FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

براہِ راست

جہانِ دانش کے ممتاز و منتخب اہلِ قلم سے مکالمہ

حصہ دوم

               گلزار جاوید

ڈاکٹر فرمان فتح پوری

 (۲۶ جنوری ۱۹۲۶ء)

٭       سید دلدار حسین سے فرمان فتح پوری تک کے سفر کی روداد ہمارے اور قارئین ’’چہارسو‘‘ کے لئے نہایت اہم اور دلچسپ ہو گی؟

٭٭   میرے خاندان میں ناموں کا سلسلہ سید کے سابقے اور علی کے لاحقے کے ساتھ پشتوں سے چلا آ رہا ہے۔ بڑے بھائیوں کے نام سید شمشاد علی اور سید اشفاق علی تھے۔ میرے بیٹوں کے نام سید ابرار علی اور سید ابصار علی ہیں، اسی روش پر میرا نام، والدین نے سید دلدار علی رکھا۔ چچا زاد بھائیوں کے نام سید زاہد علی، سید ذاکر علی، سید ثابت علی، سید حافظ علی، سید امجد علی، سید محفوظ علی، سید فرقان علی، سید فرمان علی وغیرہ تھے۔ سید زاہد علی اور سید فرمان علی میرے ہم عمر اور مڈل اسکول تک میرے ہم جماعت تھے۔ مڈل اسکول کا فاصلہ گھر سے تقریباً چھ میل تھا۔ سائیکل پر آنا جانا تھا۔ ہر ہفتے کی شام کو بورڈنگ ہاؤس سے گھر جاتے اور پیر کی صبح اسکول پہنچ جاتے۔

            سید فرمان علی سے میری گہری دوستی تھی۔ زیادہ وقت ساتھ گزرتا تھا۔ ۳۹۔۱۹۳۸ء کی بات ہے میں ایک پیر کی صبح کو سائیکل پر اسکول کے لئے نکلا۔ معمول کے مطابق فرمان کے گھر پر دستک دی۔ چچی نے بتایا کہ رات سے انہیں بخار ہے، ان کی چھٹی کی درخواست لگا دینا۔ بخار اتر گیا تو ممکن ہے وہ گھنٹے دو گھنٹے دیر سے اسکول پہنچ جائیں۔ میں اسکول چلا گیا۔ دو تین پیریڈ گزرے تھے کہ ہمارے گاؤں کا ایک کُرمی ہانپتا کانپتا اسکول پہونچا اور اس نے یہ بد خبر سنائی کہ ’’فرمان میاں گزر گئے ‘‘ اسکول میں چھٹی کا اعلان ہو گیا۔ میں کس طرح گھر واپس آیا۔ نہایت جانکاہ صدمہ تھا۔ میرے لئے، والدین کے لئے، سارے عزیزوں کے لئے۔ پورے گاؤں کے لئے۔ میری عمر ۱۴۔۱۳ برس کی رہی ہو گی۔ روزمرہ کے اہم موضوعات و واقعات کے تاثرات کو شعروں اور مصرعوں میں منظوم کرنے لگا تھا۔ فرمان کی اچانک وفات نے مجھ پر اور فرمان کے والدین پر ایسی قیامت ڈھائی تھی کہ بعض غم آلود جذبے مصرعوں کی شکل اختیار کرنے لگے تھے۔ نہ جانے کس جذبے کے تحت میں نے اپنے نام کے ساتھ ’’فرمان‘‘ بطور تخلص لکھنا شروع کر دیا اور میرا نام یوں ہو گیا ’’سید دلدار علی فرمان‘‘ فتح پوری کا لاحقہ بعد کو لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہوا کہ سید دلدار علی تو صرف خاندانی کاغذات اور سرکاری دستاویزوں میں رہ گئے اور ’’فرمان‘‘ عرف عام کے طور پر ایسا مقبول ہوا کہ فرمان کے والدین کو اس سے عجب طرح کا سرور ملتا تھا۔ جب تک جیئے مجھے ’’فرمان‘‘ ہی سمجھ کر گلے لگاتے تھے۔ میں بھی ان کو اپنے ابا جی اور اماں کی طرح چاہتا تھا۔ میرے لئے سب سے دل خوش کن بات یہ ہے کہ میرا دوست میرے ساتھ اب تک زندہ ہے بلکہ میں تو کہیں کا نہیں رہا، بس وہی موجود ہے۔ اس کا ہونا میرے ہونے کا ثبوت ہے۔

٭       آغاز آپ نے شاعری سے کیا پھر نثر، تنقید اور تحقیق کی جانب مائل ہو گئے اول تو یہ فرمائیے کہ آپ کا باقاعدہ شعری سفر کتنی مدت پر مشتمل ہے۔ دوم آپ نے نثر کو کن وجوہ کی بنا پر مقدم جانا اور باقاعدہ ناقدانہ کردار کی ابتداء کب اور کس طور ہوئی؟

٭٭   شعری سفر کا قصہ یوں ہے کہ شعر تو اب بھی کہتا ہوں مگر گاہے گاہے صرف اس وقت جبکہ شعر کسی اندرونی دباؤ کے تحت خود بخود آ رہا ہو۔ میں تخلیقی ذہن اور طبع موزوں لے کر پیدا ہوا۔ بڑے بھائی کے علاوہ خاندان کے بعض دوسرے بھی شعر کہتے تھے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم گاہوں کی فضا بھی ایسی تھی کہ شعر گوئی کسی نہ کسی طور پر جاری رہی۔ ۵۰۔۱۹۴۵ء کا زمانہ تحریک پاکستان کا تھا۔ ملی نظمیں کہیں، سیاسی جلسوں میں پڑھی گئیں۔ بعض بہت مقبول ہوئیں اور دہلی کے روزنامے ’’وحدت‘‘ اور ’’الامان‘‘ میں شائع ہوئیں۔ مگر مطالعے کا چسکا کچھ ایسا تھا کہ دوسروں کی شاعری دل میں گھر کرنے لگی اور اپنی شاعری پھیکی محسوس ہونے لگی۔ ترک تو نہ ہو سکی، منہ سے لگی رہی، زبان کے مسائل سے دلچسپی بوجوہ بڑھتی گئی۔ اگست ۱۹۵۱ء میں پروفیسر احتشام حسین کا ایک مضمون ’’نگار‘‘ لکھنؤ میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے سوالیہ نشانات کے ساتھ یہ بحث چھیڑی کہ اردو رسم الخط ناقص ہے اردو کو زندہ رہنا ہے تو فارسی رسم الخط کے بجائے اردو کو ناگری یعنی ہندی میں لکھنا چاہئے۔احتشام صاحب کے اس مضمون کے جواب میں اوروں کی طرح میں نے بھی ایک مضمون لکھا یہ نگار ہی میں اسی سال چھپا۔اتفاق سے یہ جوابی مضمون احتشام صاحب کو پسند آیا۔ انہوں نے نیاز فتحپوری کو خط لکھا اور میرے مضمون کو پسند کرتے ہوئے میرا سراغ لگایا۔ کراچی خط لکھا، میرا حوصلہ بڑھا اور میرا قلم نثر میں چلنے لگا۔ ایسا چلا کہ میں نثر کا ہو کر رہ گیا۔ ۶۰۔۵۰ء کی دہائی میں بیشتر مضمون نگار لکھنؤ اور ادب لطیف لاہور میں شائع ہوئے۔ اس زمانے میں نگار اور ادب لطیف میں چھپنا آسان نہ تھا مگر احتشام صاحب، نیازؔ اور میرزا ادیب کا مجھ پر احسان ہے کہ انہوں نے مجھ سے اصرار کے ساتھ لکھوایا، چھاپا اور میر ی ہمت افزائی کی۔

٭       علامہ نیاز فتح پوری سے آپ کی نیاز مندی کا سلسلہ کب اور کس طرح شروع ہوا اور علامہ کی کن خصوصیات نے آپ کی نیاز مندی کو عقیدت میں بدل ڈالا؟

٭٭   نیاز سے نیاز مندی کی داستان کیا دہراؤں۔ لمبا قصہ ہے۔ میری کتاب ’’نیاز فتح پوری دیدہ و شنیدہ‘‘ شائع ہو چکی ہے۔ فیروز سنز لاہور سے۔ اس سے اپنے کام کی چیز لے لیجئے۔

٭       علامہ نیاز فتح پوری کے علاوہ آپ پر انیسؔ، اقبالؔ اور حسرتؔ کا بھی کافی اثر پایا جاتا ہے۔ یہ نظریاتی ہم آہنگی ہے یا تخلیقی؟

٭٭   نیازؔ، انیسؔ، اقبالؔ، حسرتؔ، غالبؔ اور میرؔ سے نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ میرے ذہن کی تخلیقی ہم آہنگی ہے۔ ان کے کردار، شخصیت، فکر اور اسلوب نے مل کر مجھ پر اثر ڈالا ہے۔

٭       ڈاکٹر صاحب ! بڑے آدمی کا آپ کے ہاں کیا تصور ہے اور کیا آپ عصری ادب کے بڑوں کی نشاندہی فرمانا پسند کریں گے؟

٭٭   بڑے آدمی کے تصور میں گفتار و کردار کی مطابقت و ہم رنگی کو سرفہرست ہونا چاہئے۔ ’’ہم عصر‘‘ کا تعین بہت مشکل ہے۔ اسی لئے آپ کا سوال بھی مشکل ہے لیکن جواب مشکل نہیں۔ بڑے آدمیوں کے سلسلے میں میرا تصور بہتوں سے مختلف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں مجھے دو بڑے آدمی نظر آتے ہیں۔ ایک سرسید احمد خان دوسرے مولانا حسرت موہانی۔ ان کے فکر و نظر کی ہمہ جہتی اور کردار و گفتار کی ہم آہنگی آپ اپنی مثال ہے۔

٭       گئے وقت کی بابت ہمیشہ سے بہتری کا تصور قائم ہے اسی حوالے سے اگر ہم قدیم و جدید تخلیقی ادب کا موازنہ کریں تو کیا صورتحال ابھر کر سامنے آتی ہے۔ ظاہر ہے اس میں اشتراکی اور غیر اشتراکی ادب کا ذکر بھی لازمی طور پر آئے گا؟

٭٭   قدیم اردو ادب کا آغاز کب سے کریں، یہ مشکل نہیں ہے لیکن جدید کا آغاز کہاں سے اور کب سے کیا جائے بہت مشکل ہے۔ کہیں سے بھی آغاز کریں۔ میرے نزدیک جدید ادب قدیم سے کسی طرح کم تر درجے کا نہیں ہے۔ سامنے کی چیز سے نا مطمئن ہونا، انسان کے فطری تقاضوں میں سے ہے اور آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرتا ہے اشتراکی اور غیر اشتراکی ادب کے حوالے سے، اگر اس بات کو ۱۹۳۶ء کے بعد کے ادب سے ملا کر دیکھیں تو بحیثیت مجموعی مجھے اشتراکی ادب زیادہ طاقتور نظر آتا ہے۔ آج بھی اس کے اثرات قوی ہیں۔

٭       آج کل لکھی جانے والی تنقید پر اہل علم و ادب کا جس تیزی سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے اس کے کیا اسباب ہیں؟ اور اس سے ہمارا اور ہمارے ادب کا مستقبل کس جانب گامزن ہے؟

٭٭   میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ تنقید سے لوگوں کا اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ موجودہ تنقید، علم و فکر کے نکات اور حوالوں سے مالا مال ہے البتہ اس کا اسلوب اتنا دلکش نہیں ہے جتنا کہ ہونا چاہئے اس لئے اس کی وقعت کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے۔

٭       دیگر محترمین کی طرح آپ کو بھی نئی نسل سے تن آسانی کا شکوہ بجا طور پر ہو گا۔ آپ کے خیال میں ہمارا یہ عمل وقت کی تیز رفتاری، مقابلے کی شدت اور مواقع کی کمیابی کے باعث ہے یا واقعی ہماری نسل محنت سے نا آشنا ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں علم و ادب بالخصوص تنقید و تحقیق کے میدان میں کسی طرح کے شارٹ کٹ کے کتنے امکانات ہیں اور اس طرح کے عمل کا رد عمل کیا ہو گا؟

٭٭   نئی نسل محنت سے ناآشنا نہیں۔ اس کی محنت کا رخ البتہ بدل گیا ہے یعنی سائنس و تکنیکی علوم کی طرف ہو گیا ہے اس لئے محنت کی نمود اس طرز پر نہیں ہوتی جس طرز پر نئی نسل کے بزرگوں کی محنت کی نمود ہوتی تھی۔

٭       سائنس جس تیزی سے ترقی کے مراحل طے کر رہی ہے اس کے مقابلے میں علوم و فنون کی ترقی کی رفتار نہایت دھیمی اور سبک رو ہے جس کے باعث Book Cultureجو پہلے ہی برائے نام تھا۔ اب ناپید ہوتا جا رہا ہے کیا اس طرح آنے والے وقتوں میں ادب و شاعری ہماری زندگیوں سے غائب نہ ہو جائے گی؟

٭٭   یہ صورت حال وقت کے سماجی و اقتصادی تقاضوں کے تحت ہے۔ میرے خیال میں ایک خاص دورانیے کے بعد یہ صورت حال تبدیل ہو جائے گی اور علوم و فنون تیزی سے آگے بڑھیں گے بک کلچر پھر ابھر کر آئے گا۔ البتہ اس کی شکل و صورت بدل جائے گی۔

٭       آپ قیام پاکستان کے باشعور عینی شاہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دو قومی نظریہ اور نئی مملکت کے قیام کی روشنی میں اردو زبان و ادب اور دونوں خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا موازنہ کس طرح کیا جانا چاہئے؟

٭٭   دو قومی نظریئے کے خالقین، محرکین، معاونین اور مؤیدین کو یقیناً دو قومی نظریئے نے کچھ زیادہ نہیں دیا۔ یہ لوگ بحیثیت مجموع گھاٹے میں رہے ہیں لیکن دو قومی نظریئے اور نئی مملکت کے قیام نے عام مسلمانوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ فکری، علمی، سائنسی، اقتصادی، سیاسی، سماجی اور دینی غرض کہ ہر اعتبار سے دو قومی نظریہ اور اس کی زائیدہ مملکت نے خود کو دنیائے اسلام کو اتنا کچھ دیا ہے اور مسلمانان پاکستان کو اتنا فائدہ پہنچایا ہے کہ وہ شمار و حساب سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے دو قومی نظریئے کو ایک مثبت اور کارآمد تحریک ہی کہا جائے گا۔ اردو زبان و ادب کو فروغ مل رہا ہے۔ اس فروغ کی صورت بدلی ہوئی ہے لیکن باطن میں اس کے اثرات متعین ہیں۔

٭       ایک تجسس آپ کے ناقدین کو بے کل رکھتا ہے کہ آپ نے اپنی علمی و ادبی حیثیت کو کیش نہیں کرایا۔ یعنی آپ نے اپنے ادبی نظریات کی ترویج کے لئے کوئی ادبی حلقہ، گروہ یا جتھہ تشکیل نہیں دیا؟

٭٭   آپ جیسے مخلص دوستوں کی بہت بڑی تعداد میرے ساتھ ہے۔ میری بیشتر کتابیں عام موضوعات سے ہٹ کر ہیں اور سخت محنت طلب ہیں، ضخیم ہیں، مشکل ہیں، پھر بھی بیشتر، اہم اداروں سے چھپی ہیں اور کئی کئی بار چھپی ہیں۔ میری تحریروں کی مقبولیت میرا سب سے بڑا انعام ہے۔ ایسے میں کسی جتھے کی ضرورت پیش آئی نہ میرا مزاج کسی جتھے سے متاثر ہے۔

٭       اللہ تعالی نے آپ کو اردو ادب میں جو بلند اور غیر متنازعہ مقام عطا فرمایا ہے کیا یہ مناسب نہ تھا کہ آپ پاکستانی ادب کو گروہ بندی اور دھڑے بندی سے پاک کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے؟

٭٭   اس باب میں میرا طرزِ عمل ایک خاموش کا رکن کا رہا ہے اور میں نے دونوں کو جوڑنے ہی کی کوشش کی ہے۔

٭       آپ کے نیاز مندان آپ کی انکساری اور عاجزی کے دل سے قائل ہیں جبکہ آپ کے ناقداسے تکلف کے لبادے سے تعبیر کرتے ہیں؟

٭٭   اتنا حق تو آدمی کو ملنا چاہئے کہ وہ کسی مسئلے یا کسی آدمی کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکے۔ میرے لئے خوشی اور تقویت کی بات یہ ہے کہ لوگ میرے بارے میں اچھی بری کوئی رائے تو رکھتے ہیں ؂

زمانہ سخت کم آزار ہے بجان آمد

Aوگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں

AC٭  آپ کی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کے دور دور چرچے ہیں جبکہ آپ کے شعبے سے وابستہ شخصیات ان خصوصیات سے اکثر بہرہ ور نہیں ہوتیں۔ کیا آپ نے کوئی خاص کلیہ اختیار کر کے مزاج کی شگفتگی کو برقرار رکھا یا دوسرا تصور غلط ہے؟

٭٭    ہنسنا بولنا، بے ضرر طنز و ظرافت سے لطف اندوز ہونا، حسب توفیق محفل آرائی، خوش رہنا اوروں کو خوش رہنے کا موقع دینا میری فطرت کا حصہ ہے۔ میں اپنے آپ پر غیر معمولی یا مصنوعی سنجیدگی طاری کر لینے سے قاصر ہوں۔ موقع محل اور رنگ محفل دیکھ کر میری رگِ ظرافت پھڑکتی ہے۔ بزرگوں اور ثقہ حضرات کا احترام مجھ پر بہرحال غالب رہتا ہے۔ میر ی کتاب ’’اردو کی ظریفانہ شاعری‘‘ فیروز سنز لاہور سے اور دہلی سے شائع ہو چکی ہے اس میں آپ کے سوال کا مکمل جواب مل جائے گا۔ ویسے غالب کے اس قول کو بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ

حسد نہ کیجئے کمال سخن ہے گدا کیجئے

ستم، بہائے متاع ہنر ہے کیا کیجئے

٭       کافی عرصے تک آپ انڈو پاک کی مقتدر شخصیات کے حوالے سے ادبی فورم منعقد کیا کرتے تھے اور علامہ نیاز فتح پوری کی یاد میں جشن کا اہتمام بھی کرتے تھے اور نگار کے خوبصورت اور ضخیم نمبر بھی ترتیب دیا کرتے تھے۔ ان سلسلوں کے موقوف ہونے کے اسباب کیا ہیں؟

٭٭   دیگر اشخاص نہیں صرف علامہ نیاز فتح پوری کی یاد میں جشن نیاز کے نام سے دو ایک سال بڑے جلسے ہوئے ہیں۔ رہا نیاز یادگاری خطبہ یہ ہر سال خاص اہتمام سے آج بھی منعقد ہوتا ہے۔ پاکستان وہندوستان کے مشاہیر ادب شریک ہوتے ہیں۔ پچھلے سال یعنی دسمبر ۹۹ء کے جلسے میں مقامی ادیبوں کے علاوہ لاہور سے ڈاکٹر معین الرحمن اور ملتان سے ڈاکٹر انوار احمد نے مقالات پڑھے۔ فراق گورکھپوری نمبر بطور سالنامہ شائع ہوا۔ مقبول ہوا۔ خاص نمبروں اور سالناموں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔پاکستان سے پہلا خاص شمارہ نیاز فتحپوری نمبر ۱۹۶۳ء میں شائع ہوا۔ اب تک ناغہ نہیں ہوا۔

٭       ڈاکٹر صاحب ! عمر عزیز اور فنی معراج کے جس مقام پر آپ فائز ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ علم و ادب کے علاوہ پاکستان کے تمام مقتدر طبقوں کو بلا خوف و خطر ان خدشات بلکہ خطرات سے آگاہ فرمائیں جن سے ہمارا مستقبل بلکہ وجود تاریکی کی طرف گامزن ہے؟

٭٭   بحمد اللہ آج کے ادیب و شاعر خاصے با شعور و باخبر ہیں اور پاکستان کے ہر طبقے کے لوگ بیدار اور خطرات سے ہوشیار ہیں اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موقع آئے گا تو وہ اپنی باخبری اور ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔

 (جولائی ۲۰۰۰ء)

 

حمایت علی شاعر

۱۴ جولائی ۱۹۲۶ء

٭       والد صاحب کی بابت ہم اس قدر باخبر ہیں کہ وہ با اصول پولیس افسر تھے۔ والدہ صاحبہ، ننھیال اور ددھیال کے بارے میں ہماری بے خبری دور فرمائیے۔

٭٭   میرے جدّ اعلیٰ کا نام سید نور اللہ حسین تھا۔ وہ علمائے طریقت میں سے تھے۔ میرے گھرانے میں علمائے شریعت کا بھی راج رہا ہے مگر وہ بھی تصوّف کے واسطے سے۔ طریقت اور شریعت میں جو بنیادی اختلاف ہے، وہ اہل نظر جانتے ہیں مگر بعض علمائے دین نے درمیانی راہ نکال لی ہے اور قرآن کریم ہی کی روشنی میں …….. میرے گھر میں بھی یہ روشنی موجود تھی۔

            میرے گھرانے کے کوئی بزرگ (شاید محمد تغلق کے زمانے میں) دکن کی طرف آئے تھے۔ وہ اورنگ آباد کے قریب کہیں بس گئے۔ قریبی دیہات رنجن گاؤں اور گنگا پور میں ہمارے آبائی زمینیں ہیں اورنگ آباد کا قدیم نام ’’کھڑکی‘‘ تھا پھر ملک عنبر کے فرزند فتح خاں کے دور حکومت میں اس کا نام ’’فتح نگر‘‘ ہو گیا۔ اورنگ زیب نے جب دکن پر قبضہ کیا اور ’’فتح نگر‘‘ کو اپنا مستقر بنایا تو اس شہر کا نام ’’اورنگ آباد ‘‘ رکھ دیا گیا۔ یہ اورنگ آباد وہی ہے جس کو ولی دکنی سے نسبت رہی ہے، جو سراج اورنگ آبادی سے منسوب رہا ہے۔

میں رہنے والا ہوں اُسی ’’پیارے ‘‘ دیار کا

            میرے دادا سیّد ببر علی صاحب فوج میں تھے اور والد سید تراب علی صاحب، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پولیس میں رہے۔میری والدہ محترمہ لطف النساء بیگم، دریائے گوداوری کے کنارے ایک چھوٹے سے شہر پٹن کے قاضی اسماعیل الدین صاحب کی صاحبزادی تھیں۔ بچپن میں ماں سے محروم ہو جانے کی وجہ سے نو عمری میں اُن کی شادی کر دی گئی اور وہ اورنگ آباد آ گئیں۔ کچھ ہی برس بعد مجھ سے چھوٹے بھائی کی ولادت، اُن کے انتقال کا سبب بن گئی۔ بھائی بھی نہ رہا میں اُس وقت تین سال کا تھا۔ دو سال بعد مجھ سے بڑی بہن حبیب النساء بھی اللہ کو پیاری ہو گئی اور میں اکیلا رہ گیا۔

            والد صاحب نے عرصے تک دوسری شادی نہیں کی۔ آخر میری دادی اماں کے مجبور کرنے پر اُس وقت دوسری شادی کی جب میری عمر دس سال کی ہو چکی تھی۔ والد نے اپنی بہن کے بیٹے شفیع کو اپنا لیا تھا تا کہ مجھے تنہائی کا احساس نہ ہونے پائے۔ شفیع مجھ سے تین سال بڑے تھے مگر ہم دوستوں کی طرح رہے، ہم جماعت بھی تھے اور مزاجوں میں بھی یکسانیت تھی۔ ہندوستان میں وہ شفیع الدین فرقت کے نام سے جانے گئے اور پاکستان میں قاضی شفیع کے نام سے ………. اُن کے افسانے ’’افکار‘‘ اور دوسرے رسائل میں چھپتے رہے۔

٭       دوسری والدہ سے آپ کے کتنے بھائی بہن ہیں۔ اور آپ کی زندگی میں اُن کا کیا رول رہا؟

٭٭   میری دوسری والدہ سے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ اُن کا اسم گرامی حور النساء بیگم تھا۔ وہ ایک مجتہد گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اُن کے والد سیّد نور المقتدیٰ صاحب ایک دین دار بزرگ تھے اور اُن کے چچازاد بھائی مفتی ضیاء یار جنگ ریاست حیدرآباد دکن میں ایک بڑے مذہبی عہدے پر فائز تھے۔

            میری دوسری والدہ بھی اپنی ماں سے محروم ہو گئی تھیں۔ اُن کے والد نے اپنی سالی سے دوسری شادی کر کے گھر کی فضا کو بگڑنے نہیں دیا۔ مرہٹی زبان میں ایک مثل ہے، ماں مرے ماؤسی جئے، ماؤسی خالہ کو کہتے ہیں۔ سو میری یہ والدہ ’’ماں کی محبت‘‘ سے محروم نہیں ہوئیں اور میرے حق میں بھی اُن کا وجود خدا کی رحمت ثابت ہوا۔

            میرے سبھی بہن بھائی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ سبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ دو بھائی پی ایچ ڈی ہیں۔ ایک انجینئر اور ایک ایڈوکیٹ ……. دو بہنیں ہیں، ایک نے ایم ایس سی، بی ایڈ کیا اور دوسری انگریزی ادب میں ایم۔اے ہے۔ سبھی برسرِ روزگار ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ میں ہی اپنے حالات سے مجبور ہو کر ۱۹۵۱ء میں پاکستان آ کیا تھا۔ ۱۹۵۲ء میں میری بیگم بھی یہاں آ گئیں۔ والد بھی ایک بار آئے تھے، ۱۹۷۰میں اُن کا انتقال ہوا اور حال ہی میں دوسری والدہ کا بھی۔

٭       ابتدائی تعلیم، ہم سنوں اور ہم جماعتوں اور اساتذہ کے بارے میں ہمارے قاری کا اشتیاق فطری ہے۔

میں نے یہاں صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اس منزل تک بھی بار بار فیل ہو کر پہنچا اور وہ بھی پاکستان آ نے سے پہلے یعنی ۱۹۵۱ء میں …….. بات یہ تھی کہ میں، وقت سے پہلے بہت ’’عقلمند‘‘ ہو گیا تھا۔ ہائی اسکول میں ادب کا شوق ایسا ہوا کہ بڑی بڑی کتابیں پڑھنے لگا۔ نصابی کتب نظر میں جچتی نہیں تھیں۔ علامہ اقبال اور دکن کے انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کا کتنا ہی کلام ازبر تھا۔ اوپر سے علامہ نیاز فتح پوری کا رسالہ ’’نگار‘‘ ہر ماہ زیر مطالعہ رہتا۔گویا کریلا اور وہ بھی نیم چڑھا۔ لکھنے لکھانے کی طرف رغبت کا بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔

            ایک بار مولانا صلاح الدین احمد کے رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ (لاہور) میں کتابوں کی ایک فہرست شائع ہوئی کہ چند مہینوں میں قیمتیں بڑھنے والی ہیں۔ پرانی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اہلِ ذوق حضرات فوراً منگوا لیں۔ میں نے سب سے کم قیمت کی کتاب تلاش کی……… ایک کتاب پر نظر رک گئی۔ ’’آتش پارے ‘‘ قیمت ایک روپیہ اور مصنف کا نام تھا۔ حسن منٹو میرے لیے یہ نام اجنبی تھا۔ کتاب کے نام سے شاعری کا گمان ہو رہا تھا۔ اس زمانے میں جگر پارے، برق پارے اور نظر پارے قسم کے شعری مجموعے چھپتے تھے۔ میں نے فوراً آرڈر دیدیا۔ کچھ دنوں میں بذریعہ وی۔پی کتاب بھی آ گئی۔ بے صبری سے سرورق دیکھا۔ کتاب کی سطروں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں اور انہیں چنگاریوں سے جلی حروف میں لکھا تھا ’’آتش پارے ‘‘ طبیعت خوش ہو گئی۔ سرورق الٹا، انتساب والدۂ مرحومہ کے نام تھا۔ مصنف سے ایک تعلق پیدا ہو گیا۔ (ہمارا غم مشترک تھا) دیباچہ ایک سطری تھا جو مجھے آج تک یاد ہے۔

            ’’یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں، انہیں شعلوں میں تبدیل کرنا، پڑھنے والوں کا کام ہے۔‘‘

اس جملے نے جادو کا اثر کیا، خود پر اعتماد پیدا ہوا۔ پہلا افسانہ بے چینی سے پڑھنے لگا۔ ’’خونی تھوک‘‘ جس میں ایک گورا ایک ریلوے قلی کے سینے پر ٹھوکر مارتا ہے۔ ٹرین چل پڑتی ہے۔ قلی غصّے میں اس کے منہ پر تھوک دیتا ہے۔ وہ تھوک خون آلود تھا۔ اس افسانے نے میرے دل میں سامراج کے خلاف جذبات کو اور بھی بھڑکا دیا۔ دوسرا افسانہ تھا ’’انقلاب پسند‘‘۔ اس میں ایک باغی نوجوان کا کردار پیش کیا گیا تھا جس کی عادات اور طرز فکر میں مجھے اپنی شباہت زیادہ نظر آئی۔ روایتی یکسانیت سے بے زاری، تبدیلی پسندی، جوشیلے جذبات، کچھ ایسی حرکات جنہیں غیر معمولی کہا جا سکتا ہے ………. میں یہ کتاب جتنی پڑھتا جاتا تھا، منٹو صاحب مجھے اتنے ہی اچھے لگتے تھے۔ ان افسانوں میں ایک افسا نہ ’’چوری‘‘ بھی تھا جس میں مصنف کار ایک دوکان سے کتاب چرانے اور پکڑے جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تھا مگر ندامت کی بجائے غربت کے خلاف جذبات ابھارے گئے تھے۔ میرے ساتھ بھی ایک بار کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، دوکاندار، والد کا جاننے والا تھا۔ بس اسی بات سے میں خوف زدہ تھا ورنہ میرے بھی جذبات وہی تھے جو منٹو صاحب نے اس افسانے میں پیش کیے تھے۔ اُن دنوں میں کبھی کبھی زندگی سے بیزار بھی ہو جاتا تھا۔ اکثر سنجیدگی سے خودکشی کے بارے میں سوچتا یا پھر کسی بڑے شہر (مثلاً بمبئی) کے پُر ہجوم بازار میں کھو جانا چاہتا والدہ سے محرومی کا احساس مجھ میں شدید تھا۔ چھوٹی عمر ہی سے میں قبرستان جانے لگا تھا۔ مجھے وہاں بڑا سکون ملتا۔ سراج اورنگ آبادی کے مقبرے کے آس پاس درختوں کے سائے میں سارا سارا دن لیٹا رہتا آہستہ آہستہ یہ روش بدلی، لکھنے پڑھنے کے ساتھ خیالات میں بھی تبدیلی آئی۔

            اورنگ آباد سے کوئی اخبار نکلتا تھا نہ رسالہ، ہم طالب علم قلمی رسالے نکالتے تھے۔ کچھ احباب نے ’’جگنو‘‘ اور ’’شاہین‘‘ نکالے اور میں نے ’’شرارہ‘‘۔ ان رسالوں میں جو کچھ بھی لکھا جاتا،آپ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ۱۹۴۵ء میں ہمارے انٹر میڈیٹ آرٹس کالج کے میگزین ’’نورس‘‘ میں میری پہلی کہانی چھپی، اُس کا عنوان تھا ’’فلسفہ اور حقیقت‘‘۔ اس وقت میں حمایت تراب کے نام سے لکھتا تھا۔ یہ رسالہ مسلم ضیائی کی لائبریری میں تھا، انہوں نے مجھے دیدیا۔میرے کتب خانے میں آج بھی یادگار کے طور پر محفوظ ہے۔

٭       شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز کب، کہاں اور کس تحریک پر ہوا؟

٭٭   سعادت حسن منٹو کے ساتھ مجھے کرشن چندر بھی اچھے لگتے تھے۔ اُن کی نثر بڑی شاعرانہ ہوتی۔ شاید اُسی سے میرے اندر کے ’’منہ بند شاعر‘‘ کو کھُلنے کی ترغیب ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ پیاس کی شدت سے میری روح ادب کے ’’صفا اور مروَہ‘‘ پر پانی کی تلاش میں سرگرداں تھی کہ زمین کی مامتا کو جوش آ کیا اور شاعری کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ میں شعر کہنے لگا۔ مگر یہ واقعہ میرے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا……… اس شغل نے میرے سدھرنے کے امکانات کو اور بھی مشکوک کر دیا۔ خاندان کے لوگ میرا مذاق اڑانے لگے۔ شعراء کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ ناکارہ ہوتے ہیں۔ انہیں آوارہ بھی سمجھا جاتا، اور میں تو ثبوت بھی فراہم کر رہا تھا۔ دوستوں کے ساتھ دیر تک ہوٹلوں میں بیٹھنا، سگریٹ پینا، مشاعروں میں راتیں کالی کرنا …….. والد کو خبر ہوتی تو وہ بھی ڈانٹتے، کبھی مار بھی کھائی۔ جو کتابیں میرے مطالعے میں ہوتیں وہ بھی قابل اعتراض تھیں، باغیانہ، کافرانہ، کئی بار تو والد صاحب نے انہیں پھینک بھی دیا مگر میں اپنی روش سے باز نہ آیا۔

٭       ’’حمایت تراب‘‘ کے حمایت علی شاعر ہو جانے کے کیا اسباب ہیں؟

٭٭   جب لفظ ’’شاعر‘‘ میرے تمسخر کا سبب بن گیا تو میں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کر لیا اور اپنا تخلص ہی ’’شاعرؔ‘‘ کر دیا (میرے اشعار ویسے ہی باغیانہ ہوتے تھے) کچھ شعر اب بھی یاد ہیں۔ آپ بھی پڑھ لیں۔

سامراجی بربرّیت کے تلے کچلے ہوئے

ہند کے مردہ دلوں کو پھر سے گرمائیں گے ہم

’’تقدیر‘‘ پر ایک نظم لکھی تھی جو ۴۷؁ء کے اوائل میں ’’سویرا‘‘ حیدرآباد دکن میں چھپی تھی، اس کا پہلا شعر تھا ؂

ایک بنتِ جہل، زرداری کا پروردہ خیال

عرش و کرسی کے پس پردہ ملوکیت کی چال

ایک دلچسپ شعر یہ بھی تھا جو بہت مشہور ہوا۔

وہ وقت بھی عذابِ الٰہی سے کم نہیں

Iجب آدمی میں ہوتا ہے بیدار ’’مولوی‘‘

٭       پندرہ سولہ برس کی عمر میں ادبی سماجی شعور، پیپلز بک ہاؤس کی طرف توجہ اور سوشلسٹ لٹریچر سے دلچسپی کا آغاز کن وجوہات کی بنا پر ہوا؟

٭٭   اس زمانے میں مجھے کچھ ایسے دوست مل گئے جو ریاست کے باغی سمجھے جاتے تھے۔ اُنہیں شہر بدر بھی کیا گیا تھا۔ اتفاق سے وہ کمیونسٹ تھے۔ کامریڈ افتخار، کامریڈ حبیب اور نسیم الحسن موہانی (حسرت موہانی کے عزیز) ہمارے ایک اور بزرگ دوست تھے، اخترالزماں ناصر….. وہ ہمارے استاد بھی تھے اور ہمیں انگریزی پڑھاتے تھے۔ داغؔ کے رنگ میں غزلیں کہتے تھے، اقبالیات پر اُن کا مطالعہ گہرا تھا۔ ہمارے ادبی ذوق کی پرورش انہی کے ہاتھوں ہوئی لیکن میری سوچ کو نئی سمیت دوسرے دوستوں سے ملی۔ کامریڈ افتخار نے ایک بک سٹال، پیپلز بک ہاؤس کے نام سے قائم کیا تھا جس میں سوشلسٹ لٹریچر برائے فروخت رکھا جاتا۔ میں یہ کتابیں پڑھتا اور اپنے دوستوں سے بحث کرتا۔ اُن دنوں بمبئی سے کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار رسالے ’’قومی جنگ، کراس روڈز اور نئی زندگی‘‘ نکلتے تھے، ریاست میں اُن کے داخلے پر پابندی تھی مگر کسی طرح وہ آ جاتے اور رات کے اندھیرے میں ہم چند نوجوان انہیں شہر میں تقسیم کر دیتے۔ اسی دور کا ایک دلچسپ واقعہ سناؤں۔

            غالباً ۱۹۴۷ء میں میری ایک نظم ’’ظہور قدسی‘‘ ایک مذہبی رسالہ ’’الارشاد‘‘ میں شائع ہوئی تھی، انداز بیان ایسا لگتا تھا کہ مدیر محترم کو میری عمر کا اندازہ نہ ہو سکا۔ کچھ اشعار اس کے بھی پڑھ لیجئے۔

یک بہ یک اُبھرا زمیں سے آفتابِ چارہ ساز

عارفِ شیطاں کش و باطل شکن اور حق نواز

واقفِ سرِکُن و دانائے رازِ زندگی

جلوہ فرما پیکرِ خاکی میں نورِ ایزدی

خاک پر تو نے کھلائے پھول اے ابرِ کرم

یہ خزاں آباد دنیا بن گئی رشکِ ارم

شاعر کا نام لکھا تھا۔ ’’مولوی میر حمایت علی شاعر اورنگ آبادی‘‘ بس پھر کیا تھا۔ اسکول سے شہر تک میرا نام ’’مولوی‘‘ پڑ گیا۔ اب ’’شاعر صاحب ‘‘ کی بجائے مذاقاً مجھے ’’مولوی صاحب‘‘ پکارا جانے لگا۔ کچھ دوست ’’کامریڈ مولوی‘‘ کہتے۔ کچھ احباب طنزاً مجھے میرا ہی شعر سناتے۔

وہ وقت بھی عذابِ الٰہی سے کم نہیں

Iجب آدمی میں ہوتا ہے بیدار ’’مولوی‘‘

%اکثر لوگ تو یہ سمجھتے کہ میں نے کہیں سے یہ اشعار اڑائے ہیں یا اخترالزماں ناصر نے کہہ کر دیئے ہیں۔ کم از کم میرے خاندان میں یہی بات پھیلی ہوئی تھی۔

٭       کامریڈ افتخار کی گرفتاری پر آپ نے افسانہ لکھا تھا۔ اس کے بعد کن موضوعات پر آپ نے کیا کچھ لکھا اور بالخصوص آپ کے افسانے کن رسائل میں شائع ہوئے؟

٭٭   کامریڈ افتخار کی گرفتاری پر میں نے جو افسانہ لکھا تھا اس کا عنوان تھا ’’تاج کے زیر سایہ‘‘۔ یہ افسانہ ہفتہ وار ’’نظام‘‘ (بمبئی) کے ۱۷ نومبر ۱۹۴۶ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس رسالے کے ایڈیٹر قدوس صہبائی تھے۔ پھر میرا ایک افسانہ ’’فلم لائٹ‘‘ (دہلی) کے کسی شمارے میں شائع ہوا۔ اس کے ایڈیٹر تھے، خان عیسیٰ غزنوی….. ایک افسانہ بمبئی کے ماہنامے ’’کہکشاں ‘‘ میں چھپا اور ایک افسانہ ’’بدلتے زاویے ‘‘ عادل رشید کے ہفتہ وار ’’شاہد‘‘ (بمبئی) کے ’’عید نمبر‘‘ ۱۹۴۸؁ء میں شائع ہوا جو ایک بچے کے بدلتے ہوئے ذہن کا ترجمان تھا۔ اس میں ہماری سوسائٹی کے اس رویّے کی تصویر کھینچی گئی تھی جو علم و عمل کے تضاد سے عبارت ہوتا ہے۔ ہفتہ وار ’’پرواز‘‘ (حیدرآباد دکن) اور ۵ دسمبر ۱۹۵۰؁ء کے شماروں میں میرے دو مضامین شائع ہوئے۔ ایک ’’میں امن چاہتا ہوں ‘‘ اور دوسرا ’’باپو کے نام‘‘ اس کے علاوہ ایک مضمون (کیفی اعظمی کے ہم زلف) ’’اختر حسن‘‘ پر لکھا تھا جو قاضی عبدالغفار صاحب کے اخبار روزنامہ ’’پیام‘‘ اور اپنے اخبار ’’عوام‘‘ کے مدیر اور بڑے ترقی پسند صحافی تھے، فارسی شعر و ادب میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ یہ مضمون ’’پرواز‘‘ کے ۱۹ دسمبر ۱۹۵۰؁ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس رسالے کے شعبۂ خواتین کی انچارج میری بیگم معراج نسیم تھیں وہ بھی افسانے لکھتے تھیں، اُن کے افسانے ’’پرواز‘‘ (حیدرآباد دکن) ’’تجلّی‘‘ (کراچی) اور چند دوسرے رسائل میں شائع ہوئے۔ یہ ۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۶ء کا زمانہ ہے۔ پھر وہ بچے پالنے میں مصروف ہو گئیں۔ حیدرآباد دکن کے ایک اخبار ’’ہمدرد‘‘ ۱۹۵۰ء میں ایک قلمی نام ’’ابلیس فردوسی‘‘کے نام سے بھی میرے کچھ کالم شائع ہوئے۔ اس نام کے نفسیاتی جواز کا تجزیہ میں نے ’’آئینہ در آئینہ‘‘ اور اپنے مضامین کے مجموعے ’’کھِلتے کنول سے لوگ‘‘ میں شامل ایک مقالے ’’اخترالزماں ناصر (میرے دوست اور استاد‘‘)میں بھی کیا ہے (غالباً آپ کو یہ کتاب بھیج چکا ہوں۔ دکن کے اہل قلم کے بارے میں ہے) میں نے دو قلمی نام اور بھی اختیار کیے تھے، ہندوستان میں ’’نردوش‘‘ اور پاکستان میں ’’ابن مریم‘‘ ان ناموں سے میرا کلام بمبئی کے ہفتہ وار ’’شاہد‘‘ اور کراچی ماہنامہ ’’افکار‘‘ ہفتہ وار ایڈیشن ’’قومی اخبار‘‘ اور لاہور کے ہفتہ وار ’’سیل و نہار‘‘ میں بھی چھپتا رہا ہے جب فیض صاحب اس کے ایڈیٹر تھے (ظاہر ہے کہ یہ سروس کی مجبوری تھی، اُن دنوں میں ریڈیو پاکستان سے منسلک تھا)۔ میری اُس دور کی کچھ کہانیوں کو مجلّہ ’’شخصیت‘‘ (حمایت علی شاعر نمبر) میں محفوظ کر دیا گیا ہے جس کی تقریبِ رونمائی ۱۴ جولائی ۱۹۹۶ء کو کراچی میں ہوئی تھی۔

٭       اورنگ آباد چھوڑنے کے بعد والد صاحب سے کب اور کس ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اور اس وقت آپ کی بابت اُن کے کیا احساسات تھے؟

٭٭   کامریڈ افتخار کی گرفتاری کے بعد امکان تھا کہ میں بھی گرفتار کر لیا جاتا مگر والد صاحب کی پولیس افسری کام آئی اور میں بچ گیا۔ اُن دنوں والد صاحب ایک اور شہر عنبڑ میں تعینات تھے۔ انہوں نے مجھے وہاں بلا لیا۔ وہاں بھی مجھے کچھ اپنے ’’ہم خیال‘‘ مل گئے۔

            اپنی منظوم سوانح حیات ’’آئینہ در آئینہ‘‘ میں، میں نے وہاں کا احوال بھی لکھا ہے (آپ نے وہ حصّہ پڑھا ہو گا شاید مزہ بھی آیا ہو) دو چار شعر میں بھی لکھ دوں۔

میں اپنے شہر سے عنبڑ چلا گیا اک رات

مگر ارادے نئے لے گیا تھا اپنے ساتھ

تھا اُن دنوں مرے ابّا کا مستقر وہ شہر

خیال تھا، مرے حق میں ہے بے ضرر وہ شہر

ملے گی ’’صحبتِ بد‘‘ سے مجھے نجات وہاں

ادب کی اور نہ سیاست کی ہو گی بات وہاں

مگر یہ بات کہ شیطاں کہاں نہیں ہوتا

جہاں کوئی نہ ہو شاید وہاں نہیں ہوتا

خدا تو ہے ہی یہاں، لاکھ بے نیاز رہے

وگرنہ ’’ظل الٰہی‘‘ کا کیا جواز رہے

ریاست میں بادشاہِ وقت کو ظل اللہ کہا جاتا تھا۔

جب تک میں طالب علم رہا، اسکول میں ہر روز ایک ترانہ سننا اور گانا پڑتا تھا۔

تا ابد خالقِ عالم یہ ریاست رکھے

تجھ کو عثماں ؔ بصد اجلال سلامت رکھے

اکثر دکن ریڈیو اورنگ آباد سے یہ غزل بھی سنائی جاتی۔

سلاطین سلف، سب ہو گئے نذرِ اجل عثمانؔ

مسلمانوں کا تیری سلطنت سے ہے نشاں باقی

میں سوچتا …… کیا یہ سلطنت ختم ہو گئی تو مسلمانوں کا نام و نشان مٹ جائے گا؟

مگر مسلمانوں کا تعلق تو اسلام سے ہے …… اور اسلام کا شاہی سے تعلق کیا ہے؟

ایسے خیالات جس لڑکے کے ہوں اُسے اچھی نظر سے کیسے دیکھا جاتا…… چنانچہ میرے بارے میں بھی سبھی لوگوں کی رائے خراب تھی۔

عنبڑ میں قیام کے دوران میں ایک بار قریبی شہر جالنہ گیا۔ یہاں میرے ایک ننھیالی رشتہ دار عبدالغفور صاحب رہتے تھے۔ اُن کی ایک لڑکی مجھے پسند آ گئی…… پسند تو پہلے سے تھی مگر اس بار کچھ زیادہ ہی اچھی لگی۔ میں کوئی بے نام سی کیفیت لے کر لوٹا تھا اور پھر یہ کیفیت حیدرآباد دکن میں بھی میرے ساتھ رہی۔

            میٹرک میں بار بار فیل ہونے سے میری رپوٹیشن ہر جگہ خراب تھی۔ یہاں بھی مجھے یہی نصیحت کی گئی۔ میں نے دل میں سوچ رکھا تھا کہ پھر سے طالب علم ہو جاؤں مگر دوسرے مسائل آڑے آ گئے۔ حیدرآباد میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ اپنی زندگی خود بناؤں گا۔ والد نے بھی مجھے آزمائشوں سے گزرنے کے لیے وقت کے حوالے کر دیا تھا۔ میں نے اس شہر میں بڑے مصائب سہے، کبھی مسجد، کبھی مقبروں میں سویا، اکثر فاقے بھی کیے مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا حالانکہ یہاں چند ایک عزیز کبھی کبھی حال ضرور پوچھ لیتے تھے مگر میں کسی پر کچھ نہ ظاہر کرتا (ہو سکتا ہے، وہ لوگ درپردہ والد کے اشارے پر ہی میری خبرگیری کرتے ہوں) ایک دن روزنامہ ’’جناح‘‘ میں ایک شاعر کی ضرورت کا اعلان دیکھا۔ اس کے ایڈیٹر سعید اظہر حسین رضوی نے مجھے منتخب کر لیا۔ وہ اورنگ آباد سے تعلق رکھتے تھے لیکن میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اُن کے بڑے بھائی سعید اصغر حسین رضوی بھی پولیس افسر تھے اور میرے والد کے دوست بھی …… ان کا چھوٹا بھائی اطہر رضوی ہائی اسکول میں کبھی میرا ہم جماعت تھا۔ آج کل ٹورنٹو میں رہتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف کتابیں لکھتا ہے۔ یہ کتابیں لکھنے سے اُس کی ’’عیسائی بیوی‘‘ بھی اُسے نہیں روکتی۔

            ’’جناح‘‘ سے وابستگی بھی میرے خیالات پر اثر انداز نہ ہو سکی۔ میں قلمی نام سے کبھی اپنی اور کبھی وقت کی بات لکھتا رہتا۔ایک دن پریم چند سوسائٹی کے ایک جلسے میں مرزا ظفر الحسن (فیض اور مخدوم کے دوست اور ’’ذکرِ یار چلے ‘‘ کے مصنف) نے مائیک پر میری آواز سُن کر مجھے ریڈیو اسٹیشن بلا لیا اور مجھے اناؤنسر بنا دیا۔ تنخواہ بھی کافی ہو گئی، میں نے اخبار چھوڑ دیا۔ ستمبر ۱۹۴۸ء میں ہندوستان نے حیدرآباد پر حملہ کر دیا اور ایک دن ہی میں اُسے فتح کر لیا۔ بہت سے ساتھی پاکستان چلے گئے، میں وہیں رہا اور آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد میں بحیثیت نیوز ریڈر سروس کرتا رہا۔ میری تنخواہ اور بھی بڑھ چکی تھی۔ انہیں دنوں مجھے معلوم ہوا کہ وہ لڑکی جو مجھے پسند تھی، کسی اور سے منسوب ہونے والی ہے۔ میں پریشان ہو گیا۔ آخر اس لڑکی کے بہنوئی قاضی منتجب الدین سے، جو میری مرحوم والدہ کے بھی رشتے کے بھائی ہوتے تھے، سفارش طلب ہوا۔ انہیں اپنی والدہ کے حوالے سے ایسا درد بھرا خط لکھا کہ اُن کا دل پسیج گیا۔ میٹرک پاس نہ ہونے کا المیہ یہاں بھی آڑے آیا مگر میری دوسری خصوصیات، شاعری، شہرت، ریڈیو کی ملازمت اور مناسب تنخواہ نے سب کو مطمئن کر دیا صرف میرے والد آمادہ نہ ہوئے وہ یہی کہتے رہے۔

’’پڑھا نہ لکھا اور چلا شادی کرنے …… پہلے میٹرک پاس کر لے، پھر سوچیں گے ‘‘

            ریاست کے حالات بھی بدل چکے تھے۔ والد کو پنشن دے دی گئی تھی۔ بھائی بہن زیر تعلیم تھے۔ بس آبائی زمینات تھیں اور خاندانی بھرم…… وہ اپنے مسائل میں الجھے ہوئے تھے اور میں اپنے …… آخر مسلم ضیائی صاحب نے میری سرپرستی فرمائی۔ انہیں ویسے بھی مجھ میں بہت خوبیاں نظر آتی تھیں۔ وہ میرے مستقبل سے بہت خوش گمان تھے۔ انہوں نے عبدالغفور صاحب کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ بس والد کی رضامندی مسئلہ تھی…… وہ ناراض تھے میں بھی اپنی بات پر اڑا رہا، آخر میری شادی طے پا گئی…… ۱۴فروری ۱۹۴۹ء کو سہرہ بندھ گیا۔ (میری رفیق حیات کا نام، معراج نسیم ہے)۔

            میں نے اپنی منظوم سوانح حیات میں اس واقعے کا ذکر تفصیل سے لکھا ہے۔ اُس قسط کے آخری اشعار ملاحظہ کیجئے۔

وہ رات، ہاں وہ مری سب سے خوبصورت رات

وہ میرے کلبۂ ویراں میں نور کی برسات

خزاں میں جیسے وہ اک ’’کھلتے پھول سی ساعت‘‘

خوشی لٹاتی ہوئی وہ ’’ملول‘‘ سی ساعت

ملول یوں کہ نہ والد نہ والدہ موجود

عجب نصیب تھا میرا کہ بود بھی نابود

بس ایک حضرت مسلم ضیائی کا سایہ

خدا کی طرح تھا میرا تمام سرمایہ

اگرچہ دوست تھے اور اقربا بھی تھے موجود

اداس اداس سی لگتی تھی ساعتِ مسعود

٭

میں اپنے سہرے کی لڑیوں میں سر جھکائے ہوئے

کسی خیال میں گم تھا نظر جھکائے ہوئے

کہ ناگہاں مرے ابّا مجھے نظر آئے

 (اور اُن کو لے کے جو میرے سُسر ادھر آئے)

تڑپ کے میں بھی اٹھا اور لپٹ گیا اُن سے

قدم کو چھُو کے، کچھ ایسے چمٹ گیا اُن سے

کہ جیسے اب جو الگ ہوں تو چھوٹ جائیں گے

نہ صرف میں، مرے ابّا بھی ٹوٹ جائیں گے

٭

میں رو رہا تھا اور ابّا بھی رو رہے تھے مگر

خوشی تھی ایسی کہ ہنس بھی رہے تھے رہ رہ کر

وہ ہار مان کے خوش تھے، میں جیت کر نادم

وہ ایک لمحہ، رکھا جس نے عمر بھر نادم

٭       شہرت، ناموری اور بلند مقام پر پہنچ کر کم سنی میں گھر چھوڑنے کی بابت آج آپ کے کیا احساسات ہیں؟

٭٭   والد کی مرضی کے خلاف زندگی گزارنے کا مجھے دکھ تو ہے مگر مجھ میں ایک نیا حوصلہ پیدا ہو گیا۔ میں سیلف میڈ انسان بن گیا۔ چنانچہ اکتوبر ۱۹۵۰ء میں جب مجھے ریڈیو سے ہٹا دیا گیا اور میری بیوی کی اسکول کی ملازمت بھی ختم کر دی گئی تو حیدرآباد دکن ہی میں احتجاجاً میں نے اخبار بیچنا پسند کیا مگر کوئی ایسا کام نہیں کیا جو میری خود داری کے منافی ہوتا۔حالانکہ اس وقت تک میں ادبی دنیا میں ہندوستان گیر شہرت حاصل کر چکا تھا۔ میرا پہلا مجموعہ کلام ’’گھن گرج‘‘ پریس جا چکا تھا۔ یہ اور بات کہ اس سانحے کے بعد وہ پریس ہی میں رہ گیا اور ضائع ہو گیا۔ مگر میری خاطر مختلف ادبی تنظیموں اور مختلف اہل قلم نے مختلف رسالوں اور اخبارات میں مسلسل احتجاجی کالم لکھے (اس کی تفصیل میری طویل نظموں کے مجموعے ’’تشنگی کا سفر‘‘ کے دیباچے میں موجود ہے)حیدرآباد دکن کے ایک ہفتہ وار رسالے ’’پرواز‘‘ نے ۹ نومبر ۱۹۵۰ء کو ان تمام بیانات، کالم اور اداریوں پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کیا تھا جس کا عکس پروفیسر مرزا سلیم بیگ کی کتاب ’’احوال واقعی‘‘ (مطبوعہ ۱۹۹۴ء) میں بھی آپ نے دیکھا ہو گا۔

            میرے والد کو بھی میرے کردار کے اس پہلو پر فخر تھا۔ رہی اُن کی وہ آرزو کہ میں اعلیٰ تعلیم پا کر بڑا آدمی بن جاؤں، ایک باپ کی آرزو تھی جو ظاہر ہے کہ فطری تھی۔ اور میرا فرض تھا کہ میں اس آرزو کی تکمیل کرتا۔

٭       پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں عمل میں آیا جب کہ آپ ۱۹۵۱ء میں تشریف لائے۔ ۱۹۴۶ء سے ۱۹۵۱ء تک حیدرآباد دکن میں قیام کی بابت آپ نے اپنے احساسات کسی قدر اختصار سے کیوں بیان کیے؟

٭٭   آپ کا اشارہ ’’آئینہ در آئینہ‘‘ کی طرف ہے۔ میرا خیال ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ میرا یہ احوال اس کتاب میں (قسط نمبر۷ سے قسط نمبر ۲۰ تک) تقریباً سات سو اشعار میں رقم ہوا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ پوری کتاب (۵۱) قسطوں پر مشتمل ہے جس میں تقریباً ساڑھے تین ہزار اشعار ہیں۔ اس لحاظ سے یہ تذکرہ مختصر تو نہ ہوا۔ میرے خیال میں پاکستان میں لکھی جانے والی یہ سب سے طویل ’’پابند نظم‘‘ ہے جس میں میرے ذاتی دکھ سکھ بھی ہیں اور ملکی اور قومی سطح پر مختلف سیاسی، اقتصادی اور ادبی مسائل کا تجزیہ بھی ہے۔ یہ اور بات کہ ’’ہم عصر ادبی حلقوں ‘‘ میں اس کا تذکرہ کم کم نظر آتا ہے۔ تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اردو میں یہ روایت عام رہی ہے اگر آپ کے اطراف ’’شور مچانے والا‘‘ مضبوط حلقہ نہ ہو، آپ ’’باوسیلہ آدمی ‘‘ نہ ہوں تو اہل قلم کے اس ’’تجاہل عارفانہ‘‘ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے ادب پاروں کا فیصلہ وقت اور صرف وقت کرتا ہے۔ ویسے اس نظم کی تخلیق کے دوران (اگست ۱۹۹۵ء سے ستمبر ۱۹۹۹ء تک)ماہنامہ ’’افکار‘‘ میں مختلف اہل قلم کے جو تاثرات شائع ہوتے رہے (خصوصاً ہندوستان اور بیرون ملک کے) وہ میرے لیے بہت حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔ اب اس سوانح حیات کا انگریزی ترجمہ بھی امریکہ میں ہو رہا ہے نوجوان شاعر جاوید زیدی کر رہے ہیں۔

            میری طویل افسانوی نظم ’’بنگال سے کوریا تک‘‘ اور مختصر ترین صنفِ سخن ’’ثلاثی‘‘ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کچھ ’’رقیبانِ روسیاہ‘‘ نے ان پر ’’سرقے ‘‘ کا الزام لگانے کی کوشش کی۔ ان کے انگریزی تراجم بھی Flower in Flames (پروفیسر راجندر سنگھ ورما) اور Flute and Bugle (پرکاش چندر ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘) اور ثلاثیوں اور ایک اور طویل نظم ’’حرف حرف روشنی‘‘ کا انگریزی ترجمہ Every word a Glow (پروفیسر راجندر سنگھ ورما) اہل ادب کی نظر سے گزر چکا ہے۔ ان تخلیقات کے مقامی زبانوں میں بھی تراجم ہو چکے ہیں …… انشا اللہ وقت سبھی کا فیصلہ کر دے گا۔ ہمارا کام لکھتے رہنا ہے اور بس۔

٭       بقول آپ کے ’’اپنی وحدت کی تلاش مجھے خود سے نبرد آزما رکھتی ہے ‘‘ ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی تلاش میں کس قدر کامیاب ہوئے اور ان کامیابیوں کا ثمر آپ کے قاری تک کس طرح پہنچا؟

٭٭   یہ میرا ہی نہیں، ہر فن کار کا مسئلہ ہے۔ اس جستجو میں اکثر پوری زندگی صرف ہو جاتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ ایک تشنگی کے شکار رہتے ہیں۔ میرا ایک شعر ہے۔

یہ عجب تشنگی دل ہے کہ سب کچھ کہہ کر

اک خلش سی ہے کہ کچھ تشنۂ اظہار بھی ہے

یہی تشنگی ہمیں اپنے آپ سے نبرد آزما رکھتی ہے۔

میں اپنے آپ سے مصروف جنگ ہو شاعرؔ

لہولہان ہے دل، دشتِ کربلا کی طرح

کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے دوست محدود تھے اور دشمن بے شمار اور یہ سارے دشمن کسی ایک یا چند افراد کے اشاروں پر اُن کی جان کے درپے تھے …… میرا بھی یہی المیہ ہے۔ میری غزلوں کے مختلف اشعار میں آپ کو یہ پس منظر دکھائی دے گا۔ جوش صاحب نے کہا تھا۔

یوں کراچی میں جس طرح کوفے میں حُسین

سب شہادت کے ہیں آثار، چنا جور، گرم

میں کراچی میں کم اور حیدرآباد میں زیادہ رہا ہوں مگر کراچی کی زد سے بھی دور نہیں رہا۔ اس لیے میرے اشعار دونوں شہروں کا آئینہ دکھاتے ہیں۔

یہ شہر رفیقاں ہے دلِ زار، سنبھل کے

ملتے ہیں یہاں لوگ، بہت روپ بدل کے

٭

شاعر ایسی چوٹ کھائی ہے بہ فیضِ دوستاں

دوستی کے نام ہی سے اب لرز جاتا ہے دل

٭

کس کوچۂ طفلاں میں چلے آئے ہو شاعرؔ

آوازہ کسے ہے تو کوئی سنگ اٹھائے

٭

اس دشتِ سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے

چمکی جو ذرا دھوپ، تو جلنے لگے ’’سائے ‘‘

٭

یہ بھی ہے ماہتاب پرستی کی اِک ادا

جب اُس کو چھو نہ پائے تو خاک اس پہ پھینک دی

٭

حلقہ بگوش رہ کے کٹی جن کی زندگی

وہ کیا سمجھ سکیں گے، مقامِ خود آگہی

وہ گُل کسی بہار کا احسان کیوں اٹھائے

جس کو ملی ہو، زخم جگر کی شگفتگی

٭

بونوں میں کیا کرے کوئی خوش قامتی پہ ناز

کیا جانے وہ ہنر کوئی، جو میرے فن میں تھا

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے جھنجھلا کر کہہ دیا۔

جینا بھی اک الزام ہے، مرنا بھی اک الزام

ائے کاش، ہم اس ملک کے فن کار نہ ہوتے

میرے ساتھ ایسے واقعات اکثر پیش آئے ہیں اگر میں مضبوط اعصاب کا مالک نہ ہوتا تو کبھی کا ٹوٹ پھوٹ جاتا۔ یہ برتاؤ اکثر اہل قلم کے ساتھ ہوا ہے۔ اسی لیے غالب نے کہا تھا۔

حسد، سزائے کمال سخن ہے کیا کیجئے

ستم، بہائے متاع ہنر ہے کیا کیجئے

میرے ’’رقیبانِ روسیاہ‘‘ نے اپنے دل کی سیاہی کا مظاہرہ نہ صرف میری تخلیقات کے بارے میں کیا بلکہ مرحوم قابل اجمیری کی آڑ میں میری کردار کُشی کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے زندگی میں تو اس کے لیے کچھ نہ کیا، مرنے کے بعد سارے ’’تمغے ‘‘ اپنے سینے پر سجا لیے۔ انتقال کے تیس سال بعد اسی ’’چشم دید سوانح حیات‘‘ لکھوائی گئی جس کے مصنف نے کبھی قابلؔ کو دیکھا تھا نہ کبھی حیدرآباد میں رہا…… قابلؔ صاحب کی زندگی میں جس کی عمر دس بارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ اس بے بنیاد جھوٹ کے پلندے کو نہ صرف ’’سرگذشت ڈائجسٹ‘‘ (کراچی اکتوبر ۱۹۹۲ء) میں چھپوایا بلکہ ’’قومی اخبار‘‘ جیسے شام کے اخبار میں (۵ مارچ تا ۹ اپریل ۱۹۹۳ء) قسط وار چھپواتے رہے پھر ’’کُلیّاتِ قابل‘‘ میں بھی شامل کر دیا۔ وہ تو میرے بعد شاگردوں کی نشاندہی پر میں نے ایک وضاحتی مضمون ’’آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے ‘‘ کے عنوان سے لکھ کر ’’قومی اخبار‘‘ کو بھیج دیا تھا۔چنانچہ ’’کُلیّاتِ قابل‘‘ کے ناشر نے اُسے بھی قابلؔ کی سوانح کے ساتھ شامل کر دیا ورنہ ساری تحریریں ’’یک طرفہ‘‘ ہوتیں اور میں جو اپنی ’’وحدت‘‘ کی تلاش میں خود سے نبرد آزما رہتا ہوں …… اہل ادب کی نظر میں مستقل تقسیم ہو کر رہ جاتا۔

٭       ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق آپ کی نظموں اور غزلوں کے فاصلے کچھ زیادہ نہیں۔ اوّل اس خیال کی وضاحت کریں۔ دوم، غزل اور نظم کا عالمی ادب کے تناظر میں تقابل بھی فرمائیے۔

٭٭   میری شاعری کی حد تک ڈاکٹر صاحب کا خیال درست ہے۔ میں نے جن موضوعات کو اپنایا، وہ عموماً غزل کے نہیں رہے۔ غالبؔ سے غزل نے جو رُخ اختیار کیا، آپ نے دیکھا کہ اقبال کی شاعری میں وہ ’’نظم‘‘ ہو گیا۔ خاص طور سے ’’بال جبریل‘‘ کی غزلوں میں۔ داغؔ کے اثر سے نکلتے ہی علامہ اقبال ’’اپنی دنیا‘‘ میں پہنچ جاتے ہیں۔ میرؔ سے غالب تک چونکہ ہماری فکر پر تصوف کا راج تھا اور ’’عشق مجازی‘‘ سے ’’عشق حقیقی‘‘ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی تھی، اس لئے غزل اپنے مخصوص لہجے اور پیرائے میں رہی۔ اقبال کا تصوف وحدت الوجودی نہیں بلکہ وحدت الشہودی ہے۔ پھر اس میں مغربی افکار کی روشنی ہیگل اور مارکس کی جدلیات، برگساں کا نظریہ ارتقاء، نطشے کا انسانِ برتر اور پھر آئین سٹائین کا نظریہ اضافیت …… سبھی اُن کے شعور پر اثر انداز ہوئے۔ ان افکار نے اُن کی شاعری میں وسعت اور گہرائی پیدا کی اور علامہ اقبال، غزل کے روائتی سانچے سے نکل گئے اور اپنی دنیا آپ پیدا کر لی۔

            ہماری نسل نے علّامہ اقبال سے بہت زیادہ سیکھا ہے۔ میرے ان اشعار کو پڑھ کر آپ بھی ڈاکٹر عبداللہ کے ہم خیال ہو جائیں گے۔

ازل سے ایک عذاب قبول ورد میں ہوں

کبھی خدا تو کبھی ناخدا کی زد میں ہوں

خدا نہیں ہوں مگر زندہ ہوں خدا کی طرح

میں اک اکائی کے مانند ہر عدد میں ہوں

٭

کھُلا کہ لاہی حقیقت ہے، لاہی افسانہ

عدم، وجود میں پوشیدہ ہے خدا کی طرح

٭

میں کہ میری خاک کی لو سے ہوا میرا ظہور

کاش ڈھونڈے کوئی میری خاک اندر مجھے

یہ اشعار کسی نظم کے بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب واحد نقاد تھے جو شاعر کی شخصیت میں اتر کر اُسے دریافت کرتے تھے۔ وہ تخلیق کا محض خارجی طواف کر کے نہ رہ جاتے۔ میری کتاب ’’مٹی کا قرض‘‘ کے بارے میں انہوں نے جو بحث فرمائی ہے، وہ میری بھی رہنمائی کرتی ہے۔

            ’’شاعری کے ایک مجموعے پر اتنی سنگلاخ فکری گفتگو بعض کے لیے تعجب انگیز ہو گی مگر تعجب اس لیے نہ ہونا چاہیے کہ حمایت علی شاعر کا یہ شعری مجموعہ ہماری فکری شاعری کا نمائندہ ہے۔ اس کے کلام میں فکری حقائق عمدہ شاعری بن کر نکلے ہیں۔ افکار نے تخلیقی پیکروں کی صورت اختیار کی ہے اس لیے یہ شاعری بھی ہے اور فکر بھی ……… اور شاعر دونوں کے تقاضے پورے کر رہا ہے۔‘‘

            غزل اور نظم کا عالمی ادب کے تناظر میں تقابل ……… یوں بھی غور طلب ہے کہ غزل ہماری شاعری کی سب سے بڑی صنف ہونے اور اُس میں (میرؔ سے غالب تک) عظیم اور عہد آفریں شعرا کے شہ پارے ہونے کے باوجود ………آج تک دوسری زبانوں کو متاثر نہیں کر سکی۔ انگریزی نے تو دوسو برس تک ہندوستان میں راج بھی کیا………مگر انگریزی کے شعری ادب میں ’’غزل‘‘ شامل نہ ہو سکی۔ مغربی زبانوں کی اصناف مائنٹ، طرک، ترائیلے، آزاد اور معریٰ نظم حتیٰ کہ نثری نظم تک اردو میں آ گئی اور ہائیکو، جاپانی سے انگریزی میں پہنچ گئی۔ مگر غزل………؟ یا تو وہ زبانیں اس کی اہل نہیں یا غزل کی روح تک اہل مغرب نہ پہنچ سکے۔ اس کے برعکس ہماری نظم عالمی ادب کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے۔ انیسؔ سے اقبال تک ہم کئی مثالیں پیش کر سکتے ہیں۔ انیسؔ کا کوئی مرثیہ، نظیر اکبر آبادی کی کوئی نظم، دیاشنکرنسیمؔ سے میر حسنؔ تک کوئی مثنوی، علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ، اور موجودہ دور میں بھی، بعض نظمیں ایسی لکھی گئی ہیں جو عالمی ادب کے جدید شہ پاروں کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہیں۔

            ہماری غزلوں کے مفرد اشعار، بلاشبہ غیر معمولی خوبیوں کے حامل ہیں مگر بحیثیت صنف، اُن زبانوں میں ’’غزل‘‘ کی پیروی نہ ہو سکی۔ کسی نے غزل لکھنے کی قابلِ مثال کوشش نہیں کی۔ اساتذہ کی غزلوں کے انگریزی تراجم بھی (پروفیسر احمد علی وغیرہ) اُن کے شعرا کو متاثر نہ کر سکے۔ اس کے برعکس حافظ، خیام، ٹیگور، اقبال اور فیض کی متعدد نظموں کے انگریزی تراجم خود مغربی اہل قلم نے کیے ہیں۔ اسی لیے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ غزل ’’بڑی شاعری‘‘ کے امکانات ختم کر چکی ہے۔ اب صرف پچھلی باتیں دہرائی جا رہی ہیں اور وہ بھی بڑے سطحی انداز میں۔

٭       فیض صاحب کے اُس تجزیے کی بابت آپ کی کیا رائے ہے جو انہوں نے آپ اور منیر نیازی کی مناسبت سے کیا تھا؟

٭٭   فیض صاحب نے ’’مٹی کا قرض‘‘ کی تقریب رونمائی کے صدارتی خطبے میں یہ تجزیہ کیا تھا۔ میرا خیال ہے، اُن کے پیش نظر میری ’’ثلاثیاں ‘‘ رہیں۔ منیرؔ بھی مختصر نظمیں لکھتے ہیں۔ اسی قدرِ مشترک کو غالباً انہوں نے دیکھا اور اپنی رائے دیدی۔ ورنہ ہم دونوں کے انداز بیان اور افکار میں بڑا فرق ہے۔ منیرؔ محسوسات کی سطح پر ایک طلسمی فضا باندھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس تخلیقی عمل میں انہوں نے بعض بڑی خوبصورت نظمیں کہی ہیں۔ میرا مطمع نظر اور ہے۔ میں قدرے سائنسی انداز میں سوچنے کا عادی ہوں۔ محسوسات کی بجائے فکری سطح پر کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی بات ڈاکٹر عبداللہ نے بھی کہی تھی۔

٭       آپ نے کہیں کہا تھا کہ آپ ’’بے استادے ‘‘ ہیں۔ باوجود اس کے آپ نہ صرف قومی سطح بلکہ عالمی افق پر منفرد اسلوب کے شاعر مسلّمہ طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ بِنا کسی رہنمائی اور تربیت کے اس قدر کمال ممکن ہے؟

٭٭   بھائی……. استادی کا زمانہ وہ تھا جب صرف زبان کی شاعری ہوتی تھی۔ فکر بھی مخصوص تھی، اب زبان کے وہ قرینے تو باقی نہیں رہے۔ علّامہ اقبال سے فیض صاحب تک کتنی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ یہ شعرا، زبان کے ’’بڑے ‘‘ شعرا نہیں ہیں مگر افکار اور انداز بیان کے بڑے ہی نہیں، منفرد شعرا بھی ہیں۔ علامہ اقبال نے ’’بانگ درا‘‘ کی غزلوں تک داغؔ سے مشورہ ضرور کیا تھا مگر اُن کی بڑی شاعری میں ’’داغؔ‘‘ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی طرح فیض کی انفرادیت اُن کے اسلوب میں ہے۔ نظم ہو یا غزل…….وہ دونوں میں ایک ’’اجتہاد‘‘ سے کام لیتے ہیں۔ اقبال اور فیض ……دونوں نے مغربی ادب سے فیض حاصل کیا ہے۔ اہلِ زبان جس طرح اقبال کی زبان کی غلطیاں پکڑتے تھے، فیض صاحب کے ساتھ بھی ہوا…… اثرؔلکھنوی نے ایک بار فیض کی نظم کی اصلاح کی تھی۔ فیض صاحب کا ایک شعر ہے۔

اس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے

دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہاتھ

اثرؔ صاحب نے دوسرے مصرعے میں ’’دل کا رخسار‘‘ پسند نہیں کیا اور اسے یوں کر دیا۔

دلِ بیتاب پہ اس وقت تری یاد نے ہاتھ

مارے بزرگ ’’لفظ پرست‘‘ ہوتے تھے اسی لیے رعایت لفظی کے دائروں میں رہ کر شعر کہتے تھے۔ یہ بھی ایک ہنر تھا۔ جیسے میرا انیسؔ کے یہ مصرعے۔

پڑ جائیں لاکھ آبلے پائے نگاہ میں

یا

مچھلی جو سیخِ موج تک آئی، کباب تھی

استعارے سے کام وہ بھی لیتے تھے مگر اپنے روائیتی قرینوں اور آداب کے ساتھ……ظاہر ہے کہ ان مقامات پر ’’استاد‘‘ کی رہنمائی ضروری تھی۔ اب اِن التزامات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ خود فیض صاحب اِن لسانی تکلفات سے آزاد نظر آتے ہیں۔ ’’دل کا رخسار‘‘۔’’چاندنی کی تھکی ہوئی آواز‘‘۔ ’’آواز کے سائے ‘‘۔ ’’رفتار کا سیماب‘‘ حتیٰ کہ ایسے مصرعے بھی بلا تکلف کہہ جاتے ہیں۔

بھیگی ہے شام، فیضؔ غزل ابتدا کرو

روائتی نقطۂ نظر سے چند ’’عیوب‘‘ کے باوجود اُن کی شاعری سب کو پسند آتی ہے اور ’’آزاد استعارے ‘‘ بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بقول علّامہ اقبال

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

میں ’’اہلِ زبان‘‘ تو نہیں، لیکن اردو میری مادری زبان ہے۔ اپنے ادب عالیہ کے مطالعے کے ساتھ دوسری زبانوں کی شاعری اور بڑے مفکرین کی کتابیں، اب ہماری رہنمائی کرتی ہیں ضروری نہیں کہ ’’روائتی استاد‘‘ اِتنا جانتا ہو، اس لیے زبان کے اعتبار سے بغیر استاد کے بھی اچھی شاعری ہو رہی ہے۔ مجھ پر بھی یہی مثل صادق آتی ہے۔

٭       آپ نے اعلیٰ تعلیم کی بہت سی منزلیں اپنے بچوں کے ساتھ امتحان دے کر سر کیں، اوّل یہ فرمائیے کہ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر تعلیم حاصل کرتے وقت، آپ کے احساسات کیا تھے۔ دوم، اُس اضافی تعلیم کا آپ کے تخلیقی سفر میں کیا رول ہے؟

٭٭   پہلے تو میں یہ غلط فہمی دور کر دوں کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ’’بچّہ‘‘ کبھی نہیں رہا، میٹرک میں دو تین بار فیل ہونے کے سبب، میری ادبی اور سیاسی سرگرمیاں تھیں۔ مطالعے کے حوالے سے میں اپنے ہم جماعتوں سے زیادہ پڑھا لکھا تھا اور اُس وقت بھی اپنے استادوں تک سے بحثیں کرتا تھا۔ ’’مکتبی تعلیم‘‘ کے بارے میں، میں نے اپنی سوانح میں ایک واقعہ لکھا ہے۔

انہیں دنوں مرے ابّا نے ایک بات کہی

 (نظر بچا کے بہو سے)…..مجھے نصیحت کی

یہ شاعری تمہیں شہرت بھی دے گی، عزت بھی

مگر نہ دے گی ضمانت یہ ایک روٹی کی

میں چاہتا تھا کہ کچھ اور بھی بناؤں تمہیں

پڑھا لکھا کے ’’بڑا آدمی‘‘ بناؤں تمہیں

تم اپنے دل کے کہے پر، چلا کیے اب تک

جو ہم پہ گزری وہ ہم بھی سہا کیے اب تک

میں مانتا ہوں کہ اب تم بہت ہی ’’قابل‘‘ ہو

مگر جو ہو سکے بیٹا….تو، میٹرک کر لو

یہ بات تیر کے مانند میرے دل کو لگی

 (تب امتحان کی تاریخ بھی قریب ہی تھی)

میں روزگار کی خاطر نصاب پڑھنے لگا

جو روٹیاں مجھے دے، وہ کتاب پڑھنے لگا

یہ پاکستان آنے کے چند ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں نے اعلیٰ تعلیم کراچی میں حاصل کرنا چاہی مگر بہ وجوہ نہ کر سکا۔ پھر ۱۹۵۹ء سے حیدرآباد سندھ کے سٹی کالج میں پڑھنا شروع کیا اور ۱۹۶۴ء میں سندھ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کر لیا۔ میں پی۔ایچ۔ڈی بھی کرنا چاہتا تھا چنانچہ ’’پاکستان میں ڈرامہ‘‘ موضوع پر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں کی نگرانی میں کام بھی شروع کر دیا مگر فلم کی مصروفیات نے اس کام کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ میں لاہور میں بحیثیت فلمسازاپنی فلم ’’لوری‘‘ شروع کر چکا تھا۔ فلم انڈسٹری سے فارغ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پھر یہی کام ڈاکٹر شاہ علی کی نگرانی میں شروع کیا مگر وہ بھی ادھورا رہ گیا۔ میں سندھ یونیورسٹی میں پڑھانے لگا تھا اور وہ شعبۂ اردو کراچی یونیورسٹی کے چیرمین تھے۔ میرا نقطہ ٔ نگاہ اُن سے مختلف تھا۔ آخر یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ میں نے اُن کی نگرانی میں کام کرنے کا ارادہ بدل دیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی نیا نگراں مقرر ہوتا، میں سندھ یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ہو گیا۔ پھر میری خواہش بھی ختم ہو گئی اور میں ڈاکٹریٹ نہ کر سکا۔ میرا مقالہ تقریباً تیار ہے، کبھی کتابی شکل میں شائع ہو جائے گا۔ آپ نے پوچھا ہے کہ بچوں کے ساتھ پڑھتے ہوئے آپ کے محسوسات کیا ہوتے تھے؟ بھیّا۔ بچوں کے ساتھ میں خود کو ’’طالب علم‘‘ پا کر مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا تھا اور ابّاجان کی نصیحتیں بھی۔ چنانچہ وہی نصیحتیں میں اپنے بچّوں کو دُہرا دیا کرتا اور عرصے تک تعلیم پوری نہ کرنے پر جو نقصانات اٹھائے، وہ بھی بتا دیا کرتا۔ یہ اور بات کہ ان نقصانات کی تلافی میرے ’’ادبی ذوق‘‘ نے کر دی تھی…… میرے ہاں اُن دنوں روپوں کی ریل پیل تھی۔ میری فلم ’’لوری‘‘ بھی باکس آفس پر ہٹ ہو چکی تھی۔ فلمی نغمات کی بھی دھوم تھی۔ بچے بھی بڑے ہو چکے تھے اور میرے دل میں یہ اندیشہ بیدار ہو رہا تھا کہ کہیں انہیں ’’فلم‘‘ کا شوق نہ ہو جائے۔ چنانچہ جب وہ کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم ہوئے تو میں نے ارادتاً فلم انڈسٹری چھوڑ دی۔ میری دوسری فلم ’’گڑیا‘‘ کا سودا ہو چکا تھا اور میرے دل میں فلم انڈسٹری چھوڑنے کا ’’سودا ‘‘ سمایا ہوا تھا۔ آخر میں اس ’’ دلدل‘‘ سے نکل آیا اور سندھ یونیورسٹی میں پڑھانے لگا۔ اس اضافی تعلیم سے میرا ماحول بدل گیا اور ماحول شاعری پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ میرے بچوں نے بھی اعلیٰ تعلیم پائی اور وہ ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیسر ہو گئے (’’آئینہ در آئینہ‘‘ میں سب کا احوال ہے) اب تو سب شادی شدہ اور برسرروزگار ہیں۔ چار یہاں ہیں اور چار کینیڈا اور امریکہ میں …… میرے والد جو مجھے دیکھنا چاہتے تھے، وہ ’’میرے بچّے ‘‘ بن گئے۔ میں البتہ ’’مکافات‘‘ کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ میں اپنے والدین کو ہندوستان میں چھوڑ کر یہاں آ کیا تھا۔ میرے بچّے، مجھے چھوڑ کر کینیڈا، امریکہ چلے گئے۔ والدین کی طرح میں بھی تقسیم ہو گیا ہوں۔

٭       آپ کے بارے میں احباب کا حُسن ظن یہ ہے کہ آپ سائنسی ذہن کے مالک ہیں۔ اگر آپ اس رائے سے متفق ہیں تو آپ نے اپنی سائنسی اُپج کو کس طور تخلیق کے اوزان میں ڈھالا اور اُس سے کس طرح کے نتائج برآمد ہوئے؟

٭٭   سائنسی ذہن کا مطلب ’’سائنسی انداز فکر‘‘ ہے۔ ہمارے ہاں علم خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ جس طرح ڈاکٹر اور انجینئر ’’غیر سائنسی ذہن‘‘ بھی رکھ سکتے ہیں، اسی طرح ایک شعر و ادب کا آدمی ’’سائنسی اندازِ فکر‘‘ بھی رکھ سکتا ہے۔ کتابی علم سے قطع نظر، زندگی، سماج اور تاریخ کا مطالعہ سائنسی نقطۂ نظر سے کیا جا سکتا ہے۔ داخلیت ہو کہ خارجیت، معلوم دنیا ہو کہ نامعلوم یعنی مابعدالطبیعات کی دنیا، نفسیات ہو کہ وہ علم جسے ہم مسمریزم، دست شناسی اور ستاروں کا علم کہتے ہیں …… سبھی کے بارے میں سوچنے اور جاننے کا ایک سائنسی انداز بھی ہوتا ہے۔

            دوسرا اندازِ حیات، اوہام و طلسمات کے زیر اثر ایمان و عقائد کا ہے۔ ان کی بھی ایک منطق ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اسے ’’روحانیت‘‘ تعبیر کرتے ہیں۔

            صدیوں سے دنیا مادّہ اور روح میں بٹی ہوئی ہے۔ ہر ’’ظاہر‘‘ کو مادّہ اور ہر ’’آنکھ اوجھل‘‘ کو روحانی دنیا سے متعلق سمجھا جاتا ہے ……جدید سائنسی آگہی، ’’خیال ‘‘ کو بھی مادّہ کہتی ہے۔ اب ظاہر و باطن کا فرق مٹ گیا ہے۔ دونوں ایک ہی اکائی کے دو روپ ہیں۔ مادّہ اپنے وسیع تر معنی میں ’’روح‘‘ بھی ہے۔ ’’روح‘‘ کے بغیر مادّہ کچھ بھی نہیں۔ ہر شے اپنی ’’جدایات ‘‘ کی پابند ہے۔ مثبت اور منفی اقدار کی ’’حرکت‘‘ ہے کہ جاری و ساری ہے۔ انسان ’’نامعلوم‘‘ کو معلوم کرتا جا رہا ہے تخلیق کا عمل بھی نامعلوم سے معلوم کی طرف، سفرایک وسیلہ ہے۔ ہم شعر کہتے ہیں تو ایک طرح سے اپنے نا دریافت گوشوں کو، دریافت کرتے ہیں۔ اس میں ہمارے اندر کی ’’غنایت‘‘ ہمیں راہ دکھاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ موسیقی…… علم کی تان ہے۔

تخلیق و تکمیل کا عمل ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا۔ بقول علّامہ اقبال ؂

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم، صدائے کُن فیکوں

آپ نے معراج کے بارے میں علّامہ کا وہ شعر بھی سنا ہو گا۔

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالمِ ’’شریت کی زد‘‘ میں ہے گردوں

یہ ’’سائنسی فکر‘‘ ہے۔ پہلا شعر بھی اسی فکر کا سراغ دیتا ہے۔ سوچ کے اس انداز میں برگساں کا نظریہ ارتقاء مارکس کی جدلیات اور آئین اسٹائن کا نظریہ اضافیت……سبھی کی روشنی شامل ہے۔

            ہماری نسل بھی اقبال کے افکار سے فیض یاب ہوئی ہے۔ اور مغرب کی سائنسی آگہی ہمیں بھی اندر سے روشن کرتی جا رہی ہے۔ چنانچہ میرے اشعار میں بھی، وہ چمک نمایاں ہو جاتی ہے۔

میں اپنے آپ ہی خالق ہوں، آپ ہی مخلوق

میں اپنی حد سے گزر کر بھی، اپنی حد میں ہوں

٭

روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگی

آپ کے بس میں نہیں ہے آپ کا سایہ یہاں

٭

میں آئینے میں بھی ہوں، آئینے کے باہر بھی

مرے وجود کی وحدت میں یہ دوئی کیا ہے

٭

وہ مشتِ خاک، ہوا نے جسے بکھیر دیا

سمیٹنے کی تگ و دو ہے، آدمی کیا ہے

٭       حمایت بھائی۔ ’’بنگال سے کوریا تک‘‘ تو آپ بیتی نہیں۔ اس کے بعد کراچی سے کشمیر اور افغانستان تک کی لرزہ خیز آپ بیتی پر آپ جیسے صاحبِ دل کے رشحاتِ قلم کی بازگشت کیوں سنائی نہیں دیتی؟

٭٭   ’’بنگال سے کوریا تک‘‘ ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء کے دوران لکھی گئی تھی اور پوری نظم پہلی بار مارچ ۱۹۵۴ء کے ’’شاہراہ‘‘ (دہلی) میں چھپی تھی۔ اس زمانے میں ساری دنیا کے شاعر و ادیب ’’عالمی جنگ‘‘ کے خلاف متحد تھے اور ’’عالمی امن تحریک‘‘ چل رہی تھی۔ اس نظم میں بنگال اور کوریا کے نام، علامتوں کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ بنگال…… دوسری جنگ عظیم میں، جنگ سے دور رہ کر بھی لاکھوں انسانوں کا مدفن بن گیا…..(قحط کے سبب) اور کوریا……. ایک نئے ہیروشیما کی تمہید بنتاجا رہا تھا۔ آپ نے جن مقامات کا حوالہ دیا ہے، وہ المیہ ان کا انفرادی مسئلہ ہے اور اُن کے بارے میں ’’صاحبِ دل‘‘ حضرات لکھ بھی رہے ہیں۔ میں نے بھی اپنی بساط بھر لکھا ہے۔ کراچی کا مسئلہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور یہاں کی طرز سیاست کا آئینہ دکھاتا ہے۔ اس موضوع پر میری طویل نظم ’’وطن…پیارا وطن‘‘ کے عنوان سے نہ صرف کراچی اور سکھر کے اخبارات میں چھپی بلکہ لاہور کے کے ’’نوائے وقت‘‘ اور پشاور کے ’’مشرق‘‘ میں بھی شائع ہوئی۔ کئی مشاعروں میں خود سنائی۔ چنانچہ سعودی عرب کے اخبارات اور اوسلو (ناروے) کے ماہنامہ ’’کارواں ‘‘ میں بھی چھاپی گئی اس نظم کا ٹیپ کا مصرعہ بھی بہت مشہور ہوا۔

’’ابھی تو کچھ نہیں ہوا، ابھی تو ابتداء ہے یہ‘‘

اس کے علاوہ صرف ’’کراچی‘‘ کے موضوع پر بھی میری ایک نظم خاصی سنی اور پڑھی گئی اس کا پہلا بند لکھے دیتا ہوں۔

عجیب شہر ہے

خدا کا قہر ہے

ہر ایک آدمی

متاعِ زندگی

لٹا رہا ہے یوں

کہ جیسے اُس کا خوں

بدن کا بوجھ ہے

وطن کا بوجھ ہے

دراصل میرا نقطۂ نظر ’’مقامی سیاسی فکر‘‘ سے مختلف ہے۔ میں کسی کو مہاجر نہیں سمجھتا۔ ہم لوگوں نے ’’ہجرت‘‘ نہیں ’’ترکِ وطن‘‘ کیا ہے ….’’ہجر‘‘ میں ’’وصل‘‘ کی آرزو پوشیدہ ہوتی ہے، اسی لیے مکّہ سے مسلمانوں کی مدینہ ہجرت، فتح مکّہ پر ختم ہوتی ہے۔ ہماری ’’ہجرت‘‘ میں واپسی کا کوئی تصوّر نہیں ہماری یہاں آمد ’’ترکِ وطن‘‘ سے عبارت ہے۔ ہماری آئندہ نسلیں ’’اردو بولنے والی سندھی‘‘ کہلائیں گی۔جیسے یہاں گجراتی اور بلوچی حتیٰ کہ پنجابی اور پشتو بولنے والے سندھی آباد ہیں۔ ہم بھی ’’عرب و عجم‘‘ سے آئے ہوئے بزرگوں کی طرح، آئندہ نسلوں میں مقامی ہو جائیں گے۔ اسی لیے ہمیں مقامی تہذیب اور مقامی زبان سے رشتہ جوڑے رکھنا چاہیے تا کہ ہم مقامی تاریخ کا حصہ بن جائیں۔ ہمارے ہی بھائی بند، جو ہندوستان رہ گئے اُن سے ہمارا ’’تسلسل‘‘ ٹوٹ گیا ہے۔ ہماری اور اُنکی ’’شناخت‘‘ اب مختلف ہو گی۔

            کشمیر اور افغانستان کے مسائل بھی ہم سے مختلف ہیں۔ رہی اسلام کی بات تو وہ ساری دنیا میں ہیں۔ میں ہر مظلوم کے ساتھ ہوں، چاہے وہ کسی قوم، کسی ملک کا ہو، کوئی مذہب،کوئی عقیدہ رکھتا ہو۔ کوئی با شعور آدمی ظالم کا طرف دار نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو تاریخ کے ہر دور میں رکھ کر ہمیں ظالم اور مظلوم میں تفریق کرنا پڑے گی۔ شاید کسی آئینے میں ہمیں اپنا بھی چہرہ نظر آ جائے۔ ہم جو کہیں ظالم ہیں اور کہیں مظلوم……..

            موجودہ، سیاست میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر لڑائی ’’حکمرانی کی خاطر‘‘ لڑی جا رہی ہے اور صرف عوام مر رہے ہیں۔ ’’حکمران‘‘ بھی محفوظ ہیں اور ’’قومی رہنما‘‘ بھی ……..ان کا کوئی آدمی نہیں مرتا۔ افغانستان میں اتنا بڑا سانحہ ہوا لیکن مُلا عمر بھی محفوظ ہیں، اُسامہ بن لادن بھی اور بُش بھی۔ ’’بنگال سے کوریا تک‘‘ میں میں نے یہی بات کہی تھی۔

آج پھر خدائے دولتِ ارض

نقشِ ہستی مٹائے جاتے ہیں

نت نئے کوریا، نئے بنگال

سولیوں پر چڑھائے جاتے ہیں

ایک بند اور لکھتا ہوں۔

سوچتا ہوں کہ اس تباہی سے

جنگ بازوں کو کیا ملا آخر

کوئی ’’محمود‘‘ تو رہا ’’محمود‘‘

ہم ’’ایازوں ‘‘ کو کیا ملا آخر

برسوں سے یہ لڑائیاں مختلف مقاصد، مختلف حقوق اور مختلف جذباتی نعروں کی گونج میں ہو رہی ہیں اور گھر کے گھر، شہر کے شہر اور ملک کے ملک تباہ ہو رہے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں، اور ’’گناہ گار‘‘ کوئی نہیں۔ ہر ملک کا ’’حکمران طبقہ‘‘ اپنی قوم کا رہنما بن کر اُن کی لاشوں پر حکومت کر رہا ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو انسانوں کی تباہی دیکھ کر مہاتما گوتم بدھ کی طرح تخت و تاج چھوڑ دے اور کسی برگد کے سائے میں بیٹھ جائے۔

            شاید کسی ملک کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں مگر شاعر، ادیب اور فنکار تو یہی چاہتے ہیں۔ سارا یورپ اپنے مسائل حل کرنے ’’گفتگو کی میز‘‘ پر آ کیا ہے۔ کیا ایشیائی ملکوں میں ایسا نہیں ہو سکتا؟ ہم تو بات بات پر ’’شہید‘‘ اور ’’غازی‘‘ بننے پر تُلے نظر آتے ہیں۔ یہ ’’الفاظ‘‘ ہماری سیاست میں کتنے سستے ہو گئے ہیں، میری یہ نظم شاید اس کی گواہی دے سکے۔

(سیاست)

            یہ سیاست بھی کیا عجیب شے ہے

            میں سمجھتا ہوں، تم بھی حق پر ہو

            میں تمہیں ماردوں تو تم ہو شہید

            تم مجھے مار دو تو میں ہوں شہید

            میں ہوں یا تم…… یہاں بفضل خدا

            سب ’’شہیدوں ‘‘ کی صف میں شامل ہیں

            سب ’’یزیدوں ‘‘ کی صف میں شامل ہیں

٭       آپ نے تخلیقی زندگی کا ایک حصہ فلم انڈسٹری کی نذر کیا ہے۔ آپ کا قاری یہ جاننے کا خواہش مند ہے کہ آپ اپنے نظریے کی ترویج کے لیے فلم لائن میں تشریف لے گئے یا تخلیقی تسکین کے لئے۔ نیز فلم لائن میں گزرے ہوئے وقت کی بابت آج آپ کے احساسات کیا ہیں؟

٭٭   نہ نظریے کی ترویج کے لئے نہ تخلیقی تسکین کے لیے ……..بلکہ صرف معاشی ضرورت کے لیے۔ ریڈیو پر میری تنخواہ دو سو روپے ماہانہ تھی اور اس وقت تک میرے چھ بچے تھے۔ لطیف آباد (حیدرآباد) کے ایک کوارٹر میں رہتا تھا جس کی قیمت دو ہزار دو سو روپے تھی اور میں دس روپے مہینہ قسط ادا کرنے کا پابند تھا جو اکثر بروقت ادا نہیں ہو پاتے تھے چنانچہ میں مشاعرے پڑھتا اور اخباروں میں سائڈ ورک بھی کرتا تھا۔

میری ایک نظم ’’اَن کہی‘‘ مشاعروں میں بہت مقبول تھی۔ اسے موسیقار خلیل احمد نے ایک فلمی نغمہ بنا دیا……..’’تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم‘‘

            سلیم رضا کی آواز میں یہ نغمہ ریکارڈ ہوا اور لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ پوری فلم کے گانے مجھ ہی سے لکھوائے گئے۔ اس فلم کا نام تھا ’’آنچل‘‘ اس فلم کے ایک گانے پر مجھے بہترین نغمہ نگار کا ’’نگار ایوارڈ‘‘ مل گیا۔ یہ نغمہ احمد رشدی نے گایا تھا۔

کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو

یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے۔ ۱۹۶۳ء میں فلم ’’دامن‘‘ کے ایک نغمے پر مجھے پھر یہی ایوارڈ دیا گیا۔ وہ نغمہ میڈم نورجہاں نے گایا تھا۔

نہ چھڑا سکو گے دامن، نہ نظر بچا سکو گے

ان نغموں اور فلموں کے ہِٹ ہوتے ہی میری ’’مارکیٹ‘‘ بن گئی۔ پہلے دو سو روپے فی نغمہ ملتے تھے پھر پانچ سو روپے ہو گئے اور ’’دامن‘‘ کے بعد ہزار روپے فی نغمہ ملنے لگے۔ میں نے ریڈیو کی ملازمت چھوڑ دی اور مستقل طور پر فلمی دنیا میں آ کیا۔ میرا نام فلموں کی کامیابی کی ضمانت بن گیا۔ میں نے فلم سازی اور پھر ہدایت کاری شروع کر دی۔ اس منزل پر بھی مجھے بڑی کامیابی حاصل ہوئی لیکن اس سے پہلے کہ میں ’’نظریاتی سطح‘‘ پر سوچتا ملک ٹوٹ گیا۔ مارکیٹ چھوٹا ہو گیا اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا……..بچے بڑے ہو گئے تھے اور میرا ذہن دوسرے انداز میں سوچنے لگا تھا ’’کہیں اُنہیں فلم کا شوق نہ ہو جائے ! کہیں اُن کی تعلیم ادھوری نہ رہ جائے !!‘‘……..میں نے فلم انڈسٹری چھوڑ دی۔جب حاصل بھی لاحاصل بن جائے تو وقت کے زیاں کا احساس تو ہوتا ہی ہے۔ مجھے گلی گلی کی شہرت مل گئی تھی، روپیہ بھی مل گیا تھا مگر وہ کام نہ ہو سکا جو میری ’’پہچان‘‘ بنتا…….. شاعری تو میں اُن دنوں بھی کر رہا تھا…..فلمی بھی اور غیر فلمی بھی …. گویا مشق سخن جاری تھی مگر ’’آگ میں پھول ‘‘ (۱۹۵۶ء) سے ’’مٹی کا قرض‘‘ (۱۹۷۴ء) یعنی اٹھارہ سال تک میری کوئی کتاب نہ چھپ سکی۔ اس زیاں کا احساس کتاب کے دیباچے ’’میزان‘‘ میں موجود ہے اور پھر ’’آگ میں پھول‘‘ (دوسرا ایڈیشن۔ ۱۹۸۰ء) کے پیش لفظ میں بھی میں نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔

            ’’سچ پوچھیے تو عمر کے یہ سنہری سال میں نے ایک ایسے برزخ کی طرح کاٹے، جس کے بعد حقیقی ادبی زندگی کی آس، ایک موہوم خوش فہمی اور خود فریبی سے زیادہ نہ تھی مگر میں یہ سوچ کے خاموش ہو رہتا کہ وقت نے یہ سنگین مذاق صرف میرے ساتھ تو نہیں کیا ہے۔ تاریخ میں میرے جیسے کتنے شاعر و ادیب اپنے حالات سے مجبور ہو کر بازار میں جا بیٹھے۔ چاہے وہ بازار کسی ’’بادشاہ‘‘ کے دربار میں لگا ہو یا ’’فلمی دنیا‘‘ کے مصنوعی محل دو محلوں میں۔

            جہاں تک فلم میں رہ کر اپنی ’’ادبی حیثیت‘‘ برقرار رکھنے کی بات ہے، وہ میرے مقبول ترین نغمات سے ظاہر ہے۔ یہ نغمات آج سے تیس سال پہلے لکھے گئے تھے مگر آج بھی پسند کیے جاتے ہیں۔

۱۔        جب رات ڈھلی تم یاد آئے

۲۔       خداوندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں

۳۔       میں نے تو پریت نبھائی، سانوریا رے، نکلا تو ہرجائی

۴۔       نوازش، کر م، شکریہ، مہربانی

۵۔       کوئی پروانہ ادھر آئے تو کچھ بات بنے

۶۔       سامنے رشک قمر ہو تو غزل کیوں نہ کہوں

۷۔       ہم بھی مسافر، تم بھی مسافر، کون کسی کا ہووے

۸۔       ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

۹۔        چندا کے ہنڈولے میں، اڑن کھٹولے میں ……..

بے شمار نغمے ہیں۔ کہاں تک لکھوں ……..مختصر یہ کہ میں اپنی فلمی شاعری پر شرمندہ نہیں ہوں۔

٭       سنا ہے آپ بھارت کے نامور آرٹ فلموں کے ہدایت کار ستیہ جیت رائے سے متاثر رہے ہیں۔ اور آپ نے اپنی فلم ’’لوری‘‘ اور ’’گڑیا‘‘ میں اُن کی پیروی کرنے کی کوشش کی؟

٭٭   جی ہاں۔ ستیہ جیت رائے دنیا کے چھ بڑے ڈائریکٹروں میں سے ایک تھے۔ اُن کی فلموں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں جب بھی کوئی کام کرتا ہوں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اُس کے ’’فن کارانہ نکات‘‘ سے بھی واقف ہو جاؤں۔ فلم سازی بھی ایک بڑا آرٹ ہے اس میں دسترس حاصل کرنے کے لیے کیمرے اور فلم ایڈیٹنگ کے فن کو جاننے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فلم سازی میں سب سے بڑا ہنر ’’شاٹ ڈویژن‘‘ کا ہوتا ہے۔ اور کوئی شاٹ کمپوز کرنا، ایک شعر کہنے کے برابر ہے۔ اسکرین، الفاظ کا اسوقت محتاج ہوتا ہے، جب ہماری ’’بصارت گنگ ‘‘ ہو جائے۔ مگر یہ ہنر ہم پاکستانی فلموں میں نہیں برت سکتے۔ ہماری فلمیں عموماً پُر شور (Loud) ہوتی ہیں اپنے قومی مزاج کے بارے میں کبھی میں نے ایک شعر یہ بھی کہا تھا۔

نعروں میں گونجتا ہوں تو چُپ ہوں کتاب میں

معنی سے بے نیاز، میں اک ’’لفظ‘‘ ہوں ہنوز

یہ لفظ ’’پاکستان‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ ہماری ’’فلمیں ‘‘ بھی اس بے معنویت کا زندہ ثبوت ہیں پاکستان میں صرف چند فلمیں ایسی بنیں، جن پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ شاید اُن میں ’’لوری‘‘ کا بھی نام لیا جا سکے۔ وہ قدرے مختلف تھی اور اس کا سبب ستیہ جیت رائے کی کسی حد تک پیروی …… قدرے مختلف کام میں نے ’’گڑیا‘‘ میں بھی کیا تھا مگر بدقسمتی سے فلم ’’بلیک اینڈ وہائٹ‘‘ بنی تھی اور مارکیٹ چھوٹا ہو جانے کے باوجود یہاں ’’رنگین فلمیں ‘‘ بننے لگیں تھیں۔ ہمارے ’’نمائشی مزاج‘‘ نے ہر میدان میں ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔ ’’گڑیا‘‘ کا انجام آپ کو معلوم ہو گا۔ ’’آئینہ در آئینہ‘‘ میں ہر بات میں نے کھل کر لکھ دی ہے۔

٭       آپ نے درست طور پر عصری ادب میں مختلف تحریکات کے باعث انتشار کی نشاندہی فرمائی حالانکہ آج کے دور میں، نظریہ اور ازم…….. قصّہ پارینہ بن چکے ہیں جب کہ ماضی میں نظریاتی اور غیر نظریاتی کا کافی غلغلہ اور گھن گرج تھی۔

٭٭   میں نے عصری ادب میں انتشار کی بات اُس ’’بے چہرگی‘‘ کے حوالے سے کی تھی جو جدیدیت، تجریدیت اور اسی قسم کی دوسری تحریکوں کے سبب، شعر و ادب میں در آئی تھی۔ اس روش سے ’’ابلاغ‘‘ مفقود ہو گیا۔ لفظ بے معنی ہو گئے۔ حقیقت سے، استعارے اور کنائے کا بھی رشتہ ٹوٹ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ادب کا قاری غائب ہو گیا اور ادیب و شاعر بھی ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے قابل نہیں رہے۔ تنقید، حاشیہ آرائی اور لفّاظی ہو کر رہ گئی۔ مانا کہ یہ رویہ اُس نظریاتی گھن گرج کا رد عمل تھا جو پچھلی نصف صدی میں ابھر کر شعر و ادب پر چھا گئی تھی۔ ہر تحریک کے ابتدا میں یہی کچھ ہوتا ہے مگر جب شور بیٹھ جاتا ہے اور نظریہ دل و دماغ میں گھل کر، لہو میں تحلیل ہو جاتا ہے تو ادب میں ایک نئی قدر بن کر نمایاں ہوتا ہے۔

٭       ترقی پسند نظریات کی بابت آج آپ کس مقام پر ہیں اور اس نظریے کی ابتداء سے انتہا تک کا تجزیہ آپ کس طرح فرمائیں گے؟

٭٭   میں آج بھی خود کو ترقی پسند سمجھتا ہوں۔ یہ نظریہ تنظیمی طور پر پاکستان میں ضرور بکھر گیا ہے مگر تحریک…….. فکر کا ایک زاویہ بن کر آج بھی موجود ہے۔

            اس نظریے کی ابتدا کا سہرہ، شعوری طور پر علامہ اقبال کے سر ہے۔ انہوں نے کارل مارکس کے بارے میں کہا تھا۔

آں کلیم بے تجلّی، آں مسیح بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن دربغل دارد کتاب

یہ اعزاز معمولی نہیں۔ اس کی کتاب ’’داس کیپٹال‘‘ کو علّامہ اقبال نے الہامی کتب کی فہرست میں شامل کر دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادی نے اپنے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ

            ’’اسلام میں اگر اجتہاد کی روایت جاری رہتی تو دنیا کو سوشلزم کی ضرورت پیش نہ آتی‘‘

یہ بھی ایک حقیقت ہے۔

            مارکس نے جو معاشی نظریہ پیش کیا، وہ وقت کا تقاضہ تھا جو انقلاب روس کی صورت میں ۱۹۱۷ء میں ظاہر ہوا۔ علّامہ اقبال پہلے شاعر ہیں، جنہوں نے اس انقلاب سے متاثر ہو کر اپنی مشہور نظم ’’خضر راہ‘‘ لکھی…… اس کے بعد ’’بال جبریل‘‘ میں اُن کی نظمیں ’’خدا کا فرمان، فرشتوں کے نام…….. ‘‘اور لینن….خدا کے حضور میں ‘‘ اس سلسلۂ فکر کو آگے بڑھاتی ہیں۔ علامہ اقبال چونکہ بیرسٹر (قانون داں) تھے، اس لیے انہوں نے اپنے خیالات کے اظہار میں ’’احتیاط‘‘ سے کام لیا۔ اگر وہ ’’خدا کا فرمان فرشتوں کے نام‘‘ کرنے کی بجائے …….. براہِ راست عوام سے مخاطب ہو جاتے اور کہتے کہ ؂

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

ُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

(وغیرہ وغیرہ)

تو حکومت برطانیہ انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دینے کی بجائے اُن کا سر اڑا دینے کے بارے میں حکم صادر فرما دیتی۔ لینن کے خیالات سے اتفاق بھی انہوں نے ’’اسلامی مساوات‘‘ کے نظریے کو ذہن میں رکھ کر کیا اور لینن کو بھی ’’مشرف بہ اسلام ‘‘ کر دیا۔

            پڑھے لکھوں کا طرزِ عمل ایسا ہی ہوتا ہے اور علامہ اقبال تو پہلے ’’صاحبِ علم شاعر‘‘ اردو شاعری کو نصیب ہوئے تھے۔ میرؔ سے غالب تک ہمارا ’’فکری مسلک‘‘ یکساں رہا ہے۔ غالبؔ کی اکتاہٹ اور جھنجھلاہٹ، اقبال تک آتے آتے ایک ’’نظریہ‘‘ بن جاتی ہے۔ اس نظریے کو ’’اسلامی بصیرت‘‘ اور ’’مغربی افکار کی روشنی‘‘ جلا بخشتی ہے تو ایسے شعر وجود میں آتے ہیں۔

دلیل صبح روشن ہے، ستاروں کی تنک تابی

افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی

یہ پُرانے ’’غیر عقلی‘‘ عقیدوں کا زوال اور نئے ’’خرد افروز‘‘ نظریے کے طلوع کا شاعرانہ اظہار ہے۔ ترقی پسند تحریک، شعر و ادب میں اسی ’’خرد افروزی‘‘ کو فروغ دینے کی خاطر وجود میں آئی تھی۔ چنانچہ ۱۹۳۶ء سے اب تک جو بھی ادب تخلیق ہوا ہے۔ اُس کا عطر، ہماری تخلیقات میں مہکنے لگا ہے۔ یہ درست ہے کہ ترقی پسند تحریک کے لگائے ہوئے گلستان میں کچھ ایسے بھی پودے، ایسے بھی پھول اور کانٹے ہیں جو رنگ رکھتے ہیں نہ خوشبو، جو باغ کو بدنما بھی بنائے ہوئے ہیں مگر ایسے مناظر کہاں نہیں؟ ہر دور اور ہر نظریے کے تحت ایسا ادب تخلیق ہوا ہے۔ ترقی پسند تحریک نے تو زیادہ تحریریں ایسی دیں جنہیں ہم ’’شاہکار‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ بقول مصطفی زیدی ؂

بس ایک ہم ہیں جو تھوڑا سا سر اٹھا کے چلے

اسی روِش پہ رقیبوں کے واقعات تو دیکھ

٭       آپ کے خیال میں بھارت کی اردو شاعری میں ہندی کے آسان الفاظ کی آمیزش مستحسن رویہ ہے جب کہ پاکستان میں اردو شاعری قدرے ثقیل اور مشکل تراکیب کی حامل ہے۔ بہ الفاظ دیگر آپ یہ کہنا تو نہیں چاہتے کہ ہمارے اردو شعرا نے دانستہ طور پر علاقائی زبانوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس پس منظر میں آپ کی پوزیشن کیا ہے؟

٭٭   یہ مسئلہ ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ سرکاری زبان فارسی ہونے کے سبب اردو نے اُس کا رسم الخط اپنا لیا۔ بنیادی طور پر اردو اور ہندی …….. دو زبانیں نہیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ برصغیر کی دو بیٹیاں ہیں جو الگ الگ گھرانوں میں بیاہی گئی ہیں۔ ہندی، مقامی گھرانے سے وابستہ ہوئی اور اردو، باہر سے آئے ہوئے خاندان سے۔ دونوں پر اپنے پریوار اور خاندانوں کے اثرات پڑے۔ دونوں نے مختلف لباس زیب تن کیے ….. ایک نے دیوناگری لِپّی اپنائی، دوسرے نے نستعلیق۔ ان لباسوں کی تراش خراش بھی مختلف تھی چنانچہ آرائش و زیبائش میں بھی فرق پیدا ہوا مگر دونوں اپنے رنگ و روپ، خدوخال، چال ڈھال، مزاج اور دوسری خصوصیات میں ایک سی ہیں۔ عام بول چال میں تو دونوں ایک دوسرے کا آئینہ ہیں۔

            بیرونی حکمران گھرانوں سے تعلق استوار کرنے میں ذرا دیر لگتی ہے، چنانچہ اردو کو درجہ بدرجہ آگے بڑھنا پڑا….پہلے تو اُسے ’’ریختہ‘‘ ہی پکارا گیا پھر ’’اردوئے معلّیٰ‘‘ ہوئی……اب ’’اُردو‘‘ ہو کر رہ گئی۔ مگر لباس کی وجہ سے اس کا طور طریق بڑی حد تک ’’حکمرانوں ‘‘ جیسا ہو گیا۔ اُس نے ’’مقامیت‘‘ سے اکثر گریز کیا۔ ہندوی بن سکی نہ ہندوستانی۔ چنانچہ ہندی کو موقع مل گیا۔ اس نے اپنے گھر میں پاؤں جما لیے۔

            دونوں کے چاہنے والے مقامی اور بیرونی لباسوں کے سبب اُن کا رشتہ سنسکرت اور فارسی سے جوڑتے ہیں۔ ایک ہندوستانی، دوسری ایرانی…….. حالانکہ دونوں آریائی زبانیں ہیں اور ماہرین لسانیات دونوں کو سگی بہنیں بتاتے ہیں۔

            جب تک ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، اردو اس رشتے سے ہندوؤں کو بھی عزیز تھی۔ کیسے کیسے ہندو ادیب و شاعر، اردو کی معرفت پہچانے گئے۔ کوشش یہ بھی ہوئی کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہو جائیں۔ مولوی عبدالحق اور پریم چند کیسی سادہ نثر لکھتے تھے۔ اور شعرا میں آرزو لکھنوی سے میرا جی تک سبھی نے دونوں کو قریب تر کرنا چاہا…….. پھر ملک تقسیم ہو گیا۔ اردو والے پہلے سے فارسی زدہ تھے (حیدرآباد دکن نے اردو کو کتنا مفرّس اور معرّب کر دیا تھا) ہندی والے بھی جوابی کارروائی کر بیٹھے۔ وہ سنسکرت کے ثقیل الفاظ ہندی میں شامل کرنے لگے۔ مگر عوامی سطح پر یہ ’’غرابت‘‘ کسی نے قبول نہیں کی۔ اصل زبان بھی وہی ہوتی ہے جسے عوام بولتے اور سمجھتے ہیں۔ سنسکرت اپنی ’’غرابت‘‘ کی وجہ محدود ہو کر رہ گئی۔ اردو نے اگر اپنی روش نہ بدلی تو اس کا بھی یہی حشر ہو گا۔

            اردو کا لباس ایرانی سہی ’’نام‘‘ سندھی ہے۔ یہ لفظ یہاں سے ترکی گیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ غلط فہمی دور ہو گئی کہ اس کا نام ’’ترکی‘‘ ہے اور ’’لشکر‘‘ کے معنی میں مسلمان حکمرانوں کے ساتھ ہندوستان آیا۔ سندھی میں اس کے معنی بھیڑ اور مجمع کے ہیں جو ’’محبت‘‘ کی علامت ہے۔

            اردو کا خمیر مقامی زبانو ں سے اٹھا ہے۔ اسکی تہذیب بھی مقامی ہے۔ آمدورفت اور نشست و برخاست کے آداب بھی اپنی ‘صنفی قرینے، کے ساتھ برتے جاتے ہیں۔ اردو نے فارسی کا لباس ضرور پہنا مگر اُس کا ’’چال چلن‘‘ نہیں اپنایا۔ زمین سے رشتہ استوار نہ رکھنے کے باوجود اس کی نفسیات مقامی ہے، ہندوستانی اور پاکستانی ہے۔ اِن ملکوں میں اُسے اپنی سہیلیوں اور ہم جولیوں کے ساتھ رہنا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ زبانیں باہم ’’ہم سخن‘‘ بھی رہیں۔ ان میں لفظی رشتہ داری بڑھتی جائے۔ ٹیلی ویژن ڈرامہ اس سلسلے میں بڑا کام کر رہا ہے۔ شاعری میں شیر افضل جعفری نے شعوری طور پر یہ کام کیا تھا۔ ہمیں توفیق ہو تو ہم بھی کریں۔ اب فارسی کی ’’تابع داری‘‘ بہت ہو چکی۔ ویسے بھی فارسی ہمارے ملکوں سے بوریا بستر سمیٹ رہی ہے۔ جو الفاظ اردو کی میراث بن چکے ہیں، انہی پر گزارا کرنا ہے۔ نئے رشتے مقامی زبانوں سے استوار کریں تو زمین کا حق بھی ادا ہو گا۔

٭       آپ قومی زبان اردو کو ریاستی زبان تک محدود کر کے علاقائی زبانوں کو قومی حیثیت دینے کے حامی ہیں۔ اس سے کنفیوژن اور تذبذب کا نیا دروازہ نہیں کھل جائے گا؟

٭٭   آپ کی منطق میری سمجھ میں نہیں آئی۔ جب پاکستان کی ہر چیز ’’قومی اثاثہ‘‘ ہے۔ تمام تہذیبیں، تمام تاریخی آثار، تمام شہر اور گاؤں، تمام باشندے ……..تو پاکستانی زبانیں ’’قومی حیثیت‘‘ کیوں نہیں رکھتیں؟ ان کی علاقائی نسبتیں تو تاریخی ہیں، پھر پاکستان نے انہیں کیا مقام دیا؟ بلاشبہ اردو ’’ریاستی زبان‘‘ ہے۔ اسٹیٹ لینگویج (State Language) یہ کم اعزاز نہیں۔ اگر آپ نے مقامی چیزوں کو ’’قومی‘‘ نہیں کہا تو کیا وہ اس ’’وحدت‘‘ سے نکل نہیں جائینگی؟ اپنے آپ کو ’’غیر قومی‘‘ نہیں سمجھنے لگیں گی؟

            جن ملکو ں میں ایک سے زیادہ زبانیں ہوتی ہیں، وہاں لسانی پالیسی بھی مختلف ہوتی ہے، دوسری زبانوں سے تعلق استوار رکھنے کی خاطر اُن کی مقامی نسبت کو برقرار رکھتے ہوئے قومی حیثیت دی جاتی ہے تا کہ مقامی طور پر وہ ’’حق تلفی‘‘ کے احساس میں مبتلا نہ ہوں وہاں کے ہر باشندے کو تین زبانیں جاننا لازمی ہیں۔ ایک ’’ریاستی‘‘ دوسری ’’اپنی مقامی‘‘ اور تیسری ’’بین الاقوامی‘‘۔ ان ملکوں میں ہر ’’مقامی زبان‘‘ کو اس کے ’’تاریخی مقام‘‘ پر سرکاری زبان کی حیثیت بھی حاصل ہوتی ہے۔ وہاں کسی ایک زبان کی ’’آمریت ‘‘ نہیں ہوتی۔ ہندوستان میں بھی یہی ہوا ہے۔ اس طرح ہر زبان کا حق محفوظ ہے اور اس کے ترقی کے امکانات بھی…….. اس کے برعکس ہمارے ملک میں سندھی کو صوبۂ سندھ کی سرکاری زبان بنانے کا بِل ’’اسمبلی‘‘ نے پاس کیا تو ’’قومی زبان‘‘ والوں نے اسے ’’اردو کے جنازے ‘‘ سے تعبیر کیا چنانچہ لسانی فسادات ہو گئے۔ سندھیوں نے اردو لکھنا تو کیا اردو بولنا بھی چھوڑ دیا۔ کسی بھی زبان کو اس کے پیدائشی حق سے محروم کیا جائے گا تو انجام یہی ہو گا۔ دراصل ہم لوگ ’’جمہوریت‘‘ کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے، ’’بادشاہت‘‘ کے زیر اثر ہماری نفسیاتی تربیت ہوئی ہے اس لیے لسانی مسائل پر بھی ’’آمرانہ انداز‘‘ میں سوچتے ہیں۔ مادری زبانیں …. ’’ماں کے دودھ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی محبت اور احترام میں کبھی کمی نہیں آتی۔ اردو کو بھی ان زبانوں کے بولنے والوں نے اپنایا ہے۔ اردو والوں کو بھی یہ زبانیں جاننا چاہیے تا کہ دلوں میں راہ پیدا ہو۔ میں نے اپنی منظوم سوانح حیات ’’آئینہ در آئینہ‘‘ میں بھی ایسے مسائل سے بھی بحث کی ہے۔

جو ہوتی سندھ میں سندھی زبان ’’سرکاری‘‘

تو اُس کا فیض بھی ہوتا عوام میں جاری

یہاں کے لوگ تو اردو زباں بھی جانتے ہیں

اور اس زبان کو ’’قومی زباں ‘‘ بھی مانتے ہیں

جو ہم بھی جان لیں سندھی تو حرج ہی کیا ہے

زباں تو دل میں اترنے کا سیدھا رستہ ہے

یہی غلطی ’’اردو کے بزرگوں ‘‘ نے ہندوستان میں بھی کی تھی۔ کسی علاقائی زبان سے ’’ادبی رشتہ‘‘ نہیں جوڑا۔ اُن کی کوئی صنف نہیں اپنائی۔ بس ’’حکمران زبان‘‘ (فارسی) کے پیچھے چلتے رہے۔ دوہا، دوہیئرا، وائی، کافی، ماہیا، ٹپّہ کسی صنف کو اردو میں داخل نہیں ہونے دیا (’’دوہا اور ماہیا‘‘ بھی لکھا تو غلط) گیت کو ’’نغمہ‘‘ بنا کر اپنایا تو اس کو اہمیت نہیں دی۔ (حفیظ جالندھری کی مثال سامنے ہے) جن شعرا نے فلم کے حوالے سے ’’گیت نگاری‘‘ کی اُن کے اعلیٰ گیتوں کو بھی اپنی ’’برہمنی ذہنیت‘‘کے نتیجے میں ’’شودر‘‘ سمجھا۔ ’’حکمران صنفِ سخن‘‘ غزل…… ایسی ذہنوں پر طاری رہی کہ علامہ اقبال جیسے شاعر کو بھی ’’شاعر‘‘ نہ مانا، عرصے تک انہیں ’’ناظم‘‘ کہتے رہے۔ انیسؔ اور جوشؔ کو بھی مرثیے کے ’’موضوع‘‘ نے سہارا دیا ورنہ ان کی حیثیت بھی نظیر اکبر آبادی سی ہوتی۔ (نظیر کو بھی پچھلی صدی میں تسلیم کیا گیا) اردو، عوامی زبان اور جمہوری اقدار کی مالک ہونے کے باوجود، ’’دربار‘‘ سے ایسی وابستہ ہوئی کہ ’’زمین کے سارے ہی فرائض بھول گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں اب ’’ہندی‘‘ کی انگلی پکڑ کر چل رہی ہے اور پاکستان میں بھی اگر مقامی زبانوں سے رشتہ نہ جوڑا تو انجام ظاہر ہے۔

            جہاں تک کنفیوژن اور تذبذب کے نئے راستے کا اندیشہ ہے ….. یہ ہمارا وہم ہے۔ ہندوستان میں ’’ہندی‘‘ کا کیا حشر ہوا؟ ہندی مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ اس کا لٹریچر وسیع ہو رہا ہے حتیٰ کہ دیوانِ غالب جب ہندی رسم الخط میں شائع ہوا تو عبدالرحمان بجنوری کا، عقیدت میں کہا ہوا جملہ، حقیقت بن گیا۔

ہندوستان کی دو الہامی کتابیں ہیں

مقدس وید اور دیوان غالب

آج غالب کروڑوں کی تعداد میں پڑھا جا رہا ہے۔ وید اور گیتا کے بعد اسی کا نمبر ہے۔ اس کے برعکس اردو رسم الخط محدود ہو گیا ہے۔ پاکستان میں خدا کے فضل سے ایسا کوئی اندیشہ نہیں اس لئے کہ نستعلیق اور نسخ میں یہاں کی تمام زبانیں لکھی جاتی ہیں (گجراتی کے علاوہ) ہمارے لیے مقامی زبانوں سے رشتہ داری پیدا کرنا آسان ہے۔ اردو کی بقاء بھی اسی میں ممکن ہے ورنہ مشرقی پاکستان میں بنگلہ سے عدم تعلقی کا انجام ہم دیکھ چکے ہیں۔ ایک زمانے میں وہاں بھی اردو کو ’’نبی جی کی بھاشا ‘‘ کا سا احترام حاصل تھا۔

            اردو……..بحیثیت ’’بولی‘‘ آج بھی بڑی زبان ہے مگر یہ ’’اعزاز‘‘ اسے ہندی کے سبب حاصل ہے۔ رسم الخط کے طور پر اردو سمٹتی جا رہی ہے۔ عالمی طور پر بھی یہ صرف ایک دو نسلوں کے ساتھ رہے گی۔ وہاں بھی ’’رومن رسم الخط‘‘ پر زور دیا جا رہا ہے بلکہ ایسی کتابیں بھی چھپ رہی ہیں جن میں اردو کے ساتھ رومن رسم الخط اور انگریزی ترجمہ بھی موجود ہوتا ہے تا کہ نئی نسلوں کے مطالعے میں آ سکیں۔

            معاف کیجئے۔ آپ کا سوال مختصر تھا مگر میں نے جواب طویل دیا، اس لئے کہ مسئلہ گمبھیر ہے۔

٭       آپ مشاعروں کے کامیاب شاعر تصور کیے جاتے ہیں۔ بقول آپ کے سامعین کی تفریح کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً آپ اور دیگر مقبول شعراء سامعین کی تفریح طبع کا خیال کس طرح کر تے ہیں؟

٭٭   مشاعرہ، اردو شاعری کی تہذیب کا ایک حصہ ہے۔ یہ اور بات کہ جو شعرا، اشعار پڑھنے کا آرٹ نہیں جانتے یا جن کی آواز اچھی نہیں، وہ مشاعرے میں بہت کم بلائے جاتے ہیں۔ اس لیے وہ مشاعرے کو اچھا نہیں سمجھتے یہ بات درست ہے کہ مشاعرے میں ہر قسم کا سامع ہوتا ہے اور وہ بیشتر وہی کلام سننا چاہتے ہیں جو اس کے کانوں کو اچھا لگے۔ چنانچہ ’’ترنم‘‘ زیادہ مقبول ہے۔ علامہ اقبال سے جگر مراد آبادی تک سبھی ترنم سے پڑھتے تھے۔ جو ترنم سے نہیں پڑھ سکتے تھے وہ تحت اللفظ ’’ڈرامائی انداز‘‘ میں پڑھتے تھے۔ میرا نیس سے لے کر جوشؔ اور بعد کے شعرا تک ’’سامعین کی خاطر‘‘ یہ طرزِ ادا اپنائے ہوتے تھے اور آج بھی وہی شعراء ’’مشاعرے کے مقبول‘‘ شاعر ہیں جو یہ ہنر جانتے ہیں۔

            محفل اور تنہائی میں یہی فرق ہوتا ہے۔ اس لیے شاعر کی قدرو منزلت، تنہائی یعنی کتابی مطالعے سے متعین ہوتی ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ’’مشاعرہ‘‘ اردو تہذیب کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ یہ بھی برقرار رہے گا اور کتابی سلسلہ بھی……..

            آواز…….. خدا کی دین ہے۔ اس کو قرینے سے استعمال نہ کرنا، کفرانِ نعمت ہے۔ شاعری میں الفاظ برتنے کا بھی ’’ایک ہنر‘‘ ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کی ادائیگی بھی ’’ایک ہنر‘‘ ہے۔ میر انیسؔ تو سنا ہے کہ آئینے کے سامنے بیٹھ کر پڑھنے کی مشق کیا کرتے تھے۔ خیر، مرثیہ ایک بڑی صنف ہے۔ ایک مرثیے میں کئی موضوعات بلکہ کئی ’’اصناف‘‘ شامل ہوتی ہیں۔ اس لیے شاعر کو اُن کی ’’ادائیگی‘‘ پر بھی قادر ہونا پڑتا ہے ورنہ وہ ’’سامعین‘‘ میں مقبول نہیں ہو گا۔ ’’سامعین کی تفریح کا خیال رکھنا‘‘ میں نے اسی معنی میں استعمال کیا تھا۔ دوسری زبانوں کے شعرا تو اپنا کلام سازوں پر بھی سناتے ہیں۔ شاہ بھٹائی کا سارا کلام سُروں میں لکھا ہوا ہے۔ ٹیگور باضابطہ دھنیں تیار کر کے بڑے اہتمام سے سناتے تھے۔ اردو میں یہ روایت ترنم تک محدود رہی۔

٭       ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا کہ آپ کے پاس کتابوں کا اتنا ذخیرہ ہے کہ انہیں فروخت کر کے کوٹھی بنائی جا سکتی ہے۔ ہماری خواہش کتابوں کی تعداد، مزاج اور ان کی دیکھ بھال کی بابت تفصیل سے جاننا ہے۔

٭٭   ہاں بھائی۔ یہ ساری زندگی کا سرمایہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ ۱۹۵۳ء میں، جس محلے میں آباد ہوا تھا یعنی ڈرگ کالونی…….. (جسے آج کل شاہ فیصل کالونی کہتے ہیں) آج تک اس سے باہر نہ جا سکا اگر میں ان کتابوں کو بیچ دوں تو کسی اچھے علاقے میں ایک بڑی کوٹھی خرید کر رہ سکتا ہوں۔ مگر پھر صرف ’’در و دیوار‘‘ رہ جائیں گے۔ نہ میں رہوں گا نہ میری دنیا……میرے بیٹوں میں صرف اوج کمال کا ادب سے تعلق ہے وہ ایک کالج میں ’’صحافت‘‘ پڑھاتا ہے اور ’’دنیائے ادب‘‘ کا اعزازی مدیر ہے یہ لائبریری اُس کے کام آتی رہے گی۔

            میری لائبریری میں میری پسند کے موضوعات پر کتابیں ہیں۔ ادب، تاریخ، فلسفہ اور مذاہب…….. اردو اور انگریزی میں زیادہ کتابیں ہیں۔ فارسی اور سندھی میں نسبتاً کم ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی زبانوں کے تراجم کافی ہیں (ہندوستان اور پاکستان کی تقریباً ہر علاقائی زبان کے تراجم ہیں)۔

            ہم ان کتابوں کی حفاظت کے لیے وہی طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو بڑے کتب خانوں میں ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے گھر کی چھت پر دھوپ بھی دی جاتی ہے۔ کافور کی گولیاں بھی الماریوں میں ڈالی جاتی ہیں۔ پھر بھی کچھ کتابوں کو دیمک لگ گئی۔ اس لئے اُن کی فوٹو کاپیاں بنوا لی گئیں …….. اور ہم محدود آمدنی والے لوگ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ کتابوں سے قطع نظر میرے پاس ایک صدی پرانے رسائل بھی ہیں (مجھے ایک زمانے میں قلمی کتابیں جمع کرنے کا بھی شوق رہا ہے) ان کتابوں کے بارے میں کچھ احباب نے مشورہ دیا ہے کہ آرکیالوجی کے حوالے کر دوں ورنہ ضائع ہو جائیں گی۔

٭       بنیادی طور پر تخلیق کار معاشرے کی اصلاح کا ذمہ دار اور قاری کا آئیڈیل ہوا کرتا ہے مگر رہنمائی کے منصب پر فائز دو محترم قلم کار عملی طور پر نہ سہی، لفظی طور پر بہم دست و گریباں نظر آئیں تو اس پر قاری کس قسم کا حُسنِ ظن قائم کرے؟

٭٭   اگر قاری با شعور ہے اور باضابطہ طور پر ادب کا پڑھنے والا رہا ہے تو وہ ’’حُسنِ ظن‘‘ کی بجائے حقیقی رائے قائم کرے گا۔ میرے ایک طالب علم مرزا سلیم بیگ نے جواب سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہے حیدرآباد کی ادبی سیاست پر ایک کتاب ’’احوال واقعی‘‘ کے نام سے، اسی لئے مرتب کر دی کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے آ جائیں۔ انہوں نے ہر اختلافی تحریر اور میرے جوابی خطوط بھی (اشاعتی تاریخوں کے ساتھ) اس کتاب میں جمع کر دیئے ہیں۔ اسی طرح کراچی کی ادبی سیاست کے بارے میں …….. خود میں نے تمام تحریریں (فوٹو کاپیوں کے طور پر) یکجا کر کے ’’چراغ بکف‘‘ نام سے مختلف لائبریریوں میں رکھوا دی تھیں (وہاں سے غائب ہو جانے کی وجہ سے اب وہ بھی کتابی صورت میں چھپ رہی ہیں) تازہ کتاب پروفیسر رعنا اقبال کی ہے جو ’’آئینہ در آئینہ‘‘ کے خلاف لکھی ہوئی تحریروں اور میرے جوابات کا مجموعہ ہے۔ ’’بارش سنگ سے بارش گل تک‘‘ کے نام سے جلد ہی آپ تک بھی پہنچ جائے گی بقول کسے۔ یہ ریکارڈ درست رکھنے کا ایک ’’مہذب طریقہ ‘‘ہے۔ یہ سانحہ کیوں عمل میں آیا؟ اور گذشتہ چالیس سال سے کیوں چل رہا ہے؟ اس کا جواب یہ کتابیں دیں گی……..اور میری وہ تخلیقات جن کے خلاف کچھ ’’رقیبان روسیاہ‘‘ نے عدم واقفیت کی بنا پر یا اپنے ’’مزاج‘‘ کے سبب یہ ’’قضیے ‘‘ کھڑے کیے اور اہل ادب کو مجھ سے بدگمان کرنا چاہا۔ ظاہر ہے کہ اس کا ازالہ ضروری تھا۔ میں نے ہر ادبی الزام کا ادبی انداز میں جواب دیا ہے البتہ جہاں مخالفین ’’ذاتیات‘‘ پر اتر آئے اور میری ’’کردار کُشی‘‘ کرنے لگے وہاں میں نے وہ رویہ اختیار کیا جو ہر شریف آدمی کا رد عمل ہوتا ہے۔ شمیم احمد کے بہکاوے میں آ کر جب قمر جمیل نے حد سے تجاوز کیا تھا تو میں نے ایک ترقی پسند شاعر اور ایڈوکیٹ دوست، حسن حمیدی کے ذریعے ان حضرات کو عدالتی نوٹس بھجوا دیا تھا۔ (شیخ ایاز بھی اس وقت میری وکالت کر رہے تھے) مگر قمر جمیل نے معاملے کی نزاکت کو سمجھ لیا اور اخبارات میں اپنی غلطی تسلیم کر کے مجھ سے معافی مانگ لی۔ پھر شمیم احمد کے بڑے بھائی سلیم احمد نے بھی اپنی دوستی کا واسطہ دیا اور میں نے کیس واپس لے لیا۔ (یہ سب واقعات میری کتاب ’’شخص و عکس‘‘ کے ’’باب تزکیہ‘‘ میں شامل، مرے جوابی مضامین میں موجود ہیں)۔

            شمیم، قمر جمیل اور سلیم احمد……….تینوں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے۔ جاوید وارثی کا بھی انتقال ہو گیا جن کے رسالے ’’بساطِ ادب‘‘ کو میری منظوم سوانح حیات ’’آئینہ در آئینہ‘‘ کے سلسلے میں استعمال کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔

            آپ ہی سوچئے، مگر میں اپنی تخلیقات کے سلسلے میں وضاحت نہ کرتا اور ان حضرات کے عائد کردہ ہر الزام پر خاموشی اختیار کرتا تو آنے والا دور مرے بارے میں کیا رائے قائم کرتا میں نے اپنی سوانح کے ’’حرف اول‘‘ میں صاف لکھ دیا ہے کہ ’’ادب میں جو شخصیتیں مکمل ہو جاتی ہیں یہ جھوٹ اُن کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا مگر جو فن کار میرے اس شعر کے مصدق ہیں۔

میں دیکھتا ہوں کہ میں تناسخ کے اک عمل سے گزر رہا ہوں

iمیں اپنے انجام تک پہنچ کر، پھر اپنا آغاز کر رہا ہوں

وہ ’’روز حساب‘‘ کا انتظار نہیں کر سکتے۔ یہ شعر تو علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیت ہی کو زیب دیتا ہے کہ

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے اِس گیت کی مثال ہوتے ہیں۔

دیا جلے تو چھاؤں در آئے

دیا بُجھے تو رین

اس لیے باہر کی روشنی کی بجائے، اندر کی روشنی کے سہارے جیتے ہیں۔

            ادب میں ہر شخص کسی نہ کسی زاویے سے ’’محترم‘‘ بن جاتا ہے۔ اس لیے آپ جیسے سادہ دل اور سبھی سے محبت کرنے والے کسی کو کوئی الزام کیسے دے سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ ذوقؔ بھی کوئی چھوٹا شاعر نہیں تھا مگر غالب کی بے جا مخالفت کی سزا تاریخ اُسے دے چکی۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اپنی غزل کے ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں۔

میں تو یوں چپ ہوں کہ آئے نہ ترے ’’ذوق‘‘ پہ حرف

جو سخن فہم ہے، غالب کا طرف دار بھی ہے

٭       ہر دو جانب نئی تخلیقات اور تراکیب کی ایجاد و اختراع کو آپ کس جذبے کا نام دیں گے؟

٭٭   اس کا جواب بھی تاریخ میں ہے۔ جس نے پہلے لکھا، وہی اوّل ٹھہرا۔ تخلیق کی خوبی بھی وقت ہی متعین کرتا ہے بشرطیکہ اُسے آنکھ اوجھل نہ کر دیا جائے۔ ’’ہم عصریت‘‘ قدر پہچاننے میں اکثر آڑے آتی ہے۔ میرا جی کے بارے میں نصف صدی پہلے اتنی غلط بیانیاں کی گئیں، ایسے افسانے اور لطیفے گھڑے گئے کہ لوگوں نے انہیں باضابطہ پڑھنا ہی چھوڑ دیا لیکن اُن کے چند چاہنے والوں نے انہیں گلے لگا کے رکھا اور پھر وقت نے اُن کی قدر پہچان لی۔ لیکن ایسے خوش نصیب کتنے ہیں؟ اس لیے راستے میں اڑتی گرد کو خود ہی صاف کر لیا جائے تو اچھا ہوتا ہے۔

            اگر ایجاد و اختراع ادبی ہو تو ’’مسابقت‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے ورنہ وہی جس کی رَوش ہمارے ادب میں عام ہے ……. حسد، تقلید، کم ظرفی اور اسی قسم کے کسی لقب سے زمانہ یاد کرے گا۔

٭       آپ نے بہ بانگ دہل فرمایا تھا ’’پاکستان کی زندگی کا فیصلہ امریکہ میں ہوتا ہے ‘‘ کیوں ہوتا ہے؟ اس کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟ اہل قلم اس ضمن میں مجرمانہ خاموشی کے مرتکب کیوں ہو رہے ہیں اور کیا یہ سلسلہ صرف پاکستان تک محدود ہے ……….؟

٭٭   یہ بات بہ بانگِ دہل کہی جائے کہ زیرِ لب…….. ایک حقیقت ہے اور اس کا آغاز پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں سے ہوتا ہے جب انہوں نے روس کی دعوت کو نظر انداز کر کے امریکہ کی راہ لی تھی۔

            میں ۱۹۵۱ء میں پاکستان آیا تھا۔ ۱۹۵۲ء میں ایک نظم ’’مزار قائد پر‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی جو ’’کارواں ‘‘ (کراچی) کے اگست ۱۹۵۲ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ (اس وقت تک مقبرہ نہیں بنا تھا) اس کا ایک شعر ہے۔

اُبھر کے مشرق سے مغرب کی سمت ہے جو رواں

اُس آفتاب کا انجام سوچتا ہوں میں

سو اُس کا ’’انجام‘‘ سامنے ہے۔ اسی زمانے میں امریکی وزیر خارجہ فوسٹر ڈلس پاکستان آئے تھے ان کی آمد پر میں نے ایک نظم ’’اجنبی مہمان‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی جو جولائی اگست ۱۹۵۳ء کے ’’مشرب‘‘(کراچی) میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بھی کچھ شعر لکھ دوں۔

بہت دور …. دور مغرب سے

ارض مشرق سجانے آئے ہیں

ایشیا کے امڈتے طوفاں سے

ایشیا کو بچانے آئے ہیں

تپتے جسموں کے پاؤں کے نیچے

چھاؤں اپنی بچھانے آئے ہیں

اک سیاسی بساط پر اپنے

چند مہرے بٹھانے آئے ہیں

سو بھائی، ادیبوں نے اُس وقت بھی لکھا اور اب بھی اپنے اپنے انداز میں لکھ رہے ہیں۔ پہلے ذرا کھُل کے لکھتے تھے۔ اب استعاروں اور کنایوں میں لکھتے ہیں۔ (ظاہر ہے کہ میں سب کی بات نہیں کر رہا ہوں صرف اپنے ہم خیالوں کی بابت کہتا ہوں) آج کا ہر وطن پرست، با شعور اور با ضمیر شاعر اور ادیب کسی نہ کسی طرح اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ میرا یہ شعر بھی اسی المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہ ’’معجزہ‘‘ بھی وقت کا، کتنا عظیم ہے

اپنے ’’دستِ سامری‘‘ میں عصا کے کلیم ہے

اور موجودہ صورت حال پر ایک شعر سنیئے۔

اک طرف اڑتے ابابیل، اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقدر دیکھنا

یہ سلسلہ پاکستان تک محدود نہیں۔ وسط ایشیا سے مشرق بعید تک بیشتر ممالک امریکہ کی زد میں ہیں۔ اس کے چنگل سے نکلنے کے لیے بڑی سیاسی بصیرت چاہیے اور ہمارا یہ عالم ہے۔

ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کے مانند

ایسا نہ ہو جب آنکھ کھُلے، وقت گزر جائے

کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوح نہیں ہے

آیا ہوا طوفان، خدا جانے کدھر جائے

لیکن مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں ایسے بھی ممالک ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے۔

کھینچی تھی جن کے خوف سے سرِ سکندری

سوئے نہیں ہیں آج وہ دیوار چاٹ کے

وہ امریکہ کے مقابل سینہ تان کے کھڑے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران، عراق اور فلسطین اور مشرق بعید میں کوریا اور ویت نام بڑی حد تک آزاد ہو چکے ہیں۔ اور جاپان تو دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ چین بھی ایک بڑا اور طاقت ور ملک بنتا جا رہا ہے۔ سنا ہے اس کے بعد انڈیا کا نمبر ہے۔ وہ سیاسی طور پر ہمارا دشمن سہی مگر وہاں بیس یا بائیس کروڑ مسلمان ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش سولہ کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے اور اب دن رات ترقی کر رہا ہے ان حقیقتوں کو غیر جذباتی ہو کر نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے اور اُس ’’سیاسی تدبّر‘‘ سے کام لینا ہے جو ہمیں جنگ سے باز رکھے اور ترقی کا رستہ دکھائے۔ کشمیر کے مسئلہ کو بھی ٹھنڈے دل سے حل کرنا چاہیے۔ وہاں بھی ان (۵۴) برسوں میں تین نسلیں جوان ہو چکی ہیں جو مسلمان اور پاکستانی کی بجائے ’’کشمیری‘‘ بن کے سوچتی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی اختلافات نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی بلکہ، کشمیری مسلمانوں کی بھی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی، عام ہندوؤں کی بھی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ خدا جانے وہاں کے مسلمانوں کا حشر کیا ہو گا۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

٭       جنیٹک سائنس کی روشنی میں تخلیقی نقطۂ نظر سے آپ کا شعری جانشین کون ہے؟

٭٭   ابھی کوئی نہیں۔ ممکن ہے آئندہ نسلوں میں کوئی نکل آئے۔ ابھی تو میں ایسے مسائل پر سوچتا بھی نہیں۔ ابھی تو تارکین وطن کے خاندان ’’مرجر‘‘ کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ یہ عمل بہت سست ہوتا ہے۔ ابھی وہ صرف ’’پاکستانی‘‘ ہیں۔ جب تک وہ مقامی تہذیبوں اور مقامی رنگوں میں نہ رنگ جائیں میں نہیں جانتا وہ کس ’’زبان‘‘ میں شاعری کریں گے۔ ہمارے اور شاہ لطیف کے بزرگ بھی باہر سے آئے تھے، فارسی اور عربی بولتے ہوئے ……. اب اردو ہماری پہچان ہے اور سندھی شاہ لطیف کی۔آئندہ بھی یہی ہو گا بشرطیکہ دونوں زبانیں ایک دوسرے کی دوست بنی رہیں۔

٭       ذاتیات سے قطع نظر، طویل قلمی ریاضت میں آپ کو کس کس مرحلے اور کن لوگوں سے شکایت پیدا ہوئی اور آپ نے اپنی راہوں کو کس طرح روشن کیا؟ اور مستقبل کی مناسبت سے کیا منصوبے اور ارادے ہیں؟

٭٭   مجھ کو ادبی اعتبار سے کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ میں نے کسی سے کوئی توقع بھی نہیں رکھی۔ میں اپنے ملک کی ادبی فضا کو جانتا ہوں۔ یہاں فرمائشی تحریروں کی بہتات ہے۔ ناقدین اپنے حلقے یا اپنے جانے پہچانے لوگوں کے لیے لکھتے ہیں اور کبھی کبھی اتنا مبالغہ کرتے ہیں کہ اُن کی تحریروں پر ہنسی آ جاتی ہے۔ وہ تحریریں خود بخود غیر معتبر ہو جاتی ہیں۔ آپ بعض ناقدین کے سالانہ جائزے دیکھیں۔ اُن میں اکثر میں مجھ سے بہتر لکھنے والوں کے بھی نام نہیں ہوتے اس لیے اس روِش پر نہ افسوس کرنا چاہیئے نہ شکایت کرنا چاہیئے۔

غم جہاں ہو، غم یار ہو کہ تیر ستم

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

                                                                        اکتوبر ۲۰۰۲ء

٭٭٭

 

اشفاق احمد

(۲۲ اگست ۱۹۲۷ء)

٭       بیشتر انٹرویوز میں آپ اپنے ادبی کیریئر کی ابتداء رسالہ ’’علم الوقیع‘‘ کو بتاتے ہیں یہ بات قرین قیاس نہیں کہ ایک نوعمر بچہ بلا کسی شوق و تجربہ کے ادبی رسالہ نکال بیٹھے جبکہ گھریلو ماحول بھی ادبی نہ ہو ہمارے خیال میں یہ شوق کی انتہا تھی ہم ابتداء کے بارے میں جاننا چاہیں گے؟

٭٭   …… رسالہ ’’علم الوقیع‘‘ میں نے ساتویں جماعت میں نکالا تھا۔ اس لفظ کے معنی نہ مجھے جب معلوم تھے نہ اب معلوم ہیں۔ میرے ایک بزرگ یہ ترکیب (علم الوقیع) اپنی گفتگو میں استعمال کرتے تھے۔ مجھے اچھی لگی میں نے اپنے رسالے کا نام رکھ دیا۔ میرے رسالہ علم الوقیع کا صرف ایک ہی شمارہ ’’شائع‘‘ ہو سکا کیونکہ میں ہی اس کا کاتب میں ہی مضمون نگار میں ہی مصور اور میں ہی اس کا دفتری تھا۔ اس میں بیشتر ’’مضمون‘‘ میرے تھے۔ نظمیں غزلیں قینچی سے کاٹ کر چپکائی گئی تھیں۔ تصاویر زیادہ تر رسالہ عصمت، تہذیب نسواں اور خاتون بمبئی سے لی گئی تھیں۔ پرنٹ لائن یہ تھی : بہ اہتمام لالہ موتی رام کے امرت الیکٹرک پریس میں چھپا اور اشفاق احمد نے موضع مکتر سے شائع کیا۔

٭       ابتدا میں آپ شاعری کی طرف مائل رہے بعد میں افسانے اور ڈرامے کی طرف متوجہ ہو گئے سفرنامہ میں بھی انفرادیت کو نمایاں رکھا یہ سب کچھ ارادی تھا یا حالات کے تحت ایسا ہوا؟

٭٭   دونوں ہی چیزیں تھیں۔ ارادتاً بھی ادیب بننا چاہتا تھا اور حالات بھی مجبور کر رہے تھے۔ میری بڑی آپا اور بڑے بھائی پڑھنے لکھنے سے گہرا شغف رکھتے تھے ان کے پاس بہت سے رسالے اور اخبار آتے تھے جن میں مشاہیر کی تحریریں ہوتی تھیں۔ میں ان کی گھن گرج سے بہت متاثر ہوتا۔ خاص طور پر جب میری آپا بھائی جان کو اور بھائی جان آپا کو مولانا ظفر علی خان کی نظمیں اور مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر پڑھ کر سناتے۔ میرے اندر ذاتی تخلیقی صلاحیت کوئی خاص نہیں اس لئے میں نے ہر صنف کی طرف منہ مارا اور ہر جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بات جو عظیم رائٹرز کا طرہ امتیاز ہے وہ میری گرفت میں نہ آ سکی۔ ابتدا میں میرا ایک افسانہ مشہور ہو گیا اور اسی کے زور پر یار لوگ مجھے کھینچ کر یہاں لے آئے کہ اب میرا گوشہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ پرسکون، خوش گوار اور Rewardingبات اور کیا ہوتی کہ میں پورا ادیب نہیں اور مجھے اتنا بڑا اعزاز عطا کیا جا رہا ہے۔

٭       آپ کا ادبی سفر کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے کیا آپ کسی ایک دہائی کا تعین کر سکتے ہیں جس میں بھرپور اور مثبت ادب تخلیق کیا ہو؟

٭٭   اس بات کا جواب تو کوئی نقاد ہی دے سکتا ہے البتہ اتنی بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شروع شروع میں میں نے ادب تخلیق کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ادب اور تخلیق دونوں کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ درمیان میں میں نے اکی دکی اور ٹوٹی ٹوٹی کئی کوششیں کیں لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا۔

٭       آپ نے کم و بیش بیس برس میڈیا کی نظر کئے اس دوران ادب کی طرف آپ کی توجہ کم کم رہی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اردو ادب کی اس حق تلفی کا ازالہ کر دیا؟

٭٭   میڈیا کی طرف میرا دھیان گھرگھریست کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے کارن ہوا لیکن وہاں بھی مجھے وہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی جس کا تصور باندھ کر میں وہاں گیا تھا۔ میرے ڈرامے ہر شخص کے سر پر سے گزر گئے۔ موضوعات کو اجنبی اور انداز کو تھکا دینے والا قرار دے کر انہیں ناپسندیدگی کے گھڑے میں ڈال دیا گیا۔ مکالموں کی طوالت اور ’’فلسفے کی بھرمار سے ناظرین /سامعین تنگ آ گئے اور بالآخر مجھے اس صنف سے بھی جزوی طور پر الگ ہونا پڑا۔ میں ٹی وی کا وہ واحد مصنف ہوں جس کے کسی سیریل یا سیریز کا کوئی ویڈیو تیار نہیں ہوا (اس لئے کہ مانگ نہیں) میرے ڈراموں کی چونکہ Viewingبہت محدود ہے اس لئے سپانسر انہیں اپنے اشتہاروں سے بھی نہیں نوازتا۔

            اب میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ اپنے لئے کوئی تیسری راہ تلاش نہیں کر سکتا۔ چونکہ لکھنے لکھانے کا ایک نامی چور ہوں اس لئے تحریر کی ہیرا پھیری سے بھی نہیں نکل سکتا۔ اب یہ آخری وقت ہیرا پھیری میں گزر رہا ہے۔

٭       آپ کی اپنے بارے میں یہ رائے کہ دوسروں کے مقابلے میں آپ کا ڈویلپمنٹ پراسس تیزی اور شدت سے ہوا ………… اس کے اسباب کیا تھے؟

٭٭   اصل میں خوش قسمت تھا۔ نوکریاں بدلیں۔ سفرکئے۔ نئے نئے کلچر اور مختلف کراس سیکشن آف سوسائٹی میں دور دور تک گھوما پھر حضرت سائیں صاحب نور والے کے ڈیرے پر تقریباً گیارہ برس گزارے۔ تجسس، تشکیک، طرب، تحیر، مایوسی ہر طرح کے موسموں سے لطف اٹھایا۔ ملّا بن کر وقت نہیں گزار سکا۔ نہ دینی ملّا نہ سائنسی ملّا نہ سیاسی ملّا۔ اس لئے تیزی کے ساتھ تبدیلیوں سے گزرا۔ اس وقت حضرت علامہ کی ایک چیز یاد آ گئی کہ             ؂

چہ کنم کہ فطرت من بہ مقام در نہ سازد

دل نا صبور دارم چو صبا بہ لالہ زارے

چو نظر قرار گیرد بہ نگار خوب روئے

مچسد آں زماں دل من پئے خوب تر نگارے

٭       ایک وقت تھا کہ آپ بانو قدسیہ کے متعلق از راہِ مذاق کہا کرتے تھے کہ وہ میرے جملے چرا کر اپنی تحریروں میں شامل کرتی ہیں آج کل آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ بانو قدسیہ مجھے مضامین لکھ کر دیتی ہیں اس تضاد سے آپ کا قاری کنفیوژن کا شکار ہے؟

٭٭   ایسے سوال عام طور پر تفنن طبع کے طور پر کئے جاتے ہیں اور ان کا لیول خواتینی پرچوں کے کالم ’’ہماری ڈاک‘‘ کا سا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ہنس لیتے ہیں کچھ خوش ہو جاتے ہیں کچھ سادہ لوح ایسی باتوں کو سچ مان لیتے ہیں۔ ایک سنجیدہ قاری کو اچھی طرح سے علم ہوتا ہے کہ یہ کس کی تحریر ہے اور اس کے اندر کس کا مزاج چھلک رہا ہے۔ ادب کا قاری کبھی کنفیوژن کا شکار نہیں ہوتا تماش بین البتہ لطف اندوزی کے ساتھ ساتھ سٹپٹایا سا بھی رہتا ہے۔ اس کو کنفیوژ ہی رہنا چاہئے کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔

٭       آپ کے خیال میں اردو ادب نے اب تک کتنے عالمی پائے کے ادیب پیدا کئے ہیں؟

٭٭   اردو ادب نے اپنی مختصر سی عمر میں بہت سے اعلیٰ پائے کے ادیب پیدا کئے ہیں جن میں افسانہ نگاروں کا رتبہ بہت ہی بلند ہے۔ میرے خیال میں اردو افسانہ دنیا کے دوسرے ’’دھتر خان ادب‘‘ سے اگر سربلند نہیں تو اس کے برابر کا ضرور ہے۔ پرانے افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بعد کے آنے والے افسانہ نویسوں نے بھی ایسی غضب کی کہانیاں لکھی ہیں اور لکھ رہے ہیں کہ عقل دنگ ہوتی ہے۔ نئے افسانہ نگاروں میں میرے ذاتی اندازے کے مطابق، خواتین افسانہ نگار بہت آگے ہیں اور انہوں نے بہت ہی خیال انگیز کہانیاں لکھی ہیں۔

            ہمارے یہاں اگر کوئی کمی ہے تو Essayکی ہے۔ ابتدا میں سرسید اور ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف بطور خاص توجہ دی تھی لیکن ان کے بعد کے ادیب اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکے۔ مضامین کی کمیابی سے اردو ادب کا دامن ابھی تک خالی ہی ہے۔ پورے طور سے خالی نہیں تو ھولا ضرور ہے۔

٭       آپ کے بارے میں ایک رائے یہ پائی جاتی ہے کہ آپ گاڑی کا پہیہ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف گھمانے کی کوشش میں مصروف ہیں یعنی سائنسی ترقی کے جدید ترین اور تیز ترین دور میں پیروں فقیروں اور ملّا ازم کا پرچار کر رہے ہیں مثال کے طور پر آپ کے ٹی وی پلے سائیں اور سائیکٹریسٹ کا نام لیا جا سکتا ہے؟

٭٭   میں روایتی کہانیوں کا وہ ذمہ دار لڑکا ہوں جسے معلوم ہے کہ آگے پل دھڑا دھڑ جل رہا ہے اور تیز رفتار گاڑی چلی آ رہی ہے۔ میں دونوں ہاتھ پھیلا کر پٹری کے درمیان کھڑا ہوں اور چلا چلا کر کہہ رہا ہوں ’’گاڑی روکو گاڑی روکو، آگے پل جل رہا ہے ‘‘ اور عازم سفر سواریاں جھلّا جھلّا کر کہہ رہی ہیں اس بیوقوف اور احمق دیہاتی کی آواز پر کان نہ دھرو یہ ترقی کا دشمن اور پیشروی اور حرکت کا بیری ہے !……………… میری ساری انسانیت سے درمندانہ درخواست ہے اور دست بستہ اپیل ہے کہ چونکہ ترقی کی اس گاڑی کو ہر حال میں روح کے پل پر سے ہو کر گزرنا ہے اور روح کا پل جل رہا ہے پہلے اس پل کا بندوبست کر لیں۔ ہم نے ذرے کا جگر چیر کر ایٹم کے اندر کا راز تو معلوم کر لیا اب روح کے ایٹم کا تجزیہ اور بھی ضرور ی ہو گیا ہے ساری سائنس اور ساری ٹیکنالوجی انسان کے لئے اور انسان کی فلاح کے لئے تخلیق کی گئی ہے۔ لیکن اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے مقابلے میں انسان کو اور اس کی روح کو اور اس کی اندرونی طلب کو کوئی اہمیت نہ دی گئی تو پھر اس ساری ’’ترقی‘‘ اور ’’پیش روی‘‘ کا بڑا ہی خوفناک نتیجہ نکلے گا ………… اگر انسان ظالم ہے، مکار ہے جھوٹا ہے اور بے انصاف ہے اور وہ بوسینا میں انیائے کا بیج بو کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے زور پر چاند پر پہنچ گیا ہے کہ چاند کی سرزمین میں اپنے اعمال اور افکار کی کاشت کرے تو اس کی بوئی ہوئی فصل بوسینا کی کاشت سے کس طرح مختلف ہو گی۔

            اس مادی دنیا میں روس کی گاڑی کا پہیہ اپنے پورے زور پر امریکہ اور مغربی ممالک کی مشترکہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی آگے نکل گیا تھا۔ مجھے چونکہ روس سے بے پناہ محبت تھی اس لئے میں اس کی تیز رفتار گاڑی کے آگے دونوں ہاتھ پھیلا کر چیختا رہا چلاتا رہا کہ آگے پل جل رہا ہے۔ بھانبڑ مچ رہا ہے۔ ذرا ٹھہر جاؤ۔ ذرا رک جاؤ کہیں تمہارا نقصان نہ ہو جائے۔ کوئی حادثہ رونما نہ ہو جائے ………… لیکن روس اپنی تیز رفتاری میں بہت آگے نکل گیا۔

            میں اصلی ادیب تو نہیں بن سکا لیکن ایک جھوٹا رول تو کب کا اختیار کئے بیٹھا ہوں۔ میں اسی جھوٹے رول کے زور پر عمر بھر چیختا رہوں گا، چلاتا رہوں گا۔ واسطے دیتا رہوں گا کہ پہلے پل کی مرمت کر لیجئے پل ٹھیک کر لیجئے۔ روح کی پٹڑی استوار کر لیجئے پھر چاہے جس سپیڈ پر دل کرے آگے نکل جائیے۔ میں قربان ! میں نہ آپ کے پہئے کے خلاف ہوں نہ گاڑی کے نہ ترقی کے خلاف ہوں نہ تیز رفتاری کے۔ بس ایک توجہ چاہتا ہوں کہ چونکہ اس پل پر سے گزرنا لازمی ہو گیا ہے اس لئے پہیہ روک کر پہلے پل کا معائنہ کر لیں۔

            پیر فقیر اور ملّا، ہم پڑھے لکھے، دانشوروں، بیوروکریٹوں، یو این او کے نمائندوں اور وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں کے مقابلے میں ضرور کثیف اور آلودہ لوگ ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے اپنے علاقے کی بیشتر آبادیوں کی روحانی ضرورتوں کو اپنی پرانی روش اور اپنی لوک دانش سے پورا کرتے رہتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کو جینے کا حوصلہ بھی بخشتے رہتے ہیں …… جب تک روح کی پرورش کا کوئی بہتر طریقہ اور بہتر سلیقہ اور مذہب سے زیادہ مہربان اور تصوف سے زیادہ حقیق پیدا نہ ہو جائے یا آپ کو مل نہ جائے تب تک بے اختیاری کے عالم میں صرف ’’موجود‘‘ کے سپرد ہو کر زندگی بسر کرتے چلے جانا میرے نزدیک کافی نالائق فیصلہ ہے۔

            میرے ڈرامے ’’سائیں اور سائیکٹرسٹ‘‘ کو ایک مرتبہ پھر دیکھیں اور ساتھ کچھ دوستوں کو بٹھا کر بھی دکھائیں۔ پھر آپ جو فیصلہ کریں مجھے منظور ہو گا۔

            پہلے پہل جب گلیلیو نے کہا ’’زمین گھومتی ہے ‘‘ تو سب نے پکڑ کر اسے مارا کہ گدھے کے بچے ! اگر زمین گھومے تو ہم گر نہ پڑیں۔ ہمارے رخ نہ بدلتے رہا کریں۔ ہمارا سر نہ چکرانے لگے۔ جب وہ نہ مانا تو اس کو پکڑ کر جلتی چتا پر بھسم کرنے کے لئے لے گئے پھر وہ ڈرا اور رویا !

٭       کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ آپ Delusion of Grandeur میں مبتلا ہیں اور اردو ادب میں اسی مقام و مرتبہ کے متمنی ہیں جو انگریزی میں شکسپیئر کو حاصل ہے؟

٭٭   یہ ایک چھوت کی بیماری ہے جو تقریباً سارے فنکاروں میں ہوتی ہے اور اس وبا کا چلنا سارا سال ہی رہتا ہے۔ اس کے خطرناک مریض وہ لکھاری بھی ہوتے ہیں جو بظاہر عاجزی، انکساری اور ہیچدانی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور اندر اپنی انا کے تاج محل کو صبح و شام پالش کرتے رہتے ہیں۔ یہ بیماری عام ہے اس کو ہم ادب کی زبان میں ’’تعلّی‘‘ کہتے ہیں۔ جو ادیب اپنے نام کو اور اپنی ذات کو اخفا میں رکھ کر لکھتا ہے اور عمر بھر اپنا آپ ظاہر نہیں ہونے دیتا وہ اس سے مبرا ہو سکتا ہے لیکن جو ایک مرتبہ رونمائی کی کرسی پر بیٹھ گیا تو اس Delusionمیں مبتلا ہو گیا۔ اب میں کیا کروں !

٭       ایک تاثر یہ بھی ہے کہ آپ جس بلیغ انداز میں مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں ان کا حل یا ان مسائل کے ذمہ دار لوگوں کی نشاندہی سے کتراتے ہیں؟

٭٭   ادیب کا کام مسائل کی نشاندہی کرنے تک ہوتا ہے وہ مسائل کے ذمہ دار لوگوں کی طرف اشارے بھی کرتا ہے لیکن اس کا انداز محتسب اور ایڈیٹوریل رائٹر سے مختلف ہوتا ہے۔ ادیب کسی خاص فیوڈل لارڈ کے خلاف نہیں لکھے گا وہ ’’فیوڈل ازم‘‘ کے زہر کی نشان دہی کرے گا۔ یہ فیوڈل ازم چاہے خود ادیب میں ہو یا شاعر میں، فلسفی میں ہو سوشلسٹ لیڈر میں ہو، دینی راہنما میں ہو ادیب اس کے ہمہ گیر ضرر سے آشنا کرے گا تاکہ پڑھنے والا مختلف گرہوں میں اس مزمن مرض کو تلاش کر سکے۔ (خود اپنی ذات میں جھانک کر اپنے فیوڈل لارڈ سے متعارف ہو سکے) لیکن اس کے مقابلے میں ایک سیاستدان، صحافی اور محتسب ایک مخصوص گروہ کو فیوڈل ازم کا نمائندہ قرار دے کر اسے چمٹی سے پکڑ کر سب کے سامنے پیش کر ے گا کہ بس یہی خرابی کی جڑ ہے باقی سب خیریت ہے۔ اسے پتھر مارو۔ میں ٹھیک ہوں اور میں ہی سچا ہوں۔

٭       آپ کی زندگی میں تصوف کا بہت دخل ہے جبکہ آپ کے انتہائی قریبی دوست قدرت اللہ شہاب مرحوم جنہیں آپ، بانو قدسیہ اور ممتاز مفتی بزرگ مانتے ہیں وہ تصوف کے حق میں نہ تھے ان کا کہنا تھا کہ تصوف محض کنڈر گارٹن کی حیثیت رکھتا ہے؟

٭٭   ممتاز مفتی، بانو قدسیہ اور میں، شہاب صاحب کو بزرگ مانتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ قدرت اللہ شہاب میرا دوست بھی تھا اور دوستی میں کچھ چھوٹ ایسی بھی مل جاتی ہے جو عام حالات میں نہیں ملتی۔

            شہاب صاحب تصوف کے زبردست قائل تھے اور انہی کی بدولت ہم کو اس راہ کی چٹک لگی (گو منزل ہماری قسمت میں نہ تھی) وہ اسی کے سہارے اور اس سیڑھی (تصوف) کے راستے شرع شریف تک پہنچے۔ واقعی تصوف دین کا کنڈر گارٹن ہے۔ یعنی جب تک آپ پرائمری میں داخل نہیں ہوں گے میٹرک نہیں کر سکیں گے۔ کچھ خوش نصیب البتہ ایسے ہوتے ہیں جو پرائمری پاس کئے بغیر سیدھے بڑی جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں وہ بہت ہی قسمت والے ہوتے ہیں۔ ان کا تانتا سیدھا مل جاتا ہے۔ وہ پہلی رکعت سے ہی خضوع و خشوع کے راستے دین کے عمل میں صحیح طریق سے شامل ہو جاتے ہیں۔ آخری منزل وہی ہے جو شارع اسلام نے متعین کی ہے۔ اب راستہ طے کرنے والا کسی کا ہاتھ پکڑ کر مسافت طے کرے یا سیدھے سبھاؤ کر لے یہ اس کی اپنی برات ہے۔ اپنی اپنی قسمت ہے اپنا اپنا لہنا ہے۔

            شہاب صاحب کا تصوف سے وابستگی کا علم ان کی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ پڑھ کر بخوبی ہو جاتا ہے۔ اسے توجہ سے پڑھئے اور ان پر گزری ہوئی منفرد واردات کا خصوصی مطالعہ کیجئے۔

٭       علم کے بارے میں آپ کی رائے واضح نہیں مثلاً آپ فرماتے ہیں کہ آج تک کسی ان پڑھ نے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فساد کی جڑ علم یا صاحب علم لوگ ہیں؟

٭٭   اس موضوع پر میں کئی بیان کئی جواب اور بہت سے جواب دعوے رقم کر چکا ہوں جو یقیناً آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ ایک علم غیر نافع ہے اور ایک علم نافع۔ حضورؐ نے علم نافع حاصل کرنے کی دعا فرمائی ہے اور ہمارے دین میں علم نافع ہی علم قرار پایا ہے۔ جس سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچے اور جس کی بدولت انسانوں میں آسانیاں تقسیم کی جا سکیں ………… اگر تو آج کے صاحبان علم بوسنیا میں صومالیہ میں کشمیر میں فلسطین میں آسانیاں تقسیم کر رہے ہیں تو پھر تو ہمیں یہی علم حاصل کرتے رہنا چاہئے لیکن اگر یہاں کوئی خرابی واقع ہو رہی ہے تو اس پر غور ضرور کرنا چاہئے اور اگر اس سے پلٹنے کی ضرورت ہو تو پھر پلٹنا بھی ضرور چاہئے۔

            میں تو نہیں کہتا البتہ لوگ مل جل کر کئی مرتبہ بیوروکریسی سیاست دانی، تھانے کچہری، ہارس ٹریڈنگ، بوٹی مافیا وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں تو میں ان کو منع کرتا ہوں کہ آپ علم کی تذلیل نہ کریں یہ سارے پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ملک اور قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان کی بجائے ان لوگوں کی نندا کریں جو ان پڑھ ہیں اور کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں، سڑکوں، شاہراہوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں اور جن کی نا اہلی کی بدولت ساری دنیا، پورا کرۂ ارض مصیبت کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔

            علم نافع بہت بڑی دولت ہے اور صاحب علم ہونا اس کائنات کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ میرے بابا جی سائیں نور والے فرمایا کرتے تھے کہ ’’صاحب علم وہ ہوتا ہے جو مشکل کے وقت جماعت میں سب سے آگے ہو اور جب انعام تقسیم ہونے لگے تو جماعت میں سب سے پیچھے ہو‘‘

٭       تہذیب و ثقافت کے بارے بھی آپ کا نظریہ مبہم ہے آپ معاشرتی برائیوں مثلاً سر عام پان کی پیگ یا نسوار تھوکنا، سگریٹ،بیڑی سے آلودگی پھیلانا، نظم و ضبط کی پابندی نہ کرنے کو ثقافت گردانتے ہیں؟

٭٭   کاش یہ سوال بنانے سے پیشتر آپ نے کسی ماہر معاشیات سے رجوع کر لیا ہوتا۔ تہذیب و ثقافت کسی ایک انسانی گروہ کے اس اجتماعی افعال و کردار کا نام ہے جس کے فریم ورک میں رہ کر وہ دوسرے گروہوں کے دور نزدیک زندگی کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس میں اچھائی، برائی، خوبی، خرابی کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً انگریز اپنے کام کے حصول کے لئے ’’کیؤ‘‘ لگاتا ہے۔ اطالوی بالکل نہیں لگاتا۔ اس میں اچھائی، برائی کی بحث نہیں۔ کلچر کے اختلاف کی نشان دہی مطلوب ہے۔

            یہ میرا ایک درسی لیکچر تھا جس کا آپ نے حوالہ دیا۔ میں نے طالبعلموں سے کہا تھا کہ پان کی پک دیواروں پر پھینکنا۔ راہ چلتے آوازیں کسنا، نسوار کی پچکاریاں چھوڑنا، پیار سے گندی گالیاں دینا ہماری بود و باش کا ایک بیّن حصہ ہے۔ یہ ہمارے کلچر کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ میں اس وقت خرابی کی بات نہیں کر رہا جو ’’ہے ‘‘ اس کا ذکر کر رہا ہوں۔ جب کبھی حفظان صحت کے حوالے سے یا اخلاقیات کے رشتے سے بات ہو گی اس وقت میں اس بو د و باش کے بین حصے پر ایک اور زاویئے سے روشنی ڈالوں گا۔ میں ’’اچھا کیا‘‘ اور ’’برا کیا‘‘ کی بات نہیں کر رہا جو موجود ہے اس کا ذکر کر رہا ہوں …………

            میرا خیال ہے اس بیان کی رپورٹنگ میں کچھ غلطی ہو گئی جس کا آپ کی طبیعت پر بوجھ پڑا۔

٭       آپ نے بیٹھے بٹھائے علامہ اقبال کو دو حصوں میں تقسیم کیوں کر ڈالا یعنی آپ کہتے ہیں کہ دن کے اقبال کی نسبت رات کے اقبال کا زیادہ مداح ہوں؟

٭٭   ہر بڑے آر ٹسٹ اور ہر بڑے تخلیق کار کے اندر Paradoxکا رویہ موجود ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ تعقل کا گرویدہ ہوتا ہے اور فکر و دانش کے سہارے تخلیقی عمل میں اترتا ہے دوسری جانب وہ تخیل اور جذبے کے زور پر اپنی تخلیق میں قوس و قزح کی اڑان سموتا ہے۔ اس اڑان میں اسے زندگی کے مناظر اور بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک رات ایسے ہی سرسری طور پر پیام مشرق کا مطالعہ کرتے ہوئے میرے دل پر یہ بات گزری کہ حضرت علامہ بھی کیا خوش نصیب انسان تھے کہ کشف و الہام کا زر ان کے سینے پر سے ٹھاٹیں مارتا ہوا گزر جاتا تھا اور وہ عقل کو چراغ راہ بنائے بغیر اپنی منزل تک پہنچ گئے تھے۔ پھر مجھے ان کے خطبات کا خیال آیا جو انہوں نے بڑی عرق ریزی سے دقیق حوالہ جات کی روشنی میں مرتب کئے تھے اور اسلامی فلسفے کی ان باریکیوں کو ایسے سلیقے سے بیان کر گئے تھے کہ تہذیب نوی کے ہر فرزند نے انہیں دل و جان سے پسند کیا تھا۔ ان کی شاعری سراسر عشق نظر آئی اور ان کے لیکچر عقل و

خرد کی قابل عمل دستاویز۔ میرے ذہن میں دونوں پلڑے ترازو کے تول تل گئے اور میں جذباتی طور پر شاعری والے پلڑے کے زیادہ قریب آ کیا۔مجھے یوں لگتا ہے کہ جب حضرت علامہ واردات و کیفیات سے گزرتے ہیں تو ان کا ایک انوکھا رنگ ہوتا ہے اور جب وہ فلسفے کی گتھیاں سلجھاتے ہیں تو ایک دوسرا پہلو ہوتا ہے ………… میری طرح اور بہت سے لوگ عشق والے اور جذبے والے شاعر اقبال کو جانتے ہیں اور اسی کی محبت میں مبتلا ہیں۔ اسی محبت کے راستے وہ خطبات والے حضرت علامہ تک پہنچتے ہیں۔ وہ تو شاید نہیں لیکن میں ضرور سوچتا ہوں کہ اگر حضرت علامہ نے ایک فلسفی کی حیثیت سے صرف لیکچرز لکھے ہوتے تو ان کا مقام کیا ہوتا اور اگر صرف شاعری کی ہوتی تو ان کی عظمت کس طرح کی ہوتی۔

            بہرکیف یہ میری ایک سوچ بلکہ میری ایک کیفیت ہے اور ایسی کیفیت میں مبتلا ہونا آئین جمہوریت کے خلاف نہیں ہے اس لئے آپ مجھے آسانی سے معاف کر سکتے ہیں۔

٭       گزشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری جس میں آپ نے سفیر یا سینٹر بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا آپ کا یہ مطالبہ اپنی ذات تک محدود ہے یا آپ ملک کے ممتاز اہل قلم کو اس اعزاز کا مستحق گردانتے ہیں؟

٭٭   اس خبر کی رپورٹنگ بھی ادھوری رہ گئی۔ ان دنوں صدر پاکستان کی سیٹ خالی ہونے کی بھی افواہ تھی تو میں نے اپنے آپ کو سب سے پہلے صدر پاکستان بننے کے لئے پیش کیا تھا اور اس اعزاز سے رہ جانے کی صورت میں سفیر اور سینٹر کی آسامی کو ہی منظور کر لیا لیکن ہمارے یہاں چونکہ طنز و مزاح سے لطف لینے کا خانہ خالی ہے اس لئے آپ کی طرح اور لوگوں کو بھی یہ بات پسند نہ آئی۔ بہرکیف میں نے ان تینوں ملازمتوں کو حاصل کرنے سے پہلے ہی اپنا استعفی گزار کر دیا ہے۔ امید ہے منظور ہو جائے گا۔ لیکن میرے خیال میں اگر ملک کے صدر، سفیر اور سینٹر ادیبوں سے چنے جائیں تو وہ ملک و قوم کے لئے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ واللہ اعلم

٭       اگر ادیب یا شاعر کسی نظریئے سے شدید وابستگی رکھتا ہو تو اس کی حیثیت اور تخلیق کو غیر جانب دار تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

٭٭   مغربی ادب کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ عیسائیت سے شدید وابستگی کے با وصف وہاں کے شاعر اور ادیب اپنے آپ کو اور اپنی تخلیق کو غیر جانبدار اور لبرل شمار کرتے ہیں۔ آپ ٹی ایس ایلیٹ، دوستوفسکی اور ٹالسٹائی وغیرہ کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ ان کے ساتھ بے شمار ماڈرن رائٹر اور بھی ہیں جو اپنے مذہب سے بلا خوف تردید وابستہ ہیں۔ یہ مشکل صرف تھرڈ ورلڈ میں مسلمان ادیبوں کو درپیش ہے کہ وہ اسلام سے اپنی وابستگی کو چھپا کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ ان پر جانب داری کا یا رجعت پسندی کا ٹھپہ نہ لگ جائے۔ دنیائے اسلام کا رائٹر سلمان رشدی بننے کو تو تیار ہے لیکن ڈپٹی نذیر احمد یا نسیم حجازی بننے کی جرأت نہیں کرتا۔ وہ ’’بنیاد پرست ‘‘ نہ کہلوانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ لیکن اب زمانہ کروٹ بدل رہا ہے۔ اب کی شوگر کوٹڈ گولیاں کسی کام نہیں آئیں گی۔ اب تو یا ادھر یا ادھر اب ماسک پہن کر کسی کو لبھایا نہیں جا سکے گا۔ اگر وابستگی ہو گی اور سچی ہو گی تو ادیب کی شخصیت میں بھی در آئے گی اور اس کی تخلیق میں بھی۔ اب آنے والے خطرات مسلمان ادیب کو ’’ڈراکل‘‘ نہیں رہنے دیں گے۔ اس کی وابستگی ہر ہر قدم پر اس کا راز افشا کرتی چلی جائے گی اور وہ خوف سے بار اور ہوتا جائے گا۔ یہ راز اس نے حال ہی میں عیسائیت سے سیکھا ہے جس نے بوسنیا کے معاملے میں یو این او کو مظلوم Imbargo امبارگو لگانے کا حکم دیا اور الجزائر میں جمہوریت آ جانے پر جمہوریت کے نکتہ دانوں نے وہاں جبر کر کے مارشل لاء لگوا دیا ہے …………

            یہ دور سانپ کے مرنے کا ضرور ہے لیکن اس میں لاٹھی بچانے کی صورت نہیں۔ اب بے زبان ان پڑھ دنیا، اپنا دین ایمان بیچنے والے فاضلوں کی رمزیں بہت خوبی سے سمجھنے لگی ہے۔ اگلا دور منافق دوستوں کے مقابلے میں سچے بنیاد پرستوں کا ہو گا لیکن اس میں پھر میرا قصور ہو گا۔

٭       بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے سائنس کے مقابلے میں ادب کا مقام یا مستقبل کیا ہے؟

٭٭   سائنس انسان کی بڑی محسن ہے۔ اسی نے انسان کو تھکنے سے بچایا ہے اور ہر طرح سے اس کے جسم کی حفاظت کی ہے۔ پھر اس نے انسان کو جسمانی کلفتوں اور مشقتوں سے نکال کر اسے فرصت، فراغت اور آسودگی عطا کی ہے۔ اب آگے یہ سوچنا انسان کا کام ہے کہ وہ یہ فرصت فراغت اور آسودگی کس طرح سے استعمال میں لائے۔ عیاشی، آوارہ گردی، پریشاں نظری اور نکمّے مشاغل اختیار کر کے یا ادب اور مذہب کو اختیار کر کے (ویسے ادب مذہب ہی کی ایک شاخ ہے جس طرح مصوری، بت تراشی، رقص، فن تعمیر، خطاطی، موسیقی، حسن اور جمال کے دوسرے مظاہر مذہب ہی کی بدولت وجود میں آئے) جب انسان کو یہ سمجھ آ گئی کہ سائنس کی لونڈی ہمارے کام کاج سنوار کر صرف ہمارے جسم کی افزائش اور آسودگی کے لئے بنی ہے تو پھر وہ ضرور ادب کی طرف بھرپور توجہ دے گا۔ ایک ادب ہی کیا دوسرے سارے فنون لطیفہ کی طرف توجہ دے گا، فی الحال تو وہ اپنی بدنی آسائش سے ایسا مسرور ہوا ہے کہ اسے روح کی بالیدگی کی پروا ہی نہیں رہی۔

                                                                        (دسمبر ۱۹۹۳ء)

٭٭٭

 

بانو قدسیہ

(۲۸ نومبر ۱۹۲۸ء)

٭       ادبی ذوق کس عمر اور کن وجوہ کی بنا پر ہوا؟

٭٭   ادبی ذوق کی یافت ایک عطیہ ہے جیسے پھول کی خصوصی خوشبو اور رنگ اس کے بیچ میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ذوق سنوارا جا سکتا ہے برباد بھی کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن اس کا بنیادی تعلق توفیق سے ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گی کہ میرے ماحول نے میری مدد کی۔ ہم دو بہن بھائی تھے گھر میں خاموشی اور تنہائی رہتی تھی۔ اردگرد پہاڑ تھے مناظر قدرت کا حسن تھا۔ گھر پر کتابیں تھیں پینٹ باکس تھے۔ میرے بڑے بھائی پرویز چٹھہ پینٹنگ کی طرف مائل ہو گئے مجھے کتابیں پسند آگئیں۔ بڑی چھوٹی عمر میں چھوٹے چھوٹے پیراگراف کہانیاں مرتب کرنے کا شوق پڑ گیا پانچویں جماعت میں ایک کھیل لکھا جو سکول کے سٹیج پر کھیلا بھی گیا۔

٭       افسانہ، انشائیہ، خاکہ، ناول، سفرنامہ، ڈرامہ آپ کو کس صنف میں لکھ کر مزا آیا؟

٭٭   انشائیہ، خاکہ اور سفر نامہ لکھنے کی نوبت نہیں آئی۔البتہ افسانہ، ناول اور ڈرامہ تینوں ہی میرے دل اور قلم کے قریب رہے ہیں۔ اگر سوچا جائے تو یہ تھیم یا کردار کہانی کے اندر ہی موجود ہوتا ہے کہ اسے کس صنف میں ڈھالا جائے۔ ڈرامہ قدرے شدید ہوتا ہے۔ کرداروں میں یا پھر حالات میں کچھ ایسی الجھن ہوتی ہے جو الجھتی جاتی ہے …… افسانہ تازہ موسم کی مانند فضا کا مقتضی ہوتا ہے۔ ہاں ناول جوکھم کا کام ہے۔ اس کے لئے وقت محنت اور لمبے وقفے کا ویژن درکار ہے۔

٭       آپ کا دل کبھی نظم کی طرف مائل ہوا؟

٭٭   شروع شروع میں نظمیں لکھنے کو جی چاہتا تھا۔ اب کبھی کبھی انگریزی میں نظم خود بخود بن جاتی ہے لیکن ادھر میں نے کبھی توجہ نہیں دی۔

٭       ایک نیام میں دو تلواریں نہ سمانے کا محاورہ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ ایک گھر میں دو بلند قامت ادیب سمانے کا تجربہ کیسا رہا؟

٭٭   یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ بلند قامت جن اور بونا ساتھ رہ سکتے ہیں۔ بڑے درخت کی جڑوں میں پنیری سما سکتی ہے۔ اونچے درخت کے تن پر بیل چڑھ بھی جاتی ہے اور بھلی بھی لگتی ہے میں دراصل اشفاق احمد کی کشتہ تحریر اور تقریر ہوں اس لئے تقابل نہ ہونے کے باعث گزارہ معقول ہے۔ جوانی میں آرزو تھی کہ وہ میری تحریریں پڑھیں اور سراہیں وقت کے ساتھ ساتھ خواہش دوسری کئی تمناؤں کے ساتھ جاتی رہی …… پتہ نہیں اچھا ہوا کہ برا لیکن اب اگر اشفاق احمد میرا لکھا پڑھیں گے تو مجھے گھبراہٹ ہو گی۔ شاید میں Stand upon the benchسے آگے نکل گئی ہوں ! یا شاید اب اپنے لکھے پر زیادہ فخر نہیں ہوتا۔

٭       ایک رائے یہ بھی ہے کہ آپ کو آپ کے کام کے مقابلے میں ا س اعزاز اور مرتبے کا مستحق نہیں ٹھہرایا گیا جس کی آپ بجا طور پر حق دار تھیں۔ اس لئے احتجاجاً ہر قسم کے انعام اور صلے سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

٭٭   جہاں تک حصول کا تعلق ہے مجھے میرے کام کے مقابلے میں صلہ زیادہ ملا۔ اپنی حیثیت سے زیادہ مل جانے پر میں کچھ خوفزدہ رہنے لگی تھی اس لئے میں نے دستبرداری کا اعلان کیا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ ہمارے ادیبوں میں دو قسم …… بلکہ تین قسم کے ادیب ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو میڈیا کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے شعوری یا لاشعوری طور پر شہرت کا نقد سودا کر لیا ہے۔ انہیں سوسائٹی ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے، منہ پر تعریف کرتی ہے اور ہیروز کی طرح یاد رکھتی ہے۔ دوسرے ادبی قلمکار شہرت دوام کے خواہشمند ہیں۔ آنے والی نسلوں تک اپنا تاثر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا گروہ بھی ہے جو نقد اور ادھار شہرت تو دونوں قسموں کی چاہتے ہیں لیکن سودا ایک بھی ہاتھ نہیں آتا …… کتابیں چھپتی ہیں۔ رونمائیاں بھی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن شہرت نہیں ملتی………… رزق بھی نہیں بڑھتا۔ میں سوچتی رہتی ہوں …… کیا واقعی رزق خدا دیتا ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ شہرت اس کی مہربانی کے سوا نہیں ملتی؟ اس سوچ نے مجھے انعامات سے دستبرداری میں بڑی مدد دی۔ جب سب کچھ ملتا ہی ادھر سے ہے تو پھر انکار ہی کر کے دیکھنا پڑے گا۔ جہاں تک احتجاج کا تعلق ہے۔ یہ میری طبیعت میں نہیں ہے۔ میری خواہش ہے کہ اب جب بھی میں لکھوں ستائش اور صلے کی چابک مجھے دوڑانے والی نہ ہو …… جو بات میں لکھنا چاہوں لکھ دوں …… اس ضمن میں مجھے آزادی ہو۔

٭       بہت سے ناقدین کی رائے میں آپ کا اور اشفاق صاحب کا اسٹائل فرسودہ ہو چکا ہے اور اس میں یکسانیت پائی جاتی ہے؟

٭٭   کسی حد تک ان کی رائے درست ہے۔ مشرقی ممالک میں جوں جوں عمر بڑھتی ہے ادیب کے تجربات کا دائرہ تنگ ہونے لگتا ہے وہ اپنی تحریر کو نئے تجربات کے پانیوں سے اجالنا چاہتا ہے لیکن ذمہ داریوں کا احساس معاشرے کی پابندیاں شہرت کی ہتھکڑیاں مذہب کی حدود گھریلو چکی اتنے سارے کواڑ جب بند ہونے لگیں تو زندگی کا ایک ہی موسم رہ جاتا ہے ………… اور ادیب بھی اسی خزاں کی کہانی کہے جاتا ہے۔ ہنری ملر نے کہیں لکھا تھا کہ ہر ادیب دراصل ایک ہی کہانی کہتا رہتا ہے۔ میں انٹرویو دینے سے اس لئے گریز کرتی ہوں کہ میرے متعلق جو کچھ قارئین جاننا چاہیں گے غالباً وہ پہلے سے جانتے ہیں۔

٭       کیا ہمارے ملک میں غیر جانب دار نقاد پائے جاتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس سلسلے میں کیا اقدامات ضروری ہیں؟

٭٭   اس کا جواب تو آپ کسی نقاد سے پوچھئے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ انسان غیرجانبدار ہو ہی نہیں سکتا، وہ عموماً پسند اورناپسند کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز مرحلہ وار تربیت کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ہاں تربیت کو خاص پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بیچارے نقاد بھی کیا کریں انہیں صاف گوئی کی داد بھی تو ملا کرے۔

٭       اردو ادب پر جمود کی کیفیت طاری ہے یعنی مدت ہوئی کوئی چونکا دینے والا فن پارہ تخلیق نہیں ہوا؟

٭٭   یہ الزام بہت پرانا ہے …… ہر عہد میں پوچھا گیا مطالعے کی کمی ہے۔ لوگ پڑھنا نہیں چاہتے لکھنے والے نوجوان تو بہت کچھ لکھ رہے ہیں بلکہ بہت اچھا اچھا ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ پڑھنے والوں کے جمود کو کیا کیا جائے۔

٭       آج کا انسان سوچ کے محدود دائرے میں مقید ہوتا جا رہا ہے اس حوالے سے اردو ادب و شاعری کا دامن بھی سکڑ رہا ہے۔ آپ کے خیال میں اردو زبان کا مستقبل کیا ہے؟

٭٭   مادی ترقی کے دور میں ماحولیات کا فن پھیل رہا ہے اس میں وسعت آ رہی ہے اور سوچ بقول آپ کے سکڑ رہی ہے غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ اتنا پھیلاؤ اور اس قدر یافت اور حصول کی خواہش نے اندر خوف کا حصار بنا دیا ہے۔ خوف کی فصیلوں میں سوچ تنہائی کا شکار ہے۔ لیکن ادب اور شاعری کو خوف اور تنہائی ہمیشہ راس آئی ہے۔ ان ہی دو جذبوں نے دوستوفسکی اور ہرمن ہیس جیسے ادیب یوجین رونیل جیسا ڈرامہ نگار غالب جیسا شاعر پیدا کیا اور آج بھی ادیبوں کو برا سو لگ رہا ہے بڑے چمک دار ادیب پیدا ہوں گے …… اردو زباں کا وہی مستقبل ہو گا جو اس کے بولنے اور لکھنے والوں کا ہو گا۔ کوئی زبان اپنے بولنے والوں سے علیحدہ انجام کی توقع نہیں رکھ سکتی۔

٭       علاقائی ادب اور زبان کی نشوونما کے لئے آپ کیا اقدامات تجویز کرتی ہیں؟

٭٭   ادب علاقائی ہو یا قومی اپنی نشوونما کا خود ضامن ہوا کرتا ہے۔ اقدامات پانی بجلی سڑک ہسپتال کے سلسلے میں کیا کرتے ہیں۔ ادب کی زمین ہی ایسی ہے اس میں ہوا سے آ کر پولن گرتا ہے اور بار آور ہوتا ہے اور تن آور درخت کی صورت میں چھاؤں بخشتا ہے۔

٭       نصابی علم کس حد تک علاقائی زبان اور کس حد تک قومی زبان میں ہونا چاہئے؟

٭٭   یہ مسئلہ ہمارے سلجھانے کا نہیں ہے کیونکہ یہ بے کار مشورے ہیں۔ لوگ جب واقعی کچھ چاہتے ہیں تو حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ امیر طبقہ نہ علاقائی زبان چاہتا ہے نہ قومی زبان …… اور باقی سب لوگ بھی اسی پریشر گروپ کی نقل کرتے ہیں۔

٭       سیکس پر لکھنے کی آزادی ہونی چاہئے کہ نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو حدود کا تعین کس طرح کیا جائے گا؟

٭٭   شاید آپ کو علم ہی ہو گا یہ دور سیکس پر لکھنے کا نہیں ہے۔ اب پورنوگرافی کا زوال مغرب میں شروع ہو چکا ہے وہاں اب Violenceاور Mysteryکا دور ہے۔ ہم چونکہ ہر طور سے اپنا فیشن وہیں سے مستعار لیتے ہیں اس لئے آپ کو حدود متعین کرنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی۔ قاری کو جنس کی بات اب حیرت میں نہیں ڈالتی اور ادب کا کام بہرحال قاری کو حیرت زدہ کرنا ہے۔ یہ موضوع زوال پذیر ہے۔

٭       مذہب اور ادب میں کتنا تال میل ضروری ہے؟

٭٭   یہ ادیب کی شخصی آزادی اور اعتقادات پر منحصر ہے۔ جو ادیب سیکس سے متاثر ہو گا۔ سیکس کی کہانی لکھے گا۔ جیسے سعادت حسن منٹو نے لکھیں۔ جو مذہب کے سہارے چلے گا تو آسکر وائیلڈ کی طرح ڈی پروفنڈس لکھی جائے گی۔ مذہب اور ادب کا تال میل نہیں ہوا کرتا۔ ادیب اور اس کے نظریات کی لمبی رفاقت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نظریات کی چھاپ ادب پر پڑتی ہے۔ معاشرے کی محبت میں گرفتار ڈپٹی نذیر احمد کی کہانیاں اصلاحی ادب پیدا کریں گی جو ادیب خود بکھر جائے گا وہ تجرید کا سہارا لے گا۔ جس ادیب کو محبت نے تحیر زدہ کر رکھا ہو گا وہ سیب کا درخت لکھے گا۔ محترمہ حجاب امتیاز علی کی طرح ظالم محبت رقم کی جائے گی۔ تال میل ادیب اور نظریات کا ہوتا ہے۔ مذہب اور ادب کا ہینڈ شیک بعد کی بات ہے۔

٭       نظریاتی ادیب ادب سے کس قدر مخلص ہو سکتا ہے؟

٭٭   یہ حتمی بات نہیں لیکن اندازہ ہے کہ جب تک ادیب نظریات کے ساتھ مخلص رہتا ہے اس کا اخلاص تخلیق میں بھی نظر آتا ہے۔ جونہی نظریات ڈگمگانے لگیں تحریر میں سچائی باقی نہیں رہتی۔

٭       ادب میں کسی خاص نظریہ مثلاً کیمونزم سوشلزم روحانیت کے پرچار سے ادب پروپیگنڈہ نہیں بن جاتا؟

٭٭   ادیب نظریئے کے بغیر جیلی فش ہے۔ ہر ادیب کسی نہ کسی نظریئے کا شکار رہتا ہے۔ صدیوں سے ادیب نے محبت کے گن گائے۔ محبت پر کلی اعتماد ایک نظریہ ہے۔ اس نظریئے کو بھی ادیب نے Specializeکر کے مدتوں صرف عورت کی محبت ہی کو اصلی اور کھرے ادب میں منتقل کیا۔ مرد کے لئے عورت کی محبت ایک جبلی نظریہ ہے اور فی زمانہ اسے چیلنج بھی کیا جا رہا ہے۔ بیسویں صدی کے شروع میں سیکس کو سونے کا باٹ سمجھنے والوں نے اپنے نظریئے میں تبدیلی کی اور کہانی محبت کی شاہراہ سے سیکس کی گلی میں شارٹ کٹ کرتی نظر آئی۔ میں نے اسی ضمن میں ایک افسانہ ٹیکنالوجی لکھا تھا اور یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا وجہ ہے عورت کی محبت تو ہمیں خالص ادب کا حصہ نظر آتی ہے لیکن وطن کی محبت، ماں یا بھائی کا پیار اور اسی نوعیت کی دوسری محبتیں پروپیگنڈے کا حصہ لگتی ہیں؟ حتیٰ کہ بڑی حد تک نعت اور حمد تک ادب میں صرف برکت اور تبرک کے لئے لائی جاتی ہیں آپ کے سوال میں پرچار ایک بہت اہم لفظ ہے۔ نظریہ کس وقت پرچار بن جاتا ہے؟ اور کس وقت نظریہ خالص ادب میں ڈھلتا ہے؟ اس کا دارومدار پھر ادیب کی ذات پر ہے۔ مولانا روم کی مثنوی اور میر انیس کے مرثیے اس بات کے شاہد ہیں کہ ادب میں مذہب سے وابستگی پروپیگنڈہ نہیں بنتی ایسی بے شمار مثالیں اردو ادب میں اور انگریزی لٹریچر میں ملتی ہیں۔ جب کبھی کوئی نظریہ ادیب کا اوڑھنا بچھونا اس کا حال ہو نظرئیے سے وابستگی ایمان کی حد تک پھیل جائے تو یقین کیجئے وہ کیسی بھی سپاٹ بات کیوں نہ کہے ادب کی حدود میں گھستی چلی جائے گی۔ کیمونزم اور سوشلزم سے وابستگی غالباً سطحی تھی۔ ادیب فردیت پسند ہے وہ نفع حاصل کرنے کی حد تک گروہ میں ضم ہونا چاہتا ہے لیکن پھر ککرمتے کی طرح اپنی انا اور ذات کو ابھارنے پر مجبور ہے۔ یہ دنوں ازم ادیب کو پہلا نظریہ تو عطا کرتے تھے لیکن ادیب کی اپنی ذات گروہ سے الگ رہ کر ہی بنتی ہے۔ ادیب کا تحفظ پہلا نظریہ کرنے کا اہل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کیمونزم اور سوشلزم سے وابستہ ادیب بڑا صوفی تو ہو سکتا ہے لیکن بڑا ادیب نہیں بن سکتا کیونکہ وہ پرچار تو گروہ کی فلاح کے لئے کرتا ہے اور خواہش اپنی ذات کی بڑہوتری کی ہے۔ ہم لوگ نیچر سے وابستہ نہیں۔ اسی لئے ہمیں نیچر کے حسن کا نظریہ امپورٹ کرنا پڑا انگریز میں یہ محبت ان کے اندر ہے نیچر سے محبت کا نظریہ قدرتی ہے …… ادیب کے اندر یہ پنیری لگائی نہیں جا سکتی موسموں کی طرح خود رو گھاس کی مانند خود بخود در آتی ہے ………… جب بھی ادیب کی ذات تضاد کا شکار ہو گی وہ پروپیگنڈے کا شکار ہو جائے گا۔ فتور نظریئے میں نہیں ادیب کی نیت میں ہوتا ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ بیشتر بار خود ادیب کو علم نہیں ہوتا کہ جس نظریئے کو وہ صبح شام پانی دے رہا ہے یہی پودا اس کے باغ کا بیکار درخت ہے۔

٭       آج کا شاعر ادیب اور نقاد کاغذ پر اور عملی زندگی میں مختلف نظر آتا ہے اس دو عملی کے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

٭٭   تضاد کا شکار ادیب ہی نہیں سارا مادی معاشرہ ہے۔ یہ صدی اس تضاد کی شاہد ہے کہ انسان بیرون میں مادی ترقی چاہتا ہے اور مذہب کا اثر چونکہ کلی طور پر جا نہیں سکا اس لئے اندر ہی اندر وہ اقدار سے محبت بھی کرتا ہے۔ اس کے لئے کچھ ایسی حدود بھی ہیں جو مادی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ادیب کے لئے آج کا عہد بڑا سنگ دل ہے۔ زندگی کے تقاضے معاشرے کی اٹھان، خاندان کی آرزوئیں کچھ اور قسم کی توقع رکھتی ہیں اور ادیب کے اندر یوٹوپیا کی خواہش انسان دوستی آدرشوں کی کشش کچھ اور طور کی آرزو مند ہے۔ اس دو جانب کی کھینچ میں ادیب آزردہ روح ہو گیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ممالک کے ادیب خاص طور پر اور ترقی پذیر ممالک کے ادیب عام طور پر جھلاہٹ افسردگی بے نام چینی اور نا امیدی کا شکار ہیں۔ ابھی مادی ترقی کا بگولا تند ہے اسے بیٹھ جانے دیجیئے پھر ادیب کو مناظر نظر آئیں گے۔ ابھی تو تضاد کے شکار ادیب کو سوائے کینچوے کی طرح رینگنے کے اور کچھ سجھائی نہیں دے رہا ادب پر تضاد کی دوہری کھینچ سے جو تناؤ پیدا ہو رہا ہے بالاخر کسی ایک طرف کھینچ کر رہے گا………… لیکن فی الحال نہیں …… ابھی کچھ دیر اور دائروں کی شکل میں چلنا ہو گا۔

٭       ۴۵ سالہ آزاد زندگی میں ہمارا جو اخلاقی رنگ ابھرا ہے اس کی شکل کریہہ بھی ہے اور بھیانک بھی۔ اہل قلم کو کس حد تک اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

٭٭   مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں دو قسم کے ادیبوں کی بہت کمی ہے۔ ایک تو مضمون نگار دوسرے فلسفی …… مغربی معاشرے کو تشکیل دینے میں ان دوقسم کے ادیبوں نے بڑا کام کیا ہے۔ ہمارے ہاں جس قدر فلسفہ پیدا ہوا وہ زیادہ تر مذہب سے وابستہ تھا اور اسی سوچ کے باعث ہم بہترّ فرقوں تک پہنچے۔ مغربی ممالک میں فلسفے کے بڑے روپ پیدا ہوئے وہاں اقدار اور زندگی سے وابستگی سے فلسفے میں بڑی پیچیدگی اور رنگارنگی پیدا کی ہے عوام کی سوچ کو نکھارا اور مزید فکر کی عادت ڈالی۔ کہیں جو ہمارے ہاں بھی ادیبوں نے کیوں اور کیسے؟ کہاں اور کب؟ تک سوچا ہوتا تو آج عوام تک وہ تربیت ضرور پہنچتی جو عام زندگی میں مغربی معاشرے میں کام آئی۔ ہم تو اب تک زیادہ تر جذبات کی کہانیاں کہہ رہے ہیں۔ جذبات کی عظمت اور سچائی سے انکار نہیں لیکن معاشرے کی بہتری کے لئے فکر کی افادیت کو بھی پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا…… اہل قلم کو ذمہ دار تو ٹھہرایا نہیں جا سکتا کیونکہ ہمارے ہاں ادب میں یہ روایت ہی موجود نہیں۔ ہمارے پاس وہ ہتھیار ہی نہیں ہیں جن سے اخلاقی رنگ سنوارا جا سکتا ہے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے گوڈی فلائی کیوں نہ کی؟

٭       آنے والی صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی ہو گی۔ یعنی دو جمع دو چار کا رواج ہو گا۔ ادب اور ادیب خاص کر تیسری دنیا کے ادیب اگلی صدی کے مقابلے کے لئے کیا تیاری کر رہے ہیں؟

٭٭   ہمارے ادیب بھی سائنس فکشن Horror and Crimeاور Mysteryکی کہانیاں لکھیں گے مقابلے کی تیاری کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے یہ وہ پٹھے نہیں جو کثرت ورزش سے پیدا ہوں۔ یہ ایسی طاقت ہے جو آپی آپ درخت کے تنے میں اکٹھی ہو جائے گی۔

٭       کیا شہرت سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے؟

            عزلت نشینی اور دعا………………

                                                                        (مارچ ۱۹۹۳)

٭٭٭

 

ڈاکٹر انور سدید

(۴ دسمبر ۱۹۲۸ء)

٭       محمد انوار الدین اور انور سدید کے باہمی روابط کی نوعیت کیا ہے دونوں ایک دوسرے کی حیثیت اور کارکردگی سے کس حد تک شاکی ہیں؟

٭٭   گلزار جاوید صاحب ! محمد انوار الدین میرا پیدائشی خاندانی نام نہیں، یہ بھی اکتسابی نام ہے۔ والدین نے میرا نام محمد انور رکھا تھا۔ میونسپل کمیٹی کے رجسٹر میں یہی نام درج ہے۔ میرے والد گرامی کا نام میاں امام الدین تھا۔ دو بڑے بھائیوں کے نام فیروز الدین اور معراج الدین تھے۔ تیسرے بھائی کا نام محمدیوسف ’’ردیف‘‘ کے مطابق نہیں تھا۔ میرا نام بھی ’’الدین، کی لڑی سے نکل رہا تھا۔ میٹرک کے امتحان کا فارم داخلہ بھرنے کا وقت آیا تو اس لڑی میں منسلک ہونے کے لئے میں نے اپنا نام ’’محمد انور الدین‘‘ لکھا جو بعد میں انگریزی حروف میں ’’محمد انوار الدین‘‘ پڑھا جانے لگا۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی کا نام ظہیرالدین ہے۔ یوسف صاحب نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا وہ ’’الدین‘‘ کی لڑی سے نکل گئے اور لندن جا کر فوت ہوئے۔ ان کی وفات پر مارگریٹ تھیچر نے تعزیت کا خط بھیجا۔ ہم نے آبائی انگریز دشمنی کے تحت کھولے بغیر واپس کر دیا۔

            انور سدید میرا قلمی نام ہے۔ اسے میرا ہم زاد سمجھئے۔ غالباً ساتویں جماعت میں جب میں نے پہلی ’’تک بندی‘‘ کی تو رسم زمانہ کے مطابق تائب تخلص اختیار کیا۔ سکول کے ایک استاد نے پوچھا بھئی کس چیز سے تائب ہوئے ہو؟ اس کا جواب بن نہ پڑا تو میں نے تخلص ترک کر دیا اور ’’شاعری‘‘ بھی چھوڑ دی۔ اسی زمانے میں نثر میں ایک کہانی لکھی جو لالہ رگھونا تھ سہائے رسالہ ’’گلدستہ‘‘ میں ایم انور میانوی کے نام سے شائع ہوئی میانی میرا آبائی قصبہ ہے بچوں کے جرائدسے میں افسانہ نگار کی حیثیت میں فلمی رسالہ ’’چترا‘‘ اور گورو گھنٹال‘‘ تک پہنچا۔غالباً ۱۹۴۲ء میں محترمہ و۔ب۔سدید کا ناول ’’بیاض سحر‘‘ پڑھا تو اس سے بہت متاثر ہوا۔ نام کے ساتھ ’’سدید‘‘ کا اضافہ اسی ناول کی عطا ہے۔ بعد میں یہ نام ایک قرآنی آیت میں بھی مل گیا جو نکاح کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ اکثر لوگ اس کے معنی نہیں جانتے۔ انور سدید صوتی اعتبار سے بھی موزوں محسوس ہوا۔ اس دور میں اسی قسم کے نام رکھنے کا رواج تھا۔ مثلاً قیوم نظر، یوسف ظفر، منور اشرف، جعفر طاہر، اظہر جاوید، احسان اکبر، کثرت استعمال سے یہ نام نکلا۔ اب اس نام کو قلمی طور پر اختیار کئے ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

            محمد انوار الدین اور انور سدید ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کی پشتیں ملی ہوئی ہیں، اس لئے ایک دوسرے کے روبرو کبھی ہوئے۔ نہ ہو سکتے ہیں البتہ منہ دوسری طرف رکھ کر بات کر لیتے ہیں۔ شاید اسی لئے روابط خوش گوار ہیں۔ ایک طویل عرصے تک محمد انورا لدین محنت مشقت کرتا رہا۔ انور سدید اس کی کمائی کو کتابوں رسالوں کی خریداری میں بے دریغ خرچ کرتا رہا۔ یہ نکمے اور نکھٹو انور سدید کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔ جو اپنے ہمزاد کے مال پر کر رہا تھا۔ محمد انوار الدین خوش ہوتا کہ وہ انور سدید کے وسیلے سے دامے، درمے، قلمے، سخنے ادب کی خدمت کر رہا ہے اور کار خیر میں شریک ہے۔ انور سدید نے بھی اس کو خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ وہ قلم فروشی نہیں کر رہا بلکہ ادب کی عبادت کر رہا ہے۔ جس کا صلہ تسکین قلب ہے۔ روحانی مسرت ہے۔ ۱۹۵۰ء کے بعد جب انوار الدین محکمہ آبپاشی میں اوورسیئر بن گیا تو اس نے انور سدید کا ٹینٹوا خوب دبایا۔ اس کاہل الوجود کو شرمندہ کیا کہ وہ محنت، مزدوری سے کنی کتراتا ہے، مفت کی روٹیاں توڑتا ہے۔ شرمندگی تو خیر اسے کیا ہونی تھی البتہ افسانے کی دیوی اس سے ناراض ہو گئی حالانکہ اب وہ فلمی رسالوں سے نکل کر ہمایوں، آج کل، نیرنگ خیال، کہکشاں، مشہور، اور چمنستان جیسے رسائل تک رسائی حاصل کر چکا تھا۔

            ۱۹۶۶ء کے لگ بھگ ڈاکٹر وزیر آغا نے انوار الدین کو سمجھایا کہ مفلوک الحال انور سدید کی کفالت سے ہاتھ نہ کھینچے اور اس کا رزق حیات بحال کر دے۔ انور سدید کو ہدایت کی کہ کتابوں اور رسالوں کا نشہ ان کے کتب خانے سے پورا کر لیا کرے۔ دال روٹی پر گزارہ کرے اور انوار الدین پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ انور سدید نے ادب کی گاڑی پھر کھینچنی شروع کر دی۔ وزیر آغا اسے ہر سمت میں دوڑانے لگے۔کئی معصوم لوگ گاڑی کے نیچے آ کر جان بحق ہو گئے۔ ۱۹۸۸ء میں جب انوار الدین سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوا تو انور سدید کو احساس ہوا کہ اب اس بڑھاپے میں انوار الدین کی خدمت کرنا اس کا فرض ہے چنانچہ اس نے ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اب وہ ادارت کرتا ہے، اخبارات میں کالم لکھتا ہے اور انوار الدین کے بڑھاپے کا سہارا بنا ہوا ہے۔

            جوانی میں انور سدید اپنے ہمزاد انوار الدین کی کارکردگی پر خوش تھا۔ بڑھاپے میں انوار الدین انور سدید کو دعائیں دیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے کام سے مطمئن ہیں، کبھی شکایت پیدا ہوئی تو یہ معمولی نہیں ہو گی۔ محلے کے لوگ آپ کو بتا دیں گے کہ ایک اور جنگ چھڑ گئی ہے اس جنگ میں لڑتے لڑتے دونوں یا تو ڈھیر ہو جائیں گے یا پھر ایک کی چونچ گم ہو جائے گی، دوسرے کی دم………… اگر ڈھیر ہو گئے تو کفن دفن کا انتظام امجد اسلام امجد کریں گے۔ نماز مولانا عطا الحق قاسمی پڑھائیں گے۔ سلیم اختر تصدیق کریں گے کہ گہرے دابے گئے ہیں، اب بالکل باہر نکل نہیں سکیں گے۔ مشکور حسین یاد مرثیہ پڑھیں گے۔ بہت سے لوگ خوش ہوں گے کہ اب ان کا بلڈ پریشر نارمل رہے گا۔

٭       ۱۹۲۸ء تا ۱۹۴۲ء چودہ سال کی عمر میں آپ نے غالباً علامہ اقبال پر پہلا مضمون لکھ کر ادبی زندگی کا آغاز کیا اس کم سنی کے مضمون کا کیا رد عمل رہا؟

٭٭   اقبال پر آپ نے جس مضمون کا ذکر کیا ہے، وہ میری طالب علمانہ کاوش تھی اور چنداں قابل ذکر نہیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول ڈیرہ غازی خان میں یوم اقبال منایا جا رہا تھا۔ ہمارے اردو کے استاد مولوی پیر بخش صاحب نے پہلے کلاس روم میں اقبال پر تقریر کی۔ بعد میں طلباء کو کہا کہ اب مضمون لکھ کر لاؤ۔ میرا مضمون انہوں نے پسند کیا۔ اور ’’بزم ادب‘‘ میں یوم اقبال پر پڑھنے کا موقع دیا۔ اس تقریب کے صد جنرل اسلم شاہ (ریٹائرڈ) کے والد گرامی قریشی محمد صادق تھے جو اس زمانے میں ڈیرہ غازی خان میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اسلم شاہ کو پہلا اور مجھے دوسرا انعام ملا تھا۔ موازی آٹھ آنے اس پر رد عمل بے حد مثبت تھا۔

            ڈیرہ غازی خان میں ایک دکاندار شیر محمد صاحب تھے جو ۱۹۴۲ء میں اپنے نام کے ساتھ ’’پاکستانی‘‘ لکھتے تھے۔ ان کے پاس روزانہ تین اخبارات آتے تھے۔ ملاپ، پرتاپ اور زمیندار ………… وہ ملاپ اور پرتاپ کے کانگرسیانہ مضامین کا جواب ’’زمیندار‘‘ میں دیتے تھے۔ اخبارات پڑھنے اور پھر نثر لکھنے کا چسکا بھی شیر محمد پاکستانی نے ڈالا تھا۔ ان کی لائبریری سے بھی مجھے استفادہ کا خوب موقع ملتا رہا۔ ہمارے گھر کے سامنے شیخ منظور الہی کلرک آف کورٹ رہتے تھے۔ ان کے ہاں ہمایوں، عالمگیر، نیرنگ خیال، ساقی جیسے رسائل کی مجلد فائلیں تھیں۔ مجھے ان رسائل تک رسائی اس وقت حاصل تھی۔ ’’ہمایوں ‘‘ میں محترمہ ز، ب (زبیدہ بیگم) کا افسانہ ’’سفر کا مقصد‘‘ اب تک مجھے یاد ہے۔ ز، ب صاحبہ راجہ مہدی علی خان کی بہن، مولانا ظفر علی خان کی بھانجی، اور ظفر علی طور کی بیگم تھیں، جوان دنوں ڈیرہ غازی خان میں ایکسٹرا اسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر تھے اور میرے بڑے بھائی فیروز الدین نور کے افسر تھے۔ بیگم طور مجھ پر بڑی شفقت فرماتی تھی لیکن اس وقت مجھے علم نہیں تھا کہ جس افسانے نے میرے ذہن پر شب خون مارا تھا وہ اس کی مصنفہ تھیں۔

٭       اچھا یہ بتائیے باقاعدہ افسانہ نگاری کا آغاز کب ہوا اور کتنا عرصہ یہ سلسلہ جاری رہا ناقدین کی آپ کے افسانے کے بارے میں مثبت رائے کب ظاہر ہوئی؟

٭٭   میرا خیال ہے کہ کہانیوں اور افسانوں کے مطالعے نے ہی مجھے افسانہ لکھنے کی ترغیب دی تھی۔ میرے ایک بڑے بھائی معراج الدین نے گھر میں ذاتی لائبریری بنا رکھی تھی۔ اس میں دارالاشاعت پنجاب لاہور کی بیشتر کتابیں دستیاب تھیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی ’’قصرِ صحرا‘‘ اور حفیظ جالندھری کی ’’عمرو عیّار‘‘ میں نے اسی دور میں پڑھی۔ ظفر عمر کے جاسوسی ناول ’’لال کٹھور‘‘ اور ’’نیلی چھتری‘‘ نے بھی میری نیند حرام کر دی۔ اس سے اگلی منزل پر میری ملاقات منشی پریم چند، پنڈت سدرشن، میرزا ادیب، راشد الخیری اور حسن نظامی کے افسانوں سے ہوئی اور پھر یہ شوق بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا۔ دلکی کالنز کا ناول ’’مون سٹون‘‘ کا ترجمہ ’’چندر مہرا‘‘ کے نام سے پڑھا۔ خان احمد حسین خان کا ناول ’’شہاب ثاقب‘‘ بھی مجھے لاجواب محسوس ہوا۔ ’’بیاضِ سحر‘‘ کا ذکر پہلے کر چکا ہوں۔

            میرا پہلا افسانہ ’’مجبوری‘‘ فلمی رسالہ ’’چترا‘‘ میں چھپا تھا۔ اس کے ساتھ لکھا تھا ’’ممتاز افسانہ نگار حضرت انور میانوی کا ایک جذباتی شاہکار ‘‘…… نام کے یہ لاحقے اور سابقے نیا افسانہ لکھنے پر مائل کرتے تھے۔ ’’ہمایوں ‘‘ میں میری انگلی مظہر انصاری دہلوی نے پکڑی۔ ’’آج کل‘‘ میں سید وقار عظیم نے میرا افسانہ ’’پرچھائیاں ‘‘ شائع کیا۔ ۱۹۵۲ء کے بعد میں نے تا دیر افسانہ نہیں لکھا۔آخری دو افسانے ’’کچی مٹی کا بند‘‘ اور ’’سجدہ سہو‘‘ اوراق میں ۱۹۷۲ء کے لگ بھگ شائع ہوئے۔ اب افسانے ذہن میں تو پیدا ہوتے ہیں لیکن لکھنے کی نوبت نہیں آتی۔

            مجھے قارئین کی قبولیت فلمی رسائل سے حاصل ہو گئی تھی۔ اس کا اثر نہ صرف حوصلہ افزا بلکہ ساحرانہ تھا لیکن بے پایاں خوشی مجھے افسانہ ’’لا وارث پر ہوئی جو ’’ہمایوں ‘‘ میں چھپا تھا۔ اس پر ماہر القادری کی رائے پڑھ کر خوشی حاصل ہوئی۔ یہ افسانہ بعد میں محمد طفیل نے ’’روحِ ادب‘‘ میں بھی شائع کیا جو ’’ادبی ڈائجسٹ‘‘ تھا۔ میری افسانہ نگاری چنداں قابل ذکر نہیں۔ تاہم مجھے یاد ہے کہ مجھے رسالہ ’’مشہور‘‘ دہلی کے ایک مقابلے میں افسانہ ’’مایوس آنکھیں ‘‘ پر صادق الخیری نے پہلا انعام دیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پچھلے دنوں میرا ایک افسانہ ’’زہرہ باجی‘‘ کسی خاتون نے اپنے نام سے ’’فیملی میگزین‘‘ لاہور میں چھپوا لیا۔ میں نے مدیر ’’فیملی‘‘ علی سفیان آفاقی صاحب کو لکھا کہ اس خاتون کو مزید اس قسم کے افسانے درکار ہوں تو میرا سارا پلندہ مفت اٹھا لے جائیں۔ میں تو اب انہیں عاق کر چکا ہوں۔ یہ نہایت کچی کاوشیں تھیں۔

٭       شاعری کی ابتداء، نوعیت، مزاج اور دورانیہ کے بارے میں کچھ روشنی ڈالئے؟

٭٭   افسانے کی طرح شاعری بھی میرے مطالعے کی عطا ہے۔ شاید شاعری کی مشین میرے اندر موجود تھی جسے چلانے کے لئے مجھے استاد دستیاب نہ ہوا۔ تاہم میں نے ابتداء ’’تک بندی‘‘ سے کی۔ مولوی عبدالکریم نے مجھے زیریں درجے میں اوزان اور بحور کا واجبی شعور عطا کیا۔ مروجہ بحروں میں تقطیع کرنے کا طریقہ سکھایا۔ اس مشق کی ایک مثال مجھے اب بھی یاد ہے۔ مفاعیلن چار مرتبہ ………………

نہ چھیڑ اے شانہ ان زلفوں کو ہاں سودا کا دل اٹکا

اسیرِ نا تواں ہوں میں نہ دے زنجی کو جھٹکا

بعد میں جب کبھی تنقید سے تھک جاتا تو شعر کہنے کی کوشش کرتا۔ ’’مشرق‘‘ میں قطعہ نگاری شروع کی تو مجھے ایک امتحان سے گزرنا پڑا۔ اس امتحان میں مجھے سلیم احمد تصور نے ڈالا تھا۔ وہ مشہور شاعر منصور آفاق سے کسی بات پر ناراض ہو گئے۔ تو ’’مشرق‘‘ میں ان کا قطعہ چھپنا بند ہو گیا۔ تسلیم تصور نے کہا ’’اب دوستی کا حق ادا کرو‘‘ میں نے کوشش کی تو قطعے ’’بننے لگے۔ میری ٹیکنیک یوں تھی اخبار کی خبر میں سے پہلے چوتھا مصرعہ بناتا۔ پھر دوسرے مصرعے کے ساتھ قافیہ جوڑتا پھر چوتھے مصرعے کے مضمون کو باقی تین مصرعوں میں ربط و تسلسل دے ڈالتا۔ لیجئے فی البدیہہ قطعہ حاضر ہے۔ میرے نزدیک یہ بالکل میکانکی کام ہے۔ خالصتاً تک بندی ہے۔ لیکن اب صورت یہ ہے کہ قطعہ کیا، غزل لکھنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔ ذرا سی توجہ سے غزل کی چکی چل پڑتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی اچھا شعر بھی ہو جاتا ہو گا۔ میں مطمئن نہیں ہوتا۔ البتہ ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم اگر خدانخواستہ میری غزل بھی اپنے سنگیت کے لئے منتخب کر لیتیں تو میری غزل کے نصیب جاگ اٹھتے۔ میری شاعری مشہور ہو جاتی۔ واقعہ یہ ہے کہ کئی شاعروں کے نصیب موسیقاروں نے جگائے ہیں۔ فریدہ خانم، مہدی حسن، غلام علی، نورجہاں، اقبال بانو کے شاعروں پر بڑے احسانات ہیں۔ کئی مردہ شاعروں کو انہوں نے ہی زندگی دی ہے۔

٭       بنیادی طور پر آپ تخلیقی آدمی تھے ………… ماشاء اللہ اب بھی ہیں تنقید جیسے بے رحم شعبے سے تعلق کس سبب قائم ہوا؟

٭٭   گلزار جاوید صاحب، میرے بہت سے کام دوستوں کی ذرہ نوازی کے مرہونِ منت ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے چند بہت اچھے دوست ملے۔ میں ادب کا گم شدہ آدمی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں اوراق جاری ہوا تو ڈاکٹر وزیر آغا نے سابقہ مطالعے کی اساس پر مجھے تنقید لکھنے کا مشورہ دیا۔ مقالہ ’’مولانا صلاح الدین احمد کا اسلوب‘‘ اس مطالعے کا ثمر ہے جو وزیر آغا نے انگریزی کی کتابیں پڑھوا کر مجھے لکھنے کی ترغیب دی۔ اور پھر اس شعبے میں مسلسل مشق کرائی۔ ان گنت مقالات لکھوائے، نئے موضوعات پر لکھنے کی راہ دکھائی۔

            تنقید بے رحم عمل نہیں، اچھی تنقید تو لکھنے والوں کو حیات نو عطا کرتی ہے۔ میں یہاں راجہ مہدی علی خان کی مثال دوں گا۔ وزیر آغا صاحب نے ان پر مقالہ ’’بہجت کی ایک مثال‘‘ لکھا تو راجہ مہدی علی خان کا تخلیقی سوتا ابل پڑا۔ ’’انداز بیان اور‘‘ میں اس مقالے سے بعد کے دور کی نظمیں شامل ہیں۔ راجہ مہدی نے اپنے خطوط میں بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ نقاد کا رویہ ہمدردانہ ہو تو تخلیق کے باطن سے نا دریافت کو بازیافت کر سکتا ہے۔ مجھے تنقید لکھتے وقت تخلیق کا مزا آتا ہے۔ نیا نکتہ ہاتھ آ جائے تو جمالیاتی لذت مل جاتی ہے۔ سمندر میں غوطہ لگانے اور سیپیاں چنتے چنتے صدف تک پہنچنے کا لطف جداگانہ ہے۔

٭       صحافت کے شعبے میں آپ کب سے فعال ہوئے اور ادب کی کس قدر حق تلفی کے مرتکب ہوئے؟ آپ نے اس میدان میں کیا کھویا کیا پایا کچھ ہمیں بھی تو بتائیں؟

٭٭   آپ کے اس سوال سے مجھے فلم ’’سرفروش‘‘ میں سنتوش کمار کا ایک مکالمہ یاد آ رہا ہے۔ اس کی پیروڈی یوں ہے کہ

’’ادب میری عبادت ہے، صحافت میرا پیشہ ہے ‘‘

یہ تقسیم انجینئرنگ کی سرکاری ملازمت کے دوران بھی قائم تھی۔ اس وقت انجینئرنگ میرا پیشہ تھا۔ ادب میرا عشق تھا۔ انجینئرنگ سے مجھے پیٹ کے لئے غذا ملتی تھی، ادب میری روح کو تسکین پہنچاتا تھا۔ یوں سمجھئے کہ ادب محبوبہ تھی، انجینئرنگ بیوی تھی۔ میں نے دونوں کے تقاضے پورے کرنے کی سعی کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب آمدنی محدود ہو گئی تو میں نے پیشہ ورانہ صحافت اختیار کر لی۔ ملازمت میں نے اپنے انداز میں کی تھی اس لئے ریٹائرمنٹ کے بعد رزق حیات کے لئے کام ضروری تھا اس کڑے وقت میں صحافت نے مجھے سہارا دیا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ مجھے صحافت کی تربیت ملازمت کے دوران ہی حاصل ہو گئی تھی۔ اس کی ابتداء ’’اردو زبان‘‘ کی ادارت سے ہوئی، پھر اخبارات میں شوقیہ کالم نگاری کی۔ میں یہاں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے احمد ندیم قاسمی نے ہمیشہ سرگرم عمل رکھا۔ وزیر آغا کے احسانات مختلف قسم کے ہیں، قاسمی صاحب کے احسانات کی نوعیت جداگانہ ہے۔ کم نظر لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ قاسمی صاحب میرے محسن ہیں۔ وہ اگر مجھے ہمہ وقت قلم چلانے کی عادت نہ ڈالتے تو میں اب تک ادب سے بھی ریٹائر ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے مجھے تیز دوڑا کر سانس قائم رکھنے کی تربیت دی۔ میں قیامت کے دن ان کے اس احسان کو تسلیم کروں گا ………… خدا سے ان کی بخشش کی دعا کروں گا۔ ترقی پسندوں میں سے وہ جنت کے حقدار ہیں۔

            اب میں آپ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔ میں نے ادب میں وزیر آغا کو پایا۔ قاسمی صاحب کو کھو دیا۔ صحافت میں وزیر آغا کو کھو دیا۔ قاسمی صاحب کو پا لیا۔ ادب میں وزیر آغا اور صحافت میں قاسمی صاحب میرے آئیڈیل ہیں۔ میں نے دو سرچشموں سے مقدور بھر فیض اٹھایا ہے۔ آپ حیران نہ ہوں، بعض اوقات زانوئے تلمذ تہہ کئے بغیر بھی فیض حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قاسمی صاحب کے آفتاب جلال کی کرنیں میں نے دور سے محسوس کیں، وزیر آغا کے علم کی چاندنی میں غسل ماہتابی کرتا رہا۔

٭       میٹرک کرنے کے بعد آپ عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں مگر کچھ وقفہ کے بعد پھر سے حصول علم کی جانب مائل ہو جاتے ہیں اور نہ ٹوٹنے والے ریکارڈ قائم کرتے چلے جاتے ہیں آپ کی شخصیت میں اس تبدیلی کا پس منظر کیا تھا؟

٭٭   خوش قسمتی سے میرے والدین معمولی آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ساتویں جماعت سے ہی میرے کفیل میرے بڑے بھائی بن گئے تھے۔ اس لئے میں نے عملی زندگی کا آغاز جلدی کیا۔ پہلے محکمہ آبپاشی میں 65//35کے گریڈ میں کلرکی کی۔ اس کے پس انداز سے انجینئرنگ سکول رسول کی تعلیم حاصل کی۔ سب انجینئر کی ملازمت سے طمانیت نہ ہوئی تو میں نے پرائیویٹ طور پر اپنی ادھوری تعلیم کی تکمیل کا سلسلہ شروع کر دیا۔ میں نے بی اے وایا (Via)بھٹنڈا کیا ہے یعنی پہلے ادیب فاضل کیا اور پھر ایف اے اور بی۔اے صرف انگریزی میں کیا۔ انجینئرنگ میں اے۔ایم۔آئی۔ ای ڈھاکہ سے کی۔ اس امتحان کا آخری پرچہ مجھے ہر بار دغا دے جاتا تھا۔ چنانچہ وزیر آغا صاحب نے ایم اے کر کے محکمہ تعلیم میں جانے کا مشورہ دیا۔ اس دوران میں ایس ڈی او بن چکا تھا لہٰذا محکمہ آبپاشی کے شجر سے پیوستہ رہا۔ اے۔ایم۔آئی۔ای پاس کرنے کے بعد امید بہار تازہ ہو گئی تھی چنانچہ ۱۹۷۷ء میں ایگزیکٹو انجینئر کی پوسٹ پر مجھے ترقی ملی۔ ریٹائرمنٹ سے قبل مجھے ایس۔ ای (سپریٹنڈنگ انجینئر) کا گریڈ مل چکا تھا۔

            پی ایچ ڈی کا راستہ بھی وزیر آغا نے ہی دکھایا تھا لیکن اوریئنٹل کالج نے میرے جیسے لوگوں کے لئے یہ دروازہ بند کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر وحیدقریشی صاحب نے یہ قفل توڑ دیا تو میں بھی ’’ہرچہ بادا باد‘‘ کہہ کر کود پڑا۔ میرے والدین کی متوسط الحالی میرے لئے نعمت تھی۔ اس نے مجھے محنت کا عادی بنایا۔ اپنی ذات پر بھروسہ کرنے اور خدا سے محنت کا انعام پانے کی خو ڈالی۔ مجھے میرے استحقاق سے زیادہ نوازا گیا ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ ’’میڈیا کرٹی‘‘ کے اس دور میں انور سدید کو نمایاں ہونے کا موقع مل گیا ممکن ہے میرے لاشعور میں یہ بات بھی موجود ہو کہ میں چھوٹے شہر کا باسی ہوں اور میرا مقابلہ بڑے شہر کے بڑے لوگوں سے ہے اس لئے مجھے زیادہ محنت کرنی پڑی۔

٭       انشائیہ کی نشوونما اور مقبولیت میں آپ کی بڑی خدمات ہیں کیا آپ انگریزی ادب کے مطالعے کے زیر اثر انشائیہ کی محبت میں گرفتار ہوئے یا اپنے گروپ کی اس صنف ادب کے بانی کے طور پر زندہ رکھنے کے لئے آپ نے اتنے پاپڑ بیلے؟

٭٭   میں انشائیہ نگاری کے سلسلے میں مشتاق قمر کا ممنونِ احسان ہوں۔ مجھے ان کی کتاب کا دیباچہ لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی تو میں نے انگریزی انشائیوں کا بالاستعجاب مطالعہ کیا۔ ’’ہم ہیں مشتاق‘‘ کا دیباچہ انشائیہ نگاری پر میرا پہلا مقالہ تھا۔ اس دلکش اور کومل صنف کے ساتھ کچھ عرصہ گزارا تو مجھے خود انشائیہ لکھنے کی تحریک ہوئی۔ میں نے پہلا انشائیہ ’’اونگھنا‘‘ لکھا تو اسے برادرم سلطان رشک نے ’’نیرنگ خیال‘‘ میں نمایاں جگہ دی۔ لیکن ڈاکٹر غلام حسین اظہر نے کہا کہ یہ طنزیہ مزاحیہ مضمون ہے۔ وزیر آغا صاحب لب بستہ رہے۔ چنانچہ انشائیہ مجھ سے ناراض ہو گیا۔ ۱۹۷۲ء میں ’’اوراق‘‘ کا انشائیہ نمبر چھپا تو میں نے ڈرتے ڈرتے انشائیہ ’’دسمبر‘‘ پیش کیا۔ اس پر آغا صاحب کھل اٹھے اور مجھے خوب داد دی۔اس حوصلہ افزائی میں سجاد نقوی اور غلام جیلانی اصغر صاحب بھی شامل تھے۔ اب میں باقاعدہ طور پر انشائیے لکھنے لگا۔ ’’ذکر اس پری وش کا‘‘ اور ’’آسمان پتنگیں ‘‘ چھپیں تو انہیں جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ میری توقع سے زیادہ تھی۔ میرا موقف یہ ہے کہ کسی صنف میں تخلیق کاری کے لئے اس صنف کی محبت آمیز فضا میں زندگی کا کچھ حصہ بسر کرنا ضروری ہے۔ اچھی غزل کہنے کے لئے ’’غزل کلچر‘‘ کو دل میں آباد کرنا لازم ہے۔ انشائیہ کے لئے انشائیہ کی فضا میں رہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اوپر قطعہ نگاری کے سلسلے میں یہ بات بالفاظ دیگر میں عرض کر چکا ہوں۔

            اس اجمال سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انشائیہ سے میری محبت کسی حد تک خودرو تھی لیکن اسے دوستوں اور قارئین کے تحسین نے بھی فروغ و ارتقا کی راہ دکھائی۔ انشائیہ کا بانی بننے کی خواہش ’’دبستان سرگودھا‘‘ کے کسی ’’رکن‘‘ کے دل میں موجود نہیں تھی لیکن اس بات سے ہم ضرور آشنا تھے کہ بہت سی باتیں مروجہ اصناف ادب میں پیش نہیں کی جا سکتیں اور خیال کے بہت سے خوبصورت جزیرے نا دریافت رہ جاتے ہیں۔ انشائیہ رسم و قیود سے آزاد صنف ادب ہے جس میں مصنف مظاہر، مناظر، اشیاء اور خیال کو تخلیق کی ذاتی ترنگ اور شخصی زاویئے سے پیش کر سکتا ہے۔ وزیر آغا، غلام جیلانی اصغر، جمیل آذر، مشتاق قمر، سلیم آغا قزلباش نے اسے مروج کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کو مقبول بنانے میں کسی نے پاپڑ نہیں بیلے۔ یہ تو اظہار کا تخلیقی عمل تھا۔ اس صنف سے محبت کا سفر تھا۔ ابتداء میں وزیر آغا نے چند جگنو جمع کئے۔ اب یہ ستاروں بھری کہکشاں بن گئی ہے۔

            ایک بات میں اپنی طرف سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صنف کی اولیت کا سہرا اپنے سر  باندھنا بے معنی بات ہے۔ یہ نقاد کا کام ہے کہ وہ ابتداء کا سراغ لگائے۔ وزیر آغا نے اس صنف کو مقبول بنایا۔ اس کے لئے ’’اوراق‘‘ میں اشاعت کا اہتمام کیا۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ میں بھی اس ہراول دستے کا معمولی رکن تھا۔ اب انشائیہ وزیر آغا کے نام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی خدمات سب سے زیادہ ہے۔

٭       آپ کے لکھنے کی مقدار اور تصنیفات کی تعداد سے آپ کی تیز رفتاری کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا ٹارگٹ ہے جسے آپ بیٹ کرنا چاہتے ہیں کیا کبھی آپ نے اس برق رفتاری کو معیار کے لئے مضر نہیں پایا؟

٭٭   میرا خیال ہے کہ آپ تخلیق کاری کو کرکٹ یا ہاکی کے مماثل قرار دے رہے ہیں۔ ادب میں ’’ٹارگٹ‘‘ مقرر کرنا بالکل بے معنی بات ہے۔ آپ جس برق رفتاری کا ذکر کر رہے ہیں میرے لئے وہ محلِ نظر ہے۔ مجھے ڈاکٹر وحید قریشی نے پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ ’’اردو ادب کی تحریکیں ‘‘ لکھنے کے دوران یہ بات سمجھائی کہ جس موضوع پر کام کرو۔ اس پر روزانہ لکھو، روزانہ مطالعہ کرو۔کچھ اس قسم کا مشورہ مجھے سید وقار عظیم نے بھی دیا تھا۔ میں نے یہ نصیحتیں پلے باندھ لیں۔ رات کا وقت مطالعے کے لئے اور صبح کے ڈیڑھ دو گھنٹے لکھنے کے لئے وقف کر دیئے۔ دن کا باقی حصہ محکمہ آبپاشی کی ملازمت میں صرف ہو جاتا۔ یہ طریق اب بھی جاری ہے۔ میں نے تو قطرے ہی جمع کئے ہیں بعض لوگوں کو یہ دریا نظر آتے ہیں۔

            ہمارے بہت سے ادبا اپنا وقت محفل آرائی، گپ بازی، ادبی سیاست، حصول شہرت کے لئے پبلک ریلیشنگ، لطیفہ بازی اور غیبتوں وغیرہ میں صرف کر دیتے ہیں۔ میرے دوستوں کا حلقہ محدود ہے ہم جب کہیں ملتے ہیں تو ادبی موضوعات پر باتیں کرتے ہیں۔ اس سے مجھے لکھنے کی تحریک ملتی ہے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتا، میرے کرم فرما بھی میرا شعلہ قلم بجھنے نہیں دیتے۔

            میں نے معیار کے سلسلے میں اپنے نقاد کی رائے سننے کی ہمیشہ کوشش کی ہے اور اس کے لئے اپنے کان کھلے رکھتا ہوں۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے میں مجھے کبھی عار نہیں ہوتا۔ معیار کا ایک پیمانہ میرے اندر بھی موجود ہے مجھے خود اپنی تحریر اچھی نہ لگے تو اسے مسترد کر دیتا ہوں۔

            ان دنوں مجھ پر ایک یہ خوف مسلط ہے کہ میں اب بونس پر زندگی گزار رہا ہوں۔ میری آرزو ہے کہ جب تک اعضائے رئیسہ تندرست اور حواس خمسہ قائم ہیں۔ میں ان سے زیادہ سے زیادہ کام لے لوں شاید اس وجہ سے بھی آپ کو میرا کام زیادہ نظر آتا ہے۔ میں باقاعدگی سے روزانہ کام کرنے کا عادی تھا لیکن اب صورت حال بدل رہی ہے۔ زندگی کے 67ویں برس میں صبح اٹھ کر جسم سے پوچھنا پڑتا ہے کہ حضرت ! میرے لئے کیا حکم ہے؟ کام یا آرام؟ جو حکم ملے میں اس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میرا سب سے بڑا آرام نئی کتابوں کا مطالعہ ہے۔

٭       آپ ترقی و غیر ترقی پسند ادب میں امتیاز برتنے کے قائل ہیں اور کن پیمانوں سے ان کی ادبی حیثیت جانچتے پرکھتے اور فیصلہ قائم کرتے ہیں؟

٭٭   کوئی ادب غیر ترقی پسند نہیں ہوتا ہمارے ہاں یہ اصطلاح مخصوص معانی میں اشتراکی ادب کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ترقی پسند ادب اور خالص ادب کے امتیاز کے لئے میرا ذوق میری راہنمائی کرتا ہے ترقی پسند ادباء جب نظریئے کی تبلیغ کرتے ہیں تو اس سے تخلیق کا مزاج مجروح ہو جاتا ہے ادب پمفلٹ بن جاتا ہے۔ نظریہ چیختا چنگھاڑتا قاری پر حملہ کرتا ہے اور صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ادیب ادب کی آبیاری کرنے کی بجائے سیاست کی خدمت پر مامور ہو گیا ہے اور اب انعام اور ایوارڈ کا طلب گار ہے۔

            میں یہاں فلم ’’دریائے کوائی پر پل‘‘ (Bridge on the River Kwai)کی مثال دوں گا یہ عزم و عمل کی ایک لاجواب فلم ہے لیکن آخر میں جب پل پر فوجی بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے تو فوراً دل چیخ اٹھتا ہے کہ آرٹ کے پردے میں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

            واضح رہے کہ ترقی پسند ادیبوں کی سب تخلیقات بھی مسترد نہیں کی جا سکتیں۔ کبھی کبھی ان پر بھی تخلیق آسمان سے اترتی ہے اور صدر خامہ نوائے سروش بن جاتی ہے ان کے قلم سے بھی لاشعوری طور پر ادب پارہ ’’سرزد‘‘ ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی تخلیقات پر زبان سے بے اختیار سبحان اللہ نکل جاتا ہے۔

٭       قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے برصغیر میں تخلیق کئے جانے والے ادب (بالخصوص اردو ادب) کی درجہ بندی کس طرح کی جا سکتی ہے اس کے رجحانات، مزاج مقدار اور اثرات کے بارے میں آپ کا مجموعی تاثر کیا ہے؟

٭٭   ادب کے موضوعات مکانی لحاظ سے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زمانی لحاظ سے بھی یہ درجہ بندی آپ کے اس سوال میں بھی موجود ہے یعنی زمانی لحاظ سے قیام پاکستان سے پہلے کے ادب کو آپ نے آزادی کے بعد کے ادب سے الگ کر دیا ہے مکانی لحاظ سے برصغیر کا ایک ادب وہ ہے جو پاکستان میں تخلیق ہو رہا ہے دوسرا وہ جو دنیا کے دوسرے حصوں بالخصوص بھارت میں اردو کے ادیب تخلیق کر رہے ہیں۔ رجحانات اور مزاج کے اعتبار سے دیکھئے تو آزادی سے قبل ہمیں غیر ملکی حاکمیت کا جبر اور غلامی کا احساس نمایاں نظر آتا ہے۔ انگریزی حکومت کے خلاف مزاحمت کی زیر سطح رو بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہے انسان کے بعض جذبوں مثلاً محبت، نفرت، ہمدردی، باہمی انس، انسانیت وغیرہ کو عالمی اور دوامی حیثیت حاصل ہے۔ ایک اور تقسیم رومانویت اور کلاسیکیت کی ہے نوجوان ادیب بالعموم رومانوی ہوتا ہے۔ جب جذبات کی طغیانیت ختم ہو جاتی ہے تو وہی ادیب کلاسیکی تخلیقات کو جنم دینے لگتا ہے اس قسم کی تخلیقات زمان و مکان سے ماورا ہوتی ہیں۔

            آزادی کے فوراً بعد فسادات نے ادیبوں کو ایک نیا موضوع دیا تھا۔ مقامی فسادات پر تو پہلے بھی تخلیقات پیش کی جاتی رہی تھیں لیکن قیام پاکستان کے وقت قتل و غارت گری اور نقل مکانی اور ہجرت وسیع پیمانے پر ہوئی اس لئے تخلیقات بھی زیادہ منظر عام پر آئیں ان کا تاثر بھی جداگانہ تھا پھر جب الاٹ منٹوں اور پلاٹوں کا بازار گرم ہوا تو ادبا نے اس کو بھی موضوع اظہار بنایا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب سے پیدا ہونے والی کشیدگی، انسان کی عدم طمانیت، پریشانی اور خوف بھی ہمارے ادب کے نمایاں موضوعات ہیں۔ ادیب چونکہ ادب کا خام مواد معاشرے سے حاصل کرتا ہے اس لئے وہ معاشرے کی ہر لہر سے متاثر ہوتا اور اسے ادب کی بنت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

            اس دور میں ادب کی ہر صنف کثرت تخلیق کا شکار ہے۔ فی الوقت ادب کی تخلیقی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ کوئی شخص اس کے پورے مطالعے کا دعویٰ نہیں کر سکتا یوں بھی معاصر ادب کے بارے میں ہر فیصلہ کرنا ممکن نہیں کہ اس میں سے کتنا ادب زندہ رہے گا کتنے ادیبوں کو زمانے کا بے رحم جاروب کش اڑا لے جائے گا لیکن میں یہ بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ نسل جو 80کی دہائی میں ادب میں رونما ہوئی اس کے تجربات اور رد عمل سابقہ دو نسلوں کے ادیبوں سے زیادہ تند و تیز ہے۔ ڈش انٹینا اور الیکٹرک میڈیا نے انہیں مشاہدات کا ایک نیا جہان فراہم کر دیا ہے اس لئے ادب کی بیشتر اصناف بالخصوص نظم اور افسانہ میں بڑی وسعت آ گئی ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مقدار بڑھ گئی ہے تاثیر کم ہو گئی ہے۔

            آزادی سے قبل کی نصف صدی میں بڑے ادیبوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس صدی کے اوائل میں آپ کو حالی، اقبال، شبلی ابوالکلام آزاد، سجاد حیدر یلدرم، ظفر علی خان چکبست، نیاز فتح پوری، رشید احمد صدیقی، خواجہ حسن نظامی اور متعدد دوسرے بڑے ادیب نظر آئیں گے لیکن آزادی کے بعد اس پائے کے ادباء نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صرف اردو شاعری میں راشد، فیض، میرا جی، مجید امجد، یوسف ظفر، قیوم نظر، وزیر آغا، ناصر کاظمی نمایاں نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری کا موازنہ آزادی سے قبل کے شعراء سے کرنا ممکن نہیں۔

            کچھ لوگوں نے اپنی عظمت کے ’’محل‘‘ خود تعمیر کر رکھے ہیں، انہیں ان کا فن سند فضیلت عطا نہیں کرتا۔ اس لئے وہ جونیئر شعراء کی تعریف و تحسین سے تسکین حاصل کر لیتے ہیں یوں اپنے آپ کو آسودہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

٭       وطن عزیز میں شخصی حکومتوں کے طویل دورانیے کے باعث معاشرت اور معیشت تو یقیناً متاثر ہوئی ادب کو کن کن نقصانات کا بار اٹھانا پڑا؟

٭٭   آپ جسے شخصی حکومتیں کہہ رہے ہیں وہ درحقیقت مارشل لاء کی حکومتیں تھیں۔ مارشل لاء نے جو قبیح اثرات معاشرت اور معیشت پر ڈالے، وہ بد اثرات ادیبوں نے بھی قبول کئے۔ ایوب خان نے رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی۔ بیوریو آف نیشنل ری کنسٹرکشن (B.N.R)یعنی تعمیر نو کے اداروں میں ادیبوں کو بھرتی کیا۔ جناب بھٹو نے اکادمی ادبیات پاکستان کی بنیاد ڈالی جسے جناب ضیاء الحق نے پروان چڑھایا۔ اس دور میں ادیبوں کا ایک طبقہ منقار زیر پر ہو گیا۔ دوسرے نے آمروں سے ایوارڈ، تمغے اور انعامات حاصل کئے۔ جناب ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا دور آیا تو یہی لوگ مزاحمتی شاعری کے دعوے دار بن گئے اور اس حکومت سے بھی انعامات اور ایوارڈ حاصل کئے۔ کسی نے ضمیر کی خلش کسی دور میں محسوس نہیں کی۔

            میرا اندازہ ہے کہ موجود ہ دور میں ادیب کو معاشرے کی پست سطح پر رکھا گیا ہے۔ حکومت کے نزدیک وہ اس وقت خطرہ بنتا ہے جب اس کے اندر سے کوئی حبیب جالب نکل آئے اور وہ اونچا بولنے لگے۔اس قسم کے ادیب آپ کو شاید کم کم نظر آئیں۔ لیکن حکومت ادب کو ’’شوپیس‘‘ بنا کر ضرور پیش کرتی ہے۔ مقصد نمائش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس نمائش کے لئے ’’درباری ادیب‘‘ دستیاب ہو جاتے ہیں۔

            سچا ادیب تو حزب اختلاف کا مستقل فرد ہے۔ وہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ باطل کی مخالفت کرتا ہے، ہمیشہ دل پر گزرنے والی بات رقم کرتا ہے۔ پرورشِ لوح و قلم کرتا ہے۔ وہ حکومت کی سرپرستی سے بے نیاز ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسے ادیب موجود ہیں اور وہی ادب کی آبرو ہیں لیکن ایسے ادبا کی تعداد زیادہ ہے جو جنرل ضیاء کے دور میں ضیاء کے گن گاتے تھے۔ پھر بے نظیر کے قصیدے پڑھنے لگے۔ نواز شریف صاحب برسراقتدار آ گئے تو ان کی چھتری تلے آ گئے۔ ان دنوں محترمہ بے نظیر بھٹو کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ لاہور کی ایک محفل میں فخر زمان صاحب نے انہیں بھی سیاستدانوں کی طرح ’’لوٹا‘‘ کہا تھا۔ انہیں نشان زد کرنے کا تقاضا کیا تھا لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ اکادمی ادبیات کے چیرمین نہیں بنے تھے۔

٭       کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آج کا ادیب سہل پسندی، جاہ طلبی، منافقت اور بے عملی کا شکار ہے ………… تو پھر آج کے تخلیقی ادب کی حیثیت بھی عصری سیاست کی طرح ناپسندیدہ نہیں ٹھہرتی؟

٭٭   میں اس کی وضاحت اوپر کر چکا ہوں اور آپ سے متفق ہوں کہ ادیبوں کی اکثریت سہل پسندی کا شکار ہے۔ وہ جاہ طلبی اور منفعت پسندی میں بھی مبتلا ہیں۔ جو کچھ لکھتے ہیں اس کو اپنی زندگی پر وارد نہیں کرتے۔ منافقت بھی اس دور کا سکہ رائج الوقت ہے اور اس میں بڑے بڑے نامی گرامی اور عظمت آدم کا پرچم بلند کرنے والے ادباء بھی شامل ہیں۔ سیاست کی طرح ادب میں بھی بعد القطبین پیدا ہو چکا ہے۔ تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہو گیا ہے۔ بے جا تعریفوں اور تحسین سخن ناشناس سے انا کے غبارے میں زیادہ سے زیادہ ہوا بھر لی جاتی ہے لیکن بے رحم زمانہ جب نوک خار سے غبارہ پھاڑ دیتا ہے تو بلبلانے لگتے ہیں لیکن کثرت تخلیق میں سے اچھا ادب بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جواہر پارے بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

            جس طرح معاشرہ تمام برائیوں کے باوجود اچھے لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے، اسی طرح ادب بھی چند عبادت گزاروں کی وجہ سے زندہ رہے گا۔ سہل پسند، جاہ طلب اور منافقت زدہ لوگوں کو زمانے کی آندھی اڑالے جائے گی۔ ہمارے سامنے اڑا کر لے جا رہی ہے۔ وہ ادباء جو اپنے اندر کے رونے کی آواز سن رہے ہیں، جن کے دل میں معاشرتی کرب کہرام بپا کر رہا ہے وہ صلہ و ستائش اور داد و تحسین سے بے نیاز ادب تخلیق کرتے رہیں گے۔جس طرح مورمن کی موج سے رقص کرتا ہے اسی طرح ادب بھی داخلی تقاضے پر تخلیق ہوتا ہے۔ اس قسم کا ادب بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں تخلیق ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ بڑے شہر کا ادیب ذرائع ابلاغ کا اسیر ہے۔ چھوٹے شہر کا ادیب فطرت کے تابع ہے۔ ایک پرملمع چڑھا ہوا ہے۔ دوسرا زرِ خالص ہے۔

٭       کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے یہاں علاقائی ادب اور ادیب کو پھلنے پھولنے کے بھرپور مواقع حاصل ہیں اس ضمن میں آپ کی کیا کاوشیں ہیں؟

٭٭   علاقائی ادب اور بالخصوص پنجابی ادب کے فروغ میں رسم الخط کی غیر موجودگی خاصی مانع ہے۔ اردو زبان کے حروف پنجاب کی سب آوازوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ سندھی زبان کا رسم الخط چونکہ موجود ہے اس لئے اس کا جدید ادب پنجابی ادب کے مقابلے میں زیادہ جاندار ہے اور اس کا حلقہ قرات بھی وسیع ہے۔ ہمارے ہاں علاقائی ادب کی روایات کو بولی جانے والی زبان نے فروغ دیا ہے۔ یہاں صوفی شعر اء وارث شاہ، بلھے شاہ، بابا فرید، شاہ حسین، میاں محمد کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جن کا کلام زبان زد خواص و عوام ہے۔ پنجابی سکرپٹ نہ ہونے کے باوجود عوام کے دلوں پر لکھا ہوا ہے۔ اسے وسیع طبقے میں پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہے۔

            میری ماں بولی پنجابی اور اظہار کی زبان اردو ہے جو قومی زبان ہے۔ چاروں صوبوں میں رابطے کا وسیلہ ہے لیکن میں پنجابی لکھ سکتا ہوں۔ کچھ چیزیں لکھی بھی ہیں۔

٭       آپ کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ آپ دوستی اور دشمنی میں توازن نہیں برتتے دونوں صورتوں میں آپ کا عمل انتہا کو چھوتا نظر آتا ہے؟

٭٭   مجھے آپ سے یہ سن کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میرے بارے میں ایک مخصوص تاثر بن چکا ہے اور اس تاثر کی تشکیل میں میرا عمل شامل ہے۔

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

            میں اپنا تجزیہ کروں تو کہہ سکتا ہوں کہ میں نے دوستی نبھانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ یہ منفی نہیں بلکہ مثبت عمل ہے اور اگر اس میں کسی انتہا کو میں نے چھولیا یا توازن قائم نہیں رکھ سکا تو یہ میرے لئے باعث تفاخر ہے۔ شاید آپ بھی اس میں تحقیر کا پہلو تلاش نہ کر سکیں۔ دوستی کرنا اور اسے ہرقیمت پر اور ہرمشکل میں نبھانا ذرا کڑا کام ہے۔ اس کڑے کام کو اگر میں کر گزرا ہوں تو میں داد کا طالب ہوں۔

            رہ گئی دشمنی کی بات تو گلزار صاحب ۶۶ برس اور چھ دن کی زندگی میں میرا منصب، منفعت اور جائیداد پر جھگڑا کسی سے نہیں ہوا۔ دشمنی کی بات تو بہت دور کی ہے۔ اگر آپ کا اشارہ ادبی اختلافات کی طرف ہے تو میں نے حرف اعتراض پر دفاع ضرور کیا ہے۔ غلط بات کو قبول کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے بعض ادیبوں کے قول و فعل کے تضاد کو نمایاں کیا ہے۔ ان کی شخصیت کی کجی کو نشان زد کیا ہے اور بتایا ہے کہ اشتہاری شرافت اور اخباری شہرت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ یہ کاٹھ کی ہنڈیا چوراہے میں پھوٹ جاتی ہے۔ اس پر بعض لوگ مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ظرف ہے۔ میں اس رائے کو تبدیل کرنے کی اپیل نہیں کرتا۔ گلزار جاوید صاحب، میں نے یہاں ٹھوس مثالیں نام لے کر پیش کرنے سے دانستہ گریز کیا ہے۔

٭       آپ کی ذات اردو ادب میں گروہ بندی کی بانی نہیں تو اس کو زندہ اور توانا رکھنے کا باعث ضرور بنی ہے اردو ادب کی سربلندی و سرفرازی کے لئے آپ اس کمبل سے جان کیوں نہیں چھڑاتے؟

٭٭   برادر عزیز !آپ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ آج کا ادیب جاہ طلبی،منافقت اور بے عملی کا شکار ہے حقیقت ہے کہ عمر رسیدہ ادیبوں کا ایک طبقہ ان عوامل پر نہ صرف خود عمل کر رہا ہے بلکہ اسے نئی نسل میں بھی پروان چڑھا رہا ہے۔ ادب میں دشنام طرازی کا چلن عام کر رہا ہے۔ میں نے ایسے منفی رویوں کے خلاف ہمیشہ لکھا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کے گروہی مفادات پر ضرور آنچ آئی ہو گی اور وہ اس پر سیخ پا بھی ہوئے ہوں گے۔ یہ لوگ ادب کو سربلند و سرفراز نہیں کر رہے بلکہ اس کی پستی کے ذمہ دار ہیں۔ جس بات کا آپ تقاضا کر رہے ہیں اس کی تعمیل و تکمیل کے لئے بسر و چشم حاضر ہوں۔ میرے قلم سے سہواً بھی کوئی جملہ نکل جائے تو مجھے ضرور بتائیے لیکن ان لوگوں سے بھی تو کہئے کہ وہ صحافت اور سیاست کے مذموم حربے ادب میں استعمال نہ کریں۔ اس کی حرمت کو پامال نہ کریں۔ اپنا نہیں تو اپنے آباء کے وقار کا خیال کریں۔ ان کی روحوں کو قبروں میں نہ تڑپائیں۔ دولت، شہرت، منصب اور عورت کے لئے خوار نہ ہوں۔ اخلاقی اقدار کو بھی کچھ اہمیت دیں۔

٭       فرض کرتے ہیں آپ کی ملاقات ڈاکٹر وزیر آغا صاحب سے نہ ہوتی تو آپ کی زندگی میں کس چیز کی کمی ہوتی؟

٭٭   میری زندگی ادھوری رہتی۔ میں ادب سے بھاگا ہوا فرد بھی شمار نہ ہوتا۔ انسانوں کے ہجوم میں محکمہ آبپاشی کے ایک گم نام کارکن کی حیثیت میں ملازمت سے ریٹائر ہو جاتا۔ میں نے ایک زمانے میں تو یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ جس دن وزیر آغا سے ملاقات نہیں ہوتی میں اسے اپنی زندگی میں شمار نہیں کرتا۔ لیکن مرورِ ایام کے ساتھ وزیر آغا نے جب دیکھا کہ میں اب ادب کے آسمان پر آزاد پرندے کی طرح اڑ سکتا ہوں تو وہ اپنے گاؤں جا کر آباد ہو گئے۔ میں اپنا سرگودھا اٹھا کر لاہور لے آیا۔ اب بھی ہر ماہ وزیر آغا لاہور آتے ہیں اور ان سے طویل نشستیں ہوتی ہیں۔ اب یہ نشستیں میری زندگی کا حاصل ہیں۔ وزیر آغا کا یہ احسان مجھ پر ہی نہیں متعدد لکھنے والوں پر ہے۔ وہ ادیب کے دل میں علم کی جستجو پیدا کرتے ہیں۔ اس کے راستے میں شمعدان روشن کر دیتے ہیں۔

٭       اہل قلم کی پذیرائی اعزازات و انعامات کی تقسیم اور اس کا طریقہ کار کس حد تک منصفانہ بنیادوں پر قائم ہے ہر قسم کی مصلحت سے بالا و برتر ہو کر اپنی رائے سے نوازیئے؟

٭٭   سرکاری اعزازات کی تقسیم بالعموم غیر منصفانہ ہوتی ہے۔ بعض طالع آزما اس کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے اور ایوارڈدینے ولوں کی کاسہ لیسی کرتے ہیں۔ پھر ہر حکومت کے اپنے پسندیدہ ادیب ہوتے ہیں جن کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ اکثر اوقات سیاسی مصلحتیں بھی اثرانداز ہو جاتی ہیں۔ ایوارڈوں سے ادیب کی زبان بندی کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ صدر ایوب ایک ترقی پسندادیب کو ’’آدم جی ایوارڈ‘‘ نہیں دینا چاہتے تھے۔ قدرت اللہ شہاب نے دلیل دی کہ اس سے ان کی ترقی پسندی داغدار ہو جائے گی، آمریت کے سامنے ان کا سر جھک جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے نہ صرف ایوب خان سے ایوارڈ لیا بلکہ ایک دوسرے آمر سے بھی ستارہ امتیاز قبول کر لیا۔ حال ہی میں ایک اہل قلم ایوارڈ کی سفارشیں کرنے پر مامور تھے۔ انہوں نے ستارہ امتیاز خود اپنے لئے تجویز کیا اور پھر اس کا اعلان بھی ہو گیا۔ خامہ بگوش نے لکھا کہ انہوں نے یہ ایوارڈ از راہِ انکسار قبول کر لیا ہے۔ وگرنہ وہ نشان پاکستان بھی حاصل کر سکتے تھے۔ خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو سرکاری ایوارڈوں کی خواہش ہی نہیں رکھتے۔ نہ اس چوہا دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔

            یہاں اس واقعے کا اظہار نامناسب نہیں ہو گا کہ ایک بڑے ادیب نے افتخار عارف سے اور پھر فخر زمان سے یہ شکایت کی تھی کہ انہوں نے جس کتاب کو ۳۶ ویں نمبر پر رکھا تھا اسے پہلا انعام دیا گیا۔ جسے پہلے انعام کے لئے نامزد کیا تھا اسے مسترد کر دیا گیا۔ عبدالعزیز خالد نے ایوارڈ یافتہ ادیب کو کہا کہ اشارہ تمہاری کتاب کی طرف ہے۔ اس نے افتخار عارف کو لکھا کہ اگر کوئی صاحب اس کے ایوارڈ پر معترض ہیں تو وہ ایوارڈ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ لیکن معترض موصوف ایک جلسے میں آ کر اپنے فیصلے کے دلائل بیان فرمائیں اور صاحب کتاب کو اپنے دفاع کا موقعہ دیا جائے۔ یہ بات ریکارڈ پرموجود ہے لیکن افتخار عارف نے تحریری جواب بھیجا کہ اس ادیب کو منصفین نے متفقہ طور پر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا تھا۔ یہ ۱۹۸۵ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ اب اس قسم کے ’’حادثات‘‘ نہیں ہوتے۔ حکومت تبدیل ہو جائے تو ایوارڈوں کی فہرست بھی بدل جاتی ہے۔

٭       آج کل فیشن کے طور پر ادیب یا صاحب کتاب بننے کے شوق میں ان گنت کتابیں منظر ادب پر ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ مستند اور ثقہ اہل قلم کو جبریا سہرے (دیباچہ اور فلیپ) لکھنے پڑ رہے ہیں۔ آپ بھی یقیناً اس مشقت سے دوچار ہوتے ہوں گے۔ اس باب میں کتنے فی صد انصاف پسندی برقرار رکھی جا سکتی ہے …… کیا آپ نے کتاب اور مصنف کے ساتھ انصاف کیا ہے؟

٭٭   جی ہاں ! میں اس فرمائشی مشقت سے اکثر گزرا ہوں لیکن میں نے بالعموم مصنف کو اس کی تخلیق سے دریافت کرنے کی سعی کی ہے۔ میں نے ’’سٹیریو ٹائپ ‘‘ دیباچے یا فلیپ نہیں لکھے۔ ہر مصنف میں کچھ مثبت نکات ضرور ہوتے ہیں۔ میں ان نکات کے اظہار پر اکتفا کرتا ہوں۔ میں نے کبھی کسی کو عظیم شاعر یا ادیب قرار نہیں دیا لیکن اس بات کو بھی پیش نظر رکھا ہے کہ دیباچہ یا فلیپ سالگرہ کے تحفے کی طرح ہے جو بدصورت بچے کو بھی پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ طریق میں نے اپنی تبصرہ نگاری میں بھی استعمال کیا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ میرا ہر دیباچہ اور ہر فلیپ دوسرے سے مختلف ہو گا۔ میں تحسین ادب سے ادیب کی انا کو تسکین دینے کی بجائے کوشش کرتا ہوں کہ وہ ادب کی مین سٹریم (Main Stream) میں شامل رہے۔ اسے لکھنے کی مزید تحریک مل جائے۔

٭       آپ اپنے ادبی کام سے مطمئن ہیں۔ کوئی کام تشنہ تکمیل تو نہیں رہا؟

٭٭   ادب میرا عشق ہے۔ میں نے بہت سے متفرق موضوعات پر مضامین لکھے اورکئی ایک موضوعی کتابیں بھی تالیف کیں۔ اب انہیں دیکھتا ہوں تو مجھے ایک گونہ طمانیت محسوس ہوتی ہے کہ میں نے جن موضوعات پر کام کیا ہے ان پر پہلے کام نہیں ہوا یا شاید کم ہوا ہے۔ مثلاً ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں ‘‘۔’’پاکستان میں ادبی جرائد کی تاریخ‘‘۔ ’’اردو ادب میں سفرنامہ‘‘ پر میں نے تفصیل سے لکھا تو سراہا گیا۔ انہیں پہلی کاوش قرار دیا گیا۔ ’’انشائیہ اردو ادب میں ‘‘ سے پہلے ایک کتاب ’’ممکنات انشائیہ‘‘ چھپ چکی تھی لیکن اسے غیر سنجیدہ کتاب قرار دیا گیا۔ میری کوشش کی تحسین بانداز دگر ہوئی۔ میری یہ کتابیں حرفِ آخر نہیں بلکہ ابتدائی اور شاید نامکمل کاوشیں ہیں، ان پر مزید کام ہو سکتا ہے اور ہونا چاہئے۔                                                                                                                                (دسمبر ۱۹۹۴ء)

٭٭٭

 

شبنم رومانی

(۳۰ دسمبر ۱۹۲۸ء)

٭       شاعری کی ابتداء کس تحریک پر، کب اور کہاں کی؟ آغاز میں کس رنگ کے اشعار کہے اور کون کون سے اساتذہ سے فیض حاصل کیا؟

٭٭   شاعری کسی ’’تحریک‘‘ کی پیداوار نہیں ہوتی۔ کوئی شاعر بنتا ہے نہ بن سکتا ہے …… شاعر پیدا ہوتا ہے، خمیر میں گندھی ہوئی نغمگی لے کر۔ یاد نہیں پڑتا کہ میں کب شاعر نہ تھا۔ جہاں تک مڑ کر دیکھتا ہوں، خود کو شعر لکھتا ہوا پاتا ہوں۔ آغاز میں (یعنی لڑکپن میں) رنگ کلام متشرلانہ تھا…… کچھ تقاضائے عمر کچھ تقاضائے عہد …… ویسے بھی یہ عمر شہزادگی اور بانکپن کی ہوتی ہے۔                  ؂

نئی نئی اُمنگ ہے، نئی نئی اُٹھان ہے

نہ زیر پا زمین ہے، نہ سر پہ آسمان ہے

جانشین امیر مینائی، حضرت دل شاہ جہاں پوری سے فنی رہنمائی حاصل کی۔ رئیس شہر ہونے کے باوجود حضرت دلؒ فقیر منش اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ ان کی خدمت میں حاضر رہ کر بہت کچھ سیکھا۔

٭       آپ کا تخلص بڑا دل پسند ہے۔ شبنم اور رومان کی آمیزش سے طبیعت پُر کیف ہو جاتی ہے۔ یہ تخلص آپ نے کب اور کیونکر اپنایا؟ کیا آپ آج کے سائنسی دور میں بھی اردو شاعری کو حسن و عشق کے کوزے میں بند رکھنا چاہتے ہیں؟

٭٭   میرے ایک ہم عمر تھے، ملک اسرار احمد خان تبسم ………… ان کا خاندان ہمارے ایک مکان میں بیس سال سے کرائے پر رہتا تھا۔ ہم دونوں کی اٹھان ایک ساتھ ہوئی۔ ہم نے ایک ساتھ ادبی سفر شروع کیا اور ایک دوسرے کے لئے تخلص تجویز کئے۔ بعد کو وہ افسانے کی طرف چلے گئے، پھر CSPان کی ترجیحات میں سرفہرست آ گیا۔ وہ چند سال پہلے تک سنٹرل بورڈ آف ریوینو کے ممبر تھے۔ اب غالباً ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔ ’’رومانی‘‘ کا لاحقہ اس لئے اختیار کیا کہ ان دنوں ادب پر رومانی میلان غالب تھا۔ نیاز فتحپوری، مجنوں گورگھپوری، آل احمد اور بہت سے دوسرے اہل علم و کمال کا ڈنکا بج رہا تھا۔ اختر اور مجاز کی پورے ہندوستان میں دھوم تھی۔ اختر کی سلمیٰ کو، اور مجاز کی نورا کو لوگ ڈھونڈتے پھرتے تھے۔ ایک نوجوان شاعر کا اس فضا سے متاثر ہونا فطری تھا۔

            ایک بات اور بھی تھی کہ ہمارے ہاں رومان Romanceکو محض عاشقی معشوقی سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ یہ ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ رومانی میلان دراصل کلاسکس سے انحراف کا میلان تھا۔ روایت کی عظمت اور اہمیت کا قائل ہونے کے باوجود میں نے کبھی ’’روایتی‘‘ ہونا پسند نہیں کیا۔ ایک انحرافی رو ہمیشہ میرے رگ و پے میں جاری و ساری رہی۔ پہلے بھی تھی۔ آج بھی ہے ………… مثال کے طور پر میرے لڑکپن کا ایک شعر ہے

تم مجھے چاندنی راتوں میں بہت کم یاد آئے

ہاں شبِ تار میں ڈھونڈا ہے، اُجالوں کے بجائے

تو یہ ’’چاندنی راتو ں میں بہت کم یاد آنا‘‘ اس وقت روایت سے انحراف ہی کی ایک صورت تھی۔ میں آج بھی رومانی ہوں اور اپنی اس نسبت پر شرمندہ نہیں ہوں میں آج بھی ہر شے میں حسن کا متلاشی ہوں …………حسن، جو روح کائنات ہے؟ میں زندگی کے ہر شعبے میں اس ’’روح‘‘ کو ڈھونڈتا ہوں ………… وہ عورت ہو یا آبشار، معیشت ہو یا معاشرت، سیاست ہو یا عبادت، سب کو کسی نہ کسی جمالیات کا تابع ہونا چاہئے۔حس جمال کے بغیر سائنس اسباب ہلاکت کے سوا کچھ ایجاد نہیں کر سکتی۔ حس جمال انسانیت کی بقا کے لئے لازم ہے۔ ابتداء میں میرے پیش نظر بے شک ’’عورت‘‘ تھی اور شاید کسی حد تک اب بھی ہے لیکن اب میرا موضوع انسان اور انسانیت ہے۔ ہمیں ان کو بہرحال تباہی سے بچانا ہے اور انسان اور اس کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ پُر امن اور خوبصورت بنانا ہے۔ اگر میرا مجموعہ کلام ’’جزیرہ‘‘ آپ کی نظر سے گزرا ہے تو آپ میرے اس نقطہ نظر سے بخوبی واقف ہوں گے۔

٭       بنیادی طور پر آپ شاعر ہیں، اس کے علاوہ آپ ڈرامہ نویس ہیں، براڈ کاسٹر اور کالم نگار ہیں، صحافی اور ادیب ہیں، تو اتنے ڈھیر سارے شعبوں میں کب کب اور کس طرح آپ نے مہارت حاصل کی؟ کیا آپ ان سب سے انصاف کر پاتے ہیں؟

٭٭   میں کوئی کام ’’نیم دلی‘‘ سے نہیں کرتا۔ میری طبیعت کا خاصا ہے کہ جو کام کرتا ہوں جم کر کرتا ہوں۔ اس کو اپنا مسئلہ بنا لیتا ہوں شاید اسی لئے لوگوں کی نظر اس پر ٹھہرتی ہے۔ دیکھئے انسان اشرف المخلوقات ہے۔ قدرت نے اس کو گوناگوں صلاحیتیں عطا کی ہیں ان صلاحیتوں کی دریافت بھی ایک فریضہ ہے۔ اس Self discovery(خود دریافتی) کے عمل ہی سے زندگی تنوع ہوتی ہے۔ یہی تنوع آپ کو میرے ہاں نظر آئے گا البتہ اس سلسلے میں ایک وضاحت کرتا چلوں۔ میں نے چند تمیثل چے ضرور لکھے ہیں مگر باقاعدہ ’’ڈرامہ نویس‘‘ نہیں ہوں۔ریڈیو پروگرام بہت کئے لیکن ’’براڈ کاسٹر‘‘ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ 1973ء سے 1985ء تک ادبی کالم لکھے (جو کتابی شکل میں شائع بھی ہوئے) لیکن میں نے کالم نگاری کو پیشہ نہیں بنایا۔ نثر بھی جم کر لکھی ………… تنقید بھی، اور طنز و مزاح بھی ………… مگر میں اول و آخر شاعر ہوں اور شاعری ہی میری پہچان ہے۔

٭       مزاحیہ شاعر ی اور بچوں کے ادب سے آپ کی وابستگی سنجید ہ ہے یا وابستگی کی حد تک یہ مشغلہ جاری ہے نیز اس جانب آپ کی رغبت کے اسباب کس طرح پیدا ہوئے؟

٭٭   کبھی کبھی یہ سوال میں اپنے آپ سے بھی کرتا ہوں کہ دال میں یہ نمک کہاں سے آیا؟ کیا اس لئے کہ میں بھی ’’عظیم بیگ چغتائی‘‘ ہوں؟ یا اس لئے کہ سنجیدگی کا انتہا ظرافت ہے !!

            میں بچپن ہی سے بہت حساس، کم سخن اور سنجیدہ تھا۔ مطالعے کا شوق تھا۔ کولتار والے مرزا عظیم بیگ چغتائی کا فین تھا اور ان کی تقریباً سبھی کتابیں پڑھ ڈالی تھیں۔ مگر پاکستان آنے تک میرے تخلیقی قوام میں ظرافت کا کوئی عنصر نمایاں نہ تھا۔ یہاں آ کرہر صبح رئیس امروہی کا چٹ پٹا قطعہ ناشتے کی میز پر ملتا تھا۔ تفنن طبع کے طور پر اسی رنگ کے بہت سے قطعے میں نے بھی کہے۔ ان دنوں رئیس صاحب ہفت روزہ ’’شیراز‘‘ نکالتے تھے۔ اس کے لئے کراچی پر ایک نظم و نثر مزاح کے پیرائے میں لکھی جو بہت پسند کی گئی۔ پھر دوستوں کی فرمائش پر اس نظم کو وسعت دے کر ’’مثنوی سیر کراچی‘‘ کا روپ دے ڈالا جو مقبول خاص و عام ہوئی۔ ان دنوں بچوں کے رسالے بہت نکلتے تھے ان میں سے کچھ رسائل کے مدیر میرے بے تکلف دوست تھے۔ ان کی فرمائش پر بچوں کے لئے نظمیں لکھیں جو بچوں میں بہت مقبول ہوئیں۔ 1973ء میں بچوں کے ایک سلسلے وار ٹی وی پروگرام ’’کھیل کھیل میں ‘‘ کے 25 Episodesکے لئے مجھے 25نظمیں لکھنی پڑیں جن کا مجموعہ ’’موزے چلغوزے ‘‘ کے نام سے ہمدرد فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔

            ادھر 1971ء میں قاسم جلالی اور تشبیہہ الحسن اندس کے اصرار پر ٹی وی کے سلسلے وار پروگرام سچ +جھوٹ کے لئے درجنوں مزاحیہ گیت لکھے جو پسند کئے گئے۔ یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا۔ 1973ء میں اقبال زبیری صاحب کے ایماء پر میں نے روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں ایک فکاہیہ ادبی کالم ’’محفل محفل‘‘ کے عنوان سے دس بارہ سال تک لکھا۔ ان کالموں کا ایک انتخاب ’’ہائڈ پارک‘‘ شائع ہو چکا ہے۔

            یوں ’’مزاح المومنین‘‘ میری تخلیقی زندگی کا ایک چھوٹا سا شعبہ بن گیا ……مگر میں خود بھی، کبھی کبھی، اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آخر دال میں یہ نمک آیا کہاں سے؟ جواب یہی ملتا ہے کہ میاں ! ہر انسان اپنا کولمبس ہے …… سوا بھی تو اس نیم تاریک بر اعظم سے جانے اور کیا کیا عجائب روشنی میں آئیں گے۔

٭       آپ کے گھر آنگن میں آپ کی ادبی وراثت منتقل ہو رہی ہے کہ نہیں …… اگر جواب اثبات میں ہے تو ان نوخیز پھولوں کے نام مع ان کی ننھی کاوشوں کے بتانا پسند کریں گے؟

٭٭   میری بڑی بیٹی صبا شبنم (جو ان دنوں میڈیکل، سال چہارم، کی طالبہ ہیں) خوش مطالعہ ہے اور ادب کا بڑا شستہ ذوق رکھتی ہے۔ اسکول کے زمانے میں جب اس کو مجھ سے کوئی فرمائش کرنی ہوتی، چھوٹی سی انگریزی نظم کی صورت میں اپنی فرمائش لکھ کر میری میز پر رکھ دیتی۔ اس کی ایسی کئی نظمیں میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں۔ مگر اب جبکہ وہ پروفیشنل کالج کی طالبہ ہے یہ جوہر کہیں دب کر رہ گیا ہے۔

            اسی طرح میرا بیٹا فیصل عظیم بیگ بھی شاعری کی طرف راغب تھا مگر میں نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ پھر اس نے طنزیہ کالم لکھے جو مجھے اچھے لگے لیکن میں نے کہا ’’پہلے تعلیم مکمل کر لو پھر ادھر آؤ‘‘ مگر اس نے چپکے سے دو کالم بزرگ صحافی نصر اللہ خاں کو ڈاک سے بھیج دیئے۔ خاں صاحب اس بچے کی تحریر سے بہت متاثر ہوئے اور 7اگست 1990ء کو ’’بچہ مزاح نگار‘‘ کے عنوان سے اس کا ایک کالم ’’بارش کا پہلا قطرہ‘‘ جنگ کراچی کے کالم ’’آداب عرض‘‘ میں نقل کر دیا۔ بعد کو جب خاں صاحب کو معلوم ہوا کہ وہ میرا بیٹا ہے تو بہت ہی خوش ہوئے مگر میں نے کہا ’’از راہ کرم اس کو تعلیم مکمل کر لینے دیجئے ‘‘ سو وہ ان دنوں NEDمیں انجینئرنگ (سال دوم) کا طالب علم ہے۔

٭       آپ کے سوانحی خاکے میں وجہ ہجرت مسلمانوں کا قتل عام درج ہے …… تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ آپ جبری طور پر پاکستان تشریف لائے۔ کیا کبھی آپ کو اپنے اس عمل پر ملال بھی ہوا؟ آپ کے خیال میں کون سی سرزمین آپ کے فنی سفر کے لئے زیادہ مناسب ہوتی؟

٭٭   میں تلاش معاش Job huntingکے لئے پاکستان نہیں آیا تھا۔ وہاں میں Cooperativesکا اسٹنٹ سیکریٹری تھا۔ شاہ جہاں پور پٹھانوں اور مغلوں کی بستی ہے۔ وہ Mini Pakistanکہلاتا تھا۔ وہاں کے مسلمانوں کو پاکستان دوستی کی سزا دی گئی اور زبردست قتل عام ہوا۔ میں نے زمانہ طالب علمی ہی سے تحریک پاکستان میں جوش اور جذبے کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ اس لئے مجھے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی۔ مجھے اس ہجرت پر فخر ہے۔ ’’نظریاتی وطن‘‘ سے بڑھ کر کوئی سرزمین نہیں ہو سکتی۔ مجھے خوشی ہے کہ یہاں میرے فن کو خوب گنجائش نمو ملی اور زندگی کے گوناگوں تجربوں نے میری شاعر میں وسعت اور تہہ داری پیدا کی۔

٭       سنا ہے آپ بچپن میں شدید بیمار ہو گئے تھے اور طبیبوں نے جواب دے دیا تھا؟

٭٭    ارے صاحب ! بیمار کیا ہو گئے تھے، مر ہی گئے تھے۔ مر کر دوبارہ زندہ ہوئے۔ بڑا عجیب واقعہ ہے۔ یہ 1948ء کی بات ہے۔ بیس سال کی عمر تھی۔ ان دنوں میں تدریس کے پیشے سے وابستہ تھا۔ ہوا یوں کہ مجھے ٹائیفائیڈ ہوا جو بگڑ گیا …… حکیم حبیب الرحمن خان کے سے طبیب حاذق اور خاندانی معالج نے بھی ہاتھ اٹھا لیا، جواب دے دیا۔ میعادی بخار میں یونانی علاج ہی بہتر ہوتا ہے، مگر اب کیا کیا جائے؟ شاہ جہاں پور میں ایک بنگالی ایلوپیتھ ڈاکٹر بی سین تھے۔ بہت ذہین ڈاکٹر اور ایک بڑے ڈاکٹر کے فرزند تھے۔ ہندوؤں کے محلے کٹیاٹولے میں رہتے تھے۔ ان کا علاج شروع کیا۔ مگر حال یہ تھا کہ سڑک پر کار گزرنے کی آواز سے بھی غش آ جاتا۔ کوئی زور سے بولتا تو غش آ جاتا ………… غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ ایک رات جب موسلادھار بارش ہو رہی تھی، میری حالت بہت نازک ہو گئی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وقت رخصت آ پہنچا ہے۔ نقاہت کے سبب بول نہیں سکتا تھا ہل نہیں سکتا تھا پیروں کے انگوٹھوں کو ہلا کر دیکھتا تھا جان نکل گئی ہے یا باقی ہے۔ پھر اپنے چھوٹے بھائی کی طرف آنکھ سے اشارہ کیا۔ اس کا نام ’’یسین ‘‘ ہے۔ بڑی بہن ہاجرہ تسنیم رونے لگیں، روتے روتے یسین شریف کی تلاوت کرنے لگیں۔ والدہ بارش کی پروا کئے بغیر پریشانی کے عالم میں آنگن میں نکل گئیں۔ہاتھ اٹھا اٹھا کر اللہ سے میری زندگی کے لئے دعا کرنے لگیں ………… اس دم مجھے محسوس ہوا کہ میں کلمہ پڑھتے پڑھتے انتقال کر گیا ہوں۔ بہن کہتی ہیں کہ نبضیں ڈوب چکی تھیں، زندگی کے کوئی آثار نہیں رہ گئے تھے …… تب میں نے دیکھا کہ شہر کے ایک دوسرے محلے کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوں۔ سفید پوش لوگ مسجد میں آ جا رہے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ بارش رک گئی ہے اب میرا جنازہ اٹھاؤ، مگر کوئی توجہ نہیں کرتا۔ بالآخر تھک ہار کر واپس اپنی میت کے پاس آتا ہوں اور مثل دھوئیں کے اپنی میت کے سر میں اترتا چلا جاتا ہوں ………… اس لمحے مجھ میں دوبارہ زندگی کی رمق پیدا ہوتی ہے۔ آنکھ کھولتا ہوں اور اشارے سے کہتا ہوں ’’ڈاکٹر کو بلاؤ‘‘ …… میرا بھائی، مرزا سلیم بیگ (مرحوم) جو اس وقت مشکل سے 16/15سال کا ہو گا رات کے پچھلے پہر سائیکل لے کر نکل جاتا ہے۔ اس رات سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا اور شہر ان دنوں خوفناک فسادات کی زد میں تھا۔ڈاکٹر حیران رہ جاتا ہے ’’بیٹے ! تم یہاں تک پہنچ کیسے گئے؟ اچھا، میں اشنان کر کے اور پرارتھنا کر کے آتا ہوں، تم جاؤ‘‘ ………… اور وہ حسبِ وعدہ فجر کی اذان کے وقت میرے گھر پہنچ جاتا ہے اگلے دن میں ڈاکٹر سے کہتا ہوں ’’کوئی طاقت کا انجکشن لگا دو‘‘ وہ کہتا ہے ’’ابھی نہیں ‘‘ دو چار دن بعد وہ دیکھنے آیا تو ہنس کر کہنے لگا ’’آج انجکشن لایا ہوں ‘‘ پھر اس نے ایک پڑیا اپنے تھیلے سے نکالی ’’یہ تمہارا انجکشن ہے ‘‘ جانے وہ پڑیا کیسی تھی، کیا تھی، کہ اس کے کھاتے ہی غشی کے دورے ختم ہو گئے اور طبیعت سنبھلنا شروع ہو گئی۔ ڈاکٹر سین کا کہنا تھا تم کو دیکھتا ہوں تو بھگوان کی لِیلا پر یقین آ جاتا ہے۔ تم کو میری دواؤں نے نہیں، تمہاری ماں کی دعاؤں نے بچایا ہے ‘‘

٭       شادی آپ نے خاصی تاخیر سے کی۔ کیا واقعی آپ ہجر و فراق کی کیفیت میں مبتلا تھے؟

٭٭   کیا عرض کروں، آپ پوچھتے ہیں تو اجمالاً بتاتا ہوں کہ 1947ء سے 1950ء تک ایک عظیم جذباتی تجربے سے گزرا، مگر 1950ء میں ایک شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ تفصیل نہ پوچھیں کہ ؂اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ بہرحال 1950ء میں ترک سکونت کے بعد شادی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا، شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ چودہ سال اسی نشے میں گزر گئے۔ پھر یہ بھی ہے کہ خاندان بڑا تھا۔ ذمہ داریاں بہت تھیں۔ شادی کر کے میں ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بالاخر 1964ء میں والدہ محترمہ کی علالت کے پیش نظر اور ان کے مسلسل اصرار پر میں نے مدافعت ترک کر دی اور لاہور میں آباد شاہ جہاں پور کے ایک معزز خاندان میں شادی ہو گئی۔

٭       اچھا یہ فرمائیے، جگر صاب جب کراچی تشریف لائے تھے تو انہوں نے اپنے ایک دوست کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری آپ کو سونپی تھی۔ کیا آپ نے ان صاحب کو ڈھونڈ نکالا تھا؟

٭٭   جی ہاں انہوں نے کئی بار ہم سے کہا کہ ہمارے ایک دوست یہاں ناظم آباد میں رہتے ہیں، کسی طرح ان سے ملواؤ۔ مگر ان کو اپنے دوست کا کچھ اتا پتا معلوم نہ تھا۔ ایک شام وہ ایک محفل کی صدارت کر رہے تھے کہ وہاں دودھ والا آیا، سائیکل سے اتر کر اس نے آواز لگائی تو جگر صاحب اچھل پڑے۔ ڈائس سے اتر کر لپکے اور جا کر اس سے لپٹ گئے۔ یہی نہیں، اس کو اپنے ساتھ لا کر ڈائس پر بٹھا دیا۔ کالا بھجنگ آدمی، گھٹی چاند اور لنگی کو لنگوٹ کی طرح کسے ہوئے۔ اس کو دیکھ کر محفل پر سناٹا چھا گیا تب جگر صاحب نے فرمایا ’’بھئی یہی ہمارے وہ دوست ہیں جن کا ذکر ہم بار بار تم سے کرتے تھے۔ ’’کیا دوستی کا یہ معیار اب بھی قائم ہے؟ اب تو لوگ اپنے کم مرتبہ باپ کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں !!

٭       تیس سالہ سرکاری ملازمت میں کبھی آپ کو جبر یا گھٹن کا احساس ہوا؟کبھی آپ نے خود کو تخلیقی طور پر مجبور اور بے بس پایا؟

٭٭   تیس سال نہیں انتالیس سال …… سرکاری ملازمت کے دوران کبھی کسی گھٹن یا بے بسی کا احساس نہیں ہوا کیونکہ قلم اپنی راہیں تراشنا جانتا ہے۔بیانیہ اور مار دھاڑ کی شاعری سے کبھی واسطہ نہیں رہا۔ رمز، علامت اور تہہ داری شاعری کی جان ہوتی ہے۔ البتہ حساس محکموں سے وابستہ ہونے کے سبب آنے جانے اور ملنے جلنے میں ضرورت سے زیادہ احتیاط برتنی پڑی۔ نتیجے کے طور پر ادبی دنیا سے رابطے بہت کمزور رہے۔

٭       عصر حاضر میں شاعری کی آزادہ روی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   مجھے نہیں معلوم کہ ’’آزادہ روی‘‘ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ بہرحال شاعری میں ایک طرح کا نظم و ضبط Disciplineہوتا ہے یا افکار میں بھی اور اظہار میں بھی۔ شاعری میں جنس کو Exploitنہیں کرنا چاہئے۔ اس کو برتنے کے لئے بڑی شائستگی مہارت اور مضبوط گرفت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک ’’نثری نظم‘‘ کی ہیئت کا تعلق ہے تو یہ ایک Form Less Formہے۔ میں نثر ی نظم نہیں لکھتا مگر تجربوں کے حق میں ہوں۔ تجربے ادب کے لئے نیک فال ہوتے ہیں۔

٭       کبھی آپ نے محسوس کیا کہ دلّی اور لکھنؤ کی طرز پر ہمارے ہاں بھی ادبی جتھہ بندی وجود میں آ گئی ہے۔ اس کے کیا محرکات ہیں؟کراچی کی حد تک اس ضمن میں کیا صورتحال ہے۔ اس سے اردو ادب کو کس قسم کے نقصانات کا اندیشہ ہے؟

٭٭   اسکول اچھی چیز ہے گروہ بندی یا تعصب اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ حق کو دبانے اور ناحق کو اچھالنے کا عمل ہے جس کے سبب ادب کی بڑھوتی کو نقصان پہنچتا ہے۔ آخر عدل بھی کوئی چیز ہے، فکری عدل بھی، فنی عدل بھی اور سماجی عدل بھی۔ دلّی اور لکھنؤ کے اسکول داستان پارینہ ہوئے۔ پاکستان میں کوئی اسکول نہیں ہے۔ اگر ہے تو صرف ایک اسکول ہے ’’اردو اسکول‘‘ اور بس۔ کراچی بھی پاکستان ہی کا حصہ ہے۔ یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔

٭       آپ ایک بہت ہی خوبصورت اور معیاری ادبی پرچے کے ناشر و مدیر ہیں۔ کمرتوڑ مہنگائی اور اردو ادب کے سنجیدہ قاری کی قلت کے باعث ادبی پرچوں کے مستقبل اور معیار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   پرچہ کامیاب وہ ہے جس کی لاگت اس کی فروخت سے حاصل ہو۔ مگر ہمارے ہاں ادبی پرچے شائع کرنے والے مارکیٹنگ کے فن سے نابلد ہیں۔ میں خود بھی ابھی تک پرچے کی فروخت کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا شاید اس کا سبب تشہیری وسائل کی کمی ہے مگر ایک بات ضرور ہے کہ اب بھی ہر خوبصورت اور معیاری ادبی پرچے کے لئے میدان کھلا ہے اور اس کا مستقبل اس کا انتظار کر رہا ہے۔

٭       علاقائی شاعری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کس کس زبان کی شاعری نے آپ کو متاثر کیا اور کیا ان کو مناسب حد تک قومی زبان کے قالب میں ڈھالا گیا؟ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

٭٭   یہ افراد کا نہیں اداروں کا کام ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان اپنے محدود وسائل کے اندر یہ کام کر رہی ہے مگر علاقائی ادب کو قومی زبان میں ڈھالنے کا فریضہ ان زبانوں کے ترقیاتی بورڈز کو انجام دینا چاہئے۔ یہ اہم ذمہ داری ہے۔ اس سے ادبی استفادے کے علاوہ Cross thinkingاور قومی یکجہتی کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں قومی زبان کے منتخب ادب کو بھی علاقائی زبانوں میں منتقل کرنا چاہئے تاکہ دو طرفہ استفادہ ممکن ہو سکے۔ ہمارے ہاں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی، کشمیری اور دوسری علاقائی زبانوں کی شاعری کی ایک کہکشاں ہے۔ یہ ہمارا حسن اور ہمارا سرمایہ ہے اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔

٭       سنا ہے آپ نے فراق صاحب کے شعر کی اصلاح کر ڈالی تھی۔ آپ کی اس جسارت پر فراق صاحب کا رد عمل کیا تھا؟

٭٭   بھئی، ریاست رامپور (بھارت) میں ہر سال ایک تو نمائش کا سرکاری مشاعرہ ہوتا تھا، آل انڈیا قسم کا۔ دوسرا اس کی چوٹ پر ایک رئیس محمد جان خاں کرتے تھے، جس میں پورے ہندوستان کے مشاہیر اور خوشگو نوجوان شعراء کو مدعو کیا جاتا تھا۔ 1949ء کے ایسے ہی ایک مشاعرے کا ذکر ہے۔ میں غزل پڑھ کر اسٹیج سے اترا تو جگر صاحب نے کہا ’’آئیے چائے پیتے ہیں ‘‘ وہاں چائے کا انتظام ایک الگ کمرے میں کیا گیا تھا۔ جس کو چائے پینی ہوتی چپکے سے اٹھ کر جاتا اور چائے پی کر آ جاتا۔ ہم وہاں پہنچے تو فراق صاحب اپنے چند مداحوں کے جلو میں بیٹھے شعر سنا رہے تھے اور ان کے مداح ان پر داد کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ جگر صاحب نازک مزاج تھے، ان کو ایک جگہ پر دو مشاعرے پسند نہیں آئے، مگر میں نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے، میں بیٹھوں گا‘‘ میں فراق صاحب سے متاثر تھا۔ ان کا فین تھا۔ مگر یہ دیکھ کر وحشت ہوتی کہ ان کے ہر اچھے برے شعر پر ان کے مداح چیخ چیخ کر داد دے رہے تھے۔ اتفاق سے ان کے ایک شعر میں ’’شترگربہ‘‘ تھا۔ میں نے فرمائش کر کے وہ شعر کئی بار پڑھوایا تو فراق صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔ شعر سناتے سناتے رک کر بولے ’’میاں ! کیا بات ہے؟‘‘میں نے کہا ’’فراق صاحب کوئی بات نہیں ‘‘ انہوں نے پھر کہا ’’نہیں کوئی بات تو ہے ‘‘ اس دوران میں نے دل ہی دل میں اصلاح بھی سوچ لی تھی۔ میں نے کہا ’’فراق صاحب ! غالباً اس وقت آپ کو اپنا شعر صحیح طور پر یاد نہیں ہے کیوں کہ مجھے آپ کا شعر اس طرح یاد ہے ‘‘ یہ کہہ کر میں نے اصلاح شدہ شعر ان کو سنا دیا۔ ایک لمحے کو وہ سناٹے میں آ گئے۔ پھر سنبھل کر بولے ’’تم نے ترمیم بھی اچھی کی ہے، اور یہ لوگ جو مجھے داد دے رہے ہیں، الو کے پٹھے !!‘‘ یہ سننا تھا کہ وہ لوگ ایک ایک کر کے وہاں سے کھسک لئے۔ یہ فراق صاحب کی بڑائی تھی، جس کا میں گواہ صادق ہوں ورنہ ان کے آگے بڑے بڑوں کی گھگھی بندھ جاتی تھی۔

٭       سنا ہے بھارت کے شہر مظفر نگر کے کسی مشاعرے میں آپ کے اور شکیل بدایونی کے درمیان کوئی بدمزگی ہو گئی تھی؟

٭٭   نہیں۔شکیل بدایونی میرے دوست تھے۔ ان سے کبھی میرا کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ 1946ء کی بات ہے۔ یہ کل ہند مشاعرہ شاہد نوحی مظفر نگری کے اہتمام سے ہوا تھا اور اس کی صدارت ناخدائے سخن حضرت نوح ناروی نے کی تھی۔ مشاعرہ طرحی تھا۔ جبیں میں نے، کہیں میں نے، آستیں میں نے، اس کے ردیف و قوافی تھے۔ میں بھی مدعو تھا۔ یہ سوچ کر کہ نوح صاحب اس کے صدر ہوں گے میں نے خصوصیت کے ساتھ ایک شعر زبان اور لہجے کا بھی کہہ لیا۔ مگر اس شعر نے مشاعرے میں قیامت برپا کر دی…… مشاعرہ لوٹ لیا۔ نوح صاحب نے کھڑے ہو ہو کر داد دی۔ شکیل بدایونی ان دنوں ’’درد‘‘ کے گانے لکھ رہے تھے وہ بھی اس مشاعرے میں شریک تھے مگر انہوں نے غزل نہیں پڑھی۔ میرا شعر یہ تھا

کیا ہے کس نے محبت کے نام کو رسوا؟

حضور، آپ نے …… توبہ، نہیں نہیں …… میں نے !

دوسرے دن صبح دلّی کے ایک قادر الکلام شاعر (از قمر استاد) نے طنزاً فرمایا ’’استاد کا فیض معلوم ہوتا ہے ‘‘ …… مجھے غصہ تو بہت آیا مگر خاموشی سے اٹھا اور اصلاح شدہ غزل ان کے سامنے رکھ دی۔ نوح صاحب دور بیٹھے یہ ڈراما دیکھ رہے تھے۔ اشارے سے مجھے پاس بلایا، پوچھا کیا قصہ ہے؟ میں نے جو بات تھی ان کو بتا دی۔ تب انہوں نے صاحب موصوف کو پاس بلا کر خوب جھاڑ پلائی ’’حسد نہ کرو، اچھا شعر کہنے کی کوشش کرو‘‘ اس کے بعد ان صاحب سے دوستی ہو گئی اور ایک مدت تک ان سے منظوم خط و کتابت رہی۔

٭       انگریزی ادب کو ہمارے ہاں جس قدر اہمیت دی جاتی ہے، کیا وہ اس کا اتنا ہی مستحق ہے؟ کیا انگریزی ادب کے بے محابہ ڈھنڈورے نے اردو ادب کو کسی قدر کوتاہ قامت نہیں کر دیا؟

٭٭   ادب کسی زبان کا بھی ہو اس سے ممکنہ استفادہ کرنا چاہئے۔ ہمارے پاس تھا کیا؟ تنقید ہم نے وہاں سے لی، ناول وہاں سے لیا، مختصر افسانہ وہاں سے ملا اور اب جو انشائیہ Essayاچھلتا کودتا آ رہا ہے یہ بھی انگریزی ادب ہی کی دین ہے۔ نیویارک میں حمیرا رحمان کے ہاں میں جدید جرمن شاعری کا ترجمہ پڑھ رہا تھا جو منیر الدین احمد نے کیا ہے۔ اسے پڑھ کر میں حیران رہ گیا۔ کیسے نادر خیالات ان کے ہاں ملتے ہیں۔ دراصل ساری دنیا کی تمام زبانوں کا نصب ایک ’’کل‘‘ ہے اور اس کا ’’جزو‘‘۔ اب کوئی کسی ویران جزیرے میں نہیں رہ سکتا۔

٭       کیا آپ بھی اردو زبان کی ناقدری کے شاکی ہیں؟ وسعت نظر سے کام لیتے ہوئے ان تمام عوامل کی نشاندہی کیجئے جنہوں نے اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان کی حیثیت سے رائج نہیں ہونے دیا؟

٭٭   پاکستان کا مطالبہ جن بنیادوں پر کیا گیا تھا ان میں سے ایک ’’اردو‘‘ بھی تھی مگر اردو کو یہاں پنپنے نہیں دیا گیا۔ وجہ ……؟ استحصال …… ! ایک خاص طبقہ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور انگریزی کے توسط سے نسل در نسل پاکستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ اردو اگر پاکستان کے کسی صوبے کی زبان نہیں ہے تو یہ اس کا Plus pointہے۔ یہ رابطے کی زبان ہے، ترقی یافتہ زبان ہے اور تمام صوبوں کو متحد رکھنے کی ضامن ہے۔ مگر ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور …… ابھی ہم ریٹائر نہیں ہوئے تھے کہ ایک دن اوپر سے تحریر ی ہدایت آئی کہ اردو میں خط و کتابت اور نوٹنگ شروع کی جائے۔ ہم نے ’’دفتری زبان‘‘ کا کورس کر رکھا تھا اور اس میں فرسٹ پوزیشن بھی حاصل کی تھی۔ خوش ہو کر اس خط کا جواب اردو میں دے دیا اور فائل پر نوٹ بھی اردو میں لکھ دیا۔ اس پر فوراً اسلام آباد سے فون آیا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا ’’آپ کے حکم کی تعمیل‘‘ فرمایا ’’لاحول و لا قوۃ ‘‘ ہر حکم تعمیل کے لئے نہیں ہوتا۔ وہ تو ہم نے یونہی لکھ دیا تھا، کاغذ کا پیٹ بھرنے کے لئے ساری دفتری کاروائی انگریزی میں جاری رکھو۔‘‘

٭       کیا آپ پانچویں قومیت پر یقین رکھتے ہیں؟

٭٭   نہیں، ہر گز نہیں۔ ہم نے ’’پاکستان‘‘ ایک قوم کے لئے بنایا تھا۔ قومیتوں کے لئے نہیں۔ اگر قومیتوں کا نعرہ اس وقت لگایا جاتا تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ یہ تفریق استعماری طاقتوں نے پیدا کی ہے۔ یہ سوچ روس اور امریکہ کی دین ہے۔ وہ زبان اور کلچر کے نام پر ہمارے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نکتہ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ ہم کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے۔ جب امریکہ میں سب امریکی ہیں، ہندوستان میں سب ہندوستانی ہیں، چین میں سب چینی ہیں تو پاکستان میں سب پاکستانی کیوں نہیں ہیں؟ کیا امریکہ میں اتنی بہت سی Statesنہیں ہیں؟ ہندوستان میں نہیں ہیں؟ چین میں نہیں ہیں؟ …… ہاں اگر ایک قوم کے بجائے چار قومیتوں پر اصرار کیا جائے گا تو پھر پانچویں قومیت کے لوگ بھی اپنا حق مانگیں گے، ضرور مانگیں گے بلکہ چھٹی قومیت کے بھی، ساتویں کے بھی۔ آخر ’’سرائیکی‘‘ والوں نے کیا قصور کیا ہے؟ ’’کشمیری‘‘ والوں کو آپ کیسے روکیں گے؟ برادرم یہ فیصلے طاقت سے نہیں ہوتے، منطق اور دلیل سے ہوتے ہیں۔ عدل اور دیانت سے ہوتے ہیں ریزن مسٹ پریویل‘‘ ………… مائی ڈئیر !Reason Must Prevail

٭       مستقبل میں اردو زبان و ادب کو آپ کس شکل اور کس زون میں پروان چڑھتا اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا دیکھتے ہیں؟

٭٭   اردو اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ اردو کی بقا ہماری بقا سے مشروط ہے۔ یہ ہماری ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی ہے۔ یہ اردو کی داخلی قوت کا ثبوت ہے کہ وہ ہند و پاکستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ ’’ٹورانٹو اسٹار‘‘ (کینیڈا) کے ایک سروے کے مطابق چینی زبان کے بعد اردو دنیا کی دوسری سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی زبان ہے۔ جہاں تک اردو ادب کا تعلق ہے تو یہ بھی تقریباً ساری دنیا میں لکھا جا رہا ہے۔ کہیں کہیں بہت سنجیدگی سے اعلیٰ درجے کا تخلیقی کام بھی ہو رہا ہے۔ ایک ادبی رسالے کے مدیر کی حیثیت سے میں اردو ادب کا مستقبل بہت تابناک دیکھتا ہوں۔

٭       کیا آپ اپنی ادبی فتوحات سے مطمئن ہیں؟

کون دعویٰ کرے تکمیل ہنر کا شبنمؔ

کہ یہ عالم ہی ابھی عالمِ تشکیل میں ہے

                                                                        (جولائی ۱۹۹۴ء)

٭٭٭

 

ڈاکٹر جمیل جالبی

(۱۲ جون ۱۹۲۹ء)

٭       آپ کو کمشنر انکم ٹیکس، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی اور چیئرمین مقتدرہ قومی زبان، کس حیثیت میں کام کرنے کا لطف آیا؟

٭٭   ہر کام کی نوعیت اور مزاج مختلف ہوتا ہے جو آدمی اپنے ضمیر کی آواز کے ساتھ کام کرتا ہے تو ہر کام میں لطف آتا ہے۔ اب اس لطف کو بتانا اور اسے مقیاس الحرارت سے ناپنا میرا کام نہیں ہے۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ جہاں جہاں میں نے کام کیا ہے اس کے بارے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں۔ اصل آواز تو یہاں دوسروں کی بامعنی ہو سکتی ہے۔

٭       تخلیقی کام میں شعر یا پلاٹ کی صورت میں آمد ہوتی ہے، تحقیقی و تنقیدی کام میں طبیعت کس طرح آمادہ ہوتی ہے؟

٭٭   کام کوئی سا بھی ہو وہ نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے جس طرح تخلیقی کام کی نوعیت الگ ہوتی ہے، اسی طرح تحقیقی، تنقیدی اور فکری کام کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے مثلاً افسانہ نگار جس واقعہ کا مشاہدہ کرتا ہے یا جس تجربے سے گزرتا ہے وہ واقعہ یا تجربہ کہانی کا روپ دھار لیتا ہے اور پلاٹ بن جاتا ہے۔ مفکر کے ہاں وہ ’’سوال‘‘ بن جاتا ہے، محقق کے ہاں ’’مسئلہ‘‘ بن جاتا ہے اور نقاد کے ہاں تجزیہ اور فن پارے کی قدرو قیمت متعین کرنے کا عمل بن جاتا ہے۔نقاد کے ہاں سوال اور مسئلہ مل کر ایک ہو جاتے ہیں اور اس کا اظہار ادبی رہتا ہے۔ جس طرح انسان مختلف ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کے مزاج اور ان کے ذہن بھی مختلف ہوتے ہیں۔ نہ سب فکشن نگار بن سکتے ہیں، نہ سب شاعر بن سکتے ہیں، نہ سب نقاد بن سکتے ہیں، نہ سب محقق بن سکتے ہیں۔ اپنے مزاج کے مطابق ہر لکھنے والا اپنا راستہ مقرر کرتا ہے اور اس راستے پر چلنے میں اسے ویسا ہی لطف آتا ہے جس طرح شاعر کو شعر کہنے میں، افسانہ نگار کو افسانہ لکھنے میں اور نقاد کو تجزیہ کرنے میں۔ اگر یہ ذہنی آمادگی نہ ہو تو لکھنے والا لکھ نہیں سکتا۔

٭       ادب کی کون سی صنف آپ کے نزدیک زیادہ اثر انگیز ہے …… شاعری، افسانہ، ناول یا ڈرامہ؟

٭٭   ادب صرف اصناف کی بنیاد پر ہی وجود میں نہیں آتا بلکہ اصل بات وہ تجربہ، وہ احساس، وہ ادراک یا شعور ہے جو ادب کو تخلیق کرتا ہے اور جب کوئی بات، کوئی احساس یا احساس جمال لکھنے والے کو متاثر کرتا ہے تو وہ اس صنف کو اختیار کرتا ہے جس صنف کے ذریعے اس کی بات زیادہ مؤثر طریقے سے دوسروں تک پہنچ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک بات کو بیان کرنے کے لئے مضمون لکھنا مناسب ہو۔ ممکن ہے کہ کسی دوسری بات کو پیش کرنے کے لئے افسانہ بہتر صنف ہو۔ ہر صنف اپنا اثر رکھتی ہے۔ شعر سب سے زیادہ پُر اثر تخلیقی سرگرمی ہے۔ فکشن چونکہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور اس کی نوعیت اور مزاج مختلف ہے اس لئے یہ شعر سے مختلف چیز ہے۔ مجھے شعر بہت متاثر کرتا ہے۔ مجھے فکشن سے گہری دلچسپی ہے۔ اس لئے دو ٹوک فصیلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کون سی صنف زیادہ متاثر کرتی ہے۔ یہ تو موقع محل کی بات ہے۔

٭       تخلیقی عمل کی پیش رفت کے لئے تنقیدی عمل کیوں ضروری ہے؟

٭٭   تخلیقی عمل اور تنقیدی عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ جب تخلیقی عمل شروع ہوتا ہے تو اسے صحیح معنوں میں فنی صورت دینے میں تنقیدی عمل مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ بات کس طرح بیان کی جائے، اظہار کے لئے کسی لفظ کی کیا نوعیت ہے۔ اسے پراثر فنی انداز میں کس صورت میں پیش کیا جانا چاہئے؟ یہ عمل تخلیقی ہوتے ہوئے بھی تنقیدی ہوتا ہے اور تخلیق کے ساتھ چلتا رہتا ہے جو تخلیق کار تنقیدی عمل سے نہیں گزرتے ان کا فن کمزور اور غیر مؤثر رہتا ہے۔ تخلیقی سطح پر اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ تخلیق کار اپنے احساس، جذبے اور تجربے کو کس طرح پیش کرے کہ وہ تجربہ، احساس یا جذبہ پورے طور پر دوسروں تک پہنچ سکے اور اس سطح پر تنقیدی عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ فنکار کو تخلیقی عمل سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کے لئے اپنے اندر قوت اور استعداد پیدا کرنی چاہئے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں فن پارہ تخلیق کر سکے۔

٭       نقاد ہر کوئی بن سکتا ہے یا بن جاتا ہے۔ کیا اس کے لئے معیار ضروری نہیں؟

٭٭   جب آپ ایک شعر سنتے ہیں اور اس شعر کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں تو آپ کا ذہن تنقیدی عمل سے گزرتا ہے اور اس عمل کا اظہار تنقید ہے۔ جیسے ہر شخص شاعر نہیں بن سکتا، جیسے ہر شخص فکشن نگار نہیں بن سکتا، اسی طرح ہر شخص نقاد بھی نہیں بن سکتا۔ اصل مسئلہ اس معیار، اس سوچ، اس فکر کا ہوتا ہے کہ جو ایک حقیقی نقاد میں موجود ہوتی ہے۔ بلند پایہ نقاد اتنا ہی کم یاب ہوتا ہے جتنا ایک بلند پایہ افسانہ نگار۔

٭       آزاد شاعری کی پیش رفت نے پابند شاعری کو کس حد متاثر کیا ہے؟ آپ کے نزدیک یہ اثرات صحت مندانہ ہیں یا مستقبل میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ پابند شاعری آزاد شاعری کی یلغار میں دب کر رہ جائے۔

٭٭   آزاد شاعری دراصل جدید حسیت کا اظہار ہے اور اسی لئے استعمال میں آئی اور مقبول ہوئی کہ جدید حسیت کو پوری طرح ردیف اور قافئے کی پابندی کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ پابند شاعری مختلف اصناف سخن میں اپنا کام کرتی ہے اور یہاں بھی دونوں کی نوعیتیں اور مزاج مختلف ہیں۔ مثلاً پابند شاعری صوتی آہنگ کے اعتبار سے آزاد شاعری سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے لیکن اگر اس کے پیچھے وہ تجربہ کام نہیں کر رہا ہے یا اس کا پوری طرح سے اظہار نہیں ہو پا رہا ہے تو صوتی حسن کے باوجود شعر بے اثر رہے گا۔ غزل پابند شاعری ہے اور یہ آج بھی کامیابی سے استعمال ہو رہی ہے اور آج بھی مقبول صنف سخن ہے۔ قصیدہ پابند شاعری ہے لیکن آج وہ استعمال میں نہیں آ رہا ہے، لیکن اگر پابند شاعری کسی نئی حسیت کے ساتھ لکھی گئی ہے تو پھر بات دوسری ہے۔اصل مسئلہ پابند شاعری اور آزاد شاعری کا نہیں ہے بنیادی بات تو اس تجربے یا احساس کی ہے کہ جو شاعری میں بیان کیا جا رہا ہے۔

٭       افسانے میں کہانی کی آج کل کیا اہمیت ہے؟

٭٭   افسانے میں کہانی ہمیشہ اہم رہی ہے اور آج پھر دوبارہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ بیچ میں جو پابندیوں اور مارشل لاؤں کا دور آیا تھا اس میں فکشن نگار نے اپنے اظہار کو زندہ و باقی رکھنے کے لئے علامت کو جدید فکشن میں استعمال کیا تھا لیکن یہاں بھی اچھے افسانوں میں کہانی کا عنصر ہمیشہ موجود رہا۔ علامتی کہانیوں میں جس بات پر زیادہ توجہ دی گئی تھی وہ اظہار بیان تھا اور اس میں شاعرانہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا تھا کہ بات کو، مارشل لاء کے دورمیں، چھپا کر، پردے میں ابہام کے ساتھ بیان کیا جا سکے۔

٭       اردو نثر اس صدی کے پہلے نصف میں بہتر لکھی گئی یا دوسرے نصف میں؟

٭٭   اچھی نثر لکھنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا اچھا شعر کہنا۔ اس صدی کے نصف اول میں بھی بعض اچھی نثری تحریریں سامنے آئی ہیں اور دوسری نصف صدی میں بھی اچھی تحریریں لکھی جا رہی ہیں لیکن عام طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے نئے لکھنے والے اچھی نثر لکھنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کا خود اپنے ادب کا مطالعہ شاید ناقص ہے۔ وہ اس زبان کے ادب سے، جس میں وہ لکھ رہے ہیں، پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ پھر انگریزی کتابیں پڑھ کر، انگریز ی ترکیب نحوی کے مطابق، الفاظ اور تراکیب کے بھونڈے اردو ترجموں کے ساتھ اردو نثر لکھ رہے ہیں، اس لئے آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ اردو میں اچھی نثر نہیں لکھی جا رہی ہے۔ اچھی نثر ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی مہک ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔

٭       اردو شاعری کا عالمی ادب میں کیا مقام ہے اور نثر کس مقام پر کھڑی ہے؟

٭٭   اردو شاعری نے ایسے عظیم شعرا کو جنم دیا ہے کہ جن کا جواب عالمی ادب میں مشکل سے ملے گا مثلاً غالب کی شاعری یا اقبال کی شاعری۔ شاعری کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اگر اردو شاعری کے اچھے ترجمے مختلف زبانوں میں ہو جائیں تو پھر وہ لطیف شعری حسیت، احساس جمال، شعری پیکر اور استعارے سامنے آ سکیں گے جو خود عالمی شاعری کے لئے منفرد اور نئے ہوں گے۔ شاعری آفاقی اور عظیم صنف ہونے کے باوجود گہری مقامیت کی حامل ہوتی ہے اسی لئے شاعری کا ترجمہ بہت مشکل کام ہے۔ کہانی اور سائنسی تجربے آسانی سے ترجمہ ہو سکتے ہیں لیکن شاعری کے جمال احساس اور لہجے کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ اردو شاعری نے یقیناً بڑی شاعری کے اعلیٰ نمونے پیش کئے ہیں۔

٭       ماضی میں اردو زبان کا رسم الخط بدلنے کی باتیں ہوتی رہیں۔ غالباً ترقی پسند ادیبوں نے قرارداد بھی منظور کر لی تھی۔ اب اردو کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ کمپیوٹر کے آنے سے اردو رسم الخط محفوظ ہو گیا ہے آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟

٭٭   رسم الخط کا کسی زبان سے وہی تعلق ہوتا ہے جو ایک انسان کا اس کے خدوخال سے ہوتا ہے۔ آپ خدوخال بدل دیجئے تو انسان کا روپ بدل جائے گا۔ میں نے اس زمانے میں جب ہندوستان میں اردو رسم الخط کو بدلنے کی تحریک چل رہی تھی تو سہ ماہی ’’نیادور‘‘ میں اسی موضوع پر ایک حصہ بنایا تھا اور اس کے لئے ایک مضمون خود بھی لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’صورت اور معنی کا رشتہ‘‘ یہ مضمون میری کتاب ’’نئی تنقید‘‘ میں بھی شامل ہے۔ اس میں وضاحت کے ساتھ میں نے وہ دلائل دیئے تھے جن کے باعث اردو رسم الخط کو بدلنے کے معنی تہذیب کو بدلنے کے ہیں۔ اردو رسم الخط بھی عربی، فارسی کی طرح سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ کی طرف لکھا جاتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے آپ اپنے ہر کام کے لئے سیدھا ہاتھ استعمال کرتے ہیں اور سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ کی طرف جانا بذات خود فطری عمل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کی تہذیب سیدھے ہاتھ کی تہذیب ہے۔ آپ کھانا کھاتے ہیں تو سیدھے ہاتھ سے۔ بچہ اگر الٹے ہاتھ سے کھانا کھائے تو آپ اسے ٹوکتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے جب سلام پھیرتے ہیں تو پہلے سیدھی طرف سلام کرتے ہیں اور پھر بائیں طرف۔ طواف کعبہ کرتے ہیں تو سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ کی طرف جاتے ہیں۔ دستر خوان پر روٹی رکھی جاتی ہے تو سیدھے ہاتھ کی طرف رکھی جاتی ہے۔ سیدھے ہاتھ کا ذکر خود قرآن میں آیا ہے۔ چونکہ مسلمانوں کی تہذیب سیدھے ہاتھ کی تہذیب ہے اس لئے ہمارا رسم الخط بھی دائیں سے بائیں طرف لکھا جاتا ہے اور اسے بدلنے کی معنی یہ ہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو بدلنا چاہتے ہیں۔ تہذیب کو بدلنے کے کیا معنی ہیں اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ آپ اپنی شناخت گم کر کے دوسری تہذیبوں اور اقوام کی محکومیت میں آنے کے خواہش مند ہیں۔

            کمپیوٹر نے یقیناً وہ ساری مشکلات دور کر دی ہیں جو ہاتھ کی کتابت سے اردو والے محسوس کر رہے تھے۔ اب اردو کمپیوٹر بھی موجود ہے اور لفظ کار (ورڈ پروسیسر) بھی۔ اردو رسم الخط اتنا ہی آسان یا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی دوسری زبان کا رسم الخط ہو سکتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ایک سیاسی مسئلہ تھا جو ہندوستان میں مسلمانوں کو محکوم کرنے اور ان کو اپنی تہذیب سے دور اور ہندوستانی تہذیب میں جذب کر کے بے شناخت کرنے کے لئے اٹھایا گیا تھا۔

٭       مقتدرہ قومی زبان کا قیام 15برس قبل عمل میں آیا تھا اس عرصے میں مقتدرہ کی مساعی سے قومی زبان نے دفتری زبان کی سمت کتنی مسافت طے کی ہے؟

٭٭   مقتدرہ قومی زبان 4 اکتوبر 1979ء کو وجود میں آیا تھا۔ گذشتہ 13سال میں مقتدرہ نے فروغ اردو اور نفاذ اردو کے لئے کم و بیش بنیادی کام کر دیا ہے۔ دفتروں میں اردو کو نافذ کرنے کے لئے نہ صرف اردو مختصر نویس اور اردو ٹائپ کار ہزاروں کی تعداد میں تیار کئے ہیں بلکہ اصطلاحات، لغات اور دوسرا ضروری مواد خواندگی بھی شائع کر دیا ہے جس سے نفاذ اردو میں آسانیاں پیدا ہو سکیں گی۔ بہت سی تیاری ہو چکی ہے اور کچھ تیاری حسب ضرورت اور ہو جائے گی۔ اصل مسئلہ تو صاحبان اختیار کا ہے کہ جو اسے نافذ نہیں کر رہے ہیں۔ نفاذ ہو تو سارا عمل خود تیز ہو جائے گا اور مختصر عرصے میں سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ جیسے چلتی گاڑی میں پہیہ نہیں بدلا جا سکتا اسی طرح پاکستان میں، انگریزی زبان کے استعمال کی رینگتی ہوئی گاڑی میں، نفاذ اردو کیسے ہو گا؟ نفاذ اردو کا فیصلہ اگر قومی ضرورت اور تقاضوں کے مطابق کر دیا جائے تو چند سالوں ہی میں عوام سارے اقتدار اختیار اور دفتری نظام میں، میٹھے رس دار پھل کی طرح، قومی زندگی کے شجر کا حصہ بن جائیں گے اور پاکستان میں انصاف اور ترقی کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔ اقتدار ایک محدود طبقے سے نکل کر ساری قوم کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ نفاذ اردو کو روک کر عوام کو اقتدار سے دور رکھنے کا عمل قومی زندگی کے لئے یقیناً بہت نقصان دہ ہے۔

٭       ادبی گروہ بندیاں ہمارے یہاں ہی پائی جاتی ہیں یا کہیں اور بھی ان کا وجود ہے۔ اس زہر قاتل سے ادب کو کیونکر نجات مل سکتی ہے؟

٭٭   ادبی گروہ بندیاں ہر ملک اور ہر زبان کے بولنے والوں میں پائی جاتی ہیں۔ اگر ادبی گروہ بندیاں کسی انداز فکر، حسیت، تجربے اور تحقیق کے تعلق سے ہوں تو یہ ایک صحت مند بات ہے۔ اسے ہونا چاہئے لیکن اگر گروہ بندیاں بہر تقسیم قبور ہیں یا پی آر کے ذریعے سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ تو یہ نقصان دہ ہیں اور منفی بات ہے جو کہ یقیناً فروغ ادب کے لئے زہر قاتل ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جو لوگ سوڈو ادیب ہوتے ہیں وہ جوڑ توڑ کر کے ان جگہوں پر جا بیٹھتے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ کسی حقیقی اور سچے ادیب کو اندر گھسنے نہیں دیتے تاکہ ان کا سوڈو پن ظاہر نہ ہو جائے۔ ایزرا پاؤنڈ نے، مجھے یاد آیا، اپنے مضمون A Serious Artistمیں اسی بات کو بیان کیا ہے۔ہمارے ہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ بہرحال سچا ادیب دکھ بھوگ کر، مادی و مالی مشکلات سے دوچار ہو کر اپنا راستہ نکالتا ہے۔ تخلیقی قوت وہ شعلہ ہے جو بجھتا نہیں ہے لیکن اگر ایسی صورتحال پیدا ہو جائے یا ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ جس میں تخلیق کار اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکے تو ادب کی بیل پر جلد اور بہت سے گل کھلنے لگتے ہیں۔ اس کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ لکھنے والے کو اگر اس کی تخلیقات اور تحریرات کا معقول معاوضہ یا رائلٹی ملنے لگے تو پھر اس صورتحال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت بھی آ سکتی ہے اگر ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کتاب پڑھنے لگے۔

٭       اگر کوئی تہذیبی تعلیمی ادارہ صحیح کام نہیں کر رہا ہے تو کیا اسے توڑ نہیں دینا چاہئے؟

٭٭   نا مولانا ! مجھے آپ کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔ مجھے ایک پشتو کہاوت یاد آئی جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مسجد کا ملا خراب ہو جائے تو مسجد کو نہیں ڈھاتے بلکہ ملّا کو نکال دیتے ہیں تو ہمارے ہاں عام طور پر افراد کی غلطیوں کو اداروں کے سرتھوپ کر ادارے ڈھانے کا کام مسلسل تیس،چالیس سال سے ہو رہا ہے جو قومی زندگی کے لئے صحت مند نہیں ہے۔ اچھے اہل اور لگ کر کام کرنے والے افراد اداروں میں لائیے تو ادارے ترقی کریں گے۔

٭       قومی زوال کی تشخیص کرتے ہوئے کسی ایک سبب کو آپ اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے؟

٭٭   قومی زوال کا ایک اور واحد سبب یہ ہے کہ ہم نے معاشرتی، معاشی اور طبقاتی سطح پر نا انصافیوں کو انصاف بنا رکھا ہے اور ساری خرابیاں،ساری بربادیاں،ساری برائیاں اور سارے بحران اسی کی کوکھ سے پیدا ہو رہے ہیں۔

            (اگست ۱۹۹۲ء)

٭٭٭

 

دلاور فگار

(۸ جولائی ۱۹۲۹ء)

٭       ماضی کے جھروکوں سے چند خوشگوار یادیں کھینچ لائیے؟

٭٭   مجھے بچپن ہی سے شعر یاد کرنے کا شوق تھا۔ آٹھ دس سال کی عمر میں کئی ہزار شعر یاد تھے۔ اسلامیہ سکول بدایوں میں بیت بازی ہوتی تھی۔ میں جس ٹیم میں شامل ہوتا تھا وہی جیت جاتی تھی ایک دفعہ بیت بازی کے لئے سکول میں آخری تین گھنٹے کی چھٹی ہوئی۔ ہماری ٹیم اور مخالف ٹیم ہال میں جمع ہوئی۔ طلباء و سامعین بلکہ تماشبین تھے۔ ہم نے بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم کہا۔ مخالف ٹیم کو م کا شعر نہیں یاد تھا۔ مقابلہ بغیر شروع ہوئے ختم ہوا۔ ہم جیت گئے لیکن ہیڈ ماسٹر صاحب مخالف ٹیم پر ناراض ہوئے۔ کہ م کا شعر بھی یاد نہیں تھا تو بیت بازی کی درخواست کر کے چھٹی کیوں کروائی تھی۔ اب بیت بازی کی بجائے تمہاری بید بازی ہو گی۔ آہ وہ بھی کیا دن تھے؟

اسیر پنجہ، عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا میرا بچپن خراب کر کے مجھے

بچپن گزرا لڑکپن آیا شاعری شروع کی تو میں نے تخلص بھی شباب رکھا۔ فگار بعد میں ہوا۔

٭       شعر و سخن سے باقاعدہ تعلق کس عمر سے بنا؟

٭٭   شاعری تقریباً ۱۵ سال کی عمر سے شروع کی اب صحیح تاریخ پیدائش شاعر تو یاد نہیں وجہ شاعری خاندانی اور شہر کا ماحول تھا۔ بدایوں شریف میں میں جس محلے میں رہتا تھا اس کے گھر گھر میں شاعری کا چرچا تھا خاندان میں سبھی بزرگ شاعر تھے یہ فہرست بہت طویل ہے ماموں، نانا، خالو، ماموں زاد بھائی سبھی شعراء تھے۔ پھر مجھے شاعری کا متعدی مرض کیسے نہیں لگتا۔ شاعری مجھے ورثہ میں ملی ہے۔

٭       جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ابتداء میں آپ رومانوی شاعر تھے مزاح کی طرف رغبت ارادی تھی یا اس جانب رغبت کا سبب کچھ اور تھا؟

٭٭   رومانی غزلیں صرف آٹھ دس سال کہیں۔ ایک مجموعہ حادثے سے شائع ہو گیا اتفاقاً پھر برسوں ہی کوئی غزل کہہ لی تو کہہ لی۔

            مزاح کی حس قدرت کی طرف سے ملی تھی۔ اور طبیعت میں طنزو مزاح کا جوہر قدرت کی دین تھا۔ لیکن مزاح نگار بننے کا ارادہ نہیں تھا۔ اس دور میں مزاح نگار شاعر عموماً غزلیں کہتے تھے۔ ضمیر جعفری، رئیس امروہی، اور سید محمد جعفری کی طرح مہذب مزاحیہ شاعری نہیں کرتے تھے میں نے بھی ایک غزل گو پالا تھا۔ اس کو بمبئی کے ایک مشاعرے کا دعوت نامہ ملا غزل میں نے کہی جو کچھ Cultured تھی یہ شخص پڑھا لکھا اتنا نہیں تھا غزل دوسروں سے لکھوا کر مشاعرے میں صحیح پڑھ دیتا تھا۔ اس نے بمبئی کا مشاعرہ لوٹ لیا۔ فلم انڈسٹری کی عظیم شخصیات مشاعرے میں سامع تھیں۔ مشاعرے میں فرقت کاکوروی، کباب علیگ، ماچس لکھنؤی، ڈنڈا، جھنجھٹ، ڈیٹ اور نا جانے کون کون مزاح گو شعراء موجود تھے۔ نوشاد صاحب کی صدارت تھی۔ شکیل بدایونی اناؤنسر تھے۔ مشاعرے کے بعد ان پر راز کھل گیا کہ یہ شاعر جو ان کے وطن بدایوں سے آیا ہے غزل مجھ سے لکھوا کر لایا ہے His Master’s Voice ہے شکیل بھائی نے مجھے بدایوں میں شاعر کی حیثیت سے نہیں دیکھا تھا عرصہ سے بمبئی میں تھے۔ میرے والد شکیل بھائی کے اسکول میں استاد تھے۔ شکیل بھائی کو جب معلوم ہوا کہ میں شاکر حسین ان کے استاد کا بیٹا ہوں۔ انہوں نے مجھے خط لکھا اور مشورہ دیا کہ تم اپنے Talent کو اس شاعر پر ضائع نہ کرو یہ بڑی محفلوں میں بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ بدایوں بدنام ہو گا۔ تم غزل گوئی چھوڑ کر طنزیہ و مزاحیہ شاعری خود شروع کرو۔ اور اس مقامی غزل گو کو اپنی تفریح کے لئے بدایوں تک محدود رکھو۔ میں نے شکیل مرحوم کے اس مشورے پر عمل کیا اور ایک سال میں آل انڈیا طنز و مزاح نگار شاعر بن گیا نئی دنیا و دیگر جرائد میں طنزیہ و مزاحیہ قطعات مسلسل لکھے۔ گویا یہ موڑ شکیل بھائی کے مشورے پر آیا ہے۔ آگے کہانی بہت لمبی ہے۔ میں داستان کہتے کہتے دور نکل جاؤں گا۔ اس انقلاب کے بعد میں نے شباب تخلص ترک کر کے فگار اختیار کر لیا۔

٭       کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہر بڑا مزاح نگار اندر سے طبیعت کا خشک اور مزاج کا سنجیدہ ہوتا ہے؟

٭٭   جی ہاں میں اس بات سے متفق ہوں کہ مزاح نگار اندر سے ایک سنجیدہ بلکہ رنجیدہ شخص ہوتا ہے اور طنز و مزاح کے ذریعہ اس کے اندرونی کرب کا اظہار ہوتا ہے۔ چنانچہ پروفیسر رشید احمد صدیقی، مشتاق یوسفی، ضمیر جعفری، پروفیسر انور مسعود اور دلاور فگار سب پر اس صداقت کا اطلاق ہوتا ہے۔ طنز و مزاح نگاری ہمارے اندرونی کرب کا اظہار ضرور ہے مگر ہم مردہ دل لوگ نہیں۔ زندہ دل بھی ہیں۔ ہمارے حالات بلکہ معاشرہ ہم کو جو دکھ دیتا ہے ہم اس کو طنزو مزاح کے پیرایہ میں ظاہر کر کے اپنے پر بھی ہنستے ہیں اور دوسروں پر بھی۔ ہنستے اس لیے ہیں کہ ان حالات پر رونا ہوتا ہے یہ سامان گرچہ نہ ہو تو ہماری ظرافت ہمارا خندہ ہمارے قہقہے ہماری ہنسی کچھ نہ ہو۔

٭       ایک تاثر یہ ہے کہ مزاح نگار کے حالات کی تلخی جب اس کے اعصاب پر سوار ہوتی ہے تو وہ طنز نگار بن جاتا ہے؟

٭٭   یہ صحیح ہے کہ ایک جینئس شاعر اپنے تجربات اور مشاہدات کو شعر کا جامعہ پہناتا ہے اور بقول ساحر لدھیانوی میرا بھی یہی حال ہے کہ ؂

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

Mجو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

&٭    سنجیدہ شاعری میں عرض مدعا بین السطور بیان کیا جاتا ہے۔ جبکہ مزاح میں تیر نشانے پر لگانا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کے نزدیک کون سا طریقہ صائب ہے؟

٭٭   نہیں صاحب مجھے اختلاف ہے۔ سنجیدہ شاعری ہو یا مزاحیہ شاعری۔ دونوں میدانوں میں تیر Indirectly چلانا پڑتا ہے ورنہ پھر ادب اور عام گفتگو میں فرق کیا رہ جائے گا۔ ہم کو بات یوں کہنے کا سلیقہ آنا چاہیئے کہ گالی بھی دیں تو یہ معلوم ہو کہ تعریف کر رہے ہیں۔ ضمیر بھائی نے کسی انگریز کے شعر کا کس خوبصورتی سے ترجمہ کیا ہے۔ یہ ہے کمال تیر اندازی۔ فرماتے ہیں ؂

میری بیوی قبر میں سوتی ہے جس ہنگام سے

وہ بھی ہے آرام سے اور میں بھی ہوں آرام سے

٭       ایک طبقہ کی رائے میں آپ مشاعرے یعنی پرفارم کے شاعر ہیں آپ اس رائے سے اختلاف کریں گے یا اتفاق؟

٭٭   جس طبقہ کی رائے میں میں مشاعروں میں پرفارمنس کا شاعر ہوں اس طبقہ میں خود ایسے شعراء ہوں گے جو Performance کے شعراء ہوں گے۔ میں اسٹیج پر اداکاری کے خلاف ہوں اور نہ اداکاری مجھے آتی ہے نہ کمر چلا کر ہاتھ پاؤں مار کر کولھے مٹکا کر میں شعر پڑھ سکتا ہوں۔ یہ طبقہ بھی خوب ہے جو بالکل غلط بات کہتا ہے دراصل ہمارے وطن پاکستان میں اسٹیج پر پرفارمنس پوئٹری کی روایت ہی نہیں ہے۔

٭       ایک اور مکتبہ فکر کے خیال میں آپ کا مزاح یکسانیت کا شکار ہے۔ چالیس سال قبل لکھے گئے مزاح اور آج کل لکھے جانے والے مزاح میں ایک ہی لے اور بحر کی گردان نظر آتی ہے؟

٭٭   وہ مکتبہ فکر جس کے خیال میں میرا مزاح یکسانیت کا شکار ہے اچھا مکتبہ فکر ہے۔ بات صحیح کہتا ہے لیکن تجزیہ صحیح نہیں کرتا۔ چالیس سال پہلے لکھے گئے اور آج کے لکھے ہوئے میرے کلام میں اگر لے اور لہجہ کا کوئی فرق نہیں ہے تو اس کی کچھ وجہ بھی ہے اور وہ وجہ یہی ہے کہ حالات بھی یکساں چلے آ رہے ہیں۔ میں خود کہہ چکا ہوں کہ حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے اور پھر مزاح میں یکسانیت یا یوں کہئیے ہمواری اور ایک ہی سطح یک رنگی اور یک لہجگی تو میرے بھائی ایک حسن ہے نہ کہ عیب ہے اور یہ حسن سید محمد جعفری، پروفیسر انور مسعود اور پروفیسر عنایت علی خان جیسے ہر بڑے مزاح نگار کے یہاں پایا جاتا ہے۔ میں اس مکتبہ فکر کا شکر گزار ہوں جس نے مجھ پر یہ تہمت لگا کر مجھے ایک سند دے دی۔

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

٭       بچپن لڑکپن جوانی یعنی عمر عزیز کا بڑا حصہ آبائی وطن بدایوں میں گزارنے کے بعد پاکستان ہجرت کے اسباب کیا تھے؟

٭٭   مجھے اپنے پاکستانی عزیزوں اور پاکستان کی محبت پاکستان لائی اور میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آیا۔ میرے سارے اعزا اور اقربا شروع ہی میں پاکستان آ چکے تھے میں بدایوں میں خوشحال ضرور تھا اور یہاں بھی شکستہ حال اور بدحال نہیں۔ لیکن ۱۹۶۹ء میں ہجرت کی وجہ پاکستان سے محبت تھی اور ہے سارے ہی اعزا Blood Relatives پاکستانی ہو چکے تھے یوں کہئیے کہ انڈیا سے آب و دانہ اٹھ گیا تھا، آگے یہ کہانی بھی لمبی ہے۔

٭       پاکستان منتقلی کے بعد آپ کو کس قسم کے معاشی، معاشرتی، ادبی اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟

٭٭   آپ نے تو ایک سانس میں کئی قسم کے مسائل کا ذکر کر دیا، پاکستان ہجرت کے بعد مجھے جو معاشی، معاشرتی ادبی اور ماحولیاتی مسائل پیش آئے ان کے بارے میں مختصراً یہ عرض ہے کہ

            معاشی مسائل کا گراف نشیب و فراز ظاہر کرتا رہا کبھی پست کبھی بلند۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ معاشی مسائل حل کرنے کے لئے میں بدمعاشی کی طرف کبھی مائل نہیں ہوا۔ معاشرتی مسائل بہت سنگین تھے۔ کراچی کے معاشرہ میں جو قدریں عام ہیں یعنی شاعروں میں Lobbing اور پبلک ریلیشننگ ان کا مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا لہٰذا مشکلات پیش آئیں۔ لیکن قابو پا ہی لیا جاتا ہے۔ ادبی مسائل کا ذکر کیا کروں۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ آپ ’’چہارسو‘‘ کو کس طرح ’’چہارسو‘‘ پہنچا رہے ہیں اور قائم رکھے ہوئے ہیں۔ وہ آندھیاں چل رہی ہیں کہ ادب کے چراغ کا روشن رہنا ہی مشکل ہے۔ تمام ادبی قدریں تقریباً بدل چکی ہیں۔ چند اگلے زمانے والے لوگ جن کے دم سے آج بھی ادب قائم ہے ان کے بعد کیا ہو گا وہی ہو گا جو اکبر الہ آبادی کہہ گئے ہیں۔ پلاؤ کھائیں گے احباب……. ایسے میں مجھے کیا ہر شاعر اور ادیب کو ادبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جب تک زندہ ہیں یہ مقابلہ کرتے رہیں گے۔ آخر میں ماحولیاتی مسائل کے بارے میں جو استفسار فرمایا ہے سو جواباً عرض ہے کہ کراچی میں بڑی ماحولیاتی آلودگی ہے پانی آلودہ، فضا آلودہ، ہوا آلودہ ایسے میں ذہن آسودہ کیسے رہے۔ پھر بھی اس شہر کراچی اس ملک پاکستان سے محبت ہے اس لیے اس ’’آلودگی‘‘ کی فضا میں سانس لے کر بھی خوش ہیں۔ اور ایک دن وہ بھی آئے گا کہ آلودگی دور ہو جائے گی اور ذہنوں کو آسودگی ملے گی۔

٭       بھارت اور پاکستان کے ادبی ماحول کا موازنہ آپ کس طرح کریں گے؟

٭٭   اس مسئلے پر بہتر انداز میں روشنی تو جناب ضمیر جعفری اور جناب احمد ندیم قاسمی ہی ڈال سکتے ہیں میں بے ادب موازنہ انیس و دبیر سے گھبراتا ہوں۔ البتہ اتنا ضرور عرض کروں گا کہ ہندوستان کا ادیب اور شاعر ناسازگار فضا میں اردو ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ جب کہ ہمیں ان کی نسبت خوشگوار، فضا میسر ہے۔ پاکستان کی نسبت انڈیا میں مشاعروں کا رواج زیادہ ہے۔ اسی غرض سے وہاں ناظرین، سامعین اور تماش بین بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اب یہ سوال بھی بحث طلب ہے کہ آج کے مشاعرے کا ادب سے کوئی تعلق ہے بھی کہ نہیں۔ بہرحال انڈ و پاک کے وہ شاعر قابل مبارک باد ہیں جو مشاعروں کو رونق بخشنے کے ساتھ ادب میں بھی بلند مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان کی حد تک ادب کی ترقی و ترویج میں اکادمی ادبیات پاکستان مستحسن خدمات انجام دے رہی ہے۔

٭       انڈو پاک میں لکھے جانے والے مزاحیہ ادب کے نثری و نظمی حصے میں سے کون سا حصہ توانا اور پُر اثر ہے؟

٭٭   انڈو پاک میں لکھے جانے والے مزاحیہ نثری و نظمی حصوں میں سے نثری حصہ بہتر ہے۔ شعری حصہ نسبتاً کمزور ہے۔ میں خود مزاح نگار شاعر ہوں۔ نثر میں، میں نے دو ایک ہی مضامین لکھے ہیں مگر حق بات یہی ہے کہ مزاح میں نثر نظم سے آگے ہے دو چار مزاح نگار شاعر نظم کو آگے بڑھاتے ہیں تو بہت سے شعراء اس کو پیچھے کھینچ لاتے ہیں۔ ایک طبقہ وہ بھی ہے جو نثر میں شاعری کر رہا ہے کوئی عروض اور اوزان کی پابندی ہی نہیں۔ تک بندی مزاحیہ شاعری ہو جائے تو نظم آگے کیا بڑھے گی۔دعا کیجئے گلزار جاوید صاحب اور یہ کہئے کہ

                                    اے خاصۂ خلمان رسل وقت دعا ہے

٭       کتاب سے عاری گالی اور گولی کے اس پر تعصب دور میں ادب بالخصوص مزاحیہ ادب کی کیا اہمیت ہے یعنی اس کے ذریعے مفید نتائج حاصل کرنے کے کیا امکانات ہیں؟

٭٭   گولی اور گالی کے اس دور میں مزاحیہ ادب سے کسی اصلاح کی توقع نہ کیجئے بلکہ مجھے تو اندیشہ ہے کہ کسی طنزو مزاح نگار نے کوئی تلخ اور حق بات کہہ دی تو کوئی سامع کلاشنکوف کا برسٹ مار کر اس کو داد نہ دیدے۔ میں خود ایک بار گولی کا نشانہ ہوتے ہوتے بچا ہوں۔

٭       ملکی خاص کر کراچی کے حالات کے پیش نظر آپ کسی قسم کا جبر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا کوئی حل بھی یقیناً آپ کے ذہن میں ہو گا؟

٭٭   کراچی کے حالات کے پیش نظر میں جو جبر اور دباؤ محسوس کرتا ہوں اس کا حل یہ ہے کہ ہر مزاح نگار ایسی مزاحیہ شاعری کرے جس سے فضا کی گھٹن کم ہو اور عوام کی دل کی آواز ایوانوں تک پہنچے ہمارے کچھ بھائی یہ فرض ادا کر رہے ہیں۔

٭       طبقاتی تقسیم در تقسیم میں ادیب اور اہل قلم بھی مبتلا ہیں نوجوان نسل اب رہنمائی کے لیے کس کی طرف دیکھے؟

٭٭   یقیناً طبقاتی تقسیم میں ادبا شعراء اور دانشور بھی مبتلا ہیں۔ آپ پوچھتے ہیں کہ کس کی طرف دیکھا جائے۔ جو اب یہ ہے کہ اوپر والے کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کی طرف۔

خدا پر رکھ بھروسہ ناخدا کیا کام آئے گا

اٹھاتا ہے جو طوفاں روک بھی سکتا ہے طوفاں کو

مسائل کے حل کے لیے یا تو اللہ کی طرف دیکھے یا پھر دیکھے ہی نہیں۔ آنکھیں بند کر کے شتر مرغ بن جائیے۔

٭       برصغیر میں اردو زبان و ادب کے مستقبل سے آپ کس حد تک پر امید ہیں؟

٭٭   برصغیر میں اردو ادب کے مستقبل سے میں نا امید نہیں۔ اردو بولیے لکھئے پڑھیئے اور امید کے شجر سے پیوستہ رہیئے اور امید بہار رکھیئے۔

فالتو جواب۔ کوئی سوال باقی رہ گیا ہو تو بھائی گلزار جاوید صاحب اس کا جواب منکر نکیر کو دے دیا جائے گا۔ اللہ حافظ                                           (مئی ۱۹۹۴ء)

٭٭٭

 

احمد فراز

(۱۲ جنوری ۱۹۳۱ء)

٭       پہلاسوال تو روایتی ہی ہے جس میں ہم شعر و سخن سے آپ کی آشنائی کی بابت جاننا چاہیں گے؟

٭٭   اصل میں ہر چند میرے والد شعر کہتے تھے اور وہ اردو فارسی اور عربی کے عالم تھے زیادہ تر اردو فارسی میں شعر کہتے تھے فارسی میں ان کی کتاب ’’فروغ جاوداں ‘‘ کے نام سے دستیاب ہے لیکن ا س سے زیادہ جس چیز نے مجھے شاعری کی طرف مائل کیا وہ سبب میری ایک ہم جماعت لڑکی نے مجھے بیت بازی کی دعوت دے کر فراہم کیا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم دونوں اکٹھے پڑھا کرتے تھے ایک دن اس نے مجھ سے دریافت کیا ’’تمہیں بیت بازی آتی ہے میں نے کہا وہ کیا ہوتی ہے جواب میں اس نے مجھے بتلایا کہ میں شعر پڑھوں گی جس لفظ پر وہ شعر ختم ہو گا آپ شعر پڑھیں گے پھر میں پڑھوں گی اور ہار جیت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں سے شعر یا د کرنے کا سلسلہ شروع ہوا مگر تا دیر جاری نہ رہ سکا کیونکہ اس لڑکی کے شعری ذخیرے کے مقابلے میں میرا ذخیرہ نہ ہونے کے برابر تھا چنانچہ ایک دن سوچا کیوں نہ شعر خود تیار کیا جائے شعر بنانے کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا کہ ایک دن والد صاحب سیل سے کپڑا خرید کر لائے میرے بڑے بھائی جو اس وقت ایف اے کے طالب علم تھے ان کے لئے سوٹ اور میرے لئے کشمیرا چیک لے آئے گو آج کل میں اس کا بڑا شوقین ہوں مگر اس وقت مجھے وہ کمبل کی مانند لگا اور میں نے اپنے جذبات کی ترجمانی میں ایک شعر بنایا اور کاغذ پر لکھ کر اس کپڑے کے ساتھ والد صاحب کے سرہانے رکھ دیا             ؂

جب کہ سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے

لائے ہیں میرے لئے قیدی کا کمبل جیل سے

            گو کہ فنی لحاظ سے یہ شعر اتنی اہمیت کا حامل نہیں مگر طبقاتی ناہمواری کے بارے میں میرے اختلافی جذبات کا ترجمان ضرور تھا جو کہ میں نے احتجاج کے طور پر کہا تھا میری بعد کی احتجاجی شاعری کی بنیاد آپ اسی شعر کو کہہ سکتے ہیں۔

٭       یہ فرمائیے کہ آپ کے اس احتجاجی شعر پر والد صاحب قبلہ کا رد عمل کیا تھا؟

٭٭   بہت خوش ہوئے اور ہنسے بھی اور فوری طور پر بازار جا کر میرے لئے مختلف قسم کے کپڑے خرید لائے اس سے مجھے شاعری کی تاثیر کا احساس ہوا اور یہ بھی علم ہوا کہ شاعری احتجاج کا موثر ترین ذریعہ ہے؟

٭       آپ کے شاعر بننے کی وجہ جو خاتون ٹھہریں کیا آج وہ اس عظیم احمد فراز سے واقف ہیں جن سے ہم مستفید ہو رہے ہیں؟

٭٭   ہم قریب کوئی ۲۵ سال بعد ملے کیونکہ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ہو گئی اور پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے مگر ایک عمر اس قربت کا عکس میرے ذہن پر قائم رہا مگر میں نے گاہے بگاہے ان کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا ایک دن اتفاق سے ائیرپورٹ پر ان کی ہمشیرہ سے ملاقات ہو گئی جنہوں نے ان کا پتہ فراہم کیا یوں پچیس سال کے طویل عرصہ گزر جانے کے بعد میں ان سے جا کر ملا انہیں دیکھتے ہی مجھے شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑا میرے ذہن میں قائم حسن و مروت کے پیکر کی جو یاد زندہ تھی اس تصور کو زمانے کے گرم سرد نے بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا مالی طور پر وہ ضرور آسودہ تھیں مگر ان کا حسن دل کشی و رعنائی بے وفائی کر چکے تھے بہتر ہوتا کہ میں ان سے اس حال میں نہ ملتا۔

٭       اچھا یہ فرمائیے گزرے ہوئے ان پچیس سالوں کے بیچ کبھی ان خاتون کو یہ علم بھی ہوا کہ آج کے دور کا نہایت ہی بلند قامت رومانی و انقلابی شاعر ان کا وہی ہم جماعت ہے جسے بیت بازی کا مفہوم بھی معلوم نہ تھا؟

٭٭   اس وقت مہلت نہ ملی یا شاید میرے ذہن میں یہ سوال نہ آیا ہاں البتہ وہ اپنے جس ہم جماعت کو جانتی تھی اس کا نام صرف احمد تھا فراز تخلص میں نے خاصا بعد میں اختیار کیا میں نے ملاقاتی کارڈ احمد فراز کا بھیجا وہ تپاک سے ملیں اور انہوں نے کسی قسم کی حیرت کا اظہار بھی نہ کیا میرا خیال ہے میڈیا کی وساطت سے وہ مجھے یقیناً پہچانتی ہوں گی کیونکہ زمانے نے میرے خدّ و خال کے ساتھ بے رحمانہ سلوک نہیں کیا۔

٭       شعر و سخن کے حوالے سے میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کا شعری آہنگ کس دبستان ادب کی نمائندگی کرتا ہے۔

٭٭   دیکھئے اس بات میں صائب رائے تو میرے ناقدین اور قارئین کی ہی مقدم ہو گی آپ میرے تخلیقی انداز کو نیم کلاسیکل سے تعبیر کر سکتے ہیں میری غزل کو کلاسیکی شاعری میں شمار کیا جا سکتا ہے جس میں میرے تجربات اور مضامین دوسروں سے قطعی مختلف ہیں البتہ میری نظم کے موضوعات خالصتاً میرے اپنے زمانے کی تاریخ کا حصہ ہیں اسی سے میں نے مواد چنا اور اسی کو شاعری میں ڈھالا۔

٭       ابتداء میں آپ کا امیج رومان پسند شاعر کا تھا تلخی کب اور کیونکر آپ کے کلام میں دخیل ہوئی؟

٭٭   میں یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ میں سونے یا چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوا میرا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے۔ جس کے باعث مجھے بھی بہت سی محرومیوں اور مسائل کا سامنا رہا میرا پہلا شعر ہی میری فکر کو نمایاں کرتا نظر آتا ہے جو لوگ ابتداء میں مجھے رومان پرور شاعر گردانتے ہیں انہوں نے شاید تنہا تنہا اور درد آشوب میں شامل میری ابتدائی شاعری کو بغور نہیں پڑھا ہاں اتنا ضرور ہوا کہ میری حساسیت کے باعث معاشرے میں پائے جانے والے تضادات کے سبب جو ں جوں شعور پختہ ہوتا گیا اسی طرح طبقاتی ناہمواری کے خلاف میری آواز بلند تر ہوتی گئی۔

٭       کیا آپ کے احتجاجی روئیے سے معاشرے کو کسی قسم کا فیض حاصل ہوا؟

٭٭   اک میں ہی نہیں اہلِ قلم کا پورا گروپ تھا جس میں ادیب بھی شامل تھے اور شاعر بھی جنہوں نے زندگی کا نظام بدلنے کے لئے پوری قوت سے قلمی جہاد کیا اور یہ قوت ترقی پسند تحریک کی شکل میں نمایاں ہوئی۔

٭       بات ترقی پسندی کی ہوئی تو اس حوالے سے ہی آگے بڑھتے ہوئے میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اردو شاعری کو تازگی کی نئی لذت سے آشنا کیا کیا آپ خود کو کسی صنف یا طرز کا بانی تصور کرتے ہیں؟

٭٭   اس اعتبار سے تو نہیں کہ ہیئتی طور پر میں نے کوئی نیا تجربہ کیا ہو یا کسی صنف سے انحراف کیا ہو میں نے تو مروّج اصناف غزل، نظم، قطعہ رباعی میں نئے خیالات کو روشناس کرایا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کلاسیکل غزل بلکہ پوری غزل کی تاریخ روایتی محبت پر استوار ہے میں سمجھتا ہوں کہ محبت میں اپنا اپنا تجربہ ہوتا ہے یہاں مجنوں اور فرہاد زیادہ معتبر نہیں اگر سچے جذبے سے اپنی بات کی جائے تو اس میں زیادہ تازگی اور شگفتگی ہوتی ہے جسے لوگ بھی زیادہ پسند کرتے ہیں۔

٭       کیا آپ شاعری کو جدید و قدیم، عشقیہ و المیہ، سنجیدہ مزاحیہ ترقی و غیر ترقی پسند کے پیمانوں سے ماپنے کے قائل ہیں؟

٭٭   بات یہ ہے کہ شاعری نام ہے بے ساختگی کا جسے تکنیک اور مہارت سے سجایا اور سنوارا تو جا سکتا ہے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا میں نے اپنی حد تک اپنے تجربات اور مشاہدات کو آزادی سے قرطاس پر منتقل کیا۔ میں نے کبھی پلینڈ سیکجول یا شیڈولڈ شاعری نہیں کی اور نہ میں اسے مناسب سمجھتا ہوں۔

٭       آپ کے رومان بہت مشہور ہوئے کسی قدر سکینڈل بھی منظرِ عام پر آئے ان میں کس قدر صداقت تھی؟

٭٭   بھئی جیسے دوسرے لوگ عشق کرتے ہیں ہم نے بھی عشق کئے اور منافقت کی بات دوسری ہے کہ لوگ کہیں کہ زندگی میں ایک ہی مرتبہ عشق ہوتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے۔

اک محبت سے کہاں عمر بسر ہوتی ہے

رات لمبی ہو تو پھر ایک کہانی کم ہے

محبتوں، دوستیوں اور ’’افیئرز‘‘ میں بہت فرق ہے۔ کچھ لوگوں سے تو واقعی میں نے ٹوٹ کر پیار کیا اور اسی طرح بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے مجھے بے طرح چاہا بات ذرا سی بھی ہو اور وہ پھیل جائے تو اسکینڈل بن جاتی ہے۔

کچھ تو اُس حسن کو جانے ہے زمانہ سارا

اور کچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی

٭       آپ نے انگریزی شاعری بغور پڑھی تراجم بھی کئے آپ بخوبی جانتے ہیں کہ انگریزی شاعری میں غزل نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ ہمارے سخن طرازوں کی بیشتر توانائیاں اسی صنف پر صرف ہوتی ہیں عالمی شاعری میں اردو کے نمایاں مقام حاصل نہ کرنے کا یہی سبب تو نہیں؟

٭٭   یہ بہت اچھا سوال ہے اور اس پر طویل گفتگو ہو سکتی ہے۔ انگریزی زبان میں ویریکلز فارم کی سونیٹ شاعری غزل کے کافی قریب ہے لیکن وہ بھی محدود ہے اس کے بھی کچھ اصول متعین ہیں۔ ۱۴ مصرعوں کی نظم ہو اس کے پہلے بند میں A,Bپھر B,Cاور C,Dاس ترتیب سے ہوتی ہے۔ کچھ تجربے اس میں بھی ہوئے ہیں لیکن غزل کا پیٹرن ایسا ہے کہ اس کو آپ توڑیں تو غزل نہیں رہتی غزل کا وجود اسی میں ہے جس فریم میں وہ موجود ہوتی ہے ہمارے بہت سے ہم عصروں نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بے قافیہ غزل کہنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں بنی البتہ ایک صورت ہے اور یہی وجہ ہے غالباً کہ ہماری شاعری کا بیشتر سرمایہ غزل میں موجود ہے اور غزل کا ہر شعر انڈیپنڈنٹ ہوتا ہے اس کو جب ترجمہ کریں تو بہت پُر زور ہو جاتا ہے مثال کے طور پر غالب غزل کا سب سے بڑا شاعر ہے لیکن اسے آپ کسی زبان میں ترجمہ کریں کم از کم انگریزی میں تو وہ بہت آکورڈ ہو جاتا ہے مثال کے طور پر آپ کہیں     ؂

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اس کا ترجمہ اگر ہم کریں تو یہی ہو گا۔

Oh, Foolish heart what has happened to you

What could be the remedy of this pain

تو یہ کوئی بڑی شاعری نظر نہیں آتی دوسری زبان میں آ کے غزل کا غیر مسلسل پن اس کی متلون مزاجی مثلاً پہلا شعر قفس پر دوسرا شعر مے خانے پر تیسرا فرہاد پر تو اس طرح اس کی Continuityبرقرار نہیں رہتی۔ میں سمجھتا ہوں اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اگر آپ غزل کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا چاہتے ہیں اور اسے تسلیم بھی کرانے کا عزم رکھتے ہیں تو اس کا مسلسل ہونا بہت ضروری ہے اس میں ایک تسلسل رہتا ہے۔ Thoughtکا خیال اور جب اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے تو ایک مرکزی خیال جاری و ساری رہتا ہے اور پڑھنے والے پر اس کا اثر ہوتا ہے کیونکہ ہم تو عادی ہو گئے ہیں لذّت لیتے ہیں قافئے کی ردیف کی، زبان کی لیکن جب اسے دوسری زبان میں منتقل کرتے ہیں تو اس کی فوقیت برقرار نہیں رہتی اس میں صرف Thoughtکا عنصر رہ جاتا ہے اور اس کے لئے غزل جب تک مسلسل نہ ہو تو باہر کی دنیا والے اس کو Appreciateکر سکتے ہیں نہ Enjoyکر سکتے ہیں۔

٭       اچھا یہ فرمائیے بحر و اوزان سے ماوراء شعر کہنے والے اردو شاعری کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟

٭٭   بات یہ ہے کہ میں تجربات کا مخالف ہرگز نہیں۔ تجربات ہر زبان اور ادب میں ہوتے رہے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔ ہمارے یہاں بھی ہو رہے ہیں اس کی سب سے بڑی Test tubeہے زمانہ اور قبول عام۔کوئی صنف قبول عام پا لیتی ہے تو وہ رائج ہو جاتی ہے اور لوگ اس میں زیادہ لکھنے لگتے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں آزاد نظم یا blank Verse یا Freeverseکی لوگوں نے بڑی مخالفت کی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اگر اچھا لکھنے والا نصیب ہو جائے کسی صنف کو تو وہ نہ صرف اس کی افادیت منوا لیتا ہے بلکہ وہ صنف با وقار ہو جاتی ہے اور اس طرح جب Blank Verseاور Free Verseکو راشد اور میرا جی جیسے بڑے لکھنے والے نصیب ہوئے تو اس کی توقیر میں اضافہ ہوا پھر موضوعات کے اعتبار سے بھی کئی ایسے موضوع ہوتے ہیں جو غزل یا نظم میں نہیں آ سکتے ہمارے بزرگوں نے کبھی قصیدہ کہا کبھی مثنوی کہی مرثیہ کہنے کے لئے انہوں نے Epic Poetryکو اور وسعت دی اور اس میں بند لائے جیسے مسدس اور مخمس یہ سارے تجربے ہی تھے لیکن آزاد شاعری یا نظم معریٰ کے لئے ضروری نہیں کہ بے وزن اور بے بحر ہی ہو۔ اس کی اپنی ایک بحر ہوتی ہے اس کی اپنی Punctuationاور وقفے ہوتے ہیں جو شاعر وجدانی کیفیت کے تحت بیان کرتا اور تحریر میں لاتا ہے اور بڑے بڑے وسیع کینوس کے موضوعات وہ سیاسی ہوں رومانی ہوں یا المیہ ہوں اس کی وسعت کے اعتبار سے خود غالب نے کہا           ؂

بہ قدرے شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل

کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے

            تو اس کے لئے تجربے ہوتے ہیں البتہ پچھلے دنوں بات آ گئی نثری نظم کی میرے خیال میں وہ نثر ہے نہ نظم کچھ سہل انگار آرام طلب لوگوں نے یا ناواقف لوگوں نے جنھیں Metalscenseنہیں ہوتا انہوں نے کچھ کوششیں کیں جو ہمارے سامنے چلیں اور ہمارے سامنے ہی ختم ہو گئیں کچھ لوگ دوسری زبان کے اصناف سخن کو کاپی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مثلاً ہائیکو میں نہیں سمجھتا کہ وہ جو تاثیر ہوتی ہے ان ہیئتی تجربوں میں وہ پوری طرح بیان ہوتی ہو اس لئے یہ تجربے زیادہ کامیاب نہیں رہے۔

٭       آپ کے مفصل جواب سے میرے ذہن میں ایک اور سوال کلبلانے لگا رقص کو اعضاء کی شاعری کہا گیا ہے۔ شاعری میں اعضائے رئیسہ کی بحث و تکرار کو آپ کیا نام دیں گے؟

٭٭   بھئی اعضائے رئیسہ تو بہت غیر شاعرانہ لفظ ہے آپ کی مراد اگر جنس سے ہے تو جنس ہماری شاعری میں،ہماری کیا دنیا کی شاعری میں کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ آپ باہر کی کسی زبان میں نظم پڑھیں Love makingتو بہت معمولی سا ایکسپریشن ہے اور بڑی فراوانی سے اس کا اظہار ہوتا ہے ہمارے ہاں چونکہ مشرقی روایت رہی ہے Inhibitionsاور تھوڑی بہت منافقت کہ ہم بعض باتوں کا اظہار بڑا چھپ کر کرتے ہیں حالانکہ وہ خواہش موجود بھی ہوتی ہے اور عملی زندگی میں ہم اس سے دوچار بھی ہوتے ہیں پھر کیوں کسی موضوع کو آپ شاعری کا موضوع بننے نہیں دیتے۔ میں سمجھتا ہوں سلیقے سے بات کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

٭       آپ کے خیال میں اردو ادب کی کون سی صنف اتنی ترقی یافتہ شکل میں ہے کہ ہم اسے عالمی پائے کی تخلیقات کے مماثل قرار دے سکیں؟

٭٭   میرے خیال میں Short storiesیعنی ہمارا افسانہ بہت ہی ترقی یافتہ ہے اور خوش قسمتی سے اسے تواتر سے بہت ہی اچھے لکھنے والے نصیب ہوتے رہے ہیں۔ پریم چند کے بعد منٹو، کرشن، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس، خواجہ احمد عباس اور بہت سے لوگوں نے عالمی معیار کے افسانے لکھے۔

٭       معذرت کے ساتھ آپ کی شخصیت کنٹرورشل ہونے کا سبب آپ کا کلام ہے یا ذاتی رویہ؟

٭٭   اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کسی گاؤں میں ایک لڑکی تھی جو بہت فلرٹ تھی گاؤں میں اس کے بڑے چرچے تھے چنانچہ گاؤں کے چوہدری نے اسے بازپرس کے لئے بلایا اور ڈانٹتے ہوئے کہا لڑکی تو باز آ جا مجھے تیری بہت شکایتیں مل رہی ہیں۔ لڑکی نے جواب دیا چوہدری جی میں کیا کروں ایک تو گاؤں کے لڑکے بہت شرارتی ہیں دوسرے میری طبیعت لحاظ خوری ہے سو کچھ دخل میری شاعری کا بھی ہو سکتا ہے کچھ میں بھی قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہوں اور کچھ لوگ بھی افسانہ طراز ہوتے ہیں۔

٭       شاعر تو حساس جذبوں کا امین و پیامبر ہوتا ہے۔ پھر قید خانے اور مشقیں آپ کی زندگی میں کیوں در آئیں؟

٭٭   وہ جو فارسی میں کہتے ہیں      ؂

ایں ہم اندر عاشقی

            اصل میں جو پرندہ آزادی کے گیت گاتا ہے وہ سب سے پہلے شکاری کے تیر کا نشانہ بنتا ہے اب وہ زمانہ تو گیا جب شاعر کا منصب غزل، نظم، یا قافیہ ردیف تک محدود ہوتا تھا۔ عشق و عاشقی یا گل و بلبل کا زمانہ گیا جب زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں شاعر کو شعور پیدا ہوا تو اس نے اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر دیکھنا شروع کیا تو زندگی وسیع تر چیز تھی جس میں ہر قسم کے مسائل اور مصائب شامل تھے۔ یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دنیا میں جو بھی بڑا انقلاب آیا یا تصادم ہوا دو نظریات میں دو اقدار میں دو تہذیبوں میں مثلاً جہاں بھی بڑے انقلابات آئے چاہے انقلاب روس ہو یا انقلاب فرانس ہو یا ہندوستان کا انقلاب پہلے ادیب زمین ہموار کرتے ہیں مراد یہ کہ ادیب کسی بھی قوم کا شعور اور گائیڈ لائن میکر ہوتے ہیں انہیں کا لٹریچر پڑھ کر لوگوں میں آگاہی اور بیداری پیدا ہوتی ہے اجتماعی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ کر ایک نصب العین لے کر آگے بڑھتے ہیں ہم نے دیکھا دنیا بھر میں اہل قلم کو اس ابتلا سے گزرنا پڑا چاہے ترکی میں ناظم حکمت ہوں پاکستان میں فیض احمد فیض ہوں بھارت میں علی سردار جعفری یا سجاد ظہیر ہوں یا جنوبی افریقہ کے وہ رائٹر جو گولیوں کا نشانہ بنے یا قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہوئے فی الوقت شاعری بازیچہ اطفال ہی نہیں دارو رسن بھی ہے۔

٭       اپنی حد تک تو آپ اپنے قول اور کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں کسی قسم کا کوئی پچھتاوا یا احساس جرم کا شائبہ تک نہیں آپ کے اہل خانہ اور متعلقین کا اس ضمن میں کیا تاثر ہے۔

٭٭   میرے خیال میں بات ہے محسوسات کی اور کمٹ منٹ کی ایک تعلق آدمی کا اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں سے ہوتا ہے جن کے سُکھ کی خاطر آدمی اصولوں سے سمجھوتہ کر کے خاموش تماشائی بن کر کنارے پر بیٹھا آنے والے طوفان کا منتظر رہے دوسرا گہرا اور سچا تعلق ملک قوم اور مٹی سے ہوتا ہے جن کی سرخروئی اور سربلندی کے لئے کسی بھی قیمت سے دریغ نہیں کیا جا سکتا میرے والد صاحب بھی میرے کردار سے کسی قدر شاکی تھے ابتدا میں وہ اسے شہرت کی طلب سمجھ کر مجھے تنبیہ بھی کرتے رہے ان کے خیال میں شاعر کا کام عشقیہ غزل کہنے کی حد تک ہی ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے میرے جذبوں کی سچائی کے آگے دیوار بننا مناسب نہ سمجھا۔

٭       آپ کی جلاوطنی جبری تھی یا اختیاری۔ اس دوران اپنوں اور بیگانوں نے کس قسم کے روئیے کا مظاہر ہ کیا اور اس عرصے میں بننے والے افسانوں میں کتنی حقیقت تھی؟

٭٭   جہاں تک اس عرصے میں بننے والے افسانوں کا تعلق ہے میں ان سے قطعی طور پرلاعلم ہوں بلکہ میرا آپ سے سوال ہے کہ آپ مجھے ان افسانوں سے آگاہ کریں جہاں تک تعلق جلاوطنی کا ہے یہ اختیاری تھی اور اس کا سبب یہ تھا کہ جب انہوں نے پہلے مجھے سندھ سے نکالا تو مجھے اس کا دکھ ہوا کہ یہ میرا ملک ہے مجھ سے روزی چھین لی گئی کوئی بات نہیں مجھے میڈیا پر بین کر دیا گیا کوئی دکھ نہیں۔ میری چیزیں اخبار یا رسالے چھاپنے سے معذور تھے یہ بھی کوئی بات نہیں۔ میرا ذاتی مکان گورنمنٹ نے قبضے میں لے لیا اسے بھی درگزر کیا مگر جب محاصرہ نظم پڑھنے کے جرم میں مجھے سندھ بدر کیا گیا تو مجھے بہت صدمہ ہوا کہ میں تو پہلے ہی زخم خوردہ شہری ہوں میرے عظیم الشان وطن کے بڑے حصے کو الگ کر کے مجھے نسبتاً چھوٹے ملک کا شہری بنا دیا گیا اور اب میں اس میں بھی گھوم پھر نہیں سکتا۔ نہ ٹی وی پر مشاعرہ پڑھ سکتا ہوں نہ ریڈیو سے مذاکرہ میں حصہ لے سکتا ہوں نہ کسی اخبار میں چھپ سکتا ہوں آج مجھ پر سندھ جانے پر پابندی لگی ہے کل کلاں کو پنجاب یا میرے اپنے آبائی گاؤں جانے پر بھی پابندی لگ جائے تو کیا بعید ہے کیا میں وقت کا نیرو بن کر بانسری بجانے لگتا یا کسی کوٹھری میں بند ہو کر اپنے احتجاج رقم کر کے گھڑے میں ڈالتا رہتا اور آنے والے وقت پر ان کو میڈل کی طرح سینے پر سجا کر فخریہ اعلان کرتا کہ دیکھو میری احتجاجی شاعری اور مجھے داد دو نہیں صاحب یہ تو کسی طرح بھی ممکن نہ تھا کوئی بھی زندہ و بیدار شخص وقت کے دھارے کے خلاف کیسے چل سکتا ہے مجھے تو اپنے پسے ہوئے لوگوں کی آواز بن کر ہر شکل میں بلند ہونا تھا میں نے اپنے دوسرے ہم عصروں کی مانند وقت کے جابر حکمرانوں سے راہ ورسم پیدا کرنے اور انعام و اعزاز حاصل کرنے کی نسبت جلاوطنی کو بہتر جانا میرا ضمیر اس وقت بھی مطمئن تھا اور آج بھی مسرور ہے۔

٭       آپ ہم سے سوال کرنا چاہتے تھے اگر آپ ملکی و غیر ملکی دوستوں کا رویہ بیان کریں تو جواب اس میں پوشیدہ ہے؟

٭٭   جانے دیجئے کیوں کسی کی عیب جوئی کراتے ہیں بس اتنا عرض کروں گا کہ اس کڑے وقت میں دوستوں کی ایک تعداد نے اجنبیت اختیار کر لی اور دوسری معقول تعداد نے دشمنوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کر کے انھیں کے تیر آزمانا شروع کر دیئے محبت، حوصلہ اور رہنمائی اجنبی دوستوں سے ملی جنہوں نے دنیا کے گوشے گوشے سے مجھے دعوتوں اور استقبالیوں سے نوازا میں آج بھی ان اجنبی دوستوں کا ممنون احسان ہوں۔

٭       جلاوطنی کے دوران ظاہر ہے مشق سخن جاری رہی ہو گی آپ اپنے قاری تک کس ذریعے سے اسے پہنچاتے رہے؟

٭٭   دیکھئے اس دوران بیرون ملک سے میرے دو مجموعے چھپے ’’نابینا شہر میں آئینہ‘‘ ’’بے آواز گلی کوچوں میں ‘‘ جن سے خلا کو پر کرنے میں خاصی مدد ملی اس سے بھی زیادہ میری غیر حاضری یا غیر موجودگی کو میرے بیرون ملک ریکارڈ شدہ کیسٹس نے پورا کیا ان کی اہمیت کا اندازہ مجھے وطن واپسی پر ہوا جب بے شمار دوستوں کی تحویل میں میں نے ان کیسٹوں کو دیکھا اور اس طرح میرے چاہنے والوں تک میری آواز میرے شعر پہنچتے رہے۔

٭       آپ کے خیال میں وطن سے باہر پاکستانی تخلیق کاروں کی پذیرائی کا پیمانہ کیا ہے؟

٭٭   دیکھیے ایک پیمانہ تو لوگوں کا ذوق ہے جس کے تحت مشاعرے برپا کیے جاتے ہیں جس میں ہندوستان پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی شعرا مدعو کیے جاتے ہیں میں کسی تعلی یا خود ستائشی جذبے سے ماورا ہو کر بیان کروں کہ لوگوں نے میری شاعری کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر میری پذیرائی کی اور میرے اعزاز میں خصوصی محفلوں کا انعقاد بھی کیا یہ آزمائش کا وقت تھا جس میں تلخ تجربوں کے ساتھ مجھے بیش بہا محبتیں بھی ملیں۔

٭       تیسری دنیا کے حکومتی ایوانوں میں رائج تخلیق کاروں کی پذیرائی کے طریقہ کار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔

٭٭   تیسری دنیا میں حکومتوں کی مختلف شکلیں ہیں کہیں بادشاہت ہے کہیں آمریت ہے اور کہیں جمہوریت، میرا خیال ہے آپ کی مراد ڈکٹیٹر شپ سے ہے جہاں ظاہر ہے ماحول گھٹن زدہ ہوتا ہے لوگ گفتگو بھی محتاط کرتے ہیں۔ تخلیق کاروں کا اجتماع بھی حکومت کو کھٹکتا ہے بعض موقعوں اور جگہوں پر اجتماعات کی اجازت بھی نہیں ہوتی ظاہر سی بات ہے کہ جو شاعر اس ماحول میں آزادی کی بات کرے گا حرّیت کی بات کرے گا حقوق کی بات کرے گا انسانی قدروں کی بات کرے گا۔ اس کی پذیرائی بقدر ظرف جیل قید کوڑے کی شکل میں کی جاتی ہے اور جو قصیدہ گوئی،سحر بیانی، مداح سرائی کے گیت الاپنے کے ساتھ انہیں مسیحائے وقت گردانیں گے انہیں ان کی اوقات کے مطابق مال و زر میں لپٹے انعام و اعزاز سے نوازا جائے گا جس سے ان کا قد وقتی طور تو شاید نمایاں ہوتا ہو مگر آنے والا وقت ان کے لئے گم نامی کے اندھیروں کے سوا کچھ نہیں لاتا۔

٭       فراز صاحب!ترقی پسندی واقعی مذہب سے متصادم ہے اس تحریک نے سیاست اور معاشرت کے علاوہ ادب اور ادیب کو تقسیم در تقسیم نہیں کیا نیز اس نظریے کا ماضی اور حال تو ہمارے علم میں ہے مستقبل کے بارے میں آپ کیا حسن ظن رکھتے ہیں؟

٭٭   میں اپنے ملک کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔ کہ جب یہاں ترقی پسند تحریک کی ابتدا ہوئی تو اس وقت ہمارا پورا منظر نامہ امریکہ کے زیر اثر تھا نیٹو اور سینٹو کے معاہدوں کے تحت امریکہ ہر قسم کی معاشی آواز اور تحریک کو دبانے کے درپے تھا اسی کے ایجنٹ اور گماشتے ہمارے ملک میں کام کر رہے تھے چنانچہ جس نے بھی اقتصادی ناہمواری کے خلاف آواز اٹھائی اسے کمیونسٹ بے دین اور لا مذہب کہا جانے لگتا یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جاتا کچھ فائدہ انہیں عوام کی جہالت کا بھی پہنچا کم علم مولوی کو بھی اس ضمن میں استعمال کرتے ہوئے ہم لوگوں کو خدا اور رسول کا منکر ٹھہرایا گیا حالانکہ ترقی پسندی کا دین سے مثبت یا منفی کسی قسم کا کوئی تعلق نہ تھا ہم لوگ جتنے مسلمان اس تحریک میں شمولیت سے پہلے تھے بفضل خدا اتنے ہی آج بھی ہیں ترقی پسند ادبی تحریک تھی جس کے شرکاء کو پڑھا لکھا ہونے کے باعث سیاسی شعور بھی تھا دیکھئے سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ کم علم مُلاؤں نے اسلام کو حوّا بنا کر رکھ دیا ہے حالانکہ اسلام عدل، اور رواداری کا دین ہے جس میں سب سے زیادہ زور حقوق العباد پر دیا گیا ہے مثال کے طور پہ ایک سمگلر ذخیرہ اندوز بلیک میلر منشیات فروش اگر نماز پڑھتا ہے تو اس کا کیا فائدہ آپ خود سوچیے پہلے اس کا ان قبیح فعلوں سے تائب ہونا ضروری ہے یا نماز پڑھنا ضروری اب اگر ایک پڑھا لکھا با شعور ترقی پسند جبر کے خلاف زیادتی کے خلاف نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو ملحد ٹھہرا دیا جاتا ہے چونکہ وہ انصاف پسند ہے یقین مانیے کمیونسٹ یا سوشلسٹ ہونا کسی طرح بھی مذہب سے منکر ہونے کے مترادف نہیں بلکہ وسائل کی بندر بانٹ کے خلاف ایک موثر آواز ہے جس سے غریب کو بیدار کر کے با شعور بنایا جا سکتا ہے اور ایک با شعور فرد ہی بہتر مذہبی انسان بھی بن سکتا ہے جہاں تک سوال مستقبل کا ہے تو اس سلسلے میں یہ عرض کروں گا کہ آپ کوئی بھی تجربہ کیجئے ابتدا میں اس کی ناہمواری اور کھُردرا پن آپ کے لئے دشواری کا باعث بھی بن سکتا ہے جس طرح آپ نے پہلی بار کثافتوں سے آلود پانی پیا یا خدشات سے پُر ریل اور ہوائی جہاز میں سفر کیا قیمتی جانوں کی قربانی دے کر صاف پانی میسر آیا محفوظ سفر میسر ہوا اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کی خامیاں بھی دور ہوں گی روسی نظام میں یقیناً کچھ خامیاں ہوں گی جس کے باعث وہ وقتی طور پر فلاپ ہوا یہ نظام کی نہیں لیبارٹری کی ناکامی ہے یہ ایک فلاسفی ہے ایک فکر ہے جو زندہ تھی اور زندہ رہے گی۔

٭       ترقی پسند تحریک میں کچھ لوگ شدت پسند تھے کچھ معتدل مزاج کیا یہ تفاوت شخصیات کے ٹکراؤ کے باعث پیدا ہوا اگر نہیں تو صحیح صورت حال کیا ہے اور آپ کا شمار کس طرف کے لوگوں میں ہوتا ہے؟

٭٭   دیکھئے تین قسم کے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں شدت پسند معتدل مزاج اور دھیمی طبیعت کے مالک ہماری مذہبی جماعتوں میں بھی اس قسم کے متضاد خیال لوگ نظر آئیں گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر سطح پر شخصیات کا ٹکراؤ ہی ہو پروگرام پر اختلاف ہو سکتا ہے اس کی رفتار پر اختلاف ہو سکتا ہے اس کے مزاج پر اختلاف ہو سکتا ہے اب دیکھئے فیض صاحب انتہائی دھیمی طبیعت کے مالک درگزر کرنے والے انسان تھے اور میں بہت جلد ری ایکٹ کرنے والا آدمی ہوں بات ہے احساسات کی اب اگر منٹو اور راشد کو تحریک سے الگ کیا گیا تو یہ ان کی عظمت کا انکار نہیں ان سے اختلاف کا مظہر ہے کیونکہ ایک دنیا ان کے قلم کی معترف ہے جن میں میں بھی شامل ہوں جہاں تک سوال کے اس حصے کا تعلق ہے کہ میرا شمار کس صف میں ہوتا تھا تو اس کا جواب اگر میرے دوستوں سے پوچھا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔

٭       نیشنل سینٹر اکادمی ادبیات اور لوک ورثہ کی سربراہی سے بار بار کی برطرفی ہمارے خیال میں آپ جیسے قومی اور بین الاقوامی شہرت کے حامل بلند پایہ دانشور اور شاعر کی توہین کے مترادف ہے ان تلخ تجربات کے باوجود بھی آپ نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی سربراہی کیونکر قبول کی؟

٭٭   یہ بہت دلچسپ بات ہے آپ کی طرح میرے اور بھی بہت سے دوست اکثر اس بات پر برہم ہوا کرتے ہیں کہ میں بار بار کی توہین کے بعد کیوں کوئی منصب قبول کر لیتا ہوں دیکھئے بات اگر ہوتی انفرادی سوچ کی یعنی معاملہ اگر میری ذات کا ہو پھر تو آپ کا استد لال درست ہے لیکن جہاں معاملہ اجتماعی سوچ فکر پروگرام اور نظریات کا ہو وہاں جذبات سے بالا تر ہو کر فیصلے کرنا پڑتے ہیں میں یا میرے نظریات کے حامل لوگ اپنی ذاتی انا اور وقار کی خاطر ذمہ داریاں نبھانے سے کترانے لگیں تو ہماری ان کرسیوں پر ہمارے پروگرام ہماری فکر کے مخالفین ہی بیٹھیں گے ہو سکتا ہے ہماری نسبت وہ اپنی سوچ اور فکر میں زیادہ شدت پسند ہوں اور اس قسم کے فیصلے کریں جو ملک اور قوم کے لیے کسی قدر نقصان دہ ہوں اب اگر مجھے یہاں بٹھایا گیا ہے تو میری پوری ذمہ داری ہے کہ میں ایسی کتب کا انتخاب چھاپوں جو ہر طرح سے ملک اور قوم کے لیے ترقی اور بہتری کا باعث بنے مجھے پھر سے فیض صاحب یا د آرہے ہیں وہ کہا کرتے تھے کہ پسے ہوئے عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لئے پڑھے لکھے لوگوں کو فوج،پولیس اور انٹیلی جنس میں بھی شامل ہونا چاہیے۔

٭       آدھی صدی عمر ہو چلی ہمارے وطن کے کتنے شاعر ادیب ایسے ہیں جنہوں نے عالمی ادب میں قابل ذکر مقام حاصل کیا؟

٭٭   لفظ قابل ذکر استعمال کر کے آپ نے میری مشکل آسان کر دی اب میں وہی نام گنواؤں گا جن کا ذکر ضروری ہو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ حصہ علامہ اقبال کا ہے اس کے بعد فیض صاحب کا ہے کسی قدر جوش صاحب کا بھی ذکر پایا جاتا ہے احمد ندیم قاسمی صاحب کے افسانے اور نظموں کے بہت سی زبانوں میں تراجم ہوئے اور شاید کچھ حصہ اس ناچیز کا بھی ہو۔

٭       آپ اپنے فنی سفر کے کس مرحلے میں خود کو محسوس کرتے ہیں؟

٭٭   میرا خیال ہے ابتدائی مرحلے میں ہوں جو کچھ لکھا اس سے مطمئن نہیں مطمئن ہوتا تو شاید اس کی درجہ بندی کر سکتا بعض اوقات کوئی لائن لکھتا ہوں تو جذباتی طور پر خود کو نوآموز محسوس کرتا ہوں لیکن میں کسی بڑے موضوع کی جستجو میں ہوں ایک بہت طویل نظم لکھنا چاہتا ہوں شاید لکھی بھی جائے مستقل مزاج نہیں ہوں ٹک کر بیٹھنا میرا شیوہ نہیں اور یہ کام جو ہے بہت ہی صبر اور حوصلے کی بات ہے دیکھئے شاید کوئی ایسی چیز لکھ پاؤں جس سے میں کہوں کہ ہاں میں نے کچھ لکھا ہے۔

٭       زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا،سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑی آرزو؟

٭٭   والدہ کی جتنی خدمت کرنا چاہئے تھی وہ نہیں کر سکا یہ احساس رہتا تھا پھر ایک مشاعرہ ہوا اسلام آباد میں فیض صاحب کی یاد میں لوک ورثہ میں وہاں میں نے ’’محاصرہ‘‘ نظم پڑھی تو ایک بوڑھی خاتون نے کہا ’’بیٹا اس ماں کو سلام جس نے تمہیں جنم دیا۔ یہ میرے لئے بڑی خوشی کا مقام تھا۔۔۔۔۔!

انسان بڑا غیر مطمئن حیوان ناطق ہے ایک آرزو پوری ہوتی نہیں کہ اس کے ساتھ ہی ایک اور آرزو جنم لے لیتی ہے بقول علامہ اقبال ؂

                        ہوس چھپ چھپ کے سینے میں بنا لیتی ہے تصویریں

٭       انٹرویو کے آخر میں پیغام کی روایت تو بہت فرسودہ ہوئی اپنے محبت کرنے والوں سے اپنی پسند کے اختتامی کلمات کہہ دیجئے۔

٭٭   بھئی بات یہ ہے کہ نصیحت تو ہم کرتے نہیں، نہ ہم نے کسی کی سنی دیانت داری کے ساتھ اپنے آپ سے جو بھی سلوک کریں لیکن جہاں اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے وقار یا ان کی آبرو کا سوال ہو وہاں چاہے اپنے ہی لوگوں سے آپ کو نبرد آزما ہونا پڑے اس سے دریغ نہ کریں کیونکہ جس چیز کو آپ سچ سمجھیں اس کو پھر سچائی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔

                                                                        (جنوری ۱۹۹۵ء)

٭٭٭

 

گوپی چند نارنگ

۱۱ فروری ۱۹۳۱ء

٭       بلوچستان کے دور دراز علاقے دُکی میں آپ کی پیدائش اور بزرگوں کے قیام کا پس منظر کیا ہے؟

٭٭   میں بلوچستان میں دُکی ضلع لورالائی میں  فروری 93 کو پیدا ہوا۔ میری

دھدھیال اور ننھیال لیّہ ضلع مظفرگڑھ میں تھی۔ لیکن والد صاحب بلوچستان کے Domicile تھے اور Revenue Service میں ہونے کی وجہ سے افسر خزانہ تھے۔ ہر تین سال کے بعد ان کا تبادلہ کسی اور تحصیل میں ہو جاتا تھا۔ انتظامیہ میں تحصیل دار کے بعد سب سے بڑی حیثیت ان کی تھی۔ہمارا گھرPolitical Agent کے باغیچے سے متصل تھا۔ انگریز افسر تو گاہے ماہے آتا تھا، پورا باغیچہ میرے ہمجولیوں کے تصرف میں رہتا تھا۔

٭       کچھ مزید معلومات بچپن اور گرد و پیش کی اگر حافظے میں محفوظ ہوں؟

٭٭   دُکی کے بعد والد صاحب کا تبادلہ موسیٰ خیل میں ہوا اور تعلیم کی بسم اللہ بھی یہیں کے

پرائمری اسکول میں ہوئی۔ علاقے کی زبان تو بلوچی اور پشتو تھی لیکن اسکول کا آغاز اردو قاعدے سے ہوا۔ شروع میں میں اسکول سے بہت ڈرتا تھا اور کبھی کبھی جاتا بھی نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے ان طالب علموں کو جو اسکول سے بھاگ جایا کرتے تھے اسکول کے دیگر طلبہ زبردستی پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ سالانہ امتحان سے بھی میں خوفزدہ تھا چنانچہ جب سبق پڑھنے کو کہا گیا تو میں نے قاعدہ بند کر کے ڈرتے ڈرتے زبانی سنانا شروع کر دیا۔ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب استاد نے کہا بس بس تم نہ صرف پاس بلکہ اوّل۔ میرے بڑے بھائی میرے ساتھ تھے۔ وہ یہ واقعہ سب کو بتاتے پھرے۔

٭       اردو زبان و ادب سے بزرگوں کا تعلق کس نوعیت کا تھا؟

٭٭   میری والدہ اور دادی کی مادری زبان سرائیکی تھی۔ والد صاحب سرائیکی بھی بولتے تھے اور بلوچی و پشتو بھی۔ دفتری انتظام تو انگریزی میں تھا لیکن والد صاحب فارسی اور سنسکرت بھی جانتے تھے اور اردو بھی بولتے تھے۔ اردو اور فارسی کے اشعار سب سے پہلے میں نے ان کی زبان سے سنے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں والد صاحب اصل سنسکرت سے پڑھ کر سناتے تھے۔ سوامی رام

اتا۔

اتیرتھ کی غزلیات اور بہت سے اردو شعرا کا کلام انھیں ازبر تھا۔

٭       تقسیم ہند کے بعد اردو زبان سے ‘تعصب و بیگانگی کی فضا میں، کس جذبہ کے تحت اردو زبان سے اپنا تعلق برقرار رکھ سکے؟

٭٭   بیشک تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں اردو کے حوالے سے بیگانگی کو راہ ملی، لیکن جب ساری فضا میں مذہبی تعصب کا بارود پھیل جائے تو کوئی بھی صورتِ حال سادہ نہیں ہوتی۔ اردو سے بیگانگی اس بڑے سیاسی عمل کا حصہ تھی جس کو روز بروز مذہبی رنگ دیا جانے لگا۔ ملکوں کا بٹوارہ اگر برحق تھا تو زبانوں کا بٹوارہ اتنا ہی غلط اور ناحق تھا۔ اگر کوئی جذبہ آپ کے ذہن و شعور کا حصہ ہو اور آپ کی لگن کھری اور سچی ہو تو آزمائش ایسے ہی حالات میں ہوتی ہے۔ انٹرمیڈیٹ میں نے اجمیر بورڈ سے کیا، بی اے پنجاب یونیورسٹی سے۔ پھر 1952 میں جب میں لیبر انسپکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا، میں نے دہلی کالج میں ایم.اے . اردو میں داخلہ لے لیا۔ ایم.اے . کی کلاس میں دہلی یونیورسٹی میں میں اکیلا طالب علم تھا۔ 1954 میں ایم.اے . فرسٹ کلاس کرنے کے بعد میں نے پی.ایچ.ڈی. میں داخلہ لے لیا۔ وظیفہ بھی مل گیا اور یوں بتدریج اردو سے رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔

٭       بقول آپ کے آپ کی تربیت میں زبان اور لفظ و معنیٰ کے اثرات بڑی اہمیت رکھتے ہیں کیا آپ اپنی تربیت کی تفصیل اس خیال کے آئینے میں بیان کرنا پسند کریں گے؟

٭٭   زبان و لفظ و معنیٰ میرے لیے اس لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کہ میں اردو کا اہلِ زبان نہیں تھا۔ اسی احساس کی دین ہے کہ اردو زبان کے رموز و نکات میری سوچ کا حصہ رہے ہیں اور زبان پر قدرت حاصل کرنے میں اگرچہ مجھے ریاضت تو کرنا پڑی لیکن زیادہ وقت نہیں لگا۔ میری طبیعت میں ایک مضمر جمالیاتی حس ہے جو کارگر رہتی ہے اور بہت سے فیصلے اپنے آپ کرتی ہے۔ اردو کا جادو مجھ پر شروع سے چلنے لگا تھا جو شاید اسی داخلی جمالیاتی حس کی وجہ سے تھا۔ اردو کے بھید بھرے سنگیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا بھی شاید اسی اندرونی تجسس کا حصہ رہا ہو گا۔ بہرحال اس تجسس اور اضطراب سے میں نے بہت کچھ پایا جس کو میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ میری فکری بساط جیسی بھی ہے اس کی بدولت بلا خوفِ تردید آج بھی معروضی طور پر ثابت کر سکتا ہوں کہ برصغیر کی زبانیں سب اہم ہوں گی کوئی کسی سے ہیٹی نہیں لیکن اردو ہندوستان کی زبانوں کا تاج محل ہے۔

٭       پروفیسر صاحب! اردو زبان سے عدم دلچسپی کے ہندی معاشرے میں ایک ہندو گھرانے کا اس اجنبی زبان و ادب کو اوڑھنا بچھونا بنانے پر کس طرح کے رد عمل کا سامنا رہا؟

٭٭   جب میں ہندوستان آیا، میرے والد صاحب جو بلوچستان میں افسر خزانہ تھے، انھوں نے اپنے احباب کے اصرار پر پاکستان ریونیو سروس کا انتخاب کر لیا تھا، میں دسویں کی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی بھیجا گیا۔ والد صاحب 9 برس کے بعد 1956 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوستان آئے۔ ان کی عظیم شخصیت کا مجھ پر ایک احسان یہ بھی ہے اگرچہ وہ چاہتے تھے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کی وجہ سے میں سائنس پڑھوں لیکن انھوں نے کبھی اصرار نہیں کیا۔ انھوں نے میرے معاملات میں مجھ کو آزادی برتنے دی۔ اردو وہ خود لکھتے پڑھتے تھے۔ خط کتابت بھی اردو میں کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہندو گھرانوں میں اردو سے مغائرت نہیں تھی۔ آج بھی ہندوستان میں ہزاروں لاکھوں ایسے ہندو ہیں جو اردو سے محبت کرتے ہیں لیکن بٹوارے کے بعد لسانی ترجیحات وہ نہیں رہیں جو اس سے پہلے تھی۔

٭       کیا یہ تاثر درست ہے کہ علم و ہنر جس قدر وسعت اختیار کرتا ہے جذبات و احساسات اسی قدر سمٹتے جاتے ہیں یعنی انسان اس صورت میں زیادہ state forward ہو جاتا ہے !

٭٭   علم و ہنر جس قدر وسعت اختیار کرتا ہے، ضروری نہیں ہے کہ جذبات و احساسات اُسی قدر سمٹتے جائیں۔ البتہ تسکین اور اظہار کے ذرائع اور طور طریقے بدل سکتے ہیں۔

٭       آپ ذوق شوق سے لکھی ہوئی تقریر ڈائس پر آ کر پڑھنے کے بجائے فلبدیہہ تقریر بہت عمدہ کرتے ہیں۔ اس کی خاص وجہ ہے؟

٭٭   اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ اول تو یہ کہ فضلِ ربی ہے کہ قدرت کی طرف سے مجھے یہ ملکہ حاصل ہوا ہے کہ میں بولتے وقت سوچ بھی سکتا ہوں۔ گویا زبان و ذہن دونوں کے بیک وقت کام کرنے سے مجھے کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ دوسرے یہ کہ لکھی ہوئی تقریر پڑھنے سے سوچنے کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ زبان فعّال رہتی ہے ذہن اتنا کارگر نہیں رہتا اور سامعین سے تو وہ رشتہ ہرگز نہیں بنتا جو ‘از دل خیزد و بر دل ریزد، کی کیفیت پیدا کردے۔ بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ عملی، تنقیدی و تحقیقی سفر میں دس بارہ ہزار صفحات سے زیادہ میں نے لکھا ہو گا، میرا لکھنا پڑھنا سوچنا (برا بھلا جیسا بھی ہے) بولتے ہوئے میرے ذہن میں مستحضر رہتا ہے۔ تقریر تو کیا، بس میں سامعین سے ہم کلام ہونے اور دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں۔

٭       ایک رات آپ کے دولت کدہ پر ’’اردو‘‘ والوں کی دھماچوکڑی سے پولیس کی آمد پر آپ کے اہلِ خانہ اور پاس پڑوس کا رد عمل کیا تھا۔ یہ صورت حال اردو والوں کا خاصہ ہے یا دیگر زبانوں کے ادیب بھی شامل حال ہیں؟

٭٭   اب اتنے برس ہو گئے، شاید پاس پڑوس سے کسی نے فون کیا ہو گا۔ یہ فقط اردو والوں کا خاصہ نہیں۔ اہلِ فکر کی کچھ دوسری ضرورتیں بھی ہوتی ہیں۔ آپ نے علامہ کا فتویٰ تو سنا ہو گا :

لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

٭       آپ کے مزاج کی انقلاب آفرینی کس نظریہ، تحریک یا جواز کی دین ہے؟

٭٭   میں کسی ایک نظریے یا تحریک کا پابند نہیں۔ یہ میرے باطنی تجسس کے خلاف ہے۔ غالب نے کہا تھا :

رشک ہے آسائشِ اربابِ غفلت پر اسد

پیچ و تابِ دل نصیبِ خاطرِ آگاہ ہے

اس کو پیچ و تابِ دل کی دین سمجھیے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ادب بہتے ہوئے دریا کی طرح ہے۔ ٹھہری ہوئی فکر ادب کے جدلیاتی تحرک کے خلاف ہے۔ یہ مشورہ آپ کی نظر میں ہو گا :

ہر کس کہ شد صاحب نظر

دینِ بزرگاں خوش نکرد

ضروری نہیں کہ ہر شخص صاحبِ نظر ہو، تاہم ’’ز شرر ستارہ جویم، ز ستارہ آفتابے ‘‘ پر عمل کرنا اگر فطرت کا تقاضا بن جائے تو اس پر عمل کرنے میں حرج بھی نہیں۔

٭       پروفیسر صاحب! تنقید نگار کے ہاں تخلیقی وصف کتنے فیصد ہونا ضروری ہے۔ مثلاً آپ کی شعری تنقید میں سخن فہمی کا بڑا ذکر ہے۔ نثری تنقید میں کون سی بصیرت درکار ہوا کرتی ہے؟

٭٭   دراصل تنقید و تخلیق کے خانے اتنے الگ الگ نہیں جتنے سمجھے جاتے ہیں۔ اچھی تنقید تخلیقی احساس کے بغیر ممکن نہیں، اسی طرح جو تخلیق وجود میں آتی ہی کسی نہ کسی تنقیدی تصور کے تحت ہے۔ کوئی غزل گو ہے تو غزل کے معاملات کی آگہی یا کوئی فکشن نگار ہے تو فکشن کے معاملات کی آگہی خواہ اس کو شعوری احساس ہو یا لاشعوری، ضروری ہے۔ پہلی منزل صاحبِ ذوق ہونا ہے جس میں طبیعت اور مزاج کو بھی دخل ہوتا ہے۔ نیز مطالعے اور تربیت کو بھی، سخن فہمی کی منزل بعد میں آتی ہے۔ یہ نہ ہو تو تنقید گھاس کھودنے کا عمل ہے۔ سخن فہمی سے مراد ‘ادب فہمی، بھی تو ہے یہ جتنی شاعری پر تنقید کے لیے ضروری ہے اتنی نثری ادب پر تنقید کے لیے ضروری ہے۔

٭       ماضی میں لکھی جانے والی تنقید کا آج کی تنقید سے کس طرح موازنہ کریں گے اور اس میں پائی جانے والی یک طرفی کو مستقبل میں کیا عنوان دیا جائے گا؟

٭٭   اُجالے کا وجود اندھیرے اور اندھیرے کا اجالے سے ہے۔ اچھی تنقید کی معنویت کے لیے بُری تنقید کا وجود ضروری ہے۔ میں آپ نہ بھی چاہیں تو ایسی تنقید پہلے بھی لکھی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہے گی۔ غالب نے جب کہا تھا ۔۔ ’’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں ‘‘ تو سخن فہمی چونکہ ذوق و ظرف کی بات ہے اس میں طرفداری تو رہے گی۔ طرفداری اگر برحق ہے اور مدلل ہے تو نامناسب نہیں۔ ایک فن پارہ اعلیٰ ہے میں اس کو پسند کرتا ہوں۔ لیکن جس کو ناپسند ہے اس کے نزدیک میری پسند طرفداری ہے۔ لیکن اگر میری بات مدلل ہے اور میں نے ثبوت پیش کیا ہے تو وہ طرفداری نہیں سمجھی جائے گی۔ تنقید کا عمل بنیادی طور پر موضوعی عمل ہے۔ البتہ ماضی میں لکھی جانے والی تنقید، کیونکہ تنقید کم اور تنقیض یا قصیدہ زیادہ تھی اس لیے تنقید کے دائرے سے خارج ہے۔ تنقید نہ ہجو ہے نہ قصیدہ نگاری۔ تنقید فن پارے کے حسن کو اُجالتی ہے اور اس کی روح تک رسائی حاصل کرتی ہے۔

٭       اسلوبیاتی تنقید کا نمائندہ گرداننے والے آپ کا دائرہ اثر محدود نہیں کر رہے !

٭٭   ہاں، یہ تو صحیح ہے اسلوبیاتی تنقید میرے جملہ تنقیدی عمل کی فقط ایک سطح ہے لیکن میں کسی کو منع بھی تو نہیں کر سکتا۔

٭       ‘ہندستانی قصوں، سے ماخوذ مثنویوں کا خیال کیونکر آیا اور اس سے اردو ادب کے قاری کو کیا فوائد حاصل ہوئے؟

٭٭   ‘ہندستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں، میرے اس بڑے کام کا حصہ ہے جس کا ڈول میں نے 1954 میں دہلی یونیورسٹی سے ایم.اے . اردو کرنے کے بعد ڈالا تھا۔ میری ڈاکٹریٹ کا موضوع ‘اردو شاعری کا تہذیبی مطالعہ، تھا۔ مثنوی والا کام میرے پی ایچ. ڈی. کے تھیسس کا فقط ایک Chapter تھا 50۔55 صفحے کا۔ اس سے بہت دلچسپ نتائج سامنے آئے اور میں دو تین سال مزید اس پر کام کرتا رہا۔ یوں وہ کتاب 96 میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔ جس سے ثابت ہوا کہ اردو کی جڑیں ہماری ملی جلی تہذیب میں دور دور تک پیوست ہیں۔ مثلاً اردو میں فقط یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں و شیریں فرہاد ہی نہیں، ہیر رانجھا، سسّی پنوں، سوہنی مہیوال و مرزا صاحبان بھی ہیں۔ اسی طرح شکنتلا اور کامروپ و کلاکام بھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری شاہکار مثنویاں سحرالبیان اور گلزار نسیم ہندو مسلم ربط و ارتباط کا لاجواب مرقع ہے۔ میں نے دنیا بھر کے کتب خانوں اور عجائب گھروں میں ان قصے کہانیوں کی جڑوں کو تلاش کیا۔ سنسکرت و فارسی کے نسخوں کا پتہ بھی چلایا اور اردو کے منظوم و نثری نسخوں کی بھی نشاندہی کی۔ اور قلمی نسخوں کی بھی جو ہنوز غیرمطبوعہ ہیں۔ ادھر یہ کتاب بعد از نظر ثانی  میں قومی اردو کونسل سے مزید اضافوں کے ساتھ تقریباً چار سو صفحوں پر مشتمل شائع ہو گئی ہے۔ اب تہذیبی مطالعے کا یہ پروجیکٹ تین مبسوط کتابوں پر مبنی ہے۔ یعنی پہلی جلد اردو مثنوی پر، دوسری اردو غزل پر اور تیسری نظم و دیگر جملہ اصناف کا احاطہ کرتی ہے۔ دوسری کتاب کا نام ‘اردو غزل اور ہندستانی ذہن و تہذیب، ہے جو  میں منظرِ عام پر آئی۔ تیسری کتاب کا عنوان ‘تحریک آزادی اور اردو شاعری، ہے جو زیر اشاعت ہے۔ یہ تینوں کتابیں مل کر پندرہ سو صفحوں کو محیط ہیں۔

٭       آپ کے فرمان کے مطابق بول چال کی زبان میں شاعری نہیں ہوسکتی جبکہ شاعری کی زبان میں بول چال ہوسکتی ہے۔ کیا آج کی شاعری بول چال سے اوپر کی سطح کی شاعری ہے؟

٭٭   شاعر شاعر میں فرق ہوتا ہے۔ میں نے یہ بات میر کی زبان کے پس منظر میں عرض کی تھی جن کو ہرچندکہ گفتگو عوام سے تھی لیکن شعر ان کے خواص کوپسند بھی ہیں۔ اعلیٰ شاعری میں سادہ نظر آنے والی زبان دراصل سادہ نہیں ہوتی۔ اس میں معنی تہہ در تہہ ہوتے ہیں۔ اس کو نبھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ لیکن شاعری تخلیق کا حق اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب عام زبان زندہ رہنے والی زبان بن جائے، یعنی بول چال کی زبان میں معنی آفرینی اور حسن کاری کا وہ عنصر شامل ہو جائے جس کا جادو دلوں پر چل سکے۔ آج کی شاعری میں اچھی یا بُری ہر طرح کی شاعری ہے۔ اچھی کم بُری زیادہ۔ جہاں جہاں معنی آفرینی ہے وہاں زندہ رہنے کا امکان ہے۔

٭       آپ کے ارشاد کے مطابق نوجوان تخلیق کاروں کو عالمی ادب کے کلاسیک کے ساتھ ہندی، بنگالی، مراٹھی، گجراتی اور ملیالم وغیرہ کے تراجم کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے۔ یہ تراجم دستیاب کہاں سے ہوں گے؟

٭٭   ہندی، بنگالی، مراٹھی، گجراتی، ملیالم وغیرہ کے شاہکاروں کے تراجم ساہتیہ اکادمی سے بھی شائع ہوئے ہیں اور نیشنل بک ٹرسٹ سے بھی۔ یہ کتابیں کم داموں کی ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں۔

٭       آپ کے خیال میں گذشتہ صدی میں اردو ادب کی کون سی صنف نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ نیز غزل، نظم، افسانہ اور تنقید کے چار بڑے نام کون سے ہیں اور آج کل ان شعبوں میں لیڈنگ پوزیشن پر کون ہیں؟

٭٭   ادب کھیل کا میدان نہیں کہ کس نے Century زیادہ بنائی ہیں یا کس نے زیادہ وکٹیں لی ہیں۔ ادب ایک جدلیاتی عمل ہے جس کا ارتقائی سفر برابر جاری رہتا ہے۔ نیز اگر ایک شخص کی نظر میں Leading Position پر فلاں فلاں نام ہیں تو کسی دوسرے شخص کی نظر میں دوسرے نام، پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا۔ غالب نے کہا تھا ’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے ‘‘۔ ناموں کا انتخاب بھی رسوائی کا عمل ہے۔ بہرحال کچھ نام ہوتے ہیں جن پر سب کا نہیں تو زیادہ تر کا اتفاق ہوسکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو ادب میں سب سے زیادہ ترقی افسانہ نگاری نے کی ہے۔ غزل بھی پیچھے نہیں۔ البتہ نظم کچھ پچھڑ گئی ہے۔ پچھلے تیس چالیس برسوں میں تنقید میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ میری نظر میں گذشتہ صدی میں فکشن کے چار پانچ بڑے ناموں میں پریم چند، منٹو، بیدی، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین ضرور شامل ہوں گے۔ شاعری میں فراق گورکھپوری، ن.م. راشد، میراجی، اخترالایمان اور ناصر کاظمی۔ اسی طرح تنقید میں احتشام حسین، آل احمد سرور، کلیم الدین احمد، محمد حسن عسکری اور ڈاکٹر سید عبداللہ۔ باقی بڑے نام میرے معاصرین ہیں۔

٭       کیا آپ بھی اردو زبان کو مسلمانوں سے منسوب کرتے ہیں؟

٭٭   زبان کا مذہب نہیں ہوتا، زبان کا سماج ہوتا ہے۔ جو لوگ زبانوں کو ایک مذہب تک محدود کرتے ہیں وہ زبان کے ساتھ بے انصافی کرتے ہیں۔ زبان ایک جمہوری سماجی عمل ہے۔ جو جس زبان کو بولتا ہے زبان اس کی ہو جاتی ہے۔ زبان ہر اجارہ داری کے خلاف ہوتی ہے۔ اردو زبان کا تعلق نہ تو سامی خاندان سے ہے اور نہ ایرانی خاندان سے، اردو کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے۔ اس کی بنیاد ایک پراکرت یعنی کھڑی بولی پر ہے۔ البتہ اس کی لفظیات کا امتیازی حصہ عربی فارسی سے آیا ہے تاہم اردو کے 7 فیصد الفاظ بقول مولف فرہنگ آصفیہ ہندی کے ہیں۔ اردو کو کئی صدیوں تک ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل جل کر سجایا سنوارا ہے۔ اس کا رسم الخط عربی فارسی سے ماخوذ ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس میں اسلامی عناصر کا رنگ چوکھا ہے۔ لیکن اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اردو ایک مخلوط زبان ہے۔ دنیا کی بڑی زبانیں خود کو کسی ایک مذہب پر بند نہیں کرتیں۔ اگر کوئی اردو زبان کو مسلمانوں تک محدود کرنا چاہے تو یہ اس کی آزادی ہے۔ لیکن یہ کوتاہ اندیشی بھی ہے جس سے زبان کا نقصان ہوتا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ گجراتی یا ملیالم یا کنڑ یا مراٹھی کا مذہب کیا ہے۔ تو اردو ہی پر یہ کرم کیوں؟ آسمان، خوشبو اور ہوا کی طرح زبان بھی سب کے لیے ہوتی ہے۔ زمین کا بٹوارہ ہوسکتا ہے زبان کا بٹوارہ ایک ایسی منطق ہے جو میری سمجھ میں نہیں آتی۔

٭       قیام پاکستان نے اردو زبان و ادب اور برصغیر کی ثقافت پر کیا اثرات مرتب کیے؟

٭٭   قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی قومی زندگی میں اردو زبان و ادب کو مرکزی جگہ ملی ہے جو مستحسن ہے۔ لیکن اسی نسبت سے ہندوستان میں اردو کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ بٹوارے سے پہلے اردو کا چلن پورے ہندوستان میں تھا۔ عوامی سطح پر اب بھی ہے۔ لیکن کوئی ریاست اردو کے نام پر نہیں، اس لیے کہ کسی بھی ریاست میں اردو والے اکثریت میں نہیں۔ سیاست کس طرح زبانوں کے مقدر پر اثرانداز ہوتی ہے اس کا دُکھ کوئی بیچاری اردو سے پوچھے۔ یہ اردو کی سخت جانی ہے کہ وہ حالات کو جھیل رہی ہے اور زندہ ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں تقسیم سے پہلے بھی اردو کا خوب خوب چلن تھا بھلے ہی لوگ بات چیت پنجابی میں کرتے تھے لیکن اخبار سب اردو میں پڑھتے تھے۔ خط و کتاب اور ضلعی انتظام بھی اردو میں تھا۔ اس میں کچھ ترقی آئی ہے لیکن پاکستان میں ہنوز اردو کو سرکاری، دفتری، قومی زبان کا درجہ نہیں ملا جبکہ پورے ہندوستان میں اردو کے لیے مشکلات کا کھاتہ کھل گیا اور ملک گیر زبان ہوتے ہوئے بھی اردو رسم الخط میں اردو کا اثر و نفوذ وہ نہیں رہا جو 947 سے پہلے تھا۔

٭       مہاتما گاندھی کی نسبت بابائے اردو مولوی عبدالحق کے الزام کہ ‘ان کی بے اعتنائی کے باعث ہندوستان میں اردو کو حکومتی سطح پر جائز مقام نہیں ملا، کی بابت آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   مہاتما گاندھی اور مولوی عبدالحق میں غلط فہمی کی جو مذموم خلیج پیدا کی گئی تھی یعنی الزام تراشی کس نے کی، گاندھی جی کے نام سے جھوٹ کس نے بولا اور کیوں بولا، ان سب حقائق سے حال ہی میں ڈاکٹر گیان چند جین نے دستاویزی شہادتوں کے ساتھ پردہ اٹھایا ہے جو عبرت انگیز ہے۔ اس نوع کی حرکتیں ہم خود اردو زبان کو نقصان پہچانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔ اس کی تفصیل کئی رسائل میں چھپ چکی ہے۔ تکرار کی ضرورت نہیں۔ آپ جاننا چاہیں تو محترمی مشفق خواجہ سے تمام تفصیل حاصل کر سکتے ہیں۔ گیان چند جین کا مضمون، ہماری زبان اور ’’چہارسُو‘‘میں چھپ چکا ہے۔ اس سے پہلے حیات اللہ انصاری نے بھی ان رازوں سے پردہ اٹھایا تھا کہ کچھ اپنوں ہی نے جھوٹ بول کر اور مولوی صاحب کو بھڑکا کر خلیج پیدا کی تھی۔

٭       تو پھر آپ کے خیال میں ’’اردو‘‘ کو ہندوستان میں جائز مقام نہ ملنے کے اسباب کیا ہیں؟

٭٭   آپ کے اس سوال کا جواب میں نے اوپر دے دیا ہے۔

٭       ترقی پسندی، جدیدیت، کلاسکیت کے نعروں کی جڑیں کٹنے کے بعد تخلیق کار کو کس طرح کے عنوانات سے مہمیز ملے جبکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے عین مطابق ایک ہی نظریہ، ایک ہی طاقت اور ذاتی مفاد ہر قیمت پر رائج ہو چکا ہے !

٭٭   جو لوگ ذاتی مفاد کے لیے لکھتے ہیں وہ سچا ادب تخلیق نہیں کر سکتے۔ جو لوگ نعروں کے تحت لکھتے ہیں یعنی نعروں کے بدل جانے کے بعد نئے نعروں کا انتظار کرتے ہیں وہ بھی اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کر سکتے۔ ادب کے لیے اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو باطن کی آگ، آزادی کی تڑپ، انسانی قدروں کے احساس اور زبان پر قدرت کی۔ ادب نظریوں اور آئیڈیالوجی سے آگے جاتا ہے۔ ان چیزوں سے روشنی ملتی ہے لیکن یہ چیزیں جب سینے کا نور بن جاتی ہیں تب قدروں میں ڈھلتی ہیں۔ تخلیق ہرگز ہرگز میکانکی عمل نہیں ہے۔ ادب ایثار اور ریاضت ہے۔ یہ تنہائی کا ثمر ہے۔ جو لوگ ذاتی مفاد کے چکر میں پڑے رہتے ہیں وہ ادب کے دشمن ہیں۔

٭       بقول آپ کے ! ادبی قبولیت آہستہ روی سے ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ! ناقدین، تخلیق کار کی ہڈیوں کے گلنے کا انتظار کیوں کیا کرتے ہیں؟

٭٭   آج کل کاتہ اور لے دوڑی کا رواج ہے۔ ادبی قبولیت اور فلم کی قبولیت میں فرق ہے۔ جو چیز جتنی جلدی مشہور ہوتی ہے وہ چیز اتنی جلدی فراموش بھی ہو جاتی ہے۔ سچے ادب کا رشتہ دوامیت سے ہے۔ فوری نتائج بزنس میں ہوتے ہیں۔ ادب بزنس نہیں ہے۔ ادب ذہنی تنہائی کا پھل ہے اس کے لیے ایثار اور تپسیہ چاہیے۔ جو اس کے لیے تیار نہیں اس کو چاہیے کوئی دوسرا کاروبار کرے۔

٭       عالمی ادب پر گہری نظر کی روشنی میں یہ فرمائیے کہ کس زبان کے ادب نے آپ کو زیادہ متاثر کیا یا آپ کے خیال میں کس خطہ کا ادب زیادہ تہذیب یافتہ اور بامعنی ہے؟

٭٭   باوجود اس کے کہ میں نے بہت سی زبانوں کے بہت سے شاہکار پڑھے ہیں لیکن جو جمالیاتی حظ و لطف اپنے ادب میں ملتا ہے وہ کسی دوسرے ادب سے حاصل نہیں ہوتا۔ میری جڑوں میں پاکستانی بولیوں کے اثرات ہیں تو لامحالہ میرے تحت و شعور میں بابا فرید، بلھے شاہ، شاہ حسین، وارث شاہ اور اس نوع کی لوک روایتیں ہیں۔ اپنی زبان میں میں سب سے زیادہ جمالیاتی حظ میر تقی میر اور غالب سے پاتا ہوں۔

٭       آپ کے ساختیات، پس ساختیات کے مباحث فیشن کے طور پر دنیا کی بڑی جامعات میں اختیار کیے جا رہے ہیں۔ اوّل آپ کے خیال میں اس عمل کے کیا اثرات برآمد ہوں گے دوئم اس رجحان کی روشنی میں آپ کے لیے کام کے زاویے کیا رُخ اختیار کریں گے؟

٭٭   اوّل تو یہ کہ ساختیات، پس ساختیات، مابعد جدیدیت کے مباحث فقط میرے نہیں ہیں۔ یہ ادبی تھیوری کی نئی فکر انگیز بصیرتوں کا حصہ ہیں جن پر دنیا بھر میں بحث مباحثہ جاری ہے۔

زبان، تہذیب، معنیات، ادبیات اور تو اور تاریخ کے پہلے سے چلے آرہے تصورات کی مختلف جہات پر ازسرِنو غور کیا جا رہا ہے۔ میں ذہنوں کو ‘پروگرام، کرنے یا ہدایت نامے جاری کرنے کے خلاف ہوں۔ میرا کام تازہ ہواؤں کے لیے دریچے کھولنا اور فکر کو مہمیز کرنا ہے۔ فکر کا کارواں کسی پڑاؤ پر رکتا نہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا فکر کا اگلا پڑاؤ کیا ہو گا۔ علم کی جستجو میں لگے رہنا اگر کارِ ثواب نہیں تو گناہ بھی نہیں۔ میں بار بار عرض کرتا ہوں کہ جب کوئی نظریہ آخری نظریہ نہیں تو کسی نظریے سے میکانکی معاملہ کرنا یا اس کو فیشن کے طور پر اختیار کرنا بھی اصولاً غلط ہے۔ فکر کو سینے کا نور اور ذہن کی روشنی بن جانا چاہیے۔ سب سے بڑی شرط ذہن کی آزادی ہے جس کی وجہ سے ہم بنیادی مسائل سے آزادانہ تخلیقی معاملہ کر سکتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے مابعد جدیدیت ہر تقلیدی روش یعنی ’مقلدیت‘ کے خلاف ہے۔ علامہ اقبال نے یونہی نہیں کہا تھا ’’نہیں ہے میری نظر سوئے کوفہ و بغداد / کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد‘‘۔ جدیدیت بے اثر ہو چکی ہے، جن کو یہ بات اچھی نہیں لگتی وہ اس کو زندہ بھی تو نہیں کر سکتے۔ جب دنیا بھر میں نظریوں کا بطلان ہو چکا ہے تو بعض کرم فرما کیوں توقع کرتے ہیں کہ میں ان کی خوشی کے لیے جھوٹ بولوں۔

٭       پروفیسر صاحب! اردو کے ادبا و شعرا کاغذ پر بڑے نظر آنے کے باوجود عملی زندگی میں اس سے مختلف کیوں ہوتے ہیں نیز دیگر زبانوں کے قلمکاروں کی کیفیت کیا ہے؟

٭٭   شاعر کی عملی زندگی ضروری نہیں سو فیصد وہی ہو جو اس کی تخلیقی زندگی ہے۔ شیکسپیئر ایک عام آدمی کی طرح زندگی جیتا تھا۔ غالب جوا کھیلنے کی عمل میں دو مرتبہ ماخوذ ہوئے یا آئے دن لوگوں سے ادھار مانگتے تھے یا ڈومنی کو مار رکھنے کے دعویدار بھی تھے لیکن ان کی شاعری میں جو جہانِ معنی آباد نظر آتا ہے یا شیکسپیئر کے ڈراموں میں جو پوری کی پوری تہذیبوں کے کردار ہیں یا میر کے یہاں ایک پوری تاریخ ایک پورے یگ کا المیہ ہے اس کا محدود نوعیت کی عملی زندگی یا ان کی شخصی کمیوں و کوتاہیوں سے کیا تعلق ہے۔ بیشک چیزیں زندگی سے آتی ہیں، خارجی واقعات متاثر کرتے ہیں لیکن داخلی دنیا تصور و تخئیل و وجدان کی دنیا ہے، یہ معروضیت کی دنیا نہیں۔ باطن کے ذہنی پردے پر تخلیقی عمل کس پُراسراریت سے گزرتا ہے اور معنی کا چراغاں کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح سے تخئیلی فن پارہ وجود میں آتا ہے جو زندۂ جاوید ہو جاتا ہے۔ یہ سربستہ راز ہے جس سے کوئی پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ عملی زندگی ایک دن ختم ہو جاتی ہے شعر زندہ رہتا ہے، زماں اور مکاں دونوں پر فتح حاصل کرتا ہے۔ زندگی ہار کے مٹ جاتی ہے لفظ کا جادو بولتا ہے۔ غالب، شیکسپیئر یا میر کی عملی زندگی کب کی ختم ہو چکی لیکن وہ اپنی شاعری میں آج بھی زندہ ہیں۔ یہ زندگی حقیقی زندگی سے کہیں زیادہ بڑی اور کہیں زیادہ حقیقی ہے۔ یہ اندرون کی زائیدہ ہے۔

٭       سنا ہے آپ دوستی اور دشمنی نبھانے میں بڑے مستقل مزاج واقع ہوئے ہیں۔ اس سے آپ کے تنقیدی رویوں کی اثبات پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

٭٭   یہ کسی نے بربنائے قافیہ لکھ دیا ہے۔ میرا خمیر دوستی سے بنا ہے، دشمنی سے نہیں۔ میں نے فقط معاصر ادیبوں پر نہیں لکھا بلکہ زیادہ کلاسیکی ادیبوں، شاعروں پر لکھا ہے۔ ان باتوں میں دوستی دشمنی کہاں ہے۔ البتہ ایسی باتیں دیکھنے والوں کی اپنی نظر کا معاملہ ہے۔ سرسید احمد خاں نے کہا تھا خدا کا لاکھ شکر ہے اس نے ‘محسود، بنایا ہے کسی کا ‘حاسد، نہیں۔ اگر کچھ لوگ بربنائے حسد کرم فرماتے ہیں یا اپنی زبان خراب کرتے ہیں تو میں ایسی چیزیں کھول کر پڑھتا ہی نہیں۔ میرے پاس فضول وقت ہے ہی نہیں۔ میں اپنی راہ کیوں کھوٹی کروں۔ زندگی بہت چھوٹی ہے، بہتر ہے انسان تھوڑا بہت اپنا کام کرتا رہے۔

٭       آپ کے بعد آپ کے گھر پریوار میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟

٭٭   مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میری بیوی اور دونوں لڑکے ارون اور ترون اردو پڑھ سکتے ہیں۔ اب ایک کنیڈا میں ہے دوسرا نیویارک میں۔ ان کی اولادوں در اولادوں کی زبانیں مستقبل میں کیا ہوں گی میں نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اتنا یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اردو ایسی زبان ہے کہ اس کے دیوانے کہیں نہ کہیں پیدا ہوتے ہی رہیں گے۔

٭       دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دیے جانے پر آپ کے احساسات کیا ہیں اور اس سے زبان کی ترقی کے امکانات کس قدر ہیں؟

٭٭   کچھ فائدہ تو ہو گا ہی۔ اردو دہلی سے کبھی غائب نہیں ہوئی۔ دہلیِ قدیم کے ایک بڑے حصے میں اردو برابر بولی جاتی رہی۔ اردو کو ‘دوسری زبان، کہنا مجھ کو اچھا نہیں لگتا۔ جو کل بیگم تھی وہ آج باندی ہو گئی، تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو! ہر چند کہ دلی سرکار کی مہربانی ہے کہ اس نے یہ قدم اٹھایا، لیکن ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ خدا کرے کہ دہلی کے اسکولوں میں اردو پوری طرح رائج ہو جائے۔ یہ کام ہو گیا تو باقی دروازے اردو زبان اپنے آپ کھول لے گی۔

٭       ایک خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں اردو کی مسلمانوں سے منسوبی اور پاکستان میں نمائشی لگاؤ اس زبان کے مستقبل کے لیے مضر رساں ہے۔ آپ ہر دو رجحان کی روشنی میں اس زبان سے وابستہ افراد کو کس طرح کے مشورے دینا پسند کریں گے؟

٭٭   میں مشورے دینے کو اچھی بات نہیں سمجھتا۔ مشورے سیاستداں دیتے ہیں۔ افسوس ہے تیزی سے کمرشیل ہوتے ہوئے سماجوں میں سرکاریں بھی اور لوگ بھی زبان کی اہمیت کو بھول گئے ہیں، حالانکہ زبان تہذیب کی کلید ہے۔ زبان نہیں ہے تو آپ کا چہرہ نہیں ہے اور چہرہ نہیں ہے تو تہذیب نہیں ہے۔ اگر تہذیب نہیں ہے تو آپ صرف کھانے کمانے جینے اور مر جانے کے لیے جیتے ہیں۔ جس تہذیب سے میرا تعلق ہے اس میں اس طرح کا جینا نہ جینے کے برابر ہے۔ زبان تہذیب کا چہرہ تو ہے ہی، انسانیت، اقدار، اعتقاد اور مذہب کا چہرہ بھی ہے۔ زبان ہے تو تاریخ کا شعور ہے، زبان ہے تو خدا کا شعور ہے، زبان ہے تو نیک و بد کا شعور ہے۔ اس سے زیادہ کیا عرض کروں۔ آج کل جو تشدد اور خون خرابہ ہے اس کے پیچھے زبان کے شعور کی کمی ہے۔ زبان دلوں میں اتر جائے تو اندر کا حجرہ روشن ہو جائے۔ زبان محبت کا دوسرا نام ہے۔ یہ جوڑتی ہے توڑتی نہیں۔ اگر دونوں جگہ اردو سے سچی محبت عام ہو جائے تو دونوں کے مسئلے حل ہو جائیں۔ کاش ایسا ہی ہو۔

٭٭٭

 

محسن بھوپالی

(۲۹ ستمبر ۱۹۳۲ء)

٭        عبدالرحمن صاحب محسن بھوپالی کب اور کیسے بنے؟

٭٭   اگر آپ کا سوال شاعری کے حوالے سے ہے تو شعر گوئی کا آغاز 1947ء سے ہو گیا تھا لیکن رسائل اور اخبارات میں اشاعت کا سلسلہ 1948ء سے شروع ہوا اور اگر آپ کے سوال کا زور تخلص پر ہے تو عرض ہے کہ میں نے شروع شروع میں زیبا بھوپالی تخلص اختیار کیا تھا لیکن اسی زمانے میں زیبا ردولوی اور شجاع احمد زیبا کا کلام بھی شائع ہو رہا تھا اس لئے میں نے تخلص تبدیل کرنے کے بارے میں احباب سے مشورہ کیا اور با لآخر اپنے عزیز دوست محمد محسن کے نام پر جسے میں بھوپال میں چھوڑ آیا تھا اپنا تخلص محسن بھوپالی رکھا۔

٭       1947ء سے شعر گوئی کا آغاز اور 1948ء سے اشاعت کا باقاعدہ سلسلہ 1932ء اور 1947ء کے درمیان صرف پندرہ سال کا عرصہ بنتا ہے پندرہ سال کے نو عمر بچے نے کن احساسات و مشاہدات کے بنا پر سخن سازی کا آغاز کیا؟

٭٭   چودہ سے سولہ برس کی عمر جذبات اور احساسات کی فراوانی اور گرد و پیش سے فوری طور پر متاثر ہونے کی عمر ہوتی ہے۔ ہمارے محلے کے قریب انڈین انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری تھی جہاں میں اکثر جایا کرتا تھا۔اس انسٹی ٹیوٹ میں ماہانہ شعری نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ میں شعراء کو بڑے شوق سے سنتا اور یہ سوچتا کہ ایسا تو میں بھی لکھ سکتا ہوں۔ چنانچہ تک بندی کا آغاز 947ء کے اوائل میں ہی ہو چکا تھا اسی دوران میں، میں نے ہندوستان کی آزادی اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی جدوجہد کا نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ 947ء کے اوائل میں رضا کار اسٹیٹ مسلم لیگ کی حیثیت سے اپنے ہم جماعت طلباء کے ساتھ ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں مدھیہ پردیش کے بعض شہروں اور بالخصوص ریاست گوالیار سے آنے والے مہاجرین کا استقبال کرنے اور انہیں مختلف کیمپوں میں پہنچانے کا کام سرانجام دیا۔ اس تمام صورت حال اور گرد و پیش کے ماحول کے مشاہدات نے میری شعری صلاحیتوں کو جلا دی اور سخن کی راہ پر گامزن کیا۔

٭       سیماب اکبر آبادی اور صبا متھراوی سے آپ نے کب اور کس طور فیض حاصل کیا اور اس سے آپ کے شعری سفر پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

٭٭   یہ 1949ء کے اوائل کی بات ہے بھارت سے آئے ہوئے ممتاز شاعر صمد رضوی ساز، حکیم شاہد علی شبیہ بد ایونی، شوکت عابدی، سید احمد اور عرشی کرتپوری اور میں نے ساتھ مل کر بزم ادب لاڑکانہ کی داغ بیل ڈالی تھی۔ میری شاعرانہ زندگی کا باقاعدہ آغاز اسی بزم ادب کے پلیٹ فارم سے ہوا۔ اس زمانے میں کراچی سے حضرت سیماب اکبر آبادی کی سرپرستی میں ماہانہ پرچم کا اجراء ہوا۔ میں نے سیماب صاحب سے اصلاح کے لئے رجوع کیا۔ انہوں نے چند ایک غزلوں پر اصلاح دینے کے بعد علالت کے باعث اپنے فارغ التحصیل شاگرد حضرت صبا متھراوی سے رجوع کرنے کے لئے کہا۔ چنانچہ میں نے ان سے دو سال تک اصلاح لی۔ ذاتی طور پر بہت کم اور زیادہ تر بذریعہ خط و کتابت 95ء کے بعد میں نے مشق اور مطالعہ کو ہی اپنا رہنمائے سخن ٹھہرایا جو آج بھی میرا رہنما ہے۔ حضرت سیماب اور بالخصوص حضرت صبا کی دی ہوئی اصلاح اور فنی مشوروں نے زبان و بیان کی احتیاط اور فنی عروض کی پاس داری میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بلا شبہ سیماب اسکول کے طلباء کو اس ضمن میں امتیاز حاصل ہے۔

٭       ایک طرف آپ کے بارے میں یہ تاثر کہ آپ بہت ہی نازک احساسات کے حامل شاعر ہیں جس سے قاری کا ذہن آپ کی قلبی و اردات کی جانب رجوع ہوتا ہے دوسری طرف آپ کا انقلابی انداز

                        ؂منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

لوگوں کو چونکا تا ہے دل و دماغ کے درمیان بپا اس جنگ کے محرکات کیا ہیں اور کیا کسی طور اس کشمکش کا کوئی منطقی نتیجہ برآمد ہوا؟

٭٭   جس ملے جلے تاثر کا ذکر آپ نے اپنے سوال میں کیا ہے اس کا جواز میرے شعری سفرکے بہت بعد میں بنتا ہے۔ قیام پاکستان اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات، تبادلہ، آبادی، سیاست کی بازی گری، جدوجہد آزادی کی راہ میں سب کچھ کر گزرنے والوں کی کسمپرسی، معاشرتی ناہمواری اور انگریزوں کی کاسہ لیسی کرنے والوں کا عروج جیسے موضوعات میری شعری زندگی کے ابتدائی دور میں ہی در آئے تھے جنہیں ترقی پسند نظریہ کی بناء پر نہ صرف جلا ملی بلکہ ان کو نظم کرنے کا حوصلہ بھی ملا۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ’’شکستِ شب‘‘ (مطبوعہ 1961ء) اسی موضوعاتی اور مزاحمتی شاعری کا آئنہ دار ہے۔ ہم۔ سے۔ میں کی جانب واپسی کا سفر بہت بعد میں شروع ہوا۔ جب میں نے فیض اور مخدوم جیسے شعراء کو بھی ’’معاملات دل‘‘ اور حبیب عنبر دست کی شاعری کرتے دیکھا اور سنا۔ آپ نے جن نازک احساسات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ شکستِ شب کے زمانے میں بھی تھے لیکن ان کا اظہار گرد مسافت سے اپنا چہرے صاف کرنے کے بعد کچھ زیادہ ہی ہوا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ فیض صاحب کے اس مصرعے اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا پر میں نے دیانت فن کے ساتھ عمل کیا ہے دراصل وہ ایک رو تھی جس کے تحت میرے سینئر اور میرے ہم عصر شعراء اپنی تخلیقی صلاحیتیں صرف کر رہے تھے۔ دل و دماغ کی اس کشمکش نے ایک امتزاج پر سمجھوتہ کر لیا ہے بہ الفاظ دیگر اب میری بیشتر شاعری میں ایک طرح کا توازن اور اعتدال پیدا ہو گیا ہے۔

٭       شاعری میں غزل آپ کی من پسند صنف ہے۔ پھر آپ اتنا بھٹکتے کیوں ہیں، نظمیں، نظمانے، آپ بیتیاں، جگ بیتیاں، قطعات، ہائیکو اور ماہئے میں جدت طرازی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی دھن میں کتنا وقت صرف کیا اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوئے۔

٭٭   آپ کا تجزیہ صحیح ہے اب غزل میری من پسند صنف سخن ہے۔ شکستِ شب کے زمانے تک میں نے قطعے اور نظمیں زیادہ کہی تھیں قطعہ میرے نزدیک نظم کی مختصر صورت ہے اس طرح نظم کے ساتھ قطعے بھی کہتا رہا۔ بعد میں چند ایک نظموں میں کہانی پن دیکھ کر خیال آیا کہ نظم اور مختصر افسانے کو ملا کر نظم کہی جائے اس طرح نظمانہ کی صنف وجود میں آئی۔ قطعہ سے میری پہلے سے ذہنی مطابقت تھی اس لئے جب ہائیکو اردو میں لکھی جانے لگی تو میں نے بھی طبع آزمائی کی میرے ہائیکو عام طور پر پسند کیئے گئے۔ معتبر نقادوں نے انہیں سراہا چنانچہ یہ سلسلہ بھی چل نکلا۔ دراصل ہائیکو مختصر ترین نظم کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس لئے بھی موجودہ مشینی اور صنعتی دور میں یہ قبول عام کی سند حاصل کر رہی ہے۔ نہیں جناب نہ میں نے اب تک آپ بیتی لکھی ہے نہ جگ بیتی اور نہ ہی ماہئے۔ بھٹکنے اور جدت طرازی کا الزام صرف نظمانے اور ہائیکو کی حد تک لگایا جا سکتا ہے۔ نظم اور غزل کا تو چولی دامن کاساتھ ہے۔ میں بنیادی طور پر نظم اور پھر غزل کا شاعر ہوں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نظمانہ، قطعہ اور ہائیکو بھی نظم کی مختصر شکلیں ہیں۔ اب رہ گئی اپنے سر سہرا باندھنے کی دھن تو میں نے صرف نظمانہ نگاری کی جدت کا سہرا پنے سر باندھنے کی کاوش کی تھی سو میں اس میں کامیاب ہوں۔ بہ حیثیت صنف سخن نظمانہ اب لغت اور تاریخ ادب میں داخل ہو چکا ہوں۔

٭       قافیہ پیمائی سے فرار اور نت نئی سخن آزادیاں سہل پسندی گردانی جائے گی یا جدت طرازی کے زمرے میں آئے گی از راہ کرم آزاد شاعری کی بابت تمام حدود و قیود کی فنی طور پر صراحت فرما د یجئے؟

٭٭   سب سے پہلے تو آپ اس ترکیب سخن آزادیاں پر داد وصول کیجئے۔ ہر پابندی سے آزاد شاعری کو ہم سہل پسندی پر ہی محمول کریں گے۔ جو شاعر زبان و بیان اور فن عروض پر عبور نہ ہی سوجھ بوجھ رکھتا ہو وہ اگر آزاد نظم یا نثری نظم وغیرہ لکھے تو وہ ان اصناف کے فنی تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔ بعض نئے شعراء میں عام رجحان یہ ہے کہ جو غزل یا نظم کے فنی تقاضے پور ے نہ کر سکتا ہو وہ بے وزن مصرعوں پر مشتمل نظم کہہ کر اسے فخریہ طور پر آزاد نظم کہہ کر مشاعروں یا نشستوں میں سناتا ہے اور رسالوں میں چھپنے کے لئے بھیج دیتا ہے جب کہ وہ ’’فن پارہ ‘‘ آزاد نظم ہوتا ہے۔ آزاد نظم کا بھی فنی پیمانہ ہوتا ہے۔آزاد نظم کسی بھی بحر کے ایک رکن یا چند ارکان کی تکرار سے وجود میں آتی ہے اور اس التزام کو آخر تک برتنا پڑتا ہے مثلاً ن۔ م۔ راشد کی نظم حسن کوزہ گر میں فعولن کی تکرار پوری نظم میں موجود ہے۔

جہاں زا/نیچے /گلی میں /ترے در/ کے آگے

فعولن فعولن فعولن فعولن فعولن

یہ میں سو / ختہ سر / حسن کو / زہ گر ہوں

فعولن فعولن فعولن فعولن

            اس طرح فعولن کے وزن پر پوری نظم کی تقطیع کی جا سکتی ہے۔ میں نے تقطیع کرتے وقت عام قاری کی آسانی کے لئے وہ حرف بھی شامل رکھے ہیں جنہیں تقطیع میں شامل نہیں کیا جاتا)

            اس طرح راقم الحروف کی نظم ’’تسلسل ٹوٹ جائے گا‘‘ میں رکن مفاعلین کی تکرار پوری نظم میں موجود ہے۔

 نہ چھیڑو کھل / تی کلیوں ہنس / تے پھولوں کو

مفاعلین مفاعلین مفاعلین

ان اڑتی تت / لیوں آوا /رہ بھونروں کو

مفاعلین مفاعلین مفاعلین

تسلسل ٹو/ٹ جائے گا

مفاعلین مفاعلین

            اوپر لکھے گئے فنی اہتمام کے ساتھ کہی گئی نظم کو آزاد نظم (Free Verse) کہا جائے گا۔ نظم کی ایک اور صورت نظم معر یٰ(Blank Verse) ہے یہ نظم ایک ہی بحر میں کہی جاتی ہے لیکن اس میں قافیہ یا ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اگر ایسی نظم بغیر ردیف کے ہو اور شاعر نے صرف قافیے کی پابندی کی ہو تو ایسی نظم کو غیر مردّف کہا جائے گا۔ فیض کی مندرجہ ذیل نظم، نظم معریٰ کی مثال میں پیش کی جا سکتی ہے۔

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

)ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام الجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم نے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

            نثری نظم صرف نثری جملوں کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں صرف وہ الفاظ لائنوں میں رکھے جاتے ہیں جو مفہوم اور آہنگ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوں بہرحال نثری نظم بحر قافیہ اور ردیف سے آزاد ہوتی ہے۔

٭       کسی بھی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لئے بڑی دشواریوں اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے طرح طرح کی گروپنگ، لابنگ اور ذاتی پسند و نا پسند کے مراحل بھی درپیش ہوتے ہیں اول آپ کے ساتھ کیا بیتی، دوم ادبی جتھے بندی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ سوم کیا آپ کو کبھی کسی ادبی مناقشے سے سامنا پڑا؟

٭٭   خدا کا شکر ہے کہ مجھے شاعری کے ابتدائی دور میں بزم ادب لاڑکانہ کا پلیٹ فارم ملا جہاں میرے شعری سفر کے ابتدائی چھ سات برس گزرے۔ میں آپ کے پہلے سوال کے جواب میں ان شعراء کے نام بتا چکا ہوں جن کے ساتھ مل کر ہم لوگوں نے بزم ادب بنائی تھی۔ اس بزم کے تحت ہونے والے کل سندھ اورکل پاکستان مشاعروں کے علاوہ ماہانہ ادبی تنقیدی نشستوں سے بھی ادبی صلاحیتیں پروان چڑھیں اور اجتماعی شعور کو فروع ملا۔ بہت بعد میں یعنی میرے پہلے مجموعے کی اشاعت کے بعد یعنی 1961ء میں ادبی مناقشے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں میں حیدر آباد سندھ میں تھا۔ 20  نومبر 1961ء کو مقامی رٹز ہوٹل میں زیڈ اے بخاری سابق ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کی صدارت میں میرے شعری مجموعے شکست شب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں نشست اور عصرانے کا نظر کامرانی نے ادبی انجمن ’’فن کدہ‘‘ کے تحت اہتمام کیا تھا۔ یہ پاکستان میں کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں ہونے والی پہلی تقریب تھی۔ اس تقریب میں دیگر مقررین کے علاوہ جناب حمایت علی شاعر نے بھی مضمون پڑھا۔ لیکن اس رات ریڈیو پاکستان سے انہوں نے اس مضمون میں کچھ تبدیلیاں کر کے جن میں زبان و بیان کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی تھی پڑھا تو میں نے دوسرے دن ان سے خفگی کا ا اظہار کیا۔ اس طرح ادبی اختلاف یا مناقشے کا آغاز ہوا۔چند ماہ بعد قابل اجمیری کے کلام پر شاعر کی تنقید اور اختلافات کی بنیاد پر تحریر معرکہ آرائیوں اور مشاعروں میں اختلافی مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا۔ بعد میں حمایت علی شاعر کی ایک نظم کسی چمن میں رہو بہار بن کے رہو پر میری تنقید اور جواب الجواب کا دور بھی آیا۔ ان باتوں کو ایک زمانہ ہو گیا تھا تعلقات معمول پر آ چکے تھے (حالانکہ اس درمیان انہوں نے ایک کتاب شخص و عکس بھی تحریر کی جس کی بعض تحریریں بھی جوا ب طلب ہیں)

            1990 ء میں میں نے جون ایلیاء اور حمایت علی شاعر کے ساتھ امریکہ کے مشاعروں میں دو اڑھائی ماہ کا عرصہ گزارا۔ میں نے نہایت محبت اور خلوص دل کے سا تھ حمایت علی شاعر کی رفاقت کا ذکر اپنے سفر نامے ’’حیرتوں کی سرزمین‘‘ (مطبوعہ 1992ء) میں بھی کیا تھا لیکن 1992ء کے اواخر میں قابل اجمیری پر ڈاکٹر ساجد امجد کے طویل سوانحی مضمون مطبوعہ ماہنامہ ’’سرگزشت‘‘ اور اسی مضمون کے ’’قومی اخبار‘‘ کراچی میں قسط وار چھپنے کے بعد جناب حمایت علی شاعر نے مضمون میں تحریر کردہ بعض واقعات کی تردید کرتے ہوئے میری ذات اور کردار کو ہدف بناتے ہوئے مذکورہ اخبار میں جواب لکھا جو قسط وار شائع ہوتا رہا۔ افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے جواب لکھنے سے پہلے مجھ سے وضاحت طلب کرنے کی زحمت تک نہیں کی جس کا انہیں ایک عمر کی رفاقت کے ناتے اختیار بھی تھا۔

            چنانچہ میں نے جواباً اپنی صفائی اسی اخبار میں پیش کی مارچ 1993ء سے جولائی 1993ء تک یہ سلسلہ چلتا رہا(یہ تمام قسطیں جوں کی توں قضیہ قابل کے نام سے کلیات قابل مطبوعہ 1994ء میں شامل ہیں)۔

            میں اپنی طرف سے یہ سلسلہ ختم کر چکا تھا کہ اس پورے قصے کے بارے میں ان کے شاگرد کی ایک کتاب احوال واقعی کے نام سے ستمبر 1994ء میں شائع ہوئی جس کا میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ بہرحال میری زندگی کا یہ سب سے بڑا مناقشہ یا معرکہ ہے جس کے متعلق متعدد مضامین اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

٭       اچھا یہ فرمائیے مادی، معاشرتی، اخلاقی اور روحانی قدریں پامال ہونے کے باعث انسان کی ٹوٹ پھوٹ کا جو سلسلہ جاری ہے اس کا منطقی انجام آپ کے خیال میں کیا ہے اور ہمارا عصری ادب کس طور اس کا مداوا کر رہا ہے؟

٭٭   ہم ان تمام قدروں کی پامالی ہوتے دیکھ رہے ہیں لیکن اپنے اشعار میں یا تحریروں میں احتجاج کرنے یا نوحہ لکھنے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ سارے وسائل سیاست دانوں بہ الفاظ دیگر حکمرانوں کے پاس ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پیدا کردہ مسائل کے بارے میں اہل قلم اور دانشور سوچیں، لکھیں اور اصلاح احوال کے لئے قدم اٹھائیں۔ ہمارا عصری ادب اس سلسلے میں بہ مشکل ایک فیصد موثر ہو سکتا ہے۔ ادب کا مسئلہ شرح خواندگی سے براہ راست منسلک ہے۔ ہمارے ملک میں خواندگی کا تناسب 5فیصد ہے ان میں اپنا نام لکھنے اور دستخط کرنے والے بھی شامل ہیں۔ کتابیں اور اخبار پڑھنے والوں کی تعداد ان کی بھی 5فیصد ہے اور ادب پڑھنے والے ان کے بھی ایک فیصد ہیں جبھی تو بارہ کروڑ کی آبادی میں ایک ادبی کتاب کی تعداد اشاعت ایک ہزار یا اس سے بھی کم ہوتی ہے اور وہ کتاب سا ل دو سال میں جا کر بک پاتی ہے یا پھر دوستوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ادب کے ذریعے معاشرے کے علاج یا اصلاح کا خیال اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

٭       اس سے پہلے کے سوال میں معاشرے کی بدحالی کا جو ذکر ہوا اس کے رد عمل میں ہمارا پورا معاشرہ منافقت کی دلدل میں دھنسا نظر آتا ہے جس سے عصری ادب کا دامن بھی آلودہ ہے ہم وہ نہیں جو قرطاس پر نظر آتے ہیں۔ ہمارے قول و فعل میں پائے جانے والے تضاد اور Double standard کے باعث آج کے تخلیقی ادب کی نمائندہ حیثیت کیا ہو گی۔

٭٭   بلا شبہ ہمارا معاشرہ دوہرے معیار کا معاشرہ بن چکا ہے یہ رویہ اصلاحی ادب کے سلسلے میں زیادہ نقصان دہ ہے لیکن تخلیقی ادب پر ہر چند کہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر بھی اتنے ضرر رساں نہیں ہوتے۔ میرا یہ موقف اس لئے ہے کہ قاری کا براہ راست تعلق تخلیق سے ہوتا ہے نہ کہ تخلیق کار کے کردار اور عمل سے ہے۔ تخلیق کے پرکھنے کے اپنے الگ معیار ہوتے ہیں۔ ہمارے منتخب شعر و ادب کی حیثیت یقیناً نمائندہ ہے۔

٭       بات سے بات نکلتی ہے منافقت کے حوالے سے ایک سوال اور ذہن میں آیا ہمارے یہاں تعریف اور تنقید کے پیمانے بھی الگ الگ ہیں ہر کوئی اپنے من پسند قلم کار کی تعریف کے طور مار باندھ رہا ہے اور مخالف کے چھینٹے اڑا رہا ہے۔ اب آپ فرمائیے کہ آج کل لکھی جانے والی تنقید کا مستقبل میں کیا مقام ہو گا؟

٭٭   وقتی طور پر جانب داری یا منافقت کی وجہ سے کسی بھی قلم کار کو عہد کا نمائندہ عظیم مقبول ترین وغیرہ کی سند دے کر اسے خوش اور دیگر لوگوں کو مرعوب تو کیا جا سکتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صفات خود اس تخلیق کار کا منہ چڑانے لگتی ہیں۔

            میرے نزدیک تخلیق کا جاندار ہونا ضروری ہے۔ آج کل رسالوں اور اخباروں میں شائع ہونے والے بیشتر تنقیدی مضامین تحسین باہمی کے ذیل میں آتے ہیں۔ تنقید بذات خود سنجیدہ موضوع ہے لیکن مجھے اجازت دیجئے کہ میں سنجیدہ تنقید کی ترکیب استعمال کرتے ہوے آپ سے کہوں کہ ہمارے عصری ادب میں سنجیدہ تنقید کا افسوس ناک حد تک فقدان ہے۔ بڑے بڑے ناقد فلیپ یا پیش لفظ مصنف کو خوش کرنے کے لئے اور تنقیدی مضامین کتابوں کی تقریبات میں پڑھنے کے لئے لکھ رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا ہے کہ آج کل لکھی جانے والی تنقید کا مستقبل میں کیا مقام ہو گا تو بھائی جب حال میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے تو مستقبل تو دور کی بات ہے۔

٭       آپ نے ہمارے استدلال کا جس گرم جوشی سے جواب عطا فرمایا اس سے حوصلہ پاتے ہوئے ہم آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ انڈو پاک کے حوالے سے آپ اپنے بزرگ، ہم عصر اور نئے قلم کاروں کے حوالے سے ان لو گوں کی نشاندہی کیجئے جن سے آپ کسی طور متاثر ہوئے ہوں اور  جن کی تخلیقات کو آپ نمائندہ ادب تصور کرتے ہیں؟

٭٭   شاعری میں مجاز، جوش اور فیض سے اور تنقید میں احتشام حسین اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری سے بے حد متاثر ہوں۔ یہ وہ رجحان ساز اکابر ادب ہیں جن سے میری اور میرے بعد آنے والی نسل کسی نہ کسی طور سے متاثر ہوئی ہے۔

٭       ارے ہاں یاد آیا ترقی پسند تحریک سے اپنے رومانس کی بابت تو کچھ بتائیے اور کچھ اس تحریک کے ماضی اور مستقبل پر اپنے خیالات سے نوازئیے؟

٭٭   اپنے پہلے کسی سوال کے جواب میں ترقی پسند تحریک سے اپنی دلچسپی کے بارے میں عرض کر چکا ہوں۔ یہ تحریک اپنے قیام سے لے کر ربع صدی تک ہندو پاک کی مقبول ترین ادبی تحریک رہی ہے۔ اس کے زیر اثر لکھا جانے والا بیشتر شعری اور نثری ادب اردو کا نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ اس دور کے بڑے لکھنے والوں کی اہمیت اور مقبولیت کو اب تک کوئی بھی ادیب یا شاعر نہیں پا سکا ہے۔ تنظیم کو ختم ہوئے ایک مدت ہو چکی ہے بعض شہروں میں مقامی طور پر انجمن کام کر رہی ہے۔ لیکن اس کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہرحال جو لوگ اس نظریئے سے وابستہ تھے وہ آج بھی اپنی روش پر چل رہے ہیں۔ ترقی پسند ادب لکھا جار ہا ہے۔ اس کا جواز یوں بھی بنتا ہے کہ ہمارے قومی اور معاشرتی حالات کم و بیش اب بھی وہی ہیں جو روس میں 97ء کے لگ بھگ پائے جاتے تھے۔ اس نظریئے کی کامیابی کی یہ کوئی معمولی دلیل نہیں ہے۔ اب مکتبہ فکر کے داعی ادب میں مقصدیت کے قائل ہو چکے ہیں۔

٭       آپ خفا نہ ہوں تو چند ذاتی سوالات بھی کرنا چاہوں گا۔ قیام پاکستان کے وقت بھوپال میں مسلمانوں کے لئے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھا پھر آپ نے پاکستان ہجرت کب اورکیوں کی؟

٭٭   آپ کا فرمانا بجا ہے۔ نواب حمید اﷲ خان والی بھوپال کی فراست اور روشن خیالی کی وجہ سے ریاست بھوپال میں یک جہتی اور بھائی چارے کی فضا قائم تھی جو آج بھی قائم ہے۔ اسی لئے اسے دارالامن کہا جاتا تھا۔ یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ بھوپال اور نواب بھوپال سے خصوصی تعلق کی بناء پر علامہ اقبال بھوپال کو دارالاقبال کہا کرتے تھے … تو جناب بھوپال میں واقعی کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وجہ یہ تھی کہ والد صاحب چونکہ مرکزی حکومت کے تحت محکمہ ڈاک و تار میں ملازم تھے اور انہوں نے ہزاروں سرکاری ملازمین کی طرح خود بھی پاکستان میں خدمات انجام دینے کے لئے اختیار (Option) دیا تھا۔ اسلئے ستمبر 1947ء میں مع اہل خاندان ہجرت کی ان کی پوسٹنگ لاڑکانہ سندھ میں ہوئی جہاں ہم نے مستقل سکونت اختیار کی۔

٭       آپ کا خاصا وقت لاڑکانہ جیسے غیر اردو سپیکنگ علاقے میں گزرا یقیناً آپ نے اس دور میں سندھی زبان و ادب کا بھی مطالعہ و مشاہدہ کیا ہو گا یہ تجربات آپ کی فنی زندگی میں کس رنگ اور مفہوم میں آشکار ہوئے؟

٭٭    قیام پاکستان کے وقت میں نویں جماعت میں پہنچ چکا تھا۔ تعلیم کا دوبارہ آغاز گورنمنٹ ہائی سکول لاڑکانہ سے کیا۔ سندھی زبان ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھی اور مجھے فخر ہے کہ میرے سندھی کے استاد عبدالکریم سندیلو تھے جو بعد میں پروفیسر ہوئے اور سندھی کے نامور ادیب، محقق اور اسکالر کی حیثیت سے یاد کئے جاتے ہیں۔ سندھ کے صف اول کے شاعر ہری دریانی دلگیر میرے ہمسایہ تھے پھر بزم ادب کے تحت اردو سندھی مشاعرے ہوتے تھے۔ اردو اور سندھی کے ادیبوں اور شاعروں میں قابل رشک یک جہتی اور یگانگت قائم تھی۔ افسوس کہ 72 ویں ’’ٹیلینٹڈ کزن‘‘ کے لسانی بل کی وجہ سے یہ بزم ایسی اجڑی کہ کوشش کے باوجود بسنے کا نام نہیں لیتی۔ بہرحال یہ تو جملہ معترضہ تھا اصل موضوع کی طرف آتا ہوں تو میں کہہ رہا تھا کہ یگانگت کی فضا قائم تھی اس ماحول میں میری شاعری پروان چڑھی میں نے سندھی زبان اسکول میں پڑھی تھی پھر ملازمت کے دوران سندھی زبان کا امتحان پاس کیا سندھی کی جدید شاعری میں ترقی پسند رجحانات نے بے حد متاثر کیا چنانچہ میں نے شاہ لطیف ؒ کے چندایک بیت اور سائیں سچل کی کچھ کافیوں کے منظوم اردو ترجمے کے علاوہ سندھی کے ہم عصر شعراء شیخ ایاز دلگیر، تنویر عباسی، شمشیر الحیدری، تاجل بیوس، تاج بلوچ، امداد حسین وغیرہ کی نظموں کے منظوم تراجم اُردو میں کئے ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔

٭       تخلیق کار بطور خاص اصناف سخن کے لئے تعلیم کی کیا اہمیت اور افادیت ہے اور طویل وقفوں سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے سبب آپ کے فنی سفر پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

٭٭   شاعری میں زبان و بیان پر قدرت اور فن سے آگاہی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ساتھ ہی مطالعہ اور مشاہدہ بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔ اعلیٰ نصابی تعلیم کی اہمیت میرے نزدیک ثانوی ہے۔

٭       کلیاتِ قابل میں شامل سلسلہ مضامین اور حیدر آباد سندھ سے شائع ہونے والی کتاب احوال واقعی کے جو مندرجات آپ کی ذات سے متعلق ہیں ان کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

٭٭   اس قصے کے بنیادی محرکات کے بارے میں پہلے ایک سوال کے جواب میں مختصراً روشنی ڈال چکا ہوں کلیاتِ قابل میں جیسا کہ میرے جوابی مضمون سے ظاہر ہے میں نے ذاتیات سے گریز کیا ہے۔

            ’’احوال واقعی‘‘ میں واقعی بہت سی باتیں جواب طلب ہیں۔ کتاب کے مندرجات پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ قطعی یک طرفہ اور جانبداری کے ساتھ لکھی گئی ہے اور ایک طالب علم اپنے استاد کی صنائی میں ان ہی کی مدد اور مشورے سے ہر جا اور بے جا حر بے کو کام میں لیتے ہوئے یہ بزعم خود ’’تحقیقی‘‘ کتاب مرتب کی ہے یہ میرا ہی تجزیہ نہیں بلکہ اس کتاب کی اشاعت پر نوائے وقت کراچی نے بھی ایک خبر میں اسے یکطرفہ قرار دیا تھا۔ ’’تکبیر‘‘ مطبوعہ 6 اکتوبر 1994ء میں مشفق خواجہ نے اپنے کامل ادبیات میں اس کتاب کو ایک شاگرد کی طرف سے لکھی گئی استاد کے حق میں ایک جانبدار کتاب قرار دیا ہے۔

٭       ہر انسان کی زندگی میں کئی ادوار آتے ہیں جس سے اسے مثبت اور منفی حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ کسی ایسے دور، حادثے یا واقعے کی نشاندہی کیجئے جس نے آپ کی زندگی کا رخ تبدیل کر دیا ہو یا آپ کو نئی جہت عطا کی ہو؟

٭٭   میں زندگی میں ایسے دو واقعات سے گزرا ہوں جن کے بارے میں آج بھی سوچتا ہوں تو لرز جاتا ہوں اور نئی زندگی کو اپنے رب کی عطا سمجھتا ہوں۔ مئی 88ء میں ایم  اے صحافت کے فائنل ایئر کا امتحان دے رہا تھا کچھ دنوں سے میرے گلے میں شدید تکلیف تھی آواز بھرائی ہوئی نکلتی تھی۔ دو پرچے ابھی باقی تھے جناح اسپتال کے سرجن زیدی نے Biopsy کی رپورٹ آنے پر بتایا کہ گلے کا کینسرہے۔ مجھے ایک بار تو اپنے گرد و پیش کی تمام چیزیں گھومتی ہوئی نظر آئیں۔ بیٹے اور داماد نے سنبھالا۔ تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے بتایا کہ یہ قابل علاج اور برطانیہ میں بہتر آپریشن ہو سکتا ہے تو جان میں جان آئی۔ وہ لمحہ وہ منظر کبھی کبھی بالکل اس طرح سامنے آ جاتا ہے جیسے آج کی بات ہو۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد گلاسکو (سکاٹ لینڈ) میں کامیاب آپریشن ہوا اور نئی زندگی ملی۔

            دوسرا واقعہ اسی سال گزرا۔  جولائی 996ء کو میں لاہو رکینٹ میں اپنے بیٹے میجر محسن کے ہاں تھا۔ بیٹی کو اسی دن کراچی جانا تھا۔ اس کے ٹکٹ کے کنفرمیشن کے لئے میں ساڑھے بارہ بجے دوپہر کو ایئر پورٹ پہنچا۔ برآمدے کے درمیان پہنچ کر میں نے دیکھا کہ ایروایشیا کا کاونٹر بالکل سامنے ہے مجھے پی آئی اے کے کاونٹر پر جانا تھا۔ نظر دوڑائی تو دائیں جانب انتہائی کونے میں پی۔آئی۔اے کا کاؤنٹر نظر آیا۔میں اسی جانب یہ کہتے ہوئے بڑھ گیا عجیب لوگ ہیں قومی ایئر لائن کا کاؤنٹر انتہائی کونے میں پانی کی سبیل کے پاس ہے۔ کاؤنٹر پر میرے آگے ایک ایک انگریز اپنا ٹکٹ لئے کھڑا تھا۔ میں جا کر اس کے پیچھے کھڑا ہی ہوا تھا کہ ایک انتہائی زور دار دھماکہ ہوا۔ میں نے فوراً اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو ڈھانپ لیا۔ اس وقت میں نے اپنے اوپر شیشے کی کرچیاں اور ذرّات گرتے ہوئے محسوس کیئے۔ اپنے بائیں جانب دیکھا کہ پوری راہداری اور لاؤنج گرد و غبار سے اٹ گیا ہے۔ دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے ہیں فضا میں طرح طرح کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ بچاؤ، دوڑو میرا بچہ ربا ہائے ربا، مر گیا مر گیا، اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ ایک عورت حواس باختہ میرے بچے کو بچاؤ کہہ کر ملبے کی طرف دوڑتی تھی اور پھر مڑ کر سڑک کی طرف آ جاتی تھی پھر ملبے کی طرف چیختی ہوئی دوڑتی تھی اتنے میں میں نے محسوس کیا کہ میرا بایاں پائنچہ پنڈلی کے پاس گیلا گیلا لگ رہا ہے۔ جھک کر دیکھا تو خون سے لت پت تھا۔ پنڈلی پر شیشے کا ایک ٹکڑا تیر کی طرح پیوست تھا۔ بم دھماکے کو کوئی تین چار منٹ گزر چکے تھے باہر راہداری پر آیا ایک ہاتھ پنڈلی کے زخم پر تھا۔ فٹ پاتھ پر سینکڑوں افراد کھڑے تھے۔ ایمبولینس آنا شروع ہو گئی تھیں۔ افراتفری کا عالم تھا۔ میں نے دو تین آدمیوں سے رومال مانگا ایک نے لا کر دیا۔ میں نے اسے پنڈلی پر کس کر باندھ لیا اور ڈرائیور کو تلاش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لپکتا ہوا آیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے کہنے لگا صاحب جی شکر ہے آپ بچ گئے میں سر کو کیا جا کر بتاتا۔ مجھے تو صاحب جی آپ کا نام بھی نہیں معلوم تھا۔ یہاں کس طرح ڈھونڈتا۔میں نے کہا خیر ہے۔ اﷲ کا شکر ہے اس نے نئی زندگی دی۔ اس کے ساتھ گاڑی میں گھر پہنچا۔ وہاں سے بہو اور بیٹی کے ساتھ سی ایم ایچ پہنچا۔ راستے میں دونوں تفصیل معلوم کرتی رہیں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہیں۔ فرسٹ ایڈ کے بعد مجھے فارغ کر دیا گیا۔ یہ د وسری بار دوبارہ زندگی ملنے کا دوسرا یادگار لمحہ ہے۔

٭       ایک بات تو طے ہے کہ آپ ایک با ہمت انسان ہیں اور گلے کی مہلک بیماری کا آپ نے جس جواں ہمتی سے مقابلہ کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ سنا ہے اس باب میں آپ کو اپنوں کی ناروائی کا سا منا بھی رہا ریکارڈ کی درستگی کے لئے آج تمام احوال مختصر طور پر بیان کر ڈالیئے؟

٭٭   گلے کے سرطان کے آپریشن کے سلسلے میں جہاں منہ بولی بھتیجی راجو اس کے شوہر ڈاکٹر شفیع کوثر، امتیاز الحق انصاری، عزیز دوست علی حسن اور آغا مسعود حسین نے ہر طرح سے تعاون کیا اور حوصلہ افزائی کی۔ وہیں انسانی قدروں کے علم بردار ہم عصر شاعر احمد فراز نے بے حد مایوس کیا۔ آپریشن کے دوسرے سال میڈیکل چیک ا پ انتہائی ضروری تھا میں نے سرجن کی ہدایت پر اکادمی ادبیات پاکستان کو لکھا انہوں نے وفاقی وزارت صحت کو کیس بھیج دیا۔ وفاقی وزارت صحت نے مجھے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی۔ بورڈ نے متفقہ طور پر مجھے میڈیکل چیک اپ کے لئے بھیجنے کی سفارش کی اور ایک ہزار پونڈ اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے لئے اکادمی کو رقم ادا کرنے کے لئے لکھا۔ جب ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا تو میں خود اسلام آباد پہنچا۔ اس وقت احمد فراز بہ حیثیت چیئرمین اکادمی ادبیات آ چکے تھے۔ میں نے ان کے پی اے سے ملاقات کے لئے کہا۔ پی اے نے بات کر کے مجھے ملنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ان کے پاس صرف پانچ منٹ ہیں آپ کے لئے۔ میں نے داخل ہوتے ہی سلام کیا اور کہا فراز صاحب میں صرف دو منٹ لوں گا۔ میں نے اپنا مسئلہ بتایا تو کہنے لگے کاغذات آ چکے ہیں آپ جایئے ایک ہفتے میں آپ کا کام ہو جائے گا۔

            ملاقات کو ایک ماہ گزر چکا تھا ایک دن سندھ سیکرٹریٹ کے متعلقہ سیکشن آفیسر نے بتایا کہ اکادمی کے چیئرمین احمد فراز کے دستخط سے خط آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ہم معذور اور بے سہارا ادیبوں کی مدد کرتے ہیں۔ محسن بھوپالی چونکہ حکومت سندھ کے ملازم ہیں اس لئے حکومت سندھ انہیں بھیجنے کا انتظام کرے۔ مجھے ایسا لگا جیسے کان کے پاس سے گولی نکل گئی ہو۔ میں نے سوچا ایک ہم عصر شاعر جو معاشرے میں مساوات، اخوت کا پرچار کرتا ہے اور انسانیت کا دم بھرتا ہو اتنا گر سکتا ہے کہ ذاتی طور پر دلاسہ دے کہ کام ہو جائے گا اور بعد میں اس طرح کا سرکاری لیٹر لکھ دے اور اس کی کاپی تک متعلقہ شخص کو نہ بھیجے۔ یہاں پہ لکھنا ضروری نہیں کہ سیکرٹری حکومت سندھ منظور قریشی نے فوری طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر مجھے اسکاٹ لینڈ بھیجنے کا انتظام کیا کہ مزید تاخیر سے میری زندگی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ اس ہم عصر کُش رویئے کی محمد علی صدیقی، مقبول جلیس، مشفق خواجہ، انور سدید جیسے صف اول کے ادیبوں نے اسی زمانے میں اپنے اپنے کالموں میں شدید مذمت بھی کی تھی۔ بہرحال وہ جو کسی نے کہا ہے وقت گزر جاتا ہے بات یاد رہ جاتی ہے !

٭       ہم ادب برائے ادب نہیں ادب برائے زندگی کے قائل ہیں۔ ’’عروس البلاد‘‘ کراچی کی سمٹتی روشنیوں اور پھیلتے اندھیروں سے لا تعلق نہیں رہا جا سکتا ہم اس مقام تک کیونکر پہنچے اس کا ذمہ دار کون ہے اس کا ازالہ کس طرح ممکن ہے، اس کا منطقی انجام کیا ہو گا، یا آپ کی خواہشات کے مطابق کیا ہونا چاہئے۔ اہل قلم اس باب میں کس طرح کا مثبت رول ادا کر سکتے ہیں۔

٭٭   میں اس سلسلے میں ادبی سطح پر تفصیلی مراسلے لکھ چکا ہوں اور میں ممنون ہو ں کہ ان خطوط کو محمد حلیم، احمد ندیم قاسمی، اظہر جاوید اور عذرا اصغر صاحبہ نے فنون، تحلیق، اور تجدید نو میں مناسب جگہ دی۔ اصل مسئلہ مینڈیٹ کے احترام کا ہے۔ کراچی کی 27 صوبائی نشستوں میں سے 25 ایم کیو ایم نے حاصل کیں۔ لیکن ان کی نمائندگی کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ اصل مسئلہ شہری اور دیہی آبادی کے مابین معاشرتی اور نظریاتی تضاد کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دیہی آبادی کے نمائندے اکثریت کی بناء پر اس انداز سے شہری آبادی پر حکومت کرنا چاہتے ہیں جس طرح کہ دیہی آبادی پر کرتے ہیں۔ اس کا حق انہیں جمہوریت کی رو سے تو حاصل جب کہ اکثر کہا جاتا ہے لیکن جمہوریت کی رو سے شہروں میں واضح اکثریت حاصل کرنے والوں کو شہروں میں نمائندگی کا حق نہیں دیا جا رہا۔ کراچی اور حیدر آباد کی بلدیہ کو توڑ کر ایڈمنسٹریٹر اور مشاورتی ارکان سے کام چلایا جا رہا ہے۔ حکومت کے پیش نظر کراچی میں امن قائم کرنے کے مسئلے سے زیادہ ایم کیو ایم کا ووٹ بینک توڑنے کا مسئلہ درپیش ہے جس کے بارے میں با اختیار لوگ اکثر مژدہ دیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ صورت حال مختلف ہوتی جاری ہے میرا ایک شعر ملاحظہ کیجئے۔

کیا خبر لَو بجھانے والے کو

روشنی تو دیئے کے اندر ہے

            لیکن مجھے اور کراچی کے ادیبوں اور دانشوروں کو ملک کے دیگر حصوں بالخصوص پنجاب کے اہل قلم سے شکوہ ہے کہ وہ جمہوریت کے تحت حقوق حاصل کرنے کی اس جدوجہد کے بارے میں سرد مہری کا ثبوت دے رہے ہیں یا بعض حضرات لکھ بھی رہے ہیں تو حکومت کے ورژن کے مطابق لکھ رہے ہیں۔

٭٭   محسن بھائی ہر ابتداء کی انتہا بھی ضروری ہے جس کی جانب ہر انسان عمر کے سا تھ بڑھتا جاتا ہے آج جس مقام پر آپ ہیں اسے قابل رشک بھی کہا جا سکتا ہے مختصر ترین الفاظ میں گئے وقت کے بارے میں اپنے تاثرات اور آنے والے وقت کی بابت اپنی خواہشات توقعات اور ترجیحات کے حوالے سے آپ کیا کہناپسند فرمائیں گے؟

٭٭   گئے وقت کے ساتھ ایک بات ہے۔ انسان کو اس کی اچھائیاں اور خوبیاں یاد رہ جاتی ہیں۔ کن کن مشکلات سے گزر کر آج تک پہنچا ہے۔ انہیں یاد کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ کے اس پورے سوا ل کے جواب میں اپنا ایک قطعہ پیش کر کے اجازت چاہوں گا۔

شوقِ پرواز تو ہے خوب مگر

حدِّ پرواز پر نظر رکھو

جب بھی پاؤ کوئی نیا اعزاز

اپنے آغاز پر نظر رکھو !

                                                                        (نومبر ۱۹۹۶ء)

٭٭٭

 

محسن احسان

(۱۵ اکتوبر ۱۹۳۲ء)

٭       اپنے ادبی پس منظر کے بارے میں کچھ فرمائیے؟

٭٭   میں نے پشاور کے ادبی ماحول میں آنکھ کھولی۔ یہاں دائرہ ادبیہ کے زیر اہتمام احمد ندیم قاسمی کی خدمت میں منعقد ہونے والی نشست میں پہلی مرتبہ ۱۱ جنوری ۱۹۴۷ء کو غزل سنائی اور داد پائی۔ اس سے بڑا حوصلہ اور تقویت ملی۔ پھر اس شہر میں ادبی ہنگامے برپا ہوتے رہے۔ ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک زور شور سے کام کر رہی تھی۔ اس سے وابستگی رہی۔ شعور میں پختگی اور جذبے کو شائستگی ادب کے توسط سے ہی ملی۔ ورنہ زندگی کسی اور طرف بھی لے جا سکتی تھی کہ دل و دماغ میں ایک لاوا ابل رہا تھا۔ لیکن ادب نے جذبہ احساس کو ایک متانت بخشی اور اندر کے ہیجان کو اظہار کی راہ میسر آئی۔

٭       آپ کو نظم یا غزل کے شاعر کی حیثیت سے جانیں کہ آپ دونوں اصناف میں بیک وقت مقبول ہیں۔

٭٭   میں نے دونوں اصناف میں لکھنے کی کوشش کی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ دونوں اصناف میں یکساں مقبولیت ملی ہے لیکن میں خود کو غزل میں زیادہ قوی محسوس کرتا ہوں اور اسی کی وجہ سے میری زیادہ شناخت ہے کیونکہ میں نے ہر ہم عصر کی چھاپ سے بچ نکلنے کی کوشش کی ہے اور اپنا منفرد انداز اپنایا ہے۔

٭       شعر کہنے کی تحریک اردو ادب پڑھ کر ہوئی یا انگریزی ادب؟

٭٭   شعر کی تحریک تو اردو شاعری سے ہوئی کیونکہ نصاب میں، گھر میں، محفلوں میں، تنہائی میں یعنی جلوت و خلوت میں اسی کی کارفرمائی تھی۔ بڑے قدیم اساتذہ کی صحبت میں ایک مبتدی زبان و بیان الفاظ کی نشست وبرخاست خیالات و جذبات اور احساسات اور فن عروض سے شناسائی حاصل کر سکتا ہے اسی لئے میں نے اپنے اشعار میں اکثر مقامات پر اعتراف کیا ہے۔ مثلاً ؂

جس دن سے ہوا بیدل و غالب کا شناسا

کوئی مرے معیار سخن تک نہیں آیا

یا

اس آس پہ ہم فکر سخن کرتے ہیں محسن

غالب کا سا اک شعر ہو دیوان میں اپنے یا

حافظ غالب و فردوسی و میر و اقبال

ان کا ہم لوگ غبار کف پا بھی تو نہ تھے

انگریزی شاعری کو پڑھا۔ اس سے لطف اندوز ہوا۔ اس کے اثرات بھی قبول کئے۔ انگریزی میں بہت سرمایہ موجود ہے جو ہمارے دل و دماغ کے دریچے وا کر دیتا ہے۔

٭       انگریزی کا مطالعہ اردو پنجابی یا پشتو کے شاعر کے لئے کس حد تک مفید ہے؟

٭٭   مطالعہ کسی زبان و ادب یا مضمون کا ہو۔ وہ شاعر کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے جتنا بھی وسیع المطالعہ شخص ہو گا اس کا ادبی پس منظر اتنا ہی ٹھوس ہو گا۔ اپنے ہاں آپ غالب اور اقبال کی مثالیں لے لیجئے۔ ان دونوں کی وسعت مطالعہ نے ان کی شاعری کو حر کی توانائی بخشی۔ خیالات و جذبات کی جدت اور احساسات کی نزاکت نے ان کی شاعری کو چار چاند لگا دیئے اور وہ ہر دور اور ہر عہد میں مقبول رہے۔

٭       اساتذہ میں سے کس کے کلام نے زیادہ متاثر کیا؟

٭٭   اساتذہ میں سے میر، غالب اور اقبال کے علاوہ سب سے زیادہ انیس نے میرے دل و دماغ کو متاثر کیا۔ انیس کے مطالعے سے نہ صرف زبان و بیان اور الفاظ کے انتخاب کا سلیقہ آتا ہے بلکہ نت نئے خیالات، تشبیہات اور استعارات کے استعمال کا پتہ چلتا ہے۔ جو زور بیان انیس کے ہاں ملتا ہے وہ دیگر شعراء کے ہاں ناپید ہے۔ انیس بڑا مظلوم شاعر ہے کہ سنیوں نے اسے شیعہ عقیدہ کا شاعر سمجھ کر ہاتھ نہیں لگایا اور شیعوں نے اسے کلام پاک جان کر طاق پر سجا دیا۔ ہمارے نئے لکھنے والوں کو زبان سیکھنے کے لئے انیس کو پڑھنا چاہئے۔

٭       شاعر کا کسی بھی دنیاوی نظریہ سے وابستہ ہونا اس کے فن کے لئے کیسا ہے؟

٭٭   شاعر ی نظریات سے زیادہ خیالات جذبات اور احساسات کا اظہار ہے۔ یہ فکر اور احساس کی ایک نئی وحدت کا ظہور ہے شاعری انسان کے اندر ایک نفیس ہیجان پیدا کر کے اسے روح کے اعلیٰ مناصب تک پہنچاتی ہے۔ روایت کی پاسداری اور عصری آگہی بے حد ضروری ہے۔ شاعری تجربات سے سر اٹھاتی ہے اور جزئیات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔

٭       کیا سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہماری شاعری کو متاثر کیا ہے؟

٭٭   ہم جانتے ہیں کہ یہ عہد سائنس اور ٹیکنالوجی کا عہد ضرور ہے مگر ہماری شاعری سائنس اور ٹیکنالوجی سے جنم لینے والے معاشرے کی زد میں پوری طرح نہیں آتی ہے۔ ہم آج ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ہمارے سامنے مسئلہ ہے کہ ہم اپنی روایت پر بھروسہ کریں یا مشرق و مغرب کے باہمی ارتباط سے کوئی ایسی صورت نکالیں کہ جدیدیت کی تازہ مہکار بھی ہمارے ادب میں داخل ہو جائے اور ہماری روایت سے ہمارا تعلق بھی منقطع نہ ہو۔ پہلے ہماری شاعری میں ہجرت کا دکھ داخل ہوا پھر مزاحمت اور احتجاج کا کرب اثر انداز ہونے لگا ہمارے شعر اور کیفیتوں میں بیتابی ایک ماتم کی ہے ایک جنگ کی۔ اور ان دونوں میں نئے شعراء نے بڑے قابل قدر افسانے کہے ہیں۔

٭       نثری نظم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

٭٭   میں اس معاملے میں ذرا رجعت پسند واقع ہوا ہوں نثر نثر ہوتی ہے۔ نظم نظم ہوتی ہے۔ ان دونوں کا اختلاط اور یہ نثری نظم کی ترکیب میرے لئے قابل قبول نہیں رہی۔ تجربے مغربی اثرات کے تحت ہمارے ہاں ہوتے ہیں۔ مگر ان کا تاثر دیرپا نہیں۔ ہمارا مزاج مشرقی ہے اور اس پر مشرقی شاعری کی چھاپ اتنی محکم ہے کہ نثری نظم شاید کامیاب نہ ہو سکے۔ بھرپور تجربہ تجربہ ہوتا ہے۔ اچھا اور برا دونوں قسم کا۔

٭       ہمارے ناقدین کے بارے میں کیا خیال ہے؟

٭٭   نقادوں کے بارے میں میں یہ کہوں گا کہ پاک ٹی ہاؤس کی میز پر دو نقاد اور ایک شاعر اگر بیٹھے ہوں تو ان نقادوں کو صرف اپنی ہی میز پر چائے پلانے والے شاعر اس دور کا نمائندہ شاعر نظر آتا ہے۔ دوسری میز پر وہ نظر ہٹا کر بھی نہیں دیکھتے کہ شاید ان کی رائے متاثر نہ ہو جائے۔ میں نے ان کے لئے ایک شعر کہا ہے کہ         ؂

یہ ملکِ سخن کے وہ منافق ہیں کہ ہر صبح

رکھ دیتے ہیں اک تاج سرِ بے ہنراں پر

٭       کیا ادیب کے لئے تاریخی شعور سے آگاہی ضروری ہے؟

٭٭   میرے نزدیک یہ آگاہی بے حد ضروری ہے۔ ادب اصولی طور پر تاریخ نہیں لیکن وہ حیات اجتماعی سے لازماً مستفید اور متاثر ہوتا ہے۔ تاریخ مستقبل کی سوچ کی طرف راہنمائی کرتی ہے اسے زندگی کا پرانا چہرہ کہہ سکتے ہیں۔ ادب اس چہرے میں اپنے خدوخال تلاش کرتا ہوتا ہے۔ ادب مواد اور ہیئت کا مجموعہ ہوتا ہے۔مواد ادیب کو تجربے مشاہدے اور مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ مواد حقیقی ہو یا خیالی ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ ہیئت کی مواد کے ساتھ تبدیلی واقع نہیں ہوتی اس لئے وہ مواد کے مقابلے میں غیر تاریخی یا کم تاریخی گردانی جاتی ہے۔ تاریخی شعور معاشرے میں تبدیلیوں کے سفر کی نشاندہی کرتا ہے اور ادب اپنے آئینے میں معاشرے کے خدوخال ابھارتا رہتا ہے۔

٭       آج کے لکھاری کی تخلیق اس کی عملی زندگی سے بے حد مختلف ہوتی ہے کیا اس دو عملی کے اثرات ادب پر پڑیں گے؟

٭٭   ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جو تضادات کا شکار ہے۔ آپ دنیا کے کسی معاشرے پر نگاہ ڈالیے۔ یہ تضاد آپ کو دکھائی دے گا۔ مادیت کی کشش اور مذہب و روایت کی جاذبیت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان آج کا ادیب معلق ہو گیا ہے۔ آج سے ڈیڑھ صدی پہلے غالب جیسا ذہین اور نابغۂ روزگار بھی اسی تضاد کا شکار تھا۔ اس لئے تو وہ چیخ اٹھا تھا کہ ؂

ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

آج کا ادیب بھی اس کشمکش میں مبتلا ہے۔ آپ کو دنیا کے ہر زبان کے ادب میں ادیب کی یہ دو انتہاؤں کی درمیان پنڈولیم کی طرح حرکت نظر آئے گی کیونکہ پرانی اقدار کی شکست و ریخت اور نئی قدروں کے وجود میں آنے کی غیر یقینی کیفیت نے ہر معاشرے کو تضادات کا شکار کر دیا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ہے چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ اطمینان قلب روح سے تو ادب کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

٭       نئی نسل کے شعرا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   نئی نسل بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ میدان سخن میں آئی ہے۔ ان سے ہمارے شعر و ادب کی آبرو وابستہ ہے۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے۔ بس انہیں شہرت حاصل کرنے کی عجلت نقصان پہچاتی ہے اور اس وجہ سے وہ اپنی کتابیں جلدی بازار میں لاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے فن کا ہیجان وہ مقام دلانے سے قاصر رہ جاتا ہے جو شاید کچھ عرصہ بعد انہیں نصیب ہو۔

                                                                        (اپریل ۱۹۹۳ء)

 

ڈاکٹر سلیم اختر

(۱۱ مارچ ۱۹۳۴ء)

٭       اردو ادب کی کشش نے کب اور کیونکر اپنی جانب مائل کیا؟

٭٭   اگرچہ میرا بچپن بھی عام بچوں ہی کی مانند کھیل کود اور شرارتوں میں گزرا لیکن مجھے کھیل کود میں کبھی مزا نہ آیا۔ ہاں شرارتی میں بہت تھا اور شرارت کرنے میں جو مزا ہے میں اس سے پوری طرح لطف اندوز ہوا کرتا تھا لیکن اس کے متوازی مجھے مطالعے کا بھی بے حد شوق تھا جیسے ہی دوسری تیسری جماعت میں اردو میں کچھ شدھ بدھ ہوئی میں نے بچوں کی کہانیوں کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھے بچپن میں سکول جاتے وقت جیب خرچ (بالعموم ایک پیسہ جواس زمانے میں ٹھیک ٹھاک قسم کی رقم ہوتی تھی) ملتا تھا میں سکول میں آدھی چھٹی میں کچھ کھانے کی بجائے پیسے جمع کرتا رہتا اور آٹھ دس دن کے بعد دو آنے کی کہانیوں کی کوئی کتاب خرید لاتا والد مرحوم نے میرا یہ شوق دیکھ کر مجھے بچوں کے دو تین رسالے لگوا دیے۔ چنانچہ رسالے پڑھتے پڑھتے ہی مجھے بھی چھپنے کا خیال آیا۔ یوں پانچویں چھٹی جماعت سے بچوں کے رسالوں میں میری چھوٹی چھوٹی کہانیاں وغیرہ چھپنی شروع ہو گئیں، میں اس وقت انبالہ شہر میں تھا۔ اور یہ بات۴۷۔۱۹۴۶کی ہے، پڑھنے اور لکھنے کی کم عمری میں جو چاٹ لگی بڑھتی عمر نے اس میں اضافہ ہی کیا کمی نہیں آئی۔ اگر آپ بچپن کی تحریروں کو بھی میری ادبی عمر میں شامل کر لیں تو یہ نصف صدی پر محیط نظر آئے گی۔ پاکستان بننے کے بعد دسویں جماعت یعنی ۱۹۵۱ ء تک بچوں کے جرائد میں میری کہانیاں معلوماتی مضامین اور نظمیں تواترسے چھپتی رہیں بلکہ بچوں ہی کی لکھی کہانیوں اور مضامین پر مشتمل میری ایک دو کتابیں بھی شائع ہو گئیں۔ ۱۹۵۱ ء میں میٹرک فیض الاسلام ہائی سکول راولپنڈی سے کرنے کے بعد اسی برس گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں میں نے داخلہ لیا جہاں سے ۱۹۵۵ء میں بی۔اے کیا۔ کالج کے زمانے میں بچوں کے لیے لکھنا موقوف ہوا اور تنقیدی مضامین لکھنے کا آغاز ہوا جو ہنوز جاری ہے۔

٭       کیا ہماری یہ اطلاع درست ہے کہ عمر شباب میں آپ شاعری بھی کیا کرتے تھے

٭٭   میرے والد اور عبدالحمید عدم کے رفیق کار تھے۔ اور پونا،انبالہ اور راولپنڈی میں قیام کے دوران دونوں گھرانوں میں بڑے قریبی مراسم رہے تھے۔ عدم صاحب کے پاس تمام اچھے ادبی رسالے آتے تھے اور میں وہاں سے پڑھنے کے لئے پرچے لیتا رہتا تھا۔ انہی دنوں مجھے شاعری کا شوق چرایا تو عدم صاحب کو اپنی غزلیں وزلیں دکھائیں انہوں نے اصلاح کی میری حوصلہ افزائی کی۔ یہ غزلیں میں نے کبھی نہیں چھپوائیں لیکن عدم صاحب کی سرپرستی کے باوجود مجھے خود بخود عقل آ گئی اور شاعر ی کو بہتر لوگوں کے لئے چھوڑ کر خود کو نثر کے لئے وقف کر دیا۔

٭       ظاہر ہے کہ ابتدائی افسانے تو سیدھا سادہ تخلیقی رنگ لیے ہوں گے۔ تحلیل نفسی سے معمور افسانے کب اور کس تحریک پر تخلیق ہونا شروع ہوئے اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔؟

٭٭   آپ نے صحیح کہا میں کالج میں بنیادی طور پر فلسفے کا طالب علم تھا۔ اردو میں نے صرف بی۔ اے۔ میں پڑھی تھی۔ میر اپنا ارادہ بھی فلسفے ہی میں ایم۔ اے۔ کرنے کا تھا لیکن جب میں نے ذرا گہرائی میں جا کر نفسیا ت کا مطالعہ کیا تو فلسفے کے مقابلے میں اسے اپنی افتاد طبع کے لئے زیادہ موزوں تر پایا، جب لکھنا شروع کیا تو میں نے شعوری طور پر یہ طے نہیں کیا تھا کہ میں نفسیاتی یا جنسی مسائل پر افسانے لکھوں گا۔ غالباً کثرت مطالعہ کی وجہ سے لوگوں کو دیکھنے پرکھنے اور سمجھنے کے لئے خود بخود ہی ایک نفسیاتی نقطہ نظر بن گیا جو تحریروں میں بھی در آیا۔ جہاں تک ایسے افسانوں کے نتائج کا تعلق ہے تو دلچسپ نتائج برآمد ہوئے۔ مثلاً نسوانی ہم جنس پرستی پر جب افسانے طبع ہوتے تو ان کی جوابدہی میری بیوی کو کرنا پڑتی اور اس کی سہیلیاں پوچھتیں کہ تمہارا خاوند کس قسم کا ہے یا تم ایسے شخص کے ساتھ کیسے گزار ا کر رہی ہو؟ میرا ایک دوست میرا ناولٹ ’’ضبط کی دیوار‘‘ لے گیا تو پڑھنے کے بعد اس کی بیوی نے وہ کتاب گھر میں رکھنے سے انکا ر کر دیا ایک دلچسپ رد عمل برعکس بھی سن لیجئے دو تین برس پہلے ایک ناول نگار مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ میں ’’ضبط کی دیوار ‘‘ پڑھنے کے بعد آپ سے ملنے کا خواہش مند ہو ا ہوں دراصل آپ کا یہ ناولٹ پہلے میری والدہ نے پڑھا تھا اور انہوں نے مجھے کہا کہ تم یہ کتاب پڑھو اور یوں والدہ کے کہنے پر کتاب پڑھ کر مجھے آپ سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اسی طرح متعدد کہانیوں یا تحریروں کے بارے میں خاصی باتیں سنانے کو ہیں۔

٭       ابتدائی سفر میں آپ نے انشائیے بھی تحریر کیے ہوں گے مگر بعد میں آپ کی توجہ سے یہ صنف کیونکر محروم ہوئی؟

٭٭   یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی۔ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر بلا جبر استکراہ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے نہ تو کبھی کوئی انشائیہ لکھا اور نہ ہی مستقبل قریب یا بعید میں لکھنے کا ارادہ ہے دراصل انشائیہ لکھنا اتناآسان ہے کہ میری مشکل پسند طبیعت اس طرف مائل نہیں ہو سکتی۔

٭       ’’ڈاکٹر صاحب سفر نامہ ‘‘ بھی آپ کی پسندیدہ صنف ادب ہے مگر اسے آپ کی وہ توجہ حاصل نہیں جو دیگر اصناف کو حاصل ہے وگرنہ اب تک آپ کے کئی سفر نامے منظر عام پر آ جانا چاہیے تھے؟

٭٭   میں نے کوئی بہت زیادہ غیر ممالک کے سفر نہیں کیے بس امریکہ، ڈنمارک، بھارت، ماریشس، قطر اور دوبئی گیا۔ بھا رت کا سفر نامہ میں نے ’’بھارت ۱۹۸۸ ‘‘ کے عنوان سے ’’ نقوش ‘‘ میں لکھا تھا، یہ دوقسطوں میں شائع ہو ا۔ یہ میر اپہلا سفر نامہ تھا اور اس پر مجھے ’’نقوش ایوارڈ ‘‘ ملا۔ امریکہ کے بارے میں پوری کتاب لکھی ’’ اک جہاں سب سے الگ ‘‘ اس کے مختلف ابواب معروف جرائد میں طبع ہوتے رہے، اگر چہ ہنوز یہ کتابی صورت میں طبع نہیں ہوسکا لیکن متذکرہ جرائد میں مطبوعہ خطوط میں اس کی تعریف ہوتی رہی بلکہ مشفق خواجہ صاحب نے بھی اسی ضمن میں ایک توصیفی کالم لکھا تھا اور آپ جانتے ہیں کہ مشفق خواجہ صاحب سے تعریف سننا آسان نہیں۔ ڈنمارک کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں لیکن مصروفیات آڑے آتی رہیں، البتہ ماریشس کا سفرنامہ ان دنو ں لکھ رہا ہوں۔جہاں تک سفر نامہ لکھنے کے تخلیقی عمل کا تعلق ہے تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اگر کسی ملک پر سے طیارے میں پرواز کر گئے تو واپس آ کر اس پر ایک عدد سفرنامہ گھڑ دیا۔ جب تک واقعی کچھ کہنے کو نہ ہو سفر نامہ نہیں لکھنا چاہیے چنانچہ میں نے جو سفر نامے لکھے ان میں آپ کو اور کوئی خوبی ملے یا نہ ملے لیکن مشاہد ے کے نئے پہلو ضرور ملیں گے۔ گذشتہ دسمبر میں اور ڈاکٹر طاہر تو نسوی انڈیا گئے جہاں ہم نے ایک ماہ گزارا اور دلی،علی گڑھ،آ گرہ، لکھنؤ اور ہزاری باغ کی سیر کی میں نے طاہر تونسوی سے کہا کہ میں ایک بار انڈیا کے بارے لکھ چکا ہوں اب لکھنا شاید خود کو دہرانا ہو گا۔ لہذا میں نہیں تم سفر نامہ لکھو تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بات نہیں بنتی تو سفر نامہ نہ لکھنا چاہیے۔

٭       ڈاکٹر صاحب تخلیق کا ر کے لئے توا ستاد اور رہنما کی اہمیت مسلم ہے۔ تحقیقی، تنقید ی اور علمی کا ر نامے سرانجام دینے والوں کے لئے کس چیز کی سب سے زیا دہ اہمیت ہونا چاہیے؟

٭٭   گلزار صاحب ! میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے سوال ہی میں جواب بھی پوشیدہ ہے تحقیقی، تنقیدی اور علمی کام کرنے والوں کے لئے انہی تینو ں چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی تحقیق، تنقید اور علم، ہاں چوتھی چیز کا میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہوں اور وہ ہے محنت یہ چار عناصر ہوں تو بنتی ہے ایک علمی شخصیت۔

٭       اچھا یہ فرمائیے کہ تخلیق سے تنقید کی جانب آپ کے رجحان کے کیا اسباب تھے؟

٭٭   دراصل میں نے شعور ی طور پر خود کو تخلیق کا ر یا نقاد نہیں سمجھا میں تو خود کو محض ایک معمولی سا نثر نگار قرار دیتا ہوں۔ تاہم اتنا ہے کہ میں بیک وقت دونوں کام کرتا رہا۔ بلکہ افسانے نسبتاً کم لکھے اور انکے مقابلے میں تنقیدی تحریریں کہیں زیادہ ہیں، کالج کے زمانے سے ہی جرائد میں میرے تنقیدی مضامین چھپنے شروع ہو گئے تھے۔ یہ سب تحریریں میں نے ضائع کر دیں۔ میں تھرڈ ائیر میں تھا جب میں نے ’’ابن الوقت‘‘ پر ایک مقالہ لکھا جو ’’ ہمایوں ‘‘ میں شائع ہوا ’’ہمایوں ‘‘ کے ایڈیٹر اس زمانے میں ناصر کاظمی تھے میں شاید اس مضمون کو بھی طالب علمانہ کاوش سمجھتے ہوئے کسی مجموعے میں شامل نہ کرتا لیکن ہوا یہ کہ مرزا ادیب صاحب نے بہترین مقالات کا انتخاب مرتب کیا تواس میں یہ مقالہ بھی شامل کیا۔ حالانکہ میں اس وقت تک مرزا ادیب صاحب سے کبھی نہ ملا تھا۔ یوں میری حوصلہ افزائی ہوتی رہی اس مقالے کو میں نے ’’ نگاہ اور نقطے ‘‘ میں شامل کیا ہے۔

٭       ایک تاثر کم از کم برصغیر کی حد تک بہت تقویت حاصل کر چکا ہے کہ تنقیدی اور تحقیقی میدان کی حامل شخصیات میں جمالیاتی حس کا فقدان پایا جاتا ہے؟

٭٭   پھر میری مثال دے کر آپ اس کی تردید کر سکتے ہیں کہ میں نے توساری عمر ہی حسن کو سمجھنے اور پرکھنے میں بسر کی ہے بدصورتی میرے اعصاب پر بہت ناگوار اثر ڈالتی ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سی حماقتیں صرف خوبصورت لڑکیوں کی وجہ سے کی ہیں۔ اب عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جمالیاتی حس کم ہونے کی بجائے تقویت پکڑتی جا رہی ہے۔ حالانکہ میرے دیرینہ مرض بلڈ پریشر کی وجہ سے بعض اوقات یہ عالم بھی ہوتا ہے۔ ’’حسن کی دہشت نے ٹھنڈا کر دیا‘‘

میں آپ کو دلچسپ بات سناؤں جس سے حسن کے بارے میں آپ کو میرے رویے کا اندازہ ہو جائے گا۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے میری بیوی ایک بہت ہی بدصورت ’’مائی‘‘ کو گھر کے کام کاج اور روٹی پکانے کے لیے رکھنے لگی اس پر میں نے بہت احتجاج کیا۔ میں نے کہا یہ ’’مائی‘‘ تو اپنے کالے ہاتھوں سے سفید آٹے کو سیا ہ کردے گی،میں اس کے ہاتھو ں کی پکی روٹی کھاؤں گا تو مجھے خونی پیچش ہو جائے گی۔ میری بیوی نے کہا مجھ سے اب روٹیاں نہیں پکتیں یہ اچھی اور ایماندار ’’مائی‘‘ ہے اب بتاؤ میں کیا کروں،میں نے کہا آٹا تمہیں میں گوندھ دوں گا اور روٹیاں تندور سے لگوا لاؤں گا مگر اس کے ہاتھ کی روٹیاں نہیں کھاؤں گا۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد اس ’’مائی ‘‘ سے چھٹکارا ملا۔

 ایک اور بات بھی سن لیجے علامہ اقبال ٹاؤن میں میرے مکا ن کی جانب آنے والی گلیوں میں سے ایک ایسی گلی ہے جو شارٹ کٹ کا کام کر سکتی ہے۔ میں جب پہلی مرتبہ (یا بعد میں) وہاں سے جب بھی گزرا بے حد کالی اور بے حد موٹی بھینس کو گہری سرخ لپ اسٹک لگائے نیلے پیلے اور بینگنی رنگ کے کپڑوں میں دیکھا ان کے دیکھتے ہی طبیعت ایسی منقبض ہوئی کہ اب میں اس گلی سے نہیں گزرتا اگر کبھی بہ امر مجبوری وہاں سے گزرنا ہو تو نظریں جھکا کر تیز قدمی سے وہاں سے گزرتا ہوں کہ مبادا بھینس مجھے نہ دیکھ لے۔

٭       ڈاکٹر صاحب ! نفسیاتی تنقید کی جانب آپ کی توجہ کے اسباب کیا ہیں اور آپ سے پہلے کن لوگوں نے نفسیاتی تنقید کو اپنی کاوشوں کا محور بنایا اور آپ نے کن کی پیروی میں اس کا انتخاب کیا؟

٭٭   اس میں کسی کی شعوری پیروی شامل نہ تھی۔ میں نے پہلے فرائڈ کو پڑھا پھر ایڈلر اور ژونگ کو۔ ابتداء میں میں فرائڈ سے بہت متاثر تھا چنانچہ ابتدائی دور کے افسانوں اور تنقیدی مقالات میں اس کے اثرات نمایاں تر ہیں لیکن جب ژونگ کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا تو پھر فرائڈ کا توڑ ہو گیا۔ جہاں تک مجھ سے پہلے نفسیاتی ناقدین کا تعلق ہے تو میں نے ڈاکٹریٹ کے لئے نفسیاتی تنقید پر جو تحقیقی مقالہ قلمبند کیا تھا اس میں میں نے امراؤ جان ادا والے مرز ا رسوا، کے ہاں نفسیاتی تنقید کے اولین اور قدیم ترین نقوش تلاش کئے ہیں۔ حالانکہ بیشتر ناقدین میرا جی سے اردو میں نفسیاتی تنقید کا آغاز کرتے ہیں۔

٭       آپ جیسے مہذب اور مؤدب اہل قلم کے لئے جنس کے موضوع کو اس قدر شدت اور تواتر سے اپنانے کا سبب اور اس کے لئے فکری مواد کا مآخذ کیا ہے اور اس سے آپ جس قسم کے نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے اس میں آپ کو کس قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے؟

٭٭   قبلہ گلزار ! میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا مہذب اور مؤدب اہل قلم حسن سے عاری ہوتے ہیں؟ یا انہیں ایسا ہونا چاہئے؟ دراصل ہمارے منافق معاشرہ میں آئیڈیل مرد، نامرد کو سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ماضی کے بزرگوں کو بھی اور طرح کے رنگ سے پینٹ کیا جاتا ہے۔ نفسیات بالخصوص فرائیڈین تحلیل نفسی میں فرد کا مطالعہ جنس کے مہذب شیشہ میں رکھ کر کیا جاتا ہے میں نے اس ضمن میں اتنا کچھ پڑھا کہ خود بخود ایک زاویہ نگاہ تشکیل پا گیا۔ ابتدائی دور کے افسانے جو’’ مٹھی بھرسانپ‘‘کے نام سے شائع ہوئے اسی انداز کے افسانے ہیں۔ لیکن میں نے کبھی جنس کو بطور جنس نگاری پیش نہیں کیا اور نہ لذت کا ذریعہ جانا بلکہ جنس اور اس سے متعلق متنوع عوامل کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کی کوشش کی میں نے جنس پر بہت لکھا لیکن رمز و ایما کے اسلوب میں، کبھی واشگاف نہ ہوا۔ خاصے خطرناک موضوعات پر ابنارمل کردار پینٹ کئے مگر ’’برہنہ حرف نہ گفتن کمال گویائی است‘‘ کا اصول ملحوظ رکھا۔

جنس اور نفسیات پر میری متعدد کتابیں ہیں جیسے ’’عورت، جنس اور جذبات‘‘ ’’ہماری جنسی اور جذباتی زندگی‘‘ وغیرہ۔ گذشتہ دو تین برس سے ماہنامہ ’’رابطہ‘‘ (کراچی) میں ’’خود شناسی‘‘ کے مستقل عنوان سے سلسلۂ مضامین کی اشاعت جاری ہے۔ ان سب کی وجہ سے مجھے بعض لوگ ’’جنس کا ڈاکٹر‘‘ سمجھ کر اپنی جنسی الجھنوں اور جذباتی مسائل کے بارے میں خطوط تحریر کرتے ہیں ان میں بعض خط تو بنے بنائے افسانے ہوتے ہیں میں ان خطوط کے بڑی احتیاط اور محنت سے جوابات دیتا ہوں۔ یہ ’’جنسی ڈاک‘‘ ادبی ڈاک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے میں اپنی محدود حیثیت میں جو تھوڑی بہت خدمت کر سکتا ہوں وہ کر رہا ہوں۔ اپنے اور اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں آپ کو افراد میں متنوع انداز میں جنس کی کارفرمائیاں نظر آئیں گی اسے بھی چھوڑئیے ذرا طاقت والی ادویات کے دیواروں پر لکھے حکیم حاذق قسم کے اشتہارات کا غور سے مطالعہ کر لیں تو بہت کچھ سمجھ میں آ جائے گا۔

٭       کم تر تعلیمی تناسب، نابالغانہ سماجی شعور اور عدم برداشت کے پس منظر میں تنقیدی روئیے کی کیا اہمیت اور جواز رہ جاتا ہے؟

٭٭   میں سمجھتا ہوں کہ ان ہی کی وجہ سے تنقید کی اہمیت بنتی ہے اور اس کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ ہمارا جاہل معاشرہ اساسی طور پر غیر جمہوری ہے۔ اسی لئے چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کوئی بھی مرضی کے خلاف بات سننے اور برداشت کرنے کا روا دار نہیں۔ ہر وہ شخص جو معاصرین کے بارے میں کھل کر لکھتا ہو اس بات کی گواہی دے گا کہ کس طرح سے گالیاں سننی پڑتی ہیں۔ میرو مصحفیؔ کے بارے میں جو چاہیں لکھیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر سرپرستی کرتے ہوئے ایک ٹکے کے شاعر کو دو ٹکے کا شاعر قرار دے دیں تو وہ سر بالوں کو آ  جائے گا۔ایسی فضا میں جو چند سر پھرے تنقید کر رہے ہیں تو وہ یقیناً جہاد کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ان دنوں اصولوں اور نظریات کا فقدان ہے۔ اس لئے آپ خواہ کتنی ہی با اصول بات کیوں نہ کریں اسے ذاتیات کی سطح پر ہی پرکھا جاتا ہے۔ آپ چھوٹا سا تجربہ کر لیں کسی شاعر کے شعر میں سے وزن کی غلطی نکال کر دکھا دیں یا کسی لفظ کے محل استعمال پر ہی سوال کر دیں پھر تماشا دیکھ لیں۔

٭       ایک بات سے تو آپ بھی اتفاق کریں گے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تنقید کا دائرہ محدود اور اعتبار مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے خیال میں تنقید کا خانوں اور گروہوں میں بٹنا ہے یا آج کے دور کے نقاد کی کم علمی اور تنگ نظری کے باعث اس قحط کا سامنا ہے؟

٭٭   آپ نے جو وجوہ بیان کیں مجھے ان سے اتفاق ہے۔ دراصل خرابی اس رویئے سے پیدا ہوتی ہے کہ تنقید کو محض ادبی تقریبات میں پڑھے گئے توصیفی مقالات کے مترادف ہی سمجھ لیا گیا ہے مگر میں اس کے حق میں نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ نقاد کا کام یہ ہے کہ وہ تخلیقات کے حوالے سے معاشرے کے تہذیبی رویئے اجاگر کرے اور اس امر کی طرف توجہ دلائے کہ کیا یہ تخلیق عصری شعور کی ترجمانی کا حق ادا کرتی ہے؟ کیا یہ معاشرے کے منفی رویوں کے خلاف فنکارانہ رد عمل کا آئینہ دار ہے؟ کیا تخلیق کار اپنی تخلیق کے ذریعے سے آنے والے دور کے بارے میں کوئی بشارت دے رہا ہے یا مستقبل کی خرابیوں یا ’’منفیت‘‘ کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ تخلیق کسی بھی قوم کے تہذیبی رویوں کی مظہر اور ثقافت کی پہچان ہوتی ہے لیکن یہ مقاصد ایک طرف اور واہ ! واہ! سبحان اللہ ! جزاک اللہ ! والی تنقید دوسری طرف، آپ ادبی تقریبات، شاموں اور کتابوں کی تقریب رونمائی پر ملک بھر میں پابندی عائد کر دیں تنقید کا معیار خود بخود بلند ہو جائے گا۔

٭       تنقید کے مختلف دبستانوں کے قیام کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے کردار و عمل کی بابت کیا مفید تجاویز آپ کے ذہن میں ہیں؟

٭٭   تنقید کے دبستان کو میں کسی مکتبۂ فکر کی ضمنی پیداوارسمجھتا ہوں، اقتصادیات، نفسیات، عمرانیات، جمالیات، تاریخ باقاعدہ علوم ہیں۔ ان کی اپنی تاریخ اور مخصوص حدود و امکانات ہیں۔ جب ان علوم کی بنیاد رکھی گئی یا انکے اصول و ضوابط کے بارے میں لکھا گیا تو ماہرین کے ذہن میں یہ نہ ہو گا کہ ایک دن ان کے بطن سے تنقید کے دبستان بھی جنم لیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ متذکرہ علوم سے متاثر تنقیدی دبستان بے کار ہوتے ہیں۔ ان کی جداگانہ اہمیت ہے اور مارکسی، جمالیاتی، نفسیاتی، عمرانی، تاریخی دبستان نقد، نہ صرف اردو تنقید کو نئے فکری زاویئے دینے کا باعث بنے بلکہ عالمی ادبیات میں بھی ان تنقیدی دبستانوں کی اہمیت اور ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ البتہ یہ یقیناً طے ہے کہ ایک نقاد بالعموم ایک ہی دبستان تک خود کو محدود رکھتا ہے بلکہ بعض اوقات تو اپنے سے مختلف دبستانوں کے بارے میں خاصا شدید رد عمل بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً مارکسی نقاد نفسیات کے سخت خلاف تھے اسی لئے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ناقدین (جیسے احتشام حسین) نے میرا جی کو کبھی بھی تسلیم نہ کیا۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اگر نقاد اپنی تنقید میں ایک سے زائد دبستانوں کے تصورات سے استفادہ کرتا ہے تو یوں وہ اپنے تنقیدی فیصلوں میں انتہا پسندی اور غلو سے بچا رہے گا اور اس کے تنقیدی فیصلے زیادہ متوازن ثابت ہوں گے۔خود مجھ پر اگرچہ نفسیاتی نقاد کا لیبل لگا ہے لیکن جہاں میں نفسیات سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہاں میں مارکسی تنقید کو بروئے کار لاتا ہوں یوں فرد کے ساتھ ساتھ اجتماع بھی پیش نظر رہتا ہے۔

            دیکھئے میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ تنقید کے کسی بھی دبستان سے علمی سطح پر کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہر علمی نظریئے اور اس سے جنم لینے والے دبستان میں کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہوتی ہے خواہ وہ جزوی ہی کیوں نہ ہو۔۔ ہاں دشنامی دبستان کی بات اور ہے۔

٭       وطن عزیز کی نسبت بیرون ملک میں مقیم تارکین وطن میں تیزی سے قد آور اہل قلم نمایاں ہو رہے ہیں۔ سنجیدہ اور صاحب نظر لوگ اس معجزے کو آج کے تنقید کار کے کھاتے میں ڈالتے ہیں؟

٭٭   ہم اپنے وطن میں اردو کے ماحول میں اور ایک خاص نوع کی سیاسی اور سماجی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ ہمارے برعکس وطن سے دور شخص وطن کی مٹی کی خوشبو کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔اس لئے وہ جب قلم اٹھاتا ہے تو ہمارے مقابلے میں وطن اس کے لئے جذباتی معاملہ بھی بن جاتا ہے۔ اسی لئے ممالک غیر میں مقیم شعراء کے ہاں وطن سے دوری کا احساس خاصی شدت سے ان کی شاعری میں اظہار پاتا ہے۔ میں نے غیر ممالک میں مقیم پاکستانی تخلیق کاروں کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا اس سے میں یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ شعرا ء اور شاعرات کی بہت کثرت ہے اس کے مقابلے میں افسانہ نگار خاصے کم اور سنجیدہ علمی و ادبی اور تحقیقی موضوعات پر کام کرنے والے عنقاء۔ حالانکہ یہ اہل قلم شاعری کے ساتھ ساتھ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ جس ملک میں رہتے ہیں وہ اس کی زبان میں اپنی یعنی اردو کی تخلیقات کے تراجم کریں اور اس زبان کے شاہکاروں کو اردو زبان میں منتقل کریں یوں وہ ایک طرح سے ’’تہذیبی پل‘‘ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں آ جا کر جرمنی میں مقیم منیرالدین احمد پر نظر پڑتی ہے جنہوں نے جرمن ادب کے بعض شاہکاروں کو اردو دنیا میں متعارف کروایا۔

٭       ڈاکٹر صاحب ! ایک سوال بڑی دیر سے ہمارے ذہن میں مچل رہا ہے کہ آپ کی اتنی بے شمار علمی،ادبی، تحقیقی، تنقیدی خدمات کو سراہنے والوں کے ہجوم میں ایک نہایت معقول تعداد آپ کے ناقدین کی بھی ہے آخر کیوں احباب نے آپ کی ذات گرامی کو تنقید کا نشانہ بنایا؟

٭٭   اس کے مندرجہ ذیل تین اسباب ہیں؟

(۱) ’’اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ میں جن لوگوں کا تذکرہ نہ ہوا یا تذکرہ تو ہوا مگر ان کے حسب منشا نہ ہوا یا پھر ان کے لئے دل خوش کن ثابت نہ ہوا تو ان سب لوگوں نے خوب برا بھلا کہا۔ معاصرین پر لکھتے وقت نقاد کو گالیاں کھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ ہمارے اہل قلم اور اسمیں سینئر یا جونیئر کی تخصیص نہیں اپنے نام کے معاملے میں مریضانہ حد تک حساس ہوتے ہیں۔

(۲) میں گذشتہ ربع صدی سے کسی نہ کسی صورت سے سالانہ ادبی جائزہ بھی قلمبند کر رہا ہوں تمام تر کوششوں کے باوجود سو فیصد کتابوں تک رسائی ناممکن ہوتی ہے اب جن کی کتاب کا تذکرہ نہ ہو پایا وہ کوسنے لگتے ہیں۔ بعض اصحاب اس وجہ سے بھی ناراض ہو گئے کہ ’’تاریخ‘‘ یا ’’جائزے ‘‘ میں ہمارا بے حد تفصیلی تذکرہ کیوں نہیں۔

(۳) ڈاکٹر وزیر آغا کا گروپ۔۔۔ میں اس ضمن میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

            گلزار صاحب ! پاکستان جیسے ملک میں جہاں خودپرست ادیبوں کی اکثریت ہو معاصرین پر لکھنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ آپ مجھے اور کسی بات کا کریڈٹ دیں یا نہ دیں کم از کم اس بات کی تو داد دیں کہ میں نے جانتے بوجھتے ہوئے بقائمی ہوش و حواس خود ہی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال رکھا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مندرجہ و بالا وجوہات یا اور طرح کی دشمنیوں کے باعث (جن کی وجوہ سے میں لاعلم ہوں) بالعموم میرا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ میں نے آج تک اس بارے میں کبھی احتجاج نہیں کیا۔ گالی دینا تو دور کی بات کہ یہ شائستہ اطوار لوگوں کا شیوہ نہیں۔ میں برا نقاد ہو سکتا ہوں لیکن غیر شائستہ فرد نہیں۔

٭       تنقید کے ساتھ تاریخ بھی آپ کا پسندیدہ میدا ن ہے یقیناً آپ نے برصغیر بالخصوص پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ اور محاکمہ کیا ہو گا کیا آپ مختصر طور پر اپنے کشید کردہ نچوڑ سے ہمارے قارئین کو آگاہ فرمانا پسند کریں گے؟

٭٭   جب پاکستان بنا تو میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور انبالہ شہر سے لاہور وارد ہوا تھا (ویسے لاہور میری جنم بھومی ہے) تب میں ایک پر امید ٹین ایجر تھا لیکن اس ملک میں نصف صدی سے زائد عمر گزارنے کے بعد میں اب قنوطی ہو چکا ہوں یہ ہے اس ملک کی تاریخ کا عطیہ ! میں نے تاریخ کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر اور بالخصوص پاکستان کی تاریخ کی مختلف کروٹیں دیکھنے کے بعد میں اس تلخ نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر انقلاب عوام کے نام پر برپا کیا جاتا ہے عوام ہی اس انقلابی عمل میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے اور تباہ و برباد ہوتے ہیں لیکن وہی انقلاب کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔ مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی دونوں نے اس ملک کو برباد کرنے میں اپنی سی کوششیں کیں اور پھر ان دونوں پر مستزاد عسکری آمریت ! مٹھی بھر جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے جس طرح سے اس ملک کو ہائی جیک کیا یہ تاریخ کے عبرت ناک واقعات میں شمار ہو گا لیکن اس وقت جب کبھی پاکستان کی حقیقی تاریخ قلم بند کی گئی میں اپنے ملک کے طالع آزما سیاستدانوں سے اتنا نا امید بلکہ متنفر ہو چکا ہوں کہ جب کبھی الیکشن کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے تو میں کبھی ووٹ ڈالنے نہیں جاتا۔

٭       اگر یہی زحمت ہم آپ کو مسلمان قوم برصغیر اور وطن عزیز کے مستقبل کے حوالے سے دینا چاہیں تو بھی آپ اپنے خیالات میں بخل سے کام نہ لیں گے؟

٭٭   دو برس پہلے ایک عالمی سطح کا جائزہ مرتب ہوا تھا جس کے بموجب دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں پاکستان دوسرے نمبر پر رہا پہلے نمبر کا اعزاز نائیجیریا نے حاصل کیا، کچھ عرصہ پہلے دنیا کی پچاس بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست شائع ہوئی جس میں پاکستان کی کسی یونیورسٹی کا نام نہ تھا۔ میرے خیال میں آنکھیں کھولنے کے لئے یہ دو مثالیں ہی کافی ہیں۔ ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ ’’ملائیت‘‘ کے غلبے کا ہے۔ اس کے بارے میں کھل کر بات اس لئے نہیں کی جاتی کہ لوگ ان سے ڈرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگ کے بعد سے ان کے روئیے میں جو متشددانہ تبدیلیاں آئی ہیں ان کے بارے میں کبھی حکمران، صحافی یا دانش وروں نے بالعموم نہیں سوچا۔ ایک دن ان کے ہاتھوں میں اس ملک کی وہ درگت بننے والی ہے کہ ہم تماشا بن کر رہ جائیں گے۔ ناقص نصاب تعلیم مسموم ذہنی فضا اور عمومی کرپشن کے ماحول میں ہم جس طرح زیست کر رہے ہیں اس کی بنا پر ذہنی عوارض میں اضافے ہو رہے ہیں کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ابنارمل قوم بن چکے ہیں۔ عالمی سیاست میں ہماری کوئی اہمیت نہیں۔ اپنے ملک میں ہمیں ذہنی آسودگی، اعصابی سکون اور اطمینان قلب میسر نہیں۔ یہ ہے ہمارا حال۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے تو غالبؔ کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے :

ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو

آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا میرے آگے

٭       آپ کے بیان کردہ حالات و واقعات کی روشنی میں اردو زبان و ادب پر کیا منفی و مثبت اثرات مرتب ہوئے اور مستقبل میں اس زبان و ادب کو کن حالات کا سامنا رہے گا؟

٭٭   یہ عجب بات ہے کہ تہذیبی انتشار، بیرونی ثقافتی یلغار اور ملک کی عمومی منفی فضا کے باوجود زبان و ادب ترقی پذیر نظر آتے ہیں بلکہ میں تو یہ بھی کہنے کو تیار ہوں کہ جس دور جبر میں سیاستدان منقار زیر پر ہو جاتے ہیں اس عہد میں بھی تخلیق کاروں نے اپنے ادبی فرائض سرانجام دیئے اور اس مقصد کے لئے مختلف اسالیب اور پیرایۂ اظہار وضع کئے۔ خاص طور سے نئی علامتیں تراشی گئیں اور نئے استعاروں کی تلاش کی گئی۔ بالخصوص ضیاء کی آمریت کے عہد میں جس طرح شاعری اور بالخصوص افسانے میں بات چھپانے کے لئے علامتوں کا استعمال کیا گیا وہ قابل توجہ ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ واقعہ کربلا سے مخصوص الفاظ جیسے دھوپ، بشارت، لہن، تشنگی، یزید، فرات، نیزہ، شام غریباں جیسے الفاظ کو نئے سیاسی مفاہیم میں استعمال کر کے جو رو ستم کے استعاروں میں تبدیل کر دیا۔ زبان و ادب کے مستقبل سے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ تخلیق کا دھارا بہرحال رواں دواں رہتا ہے بلکہ میرا تو مشاہدہ ہے کہ جتنے خراب حالات اور پر تناؤ اعصاب ہوتے ہیں اتنی ہی بہتر تخلیقات میسر آتی ہیں کیونکہ حالات مزید خراب ہونے ہیں اس لئے ہمیں اور بھی اچھی تخلیقات کی توقع رکھنی چاہئے۔ انشاء اللہ !

٭       ڈاکٹر صاحب ! ایک بحث ادب کی محافل میں اکثر رہا کرتی ہے کہ انڈ و پاک میں کہاں معیاری اور مقصدی ادب تخلیق ہو رہا ہے؟

٭٭   آپ کو دلچسپ بات سناؤں ہم جب انڈیا میں تھے تو شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی نے ڈاکٹر طاہر تونسوی اور میرے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں اساتذہ اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی میں نے وہاں پاکستانی ادب پر تقریر کی تھی۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے ہاں آپ کے مقابلے میں بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے اس پر ایک خاتون پروفیسر بہت بگڑیں۔ طاہر تونسوی نے اس سے پوچھا کیا آپ کے پاس فیض احمد فیض ہے۔ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا آپ کے پاس انتظار حسین ہے انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر طاہر تونسوی نے کہا بس ! تو فیصلہ ہو گیا۔ آپ کس بات پر دعویٰ کر رہی ہیں۔ میں اس میں اتنا اضافہ کروں گا کہ دو ممالک کی تخلیقات کو ترازو میں رکھ کر تولا نہیں جا سکتا تاہم میں ایمانداری سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ تحقیق اور تنقید کے لحاظ سے بھارت کے اہل قلم ہم سے بہت آگے ہیں اور اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ تمام قدیم لائبریریاں اور مخطوطات سب وہیں دستیاب ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کے بغیر تحقیق کی گاڑی نہیں چل سکتی۔ جہاں تک جدید نظم میں زبان و بیان اور تکنیک کے تجربات کا تعلق ہے تو اس میں ہم بھارت سے آگے ہیں اسی طرح افسانہ نگاری میں بھی لیکن سب کہہ سن کر پھر یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قرۃ العین حیدر ان کے پاس ہے۔ ہمارے ادبی جرائد ان سے بہتر ہیں ہمارے ہاں اخبارات کے ادبی ایڈیشن ہیں اور اب تو ادبی اخبار بھی شائع ہو رہے ہیں جن سے وہ لوگ نا آشنا ہیں تو صاحب پاک و ہند کی تخلیقات اور تخلیق کاروں پر مبنی کچھ ایسی ہی بیلنس شیٹ تیار ہوتی ہے کہیں ڈیبٹ ہے تو کہیں کریڈٹ۔

٭       آپ اپنے سفر سے مطمئن ہیں اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ہر طرح کے تعصب سے بالاتر ہو کر اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام سے انصاف کیا ہے؟

٭٭   میرے خیال میں کوئی بھی تخلیقی کام کرنے والا اپنی کاوشوں سے مطمئن نہیں ہو سکتا بلکہ ہونا بھی نہیں چاہئے۔ میری کتابیں میرے لئے منزل نہیں بلکہ سنگ میل ہیں۔ ہر کتاب کے بعد۔۔۔ یعنی آگے چلیں گے دم لے کر۔۔ جیسا عالم ہوتا ہے لکھنا دم کے ساتھ ہے جب تک ہاتھوں میں جنبش اور آنکھوں میں دم ہے لفظ شناسی کا عمل جاری رہے گا۔ اب بھی میرے ذہن میں کئی منصوبے ہیں۔ جن میں سے دو کا تذکرہ کر دوں ایک ’’لغت اصطلاحات ادب‘‘ مدون کرنی اور دوسری خود نوشت سوانح عمری تحریر کرنی دیکھیں یہ دونوں کام کر پاتا ہوں یا نہیں۔ جہاں تک آپ کی تعصب والی بات کا تعلق ہے تو نقاد کی رائے ہی اس کا تعصب ہوتی ہے۔ ماضی میں کلیم الدین احمد، محمد حسن عسکری، اور سلیم احمد جیسے ’’متعصب‘‘ ناقدین ہو گزرے ہیں میں بھی خود کو ان جیسا ’’متعصب‘‘ ناقد بنانے کی کوشش میں ہوں۔ تنقید زخمی دلوں پر پھاہا رکھنے کے عمل کا نام نہیں۔ لہٰذا ذاتی رائے رکھنے والے ناقد کو متعصب یا اس نوع کے دیگر خطابات سے نوازا جاتا ہے۔ جہاں تک میرے اندر چھپے نقاد کا تعلق ہے تو آپ نے بالکل صحیح کہا ہے کہ میرے اندر بھی ایک سخت گیر نقاد بیٹھا ہے جو میری تحریروں کی بڑی بے رحمی سے کاٹ چھانٹ بھی کرتا ہے اور انہیں مسترد بھی کرتا رہتا ہے۔ اسی لئے میں نے لحاظ اور مروت کی بنا پر کتابوں کی تقریب رونمائی میں ’’مدلل مداحی‘‘ والے جو توصیفی مقالات پڑھے پچانوے فیصد کو میں نے ضائع کر دیا، اسی طرح سے میں تو اپنی تنقیدی اور بالخصوص اپنی افسانوی تحریروں میں بہت زیادہ کاٹ چھانٹ کرتا ہوں۔ الغرض کوشش کرتا ہوں کہ باہر کا نقاد اندر والے نقاد سے دست و گریباں نہ ہونے پائے اور دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیئے ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔۔۔ تاہم اس کے باوجود یہ بھی سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔                                                                                                              (مارچ ۲۰۰۰ء)

 

شمس الرحمٰن فاروقی

۳۰ ستمبر۱۹۳۵ء

٭       آپ کے شجرۂ نسب کی بابت ہمارا اور آپ کے قاری کا اشتیاق آپ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہونا چاہیے۔؟

٭٭   میں باپ اور ماں دونوں طرف سے فاروقی ہوں۔ باپ کا گھرانہ زیادہ تر مولویوں اور دیوبندی خیالات والے عالموں کا ہے۔ ماں کی طرف کے زیادہ تر لوگ بریلوی مسلک کے ہیں۔ ماں کے خاندان میں بعض بڑے ممتاز عالم اور صوفی گزرے ہیں۔

٭       علم و ادب سے آپ کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟

٭٭   بے انتہا شوق اور بے غرض محبت۔

٭       آپ کے حالات زندگی پڑھ کر سرگھوم جاتا ہے۔ ایک تن تنہا شخص کس طرح اتنا بار اٹھا سکتاہے؟

٭٭   آپ کی خوش فہمی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں۔ میں نے جو لکھا پڑھا ہے میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ جو کچھ بھی میں نے کیا ہے۔ اسے اللہ کی مہربانی سمجھتا ہوں کہ میں اس کے بھی لائق نہ تھا۔

٭       اتنی ڈھیر ساری مصروفیات میں اہل خانہ بالخصوص بیگم صاحبہ کا تعاون آپ کو کس حد تک حاصل ہے؟

٭٭   میری بیوی نے بچوں کی تعلیم و تربیت سے لے کر گھر کے انتظام کی ساری ذمہ داری ہنسی خوشی سنبھالی اور مجھے تمام فکروں سے آزاد کر دیا۔ علاوہ ازیں ’’شب خون‘‘ کی اشاعت میں بھی انہوں نے مکمل مالی تعاون دیا۔

٭       نئی نسل کے کتنے افراد کنبہ اردو زبان و ادب سے آشنا ہیں، اور ان کا آپ کی قلمی ریاضت سے کس طرح کا تعلق ہے؟

٭٭   میری دو اولادیں ہیں، دونوں بیٹیاں۔ ان کے علاوہ میری بیوی کی ایک بھانجی کو ہم لوگوں نے اولاد کی طرح پالا۔ یہ تینوں اردو زبان و ادب سے خوب واقف ہیں۔ تھوڑی بہت فارسی بھی جانتی ہیں۔ انہیں میری تحریروں سے فطری دلچسپی اور واقفیت ہے۔ فطری میں نے اس معنی میں کہا کہ میں نے کبھی ان کو اپنی کوئی تحریر پڑھنے کی تلقین نہیں کی۔ وہ از خود اپنی عقل و شعور کے ارتقا کے ساتھ ساتھ میری تحریریں پڑھتی رہیں اور اب بھی پڑھتی ہیں۔ ان کی اولادیں بھی اردو پڑھتی ہیں، کوئی زیادہ کوئی کم۔ لیکن اردو ادب کے بڑے ناموں سے انہیں اپنی استعداد کے مطابق واقفیت ہے۔ میرے بھائی بہن سب اردو جانتے ہیں اور ان میں سے اکثر میری تحریروں سے آشنا ہیں۔ ان کے بیٹے بیٹیاں بھی اردو جانتے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم۔

٭       ادبا اور شعرا بالعموم نظم و ضبط کے زیادہ پابند نہیں ہوا کرتے۔ آپ جسمانی و ذہنی صحت کی بحالی کے ساتھ روزمرہ کے معاملات سے کس طور عہدہ برآ ہوتے ہیں؟

٭٭   میں یہ تو نہیں کہتا کہ ادبا اور شعرا نظم و ضبط سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن مجھے اپنے بارے میں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا خاصا حصہ فضولیات میں ضائع کیا۔ میرا خیال ہے کہ آدمی اگر واقعی دل لگا کر کام کرے تو پچاس ساٹھ سال کی زندگی میں بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے بیماری اور سہولتوں اور ضروری وسائل کی کمی کے باوجود اتنا کام کیا ہے کہ ایک ایک کا کام پوری پوری اکادمیاں نہیں کر سکتیں۔

٭       آپ کا گردو پیش اردو سے بہت حد تک ناآشنا ہو چکا ہے۔ ایسے میں تمام تر توانائی اس زبان و ادب کی نذر کرنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

٭٭   میں یہ بات نہیں مانتا کہ میرا گردو پیش اردو سے بہت حد تک ناآشنا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوتا بھی تو اردو کسی ایک علاقے یا خطے کی زبان نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اردو پڑھنے والے، لہٰذا مجھے پڑھنے والے، کم و بیش تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض جگہوں پر وہ زیادہ ہیں اور بعض جگہوں پر کم۔ لیکن ہیں وہ دور دور تک بکھرے ہوئے۔ ایسی صورت میں اردو کا ادیب ہونا ترقی پذیر ی کی علامت ہے نہ کہ پسماندگی کی۔

٭       آپ کی نظر سے یقیناً ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کا ادب بھی گزرا ہو گا۔ اردو ادب کا ان کے درمیان کیا مقام اور مستقبل ہے؟

٭٭   مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا میرا منصب نہیں۔ لیکن آثار و قرائن یہی بتاتے ہیں کہ اردو اس ملک میں مزید پھلے پھولے گی۔ رہا سوال دیگر ہندوستانی زبانوں کے ادب کی محفل میں اردو ادب کے مقام کا، تو میں بے خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ اردو کا ادب ہندوستان کی کسی بھی زبان کے ادب سے ہیٹا نہیں ہے۔ اور اکثروں سے تو بڑھ کر ہے۔ اس کے ثبوت میں ایک چھوٹی سی بات عرض کرتا ہوں۔ عام طور پر خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی ادب میں نئے رجحانات اور جدید ہوش مندی کا اظہار سب سے پہلے بنگالی ادب میں ہوا۔ دس بارہ سال پہلے میں نے قومی ساہتیہ اکیڈمی کی فرمائش پر غالب کے اردو کلام کا ایک انتخاب تیار کیا۔ اس کے دیباچے میں میں نے یہ لکھا کہ غالب ہندوستان کے پہلے جدید شاعر ہیں اور اپنی رائے کے ثبوت میں کئی دلائل میں نے پیش کیے۔ اس دیباچے کا چرچا غیر اردو حلقوں میں بھی ہوا اور انگریزی کے ایک بہت بڑے اخبار میں ایک کالم شائع ہوا جس میں غالب کے بارے میں میری اس رائے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ میں نے اس سلسلے میں کیا دلائل پیش کیے ہیں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اس کالم یا میری رائے کے خلاف کہیں کوئی مراسلہ یا مضمون نہیں چھپا۔ گویا ہندوستان کی دوسری زبانوں کے علما نے بھی میری بات مان لی کہ جدید رجحانات اور ہوش مندی کو بروئے کار لانے میں اردو کو دیگر زبانوں پر فوقیت حاصل ہے۔

٭       دیانتداری سے سوچا جائے تو ہندوستان میں اردو زبان اپنی حیات کے کس مرحلے میں ہے؟

٭٭   میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ اردو زبان کے حالات یہاں پہلے سے بہتر ہیں اور مستقبل میں مزید بہتری کے امکانات ہر طرف نظر آ رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں دہلی میں بھی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ مل گیا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اردو کی ترقی اور خوش حالی اردو دانوں کے ہاتھ میں ہے حکومت کے ہاتھ میں نہیں۔ کچھ دن پہلے میں نے ایک جلسے میں دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ شیلا  دیکشت کے سامنے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت دہلی کا یہ فیصلہ فائلوں میں بند ہو کر نہ رہ جائے، یہ ذمہ داری اردو والوں کی ہے۔ اور اس ملک میں اردو کو اب تک جو فروغ ہوا ہے وہ زیادہ تر خود اردو والوں کی مساعی کا نتیجہ ہے۔ حکومت کی مراعات کا اس میں عمل دخل زیادہ نہیں۔

٭       تقسیم ہند نے اردو کو نفع نقصان کی صورت میں کیا دیا؟ اگر حالات دوسری صورت میں ہوتے تو اس زبان و ادب کی کیا شکل ہوتی؟

٭٭   اب تک جو کچھ واقع ہوا ہے اس کی روشنی میں تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ تقسیم ملک نے اردو کو نقصان زیادہ پہنچایا فائدہ کم۔ لیکن ممکن ہے آئندہ صورت حال کچھ مختلف ہو۔

٭       ہر دو جانب کے جذباتی اہل قلم اپنے یہاں کے ادب اور تنقید کو زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں؟

٭٭   ’’جذباتی اہل قلم‘‘ سے آپ کی کیا مراد ہے، میں سمجھا نہیں۔ لیکن یہ تو انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ ہم اپنی چیز کو دوسرے کی چیز سے بہتر سمجھتے ہیں۔ پاکستانی ادیبوں سے یہ شکایت بعض لوگوں کو رہی ہے کہ وہ ہندوستانی ادیبوں کو ان کا جائز مقام نہیں دیتے اور اپنے مضامین وغیرہ میں ان کا ذکر نہیں کرتے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔ بہت سے پاکستانی رسالے اور ادارے (جن میں آپ کا بھی ایک رسالہ شامل ہے) ہندوستانی اردو ادیبوں کو قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اگر کچھ لوگوں کی شکایت کو بجا بھی تسلیم کیا جائے تو مجھے اس میں پاکستانی ادیبوں اور ادبی حلقوں کی برائی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ اول تو یہ کہ جیسا میں نے کہا، یہ فطری بات ہے کہ آدمی اپنی چیز کو بہتر کہے یا سمجھے۔ لیکن دوسری بات یہ بھی ہے کہ پاکستان ابھی نیا ملک ہے اور اس لیے بھی یہ بات فطری ہے کہ پاکستانی ادیب اپنے کارناموں کا ذکر زیادہ کریں کیونکہ انہیں یہ بات ثابت کرنی ہے کہ نو عمری کے باوجود پاکستانی ادب ہندوستانی اردو ادب سے کم نہیں۔

٭       پاکستان کے اندر اردو زبان میں پنجابی سندھی اور دیگر علاقائی زبانوں کے الفاظ تیزی سے شامل ہو رہے ہیں۔ آپ کے خیا ل میں یہ امر اردو زبان کے لیے فائدہ مند ہے یا اردو کی اصل شکل ہی اس کی بقا کی ضامن ہے؟

٭٭   زندہ زبانوں میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ نئے محاورات اور الفاظ داخل ہوتے ہیں۔ پرانے الفاظ نئے معنی یا مزید معنی حاصل کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ’’زبان کی اصل شکل‘‘ کا فقرہ کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ لیکن یہاں سوال محض نئے الفاظ و استعمالات اور نئے معنیٰ کی درآمد کا نہیں۔ پاکستان کی اردو میں پنجابی، سندھی اور انگریزی کے الفاظ نظر آتے ہیں تو ہندوستان کی اردو میں ہندی کے الفاظ و محاورات اور انگریزی کے الفاظ و استعمالات نظر آتے ہیں۔ غیر زبانوں کی یہ درآمدات اگر نئے تصورات اور نئے معنیٰ ہماری زبان میں لا رہی ہیں تو بڑی خوبی کی بات ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کی اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ و استعمالات اردو کے خوبصورت ‘سبک، اور شیریں الفاظ و استعمالات کو بے دخل کر کے لائے جا رہے ہیں۔ یعنی اردو کا ایک اچھا لفظ یا محاورہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ غیر زبان کا ایک بھونڈا یا نامناسب لفظ یا محاورہ لایا جا رہا ہے۔ یہ بات بہت تشویش ناک ہے اور ہر اردو بولنے لکھنے والے کو اس کی مکمل روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے ابھی چند ہفتے ہوئے ’’لغات روزمرّہ‘‘ نام کی ایک کتاب لکھی ہے جس میں غیر ٹکسالی اور غیر زبان کے غیر ضروری درآمدات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

٭       آج کل بیرون ملک مقیم اہل قلم میں اردو زبان کے رسم الخط کی تبدیلی کے بڑے چرچے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

٭٭   میں اس موضوع پر ایک سے زیادہ بار اظہار کر چکا ہوں۔ میں ہر زبان کو اس کے رائج رسم الخط میں قائم رکھنے کے حق میں ہوں۔ اردو کے بارے میں تو میری مصمّم رائے یہ ہے کہ اس کے رسم الخط میں تبدیلی اس کے لیے سمِ قاتل ہو گی۔

٭       عالمی ادب میں اردو ادب کا کیا مقام ہے یا مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

٭٭   مستقبل کے بارے میں میں نہیں جانتا لیکن آج اردو ادب میں کلاسیکی دور سے لے کر اقبال تک ایسے کئی نام موجود ہیں جنہیں عالمی ادب کی کسی محفل میں باآسانی جگہ مل سکتی ہے۔

٭       آپ کے خیال میں اردو ادب کی کون سی صنف زیادہ ترقی یافتہ اور کس علاقے میں ہے؟

٭٭   غزل ہماری زبان کی سب سے زیادہ مقبول، دلکش، اور ترقی یافتہ صنف ہے۔ اس وقت میرے خیال میں سب سے اچھی اردو غزل پاکستان میں لکھی جا رہی ہے۔

٭       ڈاکٹر گیان چند جین صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بہت سے مسلم زعما اور اہل قلم کے حوالوں سے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیا ہے۔ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف؟ اور اس تصور نے اس زبان کو فائدہ بخشا یا نقصان پہنچایا؟

٭٭   ڈاکٹر گیان چند یا کسی بھی مسلمان یا غیر مسلم بڑے آدمی یا ادیب کے کہہ دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ اردو برصغیر کی غالباً واحد زبان ہے جس کے لکھنے اور پڑھنے والوں میں ہندو،مسلمان،سکھ،عیسائی،پارسی،بدھ اور جین، ہندوستانی اور غیرملکی شانہ بہ شانہ نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اپنی سیاسی مصلحت یا فائدے کی بنا پر اردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ دیا تو اس سے حقیقت تو نہیں بدل گئی۔ یہ بات صحیح ہے کہ آج ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی زیادہ تر تعداد مسلمان ہے لیکن سارے اردو بولنے والے اور پڑھنے والے مسلمان نہیں ہیں۔ الٰہ آباد جو ہندی کا خاص علاقہ ہے یہاں بھی آپ کو بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہندو طلبا مل جائیں گے۔ دلّی اور پنجاب اور جنوب کے علاقوں کی تو بات ہی کیا ہے۔ اُن علاقوں میں اردو پڑھنے اور جاننے والوں کی تعداد اچھی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ہماچل پردیش میں اردو آٹھویں درجے تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ ہما چل پردیش میں مسلمان بمشکل چار فیصدی ہوں گے۔ میں ایسے متعدد ہندوؤں کو جانتا ہوں جو ہندی کے طالب علم تھے لیکن انہوں نے اردو کی محبت میں اردو زبان سیکھی، اس کا رسم الخط سیکھا اور اس میں شعر گوئی یا افسانہ نگاری کو اختیار کیا۔

٭       ڈاکٹر صاحب کچھ ذاتی باتیں۔ آپ نے قلمی ریاضت کی ابتدا کب اور کس تحریک پر کی اور ابتدا میں کس طرح کی تخلیق ظہور میں آئی؟

٭٭   پہلی ذاتی بات تو یہ کہ مجھے ڈاکٹر نہ کہا جائے۔ میں نے ڈاکٹر کی ڈگری کوئی مقالہ لکھ کر نہیں حاصل کی۔ یہ علی گڑھ یونیورسٹی کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھے ڈی۔لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی اگرچہ میں نے نہ وہاں پڑھا اور نہ پڑھایا۔ اب رہی لکھنے کی ابتدا کرنے کی بات تو میں نے سات برس کی عمر میں ایک مصرع کہا تھا (اس کا حال میں نے اپنے افسانوں کے مجموعے ’’سوار‘‘ کے دیباچے میں درج کیا ہے) اگر اس ایک مصرعے کو تخلیق مانا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ میری پہلی تخلیق اس وقت ظہور میں آئی جب میں سات سال کا تھا۔ رہا سوال اس بات کا کہ میں نے لکھنا کس کی تحریک پر شروع کیا تو عرض یہ ہے کہ میرے خاندان میں کوئی شاعر نہ تھا لیکن مجھے اپنے بارے میں پوری طرح سے یقین تھا کہ مجھے شاعر، افسانہ نگار، نقاد، مترجم یہ سب بننا ہے۔ بچپن میں جب میں لفظ تنقید اور نقاد سے آشنا نہ تھا، میں نے اردو شعرا کی ایک فہرست بنائی تھی جس میں اپنے خیال میں ان کی بنیادی خصوصیات کا ذکر کیا تھا۔ اس کے کچھ پہلے یا شاید ایک سال سوا سال پہلے میں نے کسی رسالے میں اردو مرثیے کے بارے میں ایک مضمون پڑھا تھا۔ وہ مضمون مجھے اتنا اچھا لگا کہ اس کی بنیاد پر اور اِدھر اُدھر سے کچھ اور باتیں لے کر میں نے اپنا مضمون بنا ڈالا۔ سچ پوچھیں تو مجھے یاد نہیں کہ کبھی کوئی ایسا وقت بھی تھا جب مجھے اپنے بارے میں یہ یقین نہ تھا کہ مجھے اردو کا ادیب بننا ہے۔

٭       سات سال کی عمر سے تخلیقی سفر کا آغاز کرنے کے بعد باقاعدہ رہنمائی کا سلسلہ کب اور کن صاحب سے شروع ہوا؟ اور کب تک جاری رہا؟

٭٭   مجھے کسی کی رہنمائی حاصل کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ بھلا برا جیسا ہوں، اپنے آپ ہی بنا ہوں۔

٭       افسانہ، شاعری، تنقید، تحقیق اور علمی مباحث آپ کے محبوب مشغلے ہیں۔ اولیت کس کو حاصل ہے؟

٭٭   اس فہرست میں ترجمہ (غیر زبانوں سے اردو میں اور اردو میں غیر زبانوں سے)، نعت نگاری، تبصرہ نگاری اور اردو کی ادبی تہذیب کا مطالعہ شامل کر لیں تو فہرست زیادہ مکمل ہو جائے۔ جہاں تک سوال اولیت کا ہے تو حالات نے اور اتفاقات نے مجھے تنقید کے میدان میں زیادہ وقت صرف کرنے پر مجبور کر دیا۔ ورنہ میں خود کوسب سے پہلے افسانہ نگار اور شاعر سمجھتا ہوں۔

٭       آپ ادوار کے حساب سے اور اصناف کے اعتبار سے شاعری کی کس صنف کو معتبر اور معیاری گردانتے ہیں؟

٭٭   معتبر اور معیاری ہونا اصناف کی صفت نہیں۔ ہر صنف اپنی جگہ پر معتبر اور معیاری ہوتی ہے۔ اصناف کے مابین درجہ بندی کی بات اور ہے۔ ورنہ کلیم الدین صاحب مرحوم، ظ۔انصاری صاحب مرحوم وغیرہ حضرات کی یہ رائے بالکل غلط ہے کہ غزل غیر ترقی یافتہ صنف سخن ہے یا یہ کہ غزل میں بڑی شاعری نہیں ہو سکتی۔

٭       اردو افسانے نے بہت سے مدارج طے کیے ہیں اور بہت سے ادوار کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے۔ آپ کس دور اور کس مزاج کے افسانے کو درست قرار دیں گے؟

٭٭   نوعیت کے اعتبار سے افسانے دو طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جن میں واقعات کم و بیش اسی زمانی تسلسل کے لحاظ سے بیان کیے جائیں جس ترتیب سے وہ ظہور میں آئے ہوں گے۔ دوسری طرح کے افسانے وہ ہیں جن میں واقعات کے بیان میں زمانی تسلسل کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ یا پھر ان میں کرداروں کے بجائے صرف تصورات پیش کئے جاتے ہیں۔ دونوں طرح کے افسانوں میں اچھے افسانے بھی ہو سکتے ہیں اور برے بھی۔ براہ راست زمانی تسلسل کو بیان کرنے والے افسانوں میں خرابی کا امکان زیادہ رہتا ہے کیونکہ ایسے افسانوں میں افسانہ نگار کو براہ راست بیانیہ میں مداخلت کرنے کی لالچ بہت پیدا ہو جاتی ہے۔

٭       تنقید کافی متنازعہ فیہ ہو چکی ہے۔ آپ کب کب اور کس طرح کی تنقید سے متاثر ہوئے اور مستقبل میں اردو ادب میں مثبت و منفی تنقید کے کیا امکانات، فوائد اور نقصانات دیکھتے ہیں؟

٭٭   آخری سوال کا جواب پہلے عرض کرتا ہوں۔ منفی تنقید سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اور میرے خیال سے وہ تنقید بھی منفی تنقید ہے جس میں کمزور تخلیق کو جانب داری کی بنا پر لائق تحسین بنایا جائے۔ یہ بات یقیناً افسوس ناک ہے کہ برصغیر میں ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں اردو والے کثیر تعداد میں موجود ہیں تنقید کا حال دگرگوں ہے۔ معلوم ہوتا ہے منفی تنقید ہی آج اکثر ادیبوں کی طرز ادا ٹھہری ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک بہت ہی معتبر نقاد نے اپنے رسالے کے اداریے میں لکھا کہ اس شمارے میں فلاں صاحب کی غزلیں کثیر تعداد میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ان میں سے اکثر غزلیں ہلکی اور اکہری معلوم ہوں گی، لیکن ہلکا پن اور اکہرا پن بھی غزل کا ایک رنگ ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس ہلکے پن اور اکہرے پن میں معنوی دبازت پوشیدہ ہو۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف یہ کہ ایک خراب شاعر کو اپنے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کر تے ہیں بلکہ مجموعی طور پر بھی خراب شاعری پر معیاری ہونے کی مہر لگاتے ہیں۔ اس کا دوسرا روپ یہ ہے کہ ایک بہت معتبر افسانہ نگار اور مدیر نے مجھے لکھا کہ اب یہ عالم ہے کہ تمام شعرا اور ان کے قدر شناس مافیا ٹائپ کے گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ اور کوئی شاعر چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اگر اسے کسی مافیا ٹائپ گروہ کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو اسے کوئی نہیں پوچھتا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال نہ صرف تنقید بلکہ ادب کی رسوائی کی ضمانت ہے۔ اب آپ کے پہلے جملے کا جواب خود بخود مہیا ہو گیا کہ تنقید آج کل خاصی متنازعہ فیہ ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ تنقید جب دیانت اور علمیت دونوں سے عاری ہو گی تو پھر اسے اعتبار کیسے حاصل ہو گا؟

            آپ پوچھتے ہیں کہ میں کس کس طرح کی تنقید سے کب کب متاثر ہوا۔ مختصراً جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے میں آل احمد سروُر، کلیم الدین احمد اور محمد حسن عسکری سے متاثر ہوا۔ آہستہ آہستہ عسکری کا اثر بڑھتا گیا، دوسروں کا کم ہوتا گیا۔ مغرب کے جن نقادوں نے مجھے شروع شروع میں متاثر کیا ان میں کولرج (Coleridge)،ٹی۔ایس۔الیٹ(T.S.Eliot)، اور آئی۔اے۔ رچرڈس(I.A.Richards)کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہتا ہوں۔ ہر چند کہ یہ تینوں الگ الگ رنگ کے نقاد ہیں لیکن تینوں سے میں نے حسب توفیق روشنی حاصل کی۔ بعد میں ولیئم ایمپس (William Empson) اور شکاگو اسکول کے بعض نقادوں سے بھی میں نے اثر قبول کیا۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ میرے تنقیدی اصول اور طریقے سراسر شکاگو اسکول والوں پر مبنی ہیں۔ بعد میں جن نقادوں سے میں نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا ان میں روسی ہیئت پسند نقاد اور ایک فرانسیسی وضعیاتی نقاد بھی شامل ہیں۔ لیکن وضعیات، پس وضعیات وغیرہ کو میں زیادہ تر فضول موشگافی سمجھتا ہوں اور اس طرز کے اکثر مفکروں اور نقادوں کو میں ہمیشہ نا پسند کرتا رہا ہوں۔ یہاں یہ بات بھی عرض کر دوں کہ وضعیاتی اور پس وضعیاتی نقادوں کی تحریروں سے میں اس وقت سے آشنا ہوں جب ان لوگوں کا نام برصغیر میں شاید ہی کسی نے سنا ہو گا۔ میری کتاب ’’تنقید ی افکار‘‘ میں کئی مضمون ۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۱ء کے دوران کے ہیں اور ان میں ان لوگوں کا ذکر ملتا ہے۔

            مشرقی نقادوں میں مجھے سنسکرت اور عربی کے بعض بنیادی نظریہ ساز نقادوں سے بہت روشنی ملی۔ عربی میں قدامہ ابن جعفر اور عبدالقاہر جرجانی اور سنسکرت میں آنند وردھن اور ابھینو گپت کے خیالات نے مجھے بہت دور تک متاثر کیا۔

٭       آپ نے اب تک جتنی تنقید لکھی اس کی بابت آپ کی اور ناقدین ادب کی کیا رائے ہے؟ اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

٭٭   ناقدین ادب کی جو رائے ہے وہ تو آپ ان ہی سے معلوم کریں۔ میرے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر ایسا ہے جو مجھے مطمئن نہیں کرتا۔ لیکن میں خود بھی اپنی تنقید سے کچھ خاص مطمئن نہیں ہوں۔ مستقبل کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ میں تو بس امید رکھ سکتا ہوں کہ میرا نام تاریخ کے کوڑے دان میں نہ پھینک دیا جائے گا۔

٭       فاروقی صاحب آپ کو اپنی شناخت کا کون سا ایک حوالہ زیادہ محبوب ہے؟

٭٭   دنیا کی نگاہوں میں تو میری شناخت ایسے نقاد کی ہے جس نے ادب کے ہر میدان میں تنقید کا حق ادا کیا لیکن جس کے خیالات نے لوگوں کو گمراہ بھی کیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا جسے گمراہی قرار دے گی میں اسے راہ مستقیم سمجھتا ہوں۔ اور اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تمہیں اپنی شناخت کا سب سے اہم حوالہ کیا معلوم ہوتا ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے اردو کی ادبی تہذیب اور تاریخ کو اپنے اندر زندہ کر لینے والا افسانہ نگار، شاعر اور نقاد کہا جائے۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری تنقید کو میری شاعری سے اور میری شاعری کو میری افسانہ نگاری سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کم سے کم میں تو نہیں دیکھ سکتا۔

٭       آپ کے خیال میں آپ کے اب تک کے فنی سفر نے کس طرح کے اثرات مرتب کئے؟ یعنی آپ کی منشا کے مطابق یا برعکس؟ اور مستقبل میں یعنی آپ کے بعد ان کا کیا مقام و مرتبہ ہو گا یا ہونا چاہیئے؟

٭٭   مستقبل میں کیا ہو گا، اس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں معلوم اور نہ ہی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ بس یہ امید رکھتا ہوں کہ مستقبل کے قاری کے لیے میں اجنبی نہ ہوں گا۔ اب رہا سوال کہ میں نے معاصر ادب پر کیا اثر ڈالا؟ تو میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ بعض لوگوں کے خیال میں میں نے ادب میں گمراہی پھیلائی۔ میں نے یہ بھی عرض کیا کہ جس چیز کو لوگ گمراہی کہتے ہیں میں اسے راہ مستقیم سمجھتا ہوں۔ مثال کے طور پر میں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ادیب کو کسی سیاسی یا غیر ادبی نظریے کا پابند نہ ہونا چاہیے کیونکہ ایسی پابندی اظہار کی آزادی کی راہیں روک دیتی ہے۔ اسی طرح مثلاً میں نے یہ اصرار کیا کہ تخلیقی فن کار کو عوام کی سطح پر نہ اترنا چاہیے بلکہ عوام کو چاہیے کہ خود کو تخلیقی فن کار کی سطح تک پہنچائیں۔ پھر مثلاً میں نے یہ اصرار کیا کہ تجربہ اپنی جگہ پر ایک مثبت قدر ہے لیکن کوئی ضروری نہیں کہ ہر تجربہ کامیاب ہی ہو جائے۔ اسی طرح میں نے اس بات پر زور دیا کہ فن پارہ اور خاص کر شعر کثیر المعنی ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان باتوں کو وہ لوگ یقیناً گمراہی قرار دیں گے جو ادیب کو بندھے ٹکے راستوں پر چلانا اور اس طرح اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ یا پھر وہ لوگ ہیں جو ادب کو اخباری رپورٹ کی طرح بے تہہ اور غیر تخلیقی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ادب میں گہرائی اور پیچیدگی اور تازگی کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ بھی میرے خیالات کو گمراہی کی طرف لے جانے والے خیالات کا ہی نام دیں گے۔

            آپ نے پوچھا ہے کہ میرے ادبی سفر نے کس طرح کے اثرات مرتب کیے؟ میرا خیال ہے کہ میں بڑی حد تک مطمئن ہوں کہ میری باتیں دور دور تک پہنچیں اور اگر قبول نہ بھی کی گئیں تو ان پر غور کیا گیا۔ اور اس غور کے نتیجے میں عمومی طور پر لوگوں کا انداز فکر بدلا۔ میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔

٭       آپ کہتے ہیں کہ تخلیقی فن کار کو عوام کی سطح پر نہیں اترنا چاہیئے بلکہ عوام کو چاہیئے کہ تخلیقی فن کار کی سطح تک پہنچیں۔ لیکن آج تو قاری ہی ناپید ہو چکا ہے۔اس ماحول میں تخلیقی فن کار پریشان پھر رہا ہے کہ کہیں کوئی اچھا یا برا پڑھنے والا دستیاب ہو جائے۔ ایسی صورت میں تخلیقی فن کار پڑھنے والے کا محتاج اور اس کی پسند نا پسند کا محکوم بن جاتا ہے؟

٭٭   معاف کیجئے گا میں آپ کے خیال سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ ادب پڑھنا انسان کی روحانی اور ذہنی ضرورت ہے۔ لہٰذا قاری کبھی ناپید نہیں ہو سکتا۔ یہ ضرور ہے کہ اچھا قاری بننے کے لیے کچھ تربیت درکار ہے۔ لیکن یہ تربیت بھی بآسانی مہیا ہے۔ جس طرح تخلیقی فن کاروں کے مراتب ہوتے ہیں، ویسے ہی قاری کے بھی مراتب ہوتے ہیں۔ ہر قاری اعلیٰ درجے کا نہیں ہوتا لیکن اعلیٰ درجے کے قاری موجود ہیں، جس طرح ہر تخلیقی فن کار اعلیٰ درجے کا نہیں ہوتا لیکن اعلیٰ درجے کے فن کار موجود ہیں۔

٭       فاروقی صاحب اختصار کے ساتھ اب تک کی گئی قلمی کاوشات اور مستقبل کی بابت اپنے ارادوں سے آگاہ فرمائیے اور اپنے دل دماغ پر ان کے اثرات پر بھی کچھ روشنی ڈالیے؟

٭٭   میں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے اس سے مطمئن نہیں ہوں، نہ کیفیت کے اعتبار سے اور نہ کمیت کے اعتبار سے۔ ہمارے عہد کے ایک بلند پایہ عالم اور نقاد سے کچھ اسی قسم کا سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے جواب میں مصرع پڑھا

 ؂            شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

افسوس کہ میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔

٭       آپ کا علم، تجربہ، فہم و فراست اور دور اندیشی نوجوان نسل بالخصوص اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کو کس طرح کی تنبیہ، نصیحت یا پیش آمدہ خطرات سے آگاہ کرنا چاہے گی؟

٭٭   میں اپنے کو کسی خاص علم یا فہم و فراست کا حامل نہیں سمجھتا لیکن اردو زبان اور ادب سے محبت کرنے والے ایک عام شخص کی حیثیت سے میں سب سے پہلی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل اردو زبان،اس کے رسم الخط اور اس کے املا کے بارے میں کسی قسم کا مدافعانہ یا شرمندگی کا رویہ نہ رکھے۔ بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کہے کہ ہمیں اس زبان سے محبت ہے۔ ہمیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اور اگر برائی ہو بھی تو ہم اسے اچھا ہی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ محبت کرنے والے کو محبوب میں اچھائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ نئے لوگ اردو زبان کے بارے میں یہ نہ گمان کریں کہ یہ لشکری زبان ہے یا مسلمانوں کی زبان ہے بلکہ یہ جانیں اور سمجھیں کہ یہ زبان برصغیر میں پیدا ہوئی اور برصغیر کے تمام باسیوں کا اس پر حق ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنی زبان کو سادہ، شستہ، با محاورہ بنائیں۔ غیر زبانوں کے الفاظ سے گریز کریں خاص کر جب اردو زبان میں ان کے متبادل الفاظ موجود ہیں۔ تیسری بات یہ کہ ادب سے محبت اور ادب کا مطالعہ کسی فائدے یا منفعت کی غرض سے نہ کریں بلکہ زبان اور ادب سے محبت کو اپنی رگ رگ میں پیوست کر لیں۔

٭٭٭

 

پروفیسر انور مسعود

(۸ نومبر ۱۹۳۵ء)

٭       بندوق سازوں کے گھر میں شعر و سخن کا آغاز کب اور کس طرح ہوا؟

٭٭   میرے آباء فوج میں ملازم رہے ہیں اور آپ کی یہ اطلاع درست ہے کہ بندوق سازی ان کا پیشہ تھا۔ بندوق سازی، سپہ گری اور شاعری کی ایک دوسرے کے ساتھ کوئی مغائرت نہیں ہے۔ میری نانی مرحومہ کرم بی بی عاجز اردو اور پنجابی کی شاعرہ تھیں۔ ان کا مجموعہ شعر گل و گلزار کے نام سے ان کی زندگی میں شائع ہوا۔ اسی طرح میرے تایا جان جناب عبداللطیف افضل ایک عالم دین بھی تھے اور اردو اور پنجابی کے قادر الکلام شاعر بھی۔ مختصر یہ کہ میرے خاندان میں بندوق اور شعر اکٹھے چلتے رہے ہیں۔

٭       نوجوانی میں بالعموم واردات قلبی کے زیر اثر شعر گوئی کا آغاز ہوتا ہے کیا آپ نے بھی …………؟؟

٭٭   واردات قلبی کے ڈانڈے تو تصوف اور روحانیت سے جا ملتے ہیں۔ غالباً آپ کا استفسار واردات رومانی کے بارے میں ہے۔ آپ نے بہت جھجک جھجک کر یہ سوال کیا ہے لیکن میں اس کے جواب میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ میں اس تجربے سے گزرا ہوں اور میری ابتدائی اور عہد جوانی کی شاعری میں اس کی بھرپور جھلکیاں موجود ہیں۔ نہ صرف غزلوں میں بلکہ پوری پوری نظموں میں اس تجربے کا اظہار ہوا ہے۔ ایک پرانی غزل کے تین شعر سنانا چاہوں گا۔

میں تو قائم ہوں ترے غم کی بدولت ورنہ

یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے

تیرے رستے کا جو کانٹا بھی میسر آئے

میں اسے شوق سے کالر پہ سجاؤں اپنے

شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لئے

تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے

٭       کیا واقعی آپ نے سنجیدہ شاعری کی بھیڑ چال سے اکتا کر مزاحیہ شاعری کا آغاز کیا تھا؟

٭٭   میری ظریفانہ شاعری کسی بھیڑ چال کی اکتاہٹ کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے۔ مزاح میرے مزاج کا حصہ ہے لیکن اس کی نوعیت ذرا مختلف ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ اس کی نوعیت سنجیدہ ہے۔ میرے قہقہے نچوڑے جائیں تو ان میں سے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔ میرا حال بادل کا سا ہے جب اس میں بجلی چمک جائے تو مسکراتا ہوا لگتا ہے اور جب برسنے لگے تو روتا ہوا لگتا ہے۔

٭       کچھ لوگوں کے خیال میں مزاح اور طنز دو الگ الگ شعبے ہیں۔ آپ کے یہاں ان سے کس طرح کا سبھاؤ کیا جاتا ہے؟

٭٭   خالص مزاح اور طنز آمیز مزاح میں فرق ضرور ہے۔ محض طنز تو ظرافت کا حصہ ہی نہیں بن پاتی۔ طنز کی آمیزش سے مزاح با مقصد بن جاتا ہے۔ ظرافت نگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ طنز کو مزاح کا لباس پہنائے۔ میں نے مقدور بھر یہی کوشش کی ہے۔ ضمیر جعفری صاحب کے دو شعرسنئے جن سے خالص مزاح اور طنز آمیز مزاح کا فرق بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔

آٹھ دس کی آنکھ پھوٹی آٹھ دس کا سرکھلا

لو خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھلا

اُن کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید

میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا

٭       Comedyاور Humourمیں کیا فرق ہے؟ یا شاید ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ مزاحیہ شاعر اور مزاحیہ اداکار میں کیا فرق ہے؟

٭٭   کامیڈی حرکات و سکنات سے متعلق ہے یعنی اس کا تعلق اسٹیج سے ہے جبکہ ہیومر کا تعلق تحریر سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ظریفانہ تحریر کو کامیڈی بھی بنایا جا سکتا ہے۔ کامیڈی تحریر کی صورت میں ظرافت ہے جب کہ ظریفانہ تحریر اداکاری کی شکل میں کامیڈی کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔

٭       نثری اور نظمی مزاح میں کیا فرق ہے؟ کیا یہ ایک ہی شعبے کے دو نام نہیں یا انہیں الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے جانچنا اور پرکھنا ضروری ہے؟

٭٭   دونوں میں آہنگ کا فرق ہے۔ آہنگ شامل ہو جائے تو تاثر اور نوعیت میں فرق پڑ جاتا ہے لہذا مزاحیہ نثر اور مزاح منظوم کے پرکھنے کے اصول ایک سے نہیں ہو سکتے۔ مضامین پطرس اور اکبر الہ آبادی کی شاعری کو ایک ہی پیمانے سے جانچا اور پرکھا نہیں جا سکتا۔

٭       برصغیر کی حد تک یہ تاثر عام ہے کہ ہمارے ہاں اکثر بڑے تخلیق کار کسی نہ کسی مغربی تخلیق کار سے متاثر یا مشابہ ہوتے ہیں ! نثری مزاح نگاری پر تو ہو بہو کا الزام بھی لگتا رہا! آپ اپنے بارے میں کیا کہنا پسند کریں گے؟

٭٭   میں اپنے اسلوب مزاح نگاری میں کسی مغربی ادیب و شاعر سے متاثر نہیں ہوں اور میرے کسی نقاد یا تبصرہ نگار نے کبھی ایسی بات نہیں کہی ………… مجھے اگر مشابہ بھی ٹھہرایا گیا تو وہ بھی ایک مشرقی شاعر یعنی نظیر اکبر آبادی سے۔

٭       ملک کے نہایت محترم اور معتبر اہلِ قلم نے آپ کو پنجابی زبان کا نظیر اکبر آبادی کہا جس کا آپ نے ابھی خود بھی ذکر کیا ہے۔ کیا آپ خود بھی نظیر سے ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں؟ اگر ہم آپ سے نظیر اکبر آبادی اور انور مسعود کے موازنے کی درخواست کریں تو آپ کا ردِ عمل کیا ہو گا؟

٭٭   میرے نزدیک نظیر اکبر آبادی ایک منظر نگار ہے کبھی کبھی زندگی کا کوئی مضحک منظر بھی اس کے کیمرے کی آنکھ کی زد میں آ جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر وہ مزاح نگار نہیں ہے۔ عوامی زبان کے استعمال اور عوامی موضوعات کے اشتراک کی حد تک مجھ میں اور نظیر میں مماثلت کی بات شاید درست ہے لیکن یاد رکھئے کہ زندگی اپنے آپ کو دہراتی نہیں ہے۔

پسنداُس کو تکرار کی خو نہیں

کہ تُو میں نہیں اور میں تُو نہیں

میرے یہاں ظرافت میں ایک سمت کی موجودگی کے باعث بعض ناقدین نے میری شاعری کے مزاج کو نظیر سے زیادہ اکبر سے قریب قرار دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ بات زیادہ قرین صحت ہے۔

٭       کیا یہ تاثر درست ہے کہ ہر ہنسانے والا اندر سے غمگین یا دکھی ہوتا ہے؟ یا یوں کہئے کہ مزاح افسردگی کے رد عمل میں پیدا ہوتا ہے؟

٭٭   کیٹس Keatsکی یہ بات بہت مشہور ہو گئی ہے کہ Our sweetest songs are those that tell of saddest thoughtsحالانکہ اسے کلیہ اور قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہر قہقہہ درد آلود نہیں ہوتا البتہ میں اپنی حد تک اس بات کو درست سمجھتا ہوں۔

بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے

کوئی دیوارِ گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے

٭       حافظے پر زور دے کر بتائیے کہ معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف آپ کے قلم نے کب اور کس واقعہ کے زیر اثر طنزی جہاد کا آغاز کیا؟

٭٭   اتنا یاد پڑتا ہے کہ جنرل ایوب خان کے دور میں ایک عید کے موقع پر رویت ہلال کا مسئلہ خاصی نزاعی صورت اختیار کر گیا تھا۔ علماء کی رائے سرکار عالی کی رائے کے بالکل برعکس تھی۔ اس وقت اس اختلاف سے بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے اس موقع پر ایک قطعہ کہا تھا جس میں اس معاشرتی صورتحال کو طنز کا ہدف قرار دیا تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ میرا معاشرتی طنز کا حامل پہلا قطعہ تھا اور کچھ یوں تھا          ؂

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہلِ ہمت

ان کو یہ دھُن ہے کہ اب جانبِ مریخ بڑھیں

ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں

ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

٭       انسان کے سیکھنے اور سمجھنے کا عمل ہر عمر اور ہر دور میں جاری رہتا ہے۔ آپ نے جب اس کارزار میں قدم رکھا تو کن سے رہنمائی حاصل کی اور کن کو آئیڈیل بنا کر اپنے سفر کا آغاز کیا اور کون آج آپ کے تصورات پر پورا اترتا ہے؟

٭٭   آپ کا کہنا بجا ہے کہ آموزش و اکتساب اور اخذ فیض کا سلسلہ عمر بھر جاری رہتا ہے اور ہر شخص کا کوئی نہ کوئی آئیڈیل بھی ہوتا ہے۔یوں تو میں نے اردو کے ہر قابل ذکر ظرافت نگار سے کچھ نہ کچھ حاصل کیا ہے لیکن میری تربیت میں زیادہ حصہ اکبر الہ آبادی اور ضمیر جعفری کی بنائی ہوئی فضاؤں کا ہے میں ان دونوں کا معتقد اور معترف ہوں۔

٭       مزاحیہ شاعری کے مستقبل کے حوالے سے اردو زبان سے آپ کی کیا توقعات وابستہ ہیں؟

٭٭   کسی زبان کا ماضی اور حال اس کے مستقبل کی سمت نمائی کرتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ظریفانہ شاعری کے اعتبار سے اردو زبان ماضی میں بھی ثروت مند رہی ہے اور اس کا آئندہ بھی تابناک ہے۔ ہندوستان کے مقابلے میں میری زیادہ تر توقعات پاکستان کے مزاح گو شعراء سے وابستہ ہیں۔

٭       آپ اردو پنجابی اور فارسی کے قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ جید استاد بھی ہیں۔ آپ کا قلبی رشتہ کس زبان کے ساتھ استوار ہے؟

٭٭   میں سمجھتا ہوں کہ میرا قلبی رشتہ اردو اور پنجابی دونوں سے ہے۔ مجھے یہ دنوں زبانیں بے حد عزیز ہیں۔ پنجابی میری مادری زبان ہے اردو پاکستان کی قومی زبان ہونے کے ناطے سے بھی عزیز ہے اور اس سے ایک قلبی رابطہ یہ بھی ہے کہ میرے بچوں کی مادری زبان ہے۔ فارسی کو میں اس لئے بھی اہمیت دیتا ہوں کہ اس کے بغیر اردو سے بھی کامل آشنائی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اقبالؔ سے مستقیم رابطہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ اپنا قومی ترانہ بھی اس کے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتا۔

٭       آپ کے شعری مجموعوں کے علاوہ تنقیدی تصنیف ’’فارسی ادب کے چند گوشے ‘‘ نے بڑی پذیرائی حاصل کی۔ کیا آپ قارئین کو بتانا پسند کریں گے کہ آپ کی اس کتاب کی بے پناہ مقبولیت کا سبب کیا ہے اور آپ نے فارسی ادب کے کون سے نئے گوشے دریافت کئے ہیں؟

٭٭   سوال بہت تفصیل طلب ہے اجمالاً یہ عرض کروں گا کہ میں ذاتی طور پر فارسی ادب کے جن کلاسیکی اور جدید ادیبوں اور شاعروں اور جس دبستان شعر سے زیادہ متاثر ہوا ہوں ان کے بارے میں بڑی محنت اور تحقیق سے میں نے یہ مقالات تحریر کئے ہیں۔ فروغ فرخ زاد، عشقی، علی اکبر دہخدا، غنیمت کنجاہی اور خیام وہ شخصیتیں ہیں جن کے ادبی اور شعری کارناموں پر میں نے قلم اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت علامہ اقبال کے افکار کا ایرانی انقلاب پر جو اثر مرتب ہوا ہے اس کا بھی جائزہ لیا ہے۔ یہ مضامین ادبی اور تخلیقی سطح پر تحریر ہوئے ہیں۔ ان موضوعات پر لکھتے ہوئے صحت تحقیق بھی میرے پیشِ نظر رہی ہے اور میں نے حتی الامکان روایتی محققانہ خشکی سے بھی احتراز کیا ہے۔ تحریر کی مطالعیت Readabilityکا میں نے بطور خاص خیال رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کا مطالعہ قاری کو معلومات کے ساتھ ساتھ ذوق تسکین بھی فراہم کرتا ہے اور یہی اس کتاب کی مقبولیت کا سبب ہے ………… پروین شاکر مرحومہ اس پر ایک سیر حاصل تبصرہ لکھنا چاہتی تھی لیکن افسوس کہ مرگ زود رس نے اس کو یہ فرصت نہ دی۔

٭       انسان کی زندگی میں کئی ادوار آتے ہیں، بچپن، نوجوانی، جوانی اور پختہ عمری اس دوران آدمی معاشی، معاشرتی اور بے شمار گھریلو ذمہ داریوں سے نبردآزما ہوتا ہے۔ مختصر طور پر ہم آپ سے آپ کی جدوجہد کی داستان اور اس کے آپ کے فنی سفر پر اثرات کی بابت کچھ جاننا چاہیں گے؟

٭٭   بچپن میں مجھے بڑے نامساعد حالات کا سامنا رہا۔ جوانی کا زمانہ بھی بڑی عسرت میں گزرا۔ والد صاحب اپنے میلان تصوف کے باعث علائق دنیوی سے بے نیاز ہو گئے تھے۔ گھر کی ساری ذمہ داریاں میرے کندھوں پر آ پڑیں۔ اسی وجہ سے بی اے میں انتہائی امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود دوسال کے لئے میرا سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا اور میں نے کنجاہ کے ایک سکول میں ایک ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی۔ اس زمانے میں مجھے دیہاتی ماحول کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور پنجابی زبان سے میری آگاہی میں کافی اضافہ ہوا۔ اسکول کی سروس سے پہلے میں نے پی ٹی سی میں ایک کلرک کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ کنجاہ کے زمانے ہی میں میں نے امبڑی، اور ریجھاں جیسی نظمیں لکھیں۔ ایم اے کرنے کے بعد میں نے لاہور میں ایک پریس میں پروف ریڈنگ کا کام کیا۔ پریس تک پہنچنے کے لئے مجھے روزانہ دس میل کا سفر پیدل طے کرنا پڑتا تھا۔ اس پُرمشقت کام کی ایک ماہ کی مزدوری صرف پندرہ روپے وصول ہوئی۔ اس دور میں میں نے ایسے شعر بھی کہے۔       ؂

کب تک لئے پھروں گا یونہی قتل گاہ میں

زخموں کے انتظار میں دُکھتا ہوا بدن

اس زمانے میں میرا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ میں اپنے بہن بھائیوں کی مناسب کفالت نہیں کر پاتا تھا اور اپنی بیمار والدہ کے علاج کے لئے جتنا خرچ درکار تھا اتنی رقم میسر نہیں تھی۔

            میری زندگی عوامی سطح پر بسر ہوئی میں نے تندور سے روٹیاں لگوائیں۔ بسوں میں اور ریل کے تھرڈ کلاس میں کھڑے ہو کر سفر بھی کیا۔ معمولی سے معمولی ملازمت کی ………… مجھے عوام کے دکھ سکھ کا گہرا تجربہ حاصل ہوا۔ اب سوچتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ آزمائشوں میں قدرت کی کتنی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ میرے حالات ایسے نہ ہوتے تو میں بھی آج ایسا نہ ہوتا۔ میری وہ عوامی نظمیں جو بے انتہا مقبول ہیں وہ انہی حالات و واقعات اور تجربات کی دین ہیں۔کبھی جس تلخی اوقات کا گلہ مند تھا آج اس کا صلہ و ثمر دیکھتا ہوں تو شکر کے الفاظ نہیں ملتے۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ میں اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ اس نے مجھے سختیوں کا مقابلہ کرنے کی توفیق بخشی اور میں نے ایسے شعر بھی کہے

تونے کیا سمجھا ہے اے گردش حالات ہمیں

ہم تجھے گردشِ حالات سمجھ لیتے ہیں

٭       پروفیسر صاحب دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیے کہ کبھی آپ کو قنوطیت کا سامنا ہوا اور آپ نے محسوس کیا ہو کہ آپ نے غلط شعبے کا انتخاب کیا ہے اور آپ اپنی صلاحیتیں کسی اور شعبے میں اس سے بہتر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں؟

٭٭   میں نے دو شعبوں کا انتخاب کیا۔ شاعری اور تدریس۔ مجھے ان میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ ان شعبوں نے مجھے انتخاب کیا ہے۔ مجھے صرف اس کا افسوس رہا کہ میں نے دو سال ایف ایس سی میڈیکل میں ضائع کئے۔ میرے استاد گرامی چوہدری فضل حسین کا مجھ پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے میری صلاحیتوں کو پہچانا اور مجھے میڈیکل سے آرٹس کی طرف لے آئے وار پھر مجھ پر کامیابیوں کے دروازے کھل گئے اور میرے اندر کی تدریسی اور شاعرانہ صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع ملا۔ شاعری اور تدریس نے مجھے جو عزت اور شہرت دی ہے وہ شاید کسی اور شعبے میں حاصل نہ کر سکتا۔ میں ہنر تدریس اور فن شاعری کے علاوہ کسی اور شعبے کو اپناتا تو اپنی فطری استعداد سے انحراف کا مرتکب ہوتا۔

٭       ملکی اور غیر ملکی مشاعروں کا مزاج اور رواج آج کے شاعر کے فن اور زندگی پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں؟

٭٭   مشاعرے کی روایت ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔ یہ روایت تفریح بھی فراہم کرتی ہے اور ذوق شعر کی ترویج و ترغیب کا خوبصورت وسیلہ بھی ہے اور شاعر کے لئے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی ہے۔ غیر ملکی مشاعروں کی بدولت شعراء کو سیاحت اور سیر و سفر کے مواقع بھی میسر آتے ہیں اس سے شاعر کے Visionمیں وسعت بھی پیدا ہوتی ہے دوسرے ممالک کی اردو شاعری کے معیار سے بھی آگاہی ہوتی ہے اور اپنی شاعری سے موازنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ عالمی مزاحیہ مشاعروں کے انعقاد سے یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کے مزاحیہ شعراء کا معیار کہیں بہتر ہے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ بالعموم مشاعرے کا مزاج زیادہ گہری اور فکری شاعری کا متحمل نہیں ہوتا اور اس فضا میں سنجیدہ تخلیقی کاوشوں کی بے وقاری ایک ایسا رجحان ہے جس کے ایک حد سے زیادہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شعر کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے داد و تحسین کا غلط آہنگ شاعر کو گمراہ بھی کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر بین الاقوامی غیر ملکی مشاعرے شعراء کے لئے منفعت بخش ہیں۔

٭       کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سنجیدہ ادب کی طرح مزاحیہ ادب نقد و نظر کا محتاج ہے اور کیا یہ خیال بھی درست ہے کہ تنقید نگاروں کی اکثریت نے مزاحیہ ادب کو سنجیدگی کا اہل نہ جانا؟

٭٭   میں آپ کے خیال سے پوری طرح متفق ہوں کہ ظریفانہ ادب بھی سنجیدہ ادب کی طرح نقد و نظر کا محتاج ہے۔ میں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ ناقدین ادب نے اس سلسلہ میں بے توجہی کا رویہ اختیار کیا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر خواجہ زکریا کے علاوہ کسی اور نقاد نے اس کی طرف بھرپور توجہ نہیں کی۔

٭       سید ضمیر جعفری کے حوالے سے ناقدین ادب کا خیال ہے کہ ان کی اعلیٰ پائے کی سنجیدہ شاعری مزاحیہ شاعری کے شور میں دب کر رہ گئی ہے اگر ہم آپ کے بارے میں بھی اس تاثر کا اظہار کریں تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا۔ یہ رجحان آپ کے فنی سفر کے لئے کیونکر سودمند ثابت ہو سکتا ہے؟

٭٭   مجھے اللہ کے فضل سے اس سلسلے میں بڑا اطمینان حاصل ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والے شعرشناس حضرات نے میری سنجیدہ شاعری کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ میری سنجیدہ شاعری کا نمائندہ یہ شعر تو میری ظریفانہ شاعری سے بڑھ کر مقبول ہے۔

یہی اندازِ دیانت ہے تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھا ہو گا

جو امتیازی مقام مجھے مزاحیہ شاعری میں حاصل ہوا ہے وہ اللہ کی خاص دین ہے اور اس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ سنجیدہ شعر گوئی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ مجموعہ بھی ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

٭       آپ کی شاعری کی پذیرائی کے حوالے سے کوئی یاد رہ جانے والا واقعہ؟

٭٭   اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو اَن فراموش ایبل ہیں۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ ایک دن علی الصبح میں آئی نائن اسلام آباد کے ایک پارک میں سیر کر رہا تھا۔ ایک خاتون میری طرف بھاگتی ہوئی آئیں تو ایک بچہ بھی ان کے ساتھ تھا مجھ سے پوچھنے لگیں ’’آپ انور مسعود ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’بی بی لا ریبہ فیہ‘‘ کہنے لگیں میں شکاگو سے آئی ہوں۔ میرے اس بیٹے کو پنجابی نہیں آتی لیکن آپ کی نظم ’’بنین‘‘ اسے آتی ہے۔

                                                                        (اپریل ۱۹۹۷ء)

 

پروین فنا سید

٭       آپ نے کھانا پکانا سینا پرونا پہلے سیکھا یا شعر کہنا؟

٭٭   میں نے شعر کہنا پہلے سیکھا۔ میرے والد جیل ڈپارٹمنٹ میں تھے۔ ملازمین کی کمی نہیں تھی۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو گھر میں خانساماں بھی تھا۔ اندر کا باورچی خانہ وہ سنبھالتا تھا۔ باہر کا کام قیدی کرتے تھے۔ کبھی بغیر بیڑیوں کے کبھی زنجیر و سلال میں بندھے ہوئے۔ میں حیرت سے چک کے پیچھے سے ان مجرموں کو دیکھتی تھی۔ اور مجھے ان سے بالکل ڈر نہیں لگتا تھا۔ ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی تھے۔ ایک بہن کا انتقال ہو گیا۔ چار حیات ہیں۔ امی ایک روز کے لئے خانساماں کی چھٹی کرتی تھیں اور باری باری سب بہنوں کو کھانا پکانے سے لے کر تنور پر روٹی لگانا سکھاتی تھیں۔ میری باری آتی تو میں نقوش اور ہمایوں کے پرچے لے کر کسی کونے کھدرے میں چھپ جاتی۔ والدہ ڈانٹتیں۔ احتجاج کرتیں۔ (خدا جانے کیسا گھر ملے)۔ والد کہتے میری اس بیٹی کو پڑھنے دو۔ والد اور میں جیت جاتے میں آغا جی (والد) کی لاڈلی بیٹی تھی۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ مجھ میں ایک شاعرہ چھپی بیٹھی ہے۔ میں نے اقبال اور غالب ان ہی سے پڑھا۔ بلکہ فنا تخلص بھی انہیں کی اجازت سے رکھا۔ اقبال کی مسجد قرطبہ پڑھاتے ہوئے جب ہم اس شعر پر پہنچے

اول و آخر فنا ظاہر و باطن فنا

نقش کہن ہو کر نو منزل آخر فنا

ہے مگر اس نقش کو رنگ ثبات دوام

جس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تمام

تو یہ چھوٹا سا لفظ مجھے اچھا لگا اور میں نے اس نقش کو جستجو میں ’’جس میں رنگ ثبات دوام‘‘ ہو اپنا تخلص فنا رکھ لیا۔ والد کو بھی اچھا لگا۔ سو زندگی کے آغاز میں میں نے شعر پہلے کہا۔ سینا پرونا کھانا پکانا شادی کے بعد سیکھا۔ چونکہ زندگی کے ہر شعبے میں تکمیل حاصل کرنا میرا نصب العین رہا ہے سو ان مسائل میں بھی پیچھے نہیں ہوں۔

٭       شاعری کی طرف رجحان کے اسباب کیا تھے؟

٭٭   شاعری کی طرف رجحان کے اسباب نہیں ہوتے۔ شاعر یا تو شاعر ہوتا ہے یا نہیں۔ البتہ شدید حساسیت، مطالعہ اور عمیق مشاہدہ شاعری کو جلا بخشتا ہے۔ شاید میرے اندر شاعری کے جراثیم پوری طرح موجود تھے۔

٭       شعر کہنے کے لئے کن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے؟

٭٭   شاعر کو کسی قسم کے لوازمات نہیں چاہئے ہوتے۔ شعر خود اتنی شدت سے وارد ہوتا ہے کہ تمام لوازمات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ مجھے نیم کلاسیکی موسیقی کا ذوق ہے۔ گھر کے جس گوشے میں فرش پر بیٹھ کر یا فرش ہی پر لیٹ کر میں شعر کہتی ہوں۔ وہ گوشہ تمانت حسن و نزاکت سے سجاتی ہوں۔ اس میں پھول بھی ہوتے ہیں۔ کچھ خوشنما پودے بھی۔ پھر پس منظر میں روی شنکر یا استاد ولایت حسین کی ستار پر کلاسیکل راگوں کی موسیقی ہوتی ہے۔ چاروں جانب میری کتابیں بکھری ہوتی ہیں۔ اس ماحول میں عام طور سے رات کے وقت میں شعر کہتی ہوں۔ مجھے بہار اور برسات کے موسم عزیز ہیں۔ اگر انہیں آپ لوازمات سمجھتے ہیں تو یہی چیزیں شعر کہنے میں میری معاون ثابت ہوتی ہیں۔

٭       آپ کا طبعی میلان غزل کی طرف ہے یا نظم کی طرف؟

٭٭   میں نے پہلے غزل کہی۔ ایک عرصے تک ریڈیو سے مشاعروں میں غزل پڑھتی رہی۔ اس زمانے میں ٹی وی نہیں تھا۔ سو لوگ ریڈیائی مشاعرے غور سے سنتے تھے۔ پھر ملک کے طول و ارض میں انڈو پاک مشاعرے ہوتے تھے۔ ہندوستان سے صف اول کے شعرا بھی آتے تھے مجھے یاد ہے کراچی میں دوسرا مشاعرہ جو میں نے پڑھا تھا اس میں جگر صاحب بھی موجود تھے۔مشاعرے میں عام طور سے غزل پڑھی جاتی ہے نظم اطمینان سے پڑھنے کی چیز ہے۔ اس دور میں میں نے نظمیں بھی کہیں۔ لیکن نظم جب تک چھپی نہیں لوگ میری غزل ہی سے آگاہ تھے۔

٭       عام تاثر یہ ہے کہ بڑا شاعر بننے کے لئے زندگی کے تلخ نشیب و فراز سے آشنائی ضروری ہے۔ خاتون شاعرہ کے ناتے آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   میں شاعری کو مرد اور عورت کے خانوں میں بانٹنے کی قائل نہیں۔ نشیب و فراز محض مرد کی زندگی ہی میں نہیں آتے۔ بلکہ عورت کی زندگی بھی فنا کے خارزار سے گزرتی ہے۔ ان مسائل سے وہ کس طرح عہدہ بر آ ہوتی ہے یہ اس کی ذات پر منحصر ہے رہی بات بڑی شاعر بننے کی تو اگر مسئلہ نشیب و فراز ہی کا ہے تو عورت بھی بہت بڑی شاعر بن سکتی ہے۔

٭       آپ کے سامنے گھروں کی معاشرت میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے؟

٭٭   میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بالکل نہیں بدلا۔ ہماری پون آبادی غیر تعلیم یافتہ ہے۔ تیس پینتیس برس پہلے تقریباً تمام خواتین (اکا دکا مثالوں کو چھوڑ کر) نسبتاً کم تعلیم یافتہ تھیں۔ میری والدہ نے شادی سے پہلے آٹھ جماعتیں پاس کیں والد نے انہیں میٹرک کرایا۔ پھر انٹر میڈیٹ کا امتحان دلوایا۔ ہر امتحان میں کوئی نہ کوئی بچہ بھی تخلیق ہوتا رہا۔ بی۔ اے کر رہی تھیں کہ چوتھی بیٹی تشریف لے آئیں۔

            سو بات معاشرت کی ہو رہی تھی۔ اب لڑکیا ں تعلیم یافتہ ہیں۔ پہلے محض ٹیچریا ڈاکٹر بنتی تھیں اب انجینئر ایم بی اے غرضیکہ ہر شعبے میں لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود زندگی وہیں رکی ہوئی ہے۔ ہمارا مرد اب بھی Male کا شکار ہے۔ عورت خود کفیل ہونے کے باوجود مرد کے سہارے کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ گھریلو معاشرت وہی ہے مشترکہ خاندان کا سلسلہ موجود ہے جس کی اچھائیاں بھی ہیں قباحتیں بھی ہیں البتہ تعلیم یافتہ لڑکیاں بہتر بیویاں اور بہتر مائیں ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں یہ کہوں گی کہ ہماری ماؤں کے سر پر تو محض اندرون خانہ ذمہ داریاں ہی تھیں لیکن آج کی عورت گاڑی چلانے سے لے کر سوئی گیس کا بل تک خود دیتی ہے کہ خیر سے مرد کو لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

٭       اولاد کی پرورش ایک مشکل مرحلہ ہے۔ ماں کی حیثیت سے آپ کسی ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں؟

٭٭   اولاد کی پرورش سے لے کر تربیت تک حقیقتاً انتہائی مشکل اور اہم مسئلہ ہے۔ مرد نوکری سے واپس آتا ہے تو اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا خاص طور پر ہمارے ہاں کا مرد۔سو زیادہ وقت بچہ ماں ہی کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ میرے خیال میں بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کے مسائل بھی کم ہوتے ہیں تعلیم کے میدان میں میرٹ کا سلسلہ کچھ اس طرح ہے کہ اب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بچے کو بہت محنت کرنا ہوتی ہے پھر ہمارے ملک میں سفارش کی لعنت بھی ہے۔ بہت سے تلخ تجربات سے گزری ہوں کس کس کی نشاندہی کروں۔ تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو لڑکوں کی نوکریوں کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد شادی خانہ آبادی یا بربادی۔ اور پھر شادی میں شریک سفر کے ساتھ adjustment۔ جہاں تک لڑکیوں کا تعلق ہے تعلیم سے ان کے قلب و ذہن روشن ہو چکے ہیں۔ لیکن معاشرہ آج بھی ان سے یہی توقع کرتا ہے کہ جس کھونٹے کے ساتھ والدین چاہیں انہیں باندھ دیا جائے اور وہ تمام عمر بے زبان گائے کی طرح خامشی سے مرد کے ظلم و ستم برداشت کریں۔ تمام سوسائٹی گڈمڈ ہے اور عجیب سے CHAOS کا شکار ہے۔

٭       ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی آپ کے خیال میں کیا بہتر ہے؟

٭٭   ایک عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے میرے نزدیک ادب محض خالص ادب ہوتا ہے۔ برائے زندگی قسم کے سابقے اور لاحقے بے معنی ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے دنیا بالکل سمٹ کر رہ گئی ہے پوری کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے جنگ سے لے کر Sex تک گھر بیٹھے پردہ سمیں پر دیکھئے۔ شاعر جو حساس ترین مخلوق ہے اپنے گرد و پیش وقوع پذیر ہونے والے حالات سے بری طرح متاثر ہوتا ہے ظلم کائنات کے کسی بھی حصے میں ہو براہ راست چوٹ شاعر کے دل پر لگتی ہے۔

            دکھ اس کے اپنے ہوں یا کائنات کے۔ خوشیاں اس کی ذاتی ہوں یا مشترکہ وہ ہمہ وقت اس کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ وہ تخلیق تو محض ادب کرتا ہے۔ البتہ اس میں زندگی کے معنی نکالے جا سکتے ہیں اونچا ادب آفاقی ادب بہرحال زندگی کی سچائیوں، محبتوں، اعلیٰ اخلاقی قدروں کا والہانہ اظہار ہے۔ آج کے دور میں اگر شعر و ادب کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی اصطلاحیں فرسودہ معلوم ہوتی ہیں۔

٭       کیا ادب خواص کے دائرے میں سمٹ کر نہیں رہ گیا؟

٭٭   خواص سے آپ کی مراد کیا ہے؟ وہ پانچ فیصد مراعات یافتہ طبقہ جو محلوں میں رہتا ہے اور بات عوام کی کرتا ہے یا اعلیٰ اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور میر غالب اقبال سے فیشن کی حد تک آگاہ ہے۔ جی نہیں۔ مجھے آپ سے شدید اختلاف ہے ایک عام تعلیم یافتہ انسان جو زمانے کا سرد و گرم چشیدہ ہو گا۔ جس نے ٹھوکریں کھا کھا کر اپنی منزل کو ڈھونڈا ہو گا۔ وہ شعر و ادب کا زیادہ گہرا شعور رکھتا ہے بہ نسبت خواص کے۔ مجھے ہمیشہ ایسے مشاعرے میں پڑھ کر زیادہ لطف آیا۔ جہاں تعداد عوام کی ہو کہ خواص تو ایک ڈیڑھ گھنٹہ مشاعرے میں شریک ہونے کے بعد اٹھ کر چلے جاتے ہیں صبح کی اذان تک احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، علی سردارجعفری، مجروح سلطان پوری،فراق گورکھپوری اور احمد فراز کو سننے والے تو اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں۔ (یہ میں تجربتاً کہہ رہی ہوں)

٭       کیا قومی شاعری کو آپ تخلیقی شاعری سمجھتی ہیں؟

٭٭   یقیناً قومی شاعری تخلیقی شاعری ہوتی ہے۔ امرتا پریتم کی نظم ’’اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھے قبراں وچوں بول‘‘ سینتالیس کے ہندوستان کے خون آلود بٹوارے کے پس منظر میں لکھی گئی۔ کیا یہ زندہ شاعری نہیں اتنے طویل عرصے سے ہر قومی تہوار پر ایک ہی وحدہ لا شریک شاعر اقبال کی نظمیں سنوائی جاتی ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کی ملی شاعری کے پیچھے شاعر بہت بڑا اور اونچا تھا۔ اسی طرح آفاقی ادب اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ادیبوں اور شاعروں کی ڈائریاں …….. ناول…….. افسانے جو ملی یا قومی پس منظر میں لکھے گئے …….. وہی انقلاب کا باعث بنے ……..

٭       ادب اور سیاست میں کیا تعلق ہے۔کس کو کس سے متاثر ہونا چاہئے؟

٭٭   ادیب بہرحال انسان ہوتا ہے اور انتہائی نازک دل و دماغ رکھنے والا فرد۔ اپنے دور کا پورا سیاسی شعور رکھتا ہے۔ سیاست کی بساط پر کھیلی جانے والی چال بازیوں سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے۔ جس میں پیادے پستے ہیں۔ اور وزیر بادشاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ اور بلا شرکت غیرے پوری شطرنج کی بساط پر دندناتا پھرتا ہے پھر ادیب ہی نہیں بلکہ قوم کا ہر فرد کسی نڈر بے باک حق گو لیڈر کی تلاش میں رہتا ہے۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو……. آپ اپنی گذشتہ تاریخ کو دیکھ کر بتلائیں کہ کیا قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اس بدنصیب قوم کو کوئی ایسا لیڈر میسر آیا؟ کیا اس طبقاتی معاشرے کے مسائل حل ہوئے …….؟ یہ جواب بہت طویل ہو سکتا ہے سو اسے یہیں ختم کیا جائے تو بہتر ہے۔

٭       قوم کی رہنمائی میں ادب کا کردار کیا رہا؟مستقبل میں کیا ہونا چاہئے؟

٭٭   اعلیٰ و ارفع ادب نے ہر دور میں قوم کی رہنمائی کی۔ دہلی کا غدر مچا۔ تو میر اور غالب نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ محبت اور انسانیت کا درس دیا۔ پوری کائنات میں مسلمان بکھرا تو اقبال پیدا ہوا۔ ’’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر‘‘ کا خواب دیکھنے والے شاعر نے اتنی اعلیٰ و ارفع شاعری کی کہ انسانیت کی خودی کا پیامبر بن گیا۔

            اقبال کے بعد پاکستانی ادب میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب، استاد دامن اور احمد فراز نے سچ کا علم تھاما۔ اس لشکر میں بہت سے نام ہیں کہ لشکر کا ہر سپاہی بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اعلیٰ طنز و مزاح میں قومی شاعری سید محمد جعفری اور سید ضمیر جعفری نے کی۔

٭       آپ کے متعلق یہ تاثر ہے کہ آپ جنس کے متعلق کھل کر نہیں لکھتیں کیا کوئی خاص وجہ ہے؟

٭٭   جنس یا سیکس مرد اور عورت کے درمیان سب سے خوبصورت تعلق ہے اور تخلیق آدم کا سرچشمہ ہے لیکن ہر معاشرے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ مغرب کا معاشرہ جنس کی حسین ترین صورتوں سے لے کر قبیح ترین انتہاؤں تک پہنچ چکا ہے اور پھر جنگل کی جانب پلٹ رہا ہے۔ اتنے اہم موضوع کو بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ منٹو سے لے کر عصمت تک نے اپنے اپنے انداز میں اسے بیان کیا۔ میر تقی میر سے لے کر جرات تک نے جنس پر شعر لکھے۔ میر صاحب نے طنزاً جسے کنگھی چوٹی اور چوما چاٹی کی شاعری کہا ہے۔ جوش صاحب تو اس معاملے میں مغربی ادیبوں کے برابر پہنچ گئے اور ڈنکے کی چوٹ پر اپنے اٹھارہ معاشقے لکھے۔

            خواتین شاعروں میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر نے جنس کے موضوع پر لکھا لیکن یہاں میں یہ کہوں گی کہ ساری بات اعلیٰ و ارفع شاعری کی ہوتی ہے شاعر کس حد تک اس جذبے میں خود کو بے نقاب یا بے حجاب کر سکتا ہے۔

            میں نے جب شعر کہنا شروع کیا تو اسٹیج پر آ کر ترنم سے غزل کہنا تو درکنار ایک سیدزادی کا بے پردہ ہونا بھی معیوب خیال کیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے ۱۹۵۴؁ء میں اورینٹل کالج میں ایک انڈو پاک مشاعرہ ہو رہا تھا۔ میرے والد شیخوپورہ میں سپرنٹنڈنٹ جیل تھے۔ احسان دانش مرحوم خود ان کے پاس تشریف لائے اور میرے مشاعرے میں شریک ہونے کی اجازت چاہی۔ میرے والد ادب و فن شناس ہونے کے ساتھ ساتھ اس دور میں انتہائی روشن خیال تھے سو اس بی بی نے پردہ اوڑھ کر اپنی زندگی کا پہلا مشاعرہ پڑھا۔

            اس زمانے میں پاکستانی ادب نے ادا بدایونی واحد صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔ ان کے بعد کچھ مشاعروں میں زہرہ نگاہ کی آواز گونجی پھر ایک عرصہ پاکستانی اردو ادب میں خواتین کے میدان میں خامشی رہی۔ کشور اپنی بلند و بانگ باغی نظموں کے ساتھ اٹھیں اور پروین فنا سید پردؤں میں لپٹی بقل منیر احمد شیخ لفظوں کو بھی پردؤں کی چنریاں پہناتی رہیں …….. سو ساری بات وجدان کی ہے مجھے اگر اپنے کسی لطیف جذبے کا اظہار کرنا ہے تو میرا وجدان مجھے کچھ اس طرح اجازت دے گا۔

سر سے آنچل تو نہ ڈھلکا تھا کبھی

ہاں بہت تیز ہوا تھی شاید

سوکھ جائے تو اوڑھ بھی لوں گی

میں نے آنچل ابھی بھگویا ہے

یہ بے رخی کا گلہ مجھ سے پہلے خود سے کرو

اسے نگاہ کا یکطرفہ فیصلہ نہ کہو

عشق تھا اضطراب تھا کیا تھا……؟

روشنی تھی سیراب تھا کیا تھا……؟

سوچ پر کھل رہا تھا باب طلسم

آگہی تھی حجاب تھا کیا تھا……؟

٭       ادبی مصروفیات نے آپ کی گھریلو زندگی پر کیا اثرات مرتب کئے؟

٭٭   صبح سے لے کر شام تک الٹے سیدھے کچے پکے جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دینے والے کام اپنی ہمت کے مطابق کرتی ہوں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ میری ادبی مصروفیات گھریلو ذمہ داریوں سے متصادم نہ ہوں۔ اور گھر کے کسی فرد کو اس معاملے میں شکوہ نہ ہو……..سو مجھے نہیں یاد کہ میں نے دن میں کبھی کچھ لکھا ہو……..رات گیارہ بجے سے لے کر صبح تک وقت میرا ہوتا ہے اس وقت میں لکھ لوں، پڑھ لوں، رو لوں یا سو لوں۔ ایسی عورت جو ہر معاملے کو خوش اسلوبی سے نبھانے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر کل وقتی شاعرہ بھی ہو اس کی حالت کا اندازہ آپ کر سکتے ہیں۔

٭       ایک ادارے کے طور پر مشاعرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

٭٭   مشاعرے ہماری تہذیبی روایت کا حصہ ہیں۔ مجلس میں شائستگی سے بیٹھنے اور شعر سننے کا سلیقہ آتا ہے اچھے شعر پر کھل کر داد دینے اور مکرر سننے سے لے کر بیکار شعر پر ہُوٹ کرنے کی مکمل آزادی سامعین کو ہوتی ہے۔ پھر شاعر اپنے سامع کے رُو برو ہوتا ہے۔ وہ عقیدت و محبت کی نگاہ سے دیکھ کر آٹو گراف بک رکھے یا بے نیازانہ قریب سے گزر جائے یہ شاعر کی شاعری اور اس کے مقام پر منحصر ہے۔ پھر اب تو پوری کائنات میں مشاعروں کی صحت مند وبا پھیل چکی ہے۔ یقین فرمائیے امریکہ اور کینیڈا کے تمام اہم شہر لندن عرب امارات یہاں تک کہ انتہائی دور اور فاصلے کے لحاظ سے قریب ترین ہمسائے ہندوستان کے مختلف شہروں میں مشاعرے پڑھنے کا موقع مجھے تو کم از کم اس فن شاعری کی بدولت ہوا مجھے زیادہ حیرت کینیڈا اور امریکہ کی سیاحت کے دوران ہوئی۔ لوگ دو دو سو میل دور سے محض مشاعرے سننے آتے تھے لیکن کیا مجال کہ مشاعرہ ایک منٹ بھی دیر سے شروع ہو۔ ہمارے انڈو پاک مشاعروں کی طرح نہیں کہ آٹھ بجے کا وقت دیا ہو تو دس بجے مشاعرہ شروع ہو۔ وہاں تو مشاعرہ گاہ جس بڑے ہال میں ہو اگر دو گھنٹے کے لئے بک کیا جائے تو ظاہر ہے تقریب اپنے وقت پر ہی شروع ہو گی۔ کینیڈا کی سیاحت میں ایسا بھی ہوا کہ آٹو اے ریڈمن پہنچے تو ایئر پورٹ سے سیدھے مشاعرہ گاہ پہنچے ہاتھ منہ دھونے تک کی فرصت نہیں تھی۔

٭       اردو زبان مختلف ادوار میں مختلف اسلوب سے پہچانی جاتی رہی مثلاً دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد، لاہور، کراچی وغیرہ اردو شاعری پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے؟

٭٭   اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ دہلی کے شعرا کے اسلوب اور گہرائی سے لے کر لکھنؤ سکول کی سادہ دل میں اتر جانے والی۔ لیکن کہیں کہیں مصنوعی شاعری تک اردو شعر مختلف ادوار سے گزرا اور گزر رہا ہے جیسے شہروں کے کردار ہوتے ہیں۔ اسی طرح شعر کا بھی کردار ہے۔ دہلی اور لاہور ہمیشہ ادب و فن کا گہوارہ رہے۔ یہاں پروان چڑھنے والی شاعری گہری ہے۔ لکھنؤ کا اپنا مزاج ہے۔ لکھنؤ کی روز مرہ زبان کی شاعری کا اپنا کردار ہے۔ کراچی کے مزاج کی طرح کراچی والے بھی اپنے مسائل کی شاعری کریں گے۔ میں پنڈ ی میں نسبتاً محفوظ گھر میں بیٹھ کر کراچی اور حیدرآباد……..سندھ کے دکھ کو شدت سے محسوس تو کرونگی اور میں نے سندھ کے مسائل پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں لیکن مقتل میں ہمہ وقت رہنے والوں کی شاعری کچھ اور طرح کی ہو گی۔

٭       موجودہ علاقائی اور عالمی تناظر میں اردو زبان کا مستقبل آپ کی نظر میں کیا ہے؟

٭٭   اردو زبان کا مستقبل روشن ہے۔ جہاں تک عالمی تناظر کی بات ہے تو ہمارے افسانے اور اعلیٰ شاعری کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوئے ہیں اردو زبان کو آہستہ آہستہ وہ مقام حاصل ہو رہا ہے جو دنیا کی زندہ زبانوں کو حاصل ہے۔

٭       ایک رائے یہ ہے کہ سائنس ادب کو پنپنے نہیں دے رہی۔ مستقبل کی سائنسی دنیا میں ادب کا مقام کیا ہو گا؟

٭٭   سائنس کی طلسم ہوش ربا میں بھی ادب اپنی پوری توانائی سے موجود ہے۔ ادب کو سائنس سے کوئی خطرہ نہیں …..جب تک انسان ایک حساس دل و دماغ رکھتا ہے، جب تک دلوں میں محبت کا جذبہ موجزن ہے، جب تک ظلم موجود ہے،جب تک طاقتور قومیں کمزور قوموں کی انا سے کھیلتی رہیں گی، انسان کی انسان کے ہاتھوں تذلیل ہوتی رہے گی۔ ادب انسانیت کی بقا کے لئے ہمیشہ سامنے آئے گا۔ سائنس کی کیا مجال کہ وہ ایک شاعر کے وجدان پر کمند ڈال سکے۔                                        (اکتوبر ۱۹۹۲ء)

٭٭٭

 

پروفیسر فتح محمد ملک

(۱۸ جون ۱۹۳۶ء)

٭       آغاز شعور کے گھریلو اور درسگاہی ماحول کی تفصیل اور اپنی شخصیت پر اس کے اثرات بیان فرمائیے؟

٭٭   ابتدائی زندگی دہقانی اور دینی ماحول کے فیوض و برکات سے سرسبز و شاداب رہی۔ دادا جان ایک ان پڑھ مگر بے حد نیک اور دانشمند انسان تھے۔ اپنے کسان ہونے پر فخر کیا کرتے تھے۔ ابا جان کو کھیتی باڑی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہ تھی۔ دینی علوم اور دینی تحریکیں ہمیشہ ان کی توجہ کا مرکز رہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے کر سید ابوالاعلیٰ مودودی تک بہت سی شخصیات کو بچپن میں ہی دیکھنے اور سننے کا موقع نصیب ہوا۔ بخاری صاحب کی تقریر اور مودودی صاحب کی تحریر کے محاسن کو بیان کرتے نہ تھکتے تھے۔ جدید تعلیم کے حامی تھے مگر فارسی عربی اور اردو کی قدیم ادبی روایات کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ تلہ گنگ سے میٹرک کرنے کے بعد کالج کی تعلیم کے آغاز کے لئے ابا جان نے گورنمنٹ کالج کو اس لئے چنا کہ وہاں میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے جدید خیالات کے ساتھ ساتھ شہر کی جامع مسجد میں علامہ زاہد الحسینی کے درس قرآن سے بھی فیض یاب ہو سکوں گا۔ اگر ان دو شخصیات کے علاوہ پروفیسر محمد عثمان صاحب کا نام بھی لے دوں تو کالج کی تعلیم کے دوران میرے تمام سرچشمہ ہائے فیض کی نشاندہی ہو جائے گی۔

٭       کس عمر اور کس سبب اردو ادب کی جانب مائل ہوئے؟

٭٭   چھبیس سال کی عمر میں۔ خاندانی ماحول اور کالج کی فضا کے جادو میں۔

٭       آغاز سفر میں ادب کی کن اصناف کی جانب رجحان رہا اور کس قسم کی تخلیقات منظر عام پر آئیں؟ اور پہلی تخلیق کب، کہاں اور کیونکر شائع ہوئی اور پھر یہ سلسلہ کس طور آگے بڑھا؟

٭٭   پہلی تحریر اپنے دوست اور کالج فیلو منو بھائی (جو اس زمانے میں منیر بن عظیم کہلاتے تھے) کا شخصی خاکہ تھا۔ یہ خاکہ کالج میگزین ’’مشعل‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ دوسال بعد ناصر کاظمی نے رسالہ ’’ہمایوں ‘‘ میں میرا پہلا افسانہ شائع کیا۔ اسی سال رسالہ ’’مشرب‘‘ اور رسالہ ’’مہر نیمروز‘‘ کراچی نے منٹو پر میرا ایک مضمون اور یک بابی ڈرامہ ’’وصال منزل و گام‘‘ شائع کیا۔ سال چہارم میں مولانا صلاح الدین احمد اور ڈاکٹر وزیر آغا کی ادارت میں ’’ادبی دنیا‘‘ میں غالب پر میرا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس کے بعد میں بی اے کا امتحان دیتے ہی روزنامہ تعمیر سے منسلک ہو گیا اور پھر ایم اے کرنے تک صحافت اور تعلیم ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

٭       آپ پنجاب یونیورسٹی کے پہلے گولڈمیڈلسٹ ہیں۔ یہ اعزاز آپ کی کس کارکردگی پر حاصل ہوا؟ اور اس اعزاز کو حاصل کرنے کے بعد آپ کے احساسات کیا تھے نیز آپ کے بعد اب تک کتنے طلبا یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں؟

٭٭   یہ اعزاز مجھے ایم اے (اردو ادب) میں یونیورسٹی بھر میں اول آنے پر ملا تھا۔ نہیں معلوم کہ میں پہلا گولڈ میڈلسٹ تھا یا کوئی اور؟ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرے بعد کتنے اور لوگوں کو اس اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز میرے لئے حیرت اور مسرت کا باعث بنا تھا۔

٭       ابتدائی ایام کے اہلِ قلم دوست اور رہنما کون تھے اور فنی سفر میں ان سے کیا اثرات اور رہنمائی ملی؟

٭٭   منو بھائی، شورش ملک، شفقت تنویر مرزا، منظور عارف، وقار بن الہی کی دوستی اور ڈاکٹر برق اور پروفیسر عثمان کی رہنمائی کو اپنے لئے اللہ کا احسان شمار کرتا ہوں۔ ندرت فکر کی تلاش اور جرأت اظہار کی تمنا ان ہی لوگوں کا عطیہ ہے۔

٭       کیا آپ تخلیق و تنقید میں باقاعدہ استاد و شاگرد کے قائل ہیں تو آپ کس شخصیت کو اپنا استاد مانتے ہیں؟

٭٭   نہیں۔ باقاعدہ شاگردی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں استاد شاگرد سے زیادہ مرشد مرید کے رشتے کا قائل ہوں۔ اس سلسلے میں میں اقبال کو اپنا مرشد سمجھتا ہوں۔ البتہ ابتدائی ادبی نشوونما میں ترقی پسند اور جدیدیت پسند ادبی تحریکوں کے عہد ساز ادیبوں کی تحریروں کا گرویدہ ہوا اور اب تک ان کے فیضان کا معترف ہوں۔

٭       خالص تنقیدی میدان کا انتخاب کس بنا پر کیا اور اب تک کے سفر کی بابت آپ کے محسوسات کیا ہیں؟

٭٭   عصری ادب کے ایک عام قاری کی حیثیت میں مجھے بیسویں صدی کی پانچویں دہائی کے ادب سے ایک شدید شکایت یہ تھی کہ اس میں قومی اندازِ نظر کا فقدان ہے۔ ہمارا ادیب قومی ہونے سے پہلے بین الاقوامی ہونے میں کوشاں نظر آیا۔ چنانچہ میں نے اپنے تاثرات کو ’’قومی زندگی اور اردو ادیب‘‘ کے عنوان سے قلمبند کیا۔ میرزا ادیب نے جب اس مضمون کو ’’ادب لطیف‘‘ میں شائع کیا تو بحث چل نکلی۔ مکالمہ کی صورت پیدا ہوئی اور یوں میں عصری ادب کے خوب اور ناخوب کے تنقیدی مطالعہ کی جانب راغب ہوا۔ یہ مضمون میری پہلی کتاب ’’تعصبات‘‘ کا پہلا مضمون ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصہ کا عنوان ہے ’’ادب، تہذیب اور آزادی‘‘ تب سے اب تک بدلتی ہوئی قومی اور عالمی صورتحال میں میری ادبی تنقید اسی عنوان سے چمٹی چلی آ رہی ہے۔

٭       قیام پاکستان سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد لکھی جانے والی تنقید میں جانب داری کی بابت آپ کیا رائے رکھتے ہیں اور اردو ادب پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

٭٭   قیام پاکستان سے پہلے نظریاتی آویزش کی بناء پر جانبداری برتی جاتی تھی۔ میں ایسی جانبداری کو نظریاتی وابستگی سمجھتا ہوں اور پسند کرتا ہوں مگر طلوعِ آزادی کے بعد رفتہ رفتہ ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظریات کی بجائے مفادات کو فنی سرگرمی کا جلی عنوان بنا بیٹھے ہیں چنانچہ آج کل کی جانبداری محدود مفاداتی گروہ بندی کے باعث ہے جو قابلِ نفرت ہے۔

٭       خال خال آپ بھی اس الزام کی زد میں آیا کرتے ہیں کہ آپ اپنے احباب اور ممدوحین کی بابت تنقیدی رویوں میں نرم روی کے مظاہر اکثر کیا کرتے ہیں جس کی زندہ مثال جناب احمد ندیم قاسمی اور جناب انتظار حسین ہیں؟

٭٭   میں سمجھتا ہوں کہ احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین ہمارے عہد کے بڑے فن کار ہیں۔ ہر دو کے کمالات کا تقاضا ہے کہ میں ان پر مزید لکھوں اور میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اسی طرح میں بہت سے دوسرے سربرآوردہ اور بہت سے نوجوان ادیبوں سے متاثر ہوں اور ان پر لکھنا مجھ پر قرض ہے۔میری دلچسپیوں کا دائرہ ادبیات کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور دینیات تک پھیلا ہوا ہے جبکہ میں ایک محدود صلاحیتوں کا حامل عام سا قاری ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ مجھے جدید اور عصری ادب کے رجال اور رجحانات پر مزید لکھنا چاہئے۔ جہاں تک انتظار حسین اور احمد ندیم قاسمی کی ’’مداحی‘‘ کے الزام کا تعلق ہے وہ سر آنکھوں پر لگے یہ بھی تو دیکھئے کہ ندیم صاحب پر کتاب لکھنے سے پہلے میں نے فیض صاحب پر اپنی کتاب لکھی اور آج کل راشد صاحب پر کتاب لکھنے میں مصروف ہوں۔

٭       آپ کا نظریاتی وژن بھی خاصا دھندلا ہے آپ باقاعدہ ترقی پسند نہ ہونے کے باوجود بھی ترقی پسندی کے مظاہر اکثر کیا کرتے ہیں اور بیک وقت دائیں اور بائیں نظریات کی تبلیغ بھی آپ کی شخصیت کا خاصا ہے؟

٭٭   جب میں نے ادبی تنقید کے میدان میں قدم رکھا اس وقت ترقی پسندی اور جدیدیت پسندی کی ادبی تحریکیں ہماری ادبی تاریخ کا حصہ بن چکی تھیں۔ ان تحریکوں نے ہمارے ادب کو جو کچھ دینا تھا وہ دے کر ادبی دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں مگر بہت سے لوگ آج تک ان تحریکوں کی لکیروں کو پیٹتے چلے آ رہے ہیں اور ہر نئی تحریر پر وہی پرانے لیبل چپکاتے چلے آ رہے ہیں۔ میں اس نظریاتی وژن کا گرویدہ ہوں جو اقبالؔ کا نظریاتی وژن ہے۔ اقبالؔ پر اپنی کتاب میں آج سے بیس برس پہلے ہی میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ پاکستان کے اندر برپا نظریاتی کشمکش دائیں اور بائیں کی کشمکش نہیں بلکہ ملوکیتی اسلام اور حقیقی اسلام کے مابین کشمکش ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور اپنے فلسفہ میں حقیقی اسلام کے جو خدوخال اجاگر کر رکھے ہیں میرا نظریاتی وژن انہی سے برآمد ہوا ہے۔ اقبالؔ نے کہا ہے

اے بندۂ مومن تو یساری تو یمینی

ناموسِ ازل را تو امینی تو امینی

            سو جناب ! یہ یسار و یمین (رائٹ اینڈ لیفٹ) کی درجہ بندی میری سمجھ سے بالاتر ہے۔

٭       زبان کے بارے میں آپ روایت سے انحراف کے قائل ہیں جبکہ تہذیب و ثقافت اور تاریخ کے معاملے میں تعصب کی حد تک ڈٹے رہنے پر زور دیتے ہیں؟ اسطرح تو ہماری حیثیت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند ہو جاتی ہے کہ ہم علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے دور میں سیکھنے اور سمجھنے کی بجائے اپنے خول میں بند رہیں؟

٭٭   زبان، تہذیب، ثقافت اور تاریخ ………… میں کسی شعبہ میں بھی روایت سے انحراف کا قائل نہیں۔ میں روایت اور جدت کا قائل ہوں۔ جدت سے روایت میں توسیع بھی ہوتی ہے اور روایت کی روحِ عصر کے تقاضوں کے مطابق از سرنو تفسیر و تعبیر بھی ہوتی رہتی ہے۔ یوں زندگی ماضی کی زندہ روایات سے محروم ہوئے بغیر بدلتی ہوئی زندگی کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے۔

٭       پروفیسر صاحب ! ادب میں نظریاتی ترقی کا رول باقی بچا ہے؟ جبکہ آج تمام نظریئے گڈمڈ اور دھندلا چکے ہیں۔ کیمونسٹ اور سوشلسٹ مغرب کی جانب رجوع کر رہے ہیں حتیٰ کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی گلے مل رہی ہیں؟

٭٭   لکھنا ایک نظریاتی عمل ہے۔ ادب میں موجودہ بحرانی کیفیت نظریات سے روگردانی کے باعث ہے۔ جب آدمی ایک مرتبہ اپنے نظریات ترک کر دیتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اشتراکی اور سوشلسٹ دانشور اب بڑی حد تک مغربی سرمایہ داری کے Collaborateبن چکے ہیں۔ اب تو یہ سوچ کر ہنسی بھی نہیں آتی کہ کسی زمانے میں کیمونسٹوں اور سوشلسٹوں کے نزدیک لفظ Collaborateایک گالی کے مترادف تھا۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اب نظریاتی جماعتیں نہیں رہیں۔ دونوں کا سیاسی منشور ایک ہے اور وہ یہ کہ اپنے اپنے بدعنوانوں کو کرپشن کے مقدمات سے کیسے بچائیں؟ سو، وہ جب چاہیں جس سے چاہیں گلے ملیں۔ میں آپ معترض ہونے والے کون ہیں؟

٭       دو قومی نظریئے کا محرک آپ کی نظر میں کیا تھا اور بطور پاکستانی ہم نے کس حد تک اسے اپنا نصب العین بنایا؟

٭٭   دو قومی نظریہ کا بنیادی محرک اسلامیانِ برصغیر کے جداگانہ اور منفرد قومی وجود کی بقاء، استحکام اور ترقی تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہم نے اپنی اس بنیادی فکری اساس کی نہ تو حفاظت کی اور نہ اس کے ناگزیر تقاضوں کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کی سمت و رفتار کو متعین کیا۔

٭       پروفیسر صاحب ! ایک رائے یہ ہے کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے تصورِ پاکستان میں نمایاں فرق ہے کیا آپ اس کی نشاندہی اور اسباب بیان فرمائیں گے؟

٭٭   اقبال ؔ نے 1930ء میں اپنے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ 30ء سے 38ء تک وہ اپنی نثری، فلسفیانہ اور شاعرانہ تحریروں میں اس تصور کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سنتے اور اس کا مدلل جواب دیتے رہے۔ ان کی وفات کے دو برس بعد قائد اعظم کی قیادت میں اسلامیان ہند نے اقبالؔ کے اس تصور کو اپنا سیاسی پروگرام بنا کر تحریکِ پاکستان کا آغاز کیا۔ 94ء سے قیام پاکستان تک کے سات سالوں کے دوران تصور پاکستان پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب خود قائد اعظم نے دیا۔ چنانچہ تصورِ پاکستان کیا ہے؟………… یہ سوال بانیانِ پاکستان سے پوچھنا چاہئے نہ کہ اندرونی اور بیرونی مخالفین پاکستان سے۔ اقبالؔ اور قائد اعظم کی تحریروں اور تقریروں سے پھوٹنے والے تصور پاکستان کو ہی میں حقیقی تصور پاکستان سمجھتا ہوں۔ بعد میں یحیٰ خان کے دور میں نظریہ پاکستان اور ضیاء الحق کی عملداری میں نظریۂ اسلام کے ڈھول پیٹے گئے۔ اس سے فکری انتشار پیدا ہوا۔ یہ اسی فکری الجھاؤ کا شاخسانہ ہے کہ آج لوگ باگ اقبالؔ اور قائد اعظم کے تصور پاکستان کو کوئی نئی چیز سمجھنے لگے ہیں۔

٭       قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے خالق و معمار غالبؔ، سرسید، عبدالحلیم شرر، خیری برادران، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ کے نظریات سے پاکستان کو کیوں الگ کر دیا گیا تھا؟

٭٭   قیام پاکستان کے فقط چار سال بعد پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو شہید کر کے اقتدار غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان ……م یعنی برطانوی ہند کے وفادار ملازمین کے گھر کی لونڈی بن گیا۔ اقبال اور قائد اعظم سمیت تحریکِ پاکستان کے تمام قائدین برطانوی سامراج کے دشمن تھے مگر پاکستان پر ان ذہنی غلاموں کی آقائی مغربی سامراج کی حاشیہ برداری سے عبارت تھی۔ نتیجہ یہ کہ نظریات فراموشی کا جو سلسلہ تب شروع ہوا تھا اس کے اثرات ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔

٭       پروفیسر صاحب ! فیض صاحب کا پیش کردہ ’’پاکستانی قومیت‘‘ کا تصور کیا تھا اور اس کے پیش کرنے کی وجوہات کیا تھیں اور فیض صاحب کو اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی ہوئی؟

٭٭   فیضؔ صاحب پاکستان کے طول و عرض میں بکھری ہوئی خلقِ خدا کے مقامی اور علاقائی چلن کو پاکستان کی قومی شناخت کا جزو لانیفک سمجھتے تھے۔ وہ اوپر سے مسلط کئے گئے سرکاری تصور قومیت کی بجائے نیچے سے پھوٹنے، آزادانہ نشو و ارتقاء کے مراحل طے کرتے ہوئے قومی شناخت کا روپ دھارنے والے قومی کلچر کو صورت پذیر ہوتا دیکھتے تھے۔ ان کا یہ تصور اپنا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بھٹو شہید کے دور میں ہماری تہذیبی شیرازہ بندی کی خاطر جو ادارے قائم کئے تھے وہ باقی ہیں۔ ان میں سے ’’لوک ورثہ‘‘ کا وجود اور عمل فیضؔ صاحب کے تصورات ہی کی تجسیم ہے۔

٭       قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے علاوہ سبھی صوبوں اور علاقوں میں وہاں کی زبانوں میں تخلیقی کام ہوا جبکہ پنجاب کو باقاعدہ اس امرسے محروم رکھا گیا اس کے پس پردہ عوامل کیا تھے؟

٭٭   جی نہیں ! پنجاب میں بھی پنجابی ادبی بورڈ قسم کے وہ تمام ادارے قائم کئے گئے جو دوسرے صوبوں میں قائم ہوئے تھے۔ اگر ان اداروں کو کسی نہ کسی محمد باقر نے اپنی جیب میں چھپا لیا اور فعال نہ ہونے دیا تو اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔ پنجابی زبان و ادب اور پنجاب کے علاقائی کلچر کے فروغ کی خاطر وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے بہت کام کیا۔ ان ہی کے عہد میں یونیورسٹی نے ایم اے پنجابی کا آغاز کیا۔ پنجاب کے تخلیقی فن کاروں کی پنجابی زبان کی بجائے اردو اور انگریزی زبان کی جانب توجہ کی وجوہات سرکاری اور انتظامی نہیں بلکہ تہذیبی اور نفسیاتی ہیں۔

٭       آپ کے خیال میں پنجاب میں قوم پرستی کی تحریک کے زور نہ پکڑنے کے اسباب کیا ہیں؟

٭٭   پنجاب پاکستانی قوم پرستی سے متصادم کسی بھی رویہ کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بات پنجاب کی وسیع النظری، عالی ظرفی اور فیاضی کا ثبوت ہے۔

٭       سرائیکی پٹی کے لوگ خود کو پنجاب کا حصہ کہنے سے گریزاں کیوں ہیں ان کے احساس محرومی میں شدت کیونکر در آئی اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے نظر آتے ہیں؟

٭٭   سرائیکی پٹی کے لوگوں کے مطالبات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کر کے انہیں خوشدلی کے ساتھ مان لینا چاہئے۔ اگر وہ پنجاب سے الگ ہو جانا چاہتے ہیں تو ان کی اس تمنا کو پورا کر دینا چاہئے۔ سرائیکی صوبہ قائم ہو جانے سے نہ پنجاب کے عوام کو کوئی نقصان پہنچے گا نہ پاکستان کی وحدت اور سا لمیت کو۔

٭       ہر دور میں کسی نہ کسی صوبے یا تمام صوبوں میں احساسِ محرومی اور حقوق کی جنگ کا غلغلہ بلند رہا اور پنجاب پر آمریت پرستی اور سامراج دوستی کا الزام لگتا رہا اور ہر بار پنجاب دفاعی پوزیشن پر نظر آیا دیگر اسباب کے ساتھ آپ پنجابی اہل قلم کو اس کا کس قدر ذمہ دار گردانتے ہیں؟

٭٭   پنجابی اہلِ قلم نے ہمیشہ آمریت کے خلاف بغاوت کی ہے۔ فیضؔ اور حبیب جالبؔ پنجاب ہی کے چشم و چراغ ہیں۔

٭       حال ہی میں پاکستان کے حوالے سے آپ کے ارشادات سننے کا اتفاق ہوا جس میں آپ نے صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کے حوالے سے یہ کہہ کر دلی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ یہ مسئلے باہر کے لوگوں کے پیدا کردہ ہیں اور ہم جلد ان پر قابو پا لیں گے کیا یہ 1971ء والی کیفیت نہیں۔ اگر آپ سابق مشرقی پاکستان اور کراچی کے موجودہ لیڈران کے لب و لہجہ پر غور فرمائیں تو آپ کو بہت مماثلت نظر آئے گی تو بہتر نہ ہو گا کہ منہ چھپانے کے بجائے ہم اس مسئلے کی اہمیت کا دل سے اقرار کریں اور بذریعہ ڈائیلاگ اس مسئلے کو حل کرنے کی جستجو کریں؟

٭٭   خوش قسمتی سے آپ اس تقریب میں موجود تھے جس میں میں نے گلنار آفرین صاحبہ کی نظموں کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔ صورت حال خود ہم نے پیدا کی ہے۔ دوسرے اس سے ’’فائدہ‘‘ اٹھا رہے ہیں۔ ہم صورتحال کو ٹھیک کر دیں گے تو غیروں کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے گا۔ خود میں نے محترمہ گلنار آفرین کی وساطت سے عزیزان کراچی کو درد مشترک کی جانب متوجہ کیا تھا اور پنجابی عوام کی جانب سے اخوت و محبت کا پیغام بھجوایا تھا۔ آپ درست فرماتے ہیں کہ مکالمہ ہی نسخہ ٔ شفا ثابت ہو سکتا ہے۔

٭       پروفیسر صاحب ! ہم آپ کے تجزیئے سے اتفاق کریں تو آپ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنا پسند فرمائیں گے جس میں صاف صاف اور دو ٹوک انداز میں اہل قلم کا کردار بھی زیر بحث آنا چاہئے؟

٭٭   اس مسئلہ کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر اس کا بیج ضیاء الحق کی سفاک ابلیسی حکمت عملی نے بویا تھا۔ سندھ میں بحالی جمہوریت کی تحریک کو بے اثر بنانے کی خاطر اسی شخص کی ایجنسیوں نے وہ فرعونی حکمت عملی اپنائی جس نے رفتہ رفتہ یہ بھیانک صورت حال پیدا کر دی۔ میں اس سلسلے میں اہل قلم کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ کراچی ہی نہیں پورے ملک کے اہل قلم نے اس موضوع پر زندہ رہنے والی تخلیقات پیش کی ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب بم دھماکوں سے کانوں کے پردے پھٹ رہے ہوں اس وقت کسی زہرہ نگاہ یا کسی انتظار حسین کی آواز کہاں سنائی دے گی؟

٭       اردو ادب بالخصوص پاکستانی سے آپ کی کیا توقعات ہیں جبکہ ہر طرف جھوٹ منافقت، اقربا پروری، کاسہ لیسی، محنت سے عدم شناسی کا رواج زوروں پر ہے؟

٭٭   اس وقت پاکستانی ادیب کا فریضہ وہی ہے جو سرسید احمد خان اور ان کے ساتھیوں کی ادبی اصلاحی تحریک اور بعد ازاں اقبالؔ کی شاعری نے سرانجام دیا تھا۔

٭       ہم آپ کے اس جواب سے اس لئے مطمئن نہیں کہ اکثر آپ نے تقریبات میں بطور صدر، مہمان خصوصی مدعو ہوا کرتے ہیں جس میں ایک نا اہل دوسرے نا اہل کو اپنے وقت کا بقراط ثابت کر رہا ہوتا ہے اور اہلِ دل خاموش تماشائی بنے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہوتے ہیں؟

٭٭   آپ کو اس کا حق حاصل ہے :          ؂

میں کیا بھلا تھا، یہ دنیا اگر کمینی تھی

در کمینگی پر چوبدار میں بھی تھا!

٭       پروفیسر صاحب ! گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سامنے اردو ادب کے شیدائیوں نے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی تھی جس میں دنیا کے کونے کونے سے ادیب و دانشور اور ناقدین نے خیالات کا برملا اظہار کیا اور اکثریت نے اردو زبان و ادب کی بابت اپنے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے آپ کا حسنِ ظن اور مشورات کیا ہیں؟ اور انہیں کس طرح رو بہ عمل لایا جا سکتا ہے؟

٭٭   میں اس کانفرنس کے انعقاد اور اس میں پیش کئے گئے خیالات سے بے خبر ہوں۔ جب تک ان ’’تحفظات‘‘ کا علم نہ ہو ان پر بحث نہیں کر سکتا۔

٭       اچھا ادب اچھی تعلیم سے مشروط ہوا کرتا ہے آپ اپنے نظام تعلیم اور اس کی پیدا کردہ خرابیوں اور ان سے بچنے کی کیا تدابیر بیان فرمائیں گے؟

٭٭   ہمارا نظام تعلیم امداد اور قرض دینے والے عالمی اداروں کی شرائط کی پیروی کرتے کرتے اب ’’ہمارا‘‘ رہا ہی نہیں۔ جب تک ہم اقتصادی طور پر آزاد ہو کر خود انحصاری کا راستہ نہیں اپناتے اس وقت تک نظام تعلیم ہماری قومی اور ملی امنگوں کا ترجمان نہیں بن سکتا۔

٭       علامہ اقبال پر آپ کی خدمات بڑی اہمیت و انفرادیت کی حامل ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے علامہ اقبال کو کچھ نئے زاویوں سے روشناس کرایا مگر ہم آپ کی زبانی سننا ضرور چاہیں گے؟

٭٭   میری کوشش رہی ہے کہ میں اقبال کے افکار کو پاکستان اور دنیائے انسانیت کے عصری حقائق کے سیاق و سباق میں پیش کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم اقبال کے افکار کو اپنے لئے وظیفہ عمل بنائیں۔ صرف اسی طرح ہم پاکستان میں وہ نئی دنیا پیدا کر سکتے ہیں جو شاعر مشرق کے کلام میں خوابیدہ ہے۔

٭       پروفیسر صاحب ! آپ کا بہت سا وقت بیرونِ ملک درس و تدریس میں صرف ہوا جس کا سبب آپ کے ناقدین آپ کی پی آر بتاتے ہیں۔ کیا آپ صحیح صورتحال واضح فرمانے کے ساتھ ان ممالک میں اقبال اور پاکستان کی بابت پائے جانے والے تاثر میں ہمیں اور ہمارے قاری کو شریک کرنا پسند کریں گے؟

٭٭   میں اپنے ناقدین سے متفق ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بلاشبہ مجھ سے زیادہ با صلاحیت ہیں مگر ہر مرتبہ ہر سلیکشن بورڈ نے ان کی بجائے مجھے ہی منتخب کیا۔ جوہر قابل کی اس ناقدری پر مجھے بھی دکھ ہے مگر کیا کروں میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک فیصلہ کرنے والوں کی رائے پر اثر انداز نہ ہو سکا۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیروں اور افسروں نے تو ایک سال تک التوا کا جال پھیلا کر ہائیڈلبرگ یونیورسٹی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ میرے بجائے ’’ناقدین‘‘ میں سے کسی کو بلا دیکھیں مگر وہ نہ مانے بالآخر مجھے ہی بھجوانا پڑا۔

            مجھے یورپ، امریکہ اور روس کی چند یونیورسٹیوں میں کام کرنے کا موقع ملا ہے جہاں اقبال کے عز و وقار سے ہماری عزت قائم ہے۔ وہاں پاکستان کوئی با وقار مقام نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ اندرون ملک ہمارے وہ اعمال ہیں جن کے باعث ہماری زندگی جہنم کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ پھر ہماری وزارتِ خارجہ کلچرل سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف ہے۔ بیشتر ممالک میں ہمارا کوئی کلچرل اتاشی موجود ہی نہیں ہے۔ جرمنی جیسے ملک میں ہم نے تو کلچرل اتاشی کی آسامی ہی نہیں رکھی مگر بھارت نے جہاں سفارت خانے میں کلچرل منسٹر کی اسامی قائم کر رکھی ہے وہاں برلن میں انڈین کلچرل سنٹر بھی قائم کر رکھا ہے۔ ہم نے کلچر کا میدان بھارت کے سپرد کر رکھا ہے اور یوں بھارت مغربی دنیا میں کلچر کے پردے میں خوب سیاست کر رہا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پہ گھنٹوں بات ہو سکتی ہے۔ یہاں اتنا کہنا کافی ہے کہ

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

٭       مصلحت اچھی چیز سہی مگر ہمارا آخری سوال اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کے خفیہ ادارے کی ایسی رپوٹس منظر عام پر آئیں جن میں خدانخواستہ ہمارے وجود کی نفی اور نقشوں میں ہمارے عدم وجود کی نشاندہی کی گئی ہے چونکہ آپ بہتر طور پر باہر کی دنیا سے باخبر ہیں لہٰذا اس حوالے سے آپ پاکستانی قوم کو زیادہ بہتر طریقے پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں؟

٭٭   ہمارے قومی وجود کی نفی اس وقت سے کی جا رہی ہے جب ہم ابھی عدم سے وجود میں آئے ہی نہ تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب ہمارا جداگانہ ریاستی وجود صرف دائرہ امکان میں تھا نفی کی یہ کوشش شروع ہو گئی تھی۔ قیام پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کے آس پاس مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس نے پاکستان کے ناکام ریاست ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ جن پیش گوئیوں کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا ہے وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ میں ان کے بارے میں اپنے تاثرات ایک مضمون میں ’’امکانات یا عزائم‘‘ کی صورت میں شائع کر چکا ہوں۔ ہمیں اس طرح کی پیش گوئیوں پر ناراض ہونے کی بجائے ان سے خبردار ہونے اور اصلاح احوال کی جانب پیش قدمی کی تحریک ملنی چاہئے۔ (نومبر ۲۰۰۰ء)

٭٭٭

 

منشا یاد

(۵ ستمبر ۱۹۳۷ء)

٭       ابتدائی زندگی کی کچھ تفصیل بتائیے اور  یہ فرمائیے آپ سے پہلے خاندان یا اعزاء میں ادبی سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟

٭٭   آپ ادبی سلسلہ کی بات کرتے ہیں میرے خاندان تو کیا پورے گاؤں میں پرائمری سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی نہیں تھا۔اور گاؤں کو بھی چھوڑیں آس پاس کے دیہات میں انگریزی پڑھنے والا میں پہلا لڑکا تھا۔کچھ دور ایک مڈل سکول اور  قریبی قصبے میں لوئر مڈل سکول تھا جس میں زیادہ تر مڈل تک پڑھے ہوئے ٹرینڈ اور  ان ٹرینڈ استاد پڑھاتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں، میں شہر سے لوٹا تو مجھے دیکھتے ہی شیرا ؔ ترکھان بھاگا بھاگا آیا  اور  مجھے گلی میں روک کر بولا ’’باؤ پہلے جلدی سے یہ تار پڑھ دو، ایک ہفتے سے کوئی پڑھنے والا نہیں مل سکا‘‘۔ مجھے اس کی جلدی پرہنسی آئی مگر یہ ہنسنے کا موقع نہیں تھا اس کی خالہ سرگودھا کے کسی ہسپتال میں بیمار پڑی تھی۔میں نے کہا تم نے دیر کر دی،شہر جا کر کسی سے تار پڑھوا لیتے اب تک تو ماسی ٹھیک ہو کر ہسپتال سے گھر آ گئی ہو گی۔کہنے لگا تم ٹھیک کہتے ہو۔ گزر گئی ہوتی تو بندہ آ جاتا۔

 گاؤں کاسب سے تعلیم یافتہ شخص نواب محمد موچی تھا۔اس نے پوری چار جماعتیں پڑھی تھیں مگر وہ ذہین اور  کاریگر آدمی تھا۔میری اس سے گہری دوستی تھی اور  میں سمجھتاہوں میرے تعلیم کے شوق اور  ٹیکنالوجی سے دلچسپی کے پیچھے اس کی شخصیت کا اثر ہے اور  میری زندگی پر اس کا ایک احسان یہ ہے کہ جب میں ساتویں میں تھا تو میری والدہ کی وفات کے بعد والد صاحب نے ایک روز نواب کو میرے پاس شہر بھیجا کہ وہ میرا سکول چھوڑنے کاسرٹیفیکیٹ لے آئے اور  مجھے ایک نسبتاً قریبی ورنیکلر مڈل سکول میں داخل کرا دے۔میں روہانساہو گیا،کیا اب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی، اپنی مرحومہ ماں کی خواہش پوری نہیں کر سکوں گا؟۔اس نے تشفی دی،اور واپس جا کر  بتایا کہ پڑھائی میں اتنے ہوشیار لڑکے کے سکول چھڑوانے کی بات سن کر ہیڈماسڑ صاحب ڈنڈا لے کرا س کے پیچھے پڑ گئے اور  وہ مشکل سے جان بچا کر  آیا ہے۔ اس نے والد صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ عزت دار آدمی ہیں کبھی غلطی سے بھی سکول نہ جائیں۔ اگلے ہفتے میں گھر آیا تو والد صاحب نے پوچھا۔کیا تمہارے ہائی سکول کا ہیڈ ماسڑبہت کپّتا آدمی ہے میں گپّی اور  جھوٹ گھڑنے کا ماہر ہو  چکا تھا میں نے کہا جی وہ تو کمیٹی کے ممبروں تک کو پیٹ ڈالتا ہے۔وہ ایسے ڈرے کہ پھر کبھی سرٹیفیکیٹ کی بات کی نہ سکول گئے۔

 والدہ کی تعلیم،جن کا مجھ پر زیادہ اثر تھا اور  ہے، گھریلو تھی۔ وہ قرآن مجید کے علاوہ پنجابی کی بعض کتابیں جیسے اکرام محمدیؐ، مجموعہ ابیات مولوی عبدالستاراورقصص الاحسن وغیرہ پڑھ سکتی تھیں لیکن کہیں مشکل پیش آ جاتی تو ہم دونوں مل کر پڑھتے۔ میں دوسری تیسری میں تھا اور  مشکل لفظوں کے ہجے کر لیتا تھا اس لئے انہیں خوب مدد مل جاتی اور  مجھے بھی کتابیں پڑھنے کاچسکالگ گیا۔ماں جی تعلیم کا شوق جہیز میں لائی تھیں۔مجھے اعلیٰ تعلیم دلانا ان کی مختصر زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔والد مجھے گھرسے دور نہیں بھیجنا چاہتے تھے مگر والدہ نے مجھے میری خالہ کے پاس شہر بھیجنے کا جو ارادہ اور  وعدہ کیا تھا اس پر ڈٹی رہیں۔۔

            گو والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔پھر بھی ان میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جس نے مجھے ادب کی طرف راغب کیا۔والد تو پھرسکول اور  مسجدمکتب کے علاوہ حکمت کی کچھ کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔اور پڑھے ہوئے ہی تھے لکھے ہوئے نہیں تھے یعنی ٹھیک سے لکھ نہیں سکتے تھے اور  لکھنے کاسارا بوجھ بہت ہی بچپن میں میرے اوپر ڈال دیا گیا تھا،گھرکا بھی،اور گاؤں بھر کا بھی۔دونوں نمبر دار بھی ان پڑھ۔ان کا کام والد صاحب دیکھتے کہ تین جماعتیں پڑھے ہوئے تھے۔ اور  والد کی قائم مقام نمبرداری کا شعبۂ تحریر میرے سپرد تھا۔مالئیے آبیانے کی پرچیاں اور حساب کتاب،مویشیوں اور  بستہ ب کے بدمعاشوں کی راہداریاں اور  باعث تحریر آنکہ قسم کی اور سند۔۔ رہ جانے والی رسیدیں لکھنا اور  خود ہی نمبردار کا نشانِ انگوٹھا لگا دینا۔گاؤں کے لوگوں کے رقعے اور  خطوط اور  بعض عورتوں اور  لڑکیوں کی پردیس گئے شوہروں اور  محبوبوں کے نام چٹھیاں لکھنا اور  ان میں ان کے جذبات کی ترجمانی کرنا،اعتماد پر پورا اترتے ہوئے حسب فرمائش مولوی غلام رسول کی مشہور چٹھی یا انشائے دلپذیر سے چن کر عشقیہ اشعار کا اضافہ کر دینا۔انہیں رومالوں تکیوں پر کاڑھنے کے لئے اشعار لکھ کر دینا وغیرہ۔ اس طرح میں لوگوں میں مقبول اور  لکھائی میں بہت چست ہو گیا۔اگلی جماعتوں اور  کامیابیوں تک پہنچتے پہنچتے میں گاؤں بھر کا آئیڈیل اور  ہیرو بن گیا(افسانوں اور  ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے اب بھی ہوں)۔گاؤں میں قاتل،چور اور  ڈاکو بہت تھے جو مجھے گھڑیوں،سائیکلوں اور  ریڈیو وغیرہ کے تحفے تحائف لا کر دیتے رہتے۔اور مجھے گھر والوں سے یہ تحفے چھپانا یا بہانے کرنا پڑتے۔میرے امتحانی نتائج کی پورے گاؤں کو فکر ہوتی اور  ایسا لگتاجیسے میری پڑھائی کے پیچھے پورا گاؤں ہے۔

٭       حد درجہ سادہ اور  دیہی ماحول میں پرورش پانے والا بچہ سکول کی تعلیم کے دوران ہی مطالعے کا شوقین اور  ادب کارسیاکن احساسات کے تحت ہو جاتا ہے اور  اور  اہل خانہ اس پر کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

٭٭   شعرو ادب سے دلچسپی شائد میرے خمیر میں ہو۔ کیا پتہ ماں جی سے ورثے میں ملی ہو۔کیوں کہ انہیں گیت،ابیات اور  کہانیاں بہت یاد تھیں۔انہوں نے اپنی پڑھی اور  سنی ہوئی ساری سماجی،مذہبی اور  کتابی کہانیاں اور  حکائیتں مجھے بچپن میں منتقل کر دی تھیں۔شائداس لئے کہ انہیں جلدی چلے جانا تھا۔

             مجھے کتابیں اور  خصوصاً کہانیاں پڑھنے کا شوق گھرسے ملا۔اور اس کی تکمیل شہر میں آ کر ہوئی جب میں نے پانچویں جماعت میں داخلہ لیا۔وہاں کتابیں آسانی سے مل جاتی تھیں۔سکول اور میونسپل لائیبریری میں طرح طرح کے رسالوں سے تعارف ہوا۔آنہ لائیبریریوں سے کرائے پر ناول مل جاتے۔میرے پڑھنے کی رفتار اور  جنون کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ا سکول سے گھر پہنچتے پہنچتے ایک عام ضخامت کی کتاب ختم کر لیتا اور  پڑھتے پڑھتے گڑھوں میں گر جاتا۔راستے میں پھٹا ہوا اخبار کا ٹکڑا مل جاتا تو اسے بھی پڑھ ڈالتا۔دکاندار اخبار میں لپیٹ کر پکوڑے دیتا تو لگتا دو چٹپٹی چیزیں خریدی ہیں (ملکہ ترنم نور جہاں کے گھرکی چھت سے کودتے ہوئے مشہور کرکٹر نذر محمد کی ٹانگ ٹوٹنے کی کراری خبر میں نے اسی طرح پڑھی تھی)

             میں ساتویں جماعت میں تھا کہ ماں جی چھ سات ماہ بیمار رہ کر فوت ہو گئیں۔اوراس سنگدل حکیم (والد)نے جس کی مریض کے بارے میں پیش گوئی کبھی غلط ثابت نہ ہوتی تھی مجھے بہت پہلے بتا دیا کی تمہاری ماں نہیں بچے گی۔کوئی ساتویں جماعت کے اس بچے کے کرب کا اندازہ لگاسکتا ہے جس کے بس میں کچھ نہ ہو اور اسے یہ بتا دیا جائے کہ اس کی عزیز ترین ہستی اس سے بچھڑنے والی ہے۔میں چاہتا تھا ان کی تصویر بن جائے مگر وہ شہر جا سکتی تھیں نہ کیمرہ دستیاب تھا۔مجھے تو پھر ان کی صورت کچھ کچھ یاد ہے مگر چھوٹے بہن بھائی اس سے بھی محروم ہیں۔ان دنوں میں خالہ کے پاس رکنے کی بجائے ہر روز بائیسکل پر چالیس میل (بیس صبح اور  بیس شام) کا سفر کر کے اپنے گھر آ جاتا کہ ماں کی دوائیں لادوں یا اور  کچھ نہیں تو ان کے پاؤں ہی دباتا رہوں۔۔ زندہ ماں کو خواب میں مرتے ہوئے دیکھ کر چیخ مار کر اور  ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا اور  جب وہ سچ مچ مر گئیں تو کچھ دنوں کے لئے میں بھی مرگیا۔ وہ گھر جہاں رات کو دیر تک چراغ جلتا تھا شام ہی کو تاریکی میں ڈوب جاتا۔جس آنگن میں شعر و ادب کی محفلیں جمتیں،قہقہے اٹھتے اور  ابیات گائے جاتے تھے وہاں سے اب سسکیوں اور  بینوں کی آوازیں اٹھنے لگیں۔چالیس دن رشتے دار اور  گاؤں کی عورتیں میرے نام کو اپنے بینوں میں پرو کر روتی اور  رلاتی رہیں۔چھوٹی بہن اور  بھائی کی خاطر، جو بہت کم سن تھے میں اب بھی اکثر شام کو واپس آ جاتا۔ ماں جی کے چلے جانے کے بعد میں بہت حساس ہو گیا۔چنانچہ میں نے قصے کہانیوں اور  کتابوں میں پناہ لی۔ساتویں آٹھویں تک میں نے بے شمار کتابیں پڑھ ڈالیں۔پیسہ سیریزکی ایک ایک کتاب۔جنوں کی کہانیاں، ماہی گیروں کی کہانیاں،بادشاہوں کی کہانیاں،چوروں کی کہانیاں وغیرہ۔بلکہ بچوں کا پورا میّسرادب۔دسویں سے پہلے بانگ درا،پریم پچیسی،احمد ندیم قاسمی،منٹو،بیدی اور  کرشن چندر کے افسانے،مرزا ادیب کے صحرا نورد کے خطوط میاں ایم اسلم،رشید اختر ندوی،رئیس احمد جعفری اور نسیم حجازی کے متعدد ناول۔داستان امیر حمزہ اور  پتہ نہیں کیا کیا۔

٭       پہلی باقاعدہ تخلیق کس صنف اور  زبان میں تحریر کی اور اس کی بابت رہنمائی کا ماخذ کیا تھا؟

٭٭   ساتویں جماعت ہی سے میری کہانیاں اور  نظمیں پندرہ روزہ ہدایت لاہور میں چھپنے لگی تھیں۔۱۹۵۵ء میں جب میں میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوا تو پتہ نہیں میں ذہنی طور پر بالغ ہوا تھا یا نہیں مگر میں نے بالغوں کے لئے ایک افسانہ ’’کنول ‘‘ کے نام سے لکھا اور  نیم ادبی لیکن اپنے دور کے مشہور رسالے شمع لاہور کو،جس میں اس دور کے سبھی مشہور ادیبوں کے افسانے چھپتے تھے بھیج دیا۔جب دو چار ہفتے گزر گئے اور  پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا تو میں شاہ عالمی میں اس کے دفتر پہنچ گیا۔ایڈیٹر کے کمرے کی چق اٹھائی تو ایک مولانا صبیحہ خانم کی بڑی سی تصویر سامنے رکھے نظر آئے۔چپراسی مجھے روکنے لگا تو مولانا نے میرے گرمی اور  غصے سے تمتماتے چہرے کی طرف دیکھا اور اسے منع کر دیا۔میں نے افسانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں میرے لئے ٹھنڈا پانی منگایا۔اور نہایت شفقت سے میرا نام اور  افسانے کا عنوان پوچھا۔پھر نائب مدیر عماد صدیقی کو بلایا۔ٹائیٹل پر چھاپنے کے لئے تصویر ان کے حوالے کی اور  میرے افسانے کی تلاش کا حکم دیا۔اور جب تک افسانہ ملتا انہوں نے میرے کوائف پوچھ لئے۔میں نے بتایا کہ گھر والے مجھے انجنیرنگ کا ڈپلومہ کورس کرانا چاہتے ہیں تا کہ جلدی سے با روزگار ہو جاؤں مگر میں کالج میں آرٹس پڑھنا چاہتا ہوں۔کسی ردی کی ٹوکری سے افسانہ مل گیا۔انہوں نے پڑھا۔کچھ دیر میری طرف دیکھتے رہے پھر بولے ’’تم نے خود لکھا ہے؟‘‘

میں بھڑک اٹھا ’’کیوں میں خود نہیں لکھ سکتا۔آپ کیا سمجھتے ہیں۔ میں نے چوری کیا ہے ‘‘ کہنے لگے ’’ اس میں کرداروں کے نام ہندو کیوں ہیں؟‘‘

 میں نے جوا ب دیا’’اس میں ایک بیوی شوہر کے لئے جس قسم کی قربانی دیتی ہے۔وہ ایک پتی ورتا ہندو عورت ہی دے سکتی ہے کہ اسے ہی یہ سکھایا کیاہے۔دوسرے یہ خیال بھی تھا کہ کہ کوئی مولوی اعتراض نہ کر سکے ‘‘

            مولوی کی بات سن کر وہ مسکرائے تو مجھے خیال آیا وہ  خود بھی تو مولوی ہیں۔مگر بات زبان سے نکل چکی تھی۔انہوں نے میرے لئے کھانا منگایا اور  اصرار کر کے کھلایا۔حالانکہ میرا ارادہ لاہور والی خالہ کے گھر جا کر کھانے کا تھا۔کہنے لگے افسانہ ضرور چھپے گا مگر تم افسانوں کی بجائے ابھی اپنے کیرئیر کی طرف توجہ دو۔ کالج کی بجائے ٹیکنیکل تعلیم تمہارے لئے بہتر رہے گی۔ورنہ مجھے دیکھو اتنی لمبی ڈاڑھی اور  اداکاراؤں کی تصاویر۔ با روزگار ہو جاؤ تو بی اے، ایم اے بھی کر لینا۔رہی افسانہ نگاری تو اس کے لئے عمر پڑی ہے۔ و عدہ کرو انجنئیرنگ سکول میں داخل ہونے کے بعد مجھے خط لکھ کر اطلاع دو گے۔کہنے لگے۔ آج تمہیں دیکھ کر مجھے ایسالگاشرقپور کا محمد امین پھرسے جوان ہو گیا ہے۔میں بھی کبھی اسی طرح اعتماد،غصے اور  جوش سے بھرا، ایک ساتھ دودوسیڑھیاں پھلانگتا گاؤں سے لاہور کے ایک دفتر میں آیا تھا۔یہ مولانا محمد امین شرقپوری تھے۔ان کے افسانوں کی ایک کتاب بھی چھپ چکی تھی۔شمع،کھلونا اور  بانو کے مالک اور  چیف ایڈیٹر۔اور میرے مشفق اور محسن۔بعد میں بھی رابطہ رہا۔جب میں نے خالص ادبی پرچوں میں چھپنا شروع کرد یا اور  شمع کو بھول گیا تو انہوں نے ایک انعامی سلسلے میں مجھے انعام دلوانے کے لئے تلاش کروایا  اور  میرے دو تین افسانوں پر انعامات دئیے۔

            ستمبر۵۵ء کے آخری دن جب میں گورنمنٹ سکول آف انجنئیرنگ میں حاضری کے لئے جا رہا تھا۔تو لالہ موسیٰ ریلوے اسٹیشن پر میں نے اکتوبر ۵۵ء کا شمع لاہور دیکھا جس میں میرا پہلا افسانہ شائع ہوا تھا۔اس کے بعد شمع،عکس نو، حرم، روزنامہ تعمیر،اور ہفت روزہ ہمدرد راولپنڈی وغیرہ میں میرے افسانے چھپتے رہے۔لیکن یہ سب ابتدائی کہانیاں تھیں۔اس لئے پتہ نہیں میری ادبی زندگی کا با قاعدہ آغاز اس کہانی سے سمجھنا چاہئے جس کا عنوان غالباً’’ آزادی کے بعد، ‘‘تھا اور  جو۵۶ء یا ۵۷ء میں عکس نو میں چھپی تھی یا اسی کہانی کے ایک الگ اور  موڈیفائیڈ حصے پر مبنی ’’کہانی ‘‘ سے جو کچھ عرصہ بعد اشفاق احمد صاحب کے داستان گو میں چھپی تھی۔

            میں نے شروع یا بعد میں کسی سے شعرو ادب میں اصلاح یا مشورہ نہیں لیا۔ہاں اپنے سینئرز کی کتابیں ہی میری استاد تھیں اور  پہلے حلقۂ ادب اور  پھر حلقہ ارباب ذوق میری تربیت گاہ۔۱۹۷۲ء سے پہلے جب میں نے ایم اے پنجابی نہیں کیا تھا اردو ہی میں لکھا۔

٭       پہلا افسانوی مجموعہ ۱۹۷۵ء میں منظر عام پر آیا۔اس سے پہلے آپ کے افسانے کہاں کہاں شائع ہوئے اور  کن کن ذرائع سے آپ کی تربیت ہوئی؟

٭٭   در اصل میرا پہلا مجموعہ ۱۹۷۰ء کے لگ بھگ چھپ جانا چائیے تھا مگر اس طرف توجہ ہی نہ دی۔پہلا مجموعہ میں نے ۱۹۷۴ء میں پریس بھیج دیا تھا مگر پہلی کاپی اور  ٹائیٹل میں گڑ بڑ ہو گئی انہیں دوبارہ چھاپنا پڑا اور  حالانکہ یہ دسمبر میں چھپ گیا تھا مگر احتیاطاً اور  بیوقوفی سے اس پر بعد کی(مارچ کی) تاریخ اشاعت دے دی۔شروع میں آپ کو بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ویسے بھی میں ایسی منصوبہ بندیوں سے واقف نہ تھا۔بہر حال ۱۹۷۵ء سے پہلے ’’ بند مٹھی میں جگنو ‘‘کے افسانے اور اق،فنون،سیپ،تخلیق اور  افکار، وغیرہ میں شائع ہوتے رہے اور  میری تربیت مطالعہ کتب اور  حلقہ ارباب ذوق کی مجلسی تنقیدوں سے ہوتی رہی۔

٭       آپ کے خیال میں تخلیق کار بالخصوص افسانہ نگار کے لئے کن خصوصیات اور  صلاحیتوں کا ہونا لازم ہے اور  آپ ان پر کس قدر پورا اترتے ہیں؟

٭٭   میرا خیال ہے ایک تخلیق کار کے لئے وسیع اور  متنوع مطالعہ بے حد ضروری ہے اپنے مخصوص میدان کے علاوہ بھی اس کی نظر جدید و قدیم علوم پر ہونی چاہئے۔جس سے اس کا فکری ویژن وسیع ہوتا اور  ذہن میں کشادگی آتی ہے۔جو لوگ رسالوں میں صرف اپنی تحریریں پڑھتے ہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔کنویں میں یا دریا میں۔ زیادہ تر شاعر حضرات افسانے اور  نثری تخلیقات نہیں پڑھتے۔یہ ایسا ہی ہے کہ آدمی مسلسل وٹامن اے کی کمی والی ایک جیسی غذا کھا کھا کر ادبی رتواندے  کا شکار ہو جائے۔۔جہاں تک افسانہ نگار کا تعلق ہے اس کا مطالعہ ہی نہیں مشاہدہ اور  تجربہ بھی متنوع ہو کہ اسے زمین پر چلنا  اور  لوگوں کے دکھ سکھ محسوس کرنا ہوتے ہیں۔اسے زندگی کے مختلف ذائقوں سے بھی آشنائی ہو۔اور وہ اپنے فن کا مواد کتابِ زندگی سے حاصل کرے۔کسی ایک نظرئیے اور  اسلوب کا اسیر نہ ہو۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود کو دھوکے میں مبتلا نہ ہونے دے۔

٭       آپ نے اسلام آباد میں ’’حلقہ اربابِ ذوق‘‘ کی بنیاد رکھی اور  لمبے عرصے تک اہم عہدے پر فائز رہے جبکہ یہ تنظیم ترقی پسندوں کی مخالف سمجھی جاتی ہے۔ کیوں نا موقع کی مناسبت سے آپ کے نظریات سے باخبری حاصل کی جائے؟

٭٭   درا صل ہمارے ادبی ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ترقی پسند تحریک اردو ادب کے اندر بہت کچھ جذب کر کے انتظامی طور پر ختم ہو گئی تھی۔اس تحریک نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔اسے فن برائے فن کی بے فکری اور  رومانیت کی عیاشی سے نکالا۔لیکن آخر آخر میں ہر تحریک کی طرح اس میں بھی جمود اور  یکسانیت آتی گئی۔اور بعض کمتر درجے کے لکھنے والوں نے اسے کمزور کر دیا۔بہرحال حلقہ ارباب ذوق کے بارے میں یہ غلط یا صحیح مشہور ہے کہ یہ ترقی پسندی کے رد عمل میں قائم ہوا تھا۔یا کم از کم وہ اس کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔لیکن جب سے میں اور  میرے ساتھی حلقے میں آنے جانے لگے ہیں ہم نے ایسا نہیں دیکھا۔۱۹۷۲ء میں جب فیض احمد فیض پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے کرتا دھرتا تھے حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی افتتاحی تقریب کی صدارت کے لئے میں وقار بن الٰہی کو ہمراہ لیکر ان کے دفتر میں گیا۔اور عرض کی کہ ۶ا؍دسمبر کو حلقہ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کر دیجئے۔انہوں نے بڑ ی خوشی سے یہ دعوت قبول کر لی۔مگر بعض لوگوں کے اس مشورے پر کہ سولہ دسمبرکو سقوط ڈھاکہ کی پہلی برسی ہے اس روز کسی ادبی ادارے کا افتتاح نہیں ہونا چاہئے ورنہ لوگوں کو اس ادارے کی نیت پر شک ہو جائے گا میں نے تاریخ ایک ہفتہ آگے کر دی اور  ان کے فیض سے محروم ہو گیا کیونکہ انہیں اگلے ہفتے کہیں باہر جانا تھا۔پھر بھی صدارت ایک ترقی پسندادیبہ اختر جمال نے ہی کی۔اسی حلقے میں احمد ندیم قاسمی،عصمت چغتائی اور  کتنے ہی اور  ترقی پسندوں کے ساتھ شامیں اور  تقریبات ہو چکی ہیں مگر کبھی کسی نے اختلاف کا ذکر تک نہیں کیا۔

٭       ترقی پسندی کے حامل بیشتر اہل قلم کی تخلیقات مغربی مطالعے کی کثرت کا رد عمل ہیں اس حوالے سے آپ اپنے بارے میں کیا کہنا پسند کریں گے؟

٭٭   سوال غیر واضح ہے۔ اگر آپ مجھے ترقی پسند سمجھ ہے ہیں تو یہ درست نہیں اور  اگر مجھے ترقی پسندی کا مخالف سمجھ رہے ہیں تو بھی یہ درست نہیں۔مغربی تخلیقی مطالعے میں ترقی پسندی کہاں آ گئی۔اس میں تو اور  کئی طرح کی فکری اور  ادبی تحریکیں ہیں۔ترقی پسند ی تو ان کے لئے قصہ پارینہ ہو گئی اس کی تو کبھی روس حوصلہ افزائی کرتاتھاجس کا صدر آجکل’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘کی مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر کا لیلا(میمنا) بنا ہوتا ہے۔

میں روشن خیال اور  سائنسی سوچ کا حامل ہوں۔تشدد،نا انصافی،انتہاپسندی اور  اجارہ داریوں کے خلاف ہوں۔مغرب کی علمی اور  سائنسی ترقی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور  مشرقی کوتاہیوں سے آگاہ ہوں۔ہر بات کو انسانی خصوصاً کمزور آدمی کے حوالے سے سوچتاہوں۔اور اپنے موقف اور  نظرئیے میں تبدیلی اور  نظر ثانی کی جرأت رکھتا ہوں۔

٭       کیا آپ کی بابت یہ تاثر درست ہے کہ آپ گہری پنجابیت کے اسیر ہیں اور  بیشتر تخلیقات پنجابی سے اردو میں منتقل کرتے ہیں؟

٭٭   پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجابی بھی اسی ملک کی اور  ایک بڑی زبان ہے اگر کوئی ادیب اپنی کسی تخلیق کو دوسری یاتیسری زبان میں منتقل کرتا ہے تو کیا برا کرتا ہے۔لیکن میں ایساعموماً نہیں کرتا۔پنجابی ایم اے (۱۹۷۲ء)کرنے سے پہلے میں نے پنجابی میں کبھی نہیں لکھا۔اب بعض’’ اردو والوں ‘‘کا رویہ دیکھ کر افسوس کرتا ہوں کیوں نہیں لکھا میرے چند ایک افسانے ایسے ہیں جو میں نے پنجابی میں لکھے اور  اردو میں ترجمہ کئے۔اور کیوں نہ کرتا؟۔پنجابی میں تو ایک مجموعہ ہے۔سات مجموعے اردو میں ہیں۔اسی سے حساب لگا لیجئے کتنے افسانے پنجابی سے آئے ہوں گے۔ہاں پنجابی مجموعے میں ایسا کوئی افسانہ نہیں جو میں نے اردو سے ترجمہ کیا ہو۔مجھے پنجابی ہونے پر فخر ہے لیکن میں اردو سے بھی محبت کرتا ہوں اور  میں پنجابیوں کی نہیں انسانوں کی کہانیاں لکھتا ہوں اسی لئے وہ دوسری اور  تیسری زبانوں میں ترجمہ ہونے کے بعد بھی اپنا تاثر نہیں کھوتیں۔وہ الگ بات ہے میرا زیادہ ترا مشاہدہ اور  تجربہ پنجابی معاشرے اور  کلچر کاہے۔زبان و بیان میں میں نے کبھی ناگزیریت کے بغیر پنجابی لفظیات نہیں برتی۔مگر میں اس اردو پر یقین رکھتا ہوں جو مقامی لفظوں ا ور لہجوں سے مل کر بن رہی ہے اور  بنے گی۔

٭       دعویٰ کی تصدیق میں، ناقدین ’’اردو‘‘ کے بجائے پنجابی زبان میں لکھے گئے ناول ’’ٹاواں ٹاواں تارا‘‘ کی بے پناہ مقبولیت اور  آپ کی تخلیقات میں شہری معاشرت کے کم تر تناسب کو بنیاد بناتے ہیں؟

٭٭   کیا ستم ظریفانہ سوال ہے۔مانتا ہوں تو مرتا ہوں انکار کرتا ہوں تو بھی اپنا ہی نقصان۔گلزار جاوید صاحب یہ تو بتائیے یہ ناقدین کون اور  کہاں ہیں؟آپ نے تکا تو نہیں چلایا؟ مقبولیت کے حوالے سے میرا کوئی ایک اردو مجموعہ میرے پنجابی ناول سے پیچھے نہیں ہے آپ ان آراء سے خود اندازہ کر لیجئے جواس پرچے میں چھپ رہی ہیں۔کیا آپ بھول گئے کہ پنجابی ریڈرشپ کتنی ہے؟اور یہ بھی کہ اس ناول کی مقبولیت کے پیچھے میرا ایوارڈ یافتہ ٹی وی سیریل ’’راہیں ‘‘بھی تھاجس نے یہ نام دور تک اور  بچے بچے کی زبان پر پہنچایا۔

            شہری معاشرت کی کہانیاں کم نہیں ہیں۔تعداد میں دیہی معاشرت کی کہانیوں سے زیادہ ہی ہوں گی۔میں جب ایک بار دہلی گیا۔مجھے لگا کہ دہلی میں سکھوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ہر چوک،بازار اور  ہجوم میں جدھر دیکھو رنگ برنگی پگڑیاں۔ایک ہندو دوست سے پوچھا۔شہر میں سکھوں کی کتنی تعداد ہو گی۔اس نے کہا ہیں تودس سے پندرہ فی صد،مگر وضع قطع اور  رنگ برنگی پگڑیوں کی وجہ سے نمایاں اور  زیادہ نظر آتے ہیں۔بلکہ اکثر جگہوں پر وہی نظر آتے ہیں۔میری کہانیوں کا بھی یہی حال ہے۔شہری معاشرت کی کہانیاں تو آپ دوسروں کے ہاں بھی دیکھتے ہیں۔شائد انہی جیسی لگتی ہونگی۔مگر دیہی معاشرت کی کہانیاں الگ اور  نمایاں نظر آتی ہیں۔اور یہی میری تخصیص ہے ۔

٭       بیشتر نامور اہلِ قلم روایت سے انحراف کو اپنا اعزاز گردانتے جبکہ آپ کے یہاں روایت سے انحراف نہ کرنے پر فخر کی کیفیت پائی جاتی ہے؟

٭٭   روایت پرستی پر مجھے فخر کرتے آپ نے کہاں دیکھا؟ میں تو روایت شکنی کا قائل ہوں۔اس روایت کا جو انسان کی فکری، ذہنی اور  مادی ترقی کو روک دے۔لیکن مگر جدیدیت کے شوق میں ہر اچھی بری روایت کو تج دینا اور  معاشرے اور  قاری سے کٹ جانامستحسن نہیں۔ہمارے اردو افسانے میں جو جدیدیت کی رو آئی میں بھی اس سے متاثر ہوا۔ مگر بعض تو بالکل ہی چت ہو گئے۔یقیناًاسلوب کی سطح پر بھی جدت اور  تازگی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اصل جدت تو خیالات اور  فکری وژن میں ہونی چاہئے۔ اگر آپ نہایت جدید لہجے میں نہایت یبوست زدہ بات کریں تو کیا وہ جدیدیت ہو گی۔اور یہ جو بے معنی تجرید، صفت در صفت اور  نثری نظم نما اسلوب سے تائب ہو کر افسانہ پھر قصہ پن اور  علامت نگاری کی طرف آیا ہے اور یہ جو میں نے روایت اور  جدت کو ملا کر سمجھ میں آ جانے والی نئی کہانیاں لکھی ہیں اس پر مجھے سب نے داد دی ہے۔ آپ نہیں دیں گے !

٭       آپ کے یہاں ڈراؤنے خواب کا تسلسل کس علامت اور  اندیشے کی دلیل ہے؟

٭٭   میرے ہاں خواب کی دو صورتیں ہیں۔پہلی کا تعلق تیکنیک سے ہے۔آپ خواب کے بہانے کسی منطق کے بغیر مخفی اور دور کی چیزوں کو قریب لاتے اور  دکھاتے ہیں۔اور دوسری کانفسیاتی۔خواب بھی دراصل آپ کی دبی ہوئی خواہشوں،محرومیوں اور  اندیشوں کی علامتیں ہی ہوتی ہیں۔جنہیں لاشعور تمثیل کی صور ت خواب میں پیش کر دیتا ہے۔یہ اندیشے ذاتی بھی ہو سکتے ہیں اور  اجتماعی زندگی سے متعلق بھی۔ہمارے اڑوس پڑوس اور  دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے آپ اگر سوچنے اور  محسوس کرنے والے ہیں تو ا س سے بے تعلق کیسے رہ سکتے ہیں۔اور یہ سب نائٹ میئرز کے سوا کیا ہے؟

٭       سچی کہانی، جھوٹی کہانی اور  افسانے میں کس طرح تمیز کی جا سکتی ہے؟ آپ کون سے کلیئے کو بہتر سمجھ کر کاربند ہیں؟

٭٭   خلا اندر خلا کے دیباچے میں میں نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔اخبار کی سٹوری سچی کہانی ہوتی ہے۔تین عورتوں یا تین مردوں کی کہانیاں اور  آپ بیتیاں بھی سچی کہانیاں ہوتی ہیں۔ان میں واقعہ کو سادہ لفظوں میں بیان کر دینے کے علاوہ مصنف کو کچھ اور کرنا نہیں پڑتا۔کہانی کار کی یہ پہلی منزل اور  سطح ہے بیش تر کہانی کار زندگی بھر اس پہلی سطح سے آگے نہیں بڑھتے۔کسی دیکھے سنے واقعہ یا کردار کو صاف اور سیدھے انداز میں لکھ دیا۔اس کی کامیابی کا انحصار واقعہ کے انوکھے پن یا اچھا برا ہونے پر ہوتا ہے۔مثلاً راولپنڈی صدر میں جی ٹی ایس کا ایک چوکیدار رات کوسخت سردی سے بچنے کے لئے قریبی درخت پر چڑھا اور  جلانے کے لئے خشک ٹہنیاں توڑتا ہوا اندھیرے میں قریب سے گزرتے بجلی کے تاروں کو چھو بیٹھا اور  مرگیا۔اس کی خبر اخبار میں چھپی۔یہ تو بہت ہی سچی تھی۔اس کے بعد احمد داؤد اور  منصور قیصر نے اس پر افسانے لکھے۔جو اخباری خبر سے بہتر ضرور تھے اور  کہانی بھی بن گئے مگرافسانہ نہ بن سکے۔ کیوں کہ وہ کہانی کی اکہری سطح سے اوپر نہ اٹھ سکے اور  نہ ہی معنویت اور  تاثر میں کوئی اضافہ کرتے تھے۔کہانی تو پہلے ہی معلوم شدہ تھی یا شروع ہی میں کھل جاتی تھی۔تجسس اور  کلائمکس کہاں سے آتا۔جب کسی کہانی میں لکھنے والے کا تصور،تخیل اور  فن شامل ہو جائے، افسانہ نگار مواد کو توڑ موڑ کر اور بہت کچھ ڈال کراسے فنی شکل دیدے تب وہ تخلیقی چیز یا افسانہ بنتی ہے۔میں کہانی کی اکہری سطح سے اوپر اٹھنے اور کہانی کی بجائے افسانہ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

٭       آپ کے یہاں بھی اردو افسانے کی تیکنک اور  موضوعات کے بارے میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور  آپ نے اسے دور کرنے کی کس طرح کوشش کی ہے؟

٭٭   تقدیر کی طرح آپ کے ذاتی اسلوب کا بھی ایک بڑا دائرہ ہوتا ہے آپ جس سے باہر نہیں جا سکتے لیکن اس دائرے کے اندر رہ کر میں موضوعات کے تنوع کا قائل ہوں اور کسی ایک جامد تیکنیک اور  اسلوب کا اسیر نہیں ہوں۔ایک ہی طرح کا کھانا خواہ وہ کتنا ہی اچھا ہو آپ روزانہ نہیں کھاسکتے۔پھر ایک ہی طرح کے افسانے کیسے پڑھ سکتے ہیں۔میں اپنے افسانوں کی تیکنیک یا اسلو ب کے بارے میں قطعاً بے اطمینانی محسوس نہیں کرتا۔بات صرف اتنی سی ہے کہ کوئی سی تیکنیک ہو کوئی اسلوب یا انداز بیان اختیار کیا جائے اس میں کوئی یاد رہ جانے والا تاثر ہونا چاہئے۔ورنہ اس کا لکھا جانا یا نہ لکھا جانا برابر ہے۔

٭       اس رائے سے آپ کس حد تک اتفاق کریں گے کہ افسانہ نگار ابھی بھی منٹو، بیدی، کرشن اور  عصمت کے سحر سے نہیں نکل سکے؟ اس کا سبب اور  جواز کہاں تلاش کیا جائے؟

٭٭   میں نہیں سمجھتا ایسا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو ساٹھ کی دہائی میں نئے افسانے کی تحریک نہ چلتی۔جدید افسانے کے بانی سریندر پرکاش نے ایک بار ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ کرشن چندر کی روایت سے بچنے کے لئے انہوں نے ان کے برعکس تیکنیک اور  اسلوب اپنایا۔جو چل نکلا کیونکہ نئے افسانہ نگار ان چھتنارو ں کے سایوں سے بھاگنا چاہتے تھے۔اور وہ بھاگے۔بعض تو بہت ہی تیز بھاگے اور سردار جی کی طرح بھاگتے چور سے بھی آگے نکل گئے۔البتہ عام قارئین اور درسی نقاد ان افسانہ نگاروں کے سحر سے ابھی تک نہیں نکلے۔کیوں کہ وہ سکول کالج کے زمانے میں پڑھی پڑھائی چیزوں سے آگے نہیں جاتے۔ٹھہرے ہوئے اور  کتاب دشمن معاشرے میں ایساہی ہوتا ہے۔کسی نئی سوچ،نظرئیے اور  خیال کو قریب نہ پھٹکنے دو۔کلسٹر بموں کا مقابلہ تلواروں سے کرو۔

٭       تخلیق کار معاشرے کے دیگر افراد کی طرح گوشت پوست کا انسان اور  محسوسات کا حامل ہوا کرتا ہے مگر جب وہ اپنے گرد و پیش کی منظر کشی میں ایمانداری برتتا ہے تو اس پر جذباتیت کا الزام لگ جاتا ہے کیا آپ کو بھی کبھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا رہا؟

٭٭   جذباتیت سے بچنا ہی فنکاری ہے۔مقصد اور جذبات کاکھلا پن تخلیق کا درجہ پست کر دیتا ہے۔رمز یہ اور علامتی پیرائے میں ہر طرح کی سیاسی یا نفسیاتی بات کہی جا سکتی ہے۔جہاں تک میرا تعلق ہے۔میں نے اتنا بہت کچھ لکھا ہے کہ ہرقسم کی اچھی بری مثالیں میرے افسانوں اور تحریروں سے تلاش کی جا سکتی ہیں۔تاہم میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔

٭       تخلیق میں ابلاغ کی گنجائش یا اجازت کے آپ کس حد تک قائل ہیں اور  اس کا استعمال آپ کے ہاں کس قدر ہوا ہے؟

٭٭   ابلاغ اور  ریڈیبلٹی۔ یہی تو وہ خوبی ہے جس کی بدولت مجھے کامیابی نصیب ہوئی۔پھیکی،بے رس، مہمل، مبہم، گونگی، بے معنی اور گنجلک کہانیوں کے عہد میں میں نے نئی اور  جدید علامتی کہانی لکھی جو تھوڑی سی توجہ اور  تربیت سے افسانے کے قاری کی سمجھ میں آ جاتی تھی۔ جب آپ کے پاس واقعی کہنے کو کچھ ہو تو آپ معمے حل نہیں کراتے آپ کا جی چاہتا ہے اس کادوسروں پر ابلاغ بھی ہو۔

٭       رومانیت یا سیکس کے تناسب کی بابت ہر دور میں بحث جاری رہی ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تخلیق میں اخلاقیات کی حدیں مقرر ہونا چاہئیں اور  کس حد تک ہونا چاہئیں؟

٭٭   عشق و محبت،حسن و جمال اور  رومانیت شعرو ادب کا حصہ ہیں۔اور احساس جمال پیدا کرتے اور  فطری جذبوں کی تہذیب کرتے ہیں۔سیکس بھی زندگی کا حصہ ہے مگر یہ موضوع اور  مقصد پر منحصر ہے کہ اس کے بیان کی کیا اور  کتنی ضرورت ہے۔اگر یہ چونکانے اور  لذت کے لئے ہے تو غیر سنجیدہ اور  کم تر درجے کا کام ہے۔ اخلاقی حدود کی بات اضافی ہے۔ہر ملک، کلچر اور قوم بلکہ گھر اور  خاندان کی اپنی اپنی حدیں ہوتی ہیں۔مثلاً دیہات میں مویشیوں کی مواصلت کی باتیں عورتوں بچوں کے سامنے کر لی جاتی ہیں اور  عورتیں بھی اپنی گفتگو میں ماں بہن کی گالی دے لیتی ہیں۔اور یہ معمولی بات ہوتی ہے۔ اور  کوئی بد اخلاقی نہیں سمجھی جاتی۔جنسی معاملات میں بہت کہانیاں چھپی ہوتی ہیں لیکن ہر کوئی منٹو کی سی جرأت کا حامل نہیں ہوتا۔ میرے ہاں یہ موضوع شجر ممنوعہ کی حیثیت تو نہیں رکھتا۔لیکن میں اس بات کا خیال ضرور رکھتا ہوں کہ اپنے کنبے اور  گھرکی اخلاقی قدروں کا لحاظ رکھوں اور  ایسی کوئی بات نہ لکھوں جسے پڑھ کر میرے بھائی بہن اور  بہو بیٹیاں شرمندگی محسوس کریں۔

٭       یہ تاثر کہاں تک درست ہے کہ آپ اپنے سینئر اور  ہم عصر افسانہ نگاروں سے مختلف ہیں۔ اس انفرادیت و اختصاصیت کی وجوہات جاننا ہمارا اور  آپ کے قاری کا استحقاق ہے؟

٭٭   یوں تو ہر لکھنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ منفرد اور  مختلف نظر آئے مگر یہ آسان نہیں ہے۔میں نے پہلوں سے مختلف نظر آنے کے لئے جدید تیکنیکی تجربے کئے۔ نیالہجہ،علامتی اور  تمثیلی اسلوب اور  فنی رویوں کو اپنایا۔اور اپنے جدید ہم عصروں سے مختلف ہونے کے لئے روایت سے رشتہ برقرار رکھا اور  افراط و تفریط کا شکار ہونے کی بجائے ایک متوازن رویہ اختیار کیا۔روز مرہ زندگی سے لی گئی بو کا،کنواں،مداری،تماشا،فاختہ،کوے اور  سلاٹر ہاؤ س جیسی علامتیں اور تمثیلیں جن سے لوگ آشنا ہوں استعمال کیں۔گہری رمزیت، مگر تھوڑاسا غور کرنے سے قاری ابلاغ کی مسرت سے ہمکنار ہو جائے۔یہی میری انفرادیت اور  میرے فن کی اختصاصیت ہے۔

٭       بیشتر تخلیق کاروں کی اکثریت نے ماں اور  محبوب کے رشتوں کو موضوعِ سخن بنایا ہے جبکہ آپ کے ہاں باپ اور  بیٹے کے رشتے کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے؟

٭٭   ایک تو ماں سے میں بہت بچپن میں محروم ہو گیا۔ان کی بہت تھوڑی یادیں ہیں جوسانپ اور  خوشبو اور بعض دوسری کہانیوں میں سمٹ گئیں۔ہاں ’’دیدۂ  یعقوب‘‘ میں وہ بھرپور طریقے سے آئیں۔لیکن آپ کے سوال کامقصد شائد کچھ اور  ہے۔تو عرض ہے کہ ماں کا تعلق گھریلو معاملات اور جذبات سے ہوتا ہے جبکہ گھر کے باہر کے معاملات اور  زندگی کے تجربات باپ ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ماں جی میرے حصے کی کہانیاں سنا کراور مجھے تعلیم کاراستہ دکھا کر چلی گئیں۔زندگی کا میلہ میں نے والد کی انگلی پکڑ کر ہی دیکھا۔اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔اور میں سمجھتاہوں پہلی تربیت گاہ اگر ماں کی گود ہے تو اگلا اور  بڑاسکول والد ہوتا ہے۔ماں اگر تھیوری ہے تو باپ پریکٹیکل۔ایک داخل دوسرا خارج۔ماں مامتا کی ماری ہوتی ہے۔بیٹا قتل کر کے آ جائے وہ یہی کہے گی اس بیچارے نے جان کر تھوڑا کیا ہے بس اس بدبخت کی آئی ہوئی تھی۔خود ہی اس کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔جبکہ باپ پھینٹی بھی لگاسکتا ہے اور نافرمانی پر عاق بھی کر سکتا ہے۔میں نے عملی زندگی میں باپ کے رول کو زیادہ اہم پایا اور  اس کے حوالے سے زندگی کے بعض معاملات اور  گوشوں کو افسانوں میں پیش کیا۔جہاں تک محبوب کا تعلق ہے اس کے بغیر تو آدمی فنکار ہی نہیں بنتا۔’’یادیں ‘‘اور’’ تیرھواں کھمبا‘‘ سے لے کر ’’بھول‘‘ تک محبت کے موضوع پر میری بے شمار کہانیاں ہیں۔

٭       کیا آپ دیگر اہل قلم کی طرح اس گلہ میں حق بجانب ہیں کہ آپ کو ابھی تک کوئی نقاد حقیقی طور پر دریافت نہیں کر سکا؟

٭٭   جی نہیں میں بہت مطمئن ہوں میں نے جتنا کام کیا مجھے مہربان نقادوں کی طرف سے اتنی ایپری سیشن مل گئی اور  میں ان سب کا اور  اپنے ان ہم عصر وں کا بہت ممنون ہوں جنہوں نے فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے میرا حوصلہ بڑھایا۔ فتح محمد ملک کے سواشائد ہی کوئی قابل ذکر نقاد یا ادیب و شاعر ہو جس نے میری حوصلہ افزائی نہ کی ہو۔

٭       آپ کے ادبی قد و قامت کی نسبت شخصی عکس کو کمزور کیوں سمجھاجاتا ہے؟

٭٭   میں نہیں سمجھتا ایساہے۔لیکن واقعی ایساہے تواس کی وجہ یہ ہو گی کہ میں اپنے لباس کی طرف سے لا پرواہ ہوں۔ فیشن کے مطابق نہیں ضرورت اور آسانی کے مطابق جوتے اور  کپڑے پہنتا ہوں۔مثلاً میں بکرم والا کالر جو ٹائی اور سوٹ کے ساتھ ضروری ہوتا ہے اور  کلف لگے کپڑے جو بندے کو سمارٹ رکھتے ہیں،نہیں پہن سکتا۔پینسٹھ کی جنگ کے دنوں میں مجھے فوج کی انجنیرنگ کور میں لیفٹینینٹ سیلیکٹ کر لیا گیا تھا مگر میں نے محض اس لئے جوائن نہ کیا کہ کلف لگی یونیفارم پہننا پڑے گی جس سے میراکورس کے دوران پالا پڑ چکا تھا۔دوسرے میں ابتدائی کئی سال دفتر کی بجائے سڑکوں،عمارتوں اور  سائٹوں پر کام کرتا رہا۔کریز اور  استری شدہ لباس سائٹ پر کام کرنے والوں کے لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔میں اکثر اسی حالت میں ادبی اجلاسوں میں چلا جاتا جہاں گھروں سے کالر کریزیں ٹھیک کر کے اور  جوتے چمکا ک رآئے ہوئے شہری بابو موجود ہوتے۔اور آخری بات یہ کہ جب میرے کسی’’ مہربان‘‘ کوافسانوں کی پوشاک اور ناک نقشہ ٹھیک ملتا ہے تو وہ میرے حلئے اور  لباس پر تبصرہ کر کے خوش ہو لیتا ہے۔

٭       بیشتر اہل قلم تخلیقات سے زیادہ پی آر کو اہمیت دیتے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے؟

٭٭   ذرائع ابلاغ کی ترقی کے اس دور میں پی آر کے ذریعے ادبی اور  مادی فائدے اٹھانا عام اور  آسان ہو گیا ہے۔ اور  اکثر لکھنے والے اپنی اپنی بساط اور  پہنچ کے مطابق اس میں لگے رہتے ہیں۔مگر انہیں اپنی آنکھ کا شہتیر کم ہی نظر آتا ہے۔پی آر کی بیشمار صورتیں ہیں۔معروف طریقہ تو جانا پہچانا ہے کہ امیروں، وزیروں،ایڈیٹروں،سیاستدانوں،صاحب اختیار اہل قلم افسروں اور  کلمہ تحسین کہنے والے نقادوں اور  سینئرلکھنے والوں کے آگے پیچھے پھرا جائے۔انہیں کتابیں اور  اپنے کلام یا ڈراموں کی کیسٹیں پیش کی جائیں، ان سے صدارت کرائی جائے یا ان کو مہمان خصوصی بنا کر ان کی شان میں قصیدے پڑھے جائیں۔ صاحب اختیار اہل قلم کو رام کرنے کا نسخہ تو بہت ہی آسان ہے وہ شاعر ہے تو واہ واہ اور مکرر ارشاد کی تانیں کافی ہیں۔نثر نگار ہے تو بس اسے سب سے منفرد اور  جدید کہہ دیجئے اس کے خیالات کتنے ہی یبوست زدہ کیوں نہ ہوں آپ کا کام ہو جائے گا۔ کم تر صلاحیتوں کے حامل لوگوں کی پی آر تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اجارہ داریوں،نا انصافیوں اور  میرٹ کی بے قدری کے اس دور اور  سوسائٹی میں جینوئن شاعروں ادیبوں کو بھی بعض اوقات مجبوراً ایسی حرکات کرتے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور  ترس بھی آتا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جینوئن ادیبوں اور  شاعروں کو ایسا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ وہ ایسا کرتے ہیں مگر یہ بات بھی غلط ثابت ہو گئی۔وہ بھی اپنی چاندی کوسونا اور  ستارے کو ہلال میں تبدیل کرانے کے چکروں میں رہتے ہیں اور ہم میں کتنے مجید امجد ہیں یا ایسے جو آفتاب اقبال شمیم کی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکیں ’’ اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں۔اور دولت دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں ‘‘لیکن پی آر اور  مہمان نوازی یا خوش اخلاقی کا فرق سجھناچاہئے جو ان شہری لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا جو مطلب کے بغیر سلام کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔،جنہیں کبھی کسی کو ایک پیالی چائے پلانے یاکسی کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ لینا ہی لینا،کسی کو کچھ دینا کبھی نہیں، ان کی سمجھ میں اپنی نالائقی تو نہیں آتی دوسروں کی کامیابی کو پی آر کا نتیجہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ملنساری،خوش اخلاقی،مروت،ہمدردی اور  دوسروں کے کام آنا کبھی انسانی تہذیب کے زیور تھے افسوس اب ان انسانی صفات کو پی آر سمجھ لیا جاتا ہے۔

اکثر ادبی اداروں سے پی آر کا کام لیا جاتا ہے سوائے حلقہ ارباب ذوق کے۔آپ جانتے ہیں کہ جڑواں شہروں کے دونوں حلقوں پرا یک طویل عرصے تک افسانہ نگاروں کا غلبہ رہا(ابتداء میں تو یہ تھاہی انجمن داستان گویاں)اور انہیں مشاعروں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی نہ حلقے میں اس کی گنجائش۔حلقے نے اپنی شان درویشی قائم رکھی اور خود کو کبھی پی آر میں ملوث نہیں ہونے دیا۔

٭       منشا صاحب ! عمرِ عزیز کا طویل حصہ ادبی نشستوں اور  تنقیدی اجلاسوں کی نذر کرنے کے بعد آپ کیا سمجھتے ہیں آج کے Materialisticاور تنگ نظری کے دور میں ان اجلاسوں کی کوئی افادیت ہے اور  یہ ادارے نوجوان اہل قلم کی تربیت میں کوئی مفید کردار ادا کر سکتے ہیں؟

٭٭   جی ہاں۔یہ ادارے ادب کے فروغ اور  نئی نسل کی تربیت کے لئے آج بھی اتنے ہی مفید اور ضروری ہیں جتنے پہلے تھے۔ بلکہ موجودہ دور میں جب سیاستدان اور  سائنسدان دنیا کو تباہ کرنے والے ہتھیاروں اور رویوں کو فروغ دے رہے ہیں اور  انسان کو مشین بنایا جا رہا ہے شعرو ادب کی اہمیت اور  ان ادبی ادارو ں کی افادیت اور  زیادہ بڑھ گئی ہے۔اور ہمارے ملک بھرمیں خالص اور باقاعدہ تنقیدی نشستیں منعقد کرنے والا واحد یا سب سے بڑا ادارہ حلقہ ارباب ذوق ہے۔جو  کبھی کسی سیاسی جماعت یا حکومت کا آلہ کار نہیں بنا۔ امیروں،وزیروں،سیاست دانوں،صدروں،جرنیلوں سے دور رہتا ہے۔کبھی کوئی سرکاری درباری مالی مدد قبول نہیں کرتا۔کوئی چندہ نہیں۔کوئی مستقل صدر یا سرپرست نہیں۔چائے بھی اپنے اپنے پیسوں کی پیتے ہیں۔ جس طرح سیال اس برتن کی شکل دھار لیتا ہے جس میں وہ ڈالا جائے حلقہ بھی ہر ہفتے وہی شکل اختیار کر لیتا ہے جیسے اس کے حاضرین ہوں۔کبھی ترقی پسند کبھی رجعت پسند کبھی اسلام پسند اور کبھی خود پسند۔ملک بھر میں یہ سب سے بڑا اور منفرد ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں مکرر مکرر، واہ واہ اور  مار دیا کے نعرے بلند نہیں ہوتے۔بال کی کھال کھینچی اور کھنچوائی جاتی ہے۔جو بڑے حوصلے کی بات ہے۔مگر سیکھنے کے لئے یہ بہت اچھی درسگاہ ہے۔

٭       منصبی ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد آپ کے مشاغل کیا ہیں؟ آپ اپنے اندر کس قدر تخلیقی توانائی محسوس کرتے اور  مستقبل کی بابت افسانہ، ناول، ڈرامہ کی کیا منصوبہ بندی ہے؟

٭٭   میں ملازمت سے ریٹائر ہو کر اور  زیادہ مصروف ہو گیا ہوں۔ناشتے اور  اخبارات سے فارغ ہو کرنو دس بجے گھر کی لائبریری یاسٹڈی روم میں آ جاتا ہوں یہ میرا باقاعدہ دفتر بھی ہے۔ اور  جیساموڈہو اس کے مطابق لکھنے یا پڑھنے میں لگ جاتا ہوں۔ریٹائر منٹ کے بعد میں نے ایک اردو افسانوں کا مجموعہ،ایک پنجابی ناول،دو ٹی وی سیریلز،جن میں سے ایک ابھی ٹیلی کاسٹ نہیں ہوا اور متعدد افسانے اور کچھ سنگل ٹی وی پلیز لکھے۔اپنے سارے افسانوں اور  مضامین کو کمپوز کروایا اور اب کمپیوٹر پر ان کی پروف ریڈنگ کرتا رہتا ہوں۔اردو ناول اور  خود نوشت پر کام کر رہا ہوں۔کہانیوں کی رفتار کم ہو گئی ہے مگر اس کی وجہ دوسرے مختلف کام ہیں جن کا میں نے ذکر کیا۔اپنے اندر پوری تخلیقی توانائی محسوس کرتا ہوں۔کھانے کمانے کی زیادہ فکر نہیں پینشن بھی ملتی ہے کچھ ٹی وی اور دوسرے ادبی کاموں سے بھی مل جاتا ہے اور اللہ کے کرم سے سب بیٹے با روزگار ہیں۔اللہ سے دعا کریں اپنے ادھورے ادبی منصوبوں کو پورا کرنے کی مہلت مل جائے۔

                                                                        (نومبر ۲۰۰۱ء)

٭٭٭

 

ڈاکٹر رشید امجد

(۵ مارچ ۱۹۳۸ء)

٭       اختر رشید سے رشید امجد تک کی روداد سفر؟

٭٭   ادبی ذوق تو مجھے ورثے میں ملا ہے۔ میرے والد پنجابی اور  فارسی میں شعر کہتے تھے۔ مجھے بچپن ہی سے پڑھنے کا شوق تھا لیکن یہ مطالعہ زیادہ تر جاسوسی کہانیوں اور  ان کے تراجم تک محدود تھا۔ 1955ء میں میٹرک کرنے کے بعد میں ایک سال گورنمنٹ کالج اصغر مال میں رہا لیکن اس کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ مختلف ملازمتوں سے ہوتا ہوا  میں 1960ء میں 501ورکشاپ ۔ میرا کام صبح حاضری لگانا اور  چارٹ بنانا تھا، باقی سارا دن کوئی کام نہ ہوتا۔ چنانچہ میں اپنے ساتھ کوئی کتاب لے جاتا اور  پڑھنے لگتا اسی سیکشن میں ایک اور  لڑکا بھی کتاب ساتھ لاتا تھا۔ آہستہ اہستہ ہماری دوستی ہو گئی اور  ہم نے کتابوں کا تبادلہ شروع کر دیا۔اس کا نام اعجاز راہی تھا۔ ایک دن اس نے مجھے اپنی ایک کہانی پڑھنے کے لئے دی۔ میں نے کہانی پڑھ کر کہا ایسی کہانی تو میں بھی لکھ سکتا ہوں اس نے کہا تو لکھو’’دوسرے دن میں نے اسے ایک کہانی دکھائی اس نے بڑی تعریف کی۔ دو چار دنوں بعد وہ شام کو دو چار دوسرے دوستوں کیساتھ میرے گھر آیا۔ یہ نثار ناسک، سلیم ظفر اور  علیم درانی وغیرہ تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ سارے ادیب، شاعر ہیں۔ اعجاز راہی نے میری بڑی تعریف کی۔ اس شام ہم لوگوں نے طے کیا کہ ایک ادبی انجمن بنائی جائے جس کا نام ’’بزم میر‘‘ تجویز ہوا۔ نثار ناسک اس کے سیکرٹری اور  سلیم الظفر جوائنٹ سیکرٹری بن گئے اور  اعجاز راہی، علیم درانی اور  میں مجلس عاملہ کے رکن۔ میں نے اپنی پہلی کہانی صاف کی اور  اختر رشید ناز کے نام سے ’’رومان‘‘ میں بھیج دی۔ رومان اس زمانے میں ایک معروف فلمی جریدہ تھا۔ اگلے ماہ کہانی چھپ گئی۔ بزم میر کے جلسوں میں کچھ سینئر لوگ بھی آنے لگے۔ ان میں استاد غلام رسول طارق بھی تھے۔ اس دوران اختر رشید ناز کے نام سے میری دو تین کہانیاں فلمی رسائل میں چھپیں۔ بزم میر میں میں نے اپنی کہانی سنگم پڑھی تو جلسے کے اختتام پر استاد غلام رسول طارق مجھ سے کہنے لگے کہ یہ کہانی تم نے لکھی ہے میں نے کہا جی۔ بولے اگر خود لکھی ہے تو تم میں لکھنے کی بڑی صلاحیت ہے لیکن تھوڑی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ تم کل دوپہر لویئر ہوٹل صدر میں آنا میں دوپہر کا کھانا وہاں کھاتا ہوں۔ دوسرے دن میں لویئر ہوٹل پہنچا۔ طارق صاحب نے میرے افسانے کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں اور  پھر کہا کہ یہ تمہارا نام ٹھیک نہیں یہ ناز واز اب نہیں چلتا کوئی سلیقے کا نام رکھو۔ پھر کہنے لگے رشید امجد کیسا ہے میں نے کہا بالکل ٹھیک۔ دوسرے دن میں نے وہی کہانی رشید امجد کے نام سے ادب لطیف کو بھیج دی۔ میرزا ادیب اس کے مدیر تھے۔ چار پانچ دنوں بعد ان کا خط آیا کہ کہانی اگلے شمارے میں چھپ رہی ہے۔ یہ کہانی ستمبر 1960ء کے شمارے میں ’’سنگم‘‘ کے نام سے شائع ہوئی یہاں سے میرے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

٭       اوائل عمر میں نامکمل تعلیم تنگدستی اور  بے روزگاری کے باعث آپ کچھ عرصہ اذیت پسندی کا شکار بھی رہے؟

٭٭   میری ابتدائی زندگی کے اتار چڑھاؤ بڑے دلچسپ ہیں۔ سری نگر میں میرے والد قالینوں کی ایک فیکٹری میں ڈیزائنر تھے اور  انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فیکٹری بھی لگائی ہوئی تھی۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ میں ان کی شادی کے دس بارہ سال بعد پیدا ہوا والدہ مرحومہ بتاتی تھیں کہ انہوں نے ا یک ایک مزار پر منتیں مانگی تھیں پانچ سال کی عمر میں مجھے برن ہال سری نگر میں داخل کیا گیا اس زمانے میں ا یسے مہنگے انگریزی سکولوں میں کوئی کوئی دیسی پڑھتا تھا۔ والد مرحوم نے میرے لئے ایک ٹانگہ خریدا جو مجھے سکول لانے لے جانے کے لئے وقف تھا۔ برن ہال ایرا کدل کے آخر میں تھا۔ چھٹی کے دن والد مجھے ایرا کدل لے جاتے میں جس چیز پر انگلی رکھتا فوراً پیک کرا لی جاتی۔ دوپہر کا کھانا میں سکول ہی میں کھاتا تھا۔ شام کو مجھے گھر لے آتے تھے۔ یہ خوابوں کا سا زمانہ تھا۔ اس کی یادوں میں برن ہال کی راہداریاں کھانے کا بڑا کمرہ، جھیل ڈل کے کچھ منظر، بادام کے باغوں میں کھلتے سفید پھولوں کی بہار اور  میرے محلے نواں بازار، شاہ محلہ کی کچھ تصویریں جن میں ایک بے نام صورت ہے ابھی تک ذہن میں موجود ہیں۔ گرمیوں میں امر تسر سے ہمارے کئی رشتہ دار کشمیر آتے تو گھر میں رونق بڑھ جاتی۔ چھ سال بعد میری بہن پیدا ہوئی۔ والد صاحب اس زمانے میں فارسی میں شعر کہتے تھے۔ انہیں جوتش میں بھی دلچسپی تھی چنانچہ ہم دونوں بہن بھائی کے نام ہندو جوتشیوں سے جنم پتری بنوا کر رکھے گئے تھے۔ 947ء میں پاکستان بنا تو ہمارے امر تسر کے رشتہ دار راولپنڈی میں آ گئے۔ والد اور  والدہ ان سے ملنے کے لئے چند روز کے لئے پنڈی آئے۔ کہتے ہیں کہ ہماری بس آخری تھی۔ دوسرے دن راستہ بند ہو گیا۔ ہم لوگ پنڈی میں پھنس گئے۔ والدہ اپنے ساتھ اپنا کافی زیور لے آئی تھیں۔ والد مرحوم طبعاً درویش آدمی تھے ان کے طور طریقے صوفیانہ تھے۔ انہوں نے نہ کوئی گھر الاٹ کرایا نہ ہی کلیم دیا۔ آخری لمحے تک وہ یہی کہتے رہے کہ ہم نے واپس جانا ہے کچھ رشتہ داروں کے مشورے پر انہوں نے گنجمنڈی میں کریانہ سٹور کھول لیا لیکن مزاج چونکہ کاروباری نہ تھا اس لئے مسلسل نقصان ہوتا رہا یہاں تک کہ دوکان بند ہو گئی۔ والدہ مرحومہ کا زیور آہستہ آہستہ بکتا رہا۔ یہ صورت حال 1950ء یا 1953ء تک چلی۔ آخر مجبور ہو کر والد صاحب نے ملازمت کر لی۔ مظفر آباد (آزاد کشمیر) میں قالینو ں کا ا یک کارخانہ شروع ہوا تھا لیکن یہ کارخانہ بھی دو تین سالوں کے بعد بند ہو گیا۔ پنڈی میں قالینوں کی کوئی فیکٹری نہ تھی۔ والد صاحب لاہور چلے گئے بس یہاں سے ہمارے برے دنوں کا آغاز ہوا۔ تنگدستی اور  بے روزگاری کے اس دور میں بھی والدہ میری تعلیم سے غافل نہیں رہیں۔ 1955ء میں میں نے میٹرک کیا۔ فرسٹ ایئر میں اصغر مال میں داخلہ لیا لیکن طبیعت میں ایک بے زاری پیدا ہو گئی تھی۔ پڑھائی میں دلچسپی نہ رہی اور  دوسری بات یہ ہوئی کہ میں ا یک مہینے کی فیس کھا گیا۔ کئی ماہ تک والدہ کو نہ بتایا کالج سے نام کٹ گیا۔ میں نے ملازمت شروع کر دی۔ پہلے ایک دکان میں منشی کے طور پر پھر کچھ عرصہ پی ڈبلیو ڈی میں۔ پس میری ملاقات منشا یاد سے ہوئی۔ منشاد یاد ورک انسپکٹر ہو کر آئے تو پنڈی میں میں ان کا پہلا دوست بنا۔ وہ اس زمانے میں بھی افسانے لکھتے اور  شمع اور  دوسرے فلمی رسائل میں چھپتے تھے۔ یہ غالباً 1956 ء ہے۔ اس زمانے میں تعمیر کا ادبی ایڈیشن نکلتا تھا۔ منشا یا د کی کہانیاں اس میں بھی چھپتیں۔ ماحول نام سے بنی چوک سے بھی ایک رسالہ نکلتا تھا جس کے دفتر میں ادبی محفلیں ہوتی تھیں۔ منشا یاد مجھے ساتھ لے جاتے لیکن میں اوپر نہ جاتا۔ منشا یاد میٹنگ میں چلے جاتے اور  میں بازار میں گھومتا رہتا۔ منشا یاد مری ٹرانسفر ہو گئے میری ان سے دوبارہ ملاقات بزم میر میں ہوئی جب میں رشید امجد بن چکا تھا۔ میں اس زمانے میں 501 ورکشاپ میں ٹائم کیپر تھا۔

٭       دلبرداشتگی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد دوبارہ تعلیمی رجحان اور  زندگی میں نظم و ضبط کس کی عطا ہے؟

٭٭   زندگی کچھ ٹھہر سی گئی تھی۔ والد مرحوم راولپنڈی واپس آ گئے تھے اور   یہاں قالینوں کی ایک فیکٹری میں ڈیزائنر ہو گئے تھے۔ لیکن سکھ کے یہ دن زیادہ نہ رہے۔ 1960ء میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور  گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔ لکھنے کا سلسلہ جاری تھا استاد غلام ر سول طارق نے مجھے پڑھنے کا مشورہ دیا اور  کہا کہ مجھے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہئے۔ اس زمانے میں پرائیویٹ تعلیم کی اجازت نہ تھی۔ چنانچہ میں نے پہلے ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا اور  اس کے بعد راستہ کھل گیا۔ بی اے کرنے کے بعد میں نے گورڈن کالج میں باقاعدہ داخلہ لے لیا۔ اس زمانے میں ایم اے کی کلاسیں شام کو ہوتی تھیں۔ 1967ء میں ایم اے کرنے کے بعد میں نے ورکشاپ کی ملازمت چھوڑ دی اور  سی بی سکول دریا آباد میں آ گیا۔ اگلے سال مجھے سی بی کالج واہ کینٹ میں لیکچر شپ مل گئی۔ 1970ء میں میں ٹرانسفر کرا کر ایف جی سرسید کالج راولپنڈی میں آ گیا اور  تب سے اب تک یہیں ہوں۔

٭       آپ کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ آپ لاشعوری طور پر افسانہ لکھتے ہیں کیا یہ عجب بات نہیں کہ شعور سے ماورا تخلیق وجود میں آئے؟

٭٭   میرا کہانی لکھنے کا اپنا ایک انداز ہے جو میری انفرادیت کی دلیل ہے میں واقعات کو جوڑ کر یا کسی خارجی تکنیکی عمل سے واقعات کی بنت کاری نہیں کرتا۔ میرے تخلیقی پروسیس میں شعور اور  لاشعور دونوں سرگرم عمل ہوتے ہیں اور  ان کا یہ لین دین اتنی نفاست اور  نزاکت سے ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں۔ میں جب شعوری طور پر کسی چیز لمحے واقعہ یا حرکت سے متاثر ہوتا ہوں تو فوری طور پر اس کے گرد کہانی بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ تاثر یا احساس میرے شعور کے کسی اندرونی گوشے میں چلا جاتا ہے اور  لاشعوری لہروں سے مل کر ایک صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ جب یہ تخلیقی عمل ذہن کے اندر مکمل ہو جاتا ہے تو کہانی ایک اکائی کی صورت میں مجھ پر وارد ہوتی ہے اور  میں عموماً اسے ایک ہی نشست میں لکھ لیتا ہوں۔ لکھتے ہوئے مجھے یوں لگتا ہے جیسے جملے مجھ پر اتر رہے ہیں۔ لکھتے لکھتے کسی ایک جگہ خودبخود بریک لگ جاتی ہے اور  کہانی مکمل ہوتی ہے۔ ہاں کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ دوبارہ پڑھتے ہوئے ایک آدھ جملہ کم ہو جائے یا بڑھ جائے۔

٭       ایک اور  اعتراض آپ پر یہ بھی ہے کہ آپ بنے بنائے انسانی ڈھانچوں کو بدلنے کے درپے ہیں؟

٭٭   میرے ابتدائی افسانوں کو چھوڑ کر میرے موضوعات ایسے ہیں کہ انہیں بنے بنائے سانچوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میں نے کہیں مثال دی ہے کہ ایک صوفی اپنے انکشافات کو عام زبان میں بیان نہیں کر سکتا۔ اسے ایک پردے اور  علامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرا تیسرا موضوع انکشافات ذات اور  انکشاف کائنات ہے جس کے سلسلے ازل کے عظیم تخلیقی لمحے سے جڑے ہوئے ہیں۔ شناخت کا مسئلہ میرے یہاں تین سطحوں پر آیا ہے۔ ابتدا میں سیاسی سماجی مسائل اور  طبقاتی معاشرے میں فرد کی پہچان، دوم اپنی ذات کے حوالے سے باطنی خواصی کرتے ہوئے فرد کی پہچان اور  سوم کائنات کے وسیع تر تناظر میں فرد کی اہمیت اور  شناخت۔ یہ سارے مسائل کسی حد تک تصوف کی فکری روایت سے منسلک ہیں اس لئے اس میں بیان کرنے کی سطحیں بھی مختلف ہیں۔ مثلاً میرے ابتدائی افسانوں (بے زار آدم کے بیٹے) میں شناخت کا مسئلہ ایک طبقاتی معاشرے میں فرد کی بے بسی کے حوالے سے اس کی پہچان سے متعلق ہے۔ یہاں اسلوب میں ایک سطح ہے جہاں علامت اپنے ماحول کے حوالے سے معنی منکشف کرتی ہے لیکن جب شناخت کا مسئلہ باطن سے جڑتا ہے (ریت پر گرفت) تو علامت میں دبازت آ جاتی ہے اور  تفہیم اتنی سادہ نہیں رہتی۔ شناخت کا یہی مسئلہ جب کائناتی ہوتا ہے (بھاگے ہے بیاباں مجھ سے) تو ساری علامتیں اور  استعارے مختلف ہو جاتے ہیں۔ مرشد کی فلسفیانہ گفتگو اور  تفکر بھرے جملے ساری فضا کو بدل دیتے ہیں۔ یہ میرا ارتقاء بھی ہے اور  میرے اسلوب کی مختلف صورتیں بھی۔

٭       آپ اپنے افسانوں میں دو ٹوک بات کرنے کے بجائے تلمیحات کا سہارا بہت لیتے ہیں اس کی وجہ جرات اظہار کی کمی ہے یا آپ کی نفسیات کی بنت ہی ایسی ہے؟

٭٭   میں نے عرض کیا نا کہ میرے موضوعات دو ٹوک اور  واضح اظہار کے متحمل نہیں۔ میری تمثیلیں تو ایک جہان دیگر کا قصہ سناتی ہیں۔ میں سامنے کی بات تو کرتا ہی نہیں میرے تجربے احساسات تو ایک جہان دیگر کا دروازہ کھولتے ہیں اس لئے میرے اظہار میں جو ایک تہہ داری اور  دبازت ہے وہ میری مجبوری اور  میرے موضوعات کا تقاضا ہے۔ اس بات کو اس حوالے سے ہی دیکھیں کہ افسانے کی بنیادی صفت اختصار ہے اور  ایجاز کا یہ اعجاز لفظوں کی بچت کے ساتھ ساتھ ایسا بلیغ انداز اختیار کرنے میں ہے جس میں کم سے کم جملوں میں زیادہ بات کی جائے، اس کے لئے بھی شعری وسائل بہترین ذریعہ ہیں لیکن ہمارے جدید افسانے میں کئی افسانہ نگار ایسے ہیں جو ایک بات کو کئی جملوں میں بیان کرتے ہیں اور  جملے پر جملہ لکھے جاتے ہیں لیکن مطمئن نہیں ہوتے۔ اسی طرح بے کیف تکرار بھی افسانے کے مجموعی تاثر کو مجروح کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کے افسانوں میں سے اگر بے شمار جملے نکال بھی دیئے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا خیال ہے کہ اچھے افسانے میں سے ایک جملہ بھی حذف کرنا مشکل ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ ایک جملہ بھی فالتو نہ ہو۔ جملے ایک زنجیر کی طرح ایک دوسرے میں پیوست ہوں اور  تھیا تھیا یا ہے ہے کی تکرار نہ ہو، یہ ذوق شعری وسائل سے رغبت اور  استعمال ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل بات شعری وسائل کے استعمال کی نہیں بلکہ سلیقہ سے ان کے با معنی استعمال کی ہے۔ جدید افسانے میں ان وسائل کے استعمال نے افسانے کی زبان میں روانی پیدا کی ہے اور  Readability بڑھائی ہے۔ معنوی طور پر بلاغت دبازت اور  تہہ داری آتی ہے۔ یہ ایک اضافی حسن ہے لیکن بات ہے استعمال کے سلیقے اور  ہنر مندی کی۔

٭       ذرا اس خیال کی استراحت فرمایئے کہ آپ اپنے افسانوں میں شاعری کے وسائل کو کس طرح بروئے کار لا رہے ہیں اور  اردو افسانے کو اس سے کیا فوائد ہو رہے ہیں؟

٭٭   شعری وسائل کا استعمال بھی اسی تہہ داری کا حصہ ہے۔ ان کے استعمال نے جدید کہانی میں معنوی دبازت پیدا کی ہے اور  اسے ہمہ جہت بنایا ہے شعری وسائل کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ ہماری داستان میں اس کی روایت موجود ہے اگر آپ اُردو افسانے کو صرف مغرب سے مستعار لی ہوئی صنف نہ سمجھیں اور  اسے اپنی داستان کے تسلسل میں بھی دیکھیں تو آپ کو شعری وسائل کا استعمال عجیب نہیں لگے گا۔ شعری وسائل کا استعمال تو کم زیادہ ہر نئے افسانہ نگار نے کیا ہے لیکن میرے یہاں وہ تخلیقی عمل کا ایک حصہ بن کر آتے ہیں اس لئے میرے اسلوب میں انور سجاد کی سی خشکی نہیں نہ ہی خالدہ حسین کی سی بے کیف انشائیت ہے بلکہ میرے یہاں ان وسائل نے اسلوب میں ایک ملائمیت معنوی تہہ داری پیدا کی ہے یہ صرف شعوری کوشش نہیں بلکہ میرے مجموعی تخلیقی پروسیس کا ایک حصہ ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہ میرے تہہ داری تخلیقی شعور اور  انکشافات ذات و کائنات کے گہرے مطالعے اور  بیان کے لئے ان کا استعمال ناگزیر ہے۔

٭       آپ کے ہاں تفکیری سوچ کا احساس بہت زیادہ نظر آنے کا سبب کیا ہے؟

٭٭   میں اشیاکو ان کی ٹھوس ہیت میں بیان نہیں کرتا نہ ہی میرے یہاں واقعات کی ترتیب منطقی سطح پر ہوتی ہے۔ وقوعہ میرے یہاں بنیاد ضرور ہے لیکن اس سے بلند ہوتا خیال میری توجہ اپنی طرف مبذول کراتا ہے اور  یہیں سے تفکر کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ غالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اشیاء کو فلسفیانہ نظرسے دیکھتے تھے اور  انہیں Philosophy کرتے تھے میں ان کا پیروکار ہوں اور  انہیں اس معاملے میں اپنا مرشد سمجھتا ہوں۔ میرا تخلیقی اور  فکری رشتہ اور  میری ادبی روایت غالب سے جڑی ہوئی ہے۔ تفکر کی فضا میرے افسانوں کے ماحول، اسلوب اور  اظہار سے پھوٹتی ہے۔ میرے ابتدائی افسانوں (بے زار آدم کے بیٹے) میں یہ کم تھی۔ وہاں ایک ہیجانی جذباتی کیفیت اور  غصہ نمایاں تھا۔ یہ ناراض نسل کی نمائندگی تھی۔ لیکن بعد کے مجموعوں (سہ پہر کی خزاں کو چھوڑ کر) یہ ناراضی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور  اس کی جگہ سوچ اور  تفکر نے لے لی جس کی انتہا ’’بھاگے ہے بیاباں مجھ سے ‘‘ کی کہانیوں میں ہوئی۔ ’’سہ پہر کی خزاں ‘‘ میں 5جولائی 1977ء سے 4 اپریل 1980ء کے افسانے شامل ہیں یہ سارا مجموعہ مارشل لائی جبر اور  تشدد میں وجود میں آیا ہے اسلئے اس کا مجموعی مزاج مختلف ہے لیکن شناخت کا مسئلہ یہاں بھی موجود ہے اور  وہ ہے جبر و تشدد کی فضا میں فرد کے وجود کی گواہی اور  شناخت۔                   تفکر اور  فلسفہ بلکہ انکشافات اگر کہانی کا حصہ بن کر اس میں سمو نہ جائیں تو برے لگتے ہیں لیکن اگر وہ کہانی کے رگ و پے میں شامل ہو بھی جائیں تو کہانی کی معنوی دبازت اور  تہہ داری بڑھا دیتے ہیں میرا خیال ہے کہ میری کہانیوں میں تفکر کہانی کا حصہ اور  جواز ہے اس لئے اس کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔۰

٭       آپ کی کہانیوں میں ’’وہ‘‘ ’’میں ‘‘ ’’آپ‘‘ کے بے نام کرداروں کی تکرار سے ایسا لگتا ہے کہ آپ اپنی ہی تکرار کئے جا رہے ہیں؟

٭٭   ناموں کی بجائے وہ، اور  میں کا استعمال کر کے میں نے کہانی کو مقام کی قید سے آزاد کرایا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بے نام ہو کر بھی کردار عادات و خصائل کے اعتبار سے ٹھوس ہیں۔ ہیولہ بن کر بھی ان کی پہچان قائم رہتی ہے۔ اس طرح میں نے نئی کہانی کو فارمولا کہانیوں سے الگ کر کے اس کی پہچان بنائی ہے۔ یہ میری تکرار نہیں ایک ورائٹی ہے۔ اس کی مزید وضاحت یوں ہے کہ سایہ بھی جسم ہی کا علامتی اظہار ہے۔ بے نام کردار اسی ہجوم کا حصہ ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھئے کہ خود یہ ہجوم بے چہرہ ہوا جا رہا ہے۔ ہم ایک بڑے زوال کے تسلسل میں ہیں اور  زوال میں ہر شے بے چہرہ اور  بے شناخت ہو جاتی ہے اور  پھر جب کوئی نسل زوال میں لذت ڈھونڈنے لگے اور  زوال سے لطف اندوز ہونے لگے جیسے ہم کر رہے ہیں تو کسی چیز کی اپنی پہچان کوئی نہیں رہتی۔

            1960ء میں نئے افسانے نے خارج کی بجائے ذات کی خواصی کو موضوع بنایا تھا یہ گویا ترقی پسند تحریکی خارجیت پسندی کا رد عمل تھا۔ دروں بینی کے اس رویے نے سفر کو باہر سے اندر کی طرف موڑ دیا دوسری ذات کی تلاش و جستجو نے کئی ان دیکھی دنیاؤں کے دروازے کھولے یہ رویے کسی ایک چیز کا رد عمل نہ تھے بلکہ اس کے پس منظر میں سیاسی زوال مارشل لائی جبر اور  بہت سے دوسرے عوامل بھی شامل تھے۔ اب سب عوامل نے چیزوں کو بے حرمت کیا اور  پھر انہیں بے نام بنا دیا۔

            اسے ایک اور  حوالے سے بھی دیکھیں، جب آپ اشیا ء کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں یا ان کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو آپ کو ناموں کی ضرورت پڑتی ہے یعنی جب آپ کسی شے کو صرف اس کی خارجی ہیئت میں جاننا چاہتے ہیں تو نام لینا پڑتا ہے لیکن جب آپ اشیاء سے اپنے تعلق کو ایک دوسری صورت دیتے ہیں کہ آپ ایک بلندی سے انہیں دیکھیں اور  ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے والی کیفیت پیدا ہو جائے تو اشیا بے نام اور  بے چہرہ ہو جاتی ہیں۔ میرا مکالمہ اول اول معاشرے سے تھا پھر اپنے آپ سے اور  اب کائنات سے ہے۔ میرے لئے نام بے معنی ہیں۔ نام تو ایک بوجھ ہے جو شناخت کی صرف ٹھوس سطح قائم کرتا ہے۔ جب نام و نشان مقا م کی قید سے آزاد ہوں تو دنیا وسیع ہو کر کائنات کا ایک نقطہ بن جاتی ہے۔ قید مقام سے آزادی کے اس رویے نے نئے افسانے کی فضا میں وسعت اور  تفکری کی گہرائی پیدا کی ہے۔

٭       آغاز آپ کا بیانیہ تھا۔ پھر بتدریج علامتی ہوتا گیا۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟

٭٭   میں نے جب لکھنا شروع کیا تو بیانیہ حقیقت نگاری اپنے عروج پر تھی۔ عام نوجوانوں کی طرح میرا پسندیدہ موضوع بھی جنس تھا، چنانچہ منٹو کی روایت میں، میں نے بھی سیدھی سادی کہانیاں لکھیں اور  یہ سلسلہ تقریباً پانچ سال تک جاری رہا۔اسی دوران نئی ادبی بحثیں شروع ہو گئیں جن میں نئے ادبی رویوں اور  رجحانات پر بات ہوئی۔ لسانی تشکیلات کا ذکر بھی شروع ہو گیا۔ اس دور کے اکثر نئے لکھنے والے ان سے متاثر ہوئے۔ 1965ء میں اپنی پہلی کہانی سنگم کو دوبارہ لیمپ پوسٹ کے نام سے لکھا۔ یہ کہانی 1966ء میں اوراق میں چھپی۔ یہاں سے میرے نئے سفر کا آغاز ہوا۔

            دوسری وجہ یہ ہے کہ جنسی موضوعات سے جلدی ہی میرا جی بے زار ہو گیا۔ میرے اندر اپنے آپ کو پانے کی ایک کرید بچپن سے ہے اب ان نئی ادبی بحثوں سے گویا اس رویے کو تقویت ملی۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ اپنی شناخت کا ہے۔ یہ شناخت شخصی بھی ہے اور  کائناتی بھی۔ یہ تلاش مجھے علامتی اظہار کی طرف لے گئی۔ مجھے لگا کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اسے سادہ بیانیہ میں بیان نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے تصوف کے کسی تجربے کو تصوف کی اصطلاحوں کے بغیر بیان کرنا ممکن ہیں۔ اس کے لئے اظہار کا ایک پردہ دبازت اور  ایک چھپی ہوئی بلاغت ضروری ہے۔

٭       کیا یہ تاثر درست ہے کہ جبر کے ایام میں جو لوگ ببانگ دہل حق بات کہنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے انہوں نے علامتی طرز میں پناہ ڈھونڈی جس میں آپ کا نام نامی بھی سرفہرست ہے؟

٭٭   ہمارے نئے ادبی رجحانات کا آغاز 1960ء میں ہوا۔ مارشل لاء کی جبریت اس کی صرف ایک وجہ ہے۔علامتی طرز صرف جبر کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ احساس بھی تھا کہ اب پرانے پیرائے میں بات کہنا ممکن نہیں اور  اگر اظہار و  ہئیت و تکنیک کے نئے تجربوں سے گریز کیا گیا تو تکرار لازمی ہو جائے گی۔ نئے رویوں کا آغاز تو 1930ء میں میرا جی اور  راشد کی نظموں ہی سے ہو گیا تھا اور  مغربی رویوں سے دلچسپی بھی اسی دور میں شروع ہو گئی تھی حلقہ ارباب ذوق کی محفلوں میں ان نئے ادبی رویوں پر کھل کر بحثیں ہوتی تھیں لیکن ان کی ا یک مکمل صورت 196ء0 کے بعد ظاہر ہوئی۔ یوں کہنا چاہئے کہ حلقہ ارباب ذوق کی بحثوں نے نئے ادبی رجحانات کی راہ ہموار کی۔ مارشل لاء کا جبر اس میں صرف ایک وجوہ ہے۔

٭       ڈاکٹر وزیر آغا صاحب آپ کو علامتی افسانے کا سب سے اہم نام گردانتے ! جبکہ ڈاکٹر سلیم اختر صاحب آپ کو واحد اور  خالص تجریدی افسانہ نگار مانتے ہیں اوپر کے سوال کی روشنی میں یہ رائے آپ کے حق میں جاتی ہے یا خلاف؟

٭٭   ہمارے یہاں علامت اور  تجرید الگ الگ نہیں ہے،بلکہ دوسری بہت سی اصطلاحیں بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔مثلاً آپ کو ایک ہی کہانی میں علامت، تجرید،امیجری اور  سرئیلزم وغیرہ بیک وقت نظر آئیں گے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہ ساری تحریکیں اور  رویئے یورپ کی طرح کسی سسٹم کے تحت پیدا نہیں ہوئے بلکہ مغربی ادب کے مطالعے اور  مغربی افکار کے نتیجے میں انفراوی طور پر تخلیق کا حصہ بنے۔ علامت کا تعلق اظہار سے اور  تجرید کا تعلق خیال سے ہے اس لئے ایک ہی فن پارہ بیک وقت علامتی اور  تجریدی ہو سکتا ہے میری اپنی رائے میں میں علامتی افسانہ نگار ہوں۔ میرے تجریدی افسانے گنتی کے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے یہ رائے بہت پہلے دی تھی اس کے بعد میرے یہاں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

٭       ادبی گروہ بندیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

٭٭   ادبی گروہ بندی اگر نظریاتی سطح پر ہوں تو اس کے اثرات مثبت ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں یہ گروہ بندیاں شخصی سطح پر ہیں جن کے منفی اثرات ہوئے ہیں۔ ان گروہ بندیوں سے کم تر درجے کے لکھنے والوں نے اپنی اہمیت بنوائی ہے۔

٭       پینتیس سالہ ادبی زندگی میں اس حوالے سے آپ کا کردار کیا رہا؟

٭٭   میں اس طرح کی شخصی گروہ بندیوں سے ہمیشہ دور رہا ہوں۔ وزیر آغا سے میرا ایک قلبی تعلق ہے لیکن یہ ہم خیال اور  ہم فکر دوستوں کا ایک حلقہ ہے۔ اوراق نے نئے ادبی رجحانات کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور  اس وقت جب ہم نئے لکھنے والوں کو بہت سے ثقہ ادبی پرچے قریب بھی پھٹکنے دیتے تھے اوراق نے ہماری تخلیقات کو نہ صرف چھاپا بلکہ ہماری حوصلہ افزائی کی۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ نئے ادبی رویوں اور  رجحانات کو فروغ دینے میں حلقہ ارباب ذوق پاکستان میں اور اق اور  بھارت میں شب خون کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر آغا ایک صاحب علم اور  صاحب بصیرت شخص ہیں۔ ہماری نشستوں میں بڑے ادبی مسائل اور  افکار پر گفتگو ہوتی ہے اگر یہ گروہ ہے تو اسے خالصتاً ادبی اور  فکری گروہ کہنا چاہئے مجھے اعتراف ہے کہ میں نے یہاں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور  میرے ادبی کیریئر میں اور اق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

٭       کیا آپ کے خیال میں کسی بھی ادبی دھڑے سے وابستگی کے بغیر تخلیقی طور پر اپنی شناخت کرانا ممکن ہے؟

٭٭   میرا خیا ل ہے کہ ایسانہیں ہے تخلیق خود بولتی ہے اور  اپنا مقام متعین کر جاتی ہے اس میں شک نہیں کہ پچھلے چند برسوں سے جو شخصی گروہ بندی شروع ہوئی ہے اس نے ادیبوں کو بھی دھڑوں میں بانٹ دیا ہے لیکن کسی ادیب کی اصل اور  دیرپا شناخت تو اس کی تخلیق ہی سے ہوتی ہے اب آپ دیکھ لیجئے کہ ہمارے بڑے ادبی پرچوں میں ہر شمارے میں کتنی تخلیقات شائع ہوتی ہیں لیکن ذکر انہیں کا ہوتا ہے جن میں جان ہو۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ کسی گروپ سے وابستہ ہو کر راستہ قدرے آسان ضرور ہو جاتا ہے لیکن یہ آسانی بعض اوقات نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔

            ان شخصی گروہ بندیوں نے جو آسانیاں پیدا کی ہیں ان سے تن آسانی کا تصور ابھرا ہے ہمارے زمانے میں تو چھپنا دور کی بات ہے ہمیں حلقہ کے جلسوں میں پڑھنے بھی نہیں دیا جاتا تھا لیکن ہم لوگوں نے اپنی بات منوائی اور  احساس کرایا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ توجہ کے قابل ہے۔

٭       کیا آپ کا شمار بھی اُردو افسانے کے چار ستونوں پر اکتفا کرنے والوں میں ہوتا ہے گر نہیں تو آپ اپنے پسندیدہ افسانہ گار اور  اپنی شخصیت پر ان کے اثرات کی بابت کچھ روشنی ڈالیں؟

٭٭   ہمارے سینئر ہمارے لئے بہت سی اچھی روایتیں چھوڑ گئے ہیں ہم ان کا تسلسل ہیں لیکن ذاتی طور پر مجھے منٹو اور  بیدی زیادہ پسند ہیں اور ممتاز مفتی سے ایک طویل رفاقت ہے میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بہت مشکل بات کو سہو لت سے بیان کرنے کا جو سلیقہ مفتی جی کے یہاں ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔رابطہ کی محفلوں میں غیر محسوس طور پر ہم سبھی نے مفتی جی سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔

٭       اُردو شاعری میں وقت کے سا تھ اپنے گرد و پیش کے زیر اثر تبدیلی کے آثار نمایاں طور پر واضح ہوتے رہے۔ اردو افسانے کی بابت آپ کے خیال میں صورتحال کیا ہے مثلاً کہانی کی عدم موجودگی اُردو افسانے کو کس سمت لے جا رہی ہے؟

٭٭   کوئی صنف بھی ہو اسے زندہ رہنے کے لئے روح عصر کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے لیکن اس کے پہلو بہ پہلو اس میں ایک ماورائے عصر خوشبو بھی ہوتی ہے جواسے اپنے زمانے کے بعد بھی زندہ رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر اردو افسانے نے اپنی عصری صداقتوں کا اظہار کیا ہے اور  معاشرے کے مختلف اتار چڑھاؤ کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ فنی طور پر ہونے والی تبدیلیاں نئے شعور اور  نئے رویوں کا اظہار ہیں۔ یہ بھی وقت کی ایک ضرورت ہوتی ہے کہ ادب اپنے موضوعات کے ساتھ ساتھ فنی اور اظہاری رویوں میں بھی تبدیلیاں لائے، یہ زندگی کے ساتھ اس کی وابستگی کی ایک دلیل ہے کہ زندگی خود ہر لمحہ تغیر پذیر ہے۔ رہی بات کہانی کی عدم موجودگی تو یہ مفروضہ سرے سے ہی غلط ہے کہ افسانے سے کہانی کبھی غائب ہوئی تھی کہانی پن کس چیز کو کہتے ہیں۔ واقعات کا تسلسل، کرداروں کی حرکات یا ماحول کی عکاسی کو ایک زمانے میں کہانی کہا گیا ہم نے کہا کہ کہانی خیال کا ایک تسلسل بھی ہے۔ بنیاد تو اس کی بھی وقوعہ ہی ہے لیکن وقوعہ سے بلند ہو کر اگر کوئی شے خیال یا فکر بنتی ہے تو اس کا تسسل بھی کہانی ہے یہ صرف تعریف کا فرق ہے ورنہ کہانی کے بغیر تو افسانہ بن ہی نہیں سکتا فرق صرف اس کے ٹھوس پن اور  سیال صورت میں موجود ہونے کا ہے۔

٭       اردو افسانے کے بعد تنقید کے باب میں بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں جبکہ عام خیال یہ ہے کہ آج کے دور میں تنقید نام کی شے ناپید ہے آپ اس شعبے سے اپنی دلچسپی اور  اس کے دگرگوں حالات کی بابت کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟

٭٭   پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نقاد نہیں ہوں میں تو ایک قاری کی حیثیت سے جو تاثر کسی تخلیق سے لیتا ہوں اسے بیان کر دیتا ہوں۔ میری پہلی کتاب ’’نیا ادب‘‘ کے دیباچے میں بھی میں نے عرض کیا تھا کہ میں نئے ادب کا نقاد نہیں بلکہ پرموٹر ہوں۔ میرا جی کی طرح میری کوشش بھی یہ ہے کہ نئے ادبی رویوں کی تفہیم ہو اور  اس کے لئے ایک ذہنی فضا تیار کی جائے چنانچہ میں نے نئے ادب پر تنقید نہیں کی اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب بھی میرا رویہ یہی ہے کہ میں اپنے کسی مضمون میں تنقید سے زیادہ تفہیم کی کوشش کرتا ہوں اور ایک قاری کی حیثیت سے میں نے جو کچھ محسوس کیا ہوتا ہے اسے بیان کر دیتا ہوں۔

            مجموعی طور پر تنقید کے بارے میں آپ کی رائے سے مجھے اتفاق ہے کہ ہماری یہاں جینوئین تنقید کی بڑی کمی ہے۔ شخصی گروہ بندیوں نے اس کا معیار بدل دیا ہے پھر تقریباتی تنقید نے ایک اور  طرح کی خرابی کو جنم دیا ہے کہ یہاں کسی برائی کا ذکر نہیں کرنا۔ تبصروں اور  فلیپوں نے بھی بہت خرابیاں پیدا کی ہیں۔ اچھی تنقید کے لئے تو بہت پڑھنا پڑتا ہے نقاد کو صاحب مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ فراخ دل بھی ہونا چاہئے۔ لیکن آپ دیکھ لیں ہمارے نقاد کتنا بڑا فریم بناتے ہیں اور  جب اس میں مثالیں دینے لگتے ہیں تو چیونٹیوں کی۔

٭       انڈو پاک کے افسانوی ادب کا تقابل، موازنہ اور  مستقبل کی بابت آپ کی رائے اور  توقعات؟

٭٭   پاک بھارت افسانے میں بہت سی باتیں مشترک ہیں اور  مختلف بھی۔ موضوعات میں کئی جگہ اشتراک ہے۔ دونوں معاشرے بہت سے رویوں میں ایک جیسے ہیں پھر بہت سے شخصی اور  اجتماعی مسائل میں مماثلت ہے ایک زبان کے اثرات بھی ہیں لیکن اظہار میں جو فرق پڑا ہے اس میں سب سے پہلے تو زبان کا مزاج اور  الفاظ ہیں۔ ہماری اردو اب پچاس سالوں میں بھارت میں بولی جانے والی اردو سے خاصی مختلف ہو گئی ہے دراصل یہ بحث پورے ادب کی ہے کہ کیا بھارت میں لکھے جانے والے اردو ادب سے مختلف کوئی صورت ایسی ہے جسے پاکستانی ادب کہا جا سکے۔ پاکستان بننے کے ابتدائی برسوں میں پاکستانی ادب کی بحث کا مطلب ترقی پسندوں کے خلاف محاذ بنانا تھا لیکن اب یہ پاکستانی ادب جس میں افسانہ بھی شامل ہے کی شناخت کی بحث ہے کہ اردو کی دوسری بستیوں میں لکھے جانے والے ادب سے ہمارا ادب کیسے اور  کیوں مختلف ہے اور  ہم اس سارے ادب کو اردو ادب کہنے کی بجائے پاکستانی ادب کیوں کہنا چاہتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فکری، تہذیبی اور  لسانی تینوں حوالوں سے پاکستانی ادب اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ لسانی حوالوں سے دیکھا جائے تو پاکستانی اردو اپنے علاقائی اثرات اور   دوسری پاکستانی زبانوں کے تال میل سے اس اردو سے بہت مختلف ہے جو اس وقت بھارت میں لکھی اور  بولی جا رہی ہے۔ پاکستانی اردو کا اپنا ایک مزاج اور  لہجہ وجود میں آ چکا ہے۔ یہ مزاج ذخیرہ الفاظ، تلفظ، لہجے اور  زبان کی نئی تہذیبی روایت کی وجہ سے بھارتی اردو، مزاج اور  لہجے سے قطعی مختلف ہے۔ ہماری اردو نے پنجابی، سندھی، بلوچی اور  پشتو وغیرہ سے جو اثرات قبول کیے ہیں انہوں نے ایک نئے لہجے کو جنم دیا ہے جو خالصتاً پاکستانی لہجہ ہے چنانچہ اس زبان میں لکھا جانے والا ادب لسانی حوالوں سے ایک پہچان رکھتا ہے۔ دوسری بات فکری شناخت کی ہے ہماری فکری روایت کی بنیادی علامتیں ہمارے ملی جذبوں اور  امت مسلمہ کے تاریخی سفر سے جڑی ہوئی ہیں۔ جذباتی اور  فکری طور پر ہمارے ڈانڈے اپنی مرکزیت سے وابستہ ہیں۔ ہندی لہجے، ہندی روایات اور  ہندی دیومالائی استعاروں کی بجائے ہمارے یہاں مسلم کلچر اور  تاریخ کے حوالے زیادہ توانا ہیں۔ جنہوں نے ہماری فکری روایت کو قائم رکھا ہے۔ مثال کے طور پر اب ہماری نئی نسل رادھا، رام، سیتا اور  راو ن سے واقف نہیں جبکہ بھارت میں ہر شخص چاہے وہ کسی مذہب سے متعلق ہو انہیں جانتا ہے بات یہ ہے کہ ہماری سوچ کا انداز اور  ہمارے اجتماعی خواب الگ ہو گئے ہیں چنانچہ اس فکری تناظر میں لکھا جانے والا ادب پاکستانی ہے تیسری بات تہذیبی اثرات کی ہے اس بحث میں پڑے بغیر کہ کسی جگہ کی تہذیب کن عوامل سے وجود میں آتی ہے اور  پاک بھارت تہذیبوں کے مشترکہ عناصر کیا ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی تہذیب کا مزاج اب اپنا ہے جس کے ڈانڈے علاقائی تہذیبوں، اجتماعی سوچ، نظریہ حیات اور  اجتماعی خوابوں سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ ثقافتی صورتحال جو مجموعی فضا بناتا ہے وہ پاکستانی ہے اور  ہمارے ادب میں اس فضا کا اظہار پاکستانی ٹچ پیدا کرتا ہے۔ مذہبی حوالہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔

            یہ مجموعی ادبی صورت حال افسانے کی بھی ہے جس میں کئی صورتیں ہمیں بھارتی افسانے سے جڑی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہیں اور  الگ بھی ہیں۔ مجموعی فنی رویے ہیئت و تکنیک کے حوالے مشترک ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے سماجی سیاسی مسائل میں بھی اشتراک ممکن ہے لیکن زبان کے ورتاوے مزاج خصوصاً فارسی ہندی اثرات سے دور ہو کر اردو کے خالص پاکستانی رنگ، لغت میں نئے الفاظ کی شمولیت، جذبات و احساسات کے اظہار میں عقیدے کے پہلو اور  مجموعی فضا کے اثر نے پاکستانی افسانے کو ایک الگ تشخص دیا ہے۔

                                                                                    (جنوری ۱۹۹۸ء)

 ٭ ٭ ٭

 

ڈاکٹر کیول دھیر

۵ اکتوبر ۱۹۳۸ء

٭       ڈاکٹر صاحب! ۱۹۳۸ تا ۱۹۴۷ کی اختصار کے ساتھ اس طرح منظر کشی کیجئے کہ قاری کو آپ کے گھر، افراد خانہ، گرد و پیش اور  درسگاہی ماحول سے آگاہی ہو سکے؟

٭٭   میرا جنم پانچ اکتوبر ۱۹۳۸ء بروز بدھ وار صبح سات بج کر پانچ منٹ پر موضع گگّو، تحصیل اوکاڑہ، ضلع منٹگمری (اب اسے ساہیوال کہتے ہیں) ہندوستان میں ہوا۔ تقسیم وطن کے بعد یہ حصہ پاکستان بنا۔ والد محترم شری ہنسراج دھیر قصبہ گگّو کے سرکاری ہسپتال میں بطور ڈاکٹر تعینات تھے۔ گھر میں والدہ شریمتی پدماوتی تھیں۔ میں اُن کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھا۔ مجھ سے اڑھائی تین برس چھوٹا ایک بھائی تھا۔ سرکاری ملازمت کے دوران ملکی تقسیم کے پہلے کے ان برسوں میں والد گگّو کے علاوہ جبوکہ اور  جندراکہ قصبوں میں تعینات رہے اور  میرے بچپن کے ننّھے پاؤں کو وہاں کی مقدّس مٹی کا لمس حاصل ہوا۔ والدہ بتایا کرتی تھیں کہ ہسپتال گاؤں سے باہر واقع ہوتے تھے اور  ان کے آس پڑوس میں سکول، تھانہ اور  مویشی ہسپتال بھی واقع ہوتے تھے اور  یہاں کام کرنے والے ملازموں کے درجہ بدرجہ رہائشی کوارٹر بھی منسلک ہوتے تھے۔ رشیداں دائی تھی، کلّن ماشکی تھا، کالُو جمعدار تھا جن کی گود کا دُلار مجھے ملا تھا اور  جن کی انگلیوں نے میرے ننّھے ننّھے پاؤں کو چھوٹے چھوٹے ڈگ بھرنے سیکھائے تھے۔ ان آنگنوں کے کونوں میں ‘اوپلوں، کی آگ پر کڑھتی دودھ کی کاڑھنیوں میں دودھ پر آئی گہری سنہری ملائی، سانجھے چولہوں کی مِسّی روٹی اور  دیسی گھی کی چُوری نے جسم کے خون کو سانجھی مسّی تہذیب کی لالی عطا کی تھی۔ ذہن کے جھروکوں سے دھندلی سی یادیں آج بھی جھلکتی ہیں تو مجھے قطار درقطار کھڑے شیشم کے درخت یاد آتے ہیں جن کے کانٹے پاؤں کی میٹھی میٹھی چبھن کا احساس دے جاتے تھے۔ بالکل قریب سے بہتی چھوٹی سی ندی کے پانی میں گھنٹوں نہانے کی ٹھنڈک کا احساس دے جاتے تھے ……بالکل قریب سے بہتی چھوٹی سی ندی کے پانی میں گھنٹوں نہانے کی ٹھنڈک کا احساس زندہ ہو اٹھتا ہے ……چاندنی راتوں میں کپاس کی اوٹ میں چھپ کر ’’لُکن میٹی‘‘ کا کھیل کھیلنا اور  کالو جمعدار کا ہمارے پیچھے بھاگنا ہماری یادوں کو بچپن کی معصومیت کا احساس بخش جاتا ہے۔ ہمارے والد صاحب کو لوگ پیار اور  احترام سے ’’لالہ ڈاکٹر‘‘ کہتے تھے، دیوالی اور  دوسرے تیوہاروں پر مسلمان دوستوں کے گھر سے خشک رسد کے تحفے آتے تھے، پرہیزگاری سماج کا رواج تھا لیکن ہم نے تو ہوش ہی رشیداں کی گود میں سنبھالا تھا اور  پرورش اُس مِسّی روٹی اور  چُوری سے پائی تھی جس میں کلّن ماشکی اور  نُوراں بی بی کا بھرپور لمس تھا۔ قلم، دوات، تختی، گاچنی، سلیٹ، اور  سلیٹی کے ساتھ الف۔ ب۔ سے بھی ہم مانوس ہو گئے تھے۔ ہمارے گھر، ماحول اور  درسگاہ کی ایسی چھوٹی سی دنیا تھی جس میں اپنے بچپن کے ننّھے وجود کو لے کر ہم داخل ہوئے تھے اور  لگ بھگ پونے نو سال تک ہم جنت جیسی اس دنیا کی معصوم دولت سے مالا مال رہے تھے۔

٭       ۱۹۴۷ء کی ہجرت میں آپ اور  آپ کے اہل خانہ کو کن مصائب کا سامنا رہا اور  لدھیانہ میں سکونت کے اسباب و محسوسات کیا تھے اور  آپ کی تخلیقات میں ان کا اظہار کس طرح ہوا؟

٭٭   ہمارا آبائی گاؤں بھارتی پنجاب میں پھگواڑہ شہر کے نزدیک ملُوپوتہ ہے اور  ننہیال ہوشیارپور کے نزدیک قصبہ سیلہ خورد میں ہیں۔ یہ دونوں جگہیں دو آبہ میں ہیں۔ ماہ جولائی کے آخر میں ہماری والدہ خرابی صحت کی وجہ سے ہمارے چھوٹے بھائی کو لے کر اپنے میکے آئی ہوئی تھیں۔ ماہ اگست کے دوسرے ہفتے میں اچانک فسادات پھوٹ پڑے اور  بہت تیزی سے ہجرت کے حالات پیدا ہو گئے۔ میں اور  والد صاحب پیچھے جبوکہ گاؤں میں تھے اور  ہم اتنی تیزی و شدّت سے بدلے ہوئے حالات کا شکار ہوئے کہ یہ بیان سے باہر ہے۔ اگر کم سے کم الفاظ میں اس المناک کہانی کو بیان کرنا ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ دوست دشمن ہو کر خون کے پیاسے ہو گئے۔ دن رات ساتھ رہنے والے جو لوگ والد صاحب کو اپنا جگری دوست اور  ہمیں جگر کا ٹکڑا کہتے تھے انہوں نے قتل کے ارادے سے حملہ کر دیا۔ ہمارے ساتھ والا کوارٹر غلام محمد کمپاؤنڈر (آج کل فارماسسٹ کہا جاتا ہے) کا تھا جنہوں نے ہمیں پناہ دی اور  اپنے گھر کے عقب میں باجرے کے کھیتوں میں چھپا دیا۔ شدید گرمی، بارش اور  دھوپ میں لگاتار آٹھ دنوں تک ہم کھیتوں میں پناہ لئے رہے اور  غلام محمد اور  اس کی بیوی اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہمیں ہر دن صبح و شام کھانے پینے کا سامان مہیا کرتے رہے۔ فسادیوں کو کسی طرح اس بات کا علم ہو گیا تو انہوں نے غلام محمد اور  اس کی بیوی کو قتل کر ڈالا۔ قتل ہونے سے پہلے ان نیک بندوں نے ہمیں آگاہ کر دیا تھا اور  ہم کسی طرح کھیتوں سے نکل کر رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر میل بھر دُور مہاجنوں (ہندوؤں) کی حویلی میں، جو گاؤں کے وسط میں کافی اونچائی پر واقع تھی، پہنچ گئے جہاں پہلے سے ہی کافی ہندو جمع تھے۔ اُسی رات فسادیوں نے حملہ کر دیا اور  بہت سے نوجوان ہندو قتل ہو گئے۔ اپنی آبرو لُٹنے کے خوف سے حویلی میں موجود بڑے بزرگوں نے اپنی بہو بیٹیوں کو اپنے ہی ہاتھوں مار ڈالا۔ زندہ بچ گئے ہندو مردوں اور  بچوں نے اپنے آپ کو فسادیوں کے حوالے کر دیا اور  طے پایا کہ یہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ اگلے روز جب مذہب تبدیل کرانے کی تیاریاں چل رہی تھیں تو اچانک وہاں ملٹری پہنچ گئی اور  ان تمام لوگوں کو انہوں نے قافلے میں شامل کر کے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ جانتے ہیں کہ ملٹری کو آگاہ کرنے اور  اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر، بیس کوس پیدل چل کر، انہیں یہاں تک لانے والا مسلمان کالُو جمعدار تھا! ہمیں بخوبی یاد ہے کہ کبھی والد کے کندھوں پر اور  کبھی اپنے ننھے ننھے پاؤں پاؤں پیدل چل کر قافلے کے ساتھ پانچ دنوں میں گاؤں سے اوکاڑہ پہنچے تھے۔ وہاں کیمپ میں رہنے کے بعد آخر کار جس ریل گاڑی سے ہمیں امرتسر کی طرف روانہ کیا گیا اسے فسادیوں نے قصور کے نزدیک روک لیا اور  ہزاروں انسانوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔ زندہ رہ گئے سو پچاس لوگوں میں ہم بھی تھے۔

            گلزار بھائی! ہجرت کی المناکیوں کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پونے نو سال کے ایک معصوم بچے نے لمحہ لمحہ نہ صرف موت کو اتنا قریب سے دیکھا بلکہ ہزاروں لوگوں کو نہایت ہی بے رحمی سے قتل ہوتے دیکھا…… لہو کے دریا بہتے دیکھے …… انسانوں کو بھوک اور  پیاس سے تڑپتے دیکھا…… غم اور  درد کی انتہا تک زندگی کا وہ روپ دیکھا جس کا تصّور تک نہیں کیا جا سکتا…… اُس معصوم بچے نے ان ہولناکیوں کو صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ جھیلا بھی ہے۔ مصائب کا سامنا کر کے جینا۔

٭       آپ نے قلمی ریاضت کی ابتدا ہندی زبان سے کی اور  آپ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہندی زبان میں ہی شائع ہوا۔ اوّل یہ کہ اردو زبان آپ کے نصاب میں کہاں تک شامل رہی اور  اُردو ادب کی جانب آپ کب راغب ہوئے؟

٭٭   آپ نے درست فرمایا کہ قلمی ریاضت کی ابتدا میں نے ہندی زبان سے کی اور  میرا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دھرتی رو پڑی‘‘ ۱۹۵۸ء میں ہندی زبان میں شائع ہوا۔ بہت کم عمری میں کچھ نہ کچھ لکھنا میں نے جب شروع کیا تو ان کی اشاعت کے لئے جن چھوٹے موٹے رسالوں اور  اخباروں تک رسائی تھی وہ سب ہندی زبان میں تھے۔ بعد میں جب بڑے ہندی ادبی رسالوں میں چھپنے لگا اور  پہلے دہلی اور  پھر پٹنہ میں اُس زمانے کے ہندی کے اہم ادیبوں اور  قلمکاروں سے متعارف ہوا تو ہندی ہی میں لکھنے پڑھنے کا باقاعدہ ماحول بن گیا۔

            اردو ادب کی جانب راغب ہونے کی وجہ راجہ مہدی علی خاں بنے۔ ایک نیم ادبی اور  نیم فلمی تقریب میں پٹنہ میں اُن سے پہلی ملاقات ہوئی۔ خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہیں دنوں بمبئی سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’’شاعر‘‘ کا کہانی نمبر افسانہ نگار مہیندر ناتھ ترتیب دے رہے تھے لیکن اس کے لئے اُردو میں کہانی لکھنے کو راجہ مہدی علی خاں نے کہا۔ وہ پہلی کہانی تھی جو میں نے اردو زبان میں لکھی لیکن یہ ’’شاعر‘‘ میں چھپ نہیں سکی۔ اس کا نظر ثانی شدہ مسودہ مجھے واپس ملا تو اُسی کہانی کو میں نے چار بار لکھا اور  پانچویں بار لکھنے کے بعد اسے میں نے ماہنامہ ’’بیسویں صدی ‘‘ نئی دہلی کو بغرض اشاعت ارسال کر دیا۔ رسالے کے مدیر جناب خوشتر گرامی نے اطلاع دی کہ کہانی اشاعت کے لئے منتخب کر لی گئی ہے۔ حالانکہ اب تک میں ہندی زبان کے کئی معیاری ادبی رسالوں میں چھپ رہا تھا لیکن اس اطلاع نے مجھے نہ صرف قلبی مسرت بخشی بلکہ اردو میں لکھنے کی ترغیب بھی دی۔ اردو میں لکھی میں نے اپنی دوسری کہانی ماہنامہ ’’شمع‘‘ نئی دہلی کو ارسال کی اور  یہ اتفاق تھا کہ غالباً ۱۹۶۰ء میں ایک ہی ماہ میں ’’بیسویں صدی‘‘ اور  ’’شمع‘‘ میں میری کہانیاں شائع ہوئیں۔ ’’بیسویں صدی‘‘ کے جس شمارے میں میری کہانی شائع ہوئی اُسی میں کرشن چندر، عصمت چغتائی، مہیندر ناتھ اور  رام لعل کی کہانیاں بھی شائع ہوئی تھیں اور  یہ مجھے بہت اچھا لگا تھا۔ اردو میں لکھنے کا سلسلہ یہاں سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

            کوئی بھی زبان میرے کسی بھی نصاب میں شامل نہیں رہی۔ تقسیم وطن سے قبل تیسری جماعت تک میں نے اردو لکھنا پڑھنا سیکھا۔ چوتھی جماعت کی پڑھائی اردو میں ہی جاری رہی۔ بعد ازاں تعلیم کی نئی پالیسی کے تحت کئی نئی تبدیلیاں ہوئیں۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ ہائی اسکول تک تاریخ اور  جغرافیہ کے سوالوں کا جواب اردو میں لکھتے تھے۔ سائنس کے مضامین کی پڑھائی انگریزی میں کرتے تھے، گورمکھی کا ایک بھی لفظ نہیں پڑھا اور  ہندی کی پڑھائی ‘آپشنل، مضمون کے طور پر ہوتی تھی۔ یعنی اردو زبان ہم نے نصاب میں صرف چوتھی جماعت تک ہی پڑھی ہے۔

٭       مشکل نہیں، غم کے درد کو زندگی کے لمحوں کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے جینا بہت دشوار ہوتا ہے۔ مصیبت آتی ہے، ختم ہو جاتی ہے، گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ انسان اسے بھول جاتا ہے۔ غم کا درد جب احساس میں سما جاتا ہے تو زندگی بھر کبھی عمل کی شکل میں اور  کبھی رد عمل کی شکل میں یہ آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔

٭٭   اس سوال کا دوسرا حصہ لدھیانہ میں سکونت کے اسباب و محسوسات سے متعلق ہے۔ میں آگاہ کرتا چلوں کہ لدھیانہ شہر میری زندگی کے سفر کے راستے میں آنے والا ایک پڑاؤ ہے۔ پنجاب سرکار کے محکمہ صحت میں بطور ڈاکٹر ملازمت کے دوران ۱۹۷۵ء میں پہلی بار لدھیانہ تعیناتی ہوئی اور  کلاس ون کی سینئر پوزیشن پر ۱۹۹۶ء میں ریٹائرمنٹ بھی اسی شہر میں ہوئی اور  پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان دنوں میں لدھیانہ میں مقیم ہوں اور  تا حیات یہیں بسے رہنے کا ارادہ ہے۔

            ہجرت کے بعد کا سفر جدوجہد سے پُر رہا۔ سال بھر بعد یعنی ۱۹۴۸ء کے لگ بھگ آخر میں زندگی کو پھر سے شروع کر کے جینے کے عزم کے ساتھ والد محترم نے پھگواڑہ شہر میں میڈیکل پریکٹس شروع کی۔ دسویں تک میری تعلیم پھگواڑہ میں ہوئی۔ تعلیمی سلسلے میں دوسال دہلی میں گزارنے کے بعد پٹنہ (بہار) کے سرکار کے محکمہ صحت میں سرکاری نوکری کر لی۔ پٹنہ میں حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ آ ل انڈیا سوتنتر پارٹی کے ہفتہ وار سیاسی اخبار ’’سونترتا‘‘ کی ساڑھے چار سال تک ادارت کی۔ تعلیم جاری رکھنے کے لئے اس سے نہ صرف میری مالی ضروریات پوری ہوتی تھیں بلکہ صحافت کے ذریعے زندگی کو الگ الگ زاویوں اور  دریچوں سے دیکھنے اور  سمجھنے میں مدد بھی ملی۔

            اسی سوال کا تیسرا حصہ کہ میری تخلیقات میں ان کا اظہار کس طرح ہوا؟…….. پونے نو سال کے بچے کا بچپن، اُس کی معصومیت، اس کی مُسکانیں اور  شرارتیں چیخ و پکار، دردو غم اور  قتل و غارت کا شکار ہو جائیں تو وہ انتہا پسند ہو سکتا ہے۔ بے رحمی، نفرت، ظلم اس کے جذبوں کو اپنے ماحول میں ڈھال کر اسے ڈاکو یا قاتل بنا سکتی ہے اور  یا پھر وہ ایک فقیر، سادھو یا سنت بن سکتا ہے لیکن میرے بھگوان یا خدا نے مجھے دونوں طرح کی انتہا پسندی سے محفوظ رکھ کر جذبوں کو احساس کی شدت عطا کر دی، تڑپ کے ساتھ ساتھ چاہت بھی بخش دی۔ اسی تڑپ زور چاہت کا اظہار میری تخلیقات کے کرداروں میں ہوتا ہے۔ میری چاہت خلوص،محبت، امن اور  انسانیت کے لئے ہے اور  میری تڑپ ان انسانوں کے لئے ہے جو نیک اور  امن پسند ہیں۔

٭       برادرِ محترم! آپ ہفت زبان شخصیت ہیں۔ ہندی،اردو کے علاوہ آپ نے گورمکھی اور  انگریزی میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ پذیرائی کس زبان کی قلمی کاوش سے زیادہ ملی اور  تسکین قلب کا ذریعہ کس زبان کا ادب بنا؟

٭٭   اس سوال کا جواب ہے اردو…….. اردو……… اور  صرف اردو! جہاں تک تسکین قلب کے لئے پڑھنے یعنی مطالعے کا سوال ہے، میں نے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی اور  (گورمکھی پسی میں) پنجابی ادب کا مطالعہ کیا ہے۔ میں بنگلہ (بنگالی) زبان بھی پڑھ لیتا ہوں لیکن لکھ نہیں پاتا۔ بنگلہ بھاشا میں لکھا ادب بھی زیر مطالعہ رہا۔ ہر زبان میں اچھا ادب تخلیق ہوتا رہا ہے اور  ہو رہا ہے اور  اچھا ادب ہی تسکین قلب کا ذریعہ بنتا ہے۔

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ نے افسانہ، سفرنامہ، ناول، بچوں کا ادب، فلمی کہانی، ٹیلی پلے، ریڈیو اسکرپٹ کے علاوہ طبّ، نفسیات و جنسیات پر بھی بہت زیادہ لکھا۔ کسی بھی انسان کے لئے اتنی زیادہ تخلیقی جہات کا ہونا کسی قدر ناممکن ہے ! آپ نے اتنی توانائی اور  تردّد کیوں کیا اور  اس سے کیا نتائج حاصل ہوئے؟

٭٭   بنیادی طور پر میں افسانہ نگار ہوں۔ ناول بھی میں نے لکھے ہیں لیکن یہ بھی فکشن کے دائرے میں ہی آ جاتا ہے۔ دیگر موضوعات پر بھی لکھا ہے۔ آپ سے میں متفق نہیں ہوں کہ اتنی زیادہ تخلیقی جہات کا ہونا کسی قدر ناممکن ہے۔ شوق ہونا چاہیئے، اہلیت ہونی چاہیئے، کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔ اتنی توانائی اور  تردّد کچھ نہیں کیا، زندگی کو ڈھنگ سے جیتے ہوئے اور  وقت کو ہر طرح کی ضروریات کے مطابق ڈھالتے ہوئے آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں اور  ایسا کرنے سے تسکین اور  مسرت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے تئیں، اپنے پریوار، سماج اور  پروفیشن کے تئیں ہر ذمہ واری کو فرض سمجھ کر محنت، لگن اور  ایمانداری سے نبھاتے ہوئے میں نے کسی کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا اور  ساتھ ساتھ اپنا تخلیقی سفر بھی جاری رکھا۔ اس سے حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں سوچیں تو میں کچھ یوں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے علم کی روشنی حاصل ہوئی، ذہنی اور  قلبی آسودگی حاصل ہوئی اور  میڈیکل پروفیشن میں ہونے کے باعث صحت عامہ، نفسیات اور  جنسیات کے موضوعات پر جو کچھ میں نے لکھا اس سے عام آدمی کا بھلا ہوا۔ ان موضوعات کو لے کر ہمارے ممالک میں بے شمار لوگ مسائل اور  پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں گمراہ کر کے ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں۔ ان بے شمار لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے بھی اگر میری تحریروں سے استفادہ کیا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ نتائج حاصل ہو گئے۔

٭       اہل قلم کی اکثریت آپ کو مقبول ادیب کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ ہمارے خیال میں پاپولر اور  سنجیدہ ادب کے درجات مختلف ہیں۔ آپ اپنی پوزیشن کی وضاحت کس طرح کریں گے؟

٭٭   یہ ایک بحث طلب موضوع ہے ……… کہ

آپ ادب تخلیق کرتے ہیں تو کن لوگوں کے لئے کرتے ہیں؟ آپ کے قاری کا درجہ کیا ہے؟ آپ کے ادب کو درجات میں بانٹنے کے لئے نقاد کا رول کیا ہے؟ اور  کہ کون یہ فیصلہ کرتا ہے کہ سنجیدہ ادب کون سا ہے اور  پاپولر ادب کون سا ہے؟

یہ میرا احساس ہے، عقیدہ ہے کہ آپ پورے سماج کے لئے ادب تخلیق کرتے ہیں۔ آپ کی کہانی یا ناول کے کردار بھی اسی سماج کے افراد ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے مسائل بھی اسی سماج کے مسائل ہوتے ہیں۔ اپنی تخلیقات میں اگر آپ سماج کے ان افراد کو، ان کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں تو وہ یقیناً آپ کو پسند کرتے ہیں۔ پسند کیا جانا مقبولیت کو جنم دیتا ہے۔ آپ کس قدر مقبول ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کے قاری کتنے ہیں؟ اس سوال کا یہ اہم حصہ ہے کہ آپ کے قاری کا درجہ کیا ہے؟ مختصر سا جواب ہے کہ جو تحریر یا تخلیق صرف انسانی جذبوں میں ہلچل پیدا کرتی ہے وہ نچلے درجے تک رہ جاتی ہے لیکن اس کے ہر عکس جو تحریر یا تخلیق قاری کے قلب کو چھو کر اس کے ذہن کو بھی اس عمل میں شامل کرتی ہے اس کا درجہ اعلیٰ ہو جاتا ہے۔ قاری کے درجے کا تعین اسی سے ہوتا ہے۔ اب رہی نقاد کے رول کی بات کہ وہ ادب کو درجات میں کس طرح بانٹتا ہے تو میں بغیر کسی جھجک کے کہوں گا کہ عام طور پر نقاد کا رول منفی ہو کر رہ گیا ہے۔ ایمانداری سے جب تنقید کم ہوتی ہے تو شک کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مستحق قلمکار کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ آج فیصلہ نقاد کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ قرار دے کہ سنجیدہ ادب کون سا ہے اور  کہ صرف مقبول ادب کون سا ہے۔

            ان حقائق کو پیش کرنے کا مقصد ان حالات کو بیان کرنا ہے جو آج ہمارے ادب میں پیدا ہو چکے ہیں۔ میں نے ’’بیسویں صدی‘‘ رسالے میں زیادہ لکھا ہے جسے ادب کے درجے کا تعین کرنے والے لوگ نیم ادبی اور  بعض غیر ادبی بھی کہتے رہے ہیں۔ یہ وہ رسالہ ہے جس میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، انتظار حسین، ممتاز مفتی، رام لعل، جوگیندر پال…… وغیرہ وغیرہ سب وہ لوگ کثرت سے چھپتے رہے ہیں جو سنجیدہ اردو ادب کے ستون مانے جاتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میری کہانیاں ان تمام لوگوں کے ساتھ نہ صرف ’’بیسویں صدی‘‘ میں بلکہ ہندو پاک کے دیگر جریدوں میں بھی شائع ہوئی ہیں۔ پوزیشن کی وضاحت کی ضرورت ہی نہیں ہے کیوں کہ یہ بہت واضح ہے کہ میں نے بہت سنجیدگی سے لکھا ہے، سنجیدہ ادب تخلیق کیا ہے اور  میری تخلیقات نے قلب کو چھو کر قاری کے ذہن کے دریچوں سے جھانکا ہے۔ میں اپنے قلم کی سنجیدگی اور  مقبولیت دونوں کا بے حد احترام کرتا ہوں اور  دونوں سے مطمئن بھی ہوں۔

٭       کیول بھائی! بہت سے احباب آپ کی کہانیوں کی بنیاد رومان تشخیص کرتے ہیں۔ اگر آپ اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں تو ہم آپ کے رومانوی ویژن اور  اس کی بنیاد کی بابت دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں؟

٭٭   اس میں کوئی شک نہیں کہ میری ابتدائی پہچان ایک رومانی افسانہ نگار کی بنی تھی۔ باوجود اس کے کہ میں نے بہت سی کہانیاں بہت سے موضوعات پر لکھی ہیں، ایسے موضوعات پر بھی لکھی ہیں جو رومان سے خالی ہیں ……. جیسے دہشت، بدچلن، شناختی کارڈ……. لیکن لوگ آج بھی کہتے ہیں اور  کھلے دل سے میں تسلیم کرتا ہوں کہ اکثر میری کہانیوں کی بنیاد محبت ہوتی ہے۔ انسان محبت کا ثمر ہے، اس کا وجود محبت ہے، محبت زندگی کی بنیاد ہے، یہی انسانی جبلت ہے۔ محبت سے فن جنم لیتا ہے۔ ایک سچا فنکار محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے، اسے تقسیم کرتا ہے اور  پھر محبت ہی حاصل کرتا ہے۔ میں رومان یا محبت کو لفظوں اور  لکیروں میں قید نہیں کرتا۔ وسعتوں کا نام محبت ہے، ایثار اور  فرض کا نام محبت ہے، پوری انسانیت کا نام محبت ہے۔ ایک فرد سے ایک عالم تک محبت ہی وہ درس ہے جو زندگی کرنے کا طریقہ، سلیقہ اور  ہنر سکھاتا ہے۔ یہی میرا رومانوی ویژن ہے اور  یہی اس کی بنیاد ہے۔

٭       بقول آپ کے سعادت حسن منٹو آپ کے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں جب کہ آپ کو قریب سے جاننے والے کرشن چندر سے آپ کی ذہنی قربت کی نشاندہی کرتے ہیں؟

٭٭   بطور قاری میں تسلیم کرتا ہوں کہ سعادت حسن منٹو میرے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں اس لئے کہ منٹو کے قلم میں شدید تڑپ ہے ……..بیباکی ہے اور  اس کا یہ انداز مجھے اچھا لگتا ہے۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے، میری کہانی کا کوئی کردار منٹو کی کہانی کے کردار جیسا نہیں ہے۔ میرے کردار ایک مہذب سماج کے افراد ہیں جب کہ منٹو کے کردار سماج کے ایک مختلف طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے دونوں کے اظہار اور  رد عمل میں فرق ہے ……… اور  یہی فرق میری اور  منٹو کی کہانیوں میں ہے۔ جہاں تک کرشن چندر کے افسانوں کا سوال ہے، بنیادی طور پر وہ بھی رومانی افسانہ نگار تھے۔ اس حوالے سے ہو سکتا ہے کہ محبت کے جذبے یکساں طور پر کہیں اثر پذیر ہو گئے ہوں ! لیکن سچ بات یہ ہے کہ جب میں نے پہلے ہندی اور  پھر اردو میں کہانی لکھنا شروع کی تب تک کرشن چندر کو پڑھا نہیں تھا اور  جب پڑھا تو مجھے ایسا قطعی محسوس نہیں ہو ا کہ میں کرشن چندر کے نقش قدم پر چل رہا ہوں۔ میں کیول دھیر ہوں اور  کیول دھیر کی اپنی انفرادیت ہے۔

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ کی اب تک کم و بیش ساٹھ تصنیفات منظر عام پر آ چکی ہیں جس کے باعث آپ کے ناقدین آپ کی بسیار نویسی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے آپ کی تخلیقات کے معیار کو ابہام کی نظروں سے دیکھتے ہیں؟

٭٭   مجھ پر بسیار نویسی کا الزام درست نہیں ہے۔ میری کم و بیش ساٹھ کتابیں ضرور شائع ہوئی ہیں لیکن اس اعداد و شمار میں میری کتابوں کے تراجم بھی شامل ہیں جو اردو سے ہندی، پنجابی یا انگریزی زبانوں میں شائع ہوئے ہیں۔ صحت عامہ، طب، نفسیات اور  جنسیات وغیرہ موضوعات پر شائع ہوئی کتابیں تکنیکی نوعیت کی ہیں جن کے معیار کو ابہام کی نظروں سے دیکھے جانے کا سوال ہی نہیں ہے۔

            گذشتہ دنوں انگریزی زبان کی ایک کتابSeven Types of Obsecurity یعنی ’’ابہام کی سات قسمیں ‘‘ میرے مطالعے میں آئی ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہر نقاد اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرے تا کہ اس پر کم از کم یہ واضح تو ہو سکے کہ وہ کسی بھی قلمکار کی تخلیق کو معیاری طور پر کس قسم کے ابہام کی نظر سے دیکھ رہا ہے ! میرے ناقدین کی میرے ادب کے بارے میں اگر ایسی کوئی رائے ہے تو میری اس وضاحت کے بعد انہیں پھر سے غور کرنا چاہیئے۔

٭       آپ کی تخلیقات بالخصوص کہانیوں میں نفسیاتی پہلو کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ آپ کی یہ نفسیاتی مہارت میڈیکل کی کتابوں کی دین ہے یا زندہ چہروں کو پڑھنے کی عطا؟

٭٭   میرے اس بیان سے امید ہے آپ بھی اتفاق کریں گے کہ آج کی کہانی کا کردار منشی پریم چند اور  یلدرم کے زمانے کی کہانی کے کرداروں سے بہت مختلف ہے۔ معاشرہ اپنی الجھنوں کے ساتھ تب بھی بیمار تھا لیکن تب کی الجھنیں سیدھی اور  سادہ تھیں جب کہ آج کا معاشرہ زیادہ مسائل اور  الجھنوں کے ساتھ زیادہ بیمار ہے اور  یہ الجھنیں و مسائل پیچیدہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے نفسیاتی پہلوؤں کی اہمیت بھی زیادہ ہے۔ ایک ماہر ادبی اور  طبی معالج وہ ہو سکتا ہے جو چہروں کو پڑھ کر مرض کی تشخیص کرے۔ میڈیکل کی کتابیں تو صرف معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ نفسیات ویسے بھی میرا پسندیدہ موضوع ہے اور  نفسیاتی علم زندہ چہروں کو پڑھنے کی عطا ہی نہیں دیتا بلکہ انسان کے اندر جھانک کر اس کی دھڑکنوں کو محسوس کرنے کی اہلیت بھی بخشتا ہے۔

٭       ابتدا میں آپ ترقی پسندی کی جانب خاصے مائل تھے پھر آہستہ آہستہ اس سے تائب ہوتے گئے اس بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

٭٭   میرا نظریۂ یہ ہے کہ ہر تخلیق کار ہمیشہ ہی ترقی پسند ہوتا ہے۔ لیبل چسپاں کرنے سے کوئی ترقی پسند نہیں ہو جاتا۔ جو قلمکار حقیقت نگار ہے وہ یقیناً ترقی پسند ہے۔ جب ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تو اس وقت کے حالات کی حقیقت اس تحریک کی جنم داتا بنی۔ ترقی پسند تحریک سے قبل بھی منشی پریم چند افسانے اور  ناول لکھ رہے تھے اور  اُن کی تخلیقات میں حقیقت نگاری موجود تھی۔ اس تحریک میں غیر معمولی دلچسپی لینے پر بھی وہ حقیقت نگاری کو جگہ دیتے رہے۔ کرشن چندر رومانی افسانہ نگار ہونے کے باوجود ترقی پسند اور  حقیقت نگاری کو جگہ دیتے رہے۔ کرشن چندر رومانی افسانہ نگار ہونے کے باوجود ترقی پسند اور  حقیقت نگار تھے۔ رسواؔ کا ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ اور  رتن ناتھ سرشارؔ کا ’’فسانۂ آزاد‘‘ حقیقت نگاری کی مثالیں ہیں۔ اس تحریک کے کمزور ہونے کے بعد جدیدیت کی تحریک نے سر اٹھایا جو جلد ہی ختم ہو گئی اور  اس کے بعد روایتی کہانی پھر سے مقبول ہوئی جو حقیقت نگاری پر مبنی تھی اور  آج بھی ہے۔ غرضیکہ حقیقت نگاری پہلے بھی زندہ تھی اور  آج بھی زندہ ہے۔

            ابتدا میں بھی میں حقیقت نگار تھا، ادبی سفر کے دوران بھی میں حقیقت نگار رہا ہوں اور  آج بھی اپنے سماجی ماحول اور  مسائل کی حقیقت پسندانہ عکاسی کرنے کی میں کوشش کرتا ہوں۔ اس لحاظ سے میں صحیح معنوں میں اور  ہمیشہ سے ہی ترقی پسند ہوں۔ میں کسی ادبی گروہ بندی میں شریک نہیں ہوں اور  نہ ہی کسی خاص ادبی نظریئے یا منصوبے کا قائل ہوں۔ یہی میرا ادبی نقطۂ نظر ہے۔

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ مشرقی تہذیب و ثقافت کے بڑے شیدائی ہیں۔ ذاتی طور پر ہم بھی آپ کے مقلدوں میں شمار ہوتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ مشرقی تہذیب و ثقافت کی بنیاد روایت پر مبنی ہے۔ جس کے سبب اس میں جمود کی کیفیت پائی جاتی ہے جب کہ مغربی نظام میں جدید علوم اور  تحقیق کے ساتھ تجربات سے سیکھنے کا عمل بہت نمایاں ہے۔ یہ انمل اور  بے جوڑ تقابل کب تک جاری رہ سکتا ہے؟

٭٭   مشرقی تہذیب اور  ثقافت کی بڑی خوبیاں ہیں اور  یہ خوبیاں اس کی اپنی ہیں۔ بلاشبہ ہم اس کے شیدائی ہیں۔ مشرقی تہذیب و ثقافت کی بنیاد روایت پر مبنی اس لئے ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل، گہرا اور  مضبوط ہے اور  اتہاس بہت قدیم ہے۔ یہی اسباب روایت کو جنم دیتے ہیں۔ یہ روایت جب زندگی کا اٹوٹ حصہ بن جاتی ہے تو اسے زندگی سے الگ کرنا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔ میں اس بات کو پوری طرح سے تسلیم نہیں کرتا کہ اس سے جمود کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ اس پر کسی طرح کی تبدیلی کا اثر بہت دھیما ہوتا ہے لیکن تبدیلیاں ہوتی ضرور ہیں۔ اگر ہم سو پچاس سال پیچھے مُڑ کر دیکھیں اور  تہذیب و ثقافت کے نقطۂ نظر سے آج کے دور کی زندگی کے کسی بھی شعبے پر نظر ڈالیں تو رونما ہوئے فرق کو نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ مغربی تہذیب و ثقافت کے بارے میں جہاں تک میرا علم اور  مشاہدہ ہے اس کے مطابق اس تہذیب کی جڑیں گہری نہیں ہیں اور  نہ ہی یہ کسی روایت کو جنم دے سکی ہے اس لئے اس میں سچیلا پن بہت ہے۔ وہاں زندگی کے ہر شعبے میں بہت تیزی سے تبدیلی ہوتی ہے اور  سماج اتنی ہی تیزی سے اس کا اثر بھی قبول کرتا ہے۔ مغربی نظام میں جدید علوم اور  تحقیق کے ساتھ تجربات سے سیکھنے کا عمل ان ممالک کے ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔ مشرقی ممالک ابھی ترقی پذیر ہیں اس لئے کسی بھی طرح سے دونوں میں مقابلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

٭        انگریزی یا دنیا کی دیگر ترقی یافتہ زبانوں کے ادب سے اردو کا موازنہ تو ناواجب ہے۔ آپ ہندوستان کی دیگر زبانوں مثلاً ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل، گجراتی، پنجابی، سندھی، بھوج وغیرہ سے اردو زبان و ادب کا تقابل کس طرح کریں گے؟

٭٭   جس طرح انگریزی زبان و ادب کا کینوس بہت وسیع ہے اور  اس سے ہم اردو زبان و ادب کا مقابلہ نہیں کر سکتے اسی طرح ہر زبان و ادب کا اپنا کینوس ہے اس لئے ہم ان کا بھی آپس میں مقابلہ یا موازنہ نہیں کر سکتے۔ جن زبانوں کا ذکر آپ نے کیا ہے، کسی حد تک ہندی کو چھوڑ کر، یہ تمام علاقائی زبانیں ہیں اور  ان کا اپنا ادب، اپنا لہجہ اور  اپنی تاریخ ہے۔ ہر زبان پر علاقائی پراکرتوں کا اثر ہے، اپنی محدود تہذیب اور  ثقافت کا اثر بھی ہے۔ ہم بنگالی اور  پنجابی کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیوں کہ ان دونوں کی عمر،تاریخ اور  علاقائی پراکرتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ اسی طرح ہم کسی دوسری زبان و ادب کا مقابلہ کسی اور  سے نہیں کر سکتے۔ اردو کا کینوس مقابلتاً زیادہ وسیع ہے۔ اس کی جڑیں علاقائی پراکرتوں میں دور دور تک اور  زیادہ گہرائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس میں بین لسانی رابطے اور  جمالیاتی اظہار کی صلاحیت دیگر متذکرہ بالا زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسازگار حالات میں بھی اردو زبان ہندوستان میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ مقبول بھی ہے۔

٭       ایک اور  بھی کٹھن مرحلہ ہے کہ انڈو پاک میں تخلیق کئے جانے والے ادب کا موازنہ کیا نتائج سامنے لاتا ہے اور  کون کون سے شعبے کس قسم کی اصلاح کے طالب ہیں؟

٭٭   میرے خیال میں ہندوستان اور  پاکستان میں تخلیق کئے جانے والے ادب کا موازنہ کرنے کی گنجائش کم ہی ہے۔ نصف صدی پہلے تک ملک ایک تھا، سماج ایک تھا، سماجی حالات بھی ایک تھے اور  تمام تر مسائل بھی ایک تھے۔ اس سب کے علاوہ ہماری مشترکہ تہذیب اور  ثقافت بھی ایک تھی۔ تب اور  اب میں جغرافیائی اور  سیاسی حالات میں فرق پڑا ہے اور  میرے نزدیک اس فرق کا اثر ادب پر کوئی خاص پڑنا نہیں چاہیئے۔ ان پانچ دہائیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اثر دونوں طرف ہوا ہے۔ ان تبدیلیوں سے اثر انداز ہونے والا ادب ادھر اور  اُدھر دونوں طرف ویسا ہی تخلیق ہو رہا ہے۔ سیاسی نظام کو چھوڑ کر باقی تمام تبدیلیاں لگ بھگ ایک جیسی ہیں اس لئے میرے نزدیک دونوں ملکوں میں ادب کی تخلیق ایک سی ہی ہو رہی ہے۔

            ادب کی رفتار کو سامنے رکھ کر اگر ہم غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں اردو زبان میں ادبی جرائد اور  رسالے شائع ہو رہے ہیں اور  اردو زبان میں ادب تخلیق کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ پاکستان میں ہے۔ اپنی محدود جانکاری کے مطابق میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ناول اور  ڈرامہ نسبتاً زیادہ تخلیق ہو رہا ہے۔ دیگر شعبوں میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے۔

            اصلاح کہیں یا ضرورت، اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ مشترکہ زبان و ادب کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔ تبھی ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ دونوں ممالک کے درمیان ادب کا موازنہ کر سکیں۔ یہاں کی کتابیں اور  رسالے ادھر نہیں جاتے اور  اُدھر کے رسالے اور  کتابیں ادھر دستیاب نہیں ہوتیں۔ بہت ہی محدود ذرائع سے جتنی کتابیں اور  رسالے اِدھر اُدھر آتے جاتے ہیں، ادب کا موازنہ کرنے اور  ممکن اصلاح تجویز کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔

            گلزار بھائی! سوال جواب کے اس سلسلے کے ذریعے اپنی بات کا جو موقع آپ نے مجھے فراہم کیا ہے اس کے لئے میں آپ کا احسان مند ہوں اور  کہنا چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان ادب کے اس رشتے کو استوار کیجئے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو آپس میں بھائی چارے، امن اور  مفاہمت کے وسیع تر ماحول کو جنم دے گا اور  اس سے بہت سے مسائل کا حل بھی نکلے گا۔

٭       یہ بات تو ظاہر ہے کہ کمل اور  احمد دوSymbolic کردار ہیں جو انڈو پاک کے عوام کی نمائندگی کے امین ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دونوں جانب کے قلمکاروں نے باہمی محبتوں کو پروان چڑھانے اور  تعصبات کی بیخ کنی میں اپنا کردار صحیح طور پر ادا کیا ہے۔ گر نہیں تو کہاں کہاں اور  کس کس شکل میں خامیاں سرزد ہوئیں اور  ان کا سدباب کس طرح ممکن ہے؟

٭٭   ایک قلمکار صحیح معنوں میں بہت ایماندار، بہت مخلص اور  بہت ہی نیک انسان ہوتا ہے۔ اپنے ان اوصاف کے باعث وہ ہمیشہ نیکیاں اور  محبتیں ہی بانٹتا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ دونوں ملکوں کے قلمکاروں نے باہمی محبتوں کو پروان چڑھانے اور  تعصبات کی بیخ کنی میں اپنا کردار صحیح طور پر ادا کیا ہے۔ بعض قلمکار (جن کی تعداد بہت کم ہے) ایسے ہو سکتے ہیں جو کسی بھی طرح کے ذاتی یا سیاسی مفاد کی خاطر نفرتوں کو جنم دیتے ہیں ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے۔ محبت کرنے اور  محبت چاہنے والے قلمکاروں کو مزید توانائی، ہمت، حوصلے اور  صدق دلی کے ساتھ ان جذبوں کو تقویت دینی چاہئے جو دونوں ممالک کے درمیان امن، دوستی اور  بھائی چارے کا ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے اور  یہی انسانیت کی ضرورت بھی ہے۔

٭       ڈاکٹر صاحب! کسی زمانے میں آپ کے حوالے سے اس قسم کا تاثر نمایاں ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی روابط اور  بھائی چارے کی فضا کی ناہمواری کے ذمہ وار ہم یعنی پاکستانی ہیں۔ آپ بلا جھجک ہماری لغزشوں کی نشاندہی فرمائیے مگر ساتھ ہی ساتھ آئینے کا رُخ اپنی جانب بھی کیجئے اور  پھر مسائل کی نشاندہی فرمائیے تو اس کے مثبت نتائج یقیناً برآمد ہوں گے؟

٭٭   آپ کا سوال میرے لئے ایک اداس سی خبر ہے کہ کسی زمانے میں میرے حوالے سے یہ تاثر نمایاں ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی روابط اور  بھائی چارے کی فضا کی ناہمواری کے لئے پاکستان یا پاکستان کے لوگ ذمہ وار ہیں۔ کہنا تو درکنار، میں نے ایسا کبھی سوچا نہیں۔ میں ہمیشہ سے یہ محسوس کرتا آیا ہوں کہ اس کی وجہ سیاست اور  صرف سیاست ہے اور  آج بھی میرا احساس یہی ہے ورنہ دونوں اطراف کے عوام میں محبت کی تڑپ موجود ہے اور  یہ تڑپ جب تک زندہ رہے گی تب تک دوستی اور  بھائی چارے کی خواہش بھی زندہ رہے گی۔

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ تخلیق کے ساتھ فلاحی خدمت کا بھی شاندار ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ راجہ مہدی علی خاں، نریش کمار شاد اور  اسی نوع کے دیگر واقعات سے ہمیں آگاہ کریں تا کہ ان واقعات سے مہمیز پا کر اردو ادب میں کوئی اور  کیول دھیر نمایاں ہو کر سامنے آ سکے؟

٭٭   فلاحی خدمت ہر انسان کا فریضہ ہونا چاہیئے لیکن اس کا تذکرہ ضروری نہیں ہے۔ اردو اور  ہندی کے مشہور ادیب جناب پرکاش پنڈت نے اپنے مضمون میں راجہ مہدی علی خاں اور  نریش کمار شاد کے تعلق سے میرا ذکر کیا تھا۔ اس مضمون کے وہ حصے یہاں پیش کر رہا ہوں ……..

’’……. راجہ مہدی علی خاں ایک مقبول ادبی اور  فلمی شاعر تھے۔ فلموں کے لئے انہوں نے بہت سے سنجیدہ نغمے لکھے۔ بعض لوگوں نے انہیں ’’غزل کا بادشاہ‘‘ کہا۔ ادب کو پرکھنے والوں نے انہیں اردو شاعری میں طنزو مزاح کا بہت بڑا شاعر قرار دیا۔ ایک پوری زندگی انہوں نے فلم کو دے دی لیکن جب ان کی موت ہوئی تو ان کے بینک کی کتاب میں ایک صد روپے بھی نہ تھے۔ کیول دھیر نے کمان سنبھالی۔ سب سے پہلے اس نے ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کے مدیر جناب خوشتر گرامی کو رضامند کیا اور  پھر ’’بیسویں صدی‘‘ میں برابر لکھنے والے افسانہ نگاروں سے رابطہ قائم کیا۔ ایک ٹیم بن گئی۔ طے ہوا کہ ’’بیسویں صدی‘‘ افسانے کے لئے معاوضے کی جتنی رقم افسانہ نگار کو دیتا ہے اتنی ہی رقم وہ اپنی طرف سے ملا کر صفیہ (اہلیہ راجہ مہدی علی خاں) کو بھیجے گا۔ اس طرح ہر ماہ ایک معقول رقم صفیہ کو ملتی رہے گی۔ یہ سلسلہ ڈیڑھ دو برس جاری رہا اور  کیول دھیر کی بدولت کئی افسانہ نگار دوستوں کے تعاون سے صفیہ کی مالی مدد ممکن ہو سکی …… بات یہیں ختم نہیں ہو گئی۔ کیول دھیر نے بمبئی جا کر مرحوم راجہ مہدی علی خاں کے نزدیکی دوستوں سے رابطہ قائم کیا جن میں کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، مہندر ناتھ، اعجاز صدیقی، تیج ناتھ زار، سنیل دت وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ بعد ازاں ان میں سے بعض دوست مل کر ہمراہ خوشتر گرامی صدر جمہوریۂ ہند، جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ جناب شیخ عبداللہ وغیرہ سے ملے اور  ایک معقول رقم سرکار سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس سے بمبئی میں وہ مکان خریدا گیا جس میں مرحوم راجہ مہدی علی خاں کی اہلیہ صفیہ سلطانہ رہائش پذیر ہیں اور  جس کے در و دیوار کے ساتھ محبت کے رشتے پنہا ں ہیں۔‘‘

اپنے اس مضمون میں نریش کمار شاد کے تعلق سے بھی پرکاش پنڈت نے لکھا تھا……..

’’……. کیول دھیر نے شروع شروع میں ہندی زبان میں لکھنا شروع کیا تھا اور  اس کی کہانیوں کی پہلی کتاب ’’دھرتی رو پڑی‘‘ ہندی زبان میں ہی چھپی تھی۔ ہندی کے ادبی جریدوں میں بھی اس کی کہانیاں چھپ رہی تھیں۔ پیشے سے وہ ڈاکٹر تھا۔ ہندی زبان پر اسے عبور حاصل تھا۔ ان دنوں میں بھارت کے ایک مشہور اشاعتی ادارے ’راجپال اینڈ سنز‘ سے وابستہ تھا اور  کتابوں کے انتخاب سے لے کر اشاعت تک بہت سی ذمہ داریاں مجھ پر تھیں۔ کیول دھیر کو میں نے آمادہ کر لیا تھا کہ وہ ہمارے لئے ہندی میں کتابیں لکھے گا۔ شاہدرہ (دہلی) میں واقع راجپال اینڈ سنز کے دفتر میں ہم کتابوں کے موضوعات پر غور کر رہے تھے کہ اچانک نریش کمار شادؔ وہاں آ کیا۔ کیول دھیر اور  نریش کمار شادؔ ایک دوسرے کے نام سے بخوبی واقف تھے لیکن روبرو ملاقات نہیں تھی۔ میں نے متعارف کرایا۔ خستہ حال نریش کمار شادؔ، جس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ہم پریشان ہو گئے۔ اس نے بتایا کہ اس کا اکلوتا بچہ مر گیا ہے۔ کفن دفن تک کے لئے گھر میں پیسے نہیں ہیں۔ اسے مدد درکار تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی کیول دھیر کو ایک کتاب کی ایڈوانس رائلٹی کے لئے چارسو روپے کا چیک ملا تھا جو اس نے مجھے سونپتے ہوئے کہا کہ اسے واپس کر کے کیشیئر سے نقد رقم دلا دو اور  یہ رقم نریش کمار شاد کو دے دو…… کیول دھیر نے شادؔ کو روپے دیئے، بھروسہ دلایا اور  اسے وداع کرنے کے بعد ہم نے چند قریبی دوستوں کو اس غمناک خبر کی اطلاع بھی دی۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جب ہم شاد کے گھر پہنچے تو بچے کو ہنستا کھیلتا پایا۔ میں ندامت محسوس کر رہا تھا کہ نریش کمار شادؔ (جو حد سے زیادہ شراب نوشی کی عادت کی وجہ سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایسی حرکتیں کرنے کا عادی ہو چکا تھا) کو کم از کم کیول دھیر کے ساتھ ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی ……. کیول دھیر ہنس کر کہہ رہا تھا، بعض نفسیاتی امراض لاعلاج ہوتے ہیں۔ شادؔ اسی لاعلاج مرض کا شکار ہے ……. !‘‘

            راجہ مہدی علی خاں کے سلسلے میں ہم ادیب دوستوں نے جو مشترکہ کوشش کی تھی اس کی نوعیت الگ تھی جب کہ نریش کمار شادؔ سے متعلقہ یہ واقع ایک الگ قسم کی بات تھی۔ کیوں کہ یہ واقعات پہلے سے ہی مضمون کی شکل میں چھپ کر لوگوں تک پہنچ چکے ہیں اس لئے ان کو دوبارہ لکھ دیا ہے ورنہ یہ قطعی مناسب نہیں ہے کہ آپ کسی کے لئے کچھ کریں اور  اس کی تشہیر کریں۔

٭       ساحر لدھیانوی کلچرل اکیڈمی کی بابت ہمارے قارئین کو اپنی خدمات اور  مستقبل کے منصوبوں کی بابت آگاہ فرمائیے؟

٭٭   ساحر لدھیانوی کلچرل اکیڈمی (جو ادیب انٹرنیشنل کے نام سے رجسٹرڈ ہے) مکمل طور پر ایک ادبی ادارہ ہے جس کا قیام ۱۹۷۲ء میں ہوا تھا۔ تب چند دوستوں کی طرف سے ایک چھوٹی سی ادبی انجمن قائم کی گئی تھی۔ ۱۹۷۵ء میں پہلی بار اس کی طرف سے کل ہند سطح پر اور  بہت بڑے پیمانے پر ایک مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں جناب علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر اور  صف اول کے درجن بھر دیگر شعرا نے شرکت کی۔ بعد ازاں مشاعرے کا انعقاد بڑے پیمانے پر ہر سال ہونے لگا۔ اکتوبر ۱۹۸۰ء میں ساحر لدھیانوی ہم سے جدا ہو گئے اور  اس کے بعد ماہ مارچ میں ہر سال ساحر لدھیانوی کے یوم ولادت پر ’’جشنِ ساحر‘‘ کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جانے لگا جس کے تحت ادبی سیمینار، موسیقی کے مقابلے، کل ہند مشاعرہ وغیرہ ادبی پروگرام ہوتے ہیں اور  یہ تمام پروگرام ساحر لدھیانوی کے نام سے منسوب ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے خراج عقیدت ہے جو لدھیانہ شہر اپنے عزیز اور  عظیم شاعر ساحرؔ کو پیش کرتا ہے۔ ادب، فن، صحافت اور  ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے لئے اکیڈمی کی طرف سے ہر سال ساحر ایوارڈ اور  ادیب ایوارڈ پیش کئے جاتے ہیں۔ اب تک یہ ایوارڈ پچاس سے زائد شخصیتوں کو پیش کئے جا چکے ہیں جن میں جناب سنیل دت (فلمسٹار)، شبانہ اعظمی، راج ببّر،نادرہ ظہیر ببّر، رامانند ساگر، جاوید اختر، ہرچرن چاولہ، علی سردار جعفری، قتیل شفائی، جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ گذشتہ برس ملینئم ۲۰۰۰ کے موقع پر بطور خاص ادیب ایوارڈ ایسی گیارہ شخصیتوں کو دیئے گئے تھے جو برطانیہ، امریکہ، کینیڈا،جرمنی، ناروے وغیرہ دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ گذشتہ ۲۹ برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ میں بطور جنرل سیکریٹری اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔ میں یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ ادارہ بغیر کسی سرکاری گرانٹ کے چل رہا ہے اور  ابھی تک نہایت کامیابی سے چل رہا ہے۔

            مقامی اور  صوبائی ادیبوں، شاعروں اور  فنکاروں کی بوقتِ ضرورت مالی مدد کرنا بھی اس ادارے کا مقصد ہے۔ اس طرح کی مدد عام لوگوں کے مالی تعاون سے کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر معروف اردو شاعر جناب کرشن ادیب کی زندگی میں ہی ایک خوبصورت گھر کی تعمیر کی گئی جس پر آئی لاکھوں روپے کی لاگت کا ایک بڑا حصہ اس ادارے نے خرچ کیا۔ بیماری، بچوں کی تعلیم اور  شادی جیسے کاموں کے لئے بھی اس کی طرف سے ضرورت مند قلمکاروں اور  فنکاروں کی ہر ممکن مالی مدد کی جاتی ہے۔

            گذشتہ برس سے انگریزی زبان میں ’’دی سگنیچر‘‘ نام سے ایک سالانہ جریدے کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد مشرق اور  مغرب کے درمیان ادبی اور  ثقافتی پل کا کام کر رہے لوگوں اور  ان کے کارناموں کو منظر عام پر لانا اور  ادب کی دنیا کو ادب کی سرگرمیوں سے روشناس کرانا ہے۔ انشا اللہ! مستقبل میں بھی ساحر کلچرل اکیڈمی (ادیب انٹرنیشنل) کی ایسی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ کو قلمی ریاضت کے عوض جتنی پذیرائی ملی کیا آپ اس سے مطمئن ہیں مگر ہم یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ اس پذیرائی میں سرکاری اعزازات کی بہتات کا سبب کیا ہے؟

٭٭   قلمی ریاضت کے عوض مجھے جتنی پذیرائی ملی، میں اس سے بالکل مطمئن ہوں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ پرماتما یا خدا نے شائد مجھے زیادہ عزیز سمجھ کر بہت زیادہ عطا کیا ہے۔ مخلوق اپنے خالق کے کرم کے لئے نہ تو احسانمند ہو سکتی ہے اور  نہ ہی مشکور! میں اپنے خالق کے حضور میں سجدہ کرتا ہوں اور  مزید بہتر تخلیق کی خواہشوں کی تکمیل کے لئے دعا گو ہوں۔

            اس پذیرائی میں سرکاری اعزازات کی بہتات کا سبب میرا ادب اور  صرف میرا ادب ہے ….. کسی شخص یا سرکار کی کرم فرمائی نہیں۔ اس سلسلے میں ایک واقع سُن لیجئے …….. ! مبلغ ایک لاکھ روپے، طلائی تمغے اور  سند پر مشتمل شدومنی اردو ساہیتہ ایوارڈ بھارتی پنجاب سرکار کا سب سے بڑا صوبائی ادبی ایوارڈ ہے جو ہر سال ایک قلمکار کو دیا جاتا ہے۔ طویل کارروائی اور  مشقت کے بعد محکمہ السنۂ پنجاب تین سے پانچ قلمکاروں کا ایک پینل تیار کرتا ہے اور  پندرہ بیس ماہر ممبران کا صلاح کار بورڈ ان میں سے ایک نام کا انتخاب کرتا ہے۔ پہلی بار میرا نام جب پینل میں آیا تو دیگر چند ناموں کے علاوہ اس میں جناب کنور مہیندر سنگھ بیدی سحرؔ کا نام بھی شامل تھا۔ میں نے باقاعدہ تحریری طور پر اپنے نام پر غور نہ کئے جانے کی درخواست کی کیوں کہ بیدی صاحب کے سامنے میرا قد بہت چھوٹا تھا۔ دوسرے برس افسانہ نگار جناب رام لعل کا نام تھا اور  اس کے بعد کے برسوں میں جناب فکر تونسوی، رتن سنگھ اور  جوگیندر پال کے نام تھے اور  ہر سال میں نے اس لئے اپنے نام پر غور نہ کئے جانے کی درخواست کی کیوں کہ یہ تمام لوگ مجھ سے زیادہ اہم اور  مستحق نام تھے اور  جب ۱۹۹۷ء میں مجھے شرومنی ایوارڈ دیا گیا تو پینل بننے سے ایوارڈ کا فیصلہ ہونے تک کے عرصے میں میں برطانیہ اور  امریکہ میں تھا۔ یعنی ملک سے باہر تھا۔

            میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

            میری قلمی ریاضت کا خاص ذریعہ اردو زبان و ادب رہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اردو زبان و ادب کو میں کیا دے سکا لیکن بے حد اطمینان ہے کہ اس زبان و ادب نے مجھے پہچان بخشی، عزت و احترام عطا کیا، نام و مقام دیا اور  شہرت دی۔ اس سے زیادہ کچھ اطمینان بخش اور  کیا ہو سکتا ہے !

٭       برادرِ محترم! آپ عمر عزیز کا حساب شب و روز کے بجائے کارگذاری سے ماپنے کے قائل ہیں۔ اگر آپ کی کارگذاری کے آئینے میں آپ کی عمرِ رفتہ کی بابت آپ کی رائے جاننا چاہیں تو ہمارے سامنے کس قسم کے نتائج ابھریں گے؟

٭٭   اب تک کی اپنی زندگی کا ہر لمحہ میں نے کمایا ہے …… کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ شوق کے تحت، ایمانداری اور  محنت کی اس کمائی پر مجھے بجا طور پر فخر ہے۔

            ڈیڑھ دو سو افسانے، چند ناول، سفرنامے، طب و نفسیات اور  جنسیات کے موضوعات پر تصنیفات، چند دیگر تخلیقات، سات بار آدھی دنیا کا ادبی و ثقافتی سفر، جھولی بھر کر اعزازات و انعامات، چند ہزار کتابوں کے مطالعے سے حاصل علم کا نُور، لاتعداد قارئین اور  میرے میڈیکل پروفیشن میں ہونے کے باعث شفا یاب ہونے والے انسانوں کی محبتیں اور  دعائیں …….. عمرِ عزیز کی کارگذاری کے آئینے کا عکس کچھ ایسا ہو گا …….. لیکن ایسا کوئی بھی نتیجہ تکمیل نہیں ہے۔ کچھ اور  …….. ابھی بہت کچھ اور  لکھنے پڑھنے کی شدید خواہش …… کہ زندگی کم ہے، کام زیادہ!

٭       ڈاکٹر صاحب! آپ نے جس تحمل، رواداری، برداشت اور  ہنر مندی سے ہمارے تلخ اور  تُرش سوالات کے جوابات مرحمت فرمائے اس کے لئے ہم آپ کے ممنونِ احسان ہیں۔ چلتے چلتے ایک آخری زحمت، ہندوستان میں اردو زبان اور  اقلیتوں کے مستقبل کے ساتھ بھارت کے سیکولرازم اور  اس کے خلاف ابھرنے والے شدید ردِّ عمل کے نتیجے میں مستقبل کے نقوش آپ کے خیال میں کیا ہیں؟

٭٭   اس ایک بڑے سوال میں تین چھوٹے سوالوں کو میں اس طرح لیتا ہوں کہ ہندوستان میں اردو کا مستقبل…… اقلیتوں کا مستقبل…… اور  ان کے حوالے سے سیکولرازم کے، مستقبل میں، نقوش کیا ہیں؟ اس سوال میں ذرا سی سیاسی آمیزش ہو گئی ہے جسے میں مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہوں۔ ایک تو سیاست میرا موضوع نہیں ہے، دوسرے سیاست نے ہی دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان نفرتوں کو جنم دینے کی کوشش کی ہے …… تو نفرتوں کی بات ہم کیوں کریں !

            ہندوستان میں اردو زبان کی حالت بہت اچھی نہیں ہے لیکن ایسی بُری بھی نہیں ہے جتنی اس کی، ہندوستان سے باہر، تشہیر ہو رہی ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ اس ملک میں تیس کے قریب زبانیں ہیں اور  ہر طرح فیصد کے لحاظ سے اردو زبان کو زیادہ مقبولیت اور  سہولت حاصل ہے۔ ہندوستان میں ۷۵ یونیورسٹیوں میں پوسٹ گریجوئیٹ سطح پر اردو کی تعلیم کا انتظام ہے اور  ملک کے بیشتر صوبوں میں اردو اکیڈمیاں یا لسانی محکمہ جات قائم ہیں۔ ہندوستان میں نیشنل کونسل برائے فروغ اردو زبان سرکار کی طرف سے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کا کافی بڑا بجٹ ہے اور  عملی طور پر یہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ انجمن ترقی اردو (ہند) کی سینکڑوں شاخیں ملک میں کام کر رہی ہیں۔ سرکاری اور  غیر سرکاری سطح پر کافی تعداد میں اردو رسالوں، کتابوں اور  اخباروں کی اشاعت ہو رہی ہے۔ بنیادی سطح پر اردو میں عوام کی دلچسپی بڑھی ہے اور  اس جانب زیادہ توجہ دی جا سکے اور  عملی طور پر مزید کام ہو سکے تو صورت حال اور  بہتر ہو سکتی ہے۔

            ہندوستان میں اردو کو نقصان پہنچانے والی کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ اسے ’’مسلمانوں کی زبان‘‘ قرار دینا بھی ہے۔ اس بات نے اردو زبان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

            اردو زبان اور  اقلیتوں کے مستقبل کے ساتھ بھارت کے سیکولرازم کا مستقبل بھی شاندار اور  تابناک ہے۔ بھارت کے جمہوری نظام نے اس کے سیکولر کردار کو بہت مضبوط بنایا ہے اور  آنے والے وقتوں میں یہ اور  بھی مضبوط اور  طاقتور ہو گا۔

            آخر میں آپ کے بے حد مشکور ہوں گلزار جاوید بھائی! کہ آپ نے اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ شکریہ!

٭٭٭

 

شبنم شکیل

٭       چونکہ صنف نازک سے تاریخ پیدائش پوچھنا مناسب نہیں فقط جائے پیدائش اور  تعلیم و تربیت کے بارے میں کچھ بتائیے؟

٭٭   میں ’’لاہورن‘‘ ہوں میری تعلیم و تربیت اسی شہر میں ہوئی۔ اورینٹل کالج سے اردو میں ایم۔اے کرنے کے بعد کوئین میری کالج میں پڑھانا شروع کر دیا۔ باقی ماندہ زندگی درس و تدریس میں ہی گزاری۔ شوہر کی ملازمت کی وجہ سے پاکستان کے ہر صوبے میں رہی اور  ہر بڑے کالج میں پڑھایا۔ مگر لاہور سے اپنی وابستگی کو اپنی شخصیت کے حوالے سے بہت اہم جانتی ہوں۔ اسی لئے کہتی ہوں۔

’’لاہور پیچھے رہ گیا ہم با وفا مگر

اس شہرِ بے مثال سے آگے نہیں گئے ‘‘

٭       پہلا شعر کس عمر کس سبب اور  کہاں کہا؟

٭٭   پہلا شعر اٹھارہ برس کی عمر میں کہا۔ ریڈیو پر طلبا کا ایک پروگرام ہوتا تھا ’’یونیورسٹی میگزین‘‘ اسی میں پڑھا کہا بھی ریڈیو والوں کے کہنے پر۔ ویسے مجھے معلوم تھا یہ پہلے سے ہی کہ میں شاعر ہوں مگر میں شاعری نہیں کرنا چاہتی تھی اس کی کچھ وجوہات تھیں انہیں بتانے کا یہ موقعہ نہیں ہے کیونکہ پھر بہت تفصیل میں جانا پڑے گا۔

٭       شاعری عطیہ خداوندی ہے یا والد مرحوم کا فیض؟

٭٭   میں تو سمجھتی ہوں کہ ہر شے عطیہ خداوندی ہے۔ اگر عابد صاحب کی بیٹی ہونے کی وجہ سے مجھ میں بھی شاعری در آئی تو یہ بھی قدرت کی طرف سے تھا۔ ورنہ ہم سات بہن بھائی تھے وہ سب کے سب شاعر ہوتے۔ البتہ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ گھر کا ماحول شاعری کے لئے بہت ساز گار تھا۔

٭       والد مرحوم کے علاوہ کن شعرا سے کسب فیض کیا کسی کو باقاعدہ استاد مانتی ہیں؟

٭٭   ابتدا میں عابد صاحب کبھی کبھار میرے شعروں کی اصلاح کیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد تقریباً تمام ادبی مشاغل سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اس لئے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ جب دوبارہ شاعری کی طرف رجوع کیا تو احمد ندیم قاسمی صاحب نے میری رہنمائی کی۔ اب بھی کرتے ہیں۔ اپنے نئے مجموعہ کلام ’’اضطراب‘‘ کا مسودہ سنگ میل والوں کو اشاعت کے لئے دینے سے پہلے ان کو دیا تھا تا کہ وہ ایک نظر اسے دیکھ لیں۔

            جناب ضمیر جعفری صاحب سے بھی مشورہ کرتی رہتی ہوں۔ ان کی بھی شکر گزار ہوں۔

٭       کیا آپ جز وقتی اور  کل وقتی شاعری پر یقین رکھتی ہیں؟ آپ کا شمار کس صف میں ہوتا ہے؟

٭٭   جز وقتی اور  کل وقتی شاعری کی اصطلاح بھی خوب ہے۔ زندگی محض شاعری تو نہیں۔ بہرحال جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے جز وقتی والوں میں شامل کریں۔ میں نے تمام زندگی ملازمت بھی کی گھریلو ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ اپنا حال تو یہ ہے۔

’’میرے پاس تو اپنے لئے بھی اکثر کوئی وقت نہ تھا       ہاں جو فراغت کے لمحے تھے تیری یاد کے نام رہے ‘‘

٭       شعر کہنے کے لئے کس قسم کی فضا اور  ماحول کی ضرورت محسوس کرتی ہیں؟

٭٭   شاعری میں ظاہر کی فضا اور  ماحول سے زیادہ ذہنی فضا کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس کے لئے اپنے ذہن کو Conditioned کرنا پڑتا ہے۔ جہاں یہ گرفت کمزور پڑی وہیں شاعری بھی ناراض ہوئی۔ شاعری بلا کی حاسد چیز ہے۔ اب آپ خارجی ماحول اور  فضا کا جواب بھی ضرور مانگتے ہیں تو سنیئے اس کے لئے مجھے ایک ’’لاتعلقی‘‘ کی فضا چاہیئے۔ خواہ وقتی طور پر سہی۔ شاعری کے موڈ میں میں انسانوں کے درمیان رہ کر ان سے دور رہنا چاہتی ہوں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے تمام فنکار خوب سمجھتے ہیں۔ زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں۔

٭       کیا آپ زنانہ اور  مردانہ شاعری پر یقین رکھتی ہیں؟

٭٭   جی نہیں میں اس کی قائل نہیں۔ یہ بحث ویسے بھی بہت پرانی ہو چکی ہے۔ عورت اور  مرد پہلے تو انسان ہیں میں دونوں کو اسی تناظر میں دیکھتی ہوں۔ میری اپنی شاعری بھی ایک ’’فرد‘‘ کی شاعری ہے۔ میری خواہش ہے کہ عورتوں کو بھی انسان سمجھا جائے۔ عورت مرد کا لیبل لگانے سے پہلے۔

٭       کس صنف میں طبع آزمائی کر کے تسکین حاصل ہوتی ہے؟

٭٭   پوری طرح سے تسکین ہوتی ہی نہیں لکھنے والے کی اسی لئے  لکھتا رہتا ہے۔ میں صرف شاعری ہی نہیں کرتی بلکہ افسانے  بھی لکھ رہی ہوں مضامین بھی لکھتی رہتی ہوں۔ شاعری میں بھی کسی ایک صنف سخن تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پس جو خیال ذہن کو گرفت میں لے  لیتا ہے  وہ اپنی شکل بھی خود ہی متعین کر لیتا ہے۔

٭       اردو شاعر ی میں ہونے  والے  تجربات سے  آپ کو اتفاق ہے  یا اختلاف؟

٭٭   نئے  تجربات تو ہر شعبے  ہی میں خوش آئند امر ہیں۔ شاعری اس سے  مستثنیٰ کیسے  رہ سکتی ہے۔ وقت کی بھٹی میں چڑھنے  کے  بعد کھرا کھوٹا خود ہی ثابت ہو جاتا ہے  البتہ نئے  تجربات کو پرانے  تجربات کی روشنی میں پرکھنے  کا عمل بہت ضروری ہے۔ روایت کا مکمل شعور اور  آگاہی بنیادی شرط ہے۔ اس سے  طاقت اخذ کئے  بغیر نئے  تجربے  کی سالمیت مشکوک ہو جاتی ہے۔

٭       آپ کی شاعری شرم و حجاب، تحمل اور  وضع کی شاعری ہے  ایک تو یہ فرمائیے  آپ کا یہ محبت بھرا آہنگ کس کی دین ہے۔ اور  کیا آپ نے  دانستہ اور  شعوری طور پر اپنے  لہجے  کو ’’بے  باک‘‘ ہونے  سے  بچایا ہے  جب کہ ہمارے  ہاں کچھ ممتاز شاعرات کو مقبولیت بخشنے  میں اس ’’کھُلے  ڈُلے ‘‘ لہجے  نے  خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔

٭٭   ہر انسان کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے  میں بنیادی طور پر بہت دھیمے  مزاج کی عورت ہوں۔ میں نے  زندگی بھر اپنے  آپ کو Assert نہیں کیا بہر حال اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ میری پرورش ایک بہت مہذب اور  شائستہ گھرانے  میں ہوئی۔ میرے  والد اور  والدہ بچوں کی تربیت کے  حوالے  سے  Old School of Thought سے  تعلق رکھتے  تھے۔ بہت رعب تھا دونوں کا گھر میں۔ ان کے  سامنے  بات کرنے  سے  پہلے  سوچنا پڑتا تھا۔ میری والدہ نے  خاصے  مشکل حالات میں زندگی بسر کی کیونکہ (ہم لوگ بہت چھوٹے  چھوٹے  تھے  جب میرے  آغا جی (والد) نے  دوسری شادی کر لی سو میری والدہ نے  جیسے  صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اس کی تلقین ساری زندگی ہم لوگوں کو بھی کرتی رہیں۔ میرے  دو شعروں سے  میری اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔

’’بچپن سے  سب سہنے  کی

عادت ماں نے  ڈالی تھی

کنکر تھے  کچھ ہنڈیا میں

اور اک بچوں والی تھی

اب جہاں تک سوال کے  دوسرے  حصے  کا تعلق ہے  تو ایسا ہے  کہ میرا لہجہ میرے  مزاج کی نمائندگی کرتا ہے  ویسے  بھی میں شاعری میں اپنے  ’’عورت پن‘‘ کو Exploit کرنے  کے  حق میں نہیں ہوں۔ میرے  ہاں آپ کو ’’عورت‘‘ اور  ’’فرد‘‘ کے  حوالے  سے  بات ہوتی نظر آئے  گی۔ اس کے  باوجود میں نے  صداقت کے  اظہار کے  معاملے  میں کوئی سمجھوتہ روا نہیں رکھا۔ جیسا کہ افتخار عارف نے  میرے  لیے  لکھا ہے  ’’بات کرنے  کا مہذب اسلوب واردات، فکر، جذبے  اور  خیال کے  اصلاً باغیانہ اور  سرکش ہونے  کے  باوجود کہیں بھی اپنے  اظہار میں اس تہذیبی شائستگی کا دامن نہیں چھوٹتا جو شبنم کی تخلیقی شخصیت کا جوہر خاص ہے ‘‘ مطلب یہ کہ بات تو سچی کرتی ہوں مگر ذرا رکھ رکھاؤ کے  ساتھ۔ اب رہا دوسری ممتاز شاعرات کا سوال کہ جنہیں مقبولیت حاصل ہے  تو عرض یہ ہے  کہ انہیں بھی مقبولیت محض کھُلے  ڈُلے  لہجے  سے  نہیں ملی بلکہ اس کا سبب ان کی شاعرانہ صلاحیت ہے۔

٭       پروین شاکر مرحومہ نے  ایک مضمون میں آپ پر اردو شاعرات کی فہرست کو ختم کر دیا تھا، کیا آپ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ آپ کے  بعد صنف نازک میں اچھا شعر کہنے  والی کوئی شاعرہ نہیں۔

٭٭   یہ پروین شاکر (جسے  مرحومہ نہیں کہوں گی) کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ ورنہ میرے  بعد آنے  والی شاعرات میں سے  چھ سات ضرور ایسی ہیں کہ جو بہت اچھا شعر کہہ رہی ہیں۔ پروین نے  ان کا تذکرہ بھی کیا تھا ضمناً۔ میں اس وقت نام نہیں گنوانا چاہتی ایسا نہ ہو کہ کوئی نام رہ جائے  اور  مجھے  افسوس ہو دراصل ہماری بہت سی نئی شاعرات تو پروین شاکر کے  حصار میں بند ہو کر رہ گئیں۔ اس کے  سٹائل کو اپنانے  کے  شوق میں اپنی انفرادیت ہی قائم نہ رکھ سکیں بس وہی شاعرہ کامیاب ہوئی کہ جس نے  اپنا الگ راستہ نکالا۔

٭       آپ افسانہ بھی لکھتی ہیں اور  خوب لکھتی ہیں۔ ’’چہارسو‘‘کو بھی آپ کے  چند اچھے  افسانے  چھاپنے  کا اعزاز حاصل ہے۔ شعروسخن کے  درمیان افسانوی سلسلہ کیونکر در آیا۔

٭٭   یہ ایک قسم کا فرض تھا جسے  اتارنا ضروری خیال کیا۔ ایسا ہے  کہ میری زندگی تجربات اور  مشاہدات کے  حوالے  سے  خاصی Rich رہی ہے۔

            زمانے  کو سمجھنے  کا موقعہ مجھے  بہت ملا ہے۔ میں ہر طبقے  اور  ہر مزاج کے  لوگوں سے  ملتی رہی ہوں۔ ایک لطف کی بات یہ بھی ہے  کہ اکثر لوگ میرے  ساتھ اپنے  دل کی بات کر دیتے  ہیں۔ وجہ یہ ہے  کہ میں نے  آج تک کسی شخص کے  کسی قسم کے  ’’اعتراف‘‘ پر حیرانی کا اظہار نہیں کیا۔ بہت مزے  سے  سنتی ہوں سب باتیں۔ اس چیز نے  مجھ پر انسانی نفسیات کے  کیسے  کیسے  پہلو آشکار کئے  ہیں آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔

            بس اسی بات نے  مجھے  افسانہ لکھنے  پر اکسایا۔ نثر تو لکھتی ہی رہتی تھی۔ مضامین کی شکل میں اس لیے  کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ ویسے  بھی اگر نثرنگار برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ شاعر اکثر اچھی نثر لکھ لیتے  ہیں۔ بہرحال پہلے  دوافسانے  ’’ایک سیارے  کے  لوگ‘‘ اور  ’’لال دیدی‘‘ ’’افکار‘‘ کراچی میں چھپے  تو بہت پسند کئے  گئے۔ سال کے  آخر میں افکار کی جو فائل مرتب ہوئی تو انہیں سال کے  بہترین افسانے  گردانا گیا۔ ’’لال دیدی‘‘ کے  تراجم کے  لیے  مجھے  بہت سے  لوگوں نے  لکھا۔ اب تک اس کا ترجمہ بنگالی، ہندی،پشتو وغیرہ میں ہو چکا ہے۔ ان باتوں نے  حوصلہ دیا اور  میں نے  کچھ اور  کہانیاں بھی لکھیں۔جو ادھر اُدھر شائع ہوئیں اور  پسند کی گئیں میرے  خیال میں میری کہانیوں کو اس لیے  پسند کیا گیا کہ یہ سب ’’سچ ‘‘ تھیں۔ بس اس سونے  کو کوئی شکل دینے  کے  لیے  میں نے  ذرا سے  پیتل کی آمیزش کی تھی۔

٭       سنا ہے  آغا جی مرحوم آپ کے  سب سے  بڑے  ناقد تھے  اس کے  بعد دیگر ناقدین کی تنقید کا سامنا بھی رہا ہو گا۔ آپ کی فنی پختگی میں کس کا رول اہم ہے؟

٭٭   میر ی شاعری پر آغا جی کی ڈانٹ بھی ایک بہت Positive رول ادا کر رہی تھی زبان کے  معاملے  میں وہ بہت سخت گیر تھے۔ فوراً غلطی پکڑ لیتے۔ اپنے  شاگردوں کے  ساتھ بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ مگر اچھے  شعر پر حوصلہ افزائی بھی کرتے  تھے۔ چنانچہ میرے  ساتھ سب ان کی بات سنجیدگی سے  سنتے  تھے  دوسرے  ناقدین کے  حوالے  سے  یہی کہہ سکتی ہوں کہ جس نے  کسی قسم کے  ذہنی تعصب سے  بالاتر ہو کر لکھا میں نے  اسے  بہت اہم جانا اور  میری شاعری میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی میں نے  سنجیدگی سے  ان پر توجہ دی۔ میں ان کی شکر گزار ہوں۔

٭       اس حوالے  سے  ایک واقعہ ہم نے  سنا ہے  کہ آپ کے  دوسرے  شعری مجموعہ ’’اضطراب‘‘ کی ایک غیر رسمی تقریب لاہور میں ہوئی تھی۔ کافی لے  دے  ہوئی۔ وہاں موجود کچھ ادیبوں نے  کہا کہ ’’آپ اپنی شاعری میں ایک مظلوم عورت کی تصویر پیش کرتی ہیں جب کہ یہ آپ کا ذاتی تجربہ ہرگز نہیں ہے  اور  آپ کو کسی ذاتی تجربہ کے  بغیر کوئی بات نہیں لکھنی چاہیئے۔‘‘ اس پر کچھ اظہار خیال فرمائیے۔

٭٭   اس کا جواب کئی دفعہ دے  چکی ہوں اخباروں کے  انٹرویوز وغیرہ میں خیر پھر سہی۔ ایسا ہے  کہ میرے  خیال میں لکھنے  والے  کے  لئے  کسی بات کو محسوس کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔ مثلاً میں نے  ایک ایسے  بچے  کی کہانی لکھی ہے  جو کوڑے  کے  ڈرم سے  رزق تلاش کرتا ہے۔ (یہ آپ کے  رسالے  میں شائع ہوئی) اب ظاہر ہے  کہ یہ میرا ذاتی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے  ایک طوائف کی کہانی لکھی کہ جو بڑھاپے  میں اپنی اولاد کے  ہاتھوں تکلیف اٹھا رہی ہے  اس کہانی کا نام ’’سومنات‘‘ تھا یہ ’’مستقبل‘‘ میں شائع ہوئی۔ یہ بھی میرا ذاتی تجربہ نہیں۔

            شدت احساس موجود ہو تو دوسروں پر گزری ہوئی بھی لکھنے  والے  کے  لہو میں گردش کرنے  لگتی ہے۔ شاعری کا معاملہ یہ ہے  کہ میں اکثر واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتی ہوں۔ اب محض اس بنیاد پر اسے  بھی میری ذاتی واردات خیال کرنا ٹھیک نہیں۔

             مثلاً میں اگر کہتی ہوں۔

آدھی ریت سے  باہر ہوں میں

آدھی ریت میں گڑی ہوئی ہوں میں

بزرگوں پر تھا میرے  قرض کوئی

سو میں بیگار بھرتی جا رہی ہوں

            تو یہ اشعار تیسری دنیا کی تمام خواتین کی نمائندگی کرتے  ہیں۔ اسی طرح سے  میری بہت سی نظمیں ہیں جیسے  ’’ورثہ‘‘ ’’ایک دفعہ کا ذکر ہے ‘‘ ’’عدل دیریاب‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب میں عورت کے  "Status” کی بات کی گئی ہے  خاص طور پر مردوں کے  معاشرے  میں۔ لکھنے  والے  کے  ہاں تجربے  اور  مشاہدے  کے  درمیان حد مقرر کرنے  کے  لئے  کوئی لکیر نہیں ہوتی بہرحال بات یہ کرنا چاہتی ہوں کہ ’’ذاتی تجربہ ‘‘نہ ہونے  کا الزام عائد کرنا بالکل بے  کار سی بحث میں الجھنا ہے۔ دیکھنے  والی بات یہ ہے  کہ جو کچھ شاعر نے  یا ادیب نے  کہا اس کا Impact ہوا یا نہیں۔

٭       آج کل کے  مشاعروں سے  شاعرات کو اکثر ناخوش دیکھا گیا ہے  آپ اس بارے  میں کیا فرماتی ہیں؟

٭٭   میں مشاعرے  کے  Institution کے  خلاف نہیں ہوں۔ مشاعرہ تو شاعر اور  عوام کے  درمیان براہ راست رابطے  کا ایک وسیلہ ہے  اسے  برا کیوں کہوں۔ جیسے  ہر گیم کے  اپنے  اپنے  اصول ہوتے  ہیں اس کے  بھی ہیں۔ کھلاڑی کو ان اصولوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ مشاعرے  میں خوش ذوق بد ذوق ہر طرح کے  سامعین ہوتے  ہیں سو شاعر کو داد اور  ہوٹنگ دونوں کے  لئے  تیار رہنا چاہیئے۔ اس میں شاعر اور  شاعرہ کی کوئی تخصیص نہیں۔

٭       ملک کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ اہل قلم برادری کو وہ اہمیت نہیں دیتا جس کی یہ برادری بجا طور پر مستحق ہے  کیا اس کہ وجہ ہماری محدود سوچ تو نہیں۔

٭٭   یہ بات آپ کی ایک حد تک صحیح ہے  جب کسی شخص کا تعارف ایک بڑے  ڈاکٹر، سائنس دان، ماہر تعلیم یا کسی بیوروکریٹ سے  کروایا جاتا ہے  تو آپ اس شخص کے  چہرے  پر سنجیدگی اور  عزت اور  احترام کے  تاثرات دیکھ سکتے  ہیں اس کے  برعکس جب کسی شاعر کو متعارف کروایا جاتا ہے  تو ملنے  والا فوراً غیر سنجیدہ ہو جاتا ہے  کیونکہ اس کے  نزدیک شاعر کی حیثیت ایک Entertainer کی سی ہوتی ہے۔ اس سے  زیادہ نہیں۔ اس طرح کسی دفتر میں کوئی سفارش کرنا ہو تو بڑے  سے  بڑا شاعر وہ کام نہیں کروا سکے  گا جو ایک معمولی سا افسر کر دکھائے  گا۔ یہ بہت بدقسمتی ہے  جیسے  ہمارے  ہاں اور  بہت سی غلط اقدار رواج پا رہی ہیں ایک یہ بھی ہے۔ طاقت کا سرچشمہ پیسہ یا کرسی ہے  باقی سب ہیچ ہے۔ اسی لئے  ادیب شاعر ہمہ وقت کرسی اور  پیسہ کی تلاش میں رہتے  ہیں اور  رہنا بھی چاہیئے  آخر وہ بھی اسی معاشرے  کے  فرد ہیں انہیں بھی مقام چاہیئے، عزت چاہیئے، آسودگی چاہیئے۔ ویسے  بھی ہمارے  ہاں ایک نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ ایسا بھی ہے  جو ظاہر طور پر تو کہتا رہتا ہے  کہ شاعر، ادیب ہمارے  ملک کا سرمایہ ہیں یا یہ کہ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے  مگر یہ سب محض باتیں ہیں۔ ایک معمولی سی مثال دیتی ہوں کہ ہمارے  ہاں جب بیٹی کے  رشتے  کی بات چلتی ہے  تو ڈاکٹر، انجینئریا سی ایس پی آفیسر تلا ش کیا جاتا ہے۔ آرمی آفیسر بھی اس مارکیٹ میں ٹھیک ہیں لیکن استاد، ادیب یا شاعر بطور داماد لوگوں کو سوٹ نہیں کرتے  دراصل ہمارے  ہاں تعلیم کی کمی نے  یہ خراب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ عوام میں علم کی افادیت کا شعور ہی پیدا نہیں ہو سکا۔ معاشرہ مجموعی طور پر پڑھا لکھا ہو گا تو لکھنے  والوں کی بھی عزت ہو گی۔ اسے  بھی اس کا جائز مقام ملے  گا۔

٭       ایک تاثر یہ ہے  کہ اردو ادب بالخصوص ہمارے  ملک میں ہزار دو ہزار اہل قلم میں گردش کر رہا ہے  اور  بدقسمتی سے  یہ قلیل تعداد بھی مختلف گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے  کے  خلاف توانائیاں صرف کرنے  میں مصروف ہے۔ قاری کھو گیا ہے  اسے  کیسے  تلاش کیا جائے۔

٭٭   تعلیم کو عام کیجئے  قاری مل جائے  گا۔ جس ملک میں خواندگی کا تناسب اتنا مایوس کن ہو وہاں کتاب پڑھے  گا کون۔ کروڑوں کی آباد ی ہے  اور  اچھی سے  اچھی کتاب ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوتی ہے  اس کا بکنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ تعلیم عام ہونے  سے  جہاں معاشرے  سے  بہت سی برائیوں کا خاتمہ ہو گا وہاں ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ کتاب کی اہمیت اجاگر ہو گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے  کہ ادیب مختلف گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے  کے  خلاف اپنی توانائیاں صرف کر رہے  ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ادیبوں کی آپس کی لڑائی سے  قاری کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا وہ اپنی رائے  خود بنا تا ہے  اگر وہ موجود ہو تو۔ اصل بات یہی ہے  کہ ہمارے  معاشرے  میں مطالعے  کے  شوق کی بنیاد ہی موجود نہیں۔

٭       عمر عزیز کا بہترین حصہ آپ نے  قرطاس و قلم کی نظر کر دیا اپنی ذات اور  اس سے  وابستہ افراد کے  حوالے  سے  جن دشواریوں، دقتوں اور  محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا اس کے  بارے  میں آج آپ کے  احساسات کیا ہیں؟

٭٭   پہلی بات تو یہ کہ میں نے  اپنی عمر عزیز کا بہترین حصہ اپنے  گھر کی نذر کیا قرطاس و قلم کی نذر نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر بہت مہربان رہا اس لئے  محرومیاں ذرا کم ہی دیکھیں پھر بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ گھریلو ذمہ داریوں کے  ہوتے  ہوئے  لکھنے  پڑھنے  کا کام آسان نہیں ہوتا۔

            گھریلو معاملات میں کہیں بہت زیادہ ذمہ دار اور  انتہائی محتاط عورت ہوں اور  کہیں انتہائی ڈرپوک، بزدل اور  وہمی بھی۔ میری محبت اور  دوستی بھی اپنے  شوہر، بچوں اور  اپنے  خاندان والوں تک محدود ہے۔ میں لوگوں سے  ملتی جلتی ہوں تقاریب میں بھی جاتی ہوں حتیٰ کہ کبھی کبھی مشاعروں کے  لئے  دوسرے  ممالک میں بھی جاتی ہوں مگر کبھی ایک لمحہ کے  لئے  بھی اپنے  گھر کو نہیں بھولتی۔ ان وجوہات کی بنا پر میں لکھنے  کے  حوالے  سے  نقصان میں رہی مگر ماشاء اللہ میری گھریلو زندگی بہت کامیاب گزری۔ مجھے  یہ نقصان کا سودا قبول تھا میں نے  خوشی خوشی خریدا۔

            ۱۹۶۷ء میں میری شادی ہوئی۔ بارہ سال تک میں نے  اپنا وقت صرف اپنے  گھر کو دیا اپنے  شوہر اور  اپنے  سسرال والوں کی خدمت کی۔ اپنے  بچوں کی تربیت کی اس معاشرے  میں اپنے  اپنے  آپ کو ایک اچھی ہاؤس وائف کے  طور پر Establish کیا۔ اس سب کے  لئے  مجھے  بہت جدو جہد کرنا پڑی۔ بہت محنت کی مجھے  اس کا صلہ بھی مل گیا۔ میں بہت اعتماد سے  کہہ سکتی ہوں کہ شکیل صاحب اور  میرے  بچے  مجھ سے  بے  حد خوش ہیں البتہ جیسا کہ پہلے  بھی کہا ہے  لکھنے  کو زیادہ وقت نہیں دے  سکی۔ آپ کہہ سکتے  ہیں کہ میں نے  بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ میرے  لاشعور میں بھی یہ بات موجود ہے  اور  وہ میری شاعری میں ظاہر ہوتی رہتی ہے  کہ۔ ؂

کیا تھی خوشی اور  اس کی تھی کیا قیمتِ خرید

اب رہ گئے  ہیں ایسے  حسابات اور  میں

            اس حوالے  سے  میری شاعری میں اس معاشرے  کے  اصولوں کے  خلاف ایک Resentment موجود ہے  کیونکہ میں خلوص دل سے  سمجھتی ہوں کہ ہمارے  ہاں کی عورت اگر اپنا تشخص اور  انفرادیت برقرار رکھنے  پر مصر رہے  تو اسے  دوسری بہت سی خوشیوں سے  ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ میری خواہش ہے  کہ صورتحال کو ذرا تبدیل ہونا چاہیئے۔ میرے  نئے  مجموعہ کلام ’’اضطراب ‘‘ میں آپ کو اس کا حوالہ جا بجا ملے  گا۔

٭       فنکار دادوتحسین اور  سراہے  جانے  کا آرزو مند ہوتا ہے  اور  اسی شوق میں خود کو ریاضت کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنانے  پر تُلا رہتا ہے۔ کیا آپ خود کو کسی سرکاری ایوارڈ یا اعزاز کا حق دار نہیں سمجھتی جب کہ آپ سے  قدرے  جونیئر لوگوں کو نواز کر آپ کی حق تلفی کی گئی۔

٭٭   میں اپنے  آپ کو کسی ایوارڈ یا اعزاز کے  قابل نہیں گردانتی۔ اس کا اندازہ تو آپ کو بخوبی ہو گیا ہو گا کہ آپ نے  اپنے  پرچے  میں میرے  لئے  قرطاس اعزاز کا ٹائٹل دو برس سے  بنوا کر رکھا ہوا ہے  مگر میں نے  آپ کے  سوال نامے  کے  جوابات دینے  میں دو برس لگا دیئے  ہیں اس کی بھی وجہ یہی کہ میں اپنے  آپ کو اس قابل بھی نہیں جانتی۔ جہاں تک سرکاری ایوارڈ کا تعلق ہے  تو ہمارے  ملک میں ہر سال اس معاملے  پر بڑے  جھگڑے  وغیرہ ہوتے  ہیں۔ اکثر ایوارڈ لینے  والوں کو بہت سی بری بھلی باتیں سننا پڑتی ہیں کسی کو سفارشی کہا جاتا ہے  کسی کو غاصب۔ بس چند ہی خوش نصیب ادیب ایسے  ہیں جن کے  ایوارڈ کو دوسرے  ادیبوں نے  خوش دلی سے  قبول کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کی خواہش کرنا اور  اس کے  لئے  تگ و دو کرنا میرے  خیال میں تو ’’آ بیل مجھے  مار‘‘ والی بات ہے۔ بنی بنائی عزت مٹی میں مل جائے  گی۔

            پھر میں نے  کون سا تیر مارا ہے  ادب میں کہ مجھے  کوئی اعزاز دیا جائے ۔ ابھی ایسے  لوگ بیٹھے  ہیں جنہوں نے  ساری زندگی اسی ریاضت میں گذار دی۔ بہت Contribution ہے  ان کی ادب کے  حوالے  سے ۔ بڑا سنجیدہ اور  معتبر کام کیا ہے  انہوں نے  ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ گورنمنٹ کا دھیان جانا چاہیئے  ایسے  مخلص لوگوں کی طرف کیونکہ خود ان ادیبوں کے  پاس تو پڑھنے  لکھنے  کے  بعد اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ ان ایوارڈوں کے  لئے  کوشش کرتے  پھریں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ان کے  ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے  ایسے  سنجیدہ اور  معتبر ادیبوں، شاعروں کی تخلیقات کی قدر کرنا چاہیئے۔ ہجرہ ایوارڈ، آدم جی، رائیٹرز گلڈ کے  جو انعامات وغیرہ کتابوں پر ملتے  ہیں ان کے  بارے  میں بھی محتاط رویئے  کی ضرورت ہے  تا کہ کسی غیر مستحق کتاب کو انعام نہ مل سکے  اور  کسی مستحق کا حق نہ مارا جائے۔

٭       آپ نے  اپنے  Biodata میں کسی ایوارڈ یا اعزاز کا ذکر کرنے  سے  قصداً گریز کیا ہے  جب کہ میرے  سمیت بہت سے  لوگ جانتے  ہیں کہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے  آپ کو اس حوالے  سے  بہت دفعہ نوازا گیا ہے۔ حال ہی میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی طرف سے  آپ کو وثیقہ اعتراف دینے  کی جو تقریب ہوئی تھی میں اس میں موجود تھا یہ اس سلسلے  کی کامیاب ترین تقریب تھی وہاں بھی اخبار والوں کو اپنے  تاثرات بیان کرتے  ہوئے  آپ نے  کہا کہ آپ اس پر اپنا حق نہیں سمجھتیں یہ رویہ حکومتی سطح پر حق تلفی کے  خلاف احتجاج اور  شکایت کا طریقہ تو نہیں؟

٭٭   ہر گز نہیں۔ دراصل میرے  خیال میں اچھا لکھنا بجائے  خود ایک اعزاز ہے۔ مجھے  افسوس ہے  جب ادیبوں، شاعروں کو اس کے  لئے  جان کی بازی لگاتے  ہوئے  دیکھتی ہوں۔ میں اسلام آباد میں بیٹھی ہوئی ہوں اور  ایسی تمام کوششوں سے  واقف ہوں۔ میں اپنے  لئے  کیا احتجاج کروں گی جب کہ میں نے  اپنے  والد سید عابد علی عابد کے  لئے  بھی اس سلسلے  میں کوئی کوشش نہیں کی۔ (مرحو مین کو بھی ایوارڈ دیئے  گئے  ہیں)

            میں سمجھتی ہوں کہ کسی قسم کے  ایوارڈ کے  بغیر بھی میرے  والد کی اتنی عزت ہے  کہ ان اعزازات پر بھاری ہے۔ لوگ ان کی ادبی خدمات کا تہہ دل سے  اعتراف کرتے  ہیں۔

                                                                        (ستمبر ۱۹۹۵ء)

٭٭٭

 

افتخار عارف

(۲۱ مارچ ۱۹۴۳ء)

٭       بچپن کسی طور پر بھی گزرے  یاد ضرور آتا ہے۔ ہم آپ کے  بچپن کی تلخ و شیریں یادوں کے  ساتھ ان وجوہات کو جاننا چاہیں گے  جن کے  باعث آپ کی پرورش کا ذمہ آپ کے  سوتیلے  نانا کو اٹھانا پڑا؟

٭٭   لکھنؤ مارچ 1944ء ابتدائی تعلیم فرنگی محل کے  مشہور دینی مدرسے  نظامیہ میں مگر بھاگ لئے  مکمل کئے  بغیر۔ بعد میں جوبلی سکول اور  جوبلی کالج سے  ہائی سکول اور  انٹرمیڈیٹ کے  امتحانات پاس کئے  اور بی اے  ایم اے  اور  ایم اے  ایس کی ڈگریاں لکھنؤ یونیورسٹی سے  پاس کیں۔ ۲۱ برس کی عمر میں اکیلے  پاکستان آ گئے۔ بچپن کا لکھنؤ ادبی اور  تہذیبی اعتبار سے  بہت اہم تھا۔ برصغیر میں مسلمانوں کے  اقتدار کے  بعد جہاں مسلم تہذیب کسی نہ کسی شکل میں بچ رہی اور  بنیادی نوعیت سے  بہ لحاظ تہذیب مسلم شناخت پر اصرار کرتی رہی۔ اس میں لکھنؤ کو ان شہروں میں مرکزیت حاصل تھی جو مسلم اقلیت میں ہونے  کے  باوجود علیحدہ پہچانے  جاتے  تھے۔ یہ لکھنؤ مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور  علامہ سید علی نقی اور  مولانا عبدالماجد دریا آبادی کا لکھنؤ تھا۔ یہ پروفیسر مسعود حسین رضوی ادیب پروفیسر احتشام حسین اور  نیاز فتح پوری کا لکھنؤ تھا۔ یہ جوش، جعفر علی اثر، یگانہ، آرزو، مجاز، علی عباس حسینی، سبط حسن اور  سردار جعفری کا لکھنؤ تھا۔ ان میں وہ افراد بھی تھے  جو خالص اسلامی نقطہ نظر کے  حامی تھے  اور  وہ بھی کہ جنہیں سیکولر نظریات کا حامی قرار دیا جاتا تھا اور  بعض کے  خیالات خالصتاً کیمونسٹ تھے۔ مثلاً سید سجاد ظہیر، زین العابدین امجد۔ اس فضا میں گزرا ہوا بچپن، بھانت بھانت کی لہروں سے  گزرتا اور  اثرات کے  رد و اخذ و متمول سے  گزرتا ہے۔ نانہال کی ایک شاخ فقہ جعفریہ سے  تعلق رکھتی تھی سو مجلسیں، خاص طور پر مرہٹوں کی مجلسیں، ذاکرین و علماء کے  خطابات سے  استفادہ گویا گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ ددھیال میں افراد نے  سلسلہ چشتیہ میں بیعتیں کر رکھی تھیں سو بزرگوں کی خانقاہوں کی حاضری، سالانہ عرس کے  مواقع پر محافل سماع، ذکر و اور اد کی محفلیں زندگی کو مستوحیہ کئے  رکھتی تھیں۔ ایک بالکل غریب اور  مزدور گھرانے  سے  تعلق نے  ایک مرحلے  پر سوشلزم سے  بھی وابستہ کر رکھا تھا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے  قرب نے  جو کہ آج کل سید ابوالحسن علی ندوی کے  حوالے  سے  ساری اسلامی دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت سے  بھی وابستہ کر رکھا تھا۔ شخصیت کی نشوونما میں جو رنگ اچھی بری طرح شامل ہوئے  اس میں کچھ کی بنیادیں بچپن کے  ان تجربوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

            میرے  والد صاحب نے  میری والدہ کے  بعد تین اور  شادیاں کیں اپنی والدہ مرحومہ سے  ہم دو بھائی بہن ہیں۔ میری چھوٹی بہن فاطمہ اور  میں۔ پاکستان کے  مشہور نیوز ریڈر مرحوم شکیل احمد کے  بیٹے  مرحوم جمیل احمد سے  ان کی شادی ہوئی تھی مگر تین برس قبل ان کے  شوہر کا انتقال ہو گیا اور  وہ کراچی میں اپنی تین بیٹیوں اور  ایک بیٹے  کے  ساتھ نارتھ ناظم آباد میں رہتی ہے۔ والدہ کا سات برس ادھر کراچی میں کینسر سے  انتقال ہوا۔ وہ وہیں کراچی میں دفن ہیں۔ میرے  بھی دو بچے  ہیں۔ گیتی اور  علی اور  میرے  والد بھی دو بھائی بہن تھے۔ گویا تین نسلوں میں بیٹوں میں یہ سلسلہ چل رہا ہے۔

            بچپن میں سب بچوں کی طرح کھیل کود میں بھی لگا رہتا تھا مگر لکھنے  پڑھنے  اور  خاص طور پر تاریخ اور  شاعری پڑھنے  کا بہت شوق تھا خلفائے  راشدین کے  عہد کی تاریخ، بنوامیہ اور  بنو عباس کے  دور کی تاریخیں، مسلمانان برصغیر کے  مختلف ادوار کی تاریخیں میں بڑے  شوق سے  پڑھتا رہتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ شاعری کی فضا اور  بیت بازی کے  ارادے  کے  سبب غزل سے  بھی ربط قائم کر رکھا تھا جو زندگی بھر کا ساتھ بن کر آج بھی ویسا ہی باقی ہے۔ بچپن کے  بارے  میں ایک چھوٹی سی نظم میں کہیں میں نے  لکھا ہے۔

بچپن کی گلیوں میں جن جن گھروں کے  شیشے  میری گیند سے  ٹوٹے  تھے

ان سب کی کرچیں کبھی کبھی میری آنکھوں میں چبھنے  لگتی ہیں

جلتی دوپہروں میں میرے  ساتھوں اجڑے  ہوئے  گھونسلوں کے

بے  حال پرندوں کی چیخیں، فریادیں

میرے  بے  گھر شاموں میں کہرام مچاتی رہتی ہیں

ایک حشر اٹھاتی رہتی ہیں

            اب یہ جو کہرام مچاتی اور  حشر اٹھاتی ہوئی یادیں ہیں ان کا بنیادی سبب والدین کے  الجھے  ہوئے  مسائل ہیں جن کا خمیازہ کہہ لیجئے  نتیجہ کہہ لیجئے  یوں نکلا کہ میرا بچپن اپنے  نانا کے  سایہ عاطفت میں گزرا۔ وہ میرے  سگے  نانا نہیں تھے۔ میرے  نانا مرزا محمد تقی کا انتقال میری والدہ جب دو برس کی بھی نہیں تھیں میں جب ایک برس کا تھا جب میری نانی مرحومہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ تو پھر میں اور  امی کی نگہداشت میرے  نانا نے  کی۔ وہ اللہ کی طرف سے  میرے  لئے  وسیلہ خیر و فلاح بن کر جیئے  اور  رہے۔ سراپا شفقت خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ کبھی ان پر تفصیل سے  لکھوں گا۔ گلی کوچوں میں رہتا ہوا ایک کمسن بچہ ایک مزدور اور  محنت کش آدمی کی گود میں آیا اور  اس نے  اپنی ساری عمر اس کی آبیاری میں یوں لگا دی کہ نہ دن کو دن سمجھا نہ رات کو رات۔ بس ایک لگن کہ افتخار کسی صورت پڑھ لکھ جائے۔ ’’بڑا آدمی‘‘ نہیں بنانا چاہتے  تھے۔ بس یہ چاہتے  تھے  کہ ’’پڑھا لکھا آدمی‘‘ بن جائے۔ چنانچہ عام لوگوں کی طرح انہوں نے  مجھے  ڈاکٹر اور  انجینئرنگ وغیرہ پڑھانے  پر اصرار نہیں کیا بلکہ وہ مضامین جس میں مجھے  دلچسپی تھی اس کی طرف توجہ رکھی۔ محبت میں Givingکے  کیا معنی ہیں۔ سب کچھ کسی کے  لئے  تیاگ دینا کیا ہوتا ہے  اجر اور  صلے  اور  جزا سے  بے  نیاز ہو کر پورے  تو پڑھے۔‘‘

٭       کیا آپ ہمیں کم سنی میں مطالعہ کے  بے  پناہ شوق ضعف بصارت اور  استاد کے  تشدد کے  باعث نظر کی عینک والے  قصے  سے  آگاہ فرمانا پسند فرمائیں گے؟

٭٭   میری زندگی میں بچپن ہی سے  کتاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ نانا مرحوم اور  میں …… دو افراد ہی گھر میں رہتے  تھے۔ نانا کبھی لائبریری سے ، کبھی ردی کی دوکانوں سے ، کبھی کبھار خرید کر اسلامی تاریخی ناول اور  شاعری کی کتابیں لا کے  دیتے  تھے۔ ’’بیت بازی‘‘ کے  لئے  اشعار پر نشان لگاتے  اور  میں فرصت کے  اوقات میں شعر یاد کرتا۔ میرے  گھر میں بجلی نہیں تھی۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھنے  لکھنے  کا کام جاری رہتا۔ مٹی کا تیل ایک بوتل خریدا جاتا۔ وہ بارہ ساڑھے  بارہ بجے  تک ختم ہو جاتا مگر نیند اس کے  بعد غائب ہو جاتی تھی۔ سو اس کے  بعد پہلے  پڑھی ہوئی چیزوں کا اس وقت تک سبق دہرایا جاتا جب تک نیند پوری طرح غلبہ حاصل کر لیتی۔ پھر ایک بار کھیلتے  ہوئے  داہنی آنکھ میں ایک کیل چبھ گئی تھی۔ نانا کے  ڈر کی وجہ سے  نہیں بلکہ ان کی پریشانی کے  خیال سے  خون بہتے  ہوئے  چہرے  کے  ساتھ میں اسپتال گیا۔ لکھنؤ میڈیکل کالج میں بھی ویسا ہی علاج ہوتا تھا جیسا تمام غریبوں کے  ساتھ سب اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ سو آج تک وہ آنکھ پریشان کرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ اس ضمن میں۔ نویں جماعت میں حساب کے  استاد ماسٹر بدرالدین تھے  اللہ غریق رحمت کرے  بے  حد سخت گیر مگر بہت اچھے  استاد حساب پڑھاتے  تھے۔ دوران سبق انہوں نے  دیکھا کہ میں بلیک بورڈ (تختہ سیاہ) کی طرف غور کرنے  کے  بجائے  احباب سے  گپ شپ میں لگا ہوا ہوں۔ انہوں نے  مجھے  سوال حل کرنے  کو کہا تو میں نے  کہا مجھے  نظر نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے  میری بہت سخت پٹائی کی۔ اس خیال سے  کہ ایک تو میں پڑھائی کی طرف دھیان نہیں دے  رہا ہوں دوسرے  یہ کہ بدتمیزی کر رہا ہوں مگر یکایک پٹائی کے  دوران انہیں کچھ خیال آیا اور  انہوں نے  مجھے  اپنے  ساتھ لیا اور  آنکھوں کے  ڈاکٹر کے  ہاں لے  گئے۔ ڈاکٹر کولھا پور ان کا نام تھا۔

            وہاں آنکھیں ٹیسٹ کرائیں۔ یہ 7ستمبر1957ء کا واقعہ ہے  جب میں نے  پہلی بار آنکھوں کا چشمہ استعمال کیا ورنہ پہلے  کسی نے  اس طرف توجہ نہیں دی تھی۔ غریب گھرانوں کے  بہت سے  بچے  ساری عمر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے  ہیں کیونکہ اس وقت ابتداء میں ان کی تشخیص نہیں ہو پاتی اور  پھر بعد میں بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس زمانے  میں وہ مضمون جو بول کر پڑھائے  جاتے  تھے  وہ مجھے  بہت آسانی سے  حفظ ہو جاتے  تھے  مگر جہاں اعداد و شمار یا اشکال وغیرہ کے  مراحل آتے  تھے  وہاں میں بہت بچھڑا ہوا تھا۔

            ’’ایک آنہ لائبریری‘‘ محلے  میں تھی وہاں بھی مجھے  ایک آنے  کے  بدلے  دن بھر پڑھنے  کو ایک کتاب مل جاتی تھی، تاریخ سے  شغف اسی زمانے  کا قصہ ہے۔ عبدالحلیم شرر اور  صادق حسین سردھنوی کے  اسلامی تاریخی ناول اس زمانے  میں بہت پڑھے  جاتے  تھے۔

٭       جہاد میں مصروف دو بھائیوں میں سے  ایک کافر ار دوسرے  کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے  کے  مترادف ہے  ایک مہذب ذہین اور  اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوان کی صلاحیتوں کے  زیادہ حقدار بھارت کے  مسلمان نہ تھے؟

٭٭   نظریہ پاکستان کی جو بھی تعبیر اور  تفسیر آپ کریں ایک بات تو طے  ہے  کہ دو قومی نظریہ اس کا بنیادی عنصر تھا۔ مسلمان ایک جداگانہ تشخص رکھتے  ہیں۔ ہندو ایک دوسری شناخت سے  تعلق رکھتے  ہیں۔ پورے  جنوبی ایشیا کے  مسلمانوں نے  مٹھی بھر کانگریسی ذہن رکھنے  والوں کے  علاوہ پاکستان کے  قیام کے  لئے  بیش بہا قربانیاں دیں۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ اپنی بھی اور  دشمنوں کی بھی۔ چنانچہ پاکستانی مسلمانوں نے  ترک سکونت نہیں کیا تھا ہجرت کی تھی۔ ایک اعلیٰ نصب العین کے  حصول کے  لئے  اپنے  ایک عظیم آدرش کی سرفرازی اور  سربلندی کے  لئے  جہاں تک میرا تعلق ہے  پاکستان میرا انتخاب تھا اور  اللہ کا شکر ہے  کہ میرا افتخار بھی ہے۔ ایم اے  کے  امتحان کے  نتائج کے  شائع ہونے  سے  پہلے  ہی میں ہجرت کے  عمل سے  گزر آیا تھا۔ پہلی نوکری زندگی کی میں نے  کراچی میں کی تھی۔ لقمہ رزق حلال کے  لئے  اللہ نے  پاکستان آنے  کی سعادت دی۔ غریب گھر میں انتہائی عسرت کی زندگی گزارنے  والے  ایک اکیس بائیس سالہ نوجوان کو اس زمین نے  اور  اس کے  لوگوں نے  جس طرح گلے  لگایا یہ سر ہمیشہ سجدہ شکر میں جھکا رہے  تو بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

٭       یہاں آنے  کے  باقاعدہ بعد ذریعہ معاش کی ابتداء کب اور  کہاں سے  کی؟

٭٭   ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے  سے  میرے  میڈیا کے  کیریئر کا آغاز ہوا۔ ایک بلٹن پڑھنے  کے  دس روپیہ ملتے  تھے  اور  اگر نیوز ریڈر ترجمہ بھی کر سکتا ہو تو اس کو دونوں کام کے  پندرہ روپیہ ملتے  تھے۔

            اس زمانے  میں افضل صدیقی مرحوم جو جنگ سے  وابستہ تھے  میرے  استاد رہے  اور  اردو ترجمے  کا فن میں نے  ان سے  سیکھا۔ وہیں مجھے  عبیداللہ بیگ، قریش پور، یاور مہدی، سلیم گیلانی، سلیم احمد ملے۔

            احباب سے  متعارف ہونے  کا موقع ملا جنہوں نے  آنے  والے  دنوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ مرحوم ذوالفقار علی بخاری گو کہ ریڈیو پاکستان سے  جا چکے  تھے  مگر ہر لمحہ ان کا وجود وہاں محسوس ہوتا تھا۔ حمید نسیم، شمس الدین بٹ، ظفر حسین، حسنین قطب، حفیظ ہوشیار پوری، رشید احمد، آغا ناصر، عزیز حامد مدنی کیسے  کیسے  لوگ تھے  کہ ریڈیو میں ادارے  کی تشکیل اختیار کر گئے  تھے۔ تہذیبی ادارے  اور  بلند قامت افراد کے  درمیان جو ایک تعلق ہوتا تھا اس کا اندازہ ان ہی مثالوں سے  ہوتا ہے۔ بڑے  افراد چھوٹے  اداروں میں بھی چلے  جائیں تو ان کے  وقار میں اضافے  کا سبب بنتے  ہیں۔ چھوٹے  آدمی بڑے  اداروں کے  سربراہ ہو جائیں تو ادارے  کو بھی اپنی سطح پر لے  آتے  ہیں۔

            ریڈیو کی تربیت میرے  جتنے  کام آئی وہ میری زندگی کا سرمایہ اور  بنیادی اثاثہ ہے۔ یہاں سے  سلیم گیلانی جو بعد میں ریڈیو پاکستان کے  ڈائریکٹر جنرل بھی رہے  مجھے  اور  عبیداللہ بیگ اور  قریش پور کو اسلم اظہر صاحب کے  پاس لے  گئے  جہاں سے  ’’کسوٹی‘‘ کے  کوئز پروگرام کا آغاز ہوا۔

٭       سنا ہے  نوجوانی میں آپ بہت دل پھینک تھے۔ اسی باعث آپ کی والدہ نے  آپ کے  پیروں میں شادی کی بیڑیاں ڈال کر خود سے  جدا کرنا مناسب سمجھا؟

٭٭   خدا معلوم آپ کن لوگوں کی ڈس انفارمیشن کا شکار ہیں۔ برادر عزیز ڈیڑھ دو کمروں کے  گھر میں نانا کی مزدوری سے  حاصل کی ہوئی گاڑھی کمائی پر پلنے  والا ایک بچہ نوجوانی کی سرحدو ں میں یونیورسٹی جاتا ہے  اور ایم اے  کا امتحان دینے  کے  فوراً بعد پاکستان چلا آتا ہے  اور  دو وقت کی روٹی کی تلاش میں لگ جاتا ہے ۔ اسے  دل دینے  اور  لینے  کے  معاملوں میں الجھنے  کا نہ دماغ تھا نہ فرصت نہ افتاد۔ رہی آرزو تو وہ اس عمر ہی کا نہیں ہر عمر کا مطالبہ ہے۔ رفاقت اخلاص، شرکت، دوستی چلئے  محبت کہہ لیجئے  کون نہیں چاہتا۔ ہر عہد میں ہر ملک میں بلا رنگ نسل و وطن و ملت اور  بلا فرق عمر و جنس سب محبت کے  آرزو مند ہوتے  ہیں۔سو مجھے  بھی اس راستے  سے  گزرنا ہوا ہو گا مگر عمر کے  اس مرحلے  میں اس کا بیان عجیب لگتا ہے  جب کچھ دن بعد نواسوں اور  پوتے  پوتیوں کی شادی کے  ہنگامے  شروع ہو جائیں گے۔ میری اور  میری بہن دونوں کی شادیاں ہماری پیدائش سے  پہلے  طے  کر دی گئیں تھیں۔ ہماری ’’ٹھیکرے  کی مانگ‘‘ تھی۔ چنانچہ ہوش سنبھالنے  سے  پہلے  یہ معلوم ہو گیا تھا کہ فاطمہ کی شادی جمیل سے  ہونا ہے  اور  ریحانہ میری بیوی ہوں گی۔ چنانچہ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ہم زمانہ طالب علمی میں کراچی آیا کرتے  تھے  تو بے  حد چھوٹی عمروں میں بھی ہمیں اپنے  آنے  والے  مستقبل کے  رشتوں کا احساس تھا۔ ہماری شادی خالصتاً پہلے  سے  طے  شدہ شادیوں کے  ضمن میں آتی ہے۔ اس پر بہت بات کی جاتی ہے۔ اپنے  خانگی ماحول کے  الجھے  ہوئے  مسائل میں میرے  بہت چھوٹے  سے  کینوس والے  ذہن نے  اس وقت اسی بات میں بہتری محسوس کی تھی کہ فاطمہ اپنے  گھر کی ہو جائے  تو گھر کا ایک مسئلہ کم ہو جائے  گا اور  یوں خود میری شادی بھی اسی سلسلے  میں ہو گئی۔ ریحانہ ہمیشہ ایک اچھی ماں کی حیثیت سے  رہیں۔ اللہ کا ہزار شکر ہے  کہ انہوں نے  اپنے  بچوں کی تربیت پر بہت توجہ دی۔ فرماں بردار اولاد اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے۔

٭       چلئے  آپ کی پوزیشن صاف ہوئی کچھ بچوں کے  بارے  میں بیان کیجئے؟

٭٭   میری بیٹی گیتی جو ماشاء اللہ اپنے  شوہر عزیزم کامران محمود کے  ساتھ جن کا تعلق پنجاب سے  ہے  اپنے  پورے  گھرانے  کے  ساتھ لندن میں رہتی ہیں۔ ان کا ایک بیٹا ہے  اظہر محمود یعنی میرا نواسہ۔ ماشاء اللہ بہت پیارا ہے۔

            میرا داماد چارٹرڈ  اکاؤنٹنٹ ہے  وہ اور  گیتی زمانہ طالب علمی میں ایک ساتھ لندن یونیورسٹی میں پڑھتے  تھے۔ میرا بیٹا علی لندن میں اپنی والدہ کے  ساتھ رہتا ہے۔ اس نے  لندن یونیورسٹی میں بی ایس سی کیا ہے  اور  وہیں ملازمت کے  ساتھ ساتھ چارٹرڈ اکاؤنٹس کا کورس کر رہا ہے۔ ان کا یہ اپنا فیصلہ ہے  کہ وہ لوگ برطانیہ میں رہیں گے۔ میرا یہ فیصلہ ہے  کہ میں ’’بہرحال پاکستان میں رہوں گا‘‘

٭                   عذاب یہ بھی کسی اور  پر نہیں آیا

                        کہ ایک عمر چلے  اور  گھر نہیں آیا

گھر سے  اس اجنبیت کے  کیا معنی لئے  جائیں؟

٭٭   گھر صرف درو دیوار کا نام نہیں ہے  گھر میرے  نزدیک ایک مامن ہے  جہاں آ کر انسان ایک دائرہ تحفظ میں آ جاتا ہے  حصار دعاؤں کے  بھی تو ہوتے  ہیں وہ خلا جو بچپن سے  شروع ہوا تھا ابھی تک پر نہیں ہوا بار بار خیال گزرتا ہے  کہ ’’ابھی کچھ دن لگیں گے ‘‘ مگر اب دن ہی کتنے  رہ گئے  ہیں۔       ؂

نہ جانے  کون سی آنکھیں وہ خواب دیکھیں گی

وہ ایک خواب کہ ہم جس کے  انتظار میں ہیں

٭       جو آرزوئیں، ارمان اور  خواب آپ دل میں سجائے  پاکستان تشریف لائے  ان کی کتنے  فیصد تعبیر آپ کے  حصہ میں آئی؟

٭٭   خداوند کریم کا بہت احسان ہے  کہ پاکستان نے  مجھے  بہت دیا۔ بڑی نعمتیں، بہت اکرام اللہ کا اور  خلق خدا کا بہت احسان بہت لطف۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ مجھے  یہاں بہت کم عمر میں وہ سب کچھ ملا جو کچھ انسان توقع کر سکتا ہے۔ عزت، منصب، شہرت اور  سب کچھ بھی علم کے  انتساب کے  ساتھ، حرف سے  وابستگی کے  رشتے  سے  پہچان اور  تشخص قائم ہو تو یہ بغیر توفیق الہی نہیں ہوتا۔ عزت ان کو عطا ہوتی ہے  وہ عطا کریں تو ساری دنیا کے  حاسدین چاہیں بھی تو وہ عزت نہیں لے  سکتے  اور  اگر انہوں نے  اس سے  مختلف فیصلہ کر دیا ہے  تو ساری دنیا اپنا زور لگا لے  دولت کے  انبار، تشہیر کے  سارے  کمالات اعلیٰ مناصب، یہ سب ہو گا مگر عزت نہیں ہو گی۔ میں 3برس کا بھی نہیں ہوا تھا جب ’’کسوٹی‘‘ کا پروگرام شروع ہوا۔ اللہ نے  اس کے  حوالے  سے  بہت عزت دی۔ پھر پاکستان ٹیلی ویژن میں سینئر پروڈیوسر اور  اسکرپٹس ایڈیٹر کے  عہدے  پر کام کرتا رہا۔

            28برس کی عمر میں اسکرپٹس ایڈیٹر گریڈ 8 ہو گیا تھا۔ پھر 1977ء میں ملک سے  باہر چلا گیا۔ ایک مختصر سا میڈیا مینجمنٹ کا کورس نیویارک کولمبیا یونیورسٹی سے  کیا اور  واپس آیا۔ بی بی سی ٹیلی ویژن اور  ریڈیو سے  بھی پروگرام کئے  اردو مرکز لندن قائم ہوا تو اس کے  چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے  اس کو عالمی سطح پر پہنچانے  میں کام کیا اور  جو خدمات انجام دیں ساری دنیا اس سے  اللہ کا شکر ہے  بخوبی واقف ہے۔ 1990ء میں پھر پاکستان آیا۔

            مجھے  لندن کے  قیام کے  زمانے  میں ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ ملا تھا۔ میں شاید پہلا پاکستانی ہوں جسے  ملک سے  باہر رہتے  ہوئے  اس قومی اعزاز سے  نوازا گیا۔ اسی زمانے  میں مجھے  اپنے  پہلے  شعری مجموعے  ’’مہر دونیم‘‘ پر رائٹرز گلڈ کی جانب سے  بہترین کتاب کا آدم جی ایوارڈ ملا تھا اس وقت بھی میں ملک سے  باہر تھا۔ وطن آنے  کے  بعد سے  میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کا ڈائریکٹر جنرل ہوں اور  تاحال اس کا چارج میرے  پاس ہے۔ اس کے  علاوہ مقتدرہ قومی زبان کا صدر نشین نامزد کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے  کہ مجھے  ہر سطح پر اس نے  عزت دی اور  پذیرائی کی صورت پیدا کی۔ سارے  ادبی حلقوں میں بھی اور  انتظامی حلقوں میں بھی میری خدمات کا اعتراف کیا جائے  تو یہ کسی بھی شخص کے  لئے  قوت اور  طمانیت کا سبب ہوتا ہے۔

            اکادمی ادبیات میں میرے  زمانے  میں جو مطبوعات شائع ہوئی ہیں ان کی فہرست دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے  گا کہ اس عرصے  میں کتنا کام ہوا ہے۔

            فخر زمان صاحب کے  دور صدارت نشینی میں جس سطح کی اکادمی نے  قومی کانفرنس کا انعقاد کیا وہ ہماری ادبی تاریخ کا حصہ ہے۔ بساط بھر اس میں کچھ کردار میرا بھی رہا ہو گا۔ پہلی بار پاکستان میں انگریزی کا باقاعدہ رسالہ جس میں پاکستانی زبانوں کے  ساری پاکستانی زبانوں کی تحریروں کے  تراجم انگریزی میں شائع ہوئے  تھے۔ Pakistani Literatureکے  عنوان سے  میں نے  شروع کئے۔ خالد اقبال یاسر کی ادارت میں ادبیات سہ ماہی میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی زبان کے  ادب کے  تراجم پر خصوصی شماروں کا سلسلہ بھی میرے  ہی دور میں شروع ہوا۔

            مقتدرہ قومی زبان میں آنے  کے  بعد ابھی ایک قومی سیمینار ’’قومی زبان،عصری تقاضے ‘‘ کے  عنوان سے  منعقد کیا گیا۔ اہل علم اس کے  معیار سے  اور  اثر و نفوذ سے  بخوبی واقف ہیں۔

٭       میلان آپ کا تدریس کا جانب تھا قسمت لے  گئی آپ کو میڈیا کی طرف آپ اسے  قسمت کی مہربانی تصور کرتے  ہیں یا نامہربانی یعنی آپ نے  اس شعبہ میں گزرے  ہوئے  وقت سے  کیا کھویا اور  کیا پایا؟

٭٭   چاہتا تو یہ تھا کہ میں تدریس و تعلیم کے  شعبے  میں جاؤں چنانچہ فیض صاحب اور  سبط حسن صاحب اور  میرے  ایک محسن ہیں یاور مہدی صاحب ان کی وساطت سے  میں نے  کسی تعلیمی ادارے  سے  بطور لکچرار ملازمت کی کوشش کی مگر ابھی نیا تعلیمی سال شروع ہونے  میں دیر تھی کہ میری شادی ہو گئی اور  مجھے  ریڈیو پاکستان میں کام مل گیا۔ پھر میرے  یہاں بیٹی کی ولادت ہو گئی ساتھ ہی ملک میں ٹیلی ویژن کا کام شروع ہوا۔ یہاں مجھے  تعلیم کے  شعبے  کی نسبت ترقی کے  بہتر مواقع میسر تھے  چنانچہ میں نے  لگے  ہوئے  کام کو چھوڑ کر نئے  کام میں جانے  کا رسک نہیں لیا۔ مگر مجھے  کبھی کبھار یہ خیال ضرور آتا ہے  کہ اللہ کو میری بہتری اسی شعبے  میں منظور تھی۔ اصل میں تو کتاب سے  تعلق اور  قربت اور  محبت مجھے  اس شعبے  میں لے  جانا چاہتی تھی چنانچہ زندگی میں جہاں بھی گیا واسطہ کتاب اور  حرف سے  رہا۔ ٹیلی ویژن میں اردو مرکز میں اکادمی ادبیات پاکستان میں، مقتدرہ قومی زبان میں بڑی سعادت اور  کمال نعمت ہیں کہ وہی کام وسیلہ رزق ٹھہرا دیا جائے  جو انبساط و طمانیت قلب کا باعث اور  میلان فطری کی بنیاد ہو۔ چنانچہ مجھے  کبھی بہت تاسف نہیں ہوتا۔ بس کبھی کبھار اس طرف تو خیال بہت جاتا ہے  کہ اس شعبے  میں پڑھنے  کے  مواقع اور  وقت دوسرے  اور  شعبوں کے  مقابلے  میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

٭       غالباً آپ ٹیلی ویژن کے  سب سے  کم سن سینئر پروڈیوسر تھے  اول اپنے  انتخاب کا جواز بتائیے  دوئم اپنے  پروگرامز کی تفصیل سے  آگاہ کیجئے  نیز ٹیلی ویژن کو خیرباد کہنے  کی وجوہات بیان کیجئے؟

٭٭   ٹیلی ویژن کے  اسکرپٹس ڈیپارٹمنٹ کو ہمارے  زمانے  میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ ساری دنیا میں دی جاتی ہے۔ اگر اسکرپٹس بہتر نہ ہوں تو پروگراموں کا معیار اچھا نہیں ہو سکتا۔ اس زمانے  میں مرحوم مختار صدیقی، شہزاد احمد، یونس منصور مختلف ٹیلی ویژن سینٹروں میں کام کر رہے  تھے۔ جب کراچی کے  لئے  ضرورت ہوئی تو اور  لوگوں کے  ساتھ میں نے  بھی ملازمت کے  لئے  درخواست دی۔ ’’کسوٹی‘‘ کی وجہ سے  میری پہچان بن چکی تھی اور  دوسرے  یہ کہ اس زمانے  میں ٹیلی ویژن کے  سینئر عہدہ دار خاص طور پر خواجہ شاہد حسین اور  اسلم اظہر اس خیال پر پختہ یقین رکھتے  تھے  کہ ٹیلی ویژن کے  تازہ میڈیم کے  لئے  نوجوانوں کو سامنے  لایا جانا چاہئے۔ چنانچہ ان کے  زمانے  میں ہمارے  پورے  ادارے  کے  عملے  کی اوسط عمر 5برس بنتی ہو گی۔ چنانچہ ہم لوگوں کی انہوں نے  جم کر تربیت کی پوری زندگی میں جو بھی کامیابی اور  جیسی بھی کامیابی حاصل ہوئی اس میں اسلم اظہر کا بہت اہم کردار رہا ہے۔محنت کرنا، تعصبات سے  بلند ہو کر تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا ہر طرح کے  نئے  ٹیلنٹ Talentکو ڈھونڈنا، تلاش کرنا اس کو اپنے  اوپر فوقیت دینا۔ رائٹرز کا گانے  والوں کا، کمپوزرز کا اداکاروں کا احترام کرنا اور ان کی توانائیوں کے  بہترین استعمال کے  راستے  تلاش کرنا خالصتاً پروفیشنل حیثیت سے  کام کرنا، اسلوب حیات کی طرح سرکاری ملازمت کی طرح نہیں۔ یہی سبب ہے  کہ ہمارے  زمانے  میں ’’خدا کی بستی‘‘ ہو کہ ’’کسوٹی‘‘ ’’انسان اور  آدمی‘‘ ہو کہ ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ ’’میری پسندیدہ کہانی ‘‘ ’’منٹوراما‘‘ ’’شب تمثیل‘‘ ’’آزادی کے  مجرم ‘‘ ’’ارژنگ‘‘ ’’انکل عرفی‘‘ ’’کرن کہانی ‘‘ ’’شہزوری‘‘ جیسے  پروگرام پیش کئے  جا سکے۔

            اسلم اظہر اور  خواجہ شاہد حسین کی ٹیلی ویژن سے  ’’رخصتی‘‘ کے  بعد ٹیلی ویژن بدلنے  لگا تھا یہاں سے  رفتہ رفتہ پروفیشنلزم ختم ہونے  لگا تھا فضا بالکل مختلف ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے  میں ہم جیسے  لوگوں کا کام کرنا ذرا دشوار ہو چلا تھا۔ 1977ء آیا اور  ستمبر 1977ء میں، میں نے  یہ فیصلہ کیا کہ میں ٹیلی ویژن میں کام نہیں کروں گا مجھے  نکالا نہیں گیا تھا میں نے  بہ رضا و رغبت استعفی دیا تھا۔ بوجوہ مجھے  ٹیلی ویژن کے  ایک پروگرام میں اس کی وضاحت بھی کرنی پڑی تھی کہ میں اپنی مرضی سے  ٹیلی ویژن چھوڑ کر ملک سے  باہر جا رہا ہوں۔ زندگی کے  فیصلے  اللہ کی رضا مانگ کے  کئے  جاتے  ہیں۔ میں نے  کبھی دلیل کو فیصلے  کی بنیاد نہیں بنایا۔ دل نے  جو فیصلہ سنا دیا اس پر عمل کیا۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے  کہ دل کی بات مان کر فیصلے  کرنے  والوں کو خدا کبھی مایوس نہیں کرتا کہ توفیق اللہ کی طرف سے  ہوتی ہے۔ دل کی دنیا کے  دلائل ہوتے  ہیں مگر اور  طرح کے  ہوتے  ہیں اس پر کبھی اور  بات ہو گی۔

٭       ٹیلی ویژن پر آپ کا پروگرام کسوٹی بہت مقبول ہوا یہ آئیڈیا کس کا تھا اور  کس طرح آن ائیر گیا آپ کیا سمجھتے  ہیں آپ کی شہرت میڈیا کی دین ہے  یا شاعری کی بدولت نیز کم عمری کی شہرت نے  آپ کے  کیریئر پر کیا اثرات مرتب کئے؟

٭٭   اصل میں آئیڈیا عبیداللہ بیگ اور  قریش پور کا تھا۔ وہ لوگ ریڈیو پاکستان میں سلیم گیلانی صاحب کے  ساتھ مل کر یہ کوئز کا سلسلہ فارغ اوقات میں تفریحاً کیا کرتے  تھے  جب میں ریڈیو پاکستان سے  وابستہ ہوا تو میں بھی ان رفقاء کے  ساتھ شامل ہو گیا اور  پھر ریڈیو سے  یہ پروگرام نشر ہونے  لگا جب کراچی T.Vشروع ہوا تو سلیم گیلانی صاحب نے  یہ آئیڈیا اسلم اظہر صاحب سے  ڈسکس کیا جنہوں نے  فوراً ہی اس آئیڈیا پر پسندیدگی کا اظہار کیا اور  پروگرام فوراً نشر کرنے  کی ہدایت کی۔

            شہرت کے  حوالے  سے  ایک بات ضروری ہے  کہ واضح کر دی جائے  کہ ’’شہرت‘‘ ہدف نہیں ہے  نتیجہ ہے۔ شہرت کو مقصد بنا کے  چلنے  والوں کا انجام اچھا نہیں دیکھا۔ انسان کو اپنا سفر جاری رکھنا چاہئے ، چاہے  وہ تخلیقی ہو فنی ہو جس بھی نوعیت کا سفر ہو، سفر جاری رہے  گا تو اس کے  ثمرات بھی آئیں گے۔ دولت اور  شہرت یہ غبار سفر ہے۔ مآل سفر نہیں ہے۔ مقصد سفر نہیں ہے۔ اللہ کا کرم ہے  کہ اس نے  بہت آغاز میں شہرت دے  دی تھی اس لئے  شہرت کا ’’ہوکا‘‘ کبھی نہیں رہا۔ برسوں تک آدمی ہفتے  میں دوبار ایک بار ’’کسوٹی‘‘ میں ایک بار ’’خطوں کے  جواب‘‘ آدھے  گھنٹے  تک آتا رہے  اور  پھر وقتاً فوقتاً میزبانی کے  دوسرے  پروگرام کرتا رہا تو پھر کیا رہ جاتا ہے۔ اس زمانے  میں جب شاعری کے  آغاز کے  دن تھے  دوچار غزلیں جو کراچی کے  علاوہ دوسرے  اسٹیشنوں سے  نشر ہوئی تھیں وہ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم نے  ’’ہونے  کو تو کیا ہوا نہیں ہے ‘‘ گائی تھی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے  ’’دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو‘‘ گائی تھی۔ محمد علی ثہکی نے  ’’تم سے  بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں ‘‘ اور  بہت سی غزلیں گائیں۔ہاں شہرت نے  میرے  اندر ایک شکر گزاری کا اور  طمانیت کا احساس پیدا کیا پھر یہ بھی کہ شہرت دو دھاری تلوار ہے  جو خود آپ کے  لئے  ایک میزان اور  معیار اعتبار مقرر کر دیتی ہے  اور  بہتری کا مطالبہ کرتی رہتی ہے  وگرنہ بہت سے  لوگ شہرت کے  بعد تن آسانی کا شکار ہو کر اتنے  آسودہ ہو جاتے  ہیں کہ مثال عبرت کے  طور پر نام لیا جانے  لگتا ہے۔

            ایک بات ضرور ہے  کہ مجھے  ٹیلی ویژن والی شہرت نے  زندگی میں دنیاوی سطح پر بہت سی آسانیاں پیدا کیں اور  میرے  شاعر کو دوسروں کے  مقابلے  میں پہنچوانے  میں کم زحمت کرنی پڑی۔ پھر یوں بھی زندگی کے  دوسرے  شعبوں میں پڑھنے  لکھنے  کے  تعلق نے  شہرت میں ایک احترام بھی شامل کر دیا تھا۔ عاجزی اور  انکساری شہرت کا زہر نکال دیتی ہے  اور  عمومی پذیرائی کی فضا پیدا کرتی ہے۔ حاسدین کی بات الگ ہے  کہ وہ تو اللہ کی طرف سے  ایک وضع کے  عذاب میں مبتلا رہتے  ہیں۔ اللہ ہی ان سے  محفوظ کرنے  والا ہے  پھر ایک اور  بات بھی ہے  بعض احباب نام ہو جانے  کو شہرت سے  تعبیر کرتے  ہیں۔ کاش کوئی انہیں نعمت اور  مہلت کے  فرق کو سمجھا سکتا کہ نعمتیں برکت کی صورت ہوتی ہیں اور  مہلت گرفت کے  محکم تر ہونے  کی نشاندہی کرتی ہے۔

٭       آپ کے  اندر شاعر کب اور  کس طور دریافت ہوا اور  اس کو منظر عام پر لانے  کا سہرا کس کے  سر ہے؟

٭٭   شعر تو میں بچپن سے  کہہ لیتا تھا مگر اس کو آپ سمجھتے  ہیں کہ ایک طرح کی موزوں طبعی تھی۔ بیت بازی کے  لئے  ہزاروں شعر اساتذہ سے  لے  کر اپنے  عہد تک کے  شعراء کے  یاد تھے۔ ایسی صورت میں خودبخود آدمی وزن سے  اور  بحر سے  ردیف اور  قافیے  وغیرہ کے  ابتدائی مسائل سے  واقف ہو جاتا ہے  مگر اصل شاعری میرے  نزدیک کچھ اور  ہوتی ہے۔ اسکول اور  کالج کے  زمانے  میں میگزینوں میں میرا کلام شائع ہوا تھا۔ ’’طالب علم درجہ ہفتم‘‘ کے  عہد کی ایک میگزین میرے  ریکارڈ میں ہے  جس میں میری ایک نہایت پھیکی غزل شائع ہوئی ہے۔ میرے  اساتذہ کہتے  تھے  کہ اور  طالب علم یا تو بزرگوں سے  لکھوا کے  لے  آتے  تھے  یا پھر اصلاح وغیرہ کے  بعد شائع کراتے  تھے۔ میں نے  اپنی بوگس غزل خود لکھی تھی اور اصلاح کے  بغیر دی تھی سو وہ چھاپ دی گئی۔ یونیورسٹی کے  زمانے  میں بھی مشاعروں اور  شعر گوئی کے  مقابلوں میں، میں شعر پڑھتا رہتا تھا۔ پاکستان آنے  کے  بعد بھی کراچی میں نجی نشستوں میں شریک ہوتا تھا مگر میرے  بزرگوں کے  ایک گروہ نے  خاص طور پر میری توجہ اس طرف مرکوز کرائی۔ مرحومین میں اطہر نفیس، سرور بارہ بنکوی، رئیس فروغ اور  سلیم احمد نے  بہت حوصلہ افزائی کی۔ سینئر شعراء میں جون ایلیا، حمایت علی شاعر، عبیداللہ علیم، نصیر ترابی نے  بہت ہمت بندھائی اور  یوں یہ کام چل نکلا۔ پھر مرحوم مغفور سلیم احمد کہ جو میرے  لئے  استاد کی حیثیت رکھتے  تھے  ایک مشورہ پر کہ ’’افتخار ! تم کو یہ طے  کر لینا چاہئے  کہ تم کو بحیثیت شاعر کے  زندگی گزارنا ہے  یا میڈیا کے  تعلق سے  باقی رہنا چاہتے  ہو‘‘ میں نے  حرف کے  حق میں فیصلہ کیا۔ اللہ کا شکر ہے  کہ اس حرف کے  حوالے  سے  مجھے  عزت عطا فرمائی اور  توفیق دی کہ میں اس کی نعمت کی مقدور بھر تحدیث کر سکوں۔

٭       اردو شاعری میں بہت کم وقت اور  بہت تھوڑے  کلام کے  عوض جتنی شہرت اور  جتنا مقام آپ کو ملا اس کی مثال کم کم نظر آتی ہے۔ آپ اسے  اپنی خوش نصیبی سے  تعبیر کرتے  ہیں یا اپنے  کلام کی بلند آہنگی سے؟

٭٭   کم لکھنا یا زیادہ لکھنا معیار کا تعین نہیں کرتا۔ قد و قامت اور  حیثیت تعین لکھے  ہوئے  لفظ کے  معیار سے  ہے۔ بعض لوگوں نے  بہت لکھا ہے  اور  بے  حد خراب لکھا ہے۔ بعض لوگوں نے  بہت کم لکھا ہے  اور  بہت اچھا لکھا ہے۔ بعض لوگوں نے  بہت کم لکھا ہے  اور  بہت خراب لکھا ہے۔ فارمولا کوئی نہیں ہے۔پطرس بخاری نے  بہت ہی کم لکھا ہے  مگر وہ ہمارے  عہد کے  اہم ترین مزاح نگار ہیں۔ ناصر کاظمی نے  بعض پُر گو شعرا کے  مقابلے  میں بہت کم لکھا ہے  مگر وہ ہمارے  بہت اہم شاعر ہیں۔ رہ گئی میری بات تو بھائی میں نے  اچھا برا جو بھی لکھا ہے  وہ ہے  جو میں لکھ سکتا تھا۔ پوری دیانت سے  لکھنے  کی کوشش کی ہے۔ مختلف لکھنے  کی کوشش کی ہے  اگر کچھ بن سکا تو اللہ کا شکر ہے  کہ عزت رہ جائے  گی۔ کوئی دعویٰ یا ادعا نہیں ہے۔  ؂

چھوئی موئی ایک لہر ہی تھی میرے  اندر

ایک لہر سے  کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں

کہیں کہیں سے  کچھ مصرعے  ایک آدھ نظم کچھ شعر

اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

٭       آپ کے  ہاں عاجزی، انکساری، رقت آمیزی اور  دلسوزی کے  اثرات شدت سے  پائے  جانے  کا سبب کیا ہے؟

٭٭   میں نے  زندگی کے  بارے  میں اس کے  نشیب و فراز کے  بارے  میں اس کی سفاکی اور  بے  مہری کے  بارے  میں صرف سنا اور  پڑھا نہیں ہے۔ میں نے  زندگی ’’برت‘‘ کے  دیکھی ہے  جھیلی ہے۔ دکھ اٹھائے  ہیں۔ کامیابی، نام و نمود شہرت عزت اللہ کی عطا ہے  اس کی دین ہے  اس پر اس کا احسان اور  شکر ہے۔ کسی شخص نے  کسی طباق میں رکھ کر پیش نہیں کی ہے۔ جدوجہد اور  محنت اور  مسلسل کام نے  ہزاروں طرح کے  لوگوں سے  متعارف کرایا ہے۔ تاریخ اور  وقت کا مشاہدہ، تذکرے، زندگی اپنے  اسرار ورموز مرحلہ وار کھولتی چلی جاتی ہے۔ یہ باتیں سمجھ میں آنے  لگیں تو پھر خود بخود انسان کا سر جھکنے  لگتا ہے۔ دل دنیا میں رہتے  ہوئے  بھی حُبِّ دنیا سے  گزرنے  لگتا ہے۔ دوسرے  کے  دکھوں اور  غموں کے  سمجھنے  اور  اس میں شریک رہنے  سے  خود آدمی مضبوط ہوتا ہے۔

            محبتیں انسان کو قوت اور  طمانیت بخشتی ہیں۔ ہر آدمی اللہ کے  سامنے  اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ جو کتاب الہی میں ہے  کہ اللہ کے  بندے  کبھی زمین پر اکڑ کے  نہیں چلتے۔ عاجزی اور  انکساری کے  ساتھ سرجھکا کے  چلتے  ہیں اور  جاہل بھی ان سے  الجھنے  لگے  تو اس کے  لئے  بھی سلامتی کی دعا کرتے  ہیں۔ ہم تو ان لوگوں کی خاک پا بھی نہیں جو اس آیت مبارک کے  مخاطب ہیں مگر ان کو مثالیہ سمجھنے  کی سعادت تو رکھتے  ہیں تو یہ سب اس کا فیض ہے۔ پھر ایسی نعمتوں اور  سرفرازی کے  بعد کس کی مجال کہ وہ سرکشی کا مظاہرہ کرے۔عاجزی اور  انکساری لازمہ شرافت و نجابت انسانی ہے  اور  نخوت و تکبر بدترین عمل۔

٭       آپ کی شاعری اور  ذاتی زندگی میں تصوف کا گاڑھا اور  گہرا میلان کس امر کی نشاندہی کرتا ہے؟

٭٭   بچپن سے  میرے  نانا محروم مجھے  حضرت مولانا عبدالرحمن سندھی لکھنوی کے  مزار پر لے  جایا کرتے  تھے  اور  ہماری والدہ سلسلہ چشتیہ منائیہ سے  بیعت تھیں چنانچہ مجھے  اس سلسلے  سے  خاص نسبت ہے  میں جب بھی کسی شہر میں جاتا ہوں تو ان درباروں میں ضرور حاضری دیتا ہوں کہ جہاں ان ’’ولایتوں ‘‘ کے  بزرگ داتا صاحب ہوں کہ بہاء الدین ذکریا ملتانی، حضرت نظام الدین اولیاء ہوں یا شاہ عبداللطیف، بری امام ہوں یا ہمارے  اپنے  سلسلے  کے  بزرگ بابا مہر علی شاہ ان کے  یہاں حاضری معمول میں شامل ہے۔

میں تو خاک تھا کسی چشمِ ناز میں آ گیا ہوں تو مہر ہوں

مرے  مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے

٭       کچھ لوگ آپ کی شاعری کو مخصوص نظریئے  یا مسلک کی تبلیغ سے  تشبیہہ کیوں دیتے  ہیں؟

٭٭   گو کہ آپ کا سوال واضح نہیں ہے  جہاں تک میری شاعری کا تعلق ہے  اس سے  بعض رجحانات کے  سبب ممکن ہے  آپ نے  یہ بات پوچھی ہو۔ میں دین کے  اعتبار سے  اسلام پر اور  بہ لحاظ فقہ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے  مسلک سے  تعلق رکھتا ہوں۔

            میری شاعری میں میرے  مستغرات میری محبتیں اور  عقیدتیں سب واضح اور  ظاہر ہو کر سامنے  آتی ہیں۔ کسی طرح کا پیچ اور  حجاب نہیں ہے۔ میرے  سارے  محبوب میرے  لفظوں میں آپ اگر سمجھنا چاہیں تو یوں سمجھ لیں کہ میرا مسلک وہی ہے  جو حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا ہے۔ اس سے  زیادہ تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اگر آپ اصرار کریں تو اس پر اور  بات بھی ہو سکتی ہے  اگر آپ مجھ سے  ’’کربلا‘‘ کے  موضوع پر بات کرنا چاہتے  تھے  تو اس کا کسی خاص فرقے  سے  تعلق نہیں ہے۔ اسلام کے  اس بطل جلیل و عظیم پر کسی فرقۂ خاص کا دعویٰ نہیں ہے۔ ظلم اور  جبر کے  خلاف حق اور  اعلان کلمۃ حق کے  سلسلے  میں وہ قربانی اور  ایثار کی ایک عظیم مثال کی حیثیت رکھتے  ہیں۔ میں نے  ان نفوس قدسیہ کی جہاد عظیم اور  صبر و ثبات و قیام سے  زندگی میں بہت معنی پائے  ہیں سو اس کا بیان میرے  معروضی حالات میں ایک واقعہ کے  ساتھ ساتھ ایک طرز زندگی کا بیان ہے  جس پر میں جتنا بھی ناز کروں کم ہے۔

٭       کامیابی و کامرانی کے  لئے  رہنمائی نہایت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ شاعری میں آپ کا باقاعدہ استاد کون ہے؟

٭٭   میری زندگی میں جن لوگوں نے  بنیادی کردار ادا کیا ان میں اہم ترین لوگ اسلم اظہر، مشتاق احمد یوسفی، فیض احمد فیض اور  سلیم احمد ہیں۔ میں نے  ادب ہی کے  حوالے  سے  نہیں زندگی کے  بارے  میں ان سے  بہت سیکھا۔

            احسان کی جزا دینے  والا انہیں اپنے  خزانے  سے  بہت دے  گا۔ کم سے  کم میں جو کر سکتا ہوں وہ ان کے  سلوک اور  احسان کا اعتراف ہے  کہ انہوں نے  مجھے  بہت سہارا دیا اور  میری تربیت و تہذیب میں بہت مدد کی۔ پھر دوست بھی محسنوں سے  کم نہیں۔ زوال نعمت سے  پہلے  شکر نعمت ضرور کیا جانا چاہئے  کہ بعد میں اس کے  کیا معنی۔ زندگی کی ہر منزل میں مجھے  ایسے  دوست میسر آئے  جنہوں نے  قدم قدم پر ایک اکیلے  اور  بالکل تنہا آدمی کو زندگی گزارنے  کا حوصلہ دیا اور  زندگی میں نیکی اور  خیر پر میرے  یقین کو متزلزل ہونے  سے  محفوظ رکھا۔ فہرست طویل ہے  کسی بھی دوست کا ذکر رہ جائے  تو آزردگی بے  جا کی صورت نکلے  گی سو خاموشی اس مقام پر کلام سے  بہتر ہے۔

٭       آپ ڈرائنگ روم کی شاعری کو نہیں مانتے ۔ تجربات، مشاہدات اور  واردات قلبی کی شاعری کو اہم گردانتے  ہیں۔ اب یہاں ہم بجا طور پر آپ کی دشت نوردی سے  آگاہی کے  خواہش مند ہیں؟

٭٭   ماننے  یا نہ ماننے  کا سوال نہیں ہے۔ زندگی کی طرح شاعری کا کوئی فارمولا نہیں۔ ہر شاعر اپنے  موضوع کے  انتخاب میں آزاد ہے۔ بس دیکھنے  کی یہ بات ہے  کہ تخلیقی اعتبار سے  وہ ہنر کے  کس کس معیار پر پورا اترتا ہے۔ رومانی شاعری کی جذباتیت اولجلجی لجلجی گھگھیائی ہوئی شعری روایت مجھے  بچگانہ لگتی ہے  ممکن ہے  بعض لوگوں کو اس میں لطف آتا ہو۔ آخر جرأت اور  داغ جیسے  شاعر بھی تو ہماری روایت کا حصہ ہیں۔ اب یہ اور  بات ہے  کہ میرؔ اور  غالبؔ اور  اقبالؔ ہی نہیں سودا، نظیر، آتش، مصحفی سے  فیض اور  راشد، میرا جی اور  احمد ندیم قاسمی اور  مجید امجد اور  عزیز حامد مدنی تک کی شاعری کی جو رینج ہے  اس کو دیکھ لیجئے  آپ کو خود پتہ چل جائے  گا کہ سطحیت کیا چیز ہے  اور  شعر کی منزل کہاں سے  شروع ہوتی ہے۔

٭       آپ کے  بارے  میں ایک رائے  یہ بھی ہے  کہ آپ کی شاعری اور  عہدے  قریب قریب ہم عمر ہیں اسی باعث ناقدین نے  آپ سے  مصالحانہ برتاؤ روا رکھا اور  آپ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے  ہوئے  تنقید سے  گریزاں رہے؟

٭٭   ایسی بے  معنی اور  لغو بات کہہ کے  آپ کو معلوم نہیں کہ آپ مجھ پر نہیں بلکہ فیض احمد فیض، سبط حسن، احمد ندیم قاسمی، مشتاق احمد یوسفی، ممتاز مفتی، اخترالایمان، گوپی چند نارنگ، ممتاز حسین، صفدر میر، علی سردار جعفری، ڈاکٹر آفتاب احمد خان، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، مجتبیٰ حسین، فتح محمد ملک، قمر جمیل، انتظار حسین، ضمیر جعفری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر انور سدید اور  ان جیسے  صاحبان علم و فضل پر بددیانتی کا الزام دے  رہے  ہیں جو کسی بھی طرح آپ جیسے  علم دوست کو زیب نہیں دیتا۔ یہ مختلف مکاتب فکر و خیال کے  نہایت ہی واجب الاحترام لوگ ہیں منصب کے  حوالے  سے  ان پر جانبداری کا الزام بجائے  خود بددیانتی کے  مترادف ہے۔

٭       کچھ لوگ آپ کو دوہری شخصیت کا مالک گردانتے  ہیں ان کے  بقول عاجزی انکساری اور  نیاز مندی آپ کے  ظاہری اوصاف ہیں اندر سے  آپ غصیلی طبیعت کے  مالک ایک چڑچڑے  انسان ہیں؟

٭٭   عاجزی اور  انکساری شخصیت کا جزو ہونا اچھی بات ہے۔ رہی نخوت اور  تکبر تو اللہ کا شکر ہے  کبھی اس عذاب میں مبتلا نہیں رہا۔ چڑچڑا پن بڑے  لوگوں میں ہوتا ہے۔ ہم خاک نشینوں کو یہ چونچلے  زیب نہیں دیتے۔ رہا غصہ تو یہ کس کو نہیں آتا مگر کبھی کوئی سخن ناسزا کہنے  یا حرف ناروا کہنے  کی تہمت کبھی بھی نہیں لگا سکتاضبط اور  تحمل غریب آدمی کا بڑا اثاثہ ہوتا ہے  اور  زندگی کی بڑی دین ہے  اور  صبر اور برداشت اور  بردباری مجھے  زندگی کے  تجربوں سے  ملی ہے۔

٭       اک الزام آپ پر ادبی مناقشوں سے  لطف اندوزی کا ہے  سنا ہے  آپ بیک وقت بہت سے  محاذوں پر چو مکھی لڑنے  کے  ماہر ہیں؟

٭٭   شائستگی اور  تہذیب کے  دائرے  میں رہتے  ہوئے  اختلاف رائے  کا اظہار مجھے  کبھی بھی ناگوار نہیں گزرتا مگر الجھنا میری طبیعت کے  خلاف ہے۔

            وضاحتوں سے  بھی آپ نے  دیکھا ہو گا کہ میں دور ہی رہتا ہوں۔ بد گمانیوں کی کوئی صورت دوستوں کے  درمیان نکل آئے  تو خود جا کے  بات کر لیتا ہوں۔ غلطی ہو تو معذرت کر لیتا ہوں۔ دوستوں کی ناز برداری ضرور کرنی چاہئے۔ ان کا مان رکھنا ان کا خیال رکھنا فرض سمجھتا ہوں۔ مگر گروہ بندی سے  دور رہنا چاہتا ہوں اور  کوشش کرتا رہتا ہوں کہ جانب داری سے  محفوظ رہوں اللہ کا شکر ہے  کہ ٹیلی ویژن کے  زمانے  میں اردو مرکز کے  زمانے  میں اور  پھر اکادمی اور  مقتدرہ کے  زمانے  میں بھی گروہ بندی کی لعنت سے  بچا رہا اور  مجھے  تمام حلقوں کا تعاون اور  توجہ اور  رہنمائی قدم قدم پر حاصل رہی اور  یہ میرے  لئے  بہت بڑا سرمایہ ہے۔

٭       آپ کے  ہوش سنبھالنے  سے  عملی زندگی میں آنے  تک ترقی پسند تحریک میں کچھ زیادہ شدت باقی نہ رہی تھی۔ پھر آپ کے  رجحانات اس جانب کس سبب مائل ہوئے  اور  آج آپ خود کو کس مقام پر محسوس کرتے  ہیں؟

٭٭   ترقی پسند تحریک سے  وابستگی کا جہاں تک تعلق ہے  اس کی صورت میرے  اپنے  پس منظر سے  ہے۔ پسماندہ طبقے  کے  تعلق کے  سبب میں ظاہر ہے  اپنے  طبقے  کی بہتری کیلئے  ایک نظام عدل و خیر و فلاح کا آرزومند ہوں۔ یہ ملک فلاحی اسلامی مملکت کی شکل اختیار کرے  گا یہ سب کا خواب تھا اور  کچھ لوگ ابھی ہیں جو عدل اور  مساوات اور  اخوت کے  خواب دیکھنا اپنا فرض سمجھتے  ہیں۔ آزادی، امن، خوشحالی، تعلیم، مساوات، مواقع سب کے  لئے  ظلم کے  خلاف جبر کے  خلاف ہر آمرانہ نظام کے  خلاف عوام کی جدوجہد میں کل بھی شریک تھا، کل بھی رہوں گا۔

٭       اچھا یہ اردو مرکز لندن کی کہانی کیا ہے ………… جس سے  تعلق کے  دوران آپ کو مالی آسودگی اور  بین الاقوامی شناخت میسر آئی مگر اشاروں کنایوں میں آپ بیزاری کا اظہار بھی کرتے  رہے؟

٭٭   اردو مرکز لندن کے  بارے  میں سوال آپ نے  آسودگی اور  بیزاری کے  حوالے  سے  کیا ہے۔ پہلا جواب تو یہ ہے  کہ میں نے  اردو مرکز لندن میں جو کام کیا ہے  وہ میری زندگی کے  دس بارہ برسوں بہت اہم حصے  پر محیط ہے۔ اس ادارے  نے  فروغ و ترویج اردو کے  لئے  جو کام کیا ہے  وہ ساری دنیا جانتی ہے  مگر اردو مرکز کے  ختم ہو جانے  کے  بعد جو نقصان ہوا ہے  اب ان حلقوں میں بھی اس کا اظہار کیا جانے  لگا ہے  جو ایک زمانے  میں اس سے  پرخاش کا رویہ رکھتے  تھے۔

            ہفتہ وار ماہانہ ادبی جلسے، تقریبات، سیمینار، توسیعی خطبات، مشاعرے، شامیں، تقریباتِ تعارف، مطبوعات، کتب خانہ، ریڈنگ روم اتنے  جہات تھے  مرکز کے  کہ وہ علیحدہ علیحدہ بیان چاہتے  ہیں مگر اس تمام محفل آرائی کے  باوجود میرے  اندر کا ایک شاعر والا حصہ پاکستان کے  لئے  تڑپتا رہتا تھا۔ زندگی کی ساری آسودگیاں بحمد اللہ ایسی آسودگیاں جو خود وہاں کے  طبقہ امراء میں بھی کم کم ہوں میسر تھیں مگر شاعر افتخار کو یہی شکایت تھی۔

آسودہ رہنے  کی خواہش مار گئی ورنہ

آگے  اور  بہت آگے  تک جا سکتا تھا میں

ہوس لقمہ تر کھا گئی لہجے  کا جلال

اب کسی حرف کی حرمت نہیں ملنے  والی

٭       ایک لطیفہ بھی آپ کی ذات سے  منسوب ہے  آپ کا تکیہ کلام بیٹے  ہے  روانی میں آپ اکثر اپنے  سے  بڑے  عمر کے  لوگوں کو بھی بیٹے  کہہ کر پکار لیتے  ہیں؟

٭٭   ہمارے  یہاں عام طور پر کوئی جوان آدمی ذرا سینئر افسر ہو تو آداب محفل کے  مسائل پیدا ہونے  لگتے  ہیں مگر میں اپنے  بزرگوں کو بزرگوں کی طرح اور  خوردوں کو ان کے  حساب سے  مخاطب کرتا ہوں ممکن ہے  کسی معمر شخص کو کبھی کم سن سمجھ بیٹھا ہوں مگر شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو۔

٭       اکادمی ادبیات پاکستان کے  ڈائریکٹر جنرل کے  طور پر آپ کی خدمات اور  انتخاب مستحسن امر گردانا جا سکتا ہے ………… سینئر ترین اہل علم و ادب کی موجودگی میں ’’مقتدرہ ‘‘ کی چیئرمینی کا بار آپ کے  ناتواں کندھوں کو سونپنا کس امر کی نشاندہی کرتا ہے؟

٭٭   عمر اور  تجربہ اور  صلاحیت اور  لیاقت اور  استعداد یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ ہزار رخ سے  ان پر اصرار و انکار کے  موقف اختیار کئے  جا سکتے  ہیں۔ اصل بات تو کارکردگی اور  فرائض کی بجا اور ی ہوتی ہے۔ وقت سامنے  ہے  اللہ تعالیٰ سے  توفیق کا آرزو مند ہوں اور  یقین کرتا ہوں کہ وہ مجھے  مقتدرہ میں بھی سرخروئی عطا فرمائے  گا کہ وہ محنت اور  لگن اور  اخلاص سے  کام کرنے  والوں کی خدمات کو کبھی رائیگاں نہیں جانے  دیتا۔

            یہ میرا عقیدہ تو ہے  ہی میرا ذاتی تجربہ بھی ہے  کہ محنت اور  مسلسل محنت کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔ بزرگوں کو خدا سلامت رکھے  ان کی توجہات اور  رہنمائی میں راستے  طے  کرنے  میں آسانیاں بھی ہوں گی۔ ویسے  یہ کوئی کلیہ نہیں ہے۔ معمر حضرات و خواتین ضروری نہیں کہ بہ لحاظ استعداد و صلاحیت استحقاق بھی رکھتے  ہوں جیسے  ضروری نہیں کہ سارے  نوجوان باصلاحیت اور  فعال ہوں۔ اصل بات تو کام ہوتا ہے۔ تجربہ، وژن، توانائی اور  سمت سفر کا درست تعین ہو جائے  تو جوان انتظامیہ میرے  خیال میں زیادہ فعال اور  متحرک کردار ادا کرتی ہے  مگر اس سلسلے  میں فارمولا کوئی نہیں ہے۔

٭       پچھلے  دنوں آپ کے  ادارے  ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کے  زیر اہتمام ایک قومی سیمینار منعقد کیا گیا اس کے  اغراض و مقاصد کیا تھے  جبکہ اس سیمینار کے  کلیدی خطیب جناب احمد ندیم قاسمی نے  ماضی، حال اور  مستقبل کے  حوالے  سے  اردو کے  نفاذ میں برتی جانے  والی منافقت کا برملا اظہار کرتے  ہوئے  اپنی مایوسی کو چھپانا بھی مناسب نہ جانا؟

٭٭   مجھے  مقتدرہ میں آئے  ہوئی ابھی چند دن ہوئے  ہیں۔ اتنے  عرصے  میں جو کام ہوئے  ہیں وہ سامنے  ہیں اور  میں بہت پرامید ہوں کہ انشاء اللہ ہم اپنے  مقصد کے  حصول میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ منفی رجحانات کا اظہار میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے  پر بڑی زیادتی ہو گی جبکہ ہر طرف سے  کلی تعاون اور  اشتراک کا واضح اور  بین اظہار کیا جا رہا ہے۔ رہ گئی اختلاف آراء کی بات تو جمہوریت میں سو طرح کی مختلف باتیں ہوتی ہیں بعد میں ان مکالموں کی روشنی میں نقطہ اتحاد و اتفاق طے  پاتا ہے۔ اس سے  الجھنا نہیں چاہئے  بلکہ استفادہ کرنا چاہئے۔

٭       آپ کی منزل آپ سے  کتنی دور ہے  اور  اس تک پہنچنے  میں کن دشواریوں اور  دقتوں کو عبور کرنا باقی ہے؟

٭٭   شاعری زندگی کا منیارہ مقصد ہے  یہ سفر کبھی بھی ختم نہیں ہوتا آخری سانسوں تک یہ عمل جاری رہتا ہے  میں ان لوگوں کی بات نہیں کرتا جو ہنر کو ثانوی حیثیت دیتے  ہیں نامعلوم کب کس ساعت اللہ تعالیٰ باقی رہ جانے  والے  دوچار لفظ کہلوا دے  نہیں کہا جا سکتا یہ جو ہم زندگی بھر ریاض اور  محنت کرتے  رہتے  ہیں اسی امید پر اور  اسی انتظار میں کہ ہم بھی کسی دن اس قابل شعر کہہ سکیں گے  کہ آنے  والے  زمانے  میں ہماری پہچان کا اور  شناخت کا حوالہ رہ جائے  یہ منزل کب آئے  گی، آئے  گی بھی یا نہیں یقین سے  نہیں کہا جا سکتا۔

٭       لیجئے  انٹرویو کا اختتام آن پہنچا قومی، ملکی، ذاتی حوالے  سے  آپ اپنے  قارئین اور  مداحین سے  جو بھی کہنا پسند کریں ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔

٭٭   ؂            آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ

            صبح کی بنیاد رکھنی ہے  تو پہلے  خواب دیکھ

                                                                        (جولائی ۱۹۹۵ء)

٭٭٭

 

ثاقبہ رحیم الدین

٭       آپ کی شخصیت کی تعمیر کا سہرا میکہ کے  سر ہے  یا سسرال کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے؟

٭٭   دیکھئے  شخصیت تو بہت بڑے  بڑے  لوگوں کی ہوتی ہے  میں تو ایک عام سی گھریلو عورت ہوں جو تھوڑے  بہت باہر کے  کام بھی کر لیتی ہے  اور  دو چار حرف لکھ لیتی ہے۔ مگر آپ میری شخصیت کی تعمیر پر زور دے  رہے  ہیں تو میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہر انسان کی شخصیت کی بنیاد اور  ابتدائی ڈھانچہ بچپن میں بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے  کہ میرے  کردار، عادتوں اور  نظریات پر اپنے  خاندان کے  گہرے  اثرات ہیں۔ مثال کے  طور پر حیا، سادگی پاکیزگی، علم و ادب کا ذوق و شوق اور  اس کے  پرچار کی تمنا، کل انسانیت سے  محبت اور  ہر وقت اور  ہر حال میں اللہ کو یاد رکھنا…….. یہ سب جھلکیاں میں اپنے  ماں باپ میں پاتی تھی۔ قیام پاکستان کے  بعد سے  ہمارا گھرانہ باقی خاندان کے  افراد سے  کٹ کر رہ گیا تھا۔ ہم نے  ابتدا سے  رشتہ داریاں نہیں دیکھیں صرف ذکر سنا کرتے  تھے۔ ہمارے  لئے  پاس پڑوس اور  دوست احباب اہم تھے  اور  سب کو پاکستان سے  عشق جنون کی حد تک تھا۔

            ہمارا میکہ کراچی میں آباد تھا۔ ہم نے  کشادہ اور  حب الوطنی کی فضا میں، معزز تعلیم یافتہ لوگوں میں، اور  خوشحال طریقے  سے  زندگی گزاری۔ میرے  دو بھائی اور  دو بہنیں ہیں۔ میری والدہ نیک، کم گو، معصوم اور  پیار کرنے  والی خاتون ہیں۔ مجھے  مشرقی انداز سے  ذرا بھی گھریلو کام نہیں سکھائے  گئے  اور  واضح اور  شرعی طریقے  سے  مذہبی تعلیم بھی نہیں دی گئی۔ ہماری والدہ جن کو سب بیا کہا کرتے  ہیں ہماری صحت و تندرستی، پاک صاف رہنے  اور  گھر اچھا چلانے  پر دھیان دیتی تھیں مگر ان کو ہمارے  پڑھنے  لکھنے  یا اسکول اور  کالج کے  تعلیمی نتائج سے  کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میں نے  اپنے  والد کی لائبریری سے  اور  کئی جگہوں سے  بہت زیادہ کتابیں پڑھی تھیں جو آج کل سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی کبھی نہیں پڑھتی ہے۔ میں نے  میکہ میں بہت کم تعلیم حاصل کی اور  گھریلو کام بھی نہ سیکھے ۔ ہمارے  ماحول میں آزادی، خوشیاں اور  سچائیاں تھیں۔ بچپنے  میں خلوص و ادب ہمارے  خاندان کا شیوہ تھا۔ ہم سوسائٹی میں move کرنا اور  اعلیٰ اخلاق و ادب جانتے  تھے۔ میری قدروں کے  بننے  میں میرے  والد کی خاصی پرچھائیاں ہیں۔

            جہاں تک سسرال کا تعلق ہے  تو مجھ پر میرے  شوہر کی عادتوں کے  اثرات کا دخل ہے  مگر سسرال والے  ہمیشہ سے  یوپی میں رہے۔ سسرال والے  نہ ہماری منگنی میں آئے  نہ شادی میں اور  نہ تمام عمر کوئی جذباتی تعلق رکھا۔ ہماری پینتیس سالہ شادی شدہ زندگی میں ایک بار چند دن کے  لئے  دیور اور  نند ملاقات کے  لئے  پاکستان آئے۔ ہم دونوں فوج کی ملازمت اور  پاکستان ہندوستان کے  کشیدہ تعلقات کی وجہ سے  یو پی جانے  کی اجازت نہیں حاصل کر سکے  تھے۔ میری شادی اٹھارہ سال کی عمر میں ہوئی۔ ہمارے  چار بچے  ہیں۔ میں نے  زندگی کے  دکھ سکھ، بیماریاں، حادثے، ٹرانسفرز، فوجی زندگی کے  انقلابات، سرکاری عہدوں کی الجھنیں، بچوں کی تعلیم و تربیت اور  ان کی شادیاں …….. غرض سب کچھ تن و تنہا ہی سہا اور  زندگی کا سفر جاری رکھا۔ سسرال والوں کا میری شخصیت پر اثر کا تو قطعی سوال ہی نہیں ہوتا مگر کم عمری میں میں نے  اپنے  شوہر سے  کافی باتیں سیکھی ہیں۔ انہوں نے  مجھے  تعلیم حاصل کرنے  میں سہولتیں دیں۔ میں نے  ان کی شخصیت سے  نظم و ضبط، حقیقت پسندی اور  محنت کرنے  کا سلیقہ سیکھا۔ میں نے  اپنے  شوہر سے  عقل و فراست قومی سیاست اور  بین الاقوامی امور کی باتیں سمجھیں۔ اور  بے  شمار ملک مثلاً امریکہ، جرمنی، فرانس، چین، انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ اور  سعودی عرب کے  سفر کئے۔

٭       علم و ادب کی خدمت آپ کے  مزاج کا حصہ کیونکر بنی؟

٭٭   میرے  خیال میں جس طرح انسان اس کھوکھلی اور  بے  حس دنیا میں اللہ سے  محبت اور  اس کی عبادت نہیں کرے  تو پاگل ہو جائے  گا اسی طرح انسان اپنی مادی ضروریات پورا کرنے  کے  ساتھ ساتھ علم و ادب کی خدمت نہ کرے  تو ٹوٹ ٹوٹ کر مٹ جائے  گا۔ بس اس سے  زیادہ اور  کیا کہوں۔

٭       بچوں سے  آپ کے  خصوصی تعلق کا آغاز کب اور  کس طرح ہوا؟

٭٭   مجھے  بچوں سے  خصوصی لگاؤ اور  محبت ہمیشہ سے  تھی۔ ایک چھوٹی لڑکی کی حیثیت سے  بھی اور  آج تک بھی۔ یہ تو کچھ ازلی و ابدی رشتہ ہے، صرف اس کے  انداز اور  روپ بدلتے  رہے۔یہ سچ ہے  کہ مجھے  اپنے  بچوں جیسا پیارا تو ساری دنیا میں کوئی لگتا ہی نہیں ہے  مگر میری محبت تو سب بچوں کے  لئے  بھی حد سے  زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ بچے  چاہے  اپنے  ہوں، خاندان کے  ہوں، دوست احباب اور  پڑوس کے  ہوں، اپنے  ملک کے  ہوں یا دوسرے  ممالک کے، مسلم ہوں یا غیر مسلم، کسی بھی رنگ و نسل کے  ہوں، کوئی بھی زبان بولتے  ہیں، صحت مند ہوں یا بیمار، خوبصورت ہوں یا بدصورت، چھوٹے  ہوں یا بڑے، ہمیں ہر صورت اور  ہر حال میں پیارے  لگتے  ہیں۔

٭       بڑوں کی نسبت بچوں کا ادب تخلیق کرنا آسان ہے  یا دشوار؟

٭٭   بڑوں کی نسبت بچوں کے  لئے  لکھنا آسان ہے  میرے  لئے  بچوں کے  لئے  لکھنا بڑی قدرتی بات ہے ۔ نہ کبھی کچھ سوچا اور  نہ کبھی سمجھا۔ جیسے  ایک ماں بچوں سے  دن بھر باتیں کرتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی بچوں کو کوئی علم یا معلومات دینا ہوتی ہیں تو ذرا محنت کرنا پڑتی ہے  ورنہ قصہ کہانی میں تو جی میں آئی بات منہ پر آ جاتی ہے۔ بچے  خوش، ہم بھی خوش اور  شاید ہمارا پیارا اللہ بھی خوش۔

            بڑوں کا ادب تخلیق کرنے  کے  مختلف انداز ہوتے  ہیں۔ سب سے  اچھا اور  خوبصورت انداز تو یہ ہوتا ہے  کہ دل کی بات دل سے  نکلے  اور  دلوں میں جا بیٹھے۔ مگر یہ ہمیشہ نہیں ہوا کرتا ہے۔ کبھی بھولی بسری یادیں ہوتی ہیں، کبھی محبت اور  کبھی اداسیاں محرک بنتی ہیں، کبھی گہری سوچوں میں گم ہو کر، اور  کبھی تحقیق کی سرنگ سے  گزر کر لکھا جاتا ہے۔ بڑوں کے  ادب میں ذہن قلب اور  روح کی ان گنت اور  نت نئی کیفیات اور  واردات ہوتی ہیں۔ یہ عمل ہوا کی لہروں کی طرح ظاہر ہوتا ہے  اور  کبھی مدتوں غائب رہتا ہے۔ آپ کو شاید تعجب ہو کہ بہت زمانہ ایسا گزرا کہ میں لکھتی رہتی تھی اور  شائع نہیں کروا سکتی تھی۔

٭       آپ نے  قلم قبیلہ اور  پاکستان چلڈرنز اکیڈمی کی بنیا د کب اور  کس طرح رکھی اور  ان کے  اہداف اور  ذرائع آمدن کیا ہیں؟

٭٭   قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ کی بنیاد 1978 ء میں اور  پاکستان چلڈرنز اکیڈمی ٹرسٹ کی بنیاد 1976 ء میں کوئٹہ میں رکھی گئی۔ پہلی بات تو یہ ہے  کہ صوبہ بلوچستان کی اجتماعی ادبی زندگی میں بہت بڑا خلاء تھا دوسرے  میں خود بھی اسی زمانے  میں زندگی کے  بلحاظ عمر سنجیدہ دور میں داخل ہوئی تھی۔ صوبہ بلوچستان میں چار مستند زبانیں رائج ہیں، بلوچی، براہوی، پشتو اور  سرائیکی اور  اردو ہر جگہ سمجھی اور  بولی جاتی ہے۔ اس کے  علاوہ زمین وسیع اور  آبادی محدود ہے۔ ایک ہی صوبے  میں مکران کا سمندر و ساحل، زیارت کا پہاڑ، قلات کے  میدان اور  سبی و ڈھاڈر کے  صحرا موجود ہیں۔ غرض ہزار مشکلات کے  باوجود قلم قبیلہ نے  عزم کیا کہ نہ صرف اپنے  صوبے  میں بلکہ پورے  پاکستان کے  اہل قلم کو متحدہ پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ یہ قبیلہ اہل قلم و فکر و دانش، باذوق اور  ادب نواز لوگوں کا قبیلہ ہے۔ قلم قبیلہ نام کافی زمانے  تک تنقید کا باعث بنا رہا۔ قلم انسان کی ذہنی روشنی، روح کی بالیدگی، اور  اعلیٰ قدروں کی علامت ہے  اور  قبیلہ زمینی حقیقت، قوت و اتحاد اور  تہذیب کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس ٹرسٹ کے  اہم اور  بنیادی مقاصد یہ ہیں۔ ادب تخلیق و تحقیق کرنا اور  اس کے  لئے  سازگار ماحول پیدا کرنا، سچی انسانی قدروں کو فروغ دینا، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا، ابھرتے  ہوئے  اہل قلم کی حوصلہ افزائی کرنا، ضرورت مند اہل قلم کی پس پردہ مدد کرنا، ادبی لائبریری کو چلانا، ادبی شہہ پاروں کے  باہمی تراجم کرنا، ادبی تاریخ کو محفوظ کرنا اور  انسان دوستی اور  اجتماعی شعور کے  نظریات عام کرنا۔ پیارے  رب کے  احسان سے  اور  ممبران کی شب و روز محنت سے  قلم قبیلہ کے  اب تک دو منتخب ادبی تحریروں کے  مجموعے  شائع کئے  ہیں اور  سہ ماہی رسالہ کے  پانچ شمارے  شائع ہو چکے  ہیں۔ قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ کوئٹہ میں ایک کمپلیکس ہے  جس میں ادبی لائبریری، آڈیٹوریم، ریسرچ روم، آفس، قلم قبیلہ رسالہ دفتر، ریکارڈ روم، عارضی رہائشی کمرے  اور  کچن و کھانا کمرہ موجود ہے۔ قلم قبیلہ رجسٹرڈ پرائیویٹ ٹرسٹ ہے  جس کی تعمیر اور  سارا سامان زیادہ تر ملک بھر کے  لوگوں سے  چندہ مانگ کر مکمل کیا گیا ہے  اور  اپنے  ذاتی تعلقات اور  سرکاری سطح پر بھی قرضے  لئے  گئے  تھے۔ ہم ساڑھے  چھ سال تک قرض دار تھے۔ اب 83ء تک کی جمع رقم کو circulation میں ڈال دیا ہے۔ ہم اہم تقاریب میں یا کبھی اشاعت کی خاطر اہل ثروت اور  اہل اقتدار سے  فنڈز مانگتے  رہتے  ہیں۔ ہمارے  ہاتھ میں ایک کشکول برسوں سے  مسلسل رہتا ہے۔

            پاکستان چلڈرنز اکیڈمی ٹرسٹ کے  مالی حالات اور  آمدن کے  طریقے  بالکل قلم قبیلہ ٹرسٹ کی طرح ہیں۔ پاکستان چلڈرنز اکیڈمی قیام پاکستان کے  بعد سے  بچوں کا اولین منفرد اور  واحد ادارہ ہے  جو رنگ و نسل، زبان و مذہب اور  طبقاتی امتیاز کے  بغیر بچوں کی فلاح کے  لئے  کوشاں ہے۔ اکیڈمی کے  بنیادی مقاصد میں بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو نکھارنا، دین اسلام سے  محبت پیدا کرنا، حب الوطنی کے  جذبے  کو بیدار رکھنا، اچھا شہری بنانا، بے  لوث خدمت خلق کی خوبی کو عادت بنانا، اور  صحت مند و تعمیری ادب تخلیق کرنا اور  بچوں تک پہنچانا شامل ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے  اور  ممبران کی مسلسل محنت سے  اکیڈمی کے  پاس آڈیٹوریم، جمنازیم، لائبریری، فن و ہنر کا کمرہ، صحت کا کمرہ، پلے  گراؤنڈ، آفس اور  سفر کے  لئے  ڈیزل کوسٹر موجود ہیں۔ اکیڈمی بچوں کا رسالہ شائع کرتی ہے  اور  اس کی نو شاخیں ملک کے  دور دراز علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔ اس کی مالیات کے  سلسلے  میں بھی ہمارے  ہاتھوں میں مدتوں سے  کشکول رہتا ہے۔ ان دونوں اداروں میں کچھ لوگ ساتھ چھوڑ رہے  ہیں اور  کچھ نئے  آن ملے  ہیں۔ اکیڈمی کی شاخیں کھل رہی ہیں کام حد سے  زیادہ ہے، مالی مسائل کا انبار ہے، اللہ ہمارا ساتھ دے۔

٭       آپ تخلیق کار، تنظیم کار، سماجی و رفاہی شخصیت کے  علاوہ ملک کی ممتاز دانشور بھی ہیں۔ شناخت کا کون سا حوالہ آپ کو محبوب ہے؟

٭٭   اس وقت آپ نے  پانچوں بڑے  اور  مشکل الفاظ میں میرا ذکر کر دیا ہے۔ سچ پوچھئے  تو میں ان میں سے  کچھ بھی نہیں۔ بس اللہ جی نے  ہمیں ایک دائرے  میں ڈال دیا ہے  اس دائرے  میں ہماری انگلی رکھ دی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے  دائرہ ویسے  ہی گھومتا جاتا ہے۔ آرزو ہے  تو یہی ہے  کہ ساری عمر اپنے  پیار کرنے  والے  سے  پیار کروں اور  اس کے  پیارے  بندوں میں پیار بانٹوں کبھی ادب کے  ذریعے  کبھی علم کے  ذریعے۔ آپ میری اس چھوٹی سے  بات کو شخصیت کے  جس نام کے  نیچے  رکھنا چاہیں، رکھ دیں۔

٭       یونیسیف نے  پہلی بار کب اور  کس پہلو سے  آپ کی جدوجہد کو ستائش کی نظر سے  دیکھا؟

٭٭   یونیسیف نے  میرے  اور  اداروں کے  کاموں کو تقریباً سترہ اٹھارہ سالوں سے  دور دور سے  دیکھا ہے۔ بعض کاموں کو یونیسیف کے  لوگوں نے  سراہا مثلاً خواتین و بچوں کی صحت صفائی کے  کام اور  ذہنی و جسمانی لحاظ سے  بیمار بچوں کی فلاح کے  کام وغیرہ۔ میں اس عالمی ادارے  کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے  مجھے  اعزاز سے  نوازا۔ یہ حقیقت ہے  کہ یونیسیف نے  خصوصی طور سے  مالی اعتبار سے  کبھی قلم قبیلہ یا پاکستان چلڈرنز اکیڈمی کے  مرکزی دفتر کوئٹہ اور  اس کی شاخوں پشاور ملتان میرپورخاص اسلام آباد کی مدد نہیں کی ہے  البتہ چند بار یونیسیف نے  اکیڈمی کے  تعاون سے  تقریب اور  ورکشاپ کا انتظام کیا ہے۔ اسی طرح دو ایک بار ہمارے  دور دراز اور  پس ماندہ علاقوں مثلاً گوادر، ہنگو، نالتر، تھرپارکر اور  فتح جنگ کے  بچوں کو انعامات دیئے۔ چند بار مکران کے  بچوں اور  افغانی بچوں کو حفاظتی ٹیکے  لگائے۔ میں نے  اپنی کہانی کی کتابیں ان کے  ممبران کے  ذریعے  دور دراز کے  ممالک کے  بچوں کو تحفے  میں بھجوائیں۔ یونیسیف کے  لوگوں کا ’’قلم قبیلہ‘‘ سے  تعلق صرف ملنے  ملانے  کی حد تک ہے۔

٭       آپ کا تعلق سوسائٹی کی جس کلاس سے  ہے  اس میں اردو زبان و ادب کی کیا وقعت ہے۔ حلقہ احباب سے  متعلق خواتین، مرد یا بچے  آپ کی کتابیں خریدتے  یا پڑھتے  ہیں؟

٭٭   میرا تعلق جن سوسائیٹیز سے  ہے  ان کے  بہت سے  نمایاں شعبے  ہیں۔ میرا خاندانی پس منظر،آرمی کی سوسائٹی، سول اور  سرکاری سوسائٹی، اہل قلم دانشوروں، فنکاروں اور  تعلیم یافتہ لوگوں کی سوسائٹی، علمی و ادبی اور  رفاہی اداروں کی سوسائٹی۔ میں ہمیشہ ان سب حلقوں میں گھری رہی ہوں۔ جہاں تک ادب کا سوال ہے  تو میرے  مردوں اور  خواتین کے  شعبے  ہرگز جداجدا نہیں ہیں۔ اکثر جسے  اونچی سوسائٹی کہا جاتا ہے  وہاں تخلیق ادب اور  ذوق ادب کی بہت کمی ہے۔ اردو زبان کا معیار کم ہے۔ کوئی سخن فہم نظر نہیں آتا۔ نسبتاً کم لوگ ہلکی پھلکی انگریزی کتابیں پڑھ لیتے  ہیں۔ انگریزی کا بھی ادبی ذوق ناپید ہے۔ سوائے  چند لوگوں کو چھوڑ کر، سینئر آرمی آفسیرز اور  ان کی بیویوں نے  میری ادبی تقاریب اور  کتابوں کو کبھی نہیں سراہا اور  شادی کے  بعد جس زمانے  میں میں نے  اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا تھا تو بہت مذاق اڑایا جاتا تھا۔ سول حکام اور  تعلیمی شعبے  کے  لوگ کافی حد تک ادبی معاملات میں قریب رہے۔ میری چھوٹی موٹی ادبی کاوشوں کو نئی نسل کے  لوگ اور  بچوں نے  قابل قبول جانا ہے۔ میرے  حلقہ احباب میں زیادہ تر لوگ کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے، ویسے  پڑھ لیتے  ہیں۔ کچھ صحیح بتا نہیں سکتی غالباً مجھے  تھوڑا بہت تو پڑھتے  ہیں اس کا کچھ اندازہ ان کی تحریروں سے  ہوتا ہے  سارے  ملک سے  بچوں کے  فون اور  خطوط آتے  رہتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ پاکستان کے  کسی بھی شہر میں جاؤں یا ملک سے  باہر بھی جاؤں تو بچے  دوڑے  چلے  آتے  ہیں اور  طرح طرح سے  اپنی محبت کا اظہار کرتے  ہیں۔

٭       نثری نظم اور  آزاد شاعری کے  رواج سے  شعراء کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ آپ کی طبیعت اس طرف مائل کیوں نہ ہوئی؟

٭٭   اول تو شعر کہنا عطیہ الٰہی ہے  دوسرے  شاعری کرنا بڑے  دل اور  کشادہ ذہن کی بات ہوتی ہے۔ اس فن میں کسی حد تک ریاضت اور  مشق کو بھی دخل ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ خاصا مشکل آرٹ ہے۔ البتہ یہ کبھی کبھی ہوتا ہے  کہ میری نثر میں خود بخود ایک لے  اور  جھنکار سی آتی محسوس ہوتی ہے  اس سے  زیادہ اور  کچھ نہیں۔

٭       جنرل صاحب آپ کے  کام اور  مصروفیات کے  بارے  میں کیا رائے  رکھتے  ہیں؟

٭٭   دیکھئے  اس سوال کا جواب تو جنرل صاحب زیادہ صحیح دے  سکتے  ہیں مگر میرا خیال ہے  کہ جنرل صاحب میرے  کاموں کے  بارے  میں اچھی رائے  رکھتے  ہیں۔ یہ ضرور ہے  کہ وہ بارہا میری صحت کے  بارے  میں فکرمند ہو جاتے  ہیں میرا جس زمانے  میں کام کا جنون ہر لحاظ سے  بہت بڑھ جاتا ہے  تو وہ خفا بھی ہو جاتے  ہیں۔ وہ میری مشکلات میں ہمیشہ میرے  لئے  دعائیں کرتے  ہیں۔

٭       اچھا ایک چبھتے  ہوئے  سوال کا جواب دیجئے۔ جنرل صاحب کی سرکاری حیثیت نے  آپ کے  لئے  کتنی آسانیاں پیدا کیں؟

٭٭   آپ کا یہ سوال چبھتا ہوا بالکل نہیں ہے  اور  یہ مجھ سے  کئی بار پہلے  بھی پوچھا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے  کہ جنرل رحیم الدین کی سرکاری حیثیت اور  ان کا نام جو میری ہستی سے  وابستہ ہے  اسی سے  میرا معاشرے  میں تعارف ہے۔ میں اس کے  لئے  اپنے  پیارے  رب کی ہمیشہ سے  شکرگزار ہوں۔ یہ تحفہ تو قدرت نے  مجھے  فیاضی سے  اپنے  آپ دیا ہے۔ میرے  انفرادی یا اداروں کے  چھوٹے  موٹے  کاموں میں جو لوگ اس نام کی وجہ سے  شامل ہو جاتے  ہیں، میں ان کی واقعی احسان مند ہوں۔

            میں یہ بات کسی غصے  یا شکایت سے  نہیں کر رہی ہوں بلکہ بڑے  خلوص سے  بتا رہی ہوں کہ پاکستان میں 47 ء کے  بعد سے  سیاسی استحکام اور  واضح پالیسی نہ ہونے  کی وجہ سے  ضرورت سے  زیادہ ہنگامے، تخریب کاری اور  مصیبتیں رہی ہیں۔ جہاں مجھے  زندگی میں عزت اور  آسائشیں نصیب ہوئیں وہاں یہ بھی ہوا کہ اپنوں اور  غیروں کی حد درجہ حسد کا شکار رہی۔ مگر کیا کیا جائے  اس دل کا جو ہر لمحہ اللہ شکر کہتا رہتا ہے  کہ ان لوگوں کی بدولت مجھے  مسلسل صبر اور  زیادہ محبت کی دولت ملتی رہتی ہے۔

            آپ سب جانتے  ہیں کہ ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ بلاسوچے  سمجھے  محض ترقی پسند اور  سوشلسٹ نظر آنے  کے  لئے  فوجی جنرل اور  ہر گورنر کو برابھلا کہہ دیتے  ہیں۔ بعض اہل قلم، صحافی اور  ادب نواز لوگ بھی مجھ سے  اس ناطے  سے  کافی الرجک رہے۔ یہ تو ایک عام تاثر ہے  اور  خاصی مدت قائم رہا۔ میں کچھ کہے  سنے  بغیر سر ڈالے، دھیرے  قدموں سے  اپنے  کچے  رستوں پر چلتی رہی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، میں نہیں جانتی لوگ کیوں خودبخود اپنی رائے  بدلتے  گئے۔

            آپ یہ جاننا چاہتے  ہیں کہ مجھے  میرے  شوہر کے  عہدوں کے  زمانے  میں مالی تعاون کس قدر ملا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے  کہ میرے  شوہر فوج میں چالیس سال رہنے  ک