FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

ترجمہ قرآن مجید

ماخوذ: تفسیر تدبر القرآن

 

حصہ اول: فاتحہ تا ہود

 

                وحید الدین خان

 

 

 

 

۱۔سورۃ فاتحۃ

 

 

شروع اﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے(1)

سب تعریف اﷲ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ (2)

بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ (3)

انصاف کے دن کا مالک ہے۔ (4)

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں  اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔  (5)

ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ (6)

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا۔  ان کا راستہ نہیں  جن پر تیرا غضب ہوا ، اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستے سے بھٹک گئے۔(7)

٭٭

 

 

 

۲۔ سورۃ البقرۃ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

الف لام میم(1)

یہ اﷲ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔  راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو۔ (2)

جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔  (3)

اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمہارے اوپر اترا اور جو تم سے پہلے اتارا گیا، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (4)

انھیں لوگوں نے اپنے رب کی راہ پائی ہے اور وہی کامیابی کو پہنچنے والے ہیں۔  (5)

جن لوگوں نے انکار کیا، ان کے لئے یکساں ہے ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ماننے والے نہیں  ہیں۔  (6)

اﷲ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (7)

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر، حالاں کہ وہ ایمان والے نہیں  ہیں۔  (8)

وہ اﷲ کو اور مومنین کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔  مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں  اور وہ اس کا شعور نہیں  رکھتے۔(9)

ان کے دلوں میں روگ ہے تو اﷲ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔(10)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ (11)

آگاہ، یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں ، مگر وہ نہیں  سمجھتے۔(12)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔  آگاہ، کہ بے وقوف یہی لوگ ہیں ، مگر وہ نہیں  جانتے۔(13)

اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ، اور جب اپنے شیطانوں کی مجلس میں پہنچتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ، ہم تو ان سے محض ہنسی کرتے ہیں۔ (14)

اﷲ ان سے استہزا کر رہا ہے اور وہ ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے، وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ (15)

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے راہ کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کی تجارت مفید ثابت نہ ہوئی، اور وہ نہ ہوئے راہ پانے والے۔ (16)

ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کو روشن کر دیا تو اﷲ نے ان کی آنکھ کی روشنی چھین لی اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا کہ ان کو کچھ نظر نہیں  آتا۔(17)

وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں۔  اب یہ لوٹنے والے نہیں  ہیں۔ (18)

یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہو رہی ہو، اس میں تاریکی بھی ہو اور گرج چمک بھی۔ وہ کڑک سے ڈر کر موت سے بچنے کے لئے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال رہے ہوں۔  حالاں کہ اﷲ منکروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔(19)

قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے۔ جب بھی ان پر بجلی چمکتی ہے، وہ اس میں چل پڑتے ہیں  اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں۔  اور اگر اﷲ چاہے تو ان کے کان اور ان کی آنکھوں کو چھین لے۔ اﷲ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔(20)

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ، تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔(21)

وہ ذات جس نے زمین کو تمھارے لئے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا، اور اتارا آسمان سے پانی اور اس سے پیدا کئے پھل تمھاری غذا کے لئے۔ پس تم کسی کو اﷲ کے برابر نہ ٹھہراؤ، حالاں کہ تم جانتے ہو۔ (22)

اگر تم اس کلام کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے کے اوپر اتارا ہے تو لاؤ اس کے جیسی ایک سورہ اور بُلا لو اپنے مدد گاروں کو بھی اﷲ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔(23)

پس اگر تم یہ نہ کرسکو اور تم ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے آدمی اور پتھر۔ وہ تیار کی گئی ہے منکروں کے لئے۔ (24)

اور خوش خبری دے دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کئے اس بات کی کہ ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ جوڑے ہوں گے۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (25)

اﷲ اس سے نہیں  شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کر کے اﷲ نے کیا چاہا ہے۔ اﷲ اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔ (26)

جو اﷲ کے عہد کواس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں  اور اس چیز کو توڑتے ہیں جس کو اﷲ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔  یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔(27)

تم کس طرح اﷲ کا انکار کرتے ہو، حالاں کہ تم بے جان تھے تو اس نے تم کو زندگی عطا کی۔ پھر وہ تم کو موت دے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔(28)

وہی ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان درست کئے۔ اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (29)

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔  فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں  اور خون بہائیں۔  اور ہم تیری حمد کرتے ہیں  اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔  اﷲ نے کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں  جانتے۔(30)

اور اﷲ نے سکھادئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔(31)

فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔(32)

اﷲ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ ان لوگوں کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام تو اﷲ نے کہا — کیا میں نے تم سے نہیں  کہا تھا کہ آسمانوں  اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں۔  اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ (33)

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور وہ منکروں میں سے ہو گیا۔(34)

اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔(35)

پھر شیطان نے اس درخت کے ذریعہ دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان دونوں کو اس عیش سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا تم سب اترو یہاں سے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ اور تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور کام چلانا ہے ایک مدت تک۔(36)

پھر آدم نے سیکھ لئے اپنے رب سے چند بول تو اﷲ اس پر متوجہ ہوا۔ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔(37)

ہم نے کہا تم سب یہاں سے اترو۔ پھر جب آئے تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(38)

اور جو لوگ انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلائیں گے تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (39)

اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس احسان کو جو میں نے تمہارے اوپر کیا۔ اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے عہد کو پوار کروں گا، اور میرا ہی ڈر رکھو۔(40)

اور ایمان لاؤ اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے۔ تصدیق کرتی ہوئی اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے۔ اور تم سب سے پہلے اس کا انکار کرنے والے نہ بنو۔ اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا۔ اور مجھ سے ڈرو۔(41)

اور صحیح میں غلط کو نہ ملاؤ اور سچ کو نہ چھپاؤ، حالاں کہ تم جانتے ہو۔(42)

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔(43)

تم، لوگوں سے نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ حالاں کہ تم کتاب کو پڑھتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں۔ (44)

اور مدد چاہو صبر اور نماز سے اور بے شک وہ بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر نہیں  جو ڈرنے والے ہیں۔ (45)

جو گمان رکھتے ہیں کہ ان کو اپنے رب سے ملنا ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔  (46)

اے بنی اسرائیل، میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمہارے اوپر کیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو دنیا والوں پر فضلیت دی۔(47)

اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہو گی۔ اور نہ اس سے بدلے میں کچھ لیا جائے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔(48)

اور جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا۔ وہ تم کوبڑی تکلیف دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو جیتی رکھتے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔(49)

اور جب ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمہیں پار کرایا۔ پھر بچایا تم کو، اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھتے رہے۔(50)

اور جب ہم نے موسیٰ سے وعدہ کیا چالیس رات کا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظالم تھے۔(51)

پھر ہم نے اس کے بعد تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر گزار بنو۔(52)

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فیصلہ کرنے والی چیز تاکہ تم راہ پاؤ۔(53)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ ہو اور اپنے مجرموں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرو۔ یہ تمھارے لئے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اﷲ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔(54)

اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ، ہم تمہارا یقین نہیں  کریں گے، جب تک ہم اﷲ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تم کو بجلی نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔(55)

پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تم کو اٹھایا تاکہ تم شکر گزار بنو۔(56)

اور ہم نے تمہارے اوپر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا۔ کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں۔  انھوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں  کیا، وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔(57)

اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس شہر میں  اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ، اور داخل ہو دروازہ میں سرجھکائے ہوئے اور کہو کہ اے رب! ہماری خطاؤں کو بخش دے۔ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔(58)

تو ظالموں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ اس پر ہم نے ان لوگوں کے اوپر جنھوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے، آسمان سے عذاب اُتارا۔(59)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو تو اس سے پھوٹ نکلے بارہ چشمے۔ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ کھاؤ اور پیو اﷲ کے رزق سے اور نہ پھرو زمین میں فساد مچانے والے بن کر۔(60)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ، ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں  کرسکتے۔ اپنے رب کو ہمارے لئے پکارو کہ وہ نکالے ہم کو جو اگتا ہے زمین سے، ساگ اور ککڑی اور گیہوں  اور مسور اور پیاز۔ موسیٰ نے کہا کیا تم ایک بہتر چیز کے بدلے ایک ادنیٰ چیز کو لینا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں اتر و تو تم کو ملے گی وہ چیز جو تم مانگتے ہو۔ اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی اور وہ غضب اِلٰہی کے مستحق ہو گئے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد پر نہ رہتے تھے۔ (61)

یوں ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اﷲ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (62)

اور جب ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا اور طور پہاڑ کو تمھارے اوپر اٹھایا۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم بچو۔(63)

اس کے بعد تم اس سے پھر گئے۔ اگر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو ضرور تم ہلاک ہو جاتے۔(64)

اور ان لوگوں کا حال تم جانتے ہو جو سبت (سنیچر) کے معاملہ میں اﷲ کے حکم سے نکل گئے تو ہم نے ان سے کہا کہ تم لوگ ذلیل بندر بن جاؤ۔(65)

پھر ہم نے اس کو عبرت بنا دیا ان لوگوں کے لئے جو اس کے روبرو تھے اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے بعد آئے۔ اور اس میں ہم نے نصیحت رکھ دی ڈر والوں کے لئے۔ (66)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اﷲ تم کو حکم  دیتا ہے کہ تم ایک بقرہ ذبح کرو۔ انھوں نے کہا کیا تم ہم سے ہنسی کر رہے ہو۔ موسیٰ نے کہا کہ میں اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسا نادان بنوں،  (67)

انھوں نے کہا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کرے کہ وہ بقرہ کیسی ہو۔موسیٰ نے کہا، اﷲ فرماتا ہے کہ وہ بقرہ نہ بوڑھی ہو نہ بچہ، ان کے بیچ کی ہو۔ اب کر ڈالو جو حکم تم کو ملا ہے۔(68)

انھوں نے کہا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہو۔ موسیٰ نے کہا،اﷲ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہو۔دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو۔(69)

انھوں نے کہا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ کیوں کہ بقرہ میں ہم کو شبہ پڑ گیا ہے۔ اور اﷲ نے چاہا تو ہم راہ پالیں گے۔(70)

موسیٰ نے کہا، اﷲ فرماتا ہے کہ وہ ایسی بقرہ ہو کہ محنت کرنے والی نہ ہو، زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی دینے والی نہ ہو۔ وہ صحیح سالم ہو، اس میں کوئی داغ نہ ہو۔انھوں نے کہا اب تم واضح بات لائے۔ پھر انھوں نے اس کو ذبح کیا۔ اور وہ ذبح کرتے نظر نہ آتے تھے۔(71)

اور جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا، پھر ایک دوسرے پر اس کا الزام ڈالنے لگے۔ حالاں کہ اﷲ کو ظاہر کرنا منظور تھا جو کچھ تم چھپانا چاہتے تھے۔(72)

پس ہم نے حکم دیا کہ مارو اس مُردے کو اس کے ایک ٹکڑے سے۔  اسی طرح زندہ کرتا ہے اﷲ مُردوں کو۔ اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (73)

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ پس وہ پتھر کی مانند ہو گئے یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔  بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں  اور ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اﷲ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں۔  اور اﷲ اس سے بے خبر نہیں  جو تم کرتے ہو۔ (74)

کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ یہود تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے۔ حالاں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اﷲ کا کلام سنتے تھے اور پھر اس کو بدل ڈالتے تھے سمجھنے کے بعد ، اور وہ جانتے ہیں۔ (75)

جب وہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہوئے ہیں۔  اور جب وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اﷲ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمہارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔  کیا تم سمجھتے نہیں۔ (76)

کیا وہ نہیں  جانتے کہ اﷲ کو معلوم ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں  اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔  (77)

اور ان میں اَن پڑھ ہیں جو نہیں  جانتے کتاب کو مگر آرزوئیں۔  ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔ (78)

پس خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں ، پھر کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کی جانب سے ہے، تاکہ اس کے ذریعہ وہ تھوڑی سی پونجی حاصل کر لیں۔  پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی۔ اور ان کے لئے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔(79)

اور وہ کہتے ہیں ہم کو دوزخ کی آگ نہیں  چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔ کہو، کیا تم نے اﷲ کے پاس سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں  کرے گا، یا اﷲ کے اوپر ایسی بات کہتے ہو جو تم نہیں  جانتے۔(80)

ہاں جس نے کوئی برائی کی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا، تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(81)

اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کئے، وہ جنت والے لوگ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (82)

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور نیک سلوک کرو گے ماں باپ کے ساتھ، قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں  اور مسکینوں کے ساتھ۔ اور یہ کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر تم اس سے پھر گئے سوا تھوڑے لوگوں کے۔ اور تم اقرار کر کے اس سے ہٹ جانے والے لوگ ہو۔ (83)

اور جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے۔ اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو۔(84)

پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ تم ان کے مقابلہ میں ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو، حالاں کہ خود ان کا نکالنا تمہارے اوپر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الٰہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے۔ اور اﷲ اس چیز سے بے خبر نہیں  جو تم کر رہے ہو۔(85)

یہی لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ پس نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مدد پہنچے گی۔(86)

اور ہم نے موسی کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں  دیں  اور روحِ پاک سے اس کی تائید کی۔ تو جب بھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا جس کو تمہارا دل نہیں  چاہتا تھا تو تم نے تکبر کیا۔ پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو مار ڈالا۔(87)

اور یہود کہتے ہیں کہ ہمارے دل بند ہیں۔  نہیں ، بلکہ اﷲ نے ان کے انکار کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اس لئے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ (88)

اور جب آئی اﷲ کی طرف سے ان کے پاس ایک کتاب جو سچا کرنے والی ہے اس کو جو ان کے پاس ہے اور وہ پہلے سے منکروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔ پھر جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو انھوں نے پہچان رکھا تھا تو انھوں نے اس کا انکار کر دیا۔ پس اﷲ کی لعنت ہے انکار کرنے والوں پر۔(89)

کیسی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مول کیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اﷲ کے اتارے ہوئے کلام کا اس ضد کی بنا پر کہ اﷲ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اُتارے۔ پس وہ غصہ پر غصہ کما کر لائے اور انکار کرنے والوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ (90)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کلام پر ایمان لاؤ جو اﷲ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر اترا ہے۔ اور وہ اس کلام کا انکار کرتے ہیں جو اس کے پیچھے آیا ہے، حالاں کہ وہ حق ہے اور سچا کرنے والا ہے اس کا جوان کے پاس ہے۔ کہو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم اﷲ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو۔(91)

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا۔ پھر تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظلم کرنے والے ہو۔(92)

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور طور پہاڑ کو تمھارے اوپر کھڑا کیا۔ جو حکم ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے نہیں  مانا۔ اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑا ان کے دلوں میں رچ بس گیا۔ کہو، اگر تم ایمان والے ہو تو کیسی بری ہے وہ چیز جو تمہارا ایمان تم کو سکھاتا ہے۔(93)

کہو، اگر اﷲ کے یہاں آخرت کا گھر خاص تمہارے لئے ہے، دوسروں کو چھوڑ کر، تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو۔(94)

مگر وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے بہ سبب اس کے جو وہ اپنے آگے بھیج چکے ہیں۔  اور اﷲ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔(95)

اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے،ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ ہزار برس کی عمر پائے۔حالاں کہ اتنا جینا بھی اس کو عذاب سے بچا نہیں  سکتا۔ اور اﷲ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ (96)

کہو کہ جو کوئی جبریل کا مخالف ہے تو اس نے اس کلام کو تمہارے دل پر اﷲ کے حکم سے اتارا ہے، وہ سچا کرنے والا ہے اس کا جو اس کے آگے ہے اور وہ ہدایت اور خوش خبری ہے ایمان والوں کے لئے۔ (97)

جو کوئی دشمن ہو اﷲ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا تو اﷲ ایسے منکروں کا دشمن ہے۔(98)

اور ہم نے تمھارے اوپر واضح نشانیاں اتاریں  اور کوئی ان کا انکار نہیں  کرتا مگر وہی لوگ جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔  (99)

کیا جب بھی وہ کوئی وعدہ کریں گے تو ان کا ایک گروہ اس کو توڑ پھینکے گا۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں  رکھتے۔ (100)

اور جب ان کے پاس اﷲ کی طرف سے ایک رسول آیا جو سچا کرنے والا تھا اس چیز کا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، اﷲ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ اس کو جانتے ہی نہیں۔  (101)

اور وہ اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس کو شیاطین، سلیمان کی سلطنت پر لگا کر پڑھتے تھے۔ حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں  کیا، بلکہ یہ شیاطین تھے جنھوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور وہ اس چیز میں پڑ گئے جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، جب کہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی وہ کسی کو اپنا یہ فن سکھاتے تو اس سے کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں۔  پس تم منکر نہ بنو۔ مگر وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں۔  حالاں کہ وہ اﷲ کے اِذن کے بغیر اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں  سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے جوان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو کوئی اس چیز کا خریدار ہو، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ کیسی بری چیز ہے جس کے بدلے انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ کاش، وہ اس کو سمجھتے۔  (102)

اور اگر وہ مومن بنتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اﷲ کا بدلہ ان کے لئے بہتر تھا، کاش وہ اس کو سمجھتے۔ (103)

اے ایمان والو، تم “راعِنا” نہ کہو بلکہ “اُنظرنا “کہو اور سنو۔ اور انکار کرنے والوں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ (104)

جن لوگوں نے انکار کیا، چاہے اہل کتاب ہوں یا مشرکین، وہ نہیں  چاہتے کہ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اترے۔ اور اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے۔ اﷲ بڑے فضل و الا ہے۔ (105)

ہم جس آیت کو ملتوی کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری آیت لاتے ہیں۔  کیا تم نہیں  جانتے کہ اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (106)

کیا تم نہیں  جانتے کہ اﷲ ہی کے لئے آسمانوں  اور زمین کی بادشاہی ہے، اور تمہارے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔ (107)

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوالات کئے گئے اور جس شخص نے ایمان کو انکار سے بدل لیا، وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ (108)

بہت سے اہل کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ تمہارے مومن ہو جانے کے بعد وہ کسی طرح پھر تم کو منکر بنا دیں ، اپنے حسد کی وجہ سے، باوجود یکہ حق ان کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ پس معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اﷲ کا فیصلہ آ جائے۔ بے شک اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (109)

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، اس کو تم اﷲ کے پاس پاؤ گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ یقینااس کو دیکھ رہا ہے۔ (110)

اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی ہوں یا عیسائی ہوں ، یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔  کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ (111)

بلکہ جس نے اپنے آپ کو اﷲ کے حوالے کر دیا اور وہ مخلص بھی ہے تو ایسے شخص کے لئے اجر ہے اس کے رب کے پاس، ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ کوئی غم۔ (112)

اور یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی چیز پر نہیں ، اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی چیز پر نہیں۔  اور وہ سب آسمانی کتاب پڑھتے ہیں۔  اسی طرح ان لوگوں نے کہا جن کے پاس علم نہیں ، انھیں کا ساقول۔ پس اﷲ قیامت کے دن ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے تھے۔ (113)

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اﷲ کی مسجدوں کو اس سے روکے کہ وہاں اﷲ کے نام کی یاد کی جائے اور ان کو اجاڑنے کی کوشش کرے۔ ان کا حال تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسجدوں میں اﷲ سے ڈرتے ہوئے داخل ہوں۔  ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بھاری سزا ہے۔ (114)

اور پورب اور پچھم اﷲ ہی کے لئے ہے۔ تم جدھر رخ کر و، اسی طرف اﷲ ہے۔ یقیناً اﷲ وسعت والا ہے، علم والا ہے۔ (115)

اور وہ کہتے ہیں کہ اﷲ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ اس سے پاک ہے، بلکہ آسمانوں  اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ اسی کے حکم بردار ہیں سارے۔ (116)

وہ آسمانوں  اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے۔ وہ جب کسی کام کا کرنا ٹھہرا لیتا ہے تو بس اس کے لئے فرما  دیتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے۔ (117)

اور جو لوگ علم نہیں  رکھتے، انھوں نے کہا اﷲ کیوں  نہیں  کلام کرتا ہم سے یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں  نہیں  آتی۔ اسی طرح ان کے اگلے بھی انھیں کی سی بات کہہ چکے ہیں ، ان سب کے دل ایک جیسے ہیں ، ہم نے پیش کر دی ہیں نشانیاں ان لوگوں کے لئے جو یقین کرنے والے ہیں۔  (118)

ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، خو ش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کی بابت کوئی پوچھ نہیں  ہو گی۔ (119)

اور یہود اور نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ تم کہو کہ جو راہ اﷲ دکھاتا ہے، وہی اصل راہ ہے۔ اور اگر بعد اس علم کے جو تم کو پہنچ چکا ہے، تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اﷲ کے مقابلہ میں نہ تمھارا کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مدد گار۔ (120)

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ حق ہے پڑھنے کا۔ یہی لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر۔ اور جو اس کا انکار کرے تو وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔  (121)

اے بنی اسرائیل، میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمہارے اوپر کیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی۔ (122)

اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ کہیں سے ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ (123)

اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے پورا کر دکھایا۔ اﷲ نے کہا میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی۔ اﷲ نے کہا میرا وعدہ ظالموں تک نہیں  پہنچتا۔ (124)

اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ اور امن کا مقام ٹھیرایا۔ اور حکم دیا کہ مقامِ ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں  اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ (125)

اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اﷲ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں ، پھلوں کی روزی عطا فرما۔ اﷲ نے کہا جو انکار کرے گا، میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (126)

اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اﷲ کی دیواریں اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے اے ہمارے رب، قبول کر ہم سے، یقیناً تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ (127)

اے ہمارے رب، ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہم کو معاف فرما، تو معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (128)

اے ہمارے رب، اور ان میں ان ہی میں کا ایک رسول اٹھا جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (129)

اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند نہ کرے، مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ نیک لوگوں میں سے ہو گا۔ (130)

جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کر دو تو اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا۔ (131)

اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اﷲ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔پس ایمان کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت نہ آئے۔ (132)

کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔انھوں نے کہا ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء-ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کرتے آئے ہیں ، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔  (133)

یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے اعمال کی پوچھ نہ ہو گی۔ (134)

اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں ، بلکہ ہم تو پیروی کرتے ہیں ابراہیم کے دین کی جو اﷲ کی طرف یکسو تھا اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔ (135)

کہو ہم اﷲ پر ایمان لائے اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اتاری گئی اور جو ملا موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو ملا سب نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں  کرتے اور ہم اﷲ ہی کے فرماں بردار ہیں۔  (136)

پھر اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بے شک وہ راہ پا گئے اور اگر وہ پھر جائیں تو اب وہ ضد پر ہیں۔  پس تمہاری طرف سے اﷲ ان کے لئے کافی ہے اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (137)

کہو ہم نے لیا اﷲ کا رنگ اور اﷲ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔  (138)

کہو، کیا تم اﷲ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالاں کہ وہ ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں  اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں  اور ہم خالص اس کے لئے ہیں۔  (139)

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد سب یہودی یا نصرانی تھے۔ کہو کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اﷲ۔ اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اس گواہی کو چھپائے جو اﷲ کی طرف سے اس کے پاس آئی ہوئی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس سے بے خبر نہیں۔  (140)

یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ نہ ہو گی۔ (141)

اب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اﷲ ہی کے ہیں۔  وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ (142)

اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بات بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر جن کو اﷲ نے ہدایت دی ہے۔ اور اﷲ ایسا نہیں  کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے۔ بے شک اﷲ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔(143)

ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔  پس ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو، اب اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رُخ کو اسی کی طرف کرو۔ اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی جانب سے ہے۔ اور اﷲ بے خبر نہیں  اس سے جو وہ کر رہے ہیں۔  (144)

اور اگر تم ان اہل کتاب کے سامنے تمام دلیلیں پیش کر دو تب بھی وہ تمہارے قبلہ کو نہ مانیں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرسکتے ہو۔ اور نہ وہ خود ایک دوسرے کے قبلہ کو مانتے ہیں۔  اور اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے،اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں ہو جاؤ گے۔ (145)

جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔  اور ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے، حالاں کہ وہ اس کو جانتا ہے۔ (146)

حق وہ ہے جو تیرا رب کہے۔ پس تم ہر گز شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ (147)

ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے، جدھر وہ منہ کرتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ تم جہاں کہیں ہو گے، اﷲ تم سب کو لے آئے گا۔ بے شک اﷲ سب کچھ کرسکتا ہے۔ (148)

اور تم جہاں سے بھی نکلو، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو۔ بے شک یہ حق ہے، تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس سے بے خبر نہیں۔  (149)

اور تم جہاں سے بھی نکلو، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو اور تم جہاں بھی ہو، اپنے رخ اسی کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمھارے اوپر کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں بے انصاف ہیں۔  پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور تاکہ میں اپنی نعمت تمہارے اوپر پوری کر دوں۔  اور تاکہ تم راہ پا جاؤ۔ (150)

جس طرح ہم نے تمہارے درمیان ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب کی اور حکمت کی تعلیم  دیتا ہے۔ اور تم کو وہ چیزیں سکھا رہا ہے جن کو تم نہیں  جانتے تھے۔ (151)

پس تم مجھ کو یاد رکھو، میں تم کو یاد رکھوں گا۔ اور میرا احسان مانو، میری ناشکری مت کرو۔ (152)

اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (153)

اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں ، ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں۔  (154)

اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں  اور جانوں  اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ (155)

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اﷲ کے ہیں  اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔  (156)

یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں  اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔  (157)

صفا اور مروہ، بے شک اﷲ کی یاد گاروں میں سے ہیں۔  پس جو شخص بیت اﷲ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں  کہ وہ ان کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے کچھ نیکی کرے تو اﷲ قدر داں ہے، جاننے والا ہے۔ (158)

جو لوگ چھپاتے ہیں ہماری اتاری ہوئی کھلی نشانیوں کو اور ہماری ہدایت کو، بعد اس کے کہ ہم اس کو لوگوں کے لئے کتاب میں کھول چکے ہیں تو وہی لوگ ہیں جن پر اﷲ لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔  (159)

البتہ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور واضح طور پر بیان کر دیا تو میں ان کو معاف کر دوں گا اور میں  ہوں معاف کرنے والا، مہربان۔ (160)

بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور وہ اسی حال میں مر گئے تو وہی لوگ ہیں کہ ان پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی، سب کی لعنت ہے۔ (161)

اسی حال میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو ڈھیل دی جائے گی۔(162)

اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  وہ بڑا مہربان ہے، نہایت رحم والا ہے۔ (163)

بے شک آسمانوں  اور زمین کی بناوٹ میں  اور رات اور دن کے آنے جانے میں  اور ان کشتیوں میں جو انسانوں کے کام آنے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں ، اور اس پانی میں جس کو اﷲ نے آسمان سے اتارا۔ پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشی۔ اور اس نے زمین میں سب قسم کے جانور پھیلا دئے۔ اور ہواؤں کی گردش میں  اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں ، ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔  (164)

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اﷲ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔  وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اﷲ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں ، وہ سب سے زیادہ اﷲ سے محبت رکھنے والے ہیں۔  اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اﷲ کا ہے اور اﷲ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ (165)

جب کہ وہ لوگ جن کے کہنے پر دوسرے چلتے تھے، ان لوگوں سے الگ ہو جائیں گے جو ان کے کہنے پر چلتے تھے۔ عذاب ان کے سامنے ہو گا اور ان کے سب طرف کے رشتے بالکل ٹوٹ چکے ہوں گے۔ (166)

وہ لوگ جو پیچھے چلے تھے، کہیں گے کاش ہم کو دنیا کی طرف لوٹنا مل جاتا تو ہم بھی ان سے الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔ اس طرح اﷲ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے۔(167)

لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (168)

وہ تم کو صرف برے کام اور بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اس بات کی کہ تم اﷲ کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تم کو کوئی علم نہیں۔  (169)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر چلو جو اﷲ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی کہ ان کے باپ دادا نہ عقل رکھتے ہوں  اور نہ سیدھی راہ جانتے ہوں۔ (170)

اور ان منکروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسے جانور کے پیچھے چلّا رہا ہو جو بلانے اور پکارنے کے سوا اور کچھ نہیں  سنتا۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں۔  وہ کچھ نہیں  سمجھتے۔ (171)

اے ایمان والو، ہماری دی ہوئی پاک چیزوں کو کھاؤ اور اﷲ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرنے والے ہو۔ (172)

اﷲ نے تم پر حرام کیا ہے صرف مردار کو اور خون کو اور سور کے گوشت کو۔ اور جس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے، وہ نہ خواہش مند ہو اور نہ حد سے آگے بڑھنے والا ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔  بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (173)

جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اﷲ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے اور اس کے بدلے میں تھوڑا مول لیتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں۔  قیامت کے دن اﷲ نہ ان سے ہم کلام ہو گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (174)

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کیا اور بخشش کے بدلے عذاب کا، تو کیسی سہار ہے ان کو آگ کی۔ (175)

یہ اس لئے کہ اﷲ نے اپنی کتاب کو ٹھیک ٹھیک اتارا، مگر جن لوگوں نے کتاب میں کئی راہیں نکال لیں ، وہ ضد میں دور جا پڑے۔ (176)

نیکی یہ نہیں  کہ تم اپنے منہ پورب اور پچھم کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور پیغمبروں پر۔ اور مال دے اﷲ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔  اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور جب وہ عہد کر لیں تو اس کو پورا کریں۔  اور صبر کرنے والے سختی اور تکلیف میں  اور لڑائی کے وقت۔ یہی لوگ ہیں جو سچے نکلے اور یہی ہیں ڈر رکھنے والے۔(177)

اے ایمان والو، تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا جاتا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام،عورت کے بدلے عورت۔ پھر جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ معروف کی پیروی کرے اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک آسانی اور مہربانی ہے۔ اب اس کے بعد بھی جو شخص زیادتی کرے، اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (178)

اور اے عقل والو، قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے تاکہ تم بچو۔ (179)

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ اپنے پیچھے، مال چھوڑ رہا ہو تو وہ معروف کے مطابق وصیت کر دے اپنے ماں باپ کے لئے اور اپنے قرابت داروں کے لئے۔ یہ ضروری ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔ (180)

پھر جو کوئی وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل ڈالے تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا جس نے اس کو بدلا، یقیناً اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (181)

البتہ جس کو وصیت کرنے والے کی بابت یہ اندیشہ ہو کہ اس نے جانب داری یا حق تلفی کی ہے اور وہ آپس میں صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔  اﷲ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (182)

اے ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیز گار بنو۔ (183)

گنتی کے چند دن۔ پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کر لے۔ اور جو اس کو بہ مشقت برداشت کرسکیں ، تو ایک روزہ کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو کوئی مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ (184)

رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لئے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اس کی گنتی پوری کر لے۔ اﷲ تمھارے لئے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں  چاہتا۔ اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اﷲ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔(185)

اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں ،پکارنے والے کی پکار کا جواب  دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں  اور مجھ پر یقین رکھیں ، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔  (186)

تمہارے لئے روزہ کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں  اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اﷲ نے جانا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کر دیا۔ تو اب تم ان سے ملو اور چاہو جو اﷲ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے الگ ظاہر ہو جائے۔ پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور جب تم مسجد کے اندر اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے خلوت نہ کرو۔یہ اﷲ کی حدیں ہیں تو ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس طرح اﷲ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بچیں۔  (187)

اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ، تاکہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ بطریقِ گناہ کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو۔ (188)

وہ تم سے چاندوں کی بابت پوچھتے ہیں۔  کہہ دو کہ وہ اوقات ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے لئے۔ اور نیکی یہ نہیں  کہ تم گھروں میں آؤ چھت پر سے، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پرہیزگاری کرے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔  (189)

اور اﷲ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور زیادتی نہ کرو۔ اﷲ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔ (190)

اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔  پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے منکروں کی۔ (191)

پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (192)

اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اس کے بعد سختی نہیں  ہے مگر ظالموں پر۔ (193)

حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کا بدلہ ہے اور حرمتوں کا بھی قصاص ہے۔ پس جس نے تم پر زیادتی کی، تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔ اور اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ اﷲ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (194)

اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور کام اچھی طرح کرو۔ بے شک اﷲ پسند کرتا ہے اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔(195)

اور پورا کرو حج اور عمرہ اﷲ کے لئے۔ پھر اگر تم گھر جاؤ تو جو قربانی کا جانور میسر ہو، وہ پیش کر دو اور اپنے سروں کو نہ منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ تم میں سے جو بیمار ہو یااس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ دے، روزہ یا صدقہ یا قربانی کا۔ جب امن کی حالت ہو اور کوئی حج تک عمرہ کا فائدہ حاصل کرنا چاہے تو وہ قربانی پیش کرے جو اس کو میسر آئے۔ پھر جس کو میسر نہ آئے تو وہ حج کے ایام میں تین دن کے روزے رکھے اور سات دن کے روزے جب کہ تم گھروں کو لوٹو۔ یہ پورے دس دن ہوئے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کا خاندان مسجد حرام کے پاس آباد نہ ہو۔ اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (196)

حج کے متعین مہینے ہیں۔  پس جس نے ان مہینوں میں حج کا عزم کر لیا تو پھر اس کو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ کی بات اور نہ لڑائی جھگڑے کی بات۔ اور جو نیک کام تم کرو گے، اﷲ اس کو جان لے گا۔ اور تم زادِ راہ لو۔ بہترین زادِ راہ تقویٰ کا زادِ راہ ہے۔ اور اے عقل والو، مجھ سے ڈرو۔ (197)

اس میں کوئی گناہ نہیں  کہ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرو۔ پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس ہو تو اﷲ کو یاد کرو مشعرِ حرام کے نزدیک۔ اور اس کو یاد کرو جس طرح اﷲ نے بتایا ہے۔ اس سے پہلے یقیناً تم راہ بھٹکے ہوئے لوگوں میں تھے۔ (198)

پھر طواف کو چلو جہاں سے سب لوگ چلیں  اور اﷲ سے معافی مانگو۔ یقیناً اﷲ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (199)

پھر جب تم اپنے حج کے اعمال پورے کر لو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پس کوئی آدمی کہتا ہے اے ہمارے رب، ہم کو اسی دنیا میں دے دے، اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔  (200)

اور کوئی آدمی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ (201)

انھیں لوگوں کے لیے حصہ ہے ان کے کیے کا، اور اﷲ جلد حساب لینے والا ہے۔ (202)

اور اﷲ کو یاد کرو مقرر دنوں میں۔  پھر جو شخص جلدی کر کے دو دن میں مکہ واپس آ جائے اس پر کوئی گناہ نہیں  اور جو شخص ٹھہر جائے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔  یہ اس کے لیے ہے جو اﷲ سے ڈرے۔ اور تم اﷲ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے پاس اکھٹا کیے جاؤ گے۔ (203)

اور لوگوں میں سے کوئی ہے کہ اس کی بات دنیا کی زندگی میں تم کو خوش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اﷲ کو گواہ بناتا ہے، حالاں کہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ (204)

اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتیوں  اور جانوں کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اﷲ فساد کو پسند نہیں  کرتا۔ (205)

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ سے ڈر تو وقار اس کو گناہ پر جما  دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (206)

اور لوگوں میں کوئی ہے کہ اﷲ کی خوشی کی تلاش میں اپنی جان کو بیچ  دیتا ہے اور اﷲ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ (207)

اے ایمان والو، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (208)

اگر تم پھسل جاؤ بعد اس کے کہ تمھارے پاس واضح دلیلیں آ چکی ہیں تو جان لو کہ اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (209)

کیا لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اﷲ بادل کے سائبانوں میں آئے اور فرشتے بھی آ جائیں  اور معاملہ کا فیصلہ کر دیا جائے اور سارے معاملات اﷲ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں۔  (210)

بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں  دیں۔  اور جو شخص اﷲ کی نعمت کو بدل ڈالے جب کہ وہ اس کے پاس آ چکی ہو تو اﷲ یقیناً سخت سزا دینے والا ہے۔ (211)

خوش نما کر دی گئی ہے دنیا کی زندگی ان لوگوں کی نظر میں جو منکر ہیں  اور وہ ایمان والوں پر ہنستے ہیں۔  حالاں کہ جو پرہیز گار ہیں ، وہ قیامت کے دن ان کے مقابلہ میں اونچے ہوں گے۔ اور اﷲ جس کو چاہتا ہے، بے حساب رزق دے  دیتا ہے۔(212)

لوگ ایک امت تھے۔ انھوں نے اختلاف کیا تو اﷲ نے پیغمبروں کو بھیجا، خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ، تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔  اور یہ اختلافات انھیں لوگوں نے کئے جن کو حق دیا گیا تھا، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آ چکی تھیں ، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اﷲ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملہ میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اور اﷲ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا  دیتا ہے۔ (213)

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں  جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اﷲ کی مدد قریب ہے۔(214)

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔  کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو اس میں حق ہے تمہارے ماں باپ کا اور رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا۔ اور جو بھلائی تم کرو گے، وہ اﷲ کو معلوم ہے۔ (215)

تم پر لڑائی کا حکم ہوا ہے اور وہ تم کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمھارے لئے بھلی ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اور اﷲ جانتا ہے، تم نہیں  جانتے۔(216)

لوگ تم سے حرمت والے مہینہ کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس میں لڑنا کیسا ہے۔ کہہ دو کہ اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ مگر اﷲ کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے لوگوں کو اس سے نکالنا، اﷲ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ بڑی برائی ہے۔ اور یہ لوگ تم سے برابر لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اگر قابو پائیں۔  اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مر جائے تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہو گئے دنیا میں  اور آخرت میں۔  اور وہ آگ میں پڑنے والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (217)

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اﷲ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اﷲ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔  اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (218)

لوگ تم سے شراب اور جوئے کی بابت پوچھتے ہیں۔  کہہ دو کہ ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں۔  اور ان کا گناہ بہت زیادہ ہے، ان کے فائدے سے۔ اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔  کہہ دو کہ جو حاجت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اﷲ تمہارے لئے احکام کو بیان کرتا ہے تاکہ تم دھیان کرو۔ (219)

دنیا اور آخرت کے معاملات میں۔  اور وہ تم سے یتیموں کی بابت پوچھتے ہیں۔  کہہ دو کہ جس میں ان کی بہبود ہو وہ بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ شامل کر لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔  اور اﷲ کو معلوم ہے کہ کون خرابی پیدا کرنے والا ہے اور کون درستگی پیدا کرنے والا۔ اور اگر اﷲ چاہتا تو وہ تم کو مشکل میں ڈال  دیتا۔ اﷲ زبردست ہے، تدبیر والا ہے۔(220)

اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں ، اور مومن کنیز بہتر ہے ایک مشرک عورت سے، اگرچہ وہ تم کو اچھی معلوم ہو۔ اور اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔  مومن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک سے، اگرچہ وہ تم کو اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں  اور اﷲ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنے احکام لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔  (221)

اور وہ تم سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔  کہہ دو کہ وہ ایک گندگی ہے، اس میں عورتوں سے الگ رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ، ان کے قریب نہ جاؤ۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہو جائیں تو ا س طریقہ سے ان کے پاس جاؤ جس کا اﷲ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اﷲ دوست رکھتا ہے تو بہ کرنے والوں کو اور وہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔ (222)

تمھاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔  پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لئے آگے بھیجو اور اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ تمہیں ضرور اس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو۔ (223)

اور اﷲ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ کہ تم بھلائی نہ کرو اور پرہیز گاری نہ کرو اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کرو۔ اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (224)

اﷲ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم کو نہیں  پکڑتا، مگر وہ اس کام پر پکڑتا ہے جو تمہارے دل کرتے ہیں۔  اور اﷲ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ (225)

جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھالیں ، ان کے لئے چار مہینے تک کی مہلت ہے۔ پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو اﷲ معاف کر دینے والا، مہر بان ہے۔ (226)

اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کریں تو یقیناً اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (227)

اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ، اور اگر وہ اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے جائز نہیں  کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اﷲ نے پیدا کیا ہے ان کے پیٹ میں۔  اور اس دوران میں ان کے شوہر ان کو پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ صلح کرنا چاہیں۔  اور ان عورتوں کے لئے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں۔  اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں ایک درجہ بڑھا ہوا ہے۔ اور اﷲ زبردست ہے، تدبیر والا ہے۔ (228)

طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔ اور تمھارے لئے یہ بات جائز نہیں  کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے، اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اﷲ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے، پھر اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ دونوں اﷲ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں  اس مال میں جس کو عورت فدیہ میں دے۔ یہ اﷲ کی حدیں ہیں تو ان سے باہر نہ نکلو۔ اور جو شخص اﷲ کی حدوں سے نکل جائے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔  (229)

پھر اگر وہ اس کو طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں  جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر وہ مرد اس کو طلاق دیدے تب گناہ نہیں  ان دونوں پر کہ پھر مل جائیں بشرطیکہ انھیں اﷲ کی حدوں پر قائم رہنے کی توقع ہو۔ یہ خداوندی ضابطے ہیں جن کو وہ بیان کر رہا ہے ان لوگوں کے لئے جو دانش مند ہیں۔  (230)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت تک پہنچ جائیں تو ان کو قاعدہ کے مطابق رکھ لو یا قاعدہ کے مطابق رخصت کر دو۔ اور تکلیف پہنچا نے کی غرض سے نہ روکو تاکہ ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا، اس نے اپنا ہی بُرا کیا۔ اور اﷲ کی آیتوں کو کھیل نہ بناؤ۔ اور یاد کرو اپنے اوپر اﷲ کی نعمت کو اور اس کتاب و حکمت کو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لئے اتاری ہے۔ اور اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ اﷲ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (231)

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو ان کو نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں ، جب کہ وہ دستور کے موافق آپس میں راضی ہو جائیں۔  یہ نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو تم میں سے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے۔ اور اﷲ جانتا ہے، تم نہیں  جانتے۔ (232)

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں ، ان لوگوں کے لئے جو پوری مدت تک دودھ پلانا چاہتے ہوں۔  اور جس کا بچہ ہے، اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق۔ کسی کو حکم نہیں  دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق۔ نہ کسی ماں کو اس کے بچہ کے سبب سے تکلیف دی جائے، اور نہ کسی باپ کو اس کے بچہ کے سبب سے۔ اور یہی ذمہ داری وارث پر بھی ہے۔ پھر اگر دونوں باہمی رضا مندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں ، اور اگر تم چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلواؤ تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں  بشرطیکہ تم قاعدہ کے مطابق وہ ادا کر دو جو تم نے ان کو دینا ٹھہرایا تھا۔ اور اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس کو دیکھ رہا ہے۔ (233)

اور تم میں سے جو لوگ مر جائیں  اور بیویاں چھوڑ جائیں ، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک انتظار میں رکھیں۔  پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے بارے میں قاعدہ کے موافق کریں ، اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔  اور اﷲ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ (234)

اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی گناہ نہیں  کہ ان عورتوں کو پیغام دینے میں کوئی بات اشارۃً کہو یا اپنے دل میں چھپائے رکھو۔ اﷲ کو معلوم ہے کہ تم ضرور ان کا دھیان کرو گے۔ مگر چھپ کر ان سے وعدہ نہ کرو، تم ان سے صرف دستور کے مطابق کوئی بات کہہ سکتے ہو۔ اور عقد ِ نکاح کا ارادہ اس وقت تک نہ کرو جب تک مقررہ مدت اپنی ختم کو نہ پہنچ جائے۔ اور جان لو کہ اﷲ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے۔ پس اس سے ڈرو اور جان لو کہ اﷲ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ (235)

اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے تو ان کے مہر کا تم پر کچھ مواخذہ نہیں۔  البتہ ان کو دستور کے مطابق کچھ سامان دے دو، وسعت والے پر اپنی حیثیت کے مطابق ہے اور تنگی والے پر اپنی حیثیت کے مطابق، یہ نیکی کرنے والوں پر لازم ہے۔ (236)

اور اگر تم ان کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور تم ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کر چکے تھے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا مہر ادا کر دو، الا یہ کہ وہ معاف کر دیں ، یا وہ مرد معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور تمہارا معاف کر دینا زیادہ قریب ہے تقویٰ سے۔ اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس کو دیکھ رہا ہے۔(237)

پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی۔ اور کھڑے ہو اﷲ کے سامنے عاجز بنے ہوئے۔(238)

اگر تم کو اندیشہ ہو تو پیدل یا سواری پر پڑھ لو۔ پھر جب حالتِ امن آ جائے تو اﷲ کو اس طریقہ پر یاد کرو جو اس نے تم کو سکھایا ہے، جس کو تم نہیں  جانتے تھے۔ (239)

اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں  اور بیویاں چھوڑ رہے ہوں ، وہ اپنی بیویوں کے بارے میں وصیت کر دیں کہ ایک سال تک ان کو گھر میں رکھ کر خرچ دیا جائے۔ پھر اگر وہ خود سے گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں دستور کے مطابق کریں ، اس کا تم پر کوئی الزام نہیں۔  اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (240)

اور طلاق دی ہوئی عورتوں کو بھی دستور کے مطابق خرچ دینا ہے، یہ لازم ہے پرہیز گاروں کے لئے۔ (241)

اس طرح اﷲ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔(242)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جو اپنے گھروں سے بھاگ کھڑے ہوئے موت کے ڈر سے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ تو اﷲ نے ان سے کہا کہ مر جاؤ۔ پھر اﷲ نے ان کو زندہ کیا۔ بے شک اﷲ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔مگر اکثر لوگ شکر نہیں  کرتے۔ (243)

اور اﷲ کی راہ میں لڑو اور جان لو کہ اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (244)

کون ہے جو اﷲ کو قرضِ حسن دے کہ اﷲ اس کو بڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کر دے۔ اور اﷲ ہی تنگی بھی پیدا کرتا ہے اور کشادگی بھی۔ اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔(245)

کیا تم نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں  دیکھا موسیٰ کے بعد ، جب کہ انھوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ ہم اﷲ کی راہ میں لڑیں۔  نبی نے جواب دیا ایسا نہ ہو کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے تب تم نہ لڑو۔ انھوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم نہ لڑیں اﷲ کی راہ میں۔  حالاں کہ ہم کو اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم ہوا تو تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے۔ اور اﷲ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ (246)

اور ان کے نبی نے ان سے کہا اﷲ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے، حالاں کہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں۔  اور اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔  نبی نے کہا اﷲ نے تمہارے مقابلہ میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اﷲ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے  دیتا ہے۔ اﷲ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے۔ (247)

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمھارے لئے تسکین ہے اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔  اس صندوق کو فرشتے لے آئیں گے۔ اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔(248)

پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر چلا تو اس نے کہا اﷲ تم کو ایک ندی کے ذریعہ آزمانے والا ہے۔ پس جس نے اس کا پانی پیا، وہ میرا ساتھی نہیں  اور جس نے اس کو نہ چکھا، وہ میرا ساتھی ہے، مگر یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔ تو انھوں نے اس میں سے خوب پیا بجز تھوڑے آدمیوں کے۔ پھر جب طالوت اور جو اس کے ساتھ ایمان پر قائم رہے تھے، دریا پار کر چکے تو وہ لوگ بولے کہ آج ہم کو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔  جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اﷲ سے ملنے والے ہیں ، انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اﷲ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔  اور اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (249)

اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب، ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ان منکروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد کر۔ (250)

پھر انھوں نے اﷲ کے حکم سے ان کو شکست دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور اﷲ نے داؤد کو بادشاہت اور دانائی عطا کی اور جن چیزوں کا چاہا علم بخشا، اور اگر اﷲ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے۔مگر اﷲ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (251)

یہ اﷲ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک۔ اور بے شک تو پیغمبروں میں سے ہے۔  (252)

ان پیغمبروں میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے بعض سے اﷲ نے کلام کیا۔ اور بعض کے درجے بلند کئے۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں  دیں  اور ہم نے اس کی مدد کی روح القدس سے۔ اور اﷲ اگر چاہتا تو ان کے بعد والے صاف حکم آ جانے کے بعد نہ لڑتے، مگر انھوں نے اختلاف کیا۔ پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کسی نے انکار کیا۔ اور اگر اﷲ چاہتا تو وہ نہ لڑتے، مگر اﷲ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (253)

اے ایمان والو، خرچ کرو ان چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے، اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ دوستی ہے اور نہ سفارش۔ اور جو منکر ہیں وہی ہیں ظلم کرنے والے۔ (254)

اﷲ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں  کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں  اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔وہ تھکتا نہیں  ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، بڑا۔ (255)

دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں۔  ہدایت، گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اﷲ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔  اور اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (256)

اﷲ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے، اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کے دوست شیطان ہیں ، وہ ان کو اجالے سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔  یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (257)

کیا تم نے اس شخص کو نہیں  دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں حجت کی۔کیوں کہ اﷲ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ میں بھی جلاتا ہوں  اور مارتا ہوں۔  ابراہیم نے کہا کہ اﷲ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا۔ اور اﷲ ظالموں کو راہ نہیں  دکھاتا۔ (258)

یا جیسے وہ شخص جس کا گزر ایک بستی پر سے ہوا۔ اور وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی۔ اس نے کہا ہلاک ہو جانے کے بعد اﷲ اس بستی کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ پھر اﷲ نے اس پرسو برس تک کے لئے موت طاری کر دی۔ پھر اس کو اٹھایا۔ اﷲ نے پوچھا تم کتنی دیر اس حالت میں رہے۔ اس نے کہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم۔ اﷲ نے کہا نہیں ، بلکہ تم سو برس رہے ہو۔ اب تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ سڑی نہیں  ہیں  اور اپنے گدھے کو دیکھو۔ اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں۔  اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، کس طرح ہم ان کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں۔  پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔  پس جب اس پر واضح ہو گیا تو کہا میں جانتا ہوں کہ بے شک اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (259)

اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھ کو دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ اﷲ نے کہا، کیا تم نے یقین نہیں  کیا۔ ابراہیم نے کہا کیوں  نہیں ، مگر اس لئے کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے۔ فرمایا، تم چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلالو۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پہاڑی پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ اور جان لو کہ اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (260)

جو لوگ اپنے مال کو اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ ہو جس سے سات بالیں پیدا ہوں ، ہر بالی میں سودانے ہوں۔  اور اﷲ بڑھاتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے۔ اور اﷲ وسعت والا، جاننے والا ہے۔ (261)

جو لوگ اپنے مال کو اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں  اور نہ تکلیف پہنچا تے ہیں ، ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (262)

مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ستانا ہو۔ اور اﷲ بے نیاز ہے، تحمل والا ہے۔ (263)

اے ایمان والو، احسان رکھ کر اور ستاکر اپنے صدقہ کو ضائع نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور وہ اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں  رکھتا۔ پس اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینھ پڑے اور وہ اس کو بالکل صاف کر دے۔ ایسے لوگوں کو اپنی کمائی کچھ بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اﷲ منکروں کو راہ نہیں  دکھاتا۔ (264)

اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال کو اﷲ کی رضا چاہنے کے لئے اور اپنے نفس میں پختگی کے لئے خرچ کرتے ہیں ، ایک باغ کی طرح ہے جو بلندی پر ہو۔ اس پر زور کا مینھ پڑا تو وہ دونا پھل لایا۔ اور اگر زور کا مینھ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی کافی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس کو دیکھ رہا ہے۔ (265)

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں  اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔  اس میں اس کے واسطے ہر قسم کے پھل ہوں۔  اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں۔  تب اس باغ پر ایک بگولہ آئے جس میں آگ ہو۔ پھر وہ باغ جل جائے۔ اﷲ اس طرح تمہارے لئے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔ (266)

اے ایمان والو، خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے پیدا کیا ہے۔ اور ردی چیز کا قصد نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو، حالاں کہ تم کبھی اس کو لینے والے نہیں ، الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ اور جان لو کہ اﷲ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ (267)

شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور بری بات کی تلقین کرتا ہے اور اﷲ وعدہ  دیتا ہے اپنی بخشش کا اور فضل کا اور اﷲ وسعت والا ہے، جاننے والا ہے۔ (268)

وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے  دیتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بڑی دولت مل گئی۔ اور نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔  (269)

اور تم جو خرچ کرتے ہو یا جو نذر مانتے ہو اس کو اﷲ جانتا ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔  (270)

اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور اﷲ تمہارے گنا ہوں کو دور کر دے گا اور اﷲ تمہارے کاموں سے واقف ہے۔ (271)

ان کو ہدایت پر لانا تمہارا ذمہ نہیں۔  بلکہ اﷲ جس کو چاہتا ہے ہدایت  دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے اپنے ہی لئے کرو گے۔ اور تم نہ خرچ کرو مگر اﷲ کی رضا چاہنے کے لئے۔ اور تم جو مال خرچ کرو گے، وہ تم کو پورا کر دیا جائے گا اور تمہارے لئے اس میں کمی نہ کی جائے گی۔ (272)

صدقات ان حاجت مندوں کے لئے ہیں جو اﷲ کی راہ میں گھر گئے ہوں ، زمین میں دوڑ دھوپ نہیں  کرسکتے۔ ناواقف آدمی ان کو غنی خیال کرتا ہے، ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے۔ تم ان کو ان کی صورت سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں  مانگتے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ اﷲ کو معلوم ہے۔ (273)

جو لوگ اپنے مالوں کو رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں ، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (274)

جو لوگ سو دکھاتے ہیں ، وہ قیامت میں نہ اٹھیں گے مگر اس شخص کی مانند جس کو شیطان نے چھوکر خبطی بنا دیا ہو۔ یہ اس لئے کہ انھوں نے کہا کہ تجارت کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا سود لینا۔ حالاں کہ اﷲ نے تجارت کو حلال ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ پھر جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ لے چکا وہ اس کے لئے ہے۔ اور اس کا معاملہ اﷲ کے حوالے ہے۔ اور جو شخص پھر وہی کرے تو وہی لوگ دوزخی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (275)

اﷲ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اﷲ پسند نہیں  کرتا نا شکروں کو، گنہ گاروں کو۔ (276)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس۔ ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(277)

اے ایمان والو، اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ (278)

اگر تم ایسا نہیں  کرتے تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کے لئے خبر دار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو اصل رقم کے تم حق دار ہو، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ (279)

اور اگر ایک شخص تنگی والا ہے تو اس کی فراخی تک اس کو مہلت دو۔ اور اگر تم معاف کر دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ (280)

اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اﷲ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر ہر شخص کو اس کا کیا ہوا پورا پورا مل جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔ (281)

اے ایمان والو، جب تم کسی مقرر مدت کے لئے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اور اس کو لکھے تمھارے درمیان کوئی لکھنے والا، انصاف کے ساتھ۔ اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے، جیسا اﷲ نے اس کو سکھایا، اسی طرح اس کو چاہئے کہ لکھ دے۔ اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور وہ ڈرے اﷲ سے جو اس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔ اور اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اپنے مَردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔  اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کے تعین کے ساتھ اس کو لکھنے میں کاہلی نہ کرو۔ یہ لکھ لینا اﷲ کے نزدیک زیادہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں  کہ تم اس کو نہ لکھو۔ مگر جب یہ سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچا ئی جائے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہو گی۔ اور اﷲ سے ڈرو، اﷲ تم کو سکھاتا ہے اور اﷲ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (282)

اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن رکھنے کی چیزیں قبضہ میں دے دی جائیں۔  اور اگر تم میں سے ایک شخص دوسرے شخص کا اعتبار کرتا ہو تو چاہئے کہ جس شخص پر اعتبار کیا گیا، وہ اعتبار کو پورا کرے اور اﷲ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص چھپائے گا اس کا دل گنہ گار ہو گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس کو جاننے والا ہے۔ (283)

اﷲ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ تم اپنے دل کی باتوں کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اﷲ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (284)

رسول ایمان لایا ہے اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا ہے۔ اور مسلمان بھی اس پر ایمان لائے ہیں۔  سب ایمان لائے ہیں اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں  کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ (285)

اﷲ کسی پر ذمہ داری نہیں  ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اس کو ملے گا وہی جو اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو اس نے کیا۔ اے ہمارے رب، ہم کو نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا ہم غلطی کر جائیں۔  اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اے ہمارے رب، ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی طاقت ہم کو نہیں۔  اور درگزر کر ہم سے۔ اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہمارا کار ساز ہے۔ پس انکار کرنے والوں کے مقابل میں ہماری مدد کر۔(286)

٭٭٭

 

 

 

۳۔ سورۃ آل عِمران

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

الف لام میم(1)

اﷲ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، زندہ اور سب کا تھامنے والا۔ (2)

اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی اس چیز کی جواس کے آگے ہے، اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔ (3)

اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے، اور اﷲ نے فرقان اتارا۔ بے شک جن لوگوں نے اﷲ کی نشانیوں کا انکار کیا، ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اﷲ زبردست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔ (4)

بے شک اﷲ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ، نہ زمین میں  اور نہ آسمان میں۔  (5)

وہی تمہاری صورت بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود نہیں ، وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (6)

وہی ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں ، وہ کتاب کی اصل ہیں۔  اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔  پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں  اور اس کے مطلب کی تلاش میں۔  حالاں کہ ان کا مطلب اﷲ کے سواکوئی نہیں  جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔  (7)

اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کو نہ پھیر جب کہ توہم کو ہدایت دے چکا۔ اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت دے۔ بے شک تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔ (8)

اے ہمارے رب، تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کوئی شبہ نہیں۔ بے شک اﷲ وعدہ کے خلاف نہیں  کرتا۔ (9)

بے شک جن لوگوں نے انکار کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اﷲ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور یہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے۔(10)

ان کا انجام ویسا ہی ہو گا جیسا فرعون والوں کا اور ان سے پہلے والوں کا ہوا۔ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ اس پر اﷲ نے ان کے گنا ہوں کے باعث ان کو پکڑ لیا۔ اور اﷲ سخت سزا دینے والا ہے۔(11)

انکار کرنے والوں سے کہہ دو کہ اب تم مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کر کے لے جائے جاؤ گے اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔(12)

بے شک تمہارے لئے نشانی ہے ان دو گرو ہوں میں جن میں (بدر میں) مڈبھیڑ ہوئی۔ ایک گروہ اﷲ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر تھا۔ یہ منکر کھلی آنکھوں سے ان کو دوگنا دیکھتے تھے۔ اور اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد کا زور دے  دیتا ہے۔ اس میں آنکھ والوں کے لئے بڑا سبق ہے۔ (13)

لوگوں کے لئے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی — عورتیں ، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی۔ یہ دنیوی زندگی کے سامان ہیں۔  اور اﷲ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔(14)

کہو، کیا میں تم کو بتاؤں اس سے بہتر چیز۔ ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور ستھری بیویاں  ہوں گی اور اﷲ کی رضا مندی ہو گی۔ اور اﷲ کی نگاہ میں ہیں اس کے بندے۔(15)

جو کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لے آئے۔ پس تو ہمارے گنا ہوں کو معاف کر دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔(16)

وہ صبر کرنے والے ہیں  اور سچے ہیں فرماں بردار ہیں  اور خرچ کرنے والے ہیں  اور پچھلی رات کو مغفرت مانگنے والے ہیں۔  (17)

اﷲ کی گواہی ہے اور فرشتوں کی اور اہل علم کی کہ اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں۔  وہ قائم رکھنے والا ہے انصاف کا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(18)

دین اﷲ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ اور اہل کتاب نے اس میں جو اختلاف کیا وہ آپس کی ضد کی وجہ سے کیا، بعد اس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا۔ اور جو اﷲ کی آیتوں کا انکار کرے تو اﷲ یقیناً جلد حساب لینے والا ہے۔(19)

پھر اگر وہ تم سے اس بارے میں جھگڑیں تو ان سے کہہ دوکہ میں اپنا رخ اﷲ کی طرف کر چکا اور جو میرے پیرو ہیں وہ بھی۔ اور اہل کتاب سے اور اَن پڑھوں سے پوچھو کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو۔ اگر وہ اسلام لائیں تو انھوں نے راہ پالی۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو تمہارے اوپر صرف پہنچا دینا ہے۔ اور اﷲ کی نگاہ میں ہیں اس کے بندے۔(20)

جو لوگ اﷲ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں  اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں  اور ان لوگوں کو مار ڈالتے ہیں جو لوگوں میں سے انصاف کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ، ان کو ایک درد ناک سزا کی خوش خبری دے دو۔(21)

یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور ان کا مدد گار کوئی نہیں۔  (22)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جن کو اﷲ کی کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔ ان کو اﷲ کی کتاب کی طرف بلایا جا رہا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ پھر ان کا ایک گروہ منھ پھیر لیتا ہے بے رخی کرتے ہوئے۔(23)

یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو ہرگز آگ نہ چھوئے گی بجز گنے ہوئے چند دنوں کے۔ اور ان کی بنائی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔(24)

پھر اس وقت کیا ہو گا جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں  اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے، اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔(25)

تم کہو، اے اﷲ، سلطنت کے مالک تو جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(26)

تو ، رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو بے جان سے جان دار کو نکالتا ہے اور تو جان دار سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور تو جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق  دیتا ہے۔(27)

مومنین کو چاہئے کہ وہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر منکروں کو دوست نہ بنائیں۔  اور جو شخص ایسا کرے گا تو اﷲ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔  مگر ایسی حالت میں کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو۔ اور اﷲ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اﷲ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔(28)

کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، اﷲ اس کو جانتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔(29)

جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گا، اور جو برائی کی ہو گی اس کو بھی۔ اس دن ہر آدمی یہ چاہے گا کہ کاش، ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا۔ اور اﷲ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اﷲ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔(30)

کہو، اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو،اﷲ تم سے محبت کرے گا۔ اور تمہارے گنا ہوں کو معاف کر دے گا۔ اﷲ بڑا معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔(31)

کہو کہ اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول کی۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو اﷲ منکروں کو دوست نہیں  رکھتا۔ (32)

بے شک اﷲ نے آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو سارے عالم کے اوپر منتخب کیا ہے۔(33)

یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں۔  اور اﷲ سننے والا جاننے والا ہے۔(34)

جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب، میں نے نذر کیا تیرے لئے جو میرے پیٹ میں ہے، وہ آزاد رکھا جائے گا۔ پس تو مجھ سے قبول کر ، بے شک تو سننے والا،جاننے والا ہے۔(35)

پھر جب اس نے جنا تو اس نے کہا اے میرے رب، میں نے تو لڑکی کو جنا ہے اور اﷲ خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا جنا ہے اور لڑکا نہیں  ہوتا لڑکی کی مانند۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (36)

پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقہ سے پروان چڑھایا اور زکریا کواس کا سرپرست بنایا۔ جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرہ میں آتا تو وہ وہاں رزق پاتا۔اس نے پوچھا اے مریم، یہ چیز تمہیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اﷲ کے پاس سے ہے۔ بے شک اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے  دیتا ہے۔(37)

اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ اس نے کہا اے میرے رب، مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر، بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔(38)

پھر فرشتوں نے اس کو آواز دی جب کہ وہ حجرہ میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا کہ اﷲ تجھ کو یحییٰ کی خوش خبری  دیتا ہے جو کلمۃ اﷲ کی تصدیق کرنے والا ہو گا اور سردار ہو گا اور اپنے نفس کو روکنے والا ہو گا اور نبی ہو گا نیکوں میں سے۔(39)

زکریا نے کہا اے میرے رب، مجھے لڑکا کس طرح ہو گا، حالاں کہ میں بوڑھا ہو چکا اور میری عورت بانجھ ہے۔ فرمایا اسی طرح اﷲ کر  دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔(40)

زکریا نے کہا اے میرے رب، میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ کہا تمھارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے، مگر اشارہ سے اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرتے رہو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرو۔(41)

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم، اﷲ نے تم کو منتخب کیا اور تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا بھر کی عورتوں کے مقابلہ میں منتخب کیا ہے۔(42)

اے مریم، اپنے رب کی فرماں برداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔(43)

یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کر رہے ہیں ، اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قرعے ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی سرپرستی کرے اور نہ تم اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ (44)

جب فرشتوں نے کہا اے مریم، اﷲ تم کو خوش خبری  دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا۔ وہ دنیا اور آخرت میں مرتبہ والا ہو گا اور اﷲ کے مقرب بندوں میں ہو گا۔(45)

وہ لوگوں سے باتیں کرے گا جب ماں کی گود میں ہو گا اور جب پوری عمر کا ہو گا۔ اور وہ صالحین میں سے ہو گا۔(46)

مریم نے کہا اے میرے رب، میرے کس طرح لڑکا ہو گا، جب کہ کسی مرد نے مجھ کو ہاتھ نہیں  لگایا۔ فرمایا اسی طرح اﷲ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔(47)

اور اﷲ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔(48)

اور وہ رسول ہو گا بنی اسرائیل کی طرف کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لے کر آیا ہوں۔  میں تمھارے لئے مٹی سے پرندہ کی مانند صورت بناتا ہوں ،پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے۔ اور میں اﷲ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور جُذامی کو اچھا کرتا ہوں۔  اور میں اﷲ کے حکم سے مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔  اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔ بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔(49)

اور میں تصدیق کرنے والا ہوں تو رات کی جو مجھ سے پہلے کی ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمھارے لئے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔  اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔  پس تم اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔(50)

بے شک اﷲ میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ پس اس کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔ (51)

پھر جب عیسی ٰ نے ان کا انکار دیکھا تو کہا کہ کون میرا مدد گار بنتا ہے اﷲ کی راہ میں۔  حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اﷲ کے مدد گار۔ ہم ایمان لائے ہیں اﷲ پر اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں۔ (52)

اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے اتارا، اور ہم نے رسول کی پیروی کی۔ پس تو لکھ لے ہم کو گواہی دینے والوں میں۔ (53)

اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی۔ اور اﷲ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اﷲ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔(54)

جب اﷲ نے کہا کہ اے عیسیٰ، میں تم کو واپس لینے والا ہوں  اور تم کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں  اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے، ان سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں  اور جو تمہارے پیرو ہیں ان کو قیامت تک ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنھوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر میری طرف ہو گی سب کی واپسی۔ پس میں تمہارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم جھگڑتے تھے۔(55)

پھر جو لوگ منکر ہوئے ان کو سخت عذاب دوں گا دنیا میں  اور آخرت میں  اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔(56)

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو اﷲ ان کا پورا اجر دے گا اور اﷲ ظالموں کو دوست نہیں  رکھتا۔(57)

یہ ہم تم کو سناتے ہیں اپنی آیتیں  اور پُر حکمت مضامین۔ (58)

بے شک عیسیٰ کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اﷲ نے اس کو مٹی سے بنایا۔ پھر اس کو کہا کہ ہو جا، تو وہ ہو گیا۔(59)

حق بات ہے تیرے رب کی طرف سے۔ پس تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔ (60)

پھر جو تم سے اس بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس علم آ چکا ہے تو ان سے کہو کہ آؤ، ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو، اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور ہم اور تم خود بھی جمع ہوں۔  پھر ہم مل کر دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اﷲ کی لعنت ہو۔(61)

بے شک یہ سچا بیان ہے۔ اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور اﷲ ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(62)

پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو اﷲ مفسدوں کو جاننے والا ہے۔ (63)

کہو اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مسلّم ہے کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں  اور اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ اس سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ تم گواہ رہو، ہم فرماں بردار ہیں۔ (64)

اے اہل کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالاں کہ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں۔  کیا تم اس کو نہیں  سمجھتے۔(65)

تم وہ لوگ ہو کہ تم اُس بات کے بارے میں جھگڑے جس کا تمہیں کچھ علم تھا۔ اب تم ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔  اور اﷲ جانتا ہے، تم نہیں  جانتے۔(66)

ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی،بلکہ وہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔(67)

لوگوں میں زیادہ مناسبت ابراہیم سے ان کو ہے جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ پیغمبر اور جو اس پر ایمان لائے۔ اور اﷲ ایمان والوں کا ساتھی ہے۔(68)

اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ وہ کسی طرح تم کو گمراہ کر دے۔ حالاں کہ وہ نہیں  گمراہ کرتے مگر خود اپنے آپ کو۔ مگر وہ اس کا احساس نہیں  کرتے۔(69)

اے اہل کتاب، تم اﷲ کی نشانیوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالاں کہ تم گواہ ہو۔(70)

اے اہل کتاب، تم کیوں صحیح میں غلط کو ملاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو۔ حالاں کہ تم جانتے ہو۔(71)

اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ مومنوں پر جو چیز اتاری گئی ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو، شاید کہ مومنین بھی اس سے پھر جائیں۔ (72)

اور یقین نہ کرو مگر صرف اس کا جو چلے تمہارے دین پر۔ کہو، ہدایت وہی ہے جو اﷲ ہدایت کرے۔ اور یہ سب کچھ اِس لیے ہے کہ اور کسی کو بھی کیوں مل گیا، جیسا کچھ تم کو ملا تھا، یا وہ غالب کیوں آ گئے تم پر تمہارے رب کے آگے۔ کہو، بڑائی اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے  دیتا ہے اور اﷲ بڑا وسعت والا ہے، علم والا ہے۔(73)

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے۔ اور اﷲ بڑا فضل والا ہے۔(74)

اور اہل کتاب میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اس کے پاس امانت کا ڈھیر رکھو تو وہ اس کو تمھیں ادا کر دے۔ اور ان میں کوئی ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دو تو وہ تم کو ادا نہ کرے، اِلاّ یہ کہ تم اس کے سر پر کھڑے ہو جاؤ، یہ اس سبب سے کہ وہ کہتے ہیں کہ غیر اہل کتاب کے بارے میں ہم پر کوئی الزام نہیں۔  اور وہ اﷲ کے اوپر جھوٹ لگاتے ہیں حالاں کہ وہ جانتے ہیں۔ (75)

بلکہ جو شخص اپنے عہد کو پوار کرے اور اﷲ سے ڈرے تو بے شک اﷲ ایسے متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔ (76)

جو لوگ اﷲ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔  اﷲ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طر ف دیکھے گا قیامت کے دن، اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(77)

اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی زبانوں کو کتاب میں موڑتے ہیں تاکہ تم اس کو کتاب میں سے سمجھو، حالاں کہ وہ کتاب میں سے نہیں۔  اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کی جانب سے ہے، حالاں کہ وہ اﷲ کی جانب سے نہیں۔  اور وہ جان کر اﷲ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ (78)

کسی انسان کا یہ کام نہیں  کہ اﷲ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اﷲ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم اﷲ والے بنو، اس واسطے کہ تم دوسروں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو۔(79)

اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں  اور پیغمبروں کو رب بناؤ۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا، بعد اس کے کہ تم اسلام لا چکے ہو۔ (80)

اور جب اﷲ نے پیغمبروں کا عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی، پھر تمہارے پاس پیغمبر آئے جو سچا ثابت کرے ان پیشین گوئیوں کو جو تمہارے پاس ہیں تو تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ اﷲ نے کہا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انھوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں۔  فرمایا اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (81)

پس جو شخص پھر جائے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ (82)

کیا یہ لوگ اﷲ کے دین کے سواکوئی اور دین چاہتے ہیں۔  حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔(83)

کہو ہم اﷲ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا گیا اور جو اتارا گیا ابراہیم پر، اسمٰعیل پر، اسحاق پر اور یعقوب پر اور اولادِ یعقوب پر۔ اور جو دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں  کرتے۔ اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ (84)

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہو گا۔(85)

اﷲ کیوں کر ایسے لوگوں کو ہدایت دے گاجو ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے۔ حالاں کہ وہ گواہی دے چکے کہ یہ رسول برحق ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں آ چکی ہیں۔  اور اﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں   دیتا۔(86)

ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اﷲ کی، اس کے فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہو گی۔(87)

وہ ا س میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔(88)

البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں  اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(89)

بے شک جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے پھر وہ کفر میں بڑھتے رہے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ (90)

بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور انکار کی حالت میں مر گئے، اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں  دیں تو قبول نہ کیا جائے گا۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔ (91)

تم ہر گز نیکی کے مرتبہ کو نہیں  پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔ اور جو چیز بھی تم خرچ کرو گے اس سے اﷲ باخبر ہے۔(92)

سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں بجز اس کے جو اسرائیل (یعقوب)نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا قبل اس کے کہ تورات اترے۔ کہو کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ (93)

اس کے بعد بھی جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھیں وہی ظالم ہیں۔ (94)

کہو، اﷲ نے سچ کہا۔ اب ابراہیم کے دین کی پیروی کرو جو حنیف تھا اور وہ شرک کرنے والا نہ تھا۔(95)

بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے ہدایت کا مرکز۔(96)

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ، مقام ابراہیم ہے، جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے۔ اور لوگوں پر اﷲ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی منکر ہوا تو اﷲ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔(97)

کہو اے اہل کتاب، تم کیوں اﷲ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہو۔ حالاں کہ اﷲ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔(98)

کہو، اے اہل کتاب، تم ایمان لانے والوں کو اﷲ کی راہ سے کیوں روکتے ہو۔ تم اس میں عیب ڈھونڈتے ہو۔ حالاں کہ تم گواہ بنائے گئے ہو۔ اور اﷲ تمھارے کاموں سے بے خبر نہیں۔ (99)

اے ایمان والو، اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تم کو ایمان کے بعد پھر منکر بنا دیں گے۔ (100)

اور تم کس طرح انکار کرو گے، حالاں کہ تم کو اﷲ کی آیتیں سنائی جا رہی ہیں  اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو شخص اﷲ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہ پہنچ گیا سیدھی راہ پر۔ (101)

اے ایمان والو، اﷲ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنا چاہئے۔ اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ (102)

اور سب مل کر اﷲ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اﷲ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اﷲ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اﷲ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔(103)

اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے، وہ بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ (104)

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کر لیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے تھے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (105)

جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم اپنے ایمان کے بعد منکر ہو گئے، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔ (106)

اور جن کے چہرے روشن ہوں گے وہ اﷲ کی رحمت میں  ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (107)

یہ اﷲ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو حق کے ساتھ سنا رہے ہیں  اور اﷲ جہان والوں پر ظلم نہیں  چاہتا۔ (108)

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اﷲ کے لئے ہے اور سارے معاملات اﷲ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔(109)

اب تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ ایمان والے ہیں  اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔  (110)

وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں  سکتے مگر کچھ ستانا۔ اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تم کو پیٹھ دکھائیں گے۔ پھر ان کو مدد بھی نہ پہنچے گی۔ (111)

اور ان پر مسلط کر دی گئی ذلت خواہ وہ کہیں بھی پائے جائیں ، سوا اس کے کہ اﷲ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہد ہو اور وہ اﷲ کے غضب کے مستحق ہو گئے اور ان پر مسلط کر دی گئی پستی، یہ اس واسطے کہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار کرتے رہے اور انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے نکل جاتے تھے۔(112)

سب اہل کتاب یکساں  نہیں۔  ان میں ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ وہ راتوں کو اﷲ کی آیتیں پڑھتے ہیں  اور وہ سجدہ کرتے ہیں۔  (113)

وہ اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں  اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں۔  اور برائی سے روکتے ہیں  اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں۔  یہ صالح لوگ ہیں۔  (114)

جو نیکی بھی وہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اﷲ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔ (115)

بے شک جن لوگوں نے انکار کیا تو اﷲ کے مقابلہ میں ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور وہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (116)

وہ اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں ، اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے پھر وہ اس کو برباد کر دے۔ اﷲ نے ان پر ظلم نہیں  کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (117)

اے ایمان والو، اپنے غیر کو اپنا راز دار نہ بناؤ، وہ تمہیں نقصان پہنچا نے میں کوئی کمی نہیں  کرتے۔ان کو خوشی ہوتی ہے تم جس قدر تکلیف پاؤ۔ ان کی عداوت ان کی زبان سے نکلی پڑتی ہے اور جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے، ہم نے تمہارے لئے نشانیاں کھول کر ظاہر کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ (118)

تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں  رکھتے۔ حالاں کہ تم سب آسمانی کتابوں کو مانتے ہو۔ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہو، تم اپنے غصہ میں مر جاؤ۔ بے شک اﷲ دلوں کی بات کو جانتا ہے۔ (119)

اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کو رنج ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔  اگر تم صبر کرو اور اﷲ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اﷲ کے بس میں ہے۔ (120)

جب تم صبح کو اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کو جنگ کے مقامات پر متعین کیا اور اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (121)

جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں  اور اﷲ ان دونوں جماعتوں کا مدد گار تھا۔ اور اﷲ ہی پر چاہئے کہ مومنین بھروسہ کریں۔  (122)

اور اﷲ تمہاری مدد کر چکا ہے بدر میں جب کہ تم کمزور تھے۔پس اﷲ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار رہو۔ (123)

جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے کافی نہیں  کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے۔ (124)

اگر تم صبر کرو اور اﷲ سے ڈرو اور دشمن تمہارے اوپر یکدم آ پہنچے تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان کئے ہوئے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ (125)

اور یہ اﷲ نے اس لئے کیا تاکہ تمہارے لئے خوش خبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں  اور مدد صرف اﷲ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست ہے،حکمت والا ہے۔ (126)

تاکہ اﷲ منکروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا ان کو ذلیل کر دے کہ وہ ناکام لوٹ جائیں۔  (127)

تم کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔  اﷲ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے، کیوں کہ وہ ظالم ہیں۔  (128)

اور اﷲ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اﷲ غفور اور رحیم ہے۔(129)

اے ایمان والو، سود کئی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (130)

اور ڈرو اس آگ سے جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (131)

اور اﷲ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (132)

اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طر ف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اﷲ سے ڈرنے والوں کے لئے۔ (133)

جو لوگ کہ خرچ کرتے ہیں فراغت میں  اور تنگی میں۔  وہ غصہ کو پی جانے والے ہیں  اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔  اور اﷲ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (134)

اور ایسے لوگ کہ جب وہ کوئی کھلی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں تو وہ اﷲ کو یاد کر کے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگیں۔  اﷲ کے سوا کون ہے جو گنا ہوں کو معاف کرے اور وہ جانتے بوجھتے اپنے کئے پر اصرار نہیں  کرتے۔ (135)

یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے کام کرنے والوں کا۔ (136)

تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ (137)

یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لئے۔ (138)

اور ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ (139)

اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں ، تاکہ اﷲ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اﷲ ظالموں کو دوست نہیں  رکھتا۔ (140)

اور تاکہ اﷲ ایمان والوں کو چھانٹ لے اور انکار کرنے والوں کو مٹا دے۔ (141)

کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی اﷲ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا نہیں  جنھوں نے جہاد کیا اور نہ ان کو جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔  (142)

اور تم موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے ملنے سے پہلے، سو اب تم نے اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔(143)

محمد بس ایک رسول ہیں۔  ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔  پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو شخص پھر جائے، وہ اﷲ کا کچھ نہیں  بگاڑے گا اور اﷲ شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔ (144)

اور کوئی جان مر نہیں  سکتی بغیر اﷲ کے حکم کے۔ اﷲ کا لکھا ہوا وعدہ ہے۔ اور جو شخص دنیا کا فائدہ چاہتا ہے، اس کو ہم دنیا میں سے دے دیتے ہیں۔  اور جو آخرت کا فائدہ چاہتا ہے، اس کو ہم آخرت میں سے دے دیتے ہیں۔  اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کا بدلہ ضرور عطا کریں گے۔ (145)

اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اﷲ والوں نے جنگ کی۔ اﷲ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے ،نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اﷲ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (146)

ان کی زبان سے اس کے سوا کچھ اور نہ نکلا کہ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے جو زیادتی ہوئی اس کو معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور منکر قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ (147)

پس اﷲ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا اور آخرت کا اچھا بدلہ بھی۔ اور اﷲ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔(148)

اے ایمان والو، اگر تم منکروں کی بات مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے، پھر تم ناکام ہو کر رہ جاؤ گے۔ (149)

بلکہ اﷲ تمہارا مدد گار ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (150)

ہم منکروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیوں کہ انھوں نے ایسی چیز کو اﷲ کا شریک ٹھہرایا جس کے حق میں اﷲ نے کوئی دلیل نہیں  اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے ظالموں کے لئے۔ (151)

اور اﷲ نے تم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا جب کہ تم ان کو اﷲ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم خود کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم کہنے پر نہ چلے جب کہ اﷲ نے تم کو وہ چیز دکھا دی تھی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اﷲ نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا، تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور اﷲ نے تم کو معاف کر دیا اور اﷲ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے۔ (152)

جب تم چڑھے جا رہے تھے اور مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا۔ پھر اﷲ نے تم کو غم پر غم دیا تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے چوک گئی اور نہ اس مصیبت پر جوتم پر پڑے۔ اور اﷲ خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔(153)

پھر اﷲ نے تمہارے اوپر غم کے بعد اطمینان اتارا، یعنی اونگھ کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اس کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ اﷲ کے بارے میں خلافِ حقیقت خیالات، جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے۔وہ کہتے تھے کیا ہمارا بھی کچھ اختیار ہے۔ کہو، سارا معاملہ اﷲ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو وہ تم پر ظاہر نہیں  کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ کہو، اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھ گیا تھا، وہ اپنی قتل گا ہوں کی طر ف نکل پڑتے۔ یہ اس لئے ہوا کہ اﷲ کو آزمانا تھا جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اور نکھارنا تھا جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اﷲ جانتا ہے سینوں والی بات کو۔ (154)

تم میں سے جو لوگ پھر گئے تھے اس دن کہ دونوں گرو ہوں میں مڈبھیڑ ہوئی، ان کو شیطان نے ان کے بعض اعمال کے سبب سے پھسلادیا تھا۔ اﷲ نے ان کو معاف کر دیا۔ بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(155)

اے ایمان والو، تم ان لوگوں کے مانند نہ ہو جانا جنھوں نے انکار کیا۔ وہ اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ، جب کہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں  اور ان کو موت آ جاتی ہے، کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ تاکہ اﷲ اس کو ان کے دلوں میں سببِ حسرت بنا دے۔ اور اﷲ ہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس کو دیکھ رہا ہے۔ (156)

اور اگر تم اﷲ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اﷲ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔  (157)

اور تم مر گئے یا مارے گئے بہرحال تم اﷲ ہی کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔ (158)

یہ اﷲ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ہو۔ اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے بھاگ جاتے۔ پس ان کو معاف کر دو اور ان کے لئے مغفرت مانگو اور معاملات میں ان سے مشورہ لو۔ پھر جب فیصلہ کر لو تو اﷲ پر بھروسہ کرو۔ بیشک اﷲ ان سے محبت کرتا ہے جواس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔  (159)

اگر اﷲ تمہارا ساتھ دے تو کوئی تم پر غالب نہیں  آسکتا اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے۔ اور اﷲ ہی کے اوپر بھروسہ کرنا چاہئے ایمان والوں کو۔(160)

اور نبی کا یہ کام نہیں  کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو کوئی چھپائے گا وہ اپنی چھپائی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا۔ پھر ہر جان کو اس کے کئے ہوئے کا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہو گا۔ (161)

کیا وہ شخص جو اﷲ کی مرضی کا تابع ہے، وہ اس شخص کے مانند ہو جائے گا جو اﷲ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ (162)

اﷲ کے یہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے۔ اور اﷲ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔  (163)

اﷲ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اﷲ کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم  دیتا ہے۔ بے شک یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔(164)

اور جب تم کو ایسی مصیبت پہنچی جس کی دوگنی مصیبت تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آ گئی۔ کہو یہ تمہارے اپنے پاس سے ہے۔ بے شک اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔ (165)

اور دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن تم کو جو مصیبت پہنچی، وہ اﷲ کے حکم سے پہنچی اور اس واسطے کہ اﷲ مومنین کو جان لے۔ (166)

اور ان کو بھی جان لے جو منافق تھے جن سے کہا گیا کہ آؤ اﷲ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو دفع کرو۔ انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونا ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ یہ لوگ اس دن ایمان سے زیادہ کفر کے قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں  نہیں  ہے اور اﷲ اس چیز کو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں۔  (167)

یہ لوگ جو خود بیٹھے رہے، اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے۔ کہو تم اپنے اوپر سے موت کو ہٹا دو اگر تم سچے ہو۔(168)

اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہی ہے۔ (169)

وہ خوش ہیں اس پر جو اﷲ نے اپنے فضل میں سے ان کو دیا ہے اور خوش خبری لے رہے ہیں کہ جو لوگ ان کے پیچھے ہیں  اور ابھی وہاں  نہیں  پہنچے ہیں ، ان کے لئے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (170)

وہ خوش ہو رہے ہیں اﷲ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اﷲ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں  کرتا۔ (171)

جن لوگوں نے اﷲ اور رسول کے حکم کو مانا بعد اس کے کہ ان کو زخم لگ چکا تھا، ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ (172)

جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کر لی ہے اس سے ڈرو ،لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں  اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اﷲ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ (173)

پس وہ اﷲ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے۔ ان لوگوں کو کوئی برائی پیش نہ آئی۔ اور وہ اﷲ کی رضا مندی پر چلے اور اﷲ بڑا فضل والا ہے۔ (174)

یہ شیطان ہے جو تم کو اپنے دوستوں کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ تم ان سے نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔(175)

اور وہ لوگ تمہارے لئے باعثِ غم نہ بنیں جو انکار میں سبقت کر رہے ہیں۔  وہ اﷲ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اﷲ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے۔ ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (176)

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو خریدا ہے، وہ اﷲ کا کچھ بگاڑ نہیں  سکتے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (177)

اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں ، وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم تو بس اس لئے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ جرم میں  اور بڑھ جائیں  اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (178)

اﷲ وہ نہیں  کہ مومنوں کواس حالت پر چھوڑ دے جس طرح کہ تم اب ہو، جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر لے۔ اور اﷲ یوں  نہیں  کہ تم کو غیب سے خبردار کر دے۔ بلکہ اﷲ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے۔ پس تم ایمان لاؤ اﷲ پر اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا اجر ہے۔(179)

اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اﷲ نے ان کو اپنے فضل میں سے دیا ہے، وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے حق میں اچھا ہے، بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کر رہے ہیں اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور اﷲ ہی وارث ہے زمین اور آسمان کا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس سے باخبر ہے۔ (180)

اﷲ نے ان لوگوں کا قول سنا جنھوں نے کہا کہ اﷲ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔  ہم لکھ لیں گے ان کے اس قول کو اور ان کے پیغمبروں کو ناحق مار ڈالنے کو بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ اب آگ کا عذاب چکھو۔ (181)

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور اﷲ اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے والا نہیں۔  (182)

جو لوگ کہتے ہیں کہ اﷲ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کو تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جس کو آگ کھا لے، ان سے کہو کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس رسول آئے کھلی نشانیاں لے کر اور وہ چیز لے کر جس کو تم کہہ رہے ہو، پھر تم نے کیوں ان کو مار ڈالا، اگر تم سچے ہو۔(183)

پس اگر یہ تم کو جھٹلا تے ہیں تو تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی نشانیاں  اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ (184)

ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو پورا اجر تو بس قیامت کے دن ملے گا۔ پس جو شخص آگ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کیا جائے، وہی کامیاب رہا  اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سودا ہے۔(185)

یقیناً تم اپنے جان اور مال میں آزمائے جاؤ گے۔ اور تم بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ان سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا۔  اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔ (186)

اور جب اﷲ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح لوگوں کے لیے ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں  چھپاؤ گے۔ مگر انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔  (187)

جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں  اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں  کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (188)

اور اﷲ ہی کے لئے ہے زمین اور آسمان کی بادشاہی، اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔(189)

آسمانوں  اور زمین کی پیدائش میں  اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔  (190)

جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اﷲ کو یاد کرتے ہیں  اور آسمانوں  اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔  وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں  بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ (191)

اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔  (192)

اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ (193)

اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں ،ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں  ہے۔(194)

ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اﷲ کے یہاں  اور بہترین بدلہ اﷲ ہی کے پاس ہے۔ (195)

اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں۔ (196)

یہ تھوڑا سا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ کیسابرا ٹھکانا ہے۔ (197)

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اﷲ کی طرف سے ان کی میزبانی ہو گی اور جو کچھ اﷲ کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے وہی سب سے بہتر ہے۔ (198)

اور بے شک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں  اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اﷲ کے آگے جھکے ہوئے ہیں  اور وہ اﷲ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں  دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اﷲ جلدحساب لینے والا ہے۔ (199)

اے ایمان والو، صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور اﷲ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو گے۔(200)

٭٭٭

 

 

۴۔ سورۃ اَلنِسَآء

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔  اور اﷲ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور خبردار رہو قرابت والوں سے۔ بے شک اﷲ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ (1)

اور یتیموں کا مال ان کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (2)

اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملہ میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے حسب حال، دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو کنیز تمہاری مِلک میں ہو۔ اس میں امید ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو گے۔ (3)

اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔ پھر اگر وہ اس میں سے کچھ تمہارے لئے چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو ہنسی خوشی سے کھاؤ۔(4)

اور نادانوں کو اپنا وہ مال نہ دو جس کو اﷲ نے تمہارے لئے قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور اس مال میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے بھلائی کی بات کہو۔ (5)

اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ اور ان کا مال اسراف سے اور اس خیال سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے نہ کھا جاؤ۔ اور جس کو حاجت نہ ہو وہ یتیم کے مال سے پرہیز کرے اور جو شخص محتاج ہو، وہ دستور کے موافق کھائے۔ پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو اور اﷲ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ (6)

ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے مردوں کا بھی حصہ ہے اور ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ ہو، ایک مقرر کیا ہوا حصہ۔ (7)

اور اگر تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔ (8)

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں بچے چھو ڑ جاتے تو انھیں ان کی بہت فکر رہتی۔ پس ان کو چاہئے کہ اﷲ سے ڈریں  اور بات پکی کہیں۔ (9)

جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ، وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں  اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے۔(10)

اﷲ تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں حکم  دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اگر عورتیں دو سے زائد ہیں تو ان کے لئے دو تہائی ہے اس مال سے جو مورث چھوڑ گیا ہے، اور اگر وہ اکیلی ہے تو اس کے لئے آدھا ہے۔ اور میت کے ماں باپ کو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اس مال کا جو وہ چھوڑ گیا ہے بشرطیکہ مورث کے اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تہائی حصہ ہے اور اگر اس کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے وصیت نکالنے کے بعد یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کر جاتا ہے۔ تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے ہوں ، تم نہیں  جانتے کہ ان میں تمہارے لئے سب سے زیادہ نافع کون ہے۔ یہ اﷲ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بے شک اﷲ علم والا، حکمت والا ہے۔ (11)

اور تمہارے لئے اس مال کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں ، بشرطیکہ ان کے اولاد نہ ہو۔ اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے بیویوں کے ترکہ کا چوتھائی حصہ ہے وصیت نکالنے کے بعد جس کی وہ وصیت کر جائیں یا ادائے قرض کے بعد۔  اور ان بیویوں کے لئے چوتھائی حصہ ہے تمہارے ترکہ کا اگر تمہارے اولاد نہیں  ہے، اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکہ کا بعد وصیت نکالنے کے جس کی تم وصیت کر جاؤ یا ادائے قرض کے بعد۔  اور اگر کوئی مورث مرد یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں  اور نہ فروع، اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ اور اگر وہ اس سے زائد ہوں ، تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے بعد وصیت نکالنے کے جس کی وصیت کی گئی ہو یا ادائے قرض کے بعد ، بغیر کسی کو نقصان پہنچائے۔ یہ حکم اﷲ کی طرف سے ہے اور اﷲ علیم اور حلیم ہے۔(12)

یہ اﷲ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں۔  اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اﷲ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔(13)

اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے مقرر کئے ہوئے ضابطوں سے باہر نکل جائے گا، اس کو وہ آگ میں داخل کرے گاجس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت و الا عذاب ہے۔(14)

اور تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری کرے تو ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں کے اندر بند رکھو، یہاں تک کہ ان کو موت اٹھا لے یا اﷲ ان کے لئے کوئی راہ نکال دے۔(15)

اور تم میں سے دو مرد جو وہی بدکاری کریں تو ان کو اذیت پہنچا ؤ۔پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں  اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان کا خیال چھوڑ دو۔ بے شک اﷲ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔(16)

تو بہ، جس کو قبول کرنا اﷲ کے ذمہ ہے، وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں ، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔  وہی ہیں جن کی توبہ اﷲ قبول کرتا ہے اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(17)

اور ایسے لوگوں کی توبہ نہیں  ہے جو برابر گناہ کرتے رہیں ، یہاں تک کہ جب موت ان میں سے کسی کے سامنے آ جائے تب وہ کہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں  اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ منکر ہیں ، ان کے لئے تو ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔(18)

اے ایمان والو، تمہارے لئے جائز نہیں  کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو اور نہ ان کو اس غرض سے روکے رکھو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں۔  اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کوناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اﷲ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔(19)

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم اس کو بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے۔(20)

اور تم کس طرح اس کو لو گے جب کہ ایک، دوسرے سے خلوت کر چکا ہے اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ (21)

اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہیں ، مگر جو پہلے ہو چکا۔  بے شک یہ بے حیائی ہے اور نفرت کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔(22)

تمہارے اوپر حرام کی گئیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاں  اور بھانجیاں  اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا، تمہاری دودھ شریک بہنیں ، تمہاری عورتوں کی مائیں  اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے، لیکن اگر ابھی تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔  اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں  اور یہ کہ تم اکھٹا کرو دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (23)

اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں  ہوں ، مگر یہ کہ وہ جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں۔  یہ اﷲ کا حکم ہے تمہارے اوپر۔  ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں ، وہ سب تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو، ان کو قید ِ نکاح میں لے کر نہ کہ بد کاری کے طور پر۔ پھر ان عورتوں میں سے جن کو تم کام میں لائے، ان کو ان کا طے شدہ مہر دے دو۔ اور مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہو توا س میں کوئی گناہ نہیں۔  بے شک اﷲ جاننے والا،حکمت والا ہے۔(24)

اور تم میں سے جو شخص قدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو اس کو چاہئے کہ وہ تمہاری ان کنیزوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں  ہوں  اور مو منہ ہوں۔  اﷲ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم آپس میں ایک ہو۔ پس ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کر دو، اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ آزاد شہوت رانی کریں  اور چوری چھپے آشنائیاں کریں۔  پھر جب وہ قید نکاح میں آ جائیں  اور اس کے بعد وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو آزاد عورتوں کے لئے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ اور اگر تم ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اور اﷲ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔(25)

اﷲ چاہتا ہے کہ وہ تمہارے واسطے بیان کرے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں  اور تم پر توجہ کرے، اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(26)

اور اﷲ چاہتا ہے کہ وہ تمہارے اوپر توجہ کرے اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے بہت دور نکل جاؤ۔(27)

اﷲ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ کو ہلکا کرے، اور انسان کمزور بنایا گیا ہے۔(28)

اے ایمان والو، آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے۔ اور خون نہ کرو آپس میں۔ بے شک اﷲ تمہارے اوپر بڑا مہربان ہے۔(29)

اور جو شخص سرکشی اور ظلم سے ایسا کرے گا، اس کو ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے۔ اور یہ اﷲ کے لئے آسان ہے۔(30)

اگر تم ان بڑے گنا ہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو معاف کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(31)

اور تم ایسی چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اﷲ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے۔مردوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا۔ اور اﷲ سے اس کا فضل مانگو۔بے شک اﷲ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔(32)

اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں سے ہر ایک کے لئے وارث ٹھہرا دئے ہیں  اور جن سے تم نے عہد باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دے دو، بے شک اﷲ کے روبرو ہے ہر چیز۔(33)

مرد، عورتوں کے اوپر قوام ہیں ، اس بنا پر کہ اﷲ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کئے۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی ہیں ، وہ پیٹھ پیچھے نگہبانی کرتی ہیں اﷲ کی حفاظت سے۔ اور جن عورتوں سے تم کو سرکشی کا اندیشہ ہو، ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستر میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو سزا دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راہ نہ تلاش کرو۔ بے شک اﷲ سب سے اوپر ہے، بہت بڑا ہے۔(34)

اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک منصف، مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک منصف، عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اﷲ ان کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اﷲ سب کچھ جاننے والا، خبردار ہے۔(35)

اور اﷲ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور اچھا سلوک کرو ماں باپ کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں  اور مسکینوں  اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور مملوک کے ساتھ۔ بے شک اﷲ پسند نہیں  کرتا اترانے والے، بڑائی کرنے والے کو۔(36)

جو کہ بخل کرتے ہیں  اور دوسروں کو بھی بخل سکھاتے ہیں  اور جو کچھ انھیں اﷲ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔  اور ہم نے منکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔(37)

اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں  اور اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں  رکھتے، اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو وہ بہت برا ساتھی ہے۔(38)

ان کا کیا نقصان تھا اگر وہ اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے اور اﷲ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اور اﷲ ان سے اچھی طرح باخبر ہے۔(39)

بے شک اﷲ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں  کرے گا۔ اگر نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا بڑھا  دیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب  دیتا ہے۔(40)

پھر اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ان لوگوں کے اوپر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے۔(41)

وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا اور پیغمبر کی نافرمانی کی، وہ اس روز تمنا کریں گے کہ کاش زمین ان پر برابر کر دی جائے، اور وہ اﷲ سے کوئی بات نہ چھپاسکیں گے۔(42)

اے ایمان والو، نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو تم کہتے ہو، اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے، یہاں تک کہ غسل کر لو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے حاجت سے آئے یا تم عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کر لو، بے شک اﷲ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔ (43)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جن کو کتاب سے حصہ ملا تھا۔ وہ گمراہی کو مول لے رہے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بھٹک جاؤ۔(44)

اﷲ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اﷲ کافی ہے حمایت کے لئے اور اﷲ کافی ہے مدد کے لئے۔(45)

یہود میں سے ایک گروہ بات کو اس کے محل سے ہٹا  دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نے سنا اور نہ مانا۔ اور کہتے ہیں کہ سنو اور تمہیں سنوایا نہ جائے۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر کہتے ہیں راعنا، دین میں عیب لگانے کے لئے۔ اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا، اور سنو اور ہم پر نظر کرو تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر اور درست ہوتا، مگر اﷲ نے ان کے انکار کے سبب سے ان پر لعنت کر دی ہے۔ پس وہ ایمان نہ لائیں گے مگر بہت کم۔(46)

اے وہ لوگو جن کو کتاب دی گئی اس پر ایمان لاؤ جو ہم نے اتارا ہے، تصدیق کرنے والی اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں پھر ان کو الٹ دیں پیٹھ کی طرف یا ان پر لعنت کریں جیسے ہم نے لعنت کی سبت والوں پر۔ اور اﷲ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔ (47)

بے شک اﷲ اس کو نہیں  بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے، اس کو وہ جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اﷲ کا شریک ٹھہرایا، اس نے بڑا طوفان باندھا۔(48)

کیا تم نے دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں۔ بلکہ اﷲ ہی پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا۔(49)

دیکھو، یہ اﷲ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں  اور صریح گناہ ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔(50)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جنہیں کتاب سے حصہ ملا تھا، وہ جبت (اعمالِ سفلیہ مثلاً سحر، وغیرہ) اور طاغوت (شیطانی قوتوں  اور ارواحِ خبیثہ، وغیرہ)کو مانتے ہیں  اور منکروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (51)

یہی لوگ ہیں جن پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور جس پر اﷲ لعنت کرے ،تم اس کا کوئی مدد گار نہ پاؤ گے۔(52)

کیا خدا کے اقتدار میں کچھ ان کا بھی دخل ہے، پھر تو یہ لوگوں کو ایک تل برابر بھی کچھ نہ دیں۔ (53)

کیا یہ لوگوں پر حسد کر رہے ہیں اس بنا پر جو اﷲ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔ پس ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ہم نے ان کو ایک بڑی سلطنت بھی دے دی۔(54)

ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے رکا رہا  اور ایسوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔(55)

بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کا انکار کیا، ان کو ہم سخت آگ میں ڈالیں گے۔ جب ان کے جسم کی کھال جل جائے گی تو ہم ان کی کھال کو بدل کر دوسری کر دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔  بے شک اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(56)

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، ان کو ہم باغوں میں داخل کریں گے جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں ان کے لئے ستھری بیویاں  ہوں گی اور ان کو ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔(57)

اﷲ تم کو حکم  دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اﷲ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اﷲ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔(58)

اے ایمان والو، اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں اہلِ اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اﷲ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔(59)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف، حالاں کہ ان کو حکم ہو چکا ہے کہ وہ اس کو نہ مانیں  اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے۔(60)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اﷲ کی اتاری ہوئی کتاب کی طرف اور رسول کی طرف تو تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے کترا جاتے ہیں۔ (61)

پھر اس وقت کیا ہو گا جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر پہنچے گی، اس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوے آئیں گے کہ خدا کی قسم، ہم کو تو صرف بھلائی اور ملاپ سے غرض تھی۔(62)

ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اﷲ اس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔(63)

اور ہم نے جو رسول بھیجا، اسی لئے بھیجا کہ اﷲ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ جب کہ انھوں نے اپنا برا کیا تھا، وہ تمھارے پاس آتے اور اﷲ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی چاہتا تو یقیناً وہ اﷲ کو بخشنے والا، رحم کرنے والا پاتے۔(64)

پس تیرے رب کی قسم، وہ کبھی ایمان والے نہیں  ہوسکتے جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑے میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔  پھر جو فیصلہ تم کرو، اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں  اور اس کو خوشی سے قبول کر لیں۔ (65)

اور اگر ہم ان کو حکم دیتے کہ اپنے آپ کو ہلاک کرو یا اپنے گھروں سے نکلو تو ان میں سے تھوڑے ہی اس پر عمل کرتے۔ اور یہ لوگ وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے لئے یہ بات بہتر اور ایمان پر ثابت رکھنے والی ہوتی۔(66)

اور اس وقت ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا اجر دیتے۔(67)

اور ان کو سیدھا راستہ دکھاتے۔(68)

اور جو اﷲ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اﷲ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔(69)

یہ فضل ہے اﷲ کی طرف سے اور اﷲ کا علم کافی ہے۔(70)

اے ایمان والو، اپنی احتیاط کر لو پھر نکلو جدا جدا یا اکھٹے ہو کر۔(71)

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو دیر لگا  دیتا ہے۔ پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتا ہے کہ اﷲ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ نہ تھا۔(72)

اور اگر تم کو اﷲ کا کوئی فضل حاصل ہو تو کہتا ہے، گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی رشتۂ محبت ہی نہیں ، کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔(73)

پس چاہئے کہ لڑیں اﷲ کی راہ میں وہ لوگ جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچ دیتے ہیں۔  اور جو شخص اﷲ کی راہ میں لڑے، پھر مارا جائے یا غالب ہو تو ہم اس کو بڑا اجر دیں گے۔(74)

اور تم کو کیا ہوا کہ تم نہیں  لڑتے اﷲ کی راہ میں  اور ان کمزور مردوں  اور عورتوں  اور بچوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ خدا یا، ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں  اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی پیدا کر دے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی مدد گار کھڑا کر دے۔(75)

جو لوگ ایمان والے ہیں ، وہ اﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں  اور جو منکر ہیں ، وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں۔  پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو۔ بے شک شیطان کی چال بہت کمزور ہے۔ (76)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں  دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسے اﷲ سے ڈرنا چاہئے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے ہم پر لڑائی کیوں فرض کر دی۔ کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک۔ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لئے جو پرہیز گاری کرے، اور تمہارے ساتھ ذرا بھی ظلم نہ ہو گا۔(77)

اور تم جہاں بھی ہو گے، موت تم کو پالے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دو کہ سب کچھ اﷲ کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں کا کیا حا ل ہے کہ لگتا ہے کہ کوئی بات ہی نہیں  سمجھتے۔(78)

تم کو جو بھلائی بھی پہنچتی ہے، وہ خدا کی طرف سے پہنچتی ہے اور تم کو جو برائی پہنچتی ہے، وہ تمھارے اپنے ہی سبب سے ہے۔ اور ہم نے تم کو انسانوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اﷲ کی گواہی کافی ہے۔(79)

جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اﷲ کی اطاعت کی اور جو الٹا پھرا تو ہم نے ان پر تم کو نگراں بنا کر نہیں  بھیجا ہے۔(80)

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو قبول ہے۔ پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ اس کے خلاف مشورہ کرتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا۔ اور اﷲ ان کی سرگوشیوں کو لکھ رہا ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور اﷲ پر بھروسہ رکھو، اور اﷲ بھروسہ کے لئے کافی ہے۔(81)

کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں  کرتے، اگر یہ اﷲ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔(82)

اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔  اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچا تے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں ، وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔(83)

پس لڑو اﷲ کی راہ میں۔  تم پر اپنی جان کے سواکسی کی ذمہ داری نہیں  اور اہلِ ایمان کو ابھارو۔ امید ہے کہ اﷲ منکروں کا زور توڑ دے اور اﷲ بڑا زور والا اور بہت سخت سزا دینے والا ہے۔(84)

جو شخص کسی اچھی بات کے حق میں کہے گا، اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے، اور جو اس کی مخالفت میں کہے گا، اس کے لئے اس میں حصہ ہے اور اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(85)

اور جب کوئی تم کو دعا دے تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا الٹ کر وہی کہہ دو، بے شک اﷲ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔(86)

اﷲ ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  وہ تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گاجس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔  اور اﷲ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔(87)

پھر تم کو کیا ہوا ہے کہ تم منافقوں کے معاملہ میں دو گروہ ہو رہے ہو۔ حالاں کہ اﷲ نے ان کے اعمال کے سبب سے ان کو الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو راہ پر لاؤ جن کو اﷲ نے گمراہ کر دیا ہے۔ اور جس کو اﷲ گمراہ کر دے، تم ہر گز اس کے لئے کوئی راہ نہیں  پاسکتے۔(88)

وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح انھوں نے انکار کیا ہے، تم بھی انکار کرو تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ پس تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک وہ اﷲ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔  پھر اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں ان کو پاؤ، انھیں قتل کرو اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مدد گار نہ بناؤ۔(89)

مگر وہ لوگ جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ ان کے سینے تنگ ہو رہے ہیں تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے۔ اور اگر اﷲ چاہتا تو ان کو تم پر زور دے  دیتا تو وہ ضرور تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم کو چھوڑے رہیں  اور تم سے جنگ نہ کریں  اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ رکھیں تو اﷲ تم کو بھی ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں   دیتا۔(90)

دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی امن میں رہیں  اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔  جب کبھی وہ فتنہ کا موقع پائیں ، وہ اس میں کود پڑتے ہیں۔  ایسے لوگ اگر تم سے یکسو نہ رہیں  اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ نہ رکھیں  اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو تم ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں پاؤ۔ یہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلی حجت دی ہے۔(91)

اور مومن کا کام نہیں  کہ وہ مومن کو قتل کرے، مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو وہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہا دے، الاّ یہ کہ وہ معاف کر دیں۔  پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے تھا جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مومن تھا تو وہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے۔ اور اگر وہ ایسی قوم میں سے تھا کہ تمہارے اور اس کے درمیان عہد ہے تو وہ اس کے وارثوں کو خوں بہا دے اور ایک مومن کو آزاد کرے۔ پھر جس کو میسر نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ توبہ ہے اﷲ کی طرف سے۔ اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(92)

اور جو شخص کسی مومن کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزاجہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اﷲ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اﷲ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (93)

اے ایمان والو، جب تم سفر کرو اﷲ کی راہ میں تو خوب تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تم کو سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔  تم دنیوی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اﷲ کے پاس بہت سامانِ غنیمت ہے۔ تم بھی پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اﷲ نے تم پر فضل کیا۔ تو تحقیق کر لیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس سے خبردار ہے۔(94)

برابر نہیں  ہوسکتے بیٹھے رہنے والے اہلِ ایمان جن کو کوئی عذر نہیں  اور وہ اہلِ ایمان جو اﷲ کی راہ میں لڑنے والے ہیں اپنے مال اور اپنی جان سے۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کا درجہ اﷲ نے بیٹھ رہنے والوں کی نسبت بڑا رکھا ہے، اور ہر ایک سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اور اﷲ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم میں برتری دی ہے۔(95)

ان کے لئے اﷲ کی طرف سے بڑے درجے ہیں  اور مغفرت اور رحمت ہے۔ اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(96)

جو لوگ اپنا برا کر رہے ہیں ، جب ان کی جان فرشتے نکالیں گے تو وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم زمین میں بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وطن چھوڑ کر وہاں چلے جاتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔(97)

مگر وہ بے بس مرد اور عورتیں  اور بچے جو کوئی تدبیر نہیں  کرسکتے اور نہ وہ کوئی راہ پا رہے ہیں۔ (98)

یہ لوگ توقع ہے کہ اﷲ انھیں معاف کر دے گا اور اﷲ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔ (99)

اور جو کوئی اﷲ کی راہ میں وطن چھوڑے گا، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے اﷲ اور اس کے رسول کی طر ف ہجرت کر کے نکلے، پھر اس کو موت آ جائے تو اس کا اجر اﷲ کے یہاں مقرر ہو چکا اور اﷲ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔(100)

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں  کہ تم نماز میں کمی کرو، اگر تم کو ڈر ہو کہ منکر تم کو ستائیں گے۔ بے شک منکر لوگ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔  (101)

اور جب تم اہلِ ایمان کے درمیان ہو اور ان کے لئے نماز قائم کرو تو چاہئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار لئے ہوئے ہو۔ پس جب وہ سجدہ کر چکیں تو وہ تمہارے پاس سے ہٹ جائیں  اور دوسری جماعت آئے جس نے ابھی نماز نہیں  پڑھی ہے اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں۔  اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور ہتھیار لئے رہیں۔  منکر لوگ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں  اور سامان سے کسی طرح غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔  اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں  اگر تم کو بارش کے سبب سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار دو اور اپنے بچاؤ کا سامان لئے رہو۔ بے شک اﷲ نے منکروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (102)

پس جب تم نماز ادا کر لو تو اﷲ کو یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے۔ پھر جب اطمینان ہو جائے تو نماز کی اقامت کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر مقرر وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ (103)

اور قوم کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہارو۔ اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح دکھ اٹھاتے ہیں  اور تم اﷲ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ نہیں  رکھتے۔ اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(104)

بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ اتاری ہے، تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اﷲ نے تم کو دکھایا ہے۔ اور بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔ (105)

اور اﷲ سے بخشش مانگو۔ بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (106)

اور تم ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں۔  اﷲ ایسے شخص کو پسند نہیں  کرتا جو خیانت والا اور گنہگار ہو۔ (107)

وہ انسانوں سے شرماتے ہیں  اور اﷲ سے نہیں  شرماتے، حالاں کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اس بات کی جس سے اﷲ راضی نہیں۔  اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اﷲ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔(108)

تم لوگوں نے دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑا کر لیا۔مگر قیامت کے دن کون ان کے بدلے اﷲ سے جھگڑا کرے گا یا کون ہو گا ان کا کام بنانے والا۔ (109)

اور جو شخص برائی کرے یا اپنے آپ پر ظلم کرے پھر اﷲ سے بخشش مانگے تو وہ اﷲ کو بخشنے والا، رحم کرنے والا پائے گا۔ (110)

اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے ہی حق میں کرتا ہے اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (111)

اور جو شخص کوئی غلطی یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو اس نے ایک بڑا بہتان اور کھلا ہوا گناہ اپنے سر لے لیا۔ (112)

اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو یہ ٹھان ہی لیا تھا کہ وہ تم کو بہکا کر رہے گا، حالاں کہ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں۔  وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں  سکتے۔ اور اﷲ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں  جانتے تھے اور اﷲ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا۔ (113)

ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔  بھلائی والی سرگوشی صرف اس کی ہے جو صدقہ کرنے کو کہے یا کسی نیک کام کے لئے کہے یا لوگوں میں صلح کرانے کے لئے کہے۔ جو شخص اﷲ کی خوشی کے لئے ایسا کرے تو ہم اس کوبڑا اجر عطا کریں گے۔ (114)

مگر جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پر چلے گا، حالاں کہ اس پر راہ واضح ہو چکی، تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔(115)

بے شک اﷲ اس کو نہیں  بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا وہ دوسرے گنا ہوں کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے گا۔ اور جس نے اﷲ کا شریک ٹھہرایا، وہ بہک کر بہت دور جا پڑا۔ (116)

وہ اﷲ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں دیویوں کو اور وہ پکارتے ہیں سرکش شیطان کو۔ (117)

اس پر اﷲ نے لعنت کی ہے۔ اور شیطان نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ لے کر ر ہوں گا۔ (118)

میں ان کو بہکاؤں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ اﷲ کی بناوٹ کو بدلیں گے اور جو شخص اﷲ کے سوا شیطان کو اپنا دوست بنائے تو وہ کھلے ہوئے نقصان میں پڑ گیا۔ (119)

وہ ان کو وعدہ  دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور شیطان کے تمام وعدے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔  (120)

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ (121)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اﷲ کاو عدہ سچا ہے اور اﷲ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہو گا۔(122)

نہ تمہاری آرزوؤں پر اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اﷲ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ مدد گار۔(123)

اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا۔(124)

اور اس سے بہتر کس کا دین ہے جو اپنا چہرہ اﷲ کی طرف جھکا دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو۔ اور وہ چلے دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور اﷲ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ (125)

اور اﷲ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اﷲ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔(126)

اور لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں۔  کہہ دو اﷲ تمہیں ان کے بارے میں حکم  دیتا ہے اور وہ آیات بھی جو تمہیں کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن کو تم وہ نہیں  دیتے جو ان کے لئے لکھا گیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان کو نکاح میں لے آؤ۔ اور جو آیات کمزور بچوں کے بارے میں ہیں ، اور یتیموں کے ساتھ انصاف کرو اور جو بھلائی تم کرو گے، وہ اﷲ کو خوب معلوم ہے۔ (127)

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں  کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کر لیں ، اور صلح بہتر ہے، اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے، اﷲ اس سے باخبر ہے۔ (128)

اور تم ہرگز عورتوں کو برابر نہیں  رکھ سکتے اگرچہ تم ایسا کرنا چاہو۔ پس بالکل ایک ہی طرف نہ جھک پڑو کہ دوسری کو لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور ڈرو تو اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (129)

اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اﷲ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے احتیاج کر دے گا اور اﷲ بڑی وسعت والا، حکمت والا ہے۔(130)

اور اﷲ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور ہم نے حکم دیا ہے ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تم کو بھی کہ اﷲ سے ڈرو۔ اور اگر تم نے نہ مانا تو اﷲ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اﷲ بے نیاز ہے، سب خوبیوں والا ہے۔ (131)

اور اﷲ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بھروسہ کے لئے اﷲ کافی ہے۔ (132)

اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اے لوگو، اور دوسروں کو لے آئے۔ اور اﷲ اس پر قادر ہے۔ (133)

جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہو تو اﷲ کے پاس دنیا کا ثواب بھی ہے اور آخرت کا ثواب بھی۔ اور اﷲ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔(134)

اے ایمان والو، انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اﷲ کے لئے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے یا تمہارے ماں باپ یا عزیزوں کے خلاف ہو۔اگر کوئی مال دار ہے یا محتاج تو اﷲ تم سے زیادہ دونوں کا خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو، اﷲ اس سے باخبر ہے۔(135)

اے ایمان والو، ایمان لاؤ اﷲ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص انکار کرے اﷲ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بہک کر دور جا پڑا۔ (136)

بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر انکار کیا، پھر ایمان لائے پھر انکار کیا، پھر وہ انکار میں بڑھتے گئے تو اﷲ ان کو ہرگز نہیں  بخشے گا اور نہ ان کو راہ دکھائے گا۔ (137)

منافقوں کو خوش خبری دے دو کہ ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ (138)

وہ لوگ جو مومنوں کو چھوڑ کر منکروں کو دوست بناتے ہیں ، کیا وہ ان کے پاس عزت کی تلاش کر رہے ہیں، تو عزت ساری اﷲ کے لئے ہے۔(139)

اور اﷲ کتاب میں تم پر یہ حکم اتار چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق کیا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مشغول ہو جائیں ، ورنہ تم بھی انھیں جیسے ہو جاؤ گے۔ اﷲ منافقوں کو اور منکروں کو جہنم میں ایک جگہ اکھٹا کرنے والا ہے۔ (140)

وہ منافق تمہارے لئے انتظار میں رہتے ہیں۔  اگر تم کو اﷲ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر منکروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا۔ تو اﷲ ہی تم لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اﷲ ہرگز منکروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں  دے گا۔(141)

منافقین اﷲ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ، حالاں کہ اﷲ ہی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھانے کے لئے۔ اور وہ اﷲ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔  (142)

وہ دونوں کے بیچ لٹک رہے ہیں ، نہ اِدھر ہیں  اور نہ اُدھر۔ اور جس کو اﷲ بھٹکا دے، تم اس کے لئے کوئی راہ نہیں  پاسکتے۔ (143)

اے ایمان والو، مومنوں کو چھوڑ کر منکروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اﷲ کی کھلی حجت قائم کر لو۔ (144)

بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں  ہوں گے اور تم ان کا کوئی مدد گار نہ پاؤ گے۔ (145)

البتہ جو لوگ تو بہ کریں  اور اپنی اصلاح کر لیں  اور اﷲ کو مضبوطی سے پکڑ لیں  اور اپنے دین کو اﷲ کے لئے خالص کر لیں تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے اور اﷲ ایمان والوں کو بڑا ثواب دے گا۔ (146)

اﷲ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔ اﷲ بڑا قدر داں ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (147)

اﷲ بد گوئی کو پسند نہیں  کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو اور اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (148)

اگر تم بھلائی کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اﷲ معاف کرنے والا، قدرت رکھنے والا ہے۔ (149)

جو لوگ اﷲ اور اس کے رسولوں کا انکار کر رہے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں  اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں ایک راہ نکالیں۔  (150)

ایسے لوگ پکے منکر ہیں  اور ہم نے منکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (151)

اور جو لوگ اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کو جدا نہ کیا، ان کو اﷲ ان کا اجر دے گا اور اﷲ غفور اور رحیم ہے۔(152)

اہل کتاب تم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔ پس موسیٰ سے وہ اس سے بھی بڑی چیز کا مطالبہ کر چکے ہیں۔  انھوں نے کہا کہ ہمیں اﷲ کو بالکل سامنے دکھا دو۔ پس ان کی اس زیادتی کے باعث ان پر بجلی آ پڑی۔ پھر کھلی نشانی آ چکنے کے بعد انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ پھر ہم نے اس سے درگزر کیا۔ اور موسیٰ کو ہم نے کھلی حجت عطا کی۔ (153)

اور ہم نے ان کے اوپر کوہِ طور کو اٹھایا ان سے عہد لینے کے واسطے۔ اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہو سرجھکائے ہوئے اور ان سے کہا کہ َسبْت کے معاملہ میں زیادتی نہ کرنا۔ اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔(154)

ان کو جو سزا ملی وہ اس پر کہ انھوں نے اپنے عہد کو توڑا اور اس پر کہ انھوں نے اﷲ کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس پر کہ انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور اس بات کے کہنے پر کہ ہمارے دل تو بند ہیں۔  بلکہ اﷲ نے ان کے انکار کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے تو وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔  (155)

اور ان کے انکار پر اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے پر۔ (156)

اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح بن مریم، اﷲ کے رسول کو قتل کر دیا۔ حالاں کہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے ہیں ، وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔  ان کو اس کا کوئی علم نہیں ، وہ صرف اٹکل پر چل رہے ہیں۔  اور بے شک انھوں نے اس کو قتل نہیں  کیا۔ (157)

بلکہ اﷲ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(158)

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں  جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا۔ (159)

پس یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو ان کے لئے حلال تھیں۔  اور اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی راہ سے بہت روکتے تھے۔ (160)

اور اس وجہ سے کہ وہ سود لیتے تھے، حالاں کہ اس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھاتے تھے۔ اور ہم نے ان میں سے منکروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (161)

مگر ان میں جو لوگ علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں ، وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو تمہارے اوپر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی اور وہ نماز کے پابند ہیں  اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں  اور اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔  ایسے لوگوں کو ہم ضرور بڑا اجر دیں گے۔(162)

ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف وحی بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی۔ اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔ (163)

اور ہم نے ایسے رسول بھیجے جن کا حال ہم تم کو پہلے سناچکے ہیں  اور ایسے رسول بھی جن کا حال ہم نے تم کو نہیں  سنایا۔ اور موسیٰ سے اﷲ نے کلام کیا۔ (164)

اﷲ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اﷲ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے اور اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (165)

مگر اﷲ گواہ ہے اس پر جو اس نے تمہارے اوپر اتارا ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں  اور اﷲ گواہی کے لئے کافی ہے۔ (166)

جن لوگوں نے انکار کیا اور اﷲ کے راستہ سے روکا، وہ بہک کر بہت دور نکل گئے۔ (167)

جن لوگوں نے انکار کیا اور ظلم کیا، ان کو اﷲ ہرگز نہیں  بخشے گا اور نہ ہی ان کو کوئی راستہ دکھائے گا۔ (168)

جہنم کے راستے کے سوا، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور اﷲ کے لئے یہ آسان ہے۔ (169)

اے لوگو، تمھارے پاس رسول آ چکا تمہارے رب کی ٹھیک بات لے کر۔ پس مان لو تاکہ تمہارا بھلا ہو اور اگر نہ مانو گے تو اﷲ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں  اور زمین میں ہے اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(170)

اے اہل کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اﷲ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوا نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو بس اﷲ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف اِلقا فرمایا اور وہ اس کی جانب سے ایک روح ہیں۔  پس اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔  باز آ جاؤ، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ معبود تو بس ایک اﷲ ہی ہے۔ وہ اِس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اﷲ ہی کا کارساز ہونا کافی ہے۔ (171)

مسیح کو ہرگز اﷲ کا بندہ بننے سے عار نہ ہو گا اور نہ مقرب فرشتوں کو عار ہو گا۔ اور جو اﷲ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اﷲ ضرور سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ (172)

پھر جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کئے تو ان کو وہ پورا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے ان کو مزید بھی دے گا اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہو گا، ان کو دردناک عذاب دے گا۔  اور وہ اﷲ کے مقابلہ میں نہ کسی کو اپنا دوست پائیں گے اور نہ مدد گار۔(173)

اے لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہارے اوپر ایک واضح روشنی اتار دی۔ (174)

پس جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے اور اس کو انھوں نے مضبوط پکڑ لیا، ان کو ضرور اﷲ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کو اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا۔ (175)

لوگ تم سے حکم پوچھتے ہیں۔  کہہ دو اﷲ تم کو کَلالَہ (وہ مُورث جس کے بھائی بہن کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو ) کے بارے میں حکم بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس کے ترکہ کا نصف ہے۔ اور وہ مرد اس بہن کا وارث ہو گا، اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر دو بہنیں  ہوں تو ان کے لئے اس کے ترکہ کا دو تہائی ہو گا۔ اور اگر کئی بھائی بہن مرد عورتیں  ہوں تو ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔اﷲ تمہارے لئے بیان کرتا ہے، تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اﷲ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔(176)

٭٭٭

 

 

 

۵۔ سورۃ المَائدۃ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

اے ایمان والو، عہد و پیمان کو پورا کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے، سوا ان کے جن کا ذکر آگے کیا جا رہا ہے۔ مگر احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ جانو۔ اﷲ حکم  دیتا ہے جو چاہتا ہے۔(1)

اے ایمان والو، بے حرمتی نہ کرو اﷲ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینوں کی اور نہ حرم میں قربانی والے جانوروں کی اور نہ پٹے بندھے ہوئے نیاز کے جانوروں کی اور نہ حرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی ڈھونڈنے نکلے ہیں۔  اور جب تم احرام کی حالت سے باہر آ جاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی کہ اس نے تم کو مسجد حرام سے روکا ہے، تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اﷲ سے ڈرو۔ بے شک اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (2)

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جو مرگیا ہو گلا گھونٹنے سے یا چوٹ سے یا اونچائی سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور وہ جس کو درندے نے کھایا ہو، مگر جس کو تم نے ذبح کر لیا اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسندکر لیا۔ پس جو بھوک سے مجبور ہو جائے، لیکن وہ گناہ پر مائل نہ ہو تو اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (3)

وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال کی گئی ہے۔ کہو کہ تمہارے لئے ستھری چیزیں حلال ہیں۔  اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے، تم ان کو سکھاتے ہو اس میں سے جو اﷲ نے تم کو سکھایا۔ پس تم ان کے شکار میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔  اور ان پر اﷲ کا نام لو اور اﷲ سے ڈرو، اﷲ بے شک جلد حساب لینے والا ہے۔ (4)

آج تمہارے لئے سب ستھری چیزیں حلال کر دی گئیں۔  اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اور حلال ہیں تمہارے لئے پاک دامن عورتیں مومن عورتوں میں سے اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو اس طرح کہ تم نکاح میں لانے والے ہو، نہ اعلانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو۔ اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔(5)

اے ایمان والو، جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہروں  اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو غسل کر لو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجا سے آئے یا تم نے عورت سے صحبت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہروں  اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو۔ اﷲ نہیں  چاہتا کہ وہ تم پر کوئی تنگی ڈالے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم شکر گزار بنو۔(6)

اور اپنے اوپر اﷲ کی نعمت کو یاد کرو اور اس کے اس عہد کو یاد کرو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ جب تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا۔ اور اﷲ سے ڈرو۔ بے شک اﷲ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ (7)

اے ایمان والو، اﷲ کے لئے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اﷲ سے ڈرو ،بے شک اﷲ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔ (8)

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان سے اﷲ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔(9)

اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں۔ (10)

اے ایمان والو، اپنے اوپر اﷲ کے احسان کو یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ وہ تم پر دست درازی کرے تو اﷲ نے تم سے ان کے ہاتھ کو روک دیا۔ اور اﷲ سے ڈرو اور ایمان والوں کو اﷲ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔(11)

اور اﷲ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سر دار مقرر کئے۔ اور اﷲ نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔  اگر تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اﷲ کو قرضِ حسن دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ ضرور دور کر دوں گا اور تم کو ضرور ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس تم میں سے جو شخص اس کے بعد انکار کرے گا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔(12)

پس ان کی عہد شکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کر دی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔  اور جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی، اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو، بجز تھوڑے لوگوں کے۔ ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو، اﷲ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(13)

اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں ،ان سے ہم نے عہد لیا تھا۔ پس جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی، اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ پھر ہم نے قیامت تک کے لئے ان کے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ اور آخر اﷲ ان کو آگاہ کر دے گا اس سے جو کچھ وہ کر رہے تھے۔(14)

اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے۔ وہ کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن کو تم چھپاتے تھے۔ اور وہ درگزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے۔ بے شک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آ چکی ہے۔(15)

اس کے ذریعہ سے اﷲ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں  اور وہ اپنی توفیق سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔(16)

بے شک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ہے۔کہو پھر کون اختیار رکھتا ہے اﷲ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو۔ اور اﷲ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں  اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔ (17)

اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔  تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گنا ہوں پر تم کو سزا کیوں  دیتا ہے۔ نہیں ، بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اﷲ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں  اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(18)

اے اہلِ کتاب، تمہارے پا س ہمارا رسول آیا ہے، وہ تم کو صاف صاف بتا رہا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔  تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں  آیا۔ پس اب تمہارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔(19)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اپنے اوپر اﷲ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تمہارے اندر نبی پیدا کئے۔ اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں  دیا تھا۔ (20)

اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اﷲ نے تمھارے لئے لکھ دی ہے۔ اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لو ٹو ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے۔(21)

انھوں نے کہا کہ اے موسی، وہاں ایک زبردست قوم ہے۔ ہم ہر گز وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔  اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔(22)

دو آدمی جو اﷲ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور ان دونوں پر اﷲ نے انعام کیا تھا، انھوں نے کہا کہ تم ان پر حملہ کر کے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔(23)

جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اﷲ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے موسیٰ، ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔  پس تم اور تمہارا خداوند دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ (24)

موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔  پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کر دے۔(25)

اﷲ نے کہا وہ ملک ان پر چالیس سال کے لئے حرام کر دیا گیا۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو۔(26)

اور ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل، قابیل) کا قصہ حق کے ساتھ سناؤ۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اس نے کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا کہ اﷲ تو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔(27)

اگر تم مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لئے تم پر ہاتھ نہیں  اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اﷲ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔(28)

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی لے لے پھر تو آگ والوں میں شامل ہو جائے۔ اور یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔(29)

پھر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر راضی کر لیا اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا۔پھر وہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو گیا۔(30)

پھر خدا نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین میں کریدتا تھا، تاکہ وہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ اس نے کہا افسوس میری حالت پر کہ میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔  پس وہ بہت شرمندہ ہوا۔(31)

اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔ (32)

جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں  اور زمین میں فساد کرنے کے لئے دوڑتے ہیں ، ان کی سزا یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں یا ان کو ملک سے باہر نکال دیا جائے۔ یہ ان کی رسوائی دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔(33)

مگر جو لوگ توبہ کر لیں تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (34)

اے ایمان والو، اﷲ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(35)

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ہے، اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور ہو،تاکہ وہ اس کو فدیہ میں دے کر قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹ جائیں ، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(36)

وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر وہ اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کے لئے ایک مستقل عذاب ہے۔(37)

اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کئے کا بدلہ ہے اور اﷲ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اور اﷲ غالب اور حکیم ہے۔(38)

پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو اﷲ بے شک اس پر توجہ کرے گا۔ اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(39)

کیا تم نہیں  جانتے کہ اﷲ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے معاف کر دے۔ اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔(40)

اے پیغمبر، تم کو وہ لوگ رنج میں نہ ڈالیں جو کفر کی راہ میں بڑی تیزی دکھا رہے ہیں۔  خواہ وہ ان میں سے ہوں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالاں کہ ان کے دل ایمان نہیں  لائے، یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں ، جھوٹ کے بڑے سننے والے، سننے والے دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمھارے پاس نہیں  آئے۔ وہ کلام کو اس کے مقام سے ہٹا دیتے ہیں۔  وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو اس سے بچ کر رہنا۔ اور جس کو اﷲ فتنہ میں ڈالنا چاہے تو تم اﷲ کے مقابل اس کے معاملہ میں کچھ نہیں  کرسکتے۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ اﷲ نے نہ چاہا کہ وہ ان کے دلوں کو پاک کرے۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔(41)

وہ جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں ، حرام کے بڑے کھانے والے ہیں۔  اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو خواہ ان کے درمیان فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو۔ اگر تم ان کو ٹال دو گے تو وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں  سکتے۔ اور اگر تم فیصلہ کرو تو اِن کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرو۔(42)

اﷲ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ کیسے تم کو حکَم بناتے ہیں ، حالاں کہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اﷲ کا حکم موجود ہے، اور پھر وہ اس سے منھ موڑ رہے ہیں۔  اور یہ لوگ ہر گز ایمان والے نہیں  ہیں۔ (43)

بے شک ہم نے تورات اتاری ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی تورات کے مطابق، خدا کے فرماں بردار انبیاء یہودی لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے اور ان کے درویش اور علماء بھی۔اس لئے کہ وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اور وہ اس کے گواہ تھے۔ پس تم انسانوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کو متاعِ حقیر کے عوض نہ بیچو۔ اور جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو اﷲ نے اتارا ہے تو وہی لوگ منکر ہیں۔ (44)

اور ہم نے اس کتاب میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلا ان کے برابر۔ پھر جس نے اس کو معاف کر دیا تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے۔ اور جو شخص اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اﷲ نے اتارا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (45)

اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا تصدیق کرتے ہوئے اپنے سے قبل کی کتاب تورات کی اور ہم نے اس کو انجیل دی جس میں ہدایات اور نور ہے اور وہ تصدیق کرنے والی تھی اپنے سے اگلی کتاب تورات کی اور ہدایت اور نصیحت ڈرنے والوں کے لئے۔ (46)

اور چاہیے کہ انجیل والے اس کے موافق فیصلہ کریں جو اﷲ نے اس میں اتارا ہے۔ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اﷲ نے اتارا تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ (47)

اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی پچھلی کتاب کی اور اس کے مضامین پر نگہبان۔ پس تم ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق جو اﷲ نے اتارا۔ اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے، اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر اﷲ نے چاہا کہ وہ اپنے دئے ہوئے حکموں میں تمہاری آزمائش کرے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو آگاہ کر دے گا، اُس چیز سے جس میں تم اختلاف کر رہے تھے۔ (48)

اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اﷲ نے اتارا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور ان لوگوں سے بچو کہ کہیں وہ تم کو پھسلا دیں تمہارے اوپر اﷲ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ اﷲ ان کو ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ اور یقیناً لوگوں میں سے زیادہ آدمی نافرمان ہیں۔ (49)

کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔  اور اﷲ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے، ان لوگوں کے لئے جو یقین کرنا چاہیں۔ (50)

اے ایمان والو، یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔  اور تم میں سے جو شخص ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ ان ہی میں سے ہو گا۔ اﷲ ظالم لوگوں کو راہ نہیں  دکھاتا۔(51)

تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے، وہ ان ہی کی طر ف دوڑ رہے ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔  تو ممکن ہے کہ اﷲ فتح دیدے یا اپنی طرف سے کوئی خاص بات ظاہر کرے تو یہ لوگ اس چیز پر جس کو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں ، نادم ہوں گے۔(52)

اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو زور و شور سے اﷲ کی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔  ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ گھاٹے میں رہے۔(53)

اے ایمان والو، تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اﷲ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جو اﷲ کو محبوب ہوں گے اور اﷲ ان کو محبوب ہو گا۔ وہ مومنوں کے لئے نرم اور منکروں کے اوپر سخت ہوں گے۔ وہ اﷲ کی را ہوں میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اﷲ کا فضل ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور اﷲ وسعت والا اور علم والا ہے۔(54)

تمہارے دوست تو بس اﷲ اور اس کا رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں  اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں  اور وہ اﷲ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ (55)

اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو بے شک اﷲ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔(56)

اے ایمان والو، ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے، ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور نہ منکروں کو۔ اور اﷲ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو۔(57)

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں  رکھتے۔(58)

کہو کہ اے اہلِ کتاب، تم ہم سے صرف اس لئے ضد رکھتے ہو کہ ہم ایمان لائے اﷲ پر اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اس پر جو ہم سے پہلے اترا۔ اور تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ (59)

کہو کیا میں تم کو بتاؤں وہ جو اﷲ کے یہاں انجام کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ وہ جس پر خدا نے لعنت کی اور جس پر اس کا غضب ہوا۔ اور جن میں سے بندر اور سور بنا دئے اور انھوں نے شیطان کی پرستش کی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بدتر اور راہِ راست سے بہت دور ہیں۔ (60)

اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالاں کہ وہ منکر آئے تھے اور منکر ہی چلے گئے۔ اور اﷲ خوب جانتا ہے اس چیز کو جسے وہ چھپا رہے ہیں۔ (61)

اور تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر دوڑتے ہیں۔ کیسے برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ (62)

ان کے مشائخ اور علماء ان کو کیوں  نہیں  روکتے گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے۔ کیسے برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ (63)

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔  انھیں کے ہاتھ بندھ جائیں  اور لعنت ہو ان کو اس کہنے پر، بلکہ خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔  وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور تمہارے اوپر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ اترا ہے، وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور انکار بڑھا رہا ہے۔ اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینہ قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اﷲ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اور وہ زمین میں فساد پھیلانے میں سرگرم ہیں ، حالاں کہ اﷲ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔(64)

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور اﷲ سے ڈرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔(65)

اور اگر وہ تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جوان پر ان کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے۔ کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں۔  لیکن زیادہ ان میں ایسے ہیں جو بہت برا کر رہے ہیں۔ (66)

اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے تم اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اﷲ کے پیغام کو نہیں  پہنچا یا۔ اور اﷲ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ اﷲ یقیناً منکر لوگوں کو راہ نہیں   دیتا۔(67)

کہہ دو، اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ، جب تک تم قائم نہ کرو تورات اور انجیل کو اور اس کو جو تمہارے اوپر اترا ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ اور جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، وہ یقیناً ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو بڑھائے گا۔پس تم انکار کرنے والوں کے اوپر افسوس نہ کرو۔(68)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی، جو شخص بھی ایمان لائے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (69)

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول ان کے پاس ایسی بات لے کر آیا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا تو بعضوں کو انھوں نے جھٹلایا اور بعضوں کو قتل کر دیا۔(70)

اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہو گی۔ پس وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اﷲ نے ان پر توجہ کی۔ پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے بن گئے۔ اور اﷲ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔  (71)

یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے۔ حالاں کہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل، اﷲ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ جو شخص اﷲ کا شریک ٹھہرائے گا تو اﷲ نے حرام کی اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ (72)

یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالاں کہ کوئی معبود نہیں  بجز ایک معبود کے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو ایک درد ناک عذاب پکڑے گا۔(73)

یہ لوگ اﷲ کے آگے توبہ کیوں  نہیں  کرتے اور اس سے معانی کیوں  نہیں  چاہتے۔ اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(74)

مسیح ابن مریم تو صرف ایک رسول ہیں۔  ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔  اور ان کی ماں ایک راست باز خاتون تھیں۔  دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے دلیلیں بیان کر رہے ہیں۔  پھر دیکھو وہ کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں۔ (75)

کہو، کیا تم اﷲ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کا اختیار رکھتی ہے اور نہ نفع کا۔ اور سننے والا اور جاننے والا صرف اﷲ ہی ہے۔(76)

کہو، اے اہل کتاب، اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے خیالات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔(77)

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، ان پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے۔ اس لئے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔(78)

وہ باہم ایک دوسرے کو منع نہیں  کرتے تھے برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔(79)

تم ان میں بہت آدمی دیکھو گے کہ وہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں۔  کیسی بری چیز ہے جو انھوں نے اپنے لئے آگے بھیجی ہے کہ خدا کا غضب ہوا ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں پڑے رہیں گے۔(80)

اگر وہ ایمان رکھنے والے ہوتے اﷲ پر اور نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا تو وہ منکروں کو دوست نہ بناتے۔ مگر ان میں اکثر نافرمان ہیں۔  (81)

ایمان والوں کے ساتھ عداوت میں تم سب سے بڑھ کر یہود اور مشرکین کو پاؤ گے۔ اور ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور راہب ہیں  اور اس لئے کہ وہ تکبر نہیں  کرتے۔ (82)

اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔(83)

اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اﷲ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔(84)

پس اﷲ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔(85)

اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔  (86)

اے ایمان والو،ان ستھری چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ جو اﷲ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں  اور حد سے نہ بڑھو۔ اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔(87)

اور اﷲ نے تم کو جو حلال چیزیں دی ہیں ، ان میں سے کھاؤ۔ اور اﷲ سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو۔(88)

اﷲ تم سے تمہاری بے معنی قسموں پر گرفت نہیں  کرتا۔مگر جن قسموں کو تم نے مضبوط باندھا، ان پر وہ ضرور تمہاری گرفت کرے گا۔ ایسی قسم کا کفارہ ہے دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا کپڑا پہنا دینا یا ایک گردن آزاد کرنا۔ اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب کہ تم قسم کھا بیٹھو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح اﷲ تمہارے لیے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔(89)

اے ایمان والو، شراب اور جوا اور تھان اور پانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے۔ پس تم ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(90)

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ وہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تم کو اﷲ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم ان سے باز آؤ گے۔(91)

اور اطاعت کرو اﷲ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور بچو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے صرف کھول کر پہنچا دینا ہے۔(92)

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں  جو وہ کھا چکے۔ جب کہ وہ ڈرے اور ایمان لائے اور نیک کام کیا۔پھر ڈرے اور ایمان لائے پھر ڈرے اور نیک کام کیا۔ اور اﷲ نیک کام کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔(93)

اے ایمان والو، اﷲ تمہیں اس شکار کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں  اور تمہارے نیزوں کی زد میں ہو گا، تاکہ اﷲ جانے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(94)

اے ایمان والو، شکار کونہ مارو جب کہ تم حالتِ احرام میں ہو۔ اور تم میں سے جو شخص اس کو جان بوجھ کر مارے تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانو رہے جیسا کہ اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچا یا جائے۔ یا اس کے کفارہ میں چند محتاجوں کو کھانا کھلانا ہو گا۔ یا اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا چکھے۔ اﷲ نے معاف کیا جو کچھ ہو چکا۔  اور جو شخص پھرے گا تو اﷲ اس سے بدلہ لے گا۔ اور اﷲ زبردست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔(95)

تمہارے لئے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا، تمہارے فائدہ کے لئے اور قافلوں کے لئے۔ اور جب تک تم احرام میں ہو، خشکی کا شکار تمہارے اوپر حرام کیا گیا۔ اور اﷲ سے ڈرو جس کے پاس تم حاضر کئے جاؤ گے۔(96)

اﷲ نے کعبہ، حرمت والے گھر، کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔ اور حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹّے پڑے ہوئے جانوروں کو بھی، یہ اس لئے کہ تم جانو کہ اﷲ کو معلوم ہے جو کچھ آسمانوں میں  اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اﷲ ہر چیز سے واقف ہے۔(97)

جان لو کہ اﷲ کا عذاب سخت ہے اور بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(98)

رسول پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اﷲ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔(99)

کہو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں  ہوسکتے، اگرچہ ناپاک کی کثرت تم کو بھلی لگے۔ پس اﷲ سے ڈرو، اے عقل والو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔(100)

اے ایمان والو، ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تم کو گراں گزریں۔  اور اگر تم ان کے متعلق سوال کرو گے ایسے وقت میں جب کہ قرآن اتر رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔ اﷲ نے ان سے درگزر کیا۔ اور اﷲ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔(101)

ایسی ہی باتیں تم سے پہلے ایک جماعت نے پوچھیں۔  پھر وہ ان کے منکر ہو کر رہ گئے۔ (102)

اﷲ نے بَحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام (بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور)مقرر نہیں  کئے۔ مگر جن لوگوں نے کفر کیا وہ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں  اور ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں  لیتے۔ (103)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ نے جو کچھ اتارا ہے اس کی طرف آؤ اور رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ جانتے ہوں  اور نہ ہدایت پر ہوں۔ (104)

اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو۔ کوئی گمراہ ہو تو اس سے تمہارا کچھ نقصان نہیں  اگر تم ہدایت پر ہو۔ تم سب کو اﷲ کے پاس لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔(105)

اے ایمان والو، تمہارے درمیان گواہی وصیت کے وقت، جب کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے، اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں۔  یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو تمھارے غیروں میں سے دو گواہ لے لئے جائیں۔  پھر اگر تم کو شبہ ہو جائے تو دونوں گوا ہوں کو نماز کے بعد روک لو اور وہ دونوں خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی قیمت کے عوض اس کونہ بیچیں گے، خواہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور نہ ہم اﷲ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بے شک ہم گنہ گار ہوں گے۔ (106)

پھر اگر پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دو اور شخص ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق پچھلے دو گوا ہوں نے مارنا چاہا تھا۔ وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں  کی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔(107)

یہ قریب ترین طریقہ ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں ، یا اس سے ڈریں کہ ہماری قسم ان کی قسم کے بعد الٹی پڑے گی۔ اور اﷲ سے ڈرو اور سنو۔ اﷲ نافرمانوں کو سیدھی راہ نہیں  چلاتا۔(108)

جس دن اﷲ پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر پوچھے گا تم کو کیا جواب ملا تھا۔ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں ، چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا تو ہی ہے۔ (109)

جب اﷲ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم، میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر کیا جب کہ میں نے روح پاک سے تمہاری مدد کی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔ اور جب تم مٹی سے پرندہ جیسی صورت میرے حکم سے بناتے تھے پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔ اور تم اندھے اور جُذامی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور جب تم مُردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا جب کہ تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو ان کے منکروں نے کہا یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔(110)

اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈال دیا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم فرماں بردار ہیں۔  (111)

جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تمہارا رب یہ کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے۔ عیسیٰ نے کہا اﷲ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ (112)

انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس میں سے کھائیں  اور ہمارے دل مطمئن ہوں  اور ہم یہ جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس پر گواہی دینے والے بن جائیں۔ (113)

عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اﷲ، ہمارے رب، توآسمان سے ہم پر ایک خوان اتار جو ہمارے لئے ایک عید بن جائے، ہمارے اگلوں کے لئے اور ہمارے پچھلوں کے لئے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہم کو عطا کر، تو ہی بہترین عطا کرنے والا ہے۔ (114)

اﷲ نے کہا میں یہ خوان ضرور تم پر اتاروں گا۔ پھر اس کے بعد تم میں سے جو شخص منکر ہو گا، اس کو میں ایسی سزا دوں گاجو دنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی۔ (115)

اور جب اﷲ پوچھے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بنا لو۔ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، میرا یہ کام نہ تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔  اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا۔ تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں  نہیں  جانتا جو تیرے جی میں ہے، بے شک تو ہی ہے چھپی باتوں کا جاننے والا۔ (116)

میں نے ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ اﷲ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں  رہا۔  پھر جب تو نے مجھ کو وفات دے دی تو ان پر تو ہی نگراں تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ (117)

اگر تو ان کو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں  اور اگر تو ان کو معاف کر دے تو تُو ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (118)

اﷲ کہے گا آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔  ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اﷲ ان سے راضی ہوا اور وہ اﷲ سے راضی ہوئے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ (119)

آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اﷲ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(120)

٭٭٭

 

 

 

۶۔ سورۃ الأنعَام

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

تمام تعریف اﷲ کے لئے ہے جس نے آسمانوں  اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں  اور روشنی کو بنایا۔پھر بھی منکر لوگ دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھہراتے ہیں۔ (1)

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر ایک مدت مقرر کی اور مقررہ مدت اسی کے علم میں ہے۔پھر بھی تم شک کرتے ہو۔ (2)

اور وہی اﷲ آسمانوں میں ہے اور وہی زمین میں۔  وہ تمہارے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔(3)

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے پاس آتی ہے، وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔  (4)

چناں چہ جو حق ان کے پاس آیا ہے، اس کو بھی انھوں نے جھٹلا دیا۔ پس عنقریب ان کے پاس اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔(5)

کیا انھوں نے نہیں  دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ ان کو ہم نے زمین میں جمایا تھا جتنا تم کو نہیں  جمایا اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارش برسائی اور ہم نے نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں ، پھر ہم نے ان کو ان کے گنا ہوں کے باعث ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو اٹھایا۔(6)

اور اگر ہم تم پر ایسی کتاب اتارتے جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے، تب بھی انکار کرنے والے یہ کہتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ (7)

اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں  نہیں  آتا راگیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ (8)

اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ (9)

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا، ان کو اس چیز نے آ گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔(10)

کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔(11)

پوچھو کہ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں ہے۔ کہو سب کچھ اﷲ کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔ وہ ضرور تم کو جمع کرے گا قیامت کے دن، اس میں کوئی شک نہیں۔  جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں  لاتے۔(12)

اور اﷲ ہی کا ہے جو کچھ ٹھیرتا ہے رات میں  اور جو کچھ دن میں۔  اور وہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔(13)

کہو، کیا میں اﷲ کے سوا کسی اور کو مدد گار بناؤں جو بنانے والا ہے آسمانوں  اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں  کھلاتا۔کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں  اور تم ہر گز مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔(14)

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (15)

جس شخص سے وہ عذاب اس روز ہٹا لیا گیا، اس پر اﷲ نے بڑا رحم فرمایا اور یہی کھلی ہوئی کامیابی ہے۔(16)

اور اگر اﷲ تجھ کو کوئی دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں۔  اور اگر اﷲ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(17)

اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر۔ اور وہ حکمت والا، سب کی خبر رکھنے والا ہے۔(18)

تم پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے۔ کہو اﷲ، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں  اور اس کو جسے یہ قرآن پہنچے۔ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں۔  کہو، میں اس کی گواہی نہیں   دیتا۔ کہو، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں بَری ہوں تمہارے شرک سے۔(19)

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں ڈالا وہ اس کو نہیں  مانتے۔(20)

اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اﷲ پر بہتان باندھے یا اﷲ کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً ظالموں کو فلاح نہیں  ملتی۔(21)

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم کہیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعویٰ تھا۔(22)

پھر ان کے پاس کوئی فریب نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ اﷲ اپنے رب کی قسم، ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔(23)

دیکھو یہ کس طرح اپنے آپ پر جھوٹ بولے اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے۔(24)

اور ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں  اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں۔  اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔ اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تمہارے پاس تم سے جھگڑنے آتے ہیں تو وہ منکر کہتے ہیں کہ یہ تو بس پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (25)

وہ لوگوں کو روکتے ہیں  اور خود بھی اس سے الگ رہتے ہیں۔  وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں مگر وہ نہیں  سمجھتے۔(26)

اور اگر تم ان کو اس وقت دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں تو ہم اپنے رب کی نشانیوں کونہ جھٹلائیں  اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ (27)

اب ان پر وہ چیز کھل گئی جس کو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے۔ اور اگر وہ واپس بھیج دئے جائیں تو وہ پھر وہی کریں گے جس سے وہ روکے گئے تھے۔ اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔ (28)

اور وہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ اور ہم پھر اٹھائے جانے والے نہیں۔ (29)

اور اگر تم اس وقت دیکھتے جب کہ وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ حقیقت نہیں  ہے، وہ جواب دیں گے ہاں ، ہمارے رب کی قسم، یہ حقیقت ہے۔ خدا فرمائے گا،اچھا تو عذاب چکھو اس انکار کے بدلے جو تم کرتے تھے۔(30)

یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں رہے جنھوں نے اﷲ سے ملنے کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر اچانک آئے گی تو وہ کہیں گے ہائے افسوس، اس باب میں ہم نے کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو،کیسا برا بوجھ ہے جس کو وہ اٹھائیں گے۔(31)

اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ رکھتے ہیں ، کیا تم نہیں  سمجھتے۔(32)

ہم کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس سے تم کو رنج ہوتا ہے۔ یہ لوگ تم کو نہیں  جھٹلا تے بلکہ یہ ظالم دراصل اﷲ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ (33)

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انھوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف پہنچا نے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور اﷲ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔  اور پیغمبروں کی کچھ خبریں تم کو پہنچ ہی چکی ہیں۔(34)

اور اگر ان کی بے رخی تم پر گراں گزر رہی ہے تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے لئے کوئی نشانی لے آؤ۔ اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر  دیتا۔ پس تم نادانوں میں سے نہ بنو۔(35)

قبول تو وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں  اور مُردوں کو اﷲ اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔(36)

اور وہ کہتے ہیں کہ رسول پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے کیوں  نہیں  اتری۔ کہو، اﷲ بے شک قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے، مگر اکثر لوگ نہیں  جانتے۔(37)

اور جو بھی جانور زمین پر چلتا ہے اور جو بھی پرندہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتا ہے، وہ سب تمہاری ہی طرح کے انواع ہیں۔  ہم نے لکھنے میں کوئی چیز نہیں  چھوڑی ہے۔ پھر سب اپنے رب کے پاس اکھٹا کئے جائیں گے۔(38)

اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ بہرے اور گونگے ہیں ،تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔  اﷲ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا  دیتا ہے۔(39)

کہو، یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اﷲ کا عذاب آئے یا قیامت آ جائے تو کیا تم اﷲ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ بتاؤ اگر تم سچے ہو۔(40)

بلکہ تم اسی کو پکارو گے۔ پھر وہ دور کر  دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے تم اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہتا ہے۔ اور تم بھول جاتے ہو ان کو جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔ (41)

اور تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے۔ پھر ہم نے ان کو پکڑا سختی میں  اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑائیں۔ (42)

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے،بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے۔ اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔ (43)

پھر جب انھوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر خوش ہو گئے جو انھیں دی گئی تھی تو ہم نے اچانک ان کو پکڑ لیا۔ اس وقت وہ نا امید ہو کر رہ گئے۔(44)

پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور ساری تعریف اﷲ کے لئے ہے، تمام جہانوں کا رب۔(45)

کہو، یہ بتاؤ کہ اﷲ اگر چھین لے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں  اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اﷲ کے سوا کون معبود ہے جو اس کوواپس لائے۔ دیکھو ہم کیوں کر طرح طرح سے نشانیاں بیان کرتے ہیں ، پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں۔ (46)

کہو، یہ بتاؤ اگر اﷲ کا عذاب تمھارے اوپر اچانک یا اعلانیہ آ جائے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہو گا۔(47)

اور رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والے یا ڈرانے والے کی حیثیت سے بھیجتے ہیں۔  پھر جو ایمان لایا اور اپنی اصلاح کی تو ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(48)

اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو ان کو عذاب پکڑ لے گا اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔(49)

کہو، میں تم سے یہ نہیں  کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں  اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں  اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔  میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔  کیا تم غور نہیں  کرتے۔(50)

اور تم اس وحی کے ذریعہ سے ڈراؤ ان لوگوں کو جو اندیشہ رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے اس حال میں کہ اﷲ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو گا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، شاید کہ وہ اﷲ سے ڈریں۔ (51)

اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں  اور تمھارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں  کہ تم ان کو اپنے آپ سے دور کر کے بے انصافوں میں سے ہو جاؤ۔(52)

اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے، تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اﷲ کا فضل ہوا ہے۔ کیا اﷲ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں۔ (53)

اور جب تمھارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تو ان سے کہو کہ تم پر سلامتی ہو۔ تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔ بے شک تم میں سے جو کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد وہ توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔(54)

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں ، اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہو جائے۔ (55)

کہو، مجھے اس سے روکا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اﷲ کے سوا پکارتے ہو۔ کہو میں تمھاری خواہشوں کی پیروی نہیں  کرسکتا۔ اگر میں ایسا کروں تو میں بے راہ ہو جاؤں گا اور میں راہ پانے والوں میں سے نہ ر ہوں گا۔(56)

کہو میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں  اور تم نے اس کو جھٹلا دیا ہے۔ وہ چیز میرے پاس نہیں  ہے جس کے لیے تم جلدی کر رہے ہو۔ فیصلہ کا اختیار صرف اﷲ کو ہے۔ وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔(57)

کہو، اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان معاملے کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، اور اﷲ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔(58)

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ، اس کے سوا اس کو کوئی نہیں  جانتا۔ اﷲ جانتا ہے جو کچھ خشکی میں  اور سمندرمیں ہے۔ اور درخت سے گرنے والا کوئی پتہ نہیں  جس کا اس کو علم نہ ہو اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں  گرتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز مگر سب ایک کھلی ہوئی کتاب میں درج ہے۔(59)

اور وہی ہے جو رات میں تم کو وفات  دیتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو، اس کو جانتا ہے۔ پھر وہ تم کو اٹھا دیتا ہے اس میں تاکہ مقررہ مدت پوری ہو جائے۔ پھر اسی کی طرف تمھاری واپسی ہے۔ پھر وہ تم کو باخبر کر دے گا اس سے جو تم کرتے رہے ہو۔(60)

اور وہ غالب ہے اپنے بندوں کے اوپر  اور وہ تمھارے اوپر نگراں بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں  اور وہ کوتاہی نہیں  کرتے۔(61)

پھر سب اﷲ، اپنے مالکِ حقیقی کی طرف واپس لائے جائیں گے۔ سن لو، حکم اسی کاہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔(62)

کہو، کون تم کو نجات  دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے، تم اس کو پکارتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر خدا نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے۔(63)

کہو، خدا ہی تم کو نجات  دیتا ہے اس سے اور ہر تکلیف سے، پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔(64)

کہو، خدا قادر ہے اس پر کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے تمھارے اوپر سے یا تمھارے پیروں کے نیچے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ (65)

اور تمھاری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے، حالاں کہ وہ حق ہے۔ کہو، میں تمھارے اوپر داروغہ نہیں  ہوں۔ (66)

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم جلد ہی جان لو گے۔(67)

اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں عیب نکالتے ہیں تو ان سے الگ ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔  اور اگر کبھی شیطان تم کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے بے انصاف لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔(68)

اور جو لوگ اﷲ سے ڈرتے ہیں ، ان پر ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری نہیں ، البتہ یاد دلانا ہے شاید کہ وہ بھی ڈریں۔ (69)

ان لوگوں کو چھوڑو جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے رہو تاکہ کوئی شخص اپنے کئے میں گرفتار نہ ہو جائے، اس حال میں کہ اﷲ سے بچانے والا کوئی مدد گار اور سفارشی اس کے لئے نہ ہو۔ اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے تب بھی وہ قبول نہ کیا جائے۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے کئے میں گرفتار ہو گئے۔ ان کے لئے کھولتا ہوا پانی پینے کے لئے ہو گا اور درد ناک سزا ہو گی اس لئے کہ وہ کفر کرتے تھے۔(70)

کہو، کیا ہم اﷲ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہم کو نفع دے سکتے اور نہ ہم کو نقصان پہنچا سکتے۔  اور کیا ہم الٹے پاؤں پھر جائیں ، بعد اِس کے کہ اﷲ ہم کو سیدھا راستہ دکھا چکا ہے، اس شخص کی مانند جس کو شیطانوں نے بیابان میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران پھر رہا ہو۔ اس کے ساتھی اس کو سیدھے راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ جاؤ۔ کہو کہ رہنمائی تو صرف اﷲ کی رہنمائی ہے اور ہم کو حکم ملا ہے کہ ہم اپنے آپ کو عالَم کے رب کے حوالے کر دیں۔ (71)

اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اﷲ سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔(72)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں  اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا۔ اس کی بات حق ہے اور اسی کی حکومت ہو گی اس روز جب صور پھونکا جائے گا۔ وہ غائب و حاضر کا عالم اور حکیم اور خبیر ہے۔(73)

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تم بتوں کو معبود مانتے ہو۔ میں تم کو اور تمھاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ (74)

اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو دکھا دی آسمانوں  اور زمین کی حکومت، اور تاکہ اس کو یقین آ جائے۔(75)

پھر جب رات نے اس پر اندھیرا کر لیا، اس نے ایک تارہ کو دیکھا۔ کہا یہ میرا رب ہے۔پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں  رکھتا۔(76)

پھر جب اس نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا اگر میرا رب مجھ کو ہدایت نہ کرے تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں۔ (77)

پھر جب اس نے سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے لوگو، میں اس شرک سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔(78)

میں نے اپنا رخ یک سو ہو کر ا س ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں  اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں  ہوں۔  (79)

اور ابراہیم کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ اس نے کہا کیا تم اﷲ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالاں کہ اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے۔ اور میں ان سے نہیں  ڈرتا جن کو تم اﷲ کا شریک ٹھہراتے ہو مگر یہ کہ کوئی بات میرا رب ہی چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، کیا تم نہیں  سوچتے۔(80)

اور میں کیوں کر ڈروں تمھارے شریکوں سے جب کہ تم اﷲ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں  ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نہیں  اتاری۔ اب دونوں فریقوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے، اگر تم علم رکھتے ہو۔(81)

جو لوگ ایمان لائے اور  نہیں  ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی نقصان، انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ (82)

یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔  بے شک تمھارا رب حکیم اور علیم ہے۔(83)

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے، ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت دی اس سے پہلے۔ اور اس کی نسل میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ (84)

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی، ان میں سے ہر ایک صالح تھا۔(85)

اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔(86)

اور ان کے باپ دادوں  اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی، اور ان کو ہم نے چن لیا اور ہم نے سیدھے راستہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔(87)

یہ اﷲ کی ہدایت ہے، وہ اس سے سرفراز کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرتے تو ضائع ہو جاتا جو کچھ انھوں نے کیا تھا۔(88)

یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی۔ پس اگر یہ مکہ والے اس کا انکار کر دیں تو ہم نے اس کے لئے ایسے لوگ مقرر کر دئے ہیں جو اس کے منکر نہیں  ہیں۔ (89)

یہی لوگ ہیں جن کو اﷲ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔کہہ دو، میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا۔ یہ تو بس ایک نصیحت ہے دنیا والوں کے لئے۔ (90)

اور انھوں نے اﷲ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب انھوں نے کہا کہ اﷲ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں  اتاری۔ کہو کہ وہ کتاب کس نے اتاری تھی جس کو لے کر موسیٰ آئے تھے، وہ روشن تھی اور رہنمائی تھی لوگوں کے واسطے، جس کو تم نے ورق ورق کر رکھا ہے۔ کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمھارے باپ دادا۔ کہو کہ اﷲ نے اتاری۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ وہ اپنی کج بحثیوں میں کھیلتے رہیں۔ (91)

اور یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلے ہیں۔  اور تاکہ تو ڈرائے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو۔ اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ، وہی اس پر ایمان لائیں گے۔ اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (92)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اﷲ پر جھوٹی تہمت باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، حالاں کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔ اور کہے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ہے، میں بھی اتاروں گا۔ اور کاش تم اس وقت کو دیکھو جب کہ یہ ظالم موت کی سختیوں میں  ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ لاؤ اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم اﷲ پر جھوٹی باتیں کہتے تھے۔ اور تم اﷲ کی نشانیوں سے تکبر کرتے تھے۔(93)

اور تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آ گئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اور جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا، وہ سب کچھ تم پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمھارے ساتھ ان سفارش والوں کو بھی نہیں  دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمھارا کام بنانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ تمھارا رشتہ بالکل ٹوٹ گیا اور تم سے جاتے رہے وہ دعوے جو تم کرتے تھے۔(94)

بے شک اﷲ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جان دار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بے جان کو جان دار سے نکالنے والا ہے۔ وہی تمھارا اﷲ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے رہو۔(95)

وہی برآمد کرنے والا ہے صبح کا اور اس نے رات کو سکون کا وقت بنایا اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرایا ہوا ہے بڑے غلبہ والے کا، بڑے علم والے کا۔(96)

اور وہی ہے جس نے تمھارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پاؤ۔ بے شک ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ (97)

اور وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے، پھر ہر ایک کے لئے ایک ٹھکانہ ہے اور ہر ایک کے لئے اس کے سونپے جانے کی جگہ۔ ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھیں۔ (98)

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے نکالی اگنے والی ہر چیز۔پھر ہم نے اس سے سرسبز شاخ نکالی جس سے ہم تہ بہ تہ دانے پیدا کر دیتے ہیں۔  اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے، آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے۔ اور اس کے پکنے کو دیکھو جب وہ پکتا ہے۔ بے شک ان کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان کی طلب رکھتے ہیں۔ (99)

اور انھوں نے جنات کو اﷲ کا شریک قرار دیا، حالاں کہ اﷲ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور انھوں نے بے جانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔  پاک اور برتر ہے وہ ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔  (100)

وہ آسمانوں  اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔  اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ (101)

یہ ہے اﷲ تمھارا رب۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  وہی ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔ (102)

اس کو نگاہیں  نہیں  پاتیں ، مگر وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ وہ بڑا باریک بیں  اور بڑا باخبر ہے۔(103)

اب تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ چکی ہیں۔  پس جو بینائی سے کام لے گا وہ اپنے ہی لئے، اور جو اندھا بنے گا وہ خود نقصان اٹھائے گا۔ اور میں تمھارے اوپر کوئی نگراں  نہیں  ہوں۔ (104)

اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں  اور تاکہ وہ کہیں کہ تم نے پڑھ دیا اور تاکہ ہم اچھی طرح کھول دیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ (105)

تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں  اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ (106)

اور اگر اﷲ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور ہم نے تم کو ان کے اوپر نگراں  نہیں  بنایا ہے اور نہ تم ان پر مختار ہو۔ (107)

اور اﷲ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اﷲ کو گالیاں دینے لگیں گے۔اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ اس وقت اﷲ انھیں بتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔(108)

اور یہ لوگ اﷲ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں۔  کہہ دو کہ نشانیاں تو اﷲ کے پاس ہیں۔  اور تمھیں کیا خبر کہ اگر نشانیاں آ جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں  لائیں گے۔ (109)

اور ہم ان کے دلوں  اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں  لائے۔ اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (110)

اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکھٹا کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اﷲ چاہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔  (111)

اور اسی طرح ہم نے شریر آدمیوں  اور شریر جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنا دیا۔ وہ ایک دوسرے کو پر فریب باتیں سکھاتے ہیں دھوکا دینے کے لئے۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ پس تم انھیں چھوڑ دو کہ وہ جھوٹ باندھتے رہیں۔  (112)

اور ایسا اس لئے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں  رکھتے۔ اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں  اور تاکہ جو کمائی انھیں کرنی ہے وہ کر لیں۔ (113)

کیا میں اﷲ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں ، حالاں کہ اس نے تمھاری طرف واضح کتاب اتاری ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی، وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے واقعیت کے ساتھ۔پس تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔  (114)

اور تمھارے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی، کوئی بدلنے والا نہیں  اس کی بات کو اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (115)

اور اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں ہیں تو وہ تم کو خدا کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں  اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ (116)

بے شک تمھارا رب خوب جانتا ہے ان کو جو اُس کے راستہ سے بھٹکے ہوئے ہیں  اور خوب جانتا ہے ان کو جو راہ پائے ہوئے ہیں۔ (117)

پس کھاؤ اس جانور میں سے جس پر اﷲ کا نام لیا جائے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔ (118)

اور کیا وجہ ہے کہ تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اﷲ کا نام لیا گیا ہے، حالاں کہ خدا نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں وہ چیزیں جن کو اس نے تم پر حرام کیا ہے، سوا اس کے کہ اس کے لئے تم مجبور ہو جاؤ۔ اور یقیناً بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنا پر گم راہ کرتے ہیں بغیر کسی علم کے۔ بے شک تمھارا رب خوب جانتا ہے حد سے نکل جانے والوں کو۔ (119)

اور تم گناہ کے ظاہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی۔ جو لوگ گناہ کما رہے ہیں ، ان کو جلد بدلہ مل جائے گا اس کا جو وہ کر رہے تھے۔ (120)

اور تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یقیناً یہ بے حکمی ہے اور شیاطین القا کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔  اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔(121)

کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، وہ اس سے نکلنے والا نہیں۔  اسی طرح منکروں کی نظر میں ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ (122)

اور اسی طرح ہر بستی میں ہم نے گنہ گاروں کے سردار رکھ دئے ہیں کہ وہ وہاں حیلے کریں۔  حالاں کہ وہ جو حیلہ کرتے ہیں ، وہ اپنے ہی خلاف کرتے ہیں ، مگر وہ اس کو نہیں  سمجھتے۔ (123)

اور جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہر گز نہ مانیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ دیا جائے جو خدا کے پیغمبروں کو دیا گیا۔ اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو بخشے۔ جو لوگ مجرم ہیں ، ضرور ان کو اﷲ کے یہاں ذلت نصیب ہو گی اور سخت عذاب بھی، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے۔(124)

اﷲ جس کو چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول  دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سینہ کو بالکل تنگ کر  دیتا ہے، جیسے اس کو آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اس طرح اﷲ گندگی ڈال  دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں  لاتے۔ (125)

اور یہی تمھارے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے واضح کر دی ہیں نشانیاں غور کرنے والوں کے لئے۔ (126)

انھیں کے لئے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے پاس۔ اور وہ ان کا مدد گار ہے اس عمل کے سبب سے جو وہ کرتے رہے۔(127)

اور جس دن اﷲ ان سب کو جمع کرے گا، اے جنوں کے گروہ، تم نے بہت سے لے لئے انسانوں میں سے۔ اور انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا۔ خدا کہے گا اب تمھارا ٹھکانا آگ ہے، تم ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بے شک تمھارا رب حکمت والا، علم والا ہے۔ (128)

اور اسی طرح ہم ساتھ ملا دیں گے گنہ گاروں کو ایک دوسرے سے، بہ سبب ان اعمال کے جو وہ کرتے تھے۔(129)

اے جنوں  اور انسانوں کے گروہ، کیا تمھارے پاس تمھیں میں سے پیغمبر نہیں  آئے جو تم کو میری آیتیں سناتے تھے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔  اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا۔ اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم منکر تھے۔ (130)

یہ اس وجہ سے کہ تمھارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں  کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں۔ (131)

اور ہر شخص کا درجہ ہے اس کے عمل کے لحاظ سے، اور تمھارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں۔  (132)

اور تمھارا رب بے نیاز ہے، رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو اٹھا لے اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھاری جگہ لے آئے۔ جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے۔(133)

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے، وہ آ کر رہے گی اور تم خدا کو عاجز نہیں  کرسکتے۔ (134)

کہو، اے لوگو تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ پر، میں بھی عمل کر رہا  ہوں۔  تم جلد ہی جان لو گے کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ یقیناً ظالم کبھی فلاح نہیں  پاسکتے۔(135)

اور خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کئے، اس میں سے انھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے۔ پس وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اﷲ کا ہے، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اﷲ کو نہیں  پہنچتا اور جو حصہ اﷲ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔  (136)

اور اس طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے، تاکہ ان کو برباد کریں  اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں۔  اور اگر اﷲ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس ان کو چھوڑ دو کہ وہ اپنی افترا میں لگے رہیں۔ (137)

اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی ممنوع ہے، انھیں کوئی نہیں  کھاسکتاسوا اس کے جس کو ہم چاہیں ، اپنے گمان کے مطابق۔ اور فلاں چوپائے ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام کر دی گئی ہے اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اﷲ کا نام نہیں  لیتے۔ یہ سب انھوں نے اﷲ پر افترا کیا ہے۔ اﷲ جلد ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا۔ (138)

اور کہتے ہیں کہ جو فلاں قسم کے جانوروں کے پیٹ میں ہے، وہ ہمارے مردوں کے لئے خاص ہے اور وہ ہماری عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہیں۔  اﷲ جلد ان کو اس کہنے کی سزا دے گا۔ بے شک اﷲ حکمت والا، علم والا ہے۔ (139)

وہ لوگ گھاٹے میں پڑ گئے جنھوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا نادانی سے بغیر کسی علم کے۔ اور انھوں نے اس رزق کو حرام کر لیا جو اﷲ نے ان کو دیا تھا، اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے۔ وہ گمراہ ہو گئے اور وہ ہدایت پانے والے نہ بنے۔(140)

اور وہ اﷲ ہی ہے جس نے باغ پیدا کئے، کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں  اور کچھ نہیں  چڑھائے جاتے۔ اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ اس کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں  اور زیتون اور انار باہم ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ وہ پھلیں  اور اﷲ کا حق ادا کرو اس کے کاٹنے کے دن۔ اور اسراف نہ کرو، بے شک اﷲ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔ (141)

اور اس نے مویشیوں میں بوجھ اٹھانے والے پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے بھی۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اﷲ نے تمھیں دی ہیں۔  اور شیطان کی پیروی نہ کرو، وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔(142)

اﷲ نے آٹھ جوڑے پیدا کئے۔ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں نر اﷲ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ یا وہ بچے جو بھیڑوں  اور بکریوں کے پیٹ میں  ہوں۔  مجھے دلیل کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو۔(143)

اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں  اور دو گائے کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں نر اﷲ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں  ہوں۔  کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اﷲ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اﷲ پر جھوٹ بہتان باندھے تاکہ وہ لوگوں کو بہکا دے بغیر علم کے۔ بے شک اﷲ ظالموں کو راہ نہیں  دکھاتا۔(144)

کہو، مجھ پر جو وحی آئی ہے، اس میں تو میں کوئی چیز نہیں  پاتا جو حرام ہو کسی کھانے والے پر سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا ناجائز ذبیحہ جس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ لیکن جو شخص بھوک سے بے اختیار ہو جائے، نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے، تو تیرا رب بخشنے والا، مہربان ہے۔(145)

اور یہود پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی سوا اس کے جوان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا کسی ہڈی سے ملی ہوئی ہو۔ یہ سزا دی تھی ہم نے ان کو ان کی سرکشی پر اور یقیناً ہم سچے ہیں۔  (146)

پس اگر وہ تم کو جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمھارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے۔ اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹل نہیں  سکتا۔(147)

جنھوں نے شرک کیا، وہ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر لیتے۔ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے قبل ہوئے ہیں۔  یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ کہو کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے جس کو تم ہمارے سامنے پیش کرو۔ تم تو صرف گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو۔ (148)

کہو کہ پوری حجت تو اﷲ کی ہے۔ اور اگر اﷲ چاہتا تو وہ تم سب کو ہدایت دے  دیتا۔ (149)

کہو کہ اپنے گوا ہوں کو لاؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اﷲ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اگر وہ جھوٹی گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا، اور تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں  رکھتے اور دوسروں کو اپنے رب کا ہم سر ٹھہراتے ہیں۔ (150)

کہو، آؤ میں سناؤں وہ چیزیں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کی ہیں ، یہ کہ تم اﷲ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تم کو بھی روزی دیتے ہیں  اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کام کے پاس نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اور جس جان کو اﷲ نے حرام ٹھہرایا اس کو نہ مارو مگر حق پر۔ یہ باتیں ہیں جن کی خدا نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔(151)

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اسے طاقت ہو۔ اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا ہو۔ اور اﷲ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ چیزیں ہیں جن کا اﷲ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ (152)

اور اﷲ نے حکم دیا کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے پس اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اﷲ کے راستہ سے جدا کر دیں گے۔ یہ اﷲ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچتے رہو۔(153)

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی نیک کام کرنے والوں پر اپنی نعمت پوری کرنے کے لئے اور ہر بات کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت، تاکہ وہ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں۔  (154)

اور اسی طرح ہم نے یہ کتاب اتاری ہے، ایک برکت والی کتاب۔ پس اس پر چلو اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ (155)

اس لئے کہ تم یہ نہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گرو ہوں کو دی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے۔ (156)

یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے۔ پس آ چکی تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت۔ تو اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اﷲ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔ جو لوگ ہماری نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں ہم ان کو ان کے اعراض کی پاداش میں بہت برا عذاب دیں گے۔ (157)

یہ لوگ کیا اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمھارا رب آئے یا تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو۔ جس دن تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آ پہنچے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی ہو۔ کہو تم راہ دیکھو، ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں۔ (158)

جنھوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں  اور گروہ گروہ بن گئے، تم کو ان سے کچھ سروکار نہیں۔  ان کا معاملہ اﷲ کے حوالے ہے۔ پھر وہی ان کو بتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔ (159)

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔ اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو اس کو بس اس کے برابر بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہیں  کیا جائے گا۔(160)

کہو، میرے رب نے مجھ کو سیدھا راستہ بتا دیا ہے۔ دینِ صحیح ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔(161)

کہو میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اﷲ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ (162)

کوئی اس کا شریک نہیں۔  اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلے فرماں بردار ہوں۔  (163)

کہو، کیا میں اﷲ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور جو شخص بھی کوئی کمائی کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھارا لوٹنا ہے۔ پس وہ تمھیں بتا دے گا وہ چیز جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔ (164)

اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور تم میں سے ایک کا رتبہ دوسرے پر بلند کیا، تاکہ وہ آزمائے تم کو اپنے دئے ہوئے میں۔  تمھارا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (165)

٭٭٭

 

 

۷۔ سورۃ الأعرَاف

 

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

الف، لام، میم، صاد(1)

یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف اتاری گئی ہے۔ پس تمھارا دل اس کے باعث تنگ نہ ہو،تا کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈراؤ، اور وہ ایمان والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ (2)

جو اترا ہے تمھاری جانب تمھارے رب کی طرف سے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔ (3)

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ ان پر ہمارا عذاب رات کو آ پہنچا ، یا دوپہر کو جب کہ وہ آرام کر رہے تھے۔ (4)

پھر جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو وہ اس کے سوا کچھ نہ کہہ سکے کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ (5)

پس ہم کو ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے۔ (6)

پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کر دیں گے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔ (7)

اس دن وزن دار صرف حق ہو گا۔ پس جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی لوگ کامیاب ٹھہریں گے۔ (8)

اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، کیوں کہ وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ نا انصافی کرتے تھے۔(9)

اور ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لئے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔(10)

اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انھوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔(11)

خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا، جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا۔ ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔  تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔(12)

خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے۔ تجھے یہ حق نہیں  کہ تو اس میں گھمنڈ کرے۔ پس نکل جا، یقیناً تو ذلیل ہے۔(13)

ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کے لئے تو مجھے مہلت دے جب کہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔(14)

خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔(15)

ابلیس نے کہا چوں کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔(16)

پھر ان پر آؤں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔(17)

خدا نے کہا کہ نکل یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔(18)

اور اے آدم، تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ جہاں سے چاہو، مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔(19)

پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔  اس نے ان سے کہا کہ تمھارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے۔(20)

اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ (21)

پس مائل کر لیا ان کو فریب سے۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم گاہیں ان پر کھل گئیں۔  اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں  کیا تھا اور یہ نہیں  کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔(22)

انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔(23)

خدا نے کہا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمھارے لئے زمین میں ایک خاص مدت تک ٹھہرنا اور نفع اٹھانا ہے۔(24)

خدا نے کہا، اسی میں تم جیو گے اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔(25)

اے بنی آدم، ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمھارے بدن کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور زینت بھی۔ اور تقویٰ کا لباس اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ غور کریں۔ (26)

اے آدم کی اولاد، شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا، اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کر دے۔ وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں  نہیں  دیکھتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں  لاتے۔(27)

اور جب وہ کوئی فحش (کھلی برائی) کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے اور خدا نے ہم کو اسی کا حکم دیا ہے۔ کہو، اﷲ کبھی برے کام کا حکم نہیں   دیتا۔ کیا تم اﷲ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جس کا تمھیں کوئی علم نہیں۔ (28)

کہو کہ میرے رب نے قسط کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو۔ اور اسی کو پکارو اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا، اسی طرح تم دوسری بار بھی پیدا ہو گے۔(29)

ایک گروہ کو اس نے راہ دکھا دی اور ایک گروہ ہے کہ اس پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ انھوں نے اﷲ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنایا اور گمان یہ رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ (30)

اے اولادِ آدم، ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہنو اور کھاؤ پیو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ بے شک اﷲ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔(31)

کہو اﷲ کی زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کھانے کی پاک چیزوں کو۔ کہو وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لئے ہیں  اور آخرت میں تو وہ خاص انھیں کے لئے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ (32)

کہو، میرے رب نے تو بس فحش باتوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں ، اور گناہ کو اور نا حق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ تم اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں  اتاری اور یہ کہ تم اﷲ کے ذمہ ایسی بات لگاؤ جس کا تم علم نہیں  رکھتے۔(33)

اور ہر قوم کے لئے ایک مقررہ مدت ہے۔ پھر جب ان کی مدت آ جائے گی تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔(34)

اے بنی آدم، اگر تمھارے پاس تمھیں میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کر لی، ان کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(35)

اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں ، وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔  وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(36)

پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اﷲ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے، ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے وہ انھیں مل کر رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ان کے پاس پہنچیں گے تو وہ ان سے پوچھیں گے کہ اﷲ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے، وہ کہاں ہیں۔  وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئے گئے۔ اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بے شک وہ انکار کرنے والے تھے۔(37)

خدا کہے گا، داخل ہو جاؤ آگ میں جنوں  اور انسانوں کے ان گرو ہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔  جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہو گا وہ اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس میں جمع ہو جائیں گے تو ان کے پچھلے اپنے اگلوں کے بارے میں کہیں گے، اے ہمارے رب، یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہم کو گمراہ کیا، پس تو ان کو آگ کا دہرا عذاب دے۔ خدا کہے گا کہ سب کے لئے دہرا ہے مگر تم نہیں  جانتے۔(38)

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے، تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔  پس اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزہ چکھو۔ (39)

بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں  کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ (40)

ان کے لئے دوزخ کا بچھونا ہو گا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہو گا۔ اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ (41)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے، ہم کسی شخص پر اس کی طاقت کے موافق ہی بوجھ ڈالتے ہیں ، یہی لوگ جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(42)

اور ان کے سینہ کی ہر خلش کو ہم نکال دیں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ ساری تعریف اﷲ کے لئے ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا یا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر اﷲ ہم کو ہدایت نہ کرتا۔ ہمارے رب کے رسول سچی بات لے کر آئے تھے۔ اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے جس کے تم وارث ٹھہرائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔(43)

اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچاپایا، کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا۔ وہ کہیں گے ہاں۔  پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اﷲ کی لعنت ہو ظالموں پر۔(44)

جو اﷲ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی ڈھونڈتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے۔(45)

اور دونوں کے درمیان ایک آڑ ہو گی۔ اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہیں  ہوئے ہوں گے مگر وہ امید وار ہوں گے۔(46)

اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔(47)

اور اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔(48)

کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اﷲ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(49)

اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ پانی ہم پر ڈال دو یا اس میں سے جو اﷲ نے تمھیں کھانے کو دے رکھا ہے۔ وہ کہیں گے کہ اﷲ نے ان دونوں چیزوں کو منکروں کے لئے حرام کر دیا ہے۔(50)

وہ جنھوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے جس طرح انھوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا کہ وہ ہماری نشانیوں کا انکار کرتے رہے۔(51)

اور ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنیاد پر مفصل کیا ہے، ہدایت اور رحمت بنا کر ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔ (52)

کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے۔ جس دن اس کا مضمون ظاہر ہو جائے گا تو وہ لوگ جو اس کو پہلے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بے شک ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر آئے تھے۔ پس اب کیا کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں کہ وہ ہماری سفارش کریں یا ہم کو دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ ہم اس سے مختلف عمل کریں جو ہم پہلے کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا وہ جو وہ گھڑتے تھے۔(53)

بے شک تمھارا رب وہی اﷲ ہے جس نے آسمانوں  اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ اڑھا تا ہے رات کو دن پر، دن اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور اس نے پیدا کئے سورج اور چاند اور ستارے، سب تابعدار ہیں اس کے حکم کے۔ یاد رکھو، اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم کرنا۔ بڑی برکت والا ہے اﷲ جو رب ہے سارے جہان کا۔(54)

اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں  کرتا۔(55)

اور زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔  اور اسی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقیناً اﷲ کی رحمت نیک کام کرنے والوں سے قریب ہے۔(56)

اور وہ اﷲ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ پھر جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس کو کسی خشک سر زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں۔  پھر ہم اس کے ذریعہ پانی اتارتے ہیں۔  پھر ہم اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔  اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم غور کرو۔(57)

اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر کرنے والے ہیں۔ (58)

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ نوح نے کہا اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (59)

اس کی قوم کے بڑوں نے کہا کہ ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو۔(60)

نوح نے کہا کہ اے میری قوم، مجھ میں کوئی گمراہی نہیں  ہے، بلکہ میں بھیجا ہوا ہوں سارے عالم کے پروردگار کا۔(61)

تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا  رہا  ہوں  اور تمھاری خیرخواہی کر رہا  ہوں۔  اور میں اﷲ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں  جانتے۔(62)

کیا تم کو اس پر تعجب ہوا کہ تمھارے رب کی نصیحت تمھارے پاس تمھیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(63)

پس انھوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے نوح کو بچا لیا اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے ان لوگوں کو ڈبویا جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ بے شک وہ لوگ اندھے تھے۔(64)

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انھوں نے کہا اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  سو کیا تم ڈرتے نہیں۔ (65)

اس کی قوم کے بڑے جو انکار کر رہے تھے بولے، ہم تو تم کو بے عقلی میں مبتلا دیکھتے ہیں  اور ہم کو گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔(66)

ہود نے کہا کہ اے میری قوم، مجھے کچھ بے عقلی نہیں۔  بلکہ میں خداوند عالم کا رسول ہوں۔ (67)

تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا  رہا  ہوں  اور تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ (68)

کیا تم کو اس پر تعجب ہے کہ تمھارے پاس تمہیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ تمھارے رب کی نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور یاد کرو جب کہ اس نے قوم نوح کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ بھی زیادہ دیا۔ پس اﷲ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(69)

ہود کی قوم نے کہا، کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم تنہا اﷲ کی عبادت کریں  اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔  پس تم جس عذاب کی دھمکی ہم کو دیتے ہو، اس کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔(70)

ہود نے کہا، تم پر تمھارے رب کی طرف سے ناپاکی اور غصہ واقع ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔  جن کی خدا نے کوئی سند نہیں  اتاری۔ پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں  ہوں۔ (71)

پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے، اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور مانتے نہ تھے۔(72)

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انھوں نے کہا اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک کھلا ہوا نشان آگیا ہے۔ یہ اﷲ کی اونٹنی تمھارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ کھائے اﷲ کی زمین میں۔  اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچا نا ور نہ تم کو ایک درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔(73)

اور یاد کرو جب کہ خدا نے عاد کے بعد تم کو ان کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں ٹھکانا دیا، تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اﷲ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو۔(74)

ان کی قوم کے بڑے جنھوں نے گھمنڈ کیا، وہ ان مومنین سے بولے جو ناتوان گنے جاتے تھے، کیا تم کو یقین ہے کہ صالح اپنے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔  انھوں نے جواب دیا کہ ہم تو جو وہ لے کر آئے ہیں ، اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (75)

وہ متکبر لوگ کہنے لگے کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔(76)

پھر انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے پھر گئے۔ اور انھوں نے کہا، اے صالح، اگر تم پیغمبر ہو تو وہ عذاب ہم پر لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے تھے۔(77)

پھر انھیں زلزلہ نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔(78)

اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی مگر تم خیرخواہوں کو پسند نہیں  کرتے۔(79)

اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم کھلی ہوئی بے حیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں  کیا۔(80)

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔(81)

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ (82)

پھر ہم نے بچا لیا لوط کو اور اس کے گھر والوں کو، اس کی بیوی کے سوا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی۔ (83)

اور ہم نے ان پر بارش برسائی پتھروں کی، پھر دیکھو کہ کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔(84)

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں۔  تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے۔ پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں۔  اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد۔  یہ تمھارے حق میں بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔(85)

اور راستوں پر مت بیٹھو کہ ڈراؤ ، اور اﷲ کی راہ سے ان لوگوں کو روکو جو اس پر ایمان لا چکے ہیں  اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور یاد کرو جب کہ تم بہت تھوڑے تھے پھر تم کو بڑھا دیا۔ اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔(86)

اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پر ایمان لایا ہے جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں  اور ایک گروہ ایمان نہیں  لایا ہے تو انتظار کرو یہاں تک کہ اﷲ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔(87)

قوم کے بڑے جو متکبر تھے انھوں نے کہا کہ اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمھارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آ جاؤ۔ شعیب نے کہا، کیا ہم بیزار ہوں تب بھی۔(88)

ہم اﷲ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمھاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اﷲ نے ہم کو اس سے نجات دی۔ اور ہم سے یہ ممکن نہیں  کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے۔ ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے گھیرے ہوئے ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔(89)

اور ان بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے انکار کیا تھا کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو تم برباد ہو جاؤ گے۔(90)

پھر ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھر میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔(91)

جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا گویا وہ کبھی اس بستی میں بسے ہی نہ تھے، جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی گھاٹے میں رہے۔(92)

اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلا اور کہا، اے میری قوم، میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا اور تمھاری خیر خواہی کر چکا۔ اب میں کیا افسوس کروں منکروں پر۔(93)

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا، اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ گڑگڑائیں۔ (94)

پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ انھیں خوب ترقی ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتی رہی ہے۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔(95)

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی نعمتیں کھول دیتے۔ مگر انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے اعمال کے بدلے۔(96)

پھر کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آ پڑے جب کہ وہ سوتے ہوں۔ (97)

یا کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب آ پہنچے ان پر دن چڑھے جب وہ کھیلتے ہوں۔ (98)

کیا یہ لوگ اﷲ کی تدبیروں سے بے خوف ہو گئے ہیں۔  پس اﷲ کی تدبیروں سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو تباہ ہونے والے ہوں۔ (99)

کیا سبق نہیں  ملا ان کو جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گنا ہوں پر۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے، پس وہ نہیں  سمجھتے۔ (100)

یہ وہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سنا رہے ہیں۔  ان کے پاس ہمارے رسول نشانیاں لے کر آئے تو ہرگز نہ ہوا کہ وہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اس طرح اﷲ منکرین کے دلوں پر مہر کر  دیتا ہے۔ (101)

اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں میں عہد کا نباہ نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان پایا۔(102)

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس، مگر انھوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا۔ پس دیکھو کہ مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔ (103)

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون، میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔  (104)

سزاوار ہوں کہ اﷲ کے نام پر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں۔  میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں۔  پس تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔ (105)

فرعون نے کہا، اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو، اگر تم سچے ہو۔ (106)

تب موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو یکایک وہ ایک صاف اژدہا بن گیا۔ (107)

اور اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ (108)

فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔ (109)

وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمھاری زمین سے نکال دے۔ (110)

اب تمھاری کیا صلاح ہے۔ انھوں نے کہا، موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں ہرکارے بھیجو۔ (111)

وہ تمھارے پاس سارے ماہر جادو گر لے آئیں۔ (112)

اور جادو گر فرعون کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا، ہم کو انعام تو ضرور ملے گا اگر ہم غالب رہے۔ (113)

فرعون نے کہا، ہاں  اور یقیناً تم ہمارے مقربین میں داخل ہو گے۔ (114)

جادوگروں نے کہا، یا تو تم ڈالو یا ہم ڈالنے والے بنتے ہیں۔  (115)

موسیٰ نے کہا، تم ہی ڈالو۔ پھر جب انھوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان پر دہشت طاری کر دی اور بہت بڑا کرتب دکھایا۔ (116)

ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ تو اچانک وہ نگلنے لگا اس کو جو انھوں نے گھڑا تھا۔ (117)

پس حق ظاہر ہو گیا اور جو کچھ انھوں نے بنایا تھا، وہ باطل ہو کر رہ گیا۔ (118)

پس وہ لوگ وہیں ہار گئے اور ذلیل ہو کر رہے۔ (119)

اور جادو گر سجدہ میں گر پڑے۔ (120)

انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ (121)

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔(122)

فرعون نے کہا، تم لوگ موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دوں۔ یقیناً یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ تم اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو، تو تم بہت جلد جان لو گے۔ (123)

میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا، پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔ (124)

انھوں نے کہا، ہم کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ (125)

تو ہم کو صرف اس بات کی سزا دینا چاہتا ہے کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہم کو وفات دے اسلام پر۔(126)

قوم فرعون کے سرداروں نے کہا، کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں  اور تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑیں۔  فرعون نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔ اور ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔  (127)

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اﷲ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اﷲ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری کامیابی اﷲ سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ (128)

موسیٰ کی قوم نے کہا، ہم تمھارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمھارے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔(129)

اور ہم نے فرعون والوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ ان کو نصیحت ہو۔ (130)

لیکن جب ان پر خوش حالی آتی تو وہ کہتے کہ یہ ہمارے لئے ہے اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے۔  سنو، ان کی بد بختی تو اﷲ کے پاس ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں  جانتے۔ (131)

اور انھوں نے موسیٰ سے کہا، ہم کو مسحور کرنے کے لئے تم خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ، ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں  ہیں۔ (132)

پھر ہم نے ان کے اوپر طوفان بھیجا اور ٹڈی اور جوئیں  اور مینڈک اور خون۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ دکھائیں۔  پھر بھی انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ (133)

اور جب ان پر کوئی عذاب پڑتا تو کہتے اے موسیٰ، اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم پر سے اس عذاب کو ہٹا دو تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور تمھارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے۔ (134)

پھر جب ہم ان سے دور کر دیتے آفت کو کچھ مدت کے لئے جہاں بہرحال انھیں پہنچا نا تھا تو اسی وقت وہ عہد کو توڑ دیتے۔(135)

پھر ہم نے ان کو سزا دی اور ان کو سمندر میں غرق کر دیا کیوں کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروا ہو گئے۔ (136)

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو ہم نے اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔ اور بنی اسرائیل پر تیرے رب کا نیک وعدہ پورا ہو گیا بہ سبب اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا جو وہ بناتے تھے اور جو وہ چڑھاتے تھے۔(137)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا۔ پھر ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں کے۔ انھوں نے کہا اے موسیٰ، ہماری عبادت کے لئے بھی ایک بت بنا دے جیسے ان کے بت ہیں۔  موسیٰ نے کہا، تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ (138)

یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، وہ برباد ہونے والا ہے اور یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ باطل ہے۔ (139)

اس نے کہا، کیا میں اﷲ کے سوا کوئی اور معبود تمھارے لئے تلاش کروں ، حالاں کہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی ہے۔ (140)

اور جب ہم نے فرعون والوں سے تم کو نجات دی جو تم کو سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے۔ وہ تمھارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے تمھاری بڑی آزمائش تھی۔(141)

اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا، میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا، اصلاح کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔ (142)

اور جب موسی ٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔  فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں  دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ (143)

اﷲ نے فرمایا، اے موسیٰ، میں نے تم کو لوگوں پر اپنی پیغمبری اور اپنے کلام کے ذریعہ سے سرفراز کیا۔ پس اب لو جو کچھ میں نے تم کو عطا کیا ہے۔ اور شکر گزاروں میں سے بنو۔ (144)

اور ہم نے اس کے لئے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔ پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔  عنقریب میں تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔(145)

میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق گھمنڈ کرتے ہیں۔  اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائے۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو نہ اپنائیں گے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا لیں گے۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کی طرف سے اپنے کو غافل رکھا۔ (146)

اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، ان کے اعمال اکارت ہو گئے اور وہ بدلے میں وہی پائیں گے جو وہ کرتے تھے۔(147)

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنایا، ایک دھڑ جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انھوں نے نہیں  دیکھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے اور نہ کوئی راہ دکھاتا ہے۔ اس کو انھوں نے معبود بنا لیا اور وہ بڑے ظالم تھے۔ (148)

اور جب وہ پچھتائے اور انھوں نے محسوس کیا کہ وہ گمراہی میں پڑ گئے تھے تو انھوں نے کہا، اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہم کو نہ بخشا تو یقیناً ہم برباد ہو جائیں گے۔ (149)

اور جب موسیٰ رنج اور غصہ میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا، تم نے میرے بعد میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلدی کر لی۔ اور اس نے تختیاں ڈال دیں  اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔ ہارون نے کہا، اے میری ماں کے بیٹے، لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں۔  پس تو دشمنوں کو میرے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دے اور مجھ کو ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر۔ (150)

موسیٰ نے کہا، اے میرے رب معاف کر دے مجھ کو اور میرے بھائی کو اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔(151)

بے شک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، ان کو ان کے رب کا غضب پہنچے گا اور ذلت دنیا کی زندگی میں۔  اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جھوٹ باندھنے والوں کو۔ (152)

اور جن لوگوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو بے شک اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا، مہربان ہے۔(153)

اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تو اس نے تختیاں اٹھائیں  اور جو ان میں لکھا ہوا تھا، اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔  (154)

اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت کے لئے پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو موسی نے کہا اے رب، اگر تو چاہتا تو پہلے ہی تو ان کو ہلاک کر  دیتا اور مجھ کو بھی۔ کیا تو ہم کو ایسے کام پر ہلاک کرے گا جو ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا۔ یہ سب تیری آزمائش ہے، تو اس سے جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔ تو ہی ہمارا تھامنے والا ہے۔ پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ (155)

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔اﷲ نے کہا، میں اپنا عذاب اسی پر ڈالتا ہوں جس کو چاہتا ہوں  اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ پس میں اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں  اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں  اور ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں۔ (156)

جو لوگ پیروی کریں گے اس رسول کی جو نبیِ امی ہے، جس کو وہ اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔  وہ ان کو نیکی کا حکم  دیتا ہے اور ان کو برائی سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں جائز ٹھہراتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتار تا ہے جو ان پر تھیں۔  پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی عزت کی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (157)

کہو، اے لوگو، بے شک میں اﷲ کا رسول ہوں تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں  اور زمین میں۔  اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اﷲ پر اور اس کے امی رسول و نبی پر جو ایمان رکھتا ہے اﷲ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ (158)

اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف کرتا ہے۔(159)

اور ہم نے ان کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انھیں الگ الگ گروہ بنا دیا۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا پانی پینے کا مقام معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر بدلیوں کا سایہ کیا اور ان پر من وسلویٰ اتارا۔ کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں۔  اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں  بگاڑا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ (160)

اور جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جا کر بس جاؤ۔ اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ اور کہو ہم کو بخش دے اور دروازہ میں جھکے ہوئے داخل ہو، ہم تمھاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیتے ہیں۔  (161)

پھر ان میں سے ظالموں نے بدل ڈالا دوسرا لفظ اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا۔ پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔(162)

اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں  اور جس دن سبت نہ ہوتا تو نہ آتیں۔  ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ (163)

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اﷲ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ انھوں نے کہا،تمھارے رب کے سامنے الزام اتارنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید وہ ڈریں۔ (164)

پھر جب انھوں نے بھلا دی وہ چیز جو ان کو یاد دلائی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ (165)

پھر جب وہ بڑھنے لگے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔(166)

اور جب تمھارے رب نے اعلان کر دیا کہ وہ یہود پر قیامت کے دن تک ضرور ایسے لوگ بھیجتا رہے گا جو ان کو نہایت برا عذاب دے۔ بے شک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (167)

اور ہم نے ان کو گروہ گروہ کر کے زمین میں متفرق کر دیا۔ ان میں کچھ نیک ہیں  اور ان میں کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم نے ان کی آزمائش کی اچھے حالات سے اور برے حالات سے تاکہ وہ باز آئیں۔  (168)

پھر ان کے پیچھے نا خلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دئے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں  لیا گیا ہے کہ وہ اﷲ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔  اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے، کیا تم سمجھتے نہیں۔  (169)

اور جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں  اور نماز قائم کرتے ہیں ، بے شک ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں  کریں گے۔ (170)

اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے۔ اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر آ پڑے گا۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے، اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم بچو۔(171)

اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر۔  کیا میں تمھارا رب نہیں  ہوں۔  انھوں نے کہا ہاں ، ہم اقرار کرتے ہیں۔  یہ اس لئے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ (172)

یا کہو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سے شرک کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے۔ تو کیا تو ہم کو ہلاک کرے گا اس کام پر جو غلط کار لوگوں نے کیا۔ (173)

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔  (174)

اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ (175)

اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا  اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔  (176)

کیسی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری نشانیوں کو جھٹلا تے ہیں  اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ (177)

اﷲ جس کو راہ دکھائے، وہی راہ پانے والا ہوتا ہے اور جس کو وہ بے راہ کر دے تو وہی گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔  (178)

اور ہم نے جنات اور انسان میں سے بہتوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔  وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔ (179)

اور اﷲ کے لئے ہیں سب اچھے نام۔ پس انھیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں۔  وہ بدلہ پا کر رہیں گے اپنے کاموں کا۔ (180)

اور ہم نے جن کو پیدا کیا ہے ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی اور حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ (181)

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہو گی۔ (182)

اور میں ان کو ڈھیل  دیتا ہوں ، بے شک میرا داؤ بڑا مضبوط ہے۔(183)

کیا ان لوگوں نے غور نہیں  کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں  ہے۔ وہ تو ایک صاف ڈرانے والا ہے۔ (184)

کیا انھوں نے آسمانوں  اور زمین کے نظام پر نظر نہیں  کی اور جو چیزیں اﷲ نے پیدا کی ہیں ، اُن پر، اور اس بات پر کہ شاید ان کی مدت قریب آ گئی ہو۔ پس اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ (185)

جس کو اﷲ بے راہ کر دے، اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔  اور وہ ان کو سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ  دیتا ہے۔ (186)

وہ تم سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا۔ کہو اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ وہ بھاری ہو رہی ہے آسمانوں میں  اور زمین میں۔  وہ جب تم پر آئے گی تو اچانک آ جائے گی۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی تحقیق کر چکے ہو۔ کہو اس کا علم تو بس اﷲ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں  جانتے۔ (187)

کہو، میں مالک نہیں  اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اﷲ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک ڈرانے والا، اور خوش خبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں۔ (188)

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اس کو ایک ہلکا سا حمل رہ گیا۔ پھر وہ اس کو لئے پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اپنے رب اﷲ سے دعا کی — اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم تیرے شکر گزار رہیں گے۔ (189)

مگر جب اﷲ نے ان کو تندرست اولاد دے دی تو وہ اس کی بخشی ہوئی چیز میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اﷲ برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔  (190)

کیا وہ شریک بناتے ہیں ایسوں کو جو کسی چیز کو پیدا نہیں  کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔  (191)

اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتے ہیں  اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔  (192)

اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لئے پکارو تو وہ تمھاری پکار پر نہ چلیں گے۔ برابر ہے خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ (193)

جن کو تم اﷲ کے سوا پکارتے ہو، وہ تمھارے ہی جیسے بندے ہیں۔  پس تم ان کو پکارو، وہ تمھیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔(194)

کیا ان کے پاؤں ہیں کہ ان سے چلیں۔  کیا ان کے ہاتھ ہیں کہ ان سے پکڑیں۔  کیا ان کے آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھیں۔  کیا ان کے کان ہیں کہ ان سے سنیں۔  کہو، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ پھر تم لوگ میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔ (195)

یقیناً میرا کار ساز اﷲ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ کار سازی کرتا ہے نیک بندوں کی۔ (196)

اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا، وہ نہ تمھاری مدد کرسکتے ہیں  اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔  (197)

اور اگر تم ان کو راستہ کی طرف پکارو تو وہ تمھاری بات نہ سنیں گے اور تم کو نظر آتا ہے کہ وہ تمھاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر وہ کچھ نہیں  دیکھتے۔(198)

در گزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ (199)

اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اﷲ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (200)

جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں  اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ (201)

اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں ، پھر وہ کمی نہیں  کرتے۔ (202)

اور جب تم ان کے سامنے کوئی نشانی (معجزہ) نہیں  لائے تو وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہ تم چھانٹ لائے کچھ اپنی طرف سے۔ کہو، میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ یہ سوجھ کی باتیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔  (203)

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ (204)

اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں ، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے، اور غافلوں میں سے نہ بنو۔ (205)

جو (فرشتے) تیرے رب کے پاس ہیں ، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں  کرتے۔ اور وہ اس کی پاک ذات کو یاد کرتے ہیں  اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (206)

٭٭٭

 

 

 

۸۔ سورۃ الأنفَال

 

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہر بان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

وہ تم سے انفال (مال غنیمت) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔  کہو کہ انفال، اﷲ اور اس کے رسول کے ہیں۔  پس تم لوگ اﷲ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو اور اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ (1)

ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اﷲ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں  اور جب اﷲ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں  اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (2)

وہ نماز قائم کرتے ہیں  اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3)

یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔  ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں  اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے۔ (4)

جیسا کہ تمھارے رب نے تم کو حق کے ساتھ تمھارے گھر سے نکالا۔ اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ (5)

وہ اس حق کے معاملہ میں تم سے جھگڑ رہے تھے باوجود یکہ وہ ظاہر ہو چکا تھا، گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں آنکھوں دیکھتے۔ (6)

اور جب خدا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک تم کو مل جائے گی۔ اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے۔ اور اﷲ چاہتا تھا کہ وہ حق کا حق ہونا ثابت کر دے اپنے کلمات سے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے۔ (7)

تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ (8)

جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری فریاد سنی کہ میں تمھاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگاتار بھیج رہا  ہوں۔ (9)

اور یہ اﷲ نے صرف اس لئے کیا تاکہ تمھارے لئے خوش خبری ہو اور تاکہ تمھارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں۔  اور مدد تو اﷲ ہی کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(10)

جب اﷲ نے تم پر اونگھ ڈال دی اپنی طرف سے تمھاری تسکین کے لئے اور آسمان سے تمھارے اوپر پانی اتارا کہ اس کے ذریعہ سے وہ تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کر دے اور تمھارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے قدموں کو جما دے۔(11)

جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ، تم ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں منکروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردن کے اوپر مارو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ۔(12)

یہ اس سبب سے کہ انھوں نے اﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو کوئی اﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اﷲ سزا دینے میں سخت ہے۔(13)

یہ تو اب چکھو اور جان لو کہ منکروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔(14)

اے ایمان والو، جب تمھارا مقابلہ منکرین سے میدان جنگ میں ہو تو ان سے پیٹھ مت پھیرو۔(15)

اور جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، سوا اس کے کہ جنگی چال کے طور پر ہو یا دوسری فوج سے جا ملنے کے لئے، تو وہ اﷲ کے غضب میں آ جائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔(16)

پس ان کو تم نے قتل نہیں  کیا بلکہ اﷲ نے قتل کیا۔ اور جب تم نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں  پھینکی بلکہ اﷲ نے پھینکی تاکہ اﷲ اپنی طرف سے ایمان والوں پر خوب احسان کرے۔ بے شک اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔(17)

یہ تو ہو چکا۔  اور بے شک اﷲ منکرین کی تمام تدبیریں بے کار کر کے رہے گا۔(18)

اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تمھارے سامنے آگیا۔ اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور تمھارا جتھا تمھارے کچھ کام نہ آئے گا خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ہو۔ اور بے شک اﷲ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔(19)

اے ایمان والو، اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو، حالاں کہ تم سن رہے ہو۔(20)

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے کہا کہ ہم نے سنا، حالاں کہ وہ نہیں  سنتے۔(21)

یقیناً اﷲ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں  لیتے۔(22)

اور اگر ان میں کسی بھلائی کا علم اﷲ کو ہوتا تو وہ ضرور انھیں سننے کی توفیق  دیتا اور اگر اب وہ انھیں سنوادے تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے۔(23)

اے ایمان والو، اﷲ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تم کو اس چیز کی طرف بلا رہا ہے جو تم کو زندگی دینے والی ہے۔ اور جان لو کہ اﷲ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہ اسی کی طرف تمھارا اکھٹا ہونا ہے۔(24)

اور ڈرو اس فتنہ سے جو خاص انھیں لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔  اور جان لو کہ اﷲ سخت سزا دینے والا ہے۔(25)

اور یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔ ڈرتے تھے کہ لوگ اچانک تم کو اچک نہ لیں۔  پھر اﷲ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور اپنی نصرت سے تمھاری تائید کی اور تم کو پاکیزہ روزی دی تاکہ تم شکر گزار بنو۔(26)

اے ایمان والو، خیانت نہ کرو اﷲ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں حالاں کہ تم جانتے ہو۔(27)

اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔  اور یہ کہ اﷲ ہی کے پاس ہے بڑا اجر۔(28)

اے ایمان والو، اگر تم اﷲ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لئے فرقان بہم پہنچائے گا اور تم سے تمھارے گنا ہوں کو دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اﷲ بڑے فضل والا ہے۔(29)

اور جب منکر تمھاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ وہ تم کو قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔  وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اﷲ اپنی تدبیریں کر رہا تھا اور اﷲ بہترین تدبیر والا ہے۔(30)

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا ہی کلام پیش کر دیں۔  یہ تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ (31)

اور جب انھوں نے کہا کہ اے اﷲ، اگر یہی حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا اور کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔(32)

اور اﷲ ایسا کرنے والا نہیں  کہ ان کو عذاب دے اس حال میں کہ تم ان میں موجود ہو اور اﷲ ان پر عذاب لانے والا نہیں  جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ (33)

اور اﷲ ان کو کیوں نہ عذاب دے گا حالاں کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں جب کہ وہ اس کے متولی نہیں۔  اس کے متولی تو صرف اﷲ سے ڈرنے والے ہوسکتے ہیں۔  مگر ان میں سے اکثر اس کو نہیں  جانتے۔(34)

اور بیت اﷲ کے پاس ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا اور کچھ نہیں۔  پس اب چکھو عذاب اپنے کفر کا۔(35)

جن لوگوں نے انکار کیا وہ اپنے مال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اﷲ کی راہ سے روکیں۔  وہ اس کو خرچ کرتے رہیں گے پھر یہ ان کے لئے حسرت بنے گا پھر وہ مغلوب کئے جائیں گے۔ اور جنھوں نے انکار کیا، ان کو جہنم کی طرف اکھٹا کیا جائے گا۔(36)

تاکہ اﷲ ناپاک کو الگ کر دے پاک سے اور ناپاک کو ایک پر ایک رکھے پھر اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے، یہی لوگ ہیں خسارہ میں پڑنے والے۔(37)

انکار کرنے والوں سے کہو کہ اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ ہو چکا ہے وہ انھیں معاف کر دیا جائے گا۔ اور اگر وہ پھر وہی کریں گے تو ہمارا معاملہ اگلوں کے ساتھ گزر چکا ہے۔(38)

اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اﷲ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اﷲ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔(39)

اور اگر انھوں نے اعراض کیا تو جان لو کہ اﷲ تمھارا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار۔ (40)

اور جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تمھیں حاصل ہو، اس کا پانچواں حصہ اﷲ اور رسول کے لئے اور رشتہ داروں  اور یتیموں  اور مسکینوں  اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اﷲ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے (محمد) پر اتاری فیصلہ کے دن، جس دن کہ دونوں جماعتوں میں مڈبھیڑ ہوئی اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔(41)

اور جب کہ تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر۔ اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا۔ اور اگر تم اور وہ وقت مقرر کرتے تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن جو ہوا وہ اس لئے ہوا تاکہ اﷲ اس امر کا فیصلہ کر دے جس کو ہو کر رہنا تھا، تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ یقیناً اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔(42)

جب اﷲ تمھارے خواب میں ان کو تھوڑا دکھاتا رہا۔  اگر وہ ان کو زیادہ دکھا دیتا تو تم لوگ ہمت ہار جاتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے اس معاملہ میں۔  لیکن اﷲ نے تم کو بچا لیا۔ یقیناً وہ دلوں تک کا حال جانتا ہے۔(43)

اور جب اﷲ نے ان لوگوں کو تمھاری نظر میں کم کر کے دکھایا اور تم کو ان کی نظر میں کم کر کے دکھایا تاکہ اﷲ اس امر کا فیصلہ کر دے جس کا ہونا طے تھا۔ اور سارے معاملات اﷲ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ (44)

اے ایمان والو، جب کسی گروہ سے تمھارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو اور اﷲ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔(45)

اور اطاعت کرو اﷲ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تمھارے اندر کمزوری آ جائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(46)

اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور جو اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں۔  حالاں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اﷲ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔(47)

اور جب شیطان نے انھیں ان کے اعمال خوش نما بنا کر دکھائے اور کہا کہ لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں  اور میں تمھارے ساتھ ہوں۔  مگر جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور کہا کہ میں تم سے بری ہوں ، میں وہ کچھ دیکھ رہا  ہوں جو تم لوگ نہیں  دیکھتے۔ میں اﷲ سے ڈرتا ہوں  اور اﷲ سخت سزا دینے والا ہے۔ (48)

جب منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے، وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے، اور جو اﷲ پر بھروسہ کرے تو اﷲ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔(49)

اور اگر تم دیکھتے جب کہ فرشتے ان منکرین کی جان قبض کرتے ہیں ، مارتے ہوئے ان کے چہروں  اور ان کی پیٹھوں پر، اور یہ کہتے ہوئے کہ اب جلنے کا عذاب چکھو۔(50)

یہ بدلہ ہے اس کا جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا تھا اور اﷲ ہرگز بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ (51)

فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انھوں نے اﷲ کی نشانیوں کا انکار کیا، پس اﷲ نے ان کے گنا ہوں پر ان کو پکڑ لیا۔ بے شک اﷲ قوت والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔(52)

یہ اس وجہ سے ہوا کہ اﷲ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے، اس وقت تک نہیں  بدلتا جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔(53)

فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کے گنا ہوں کے سبب سے ان کو ہلاک کر دیا اور ہم نے فرعون والوں کو غرق کر دیا اور یہ سب لو گ ظالم تھے۔ (54)

بے شک سب جانداروں میں بدترین، اﷲ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا اور وہ ایمان نہیں  لاتے۔(55)

جن سے تم نے عہد لیا، پھر وہ اپنا عہد ہر بار توڑ دیتے ہیں  اور وہ ڈرتے نہیں۔ (56)

پس اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو ان کو ایسی سزا دو کہ جو ان کے پیچھے ہیں وہ بھی دیکھ کر بھاگ جائیں ، تاکہ انھیں عبرت ہو۔(57)

اور اگر تم کو کسی قوم سے بدعہدی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو، اس طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جائیں۔  بے شک اﷲ بد عہدوں کو پسند نہیں  کرتا۔ (58)

اور انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہرگز اﷲ کو عاجز نہیں  کرسکتے۔(59)

اور ان کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمھاری ہیبت رہے اﷲ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں  جانتے۔ اﷲ ان کو جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ کی جائے گی۔(60)

اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور اﷲ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔(61)

اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اﷲ تمھارے لئے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔(62)

اور ان کے دلوں میں اتفاق پیدا کر دیا۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے وہ سب خرچ کر ڈالتے، تب بھی تم ان کے دلوں میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے۔ لیکن اﷲ نے ان میں اتفاق پیدا کر دیا، بے شک وہ زور آور ہے، حکمت والا ہے۔(63)

اے نبی، تمھارے لئے اﷲ کافی ہے اور وہ مومنین جنھوں نے تمھارا ساتھ دیا ہے۔(64)

اے نبی، مومنین کو لڑائی پر ابھارو۔ اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سو ہوں گے تو وہ ہزار منکروں پر غالب آئیں گے، اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں  رکھتے۔(65)

اب اﷲ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سو ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو وہ اﷲ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے، اور اﷲ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔(66)

کسی نبی کے لئے لائق نہیں  کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خوں ریزی نہ کر لے۔ تم دنیا کے اسباب چاہتے ہو اور اﷲ آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(67)

اور اگر اﷲ کا ایک لکھا ہوا پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو طریقہ تم نے اختیار کیا، اس کے باعث تم کو سخت عذاب پہنچ جاتا۔(68)

پس جو مال تم نے لیا ہے اس کو کھاؤ، وہ تمھارے لئے حلال اور پاک ہے اور اﷲ سے ڈرو، بے شک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔(69)

اے نبی، تمھارے ہاتھ میں جو قیدی ہیں ، ان سے کہہ دو کہ اگر اﷲ تمھارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے، اس سے بہتر وہ تمھیں دے دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(70)

اور اگر یہ تم سے بد عہدی کریں گے تو اس سے پہلے انھوں نے خدا سے بد عہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا اور اﷲ علم والا، حکمت والا ہے۔ (71)

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اﷲ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا۔ اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہ لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں  اور جو لوگ ایمان لائے مگر انھوں نے ہجرت نہیں  کی تو ان سے تمھارا رفاقت کا کوئی تعلق نہیں  جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔  اور وہ تم سے دین کے معاملہ میں مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے، الا یہ کہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس کو دیکھ رہا ہے۔(72)

اور جو لوگ منکر ہیں ، وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔  اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑا فساد ہو گا۔(73)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اﷲ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔  ان کے لئے بخشش ہے اور بہترین رزق ہے۔(74)

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تم میں سے ہیں۔  اور خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں اﷲ کے نوشتہ میں۔  بے شک اﷲ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (75)

٭٭٭

 

 

 

۹۔سورۃ التّوبَۃ

 

 

اعلانِ براءت ہے اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔ (1)

پس تم لوگ ملک میں چار مہینے چل پھر لو اور جان لو کہ تم اﷲ کو عاجز نہیں  کرسکتے اور یہ کہ اﷲ منکروں کو رسوا کرنے والا ہے۔ (2)

اعلان ہے اﷲ اور رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کے لئے کہ اﷲ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں۔  اب اگر تم لوگ توبہ کرو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اﷲ کو عاجز کرنے والے نہیں  ہو۔ اور انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوش خبری دے دو۔ (3)

مگر جن مشرکوں سے تم نے معاہدہ کیا تھا، پھر انھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں  کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کا معاہدہ ان کی مدت تک پورا کرو۔ بے شک اﷲ پرہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔(4)

پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیرو اور بیٹھو ہر جگہ ان کی گھات میں۔  پھر اگر وہ توبہ کر لیں  اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو۔ اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (5)

اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پنا ہ دے دو، تاکہ وہ اﷲ کا کلام سنے پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں  رکھتے۔(6)

ان مشرکوں کے لئے اﷲ اور اس کے رسول کے ذمہ کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے، مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس، پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو، بے شک اﷲ پرہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔ (7)

کیسے عہد رہے گا جب کہ یہ حال ہے کہ اگر وہ تمھارے اوپر قابو پائیں تو تمھارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں  اور نہ عہد کا۔ وہ تم کو اپنے منہ کی بات سے راضی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دل انکار کرتے ہیں۔  اور ان میں اکثر بد عہد ہیں۔ (8)

انھوں نے اﷲ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیا، پھر انھوں نے اﷲ کے راستہ سے روکا۔ بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔(9)

کسی مومن کے معاملہ میں وہ نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں  اور نہ عہد کا، یہی لوگ ہیں زیادتی کرنے والے۔(10)

پس اگر وہ توبہ کریں  اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔  اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں آیات کو جاننے والوں کے لئے۔(11)

اور اگر عہد کے بعد یہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں  اور تمھارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے ان سرداروں سے لڑو۔ بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں ، تاکہ وہ باز آئیں۔ (12)

کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جنھوں نے اپنے عہد توڑ دئے اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ اﷲ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔(13)

ان سے لڑو۔ اﷲ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو رُسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور اہلِ ایمان کے سینہ کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دل کی جلن کو دور کر دے گا۔(14)

اور اﷲ توبہ نصیب کرے گا جس کو چاہے گا اور اﷲ جاننے والا ہے، حکمت والا ہے۔(15)

کیا تمھارا یہ گمان ہے کہ تم چھوڑ دئے جاؤ گے، حالاں کہ ابھی اﷲ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں  جنھوں نے جہاد کیا اور جنھوں نے اﷲ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں  بنایا اور اﷲ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔(16)

مشرکوں کا کام نہیں  کہ وہ اﷲ کی مسجدوں کو آباد کریں حالاں کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں۔  ان لوگوں کے اعمال اکارت گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔ (17)

اﷲ کی مسجدوں کو تو وہ آباد کرتا ہے جو اﷲ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اﷲ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں میں سے بنیں۔ (18)

کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے بسانے کو برابر کر دیا اس شخص کے جو اﷲ اور آخرت پر ایمان لایا اور اﷲ کی راہ میں جہاد کیا، اﷲ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں  ہوسکتے۔ اور اﷲ ظالم لوگوں کو راہ نہیں  دکھاتا۔(19)

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اﷲ کے راستہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اﷲ کے یہاں بڑا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ (20)

ان کا رب ان کو خوش خبری  دیتا ہے اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لئے دائمی نعمت ہو گی۔(21)

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اﷲ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔(22)

اے ایمان والو، اپنے باپوں  اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں۔  اور تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ (23)

کہو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے لڑکے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں  اور تمھارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں  اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اﷲ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اﷲ اپنا حکم بھیج دے اور اﷲ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں   دیتا۔(24)

بے شک اﷲ نے بہت سے موقعوں پر تمھاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی جب تمھاری کثرت نے تم کو ناز میں مبتلا کر دیا تھا۔ پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی۔ اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگے۔(25)

اس کے بعد اﷲ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت اتاری اور ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں  دیکھا اور اﷲ نے منکروں کو سزا دی اور یہی منکروں کا بدلہ ہے۔(26)

پھر اس کے بعد اﷲ جس کو چاہے توبہ نصیب کر دے اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(27)

اے ایمان والو، مشرکین بالکل ناپاک ہیں۔  پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں  اور اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اﷲ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو بے نیاز کر دے گا، اﷲ علیم اور حکیم ہے۔(28)

ان اہل کتاب سے لڑو جو نہ اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں  اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ اﷲ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے ہیں  اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں ،یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں  اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (29)

اور یہود نے کہا کہ عزیر اﷲ کے بیٹے ہیں  اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اﷲ کے بیٹے ہیں۔  یہ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔  وہ ان لوگوں کی بات کی نقل کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اﷲ ان کو ہلاک کرے، وہ کدھر بہکے جا رہے ہیں۔ (30)

انھوں نے اﷲ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالاں کہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں۔  اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔ (31)

وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں  اور اﷲ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں ، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔(32)

اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (33)

اے ایمان والو، اہل کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں  اور لوگوں کو اﷲ کے راستے سے روکتے ہیں  اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں  اور ان کو اﷲ کی راہ میں خرچ نہیں  کرتے، ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔(34)

اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں  اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔ یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کیا تھا۔ پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے۔(35)

مہینوں کی گنتی اﷲ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اﷲ کی کتاب میں ، جس دن سے اس نے آسمانوں  اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔  یہی ہے سیدھا دین۔ پس ان میں تم اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں  اور جان لو کہ اﷲ متقیوں کے ساتھ ہے۔(36)

مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں ایک اضافہ ہے۔ اس سے کفر کرنے والے گمراہی میں پڑتے ہیں ، وہ کسی سال حرام مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں  اور کسی سال اس کو حرام کر دیتے ہیں تاکہ خدا کے حرام کئے ہوئے کی گنتی پوری کر کے اس کے حرام کئے ہوئے کو حلال کر لیں۔  ان کے برے اعمال ان کے لئے خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔  اور اﷲ انکار کرنے والوں کو راستہ نہیں  دکھاتا۔(37)

اے ایمان والو، تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کا سامان تو بہت تھوڑا ہے۔(38)

اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو درد ناک سزا دے گا اور تمھاری جگہ وہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔(39)

اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اﷲ خود اس کی مدد کر چکا ہے جب کہ منکروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اﷲ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور اﷲ نے منکروں کی بات نیچی کر دی اور اﷲ ہی کی بات تو اونچی ہے اور اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(40)

ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جان سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔(41)

اگر نفع قریب ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمھارے پیچھے ہولیتے، مگر یہ منزل ان پر کٹھن ہو گئی۔ اب وہ قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔  اور اﷲ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔ (42)

اﷲ تم کو معاف کرے، تم نے کیوں انھیں اجازت دے دی۔ یہاں تک کہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں  اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔(43)

جو لوگ اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ وہ اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد نہ کریں ، اور اﷲ ڈرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔(44)

تم سے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جو اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں  رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔  پس وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔ (45)

اور اگر وہ نکلنا چاہتے تو ضرور وہ اس کا کچھ سامان کر لیتے۔ مگر اﷲ نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا اس لئے انھیں جما رہنے دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔(46)

اگر یہ لوگ تمھارے ساتھ نکلتے تو وہ تمھارے لئے خرابی ہی بڑھانے کا باعث بنتے اور وہ تمھارے درمیان فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے اور تم میں ان کی سننے والے ہیں  اور اﷲ ظالموں سے خوب واقف ہے۔(47)

یہ پہلے بھی فتنہ کی کوشش کر چکے ہیں  اور وہ تمھارے لئے کاموں کا الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔  یہاں تک کہ حق آگیا اور اﷲ کا حکم ظاہر ہو گیا اور وہ ناخوش ہی رہے۔(48)

اور ان میں وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنہ میں نہ ڈالئے۔ سن لو، وہ تو فتنہ میں پڑ چکے۔ اور بے شک جہنم منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔(49)

اگر تمھیں کوئی اچھا ئی پیش آتی ہے تو ان کو دکھ ہوتا ہے اور اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور وہ خوش ہو کر لوٹتے ہیں۔ (50)

کہو، ہمیں صرف وہی چیز پہنچے گی جو اﷲ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ وہ ہمارا کار ساز ہے اور اہل ایمان کو اﷲ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔(51)

کہو، تم ہمارے لئے صرف دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو۔ مگر ہم تمھارے حق میں اس کے منتظر ہیں کہ اﷲ تم پر عذاب بھیجے اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم انتظار کرو ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہیں۔ (52)

کہو، تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم نافرمان لوگ ہو۔(53)

اور وہ اپنے خرچ کی قبولیت سے صرف اس لئے محروم ہوئے کہ انھوں نے اﷲ اور اس کے رسول کا انکار کیا، اور یہ لوگ نماز کے لئے آتے ہیں تو گرانی کے ساتھ آتے ہیں  اور خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے ساتھ۔(54)

تم ان کے مال اور اولاد کو کچھ وقعت نہ دو۔ اﷲ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے سے انھیں دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ منکر ہوں۔ (55)

وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالاں کہ وہ تم میں سے نہیں۔  بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے ڈرتے ہیں۔ (56)

اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پائیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ تو وہ بھاگ کر اس میں جا چھپیں۔  (57)

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تم پر صدقات کے بارے میں عیب لگاتے ہیں۔  اگر اس میں سے انھیں دے دیا جائے تو راضی رہتے ہیں  اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ (58)

کیا اچھا ہوتا کہ اﷲ اور رسول نے جو کچھ انھیں دیا تھا، اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اﷲ ہمارے لئے کافی ہے۔ اﷲ اپنے فضل سے ہم کو اور بھی دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم کو تو اﷲ ہی چاہئے۔(59)

صدقات (زکوٰۃ) تو دراصل فقیروں  اور مسکینوں کے لئے ہیں  اور ان کارکنوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مقرر ہیں۔  اور ان کے لئے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہے۔ نیز گردنوں کے چھڑانے میں ، اور جو تاوان بھریں ، اور اﷲ کے راستہ میں ، اور مسافر کی امداد میں۔  یہ ایک فریضہ ہے اﷲ کی طرف سے اور اﷲ علم والا، حکمت والا ہے۔(60)

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے۔ کہو کہ وہ تمھاری بھلائی کے لئے کان ہے۔ وہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان کے لئے جو تم میں اہل ایمان ہیں۔  اور جو لوگ اﷲ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔(61)

وہ تمھارے سامنے اﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کریں۔  حالاں کہ اﷲ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اس کو راضی کریں ، اگر وہ مومن ہیں۔ (62)

کیا ان کو معلوم نہیں  کہ جو اﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔(63)

منافقین ڈرتے ہیں کہ کہیں مومنوں پر ایسی سورہ نازل نہ ہو جائے جو ان کو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کر دے۔ کہو کہ تم مذاق اڑا لو، اﷲ یقیناً اس کو ظاہر کر دے گا جس سے تم ڈرتے ہو۔(64)

اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ کہیں گے کہ ہم تو ہنسی اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو، کیا تم اﷲ سے اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی ،دل لگی کر رہے تھے۔(65)

بہانے مت بناؤ، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اور ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو تو ضرور سزا دیں گے کیوں کہ وہ مجرم ہیں۔ (66)

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔  وہ برائی کا حکم دیتے ہیں  اور بھلائی سے منع کرتے ہیں  اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔  انھوں نے اﷲ کو بھلا دیا تو اﷲ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بے شک منافقین بہت نافرمان ہیں۔ (67)

منافق مردوں  اور منافق عورتوں  اور منکروں سے اﷲ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ان کے لئے بس ہے۔ ان پر اﷲ کی لعنت ہے اور ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے۔(68)

جس طرح تم سے اگلے لوگ، وہ تم سے زور میں زیادہ تھے اور مال و اولاد کی کثرت میں تم سے بڑھے ہوئے تھے تو انھوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا، جیسا کہ تمھارے اگلوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تھا۔(69)

اور تم نے بھی وہی بحثیں کیں جیسی بحثیں انھوں نے کی تھیں۔  یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔  کیا انھیں ان لوگوں کی خبر نہیں  پہنچی جو ان سے پہلے گزرے۔ قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی۔ ان کے پاس ان کے رسول دلیلوں کے ساتھ آئے، تو ایسا نہ تھا کہ اﷲ ان پر ظلم کرتا، مگر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔(70)

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں۔  وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں  اور برائی سے روکتے ہیں  اور نماز قائم کرتے ہیں  اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں  اور اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔  یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ رحم کرے گا۔ بے شک اﷲ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(71)

مومن مردوں  اور مومن عورتوں سے اﷲ کا وعدہ ہے باغوں کا کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وعدہ ہے، ستھرے مکانوں کا ہمیشگی کے باغوں میں  اور اﷲ کی رضامندی جو سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (72)

اے نبی، منکروں  اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔(73)

وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہیں  کہا۔ حالاں کہ انھوں نے کفر کی بات کہی اور وہ اسلام کے بعد منکر ہو گئے اور انھوں نے وہ چاہا جو انھیں حاصل نہ ہوسکی۔ اور یہ صرف اس کا بدلہ تھا کہ ان کو اﷲ اور رسول نے اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ اگر وہ توبہ کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اعراض کریں تو خدا ان کو درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں ان کا نہ کوئی حمایتی ہو گا اور نہ مدد گار۔ (74)

اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے اﷲ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہم کو اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم صالح بن کر رہیں گے۔ (75)

پھر جب اﷲ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا تو وہ بخل کرنے لگے اور برگشتہ ہو کر انھوں نے منہ پھیر لیا۔(76)

پس اﷲ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا اس دن تک کے لئے جب کہ وہ اس سے ملیں گے، اس سبب سے کہ انھوں نے اﷲ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔(77)

کیا انھیں خبر نہیں  کہ اﷲ ان کے راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور اﷲ تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے۔(78)

وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مومنوں پر جو دل کھول کر صدقات دیتے ہیں  اور جو صرف اپنی محنت مزدوری سے انفاق کرتے ہیں ، وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔  اﷲ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(79)

تم ان کے لئے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ انھیں معاف کرنے کی درخواست کرو گے تو اﷲ ان کو معاف کرنے والا نہیں۔  یہ اس لئے کہ انھوں نے اﷲ اور رسول کا انکار کیا اور اﷲ نافرمانوں کو راہ نہیں  دکھاتا۔(80)

پیچھے رہ جانے والے اﷲ کے رسول سے پیچھے بیٹھ رہنے پر بہت خوش ہوئے اور ان کو گراں گزرا کہ وہ اپنے مال اور جان سے اﷲ کی راہ میں جہاد کریں۔  اور انھوں نے کہا کہ گرمی میں نہ نکلو۔ کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انھیں سمجھ ہوتی۔ (81)

پس وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ، اس کے بدلے میں جو وہ کرتے تھے۔(82)

پس اگر اﷲ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور وہ تم سے جہاد کے لئے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ کبھی نہیں  چلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑو گے۔ تم نے پہلی بار بھی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا، پس پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔(83)

اور ان میں سے جو کوئی مر جائے، اس پر تم کبھی نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ بے شک انھوں نے اﷲ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔(84)

اور ان کے مال اور ان کی اولاد تم کو تعجب میں نہ ڈالیں۔  اﷲ تو بس یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ منکر ہوں۔ (85)

اور جب کوئی سورہ اترتی ہے کہ اﷲ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگنے لگتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ ہم کو چھوڑ دیجئے کہ ہم یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔ (86)

انھوں نے اس کو پسند کیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں۔  اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پس وہ کچھ نہیں  سمجھتے۔(87)

لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ، انھوں نے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اور انھیں کے لئے ہیں خوبیاں  اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (88)

ان کے لئے اﷲ نے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔  ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔(89)

بدوی عربوں میں سے بھی بہانہ کرنے والے آئے کہ انھیں اجازت مل جائے اور جو اﷲ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولے، وہ بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنھوں نے انکار کیا ان کو ایک درد ناک عذاب پکڑے گا۔(90)

کوئی گناہ کمزوروں پر نہیں  ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو خرچ کرنے کو کچھ نہیں  پاتے جب کہ وہ اﷲ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی کریں۔  نیک کاروں پر کوئی الزام نہیں  اور اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(91)

اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ تمھارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو۔ تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں  کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انھیں کچھ میسر نہیں  جو وہ خرچ کریں۔ (92)

الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو تم سے اجازت مانگتے ہیں حالاں کہ وہ مال دار ہیں۔  وہ اس پر راضی ہو گئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں  اور اﷲ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی، پس وہ نہیں  جانتے۔(93)

تم جب ان کی طرف پلٹو گے تو وہ تمھارے سامنے عذر پیش کریں گے۔ کہہ دو کہ بہانے نہ بناؤ۔ ہم ہر گز تمھاری بات نہ مانیں گے۔ بے شک اﷲ نے ہم کو تمھارے حالات بتا دئے ہیں۔  اب اﷲ اور رسول تمھارے عمل کو دیکھیں گے۔ پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے، وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔(94)

یہ لوگ تمھاری واپسی پر تمھارے سامنے اﷲ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ پس تم ان سے درگزر کرو بے شک وہ ناپاک ہیں  اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ میں اس کے جو وہ کرتے رہے۔(95)

وہ تمھارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔ اگر تم ان سے راضی بھی ہو جاؤ تو اﷲ نافرمان لوگوں سے راضی ہونے والا نہیں۔ (96)

دیہات والے کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں  اور وہ اسی لائق ہیں کہ اﷲ نے اپنے رسول پر جو کچھ اتارا ہے اس کے حدود سے بے خبر رہیں۔  اور اﷲ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(97)

اور دیہاتیوں میں ایسے بھی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کو ایک تاوان سمجھتے ہیں  اور تمھارے لئے زمانہ کی گردشوں کے منتظر ہیں۔  بری گردش خود انھیں پر ہے اور اﷲ سننے والا، جاننے والا ہے۔(98)

اور دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں  اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں ، وہ اس کو اﷲ کے یہاں قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔  ہاں بے شک وہ ان کے لئے قرب کا ذریعہ ہے۔ اﷲ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقیناً اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔(99)

اور مہاجرین و انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں  اور جنھوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اﷲ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ اور اﷲ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ (100)

اور تمھارے گرد و پیش جو دیہاتی ہیں ، ان میں منافق ہیں  اور مدینہ والوں میں بھی منافق ہیں۔  وہ نفاق پر جم گئے ہیں۔  تم ان کو نہیں  جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں۔  ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے۔ پھر وہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے۔(101)

کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اﷲ ان پر توجہ کرے۔ بے شک اﷲ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (102)

تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس سے تم ان کو پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔ اور تم ان کے لئے دعا کرو۔ بے شک تمھاری دعا ان کے لئے وجہِ تسکین ہو گی۔ اﷲ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (103)

کیا وہ نہیں  جانتے کہ اﷲ ہی اپنے بندوں کی تو بہ قبول کرتا ہے۔ اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔ اور اﷲ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ (104)

کہو کہ عمل کرو، اﷲ اور اس کا رسول اور اہل ایمان تمھارے عمل کو دیکھیں گے اور تم جلد اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو تمام کھلے اور چھپے کو جانتا ہے۔ وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔ (105)

کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کا حکم آنے تک ٹھہرا ہوا ہے، یا وہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا، اور اﷲ جاننے والا، حکمت والا ہے۔(106)

اور ان میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچا نے کے لئے اور کفر کے لئے اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس لئے تاکہ کمین گاہ فراہم کریں اس شخص کے لئے جو پہلے سے اﷲ اور اس کے رسول سے لڑ رہا ہے۔ اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی چاہی تھی اور اﷲ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔  (107)

تم اس عمارت میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر پڑی ہے، وہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں  اور اﷲ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (108)

کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے ڈر پر اور خدا کی خوشنودی پر رکھی، یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے کو ہے۔ پھر وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑی۔ اور اﷲ ظالم لوگوں کو راہ نہیں  دکھاتا۔ (109)

اور یہ عمارت جو انھوں نے بنائی، وہ ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بنی رہے گی بجز اس کے کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ہو جائیں۔  اور اﷲ علیم اور حکیم ہے۔(110)

بلاشبہ اﷲ نے مومنوں سے ان کی جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں۔  پھر مارتے ہیں  اور مارے جاتے ہیں۔  یہ اﷲ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے، تورات میں  اور انجیل میں  اور قرآن میں۔  اور اﷲ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے اﷲ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔ (111)

وہ توبہ کرنے والے ہیں۔  عبادت کرنے والے ہیں۔  حمد کرنے والے ہیں۔  خدا کی راہ میں پھرنے والے ہیں۔  رکوع کرنے والے ہیں۔  سجدہ کرنے والے ہیں۔  بھلائی کا حکم کرنے والے ہیں۔  برائی سے روکنے والے ہیں۔  اﷲ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔  اور مومنوں کو خوش خبری دے دو۔(112)

نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں روا نہیں  کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں ، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر کھل چکا کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ ہیں۔  (113)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا مانگنا صرف اس وعدہ کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کر لیا تھا۔ پھر جب اس پر کھل گیا کہ وہ اﷲ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا۔ (114)

اور اﷲ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں  کرتا جب تک ان کو صاف صاف وہ چیزیں بتا نہ دے جن سے انھیں بچنا ہے، بے شک اﷲ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (115)

اﷲ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں  اور زمین میں ، وہ جلاتا ہے ا ور وہی مارتا ہے۔ اور اﷲ کے سوا نہ تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ مدد گار۔(116)

اﷲ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی جنھوں نے تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے۔ پھر اﷲ نے ان پر توجہ فرمائی۔ بے شک اﷲ ان پر مہربان ہے، رحم کرنے والا ہے۔ (117)

اور ان تینوں پر بھی اس نے توجہ فرمائی جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آ گئے اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اﷲ سے بچنے کے لئے خود اﷲ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔  پھر اﷲ ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں۔  بے شک اﷲ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (118)

اے ایمان والو، اﷲ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ (119)

مدینہ والوں  اور اطراف کے بدویوں کے لئے زیبا نہ تھا کہ وہ اﷲ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہیں  اور نہ یہ کہ اپنی جان کو اس کی جان سے عزیز رکھیں۔  یہ اس لئے کہ جو پیاس اور تھکان اور بھوک بھی ان کو خدا کی راہ میں لاحق ہوتی ہے اور جو قدم بھی وہ منکروں کو رنج پہنچا نے والا اٹھاتے ہیں  اور جو چیز بھی وہ دشمن سے چھینتے ہیں ، ان کے بدلے میں ان کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ اﷲ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں  کرتا۔ (120)

اور جو چھوٹا یا بڑا خرچ انھوں نے کیا اور جو میدان انھوں نے طے کئے، وہ سب ان کے لئے لکھا گیا تاکہ اﷲ ان کے عمل کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔ (121)

اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہلِ ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔  تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔(122)

اے ایمان والو، ان منکروں سے جنگ کرو جو تمھارے آس پاس ہیں  اور چاہئے کہ وہ تمھارے اندر سختی پائیں  اور جان لو کہ اﷲ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (123)

اور جب کوئی سورہ اترتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کر دیا۔ پس جو ایمان والے ہیں ، ان کا اس نے ایمان زیادہ کر دیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔  (124)

اور جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے بڑھا دی ان کی گندگی پر گندگی۔ اور وہ مرنے تک منکر ہی رہے۔(125)

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں  کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ، پھر بھی وہ نہ تو بہ کرتے ہیں  اور نہ سبق حاصل کرتے ہیں۔  (126)

اور جب کوئی سورہ اتاری جاتی ہے تو یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھتا تو نہیں ، پھر چل دیتے ہیں۔  اﷲ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اس وجہ سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں  ہیں۔ (127)

تمھارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے۔ تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے۔ وہ تمھاری بھلائی کا حریص ہے۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔(128)

پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ اﷲ میرے لئے کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔(129)

٭٭٭

 

 

 

۱۰۔ سورۃ یُونس

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

الف، لام، را، یہ پُر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔  (1)

کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انھیں میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ڈراؤ اور جو ایمان لائیں ان کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سچا مرتبہ ہے۔ منکروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادو گر ہے۔ (2)

بے شک تمھارا رب اﷲ ہے جس نے آسمانوں  اور زمین کو چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ وہی معاملات کا انتظام کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔  یہی اﷲ تمھارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو، کیا تم سوچتے نہیں۔  (3)

اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، یہ اﷲ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہ پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے، ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جنھوں نے انکار کیا، ان کے انکار کے بدلے ان کے لئے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہے۔(4)

اﷲ ہی ہے جس نے سورج کو چمکتا بنایا اور چاند کو روشنی دی اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرو۔ اﷲ نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں  بنایا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔  (5)

یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں  اور اﷲ نے جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں پیدا کیا ہے، ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔ (6)

بے شک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں  رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہیں  اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں۔  (7)

ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا بہ سبب اس کے جو وہ کرتے تھے۔ (8)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، اﷲ ان کے ایمان کی بدولت ان کو پہنچا دے گا، ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، نعمت کے باغوں میں۔ (9)

اس میں ان کا قول ہو گا کہ اے اﷲ تو پاک ہے۔ اور ملاقات ان کی سلام ہو گی۔ اور ان کی آخری بات یہ ہو گی کہ ساری تعریف اﷲ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔(10)

اگر اﷲ لوگوں کے لئے عذاب اسی طرح جلد پہنچا دے جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں جلدی کرتا ہے تو ان کی مدت ختم کر دی گئی ہوتی۔ لیکن ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں  رکھتے، ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ (11)

اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لئے ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ (12)

اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ انھوں نے ظلم کیا۔ اور ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلوں کے ساتھ آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو۔(13)

پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔(14)

اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں  ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہو کہ میرا یہ کام نہیں  کہ میں اپنے جی سے اس کو بدل دوں۔  میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (15)

کہو کہ اﷲ اگر چاہتا تو میں اس کو تمھیں نہ سناتا اور نہ اﷲ اس سے تمھیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تمھارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں ، پھر کیا تم عقل سے کام نہیں  لیتے۔(16)

اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اﷲ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً مجرموں کو فلاح حاصل نہیں  ہوتی۔(17)

اور وہ اﷲ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکیں  اور نہ نفع پہنچا سکیں۔  اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔  کہو، کیا تم اﷲ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اس کو آسمانوں  اور زمین میں معلوم نہیں۔  وہ پاک اور برتر ہے اس سے جس کو وہ شریک کرتے ہیں۔ (18)

اور لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر کا فیصلہ کر دیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (19)

اور وہ کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں  نہیں  اتاری گئی، کہو کہ غیب کی خبر تو اﷲ ہی کو ہے۔  تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ (20)

اور جب کوئی تکلیف پڑنے کے بعد ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری نشانیوں کے معاملہ میں حیلے بنانے لگتے ہیں۔  کہو کہ خدا اپنے حیلوں میں ان سے بھی زیادہ تیز ہے۔ یقیناً ہمارے فرشتے تمھاری حیلہ بازیوں کو لکھ رہے ہیں۔ (21)

وہ اﷲ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چناں چہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں لوگوں کو لے کر موافق ہوا سے چل رہی ہوتی ہیں  اور لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ یکایک تند ہوا آتی ہے اور ان پر ہر جانب سے موجیں اٹھنے لگتی ہیں  اور وہ گمان کر لیتے ہیں کہ ہم گھر گئے۔ اس وقت وہ اپنے دین کو اﷲ ہی کے لئے خالص کر کے اس کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو یقیناً ہم شکر گزار بندے بنیں گے۔(22)

پھر جب وہ ان کو نجات دے  دیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔  اے لوگو، تمھاری سرکشی تمھارے اپنے ہی خلاف ہے، دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر تم کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم بتا دیں گے جو کچھ تم کر رہے تھے۔(23)

دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا تو زمین کی نباتات خوب نکلیں جس کو آدمی کھاتے ہیں  اور جس کو جانور کھاتے ہیں۔  یہاں تک کہ جب زمین پوری رونق پر آ گئی اور سنور اٹھی اور زمین والوں نے گمان کر لیا کہ اب یہ ہمارے قابو میں ہے تو اچانک اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو آگیا، پھر ہم نے اس کو کاٹ کر ڈھیر کر دیا گویا کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔  اس طرح ہم نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔  (24)

اور اﷲ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔(25)

جن لوگوں نے بھلائی کی، ان کے لئے بھلائی ہے اور اس پر مزید بھی۔ اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی جنت والے لوگ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(26)

اور جنھوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر رسوائی چھائی ہوئی ہو گی۔ کوئی ان کو اﷲ سے بچانے والا نہ ہو گا۔ گویا کہ ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دئے گئے ہیں۔  یہی لوگ دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(27)

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ ٹھہرو تم بھی اور تمھارے بنائے ہوئے شریک بھی۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں  کرتے تھے۔(28)

اﷲ ہمارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے۔ ہم تمھاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔(29)

اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دو چار ہو گا جو اس نے کیا تھا اور لوگ اﷲ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو جھوٹ انھوں نے گھڑے تھے وہ سب ان سے جاتے رہیں گے۔(30)

کہو کہ کون تم کو آسمان اور زمین سے روزی  دیتا ہے، یا کون ہے جو کان پر اور آنکھوں پر اختیار رکھتا ہے۔ اور کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور کون معاملات کا انتظام کر رہا ہے۔ وہ کہیں گے کہ اﷲ۔ کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں۔ (31)

پس وہی اﷲ تمھارا پروردگارِ حقیقی ہے۔ توفیق کے بعد بھٹکنے کے سوا اور کیا ہے، تم کدھر پھرے جاتے ہو۔(32)

اسی طرح تیرے رب کی بات سرکشی کرنے والوں کے حق میں پوری ہو چکی ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔(33)

کہو، کیا تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہو، پھر وہ دوبارہ بھی پیدا کرے۔ کہو، اﷲ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ پھر تم کہاں بھٹکے جاتے ہو۔(34)

کہو، کیا تمھارے شرکاء میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو، کہہ دو کہ اﷲ ہی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پھر جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، وہ پیروی کئے جانے کا مستحق ہے یا وہ جس کو خود ہی راستہ نہ ملتا ہو بلکہ اسے راستہ بتایا جائے۔ تم کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو۔(35)

ان میں سے اکثر صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔  اور گمان حق بات میں کچھ بھی کام نہیں دیتا۔ اﷲ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ (36)

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی اس کو بنا لے۔ بلکہ یہ تصدیق ہے ان پیشین گوئیوں کی جو اس کے پہلے سے موجو دہیں۔  اور کتاب کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں  کہ وہ خداوند عالم کی طرف سے ہے۔(37)

کیا لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہو کہ تم اس کی مانند کوئی سورہ لے آؤ۔ اور اﷲ کے سوا تم جن کو بلا سکو بُلا لو، اگر تم سچے ہو۔(38)

بلکہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلا رہے ہیں جو ان کے علم کے احاطے میں  نہیں  آئی۔ اور جس کی حقیقت ابھی ان پر نہیں  کھلی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، پس دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا۔(39)

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو قرآن پر ایمان لے آئیں گے اور وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان نہیں  لائیں گے۔ اور تیرا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔(40)

اور اگر وہ تم کو جھٹلا تے ہیں تو کہہ دو کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمھارا عمل تمھارے لئے۔ تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں  اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔(41)

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمھاری طرف کان لگاتے ہیں ، تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے جب کہ وہ سمجھ سے کام نہ لے رہے ہوں۔ (42)

اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو تمھاری طرف دیکھتے ہیں ، تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ وہ دیکھ نہ رہے ہوں۔ (43)

اﷲ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں  کرتا، مگر لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (44)

اور جس دن اﷲ ان کو جمع کرے گا، گویا کہ وہ بس دن کی ایک گھڑی دنیا میں تھے۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ بے شک سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے اﷲ سے ملنے کو جھٹلایا اور وہ راہِ راست پر نہ آئے۔(45)

ہم تم کو اس کا کوئی حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا تمھیں وفات دے دیں ، بہرحال ان کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر اﷲ گواہ ہے اس پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ (46)

اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کا رسول آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں  ہوتا۔(47)

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو۔(48)

کہو میں اپنے واسطے بھی برے اور بھلے کا مالک نہیں ، مگر جو اﷲ چاہے۔ ہر امت کے لئے ایک وقت ہے۔ جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو پھر نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہوتے اور نہ آگے۔(49)

کہو کہ بتاؤ، اگر اﷲ کا عذاب تم پر رات کو آ پڑے یا دن کو آ جائے تو مجرم لوگ اس سے پہلے کیا کر لیں گے۔(50)

پھر کیا جب عذاب واقع ہو چکے گا تب اس پر یقین کرو گے۔ اب قائل ہوئے اور تم اسی کا تقاضا کرتے تھے۔(51)

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ یہ اسی کا بدلہ مل رہا ہے جو کچھ تم کماتے تھے۔(52)

اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہو کہ ہاں میرے رب کی قسم، یہ سچ ہے اور تم اس کو تھکا نہ سکو گے۔(53)

اور اگر ہر ظالم کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اس کو فدیہ میں دے دینا چاہے گا۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو اپنے دل میں پچھتائیں گے۔ اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔(54)

یاد رکھو، جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں ہے سب اﷲ کا ہے، یاد رکھو، اﷲ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں  جانتے۔(55)

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔(56)

اے لوگو، تمھارے پاس تمھارے رب کی جانب سے نصیحت آ گئی اور اس کے لئے شفاء جو سینوں میں ہوتی ہے اور اہل ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت۔(57)

کہو کہ یہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے۔ اب چاہئے کہ لوگ خوش ہوں ، یہ اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔ (58)

کہو، یہ بتاؤ کہ اﷲ نے تمھارے لئے جو رزق اتارا تھا، پھر تم نے اس میں سے کچھ کو حرام ٹھہرایا اور کچھ کو حلال۔ کہو، کیا اﷲ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم اﷲ پر جھوٹ لگا رہے ہو۔(59)

اور قیامت کے دن کے بارے میں ان لوگوں کا کیا خیال ہے جو اﷲ پر جھوٹ لگا رہے ہیں۔  بے شک اﷲ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں  کرتے۔(60)

اور تم جس حال میں بھی ہو اور قرآن میں سے جو حصہ بھی سنا رہے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو، ہم تمھارے اوپر گواہ رہتے ہیں جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں ، نہ زمین میں  اور نہ آسمان میں  اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔(61)

سن لو، اﷲ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(62)

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(63)

ان کے لئے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اﷲ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے۔(64)

اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔زور سب اﷲ ہی کے لئے ہے، وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔(65)

سنو، جو آسمانوں میں ہیں  اور جو زمین میں ہیں سب اﷲ ہی کے ہیں۔  اور جو لوگ اﷲ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں ، وہ صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں  اور وہ محض اٹکل دوڑا رہے ہیں۔ (66)

وہ اﷲ ہی ہے جس نے تمھارے لئے رات بنائی تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن بنایا۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں۔ (67)

کہتے ہیں کہ اﷲ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ پاک ہے، بے نیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔  کیا تم اﷲ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا تم علم نہیں  رکھتے۔(68)

کہو،جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، وہ فلاح نہیں  پائیں گے۔(69)

ان کے لئے بس دنیا میں تھوڑا فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ان کو ہم اس انکار کے بدلے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔(70)

اور ان کو نوح کا حال سناؤ۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اگر میرا کھڑا ہونا اور اﷲ کی آیتوں سے نصیحت کرنا تم پر گراں ہو گیا ہے تو میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا۔  تم اپنا متفقہ فیصلہ کر لو اور اپنے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو، تم کو اپنے فیصلہ میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ پھر تم لوگ میرے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو، وہ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو۔(71)

اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں  مانگی ہے۔ میری مزدوری تو اﷲ کے ذمہ ہے۔ اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ (72)

پھر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے نوح کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان کو جانشین بنایا۔ اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ دیکھو کہ کیا انجام ہوا ان کا جن کو ڈرایا گیا تھا۔(73)

پھر ہم نے نوح کے بعد کتنے رسول بھیجے، ان کی قوموں کی طرف۔ وہ ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے، مگر وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔  (74)

پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا، مگر انھوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔(75)

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے سچی بات پہنچی تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔(76)

موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو جادو کہتے ہو جب کہ وہ تمھارے پاس آ چکا ہے۔ کیا یہ جادو ہے، حالاں کہ جادو والے کبھی فلاح نہیں  پاتے۔(77)

انھوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو اس راستے سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اور اس ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہو جائے، اور ہم کبھی تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں  ہیں۔ (78)

اور فرعون نے کہا کہ تمام ماہر جادو گروں کو میرے پاس لے آؤ۔(79)

جب جادو گر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو کچھ تمھیں ڈالنا ہے ڈالو۔(80)

پھر جب جادو گروں نے ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ بے شک اﷲ اس کو باطل کر دے گا، اﷲ یقیناً مفسدوں کے کام کو سدھرنے نہیں   دیتا۔(81)

اور اﷲ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔(82)

پھر موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے کہ کہیں وہ ان کو کسی فتنہ میں نہ ڈال دے، بے شک فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے گزر جاتے ہیں۔ (83)

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم، اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو، اگر تم واقعی فرماں بردار ہو۔(84)

انھوں نے کہا، ہم نے اﷲ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا۔(85)

اور اپنی رحمت سے ہم کو منکر لوگوں سے نجات دے۔(86)

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں کچھ گھر مقرر کر لو اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور اہل ایمان کو خوش خبری دے دو۔(87)

اور موسیٰ نے کہا، اے ہمارے رب، تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں رونق اور مال دیا ہے۔ اے ہمارے رب، اس لئے کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بھٹکائیں۔  اے ہمارے رب، ان کے مال کو غارت کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں۔ (88)

فرمایا، تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ اب تم دونوں جمے رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں  رکھتے۔(89)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا، سرکشی اور زیادتی کی غرض سے۔ یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں ، مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں اس کے فرماں برداروں میں  ہوں۔ (90)

کیا اب، اور اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا  اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔(91)

پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔ (92)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانا دیا اور ان کو ستھری چیزیں کھانے کے لئے دیں۔  پھر انھوں نے اختلاف نہیں  کیا مگر اس وقت جب کہ علم ان کے پاس آ چکا تھا۔ یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے۔(93)

پس اگر تم کو اس چیز کے بارے میں شک ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔  بے شک یہ تم پر حق آیا ہے تمھارے رب کی طرف سے، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔(94)

اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جنھوں نے اﷲ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے، ور نہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔(95)

بے شک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پوری ہو چکی ہے، وہ ایمان نہیں  لائیں گے۔(96)

خواہ ان کے پاس ساری نشانیاں آ جائیں جب تک کہ وہ درد ناک عذاب کو سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔ (97)

پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع  دیتا، یونس کی قوم کے سوا۔ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔(98)

اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ پھر کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن ہو جائیں۔ (99)

اور کسی شخص کے لئے ممکن نہیں  کہ وہ اﷲ کی اجازت کے بغیر ایمان لاسکے۔ اور اﷲ ان لوگوں پر گندگی ڈال  دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں  لیتے۔(100)

کہو کہ آسمانوں  اور زمین میں جو کچھ ہے، اسے دیکھو۔ اور نشانیاں  اور ڈراوے ان لوگوں کو فائدہ نہیں  پہنچاتے جو ایمان نہیں  لاتے۔ (101)

وہ تو بس اس طرح کے دن کا انتظار کر رہے ہیں جس طرح کے دن ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پیش آئے۔ کہو، انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں  ہوں۔  (102)

پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان کو جو ایمان لائے۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیں گے۔(103)

کہو، اے لوگو اگر تم میرے دین کے متعلق شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں  کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اﷲ کے سوا۔ بلکہ میں اس اﷲ کی عبادت کرتا ہوں جو تم کو وفات  دیتا ہے اور مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے بنوں۔ (104)

اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر دین کی طرف کروں۔  اور مشرکوں میں سے نہ بنوں۔  (105)

اور اﷲ کے علاوہ ان کو نہ پکارو جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں  اور نہ نقصان۔ پھر اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (106)

اور اگر اﷲ تم کو کسی تکلیف میں پکڑ لے تو اس کے سوا کوئی نہیں  جو اس کو دور کرسکے۔ اور اگر وہ تم کو کوئی بھلائی پہنچا نا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔  وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے  دیتا ہے اور وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔(107)

کہو، اے لوگو، تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس حق آگیا ہے۔ جو ہدایت قبول کرے گا، وہ اپنے ہی لئے کرے گا اور جو بھٹکے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا، اور میں تمھارے اوپر ذمہ دار نہیں  ہوں۔  (108)

اور تم اس کی پیروی کرو جو تم پر وحی کی جاتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اﷲ فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (109)

٭٭٭

 

 

 

۱۱۔ سورۃ ہود

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

الف، لام، را۔ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ایک دانا اور خبیر ہستی کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی۔ (1)

کہ تم اﷲ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ میں تم کو اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔  (2)

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم کو ایک مدت تک برتوائے گا اچھا برتوانا، اور ہر زیادہ کے مستحق کو اپنی طرف سے زیادہ عطا کرے گا۔ اور اگر تم پھر جاؤ تو میں تمھارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔  (3)

تم سب کو اﷲ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(4)

دیکھو، یہ لوگ اپنے سینوں کو لپیٹتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔  خبردار، جب وہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اﷲ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں  اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔  وہ دلوں کی بات تک جاننے والا ہے۔ (5)

اور زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں  جس کی روزی اﷲ کے ذمہ نہ ہو۔ اور وہ جانتا ہے جہاں کوئی ٹھہرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے۔ سب کچھ ایک کھلی ہوئی کتاب میں موجود ہے۔(6)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں  اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں اچھا کام کرتا ہے۔ اور اگر تم کہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (7)

اور اگر ہم کچھ مدت تک ان کی سزا کو روک دیں تو کہتے ہیں کہ کیا چیز اس کو روکے ہوئے ہے۔ آگاہ، جس دن وہ ان پر آ پڑے گا تو وہ ان سے پھیرا نہ جاسکے گا اور ان کو گھیرے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے۔(8)

اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔(9)

اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی، اس کو ہم نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری مصیبتیں مجھ سے دور ہو گئیں ، وہ اترانے والا اور اکڑنے والا بن جاتا ہے۔(10)

مگر جو لوگ صبر کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہیں ، ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا اجر۔ (11)

کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس چیز کا کچھ حصہ چھوڑ دو جو تمھاری طرف وحی کی گئی ہے۔ اور تم اس بات پر تنگ دل ہو کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں  نہیں  اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں  نہیں  آیا۔ تم تو صرف ڈرانے والے ہو اور اﷲ ہر چیز کا ذمہ دار ہے۔(12)

کیا وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کتاب کو گھڑ لیا ہے۔ کہو، تم بھی ایسی ہی دس سورتیں بنا کر لے آؤ اور اﷲ کے سوا جس کو بلا سکو بُلا لو، اگر تم سچے ہو۔(13)

پس اگر وہ تمھارا کہا پورا نہ کرسکیں تو جان لو کہ یہ اﷲ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر کیا تم حکم مانتے ہو۔(14)

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہیں ، ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں۔  اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں  کی جاتی۔ (15)

یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں  ہے۔ انھوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا وہ برباد ہوا اور خراب گیا جو انھوں نے کمایا تھا۔(16)

بھلا ایک شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل پر ہے، اس کے بعد اﷲ کی طرف سے اس کے لئے ایک گواہ بھی آگیا، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود تھی، ایسے ہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں  اور جماعتوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے وعدہ کی جگہ آگ ہے۔ پس تم اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑو۔ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں  مانتے۔(17)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اﷲ پر جھوٹ گھڑے۔ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو، اﷲ کی لعنت ہے ظالموں کے اوپر۔ (18)

ان لوگوں کے اوپر جو اﷲ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں  اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں۔  یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ (19)

وہ لوگ زمین میں اﷲ کو بے بس کرنے والے نہیں  اور نہ اﷲ کے سواان کا کوئی مددگار ہے، ان پر دہرا عذاب ہو گا۔ وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔(20)

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا۔ اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انھوں نے گھڑ رکھا تھا۔(21)

اس میں شک نہیں  کہ یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹے میں رہیں گے۔(22)

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کئے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی، وہی لوگ جنت والے ہیں۔  وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(23)

ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا۔ کیا یہ دونوں یکساں ہو جائیں گے۔ کیا تم غور نہیں  کرتے۔ (24)

اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ میں تم کو کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (25)

یہ کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں تم پر ایک درد ناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ (26)

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا، جنھوں نے انکار کیا تھا کہ ہم تو تم کو بس اپنے جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔  اور ہم نہیں  دیکھتے کہ کوئی تمھارا تابع ہوا ہو، سوائے ان کے جو ہم میں پست لوگ ہیں ، بے سمجھے بوجھے۔ اور ہم نہیں  دیکھتے کہ تم کو ہمارے اوپر کچھ بڑائی حاصل ہو، بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ (27)

نوح نے کہا اے میری قوم، بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں  اور اس نے مجھ پر اپنے پاس سے رحمت بھیجی ہے، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو کیا ہم اس کو تم پر چپکاسکتے ہیں جب کہ تم اس سے بیزار ہو۔(28)

اور اے میری قوم، میں اس پر تم سے کچھ مال نہیں  مانگتا۔ میرا اجر تو بس اﷲ کے ذمہ ہے اور میں ہر گز ان کو اپنے سے دور کرنے والا نہیں  جو ایمان لائے ہیں۔  ان لوگوں کو اپنے رب سے ملنا ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو۔(29)

اور اے میری قوم، اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا۔ کیا تم غور نہیں  کرتے۔(30)

اور میں تم سے نہیں  کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں۔  اور نہ میں غیب کی خبر رکھتا ہوں۔  اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔  اور میں یہ بھی نہیں  کہہ سکتا کہ جو لوگ تمھاری نگاہوں میں حقیر ہیں ، ان کو اﷲ کوئی بھلائی نہیں  دے گا۔ اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو میں ہی ظالم ہوں گا۔(31)

انھوں نے کہا کہ اے نوح، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کر لیا۔ اب وہ چیز لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے رہے ہو، اگر تم سچے ہو۔(32)

نوح نے کہا اس کو تو تمھارے اوپر اﷲ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ جاسکو گے۔(33)

اور میری نصیحت تم کو فائدہ نہیں  دے گی اگر میں تم کو نصیحت کرنا چا ہوں جب کہ اﷲ یہ چاہتا ہو کہ وہ تم کو گمراہ کرے۔ وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔(34)

کیا وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہو کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرا جرم میرے اوپر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو، اس سے میں بری ہوں۔ (35)

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ اب تمھاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں  لائے گا، سوا اس کے جو ایمان لا چکا ہے۔ پس تم ان کاموں پر غمگین نہ ہو جو وہ کر رہے ہیں۔ (36)

اور ہمارے رو برو اور ہمارے حکم سے تم کشتی بناؤ اور ظالموں کے حق میں مجھ سے بات نہ کرو، بے شک یہ لوگ غرق ہوں گے۔(37)

اور نوح کشتی بنانے لگا۔ اور جب اس کی قوم کا کوئی سردار اس پر گزرتا تو وہ اس کی ہنسی اڑاتا، اس نے کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پرہنسیں گے۔(38)

تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے اور اس پر وہ عذاب اترتا ہے جو دائمی ہے۔(39)

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہنچا  اور طوفان ابل پڑا، ہم نے نوح سے کہا کہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوا ان اشخاص کے جن کی بابت پہلے کہا جا چکا ہے اور سب ایمان والوں کو بھی۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔(40)

اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہو جاؤ، اﷲ کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی۔ بیشک میرا رب بخشنے والا، مہربان ہے۔(41)

اور کشتی پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو اس سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے، ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور منکروں کے ساتھ مت رہ۔(42)

اس نے کہا میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا کہ آج کوئی اﷲ کے حکم سے بچانے والا نہیں ، مگر وہ جس پر اﷲ رحم کرے۔ اور دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔(43)

اور کہا گیا کہ اے زمین، اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی سکھادیا گیا۔ اور معاملہ کا فیصلہ ہو گیا اور کشتی جو دی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ دور ہو ظالموں کی قوم۔(44)

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے۔ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔(45)

خدا نے کہا اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں  نہیں۔  اس کے کام خراب ہیں۔  پس مجھ سے اس چیز کے لئے سوال نہ کرو جس کا تمھیں علم نہیں۔  میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو۔(46)

نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔  اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں برباد ہو جاؤں گا۔(47)

کہا گیا کہ اے نوح، اترو، ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ، تم پر اور ان گرو ہوں پر جو تمھارے ساتھ ہیں۔  اور (ان سے ظہور میں آنے والے)گروہ کہ ہم ان کو فائدہ دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔(48)

یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم تمھاری طرف وحی کر رہے ہیں۔  اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمھاری قوم۔ پس صبر کرو بے شک آخری انجام ڈرنے والوں کے لئے ہے۔(49)

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں۔ (50)

اے میری قوم، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں  مانگتا۔ میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم نہیں  سمجھتے۔(51)

اور اے میری قوم، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو۔ وہ تمھارے اوپر خوب بارشیں برسائے گا۔ اور تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اور تم مجرم ہو کر روگردانی نہ کرو۔(52)

انھوں نے کہا کہ اے ہود، تم ہمارے پاس کوئی کھلی ہوئی نشانی لے کر نہیں  آئے ہو، اور ہم تمھارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں  ہیں۔  اور ہم ہرگز تم کو ماننے والے نہیں  ہیں۔ (53)

ہم تو یہی کہیں گے کہ تمھارے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے۔ ہود نے کہا، میں اﷲ کو گواہ ٹھہراتا ہوں  اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو۔(54)

اس کے سوا۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو، پھر مجھ کو مہلت نہ دو۔(55)

میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمھارا رب بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں  جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔(56)

اگر تم اعراض کرتے ہو تو میں نے تم کو وہ پیغام پہنچا دیا جس کو دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا۔ اور میرا رب تمھاری جگہ تمھارے سوا کسی اور گروہ کو جانشین (خلیفہ)بنائے گا۔ تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔(57)

اور جب ہمارا حکم آ پہنچا ، ہم نے اپنی رحمت سے بچا دیا ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اور ہم نے ان کو ایک سخت عذاب سے بچا دیا۔(58)

اور یہ عاد تھے کہ انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا۔ اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر سرکش اور مخالف کی بات کی اتباع کی۔(59)

اور ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اس دنیا میں  اور قیامت کے دن۔ سن لو، عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سن لو، دوری ہے عاد کے لئے جو ہود کی قوم تھی۔(60)

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمھارا ا کوئی معبود نہیں۔  اسی نے تم کو زمین سے بنایا، اور اس میں تم کو آباد کیا۔ پس معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بے شک میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔(61)

انھوں نے کہا کہ اے صالح اس سے پہلے ہم کو تم سے امید تھی۔ کیا تم ہم کو ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو، اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہہ ہے اور ہم بڑے خلجان میں ہیں۔ (62)

اس نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں  اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت دی ہے تو مجھ کو خدا سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں۔  پس تم کچھ نہیں  بڑھاؤ گے میرا سوائے نقصان کے۔(63)

اور اے میری قوم، یہ اﷲ کی اونٹنی تمھارے لئے ایک نشانی ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ اﷲ کی زمین میں کھائے۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچا ؤ، ورنہ بہت جلد تم کو عذاب پکڑ لے گا۔(64)

پھر انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے۔ تب صالح نے کہا کہ تین دن اور اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہو گا۔ (65)

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بیشک تیرا رب ہی قوی اور زبردست ہے۔(66)

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا، ان کو ایک ہولناک آواز نے پکڑ لیا، پھر صبح کو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔(67)

جیسے کہ وہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔  سنو، ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو، پھٹکار ہے ثمود کے لئے۔(68)

اور ابراہیم کے پاس ہمارے فرشتے خوش خبری لے کر آئے۔ کہا تم پر سلامتی ہو۔ ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلامتی ہو۔ پھر دیر نہ گزری کہ ابراہیم ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔(69)

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں  بڑھ رہے ہیں تو وہ کھٹک گیا اور دل میں ان سے ڈرا۔ انھوں نے کہا کہ ڈرو نہیں ، ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (70)

اور ابراہیم کی بیوی کھڑی تھی، وہ ہنس پڑی۔ پس ہم نے اس کو اسحاق کی خوش خبری دی اور اسحاق کے آگے یعقوب کی۔(71)

اس نے کہا، اے خرابی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالاں کہ میں بوڑھی ہوں  اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے۔ یہ تو ایک عجیب بات ہے۔(72)

فرشتوں نے کہا، کیا تم اﷲ کے حکم پر تعجب کرتی ہو۔ ابراہیم کے گھر والو، تم پر اﷲ کی رحمتیں  اور برکتیں ہیں۔  بے شک اﷲ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔(73)

پھر جب ابراہیم کا خوف دور ہوا اور اس کو خوش خبری ملی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔(74)

بے شک ابراہیم بڑا حلیم اور نرم دل تھا اور رجوع کرنے والا تھا۔(75)

اے ابراہیم، اس کو چھوڑو۔ تمھارے رب کا حکم آ چکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جو لوٹایا نہیں  جاتا۔ (76)

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ گھبرایا اور ان کے آنے سے دل تنگ ہوا۔ اس نے کہا آج کا دن بڑا سخت ہے۔(77)

اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ اور وہ پہلے سے برے کام کر رہے تھے۔ لوط نے کہا اے میری قوم، یہ میری بیٹیاں ہیں ، وہ تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں۔  پس تم اﷲ سے ڈرو اور مجھ کو میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں  ہے۔(78)

انھوں نے کہا، تم جانتے ہو کہ ہم کو تمھاری بیٹیوں سے کچھ غرض نہیں ، اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ (79)

لوط نے کہا، کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں جا بیٹھتا کسی مستحکم پناہ میں۔ (80)

فرشتوں نے کہا کہ اے لوط، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔  وہ ہرگز تم تک نہ پہنچ سکیں گے۔ پس تم اپنے لوگوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے، مگر تمھاری عورت کہ اس پر وہی کچھ گزرنے والا ہے جو ان لوگوں پر گزرے گا۔ ان کے لئے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں۔ (81)

پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کو تلپٹ کر دیا اور اس پر پتھر برسائے کنکر کے، تہہ بہ تہہ۔(82)

تمھارے رب کے پاس سے نشان لگائے ہوئے۔ اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ (83)

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم، اﷲ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا  ہوں ، اور میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (84)

اور اے میری قوم، ناپ اور تول کو پورا کرو انصاف کے ساتھ۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ اور زمین پر فساد نہ مچاؤ۔(85)

جو اﷲ کا دیا ہوا بچ رہے، وہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور میں تمھارے اوپر نگہبان نہیں  ہوں۔ (86)

انھوں نے کہا کہ اے شعیب، کیا تمھاری نماز تم کو یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں۔  بس تم ہی تو ایک دانش مند اور نیک چلن آدمی ہو۔(87)

شعیب نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں  اور اس نے اپنی جانب سے مجھ کو اچھا رزق بھی دیا۔ اور میں  نہیں  چاہتا کہ میں خود وہی کام کروں جس سے میں تم کو روک رہا  ہوں۔  میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں ، جہاں تک ہوسکے۔ اور مجھے توفیق تو اﷲ ہی سے ملے گی۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے۔ اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ (88)

اور اے میری قوم، ایسا نہ ہو کہ میری ضد کر کے تم پر وہ آفت آ پڑے جو قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آئی تھی، اور لوط کی قوم تو تم سے دور بھی نہیں۔ (89)

اور اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ۔ بے شک میرا رب مہربان اور محبت والا ہے۔(90)

انھوں نے کہا کہ اے شعیب، جو تم کہتے ہو، اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں  نہیں  آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے۔ اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں۔ (91)

شعیب نے کہا کہ اے میری قوم، کیا میری برادری تم پر اﷲ سے زیادہ بھاری ہے۔ اور اﷲ کو تم نے پس پشت ڈال دیا۔ بے شک میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔(92)

اور اے میری قوم، تم اپنے طریقہ پر کام کئے جاؤ اور میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ر ہوں گا۔ جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے اوپر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ اور انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں  ہوں۔ (93)

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا، ان کو کڑک نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔(94)

گویا کہ وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سنو، پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو۔(95)

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں  اور واضح سند کے ساتھ بھیجا۔(96)

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پھر وہ فرعون کے حکم پر چلے، حالاں کہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔(97)

قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے ہو گا اور ان کو آگ پر پہنچائے گا۔ اور کیسا برا گھاٹ ہے جس پر وہ پہنچیں گے۔(98)

اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیسا برا انعام ہے جو ان کو ملا۔(99)

یہ بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تم کو سنارہے ہیں۔  ان میں سے بعض بستیاں اب تک قائم ہیں  اور بعض مٹ گئیں۔  (100)

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں  کیا۔ بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ پھر جب تیرے رب کا حکم آگیا تو ان کے معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جن کو وہ اﷲ کے سوا پکارتے تھے۔ اور انھوں نے ان کے حق میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں  بڑھایا۔(101)

اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم پر پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور سخت ہے۔ (102)

اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔  وہ ایک ایسا دن ہے جس میں سب لوگ جمع ہوں گے۔ اور وہ حاضری کا دن ہو گا۔ (103)

اور ہم اس کو ایک مدت کے لئے ٹال رہے ہیں جو مقرر ہے۔ (104)

جب وہ دن آئے گا تو کوئی جان اس کی اجازت کے بغیر کلام نہ کرسکے گی۔ پس ان میں کچھ بدبخت ہوں گے، اور کچھ نیک بخت۔(105)

پس جو لوگ بدبخت ہیں وہ آگ میں  ہوں گے۔ ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا۔ (106)

وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں ، مگر جو تیرا رب چاہے۔ بے شک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہتا ہے۔ (107)

اور جو لوگ نیک بخت ہیں۔  وہ جنت میں  ہوں گے، وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں ، مگر جو تیرا رب چاہے، بخشش ہے بے انتہا۔ (108)

پس تو ان چیزوں سے شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔  یہ تو بس اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کر رہے تھے۔ اور ہم ان کا حصہ انھیں پورا پورا دیں گے بغیر کسی کمی کے۔(109)

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ پھر اس میں پھوٹ پڑ گئی۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات نہ آ چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور ان کو اس میں شبہ ہے جو مطمئن نہیں  ہونے  دیتا۔ (110)

اور یقیناً تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔ وہ باخبر ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں۔ (111)

پس تم جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمھارے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو، بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ (112)

اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اﷲ کے سوا تمھارا کوئی مدد گار نہیں ، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے۔ (113)

اور نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں  اور رات کے کچھ حصہ میں۔  بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لئے۔ (114)

اور صبر کرو، اﷲ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں  کرتا۔(115)

پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں ایسے اہلِ خیر ہوتے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے لوگ نکلے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی عیش میں پڑے رہے جو انھیں ملا تھا اور وہ مجرم تھے۔ (116)

اور تیرا رب ایسا نہیں  کہ وہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے، حالاں کہ اس کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔ (117)

اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔ (118)

سوا ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے۔ اور اس نے اسی لئے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں  اور انسانوں سے اکھٹے بھر دوں گا۔(119)

اور ہم رسولوں کے احوال میں سے سب چیز تمہیں سنا رہے ہیں ، جس سے تمھارے دل کو مضبوط کریں۔  اور اس میں تمھارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی۔ (120)

اور جو لوگ ایمان نہیں  لائے ان سے کہو کہ تم اپنے طریقے پر کرتے رہو اور ہم اپنے طریقہ پر کر رہے ہیں۔  (121)

اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں۔  (122)

اور آسمانوں  اور زمین کی چھپی ہوئی بات اﷲ کے پاس ہے اور وہی تمام امور کا مرجع ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور تمھارا رب اس سے بے خبر نہیں  جو تم کر رہے ہو۔(123)

٭٭٭

تشکر: قرآن ہب ڈاٹ نیٹ جن سے فائل کا حصول ہوا

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید