FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

بے زبانی زباں نہ ہو جائے

(حفیظ ہوشیار پوری ۔۔  بیسویں صدی کی اردو غزل کے تناظر میں)

 

حصہ چہارم(باب ۶)

 

ڈاکٹر قرۃالعین طاہرہ

 

مقالہ:  پی ایچ ڈی ۱۹۹۹ ء

 

نگران: ڈاکٹر سہیل احمد خان

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، لاہور

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

حصہ چہارم

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

 

 

بابِ ششم: معاصرین سے تقابلی جائزہ

 

شاعر معاشرے کا حساس فرد ہونے کے ناطے زندگی کے شب ور وز اسے جو کچھ دکھاتے ہیں، اسے شدت سے محسوس کرتا ہے۔  ان واقعات و سانحات کا تعلق اجتماعیت سے ہے۔  شاعر اسی اجتماع کا ایک حصّہ ہے۔  ایک ہی حصّہ میں بسنے والے تخلیق کار ان مشاہدات کو شعوری، غیر شعوری طور پر اپنی تخلیقات میں پیش کرتے ہیں۔  ہر ایک اسے اپنے ظرف و صلاحیت کے مطابق محسوس کرتا ہے۔  ایک ہی تجربہ ہر ایک کے ہاں الگ آہنگ لیے نظر آتا ہے۔  دوسری طرف فرد اپنی ذات میں کائنات لیے ہوئے ہے۔  اس کی انفرادیت اسے اس اجتماع سے الگ شناخت میں مدد دیتی ہے، لیکن اس انفرادیت کو اس کی پہچان بننے میں ایک عرصہ لگتا ہے۔  شاعر اپنے ابتدائی عہد میں اپنے پیش روؤں اور ہم عصروں سے اثر قبول کرتا ہے۔  زندگی کے اسرار و رموز کے انکشافات کا آغاز عمر کے اس دور سے شروع ہوتا ہے کہ جب اسے چیزوں کی خوبصورتی اپنی جانب کھینچتی ہے۔  وہ بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔  کبھی صبر کا دامن تھامتا ہے تو کبھی چھوڑتا ہے۔  تنہائی، انتظار، یاد اور جدائی اس کی زندگی کے ساتھی بنتے جاتے ہیں۔  اسے وہ اشعار اچھے لگتے ہیں جو اس کے حسب حال ہوں۔  وہ دن رات ان کے ساتھ بسر کرتا ہے۔  تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں تو وہ خود شعر کہتا ہے۔  ایسے میں غیر شعوری طور پر وہی تمام جذبے جو روز آفرینش سے انسان کے ساتھ تھے، اشعار میں ڈھل جاتے ہیں۔  یوں شاعر کے ابتدائی دور کی تخلیقات میں عموماً اس کے پیش روؤں یا معاصرین کی گونج سنائی دے جاتی ہے اور اسے اپنا رنگ قائم کرنے اور اپنی شناخت کرانے میں ایک مدت درکار ہوتی ہے۔

 

 

 

فراق گورکھپوری

 

حفیظؔ کے عہد میں متاخرین شعرائے اردو حسرتؔ، اصغرؔ، جگرؔ، یگانہؔ اور فانیؔ کی سلطنت غزل میں عمل داری تھی یا پھر جوشؔ وفراقؔ کا طوطی بولتا تھا۔  خودفراقؔ پر ان مذکورہ شخصیات کے اثرات نمایاں رہے۔  جوش ؔنظم کے شاعر تھے۔  فراقؔ نظم کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ غزل کی داخلی کیفیات اور نفسیات سے بخوبی آگاہ تھے۔  غزل کے مزاج سے فطری مناسبت بھی رکھتے تھے۔  عشق ان کی زندگی کا مرکزی استعارہ اور غزل کا بنیادی تصوّر ہے۔  یوں فراقؔ کی غزل اردو کی عشقیہ شاعری کی پہچان ٹھہری۔  فراقؔ کی ابتدائی شاعری میں کلاسیکی رنگ نمایاں ہے۔  میرؔ، مصحفیؔ اور مومنؔ بعد ازاں امیرؔ مینائی، حسرتؔ، اصغر ؔ، فانیؔ اور جگرؔ کے نظریہ شعر سے متاثر رہے۔  انھیں اپنی شناخت قائم کرنے اور انفرادی لب ولہجہ تشکیل دینے میں طویل عرصہ لگا۔  میرؔ کا اثر تو بعد تک قائم رہا۔  کلاسیکی غزل کی روایت، جدید عہد کے تجربات اور داخلی زندگی کی محرومیوں اور ناکامیوں نے اس انفرادی شناخت کی تشکیل میں مدد دی۔  فراقؔ وسیع المطالعہ شخص تھے۔  فارسی اور اردو کی شعری روایت اور تاریخ سے آگاہ تھے۔  ہندی النسل ہونے کی بنا پر سنسکرت و ہندی شاعری کی دیو مالائی فضا ان کی ذات کا حصّہ تھی۔  مغربی ادب سے واقفیت نے فکر و نظر کو وسعت بخشی۔  چنانچہ فراقؔ کی شاعری میں موضوعات کے علاوہ اسلوبی سطح پر بھی ندرت نظر آتی ہے۔  نئے رموز و علائم، نیا طرز احساس اور طرز اظہار انھیں روایتی انداز سے انحراف کر کے تخلیق کا وہ پیکر ترشواتا ہے کہ جو منفرد بھی ہے لیکن کلاسیکیت سے بغاوت بھی نہیں ہے۔

فراقؔ کی غزل کو نظر انداز کرنا ابھرتے ہوئے شعرا کے لیے ممکن نہ تھا خصوصاً ً اس صورت حال میں کہ نوجوانی کے ابتدائی جذبہ و احساس پرفراقؔ کے اشعار چھائے ہوں۔  چنانچہ ناصر ؔاور ابن انشاؔ کے علاوہ حفیظؔ ہوشیارپوری بھی ان سے متاثر تھے، پھر حفیظؔفراقؔ کے شاعرانہ مرتبے سے آگاہ تھے، انھیں پسند کرتے اور ان کی عزّت کرتے تھے۔  پسندیدہ شخصیت سے اثر پذیر ہونا انسانی فطرت ہے پھر جو محبت اور عقیدت سے لبریز دل رکھتا ہواسے محبت کا جواب محبت سے کیوں نہ دیا جائے۔  حفیظؔ کی خوش قسمتی کہ جن سے انھوں نے محبت کی انھوں نے بھی حفیظؔ کو عزیز جانا۔

’’سیّد سلیمان ندوی، مولانا عطا اللہ شاہ بخاری، شیخ حسام الدین، جوشؔ، فراقؔ  گورکھپوری، جگرؔ مراد آبادی اور ایسے اور اکابر کلام کے معترف تو تھے ہی لیکن اس سے بڑھ کر وہ تمھاری سادہ، پر خلوص، سعادت مندی کے دلدادہ تھے۔  وہ تمھیں خدمت کرتے دیکھتے تو انھیں بے حد مسرت ہوتی۔  وہ ہمیشہ تمھیں پیار سے یاد کرتے۔

حفیظؔ، مجھے آج وہ دن بھی یاد آیا جب میں کشمیر میں گرمی کی چھٹیاں گزارنے گیا تھا۔  مجھے تمھارا خط ملا۔  تم نے لکھا کہ ستمبر کے آخر میں ریڈیو پہ مشاعرہ ہو رہا ہے۔  اس میں شرکت کرنے والوں میں فراقؔ گورکھپوری بھی ہیں۔  انھوں نے آپ کے ہاں ٹھہرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔  میں نے آپ کی طرف سے دعوت دے دی ہے۔  امید ہے کہ آپ مشاعرے کے موقع پر لاہور میں ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے آپ نہ آ سکے تو مضائقہ نہیں۔  میں موجود ہوں۔  فراقؔ صاحب کی خاطر مدارات میں کوئی فروگذاشت نہیں ہو گی۔

آج مجھے وہ وقت بھی یاد آیا۔  جب مشاعرے کے اختتام پر تم اور فراقؔ میرے ہمراہ گھر پہ آ گئے اور جب تک وہ مہمان رہے، تم برابر حاضر خدمت رہے اور اس بے تکلفی سے میزبانی کی کہ فراقؔ صاحب مجھ سے ایک صبح کہنے لگے۔  تبسّم بھائی، حفیظؔ صاحب آپ کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔  میں نے کہا جی کبھی رہتے تھے، لیکن اب تو یہی سمجھیے وہ یہیں رہتے ہیں۔  فراقؔ صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا۔  سبحان اللہ من تو شدم تو من شدی۔‘‘(۱)

حفیظؔ کو فراقؔ سے قربت کے مواقع تو زیادہ میسّر نہ آئے لیکن وہ فراقؔ کی شعری تخلیقات سے بے حد قریب تھے۔  فراقؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر کہلائے اور غزل میں بھی عشقیہ پہلو کی تہ داری، پیچیدگی اور نفسیاتی عوامل کی طرف ان کی توجہ رہی۔  حفیظؔ نے بھی غزل کے شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی اور غزل میں وہ بھی غم عشق اور اس سے متعلق دیگر کیفیات و احساسات کو مو ضوع ء سخن بناتے رہے، عشق کی سپردگی، حسن پر ستی وگہری داخلیت حفیظؔ کی غزلوں سے بھی عیاں ہے، یہی وجہ ہے کہ حفیظؔ وفراقؔ کے ناقدین اور اردو شاعری کے تجزیہ نگار، فراقؔ کے اثرات، حفیظؔ کی غزل پر، دریافت کرتے رہے اور اپنے اپنے نقطہ نظر کے تحت حفیظؔ وفراقؔ کا موازنہ و مقابلہ کر کے ان کا مقام متعین کرتے رہے۔

’’ان کی غزل فراقؔ، حسرتؔ اور جگرؔ و اصغرؔ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے

 

فراق ؔکا رنگ

ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہم

کون کہے گا پھریہ فسانہ بیٹھ بھی جاؤ سن لو کوئی دم

پروانے کی خاک پریشاں شمع کی لو بھی لرزاں لرزاں

محفل کی محفل ویراں کون کرے اب کس کا ماتم‘‘

(۲)

وقار احمد رضوی حفیظؔؔ کا مرتبہ متعین کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’حفیظؔ کی غزلوں پر کہیں کہیں فراقؔ اور میرؔ کا پر تو ہے۔  حفیظؔ غزل کے شاعر تھے۔  مگر بڑے غزل گونہ تھے۔  جگر، فراقؔ اور فیضؔ کی طرح۔‘‘(۳)

ڈاکٹر وحید قریشی بھی حفیظؔ کی غزل کو فراقؔ کی غزل کا خوشہ چیں بتاتے ہیں۔  ان کے خیال میں حفیظؔ کی غزل کی زندگی، فراقؔ کے دم قدم سے قائم ہے:

’’ناصرؔ کاظمی اور سیّد عظیم مرتضیٰ صرف غزل کہتے ہیں اور فراقؔ گورکھپوری سے متاثر ہیں، مختار صدیقی، ضیاؔ جالندھری، عبدالمتین عارفؔ اور انجمؔ رومانی کو چھوڑ کر باقی سب شعرا رنگ فراقؔ سے کچھ نہ کچھ اثر پذیر ہیں۔  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگلے بیس سال تک غزل گوئی فراقؔ سے ضرور اثر پذیر رہے گی اور شعراکا انفرادی رنگ فراقؔ کے رنگ کو چھو کر گزرے گا۔  روشؔ صدیقی کے علاوہ حفیظؔ ہوشیارپوری کی شاعری نے بھی فراقی رنگ کے ما تحت دوبارہ زندگی حاصل کی، ورنہ شاید حفیظؔ ہوشیارپوری اپنے ساتھی جلال الدین اکبرؔ کی طرح ۱۹۳۵ء کے قریب ختم ہو گئے ہو تے

اور آج اکبرؔ کی طرح حفیظؔ کے نام سے بھی بہت کم لوگ واقف ہوتے۔‘‘(۴)

مظفر علی سیّد حفیظؔ کے قریبی دوستوں اور مداحین میں سے ایک۔  حفیظؔ کی زندگی میں ایک مرتبہ ان سے غزلیات کا مسودہ لیا، اس خیال سے کہ ان کی شاعری پر مضمون لکھیں گے۔  وہ مسودہ ایک مدت تک مظفر علی سیّد کے پاس رہا( اس کی تفصیل حفیظؔ کے مجموعہ کلام کی اشاعت میں تاخیر کے تحت آ چکی ہے )۔  فنون کے جدید غزل نمبر میں انھوں نے ’’حفیظؔ ہوشیارپوری کی چند غزلیں‘‘ کے عنوان سے ۱۹ غزلیں منتخب کر کے، جو دس اور پھرنو کی تعداد میں فنون جدید غزل نمبر میں شائع ہوئیں، حفیظؔ کے کلام پر تبصرے کے ساتھ بھجوائیں۔  مظفر علی سیّد حفیظؔ کی فطری بے نیازی کا ذکر کرنے کے بعد ان کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہیں:

’’وہ اس دور کا غزل گو ہے کہ جب محض غزل کہنا ہی روایتی شاعر ہونے کی دلیل سمجھا جاتا تھا۔  پھر بھی بڑے بڑے تجربہ پرست لوگ اس کی غزل کو ماورائے غزل، شاعری اور وہ بھی نئی قسم کی شاعری سمجھتے تھے۔  کرشن چندر کے نئے زاویوں میں بہت کم غزل گوؤں کو بار ملا ہے۔  یہاں تک کہ یگانہ اور آرزو لکھنوی بھی مرتب کے نزدیک کسی نئے زاویے سے محروم ہی پائے گئے، البتہ فراقؔ گورکھپوری موجود ہیں اور ان کے ساتھ حفیظؔ ہوشیارپوری۔  شاید اس وجہ سے بعض لوگ انھیں اپنے ممتاز اور کسی قدرسینئر ہمعصر کامقلدو معتقد وغیرہ بھی سمجھتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ حفیظ ہوشیارپوری کے یہاں دو چار ترکیبیں چند ایک اشعار اور ایک آدھ غزل ایسی مل جائے گی جوفراقؔ کی یاد دلاتی ہے مگر حفیظؔ کے بعد کے کلام سے جو شخص واقف ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کی غزل فراقؔ کی غزل سے اتنی ہی دور ہے جتنا کہ (مثلاً ) کوئی مسلمان کسی کا ئستھ سے۔‘‘(۵)

مظفر علی سیّد صاحب کا یہ کہنا کہ چونکہ ’’نئے زاوئیے‘‘ میں فراقؔ و حفیظؔ دونوں کا کلام تواتر کے ساتھ شائع ہوا اس لیے لوگوں نے حفیظؔ کو فراقؔ سے متاثر یا مقلد وغیرہ کہا، بے معنی معلوم ہوتا ہے۔  ایک ہی رسالے میں کئی لکھنے والوں کی تخلیقات شائع ہوتی ہیں۔  سب ایک ہی عہد اور ایک سے مسائل سے دو چار ہیں۔  پھر ان سب کو ایک دوسرے کامقلد نہیں کہا جا سکتا۔

حفیظؔ کی وفات کے بعد لکھے گئے دوسرے مقالے میں مظفر علی سیّد اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’… ادھر الزام لگانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں کہ جہاں انھیں دو شاعروں کے کلام میں کوئی سر سری مشابہت نظر آئی فوراً ایک کو دوسرے کا خوشہ چیں بنا کے رکھ دیا اور دونوں میں جو جو اہم امتیاز ات پائے جاتے ہیں ان کو یک قلم فراموش کر دیا۔  چنانچہ حفیظؔ کو بھی اپنی وسیع النظری کی قیمت ادا کرنا پڑی۔‘‘(۶)

پروفیسر مجتبیٰ حسین، حفیظؔ کی وفات کے بعد لکھے گئے اپنے تعزیتی مضمون میں حفیظؔ سے متعلق اپنی یادوں کو جگاتے ہوئے ان سے پہلی ملاقات اور پھر اکثر و بیشتر ملاقاتوں کے تذکرے کے بعد ان کی علم شناسی، علم دوستی و علم نوازی کے ذکر کے تحت ان کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہیں۔  ان کے خیال میں حفیظؔ کا شعری سلسلہ فراقؔ سے جاملتا ہے:

’’…علمی و تحقیقی مزاج نے ان کی شاعری کو خراب نہ کیا اور نہ شاعری انھیں عالمانہ جستجو و تحقیق سے ہٹا سکی۔  ان کے مزاج میں توازن تھا۔  یہی توازن ان کی غزلوں میں بھی ہے۔  حفیظؔ صاحب کا لہجہ معتدل ہے۔  اس میں حزن و ملال ہے، مگر شائستہ انداز میں یہ سوچتے ہوئے لہجے کی شاعری ہے جوفراق صاحب سے ہمیں ملی ہے۔  اس لہجے میں ہجر و وصال دونوں کا ایک امتزاج پایا جاتا ہے اور اسی امتزاج سے وہ عالم بنتا ہے، جہاں نہ غم ہے نہ نشاط، بلکہ ایک تیسری کیفیت ہے جس کا نام وقت اور گزران وقت ہے۔‘‘(۷)

جناب مظفر علی سیّد پروفیسر مجتبیٰ حسین کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔  زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کرنا اور وقت گزاری کرنا دو الگ مفاہیم ہیں:

’’گزران وقت حفیظؔ کا مسئلہ کبھی نہ تھی اور فراقؔ سے متاثر ہونے کا الزام بھی کم سے کم اتنا پرانا ضرور ہے جتنا کہ فنون کا غزل نمبر۔‘‘(۸)

زندگی میں مختلف کیفیات، جذبات، احساسات اور رویے، انسان کو اپنی گرفت میں لیے رہتے ہیں۔  بے شک زندگی کے موضوعات لامحدود سہی، لیکن ہرفرد اپنی زندگی میں محبت، نفرت، ہمدردی، پیار، ہوس لالچ، جھوٹ، سچ غرض بے شمار و اقعات و حالات و کیفیات کا سامنا کرتا ہے۔  وہی جذبے جو انسان کے ساتھ روز ازل سے تھے، انھیں وہ اپنے انداز سے بیان کرتا

ہے۔  اس کی انفرادیت بھی اجتماعیت کا ایک حصّہ ہے۔  یوں بھی ہوا ہے کہ جو وہ کہنا چاہتا ہے۔  وہی کچھ کوئی اور بھی کہہ گیا ہے۔  بسا اوقات اسے خود بھی علم نہیں ہوتا اور بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ کہی جانے والی بات اس کے جسم و جاں کو یوں حصار میں لے لیتی ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ وہی بات دہرا دیتا ہے۔  حفیظؔ کی شاعری کا ابتدائی زمانہ فراقؔ کے عروج کا زمانہ تھا۔  ایسے میں ذہنی ہم آہنگی اکثر اشعار میں نمایاں ہوئی ہے ڈاکٹر نوازش علی کے مطابق:

’’حفیظؔ ہوشیارپوری کے چند ایک اشعار دیکھیے جن پرفراقؔ کے اشعار کی پرچھائیاں صاف دیکھی جا سکتی ہے ہیں۔  کہیں ایک مصرعے پر کہیں پورے شعر پر

محبت کی حقیقت اے حفیظؔ اس کے سوا کیا ہے

بہت مشکل تھا جینا اس کو آساں کر رہا ہوں میں

(حفیظؔ)

ہمارا تجربہ یہ ہے کہ خوش ہونا محبت میں

کبھی مشکل نہیں ہوتا کبھی آساں نہیں ہوتا

(فراق)

دنیا میں ہیں کام بہت

مجھ کو اتنا یاد نہ آ

(حفیظ)

زندگی کو بھی منہ دکھانا ہے

رہ چکے ترے بے قرار بہت

(فراق)

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

(حفیظ)

ترافراق تو اس دن ترافراق ہوا

جب ان سے پیار کیا میں نے جن سے پیار نہ تھا

(فراق)

اگر تو اتفاقاً مِل بھی جائے

تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

(حفیظ)

تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بیتابیء دل

اتنا آساں ترے ہجر کا غم تھا بھی کہاں

(فراق)

آدمی آدمی جب تک نہ رہے

حزر اس فتنۂ آب و گل سے

(حفیظ)

اگر بدل نہ دیا آدمی نے دنیا کو

تو جان لو کہ یہاں آدمی کی خیر نہیں

(فراق)

حسن کو دیکھا ہے میں نے حسن کی خاطر حفیظؔ

ورنہ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کیے

(حفیظ)

حسن کو اک حسن ہی سمجھے نہیں اے فراقؔ

مہرباں نامہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

(فراق)

کچھ بھی ہو پر ان آنکھوں نے اکثر یہ عالم بھی

عشق کی دنیا ناز سراپا، حسن کی دنیا عجز مجسم

(حفیظ)

حسن سرتاپا تمنّا، عشق سر تاسر غرور

اس کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں

(فراق)‘‘

(۹)

فراق و حفیظؔ میں مماثلت کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جا سکتی ہے کہ اسلوبی سطح پرفراقؔ بھی مسلسل غزل کے حامی ہیں اور حفیظؔ بھی غزل میں تسلسل اور مزاج کی یکسانیت کو مستحسن خیال کرتے ہیں۔  نئی اردو کا تجزیہ کرتے ہوئے حفیظ کہتے ہیں:

’’نئے دور کی غزلوں کا ایک نیا اسلوب ان کا تسلسل ہے۔  مسلسل غزلوں کے آثاراساتذہ خصوصاً ً میرؔ کے ہاں قطعات کی صورت میں جا بجا نظر آتے ہیں۔  یہ قطعات عام غزلوں ہی کا حصّہ ہوتے تھے اور جہاں کوئی مضمون دو مصرعوں کے پیمانے میں نہ سماسکتا، اسے دویا تین یا ایک سے زیادہ شعروں میں بیان کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن غزلوں کے باقی شعروں کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہ ہوتا تھا۔  یہ بات جہاں شاعر کے اعتراف عجز کی دلیل سمجھی جاتی تھی وہاں غزلوں کے ایک ناقص صنف سخن ہونے کا ثبوت بھی بہم پہنچاتی تھی۔  نئے دور کے بعض ممتاز شعرا نے غزل کے بارے میں اس نظریے کو غلط ثابت کردکھایا ہے۔  اس سلسلے میں آزاد ؔانصاری، سیمابؔ، جوشؔ، جگرؔ، فراقؔ، احمد ندیمؔ قاسمی، مجازؔ اور جاں نثارؔ اختر کے نام قابل ذکر ہیں۔‘‘(۱۰)

اردو غزل کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حفیظؔ کہتے ہیں:

’’غزل کے متعلق مختصر الفاظ میں میرا نظریہ یہ سمجھ لیجیے کہ میرے نزدیک اس قدیم صنف سخن کے لیے موضوع اور اسلوب بیان کی کوئی قید نہیں۔  تسلسل، غزل کے حسن میں اضافہ کرتا ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ بہترین شعرا کی بہترین غزلوں میں غیر شعوری طور پر ایک تسلسل نظر آتا ہے۔‘‘(۱۱)

فراقؔ و حفیظؔ کی اکثر غزلوں میں خیالات کا تسلسل اور موضوع کی یکسانیت شدّت تاثر کو واضح کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔

حفیظؔ وفراقؔ کے بعض اشعار سرسری نگاہ سے دیکھے جائیں تو ان میں مماثلت نظر آتی ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو موضوع کی کسی حد تک یکسانیت کے باوجود حفیظؔ کے اشعار میں مفاہیم کے نئے در کھلتے نظر آئیں گے۔

جذبۂ محبت انسان کو دکھ، تڑپ، کسک، جدائی، ترک تعلق اور یاد سبھی رویوں سے آشنا کرتا ہے۔  خود اذیتی یا زندگی کے حقائق سے فرار اسے یادوں کی دنیا میں دھکیل دیتا ہے۔  یادیں اسے خوشی بھی دیتی ہیں اور اذیت بھی۔

جن کو ہم اک عمر تک بھولے رہے

آج وہ باتیں بہت یاد آئیاں

(فراق)

یہ ترک محبت ہے کہ تجدید محبت

پہلے سے بھی آنے لگے وہ مجھ کو سوا یاد

(حفیظ)

زندگی میں غم کی اہمیت بے حدوحساب ہے انسان غم ہی کے سہارے جیتا ہے۔  غم کی نوعیت بدلتی جاتی ہے لیکن وہ موجود بہر صورت رہتا ہے۔  زندگی میں غم، غم جاں یا غم جاناں کسی نہ کسی شکل میں اپنا آپ نمایاں کرتا ہے۔

لاکھ غم مٹ گئے تو کیا غم ہے

زندگی ہے تو کیا کمی غم کی

(فراق)

زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم

یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

(حفیظ)

لیلیٰ کا حسن دیکھنے کے لیے قیس کی نگاہ درکار ہے۔

یونہی سا تھا کوئی جس نے مجھے مٹا ڈالا

نہ کوئی نور کا پتلانہ کوئی زہرہ جبیں

(فراق)

اب ان کے حسن میں حسن نظر بھی شامل ہے

کچھ اور میری نظر سے نکھر گیا کوئی

(حفیظ)

ہنستے ہوئے چہروں اور خوشی سے بھرے دلوں کے لیے دامان کائنات ہمیشہ وا رہتا ہے۔  سبھی ان کے دوست ہوتے ہیں، لیکن غمزدہ اور دکھوں کے ستائے ہوئے لوگوں کو تنہا ہی اپنے دکھ جھیلنے پڑتے ہیں، پھر ہر فرد اپنے دکھوں کی نمائش کر کے لوگوں کی ہمدردی بھری نگاہوں کا طالب بھی نہیں ہوتا اس لیے وہ زخمی دل کے ساتھ بھی چہرے پر ہنسی سجائے رکھتا ہے۔  کبھی یوں بھی ہوا کہ انسان اپنی حالت پر ہنس دیتا ہے اور بسا اوقات غم کی شدّت میں اپنے حواس کھوبیٹھتا ہے۔

روکنے سے ہنسی نہیں رکتی

زمانہ غم سے نا محرم رہے گا

(فراق)

تبسّم پردہ دار غم رہے گا

زمانہ غم سے نا محرم رہے گا

(حفیظؔ)

دوستی زندگی کی اعلی اقدار میں سے ایک انسان عموماً ایک وسیع حلقۂ احباب رکھتا ہے لیکن دوست مقدر ہی سے ملا کرتے ہیں۔

اک زمانہ ہے دوست یوں توفراقؔ

اس زمانے میں دوست کس کو کروں

(فراق)

کچھ دوست مل گئے ہیں یہاں اتفاق سے

ملتے ہیں ورنہ دوست کہاں اتفاق سے

(حفیظؔ)

حفیظؔ کے ناقدین نے حفیظؔ کی شاعری پرفراقؔ کے واضح یا خفیف اثرات کا تذکرہ کیا ہے۔  اس سلسلے میں فراقؔ کے بارے میں حفیظؔ کے اپنے خیالات سے آگاہی ضروری ہے۔  ابتدائی عہد میں لکھے گئے ایک مضمون ’’اردو غزل کے پچیس سال‘‘ میں حفیظؔ اردو غزل میں فراقؔ کے مقام و مرتبہ اور ان کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

’’ہمارے زمانے میں فانی ؔاور فراقؔ نے حسن و عشق کا صحیح تصوّر پیش کیا ہے فراقؔ اپنی ناکامیوں کے ساتھ محبوب کی مایوسیوں اور مجبوریوں کو بھی محسوس کرتا ہے۔  محبوب کے غم کا احساس اس کی وفاداری کا اعتراف اور اپنی خامیوں پر اظہار ندامت، یہ سب باتیں اس خلوص اور سچے عشق کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جس سے ہمارے پرانے غزل گو نا آشنا تھے۔  خلوص وفا کے ساتھ صدق اظہار۔‘‘(۱۲)

اسی مضمون میں عروضی لحاظ سے غزل میں تبدیلی سے بحث کرتے ہوئے حفیظؔ لکھتے ہیں:

’’اس دور میں غزل کی تکنیک میں بھی کچھ تبدیلی ہوئی۔  یہ اور بات ہے کہ یہ تبدیلی دو ایک شاعروں کے تجربات تک محدود رہی اور دوسروں نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔  بحور میں پنگل کا وزن میر کے بعد شاذ ہی ملتا ہے۔  اجتہاد کی پیروی عظمت اللہ خان نے کی۔  آرزوؔ کے ہاں بھی ایسی غزلیں ملتی ہیں۔  فراقؔ نے بھی بعض غزلوں میں پنگل کا وزن استعمال کیا ہے۔

اک تری یاد ایسی ہے جس سے جلوہ نظر آئے

اک تری یاد ایسی ہے جس سے آنکھوں میں آنسو بھر آئے

یا

انقلاب کل ہو گا شاید آج تو اس کا وقت نہیں

کیوں انگڑائی لیتی ہے دنیا، کیوں کروٹ بدلتی ہے زمین

ایسی غزلوں میں حسن صوت کے لیے الفاظ کو گرا کر ان میں وسعت اور نشیب و فراز بھر دیے جاتے ہیں اور شعر معنوی اعتبار سے زیادہ فصیح ہو جاتا ہے مثلاً انقلاب کی ’’ب۔  ‘ ‘(۱۳)

حفیظؔ غزل میں، اسلوبی و موضوعی سطح پرفراقؔ کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔  ان جدید احساسات اور نئے رویوں کاتذکرہ کرتے ہیں جوفراقؔ کی طرف سے اردو غزل کو دیے گئے، لیکن ان کے سوانحی خاکہ میں پسندیدہ شعرا کے ضمن میں فراقؔ کا تذکرہ موجود نہیں:

’’…میرے محبوب پسندیدہ اردو شعرا میں میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ، حسرتؔ موہانی، یاسؔ یگانہ، فانیؔ بدایونی، اصغرؔ گونڈوی، فارسی میں سعدی، ؔ حافظؔ، امیر خسروؔ، رومیؔ، عراقیؔ، نظیریؔ، عرفیؔ، بیدلؔ اور انگریزی میں براؤننگ، کیٹس، شیلے، کالرج اور ٹی۔  ایس۔  ایلیٹ، شامل ہیں۔‘‘(۱۴)

۱۹۵۲ء میں روز نامہ چٹان کے لیے جناب شفیع عقیل نے حفیظؔ سے انٹرویوکیا۔  اس انٹرویو سے حفیظؔ کی شخصیت و شاعری کے کئی پہلو ابھر کر سامنے آئے۔  حفیظؔ کی فراقؔ سے متاثر ہونے والی بات شفیع عقیل کے ذہن میں موجود تھی۔  سوال گھما پھرا کر کیے۔  مطلوبہ جواب نہ ملا تو براہ راست دریافت کیا:

’’فراقؔ کی غزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟

فراقؔ کے جو اشعار وقتاً فوقتاً مجھے پسند آتے رہتے ہیں ان میں مجھے تازگی اور توانائی نظر آتی ہے۔‘‘(۱۵)

یہ درست سہی کہ حفیظؔفراقؔ سے متاثر تھے، لیکن اتنا نہیں کہ جتنا سمجھا گیا۔  خود حفیظؔ نے فراقؔ سے اپنی محبت و عقیدت کے باوجود اس بات کا اعتراف کبھی نہیں کیا۔  وہ انھیں اردو کی شعری روایت کے ایک اہم شاعر جانتے تھے۔  اپنی ادبی زندگی کے ابتدائی دور میں لکھے گئے مضمون ’’اردو غزل کے پچیس سال‘‘ میں وہ فراقؔ کے پیش کردہ تصوّر حسن و عشق کو سراہتے ہیں۔  عشق کی ناکامی کے ساتھ ساتھ محبوب کی محرومیوں، مجبوریوں اور اس کے غم کا احساس، اس کی وفاداری کا اعتراف اور عاشق کا اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر اظہار ندامت کو، فراقؔ کی نمایاں شعری خصوصیات میں سے بتاتے ہیں۔  حفیظ، ؔفراقؔ کے ان رویوں اور احساسات کو اپنے مزاج اور جذبوں سے قریب تر محسوس کرتے ہیں۔  ذہنی مطابقت و ہم آہنگی کی بنا پر ان سے متفق بھی ہوتے ہیں۔  عاشق ازل سے باوفا اور محبوب ازل سے سنگدل اور جو رو جفا کا شائق ہے۔  فراقؔ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور یہی اختلاف حفیظؔ کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔  یوں مزاج کی یکسانیت اور خیال کی ہم آہنگی شعروں میں بھی جھلک دکھا جاتی ہے۔  محبت، حفیظؔ کی غزل کا بنیادی استعارہ ہے اور فراقؔ کی شاعری بھی عشق سے عبارت ہے۔  محمد حسن عسکری کہتے ہیں:

’’فراق ؔکی عشقیہ شاعری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا محرک غرور عشق ہے مگر یہ شاعری صرف عشق نے نہیں کی، بلکہ شاعر کے پورے شعور نے کی ہے۔  فراقؔ نے عشق کو شعور اور زندگی کے دوسرے تجربات سے الگ کر کے نہیں دیکھا بلکہ عشق کو پوری زندگی کے گرد و پیش میں رکھ کر۔  ان کے یہاں عشق بہت سے ذہنی تجربوں میں سے ایک تجربہ ہے۔‘‘(۱۶)

حفیظؔ، فراقؔ سے کسی حد تک متاثر تھے مگر مقلد قطعی نہ تھے۔  حفیظؔ وفراقؔ کی شخصیت و شاعری میں سوائے اس کے کہ دونوں ایک ہی عہد کی شاعر ہیں اور دونوں کا بنیادی موضوع حسن و عشق ہے اس کے علاوہ اور کوئی قدر مشترک نہیں۔  فراقؔ سینئر ہیں اس لیے بھی انھیں اولیت دی جاتی رہی ہے۔  حمید نسیم راقمہ کے نام ایک خط میں تحریر کرتے ہیں:

’’حفیظؔ صاحب جرأتؔ، مصحفیؔ اور مومنؔ کی روایت غزل سے وابستہ ہیں۔  بیسویں صدی میں اس رنگ کو سب سے پہلے حسرتؔ موہانی نے اپنایا۔  فراقؔ کے ہاں ہندی عورت کی محبت سامنے آتی ہے، جبکہ حفیظؔ کا تغزل خالصتاً مصحفی ؔاور مومنؔ کی روایت کی توسیع ہے۔  حفیظؔ صاحب نے معاملات محبت کی نازک نفسیاتی کیفتیوں کو بڑے بانکپن سے پیش کرتے ہیں۔  مثال کے طور پر یہ اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں۔

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

پہلی ہی ملاقات میں یہ حال تھا گویا

اک شکل تھی پہچانی ہوئی نام نہ تھا یاد

ترے جاتے ہی یہ عالم ہے گویا

تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

کوئی آیا نہ گیا دل کا یہ عالم جیسے

آج پھر ان کی ملاقات ہوئی ہے مجھ سے

زمانہ ہو گیا لیکن یہی محسوس ہوتا ہے

تمہیں پہلے پہل جس طرح دیکھا ہو ابھی ہم نے

میں نے فراقؔ کا شعلہ و ساز چھپنے سے پہلے مکتبۂ اردو میں دیکھا تھا۔  مجھے فراقؔ کے کلام میں یہ تہ داری نظر نہیں آئی تھی۔  ایک تازگی سی تھی، جو اس کی دیومالائی تہذیب نے اس کے کلام کو عطا کی تھی۔  اس کا ایسا کلام

شبِ وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

اپنی صفت میں بیانیہ ہے۔  اس میں صنعت تضاد سے استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  میری ذاتی رائے ہے کہ حفیظؔ اپنی برتر سطح کلام میں فراقؔ کی غزل سے برتر غزل کہنے والا شاعر ہے۔  حفیظؔ کا خاص لہجہ، اس کے ہاں زیر لب بات کہنے کا ڈھنگ جس میں ہماری معاشرتی روایت کی شائستگی اور دھیما پن بڑا سج کے آیا ہے۔  حفیظؔ کی لغت روایتی غزل کی ہے، مگر اس کے اسلوب اور لہجے میں سادگی سارے کلام کو ایک منفرد رنگ عطا کر دیتی ہے جو رنگ حفیظؔ ہے۔

کیا دل گرفتہ ہم تری محفل سے آئے ہیں

آنکھوں میں اشک بھی بڑی مشکل سے آئے ہیں‘‘

(۱۷)

محمد علی صدیقی فراقؔ و حفیظؔ کی شاعری کے عشقیہ پہلو کا تجزیہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’عشقیہ شاعری کے لہجے میں حفیظؔ نے فراقؔ کا تتبع کیا ہے … وہ کسی کے شعری اسلوب کی تقلید میں اس حد تک آگے نہیں گئے کہ اپنا مخصوص انداز وضع نہ کر سکے ہوں، بلکہ حفیظؔ کی غزلوں میں قدرے پیچیدہ تر محسوسات کو روح عصر میں ’’بپتسمہ‘‘ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل فراقؔ کی غزل کا ایک حد تک ساتھ دیتے ہوئے بھی اپنے انفرادی رنگ اور پختگی کی وجہ سے ایک ممتاز درجہ رکھتی ہے۔  فراقؔ کو اپنی بسیار گوئی کی وجہ سے مفتی صدرالدین آزردہ اور امام بخش صہبائی جیسے سخت گیر انتخاب کنندوں کی ضرورت محسوس کرنی چاہیے، لیکن حفیظؔ ہوشیارپوری کا عجزوانکسار اور کلاسیکی سرمایہ کے سامنے ہیچ مدانی کا احساس ان سے اتنی لغزشیں نہیں کرواتا جوفراقؔ جیسے بزرگ شاعر کے حصّے میں آئیں۔‘‘(۱۸)

ضیاؔ جالندھری، معاصرین سے حفیظؔ کا تقابلی تجزیہ یوں کرتے ہیں:

’’وہ بات جوفراق ؔکی شاعری کی امتیازی خصوصیت ہے، اس کی ابتدا حفیظؔ نے کی، وہ شاعری جو ناصرؔ کاظمی نے ہمیں دی وہ حفیظؔ ہی کی غزل کا پر تو ہے، لیکن حفیظؔ کی بے نیازی نے اپنا حق بھی دوسروں کو دے دیا۔‘‘(۱۹ )

حفیظؔ کی شاعری تخلیقی کم اور حقیقی زیادہ ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں گہرائی و شعری صداقت اشعار کی اثر آفرینی میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔  ان کے کلام میں صرف رسمی و روایتی جذبہ و احساس کا تذکرہ نہیں ہے۔  فراقؔ حسن پرست شاعر ہیں۔  حسن انسان اور حسن فطرت کے دلدادہ۔  محبوب کے حسن کی جھلک ان کی شاعری میں نمایاں ہے۔  وصل محبوب کی تصویر یں بھی جا بجا ملتی ہیں۔  یہ الگ بحث کہ ان تصویروں کا رنگ اصلی ہے یاخیالی۔  فراقؔ کے حسن کی دنیا حقیقی ہے یا محض واہمہ، زندگی کو کیسا ہونا چاہیے فراقؔ نے اپنی اسی خواہش کو حقیقی زندگی تصوّر کر کے اس میں اپنے تخیل اور آرزؤں کے سارے رنگ بھر دیے اور یوں حفیظؔ کی شاعری بیتی ہوئی اور فراقؔ کی سوچی ہوئی شاعری ہے۔

فراق ؔکی شاعری میں مذہبی و ملی عناصر کا فقدان ہے۔  حفیظؔ کی شاعری میں ملک و قوم کا درد بھی ہے اور مذہب کا اثر بھی۔

فراق ؔکی غزل کی فضا ہندی و سنسکرت ادب معاشرے سے تشکیل پاتی ہے۔  حفیظؔ کی شاعری میں عجمی تہذیب و روایات کا عمل دخل نمایاں ہے۔  فراقؔ کی شاعری میں ہندی الفاظ کا استعمال اور تشبیہات و استعارات کا ہندوستانی فضاسے مستعار لینا غزل کو خالص ہندوستانی بنا کر پیش کرتا ہے۔  فراقؔ کی غزل میں فطرت پرستی نمایاں ہے۔  وقت کا احساس، صبح شام خصوصاً ً رات چاند ستارے سورج ہوا فضا کائنات سبھی زیر بحث ہیں۔  گھریلو نا آسودگی کی بنا پرفراقؔ کے ہاں شب بیداری کی کیفیت ساری شاعری پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔  فراقؔ کی شاعری میں گھریلو زندگی کی خواہش اور تذکرہ بھی موجود ہے جس نے نا آسودگی اور ذہنی انتشار کی بنا پر جنم لیا۔

فراقؔ پر گو شاعر تھے۔  طویل غزلیں کہتے۔  غزل کی طوالت کی بنا پر اس میں پست و بلند سبھی اشعار مل جاتے، بلکہ معیاری اشعار بھی بھرتی کے اشعار کی وجہ سے ماند پڑ جاتے ہیں۔

رات بھر جاگتے، غزل کہتے رہتے اور تمام کے تمام اشعار شامل اشاعت کر لیتے۔  یوں فراقؔ کی پُرگوئی نے انھیں پست گوئی کا تحفہ دیا تھا۔  میرؔ کی مانند ان کے اشعار میں پست و بلند موجود ہے۔  فراقؔ کی زندگی میں ہی ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام آئے۔  حفیظؔ کے مجموعۂ کلام میں تاخیر کا باعث ان کے کڑے انتخاب کی عادت تھی۔  مسودہ پر نظر ثانی کی وجہ سے دیر ہوتی گئی۔  جب بھی ان سے مسودہ مانگا جاتا۔  وہ ایک دفعہ اور دیکھ لوں کہہ دیتے، حتیٰ کہ زندگی نے وفا نہ کی اور ان کا مجموعہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔  ان کے اس کڑے انتخاب کی وجہ سے پست یا غیر معیاری یا زبان و بیان اور اسلوب کے لحاظ سے کمزور شعر ان کے مجموعے میں تلاش کرنا مشکل ہے۔

فراقؔ ترقّی پسند تحریک سے وابستہ نہ تھے لیکن ان کی شاعری میں ترقّی پسند اثرات واضح ہیں۔  حفیظؔ کا بھی ترقّی پسند تحریک سے تعلق نہ تھا، لیکن ان کی شاعری میں بھی کسی حد تک ترقّی ٖپسندی کے اثرات موجود ہیں۔

حفیظؔ وفراقؔ کی شاعر میں کچھ مماثلت تلاش کر بھی لی جائے، لیکن ان دونوں کی شخصیت میں زمین و آسمان کا بعد نظر آئے گا۔

فراق ؔایک ہندو گھرانے اور ہندو معاشرے کے فرد تھے۔  انھوں نے ہندی دیو مالا اور قدیم ہندی ادب کا مطالعہ اور اس سے استفادہ بھی کیا۔  انھوں نے اپنی غزل میں ہندی تہذیب و مزاج کو سمونا چاہاہیے۔  ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جن میں ہندو فلسفہ حیات، عقیدے، واقعے یا روایت کو بیان کیا گیا ہو۔  حفیظؔ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مسلم تہذیب و ثقافت اور معاشرت کو عزیز رکھتے تھے۔  وہ درویش منش سادگی پسند انسان تھے جو لباس و خوراک ہر معاملے میں بے نیاز اور قناعت پسند تھے۔  اسی بنا پر پیسہ ان کا مسئلہ کبھی نہیں رہا۔  مشاعروں میں شرکت، نمود و نمائش اور شہرت کی خاطر ہویا صلہ کی طلب میں، حفیظؔ نے ہمیشہ بے نیازی برتی۔  اس کے برعکس فراقؔ شہرت کے طالب ہونے کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں اس ہدیہ کے پیش نظر بھی شریک ہوتے تھے جو انھیں منتظمین کی طرف سے عنایت کیا جاتا تھا۔  حفیظؔ مشاعروں میں بہت کم شرکت کرتے تھے۔  طویل علالت کے دوران میں کبھی حفیظؔ یا ان کے احباب کی طرف سے مدد یا ہمدردی کی درخواست نہیں کی گئی۔  فراقؔ اپنی بیماری کی خبریں خود شائع کراتے کہ شاید کسی وزیر سفیرکی نظر سے خبر گزرجائے، یوں امداد کے متوقع رہتے، پھر یہ بات بھی نہ تھی کہ فراق ضرورت مند تھے اور انھیں زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے امداد کی ضرورت ہو۔  آخر عمر میں وہ شدید عدم تحفظ کا شکار تھے اور دولت چوری ہو جانے کا انھیں کھٹکا لگا رہتا تھا۔  حفیظؔ زندگی میں بھی مطمئن رہے اور موت کے وقت بھی ان پر کوئی بوجھ یا کوئی پریشانی نہ تھی۔

اس تقابل و تجزیے کا مقصد حفیظؔ کو برتر ثابت کرنا نہیں بلکہ حقائق کی وضاحت ہے۔

 

ناصر کاظمی

 

اردو کی شعری روایت میں زندہ دلان لاہور کا بڑا حصّہ ہے۔  قیام پاکستان سے قبل نظم اپنے عروج پر تھی، لاہور کے شاعر بھی اس صنف کو اظہار خیال کے لیے منتخب کر رہے تھے۔  مشاعرے جو عموماً غزل سے مخصوص سمجھے جاتے تھے۔  اب انجمن پنجاب کے زیر اہتمام ہونے والے نظمیہ مشاعروں کی بنا پر، کچھ ترقّی پسند تحریک کے اثر سے اور کچھ زمانے کے مزاج اور تقاضوں کی وجہ سے شاعر مشاعروں میں بھی نظم ہی سناتے اور داد پاتے۔  اس سے قبل کہ غزل قصۂ پارینہ بن جاتی۔  کچھ ایسے شاعر سامنے آئے کہ جنھوں نے ایسی بھر پور غزل کہی کہ سبھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔  غالب احمد لکھتے ہیں:

’’۱۹۴۷ء کے بعد لاہور نے رنگ بدلنا شروع کیا۔  مشاعروں میں غزل گو شعرا پھر چمکنے لگے۔  سیف الدین سیفؔ نے جگرؔ اور داغؔ کے رنگ میں مشاعروں میں جان ڈال دی۔  ناصرؔ کاظمی اور حفیظؔ ہوشیارپوری نے غزل کی ہئیت میں نئے تجربوں کی ابتدا کی۔‘‘(۲۰)

ناصرؔ کاظمی کو بھی اس بات کا احساس تھا:

’’جس زمانے میں اپنی حفیظؔ سے دوستی ہوئی وہ زمانہ غزل گو شعرا کے لیے بہت بھاری

تھا۔  بیسیوں میں دوچار کا کہیں بناؤتھالیکن حفیظؔ اپنی روش پر ڈٹا رہا۔  وہ نگیں کی طرح گھر میں گڑ کر بیٹھا رہا اور اس نے کنج تنہائی میں رہ کر بڑے حوصلے سے دیوانگی کی‘‘(۲۱)

حفیظؔ و ناصرؔ نے غزل کو نئی معنوی جہت اور وسیع امکانات سے روشناس کیا۔  ذات کی اداسی، تنہائی اور اضطراب شاعر کی ذات تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس نے سارے شہر، ساری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔  ناصر ؔکی شاعری معاشرتی بے مہریوں، تنہائیوں اور اداسیوں کے تار و پو سے وجود میں آئی۔

تنہائی کے اس آسیب نے ناصرؔ کو ہی نہیں، ہر درد مند حساس دل کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔  زندگی کی تیزی سے بدلتی اقدار نے انسانی ذہن کو پراگندگی کا شکار کیا اور اسے وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔  دوستی کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن دوستی جیسے مقدس جذبے کی تقدیس بھی آج نفسانفسی کے اس دور میں برقرار نہیں رہ سکی۔  احباب کے اس سرد رویے نے انسان کو الگ تھلگ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔  شاعر جو حساس دل رکھتا ہے۔  زندگی کے اس رخ سے سمجھوتہ نہیں کرپا رہا۔

کون کسی کا پرساں ہے اس گوں گی بہری دنیا میں

دل میں لیے سب حسرت عرض حال گزرتے جاتے ہیں

(حفیظؔ)

نفسانفسی کے اس دور میں ناصرؔ خدا سے شکوہ کناں ہیں۔

اومیرے مصروف خدا

اپنی دنیا دیکھ ذرا

اتنی خلقت کے ہوتے

شہروں میں ہے سناٹا

ایک ہی عہد، معاشرے اور ماحول سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ناصرؔ و حفیظؔ کے سامنے مسائل بھی ایک سے تھے۔  مزاج کی یکسانیت انھیں ایک دوسرے کے قریب لے آئی۔  ناصرؔ کا حلقۂ احباب وسیع تھا۔  حفیظؔ لیے دیے رہنے والے انسان تھے۔  دوستوں کا حلقہ بہت زیادہ وسیع نہ تھا لیکن جن سے دوستی تھی ان پر دل و جان سے فدا تھے۔  تکلفات کے پردے بھی حائل نہ تھے۔  حفیظؔ دردمند دل کے مالک تھے۔  ساری زندگی ان کا یہی اصول رہا کہ اگر کسی کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے تو اس میں سوچ بچار نہیں ہونا چاہیے۔  ناصرؔ کی شخصیت اور شاعری کے علاوہ اس کے حالات بھی ہمیشہ حفیظؔ کے پیش نظر رہے۔  ناصر کاظمی ’’ چند پریشاں کاغذ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’فیض صاحب بھی حفیظؔ ہوشیارپوری کے ہمراہ اکثر ملتے رہتے پھر قیام پاکستان کے بعد ۴۷ء میں پروفیسر مجید صاحب کے کمرے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔  انھوں نے مجھے روزنامہ امروز میں ایک معقول جگہ بھی پیش کی تھی۔  مگر میں نے اخبار نویس بننا پسند نہ کیا۔‘‘ (۲۲)

حفیظؔ کا تعلق ریڈیو کے محکمے سے تھا۔  وہ کسی بھی موقع پر ناصرؔکو فراموش نہ کرتے۔  ناصرؔ بھی ریڈیو کی طرف سے آنے والی پیش کش کو قبول کرتے رہے اور بقول ناصرؔ، ریڈیوکی طرف سے آنے والی ان دعوتوں کو قبول کرنے میں شہرت کی طلب سے زیادہ اس چیک کی وصولی کا خیال ہوتا تھا جو ریڈیو کی جانب سے موصول ہوا کرتا تھا۔  حمید نسیم ’’ نا ممکن کی جستجو‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’ناصرؔ کاظمی دو تین برس کی مدت میں بہت اچھے شعر نکالنے لگ گیا تھا۔  ۱۹۴۴ء اپریل یا مئی میں حفیظؔ ہوشیارپوری نے لاہور ریڈیو پر ایک کل ہند مشاعرے کا اہتمام کیا۔  لاہور کے شعرا میں سے احمد ندیمؔ قاسمی، احسان دانشؔ، ناصرؔ کاظمی، صوفی تبسّمؔ اور وہ (حمید نسیم) بلائے گئے۔  ریڈیو جانے کا وقت آیا تو حفیظؔ صاحب لینے آئے۔  ناصر ؔاس کے پاس پہلے سے موجود تھا۔  راستے میں حفیظؔ صاحب نے پوچھا۔  ناصرؔ کیا پڑھو گے تو ناصرؔ نے غزل کے شعر سنائے، دونوں سنتے گئے اور حیران سے حیران تر ہوتے گئے۔  ناصرؔ باکمال شاعر بن چکا تھا۔  مشاعرے کا آغاز ناصرؔ کاظمی سے ہوا۔  اس کی غزل یہ تھی۔

کچھ اپنا ہوش تھا نہ کسی کا خیال تھا

یوں بھی گزر گئی شب فرقت کبھی کبھی

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تری ضرورت کبھی کبھی‘‘

(۲۳)

حفیظؔ کے معاصرین میں ناصر ؔکاظمی، حفیظؔ سے بے حد قریب تھے۔  بلحاظ عمر حفیظؔ ناصر ؔسے

بڑے ہیں۔  جس وقت ناصرؔ نے شعری بزم میں قدم رکھا۔  حفیظؔ کسی حد تک اپنی شناخت قائم کرواچکے تھے۔  حفیظؔ کو ابتدائی دور میں ہی پطرس و صوفی تبسّم جیسے محبت اور قدر کرنے والے اساتذہ میسّر آ چکے تھے۔  وجہ اس کی یہی ہے کہ ان کا دور نو آموزی بھی کجی یا کچا پن رکھنے کے بجائے پختگی و سنجیدگی کا حامل تھا۔  قیام پاکستان کے بعد ناصرؔ لاہور آئے۔  اسلامیہ کالج لاہور سے رشتہ استوار ہوا تو یہاں کی شعری فضانے ان میں موجود شعر کی محبت کو مزید پروان چڑھایا۔  ناصر کہتے ہیں:

’’… تو جس زمانے میں بھی، میں نے شعر کہنا شروع کیے۔  اسلامیہ کالج لاہور میں تھا۔  یہاں فیض احمد فیضؔ اور میر اجیؔ کا طوطی بول رہا تھا اور اس کے بعد دوسری نسل تھی۔  یوسف ظفر اور ان کے ساتھی۔  غزل واقعی مشاعرے میں پڑھنا بہت مشکل تھا، لیکن یہ ہے کہ میں ترنم سے پڑھا کرتا تھا، میرے ساتھ حمید نسیمؔ، حفیظؔ ہوشیارپوری تھے۔  ان کو بھی بڑے ادب کے ساتھ سنا جاتا تھا۔  تو ان دو تین شاعروں کے علاوہ غزل کا چراغ ویسے بھی نہیں جلتا تھا۔‘‘(۲۴)

حفیظؔ کی قربت نے ناصرؔ کی شعری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

’’ناصرؔ کاظمی جب اسلامیہ کالج لاہور آئے تو یہاں کی فضا میں شعر و شاعری رچی بسی ہوئی تھی۔  ان کی اپنی طبیعت میں جدت پسندی اور انفرادیت تھی۔  لہٰذا انھوں نے عام ڈگر ترک کر دی اور روایت سے محض ان شعرا کی رہبری قبول کی جو ان کی طبیعت و مزاج سے مطابقت رکھتے تھے۔  مثلاً میرؔوفراقؔ۔  جلد ہی ان کی ہمسفری حفیظؔ ہوشیارپوری کے ساتھ ہوئی جن سے انھوں نے شعر کی تربیت بھی حاصل کی اور نئی راہوں کی تلاش و جستجو کے لیے تحریک بھی۔‘‘(۲۵)

حسن رضوی اپنے مقالے وہ ترا شاعر وہ ترا ناصرمیں جناب عبدالحمید کے حوالے سے رقم کرتے ہیں:

’’ ظاہر وہ کم ہی کسی سے اصلاح لیتے تھے اور نہ کسی کو اپنا استاد ماننے کے رودار تھے بلکہ ذہنی طور پر اپنا شمار اساتذہ ہی میں کرتے تھے لیکن مختلف صحبتوں میں بیٹھ کر کبھی نہ کبھی ان کے کسی نہ کسی شعر میں اگر اصلاح نہیں تو تبدیلی ہو جاتی تھی دو مثالوں کا تو میں خود شاہد ہوں۔  ان کی ایک غزل میں … دو شعروں کی ترمیم حفیظؔ ہوشیارپوری کے زیر اثر ہوئی تھی۔  اصل شعر کچھ اس طرح تھے۔

کچھ رات کچھ پتنگے سہمی ہوئی سی شمعیں

دل سوز ہیں مناظر بزم سحر گہی کے

اب تک مری نگاہیں حیرت زدہ ہیں ناصرؔ

وہ آ چکے کبھی کے وہ جا چکے کبھی کے

ان کی ایک اور مشہور غزل کا ایک شعر شروع میں یوں تھا۔

دل نے خیال ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تری ضرورت کبھی کبھی

عبدالحمید صاحب کے اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ ناصرؔ کو زمانہ طالب علمی ہی میں شہرت حاصل ہونا شروع ہو گئی تھی اور یہ کہ وہ اپنا استاد کسی کو نہیں مانتے تھے۔  البتہ دوستوں کی محفلوں میں خاص طور پر حفیظؔ ہوشیارپوری کے مشورے کو ضرور مان لیتے تھے۔‘‘(۲۶)

جبکہ ناصرؔ کاظمی نے حفیظؔ سے استفادہ کا اقرار و اعتراف اکثر و بیشتر کیا ہے۔  اردو فارسی کے قدیم و جدید شعرا کے زیر مطالعہ رہے۔  ان کی شاعری روایت سے انحراف نہیں کرتی بلکہ اس سے منسلک رہ کر روایت کو آگے بڑھاتی ہے۔  ناصر کہتے ہیں:

’’حفیظؔ کی غزل روایت سے آشنا ہے لیکن اس کا قالب نیا ہوتا ہے۔  در اصل وہ اپنے آپ کو روایت سے کسی طرح بھی الگ نہیں کرنا چاہتا۔  وہ بہترین استاد ہے۔  غالب ؔکو جب لوگوں نے بے استاد کہا تو ایک فرضی استاد ایجاد کر لیا گیا۔  مجھے قسمت سے اصلی استاد مل گیا۔  اس جیسے فی البدیہہ شعر کہنے والے کم ہی دیکھے ہیں۔  انگریزی تو اس نے بھی پڑھی ہے۔  مگر ہیت کے تجربے کرنے کا قائل نہیں۔‘‘(۲۷)

کہا جاتا ہے ہے کہ شاعر پیدائشی ہوتا ہے۔  شعریت اس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوتی ہے۔  کوشش، مشق اور صحیح رہنمائی اسے اوج کمال تک پہنچادیتی ہے۔

’’شاعری میں میرا صحیح استاد میری والدہ تھیں اور ویسے آغاز میں کچھ احباب سے مشورے بھی لیتا رہا ہوں۔  حفیظؔ ہوشیارپوری خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔  عشق، شاعری و فن بچپن سے میرے خون میں ہے۔‘‘(۲۸)

حفیظؔ و ناصرؔ میں شعری مماثلت، بیشتر ناقدین کے خیال میں اس بنا پر ہے کہ ناصر ؔؔؔکی شاعری کا ابتدائی دور حفیظؔ کے زیر سایہ گزرا۔  حفیظؔ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی تخلیق کو کسی بھی نقص سے پاک دیکھنا لازمی جانتے تھے۔  بات موضوع کی ہویا اسلوب کی۔  لفظ اور خیال کا ربط جب تک مکمل طور پر نہ ہو، شعر نہ کہیں بڑھا جا سکتا ہے نہ شائع ہو سکتا ہے۔  حفیظؔ نہ صرف اپنی غزل بلکہ ناصرؔ کی غزل کو بھی اعلیٰ معیار پر دیکھنا چاہتے تھے۔  ڈاکٹر وقار احمد رضوی لکھتے ہیں:

’’ناصرؔ کاظمی، حفیظ ہوشیارپوری کے شاگردوں میں سے تھے۔  یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں حفیظؔ کے رنگ سخن سے مماثلت پائی جاتی ہے‘‘(۲۹)

نظیر صدیقی، جدید اردو غزل میں لکھتے ہیں:

’’قیامِ پاکستان کے بعد اردو غزل میں کئی نئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔  ان میں سب سے پہلے جس کی آواز نے اپنی انفرادیت تسلیم کروائی وہ ناصرؔ کاظمی کی آواز ہے۔  ناصرؔ کاظمی حفیظؔ ہوشیارپوری کے شاگردوں میں سے ہیں۔‘‘(۳۰)

حفیظؔ کی صاحب زادی ڈاکٹر صبیحہ بھی ضیا ؔجالندھری کی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔  حفیظؔ و ناصرؔ کی شعری مماثلت کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:

’’ریڈیو پر کوئی غزل آ رہی ہوتی اور اس کا انداز اباجی کا ہوتا تو ہم بہن بھائیوں میں شرط لگ جاتی کہ ابّاجی کے اشعارلگ رہے ہیں۔  غزل ابّاجی کی ہے اور پھر علم ہوتا کہ غزل کے شاعر کا نام ناصرؔ کاظمی نشر ہوا ہے۔  ابّاجی نے ہر کسی کی اصلاح کی، نہ صرف اصلاح کی بلکہ بعض اوقات پوری کی پوری غزل از سر نو لکھ دی۔‘‘(۳۱)

ناصرؔ کی شاعری دور آغاز میں ہی ایک بڑے تجربے سے دو چار ہوئی۔  یعنی ہجرت۔  دیگر شعرا جو اس تجربے سے گزرے۔  وہ بھی اس کی شدّت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔  حفیظؔ و ناصرؔ کے اشعار میں بھی یہ تجربہ پوری شدّت گہرائی و گیرائی کے ساتھ موجود ہے۔  اردو شاعری کی روایت میں ہجرت کا تجربہ بھرپور انداز میں میرؔ کے ہاں ملتا ہے۔  ناصر ؔکا تجربۂ ہجرت میرؔ کے تجربہ سے جا ملتا ہے۔  ناصرؔ کے اس تجربہ ہجرت میں نئے وطن کے قیام کی خوشی کے ساتھ ساتھ دکھ زیادہ اس لیے ہے کہ قتل و غارت گری کا بازار اندازے سے کہیں زیادہ گرم رہا، پھر وہ جو محلوں کو چھوڑ کر آتے تھے انھیں سر چھپانے کے لیے کہیں جگہ نہ ملی۔  ناصرؔ نے ہجرت سے پیدا شدہ تمام مسائل اور تکلیفیں اپنی ذات پر اٹھائیں۔  نامنصفانہ تقسیم کے عمل نے انھیں وطن سے متنفر نہ کیا بلکہ وہ افراد جو اس فعل کا باعث تھے۔  ناصر انھیں ملک کے لیے نقصان کا باعث جانتے رہے۔

بدل سکو تو بدل دو یہ باغباں ورنہ

یہ باغ سایۂ سروسمن کو تر سے گا

راہبروں کی خود غرضی، عوام کے مسائل سے بے اعتنائی، ان کی بھوک و افلاس سے چشم پوشی کے سبھی شکوہ کناں رہے، حفیظؔ ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

کہاں کا شکوۂ گل چیں یہی غنیمت ہے

کہ پھول دسترس باغباں سے دور رہے

نا مساعد حالات ناصرؔ کو ہراساں کرتے ہیں لیکن انھیں اپنی اہمیت کا احساس ہے کہ آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے۔  وطن کے حالات نا اہل اور منفی خصوصیات رکھنے والے اعلیٰ حکام کے باعث دگر گوں تھے۔

بازار بند، راستے سنسان بے چراغ

وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی

کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی

کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی

مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی

وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا

حفیظؔ بھی ہجرت کے تجربے سے متاثر ہوئے۔  حفیظؔ کی شاعری میں نئی مملکت کے مسائل کے حل کی تلاش اور رہنماؤں کی رہزنی کا تذکرہ زیادہ ہے۔  منزل کی طلب انھیں بھی ہے لیکن ناخداؤں پر بھروسہ نہیں۔  عوام اور حکومت کے درمیان ذہنی عدم مطابقت نے ان کے درمیان خلیج میں روز بروز فاصلہ پیدا کیا۔  ناصرؔ بھی انھی مراحل سے گزرے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کہیں کہیں خطابت کا انداز بھی چھلک اٹھتا ہے۔  آؤ۔  اٹھو۔  چلو۔  کی پکار بھی سنائی دے جاتی ہے۔  ملک کے اس سیاسی و انتظامی ڈھانچے سے وہ بھی ہمیشہ خائف رہے کہ جس نے امیر کو امیرتر اور غریب کو غریب تر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا تھا۔  اگر وہ اس انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنے یا اس کی بنیادیں ہلادینے کی خواہش کرتے ہیں تو اس میں حق بجانب ہیں۔

گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تک

الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا

یہ محلات شاہی تباہی کے ہیں منتظر

گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر کر

ناصر اس شہر نا پرساں کے نامہربان باسیوں سے قطع تعلق کر کے کسی اور ہی شہر کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔  جہاں کے باسی مہرومحبت کی علامت ہوں۔  یہ وہ بستی ہے جو دھیان میں بستی ہے، کبھی تو یہ تصوّر حقیقی روپ اختیار کرے گا۔

ایک انوکھی بستی دھیان میں بستی ہے

اس بستی کے باسی مجھے بلاتے ہیں

حفیظؔ حقائق کی دنیا میں رہتے ہیں، وہ بھی اپنے وطن کو منفی رویوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔

حفیظؔ و ناصرؔ اردو کی شعری روایت سے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے تجربوں اور جذبہ و احساس سے صنف غزل کو ارتقا پذیر رکھتے ہیں۔  روایت اسے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم متقدمین کے مضامین کو اپنے عہد کی مروجہ زبان و اسالیب میں ڈھال کر پیش کر دیں۔  بسا اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ روایت، قرار اور ثبات کا نام ہے اور وہ ایک ہی مقام پر قیام پذیر ہے۔  ایسا نہیں ہے۔  روایت کا سفر زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلتا ہے۔  ہر عہد کے تجربے اور مشاہدے روایت سے منسلک ہوتے جاتے ہیں۔  حفیظؔ و ناصر ؔکے شعری سلسلے بھی اپنے متقدمین سے جا ملتے ہیں، پھر اپنے عہد میں بھی وہ دونوں ایک ہی شاعر یعنی فراقؔ سے کسی حد تک متاثر ہوتے ہیں۔  عشق کی سپردگی، حسن پرستی، ہجر و وصال، نشاط و غم، انتظار و اضطراب، تعلق و ترک تعلق، ماضی کی یاد، حال کی بے اطمینانی، مستقبل کی طرف سے تشکیک، وفا کا تصوّر اور اپنی اہمیت کا احساس، حفیظؔ و ناصرؔ کی شاعری میں عشق کے یہ سبھی رنگ موجود ہیں۔  دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپائداری کا احساس نمایاں ہے۔

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

(حفیظؔ)

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

(ناصرؔ)

آج جی کھول کے روئے اے دوست تیری

تری صورت بھی نہ جب یاد آئی

(حفیظؔ)

رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال

اس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں

(ناصر)

تم پہ جب ڈالی نظر ہم خود نظر آنے لگے

آئینہ دیکھا تو جیسے تم ہی تم تھے ہو بہو

(حفیظؔ)

میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں

وہ آئینہ میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا

(ناصرؔ)

آپ اپنے آشنا ہیں آپ ہی اپنا سراغ

آپ اپنی گمرہی ہیں آپ اپنی جستجو

(حفیظؔ)

وہ کوئی اپنے سوا ہو تو اس کا شکوہ کروں

جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے

(ناصرؔ)

لوٹ کر نور کی کرن جیسے

سفر لامکاں سے آتی ہے

(حفیظؔ)

غم کی بے نور گزر گاہوں میں

اک کرن رونق افزا ہوتی ہے

(ناصرؔ)

دیکھ لی اے غائب حاضر نما

تری صورت، تری صورت کے بغیر

(حفیظؔ)

تصوّر نے دیکھا ہے اسے اکثر

خرد جس کو کہتی ہے لامکانی

(ناصرؔ)

کیوں تیرے التفات مسلسل کے باوجود

یہ آرزو رہی کوئی تیرے سوا بھی ہو

(حفیظؔ)

یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر

جی چاہتا ہے کہ اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

(ناصر)

حفیظؔ و ناصرؔ کی شاعری میں جہاں مماثلت پائی جاتی ہے، وہیں کئی مراحل میں اختلافات واضح ہیں۔  حفیظؔ کے شعری اسالیب پر نظر کی جائے تو بڑی بحر کے ساتھ ساتھ چھوٹی بحر کی غزلیں بھی موجود ہیں۔  ناصرؔ کے ہاں بھی چھوٹی اور بڑی بحر کی غزلیں ملتی ہیں لیکن حفیظؔ کی غزل پر فارسی رنگ نمایاں ہے جبکہ ناصرؔ کے کلام میں فارسیت کا اثر کسی قدر کم ہے۔  حفیظؔ کی شاعری میں بھی لفظوں سے کھیلنے کا فن آ جاتا ہے لیکن پختگی کے ساتھ۔  ناصر ؔکی شاعری میں بسا اوقات وہ الفاظ و تشبیہات مستعمل نظر آتی ہے، جو حفیظؔ کبھی استعمال نہ کرتے، بہر حال یہ ناصرؔ کا مخصوص رنگ نہیں ہے۔

بھلا ہوا کہ ہمیں یوں بھی کوئی کام نہ تھا

جو ہاتھ ٹوٹ گئے ٹوٹنے کے قابل تھے

حرام ہے جو صراحی کو منہ لگایا ہو

یہ اور بات کہ ہم بھی شریک محفل تھے

یہ خاص و عام کی بیکار گفتگو کب تک

قبول کیجیے جو فیصلہ عوام کریں

یہ بجا کہ آج اندھیر ہے

وزارت بدلنے کی دیر ہے

آبھی جا میرے دل کے صدر نشیں

کب سے خالی پڑی ہے یہ کرسی

ناصرؔ کی شاعری میں احساس محرومی، یاسیت اور اداسی کی شدّت ہے۔  داستان عشق میں محبت کا جواب محبت سے اور وفا کا جواب وفا سے کب ملتا ہے، حفیظؔ اس معاملے میں خود کو خوش قسمت کہتے ہیں کہ اکثر بے وفائی یا نظر انداز کر دینے کی ادا انھیں کی طرف سے ہوئی ہے، لیکن محبت اور ترک تعلق کا تذکرہ دونوں کی شاعری میں شدّت کے ساتھ موجود ہے۔

یہ ترک محبت ہے کہ تجدید محبت

پہلے سے بھی آنے لگے وہ مجھ کو سوا یاد

(حفیظؔ)

اے دوست ہم نے ترک تعلق کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

(ناصرؔ)

ناصر ؔکی شاعری میں یاد رفتگاں کا احساس بہت ہے۔  بچھڑے لوگ، پھول، پتے، شجر اور شہر سبھی انہیں بلاتے ہیں۔  حفیظؔ کی توجہ ماضی سے زیادہ حال کی طرف ہے۔  چاک گریباں، حیراں و پریشاں، بھری دوپہروں میں ہراساں اور کالی راتوں میں گھومتے پھر نا ناصرؔ کی عادات ہے، جس کا تذکرہ اکثر اشعار میں نمایاں ہے، کبھی نئے کپڑے بدل کر، بنا کر تو کبھی خاک بسر۔  خود کو سمجھاتے بھی ہیں لیکن دل کا اضطراب گھر میں چین لینے نہیں دیتا۔  حفیظؔ کی شاعری میں اضطراب ہے لیکن وہ وحشت نہیں کہ جو زندگی کو عذاب بنادے۔  شعر کی تخلیق کے لیے اضطراب و بے چینی ضروری ہے دکھ، درد و کرب، یہ کیفیات انسان کو مضطرب رکھتی ہیں ناصرؔ کی شاعری میں یہ اضطراب نمایاں ہے شب بیداری کی یہ کیفیت ناصرؔ کو فراقؔ کے قریب کر دیتی ہے۔

میں ہوں،رات کا ایک بجا ہے

خالی رستہ بول رہا ہے

کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے

رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے

رات بھر جاگتے رہتے ہو کیوں ناصرؔ

تم نے یہ دولت بیدار کہاں سے پائی

ایسے میں کہاں جائیں کہ رات کالی ہے

وہ شکل ہی نہ رہی جو دیے جلاتی ہے

اس شہر بے وفا میں جائے گی تو کہاں

آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

حفیظؔ کی شاعری میں، بھی شب بیداری کا احساس ہے لیکن بہت کم۔

حفیظؔ تم بھی چلو اب تو گھر خدا کے لیے

طویل راہگزاروں کو نیند آئی ہے

حفیظؔ کے معاصرین شعرا میں فراقؔ گورکھپوری، عابدعلی عابدؔ، صوفی تبسّمؔ، تاثیرؔ، جوشؔ، فیضؔ، ن۔  م۔  راشدؔ، مختارؔ صدیقی، قیوم نظرؔ، حفیظؔ جالندھری، یوسف ظفرؔ، احمد ندیمؔ قاسمی، ناصرؔ کاظمی اور کئی شعرا شامل ہیں۔  ان بزرگ، ہم عصر اور کم عمر معاصرین سے حفیظؔ کا شعری رابطہ رہا۔  ایک ہی عہد میں زیست کرنے کے باعث بہت سے مشترک مسائل کا بیان ان تمام شعرا کے کلام میں نظر آ جاتا ہے، لیکن تکرار یا یکسانیت کا احساس اس لیے نہیں ہوتاکہ اجتماعیت سے تعلق رکھنے کے باوجود ہر شخص انفرادی زندگی بسر کرتا ہے۔  وہ معاشرے کا حصّہ ہو کر بھی’ ’میں‘‘ کو برقرار رکھتا ہے۔  یہ ’’ میں‘‘اس کی انانیت نہیں بلکہ پہچان ہے اور یہی’ ’میں‘‘ اسے فیضؔ، ندیم ؔ، ناصر ؔیا حفیظؔ بناتی ہے، شعر اس کی پہچان بن جاتا ہے۔

فراقؔ، ناصرؔاور حفیظؔ کی شعری کائنات اپنی انفرادیت کے باوجود بعض مقامات پر اپنی مخصوص حساسیت کی بنا پر ایک دوسرے میں ضم ہوتی نظر آتی ہے۔  اس کا تذکرہ گذشتہ اوراق میں قدرے تفصیل سے کیا گیا۔  دیگر معاصرین میں جوشؔ و فیضؔ ونم راشدؔ و میراؔ جی بنیادی طور پر نظم گو شاعر تھے۔  ان کے شعری موضوعات بھی عموماً حفیظؔ کی غزل کے موضوعات سے مختلف ہیں، البتہ فیضؔ کی لفظیات، تلازمات اور علائم خصوصاً ً جد و جہد آزادی کے حوالے سے، اردو شاعری کا ایک مستقل حصّہ قرار پائیں اور وہ روّیہ جواس عہد کی شاعری میں ابھر کر سامنے آیا اسے ایک الگ شناخت عطا کرنے میں فیض ؔکا کردارا ہم رہا۔  آزادی کا انقلابی تصوّر کسی مستقل قدر اور مضبوط نظریے کے بغیر بے معنی ہے، یہیں سے عوام اور رہنما کے درمیان فاصلے بڑھنا شروع ہوئے کہ عو ام کے پاس ایک ٹھوس نظریہ تھا لیکن رہنما اس عارضی منزل کو آخری منزل جان کر عوام سے بے نیاز ہو گئے۔  ترقّی و ارتقا، انسانیت کی عزّت و تکریم، مساوات و انصاف، سماجی و تہذیبی تقاضے سبھی دھند لا گئے۔  مایوس و پژمردہ عوام کے لیے داغ داغ اجالا لیے سحر قابل قبول نہ تھی۔  شکستہ پائی نے حوصلوں کو کبھی پست نہ کیا وہ ایک نئی سحر کی تلاش، ایک نئی منزل کی جستجو میں پھر آمادۂ سفر ہوئے، چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔  اس سفر میں کئی کٹھن مقامات بھی آتے ہیں، حوصلہ شرط ہے۔  نظریاتی تبلیغ کایہ عمل فیضؔ کے دیگر ہمعصروں کے ہمراہ حفیظؔ کی شاعری میں بھی نمایاں ہے۔

سزائے حرف تمنّا زیان جاں ہی سہی

کوئی تو حرف تمنّا زبان پر لائے

خزاں کے دور میں جب بھی چھڑا ہے ذکر بہار

فریب خوردگیِ رنگ و بوکی بات چلی

فیضؔ کا اسلوب کلاسیکی غزل کےر نگ و آہنگ سے مربوط ہے یہی رمزیت، اشاریت اور معنوی تہ داری حفیظؔ کی غزل کا امتیاز ہے۔

حفیظ ؔ کے بزرگ معاصرین میں عابد علی عابدؔ وصوفی تبسّمؔ وغیرہ سبھی علم و فن کی بلند مسند پرمتمکن تھے اور حفیظؔ کی خوش قسمتی کہ ان مہربانوں کا فیض انھیں حاصل رہا۔

 

حفیظ کی غزل، معاصرین کی نظر میں

 

حفیظؔ کے وہ معاصر جنھوں نے حفیظؔ کو دیکھا یا ان کے اشعار سے مستفید ہوئے۔  حفیظؔ کی شاعری کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے یا ان کی نظر میں حفیظؔ کا شعری مرتبہ کیا ہے یا اردو غزل میں حفیظؔ کا کیا مقام ہے۔  اس کا مختصر اً جائزہ کچھ یوں ہے۔

’’تغزل سے رغبت ہو تو حضرت فراقؔ گورکھپوری، حفیظؔ ہوشیارپوری اور ناصرؔ کاظمی کا مطالعہ کیجیے۔‘‘(۳۲)

’’حسرتؔ موہانی سے غزل کی نشاۃ الثانیہ ہوئی۔  جگرؔ مراد آبادی، اصغرؔ گونڈوی فانیؔ بدایونی، عبدالحمید عدمؔ، جوشؔ ملیح آبادی، فیض احمد فیضؔ، حفیظؔ جالندھری، حفیظؔ ہوشیارپوری، طفیلؔ ہوشیارپوری، اختر ؔشیرانی، یزدانی ؔجالندھری اس دور کے نمائندہ شاعر ہیں۔‘‘(۳۳)

’’حفیظؔ صاحب کا کلام بتا رہا ہے کہ ان کا ذوق سلیم کبھی نہ کبھی انھیں ہندوستان کے صف اولین کے شعرا میں لاکھڑا کرے گا۔  ان کی موجودہ شاعری کسی عظیم الشان انتہا کی پیش گوئی کر رہی ہے۔  آپ گاہے گاہے اردو کی نظموں میں ہندی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔  یہ امتزاج بہت پر لطف ہوتا ہے کیونکہ اشعار کی یہ صورت ہم ہندیوں کے جذبات اور اداراک کو فارسی اور عربی تراکیب سے نسبتاً زیادہ متاثر کرتی ہے۔  چند انگریزی نظموں کے ترجمے بھی کیے ہیں۔  ’’جدید‘‘ شاعری کے نمونے بھی آپ کے کلام میں نظر آئیں گے‘‘(۳۴)

’’حفیظؔ صرف شاعر ہی نہ تھے بلکہ اردو فارسی کے علاوہ انگریزی اور عربی ادب پر گہری نظر رکھتے تھے‘‘(۳۵)

’’حفیظؔ ہوشیارپوری کا شاعرانہ سفر کم و بیش پچاس برس پر پھیلا ہوا ہے۔  اس طویل عرصہ میں شعر و ادب نے ہزاروں کروٹیں لیں مگر حفیظ کی غزل کبھی پرانی نہیں ہوئی، بلکہ وقت کے ہر موڑ پر نئی سج دھج کے ساتھ سامنے آتی رہی۔  اردو شاعری میں ایسی مثالیں کم ملیں گی کہ ایک طویل عرصے تک کسی شاعر کا کلام حفیظؔ کی طرح سدابہار رہا ہو۔  (۳۶)

’’… کہیں اقبال کا تفکر، کہیں میرؔ کا ایما اور کہیں فیضؔ کا استعارہ۔  ان سب صورتوں میں حفیظؔ کی اپنی متواضع شخصیت کی تہذیب اور فلسفیانہ تربیت کی سنجیدگی اور طبیعت کی شیرینی گھل مل گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں للکار اور نعرہ کہیں بھی نہیں ہر جگہ گداز اور گھلاوٹ ہے، لہجہ ملائم اور لے نرم جس میں وہ غم محبت کی باتیں کرتے جا رہے ہیں اور یہ غم محبت وہ ہے جس میں کہیں کہیں غم دہر بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔  کہیں کہیں انسان کی تقدیر بھی موضوع سخن بن جاتی ہے۔

اس سارے سلسلۂ عمل کو حفیظؔ نے ’’مرحلۂ عرض ہنر‘‘ قرار دیا ہے یعنی فن کی نمود جو درد جگر اور شوق غزل سے پیدا ہوتی ہے۔  چنانچہ بصد انکسار خود ہی کہہ دیا ہے۔

تم سمجھتے رہے اظہار محبت اس کو

مجھے درپیش رہا مرحلۂ عرضِ ہنر‘‘

(۳۷)

’’شاعری کے اس شور غل میں حفیظؔ ہوشیارپوری نے خود کلامی کا نرم اور لوچدار لہجہ اختیار کیا۔  ایک اداس نغمگی پیدا کی۔  گھلاوٹ میں رفعت کی شان بڑھائی اور تحیر کی ایک ایسی فضا تعمیر کی جو خارج کی بجائے داخل کو کروٹ دیتی ہے اور جسم کے بجائے روح کو متحرک کرتی ہے۔  یہ شاید اس زیر لبی کا ہی نتیجہ ہے کہ حفیظؔ ہوشیارپوری اونچی صداؤں کے شورمیں بہت زیادہ سنا نہ جا سکا۔  اس کی آواز زیادہ دور تک نہ پھیل سکی۔  ان کی صدا پر مشاعرے کی داد نہ گونجی اور وہ غزل کی بھری دنیا میں تنہا ہی رہا۔  میں سمجھتا ہوں کہ حفیظؔ نے غزل کی دنیا میں تنہا رہ کر اپنی انفرادیت کا بہترین تحفظ کیا ہے۔‘‘(۳۸)

’’حسرت ؔموہانی کا انتقال ہوا تو اردو غزل کی دیوار گرتی نظر آئی۔  اس گرتی دیوار کو حفیظؔ ہوشیارپوری نے سہارا دیا اور اس طرح سہارا دیا کہ دیوار نئی ہو گئی۔  حفیظؔ جیسا پختہ شاعر مشکل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔  وہ کیا نہیں تھا۔  محقق تھا، عالم تھا، شاعر تھا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ بحیثیت انسان کے واقعی عظیم تھا‘‘(۳۹)

’’حفیظؔ ہوشیارپوری نے غزل کی تنگنائے کو کافی کشادہ کیا ہے اور اس میں نئے مسائل اور نئے محسوسات کو اس خوبصورتی سے جگہ دی ہے کہ ان کی غزلوں کو اگرفراقؔ، فیضؔ، جذبیؔ‘قاسمی، ناصرؔ کاظمی اور عزیزؔ حامد مدنی وغیرہ کی غزلوں کے ساتھ دیکھا جائے تو افق شاعری پر ایک عجیب قسم کی دھنک بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔‘‘(۴۰)

’’حفیظؔ کی غزل انتہائی مترنم ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غزل کی بجائے گیت لکھ رہے ہیں اور اس کا انھیں خود بھی احساس تھا۔  چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔

بہت بلند ہے اس سے مرا مقام غزل

اگر چہ میں نے محبت کے گیت بھی گائے‘‘

(۴۱)

’’حفیظ محض نفسیات و جذبات ہی کے شاعر نہ تھے بلکہ ان کی نظر اپنے زمانے کے ہر طرح کے مسائل پر تھی یہ اور بات کہ سرکاری ملازم ہونے کی حیثیت سے وہ کھلم کھلا سیاسی شاعری نہیں کرتے تھے، مگر ان کے پڑھنے والے ان کی علامتوں اور ایمائیت کو سمجھنے والے حفیظؔ صاحب کے زمانے کے سیاسی حالات پر ان کا تبصرہ جانتے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک

شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے‘‘

(۴۲)

’’حفیظؔ ہوشیارپوری میں تخلیقی قوت بلا کی تھی۔  میں نے بہت ہی کم شعرا کو اتنا رواں طبع پایا ہے‘‘(۴۳)

’’حفیظؔ ہوشیارپوری کے یہاں داغؔ، امیرؔ، حسرتؔ اور فراقؔ کے انداز کی شاعری کا رنگ نوروز دکھائی دیتا ہے مگر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حفیظؔ نے کسی بھی شعری اسلوب کی مکمل تقلید نہیں کی اور ان کا اپنا مخصوص انداز اور شاعری کا مخصوص پیرایہ ہے۔  حفیظؔ کی غزل انتہائی مترنم ہے اور اس میں موسیقیت کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔‘‘(۴۴)

’’افسوس کی بات یہ ہے حفیظؔ کی غزل کو وہ کریڈٹ دیا ہی نہیں گیاجس کی وہ مستحق ہے۔  حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ تخلیقی اور تاریخی دونوں اعتبار سے حفیظؔ ہوشیارپوری کا نام جدید اردو شاعری خصوصاً ً جدید اردو غزل کی تاریخ کا نا قابل فراموش نام ہے۔‘‘(۴۵)

’’شاعری کا جہاں تک تعلق ہے۔  میں ان کا بہت مداح ہوں اور ۳۶۔  ۱۹۳۵ ء ہی سے جب ان کا کلام مشہور ادبی رسائل میں چھپنا شروع ہوا۔  ان کی شاعری نے میرے ذہن پر ایک نقش قائم کر لیا تھا۔  ان کا کلام اردو ادب میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔  غزل میں انھوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے۔‘‘(۴۶)

’’حفیظؔ خوش گو بھی تھے اور زدو گو بھی مگر وہ بھرتی کے شعر نہیں کہتے تھے، یہی ان کی پختگی کی دلیل ہے۔‘‘(۴۷)

’’… میں اس کے نام اور ذہن سے واقف تھا۔  یہی سوچتا رہا اردو تغزل کو اگر کوئی قائم

رکھنے والا شاعر تھا، تو وہ حفیظؔ ہوشیارپوری تھا۔  شاید فلسفے کے علم نے اس کی شاعری میں تہذیبی رچاؤ پیدا کر دیا تھا۔  اس کا شاعرانہ کلچر الگ اور اس کی آنچ بھی الگ تھی۔  وہ عالمگیر ذہنی انقلاب سے متاثر تھا، اس لیے اس نے نئے انداز سے غزل کہی۔  اس نے اپنے زمانے کی شعری بازگشت کو اپنے فکری تناظر کی بنا پر پسند نہیں کیا تھا اس لیے وہ غزل کی نئی آواز بن کر ابھرا اور اب بھی نئی غزل کے وجود سے وہ اپنی نمایاں پہچان رکھتا ہے۔‘‘(۴۸)

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے نزدیک اپنے معاصرین میں حفیظؔ کیا مقام رکھتے تھے، احباب ذوق کے جوابات سے حفیظؔ کے مقام کے تعین میں مدد مل سکتی ہے۔

’’اب تک انھیں وہ مقام نہیں ملا، جس کے وہ مستحق تھے۔  میں فراقؔ اور حفیظؔ کو ہم مرتبہ غزل گو قرار دیتا ہوں۔  فراقؔ کے ہاں خیال محدود ہے۔  لہجہ میں نیا پن ہے۔  ہندو مزاج کی وجہ سے۔  حفیظؔ، فیضؔ کی قامت کے حامل نہیں، کہ ان کا حیطۂ خیال غزل میں محدود ہے۔  مختارؔ صدیقی کی سہ حرفی بہت اچھی نظم ہے۔  مختارؔ کی غزلیں محض پختہ ہیں۔  تخلیقی ہیجان اور خیال کی تازگی اور شادابی اس میں بالکل نہیں۔  ناصرؔ کاظمی کے ہاں ایک تازہ فضا احساس و خیال کی ملتی ہے۔  مگر میں اسے حفیظؔ سے بہتر کسی اعتبار سے نہیں سمجھتا۔  اپنی جگہ دونوں اچھے ہیں۔  قیوم نظرؔ اور یوسف ظفرؔ حفیظؔ سے کم تر ہیں۔  احمد ندیمؔ قاسمی اپنی کلیت میں حفیظؔ صاحب سے شاید ایک آدھ انچ زیادہ قد آور ہوں۔‘‘(۴۹)

’’حفیظؔ ہوشیارپوری کو وہ شہرت و مقبولیت نہ ملی جس کے وہ مستحق تھے۔  اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ فیض ؔ، ندیمؔ قاسمی، ظہیرؔ کاشمیری وغیرہ کی طرح ترقّی پسند تحریک میں شامل نہ تھے۔  ترقّی پسندوں نے انھیں اپنے رسالوں، کتابوں، محفلوں اور حلقوں میں زیادہ لفٹ نہ دی۔  اپنی وار فتہ مزاجی اور بے نیازی کی وجہ سے خود انھوں نے بھی اپنا کوئی حلقۂ نیاز منداں و قصیدہ خواناں پیدا کرنے کی کوشش نہ کی۔  میری رائے میں وہ ندیمؔ قاسمی سے بہتر غزل گو تھے۔‘‘(۵۰)

’’یہ بھی صحیح ہے کہ سنجیدہ ادب نے ان کے ساتھ انصاف روا نہیں رکھا۔  وہ یقیناً بہتر مقام کے مستحق تھے۔  (۵۱)

’’میرے خیال میں ان کی خاطر خواہ قدر نہ ہو سکی، نہ ان کی حیات میں نہ بعد

میں۔‘‘(۵۲)

’’حفیظؔ مشاعروں کے آدمی نہ تھے، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اردو کے نقادوں نے، سکہ بند نقادوں نے بہت سے طاقتور لوگوں کو نظر انداز کیا ہے اور ان کے مقابلے میں بعض نسبتاً کمزور آدمیوں کو آگے بڑھایا ہے۔  اقبال کے بعد ہمارے ادبی منظر نامے پر جو تخلیقی شخصیات نمودار اور نام دار ہوئیں ان میں بہ حیثیت شاعر اور ایک ایسے شاعر کے جو غزل کی کلاسیکی روایت کا امانت دار ہو، بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنھوں نے اس معیار کا شعر کہا ہو جیسا حفیظؔ نے کہا۔‘‘(۵۳)

’’غزل صرف ایک تہذیبی صنف سخن ہی نہیں، جو تمدن کی اعلیٰ سطح کو پیش کرتی ہے بلکہ تہذیبی اقدار کی تخلیقی بازیافت کا وسیلہ بھی ہے۔  غزل بظاہر شکست و ریخت سے دو چار رہی، مثلاً آزاد غزل، بے ردیف غرل مگر مجموعی طور پر غزل نے روایات اور تہذیبی اقدار سے اپنے رشتے کو برقرار رکھا ہے۔  حفیظ ؔ ہوشیار پوری، فیضؔ، ناصرؔ اور عزیز حامدمدنی کے نام مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔‘‘(۵۴)

٭٭٭

 

 

 

 

حوالہ جات

 

۱۔  صوفی تبسّم، اے حفیظؔ، راوی، مئی ۱۹۷۳ء صفحہ ۱۴

۲۔  وقار احمد رضوی، تاریخ جدید اردو غزل، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۸ء صفحہ ۸۱۵

۳۔  وقار احمد رضوی، تاریخ جدید اردو غزل، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، صفحہ ۲۱۵

۴۔  ڈاکٹر وحید قریشی، جدیدیت کی تلاش میں، مقبول اکیڈمی ۱۹۹۰ء صفحہ ۲۹۲

۵۔  مظفر علی سیّد، حفیظؔ ہوشیارپوری کی چند غزلیں، فنون جدید غزل نمبر لاہور، جنوری ۱۹۶۹ء صفحہ ۳۰۵

۶۔  مظفر علی سیّد، نئے زاویے کا پرانا غزل گو، نقوش ستمبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۳۷۶

۷۔  مظفر علی سیّد، نئے زاویے کا پرانا غزل گو، نقوش ستمبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۳۷۶

۸۔  مظفر علی سیّد، نئے زاویے کا پرانا غزل گو، نقوش، ستمبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۳۷۶

۹۔  ڈاکٹر نوازش علی، فراقؔ شخصیت اور فن لاہور، دستاویز، ۱۹۹۳ء صفحہ ۳۶۲۔  ۳۶۱

۱۰۔  حفیظؔ ہوشیارپوری، اردو غزل کے پچیس سال، ہمایوں، جوبلی نمبر، لاہور ۱۹۷۴ء صفحہ ۱۹۱

۱۱۔  حفیظؔ، انٹرویو شفیع عقیل، افکار، حفیظؔ نمبر مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۸۷

۱۲۔  حفیظؔ، اردو غزل کے پچیس سال ہمایوں، لاہور ۱۹۷۴ء صفحہ ۱۹۳۔  ۱۹۲

۱۳۔  حفیظؔ، اردو غزل کے پچیس سال ہمایوں، لاہور ۱۹۷۴ء صفحہ۱۸۹

۱۴۔  انٹرویو حفیظؔ، اشاعت ثانی، افکار، حفیظؔ نمبر، مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۹۷

۱۵۔  انٹرویو حفیظؔ، شفیع عقیل افکار، مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۹۷

۱۶۔  محمد حسن عسکری، جہان فراقؔ، مرتب، تاج سعید لاہور، سنگ میل، ۱۹۹۱ء، صفحہ ۳۵۸۔  ۳۵۷

۱۷۔  حمید نسیم، راقمہ کے نام ایک خط ۱۸ اگست ۱۹۹۳ء

۱۸۔  محمد علی صدیقی، افکار، حفیظؔ نمبر، مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۴۹

۱۹۔  ضیا جالندھری، افکار، حفیظؔ نمبر مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۴۵

۲۰۔  غالب احمد، ناصر کاظمی کا شہر غزل، اسلوب، کراچی جولائی ۱۹۸۵ء صفحہ ۳۰۹

۲۱۔  ناصر کاظمی، نقوش شخصیت نمبر، صفحہ ۱۱۰۹

۲۲۔  ناصر کاظمی، چند پریشاں کاغذ، لاہور، مکتبۂ دانیال، ۱۹۹۵ء صفحہ ۹۱

۲۳۔  حمید نسیم، نا ممکن کی جستجو، کراچی، فضلی سنز، نومبر ۱۹۹۰ئ، صفحہ ۱۸۵۔  ۱۸۴

۲۴۔  ناہید قاسمی، ناصر کاظمی، ٹی وی انٹرویو، ناصر شخصیت و فن، لاہور، فضل حق اینڈسنز، ۱۹۹۰ئ، صفحہ ۱۱۸

۲۵۔  ناہید قاسمی، ناصر شخصیت و فن، لاہور، فضل حق اینڈ سنز ۱۹۹۰ء صفحہ ۳۲

۲۶۔  حسن رضوی، وہ ترا شاعر وہ تیرا ناصر، لاہور، سنگ میل پبلیکیشنز، ۱۹۹۶ء صفحہ ۱۰۱

۲۷۔  ناصر کاظمی، خشک چشمے کے کنارے، لاہور مکتبۂ دانیال، ۱۹۸۳ء صفحہ ۱۹۳ء

۲۸۔  ناہید قاسمی، ناصر کاظمی، شخصیت اور فن، لاہور، فضل اینڈ سنز، ۱۹۹۰ء صفحہ ۳۰

۲۹۔  وقار احمد رضوی، تاریخ جدید اردو غزل، کراچی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۸ء صفحہ ۷۹۹

۳۰۔  نظیر صدیقی، فنون جدید غزل نمبر، جنوری ۱۹۶۹ء صفحہ ۶۹

۳۱۔  صبیحہ حفیظؔ، ٹیلی فون پر گفتگو، ۲۸جنوری ۱۹۹۳ء

۳۲۔  مظفر علی سیّد، تنقید کی آزادی، لاہور، مطبوعات دستاویز، صفحہ ۱۲۲

۳۳۔  رشید احمد گوریجہ، مولف اردو ادب، لاہور، علمی کتاب خانہ صفحہ ۳۲

۳۴۔  آغا محمد باقر، تذکرہ شعرائے پنجاب گجرات پرنٹنگ پریس، ۱۹۳۷ء، صفحہ۳۸۵۔  ۲۸۶

۳۵۔  وفا راشدی، ہفت روزہ چٹان، لاہور، ۱۹۷۳ء

۳۶۔  خواجہ ظفر نظامی، امروز، ۲۳ جنوری ۱۹۸۳ء

۳۷۔  ڈاکٹر سیّد عبداللہ ، دیباچہ مقام غزل، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، صفحہ ۳۴

۳۸۔  انور سدید، اوراق، ستمبر اکتوبر ۱۹۷۳ء صفحہ ۷۸

۳۹۔  زیڈ اے بخاری، روز نامہ حریت ۱۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۴۰۔  محمد علی صدیقی، افکار حفیظؔ نمبر مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۸۰

۴۱۔  محمد رضی، افکار، حفیظؔ نمبر، مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۸۰

۴۲۔  ضیا جالندھری، افکار، حفیظؔ نمبر مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۲۹

۴۳۔  احمد ندیم قاسمی، افکار، حفیظؔ نمبر مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ ۲۹

۴۴۔  فضل حق فاروقی، ماہ نو، جون ۱۹۹۲ء صفحہ۲۴

۴۵۔  عظمیٰ فرمان، قومی زبان، جنوری ۱۹۹۴ء صفحہ ۳۳

۴۶۔  شان الحق حقی، روزنامہ حریت، ۱۵جنوری ۱۹۷۳ء

۴۷۔  محمد عبداللہ قریشی، معاصرین اقبال کی نظر میں، لاہور، مجلس ترقّی ادب، نومبر، نومبر ۱۹۷۷ء صفحہ ۵۴۱

۴۸۔  اختر ہوشیارپوری، راقمہ کے لیے ایک تحریر

۴۹۔  حمید نسیم، راقمہ کے نام خط، ۱۸گست ۱۹۹۳ء

۵۰۔  بشیر ساجد، راقمہ کے نام خط، ۸ اگست ۱۹۹۳ء

۵۱۔  منظور الٰہی راقمہ کے نام خط، ۲۸ جون ۱۹۹۳ء

۵۲۔  احمد ندیم قاسمی، راقمہ کے نام خط، ۶اگست ۱۹۹۳ء

۵۳۔  افتخار عارف، راقمہ سے گفتگو، ۲۹ جون ۱۹۹۳ء

۵۴۔  ڈاکٹرا بو الخیر کشفی، راقمہ سے ایک مکالمہ جون ۲۰۰۵ء

٭٭٭

 

 

 

 

حاصل مطالعہ

 

میرے مقالے کا موضوع‘‘حفیظؔ ہوشیارپوری، بیسویں صدی کی اردو غزل کے تناظر میں‘‘ہے۔  چنانچہ اس میں حفیظؔ کی شخصیت اور فن کے علاوہ اردو غزل کی روایت، اہم شعرا کا تذکرہ، قابل ذکر رجحانات، مشرق و مغرب میں اٹھنے والی ادبی تحریکیوں کا پس منظر و پیش منظر واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  بیسویں صدی کا وسط کہ جب مختلف تحریکیں عروج پر تھیں۔  تجربوں کے نام پر بد مذاقی فروغ پا رہی تھی۔  نظم کو اہمیت دی جا رہی تھی۔  غزل کو وقت اور معاشرے سے عدم مطابقت کی بنا پر رد کیا جا رہا تھا۔  روایتی اقدار کی پاسداری قصۂ پارینہ بنتی جا رہی تھی۔  زمانے کی برق رفتاری اور ہنگامہ خیزی کی بنا پر تہذیب و شائستگی کو غیر ضروری سمجھا جا رہا تھا۔  ان حالات میں چند شعرا ایسے تھے کہ جنھوں نے غزل کا وقار بحال کیا اور وہ قاری جو تیزی سے بدلتی اقدار سے ہراساں تھا، اس کے لیے ان کادم غنیمت تھا۔  انھی میں سے ایک حفیظؔ ہوشیارپوری تھے کہ جنھوں نے تہذیب، شائستگی، نرم مزاجی، دھیما پن اور لہجے کی وہ شستگی کہ جس میں مردانہ آہنگ بھی موجود ہے، جدید اردو غزل کو عطا کیا۔  حفیظؔ کی شاعری کو تین ادوار میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔  ارتقا کا احساس بہر حال موجود رہتا ہے کہ حفیظؔ ان شعرا میں سے نہیں کہ جو عنفوان شباب کے تجربے ہی عمر کی آخری حد تک دہرا کرداد و صول کرنے کے شائق رہے ہوں۔  ان تینوں ادوار میں ایک قدر ہمیشہ ان کے ساتھ رہی اور وہ تہذیب و شائستگی کا احساس جو بستر علالت پر بھی ان کے ہمراہ تھا۔  شہروں کے چیختے چلآتے ماحول میں اس نرم روئی کی ضروت کتنی شدید ہے ؛ اس بات کو تسلیم سبھی کرتے ہیں لیکن تیز رفتار زندگی میں اتنا وقت کہاں۔  حفیظؔ کی طبیعت میں رچی یہ کیفیت ان کی غزل میں نمایاں ہے کہ یہ شائستگی ان کے فن کا ہی نہیں مزاج کا حصّہ ہے۔  ڈی۔  ایچ۔  لارنس کا یہ خیال ’’علم و فضل کے اعتبار سے آدمی جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے، شائستگی سے اتنا ہی کو را ہوتا ہے۔‘‘حفیظؔ کے معاملے میں بالکل غلط ثابت ہوا ہے کہ حفیظؔ عالم بھی بڑے تھے، شاعر بھی بڑے تھے اور انسان بھی بڑے تھے کہ انسان اپنے لہجے اور الفاظ کے انتخاب سے لمحہ بھر میں پہچانا جاتا ہے۔  اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف توجہ حفیظؔ کے تینوں ادوار کے کلام میں نظر آتی ہے، پھر حفیظؔ محبت کے شاعر تھے۔  تمام زندگی اسی عقیدے کے پیرو کار رہے کہ کون ہے اب جو سنبھالے گانظام عالم، اک محبت ہی محبت نظر آتی ہے مجھے۔

حفیظؔ کی شاعری کا بلحاظ ادوار مختصر اً جائزہ لیا جائے تو ان کے ابتدائی دور کی شاعری میں دور جحانات واضح نظر آتے ہیں۔  حفیظؔ کی شاعری کا ابتدائی عہد، علّامہ اقبال ؔکے عروج کا دور تھا۔  اقبالؔ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے فکر و جدان کا مرکز تھے، پھر وہ جو شعر و ادب سے یک گو نہ دلچسپی رکھتے ہوں ان کے لیے اقبالؔ ایک ساحر تھے۔  اقبال سے وار فتگی کے جذبے کو حفیظؔ نے علمی رخ عطا کیا۔  اس کا اقرار خود حفیظؔ نے بھی کیا اور ان کے معاصرین نے بھی اس کا تذکرہ کیا۔  اس سلسلے میں حفیظؔ کی علّامہ اقبالؔ کے ساتھ خط و کتابت بھی ہوتی رہی اور ملاقاتیں بھی۔  حفیظؔ نے ارادہ کیا کہ نظموں کے ایک ایسے سلسلے کا آغاز کیا جائے جس میں علّامہ اقبال ؔاور کسی مغربی فلسفی کے خیالات و نظریات کو مکالموں کی صورت میں نظم کیا جائے۔  اس سلسلے میں انھوں نے تین نظمیں لکھیں (تفصیل حفیظؔ کی نظم گوئی کے باب میں ) اقبال ؔکی وفات پر کہی گئی نظمیں حفیظؔ کی علّامہ اقبالؔ سے بے پناہ عقیدت و محبت کا واضح اظہار ہیں۔  علّامہ اقبالؔ کی رحلت پر بے شمار تاریخیں کہی گئیں۔  سب سے زیادہ تعداد میں حفیظ ہوشیارپوری نے تاریخیں کہیں (تفصیل حفیظؔ کی تاریخ گوئی کے باب میں ) پھر اس دور کی غزلوں میں بھی کہیں کہیں اقبالؔ کا رنگ جھلک اٹھتا ہے۔

یوں حفیظؔ کی ابتدائی شاعری کا ایک رنگ تو وہ ہے کہ جس میں وہ اپنے محبوب شاعر اقبالؔ سے متاثر ہو کر فکر سخن کرتے ہیں۔  دوسرا رنگ خالص ان کا اپنا ہے۔  ان کی غزل روایت سے منسلک رہ کر عصر موجود سے اپنا رشتہ استوار کرتی ہے۔  اس دورمیں جبکہ فیضؔ، ن۔  م۔  راشدؔ، میراؔجی، قیوم نظرؔ وغیرہ ترقّی پسند تحریک کے زیر اثر مزدوروں اور کسانوں کے مسائل بھوک و افلاس، زنجیر و قفس کی طرف متوجہ رہے اور محبوب کے حسن سے بادل نا خواستہ نظریں چراجایا کرتے تھے۔  ایسی فضا میں حفیظؔ نے غزل کی روایات کی پاسداری کی اور کائنات کے حسن اور محبوب کے جمال کو نظر انداز کر دینے کے رجحان کی نفی کی۔  حفیظؔ غزل سے فطری مناسبت رکھتے تھے۔  ابتدائی دور کی شاعری میں اساتذہ فن کا رنگ بھی دکھائی دے جاتا ہے۔  حسرتؔ، اصغرؔ، جگرؔ، فانیؔ وفراقؔ جیسے بزرگ معاصرین جو اردو غزل کی نشاۃ الثانیہ اور تجدید کا باعث ہوئے، حفیظؔ ان سے متاثر تھے۔  حفیظؔ کی شاعری کی وہ خصوصیات جو بعد میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئیں، ابتدائی دور کے کلام میں اس کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔  دھیما ملائم اور شائستہ لہجہ، لفظوں کے استعمال میں سادگی، وضعداری، احترام، وفا وجفا کے تذکرے، کہیں طعن وتشنیع کا انداز نہیں۔  معیار، ہمیشہ ان کے پیش نظر رہا۔  معاملات محبت ہوں یا نظام کائنات کی بات، جوش و جذبہ کے ساتھ ساتھ اپنے علم اور فلسفے سے بھی استفادہ کرتے رہے۔  اس دور کی شاعری میں محبت کے رنگ نکھرے ہوئے ہیں۔  محبت کے دکھ ہوں یا سکھ، تجدید محبت کی نوید ہو یا ترک تعلق کا نوحہ، ہر طرف اسی کی حکمرانی نظر آتی ہے۔  یہ وہ دور تھا کہ جب غم دوراں اور غم جاناں میں کشمکش شاعر کو ذہنی پراگندگی کا شکار بنا رہی تھی۔  ایسے میں حفیظؔ غم عشق کو دنیا جہان کے مسائل اور دکھوں پر ترجیح دیتے ہیں۔  عشق اور جذبہ و جنوں کی اس سلطنت میں دل کی بادشاہت قائم ہے۔  عقل اپنے دلائل و شواہد سمیت راندۂ درگاہ ہے۔  یہ ان کی شاعری کا ابتدائی دور ہے لیکن کہیں بھی وہ کچی عمر کے سراٹھاتے جذبوں کے بیان میں عامیانہ سطح پر نہیں آتے۔  جذبہ و احساس کا اظہار ٹھہرے ہوئے لہجے اور شائستہ الفاظ میں کرتے ہیں۔  سنجیدگی متانت، بات کو چھپا کر کہنے کی کوشش، رازِ الفت کے عیاں ہو جانے کا خوف، بے زبانی زباں نہ ہو جائے کا خدشہ واضح ہے۔  اس دور میں کہی گئی نظموں میں ہندی اثر پایا جاتا ہے۔  اردو گیتوں اور نظموں میں ہندی کے مترنم الفاظ شعر کو موسیقیت سے ہمکنار کرتے ہیں۔

حفیظ کی شاعری کا دوسرا دور قیام ملک سے کچھ پہلے شروع ہو کر لگ بھگ ۱۹۶۰ء تک رہا۔  آزادی، ہر دل کی آواز تھی۔  قیام پاکستان کی تحریک میں ہر فرد بلا تخصیص مردو زن، عالم و بے علم، بزرگ و جواں سبھی پیش پیش تھے۔  عدم تعاون کی تحریک گلی گلی پھیل چکی تھی۔  جگہ جگہ قیام پاکستان کی حمایت میں جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے تھے۔  حفیظ نے بھی ان جلسوں میں شرکت کی اور حب وطن سے معمور نظمیں پڑھیں۔  آزادی بہت بڑی نعمت، لیکن اس کا حصول آسان نہیں۔  بے شمار قربانیوں کے بعد بالآخر مسلمانوں کو ان کے خواب کی تعبیر ملی، لیکن ساتھ ہی مسائل کا ازدحام بھی۔  نئے وطن کی طرف ہجرت کے شوق نے ہر خوف اور دکھ کو بے معنی کر دیا لیکن لاکھوں افراد کی ہجرت بے سروسامانی کا عالم، بیماری و بھوک اور چھت کے مسائل نے فرد کی خوشی کو فکر سے معمور کر دیا۔  تمام مسائل کا حل ایک لمحہ یا ایک روز میں ممکن نہ تھا۔  اہل وطن کے پاس تازہ ولولے بھی تھے، جوش بھی تھا، لیکن افراتفری، خود غرضی اور حرص و ہوس کی آندھی بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور اس کے ذمہ دار عوام سے زیادہ رہنما تھے۔  حفیظؔ کی اس دور کی شاعری میں نئے وطن میں پیدا شدہ مسائل کے ساتھ ساتھ رہبروں کی رہزنی کے تذکرے شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔  وطن کے لیے بہت کچھ کرنے کی آرزو بھی ہے اور منفی رویوں سے گریز کی خواہش بھی۔  ان دنوں کہی جانے والی غزلوں میں تلازمات، تشبیہات و استعارات کا سیاسی و سماجی پس منظر واضح ہے۔  زنجیر، قفس، راہبر، راہزن، منزل، سفر، گردسفر، صیاد، بہار خزاں، حفیظ نے مختلف علائم کے ذریعے ملکی سیاسی حالات کو پیش کیا۔  قوم کے بننے اور بگڑنے کی ساری داستان ان اشعار سے عیاں ہے۔  بزم، ساقی، میکدہ اور محتسب کے روایتی الفاظ سے بھی حفیظؔ نے موجود صورت حال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔  نا امیدی، بے چینی، اضطراب اور تذبذب کی کیفیت بھی موجود ہے۔  سیاسی صورت حال کے ہمراہ محبت کے سبھی موسم، ہجر و وصال، تنہائی، جدائی ‘انتظار، یاد، ترک تعلق، وفا کی صورت آتے جاتے رہتے ہیں۔  کوئی موسم ٹھہرا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔  لہجہ میں حزن وملال اور درد آمیزی ہے لیکن قنوطیت نہیں۔  شائستگی اور نرم رومی کا عنصر کہیں مدھم ہوتا نظر نہیں آتا۔  اس دور میں غم جاناں کے ہمراہ کچھ اور غم زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔  غم جاں، غم روزگار اور دنیا کے مسائل، حفیظؔ کی ذات غم جاناں و غم دوراں کے درمیان اس طرح موجود ہے کہ کبھی غم جاناں حاوی ہو جاتا ہے تو کبھی غم دوراں۔  غم جاں بھی جاں کے ساتھ لگا ہے۔  خود شناسی و خود آگہی کے زخم، انسان کی قدروقیمت کا تعین، انسانیت کی اعلیٰ اقدار کی پاسداری کی طرف سے انسان کی غفلت پر اظہار افسوس۔  غرض رومانی لہجہ اور تفکر دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔  اس دور میں کہی گئی غزلوں میں فکر و فلسفہ بھی ہے اور جذبہ و جدان بھی، ذات و کائنات کے مختلف مدارج، مناظر و مظاہر حفیظؔ کے ذہن میں مختلف سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

حفیظؔ کی شاعری کا تیسرا دور آخری دس بارہ سالوں پر محیط ہے۔  اس دور میں ان کی توجہ مکمل طور پر غزل ہی کی جانب مبذول رہی۔  منظومات و تاریخی قطعات بہت کم کہے گئے۔  غزل کے موضوعات میں وسعت پیدا ہوئی۔  تفکر، فلسفیانہ مسائل، خود شناسی، تلاش ذات، خود احتسابی، خودبینی و خود آرائی، انسان کی کائنات میں اہمیت انسان اور کائنات کا تعلق، تدبیر اور تقدیر کی کرشمہ سازیاں زندگی کی برق رفتاری کا گلہ۔  فرصت کے فقدان کا احساس، ایک مدت اس کائنات میں بسر کرنے کے بعد یکایک گرد و پیش کا، اپنے گھر کا، اپنے لوگوں کا اجنبی محسوس ہونا۔  دیکھی ہوئی چیز، پہچانی ہوئی شکل کا بھی نہ پہچانا جانا۔  عدیم الفرصتی کے باعث چھوٹی چھوٹی خواہشات کے پورے نہ ہونے کا دکھ، انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا فخر، انسان کی بے بسی اور معذوری، موت کی آہٹ، بچھڑے ہوؤں کی یاد، غرض زندگی کے تمام داخلی اور خارجی پہلوؤں کو اس خوبی سے نبھایا ہے کہ تغزل اور حقائق ہم آہنگ ہو گئے۔  حفیظؔ کی جون ۱۹۷۲ء میں بیماری کی حالت میں بستر مرگ پر کہی گئی غزلیات اور نظم ’’تقدیر انساں‘‘ زندگی کی فلسفیانہ توجیہہ پیش کرتی ہیں۔

غزل کا مخصوص جمالیاتی سانچہ، تفصیل و طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔  آخری دور کی عموماً غزلیات چھوٹی بحر میں، سادہ الفاظ میں پرتاثیر انداز میں کہی گئی ہیں۔  فکرو احساس کی ہم آہنگی، جذبہ و احساس میں ہلکا سا حزن، مایوسی اور اداسی نے اشعار کو حزنیہ لے عطا کی ہے۔

سترھویں صدی میں فرانس میں پیدا ہونے والے شاعر اور نثر نگار، نکولا بولو، نے اپنی شعری و نثری تخلیقات میں جس اسلوب کو برتا ہے اس کی تعریف میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی، آج بھی اس کے قلم سے لکھے گئے فقرے اور مصرعے فرانسیسی ادب عالیہ کا حصّہ ہیں اور حوالے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔  فن شاعری کے متعلق ’’بولو‘‘ نے جو تنقیدی و تجزیاتی مضمون رقم کیا ہے۔  اس میں شاعر کے لیے سب سے پہلے شرط یہ رکھی ہے کہ شاعر پیدا ئشی ہوتا ہے۔  شعوری کوشش سے وہ معمار تو اچھا بن سکتا ہے لیکن شاعر نہیں۔  وہ کہتا ہے۔

’’تم جو کچھ بھی لکھو، اس میں زبان کا خاص خیال رکھو اور اپنی بلند ترین پرواز میں بھی اس سے نہ ہٹو۔  اگر تمھاری زبان صحیح نہیں ہے تو بہترین مصرعے اور صحیح ترین معنی بھی ناگوار گزرتے ہیں۔  بھونڈا فقرہ کوئی پڑھنے والا بھی پسند نہیں کرتا ہے۔  مختصراً تم زبان کی صفائی کے بغیر جو کچھ لکھو گے، اس سے نہ فائدہ پہنچے گا اور نہ لطف آئے گا۔  سوچنے اور غور کرنے پر وقت لگاؤ۔  جلد بازی مت دکھاؤ اور زود نویسی پر فخر نہ کرو۔  جلد لکھی ہوئی نظم جو جوش کے عالم میں لکھی جاتی ہے، اس سے طبع کی روانی نہیں بلکہ فیصلہ کی کمی کا اظہار ہوتا ہے۔  اطمینان کے ساتھ تیزی برتو۔  محنت سے مت ڈرو، جو کچھ کہو اسے سو بار سوچ لو صاف کرو۔  پھر صاف کرو۔  ہر رنگ کو اچھی طرح لگاؤ۔  اضافہ کبھی کبھی کرو۔  مگر زیادہ تر کانٹ چھانٹ کرو… اپنی تصنیف پر اعتراض عامہ سے ڈرو اور خود اپنے لیے ایک سخت گیر نقادبن جاؤ۔‘‘(۱)

نکولا بولو کا یہ مضمون حفیظؔ کی شخصیت اور شاعری کی مکمل تفسیر معلوم ہوتا ہے، جو شرائط یا جو مشورے نکولا بولو نے شاعر کو دیے۔  حفیظؔ ان پر ہمیشہ عمل پیرا رہے۔  عین ممکن ہے حفیظؔ نے نکولا کو پڑھا ہو۔  یہ بھی ممکن ہے کہ حفیظؔ اس کے نام سے بھی واقف نہ ہوں کیونکہ یہ تمام اصول و ضوابط سیکھنے یا پڑھنے سے ان کی شخصیت و شاعری کا جزو نہیں بنے بلکہ وہ تو ان کے خون میں گردش کر رہے تھے۔  شعری زندگی، جو وہ اوائل عمری سے بسر کر رہے تھے۔  ان اصولوں پر غیر محسوس طریقے سے کار بند تھے۔

حفیظؔ نے جو بھی لکھا اس میں زبان و اسلوب کا ہمیشہ خیال رکھا۔  وہ تصنّع اور دکھاوے سے دور تھے۔  زود نویسی اور بدیہہ گوئی کی صلاحیت ان میں بدرجۂاتم موجود تھی، لیکن وہ اس بات سے آگاہ تھے، اچھا لکھنے والاوہ ہے جسے پتہ ہے کہ اسے کہاں جا کر تھم جانا ہے۔

جب حفیظؔ کی شاعری میں اتنی بہت سی خوبیاں موجود ہیں تو کیا ہم حق بجانب ہوں گے کہ ان کا شمار کلاسیکی شعرا میں کریں۔  اس سوال کا جواب سہل نہیں۔  کلاسیک کیا ہے ؟ کوئی فن پارہ کس وقت کلاسک کا درجہ اختیار کر لیتا ہے ؟ کیا کسی بھی عمدہ تخلیق کو اس کی قدامت کی بنا پر کلاسک کا درجہ حاصل ہو سکتا ہے ؟ اگر صرف قدامت ہی کسی فن پارے کو کلاسک کے درجے پر فائز کرنے کا باعث ہو تو پھر آج دنیا بے شمار کلاسک سے بھری ہوتی۔  ہو مر، ورجل، فردوسی، رومی، شیکسپئیر، دانتے، حافظ و غالب یا ایسے ہی چند اور بڑے نام ہی کلاسک میں شمار نہ ہوتے۔  ان مشاہیرِ ادب کی تخلیقات اور دیگر تخلیقات میں کیا فرق ہے کہ جس کی وجہ سے ایک تخلیق کلاسیک کے درجے پر پہنچتی ہے اور دوسری اس سے محروم رہتی ہے۔

گوئٹے کے نزدیک ’’کسی قدیم تصنیف کو صرف اس لیے کلاسیک نہیں کہا جا سکتا کہ وہ قدیم ہے بلکہ اس لیے کہ وہ مضبوط، مستحکم، تازہ، پر مسرت، اور صحت مندانہ ہے۔‘‘(۲)

ان صفات کے علاوہ کلاسک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی آفاقیت اور ہمہ گیری ہے۔

’’جہاں تک کلاسیک کے مواد، موضوع، معانی خیال اور مغز کا تعلق ہے۔  موضوع شاعر کی ملی حدود میں رہ کر بھی ان حدود سے ماورا ہو کر عالم انسانیت کی مشترکہ اقدار کو چھونے لگتا ہے۔‘‘(۳)

کسی ادب پارے کا اپنی مقامی حدود سے بڑھ کر تمام کائنات کو محیط کر لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں پیش کیا گیا مواد عالم انسانیت کے لیے متاثر کن ہے۔

’’آفاقیت کسی فن پارے کی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کی معنویت کسی مخصوص واقعہ، صورت حال، مقام، زمانے اور شخص کی حدوں کو توڑتی ہوئی اپنے آپ کو اس آفاق اور کائنات پر محیط کرتی ہے۔‘‘(۴)

حفیظؔ کا شمار کلاسیک میں ہوتا ہے یانہیں۔  اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن حفیظؔ کی پائندگی کے لیے ان کے چند ایک اشعار ہی کافی ہیں۔  واضح رہے کہ مشہور ہونا ہی سند نہیں ہے۔  زندہ رہنے کے لیے تخلیق کا مضبوط و مستحکم ہونا، ہر دل کی صدا ہونا اور اپنی تہذیب اور اپنے عہد کا تعارف ہونا بھی ضروری ہے اور حفیظؔ کی شاعری میں یہ تمام لوازم موجود ہیں۔

٭٭٭

 

حوالہ جات

 

۱۔  ڈاکٹر جمیل جالبی، ارسطو سے ایلیٹ تک، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۷۹ء، صفحہ ۲۶۹۔  ۲۶۸

۲۔  ڈاکٹر جمیل جالبی، ارسطو سے ایلیٹ تک، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۷۹ء، صفحہ۳۱۴

۳۔  عابد علی عابد، کلاسیک کیا ہے، پاکستانی ادب سرسیّدین، ۱۹۸۱ء، صفحہ ۲۷۳

۴۔  ڈاکٹر ابو الخیر کشفی، ہمارے ادب کے آفاقی رشتے، پاکستانی ادب سرسیّدین ۱۹۸۱ء، صفحہ ۵۳۲

٭٭٭

 

 

 

 

 

کتابیات

 

۱۔  آزاد، ابو الکلام۔  آزادیِ ہند، لاہور، مقبول اکیڈمی، ۱۹۸۸ء

۲۔  آزاد، محمد حسین۔  آب حیات، لاہور سنگ میل، ۱۹۸۵ء

۳۔  آغا محمد باقر۔  تاریخ نظم اردو، لاہور آزاد بک ڈپو،س ن

۴۔  آفتاب احمد، ڈاکٹر۔  اشارات تنقید، کراچی، مکتبۂ دانیال ۱۹۹۶ء

۵۔  احتشام حسین، سیّد۔  ذوق ادب اور شعور، کراچی، مبارک ڈپو، ۱۹۶۳ء

۶۔  احسن، عبدالشکور۔  اقبال کی فارسی شاعری کا تنقیدی جائزہ، لاہور، اقبال اکیڈمی، ۱۹۷۷ء

۷۔  احسن، عبدالشکور۔  مرتب، پاکستانی ادب، پنجاب ادارۂ تحقیقات پاکستان، ۱۹۸۱ء

۸۔  اختر احسن، ڈاکٹر۔  تنقیدی اور تحقیقی جائزے، لاہور سنگ میل، ۱۹۸۴ء

۹۔  احمد مشتاق۔  مرتب، ہجر کی رات کا ستار ا، لاہور سنگ میل، ۱۹۸۴ء

۱۰۔  احمدھمدانی۔  سلسلہ سوالوں کا، کراچی، مکتبۂ اسلوب، ۱۹۸۶ء

۱۱۔  احمد ہمدانی۔  قصہ نئی شاعری کا، کراچی سیپ پبلی کیشنیز، ۱۹۷۹ء

۱۲۔  احمد رفاعی، ڈاکٹر۔  جگر مراد آبادی، آثارو افکار، کراچی، انجمن ترقّی اردو، ۱۹۷۹ء

۱۳۔  اختر انصاری اکبر آبادی۔  اکبر الہ آبادی کے حضور شعراء کا نذرانہ، عقیدت، کراچی بزم اکبر، ۱۹۵۱ء

۱۴۔  اختر شیرانی۔  اختر ستان، لاہور، آئینہ ادب، ۱۹۷۴ء

۱۵۔  اختر شیرانی۔  طیور آوارہ، لاہور، آئینہ ادب، ۱۹۸۲ء

۱۶۔  اختر شیرانی۔  لالہ طور، لاہور، آئینہ ادب

۱۷۔  اختر شیرانی۔  نغمہ حرم، لاہور، آئینہ ادب

۱۸۔  اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر۔  جد و جہد پاکستان، کراچی، جامعہ کراچی، ۱۹۸۴ء

۱۹۔  اشرف، ڈاکٹراے بی۔  ادب اور سماجی عمل، ملتان، کاروان ادب، ۱۹۸۰ء

۲۰۔  اشرف، ڈاکٹر اے بی۔  کچھ نئے اور پرانے شاعر، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۹ء

۲۱۔  اشفاق حسین۔  فیض ایک جائزہ، کراچی، ادارۂ یادگار غالب، ۱۹۷۷ء

۲۲۔  اعجاز احمد، شیخ۔  مظلوم اقبال، شوکت علی پرنٹرز، ۱۹۸۵ء

۲۳۔  اعجاز حسین، ڈاکٹر۔  مختصر تاریخ اردو، دہلی، آزاد کتاب گھر، ۱۹۴۴ء

۲۴۔  اعجاز حسین، ڈاکٹر۔  نئے ادبی، رجحانات، الہ آباد، کتابستان، ۱۹۵۷ء

۲۵۔  اعجاز راہی۔  اظہار، دستاویز پبلیشرز، ۱۹۸۳ء

۲۶۔  اعظمی، خلیل الرحمن، ڈاکٹر۔  اردو میں ترقّی پسند تحریک، علی گڑھ ایجوکیشنل بک ہاؤس ۱۹۷۹ء

۲۷۔  اعظمی، خلیل الرحمن، ڈاکٹر۔  مضامین نو، علی گڑھ، ایجوکیشنل بک ہاؤس ۱۹۷۹ء

۲۸۔  آفتاب احمد، ڈاکٹر۔  غالب آشفتہ نوا، کراچی، انجمن ترقّی اردو، ۱۹۸۹ء

۲۹۔  اقبال جاوید۔  اردو کے دس عظیم شاعر، لاہور، علمی کتب خانہ، ۱۹۸۳ء

۳۰۔  اقبال، ڈاکٹر علّامہ محمد، کلیات اقبال، لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۸۹ء

۳۱۔  الطاف گوہر۔  چند تحریریں، اسلام آباد، مطبوعات حرمت، ۱۹۸۸ء

۳۲۔  امیر مینائی۔  دیوان امیر، لاہور مقبول اکیڈمی، ۱۹۸۸ء

۳۳۔  انتظار حسین۔  علامتوں کا زوال، لاہور سنگ میل، ۱۹۸۳ء

۳۴۔  انجم اعظمی۔  ادب اور حقیقت، کراچی اشاعت گھر، ۱۹۷۹ء

۳۵۔  انجم اعظمی۔  شاعری کی زبان، کراچی، الباقریہ پبلی، کیشنز، ۱۹۸۹ء

۳۶۔  انجم، زاہد حسین۔  قائد ملّت لیاقت علی خان، لاہور، مکتبۂ القریش، ۱۹۹۰ء

۳۷۔  انور سدید، ڈاکٹر۔  اختلافات، لاہور مکتبۂ اردو زبان، ۱۹۷۵ء

۳۸۔  انور سدید، ڈاکٹر۔  اردو ادب کی تحریکیں، کراچی، انجمن ترقّی اردو، ۱۹۸۵ء

۳۹۔  انیں ناگی۔  تصوّرات، لاہور، ص۔ ن پبلی، کیشنز، ۱۹۷۸ء

۴۰۔  انیں ناگی۔  مذکرات لاہور، مکتبۂ جمالیات، ۱۹۸۳ء

۴۱۔  اے حمید۔  ابن انشا، یادیں اور باتیں، لاہور، شیخ، غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۸۰ء

۴۲۔  اے۔  حمید۔  اردو شعر کی داستان، لاہور، شیخ غلام علی اینڈ زنز ۱۹۸۲ء

۴۳۔  اے وحید، ڈاکٹر۔  مرتب، جدید شعرائے اردو، لاہور فیروز سنز، ۱۹۵۶ء

۴۴۔  ایوب مرزا، ڈاکٹر۔  ہم کہ ٹھہرے اجنبی، راولپنڈی، مارگلہ پرنٹرز، ۱۹۷۹ء

۴۵۔  بخاری، سیّدذوالفقار علی۔  سرگذشت، کراچی، انٹر سروسز پریس، ۱۹۶۶ء

۴۶۔  بھٹّی، محمد امین۔  پاکستانی ادب، تنقید، راولپنڈی، ایف۔  جی۔  سرسیّد کالج، ۱۹۸۲ء

۴۷۔  تاج سیّد۔  مرتب، جہان فراقؔ، لاہور، سنگ میل، ۱۹۹۱ء

۴۸۔  تبسّم کاشمیری، ڈاکٹر۔  جدید اردو شاعری میں علامت نگاری، لاہور، سنگ میل، ۱۹۷۵ء

۴۹۔  تبسّم کاشمیری، ڈاکٹر۔  نئے شعری تجزیے، لاہور سنگ میل، ۱۹۷۸ء

۵۰۔  تحسین فراقی۔  جستجو، لاہور، مکہ بکس ۱۹۸۱ء

۵۱۔  تصدق حسین راجا۔  یوسف ظفر کی بات، اسلام آباد، مکتبۂ دانیال، ۱۹۹۲ء

۵۲۔  تمنّائی، ڈاکٹر صفیہ بانو۔  انجمن پنجاب، تحریک و خدمات، کراچی، کفایت اکیڈمی، ۱۹۸۰ء

۵۳۔  جاذب قریشی۔  شاعری اور تہذیب، کراچی، مکتبۂ کامران، ۱۹۸۵ء

۵۴۔  جعفری، سیّدمحمد حسن۔  احمد سیلم، پاکستانی معاشرہ اور ادب، کراچی پاکستان سٹڈی سنز، ۱۹۸۷ء

۵۵۔  جگر مراد آبادی۔  آتش گل، لاہور مکتبۂ اردو ادب، ۱۹۷۸ء

۵۶۔  جمیل جالبی، ڈاکٹر۔  ارسطو سے ایلیٹ تک، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۷۹ء

۵۷۔  جمیل جالبی، ڈاکٹر۔  پاکستانی کلچر، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۱ء

۵۸۔  جمیل جالبی، ڈاکٹر۔  نئی تنقید، کراچی، رائل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۱ء

۶۹۔  چغتائی، امین راحت۔  دلائل، لاہور، سنگ میل، ۱۹۹۳ء

۶۱۔  حسن رضوی، ڈاکٹر۔  ناصر کاظمی، شخصیت اور فن، لاہور سنگ میل، ۱۹۹۶ء

۶۲۔  حفیظؔ ہوشیارپوری۔  مقام غزل، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۷۳ء

۶۳۔  حفیظؔ ہوشیارپوری۔  ترتیب و تحقیق، مثنویات ہیر رانجھا، کراچی، سندھی ادبی بورڈ، ۱۹۵۷ء

۶۴۔  حقی، شان الحق۔  نشید حریت، کراچی، فیروز سنز ۱۹۶۴ء

۶۵۔  حقی، شان الحق۔  نقدوں گارش کراچی، مکتبۂ اسلوب، ۱۹۸۵ء

۶۶۔  حقی، شان الحق۔  نقد و نگارش کراچی، مکتبۂ اسلوب، ۱۹۸۵ء

۶۷۔  شاعر، حمایت علی۔  شخص و عکس، کراچی، المصنفین ۱۹۸۴ء

۶۸۔  حمید نسیم۔  نا ممکن کی جستجو، کراچی، فضلی سنز، ۱۹۹۰ء

۶۹۔  خاطر غزنوی۔  جدید اردو ادب، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۵ء

۷۰۔  خان، ڈاکٹرغلام مصطفے۔  تحقیقی جائزے، سکھر، مطبوعات بزم غالب، ۱۹۶۸ء

۷۱۔  خان، ڈاکٹریوسف حسین۔  اردو غزل، علی گڑھ، انجمن ترقّی اردو، ۱۹۵۷ء

۷۲۔  خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر۔  نئے پرانے خیالات، لاہور اکیڈمی، ۱۹۷۰ء

۷۳۔  خلوت، غلام محی الدین۔  دورنگی تحفہ، لاہور مشرقی کتب خانہ، ۱۹۳۰ء

۷۴۔  داغ دہلوی۔  دیوان داغ، اسلام آباد، میپکو، ۱۹۸۵ء

۷۵۔  ذوالفقار، ڈاکٹر غلام حسین۔  اردو شاعری کا سیاسی و سماجی پس منظر، جامعہ پنجاب، ۱۹۶۶ء

۷۶۔  رضوی، ڈاکٹرسجاد باقر۔  تہذیب و تخلیق، لاہور، مکتبۂ جدید ادب، ۱۹۷۶ء

۷۷۔  رضوی، ڈاکٹرسجاد باقر۔  مغرب کے تنقیدی اصول، لاہور اظہار سنز، ۱۹۷۱ء

۷۸۔  رضوی، وقار احمد۔  تاریخ جدید اردو غزل، کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۸ء

۷۹۔  سجاد ظہیر۔  روشنائی، کراچی مکتبۂ دانیال ۱۹۸۳ء

۸۰۔  سرور، آل احمد۔  جدیدیت اور ادب، گڑھ، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، ۱۹۶۹ء

۸۱۔  سرور، آل احمد۔  نئے اور پرانے چراغ، سندھ، اردو اکیڈمی سندھ۱۹۵۱ء

۸۲۔  سروری، عبدالقادر۔  جدید شاعری، لاہور، غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۶۷ء

۸۳۔  سکسینہ، ڈاکٹر رام بابو۔  تاریخ ادب اردو لاہور، علمی کتاب خانہ، ۱۹۶۷ء

۸۴۔  سلام سندیلوی، ڈاکٹر۔  ادبی اشارے، لاہور، عشرت پبلیشنگ ہاؤس، ۱۹۶۵ء

۸۵۔  سلام سندیلوی، ڈاکٹر۔  مزاج اور ماحول، لاہور، سفینہ ادب، سن۔  ن۔

۸۶۔  سلیم احمد۔  ادھوری جدیدیت، کراچی، سفینہ اکیڈمی، ۱۹۷۷ء

۸۷۔  سلیم احمد۔  مشرق، کراچی مکتبۂ نیا ادب ۱۹۸۹ء

۸۸۔  سلیم احمد، ڈاکٹر۔  اردو اور کلچر لاہور، مکتبۂ عالیہ، س۔  ن۔

۸۹۔  سلیم اختر، ڈاکٹر۔  اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۳ء

۹۰۔  سلیم اختر، ڈاکٹر۔  اقبال اور ہمارے فکری رویے، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۵ء

۹۱۔  سلیم اختر، ڈاکٹر۔  اقبالیات کے نقوش، لاہور، اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۷۷ء

۹۲۔  سلیم اختر، ڈاکٹر۔  تنقیدی دبستان، لاہور، مکتبۂ عالیہ، ۱۹۷۴ء

۹۳۔  سلیم اختر، ڈاکٹر۔  جوش کا نفسیاتی مطالعہ، لاہور فیروز زسنز، س۔  ن۔

۹۴۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  ادب و فن لاہور، اردو اکیڈمی، ۱۹۸۷ء

۹۵۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹراردو ادب ۱۹۵۷ء تا ۱۹۶۶ء، لاہور، مکتبۂ خیابان ادب، ۱۹۶۷ء

۹۶۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  اشارات تنقید، لاہور، مکتبۂ خیابان ادب، ۱۹۶۶ء

۹۷۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  بحث و نظر، لاہور، مکتبۂ اردو، ۱۹۵۲ء

۹۸۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  سخنور، حصّہ اول، لاہور، اردو اکیڈمی ۱۹۷۶ء

۹۹۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  حصّہ دوم، لاہور، اردو اکیڈمی، ۱۹۸۱ء

۱۰۰۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  طیف غزل، لاہور، لاہور اکیڈمی، ۱۹۸۴ء

۱۰۱۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  مباحث، لاہور، مجلس ترقّی ادب،، ۱۹۶۵ء

۱۰۲۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  مقامات اقبال، لاہور، لاہور اکیڈمی، ۱۹۶۶ء

۱۰۳۔  سیّد عبداللہ ، ڈاکٹر۔  نقد میر، لاہور، خیابان ادب، ۱۹۶۸ء

۱۰۴۔  سیّد وقار عظیم۔  اقبال شاعر اور فلسفی، لاہور تصنیفات، ۱۹۶۸ء

۱۰۵۔  شاہد ماہلی۔  مرتب، فیض احمد فیض، عکس اور جہتیں، لاہور ماورا پبلیشرز، ۱۹۸۸ء

۱۰۶۔  شمیم احمد۔  ۲ +۲=۵ کوئٹہ، قلات پبلیشرز، ۱۹۷۷ء

۱۰۷۔  شمیم حنفی۔  مرتب، فراقؔ، شاعر اور شخص، لاہور بک ٹریڈرز، ۱۹۸۳ء

۱۰۸۔  شمیمہ نقوی، ڈاکٹر۔  ترقّی پسند تنقید کا ارتقا اور احتشام حسین، کراچی، اردواکیڈمی سندھ، ۱۹۸۷ء

۱۰۹۔  شوکت تھانوی۔  بار خاطر، لاہور، ادارہ فروغ اردو، ۱۹۶۱ء

۱۱۰۔  شوکت سبزواری۔  معیار ادب، کراچی مکتبۂ اسلوب، ۱۹۶۱ء

۱۱۱۔  شوکت سبزواری۔  نئی پرانی قدریں، کراچی، مکتبۂ اسلوب، ۱۹۶۱ء

۱۱۲۔  شیخ ایاز۔  مترجم، رسالہ شاہ عبدالطیف بھٹائی، حیدرآباد، سندھ یونیورسٹی، ۱۹۶۳ء

۱۱۳۔  شیخ محمد اکرام۔  رود کوثر، لاہور، فیروز سنز، ۱۹۷۰ء

۱۱۴۔  صدیق کلیم۔  نئی تنقید، لاہور، سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی، گورنمنٹ کالج، ۱۹۶۹ء

۱۱۵۔  صدیقی، ڈاکٹر ابو اللیث۔  آج کا اردو ادب، لاہور، فیروزسنز، ۱۹۷۰ء

۱۱۶۔  صدیقی، ڈاکٹرابواللیث۔  تجربے اور روایت، لاہور، اردو مرکز، ۱۹۸۹ء

۱۱۷۔  صدیقی، ڈاکٹرابواللیث۔  غزل اور متغزلین، لاہور، اردو مرکز، ۱۹۵۴ء

۱۱۸۔  صدیقی، ڈاکٹرابواللیث۔  لکھنؤ کا دبستان شاعری، کراچی، غنضفر اکیڈمی، ۱۹۸۷ء

۱۱۹۔  صدیقی، رشید احمد۔  جدید اردو، غزل، حالی تا حال، لاہور، یونیورسل بکس، ۱۹۸۷ء

۱۲۰۔  صدیقی، رشید احمد۔  شیرازہ، خیال، ملتان کاروان ادب، ۱۹۸۲ء

۱۲۱۔  صدیقی، عبدالعلیم۔  تقابلی جائزے، لاہور، مکتبۂ عالیہ، ۱۹۸۲ء

۱۲۲۔  صوفی تبسّم۔  علّامہ اقبال سے آخری ملاقاتیں، لاہور، ماورا ء پبلیشرز، ۱۹۸۹ء

۱۲۳۔  ضیا ساجد۔  مرتب فیض احمد فیض، لاہور، عظیم پبلیشرز، س۔  ن

۱۲۴۔  طاہر مسعود۔  یہ صورت گر کچھ خوابوں کے، کراچی، مکتبۂ تخلیق ادب ۱۹۸۵ء

۱۲۵۔  ظفر الحسن، مرزا۔  عمر گذشتہ کی کتاب، کراچی، ادارۂ یاد گار غالب، ۱۹۷۸ء

۱۲۶۔  ظہیر کاشمیری۔  ادب کے مادی نظریے، لاہور، کلاسک، ۱۹۷۵ء

۱۲۷۔  عابدعلی عابد۔  اصول انتقاد ادبیات، لاہور، مکتبۂ اردو، س۔  ن

۱۲۸۔  عابد علی عابد۔  انتقاد شعر، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۹ء

۱۲۹۔  عابد حسن منٹو۔  نقطہ نظر، لاہور، مکتبۂ میری لائبریری، ۱۹۸۶ء

۱۳۰۔  عالی، جمیل الدین، دعا کر چلے، کراچی

۱۳۱۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  ادب اور ادبی قدریں، لاہور ادارہ ادب و تنقید ۱۹۸۴ء

۱۳۲۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  تنقیدی زاوئیے، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۶۱ء

۱۳۳۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  جدیدروایت کی اہمیت، کراچی انجمن ترقّی اردو، ۱۹۶۵ء

۱۳۴۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  شاعری کیا ہے، لاہور، ادارہ ادب و تنقید ۱۹۸۹ء

۱۳۵۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  شاعری کیا ہے، لاہور، ادارہ ادب و تنقید، ۱۹۸۹ء

۱۳۶۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  غزل اور مطالعۂ غزل، کراچی، انجمن ترقّی اردو۱۹۵۵ء

۱۳۷۔  عبادت بریلوی، ڈاکٹر۔  شاعری اور شاعری کی تنقید، کراچی، اردو دنیا، ۱۹۶۵ء

۱۳۸۔  عبدالرحمن طارق۔  لیاقت امریکہ میں، لاہور، مکتبۂ حق نواز، ۱۹۵۴ء

۱۳۹۔  عبدالرشیدخواجہ۔  تذکرہ شعرائے پنجاب، کراچی، اقبال اکادمی، ۱۹۶۷ء

۱۴۰۔  عبدالرشیدخواجہ۔  تذکرہ طالب آملی، کراچی، فیروز سنز، ۱۹۶۵ء

۱۴۱۔  عبدالسلام ندوی۔  اقبال کامل، اعظم گڑھ، دارالمصنفین، ۱۹۲۸ء

۱۴۲۔  عبدالقیوم، ڈاکٹر۔  تنقیدی نقوش، کراچی، مشتاق بک ڈپو، ۱۹۶۳ء

۱۴۳۔  عبداللہ ملک۔  پنجاب کی سیاسی تحریکیں، لاہور، کوثر پبلیشرز، ۱۹۸۲ء

۱۴۴۔  عبیداللہ قدسی۔  آزادی کی تحریکیں، لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ ۱۹۸۸ء

۱۴۵۔  عزیز احمد۔  اقبال نئی تشکیل، لاہور، گلوب پبلیشرز، ۱۹۶۸ء

۱۴۶۔  عزیز احمد۔  ترقّی پسند ادب، ملتان، کاروان ادب، ۱۹۸۱ء

۱۴۷۔  عسکری، محمد حسن۔  تخلیقی عمل اور اسلوب، کراچی، نفیس اکیڈمی، ۱۹۸۹ء

۱۴۸۔  عسکری، محمد حسن۔  جھلکیاں (حصّہ اول) لاہور، مکتبۂ روایت س۔  ن۔

۱۴۹۔  عسکری، محمد حسن۔  مرتب میری بہترین نظم الہ آباد کتابستان ۱۹۶۲ء

۱۵۰۔  عسکری، محمد حسن۔  وقت کی راگنی، لاہور، مکتبہ محراب

۱۵۱۔  عشرت رحمانی۔  شہید ملت، لاہور، دین محمدی پریس ۱۹۵۱ء

۱۵۲۔  عشرت رحمانی۔  عشرت فانی، لاہور، سنگ میل ۱۹۸۵ء

۱۵۳۔  عطا الرحیم سیّد۔  تعارف نفسیات، کفایت اکیڈمی، کراچی، ۱۹۶۶ء

۱۵۴۔  عندلیب شادانی۔  تحقیق کی روشنی میں، لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۶۳ء

۱۵۵۔  عنوان چشتی، ڈاکٹر۔  اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت، لاہور، تخلیقی مرکز س۔  ن

۱۵۶۔  غضنفر حبیب اللہ ۔  زبان و ادب، کراچی، غضنفر اکادمی ۱۹۸۳ء

۱۵۷۔  فارغ بخاری۔  البم، لاہور، فنون پبلیشرز ۱۹۷۸ء

۱۵۸۔  فاروقی، محمد حمزہ۔  حیات اقبال کے چند مخفی گوشے، لاہور، ادارہ تحقیقات پاکستان، دانش گاہ پنجاب، ۱۹۸۸ء

۱۵۹۔  فاخر حسین۔  ادب اور ادیب، لاہور، نگار شات، ۱۹۸۸ء

۱۶۰۔  فانی بدایونی۔  کلیات فانی لاہور، مکتبۂ شعر و ادب، س۔  ن

۱۶۱۔  فراق گورکھپوری۔  اردو غزل گوئی، لاہور، ادارہ فروغ اردو۔

۱۶۲۔  فراق گورکھپوری۔  اندازے، لاہور، ادارہ فروغ اردو، ۱۹۵۹ء

۱۶۳۔  فراق گورکھپوری۔  شبستان، الہ آباد، ۱۹۴۷ء

۱۶۴۔  فراق گورکھپوری۔  شعلہ ساز، لاہور، ۱۹۴۵ء

۱۶۵۔  فرمان فتح پوری، ڈاکٹر۔  اقبال سب کے لیے، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۷۸ء

۱۶۶۔  فرمان فتح پوری، ڈاکٹر۔  نیا اور پرانا ادب، کراچی، قمر کتاب گھر، ۱۹۷۴ء

۱۶۷۔  فقیر، سیّد وحیدالدین۔  روز گار فقیر، کراچی، لائن آرٹ پریس، ۱۹۶۴ء

۱۶۸۔  فیاض محمود، کیپٹن۔  مرتب، تنقید غالب کے سو سال، لاہور، مطبوعات مجلس یادگار غالب، ۱۹۵۹ء

۱۶۹۔  فیض احمد فیض۔  متاع لوح و قلم، کراچی، مکتبۂ دانیال، ۱۹۸۳ء۔

۱۷۰۔  فیض احمد فیض۔  میرے دل میرے مسافر، کراچی مکتبۂ دانیال، ۱۹۸۲ء

۱۷۱۔  قاسم غفور شاہ۔  پاکستانی ادب ۱۹۴۷ء تا حال، لاہور، بک ٹاک، ٹمپل روڈ، ۱۹۹۵ء

۱۷۲۔  قریشی، محمد عبداللہ ۔  آئینہ اقبال، لاہور، آئینہ ادب، ۱۹۷۶ء

۱۷۳۔  قریشی، محمد عبداللہ ۔  معاصرین اقبال کی نظر میں، مجلس ترقّی ادب، ۱۹۷۷ء

۱۷۴۔  قریشی، محمد عبداللہ ۔  مکاتیب اقبال بنام گرامی، اقبال اکیڈمی، ۱۹۶۹ء

۱۷۵۔  قمر رئیس، عاشور کاظمی، ترقّی پسند ادب پچاس سالہ سفر، دہلی ایجوکیشنل پریس، ۱۹۸۹ء

۱۷۶۔  کاظمی، حسن سلطان۔  مرتب، چند پریشاں کاغذ، لاہور، مکتبۂ خیال، ۱۹۹۵ء

۱۷۷۔  کامل قریشی، ڈاکٹر۔  اردو غزل، لاہور پروگریسو بکس، ۱۹۸۹ء

۱۷۸۔  کشفی، ڈاکٹرمحمد ابو الخیر۔  اردو شاعری کا سیاسی و سماجی پس منظر، کراچی ادبی پبلیشرز

۱۷۹۔  کشفی ڈاکٹرمحمد ابو الخیر۔  جدید اردو ادب کے دو تنقیدی جائزے، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ ۱۹۶۳ء

۱۸۰۔  کشفی، ڈاکٹرمحمد ابو الخیر۔  ہمارے عہد کا ادب اور ادیب، کراچی، قمر کتاب گھر، ۱۹۷۱ء

۱۸۱۔  کشفی، ڈاکٹرمحمد ابو الخیر۔  نعت اور تنقید نعت، کراچی، طاہرہ کشفی مموریل سوسائٹی، ۲۰۰۱ء

۱۸۲۔  کلیم الدین احمد۔  اردو شاعری پر ایک نظر، کراچی، غضنفر اکیڈمی، ۱۹۸۵ء

۱۸۳۔  کوثر، انعام الحق۔  اقبالیت کے چند گوشے، کوئٹہ، قریشی پبلیشرز، ۱۹۸۸ء

۱۸۴۔  گوپال متل۔  لاہور کا جو ذکر کیا، لاہور، مکتبۂ اردو ادب، س۔  ن

۱۸۵۔  گوہر نوشاہی۔  لاہور میں اردو شاعری کی روایت، لاہور، مکتبۂ عالیہ، ۱۹۹۱ء

۱۸۶۔  ماہرالقادری۔  یادرفتگاں، لاہور، البدر پبلیشرز، ۱۹۸۴ء

۱۸۷۔  مجاز، سرار الحق۔  آہنگ، لاہور، نیا ادارہ، ۱۹۴۳ء

۱۸۸۔  مجتبیٰ حسین۔  ادب و آگہی، کراچی مکتبۂ افکار ۱۹۶۷ء

۱۸۹۔  مجنوں گورکھپوری۔  ادب اور زندگی، کراچی، مکتبۂ دانیال ۱۹۶۹ء

۱۹۹۔  محمد حسن، ڈاکٹر۔  اردو ادب میں رومانی تحریک، ملتان کاروان ادب، ۱۹۸۶ء

۲۰۰۔  محمد حسن، ڈاکٹر۔  ارد و شاعری کا فکری اور تہذیبی پس منظر، لکھنؤ، شاہی پریس، ۱۹۶۲ء

۲۰۱۔  محمد حسن، ڈاکٹر۔  جدید اردو ادب، کراچی، غضنفر اکیڈمی، ۱۹۷۴ء

۲۰۲۔  محمد حسن، ڈاکٹر۔  دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی اور فکری پس منظر، علی گڑھ، ادارۂ تصنیف، ۱۹۶۴ء

۲۰۳۔  محمد طفیل۔  محترم لاہور، ادارہ فروغ اردو، ۱۹۶۸ء

۲۰۴۔  محمد علی صدیقی۔  توازن، کراچی ادارہ عصر نو، ۱۹۷۶ء

۲۰۵۔  محمد مجیب۔  تاریخ تمدن ہند، لاہور، پروگریسو بکس، ۱۹۸۶ء

۲۰۶۔  محمود الرحمن۔  جنگ آزادی کے اردو شعراء اسلام آباد، قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، ۱۹۸۶ء

۲۰۷۔  محمود الرحمن۔  اردو میں بچّوں کا ادب، کراچی، ڈھاکہ نیشنل پبلیشنگ ہاؤس، ۱۹۷۰ء

۲۰۸۔  محمود نظامی۔  ملفوظات اقبال، لاہور، نرائن دت سہگل، ۱۹۶۰ء۔

۲۰۹۔  محی الدین، غلام۔  نفسیات کا اطلاق، لاہور، ایس۔  اے۔  زیڈ پبلیشرز، ۱۹۹۲ء

۲۱۰۔  مرزا ادیب۔  بچّوں کا ادب، لاہور مقبول اکیڈمی، ۱۹۸۸ء

۲۱۱۔  مظفر علی سیّد۔  تنقید کی آزادی، لاہور، دستاویز، س۔  ن

۲۱۲۔  ملک حسن اختر۔  تاریخ ادب اردو، لاہوریونیورسل بک ایجنسی، ۱۹۷۹ء

۲۱۳۔  ملک حسن اختر۔  تنقیدی نظریے، لاہور، مکتبۂ میری لائبریری، ۱۹۸۱ء

۲۱۴۔  ملک، فتح محمد۔  انداز نظر، لاہور، التحریر، ۱۹۸۶ء

۲۱۵۔  ملک، فتح محمد۔  تعصبات لاہور، نقوش پریس، ۱۹۷۳ء

۲۱۶۔  ممتاز حسین۔  نقد اور شعور، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۶۱ء

۲۱۷۔  ممتاز حسین۔  غالب ایک مطالعہ، کراچی، انجمن ترقّی اردو، ۱۹۶۸ء

۲۱۸۔  ممتاز حسین۔  نقد حرف، کراچی مکتبۂ اسلوب، ۱۹۸۵ء

۱۹ء ۲۔  ممتاز شیریں۔  معیار لاہور، نیا ادارہ، ۱۹۶۲ء

۲۲۰۔  بدرالدین منیر۔  بیسویں صدی کا شعری ادب، لاہور، پولیمر پبلی کیشنز، ۱۹۸۸ء

۲۲۱۔  ناصر کاظمی۔  پہلی بارش، لاہور، مکتبۂ خیال، ۱۹۸۳ء

۲۲۲۔  ناصر کاظمی۔  خشک چشمے کے کنارے، لاہور، مکتبۂ خیال، ۱۹۸۲ء

۲۲۳۔  ناصر کاظمی۔  دیوان، لاہور، مکتبۂ خیال، ۱۹۸۰ء

۲۲۴۔  نصراللہ خان۔  کیا قافلہ جاتا ہے، کراچی مکتبۂ تہذیب و فن، ۱۹۸۴ء

۲۲۵۔  ناظر محمود، مترجم۔  وقت کا سفر، لاہور، روہتاس بکس، ٹمپل روڈ، ۱۹۸۸ء

۲۲۶۔  نقوی، ارشاد حسین۔  سیّد اکبر الہ آبادی کا سیاسی شعور، لاہور، الحمرا اکیڈمی، ۱۹۷۴ء

۲۲۷۔  ندوی، عبدالسلام۔  اقبال کامل، اعظم گڑھ، دارالمصنفین، ۱۹۴۹ء

۲۲۸۔  نوازش علی، ڈاکٹر۔  فراقؔ گورکھپوری، شخصیت و فن، لاہور، دستاویز مطبوعات، ۱۹۹۳ء

۲۲۹۔  نظیر صدیقی۔  اردو ادب کے مغربی دریچے، لاہور، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۳ء

۲۳۰۔  نظیر صدیقی۔  تاثرات و تعصبات، ڈھاکہ، مدرسہ عالیہ، ۱۹۶۲ء

۲۳۱۔  نظیر صدیقی۔  تفہیم و تعبیر، ملتان، کاروان ادب، ۱۹۸۳ء

۲۳۲۔  نظیر صدیقی۔  جان پہچان، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۷۹ء

۲۳۳۔  نظیر صدیقی۔  جدید اردوغزل، لاہور، گلوب پبلیشرز، ۱۹۸۴ء

۲۳۴۔  نظیر صدیقی۔  عندلیب شادانی ایک مطالعہ، کراچی، مکتبۂ اسلوب، ۱۹۸۵ء

۲۳۵۔  نعیم نقوی۔  تنقید و تناظر، کراچی، غنضفر اکیڈمی، ۱۹۸۶ء

۲۳۶۔  نیاز فتح پوری۔  انتقادیات، کراچی، ادارۂ ادب عالیہ، ۱۹۵۹ء

۲۳۷۔  نیاز فتح پوری۔  بیسویں صدی میں اردو غزل، لاہور، اردو مرکز، ۱۹۸۷ء

۲۳۸۔  ڈاکٹروحید قریشی، ڈاکٹر۔  جدیدیت کی تلاش میں، لاہور مقبول اکیڈمی، ۱۹۹۰ء

۲۳۹۔  واصف علی واصف۔  دل دریا سمندر، لاہور، کاشف پبلی کیشنز، ۱۹۹۳ء

۲۴۰۔  واصف علی واصف۔  قطرہ قطرہ قلزم، لاہور، کاشف پبلی کشیز، ۱۹۹۳ء

۲۴۱۔  وزیر آغا، ڈاکٹر۔  اردو شاعری کا مزاج، لاہور، مکتبۂ عالیہ، ۱۹۷۸ء

۲۴۲۔  وزیر آغا، ڈاکٹر۔  تخلیقی عمل، سرگودھا، مکتبۂ اردو زبان، ۱۹۷۰ء

۲۴۳۔  وزیر آغا، ڈاکٹر۔  تنقید اور احتساب، لاہور، جدید ناشرین، ۱۹۶۸ء

۲۴۴۔  ہاشمی، رفیع الدین۔  خطوط اقبال، لاہور، مکتبۂ خیابان ادب، ۱۹۷۶ء

۲۴۵۔  ہاشمی، نورالحسن۔  دلّی کا دبستان شاعری، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۸۹ء

۲۴۶۔  یوسف، ٹی۔  ایم۔  جدید نفسیات، لاہور، علمی کتاب خانہ، ۱۹۹۱ء

۲۴۷۔  یوسف کامران۔  سفر تمام ہوا، لاہور، سنگ میل، ۱۹۸۴ء

۲۴۸۔  یونس ادیب۔  حلقۂ اربابِ ذوق، لاہور، مجلس ترقّی ادب، ۱۹۸۴ء

 

رسائل

 

۱۔  ادب لطیف لاہور سالنامہ ۱۹۴۶ء

۲۔  ادب لطیف لاہور، سالنامہ، اکتوبر ۱۹۵۵ء

۳۔  ادبی دنیا، لاہور، اگست، اکتوبر ۱۹۳۲ء، جون، اگست ۱۹۳۳ء، اپریل، جون تا اکتوبر ۱۹۳۴ء، فروری تا اپریل ۱۹۳۵ء فروری تا اپریل، ستمبر ۱۹۳۶ء، فروری، ستمبر، نومبر ۱۹۳۷ء، مئی، نومبر ۱۹۳۸ء، نومبر ۱۹۴۳ء، نومبر ۱۹۴۴ء

۴۔  اردو ڈائجسٹ، لاہور، جنوری ۱۹۶۵ء

۵۔  اردو سہ ماہی، کراچی، اپریل۔  مئی ۱۹۵۱ء

۶۔  افکار، کراچی، جولائی ۱۹۶۴ء، مارچ ۱۹۷۳ء

۷۔  اوراق، لاہور، ستمبر ۱۹۷۳ء ۸برگ گل، مجلہ، وفاقی گورنمنٹ اردو کالج کراچی ۱۹۷۷ء

۹۔  تخلیقی ادب، اسلوب، کراچی، اکتوبر ۱۹۸۳ء، جولائی ۱۹۸۵ء

۱۰۔  دنیائے ادب کراچی شمارہ ۱۲ فروری ۱۹۹۶ء

۱۱۔  راوی، لاہور، مئی جون ۱۹۳۲ء، اکتوبر ۱۹۳۴ء، جون، جولائی ۱۹۳۵ء، مئی ۱۹۷۳ء

۱۲۔  سرسیّد پاکستانی ادب روالپنڈی پہلی جلد ۱۹۸۱ء، تیسری جلد ۱۹۸۱ء، پانچویں جلد ۱۹۸۲ء

۱۳۔  فنون، جدید غزل نمبر لاہور، جنوری ۱۹۶۹ء

۱۴۔  قومی زبان کراچی، ۱۹۵۱ء، اگست ۱۹۶۱ء، جنوری ۱۹۹۴ء

۱۵۔  ماہ نو، کراچی، ۱۹۵۱ء، انتخاب ۵۸۔  ۱۹۵۳ء

۱۶۔  ماہ نو، لاہور، چالیس سالہ مخزن ۱۹۸۷ء، دسمبر ۱۹۹۰ء

۱۷۔  مجلس، لاہور، گورنمنٹ کالج، ۱۹۳۲ء

۱۸۔  نرگس، لاہور، اگست ستمبر، ۱۹۴۷ء

۱۹۔  نصرت، لاہور، اگست ستمبر، ۱۹۴۷ء

۲۰۔  نقوش، لاہور، جشن آزادی نمبر، ۱۹۴۸ء، غزل نمبر، جون ۱۹۵۴ء، شخصیات نمبر، جنوری ۱۹۵۵ء، جولائی ۱۹۵۶ء، نومبر ۱۹۵۷ء، پطرس نمبر ستمبر ۱۹۵۹ء، شوکت نمبر، ۱۹۶۳ء، اپریل مئی جون ۱۹۶۶ء، مئی ۱۹۶۷ء، عصری ادب نمبر، ۱۹۸۲ء، جولائی ۱۹۷۳ء

۲۱۔  نگار، کراچی، جدید شاعری نمبر، ۱۹۶۵ء، اصناف شاعری نمبر، ۱۹۶۷ء، حسرت موہانی نمبر ۱۹۷۶ء، میری بہترین نظم نمبر، ۱۹۹۰ء

۲۲۔  نئی قدریں، حیدرآباد سندھ، فروری ۱۹۵۸ء

۲۳۔  نئے زاویے، جلد دوم لاہور، انتخاب ۵۵۔  ۱۹۴۵ء

۲۴۔  ہمایوں، لاہور، ستمبر۱۹۳۴ء، اپریل، ۱۹۳۷ء، جون۱۹۳۸ء، اکتوبر ۱۹۳۸ء، جنوری۱۹۳۹ء، جنوری۱۹۴۷ء، مئی ۱۹۵۲ء

پندرہ روزہ… ہفت روزہ

۱۔  آزاد کشمیر، اسلام آباد، ۱۱ ؍اگست تا ۱۷ اگست ۱۹۹۵ء

۲۔  آہنگ، کراچی، یکم فروری ۱۹۵۱ء، ۷ فروری ۱۹۶۴ء

۳۔  چٹان، لاہور، ابن انشا ۱۴فروری ۱۹۴۵ء، ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۳ء

۴۔  شیرازہ، لاہور، ۸ جولائی ۱۹۳۸ء، ۸ فروری، ۱۹۳۷ء، اقبال نمبر، ۱۹۳۸ء

 

 

اخبارات

۱۔  آفاق، لاہور، ۱۹ء دسمبر ۱۹۴۸ء، ا۲اپریل ۱۹۵۲ء، ۱۲ستمبر ۱۹۵۲ء، ۱۷ مارچ۱۹۵۳ء

۲۔  امروز، لاہور، ۱۶دسمبر ۱۹۴۸ء، ۱۵مئی ۱۹۵۰ئ، ۵ نومبر ۱۹۵۰ئ، ۱۲ جنوری ۱۹۸۷ء

۳۔  امروز، لاہور، یکم جنوری ۱۹۵۱ء، ۲۹ جنوری ۱۹۵۱ء، ۷ جولائی ۱۹۵۱ء

۴۔  امروز، لاہور، ۱۲ جنوری ۱۹۷۳ء، ۱۵اگست ۱۹۵۲ء، ۳ ستمبر ۱۹۵۲ء، ۸جولائی۱۹۵۳ء، ۲۳جنوری ۱۹۸۷ء، ۲۸جنوری ۱۹۷۳ء

۵۔  انقلاب، لاہور، ۲۲فروری ۱۹۳۶ء، ۱۳مئی ۱۹۳۷ء، ۸فروری ۱۹۳۸ء، ۲۴دسمبر ۱۹۳۸ء

۶۔  جسارت، کراچی، ۱۶ جولائی ۱۹۹۵ء

۷۔  جنگ، کراچی ۱۶جولائی ۱۹۵۱ء، ۲۱ اپریل ۱۹۶۱ء، ۱۷جون ۱۹۶۸ء ۴دسمبر ۱۹۷۲ء، ۱۱جنوری ۱۹۷۳ء، ۱۱جنوری ۱۹۷۴ء، ۱۴جنوری ۱۹۷۴ء، ۲۹جنوری ۱۹۷۹ء، ۱۷جنوری ۱۹۹۲ء

۸۔  جنگ، روالپنڈی۲۰ مارچ ۱۹۹۵ء

۹۔  حریت، کراچی ۱۹ء اکتوبر ۱۹۷۲ء، ۱۱ جنوری ۱۸۷۳، ۱۵جنوری ۱۹۷۳ء، ۱۶ دسمبر ۱۹۸۸ء

۱۰۔  مساوات، کراچی، ۱۳ جنوری ۱۹۷۳ء، ۱۴ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۔  مشرق لاہور، ۲۸ دسمبر ۱۹۸۳ء

۱۲۔  نوائے وقت لاہور ۲۱ اپریل ۱۹۷۴ء

۱۳۔  نوائے وقت، روالپنڈی، ۶ نومبر ۱۹۷۸ء

 

مکالمے

 

۱۔  افتخار عارف، ۲۹ جون ۱۹۹۳ء، اسلام آباد

۲۔  جمیل الدین عالی، ۲ جنوری ۱۹۹۵ء، کراچی

۳۔  سیّد ضمیر جعفری، ۲ جنوری ۱۹۹۵ء کراچی

۴۔  شمس الدین بٹ، ۸ جولائی ۱۹۹۴ء، کراچی

۵۔  صبیحہ حفیظؔ، ۲۵ مارچ، یکم اپریل ۱۹۹۳ء، راولپنڈی

۶۔  صہبا اختر، جولائی ۱۹۹۴ء، کراچی

۷۔  صہیب حفیظؔ، یکم اپریل ۱۹۹۳ء، راولپنڈی، ۸ جولائی ۱۹۹۴ء کراچی، ۴ جولائی ۱۹۹۷ء کراچی

۸۔  ضیاء جالندھری، ۱۰ اگست ۱۹۹۳ء، اسلام آباد

۹۔  عصمت حفیظ، ۲۵ فروری، یکم اپریل ۱۹۹۳ء، روالپنڈی

۱۰۔  عمیر حفیظؔ، یکم اپریل ۱۹۹۳ء روالپنڈی

۱۱۔  کشور ناہید، ۲۹ جون ۱۹۹۳ء، اسلام آباد

۱۲۔  کلثوم حفیظ، یکم اپریل ۱۹۹۳ء، روالپنڈی

 

گفتگو (ٹیلی فون)

 

۱۔  صبیحہ حفیظؔ

۲۔  عصمت حفیظؔ

۳۔  عطا حسین کلیم

۴۔  مشفق خواجہ

 

تحریری مکالمے

 

۱۔  احمد ندیم قاسمی ۱۶ اگست ۱۹۹۳ء

۲۔  انصار ناصری ۱۵ ۱پریل ۱۹۹۳ء

۳۔  بشیر ساجد ۱۸ گست ۱۹۹۳ء

۴۔  جمیل الدین عالی ۳۰ اپریل ۱۹۹۴ء

۵۔  حمید نسیم ۱۸ اگست ۱۹۹۳ء

۶۔  شان الحق حقی ۱۰ مئی ۱۹۹۳ء

۷۔  شیخ منظورالٰہی ۲۸ جون ۱۹۹۳ء

۸۔  صوفی گلزار احمد ۳۱ اگست ۱۹۹۳ء

۹۔  مشفق خواجہ (اخباری تراشے )

 

تحریری تاثرات (مضمون کی صورت میں )

 

۱۔  اختر ہوشیارپوری ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء

۲۔  صہبا اختر جولائی ۱۹۹۴ء

 

غیر مطبوعہ خزینہ

 

۱۔  حفیظؔ کی ڈائری، مملوکہ شیخ احسان (مرحوم) بیگم احسان

۲۔  حفیظؔ ہوشیارپوری، فضل حق فاروقی، مقالہ برائے ایم۔  اے اردو، مخرونہ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج، لاہور

٭٭٭

تشکر: مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

حصہ چہارم

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل