FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

بربریت اور تمدن

خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز

ڈاکٹر عائشہ رسول

 

فہرست

تہذیب کے ماقبل تاریخی دور. 4

دور وحشت…… 5

عہد بربریت… 7

خاندان.. 11

حوالہ جات… 57

ایرو کو اس لوگوں کا گن… 61

امریکہ میں انڈین قبیلوں کی نمایاں خصوصیتیں کیا ہیں ؟. 67

حوالہ جات… 82

ایتھنز میں ریاست کا ظہور. 85

حوالہ جات… 94

روم میں گن اور ریاست…. 96

حوالہ جات… 106

کیلٹ اور جرمن لوگوں میں گن… 107

حوالہ جات… 119

جرمن لوگوں میں ریاست کا آغاز. 121

حوالہ جات… 131

بربریت اور تمدن.. 132

حوالہ جات… 149

تشریحی نوٹ… 150

ناموں کا اشاریہ. 157

پہلے ایڈیشن کا دیباچہ.. 187

1891کے چوتھے ایڈیشن کا دیباچہ.. 190

حوالہ جات… 201

 

پہلا باب

تہذیب کے ماقبل تاریخی دور

مارگن پہلا شخص ہے جس نے ماہر جن کی گہری واقفیت کے ساتھ انسان کے ماقبل تاریخی دور میں ایک مخصوص نظم و ترتیب پیدا کرنے کی کوشش کی۔ سوائے اس صورت کے جبکہ مزید اہم مواد ملنے کی وجہ سے تبدیلیاں کرنا ضروری ہو جائے، امید کی جا سکتی ہے کہ اس نے جو درجہ بندی کے ہے وہ قائم رہے گی۔

عہد وحشت، عہد بربریت اور عہد تہذیب، ان تین خاص ادوار میں قدر تاً مارگن کا تعلق محض پہلے دو سے اور اس عبوری دور سے ہے جو تیسرے عہد کی طرف لے جاتا ہے۔ ان دو عہدوں میں سے ہر عہد کو وہ ذرائع زندگی کی پیداوار کی نشوونما کے مطابق ابتدائی، درمیانی اور آخری ادوار میں تقسیم کرتا ہے کیونکہ جیسا کہ مارگن کا کہنا ہے۔

’’عالم فطرت پر انسان کی ساری برتری کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ذرائع زندگی کی پیداوار میں اس نے کتنی مہارت حاصل کی ہے۔  انسان ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس نے غذا کی پیداوار پر پوری قدرت حاصل کر لی ہے۔ انسانی ترقی کی بڑی منزلوں کا کم و بیش براہ راست تعلق ذرائع زندگی کے وسیلوں کی توسیع کے ساتھ ہے۔(1) "

خاندان کا ارتقا بھی اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے لیکن اس میں ہمیں ایسی کوئی قطعی بنیاد نہیں ملتی جس سے مختلف ادوار کی حد بندی کی جا سکے۔

 

دور وحشت

1۔ ابتدائی دور

یہ نسل انسانی کے بچپن کا دور ہے۔ انسان ابھی تک اپنے ابتدائی مسکن یعنی گرم یا نیم گرم علاقوں کے جنگلوں میں رہتا تھا اور کم از کم ایک حد تک درختوں پر بسیرا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اتنی دنوں تک بڑے بڑے شکاری جانوروں اور درندوں سے بچا رہا۔ پھل،  گری دار میوے اور جڑیں،   یہی اس کی غذا تھی۔ اس دور میں اس کا اصلی کارنامہ یہ تھا کہ اس نے بولنا سیکھا۔ تاریخی زمانی میں ہمیں جن لوگوں کا حال ملتا ہے ان میں سے کوئی بھی اس قدیم حالت میں نہیں تھا۔ اگرچہ یہ زمانہ ہزاروں برس تک رہا ہو گا پھر بھی اس کا کوئی براہ راست ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن جب ایک بار ہم یہ مان لیتے ہیں کہ انسان عالم حیوانی سے پیدا ہوا ہے تو پھر اس عبوری دور کو بھی ماننا ضروری ہے۔

2۔ درمیانی دور

اس کے ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے جب مچھلی(جس میں کیکڑے،  گھونگھے اور دوسرے دریائی جانوروں کو بھی شامل کرتے ہیں (غذا میں کام آنے لگی اور آگ کا استعمال ہونے لگا۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ مچھلی آگ کے استعمال کے بعد ہی اچھی طرح کھانے کے کام آ سکتی ہے۔ اس نئی غذا نے انسان کو موسم اور مقام کی قید سے آزاد کر دیا۔ دریاؤں اور ساحلوں کے ساتھ ساتھ چل کر انسان اپنی اس وحشت کی حالت میں بھی کرہ زمین کے بڑے حصے پر پھیل گیا۔ ابتدائی پتھر کے دور کے بے ڈھنگے، کھردرے پتھر کے اوزار۔ ۔۔۔ جن کو قدیم حجری دور کے اوزار کہتے ہیں۔ ۔۔۔ جو سب کے سب یا زیادہ تراسی دور کے ہیں اور سبھی براعظموں میں بکھرے پڑے ہیں۔  انسان کی اس نقل و حرکت کا ثبوت ہیں۔  نئے نئے علاقوں میں جا کر بسنے، برابر نئی چیزوں کی تلاش کی دھن میں لگے رہنے اور اب اس کے ساتھ رگڑ سے آگ جلانے کے فن پر قدرت پا لینے سے انسان کو کھانے کی نئی نئی چیزیں ملتی رہیں،   جیسے غذائی جڑیں اور گنٹھیاں جو گرم راکھ میں یا زمین میں کھدی ہوئی آگ کی بھٹیوں میں پکا لی جاتی تھیں،  اور ابتدائی ہتھیاروں یعنی لاٹھی اور بھالے کی ایجاد کے بعد شکار میں مارے ہوئے جانور بھی غذا میں شامل کئے جانے لگے۔ محض شکاری قومیں جن کا اکثر کتابوں میں ذکر آتا ہے یعنی ایسی قومیں جو محض شکار پر گزارہ کرتی ہوں،   کبھی نہیں رہیں۔  شکار کا نتیجہ اتنا غیر یقینی ہوتا ہے کہ محض اس کے سہارے زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں رہیں۔   کھانے کے چیزوں کا ملنا اب بھی نہایت غیر یقینی تھا جس کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں آدم خوری کا رواج شروع ہوا اور بہت دنوں تک جاری رہا۔ آسٹریلیا کے باشندے اور بہت سے پولینیزین آج بھی وحشت کے اس درمیانی دور میں ہیں۔

3۔ آخری دور

اس کی ابتدا تیر کمان کی ایجاد سے ہوئی جس کی وجہ سے جنگلی جانوروں کا گوشت غذا کا باقاعدہ جزو بن گیا اور شکار کا عام رواج ہو گیا۔  تیر،  کمان اور اس کی تانت ایک پیچیدہ ہتھیار ہے جس کو ایجاد کرنے کے لئے بہت دنوں کے تجربے، تیزی اور ذہانت کی ضرورت تھی اور اسی لئے یہ بھی ضروری تھا کہ اس کے ساتھ بہت سی دوسری ایجادوں سے بھی واقفیت ہو۔ اگر ہم ان قوموں کا موازنہ ان سے کریں جو اگرچہ تیر اور کمان سے تو واقف تھیں مگر برتن بنانا نہیں جانتی تھیں(مٹی کے برتن بنانے کے جن سے مارگن کے رائے میں عہد بربریت کے طرف تغیر کی ابتدا ہوتی ہے( تو ہم دیکھیں گے کہ اس ابتدائی دور میں بھی لوگ گاؤں میں بسنے لگے ہیں،   ذرائع زندگی کی پیداوار پر کسی حد تک قدرت حاصل ہو چکی ہے۔ ’’لکڑی کے برتن بھانڈے بنائے جاتے ہیں،  انگلیوں سے(کرگھے کے بغیر(درختوں کی چھال کے ریشوں سے طرح طرح کی چیزیں بنائی جاتی ہیں،  درخت کی چھال اور بید کی ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں،  اور پتھر(حجر جدید)کے پالش کئے ہوئے چکنے اوزار بنائے جاتے ہیں۔  پھر بڑی حد تک آگ اور پتھر کی کلہاڑی کی مدد سے درخت کا تنا کھود کر ناؤ اور ڈونگی تیار ہونے لگی اور کہیں کہیں مکان بنانے کی لکڑی اور تختے بھی کاٹے جانے لگے تھے۔ مثال کے طور پر شمال مغربی امریکہ کے انڈینوں میں یہ سبھی چیزیں پائی جاتی ہیں۔   وہ تیر کمان سے تو واقف مگر برتن بنانا بالکل نہیں جانتے۔ تیر کمان عہد وحشت میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو عہد بربریت میں لوہے کی تلوار اور عہد تہذیب میں بارود کے ہتھیار یعنی توپ بندوق،  یرنی وہ فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔

 

عہد بربریت

1۔ ابتدائی دور

]اس کی ابتدا مٹی کے برتن بنانے سے ہوئی۔ اس فن کی ابتدا بعض جگہوں میں یقیناً اور شاید سبھی جگہوں میں اس طرح ہوئی کہ ٹوکریوں یا لکڑی کے برتنوں کو آگ سے بچانے کے لئے ان پر مٹی کا لیپ چڑھایا جانے لگا۔ اس طرح جلد ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ اندر کا برتن نکال لینے پر بھی مٹی کے سانچے سے کام چل سکتا ہے۔ اس نقطہ تک ہم مان سکتے تھے کہ ایک خاص زمانے تک سبھی قوموں میں خواہ وہ کسی مقام سے تعلق رکھتی ہوں،   ارتقا کا راستہ ایک ہی ہے۔ لیکن بربریت کے ساتھ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوتے ہیں جس میں دو بڑے براعظموں کی قدرتی خصوصیتوں کا فرق اپنا اثر دکھانے لگتا ہے۔ عہد بربریت کے نمایاں خصوصیت جانور پالنا، ان کی نسل بڑھانا اور پودوں کی کاشت کرنا ہے۔ اب جہاں تک مشرقی براعظم یعنی پرانی دنیائے قدیم کا تعلق ہے، یہاں پالنے کے قابل تقریباً سبھی جانور اور ایک کو چھوڑ کر کاشت کے قابل سبھی اناج موجود تھے۔ جبکہ مغربی براعظم یعنی امریکہ میں پالنے کے قابل ایک ہی دودھ پلانے والا جانور تھا جسے لاما کہتے ہیں اور جو صرف جنوب کے ایک حصے میں پایا جاتا ہے، اور کاشت کے قابل صرف ایک اناج۔۔۔۔ مکا۔ ۔۔۔۔۔ تھا مگر وہ تھا سب سے اچھا۔  قدرتی حالات کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانے سے دونوں نیم کرہ ارض کے باشندے الگ الگ اپنی ڈگر پر چلنے لگے اور ارتقا کے مختلف ادوار کے بیچ کی حد فاصل دونوں جگہ اپنی الگ الگ خصوصیتوں کی حامل ہو گئی۔

2۔ درمیانی دور

اس کی ابتدا مشرق میں جانور پالنے سے اور مغرب میں آب پاشی کے ذریعہ غذائی پودوں کی کاشت کرنے اور مکان بنانے کے لئے کچی اینٹوں اور پتھر کے استعمال سے ہوتی ہے۔

پہلے ہم مغرب کو لیں گے کیونکہ یورپ والوں کی فتح کے وقت تک امریکہ کے لوگ کہیں بھی اس دور سے آگے نہیں بڑھے تھے۔

امریکہ میں رہنے والے انڈینوں کا جب پتہ چلا تو اس وقت وہ عہد بربریت کے ابتدائی دور میں تھے (مسی سیپی سی مشرق میں رہنے والے سبھی انڈین اسی دور سے گزر رہے تھے(اس وقت وہ کسی حد تک مکئی اور شاید لوکی، تربوز اور دوسرے پھلوں کی بھی کاشت کرنے لگے تھے۔ اسی سے انہیں اپنی غذا کا بڑا حصہ ملتا تھا۔ یہ لوگ باڑوں سے گھرے ہوئے گاؤں میں لکڑی کے مکانوں میں رہا کرتے تھے۔ شمال مغرب کے قبیلے، خاص کر وہ جو دریائے کولمبیا کے علاقوں میں رہتے تھے،  اس وقت بھی عہد وحشت کے آخری دور میں پڑے ہوئے تھے۔ وہ نہ برتن بنانا جانتے تھے اور نہ کاشت کرنا۔ دوسری طرف نیو میکسیکو کے پوئبلو انڈین کہلانے والے لوگ میکسیکی لوگ، وسطی امریکہ اور پیرو کے باشندے،  فتح امریکہ کے وقت عہد بربریت کے درمیانی دور میں تھے۔  وہ لوگ دھوپ میں سکھائی ہوئی اینٹوں یا پتھر کے قلعہ نما مکانوں میں رہتے تھے۔ وہ ان باغوں میں جن میں مصنوعی ذرائع سے آب پاشی ہوتی تھی، مکئی کی اور موسم اور جگہ کے مطابق اور دوسرے اناجوں کی کاشت کرتے تھے۔ یہی ان کی غذا کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ انہوں نے کچھ جانور بھی پال رکھے تھے اور پیرو کے باشندوں نے لاما۔ اس کے علاوہ کئی دھاتوں کے استعمال سے واقف تھے مگر لوہے کا استعمال بالکل نہیں جانتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ پتھر کے ہتھیاروں اور اوزاروں سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تھے۔ اسپین والوں نے ان کے ملک کو فتح کرنے کے بعد ان کی آزاد نشوونما کا سلسلہ روک دیا۔

مشرق میں بربریت کے درمیانی دور کی ابتدا ان جانوروں کے پالنے سے ہوئی جو دودھ دیتے تھے اور جن کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس دور میں بہت دنوں تک پودوں کی کھیتی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔  ایسا لگتا ہے کہ مویشی پالنے اور جانوروں کے بڑے بڑے جھنڈ اور ریوڑ بنانے کی وجہ سے ہی آریا اور سامی لوگ عہد بربریت کے باقی لوگوں سے مختلف ہو گئے تھے۔ یورپ اور ایشیا کے آریوں میں مویشیوں کے نام آج بھی مشترک ہیں لیکن قابل کاشت پودوں کے نام نہیں ملتے۔

عمدہ اور مناسب جگہوں میں جانوروں کے ریوڑ اور جھنڈ بننے سے گلا بانی کی زندگی کا آغاز ہوا، سامیوں میں دجلہ اور فرات کے مرغزاروں میں اور آریوں میں ہندوستان کے میدانوں اور آمو دریا اور سیر دریا اور دان اوردنیپر کی وادیوں میں۔   مویشی پالنا غالباً انہیں چراگاہوں کی سرحدوں پر شروع ہوا ہو گا۔  اسی لئے بعد میں آنے والی نسلوں کو ایسا معلوم ہوا کہ گلا بانی کرنے والی قوموں کا آغاز انہی جگہوں میں ہوا ہو گا حالانکہ دراصل یہ علاقے ایسے تھے جو انسانیت کا گہوارہ ہونا تو دور کی بات رہی،  ان کے وحشی آباء و  اجداد کے لئے اور عہد بربریت کے ابتدائی دور کے لوگوں کے لئے بھی گویا بالکل ناقابل رہائش تھے۔  دوسری طرف یہ بات تھی کہ عہد بربریت کے درمیانی دور کے لوگ ایک بار گلہ بانی کی زندگی اختیار کر لینے کے بعد یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اپنے ان ہرے بھرے سیراب میدانوں اور چراگاہوں کو چھوڑ کر ان جنگلوں میں لوٹ جائیں جہاں ان کے آباؤ اجداد رہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آریوں اور سامی لوگوں کو اور بھی شمال اور مغرب کی طرف بڑھنے پر مجبور ہونا پڑا تب بھی مغربی ایشیا اور یورپ کے جنگلی علاقوں میں بسنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوا۔ وہاں وہ صرف اسی وقت آباد ہو سکے جب انہوں نے اناج کی کھیتی سے ایسی حالت پیدا کر لی کہ ان ناموافق علاقوں میں بھی اپنے مویشیوں کے لئے چارہ فراہم کے سکیں اور خاص کر جاڑوں میں گزارہ کر سکیں۔  بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ان لوگوں نے اناج کی کھیتی پہلے پہل مویشیوں کو کھلانے کے لئے شروع کے تھی اور انسان کی خوراک کے لئے اس کو اہمیت بعد میں حاصل ہوئی۔

آریوں اور سامیوں کو گوشت اور دودھ بہ افراط ملتا تھا۔ بچوں کی نشوونما پر ان غذاؤں کا بہت مفید اثر پڑتا ہے۔  غالباً یہی وجہ تھی کہ ان دونوں نسلوں نے اوروں سے زیادہ ترقی کی۔ سچ پوچھئے تو نیو میکسیکو کے پوئبلو انڈی جن کی غذا صرف ساگ ترکاری رہ گئی ہے ان انڈینوں کے مقابلے میں چھوٹے دماغ کے ہوتے ہیں جو بربریت کے ابتدائی دور میں ہیں اور خوب گوشت اور مچھلی کھاتے ہیں۔   بہرحال،  اس دور میں آدم خوری رفتہ رفتہ بند ہو گئی اور اگر کہیں باقی بھی رہی تو محض ایک مذہبی رسم کے حیثیت سے یا جادو ٹونے کی شکل میں۔  اور اس دور میں یہ دونوں قریب قریب ایک ہی چیز ہیں۔

3۔ آخری دور

اس کی ابتدا اس زمانے سے ہوئی جب کچے لوہے کو پگھلا کر صاف کیا جانے لگا، اور جب حروف تہجی کے لکھنے کا فن ایجاد ہوا اور ادبی تحریروں میں اس سے کام لیا جانے لگا تو رفتہ رفتہ یہ دور ختم ہو کر تہذیب کر عہد میں مل گیا۔ جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں اس دور کو آزادی کے ساتھ صرف مشرقی نیم کرہ کے لوگ ہی پورا کر سکے۔ اس دور میں پیداوار میں جتنی ترقی ہوئی اتنی پہلے کے تمام ادوار میں کل ملا کر بھی نہیں ہوئی تھی۔ سورمائی عہد کے یونانی، روم کے تعمیر سے کچھ پہلے کے اطالوی قبیلے، تاسیت کے زمانے کے جرمن اور والیکنگ(4)کے زمانے کے نارمن اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسی دور میں ہمیں پہلے پہل لوہے کے ہل ملتے ہیں جنہیں جانور چلایا کرتے تھے۔ اسی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کھیتی کرنا۔ ۔۔۔۔ کاشت کاری۔ ۔۔۔۔ ممکن ہو سکی۔ اور اس زمانے کے نقطہ نظر سے ذرائع زندگی میں لا محدود اضافہ ہوا۔  جنگل صاف کئے گئے، کھیت اور چارہ گاہیں بنائی گئیں۔   اور یہ کام لوہے کی کلہاڑی اور پھاوڑے کے بغیر، وسیع پیمانے پر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں گنجان بستیاں بس گئیں۔  کاشتکاری سے پہلے صرف بہت ہی مخصوص حالات پانچ لاکھ آدمیوں کو ایک مرکزی رہنمائی کے تحت لا سکتے تھے۔ زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

ہومر کی نظموں خصوصاً ’’ایلیڈ ” میں ہمیں بربریت کا آخری دور اپنے عروج پر ملتا ہے۔ لوہے کے اچھے اوزار، دھونکنی،  ہاتھ سے چلنے والی چکی، کمہار کا چاک،  تیل نکالنا اور شراب بنانا، دھاتوں کے صاف کرنے کا ترقی کر کے فن کی حیثیت اختیار کرنا، گاڑی اور جنگی رتھ، تختوں اور کڑیوں سے پانی میں چلنے والے جہاز بنانا، فن تعمیر کی ابتدا، فصیلوں سے گھرے ہوئے شہر جن میں مینار اور فصیل نما دیواریں ہوتی تھیں،  ہومر کی رزمیہ نظمیں اور پوری دیومالا۔۔۔۔ یہ ہے وہ اہم ترین وراثت جس کو لے کر یونانیوں نے بربریت سے تہذیب کے عہد میں قدم رکھا۔ اب ذرا اس کے مقابلے میں ہم ان جرمنوں کو دیکھیں جن کی تصویر سیزر اور خود تاسیت نے کھینچی ہے۔ وہ تمدن کی اس منزل کی دہلیز پر کھڑے تھے جہاں سے آگے بڑھ کر ہومر کے زمانے کے یونانی ایک زیادہ اونچی منزل میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ دونوں کا موازنہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ بربریت کے آخری دور میں پیداوار نے بہت ترقی کر لی تھی۔

مارگن کے خاکے کے مطابق وحشت اور بربریت سے ہوتے ہوئے تہذیب کی ابتدائے منزلوں تک انسانی ارتقا کے جو تصویر میں نے کھینچی ہے، اس میں بہت سی نئی باتیں ہیں۔  یہ باتیں ناقابل تردید بھی ہیں کیونکہ انہیں براہ راست پیداوار سے لیا گیا ہے۔ پھر بھی ہماری داستان کے ختم ہونے تک اس تصور کے جو نقوش ابھریں گے، ان کے مقابلے میں یہ رنگ بہت ہلکے اور پھیکے ہیں۔  صرف اسی وقت یہ ممکن ہو گا کہ بربریت سے تہذیب تک کے تغیرات کی پور ی تصویر اور دونوں کے نمایاں فرق کو پیش کیا جائے۔ فی الحال مارگن نے ادوار کو جس طرح تقسیم کیا ہے، اسے عام لفظوں میں ہم یوں پیش کر سکتے ہیں : عہد وحشت جس میں انسان قدرت کے خزانے سے زیادہ تر وہی چیزیں لیتا تھا جو کھانے پینے کے لئے تیار ملتے تھیں۔  انسان کو زیادہ تر ایسے اوزار تیار کرتا تھا جن سے ان چیزوں کو لینے میں آسانی ہو۔ عہد بربریت جس میں انسان نے مویشی پابلا اور کھیتی کرنا یعنی اپنی محنت سے قدرت کی زرخیزی کو بڑھانے کا طریقہ سیکھا۔ تہذیب کا عہد جس میں انسان نے قدرت کی نعمتوں سے مزید کام لینا سیکھا اور صنعت و حرفت اور فنون کی واقفیت حاصل کی۔

حوالہ جات

1۔ دیکھئے ’’مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحہ4. ( ایڈیٹر)

ّّّّّّّّّ_______________________________

 

دوسرا باب

خاندان

مارگن نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایرو کو اس لوگوں میں گزارا، جو آج بھی ریاست نیو یارک میں رہتے ہیں۔  انہیں کے ایک قبیلے ( سینیکا)نے اسے اپنا لیا تھا۔ مارگن نے ایک عجیب و غریب چیز یہ دیکھی کہ ان لوگوں میں قرابت داری کا جو نظام قائم ہے اس میں اور ان کے اصلی خاندانی تعلقات میں تضاد ہے۔ ان میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ ایک ایک جوڑا آپس میں شادی کرتا تھا اور فریقین میں سے کوئی بھی آسانی کے ساتھ اس رشتے کو توڑ سکتا تھا۔ مارگن اس کو ’’جوڑا خاندان” کہتا تھا۔ ایسے شادی شدہ جوڑے کی اولاد کو سبھی جانتے اور مانتے تھے اور کسی کو اس میں شبہ نہیں ہو سکتا تھا کہ باپ،  ماں،   بیٹا،  بیٹی،  بھائی اور بہن کس کو کہا جائے۔ لیکن حقیقت میں ان اصطلاحوں کا استعمال بالکل الٹے ڈھنگ سے ہوتا تھا۔ ایرو کو اس لوگ صرف اپنی ہی اولاد کو نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کی اولاد کو بھی بیٹا بیٹی کہتے اور وہ انہیں باپ کہتے تھے۔ اس کے برعکس بہن کی اولاد کو وہ بھانجا بھانجی کہتے اور وہ انہیں ماموں پکارتی تھی۔ دوسری طرف ایرو کو اس عورتیں اپنی اولاد کو ساتھ ساتھ اپنی بہن کی اولاد کو بیٹا بیٹی کہتیں اور وہ انہیں ماں کہتیں۔  اس کے برعکس بھائی کی اولاد کو وہ بھتیجا بھتیجی کہتیں اور وہ انہیں پھوپھی کہتی۔ بھائیوں کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کو بھائی بہن کہا کرتی اور اسے طرح بہنوں کی اولاد بھی ایک دوسرے کو یہی کہتی۔ لیکن اس کے برعکس ایک عورت اور اس کے بھائی کی اولاد ایک دوسرے کو ممیرے پھوپھیرے بھائی یا بہن کہہ کر پکارتی۔ اور یہ محض کوری اصطلاحیں نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے خون کے رشتوں کی قربت،  ان کے ہم جد ہونے اور ان کی برابری اور نا برابری کے خیالات کام کر رہے ہیں اور یہ خیالات قرابت داری کے ایک مکمل نظام کے بنیاد کا کام دیتے ہیں جس میں ایک ایک شخص کے سینکڑوں مختلف رشتوں کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ،  یہ نظام یہ صرف امریکہ کے تمام انڈینوں میں پایا جاتا ہے(جن میں ابھی تک کوئی اس سے مستثنی ٰ نہیں ملا (بلکہ اس کا رواج جوں کا توں،   بلا کسی تبدیلی کے ہندوستان کے قدیم باشندوں میں،   دکن کے دراوڑ اور شمالی ہندوستان کے گوڑا قبیلوں میں پایا جاتا ہے۔  جنوبی ہندوستان کے تاملوں میں اور ریاست نیو یارک میں ایرو کو اس قبیلے کے سینیکا لوگوں میں رشتہ داری کی جو صورتیں پائی جاتی ہیں ِ وہ دو سو سے زیادہ رشتوں میں آج بھی دونوں جگہ ایک ہیں۔   اور امریکہ کے سارے انڈینوں کی طرح ہندوستان کے ان قبیلوں میں بھی خاندان کی مروجہ شکل سے پیدا ہونے والے تعلقات میں اور ہم خاندانی کے نظام میں تضاد ہے۔

اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ عہد وحشت اور عہد بربریت میں سبھی لوگوں کے یہاں سماجی نظام کے اندر قرابت داری کی ایک فیصلہ کن اہمیت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک ایسے وسیع نظام کی توجیہ محض الفاظ کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسا نظام جو عام طور سے سارے امریکہ میں اور اسی طرح ایشیا میں بھی ایک بالکل مختلف نسل کے لوگوں میں پھیلا ہوا ہے اور جس کی کم و بیش بدلی ہوئی صورتیں سارے افریقہ اور آسٹریلیا میں پائی جاتی ہیں۔  ایسے نظام کی تاریخی توجیہ ضروری ہے۔ اس کی توجیہ اس طرح نہیں کی جا سکتی جس طرح مثال کے طور پر میکلینن نے کرنے کی کوشش کی تھی۔ باپ، بیٹے،  بھائی اور بہن کی اصطلاحیں محض رسمی نہیں بلکہ ان کے ساتھ باہمی حقوق اور فرائض کا ایک مخصوص،  متعین اور بہت ہی واضح تصورات وابستہ ہے جو مجموعی طور پر ان لوگوں کے سماجی آئین کا ایک ضروری حصہ ہوتا ہے اور اب اس کی توجیہ مل گئی ہے۔ جزیرہ ہائے سینڈ یچ(ہوائی(میں موجودہ صدی کے ابتدائی نصف حصے تک خاندان کی ایک ایسی شکل موجود تھی جس میں ٹھیک اسی طرح کے باپ اور ماں،   بھائی اور بہن،  بیٹے اور بیٹی،  چچا اور چچی،  بھتیجے اور بھتیجی ہوتے تھے جس طرح کے امریکی اور قدیم ہندوستانی ہم خاندانی کے نظام کو ضرورت تھی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہم خاندانی کا جو نظام ہوائی میں رائج تھا، اس میں اور وہاں کے خاندان کے اصلی صورت میں بھی تضاد یا۔ وہاں سبھی چچیرے، پھوپھیرے،  ممیرے اور خلیرے بھائی بہن،  حقیقی بھائی بہن سمجھے جاتے تھے۔ اور وہ سب صرف اپنی ماں اور اس کی اپنی بہنوں کی مشترک اولاد تصور کئے جاتے تھے۔ چناچہ اگر امریکہ کے ہم خاندانی نظام کی تہہ میں خاندان کی ایک زیادہ قدیم شکل تھی جو امریکہ میں تو رائج نہیں رہی لیکن ہوائی میں اب بھی پائی جاتی ہے تو ہوائی کا ہم خاندانی نظام خاندان کی ایک اور بھی قدیم شکل کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جس کا وجو د اگرچہ ا ٓج کہیں ثابت نہیں کیا جا سکتا پھر بھی کبھی نہ کھبی ضرور رہا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم خاندانی کا وہ نظام جو اس سے مناسبت رکھتا ہے، کبھی قائم نہ ہوتا۔

مارگن کا کہنا ہے کہ ’’خاندان ایک زندہ اور متحرک چیز ہے۔ وہ کبھی ایک حال پر نہیں رہتا۔ جس طرح سماج نیچے سے اوپر کے طرف ترقی کرتا ہے، اسی طرح خاندان بھی نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کرتا رہا۔ اس کے برعکس ہم خاندانی کا نظام میں کوئی بڑی تبدیلی صرف اسی وقت ہوتی ہے جب خاندان میں کوئی بری تبدیلی ہو چکی ہو۔ "

اس پر مارکس نے یہ اضافہ کیا کہ ’’یہی بات عام طور سے سیاسی،  قانونی،  مذہبی اور فلسفیانہ نظام جلد اور بے جان ہو جاتا ہے اور اگرچہ رسمی طور پر اس کا ڈھانچہ باقی رہتا ہے پھر بھی خاندان ترقی کر کے اس سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جس طرح پیرس کے قریب ایک ایسے جانور کے ڈھانچے کی ہڈیوں سے جس کے بچہ رکھنے کی تھیلی ہوتی ہے، کیووئے یقین کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ ڈھانچہ پیٹ کی تھیلی میں بچے کو رکھ کر لے جانے والے کسی جانور کا ہے، اور ایسے جانور اگرچہ اب نہیں ملتے مگر اس علاقے میں ضرور کبھی رہتے ہوں گے، اسی طرح تاریخی طور پر پرانے زمانے سے ہمیں ہم خاندانی(سکوتری(کا جو نظام ملا ہے، اس سے ہم بھی اتنے ہی یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مناسبت رکھنے والی خاندان کی ایک شکل کبھی رائج ہو گی جو اب مٹ چکی ہے۔

ہم خاندانی کے وہ نظام اور خاندان کی وہ شکلیں جن کا ابھی ذکر ہوا موجودہ زمانے کے مروجہ نظاموں اور شکلوں سے مختلف ہیں۔  فرق یہ ہے کہ ان میں ہر بچے کے کئی کئی باپ اور مائیں ہوتی ہیں۔  ہم خاندانی کے امریکی نظام کے مطابق،  جس سے ہوائی والا خاندان مناسبت رکھتا ہے، بھائی اور بہن ایک ہی بچے کے باپ اور ماں نہیں ہو سکتے۔ اس کے برعکس ہم خاندانی کا ہوائی والا نظام جس خاندان پر مبنی ہے، اس میں یہی رواج تھا۔ ہمیں خاندان کا ہوائی والا نظام جس خاندان پر مبنی ہے، اس میں یہی رواج تھا۔ ہمیں خاندان کی مختلف شکلیں ملتی ہیں اور یہ ان شکلوں سے بالکل مختلف ہیں جو عام طور پر مروج مانی جاتی ہیں۔  خاندان کے روایتی تصور کے ساتھ ساتھ یک زوجگی ہے جس میں کچھ مردوں کے لئے کثرت ازواج اور شاید کچھ عورتوں کے لئے کثرت شوہری کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن اس تصور میں اس حقیقت پر چپ چاپ پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اخلاق پرست کم نظر اکثر کیا کرتے ہیں۔ ۔۔۔ کہ سرکاری سماج کی عائد کی ہوئی بندشیں خاموشی اور اتنی ہی با شرمی کے ساتھ عمل میں توڑی جاتی ہیں۔  اس کے برعکس قدیم سماج کی تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں ایسے حالات کا پتہ چلتا ہے جن میں مرد متعدد بیویوں سے شادی کرتے تھے اور ان کی بیویاں متعدد شوہروں سے۔ اور اس لئے ان کی اولاد سبھوں کی مشترک اولاد سمجھی جاتی تھی۔ ان حالات میں رفتہ رفتہ تبدیلی ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ بالکل مٹ گئے اس ان کی جگہ پر ایک مرد اور ایک عورت کے بیاہ کا رواج ہوا۔ ان تبدیلیوں کی نوعیت یہ تھی کہ مشترک شادی کے تعلق کا دائرہ جو شروع میں بہت وسیع تھا اور جس میں بہت سے لوگ آ سکتے تھے، رفتہ رفتہ محدود ہوتا گیا حتیٰ کہ آخر میں اس میں محض ایک عورت اور ایک مرد رہ گئے۔ چناچہ آج کل عام طور پر اسی کا رواج ہے۔ اس طرح خاندان کی پچھلی تاریخ مرتب کرنے میں حال سے ماضی کی طرف جانے ہوئے، مارگن اپنے اکثر رفیقوں کی طرح،  ایک ایسی قدیم منزل پر جا پہنچا جبکہ قبیلے کے اندر جنسی تعلقات کی مکمل آزادی تھی۔ ہر عورت ہر مرد کے لئے روا تھی اور اسی طرح ہر مرد ہر عورت کے لئے۔ ایک اسی قدیم حالت کا تذکرہ گزشتہ صدی سے ہی ہوتا آرہا ہے لیکن یہ تذکرہ نہایت عام لفظوں میں کیا جاتا تھا۔ باخوفن پہلا آدمی تھا جس نے اس حالت کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور تاریخی اور مذہبی روایات میں اس کے آثار ڈھونڈھنے کی کوشش کی۔ باخوفن نے یہ ایک نہایت گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ آج ہمیں معلوم ہو چکا کہ اس نے جن آثار کا پتہ لگایا وہ ہمیں آزاد جنسی تعلقات کے سماجی دور تک واپس نہیں لے جاتے بلکہ اس کے بہت بعد کے سماجی دور تک پہنچاتے ہیں جس میں گروہ دار شادی کا رواج تھا۔ ا ور قدیم سماجی دور اگر سچ مچ کبھی رہا ہو گا تو اس کا تعلق اتنے قدیم زمانے سے ہے کہ ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ پچھڑے ہوئے وحشیوں میں،  جن کی ترقی رک گئی ہے، اس کے وجود کا کوئی براہ راست ثبوت مل سکے۔ باخوفن کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تحقیقات میں اس سوال کو پیش پیش رکھا۔(2)

انسان کی جنسی زندگی کے اس ابتدائی دور کو ماننے سے انکار کرنا آج کل ایک فیشن سا ہو گیا ہے۔ اس کا مقصد انسانیت کو اس ’’کلنک”سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس کی کوئی براہ راست شہادت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے حیوانات کی مثال بھی پیش کی جاتی ہے۔ لیتورنیو نے حیوانی دنیا سے بہت سے واقعات جمع کر کے(’’شادی اور خاندان کا ارتقاء 1888 ” ((3)یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حیوانوں میں بھی پوری طرح آزاد جنسی تعلق ایک ابتدائی اور ادنیٰ سطح کی چیز ہے۔ لیکن ان تمام واقعات سے میں صرف اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جہاں تک انسان اور ا س کے ابتدائی حالات زندگی کا تعلق ہے، ان سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں نر اور مادہ بہت دنوں تک جوڑا بنائے رہتے ہیں۔ ۔۔۔ اس کی وجہ جسمانی ہے۔ مثلاً پرندوں میں مادہ کو انڈے سینے کے زمانے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  لیکن پرندوں میں جوڑوں کی وفاداری کی مثالوں سے انسانوں کے لئے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ انسان پرندوں کی نسل سے نہیں ہے۔ اور اگر ایک نر اور ایک مادہ کا جوڑا ہی تمام خوبیوں کی معراج ہے تو پھر شرافت کا سہرا کینچوے کے سر بندھنا چاہئے۔ اس کے جسم میں پچاس سے دو سو تک حصے ہوتے ہیں اور ہر حصے کے اندر نر اور مادہ کے پورے جنسی اعضا موجود ہوتے ہیں۔ اس کی ساری زندگی ان دو سو میں سے ہر ایک حصے میں خود اپنے ہی ساتھ جنسی عمل کرنے میں گزر جاتی ہے۔ اگر ہم دودھ پلانے والے جانوروں کو ہی دیکھیں تو ہمیں ان میں جنسی زندگی کی سبھی شکلیں ملیں گی۔ آزاد جنسی تعلق کے ساتھ ساتھ گروہ دار شادی کی طرف اشارے بھی ملتے ہیں،  ایک نر کے لئے کئی مادائیں اور ایک نر اور ایک مادہ کا تعلق بھی ملتا ہے۔ لیکن ان میں ایک مادہ سے کئی نروں کا تعلق نہیں پاتا جاتا۔ یہ صرف انسانوں میں ہی ممکن تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے سب سے قریبی رشتہ داروں یعنی چوپایوں میں بھی نر اور مادہ کے ملنے کی زیادہ سے زیادہ ممکن صورتیں پائی جاتی ہیں اور اگر ہم اس دائرے کو اور بھی محدود کر دیں اور محض چار انسان نما لنگوروں کو لیں تو لیتورنیو ہمیں بتائے گا کہ ان میں کہیں ایک نر اور ایک مادہ کا تعلق پایا جاتا ہے اور کہیں ایک نر کے ساتھ کئی مادائیں ہوتی ہیں۔  دوسری طرف سوسورے جس کی رائے ژیراتیولوں نے نقل کی ہے، کہتا ہے کہ وہ ایک نر اور ایک مادہ کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔   اپنی کتاب ’’انسانی شادی کی تاریخ”  (4)میں وسٹرمارک نے انسان نما لنگوروں میں ایک نر اور ایک مادہ کے ساتھ رہنے کے متعلق جو حال میں دعوے کئے ہیں اس سے بھی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مختصر یہ کہ سبھی روایتیں کچھ اس قسم کی ہیں کہ غریب لیتورنیو کو آخر یہ مان لینا پڑا کہ ’’دودھ پلانے والے جانوروں میں ذہنی ارتقا کی سطح اور جنسی تعلق کی شکل میں کوئی خاص ربط نہیں ہے۔ "اور اسپناس اپنی کتاب "حیوانی سماج”  (5)میں صاف کہتا ہے کہ "جانوروں میں سب سے اعلیٰ سماجی گروہ جو دیکھنے میں آتا ہے، جھنڈ یا غول ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہ کئی خاندانوں سے مل کر بنتا ہے۔ لیکن خاندان اور غول میں شروع ہی سے تضاد ہوتا ہے۔ ان کی ترقی میں الٹی نسبت ہوتی ہے۔ "

ان باتوں سے ظاہر ہے کہ آدم نما بندروں کے خاندان اور دوسری سماجی گروہ بندیوں کے بارے میں ہمیں یقینی طور پر تقریباً کچھ نہیں معلوم۔  جو باتیں معلوم بھی ہیں وہ ایک دوسرے کی تردید کرتی ہیں۔  اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ وحشی انسانوں کے قبیلوں کے بارے میں بھی ہمیں جو کچھ معلوم ہے وہ باتیں بہت متضاد ہیں اور ان کو تنقیدی نظر سے جانچنے اور چھان بین کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ لیکن بندروں کے سماجوں کا مطالعہ انسانی سماج کے مقابلے میں اور بھی مشکل ہے۔ ان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ بھروسے کے قابل نہیں ہے لہٰذا ان سے جو نتیجے نکالے جاتے ہیں انہیں فی الحال ٹھکرا دینا چاہئے۔

لیکن اسپناس کی کتاب سے جو عبارت ابھی نقل کی گئی اس میں ہمارے لئے ایک بہت اچھا اشارہ موجود ہے۔ اعلیٰ حیوانوں میں غول اور خاندان لازم و ملزوم نہیں بلکہ ان میں آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اسپناس نے بڑی خوبی سے دکھایا ہے کہ جوڑا ملنے کے زمانے میں نروں کے آپس کے رشک و رقابت کے وجہ سے غول میں مل جل کر رہنے والوں کا شیرازہ منتشر ہونے لگتا ہے یہ کچھ عرصے کے لئے ٹوٹ جاتا ہے۔

” جہاں خاندان کی شیرازہ بندی مضبوط ہے وہاں غول شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔   اس کے برعکس جہاں آزاد جنسی تعلق یا کثرت ازدواج ہے وہاں گویا قدرتی طور پر غول بن جاتے ہیں۔ ۔۔۔ غول بننے کے لئے ضروری ہے کہ خاندان کی بندشیں ڈھیلی پڑ چکی ہوں اور فرد پھر آزاد ہو گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پرندوں میں منظم جھنڈ شاذونادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔  اس کے برعکس دودھ پلانے والے جانوروں میں کم و بیش منظم سماج موجود ہوں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں فرد خاندان کے اندر جذب نہیں ہوا ہے۔ ۔۔۔ چناچہ ابتدا میں غول کے اجتماعی احساس(ضمیر اجتماعی(کا سب سے بڑا دشمن خاندان کا اجتماعی احساس ہے ہم بلا تامل کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایک ایسے سماجی ہیئت قائم ہو سکی ہے جو خاندان سے زیادہ اعلیٰ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر ایسے خاندان شامل تھے جن میں بنیادی تبدیلی ہو چکی تھی۔  اور یہ بھی ممکن ہے کہ ٹھیک اسی وجہ سے یہ خاندان بعد میں اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ موافق حالات میں نئے سرے سے منظم کر سکے۔ ” (اسپناس۔ ایضاً(پہلا باب(ژیراتیولوں نے اپنی کتاب ” شادی اور خاندان کا آغاز 1884 "(6)میں نقل کیا۔ صفحات(518.520(

اس سے ظاہر ہے کہ حیوانی سماجوں سے بلا شک انسانی سماجوں کی بابت کچھ نتیجے نکالے جا سکتے ہیں،   لیکن محض منفی اعتبار سے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ریڑھ کی ہڈی والے اعلیٰ حیوانوں میں خاندان کی صرف دو شکلیں پائی جاتی ہیں،  ایک نر کی کئی مادائیں یا ایک نر اور ایک مادہ کے جوڑے۔  دونوں شکلوں میں بالغ نر یا شوہر ایک ہی ہو سکتا ہے۔ نر کے رشک و رقابت کا جذبہ جس سے خاندان کا بندھن اور اس کی حدود دونوں ظاہر ہوتی ہیں ِ حیوانی خاندان اور غول میں ٹکر پیدا کرتا ہے۔ غول جو کہ ایک اعلیٰ سماجی شکل ہے، جوڑا ملنے کے زمانے میں کہیں بالکل ناممکن ہو جاتا ہے، کہیں اس کے بندھن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور کہیں اس کا شیرازہ بالکل منتشر ہو جاتا ہے۔ نر کے رشک و رقابت کی وجہ سے اس کا مسلسل ارتقا بہرحال مشکل ہو جاتا ہے۔ صرف اتنا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حیوانی سماج اور قدیم انسانی سماج یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حیوانی سماج اور قدیم انسانی سماج میں آپس میں تضاد ہے اور قدیم انسان جب حیوانیت کی منزل سے قدم آگے بڑھا رہا تھا تو اسے خاندان کی کوئی واقفیت نہیں تھی اور اگر تھی بھی تو ایک ایسے خاندان کی جو حیوانوں میں نہیں پایا جاتا۔ وسٹمارک نے شکاریوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر کہا ہے کہ گوریلا اور شمپانزی لنگوروں میں غول پسندی کی سب سے اونچی شکل ایک نر اور ایک مادہ کا جوڑا ہے۔ ا س شکل میں یعنی اکیلے بھی، وہ نہتا حیوان جو انسانیت کے عالم میں قدم رکھ رہا تھا، چھوٹی تعداد میں زندہ رہ سکتا تھا۔ حیوانیت کی منزل سے ترقی کر کے آگے بڑھنے اور فطرت میں ترقی کا یہ سب سے بڑا قدم اٹھانے کے لئے ایک اور چیز کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ دفاع اور بچاؤ کے لئے فرد کی ناکافی طاقت کی جگہ غول کی متحدہ طاقت اور مشترکہ کوشش لے لے۔ آدم نما بندر آج جن حالات میں رہتے ہیں،  اس قسم کے حالات سے نکل کر انسانی منزل میں پہنچنا بالکل ناممکن ہو گا۔ ان انسان نما بندروں کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بھٹکی ہوئی شاخ ہے جو رفتہ رفتہ مٹ چلی ہے؛ یا بہر حال جس کا زوال ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ بہت کافی کہ ان کے اور قدیم انسان کے خاندان کی شکلوں کا آپس میں موازنہ کر کے جو نتیجے نکالے جاتے ہیں،  ان کو قبول نہ کیا جائے۔ حیوانیت سے انسانیت کا ارتقا جن وسیع اور پائیدار گروہوں کے ذریعے ممکن تھا، ان کے بننے کی پہلی شرط یہ تھی کہ بالغ نروں میں ایک دوسرے کے لئے رواداری وہ اور رشک و رقابت کا جذبہ ختم ہو چکا ہو۔  اور سچ پوچھئے تو خاندان کی سب سے ابتدائی شکل کون سی ہے جس کا پکا ثبوت تاریخ میں ملتا ہو اور جو آج بھی کہیں دیکھنے میں آتی ہے۔ ؟  وہ گروہ دار شادی ہے جس میں مردوں کا پورا کا پورا گروہ اور عورتوں کا پورا گروہ ایک دوسرے سے تعلق رہتا ہے، جس میں رشک و رقابت کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ اور پھر ارتقا کے ایک اور بعد کے دور میں کثرت شوہری کی مستثنی ٰ صورت ملتی ہے جو رشک و رقابت کے جذبے کے بالکل منافی ہے اور اس لئے جانوروں میں بالکل نہیں پائی جاتی۔  لیکن گروہ دار شادی کی جو شکلیں ہمیں ملتی ہیں،  ان کے ساتھ ایسے پیچیدہ حالات وابستہ ہوتے ہیں کہ لازمی طور پر ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے پہلے جنسی تعلق کی کچھ ان سے بھی زیادہ ابتدائی اور سادہ شکلیں رہی ہوں گی۔ اور اس طرح،  آخری تجزیہ میں،  ہم آزاد جنسی تعلق کے ایک دور میں پہنچ جاتے ہیں جو حیوانیت سے انسانیت کی طرف تغیر کا دار بھی تھا۔ جانوروں میں شادی کی شکلوں کا حوالہ دے کر ہم ایک بار پھر اسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے ہے سمجھا گیا تھا کہ ہم ہمیشہ کے لئے آگے بڑھ چکے ہیں۔

تو پھر آزاد جنسی تعلق کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ کہ آج کل جنسی تعلقات پر جو پابندیاں لگی ہہوئی ہیں،  یا جواب سے پہلے کے زمانوں میں لگی ہوئی تھیں،  وہ اس وقت نہیں تھیں۔  ہم رشک و رقابت کی دیواروں کو گرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔  اگر کوئی بار یقینی ہے تو وہ یہ کہ رشک و رقابت کا جذبہ نسبتاً بعد کے زمانے کی پیداوار ہے۔ محرمات کے ساتھ جنسی تعلق کے تصور پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ نہ صرف شروع میں بھائی بہن شوہر اور بیوی کی حیثیت سے رہتے تھے بلکہ کئی انسانی گروہوں میں آج بھی والدین اور پیسفک کے ریاستوں کی نسلیں (7)”میں بتایا ہے کہ آبنائے بیرنگ کے کلویات لوگوں میں،  الاسکا کے نزدیک رہنے والے کلویاک لوگوں میں،  اور برطانوی شمالی امریکہ کے اندرونی علاقے کے طینہ لوگوں میں اس کا رواج اب بھی پایا جاتا ہے۔ لیتورنیو نے بھی بتایا ہے کہ چھپیوا قبیلے کے انڈ ین لوگوں میں،  چلی کے رہنے والے کو کو س لوگوں میں،   کیرے بین اور ہند چین کے کرین لوگوں میں بھی اس کا وجود پایا جاتا ہے۔ پارتھویوں،   ایرانیوں،   سکائی تھنوں اور ہنوں وغیرہ کے بارے میں جو روایتیں قدیم یونانیوں اور رومیوں میں ملتی تھیں ِ ان میں بھی اس چیز کا ذکر ملتا ہے۔ اس اصول کے اختراع سے پہلے محرمات میں جنسی تعلق معیوب ہے( اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اختراع ہے اور نہایت مفید اور اہم ہے(والدین اور ان کی اولاد کے درمیان جنسی تعلقات،  الگ الگ پشتوں کے مختلف افراد کے جنسی تعلقات سے زیادہ قابل نفرت نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ مختلف پیڑھیوں کے افراد کے درمیان جنسی تعلق تو آج انتہائی تنگ نظر،  اخلاق پرست ملکوں میں پایا جاتا ہے اور اس پر کسی خاص نفرت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ساٹھ برس سے اوپر کی "دوشیزائیں ” بھی، اگر کافی دولت مند ہوں تو تیس برس کے قریب کے نوجوانوں سے شادی کرتی ہیں۔  لیکن خاندان کی ان قدیم ترین شکلوں سے جو ہمیں معلوم ہیں،   اگر ہم محرمات کے ساتھ جنسی تعلق کے تصور کو جو ان سے وابستہ ہیں(جو تصور ہمارے اپنے تصورات سے بالکل مختلف اور اکثر صورتوں میں بالکل متضاد ہیں (الگ کر دیں،  تو جنسی تعلق کی ایک ایسی شکل رہ جاتی ہے جس کو آزاد جنسی تعلق کا ہی نام دیا جا سکتا ہے۔ آزاد جنسی تعلق اس لئے کہ رسم و رواج نے آگے چل کر جو پابندیاں لگائیں ان کا اس وقت کوئی وجود نہیں تھا۔ لیکن اس سے لازمی نتیجہ نہیں نکلتا کہ روز اندھا دھند آزاد جنسی تعلق کا بازار گرم رہتا تھا۔ ایک محدود مدت کے لئے الگ الگ جوڑے بنا کر رہنے کا رواج عقل یا امکان سے باہر نہیں تھا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گروہ دار شادی میں بھی اب زیادہ تر ایسے ہی جوڑے دیکھنے میں آتے ہیں۔  وسٹر مارک نے سب سے بعد میں خاندان کی اس قدیم شکل کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اگر اس کی تعریف کے مطابق ہر وہ تعلق شادی ہے جس میں مرد اور عورت بچہ پیدا ہونے تک ساتھ رہتے ہیں،   تو کہا جا سکتا کہ اس طرح کی شادی آزاد جنسی تعلق کی حالتوں میں بھی ہو سکتی تھی، اور وہ آزاد جنسی تعلق، یعنی جنسی تعلق پر رسم و رواج کی لگائی ہوئی پابندیوں کے نہ ہونے کی ضد،  نہیں تھی۔  وسٹر مارک بلاشبہ یہ نقطہ نظر لے کر چلا ہے کہ”

"آزاد جنسی تعلق کا مطلب ہے کہ انفرادی رجحانات کو دبانا پڑتا ہے ” اور اس لئے "اس کے سب سے سچی شکل عصمت فروشی ہے۔ "

اس کے برعکس میرا خیال یہ ہے کہ جب تک ہم قدیم حالات کو چکلہ گھروں کی عینک سے دیکھنا بند نہیں کریں گے، تب تک ہم انہیں بالکل نہیں سمجھ سکیں گے۔ گروہ دار شادی پر غور کرتے وقت ہم اس بات کا پھر ذکر کرنے والے ہیں۔

مارگن کی رائے میں آزاد جنسی تعلق کی اس ابتدائی حالت سے، شاید بہت شروع میں ہی، یہ شکلیں پیدا ہوئیں :

 

1۔ سگوتر یا یک جدی خاندان

یہ خاندان کی پہلی منزل ہے۔ یہاں شادی پیڑھیوں کے مطابق گروہوں میں ہوتی ہے۔ خاندان کے دائرے کے اندر ابھی دادا اور دادیاں ایک دوسرے کے شوہر اور بیوی ہوتے ہیں۔  ان کے بچوں کی یعنی ماؤں اور باپوں کی بھی یہی حیثیت ہوتی ہے۔ اور ان کے بچوں سے پھر مشترک شوہروں اور بیویوں کا ایک تیسرا دائرہ تیار ہو جاتا ہے۔ ان کے بچے یعنی پہلی پیڑھی کے پڑپوتے اور پڑ پوتیاں،   چوتھے دائرے کے شوہر اور بیویاں بن جاتے ہیں۔  اس طرح خاندان کی اس شکل میں صرف سلف اور خلف،  ماں باپ اور ان کے بچے(ہماری آج کل کی زبان میں (ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے حقوق اوور ذمہ داریاں نہیں قبول کر سکتے۔ بھائی،  بہن دور اور نزدیک کے چچیرے، ممیرے، پھو پھیرے بھائی بہن سب ایک دوسرے کے بھائی،  بہن ہوتے ہیں اور ٹھیک اسی لئے وہ سب ایک دوسرے کے شوہر اور بیوی ہوتے ہیں۔  اس منزل پر بھائی بہن کے رشتے میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں اور یہ عام چلن ہوتا ہے۔(8) ٹھیٹھ صورت میں ایسے خاندان میں ایک جوڑے کی اولاد ہو گی اور پھر ان میں ہر پیڑھی کے اولاد،  سب کی سب،  ایک دوسرے کی بھائی بہن ہو گی اور ٹھیک اسی وجہ سے وہ سب کے سب ایک دوسرے کے شوہر بیوی ہوں گے۔ سگوتر خاندان بالکل مٹ چکا ہے۔ سب سے کم مہذب قوموں میں بھی، جن کا حال تاریخ میں ملتا ہے، خاندان کی اس شکل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس کی جانچ کی جا سکے۔ لیکن ہوائی میں سگوتری یا ہم خاندانی کا جو نظم ملتا ہے، اور جو آج بھی پولینیزیا کے سبھی جزیروں میں پھیلا ہوا ہے، وہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ خاندان کی یہ شکل کسی زمانے میں ضرور رہی ہو گی۔ اس میں سگوتری یا ہم خاندانی کے ایسے درجے ملتے ہیں جو خاندان کی اس شکل کے اندر ہی پیدا ہو سکتے تھے۔ اور خاندان کا بعد کا تمام تر ارتقا بھی، جو کہ اس شکل کو ایک ضروری ابتدائی منزل کی حیثیت سے لازمی بنا دیتا ہے، ہمیں اسی نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

2۔ پونالوان خاندان

 اگر تنظیم میں ترقی کا پہلا قدم یہ تھا کہ والدین اور بچوں میں آپس میں جنسی تعلق کا سلسلہ بند ہوا، تو اس کا دوسرا قدم یہ تھا کہ بھائی بہنوں میں بھی اس تعلق کو ختم کیا گیا۔  چونکہ بھائی بہنوں کی عمر میں زیادہ فرق نہیں ہوتا اس لئے یہ قدم، پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم اور کہیں زیادہ مشکل تھا۔ یہ قدم رفتہ رفتہ ہی اٹھایا گیا تھا۔ پہلے شائد سگے بھائی بہنوں میں(یعنی جو ایک ماں سے ہوں (  جنسی تعلق کو بند کیا گیا ہو گا۔ وہ بھی شائد شروع میں اکا دکا معاملے میں ایسا کیا گیا ہو گا اور بعد میں یہ عام اصول بن گیا ہو گا۔(ہوائی میں موجودہ صدی میں بھی اس عام اصول کے استثنا ملتے تھے)۔ اور آخر میں بڑھتے بڑھتے رشتے کے بھائی بہنوں،  یا ہماری آج کل کی اصطلاح میں قریب یا دور کے چچیرے،  ممیرے،  خلیرے اور پھوپھرے بھائی بہنوں کی شادی پر پابندی لگی ہو گی۔ مارگن کے الفاظ میں "قدرتی انتخاب کے اصول پر عمل درآمد کی یہ ایک اچھی مثال ہے۔ "

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن قبیلوں میں یہ قدم اٹھا کر قریبی رشتہ داروں سے جنسی تعلق قائم کرنا اور بچے پیدا کرنا روک دیا گیا، انہوں نے ان قبیلوں کے مقابلے میں کہیں جلدی اور زیادہ مکمل ترقی کی جن میں بھائی بہنوں کی شادی کا رواج تھا اور اسے ضروری فرض سمجھ کر کیا جاتا تھا۔ اور اس قدم کا بڑا زبردست اثر پڑا۔ اس کا ایک ثبوت گنوں کا ادارہ ہے جو براہ راست اسی قدم کا نتیجہ تھا اور اس سے بہت دور نکل گیا تھا۔ گن کا ادارہ بربریت کے عہد میں اگر دنیا کی سب نہیں تو زیادہ تر قوموں میں سماجی نظام کی بنیاد تھا اور یونان و روما میں تو ہم اس سے براہ راست تمدن کے عہد میں داخل ہوتے ہیں۔

ہر قدیم خاندان حد سے حد چند پشتوں کے بعد بٹ جاتا تھا۔ بربریت کے درمیانی دور کے آخری حصے تک بھی، ہر جگہ بلا استثنیٰ ٰ قدیم کمیونسٹی مشترک گھرانے میں رہنے کا رواج تھا۔ اور اس کی وجہ سے خاندانی برادری کی ایک آخری حد متعین ہو جاتی تھی کہ و ہ زیادہ سے زیادہ کتنی بڑی ہو سکتی ہے۔ اس میں حالات کے مطابق ردو بدل ہو سکتا تھا لیکن ہر جگہ یہ بات بڑی حد تک متعین ہوتی تھی۔ جب ایک ماں کی اولاد میں جنسی تعلق معیوب سمجھا جانے لگا تو لازمی تھا کہ پرانی خاندانی بردریوں کی تقسیم پر اور نئی خاندانی برادری (Hausgemeinden(کی بنیاد پر اس نئے تصور کا اثر پڑے(یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ خاندانی برادری اور خاندانی گروہ ایک ہی چیز ہو)۔ بہنوں کا ایک یا ایک سے زیادہ گروہ ایک گھرانے کے بنیادی مرکز بن جاتے تھے اور ان کے سگے بھائی دوسرے گھرانے کے۔ اس طریقے سے یا اس ملتے جلتے کسی اور طریقے سے، سگوتری یعنی یک جدی خاندان سے ترقی کر کے خاندان کی وہ شکل پیدا ہوئی جس کو مارگن پونالوان خاندان کہتا ہے۔ جزیرہ ہوائی کے رواج کے مطابق بہت سی بہنوں کے۔ ۔۔۔ خواہ وہ سگی بہنیں ہوں یا دہ تین درجے تک کی ہم جدی بہنیں۔ ۔۔۔ مشترک شوہر ہوتے تھے جن کی وہ مشترک بیویاں ہوتی تھیں۔   لیکن ان کے بھائیوں کو اس رشتے سے الگ رکھا جاتا تھا۔ وہ اب ان کے شوہر نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ شوہر لوگ اب ایک دوسرے کو بھائی نہیں کہتے تھے اور سچ پوچھئے تو اب ان کا آپس میں بھائی ہونا ضروری بھی نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کو "پونالوا”بعنی سکھی کہا کرتی تھیں۔  خاندان کی بناوٹ کی یہی قدیم کلاسیکی صورت (Familien formation(تھی جس میں آگے چل کر متعدد تبدیلیاں ہوئیں۔  اس کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ خاندان کے ایک مخصوص دائرے کے اندر سبھی شوہر اور سبھی بیویاں مشترک ہوتے تھیں لیکن بیویوں کے بھائی۔ ۔۔ ابتدا میں سگے بھائی اور آگے چل کر ہم جدی بھائی بھی۔ ۔۔۔ اس دائرے سے الگ رکھے جاتے تھے۔ اور اسی طرح دوسری طرف شوہروں کی بہنیں بھی اس دائرے اس الگ رکھی جاتی تھیں۔

رشتے ناتوں کے وہ سبھی مدارج جن کا اظہار امریکی نظام میں ہوتا ہے، خاندان کی اس شکل میں ہمیں پوری صحت کے ساتھ مل جاتے ہیں۔  میری ماں کی بہنوں کے بچے میرے باپ کے بھی بچے ہوتے ہیں۔  اور وہ سب میرے بھائی بہن ہوتے ہیں۔  لیکن میری ماں کے بھائیوں کے بچے اب اس کے بھتیجے بھتیجیاں کہلاتے ہیں اور میرے باپ کی بہنوں کے بچے، اس کے بھانجے بھانجیاں۔  اور وہ سب میرے ممیرے پھوپھیرے بھائی بہن ہیں کیونکہ میری ماں کی بہنوں کے شوہر اس کے بھی شوہر ہوتے ہیں اور میرے باپ کے بھائیوں کی بیویاں اس کی بھی بیویاں ہیں۔ ۔۔ اگر عملاً ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا تو اصولاً تو اس کو مانا جاتا ہے۔ ۔۔ پھر بھی بھائیوں اور بہنوں میں جنسی تعلق کی سماجی ممانعت کی وجہ سے اب رشتے کے بھائی بہن جو اب تک بلا امتیاز اپنے بھائی بہن سمجھے جاتے تھے، اب وہ درجوں میں بٹ جاتے ہیں کچھ تو پہلے کی طرح ہم جدی بھائی بہن رہتے ہیں باقی کو یعنی ایک طرف بھائیوں کی اولاد کو اور دوسری طرف بہنوں کی اولاد کو اب آپس میں بھائی بہن نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے والدین یا ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں مشترک نہیں ہو سکتے اور اس لئے پہلی با یہ ضروری ہوا کہ بھانجے بھانجیوں،  بھتیجے بھتیجیوں اور ممیرے، پھوپھیرے بھائی بہنوں کا امتیاز قائم کیا جائے جو پہلے کے خاندانی نظام میں بے معنی ہوتا۔ سگوتری یا ہم خاندانی کا امریکی نظام،  خاندان کی ہر اس شکل میں جس کی بنیاد انفرادی شادی پر ہو، نہایت مہمل اور بے معنی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن پونالوان خاندان کی بنیاد پر اس نظام کی ایک ایک بات معقول اور فطر ی ثابت ہوتی ہے۔ جس حد تک سگوتری یا ہم خاندانی کے اس نظام کا رواج تھا، کم سے کم اسی حد تک،  پونالوان خاندان کا یا اس سے ملتے جلتے کسی اور شکل کا رواج رہا ہو گا۔

یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خاندان کی یہ شکل ہوائی میں موجود تھی اور اگر امریکہ میں اسپین سے گئے ہوئے سابقہ ہسپانوی راہبوں کی طرح کے دھرماتما پادری ان غیر مسیحی رشتوں کو صرف "بدکاری(9)”نہ سمجھتے تو غالباً سارے پولینیزیا میں خاندان کی یہی شکل موجود ہوتی۔ سیزر کے زمانے میں برطانیہ والے بربریت کی درمیانی منزل سے گزر رہے تھے۔ اور جب سیزر ان کے بارے میں کہتا ہے کہ "دس دس اور بارہ بارہ کے گروہوں میں وہ لوگ مشترک بیویاں رکھتے تھے اور زیادہ تر بھائی بھائی مشترک بیویاں رکھتے تھے اور باپ اور بیٹے ساتھ ساتھ ” تو ظاہر ہے کہ یہ بات گروہ دار شادی پر ہی صادق آ سکتی ہے۔ عہد بربریت کی ماؤں کے دس یا بارہ بیٹے اتنے بڑے نہیں ہو سکتے تھے کہ وہ مشترک بیویاں رکھ سکیں۔  لیکن امریکہ میں پائے جانے والے سگوتری نظام میں جو کہ پونالوان خاندان سے مطابقت رکھتا ہے، بھائیوں کی تعداد بہت بڑی ہوتی ہے کیونکہ ایک آدمی کے دور و نزدیک کے رشتے کے سبھی بھائی سگے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔  سیزر کا یہ فقرہ ” باپ اور بیٹے ساتھ ساتھ” شاید غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس نظام میں یہ ناممکن نہیں ہے کہ باپ اور بیٹے یا ماں اور بیٹی شادی کے ایک ہی گروہ میں ہوں،  اگرچہ باپ اور بیٹی یا ماں اور بیٹے ایک ہی گروہ میں نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی طرح ہیروڈوٹس اور دوسرے قدیم مصنفوں نے وحشی اور بربر لوگوں میں بیویوں کے مشترک ہونے کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں،  وہ بھی گروہ دار شادی کی اس شکل یا اس سے ملتی جلتی کسی اور شکل کے بنیاد پر یہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہیں۔  واٹسن اور کئے نے اپنی کتاب "ہندوستان کے باشندے” (10)میں دریائے گنگا کے شمال میں رہنے والے اودھ کے ٹھاکروں کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔  وہ لکھتا ہے کہ

"وہ بڑی تعداد میں تقریباً بغیر کسی فرق اور امتیاز کے("یعنی جنسی مفہوم میں ” (ساتھ رہتے ہیں اور جب دو آدمیوں کی شادی ہوتی ہے تو یہ رشتہ محض برائے نام ہوتا ہے۔ "

زیادہ تر صورتوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گن کے ادارے کے ابتدا براہ راست پونالوان خاندان سے ہوئی۔  اس میں شک نہیں کہ آسٹریلیا کا شادی بیاہ کا طبقاتی نظام بھی اس کا نقطہ آغاز ہو سکتا تھا(9)۔ آسٹریلیا کے باشندوں میں گن موجود ہیں لیکن ان میں پونالوان خاندان کا وجود نہیں ہے۔ ان کے یہاں گروہ دار شادی کے ایک اور زیادہ بھونڈی شکل ملتی ہے۔

گروہ دار خاندان کی سبھی شکلوں میں جہاں یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتے کہ بچے کی ماں کون ہے وہاں کہیں بھی اس کا یقین نہیں ہوتا کہ اس کا باپ کون ہے۔ اگرچہ عورت اپنے پورے خاندان کے سبھی بچوں کو اپنا کہتی ہے اور سب کے ساتھ ماں کا سا برتاؤ کرتی ہے، پھر بھی وہ یہ جانتی ہے کہ کون اس کے اپنے بطن سے ہے اور کون نہیں۔  اس لئے ظاہر ہے کہ جہاں کہیں گروہ دار شادیوں کا رواج ہوتا ہے وہاں صرف ماں کی اولاد کا پتہ چلتا ہے اس لئے نسل صرف ماں سے چلتی ہے۔ سبھی وحشی قوموں میں اور ان قوموں میں بھی جو بربریت کے ابتدائی دور میں ہیں یہی بات پائی جاتی ہے۔ باخوفن کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اسی نے پہلے پہل یہ با ت دریافت کی۔  محض ماں کی جانب سے نسل کا سلسلہ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بنیاد پر وراثت کے جو رشتے قائم ہوئے، ان کو وہ مادری حق کا نام دیتا ہے۔ اختصار کی خاطر میں اسی اصطلاح کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں حالانکہ یہ لفظ بہت موزوں نہیں کیونکہ سماج کی ترقی کے اس منزل پر قانونی مفہوم میں حقوق کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔

اگر پونالوان خاندان کے دو مخصوص گروہوں میں سے ہم ایک گروہ کو لے لیں یعنی اس گروہ کو جس میں کئی ماں جائیاں اور رشتے کی بہنیں ہوتی ہیں(یعنی وہ جو سگی بہنوں کی اولاد ہیں،   پہلی،  دوسری پشت اور آگے تک (اور جس میں ان کے ساتھ ان کے بچے اور ماں کی طرف سے ان کے سگے اور رشتے کے بھائی بھی شامل ہوتے ہیں(جو ہمارے مفروضے کے مطابق ان کے شوہر نہیں ہو سکتے(تو یہ انہیں اشخاص کا دائرہ ہو گا جو گن کی ابتدائی شکل میں اس ادارے کے رکن ہوتے ہیں۔   ان سبھوں کی مشترک مورث اعلیٰ ایک عورت ہوتی ہے۔ اس کے کنبے کی لڑکیاں اس کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہر پشت میں ایک دوسرے کی بہنیں ہوتی ہیَ لیکن ان بہنوں کے شوہر اب ان کے بھائی نہیں ہو سکتے یعنی وہ اس مورث اعلیٰ عورت کی اولاد نہیں ہو سکتے اور اس لئے وہ اس سگوتری گروہ میں جو آگے چل کر گن بنا، شامل نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان کے بچے اس گروہ میں شامل ہیں کیونکہ ماں کی نسل ہی فیصلہ کن ہے اور یہ اس لئے کہ صرف اسی کا یقین ہے۔ جب ایک مرتبہ سبھی ماں جائے بھائیوں اور بہنوں میں اور ان میں بھی جو ماں کی طرف سے دور کے رشتے کے بھائی بہن ہیں،  جنسی تعلقات پر روک لگا دی جاتی ہے تو یہی گروہ گن میں بدل جاتا ہے۔۔۔۔۔ یعنی ماں کی جانب سے رشتہ داروں کا ایک نہایت محدود حلقہ بن جاتا ہے جنہیں آپس میں شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔  اور اس وقت سے یہ دوسرے عام سماجی اور مذہبی اداروں سے اپنے آپ کو برابر تقویت پہنچاتا رہتا ہے اور اپنے قبیلے کے دوسرے گنوں سے اپنے کو علیحدہ کرتا جاتا ہے۔ آگے چل کر ہم اس پر زیادہ تفصیل سے غور کریں گے۔ لیکن جب ہم پاتے ہیں کہ پونالوان خاندان سے گن کا ارتقا محض منطقی ضرورت کے طور پر ہی ثابت نہیں بلکہ ظاہر بھی ہے تو پھر تقریباً پورے وثوق کے ساتھ یہ کہنے کی بنیاد مل جاتی ہے کہ ان تمام قوموں میں جن میں گن کا سراغ ملتا ہے یعنی تقریباً سبھی غیر متمدن اور متمدن قوموں میں پہلے خاندان کی یہ شکل موجود تھی۔

جس وقت مارگن نے اپنی کتاب لکھی تھی اس وقت تک گروہ دار شادی کے بارے میں ہماری واقفیت بہت کم تھی۔ اس وقت آسٹریلیا کے باشندوں میں،   جو طبقوں میں بٹے ہوئے تھے، گروہ دار شادی کے رواج کے بارے میں کچھ باتیں معلوم تھیں۔  اس کے علاوہ مارگن نے 1871 میں وہ ساری چیزیں شائع کر دی تھیں جو اسے ہوائی کے پونالوان خاندان کے بارے میں معلوم ہو سکیں۔  پانالوان خاندان سے ایک طرف تو امریکی انڈینوں میں پایا جانے والا سگوتری یا ہم خاندانی کا نظام پوری طرح سمجھ میں آ جاتا تھا اور اسی نظام سے مارگن کی تمام چھان بین کی ابتدا ہوئی تھی۔ دوسری طرف اس سے مادری حق والے گن کے ارتقا کی پہلی کڑی مل جاتی تھی۔ اور آخر میں،  وہ آسٹریلیا کے طبقوں کے مقابلے میں ارتقا کی زیادہ اونچی منزل کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ مارگن نے کیوں پانالوان خاندان کو،  جوڑا خاندان سے پہلے کی، ارتقا کی ایک ضروری منزل قرار دیا۔ اور یہ بھی مان لیا کہ پہلے زمانے میں اس کا عام رواج تھا۔ اس کے بعد ہمیں گروہ دار شادی کی اور بھی کئی شکلوں کا پتہ چلا ہے اور اب ہم جانتے ہیں کہ اس معاملے میں مارگن حد سے زیادہ آگے بڑھ گیا تھا۔ پھر بھی خوش قسمتی سے اس کو اپنے پونالوان خاندان میں گروہ دار شادی کی اعلیٰ ترین اور بنیادی(کلاسیکی (شکل مل گئی جس سے ایک زیادہ اونچی منزل کی طرف خاندان کے ارتقا کو زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

 گرو ہ دار شادی کے متعلق ہم اپنی معلومات میں سب سے زیادہ بنیادی اضافے کی لئے ایک انگریز پادری لاریمر فیسون کے احسان مند ہیں۔  اس نے برسوں شادی کی اس شکل کا مطالعہ اس کے اصلی وطن آسٹریلیا میں رہ کر کیا تھا۔ اسے جنوبی آسٹریلیا میں ماؤنٹ گمیر کے علاقے میں رہنے والے حبشیوں میں اس کے ارتقا کا سب سے ابتدائی دور ملا تھا۔ وہاں پورا قبیلہ دو بڑے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک کا نام تھا گروکی اور دوسرے کا کومائٹ۔ ان میں سے ہر طبقے کی ہر عورت کا پیدائشی شوہر اور وہ اس کی پیدائشی بیوی ہوتی تھی۔ افراد کا نہیں بلکہ پوری کی پوری جماعت کا،  پورے کے پو رے طبقے کا، ایک دوسرے کے ساتھ بیاہ ہوتا تھا۔ اور یہ خیال رہے کہ یہاں عمر کے فرق یا کسی خاص خونی رشتے کی وجہ سے کوئی پابندی نہیں لگتی تھی۔ پابندی صرف ایک ہی تھی اور وہ یہ کہ اپنے طبقے کے اندر کسی کے ساتھ جنسی تعلق نہیں ہو سکتا تھا۔ کومائٹ طبقے کی ہر عورت کروکی طبقے کے ہر مرد کی بیوی تھی اور چونکہ مادری حق کی رو سے کومائٹ عورت کے بطن سے پیدا ہونے ہولی لڑکی بھی کومائٹ تھی، اس لئے وہ لڑکی بھی کروکی طبقے کی ہر مردکی، جس میں اس کا باپ بھی شامل تھا، پیدائشی بیوی تھی۔ بہرحال اس طبقاتی تنظیم نے،  جیسا کہ ہم اس کو جانتے ہیں،  یہاں اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ اس لئے یہ تنظیم یا تو ایک ایسے زمانے میں قائم ہوئی ہو گی جبکہ بہت قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق پر پا بندی لگانے کی تمام تر دھندلی خواہشات کے باوجود ماں باپ اور بچوں کے جنسی تعلق کو بہت زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ۔۔۔۔ اور ایسی صورت میں یہ طبقاتی نظام براہ راست آزاد جنسی تعلق کی حالت سے پیدا ہوا ہو گا۔ ۔۔۔ اور یا پھر طبقوں کے قائم ہونے سے پہلے ہی ماں باپ اور بچوں کے جنسی تعلق پر رسم و رواج نے پابندی لگا رکھی ہو گی اور ایسی صورت میں موجودہ حالت اس کے بعد ارتقا کی پہلی منزل تھی۔ وہ دوسرا مفروضہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔  جہاں تک مجھے معلوم ہے آسٹریلیا میں والدین اور اولاد کے درمیان جنسی تعلق کی کوئی مثال نہیں ملی ہے۔ عام طور پر گوت باہر شادی کی بعد کی شکل، یعنی مادری حق والے گن کے وجود کے لئے یہ لازمی شرط ہے کہ ایسے تعلقات کی جو ممانعت تھی وہ اس کے قائم ہونے سے پہلے سے موجود ہے۔

جنوبی آسٹریلیا کے ماؤنٹ گمبیر کے علاوہ یہ دو طبقے والا نظام اس سے اور زیادہ مشرق میں دریائے ڈارلنگ کے کنارے اور شمال مشرق میں کوئنس لینڈ میں بھی پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ یہ نظام دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اس نظام میں صرف ماں جائے بھائی بہنوں میں،  بھائیوں کی اولاد میں اور ماں کی طرف سے بہنوں کی اولاد میں شادی کرنا منع ہے کیونکہ یہ سب ایک ہی طبقے میں شامل ہیں۔   اس کے برعکس بھائی بہن کے بچوں میں شادی کی اجازت ہے۔ بہت قریبی رشتہ داروں میں شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے پر پابندی لگانے کے لئے، دریائے دارلنگ کے ساحل پر نیو ساؤتھ ویلز میں کمیلا روئی قبیلے میں اور بھی کئی قدم اٹھائے گئے تھے۔ وہاں پرانے دو طبقے بٹ کر چار چار ہو گئے تھے اور ان چار طبقوں میں سے ہر طبقے کی شادی دوسرے کسے ایک طبقے کے ساتھ ہوتی تھی۔ پہلے دو طبقے پیدائشی طور پر ایک دوسرے کے شوہر اور بیوی ہوتے تھے۔ ان کے بچے تیسرے یا چوتھے طبقے میں شامل ہو جاتے جس کا انحصار اس بات پر تھا کہ ماں کا تعلق پہلے طبقے سے ہے یا دوسرے سے۔  اسی طرح تیسرے اور چوتھے طبقے کی شادی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی تھی اور ان کی اولاد پھر پہلے یا دوسرے طبقے میں شامل ہوتی۔ اس طرح ایک پشت کے لوگ ہمیشہ پہلے اور دوسرے طبقے میں ہوتے تھے اور دوسری پشت کے لوگ ہمیشہ تیسرے اور چوتھے میں۔  اور اس کے بعد کی پشت کے لوگ پھر پہلے یا دوسرے طبقے میں ہوتے تھے۔ اس نظام میں ماں کی جانب سے(یعنی ممیرے، خلیرے(بھائیوں اور بہنوں کے بیٹے بیٹیوں میں شادی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے پوتیوں میں ہو سکتی ہے۔ یہ ایک عجیب پیچیدہ نظام ہے جس کی پیچیدگی اس وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس پر،  بہو صورت آگے چل کر، مادری حق والے گن کا پیوند لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں ہم اس تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ مختصر یہ کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت قریبی رشتہ داروں میں شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کے رواج پر پابندی لگانے کا جذبہ بار بار اثر انداز ہوتا رہا ہے لیکن مقصد کا واضح احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ ہی آپ گویا اندھیرے میں راستہ ٹٹولتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔

گروہ دار شادی آسٹریلیا میں اب بھی طبقہ دار شادی ہے، جس میں مردوں کے پورے طبقے کی جو اکثر اس براعظم کے طول و عرض میں بکھرا ہوا ہوتا ہے، عورتوں کے ایک پورے طبقے سے جو اسی طرح بکھرا ہوتا ہے، شادی ہوتی ہے۔ یہ گروہ دار شادی زیادہ نزدیک سے دیکھنے پر اتنی بھیانک اور قابل نفرت نہیں معلوم ہو گی جتنی ان کم ظرفوں کو معلوم ہوتی ہے جن کے خیالات چکلہ گھروں کے تصور سے داغدار ہو چکے ہیں۔  اس کے برعکس کتنے ہی برس گزر گئے تھے مگر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ گروہ دار شادی جیسی کوئی چیز ہے۔ اور سچ پوچھئے تو ابھی حال میں پھر اس کے وجود کو ماننے سے انکار کیا گیا ہے۔ سطحی نظر سے دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قسم کی ڈھیلی ڈھالی یک زوجگی ہے اور کہیں کہیں کثرت ازواج ہے جس میں کبھی کبھار بے وفائی بھی کی جاتی ہے۔ ان ازدواجی تعلقات کو متعین کرنے والے قانون کا پتہ لگانے کے لئے برسوں مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ فیسون اور ہاوٹ نے کیا تھا (11)(اپنی عملی شکل میں تو ان تعلقات میں ایک عام یورپین کو وہی چیز نظر آتی ہے جو خود اس کے اپنے ملک میں رائج ہے (جس قانون کے مطابق آسٹریلیا کا ایک حبشی جب ایک خیمے سے دوسرے خیمے میں اور ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے میں گھومتا ہوا اپنے وطن سے ہزاروں میل دور،  اجنبی لوگوں میں پہنچ جاتا ہے، جن کی زبان بھی وہ نہیں سمجھ سکتا تو وہاں اسے اکثر ایسی عورتیں مل جاتی ہیں،   اور جس قانون کے مطابق ایک شخص جس کی کئی بیویاں ہوں،  اپنی ایک بیوی کو رات میں اپنے مہمان کے پاس بھیج دیتا ہے۔ جہاں یورپ والوں کو محض بد کرداری اور بے راہ روی اور بے قانونی نظر آتی ہے،  وہاں دراصل قانون کی پوری فرماں روائی ہے۔ وہ عورتیں اس اجنبی مرد کے ازدواجی طریقے سے تعلق رکھتی ہیں اور اس لئے اس کی پیدائشی بیویاں ہیں وہی اخلاقی قانون جو ان کو ایک دوسرے کے لئے جائز کرتا ہے وہی قانون ازدواجی طبقے سے باہر جنسی تعلقات پر پابندی لگاتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر ذات برادری اور قبیلے سے باہر کرنے کی سزا دیتا ہے۔ جب کبھی عورتوں کو اغوا کیا جاتا ہے، جیسا بعض جگہ اکثر ہوتا ہے اور بعض علاقوں میں ہمیشہ ہی ہوتا ہے، تو اس میں بھی سختی کے ساتھ اس طبقہ داری قانون کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

یہاں عورتوں کے اغوا سے یہ ظاہر ہونے لگتا ہے کہ انفرادی شادی کے طرف قدم اٹھایا جا چکا ہے۔ کم سے کم جوڑا شادی کی صورت میں تو یہاں اس کی ایک جھلک ملتی ہی ہے۔ ایک نوجوان مرد جب خود یا اپنے دوستوں کی مدد سے لڑکی کو اغوا کر کے لے جاتا ہے تو یکے بعد دیگرے وہ سب اس کے ساتھ ہم بستری کرتے ہیں۔  لیکن بیوی وہ اسی نوجوان کی سمجھی جاتی ہے جس نے اس کو اغوا کیا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ اغوا کی ہوئی عورت اس مرد کے پاس سے بھاگ جائے اور دوسرے مرد کے ہاتھوں میں پڑ جائے تو وہ اس دوسرے کی بیوی ہو جائے گی اور پہلے مرد کا حق ختم ہو جائے گا۔ غرضیکہ گروہ دار شادی کے نظام میں،   جو عام طور پر ابھی تک قائم ہے، اس کے پہلو بہ پہلو اور اس کے اندر انفرادی رشتے، زیادہ یا کم عرصے کے لئے جوڑا بنا کر رہنے اور کئی کئی بیویاں رکھنے کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ گروہ دار شادی کا نظام یہاں بھی رفتہ رفتہ مٹ رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ یورپ کے اثر کی وجہ سے پہلے کون مٹ گا۔ ۔۔ گروہ دار شادی کا نظام یا آسٹریلیا کے حبشیوں کی وہ نسل جس میں اس کا رواج ہے۔

بہرحال،  پورے کے پورے طبقوں کی شادی، جس کا رواج آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے، گروہ دار شادی کی سب سے ادنیٰ اور ابتدائی شکل ہے اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے پونالوان خاندان اس کے ارتقا کی سب سے اعلیٰ شکل ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی شکل کا تعلق خانہ بدوش وحشیوں کی سماجی حالت سے ہے اور دوسری کے لئے قدیم کمیونسٹی برادریوں کی کم و بیش مستقل بستیاں ضروری تھیں۔  اور اس کے بعد ہم براہ راست ارتقا کی دوسری اور اس سے اعلیٰ منزل میں پہنچ جاتے ہیں۔  بلا شک ان دونوں کے بیچ کیں ارتقا کی چند درمیانی منزلیں بھی ملیں گی لیکن ابھی تو ہم نے تحقیق و تفتیش کا دروازہ کھولا ہی ہے۔

3۔ جوڑا خاندان

کم یا زیادہ عرصے کے لئے جوڑا بنا کر رہنے کا رواج گرو ہ دار شادی کے دنوں میں ہی یا اس سے کچھ پہلے شروع ہو چکا تھا۔ مرد کی کئی کئی بیویاں ہوتی تھیں جن میں ایک خاص بیوی ہوتی تھی(جس کو سب سے چہیتی بیوی کہنا دشوار ہو گا (اور عورت کے متعدد شوہروں میں وہ اس کا خاص شوہر ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی جس سے پادریوں کو بڑی الجھن ہوئی۔ انہیں گروہ دار شادی میں کبھی بیویوں کی عام ساجھے داری اور آزاد جنسی تعلق دکھائی دیا اور کبھی محض زنا کاری نظر آئی۔ لیکن جیسے جیسے گن کی ترقی ہوئی اور ایسے "بھائیوں "اور "بہنوں "کے طبقے بڑھتے گئے جن میں شادی نہیں ہو سکتی تھی ویسے ویسے لوگوں کی جوڑوں میں رہنے کی عادت بھی لازمی طور پر بڑھتی گئی۔ گن نے خون کے رشتہ داروں میں شادی کو روکنے کے رجحان کو تقویت دے کر، اس چیز کو اور آگے بڑھایا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایرو کو اس اور امریکہ کے اکثر دوسرے انڈین قبیلوں میں جو بربریت کے ابتدائی دور میں ہیں،   ان سبھی رشتہ داروں میں شادی کی ممانعت ہے جن کو ان کا نظام رشتہ دار مانتا ہے۔ اور ایسے رشتہ داروں کی کئی سو قسمیں ہیں۔  شادی پر پابندیوں کی اس بڑھتی ہوئی پیچیدگی نے گروہ دار شادی کو زیادہ سے زیادہ ناممکن بنا دیا۔ اس کی جگہ جوڑا بنا کر رہنے والا خاندان آیا۔  اس میں ایک مرد اور ایک عورت ساتھ رہتے ہیں۔  لیکن مرد کو کئی بیویاں کرنے اور گاہے بگاہے بے وفائی کرنے کا حق رہتا ہے۔ حالانکہ یہ صحیح ہے کہ معاشی وجہوں سے کئی شادیوں کے حق سے بہت کم مرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔  دوسری طرف عورت جب تک ساتھ رہتی ہے، اس سے پوری وفاداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسے زناکاری کی نہایت سخت سزا دی جاتی ہے۔ لیکن مرد عورت جب چاہیں آسانی سے شادی کے اس رشتے کو توڑ سکتے ہیں اور بچے پہلے کی طرح اب بھی صرف ماں کے ہوں گے۔

خون کے رشتہ داروں میں آپس میں شادی پر پابندیاں برابر بڑھتی جا رہی تھیں۔  اور اس میں قدرتی انتخاب کا اصول بھی اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ مارگن کے لفظوں میں

"سگوتری باہر گنوں میں شادی کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی اعتبار سے زیادہ تنومند اور قوی نسل پیدا ہوئی۔ جب دو ترقی پذیر قبیلے مل کر ایک ہوتے ہیں تو ایک نئی کھوپڑی اور دماغ کی نشوونما ہوتی ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں کی صلاحیتوں کے برابر ہوتی ہے۔ (12)

چناچہ گن کی بنیاد پر جو قبیلے قائم ہوئے انہوں نے اپنے سے زیادہ پسماندہ قبیلوں پر فوقیت حاصل کر لی یا اپنی مثال کے زور سے انہیں اپنے نقش قدم پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا۔

غرضیکہ ما قبل تاریخی زمانے میں خاندان کے ارتقا کی صورت یہ تھی کہ وہ دائرہ جس کے اندر مرد اور عورت کو آپس میں شادی کرنے کی آزادی تھی،  روز بروز محدود ہوتا جا رہا تھا۔ شروع میں پورا قبیلہ اس دائرے میں آ جاتا تھا۔ لیکن آگے چل کر پہلے قریبی اور پھر دور کے رشتہ دار اس دائرے سے نکال دیئے گئے اور آخر میں تو لو گ بھی اس دائرے سے خارج کر دیئے گئے جن سے محض شادی کا رشتہ تھا، یہاں تک کہ عملاً ہر قسم کی گروہ دار شادی نا ممکن ہو گئی۔ اور آخر میں صرف ایک چیز رہ گئی، ایک عورت اور ایک مرد کا جوڑا بنا کر رہنا۔  ان میں اس وقت بہت ہی ڈھیلا ڈھالا تعلق ہوتا تھا۔ یہ گویا ایک یونٹ رہ گیا تھا جس کے منتشر ہونے پر سرے سے شادی ہی مٹ جاتی۔ اسی ایک بات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ جب یک زوجگی کی ابتدا ہوئی تو موجودہ مفہوم میں انفرادی جنسی محبت کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ اس دور کے لوگوں کا رویہ دیکھئے تو یہ بات اور بھی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے۔ خاندان کی پہلے کی شکلوں میں مردوں کو کبھی عورتوں کی کمی نہیں ہوئی تھی بلکہ ضرورت سے زیادہ عورتیں ہوتی تھیں۔  لیکن اب اس کے برعکس عورتوں کی کمی ہو گئی اور ان کی جستجو ہونے لگی۔ اس لئے جوڑا بنانے کے رواج کے ساتھ ساتھ عورتوں کو اغوا کرنے اور ان کو خریدنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ باتیں اپنے سے کہیں زیادہ گہری تبدیلی کا پتہ دے رہی تھیں۔  لیکن اس علامت سے زیادہ ان کے اور کوئی اہمیت نہیں تھی۔ لیکن ان علامتوں کو، عورتوں کو حاصل کرنے کے ان مختلف طریقوں کو،  اسکاٹ لینڈ کے ایک کٹھ ملا میکلینن نے مختلف قسم کے خاندانوں کی حیثیت دے دی۔ ان کو اس نے "اغوا کے ذریعہ شادی "اور”خرید و فروخت کے ذریعہ شادی” کا نام دیا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے انڈینوں اور کچھ اور قبیلوں میں بھی(جو ارتقا کے اسی دور میں ہیں (شادی طے کرنا ان دونوں فریقوں کا کام نہیں جن کی شادی ہوتی ہے بلکہ ان کی رائے تو اکثر پوچھی تک نہیں جاتی۔  یہ کام ان دونوں کی ماؤں کا ہے۔  چناچہ اس طرح اکثر ایسے لوگوں کی منگنی کر دی جاتی ہے جو ایک دوسرے کے لئے بالکل اجنبی ہوتے ہیں اور جنہیں اپنی شادی کی خبر اس وقت ہوتی ہے جب اس کی دن نزدیک آ جاتے ہیں۔  شادی سے پہلے دولہا کی طرف سے دلہن کے رشتہ داروں کو(یعنی اس کی ماں کی طرف کے رشتہ داروں کو، اس کے باپ یا اس کے رشتہ داروں کو نہیں (تحفے دیئے جاتے تھے۔  یہ تحفے دراصل اس لڑکی کی قیمت ہوتی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں میں سے کوئی بھی اپنے مرضی سے شادی کو توڑ سکتا ہے۔ لیکن متعدد قبیلوں میں،  مثال کے طور پر ایرو کو اس قبیلوں میں لوگ عام طور پر شادی کے بعد علیحدگی کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔  اگر کسی بات پر جھگڑا ہوتا ہے تو گن کی بنیاد پر جو فریقین کے رشتہ دار ہوتے ہیں وہ بیچ بچاؤ کرتے اور دونوں کو پھر سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔  اور جب ان کوششوں میں کسی طرح کامیابی نہیں ہوتی تب کہیں شادی کا رشتہ توڑا جاتا ہے۔ ایسا ہونے پر بچے ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور فریقین میں سے ہر ایک کو دوبارہ شادی کی اجازت ہوتی ہے۔

جوڑا بنا کر رہنے والا خاندان اتنا کمزور اور غیر مستقل ہوتا تھا کہ الگ خانہ داری کی اس کو کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ اس کے لئے کوئی مفید چیز بھی نہیں تھی۔ لہٰذا قدیم زمانے سے جو کمیونسٹی گھرانے میں گھر کے اندر عورت کا بول بولا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے محض سگی ماں کا پتہ ہونے اور باپ کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہ کہہ سکنے کی وجہ سے عورت یعنی ماں کی قدر اور عزت بہت زیادہ کی جاتی تھی۔ یہ بالکل بے بنیاد خیال ہے کہ جب سماج کی ابتدا ہوئی اس وقت عورت مرد کی غلام تھی۔ یہ خیال ہمیں اٹھارویں صدی کے "عہد روشن خیالی”سے وراثت میں ملا ہے۔ عہد وحشت اور عہد بربریت کے ابتدائی اور درمیانی ادوار کے اور ایک حد تک آخری دور کے لوگوں میں بھی عورتیں نہ صرف یہ کہ آزاد تھیں بلکہ ان کو ایک بڑی با عزت حیثیت حاصل تھی۔ اشیر رائٹ نے، جو کئی برس تک ایرو کو اس لوگوں کے سینیکا قبیلے میں پادرے تھا، اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ اس وقت تک جوڑا خاندان میں عورت کا رتبہ بہت اونچا تھا۔

"جہاں تک ان کے خاندانی نظام کا تعلق ہے، جب یہ لوگ پرانے لمبے گھروں میں رہتے تھے("یہ کمیونسٹی گھرانے تھے جن میں متعدد خاندان شامل تھے”( تو غالباً ان میں کسی ایک جرگی(گن(کا غلبہ ہوتا تھا۔ عورتیں دوسرے جرگوں(گنوں (کے لوگوں کو شوہر بناتی تھیں۔  گھر میں عموماً عورتوں کی حکمرانی تھی۔ مال اسباب مشترک ہوتا تھا۔ لیکن اگر کوئی بدنصیب شوہر یا عاشق اتنا نالائق ہوتا کہ اپنے حصے کا کام نہ کر سکتا تو اس بے چارے کی شامت آ جاتی تھی۔ پھر چاہے اس کے کتنے ہی بچے ہوں اور گھر میں اس کا کتنا ہی سامان پڑا ہو، اس کو کسی وقت بھی بوریا بستر باندھ کر گھر سے نکل جانے کا حکم دیا جا سکتا تھا۔ اور ایک مرتبہ حکم مل جانے پر اس کی خلاف ورزی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ گھر اس کے لئے جنم کا نمونہ بن جاتا اور ایسے مجبور ہو کر خود اپنے جرگی (گن)میں واپس ہو جانا پڑتا تھا یا۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ اکثر ہوتا تھا۔ ۔۔۔۔۔ کسی اور جرگے میں جا کر پھر شادی کی کوشش کرنی پڑتی تھی۔ اور سبھی جگہوں کی طرح جرگوں  (گنوں(کے اندر بھی عورتوں کا بڑا اقتدار تھا۔ جب کبھی ضرورت ہوتی وہ بلا پس و پیش سر دار کو معزول کر کے عام سپاہیوں کی صف میں بھیج دیتی تھیں،  یا اس زمانے کی اصطلاح میں،  اس کے سینگ توڑ دیتی تھیں۔  ( 13("

قدیم زمانے میں عام طور پر عورتوں کا بول بالا تھا۔ ان کی مادی بنیاد یہی کمیونسٹی گھرانے تھے۔ جس کی زیادہ تر عورتیں اور کبھی کبھی تو سبھی عورتیں ایک گن کی ہوتی تھیں اور مرد دوسرے مختلف گنوں کے ہوتے تھے۔ اس چیز کی دریافت کا سہرا بھی باخوفن کے سر ہے۔ یہ اس کا تیسرا بڑا کارنامہ ہے۔ اسی کے ساتھ میں یہ بھی کہہ دوں کہ سیاحوں اور پادریوں نے جو رپورٹیں دی ہیں کہ وحشی اور بربر قوموں میں عورتوں کو بڑی محنت مشقت کرنی پڑتی ہے تو اس سے مذکورہ بالا حقائق کی تردید نہیں ہوتی۔ جن اسباب کی بنیاد پر عورتوں اور مردوں میں کام کی تقسیم ہوتی ہے وہ ان اسباب سے بالکل مختلف ہیں جن سے سماج میں عورتوں کا رتبہ طے ہوتا ہے۔ ان قوموں میں،   جن کی عورتیں اس سے کہیں زیادہ محنت و مشقت کرتی ہیں جتنی ہم یورپ والے مناسب سمجھتے ہیں،  عورتوں کی کہیں زیادہ سچی عزت ہوتی ہے۔ تمدن کے عہد کی وہ ناز پروردہ خواتین جن کی زندگی جھوٹی ناز برداری کے ماحول میں بسر ہوتی ہے اور جنہیں سچ مچ کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ان کا سماجی رتبہ عہد بربریت کی عورتوں کو ان کی جاتیوں کے مرد سچ مچ مالکن(مالکن(laddy, frowa, Frauسمجھتے تھے اور سماج میں دراصل یہی ان کی حیثیت بھی تھی۔

امریکہ میں اب گروہ داری شادی کی جگہ جوڑا بیاہ مکمل طور پر رائج ہو چکا ہے یا نہیں،  اس کا فیصلہ کرنے کے لئے شمال مغربی اور خاص کر جنوبی امریکہ کے قوموں کے حالات کا زیادہ گہرا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب قومیں ابھی تک عہد وحشت کے آخری دور میں ہیں۔   جنوبی امریکہ کی قوموں میں جنسی آزادی کی اتنی مثالیں ملتی ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گروہ دار شادی بالکل مٹ چکی ہے۔ اس کے سارے اثرات تو یقیناً نہیں مٹے ہیں۔  شمالی امریکہ کے کم سے کم چالیس قبیلوں میں یہ رواج ہے کہ جو شخص کسی خاندان کی سب سے بڑی لڑی سے شادی کرتا ہے اس کا حق سبھی بہنوں پر ہو جاتا ہے۔ بالغ ہونے پر انہیں بھی وہ اپنی بیوی بنا سکتا ہے۔ یہ اس دور کی بچی کھچی نشانی ہے جب سبھی بہنوں کے شوہر مشترک ہوتے تھے۔  اور بانکرافٹ بتاتا ہے کہ جزیرہ نما کیلی فورنیا کے قبیلوں میں(جو عہد وحشت کے آخری دور سے گزر رہے ہیں (کچھ ایسے تیوہار منائے جاتے ہیں جن کے موقع پر متعدد”قبیلے”بلا کسی تفریق و امتیاز کے مجامعت کی غرض سے اکٹھا ہوتے ہیں۔  ظاہر ہے کہ یہ دراصل وہ گن ہیں جن کے یہ تیوہار ان بھولے بسرے دنوں کی یاد دلاتے ہیں جب کہ ایک گن کی سبھی عورتیں دوسرے گن کے سبھی مردوں کی مشترک بیویاں اور ایک گن کے سبھی مرد دوسرے گن کی عورتوں کے مشترک شوہر ہوا کرتے تھے۔ آسٹریلیا میں آج بھی اس کا رواج ہے۔ کچھ قوموں میں یہ ہوتا ہے کہ بڑے بوڑھے،  سردار اور کاہن پجاری مشترک بیویوں کے رسم سے فائدہ اٹھا کر خود اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور زیادہ تر عورتوں کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے ہیَ لیکن ان کو بھی بعض خاص تیوہاروں اور تقریبوں کے موقع پر پرانی جنسی ساجھے داری کو وقتی طور پر زندہ کرنے کی اجازت دینی پڑتی ہے اور اپنی بیویوں کو یہ موقع دینا ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ داد عیش دیں۔  وسٹرمارک نے(اپنی کتاب کے صفحات 29,28 پر(عیش و نشاط کی ایسی تقریبوں ( 10(Saturnaliaکی متعدد مثالیں پیش کی ہیں جبکہ مختصر عرصے کے لئے پھر جنسی تعلق کی پرانی آزادی قائم ہو جاتی ہے۔ مثال کے لئے اس نے بتایا ہے کہ ایسی تقریبات ہندوستان کی "ہو”جاتی کے لوگوں میں،  سنتھالوں میں،  پنجا اور کوتار  جاتیوں کے لوگوں میں اور افریقہ کی کچھ قوموں میں ہوتی ہیں،  وغیرہ وغیرہ۔  لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وسٹر ماک ان تقریبوں کو گروہ دار شادی کی بچی کھچی نشانی نہیں مانتا۔ اس خیال کو تو وہ سرے سے ٹھکرا دیتا ہے۔  ان کو وہ جوڑا ملنے کو موسم کا اثر مانتا ہے جو قدیم انسان اور دوسرے حیوانوں دونوں میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔

اب ہم باخوفن کی چوتھی بڑی دریافت کو لیتے ہیں اور وہ ہے گرو دار شادی سے جوڑا بیاہ کے تغیر کی عام صورت۔  جس چیز کو باخوفن دیوتاؤں کے قدیم احکام کے خلاف ورزی کرنے کا کفارہ یا پراشچت بتاتا ہے، جو عورت نے اپنی عفت و عصمت کا حق حاصل کرنے کے لئے ادا کیا تھا، وہ دراصل اس کفارے کی ڈھکی چھپی صورت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جس کی قیمت ادا کر کے عورت نے مشترک شوہروں کے پرانے رواج سے چھٹکارا پایا اور اپنے آپ کو صرف ایک ہی مرد کے سپرد کرنے کا حق حاصل کیا تھا۔ یہ کفارہ محدود سپردگی کی شکل میں ادا کیا جاتا ہے۔ بابل کی عورتوں کو سال میں ایک مرتبہ میلتا کے مندر میں اپنے آپ کو دینا پڑتا تھا۔ مشرق قریب کی دوسری قوموں کے لوگ اپنی لڑکیوں کو کئی برس کے لئے انالیطس کے مندر میں بھیج دیا کرتے تھے جہاں انہیں شادی کرنے کی اجازت مل سکتی تھی۔ بحیرہ روم سے لے کر دریائے گنگا تک تقریباً سبھی ایشیائی قوموں میں اس طرح کے ریت رواج پائے جاتے ہیں جن پر مذہب کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا نجات کے لئے کفارے کی قربانی ہلکی ہوتی گئی۔ جیسا کہ باخوفن لکھتا ہے۔ "

"پہلے ہر سال قربانی دینی پڑتی تھی۔ اب ایک ہی مرتبہ یہ رسم ادا کرنے سے کام چل جاتا ہے۔ پہلے بیاہی عورتوں سے عام جنسی تعلق کا رواج تھا، اب صرف کنواریوں کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے پہلے ازدواجی زندگی کے دوران میں یہ کرنا پڑتا تھا، اب شادی کے پہلے تک اس پر عمل کرنا کافی ہوتا ہے۔ پہلے بلا فرق و امتیاز ہر کسی کی آغوش میں اپنے آپ کو دینا پڑتا تھا، اب صرف چند مخصوص لوگوں کی آغوش میں دینا پڑتا ہے”("مادری حق”، صفحہ(14. 19(

دوسری قوموں میں تو یہ مذہبی پردہ بھی نہیں۔  مثلاً قدیم زمانے میں تھریشیا کے باشندوں میں ِ کیلٹ لوگوں میں اور ہندوستان کے بہت سے آدمی باسیوں میں اور بہت سے امریکی انڈینوں امریکہ کے تقریباً ہر علاقے میں یہی صورت ہے۔ اگر کوئی شخص ملک کے اندرونی حصے میں کسی حد تک بھی گیا ہے تو وہ اس کی تصدیق کرے گا۔ مثال کے طور پر اگاسیز نے(برازیل کی سیاحت "مطبوعہ بوسٹن اور نیویارک۔ 1886، صفحہ(15)266انڈین نسل کے ایک دولتمند خاندان کے بارے میں لکھا ہے کہ جب خاندان کی ایک لڑکی سے اس کا تعارف کرایا گیا اور اس نے اس لڑکی کے باپ کے بارے میں پوچھا جو اس کے خیال میں لڑکی کی ماں کا شوہر تھا اور پیرا گوائے کے خلاف جنگ میں ایک فوجی افسر کی حیثیت سے حصہ لے رہا تھا، تو لڑکی کی ماں نے مسکرانے ہوئے جو اب دیا کہ اس کا کوئی باپ نہیں یہ ایک اتفاق کی پیدائش ہے(nao tem pai, e filha da fortuna(

"انڈین یا دوغلی نسل کی عورتیں اپنے ناجائز بچوں کا ذکر ہمیشہ اسی طرح کرتی ہیں اور ایسا کرتے ہوئے انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غلط یا شرم کی بات ہے۔ اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ معاملہ اس کا الٹ ہے۔  (اکثر(بچے (صرف(اپنی ماؤں کو جانتے ہیں کیونکہ ان کی پرورش کی ساری ذمہ داری ماں پر ہوتی ہے۔ وہ اپنے باپ کو بالکل نہیں جانتے اور شائد عورت کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اس کی یا اس کے بچوں کی کوئی ذمہ داری باپ پر ہے۔ "

ایک متمدن آدمی کو جو بات اتنی عجیب معلوم ہو گی وہ دراصل مادری حق اور اور گروہ دار یا شادی میں آئے ہوئے دوسرے مہمان پرانے روایتی حق کے مطابق پہلے دلہن کے ساتھ ہمبستری کرتے ہیں اور دولہا کی باری سب سے آخر میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں بالیری جزیروں میں اور افریقہ کے آگیلا لوگوں میں اور موجودہ زمانے میں حبشہ کے باریا لوگوں میں بھی اس کا رواج پایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ دوسری قوموں میں یہ رواج ہے کہ ایک سرکاری آدمی،  قبیلے یا گن کا سردار، کاسیک، شمان،  پروہت،  پرنس یا جو بھی اس کا خطاب ہو پوری برادری کی نمائندگی کرتا ہے اور دلہن کے ساتھ پہلی رات کا حق ادا کرتا ہے۔ اس رواج کو کتنے ہی خوش رنگ پردوں سے ڈھانکنے کی کوشش کی جائے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی شب کا حق(jus primae noctis(الاسکا علاقے کے زیادہ تر باشندوں میں(دیکھئے بینکر افٹ کی کتاب ” دیسی نسلیں "پہلا حصہ، صفحہ(81شمالی میکسیکو کے تاہو لوگوں میں(ایضاً صفحہ(584 اور کچھ اور جاتیوں میں گروہ دار شادی کی ایک بچی کھچی نشانی کے طور پر آج تک چلا آتا ہے۔ اور زمانہ وسطیٰ میں کم از کم ان ملکوں میں جہاں قدیم کیلٹ جاتی کے لوگ رہتے تھے، اس کا برابر رواج رہا۔ ان میں یہ رسم براہ راست گروہ دار شادی سے نکلی تھی۔ اس کی ایک مثال آراگاں کا علاقہ ہے۔ کیسٹیل میں کسان کبھی زرعی غلام نہیں رہے مگر آراگان میں بدترین قسم کی زرعی غلامی قائم تھی اور وہ اس وقت تک رہی جب تک کہ  _1486(میں فرڈیننڈ کیتھولک نے ایک فرمان کے ذریعے اس کو ختم نہ کر دیا۔ اس فرمان میں کہا گیا ہے کہ”ہم فیصلہ دیتے اور اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی کسان شادی کرتا ہے تو اوپر جن لارڈوں(snyors, barons(کا ذکر کیا گیا، وہ پہلی رات اس کی دلہن کے ساتھ نہیں سوئیں گے اوہ نہ شادی کی رات کو جب عورت سو رہی ہو تو اپنے اقتدار کی نشانی کے طور پر اس کی عزت اور اس کے بستر کو روندیں گے۔ اور نہ ہی یہ لارڈ کسانوں کے بیٹے اور بیٹیوں سے ان کی مرضی کے خلاف اجرت پر یا اجرت کے بغیر کام لیں گے۔ ” (سو گن ہائم کی کتاب”زرعی غلامی”میں اصلی کیٹے ہونین زبان ہی میں اقتباس دیا گیا ہے۔ سینت پرٹرس برگ،  1861صفحہ( 355۔  16(

 باخوفن نے برابر یہ کیا ہے کہ اس نظام کو جس کو وہ "ہیتائرازم”یا”Sumpfzeugung”(کئی عورتیں رکھنے کا رواج (کے نام سے یاد کرتا ہے، بدلنے میں عورتوں کا بڑا دخل رہا ہے۔ اس نظام کے بدلے یک زوجگی یعنی ایک مرد ایک عورت کی شادی کا رواج اصل میں عورتوں کی کوششوں سے ہوا۔ اور اس کی یہ رائے بالکل صحیح ہے۔ زندگی کی اقتصادی حالتوں کی نشوونما کی وجہ سے یرنی قدیم کمیونزم کے زوال اور آبادی کے زیادہ سے زیادہ گنجان ہونے کے ساتھ ساتھ پرانے روایتی جنسی تعلقات کی ابتدائی سادگی اور بھولا پن اور اس کا قدیم جنگلی کردار مٹتا گیا اور اتنا ہی زیادہ وہ جنسی تعلق عورتوں کو ہتک آمیز اور ظالمانہ معلوم ہونے لگا۔ قدرتاً ان کے دل میں اس خواہش نے زور پکڑا ہو گا کہ کسی طرح انہیں عفت اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرنے کا حق ملے، کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ وہ اس مصیبت سے نجات پائیں اور ایک وقت میں صرف ایک مرد سے عارضی یا مستقل شادی کر سکیں۔  مردوں سے یہ امید نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ اس تبدیلی کو لانے میں پیش قدمی سے کام لیں گے۔ اگر اور باتوں سے ہم آنکھیں بند بھی کر لیں تو بھی مردوں کے ایسا نہ کر سکنے کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آج تک وہ عملاً گروہ دار شادی کی لذتوں سے دست بردار ہونے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں کر سکے ہیں۔  جب عورتوں نے تبدیلی کرا کے جوڑا بیاہ کو رواج دے دیا تب ہی مردوں نے سختی سے یک زوجگی کے اصول پر عمل شروع کیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس اصول کو انہوں نے محض عورتوں پر ہی لاگو کیا۔

جوڑا خاندان

جوڑا خاندان کی ابتدا اس زمانے میں ہوئی جب عہد وحشت اور عہد بربریت مل رہے تھے یعنی اس کی ابتدا عہد وحشت کے آخری دور میں اور کہیں کہیں تو بربریت کے پہلے دور میں ہوئی۔ خاندان کی یہ شکل عہد بربریت کی خصوصیت ہے اسی طرح جیسے گروہ دار شادی عہد وحشت کی اور یک زوجگی کا اصول تمدن کے عہد کی خصوصیت ہے۔  اس جوڑا خاندان کو ترقی کر کے پائدار یک زوجگی تک پہنچنا تھا۔ لیکن اس کے لئے ضروری تھا کہ ابھی تک جو اسباب کام کر رہے تھے، ان سے مختلف اسباب میدان میں آئیں۔  جوڑا بیاہ میں گروہ گھٹتے گھٹتے اپنی آخری اکائی تک یعنی ایک مرد اور ایک عورت ان دو جوہروں سے مرکب ایک سالمہ تک پہنچ گیا۔ قدرتی انتخاب کے اصول نے گروہ دار شادی کے دائرے کو محدود کرتے کرتے اپنا کام پورا کر دیا۔ اب اس سلسلے میں اس کو کچھ اور نہیں کرنا تھا۔ اب اگر نئی سماجی قوتیں روح رواں بن کر میدان میں نہ آتیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ جوڑا خاندان سے خاندان کی کوئی نئی شکل جنم لیتی۔ لیکن ان سماجی قوتوں کا عمل شروع ہو چکا تھا۔

اب ہم جوڑا خاندان کے کلاسیکی وطن امریکہ سے رخصت ہوتے ہیں۔  ہمارے پاس یہ سوچنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ امریکہ میں خاندان کی اس کے علاوہ کوئی اور ترقی یافتہ شکل قائم ہوئی تھی یا یہ کہ امریکہ کی دریافت سے اور اس پر یورپ والوں کے قبضے سے پہلے وہاں کسی جگہ بھی سخت قسم کی یک زوجگی قائم ہوئی تھی۔ لیکن پرانی دنیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

وہاں جانور پالنے اور مویشیوں کی نسل بڑھانے سے دولت کا ایک نیا سوتا کھل گیا جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کی وجہ سے بالکل نئے سماجی رشتے قائم ہونے لگے تھے۔ عہد بربریت کے ابتدائی دور تک غیر منقولہ دولت میں صرف مکان،  کپڑے،  بھدے قسم کے زیور اور غذا حاصل کرنے اور پکانے کے سامان، کشتیاں،   ہتھیار اور بہت معمولی قسم کے گھر کے برتن تھے۔ غذا ہر روز نئے سرے سے حاصل کرنی ہوتی تھی۔ لیکن اب گھوڑوں،  اونٹوں،  گدھوں،  بیلوں،  بھیڑ بکریوں اور  سوروں کی شکل میں گلہ بانی کی زندگی بسر کرنے والی ترقی پذیر قوموں کو۔ ۔۔۔۔ پنجاب اور وادی گنگا کے آریوں کو، اس زمانے کے نسبتاً بہت زیادہ سیراب، آمو

اندان:ہوتا تھا کہ الگ خا دریا اور سیر دریا کے ہرے بھرے گھاس کے میدانوں میں رہنے والے آریوں کو اور دجلہ و فرات کے کنارے رہنے والے سامیوں کو،  اتنی کثیر دولت مل گئی تھی جس کی محض دیکھ بھال اور معمولی نگرانی سے کام چل جاتا تھا۔ یہ دولت دن دونی رات چوگنی ہو رہی تھی اور اس سے انہیں دودھ اور گوشت کی صورت میں نہایت عمدہ اور صحت بخش غذا مل رہی تھی۔ غذا حاصل کرنے کے پہلے کے سبھی طریقے اب پیچھے چھوٹ گئے تھے۔ شکار کرنا جو پہلے ایک ضروری کام تھا اب محض شوق کی چیز رہ گیا۔

لیکن یہ نئی دولت کس کی تھی؟ ظاہر ہے کہ شروع میں اس پر پورے گن کا قبضہ تھا۔ لیکن مویشیوں کے ریوڑوں پر بہت پرانے زمانے میں ہی ذاتی ملکیت قائم ہو چکی ہو گی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ موسیٰ کے نام سے جو پہلی کتاب موسوم ہے اس کے مصنف نے بابا ابراہیم کو جب اپنے گلوں اور مویشیوں کے مالک کی حیثیت سے دیکھا تو وہ اپنے کنبے کے بزرگ ہونے کے ناطے اپنی ذاتی حیثیت سے اس کے مالک تھے یا ایک گن کے موروثی سردار کی حیثیت سے۔ لیکن ایک بات صاف ہے اور وہ یہ کہ ہم ابراہیم کو موجودہ زمانے کے مفہوم میں ملکیت کا مالک نہیں کہہ سکتے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی یقینی ہے کہ مستند تاریخ کی ابتدا میں ہمیں ہر جگہ یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ مویشیوں کے ریوڑ خاندان کے سرداروں کی اسی طرح علیحدہ ملکیت ہوتے تھے جس طرح بربریت کے عہد کی فنی پیداوار،  دھات کے برتن،  عیش و عشرت کے سامان اور آخر میں انسانی مویشی یعنی غلام،  خاندان کے سرداروں کی الگ الگ ملکیت ہوا کرتے تھے۔

اب چونکہ غلامی کا بھی رواج ہو چکا تھا۔ عہد بربریت کے ابتدائی دور کے لوگوں کے لئے غلام کارآمد نہیں ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے انڈین لوگ اپنے جنگ کے دشمنوں سے جو سلوک کرنے تھے وہ اس سے بہت مختلف تھا جو بربریت کے آخری دور میں ان سے کیا جاتا تھا۔ مرد یا تو قتل کر دیئے جانے یا بھائی بنا کر فاتحوں کے قبیلے میں شامل کر لئے جاتے تھے۔ عورتوں سے یا تو شادی کر لی جاتی تھی یا انہیں اس کے بچوں سمیت جو قتل ہونے سے بچ گئے تھے، قبیلے میں شامل کر لیا جاتا تھا۔ اس دور میں ابھی انسان کی قوت محنت سے اتنا نہیں پیدا ہوتا تھا کہ محنت کرنے والوں کا اپنا خرچ پورا کرنے کے بعد اس میں سے کچھ بچ سکے۔ لیکن جب مویشی پالے جانے لگے اور ان کی نسل بڑھائی جانے لگی، دھاتوں سے کام لیا جانے لگا، کپڑے کی کتائی بنائی ہونے لگی اور پھر جب کھیت بنا کر کھیتی کی جانے لگی تو یہ حالت بدل گئی۔ جس طرح پہلے بیویاں بڑی آسانی سے مل جاتی تھیں مگر بعد میں ان میں قدر تبادلہ پیدا ہو گئی تھی اور وہ خریدی جانے لگی تھیں،  اسی طرح بعد میں،  خاص کر جانوروں کے ریوڑوں کے خاندانی ملکیت بن جانے کے بعد، انسان کی قوت محنت بھی خریدی جانے لگی خاندان اتنی تیزی سے نہیں بڑھتا تھا جتنی تیزی سے مویشی کے ریوڑ بڑھتے تھے۔ ریوڑ کی دیکھ بھال کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہونے لگی۔ جنگ کے قیدیوں سے یہ کام بہت اچھی طرح لیا جا سکتا تھا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مویشی کی طرح خود ان کی نسل بھی بڑھاتی جا سکتی تھی۔

اس طرح کی دولت جب ایک مرتبہ الگ الگ خاندانوں کی نجی ملکیت بن گئی اور اس میں تیزی سے اضافہ ہوا تو اس نے اس سماج پر جو جوڑا خاندان اور مادری حق والے گن کی بنیاد پر قائم تھا، کاری چوٹ لگائی۔ جوڑا بیاہ سے خاندان میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہو گیا تھا۔ سگی ماں کے ساتھ ساتھ اب ایک مستند سگا باپ بھی موجود تھا جو آج کل کے کتنے ہی "باپوں ” سے زیادہ مستند تھا۔ خاندان کے اندر اس زمانے میں جو تقسیم محنت رائج ہو چکی تھی، اس کے مطابق غذا حاصل کرنا اور اس کے لئے ضروری اوزار تیار کرنا مرد کا کام تھا اور اس لئے ان پر ملکیت بھی مرد کی تھی۔ میاں بیوی الگ ہوتے تو جس طرح گھر داری کا سامان عورت کے پاس رہ جاتا، اسی طرح مرد ان اوزاروں کو اپنے ساتھ لے جاتا۔ چنانچہ اس زمانے کے سماجی رسم و رواج کے مطابق مرد غذا حاصل کرنے کے لئے نئے ذرائع یعنی مویشیوں کا اور کچھ دنوں کے بعد محنت کے نئے آلات یعنی غلاموں کا بھی مالک ہو گیا۔ لیکن اسی سماج کے رسم و رواج کے مطابق اس کا ترکہ اس کی اولاد کو نہیں مل سکتا تھا۔ کیونکہ اس معاملے میں اصل صورت حال یوں تھی:

مادری حق کی رو سے، یعنی جب تک نسل محض عورت سے چلتی تھی اس وقت تک اور گنوں میں وراثت کے ابتدائی رسم و رواج کے مطابق،  گن کے کسی رکن کے مرنے پر اس کا ترکہ پہلے اس کے گن کے رشتہ داروں کو ملتا تھا۔ اصول یہ تھا کہ جائیداد گن کے اندر رہے۔ شروع میں،  زیر بحث اشیائے منقولہ کی کوئی خاص اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ عملاً وہ گن کے سب سے قریبی رشتہ داروں کو یعنی ماں کی جانب سے خون کے رشتہ داروں کو مل جاتی ہو۔ لیکن مرنے والے کے بچے اس کے گن کے بچے نہیں بلکہ اپنی ماں کے گن کے بچے ہوتے تھے۔ شروع میں ماں کے اور سبھی رشتہ داروں کے ساتھ بچوں کو بھی ماں کی جائیداد کا ترکہ ملتا تھا اور شاید آگے چل کر اس پر ان کا سب سے پہلا حق مان لیا گیا تھا۔ لیکن انہیں اپنے باپ سے کوئی ترکہ نہیں ملتا تھا کیونکہ وہ اس کے گن کے نہیں تھے اور باپ کی ساری دولت کا اس کے گن میں رہنا ضروری تھا۔ لہٰذا مویشیوں کے گلے کے مالک کے مرنے پر اس کا گلہ سب سے پہلے اس کے بھائیوں اور بہنوں کو اور اس کی بہنوں کی اولاد کو یا اس کی ماں کی بہنوں کی اولاد کو ملتا تھا۔ اس کی اپنی اولاد اس سے محروم رہی تھی۔

اس طرح جیسے جیسے دولت بڑھتی گئی، ویسے ویسے اس کی وجہ سے ایک طرف خاندان کے اندر عورت کے مقابلے میں مرد کی اہمیت اور اس کا رتبہ زیادہ اونچا ہوتا گیا اور دوسری طرف مرد کے دل میں یہ خواہش زور پکڑتی گئی کہ وہ اپنی طاقت سے فائدہ اٹھا کر وراثت کے پرانے طریقے کو الٹ دے تا کہ اس کے اپنے بچے حق دار ہو سکیں۔  لیکن جب تک نسل ماں سے چلتی تھی تب تک یہ ناممکن تھا۔ اس لئے ضرورت تھی کہ مادری حق کو ختم کر دیا جائے۔ اور یہی کیا گیا۔  اور اس میں اتنی مشکل نہیں ہوئی جتنی آج معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس انقلاب سے جو کہ بنی نوع انسان کے لئے ایک نہایت ہی فیصلہ کن انقلاب تھا، گن کے کسی ایک بھی زندہ رکن کی زندگی میں کوئی خلل نہیں پڑا۔ سبھی لوگ جیسے پہلے تھے ویسے ہی رہے۔ صرف اتنا فیصلہ کافی تھا کہ آئندہ گن کے مردوں کی اولاد گن میں رہے گی اور عورتوں کی اولاد ان کے گن سے الگ کر کے اپنے باپ کے گن میں شامل کر دی جائے گے۔ اس طرح عورتوں سے نسل کا سلسلہ اور ماں سے وراثت پانے کا حق ختم ہو گیا۔ اور اس کے بدلے مردوں سے نسل کا سلسلہ اور طاپ ستے وراثت پانے کا حق قائم ہوا۔ متمدن قوموں میں یہ انقلاب کب اور کس طرح آیا اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ یہ بالکل ماقبل تاریخ کے زمانے کی بات ہے۔ لیکن یہ انقلاب ہوا ضرور تھا۔ اور اس کا بہت کافی ثبوت موجود ہے۔ ہمیں جگہ جگہ مادری حق کے کتنے ہی بچے بچائے آثار ملے ہیں۔  ان میں خصوصیت کے ساتھ وہ قابل ذکر ہیں جنہیں باخوفن نے جمع کیا ہے۔ یہ انقلاب کتنی آسانی سے ہو جاتا تھا، یہ بات امریکہ کے متعدد انڈین قبیلوں سے ظاہر ہو جاتی ہے،  جن کے درمیان یہ انقلاب ابھی حال میں آیا ہے اور آج بھی چل رہا ہے۔ یہاں یہ انقلاب کسی حد تک بڑھتی ہوئی دولت اور زندگی کے بدلے ہوئے حالات(جنگلوں سے آ کر میدانوں میں بس جانے(کے زیر اثر، اور کسی حد تک تمدن اور پادریوں کے اخلاقی اثر کے تحت ہو رہا ہے۔ دریائے مسوری کے آٹھ قبیلوں میں سے چھ میں مردوں کی طرف سے نسل اور وراثت کا سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ لیکن دو میں آج بھی عورتوں سے نسل چلتی ہے اور ترکہ ماں سے ملتا ہے۔ شمانی، میامی اور ڈیلاویر قبیلوں میں یہ رسم ہے کہ اولاد کو باپ کے گن کے ناموں میں سے کوئی ایک نام دے کر اس گن میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ انہیں اپنے باپ کی وراثت مل سکے۔

"تغیر پسندی کی یہ انسانی خاصیت ہے کہ چیزوں کا نام بدل کر وہ سمجھتا ہے کہ اس نے ان کی خاصیت بدل دی اور جب کبھی اپنی کسی غرض کو پورا کرنے کے لئے مصلحت کا تقاضا ہوا تو اس نے رسم و رواج کی بندشوں کو توڑ کر باہر نکلنے کا بہانہ خود اسی رسم و رواج کے اندر ڈھونڈ نکالا! "(مارکس( (17)اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت افراتفری اور گڑبڑی کی حالت پیدا ہو گئی۔ حالات کو سدھارنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا تھا کہ مادری حق کی جگہ پدری حق کا رواج ہوا اور اسی طرح کسی حد تک یہ افراتفری دور بھی کی گئی۔ ” بحیثیت مجموعی یہ ایک نہایت ہی قدرتی تبدیلی معلوم ہوتی ہے("مارکس( (18)باقی رہا یہ سوال کہ یہ تبدیلی قدیم دنیا کی متمدن قوموں میں کس طرح اور کن ذریعوں سے عمل میں آئی اور اس کے بارے میں تقابلی قانون کے ماہروں کی رائے، جو کہ تقریباً محض مفروضات پر مبنی ہے، کیا ہے تو کوالیفسکی کی کتاب "خاندان اور ملکیت کے آغاز اور ارتقا کا ایک خاکہ (19)”پڑھنی چاہئے یہ کتاب استاک ہوم سے 1890 میں چھپی تھی۔

مادری حق کا خاتمہ عورتوں کی ایک عالمگیر تاریخی شکست تھی۔  مرد نے گھر کے اندر بھی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی۔ عور ت اپنے رتبے سے گر گئی۔ اس کے ہاتھ پیر باندھ دیئے گئے۔ اسے مرد کی شہوت کا غلام بنا لیا گیا اور محض بچے پید ا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھ لیا گیا۔  عورت کا یہ گرا ہوا مرتبہ سورمائی عہد کے اور اس سے بھی زیادہ کلاسیکی عہد کے یونانیوں میں خاص طور سے دیکھنے میں آتا ہے۔ رفتہ رفتہ اسے طرح طرح کے خوش نما پردوں سے ڈھانک کر اور سجا کر اور ایک حد تک اس کی سختی کو کم کر کی پیش کیا گیا۔ لیکن اسے مٹایا کبھی نہیں گیا۔

اب محض مردوں کی جو حکومت قائم ہوئی اس کا پہلا اثر خاندان کی ایک درمیانی شکل میں ظاہر ہوا۔ ۔۔۔ یعنی پدری خاندان کا جنم ہوا۔ اس کی اصل خصوصیت یہ نہیں تھی کہ ایک ایک مرد کی بہت سی بیویاں ہوتی تھیں۔  اس کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔ پدری خاندان کی اصل خصوصیت یہ تھی کہ

"متعدد افراد جن میں غلام بھی ہوتے تھے اور آزاد لوگ بھی، خاندان کے بزرگ کے پدرانہ اقتدار کے سایے میں منظم ہوتے تھے۔ سامی لوگوں میں اس بزرگ خاندان کی کئی کئی بیویاں ہوتی تھیں۔   غلام کی ایک بیوی اور بچے ہوتے تھے۔ اور ساری تنظیم کا مقصد ایک محدود علاقے میں مویشیوں کے گلوں اور ریوڑوں کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ (11)”

خاندان کی اس شکل کی اصلی خصوصیت یہ تھی کہ غلاموں کو خاندان، میں شامل کر لیا گیا تھا اور بزرگ خاندان کا اقتدار مانا جاتا تھا۔ چنانچہ اس طرح کے خاندان کا مکمل نمونہ رومن خاندان میں ملتا ہے۔ لفظfamiliaکا مطلب ابتدا میں وہ نہیں تھا جو آج کل کے کم نظروں کا آدرش ہے اور جو کہ جذباتیت اور گھریلو کشیدگی سے مرکب ہوتا ہے۔ رومنوں میں شروع میں یہ لفظ شادی شدہ جوڑے اور ان کے بچوں کے لئے استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا اطلاق صرف غلاموں پر ہوتا تھا۔ Famulus کا مطلب تھا گھریلو غلام، اور familiaکا لفظ مجموعی طور پر ایک شخص کے سبھی غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ گیوس کے زمانے میں بھی لوگ، fakilia, isd est patimonium(یعنی بطور ترکہ(اپنے وارثوں کے لئے چھوڑ جایا کرتے تھے۔ رومنوں نے ایک نئے سماجی ادارے کے لئے یہ اصطلاح بنائی تھی۔ اس ادارے میں اس کے سردار کے تحت اس کی بیوی اور بچے اور متعدد غلام ہوتے تھے اور رومن پدری اقتدار کے تحت سردار کو ان کی زندگی اور موت پر اختیار ہوتا تھا۔

” لہٰذا یہ اصطلاح لاطینی قبیلوں کے اس آہنی خاندانی نظام سے زیادہ پرانی نہیں تھی جو کھیت بنا کر کھیتی کرنے کا طریقہ شروع ہونے، غلامی کے قانونی ہو جانے اور ساتھ ہی یونانیوں اور(آریائی (اطالویوں کے علیحدہ ہونے کے بھی بعد قائم ہوا تھا۔ (12)”

مارکس نے اس پر اپنا اضافہ اور کیا ہے: "موجودہ خاندان میں ایک ادھوری شکل میں نہ صرف غلامی (servitus)بلکہ زرعی غلامی بھی شامل ہے کیونکہ خاندان کا تعلق شروع ہی سے کھیتی باڑی کے کام سے رہا ہے۔ بہت چھوٹے پیمانے پر اس کے اندر وہ سارے تضاد موجود ہیں جو آگے چل کر سماج اور اس کی ریاست کے اندر بڑے پیمانے پر پھیل جاتے ہیں۔  (20)”

خاندان کی اس طرح کی شکل اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ جوڑا خاندان یک زوجگی میں تبدیل ہو گیا۔  بیوی کی عصمت یعنی بچوں کی ولایت کا تحفظ کرنے کے لئے عورت کو مرد کے مطابق اقتدار کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر وہ اس کو قتل ہی کرتا ہے تو اپنے حق سے کام لیتا ہے۔

پدری خاندان کے ساتھ ہم لکھی ہوئی تاریخ کے دور میں قدم رکھتے ہیں،  یہ ایک ایسا ہم بہت کچھ آگے بڑھتے ہیں۔  ہم میکسم کوالیفسکی کے احسان مند ہیں کہ اس نے(اپنی کتاب "خاندان اور ملکیت کے آغاز اور ارتقا کا ایک خاکہ” میں جو 1890میں اسٹاک ہوم سے شائع ہوئی ہے، صفحات(60-100 یہ ثابت کر دیا کہ پدری گھرانے کی برادری(patriarchalische Hausgenossenschaft)جس کی مثال ہمیں آج بھی سربیا اور بلغاریہ کے باشندوں میں "زدروگا "(جس کا مطلب برادری سے ملتا جلتا ہے )یا "براتستوا”(برادری)کے نام سے ملتی ہے اور جو کسی قدر بدلی ہوئی صورت میں مشرق کی قوموں میں بھی پائی جاتی ہے، وہ برادری اس تغیری دور کی چیز ہے جو گروہ دار شادی سے ترقی کر کے قائم ہونے والے مادری حق کے خاندان اور موجودہ زمانے کے انفرادی خاندان کے درمیان کا دور تھا۔ کم از کم جہاں تک دنیائے قدیم کی متمدن قوموں،  آریوں اور سامیوں،   کا تعلق ہے یہ با ت ثابت معلوم ہوتی ہے۔

اس طرح کی خاندانی برادری کی سب سے عمدہ مثال ہمیں آج کل جنوبی سلاف لوگوں کی "زدروگا”میں ملتی ہے۔ اس کی اندر ایک باپ کی اولاد کی کئی پشتیں اور ان سب کی بیویاں شامل ہوتی ہیں۔  اور یہ سب لوگ ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں،  مل جل کر کھیتی کرتے ہیں ایک مشترک ذخیرے سے اپنی کھانے اور کپڑے کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور استعمال کے بعد جو کچھ بچ رہتا ہے اس کے سب اجتماعی مالک ہوتے ہیں۔  اس برادری کا انتظام گھر کے مالک،  دوما چین (domaicin)کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بیرونی معاملوں میں وہی اس کی نمائندگی کرتا ہے۔ چھوٹی موٹی چیزیں الگ کرتا ہے۔ گھر کی آمدو خرچ کا انتظام کرتا ہے۔  گھر کے حساب کتاب کی اور کام کاج کو ٹھیک سے چلانے کی ذمہ داری اسی پر ہوتی ہے۔ گھر کے مالک کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہ عمر میں سب سے برا ہو۔ گھر کی عورتوں اور ان کی کام کی نگرانی گھر کی مالکہ، دوما چیسا (domacia)کرتی ہے۔ وہ عموماً دوماچین کی بیوی ہوتی ہے۔ برادری کی لڑکیوں کے لئے شوہر چننے میں اس کے رائے اہم اور اکثر فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی آخری فیصلے کا اختیار خاندانی کو نسل کو ہے جس میں تمام بالغ مرد اور عورتیں شامل ہوتی ہیں۔  گھر کا مالک اپنا حساب اسی کونسل کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اسی کونسل میں سارے اہم فیصلے کئے جاتے ہیں۔  وہی خاندان کے افراد کے درمیان انصاف کرتی ہے۔ اسی میں اہم چیزوں کا،  خاص کر زمین کی خرید و فروخت وغیرہ کا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔

ابھی صرف دس برس پہلے کی بات ہے کہ اتنی بڑی بڑی خاندانی برادریوں کا وجود روس میں بھی ثابت ہوا(13)۔ اب یہ بات عام طور سے مان لی گئی ہے کہ روسیوں کے عام رسم و رواج میں اس کی جڑیں اتنی ہی مضبوطی سے پیوست ہیں جتنی "آبش چینا”یعنی دیہی برادری کی۔ روس کے سب سے پرانے مجموعہ قوانین۔ ۔۔یا روسلاف کے "پراودا”۔ ۔۔۔ میں ان برادریوں کا ذکر اسی نام(ویرو) سے آتا ہے جس نام سے دال میشین قوانین میں (14)۔ پولستانی اور چک لوگوں کی تاریخی دستاویزوں میں بھی ان برادریوں کا ذکر ملتا ہے۔

ہیوزلر کے کہنے کے مطابق(دیکھئے اس کی کتاب”جرمن نظام اختیارات)” (21)جرمنوں میں بھی اقتصادی اکائی، موجودہ مفہوم میں انفرادی خاندان نہیں تھا بلکہ گھریلو برادری (hausgenossenschaftّ)تھی جس میں کئی پشت کے لوگ یا کئی انفرادی خاندان اور اکثر بہت سے غلام بھی شامل ہوتے تھا۔ دیکھا گیا ہے کہ رومن خاندان کی جڑیں بھی اسی نوع کی گھریلو برادری سے جا ملتی ہیں اور اس وجہ سے آج کل بڑے زوروں پر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا خاندان میں اقتدار مطلق ہمیشہ گھر کے مالک کے ہاتھ میں تھا اور اس کے مقابلے میں خاندان کے باقی افراد حقوق سے بالکل محروم ہوتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آئر لینڈ کے کیلٹ لوگوں میں بھی اس قسم کی خاندانی برادریاں موجود تھا یا۔ فران کے نیو یرنائی علاقے میں پارسوں نیری(parconneries)کے نام سے انقلاب فرانس تک ان کا وجود قائم تھا۔ اور فرانشے کو مٹ میں تو وہ آج تک نہیں مٹیں۔   لوھان(ساونے اے لوار)کے ضلع میں اب تک کسانوں کے بڑے بڑے گھر دیکھنے میں آتے ہیں جن میں ایک نہایت اونچا سا مشترک ہال ہوتا ہے جس کی دیواریں سب سے اوپری چھت تک جا پہنچتی ہیں،   جس کے چاروں طرف سونے کے کمرے ہوتے ہیں اور جن تک پہنچنے کے لئے چھ سے آٹھ تک سیڑھیاں بنی ہوتی ہیں۔  ان میں ایک خاندان کی کئی کئی پشت کے لوگ رہتے ہیں۔

ہندوستان میں سکندر اعظم کے زمانے میں ہی نیارکس نے گھریلو برادریوں کا ذکر کیا ہے جو مشترک کھیتی کرتے تھے اور اس علاقے میں یعنی پنجاب میں اور ہندوستان کے سارے شمال مغربی حصے میں اس طرح کی گھریلو برادریاں آج بھی پائی جاتی ہیں۔  کوالیفسکی خود بھی قفقاز میں اس طرح کی برادریوں کے وجود کی شہادت دے چکا ہے۔ الجیریا کے کابیلوں میں یہ آج تک پائی جاتی ہیَ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں بھی ان کا وجود تھا۔ یہ بھی ثابت کرنے کے کوشش کی جا رہی ہے کہ زوریتا نے قدیم میکسیکو میں کالپولیس(15)(calpallis)کا جو ذکر کیا ہے وہ اسی قسم کی گھریلو برادری تھی۔ دوسری طرف کونوف نے1890 (16)”Ayskabd”(کے 42سے44 تک کے شماروں میں )کافی وضاحت سے یہ ثابت کیا ہے کہ جس زمانے میں یورپ والوں نے پیرو کو فتح کیا تو وہاں قدیم جرمن لوگوں کے مارک نظام سے ملتا جلتا ایک دستور موجود تھا(اور عجیب بات یہ ہے کہ جرمنوں کی طرح پیرو کے لوگ ہی دیہاتی برادری کی زمین مارک کوmarcaکہتے تھے)۔  ان میں کھیتی کی زمین کو وقتاً فوقتاً برادری کے لوگوں میں نئے سرے سے بانٹ دیا جاتا تھا یعنی لوگ کھیتی الگ الگ کرتے تھے۔

بہرحال اتنی بات تو ظاہر ہے کہ پدری گھرانے کی برادری جو زمین کی مشترکہ ملکیت اور مشترکہ کھیتی کی بنیاد پر قائم تھی، اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ پرانی دنیا کی متمدن اور دوسری قوموں میں اس پدری گھرانے کی برادری نے مادری حق والے خاندان سے یک زوجگی کے خاندان تک ایک درمیانی عبوری منزل کی حیثیت سے اہم تاریخی خدمت انجام دی ہے۔ کوالیفسکی نے اس سے مزید جو نتیجہ نکالا اس کی طرف ہم بعد میں لوٹیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسی عبوری منزل سے اس دیہی یا مارک برادری کا ارتقا بھی ہوا تھا جس میں لوگ کھیتی الگ الگ کرتے تھے اور قابل کاشت اور چراگاہ کی زمینیں پہلے وقتاً فوقتاً اور پھر مستقل طور پر لوگوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔

جہاں تک ان گھرانوں کے اندر خاندانی زندگی کا تعلق ہے ہمیں یہ بات دھیان میں رکھنی چاہئے کہ کم از کم روس میں گھر کے مالک کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوجوان عورتوں اور خاص کر اپنی بہوؤں کے سلسلے میں اپنی حیثیت سے بہت ناجائز فائدہ اٹھاتا تھا، اور اکثر وہ انہیں ایک حرم کی سی شکل دے دیتا تھا۔ روس کے عوامی گیتوں میں ان حالتوں کی بڑی پر زور ترجمانی کی گئی ہے۔

 مادری حق کے خاتمے کے بعد یک زوجگی کے نظام نے بڑی تیزی سے ترقی کی۔  لیکن اس کا ذکر کرنے سے پہلے ہم شادی کی ان شکلوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں جس میں ایک شوہر کی کئی بیویاں یا ایک بیوی کے کئی شوہر ہوتے تھے۔ شادی کی یہ دونوں شکلیں اگر کسی ملک میں ساتھ ساتھ ملیں تو اور بات ہے۔ ۔۔۔ گو جیسا کہ سب کو معلوم ہے وہ ساتھ ساتھ نہیں ملتیں۔ ۔۔۔۔ ورنہ ظاہر ہے کہ وہ صرف گویا مستثنیٰ حیثیت سے تاریخ کی تفریحی پیداوار کی حیثیت سے ہی پائی جاتی ہیں۔   سماجی اداروں سے قطع نظریہ کہا جا سکتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی تعداد بحیثیت مجموعی ہمیشہ برابر رہی ہے۔ اور اس لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ کثرت ازواج یعنی ایک شوہر کی متعدد بیویوں کے نظام میں جو مرد اکیلے بچ رہے ہوں وہ ان عورتوں سے مطمئن ہو جائیں جو کثرت شوہری یعنی ایک عور ت کے متعدد شوہروں کے نظام میں اکیلی بچ رہی ہوں۔   اس لئے ظاہر ہے مرد کی متعدد بیویوں کا دستور دراصل غلامی کے نظام کی پیداوار تھی اور محض ایک مستثنیٰ حیثیت رکھتی تھی۔  سامیوں کے پدری خاندان میں محض سردار خاندان اور زیادہ سے زیادہ اس کے دو ایک بیٹوں کی متعدد بیویاں ہوتی تھیں۔  خاندان کے باقی لوگوں کو ایک ہی بیوی پر قناعت کرنی پڑتی تھی۔ آج بھی تمام مشرقی ملکوں میں یہی حال ہے۔ کئی کئی بیویاں رکھنا دولتمندوں اور کچھ نوابوں کے ٹھاٹھ کی بات ہے۔ وہ باندیاں خرید کر گھر میں ڈال لیا کرتے ہیں۔  عام لوگ ایک ہی شادی کرتے ہیں۔  اسی طرح ہندوستان اور تبت میں ایک عورت کے متعدد شوہروں کا دستور مستثنیٰ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ یقیناً ایک دلچسپ سوال ہے کہ گروہ دار شادی سے اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔ ابھی اس موضوع کا اور زیادہ گہرا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ چیز مسلمانوں کے حرم کے مقابلے میں جہاں رشک و رقابت کا دور دورہ تھا، کہیں زیادہ قابل برداشت تھی۔ کم از کم ہندوستان کے نائر لوگوں میں تو یقیناً تین، چار یا زیادہ مردوں میں ایک بیوی مشترک ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان میں سے ہر مرد کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو دوسرے تین چار مردوں کے ساتھ ایک اور بیوی رکھے اور اسی طرح اوروں کے ساتھ مل کر تیسری اور پھر چوتھی بیوی رکھے اور اس طرح اپنی بیویوں کی تعداد بڑھاتا رہے۔ تعجب کی بات ہے کہ ان شادی کلبوں یہ بیاہ منڈلیوں کو دیکھ کر جن میں ایک مرد بیک وقت کئی منڈلیوں کا رکن ہو سکتا تھا، اور جن کا حال خود میکلینن نے بیان کیا ہے، میکلینن نے ایک نئی قسم کی شادی۔ ۔۔۔ کلب شادی۔ ۔۔۔ نہیں دریافت کر لی۔ لیکن یہ شادی کلب صحیح معنی میں کثرت شوہری نہیں ہے۔ اس کے برعکس جیسا کہ ژیراتیولوں نے لکھا ہے یہ گروہ دار شادی کی ایک مخصوص شکل ہے جس میں مرد بھی کئی شادیاں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔

4۔ یک زوجگی کا خاندان

اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ یہ خاندان بربریت کے درمیانی اور آخری دور کے بیچ کے عبوری زمانے میں جوڑا خاندان سے پیدا ہوا۔ اور اس کی مکمل فتح اس بات کی علامت تھی کہ تمدن کا عہد شروع ہو چکا ہے۔ یک زوجگی کی بنیاد مرد کی فوقیت پر ہے۔ اس کا اعلانیہ مقصد ایسے بچے پیدا کرنا ہے جن کی ولدیت کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔ اس کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ وقت آنے پر بچے اپنے باپ کے اصلی وارث کی حیثیت سے اس کی دولت کا ترکہ پائیں۔  یک زوجگی اور جوڑا بیاہ میں فرق ہے۔ یک زوجگی میں شادی کا رشتہ کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور فریقین میں سے کوئی بھی جب چاہے اس کو توڑ نہیں سکتا۔ عام طور سے اب صرف مرد ہی کو یہ رشتہ منقطع کرنے اور بیوی کو چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اب بھی اس کو اپنی بیوی سے بے وفائی کرنے کا حق حاصل ہے۔ کم از کم رسم و رواج نے تو اس پر اپنی مہر لگا ہی دی ہے۔ Code Napoleon (22) میں شوہر کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو داشتہ رکھ سکتا ہے بشرطیکہ اسے گھر کے اندر نہ لائے )(17)۔ جیسے جیسے سماج کی نشوونما ہوتی ہے مرد اس حق سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ لیکن اگر بیوی پرانے جنسی رواج کو یاد کر کے ان پر عمل کرنا چاہے تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت سزا ملتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ یونانیوں میں خاندان کی اس نئی شکل پر بڑی سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ مارکس نے بتایا ہے۔ (23(یونانی دیومالا میں دیویوں کی جو حیثیت ہے، وہ ایک پرانے دور کی ترجمانی کرتی ہے جب عورتوں کو زیادہ آزادی حاصل تھی اور ان کی زیادہ عزت کی جاتی تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورمائی عہد میں مردوں کے غلبے اور غلام عورتوں کے مقابلے کی وجہ سے عورتیں اپنے بلند مرتبے سے گر گئیں۔  "اوڈیسی”میں آپ پڑھیں گے کہ تیلی ماکس اپنی ماں کو ڈانٹ کر خاموش کر دیتا ہے۔ (24)ہومر کی نظموں میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب کبھی جنگ میں نوجوان عورتیں پکڑی گئیں،   ان کو جنسی لذت کشی کا ذریعہ بنایا گیا۔ فوج کے افسر اپنے اپنے درجے کے مطابق ایک کے بعد ایک آتے ہیں اور سب سے خوبصورت عورتوں کو اپنے اپنے لئے چن لیتے ہیں۔  ہم جانتے ہیں کہ "ایلیڈ” کی پوری داستان اس ایک واقعے کے گرد گھومتی ہے کہ اکیلیس اور ایگا ممنون میں ایک ایسی غلام لڑکی کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ہے۔ ہومر کی نظموں میں ہر اہم ہیرو کے ساتھ ایک غلام لڑکی ضرور ہوتی ہے جو اس کے خیمے میں رہتی ہے اور جس کے ساتھ وہ ہم بستر ہوتا ہے۔ اس لڑکیوں کو ان کے مالک اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں جہاں ان کی بیویاں ہوتی ہیں۔  ایسکیلس کے یہاں اسی طرح ایگا ممنون کیسندر ا کو اپنے گھر لا گیا تھا۔ (25)ان باندیوں سے جو بیٹے پیدا ہوتے ہیں انہیں باپ کی جائیداد کا چھوٹا سا حصہ ملتا ہے اور انہیں آزاد سمجھا جاتا ہے۔ تیلامون کا ایک ایسا ہی ناجائز بیٹا تیو کراس تھا جسے اپنے باپ کا نام اختیار کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ بیاہتا بیوی سے امید کی جاتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ خاموشی کے ساتھ برداشت کر لے گی اور خود شوہر کی پوری طرح وفادار رہے گی۔ یہ صحیح ہے کہ تمدن کے عہد کے مقابلے میں سورمائی دور میں یونانی بیوی کی زیادہ عزت کی جاتی تھی۔ لیکن شوہر کی نظروں میں اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں تھی کہ وہ اس کے جائز وارثوں کی ماں ہے، اس کے گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے اور اس کی باندیوں کی نگرانی کرتی ہے جنہیں وہ جب چاہے داشتہ بنا سکتا ہے اور اکثر وہ ایسا کرتا بھی ہے۔ یک زوجگی کے ساتھ چونکہ برابر غلامی کا رواج رہا اور خوبصورت نوجوان باندیوں کا وجود رہا جو ہمیشہ مردوں کی پوری پوری ملکیت ہوتی تھیں،  اس لئے شروع ہی سے یک زوجگی پر اس کا اثر پڑا۔ اور اس کی وجہ سے یک زوجگی کا یہ مخصوص کردار ہو گیا کہ عورتوں کے لئے تو ایک شوہر کی پابندی ہے مگر مردوں کے لئے یک زوجگی نہیں ہے۔ اور آج بھی یہی حالت چلی آ (رہی ہے۔

جہاں تک سورمائی عہد کے بعد کے یونانیوں کا تعلق ہے ہمیں ڈورین اور ایونی لوگوں میں فرق کرنا چاہئے۔  ڈورین لوگوں کی سب سے اچھی اور نمایاں مثال اسپارٹا میں ملتی ہے۔ ان میں شادی کے ایسے رشتے ملتے ہیں جو کئی باتوں میں ہومر کے بتائے ہوئے رشتوں سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔  اسپارٹا میں ہمیں جوڑا بیاہ کی ایک شکل بھی ملتی ہے جسے وہاں کی ریاست نے مروجہ خیالات کے مطابق کسی قدر بدل دیا تھا۔ جوڑا بیاہ کی یہ ایک ایسی شکل تھی جس میں اس وقت تک گروہ دار شادی کے اثرات بھی موجود تھے۔ جس شادی سے بچے نہیں ہوتے تھے، اسے منقطع کر دیا جاتا تھا۔ بادشاہ انکسندریدس(تقریباً560ق۔ م)کی پہلی بیوی لا ولد تھی۔ اس لئے اس نے دوسری شادی کی اور دو گھر بسائے۔ اسی زمانے کا ایک اور بادشاہ ارسطونس ہے۔ اس کی دو بیویاں لاولد تھیں۔  اس نے ایک کو چھوڑ دیا اور تیسری شادی کی۔ دوسری طرف کئی بھائی مل کر ایک بیوی رکھ سکتے تھے۔ اگر کسی شخص کو اپنے دوست کی بیوی پسند آ جاتی تو وہ اس کا حصہ دار بن سکتا تھا۔ اور جیسا کہ بسمارک کہے گا، اگر کہیں کوئی مضبوط "سانڈ”ہو، چاہے وہ شخص شہری نہ وہ، تو بھی اپنی بیوی کو اس کے سپرد کرنا مناسب سمجھا جاتا تھا۔ پلوتارک کی ایک کتاب میں ایک جگہ یہ تذکرہ ہے کہ ایک اسپارٹن عورت نے اپنے ایک عاشق کو، جو بہت دنوں سے اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا، اپنے شوہر کے پاس بھیج دیا۔ شومان نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان دنوں جنسی آزادی زیادہ تھی۔ زناکاری یعنی شوہر کے پیٹھ پیچھے بیوی کا اس سے بیوفائی کرنا، ان دنوں سننے میں بھی نہیں آتا تھا۔ دوسری طرف، اسپارٹا میں،  کم از کم اس کے عروج کے زمانے میں گھریلو غلامی نہیں تھی۔ زرعی غلام ایلوٹ، الگ جاگیروں پر رہتے اور اس لئے اسپارٹیاٹیز (18)کو ان کی عورتوں سے ہمبستری کی ترغیب کم ہی ملتی تھی۔ ان حالات میں یہ قدرتی بات تھی کہ دوسری تمام یونانی عورتوں کے مقابلے میں اسپارٹا کی عورتوں کی زیادہ عزت ہوتی تھی۔ قدیم زمانے کے مصنفوں نے یونانی عورتوں میں صرف اسپارٹا کی عورتوں اور ایتھنز کی ہیستائری عورتوں کے سب سے اونچے حصے کا ذکر ادب اور احترام کے ساتھ کیا ہے اور ان کے اقوال کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔

ایونی لوگوں میں جن کی نمایاں مثال ایتھنز کے لوگ ہیں،  حالات کچھ اور تھے۔ وہاں لڑکیاں صرف چرخہ کاتنا، کپڑا بننا اور سینا پرونا سیکھتی تھیں۔  بہت ہوا تو کچھ لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا۔  مردوں سے انہیں بالکل الگ رکھا جاتا تھا۔ وہ صرف عورتوں سے ہی مل سکتی تھیں۔  عورتیں گھر کے ایک علیحدہ حصے یعنی خلوت میں رہتی تھیں۔  یہ حصہ عام طور پر اوپر کی منزل پر یا مکان کے پیچھے کی طرف ہوتا تھا، جہاں مردوں کا اور خاص کر کسی اجنبی مرد کا گزر آزادی سے نہیں ہو سکتا تھا۔ اور مرد مہمانوں کے آنے پر بیبیاں وہاں چلی جاتی تھیں۔   بیبیاں صرف کسی باندی کو ساتھ لے کر ہی باہر جا سکتی تھیں ورنہ نہیں،  گھر کے اندر ان پر پہرہ سا رہتا تھا۔ اریسطوفینس لکھتا ہے(19)کہ بدکاروں کو دور رکھنے کے لئے مولوسین کتے پالے جاتے تھے۔ ایشیائی شہروں میں عورتوں پر پہرہ دینے کے لئے خواجہ سرا رکھے جاتے تھے۔ ہوروڈوٹس کے زمانے میں بھی جزیرہ کیوس میں غلاموں کو آختہ کر کے خواجہ سرا تیار کئے جاتے تھے اور ان کا بیوپار کیا جاتا تھا۔ اور واکس متھ کا کہنا ہے کہ وہ صرف بربریوں کے لئے نہیں ہوتے تھے۔ یورپاڈیز کے ڈراموں میں بیوی کو اوئیکوریما(oikurema)کہا گیا ہے (26)جس کے معنی ہیں گھر کی نگہداشت کرنے والی چیز(یہ لفظ بے جنس کا ہے)اور ایتھنز کے لوگوں کی نظر میں بیوی کا کام بچے پیدا کرنے کے علاوہ اگر کچھ تھا تو صرف یہ کہ وہ گھر کی سب سے بڑی ملازمہ تھی۔ شوہر اکھاڑے میں کسرت اور ورزش کرتا تھا، شہری معاملات میں حصہ لیتا تھا۔ بیوی کو ان سب سے علیحدہ رکھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ شوہر کے پاس اکثر لونڈیاں باندیاں ہوتی تھیں اور ایتھنز کے عروج کے زمانے میں کثرت سے طوائفیں تھیں،  بڑے پیمانے پر عصمت فروشی ہوتی تھی اور حکومت اگر کچھ اور نہیں تو اس کو پسندیدگی کی نظر سے تو دیکھتی ہی تھی۔ یونان میں جتنی عورتوں نے بھی امتیاز حاصل کیا وہ اسی عصمت فروشی کی بنیاد پر۔ وہ اپنی زندہ دلی اور خوش گوئی اور فنون لطیفہ کے اعلیٰ ذوق کی بدولت قدیم نسائیت کی عام سطح سے اسی قدر بلند تھیں جس قدر اسپارٹا کی عورتیں اپنے کردار کی بدولت۔  ایتھنز کے خاندانی نظام کی پستی کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا کہ عورت کو اپنا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے پہلے طوائف بننا پڑتا تھا۔

رفتہ رفتہ ایتھنز کا یہ خاندان ایک نمونہ بن گیا اور صرف ایونی کے باقی لوگ ہی نہیں بلکہ خاص یونان اور اس کی نو آبادیات کے سارے یونانی لوگ بھی اپنے خاندانی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ اسی سانچے میں ڈھالنے لگے۔ لیکن اس تمام علیحدگی اور نگرانی کے باوجود یونان کی عورتیں اکثر اپنے شوہروں کو دھوکہ دینے کے مواقع نکال ہی لیتی تھیں۔  ان کے شوہر جنہیں اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، طوائفوں اور داشتہ عورتوں کے ساتھ جی کھول کر داد عیش دیا کرتے اور طرح طرح سے محبت کے مزے لوٹتے تھے۔ لیکن عورتوں کی یہ گراوٹ مردوں کو بھی متاثر کئے بغیر نہ رہی۔  اس نے انہیں بھی اخلاقی پستی کے گڑھے میں گرا دیا یہاں تک کہ وہ لڑکوں سے محبت کے جنسی مرض میں مبتلا ہو گئے اور گینی مید کا قصہ گھڑ کر انہوں نے خود کو اور اپنے خداؤں کو رسوا کیا۔

قدیم زمانے کی سب سے متمدن اور ترقی یافتہ قوم میں جہاں تک ہم پتہ لگا سکے ہیں،  یک زوجگی کی ابتدا اسی طرح ہوئی۔ کسی اعتبار سے بھی یہ انفرادی جنسی محبت کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ شادیاں پہلے کی طرح اب بھی مصلحت کی بنا پر کی جاتی تھیں۔  یہ خاندان کی وہ پہلی شکل تھی جس کی بنیاد قدرتی نہیں بلکہ اقتصادی حالات پر تھی۔ ۔۔۔ یعنی ابتدائی مشترکہ ملکیت پر، جس کی نشوونما قدرتی طور پر ہوئی تھی۔ ذاتی ملکیت کی فتح، یہی اس کی بنیاد تھی۔ یونان والے اعلانیہ کہتے تھے کہ یک زوجگی کا واحد مقصد یہ ہے کہ خاندان کے اندر مرد کی حکمرانی ہو، ایسے بچے پیدا ہوں جو صرف اس کے نطفے سے ہوں اور جو اس کے وارث بنیں۔  ان باتوں سے قطع نظر، شادی ایک بار تھی، خدا، ریاست اور اپنے آباؤ و اجداد کا عائد کیا ہوا فریضہ تھی جس کو کسی طرح ادا کرنا تھا۔ ایتھنز میں قانونی شادی کو لازمی قرار دیا تھا۔ اور اتنا ہی نہیں۔  مرد پر کم از کم کچھ فرائض شوہری بھی عائد کر دیئے گئے تھے جن کو پورا کرنا ضروری تھا۔

چناچہ تاریخ میں یک زوجگی نہ تو مرد اور عورت کی کسی مصالحت کا نتیجہ تھی اور نہ شادی کی کوئی اعلیٰ شکل۔ اس کے برعکس وہ عورتوں پر مردوں کے تسلط کا اظہار تھا۔ دونوں جنسوں کے درمیان ایک ایسے تضاد اور اختلاف کا اعلان تھا جس کی مثال ما قبل تاریخی زمانے میں کہیں نہیں ملتی۔ میں نے اور مارکس نے مل کر 1856میں ایک کتاب لکھی تھی جو ابھی تک غیر مطبوعہ (27)ہے۔ اس پرانے غیر مطبوعہ مسودے میں مجھے ایک فقرہ ملا کہ "محنت کی سب سے پہلی تقسیم مردوں اور عورتوں میں بچہ پالنے کے لئے ہوئی۔ "اور آج میں اس پر یہ اضافہ کر سکتا ہوں کہ تاریخ میں پہلا طبقاتی اختلاف یک زوجگی کے نظام کے اندر مردوں اور عورتوں کے اختلاف کے ابھرنے کے ساتھ ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ اور پہلا طبقاتی ظلم عورتوں پر مردوں کے ظلم کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔  یک زوجگی کا نظام تاریخی حیثیت سے ترقی کا ایک بڑا قدم تھا لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک ایسا قدم تھا جس نے غلامی اور انفرادی دولت کے ساتھ اس دور کا آغاز کیا جو آج تک قائم ہے اور جس میں ہر قدم جو اٹھتا ہے وہ ایک اعتبار سے پیچھے بھی لے جاتا ہے، جس میں ایک گروہ کی خوش حالی اور ترقی دوسرے گروہ پر مصیبت اور ظلم ڈھا کر حا صل کی جاتی ہے۔ یک زوجگی متمدن سماج کی وہ بالکل ابتدائی صورت ہے جس کے اندر ہم ابھی سے ان تمام اختلافوں اور تضادوں کی نوعیت کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو متمدن سماج میں پوری طرح بڑھ کر سامنے آتے ہیں۔

جوڑا خاندان یا خود یک زوجگی کے بعد بھی جنسی تعلق کی پرانی نسبتی آزادی کا بالکل خاتمہ نہیں ہوا۔

"ترقی پذیر خاندان کو اب بھی شادی کا وہی پرانا نظام گھیرے ہوئے تھا جو پونالوان گروہوں کے رفتہ رفتہ ختم ہو جانے کی وجہ سے اب ایک چھوٹے سے دائرے کے اندر محدود ہو گیا تھا اور اول الذکر کے پیچھے پیچھے وہ نظام تمدن کے دور تک جا پہنچتا ہے۔ ۔۔۔ آخر میں وہ ہیستائرازم کے نئے نظام میں گم ہو جاتا ہے جو آج بھی تمدن کے دور میں خاندان کے ساتھ لگے ہوئے ایک تاریک سائے کی طرح انسانیت کا پیچھا کر رہی ہے۔ "

ہیستائرازم سے مارگن کی مراد شادی کے رشتے کے باہر مردوں اور بن بیاہی عورتوں کا وہ جنسی تعلق ہے جو یک زوجگی کے نظام کے ساتھ ساتھ قائم رہتا ہے اور جیسا کہ سبھی جانتے ہیں تمدن کے پورے عہد میں مختلف صورتوں میں پھلتا پھولتا رہا ہے اور برابر اعلانیہ عصمت فروشی کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے۔ ہیستائرازم کا براہ راست تعلق گروہ دار شادی سے ہے اس کا تعلق قربانی کے طور پر عورتوں کی سپردگی کی رسم سے ہے جو یہ قیمت ادا کر کے اپنے عفت و پاک دامنی کا حق خریدا کرتے تھیں۔   روپیہ لے کر اپنے آپ کو مردوں کی آغوش میں دے دینا شروع میں ایک مذہبی کام تھا جس کو محبت کی دیوی کے مندر میں انجام دیا جاتا تھا اور وہ روپیہ مندر کے خزانے میں داخل کر دیا جاتا تھا۔ آرمینیا میں انا لیطس کے مندر اور کورنتھ میں ایفروڈائٹ کے مندر کی ہائرسڈیول (20)اور ہندوستان کے مندروں کی دیو داسیاں،  جنہیں بیاد یر بھی کہا جاتا ہے(یہ پرتگلی زبان کے لفظ "bailadeira”کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کا مطلب ناچنے والی لڑکی ہوتا ہے)۔ ۔۔۔ یہ تاریخ کی پہلی طوائفیں تھیں۔  قربانی کے طور پر سپردگی کی یہ رسم ادا کرنا پہلے سبھی عورتوں کے لئے ضروری تھا۔ بعد میں مندروں کی یہ پجارنیں ہی سب عورتوں کی طرف سے یہ خدمتیں انجام دینے لگیں۔  دوسرے قوموں مے ہیستائرازم کی ابتدا جنسی تعلق کی اس آزادی سے ہوئی جو لڑکیوں کو شادی سے پہلے حاصل تھی۔  یہ بھی گروہ دار شادی کے اثرات میں سے ہے جو ہم تک ایک دوسرے راستے سے ہو کر پہنچی ہے۔،  ملکیت کا اختلاف اور امتیاز پیدا ہونے پر۔ ۔۔۔ جو بربریت کے آخری دور میں ہی ہو چکا تھا۔ ۔۔ غلاموں کی محنت کے علاوہ کہیں کہیں مزدوری پر بھی کام ہونے لگا تھا۔ اور اسی کے ساتھ اس کے لازمی جزوکی حیثیت سے لونڈیوں باندیوں کے ساتھ زبردستی زناکاری کے علاوہ آزاد عورتوں کی پیشہ ور عصمت فروشی کا بھی آغاز ہو۔ جس طرح تمدن سے پیدا ہونے والی ہر چیز دو مونہی اور دو رخی ہوتی ہے اور اس کے اندر تضاد اور اختلاف کے پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں۔  اسی طرح گروہ دار شادی سے تمدن کو جو وراثت ملی، اس کے بھی دو پہلو ہوتے ہیں : ا یک طرف یک زوجگی ہے اور دوسری طرف ہیتائرازم،  جس میں اس کی انتہائی عصمت فروشی بھی شامل ہے۔ دوسرے اداروں کی طرح، ہیستا ئرازم،  بھی ایک سماجی ادارہ ہے۔ یہ قدیم جنسی آزادی کی ہی ایک صورت ہے مگر اب یہ آزادی صرف مردوں کے لئے رہ گئی ہے اور اگرچہ حقیقت میں لوگ نہ صرف یہ کہ اس کو برداشت کرتے ہیں بلکہ بڑے جوش و خروش سے اس پر عمل کرتے ہیں،  لیکن زبان سے، خاص طور پر حکمراں طبقے کے لوگ،  اس کی مذمت کرتے ہیں۔  ہیستائری نظام کی اس لعنت ملامت سے مردوں کو، جو اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہیں دراصل کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس کے چوٹ صرف عورتوں پر پڑتی ہے۔ ان سے سماجی طور پر قطع تعلق سا کر کے انہیں سماج باہر کر دیا جاتا ہے تاکہ ایک بار پھر عورت پر مردوں کے کامل اقتدار کا اعلان کیا جا سکے اور یہ بتایا جا سکے کہ یہی سماج کا بنیادی قانون ہے۔

 لیکن اس سے خود یک زوجگی کے اندر ایک اور تضاد نمودار ہوتا ہے۔ شوہر تو ہیستائرازم کے مزے لوٹ کر اپنی زندگی کو رنگین بنا لیتا ہے لیکن بیوی اکیلی پڑی اپنی قسمت کو روتی ہے اور جس طرح آدھا سیب کھا لینے کے بعد ہاتھ میں پورا سیب نہیں رہے گا، اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ تضاد کا ایک پہلو ہو اور دوسرا نہ ہو۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو جب تک اپنی بیویوں سے سبق نہیں ملا،  وہ یہ نہیں سوچتے تھے۔ یک زوجگی کے ساتھ دو نئی شخصیتیں مستقل طور پر سماج کے پردے پر ابھر آتی ہیں،  جن کا پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ ایک تو بیوی کا آشنا اور دوسرا قر مساق یعنی غیر  مردوں سے آشنائی کرنے والی عورت کا شوہر۔  مردوں نے عورتوں پر فتح پا لی تھی مگر فاتح کے سر پر تاج رکھنے کا کام مفتوح نے نہایت فراخ دلی سے اپنی ہاتھوں میں لے لیا۔  یک زوجگی اور ہیستائرازم کے ساتھ ساتھ زنا کاری بھی سماج کا ایک ناگزیر دستور بن گئی۔ اسے ناجائز قرار دیا گیا، اس کے لئے سخت سزائیں دی گئیں،  مگر اس کو مٹایا نہیں جا سکا۔ اپنے بچوں کی ولدیت کے بار ے میں باپ کا یقین پہلے کی طرح اب بھی محض اخلاقی اعتماد پر مبنی تھا اور یہ تضاد جو کسی طرح حل نہیں ہوتا تھا، اس کو حل کرنے کی غرض سے ضابط نپولین کی دفعہ 312میں اعلان کیا گیا:

"L’enfant concu pendant le marriage a pour pere le mari”یعنی "شادی شدہ زندگی کے دوران جس بچے کا حمل قرار پائے گا، اس کا باپ شوہر کو سمجھا جائے گا۔ "

تین ہزار برس میں یک زوجگی کے نظام کا ماحصل بس اتنا ہی ہے۔

غرضیکہ یک زوجگی کے خاندان کے اندر، اس کی ان شکلوں میں جن میں اس کی تاریخی ابتدا کی صحیح تصویر ملتی ہے اور جو مرد اور عورت کی اس شدید کشمکش کو جو مردوں کے واحد غلبے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، صاف طور پر سامنے لے آتی ہیں،  ہمیں مختصر پیمانے پر وہی اختلاف اور تضاد دکھائی دیتا ہے جن میں سے ہو کر یہ سماج جو تمدن کی ابتدا سے ہی مختلف طبقوں میں بٹا ہوا ہے، آگے بڑھتا ہے اور جن تضادوں کو وہ نہ تو حل کر سکتا ہے اور نہ دور کر پاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ میں یہاں یک زوجگی کی صرف ان صورتوں کا ذکر کر رہا ہوں جن میں شادی شدہ زندگی صحیح معنی میں ان اصولوں پر چلتی ہے جن سے اس پورے رواج کی ابتدائی نوعیت متعین ہوتی تھی، لیکن جن میں بیوی شوہر کے غلبے کے خلاف بغاوت پر کمر بستہ ہو جاتی ہے۔ لیکن سبھی شادیوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ بات جرمنی کے ان کم نظروں سے زیادہ بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے جو نہ گھر میں حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ملک میں اور اس لئے جن کی بیویاں پورے جواز کے ساتھ اس منصب کو قبول کرتی ہیں جس کے لئے ان کے شوہر نااہل ثابت ہو چکے ہیں۔  لیکن وہ یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دے لیتے ہیں کہ اپنی مصیبت کے فرانسیسی ساتھیوں سے ان کی حالت کہیں زیادہ اچھی ہے۔ ان بے چاروں کی حالت تو اور بھی بد تر ہوتی ہے۔

لیکن یک زوجگی کا خاندان ہمیشہ اور ہر جگہ اتنی سخت صورت لے کر نہیں آیا جتنی سخت صورت میں وہ یونان میں ظاہر ہوا تھا۔ رومنوں میں،   جو کہ دنیا کے آئندہ فاتحوں کی حیثیت سے اگر یونانیوں سے شائستگی میں کم تھے تو دور اندیشی میں بڑھے ہوئے، عورت کو زیادہ آ زادی تھی اور اس کی زیادہ عزت کی جاتی تھی۔ رومن مرد یہ سمجھتا تھا کہ چونکہ اسے اپنے بیوی پر زندگی اور موت کا اختیار حاصل ہے، اس لئے اس کی عصمت پوری طرح محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ شوہر کی طرح بیوی کو بھی اختیار تھا کہ جب چاہے اپنی مرضی سے شادی کا رشتہ توڑ دے۔ لیکن یک زوجگی کے نظام میں سب سے بڑی ترقی اس وقت ہوئی جب جرمنوں نے تاریخ کے دائرے میں قدم رکھا کیونکہ غالباً ان کے افلاس کی وجہ سے ان میں اس وقت تک جوڑا بیاہ سے یک زوجگی پوری طرح ابھرنے نہیں پائی تھی۔ ہم اس نتیجے پر تین باتوں سے پہنچتے ہیں جن کا تذکرہ تاسیت نے کیا ہے۔  ایک تو یہ کہ اگرچہ انہیں شادی کے تقدس کا پورا احترام تھا۔۔۔۔۔ "ہر مرد ایک بیوی سے مطمئن ہے اور عورتیں عفت و پاکدامنی کے بندھنوں سے بندھی رہتی ہیں۔  "اونچے درجے کے مردوں اور قبیلوں کے سرداروں میں کئی بیویاں رکھنے کا رواج تھا۔ یعنی یہاں بھی امریکنوں کی سی حالت تھی،  جن میں جوڑا بیاہ کا رواج تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان لوگوں میں مادری حق کی جگہ پدری حق کچھ دن پہلے ہی قائم ہوا تھا کیونکہ ماں کے بھائی کو،  جو کہ مادری حق کے مطابق گن کے اندر سب سے قریبی رشتہ دار ہوتا تھا، اب بھی باپ کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات بھی امریکی انڈینوں کی نقطہ نظر سے ملتی ہے جن میں مارکس نے، جیسا کہ وہ اکثر کہا کرتا تھا، ہمارے ماضی کے ماقبل تاریخی زمانے کو سمجھنے کی کنجی پائی تھی۔ اور تیسری بات یہ کہ جرمنوں میں عورتوں کی بڑی عزت کی جاتی تھی اور امور عامہ میں بھی ان کا اثر تھا۔ یہ بات بھی مرد کے غلبے کے خلاف ہے جو یک زوجگی کی خصوصیت ہے۔ تقریباً سبھی باتیں ایسی ہیں جن پر جرمنوں اور اسپارٹا والوں میں اتفاق ہے۔ جرمنوں کی طرح ان میں بھی جوڑا بیاہ پوری طرح نہیں مٹا تھا۔ چناچہ اس سلسلے میں بھی جرمنوں کے عروج کے ساتھ ایک بالکل نئی چیز نے عالمگیر غلبہ حاصل کر لیا۔ رومنوں کی دنیا کی کھنڈروں پر مختلف نسلوں کی آمیزش سے یک زوجگی کا جو نیا نظام رائج ہوا اس نے مردوں کے تسلط کو کسی قدر نرم شکل میں پیش کیا اور عورت کو باہری دکھاوے کے لئے ہی سہی،  کلاسیکی قدیم زمانے سے کہیں زیادہ آزادی اور عزت عطا کی۔ اس کی وجہ سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ اخلاقی ترقی کا وہ سب سے بڑا قدم اٹھایا جائے جو یک زوجگی کی بنیاد پر اور اس کے بدولت آج تک اٹھایا جا سکا ہے یہ ترقی کہیں یک زوجگی کے اندر ہے، کہیں اس کے متوازی ہے اور کہیں اس کے خلاف بھی ہے۔ ۔۔۔ اور وہ ہے جدید انفرادی جنسی محبت، جو اس سے پہلے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی گئی تھے۔

لیکن یہ ترقی یقیناً اس بات کا نتیجہ تھی کہ جرمنی کے لوگ اس وقت تک جوڑا بنا کر رہتے تھے اور اس میں عورت کی جو حیثیت تھی، اسی کو انہوں نے یک زوجگی کے نظام پر چسپاں کر دیا۔  اور یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ جرمنوں کے مزاج کی شہرہ آفاق اور حیرت انگیز اخلاقی پاکیزگی اس ترقی کا باعث ہوئی۔ جرمنوں کی اخلاقی پاکیزگی بس اسی قدر تھی کہ جوڑا خاندان میں عملاً وہ نمایاں اخلاقی تضاد نہیں ابھرے تھے جو یک زوجگی میں نمودار ہوئے۔ واقعہ دراصل یہ ہے کہ جرمن لوگ اپنی خانہ بدوشی میں اور خاص کر جنوب مشرق میں بحیرہ اسود کے ساحلوں پر گھاس کے میدانوں میں رہنے والے خانہ بدوشوں کے پاس پہنچ کر،  اخلاقی اعتبار سے بہت گر گئے تھے۔ انہوں نے ان خانہ بدوشوں سے گھوڑ سواری کے علاوہ ان کی غیر فطری اخلاقی برائیاں بھی سیکھ لی تھیں۔   اس کی تصدیق امیانس نے تائفالی کے بارے میں اور پروکوپاس نے ہیرولی کے بارے میں پوری صفائی کے ساتھ کر دی ہے۔

اگرچہ یک زوجگی ہی خاندان کی ایک ایسی شکل ہے جس سے جدید جنسی محبت کو فروغ ہو سکتا تھا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس خاندان کے اندر یہ محبت محض یا بڑی حد تک شوہر اور بیوی کی باہمی محبت بن کر بڑھی۔ مرد کے غلبے کے تحت یک زوجگی کے سخت اور بے لوچ نظام کی فطرت ہی کچھ ایسی تھی کہ اس محبت کی نشوونما کا امکان نہیں رہا تھا۔ ان سبھی طبقوں میں جو تاریخی طور پر سرگرم عمل رہے ہیں،  یعنی سبھی حکمران طبقوں میں شادی کی وہی حیثیت تھی جو جوڑا بیاہ کے زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ ۔۔۔۔ یعنی یہ مصلحت کا معاملہ تھا جس کو والدین طے کیا کرتے تھے۔ اور جنسی محنت کی پہلی صورت جو عشق بن کر اٹھی، ایک ایسا عشق جس میں مبتلا ہونے کا حق ہر شخص کو(کم از کم حکمران طبقے کے ہر شخص کو)تھا اور جو جذبہ جنسی کی اعلیٰ ترین شکل سمجھی جاتی تھی۔ ۔۔۔ اور یہی اس کی اصلی خصوصیت بھی تھی۔ ۔۔۔ یہ پہلی صورت،  عہد وسطی کے سورماؤں کے یہ سرفروشانہ محبت ازدواجی محبت ہرگز نہیں تھی۔ اس کے برعکس فرانس کے پرووانسال لوگوں میں جہاں سورماؤں کے اس عشق کی اصلی شکل ملتی ہے، یہ عشق بیاہتا عورت کے ساتھ اعلانیہ زنا کاری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے شاعر اسی کے گیت گاتے تھے۔ آلباگیت (albas)جرمن میں ٹاگیلیڈر(Tageliender)(یعنی نغمات سحر)پرووانسال لوگوں کی عشقیہ شاعری کا سب سے شاداب پھول ہے۔ ان گیتوں میں بڑی رنگینی کے ساتھ یہ داستان سنائی گئی ہے کہ عاشق اپنی محبوبہ کے ساتھ جو کسی اور کی بیوی ہے، سو رہا ہے اور دربان جو باہر کھڑا پہرہ دے رہا ہے، سحر کی پہلی مدھم کرن(alba)کے پھوٹتے ہی عاشق کو آواز دیتا ہے کہ وہ چپ چاپ نکل چلے۔ اور تب جدائی کی گھڑی آتی ہے جو پوری قصے کا نقطہ عروج ہے۔  شمالی فرانس کے لوگوں نے اور قابل قدر جرمنوں نے بھی سورماؤں کے عشق کے ان طور طریقوں کے ساتھ ساتھ شاعری کا یہ طرز بھی جو اس عشق کے لئے بہت موزوں تھا، اختیار کر لیا۔ اور ہمارے اپنے والفرام فان اشن باخ نے اس موضوع پر تین نغمات سحر لکھے ہیں جو بہر خوبصورت ہیں اور جو مجھے اس کی تینوں طویل رجزیہ نظموں سے زیادہ پسند ہیں۔

 خود ہمارے زمانے کی بورژوا شادی دو طرح کی ہوتی ہے۔ کیتھولک ملکوں میں والدین پہلے کی طرح اب بھی اپنے نوجوان بورژوا بیٹے کے لئے موزوں سی بیوی ڈھونڈ لاتے ہیں اور لازمی طور پر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یک زوجگی میں جو تضاد موجود ہے وہ کھل کر سامنے آ جاتا ہی۔۔.شوہر ہیستائرازم کا راستہ لیتا ہے اور بیوی دل کھول کر زناکاری کرتی ہے۔  کیتھولک کلیسا نے بلاشبہ طلاق کو صرف اس لئے مٹایا تھا کہ اس کو یقین تھا کہ موت کی طرح زناکاری کا بھی کوئی علاج نہیں ہے۔  اس کے برعکس پروٹسٹنٹ ملکوں میں یہ قاعدہ ہے کہ بورژوا بیٹے کو اپنے طبقے کے اندر سے کم و بیش آزادی کے ساتھ اپنے لئے بیوی چن لانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس لئے ان ملکوں میں شادی کی بنیاد کسی حد تک محنت پر ہو سکتی ہے۔ اور پروٹسٹنٹ منافقت کے مطابق دکھاوے کے لئے ہمیشہ یہ فرض کر ہی لیا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں محبت ہے۔ یہاں مرد کسبیوں اور داشتہ عورتوں کے پیچھے اتنا زیادہ نہیں دوڑتے اور نہ عورتوں میں زناکاری کا اتنا زیادہ رواج ہوتا ہے۔ شادی کی چاہے کوئی شکل ہو، لوگ شادی کے بعد بھی وہی رہتے ہیں جو پہلے تھے اور چونکہ پروٹسٹنٹ ملکوں کے شہری زیادہ تر کم نظر ہوتے ہیں اس لئے اگر ہم پروٹسٹنٹ ملکوں میں بھی بہترین مثالوں کا اوسط نکالیں تو دیکھیں گے کہ یک زوجگی میں میاں بیوی ایک دوسرے سے اکتا جاتے ہیں۔  زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور اسی کو ازدواجی مسرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دونوں قسم کی شادی کی تصویر اور جرمن ناولوں میں پروٹسٹنٹ قسم کی شادیوں کی۔ دونوں میں مرد پا لیتا ہے۔ "جرمن ناول میں نوجوان مرد لڑکی پا لیتا ہے اور فرانسیسی ناول میں شوہر قرمساقی کا تمغہ۔  ان دونوں میں کس کی حالت زیادہ قابل رحم ہے، یہ کہنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ جرمن ناوہ کا ٹھس پن فرانسیسی بورژواؤں میں کراہیت کا وہی احساس پیدا کرتا ہے جو فرانسیسی ناولوں میں ہیستائرازم اور زنا کاری کا ذکر،  جو سب کو معلوم ہے کہ عرصے سے وہاں موجود تھی کھل کر زیادہ دلیری کے ساتھ ہونے لگا ہے۔

دونوں صورتوں میں شادی فریقین کی طبقاتی حیثیت پر منحصر ہوتی ہے اور اس حد تک وہ ہمیشہ مصلحت کی شادی ہوتی ہے۔ پھر دونوں ہی صورتوں میں مصلحت کی یہ شادی اکثر نہایت بے حیائی سے عصمت فروشی کا جامہ پہن لیتی ہے۔ ۔۔۔ کبھی کبھی دونوں فریقوں پر، لیکن عموماً بیویوں پر یہ بات زیادہ صادق آتی ہے ایک بازاری طوائف اور اس قسم کی بیوی میں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی طرح اپنے جسم کو تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے کرایہ پر نہیں دیتی بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے غلامی میں فروخت کر دیتی ہے۔ اور فورئے کے الفاظ مصلحت کی ان سبھی شادیوں پر صادق آتے ہیں۔

"جس طرح قواعد میں دو منفی سے مل کر ایک مثبت بنتا ہے اسی طرح شادی کے اخلاقیات میں دو عصمت فروشیوں(بدچلنیوں )سے مل کر ایک عصمت(نیک چلنی )بنتی ہے۔ "

شوہر اور بیوی کے رشتے میں جنسی محبت کا قاعدہ صرف مظلوم طبقوں میں یعنی آج کل کے مزدور طبقے میں ہو سکتا ہے اور سچ پوچھئے تو انہیں میں ہوتا بھی ہے، چاہے ان کے شوہر اور بیوی کے رشتے کو باقاعدہ یہ حیثیت حاصل ہو یا نہ ہو۔ ۔۔۔ لیکن ان میں کلاسیکی یک زوجگی کی تمام بنیادیں گر جاتی ہیں کیونکہ ان میں ملکیت کا سرے سے کوئی وجود نہیں جس کی حفاظت کرنے اور جسے اپنے بچوں کو وراثت میں دینے کے لئے یک زوجگی کا نظام اور اس کے ساتھ مردوں کا تسلط قائم کیا گیا تھا۔ اسی لئے مزدور طبقے کے اندر مردوں کا غلبہ قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر اسی وجہ سے اس غلبے کو قائم کرنے کے ذرائع بھی ان کے یہاں نہیں پائے جاتے۔ بورژوا قانون جو اس غلبے کو قائم رکھتا ہے، صرف ملکیت والوں کے لئے اور ان کی طرف سے مزدور طبقے کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ہے۔ اس قانون سے فائدہ اٹھانے کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس لئے جہاں تک مزدور کا تعلق ہے وہ اپنے افلاس کی وجہ سے اپنی بیوی کے معاملے میں اس قانون سے کوئی کام نہیں لے سکتا۔ یہاں فیصلہ کن حیثیت بالکل مختلف قسم کے شخصی اور سماجی رشتوں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے کی صنعت نے عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر محنت کی منڈی میں،  کارخانے میں پہنچا دیا ہے۔ اکثر عورت ہی خاندان کی روزی کمانے والی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مزدوروں کے گھرانوں میں مردوں کے غلبے کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہی۔ اگر کچھ رہ گئی ہے تو شاید عورتوں کے ساتھ بے رحمی سے پیش آنے کی عادت ہے جو یک زوجگی کے قائم ہونے کے بعد سے پوری طرح جڑ پکڑ چکی ہے۔ چنانچہ پرولتاری خاندان کو صحیح معنی میں اب یک زوجگی کا خاندان نہیں کہہ سکتے اور یہ بات ان حالتوں میں بھی صحیح ہے جبکہ فریقین ایک دوسرے سے بڑی گہری محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ پوری وفاداری برتتے ہیں اور جہاں انہوں نے شادی کے موقع پر دینی اور دنیاوی ساری رسمیں ادا کر لی ہوں۔   یک زوجگی کے دو لوازمات ہیں جو مستقل طور پر اس کے ساتھ لگے رہتے ہیں،  ایک زناکاری اور دوسرے ہیستائرازم۔  اور مزدور کی زندگی میں ان دونوں کے لئے تقریباً کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ عورت کو علیحدہ ہونے کا حق عملاً پھر سے حاصل ہو چکا ہے اور جب مرد عورت میں نباہ نہیں ہو سکتا تو وہ الگ ہو جانے کو بہتر سمجھتے ہیں۔  مختصر یہ کہ مزدوروں کی شادی لفظی اعتبار سے تو یقیناً یک زوجگی کی شادی ہے لیکن تاریخی طور پر قطعی نہیں ہے۔

 اس میں شک نہیں کہ ہمارے علم قانون کے ماہروں کا دعویٰ ہے کہ قانون سازی میں جوں جوں ترقی ہوئی ہے عورتوں کی شکایت کے اسباب کم ہوتے جا رہے ہیں۔  موجودہ زمانے کے نظام قانون اس بات کو زیادہ سے زیادہ ماننے لگے ہیں کہ شادی تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد دونوں فریقوں کی رضا مندی پر ہو اور دوسرے یہ کہ ازدواجی زندگی کے دوران میں بھی دونوں فریقوں پر یکساں حقوق اور ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔   لیکن اگر ان دونوں باتوں پر پوری طرح عمل کیا جائے تو عورتیں جو کچھ چاہتی ہیں،  وہ انہیں حاصل ہو جائے گا۔

یہ خاص وکیلانہ دلیل بالکل ویسی ہے جس کے ذریعے ریڈیکل، جمہوریت پسند بورژوا،  مزدوروں کو ٹال دیتے ہیں۔  مزدوروں کے بارے میں بھی تو یہی کہا جاتا ہے کہ کارخانے میں کام کرانے کا معاہدہ سرمایہ دار اور مزدور دونوں اپنی اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔  لیکن دونوں کی اپنی اپنی مرضی کا مطلب صرف یہ ہے کہ قانون نے دونوں کو کاغذ پر برابر مان لیا ہے۔ ایک فریق کو اپنی مخصوص طبقاتی حیثیت کی وجہ سے جو اختیار حاصل ہے اور دوسرے فریق پر وہ جتنا دباؤ ڈال سکتا ہے یعنی دونوں کی صحیح اقتصادی حالت،  یہ سب قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور پھر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کام کرنے کا معاہدہ جتنی مدت کے لئے کیا گیا ہے اس کے دوران میں دونوں فریقوں کے حقوق مساوی ہونے چاہئیں اور یہ حقوق اس وقت تک رہیں جب تک کوئی فریق انہیں باضابطہ ختم نہ کر دے۔ قانون کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ٹھوس اقتصادی حالت سے مجبور ہو کر مزدور کو ان مساوی حقوق سے اس طرح دست بردار ہونا پڑتا ہے کہ ان کا شائبہ تک نہیں رہنے پاتا۔

جہاں تک شادی کا تعلق ہے، جیسے ہی فریقین اپنی مرضی سے شادی کرنے کے خواہش باقاعدہ ظاہر کرتے ہیں ِ بڑے سے بڑا ترقی پسند قانون بھی بالکل مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن قانون کے پردے کے پیچھے کیا کچھ ہوتا ہے، جہاں زندگی کے حقیقی واقعات عمل میں آتے ہیں،  یہ رضا مندی حاصل کیونکر کی جاتی ہے، ان باتوں سے قانون اور قانون بنانے والوں کو کوئی مطلب نہیں۔   اور یہ قانون بنانے والے اگر قانونوں کا محض معمولی سا موازنہ بھی کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ رضا مندی حقیقت میں ہے کیا۔ ان ملکوں میں جہاں اولاد کو اپنے والدین کی جائیداد میں قانونی حق ہے اور انہیں وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا،  جیسے جرمنی میں اور ان ملکوں میں جہاں فرانسیسی قانون رائج ہے اور دوسرے ملکوں میں،  اولاد کو شادی کے معاملے میں والدین کی منظوری لینی پڑتی ہے۔ ان ملکوں میں جہان انگریزی قانون چلتا ہے، جہاں شادی کے لئے والدین کی منظوری قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، وہاں والدین کو اپنی جائیداد کے بارے میں وصیت کر جانے کا پورا اختیار ہے اور وہ چاہیں تو اپنے بچوں کو ایک ایک پیسہ سے محروم کر سکتے ہیں چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ اس کے باوجود یا شاید اسی وجہ سے انگلینڈ اور امریکہ میں بھی ان سبھی طبقوں میں جن کے پاس وراثت میں چھوڑ جانے کے لئے تھوڑی بہت دولت ہوتی ہے، شادی کرنے کی آزادی فرانس یا جرمنی سے زیادہ نہیں ہے۔

جہاں تک ازدواجی زندگی میں مرد اور عورت کی قانونی برابری کا سوال ہے، وہاں بھی یہی حال ہے۔ قانون کی نظر میں دونوں کی نا برابری جو کہ دراصل گزشتہ سماجی حالات کا اثر ہے، عورتوں پر اقتصادی ظلم کا سبب نہیں بلکہ اس کا نتیجہ ہے۔ قدیم کمیونسٹی گھرانوں میں جن میں متعدد جوڑے اور ان کے بچے رہتے تھے، گھر کا انتظام عورتوں کے ذمے ہوتا تھا۔ اور یہ گھر کا نظم و نسق اتنا ہی عوامی اور سماجی طور پر ضروری کام تھا، جتنا مرد کا غذا فراہم کرنا۔ پدری خاندان کے قائم ہونے پر یہ حالت نہیں رہی۔ یک زوجگی کے انفرادی خاندان کے بعد تو حالت اور بھی بدل گئی۔ گھر کے انتظام کی عمومی حیثیت ختم ہو گئی۔ سماج کو اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ ایک نجی خدمت ہو گئی۔ سماجی پیداوار کے دائرے سے الگ کر دیئے جانے کے بعد بیوی گھر کی پہلی خادمہ بنی۔ یہ صرف موجودہ زمانے کی بڑے پیمانے کی صنعت کا اثر تھا کہ سماجی پیداوار کے دروازے عورتوں کے لئے کھل گئے۔ لیکن یہ صرف مزدور طبقے کی عورتوں کے لئے تھا۔ تاہم ان کا بھی یہ حال ہے کہ جب وہ اپنے گھر کا کام کاج کرتی ہیں تو سماجی پیداوار کے دائرے سے باہر ہو جاتی ہیں اور انہیں اس کام کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ اور اگر وہ صنعت و حرفت میں حصہ لینا چاہتی ہیں اور آپ اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر اپنی روزی کمانے کی کوشش کرتی ہیں تو اپنے گھر کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتیں۔  کارخانے میں کام کرنے والی عورتوں کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہی ان عورتوں پر بھی صادق آتا ہے جو دوسرے پیشوں میں حتی کہ ڈاکٹری اور وکالت میں حصہ لیتی ہیں۔  جدید انفرادی خاندان عورت کی گھریلو غلامی پر مبنی ہے چاہے وہ کھلی غلامی ہو یا پوشیدہ۔  اور موجودہ سماج انہیں انفرادی خاندانوں کے سالموں(یونٹوں ) سے مرکب ہے۔ آج کل زیادہ تر حال یہ ہے کہ مرد کماتا ہے اور اپنے گھر والوں کی پرورش کرتا ہے۔ ۔۔۔ کم از کم ملکیت والے طبقوں میں یہی ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔ اور اس کی وجہ سے مرد کو ایک غالب حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جس کے لئے کسی مخصوص قانونی حقوق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خاندان کے اندر شوہر بورژوا ہے اور بیوی مزدور۔  لیکن صنعت و حرفت کی دنیا میں مزدور طبقہ کے کندھوں پر اقتصادی لوٹ اور ظلم و ستم کا جو جوا رکھا ہوا ہے اس کی ساری خصوصیات اسی وقت پوری طرح نمایاں ہوتی ہیں جب سرمایہ دار طبقے کے مخصوص قانونی اختیارات کا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے اور دونوں طبقوں میں مکمل قانونی مساوات قائم کر دی جاتی ہے۔ جمہوری ریپبلک میں دونوں طبقوں کا اختلاف ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے برعکس ایسی ریپبلک اس اختلاف کے لئے میدان کار زار مہیا کرتی ہے۔ اسی طرح جدید خاندان میں عورت پر مرد کے غلبے کی مخصوص نوعیت اور مرد عورت میں صحیح معنی میں سماجی مساوات قائم کرنے کی ضرورت اور اس کا طریقہ صرف اسی وقت واضح طور پر سامنے آئے گا جب قانون کی نظر میں دونوں کو مکمل مساوات حاصل ہو جائے گی۔ تب ہی یہ حقیقت عیاں ہو گی کہ عورتوں کی آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ تمام عورتوں کو صنعت و حرفت کے میدان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی طور پر خاندان کی یہ حیثیت کہ وہ سماج کی اقتصادی اکائی ہے، ختم کر دی جائے۔

 اب تک ہم نے یہ دیکھا کہ شادی کی تین اہم شکلیں ہیں اور یہ تینوں انسانی ارتقاء کی تین خاص منزلوں سے تعلق رکھتی ہیں۔  وحشت کے عہد میں گروہ وار شادی،  بربریت کے عہد میں جوڑا بیا ہ اور تمدن کے عہد میں یک زوجگی،  جس کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر زناکاری اور عصمت فروشی لگی ہوتی ہے۔  بر بریت کے آخری دور میں جوڑا بیاہ اور ایک زوجگی کے درمیان ایک دور آتا ہے جبکہ مردوں کا غلام عورتوں پر تسلط قائم ہوتا ہے اور کثرت ازواج یعنی کئی بیویاں رکھنے کا رواج ہوتا ہے۔

ہم نے ابھی تک جو کچھ بیان کیا ہے اس سے یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ اس سلسلے میں جو قدم اٹھائے گئے ہیں وہ اس عجیب و غریب حقیقت سے وابستہ ہیں کہ جہاں عورتیں گروہ وار شادی کی جنسی آزادی سے زیادہ سے زیادہ محروم ہوتی گئیں،   وہاں مرد نہیں ہوئے۔  سچ پوچھئے تو مردوں کے لئے آج بھی گرہ وار شادی موجود ہے۔  عورت کے لئے جو چیز جرم ہے،  جس کے لئے اسے قانونی اور سماجی ہر قسم کی سزا بھگتنی پڑتی ہے،  وہ چیز مرد کے لئے قابل فخر ہے اور بہت ہو اتو اس کے دامن پر بدچلنی کا ہلکا ساداغ پڑ جاتا جسے وہ خوشی سے گوارا کر لیتا ہے۔  ہمارے زمانے میں سرمایہ دارانہ جنس تبادلہ کی پیداوار کی وجہ سے پرانے ہیتائر ازم میں جتنی زیادہ تبدیلی ہوتی ہے اور جس قدر وہ اپنے آپ کو اس پیداوار کے سانچے میں ڈھالتی ہے اسی قدر وہ کھلم کھلا عصمت فروشی کی صورت اختیار کرتی جاتی ہے اور اس کا اثر اتنا ہی زیادہ خرب اور تباہ کن ہوتا جاتا ہے۔  اور اس کے اثر سے عورتوں سے کہیں زیادہ مردوں کے اخلاق پست ہوتے ہیں۔  عورتوں میں عصمت فروشی صرف ان بد نصیبوں کو خراب کرتی ہے جو اس کے چنگل میں پھنستی ہیں اور پھر وہ بھی اتنی خراب نہیں ہوتیں جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔  اس کے برعکس مردوں میں تو شروع سے آخر تک سب کا اخلاق بگڑ جاتا ہے۔ چنانچہ دس میں سے نو صورتوں میں لمبے عرصے کا تعلق دراصل ایک ایسی تربیت گاہ کا کام دیتا ہے، جہاں ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ بے وفائی کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

اب ہم ایک ایسے سماجی انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں یک زوجگی کے موجودہ نظام کی اقتصادی بنیادیں ختم ہو جائیں گی اور اسی کے ساتھ عصمت فروشی کی بنیاد بھی مٹ جائے گی کیونکہ عصمت فروشی اور زوجگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یک زوجگی کی بنیاد یہ ہے کہ ایک ایک آدمی کے پاس، اور وہ بھی مرد کے پاس،  کثیر دولت جمع ہو جاتی ہے جس کو وہ صرف اپنے بچوں کے لئے چھوڑ جانا چاہتا ہے۔  وہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی اور مرد کے بچے اس کی دولت کے وارث ہوں۔  اس لئے یہ ضروری ہوا کہ عورت ایک ہے مرد سے شادی کرے۔ لیکن مرد کے لئے ایک عور ت ست شادی کرنا کوئی ضروری نہیں تھا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ ۔۔۔۔۔ عورت کے لئے ایک شوہر کا دستور بنا اور یہ دستور مردوں کو کھلم کھلا یا چوری چھپے کئی بیویاں رکھنے سے نہیں روک سکا۔  لیکن آنے والے سماجی انقلاب اس مستقل دولت کے بڑے حصے کو جو آج وراثت میں باپ سے بیٹے کو ملتی ہے، یعنی ذرائع پیداوار کو، سماج کی ملکیت بنا دے گا، اور اس لئے یہ فکر کہ میرے بعد میری وراثت کس کو ملے گی بہت کم رہ جائے گی۔ تو کیا ان اقتصادی اسباب کے مٹنے پر یک زوجگی جو ان کا نتیجہ تھی، خود بھی مٹ جائے گی؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ختم ہونے کے بدلے یک زوجگی کی تکمیل ہونے لگے گی۔ کیونکہ ذرائع پیداوار جب سماج کی ملکیت بن جائیں گے تو اجرتی محنت اور اجرت پر کام کرنے والا طبقہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اور ساتھ ساتھ،  اس بات کی ضرورت بھی نہیں رہے گی کہ کچھ عورتیں جن کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اپنے آپ کو پیسے کی خاطر مردوں کے حوالے کریں۔  عصمت فروشی مٹ جائے گی۔ یک زوجگی کا زوال نہیں ہو گا۔ وہ آخر کار ایک حقیقت بن جائے گی۔ ایک ایسی حقیقت جو مردوں کے لئے بھی ہو گی۔

اس سے بہرحال مردوں کی حالت بہت بدل جائے گی۔ لیکن عورتوں کی حالت میں بھی اور سبھی عورتوں کی حالت میں اہم تبدیلیاں ہوں گی۔ ذرائع پیداوار مشترکہ ملکیت بن جائیں گے تو ایک ایک خاندان سماج کی اقتصادی اکائی نہیں رہے گا۔ ذاتی خانہ داری بڑھ کر ایک سماجی صنعت کی صورت اختیار کرے گی۔ بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سماج کے اوپر ہو گی سماج سبھی بچوں کی نگہداشت ایک طرح سے کرے گا۔ بچوں میں یہ فرق نہیں کیا جائے گا کہ کون شادی کے بعد پیدا ہوا ہے اور کون شادی کے بغیر۔  اس طرح "نتائج”کی فکر جو آج اخلاقی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے بڑی سماجی اہمیت رکھتی ہے،  جو آج ایک لڑکی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ جس مرد سے محبت کرتی ہے اس کی ہو رہے، وہ فکر ختم ہو جائے گی۔ لیکن کیا اس کا نتیجہ یہ نہیں ہو گا کہ جنسی تعلقات زیادہ بے لگام ہو جائیں گے اور کیا اسی کے ساتھ عورتوں کی عصمت و عفت اور شرم و حیا کے سوال پر بھی رائے عامہ زیادہ فراخ دلی کا رویہ اختیار نہیں کرے گی؟ اور کیا ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ موجودہ زمانے میں یک زوجگی اور عصمت فروشی میں تضاد ہوتے ہوئے بھی چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک ہی سماجی حالت کے دو رخ ہیں ؟ کیا عصمت فروشی اپنے ساتھ یک زوجگی کو مٹائے بغیر ختم ہو سکتی ہے؟

یہاں ایک نئی چیز سامنے آتی ہے اور وہ ہے انفرادی جنسی محبت۔  یک زوجگی کی جب ابتدا ہوئی اس وقت یہ انفرادی جنسی محبت زیادہ سے زیادہ محض ایک بیچ کی صورت میں رہی ہو گی۔

عہد وسطیٰ سے پہلے انفرادی جنسی محبت جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ جسمانی حسن، گہرے تعلقات،  مزاج کی یکسانی وغیرہ ایسی باتیں ہیں جن سے مردوں عورتوں میں جنسی تعلق کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ مرد اور عورت،  دونوں میں کوئی اس بات سے بے خبر یا بے نیاز نہیں رہتا کہ اتنا گہرا تعلق کس آدمی کے ساتھ قائم ہو رہا ہے۔

لیکن یہ تمام باتیں مل کر بھی ہمارے زمانے کی جنسی محبت سے بہت پیچھے ہیں۔  قدیم زمانے میں ہر جگہ شادی ماں باپ کرتے تھے۔ فریقین چپ چاپ ان کی باتوں کو مان لیتے تھے۔ قدیم زمانے میں زن و شوہر کی محبت اگر کہیں کچھ تھی تو وہ کوئی داخلی میلان نہیں بلکہ ایک خارجی فرض کی ادائیگی تھی۔  وہ شادی کا سبب نہیں بلکہ اس کا ایک نتیجہ تھی۔ موجودہ زمانے میں سرکاری سماج کے باہر ہوتی تھیں۔  وہ چرواہے جن کی محبت اور خوشی اور غم کے گیت تھیو کری ٹس اور موس چس نے گائے ہیں یا لانگس نے "دافنی اور کلوئی”میں جن لوگوں کی داستان سنائی ہے وہ محض غلام تھے، جن کا ریاست میں جو آزاد شہریوں کی چیز تھی، کوئی حصہ نہیں تھا۔ غلاموں کے علاوہ اگر محبت کہیں ملتی ہے تو وہ نتیجہ ہے قدیم دنیا کے زوال کا،  جب اس کا شیرازہ منتشر ہونے لگا تھا۔ اور یہ محبت بھی ایسی عورتوں کے ساتھ کی جاتی تھی جو سماج کے اصلی دائرے سے باہر تھیں یعنی ہیتائری سے کی جاتی تھی جو یا تو اجنبی عورتیں تھیں یا غلامی سے آزاد کی ہوئی عورتیں تھیں۔   ایتھنز میں اس کے زمانہ زوال کی ابتدا سے لے کر بعد تک اور روم میں شہنشاہوں کے عہد میں اسی قسم کی محبت پائی جاتی تھی۔ آزاد مرد اور عورت شہریوں میں اگر واقعی کبھی محبت ہوتی تھی تو وہ زناکاری کی صورت میں ہوتی تھی۔ اور جنسی محبت کا جو مفہوم ہمارے یہاں ہے وہ قدیم زمانے کے مشہور عشقیہ شاعر اناکریون کے لئے اتنا بے معنی تھا کہ اسے اس بات سے بھی کوئی مطلب نہیں تھا کہ اس کا محبوب عور ت ہے یا مرد۔

ہماری جنسی محبت قدیم زمانے کے لوگوں کی محض جنسی شہوت سے، ان کی "ایراس”سے بہت مختلف ہے۔ جنسی محبت کے لئے ضروری ہے کہ مرد عورت ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں۔  اس اعتبار سے عورت کا وہی درجہ ہے جو  مرد کا۔ اس کے برخلاف قدیم زمانے کے "ایراس”میں عورت کی مرضی کا ہمیشہ خیال بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ دوسرے، جنسی محبت میں اب اتنی شدت اور پائیداری آ گئی ہے کہ دونوں فریق جدائی اور فراق کو اگر سب سے بڑی نہیں تو بہت بڑی مصیبت ضرور سمجھتے ہیں ایک دوسرے کا وصال حاصل کرنے کے لئے وہ کیا کیا خطرے مول لیتے ہیں،  جان جوکھم میں ڈالتے ہیں۔   قدیم زمانے میں اگر کبھی ایسا ہوتا بھی تھا تو محض زناکاری کے لئے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنسیت تعلق کے محاسبے کے لئے ایک نیا اخلاقی معیار قائم ہو رہا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ جنسی تعلق جائز تھا یا ناجائز بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد باہمی محبت پر تھی یا نہیں۔  یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جاگیری یا بورژوا سماج میں اس نئے معیار کا بھی عملاً وہی حشر ہو رہا ہے جو اور سبھی اخلاقی معیاروں کا ہوا۔ ۔۔۔۔ یعنی اسے بھی محض نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن اس کا حشر ان سبھوں سے زیادہ برا بھی نہیں ہوا۔ اور معیاروں کی طرح اسے بھی محض نظری طور پر، کاغذ ی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اور سر دست اس سے زیادہ کوئی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔

جنسی محبت کی طرف قد م اٹھانے کے بعد عہد قدیم نے جہاں سے سلسلہ توڑ دیا وہیں سے عہد وسطی نے اس کی ابتدا کی۔ ۔۔۔ یعنی زناکاری سے۔ ہم سورماؤں کی سرفروشانہ محبت کا ذکر کر آئے ہیں جس سے "نغمات سحر”کی تخلیق ہوئی تھی۔ اس قسم کی محبت میں جس کا مقصد ازدواجی زندگی کے رشتے کو منقطع کرنا تھا اور اس محبت میں جس کی بنیاد پر ازدواجی زندگی قائم اور استوار ہوتی ہے، بڑا گہرا فرق ہے اور ساونتوں سورماؤں کے عہد نے اس خلیج کو پاٹنے میں کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ جب ہم بد چلن لاطینیوں سے ہو کر پاکباز جرمنوں تک پہنچتے ہیں تو وہاں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ "نی بیلونگ کا گیت” میں کریم ہلدا کو درپردہ سگفرید سے عشق ہو گیا ہے۔  اور وہ بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتا ہے۔ اس کے باوجود جب گنتھر اسے بتاتا ہے کہ اس کی سگائی ایک سورما سے کر دی گئی ہے جس کا نام وہ اسے نہیں بتاتا تو کریم ہلدا یہی کہتی ہے کہ

"آپ کو پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔  آپ کا فرمان سر آنکھوں پر۔  جیسا حکم دیں گے بندی تعمیل کرے گی۔ حضور جس کو منتخب کریں گے میں اس کو اپنا شوہر بنالوں گی۔ (28)”

اسے یہ خیال تک نہیں آتا کہ اس معاملے میں اس کی اپنی محنت کا بھی کوئی سوال ہو سکتا ہے۔ جس طرح گنتھر برون ہلدا کو کبھی ایک بار دیکھے بغیر بیاہ لایا تھا، اسی طرح کریم ہلدا کو  ایتزل کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے جسے اس نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ "گدرون”میں (21)بھی یہی ہوتا ہے۔ آئرلینڈ کا سیگبانت ناروے کی دوشیزہ اوتا سے شادی کی درخواست کرتا ہے اور ہییگیلنگ کا رہنے والا ہیتیل آئر لینڈ کی ہلدا سے اور آخر میں مورلینڈ کا سگفرید،  اور اورمانی کا ہار تموت، اور سیلینڈ کا ہروگ گدرون سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور یہاں پہلی بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ گدرون خود اپنی پسند سے ہروگ کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔ عام طور سے ایک نوجوان شہزادے کی دلہن کا انتخاب اس کے ماں باپ کرتے تھے۔ اور اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو شہزادہ اپنے سب سے بڑے باجگزار سرداروں کے مشورے سے اس کا انتخاب کرتا تھا۔ ان سرداروں کے مشورے کی بڑی اہمیت تھی اور ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ کسی نائٹ یا بیرن(نوابوں کے مختلف درجہ)کی شادی خود بادشاہ کی طرح سیاسی اہمیت رکھتی تھی۔ اس کے ذریعے نئے نئے لوگوں سے اتحاد کر کے اپنے طاقت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اس معاملے میں انفرادی پسند ناپسند نہیں بلکہ خاندانی مفاد فیصلہ کن ہوتا تھا۔ ایسی شادی میں محبت کو کیا دخل ہو سکتا تھا؟

عہد وسطیٰ کے شہروں میں "گلڈ” (29)کے اراکین کا بھی یہی حال تھا۔ انہیں جو مراعات حاصل تھیں۔ ۔۔۔ اہل حرفہ کی انجمنوں کی سندیں،  اور ان کے مخصوص تحفظات،  وہ مصنوعی دیواریں جو انہیں اہل حرفہ کی دوسری انجمنوں سے، اپنے ہم پیشہ دوسرے کاریگروں سے اور اپنے شاگردوں اور نو سکھیے لوگوں سے،  قانونی طور پر الگ کرتی تھیں۔ ۔۔۔۔ وہی مراعات اس دائرے کو محدود کئے رکھتی تھیں جس کے اندر اس کو اپنے بیوی چننی تھی۔ کون سب سے اچھی اور موزوں ہو گی، وہ سوال انفرادی پسند ناپسند سے نہیں بلکہ خاندانی مفاد کے روشنی میں طے ہوتا تھا۔

مختصر یہ کہ عہد وسطی کے آخر تک زیادہ تر صورتوں میں شادی کی حیثیت وہی رہی جو اس عہد کے شروع میں تھی۔ ۔۔۔۔ یعنی یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس کا فیصلہ وہ دونوں فریق نہیں کرتے تھے جس کو اس سے سب سے زیادہ تعلق تھا۔ سب سے پہلے یہ حال تھا کہ انسان جب دنیا میں آتا تو اس کی شادی پیدائش سے پہلے ہی جنس مخالف کے ایک پورے گروہ کے ساتھ ہو چکتی تھی۔ گروہ دار شادی کی بعد کی شکلوں میں بھی غالباً اسی قسم کے تعلقات قائم رہے۔  فرق صرف یہ تھا کہ اس گروہ کا دائرہ برابر محدود ہوتا جا رہا تھا۔ جوڑا بیاہ میں یہ قاعدہ تھا کہ مائیں اپنے بچوں کی شادی طے کرتی تھیں۔  اور وہاں بھی فیصلہ کن سوال یہ تھا کہ کون سا رشتہ، گن اور قبیلے میں نئے جوڑے کی حیثیت کو مضبوط کرے گا۔ اور جب اجتماعی ملکیت کے اوپر ذاتی ملکیت کا غلبہ ہوا اور وراثت کے خیال کے ساتھ ساتھ پدری حق اور یک زوجگی کا رواج ہوا تو شادی زیادہ سے زیادہ اقتصادی مصلحتوں پر منحصر ہونے لگی۔  شادی کی وہ شکل تو نہیں رہی جس میں بیوی خریدی جاتی تھی لیکن شادی زیادہ سے زیادہ اس طرح انجام دی جانے لگی کہ نہ صرف عورت بلکہ مرد کی قدر و قیمت کا اندازہ بھی ذاتی اوصاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی جائیداد اور ملکیت کی بنیاد پر کیا جانے لگا۔ شروع ہی سے حکمران طبقوں میں جو رواج چلا آتا تھا اس میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ شادی میں دولہا دلہن کی اپنی مرضی اور پسند کو جوئی دخل ہونا چاہئے۔  ایسی باتیں صرف رومان کی خیالی دنیا میں ممکن تھیں یا پھر مظلوم طبقوں میں ہو سکتی تھیں اور ظاہر ہے کہ وہ قابل اعتنا نہیں تھے۔

 یہ تھی صورت حال جب سرمایہ دارانہ پیداوار نے جغرافیائی دریافتوں کے دور کے بعد تجارت و حرفت کے ذریعے دنیا کو فتح کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ خیال ہوتا ہے کہ شادی کا یہ طریقہ اس نظام پیداوار کے لئے بہت زیادہ موزوں تھا۔ اور بات بھی یہی تھی۔ لیکن تاریخ کی ستم ظریفیوں کی تہہ تک کون پہنچ سکتا ہے؟ سرمایہ دارانہ نظام پیداوار نے ہی بیاہ کے اس طریقے کی بنیاد ہلا دیں۔   اس نے ہر چیز کو جنس تبادلہ(یعنی بکاؤ مال)بنا دیا۔  اس نے تمام قدیمی روایتی تعلقات کا شیرازہ منتشر کر دیا۔ موروثی رسم و رواج اور تاریخی حقوق کے بدلے اس نے خرید و  فروخت یا”آزاد”معاہدے کو رواج دیا۔ اور انگلینڈ کے ماہر علم قانون میسن نے لکھا کہ پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہماری ساری ترقی یہ ہے کہ ہم اب رتبے اور حیثیت سے ترقی کر کے معاہدے تک پہنچ گئے ہیں (from status to contract)ایک ایسی صورت حال سے جو باپ سے بیٹے تک جوں کی توں منتقل ہوتی تھی۔،  ہم ایک ایسی حالت میں پہنچ گئے جہاں اپنی رضا مندی سے معاہدے کئے جاتے ہیں۔  میسن کا خیال تھا کہ یہ لکھ کر اس نے کوئی بڑا بھاری انکشاف کیا ہے حالانکہ اس کے قول میں جو کچھ سچائی ہے وہ پہلے ہی "کمیونسٹ مینی فسٹو”میں بیان کر دی گئی تھی۔ (30)

لیکن معاہدہ کرنے کے لئے ایسے لوگوں کا ہونا ضروری ہے جو اپنا، اپنے اعمال کا اور اپنی چیزوں کا آزادی کے ساتھ لین دین کر سکیں اور جو ایک دوسرے سے مساوات کی بنیاد پر مل سکیں۔  سرمایہ دارانہ نظام پیداوار کا ایک خاص کام ایسے ہی ” آزاد”اور”مساوی”لوگوں کی تخلیق کرتا تھا۔ ابتدا میں اگرچہ یہ کام محض نیم شعوری طور پر اور قطعی طور پر مذہب کے پردے میں کیا گیا، تاہم لوتھر اور کالون کی تحریک اصلاح کے زمانے سے یہ پختہ اصول بن گیا کہ انسان اپنے اعمال کے لئے پوری طرح ذمہ دار اسی وقت ہوتا ہے جب اسے ان کاموں کو کرتے وقت اپنے ارادے کی پوری آزادی حاصل ہو اور یہ کہ غیر اخلاقی کاموں کے لئے جو دباؤ ڈالا جاتا ہے اس کی مخالفت کرنا ہر انسان کا اخلاقی فرض ہے۔ لیکن بیاہ کا جو طریقہ را ئج تھا، اس کے ساتھ اس اصول کا کیا تعلق ہو سکتا تھا؟ بورژوا تصورات کے مطابق شادی ایک معاہدہ ہے، ایک قانونی معاملہ ہے۔ اتنا ہی نہیں۔  وہ سب معاہدوں سے زیادہ اہم بھی ہے کیونکہ اس میں زندگی بھر کے لئے دو انسانوں کے جسم و جان کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔  یہ صحیح ہے کہ بظاہر یہ سودا اپنی مرضی ٰ سے کیا جاتا تھا۔ فریقین کی رضامندی کے بغیر شادی نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن کون نہیں جانتا کہ رضا مندی کیسے حاصل کی جاتی تھی اصل میں شادی کون لوگ طے کرتے تھے۔ لیکن اگر اور سبھی معاہدوں کے لئے فیصلہ کرنے کی پوری آزادی کا مطالبہ تھا تو پھر اس معاہدے کے لئے بھی اس کا مطالبہ کیوں نہ ہو؟ کیا اس نوجوان لڑکے اور لڑکی کو جو ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لئے باندھے جانے والے تھے، یہ حق نہیں تھا کہ آزادی کے ساتھ اپنے بارے میں،   اپنے جسم اور اس کے اعضا کے بارے میں فیصلہ کریں ؟ کیا سورماؤں کے سرفروشانہ عشق کی بدولت جنسی محبت کا فیشن نہیں ہو گیا تھا اور کیا سورماؤں کی زناکاری کی محبت کے برخلاف شوہر اور بیوی کی محبت اس کی صحیح بورژوا شکل نہیں تھی؟ لیکن اگر شادی شدہ جوڑوں کا یہ فرض تھا کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں تو کیا یہ عاشق و معشوق کا اتنا ہی زیادہ فرض نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کے علاوہ اور کسی سے شادی نہ کریں ؟ اور کیا ان محبت کرنے والوں کا حق باپ ماں،   رشتہ داروں اور دوسرے رشتے ناتے لگانے والوں کے حق سے بلند تر نہیں تھا؟ اگر آزادی کے ساتھ ذاتی تحقیق و تفتیش کرنے کا حق در آتا ہوا کلیسا اور مذہب کے دائرے میں گھس آیا تھا تو پھر وہ نئی نسل کے جسم و جان کے اوپر،  ان کی ملکیت، خوشی اور غم کے اوپر پرانی نسل کے لوگوں کے ناقابل برداشت دعووں کے سامنے پہنچ کر کیسے رک جاتا؟

ایک ایسے دور میں جبکہ سارے پرانے سماجی بندھن ڈھیلے ہو رہے تھے اور تمام روایتی تصورات کی بنیادیں ہلنے لگی تھیں،  یہ سبھی سوالات لازمی طور پر اٹھ رہے تھے۔ چشم زون میں دنیا کی وسعت دس گنا بڑھ گئی تھی۔ پہلے جہاں مغربی یورپ والوں کی نظروں کے سامنے کر ہ زمین کے نصف کا بھی محض ایک چوتھائی حصہ تھا، اب پورے کرہ زمین کے دروازے ان پر کھل گئے تھے اور وہ باقی ساتوں ربعات پر اپنا جھنڈا نصب کرنے کے لئے دوڑ پڑے تھے۔ عہد وسطیٰ کے بندھے ٹکے طرز فکر نے ذہن پر جو ہزاروں سال پرانی چوکیاں بٹھا رکھی تھیں وہ دیکھتے دیکھتے اسی طرح ختم ہو گئیں جس طرح ارض وطن کی پرانی تنگ حد بندیاں۔  ایک نہایت وسیع افق انسان کی ظاہری اور باطنی آنکھوں کے سامنے کھل گیا تھا۔ وہ نوجوان جن کی آنکھوں میں ہندوستان کی دولت سما گئی تھی، جو میکسیکو اور پوٹوسی کی سونے چاندی کی کانوں پر اپنا ایمان دھرم کھو بیٹھے تھے، ان کے لئے شرافت و نجات کی اور پیشہ ور انجمنوں کے نسل در نسل چلے آنے والے پرانے امتیازات اور مراعات کی کیا وقعت ہو سکتی تھی؟ یہ بورژوا طبقے کا مہم جو سورمائی عہد تھا، اس کا اپنا رومان بھی تھا، پریم کے سپنے بھی تھے لیکن ان کی بنیاد بورژوا تھی اور آخر تک تجزیہ کیا جائے تو اس کے پیش نظر مقصد بھی بورژوا تھا۔

چنانچہ اس طرح نوخیز بورژوا طبقے نے، خاص کر پروٹسٹنٹ ملکوں میں جہاں موجودہ نظام کی بنیادیں سب سے زیادہ ہل گئی تھیں،  شادی میں بھی معاہدے کی آزادی کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کر لیا اور مذکورہ بالا طریقے سے اس کو عملی جامہ بھی پہنایا۔ شادی طبقاتی شادی ہی رہی مگر اپنے طبقے کی حدود کے اندر فریقین کو کسی حد تک انتخاب کی آزادی مل گئی۔ اور کاغذ پر، اخلاقیات کے اصولوں میں اور شاعری میں بھی یہ چیز مان لی گئی کہ ہر وہ شادی جس کی بنیاد فریقین کی باہمی جنسی محبت اور شوہر اور بیوی کی حقیقی اور آزادانہ رضا مندی پر نہیں ہے وہ شادی اخلاق سے گری ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ محبت کی شادی کو انسانی حق کا درجہ دے دیا گیا۔ وہ صرف مرد کا حق(droit de I’homme)ہی نہیں بلکہ ایک مستثنیٰ کو طور پر، عورت کا حق(droit de la femme)بھی تھا۔

لیکن ایک اعتبار سے یہ انسانی حق تمام دوسرے نام نہاد انسانی حقوق سے مختلف تھا۔ عملاً ان نام نہاد انسانی حقوق کی عملداری حکمراں طبقے یعنی بورژوا طبقے تک ہی محدود تھی اور مظلوم طبقہ یعنی مزدور براہ راست یا بالواسطہ ان سے محروم تھے۔ لیکن تاریخ کی ستم ظریفی نے یہاں بھی اپنا اثر دکھلایا۔ حکمراں طبقے پر آج بھی ان اقتصادی اثرات کا غلبہ ہے جن سے ہم واقف ہیں اور اس لئے ان میں شاذ و نادر ہی ایسی شادیاں دیکھنے میں آتی ہیں جو حقیقی معنی میں فریقین کی اپنی رضامندی پر مبنی ہوتی ہیں۔   لیکن، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں،  مظلوم طبقے میں یہی عام قاعدہ ہے۔

غرضیکہ شادی میں پوری آزادی کے اصول پر اسی وقت عمل درآمد ہو سکتا ہے جب سرمایہ دارانہ نظام پیداوار اور اس کے لائے ہوئے ملکیت کے رشتے مٹ جائیں اور اس کی وجہ سے وہ سبھی ضمنی اقتصادی مصلحتیں بھی ختم ہو جائیں جو آج تک شریک زندگی کے انتخاب پر اتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں۔  اور تب باہمی محبت کے سوا شادی کی اور کوئی بنیاد باقی نہیں جنسی محبت کی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ بلا شرکت غیرے محبوب کی طالب ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بلا شرکت غیرے کے اصول پر آج کل صرف عورتوں کے سلسلے میں پوری طرح عمل کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ اس لئے جو شادی جنسی محبت پر مبنی ہو گی وہ اپنی خاصیت کی بنا پر یک زوجگی پر بھی مبنی ہو گی۔ بوخوفن نے صحیح کہا تھا کہ گروہ دار شادی سے انفرادی شادی کی نشوونما دراصل عورتوں کا کام ہے۔ یہ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں۔   صرف جوڑا بیاہ سے یک زوجگی کا ارتقا مرد کا کام ہو سکتا ہے۔ اور تاریخی طور پر سچ پوچھئے تو اس سے عورتوں کی حالت اور خراب ہو گئی اور مردوں کے لئے بے وفائی کرنا اور آسان ہو گیا۔ جب وہ اقتصادی مصلحتیں ختم ہو جائیں گی جن کی وجہ سے مجبور ہو کر عورتوں کو مردوں کی بے وفائی برداشت کرنی پڑتی تھی یعنی جب انہیں اپنی روزی کی اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں ستایا کرے گی تو عورتوں اور مردوں میں مساوات قائم ہو جائے گی۔ اور پچھلے تمام تجربوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مساوات کی وجہ سے عورتوں میں متعدد شوہروں سے شادی کرنے کا رجحان نہیں پیدا ہو گا بلکہ اس سے کہیں زیادہ مردوں میں حقیقی یک زوجگی پر عمل کرنے کا رجحان پیدا ہو گا۔

یک زوجگی کے نظام سے کچھ باتیں یقیناً مٹ جائیں گی۔ یہ مٹنے والی باتیں اس کی وہ سبھی خصوصیتیں ہیں جو ملکیت کے تعلقات سے پیدا ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ لگ گئی ہیں۔   ان میں ایک خصوصیت تو مرد کا غلبہ ہے اور دوسری ہے شادی کے رشتے کا اٹوٹ ہونا۔ ازدواجی زندگی میں مرد کا تسلط اصل میں اس کے اقتصادی تسلط کا نتیجہ ہے اور اس کے ختم ہونے پر وہ بھی آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔ شادی کے رشتے کے اٹوٹ ہونے کی وجہ ایک حد تک وہ اقتصادی حالات تھے جن کے تحت یک زوجگی قائم ہوئی تھی اور کسی حد تک اس زمانے کے روایتی اثرات تھے جب کہ ان اقتصادی حالات اور یک زوجگی کے تعلق کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا تھا اور مذہب نے اس کو مبالغے کے ساتھ پیش کیا تھا۔ آج اس دیوار میں ہزاروں شگاف پڑ چکے ہیں۔  اگر صرف وہی شادیاں اخلاقی نقطہ نظر سے صحیح ہیں جو محبت پر مبنی ہیں تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہی ازدواجی زندگی اخلاقی نقطہ نظر سے صحیح ہے جس میں محبت قائم رہتی ہے۔ انفرادی جنسی محبت کی میعاد مختلف افراد میں خاص کر مردوں میں بہت مختلف ہوتی ہے۔ اور جب انس باقی نہ رہے، جب ایک نئی محبت کا پر جوش جذبہ اس کی جگہ لے لے تو علیحدگی فریقین کے لئے اور خود سماج کے لئے بھی ایک رحمت ثابت ہوتی ہے۔ اور ایسی صورت میں لوگ طلاق کے مقدموں کے فضول دلدل میں سے گزرنے کے تجربے سے بچ جائیں گے۔

سرمایہ دارانہ نظام پیداوار کے مٹ جانے کے بعد جنسی تعلقات کی کیا صورت ہو گی،  اس کے بارے میں آج ہم جو قیاس آرائی کر سکتے ہیں وہ بہ حیثیت مجموعی منفی قسم کی ہے یعنی زیادہ تر وہ قیاس آرائی صرف اسی حد تک ہے کہ کونسی چیزیں مٹ جائیں گی۔ لیکن کون سی نئی خصوصیتیں ہیں جن کا اضافہ ہو گا؟ اس کا فیصلہ اس وقت ہو گا جب ایک نئی نسل پروان چڑھ چکے گی۔ وہ ایسے مردوں کی نسل ہو گی جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی عورت کی عصمت چاندی کے چند سکوں کے عوض نہیں خریدی ہو گی اور نہ اسے حاصل کرنے کے لئے کسی اور طرح کے سماجی اختیار سے کام لیا ہو گا۔ اور وہ ایسی عورتوں کی نسل ہو گی جو سچی محبت کے سوا اور کسی وجہ سے اپنے آپ کو کسی مرد کے حوالے کرنے پر مجبور نہیں ہوئی ہوں گی اور نہ انہیں اقتصادی مجبوریوں کے ڈر سے اپنے محبوب سے شادی کا خیال ترک کرنا پڑا ہو گا۔  جب ایسے مرد اور ایسی عورتیں وجود میں آ جائیں گی تو پھر انہیں اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہو گی کہ ہم کیا سوچتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔  وہ خود اپنے ساتھ اپنا عمل لائیں گے اور اسی کے مطابق ہر فرد کے عمل کے بارے میں اپنی رائے عامہ تیار کریں گے۔ اور یہیں یہ بات ختم ہو جاتی ہے۔

اس اثنا میں ہم پھر مارگن کی طرف رجوع کریں جس کو چھوڑ کر ہم بہت دور نکل آئے ہیں۔   تمدن کے عہد میں جن سماجی اداروں کی نشوونما ہوئی، ان کی تاریخی چھان بین مارگن کی کتاب کے دائرہ بحث سے خارج ہے۔ وہ اس عہد میں یک زوجگی کے انجام کے سوال پر صرف مختصر طور پر بحث کرتا ہے۔ وہ بھی یک زوجگی کے خاندان کے نشوونما کو ایک بڑی ترقی سمجھتا ہے۔ اس کے رائے میں اس سے مردوں عورتوں کی مکمل مساوات قریب آ جاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ منزل آ پہنچی۔  لیکن وہ کہتا ہے کہ

"جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ خاندان کی یکے بعد دیگرے چار شکلیں ہوئی ہیں اور اب یہ اس کی پانچویں شکل ہے تو فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شکل آئندہ ہمیشہ رہے گی۔ اس کا ایک ہی جواب دیا جا سکتا ہے۔  اور وہ جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے سماج تر کرے گا، خاندان کی شکل میں بھی ترقی ہو گی، جیسے جیسے سماج میں تبدیلی ہو گی، خاندان کی شکل میں بھی تبدیلی ہو گی۔ یہی پہلے بھی ہوا ہے، یہی آئندہ بھی ہو گا۔ وہ سماجی نظام کی تخلیق ہے اور اس میں اسی کی تہذیب کی جھلک دکھائی دے گی۔ جس طرح تمدن کے آغاز کے زمانے سے آج تک یک زوجگی کے خاندان میں بڑی ترقی ہوئی ہے اور موجودہ زمانے میں نہایت سوجھ بوجھ کے ساتھ ہوئی ہے، اسی طرح کم از کم اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ اس میں ترقی کی بہت گنجائش ہے۔ اس میں اتنی ترقی ہو گی کہ مردوں اور عورتوں میں مکمل مساوات قائم ہو جائے گی۔ اگر مستقبل بعید میں یک زوجگی کا خاندان سماج کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکا تو آج یہ کہنا ناممکن ہے کہ اس کے بعد آنے والے خاندانی نظام کی خاصیت اور فطرت کیا ہو گی۔ "

حوالہ جات

1۔  "دیکھئے”مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9، صفحہ-21(ایڈیٹر)

2۔ باخوفن نے جو کچھ دریافت کیا سچ پوچھئے تو قیاس کیا تھا، اس کو وہ خود نہیں سمجھتا تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اس قدے حالت کو(hataerismیعنی کئی عورتیں رکھنے کے رواج۔ مترجم)سے تعبیر کرتا ہے۔ اس لفظ کو پہلے پہل یونانیوں نے استعمال کیا تھا۔ اس سے ان کی مراد وہ جنسی تعلق تھا جو ان مردوں میں جو بن بیاہے تھے یا جن کی ایک بیوی تھی اور بن بیاہی عورتوں میں ہوتا تھا۔ اس وقت شادی کی ایک مخصوص صورت ضروری تھی جس کے دائرے کے باہر یہ جنسی تعلق ہوا کرتا تھا۔ اس میں عصمت فروشی بھی شامل ہے۔ اگر اور کچھ نہیں تو اس کا وجود ممکن تو ہو ہی چکا تھا۔ یہ لفظ کسی اور مفہوم میں کبھی استعمال نہیں ہوا اور مارگن کی طرح میں بھی اس کو صرف اسی معنی میں استعمال کرتا ہوں۔  باخوفن نے اپنی نہایت اہم دریافتوں کو نہایت پر اسرار اور ناقابل فہم بنا دیا۔ اس کی وجہ اس کا یہ مہمل عقیدہ تھا کہ تاریخی ارتقا کے دوران میں مرد عورت کے درمیان جو تعلق قائم ہوتے ہیں۔  وہ اس زمانے کے انسان کے مذہبی خیالات کا نتیجہ ہوتے ہیں ان کے اصلی حالات زندگی کا نہیں۔

3ََ . Letourneau Ch., "L,evolution du mariage et e la famille”

Paris, 1888. ایڈیٹر

4۔ Westermarch E., ” The History of Marriage”, London and New York, 1891. ایڈیٹر

5۔ Espinas A., ” Des societes animales .Etude de psychologie Comparee”, Paris 1877,pp.303-3-4. (ایڈیٹر)

6۔ Giraud…… Teulon A., ” Les origines du mariage et de la famille ", Geneve. 1884. (ایڈیٹر)

7۔ Bancroft H. H., "The Native races of the pacific States of North America”, Vol. I-V. New York, 1875. (ایڈیٹر)

8۔ واگنر کی "نی بیلونگ(Nibelung)”کے متن میں قدیم زمانے کی جو بالکل جھوٹی تصویر کھینچی گئی ہے، اس کے بارے میں مارکس نے ایک خط میں بہت ہی سخت الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ خط اس نے 1882کے موسم بہار میں لکھا تھا۔ (5)۔ "یہ بھلا کسی نے کبھی کا ہے کو سنا ہو گا کہ بھائی بہن کو اپنی دلہن بنا کر سینے سے لگا لے؟ (6)”واگنر کے ان "شہوت پرست خداؤں "کو،  جو بالکل نئے ڈھنگ سے اپنے معاملات عشق میں محرمات کے ساتھ جنسی تعلق کا نمک مرچ بھی لگا لیا کرتے تھے، مارکس نے یہ جواب دیا کہ "قدیم زمانے میں بہن ہی بیوی ہوتی تھی اور یہی اخلاقاً جائز سمجھا جاتا تھا۔ 1884("کے ایڈیشن کے لئے اینگز کا نوٹ)۔

 ََََ واگنر کے ایک فرانسیسی دوست اور مداح بونئیے اس نوٹ سے متفق نہیں ہیں۔  وہ اس بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ ایلڈرایڈاEdda۔میں بھی، جسے واگنر نے اپنا نمونہ بنایا تھا، آگسدریکا(Ogisdrecka)میں (7)لوکی، فرے یا کو الزام دیتا ہے کہ "تیرا اپنا بھائی دیوتاؤں کے سامنے تجھ سے ہم آغوش ہوا ہے۔ ‘ان دوست کا دعویٰ ہے کہ اس وقت تک بھائی اور بہن کی شادی کی ممانعت ہو چکی تھی۔ "اگسدریکا”اس زمانے کی ترجمان ہے جب پرانی دیومالا میں لوگوں کا عقیدہ ختم ہو چکا تھا۔ یہ دیوتاؤں پر سچ مچ لوکیان کے طرز کا طنز ہے اگر لوگی میفسٹو فیلیس(ورغلانے والے شیطان۔ مترجم)کی صورت میں اس طرح فرے یا کو الزام دیتا ہے، تو یہ بات واگنر کے خلاف پڑتی۔  چند بندوں کے بعد لوکی،  نیورو سے بھی کہتا ہے: "اپنی بہن سے تمہارے(ایسا)ایک لڑکا ہوا” (vidh systur thinni gaztu slikan mog)۔ یہ صحیح ہے کہ نیورو آسا نسل کا نہیں بلکہ وانا نسل کا تھا(8)اور ” اینگلینگ کی رزمیہ داستان”میں کہتا ہے کہ وانا دیش میں بھائیوں اور بہنوں کی شادی کا رواج ہے لیکن آساؤں میں ایسا نہیں ہے۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وانا آسا سے زیادہ پرانے دیوتا تھے۔ بہرحال نیورو آساؤں کے درمیان اس طرح رہتا تھا جس طرح اپنے برابر والوں کے درمیان رہا جاتا ہے۔  اس لئے ‘اگسدریکا”سے اصل میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس زمانے میں نارویائی دیوتاؤں کی رزمیہ داستان (Saga) کا آغاز ہوا،  اس زمانے میں بھائیوں اور بہنوں کی شادی،  کم سے کم دیوتاؤں میں،   مکروہ نہیں مانی جاتی تھی۔ اگر واگنر کی غلطی کو درگزر ہی کرنا ہے تو شاید "ایڈا”کے بجائے گوئیٹے کا حوالہ دینا بہتر ہو گا کیونکہ گوئیٹے نے دیوتا او اپسرا کے گیت میں عورتوں کے دیو داسی ہونے کے بارے میں ایسی ہی غلطی کی تھی اور اسے آج کل کی عصمت فروشی سے بہت زیادہ ملتا جلتا قرار دیا ہے۔ 1891("کے ایڈیشن میں اینگز کا نوٹ۔ )

9۔ اب اس میں ذرا بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ بلا فرق و امتیاز جنسی تعلق کے وہ آثار،  اس کے نام نہاد”Sumpfzeugung”جن کو باخوفن سمجھتا تھا کہ اسی نے سب سے پہلے دریافت کیا ہے، گروہ دار شادی کی طرف لے جاتے ہیں۔  "اگر باخوفن ان”پونالوان”شادیوں کو”غیر قانونی” سمجھتا ہے تو اسی طرح اس زمانے کا آدمی آج کل کی، قریب یا دور کے رشتے کے بھائی بہنوں کی آپس کی، شادیوں میں سے زیادہ تر کو بدکاری یعنی سگوتر بھائیوں اور بہنوں کی شادی سمجھے گا۔ (مارکس)۔ (دیکھئے مارکس اور اینگز کی دستاویزات”جلد 9، صفحہ 187۔ )

10۔ Watson J.F. and Kaye J.W., "The People of India ".Vols. I.VI.London, 1868-1872.           (ایڈیٹر)

11۔ Fison L. and Howitt A. W., "Kamilaroi and Kurnai”Melburne, Sydney, Adelaide and Brisbane, 1880.          (         )ایڈیٹر

12۔ مزید ملاحظہ ہو”مارکس اور اینگز کی دستاویزات”جلد9، صفحہ-28(ایڈیٹر)

13۔ مزید ملاحظہ ہو”مارکس اور اینگز کی دستاویزات” صفحات -26-27(ایڈیٹر)

14۔ Bachofen J.J,. "Das Mutterrecht”, Stuttgart, 1861 (ایڈیٹر)

15۔ .Professor and Mrs. Louis Agassiz”AJourney in Brazil”, Boston

16۔ ایس۔ سوگن ہائم”انیسویں صدی کے وسط تک یورپ میں زرعی غلامی اور بیگاری کے خاتمے کی تاریخ۔ "یہ کتاب سینٹ پیٹرسبرگ میں 1861میں شائع ہوئی تھی۔

17۔ (Sugenheim s., ” Geschichte der Aufhebung der Leiberigenchaft und Horigkeit in Europa bi um die Mitte des neunzehnten Jahrhunderts”, St. Petersburg, 1861.)

18۔ دیکھئے "مارس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9، صفحہ111۔(ایڈیٹر)

19۔ Kovalevsky M., "Tableau des des origines et de I,evolution de la famille et de la propriete”, Stockholm, 1890. (ایڈیٹر)

20۔ دیکھئے”مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9، صفحہ31۔(ایڈیٹر)

21۔ Heusler A., "Institutuionen des Deutschen Privaterechts”Bd.II, Leipzig, 1886,S.271.(ایڈیٹر)

22۔ ضابطہ نپولین۔

23۔ دیکھئے”مارکس اور اینگز کی دستاویزات”جلد9، صفحہ-32(ایڈیٹر)

24۔ ہومر”اوڈیسی”گیت اول۔(ایڈیٹر)

25۔ ایسکیلس”آرسطیا۔ ایگاممنون۔("ایڈیٹر)

26۔ یورپیڈیز”آرسطیا۔("ایڈیٹر)

27۔ یہ اشارہ”جرمن آئیڈیالوجی”(فکریات)کی طرف ہے۔(ایڈیٹر)

28۔ دیکھئے”نی بیلونگ کا گیت10″واں گیت۔(ایڈیٹر)

29۔ گلڈ۔  قرہن وسطی میں ہم پیشہ استاد کاریگروں کی انجمن یا برادری۔(ایڈیٹر)

30۔ دیکھئے: مارکس، اینگز۔  منتخب تصانیف،  حصہ اول۔

٭٭٭

 

تیسرا باب

ایرو کو اس لوگوں کا گن

اب ہم مارگن کی ایک اور دریافت کو لیتے ہیں،   جو کم سے کم اتنی ہی اہم ہے جتنی یک جدی قرابت داری(سگوتر)کے نظاموں سے خاندان کی ابتدائی صورتوں کی دریافت تھی۔ مارگن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکی انڈین قبیلوں کے اندر سگوتر لوگوں یعنی یک جدی قرابت داروں کی جو جماعتیں تھیں اور جن کے نام جانوروں کے نام پر رکھے جاتے تھے، وہ بنیادی طور پر وہی چیز تھی جو یونانیوں کی گینیا (genea)اور رومیوں کی گنٹس (gentes)تھی۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ گن کی ابتدائی صورت اصل میں وہ ہے جو امریکہ میں ملتی ہے اور یونان اور روم کے گن بعد کی پیداوار ہیں اور اسی سے ماخوذ ہیں۔   اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ابتدائی زمانے کے یونانیوں اور رومیوں میں سماج گنوں،  فریٹریوں(برادریوں )اور قبیلوں میں منظم تھا۔ ہو بہو ویسی ہی تنظیم امریکی انڈینوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور(جہاں تک ہماری موجودہ واقفیت ہے)گن ایک ایسا ادارہ ہے جو تمدن کے عہد میں داخل ہونے تک اور یہاں تک کہ اس کے بعد بھی سبھی بربری لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ ان باتوں کا ثبوت مل جانے سے قدیم یونانی اور رومی تاریخ کی مشکل ترین گتھیاں چشم زون میں سلجھ گئیں۔  ساتھ ہی اس دریافت نے قدیم زمانے کے۔ ۔۔۔۔ یعنی ریاست کی ابتدا ہونے سے پہلے کے۔ ۔۔۔۔ سماجی دستور کی بنیادی خصوصیتوں پر بھی کچھ روشنی ڈالی ہے جس کی کسی کو توقع تک نہ تھی۔ ایک بار جان لینے کے بعد یہ بات کتنی ہی آسان اور سیدھی سادی کیوں نہ معلوم ہو لیکن مارگن اس کا پتہ ابھی حال میں ہی لگا سکا ہے۔ 1871میں جب اس کی پہلی کتاب شائع ہوئی تھی تو اس وقت تک وہ اس راز کو نہیں پا سکا تھا۔ (1)اور جب مارگن نے اس راز کو پا لیا تو انگلستان کے ماقبل تاریخ کے ماہر جنہیں اپنے آپ پر بڑا اعتماد تھا، مجبوراً کچھ دنوں کے لئے چپ چاپ چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں جا گھسے۔ مارگن نے یک جدی قرابت داروں(سگوتر لوگوں )کی اس جماعت کے لئے عام طور پرلاطینی زبان کے لفط گنس (gens)کو استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ بھی اپنے یونانی مترادف گینوس(gwnos)کی طرح ایک ہی آریائی مادہ گن(gan)سے ماخوذ ہے(جرمن زبان میں قاعدہ کے مطابق آریائی گاف بدل کر کاف ہو جاتا ہے، چنانچہ جرمن میں یہ لفظ کن(kan)ہے جس کے معنی ہیں جننا، جنم دینا، گنس(gens)گینوس(genos)، سنسکرت جاناس (dschanas)، گوتھک کونی (kuni)، (مذکورہ بالا قاعدے کے مطابق)، قدیم نارڈک اور اینگلوسیکسن کائن(kyn)، انگریزی کن(kin)وسطی ٹکسالی جرمن زبان کا لفظ کیونے (kunne)، سبھی کا ایک ہی مطلب ہے__ قرابت داری، نسل۔ لیکن لاطینی زبان کا گنس (gens)اور یونانی کا گینوس (genos)خاص طور پر ایسے قرابت داروں کی جماعت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن کو ایک ہی مورث اعلیٰ کی(اور اس صورت میں مرد مورث اعلیٰ کی)اولاد ہونے کا دعویٰ ہے، اور جو بعض سماجی اور مذہبی اداروں کے ذریعے سے ایک مخصوص کمیونٹی یا برادری کے رشتے میں منسلک ہو گئے ہیں جس کے ابتدائی حالات اور نوعیت کے بارے میں آج تک ہمارے سبھی مورخ تاریکی میں تھے۔

پونالوان خاندان کے سلسلے میں ہم اوپر دیکھ آئے ہیں کہ شروع میں گن کیسے بنتا ہے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہوتے تھے جو پونالوان شادی کی بدولت اور ان تصورات کے مطابق جو لازمی طور پر اس کے لازم ملزوم تھے، ایک خاص عورت مورث اعلیٰ کی جو اس گن کی بانی تھی، اولاد مانے جاتے تھے۔ چونکہ خاندان کی اس شکل میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ بچے کا باپ کون ہے، اس لئے نسل صرف عورت سے چلتی ہے۔ اور چونکہ بھائی بہن میں شادی نہیں ہو سکتی تھی اور مرد صرف دوسری نسل کی عورتوں سے شادی کر سکتے تھے، اس لئے ایسی عورتوں سے جو بچے پیدا ہوتے تھے، وہ مادری حق کے مطابق باپ کے گن سے باہر چلے جاتے تھے۔ اس طرح ہر سگوتر میں صرف لڑکیوں کی اولاد قرابت داری کے دائرے میں رہ سکتی تھی اور بیٹوں کی اولاد اپنی ماں کے گنوں میں چلی جاتی تھی۔ یک جدی قرابت داروں کی یہ(سگوتر)جماعت جب قبیلے کے اندر انہی جیسی دوسری جماعتوں سے علیحدہ ایک جماعت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے تو پھر اس کا کیا حشر ہوتا ہے؟

مارگن نے ایرو کواس لوگوں کے اور ان میں بھی خاص کر سینیکا قبیلے کے گن کو ابتدائی گنوں کی کلاسیکی شکل مانا ہے۔ ہر قبیلے میں آٹھ گن ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل جانوروں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ (1)بھیڑیا، (2)بھالو، (3)کچھوا، (4)اودبلاؤ، (5)ہرن، (6)چوہا، (7)بگلا، (8)باز۔  ان میں سے ہر گن میں حسب ذیل رسم و رواج پائے جاتے ہیں :

(1)وہ اپنا ساشم(یعنی امن کے زمانے کا رہنما)اور اپنا سالار(یعنی جنگ کا رہنما)چنتا ہے۔ ساشم کو گن کے اندر سے ہی چننا پڑتا تھا اور اس کا عہدہ گن کے اندر موروثی ہوتا تھا جس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ جیسے ہی یہ جگہ خالی ہوتی اس کو پر کر دیا جاتا تھا۔ جنگی سالار گن کے باہر سے بھی چنا جا سکتا تھا اور کبھی کبھی جگہ خالی بھی رہتی تھی۔ سابق ساشم کا بیٹا کبھی اس کا جانشین نہیں ہو سکتا کیونکہ ایرو کو اس لوگوں میں مادری حق کا رواج تھا اور اسی لئے بیٹا دوسرے گن کا رکن ہوتا تھا۔ لیکن ساشم کا بھئی یا بھانجا اکثر اس کی جگہ پر چن لیا جاتا تھا۔ انتخاب میں عورت اور مرد دونوں ووٹ دیتے تھے۔ لیکن جو آدمی چنا جاتا تھا اسے باقی سات گنوں کی منظوری بھی لینی پڑتی تھی، اس کے بعد ہی اسے باقاعدہ ساشم کے عہدے پر بٹھایا جاتا تھا اور یہ رسم تمام اترو کواس لوگوں کے وفاق کی عام کو نسل انجام دیتی تھی۔ اس کی اہمیت آگے چل کر واضح ہو گی۔ گن کے اندر ساشم کا اقتدار محض بزرگانہ اور خالص اخلاقی نوعیت کا ہوتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں جبر کے کوئی ذرائع نہیں تھے۔ اپنے عہدے کی بدولت وہ سینیکا قبیلے کی کونسل کا رکن بھی تھا اور سبھی ایرو کواس قبیلوں کی وفاقی کونسل کا بھی جنگی سالار صرف فوجی مہم کے دوران میں حکم دے سکتا تھا۔

(2)گن اپنے ساشم اور جنگی سالار کو جب چاہے برطرف کر سکتا تھا۔ یہ کام بھی مرد اور عورت مل کر کرتے تھے۔ اس کے بعد برطرف کیا ہوا آدمی اوروں کی طرح ایک عام سپاہی یا شہری کی حیثیت سے رہتا تھا۔ قبیلے کی کونسل گن کی خواہش کے خلاف بھی ساشم کو برطرف کر سکتی تھی۔

(3)کسی شخص کو گن کے اندر شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ گن کا بنیادی قاعدہ تھا جو اس کی شیرازہ بندی کو قائم رکھتا تھا۔ اس منفی صورت میں دراصل خون کے اس نہایت مثبت رشتے کا اظہار ہوتا تھا جس کی بدولت ان افراد کو جو یہاں جمع تھے، ملا کر گن بنایا گیا تھا۔ اس معمولی سی حقیقت کو دریافت کر کے مارگن نے پہلی مرتبہ گنوں کی نوعیت کا انکشاف کیا۔ اس وقت تک لوگ گن کی اصل ماہیت کو نہیں سمجھتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ وحشی اور بربری لوگوں کے بارے میں پہلے کی رپورٹوں میں ان مختلف جماعتوں کو جن سے مل کر گن کی تنظیم بنتی ہے، بلا سوچے سمجھے اور بلا کسی فرق اور امتیاز کے قبیلہ،  جرگہ اور  تھم وغیرہ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور کبھی کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان کے اندر شادی کرنے کی ممانعت ہے اور اس طرح وہی الجھن پیدا کی گئی جس کو دور کرنے کے لئے مسٹر میکلینن نے مداخلت کی اور انہوں نے نپولین کی طرح ایک فرمان نکال کر ربط و نظم قائم کرنا چاہا۔ انہوں نے فرمان صادر کر دیا کہ سبھی قبیلے دو گروہوں میں بٹے ہوتے ہیں،  ایک وہ جن میں شادی کرنا منع ہے(exogamous)اور دوسرے وہ جن میں اس کی اجازت ہے (endogamous)اور اس طرح خوب گڑبڑ پیدا کرنے کے بعد وہ اس چھان بین میں لگ گئے کہ ان کے مہمل گروہوں میں سے کون سا گروہ زیادہ پرانا ہے۔ گن کی دریافت کے ساتھ یہ بے وقوفی کی باتیں آپ ہی آپ ختم ہو گئیں۔ ۔۔۔۔ گن خون کے رشتوں کی بنیاد پر بنتے تھے اور اس کے رکن آپس میں شادی نہیں کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایرو کواس لوگ ارتقا کی جس منزل پر تھے، اس میں گن کے اندر شادی کی ممانعت کے اس قاعدہ پر سختی کے ساتھ عمل ہوتا تھا۔

(4)مرنے والے کی جائیداد گن کے باقی لوگوں میں تقسیم کر دی جاتی تھی کیونکہ اس جائیداد کو گن کے اندر ہی رہنا تھا۔ چونکہ کوئی ایرو کواس شخص مرنے پر بہت ترکہ نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے وہ گن کے اندر بہت ہی قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ جب کوئی مرد مرتا تو اس کی جائیداد اس کے سگے بھائی بہنوں میں اور اس کے ماموؤں میں بانٹ دی جاتی۔ اور جب کوئی عورت مرتی تو اس کے اپنے بچوں اور اپنی بہنوں میں،  مگر اس کے بھائیوں کو کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے کا ترکہ نہیں ملتا تھا اور نہ بچوں کو باپ کی وراثت ملتی تھی۔

(5)گن کے ممبروں کا فرض ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کی مدد اور حفاظت کریں اور خاص کر اگر باہر کا کوئی آدمی گن کے کسی ممبر کو نقصان پہنچایا گیا ہو تو اس کا بدلہ لینے میں عملی مدد کریں۔  فرد اپنی حفاظت کے لئے گن کی مدد پر بھروسہ کر سکتا تھا اور کرتا تھا۔ اگر کوئی شخص اسے تکلیف پہنچاتا تو گویا وہ سارے گن کو تکلیف پہنچاتا تھا۔  اسی سے،  یعنی گن کے خون کے رشتے سے، خونی انتقام لینے کا رواج پیدا ہوا اور اسے فرض قرار دیا گیا۔  ایرو کواس لوگ اس فرض کو غیر مشروط طریقے پر مانتے تھے۔ اگر گن کے باہر کے کسی آدمی نے گن کے کسی آدمی کو قتل کر دیا تو مقتول کے گن سے تعلق رکھنے والے پر اس خون کا بدلہ لینا ضروری تھا۔ پہلے تصفیہ کرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ قاتل کے گن کی کونسل بلائی جاتی اور مقتول کے گن کی کونسل کے پاس معاملہ کا تصفیہ کر لینے کے لئے تجویزیں بھیجی جاتیں۔

اس کا طریقہ زیادہ تر یہ ہوتا تھا کہ کونسل اپنی طرف سے معذرت کرتی اور خون بہا کے طور پر بیش قیمت تحفے بھیجتی۔ اگر ان کو قبول کر لیا جاتا تو بات رفت گزشت ہو جاتی۔ اور اگر نہیں،  تو مقتول کا گن بدلہ لینے کے لئے ایک یا متعدد آدمیوں کو تعینات کرتا تھا۔ ان کا کام قاتل کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دینا تھا۔ اگر یہ ہو جاتا تو قاتل کے گن کو شکایت کا کوئی حق نہیں تھا اور سمجھا جاتا کہ بدلہ پورا ہو گیا۔

(6)گن کا اپنا مخصوص نام یا ناموں کا سلسلہ ہوتا تھا جسے سارے قبیلے میں صرف وہی گن استعمال کر سکتا تھا۔  چنانچہ کسی شخص کے نام سے ہی یہ پتہ لگ سکتا تھا کہ وہ کس گن کا آّدمی ہے۔ جو شخص گن کا نام استعمال کرتا، اسے گن کے حقوق بھی حاصل ہوتے تھے۔

(7)گن اجنبی آدمیوں کو بھی اپنا ممبر بنا سکتا تھا۔ اور ایسا ہونے کے بعد وہ شخص پورے قبیلے کا ممبر سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے قیدیوں میں سے جن لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا، وہ کسی گن میں شریک کر لئے جاتے تھا۔ اور اس طرح پورے سینیکا قبیلے کے رکن بن جاتے تھے، اور پھر انہیں قبیلے اور گن کے سارے اختیارات حاصل ہو جاتے تھے۔ اجنبیوں کو گن کے انفرادی ممبروں کی درخواست پر ہی ممبر بنایا جاتا تھا۔ مرد کہتے کہ فلاں اجنبی کو میرا بھائی یا بہن مان لیا جائے۔ اور عورتیں کہتیں کہ اسے میری اولاد مان یا جائے۔ منظوری کے لئے ضروری تھا کہ گن کے اندر شامل کرنے کی رسم باقاعدہ طریقے سے انجام دی جائے۔  جن گنوں میں کسی سبب سے آدمیوں کی تعداد گھٹ کر بہت کم ہو جاتی تھی وہ اکثر دوسرے گنوں سے اجازت لے کر بہت سے لوگوں کو اپنے گن میں شامل کر لیتے تھے۔ ایرو کواس لوگوں میں گن میں شامل کرنے کی رسم قبیلے کی کونسل کے ایک عام جلسے میں انجام دی جاتی تھی اور اس کی حیثیت ایک مذہبی رسم کی ہو گئی تھی۔

(8)انڈین گنوں میں مخصوص مذہبی رسموں کا وجود ثابت کرنا مشکل ہے۔  اور پھر بھی اس میں شک نہیں کہ انڈینوں کی مذہبی رسمیں کم و بیش گنوں سے تعلق رکھتی تھیں۔  ایرو کواس لوگوں میں سال میں چھ مذہبی تقریبیں ہوتی تھیں جن میں الگ الگ گنوں کے ساشم اور جنگی سالار جو اپنے عہدے کی بدولت”محافظ دین”بھی سمجھے جاتے تھے، پروہتوں اور پجاریوں کا کام کرتے تھے۔

(9)ہر گن کا ایک قبرستان ہوتا تھا۔ ریاست نیو یارک کے ایرو کواس لوگ اب چاروں طرف سے گورے لوگوں سے گھر گئے ہیں۔ ،   اس لئے ان کا قبرستان باقی نہیں رہا، لیکن پہلے تھا۔  دوسرے انڈین قبیلوں کے اب بھی خود اپنے قبرستان ہوتے ہیں۔  مثال کے طور پر اس ٹسکارور قبیلے کا، جس کو ایرو کواس لوگوں سے قریبی تعلق ہے، اپنا قبرستان ہے، اگرچہ یہ لوگ عیسائی ہیں پھر بھی ان کے قبرستان میں ہر گن کے لئے قبروں کی ایک علیحدہ قطار ہوتی ہے۔ ماں اور اس کے بچے ایک ہی قطار میں دفن کئے جاتے ہیں لیکن باپ کو اس قطار میں جگہ نہیں دی جاتی۔ ایرو کواس لوگوں میں تجہیز و تکفین کے وقت سبھی آدمی ماتم کرتے ہیں،   قبر تیار کرتے ہیں،  جنازے پر تقریریں کرتے ہیں وغیرہ۔

(10)گن کی ایک کونسل ہوتی تھی۔ وہ ایک جمہوری مجلس تھی جس میں گن کے تمام بالغ مرد اور عورتیں شامل ہوتی تھیں اور سب کی آواز برابر ہوتی تھی۔ یہی کونسل ساشم اور جنگی سالار چنتی یا انہیں برطرف کرتی تھی۔ اسی طرح وہی کونسل اور باقی”محافظین مذہب”کو بھی چنتی اور برطرف کرتی تھی۔ گن کے کسی ممبر کے مارے جانے پر یہی کونسل خون بہا (wergeld)لینے یا خون کا بدلہ خون سے لینے کا فیصلہ کرتی۔ اسی میں اجنبیوں کو گن کے اندر شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ مختصر یہ کہ گن میں یہی کونسل سارے اختیارات کی مالک تھی۔

امریکی انڈینوں کے ایک عام گن کے حسب ذیل اختیارات ہوتے تھے۔

"ایک انڈین گن کے سبھی رکن ذاتی طور پر آزاد ہیں۔  اور ایک دوسرے کی آزادی کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے۔  انفرادی حقوق اور اختیارات میں سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔  ساشم اور سالاروں کو بھی کوئی فوقیت نہیں۔  یہ ایک ایسی برادری ہے جو قرابت داری کے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔ آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے اصول کا کبھی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا مگر گن کے یہی بنیادی اصول ہیں۔  گن ایک سماجی نظام کی اکائی ہے، گن وہ بنیاد ہے جس پر انڈین سماج کی تنظیم ہوئی تھی۔ آزادی اور خود داری کا احساس جو انڈینوں کے کردار کی عام خصوصیت ہے، اسی کا نتیجہ ہے۔ (2)”

جس وقت امریکہ دریافت ہوا انڈین سارے شمالی امریکہ میں ایسے گنوں میں منظم تھے۔ جو مادری حق کے مطابق بنے تھے۔ ڈکوٹا جیسے محض چند ہی قبیلے ایسے تھے جن میں گن کا زوال شروع ہو چکا تھا اور کچھ ایسے بھی تھے، جیسے اوجبوا اور اوماہا،  جن کی تنظیم پدری حق کے مطابق کی گئی تھی۔

امریکی انڈینوں کے بہت سے قبیلے ایسے تھے جن میں پانچ یا چھ سے زیادہ گن تھا۔ ان میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تین چار یا اس سے بھی زیادہ گنوں کو ملا کر ایک مخصوص گروہ بنا دیا جاتا تھا۔ مارگن نے اس کے انڈین نام کا یونانی مترادف ڈھونڈ کر فریٹری(برادری)کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سینیکا قبیلے میں اس طرح کی دو فریٹریاں تھیں۔   پہلی میں ایک سے چار نمبر تک کے گن شامل تھے اور دوسری میں پانچ سے آٹھ نمبر تک کے۔ زیادہ گہری چھان بین سے یہ پتہ لگا کہ یہ فریٹریاں اصل میں ان ابتدائی گنوں کی نمائندہ ہیں جن میں سب سے پہلے قبیلے کی تقسیم ہوئی تھی۔ کیونکہ ایک گن میں شادی کی ممانعت ہو جانے کے بعد ضروری ہو گیا تھا کہ ہر قبیلے میں کم سے کم دو گن ہوں تاکہ قبیلے اپنے آزاد وجود کو قائم رکھ سکیں۔   جیسے جیسے قبیلہ بڑھتا گیا، ہر گن مزید دو یا زیادہ گنوں میں تقسیم ہو تا گیا اور ہر ایک ان میں سے ایک علیحدہ گن بن گیا۔ اور جو ابتدائی گن تھا یعنی جس میں سبھی لڑکی والے گن شامل ہیں،  فریٹری کے گن آپس میں بھائی یا برادر گن ہیں اور دوسری برادری یا فریٹری میں ایک فریٹری کے گن آپس میں بھائی یا برادر گن ہیں اور دوسری برادری یا فریٹری کے گن اس کے رشتے کے بھائی ہوتے ہیں۔  ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ یک جدی قرابت داری(سگوتر)کے امریکی نظام میں یہ القاب نہایت حقیقی اور ٹھوس اہمیت رکھتے ہیں۔  ابتدا میں سینیکا قبیلے کا کوئی آدمی ہرگز اپنی برادری فریٹری(کے اندر شادی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن بہت دن ہوئے کہ یہ پابندی اٹھا دی گئی ہے اور اب یہ محض اپنے گن تک محدود ہے۔ سینیکا قبیلے میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ "بھالو”  اور”ہرن”نام کے دو گن شروع میں تھے۔ دوسرے گن ان ہی کی شاخیں ہیں جو بعد میں ان سے پھوٹیں۔   ایک بار جب اس ادارے نے جڑ پکڑ لی تو پھر حسب ضرورت اس میں تبدیلی بھی ہوئی۔ توازن قائم رکھنے کے لئے اکثر ایسا بھی ہوا کہ گن ناپید ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف قبیلوں میں ہم ایک ہی نام کے متعدد گنوں کو مختلف برادریوں(فریٹریوں)میں منظم پاتے ہیں۔

ایرو کواس لوگوں میں فریٹری(برادری)کے منصب کسی حد تک سماجی اور کسی حد تک مذہبی ہیں۔  (1)فریٹریاں آپس میں گیند کھیلتی ہیں۔  ہر فریٹری اپنے بہترین کھلاڑیوں کو میدان میں اتارتی ہے۔ فریٹری کے باقی لوگ تماشا دیکھتے ہیں،   جنہیں فریٹری کے مطابق الگ الگ صفوں میں کھڑا کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنے اپنے فریق کی جیت کے بارے میں شرط لگاتے ہیں۔  (2)قبیلے کی کونسل میں ہر برادری کے ساشم اور جنگی سالار ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں۔  مختلف گرو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھتے ہیں اور تقریر کرنے والا ہر فریٹری کے نمائندوں کو ایک علیحدہ جماعت کی حیثیت سے خطاب کرتا ہے۔ (3)اگر قبیلے میں کوئی آدمی قتل کر دیا گیا ہو اور قاتل اور مقتول ایک ہی فریٹری کے نہ ہوں تو مقتول کا گن اکثر اپنے برادر گنوں سے اپیل کرتا ہے۔ یہ گن مل کر فریٹری کی کونسل بلاتے ہیں اور دوسری فریٹری سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ برادری یا فریٹری ہی شروع میں اصل گن تھی اور چونکہ وہ اپنی شاخوں یعنی الگ الگ گنوں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اس لئے اس کی کامیابی کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔ (4)کسی فریٹری کے کسی اہم آدمی کے مرنے پر دوسری فریٹری تجہیز و تکفین کا انتظام کرتی ہے اور مرنے والی کی فریٹری کے لوگ ماتم کرتے ہوئے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں۔  اگر کوئی ساشم مر جائے تو دوسری فریٹری کے لوگ ایرو کواس لوگوں کی وفاقی کونسل میں اطلاع دیتے ہیں کہ اس کی جگہ خالی ہو گئی۔ (5)ساشم کے انتخاب کے وقت فریٹری کی کونسل پھر سامنے آتی ہے۔ برادر گنوں کی منظوری کی حیثیت محض رسمی ہے لیکن دوسری فریٹری کے گن مخالفت کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے تو انتخاب کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ (6)پہلے ایرو کواس لوگوں میں خاص قسم کی پراسرار مذہبی رسمیں ہوتی تھیں جنہیں گورے لوگmedicine- lodges(جادو ٹونا(کہتے تھے۔ سینیکا قبیلے میں یہ رسمیں دو مذہبی گروہ ادا کرتے تھے۔ ہر گروہ ایک برادری کے لئے تھا۔ نئے ممبروں کو شامل کرنے کے لئے باقاعدہ مذہبی رسمیں ادا کی جاتی تھیں۔  (7)اگر، جیسا کہ تقریباً یقینی معلوم ہوتا ہے، فتح امریکہ کے وقت(22)تلس کلا کے چار حصوں(مربعوں (پر جو چار یک جدی گروہ (lineages(قابض تھے۔ وہ چار برادریاں تھیں،  تو اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ یونانیوں کی برادریوں اور جرمنوں کے اسی قسم کے یک جدی گروہوں(سگوتروں (گروہ لڑائی میں حصہ لیتا تھا۔ اس کی اپنی الگ سپاہ، الگ وردی اور جھنڈا اور الگ اپنا سالار ہوتا تھا۔

جس طرح کئی گنوں سے مل کر ایک فریٹری(برادری(بنتی تھی اسی طرح، اپنی کلاسیکی(قدیم(شکل میں،   کئی برادریوں سے مل کر ایک قبیلہ بنتا تھا۔ اکثر بہت سے قبیلوں میں جو کمزور ہو گئے ہیں،  یہ بیچ کی کڑی یعنی برادری ختم ہو گئی ہے۔

 امریکہ میں انڈین قبیلوں کی نمایاں خصوصیتیں کیا ہیں ؟

(1)ہر قبیلے کا اپنا علاقہ اور اپنا نام ہوتا تھا۔ اس زمین کے علاوہ جہاں پر بستی ہوتی تھی ہر قبیلے کے پاس ایک بڑا علاقہ شکار کھیلنے اور مچھلی پکڑنے کے لئے ہوتا تھا۔ اس کے علاقہ بہت دور تک ایسے زمین تھی جو کسی قبیلے کی نہیں تھی اور جس کے بعد سے دوسرے قبیلے کا علاقہ شروع ہو تا تھا۔ جہاں دو قبیلے ایک دوسرے سے ملتی جلتی زبان بولتے تھے، وہاں بیچ کا یہ غیر مقبوضہ علاقہ نسبتاً مختصر ہوتا تھا۔ اور جہاں ان کی بولیوں میں کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا وہاں وہ علاقہ زیادہ بڑا ہوتا تھا۔ ایسے ہی غیر مقبوضہ علاقوں میں جرمنوں کے سرحدی جنگل تھے، وہ بنجر زمین تھی جسے سیزر کے سوئیویوں نے اپنے علاقے کے چاروں طرف بنا رکھا تھا، ڈنمارک کے باشندوں اور جرمنوں کے درمیان کا sarnholt(ڈینش زبان میں (jarnved, limes Danicus(تھا، جرمنوں اور سلاف لوگوں کے درمیان کے سیکسن جنگل اور braniborتھے(جس کے معنی سلاف زبانوں میں "حفاظتی جنگل”کے ہیں (، جس سے شہر برانڈ نبرگ کا نام ماخوذ ہے __یہ سب ایسے ہی غیر مقبوضہ علاقے تھے۔ ان غیر واضح سرحدوں کے بیچ میں جو علاقہ پڑتا تھا وہ قبیلے کی مشترک ملکیت تھی۔ پڑوس کے قبیلے والے بھی اسی تسلیم کرتے تھے اور اگر دوسرے لوگ اس میں گھسنے کی کوشش کرتے تو قبیلہ اس علاقے کی حفاظت کرتا اور انہیں آنے سے روکتا۔ سرحد کے غیر واضح ہونے کی وجہ سے عملی دشواریاں زیادہ تر اسی وقت پیدا ہوئیں جب آبادی بہت بڑھ گئی۔ قبیلے کا نام بہ ظاہر بہت سوچ سمجھ کر نہیں رکھا جاتا تھا۔ اکثر ان کا نام محض کسی اتفاق کی وجہ سے پڑ جاتا تھا۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد پڑوس کے قبیلے والے کسی قبیلے کو اس کے اپنے نام سے نہیں بلکہ کسی اور نام سے پکارے لگے۔ جرمنوں (die Deutschen(کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ تاریخی طور پر ان کا پہلا جامع نام–جرمانی(Germanen۔۔ انہیں کیلنوں نے دیا تھا۔

(2)ہر قبیلے کی اپنی ایک خاص بولی ہوتی تھی۔ اصل میں قبیلہ اور بولی دونوں کا دائرہ ایک ہوتا تھا۔ تقسیم در تقسیم سے نئے قبیلوں اور بولیوں کی نشوونما امریکہ میں ابھی حال تک جاری تھی اور یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا سلسلہ اب بند ہو گیا۔ جہاں دو کمزور قبیلے مل کرایک ہو گئے ہیں وہاں مستثنیٰ صورتوں میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی قبیلے اکے اندر دو بہت ملتی جلتی بولیاں بولی جاتی ہیں۔   ایک امریکی قبیلے میں اوسطاً دو ہزار آدمی ہوتے ہیں۔  لیکن چیرو کی قبیلے میں چھبیس ہزار آدمی ہیں۔   ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک بولی بولنے والے انڈینوں کی وہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

(3)گنوں کے منتخب کئے ہوئے ساشم اور جنگی سالاروں کو ان کے عہدے پر بٹھانے کا حق قبیلے کو تھا۔

(4)قبیلے کو اختیار تھا کہ چاہے تو گن کی رائے کے خلاف بھی ان دونوں عہد  داروں کو برخاست کر دے۔  چونکہ یہ ساشم اور جنگی سالار قبیلے کی کونسل کے ممبر ہوتے ہیں اس لئے ان کے سلسلے میں قبیلے کے ان اختیارات کی تشریح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔  جہاں کہیں متعدد قبیلوں کا وفاق قائم ہوا تھا اور ایک وفاقی کونسل میں سبھی قبیلوں کی نمائندگی ہوتی تھی وہاں مذکورہ بالا اختیارات اس ادارے کے ہاتھ میں سونپ دیئے جاتے تھا۔

(5)قبیلے کے مذہبی خیالات(دیومالا(اور عبادت کی رسمیں ایک سی ہوتی تھیں۔  "بربری لوگوں کے مخصوص انداز کے مطابق امریکہ کے انڈین ایک مذہبی قوم تھے۔ (23)”

ابھی تک تنقیدی نقطہ نظر سے ان کی دیومالا کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی ہے۔ ان لوگوں نے اپنے مذہبی عقائد کو شخصی صورت دے دی تھی۔ ۔۔۔ وہ طرح طرح کے بھوت پریت کو مانتے تھے لیکن وہ بربریت کے جس ابتدائی دور میں تھے، اس میں ابھی تک ان ارواح کو مٹی یا پتھر کے سانچوں میں نہیں ڈھالا گیا تھا، یعنی بت اور مورتیں نہیں بنائی گئی تھیں۔  فطرت اور اس کے عناصر کی یہ پرستش رفتہ رفتہ بہت سے دیوی دیوتاؤں کی پوجا کی شکل اختیارکرنے لگی تھی۔ ہر قبیلے کے اپنے اپنے تیوہار اور عبادت کی مخصوص صورتیں تھیں،  جس میں ناچ اور کھیل ہوتے تھا۔ ناچ سبھی مذہبی تقریبوں کا لازمی جزو تھا اور ہر قبیلے کے لوگ علیحدہ علیحدہ اپنے تقریبیں مناتے تھے۔

(6)مشترک معاملات کے لئے قبیلے کی ایک کونسل ہوتی تھی۔ اس میں مختلف گنوں کے سبھی ساشم اور جنگی سالار ہوتے تھے۔ یہ ان گنوں کے سچے نمائندے تھے کیونکہ انہیں ہر وقت برخاست کیا جا سکتا تھا۔ کونسل کا کھلا اجلاس ہوتا تھا جس کے چاروں طرف قبیلے کے دوسرے لوگ کھڑے ہوتے تھے جنہیں بحث میں حصہ لینے اور رائے دینے کا حق ہوتا تھا۔

لیکن فیصلہ کرنا کا اختیا ر صرف کونسل کو تھا۔ عام قاعدہ یہ تھا کہ ہر شخص جو وہاں پر موجود ہوتا کونسل کو اپنی بات سنا سکتا تھا۔ عورتیں بھی کسی اپنی پسند کے ترجمان کے ذریعے سے اپنی رائے ظاہر کر سکتی تھے۔ ایرو کواس لوگوں میں آخری فیصلہ صرف اتفاق رائے سے ہو سکتا تھا۔ جرمن مارک کمیونٹی(برادریوں (کے زیادہ تر فیصلوں میں بھی یہی صورت تھی دوسرے قبیلوں کے ساتھ اپنے تعلقات متعین کرنے کا کام خاص طور پر قبیلے کی کونسل کا تھا۔ دوسرے قبیلوں کے سفیر اس کے سامنے حاضر ہوتے اور وہی دوسرے قبیلوں میں اپنے ایلچی بھیجتی۔ وہی کونسل جنگ اور امن کا فیصلہ کرتی۔ جنگ چھڑنے پر وہی لوگ لڑنے کے لئے بھیجے جاتے تھے جو خود اپنی رضا مندی سے آگے آتے تھے۔ اصولاً ایک قبیلے کی ان تمام قبیلوں سے جنگ تھی جن کے ساتھ باقاعدہ امن کا معاہدہ نہیں تھا۔ ایسے دشمنوں کے خلاف فوجی مہم کی تیاری زیادہ تر چند ایک ممتاز ساونت کرتے تھے۔ وہ ایک جنگی رقص کا انتظام کرتے اور جو کوئی اس ناچ میں شامل ہوتا وہ گو یا اس مہم میں شریک ہونے کا اعلان کر دیتا تھا۔ ان لوگوں کو لے کر اسی وقت ایک دستہ بنا لیا جاتا اور وہ فوراً کوچ کر جاتا۔ جب قبیلے کے علاقے پر دوسرے لوگ حملہ کرتے تو اس ی حفاظت کا کام بھی اسی طرح رضاکاروں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ رضا کاروں کے ان دستوں کی روانگی اور واپسی کے موقع پر بڑی دھوم دھام سے جشن منایا جاتا۔ ان مہموں کے لئے قبیلے کی کونسل کی منظوری ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی، منظوری نہ تو مانگی جاتی تھی اور نہ دی جاتی تھی۔ ان مہموں کا وہی حال تھا جو جرمن پابند خدمت سپاہیوں کی نجی جنگی مہموں کا تھا جس کی تفصیل تاسیت نے بیان کی ہے۔  فرق صرف یہ ہیں کہ جرمنوں میں پابند خدمت سپاہیوں کی حیثیت کم و بیش مستقل سپاہیوں کی سی تھی۔ امن کے زمانے میں بھی ان کا ایک چھوٹا سا مضبوط دستہ ہوتا تھا جس میں جنگ کے زمانے میں اور رضاکار بھی شامل ہو جاتے تھے۔ ان فوجی دستوں میں بہت لوگ نہیں ہوتے تھے امریکی انڈینوں کی نہایت اہم مہموں میں بھی،  جن میں انہیں لڑنے کے لئے بہت دور جانا پڑتا تھا، بہت کم لوگ جاتے تھے۔ جب کسی بڑی لڑائی کے لئے ایسے متعدد دستے ایک جگہ جمع ہوتے تو ہر دستہ صرف اپنے ہی سالار کا حکم مانتا تھا۔ جن کے داؤ پیچ سالاروں کی کونسل مل کر تیا کرتی تھی تا کہ پوری جنگ ایک ہی داؤ پیچ کے مطابق لڑی جائے۔ چوتھی صدی میں اپررائن کے المانی لوگوں نے بھی جنگ کا یہی طریقہ اختیار کیا تھا جس کا حال امیانس مارسیلینس نے بیان کیا ہے۔

(7)بعض قبیلوں میں ایک بڑا سردار ہوتا تھا۔ لیکن اس کے اختیارات بہت محدود تھے۔ وہ بھی ایک ساشم تھا جسے ایسے موقعوں پر جبکہ فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے، عارضی فیصلے کرنے ہوتے تھے۔ لیکن یہ فیصلے اسی وقت تک کے لئے ہوتے تھے جب تک کہ کونسل اپنے اجلاس میں کوئی آخری فیصلہ نہ کر لیتی۔ یہ ایک ایسا عہدہ دار مقرر کرنے کی کوشش تھی جو فیصلوں پر عمل کراسکے، لیکن یہ نہایت کمزور کوشش تھی جس کا مقصد پوری طرح واضح نہیں تھا۔ اور جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔، دراصل جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے اگر سبھی جگہ نہیں تو زیادہ تر جگہوں میں سب سے بڑا فوجی سالار ہی ترقی کر کے ایسا عہدہ دار بن گیا۔

امریکہ کے انڈینوں کی بہت بڑی اکثریت کبھی بھی قبائلی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ یہ چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے جن میں بہت کم لوگ ہوتے تھے، جن میں آپس میں بڑے بڑے غیر مقبوضہ سرحدی علاقوں کی وجہ سے بہت فاصلہ ہوتا تھا۔ اور جو ہمیشہ کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے۔ اور یہ تھوڑے سے آدمی ایک بہت بڑے علاقے میں بکھرے ہوئے تھے۔ عارضی مصلحتوں کی بنیاد پر قرابت دار قبیلوں میں کہیں کہیں اتحاد قائم ہوتا تھا تو وقتی خطرے کے گزر جانے کے بعد وہ ختم ہو جاتا تھا۔ لیکن بعض علاقوں میں ایسے قبیلے جو شروع میں قرابت دار تھے مگر آگے چل کر غیر متحد ہو گئے تھے، پھر پائیدار وفاقوں کی صورت میں متحد ہوئے اور اس طرح انہوں نے قوموں کی تشکیل کی طرف پہلا قدم اٹھایا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہمیں اس وفاق کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ صورت ایرو کواس لوگوں میں ملتی ہے۔ ان کا ابتدائی وطن مسی سپی کے مغرب میں تھا جہاں غالباً وہ عظیم ڈکوٹا نامی نسل کا حصہ تھے۔ وہاں سے نکل کر وہ بہت دنوں تک گھومتے پھرتے رہے اور پھر اس علاقے میں آبسے جو آج کل نیویارک کی ریاست ہے۔  وہ پانچ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے:  سینیکا،  کایوگا، اوننڈ گا،  اونیڈا اور موہادک۔ وہ مچھلی،  شکار کئے ہوئے جانور اور بہت ہی بھدی قسم کی باغبانی کی پیداوار پر گزر بسر کرتے تھے۔ وہ ایسے گاؤں میں رہتے تھے جو زیادہ تر باڑوں سے گھرے ہوتے تھے۔ ان کی تعداد کبھی بھی بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہوئی۔ ان میں متعدد گن تھے جو پانچوں قبیلوں میں پائے جاتے تھے۔ وہ ایک ہی زبان کی مختلف بولیاں بولتے تھے جو ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی تھیں۔  وہ ایک ہی سلسلے کے قطعہ پر رہتے تھے جو پانچوں قبیلوں میں بتا ہوا تھا۔ چونکہ اس علاقے پر انہوں نے ابھی حال میں قبضہ کیا تھا اس لئے قدرتی بات تھی کہ جن لوگوں کو انہوں نے اس جگہ سے ہٹایا تھا ان کے مقابلے میں آپس میں ان پانچوں قبیلوں میں اتحاد تھا۔ حد سے حد پندرہویں صدی کی ابتدا میں یہ چیز بڑھ کر ایک "مستقل اتحاد”یا وفاق کی صورت اختیار کر چکی تھی، جسے اپنی اس طاقت کا اتنا گھمنڈ ہوا کہ اس نے فوراً ہی دوسروں پر چڑھائی شروع کر دی اور اپنی طاقت کے انتہائی عروج کے زمانے میں یعنی 1675 کے لگ بھگ اس نے آس پاس کے بہت بڑے علاقی کو فتح کر لیا اور وہاں کے باشندوں میں کچھ کو نکال باہر کیا اور کچھ کو خراج ادا کرنے پر مجبور کیا۔ ان انڈینوں میں جو بربریت کے ابتدائی دور سے آگے نہیں بڑھے تھے(جن میں میکسیکو،  جدید میکسیکو اور پیرو کے باشندوں کے علاوہ باقی سب شامل تھے(ایرو کواس لوگوں کی وفاقی تنظیم سب سے زیادہ ترقی یافتہ سماجی تنظیم تھی۔

 اس وفاق کی بنیادی خصوصیتیں یہ تھیں :

(1)مکمل برابری اور قبیلے کے تمام اندرونی معاملوں میں پوری آزادی کی بنیاد پر پانچ یک جدی قبیلوں میں مستقل اتحاد قائم تھا۔ وفاق کی اصل بنیاد یہی خون کا رشتہ تھا۔ ان پانچ قبیلوں میں تین پدری قبیلے کہلاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کے بھائی تھے اور باقی دو پسری قبیلے تھے۔ وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ تین گن سب سے پرانے تھے اور ان کے زندہ نمائندے پانچوں قبیلوں میں موجود تھے۔  اور دوسرے تینوں کے صرف تین قبیلوں میں تھے۔ ان گنوں میں سے ہر ایک کے ممبر پانچوں قبیلوں میں بھائی بھائی سمجھے جاتے تھے۔ بولی ٹھولی کے فرق کے باوجود زبان کی وحدت اس بات کا اظہار اور ثبوت تھی کہ پانچوں قبیلے ایک ہی نسل سے ہیں۔

(2)وفاق کا انتظامی ادارہ ایک کونسل تھی جس میں پچاس ساشم تھے جن میں ہر ایک کا درجہ اور اعزاز یکساں تھے۔ وفاق سے تعلق رکھنے والی سبھی باتوں پر یہی کونسل فیصلہ کیا کرتی تھی۔

(3)جب وفاق قائم کیا گیا تو یہ پچاس ساشم نئے عہدہ دار کی حیثیت سے مختلف قبیلوں اور گنوں میں بھیج دیے تھے۔ یہ نیا عہدہ خاص طور پر وفاق کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ جب کبھی کسی ساشم کی جگہ خالی ہوتی تو جس گن سے اس کا تعلق ہوتا، وہ نیا ساشم چن لیتا اور جب چاہتا وہ اسے ہٹا دیتا۔ لیکن ساشم کو عہدے پر بٹھانا وفاقی کونسل کاکام تھا۔

(4)یہ وفاقی ساشم اپنے اپنے قبیلے کے بھی ساشم ہوا کرتے تھے اور ان کو قبیلے کی کونسل میں بیٹھنے اور ووٹ دینے کا حق تھا۔

(5)وفاقی کونسل کے سبھی فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے تھے۔

(6)قبیلہ وار ووٹ دیا جاتا تھا۔ اس لئے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لئے جس کی پابندی سب پر لازم ہو، ہر قبیلہ اور اس قبیلے کے تمام کونسل ممبروں کی منظوری ضروری تھی۔

(7)پانچوں قبائلی کونسلوں میں سے کوئی بھی اس وفاقی کونسل کا اجلاس بلا سکتی تھی۔ لیکن وفاقی کونسل آپ اپنا اجلاس نہیں منعقد کر سکتی تھی۔

(8)وفاقی کونسل کے جلسے عام لوگوں کے سامنے ہوتے تھے۔ ایرو کواس لوگوں کے کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی اپنی رائے دے سکتا تھا، لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار صرف کونسل کو تھا۔

(9)وفاق کا کوئی باقاعدہ سردار یا انتظامی عہدہ دار نہیں تھا۔

(10)لیکن اس کے دو اعلیٰ جنگی سردار ہوا کرتے تھے جن کے اختیار اور درجے برابر ہوتے تھے۔(اسپارٹا میں اسی طرح دو”بادشاہ "اور روم میں دو مشیر یا کونسل ہوتے تھے۔ (

یہ تھا وہ تمام سماجی دستور جس کے تحت ایروکواس لوگ چار سو برس سے زیادہ عرصہ تک زندگی بسر کرتے رہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔  میں نے اس کے متعلق مارگن کا بیان کافی تفصیل سے نقل کیا ہے کیونکہ اس سے ہم ایک ایسے سماج کی تنظیم کا مطالعہ کر سکتے ہیں جس میں اس وقت تک ریاست کا وجود نہیں تھا۔ ریاست کے لئے ایک ایسے مخصوص اقتدار عامہ کی ضرورت ہے جو بحیثیت مجموعی ان لوگوں سے علیحدہ ہو چکا ہو جو اس کے تحت رہتے ہیں۔  اور ماورر نے سچی فطری سمجھداری کا ثبوت دیا جب اس نے یہ کہا کہ جرمن مارک کا دستور دراصل ایک خالص سماجی چیز ہے جو ریاست سے بنیادی طور پر مختلف ہے اگرچہ آگے چل کر وہ بڑی حد تک ریاست کی بنیاد کا کام دیتا ہے۔ چنانچہ مورر نے اپنی تمام تصنیفات میں اس بات کی چھان بین کی ہے کہ مارکوں،   گاوؤں،   بستیوں اور شہروں کے ابتدائی دستوروں سے باہر اور ان کے ساتھ ساتھ اقتدار عامہ کی تدریجی نشوونما کیوں کر ہوئی۔ شمالی امریکہ کے انڈینوں کو دیکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک ایسا قبیلہ جو ابتدا میں متحد تھا کیوں کر ایک وسیع براعظم میں پھیل گیا، کیوں کرایک ایک قبیلہ تقسیم ہوتے ہوتے، کئی قبیلوں کا گروہ، اور ایک پوری جاتی بن گیا۔ کس طرح زبانیں تبدیل ہوتی رہیں حتیٰ کہ نہ صرف آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنا ناممکن ہو گیا بلکہ ابتدائی وحدت کے تقریباً سارے آثار مٹ گئے اور کس طرح قبیلے کے اندر ایک ایک گن ٹوٹ کر متعدد گنوں میں بٹ گیا۔ کس طرح پرانی مادری گن آج بھی فریٹری کی شکل میں قائم ہیں اور ان قدیم ترین گنوں کے نام آج بھی دور دور تک بکھرے ہوئے قبیلوں میں ملتے ہیں،  جن کو ایک دوسرے سے الگ ہوئے عرصہ گزر گیا۔ آج بھی زیادہ تر انڈین قبیلوں میں گنوں کے لئے بھیڑیے اور بھالو کا نام استعمال ہوتا ہے۔ اوپر جس دستور کا ذکر کیا گیا وہ عام طور پر ان سبھی قبیلوں میں پایا جاتا ہے سوائے اس کے کہ بہت سے قبیلے ابھی تک قرابت دار قبیلوں کے وفاق کی منزل تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ایک مرتبہ گن ایک سماجی اکائی بن گیا تو پھر اس کے بعد گن، برادری(فریٹری(اور قبیلے کا پورا نظام ناگزیر طور پر۔ ۔۔۔ اس لئے کہ قدرتی طور پر۔ ۔۔ اس اکائی سے نشوونما پانے لگا۔ یہ تینوں مختلف درجے کے یک جدی(سگوتر(رشتہ داروں کے گروہ ہیں۔  ہر گروہ بذات خود مکمل ہے اور خود اپنے معاملات کا انتظام کرتا ہے۔ لیکن ہر گروہ سے باقی دونوں کی تکمیل ہوتی ہے۔ جن معاملات کے سنبھالنے کی ذمہ داری ان پر ہوتی ہے وہ بربریت کے ابتدائی دور کے تمام پبلک معاملات ہیں۔  چنانچہ اگر کہیں ہم یہ دیکھیں کہ گن سماج کی اکائی ہے تو وہاں ہمیں امید کرنی چاہئے کہ قبیلے کی مذکورہ بالا تنظیم سے ملتی جلتی تنظیم بھی ہو گی۔ اور جہاں کہیں کافی مواد ملے گا جیسا کہ مثال کے طور پر یونانیوں اور رومیوں میں ملا ہے، وہاں ہمیں نہ صرف یہ کہ اس تنظیم کاپتہ چلے گا بلکہ ہمارے اندر یہ اعتماد پیدا ہو گا کہ جہاں کہیں پورا مواد نہ ملے وہاں امریکی سماجی دستور کے موازنے سے ہم نہایت مشکل شبہات اور گتھیوں کو حل کرنے میں مدد لے سکتے ہے۔

 اور یہ گن والا دستور اپنی طفلانہ سادگی میں ایک عجیب و غریب چیز ہے! ہر کام نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام پاتا ہے جس کے لئے نہ پولیس کے کسی سپاہی کی ضرورت ہے، نہ فوج کی۔ نہ وہاں بادشاہ اور امراہیں،   نہ کوئی گورنر اور منصف وغیرہ، نہ وہاں مقدمے چلتے ہیں اور نہ کسی کو قید کی سزا دی جاتی ہے۔ سارے اختلاف اور جھگڑے وہ سب لوگ آپس میں مل کر طے کر لیتے ہیں جس کو اس سے تعلق ہوتا ہے، مثلاً گن یا قبیلہ یا متعدد گن آپس میں مل کر طے کرتے ہیں۔  خون کا بدلہ خون سے بالکل انتہائی صورتوں میں اور وہ بھی محض شاذو نادر ہی لیا جا تا ہے۔ ہمارے یہاں کی سزائے موت بھی تو اس کی ایک مہذب صورت ہے جس میں تہذیب کی تمام خوبیاں اور خامیاں دونوں جمع ہو گئی ہیں۔  اگرچہ آج کے مقابلے میں مشترک معاملات زیادہ ہیں۔ ۔۔۔ مثلاً خانہ داری متعدد خاندانوں کے لوگ مل کر اور کمیونسٹی ڈھنگ سے چلاتے ہیں،  زمین قبیلے کی ملکیت ہوتی ہے اور صرف چھوٹے چھوٹے باغیچے عارضی طور پر الگ الگ گھرانوں کو دے دئیے جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔ پھر بھی ہماری طرح نظم و نسق کی ایک وسیع اورپیچیدہ مشینری کا وہاں کوئی وجود نہیں۔  جن لوگوں کو کسی معاملے سے تعلق ہوتا ہے وہ اس کو طے کر لیتے ہیں اور زیادہ تر حال یہ ہے کہ صدیوں پرانے رسم و رواج نے پہلے ہی سب کچھ طے کر کے رکھ دیا ہے۔ وہاں کوئی مفلس اور محتاج نہیں ہو سکتا کیونکہ کمیونسٹی گھرانے اور گن ضیعفوں،   مریضوں اور جنگ کے اپاہجوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا پورا احساس رکھتے ہیں۔  سب آزاد اور برابر ہیں،  اور اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔  اس وقت تک غلامی کا کہیں کوئی گزر نہیں۔  غیر قبیلے والوں کو اس وقت تک غلام بنانے کا کوئی سوال نہیں تھاس۔ جب ایرو کواس لوگوں نے 1651کے آس پاس ایریز لوگوں اور ‘ غیر جانب دار قوم” (24)کو فتح کیا تو ان کو انہوں نے برابری کی بنیاد پر اپنے وفاق میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ جب مفتوح لوگوں نے اس سے انکار کر دیا تبھی ان کو اس علاقے سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ اور ایسا سماج کس طرح کے مردوں اور عورتوں کے جنم دیتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گورے جو ایسے انڈینوں سے مل سکے تھے جو ان کے اثر سے خراب نہیں ہو پائے تھے، وہ سب ان کی خودداری اور وقار نفس، ان کی صاف گوئی، ان کے کردار کی مضبوطی اور ان کی دلیری کے مداح تھے۔

ابھی حال ہی میں ہم نے افریقی میں اس دلیری کی مثالیں دیکھیں۔   چند سال پہلے زولو کافروں نے اور ان ہی کی طرح دہ ایک مہینے پہلے نوبین لوگوں نے۔۔۔۔ جن میں دونوں قبیلوں میں گن کی تنظیم ابھی زندہ ہے۔ ۔۔ وہ کچھ کر دکھایا جو کوئی بھی یورپین فوج نہیں کر سکتی تھی (25)۔ ان کے پاس بندوقیں نہیں تھیں۔  وہ محض نیزے اور برچھے لے کر گولیوں کی بوچھار میں آگے بڑھتے رہے اور انگریزی سپاو کی سنگینوں کی نوک تک بڑھتے چلے آئے اور اس قدے قریب آ کر انگریزوں کی پیدل سپاہ میں جو اپنی مضبو ط صف بندی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے، انہوں نے بھگدڑ مچا دی اور کئی بار اسے مار بھگایا۔  یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ دونوں کے ہتھیاروں میں بے انتہا فرق تھا اور زولو کافروں میں فوجی خدمت اور فوجی قواعد کا بالکل رواج نہیں تھا۔ وہ بڑے پھرتیلے اور مستعد ہوتے ہیں۔  انگریزوں کو یہ شکایت تھی کہ ایک کافر چوبیس گھنٹے میں ایک گھوڑے سے زیادہ چلتا ہے اور زیادہ تیزی سے چلتا ہے۔ ایک انگریز مصور کا کہنا ہے کہ ان کے جسم کے چھوٹے سے چھوٹے عضلات بھی کوڑا بنانے کی بٹی ہوئی رسی کی طرح سخت اور ابھرے ہوئے ہیں۔

یہ تھا انسان اور انسانی سماج طبقاتی تقسیم سے پہلے۔  اور اگر ہم ان کی حالت موازنہ آج کل کے متمدن لوگوں کی بڑی اکثریت سے کریں تو موجودہ زمانے کے مزدوروں اور چھوٹے کسانوں میں اور قدیم زمانے کے گن کے آزاد لوگوں میں ہمیں بڑا فرق دکھائی دے گا۔

لیکن یہ تصور کا صرف ایک رخ ہے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ وہ نظام مر رہا تھا۔  قبیلے کی منزل سے آگے اس کی کوئی نشوونما نہیں ہوئی۔  اور جیسا کہ آگے چل کر دیکھیں گے قبیلوں کے وفاق نے ہی اس کے زوال کی گھنٹی بجا دی تھی۔ ایرو کواس لوگوں نے دوسروں کو مطیع کرنے کی جو کوششیں کیں ان سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ جو کچھ قبیلے سے باہر تھا وہ قانون کے احاطے سے باہر تھا۔ جہاں اعلانیہ امن کا معاہدہ نہیں ہوا وہاں قبیلے قبیلے میں جنگ تھی اور یہ جنگ ایسی بے رحمی سے لڑی جاتی تھی جو انسان کی خصوصیت ہے اور جس میں وہ تمام دوسرے حیوانوں سے بڑھا ہوا ہے۔  اس بے رحمی میں کمی آگے چل کر محض ذاتی مفاد کی خاطر ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے امریکہ میں دیکھا گن کا دستور جب اپنے عروج پر تھا تب بھی وہ پیداوار کی ایک نہایت غیر ترقی یافتہ حالت پر مبنی تھا جس میں بہت تھوڑے سے لوگ ایک نہایت وسیع علاقے میں بکھرے ہوئے تھے۔ اور اس لئے انسان پر خارجی فطرت کا مکمل غلبہ تھا۔ فطرت انسان کے لئے اجنبی، مخالف اور ناقابل فہم چیز تھی۔ اس کے غلبے کی جھلک انسان کے طفلانہ مذہبی تصورات میں ملتی ہے۔ انسان کی دنیااس کا قبیلہ تھا۔ وہ خود اس کی ذات کے لئے بھی اور اس کی نظروں میں باہر والوں کے لئے بھی آخری سرحد تھی۔ قبیلہ، گن اور ان کے ادارے مقدس اور احترام کے قابل تھے گویا وہ کسی بر تر قوت کے مالک تھے جسے فطرت نے کھڑا کر دیا تھا۔  اور فرد اپنے احساسات،  خیالات اور اعمال میں بالکل اس کے تابع تھا۔ اس عہد کے لوگ ہمیں نہایت شاندار معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں آپس میں کوئی فرق نہیں دیتا۔ مارکس کے لفظوں میں وہ ابھی تک گویا اولین برادری کی ناف کی ڈوری سے بندھے ہوئے تھے۔ ان اولین برادریوں کی طاقت کو توڑنا ضروری تھا، اور وہ توڑی بھی گئی۔ مگر اس کو ایسے اثرات نے توڑا جو ہمیں شروع ہی سے ذلیل اور پست معلوم ہوتے ہیں،  جنہوں نے قدیم گن سماج کی سادگی اور اخلاقی عظمت کو برباد کر دیا۔ ادنیٰ ترین مفاد کا خیال، ذلیل قسم کا لالچ،  بے رحمانہ نفس پرستی اور عیاشی، کمینگی اور ہوس، مشترک ملکیت کی خود غرضانہ لوٹ، انہیں کے سائے میں نیا متمدن سماج، طبقاتی سماج، سامنے آتا ہے۔ چوری، عصمت دری، دھوکہ اور فریب یہی سب پرانے،  بے طبقہ گن سماج کی جڑیں کھوکھلی کرتے اور اس کو تہس نہس کرتے ہیں۔  اور نئے سماج کی ڈھائی ہزار برس کی تاریخ کا کارنامہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت پر ظلم ڈھا کر اور اس کا خون پی کر ایک چھوٹی سی اقلیت نے اپنے لئے عیش و عشرت کے محل تعمیر کئے۔ اور آج حالت پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔

؎حوالہ جات

1۔ ملاحظہ ہو موجودہ کتاب، صفحہ 20۔(ایڈیٹر)

2۔ ملاحظہ ہو”مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9، صفحہ 71۔(ایڈیٹر)

_____________________________________________

چوتھا باب

یونانی گن

یونانی اور پیلاسگی لوگوں کے درمیان اور ان کے علاوہ کچھ اور لوگوں کے درمیان بھی، جو انہی قبیلوں سے نکلے تھے، ماقبل تاریخی زمانے ہی سے وہی تسلسل اور ترتیب ملتی ہے جسے ہم امریکہ کے قدیم باشندوں میں دیکھ چکے ہیں۔ ۔۔۔۔ یعنی گن، فریٹری(برادری(، قبیلہ اور پھر قبیلوں کا وفاق، انہی کڑیوں میں ان کا سماج منظم تھا۔ ہو سکتا ہے کہیں کہیں،   جیسے مثال کے طور پر ڈورین لوگوں میں،  فریٹری نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قبیلوں کا وفاق ہر جگہ پوری طرح نمودار نہ ہوا ہو۔ لیکن گن ہر جگہ سماج کی بنیادی اکائی تھی۔ یونانی جس وقت تاریخ کے افق پر نمودار ہوئے وہ تمدن کے دہلیز پر پہنچ چکے تھے۔ یونانیوں اور ان امریکی قبیلوں کے درمیان جس کا ذکر اوپر ہوا ہے، نشوونما کے وہ بڑے دور پڑتے ہیں کیونکہ سورمائی عہد کے یونانی ایرو کواس لوگوں سے دو دور آگے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی گن پر وہ پرانے دقیانوسی اثرات باقی نہیں رہے تھے جو ایرو کواس لوگوں کے گن پر دکھائی دیتے تھے۔ گروہ دار شادی کے اثرات بہت دھندلے ہو چکے تھے۔ مادری حق کی جگہ پدری حق قائم ہو چکا تھا۔ اور اس طرح ذاتی دولت کے فروغ نے گن کے دستور میں پہلی بار رخنہ ڈال دیا تھا۔  پہلے کے بعد قدرتی طور پر دوسرا رخنہ بھی پڑا: پدری حق قائم ہو جانے کے بعد چونکہ ایک دولتمند لڑکی کا ترکہ اس کے شوہر کو ملے گا یعنی اس کے گن کے باہر چلا جائے گا اور اس طرح پورے گن قانون کی بنیاد ہی ٹوٹ جائیں گی، اس لئے ایسی صورتوں میں لڑکیوں کو نہ صرف اس بات کی اجازت دی گئی بلکہ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ گن کے اندر ہی شادی کریں تاکہ گھر کی دولت گھر میں رہے۔

گروٹ کی "تاریخ یونان”کے مطابق ایتھنز کے گن کو ایک شیرازے میں باندھنے والے عناصر یہ تھے:

(1)مشترک مذہبی رسمیں اور ایک خاص دیوتا کے اعزاز میں پجاریوں کے مخصوص حقوق اور اختیارات۔  یہ دیوتا گن کا قدیم مورث اعلیٰ سمجھا جاتا تھا اور اس حیثیت سے اس کا ایک مخصوص لقب تھا۔

(2)مشترک قبرستان(موازنہ کے لئے دیکھئے: دیموستھینیز کی کتاب”یوبولائڈیز("۔

(3)وراثت کے باہمی حقوق۔

(4)کوئی اگر طاقت سے کام لے تو اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد، حفاظت اور حمایت کرنا ہر ایک کا فرض تھا۔

(5)بعض صورتوں میں خاص کر کوئی لڑکی جب یتیم ہو جائے یا وراثت پانے والی ہو تو اس کی شادی گن کے اندر کرانا سبھوں کا باہمی حق اور فرض تھا۔

(6)ملکیت،  کم سے کم کچھ صورتوں میں،  مشترکہ ہوتی تھی جس کا اپنا آرکوں(مختار کل(اور اپنا خزانچی ہوتا تھا۔

فریٹری کئی گنوں کو ملا کر بنتی تھی۔ اس کے ا ندر مختلف حصوں میں اتنا گہرا تعلق نہیں تھا، پھر بھی وہاں ہمیں اسی طرح کے باہمی حقوق اور فرائض دکھائی دیتے ہیں۔  بعض مذہبی رسوم کو وہ ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔ فریٹری کے کسی آدمی کے قتل ہو جانے پر قانونی چارہ جوئی کا حق سب کو تھا۔ اس کے علاوہ ایک قبیلے کی تمام فریٹریاں مقررہ عرصے پر بعض مشترک مذہبی رسوم کو ایک سرپنچ کی صدارت میں انجام دیتی تھیں۔  اس سرپیچ کو فائلو بیلیئس(قبیلے کا بزرگوار(کہتے تھے جو امرا(یعنی یوپیٹریڈیز(میں سے چنا جاتا تھا۔

 یہ تو ہوا گروٹ کا بیان۔ اس پر مارکس کہتا ہے کہ ‘یونانی گن میں کوئی بھی وحشی(مثال کے طور پر ایرو کواس(بلا تامل پہچان لیا جائے گا۔ (1)”جب ہم آگے کچھ اور باتوں کا پتہ لگائیں گے تو اس کو پہچاننا اور بھی یقینی ہو جائے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یونانی گن کی کچھ اور بھی خصوصیتیں ہوتی ہیں۔  وہ یہ ہیں :

(7)نسل پدری حق کے مطابق چلتی ہے۔

(8)گن کے اندر وارثہ عورتوں کو چھوڑ کر باقی لوگوں کی آپس میں شادی کی سخت ممانعت تھی۔ یہ مستثنیٰ صورت اور اس کے بارے میں یہ باقاعدہ ہدایت یہ بتا رہی ہے کہ پرانا قاعدہ قانون اس وقت تک جاری تھا۔ اس کا ایک اور ثبوت بھی ہے: یہ ایک عام قاعدہ بن گیا تھا کہ جب کسی عورت کی شادی ہوتی تو وہ اپنے گن کے مذہبی رسوم کو ترک کر دیتی اور اپنے شوہر کے گن کے مذہبی رسوم اختیار کر لیتی۔  اسے شوہر کی فریٹری میں شامل کر لیا جاتا تھا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ عام طور پر اپنے گن کے باہر شادی کرنے کا قاعدہ تھا۔ دیکیارکس کی ایک مشہور عبارت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ بیکر نے "چاریکلیز”میں بھی یہی بات مانی ہے کہ کسی مرد یا عورت کو اپنے گن کے اندر شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

(9)گن میں باہر کے لوگوں کو اپنا لینے کا حق تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ اس شخص کو کسی خاندان کے اندر اپنا لیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے لئے ایک باقاعدہ جلسہ عام میں رسم ادا کرنی ضروری تھی۔  لیکن اس اختیار سے بہت کم کام لیا جاتا تھا۔

(10)سرداروں کو منتخب اور معزول کرنے کا اختیار۔ ہم جانتے ہیں کہ گن کا اپنا ایک آرکوں(مختار کل(ہوتا تھا۔ لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ یہ عہدہ بعض خاندانوں میں موروثی تھا۔ زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ بربریت کے آخر تک اس عہدے کو سختی کے ساتھ موروثی نہیں بنایا گیا اور ان حالات میں جبکہ ہر گن کے اندر غریبوں اور امیروں کو بالکل مساوی حق حاصل، تھا۔ ایسا کیا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

گروٹ ہی نہیں بلکہ نیبور، مومسن اور قدیم کلاسیکی عہد کے سب پہلے کے مورخ بھی گن کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے اس کی بعض نمایاں خصوصیتون کا پتہ لگا لیا تھا مگر گن کو وہ ہمیشہ خاندانوں کا ایک گروہ سمجھتے تھے، اور انہوں نے ایسی صورت حال پیدا کر دی جس میں ان کے لئے گن کی نوعیت اور اس کی ابتدا کو سمجھنا ناممکن ہو گیا۔ گن کے دستور کے تحت خاندان کبھی بھی تنظیم کی اکائی نہیں رہا۔ اور یہ ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ شوہر اور بیوی لازمی طور پر دو مختلف گنوں میں ہوتے تھے۔ گن بحیثیت مجموعی فریٹری کے اندر تھے۔  اور فریٹری قبیلے کے اندر تھی۔ مگر جہاں تک خااندان کا تعلق ہے وہ آدھا شوہر کے گن میں آدھا بیوی کے گن میں بٹا ہوا تھا۔ ریاست بھی قانون عامہ میں خاندان کو تسلیم نہیں کرتی اور آج تک اس کا وجودصرف دیوانی کے قانون میں تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم آج تک کی قلمبند تاریخ میں ایک نہایت مہمل بات فرض کر لی گئی اور اٹھارہویں صدی میں تو اس کے خلاف کچھ بولنا بھی جرم سمجھا جانے لگا تھا۔ اور وہ خیال یہ ہے کہ یک زوجگی کا انفردی خاندان ہی وہ محور ہے جس کے گرد سماج اور ریاست نے رفتہ رفتہ تشکیل پائی ہے۔ حالانکہ یہ انفرادی خاندان تمدن کے عہد سے شاید ہی کچھ پرانا ہو۔

 مارکس نے لکھا ہے کہ”مسٹر گروٹ یہ بات بھی دھیان میں رکھیں گے کہ اگرچہ یونانی لوگ اپنے گنوں کا ماخذ دیومالا میں بتاتے تھے لیکن ان کے گن، ان کی دیومالا اور اس کے دیوی دیوتاؤں اور نیم دیوتاؤں سے زیادہ پرانے ہیں۔  اور آخر الذکر تو سب دراصل خود ان ہی لوگوں کی تخلیق ہیں۔  (2)”

مارگن نے گروٹ کی رائے کو ترجیح دی ہے اور ایک ممتاز اور غیر مشتبہ گواہ کی حیثیت سے اس کا حوالہ دیا ہے۔ گروٹ آگے چل کر بتاتا ہے کہ ایتھنز کے ہر گن کا نام اس کے کسی مشہور مورث اعلیٰ سے ماخوذ ہوتا تھا۔ سولون کے زمانے سے پہلی تو عام طورپر،  اور اس کے بعد اس صورت میں جبکہ کوئی شخص بغیر وصیت کئے ہوئے مر جاتا تھا، تب اس کا ترکہ اس کے گن والوں (gennetes(کو ملتا تھا۔ اگر کوئی شخص قتل ہو جاتا تو پہلے اس کے رشتہ داروں،   پھر اس کے گن والوں اور آخر میں اس کی فریٹری کے لوگوں کا حق اور فرض تھا کہ مجرم پر عدالتوں میں مقدمہ چلائیں۔

"ایتھنز کے قدیم ترین قوانین کے بارے میں ہم جو کچھ سنتے ہیں وہ گن اور فریٹری کی تقسیم پر مبنی ہے۔ "گن کا ایک مشترک مورث اعلیٰ کی نسل سے ہونا، ایک ایسی پہیلی اور گتھی ہے جس سے(بقول مارکس(3)تعلیم یافتہ کم نظروں "کا دماغ چکرا گیا ہے۔ یہ کہنے کو تو وہ کہہ گئے، لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ علیحدہ اور مختلف خاندانوں سے جن کو شروع میں ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا، گن کیسے بن گئے۔ لیکن یہ تو ان کو کسی نہ کسی طرح ثابت کرنا ہی تھا۔ ورنہ پھر وہ گن کی توجیہ کیا پیش کرتے! لہٰذا وہ چند الفاظ کے دائرے میں گھومتے رہتے ہیں اور اس فقرے سے آگے نہیں جاتے کہ نسب نامہ تو یقیناً فرضی ہے لیکن گن ایک حقیقی چیز ہے۔  اور آخر میں گروٹ کہتا ہے(قوسین کے اندر کے فقرے مارکس کے ہیں (:

"سلسلہ نسب کی بات ہمیں بہت کم سنائی دیتی ہے کیونکہ عوام کے سامنے اسے محض چند مخصوص ممتاز اور قابل احترام صورتوں کے سلسلے میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ نامور گنوں کی طرح بالکل معمولی گنوں کی بھی اپنی مشترک مذہبی رسمیں تھیں(کچھ عجیب سی بات ہے، مسٹر گروٹ(!اور مشترک مافوق الانسانی مورث اعلیٰ اور سلسلہ نسب تھا(بالکل معمولی گنوں کے درمیان کتنی عجیب و غریب بات ہے یہ،  مسٹر گروٹ(!اسکیم اور آئیڈیل بنیاد(جناب والا، ideal نہیں،   مگرcarnalجرمن زبان میں fleischlich __ حیوانی بنیاد( سبھوں میں ایک ہی تھی۔ (4)”

اس پر مارگن کے جواب کا خلاصہ مارکس نے اپنے لفظوں میں یوں کیا ہے: "یک جدی قرابت داری(سگوتر(کا نظام گن کی ابتدائی شکل کے لئے موزوں تھا۔ ۔۔۔ دوسری قوموں کی طرح یونانیوں میں بھی اس کا وجود تھا۔ ۔۔ اس نظام کی وجہ سے علم محفوظ رہا کہ گن کے سب لوگوں میں آپس میں کیا رشتہ ہے۔ یہ ان کے لئے بڑی اہم بات تھی جس کو وہ اپنے ابتدائی بچپن کے زمانے سے ہی سیکھ لیتے تھے۔ جیسے ہی یک زوجگی کاخاندان قائم ہوا یہ بات ختم ہو گئی۔ گن کے نام نے ہی ایک نسب نامہ تیار کر دیا تھا جس کے مقابلے میں یک زوجگی کا خاندان بہت معمولی چیز ہوتی تھی۔ یہ نام جن لوگوں کے ساتھ لگا ہوتا تھا، ان کے مشترک سلسلہ نسب کی گواہی دیتا تھا۔ لیکن گن کا نسب نامہ اتنی دور تک جاتا تھا کہ اس کے ممبروں کے لئے اب یہ ثابت کرنا ممکن نہیں تھا کہ ان میں آپس میں خون کا کیا رشتہ ہے۔  صرف وہی تھوڑے سے لوگ اپنا رشتہ ثابت کر سکتے تھے جن کے مشترک مورث نسبتاً حال کے زمانے کے تھے۔ نام خود مشترک سلسلہ نسب کا ثبوت تھا اور ان لوگوں کو چھور کر جو باہر سے گن میں اپنا لئے گئے تھے، اور باقی لوگوں کے لئے وہ ایک قطعی اور پکا ثبوت تھا۔ گروٹ (5)اور نیبور کے کہنے کا مطلب دراصل یہ ہے کہ گن کے لوگوں میں آپس میں یک جدی قرابت نہیں تھی۔ اس انکار کا نتیجہ یہ ہو گا کہ گن محض ایک فرضی چیز،  محض واہمے کی پیداوار ہو کر رہ جائے گا۔ اس طرح کا خیال محض عینیت پرست سائنس دانوں،   یعنی حجرہ نشین کتابی کیڑوں کو ہی زیب دیتا ہے۔ چونکہ نسلوں کی سلسلہ بندی، خاص کر یک زوجگی کے آغاز کے بعد سے، بہت دور کی چیز ہو گئی ہے اور ماضی کی حقیقت من گھڑت قصے کہانیوں کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے، اس لئے ان کم ظرفوں نے یہ نتیجہ نکالا اور اب بھی نکالتے ہیں کہ اس خیالی اور فرضی سلسلہ نسب نے اصل میں گنوں کی تخلیق کی ہے۔ "

(6)امریکن انڈینوں کی طرح یہاں بھی فریٹری کی ایک مادری گن تھی جو کئی دختر گنوں میں بٹ گئی تھی اور ساتھ ہی انہیں متحد بھی کرتی تھی اور اکثر ان سبھوں کا سلسلہ نسب ایک ہی مشترک مورث اعلیٰ سے ملاتی تھی۔ چناچہ جیسا کہ گروٹ نے لکھا ہے۔

"ہیکے ٹیئس کی فریٹری کے سب ہم عصر ممبروں کا مشترک مورث اعلیٰ سولہ پشت پہلے کا ایک دیوتا تھا۔ "

اس لئے اس فریٹری کے سب گن آپس میں برادر گن تھے۔ ہومر نے اس وقت بھی فریٹری کو ایک فوجی اکائی بتایا ہے۔ اس کا تذکرہ ہومر کی اس مشہور عبارت میں ہے جہاں نستر ایگاممنون کو مشورہ دیتا ہے کہ ‘قبیلوں اور فریٹریوں کے حساب سے فوج کی صف بندی کرو تاکہ فریٹری کی مدد فریٹری کرے اور قبیلہ قبیلے کی۔ (7)”فریٹری کا کوئی شخص اگر قتل کر دیا جائے تو قاتل کو سزا دلوانا فریٹری کا حق بھی تھا اور اس کا فرض بھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ پہلے زمانے میں فریٹری کا ایک کام خونی انتقام لینا بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس کی مشترک عبادت گاہیں اور مذہبی تہوار ہوتے تھے۔ آریوں کا پرانا روایتی دھرم فطرت کی پوجا کرنا تھا اور اس سے یونانیوں کی ساری دیومالا کا ارتقا دراصل گنوں اور فریٹریوں کی بدولت اور انہیں کے اندر ہوا۔ فریٹری کا ایک سردار بھی ہوتا تھا(جس کو فریٹریارکس کہتے تھے)۔ اور دی کولانژے کی رائے ہے کہ ہر فریٹری کی سبھائیں ہوتی تھیں جن کے فیصلوں پر عمل کرنا لازمی ہوتا تھا۔ ایک عدالت اور نظم و نسق کا محکمہ ہوتا تھا۔ بعد کے زمانے میں ریاست نے بھی اگرچہ گن کو نظر انداز کر دیا تھا مگر کچھ سرکاری کام فریٹری کے لئے چھوڑ دیئے تھے۔

متعدد قرابت دار فریٹریوں سے مل کر قبیلہ بنتا تھا۔ اٹیکا میں چار قبیلے تھے جن میں ہر ایک میں تین فریٹریاں تھیں اور ہر فریٹری میں تیس گن تھے۔  قبیلوں،   فریٹریوں اور گنوں کی اس باقاعدہ اور مفصل تقسیم کو دیکھ کر یہی خیال ہوتا ہے کہ اس نظام کی تشکیل تو خود بخود ہوئی تھی مگر بعد میں اس میں سوچ سمجھ کر اور باقاعدہ دخل اندازی کی گئی۔ یونانی تاریخ میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ یہ بات کب، کیسے اور کیوں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود یونانیوں نے جس زمانے تک کی یاد کو محفوظ رکھا ہے، وہ سورمائی عہد سے پیچھے نہیں جاتا۔

نسبتاً ایک چھوٹے سے علاقے میں یونانیوں کی گنجان آبادی بسی ہوئی تھی۔ بولیوں کا اختلاف امریکہ کے وسیع جنگلوں میں جتنا بڑھ گیا تھا، اتنا یونانیوں یں نہیں ہوا۔ تاہم یہاں بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محض ایک ہی بولی بولنے والے قبیلے ایک بڑی شیرازہ بندی میں متحد ہوئے۔ اور چھوٹے سے اٹیکا کی بھی اپنی ایک خاص بولی تھی جو ؤگے چل کر یونانی نثر کے لئے عام زبان بن کر چھا گئی۔

ہومر کی رزمیہ نظموں میں ہم پاتے ہیں کہ یونانی قبیلے مل کر چھوٹی چھوٹی جاتیاں بن گئیں۔  لیکن ان جاتیوں کے دائرے کے اندر گنوں،   فریٹریوں اور قبیلوں نے اپنی آزادی برقرار رکھی۔ وہ دیواروں سے گھرے ہوئے شہروں میں رہنے لگے تھے۔ مویشیوں کے ریوڑ بڑھے، کھیت بنا کر کاشت کئے جانے لگے اور دستکاری کی ابتدا ہوئی تو ساتھ ساتھ آبادی بھی بڑھی اور پھر دولت کا فرق بھی پیدا ہوا جس کی وجہ سے جمہوریت کے اس قدیم نظام میں جس کی فطری طور پر نشوونما ہوئی تھی امرا کا طبقہ پید اہو گیا۔  یہ چھوٹی چھوٹی جاتیاں سب سے اچھی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے اور لوٹ کے مال کی خاطر بھی،  برابر ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتی تھیں۔  جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج عام ہو چکا تھا۔

ان قبیلوں اور چھوٹی جاتیوں کا دستور یہ تھا:

(1)مستقل اقتدار ایک کونسل (bule(کے ہاتھ میں تھا جس میں شروع میں غالباً گنوں کے سردار ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب آگے چل کر ان کی تعداد بہت بڑھ گئی تو یہ کونسل گنے چنے لوگوں میں سے بننے لگی۔ اس سے امرا کی ایک جماعت کو بڑھنے اور تقویت پانے کا موقع ملا۔ دیوانی سیئس صاف لکھتا ہے کہ سورمائی عہد کی کونسل امرا(kratistio(پر مشتمل تھی۔ اہم سوالوں پر کونسل کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا تھا۔ ایسکیلس کے یہاں تھیبیز کی کونسل نے ایک فیصلہ کیا جس پر عمل کرنا ضروری تھا۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ ایتیوکلیز کی تجہیز و تکفین شان و شوکت سے کی جائے اور پولینیئس کی لاش کتوں کے آگے ڈال دی جائے۔ (8)آگے چل کر جب ریاست وجود میں آئی تو اسی کونسل کو سینٹ بنا دیا گیا۔

(2)عوامی اسمبلی (agora)۔ ایروکواس لوگوں میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مرد عورت سب کونسل کے اجلاس کے باہر چاروں طرف دائرہ بنا کر کھڑے ہو جاتے تھے اور بحث میں باقاعدہ حصۃ لیتے اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔  ہومر کے زمانے کے یونانیوں میں یہ چیز جس کو، اگر ہم قدیم جرمن قانونی اصطلاح کا استعمال کریں تو(Umstand(ام اسٹانڈ (9)کہہ سکتے ہیں،   ایک مکمل عوامی اسمبلی بن چکی تھی۔ قدیم زمانے کے جرمنوں میں بھی یہی ہوا تھا۔ اہم مسائل طے کرنے کے لئے کونسل اس اسمبلی کا اجلاس بلاتی تھی جس میں ہر مرد کو بولنے کا حق تھا۔ فیصلہ ہاتھ اٹھا کر(جیسا کہ ایسکیلس نے "ملتجی”میں لکھا ہے(یا زبانی اعلان کے ذریعے بھی کیا جاتا تھا۔ اسمبلی ہی تمام اختیارات کی مالک تھی۔ اس کے اوپر کوئی نہیں تھا۔ شومان نے اپنی کتاب”یونان کے قدیم آثار(10)”میں لکھا ہے کہ

"جب کبھی کسی ایسے مسئلے پر بحث ہوتی جس کو عمل میں لانے کے لئے عوام کے تعاون کی ضرورت پڑے تو ہومر کہیں بھولے سے بھی یہ نہیں کہتا کہ لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف مجبور کیا جاتا تھا۔ "

اس زمانے میں جبکہ قبیلے کا ہر بالغ شخص ایک جنگجوسپاہی تھا کوئی ایسا ریاستی اقتدار انہیں تھا جو عوام سے الگ ہو اور جس کو اس کے خلاف کھڑا کیا جا سکتا ہو۔ قدیم جمہوریت اپنے شباب پر تھی اور کونسل اور بسیلیئس کے اختیارات اور ان کی حیثیت کا اندازہ لگانے میں اس بات کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔

(3)فوجی سالار (basileus)۔ اس سوال پر مارکس نے لکھا ہے کہ "یورپ کے فلسفی جو خود زیادہ تر بادشاہوں کے پیدائشی خادم ہیں۔  بسیلیئس کو آج کل کے مفہوم میں بادشاہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔  یانکی(امریکی(جمہوریت پسند مارگن اس پر اعتراض کرتا ہے۔ بڑے طنز لیکن بڑی سچائی کے ساتھ چاپلوسی گلیڈسٹن اور اس کی کتاب”شباب عالم(11)”کے بارے میں مارگن کہتا ہے:

"مسٹر گلیڈسٹن نے اپنے پڑھنے والوں کے سامنے سورمائی عہدکے یونانی سرداروں کو بادشاہ اور شہزادہ بنا کر پیش کیا اور ان میں شریف زادوں کی خصوصیتوں کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔  لیکن گلیڈسٹن صاحب کو یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑا کہ یونانیوں میں اگرچہ جیٹھائی(یعنی بڑے لڑکے کے حقدار ہونے(کا رواج باقاعدہ خاصی حد تک تو ضرور ہے لیکن بہت اچھی طرح واضح نہیں ہے۔ (12)”

سچ تو یہ ہے کہ مسٹر گلیڈسٹن نے خود بھی یہ بات محسوس کی ہو گی کہ بڑے لڑکے کے حقدار ہونے کا یہ اتفاقی نظام اگر خاصی حد تک واضح ہے مگر بہت اچھی طرح واضح نہیں ہے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوا۔

   ہم دیکھ چکے ہیں کہ جہاں تک عہدوں کے موروثی ہونے کا تعلق ہے، ایروکواس اور دوسرے انڈین قبیلوں میں سرداروں کے عہدوں کا کیا حال تھا۔ چونکہ تمام عہدہ دار زیادہ تر گن کے اندر سے ہی چنے جاتے تھے، اس لئے اس حد تک یہ عہدے گن کے اندر پشیتنی یا موروثی ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ قاعدہ ہو گیا کہ کوئی جگہ خالی ہوتی تو وہ اس شخص کو ملتی تھی جو گن کے حساب سے پرانے عہدہ دار کا سب سے قریبی رشتہ دار ہوتا تھا یعنی وہ عہدہ پرانے عہدہ دار کے بھائی کو یا بہن کے لڑکے کو ملتا تھا۔ یہ قاعدہ اسی وقت توڑا جاتا تھا جب ایسے کرنے کی کوئی مناسب وجہ ہوتی۔  یونان میں چونکہ پدری حق قائم تھا اس لئے بسیلیئس کا عہدہ زیادہ تر پرانے بسیلیئس کے لڑکے کو یا اس کے متعدد لڑکوں میں سے کسی ایک کو ملتا تھا۔ لیکن اس بات سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر باپ کی جگہ اس کے کسی لڑکے کو چنتے تھے۔ اس سے یہ ہرگز نہیں ثابت ہوتا کہ عام انتخاب کے بغیر ہی باپ کا عہدہ بیٹے کو قانوناً مل جاتا تھا۔ یہاں ہمیں ایروکواس لوگوں میں اور یونانیوں میں گنوں کے اندر شرفا اور امرا کے مخصوس خاندانوں کی پہلی جھلک دکھائی دیتی ہے۔  اور یونانیوں میں تو یہ مستقبل کی موروثی سرداری یا بادشاہت کی پہلی جھلک تھی۔ اس لئے ہمیں یہ مان کر چلنا چاہئے کہ یونانیوں میں بسیلیئس کو یا تو عوام چنتے تھے یا کم سے کم عوا م کی تسلیم کردہ جماعت۔ ۔۔ کونسل یا اگورا۔ ۔۔۔ کی منظوری لی جاتی تھی جیسا کہ رومی "بادشاہ(rex("کے سلسلے میں ہوتا تھا۔

"ایلیڈ”میں سورماؤں کا حکمران ایگاممنون، یونانیوں کے سب سے بڑے بادشاہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسی وفاقی فوج کے سب سے بڑے سالار کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جو ایک شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہے۔ اور جب یونانی لوگ آپس میں جھگڑنے لگتے ہیں،  تب اوڈیسیئس اس مشہور ٹکڑے میں اس کی اسی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے: بہت سے فوجی سالاروں کا ہونا اچھا نہیں ہے۔  ہمارا ایک ہی سپہ سالار ہونا چاہئے، وغیرہ(بعد میں اس میں وہ حصہ بھی جوڑ دیا گیا جس میں عصائے شاہی کا ذکر ہے)۔ "(13)یہاں اوڈیسیئس اس بات پر لیکچر نہیں دے رہا ہے کہ حکومت کس طرح کی ہونی چاہئے بلکہ اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ میدان جنگ میں سب سے بڑے سالار کی ہدایتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ ٹرائے کے سامنے یونانی محض ایک فوج کی شکل میں آتے ہیں۔  لیکن ان کی مجلس (agora(کی کارروائی کافی جمہوری ڈھنگ سے ہوتی ہے: جب اکیلیس تحفوں یعنی جنگ کے مال غنیمت کے بٹوارے کا ذکر کرتا ہے تو وہ کبھی بھی ایگا ممنون یا کسی دوسرے بسیلیئس کے ذریعے نہیں بلکہ ہمیشہ "ایکینوں کے بیٹوں "یعنی عوام کے ذریعے اس کو تقسیم کراتا ہے۔ اگر کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ "زیوس کی اولاد”ہے یا”زیوس نے اس کو پالا پوسا”ہے تو اس سے کوئی خاص بات ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ہر گن کسی نہ کسی دیوتا کی اولاد ہوتا ہے چناچہ اس شخص کا گن زیوس کی نسل سے ہے۔ یہاں تک کہ سوروں کی دیکھ بھال کرنے ولے ایمویئس اور دوسرے غلام بھی "دیوتاؤں کی نسل "سے dioi(یا(theioi مانے جاتے ہیں۔   اس کا ذکر ہمیں "اوڈیسی "تک میں ملتا ہے اور اس لئے یہ "ایلیڈ” سے بہت بعد کے زمانے کی چیز ہے۔ اسی طرح ہم "اوڈیسی”میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مولیوس نامی رقیب کو اور دیمودو کس نام کے گانے والے نابینا شاعر کو بھی heros(ہیروس(یعنی سورما کہا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ یونانی مصنفین ہومر کی نام نہاد بادشاہت کے لئے جس لفظbasileiaکو استعمال کرتے ہیں(کیونکہ فوجی رہنمائی ہی اس کی خصوصیت حاسل ہے(، بیسیلیا کونسل اور عوامی اسمبلی کے ساتھ مل کر محض ایک فوجی جمہوریت ہوتی ہے، اور کچھ نہیں۔  "(مارکس(14))

فوجی ذمہ داریوں کے علاوہ بیسیلیئس کو کچھ پروہتی اور کچھ عدالتی ذمہ داریاں بھی ادا کرنے پڑتی تھیں۔  عدالتی ذمہ داریاں بہت صاف نہیں تھیں۔   لیکن پروہت کا کام وہ اپنے قبیلے کے یا متعدد قبیلوں کے وفاق کے سب سے اعلیٰ نمائندے کے حیثیت سے انجام دیتا تھا۔ اس کی نظم و نسق کی ذمہ داریوں کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیسییلیئس اپنے عہدے کے بدولت کونسل کا ممبر ہوتا تھا۔ علم نحو کے قاعدے کی رو سے "بیسیلیئس "کا ترجمہ جرمن لفظ "Konig”بالکل صحیح ہے کیونکہ لفظ”Konig” (Kuning(لفظ Kuni یا Kunneسے نکلا ہے جس کے معنی ہیں گن کا سردار۔ لیکن قدیم یونانی بیسیلیئس کو لفظ”Konig”(بادشاہ(کے موجودہ مفہوم سے کوئی نسبت نہیں۔  تھیوسیڈیڈیز تو قدیمbasileiaکو صاف صاف patrikeکہتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ گن سے نکلا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ بیسیلیا کی مخصوص اور اس لئے محدود ذمہ داریاں ہوتی تھیں۔  اور ارسطو کا کہنا ہے کہ سورمائی عہد میں بیسیلیا آزاد شہریوں کی رہنمائی کرتا تھا اور بیسیلیئس فوجی سالار،  قاضی اور بڑا پروہت ہوا کرتا تھا۔ مختصر یہ کہ بعد کے زمانے میں حکومت کا جو مطلب ہو گیا، ویسی کوئی طاقت بیسیلیئس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ (15)

اس طرح سورمائی عہد کے یونانی سماجی دستور میں جہاں ہم ایک طرف یہ پاتے ہیں کہ پرانا گن نظام اب بھی اتنے ہی زور و شور سے جاری ہے، وہاں ساتھ ہی ہمیں اس کے زوال کی ابتدا بھی دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس عہد میں پدری حق مانا جانے لگا ہے اور باپ کی وراثت اس کے بچوں کو ملنے لگی ہے جس سے خاندان کے اندر دولت جمع کرنے کا رجحان بڑھتا ہے اور گن کے مقابلے میں خاندان کے طاقت بڑھتی ہے۔ کچھ لوگوں کے پاس کم اور کچھ کے پاس زیادہ دولت ہو جانے کا سماج کے دستور پر اثر پڑتا ہے اور پہلی بار موروثی شرفا اور بادشاہت کی داغ بیل پڑتی ہے۔ غلامی کی ابتدا ہوتی ہے، جو پہلے جنگ کے قیدیوں تک محدود تھی لیکن جو قبیلے کے اندر اور خود اپنے گن کے اندر کے لوگوں کو غلام بنانے کا راستہ صاف کرنے لگی تھی۔ پرانے زمانے میں مختلف قبیلوں میں جنگ ہوا کرتی تھی،  اب اس کی جگہ مویشیوں،  غلاموں اور دولت کو لوٹنے کے لئے زمین اور پانی کے راستے حملے کئے جانے لگے۔ روزی حاصل کرنے کا یہ ایک باقاعدہ ذریعہ بن گیا۔ مختصر یہ کہ دھن دولت کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھا جانے لگتا ہے اور دولت کی اس جبری لوٹ کو جائز قرار دینے کے لئے پرانے گن سماج کے اداروں اور رواجوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اب صرف ایک چیز کی کمی تھی: کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو نہ صرف افراد کی نئی حاصل کی ہوئی ذاتی ملکیت کو گن کے نظام کی کمیونسٹی روایات سے بچا سکے، جو نہ صرف ذاتی ملکیت کو، جو کہ پہلے زیادہ قدر کی نگاہوں سے نہیں دیکھی جاتی تھی، قابل احترام قرار دے اور اس حرمت اور تقدس کو انسانی سماج کا اعلیٰ ترین مقصد قرار دے، بلکہ جو ملکیت حاصل کرنے کے اور دولت میں برابر تیزی سے اضافہ کرتے رہنے کے نت نئے ابھرنے والے طریقوں پر قبول عام کی مہر بھی لگا دے، جو نہ صرف سماج میں نئی پیدا ہونے والی طبقاتی تقسیم کو مستقل بنا دے۔ بلکہ ملکیت والے طبقوں کے ہاتھوں ملکیت سے محروم طبقوں کے استحصال (exploitation)کے حق کو اور محروم طبقوں پر ملکیت والے طبقوں کی حکومت کو پائدار بھی بنائے۔

اور یہ ادارہ بھی آ پہنچا۔ ریاست(state(ایجاد ہو گئی۔

حوالہ جات

1۔  ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحۃ 134۔(ایڈیٹر)

۲۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحۃ 136۔(ایڈیٹر)

3۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحۃ 137۔(ایڈیٹر)

4۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحۃ 138۔(ایڈیٹر)

5۔ مارکس کی تحریر میں گروٹ کے بجائے دوسری صدی کے یونانی عالم پولوکس کا نام۔ جس کے حوالے اکثر گروٹ کے یہاں ملتے ہیں۔ (ایڈیٹر)

6۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحات 138-139۔(ایڈیٹر)

7۔ ہومر”ایلیڈ "گیت دوم۔(ایڈیٹر)

8۔ ایسکیلس "تھیبیز کے خلاف سات اشخاص۔("ایڈیٹر)

9۔ ام اسٹانڈ کے معنی ہیں چاروں طرف کھڑے ہونے والے لوگ۔(ایڈیٹر)

10۔ Schoemann G. F; "Griechische Alterthumer”, Bd. I,Berlin, 1855,S.27۔ ایڈیٹر۔

11۔ Gladstone W.E; "Juventus Mundi. The Gods and Men of the Heroic Age ", chap. ii, London. 1869. ایڈیٹر۔

12۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحہ 143۔(ایڈیٹر)

13۔ ہومر”ایلیڈ "گیت دوم۔(ایڈیٹر)

14۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9، صفحات-144-145(ایڈیٹر)

15۔ یونانی بیسیلیئس کی طرح ایز تک لوگوں کے فوجی سالار کو بھی غلط ڈھنگ سے موجودہ مفہوم کے مطابق بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔

 اسپین والوں نے شروع میں چیزوں کو غلط سمجھااور ان کے متعلق مبالغہ آرائی سے کام لیا اور بعد میں تو وہ جان بوجھ کر چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے لگے۔ تاریخی نقطہ نظر سے مارگن نے ہی سب سے پہلے اسپینیوں کی رپورٹوں کی تنقیدی جائزہ لیا۔  اس نے بتایا کہ میکسیکو کے باشندے بربریت کے درمیانی دور میں تھے۔ لیکن وہ نیو میکسیکو کے پوئبلو انڈینوں کے مقابلے میں زیادہ اونچی سطح پر تھے۔ اور ان کا دستور، جہاں تک مسخ شدہ رپورٹوں سے قیاس کیا جا سکتا ہے، مجموعی طور پر کچھ اس طرح کا اپنا باجگزار بنا لیا تھا، وفاق کی حکومت ایک وفاقی کونسل اور ایک وفاقی سالار کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وفاقی فوجی سالار کو اسپین والوں نے "شہنشاہ”بنا رکھا تھا۔

___________________________________________________

 

پانچواں باب

ایتھنز میں ریاست کا ظہور

ریاست کا ارتقا کیونکر ہوا، نئے اداروں کے قائم ہونے کی وجہ سے کیونکر گن دستور کے کچھ ادارے بدل گئے اور کچھ مٹ گئے اور آخر میں کس طرح سارے پرانے اداروں کی جگہ پر صحیح معنی میں سرکاری حکام آ گئے اور دوسری طرف "ہتھیار بند عوام”کی جگہ، جو خود اپنے گنوں،  فریٹریوں اور قبیلوں کے ذریعے اپنی حفاظت کیا کرتے تھے، ہتھیار بند”سرکاری طاقت”قائم ہوئی جو ان حکام کے اشاروں پر چلا کرتی تھی اور اسی باعث جس سے عوام کے خلاف بھی کام لیا جا سکتا تھا۔ ۔۔۔ یہ تمام باتیں خاص کر اپنے ابتدائی دور میں جتنی صفائی کے ساتھ ایتھنز میں دیکھی جا سکتی ہیں،  اتنی صفائی کے ساتھ اور کہیں نہیں دیکھی جا سکتیں۔   یہ تبدیلیاں کیسے ہوئیں،   اس کو بحیثیت مجموعی مارگن بتا چکا ہے۔ ان کی تہہ میں کون سی اقتصادی حقیقت کام کر رہی تھی، یہ خود مجھے اضافہ کرنا پڑا ہے۔

سورمائی عہد میں ایتھنز والوں کے چار قبیلے اٹیکا کے الگ الگ حصوں میں بسے ہوئے تھے۔ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن بارہ فریٹریوں کو لے کر یہ چار قبیلے بنے تھے، وہ بھی کیکروپس کے بارہ شہروں میں الگ الگ رہتی تھیں۔  سبھی جگہ وہی سورمائی عہد کا دستور قائم تھا: عوامی اسمبلی،  عوامی کونسل اور بیسیلیئس۔  اس قدیم زمانے میں،  جہاں تک لکھی ہوئی تاریخ ہمیں لے جاتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ زمین لوگوں میں بانٹی جا چکی ہے اور وہ لوگوں کی ذاتی ملکیت بن گئی ہے۔ اور یہ بات اس سے مطابقت رکھتی ہے کہ اس زمانے میں،   بربریت کے آخری دور کے ختم ہوتے ہوتے جنس تبادلہ کی پیداوار اور اس کی تجارت نسبتاً ترقی کر چکی تھی۔ اناج کے علاوہ شراب بنانے کے لئے انگور اور تیل نکالنے کے لئے تلہن کی بھی کھیتی ہونے لگے تھی۔ بحیرہ ایجین کے راستے جو تجارت ہوتی تھی وہ فوئینیشین لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر زیادہ سے زیادہ اٹیکا کے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ رہی تھی۔ زمین کی خرید و فروخت اور کھیتی اور دستکاری، تجارت اور جہاز رانی کے درمیان برابر تقسیم محنت کے بڑھتے رہنے کی وجہ سے گنوں،  فریٹریوں اور قبیلوں کے ممبر جلدی ہی آپس میں گھلنے ملنے لگے۔ جن ضلعوں میں پہلے ایک فریٹری یا قبیلے کے لوگ رہا کرتے تھے، وہاں اب نئے لوگ پہنچ گئے جو اسی ملک کے باشندے ہوتے ہوئے بھی ان قبیلوں یا فریٹریوں کے ممبر نہیں تھے اور اس لئے جو خود اپنی بود و باش کی جگہوں میں اجنبی تھے۔ وجہ یہ تھی کہ امن کے زمانے میں ہر فریٹری اور ہر قبیلہ خود اپنے معاملوں کا انتظام کرتا تھا اور ایتھنز میں بیٹھنے والی عوامی کونسل یا بیسیلئس سے کوئی مشورہ نہیں لیتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ کسی فریٹری یا قبیلے کے علاقے میں رہنے والے وہ لوگ جو ان دونوں میں سے کسی کے ممبر نہ ہوں،  نظم و نسق میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔

اس سے گن دستور کے مختلف اداروں کے باقاعدہ کام میں خلل پڑنے لگا۔ اور سورمائی عہد میں ہی اس بات کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی کہ کسی طرح اس گڑ بڑ کو دور کیا جائے۔ چناچہ ایک نیا دستور بنایا گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے تھیسیئس نے تیار کیا تھا۔ اس تبدیلی کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ایتھنز میں ایک مرکزی ادارہ نظم و نسق قائم کیا گیا۔  مطلب یہ کہ کچھ ایسے معاملے جن کا انتظام ابھی تک قبیلے خود آزادی کے ساتھ کرتے تھے، اب سب قبیلوں کے اجتماعی یا مشترک معاملے قرار دیئے گئے اور انہیں ایتھنز کی عام کونسل کے سپرد کر دیا گیا۔ امریکہ کے انڈین ترقی کی جس منزل تک پہنچے تھے، ایتھنز کے باشندے اس سے ایک قدم آگے بڑھ گئے:  پڑوسی قبیلوں کے سادہ وفاق کے بدلے اب سارے قبیلے آگے بڑھ کر ایک جاتی کے روپ میں گھل مل گئے۔ اس سے ایتھنز کے عام قانون کا ایک پورا نظام تیار ہو گیا جو قبیلوں اور گنوں کے قانونی رواجوں سے زیادہ اونچی حیثیت سے بعض حقوق اور بعض مزید قانونی تحفظات حاصل ہو گئے تھے جو اس علاقے میں کام آ سکتے تھے جو ان کے اپنے قبیلے کا نہیں تھا۔ لیکن گن دستور کی جڑ کھودنے کی طرف یہ پہلا قدم تھا کیونکہ بعد میں اسی کی بنیاد پر ایسے لوگوں کو بھی شہری بنا یا گیا جن کا اٹیکا کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں تھا اور جو ایتھنز کے گن دستور کے دائرے سے بالکل باہر تھے اور باہر ہی رہے۔ گن،  فریٹری اور قبیلے کے فرق کو بھلا کر،  تین طبقوں میں تقسیم کر دیا: یوپیٹر یڈیز یعنیہ امرا اور شرفا کا طبقہ،  جیوموروئی یعنی زمین کی کاشت کرنے والے لوگ اور ڈیمی ارجی یعنی دستکار۔ سرکاری عہدہ دار بننے کا حق صرف امرا اور شرفا کو دیا گیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ امراء اور شرفا کے لئے سرکاری عہدوں کو مخصوص کر دینے کے علاوہ اس نئی تقسیم کا اور کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ اس نے مختلف طبقوں کے درمیان کوئی اور قانونی امتیازات نہیں پیدا کئے۔ لیکن اس کے باوجود یہ تقسیم بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں ان نئے سماجی عناصر کا پتہ چلتا ہے جو اس دوران میں خاموشی کے ساتھ ابھرا آئے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گنوں میں عہدوں پر چند خاندانوں کے لوگوں کے تقرر کا رواج بڑھ کر ان خاندانوں کا مخصوص حق بن چکا تھا اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ اور یہ خاندان جو اپنی دولت کی وجہ سے کافی طاقتور ہو چکے تھے، اپنے گنوں کے باہر ایک با اقتدار طبقے کی صورت متحد ہونے لگے تھے۔ اور جو نئی ریاست جنم لے رہی تھی اس نے اقتدار کے اس غصب کو جائز قرار دیا۔ پھر اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کاشتکار اور دستکار کے درمیان محنت کی تقسیم اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ اس نے گنوں اور قبیلوں کی پرانی تقسیم کی برتری کو سماجی طور پر کمزور کر دیا تھا۔ اور آخر میں،  اس سے صاف طور پر یہ پتہ چلتا تھا کہ گن سماج اور ریاست میں ایک ایسا تضاد ہے جو کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ ریاست قام کرنے کی اس پہلی کوشش کا مطلب یہی تھا کہ گن کے ممبروں کو ایک اعلیٰ طبقے اور ایک ادنیٰ طبقے میں تقسیم کر کے گن کا شیرازہ منتشر کر دیا گیا اور ادنیٰ طبقے کو پھر کا شتکاروں اور دستکاروں کے دو الگ الگ طبقوں میں بانٹ کر انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا گیا۔

اس کے بعد سے سولون کے زمانے تک ایتھنز کی سیاسی تاریخ پور ی طرح معلوم نہیں ہے۔  بیسییئس کا عہدہ رفتہ رفتہ بیکا ر ہو گیا۔ اور آرکون(مختار کل(جو شرفا میں سے چنے جاتے تھے۔ ریاست کے صدر بن گئے۔ امراء اور شرفا کی حکومت برابر بڑھتی گئی حتیٰ کہ 600قبل مسیح تک وہ ناقابل برداشت ہو گئی۔ عام لوگوں کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے دو ذریعے تھے، ایک زر یعنی روپیہ اور دوسرے سود خوری۔ شرفا زیادہ تر ایتھنز میں اور اس کے آس پاس رہتے تھے اور وہاں سمندری تجارت سے اور ضمنی کاروبار کے طور پر کبھی کبھار کی سمندری قزاقی سے، دولت بٹور رہے تھے اور ساری نقد دولت اپنے ہاتھوں میں جمع کر رتھے۔  اس زمانے سے دیہی برادریوں کی قدیم روایتی زندگی کو جو فطری معیشت پر مبنی تھی، زر کا بڑھتا ہوا نظام تیزاب کی طرح کھانے لگا۔ گن دستور زر کے نظام سے قطعی کوئی میل نہیں کھاتا۔ جیسے جیسے اٹیکا کے چھوٹے چھوٹے کسان اقتصادی حیثیت سے برباد ہوتے گئے، ویسے ویسے گن دستور کے وہ بندھن بھی ڈھیلے پڑتے گئے جو پہلے ان کا تحفظ کرتے تھے۔ ایتھنز کے باشندوں نے اس زمانے تک رہن کا رواج بھی شروع کر دیا تھا۔ اور مہا جن کی ہنڈی اور رہن نامہ نہ تو گن کا احترام کرتے ہیں اور نہ فریٹری کا۔ پرانا گن دستور زر، ادھار اور نقد قرض سے ناواقف تھا۔ اس لئے شرفا کی لگاتار بڑھتی ہوئی زر کی حکومت نے ایک نئے قانون کو جنم دیا جو قرضدار سے مہاجن کی حفاظت کرتا تھا اور روپے کے مالک کو چھوٹے کسان کے استحصال کی اجازت دیتا تھا۔ یہی نیا رواج تھا۔ اٹیکا کے دیہاتی علاقے میں رہن کی تختیوں کا جال بچھ گیا۔ ان پر لکھا ہوتا تھا کہ جس زمین پر یہ تختی لگی ہے وہ اتنے روپے کے عوض فلاں آدمی کے یہاں رہن رکھ دی گئی ہے۔ جن کھیتوں میں ایسی تختیاں نہیں تھیں اس میں سے زیادہ تر رہن کی میعاد ختم ہو جانے کی وجہ سے یا سود نہ ادا کر سکنے کی وجہ سے فروخت ہو چکے تھے اور سود خور شریف زادوں کی ملکیت بن چکے تھے۔ کسان کو اگر لگان دینے والے کاشتکا ر کی حیثیت سے رہنے دیا جاتا تو وہ اپنے کو بہت خوش قسمت سمجھتا تھا۔ وہ اپنی محنت کی پیداوار کے ایک چھٹے حصے پر خود گزارہ کرتا اور چھ میں پانچ حصے مالک کو لگان کے طور پر ادا کر دیتا تھا۔ یہی نہیں،  جو زمین رہن رکھی گئی تھی، اس کی فروخت سے اگر مہاجن کا پورا روپیہ ادا نہیں ہوتا تھا یا اگر ایسا قرض ہوتا تھا جس کے بدلے میں کوئی چیز گروی نہیں رکھی گئی تھی تو قرضدار کو مہاجن کا روپیہ ادا کرنے کے لئے اپنے بچوں کو بدیس میں غلام بنا کر بیچنا پڑتا تھا۔ یا اپنے ہاتھوں اپنی اولاد کو بیچ ڈالتا تھا۔ پدری حق اور یک زوجگی کا پہلا نتیجہ یہی نکلا۔ اور اگر خون چوسنے والا مہاجن اس سے بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا تو وہ خود قرضدار کو غلام کی طرح بیچ سکتا تھا۔ ایتھنز کے لوگوں میں تمدن کی خوشگوار صبح کا آغاز ایسے ہی ہوا تھا۔

پہلے جب لوگوں کی زندگی کے حالات گن دستور کے مطابق تھے، تب اس طرح کا انقلاب ناممکن تھا۔ لیکن اب یہ انقلاب ہو گیا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے ہو گئی۔ آیئے، کچھ دیر کے لئے پھر ایرودواس لوگوں کے بیچ لوٹ چلیں۔  جیسی حالت ایتھنز کے باشندوں میں آ پ ہی آپ اور گویا بغیر کچھ کئے ہی، اور بے شک ان کی خواہش کے خلاف پیدا ہو گئی ویسی حالت کا ہم ایرو کواس لوگوں میں تصور تک نہیں کر سکتے۔ وہاں ذرائع زندگی کی پیدائش کا طریقہ جو سال یہ سال ایک سا ہی رہتا تھا اور جس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوتی تھی، ایسا تھا جس میں ایسی کشمکش کبھی پیدا نہیں ہو سکتی تھی جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اسے باہر سے سماج پر ٹھونسا گیا ہے۔ پیداوار کے اس طریقے میں امیر اور غریب کا اختلاف یا استحصال کرنے والوں اور کئے جانے والوں کا تضاد نمودار نہیں ہو سکتا تھا۔  ایرو کواس لوگ ابھی فطرت کے مالک نہیں بن پائے تھے لیکن فطرت نے ان کے لئے جو حد مقرر کر دی تھی،  اس کے اندر وہ اپنی پیداوار کے مالک تھے۔ کبھی کبھی ان کے چھوٹے چھوٹے باغیچوں میں اچھی فصل نہیں ہوتی تھی۔ کبھی کبھی ان کی جھیلوں اور ندیوں میں مچھلیاں اور ان کے جنگلوں میں شکار کے جانور اور پرندے ختم ہو جاتے تھے۔ مگر ان باتوں کے علاوہ انہیں یہ معلوم رہتا تھا کہ ان کے روزی کمانے کے طریقے کا کیا پھل ہو گا۔ اس کا پھل یہی ہو سکتا تھا کہ زندگی بسر کرنے کے وسیلے حاصل ہوں،  کبھی فراوانی کے ساتھ اور کبھی کم۔ لیکن اس کا پھل یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ سماج میں بے ساختہ افراتفری مچ جائے اور بڑی بڑی تبدیلیاں ہو جائیں،   گن دستور کا شیرازہ بکھر جائے، گنوں اور قبیلوں کے ممبروں میں پھوٹ پڑ جائے اور وہ باہم دیگر مخالف طبقوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگیں۔  پیداوار بہت محدود دائرے میں ہوتی تھی، لیکن پیداوار کرنے والوں کا اپنے پیدا کئے ہوئے مال پر قبضہ ہوتا تھا۔ عہد بربریت کے طریقہ پیداوار کی یہ ایک بڑی خوبی تھی جو تمدن کے آتے ہی ختم ہو گئی۔ اور فطرت کی قوتوں پر انسان کو جو زبردست قدرت حاصل ہو گئی ہے اور انسانوں میں آج جو آزاد تعاون ممکن ہے، اس کی بنیاد پر عہد بربریت کی پیداوار کی اس خصوصیت کو پھر سے حاصل کرنا ہی آنے والی نسلوں کا کام ہے۔

یونانیوں میں ایسی حالت نہیں تھی۔ جب مویشیوں کے ریوڑ اور عیش و آرام کے سامان کچھ افراد کی نجی ملکیت بن گئے تب افراد کے درمیان چیزوں کا تبادلہ ہونے لگا اور پیداوار جنس تبادلہ یا بکاؤ مال بن گئی۔ آگے چل کر جو سارا انقلاب ہوا اس کی جڑ میں یہی چیز تھی۔ پیدا کرنے والے چونکہ اب اپنی پیداوار کو خود خرچ نہیں کرتے تھے اور وہ تبادلے کے ذریعے ان کے ہاتھ سے نکل جاتی تھی، اس لئے اپنی پیداوار پر خود ان کو کوئی اختیار نہیں رہ گیا تھا۔ اب انہیں یہ پتہ نہیں رہتا تھا کہ ان کی پیداوار کا کیا ہوا اور ان بات کا امکان پیدا ہو گیا کہ پیداوار ایک روز اپنے پیدا کرنے والوں کے خلاف استعمال کی جا سکے اور وہ ان کے استحصال اور ان پر ظلم کا ایک ہتھیار بن جائے۔ لہٰذا جو سماج افراد کے درمیان ہونے والے تبادلے کو بند نہیں کرتا، وہ بہت دنوں تک خود اپنے پیداوار کا مالک نہیں رہ سکتا اور اپنے پیداواری عمل کے سماجی نتیجوں پر قابو نہیں رکھ سکتا۔

ایتھنز کے باشندوں کو جلد ہی یہ پتہ چل گیا کہ انفرادی تبادلے کے شروع ہونے اور پیداوار کے جنس تبادلہ بن جانے کے بعد کتنی تیزی کے ساتھ پیداوار ہی خود پیدا کرنے والے پر اپنے حکومت قائم کر لیتی ہے۔ جنس تبادلہ کی پیداوار کے ساتھ ساتھ انفرادی کھیتی بھی شروع ہو گئی۔ لوگ الگ الگ اپنے فائدے کے لئے زمین جو تنے لگے۔ اس کے تھوڑے عرصے بعد زمین پر انفرادی ملکیت قائم ہو گئی۔ پھر زر یا روپیہ یعنی وہ چیز آ گئی جس کا دوسری سبھی چیزوں کے ساتھ تبادلہ ہو سکتا تھا۔ لیکن جب انسانوں نے زر کو ایجاد کیا تب انہوں نے یہ ذرا بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک نئی سماجی طاقت کو، ایک ایسی عالمگیر طاقت کو وجود میں لا رہے ہیں جس کے سامنے پورے سماج کو جھکنا پڑے گا۔ یہ نئی طاقت اپنے پیدا کرنے والوں کی خواہش یا واقفیت کے بغیر اچانک پیدا ہو گئی تھی، جس کے شباب کے پورے حیوانی کس بل ایتھنز والوں کو جھیلنے پڑے۔

لیکن پھر کیا کیا جاتا؟ پرانی گن تنظیم زر کی فاتحانہ آمد کو روکنے میں ناکام ثابت ہوتی تھی۔ یہی نہیں وہ اس قابل بھی نہیں تھی کہ زر، مہاجن،  قرضدار اور قرضوں کی زبردستی وصولی جیسی چیزوں کو اپنے نظام میں جگہ دے دسکتے۔  لیکن نئے سماجی قوت وجود میں آ چکی تھی اور نہ لوگوں کی پاک خواہشوں میں اور نہ ان کی پرانے سنہری دور کو پھر سے لوٹا لانے کی تمناؤں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ زر اور سود خوری کو سماج سے نکال باہر کر دیتیں۔  اس کے علاوہ گن دستور میں کتنی ہی چھوٹی موٹی دراڑیں بھی پڑ چکی تھیں۔  اٹیکا کے ہر کونے میں گنوں اور فریٹریوں کے ممبر آپس میں گھل مل رہے تھے۔ ایتھنز میں یہ بات خاص طور سے دیکھنے میں آ رہی تھی اور پشت در پشت یہ چیز بڑھتی ہی جا رہی تھی حالانکہ ایتھنز والوں کو اپنی زمین تو گن کے باہر بیچنے کی اجازت تھی مگر وہ اپنے رہائشی مکانات کو گن کے باہر نہیں بیچ سکتے تھے۔ صنعت و حرفت اور تجارت کی ترقی کے ساتھ ساتھ پیداوار کی مختلف شاخوں میں،  جیسے کھیتی،  دستکاری اور مختلف پیشوں کے اندر متعدد قسم کے ہنر،  تجارت، جہاز رانی وغیرہ میں محنت کی تقسیم نے اور بھی ترقی کی۔ اب لوگ اپنے اپنے پیشوں کے مطابق، پہلے کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ واضح گروہوں میں بٹ گئے تھے اور ہر گروہ کے کچھ ایسے نئے مشترک مفاد پیدا ہو گئے تھے جن کے لئے گن میں یا فریٹری میں کوئی گنجائش نہیں تھی اور اس لئے ان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے نئے عہدہ داروں کو مقرر کرنا ضروری تھا۔ غلاموں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی اور اس ابتدائی حالت میں بھی وہ ایتھنز کے آزاد شہریوں سے تعداد میں کہیں زیادہ ہوں گے۔ گن دستور شروع میں غلامی کے رواج سے ناواقف تھا اور اس لئے وہ کوئی ایسی تدبیر نہیں جانتا تھا جس کے ذریعے غلاموں کی اس کثیر تعداد کو دبا کر رکھا جا سکے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ تجارت کی کشش سے بہت سے اجنبی ایتھنز میں آ کر بس گئے تھے کیونکہ وہاں دھن دولت کمانا آسان تھا۔ اور پرانے دستور کے مطابق ان اجنبیوں کو نہ تو کوئی حق حاصل تھا اور نہ قانون کسی طرح ان کی حفاظت کرتا تھا۔ باوجود اس کے کہ ان کے ساتھ پرانی روایتی رواداری برتی جاتی تھی پھر بھی وہ عام لوگوں کے درمیان ایک پریشان کن اور اجنبی عنصر بنے ہوئے تھے۔

مختصر یہ کہ گن دستور کا خاتمہ قریب تھا۔ سماج روز بہ روز اس کی حدود سے آگے نکلا جا رہا تھا۔ اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس کی آنکھوں کے سامنے جو نہایت تکلیف دہ برائیاں پیدا ہو رہی تھیں،  ان کو دور یا کم کر سکے۔ لیکن اسی دوران میں،  خاموشی کے ساتھ ریاست کا ظہور ہو چکا تھا۔ پہلے شہر اور دیہات کے درمیان اور پھر شہر میں صنعت و حرفت کی مختلف شاخوں کے درمیان محنت کی تقسیم ہو جانے سے جو نئے گروہ بن گئے تھے، انہوں نے اپنے مفاد کی حفاظت کرنے کے لئے نئے ادارے قائم کر لئے تھے۔ طرح طرح کے سرکاری عہدے قائم ہو گئے تھے۔ اور اس کے علاوہ نوخیز ریاست کو سب سے زیادہ ایک فوج کی ضرورت تھی جو ایتھنز کے باشندے کے لئے،  جو سمندر میں جہاز رانی کرتے تھے، شروع میں بحری فوج ہی ہو سکتی تھی جو کبھی کبھی ہونے والی چھوٹی موٹی لڑائیوں کے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنے کے کام آ سکے۔ سولون سے پہلے کسی غیر متعین زمانے میں چھوٹے چھوٹے علاقائی ضلع بنا دیئے گئے تھے جنہیں نوکریری کہا جا تا تھا۔ ہر قبیلے میں بارہ نوکریری ہوتے تھے اور ہر نوکریری کے لئے ضروری تھا کہ وہ ایک جنگی جہاز کو سازو سامان اور سپاہیوں سے لیس کرے اور اس کے علاوہ وہ دو گھوڑ سواروں کا بندوبست کرے۔ اس انتظام سے گن دستور پر دو طرح کی چوٹ پڑتی تھی۔ ایک تو اس سے ایک ایسی پبلک طاقت پیدا ہو گئی تھی جو اب تمام ہتھیار بند عوام کی مترادف نہیں رہی تھی۔ دوسرے، امور عامہ کے لئے عوام کو پہلی بار خون کے رشتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ علاقے کے مطابق،  بود و باش کی مشترک جگہ یعنی ایک ہی جگہ بسے ہوئے ہونے کی بنیاد پر، الگ الگ بانٹ دیا گیا تھا۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا مطلب تھا۔

عوام جن کا استحصال کیا جاتا تھا، انہیں چونکہ گن دستور سے کوئی مدد نہیں مل پاتی تھی اس لئے اب وہ صرف نئی ابھرنے والی ریاست سے ہی کچھ امید کر سکتے تھے۔ اور ریاست نے سولون کے دستور کی شکل میں ان کی مدد کی اور ساتھ ہی اس کے ذریعے سے پرانے دستور کی اہمیت گھٹا کر اپنا پلہ اور بھی بھاری کر لیا۔ ہمیں یہاں اس سے تعلق نہیں کہ سولون کی 594قبل مسیح کی اصلاحات کس طرح ظہور میں آئی تھیں۔  مگر اس نے ملکیت پر دست درازی کر کے ان انقلابوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو سیاسی کہلاتے ہیں۔  ابھی تک جتنے بھی انقلاب ہوئے ہیں،  ان سب کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرح کی ملکیت کی دوسری طرح کی ملکیت سے حفاظت کریں۔  اور ایک طرح کی ملکیت کی حفاظت وہ دوسری طرح کی ملکیت پر حملہ کئے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔ فرانس کے انقلاب عظیم میں بورژوا ملکیت کو بچانے کے لئے جاگیردارانہ ملکیت کو قربان کر دیا گیا۔ سولان کے انقلاب میں قرضداروں کی ملکیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے مہاجنوں کی ملکیت کو نقصان پہنچانا پڑا۔ قرضوں کو سیدھے سیدھے منسوخ کر دیا گیا۔ مفصل واقفیت ہمیں نہیں ہے لیکن سولون نے اپنی نظموں میں بڑے فخر کے ساتھ کہا ہے کہ ان نے رہن نامے کی تختیاں کھیتوں سے ہٹوا دیں اور ان سب لوگوں کو اپنے وطن لوٹ جانے کا موقع دیا ہے جو قرض کی بدولت گھر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے یا جو غیر ملکوں میں بیچ دیئے گئے تھے۔ یہ بات ملکیت کے اختیارات پر کھلے عام چوٹ کئے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ اور سچی بات یہ ہے کہ جو سیاسی انقلاب کہے جاتے ہیں،  پہلے سے لے کر آخری تک، ان سب کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرح کی ملکیت کی حفاظت کرنے کے لئے دوسری طرح کی ملکیت کو ضبط کریں __ جن کو چوری کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اس لئے یہ ایک نا قابل انکار صداقت ہے کہ پچیس سو برس سے ذاتی ملکیت کی حفاظت کرنے کے لئے ملکیت کے حقوق اور اختیاروں کو روندا جا رہا ہے۔

لیکن اب اس بات کی بھی تدبیر کرنی تھی کہ ایتھنز کے آزاد شہریوں کو دوبارہ غلام نہ بنایا جا سکے۔ شروع میں اس کے لئے کچھ عام ڈھنگ کے قدم اٹھائے گئے۔ مثال کے لئے ایسے اقرار ناموں پر روک لگا دی گئی جن میں خود قرضدار کو رہن یا گروی رکھ دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک حد طے کر دی گئی جس سے زیادہ زمین کسی کے پاس نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ امرا میں کسانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ہوس پر کسی حد تک تو پابندی لگائی جائے۔ اس کے بعد دستوری ترمیمیں (Verfassung)کی گئیں جن میں ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم یہ ہیں :

کونسل کے ممبروں کی تعداد بڑھا کر چار سو کر دی گئی۔ ہر قبیلے سے سو سو ممبر کونسل میں رہے۔ چنانچہ اس معاملے میں قبیلے ہی کو بنیاد مان لیا گیا۔ لیکن پرانے دستور کی یہی ایک بات تھی جسے نئی ریاست کے دستور میں قائم رکھا گیا تھا۔ باقی باتوں میں سولون نے شہریوں کو ان کی زمین اور اس کی پیداوار کی مقدار کی بنیاد پر چار طبقوں میں بانٹ دیا تھا۔ پہلے تین طبقوں میں وہ لوگ رکھے گئے تھے جن کی زمین سے کم سے کم پانچ سو، تین سو اور ڈیڑھ سو مید منی (medimni)اناج پیدا ہوتا تھا(ایک مید منی تقریباً 41لٹر کے برابر ہوتا ہے)۔ جن لوگوں کے پاس اس بھی کم زمین تھی یا بالکل نہیں تھی، انہیں چوتھے طبقے میں رکھا گیا تھا۔ سرکاری عہدوں پر صرف پہلے تین طبقوں کے لوگوں کو ہی مقرر کیا جا سکتا تھا۔ سب سے اونچے عہدے پہلے طبقے کے لوگوں کو ملتے تھے۔ چوتھے طبقے کو صرف عوامی اسمبلی میں بولنے اور ووٹ دینے کا حق تھا۔ لیکن تمام عہدہ دار اسی اسمبلی میں چنے جاتے تھے۔ اسی کے سامنے وہ اپنے کاموں کے لئے جو اب دہ تھے، سارے قانون بھی یہی اسمبلی بناتی تھی اور اس اسمبلی میں اکثریت چوتھے طبقے کے لوگوں کی ہی تھی۔ شرفا کے طبقے کے مخصوص اختیارات کو کسی حد تک دولت کے اختیارات کی شکل میں دوبارہ قائم کر دیا گیا تھا لیکن فیصلہ کن طاقت عوام کے ہاتھوں میں رہی۔ فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے میں بھی انہیں چار طبقوں کو بنیاد بنایا گیا۔ پہلے دو طبقوں سے سوار فوج کے لوگ لئے جاتے تھے۔ تیسرے طبقے کو زرہ بند پیدل فوج کا کام کرنا پڑتا تھا۔ اور چوتھے طبقے کو یا تو معمولی پیدل فوج کا کام کرنا پڑتا تھا جس کے پاس زرہ بکتر نہیں ہوتے تھے یا انہیں سمندری فوج میں بھرتی کر دیا جاتا تھا۔ چوتھے طبقے کے لوگوں کو شاید اس کا م کی اجرت بھی دی جاتی تھی۔

اس طرح دستور میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہو گیا تھا اور وہ عنصر تھا، ذاتی ملکیت۔ شہریوں کے حقوق اور فرائض زمین کی ملکیت کی بنیاد پر طے کئے گئے اور جیسے جیسے ملکیت والے طبقوں کا اثر بڑھتا گیا،  ویسے ویسے پرانے، یک جدی خون کے رشتوں(سگوتر(کی بنیاد پر بنے ہوئے گروہ پس منظر میں پڑ گئے۔ گن دستور کو ایک اور شکست ہوئی۔

لیکن ملکیت کے مطابق سیاسی حقوق کی درجہ بندی ریاست کے لئے کوئی لازمی چیز نہیں تھی۔ ریاست کی دستوری تاریخ میں اس کی جو بھی اہمیت ہو، لیکن بہت سی ریاستیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاستیں اس قسم کی درجہ بندی کے بغیر ہی کام چلاتی تھیں۔   ایتھنز میں بھی اس کی اہمیت عارضی تھی۔ ارسطائدیز کے زمانے سے تمام عہدے سبھی طرح کے شہریوں کو ملنے لگے تھے۔

اگلے 80برسوں میں ایتھنز کے سماج نے وہ راستہ اختیار کر لیا جس پرچل کر آئندہ کئی صدیوں تک اس کا ارتقا ہوتا رہا۔  سولون سے پہلے کے زمانے میں سود خور جس طرح زمین پر قبضہ کر لیا کرتے تھے، اس پر روک لگائی گئی،  اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کے پاس بہت زیادہ زمین اکٹھا ہونے سے روکی گئی۔ تجارت اور دستکاری اور طرح طرح کے منافع بخش ہنر اور فن اہم پیشے بن گئے جن کی بنیاد غلاموں کی محنت تھی اور جو زیا دہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر منظم کئے جا رہے تھے۔  سماج میں تعلیم اور روشن خیالی کو ترقی ہوئی۔ خود اپنے شہری بھائیوں کا پرانے بہیمانہ طریقے سے استحصال کرنے کے بجائے،  ایتھنز کے باشندے زیادہ تر اپنے غلاموں کا اور اپنے غیر ملکی گاہکوں کا استحصال کرنے لگے۔ منقولہ جائیداد، یعنی وہ دولت جو زر نقد، غلام اور جہاز کی شکل میں تھی، برابر بڑھتی گئی۔ لیکن پہلے زمانے میں،   باوجود اس کی تمام حدود اور خامیوں کے،  اگر دولت محض زمین خریدنے کا ایک ذریعہ تھی، تو اب دولت جمع کرنا خود ایک مقصد بن گیا۔ ایک طرف تو اس سے نیا، دولت مند،  صنعتی اور تجارتی طبقہ،  شرفا کے طبقے کی پرانی طاقت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے لگا تھا اور دوسری طرف پرانے گن دستور کی آخری بنیاد بھی ختم ہو گئی۔ اس طرح پرانے گن، فریٹریاں اور قبیلے جن کے ممبر سارے اٹیکا میں بکھرے ہوئے تھے اور آپس میں گھل مل گئے تھے، سیاسی اداروں کی حیثیت سے بالکل بے کار ہو گئے۔ ایتھنز کے بہت سے شہری کسی بھی گن کے ممبر نہیں تھے وہ بدیسوں سے آئے ہوئے لوگ تھے جو شہری تو بن گئے تھے مگر ان پرانے اداروں میں شریک نہیں ہو پائے تھے جو یک جدی قرابت(سگوتری( کی بنیاد پر بنے تھے۔ اس کے علاوہ غیر ملکوں سے آئے ہوئے ایسے لوگوں کی تعداد بھی برابر بڑھتی جا رہی تھی جنہیں صرف سرپرستی حاصل تھی۔ (26)

اس دوران میں مختلف پارٹیوں کی جدوجہد جاری رہی۔ شرفا کا طبقہ اپنے مخصوص اختیارات کو پھر سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور کچھ دنوں کے لئے اس کا غلبہ قائم بھی ہوا۔ لیکن 509(ق۔ م۔ میں (کلاسھیز کے انقلاب نے انہیں اکھاڑ پھینکا، اور ان کے ساتھ ساتھ گن دستور کے آخری بچے کھچے آثار بھی مٹ گئے۔

کلائستھینز نے اپنے نئے دستور میں گنوں اور فریٹریوں کی بنیاد پر بنے ہوئے پرانے چار قبیلوں کا کوئی خیال نہیں رکھا۔ ان کی جگہ ایک بالکل نئی تنظیم نے لے لی جس میں شہریوں کو صرف ان کی بود و باش کی جگہ کی بنیاد پر بانٹا گیا تھا، جیسا کہ پہلے نوکریریوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب فیصلہ کن بات یہ نہ تھی کہ کوئی شخص کس یک جدی(سگوتر(گروہ کا رکن ہے بلکہ فیصلہ کن بات یہ تھی کہ وہ کس علاقے کا رہنے والا ہے۔ اب لوگوں کو نہیں بلکہ علاقوں کو تقسیم کیا گیا۔ سیاسی اعتبار سے اب لوگوں کی اہمیت صرف یہ تھی کہ وہ کسی علاقے سے وابستہ تھے۔

پورا اٹیکا ایک سو خود حکومتی قصبات یا بلدوں میں بانٹ دیا گیا۔ انہیں دیم کہا جاتا تھا۔ ہر دیم کے شہری(دیموت(اپنا ایک مکھیا(دیمارک(، ایک خزانچی اور چھوٹے چھوٹے معاملوں کو طے کرنے کے لئے تیس پنچ منتخب کرتے تھے۔ ہر دیم کے شہریوں کا اپنا الگ مندر اور دیوتا یا ہیرو(heros(ہوتا تھا، جس کے پجاریوں کو چنا جاتا تھا۔ دیم میں اقتدار اعلیٰ دیموتوں کی اسمبلی کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ مارگن نے صحیح کہا ہے کہ یہ امریکہ کے خود حکومتی بلدی نظم و نسق "Local self Government”کی ہی دوسری شکل تھی۔ موجودہ ریاست اپنے ارتقا کی آخری منزل پر پہنچ کر اسی اکائی پر ختم ہو جاتی ہے جس کے ساتھ ایتھنز میں ریاست کا آغاز ہو ا تھا۔

ان دس اکائیوں(دیموں (کو ملا کر ایک قبیلہ بنتا تھا۔ مگر یہ قبیلہ پرانے گن دستور کے مطابق بنے ہوئے قبیلے(Geschlechtsstamm(سے بالکل مختلف تھا اور مقامی قبیلہ(Ortsstamm)کہلاتا تھا۔ یہ مقامی قبیلہ اپنی حکومت آپ چلانے والا ایک سیاسی گروہ ہی نہیں تھا بلکہ ایک فوجی گروہ بھی تھا۔ وہ ایک فیلارک (1)یعنی قبیلے کا سردار چنتا تھا جو سوار فوج کا کمانڈر ہوتا تھا، ایک ٹیکسیارک چنتا تھا جو پیدل فوج کا کمانڈر ہوتا اور ایک اسٹریٹی جوس چنتا تھا جو اس پوری فوج کا، جو اس قبیلے کے علاقے میں بھرتی کی جاتی تھی، کمانڈر ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر قبیلہ پانچ جنگی جہاز، ان کو چلانے والے جہازی سپاہی اور کمانڈر مہیا کرتا تھا۔ ہر قبیلے کو ایک اٹیکی دیوتا یعنی ہیروس دے دیا گیا تھا جس کے نام سے قبیلہ جانا جاتا تھا اور جو اس قبیلے کی حفاظت کر تا تھا۔  اور آخری بات یہ کہ یہ مقامی قبیلہ ایتھنز کی کونسل کے کئے پچاس ممبر چنتا تھا۔

کل ملا کر جو چیز بنی، وہ تھی ایتھنز کی ریاست۔ اس کی حکومت پانچ سو آدمیوں کی ایک کونسل چلاتی تھی جس کو دس قبیلے چنتے تھے۔ حکومت کا مکمل اختیار اس سے بھی اوپر عوامی اسمبلی کو تھا جس میں ایتھنز کا ہر شہری شریک ہو سکتا اور ووٹ دے سکتا تھا۔ حکومت کے مختلف شعبوں اور عدالتوں کا کام آرکون اور دوسرے عہدہ دار کیا کرتے تھے۔ ایتھنز میں ایسا کوئی عہد ہ دار نہیں تھا جو اعلیٰ ترین انتظامی اقتدار کا مالک ہو۔

اس نئے دستور کے ذریعے اور بہت سے زیر اثر لوگوں (Schutzverwandter)کو جن میں سے کچھ باہر سے آئے ہوئے تھے اور کچھ ایسے غلام تھے جنہیں آزاد کر دیا گیا تھا، شہریوں میں شامل کر کے گن دستور کے اداروں کو امور عامہ کے دائرے سے ختم کر دیا گیا۔ وہ اب نجی غیر سرکاری ادارے اور مذہبی جماعتیں بن کر رہ گئے۔ لیکن ان کا اخلاقی اثر،  قدیم گن دستور کے زمانے کے روایتی خیالات اور تصورات،  بہت دنوں تک زندہ رہے اور رفتہ رفتہ بہت دنوں میں مٹے۔  ریاست کے ایک بعد کے ادارے میں یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوئی۔

ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ ریاست کی ایک ضروری خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا اقتدار عامہ ہے جو عام لوگوں سے الگ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں ایتھنز میں صرف ایک عوامی فوج اور ایک جہازی بیڑا تھا جن کے لئے براہ راست عوام میں سے ہی لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا اور عوام ہی ان کو ہتھیاروں اور سازو سامان سے لیس کرتے تھے۔ یہی فوجیں دشمنوں سے ملک کی حفاظت کرتی تھیں اور غلاموں کو دبائے رکھتی تھیں۔   اس زمانے تک غلام آبادی کی اکثریت بن چکے تھے۔ شہریوں کے لئے شروع میں اس اقتدار عامہ کا وجود محض پولیس کی شکل میں تھا۔ پولیس اتنی ہی پرانی چیز ہے جتنی پرانی ریاست۔ یہی وجہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے بھولے بھالے فرانسیسی لوگ متمدن قوموں کا نہیں بلکہ پولیس کے ذریعہ منظم قوموں (nations polices)کا ذکر کرتے تھے۔ اس طرح اپنی ریاست قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ایتھنز کے باشندوں نے اپنی پولیس بھی بنا ڈالی جس کو تیر کمان سے لیس پیدل اور  سوار سپاہیوں کا دستہ کہنا غلط نہ ہو گا۔ جنوبی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی زبان میں کہا جائے تو ایتھنز والوں نے اپنی لینڈ جاگر (Landjager)بنا ڈالی تھی۔ اس پولیس کے سپاہی سب غلاموں میں سے تھے۔  ایتھنز کے آزاد شہری پولیس کے کام کو اتنا نیچا سمجھتے تھے کہ ایک ہتھیار بند غلام کے ہاتھوں تو گرفتار ہونا انہیں پسند تھا مگر یہ پسند نہیں تھا کہ خود اس نفرت انگیز کام کو کریں۔   یہ قدیم گن والی ذہنیت کا ہی اظہار تھا۔ پولیس کے بغیر ریاست قائم نہیں تھی کہ ایک ایسے پیشے کو یعنی پولیس کے کام کو جسے قدیم گن والے لوگ حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے، عزت کا کام بنا سکتی۔

اس طرح ریاست کا ڈھانچہ اور اس کے نمایاں نقوش مکمل ہو چکے تھے۔ وہ ایتھنز کے باشندوں کی نئی سماجی حالت میں کتنی مناسب اور موزوں چیز تھی وہ اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کے قائم ہونے کے بعد دولت،  تجارت اور صنعت و حرفت کو بڑی تیزی سے ترقی ہوئی۔ اب جس طبقاتی تضاد پر سماجی اور سیاسی اداروں کی بنیاد تھی، وہ شرفا اور عام لوگوں کا تضاد نہیں تھا بلکہ غلاموں اور آزاد شہریوں کا،  محکوموں اور شہریوں کا تضاد تھا۔ جب ایتھنز اپنی دولت اور خوش حالی کے عروج پر تھا، تب اس کے آزاد شہریوں کی کل تعداد جس میں عورتیں اور مردوں کی تعداد365000تھی اور زیر اثر لوگوں کی تعداد جس میں غیر ملکوں سے آئے ہوئے لوگ اور آزاد کئے ہوئے غلام دونوں شامل تھے 45000تھی۔ اس طرح ہر بالغ مرد شہری پر کم سے کم اٹھارہ غلام اور دہ سے زیادہ زیر اثر لوگ تھے۔ غلاموں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے لوگ کارخانوں میں کام کرتے تھے۔ وہاں بڑے بڑے کمروں میں بہت سے غلاموں کو ایک جگہ جمع ہو کر اوور سیر یا ناظر کی نگرانی میں کام کرنا پڑتا تھا۔ تجارت اور صنعت و حرفت کی ترقی کے ساتھ ساتھ چند آدمیوں کے ہاتھوں میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع ہوتی گئی۔ زیادہ تر آزاد شہری غریبی اور افلاس کے گڑھے میں گر گئے۔ ان کے سامنے دو ہی راستے تھے: یا تو دستکاری کا کام شروع کریں اور اس طرح غلاموں کی محنت کا مقابلہ کریں جو کہ آزاد شہریوں کی شان کے خلاف سمجھا جاتا تھا اور جس میں کامیابی کی امید بھی بہت کم تھی، اور یا تباہ ہو کر دیوالیہ ہو جائیں۔  اس زمانے میں جیسے حالات تھے، ان میں تباہ ہونے والی ہی بات ہوئی۔ اور چونکہ ان کی بڑی تعداد تھی اس لئے ان کے دیوالیہ بننے کے ساتھ ساتھ ایتھنز کی پوری ریاست برباد ہو گئی۔ ایتھنز کے زوال کی وجہ جمہوریت نہیں تھی جیسا کہ یورپ کے اسکول ماسٹر جو بادشاہوں کے تلوے چاٹتے ہیں،  ہمیں بتایا کرتے ہیں۔  اس کا زوال غلامی کی وجہ سے ہوا جس کی بدولت آزاد شہریوں میں محنت بری چیز سمجھی جانے لگی۔

ایتھنز کے لوگوں میں ریاست کا ظہور جس طرح ہوا وہ عام طور پر ریاست کے بننے کی ایک ٹھیٹ مثال ہے کیونکہ اس کا ظہور وہاں،  ایک طرف تو خالص شکل میں ہوا جس میں بیرونی یا اندرونی تشدد نے کبھی دخل اندازی نہیں کی(پیسیستراتس کے غصب کا زمانہ بہت تھوڑے دنوں رہا اور اس کے ختم ہونے کے بعد اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہا تھا(اور دوسرے وہ ریاست کی ایک نہایت ترقی یافتہ شکل، جمہوری ریپبلک کا نمونہ ہے جو براہ راست گن سماج سے نکلی تھی۔ اور آخری بات یہ کہ ہم اس کی تمام ضروری تفصیلات سے واقف ہیں۔

حوالہ جات

فیلارک__قدیم یونانی لفظ "فیلا”سے بنا ہے۔ یعنی قبیلہ(ایڈیٹر)

________________________________________________

 

چھٹا باب

روم میں گن اور ریاست

روما کے قائم ہونے کے بارے میں جو روایت چلی آ رہی ہے اس کے مطابق پہلی بستی متعدد لاطیتی گنوں نے بسائی تھی(روایت ہے کہ ان کی تعدد سو تھی(جو مل کر ایک قبیلہ بن گئے تھے۔ اس کے بعد ایک سیبیلین قبیلہ وہاں آ کر رہنے لگا۔ اس میں بھی گویا ایک سو گن تھے۔ آخر میں مختلف قسم کے لوگوں کا ایک تیسرا قبیلہ بھی آ کر ان لوگوں میں شامل ہو گیا اور اس میں بھی سو گن تھے۔ اس پورے قصے پر ایک نظر ڈالتے ہی یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہاں گن کے سوا شاید ہی کوئی چیز فطری ارتقا کی پیداوار مانی جا سکتی ہے۔ اور گن بھی اکثر ایک ہی مادری گن کی شاخیں ہوتے تھے اور وہ مادری گن اس وقت بھی اپنی پرانی جگہ پر بسا ہوا تھا۔ قبیلوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بناوٹی ڈھنگ سے بنائے گئے ہیں۔  پھر بھی زیادہ تر ان میں ایسے عناصر شامل ہوتے تھے جو ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے تھے اور ان کو پرانے زمانے کے قبیلوں کے نمونے پر بنایا گیا تھا جو بناوٹی ڈھنگ سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر بڑھ کر بنے تھے۔ بلکہ یہ ناممکن نہیں ہے کہ ان تینوں قبیلوں میں سے ہر ایک کے مرکز کا کام کسی پرانے اصلی قبیلے نے کیا ہو۔ قبیلے اور گن کے درمیان کی کڑی فریٹری تھی جس میں دس گن ہوتے تھے اور وہ یہاں "کیوریا”کہلاتی تھی چنانچہ ان کی کل تعداد تیس تھی۔

اسے سب مانتے ہیں کہ روما کے باشندوں کا گن اور یونانیوں کا گن ایک ہی چیز تھی۔ اگر یونانیوں کا گن اسی سماجی اکائی کا سلسلہ تھا جس کی ابتدائی شکل ہمیں امریکہ کے ریڈ انڈینوں میں دکھائی دیتی ہے تو ظاہر ہے کہ رومی گن کے بارے میں یہی بات صادق آتی ہے۔  اس لئے ہم اس کے بیان میں اور بھی اختصار سے کام لے سکتے ہیں۔

شہر روم کے کم سے کم سب سے ابتدائی زمانے میں رومی گن کا مندرجہ ذیل دستور تھا:

1۔ ایک دوسرے کی ملکیت وراثت میں پانے کا حق گن کے ممبروں کو تھا۔ ملکیت گن کے اندر ہی رہتی تھی۔ یونانی گن کی طرح رومی گن میں بھی چونکہ پدری حق قائم ہو چکا تھا، اس لئے عورتوں کی نسل کے لوگ اس حق سے محروم کر دیئے گئے تھے۔ بارہ جدول والے قانون کے مطابق (27)، اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے روما کا سب سے پرانا لکھا ہوا قانون یہی ہے، جب کوئی شخص مرتا تھا تو اس کی جائیداد پر سب سے پہلے اس کی اپنی اولاد کا حق ماتا جاتا تھا۔ اگر کسی شخص کی اپنی اولاد نہیں ہوتی تو جائیداد اگناتیوں کو(یعنی باپ کی طرف کے مرد رشتہ داروں کو(ملتی تھی۔ اور اگر اگناتی بھی نہ ہوں تو جائیداد پر مرنے والے کے گن کے لوگوں کا حق ہوتا تھا۔ ہر حالت میں جائیداد گن کے اندر رہتی تھی۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ دھن دولت کے بڑھ جانے اور یک زوجگی کا رواج ہو جانے کی وجہ سے گن دستور کے عمل میں رفتہ رفتہ کچھ نئے قانون قاعدے داخل ہو گئے تھے۔ پہلے مرنے والے کی جائیداد پر گن کے سبھی ممبروں کا یکساں حق ہوتا تھا، پھر عملاً یہ حق اگنایتوں تک ہی محدود کر دیا گیا__  یہ شاید بہت دن پہلے کی بات ہے جیسا ہ اوپر کہا جا چکا ہے، بعد میں یہ حق مرنے والے کی اولاد اور آخر الذکر کی مرد اولاد تک ہی محدود ہو گیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ بارہ جدول والے قانون میں یہ بات الٹے سلسلے سے دی گئی ہے۔

2۔ ہر گن کا ایک مشترک قبرستان ہوتا تھا۔ جب کلوڈیا نامی شرفا کا(پیتریشین)ایک گن ریگیل سے روم میں آ بسا تو اس کو شہر میں زمین کا ایک قطعہ اور ایک مشترک قبرستان ملا۔ آگستن کے زمانے میں بھی جب ٹیوٹوبرگ کے جنگل میں وارس مارا گیا تو اس کے سر کو روم میں لا کر جینئلئٹیس، ٹیومولس(1)(gentilitius tumulus)میں دفن کر دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے گن(کوئنک ٹیلیا گن (کے پاس اس زمانے میں بھی اپنا الگ قبرستان تھا۔

3۔ گن کے لوگ مل کر مذہبی تیوہار اور رسمیں منایا کرتے تھے۔ یہ سیکرا جنٹی لیٹیا (sacra gentilitia)کہلاتی تھیں اور کافی مشہور ہیں۔

4۔ گن کے ممبر گن کے اندر شادی نہیں کر سکتے تھے۔ روم میں اس پابندی نے کبھی باقاعدہ لکھے ہوئے قانون کا درجہ حاصل نہیں کیا مگر ایک رواج کے طور پر لوگ اسے مانتے رہے۔ روم کے بے شمار شادی شدہ مردوں اور عورتوں کے نام ہمیں معلوم ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں کے گن کا نام ایک ہو۔ وراثت کے قانون سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ شادی ہو جانے پر عورت اگناتیوں کے حق سے محروم ہو جاتی تھی، اپنے گن سے الگ ہو جاتی تھی اور اس کا یا اس کے بچوں کا اس کے باپ اور باپ کے بھائیوں کی جائیداد پر کوئی حق نہیں ہوتا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے باپ کی جائیداد باپ کے گن کے باہر چلی جاتی۔  ظاہر ہے کہ اس قاعدے کا کوئی مطلب اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم یہ مان لیں کہ عورت کو خود اپنے گن کے کسی ممبر سے شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

5۔ زمین گن کی مشترکہ ملکیت تھی۔ قدیم زمانے میں ہمیشہ یہی قاعدہ تھا۔ پھر قبیلے کی زمین پہلی بار تقسیم کی گئی۔ لاطینی قبیلوں میں ہم پاتے ہیں کہ زمین کسی حد تک قبیلے کی ملکیت تھی، کسی حد تک گن کی ملکیت تھی اور کسی حد تک الگ الگ کنبوں کی۔  ظاہر ہے کہ اس زمانے میں ایک کنبہ یا گھرانے کا مطلب ایک خاندان نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے رومولس نے الگ الگ افراد کو ایک ہیکٹر(دو”جگیرا”)فی کس کے حساب سے زمین بانٹی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی ہم پاتے ہیں کہ کچھ زمین گن کے پاس رہ گئی۔ اور ریاستی زمین کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ روما کی ریپبلک کی ساری اندرونی تاریخ اسی ریاستی زمین کے محور پر گھومتی رہی ہے۔

6۔ گنوں کے ممبروں کا فرض ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کی مدد کریں اور کسی کا کوئی نقصان ہو جانے پر اس کی تلافی کی کوشش کریں۔   لکھی ہوئی تاریخ میں اس قاعدے کے کچھ بچے بچائے اثرات ہی ملتے ہیں۔  رومی ریاست نے شروع ہی سے اتنی اعلیٰ طاقت کا اظہار کیا تھا کہ نقصانوں کی تلافی کی ذمہ داری اسی کے اوپر آ پڑی تھی۔  جب ایپیئس کلوٹیئس گرفتار ہو گیا تھا تو اس کے پورے گن نے حتیٰ کہ اس کے ذاتی دشمنوں نے بھی،  غم کے آنسو بہائے تھے۔ دوسری پیونک جنگ (28)کے موقع پر مختلف گن اپنے ممبروں کو، جو قید کر لئے گئے تھے، تاوان دے کر رہا کرانے کے لئے ایک ہو گئے تھے۔  لیکن سینٹ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

7۔ گن کے ممبروں کو اختیار تھا کہ وہ گن کا نام استعمال کریں۔  اس قاعدے پر شہنشاہوں کے وقت تک عمل ہوتا رہا۔  جو غلام آزاد کر دیئے جاتے تھے، ان کو اپنے سابق مالکوں کے گن کا نام اختیار کرنے کی اجازت تھی۔ لیکن انہیں گن کے ممبروں کے اختیارات نہیں ملتے تھے۔

8۔ گن کو اختیار تھا کہ اجنبیوں کو اپنا ممبر بنا لے۔ یہ انہیں کسی خاندان کا ممبر بنا کر کیاجا سکتا تھا(ریڈ انڈینوں میں بھی یہی رواج تھا)۔  خاندان کا ممبر بن جانے پر انہیں گن کے ممبری بھی مل جاتی تھی۔

9۔ سرداروں کو چننے اور برطرف کرنے کے اختیار کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ لیکن روم کے ابتدائے زمانے میں منتخب بادشاہ سے لے کرنیچے تک کے سبھی عہدے انتخاب یا تقرر کے ذریعے پر کئے جاتے تھے اور چونکہ مختلف۔ "کیوریا”اپنے پروہتوں اور پجاریوں کو بھی چنا کرتی تھیں،  اس لئے ہمارے لئے یہ مان لینا مناسب ہو گا کہ گنوں کے سرداروں یا پرنسیپیوں (principles)کو بھی اسی طرح مقرر کیا جاتا تھا، خواہ انہیں ایک ہی خاندان کے لوگوں میں سے چننے کا قاعدہ پوری طرح کیوں نہ مانا جاتا رہا ہو۔

 روم کے گن نظام کے بارے میں ہمارے زمانے کے سب سے زیادہ مستند اور باوثوق مورخوں میں بھی کس طرح کی غلط فہمیاں اور الجھنیں پھیلی ہوئی ہیں،   اس کی ایک مثال یہ ہے: جمہوری اور آگسٹن کے عہد کے شخصی ناموں کے بارے میں مومسن نے جو مقالہ لکھا ہے”(روسی تحقیقات۔ "برلن 1864۔ جلد (3)1، اس میں وہ کہتا ہے:

"گن کا نام نہ صرف گن کے سبھی مرد ممبر استعمال کرتے ہیں،  جن میں وہ اجنبی بھی شامل ہیں جو گن کے ممبر بنا لئے گئے ہیں یا جو گن کی پناہ میں رہتے ہیں،   بلکہ عورتیں بھی اس کو استعمال کرتی ہیں۔  ہاں،  صرف غلاموں کو گن کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ۔۔۔ قبیلہ Stamm)، جیسا کہ موم سن نے gensکا ترجمہ کیا ہے)۔۔۔۔ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کے ممبروں کو ایک ہی مورث اعلیٰ کی نسل سے مانا جاتا ہے اور ایک ہی رسم و رواج، ایک قبرستان اور وراثت کے ایک ہی سے قاعدے اسے متحد کئے رکھتے ہیں۔  ہو سکتا ہے کہ یہ مشترک مورث اعلیٰ واقعی کوئی شخص ہو یا اسے محض فرض کر لیا گیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مشترک مورث اعلیٰ کو زبردستی گھڑ لیا گیا ہو۔ انفرادی طور پر سب آزاد افراد کو اور اس لئے عورتوں کو بھی، گن کے ممبروں کی حیثیت سے اپنا نام درج کرانا پڑتا تھا۔ لیکن کسی شادی شدہ عورت کے گن کا نام طے کرنے میں کچھ مشکل ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک یہ قاعدہ تھا کہ عورتیں اپنے گن کے ممبروں کے سوا اور کسی سے شادی نہیں کر سکتی تھیں،  تب تک ان کے گن کا نام طے کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔ اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ایک لمبے عرصے تک عورتوں کے لئے گن کے باہر شادی کرنا، اپنے گن کے اندر شادی کرنے کے مقابلے میں بہت دشوار ہوتا تھا۔ چھٹی صدی تک بھی یہ ” گنٹیس انپٹیو” (gentis enuptio)یا گن سے باہر شادی کرنے کا حق بعض خاص اشخاص کو مخصوص ذاتی حق یا انعام کے طور پر دیا جاتا تھا۔۔۔ لیکن ابتدائی زمانے میں جب کبھی عورتوں کا اپنے قبیلے کے باہر بیاہ ہوتا ہو گا تب انہیں اپنے شوہر کے قبیلے میں شامل کر دیا جاتا ہو گا۔ اس سے زیادہ یقین کے ساتھ اور کوئی بات نہیں کہی جا سکتی کہ قدیم مذہبی شادی کے ذریعے سے عورت پوری طرح سے اپنے شوہر کی قانونی اور مذہبی رسوم کی برادری میں شامل ہو جاتی تھی اور خود اپنی ایسی برادری کو چھوڑ دیتی تھی۔ یہ کون نہیں جانتا کہ شادی شدہ عورت نہ تو اپنے گن کے رشتہ داروں کی جائیداد وراثت میں پا سکتی ہے اور نہ اپنی جائیداد وراثت میں ان کے لئے چھوڑ سکتی ہے۔ جہاں تک وراثت کا سوال ہے وہ اپنے شوہر،  اپنی اولاد اور شوہر کے گن کے رشتہ داروں کے گروہ میں شامل ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس کا شوہر اسے اپنی اولاد کی مانند قبول کر لے اور اپنے خاندان میں شامل کر لے، تب وہ اس کے گن سے کیسے الگ رہ سکتی ہے؟(” صفحات (8-11

اس طرح مومسن کا کہنا ہے کہ رومی عورتوں کو جو کسی ایک خاص گن کی رکن تھیں شروع میں صرف اپنے گن کے اندر ہی شادی کرنے کی آزادی تھی۔ مطلب یہ کہ مومسن کے خیال کے مطابق رومی گن گوت باہر شادی کرنے والے(exogamous(نہیں بلکہ گوت اندر شادی کرنے والے (endogamous(تھے۔  یہ رائے جو کہ تمام دوسری جاتیوں کے تجربے کے خلاف جاتی ہے، اگر بالکل نہیں تو بڑی حد تک لیوی کی محض ایک عبارت پر مبنی ہے جس کی صحت کے بارے میں ابھی کافی اختلاف ہے۔ لیوی کی تاریخ(جلد 39، باب(19کی اس عبارت میں کہا گیا ہے کہ روم کے قائم ہونے کے 568 ویں برس میں یعنی 186ق۔ م۔ سینت نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ

uti Feceniae Hispalae datio, deminutio, gentis enupatio, tutoris optio item esset quasi ei vir testamento dedisset; utique el ingenuo numbere leceret, neu quid ei qui eam duxisset, ob id fraudt ignominiaeve , esset

"فسینیا ہسپلا کو اپنی جائیداد چاہے جسے دے دینے کا، اسے کم کرنے کا، گن کے باہر شادی کرنے کا اور اپنا محافظ چننے کا اسی طرح حق ہو گا جس طرح اس حالت میں ہوتا اگر اس کا(متوفی(شوہر وصیت کر کے اسے یہ تمام اختیار دے گیا ہوتا۔ اسے کسی آزاد مرد کے ساتھ شادی کرنے کے اجازت دی جاتی ہے اور جو مرد اس سے شادی کرے گا، اس کے لئے یہ کوئی غلط بات یا ذلت کی بات نہیں سمجھی جائے گی۔ "

اس میں شک نہیں کہ فیسینیا،  جس کو غلامی سے آزاد کیا گیا تھا، اسے یہاں گن سے باہر شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ شوہر کو حق دیا گیا کہ وصیت کر کے اپنی بیوی کو یہ اجازت دے کہ اس کے مرنے پر وہ گن کے باہر شادی کرے۔ لیکن سوال ہے کہ کس گن کے باہر؟

اگر ہر عورت کو اپنے گن ے اندر شادی کرنے پڑتی تھی، جیسا کہ مومسن مان کر چلتا ہے تو وہ شادی کے بعد بھی اسی گن میں رہتی تھی۔ لیکن ایک تو ابھی یہی ثابت کرنا باقی ہے کہ گن صرف اپنے اندر شادی کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ دوسرے اگر عورت کو اپنے گن کے اندر  شادی کرنی پڑتی تھی تو مرد کے لئے بھی یہی ضروری تھا ورنہ اسے کوئی عورت ملتی ہی نہیں۔   تب اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وصیت کے ذریعے مرد اپنی بیوی کو ایسا حق دے سکتا تھا جو خود اسے بھی حاصل نہیں تھا۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ ایک بالکل مہمل بات ہے۔ مومسن بھی یہ محسوس کرتا ہے اور اسی لئے یہ اٹکل لگاتا ہے: "بہت ممکن ہے کہ گن کے باہر شادی کرنے کے لئے نہ صرف ذی اقتدار شخص کی بلکہ گن کے سبھی ممبروں کی منظوری لینا ضروری ہو("صفحہ 10، حا شیہ)

ایک تو یہاں مومسن نے ایک بہت بڑی بات یونہی فرض کر لی ہے۔ دوسرے، مذکورہ بالا عبارت میں جو بات صاف لکھی ہے، اس کی اس سے تردید ہوتی ہے۔ فیسینیا کو یہ اختیار اس کے شوہر کے بجائے سینٹ دے رہی ہے۔ فیسینیا کا شوہر اس کو جو اختیار دے سکتا تھا، سینٹ اسے نہ اس سے کم دے رہی ہے اور نہ زیادہ۔ لیکن سینٹ جو کچھ دے رہی ہے وہ ایک مکمل اختیار ہے، جس پر کوئی پابندی نہیں ہے، تاکہ اگر فیسینیا اس اختیار کو استعمال کرے تو اس کے نئے شوہر کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ بلکہ سینت موجودہ اور آئندہ کونسلوں اور پریٹروں کو یہ ہدایت بھی دیتی ہے کہ انہیں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے کہ اس اختیار سے کام لینے کی وجہ سے فیسینیا کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس لئے مومسن نے جو بات فرض کی ہے وہ بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔

پھر مان لیجے یکہ کوئی عورت کسی دوسرے گن کے آدمی سے شادی کر لیتی ہے، لیکن رہتی اپنے گن میں ہی ہے۔ مذکورہ بالا واقعے کے مطابق ایسی صورت میں اس کے شوہر کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو گن کے باہر شادی کرنے کی اجازت دے دے۔ مطلب یہ کہ شوہر کو ایک ایسے گن کے معاملے میں دخل اندازی کرنے کا اختیار ہو گا جس کا وہ خود ممبر نہیں ہے۔ یہ بات اتنی نا معقول ہے کہ اس کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔   ایسی حالت میں ہمارے سامنے یہ مان کر چلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ اپنی پہلی شادی کے ذریعے عورت نے دوسرے گن کے مرد سے بیاہ کیا تھا اور ایسا کرنے پر وہ فوراً اپنے شوہر کے گن کی ممبر ہو گئی۔ خود مومسن بھی مانتا ہے کہ ایسی صورت میں یہی ہو تا تھا۔  اور یہ مانتے ہی گتھی اپنے آپ سلجھ جاتی ہے۔ عورت کو اس کی شادی نے اپنے گن سے علیحدہ کر دیا ہے اور وہ اپنے شوہر کے گن میں شامل ہو گئی ہے۔ اس نئے گن میں اس کی ایک مخصوص حیثیت ہو گئی ہے وہ گن کی ممبر ہے مگر گن کے باقی لوگوں سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔  جس طریقے سے وہ گن کی ممبر بنائی گئی ہے، اس کی روشنی میں اس پر یہ روک نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ اپنے اس نئے گن کے اندر شادی نہ کرے کیونکہ وہ تو شادی کر کے ہی اس گن میں شامل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ گن کی ایک شادی شدہ ممبر سمجھی جاتی ہے اور اپنے شوہر کے مرنے پر، اس کی جائیداد کا ایک حصہ پانے کی حقدار ہوتی ہے یعنی اس جائیداد کو گن کے ایک ساتھی ممبر کی جائیداد کہا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ قدرتی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ جائیداد کو گن کے باہر نہ جانے دینے کی غرض سے عورت کے لئے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ اپنے پہلے شوہر کے گن کے کسی آدمی سے ہی شادی کرے اور دوسرے کسی گن کے آدمی سے شادی کرنے کا ارادہ نہ کرے؟ لیکن اگر اس قاعدے سے کسی کو مستثنیٰ کرنا ہے تو اس کی اجازت دینے کا حق اس آدمی سے یعنی عورت کے پہلے شوہر سے زیادہ اور کس کا ہو گا جو اپنی جائیداد اس کے لئے چھوڑے جا رہا ہے؟ جس وقت وہ اپنی جائیداد کا ایک حصہ اپنی بیوی کے نام وصیت کرتا ہے اور ساتھ ہی اسے اس بات کی اجازت دے دیتا ہے کہ وہ چاہے تو شادی کے ذریعے شادی کے نتیجے کے طور پر یہ جائیداد کسی اور گن میں منتقل کر دے،  تو اس وقت تک وہی اس جائیداد کا مالک تھا، یعنی وہ حقیقتاً صرف اپنی جائیداد کی وصیت کر رہا تھا۔ جہاں تک عورت کا اپنے شوہر کے گن کے ساتھ تعلق کا معاملہ ہے، اسے گن میں لانے والا اس کا شوہر تھا جو اپنی مرضی سے شادی کر کے اسے اپنے گن میں لا آیا تھا۔ چنانچہ یہ بات بھی بالکل قدرتی معلوم ہوتی ہے کہ عورت کو نئی شادی کر کے اس گن کو چھور دینے کی اجازت دینے والا شخص اس کا شوہر ہی ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ جوں ہی ہم رومی لوگوں کے گن کے بارے میں یہ عجیب خیال ترک کر دیتے ہیں کہ وہ اندر شادی کرنے والا گن تھا اور جوں ہی ہم مارگن کی طرح یہ مان لیتے ہیں کہ وہ باہر شادی کرنے والا گن تھا، ویسے ہی یہ سارا معاملہ بہت سیدھا اور صاف معلوم ہونے لگتا ہے۔

آخر میں،  ایک اور بھی رائے ہے جس کے حامیوں کی تعداد زیادہ سب سے زیادہ ہے۔  اس رائے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ کیوی کے مذکورہ بالا اقتباس کا مطلب صرف یہ ہے کہ

"جو لڑکیاں غلامی سے آزاد کی جاتی ہیں (liberatae(وہ بغیر خاص اجازت(e gente enubere کے، گن کے باہر شادی نہیں کر سکتیں او نہ کوئی ایسا قدم اٹھا سکتی ہیں جس کا خاندانی حقوق کے خفیف ترین نقصان( capitis deminutio minima)سے تعلق ہونے کے باعث لڑکی (liberta)گن سے علیحدہ ہو جائے”

(لانگے، "رومی آثار قدیمہ "برلن، 1856، حصہ 1، صفحہ(4)-195جو عبارت ہم نے نقل کی ہے اس میں ہشچکے کا ذکر کرتے ہوئے لیوی کے مذکورہ بالا اقتباس پر رائے زنی کی گئی ہے)۔

اگر یہ مفروضہ صحیح ہے تو لیوی کے اقتباس سے روم کی آزاد عورتوں کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا اور تب یہ ماننے کی اور بھی کم بنیاد رہ جاتی ہے کہ روم کی آزاد عورتوں کو صرف اپنے گن کے اندر شادی کرنے پڑتی تھی۔

انپٹیو گنٹئس "enuptio gentis”)۔۔۔۔ گن کے باہر شادی(کا فقرہ صرف اسی ایک عبارت میں استعمال ہو ا ہے۔  روم کے سارے ادب میں اور کہیں یہ لفظ نہیں ملتے۔ لفظ اینوبرے(enubere)جس کا مطلب باہر شادی کرنا ہوتا ہے، لیوی کی کتاب میں ہی تین مرتبہ ملتا ہے لیکن کہیں بھی اس کا استعمال گن کے سلسلے میں نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بے بنیاد خیال کہ روم کی عورتوں کو صرف اپنے گن کے اندر شادی کرنے کی اجازت تھی، محض اس ایک عبارت پر ٹکا ہوا ہے۔ لیکن اس خیال میں ذرا بھی جان نہیں کیونکہ یا تو اس عبارت میں آزاد کی ہوئی غلام عورتوں کی مخصوص پابندیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ایسی صورت میں اس سے ان عورتوں کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا جو آزاد پیدا ہوئی تھیں (ingenuae)اور یا وہ عبارت اس عورتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو آزاد پیدا ہوئی تھیں اور ایسی حالت میں اس سے یہ زیادہ ثابت ہوتا ہے کہ گن کے باہر عورتوں کے شادی کرنے کا قاعدہ تھا اور شادی ہونے پر انہیں ان کے شوہروں کے گن کیں شامل کر لیا جاتا تھا۔ اس لئے یہ اقتباس مومسن کی رائے کے خلاف مارگن کی رائے کو تقویت پہنچاتا ہے۔

روم کے قائم ہونے کے تین سو برس بعد بھی گن کے بندھن اتنے مضبوط تھے کہ فے بین نام ایک پتریشین(شرفاکے) گن نے سینٹ سے اجازت لے کر پڑوس کے ویٹی نامی شہر پر اکیلے ہی چڑھائی کر دی تھی۔  کہا جاتا ہے کہ تین سو چھ فے بین چڑھائی کرنے نکلے تھے اور راستے میں چھپے ہوئے دشمن نے ان کا صفایا کر دیا۔ صرف ایک لڑکا زندہ بچا جس نے گن کو آگے چلایا۔

جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں،  دس گن مل کر ایک فریٹری بنتی تھی جو روم میں کیوریا کہلاتی تھی اور اسے یونانی فریٹری سے زیادہ اہم ذمہ داریاں ادا کرنے ہوتی تھیں۔  ہر کیوریا کے الگ مذہبی رسم و رواج،  تبرکات اور پروہت پجاری ہوتے تھے۔ یہ پروہت مل کر روم کی ایک پروہت منڈلی بناتے تھے۔ دس کیوریا مل کر ایک قبیلہ بنتا تھا جو کہ شروع میں دوسرے لاطینی قبیلوں کی طرح،  شاید خود اپنا سردار چنا کرتا تھا۔ یہ سردار جنگ میں قبیلے کی رہنمائی کرتا تھا اور ساتھ ہی بڑے پروہت کا بھی کام کرتا تھا۔ تین قبیلے مل کر رومی جاتی پوپولس رومینس populus romanus)کہلاتے تھے۔

اس طرح رومی جاتی میں صرف وہی لوگ شامل ہو سکتے تھے جو کسی گن کے اور اس لئے کسی کیوریا اور قبیلے کے ممبر تھے۔ اس لوگوں کا پہلا دستور حسب ذیل تھا: امور عامہ کا انتظام سینٹ کے ہاتھ میں تھا۔ سینٹ کے ممبر، جیسا کہ نیبور نے سب سے پہلے صحیح بتایا تھا، تین سو گنوں کے سر دار ہوتے تھے۔ گنوں کے سرداروں کی حیثیت سے وہ باپ یا پاتریس (patres)کہلاتے تھے اور ان سب کا بحیثیت ایک جماعت کے سینٹ نام تھا(جس کا مطلب ہے بزرگوں کی جماعت، کیونکہ سینکس(senex)کا مطلب ہے بوڑھا)۔ یہاں بھی چونکہ ہر گن کے سردار کو عام طور پر ایک مخصوص خاندان میں سے چننے کا رواج تھا اس لئے اس سے پہلا موروثی شرفا کا طبقہ پیدا ہوا۔ یہ خاندان اپنے کو پتریشین کہتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ سینٹ کا ممبر ہونے اور ریاست کے مختلف عہدوں پر مقرر ہونے کا حق صرف انہیں کو ہے۔ کچھ دنوں بعد عوام نے ان کے اس دعوے کو مان لیا اور وہ ایک اصلی حق بن گیا۔ پرانی روایت کے مطابق یہ بات اس طرح کہی جاتی ہے کہ پہلی بار جو لوگ سینٹ کے ممبر چنے گئے تھے اس کو اور ان کی آئندہ نسلوں کو رومولس نے پتریشین(شرفا کے(طبقے کا مرتبہ اور اس کے کچھ مخصوص حق عطا کئے۔ ایتھنز کی بولے (bule)کی مانند رومی سینٹ کو بھی بہت سے معاملوں میں فیصلہ کر دینے کا اختیار تھا۔ اور زیادہ اہم معاملوں میں،   مثلاً کوئی نیا قانون بنانے کا سوال اٹھنے پر، ابتدائی بحث سینٹ میں ہوتی تھی اور فیصلہ عوامی اسمبلی میں کیا جاتا تھا جو کہ comitia curiata (کیوریاؤں کی اسمبلی)کہلاتی تھی اسمبلی میں لوگ اپنی اپنی کیوریا کے ممبروں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور ہر کیوریا میں شاید ایک ایک گن کے لوگ ساتھ بیٹھتے تھے اور سوالوں پر فیصلہ کرتے وقت تیسوں کیوریاؤں میں سے ہر ایک کا ایک ووٹ ہوتا تھا۔ کیوریاؤں کی یہ اسمبلی قانون منظور یا رد کرتی تھی،  تمام اونچے عہدہ داروں کو چنتی تھی جن میں(rexنام نہاد بادشاہ)بھی ہوتا تھا، جنگ کا اعلان کرتی تھی(لیکن صلح سینٹ کرتی تھی(اور ایک عدالت عالیہ کی حیثیت سے، فریقین کی اپیل پر،  ان تمام مقدمات کو، جن میں رومی شہریوں کو موت کی سزا مل سکتی تھی، فیصلہ کرتی تھی۔ آخر میں سینٹ اور عوامی اسمبلی کے ساتھ ساتھ rexہوتا تھا جسے ٹھیک یونانی بیسیلئس کی مانند سمجھنا چاہئے اور جو اس طرح کا مطلق العنان بادشاہ کبھی نہیں تھا جیسا کہ مومسن نے اسے بنا دیا ہے۔ (5)ریکس فوجی سالار کا،  بڑے پروہت کا اور کچھ عدالتوں میں صدر اعلیٰ کا کام کرتا تھا۔ اس پر کوئی دیوانی کی ذمہ داری نہیں تھی۔ فوجی سالار کی حیثیت سے ڈسپلن قائم رکھنے کا اختیارات اور عدالتوں کے صدر کی حیثیت سے سزا دینے کے اختیار کے علاوہ اس کو شہرتوں کی زندگی، ان کی آزادی اور ان کی جائیداد پر کوئی اختیار نہیں تھا۔ rex کا عہدہ موروثی نہیں تھا۔ اس کے برعکس شروع میں rex کا انتخاب ہوا کرتا تھا۔ شاید اس کا پیش رو عہدہ دار اسے نامزد کرتا تھا اور کیوریاؤں کی اسمبلی اسے منتخب کرتی تھی اور ایک دوسرے اجلاس میں اسے باقاعدہ گدی پر بٹھایا جاتا تھا۔ اسے گدی سے ہٹایا بھی جا سکتا تھا اور یہ بات ٹارکوئی نیئس سو پر بس کے انجام سے ثابت ہے۔

سورمائی عہد کے یونانیوں کی طرح،  نام نہاد بادشاہوں کے زمانے کے رومی لوگ بھی ایک فوجی جمہوریت میں رہتے تھے جو گنوں،   فریٹریوں اور قبیلوں پر مبنی تھی اور انہی سے اس کی نشوونما ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کیوریا اور قبیلے ایک حد تک بناوٹی ڈھنگ سے قائم کئے گئے تھے لیکن انہیں اس سماج کے اصلی اور قدرتی نمونوں کے مطابق بنایا گیا تھا جس سماج سے وہ پیدا ہوئے تھے اور جو ان کے قائم ہونے کے وقت بھی چاروں طرف سے ان کو گھیرے ہوئے تھا۔ اور حالانکہ اس زمانے تک پتریشین شرفا کے طبقے کا، جس کی نشوونما قدرتی طور پر ہو گئی تھی، کافی زو ر ہو گیا تھا اور حالانکہ ریکس لوگ اپنے اختیارات کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے، پھر بھی اس سے دستور کی ابتدائی اور بنیادی شکل نہیں بدلتی۔ اور اہمیت اسی کی ہے۔

اسی دوران میں شہر روم اور رومی علاقے کی آبادی بڑھ گئی۔ فتوحات کے ذریعے یہ علاقہ پھیل گیا۔  اس میں نئے اور زیادہ تر لاطینی علاقے قبضہ کر کے ملا لئے گئے۔ کچھ تو ان علاقوں کے لوگوں کی وجہ سے آبادی بڑھی اور کچھ یہ بھی ہوا کہ باہر کے لوگ رومی علاقے میں آ کر بس گئے۔ یہ ساری نئے رعایا(فی الحال ہو clients، یعنی سر پرستی میں بسنے والے آزاد باشندوں کے سوال سے بحث نہیں کر رہے ہیں (پرانے گنوں،   کیوریاؤں اور قبیلوں کے باہر تھی اور اس لئے populus romanusکا یعنی رومی لوگوں کا حصہ نہیں تھی۔ یہ لوگ انفرادی طور پر آزاد تھے۔  وہ زمین کے مالک ہو سکتے تھے۔ انہیں ٹیکس دینا اور فوج میں کام کرنا پڑتا تھا۔ لیکن انہیں کوئی عہدہ نہیں مل سکتا تھا اور نہ وہ کیوریاؤں کی اسمبلی میں حصہ لے سکتے تھے اور نہ فتح کی ہوئی ریاستی زمین کے بٹوارے میں انہیں کوئی حصہ مل سکتا تھا۔ یہ عام لوگ(پلے بین )تھے جو تمام سرکار ی اختیارات اور حقوق سے محروم تھے۔ چونکہ ان کی تعداد برابر بڑھتی جا رہی تھی، وہ فوجی تربیت پا چکے تھے اور ان کے پاس ہتھیار بھی تھے، اس لئے وہ اس قدیم populusکے لئے ایک خطرہ بن گئے جس نے اب اپنے دروازوں کو بالکل بند کر دیا تھا تاکہ اس کی تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ معلوم ہوتا ہے کہ populusاور پلے بین لوگوں کے درمیان زمین کا بٹوارہ بڑی حد تک برابر برابر ہوا تھا اگرچہ تجارتی اور صنعتی دولت،  جو ابھی بہت کافی نہیں ہوئی تھی، زیادہ تر پلے بین لوگوں کے ہاتھ میں تھی۔

رومی تاریخ کی تمام تر افسانوی سی ابتدا بالکل تاریکی میں لپٹی ہوئی ہے۔  بعد کے جن مصنفوں کی کتابوں سے ہمیں روم کی تاریخ کا مواد ملتا ہے، انہوں نے قانون کی تعلیم پائی تھی اور انہوں نے معقولیت پرستی اور عملیت کے نظریے کے مطابق اس کا مطلب نکالنے کی کوشش کر کے اس تاریکی کو اور گہرا کر دیا ہے۔ اس لئے یقین کے ساتھ یہ کہنا ناممکن ہے کہ پرانے گن دستور کو جس انقلاب نے ختم کیا وہ کب، کیاں اور کیسے ہوا تھا۔ اس سلسلے میں یقین کے ساتھ ہم صرف ایک بات کہہ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس انقلاب کی تہہ میں پلے بین اور populusکی کشمکش کام کر رہی تھی۔

نیا دستور ریکس سرویئس ٹو لیئس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ وہ یونانی دستوروں اور خاص کر سولون کے دستور کے نمونے پر بنایا گیا تھا۔ اس نے ایک نئی عوامی اسمبلی قائم کی جس میں populusاور پلے بین دونوں طرح کے لوگوں کو بغیر کسی فرق کے صرف اس بنیاد پر حصہ لینے یا نہ لینے کی اجازت دی جاتی تھی کہ انہوں نے فوجی خدمت انجام دی ہے یا نہیں۔  آبادی کے تمام مردوں کو، جن سے فوجی خدمت لی جا سکتی تھی، دولت کے مطابق چھ طبقوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ پہلے پانچ طبقوں کے لئے سلسلہ وار کم سے کم حسب ذیل قیمت کی جائیداد ہونی ضروری تھی: پہلا طبقہ ایک لاکھ اسے،  دوسرا طبقہ 75زہار اسے، تیسرا طبقہ 50ہزار اسے، چوتھا طبقہ 25ہزار اسے، پانچواں طبقہ11ہزار اسے، دیور و دے لہ مال کے اندازے کے مطابق یہ تقریباً 14 ہزار، 3600,7000,10500 اور 1570 مارک کے برابر ہوتے ہیں۔  چھٹا طبقہ پرولتاریوں کا تھا جن کے پاس اس سے بھی کم تھا اور جنہیں فوجی خدمت اور ٹیکسوں سے بری کر دیا گیا تھا۔ سنٹوریاؤں کی نئی اسمبلی (comitia centutiata)میں شہریوں کو فوجی سپاہیوں کی طرح سو سو کی ٹکڑیوں میں(اسی کو سنٹوریا کہتے تھے(صف بند ہو کر بیٹھنا پڑتا تھا اور ہر سنٹوریا کا ایک ووٹ ہوتا تھا۔ پہلا طبقہ 80سنٹوریا بھیجتا تھا، دوسرا طبقہ22، تیسرا طبقہ 20، چوتھا طبقہ22، پانچواں طبقہ30اور چھٹا طبقہ بھی رسم ادائیگی کے طور پر ایک سنٹوریا بھیجا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ گھوڑ سواروں کی 18سنٹوریائیں ہوتی تھیں جن میں سب سے زیادہ دولتمند لوگ ہی لئے جاتے تھے۔ کل ملا کر 193سنٹوریائیں ہوتی تھیں۔  اکثریت حاصل کرنے کے لئے 97ووٹ ضروری ہوتے تھے۔  مگر گھوڑ سواروں اور پہلے طبقے کو ہی ملا کر 98ووٹ ہو جاتے تھے اور اس طرح نئی عوامی اسمبلی میں ان کی اکثریت تھی۔ جب گھوڑ سواروں اور پہلے طبقے کے لوگوں میں اختلاف نہیں ہوتا تھا تو وہ دوسروں سے پوچھتے تک نہیں تھے اور خود فیصلہ کر ڈالتے تھے۔ اور وہ فیصلے سب کو ماننے پڑتے تھے۔

اب پرانی کیوریاؤں کی اسمبلی کے سبھی سیاسی اختیارات(محض نام کے لئے کچھ اختیارات کو چھوڑ کر باقی سب )سنٹوریاؤں کی اس نئی اسمبلی کو مل گئے۔ اور تب جیسا ایتھنز میں ہوا تھا، کیوریاؤں اور گنوں کی حیثیت محض لوگوں کے نجی اور مذہبی اداروں کی رہ گئی اور اس حیثیت سے وہ بہت دنوں تک گھسٹتے ہوئے زندہ رہے حالانکہ کیوریاؤں کی اسمبلی کو لوگ جلد ہی بھول گئے۔ تین پرانے قبیلوں کو بھی جو گن پر مبنی تھے، ریاست سے الگ کرنے کے لئے چار علاقائی قبیلے بنائے گئے۔ ہر قبیلہ شہر کے ایک چوتھائی حصے میں رہتا تھا اور اسے کچھ سیاسی اختیارات حاصل تھے۔

اس طرح روم میں بھی خون کے ذاتی رشتوں کی بنیاد پر جو پرانا سماجی نظام قائم تھا، وہ نام نہاد بادشاہت کے ختم ہونے سے پہلے ہی، برباد کر دیا گیا اور اس کی جگہ علاقوں کی تقسیم اور دولت کے فرق کی بنیاد پر ایک نیا دستور،  صحیح معنی میں ایک ریاستی دستور قائم ہوا۔ یہاں اقتدار عامہ ان شہریوں کے ہاتھ میں تھا جن سے فوجی خدمت لی جاتی تھی اور اس کا رخ صرف غلاموں کے خلاف نہیں تھا بلکہ پرولتاری کہلانے والے لوگوں کے خلاف بھی تھا جنہیں فوجی خدمت سے الگ رکھا گیا تھا اور جن کو ہتھیار رکھنے کا حق نہیں تھا۔

جب آخری رومی ریکس ٹارکوئی نیئس سو پر بس کو، جو طاقت غصب کر کے سچ مچ بادشاہ بن گیا تھا، ملک بدر کر دیا گیا اور ایک ریکس کی جگہ پر دو برابر اختیار رکھنے والے فوجی کمانڈر(قونصل)مقرر کئے گئے(جیسا کہ ایرو کواس لوگوں میں بھی ہوتا تھا)، تو نئے دستور نے مزید ترقی ہی کی۔ اسی دستور کے دائرے کے اندر رومی ریپبلک کی تاریخ کا پہیہ گھومتا رہا ہے۔ اسی کے اندر عہدوں اور ریاستی زمین کے حصے کے لئے پتریشین اور پلے بین لوگوں کی تمام جدوجہد ہوتی رہی ہے۔  اور آخر میں اسی کے اندر پتریشین شرفا زمین اور نقد روپے کے بڑے بڑے مالکوں کے طبقے میں گھل مل گئے جنہوں نے فوجی خدمت سے برباد ہونے والے کسانوں کی ساری زمین رفتہ رفتہ اپنے قبضے میں لی تھی اور اس طرح زمین کے بڑے بڑے رقبے حاصل کر کے غلاموں کی مدد سے کھیتی کرنے لگے تھے، جنہوں نے اٹلی کو ویران کر دیا اور اس طرح نہ صرف شہنشاہوں کی حکومت کے لئے بلکہ ان کے جانشین بربری جرمنوں کے لئے بھی راستہ صاف کر دیا۔

حوالہ جات

1۔ گن کا ٹیلہ۔ (ایڈیٹر)

2۔ ملاحظہ ہو "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد 9، صفحہ(-134ایڈیٹر)

3۔ The Mommsen, "Romische Forschungen”,Aufl.2.Bd, Berlin, 1864.ایڈیٹر

4۔ Lange L; "Romische Alterthumer”, Bd. 1,Berlin, 1856.S.195. ایڈیٹر

5۔ لاطینی زبان کا لفظ rex،  کیلٹک آئرش زبان کے righ(قبیلے کا سردار (اور گوتھک زبان کے reiks سے ملتا جلتا ہے۔ جرمن زبان کے لفظ(Furst انگریزی زبان کاfirstاور ڈینش کا (forsteکی طرح اس لفظ کا بھی شروع میں یہی مطلب تھا۔ گن یا قبیلے کا سردار۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ چوتھی صدی تک گوتھ لوگوں کے پاس بعد کے زمانے کے بادشاہ کے لئے یعنی پوری جاتی کے فوجی سالار کے لئے ایک خاص لفظ ہو گیا تھا۔ وہ لفظ تھا: thiudans۔ بائبل کے الفیلا کے ترجمے میں آردشیر اور ہیرود کو کبھی reiks نہیں کہا گیا ہے بلکہ ان کو ہر جگہthiudansکے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اور شہنشاہ ٹائی بیرئس کی مملکت کو reiki نہیں کہا گیا ہے بلکہ تھیوڈی ناسس (thiudinassus(کہا گیا ہے۔ گوتھک تھیوڈانس یا بادشاہ کے نام میں،  جیسا کہ ہم اکثر غلط ترجمہ کرتے ہیں،  دو نام ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور یہ دو نام ہیں تھیوڈیرا ئکس،  تھیوڈوریک یعنی ڈائٹریک۔

_________________________________________________

 

ساتواں باب

کیلٹ اور جرمن لوگوں میں گن

جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم گن نظام کے ان اداروں کا تذکرہ نہیں کر سکتے جو موجودہ زمانے کے مختلف اقسام کے وحشی اور بربری لوگوں میں آج بھی کم و بیش خالص صورت میں پائے جاتے ہیں اور نہ ہم ایشیا کی متمدن قوموں کی قدیم تاریخ میں ان اداروں کے آثار کا پتہ لگا سکتے ہیں۔  یہ ادارے یا ان کے آثار ہر جگہ چلتے ہیں۔   کچھ مثالیں کافی ہوں گی۔ جس وقت گن کو پہچانا بھی نہیں گیا تھا، اس وقت اس کا تذکرہ اس آدمی نے کیا اور اس کے بنیادی خدوخال صحیح طور پر بتائے جس نے اس کو غلط ڈھنگ سے سمجھنے کے لئے سب سے زیادہ زحمت اٹھائی تھی۔ ہماری مراد میکلینن سے ہے جس نے کالمیک، چرکس،  ساموئد (Samojeden((1)میں اور ہندوستان کی تین جاتیوں __ وارلی، ماگر اور منی پوریوں میں گن نظام پایا تھا اور اس کے بارے میں لکھا تھا۔ حال میں میکسم کوالیفسکی نے اس کی تصویر کشی کی ہے۔ اسے پشاو، خیوسور،  سوانیوں اور قفقاز کے اور متعدد قبیلوں میں اس کا سراغ ملا ہے۔ کیلٹ اور جرمن لوگوں میں بھی گن ہوتے تھے اور یہاں ہم اسی کے بارے میں چند مختصر باتوں تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے۔

قدیم ترین کیلٹی قوانین جو ہم تک پہنچے ہیں،   یہ بتاتے ہیں کہ گن آج بھی پورے شباب پر ہیں۔  آئرلینڈ میں جہاں انگریزوں نے زبردستی گن نظام کو برباد کر ڈالا، وہ آج بھی کم سے کم نیم شعوری طورپر لوگوں کے ذہن میں موجود ہے۔ اسکاٹ لانڈ میں وہ گزشتہ صدی کے وسط تک پوری توانائی کے ساتھ پایا جاتا تھا اور وہاں بھی اسے صرف انگریزوں کے ہتھیاروں،  قانونوں اور عدالتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں۔

ویلز کے پرانے قانون انگریزوں کی فتح سے (29)کئی صدی پہلے لکھے گئے تھے۔ وہ گیارہویں صدی تک تیار ہو چکے تھے۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ کہیں کہیں پورے گاؤں کے گاؤں مل کر کھیتی کرتے تھے حالانکہ اس زمانے تک یہ چیز ایک پرانے عام رواج کے باقی ماندہ اثر کے طور پر ہی کہیں کہیں رہ گئی تھی اور مستثنیٰ حیثیت رکھتی تھی۔ ہر خاندان کے پاس پانچ ایکڑ زمین خود جوتنے کے لئے ہوتی تھی اور ایک ٹکڑا دوسرے خاندانوں کے ساتھ مل کر جوتنے کے لئے ہوتا تھا۔ اس ٹکڑے کی پیداوار سب میں بٹ جاتی تھی۔ آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی اتنی ملتی جلتی مثالوں کی بنیاد پر اگر ویلز کی ان دیہی برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو اس بات میں ذرہ برابر شبہ کی گنجائش نہیں رہے گی کہ وہ یا تو گن کی نمائندہ ہیں یا گن کی شاخیں۔ ۔۔۔ خواہ ویلز کے قوانین کی پھر سے چھان بین کرنے پر جو میں اس موقع پر وقت کی تنگی کی وجہ سے نہیں کر سکتا،(میرے نوٹ1869 کے ہیں (30)) اس کا کوئی براہ راست ثبوت ملے یا نہ ملے، لیکن ویلز اور آئرلینڈ کے مواد سے جس بات کا براہ راست ثبوت مل جاتا ہے وہ یہ کہ گیارہویں صدی تک کیلٹ لوگوں میں جوڑا خاندان کی جگہ یک زوجگی کا خاندان پوری طرح قائم نہیں ہوا تھا۔ ویلز میں شادی ہونے کے بعد جب تک سات برس کی مدت پوری نہ ہو جائے، شادی کا رشتہ اٹوٹ نہیں سمجھا جاتا تھا یا یوں کہا جائے کہ سات برس تک شادی کو کسی وقت بھی نوٹس دے کر منقطع کیا جا سکتا تھا۔ سات برس پورے ہونے میں اگر صرف تین راتوں کی کمی ہوتی تھی تب بھی شادی شدہ جورا الگ ہو سکتا تھا۔ ایسا ہونے پر جوڑے کی جائیداد دونوں میں بانٹ دی جاتی تھی۔ عورت پوری جائیداد اور ملکیت کے دو حصے کرتی۔ مرد ایک حصہ چن لیتا تھا۔ فرنیچر بانٹنے کے کچھ بہت ہی عجیب طریقے تھے۔ اگر مرد شادی کا رشتہ توڑتا تو اسے عورت کا جہیز اور کچھ اور چیزیں واپس کر دینی پڑتی تھیں۔  اگر عورت الگ ہونا چاہتی تھی تو اسے کم ملتا تھا۔ بچوں میں سے دو مرد کو ملتے تھے۔ ایک منجھلا بچا عورت کو ملتا تھا۔ اگر عورت طلاق کے بعد پھر شادی کرتی تھی اور اس کا پہلا شوہر اسے واپس لے جانے کے لئے پہنچ جاتا تھا تو عورت کو، چاہے اس کا ایک پیر نئے شوہر کے بستر میں ہی کیوں نہ ہو، لوٹ جانا پڑتا تھا۔ لیکن اگر عورت مرد سات سال تک ساتھ رہ چکتے تھے تو انہیں شادی کی رسم پوری ہوئے بغیر ہی شوہر اور بیوی سمجھا جاتا تھا۔ شادی سے پہلے لڑکیوں کے کنواری رہنے کے بارے میں کوئی خاص سختی نہیں برتی جاتی تھی اور نہ اس کی کوئی ضرورت سمجھی جاتی تھی۔ اس معاملے سے تعلق رکھنے والے قاعدے بہت ہی ہلکے قسم کے ہیں اور بورژوا اخلاق کے بالکل الٹ ہیں۔  اگر کوئی عورت کسی غیر مرد کے ساتھ ہمبستری کرتی تو اس کے شوہر کو اس کے پیٹنے کا حق ہوتا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جن تین صورتوں میں بیوی کو پیٹنے پر بھی شوہر کو سزا کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا، یہ ان میں سے ایک وجہ تھی۔ لیکن بیوی کو پیٹنے کے بعد شوہر اور کسی قسم کے ہرجانے کا مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ

"کسی قصور کا یا تو کفارہ لیا جا سکتا ہے یا بدلہ، لیکن دونوں نہیں لئے جا سکتے۔ (31)”

بہت سی وجوہات تھیں جن سے مرد کو عورت طلاق دے سکتی تھی اور ایسا کرنے پر بھی جائیداد وغیرہ پر اس کے حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ مرد کے منہ سے بدبو آنا بھی طلاق دینے کی ایک کافی وجہ سمجھی جاتی تھی۔ قوانین میں معاوضے کی اس رقم کی بہت نمایاں جگہ تو تھی جو قبیلے کے سردار یا بادشاہ کو پہلی رات کے حق کے بدلے میں دینی پڑتی تھی (اس حق کو گوبر مرچ (gobr merch)کہتے تھے، جس سے ازمنہ وسطیٰ کا لفظ مارچیتا (marcheta)بنا۔ فرانسیسی میں یہ مارکیتmarquette)ہے)۔ عورتوں کو عوامی اسمبلیوں میں ووٹ دینے کا حق تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم ان باتوں پر بھی غور کریں کہ آئرلینڈ میں بھی اسی طرح کی حالت پائی جاتی تھی، وقتی شادیوں کا وہاں بھی کافی رواج تھا، اور طلاق کی صورت میں عورت کو بہت ہی واضح اختیارات اور خاص سہولتیں ملتی تھیں،  یہاں تک کہ اسے گھریلو کاموں کا بھی معاوضہ ملتا تھا، متعدد بیویوں کے ساتھ ایک”بڑی بیوی”بھی ہوتی تھی اور کسی متوفی شخص کی جائیداد بانٹتے وقت اس کے جائز اور ناجائز بچوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ اگر ہم ان باتوں کو دھیان میں رکھیں تو ہمارے سامنے جوڑا بیاہ کی ایک ایسی تصویر آتی ہے جس کے مقابلے میں شادی کی وہ صورت زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے جس کا رواج شمالی امریکہ میں تھا۔ لیکن سیزر کے زمانے میں جو لوگ گروہ وار شادی کی حالت میں تھے، وہ اگر گیارہویں صدی میں جوڑا بیاہ کی حالت میں ہی تھے، تو ان کے لئے وہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔

آئرلینڈ کے گن(اسے وہ سپت(sept)کہتے تھے اور قبیلے کو کلائن(clainne)کہتے تھے جو انگریزی کے لفظ کلان (clan)کے مشابہ ہے (وجود کا ثبوت اور اس کا حال نہ صرف قانون کی پرانی کتابوں میں ملتا ہے بلکہ اس کی تصدیق سترہویں صدی کے ان انگریز ماہرین قانون نے بھی کی ہے جو آئرلینڈ کے قبیلوں کی زمین کو انگلینڈ کے بادشاہ کی جاگیر بنانے کے لئے وہاں بھیجے گئے تھے۔ اس زمانے تک زمین کلان یا گن کی مشترکہ ملکیت ہوتی تھی، سوا ان جگہوں کے جہاں قبیلے کے سردار نے زمین کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا تھا۔ جب گن کا کوئی ممبر مر جاتا تھا اور اس کی وجہ سے کوئی گھرانہ ٹوٹ جاتا تھا تو گن کا سردار(انگریز ماہرین وانون اسے کاپت کو گنے شیونس۔۔۔ "caput cognationis”کہتے تھے(گن کی ساری زمین کو باقی گھرانوں میں نئے سرے سے بانٹ دیتا تھا۔ یہ تقسیم بحیثیت مجموعی انہی اصولوں کے مطابق ہوتی تھی جو جرمنوں میں پائے جاتے ہے۔ آئرلینڈ میں آج بھی ایسے گاؤں ملتے ہیں جہاں زمین پر مشترکہ حق ہے۔ اسے رونڈیل (rundale)کہتے ہیں۔  چالیس یا پچاس سال پہلے ایسے گاؤں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ جس زمین پر کبھی گن کا مشترکہ حق تھا اسے انگریز فاتحوں نے چھین لیا۔  ہر کسان کو جو اب انفرادی طور پر کھیتی کر تا تھا، اپنے کھیت کے لئے لگان دینا پڑتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود گاؤں کے سارے کسان اپنے کھیتی کی اور چراگاہوں کی تمام زمینوں کو ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر زمین کی زرخیزی اور عام حالت کا خیال رکھتے ہوئے،  اسے قطعات میں یا جیسا کہ وہ موزیل ندی کے علاقے میں کہلاتی ہے، گیوانوں (Gewanne)میں بانٹ لیا جاتا ہے۔ اور گاؤں کے ہر کسان کو ہر گیوانے(قطعہ(میں حصہ ملتا ہے۔ بنجر زمین اور چراگاہ کا استعمال ساجھے میں ہوتا ہے۔ صرف پچاس سال پہلے کی بات ہے کہ وقتاً فوقتاً،  کبھی کبھی ہر سال،  گاؤں کی زمین کا نئے سرے سے بٹوارہ ہو جاتا تھا۔ ایسے کسی رونڈیل(rundale(گاؤں کا نقشہ دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ موزیل ندی کے علاقے یا ہوخ والڈ میں کاشتکار گھرانوں کی کسی جرمن بستی (Gehoferschaft)کا نقشہ ہے۔ "پارٹیوں (factions)”کی صورت میں بھی گن زندہ ہیں۔  کبھی کبھی آئرلینڈ کے کسان ایسی پارٹیاں بناتے پائے جاتے ہیں جو بالکل مہمل اور بے تکے فرق پر مبنی معلوم ہوتی ہیں اور انگریزوں کی سمجھ میں بالکل نہیں آتیں۔  ان پارٹیوں کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں معلوم ہوتا کہ وہ ایک کھیل کھیلنے کے لئے جمع ہوں جو بہت مقبول ہے اور جس میں نہایت اطمینان اور سنجیدگی کے ساتھ ایک دوسرے کی خوب مرمت کی جاتی ہے۔ حقیقت میں ان پارٹیوں کے ذریعے پرانے گنوں کو بناوٹی ڈھنگ سے دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے جو اب برباد ہو چکے ہیں،  اور گن کا جو احساس انہیں وراثت میں ملا ہے اسے اپنے عجیب ڈھنگ سے ظاہر کرتے ہیں۔  اتفاق سے بعض علاقوں میں چند گنوں کے ممبر آج بھی اسی جگہ پر رہتے ہیں جو ان کی پرانی جگہ ہے۔ مثال کے لئے اس صدی کی چوتھی دہائی تک مونا گن سرزمین کے زیادہ تر باشندوں میں صرف چار خاندانی نام پائے جاتے ہیں۔   مطلب یہ کہ اس ضلع کے تمام لوگ چار کنوں یا قبیلوں کی اولاد ہیں۔  (2)

 اسکاٹ لینڈ میں گن سماج کا زوال 1745کی بغاوت کے کچلے جانے کے بعد سے شروع ہوا-(33)اسکاٹ لینڈ کے جرگے(کلان)کی اس سماج میں کیا جگہ تھی، وہ اس سلسلے کی کون سی کڑی تھا، ان باتوں کی چھان بین ابھی باقی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس نظام کی کڑی تھا ضرور۔ اسکاٹ لینڈ کی پہاڑیوں میں جرگہ کیا چیز تھی، اس کی زندہ تصویر ہمیں والٹر  اسکاٹ کے ناولوں میں ملتی ہے۔ مارگن کے لفظوں میں یہ

"تنظیم اور سرگرمی کے اعتبار سے گن کا ایک بہت اچھا نمونہ ہے اور اس بات کا غیر معمولی ثبوت ہے کہ گن کی زندگی کا اپنے ممبروں پر کتنا اختیار ہوتا ہے۔۔۔ خاندانی جھگڑے ہوتے ہیں،  خون کا بدلہ خون سے لیا جاتا ہے، ان کی جائے رہائش وہی ہوتی ہے جو پہلے ان کے گنوں کی تھی، زمین کا جوتنا بونا مشترک طور پر ہوتا ہے۔ جرگے کے لوگوں میں سردار کے لئے اور آپس میں ایک دوسرے کے لئے بڑی وفاداری ہوتی ہے۔ یہ گن سماج کی عام اور مستقل خصوصیتیں تھیں جو ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔  نسل مردوں سے چلتی ہے۔ یعنی صرف مردوں کے بچے جرگے کے ممبر مانے جاتے تھے۔ اور عورتوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے جرگے کے ممبر سمجھے جاتے تھے۔ (34)”

پکٹ لوگوں کا شاہی خاندان اس بات کا ثبوت ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں پہلے مادری حق قائم تھا۔ بیڈے کی روایت کے مطابق اس شاہی خاندان میں عورتوں کی اولاد کو گدی ملتی تھی۔ ہمیں پونالوان خاندان کے آثار بھی ملتے ہیں جو اسکاٹس اور ویلز کے لوگوں میں عہد وسطی تک قائم تھا۔ اس کا اثر پہلی رات کے حق کی صورت میں باقی تھا یعنی جرگے کا سردار یا بادشاہ پہلے زمانے کے مشترک شوہروں کے آخری نمائندے کی حیثیت سے ہر نئی دلہن کے ساتھ پہلی رات ہم بستر ہونے کا مطالبہ کر سکتا تھا اور اس کو کچھ معاوضہ ادا کر کے ہی اس کے اس دعوے سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا تھا۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہجرت یا نقل وطن کے زمانے تک جرمن لوگ گنوں میں منظم تھے۔ ہمارے عہد(یعنی عیسوی سن(سے کئی سو سال پہلے ہی یہ لوگ ڈینوب،  رائن اور وسٹولا دریاؤں اور شمالی سمندروں کے درمیانی علاقے میں آ کر بسے ہوں گے۔ سمیری اور تیوتونی لوگوں کا ہجرت کا سلسلہ زوروں پر تھا، اور سوئیوی لوگوں کو سیزر کے زمانے تک کوئی مستقل جائے رہائش نہیں ملی تھی۔ سیزر نے صاف کہا ہے کہ ان لوگوں میں گنوں کے ممبر اور خون کے رشتہ دار ساتھ ساتھ رہتے تھے (gentibus cognationibusque)اور جب جولیا گن(gens Julia)کے ایک رومی کی زبان سے gentibusلفظ نکلتا ہے تو اس کا ایک مخصوص مطلب ہوتا ہے جس کو کسی طرح توڑا مروڑا نہیں جا سکتا۔ یہ بات سبھی جرمنوں کے لئے سچ ہے۔  یہاں تک کہ مفتوحہ رومی صوبوں میں بھی جرمن لوگ گنوں کے جنوب کے مفتوحۃ علاقی میں جرمن لوگ گنوں (genealogiae)کے مطابق جا کر بسے تھے -(35)یہاں genealogiaلفظ کا استعمال ٹھیک اسی معنی میں ہوتا ہے جس معنی میں ہوتا ہے جس معنی میں بعد میں Markیا (3)Dorfgenossenschaftکا استعمال ہوا۔ حال میں گوالیفسکی نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ genealogiarبڑی بڑی گھریلو برادریاں تھیں جن میں زمین بٹی ہوتی تھی اور جن سے بعد میں چاکردیہی برادریاں بنیں۔  یہی بات faraکے بارے میں بھی سچ ہو سکتی ہے۔ برگنڈی یا لیسنگوبارڈ لوگ یعنی ایک گوتھ اور ایک ہرمی نونی یا شمالی جرمن قبیلہ اس لفظ faraکو اگر ٹھیک اس چیز کے لئے نہیں تو لگ بھگ اسی چیز کے لئے استعمال کرتا تھا جس کے لئے ” المانی قانون”کی کتاب میں genealogiaکا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ چیز اصل میں گن تھی یا گھریلو برداری،  اس کے بارے میں ابھی اور چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریری شہادتوں سے یہ بات صاف نہیں ہوتی کہ سبھی جرمن گن کے لئے ایک ہی لفظ استعمال کرتے تھے یا نہیں،   اور اگر کرتے تھے تو وہ لفظ کیا تھا۔ علم نحو کی رو سے یونانی genesاور لاطینی gens, گوتھی زبان کا kuni اور وسطی شمالی جرمن زبان کا kunne سب متشابہ الفاظ ہیں اور یہ سب ایک ہی معنی میں استعمال کئے جاتے ہیں اور چونکہ یونانی زبان کا لفظ gyne, سلاف لفظ zena,گوتھی لفظqvinoاور قدیم نارس زبان کا konaیا kuna۔۔۔۔۔ عورت کے یہ مختلف نام ایک ہی مادے سے نکلے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا رہا ہو گا جب ان تمام لوگوں میں مادری نظام قائم تھا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا لیسنگوبارڈ اور برگنڈی لوگوں میں fara لا لفظ استعمال کیا جاتا تھا جس کے بارے میں گریم کا کہنا ہے کہ وہ ایک فرضی مادہ fisan سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں : پیدا کرنا۔ میری رائے میں لفظ fara کا تعلق faran یا fahrenسے جوڑنا چاہئے۔ یہ ایک مفرد مادہ ہے جس کا مطلب گھومنا یا جاترا کرنا ہے۔ تب faran کا مطلب ہو گا خانہ بدوش،  آوارہ گرد لوگوں کا ایک مخصوص گروہ جس میں،   یہ کہنے کی ضرورت نہیں،   کہ سبھی ایک دوسرے کے رشتہ ہوتے تھے۔  یہ لوگ ایک عرصے تک پہلے مشرق کی طرف اور پھر مغرب کی طرف گھومتے رہے اور اسی خانہ بدوشی کے زمانے میں رفتہ رفتہ یہ لفظ خود گن سماج کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اس کے علاوہ گوتھی لفظ sibja اینگلو سیکسن لفظsib، قدیم شمالی جرمن کا لفظ sippiaیا جرمن sippeہے۔ (4)قدیم نارس میں صرف صیغہ جمع لا لفظ sif jarاستعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں رشتے دار۔ صیغہ واحد کا لفظ sif، ایک دیوی کا نام ہے۔ آخر میں "ہلدے براند کے گیت "میں (36)اس کا ایک اور استعمال ملتا ہے۔ اس میں ہلدے براند  ہادوبراند سے پوچھتا ہے کہ”جاتی لوگوں میں تیرا باپ کون ہے،  یعنی تیرا گھرانا گون سا ہے؟ (eddo huelihhes cnuosles du sis)

اگر گن کے لئے سبھی جرمن ایک ہی لفظ استعمال کرتے تھے تو بہت ممکن ہے کہ یہ لفظ گوتھی زبان کا kuni جیسا ہو کیونکہ نہ صرف گوتھی کی قرابت دار دوسری زبانوں میں اس سے ملتا جلتا لفظ استعمال ہوتا ہے بلکہ Kuningیا Konigلفظ بھی جس کا مطلب شروع میں گن یا قبیلہ کا سردار تھا، اسی لفظ سے نکلا ہے۔ Sibjaیا Sippeکی طرف دھیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔  کم سے کم قدیم نارس میں sif jarکا مطلب صرف خون کی قرابت داری نہیں ہوتا بلکہ اس کے دائرے میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جن سے شادی کے ذریعے رشتہ داری قائم ہوتی ہے۔  اس لئے اس لفظ میں کم سے کم دو گنوں کے لوگ شامل ہیں۔  مطلب یہ کہ sif کا لفظ گن کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا۔

میکسیکو کے باشندوں اور یونانیوں کی طرح جرمنوں میں بھی گھوڑ سواروں اور پیدل سپاہیوں کے گاؤ دم مثلث شکل کے دستے لڑائی میں گن کے لحاظ سے صف بند ہوتے تھے۔ جب تاسیت کہتا ہے کہ خاندانوں اور رشتہ داروں کے اعتبار سے صف بندی ہوتی تھی تو وہ اس غیر واضح لفظ کو اس لئے استعمال کرتا ہے کہ روم میں بہت عرصے سے گن کوئی زندہ ادارہ نہیں رہا تھا۔

تاسیت کی وہ عبارت فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ماں کا بھائی اپنے بھانجے کو اپنا بیٹا سمجھتا ہے اور کچھ لوگوں کی تو یہ رائے ہے کہ ماموں اور بھانجے کا خون کا رشتہ با پ اور بیٹے کے رشتے سے زیادہ مقدس اور قریبی ہے، چنانچہ جب یرغمال(یعنی ضمانت کے طور پر دشمن کے حوالہ کرنے کے لئے کسی شخص کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جس آدمی کو اس طرح پابند کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے بیٹے کے مقابلے میں اس کے بھانجے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ مادری حق کی اور اسی لئے ابتدائی گن کی ایک زندہ نشانی ہے۔ اور اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا وہ جرمنوں کی کوئی امتیازی خصوصیت ہے۔ (5)اگر ایسے کسی گن کا کوئی ممبر اپنے کسی وعدے کی ضمانت کے طور پر اپنے سگے بیٹے کو دے دیتا تھا اور پھر وعدہ پورا نہیں کرتا تھا اور بیٹے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا تو یہ صرف باپ کا اپنا معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اگر کسی آدمی کی بہن کے بیٹے کی قربانی ہو جاتی تو یہ گن کے نہایت مقدس قانون کی خلاف ورزی سمجھی جاتی تھی۔ ماموں سب سے قریبی رشتہ دار ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ اس کا فرض تھا کہ وہ لڑکے یا نوجوان کی حفاظت کرتا۔ اسے چاہئے تھا کہ یا تو ضمانت میں وہ اس لڑکے(یعنی اپنے بھانجے(کو نہ دیتا یا اپنا وعدہ پورا کرتا۔  اگر جرمنوں میں گن تنظیم کا کوئی اور ثبوت نہ بھی ملتا تو صرف یہ عبارت ہی اس کی کافی شہادت تھی۔

پرانے نارد گیت "وولوسپا”  (Voluspa)۔۔۔۔۔ یعنی وہ گیت جس میں دیوتاؤں کی آخری گھڑی اور قیامت یعنی دنیا کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔۔۔۔ اس کا ایک ٹکڑا اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن ہے چونکہ وہ آٹھ سو برس بعد کی چیز ہے۔ اس حصے میں جسے”غیب داں عورت کا کشف”کہا گیا ہے اور جس میں جیسا کہ بینگ اور بگے نے اب ثابت کر دیا ہے عیسائیت سے عناصر بھی ملے ہوئے ہیں،  بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے عام فسق و فجور اور برائی اور بد اخلاقی کا ایک زمانہ آئے گا۔ اس زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے ایک جگہ کہا گیا ہے؛

"Broedhr munu derjask ok at bonum verdask, munu systrungar sif jum spilla.’

"بھائی بھائی ایک دوسرے سے جنگ کریں گے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے اور بہنوں کی اولاد خون کی قرابت داری کے تعلق کو توڑے گی۔ "

ماں کی بہن کے بیٹے کے لئے systrungarکا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور شاعر کی نظر میں خون کے ایسے رشتے کو منقطع کرنا بھائیوں کے آپس کے خون خرابے کے مقابلے میں زیادہ بڑا جرم ہے۔ یہ انتہا systrungarلفظ پر پہنچ کر آتی ہے جس میں مان کی طرف کے خون کے رشتے پر زور دیا گیا ہے۔  اگر اس جگہ پر لفظsyskins- bornیعنی بھائی اور بہن کی اولاد، یاsyskina- synirیعنی بھائیوں اور بہنوں کے بیٹے استعمال کیا جاتا تو پہلے کے مقابلے میں دوسری سطر چڑھتے ہوئے سروں میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا سر بہت دھیما ہو جاتا۔ چنانچہ وائیکنگ کے زمانے میں بھی جبکہ "Voluspa”گیت بنایا گیا تھا، اسکینڈی نیویا میں مادری حق کی یاد مٹی نہیں تھی۔

لیکن تاسیت کے زمانے میں کم سے کم ان جرمنوں میں جن سے وہ زیادہ واقف تھا، مادری حق کی جگہ پدری حق قائم ہو چکا تھا یعنی باپ کے حقدار اس کے بچے ہوتے تھے اور بچوں کے نہ ہونے پر بھائی اور چچا اور ماموں ہوتے تھے۔ ماموں کو وارث بنانا بھی مذکورہ با لا رسم و رواج کا ہی نتیجہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک جرمنوں میں پدری حق کو قائم ہوئے بہت دن نہیں ہوئے تھے۔ عہد وسطی کے اواخر تک بھی ہمیں مادری حق کے آثار ملتے ہیں۔  اس دور میں خاص کر زرعی غلاموں میں کسی کے باپ کا پتہ لگانا کافی مشکل کام تھا۔ اور اس لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ زرعی غلام کی محض ماں کی طرف کے چھ سب سے قریبی خون کے رشتہ داروں کی حلفیہ گواہی سے یہ ثابت کرے کہ وہ اس کا زرعی غلام تھا۔(ماورر۔ "شہری دستور۔ "جلد 1، صفحہ(6)(-381

مادری حق کی ایک اور نشانی تھی جو کہ اس وقت تک مٹنے لگی تھی اور جو روم کے باشندوں کے نقطہ نظر سے سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی، وہ یہ کہ جرمن لوگ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ جرمنوں سے اگر کسی وعدے کو پورا کرانا ہوتا تھا تو اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شریف خاندانوں کی لڑکیوں کو ضمانت کے طور پر رکھ لیا جائے۔ جنگ کے وقت جرمنوں کی ہمت اور کسی چیز سے اس قدر جوش میں نہیں آتی تھی جتنی اس خوفناک خیال سے کہ اگر انہیں شکست ہوئی تو دشمن ان کی بہو بیٹیوں کو پکڑ کر لے جائیں گے اور اپنی باندیاں بنا لیں گے۔ جرمن لوگ عورت کو مقدس مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس میں مستقبل کو دیکھ لینے کی طاقت موجود ہے۔ چنانچہ وہ سب سے اہم معاملوں میں عورتوں کی صلاح پر عمل کرتے تھے۔  لپے ندی کے کنارے رہنے والے بروکترنین قبیلے کی پجارن ویلیدا بتا وین قبیلے کی اس پوری بغاوت کی روح رواں تھی جس کی بدولت جرمنوں اور بلجینوں نے سوی لئس کی رہنمائی میں گال علاقے میں رومی حکومت کی بنیاد ہلا ڈالی تھی-(37)معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے اندر عورتوں کی مطلق العنان حکومت تھی۔ تاسیت کہتا ہے کہ عورتوں کو، بوڑھوں اور بچوں کے ساتھ سارا کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ مرد شکار کرنے جاتے تھے، شراب پیتے تھے اور آوارہ گردی کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاتا کہ کھیت کون جوتتا تھا اور چونکہ یہ اس نے صاف صاف کہا ہے کہ غلاموں کو صرف خراج ادا کرنا پڑتا تھا اور ان سے زبردستی کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ کھیتی کا تھوڑا بہت جو کام ہوتا تھا اسے بالغ مردوں کی بڑی تعداد ہی کرتی تھی۔

جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے شادی کی شکل جوڑا بیاہ کی تھی جو رفتہ رفتہ یک زوجگی میں بدلتی جا رہی تھی۔ ابھی سختی کے ساتھ یک زوجگی پر عمل نہیں ہوتا تھا کیونکہ شرفا کے لئے کئی بیویوں کی اجازت تھی بحیثیت مجموعی(کیلٹ لوگوں کے برخلاف)جرمن لوگ لڑکیوں کی پاک دامنی پر زور دیتے تھے۔ تاسیت اس بات کا بڑے جوش کے ساتھ ذکر کرتا ہے کہ جرمنوں میں شادی کا رشتہ اٹوٹ سمجھا جاتا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ طلاق کی اجازت صرف اسی صورت میں ملتی تھی جب عورت نے کسی اور مرد کے ساتھ ہمبستری کی ہو۔ لیکن تاسیت کی رپورٹ میں کئی خامیاں ہیں۔  اور اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ نیک چلنی کی مثال سامنے رکھ کر وہ بد چلن رومیوں کو اخلاق کا سبق پڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اتنی بات تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جرمن اپنے جنگلوں میں بھلے ہی نیک چلنی اور اخلاق کی بلندی اور پاکیزگی کا نمونہ رہے ہوں لیکن باہری دنیا کا ذرا سا تعلق ہی انہیں دوسرے اوسط یورپیوں کی سطح پر کھینچ لانے کے لئے کافی تھا۔ رومی زندگی کے تیز بھنور میں پڑ کر جرمنوں کی اخلاقی پاکیزگی جرمن زبان سے بھی زیادہ تیزی سے مٹ گئی اور اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں بچا۔ اس کے لئے تورس کے گریگری کی کتاب کو پڑھنا کافی ہو گا۔  کہنے کی ضرورت نہیں کہ جرمنی کے قدیم جنگلوں میں وہ لطافت اور نزاکت بھری عیاشی ممکن ہی نہیں تھی جو روم میں ہوتی تھی۔ اس لئے اس معاملے میں بھی جرمن لوگ رومیوں پر فوقیت رکھتے تھے لیکن اس کے لئے ان کی طرف یہ بات منسوب کرنے کی ضرورت نہیں کہ نفسانی خواہشیں انہیں چھو نہیں گئی تھیں اور وہ تقویٰ اور پر ہیز گاری کا نمونہ تھے کیونکہ بحیثیت مجموعی کوئی قوم بھی کبھی ایسی نہیں رہی۔ گن نظام سے ہر شخص پر یہ فرض عائد ہوا کہ وہ اپنے باپ اور رشتہ داروں کے دشمنوں کو اپنا دشمن مانے اور ان کے دوستوں کو اپنا دوست۔  اسی سے "ویر گلڈ”کا رواج ہوا جس میں کسی کو قتل یا زخمی کرنے کی پاداش میں جرمانہ ادا کرنے سے کام چل جاتا تھا اور خونی انتقام کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ایک پشت پہلے”ویر گلڈ”کو ایک ایسا رواج مانا جاتا تھا جو خاص طور پر جرمنوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خونی انتقام کی یہ زیادہ ہلکی صورت سینکڑوں جاتیوں میں پائی جاتی ہے اور وہ گن نظام سے پیدا ہوئی ہے۔ مثال کے لئے مہمان نوازی کی طرح یہ رواج بھی امریکہ کے انڈینوں میں پایا جاتا ہے۔ جرمنوں میں مہمان نوازی کا جو حال تاسیت نے بیان کیا ہے”(جرمنی۔ "باب (21وہ چھوٹی موٹی باتوں میں بھی تقریباً وہی ہے جو مارگن نے اپنے امریکی انڈینوں کے بارے میں بیان کیا ہے۔

 ایک زمانے میں اس بات پر بڑی گرم بحث چھڑی ہوئی تھی جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھی کہ تاسیت کے وقت تک جرمنوں نے کھیتی کی زمین کا آخری طور پر بٹوارہ کر ڈالا تھا یا نہیں،  اور اس سوال سے متعلق تاسیت نے جو کچھ لکھا ہے اس کا کیا مطلب لگایا جائے۔ اب یہ بحث پرانی ہو چکی۔ اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تقریباً سبھی قوموں میں شروع میں پورا گن اور بعد میں قدیم کمیونسٹی خاندانی برادریاں مل کر کھیتی کرتی تھیں اور سیزر نے اس وقت تک سوئیری لوگوں میں یہ رواج پایا تھا۔ بعد میں زمین تقسیم کرنے کا رواج ہوا۔  اور تھوڑے تھوڑے دنوں بعد الگ الگ خاندانوں میں زمین کو نئے سرے سے بانٹ دیا جاتا تھا۔ جرمنی کے کچھ حصوں میں تو کھیتی کی زمین کو ایک مقررہ میعاد کے بعد پھر سے بانٹ دینے کا وہ رواج آج تک پایا جاتا ہے۔ یہ سب ثابت ہو جانے کے بعد اب اس بحث میں اور سر کھپانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ سیزر کے زمانے سے تاسیت کے زمانے تک کے ڈیڑھ سو برس کے عرصے میں اگر جرمن لوگ اجتماعی کھیتی سے۔۔۔۔ سیزر نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ سوئیوں لوگوں میں زمین کا بٹوارہ یا انفرادی کھیتی نہیں ہوتی تھی۔ ۔۔۔ آگے بڑھ کر ہر سال زمین کو پھر سے بانٹنے اور انفرادی طریقے سے کھیتی کرنے لگے تھے تو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے کافی ترقی کی تھی۔ اتنے کم عرصے میں اور بغیر کسی بیرونی مداخلت کے اس حالت سے آگے بڑھ کر زمین کی مکمل طور پر نجی ملکیت کی منزل پر پہنچ جانا بالکل ناممکن تھا۔ لہٰذا میں تاسیت کے لفظوں کا صرف یہی مطلب نکالتا ہوں جو اس نے لکھا ہے اور اس نے لکھا یہ ہے: جرمن لوگ ہر سال کھیتی کی زمین کو بدل دیتے ہیں(یا پھر سے بانٹ لیتے ہیں (اور ایسا کرنے کے دوران میں کافی اجتماعی زمین بچ جاتی ہے۔ کھیتی اور زمین کی ملکیت کی یہ حالت جرمنوں کے اس زمانے کے گن دستور سے بالکل میل کھاتی ہے۔

مذکورہ بالا پیراگراف کو میں نے بغیر کسی تبدیلی کے اسی طرح چھوڑ دیا ہے جس طرح وہ اس کتاب کے پرانے ایڈیشنوں میں چھپا ہے۔  لیکن اس دوران میں سوال کا ایک اور پہلو سامنے آ گیا ہے کوالیفسکی نے یہ ثابت کر دیا ہے(دیکھئے اس کتاب کا صفحہ (7)(44کہ پدری اقتدار والی گھریلو برادری، مادری حق والے کمیونسٹی خاندان اور موجودہ زمانے کے الگ الگ رہنے والے خاندان کو ملانے والی ایک درمیانی کڑی تھی اور اس حیثیت سے اگر یہ ہر جگہ نہیں پائی جاتی تو بھی اس کا بہت وسیع رواج تھا۔ جب سے یہ ثابت ہوا ہے تب سے بحث اس بات پر نہیں رہی کہ زمین سب کی مشترکہ ملکیت تھی یا نہیں،  جس پر مارور اور ویئز میں اب تک مباحثہ ہو رہا تھا،  بلکہ اب سوال یہ ہے کہ مشترکہ ملکیت کی کیا شکل تھی۔ اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ سیزر کے زمانے میں سوئیوی لوگوں میں زمین کی مشترکہ ملکیت ہوتی تھی بلکہ سب لوگ مل کر ساجھے کی کھیتی کرتے تھے۔ ان لوگوں کی اقتصادی اکائی کیا تھی۔ گن،  گھریلو برادری یا خون کے رشتوں پر مبنی کوئی درمیانی کمیونسٹی گروہ، یا زمین کے مختلف مقامی حالات کے مطابق یہ تینوں ہی شکلیں پائی جاتی تھیں __ ان سوالوں پر ابھی بہت دنوں تک بحث چلتی رہے گی۔ کوالیفسکی کا کہنا ہے کہ تاسیت نے جن حالات کا ذکر کیا ہے وہ مارک یا دیہی برادری پر دلالت نہیں کرتے بلکہ گھریلو برادری پر دلالت کرتے ہیں جو بہت آگے چل کر آبادی کر بڑھ جانے کی وجہ سے دیہی برادری میں بدل گئی۔

اس لئے کہا جاتا ہے کہ رومیوں کے زمانے میں جس علاقے میں جرمن بسے ہوئے تھے اور بعد میں جس علاقے کے انہوں نے رومیوں سے چھینا، وہاں جرمنوں کی بستیاں گاؤں کی شکل میں نہیں تھیں بلکہ بڑی بڑی خاندانی برادریوں کی شکل میں تھیں جن میں کئی پشت کے لوگ رہتے تھے، جو زمین کے ایک کافی بڑے علاقے پر کھیتی کرتے تھے اور ارد گرد کی صحرائی زمین کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ مارک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہ بات صحیح مان لی جائے تو کھیتی کی زمین کو بدلنے کے بارے میں تاسیت میں جو عبارت ہے، اس کا زرعی مفہوم نکالنا ہو گا یعنی ہر گھریلو برادری ہر سال نئی زمین پر کھیتی کرتی تھی اور پچھلے سال کی جوتی ہوئی زمین کو ہل چلا کر خالی چھوڑ دیتی تھی یا اسے بالکل کام میں نہ لاتی تھی۔ چونکہ آبادی بہت کم تھی اس لئے صحرائی زمین کی کوئی کمی نہ تھی اور اس لئے زمین کے لئے کسی کو جھگڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کئی صدیوں کے بعد جب گھرانے کے ممبروں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ پیداوار کی اس وقت جو حالت تھی اس میں مل کر کھیتی کرنا ناممکن ہو گیا،  تب کہیں ان گھریلو برادریوں کا شیرازہ منتشر ہوا۔ پہلے جو ساجھے کے کھیت اور چراگاہیں تھیں،  انہیں الگ الگ گھرانوں میں،  جواس وقت تک بن چکے تھے، مروجہ طریقے کے مطابق بانٹ دیا گیا۔ شروع میں یہ بٹوارہ ایک مقررہ وقفے کے بعد بار بار ہوتا تھا، پھر یہ ایک بار ہمیشہ کے لئے ہو گیا لیکن جنگل،  چراگاہ، ندی نالی اور تالاب سبھی کی مشترکہ ملکیت رہے۔

جہاں تک روس کا تعلق ہے، ارتقا کا یہ سلسلہ یہاں بھی تاریخی طور پر پوری طرح ثابت معلوم ہوتا ہے۔ جہاں تک جرمنی اور پھر ان ملکوں کا تعلق ہے جن میں جرمن لوگ رہتے تھے، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تا سیت کے زمانے میں بھی دیہی برادری کا وجود ماننے کے پرانے خیال کے مقابلے میں یہ خیال بنیادی مواد کی زیادہ اچھی توجیہ کرتا ہے اور مشکلات کو زیادہ آسانی سے حل کرتا ہے۔ جرمنوں کی سب سے پرانی دستاویزوں کو۔۔۔۔ مثال کے طور پر (38)Codex Laureshamensisکو__ دیہی مارک برادری کے مقابلے میں گھریلو برادری کی بنیاد پر زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اس خیال سے نئی دشواریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور نئے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔  یہ معاملہ مزید چھان بین کے بعد ہی طے ہو سکے گا۔ لیکن میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا نہیں کہ بہت ممکن ہے کہ جرمنی، اسکینڈی نیویا اور انگلینڈ میں گھریلو برادری ایک درمیانی منزل بھی رہی ہو۔

جہاں سیزر کے زمانے میں جرمنوں نے ابھی حال میں کسی حد تک بستی بنا کر مستقل سکونت اختیار کر لی تھی اور کسی حد تک وہ مستقل سکونت اختیار کرنے کے لئے مناسب جگہ کی تلاش میں تھے، وہاں تاسیت کے زمانے میں انہیں بستیوں میں جم کر رہتے ہوئے ایک پوری صدی گزر چکی تھی۔ اس سے ذرائع زندگی کی پیدائش میں جو ترقی ہوئی، اسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ لکڑی کے لٹھوں سے بنے ہوئے مکانوں میں رہتے تھے۔ ان کے لباس ابھی تک ابتدائی جنگلیوں کے سے تھے۔ وہ موٹے اونی لبادے اور جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے۔ عورتیں اور شرفا زیر جامہ کے طور پر سن کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ ان لوگوں کی غذا تھی دودھ،  گوشت،  جنگلی پھل اور جیسا کہ پلینی نے بتایا ہے، جئی کا دلیا(جو کہ آج بھی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں کیلٹ لوگوں کی قومی غذا ہے۔ ان کی دولت گائے بیل تھی۔ مگر ان کی نسل اچھی نہیں تھی اور جانور چھوٹے چھوٹے،  بے ڈھنگے،  بے ڈول اور بغیر سینگوں کے ہوتے تھے۔ ان کے گھوڑے چھوٹے چھوٹے ٹٹوؤں جیسے ہوتے تھے جو تیز نہیں دوڑ سکتے تھے۔ سکے کا بہت کم استعمال ہوتا تھا اور وہ بھی بہت تھوڑی تعداد میں۔  صرف رومی سکہ ہی چلتا تھا۔ جرمن لوگ سونے یا چاندی کے سامان نہیں بناتے تھے اور نہ وہ ان دھاتوں کو کوئی اہمیت دیتے تھے۔ لوہے کی بہت کمی تھی اور کم سے کم رائن اور ڈینوب دریاؤں کے کنارے رہنے والے لوگ اپنی ضرورت کا سارا لوہا باہر سے منگواتے تھے اور خود زمین سے نہیں نکالتے تھے۔ رونک رسم الخط(جو یونانی اور لاطینی حروف کی نقل کر کے لکھا جاتا تھا)صرف ایک خفیہ اشارتی ابجد کے طور پر محض مذہبی جادو ٹونے کے کام آتا تھا۔ انسانوں کی قربانی کرنے کی رسم ابھی تک جاری تھی۔ مختصر یہ کہ اس زمانے میں جرمنوں نے بربریت کے درمیانی دور سے نکل کر آخری دور میں حال ہی میں قدم رکھا تھا۔ جن جرمن قبیلوں سے روم کے باشندوں کا براہ راست تعلق قائم ہو گیا تھا اور اس لئے جو آسانی سے روم والوں کی صنعتی پیداوار حاصل کر سکتے تھے، وہ دھات یا کپڑے کی خود اپنی صنعتیں نہیں قائم کر پائے تھے۔ لیکن اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر رہنے والے شمال مشرقی قبیلوں نے یہ صنعتیں قائم کر لی تھیں۔  شیلرذگ کے دلدلی علاقے میں زرہ بکتر کے جو ٹکڑے ملتے ہیں۔ ۔۔۔ لوہے کی لمبی تلوار، بکتر، چاندی کا خود وغیرہ، جو چیزیں دوسری صدی کے آخر کے رومی سکوں کے ساتھ ملی ہیں۔ ۔۔۔ اور لوگوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے جرمنوں کے بنائے ہوئے دھات کے سامان جو چاروں طرف پھیل گئے ہیں وہ سب ایک مخصوص قسم کی عمدہ کاریگری کے نمونے پیش کرتے ہیں اور یہی بات ان چیزوں پر بھی صادق آتی ہے جو رومی چیزوں کے نمونے پر بنائی گئی تھیں۔  مگر جب جرمن لوگ ترک وطن کر کے متمدن رومن ایمپائر(سلطنت ( میں آ بسے تو انگلینڈ کے سوا باقی سب جگہ ان کی اپنی صنعتیں ختم ہو گئیں۔  ان صنعتوں کی ابتدا اور ان کی نشوونما کس قدر سلیقے سے اور یکساں طور پر ہوئی تھی اس کا ایک اچھا ثبوت ہے کانسی کا بنا ہوا بروچ۔ برگنڈی میں،  رومانیہ میں اور آزف سمندر کے ساحل پر جو نمونے ملے ہیں،   وہ دیکھنے میں ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا وہ بھی برطانیہ اور سویڈن کے کارخانوں میں بنائے گئے ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی جرمن کاریگری کی پیداوار ہیں۔

ان لوگوں کا دستور بھی بربریت کے آخری دور کے حسب حال تھا۔ تاسیت کی روایت کے مطابق سرداروں (principles)کی ایک کونسل ہوتی تھی جو کم اہمیت کے معاملوں کو طے کر دیتی تھی اور زیادہ اہم سوالوں کو عوامی اسمبلی کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کر دیتی تھی۔  بربریت کے ابتدائی دور میں کم سے کم ان لوگوں میں جن کی ہمیں واقفیت ہے، یعنی امریکہ کے انڈینوں میں،  عوامی اسمبلی صرف گن میں ہوتی تھی۔ اس زمانے تک قبیلے میں یا قبیلوں کے وفاق میں عوامی اسمبلی کا روا ج شروع نہیں ہوا تھا۔ ایرو کواس لوگوں کی طرح جرمنوں میں بھی کونسل میں بیٹھنے والے سردار(pricipes)ابھی تک زمانہ جنگ کے سرداروں (duces)سے صاف طور پر ممیز کئے جا سکتے تھے۔ اول الذکر کو اپنے قبیلے کے لوگوں سے تحفے کے طور پر مویشی،  غلہ وغیرہ ملنے لگا تھا اور وہ ابھی سے، ایک حد تک، اسی پر گزارا کرنے لگے تھے۔ امریکہ کی طرح یہاں بھی یہ لوگ ایک ہی خاندان سے چنے جاتے تھے۔ یونان اور روم کی طرح یہاں بھی پدری حق قائم ہو جانے کی وجہ سے رفتہ رفتہ یہ تبدیلی ہوئی کہ جن عہدوں کے لئے پہلے انتخاب ہوا کرتا تھا، وہ اب موروثی بن گئے۔  اس طرح ہر گن میں شرفا کا ایک خاندان پیدا ہو گیا۔ اس قدیم،  نام نہاد قبائلی شرفا کے طبقے کا ایک بڑا حصہ لوگوں کے نقل وطن یا ہجرت کے دوران میں یا اس کے تھوڑے ہی دنوں کے اندر ختم ہو گیا۔ فوجی قائد یا رہنما محض اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر چنے جاتے تھے۔ اس میں یہ خیال نہیں کیا جاتا تھا کہ ان کی پیدائشی حیثیت کیا ہے۔ ان کو اختیار بہت کم تھا اور اپنی بات منوانے کے لیے خود کام کر کے مثال قائم کرنا ہوتی تھی۔ جیسا کہ تاسیت نے صاف لکھا ہے فوج کے اندر ڈسپلن قائم رکھنے کا اصلی اختیار پجاریوں کے ہاتھ میں تھا۔ اصلی اقتدار عوامی اسمبلی کے ہاتھ میں تھا۔  بادشاہ یا قبائلی سردار صدارت کرتا تھا۔ فیصلہ عوام کرتے تھے۔۔ ۔۔۔ زیر لب بڑبڑانے کا مطلب ہوتا تھا”نہیں ” اور زور سے نعرے لگانے اور ہتھیار کھڑ کھڑانے کا مطلب ہوتا تھا”ہاں۔  "عوامی اسمبلی عدالت کا کام بھی کرتی تھی۔ اس کے سامنے شکایتیں پیش ہوئی تھیں اور ان کا فیصلہ کیا جاتا تھا اور سزائے موت تک دی جاتی تھی۔ موت کی سزا صرف بزدلی، غداری اور غیر فطری اخلاقی برائیوں کے لئے دی جاتی تھی گن اور دوسری شاخیں بھی مقدموں کی شنوائی کرتی تھیں۔  ان کا سردار صدارت کرتا تھا۔ جرمنوں کی سبھی ابتدائی عدالتوں کی طرح یہاں بھی صدر کا کام صرف عدالت کی کاروائی کو چلانا اور جرح کرنا تھا۔ جرمنوں میں ہر جگہ اور ہمیشہ یہی رواج تھا کہ کسی جرم کی سزا پورا سماج دیتا تھا۔

سیزر کے زمانے سے قبیلوں کے وفاق بننے لگے۔ ان میں سے بعضوں میں بادشاہ بھی ہونے لگے تھے۔ یونانیوں اور رومیوں کی طرح ان لوگوں میں بھی سب سے بڑا سپہ سالار جلد ہی مطلق العنان حکمران بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ کبھی کبھی ان کے حوصلے پورے ہو جاتے تھے۔ اس طرح جو لوگ اقتدار غصب کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے وہ اپنی مطلق العنان حکومت نہیں قائم کر پاتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ گن دستور کی بندشوں کو توڑنے لگے۔ جن غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا تھا، ان کی گن دستور میں حیثیت عام طور پر نیچی ہوتی تھی کیونکہ وہ کسی گن کے ممبر نہیں ہو سکتے تھے۔ لیکن نئے بادشاہوں کی مہربانی سے یہ لوگ اکثر اونچے عہدے، دولت اور اعزاز حاصل کرتے تھے۔ رومن ایمپائر کی فتوحات کے بعد، ان فوجی رہنماؤں کے سلسلے میں جو بڑے بڑے ملکوں کے بادشاہ بن گئے تھے، یہی بات ہوئی۔  فرینک لوگوں میں بادشاہ کے غلاموں اور آزاد کئے ہوئے لوگوں کا شروع میں دربار میں اور بعد میں پوری ریاست میں بڑا دبدبہ تھا۔ نئے امرا اور شرفا کی ایک بڑی تعداد انہیں کی اولاد میں تھی۔

بادشاہت کے ارتقا میں ایک ادارے سے بہت مدد ملی اور وہ ادارہ تھا افراد کی اپنی اپنی فوج۔ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں۔  کہ کس طرح امریکی انڈینوں میں گنوں کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر جنگ کرنے کے لئے نجی جماعتیں بنائی جانے لگی تھیں۔  جرمنوں میں ان نجی جماعتوں نے مستقل حیثیت اختیار کر لی۔ اگر کوئی سپہ سالار شہرت حاصل کر لیتا تو لوٹ کے مال کے شوق میں جنگجو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جاتی۔ یہ لوگ ذاتی طور پر اس سے وفاداری کا عہد کرتے تھے اور وہ سپہ سالار ان سے۔  وہ انہیں کھانا دیتا تھا، تحفے تحائف دیتا تھا اور درجہ بدرجہ کے اصول پر ان کی تنظیم کرتا تھا۔ ایک باڈی گارڈ یا محافظ دستہ، چھوٹی موٹی لڑائیوں میں حصہ لینے کے لئے اور فوری طور پر میدان میں اتر آنے کے لئے ایک ٹکڑی اور بڑی لڑائیوں کے لئے فوجی افسروں کا تربیت یافتہ جتھا ہوتا تھا۔ یہی فوجیں اگرچہ کافی کمزور ہوتی تھیں اور بعد میں یہ بات ثابت بھی ہو گئی مثال کے لئے اٹلی میں اودو آ کر کے تحت بھی ان کی کمزوری ثابت ہو گئی،  لیکن پھر بھی انہوں نے قدیم عوامی آزادیوں کے لئے گھن کے کیڑے کا کام کیا اور لوگوں کی ہجرت یا نقل وطن کے دوران میں اور اس کے بعد بھی انہوں نے یہی کام پورا کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو بادشاہت کے ارتقا کے لئے انہوں نے مناسب زمین تیار کی اور دوسرے جیسا کہ تاسیت نے کہا ہے، ان فوجوں کو بنائے رکھنے کے لئے انہیں ہمیشہ لڑائی اور لوٹ مار کی مہموں میں مصروف رکھنا ضروری تھا۔ لوٹنا ان کا اصلی مقصد بن گیا۔ اگر فوجی سردار کو اپنے آس پاس کے علاقے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی دیتی تھی تو وہ اپنی فوجوں کو لے کر دوسرے ملکوں پر چڑھائی کر دیتا جہاں جنگ کرنے اور لوٹ کا مال حاصل کرنے کی گنجائش ہوتی۔ جرمن امدادی فوجیں جو رومی جھنڈے کے نیچے خود جرمنوں سے بھی بڑی تعداد میں لڑتی تھیں،  ایسے ہی نجی دستوں اور ٹکڑیوں سے بنی تھیں۔  یہی وہ پہلا بیج تھا جس سے آگے چل کر لینڈس کنخت(8)نظام کی پیدائش ہوئی جو جرمنوں کے لئے کلنک اور لعنت ثابت ہوا۔ رومی سامراج کی فتح کے بعد بادشاہوں کی یہ نجی فوجی بھی غلاموں اور روم کے درباریوں کی طرح بعد کے زمانے کے شرفا کا حصہ بن گئے۔

غرضیکہ عام طور پر جرمن قبیلوں نے بھی مل کر جاتیوں کی شکل اختیار کی اور ان کا وہی دستور تھا جو سورمائی عہد کے یونانیوں میں اور رومیوں میں نام نہاد بادشاہوں کے زمانے میں پایا جاتا تھا__یعنی ان میں بھی اسی طرح کی عوامی اسمبلی، گن سرداروں کی کونسل اور فوجی کمانڈر ہوا کرتے تھے جو سچ مچ کے بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ یہ ایک نہایت ترقی یافتہ دستور تھا جو کسی گن سماج میں قائم ہو سکتا تھا۔ وہ بربریت کے آخری دور کا معیاری دستور تھا۔ جیسے ہی سماج ان حدود کے باہر نکل گیا جن کے لئے وہ دستور موزوں تھا، ویسے ہی گن نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ گن نظام ٹوٹ گیا اور اس کی جگہ ریاست نے لے لی۔

حوالہ جات

1۔ آجکل انہیں نینسی کہتے ہیں۔ (ایڈیٹر)

2۔ میں نے آئرلینڈ میں کچھ دن گزارے (32)تو ایک بار پھر مجھے اس بات کا احساس ہو کہ اس ملک کی دیہاتی آبادی آج بھی کسی حد تک گن کے زمانے کے خیالات اور تصورات سے لپٹی ہوئی ہے۔ زمیندار کو جس سے لگان پر زمین لے کر کسان کھیتی کرتا ہے، وہ اپنے جرگے کا ایسا سردار سمجھتا ہے جو سب کے فائدے کے لئے کھیتی کی دیکھ بھال کرتا ہے،  جسے کسانوں سے لگان کی شکل میں خراج لینے کا حق ہے، پر ساتھ ہی جس کا یہ فرض بھی ہے کہ ضرورت پڑنے پر کسان کی مدد کرے۔ اسی طرح ہر کھاتے پیتے آدمی کا فرض سمجھا جاتا ہے کہ جب بھی اس کے غریب پڑوسی مصیبت میں ہوں تو وہ ان کی مدد کرے۔ یہ مدد خیرات نہیں ہے۔ جرگے کے غریب ممبروں کا حق ہے کہ جرگے کے دولتمند لوگ یا جرگے کا سردار ان کی مدد کرے۔ اسی وجہ سے اقتصادیات اور قانون کے پنڈت اکثر یہ شکایت کرتے سنے جاتے ہیں کہ آئر لینڈ کے کسانوں کے دماغ میں بورژوا ملکیت کے جدید خیالات کو جمانا ناممکن ہے۔ آئرلینڈ کے باشندوں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی کہ ایسی بھی کوئی ملکیت ہو سکتی ہے جس میں محض اختیارات اور حقوق ہوں اور ذمہ داری کوئی نہ ہو۔ کوئی حیرت نہیں کہ گن سماج کے ایسے بھولے بھالے خیالات کو لئے ہوئے آئرلینڈ کے باشندے جب اچانک انگلینڈ یا امریکہ کے بڑے شہروں میں،   ایسی آبادی میں پہنچ جاتے ہیں جس کے اخلاق اور قانون کے معیاری اصول بالکل مختلف ہوتے ہیں تو اخلاق اور انصاف دونوں کے بارے میں ان کے خیالات گڈ مڈ ہو جاتے ہیں،  انہیں اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا اور اکثر ان کی ایک بڑی تعداد بددلی اور پست ہمتی کا شکار ہو جاتی ہے۔ 1891(کے ایڈیشن کے لئے نوٹ از اینگز۔ )

3۔ دیہی برادری۔(ایڈیٹر)

4۔ قرابت دار۔(ایڈیٹر)

5۔ ماموں اور بھانجے کے رشتے کا گہرا تعلق اور اس کی خصوصیت جو بہت سے لوگوں میں مادری حق کی ایک نشانی کے طور پر باقی ہے، یونانیوں میں صرف سورمائی عہد کی دیو مالا میں پائی جاتی ہے۔ دیو دورس کی جلد 4، صفحہ34میں میلیا گیر اپنی ماں آلتھیا کے بھائیوں،   تھیسیئس کے بیٹوں کو مار ڈالتا ہے۔ آلتھیا اس قتل کو اتنا سنگین جرم سمجھتی ہے کہ قاتل کو جو خود اس کا بیتا ہے، سراپ دے ڈالتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ وہ مر جائے۔ لکھا ہے کہ "دیو تاؤں نے اس کی دعا سن لی اور میلیا گیر کی زندگی کو ختم کر دیا۔ "اسی مصنف کے قول کے مطابق(دیودورس، جلد 4، صفحات (44,43جب ہر قلیس کی رہنمائی میں ارگوناٹ کا گروہ تھریشیا (Thracia)میں اترا تو اس نے دیکھا کہ فینیئس نے پہلی بیوی کلیا پیٹرا بوریئڈ سے قطع تعلق کر لیا ہے اور اپنی دوسری بیوی کے کہنے میں آ کر ان دونوں بیٹوں کے ساتھ جو کلیو پیٹرا کے بطن سے تھے، نہایت شرمناک برتاؤ کر رہا ہے۔ لیکن ارگونات کے گروہ میں بھی کچھ بورئیڈ خاندان کے لوگ تھے جو کلیو پیٹرا کے بھائی ہوتے تھے اور اس طرح ان مصیبت زدہ لڑکوں کے ماموں تھے۔ ماموؤں نے فوراً اپنے بھانجوں کی مدد کی، انہیں قید سے چھٹکارا دلایا اور ان کو قید میں رکھنے والے پہرہ داروں کو مار دالا۔(نوٹاز اینگز۔)

6۔ Maurer G. L; "Geschichte der Stadteverfassung in Deutschland”,Bd.i, Erlangen, 1869. (ایڈیٹر)

7۔ اینگز نے جس صفحے کی طرف اشارہ کیا ہے وہ چوتھے جرمن ایڈیشن کا ہے۔ دیکھئے اسی جلد کے صفحات(-76-78ایڈیٹر)

8۔ لینڈس کنخت (Landsknecht(تنخواہ دار سپاہی۔(ایڈیٹر)

ّّّّّّّّ_________________________________________________

 

آٹھواں باب

جرمن لوگوں میں ریاست کا آغاز

تاسیت کا کہنا ہے کہ جرمن لوگوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ الگ الگ جرمن جاتیوں کی تعداد کا کم و بیش اندازہ سیزر نے دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اودی پیتن اور تینکتیرن لوگوں کی تعداد عورتوں اور بچوں کو ملا کر ایک لاکھ اسی ہزار تھی۔ یہ لوگ دریائے رائن کے بائیں کنارے پر آ بسے تھے۔ اسی طرح ہر جاتی میں تقریباً ایک لاکھ آدمی ہوتے تھے۔ (1)ایرو کواس لوگ اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی تعداد میں اس سے کہیں کم تھے۔ ان کی تعداد جب بیس ہزار بھی نہیں تھی تو وہ بڑی جھلیوں سے لے کر اوہیو اور پوٹومک تک کے پورے ملک میں لوگوں کے لئے ایک دہشت کی چیز بنے ہوئے تھے۔ اگر ہم را ئن علاقے کی الگ الگ جاتیوں کو جن کے بارے میں رپورٹوں کی بدولت ہماری واقفیت زیادہ ہے، نقشے پر جمع کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے ہر جاتی اوسطاً پروشیا کے ایک موجودہ انتظامی ضلع کے برابر یعنی دس ہزار مربع کلو میٹر یا 182جغرافیائی مربع میل کے علاقے میں بسی ہوئی تھی۔ لیکن روم والے جس کو Germania Magna (2)کہتے تھے، اس کی سرحد دریائے سوٹولا تک پہنچتی تھی، اس کا رقبہ کم و بیش پانچ لاکھ مربع کلو میٹر تھا۔ اگر ایک جاتی کے لئے اوسطاً ایک لاکھ کا حساب رکھا ائے تو Germanis Magnaکی کل آبادی 50لاکھ ہو جاتی ہے جو بربریت کی جاتیوں کے ایک گروہ کے لئے ذرا بڑی تعداد ہے، حالانکہفی مربع کلومیٹر دس آدمی یا ایک جغرافیائی مربع میل کے لئے 550کی آبادی آج کل کی حالت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن اس تعداد میں اس زمانے کے تمام جرمن شامل نہیں ہیں۔  ہم جانتے ہیں کہ گوتھ نسل کی جرمن جاتیاں،   یعنی باستر نین، پیو کینین اور دوسری جاتیاں کارپے تھین پہاڑوں کے کنارے کنارے دریائے ڈینوب کے دہانے تک پھیلی ہوئی تھیں۔  ان لوگوں کی تعداد اتنی بڑی تھی کہ پلینی نے انہیں جرمنواں کا پانچواں بنیادی قبیلہ کہا تھا۔ 180ق۔ م۔ میں یہ لوگ مقدونیہ کے بادشاہ پر سیس کے تنخواہ دار سپاہیوں کا کام کرنے لگے تھے اور آگسٹن کے عہد حکومت کے شروع میں وہ ایڈریانوپل کے پاس تک بڑھ آئے تھے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ان کی تعداد صرف دس لاکھ تھی تو سن عیسوی کے شروع میں جرمنوں کی کل تعداد ساٹھ لاکھ سے کم نہیں رہی ہو گی۔

جرمنی میں بس جانے کے بعد آبادی نہایت تیزی سے بڑھی ہو گی۔  اور جس صنعتی ترقی کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ شلیزوگ کے دلدل میں جو چیزیں ہیں،  وہ اسی زمانے کے ہیں۔  اس کا مطلب یہ ہوا کہ تیسری صدی تک بحیرہ بالٹک کے ساحلوں پر دھات اور کپڑے کی صنعت کای ترقی کر چکی تھی، سلطنت روم کے ساتھ کافی تجارت ہوتی تھی اور دولتمند طبقہ نہایت عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ آبادی پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ لیکن اسی زمانے میں جرمنوں نے دریائے رائن، رومن سرحدی فصیل اور دریائے ڈینوب تک کی پوری سرحد پر، بحر شمالی سے بحیرہ اسود تک عام دھاوا بول دیا۔  یہ اس بات کا براہ راست ثبوت ہے کہ برابر بڑھتی ہوئی آبادی اپنے علاقوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کشمکش کے تین سو برس کے عرصے میں گوتھ لوگوں کی اصلی جماعت(اسکینڈی نیویا کے گوتھ لوگوں اور برگنڈیوں کو چھوڑ کر(جنوب مشرق کی طرف بڑھ گئی اور اس حملے کے مورچے کا یہی بایاں بازو بنا۔  شمالی جرمن لوگ(ہرمی نونی(اس مورچے کے وسط میں اوپری ڈینوب تک بڑھ آئے اور استی وونی لوگ جو اس زمانے میں فرینک کہلانے لگے، دریائے رائن کے کنارے کنارے اس مورچے کے دائیں حصے میں بڑھ آئے۔  برطانیہ کو فتح کرنا کا کام انگیوونی لوگوں کے حصے میں آیا۔ پانچویں صدی کے آخر میں روم کی کمزور و ناتواں اور بے یار و مددگار سلطنت کے دروازے جرمن حملہ آوروں کے لئے کھلے ہوئے تھے۔

اس سے پہلے کے ابواب میں ہم قدیم یونانی اور رومی تمدن کے گہوارے کے پاس کھڑے تھے۔ اب ہم اس کی قبر کے پاس کھڑے ہیں۔  کئی صدیوں سے بحیرہ روم کے تمام ملکوں پر روم کی عالمگیر طاقت کا رندا چل چل کر ان کی تمام امتیازی خصوصیات مٹاتا جا رہا تھا۔ ان چند جگہوں کو چھوڑ کر جہاں یونانی زبان نے اس کا مقابلہ کیا، تمام قومی زبانیں ایک خراب اور بگڑی ہوئی لاطینی سے مغلوب ہو کر پیچھے ہٹ گئیں۔  قومیتوں کا کوئی امتیاز اور فرق باقی نہیں رہا۔ نہ کوئی گال تھا، نہ ایبیرین،  نہ لیگورین تھا اور نہ ناریکن __ سب رومن ہو گئے تھے۔ رومی نظم و نسق اور رومی قانون نے ہر جگہ خون کے رشتوں یا سگوتری کی پرانی جماعتوں کا شیرازہ منتشر کر دیا تھا، اور مقامی اور قومی خود اختیاری کے آخری آثار کو بھی مٹا دیا تھا۔ نو ساختہ اور نو ایجاد رومنیت اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتی تھی۔ یہ کسی قومیت کا نہیں بلکہ قومیت نہ ہونے کا اظہار تھا۔ نئی قوموں کی تعمیر کے عناصر ہر جگہ موجود تھے۔ مختلف صوبوں کی لاطینی بولیوں کا فرق روز بروز بڑھتا تھا۔  جن قدرتی سرحدوں نے کسی زمانے میں اٹلی، گال، اسپین، افریقہ کو الگ الگ آزاد ملک بنایا تھا، وہ آج بھی موجود تھیں اور ان کا اثر بھی پڑ رہا تھا۔ پھر بھی کہیں کوئی ایسی قوت نہیں تھی جو ان عناصر کو ملا کر نئی قوموں کی تخلیق کرتی۔ ترقی کی صلاحیت کے کہیں کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے تھے اور نہ مقابلے کی کہیں کوئی طاقت نظر آتی تھی۔ ایسی صورت میں تخلیقی قوت کی بھلا کیا گنجائش ہو سکتی تھی۔ اس وسیع علاقے کی کثیر انسانی آبادی کو ایک شیرازے میں باندھ رکھنے والی چیز ایک ہی تھی اور وہ تھی رومی ریاست اور وہی کچھ زمانہ گزرتے گزرتے ان کی بد ترین دشمن اور ان پر ظلم ڈھانے والی بن گئی تھی۔ صوبوں نے روم کو برباد کر دیا تھا۔ روم خود بھی اور شہرواں کی طرح ایک صوبائی شہر بن گیا۔ اسے کچھ مخصوص حقوق اب بھی حاصل تھے مگر اب وہ حکومت نہیں کرتا تھا، وہ اب ایک عالمگیر سلطنت کا مرکز نہیں تھا، وہ اب شہنشاہوں اور نائب شہنشاہوں کی راجد ھانی بھی نہیں تھا کیونکہ وہ تو اب قسطنطنیہ،  تریر اور میلان میں رہنے لگے تھے۔ رومی ریاست اب ایک بھاری بھر کم اور پیچیدہ مشین ہو گئی تھی جس کا واحد مقصد اپنی رعایا کا استحصال کرنا تھا۔ ریاست ان سے ٹیکس اور خدمتیں لیتی اور طرح طرح کے محصول وصولتی تھی جس کی وجہ سے لوگ روز بروز افلاس کے گڑھے میں دھنستے گئے۔ سلطنت کے پروکیوریٹر،  ٹیکس وصولنے والے افسر اور سپاہی عوام کے ساتھ جیسی زبردستی کرتے تھے، اس سے یہ دباؤ اور بوجھ اور بھی ناقابل برداشت ہو گیا۔ روم کی ریاست نے اپنا عالمگیر تسلط قائم کر کے یہ حالت کر رکھی تھی۔ اس کے قائم رہنے کا جواز یہ بتلایا جاتا تھا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے اور ملک کو باہر کے بربریوں کے حملوں سے بچانے کے لئے اس کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کا نظم اور امن و امان بدترین بد نظمی اور بد امنی سے بھی بدتر تھا۔ اور جن بربر لوگوں سے ریاست اپنے شہریوں کو بچانے کا دعویٰ کرتی تھی، انہی کو شہریوں نے اپنا نجات دہندہ سمجھا اور ان کا خیر مقدم کیا۔

سماجی حالات بھی کم خراب نہیں تھے۔ ریپبلک برسوں میں ہی رومی حکومت کی بنیاد مفتوحہ صوبوں کے بدترین استحصال پر تھی۔ شہنشاہوں نے اس استحصال کو ختم نہیں کیا بلکہ الٹے اسے منظم اور باقاعدہ کر دیا۔ جتنا زیادہ سلطنت کا زوال ہوتا گیا اتنا ہی زیادہ ٹیکس اور جبری خدمتیں بڑھتی گئیں اور سرکاری افسر اتنا ہی زیادہ بے شرمی کے ساتھ لوگوں کو لوٹنے اور ستانے لگے۔  تجارت اور صنعت سے رومیوں کو کبھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ تو پوری کی پوری قوموں پر حکم چلایا کرتے تھے۔ وہ صرف سود خوری میں اپنے پہلے اور بعد کے سبھی لوگوں سے بڑھے ہوئے تھے۔ تھوڑی بہت تجارت جو تھی اور جس نے کچھ دنوں تک کسی طرح اپنے آپ کو قائم رکھا تھا، وہ سرکاری لوٹ کھسوٹ کی بدولت برباد ہو رہی تھی۔ جو کچھ بچ رہی تھی وہ سلطنت کے مشرقی یعنی یونانی حصے میں تھی لیکن وہ ہمارے موجودہ مطالعے کے دائرے سے باہر ہے۔  افلاس عام تھا۔ تجارت،  دستکاری، فنون اور آباد ی کا زوال ہو رہا تھا، شہر انحطاط پذیر تھے، زراعت میں بھی تنزل ہو رہا تھا اور وہ نیچے درجے پر پہنچ چکی تھی۔ رومیوں کے عالمگیر تسلط کا آخری نتیجہ یہی تھا۔

قدیم زمانے میں ہر جگہ پیداوار کی سب سے اہم اور فیصلہ کن شاخ زراعت تھی۔ اس کی اہمیت اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔  اٹلی میں بڑی بڑی جاگیروں (latifundia)کو جو ریپبلک کے خاتمے کے زمانے سے تقریباً سارے علاقے پر چھائی ہوئی تھیں،  دو طرح سے استعمال کیا جاتا تھا__ یا تو چراگاہ کے طور پر، جس سے آبادی کو ہٹا کر بھیڑیں اور بیل پالے جانے لگے تھے جن کی دیکھ بھال کے لئے بہت تھوڑے سے غلاموں کی ضرورت تھی، اور یا ایسی جاگیروں کے طور پر جن پر بہت سے غلاموں کی مدد سے بڑے پیمانے پر باغبانی کی جاتی تھی۔ ان میں پیداوار کچھ تو مالکوں کے اپنے عیش و آرام کی ضرورت پوری کرنے کے کام آتی تھی اور کچھ شہروں کے بازاروں میں فروخت کی جاتی تھی۔ بڑی بڑی چراگاہوں کو قائم رکھا گیا تھا اور کسی حد تک بڑھایا بھی گیا تھا۔ لیکن دوسری قسم کی جاگیریں اور باغبانیاں مالکوں کے افلاس اور شہروں کے زوال کی بدولت تباہی کا شکار ہو گئیں۔  بڑی بڑی جاگیروں(لیٹی فنڈیا)کا یہ اقتصادی نظام جس کی بنیاد غلاموں کے کام پر تھی، اب نفع بخش نہیں رہا تھا۔  لیکن اس زمانے میں بڑے پیمانے پر کھیتی کا کام کرنے کی یہی ایک ممکن صورت تھی۔ چھوٹے پیمانے کی کھیتی ہی ایک بار پھر اس کی تنہا نفع بخش صورت رہ گئی۔ یکے بعد دیگرے بڑی بڑی کھیتیاں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دی گئیں اور انہیں موروثی اسامیوں کے ہاتھوں پٹے پر دے دیا گیا جو اسامی نہیں بلکہ زراعت کے منیجر ہوا کرتے تھے     اور جنہیں اپنے کام کے لئے چھ میں صرف ایک یا نو میں صرف ایک حصہ ملتا تھا۔ لیکن زیادہ تر یہ چھوٹے چھوٹے قطع کولونی (coloni)کو دیئے جاتے تھے جو سالانہ ایک مقررہ رقم ادا کرتے تھے۔ وہ زمین سے وابستہ ہوتے تھے اور انہیں ان قطعات کے ساتھ ہی فروخت کیا جا سکتا تھا۔ وہ لوگ غلام نہیں تھے لیکن وہ آزاد بھی نہیں تھے۔ وہ آزاد شہریوں سے شادی بیاہ نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی آپس کی شادی، شادی نہیں سمجھی جاتی تھی بلکہ جیسا کہ غلاموں میں ہوتا تھا اس کی حیثیت محض داشتہ گیری (contubernium)کی تھی۔ وہ ازمنہ وسطی کے زرعی غلاموں کے پیش رو تھے۔

قدیم زمانے کا غلامی کا نظام متروک ہو گیا۔ اس غلامی کے نظام سے نہ تو دیہات کی بڑے پیمانے کی کھیتی میں قابل ذکر منافع ہوتا تھا اور نہ شہروں کے دستی صنعت و حرفت کے کارخانوں میں۔   اس کی پیداوار کے لئے کوئی بازار نہیں رہ گیا تھا۔ چھوٹے پیمانے کی زراعت یا دستکاری میں زیادہ غلاموں کی گنجائش نہیں تھی۔ اور سلطنت کی خوشحالی کے زمانے کی عظیم الشان پیداوار اب گھٹ کر چھوٹے پیمانے کی زراعت اور دستکاری کی صورت میں رہ گئی تھی۔  سماج میں غلاموں کی ضرورت صرف امیروں کے گھریلو کاموں اور عیش و آرام کے لئے تھی۔ لیکن غلامی کا دم توڑتا ہوا نظام اب بھی اتنا جاندار تھا کہ پیداوار کا تمام کام بظاہر غلاموں کا کام معلوم ہوتا تھا جو آزاد رومنوں کے شایان شان نہیں تھا۔ اور اب ہر شخص ایک آزاد رومن تھا۔ ایک تو یہ وجہ تھی جس سے غیر ضروری طور پر غلاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اور یہ غلام چونکہ ایک بوجھ بن گئے تھے اس لئے انہیں آزاد کر دیا گیا۔ دوسری طرف کولونی اور بھک منگے آزادوں کی تعداد بڑھی۔(ان بھک منگوں کی حیثیت وہی تھی جو امریکہ کی سابقہ غلام رکھنے والی ریاستوں میں افلاس زدہ سفید فام لوگوں "prro whites”کی تھی)۔ قدیم غلامی کی اس طرح رفتہ رفتہ مٹنے کا عمل عیسائیت کا مرہون منت نہیں ہے۔ عیسائیت نے صدیوں تک سلطنت روم میں غلامی کے نظام کے مزے لوٹے اور بعد میں بھی غلاموں کی اس تجارت کو روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جو عیسائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ نہ تو شمال میں جرمنوں کی، نہ بحیرہ روم میں وینیشیا والوں کی تجارت کو اور نہ بعد کے زمانے میں حبشی غلاموں کی تجارت کو روکنے کے لئے کچھ کیا۔ (3)غلام رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں تھا اور اس لئے یہ نظام مٹ گیا۔ لیکن مرتی ہوئی غلامی نے اپنا زہر یلا اثر چھورا جس کی وجہ سے پیداوار کا سارا کام آزاد مردوں کے لئے ذلت و رسوائی کا کام سمجھا جانے لگا۔ رومیوں کی دنیا ایک اندھی گلی میں پھنس گئی: غلامی کا نظام اقتصادی حیثیت سے ناممکن ہو چکا تھا لیکن آزاد آدمیوں کے کام کرنے کو اخلاقی طور پر معیوب سمجھا جا تا تھا۔ ان میں سے پہلی چیز اب سماجی پیداوار کی بنیادی شکل رہ نہیں سکتی تھی، اور دوسری ابھی اس کی بنیادی شکل بن نہیں سکتی تھی۔ ایسی صورت میں صرف ایک مکمل انقلاب ہی کچھ مدد کر سکتا تھا۔

صوبوں میں بھی حالات اس سے کچھ بہتر نہیں تھے۔ ہمارے پاس جو رپورٹیں ہیں وہ زیادہ تر گال کے متعلق ہیں۔   کولونی کے ساتھ چوٹے چھوٹے آزاد کسان ابھی موجود تھے۔ سرکاری افسروں،   ججوں اور سود خوروں کے ظلم اور لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لئے اکثر وہ ذی اقتدار اور طاقتور لوگوں کی پناہ اور سرپرستی میں چلے جاتے تھے۔ اور ایسا وہ الگ الگ انفرادی طور پر نہیں بلکہ پورا کا پورا گروہ یا برادری یہی کرتی تھی۔ اور اس کا رواج اتنا بڑھا کہ چوتھی صدی میں شہنشاہوں کو اکثر یہ فرمان صادر کرنا پڑتا تھا کہ ایسا کرنے کی ممانعت ہے۔  جو لوگ پناہ قبول کرتے تھے انہیں اس سے کیا مدد ملتی تھی؟ سرپرست کی شرط یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنی زمینوں کا حق ملکیت اس کے نام منتقل کر دیں اور اس کے بدلے میں وہ انہیں زندگی بھر اس زمین پر کھیتی کرنے کا حق دیتا تھا۔ یہ چال، قدس کلیسا کو بھی یاد تھی اور نویں اور دسویں صدی میں اس نے خدا کی عظمت اور اپنی زمینداری دونوں کو بڑھانے کے لئے نہایت آزادی کے ساتھ اس سے کام لیا۔ لیکن اس زمانے میں یعنی 475 کے لگ بھگ مارسیلز کے پادری سالویانس نے اس لوٹ کی بڑی سختی سے مذمت کی۔ اس نے بتایا ہے کہ رومن افسروں اور بڑے زمینداروں کے مظالم اس حد تک ناقابل برداشت ہو چکے تھے کہ بہت سے "رومن’بھاگ کر ان ضلعوں میں چلے گئے جن پر بربریوں کا قبضہ تھا اور وہاں جو رومن شہری آ بسے تھے وہ کسی چیز سے اتنا نہیں ڈرتے تھے جتنا دوبارہ رومن حکومت کی ماتحتی میں جانے سے۔ غریب ماں باپ اس زمانے میں اکثر اپنے بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا کرتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو روکنے کے لئے ایک قانون بنایا گیا تھا۔

رومیوں کو خود ان کی ریاست سے آزاد کرنے کے معاوضے میں بربر جرمنوں نے ان کی زمین کا دو تہائی حصہ خود لے لیا اور اس کو آپس میں بانٹ لیا۔ یہ بٹوارہ گن نظام کے قاعدے کے مطابق کیا گیا۔ فاتحوں کی تعداد چونکہ نسبتاً کم تھی، اس لئے بہت سی زمینوں کا بٹوارہ نہیں ہوا۔ وہ کچھ تو پوری جاتی کی اور کچھ قبیلوں اور گنوں کی اجتماعی ملکیت رہیں۔  ہر گن میں کھیت اور چراگاہوں کو قرعہ ڈال کر مساوی حصوں میں مختلف انفرادی گھرانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس زمانے میں بٹوارہ بار بار تھا یہ نہیں لیکن بہر حال رومی صوبوں میں یہ رواج تھوڑے ہی دنوں میں بند ہو گیا۔ اور الگ الگ گھرانوں کو جو زمین دی گئی تھی وہ ان کی نجی ملکیت ہو گئی جسے ایلودیم کہتے تھے۔ جنگل اور چراگاہ کا بٹوارہ نہیں کیا جاتا تھا۔ انہیں سب مل کر ساجھے میں استعمال کرتے تھے۔ اس کا استعمال اور تقسیم کی ہوئی زمین پر کھیتی کرنے کا طریقہ قدیم رواج اور پورے سماج کی رائے سے طے کیا جاتا تھا۔  کوئی گن اپنے گاؤں میں جتنے زیادہ دنوں تک رہ جاتا تھا اور زمانہ گزر نے پر جرمن اور رومن جتنا زیادہ آپس میں گھل مل جاتے تھے اتنا ہی زیادہ یک جدی رشتہ یا سگوتری کا ناتہ،  ایک جگہ رہنے کے تعلق کے مقابلے میں کمزور ہو کر پیچھے ہٹتا گیا۔ مارک کمیونٹی میں گن گم ہو گئے لیکن اس میں ممبروں کی ابتدائی یک جدی رشتہ داری کے کافی اثرات دکھائی دیتے تھے غرضیکہ کم سے کم ان ملکوں میں جہاں مارک کمیون کو قائم رکھا گیا تھا یعنی شمالی فرانس، انگلینڈ،  رمنی اور اسکینڈی نیویا میں گن دستور کو غیر محسوس طریقے پر علاقائی دستور میں بدل دیا گیا اور اس طرح وہ اس قابل ہو گیا کہ ریاست کے ساتھ میل کھا سکے۔ پھر بھی اس کی فطری جمہوریت باقی رہی جو کہ پورے گن نظام کی امتیازی خصوصیت ہے۔ غرضیکہ اس طرح بعد کے اس زمانے میں بھی جبکہ اسے زبردستی انحطاط کے گڑھے میں دھکیل دیا گیا تھا، اس نے گن دستور کے ایک ٹکڑے کو بچائے رکھا اور اس طرح مظلوموں کے ہاتھ میں ایک ایسا حربہ چھوڑ دیا جو موجودہ زمانے میں بھی استعمال کے لئے تیار ہے۔

گن میں خون کے رشتوں کی اہمیت اتنی جلدی ختم ہو گئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ قبیلے میں اور پوری جاتی میں بھی سلطنت روم کو فتح کر لینے کے بعد وہ ادارے کمزور پڑ گئے جو خون کے رشتوں پر مبنی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ محکوم لوگوں پر حکومت کرنا گن دستور سے میل نہیں کھاتا۔ یہاں یہ بات بہت بڑے پیمانے پر دکھائی پڑتی ہے۔ جرمن جاتیاں اب رومی صوبوں کی مالک تھیں۔  انہیں اپنی فتح کو منظم شکل دینی تھیں۔   لیکن رومیوں کی کثیر آبادی کو وہ نہ تو اپنے گن کے اداروں میں شامل کر سکتے تھے اور نہ ان اداروں کی مدد سے ان پر حکومت کر سکتے تھے۔ رومیوں کے مقامی حکومتی ادارے شروع میں جرمنوں کی فتح کے بعد بھی کام کرتے رہے تھے۔ لیکن یہ ضروری تھا کہ ان کے اوپر کوئی ایسی تنظیم ہو جو رومی ریاست کی جگہ لے سکے۔  یہ دوسری ریاست ہی ہو سکتی تھی۔ اس لئے گن دستور کے اداروں کے ریاست کے اداروں میں بدلنا ضروری تھا اور حالات کے دباؤ کی بدولت اسے بہت جلدی میں کرنا پڑا۔  لیکن فاتح جاتی کا پہلا نمائندہ ایک فوجی کمانڈر تھا۔ مفتوحہ علاقے کی اندرونی اور بیرونی حفاظت کا تقاضا تھا کہ اس کے اختیارات کے بڑھایا جائے۔ فوجی قیادت کو بادشاہت میں بدلنے کا وقت آ گیا تھا۔ یہ کر دیا گیا۔

فرینک لوگوں کی سلطنت کو لیجئے۔ یہاں نہ صرف رومی ریاست کا وسیع علاقہ فاتح سالین جاتی کو مل گیا تھا بلکہ زمین کے تمام ایسے بہت بڑے بڑے قطعات بھی، خاص کر بڑے بڑے جنگل جو بڑے یا چھوٹے حلقے(Gau) اور مارک برادریوں میں نہیں بانٹے گئے تھے، انہیں مل گئے تھے۔ ان پر ان کا مکمل قبضہ تھا۔ فرنیک لوگوں کے بادشاہ نے جو ایک معمولی فوجی کمانڈر سے بڑھ کر سچ مچ کا بادشاہ بن گیا تھا، پہلا کام یہ کیا کہ عوام کی اس ملکیت کو شاہی جاگیر بنا دیا،  اس زمین کو عام لوگوں سے چھین لیا اور اسے اپنے ذاتی خدمت گزاروں کو انعام یا جاگیر کے طور پر دے دیا۔ اس کے ذاتی خدمت گزاروں میں پہلے صرف اس کی نجی فوج کے سپاہی اور فوج کے باقی تمام نائب سالار ہوا کرتے تھے۔ بعد میں ان کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ ان میں نہ صرف روم کے لوگ یعنی گال علاقے کے وہ باشندے شامل ہو گئے جو رومی بن گئے تھے اور بادشاہ کے لئے بہت ضروری ہو گئے تھے کیونکہ وہ لکھنے کا فن جانتے تھے، پڑھے لکھے تھے اور ملک کے قوانین کے ساتھ ساتھ روم والوں کی بول چال کی زبان اور ادبی لاطینی سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ بلکہ ان میں ان کے علاوہ غلام،  زرعی غلام اور غلامی سے آزاد کئے ہوئے لوگ بھی شامل ہو گئے۔ وہ بادشاہ کے درباری بن گئے تھے اور انہیں میں سے وہ اپنے پسندیدہ مصاحب چنا کرتا تھا۔ انہیں تمام لوگوں کو عوامی زمین کے قطعات دیئے گئے۔۔۔۔۔ پہلے زیادہ تر عطیے کے طور پر اور بعد میں بینی فس (40)کی صورت میں۔  شروع میں یہ زمینیں زیادہ تر بادشاہ کی زندگی بھر کے لئے دی جاتی تھی۔  اور اس طرح عوام کی لوٹ مار پر شرفا کے ایک نئے طبقے کی بنیاد رکھی گئی۔

لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔  دور دور تک پھیلی ہوئی سلطنت پر قدیم گن دستور کے مطابق حکومت نہیں کی جا سکتی تھی۔ سرداروں کی کونسل، اگر بہت پہلے متروک نہ بھی ہو گئی ہو، تو اب منعقد نہیں کی جا سکتی تھی اور جلد ہی بادشاہ کے مستقل خدمت گزاروں اور مصاحبوں نے اس کی جگہ لے لی۔ قدیم عوامی اسمبلی کو بظاہر اب بھی قائم رکھا گیا مگر وہ زیادہ سے زیادہ فوج کے نائب کمانڈروں اور نئے ابھرتے ہوئے عمائدین کی مجلس بنتی گئی۔ جس طرح رو م کے کسان ریپبلک کے آخری دنوں میں برباد ہو گئے تھے اسی طرح متواتر خانہ جنگیوں اور غیر ملکی جنگوں میں پس کر خاص کر شارلی مین کے عہد میں،  زمین کے مالک آزاد کسان یعنی کثیر فرینک آبادی افلاس اور تنگ دستی کا شکار ہو گئی۔ ابتدا میں پوری فوج انہیں کسانوں پر مشتمل تھی۔ فرانس کے علاقے کی فتح کے بعد بھی وہی اس کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ لیکن نویں صدی کی ابتدا میں وہ اس قدر افلاس زدہ ہو چکے تھے کہ بمشکل پانچ میں سے ایک اپنے لئے سامان جنگ فراہم کر سکتا تھا۔ پہلے کی سی فوج جس میں براہ راست بادشاہ کی طلب پر آزاد کسان آتے تھے، اب نہیں رہی۔ اس کی جگہ ایک ایسی فوج نے لے لی جو نوخیز دولتمند جماعت کے تنخواہ دار خدمت گزاروں پر مشتمل تھی۔ ان میں ویلین بھی تھے جو ان کسانوں کی اولاد تھے جو پہلے بادشاہ کے سوا اور کسی کو اپنا آقا نہیں مانتے تھے اور اس سے بھی کچھ پہلے کسی کو اپنا آقا نہیں مانتے تھے، بادشاہ کو بھی نہیں۔  شارلی مین کے جانشینوں کے عہد میں فرینک کسانوں کی بربادی مکمل ہو گئی۔ اس کی وجہ کچھ تو اندرونی جنگیں تھیں،  کچھ شاہی اقتدار کی کمزوری تھی اور اس کے ساتھ ساتھ دولتمندوں کا غاصبانہ رویہ تھا جن کی صف میں اب گاؤ کاؤنٹ (41)(Gaugrafen(بھی شامل ہو گئے تھے۔ یہ لوگ شارلی مین کے بنائے ہوئے تھے اور اپنے عہدے کو موروثی شکل دینا چاہتے تھے۔ اور آخر میں نارمنوں کے حملوں نے جو کمی تھی پوری کر دی۔ شارلی مین کی موت کے پچاس برس بعد فرینک سلطنت نارمنوں کے قدموں پر اسی طرح لاچار پڑی تھی جس طرح چار سو برس پہلے رومی سلطنت فرینکوں کے قدموں میں پڑی تھی۔

فرینک سلطنت اس وقت صرف بیرونی حملہ آوروں کے سامنے ہی بے بس نہیں تھی۔ سماج کے اندرونی نظام یا سچ پوچھئے تو بد نظمی کا بھی یہی حال تھا۔ آزاد فرینک کسانوں نے اپنے آپ کو اسی حالت میں پایا جس میں ان کے پہلے کے لوگ یعنی رومن کولونی تھے۔ جنگ اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے برباد ہونے پر انہیں مجبوراً نئے دولتمند لوگوں یا کلیسا کی پناہ لینی پڑی کیونکہ شاہی اقتدار بہت کمزور تھا اور ان کی حفاظت نہیں کر سکتا تھا۔ انہیں اس پناہ اور حفاظت کی مہنگی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اپنے سے پہلے کے گال کسانوں کی مانند انہیں بھی اپنی زمین میں ملکیت کا حق اپنے سرپرستوں کو دے دینا پڑا اور انہیں یہ زمیں مختلف اور متفرق صورتوں میں آسامی کی حیثیت سے جوتنے کے لئے واپس مل گئی۔ لیکن ہمیشہ شرط یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے سرپرست کی خدمت گزاری کریں اور لگان ادا کریں۔  ایک مرتبہ جب وہ اس طرح کی محتاجی کی حالت میں پڑ گئے تو رفتہ رفتہ ان کی ذاتی آزادی ختم ہو گئی۔ چند پشت کے بعد ان میں سے زیادہ تر لوگ زرعی غلام بن گئے۔ کتنی تیزی سے آزاد کسانوں کا زوال ہوا، اس کا اندازہ ایبے سین ژرمین دی پر یکی زمین کے بارے میں ایرمینان کی تاریخ سے ہوتا ہے۔ یہ جگہ اس زمانے میں پیرس کے قریب تھی،  اب اس کے اندر ہے۔ شارلی مین کی زندگی میں بھی اس ایبے کی وسیع و عریض جاگیر پر جو آس پاس کے گاؤں میں دور تک پھیلی ہوئی تھی، 2788گھرانے آباد تھے۔ یہ تقریباًسب کے سب فرینک گھرانے تھے مگران کے نام جرمن تھے۔ ان میں سے 2080 کولونی تھے،  35لیتی تھے، 220غلام تھے اور صرف8آزاد گھرانے تھے! وہ رواج جس کی بدولت سرپرست نے کسانوں کی زمین اپنے نام منتقل کر لی تھی اور انہیں صرف زندگی بھر استعمال کرنے کا حق دیا تھا، وہ رواج جسے سالویانس نے گناہ قرار دیا تھا اور اس کی مذمت کی تھی، اب عام ہو گیا تھا اور کسانوں سے معاملہ کرنے میں کلیسا ہر جگہ اسی پر عمل کرتا تھا۔ سامنتی غلامی اور خدمت گزاری کی شکل جس کا اب زیادہ سے زیادہ رواج ہوتا جا رہا تھا، رومی انگارئے(42)(angariae)یعنی ریاست کے لئے بیگار بھر نے کے نمونے سے اسی حد تک مشابہ تھی جس حد تک جرمن مارک کی خدمت کے نمونے سے، جس میں مارک کے ممبر پل اور سڑک بنانے اور اجتماعی مقصد کے دوسرے کاموں کے لئے محنت کرتے تھے۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چار سو برس کے بعد آبادی کی کثیر تعداد اسی جگہ پہنچ گئی جہاں سے چلی تھی۔

لیکن اس سے دہ ہی باتیں ثابت ہوتی تھیں۔   ایک تو یہ کہ سلطنت روم کے زوال کے زمانے میں سماج کی طبقہ بندی اور ملکیت کی تقسیم جس طرح ہوئی وہ اس وقت کی زراعت اور صنعت کی پیداوار کی حالت کے عین مطابق تھی اور اس لئے ناگزیر تھی۔ دوسرے یہ کہ اگلے چار سو برس کے دوران میں پیداوار کی اس حالت میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں ہوئی، نہ تو اس میں کوئی انحطاط ہوا اور  نہ ترقی ہوئی۔ اور اس لئے اس کی بدولت ناگزیر طور پر ملکیت کی وہی تقسیم اور آبادی کی وہی طبقاتی درجہ بندی قائم ہوئی۔ سلطنت روم کی آخری صدیوں میں دیہات پر شہر کا غلبہ ختم ہو چکا تھا۔ اور جرمن حکومت کی ابتدائی صدیوں میں بھی یہ دوبارہ قائم نہیں ہو سکا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زراعت نہایت پس ماندہ حالت میں تھی اور یہ حال صنعت کا بھی تھا۔ اس عام حالت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف بڑے بڑے حکمران زمیندار ہو تے ہیں اور دوسری طرف ان کے ماتحت چھوٹے چھوٹے کسان ہوتے ہیں۔  ایسے سماج میں نہ تو غلاموں کی محنت کے سہارے چلنے والی بڑی بڑی جاگیروں (latifundia(کی رومی معیشت کا قلم لگایا جا سکتا ہے اور نہ وہاں زرعی غلاموں کی محنت کے سہارے بڑے پیمانے کی نئی کھیتی کھڑی کی جا سکتی ہے۔ اس بات کا سب سے اچھا ثبوت یہ ہے کہ شارلی مین نے اپنی مشہور شاہی جاگیروں پر بڑے پیمانے کی کھیتی کے جو تجربے کئے، ان کا بعد میں کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ صرف خانقاہوں نے ان تجربوں کو جاری رکھا اور صرف انہیں کے لئے وہ نفع بخش ثابت ہوئے۔ لیکن عیسائی مذہب کی یہ خانقاہیں غیر معمولی قسم ے سماجی ادارے تھے جن کی بنیاد رہبانیت اور تجرد پر رکھی گئی تھی۔ وہ سماج کی عام نشوونما سے الگ غیر معمولی کام کر سکتے تھے اور خود محض ایک مستثنیٰ حیثیت رکھتے تھے۔

پھر بھی ان چار سو برسوں میں کچھ ترقی ضرور ہوئی۔ اس عہد کے آخر میں اگرچہ ہمیں تقریباً وہی خاص طبقے دکھائی دیتے ہیں جو شروع میں دکھائی دیئے تھے تب بھی اتنا ضرور ہوا تھا کہ یہ طبقے جن لوگوں سے مل کر بنے وہ لوگ بدل گئے تھے۔ پرانی غلامی ختم ہو چکی تھی۔  وہ افلاس زدہ اور تنگ دست آزاد شہری بھی نہیں رہے تھے جو کام کو غلامی کی علامت سمجھتے تھے اور اس سے نفرت کرتے تھے۔ روم کے کولونہ اور نئے زرعی غلاموں کے درمیان آزاد فرینک کسان کھڑا تھا۔  مرنے والی رومنیت کی "لا حاصل یادیں اور بے سود جھگڑے”کب کے مر چکے تھے اور انہیں دفن کر دیا گیا تھا۔ نویں صدی کے سماجی طبقوں کی تشکیل کسی انحطاط پذیر تمدن کے دلدل میں نہیں بلکہ ایک نئے تمدن کے گہوارے میں ہوئی تھی۔ نئی نسل کے لوگ کیا الک اور کیا خدمت گار، دونوں ہی اپنے رومی پیش روؤں کے مقابلے میں مرد تھے۔ ان کے مقابلے میں یہ مردوں کی نسل تھی۔ طاقتور زمینداروں اور خدمت کرنے والے کسانوں کا تعلق رومیوں کے لئے قدیم دنیا کے زوال کی ایک صورت تھی جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، لیکن نئی نسل والوں کے لئے یہی تعلق ایک نئے ارتقا کے آغاز کا نقطہ تھا۔ اس کے علاوہ اگرچہ یہ چار سو برس کا زمانہ بظاہر بے ثمر معلوم ہوتا ہے لیکن اس نے اپنے بعد ایک بڑی چیز چھوڑ ی ہے اور وہ چیز ہے: جدید قومیتیں،  یعنی تاریخ کے آنے والے زمانے کے لئے مغربی یورپ کی انسانیت کی نئی تشکیل اور نئی گروہ بندی۔ سچ پوچھئے تو جرمنوں نے یورپ میں نئی زندگی کی روح پھونک دی تھی اور یہی وجہ ہے کہ جرمن عہد میں ریاستوں کے ٹوٹنے کا یہ نتیجہ نہیں ہوا کہ نارس سارا سن غلامی قائم ہوئی، بلکہ یہ ہوا کہ شاہی عطیوں اور سرپرستی (43) (commendation)سے ترقی کر کے سامنتی یا جاگیرداری نظام قائم ہوا اور آبادی میں اتنا زبردست اضافہ ہوا کہ مشکل سے دو صدی کے بعد صلیبی جنگوں میں جتنی خونریزی ہوئی اس سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔

وہ کون سا جادو تھا جس کی مدد سے جرمنوں نے مرتے ہوئے یورپ میں زندگی کی نئی روح پھونک دی تھی؟ کیا یہ جرمن نسل کی کوئی پیدائشی باطنی قوت تھی جیسا کہ ہمارے متعصب قوم پرست مورخین کہتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمن ایک نہایت با صلاحیت آریائی قبیلے کے لوگ تھے جو خاص کر اس زمانے میں نہایت پر زور ترقی کے دور سے گزر رہے تھے۔ یورپ کے ناتواں جسم میں جس چیز نے نئی جان ڈالی وہ جرمنوں کی محض قومی خصوصیتیں نہیں تھیں بلکہ محض ان کی بربریت تھی، ان کا گن دستور تھا۔

ان کی ذاتی صلاحیت اور دلیری،  آزادی سے ان کی محبت،  ان کی جمہوریت پسندی جس کی وجہ سے وہ تمام امور عامہ کو اپنا ذاتی معاملہ سمجھتے تھے __ مختصر یہ کہ وہ سبھی خصوصیتیں جن کو روم والے کھو چکے تھے اور محض جن کی مدد سے ہی روم کی دنیا کے گارے سے نئی ریاستیں بنائی جا سکتی تھیں اور نئی قومیتوں کی تعمیر ہو سکتی تھی۔ ۔۔۔ وہ خصوصیتیں اگر بربریت کے آخری دور کی نمایاں خصوصیتیں،   ان کے گن دستور کا نتیجہ نہیں تھیں تو اور کیا تھیں ؟

اگر جرمنوں نے یک زوجگی کی قدیم صورت میں تبدیلی کی، خاندان کی اندر مرد کی حکومت میں نرمی پیدا کی اور عورتوں کو زیادہ اونچا درجہ دیا جو قدیم کلاسیکی عہد میں اسے حاصل نہیں تھا تو یہ سب کرنے کی صلاحیت دراصل انہیں اپنی بربریت سے، اپنے گن رسم و رواج سے اور مادری حق کے زمانے کے اثرات سے جو اس وقت بھی زندہ تھے، ملی تھی۔ ان کی علاوہ یہ صلاحیت انہیں اور کہاں سے مل سکتی تھی؟

کم سے کم تین سب سے اہم ملکوں میں یعنی جرمنی،  شمالی فرانس اور انگلینڈ میں اگر وہ گن کے اصلی دستور کا ایک حصہ مارک برادریوں کی صورت میں قائم رکھنے میں اور سامنتی ریاست تک لے جانے میں کامیاب ہوئے، اور اس طرح مظلوم طبقے یعنی کسانوں کو ازمنہ وسطی کی زرعی غلامی کے سخت ترین حالات میں بھی مقامی شیرازہ بندی اور مقابلہ کرنے کے وہ ذرائع عطا کر سکے جو نہ تو قدیم زمانے کے غلاموں کو میسر تھے اور نہ موجودہ زمانے کے مزدور طبقے کو تیار ملے ہیں __ تو یہ اگر ان کی بربریت،  ان کے گنوں میں بسنے کے خالص بربری طریقے کی بدولت نہیں تو اور کس چیز کی بدولت ہے؟

اور آخر میں اگر وہ غلامی کی اس نسبتاً ہلکی شکل کو ترقی دے کر سبھی ملکوں میں رواج دے سکے، جس کا خود ان کے وطن میں رواج تھا اور جس نے خود سلطنت روم میں بھی غلامی کو رفتہ رفتہ ہٹا کر اس کی جگہ لی تھی، اور جس نے جیسا کہ فورئے نے پہلی بار بتلاتا تھا مظلوموں کو وہ اوزار دیا جس سے وہ بحیثیت ایک طبقے کے رفتہ رفتہ آزاد ہو سکیں۔

(fournit aux cultivateurs des moyens d’affranchis semetn collectif et progressif (4(

اور جو اسی لئے غلامی سے کہیں زیادہ بہتر تھا کیونکہ جہاں غلامی کے نظام میں غلام کو محض ایک فرد کی حیثیت سے آزادی مل سکتی تھی اور کوئی عبوری دور ممکن نہیں تھا (قدیم زمانے میں کامیاب انقلاب کے ذریعے کبھی غلامی کے نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا(وہاں از منہ وسطیٰ کے زرعی غلاموں نے رفتہ رفتہ ایک طبقے کی حیثیت سے اپنے کو آزاد کر لیا تھا ___ اگر جرمن یہ سب کر سکے تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی کہ وہ بربریت کی حالت میں تھے جس کی بدولت وہ قدیم زمانے کی عام محنت کی غلامی یا مشرقی ملکوں کی گھریلو غلامی، دونوں میں سے کسی ایک شکل میں بھی مکمل غلامی کے نظام تک نہیں پہنچ پائے تھے؟

جرمنوں نے روم کی دنیا کو جو کچھ دیا اس میں جو حصہ جان دار اور حیات بخش تھا، وہ بربریت کا نتیجہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ صرف بربری لوگوں میں ہی یہ تڑپ رہی تھی، نئی حیات بخش سکیں۔  اور اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں بربریت کی آخری اور اعلیٰ ترین منزل تھی جس میں جرمن لوگ قوموں کی ہجرت یا نقل وطن سے پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ اس سے ہر بات صاف ہو جاتی ہے۔

 

حوالہ جات

1۔ دیودرس نے گال علاقے کے کیلٹ لوگوں کے بارے میں جو بات لکھی ہے، اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔  اس نے لکھا ہے: "گال علاقے میں جو غیر مساوی قوت رکھنے والی کئی جاتیاں رہتی ہیں،  سب سے بڑی جاتی کی تعداد  دو لاکھ اور سب سے چھوٹی کی پچاس ہزار ہے۔ ”  Diodorous Siculus پانچواں باب، صفحہ 25۔  اس سے سوا لاکھ کا اوسط نکلتا ہے۔ چونکہ کئی گال جاتیاں زیادہ ترقی کر چکی تھیں،  اس لئے ان کی تعداد جرمنوں سے زیادہ رہی ہو گی۔

2۔  Germania Magna یعنی عظیم تر یا زیادہ بڑا جرمنی۔  ایڈیٹر

3۔  کریمونا کے پادری لیو تپراند کا کہنا ہے کہ دسویں صدی میں ویردیں کی یعنی مقدس جرمن شہنشاہیت (39)کی سب سے اہم صنعت ہیجڑے یا خواجہ سرا تیار کرنا تھا، جنہیں مور لوگوں کے حرم سرا کے لئے اسپین بھیج کر بہت نفع حاصل کیا جاتا تھا۔

4۔ کاشت کاروں کو یہ ذریعے مہیا کئے جاتے ہیں کہ وہ مل کر رفتہ رفتہ آزادی حاصل کر سکیں۔  ایڈیٹر

_______________________________________________

 

نواں باب

بربریت اور تمدن

یونانی،  رومی اور جرمن ان تینوں بڑی مثالوں میں علیحدہ علیحدہ ہم گن سماج کے زوال کی تصویر دیکھ چکے ہیں۔  اب ہم آخر میں ان عام اقتصادی حالات کا مطالعہ کریں گے جنہوں نے عہد بربریت کے آخری دور میں ہی گن سماج کی بنیاد ہلا ڈالی تھی اور جن کی بدولت تمدن کے عہد کے شروع ہوتے ہوتے گن نظام بالکل ختم ہو گیا۔ اس کے مطالعے کے لئے مارکس کی کتاب "سرمایہ” اتنی ہی ضروری ہے جتنی مارگن کی کتاب۔ گن عہد وحشت کے درمیانی دور میں پیدا ہوئے اور  اس کے آخری دور میں انہوں نے مزید ترقی کی اور جہاں تک ہمارے موجودہ مواد سے اندازہ ہوتا ہے بر بریت کے ابتدائی دور میں وہ اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے لہٰذا اسی دور سے ہم اپنا مطالعہ شروع کریں گے۔  اسی دور میں،   جس کے لئے ہمارے پاس بس ایک امریکی انڈینوں کی مثال ہے،  ہم دیکھتے ہیں کہ گن نظام پوری طرح ترقی کر چکا ہے،  ہم دیکھتے ہیں کہ گن نظام پوری طرح ترقی کر چکا تھا۔  قبیلہ متعدد گنوں میں لیکن زیادہ تر دو گنوں میں بٹا ہوا تھا۔  آبادی کے بڑھنے پر یہ ابتدائی گن پھر کئی دختر گنوں میں تقسیم ہو گئے جن کے مقابلے میں مادر گن فریٹری کہے جانے لگے تھے۔  خود قبیلہ ٹوٹ کر کئی قبیلوں میں بٹ گیا،  جن میں سے ہر ایک میں ہمیں زیادہ تر وہی پرانے گن ملتے ہیں۔   کم سے کم بعض صورتوں میں قرابت دار قبیلے ایک وفاق میں متحد ہوتے تھے۔  یہ سادہ تنظیم ان سماجی حالات کیلئے بالکل کافی تھی جن میں اس کا جنم ہوا تھا۔  اس کی حیثیت ایک مخصوص فطری گروہ بندی سے زیادہ نہیں تھی۔  اس میں اتنی صلاحیت تھی کہ ان سبھی اندرونی جھگڑوں کو حل کر سکے جو اس طرح کے سماج میں اٹھ سکتے تھے۔  بیرونی معاملات میں جھگڑوں کا نبٹارا جنگ کے ذریعے کیا جاتا تھا جس کا انجام یہ تو ہو سکتا تھا کہ ایک قبیلہ بالکل برباد ہو جائے لیکن یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ غلامی کو قبول کر لے۔  گن نظام کی عظمت اور اسی کے ساتھ سا تھ اس کی کمزوری بھی یہی تھی کہ اس میں نہ کوئی حاکم ہوتا تھا اور نہ کوئی محکوم۔ اندرونی معاملات میں حقوق اورفرائض کا فرق نہیں پیدا ہو ا تھا۔ انڈینوں کے سامنے کبھی یہ سوال ہی نہیں اٹھا کہ امور عامہ میں حصہ لینا،  خونی انتقام لینا یا نقصان کی تلافی کرنا گن کے لوگوں کا حق ہے یا فرض۔  یہ بات ان کو اتنی ہی مہمل معلوم ہوتی جتنا یہ سوا ل کی کھانا، پینا، سونا اور شکار کرنا حق ہے یا فرض۔  کوئی قبیلہ یاگن طبقوں میں نہیں بٹ سکتا تھا۔  اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نظام کی اقتصادی بنیاد کیا تھی۔

آبادی بہت کم اور بکھری ہوئی تھی۔  وہ صرف قبیلوں کے رہنے کی جگہوں میں گنجان ہوتی تھی،  جس کے چاروں طرف شکار گاہ ہوتی تھی اور ا س کے آگے غیر مقبوضہ جنگل جو اسے دوسرے قبیلوں سے دور رکھتا تھا۔ محنت کی تقسیم محض ایک فطری چیز تھی۔ یہ تقسیم صرف مردوں اور عورتوں کے درمیان تھی۔ مرد لڑائی پر جاتے تھے، شکار کرنے تھے مچھلی پکڑتے تھے، غذا کے لئے کچا مال لاتے تھے، اور ان کاموں کے لئے ضروری اوزار بناتے تھے۔ عورتیں گھر سنبھالتی تھیں،  کھانا پکاتی تھیں اور کپڑا بنتی اور سیتی تھیں۔  مرد اور عورت دونوں اپنے اپنے کام کے شعبے میں آپ اپنے مالک تھے۔ جنگل میں مرد اور گھر میں عورت کا بول بالا تھا۔ مرد ہتھیاروں اور شکار کرنے اور مچھلی پکڑنے کے سامان کے مالک تھے اور عورت گھر کے ساز و سامان اور برتنوں کی۔ گھرانہ کمیونسٹی تھا جس میں کئی اور اکثر بہت سے خاندان ہوا کرتے تھے۔ (1) جو کچھ مشترک طور پر تیار کیا جاتا تھا اور جسے سب مل کر استعمال کرتے تھے وہ سب کی مشترکہ ملکیت ہوتی تھی۔ گھر، باغ، لمبی کشتی سبھی کی مشترکہ ملکیت تھی۔ چنانچہ وہ ” کمائی ہوئی جائیداد” ہمیں یہیں ملتی ہے جسے قانون اور اقتصادیات کے ماہروں نے غلط طور پر متمدن سماج کی طرف منسوب کر دیا ہے اور جو آخری جھوٹا قانونی حیلہ ہے جس پر جدید سرمایہ دارانہ ملکیت کی بنیاد اٹھائی گئی ہے۔

لیکن انسان ہر جگہ اس منزل میں نہیں رہا۔ ایشیا میں اسے ایسے جانور مل گئے جنہیں پالا جا سکتا تھا اور جن کی نسل بڑھائی جا سکتی تھی۔ جنگلی گائے بھینس کا شکار کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پلی ہوئی گائے سال میں ایک بار بچہ دیتی تھی اور دودھ تو دیتی ہی تھی۔ کئی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قبیلوں مثلاً آریائی، سامی یاور شاید تورانی قبیلوں نے بھی جانوروں کو پالتو بنانا، بعد میں ان کی نسل بڑھانا اور دیکھ بھال کرنا اپنا خاص کام بنا لیا۔ گلہ بان قبیلوں نے اپنے آپ کو بربری لوگوں کی عام آبادی سے الگ کر لیا۔ یہ محنت کی پہلی بڑی سماجی تقسیم تھی۔ یہ گلہ بان قبیلے غذا کا صرف زیادہ سامان ہی نہیں پیدا کرتے تھے بلکہ دوسرے بربری لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مختلف النوع غذا کا سامان تیار کرتے تھے۔ ان کے پاس دوسروں کے مقابلے میں صرف دودھ،  دودھ سے بنی ہوئی چیزیں اور گوشت ہی زیادہ مقدار میں نہیں تھا بلکہ کھال، اون، بکرے کے بال، اون کے کتے اور بنے ہوئے کپڑے بھی تھے۔ کچے مال کی مقدار بڑھنے سے ان چیزوں کا استعمال عام ہونے لگا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ پہلی بار باقاعدگی کے ساتھ تبادلہ ہونے لگا۔ ابتدا میں چیزوں کا تبادلہ کبھی کبھار ہی ہو سکتا تھا۔ ہتھیاروں اور اوزاروں کے بنانے میں اگر کسی نے غیر معمولی مہارت دکھائی تو اس سے محنت کی ایک عارضی تقسیم قائم ہوئی ہو گی۔ چنانچہ عہد حجر جدید کے پتھر کے اوزار بنانے کے کئی کارخانوں کے نشان ملے ہیں جن کے بارے میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ان کارخانوں میں جن کاریگروں نے مہارت پیدا کی وہ غالباً پورے سماج کے لئے کام کرتے تھے جیسا کہ ہندوستان کے گن سماجوں میں مستقل قسم کے دست کار آج بھی کرتے ہیں۔  بہر حال اس منزل پر قبیلے کے اندر کے تبادلے کے سوا اور کسی طرح کا تبادلہ ممکن نہیں تھا اور وہ بھی ایک مستثنیٰ حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن گلہ بانی کرنے والے قبیلے جب اچھی طرح قائم ہو گئے تو اس کے بعد ہمیں وہ سبھی حالات ملتے ہیں جن میں مختلف قبیلوں کے لوگوں میں چیزوں کا تبادلہ ہو سکتا تھا اور اس کو مزید ترقی ہو سکتی تھی اور یہ ایک باقاعدہ رواج کی حیثیت اختیار سکتا تھا۔ لیکن جب جانوروں کے ریوڑ الگ الگ افراد کی ملکیت بنے تو رفتہ رفتہ زیادہ تر تبادلہ افراد کے درمیان ہونے لگا حتیٰ کہ آخر میں یہی تبادلے کی واحد صورت قرار پائی۔ گلہ بان قبیلے تبادلے میں اپنے ہمسایوں کو جو خاص چیز دیتے تھے وہ مویشی تھے۔ مویشی ہی وہ جنس بن گئے جن سے تمام دوسری جنسوں کی قدر و قیمت کا اندازہ کیا جا سکتا تھا اور لوگ ہر جگہ تمام دوسری چیزوں کے مقابلے میں اسے بڑے شوق سے قبول کرنے لگے۔  مختصر یہ کہ مویشی سے زر یا روپیہ کا کام لیا جانے لگا تھا اور اس دور میں اسی کو روپیہ سمجھا جاتا تھا۔  چنانچہ جنسوں کے تبادلے کی ابتدا ہی ایک جنس یعنی زر کی مانگ اتنے لازمی طور پر اور اتنی تیزی کے ساتھ پیدا ہو گئی۔

عہد بربریت کے ابتدائی دور کے ایشیائیوں کو غالباً باغبانی کا علم نہیں تھا لیکن اس کے درمیانی دور میں تو ضرور ہی و ہ باغبانی کرنے لگے تھے۔ تاہم، تب اس کی حیثیت ایک پیشرو کی تھی جس نے کھیت بنا کر کھیتی کرنے کا راستہ صاف کیا۔ توران کے مرتفع خطوں میں جہاں لمبا اور سخت جاڑا پڑتا تھا، چارے کا انتظام کئے بغیر گلہ بانی کی زندگی بسر کرنا ناممکن تھا۔ اس لئے وہاں گھاس اگانا اور اناج پیدا کرنا بہت ضروری تھا۔ بحیرہ اسود کے شمال کے میدانوں پر بھی یہی بات صادق آتی ہے اور جب ایک بار مویشیوں کے لئے اناج پیدا کیا جانے لگا تو پھر وہ جلد ہی انسان کے کھانے کے کام بھی آنے لگا۔ کھیتی کی زمین اس وقت تک قبیلے کی ملکیت تھی۔ اور پہلے یہ گنوں کے سپرد کی جاتی تھی جو بعد میں اپنے طور پر اسی گھریلو برادریوں میں ان کے استعمال کے لئے بانٹ دیا کرتے تھے۔ اور آخر میں یہ افراد کو دی جانے لگی تھی۔ انہیں ملکیت کے بعض حقوق حاصل ہوں گے مگر اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس دور کے صنعتی کارناموں میں دو چیزیں خصوصیت کے ساتھ اہم ہیں۔  ایک ہے کرگھا اور دوسرا ہے کچی دھاتوں کو پگھلا کر صاف کرنا اور آخری، تیار شکل دینا۔  تانبا، ٹین اور ان کو ملا کر بنائے جانے والے کانسی کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔ کانسی سے بڑے کام کے اوزار اور ہتھیار بنتے تھے، لیکن وہ پتھر کے اوزاروں کی جگہ نہیں لے سکتے تھے۔ ان کی جگہ تو صرف لوہا لے سکتا تھا لیکن اس وقت تک لوہے کی پیداوار کا کسی کو علم نہیں تھا۔ سونا اور چاندی زیور بنانے اور آرائش کے لئے استعمال ہونے لگے تھے اور اس وقت بھی ان کی قدر و قیمت تانبے اور کانسی سے زیادہ ہو گی۔

جب مویشی پالنے،  کھیتی اور گھریلو دستکاری غرضیکہ سبھی شاخوں میں پیداوار بڑھی تو انسان کی قوت محنت کو قائم رکھنے کے لئے جتنا پیدا کرنے کی ضرورت تھی، وہ ا سے زیادہ پیدا کرنے لگی۔ ساتھ ہی گن یا گھریلہ برادری کے یا الگ الگ خاندان کے ہر ممبر کو روز جتنا کام کرنا پڑتا تھا، اس میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں سے اور استعدار محنت حاصل کی جائے۔  وہ جنگ سے حاصل ہوئی۔ جنگ میں جو لوگ پکڑے جاتے تھے اب ان کو غلام بنایا جانے لگا۔ اس زمانے کے عام تاریخی حالات میں پہلی بڑی سماجی تقسیم محنت جو ہوئی وہ محنت کی زرخیزی کو بڑھا کر یعنی دولت میں اضافہ کر کے اور پیداوار کے دائرے کو بڑھا کر لازمی طور پر اپنے پیچھے پیچھے غلامی کو لے آئی۔  محنت کی پہلی بڑی سماجی تقسیم سے سماج کی پہلے بڑی تقسیم پیدا ہوئی۔ وہ دو طبقوں میں بٹ گیا__ایک طرف مالک تھے اور دوسری طرف غلام، ایک طرف استحصال کرنے والے اور دوسری طرف وہ جن کا استحصال کیا جاتا تھا۔

ہم آج تک یہ نہیں جان سکے کہ جانوروں کے ریوڑ اور جھنڈ کب اور کیونکر قبیلے یاگن کی مشترکہ ملکیت سے نکل کر الگ الگ خاندانوں کے سرداروں کی ملکیت بن گئے۔ لیکن بڑی حد تک یہ اسی دور میں ہوا ہو گا۔ مویشی کے گلوں اور دولت کے اور دوسرے نئے سامان کی بدولت خاندان میں ایک انقلاب نمودار ہوا۔ روزی حاصل کرنا ہمیشہ مرد کا کام ہوا کرتا تھا۔ وہی ذرائع زندگی پیدا کرتا تھا اور وہی ان کا مالک ہوتا تھا۔ روزی حاصل کرنے کا نیا ذریعہ مویشی کا گلہ تھا اور شروع میں ان کو پالتو بنانا اور پھر ان کی دیکھ بھال کرنا مرد کا کام تھا۔ اس لئے وہ مویشی کا مالک ہوتا تھا۔ اور اس کے بدلے میں جو چیزیں اور غلام حاصل ہوتے تھے ان کا مالک بھی وہی تھا۔ چنانچہ پیداوار سے جو کچھ فاضل پیدا ہوا اور بچ رہتا تھا وہ سب مرد کے حصے میں آیا۔ عورت کاان کے استعمال میں حصہ تھا مگر ان کی ملکیت میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ "وحشی ” جنگجو اور شکاری گھر میں عورت کو فوقیت دے کر خود اپنی ثانوی حیثیت سے مطمئن رہتے تھے۔ لیکن ” زیادہ مہذب” گلہ بان اپنی دولت کے سہارے آگے بڑھ آیا، خود بڑی حیثیت حاصل کر لی اور عورت کو دھکیل کر ثانوی حیثیت پر پہنچا دیا۔ اور بے چاری عورت شکایت کا ایک حرف تک زبان پر نہیں لا سکی۔ خاندان کے اندر محنت کی تقسیم سے مرد اور عورت کے درمیان جائیداد کی تقسیم اور اس کا بٹوارہ ہوا تھا۔  س تقسیم محنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پھر بھی چونکہ خاندان کے باہر محنت کی تقسیم بدل چکی تھی اس لئے اس نے پہلے کے خاندانی تعلقات کو الٹ پلٹ کر دیا۔ وہی چیز جس نے پہلے عورت کو گھر کی مالکن بنایا تھا __یعنی اس کا گھریلو کام تک محدود رہنا__ وہی چیز گھر کے اندر مرد کے تسلط کی بنیاد بنی۔ روزی حاصل کرنے کے لئے مرد کے کام کے مقابلے میں عورت کے گھریلو کام کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ روزی حاصل کرنا ہی سب کچھ تھا۔ گھر کے کام کاج کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ یہیں پر ہمیں یہ دکھائی دینے لگتا ہے کہ عورتوں کی آزادی اور مردوں کے ساتھ ان کی مساوات اس وقت تک ناممکن ہے اور ناممکن رہے گی جب تک عورتوں کو سماجی پیداوار کے کام سے الگ رکھ کر خانہ داری کے کام تک جو کہ نجی کام ہے، محدود رکھا جائے گا۔ عورتوں کی آزادی اسی وقت ممکن ہو گی جب عورتیں ایک بڑے سماجی پیمانے پر پیداوار میں حصہ لے سکیں گی اور جب گھریلو کاموں پر انہیں بہت کم دھیان دینا پڑے گا۔ اور یہ اب محض بڑے پیمانے کی صنعت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جو نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لئے بہت بڑی تعداد میں پیداوار کے کام میں حصہ لینے کی گنجائش پیدا کرتی ہے بلکہ سچ پوچھئے تو اس پر زور دیتی ہے اور اس کے علاوہ نجی گھریلو کام کو بھی ایک عام صنعت بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

گھر کے اندر مرد کے واقعی تسلط نے اس کی مطلق العنانی کے راستے سے آخر رکاوٹ بھی دور کر دی۔ مادری حق کے خاتمے، پدری حق کے رواج اور جوڑا خاندان سے یک زوجگی تک کی تدریجی تبدیلی نے اس مطلق العنانی پر مہر لگا دی اور اسے پکا کر دیا۔ پرانے گن سماج میں اس سے ایک دراڑ پڑ گئی۔ یک زوجگی کا خاندان ایک طاقت بن گیا اور گن کے خلاف ایک خطرہ بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔

دوسرا قدیم ہمیں بربریت کے آخری دور میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہی دور ہے جس میں سبھی متمدن قومیں اپنے سورمائی عہد سے گزرتی ہیں۔ ۔۔۔۔ یہ لوہے کی تلوار کا ہی نہیں بلکہ لوہے کے ہل اور کلہاڑی کا بھی دور ہے۔ لوہا آدمی کا خادم بن گیا اور یہ تمام کچے مال میں سب سے اہم کچا مال ہے، اور اگر آلو کو چھوڑ دیا جائے تو سب سے آخری بھی، جس نے تاریخ میں ایک انقلابی خدمت انجام دی ہے۔ لوہے کی وجہ سے کھیت بنا کر بڑے پیمانے پر کھیتی کرنا اور جنگل کے بڑے بڑے قطعات کو کھیتی کے لئے صاف کرنا ممکن ہوا۔ اس نے کاریگر کے ہاتھوں میں ایسا اوزار دیا جس کی سختی اور تیزی کا مقابلہ نہ تو پتھر کر سکتا تھا اور نہ کوئی اور دھات جس کو لوگ اس وقت تک جانتے تھے۔ یہ سب بہت دھیرے دھیرے ہوا۔ سب سے پہلے جو لوہا تیار کیا جاتا تھا وہ اکثر تانبے سے بھی زیادہ نرم ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ آہستہ آہستہ پتھر کے ہتھیار رخصت ہو گئے۔ پتھر کی کلہاڑیاں صرف’ہلدی براند کے گیت”میں ہی نہیں بلکہ1066میں ہیسٹینگز کی لڑائی میں (44)بھی استعمال ہوئی تھیں۔  لیکن اب جو ترقی ہو رہی تھی اس کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔ اس میں رخنے کم ہی پڑتے تھے اور اس کی رفتار تیز تھی۔ قبیلے یا متعدد قبیلوں کے وفاق کا مرکزی مقام شہر بن گیا جس میں پتھر یا اینٹوں کے بنے ہوئے مکان ہوتے تھے اور جو چاروں طرف سے میناروں اور چھجوں اور  پتھر کی فصیلوں سے گھرے ہوتے تھے جن میں گولی چلانے کے لئے سوراخ بنے ہوتے تھے۔ وہ شہر جہاں ایک طرف فن تعمیر کی تیز ترقی کی گواہی دے رہے تھے وہاں دوسری طرف وہ اس بات کی علامت تھے کہ خطرہ بڑھ گیا ہے اور حفاظت کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن یہ الگ الگ افراد کی دولت تھی۔ کپڑا بننے کے فن،  دھات کے کام اور دوسری دستکاریوں سے، جن میں سے ہر ایک میں اب مخصوص مہارت کی ضرورت تھی، انواع و اقسام کا سامان نہایت فن کارانہ خوبصورتی سے تیار ہوتا تھا۔ کھیتی سے اب نہ صر ف اناج،  پھلیاں اور پھل ملتے تھے بلکہ تیل اور شراب بھی ملتی تھی کیونکہ اب لوگ تیل نکالنے اور شراب بنانے کا فن سیکھ گئے تھے۔ اب کوئی ایک فرد اتنے مختلف قسم کے کام نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے اب دوسری بڑی تقسیم محنت ہوئی اور دستکاری کھیتی سے الگ ہوئی۔ پیداوار میں لگاتار اضافہ ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ محنت کی پیداوار قوت میں بھی جو ترقی ہو رہی تھی اس میں انسانی قوت محنت کی قدر و قیمت بڑھا دی۔  غلامی جو اس سے پہلے کی منزل میں محض نوزائیدہ شکل میں اور بس کہیں کہیں پائی جاتی تھی اب سماجی نظام کا ایک ضروی حصہ بن گئی تھی۔  غلام اب محض مددگار نہیں رہ گئے تھے بلکہ اب انہیں بیسیوں کی تعداد میں کھیتی اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے ہانکا جانے لگا تھا۔ کھیتی اور دستکاری، ان وہ بڑی شاخوں میں پیداوار کے بٹ جانے سے تبادلے کے لئے پیداوار کی ابتدا ہوئی۔ فروخت کرنے کے لئے مال پیدا کیا جانے لگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے علاقے کے اندر، نہ صرف مختلف قبیلوں کے علاقوں کی سرحد پر بلکہ سمندر پار کر کے بھی تجارت کی جانے لگی۔ ان سب چیزوں کا ارتقا ابھی بہت کم ہوا تھا۔ عالمگیر زر کے لئے سونے چاندی کو ترجیح دی جانے لگے تھی لیکن ابھی تک سکہ نہیں ڈھالا گیا تھا اور تبادلہ محض و زن کے اعتبار سے ہوتا تھا۔

آزاد اور غلام کے ساتھ دولتمند اور مفلس کے ایک اور فرق کا اضافہ ہوا۔ محنت کی نئی تقسیم کے ساتھ ایک اور تقسیم بھی ہوئی: سماج طبقوں میں بٹ گیا۔ پرانی کمیونسٹی گھریلو برادریاں جہاں کہیں باقی رہ گئی تھیں،   وہ مختلف خاندانوں کے سرداروں کی دولت کے فرق کی وجہ سے ٹوٹ گئیں۔  اور اس کے ساتھ سماج کے لئے زمین کی مشترکہ کھیتی کا خاتمہ ہو گیا۔ کھیتی کی زمین استعمال کے لئے مختلف خاندانوں کو دی جانے لگی۔ پہلے یہ زمین ایک محدود عرصے کے لئے دی جاتی تھی اور بعد میں ہمیشہ کے لئے۔  مکمل نجی ملکیت تک کا تغیر رفتہ رفتہ اور جوڑا بیاہ سے یک زوجگی تک کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ عمل میں آیا۔ انفرادی خاندان سماج کی اقتصادی اکائی بننے لگا۔

آبادی پہلے سے زیادہ گنجان ہو گئی۔ اس کی وجہ سے ضروری ہوا کہ اندرونی اور بیرونی کاموں کے لئے لوگوں میں اور زیادہ قریبی اتحاد ہو۔  ہر جگہ قرابت دار قبیلوں کا وفاق بنانا ضروری ہو گیا۔ اور اس کے بعد جلد ہی یہ قبیلے آپس میں گھل مل گئے اور اس طرح الگ الگ قبیلوں کے علاقے مل کر ایک قومیت کا علاقہ بن گیا۔ جاتی کا فوجی کمانڈر rex, basileus, thiudans__ ایک ضروری اور مستقل عہدہ دار بن گیا۔ جہاں کہیں عوامی اسمبلی نہیں تھی اسے قائم کیا گیا۔ گن سماج کی نشوونما ایک فوجی جمہوریت کی شکل میں ہوئی تھی اور فوجی کمانڈر،  کونسل اور عوامی اسمبلی اسی فوجی جمہوریت کے مختلف ادارے تھے۔ یہ فوجی جمہوریت تھی کیونکہ جنگ اور جنگ کی تیاری اور اور اس کا انتظام اب لوگوں کی زندگی کا ایک باقاعدہ اور مستقل کام بن گیا تھا۔ اپنے پڑوسیوں کی دولت دیکھ کر لوگوں کے دل میں لالچ پیدا ہونے لگا تھا کیونکہ دولت حاصل کرنے کو وہ زندگی کا سب سے اہم مقصد سمجھنے لگے تھے۔ وہ بربری لوگ تھے۔ ان کی نظر میں محنت کر کے کچھ پیدا کرنے سے زیادہ آسان لوٹ مار کرنا تھا اور وہ زیادہ قابل عزت کا کام بھی تھا۔ پہلے جنگ محض اس لئے کی جاتی تھی کہ حملے کا انتقام لینا ہوتا تھا یا اپنے علاقے کو جو ناکافی ہو چلا تھا، بڑھانا تھا۔ اب جنگ کا مقصد محض لوٹ مار کرنا تھا۔ اور یہ ایک باقاعدہ پیشہ بن گیا۔ نئے قلعہ بند شہروں کے چاروں طرف بڑی بڑی فصیلیں یونہی بے مطلب نہیں کھڑی کی گئی تھیں۔  ان کے گرد خندقیں منہ پھاڑے کھڑی تھیں جن میں گن دستور دفن ہو گیا۔ اور ان کے مینار تمدن کی بلندیوں تک پہنچ گے تھے۔ اندرونی معاملات میں بھی اسی طرح کی تبدیلی ہوئی۔ لوٹ مار کی جنگوں نے سپہ سالار اعظم کی طاقت بھی بڑھائی اور اس کے نائب سپہ سا لاروں کی بھی۔ جانشینوں کو ایک ہی خاندان سے منتخب کرنے کا قاعدہ رفتہ رفتہ موروثی جانشینی کا قاعدہ بن گیا۔ یہ تبدیلی خصوصیت کے ساتھ پدری حق قائم ہونے کے بعد ہوئی۔ شروع میں لوگ اسے برداشت کر لیتے تھے۔ بعد میں ہر مرنے والے کا وارث اس کی جانشینی کا دعوے دار ہونے لگا۔  اور آخر میں اس نے زبردستی یہ حق غصب کر لیا۔ اس طرح موروثی بادشاہی اور موروثی شرفا کے طبقے کی بنیاد پڑی۔ یوں رفتہ رفتہ گن دستور کے اداروں کی جڑیں جو عوام کے اندر، گن،  فریٹری اور قبیلے میں پھیلی ہوئی تھیں،  کاٹ دی گئیں اور پورے گن نظام میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ وہ بالکل اپنی پہلی شکل سے برعکس چیز بن گیا۔ وہ قبیلوں کی ایک تنظیم تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ آزادی کے ساتھ اپنے معاملوں کا انتظام کر سکے لیکن اب وہ ایک ایسی تنظیم بن گیا جس کا مقصد اپنے پڑوسیوں کو لوٹنا اور ان پر ظلم کرنا تھا۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ گن کے ادارے جن کا مقصد عوام کی رائے پر عمل کرنا تھا اب خود اپنے لوگوں پر حکومت اور ظلم کرنے کے ادارے بن گئے۔ یہ کبھی نہ ہوتا اگر دولت کے لالچ نے گن کے ممبروں کو امیر اور غریب میں نہ بانٹ ہوتا، اگر”گن کے اندر ملکیت کے فرق نے گن کے ممبروں میں مفاد کے اتحاد کو باہمی تضاد میں نہ بدل دیا ہوتا("مارکس(2))اور اگر غلامی کی نشوونما نے ذریعہ معاش حاصل کرنے کی خاطر محنت کرنے کو ایک غلامانہ اور لوٹ مار کرنے سے بھی زیادہ شرمناک کام نہ بنا دیا ہوتا۔

اس کے بعد ہم تمدن کے دروازے پر آ  فن کا  کے لئے تورس کے گر  اسکاتپہنچتے ہیں۔  تقسیم محنت کی مزید ترقی سے اس دور کی ابتدا ہوتی ہے۔ بربریت کے ابتدائی دور میں انسان اپنی فوری ضرورتیں پوری کرنے کیلئے مال پیدا کرتا تھا تبادلہ کبھی کبھار ہوتا تھا، جب اتفاق سے کوئی چیز فاضل بچ رہی ہو۔ بربریت کے درمیانی دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ گلہ بان قوموں کو مویشی کی صورت میں ایک ایسی ملکیت مل گئے تھی جس میں کافی بڑے بڑے ریوڑ اور جھنڈ ہوتے تھے اور ان کے پاس اپنی ضرورتوں سے زیادہ فاضل مال برابر رہا کرتا تھا۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گلہ بان لوگوں میں اور پچھڑے ہوئے قبیلوں میں جن کے پاس ریوڑ نہیں تھے، ایک طرح کی تقسیم محنت ہوئی جس کی وجہ سے پیداوار کی دو مختلف حالتیں ساتھ ساتھ قائم ہو گئیں۔  ا س سے مستقل اور باقاعدہ تبادلے کے لئے موافق حالات پیدا ہو گئے۔ بربریت کے آخری دور میں زراعت اور دستکاری میں مزید تقسیم محنت قائم ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اجناس کا برابر بڑھتا ہوا حصہ خصوصیت کے ساتھ تبادلے کے لئے پیدا کیا جانے لگا حتیٰ کہ الگ الگ مال پیدا کرنے والوں میں تبادلہ اتنا بڑھ گیا کہ سماج کے لئے ایک نہایت ضروری چیز بن گیا۔ محنت کی ان تمام تقسیموں کو تمدن نے مستحکم کیا اور آگے بڑھایا۔  خاص کر اس نے شہر اور دیہات کے فرق کو اور گہرا کر دیا(یہ تو قدیم زمانے کی طرح دیہات پر شہر کا اقتصادی غلبہ تھا یہ ازمنہ وسطیٰ کی طرح شہر پر دیہات کا غلبہ تھا(اور ایک تیسری تقسیم محنت کا اضافہ ہوا جو تمدن کے عہد کے خصوصیت ہے اور فیصلہ گن اہمیت رکھتی ہے__ اس نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا جو عمل پیداوار میں قطعی کوئی حصہ نہیں لیتا اور محض پیداوار کا تبادلہ کیا کرتا ہیّّ__ یہ تاجروں کا طبقہ ہے۔ اس سے پہلے جتنے ادھورے طور پر بنے ہوئے طبقے پائے جاتے ہیں،  ان سب کا تعلق محض پیداوار سے تھا۔ پیداوار میں لگے ہوئے لوگوں کو یہ نامکمل سی طبقاتی ساخت مینیجروں اور کام کرنے والوں،   یا بڑے پیمانے پر پیدا کرنے والوں اور چھوٹے پیمانے پر پیدا کرنے والوں میں بانٹا کرتے تھیں۔  لیکن اب پہلی مرتبہ ایک ایسا طبقہ نمودار ہوا جو پیداوار میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا مگر اس کے باوجود اس نے بحیثیت مجموعی پیداوار کے سارے انتظام کو اپنے قبضے میں کر لیا اور پیدا کرنے والوں کو اقتصادی طور پر اپنی حکمرانی میں لے لیا۔ یہ ایسا طبقہ ہے جو دہ قسم کا مال پیدا کرنے والوں کے درمیان کی ایک ضروری اور لازمی کڑی بن جاتا ہے اور دونوں کا استحصال کرتا ہے۔ پیدا کرنے والوں کو تبادلے کی پریشانی اور اس کے خطروں سے بچانے کے بہانے، ان کے مال کے لئے دور دور کے ملکوں میں منڈی تلاش کرنے کے بہانے، اور اس طرح سماج کا سب سے کارآمد طبقہ ہونے کا دعویٰ کر کے، طفیلیوں معمولی خدمتوں کے عوض ملک کے اندر اور باہر کی پیداوار کا سب سے اچھا حصہ دودھ کی بالائی کی طرح خود نگل لیتا ہے، تیزی سے کثیر دولت کا مالک بن بیٹھتا ہے اور اس کی مناسبت سے سماجی اثر پیدا کرتا ہے۔ اور اسی وجہ سے تمدن کے عہد میں اسے نت نئے اعزاز ملتے رہتے ہیں اور پیداوار پر اس کی گرفت زیادہ سخت ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ آخر میں وہ خود بھی اپنی ایک چیز پیدا کرتا ہے__ میعادی تجارتی بحران۔

ہم ترقی کے جس دور کی بات کر رہے ہیں اس میں تاجر طبقے کو جو ابھی نو عمر تھا، اس بات کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ مستقبل کے بطن میں اس کے لئے کتنی بڑی بڑی چیزیں پوشیدہ ہیں۔   لیکن اس نے اپنی تشکیل کر لی اور اپنے آپ کو ناگزیر بنا دیا۔  اسی قدر کافی تھا۔ مگر اس کے ساتھ فلزاتی زر، دھات کے ڈھالے ہوئی سکے کا استعمال شروع ہوا۔ یہ ایک نیا حربہ تھا جس کی مدد سے پیدا کرنے والے پر اور اس کی پیداوار پر پیدا نہ کرنے والے کی حکومت ہو سکے۔  سب اجناس کی ایک جنس جو اپنے اندر تمام اجناس کو چھپائے رکھتی ہے، ظاہر ہو چکی تھی۔  وہ ایک جادو کی پڑیا تھی جو جب چاہے اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے کسی چیز کا روپ دھارن کر سکتی تھی۔  وہ جس کے قبضے میں ہوتی اس کا پیداوار کی دنیا پر قبضہ ہوتا۔ اور وہ سب سے زیادہ کس کے قبضے میں تھی؟ تاجروں کے۔ ان کے ہاتھوں میں روپے کی پوجا کا دھرم محفوظ تھا۔ اس نے یہ بات صاف کر دی کہ سبھی اجناس کو اور اس لئے ابھی اجناس کے پیدا کرنے والوں کو زر کے سامنے خاک پر سر رکھنا ہو گا۔ اس نے یہ عملاً ثابت کر دیا کہ دولت کی دوسری سبھی شکلیں دولت کے اس اوتار یعنی زر کے سامنے محض پر چھائیاں ہیں۔  زر کی طاقت نے اپنی نوجوانی کے اس دور میں جس بھونڈے پن اور تشدد کا مظاہرہ کیا ویسا کبھی اور نے کبھی نہیں کیا۔ زر کے بدلے میں اجناس کی فروخت کے بعد زر کو قرض دینے کا رواج ہوا اور اس کے ساتھ سود خوری شروع ہوئی۔ اور قدیم ایتھنز اور روما کے قانون نے قرض دار کو جس بے رحمی کے ساتھ ساتھ پیر باندھ کر سود خوار مہاجن کے سامنے دال دیا اس کی مثال بعد کے زمانے میں بھی کبھی نہیں ملتی۔ ان دونوں جگہوں کے قانون اپنے آپ نمودار ہوئے تھے وہ عام قانون تھا جس کی تہہ میں اقتصادی قوت کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔

اجناس اور غلاموں کی دولت اور زر کی دولت کے علاوہ دولت کی ایک اور شکل پیدا ہوئی۔۔۔۔ زمین کی دولت۔ شروع میں زمین کے قطعات گن یا قبیلے کی طرف سے افراد کو استعمال کے لئے دیئے جاتے تھے۔ مگر اب ان پر افراد کا حق اتنی مضبوطی سے قائم ہو چکا تھا کہ زمین کے وہ ٹکڑے ان کی موروثی ملکیت بن گئے۔ اس سے پہلے وہ جس چیز کی سب سے زیادہ کوشش کر رہے تھے، وہ یہ تھی کہ زمین کے اس ٹکڑے پر گن سماج کا دعویٰ ختم ہو جائے، اس دعوے سے زمین کو چھٹکارا مل جائے۔ یہ دعویٰ ان کے پیروں کی زنجیر بن گیا تھا۔ انہیں اس زنجیر سے چھٹکارا مل گیا، لیکن تھوڑے ہی دنوں میں نئی زمینی جائیداد سے بھی چھٹکارا ملا۔ کیونکہ زمین کی پوری اور آزادانہ ملکیت کا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ بلا روک ٹوک اور بلا کسی پابندی کے قبضہ قائم ہو گیا ہے بلکہ یہ بھی تھا کہ اسے اپنے پاس سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ جب تک زمین گن کی ملکیت تھی ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن جب زمین کے نئے مالک نے گن اور قبیلے کے دعوے کی زنجیر کو توڑ دیا تو اس نے وہ رشتہ بھی توڑ دیا جو آج تک اسے زمین سے اٹوٹ طریقے سے وابستہ کئے ہوئے تھا۔ اور یہ بات زر نے صاف کر دی کہ اس کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ زر بھی اسی وقت زمین میں نجی ملکیت کے ساتھ ساتھ نمودار ہوا تھا۔ زمین اب ایک جنس تبادلہ بن گئی جسے فروخت کیا جا سکتا تھا اور رہن رکھا جا سکتا تھا۔ زمین پر نجی ملکیت کو قائم ہوئے مشکل سے کچھ دن گزرے ہوں گے کہ رہن اور گردی رکھنے کا رواج ہو گیا(دیکھئے ایتھنز کی مثال)۔ جس طرح یک زوجگی کے پیچھے پیچھے ہیستائرازم اور عصمت فروشی لگی رہی اسی طرح اب زمین کی ملکیت کے پیچھے رہن رکھنے کا رواج لگ گیا۔ تم زمین کی ملکیت چاہتے تھے، آزاد،  مکمل اور منتقلی کے قابل ملکیت__ تو لو، یہ رہی ایسی ملکیت__” تمہیں اس کی خواہش تھی!  جارج دیندن! (3)”

تجارت کی توسیع، سکہ کا چلن، سود خوری،  زمین پر نجی ملکیت اور رہن کا رواج__ ان سب چیزوں کے ساتھ ایک طرف ایک چھوٹے سے طبقے کے ہاتھ میں دولت کا اجتماع اور ارتکاز ہوتا رہا اور دوسری طرف عام لوگوں کا افلاس بڑھتا گیا اور گداگروں اور مفلسوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ دولتمندوں کا یہ نیا طبقہ شرفا، جس حد تک شروع سے ہی پرانے قبائلی شرفا سے مختلف تھا اس حد تک اس نے موخر الذکر کو ہمیشہ کے لئے پیچھے دھکیل دیا(ایتھنز میں،  روم میں،   جرمنوں میں )۔ اور اس طرح دولت کی بنیاد پر آزاد لوگوں کے مختلف طبقوں میں بٹ جانے کے ساتھ ان غلاموں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا (4)جن کی جبری محنت کی بنیاد پر سارے سماج کا اوپری ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تھا۔ یونان میں خاص طور پر ایسا ہوا تھا۔

آیئے اب ہم یہ دیکھیں کہ اس سماجی انقلاب کی بدولت گن نظام کا کیا حشر ہوا۔ وہ ان نئے عناصر کے مقابلے میں بالکل بے بس تھا جو اس کی مدد کے بغیر ہی پیدا ہو گئے تھے۔ اس کا وجود اس بات پر منحصر تھا کہ گن یا یوں کہنا چاہئے کہ قبیلے کے سبھی ممبر ایک علاقے میں ساتھ ساتھ رہیں اور کوئی دوسرا اس علاقے میں نہ رہے۔  لیکن یہ حالت تو بہت دن پہلے ختم ہو چکی تھی۔ گن اور قبیلے ہر جگہ مخلوط ہو گئے تھے، ہر جگہ آزاد شہریوں کے ساتھ ساتھ غلام، زیر اثر لوگ اور غیر ملکی لوگ رہنے لگے تھے۔ بربریت کے درمیانی دور کے آخر میں ہی لوگوں نے ایک جگہ جم کر رہنا شروع کر دیا تھا مگر تجارت کے دباؤ، لوگوں کے پیشوں کے بدلتے رہنے اور زمین کی ملکیت میں تبدیلی ہوتے رہنے کی وجہ سے انہیں بار بار اپنا وطن بدلنا پڑا۔ اب گن تنظیم کے ممبروں کے لئے ممکن نہیں تھا کہ اپنے اجتماعی معاملوں کو نبٹانے کے لئے ایک جگہ جمع ہو سکیں۔  اب صرف نہایت کم اہمیت کے معاملے، مثال کے لئے مذہبی تقریبیں وغیرہ ہی مل کر انجام دی جاتی تھیں اور وہ بھی بے دلی سے۔ گن سماج کے ادارے جن ضرورتوں اور مفاد کی دیکھ بھال کے لئے بنائے گئے تھے اور جن کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت ان میں تھی، ان کے علاوہ اب کچھ نئی ضرورتیں اور نئے مفاد سامنے آ گئے تھے۔ لوگ جن حالات میں روزی کماتے تھے، ان میں انقلاب آ گیا تھا اور ان کی بدولت سماج کا ڈھانچہ بدل گیا تھا۔ نئی ضرورتیں اور نئے مفاد ت انہیں تبدیلیوں سے پیدا ہوئے تھے۔ قدیم گن نظام کے لئے وہ نہ صرف اجنبی تھے بلکہ اس کے راستے میں ہر طرح کی رکاوٹ پیدا کر رہے تھے۔ محنت کی تقسیم سے دستکاروں کی جو نئی جماعتیں پیدا ہو گئی تھیں،  فریٹریوں اور قبیلوں سے آئے تھے، ان میں غیر ملکی لوگ بھی شامل تھے، اس لئے لازم تھا کہ یہ نئے ادارے گن دستور کے باہر بنیں،  وہ اس کے متوازی ہوں اور اس کا مطلب ہے کہ اس کے خلاف ہوں۔  اور پھر ہر گن تنظیم میں مفادات کے ٹکراؤ کا اثر اس وقت محسوس ہو اور اسی وقت وہ اپنی انتہا کو پہنچا جب ایک ہی گن اور ایک ہی قبیلے میں امیر اور غریب،  سود خوار اور مقروض دونوں طرح کے لوگ جمع ہو گئے۔  پھر ان کے علاوہ نئے باشندوں کی کثیر تعداد تھی جو گن کی تنظیموں کے لئے بالکل اجنبی تھے، وہ لوگ ملک کے اندر ایک طاقت بن گئے تھے جیسا کہ روم میں ہوا۔ اور ان کے تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں رفتہ رفتہ یک جدی گنوں اور قبیلوں میں ضم بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عام لوگوں کی اس کثیر تعداد کے لئے گن کی تنظیمیں کچھ تھوڑے سے لوگوں کی اپنی مخصوص تنظیمیں تھیں جن کو خاص حقوق حاصل تھے، یعنی جو چیز ابتدا میں فطری طور پر قائم ہونے والی جمہوریت تھی وہ بدل کر شرفا کی ایک نہایت نفرت انگیز جماعت بن گئی۔ پھر آخری بات یہ کہ گن دستور نے ایک ایسے سماج میں جنم لیا تھا جس میں اندرونی تضاد نہیں تھا۔ وہ صرف ایک ایسے ہی سماج کے لئے موزوں تھا۔ رائے عامہ کے سوا اس کے پاس جبر کرنے کی کوئی طاقت نہیں تھی۔ لیکن اب ایک ایسا سماج جنم لے چکا تھا جو اپنے وجود کی تمام اقتصادی حالتوں کے دباؤ سے مجبور ہو کر آزاد شہریوں اور غلاموں میں،  استحصال کرنے والے امیروں اور استحصال کئے جانے والے غریبوں میں بٹ چکا تھا۔ وہ سماجن صرف ان تضادات کو سلجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ان کو روز بروز اور آگے بڑھا رہا تھا۔ ایسا سماج یا تو اس حالت میں زندہ رہ سکتا تھا کہ یہ طبقے ایک دوسرے کے خلاف مسلسل کھلم کھلا جدوجہد کرتے رہیں یا ایک تیسری طاقت کی حکمرانی ہو جو بظاہر ان بر سر پیکار طبقوں کے اوپر کھڑی ہو، ان کی کھلی کشمکش کو کچل دیتی ہو اور زیادہ سے زیادہ اقتصادی میدان میں اور یوں کہئے کہ قانونی شکل میں طبقاتی کشمکش ہونے دیتی ہو۔ گن دستور کی افادیت کا زمانہ ختم ہو چکا تھا۔ محنت کی تقسیم اور اس کے نتیجے یعنی مختلف طبقوں میں سماج کی تقسیم نے اس کے پرخچے اڑا دیئے۔  اس کی جگہ ریاست نے لی۔

گن دستور کے کھنڈر پر ریاست کی تعمیر تین خاص شکلوں میں ہوئی۔ اوپر ہم نے تینوں کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔ ایتھنز اس کی سب سے خالص اور سب سے ٹکسالی(کلاسیکل(شکل ہے۔ یہاں ریاست براہ راست اور بڑی حد تک ان طبقاتی تضادوں سے پیدا ہوئی جو گن سماج میں ابھر رہے تھے۔ روم میں گن سماج شرفا کا ایک مخصوص طبقہ بن گیا جو عوام کی کثیر تعداد کے درمیان کھڑا تھا۔ عوام اس سے باہر تھے۔ ان کے حقوق کچھ نہیں تھے۔ صرف فرائض ہی فرائض تھے۔ عوام(پلے بین(کی فتح نے پرانے گن دستور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس کے کھنڈروں پر ریاست کی عمارت کھڑی کی جس میں گن کے شرفا اور عوام(پلے بین(دونوں ہی تھوڑے دنوں میں جذب ہو گئے۔ اور آخر میں سلطنت روم کے جرمن فاتحوں میں ریاست کا ظہور غیر ملکوں کے بڑے بڑے علاقوں کی فتح کا براہ راست نتیجہ تھا۔ گن دستور کے پاس ان علاقوں پر حکومت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لیکن ان علاقوں کو فتح کرنے میں وہاں کے قدیم باشندوں کے ساتھ کسی گمبھیر کشمکش کی ضرورت نہیں پڑی تھی اور نہ زیادہ آگے بڑھی ہوئی تقسیم محنت کی ضرورت محسوس ہوئی تھی،  فاتح اور مفتوح دونوں اقتصادی نشوونما کی ایک ہی سطح پر تھے، چنانچہ سماج کی اقتصادی بنیاد وہی رہی جو پہلے تھی۔ لہٰذا ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ گن دستور ذرا بدلی ہوئی علاقائی شکل میں کئی صدیوں تک قائم رہا۔ یہ مارک دستور کی شکل تھی، بعد کے برسوں کے شرفا اور اعلیٰ نسب کے(پتریشین)خاندانوں کی شکل میں،   یہاں تک کہ کسان خاندانوں کی شکل میں بھی،  جیسے دتمارشن (5)میں،  وہ کچھ عرصے کے لئے نہایت کمزور طریقے سے نئی زندگی حاصل کر میں بھی کامیاب ہوا۔

اس لئے ریاست کوئی ایسی طاقت یا اقتدار نہیں ہے جو سماج پر اوپر سے مسلط کی گئی ہو۔ اور نہ وہ "اخلاقی عین کی حقیقت "ہے اور نہ "عقل کا عکس اور اس کی حقیقی صورت”ہے، جیسا کہ ہیگل کہتا ہے(46)۔ بلکہ یہ تو سماج کی نشوونما کی ایک خاص منزل پر سماج کی پیداوار ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سماج کی نشوونما کی ایک خاص منزل پر سماج کی پیداوار ہے۔  یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سماج ایک ایسے اندرونی تضاد میں پھنس گیا ہے جو حل نہیں ہو سکتا اور وہ ایسی مخالفتوں اور دشمنیوں میں الجھ گیا ہے جن کو ختم کرنا اس کے بس کی بات نہیں ے۔ لیکن یہ مخالفتیں،   یہ متضاد اقتصادی مفاد رکھنے والے طبقے اپنی بے نتیجہ کشمکش میں ایک دوسرے کو اور پورے سماج کو برباد نہ کر ڈالیں،  اس کے لئے ایک ایسی طاقت کی ضرورت پڑی جو بظاہر دیکھنے میں سماج کے اوپر کھڑی ہو، جو اس کشمکش کو کم کرے اور اسے”امن و امان”کے دائرے میں محدود رکھے اور یہی طاقت جو سماج سے پیدا ہوئی مگر سماج کے اوپر مسلط ہو گئی اور رو ز بروز اپنے آپ کو اس سے الگ کرتی رہی ہے__ یہ ہے ریاست۔

قدیم گن تنظیم کے برعکس ریاست اپنی رعایا کو علاقے کے اعتبار سے بانٹتی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں پرانی گن جماعتیں،   جو خون کے رشتوں کی بنیاد پر بنی تھیں اور جن کی شیرازہ بندی اسی سے ہوئی تھی، ناکافی ہو چکی تھیں۔  اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ مان کر چلتی تھیں کہ ان کے ممبر ایک علاقے سے وابستہ ہیں اور دراصل یہ وابستگی بہت دن پہلے ختم ہو چکی تھی۔ علاقہ اپنی جگہ پر قائم رہا لیکن لو گ نقل مقام کرنے لگے تھے۔ اس لئے بٹوارے کے لئے علاقے کو نئی بنیاد بنایا گیا اور شہریوں کو اجازت دی گئی کہ جہاں وہ بسے ہوئی ہوں وہیں اپنے حقوق اور فرائض انجام دیں،  چاہے وہ کسی بھی گن یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں مقام کے اعتبار سے شہریوں کی یہ تنظیم تمام ریاستوں کی مشترک خصوصیت ہے۔ اسی لئے ہمیں یہ قدرتی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ہم دیکھ آئے ہیں کہ گن کے اعتبار سے شہریوں کی پرانی تنظیم کو ہٹا کر اس کی جگہ لینے میں اس کو ایتھنز اور روم میں کتنی طویل اور سخت جدوجہد کرنی پڑی تھی۔

دوسری چیز اقتدار عامہ کا قیام ہے۔ یہ اب براہ راست پوری آبادی پر منطبق نہیں ہوتا جو ایک مسلح قوت کی شکل میں منظم ہوتی تھی۔ یہ خاص اقتدار عامہ اس لئے ضروری ہے کہ طبقات کی تقسیم کے بعد آبادی کی کوئی ایسی ہتھیار بند تنظیم ممکن نہیں رہی جو آپ ہی آپ عمل کر سکے۔ اب غلام بھی آبادی کا ایک حصہ تھے۔ 365000غلاموں کے مقابلے میں ایتھنز کے 90000شہری محض ایک ایسا طبقہ تھے جس کو خاص حقوق اور رعایتیں حاصل تھیں۔  شرفا اور امرا کا اقتدار عامہ جو غلاموں کے خلاف تھا اور انہیں دبا کر رکھتا تھا، ایتھنز کی جمہوریت کی عوامی فوج تھی۔ لیکن شہریوں کو بھی دبائے رکھنے کے لئے جلد ہی ایک ژاندارمی(سیاسی پولیس)کی ضرورت پڑی جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں۔  یہ اقتدار عامہ ہر ریاست میں وجود ہے۔ اس کا مطلب صرف ہتھیار بند لوگ ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے مادی لوازمات بھی ہیں،  قید خانہ اور جبر کے ہر قسم کے ادارے بھی ہیں جو گن سماج کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ جن سماجوں میں طبقاتی تضاد ابھی تک پوری طرح نہیں ابھرے ہیں اور جو جگہیں دوسروں سے الگ تھلگ ایک طرف کو پڑی ہیں،   ان میں ابھی تک یہ اقتدار عامہ بہت چھوٹا اور گویا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بعض بعض زمانوں میں اور بعض بعض علاقوں میں یہی صورت حال تھی۔  لیکن جیسے جیسے کسی ریاست میں طبقاتی تضاد زور پکڑتے جاتے ہیں اور جیسے جیسے آس پاس کی ریاستیں رقبے اور آبادی میں بڑھتی جاتی ہیں،  ویسے ہی ویسے یہ اقتدار عامہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہمارے اپنے زمانے کے یورپ کو دیکھنا کافی ہو گا، جہاں طبقاتی جدوجہد اور فتوحات کی رقابت اور مقابلے نے اقتدار عامہ کو اتنا بڑھا دیا ہا کہ پورے سماج اور خود ریاست کے لئے ایک خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس اقتدار عامہ کو قائم رکھنے کے لئے شہریوں سے پیسہ وصولنا یعنی ٹیکس لینا ضروری ہو گیا۔ گن سماج میں ٹیکس کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا۔ لیکن آج کون ہے جو اس سے ناواقف ہو۔ جیسے جیسے تمدن ترقی کرتا جاتا ہے یہ ٹیکس ناکافی ہوتے جاتے ہیں۔  تب ریاست مستقبل کے ٹیکسوں کی ہنڈی پر روپیہ لینا،  یعنی روپیہ ادھار لینا، سرکاری قرض لینا شروع کرتی ہے۔ بوڑھا یورپ ان قرضوں کے بارے میں بھی ایک پوری داستان سنا سکتا ہے۔

حکومت کے افسر یا عہدہ دار لوگ جن کے قبضے میں اقتدار عامہ ہوتا ہے اور جنہیں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اب سماج کے اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں۔  گن دستور کے عہدہ داروں کی عزت لوگ بلا کسی جبر و اکراہ کے اپنے آپ کرتے تھے۔ وہ عزت اگر حکومت کے ان افسروں کو حاصل بھی ہوتی تب بھی وہ اس سے مطمئن نہ ہوتے۔ وہ ایک ایسی طاقت کے کل پرزے تھے جو سماج کے لئے اجنبی اور اس سے الگ ہوتی جا رہی تھی۔ اور اس لئے یہ ضروری تھا کی خاص قانون بنا کر لوگوں کو ان کا احترام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان قانونوں کے ذریعے سرکاری افسروں کو ایک خاص تقدس اور احترام عطا کیا جاتا ہے۔ گن سماج کے تمام عہدہ داروں کو ملا کر بھی جتنا اختیار حاصل نہیں تھا، اس سے زیادہ”اختیار”ایک متمدن ریاست کے ادنیٰ ترین پولیس افسر کو ہوتا ہے۔ لیکن گن سماج کے چھوٹے سے چھوٹے سردار کو بلا کسی دباؤ اور بغیر کسی بحث و تکرار کے جو عزت نصیب تھی، اس پر تمدن کے عہد کے سب سے طاقتور بادشاہ اور مدیر بھی رشک کر سکتے ہیں۔  ایک تو سماج کے درمیان، اس کے بیچ میں کھڑا تھا، دوسرا مجبور ہے کہ ایک ایسی چیز کی نمائندگی کا دعویٰ کرے جو سماج کے باہر اور اس کے اوپر ہے۔

چونکہ ریاست طبقاتی تضاد کو دبائے رکھنے کی ضرورت سے پیدا ہوئی لیکن اسی کے ساتھ وہ ان طبقوں کی کشمکش کے دوران پیدا ہوئی، اس لئے وہ عام طور پر سب سے زیادہ طاقتور، اقتصادی طور پر سب سے زیادہ ذی اقتدار طبقے کی ریاست ہوتی ہے۔ یہ طبقہ ریاست کے ذریعے سے سیاسی طور پر بھی سب سے زیادہ ذی اقتدار طبقہ بن جاتا ہے اور اس طرح مظلوم طبقے کو دبائے رکھنے اور اس کا استحصال کرنے کے نئے ذرائع حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ عہد قدیم کی ریاست سب سے بڑھ کر غلاموں کے مالکوں کی ریاست تھی جس کا مقصد غلاموں کو دبائے رکھنا تھا۔ اسی طرح سامنتی ریاست امرا اور شرفا کا آلہ کار تھی جس کا مقصد زرعی غلام کسانوں اور زر خرید حلقہ بگوشوں کو دبائے رکھنا تھا۔ اور جدید نمائندہ ریاست سرمایے کے ہاتھوں اجرتی محنت کے استحصال کا حربہ ہے۔ لیکن مستثنیٰ طور پر ایسے بھی دور آتے ہیں جبکہ لڑنے والے طبقوں میں قریب قریب ایسا توازن قائم ہو جاتا ہے کہ ریاست بظاہر ایک پنچ کی حیثیت سے کچھ دیر کے لئے اور کسی حد تک دونوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی کی خود سر بادشاہتوں کا یہی حال تھا۔ وہ شرفا اور بورژوازی میں توازن قائم کئے ہوئے تھیں۔  پہلی اور اس سے بھی زیادہ دوسری فرانسیسی سلطنت کی بونا پارٹزم کا بھی یہی حال تھا۔ وہ کبھی بورژوازی کے خلاف پرولتاریہ کے خلاف بورژوازی کو بڑھاوا دیتے رہتے تھے۔ اس کی تازہ ترین مثال جس میں حاکم اور محکوم دونوں یکساں مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں،  بسمارک قوم کی نئی جرمن سلطنت ہے۔ یہاں سرمایہ داروں اور مزدوروں میں ایک دوسرے کے خلاف توازن قائم کیا جاتا ہے اور پروشیا کے افلاس زدہ تنگ نظر یو نکروں(زمینداروں (کے فائدے کے لئے دونوں کو یکساں طور پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔

تاریخ میں ابھی تک جتنی ریاستیں ہوئی ہیں،  ان میں زیادہ تر شہریوں کو ان کی دولت کے مطابق کم یازیادہ حقوق دیئے جاتے ہیں۔  اس سے یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ ریاست ملکیت والے طبقوں کی ایک تنظیم ہے جو محروم ملکیت طبقے سے ان کی حفاظت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ ایتھنز اور روم میں ایسا ہی تھا جہاں شہریوں کی طبقہ بندی ملکیت کے مطابق کی گئی تھی۔ ازمنہ وسطیٰ کی سمامنتی ریاست میں بھی یہی حال تھا۔ وہاں جس کے پاس جتنی زمین ہوتی تھی، اس کے ہاتھ میں اتنی ہی سیاسی طاقت ہوتی تھی۔ اور جدید نمائندہ ریاست میں انتخاب میں حصہ لینے کے لئے شہریوں کو جو شرطیں پوری کرنی پڑتی ہیں،  ان میں بھی یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ملکیت کے فرق کو سیاسی حیثیت دی جائے۔  بلکہ اس کے برعکس یہ تو ریاست کی نشوونما کے نیچی سطح پر ہونے کی علامت ہے۔ ریاست کی اعلیٰ ترین شکل یعنی جمہوری ریپبلک جو سماج کے موجودہ حالات میں روز بروز ایک لازمی ضرورت ہوتی جا رہی ہے اور جو ریاست کی وہ تنہا صورت ہے جس میں پرولتاریہ اور بورژوا طبقے کی آخری فیصلہ کن جدوجہد ہو سکتی ہے۔ ۔۔۔ وہ جمہوری ریپبلک سرکاری طور پر ملکیت کے فرق کو نہیں مانتی۔ اس میں دولت بالواسطہ طریقے سے مگر اور بھی زیادہ کارگر ڈھنگ سے اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ایک تو دولت سے سرکار ی عہدہ داروں کو سیدھے سیدھے رشوت دی جاتی ہے۔ ۔۔۔۔ اس کی ٹھیٹ مثال امریکہ ہے۔ ۔۔۔ دوسرے، حکومت اور اسٹاک ایکسچینج میں گٹھ بندھن ہو جاتا ہے۔ جتنا ریاست کا سرکاری قرضہ بڑھتا جاتا ہے، اور جتنا زیادہ سرمایہ دار کمپنیاں اسٹاک ایکسچیج کو اپنا مرکز بنا کر نہ صرف وسائل نقل و حمل کو بلکہ پیداوار کو بھی اپنے ہاتھوں میں جمع کرتی جاتی ہیں،  اتنی ہی زیادہ آسانی سے یہ گٹھ بندھن ہو جاتا ہے۔ تازہ ترین فرانسیسی ریپبلک اور امریکہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔  اور اپنے نیک اور شریف سوئٹزرلینڈ نے بھی اس شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے۔  لیکن حکومت اور اسٹاک ایکسچیج میں اس طرح کا دوستانہ تعلق قائم کرنے کے لئے جمہوری ریپبلک ضروری نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں انگلینڈ اور نئی جرمن سلطنت کی مثال دی جا سکتی ہے، جہاں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عام رائے دہندگی سے کس کا درجہ زیادہ اونچا اٹھا ہے، بسمارک کا یا بلائخرودر کا۔ اور آخری بات یہ کہ دولتمند طبقہ براہ راست عام رائے دہندگی کے ذریعے سے حکومت کرتا ہے۔ جب تک کہ مظلوم طبقہ جو آج کل مزدور طبقہ ہے، اتنا پختہ نہیں ہو جاتا کہ اپنے آپ کو آزاد کر لے، تب تک اس کا بڑا حصہ صرف موجودہ سماجی نظام کو ہی ایک ممکن نظام سمجھتا رہے گا اور اس لئے سیاسی طور پر سرمایہ دار طبقے کی دم، اس کا سب سے انتہائی بائیں بازو والہ حصہ بنا رہے گا۔ لیکن جس حد تک یہ طبقہ خود اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لائق بنتا جاتا ہے، اسی حد تک وہ اپنے کو خود اپنی پارٹی کی شکل میں منظم کرتا ہے اور سرمایہ داروں کے نہیں بلکہ خود اپنے نمائندے چنتا ہے۔ ریاست میں وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور نہ کچھ ہو سکتی ہے۔ لیکن اتنا کافی ہے۔ جس دن عام رائے دہندگی کا تھرما میٹر بتلائے گا کہ مزدوروں میں ابال آنے والا ہے، اس دن مزدور اور سرمایہ دار دونوں کو معلوم ہو جائے گا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

غرضیکہ ریاست ازل سے نہیں چلی آ رہی ہے۔ ایسے بھی سماج ہوئے ہیں جنہوں نے ریاست کے بغیر اپنا کام چلایا اور ان میں ریاست اور ریاستی اقتدار کا تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اقتصادی نشوونما کی ایک خاص منزل پر سماج لازمی طور پر طبقوں میں بٹ گیا اور اس تقسیم کی وجہ سے ریاست کا وجود ضروری ہو گیا۔  اب ہم تیزی سے پیداوار کی نشوونما کی اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں ان طبقوں کا زندہ رہنا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں رہے گا بلکہ پیداوار کے راستے میں ایک رکاوٹ بن جائے گا۔ تب وہ اتنے ہی لازمی طور پر مٹ جائیں گے جتنے لازمی طور پر وہ پہلے کے ایک دور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے مٹنے کے ساتھ ساتھ ریاست بھی لازمی طور پر مٹ جائے گی۔ جو سماج مال پیدا کرنے والوں کے آزاد اور مساوی تعاون کی بنیاد پر پیداوار کو منظم کرے گا وہ سماج ریاست کی پوری مشین کو اٹھا کر وہاں رکھ دے گا جہاں تب اس کا رکھا جانا زیب دے گا، یعنی وہ ریاست کو ہاتھ کے چرخے اور کانسی کی کلہاڑی کی طرح آثار قدیمہ کے عجائب گھر میں رکھ آئے گا۔

اس طرح مذکورہ بالا تجزیہ بتلاتا ہے کہ تمدن سماج کے ارتقا کی وہ منزل ہے جس میں محنت کی تقسیم، اس کی بدولت افراد کے درمیان ہونے والا تبادلہ اور ان دونوں چیزوں کو ملانے والی جنس تبادلہ کی پیداوار اپنے ارتقا کی آخری حد پر پہنچ جاتی ہے اور اب تک کے پورے سماج میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے۔

سماج کے تمام سابقہ دوروں میں عمل پیداوار بنیادی پور پر اجتماعی تھا اور اسی طرح استعمال کے سامان کو چھوٹی یا بڑی قدیم کمیونسٹی برادریوں میں سیدھے سیدھے بانٹ لیا جاتا تھا۔ یہ ساجھے کی پیداوار نہایت ہی محدود دائرے کے اندر ہوتی ہو گی لیکن ساتھ ہی اس میں پیدا کرنے والے لوگ اپنے عمل پیداوار اور پیداوار دونوں کے مالک ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی پیداوار کا کیا ہونا ہے۔ وہ اسے خود خرچ کرتے تھے۔ وہ کبھی ان کے ہاتھوں سے دور نہیں جاتی تھی۔ جب تک اس بنیاد پر پیداوار جاری رہی تب تک وہ پیدا کرے والوں کے قابو سے باہر نہیں نکل پائی اور ان کے خلاف ویسی عجیب اور بھوت پریت جیسی قوتوں کو نہیں کھڑا کر سکے جیسا کہ تمدن کے عہد میں باقاعدہ اور لازماً نمودار ہوتی رہتی ہیں۔

لیکن رفتہ رفتہ پیداوار کے اس عمل میں محنت کی تقسیم گھس آئی۔  اس نے پیداوار اور تصرف کی اجتماعی نوعیت کی جڑ کھود ڈالی۔ اس نے افراد کے تصرف کو عام قاعدہ بنا دیا اور اس طرح افراد کے درمیان تبادلے کو جنم دیا۔ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔ رفتہ رفتہ جنس تبادلہ کی پیداوار غالب شکل بن گئی۔

جب جنس تبادلہ کی پیداوار کا رواج ہوا یعنی جب پیداوار اپنے استعمال کے لئے نہیں بلکہ تبادلے کے لئے کی جانے لگی تو لازماً پیداوار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے لگی۔  تبادلے کے دوران پیدا کرنے والا اپنی پیداوار سے الگ ہو جاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا ہوا۔ جیسے ہی زر اور اس کے ساتھ سوداگر مختلف مال پیدا کرنے والوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی کی حیثیت سے گھس آتے ہیں،  تبادلے کا عمل اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، پیداوار کے مال کا حشر اور زیادہ غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ تاجروں کی تعداد بہت ہوتی ہے اور ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ہو تاکہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔ اجناس صرف ایک آدمی سے دوسرے آدمی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ایک منڈی سے دوسری منڈی میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔   اب پیدا کرنے والوں کا اپنی زندگی کے لئے ضروری چیزوں کی کل پیداوار پر کوئی قابو نہیں رہ گیا ہے اور تاجروں کو بھی اس پر قابو حاصل نہیں ہوا ہے۔ مال اور پیداوار اتفاقات کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتے ہیں۔

لیکن اتفاقات باہمی تعلق کا محض ایک سرا ہیں۔  اس کا دوسرا سرا ضرورت کہلاتا ہے۔ فطرت میں جہاں اتفاقات کی بھی حکمرانی معلوم ہوتی ہے، ہم بہت پہلے دکھا چکے ہیں کہ ہر مخصوص شعبے میں ان اتفاقات کے پیچھے ایک ضرورت(جبر)اور باقاعدگی عمل پیرا ہوتی ہے۔ جو چیز فطرت کے لئے صحیح ہے وہ سماج کے لئے بھی صحیح ہے۔ کسی سماجی عمل یا سماجی اعمال کے کسی سلسلے پر انسان کا ذی شعور طریقے سے قابو رکھنا جتنا زیادہ مشکل ہو تا جاتا ہے جتنا زیادہ یہ اعمال انسان کی قدرت سے باہر نکلتے جاتے ہیں،  اتنا ہی زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان اعمال پر محض اتفاقات کی حکمرانی ہے اور اتنا ہی زیادہ ان کے مخصوص اور بنیادی قوانین اتفاقات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے گویا فطری ضرورت کی بدولت ہی ایسا ہوتا ہے۔ جنس تبادلہ کی پیداوار اور تبادلے میں جن اتفاقات کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے، وہ بھی ایسے ہی قانونوں کے ماتحت ہیں۔   الگ الگ مال پیدا کرنے والوں اور تبادلہ کرنے والوں کو یہ قوانین نہایت عجیب اور شروع میں اجنابی اور پر  اسرار قوت کی طرح بھی معلوم ہوتے ہیں جن کی اصلیت کا پتہ لگانے کے لئے بڑی محنت کے ساتھ کھوج اور چھان بین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جنس تبادلہ کی پیداوار کے اقتصادی قانون، پیداوار کی اس شکل کی نشوونما کے ہر دور میں کسی قدر بدل جاتے ہیں۔  لیکن بحیثیت مجموعی تمدن کے پورے عہد میں ان قوانین کا غلبہ رہتا ہے۔ آج بھی پیدا کرنے والے پر پیداوار حادی ہے۔ آج بھی سماج کی کل پیداوار کسی ایسے منصوبے کے مطابق طے ہوتی ہے جو فطرت کی قوتوں کی طرح کام کرتے ہیں اور آخر میں میعادی تجارتی بحرانوں کے طوفانوں کی شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح پیداوار کی نشوونما کے ایک نسبتاً ابتدائی دور میں ہی انسان قوت محنت اس قابل ہو گئی تھی کہ پیدا کرنے والے کی ضروریات زندگی کے لئے جتنا کافی تھا، اس سے کہیں زیادہ پیدا کر سکے۔  اور کس طرح دراصل اسی دور میں پہلی تقسیم محنت اور افراد کے درمیان تبادلہ شروع ہونے لگتا ہے۔ اور پھر اس بڑی”حقیقت”کا انکشاف ہوتے بھی بہت دیر نہیں لگی کہ انسان بھی ایک جنس تبادلہ ہو سکتا ہے اور انسان کو غلام بنا کر انسانی طاقت کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے کام لیا جا سکتا ہے۔ انسان نے ابھی تبادلہ کرنا شروع ہی کیا تھا کہ اس کا بھی تبادلہ کیا جانے لگا۔ آدمی نے چاہا یا نہ چاہا ہو مگر ہوا یہی کہ جو فعال تھا وہ دوسروں کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا۔

غلامی کے ساتھ ساتھ،  جو تمدن کے عہد میں اپنی نشوونما کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، استحصال کرنے والوں اور استحصال کئے جانے والوں میں سماج کی پہلی بڑی تقسیم ہوئی۔  تمدن کے پورے دور میں یہ تقسیم جاری رہی ہے۔ غلامی استحصال کی پہلی شکل تھی، جو قدیم زمانے کی خصوصیت تھی۔ اس کے بعد ازمنہ وسطی میں زرعی غلامی اور موجودہ زمانے میں اجرتی محنت آئی۔ غلامی کی یہ تین بڑی شکلیں ہیں جو تمدن کے تین بڑے ادوار کی خصوصیتیں یہ تھیں ؛ (1)دھات کے بنے ہوئے سکے استعمال ہونے لگے تھے اور اس لئے زر کی شکل میں سرمائے کا، سود اور سود خوری کا رواج بھی ہو چکا تھا۔ (2)پیدا کرنے والوں کے بیچ تاجر درمیانی آدمی کا کام کرنے لگے تھے۔ (3)زمین پر افراد کی نجی ملکیت قائم ہو گئی تھی اور رہن کا رواج ہو چکا تھا۔ (4)پیداوار کی مروجہ شکل غلاموں کی محنت تھی۔ تمدن کے عہد سے مطابقت رکھنے والی خاندان کی شکل جو اس عہد میں یقینی طور پر مروجہ شکل بن چکی تھی، یک زوجگی ہے جس میں عورت پر مرد کا غلبہ ہوتا ہے اور الگ الگ ہر خاندان سماج کی اقتصادی اکائی ہوتا ہے۔ متمدن سماج کو باندھ کر رکھنے والی قوت ریاست ہے، جو ہر نمائندہ عہد میں محض حکمراں طبقے کی ریاست ہوتی ہے اور جو بنیادی طور پر ہمیشہ مظلوم اور استحصال کئے جانے والے طبقے کو دبا کر رکھنے والی مشین کا کام کرتی ہے۔ تمدن کی دوسری خصوصیتیں یہ ہیں :  سماجی محنت کی پوری تقسیم کی بنیاد کے طور پر شہر اور دیہات میں مستقل تضاد قائم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وصیت ناموں کا رواج ہو جاتا ہے جس کے ذریعے جائیداد کا مالک اپنی موت کے بعد بھی اپنی جائیداد کو جسے چاہے دے سکتا ہے۔ یہ رواج جس نے قدیم گن دستور پر براہ راست کاری ضرب لگائی، سولون کے زمانے تک ایتھنز میں نہیں پاتا جاتا تھا۔ روم میں بہت شروع میں ہی اس کا رواج ہو گیا تھا لیکن ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ کب۔ (6)جرمنوں میں وصیت کو پادریوں نے رواج دیا تاکہ بھولے بھالے خوش عقیدہ جرمن بلا کسی دشواری کے اپنی جائیداد کلیسا کو دے جائیں۔

اس دستور کو اپنی بنیاد بنا کر تمدن نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں جنہیں گن سماج ہرگز انجام نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن ایسا کرنے میں تمدن نے انسان کی اسفل ترین جبلتوں اور جذبات کو اکسا کر ان سے کام لیا اور اس کی تمام دوسری صلاحیتوں کو دبا کر ان جذبات کو بڑھایا۔ تمدن کے روز اول سے آج تک ننگی حرص و ہوس اس کی روح رواں رہی ہے، دولت، زیادہ دولت، اور زیادہ دولت۔ ۔۔ یہی اس کا واحد اور خاص نصب العین رہا ہے۔ مگر وہ بھی سماج کی دولت نہیں بلکہ ذلیل و حقیر فرد کی دولت۔ اگر اس نصب العین کو پورا کرنے کی کوشش کے دوران میں سائنس نے زیادہ سے زیادہ ترقی کی اور فن کے انتہائی عروج کے دور بھی بار بار آتے رہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ دولت بٹورنے میں آج جو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ سائنس اور فن کی ان کامیابیوں کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتی تھی۔

 چونکہ تمدن کی بنیاد ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرے کا استحصال ہے، اس لئے اس کی ساری نشوونما ایک مسلسل تضاد کے دائرے سے ہو کر گزرتی ہے۔ پیداوار میں ترقی کا جو بھی قدم اٹھتا ہے وہ مظلوم طبقے یعنی بہت بڑی اکثریت کی حالت کو اور بدتر بنا دیتا ہے۔ ایک کے لئے جو نعمت ہے، وہ لازمی طور پر دوسرے کے لئے لعنت ہے۔ کسی ایک طبقے کو جب بھی آزادی ملتی ہے تب وہ کسی دوسرے طبقے کے لئے نئی غلامی کی زنجیر بن جاتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثالیں ہمیں مشینوں کے استعمال میں ملتی ہے، جس کے نتیجوں سے آج سبھی لوگ واقف ہیں۔  اور جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں،  بربری لوگوں میں حقوق اور فرائض میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن تمدن نے ایک طبقے کو تقریباً سارے حقوق دے کر اور دوسرے طبقے پر تقریباً ساری ذمے داریوں کا بوجھ لاد کر، حقوق اور فرائض کے فرق اور ان کے تضاد کو اتنا واضح کر دیا ہے کہ جاہل سے جاہل آدمی بھی انہیں سمجھ سکتا ہے۔

لیکن ایسا ہونا نہیں چایئے۔  جو چیز حکمراں طبقے کے لئے اچھی ہے، اسے پورے سماج کے لئے اچھا ہونا چایئے جس کے ساتھ حکمراں طبقہ اپنائیت جتاتا ہے۔ لہٰذا جیسے جیسے تمدن کی ترقی ہوتی ہے، ویسے ویسے اسے ان برائیوں پر جنہیں وہ لازمی طور پر پیدا کرتا ہے، محبت کو پردہ ڈالنا پڑتا ہے، انہیں جھوٹی آرائشوں سے چھپانا پڑتا ہے یا پھر ان کے وجود سے ہی انکار کر دینا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ اسے رسمی منافقت اختیار کرنی پڑتی ہے جو کہ سماج کی قدیم شکلوں میں اور یہاں تک کہ تمدن کی ابتدائی حالتوں میں بھی موجود نہیں تھی، اور آخر میں اس اعلان پر تان ٹوٹتی ہے کہ استحصالی طبقہ مظلوم طبقے کا استحصال محض اور پورے طور پر خود اسی طبقے کی بھلائی کے لئے کرتا ہے، اور اگر مظلوم طبقہ اس صداقت کو نہیں سمجھ پاتا اور یہاں تک کہ بغاوت پر بھی کمر بستہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے محسنوں یعنی استحصال کرنے والوں سے نہایت احسان فراموشی کرتا ہے۔ (7)

اور اب میں آخر میں تمدن پر مارگن کی فیصلہ کن رائے پیش کرتا ہوں :

 "تمدن کے آنے کے بعد سے ملکیت کو اتنا زبردست فروغ ہوا ہے، اس نے اتنی بھانت بھانت کی شکلیں اختیار کی ہیں،  اس کے استعمال میں اتنا اضافہ ہوا ہے، اور اس کے مالکوں کے حق میں اس کا انتظام اتنی عقلمندی سے کیا گیا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک ایسی طاقت بن گئی ہے جس کو قابو میں رکھنا نا ممکن ہے۔ انسانی ذہن خو د اپنی تخلیق کے سامنے حیرت زدہ کھڑا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایسا وقت ضرور آئے گا جب انسان کی عقل ملکیت کی ریاست حفاظت اجرت ہے، اس کے ساتھ اس کے تعلق کو متعین اور مالکوں کے فرائض اور ان کے حقوق کی حدود کو واضح کر دے گی۔ سماج کے مفاد فرد کے مفاد سے بالاتر ہیں اور دونوں میں صحیح تعلق اور ہم آہنگی قائم کرنی چاہئے۔  اگر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ترقی کے قانون کو جافی و ساری رہنا ہے تو انسانیت کا آخری نصب العین محض ملکیت بٹورنا نہیں ہو سکتا۔  تمدن کے شروع ہونے سے لے کر اب تک جو زمانہ گزرا ہے، وہ انسان کے پورے ماضی کا محض ایک ٹکڑا ہے اور جو زمانہ آئندہ آنے والا ہے، اس کا بھی محض ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ جس سماج کا مقصد و منتہا ملکیت بٹورنا ہو، اس کا انجام یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا شیرازہ منتشر ہو جائے کیونکہ اس سماج کے اندر خود تخریب کے عناصر پوشیدہ ہیں۔  تجربہ، عقلمندی اور علم سماج کی جس اعلیٰ سطح کی طرف برابر اشارہ کر رہے ہیں،  وہ ایسی سطح ہو گی کہ حکومت میں جمہوریت ہو، سماج میں بھائی چارہ ہو، حقوق اور منصب میں برابری ہو اور تعلیم عام ہو۔ اس سماج میں قدیم گنوں کی آزادی،  مساوات اور بھائی چارے کو زیادہ اعلیٰ شکل میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔("مارگن، "قدیم سماج”صفحہ (8)-(552

اس کتاب کو اینگز نے مارچ۔ 26مئی1884میں لکھا تھا۔  سب سے پہلے ایک علیحدہ کتاب کے طور پر یہ 1884میں زیورچ سے شائع ہوئی تھی۔

حوالہ جات

1۔ خاص کر امریکہ میں شمال مغربی ساحل پر یہی حالت تھی(دیکھئے بینکرافٹ)۔ جزائر کوئین چارلٹ کے ہائید اس لوگوں میں تو یہ حالت تھی کہ بعض گھرانوں میں ایک چھت کے نیچے سات سو افراد تک اکٹھے رہتے تھے۔ نوتکا لوگوں میں پورے کے پورے قبیلے ایک چھت کے نیچے رہتے تھے۔

2۔ ملاحظہ ہو”مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد9۔ صفحات(-153-154اایڈیٹر)

3۔ مولئیر کے ڈرامے "جارج دیندن”سے۔(ایڈیٹر)

4۔ ایتھنز میں غلاموں کی تعداد جاننے کے لئے دیکھئے اس کتاب کامتعلقہ باب۔ کورنتھ شہر کے عروج کے زمانے میں وہاں غلاموں تعداد 460000اور ایجنہ میں 470000تھی۔  دونوں شہروں میں غلاموں کی تعداد آزاد شہریوں کی تعداد کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تھی۔

5۔ نیبور پہلا مورخ تھا جو گن نوعیت کے بارے میں کم و بیش صحیح رائے قائم کر سکا تھا۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے دتمارشن(45)خاندانوں کے بارے میں واقفیت تھی حالانکہ میکانکی طریقے سے ان کی نقل کرنے کی وجہ سے اس سے اس نے کئی غلطیاں بھی کر ڈالیں۔

6۔ لاسال کی کتاب "اکتسابی حقوق کا نظام ” کے دوسرے حصے میں اس رائے سے بحث کی گئی ہے کہ روم کا وصیت نامہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود روم۔ وہ لکھتا ہے کہ روم کی تاریخ میں "ایسا کوئی زمانہ نہیں رہا جب وصیت نامے نہ رہے ہوں "بلکہ وصیت نامے ماقبل رومی زمانے میں مردوں کی پرستش کا نتیجہ ہیں۔  پرانے مکتب کے پکے ہیگل والوں کی طرح لاسال نے رومن قانون کی دفعات کی بنیاد، رومیوں کے سماجی حالات کو نہیں بنایا بلکہ ارادے کے "نظری تصور "کو قرار دیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس غیر تاریخی خیال کا حامی بن گیا۔ لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ اسی کتاب میں اسی نظری تصور کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ رومی وراثت کے نظام میں جائیداد کا منتقل ہونا ایک ثانوی حیثیت کی چیز ہے۔ لاسال نہ صرف رومی قانون ساز کی خوش فہمیوں پر عقیدہ رکھتا ہے اور خاص کر پہلے کے زمانے کے ماہرین قانون کی خوش فہمیوں پر، بلکہ اس معاملے میں وہ ان سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔

7۔ شروع میں میرا ارادہ تھا کہ تمدن کی جو شاندار تنقید فورئے کی تصنیفات میں بکھری پڑی ہے، اسے میں مارگن کی اور اپنی تنقید کے ساتھ ساتھ پیش کروں۔   لیکن بدقسمتی سے میں اس کے لئے وقت نہیں نکال سکتا۔ میں صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ فورئے اسی وقت سے یک زوجگی اور زمین کی ملکیت کو تمدن کی اصلی خصوصیت مانتا تھا اور اس نے تمدن کو غریبوں کے خلاف امیروں کی جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تصنیفوں میں اس حقیقت کو بھی گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ اس طرح کے سبھی نامکمل سماجوں میں جن میں باہمی متضاد مفادوں کی بدولت پھوٹ پڑ چکی ہے، الگ الگ خاندان (les familles incoherentes(اقتصادی اکائی ہوتے ہیں۔

8۔ مزید ملاحظہ ہو”مارکس اور اینگز کی دستاویزات”جلد9، صفحات(-56-57ایڈیٹر)

__________________________________________________

تشریحی نوٹ

1۔ "خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز”یہ کتاب مارکس ازم کی بنیادی تصنیفوں میں شمار ہوتی ہے۔ اینگلز نے اس تحریر میں علمی تجزیہ کر کے دکھایا ہے کہ انسان ترقی اور نشوونما کے کن کن مرحلوں سے گزر کر یہاں تک پہنچا، بالکل شروع کی سماجی حالت کیا تھی، اس کا ڈھانچہ پھیلتے پھیلتے کیونکر وہ ایسے طبقاتی سماج میں ڈھل گیا جس کی جڑ بنیاد ذاتی ملکیت پر ہے، طبقات میں بٹے ہوئے اس سماج کی کیا خاصیتیں اور خصوصیتیں ہیں،  مختلف سماجی معاشی بناوٹوں میں خاندانی رشتوں مے کیا کیا رنگ اختیار کئے، ریاست کی شروعات کیسے ہوئی اور اس کی اصلیت کیا ہے، ان تمام مرحلوں کو وضاحت کے ساتھ پیش کر کے اینگلز نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ بے طبقہ کمیونسٹ سماج کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوتے ہی ریاست کا دم توڑ دینا تاریخ کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے۔

یہ کتاب اینگلز نے اختتام مارچ 1884سے اختتام مئی تک کے دو مہینوں میں لکھ کر تمام کر دی تھی۔ مارکس کے انتقال کے بعد ان کے مسودوں کی چھان بین کرتے وقت اینگلز کو ترقی پسند امریکی عالم مارگن کی تصنیف "قدیم سماج”کا تفصیلی خلاصہ ملا جسے مارکس نے 1880- 81میں ترتیب دیا تھا اور اس پر جابجا حاشیے اور تنقیدی نوٹ بڑھائے تھے۔ اس کے علاوہ مارکس نے دوسرے ذرائع اور تحقیقات سے بھی کام لیا تھا۔ اینگلز نے جب یہ خلاصہ پڑھا اور دیکھ لیا کہ انسانی تاریخ کا جو مادی تصور ان دونوں نے قائم کیا تھا اور بالکل ابتدائی سماج کے متعلق جو نظریے بنائے تھے، ان کو مارگن کی تحقیقات سے تائید ملتی ہے تو اس نے ضروری سمجھا کہ خاس اس موضوع پر ایک تصنیف ہونی چائیے، جس میں مارکس کے حاشیوں اور تنقیدوں سے پوری طرح مدد لی جائے اور خود مارگن کی کتاب میں جو علمی تحقیقاتی مواد موجود ہے، جو نتیجے نکالے گئے ہیں،  ان میں سے بھی بعض کو کام میں لایا جائے۔ اینگلز کی نظر میں یہ کام”ایک حد تک مارکس کی وصیت کی تعمیل کرنا تھا۔ اینگلز نے اس موضو ع پر قلم اٹھایا تو یونان اور روم کی تاریخ پر، قدیم آئرلینڈ،  قدیم جرمنوں وغیرہ کی تاریخ پر جتنی تحقیقات وہ خود کر چکا تھا، اس کا بے شمار مواداور طرح طرح کے علمی نکات بھی اسی میں ملا لئے(ملاحظہ ہو اینگلز کا مضمون "مارکہ”، "قدیم جرمنوں کی تاریخ "اور "فرینکوں کا دور”والے مضامین)۔

بالکل ابتدائی سماج کی تاریخ کے متعلق اینگلز کے پاس اتنا کچھ علمی سرو سامان جمع ہو چکا تھا کہ 1890میں اس نے اپنی کتاب کے چوتھے ایڈیشن کو نئے اضافوں کے ساتھ شائع کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ اس عرصے میں نئی تحریریں بھی اس کی نظر سے گزریں،  خاص کر روسی عالم کوالیفسکی کی علمی تحقیقات۔  تیاری کے دوران اینگلز نے پہلے ایڈیشن کی عبارت میں جا بجا ترمیمیں اور اضافے کر دیئے، خاص کر خاندان والے بات میں بہت کچھ تازہ معلومات بھی بڑھا دیں۔

یہ چوتھا ایڈیشن اشٹوٹ گارٹ سے 1891کے آخر میں شائع ہوا اور اس کے بعد ترمیم و اضافے کی نوبت نہیں آئی۔

2۔ "Contemporanul” "(معاصر)”اشتراکی خیالات کا ایک رسالہ جو رومانیاتی زبان میں یاسی کے مقام سے 1881سے1890تک نکلتا رہا۔

3۔ اینگلز نے1888کے اگست ستمبر میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کناڈا کا سفر کیا تھا۔

4۔ وائیکنگ۔ اسکینڈی نیویا کے ان بحری قزاقوں اور سمندری غوطہ ماروں کا مشہور لقب جو آٹھویں سے گیارہویں صدی کے وسط تک سمندر میں اور یورپ کے ساحلوں پر باقاعدہ حملے کر کے لوٹ مار کیا کرتے تھے۔ بحراوقیانوس پار کر کے انہوں نے امریکہ تک غارت گری جاری رکھی۔

5۔ مارکس کا یہ خط ہم تک نہیں پہنچا۔ اینگلز نے 11اپریل 1884کو کاؤسکی کے نام جو خط لکھا ہے وہاں اس کا ذکر ہے۔

6۔ یہاں اشارہ ہے مشہور نغمہ نگار واگنر کے اوپیرا”نی بیلونگ کا گیت”کی بنیاد پر ترتیب دیا تھا۔

7۔ "ایڈا”اور”آگسدریکا”۔ ان داستانوں،   طلسمی افسانوں اور گیتوں کا مجموعہ جو اسکینڈی نیویا والوں میں مقبول تھے۔

8۔ اسکینڈی نیویا کی دیومالا میں دیوتاؤں کے دو گروہ بتائے جاتے ہیں۔ "آسا اور وانا۔ "اینگلنگ کی رزمیہ داستان۔ ناروے کے شاہنامے کی کتاب اول”زمانہ قدیم سے 12ویں صدی تک(آئس لینڈ کے شاعر اسنوری استور لوسن کی تصنیف ہے۔

9۔ یہاں ذکر ہے شادی بیاہ کے ان طبقوں یا گروہوں کا جن میں آسٹریلیا کے زیادہ تر قبیلے بٹے ہوئے تھے۔ ایک گروہ کے مرد دوسری جاتی کے کسی خاص مقررہ گوت میں ہی شادی بیاہ کر سکتے تھے اور قبیلے میں اس قسم کے چار سے آٹھ تک گوت ہوا کرتے تھے۔

10۔ Saturnalia۔ روم قدیم میں مریخ (Saturn(دیوتا کا سالانہ میلہ جو کھیتوں کی کٹائی بوائی سے فرصت پانے کے بعد دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ میلے کے دنوں میں عورتوں مردوں کو سب طرح کی پوری آزادی ہوتی تھی۔ اسی لئے "ساترنالی "لفظ کے معنی ہی ہو گئے رنگ رلیاں منانے کی پوری چھوٹ۔

11۔ حوالے کے لئے ملاحظہ ہو مارگن کی کتاب(” Ancient Society” "قدیم سماج("لندن 1877صفحات465.466 اس کے علاوہ "مارکس اور اینگلز کی دستاویزات "جلد 9صفحہ-29

12۔ مارگن کی اسی کتاب کا صفحہ 470اور دوسرے حوالے کا صفحہ -31

13۔ یہاں روسی عالم کوالیفسکی کی تصنیف "بالکل ابتدائی حقوق، حصہ اول گن، قرابت داری۔ "ماسکو، 1886کا حوالہ ہے جس نے روس میں خاندانی برادری کے سلسلے میں اردانسکی (1875)اور ایفیمنکو(1878)کے جمع کئے ہوئے بیانات پر اپنے بیان کی بنیاد رکھی ہے۔

14۔ یاروسلاف کے "پراود”کا مطلب ہے "روسی پراودا "کی سب سے پرانی اشاعت کا پہلا حصہ۔  یہ روس قدیم کے قوانین کا مجموعہ ہے جس میں گیارہویں بارہویں صدی کے وہ روسی قانون جمع کئے گئے ہیں جو اس زمانے میں رواج عام میں تھے اور جن سے تب کی معاشی اور جماعتی زندگی کی ایک جھلک ملتی ہے۔

دال میشین قوانین۔ یہ قونین کا مجموعہ جو 15ویں سے17صدی تک پولیتز(دال میشیہ کے ایک علاقے)میں رائج تھا۔ یہ کتاب”politz Statue”کے نام سے مشہور ہے۔

15۔ Calpullis۔ جب اسپین والوں نے میکسیکو فتح کیا تو وہاں کے ریڈ انڈینوں میں ایسی خاندانی برادریاں قائم تھیں۔  ایک مورث اعلیٰ کی اولاد سے جو خاندانی برادری (calpulli)بنتی وہ زمین کے ایک حصے کی مشترکہ مالک ہوتی، مل کر محنت کرتی، نہ اس حق وراثت سے کسی کو بے دخل کیا جا سکتا تھا، نہ اس کی تقسیم کی جاتی تھی۔

16۔("Das Ausland.۔ "بدیس("۔ یہ ایک جرمن رسالہ تھا جس میں جغرافیہ،  علم الا قوام اور نیچرل سائنس کے مضامین نکلتے تھے۔ 1828سے1893تک نکلتا رہا۔ 1873سے اشٹوٹ گارٹ مقام اشاعت بن گیا۔

17۔ ضابطہ دیوانی(Civil Code(کی دفعہ 230کی طرف اشارہ ہے۔

18۔ اسپارٹیاٹیز (Spartiates 0۔ قدیم اسپارٹا کے پورے شہرے حقوق رکھنے والے۔ ایلوٹ (Hillots)ّ۔ قسیم اسپارٹا کے وہ شہری، جنہیں حقوق حاصل نہ تھے۔ یہ زمین سے وابستہ تھے اور زمین کے مالک اسپارٹیاٹیزوں کو آمدنی کا ایک مقررہ حصہ دینے کے پابند۔

19۔ اریسطوفینس”عورتیں فیسمو فوری کے تیوہارمیں۔  "

20۔ ہائروڈیول۔ یونان قدیم اور اس کے ماتحت علاقوں میں مندروں کی خدمت پر مامور رہنے والے غلام اور کنیزیں۔   اکثر مقامت پر، خاص کر مشرق قریب کے شہروں میں اور کورنتھ میں یہ کنیزیں دیوداسی بن کر عام استعمال کے لئے وقف ہو جاتی تھیں۔

21۔ "گدرون”۔ 13ویں صدی کی جرمن رزمیہ نظم۔

22۔ یہاں 1619-21کی ان جنگوں کی طرف اشارہ ہے جب اسپینی حملہ آوروں نے میکسیکو فتح کیا۔

23۔ L.H. Morgan. ” Ancient Society”, London , 1877,p. 115.

24۔ "غیر جانب دار قوم(Neutral Nations)۔ 17ویں صدی میں ایری جھیل کے شمالی ساحل پر آباد کئی ریڈ انڈین قبیلوں نے، جو ایرو کواس لوگوں کے قرابت دار تھے، مل کر ایک جنگی اتحاد قائم کیا تھا۔ فرانسیسی آباد کاروں نے اس اتحاد کو یہ نام اس لئے دیا کہ جب تک ہرون اور ایرو کواس قبیلوں میں جنگل چلتی رہی۔  یہ لوگ بالکل غیر جانب دار رہے اور "نیو ٹرل”کہلائے۔

25۔ یہاں مصنف نے زولو قبیلے کی جنگ آزادی کی طرف اشارہ کیا ہے جو 1879سے 1887تک انگریز نو آباد کاروں کے مقابلے پر چلتی رہی۔

نوبین والوں،  عربوں اور دوسرے سو ڈانی قبیلوں نے اپنی زادی کے لئے جو عام بغاوت برپا کی وہ محمد احمد(مہدی سوڈانی(کی سرکردگی میں 1881سے 1884تک چلتی رہی۔ اسی شورش کے زمانے میں سوڈان کی ایک باقاعدہ متحدہ ریاست ابھر آئی۔  کئی برس بعد 1899میں انگریزوں کا بس چلا اور انہوں نے سوڈان فتح کر لیا۔

26۔ مطلب ہے(meteki غیر ملکی)لوگوں سے جو اٹیکا میں مستقل طور سے رہ پڑے تھے۔ آزاد رہ کر بھی انہیں ایتھنز کے شہری حقوق حاصل نہیں تھے۔ یہ لوگ بیشتر تجارت اور حرفت میں لگے ہوئے تھے، انہیں "سرپرستی”کے نام پر ایک خاص ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ پورے حقوق رکھنے والے شہریوں کی طرف سے اس سرپرستی کی بدولت وہ انتظامی محکمے تک رسائی پا سکتے تھے۔

27ْ۔ بارہ جدول والے قانون۔ پانچویں صدی قبل مسیح کے وسط میں یہ قانون بارہ جدولوں پر لکھے ہوئے تھے اور ان کے ذریعے روم قدیم کی آبادی کے مختلف طبقوں کے حقوق مقرر تھے۔ پلے بین (plebeian)آبادی نے پتریشین (patricians(کے خلاف جنگ کی تو اس کا نتیجہ ان قانونوں کی شکل میں نکلا۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ روم قدیم کے سماج میں صاحب جائیداد، صاحب حیثیت حصہ آبادی،  غلامی اور غلام داری ریاست کا اٹھان کیسے ہوا اور جن مرحلوں سے گزرا۔

28۔ پیونگ جنگ(پیونی جنگیں ّ)روم اور کارتھیج کی قدیم غلام دار بڑی ریاستوں میں جنگی ہوتی ہیں تاکہ بحر روم کے مغربی علاقے میں اپنا اقتدار قائم کیا جائے، نئے علاقے چھینے جائیں اور غلام داری اپنے ہاتھ میں لی جائے۔ دوسری پیونک جنگ 218سے 201ق م تک سترہ سال جاری رہی اور کارتھیج کی مکمل شکست پر تمام ہوئی۔

29۔ انگریزوں نے ویلز (Wales(پر 1283میں فتح کر لیا تھا، تاہم اس کی خود مختاری (Autonomy)بر قرار رہی۔ 16ویں صدی کے وسط میں اس علاقے کو پوری طرح انگلینڈ میں ملا لیا گیا۔

30۔ 1869-70میں اینگز نے ایک بڑا تصنیفی کام اپنے ہاتھ میں لیا تھا آئرلینڈ کی تاریخ لکھنے کا،  لیکن وہ مکمل نہ ہو سکا۔ کیلٹ نسل کی تاریخ کا مطالرہ کرتے وقت اینگز نے قدیم ویلز کے قوانین کی بھی چھان بین کر ڈالی۔

31۔ مصنف نے یہاں "ویلز کے قدیم دستور و قوانین”۔

(” Ancient Laws and Institutes of Wales”)کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ جلد اول، صفحہ93، اشاعت -1841

32۔ ستمبر 1891میں اینگز نے اسکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ کی سیاحت کی۔

33۔ 1745-46میں پہاڑی جرگوں نے اسکاٹ لینڈ میں شورش برپا کر دی۔ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے جاگیردار اور بورژوازی اپنے فائدے کے لئے مقامی آبادی کو زمین سے بے دخل کرتے جا رہے تھے۔ یہ اس کے خلاف غصہ تھا جو پہاڑیوں کی بغاوت کچلی گئی تو اسکاٹ لینڈ کے پہاڑیوں میں جرگوں کا نظام بھی ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہو گیا اور زمین پر خاندان کی پشیتنی مشترکہ ملکیت بچے کھچے آثار مٹا دیئے گئے۔ اسکاچ کسان کی زمین سے بے دخلی کی رفتار تیز ہو گئی۔،  گن کی عدالت منسوخ کر دی گئی اور بعض پشتینی رواجوں کی ممانعت ہو گئی۔

34۔ L.H.Morgan.”Ancient Soceity”, London, 1877, p.357-358.

35۔ "المانی قانون”۔ جرمنی میں المانی قبیلوں کی اس متحدہ تنظیم کے قوانین کا مجموعہ جو پانچویں صدی سے آجکل کے الزاس علاقے، مشرقی سوئٹزرلینڈ،  اور جنوب مغربی جرمنی کے علاقوں پر حاوی تھا۔ یہ قوانین چھٹی صدی کے آخر اور ساتویں صدی کے اول اور آٹھویں صدی کے زمانے میں رائج تھے۔ یہاں اینگز نے اس کی دفعہ 81کا حوالہ دیا ہے۔

36۔ "ہلدے براند کا گیت”۔ آٹھویں صدی کی قدیم رزمیہ جرمن شاعری کی باقیات میں سے ہے جو نامکمل صورت میں صرف ٹکڑوں میں محفوظ رہ گئی ہے۔

37۔ جرمن اور گال قبیلوں سوی لئس کی رہنمائی میں روم کے اقتدار کے خلاف 69-70میں(اور بعض تاریخوں کے مطابق 69-71میں )بغاوت کی تھی جو گال کے بیشتر حصوں میں اور روم کے ماتحت جرمن صوبوں میں آگ کی طرھ پھیل گئی۔ اندیشہ تھا کہ یہ علاقے سلطنت روما کے ہاتھ سے نکل جائیں گے، لیکن باغیوں کو شکست ہوئی اور انہیں مجبور ہو کر روم سے صلح کرنی پڑی۔

38۔ "Codex Laureshamensis”۔ لارش خانقاہ کے خاص حقوق اور وقف ناموں کی نقلوں کا مجموعہ جو بارہویں صدی میں ترتیب کیا گیا۔ یہ آٹھویں نویں صدی میں کاشتکاری اور زمینداری کی تاریخ معلوم کرنے کے لئے نہایت کارآمد تاریخی دستاویز ہے۔

39۔ اینگز کا مطلب یہاں جرمن قوم کی مقدس رومن شہنشاہیت سے ہے جو 962میں قائم ہوئی تھی۔ اٹلی کے ایک حصے اور جرمنی کے تمام علاقے پر پھیلی ہوئی تھی۔ آگے چل کر اسی سلطنت میں سرزمین فرانس کا کچھ حصہ،  چیک،  آسٹریا،  نیدرلینڈ،  سوئٹزرلینڈ اور دوسرے ملک بھی شامل ہو گئے۔ یہ شہنشاہیت باقاعدہ کوئی مرکزی ریاست نہ تھی بلکہ الگ الگ رجواڑوں اور آزاد شہروں کا ڈھیلا سا جوڑ تھا، جو شہنشاہ کے اعلیٰ اختیار کو زبانی تسلیم کرتے تھے۔ 1806میں جب فرانس کے مقابلے میں جرمن شاہی خاندان گا بسبورگ کو شکست ہوئی اور انہیں مجبور ہر کر مقدس رومن سلطنت کی شہنشاہی سے انکار کرنا پڑا تو اس سلطنت کا وجود ختم ہو گیا۔

40۔ بینی فس (beneficium)یا حین حیات معافی کی زمین۔ آٹھویں صدی کے اول نصف میں اس کا عام رواج تھا کہ فرینک سرکار کی طرف سے کاشتکاروں سمیت زندگی بھر استعمال کے لئے زمینیں جاگیریں دی جاتی تھیں اور اس کے عوض انہیں کوئی مقررہ سرکاری خدمت، اکثر فوجی خدمت انجام دینی ہوتی تھی۔  حین حیات معافی کی زمینوں کے اس دستور سے زمینیں موروثی ہوتی چلی گئیں،  جاگیرداروں،   خصوصاً چھوٹے اور درمیانی امیروں اور درباریوں کا طبقہ ابھرا، عام کسانوں کی زرعی غلامی بڑھی،  پشیتنی کسان غلامی اور پشیتنی امارت کے طبقے الگ الگ بن گئے۔

41۔ گاؤ کائنٹ(Gaugrafen)۔ فرینک ریاست میں خاص شاہی منصب دار، جنہیں صوبہ داریاں سپرد ہوتی تھیں۔  وہ کچہری بھی کرتے تھے، ٹیکس بھی اگھاتے تھے اور مقررہ فوج بھی وقت ضرورت کے لئے تیار رکھتے تھے۔  اس خدمت کے عوض انہیں اس صوبے کے شاہی محاصل میں سے ایک تہائی اور انعام کی خاص جاگیر بادشاہ کی طرف دی جاتی تھی۔ شروع میں بادشاہ کی طرف سے ان کا تقرر ہوتا رہا، پھر رفتہ رفتہ وہ منصب داروں سے والیان ریاست بن بیٹھے اور اختیارات خود سنبھالنے لگے۔ 877 کے بعد سے، جب کاؤنٹ کا باقاعدہ موروثی عہدہ مان لیا گیا تو وہ بالکل ہی اپنی اپنی علاقوں کے مختار کل ہو گئے۔

42۔ انگارئے۔ سلطنت روما کی طرف سے باشندے پابند تھے کہ وہ سرکاری بار برداری کے لئے گھوڑے اور قلی کی بیگار بھرا کریں۔  آگے چل کے یہ سرکاری بیگار پھیلتے پھیلتے رعایا پر بھاری بوجھ بن گئی۔

43۔ "سرپرستی(commendation("۔ یورپ میں آٹھویں نویں صدی سے یہ عام رواج تھا کہ کسان چند مقررہ شرائط پر(مثلاً فوجی خدمات بجا لانے، عارضی طور پر قطعہ اراضی رہن رکھوانے کے عوض(بڑے جاگیردار کی "سرپرستی”میں آ جاتا تھا، بڑے کی "سرپرستی۔”میں رہنے والے کی قانونی حیثیت کوcommendations (patonage_(کہتے تھے۔ اکثر کسانوں کو بہ مجبوری اس۔ "سرپرستی”کا سہارا لینا پڑتا،  وہ بڑے جاگیرداروں کے شکنجے میں پڑتے جاتے تھے۔ اس طرح غلامی در غلامی کی بدولت جاگیرداری بندھن مضبوط ہوتے چلے گئے۔

44۔ 1066میں ہیسٹینگز کی لڑائی۔ نارمنڈی کے والی ریاست و لہلم کی فوج نے انگلینڈ میں اتر کر اینگلو سیکسن فوج سے جنگ کی (1066۔ اینگلوسیکسنوں کی فوجی تنظیم میں پرانے وقتوں کا برادری ڈھنگ اور دقیانوسی قسم کے ہتھیار چلے آتے تھے، وہ اس لڑائی میں بری طرح شکست کھا گئے، ان کا بادشاہ ہارولد میدان جنگ میں کام آیا۔ وہلہم انگلینڈ کا بادشاہ بنا اور ولہلم اول فاتح(ولیم فرسٹ دی وکٹر)کے نام سے تخت و تیاج سنبھالا۔

45۔ دتمارشن(Dithmarschen)۔ آج کل کے شلیزوگ گولشٹین کے جنوب مغرب کا ضلع تھا۔ قدیم زمانے میں یہاں سیکسن نسل کے لوگ آباد تھے۔ آٹھویں صدی میں شارلی مین (Charlemange)نے اسے فتح کیا۔  بعد میں کبھی گرجاؤں کی جاگیر میں رہا، کبھی امیروں کی 12ویں صدی کے وسط سے دتمارشن آبادی نے، جس میں زیادہ تر آزاد کسان شامل تھے، رفتہ رفتہ خود مختاری کی طرف قدم بڑھایا۔ اور 13ویں صدی کے شروع سے16ویں صدی کے وسط تک انہوں نے عملی طور پر آزادی حاصل کر لی۔ اس زمانے میں دتمارشن کے علاقے میں کسانوں کی ایسی برادریاں آباد تھیں جو اپنے معاملات کی آپ مختار ہوں۔  ان برادریوں کی بنیاد اکثر حالتوں میں کسانوں کی وہی پرانی موروثی قرابت داری تھی14ویں صدی تک دتمارشن میں اختیار اعلیٰ تمام  آزاد زمینداروں کی پنچایت کے ہاتھ رہتا تھا۔ پھر پنچایت کی جگہ تین چنے ہوئے پنچوں نی لے لی۔ 1559میں ڈچ بادشاہ فریڈرک دوم کی فوج نے اور گولشٹین کے والیان ریاست یوگان اور ایدولف نے مل کر دتمارشن پر چڑھائی کی، اس کی قوت مقابلے توڑ ڈالی اور یہ ضلع فاتحوں نے آپس میں تقسیم کر لیا۔ اس کے بوجود دتمارشن ضلع میں برادری کا نظام،  اور کسی حد تک اپنے معاملات خود فیصل کرنے کا چلن 19ویں صدی کے دوسرے نصف تک چلتا رہا۔

46۔ ملاحظہ ہو فلسفی ہیگل کی تصنیف "فلسفہ حقوق کی بنیادیں۔  "

__________________________________________________

ناموں کا اشاریہ

الف

آردشیر (Artaxerxes)۔ اخیمینید شاہی خاندان کے تین ایرانی بادشاہوں کا نام۔

ارسطائریز (Aristides)(تقریباً540سے567ق۔ م۔ )۔ قدیم یونان کا مدبر اور سپہ سالار۔

ارسطو3840(Aristotle)سے322ق۔ م۔ (قدیم یونانی فلسفی۔ آئڈیلزم اور مادیت کے نظریات کے درمیان مذبذب رہا۔  آقاؤں کے طبقے کا ترجمان۔

ارسطونس (Ariston)(چھٹی صدی ق۔ م۔ )۔  اسپارٹا کا بادشاہ تھا574(سے520ق۔ م۔ تک 9۔ انکسندریدس اور وہ بیک وقت حکمراں تھے۔

اریسطوفینس446((Aristophanes)سے تقریباً385ق۔ م۔ )۔ قدیم یونانی ڈرامہ نگار۔  سیاسی موضوعات پر اس نے کئی طنزیہ طربیے لکھے تھے۔

اسپناس(Espinas(، الفریڈوکٹر (1844-1922)۔ فرانسیسی فلسفی اور ماہر عمرانیات۔  ارتقا کے نظریے کا حامی۔

اسکاٹ(Scott(، والٹر(1771۔ 1832)۔ انگلینڈ کا مشہور ناول نگار۔

اگاسیز (Agassiz(، لوئی ژاں رودولف 1807(سے(1873۔ سوئٹزرلینڈ کا باشندہ۔ اس نے علم حیوانات، ارضیات اور معدوم شدہ حیوانات کے فن پر کئی کتابیں لکھیں۔  وہ اس خیال کا حامی تھا کہ دنیا خدا کی تخلیق ہے اور حادثے غیب سے نازل ہوتے ہیں۔

آگسٹس630(Augustus(ق۔ م۔ سے14عیسوی تک)۔ پہلا رومی شہنشاہ۔

الفیلا((Ulfila or Wulfila(تقریباً311سے(383۔ مغربی گوتھوں کا عیسائی رہبر۔ اس نے گوتھ لوگوں کو عیسائی بنایا۔ گوتھ حروف تہجی کا بانی اور انجیل کا گوتھ زبان میں مترجم۔

امیانس مارسیلینس(ammianus Marcellinus)(تقریباً332سے400تک)۔ روم کے زوال کے دور میں رومی تاریخ کا مصنف۔

اناکریون(Amareon)(چھٹی صدی ق۔ م۔ کے وسط کا زمانہ )۔ قدیم یونان کا عشقیہ شاعر۔

انکسندریدس((Anaxandridas(چھٹی صدی ق۔ م۔ 9۔ 560ق۔ م۔ سے اسپارٹا کا بادشاہ۔  ارسطونس اور وہ بیک وقت حکمراں تھے۔

اودواکر((Odoacer(تقریباً434سے(493۔ جرمن فوجی رہنما، جس نے 476میں روم شہنشاہ کا تختہ الٹ دیا اور اٹلی کی سر زمین پر پہلی”بربری”سلطنت کا بادشاہ بن بیٹھا۔

ایپیئس کلوڈیئس5((appius claudius(ویں صدی قبل مسیح)۔ رومی مدبر۔ روایت۔  کہ وہ جو بارہ جدول والے قونین کہے جاتے ہیں،  ان کے مصنفوں میں ایک یہ بھی تھا۔

ایرمینان((Irminon(سال انتقال قریباً826عیسوی(خانقاہ سین ژرمین دی پرے کا ایبے (812-817)۔

ایسکیلس525((Aeschylus(سے 456ق۔ م۔ تک(قدیم یونانی ڈرامہ نگار۔

اینگز(Engels(، فریڈرک1820(سے(1895۔

ب

باخوفن (Bachofen(یوگان یاکب1815(سے(1887۔ سوئٹزرلینڈ کا ماہر قانون اور مؤرخ۔ بازل میں رومن قانون کا پروفیسر تھا۔ کتاب "مادری حقوق”کا مصنف۔

بسمرک(Bismarck(، اوٹو1815(سے(1898۔ جرمن پرنس۔ ریاستی معاملات میں نمایاں،   پروشیا اور جرمنی کی طرف سے غیر ملکی تعلقات میں سر گرم۔  پروشیا کے تعلقہ داروں کا نمائندہ جو وہاں 1862سے 1871تک منسٹر پر یسڈنٹ تھا۔ بعد میں 1871سے1890تک جرمن سلطنت کا ریخ چانسلر (صدر(رہا۔

بگے (Bugge(، ایزیوس سوفوس 1833(سے(1907۔ ناروے کا باشندہ جس نے قدیم اسکینڈی نیویا کے زبان، داستان اور  ادب پر تبصرہ اور تحقیق کا کام کیا ہے۔

بلائخرودر(Bleichroder(گرساں 1822(سے (1893۔ برلن میں جرمن بینک کا صدر،  پروشیا کی حکومت کے مالی معاملات میں حصہ لیتا تھا اور بسمارک کا مشیر مال اور بینکر تھا۔

بیڈے "تقدس ماب((Bede the Venerable("تقریباً673سے735تک)۔ اینگلو سیکسن عالم اور راہب جس نے تاریخ لکھی ہے۔

بیکر(Becker(، ولہلم ادولف 1796(سے(1846۔ جرمن مؤرخ،  لیپزگ میں کلاسیکی آثار قدیمہ کا پروفیسر تھا۔

بینکرافٹ (Bancroft(، ہیو برٹ ہاؤ1832(سے(1918۔ امریکی ماہر علم الاقوام، شمالی امریکہ کے قبیلوں کا محقق۔

بینگ(Bang(انتون کرستیان1840(سے(1913ناروے کا مشہور مصنف جس نے اسکینڈی نیویا کی فرضی داستانیں جمع کی ہیں اور ناروے میں مسیحیت کی تاریخ لکھی ہے۔

پ

پرسئس212((Perseus(سے166ق۔ م۔ )۔ مقدونیہ کا آخری بادشاہ 179(سے168ق۔ م۔ تک)۔

پروکوپیئس(Procopius(کیساری کا)پانچویں صدی کے آخر میں پیدائش۔ تقریباً562انتقال)۔ بازنطینی مؤرخ۔  بیلیسارئیس کی مہموں میں شریک تھا جس کی روداد”ایرانیوں "ویندالوں گوتھوں سے "یوستی نیان کی جنگوں کی تاریخ ” آٹھ کتابوں میں لکھی ہے۔

پلوتارک((Plutarch(تقریباً46سے تقریباً125عیسوی)۔ یونانی مصنف اور معلم اخلاق، آئڈ یلسٹ فلسفی۔

پلینی گائی سکنڈس 23((Plinius gaius Secundus0سے79عیسوی)۔ رومن عالم جس نے علم فطرت کی تاریخ پر 37کتابیں لکھی ہیں۔

پیسیستراتس((Pisistratus(قریباً600سے527ق۔ م۔ تک)۔ 560سے527ق۔ م۔ تک وقفوں کے ساتھ ایتھنز کا جابر فرماں روا رہا۔

ت

تاسیت (Tacitus(پوبلی کا رنیلی(تقریباً55سے تقریباً120تک زندہ رہا)۔ روم کا عظیم مؤرخ،  جس کی تصانیف "جرمنی”، "تاریخ” "Annals”مشہور ہیں۔

تھیوڈوریک(Theodorich)۔ تین گوتھک بادشاہوں کا نام۔  دو ویسٹگوتھک بادشاہ تھے۔ تھیوڈوریک اول(حکومت کا زمانہ تقریباً418سے451تک(اور تھیوڈوریک دوم(حکومت کا زمانہ تقریباً453سے466تک(اوسٹ گوتھک بادشاہ بھی تھیوڈوریک تھا حکومت کا زمانہ 474سے526تک)۔

تھیوسیڈیدیز((Thycydides(تقریباً460سے تقریباً395ق۔ م۔ تک)۔ قدیم یونان کا زبردست مؤرخ جس نے "پیلو پونین جنگ کی تاریخ”لکھی ہے۔

تھیودریٹس((Theocritus(تیسری صدی مسیح(قدیم یونانی شاعر۔

ٹ

ٹارکوئی نیئس سو پر بس534((Tarquinius Superbus(سے تقریباً509ق۔ م۔ )۔ قدیم روم کانیم افسانوی آخری(ساتواں (بادشاہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ عوامی بغاوت نے اسے جلاوطنی پر مجبور کر دیا تھا۔ بعد میں روم نے ریپبلک کا نظام اختیار کیا۔

ٹائی بیرئس42((Tiberius(ق۔ م۔ سے37عیسوی)۔ روم کا شہنشاہ (14-37)۔

ٹیلر (Tylor(، ایڈورڈ برنیٹ(1917-1832)۔ انگریز ماہر علم الانسان،  ابتدائی تہذیب کا مؤرخ۔

ج

جولیا(Juliuses(رومی شرفا(پیتریشین(کے ایک گن کا نام۔

دیوانی سیئس، ہیلی کار نے سس کا (Dionysius of Halicarnassus)(پہلی صدی ق۔ م۔ پہلی سدی عیسوی)۔ زبردست مقرر اور روم قدیم کا مؤرخ۔

دیکیارکس(Dicaearchus)(چوتھی صدی ق۔ م۔ )۔ قدیم یونانی میورخ سیاست داں اور ماہر جغرافیہ۔  ارسطو کا شاگرد۔

دیمو ستھینی(ز (Demosthenes(384سے322ق۔ م۔ (قدیم یونانی خطیب اور سیاسی معاملات میں نمایاں شخصیت۔

دیودورس سسلی کا((Diodorus of Sicily(پہلی صدی ق۔ م۔ )۔ قدیم یونانی مؤرخ۔ مشرق، یونان اور روم کی تاریخ پر ایک کتاب کا مصنف۔

دیورو دے لہ مال(Durear de La Malle(، ادولف ژول سیزر اوگوست 1777(سے1857)۔ فرانسیسی مؤرخ اور شاعر۔

ڈ

ڈارون(Darwin(، چارلس1809(سے1882تک)۔ شہرہ آفاق انگریزسائنس داں،  جس نے ارتقائے وجود کے نظریے کی بنیاد رکھی۔

ر

رائت(Wright(، اشیر(آرتھر( 1803(سے(1875۔ امریکن مشنری۔ 1831سے1875تک ریڈ انڈین قبیلوں میں زندگی بسر کی اور ان کی زبان کی لغت تیار کی۔

ز

زوریتا (Zurita(، الونسو۔ 16صدی کے وسط میں سینٹرل امریکہ کی نو آبادیوں میں ہسپانوی عہدہ دار۔

ژ

ژیراتیولوں (Giraud. Teulon(، الیکس(پیدائش (1893۔  ابتدائی سماج کا مؤرخ،  جنیوا میں پروفیسر۔

س

سالویانس(Salvianus)(تقریباً390سے تقریباً484تک )۔ مارسیلز کا پادری اور ادیب، جس نے ایک اہم کتاب تصنیف کی "De gubenatione Dei”۔

سرویئس ٹویئس578(( Servius Tullius(سے 534ق۔ م۔ (قدیم روم کا بادشاہ جس کے بارے میں روایت ہے کہ چھٹی صدی قبل مسیح میں حکومت کرتا تھا۔

سکندر اعظم((Alexander of Macedon(الیکسا ندر مقدونیائی، 356ق۔ م۔ سے 323ق۔ م۔ )۔ یونان کا مشہور سپہ سالار اور صاحب تخت و تاج۔

سو سورے (Saussure(، آنری 1829(سے1905 )۔ سوئٹزر لینڈ کا وعالم اور ماہر حیوانات۔

سوگن ہایم(Sugenheim(سیموئل1811(سے1877 )۔ جرمن بورژوا مؤرخ۔

سولون(( Solon(تقریباً 638سے تقریباً558ق۔ م۔ (ایتھنز کا قانون ساز۔  اس نے عام لوگوں کے دباؤ سے کچھ ایسی اصلاحات کی تھیں جن سے قبائلی اشرافیہ کے اختیارات پر ضرب پڑتی تھی۔

سوی لئس (Civilis(جولی(پہلی صدی عیسوی)۔ جرمن قبیلے بتا دین کا رہنما جس میں روما سلطنت کے خلاف جرمن اور گال قبیلوں کی بغاوت کی رہنمائی کی۔

سیزر(Caesar(، گائی جولیس سیزر(زمانہ اندازً100سے44ق۔ م۔ تک)۔ روم کا شہرہ آفاق سپہ سالار،  سیاسی رہنما اور مصنف۔  اس کی تصنیف "گالوں سے جنگ کی روداد”مشہور ہے۔

ش

شارلی مین(( Charlemagne(تقریباً742سے814عیسوی)۔ فرینک کا بادشاہ 768سے (80 شہنشاہ 800(سے(814۔

شومان(Schwmann(، گیورگفیڈرک 1793(سے(1879۔ جرمن، ماہر علم زبان اور مؤرخ، قدیم یونان کے بارے میں کئی کتابوں کا مصنف۔

ف

فرڈیننڈ پنجم (Ferdianand V(کیتھولک 1452(سے(1516۔ کیسٹیل کا بادشاہ(1474۔ 1504(اور حکمراں (1507۔ 1516(اور فرڈینند دوم کے نام سے آراگاں کا بادشاہ(1479.1516)۔

فری من(Freeman(، ایدورڈ آگسٹ (1823.1892)۔ انگریز بورژوا آزاد خیال مؤرخ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر۔

فورئے (Fourier(، شارل 1772(سے(1837۔ فرانس کا زبردست یوٹو پیائی(قیاسی(سوشلسٹ۔

فوسیتل دی کولانژے(Fustel de coulanges(,، نوما دینی1830(سے(1889۔ عہد قدیم اور وسطی زمانے کی فرانس کی تاریخ کا فرانسیسی مؤرخ۔

فے بین (Fabiuses)۔ رومی شرفا(پیتریشین (کے ایک گن کا نام۔

فیسون (Fison(، لاریمر 1832(سے(1907۔ انگریز پادری جس نے فیجی کے جزیرے اور آسٹریلیا میں مشنری کا م کیا۔  آسٹریلیا میں سائنسی تحقیقات کا بانی۔

ک

کلائستھینز(Cleisthenes(ایتھنز کا مدبر۔ 510.507ق۔ م۔ کے دوران اس نے ایسی اصلاحات کی تھیں جن کا مقصد گن نظام کا خا تمہ اور ایتھنز میں غلامی کا نظام قائم کرنا تھا۔

کلوڈیا (Claudia)۔ رومی شرفا(پیتریشین(کے ایک گن کا نام۔

کوالیفسکی، یکسیم میکسیموویچ1851((Kovalevsky Maxim Maximovich(سے (1916۔ روسی ماہر عمرانیات،  مؤرخ اور قانون دان۔ ابتدائی قبائلی تعلقات کے سلسلے میں اپنی تحقیقات کے لئے مشہور ہے۔

کونوف (Cunov(، ہنریخ ولہلم کارک(1862.1936)۔ جرمن سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی میں ترمیمیت کا ایک نظریاتی رہنما۔ علم الا قوام کا عالم،  قدیم سماج کی تاریخ پر کئی کتابوں کا مصنف۔  1880.1890میں مارکسی خیالا ت کی طرف جھکا لیکن بعد میں انحراف کر گیا۔

کوئنک ٹیلیا۔ رومی شرفا(پیتریشین (کے ایک گن کا نام۔

کیووئے (Cuvier(، ژورژ (11769.1832)۔ فرانسیسی عالم فطرت، تقابلی تشریح الاجسام اور معدوم شدہ حیوانات کے علم کا بانی۔ تباہ کن حادثوں میں غیبی اشارہ ہونے کا غیر علمی نظریے اسی نے ایجاد کیا تھا۔

کئے(Kaye(، جان ولیم1814(سے(1876۔ ہندوستان میں انگریزی عہدہ دار۔ اس نے ہندوستان کی قوموں اور قبیلوں کے بارے میں،   افغانستان اور ہندوستان میں انگریزی فوجی کارروائیوں اور معرکوں کے متعلق کئی اہم تصنیفیں چھوڑی ہیں۔

گ

گروٹ (Grote(، جارج 1794(سے(1871۔ انگریز مؤرخ۔ اس نے کئی جلدوں میں "تاریخ یونان’لکھی ہے۔

گریگوری تورس کا (Gregory of Tours(، گیورگی فلورینتسی(تقریباً 540سے تقریباً594تک۔ مسیحی پادری، حدیث کا عالم،  573سے تورس کا اسقف۔ "فرینک لوگوں "کا مؤرخ”معجزوں کی سات کتابوں "کا مصنف۔

گریم(Grimm(یا کب 1775(سے(1873۔ مشہور جرمن ماہر لسانیات اور تہذیب کا مؤرخ۔  جرمانوی زبان و ادب میں اس نے تحقیقات کی ہیں۔

گلیڈسٹن (Gladstone(، ولیم ایوارٹ (1809.1898)۔ مشہور انگریز مدبر، 19ویں صدی کے دوسرے آدھے میں لبرل پارٹی لیڈر رہا۔ 1852سے1866تک دو بار وزیر مالیار اور پھر 1868سے1894تک وقفوں سے چار بار وزیر اعظم رہا۔

گوئیٹے (Goethe(، یوگان والف گانگ(1749.1832)۔ جرمن زبان کا عظیم شاعر،  ادیب اور مفکر۔

گیوس((Gaius(دوسری صدی عیسوی)۔ رومن عالم قانون۔  اس نے رومن قانون پر چند سب سے ابتدائی کتابیں مرتب کی تھیں۔

ل

لاسال (Lassalle(، فرڈیننڈ 1825(سے(1864۔ جرمن چھوٹی بورژوازی کا آدمی،  مضمون نگار اور وکیل۔ رائن صوبے میں 1848.49کی جمہوری تحریک میں شریک ہوا1860.کے بعد والے برسوں میں مزدور تحریک سے مل گیا۔ 1863میں "کل جرمن مزدور یونین”کی بنیاد ڈالنے والوں میں سے تھا۔ پروشیا کے سائے میں جرمنی کو ملا کر ایک ملک کرنے کی تحریک کا حامی جس نے جرمن مزدور تحریک میں موقع پرستی کی ٹیڑھ پیدا کر دی۔

لانگس((Longus(تیسری صدی عیسوی کی ابتدا)۔ یونانی مصنف۔

لانگے (Lange(، کرستیان کونرو لدوگ 1825(سے(1885۔ جرمن ماہر لسانیات۔  روم قدیم کی تاریخ پر اس نے بہت کچھ لکھا ہے۔

لوباک(Lubbock(، جان 1834(سے(1913 1899(میں اسے لارڈ آوبری کا خطاب ملا)۔ انگریز حیاتیات کا عالم،  ڈارون کا پیرو، لسانیات اور علم آثار قدیمہ کا عالم۔

لوگیان((Lucian(تقریبا120سے تقریباً(180۔ قدیم یونانی طنزیہ قسم کی کتابوں کا ادیب، دہریہ۔

لیتورنیو(Letourneau(، شارل ژاں ماری 1831(سے(1902۔ فرانسیسی ماہر عمرانیار اور ماہر علم الا قوام۔

لیتھم(Latham(، رابرٹ گارڈن 1812(سے(1888۔ انگریز طبیب،  لسانیات کا ماہر، علم الا قوام کا عالم، تقابلی علم الا قوام پر متعدد کتابوں کا مصنف۔

لیوتپراند((Liutprand(تقریباً922سے(972۔ کریمونا(شمالی اٹلی (کا پادری، ازمنہ وسطی کا عالم۔ کتاب "انعام”Recompense” کا مصنف۔

لیوی تیتس((Livy Titus(59ق۔ م۔ سے 17عیسوی)۔ رومن مؤرخ "روم کی تاریخ،  شہر کے آغاز سے "کا مصنف۔

م

مارکس (Marx(  (1818-1883)۔   امریکہ کا مشہور عالم، مورخ، جس نے ابتدائی سماج کی تحقیق کی ہے، مادیت کا قائل۔

ماورر (Maureer(گیورگ لدوگ۔  1700سے 1872۔  جرمنی کا ایک مشہور مورخ۔ اس نے قدیم اور وسطیٰ زمانے کے جرمنی میں سماجی نظام کی تحقیق کی ہے۔

مولیئر۔(moliere(، ژاں با تیست۔ 1622-1673۔ فرانس کا عظیم ڈرامہ نگار۔

مومسن(mommsen(، تھیوڈور۔ 1817سے 1903 جرمن مؤرخ رومی تاریخ اور رومن قانون کی تاریخ پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔

میکلینن (mclennan(جان فرگوسن۔ 1872۔ 1881۔ اسکاٹ لینڈ کا بورژو ا سائنس داں،  پیشہ کے لحاظ سے وکیل اور مؤرخ، خاندان اور شادی کے موضوع پر کئی کتابوں کا مصنف ہے۔

مین(Maine(ہنری جارج سامنیر۔ 1822 سے 1888 انگریز ماہر قانون اور مؤرخ قدیم زمانے کے قوانین کی تحقیقات اور چھان بین کی۔

ن

نپولین اول (Napoleon(، بونا پارٹ 1769-1821۔ فرانسیسی سپہ سالار جو 1804 سے 1814 میں فرانس کا شہنشاہ رہا۔

نیارکس(Nearchus(چوتھی صدی ق۔ م۔ سکندر اعظم کا رفیق جنگ، بحری بیڑے کا اعلی سردار تھا۔ ہندوستان کی مہم میں شریک تھا۔ ہندوستان سے میسوپوتا میہ تک سکندر کے معرکوں کاحال اسی نے تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے۔

نیبور (Niebyhr(، بار تھلد گیورگ 1776سے1831جرمن مؤرخ قدیم روم کی تحقیقات کی۔

و

واٹسن (Watson(، جان فاربس 1872 سے 1892۔ انگریز ڈاکٹر۔ ہندوستان پر انگریزی حکومت عہدے دار۔ 1858 سے1879 تک برٹش میوزیم لندن کاڈائریکٹررہا۔ اس نے ہندوستان کے بارے میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔

وارس، (Varus(پبئلس کوئن ٹیلیئس (9عیسوی میں مارا گیا)۔ رومی سیاسی لیڈر اور سپہ سالار۔ جرمنی رومی گور نر جنرل تھا۔ جرمن قبیلوں کی بغاو ت کے دنوں میں مارا گیا۔

واکس متھ (Wechsmuth(، ارنسٹ ولہلم گو تلب 1784 سے 1886۔ جرمن بورژوا مؤرخ۔ لیپزگ میں پروفیسر تھا۔ قدیم زمانے کے حالات اور یورپ کی تاریخ پر کئی کتابیں لکھیں۔

واگنر(Wagner(، رخادر 1813سے 1883۔ جرمن نغمہ نگار۔

والفرام فان اشن باخ(Wolfram von eschenbach(تقربیاً1170۔ تقربیاً1220۔ ازمنہ وسطیٰ کاجرمن شاعر۔

وسٹرمارک (Westermarck(، ایڈورڈالکساندر1862 سے 1939 عمرانیات اور علم الاقوام کا فینی ماہر۔ ہلسنگفرس یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔

ویلید ا(Veleda(پہلی صدی عیسوی۔ بروکترین قبیلے کی چبارن اور پغیمبرنی جس نے روما سلطنت کے خلاف سوی لئس کی رہنمائی میں جرمن اور گال قبیلوں کی بغاوت میں سرگرمی سے شرکت کی۔

وئینر(Weitz(گیورگ 1813سے 1886۔ جرمن، بورژوا نظریے سے ازمنہ وسطیٰ کامؤرخ۔

ھ

ھاوٹ (Howitt(، الفریڈویم 1830  سے 1908۔ آسٹریلین علم الانسان کا ماہر جو ایک انگریزی عہدیدارتھا۔ اس نے آسٹریلیا کے قبائل پر کئی تصانیف چھوڑی ہیں۔

ھشچکے(Huschke(، گیورگ فلپ ایڈورڈ 1801 سے 1886۔ جرمن بورژوا عالم قانون۔ رومن قانون پر کئی کتابوں کامصنف۔

ہومر (Homer)۔ نیم داستانی قدیم یونانی شاعر” ایلیڈ”اور” اوڈیسی ”کامشہور مصنف۔

ھیرود (Herod(73 سے 4ق۔ م۔ تک۔ یہودیوں کابادشاہ 40سے 4ق۔ م۔ تک۔

ھیروڈوٹس (Herodotus(تقربیاً425 ق۔ م۔ قدیم یونانی مؤرخ۔

ھیزلر(Heusler(آندارئیس 1834 سے1921 سوئٹزلینڈ کا بورژ وا ماہرین قانون، سوئس اور جرمن قانون پر کئی کتابوں کامصنف۔

ہیگل (Hegel(، گیورگ ولہلم فریڈرک 1770سے1831 کلاسیکی جرمن فلسفے کی سب سے قد آور شخصیت، معروضی آئڈیلسٹ۔

ی

یاور سلاف عاقل(jaroslav the wise(9780سے 1054۔ کئیف کا بادشاہ 1019 سے 1054 تک۔

یوری پیڈیز(euripides(تقربیاً406 ق۔ م۔ قدیم یونانی ڈرامہ نگار۔

 

ادبی اور افسانوی شخصیتیں

ابراہیم

Abraham

 انجیل کے مطابق یہودیوں کے پیغمبر اعظم

اپولو

Apollo

 قدیم یونان کی دیو مالا میں سورج اور روشنی کا دیوتا اور فنون لطیفہ کا سرپرست

 ا ٓرطس

Argonauts

 قدیم یونان کی دیو مالا میں آگاممنون اور کلینم نسترا کا بیٹا، جس نے اپنی ماں اور اگیس تھس سے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیا۔ ایسکیلس کے المیے ” آرسطیا ” کا ہیرو۔

ارگو ناٹ

Argonauts

قدیم یونان کی دیو مالا میں آگا ممنون کی دیو مالامیں ” ارگو” جہاز کے ملاح جو یونان سے کولخیدا اس لئے روانہ ہوئے تھے کہ سنہر اون حاصل کریں جس کا محافظ اژدھا تھا۔

اکیلیس

Achilles

قدیم یونانی دیو مالا کا سب سے بڑا سورما جس نے ٹرائے کا محاصرہ کیا تھا۔ ہومر کی ڈرامائی نظم "ایلیڈ” کا ایک ہیرو۔

آگاممنون

Agamemmnon

قدیم یونانی دیو مالا میں آرگوس کا داستانی بادشاہ۔ ایلیڈ کا ایک کردار۔ ٹرائے کا محاصرہ کرنے والے یونانیوں کا سردار۔ ایسکلیس کے لکھے ہوئے المیے آرسطیا کا اہم کردار۔

اگیس تھس

Aegisthus

قدیم یونانی دیو مالا میں کلیئم نسترا کا عاشق، جس نے آگاممنون کو قتل کرنے میں حصہ لیا تھا۔ ایسیکلس کے لکھے ہوئے المیے آرسطیا کے پہلے اور دوسرے حصوں کا اہم کردار

آلتھیا

Althea

قدیم یونانی دیو مالا میں تھیسیئس کی لڑکی اور میلیا گیر کی ماں

اونا ناروے کی

Norwegian Ute

قدیم جرمن عوامی رزمیہ نظم اور از منہ وسطیٰ کی نظم گدرون کی ہیروئن۔

اوڈیسئیس

Odyssey

ہومر کی رزمیہ نظموں ایلیڈ اور اوڈیسی کا ہیرو۔ ا تھا کا جزیرے کا پر اسرار بادشاہ،  ٹرائے کی جنگ میں یونان کی فوج کا ایک بہادر، چالاک اور خوش بیان سالار۔

ایتزیل

Etzel

قدیم جرمن رزمیہ شاعری اور از منہ وسطیٰ کی نظم نیبلونگ کا ہیرو اور ہنوں کا بادشاہ۔

ایتھنہ پلاس

Athene Pallas

قدیم یونان کی دیو مالا میں ایک اہم دیوی۔ جنگ کی دیوی، دانش کا نشان اور ایتھنز کی  سرپرست۔

ایر ینیئس

Erinyes

قدیم یونانی دیو مالا میں وہ دیویاں جو گناہوں کی سزا دینے کے لئے بھیجی جاتی تھیں۔  اور جن کے بالوں کے جگہ سانپ ہوتے تھے۔

ایفروڈائٹی

Aphrodite

قدیم یونانی دیو مالا میں عشق اور حسن کی دیوی۔

ایموئیں

Eumaeus

ہومر کی رزمیہ نظم اوڈیسی کا ایک کردار۔ ا تھاکا جزیرے کے بادشاہ اوڈیسیس کے سورماوٗں کی دیکھ بھال کرنے والا۔ وہ بادشاہ کی طویل جلا وطنی میں اس کا وفادار رہا۔

برون ہلدا

Brunhilda

قدیم جرمن رزمیہ شاعری اور ازمنہ وسطیٰ کی نظم نی بیلونگ کا گیت کی ہیروئن۔ آئس لینڈ کی ملکہ اور بعد میں برگنڈیوں کے شاہ گنتھر کی بیوی۔

بوریئڈ

Boreads

قدیم یونانی دیو مالا میں باد شمالی کے دیوتا بورے آس اور شاہ ایتھنز کی بیٹی اور یتھائیا کی اولاد۔

پولینیسئس

Polynices

قدیم یونانی دیومالا میں تھیبیز کے بادشاہ ایڈیپس کا بیٹا۔ اپنے بھائی ایتیو کلیز کے ساھت سلطنت میں حصے دار تھا۔ ڈوئل میں بھائی کو مار ڈالا لیکن خود بھی بھائی کے ہاتھوں مارا گیا۔ ایسکیلس نے اپنے المیے” تھیبیز کے خلاف سات "میں یہ قصہ بیان کیا ہے۔

تھیستیئس

Thestius

قدیم یونانی دیو مالا کے مطابق ائیتولیا میں پلیورون کا مشہور حکمران۔

تھیسئس

Theseus

قدیم یونانی دیومالا کا اہم ہیرو۔ ریاست ایتھنز کا بانی

تیلامون

Telamon

قدیم یونان کی دیو مالا میں ایک ہیرو جس نے ٹرائے کی جنگ میں حصہ لیا۔

تیلی ماکس

Telemachus

ہومر کی رزمیہ نظم ” اوڈیسی ” کا ہیرو، ا تھا کا جزیرے کے فرمانروا اوڈیسیس کا بیٹا۔

تیو کراس

Teucer

ہومر کی رزمیہ نظم "ایلیڈ” کا ہیرو جس نے ٹرائے کی جنگ میں حصہ لیا۔

دافنی

Daphnis

لانگس کے قدیم یونانی ناول "دافنی اور کلوئی” کا ہیرو

دیمو دوکس

Demodocus

ہومر کی رزمیہ "اوڈیسی ” کا ایک کردار، پراسرار بادشاہ الکینوس کے دربار کا اندھا بھاٹ۔

دیندن

Dandin

جارج مولیئر کی طربیہ ” جارج ویندن” کا خاص کردار۔ ایک بے وقوف مالدار کسان کو چالاکی سے دھوکا دے کر ایک شکستہ حال لیکن شرفا سے تعلق رکھنے والی عورت اس سے شادی کر لیتی ہے۔ یہ ہے اس کی کہانی۔

رومولس

Romulus

قدیم یونان کی دیو مالا میں سب سے بڑا دیوتا۔

سف

Sif

قدیم اسکینڈی نیویا کی دیو مالا میں بجلی کی گرج کے دیوتا تھور کی بیوی۔ قدیم اسکینڈی نیویا کی رزمیہ نظم "ایلڈر ایڈا” کی ایک ہیروئن۔

سگفرید

Seigfried

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور از منہ وسطیٰ کی نظم "نی بیلونگ کا گیت”  کا ایک ہیرو۔

سگفرید مورلینڈ

Siegfried of Moorland

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور تیروہوں صدی کی عظیم نظم ” گدرون "کا ہیرو۔ گدرون کا ناکام دولہا۔

سیگبانت آئرلینڈ کا

Sigebant of Ireland

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور ازمنہ وسطیٰ کی عوامی نظم "گدرون” کا ہیرو اور آئر لینڈ کا بادشاہ۔

 فرے یا

Freya

قدیم اسکینڈی نیویا کی دیو مالا مین بار آوری اور محبت کی دیوی۔ قدیم اسکینڈی نیویا کی رزمیہ نظم "ایلڈر ایڈا” Elder Eddaمیں اپنے بھائی فریئر کی بیوی۔

فینیئس

phineus

قدیم یونان کی دیو مالا میں نابینا پیغمبر، جس نے اپنی دوسری بیوی کے اکسانے پر اپنی پہلی بیوی کلیوپیٹرا بورے آس کی بیٹی کی اولاد کو جسمانی اذیتیں پہنچائیں۔  دیوتاؤں نے اسے سزا دی۔

کریم ہلدا

Kriemhild

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور از منہ وسطیٰ کی نظم "نی بیلونگ کا گیت” کی ہیروئن،  برگنڈیوں کے بادشاہ گنتھر کی بہن، سگفرید کی منگیتر اور بیوی، اس کی وفات کے بعد ھنوں کے بادشاہ ایتزیل کی بیگم۔

کلوئی

Chloe

لانگس (دوسری اور تیسری صدی عیسوی(کے قدیم یونانی ناول "دافنی اور کلوئی "کی ہیروئن۔ بیمار عشق گڈرنی۔

کلیتم نسترا

Clytemnestra

آگاممنون کی بیوی۔

کلیو پیٹرا

Cleopatra

قدیم یونان کی دیو مالا میں باد شمالی کے دیوتا بورے آس کی بیٹی

کیسندرا

Cassandra

قدیم یونان کی دیو مالا میں پیغمبرنی، شاہ ٹرائے پری آم کی بیٹی جو ٹرائے کی شکست کے بعد آگاممنون کی لونڈی بنا لی گئی۔ ایسکلیس کے المیے ” آگاممنون” کا ایک کردار۔

گدرون

Gudrun

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور تیرھویں صدی کی عظیم نظم ” گدرون” کی ہیروئن۔ ہیگلنگوں کے بادشاہ ہینیل اور آئر لینڈ کی ہلدا کی بیٹی۔ سیلنیڈ کے ہروگ کی منگیتر۔ اسے اورمانی کے ہارتموت نے تیرہ سال قید میں رکھا لیکن شادی کرنے میں ناکام رہا۔ آخر میں ہروگ نے اسے رہا کر لیا اور وہ اس کی بیوی بن گئی۔

گنٹھر

Gunther

قدیم جرمن رزمیہ شاعری اور از منہ وسطیٰ کی نظم "نی بیلونگ کا گیت” کا ہیرو، برگنڈیوں کا بادشاہ۔

گینی مید

Ganymede

قدیم یونانی دیو مالا میں نوجوان مردانہ حسن کا پیکر۔ دیوتا اسے گرفتار کر کے اولمپس لے گئے او وہاں وہ زیوس کا ساقی بن گیا۔

لوکی

Loki

قدیم اسکیندی نیویا کی دیو مالا میں بدی کا بھوت۔  اور آگ کا دیوتا۔ قدیم اسکیندی نیویا کی رزمیہ نظم "ایلڈرا ایڈا ” کاہیرو۔

موسیٰ

Moses

انجیل کے مطابق پیغمبر اور قانون تصنیف کرنے والے گزرے ہیں۔  انہوں نے ہی یہودیوں کو مصر میں غلامی سے بچایا اور ان کے لئے ضابطے وضع کئے۔

مولیوس

Mulius

ہومر کی رزمیہ نظم ” اوڈیسی” میں ایک کردار۔ نقیب۔

میفستوفلیس

Mephistopheles

گوئتے کی نظم ” فاوست” میں وہ ورغلانے والا شیطان جس کے ہاتھ فاوست نے اپنی روح بیچ ڈالی تھی۔

میلتا

Mylitta

اشتار Ishtarکا قدیم یونانی نام، بابل کی دیو مالا میں محبت اور بار آوری کی دیوی۔

میلیا گیر

Meleager

قدیم یونانی دیو مالا میں شہر کیلیدرون کے داستانی بادشاہ اینیں اور مکہ آلتھیا کا بیٹا۔ اس نے اپنے ماموں قتل کر ڈالے۔

نستر

Nestor

قدیم یونانی دیومالا میں جنگ ٹرائے کا سب سے بزرگ اور دانش مند ہیرو۔

نیوو

Niordhr

قدیم اسکیندی نیویا کی دیو مالا میں بار آوری کا دیوتا۔ قدیم اسکیندی نیویا کی رزمیہ نظم ” ایلڈر ایڈا” کا ہیرو۔

ہادوبراند

Hadubrand

قدیم جرمن رزمیہ نظم "ہلدے براند کا گیت”کا ایک کردار۔ اس نظم کے ہیرو کا بیٹا۔

ہارتموت

Hartmut

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور جرمنی کے از منہ وسطیٰ (تیرہویں صدی(کی نظم "گدرون”کا ہیرو، شاہ اور مانی کا بیٹا اور گدرون کا ناکام عاشق۔

پرقلیس

Herakles

قدیم یونانی دیو مالا کا ایک مقبول ہیرو، اسپورٹ میں ماہر اور بہادر کارناموں کے لئے مشہور۔

ہروگ

Herwig

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور ازمنہ وسطیٰ کی مشہور نظم "گدرون” کی ہیرون، شاہ آئر لینڈ کی بیٹی جو بعد میں ہیگیلنگوں کے بادشاہ ہیتیل کی بیوی بنی۔

ہلدے براند

Hildebrand

قدیم جرمن رزمیہ نظم "ہلدے براند کا گیت” کا ہیرو

ہیتیل

Hettel

قدیم جرمن رزمیہ نظم اور از منہ وسطیٰ کی نظم "گدرون کا ہیرو” ہیگلنگوں کا بادشاہ۔

نسلی گروہوں کے نام

الف

آریا۔ Aryans۔ انیسویں صدی میں یہ اصطلاح وسیع پیمانے پر ان لوگوں کے لئے استعمال کی جاتی تھی جن کا ہند یورپی زبانوں کے گروپ سے تعلق تھا۔

اسپارٹا کے لوگ۔ Ancient Spartans

استی وونی گروپ۔ Ischaevonians, Istavonains۔  جرمن قبیلوں کا ایک خاص گروپ۔ عیسوی دور کے شروع میں وہ رائن دریا کے وسطی اور نشیبی کناروں پر آباد تھے۔ تیسری صدی سے فرینگ کہلانے لگے۔

آسٹریلیا کے باشندے۔ Australian Neroes,۔   آسٹریلیا کے دیسی لوگ۔

اسکاٹس۔ Scots۔ کیلٹ قبیلوں کا ایک گروپ جو قدیم آئر لینڈ میں رہا کرتے تھے۔ پانچویں صدی میں ان میں سے کچھ اس علاقے میں آگئے جو اب اسکاٹ لینڈ ہے۔ نویں صدی میں انہوں نے پکت لوگوں کو اپنا محکوم بنا لیا جو وہاں کے اصلی باشندے تھے۔

اطالوی قبیلے۔ Italic tribes۔ قدیم زمانے میں وہ اپینین جزیرہ نما میں رہتے تھے۔ ان کے دو خاص گروپ لاطینی اور سیلین پر مشتمل تھے۔

آگیلا۔ angilers۔ نخلستان آنگیلا (لیبیاکے شمال میں(کی بربری آبادی۔

المانی لوگ۔ Allemanni۔  جرمن قبیلوں کا ایک گروپ جو تیسری اور چوتھی صدی میں اوڈر اور ایلب دریاؤں کے درمیان کا علاقہ چھوڑ کر دریائے رائن کے بالائی حصے میں آباد ہو گیا اور پھر وہاں سے آہستہ آہستہ اس رقبے میں پھیل گیا جو اب الزاس، مشرقی سوٹزر لینڈ اور جنوب مغربی جرمنی پر مشتمل ہے۔

امریکی انڈین۔ American Indian۔ امریکی مقامی آبادی۔

انگیوونی۔ Ingavonians۔  جرمن قبیلوں کا ایک خاص گروپ۔  عیسوی دور کے آغاز میں وہ زودیر زی خلیج سے لے کر ڈنمارک تک بحیرہ شمالی کے ساحل پر رہتے تھے۔ اینگلو سیکسن اور دوسرے قبیلے اسی گروپ میں شام تھے۔ انہوں نے پانچویں اور چھٹی صدی میں برطانیہ کو فتح کیا۔

اوجبوا۔ Ojibwas or Chippeway۔ شمالی امریکی انڈین کا ایک قبیلہ جو بڑی جھیلوں Great Lakes کے شمال اور شمال مغرب میں آباد تھا۔

اوسی پیتن۔ usipetans۔ ایک جرمن قبیلہ جو رائن دریا کے دائیں کنارے کے نشیبی خطوں میں بسا ہوا تھا۔ پہلی صدی قبل از مسیح کے وسط میں وہ بائیں کنارے پر آباد ہو گیا۔ جب رومیوں نے اسے شکست دے دی تو پھر دائیں کنارے پر رہنے لگا۔

اوماہا۔ Omahas۔ شمالی امریکی انڈین کا ایک قبیلہ جو مسوری دریا کی وادی کے مرکز میں رہا کرتا تھا (اب وہاں نیبر اسکاکی ریاست واقع ہے۔

اوننڈگا۔ Onondagas۔ شمالی امریکی انڈین کا ایک قبیلہ۔  اس کا تعلق ایروکواس گروپ سے تھا اور وہ موجودہ نیویارک ریاست کے علاقے میں رہتا تھا۔

اونیڈا۔ Oneidas۔  ایروکواس گروپ سے تعلق رکھنے والا شمال امریکی انڈین کا ایک اور قبیلہ۔ وہ اس علاقے میں آباد تھا جہاں آج نیویارک ریاست ہے۔

ایبیریں۔  Iberians۔  قبیلوں کا ایک گروپ،  قدیم زمانے میں یہ پیرینین جزیرہ نما، بحیرہ روم کے پڑوسی جزیروں اور آج کے فرانس کے مشرقی علاقے میں بسے ہوئے تھے۔ عیسوی دور کی ابتدا مین رومیوں نے انہیں اپنا محکوم بنا لیا اور آہستہ آہستہ وہ رومیوں میں ضم ہو گئے۔

ایتھنز قدیم۔ Ancient Athens

ایرانی قدیم۔ Ancient Persian.

ایروکواس۔ Iroquois۔  شمالی امریکہ کے انڈین قبیلوں کا ایک گروپ۔ وہ ایری اور اونٹاریو جھیلوں کے نزدیک، سینٹ لارنس دریا کے کنارے پر اور اپالا چین پہاڑوں کے جنوب میں رہتے تھے۔

ایریز۔ Eriaas۔  شمالی امریکی انڈین کا ایک قبیلہ۔ جس کا تعلق ایروکواس گروپ سے تھا۔ وہ جھیل ایری کے آس پاس رہا کرتا تھا۔

ایونی۔ Ionians۔ قدیم یونان میں قبیلوں کا ایک بنیادی گروپ۔  قدیم زمانے سے وہ اٹیکا اور پیلوپونین جزیرہ نما کے شمال مشرقی علاقے میں بسے ہوئے تھے، پھر بحیرہ ایجبین کے چند جزیروں مین اور ایشیائے کوچک کے ساحل پر آباد ہو گئے۔

ب

باریا۔ Barea۔ حبشہ کے باریا۔ ایک قبیلہ جو آج کل مغربی ایتھوپیا میں اور مشرقی سوڈان کی سرحد پر ایرتیریا میں رہتا ہے۔

باسترنین۔ Bastarians۔ یہ گوتھ گروپ کا ایک جرمن قبیلہ جو عیسوی دور کے شروع میں کارپے تھین اور دریائے ڈینوب کے درمیان رہا کرتا تھا۔

بتاوین۔ Batavis۔ ایک جرمن قبیلہ جو عیسوی دور کے شروع میں ماس، رائن اور وال (موجودہ ہالینڈ(دریاؤں کے درمیان علاقے میں بسا ہوا تھا۔

برگنڈی لوگ۔ Burgundians۔ گوتھ گروپ کا ایک جرمن قبیلہ۔ عیسوی دور کی ابتدا مین وہ اسکینڈی نیویا چھوڑ کر وسٹولا اور اوڈر دریاؤں کے درمیانی علاقے میں رہنے لگے۔ وہ آہستہ آہستہ جنوب مغربی سمت میں آباد ہو گئے اور پانچویں صدی کے وسط میں رون دریا کی وادی میں مستقل بس گئے۔

بروکترنین۔ Bructerians۔ ایک جرمن قبیلہ جو عیسوی دور کے شروع میں لپے اور ایکس دریاؤں کے درمیان علاقے میں بسا ہوا تھا۔

بریٹون۔ Britons۔ کیلٹ قبیلوں کا گروپ جس پر برطانیہ کی قدیم آبادی مشتمل تھی۔ اینگلو سیکسن فتح کے بعد ان کا ایک حصہ تو فاتحوں سے گھل مل گیا اور باقی حصہ ویلز، اسکاٹ لینڈ اور جزیرہ نما بریٹان بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔

بلجن۔ Belgae۔ گال علاقے کے کیلٹ قبیلوں کا گروپ جو سین اور رائن دریاؤں کے بیچ میں (شمالی گال(اور برطانیہ کے مغربی ساحل کے ایک حصے پر بھی رہا کرتا تھا۔

پ

پارتھوی۔ Pathians۔ قدیم ایران کے قبیلوں کا ایک گروپ۔ پہلے ہزار سالہ دور قبل از مسیح کے وسط میں ایران کے کوہستانی خطے کے شامل مشرق میں آباد تھے۔ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں وہ پڑوسی لوگوں میں ضم ہو گئے۔

پشاو۔ pashavs۔ جارجیائی لوگوں کا ایک قومی گروپ جو اراگوی دیرا کے وسطی پہاڑی علاقے مین اور ایوری دریا کے بالائی حصے میں رہتے ہیں۔

پنجا۔ Punja۔ ایک ہندوستانی قبیلہ۔

پولینیزین۔ Polynesians۔ پولینیزیا اور مشرقی میلانیزیا کے بعض چھوٹے جزیروں کی مقامی آبادی۔

پوئبلو۔ Pueblw۔ شمالی امریکہ کے انڈین قبیلوں کا ایک گروپ۔  وہ اس علاقے میں رہا کرتا تھا جہاں اب نیومیکسیکو، اریزونا ریاستیں،   ریاست کیلی فورنیا، کا جنوبی حصہ اور میکسیکو کا شمالی مغربی خطہ ہیں۔

پیرو کے باشندے۔ Peruans۔ پیرو کے اصلی باشندے۔

پیلاگسکی۔ Pelasgi۔ قبیلوں کا ایک گروپ جو قدیم زمانے میں بلقان جزیرہ نما کے جنوب میں اور ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل پر آباد تھے۔

پیو کینین۔ Peucinians۔ جرمن قبیلی باسترنین کی ایک شاخ۔ بعض قدیم مورخ دونوں کو ایک ہی قبیلہ تصور کرتے تھے۔

ت

تامل۔ Tamil۔ دراوڑ قبیلوں کا ایک گروپ جو اب قومیت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب یہ قومیت تامل ناڈو میں رہتی ہے۔

تاہو۔ Tahus۔ شمالی انڈین کا ایک قبیلہ۔ وہ ان خطوں میں آباد تھا جہاں اب شمالی میکسیکو ہے۔

تورانی۔ Turanians۔ وہ لوگ جو توران کے نشیبی خطے میں (وسط ایشیا(میں رہا کرتے تھے۔

تھریشیا کے باشندے۔ Thracians۔ قبیلوں کا ایک گروپ جو قدیم زمانے میں بلقان جزیرے نما کے مغربی خطوں میں رہا کرتے تھے۔

تینکتیرن۔ Tencterans۔ ایک جرمن قبیلہ جو رائن دریا کے نشیبیہ علاقے میں دائیں کنارے رہتا تھا۔ پہلی صدی ق۔ م۔ کے وسط میں وہ بائیں کنارے پر آباد ہو گئے لیکن جب رومیوں کے ہاتھوں شکست کھائی تو وہ پھر دائیں کنارے آگئے۔

تیوتونی۔ Teutons۔ جرمن قبیلوں کا ایک گروپ۔ پہلے وہ جٹلینڈ جزیرے نما اور ایلب دریا کے نشیبی علاقے میں آباد تھے۔ دوسری صدی قبل از مسیح کے آخر میں سمبریوں کے ساتھ وہ جنوبی یورپ آئے۔  پھر جب رومیوں نے انہیں شکست دی تو بچے کھچے لوگ ماس، مینن اور نیکار دریاؤں کے نزدیک رہنے لگے۔

ٹ

ٹائفانی۔ Taifalians۔ گوتھ کا رشتے دار ایک جرمن قبیلہ۔  تیسری صدی میں اس قبیلے کے لوگ بحیرہ اسود کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئے تھے۔ چوتھے صدی کے دوسرے نصف میں ہنوں نے انہیں وہاں سے مار بھگا دیا۔

ٹسکارو۔ Tuscaroras۔ شمالی امریکی انڈین کا ایک قبیلہ جو ایروکواس گروپ سے تھا۔ وہ بحر اوقیانوس کے ان ساحلی علاقوں میں آباد تھے جہاں اب ورجینیا و شمالی کیرولین کی ریاستیں ہیں

ھاکر۔ Teehurs۔ ایک ہندوستانی قبیلہ جو اودھ میں رہتا تھا۔ (آج کل اتر پردیش کا ایک حصہ)

ج

جرمن قدیم۔ Ancient Germans

چ

چرکس۔ Circassians۔ آدیگیا پہاڑی لوگوں کا ایک گروپ (آدیگی، چرکس اور کابردین(جو قفقاز کے شمالی مغربی علاقے میں آباد ہیں۔  عظیم اکتوبر انقلاب سے پہلے یہ سب اسی نام سے مشہور تھے۔

چھپیو انڈین۔ Chipeway Indians۔ شمالی امریکی انڈین قبیلہ جو راکی پہاڑوں Rocky Mountainsاور خلیج ہڈسن کے درمیانی خطے میں بسا ہوا تھا۔

چیروکی۔ Cherokees۔ ایروکواس گروپ کا ایک انڈین قبیلہ۔  یہ اپالا چیان پہاڑوں کے جنوبی علاقوں میں رہا کرتا تھا۔

خ

خیوسور Shevsurs۔ جارجیائی لوگوں کا ایک قومی گروپ جو مشرقی جارجیا کے پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔

د

دراوڑی۔ Dravadians۔ ہندوستانی لوگوں کا ایک گروپ۔ آج کل وہ جنوبی ہندوستان میں رہتے ہیں قدیم زمانے مین وہ بر صغیر ہندوستان کے اصلی باشندے تھے۔

ڈ

ڈکوٹا۔ Dakota۔ شمالی امریکہ کے انڈین قبیلوں کا ایک گروپ جو مسوری دریا کے کنارے پر،  مسی سپی دریا اور راکی پہاڑوں کے درمیان گیاہستانوں میں اور کناڈا سے لے کر ارکنساس دریا تک آباد تھا۔

ڈکوٹا۔ Dakota.۔  شمالی امریکہ کے انڈین قبیلوں میں ان گروپوں کا نام جو سی اوھوکا sioo-hokaزبان بولتے تھے۔ مثلاً ڈکوٹا،  ایروکواس لوگ وغیرہ۔

ڈنمارک کے قدیم باشندے۔ Ancient Danes.

ڈورین۔ Dorians۔ قدیم یونان کے قبیلوں کا ایک خاص گروپ۔ بارہویں اور گیارہویں صی قبل از مسیح میں یہ جنوب کی طرف بڑھا اور پیلو پونین جزیرہ نما اور بحیرہ ایجبین کے جنوبی جزیروں میں آباد ہو گیا۔

ڈیلاویر۔ Delawares۔ شمالی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ۔  سترہویں صدی کے آغاز میں یہ قبیلہ ڈیلا ویر دریا کے کنارے کنارے اور ہڈسن دریا کے کنارے پر آباد ہو گیا۔ انیسویں صدی کے شروع میں امریکی نو آباد کاروں نے اسے یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ پھر مغرب کی جانب بڑھا اور مسی سپی دریا کے دوسرے کنارے پر بس گیا۔

ر

رومی، رومن قدیم (Romans, Ancient)۔

س

سالین فرینک (Sallian Franks)۔ فرینک گروپ کے جرمن قبیلوں کی دو خاص شاخوں میں سے ایک شاخ۔ چوتھی صدی کے وسط میں وہ رائن دریا کے مخرج سے شیلدت دریا تک بحیرہ شمالی کے ساحل پر آباد تھے۔ بعد میں وہ شمالی گال میں بس گئے۔

ساموئد(Samojedes)۔ ملاحظہ ہو نینسی۔

سامی۔ Semites۔ انیسویں صدی میں یہ اصطلاح عام طور پر ان لوگوں کے لئے استعمال کی جاتی تھی جن کا تعلق "ساموئی حاموئی(Semito۔ Hamitic(زبان کے گروپ کی سامی شاخ سے تھا۔

سبیلین قبیلے(Sabellian Tribes)۔ اطالوی قبیلوں کے دو خاص گروپوں میں سے ایک گروپ۔

سکائی تھن(Scythians)۔ قبیلوں کا ایک گروپ جو ساتویں صدی قبل از مسیح سے لے کر پہلی صدی تک بحیرہ اسود کے شمال میں آباد تھے۔

سلاف قدیم(Slavs, Ancient)۔

سمبری(Cimbri)۔ جرمن قبیلوں کا ایک گروپ جو جٹ لینڈ میں رہتا تھا۔ دوسری صدی قبل از مسیح میں تیوتونی قبیلوں کے ساتھ ساتھ وہ جنوبی یورپ میں بسنے لگے۔ رومیوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد ان کے بچے کھچے لوگ ماس، میئن اور نیکار دریاؤں کے آس پاس آباد ہو گئے۔

سبتگاک (Santals)۔ جارجیائی لوگوں کا ایک وقتی گروپ۔ یہ سوانیتیاعلاقے میں رہتے ہیں جو قفقاز کے خاص سلسلہ کوہ کے جنوپ مغربی دامن میں واقع ہے۔

سوئیوی(Suevi)۔ جرمن قبیلوں کا ایک گروپ جو عیسوی دور کے شروع میں ایلب دریا کی وادی میں آباد تھے۔

سینیکا(Senecas)۔ شمالی امریکہ میں ایروکواس گروپ کا ایک انڈین قبیلہ جہاں آج کل نیو یارک ریاست ہے وہ وہیں رہا کرتے تھے۔

ش

شانی(Tinneh)۔ شمالی امریکہ میں انڈین قبیلوں کا ایک گروپ۔  یہ قبیلے مغربی کناڈا کے جنگلوں،  الاسکا کے اندرونی علاقے میں اور بحرالکاہل کے ساحل پر کینائی جزیرے نما(جنوبی الاسکا(میں آباد تھے۔

ف

فرینک(franks)۔ جرمن قبیلوں کا ایک گروپ۔  تیسری صدی تک انہیں استی وونی کہا جاتا تھا۔ یہ رائن دریا کے درمیانی اور نشیبی حصوں کے قریب رہتے تھے۔ تیسری صدی میں انہوں نے گال کا علاقہ فتح کرنا شروع کیا اور چھٹی صدی کے شروع تک پورا علاقہ تسخیر کر لیا۔

فوئینیشین(Phoenicians)۔ قدیم فوئینیشیا کی آبادی۔

ک

کابیل (Kabyles)۔ الجیریا کے بیر بیری قبیلوں کا گروپ۔  وہ جور جور پہاڑوں،  قسطنطین صوبے کے پہاڑی علاقوں میں اور میدان مرتفع اوریس میں بسے ہوے ہیں۔

کافرزولو(Kaffirs. Zulus)۔ اصلی نام زولو ہے جو جنوب مشرقی افریقہ کی ایک قوم ہے۔

کالمیک (Kalmucka)۔ منگولیائی نسل کے لوگ۔ سولہویں صدی کے آخر تک یہ وسطی ایشیا کے جونگاریہ استیپی میدانوں میں آباد تھے۔ سترہویں صدی کے دوسرے نصف میں وہ روس کے جنوب مشرقی علاقوں کی طرف بڑھے اور والگا کے نشیبی حصے میں بس گئے۔

جاویات(Cayugas)۔ شمالی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ جو ایروکواس لوگوں سے تھا۔ یہ اس سرزمین پر بسا ہوا تھا جہاں اب نیویارک ریاست ہے۔

کرین(Karens)۔ پہلے قبیلوں کا ایک گروپ تھا اور اب ایک قومیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ برما کے جنوب مشرقی علاقے میں آباد ہیں۔

کمیلاروئی(Kamilaroi)۔ آسٹریلیا کا ایک قبیلہ جو ڈارلنگ دریا کے کنارے رہتا تھا(مغربی آسٹریلیا)۔

کوتار(Kotars)۔ یہ ہندوستانی قبیلہ نیلگیری پہاڑوں میں رہتا ہے(موجودہ تامل ناڈ اور میسور پردیشوں کے شمالی علاقے میں )۔

کوکوس(Cucus)۔ جنوبی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ جو اس جگہ رہتا تھا جہاں آج چلی واقع ہے۔

کیرے بین(Caribs)۔ جنوبی امریکہ میں انڈین قبیلوں کا ایک گروپ۔ یہ برازیل کے شمالی اور مرکزی علاقے میں اور ونیزویلا، گی آنا اور کولمبیا کے پڑوسی قطعوں پر رہا کرتے تھے۔

کیلٹ (Celts)۔ قرا بت دار قبیلوں کا ایک گروپ جو قدیم زمانے میں مرکزی اور مغربی یورپ میں آباد تھے۔

گ

گال علاقے کے کیلٹ لوگ(Gallis Celts, Galls)۔ کیلٹ قبیلوں کا ایک گروپ۔ یہ قدیم گال علاقے میں رہا کرتے تھے(جو اب فرانس،  شمالی اٹلی،  بلجیم، لکسمبرگ اور نیدرلینڈ کے ایک حصے اور سوئٹزرلینڈ پر مشتمل ہے)۔ عیسوی دور کی ابتدا میں رومیوں نے انہیں محکوم بنا لیا۔

گوتھ(Goths)۔ گوتھی گروپ کا خاص جرمن قبیلہ، عیسوی دور کے آغاز میں و ہ اسکینڈی نیویا کو خیر باد کہہ کر سٹولا دریا کے نشیب میں بس گئے۔ تیسری صدی میں انہوں نے بحیرہ اسود کے شمال میں ڈیرے ڈالے جہاں سے چوتھی صدی میں ہنوں نے انہیں مار بھگایا۔ بعد میں وہ دو گروپوں میں بٹ گئے۔ مشرقی گوتھ اور مغربی گوتھ۔ مشرقی گوتھ نے پانچویں صدی کی ابتدا میں پہلے جنوبی گال میں اور پھر پیرینین جزیرہ نما میں ایک سلطنت کی داغ بیل ڈالی۔

گوتھی قبیلے(Gothic tribes)۔ جرمن قبیلوں کا ایک خاص گروپ۔ عیسوی دور کے شروع میں وہ اسکینڈی نیویا چھوڑ کر وسٹولا اور اوڈر دریاؤں کے کنارے آباد ہو گئے تھے۔

گوڑا(گاؤڈا( (Gaura, Gauda)۔ مغربی بنگال میں ہندوستانی قبیلے۔

ل

لاطینی قبیلے(Latin tribes)۔ قدیم اٹلی کے خاص دو قبائل میں سے ایک۔  اس میں قدیم رومی بھی شامل تھے۔

لیگورین(Ligurians)۔ بہت ہی قدیم زمانے میں قبیلوں کا یہ گروپ اپینین جزیرے نما میں آباد تھا۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں اطالوی قبیلوں نے انہیں جزیرے نما کے شمال میں اور گال کے جنوب مشرقی ساحل تک بھگا دیا۔ عیسوی دور کے شروع میں وہ رومیوں کے محکوم بن گئے اور آہستہ آہستہ رومی ہو گئے۔

لینگوبارڈ(Lombards)۔ ایک جرمن قبیلہ جو پانچویں صدی کے آغاز میں ایلب دریا کے بائیں کنارے پر اس کے نشیبی حصے میں رہا کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ ڈینوب دریا کے مرکزی حصے میں اور پھر شمالی اور مرکزی اٹلی میں آباد ہو گیا۔

م

ماگر(Magars)۔ پہلے ایک قبیلہ تھا، اب قومیت ہے۔ یہ نیپال کے مغربی علاقے میں بسا ہوا ہے۔

منی پوری (Munniporees)۔ ایک ہندوستانی قومیت ہے اور منی پور میں آباد ہے۔

موھاوک (Mohawks)۔ شمالی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ جو ایرو کواس گروپ سے تھا۔ وہ اس علاقے میں رہا کرتا تھا جہاں آج کل نیویارک ریاست ہے۔

میامی(Miamies)۔ شمالی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ جو سترہویں صدی میں مشیگن جھیل کے مغربی ساحل پر رہا کرتا تھا۔ اٹھارہویں صدی کی ابتدا میں وہ اس علاقے میں منتقل ہو گیا جہاں آج کل الی نوئس، انڈیانا، اوھیوریاستیں ہیں۔  بعد میں امریکی نو آباد کاروں نے اسے مغرب کی طرف بھگا دیا۔ مسی سپی سے بھی آگے۔ میکسیکی(Mexicans)۔ میکسیکو کی قدیم آبادی۔

ن

نارمن (Normans)۔ جرمن قبیلے جو جٹ لینڈ اور اسکینڈی نیویا میں رہا کرتے تھے۔ ازمنہ وسطی میں ناروے،  سویڈن اور ہالینڈ کے لوگ اسی نام سے مشہور تھے۔

ناریکن (Noricans)۔ الوری کیلٹ (Illirian-Celtic(قبیلوں کا ایک گروپ۔

وہ قدیم رومی صوبے نور یک میں آباد تھے۔(اب اس میں شٹیریا اور کارنتھیا کا ایک حصہ شامل ہے)۔

نائر(Nairs)۔ ہندوستان کے ملایالی لوگوں میں سب سے اونچی فوجی ذات جو کیریلا پردیش کے ساحل پر رہتی ہے۔

نوبین(Nubians)۔ ایک افریقی قومیت جو مشرقی سودان کے شمالی علاقے اور مصر کے جنوبی حصے میں رہتی ہے۔

نوتکا(Nootka(S)۔  شمالی امریکہ کے چھوٹے چھوٹے انڈین قبیلوں کا ایک گروپ جو ونکوور جزیرے کے مغربی حصے میں اور آبنائے فلاٹیری میں رہا کرتا تھا۔

نینسی(Nentsi)۔ ایک قومیت جو سوویت یونین کے شمال میں آباد ہے، یعنی بحیرہ ابیض کے مشرقی ساحل سے لے کر ینی سے دریا کے نشیبی حصے تک کے علاقے میں اور کولگولیف واگاچ اور نووایا زملیا جزیروں میں۔

نئے میکسیکی (New Mevicans)۔ ملاحظہ ہو پوئبلو۔

و

وارلی (Warali)۔ ایک ہندوستانی قومیت جو آج کل مہارا شٹر پردیش میں اورمدھیہ پردیش کے شمالی علاقوں میں آباد ہے۔

ویلز کے لوگ(The Welch)۔ کیلٹ نسل کی ایک قومیت جو ویلز جزیرے نما اور آنگلسی جزیرے میں رہتی ہے۔

ھ

ھائیداس(Haida)۔ شمالی امریکہ کا ایک انڈین قبیلہ جو کوئین چارلٹ جزائر اور پرنس آف ویلز جزیرے کے جنوبی حصے میں رہا کرتا تھا۔

ھرمی نونی(Herminons)۔ جرمن قبیلوں کا ایک بنیادی گروپ۔ عیسوی دور کے شروع میں ایلب اور مئین دریاؤں کے بیچ میں رہا کرتے تھے۔ ان میں یہ قبیلے شامل تھے: سوئیوی،  لینگوبارڈ، مارکومان(Marcomans(، ھاٹ(Hatts(وغیرہ۔

ھن(Huns)۔ ایک وسطی ایشیائی(خانہ بدوش(قبیلہ جو عیسوی دور کے شروع میں ھوانگ ہو (Hwang Ho(دریا کے شمالی اور مغربی علاقوں میں بسا ہوا تھا۔ پہلی صدی میں ھنوں کا ایک حصہ مغرب کی طرف بڑھنے لگا اور پانچویں صدی کی ابتدا ہی میں گال تک پہنچ گیا۔ بعد میں رومیوں اور دوسرے یورپی لوگوں نے ان پر تسخیر حاصل کی۔

ھو(Ho)۔ ایک ہندوستانی قبیلہ۔ جو بہار پردیش کے جنوب میں رہتے ہیں۔

ھیرولی(Herullans)۔ ایک جرمن قبیلہ جو عیسوی دور کے آغاز میں جزیرہ نما اسکینڈی نیویا میں رہتا تھا۔ تیسری صدی میں اس کا ایک حصہ بحیرہ اسود کے شمال میں آباد ہو گیا پھر ہنوں نے انہیں باہر نکال دیا۔

ی

یونانی قدیم(Greeks,Ancient)۔

________________________________

   پہلے ایڈیشن کا دیباچہ

مندرجہ ذیل ابواب 1میں،   ایک اعتبار سے، ایک وصیت کو پورا کیا گیا ہے۔ خود کارل مارکس کا خیال تھا کہ مارگن کی تحقیقات کے نتیجوں کو ان نتیجوں کے ساتھ ملا کر پیش کیا جائے، جن پر وہ(کسی حد تک میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم دونوں (تاریخ کا مادی نقطہ نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد پہنچے تھے اور اس طرح ان کی پوری اہمیت کو صاف کریں۔  کیونکہ مارگن نے اپنے ڈھنگ سے امریکہ میں تاریخ کے مادی تصور کو نئے سرے سے دریافت کیا تھا جس کا مارکس چالیس برس پہلے پتہ لگا چکا تھا اور عہد بربریت اور عہد تہذیب کا مقابلہ کر کے اس تصور کی مدد سے اہم سوالوں پر وہ بھی انہیں نتیجوں پر پہنچا جن پر مارکس پہنچ چکا تھا۔ اور جس طرح جرمنی کے سرکاری ماہرین اقتصادیات برسوں تک "سرمایہ”سے نہایت سرگرمی سے سرقہ بھی کرتے تھے اور برابر اسے چپ چاپ دبا دینے کی کوشش بھی کرتے تھے، اسی طرح کا سلوک انگلستان کے علم "ماقبل تاریخ” کے نمائندوں نے مارگن کی کتاب "قدیم سماج”  (1)کے ساتھ کیا۔ میرے مرحوم دوست کو جو کام پورا کرنے کا موقع نہ نصیب ہو سکا اسی سلسلے کی ایک حقیر کوشش میری یہ کتاب ہے۔ لیکن مارگن سے اس نے جو طویل اقتباسات (2)لئے ان پر اس کے اپنے تنقیدی حاشیے بھی ہیں جن کو میں نے یہاں جہاں کہیں ممکن ہوا، نقل کر دیا ہے۔

مادی تصور کے مطابق تاریخ میں فیصلہ کن چیز، آخر میں فوری زندگی کی پیداوار اور پیداوار در پیداوار، لیکن خود اس کے دو پہلو ہیں۔  ایک طرف ذرائع زندگی یعنی غذا،  کپڑے،  رہنے کے لئے گھر وغیرہ اور ان چیزوں کے لئے ضروری اوزاروں کی تیاری ہے۔ اور دوسری طرف خود انسانوں کے پیدائش یعنی انسانی نسل کو بڑھانے کا کام ہے۔ (3)کسی خاص تاریخی عہد یا کسی خاص ملک کے لوگ جن سماجی اداروں کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں ان کو بنانے میں دونوں قسم کی پیدائش کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ محنت کے ارتقا کی حالت سے اور دوسری طرف خاندان کے ارتقا کی حالت سے متعین ہوتے ہیں۔  محنت کا ارتقا جتنا کم ہو اور اس لئے پیداوار کا حجم اور سماج کی دولت جتنی کم ہو، اتنی ہی سماجی نظام میں جنسی تعلقات کی اہمیت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس سماجی نظام کے اندر، جو جنسی تعلقات پر مبنی ہے، محنت کی پیداوار قوت برابر بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ذاتی ملکیت اور تبادلے میں اضافہ ہوتا ہے، دولت کا فرق بڑھتا ہے، دوسروں کی محنت کی طاقت کو استعمال کرنے کا امکان بڑھتا ہے اور اس طرح طبقاتی تضاد کی بنیاد تیار ہوتی ہے۔ نئے سماجی عناصر بڑھتے ہیں جو کئی پشت کی مدت میں سماج کے پرانے ڈھانچے کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ آخر میں دونوں کے بے میل ہونے کی وجہ سے پورا انقلاب ہو جاتا ہے۔ پرانا سماج جس کی بنیاد جنسی گروہوں پر تھی، نئے ابھرنے والے سماجی طبقوں کی ٹکروں سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے، اس کی جگہ ایک نیا سماج جنم لیتا ہے جو اپنے آپ کو ریاست کی شکل میں منظم کرتا ہے، جس کی نیچے کی اکائیاں جنسی تعلقات کی بنیاد پر بننے والے گروہ نہیں بلکہ علاقائی گروہ ہوتے ہیں۔  اس سماج میں خاندانی نظام پوری طرح ملکیت کے نظام کے ماتحت ہوتا ہے اور اس میں وہ طبقاتی تضاد اور طبقاتی جدوجہد خوب کھل کر بڑھتی ہے، جو ابھی تک کی ساری لکھی ہوئی تاریخ کی اصلیت ہے۔

مارگن کی عظمت یہ ہے کہ اس نے ہماری لکھی ہوئی تاریخ کی اس ماقبل تاریخی بنیاد اور اس کی نمایاں خصوصیتوں کا پتہ لگایا اور اس کو نئے سرے سے مرتب کیا۔ اس کی عظمت اس بات میں بھی ہے کہ اس نے شمالی امریکہ کے انڈینوں کے ان گروہوں میں جو جنسی تعلقات پر مبنی تھے، قدیم ترین یونانی، رومی اور جرمن تاریخ کی سب سے اہم پہیلیوں کو،  جن کو ابھی تک حل نہیں کیا جا سکا تھا، سلجھانے کی کنجی کھوج نکالی۔  لیکن اس کے کتاب کوئی ایک دن کا کام نہیں تھی۔ تقریباً چالیس برس تک جب تک کہ وہ اپنے مواد کو پوری طرح سمجھ لینے میں کامیاب نہیں ہو گیا، وہ اس کے ساتھ الجھا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کتاب ہمارے زمانے کی گنتی کی چند عہد آفریں کتابوں میں سے ایک ہے۔

آئندہ صفحات میں پڑھنے والا عام طور پر آسانی سے پہچان لے گا کہ کون سی باتیں مارگن کی کتاب سے لی گئی ہیں اور کون سی میں نے بڑھائی ہیں۔  ان تاریخی حصوں میں جہاں یونان و روم سے بحث کی گئی ہے، میں نے اپنے آپ کو مارگن کے فراہم کئے ہوئے مواد تک محدود نہیں رکھا بلکہ میرے پاس جو کچھ مواد موجود تھا، اس کو بھی استعمال کیا۔ جن حصوں میں کیلٹ اور جرمن لوگوں سے بحث کی گئی ہے وہ زیادہ تر میرے اپنے ہیں۔  اس موضوع پر مارگن کے پاس صرف پرانی اور پہلے کی استعمال کی ہوئی چیزیں تھیں اور جہاں تک جرمنی کے حالات کا تعلق ہے، بس ایک تاسیت کو چھوڑ کر اس کے پاس صرف مسٹر فری من کے مہمل، لبرل خیالات کی غلط بیانیاں تھیں۔  مارگن کی اقتصادی دلیلیں اس کے اپنے مقصد کے لئے بھلے ہی کافی رہی ہوں،  لیکن میرے لئے وہ بالکل ناکافی تھیں۔  انہیں میں نے نئے سرے سے مرتب کیا ہے۔ اور آخری بات یہ کہ جہاں کہیں مارگن کا قول صاف صاف نقل نہیں کیا گیا، وہاں سبھی نتیجوں کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔

26مئی 1884کے قریب لکھا گیا۔ اور مندرجہ ذیل کتاب میں شائع ہوا۔۔۔”

F. Engels. Der Ursprung der Familie, des Privateigenthums und des staats. Hottingen Zurich, 1884

حوالہ جات:

1۔ Ancient society, or Reseaches in the Lines of Human Progress from Savagery Through Barbarism to Civilization. By H. Morgan. London, MacMillan and Co., 1877

(قدیم سماج یا عہد وحشت سے لے کر اور عہد بربریت سے ہوتے ہوئے عہد تہذیب تک انسانی ارتقا کے راستوں کی تحقیقات "ْ۔ (یہ کتاب امریکہ میں چھپی اور لندن میں مشکل سے ملتی ہے۔ مصنف کا چند برس ہوئے انتقال ہو گیا۔(نوٹ ازاینگلز)

2۔  اینگز یہاں کارل مارکس کے مارگن کے "قدیم سماج”کے خلاصے کا ذکر کر رہے ہیں(دیکھئے "مارکس اور اینگز کی دستاویزات "جلد (9۔(ایڈیٹر)

3۔ یہاں اینگز نے ذرائع زندگی کی پیدائش کے ساتھ انسانی نسل کو بڑھانے کے کام کو بھی سماج اور سماجی اداروں کے ترقی کو متعین کرنے والا سبب بتا کر غلطی کی ہے۔ "خاندان”ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز "کے اصل متن میں اینگز نے خود ٹھوس مواد کا تجزیہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سماج اور سماجی اداروں کی ترقی سب سے زیادہ جس چیز پر منحصر ہے وہ مادی پیداوار کا طریقہ ہے۔ (ایڈیٹر)

 

1891کے چوتھے ایڈیشن کا دیباچہ

اس کتاب کے پچھلے بڑے ایڈیشن تقریباً چھ مہینے سے نایاب ہیں اور نازر (1)کا کچھ دنوں سے یہ تقاضا رہا ہے کہ میں اس کا ایک نیا ایڈیشن تیار کر دوں۔  کچھ زیادہ ضروری کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے ابھی تک میں اس کام کو پورا نہیں کر سکا۔ پہلے ایڈیشن کو شائع ہوئے سات برس کا عرصہ گزر گیا اور اس مدت میں خاندان کی ابتدائی شکلوں کے بارے میں ہماری معلومات میں اہم اضافہ ہوا ہے۔  اس لئے ضروری تھا کہ اضافہ اور اصلاح و ترمیم کو کام کو محنت کے ساتھ کیا جائے۔ خاص کر اس لئے کہ اس نئے ایڈیشن کے لئے چھپائی کی مستقل پلیٹیں تیار کرنے کا ارادہ ہے جس کی وجہ سے آئندہ کچھ عرصے کے لئے کتاب میں کوئی تبدیلی کرنا میرے لئے ناممکن ہو جائے گا۔

لہٰذامیں نے پوری کتاب پر احتیاط کے ساتھ نظریاتی کی ہے اور کئی جگہ نئی باتوں کا اضافہ کیا ہے۔ جن میں میرا خیال ہے سائنس کی موجودہ حالت کا پورا دھیان رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس دیباچے میں میں باخوفن سے مارگن تک خاندان کی تاریخ کے بارے میں خیالات کے انتقا کا مختصر حال بیان کر دینا چاہتا ہوں۔  یہ خاص کر اس لئے بھی ضروری ہے کہ ماقبل تاریخی عہد کے انگریز مورخ جن میں جارحانہ وطن پرستی موجود ہے، آج بھی انتہائی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ قدیم سماج کے تاریخ کے بارے میں ہمارے تصورات میں مارگن کی دریافتوں نے جو انقلاب پیدا کر دیا ہے، اس کو اپنی خاموشی کے حربے سے دبا دیں حالانکہ مارگن کی تحقیقات کے نتیجوں کو اپنا بنا لینے میں انہیں ذرا تامل نہیں ہوتا۔  دوسرے ملکوں میں بھی انگریزوں کی اس مثال پر اکثر عمل کیا جاتا ہے۔

میری کتاب کاترجمہ کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ سب سے پہلا ترجمہ اطالوی میں ہوا۔

L, origine della famiglia, della privata a dellw stato, versione riveduuta dall,autore, di Pasquale Martignmetti, Benevento, 1885.

اس کے بعد رومانیہ کی زبان میں ایک ترجمہ ہوا۔

Origina familie, propretatei private si a sttului, traducere de joan Contempranul, Nade jdes.

کے نام سے (2)یاسی سے شائع ہونے والے رسالے میں ستمبر 1885سے مئی 1886نکلا۔ اس کے بعد ڈنمار کی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا۔

Familjens, Private jendommenns og Statens Oprindelse, Dansk, af Forfatteren gennemgaaet Udgave, besorget af Garson Trier, Kobenhavn , 1888

آنری راوے کا کیا ہوا فرانسیسی ترجمہ جو موجودہ جرمن ایڈیشن پر مبنی ہے، ابھی پریس میں ہے۔

***********************

اس صدی کے ساتویں دہائی کے شروع تک خاندان کی تاریخ جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس شعبے میں علم تاریخ پر اس وقت تک موسی کی توریت کا اثر حاوی تھا۔ خاندان کی پدری شکل کو توریت میں جتنی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اتنی تفصیل سے اس کا بیان اور کہیں نہیں ملتا۔ چناچہ اس کو نہ صرف خاندان کی سب سے قدیم شکل مان لیا گیا تھا بلکہ۔۔۔۔۔ کثرت زوجگی کے نظام کو الگ کر کے۔ ۔۔۔۔۔ اس کو اور موجودہ زمانے کے بورژوا خاندان کو ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا تھا، گویا خاندان اصل میں کسی تاریخی ارتقا سے گزرا کوشائع ہو ہی نہ ہو۔ زیادہ سے زیادہ بس اتنا مانا جاتا تھا کہ ممکن ہے قدیم زمانے میں آزاد جنسی تعلقات کا کوئی دور رہا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ یک زوجگی کے علاوہ مشرق کی کثرت زوجگی اور ہندوستان اور تبت میں کثرت شوہری کا حال بھی لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا۔ لیکن یہ تینوں شکلیں اس وقت تک کسی تاریخی سلسلے کی کڑیاں نہیں بنی تھیں اور آپس میں بلا کسی تعلق کے ایک دوسرے کے متوازی دکھائی دیتی تھیں۔  یہ امر کہ قدیم زمانے کے کچھ لوگوں میں اور آج کل کے کچھ وحشیوں میں بھی نسل باپ سے نہیں بلکہ ماں سے چلتی ہے اور اس لئے ان میں صرف عورت کے سلسلہ نسب کو ہی صحیح سمجھا جاتا ہے، اور یہ کہ موجودہ زمانے کے بہت سے لوگوں میں چند مخصوص گروہوں کے اندر۔۔۔۔۔ جن کے بارے میں اس وقت تک زیادہ قریب سے چھان بین نہیں کی گئی تھی۔ ۔۔۔۔ شادی کرنے کی ممانعت ہے، اور یہ کہ یہ رواج دنیا کے سبھی حصوں میں پایا جاتا ہے۔۔۔۔یہ باتیں لوگوں کو معلوم تھیں اور نئی مثالیں برابرسامنے آرہی تھیں۔  لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان سے کیا نتیجہ نکالا جائے۔ یہاں تک کہ ای۔ بی۔ ٹیلر کی کتاب "بنی نوع انسان کی ابتدائی تاریخ اور تہذیب کے ارتقا کی تحقیقات ” (2)(1865)میں ان باتوں کو اسی طرح کی "عجیب و غریب رسموں "کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے جیسے بعض وحشیوں میں جلتی لکڑی کو لوہے کے اوزاروں سے نہ چھونے کا رواج،  اور اسی طرح کی دوسری مہمل اور بے معنی مذہبی باتیں۔

خاندان کی تاریخ کا مطالعہ 1861سے شروع ہوا جب باخوفن کی کتاب”مادری حق”عائع ہوئی۔  اس کتاب میں مصنف نے مندرجہ ذیل خیالات پیش کئے ہیں :

۔۔1۔ انسانوں میں شروع میں آزاد جنسی تعلقات کا رواج تھا۔ مصنف نے اسےhetaerism(کئی عورتیں رکھنے کا رواج(کے غیر موزوں نام سے پکارا ہے۔

2۔ اس آزاد جنسی تعلق کی وجہ سے کسی کے بارے میں بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا باپ کون ہے۔ اس لئے نسب کا سلسلہ صرف ماں سے۔۔۔۔ مادری حق کے مطابق ہی۔۔۔۔ چل سکتا تھا اور ابتدا میں قدیم زمانے کی قوموں میں یہ بات پائی جاتی تھی۔

3۔ چونکہ والدین میں صرف ماں کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا تھا، اس لئے عورتوں کی بڑی قدر و منزلت ہونے لگی اور باخوفن کی رائے میں یہ اتنی بڑھ گئی کہ پوری طرح عورت کا راج (gynaecocracy(ہو گیا۔

4۔ یک زوجگی کا نظام جس میں عورت پر صرف ایک مرد کا حق مانا جاتا ہے، اس کے قائم ہونے کا مطلب ایک قدیم مذہبی اصول کی خلاف ورزی(یعنی اصل میں اس عورت پر دوسرے مردوں کے قدیم روایتی حق کی خلاف ورزی(تھی۔ اور اس لئے اس کی تلافی کرنے یا اس کا ہرجانہ ادا کرنے کے لئے عورت کو ایک خاص مدت کے لئے غیر مردوں کے حوالے کرنا پڑتا تھا۔

باخوفن کو قدیم کلاسیکی ادب کے بے شما ر ٹکڑوں میں ان بیانات کے ثبوت ملے جنہیں اس نے بڑی محنت سے یکجا کیا۔ اس کی رائے میں "کئی عورتیں رکھنے کے رواج "سے یک زوجگی تک اور مادری حق سے پدری حق تک جو ارتقا ہوا وہ۔ ۔۔۔ خاص کر یونانیوں میں۔ ۔۔۔ مذہبی خیالات کے ارتقا کی بدولت،  پرانی روائتی دیومالا میں جو پرانے روائتی خیالات کی حامل تھی، نئے خیالات کے نمائندے، نئے دیوتاؤں کے در آنے کی بدولت ہوا جنہوں نے پرانے دیوتاؤں کو دھکیل کر بہت پیچھے کر دیا۔ چناچہ باخوفن کی رائے میں مرد اور عورت کے باہمی تعلقات اور سماجی حیثیت میں جو تاریخی تبدیلیاں ہوئی ہیں،   ان کے وجہ ان خارجی حالات کی ترقی نہیں جن میں انسان زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ انسانوں کے ذہن میں زندگی کے ان حالات کا مذہبی عکس ہے۔ چناچہ باخوفن کا کہنا ہے کہ ایسکیلس کا ” آرسطیا”اس کشمکش کی ڈرامائی تصور پیش کرتا ہے جو زوال پذیر مادری حق اور ابھرتے ہوئے فتح مندپدری نظام کے حق میں سورمائی عہد میں چھڑی تھی۔ کلیئم نسترا نے اپنے عاشق ایگس تھس کی خاطر اپنے شوہر آگاممنان کو قتل کر دیا جو ٹروئے کی جنگ سے لوٹا ہی تھا۔ لیکن اس کا بیٹا آرسطس جو آگاممنان سے پیدا ہوا تھا، باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اپنی ماں کو مار ڈالتا ہے۔ اس پر مادری حق کی عفریتی محافظ ایرینیئن آرسطس کا پیچھا کرتی ہیں کیونکہ مادری حق کے مطابق ماں کا قتل سب سے سنگین جرم ہے جس کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اپولو، جس نے اپنے ہاتف غیبی کے ذریعہ آرسطس کو اس جرم کی ترغیب دلوائی تھی اور ایتھنہ جسے ثالث بنایا جاتا ہے، آرسطس کو بچاتے ہیں۔   یہ دونوں دیوی دیوتا نئے نظام کے نمائندے ہیں جس کی بنیاد پدری حق پر ہے۔ ایتھنہ دونوں فریقوں کی بات سنتی ہے آرسطس اور ایرینیوں میں جو بحث ہوتی اس میں پورے اختلاف کا خلاصہ سامنے آ جاتا ہے۔  آرسطس کہتا ہے کہ کلینیم نسترا نے دوہرا جرم کیا ہے۔ اپنے شوہر کو قتل کر کے اس نے میرے باپ کو بھی مار ڈالا ہے۔ اس لئے ارینیئں میرے پیچھے کیوں پڑی ہیں ؟ کلینم نسترا کو،  جس کا جرم کہیں زیادہ بڑا ہے، انہوں نے کیوں سزا نہیں دی؟  جواب قابل غور ہے۔

"اس نے جس مرد کو قتل کیا، اس سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ ” (3)

جس مرد سے خان کا کوئی رشتہ نہ ہو،  چاہے وہ قاتلہ کا شوہر ہی کیوں نہ ہو، اس کے خون کی تلافی ہو سکتی ہے اور ایرینیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔   ان کا کام خون کے رشتہ داروں کے قتل کا انتقام لینا ہے، اور ان میں بھی سب سے زیادہ نفرت انگیز قتل،  مادی حق کے مطابق، ماں کا قتل ہے۔ اب آرسطس کے طرف سے اپولو بحث میں شریک ہوتا ہے۔ انتھنہ، ایریوپیگاٹیز سے۔ ۔۔۔ یعنی ایتھنز کے جیوری (ججوں(سے۔ ۔۔۔ اس مسئلے پر اپنے رائے دینے کو کہتی ہے۔ ملزم کو بری کر دینے اور سزا دینے، دونوں کے حق میں برابر برابر ووٹ پڑتے ہیں۔  تب عدالت کی صدر کی حیثیت سے ایتھنہ اپنا ووٹ آرسطس کے حق میان دیتی ہے اور اسے بری کر دیتی ہے۔ مادری حق کے مقابلے میں پدری حق کے جیت ہوتی ہے۔ خود ایرینیوں کے الفاظ میں "چھوٹے سلسلہ نسب کے دیوتا”ایرینیوں پر فتح حاصل کرتے ہیں اور ایرینیئں آخر میں نیا عہدہ قبول کر کے نئے نظام کی خدمت کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔

 "آرسطیا”کی یہ نئی لیکن بالکل صحیح توجیہ جس حصے میں دی گئی ہے وہ پوری کتاب کے سب سے اچھے اور خوبصورت ٹکڑوں میں ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ خود باخوفن کو بھی ایرینیوں،  اپولو اور ایتھنہ میں کم سے کم اتنا ہی عقیدہ ہے جتنا ایسکیلس کو اپنے زمانے میں تھا۔  بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باخوفن کو واقعی یقین ہے کہ یونان کے سورمائی عہد میں مادری حق کو ہٹانا اور اس کی جگہ پدری حق قائم کرنا انہیں دیوی دیوتاؤں کا معجزہ اور کارنامہ تھا۔ ظاہر ہے کہ مذہب کو دنیا کی تاریخ کا روح رواں بتلانے والا نظریہ آخر میں محض مخفی قوتوں کی بھول بھلیوں میں پہنچ کر ہی دم لے گا۔ اس لئے باخوفن کی ضخیم کتاب کو پڑھنا کافی مشکل کام ہے اور بہت زیادہ سودمند بھی نہیں۔   لیکن ان سب باتوں سے باخوفن کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ وہ اس راہ کا خضر تھا۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے قدیم زمانے کی اس حالت کے بارے میں،  جس میں آزاد جنسی تعلقات کا رواج تھا، محض لفاظی سے کام نہیں لیا بلکہ اس کے بجائے یہ ثابت کر دکھایا کہ قدیم کلاسیکی ادب میں اس حالت کے بہت سے آثار بکھرے پڑے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی اور ایشیائی لوگوں میں یک زوجگی کا رواج ہونے سے پہلے وہ حالت پائی جاتی تھی جس میں نہ صرف مردوں کا ایک سے زیادہ عورتوں سے جنسی تعلق ہوتا تھا بلکہ عورتوں کا بھی ایک سے زیادہ مردوں سے جنسی تعلق ہوتا تھا اور اس سے کسی مروجہ اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تھی۔ اس نے ثابت کیا کہ یہ رواج تو اب نہیں رہا لیکن اس کا اثر باقی ہے۔ صرف ایک مرد سے شادی کا حق خریدنے کے لئے عورتوں کو مجبور ہونا پڑتا تھا کہ ایک محدود دائرے کے اندر اپنے آپ کو غیر مردوں کے حوالے کریں۔  اور ان وجوہات سے شروع میں خاندان عورتوں سے ایک ماں کے بعد دوسری ماں سے چلا کرتا تھا۔ یک زوجگی کا رواج ہونے کے بعد بھی بہت دنوں تک عورتوں سے نسل چلنے کا رواج قائم رہا حالانکہ اس وقت یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی تھی یا کم از کم مان کی جاتی تھی کہ بچے کا باپ کون ہے۔ اور شروع میں چونکہ بچے کی صرف ماں کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا تھا اس لئے ماں کا اور عام طور پر عورتوں کا درجہ سماج میں بہت اونچا تھا۔ بعد میں انہیں کبھی یہ درجہ نہیں ملا۔ باخوفن نے یہ تمام باتیں اتنی صفائی سے نہیں کہیں۔  اس کے مذہبی صوفیانہ نظریہ نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا۔ لیکن اس نے ثابت کر دیا کہ یہ تمام باتیں صحیح ہیں۔  اور 1861میں یہ ایک پورا انقلاب تھا۔

بخوفن کی ضخیم کتاب جرمن میں لکھی گئی تھی۔۔۔۔ یعنی اس قوم کی زبان میں جس کو اس زمانے میں موجودہ خاندان کی ماقبل تاریخی حالت میں سب سے کم دلچسپی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کتاب کو کسی نے نہیں جانا۔  اس شعبے میں اس کا جو جانشین ہوا، وہ 1865میں سامنے آیا مگر اس نے باخوفن کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

یہ جانسن ج۔ ف۔ میکلینن تھا۔  وہ اپنے پیشرو کا بالکل الٹ تھا۔ ایک اگر صوفی اور صاحب کمال تھا تو دوسرا بے رس اور خشک وکیل۔ ایک میں اگر رنگینی اور شاعرانہ خیال آرائی تھی، تو دوسرا عدالت میں بحث کرنے والے وکیل کی طرح سبھی ممکن دلیلوں کا طومار کھڑا کر دیتا تھا۔ میکلینن نے قدیم اور موجودہ زمانے کی بہت سی وحشی، بربری اور مہذب قوموں میں بھی شادی کی ایک ایسی شکل کا پتہ لگایا جس میں دولہا کو،  اکیلے یا اپنے دوستوں کے ساتھ، دلہن کو اس کے رشتہ داروں کے یہاں سے زبردستی بھگا لے جانے کا سوانگ رچانا پڑتا تھا۔ شاید یہ رواج کسی پرانے رواج کی بچی ہوئی نشانی ہے جس میں ایک قبیلے کے مرد قبیلے کے باہر کی،  دوسرے قبیلوں کی لڑکیوں کو سچ مچ زبردستی اغوا کر لے جاتے تھا اور طرح بیویاں لاتے تھے۔ مگر اس "اغوائی شادی”کی ابتدا کیسے ہوئی ہو گی؟ جب تک مردوں کو اپنے قبیلے کے اندر کافی عورتیں مل سکتی تھی اس وقت تک اس طریقے کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن اسی طرح یہ بھی کثر دیکھنے میں آتا ہے کہ غیر ترقی یافتہ لوگوں میں کچھ ایسے گروہ ہوتے ہیں(1865کے لگ بھگ ان گروہوں کو اور قبیلوں کو ایک ہی چیز سمجھا جاتا تھا (جن کے اندر شادی کرنے کی ممانعت ہے جس کی وجہ سے مردوں کو اپنے لئے بیویاں،   اور عورتوں کو اپنے لئے شوہر ان گروہوں کے باہر ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔  اس کے علاوہ کچھ اور لوگوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ ایک گروہ کے مردوں کو اپنے گروہ کی عورتوں سے ہی شادی کرنی پڑتی ہے۔ میکلینن نے پہلی قسم کے گروہوں کو گوت باہر شادی کرنے والے گروہ،  اور دوسرے کو گوت اندر شادی کرنے والے گروہ کا نام دیا۔ اور پھر بلا کسی مزید درد سری کے یہ طے کر دیا کہ گوت باہر شادی کرنے والے اور گوت اندر شادی کرنے والے "قبیلوں "میں ایک ایسا تضاد ہے جو سختی کے ساتھ قائم رہتا حا لانکہ گوت باہر شادی کرنے کو رواج کے بارے میں اس کی اپنے چھان بین سے ہی صاف صاف اس بات کا ثبوت مل جاتا کہ اگرچہ سبھی یا زیادہ تر صورتوں میں نہیں تو کم از کم بہت سی صورتوں میں یہ تضاد صرف اس کے تخیل کی اپج ہے، پھر بھی اس نے اسے اپنے سارے نظریے کے بنیاد بنا ڈالا۔  چنانچہ اس کے مطابق گوت باہر شادی کرنے والے قبیلے صرف دوسرے قبیلوں سے ہی بیویاں لا سکتے ہیں اور چونکہ عہد وحشت میں مختلف قبیلوں کے درمیان مستقل جنگ کے حالت رہتی تھی، اس لئے یہ صرف اغوا کے ذریعے ہی ممکن تھا۔

میلکینن اس کے بعد سوال کرتا ہے۔ گوت باہر شادی کرنے کا رواج کیسے شروع ہوا؟ ایک گوت یا خاندان کے اندر یا بہت قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق کی ممانعت کے تصورات سے اس کو کوئی مطلب نہیں کیونکہ یہ چیزیں تو بہت بعد کی ہیں۔  لیکن لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالنے کے رواج سے اس کا تعلق ہو سکتا ہے۔ یہ رواج بہت سے وحشی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اس سے الگ الگ ہر قبیلے میں مردوں کی کثرت ہو جاتی ہے جس کا لازمی اور فوری نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایک عورت پر مشترک طور پر کئی کئی مردوں کا قبضہ ہونے لگا یعنی کثرت شوہری کا رواج ہو گیا۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچہ کی ماں کا پتہ تو رہتا تھا مگر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کا باپ کون ہے۔ اس لئے نسل صرف ماں سے چلتی تھی اور اس معاملہ میں مرد کی کوئی اہمیت نہیں تھی، یعنی مادری حق قائم تھا۔ قبیلے کے اندر عورتوں کے کمیابی کثرت شوہری کی وجہ سے کسی حد تک کم ضرور ہو جاتی تھی لیکن پوری طرح دور نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کمی کا ایک اور نتیجہ یہ تھا کہ دوسرے قبیلوں کی عورتوں کو باقاعدہ، زبردستی اغوا کیا جاتا تھا۔ میکلینن نے لکھا ہے۔

"گوت باہر شادی کرنے کا رواج،  اور ایک ایک عورت کے متعدد شوہروں کا رواج، دونوں کے وجہ ایک ہے۔۔۔۔ مردوں اور عورتوں کے تعداد میں توازن کا نہ ہونا۔ اس لئے ہمیں مجبور ہو کر اس نتیجے پر پہنچنا پڑتا ہے کہ جن نسلوں میں گوت باہر شادی کرنے کا رواج ہے، ان سب میں شروع میں کئی کئی شوہروں کا رواج تھا۔ ۔۔۔ اس لئے ہمیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ گوت باہر شادی کرنے والی نسلوں میں قرابت داری کا پہلا نظام وہ تھا جو صرف ماں کے ذریعہ خون کے رشتوں کو مانتا تھا۔ "(میکلینن "قدیم تاریخی کا مطالعہ 1886″۔  "قدیم شادی (4)”صفحہ (124)

میکلینن کی خوبی یہ ہے کہ اس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی جسے وہ گوت باہر شادی کرنے کا رواج کہتا ہے اور یہ بتایا کہ اس کی کتنی بڑی اہمیت اور کتنا عام رواج تھا۔

لیکن یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ گوت باہر شادی کرنے والے گروہوں کو اس نے دریافت کیا تھا۔ اور یہ کہنا تو اور بھی غلط ہو گا کہ اس نے ان کو سمجھ لیا تھا۔ پہلے کے ان بہت سے مشاہدہ کرنے والوں کے علاوہ جن کی مختصر یادداشتوں نے میکلینن کے لئے مواد کا کام دیا، لیتھم نے(تشریحی علم الانسان ” ,  (5)1859میں (ہندوستان کے ماگر لوگوں میں اس دستور کا ٹھیک ٹھیک اور بالکل صحیح حال بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ دنیا کے سبھی حصوں میں عام طور پر اس کا رواج پایا جاتا ہے۔ خود میکلینن نے اپنی کتاب میں اس حصے کو نقل کیا ہے۔ اور ہمارا مارگن بھی، 1847میں ہی،  ایرو کو اس لوگوں کے بارے میں اپنے خطوط میں(جو کہ "American Review "میں شائع ہوئے تھے(اور 1851میں "ایرو کو اس لوگوں کی انجمن6(نامی اپنی کتاب میں بتا چکا تھا کہ اس قبیلے میں بھی یہ دستور موجود تھا اور اس نے دستور کی بالکل صحیح تفصیل بیان کے تھی۔ اس کے برعکس ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ باخوفن کے صوفیانہ خیال آرائی نے مادری حق کے بارے میں جتنی الجھن پیدا کی تھی اس سے کہیں زیادہ الجھن میکلینن کی وکیلانہ ذہنیت نے اس موضوع کے بارے میں پیدا کی ہیں۔   میکلینن نے ایک اور قابل ذکر کام یہ کیا کہ اس نے یہ پتہ لگایا کہ شروع میں نسل ماں سے چلتی تھی۔ حالانکہ جیسا کہ بعد میں اس نے خود اعتراف کیا، باکوفن اس سے پہلے ہی اس بات کا پتہ لگا چکا تھا۔ لیکن اس معاملے میں بھی اس کے رائے بہت صاف نہیں ہے۔ وہ برابر "محض عورتوں کے ذریعہ قرابت داری (kinship through females only(کا ذکر کرتا ہے اور اس جملے کو، جو ایک ابتدائی دور کے لئے بالکل صحیح تھا، ارتقا کے بعد کے ادوار پر بھی چسپاں کرتا ہے، جبکہ نسل اور وراثت کا سلسلہ تو یقیناً ابھی تک عورتوں سے چلتا تھا مگر قرابت داری مرد کی طرف سے بھی مانی جانے لگی تھی اور اس کا اظہار بھی ہونے لگا تھا۔ یہ ایک قانون داں کی محدود ذہنیت ہے جو اپنے لئے ایک بالوچ قانونی اصطلاح گھڑتا ہے اور پھر اسے بلا کسی رد و بدل کے ان حالات پر بھی چسپاں کرتا ہے جو اس دوران میں بدل گئے ہیں اور جن پر وہ اصطلاح اب صادق نہیں آتی

 میکلینن کا نظریہ بادی النظر میں قابل قبول ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود مصنف کے نظر میں بھی اس کے مضبوط بنیاد نہیں تھی۔ کم سے کم یہ بات خود اس کو بھی کھٹکتی ہے کہ(جھوٹ موٹ کے دکھاوے کے (اغوا کا رواج صاف طور پر انہیں نسلوں میں ہے اور وہی اس کو دھوم دھام سے مناتی ہیں جن میں قرابت داری مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔ "(یعنی جن میں مرد سے نسل چلتی ہے((صفحہ140 )۔ ایک اور جگہ اس نے لکھا ہے کہ "یہ ایک عجیب بات ہے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، اب ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں گوت باہر شادی کرنے کے رواج کے ساتھ ساتھ قرابت داری کے سا منے پرانی شکل موجود ہو اور وہاں بچوں کو مار ڈالنے کا دستور بھی ہو("صفحہ(146۔  ان دونوں باتوں سے اس کے طرز فکر کی براہ راست تردید ہوتی ہے اور ان کے خلاف وہ محض نئے اور پہلے سے بھی زیادہ الجھے ہوئے مفروضات پیش کرتا ہے۔

پھر بھی انگلینڈ میں اس کے نظرئے کا بڑے زوروں سے خیر مقدم ہوا اور لوگوں نے اس کی بڑی تعریف کی۔  وہاں تلاد عام طور پر میکلینن کو خاندان کی تاریخ کا بانی اور اس شعبے کا سب سے ممتاز عالم مان لیا گیا۔ گوت باہر شادی کرنے والے اور گوت اندر شادی کرنے والے "قبیلوں "میں اس نے جو تضاد قائم کیا تھا، وہ چند مستثنیات اور رد و بدل کو مان لینے کے باوجود،  مروجہ خیال کی بنیاد بنا رہا جس کی اس حیثیت کو سبھی تسلیم کرتے تھے۔ اس تضاد نے لوگوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا جس سے اس شعبے میں آزادی کے ساتھ چھان بین کرنا اور کوئی خاص ترقی کرنا ناممکن ہو گیا۔ چونکہ انگلینڈ میں اور اس کی دیکھا دیکھی دوسرے ملکوں میں بھی میکلینن کے اہمیت کو بہت بڑھا چڑھا کر بتانا ایک فیشن سا ہو گیا ہے، اس لئے اس کے مقابلے میں یہ بتانا ہمارا فرض ہو جاتا ہے کہ گوت باہر شادی کرنے والے اور گوت اندر شادی کرنے والے "قبیلوں "میں ایک بالکل غلط تضاد کھڑا کر کے میکلینن نے جو نقصان پہنچایا اس کے مقابلے میں اس کے چھان بین سے فائدہ بہت کم ہوا ہے۔

اس دوران میں،   جلد ہی ایسے بہت سے واقعات سامنے آ گئے جو میکلینن کے بنائے ہوئے خوبصورت چاکھٹے میں ٹھیک نہیں بیٹھتے تھے۔ میکلینن شادی کی صرف تین صورتوں سے واقف تھا۔ ایک شوہر کی بہت سی بیویاں یعنی کثرت ازواج،  ایک بیوی کے بہت سے شوہر یرنی کثرت شوہری، اور ایک میاں ایک بیوی یعنی یک زوجگی۔ لیکن جب ایک بار لوگوں نے اس مسئلے کے طرف توجہ کی تو اس بات کے نت نئے ثبوت ملنے لگے کہ ناترقی یافتہ لوگوں میں شادی کی ایسی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں جن میں مردوں کا ایک گروہ مشترک طور پر عورتوں کے ایک گروہ کا مالک ہوتا۔ اور لوباک نے (1870 میں اپنی کتاب ” تہذیب کی ابتدائ” (7)میں (اس گروہ داری شادی ( Communal marriage(کو ایک تاریخی حقیقت مان لیا۔

اس کے فوراً بعد ہی 1871میں مارگن نئی اور کئی پہلوؤں سے فیصلہ کن شہادتیں لے کر سامنے آیا۔ اس کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ ایرو کو اس لوگوں میں قرابت داری کا جو انوکھا طر یقہ رائج ہے، وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں رہنے والے سبھی آدی باسیوں میں پایا جاتا ہے اور اس طرح وہ ایک پورے براعظم میں پھیلا ہوا ہے حالانکہ قرابت داری کا یہ سلسلہ ان رشتوں کے بالکل برعکس ہے جو وہاں کے مروجہ ازدواجی نظام سے پیدا ہوتی ہیں۔  تب اس نے امریکہ کی وفاقی حکومت کو اس بات پر آمادہ کیا کہ دوسری قوموں میں قرابت داری کے جو صورتیں پائی جاتی ہیں ان کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ اور اس کام کے لئے اس نے خود سوالات اور جدول تیار کئے۔ ان سوالوں کے جو جواب آئے ان سے مارگن کو پتہ چلا کہ(1)(امریکہ کے انڈینوں میں قرابت داری کا جو سلسلہ پایا جاتا ہے، اس کا رواج ایشیا کے بہت سے قبیلوں میں بھی ہے اور کسی قدر بدلی ہوئی صورت میں افریقہ اور آسٹریلیا میں بھی۔  (2)اس کی پوری توجہ ایک قسم کے گروہ دار شادی سے ہو جاتی ہے جو ہوائی میں اور آسٹریلیا کے دوسرے جزیروں میں پائی جاتی ہے اور اب مٹنے لگی ہے۔ اور (3)شادی کی اس شکل کے ساتھ ساتھ انہیں جزیروں میں قرابت داری کا ایک ایسا سلسلہ پاتا جاتا ہے جس کی توجہ صرف اس بات وہ ہو سکتی ہے کہ پہلے وہاں گروہ دار شادی کی ایک ا س سے بھی زیادہ ابتدائی شکل رائج تھی جو اب مٹ چکی ہے۔ مارگن نے جو مواد جمع کیا اور اس سے جو نتیجے نکالے، ان کو اس نے 1871میں اپنی کتاب”ہم خاندانی اور رشتہ داری کے نظام (8)”میں شائع کیا اور اس طرح بحث کے دائرے کو بے حد وسیع کر دیا۔ اس نے پہلے قرابت داری کے نظاموں کو لیا اور ان کے روشنی میں اور ان کے مطابق خاندان کی شکلوں کو نئے سرے سے مرتب کیا اور اس طرح انسان کے ماقبل تاریخی حالات کی چھان بین اور اس کے زیادہ گہرے مطالعے کے لئے ایک نیا راستہ کھول دیا۔  اس طریقے کو صحیح مان لینے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ میکلینن کے خوبصورت محل ہوا میں بکھر جاتے۔

میکلینن نے اپنی کتاب”قدیم شادی”(قدیم تاریخ کا مطالعہ "،  1876 (کے ایک نئے ایڈیشن میں اپنے نظریے کی پر زور حمایت کی۔  حالانکہ اس نے خود نہایت مصنوعی طور پر محض فرضی باتوں کی بنیاد پر خاندان کی تاریخ مرتب کی ہے مگر لوباک اور مارگن سے اس کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی ہر بات کے لئے ثبوت پیش کریں اور یہ ثبوت ایسے ہوں جن میں حجت کی گنجائش نہ ہو، جیسے ثبوت اسکاٹ لینڈ کی عدالتوں میں مانے جائیں۔   اور یہ مطالبہ وہ آدمی کرتا ہے جو جرمنوں میں ایک شخص کی ماں کے بھائی اور بہن کے بیٹے کے درمیان قریبی تعلق ہونے کی بات سے(تاسیت، "جرمنی’، باب (20 سیزر کی اس رپورٹ سے کہ بریٹون (9)لوگ دس بارہ کی تعداد میں مل کر مشترک بیویاں رکھتے تھے اور بربری لوگوں میں مشترک بیویوں کے رواج کے بارے میں قدیم زمانے کے مصنفوں کی تمام رپورٹوں سے، بلا کسی تامل کے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ان تمام لوگوں میں کثرت شوہری کا رواج تھا!  اس کی باتوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کوئی سرکاری وکیل اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے تو ہر طرح کی من مانی کرتا لیکن مخالف فریق کے وکیل سے مطالبہ کر تا ہے کہ وہ اپنے ہر لفظ کو ثابت کرنے کے لئے بالکل پکے اور قانونی طور سے بالکل صحیح ثبوت پیش کرے۔

اس کا دعویٰ ہے کہ گروہ دار شادی محض تخیل کی اڑان ہے اور اس طرح وہ باخوفن سے بھی بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مارگن نے جس چیز کو قرابت داری کا نظام سمجھا ہے، وہ شائستہ اور مہذب آداب معاشرت کے متعلق احکام سے زیادہ کچھ نہیں۔  اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ریڈ انڈین لوگ اجنبیوں اور گورے آدمیوں سے بھی "بھائی ”  یا "باپ” کہہ کر بات کرتے ہیں۔  یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ چونکہ کیتھولک پادریوں اور راہبہ عوتوں کو لوگ "فادر”(باپ(اور "مدر”(ماں (کہتے ہیں اور چونکہ راہب اور راہبہ عورتیں،  اور یہاں تک کہ انگلینڈ میں فری میسن لوگ اور کرافٹ یونینوں کے ممبر بھی جلسوں میں ایک دوسرے کو بھائی بہن کہتے ہیں،  اس لئے باپ،  ماں بھائی، بہن وغیرہ الفاظ محض القاب ہیں اور اس سے زیادہ ان کا کوئی مطلب نہیں۔  مختصر یہ کہ میکلینن کے دلائل بہت کمزور تھے۔

لیکن ایک بات رہ گئی ہے جس پر کسی نے میکلینن کی تردید نہیں کی۔ گوت باہر شادی کرنے والے اور گوت اندر شادی کرنے والے "قبیلوں "میں اس نے جو تضاد قائم کیا تھا اور جس پر اس کا سارا ڈھانچہ کھڑا تھا، وہ ذرا بھی نہیں ہلا۔ یہی نہیں بلکہ وہ اب بھی خاندان کی پوری تاریخ کامحور مانا جاتا تھا۔ لوگ یہ مانتے تھے کہ میکلینن نے اس تضاد کی وضاحت کرنے کی جو کوشش کی تھی وہ ناکافی تھی اور ا س سے خود ان واقعات کی تردید ہوتی تھی جن کو میکلینن نے پیش کیا تھا۔ لیکن خود اس تضاد کو، اس خیال کو کہ دو بالکل علیحدہ اور خود مختار قسم کے قبیلے ہوتے ہیں،  جن میں سے ایک طرح کے قبیلوں کے مرد اپنے قبیلے کے اندر کی ہی عورتوں سے شادی کرتے ہیں مگر دوسری طرح کے قبیلوں میں اس طرح کی شادی کی بالکل ممانعت ہوتی ہے۔ ۔۔۔ ان باتوں کو لوگ الہامی کتابوں کی طرح ناقابل انکار صداقت سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر ژ یرا تیولوں کی کتاب”خاندان کا آغاز” (10)(1874(اور خود لوباک کی کتاب ” تہذیب کا آغاز "(چوتھا ایڈیشن( 1882  کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں مارگن کی خاص تصنیف "قدیم سماج” (1877(بحث میں شامل ہوتی ہے۔ میری یہ کتاب اسی کتاب پر مبنی ہے۔ جن باتوں کو 1871میں مارگن نے نہایت مبہم طریقے سے محسوس کیا تھا، یہاں ان کی پوری سمجھ بوجھ کے ساتھ نہایت وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ مارگن کہتا ہے کہ گوت اندر شادی کرنے اور گوت باہر شادی کرنے میں کوئی تضاد نہیں۔   ابھی تک ایسا کوئی”قبیلہ”نہیں ملا ہے جس میں صرف گوت باہر ہی شادی کرنے کا رواج ہو۔ لیکن جس زمانے میں گروہ دار شادی کا رواج تھا۔ ۔۔۔ اور زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ کسی نہ کسی زمانے میں اس کا رواج ہر جگہ تھا۔ ۔۔۔۔ تب قبیلے کے اندر کئی گروہ ایسے ہوا کرتے تھے جن میں ایک دوسرے سے ماں کی طرف سے خون کا رشتہ ہوتا تھا۔ یہ گروہ گن کہلاتے تھے اور ان کے اندر شادی کرنے کی سخت ممانعت تھی۔ اس لئے کسی بھی گن کے مرد قبیلے کے اندر ہی اپنے لئے بیویاں حاصل کر سکتے تھے اور عام طور پر وہ یہی کرتے تھے، مگر انہیں اپنے گن کے باہر ہی بیویاں حاصل کرنی پڑتی تھیں۔  اس طرح جبکہ گن،  سختی سے گوت باہر شادی کرنے کے اصول پر عمل کرتا تھا، تب قبیلہ جس میں کئی گن شامل ہوتے تھے، اتنی ہی سختی سے گوت اندر شادی کرنے کے اصول پر عمل کرتا تھا۔ میکلینن نے بناوٹی ڈھنگ سے جو محل کھڑا کیا تھا، اس کے آخری کھنڈر بھی اس کی تاب نہ لا کر زمین پر آ رہے۔

لیکن مارگن کو اس سے ہی اطمینان نہیں ہوا۔ امریکہ کے قدیم باشندوں کا گن اس کے لئے ایک ذریعہ بن گیا جس کی مدد سے اس نے تحقیق کے اس شعبے میں،   جس میں اب وہ داخل ہو رہا تھا، دوسرا فیصلہ کن قدم اٹھایا۔  مادری حق کی بنیاد پر منظم شدہ گن میں اس نے گنوں کی ابتدائی شکل دریافت کی جس سے بعد والے وہ گن پیدا ہوئے جو پدری حق کی بنیاد پر منظم ہوئے۔ ۔۔۔ جنہیں ہم قدیم زمانے کی مہذب قوموں میں پاتے ہیں۔  اس طرح یونانی اور رومی گن جو اس کے پہلے کے سبھی مورخوں کے لئے پہیلی بنے ہوئے تھے، امریکہ کے آدی باسیوں میں پائے جانے والے گن کی روشنی میں سمجھ میں آگئے اور قدیم سماج کی پوری تاریخ کے لئے ایک نئی بنیاد پڑ گئی۔

ابتدائی مادری حق والے گن کے بارے میں یہ نئی بات معلوم ہوئی تھی کہ وہ پدری حق والے گنوں سے، جو مہذب قوموں میں پائے جاتے ہیں،   پہلے کی منزل ہیں۔  قدیم سماج کی تاریخ میں اس نئی دریافت کی وہی اہمیت ہے جو علم حیات کے لئے ڈارون کے نظریہ ارتقا کی اور علم اقتصادیات کے لئے مارکس کے قدر زائد کے نظریہ کی۔  اس سے مارگن پہلی مرتبہ خاندان کی تاریخ کی ایک ایسی روپ ریکھا تیار کرنے میں کامیاب ہوا جس میں ارتقا کی کم ا ز کم بنیادی منزلوں کی مجموعی حیثیت سے عارضی طور پر، اور اس وقت تک جتنا مواد مل سکا تھا اس کو دیکھتے ہوئے جس حد تک ممکن تھا، اس حد تک متعین کر دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے اس سے قدیم سماج کی تاریخ کے مطالعے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اب مادری حق والا گن وہ محور ہے جس کے گرد یہ پورا علم گھومتا ہے۔ اس کا پتہ لگنے کے بعد اب ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تحقیق کے کام کا رخ کیا ہو، کس چیز کے چھان بین کی جائے اور اس چھان بین کے نتیجوں کو کس طرح ترتیب دیا جائے۔ چناچہ مارگن کی کتاب شائع ہونے کے بعد، پہلے کے مقابلے میں اس شعبے میں بہت تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔

مارگن نے جن باتوں کا پتہ لگایا ہے، انہیں اب انگلینڈ کے ماقبل تاریخی عہد کے مورخ بھی ماننے لگے ہیں یا یوں کہئے کہ انہوں نے چپ چاپ ان تمام با توں کو اپنا لیا ہے۔ لیکن ان میں شاید ہی کوئی یہ ماننے پر تیار ہو کہ ہمارے نقطہ نظر میں جو انقلاب ہوا ہے، اس کا سہرا مارگن کے سر ہے۔ انگلینڈ میں اس کی کتاب کے بارے میں جہاں تک ہو سکتا ہے لوگ چپ سادھے رہتے ہیں اور خود مارگن کو بڑی سرپرستی کے انداز میں اس کی پرانی کتابوں کی تعریف کر کے نبٹا دیا جاتا ہے۔  اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر چن چن کر تنقید کی جاتی ہے اور دراصل جو اس کی عظیم دریافیتں ہیں ان پر خاموشی کی ایسی مہر لگا دی جاتی ہے جو کبھی ٹوٹنے میں نہیں آتی۔ "قدیم سماج”کا پرانا ایڈیشن اب نایاب ہے۔ امریکہ میں اس طرح کی کتابیں چھاپنے میں کوئی نفع نہیں۔   انگلینڈ میں،  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مارگن کی کتاب کو باقاعدہ جان بوجھ کر دبایا گیا ہے۔ اور اس عہد آفریں کتاب کا واحد ایڈیشن جو اس وقت بازار میں مل سکتا ہے، وہ جرمن زبان میں ہے۔

ہمارے ماقبل تاریخی عہد کے مانے ہوئے مورخوں کی اس سرد مہری کا کیا سبب ہے؟ اس سرد مہری کو ایک سازش کا نتیجہ نہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ۔۔۔ خاص طور پر اس لئے کہ یہ حضرات محض تکلفاًاور اخلاقاً مارگن کی کتابوں سے ان گنت اقتباس اپنی کتابوں میں شامل کرتے ہیں اور طرح طرح سے بھائی چارے کا اظہار کیا کرتے ہیں۔  کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مارگن امریکی ہے اور ماقبل تاریخی عہد کے انگریز مورخوں کو یہ ماننے میں وقت ہوتی ہے کہ مواد جمع کرنے میں ان کی نہایت قابل تعریف محنت کے باوجود،  عام نقطہ نظر کے لئے، جس پر اس مواد کی ترتیب اور تدوین کا انحصار ہے، انہیں دو بڑے غیر ملکی عالموں،   باخوفن اور مارگن کا سہارا لینا پڑتا ہے؟  جرمن کو تو وہ کسی طرح برداشت بھی کر سکتے ہیں لیکن امریکی کو کیسے گوارا کر سکتے ہیں ؟ کسی امریکی کو دیکھ کر ہر انگریز کو حب الوطنی کا دورہ پڑنے لگتا ہے۔ میں جن دنوں امریکہ میں تھا تو مجھے اس کی نہایت مضحکہ خیز مثالیں دیکھنے کو ملیں (3)۔ اس کے ساتھ ایک بات اور ہے۔ میکلینن کو ایک طرح سے سرکاری طور پر انگلستان کی ماقبل تاریخی تحقیقات کا بانی اور رہنما مان لیا گیا تھا۔ اور ماقبل تاریخی عہد کے مورخوں میں یہ اخلاق اور شائستگی کا تقاضا سمجھا جاتا تھا کہ میکلینن نے تاریخی نظریے کی جو بناوٹی عمارت کھڑی کی تھی،  اس کا تذکرہ نہایت احترام سے کیا جائے۔ یہ نظریہ بچوں کے قتل سے لے کر کثرت شوہری،  اغوا کے ذریعے شادی اور مادری حق کے خاندان تک حاوی ہے۔ ایک دوسرے سے بالکل الگ اور مختلف،  دو قسم کے "قبیلوں "یعنی گوت باہر شادی کرنے والے اور گوت اندر شادی کرنے والے "قبیلوں "کے بارے میں ذرا سا بھی شک ظاہر کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے جب مارگن نے ان سبھی مقدس خیالات کی جڑ کاٹ دی تو گویا اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔ اور پھر مارگن نے اس مسئلے کو اس طرح سلجھایا کہ اس کے بارے میں بات کہتے ہی پوری چیز فوراً صاف ہو گئی۔  نتیجہ یہ ہوا کہ میکلینن کے وہ پر ستار جو ابھی تک اندھوں کی طرح گوت باہر شادی کرنے اور گوت اندر شادی کرنے کے رواجوں کے بیچ میں بھٹک رہے تھے، اب اپنا سر پیٹنے لگے اور چلانے لگے کہ ہم بھی کیسے احمق ہیں کہ اتنی ذرا سی بات کا اتنے دنوں تک خود پتہ نہیں لگا سکے۔

مارگن کا یہ قصور اس کے لئے کافی تھا کہ سرکاری علما اس کو سرد مہری سے نظر انداز کر دیں۔  لیکن مارگن نے اتنے یہ پر قناعت نہیں کی۔ اس نے ان کی تلخیوں کا پیالہ لبریز کر دیا۔ اس نے تہذیب کو، جنس تبادلہ پیدا کرنے والے سماج کو،  جو ہماری موجودہ سماج کی بنیادی صورت ہے، اپنی تنقید کا اس طرح ہدف بنایا جس سے فوریے کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا، اس نے سماج کی آئندہ تبدیلیوں کا ذکر کچھ ایسے الفاظ میں کیا جنہیں کارل مارکس استعمال کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے جیسا کیا ویسا پایا۔ میکلینن نے نہایت غصے میں اس پر یہ الزام لگایا کہ "تاریخی طریقے سے اس کو عداوت ہے”اور پروفیسر ژیرا تیولوں نے جنیوا میں 1884میں اس رائے کی حمایت کی۔ کیا یہی وہ موسیو ژیرا تیولوں نہیں تھے جو 1874میں(اپنی کتاب "خاندان کا آغاز”میں (میکلینن کے گوت باہر شادی کرنے کے رواج کے گورکھ دھندے میں بھٹک رہے تھے اور جنہیں مارگن نے ہی اس سے نجات دلائی تھی!

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ قدیم سماج کی تاریخ نے مارگن کی تحقیقات کی بدولت اور کون سی باتوں میں ترقی کی۔ اس کتاب کی دوران میں جہاں کہیں اس کی ضرورت ہو گی تذکرہ کیا جائے گا۔ مارگن کی اہم تصنیف کو شائع ہوئے چودہ برس کا عرصہ گزر گیا۔ اس دوران میں قدیم انسانی سماج کے بارے میں ہمارے پاس بہت سا نیا مواد جمع ہو گیا ہے۔  علم الانسان کے عالموں،  سیاحوں اور ماقبل تاریخ کے ماہروں کے علاوہ تقابلی قانون کے مطالعہ کرنے والوں نے بھی اس شعبے میں نئے مواد اور نقطہ ہائے نظر کا اضافہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کچھ خاص باتوں کے متعلق مارگن کے بعض مفروضے کمزور پڑ گئے ہیں اور کہیں کہیں بے بنیاد ثابت ہوئے ہئں لیکن کہیں بھی نئے مواد نے اس کے بنیادی خیالات کو بدل کر ان کی جگہ نئے تصورات قائم نہیں کئے ہیں۔  قدیم سماج کی تاریخ کے مطالعہ میں مارگن نے جو ترتیب قائم کی تھی وہ بنیادی طور پر آج بھی صحیح ہے۔ ہم یہاں تک کہہ سکتے ہیں کہ اس زبردست ترقی کے بانی کا نام چھپانے کی جتنی کوشش کی جاتی ہے، اس کی بتائی ہوئی بنیادی باتوں کو لوگ اتنا ہی روز بروز مانتے جاتے ہیں۔  (11)

رسالے اور کتاب دونوں کی اصل سے مقابلہ کیا گیا۔

Die Neue Zeit Bd. 2,No 41

رسالے میں 1890. 1891شایع ہوا اور مندرجہ ذیل کتاب کی صورت میں نکلا۔.

Friedrich Engels. Der Ursprung der Familie, des Privateigenthums und des Staats, Stuttgart, 1891

حوالہ جات

1۔ ناشر کا نام دیتس تھا۔(ایڈیٹر)

2۔ Tylor E.B. "Researches into the Early History of Mankind and the Development   of Civilization, London, 1865 ((Editor(ایڈیٹر

3۔ ایسکلس "آسطیا۔  ایومینید۔("ایڈیٹر)

4۔ Mac-Lennan J.F.”Studies in Ancient History, comprising a Reprint of Primitive Marriage” ,London, 1886(ایڈیٹر

5۔ Latham R.G, "Descriptive Ethnology”, Vols, 1.11, London 1859(ایڈیٹر)

6۔ Morgan L.H. ” League of the Ho-de-no-sau-nee, or Iroquois”,Rochester,(1851.ایڈیٹر

7۔ Lubbock J, ” The Origin of Civilisation and the Primitive Condition of Man , Mental and Social Condition of Savages”, London, 1870.ایڈیٹر

8۔ Morgan L.H, "System of Consanguinity and Affinity of the Human Family”. Washington, 1871.(ایڈیٹر)

9۔ بریٹون۔ ۔۔۔۔ پانچویں اور چھٹی صدی میں اینگلو سیکسن تسلط سے پہلے برطانیہ کی کیلٹ آبادی کا نام تھا۔(ایڈیٹر)

10- Giraud. Teulon a, "Les origines de la famille”, Geneve, Paris, 1874. (Editor(

11۔ ستمبر 1888میں نیو یارک سے واپسی کے وقت میری ملاقات امریکی کانگرس کے ایک سابق ممبر سے ہوئی جو راچسٹر کے حلقے سے چنے گئے تھے۔ وہ لیوئس مارگن کو جانتے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ مجھے مارگن کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مارگن راچسٹر میں خانگی زندگی بسر کرتا تھا۔ اپنے پڑھنے لکھنے کے علاوہ اسے اور چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا بھائی فوج میں کرنل تھا اور واشنگٹن میں جنگی محکمے میں کسی عہدے پر تھا۔ اپنے بھائی کی مدد سے مارگن نے حکومت کو اس بات پر آمادہ کر، یا تھا کہ وہ اس کی تحقیقات میں دلچسپی لے اور اس کی کتابوں کو سرکاری خرچ سے چھاپے۔ کانگرس کے ان سابق ممبر کا کہنا تھا کہ جب تک وہ کانگرس کے ممبر تھے خود انہوں کے بھی مارگن کی مدد کی تھی۔

٭٭٭

تشکر: وصی اللہ کھوکھر جن کے توسط سے فائل کی فراہمی ہوئی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید