہ ہے۔
ابن قتیبہ نے جرہمی دور کے اس ادارے کو جو مختصر توضیح کی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چند افراد نے ایک انجمن امداد مظلومین قائم کی تھی اور اس میں شریک ہونے والے رضا کار متحدہ طور سے اپنے شہر میں ظالموں کا ہاتھ روکتے اور مظلوموں کو اُن کا حق دلاتے۔
حرب فجار کے بعد عبد اللہ بن جدعان کے مکان میں لوگ ضیافت کی دعوت پر جمع ہوئے۔ وہ بہت بوڑھا اور با اثر بھی تھا اور بعض دفینوں کے ملنے سے بڑا مال دار بھی تھا۔ اور غالباً اس کا مکان سب سے کشادہ تھا۔ بہرحال اصل محرک کون تھا، اس بارے میں سہیلی وغیرہ ہمارے مورّخ ایک قصہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اسی زمانے میں ایک زبیدی (یمنی) تاجر نے مکے میں اپنے اُدھار بیچے ہوئے سامان کی قیمت وصول نہ ہو سکنے اور ہر کوشش کو ہارنے پر کچھ دل جلے طنز و ہجو کے شعر کہے۔ زبیر بن عبد المطلب کو اس سے دل پر چوٹ لگی۔ اور انھوں نے ایسی رضا کار جماعت کی تحریک کی۔ زبیر نے اس انجمن کی تعریف میں بہت سے اشعار بھی کہے ہیں جو سہیلی نے نقل کیے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ محرک یہی ہوں۔ اور محض ان کی کم سنی اور کم مالی کی وجہ سے ابن جدعان کی سر پرستی حاصل کی گئی ہو اور اس کے گھر میں جلسہ طلب کیا گیا اور حسبِ عادت ضیافت ہوئی ہو۔ (عبد اللہ بن جدعان کے) قبیلۂ تیم کے بنی ہاشم کے معززین بھی جمع ہوئے اور بنی عبد المطلب، بنی زہرہ، اور ایک روایت میں بنی حارث بن مہر کے بھی۔ اور ان سرداروں نے حلف اُٹھا کر اقرار کیا کہ وہ حدودِ شہر مکہ میں کسی کو کسی پر ظلم کرنے نہ دیں گے اور مظلوم کو متحدہ امداد دے کر ظالم سے اس کا حق دلائیں گے۔
ابن ہشام اور حمیدی وغیرہ نے آنحضرتﷺ کے اس بیان کی روایت کی ہے کہ "میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں حلف لینے شریک تھا۔ اور سُرخ اُونٹوں کے گلّے کے عوض بھی اس شرکت کے اعزاز سے دست بردار ہونا نہیں چاہتا، اور اگر اب زمانہ اسلام میں بھی مجھے کوئی اس کی دھُائی دے کر پکارے تو اس کی مدد کو دوڑوں” انھوں نے حلف اس پر لیا تھا کہ حقوق ان کے مالکوں کو دلائے جائیں اور کوئی ظالم کسی مظلوم پر دست درازی نہ کرے۔
مکّے والوں کو اس پر بجا طور سے فخر ہو سکتا ہے کہ جس زمانے میں باقی عرب بلکہ باقی دنیا میں لاٹھی راج کا دور دورہ تھا، اس وقت انھوں نے رضا کارانہ امدادِ مظلومین کے لیے اپنی جتھا بندی کی، اور تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے رات کی بات دن ہوتے ہوتے بھُلا نہ دی بلکہ ہمیشہ اس کی لاج رکھی۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس کی دُہائی سے ابو جہل وغیرہ بڑے بڑے سرغنے تھرّاتے تھے۔ خود آنحضرتﷺ بھی زمانۂ اسلام میں ہجرت سے قبل بعض وقت اس میں مؤثر عملی حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ ابنِ ہشام میں بیان ہوا ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ اسے مستقل اِدارہ بنانے اور وقت بہ وقت نئے ارکان کو بھرتی کرنے کی جانب توجہ نہیں کی گئی جس کے باعث ایک ہی نسل کے بعد یہ انجمن ختم ہو گئی۔ یوں بھی اسلام آ جانے کے باعث اس کی زیادہ ضرورت بھی نہ رہی۔ حِلف الفضول میں شریک ہونے والوں نے جو حلف لیا وہ یہ تھا:
"خدا کی قسم ہم سب مل کر ایک ہاتھ بن جائیں گے اور وہ مظلوم کے ساتھ رہ کر اُس وقت تک ظالم کے خلاف اُٹھا ہوا رہے گا تا کہ آنکہ وہ (ظالم) اس (مظلوم) کو حق ادا نہ کر دے اور یہ اس وقت تک جب تک کہ سمندر گھونگوں کو بھگوتا رہے اور حراء و ثبیر کے پہاڑ اپنی جگہ قائم رہیں اور ہماری معیشت میں مساوات رہے گی۔”
اس کا آخر فقرہ بھی غور طلب ہے۔ مورّخ ساکت سے ہیں کہ اس کا منشا کیا تھا۔ بہرحال یہ تو یقین ہے کہ مدد کو جانے والے جب اپنی جان سے حاضر تھے تو اپنے مال کی کیا پروا کرتے ہوں گے۔
تجارت
شہر مکہ ایک "وادیِ غیر ذی زرع” میں آباد ہے۔ اس لیے یہاں والوں کے لیے کسی کھیتی باڑی کا کوئی سوال نہیں۔ صنعت کچھ ضرور ہو گی۔ لیکن اس کے لیے خام سامان باہر ہی سے لانا ہوتا ہو گا۔ اس لیے تجارتی کاروبار ہی اصل ذریعہ معاش سمجھنا چاہیے۔
خاندانِ بنی ہاشم میں کسی صنعتی پیشے، دستکاری کا ذکر مورّخ نہیں کرتے ہیں۔ تجارت میں کپڑے غلے، چمڑے، خشک میوے، اسلحہ، عطر اور سنگار کا سامان ہی اہم شعبے تھے۔ بظاہر اوّل الذکر دو شعبوں ہی سے آنحضرتﷺ کے خاندان کو تعلق تھا۔
کاروانی کاروبار میں عام طور پر سو فی صدی نفع کا مؤلف ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ایک تو اُس کے لیے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی اور دوسرے جوکھم بھی کافی رہتا۔ کئی ہفتوں کے مسلسل کوچ میں کچھ نہ کچھ اُونٹ تھکن سے مر جاتے۔ دورانِ سفر میں اپنے اور جانوروں کے کھانے چارے کے اخراجات بھی گھر سے لازماً بڑھ جاتے محافظ دستہ الگ ساتھ لینا پڑتا۔ کیونکہ بیسیوں قبائل کی سرزمین سے گزرنے میں دشمنوں کے علاوہ اتفاقی رہزنوں کا بھی خطرہ رہتا۔ اس لیے کاروانی کاروبار اکثر سرمایہ مشترکہ کے اُصول پر ہوتا۔ یعنی ایک تو کئی کئی لوگ مل کر نکلتے اور پھر ہر شخص اپنے علاوہ دوست احباب وغیرہ کا سامان نصف نفع میں شرکت یا کسی ایسی ہی شرط پر ساتھ لیتا اور جتنا زیادہ سامان ساتھ ہوتا اتنا ہی سفر کے نقصان اور مصارف کی پابجائی ہو کر کچھ نفع بچ رہنے کا امکان ہوتا۔
نو دس سال کی نوعمری میں چچا کے ساتھ دادا کی وفات کے ایک ہی سال بعد کاروانی سفر میں آنحضرتﷺ کا فلسطین جانا بیان ہو چکا۔ اس کے بعد پچیس سالہ عمر سے قبل مکرر کسی سفر کا مورّخ ذکر نہیں کرتے۔ اس کے معنی یہ تو نہ ہوں گے کہ آنحضرتﷺ یہ پورا عرصہ بیکار اور اپنے چچا پر بار رہے بلکہ حضری تجارت میں مشغول رہے ہوں گے۔ یقیناً چچا کی کوئی دکان شہر میں ہو گی اور اس میں آپؐ بھی وقت دیتے ہوں گے۔ اس کے بھی پتہ چلتا ہے کہ مختلف سالوں میں جب دیگر لوگ کارواں لے کر جاتے تو آنحضرتﷺ اپنا سامان اُن کے سپرد کرتے۔ چنانچہ ایسے ہی ایک شخص (قیس بن السائب) سے روایت ہے کہ "زمانۂ جاہلیت میں مَیں نے محمدﷺ سے بہتر کوئی ساتھی نہ پایا۔ اگر ہم ان کا سامان لے کر جاتے تو واپسی پر وہ ہمارا استقبال کر کے صرف ہماری خیر و عافیت پوچھتے اور چلے جاتے۔ اور بعد میں حساب دینے پر قطعاً تکرار اور حجت نہ کرتے۔ حالانکہ دیگر لوگ سب سے پہلی بات صرف اپنے مال کی کیفیت کے متعلق پوچھتے۔ اس کے برخلاف اگر خود وہ ہمارا سامان لے کر جاتے تو واپسی پر جب تک پائی پائی بے باق نہ کر لیتے گھر تک نہ جاتے۔ اور اسی لیے ہم میں وہ الامین (امانت دار و دیانت مند) کے لقب سے معروف تھے۔”
طبری نے امام زہری کے حوالے سے ایک روایت کی ہے کہ "بی بی خدیجہؓ نے آنحضرتﷺ اور قریش کے ایک اور شخص کو اُجرت پر سُوق حباثہ بھیجا جو تھامہ میں ہے، مکے کے جنوب میں چھ دن کے راستے پر یمن کے رُخ حباثہ کا روانی راستے پر ایک مشہور مقام تھا اور وہاں کا میلہ جو ر جب میں تین دن لگتا تھا فلسطین کے مقابلے میں یہ قریب اور سہل الوصول بھی تھا۔ ابن سید الناس کی روایت میں بی بی خدیجہؓ نے آپؐ کو دو مرتبہ جرش بھی سامان دے کر بھیجا اور ہر دفعہ معاوضے میں ایک اُونٹ دیا۔ اگر یہ جُرش ہے تو وہ مکّے کے جنوب میں طائف سے کچھ آگے یمن کے رُخ ایک اہم قلعہ بند شہری مملکت تھی اور وہاں بڑا بازار لگتا تھا۔ اور اگر جرش ہے تو وہ شرق اُردن میں ایک بڑا یونانی شہر تھا۔ ممکن ہے کہ ان سفروں کی کامیابی اور آنحضرتﷺ کی خوش معاملگی ہی نے بی بی خدیجہ کو اس پر آمادہ کیا ہو کہ آنحضرتﷺ کو اپنا سامانِ تجارت دے کر دُور دراز علاقہ فلسطین روانہ کریں۔ بی بی خدیجہؓ بیوہ تھیں، تقریباً چالیس سال کی عمر تھی، دولت مندی میں شہر میں اُن کی ٹکّر کی عورتیں تو کیا مرد بھی کم تھے۔ وہ تاجرہ کہلاتی تھیں اور طاہرہ کے لقب سے معروف ہونا بیان کی جاتی ہیں۔
بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب ہی نے آنحضرتﷺ سے کہا تھا کہ "بیٹا کئی سال کی قحط سالیوں سے ہمارا حال خراب ہے۔ ہمارے پاس نہ سرمایہ ہے اور نہ مال تجارت کہ اپنا کاروبار کریں۔ تم خدیجہ سے جا کر کہو تو ممکن ہے کہ وہ اپنا کچھ سامان تمہاری تحویل میں بھی کرئے غالباً یہ اوّلین سفر حباثہ ہی کے موقع کا واقعہ ہے۔ اگرچہ راوی اسی کو سفر فلسطین سے متعلق کرتے ہیں۔ بہرحال ایک قریشی کارواں جب شام جانے کے لیے تیار ہوا تو بی بی خدیجہ نے اپنا بہت سا سامان آنحضرتﷺ کی تحویل میں دیا اور ساتھ اپنے غلام میسرہ کو (خدمت کے لیے) اور اپنے ایک رشتہ دار خزیمہ کو بھی کر دیا۔ خزیمہ کی موجودگی ممکن ہے کہ کاروبار سیکھنے یا آنحضرتﷺ کو سکھانے کے لیے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مال کی نگرانی کے لیے ہو۔
اِس سفر میں بھی آنحضرتﷺ کے بصری الشام تک جانے کا پتہ چلتا ہے۔ راستے میں بحیرۂ مردار پڑتا ہے۔ جو ممکن ہے آنحضرتﷺ نے دیکھا ہو اور نسطورا راہب سے (جو غالباً نسطوری فرقے کا تھا) ملاقات بیان کی جاتی ہے۔ راہبوں کے کاروانوں سے ملنے کی وجہ اُوپر بیان ہو چکی ہے۔ لکھا ہے کہ ایک دن بی بی خدیجہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے مکان کے اُوپر کی منزل میں بیٹھی تھیں کہ ایک کارواں دُور سے شہر کی طرف آتا نظر آیا اور یہ آنحضرتﷺ ہی تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی مکّے میں کئی کئی منزلہ مکان ہوتے تھے، جو شہر کی گرم آب و ہوا کے باعث ضروری بھی تھے۔
مورّخ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے حُسنِ انتظام اور دیانت سے بی بی خدیجہؓ کو توقع سے دُگنا نفع ملا تو بی بی نے آنحضرتﷺ کو بھی وعدے سے دُگنا معاوضہ خوش ہو کر دیا، اصل وعدہ کہتے ہیں کہ دو اُونٹنیوں کا تھا (دو اُونٹ بھر سامان یا دو سادہ اُونٹ معلوم نہیں) ۔
ابن سعد سے معلوم ہوتا ہے کہ مکّے میں وقتاً فوقتاً آنحضرتﷺ بی بی خدیجہ سے ملنے جاتے تھے جو آپؐ کو بہت چاہنے لگی تھیں اور کسی وقت اپنی سہیلیوں میں بیٹھی ہوتیں اور آنحضرتﷺ آتے تو آپؐ سے بھی ضرور ملتیں۔ ان سماجی ملاقاتوں میں اور اُمور کے ساتھ معاشی و کاروباری اُمور پر بھی گفتگو ہوتی ہو گی۔
ابو داؤد وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ بعثت سے قبل ایک مرتبہ کسی کاروبار کے سلسلے میں عبد اللہ بن الحماس نے آپؐ سے کہا تھا کہ ذرا ٹھہرئیے میں ابھی آتا ہوں، پھر بھول گیا۔ تین دن کے بعد اتفاقاً ادھر سے گزرا تو آنحضرتﷺ سڑک ہی پر منتظر تھے۔ بات کا آپ کو اتنا پاس تھا۔ اخلاق کا کیا ٹھکانا کہ پھر بھی اُسے کچھ بُرا بھلا نہ کہا۔
مسند امام احمد بن مقبل (ج ۲ ص ۲۰۶) میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ مشرقی عرب یعنی بحرین کے (جسے آج کل الحساء کہتے ہیں) قبیلۂ عبد القیس کا ایک وفد آنحضرتﷺ کی زندگی کے اواخر میں مدینہ آ کر باریاب ہوا اور آنحضرتﷺ نے اُن سے اُن کے ملک کی بعض تفصیلیں بیان کر کے کیفیت پوچھی تو وہ لوگ حیران ہوئے کہ آپؐ کو اس علاقے کا اتنا گہرا علم کیسے ہوا۔ اس پر کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے یہ فرمایا کہ میں نے تمہارے ملک کی خوب سیر کی ہے۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ مشقر اور وبا کے شہرۂ آفاق میلوں وغیرہ میں بھی آنحضرتﷺ شاید تجارتی کاروبار کے سلسلے میں گئے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ بی بی خدیجہ کے کارندے ہی کی حیثیت سے ہو۔ مگر اس کا ٹھیک زمانہ معلوم نہیں۔ ممکن ہے شادی کے بعد بھی اپنی بیوی کا سامان لے کر آنحضرتﷺ کاروبار کے لیے جاتے رہے ہوں۔
آنحضرتﷺ نے نبوت کے ابتدائی سالوں میں (ہجرت مدینہ سے قبل) جب اپنے ساتھیوں کو حبشہ ہجرت کر جانے کی اجازت دی تو اپنے چچا زاد بھائی جعفر طیار کو نجاشی کے نام ایک تعارفی خط بھی دیا تھا، جسے تاریخ نے محفوظ رکھا ہے۔ اس خط کا انداز ایسا ہے جو کسی متعارف شخص کے نام ہی ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ پھر اُس وقت آنحضرتﷺ کا یہ فرمانا کہ "وہ ایک ایسے بادشاہ کا ملک ہے جس میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا” نیز حدیث میں آنحضرتﷺ سے ایک سے زیادہ حبشی الفاظ کا مروی ہونا یہ سب اس بات کے قیاس کا موقع دیتے ہیں کہ غالباً آپؐ نے کبھی حبشہ کا بھی سفر کیا تھا اور نجاشی سے ملاقات بھی کی تھی (جس کا موقع حضرت عمرو بن اور اور العاص وغیرہ کو بھی اسلام سے قبل ملا تھا) ۔ حبشہ جانے کا سہل راستہ تو وہی تھا جو مہاجرینِ اسلام نے اختیار کیا تھا کہ شعیبہ (جدہ) میں جہاز پر سوار ہو کر بحر احمر کے دوسرے ساحل پر جا اُتریں۔ دوسرا رستہ یہ تھا کہ ایلہ (عقبہ) اور جزیرہ نمائے سینا یا شاید غزہ سے ہو کر (جہاں آنحضرتؐ کے پر دادا مدفون بھی ہیں) مصر اور پھر وہاں سے دریائے نیل کے کنارے کنارے حبشہ جائیں۔
دریا کے بہاؤ کی سہولت کے باعث حبشہ سے مصر کشتی میں آنا بھی ممکن ہے اگر یہ قیاس و استنباط بے جا نہ سمجھا جائے تو آنحضرتﷺ کے بحری سفر کا بھی اس طرح امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید کے اوّلین مخاطب آنحضرتﷺ تھے۔ اس لیے شام کے "جنّٰت تَجْرى مِن تحتہا الانہار” اور سمندری سفر کے فوائد و خطرات کا قرآن میں بار بار اور تفصیلی ذکر آتا ہے وجہ نہیں سمجھا جا سکتا (قطع کلام کے طرز پر عرض کرتا ہے کہ باغوں میں نہروں کا بہنا ہم ہندیوں کو سمجھ میں آتا ہے۔ باغوں کے نیچے سے نہروں کا بہنا کم از کم مجھے شام جا کر مشاہدہ کرنے سے پہلے سمجھ میں نہ آسکا تھا) ۔
بحری سفر وغیرہ کی خیال آرائیاں سیرت نگاروں کی شان میں بے ادبی بالکل نہیں۔ اسلام سے پہلے کے ان واقعات کے واقف اگر حدیث صحیح ہونے کے دور سے قبل فوت ہو چکے ہوں تو تاریخ (انسانی کے لیے کون سی نادر بات ہے؟ "سیر وفی الارض” کا قرآن میں حکم دس پندرہ جگہ آیا ہے۔ جو ذات ہمارے لیے اُسوہ حسنہ ہے وہ خود اس تعلیم کی تعمیل کر چکی ہو تو اس میں قباحت تو کوئی نہیں معلوم ہوتی۔
شادی خانہ آبادی
جب آپ کی عمر پچیس (۲۵) سال دو مہینے دس دن کی ہوئی تو آپؐ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصّی سے عقد کیا۔ حضرت خدیجہؓ ایک حسین اور دولت مند عورت تھیں۔ بہت سے سردارانِ قریش ان کے ساتھ عقد کے خواہش مند تھے مگر انھوں نے سب سے اِنکار کر دیا تھا۔ حضورﷺ کی امانت، دیانت اور صداقت کا مکّہ میں شُہرہ ہوا۔ اور آپؐ کی پاک بازی کا ہر جگہ ذکر ہونے لگا تو یہ خبریں حضرت خدیجہؓ کو بھی ملیں اور حضورﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ حضرت خدیجہؓ کے بھائی یعنی عوام بن خویلد کی زوجہ تھیں اُن سے تمام حالات ذاتی اُن کو معلوم ہوئے۔ اس لیے حضورﷺ کی طرف ان کو رغبت پیدا ہوئی۔ مزید امتحان کی غرض سے اپنا مال تجارت دے کر اپنے غلام میسرہ کے ساتھ تجارت کے لیے حضورﷺ کو انھوں نے شام بھیجا اس میں حضورﷺ کی دیانت اور صفاتِ عالیہ کا اُن کو بہت ثبوت ملا اس لیے انھوں نے نفیسہ بنت اُمّیہ یعنی اُخت یعلے بن اُمیّہ کے ذریعہ خود حضورﷺ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ ابنِ اسحاق لکھتے ہیں کہ بلا کر بالمشافہ بھی بات پختہ کی۔ اس موقع پر اس پسند کی جو وجہ انھوں نے بیان کی ہے وہ خود اُن کے الفاظ میں یہ ہے۔ یعنی میں نے آپؐ کی صداقت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے آپؐ کو پسند کیا۔
حضور اکرمﷺ نے اس کی اطلاع خواجہ ابو طالب کو دی۔ انھوں نے اس کو نہایت خوشی سے منظور کیا۔ پھر بنی ہاشم اور روساءِ مُضر کو لے کر حضرت خدیجہؓ کے مکان پر گئے اور نکاح ہوا اُس نکاح کے وقت خواجہ ابو طالب نے نہایت بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ اُس وقت آپؐ کے بزرگوں کا آپؐ کے متعلق کیسا خیال تھا اور آپؐ کے عادات و اطوار نے ان پر کیا اثر ڈالا تھا۔ خواجہ ابو طالب کے خطبہ کہ یہ الفاظ ہیں:
"حمد و ثنا اُسی خدا کے لیے ہے جس نے ہمیں ابراہیمؑ کے فرزند اور اسمٰعیلؑ کی ذریات میں بنایا۔ ہمیں معد ومُضر کے پاک اصل سے باہر لایا۔ اپنے گھر کا نگہبان اور اپنے حرم کا پیشوا بنایا۔ ایسا گھر ہمیں عطا فرمایا کہ اطراف و جوانب کے لوگ اس کی زیارت کے قصد سے آتے ہیں۔ ایسا حرم عنایت فرمایا کہ جو شخص وہاں آ جائے امان میں ہو جاتا ہے اور ہمیں لوگوں پر حاکم مقرر کیا۔ اما بعد یہ میرے بھائی کا لڑکا محمد بن عبد اللہ ہے۔ یہ ایک ایسا جوان ہے کہ قریش کے کسی شخص کا اس سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ کہ یہ اس سے بڑھا رہے گا۔ ہاں مال اس کے پاس کم ہے۔ لیکن مال ڈھلتی چھاؤں ہے اور ایک چیز بدلنے والی ہے۔ محمد(ﷺ) وہ شخص ہے جس کی میرے ساتھ قرابت و یگانگت کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ وہ خدیجہ بنت خویلد کو چاہتا ہے اور میرے مال میں سے ہیں اُونٹ مہر مقرر کرتا ہے۔ اور اس کا مستقبل خدا کی قسم عظیم الشان اور جلیل القدر ہے۔”
جب خواجہ ابو طالب کا خطبہ تمام ہوا تو ورقہ بن نوفل نے بھی جو حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے خطبہ پڑھا۔ اُن کے خطبہ کا مضمون یہ ہے۔
"حمد و ثنا خدا کے لیے ہے جس نے ہمیں ویسا ہی بنایا جیسا کہ اے ابو طالب آپ نے ذکر کیا اور ہمیں وہ تمام فضیلتیں عطا فرمائیں جن کو آپ نے شمار کیا۔ پس ہم لوگ تمام عرب کے پیشوا اور سردار ہیں اور آپ لوگ تمام فضائل کے اہل ہیں۔ کوئی جماعت آپ کے فضائل کا انکار نہیں کر سکتی اور کوئی شخص آپ کے فخر و شرف کو ردّ نہیں کر سکتا۔ اور بے شک ہم لوگوں نے نہایت رغبت سے آپ کے ساتھ شامل ہونے اور ملنے کو پسند کیا۔ پس اے قریش گواہ رہو کہ خدیجہ بنت خویلد کو میں نے محمد بن عبد اللہ کی زوجیت میں دیا۔ چارسو (۴۰۰) مثقال کے بدلے۔”
خواجہ ابو طالب نے فرمایا کہ اے ورقہ! عمر بن اسد موجود ہیں میں بہتر سمجھتا ہوں کہ وہ بھی آپ کے بیان میں شریک ہوں۔ عمر بن اسد نے کہا کہ میں نے خدیجہ بنت خویلد کو محمد بن عبد اللہ کی زوجیت میں دیا۔ اس پر طرفین سے ایجاب و قبول ہو گیا۔
نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر چالیس (۴۰) سال کی تھی۔ بیوہ تھیں اس سے پہلے ان کے دو نکاح ہو چکے تھے۔ ایک ابی ہالہ بن زرارہ تمیمی سے اس سے دو اولاد ہوئی تھی ہند بن ابی ہالہ اور زینب بنت ابی ہالہ۔ اس کے بعد عتیق بن عائذ مخزومی سے۔ اس سے بھی دو اولاد ہوئی تھیں عبد اللہ بن عقیق اور ایک لڑکی۔
سماجی اور شہری زندگی
شادی کے بعد
بی بی خدیجہ کو ان کے دونوں متوفی شوہروں سے جو بچے تھے وہ غالباً عرب کے رواج کے مطابق بی بی کے سسرالوں میں رہ گئے ہوں گے خاص کر اس لیے کہ بی بی کے اس نکاح کے وقت ان بچوں کی عمریں کافی بڑی ہوں گی۔ بہرحال آنحضرتﷺ کی گھریلو زندگی میں ان سوتیلے بچوں کا کوئی خاص ذکر نہیں آتا۔ اگرچہ یہ قیاس کر لیا جا سکتا ہے کہ آپؐ کا برتاؤ اُن کے ساتھ اِنتہائی محبت اور شفقت ہی کا رہا ہو گا۔
رضاعی ماں سے بھی آپؐ کو ہمیشہ محبت رہی۔ چنانچہ سہیلی نے (ص ۱۱۱) میں لکھا ہے کہ آپؐ کی شادی کے بعد بھی آپؐ کو ایک مرتبہ بڈھی دودھ پلائی آئی۔ اور اس مرتبہ نئی دُلھن بی بی خدیجہؓ نے خاص سلوک کیا اور کئی اُونٹنیاں عطا کیں جن کو لے کر حلیمہ سعدیہ دُعا دیتی رخصت ہوئیں۔ ابن سعد (۲ /ا ص ۱۷) ابن سعد کے مطابق بی بی حلیمہ نے قحط سالی کی شکایت کی تھی اور چالیس بکریاں اور ایک اُونٹ بی بی نے عطا کیا تھا۔
آپؐ کی گھریلو زندگی کا یہ دَور کتنا خوشگوار تھا، اس کا اندازہ نہ صرف اس سے ہوتا ہے کہ دس سال کے عرصہ میں چھ سات بچے ہوئے بلکہ اس سے بھی کہ بی بی خدیجہؓ کی وفات کے بعد آنحضرتﷺ اُن کے جس قدر اور جس پیرائے میں ذکر فرماتے تھے اس سے آپؐ کی سب سے چہیتی بیوی بی بی عائشہؓ تک کو بھی بڑا رشک ہوتا تھا۔
حدیث کی کتابوں میں اس کا خاص تفصیل سے ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ جب گھر میں رہتے تو بیوی بچوں سے کس قدر پیار اور محبت سے پیش آتے، ان کا دل بہلانا، ان کی سمجھ کے مطابق ان سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ ایثار و خیرات کی تربیت دیتے رہتے اور صحیح معنوں میں شریک زندگی بننا آپؐ کا شیوہ تھا۔
شادی کے بعد لیکن نبوت سے پہلے پندرہ سالہ زندگی کس طرح گزری اس کا اندازہ ایک سب سے زیادہ واقفِ کار اور عینی شاہد کے چند جملوں سے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں ذات امی لقب کو گھبراہٹ سی تھی تو اُس وقت آپؐ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کی بیوی بی بی خدیجہؓ فرمایا کرتی تھیں "اندیشہ مت کرو اللہ تعالیٰ تم کو آفات میں نہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بجز نیکی کے اور کچھ نہ کرے گا کیونکہ تم صلۂ رحم کرتے ہو اور عیال کا بار اُٹھاتے ہو اور کسب کرتے ہو اور مہمانوں کی ضیافت اور حق کے کاموں پر لوگوں کی اعانت کرتے ہو، اور یتیم کو جگہ دیتے ہو، اور راست بات کہتے ہو، اور امانت میں خیانت نہیں کرتے ہو اور عاجزوں کی دستگیری کرتے ہو، اور فقیروں کے ساتھ نیکی اور لوگوں کے ساتھ خوش خلقی کرتے ہو۔”
اِس اقتباس سے علاوہ اور خصوصیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسبِ معیشت بھی کرتے تھے اور محض مالدار بیوی کی دولت کھا کر گزارا کرنا بالکل پسند نہ فرماتے تھے۔ بعض رواتیوں میں غلے کے بیو پار کا پتہ چلتا ہے۔ ممکن ہے آپؐ کسی اور بیوپاری کے شریک کار رہے ہوں۔
اس زمانے میں طبری کے مطابق مکّے میں ایک بار قحط پڑا۔ اور ابو طالب کا بڑا کنبہ خاص کر دشواری محسوس کرنے لگا۔ اس وقت آنحضرتﷺ اپنے سوتیلے چچا حضرت عباسؓ کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس قحط سالی میں ابو طالب کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علیؓ کو آپ نے اور حضرت جعفرؓ کو حضرت عباسؓ نے لے کر اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ نیکی کرنے کے ساتھ نیکی پر آمادہ کرنے میں بھی آپؐ پیش پیش رہے۔
اس قسم کے شریفانہ طرزِ عمل سے شہر میں آپؐ کے وقار کا روز افزوں ہو جانا ناگزیر تھا۔ اگرچہ ازرقی وغیرہ مؤرّخین کے مطابق بلدۂ مکہ کی رکنیت چالیس سالہ عمر سے قبل کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی تھی، لیکن آپؐ کی فراست اور نا طرف داری پر معمرین کو جو اعتماد تھا اس کا اندازہ ایک سے زیادہ شہری جھگڑوں کو سلجھانے میں آپؐ کے حصہ لینے سے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ کی عمر تقریباً ۳۵ سال کی تھی کہ عبادت گاہ کعبہ کی عمارت ایک آتشزدگی اور پھر طغیانی کی سیل سے متاثر ہو گئی تھی۔ شہر مکّہ ایک وادی میں ہے جس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں اور کعبے کا مقام اس وادی کا پست ترین حصہ ہے۔ جس کے باعث شہر میں خفیف سی بارش بھی ہو تو سارا پانی وہیں چلا آتا ہے۔ سابقہ تجربوں کے باعث کعبے کی عمارت کو عامر الجادر نامی سردار نے ایک دیوار کے احاطے میں لے لیا تھا۔ تاکہ سیل کی زدِ عمارت کعبہ پر نہ پڑے۔ لیکن زیر ذکر سال بارش اتنی زیادہ ہوئی تھی کہ احاطے کی دیوار بھی اسی کو روک نہ سکی تھی، ناگزیر نئے سرے سے بنانے کی تجویز ہوئی تھی۔ اس وقت تک کعبے کا طول و عرض نونو ہاتھ تھا اور اُونچائی قد آدم سے کچھ زیادہ تھی اور کوئی چھت نہ تھی۔ شہر میں طغیانی ہوئی تو سمندر میں بھی طوفان ناگزیر تھا۔ اتفاق سے رومی تاجروں کا جہاز شعیبہ (جدہ) کے پاس سے گزر رہا تھا وہ طوفان سے خشکی پر چڑھ آیا اور ٹوٹ گیا۔ ازرقی کے مطابق مکّے والوں کو خبر ہوئی تو باوجود اپنی جہالت کے انسانیت سے پیش آئے۔ چنانچہ جتنے آدمی بھی زندہ بچے تھے اُن کی خبر گیری کی اور جو سامان بھی وہ بچا سکتے تھے ان کو نہ صرف اچھے داموں خرید لیا بلکہ محصول درآمد بھی معاف کر دیا۔ یہاں تک کہ جہاز کی لکڑی بھی لے کر معاوضہ دیا۔ مکّے میں باقوم نامی قبطی (مصری) بڑھئی کا ذکر ملتا ہے ایک روایت میں وہ اُن ہی طوفان زدہ پناہ گزینوں میں سے تھا اور اہل مکہ کے اچھے سلوک کو دیکھ کر وہیں بس گیا تھا۔ اس طرح بعض روایتوں کے مطابق جہاز کا سامان نفیس تعمیری ضرورتوں یعنی سنگ مرمر، لوہے، لکڑی وغیرہ پر مشتمل تھا اور ایک گرجے کی تیاری کے لیے مصر سے حبشہ جا رہا تھا۔ وہ سامان بلا طلب ہاتھ آیا۔ ایک مزید نیک فالی یہ پیش آئی تھی کہ کعبے کے تمام چڑھاوے اور نذریں کعبے کے دروازے کے پاس ہی جس اندھے کنویں میں حفاظت کے لیے لوگ ڈال دیا کرتے تھے اس میں ایک بڑا سا سانپ پیدا ہو گیا تھا اور اکثر نظر آ کر دہشت کا باعث بنا ہوا تھا۔ اتفاق سے کعبے کی ترمیم کی تجویز کے زمانے میں سانپ ایک دن سر نکالے کنویں پر سے جھانک رہا تھا کہ ایک عقاب آیا اور جھپٹا مار کر اسے پکڑ لے گیا۔ ان تمام قدرتی اتفاقات نے اہل مکہ کو اس پر آمادہ کیا کہ اپنی اس پرانی اور مقدس عبادت گاہ کی تعمیر میں پیسہ بھی پاک لگائیں "کسبیوں کی کمائی، سود کی رقم اور ظلم سے لیا ہوا روپیہ” اس میں شریک نہ کریں۔ کعبہ ایک چاردیواری ہے۔ اس کی تعمیر اب بانٹ دی گئی۔
دروازے کے رُخ کی دیوار بنی عبد مناف اور بنی زہرہ کے حصے میں آئی۔ حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کی درمیانی دیوار کا بنی مخزوم و تیم وغیرہ نے ذمہ لے لیا۔ پشت کی دیوار بنی سہم اور بنی جمح نے لی حجر یا حطیم کا رُخ بنی عبد الدار و بنی اسد اور بنی عدی نے لیا۔ پوری پرانی عمارت اِنتہائی ادب سے ڈرتے ڈرتے ڈھائی گئی۔ طول و عرض بھی سابق سے دگنا کر دیا گیا کہ سیڑھی کی ضرورت رہے۔ (اور دربان کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہو) اور اُوپر چھت بھی ڈالی گئی۔ کعبے کا کچھ حصہ حطیم کے نام سے بغیر چھت کے نیم دائرہ شکل کا باہر رکھا گیا اور دیوار دونوں طرف سے کعبے کے ساتھ غیر متصل رکھی گئی تا کہ ہر کوئی ہر وقت وہاں جا سکے۔ اس کے اندر جانا گویا کعبے کے اندر ہی جانا تھا۔ اور معمولی معاہدہ کرنا قسم وغیرہ کھانا ہو تو اب لوگ حطیم کو استعمال کرنے لگے اور اصل کعبے کے اندر ہفتے میں صرف دو بار پیر اور جمعرات کو نیز خاص خاص تقریبوں کے موقع پر داخلہ دیا جانے لگا۔ غرض دیواریں اُٹھنے لگیں اور تمام اہلِ شہر پتھر لانے اور جمانے میں حصہ لینے لگے۔ جب یہ کوئی ڈیڑھ گز اُونچی ہو گئی تو حجرِ اسود کو دیوار میں ایسی جگہ نصب کرنے کا سوال پیدا ہوا کہ طواف کرنے والے کو وہ نظر آئے جسے وہ بوسہ بھی دے سکے۔ حجرِ اسود ایک مقدس پتھر تھا، اس کی تنصیب ایک بڑا اعزاز تھا۔ اس لیے قبائل اس میں جھگڑنے لگے اور مرنے مارنے کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ جو سب سے دُور کا حصہ عمارت میں رکھتے تھے یعنی حطیم والے انھوں نے ایک خون بھرا پیالہ لا کر حلف لیا کہ وہ اس اعزاز سے دست بردار نہ ہوں گے اور نشان کے طور پر وہ چاٹنے لگے۔ چار پانچ دن تک تعمیر کا کام رک گیا۔ پھر لوگ کعبے کے پاس ہی جمع ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ایک دن بوڑھے (امیہ بن المغیرہ) نے مشورہ دیا کہ اس کو خدا ہی پر چھوڑو اور اب جو شخص اس راستے سب سے پہلے آئے اُس کو ثالث بنا لو۔ اتفاق سے آنحضرتﷺ آتے نظر آئے تو لوگ دور ہی سے چلّانے لگے کہ یہ تو امین آ رہا ہے ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں یہ تو محمد(ﷺ) ہے۔ آنحضرتﷺ قریب پہنچے تو ماجرا آپؐ کو سنایا گیا۔ آنحضرتﷺ چاہتے تو وہ اعزاز صرف اپنے لیے یا اپنے خاندان کے لیے مخصوص کر سکتے۔ مگر آپؐ نے فوراً ایک چادر مانگی اور اُسے بچھا کر حجر ِاسود کو (جو مشکل سے دس پندرہ انچ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہے) اس پر رکھا پھر جملہ قبائل کے نمائندوں سے خواہش کی کہ چادر کے کونے پکڑا کر اُٹھائیں اور جب وہ مقام تنصیب کے قریب پہنچا تو اپنے دست مبارک سے اُٹھا کر اُس کو دیوار پر بٹھا دیا اور اس طرح ایک طویل اور خوں ریز خانہ جنگی کے احتمال کا ہنسی خوشی سدِباب فرما دیا۔ اصل جھگڑالو لوگوں کے نام بھی اب کسی کو معلوم نہیں اور نہ اُن لوگوں کے جنھوں نے چادر تانی تھی۔ محمد الامین(ﷺ) کا نام البتہ صلح جُو اور صلح کُل کی حیثیت سے قیامت تک ایک اُسوہ حسنہ بنا رہے گا کہ جھگڑے کس طرح چُکائے جاتے ہیں۔
اِس سلسلے کا آخری واقعہ بھی ذکر کرتے چلیں۔ کعبے والوں کا لباس ایک تہمد اور ایک چادر ہوتا تھا۔ غربا کے پاس تو چادر بھی نہ ہوتی تھی، اس تعمیر کعبہ میں وزنی پتھر کندھے پر رکھ کر لانا پڑتا تھا تو خراش سے بچنے کے لیے بہت سے غرباء اپنے تہمد ہی کو لپیٹ کر کندھے پر گدّہ بنا لیتے تھے۔ آنحضرتﷺ کا کندھا بھی خراش سے متاثر نظر آنے لگا تو آپؐ کے چچا عباسؓ نے مشورہ دیا کہ تم بھی ایسا ہی کر لو۔ آپؐ نے ایسا ہی فرمایا لیکن گر پڑے اور برہنگی پر اتنی شرم اور ندامت ہوئی کہ پھر اس کا کبھی ارادہ نہ فرمایا۔
آفتاب رسالت کا طلوع
بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر جس اعتقاد اور اہتمام سے ہوئی، اور اس کے چندوں میں ہر قسم کی حرام و مشتبہ کمائیوں سے پر ہیز کر کے صرف پاک اور جائز آمدنی قبول کی گئی وہ شہر کے نوعمر اور حساس دماغوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہی ہو گی۔
اِس کے احترام کا حال یہ تھا کہ لوگ وہاں جھوٹی قسم کھانے سے گھبراتے تھے۔ اِنتہائی اہم اور یقین آخری قسم کھانی ہو تو کعبے کے حصہ میں لوگ حلف لیتے تھے اور مشہور ہو گیا تھا کہ وہاں جھوٹی قسم کھانے سے زندگی ختم، نام و نشان نابود اور گھر بار اُجڑ جاتا ہے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جب خدائے واحد کے اِس گھر میں ایک دیوستھان بن گیا اور تین سو ساٹھ (۳۶۰) بُت اس کے اندر اور اس کے احاطے میں آ گئے تو ذاتی غور فکر کرنے والے دِلوں کو اُلجھن ہوئے بغیر چارہ نہ تھا۔ یہ بُت جن میں سے بہتوں کی صورت شکل تک کاریگروں کی عدم مہارت سے بھدّی اور بے ڈول ہے یہ بُت جو ہمارے ہی ہاتھوں کے مصنوعات ہیں اور جو نہ بول سکتے ہیں اور نہ حرکت کر سکتے ہیں جو اِس قابل نہیں کہ کوئی ان کو ضرر پہنچائے تو روک بھی سکیں، وہ کس حد تک کسی کو نفع یا ضرر پہنچا سکتے ہیں؟ ان کا صحیح مقام قومی اور انفرادی زندگی میں کیا ہے؟
پھر یہ قصے بھی سننے میں آئے تھے کہ ایک غلہ پیدا کرنے والے رتبے کے باشندوں نے بجائے مٹی پتھر کے آٹے کا بڑے قد و قامت کا پُتلا بنایا اور اُسے اپنا معبود ٹھہرایا اور پھر ایک سال قحط ہوا تو اسی معبود کو کاٹ کاٹ کر اور توڑ پھوڑ کر کھا گئے۔ یا جہاں لکڑی کے بُت تھے تو مسافر سردی وغیرہ کے زمانے میں راتوں کو چپکے سے اپنے چولھوں کا ایندھن اُن سے فراہم کر لیتے تھے ایسے معبود کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اس سے بڑھ کر نفرت پیدا کرنے والا مکّے کے اندر کا یہ واقعہ تھا کہ "اساف” نامی شخص نے "نائلہ” کے ساتھ زنا کرنے کے لیے ایک دفعہ خانہ کعبہ کے اندر چار دیواری کا آسرا پایا اور لوگوں نے تشہیر کے لیے اُن کے بُت شہر کے دو ممتاز مقاموں پر رکھ دیے تو چند ہی سال بعد مختلف نا واقف لوگ اُن ملعون بتوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔
ایسے واقعات پر چند اعلیٰ دماغوں کا سوچ میں پڑ جانا ناگزیر تھا۔ عام اہلِ شہر تو بُت پرست تھے۔ البتہ بعض لوگ بیرونی ممالک کے سفر سے متاثر آئے تھے اور اپنے ملک کی بے سروپا بُت پرستی سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اِسی سلسلے میں مکّے کے اندر ہی کچھ لوگ عیسائی ہو گئے تھے اور کچھ دہریے اور مادہ پرست والا مذہب ہو کر "خوش باش و مہ کہ زندگانی این است” یا "بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست” کے قائل ہو گئے تھے۔ کچھ تو حید تک پہنچ گئے تھے لیکن حیران تھے کہ عبد و معبود میں رشتہ کس طرح قائم کریں۔ وہ اپنے دل کی تڑپ اشعار وغیرہ میں ظاہر کرنے لگے اور ایک مشہور شخص نے کہا کہ "اے خدا تو ہی بتا کہ میں تیری کس طرح عبادت بجا لاؤں، کھڑا رہوں یا جھکوں یا سجدے میں گر پڑوں یا سر کے بل اُلٹا کھڑا ہو جاؤں یا کسی پہلو پر پڑوں مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا تو جیسا چاہے گا میں ویسا کرنے پر ہر طرح آمادہ ہوں۔”
غرض "فکر ہر کس بقدر ہمتِ اوست” آنحضرتﷺ کا عام خاندان تو اہلِ شہر کا ہم خیال تھا۔ البتہ آپﷺ کی بیوی خدیجہؓ کے ایک قریبی رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ وقتاً فوقتاً اہلِ شہر میں مذہبی مسائل پر بھی گفتگو ہوتی ہو گی۔ بہرحال مختلف اسباب نے جلد ہی اب آنحضرتﷺ کو انسان کے مقصدِ حیات اور خالقِ کائنات کے مسئلے پر متوجہ کر دیا۔ غالباً چند دن آپؐ یوں ہی سوچتے رہے ہوں گے کبھی بیوی سے گفتگو کی ہو گی، کبھی احباب سے، کبھی بزرگانِ خاندان و شہر سے اور کبھی سب طرف سے لاجوابی اور مایوسی دیکھ کر تنہا کسی درخت کے نیچے، کسی چٹان کے سائے میں بیٹھ جاتے اور گھنٹوں اسی طرح گزر جاتے ہوں گے۔ تحنّت کرنے یعنی بیوی بچوں کو چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے تنہا کسی غار میں جا کر چلّہ بیٹھ جانے کی ترغیب یا ترکیب طبری کے مطابق مکّے میں معروف و معمول چیز تھی۔ معلوم نہیں مکّے میں یہ چیزیں کہاں سے آئیں، ممکن ہے سنتِ ابراہیم کا بقایا ہو۔
بہرحال ہمارے مورّخ یہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان کا پورا مہینہ آپؐ شہر مکّے کے باہر اپنے مکان سے تقریباً ڈھائی تین فرلانگ کے فاصلہ پر "حرا” نامی پہاڑ کے ایک غار میں رہ جاتے تھے۔ کھانا پینا کچھ تو آپؐ ساتھ لے جاتے اور پھر بھی ضرورت پر عارضی طور سے گھر واپس آ جاتے یا آپؐ کی بیوی خادم یا غلام کے ہاتھ آپؐ کو ضرورت کا سامانِ تازہ بھیج دیتیں۔ یقیناً یہاں روزے اور ریاضت کا سلسلہ جاری رہتا ہو گا لیکن تفصیل معلوم نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی بھولا بھٹکا مسافر یا مسکین اُدھر سے گزرتا تو آپؐ اپنے مختصر توشے میں اُس کو بھی شریک فرما لیا کرتے اور یہ مہینہ ختم ہوتا تو مکّہ آ کر گھر جانے سے پہلے کعبے کا طواف کرتے۔ جبلِ حرا (جو اب جبلِ نور کے نام سے مشہور ہے اور جس کا ترجمہ بائبل میں فاران آیا ہے) مکّے کے شمال مشرق میں منیٰ و عرفات کو جاتے وقت بائیں ہاتھ پر سڑک سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ بارش سے جو سیلاب آتا ہے اس سے شہر کی حفاظت کے لیے تُرکی دَور میں یہاں ایک طویل کٹہ بنا کر سیلاب کے رُخ کو بدلا گیا ہے۔ اس سے ذرا آگے بڑھیں تو سفید سا ایک نورانی پہاڑ ہے، کچھ چکر دار پہاڑی چڑھائی کریں تو تُرکوں کے لیے دُعا نکلتی ہے کہ اُنھوں نے یہاں پانی پینے کے لیے حوض تعمیر کیے ہیں، جن میں بارش کا پانی جمع ہو کر خاصے طویل عرصے تک کام دیتا ہے اور اُوپر پہنچیں تو چوٹی کے قریب چند چٹانیں اور گنڈ اُوپر تلے آزو بازو اس طرح جمع ہو گئے ہیں کہ اُن سے ایک مسطح فرش کے ساتھ ایک غار بن گیا ہے اور چند قدرتی سیڑھیاں سی بن گئی ہیں، اندر جاؤ تو خدا کی قدرت نظر آتی ہے۔ تقریباً چار گز لمبا پونے دو گز چوڑا اور اتنا اُونچا کہ ایک پورے قد کا آدمی وہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا اور اندر آرام سے پاؤں پھیلا کر سو سکتا ہے۔ دھوپ اور بارش سے بھی کافی حفاظت ہے اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ غار جو لمبا سا مستطیل شکل کا ہے قدرتاً کعبہ رُخ ہے۔ غارِ حرا میں آنحضرتﷺ کا تحنّت یا چلّہ کشی کا سلسلہ ٹھیک کتنے سال جاری رہا باوجود تلاش کے مجھے معلوم نہ ہو سکا لیکن یہ مدت بہرحال پانچ سال سے کم جاری رہی ہو گی۔
مادّی تجارب اور اُن کے نتائج کا تو آدمی بہت کچھ تذکرہ کر سکتا اور اُن کو الفاظ کا جامہ پہنا سکتا ہے لیکن روحانی تجارب کے حواس ظاہری سے معلوم کرنا ممکن نہیں۔ آنحضرتﷺ پر کیا گزری پورے طور سے کیسے بیان ہو سکتا ہے۔
بہرحال مستند روایات اور سوانح نگاروں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یقیناً دل کی خلش کو اُس سے سکون ملنے لگا ہو گا کیونکہ ہر سال اس کا اعادہ ہونے لگا تھا۔ بلکہ یقیناً اس میں زیادہ مزہ آنے لگا ہو گا۔ کہتے ہیں کہ ان روحانی ترقیاتِ مدارج کے سلسلے میں اوّلاً رویا ہائے صادقہ پیش آنے لگے یعنی بارہا ایسے خواب نظر آتے جن کی بعد میں جلد تعبیر نکل آتی۔ پھر رفتہ رفتہ بعض وقت آپؐ کو یہ محسوس ہونے لگا کہ کوئی درخت یا کوئی پتھر آپؐ سے مخاطب ہے اور آواز دے رہا ہے، رفتہ رفتہ یہ آوازیں بامعنی الفاظ کی صورت اختیار کرتی گئیں۔
شروع میں اُن چیزوں سے آپؐ کو ڈر لگا۔ بارہا آواز پر کسی انسان کی تلاش کی مگر کوئی ہو تو نظر آئے۔ رفتہ رفتہ اِن غیبی دوستوں سے اُنسیت بڑھتی گئی۔ ان کا انتظار رہنے اور ان کے دوبارہ آنے پر لُطف آنے لگا۔
رفتہ رفتہ دُنیا سے جی اُٹھنے لیکن باہمہ و بے ہمہ ہونے کی طرف میلان ہونے لگا۔ تزکیۂ نفس و ارتکاز و اِنہماک پہلے ہی سے مجلیٰ اور پاک صاف دل پر وہ اثرات دِکھانے لگا جو انسان کو انسانیتِ کاملہ تک پہنچاتے اور عبد و معبود، خالق و مخلوق میں راست رشتہ جوڑتے ہیں۔
ضمیر ہوں تو ہر کسی کو بُرائی سے روکنے اور بھلائی کی ہدایت کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر ایسے پاک ضمیر کا خمیر کتنا صحیح ہادی و مصلح نہ ہو جاتا ہو گا۔
چند سال تک اِس تزکیۂ نفس اور صفائیِ باطن کا سلسلہ جاری رہا۔ اس عرصے میں بیوی بچوں اور گھربار سے تعلق بے تعلقی کا سا ہو گیا۔ چنانچہ آپؐ کی آخری اولاد تعمیرِ کعبہ کے پہلے ہی پیدا ہوئی، بی بی خدیجہؓ سے پھر کوئی بچہ نہ ہوا۔
اب عمر اپنی پختگی کو پہنچی۔ چالیس سال ہونے کو آئے تو قدرت کی طرف سے وحی و اِلہام کے لیے تیار کیا جانے لگا۔ اور رسولِ اُمّی کو رب العالمین نے چاہا کہ رحمۃ للعالمین بنا دے۔
آخر پھر رمضان کا مہینہ آیا۔ چلّہ شروع کیے چند ہفتے ہو گئے تھے کہ جبرئیل امینِ خدا کا پیام پہنچانے یا وحی کا ذریعہ بننے کے لیے حاضر ہوئے اور خاتم النبین کو عہدۂ رسالت کا جائزہ دلا دیا گیا۔ اللّٰہُم صل علیٰ محمد۔
پہلی وحی کے وقت تو کوئی پاس نہ تھا۔ لیکن آئندہ ۳۳ سال تک مسلسل وحی آتی رہی اور اِس کا مشاہدہ کرنے والے بہت سے موجود بھی ہوتے تھے۔ پبلک نے اپنے مشاہدے کا تذکرہ جو چھوڑا ہے اُسے ہم بلا تشبیہ کچھ نہ کچھ اپنے ماحول کی چیزوں کی مدد سے سمجھ سکتے ہیں۔
وحی کو ایک ٹیلی فون سمجھنا چاہیے جو خدا اپنے پیغمبر کو کرتا ہے محدثین اور مورّخین کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ایک گھنٹی کی سی آواز سنتے۔ آپؐ کے بہت قریب رہنے والوں (مثلاً ابو بکرؓ و عمرؓ) کو ایسے موقعوں پر کچھ مکھیوں کی بھنبھناہٹ سی سنائی دیتی، گو نظر کچھ نہ آتا۔ پیام رسانی کی یہ وصولی جو شدت و جلالت رکھتی تھی اس کا مشاہدہ بعض صحابہ کی زبانی یوں مروی ہے کہ اگر شدت کے جاڑوں میں بھی یہ موقع پیش آیا تو آنحضرتﷺ کی پیشانی پیسنے سے تر بتر ہو جاتی۔ اُونٹنی پر سوار رہتے تو بوجھ کے مارے وہ اکثر بیٹھ جاتی اور اگر کبھی نہ بیٹھتی تو اس کے پاؤں کچھ ایسے جمنے لگتے کہ گمان ہوتا کہ اب ہڈی چٹخ کر ٹوٹ ہی جائے گی۔ ایک مرتبہ ایسی حالت میں ایک صحابی کی مانڈی پر آپؐ زانو رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ بوجھ کی شدت سے حواس باختہ ہو گئے اور خیال کیا کہ ران کی ہڈّی بیچ سے ٹوٹ جانے والی ہے۔
فرشتہ یا ملائکہ کے معنی "بھیجے ہوئے” یا "پیام رساں” ہیں اور اِس سے وہ مخلوق مراد لی جاتی ہے جو انسان اور خدا کے مابین رابطہ بنتی اور پیام رسانی کرتی ہے۔ رسول اکرمﷺ کا بیان ہے کہ پیام رساں فرشتہ (جبرئیل) کبھی انسان کی شکل میں نظر آتا، کبھی پکوٹھوں سے اُڑنے والی ایک نئی نوعِ خلقت کی شکل اور کبھی کسی اور شکل میں۔
چونکہ نبی ہر شخص نہیں بنتا اس لیے نبوّت کے یہ تعلقات بھی ہر کسی کے آسانی سے سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ اور اُن چیزوں کو متبعین کے نقطۂ نظر سے کوئی خاص اہمیت بھی نہیں ہے کہ وحی کس طرح آتی تھی، بلکہ وحی کیا آئی اور کس طرح محفوظ رہی یہی ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
غرض ۴۰ عیسوی محمدی مطابق ۱۲ قبل ہجرت م۶۶۰ء کے رمضان میں وہ دور ختم ہو گیا جو نبوّتِ محمدی کا پس منظر تھا۔ وحی کی آمد ایک عہد آفریں واقعہ تھا جس سے آپؐ کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اب اس کا مطالعہ کرنا ہے۔
نبوت کا مکّی دَور
نبوت کا آغاز ربانی وحی سے ہوتا ہے خدا اپنی ہدایت اور حکم اپنے پیغام رساں کے پاس بھیجتا ہے کہ بندوں اور انسانوں تک پہنچا دے۔ نبوّت کوئی موروثی پیشہ نہیں کہ بچہ اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بچپن ہی سے اس پیشے میں مشغول دیکھ کر اُس سے مانوس اور خود بخود واقف ہوتا چلا جائے۔ ایک نکو کار راست باز لیکن اُسی شخص کو جب یک بیک یہ اِطلاع ملی کہ ” تو خدا کا رسول ہے اور تیرا فریضہ ہے کہ اپنی قوم کو حق و ہدایت کی طرف بلائے۔” تو جو نفسیاتی کیفیت اور ذہنی ردِعمل پیدا ہوا ہو گا اُس کا تھوڑا بہت اندازہ اس روایت سے ہو سکتا ہے کہ جو مشہور سیرت نگار ابنِ اسحاق نے بیان کی ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی بیوی خدیجہؓ سے کہا کہ جوں ہی میں تنہا ہوتا ہوں تو آواز سُنا کرتا ہوں جو مجھے اے محمد (ﷺ) کہہ کر پکارتی ہے، مجھے نیند نہیں بلکہ بیداری میں ایک نور سا محسوس ہوتا ہے۔ خدا کی قسم مجھے ان بتوں اور کاہنوں کی غیب گوئیوں سے بڑھ کر کسی چیز سے نفرت نہ تھی۔ کیا میں بھی کوئی کا ہن بن گیا ہوں؟ کیا مجھے آواز دینے والا کوئی جن اور شیطان تو نہیں۔
غرض یہ خوف ناگزیر تھا کہ لوگ جھوٹا، مجنوں یا آسیب زدہ اور کا ہن سمجھنے لگیں گے۔ کیونکہ مُلک میں نبوّت اور خدا کی رسالت سے کوئی واقف نہ تھا اور اسی بنا پر اس نازک فرق کو بھی محسوس نہ کر سکتا تھا جو شیطانی القاء اور ملکوتی اِلہام میں ہوتا ہے کیونکہ بظاہر دونوں غیب دانی کی حد تک مماثلت رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔
غم گُسار بیوی نے طرح طرح سے تسلّی کا سامان کیا۔ ایک طرف تو اپنے غیر متزلزل ایقان کا اظہار کیا کہ تم جیسے نکو کار اور سراپا فیض منش کو خدا کبھی آسیب وغیرہ شیطانی مصائب میں مبتلا نہ کرے گا۔ پھر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس جو عیسائی تھے، لے گئیں اور اُنھوں نے یہ ماجرا سن کر اِطمینان دلایا کہ یہ باتیں شیطانی نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ناموس[5] یعنی توریت سے مشابہ ہیں اور یہاں تک کہا کہ تمھارے اِصلاحی کام میں اگر رکاوٹیں اور مشکلیں پیش آئیں اور اُس وقت تک میں زندہ رہوں تو ہر طرح تمھارا سینہ سپر رہوں گا (یہ یاد رہے کہ خود عیسائی مورّخوں کے مطابق آغازِ اسلام کے وقت عیسائی عام طور پر آخری تسلی دہندے اور مسیحا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے، اس پر تعجب نہ ہو) ۔ اس کے ساتھ بی بی خدیجہؓ نے ایک اور اطمینان دہانی اور تشفی کا ذریعہ بتایا جو بی بی کو غالباً اپنے عیسائی رشتہ داروں سے معلوم ہوا ہو گا۔ چنانچہ ابن ہشام کے مطابق بی بی نے آنحضرتﷺ سے کہا کہ جس وقت تمھیں جبرئیل فرشتہ نظر آنے لگے تو مجھ سے کہو۔ آنحضرتﷺ نے کچھ عرصہ بعد کہا کہ لو وہ مجھے اب نظر آ رہا ہے۔ بی بی نے کہا آؤ میرے دائیں پہلو میں بیٹھو اور کہو کیا اب بھی نظر آ رہا ہے۔ آپؐ نے کہا ہاں۔ تو کہا اُٹھو میرے بائیں پہلو میں بیٹھو اور کہو، کیا اب بھی نظر آ رہا ہے۔ آپؐ نے کہا ہاں۔ پھر آپؐ کو اپنے سامنے بٹھا کر وہی سوال کیا، آخر میں آپؐ کو اپنی قمیض کے اندر کھینچ کر بے تکلفی اختیار کر لی اور پوچھا کیا اب بھی نظر آ رہا ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ نہیں اب نظر نہیں آ رہا ہے اس پر بی بی نے کہا کہ اگر وہ شیطان ہوتا تو ہماری اس شرم کے وقت ہر گز نہ ملتا۔ وہ فرشتہ ہی ہو سکتا ہے۔
ابتدائی وحی کے بعد پھر کچھ عرصے تک تازہ وحی نہیں آئی اور ابنِ اسحاق کی روایت میں یہ واقعہ (جسے اصطلاحاً فترتِ وحی کہتے ہیں) تین سال تک جاری رہا۔
یہ تین سال کا عرصہ ناگزیر کئی طرح سے گزرا ہو گا۔ ابتدائی زمانے میں اوّلین وحی کی دہشت، بعد کے زمانے میں سکون و اطمینان، پھر اُس کی طرف رغبت، اور آخر میں انتظار اور بے چینی۔ اس آخری دور کے متعلق مورّخین بیان کرتے ہیں کہ انتظار کی شدت اور ناکامی پر رنج کا آنحضرتﷺ پر ایسا اثر طاری ہو جاتا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی پر سے اپنے کو گرا کر جان دینے کو جی چاہتا تھا۔ ایسے وفورِ بیخودی کے وقت پھر آپؐ کی دنیوی آنکھوں پر پردہ چھا جاتا۔ اور چشمائے بصیرت وا ہو جاتیں۔ اور آپؐ کو جبرئیل بھی نظر آ جاتے اور کہتے کہ تم خدا کے سچّے رسول ہو، اس پر آپؐ کا پھر اطمینان ہو جاتا اور مجاہدہ و ریاضت کا سلسلہ جاری ہو جاتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصے میں بیوی اور گھر سے تعلق برائے نام ہی رہ گیا تھا۔ راتوں کو ایک طویل عبادت کے بعد کعبے کے احاطے میں سو جایا کرتے تھے۔ دن کو عبادت اور نماز میں مشغول رہتے اور تزکیۂ نفس اور خدمتِ خلق کے سوا کسی چیز سے سروکار نہ تھا۔ آخر ریاضت نے نفس کے آخری زنگار کو بھی صاف کر دیا اور دُنیا کی آخری خواہش کو بھی ختم کر دیا۔ اور ایسا انسان تیار ہو گیا جو شکل تو انسان ہی کی رکھے، لیکن اس کی ہر حرکت، ہر لفظ اور ہر ادا فنا فی اللہ ہو جائے۔ یہ ہونے کے بعد آپؐ کو تو نہیں [لیکن] آپؐ کی بیوی کو یہ خطرہ گزرا کہ کیا خدا نے اسے چھوڑ دیا ہے؟ کیا خدا اُس سے ناراض ہو گیا ہے؟ تو تربیت اور تیاری کی مدت کا آخری لمحہ بھی ختم ہو گیا اور یہ وحی آئی۔
"قسم ہے روز روشن کی اور قسم ہے شب تاریک کی، تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔ تیرے لیے ہر آئندہ چیز، ہر گزشتہ چیز سے بہتر ہو گی۔ اور جلد تیرا رب تجھے وہ چیز دے گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔ کیا اُس نے تجھے یتیم پانے کے باوجود سہارا نہیں مہیا کیا؟ اور بھٹکا ہوا ہونے کے باوجود سیدھے راستے پر نہیں لگایا؟ کیا محتاج پانے کے بعد مال دار اور غنی نہیں کر دیا؟ تو بھی اب کسی یتیم کو نہ دبا اور کسی سائل کو نہ جھڑک، اور اپنے رب کی نعمت سب سے بیان کر۔ (سورۂ والضحیٰ)
"اپنے رب کی نعمت سب سے بیان کر۔” یہ ہدایت تھی جو تبلیغِ رسالت کے متعلق آپ کو وصول ہوئی۔
اس ابتدائی زمانے میں جو سورے اور آیتیں نازل ہوئی تھیں ان میں سے سورۂ اقرا میں خدائے واحد کی خلاقی کا ذکر ہو کر تمام مادہ پرستی اور دہریت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ سورۂ مدثر میں لوگوں کو ہر قسم کی برائی کے بُرے انجام سے ڈرانے، ربِ اکبر ہی کی عبادت کرنے، نماز کے وقت جسم اور لباس کو پاک رکھنے، خدا کو ناراض کرنے والی ہر بات (زُجر) کو چھوڑنے اور کسی بھی عنایت و خدمت کے بعد احسان نہ جتانے کا حکم آیا۔ سورۂ حجر میں یہ حکم آیا کہ "تجھے جو بھی حکم دیا جاتا ہے وہ خوب کھول کر بیان کر دیا کر اور مشرکوں کی پروا نہ کر۔” سورۂ شعرا میں ایک کہ طرف تو یہ حکم آیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا سے ڈرا اور دوسری طرف وحی کو کہانتوں، ہاتفوں، بُتوں سے نکلنے والی آوازوں اور دیگر تمام شیطانی باتوں اور خود ساخت شعروں اور خیال آرائیوں سے الگ قرار دے کر معترضوں کا جواب دیا گیا۔ پارۂ عم کی مختلف سورتوں میں انسان کو خدا کی وحدانیت ماننے اور نکو کا ر رہنے کی بار بار نئے انداز میں تاکید آتی اور دلیل و ترغیب بھی مہیا کی گئی کہ انسانی دسترس سے بالا زمین و آسمان، چاند سورج، ہوا اور سمندر، بارش اور موسم اور خود ہم انسانوں کو سوائے خدا کے کون بنا سکتا ہے۔ وہی نیست سے ہست کرتا ہے اور وہی زندوں کو موت دے کر فنا کرتا ہے۔ کیا وہی دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا اور زندہ کر کے اس زندگی کے اعمال پر سزا و جزا نہیں دے سکتا؟ پھر نکو کاری اور بد کاری پر جنت، دوزخ اور قیامت و حساب کتاب کے تذکرے کیے گئے ہیں اور اس طرح وہ اساس اور وہ اصل بنیاد مہیا کی گئی جو انسان کو اختیار رکھنے کے باوجود ضبط پر آمادہ کر سکتی ہے اور لذّت کے باوجود بُرائی کو انسان اچھا نہیں سمجھتا۔
اسلام اور جہالت کا فرق یہی بتایا گیا کہ جاہل اچھے اور بُرے کا معیار اپنی لذّت اور آرام کو قرار دیتا ہے۔ اور اس طرح بُرائی بھی اچھی بات نظر آنے لگتی ہے، جو محض شیطنت ہے۔ "رزین لہم الشیطان اعمالہم، زینِ لہم سوا اعمالہم” اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تبلیغ و دعوتِ رسالت کا کام کس طرح انجام پایا۔
تبلیغِ رسالت
جب تک فراغت اور فراوانی نہ ہو، پیٹ کا دھندا، انسان کا ہو کہ کسی اور جانور کا کسی اور کام خاص کر "ذہنی تعیش” کی طرف توجہ کا موقع نہیں دیتا۔ اور اگر عباداتی "اوہام و خرافات” کی طرف انسان کی کچھ توجہ بھی ہوتی ہے تو روزگار میں فراوانی کی تمنا میں۔
عہدِ رسالت سے کئی سال پہلے ہی سے مکّے والوں نے بین الممالک تجارت اور کاروانی کاروبار شروع کر دیا تھا۔ اور ۱ سنِ نبوی میں ایسے کافی لوگ تھے جو انسان کی تخلیق کی غرض و غایت اور خالق و مخلوق کے تعلقات سے دلچسپی نئے سرے سے لے رہے تھے۔ اُنھی حالات میں بعثت محمدیؐ عمل میں آتی ہے۔
ایک طرف مورّخ یہ بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی وحی کے بعد تین سال تک فترت کا زمانہ رہا یعنی پھر کوئی اور وحی نہ آئی۔ دوسری طرف اُن کا یہ بھی بیان ہے کہ ابتدائی تین سال تک مخفی تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ ان دونوں میں کچھ نہ کچھ تعلق ہونا چاہیے۔
وحی کے آغاز پر رسول اکرمﷺ نے یقیناً اپنی راز داں رفیقِ زندگی سے اس کا ذکر کیا ہو گا۔ اس صاف باطن، صاف دل کو آمنّا کہنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ حضرت علیؓ آپؐ کے چچا زاد بھائی تو تھے لیکن ساتھ ہی زیرِ پرورش طفل نابالغ بھی۔ انھوں نے بھی اور گھر کے لونڈی، غلام اور حسنِ سلوک کے پروردہ احسان زید بن حادثہ اور ان کی بیوی وغیرہ بھی اسی کے بعد مسلمان ہو گئے ہوں گے۔ آپؐ کے رفیقِ خاص حضرت ابو بکرؓ سے بھی آپؐ نے ذکر کیا ہو گا۔ اُن کو بھی تصدیق کرتے کیا دیر لگتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اُس ابتدائی دور کے نو مسلم یکایک اپنے اندر ایک بجلی کی رو سے اتصال محسوس کر کے اس بے پناہ جوش سے تبلیغ خدا پرستی کرنے لگے کہ اس کی نظیر دیگر مذاہب میں کم ملتی ہے۔ عورتوں کی جدوجہد کا ہم الگ ذکر کریں گے۔ مردوں میں حضرت ابو بکرؓ کی کوششیں خاص طور پر کامیاب رہیں۔ ایک طرف اُن کے حلقۂ احباب میں سے زبیر بن العوام، عبد الرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبید اللہ اور ایک روایت میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم خاص ان ہی کی تبلیغ اور بحث و ترغیب پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور دوسری طرف ان ہی نے بلال، عامر بن فہیرہ، اُم عمیس، زنیرہ، نہدیو، اور لبینہ رضی اللہ عنہم متعدد مردوں اور عورتوں کو خرید خرید کر آزاد کیا۔ بہ ظاہر یہ اس لیے خریدے گئے تھے کہ اسلام لانے کی "پاداش” میں اُن کے آقا ایذا رسانی کر رہے تھے۔ یہ ٹھیک طور پر نہیں معلوم ہوتا، کہ اُن لونڈی غلاموں میں اسلام کس طرح اور کس کی کوشش سے پھیلا۔ بہرحال صدیق اکبرؓ کا تن من دھن اسلام کے لیے وقف ہو گیا تھا اور مسلمان لونڈی اور غلاموں کو کفر کی اذیتوں سے نجات دلانے میں وہ بہت خاص مسرت محسوس کرتے تھے۔
تبلیغ کیا تھی؟ اُس زمانے کی نازل شدہ آیات و سورتہائے قرآنی کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کو ایک مانے، اس کے ہر طرح کے شرک سے پاک ہونے اور مرنے کے بعد انسان کے دوبارہ زندہ ہو کر حساب و کتاب دینے اور اسی کے مطابق جنت یا دوزخ کی جزا و سزا پانے پر مشتمل تھی۔ ضمناً بُت پرستی کی لغویت، فرشتوں کا وجود، اِن ہی کے ذریعے سے خدا کا اپنے رسولوں پر وحی کرنا اور بندوں کی ہدایت کے لیے مامور کرنا بیان ہوتا تھا۔ اخلاقِ حسنہ اور خیر خیرات کی ترغیب بھی دی جاتی تھی۔
تبلیغ کا طریقہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی دوست یا تجسس پسند ملتا تو رسول اکرمﷺ خوش الحانی سے قرآن مجید کی کچھ آیتیں اُسے سناتے۔ پھر اُن کی تشریح و توضیح کر کے ہر مخاطب کے حسبِ حال اسلام کی تفصیل بیان کرتے۔ ایک طرف خدائے خلاق و رحیم کی بے پایاں نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے۔ دوسری طرف اس کی قدرت وقوت یاد دلا کر آخرت کے حساب و کتاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ اسی طرح مُلک کے مروّجہ اَخلاق کی بُرائی بیان کی جاتی ہے کہ خود ہماری ہی دستکاری کے نمونے، جو خود اپنے آپ کی بھی کوئی حفاظت نہیں کر سکتے اور نہ بول، سُن، حرکت کر سکتے ہیں وہ خدا یا خدا کے ہاں شفیع کیسے ہو سکتے ہیں۔
غرض "آمنتُ بِاللہ و مَلائکہ و کُتُبہ و رُسُلہ و الیوم الآخر وَ القدر خیرہ و شرّہ مِن اللہ” اِس تعلیم کا نچوڑ اور خلاصہ ہے جو اس زمانے میں دی جاتی تھی۔
قرآنِ مجید کی تلاوت میں کچھ ایسا سحر تھا اس کے سامنے جائے و بیان عرب بھی سر دھُننے لگتا تھا۔ ایسی روایتیں ملتی ہیں کہ اسلام کے سخت ترین مخالف بھی راتوں کو چھپ کر مسکن نبویؐ کے پاس جاتے اور تلاوتِ نبویؐ سے اور کچھ نہیں تو موسیقی کا لطف اُٹھاتے اور کوشش کرتے کہ کوئی انھیں دیکھنے نہ پائے اور بار بار راستے میں دیکھ لیے جاتے تو نصیحت بھی ہوتی۔
تاریخِ طبری میں خاص کر تفصیل سے اس کا ذکر ہے کہ کب کب اور کس کس طرح رسول اللہﷺ لوگوں کے مجامع سے استفادہ کرتے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیتے۔
ابھی نمازِ پنجگانہ لازم نہیں ہوئی تھی لیکن ابتدا ہی سے (دن میں غالباً دو بار چاشت اور عشاء کے وقت خدائے واحد کی عبادت ہو جایا کرتی تھی۔ مورّخ کہتے ہیں کہ ابتداءً سویرے چاشت (ضحیٰ) کے وقت آنحضرتﷺ کعبے کے سامنے نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔ بُت پرستی کی مذمت میں جب شدّت ہوئی تو قریش نے اس سے روکنا اور اذیّت دینا شروع کیا۔ اُس وقت ہی کا ذکر ہو گا جو سیرت نگار بیان کرتے ہیں کہ آپؐ شہر کے باہر وادیوں اور درّوں میں چلے جاتے اور وہاں نماز ادا فرماتے۔
یہ ٹھیک طور سے معلوم نہیں کہ الارقم نامی صابی کے مکان میں آپؐ کب اور کن حالات میں جا فروکش ہوئے۔ آپؐ کا مکان غالباً مرکزِ شہر سے ذرا دُور تھا۔ بیت الارقم کعبے سے بالکل قریب کوہِ صفا پر تھا۔ اس میں کافی گنجائش تھی (وہ آج بھی موجود ہے اور تُرکی دَور کے تحفظ کے بعد سعودی دَور میں اُس کی تزئین بھی ہوئی ہے اور اس تک جانے کی تنگ گلی کو بعض دوسرے مکان تو ڑ کر چوڑایا بھی کیا گیا ہے) اِس مقدس و مبارک مکان میں تبلیغی اجتماع بھی ہوتے اور غالباً نماز با جماعت بھی ہوتی، وہاں سے بیت اللہ کعبہ بھی نظر آتا۔
خود حضرت ابو بکرؓ کا بھی اپنے مکان کے صحن میں ایک مسجد بنانا اور وہاں تلاوتِ قرآن کی محفلوں کا منعقد کیا کرنا تاریخ میں ثبت ہے۔ اُس کو سننے کے لیے بھی آس پاس کے آزاد لوگ اور لونڈی غلام بھی آ جایا کرتے تھے اور اُن کے سوز و گداز اور بہی خواہانہ فہمائش و تبلیغ سے متاثر ہوا کرتے تھے۔
تین برس کی سینہ بہ سینہ راز میں تبلیغ کے بعد علانیہ کام کا آغاز ہوا تھا اور اس سلسلے میں اصابہ ابن حجر وغیرہ میں لکھا ہے کہ جب پہلی مرتبہ علانیہ نماز با جماعت حرمِ کعبہ میں ہوئی اور قریشی انداز سے مختلف طریقے کی عبادت بجالائی گئی تو ہنگامہ مچا اور قریش کی دست درازیوں سے ایک مسلمان حارث بن ابی ہالہ (غالباً بی بی خدیجہ کے پہلے شوہر کے کسی اور بیوی کے بطن سے پیدا شدہ فرزند) اس موقع پر شہید ہو گئے۔ اس کے بعد عرصۂ دراز تک پھر حرمِ کعبہ میں مسلمانوں کی نماز بند ہو گئی ہو گی۔
جب مورّخ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سعید بن زیدؓ اور حضرت ابوذرؓ جیسے بالغ العمر لوگوں کو اسلام لانے پر اُن کے معمر رشتہ داروں نے مارا پیٹا اور طرح طرح کی تکلیف دی تو رسول اللہﷺ کے خلاف آپؐ کے بزرگ قبیلہ ابو طالب کے پاس شکایتی وفود کا آنا بےجا نہ تھا۔ ایک مرتبہ ایک وفد نے آ کر ابو طالب کو نہائیہ دیا کہ اپنے بھتیجے کو یا تو بُتوں کی مذمت وغیرہ سے روکیے یا پھر اپنی حمایت سے نکال دیجیے۔ ابو طالب کے سمجھانے پر آپؐ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے میں سورج بھی توڑ کر لا کر رکھیں تو میں اپنے فریضے سے باز نہیں آسکتا۔ اگر آپ میری حمایت نہیں کر سکتے تو بھی پروا نہیں۔ میں خدا کے حکم سے یہ کام انجام دے رہا ہوں اور اُس کی حفاظت میرے لیے کافی ہے۔ ایک اور موقع پر عتبہ نامی ایک سنجیدہ مزاج قریشی نے تنہا آ کر آپؐ سے بحث کی اور پوچھا کہ آپؐ کا اس تبلیغ سے کیا منشا ہے؟ دولت چاہتے ہو؟ خوبصورت بیویاں چاہتے ہو؟ پورے شہر کی سرداری چاہتے ہو؟ ہم ہر چیز کے لیے آمادہ ہیں۔ صرف ہمارے دیوتاؤں کی مذمت سے باز آ جاؤ اور ان کی پوجا کرنے والوں کی (جن میں ہمارے محترم آبا و اجداد بھی تھے) جہنمی ہونے کے اعلان سے دست بردار ہو جاؤ۔ آنحضرتﷺ نے جواب میں قرآنِ مجید کی تلاوت شروع فرمائی اس میں خدا کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا۔ عتبہ اتنا متاثر ہوا کہ اسے خوف ہوا کہ کہیں وہ دھمکی اسی لمحے پوری ہو کر خدا کا عذاب نہ نازل ہو جائے۔ اس نے قسمیں دیں کہ مزید تلاوت نہ فرمائیں اور وہاں سے خاموش چلا گیا۔
اعلانِ نبوت پر چھے (۶) سال گزر گئے اور آہستہ آہستہ اِسلام پھیلتا ہی گیا۔ اور جو ایک مرتبہ مسلمان ہو گیا پھر کوئی ترہیب یا ترغیب حتیٰ کہ سخت سے سخت ایذا رسانی بھی اس کو اس سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہ کر سکی۔ اس سے قریش کے مشرک سرغنوں کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ ایذا رسانی پر صبر بلکہ موذی کی خدمت بھی اس زمانے میں رسول اللہﷺ کا ایک اُصول نظر آتا ہے۔ اس سے بھی بعض غیر متوقع اور اچھے نتائج نکلے۔ مثلاً آنحضرتﷺ کے چچا حمزہؓ کو ایک دن شکار سے واپسی پر اطلاع ملی کہ آنحضرتﷺ کی استہزا اور جسمانی ایذا رسانی اس روز خاص طور پر ابو جہل نے بہت کی۔ اب تک حمزہ کو اسلام سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس اطلاع پر وہ یکایک بپھرے، ہاتھ میں کمان تھی۔ اسی سے ابو جہل کو حرم کعبہ میں دے مارا اور کہا کہ اچھا اب میں بھی مسلمان ہوتا ہوں کسی کی ہمت ہو تو ہاتھ ڈالے۔
رُکانہ پہلوان کے اسلام کا ٹھیک زمانہ معلوم نہیں۔ اس نے تصدیقِ نبوّت کے لیے آنحضرتﷺ کو کشتی لڑنے کی دعوت دی۔ اور یہ بھی کہا کہ ہار جاؤں تو میری ایک تہائی بکریاں نذر۔ اس کے اطمینان کے لیے آنحضرتﷺ نے اُس کو ایک مرتبہ نہیں تین مرتبہ پٹک دیا۔ اور اس کی ساری بکریاں بھی لے لیں۔ وہ رونے لگا تو ساری بکریاں اُسے واپس دے دیں۔ اس پر وہ اتنا متاثر ہوا کہ خلوصِ دل سے مسلمان ہو گیا۔ (شرح سیر کبیر) یہ وہ پہلوان تھا کہ کسی چمڑے پر تن کر کھڑا ہو جاتا اور لوگ چمڑا کھینچتے تو چمڑا پھٹ جاتا مگر اس کے قدموں کے نیچے سے نہ نکلتا۔
حضرت عمرؓ کا اسلام ایک اور نوعیت کا ہے۔ وہ نہ معلوم قریش کے قبیلے میں کوئی شخص ایسا نہیں ملتا جو آنحضرتﷺ کا قصہ پاک کرے، اپنی خود داری و بہادری پر چوٹ محسوس کی، انعام کا لالچ ہوا۔ بہرحال آنحضرتﷺ کو قتل کرنے اور اپنے قبیلے کو آنحضرتﷺ کے قبیلے سے جنگ کے جوکھم میں ڈالنے پر آمادہ ہو گئے۔ وہ آنحضرتﷺ کے مسکن کی طرف جا رہے تھے کہ اُن کے ایک رشتہ دار نے مل کر طعنہ دیا کہ "آنحضرتﷺ کو پھر قتل کرنا پہلے اپنے گھر کی خبر لو جہاں تمھاری سگی بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں۔” وہ غصے کی حالت میں گھر آئے اور مار پیٹ کی تو زخمی بہن نے کہا "ہاں ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔ تمھارا جو جی چاہے کرو ” نہ معلوم آواز میں کیا جلال تھا کہ اُن کے جسم پر کپکپی آ گئی اور خفتہ ضمیر بیدار ہو گیا کہ وہ کس مہمل ہٹ میں مبتلا ہیں۔ خدا ایک ہی ہو سکتا ہے۔ بُت بیکار اور بے اثر ہیں اور اس بے غرض مصلح کی مخلصانہ پکار سے اختلاف محض ہٹ ہے۔ اب وہ کچھ مزید تفصیلات دریافت کرنے لگے بہن کے اس جملہ سے بھی اس نفسیاتی کیفیت میں وہ مزید متاثر ہوئے ہوں گے کہ "تو ناپاک ہے۔ قرآن کو چھو نہیں سکتا، پہلے غسل کر کے آ۔ پھر اس مقدس چیز کے پڑھنے کی تجھے اجازت ملے گی۔” وہ فولاد اب گرمی سے موم بن چکا تھا۔ اس حالت میں آ کر جناب رسالت مآبﷺ سے ملتے ہیں اور قلب ماہیت ہو جاتی ہے۔ پھر سطوتِ عمری اسلام کی تائید میں صرف ہونے لگتی ہے۔ وہ بیت الارقم میں موجود جملہ مسلمانوں کو لے کر حرم کعبہ میں آتے ہیں اور رسول اللہﷺ وہاں نماز با جماعت ادا کرتے ہیں۔ کسی قریشی کی مجال نہیں ہوتی کہ دم مارے۔ اسی کا رد عمل وہ مقاطعہ ہوتا ہے جس کے باعث تین سال تک آنحضرتﷺ کا خاندان مصیبت میں رہتا ہے۔
اب سنِ ۱۰ نبوی کا زمانہ ہے۔ مقاطعہ برخاست ہو چکا تھا لیکن بی بی خدیجہؓ اور ابو طالب یکے بعد دیگرے اس عام الحزن میں داغِ فرقت دے جاتے ہیں۔ نئے بزرگ قبیلہ ابو لہب سے پہلے بھی نہیں بنتی تھی اب اس نے اعلان کر دیا کہ آنحضرتﷺ کو کنبہ بدر کر دیا گیا ہے مجبوراً آپؐ طائف قسمت آزمائی کے لیے جاتے ہیں۔ وہاں تبلیغ کی مختصر کوشش اتنی ناکام رہی کہ زخموں سے چور آپؐ کو مکّہ واپس ہونا پڑا۔ خاندان سے اب تعلق نہ تھا۔ اس لیے بعض احباب کی حمایت حاصل کر کے آپؐ شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ بظاہر شرط یہ تھی کہ اب مکّہ میں کوئی تبلیغی تقریر نہ کریں۔
مکّے میں ہر سال حج ہوتا تھا اور میلے بھی لگتے تھے۔ وہاں کوئی پابندی نہ تھی۔ آپؐ سوق عكاظ میں بھی نظر آتے ہیں۔ سوق ذو المجاز و مجنہ میں بھی۔ پھر شہر مکہ کے عین با ہر میدان منیٰ میں پہلے سال آپؐ مختلف قبائل کے پڑاؤوں میں جاتے ہیں۔ مؤرّخین کے بقول پندرہ قبیلوں سے یکے بعد دیگرے آپؐ وہاں ملے۔ اُن سے کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے کر اپنے ساتھ لے چلو اور میری تبلیغ کی تائید کرو۔ اس پر دین ہی نہیں دنیا میں بھی بہت جلد قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج تمھارے قدموں میں آگریں گے کہیں کامیابی نہ ہوئی۔ ہر اجتماع اور تخاطب کے وقت ابو لہب خدائی فوجدار کی طرح پیچھے پہنچتا اور قبیلے کو آگاہ کر دیتا کہ اس مجنوں کی بات میں نہ آنا ورنہ پورے قریش سے لڑائی مول لینی پڑے گی۔ آخر آنحضرتﷺ منیٰ سے مکّہ واپس ہو رہے تھے کہ سوچا کہ درۂ عقبہ میں بھی آخری کوشش کر لینی چاہیے وہاں مدینے کے چند حاجی نظر آئے، معلوم نہیں تفریحاً آئے ہوئے تھے یا وہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔ اُن سے آنحضرتﷺ کا ننھیالی رشتہ بھی تھا۔ یہ لوگ یہودیوں کی ہمسائیگی کے باعث پیغمبروں اور حشر و نشر کے مسائل سے مانوس بھی تھے اور اس زمانے کے اہلِ کتاب کے اس تصور سے بھی آشنا تھے کہ ایک آخری تسلی دہندہ اور نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ وہ یہودیوں سے یہ طعنہ بھی سنتے رہے تھے کہ جب "وہ” نبی آ جائے گا تو یہودی اپنے سب دشمنوں کو مزہ چکھائیں گے۔ جنگ بُعاث کے یہ ستم دیدہ نبی کی بعثت کی خبر سنتے ہیں اور خود اس کے پاس جانے کی جگہ وہی ان کے پاس آتا ہے تو خوش نصیبی کے کیا کہنے وہ فوراً اسلام لاتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے ملک میں اس کی تبلیغ بھی کریں گے۔
ان کی کوشش سے دس بارہ آدمی جو مدینے میں مسلمان ہوئے تھے وہ دوسرے سال درۂ عقبہ میں حج کے موقع پر آنحضرتﷺ سے ملتے ہیں اور اپنے اور اپنے خاندانوں کی بیعت پیش کرتے ہیں کہ توحید و عبادت کے علاوہ زنا، سرقہ اور قتلِ اولاد نہ کریں گے کسی پر جان بوجھ کر بہتان نہ لگائیں گے اور کسی بھی اچھی بات کے حکم میں آنحضرتﷺ کی نافرمانی نہ کریں گے۔ اُن کی خواہش پر ایک معلم حضرت عمیرؓ اُن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور وہ مدینہ جا کر جاں فشانی سے تبلیغ بھی کرتا ہے اور مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ اس اللہ کے نیک بندے نے جس لطیف انداز میں اپنا فریضہ انجام دیا اور اُجڈ سر پھرے سرداروں کو جس خوبی سے رام کیا اُس کی تفصیلی داستان طبری میں ہے۔ یہ مختصر سطور اس کی متحمل نہیں۔ انھیں یہی سرداروں میں سے ایک وہ تھا جو گویا مدینے کا حضرت عمرؓ تھا۔ ویسا ہی تند مزاج اور زود رنج۔ لیکن جب چند آیاتِ قرآنی کی حلاوت نے اس کو اسلام کا فریفتہ کر دیا تو تُندی تو نہ گئی لیکن رُخ بدل گیا محلّے میں آ کر اعلان کیا کہ میرے ہاتھوں خیر چاہتے ہو تو مسلمان ہو جاؤ ورنہ مجھ سے بدتر کوئی دشمن نہیں۔ شام ہوتے ہوتے پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔
ایک اور سال گزرتا ہے اور حضرت عمیرؓ کے ہاتھوں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان میں بہتر (۷۲) حج کے موقع پر منیٰ آتے ہیں اور درۂ عقبہ میں اپنے آقا و مولیٰ رسول خداﷺ سے مل کر اقرار کرتے ہیں کہ اگر آپؐ یا آپؐ کے مکی ساتھی مدینہ آ جائیں تو وہ ان سب کی میزبانی کریں گے اور ایسی ہی مدافعت و حفاظت گویا وہ اپنے ہی کنبے رشتے والوں کی مدافعت کر رہے ہیں۔ آنحضرتﷺ بھی فرماتے ہیں کہ تمھاری جنگ میری جنگ، تمھاری صلح میری صلح، میں اب تمھارے ہی میں کا ایک فرد ہو گیا۔
یہ معلوم تاریخ عالم میں ایک واقع معاہدۂ عمرانی تھا، جس میں چند لوگوں نے ایک فرد کو اپنا سردار بنایا اور معاہدے کے ذریعے سے حقوق و فرائض متعین ہوئے۔ پھر ہجرت عمل میں آتی ہے۔
ہجرت کے بعد دور تمکین و حکومت میں بھی اوّلین مقصد تبلیغ دین ہے۔ اس کے لیے ہر طرف معلم و مبلغ بھیجے جاتے ہیں۔ اور مملکتی وسائل اُن کی حفاظت و پشت پناہی کے لیے رہتے ہیں۔ غیر مسلم رعایا کے ساتھ پورا انصاف ہوتا ہے لیکن انھیں محسوس کرایا جاتا ہے کہ ایک نسل یا جغرافی یا دنیا دارانہ مملکت کی جگہ ایک ایسی مملکت میں جو ایک خاص تصورِ حیات رکھتی ہے۔ ان کی حیثیت کی کمی یا برابری ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ان پر تو بار زیادہ نہیں کیا جاتا لیکن مسلمان کسان سے مال گزاری کم کر دی جاتی ہے۔ مسلمان تاجر سے محصول درآمد نصف کر دیا جاتا ہے مسلمان پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اور غیر مسلم اگر جہاد میں سرفروشی کے لیے ماتحتانہ اتحاد عمل نہ کرے بلکہ آرام سے گھر میں بیٹھا رہنا چاہے تو جزیہ ادا کرے۔ غیر مسلم رعیت تو بنتا ہے لیکن صدر مملکت اور حاکم بن سکنا اب اس کا حق صرف اُسی صورت میں ہوتا ہے جب وہ بھی حکومت کے تصورِ حیات کو اپنا تصور حیات قرار دے اور گہوارے سے قبر تک زندگی کے ہر لمحے اور ہر شعبہ میں اسی تصور حیات کے لیے تن من دھُن سے لگ جائے۔
اسلام آسان چیز نہیں۔ امر بالمعروف مگر نفی الانفس کی وہاں گنجائش نہیں۔ خود رسول اللہ دوسروں کو جتنا حکم دیتے تھے اس سے زیادہ نوافل کے طور پر خود کام انجام دیتے تھے۔ صدقات و خیرات کو اپنے اور اپنے کنبے کے لیے حرام کر لیا اُس کا اثر کیسے نہ پڑتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] تفصیلات ابن حبیب اور یعقوبی میں ملیں گی۔ سورۂ ایلاف سے یہی مراد ہے۔
[2] قریش حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کے قدم کا نشان کعبے کے سامنے مقامِ ابراہیم میں اب تک محفوظ ہے۔ ابن سعد (۷۴ ۱/۲) کے مطابق ایک مرتبہ بنی خدلج کا ایک قیافہ شناس کھوجی مکہ آیا۔ تو اس نے آنحضرتؐ کے متعلق کہا تھا کہ آپؐ کے قدم سے زیادہ مقام ابراہیم کے نقش سے کسی اور کو مشابہت نہیں۔
[3] ابن سعد (۱/۱ ۷۰) کے مطابق دودھ پلائی کے سپرد کرتے وقت بی بی آمنہ نے یہ اشعار کہے تھے:
اعبد باللہ ذی الجلال
من شرَ عامرٌ علی الجبال
حتیٰ اراہ حامل الحلال
و یفعل العرفِ الی الموال
وغیرہم من حشوۃ الرجال
[4] مولانا مناظر حسن گیلانی نے کسی حوالے سے رمضان لکھا ہے۔
[5] ناموس یونانی لفظ ہے اور توریت اور عبرانی دونوں کے لفظی معنی "قانون” کے ہیں۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

