FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

آخری عہدِ مغلیہ کی اردو شاعری :ایک مطالعہ

 

 

                 ڈاکٹر غلام شبیر رانا

 

 

 

 

ممتاز مورخین کے خیال میں یہ بات کالنقش فی الحجر ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں جب پہلے غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اسی وقت یہاں دو قومی نظریے کے پنپنے کا آغاز ہو گیا۔ سلطان محمود غزنوی(پیدائش: دو۔ اکتو بر 971، وفات : تیس اپریل، 1030)نے بر صغیر کے طول و عرض میں صدیوں کے فرسودہ رسوم و رواج، توہم پرستی، بتوں سے اُمیدیں وابستہ کرنے، دیوتاؤں اور مافوق الفطرت عناصر کی سرابوں جیسی ہستی کے تصور کو بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بر عظیم میں جن مسلمان خاندانوں نے اپنے عہد حکومت میں اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کی مساعی کو آگے بڑھایا ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

خاندان غلاماں :1206 تا1290، خاندان خلجی:1290تا1320، خاندان تغلق:1320تا1412، سید خاندان:1414تا1451، لودھی خاندان:1451تا1526

جولائی 1206کو قطب الدین ایبک نے جب دہلی میں ایک خود مختار مسلمان حکومت کی بنیاد رکھی تو تاریخ کے اوراق میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومت مغلوں کے زوال تک جاری رہی۔ پرتگیز جوئندہ واسکوڈے گاما ( Vasco da Gama,1460-1524 ) نے جب 20مئی 1498کو کالی کٹ میں قدم رکھا تو بر صغیر میں یورپی اقوام کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے سال1598میں ہالینڈ کے رہنے والے ولندیزی تاجروں نے بڑی تعداد میں تجارت اور مہم جوئی کی خاطر ہندوستان کا رخ کیا۔ انھیں انگریز تاجروں کے ہاتھوں ایسی منھ کی کھانا پڑی کہ وہ کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ برطانوی سمندری جہاز ہیکٹر (HECTOR)سورت کی بندرگاہ پر 24 ۔ اگست1608کو لنگر انداز ہوا۔ برطانیہ کے اس تجارتی بحری جہاز کا کمانڈر ولیم ہاکنز(William Hawkins)تھا۔ ولیم ہاکنر 16۔ اپریل1609 کو آگرہ میں مغل شہنشاہ نور الدین جہاں گیر (عہدِ حکومت:15۔ اکتوبر 1605تا 7۔ نومبر 1627) کے دربار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔(1)

طویل مذاکرات کے نتیجے میں مئی 1609 میں مغل شہنشاہ کی طرف سے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجار تی مراعات مِل گئیں۔ 31۔ دسمبر 1600 کو ملکہ الزبتھ اوّل (عہدِ حکومت :17۔ نومبر1558تا 24۔ مارچ 1603 )نے ایسٹ انڈیز میں گورنر اور لندن کے سوداگروں کو تجارت کا چارٹر دیا۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی تاجروں کو تجارت کو با ضابطہ بنا دیا گیا۔ شہنشاہ جیمز اول (عہد حکومت :چوبیس جولائی، 1567تاستائیس مارچ، 1625)نے ستمبر 1615کے وسط میں سر تھامس رو(Sir Thomas Roe, B:1581, D:1644) کا تقرر بہ حیثیت سفیر کیا اور اسے ہندوستان روانہ کیا تاکہ مغل دربار سے تجارتی مراعات حاصل کی جا سکیں۔ اس سے قبل تھامس رو 1583سے 1619تک کے عرصے میں بر صغیر کے کئی سفر کر چکا تھا اور مقامی حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔ اپنے عہد کا ہوشیار سفارت کارتھامس رو سال1615میں اجمیر میں مغل شہنشاہ جہانگیر دربار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ 1719کے ماہ فروری میں جب وہ واپس انگلستان روانہ ہوا تو بے حد مطمئن و مسرور تھا۔ اس نے سورت، آگرہ، احمد آباد اور بھڑونچ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک مضبوط و مستحکم تجارتی کمپنی کی حیثیت سے اس قدر فعال بنا دیا کہ مستقبل قریب میں اس تجارتی کمپنی کے سیاسی اور معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ عالمی سامراج کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں بر صغیر میں قوموں کی تقدیر کی خرید و فروخت کے سودے اور اس قدر ارزاں رہے کہ پُوری دنیا میں اس نوعیت کی نا انصافی اور ظلم کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ تاریخ کے طالب علم وقت کے اس سانحہ کو کسی نام سے تعبیر کرنے سے قاصر ہیں۔ برطانیہ کے شہنشاہ چارلس دوم کی شادی جب پرتگیز شہزادی کیتھرین ( 1638-1705 ، Catherine of Braganza)سے ہوئی تو شادی کے موقع پر چارلس دوم نے پرتگیزوں سے جزیرہ ممبئی اپنی ملکہ کے جہیز میں وصول کر لیا۔(2)۔یہ شادی تئیس جون سال 1661کو انجام پائی۔ ممبئی بر عظیم پاک و ہند کا وہ پہلا شہر ہے جو براہِ راست شہنشاہ انگلستان کی ملکیت میں آیا۔ برطانیہ کے شاہی خاندان نے تئیس ستمبر سال 1668 کوم مبئی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔ تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 1730تک برطانیہ کا شاہی خاندان کرائے کی رقم با قاعدگی کے ساتھ وصول کرتا رہا۔ تجارتی لحاظ سے مدراس کی اہم بندرگاہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سال1639میں پونا ملے کی ہندو راجہ وینکٹ دری نائک سے پٹے پر حاصل کی۔(3)برطانوی تاجروں نے پرتگیزوں کے ساتھ گوا کنونشن کے تحت سال 1635سے تعلقات کار قائم کر رکھے تھے۔ جنوبی ہندوستان میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان کر ناٹک کی پہلی لڑائی(1746-1748)بر صغیر کے وسائل پر بلا شرکتِ غیرے غاصبانہ قبضے کے سلسلے میں لڑی کی گئی۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں پر یہ بات واضح ہے کہ تاریخ کو ایک مسلسل عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت ہے کہ یہ سدا کٹھن، پر پیچ اور ناہموار را ہوں پر رواں دواں رہتی ہے۔ تاریخ کا یہ عمل مستقل نوعیت کا ہوتا ہے جو زندگی کو ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھنے کی صلاحیت سے متمتع ہے۔ یہ کبھی آہستہ خرام اور کبھی تیز گام، کبھی یہ اپنے آپ کو اس انداز میں دہراتی ہے کہ گمان گزرتا ہے یہ پیچھے کی طرف جا رہی ہے لیکن اس عمل کے پس پردہ بھی آگے بڑھنے کا راز مضمر ہوتا ہے۔ اس کی پیش قدمی کو پسپائی پر محمول کرنا ایک مہلک غلطی کے مترادف ہے اوراسی قسم کی غلطیاں قوموں کی تاریخ کے دھارے بدل دیا کرتی ہیں۔ برصغیر کی صورت میں انگریزوں کوایسا علاقہ ہاتھ آیا جس میں انھیں لوٹ مار اور استحصال کے وسیع مواقع میسر تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجروں نے بر صغیر پر اپنا غاصبانہ تسلط قائم کرنے کی غرض سے طویل المدت منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کی نظریں محض تجارت تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ تجارت کی آڑ میں پورے ملک پر اپنا غاصبانہ تسلط اور آمرانہ اقتدار قائم کرنے کے منصوبے بنا چکے تھے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ 1616- 29 کے عرصہ میں ستائیس جہاز سورت سے لندن کے لیے 500 ٹن سامان لے کر روانہ ہوئے اس کے بعد 1630 -44 کے دوران یہ تعداد اکیس رہ گئی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تجارت کے لیے جو نصب العین اپنایا وہ یہ تھا کہ تجارت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب ہاتھ میں تلوار بھی ہو۔(4)

کرناٹک کی دوسری لڑائی 1748-1754) ( اور تیسری لڑائی1756-1762) ( کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کے ظالمانہ استحصالی مفادات اور جابرانہ لُوٹ کھسوٹ کے حربوں میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ فرانسیسیی جوسال 1664سے تجارت کی غرض سے بر عظیم میں قدم جمانے کی شاطرانہ چالیں چل رہے تھے، اب ان کے قدم اُکھڑنے لگے اور ان کا چل چلاؤ صاف نظر آتا تھا۔ اِس کا اہم بنیادی سبب یہ تھا کہ دکن کے بحری راستوں پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتا اہل کار اور تاجر مقامی حکمرانوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے یہاں تک کہ 1688 میں انھوں نے بنگال کے گورنر شائستہ خان سے جھگڑا مول لے لیا۔ اس تنازع کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ انگریز نوآبادیات کے گورنر نے جیمز دوم کو بھڑکا کر مغل حکومت کے خلاف فوج کشی کا فیصلہ کر لیا۔ اس قسم کے انتہائی تشویش ناک حالات دیکھ کر مطلق العنان مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر نے غیظ و غضب کے عالم میں جارحیت کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کی سر کوبی کا فیصلہ کیا۔ سورت کی برطانوی فیکٹری مغل افواج نے چھین لی اور مغل دربار کی جانب سے تمام انگریز تاجروں کے انخلا کا حکم صادر ہوا۔ انگریزوں نے اپنی روایتی مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذلیل ہو کر اورنگ زیب سے معافی مانگ لی۔ مدراس کے گورنر تھامس پٹ(Thomas Pitt,1698-1709 ) نے 1708 میں یہ نظریہ پیش کیا کہ مغلیہ دربار سے جو شاہی فرمان حاصل کیا جائے گا اس کی ذریعے مقامی اہل کاروں کی مداخلت کو روکنا آسان ہو جائے گا۔ مغل بادشاہ فرخ سیئر جب سادات بارہہ کے تعاون اور سرپرستی سے تاج و تخت پر قابض ہو گیا تو کمپنی کے نمائندہ جان سرمن (Jhon Surmen ) کو 1714 میں دہلی روانہ کیا گیا۔ یہ مذاکرات وسط جولائی 1717 تک جاری رہے۔ ان کوششوں کو ولیم ہملٹن (William Hamiltan ) کی وجہ سے بہت تقویت حاصل ہوئی جو کہ مشن کے ساتھ ڈاکٹر کی حیثیت سے منسلک تھا۔ اس زمانے میں مغل شہنشاہ فرخ سیئر کو ایک خطرناک بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر ہملٹن نے مغل بادشاہ فرخ سئیر کے مرض کی صحیح تشخیص کی اور اس کا بر وقت اور مؤثر علاج کر کے فرخ سیر کی جان بچائی۔ فرخ سیر جب صحت یاب ہو گیا تو اس نے ممنونیت کے جذبات سے سر شار ہو کر اپنے معالج کی ہر بات تسلیم کی اور اسے منھ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے برطانوی تاجروں نے اور ڈاکٹر ہملٹن نے فرخ سیر سے یہ استدعا کی کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو زیادہ شاہی مراعات سے نوازے۔ فرخ سیر نے اپنے معالج کی بات مانتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بے پناہ مراعات سے نوازا۔ فرخ سیر نے حیدر آباد، گجرات، بنگال، (جس میں بہار اور اڑیسہ بھی شامل تھے )کے تمام متعلقہ اہل کاروں کو حکم دیا کہ ان علاقوں میں انگریز تاجروں کو آزادانہ تجارت کے تمام حقوق حاصل ہوں گے اور ان کے کام میں کسی قسم کی مداخلت ہر گز نہ کی جائے۔ جان سرمن کے وفد کی یہ سب کامیابیاں ڈاکٹر ولیم ہملٹن کے فرخ سیر کے ساتھ ذاتی رابطوں کی مرہونِ منت تھیں۔ فرخ سئیر کی کو تاہ اندیشی کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیار تاجروں کو کھُل کھیلنے کا موقع مِل گیا۔ فرخ سیر جیسے نا اہل بر عظیم کے مظلوم عوام کی شامت اعمال کی صورت میں قصر شاہی اور ایوانِ اقتدار میں گھُس چکے تھے۔ صرف قصرِ شاہی پر ہی موقوف نہیں انگریزوں کو بر صغیر میں کچھ ایسے ابن الوقت، جو فروش گندم نما، مارِ آستین اور نمک حرام غدار مِل گئے تھے جنھوں نے مسلمان حکمرانوں کی پیٹھ میں چھُرا گھونپ کر انتہائی گھٹیا مقاصد کے حصول کی خاطر مِلّی وقار، قومی مفاد اور مادرِ وطن کی عزت و ناموس کو داؤ پر لگا دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے ننگِ انسانیت، بے شرم، بے ضمیر اور بے غیرت مسخروں کی پست ذہنیت اور انتہائی تباہ کُن خود غرضیوں اور ہوسِ جاہ و منصب کے شعلوں نے ایک عظیم الشان سلطنت کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔(5)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامراجی عزائم کھُل کر سامنے آ گئے اور اس کے با اختیار طبقے نے اپنی اس نو آبادی پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ اٹھارہویں صدی کے وسط تک ایسٹ انڈیا کمپنی کا آدم خور دیوِ استبداد تاجر کے رُوپ میں دندناتا رہا اور مقامی سیاست کی زبوں حالی پر بھی ہنہناتا رہا۔ جب مغلیہ سلطنت اپنے کور مغز حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشی کے باعث زوال کا شکار ہونے لگی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس موقع سے بھر پُور فائدہ اُٹھایا اور ہندوستانی سیاست میں گہری دلچسپی لینا شروع کر دی۔  (6) یہ پیر تسمہ پا بر صغیر کے مظلوم عوام کی گردنوں سے ایسے چمٹے کہ مسلسل نوے برس تک عوام کا خون چوستے رہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتا اور طالع آزما، مہم جو جنرل کلائیو(Major-General Robert Clive) کی شاطرانہ چالوں سے نہ صرف تختِ دہلی کے شاہِ شطرنج بل کہ راجوں، مہاراجوں، گورنروں، صوبے داروں اور منصب داروں سب کو عملاً غیر مؤثر کر دیا تھا۔ کلائیو(1725-1774) نے اپنی فوجی استعداد میں بے پناہ اضافہ کر کے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا یا۔ ایک عام تجارتی کمپنی جس کا مقصد محض تجارت ہو، اسے جنگ و جدال میں اس طرح اُلجھا دیا گیا کہ برطانوی استبداد کا حقیقی روپ سا منے آ گیا۔ کرنا ٹک کی جنگوں میں برطانوی استعمار اپنے یورپی حریفوں کو سخت نقصان پہنچانے کے بعد ان کے عزائم خاک میں ملا نے میں کامیاب رہا۔ ایشیا اور یورپ میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرمائے، عسکری طاقت، قوت و ہیبت کی دھاک بیٹھ چُکی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوس ملک گیری کی راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو کمپنی کی عسکری قیادت نے طاقت کے بل بوتے پر نہایت بے دردی اور سفاکی سے تہس نہس کر دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بظاہر تو ایک چارٹرڈ تجارتی کمپنی کی حیثیت حاصل تھی مگر باطنِ ایام پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہ تھی کہ اس کے عزائم کچھ اور تھے۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی اقوام نے اپنے استحصالی ہتھکنڈوں سے مُردوں کے ساتھ شرط باندھ کر خواب خرگوش کے مزے لینے والے بر عظیم کے مقامی حکمرانوں اور مظلوم عوام کو معتوب و مغلوب کر کے بر صغیر میں اپنی مستحکم حکومت کے قیام کی راہ ہموار کر دی۔ گلشنِ ہند میں عہدِ خزاں کے اس مسموم ماحول کے متعلق ہر شخص فرطِ غم سے نڈھال تھا مگر مسلسل شکستِ دِل کے باعث ہر طرف بے حسی کا عالم تھا۔ مورخ ای۔ پی۔ مون کا خیال ہے کہ یہیں سے بر صغیر کی بد قسمتی کا آغاز ہوتا ہے۔ (7)

1707میں جب اورنگ زیب نے داعیِ اجل کو لبیک کہا تو اس کی عمر نوے برس تھی۔ اورنگ زیب کے عہد حکومت میں پُورا بر عظیم مغلیہ سلطنت میں شامل تھا۔ اورنگ زیب کے طویل دور میں مستقبل کے حکمرانوں کی تربیت اور اس کے لیے مؤثر منصوبہ بندی پر اقتضائے وقت کے مطابق توجہ نہ دی جا سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ اسی روز ہو گیا تھا جس دن اورنگ زیب نے عدم کے کوچ کے لیے رخت سفرباندھا۔(8)

مغلیہ سلطنت کے آٹھویں حاکم معز الدین محمد جہاں دار شاہ کے عہد(1712-1713) میں طوائفوں اور گھٹیا عیاشوں کی پانچوں گھی میں تھیں۔ اورنگ زیب کا پوتا جہاں دار شاہ (1661-1713) تان سین کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک رذیل جسم فروش طوائف لال کنور کا دیوانہ تھا۔ اُس نے لال کنور کو امتیاز محل کا لقب دے کر ملکۂ ہند بنایا اور بیش بہا زیورات، ہیرے، جواہرات اور سیم و زر کے علاوہ دو کروڑ روپے سالانہ لال کنور کے اخراجات کے لیے مختص کیے گئے۔ لال کنور کے بے غیرت، بے ضمیر اور سفلہ بھائی اور تمام قریبی رشتہ دار اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو گئے۔ لال کنور کا بھائی خسرو خان آگرہ کا صوبے دار بن بٹھا اور اس کے چچا زاد بھائی نعمت خان کلانونت کو ملتان کا صوبے دار مقرر کیا گیا۔ ایک مرتبہ لال کنور نے فرمائش کی کہ اس نے مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی بڑی کشتی دریا میں ڈوبتے کبھی نہیں دیکھی۔ ایک انتہائی بے حس ڈائن خون آشام چڑیل، ظالم اور رذیل طوائف کی احمقانہ خواہش کی تکمیل کی خاطر جہاں دار شاہ نے مسافروں سے بھری ہوئی ایک بڑی کشتی کو دریا کی طوفانی لہروں کی منجدھار میں غرق کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح کشتی میں سوار قسمت سے محروم بے گناہ مسافروں کو موت کے منھ میں دھکیل دیا گیا۔(9)بابر، ہمایوں، اکبر اور شاہ جہاں کے جاہ و جلال کی امین عظیم مغلیہ سلطنت کو بے شرمی، بے غیرتی، بے حسی، بے ضمیری، عیاشی، فحاشی اور جنسی جنون کے عفونت اور سڑاند سے لبریز گندے پانی کے جوہڑ میں غرق کرنے کے منحوس کام کا آغاز اسی ننگِ اسلاف بادشاہ جہاں دار شاہ کے دور میں ہوا۔ ۔ جلد ہی دربار کے امرا اور بالخصوص بادشاہ گرسادات بارہہ نے فرخ سیر کو اپنے چچا کے مقابل لا کھڑا کیا جس نے فروری 1713میں جہاں دار شاہ کے دس ماہ پر محیط قابلِ نفرت عہدِ حکومت کا خاتمہ کر کے بادشاہت پر قبضہ کر لیا۔ جہاں دار شاہ کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد فرخ سیر جب فتح کے شادیانے بجاتا ہوا دہلی میں وارد ہوا توسیلِ زماں کے تھپیڑوں کے باعث عجیب ہولناک منظر تھا۔ ایک ہاتھی پر جہاں دار شاہ کا بریدہ سر جلاد نے نیزے کی نوک پر اُٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھی کی دُم کے ساتھ جہاں دار شاہ کا زخموں سے چُور جسم جس سے مسلسل خون رِس رہا تھا تار تار لباس میں لِپٹا تپتی ہوئی سنگلاخ زمین پر گھسٹتا چلا آ رہا تھا۔ ردائے خاک پہنے ہوئے ذوالفقار خان کی تیروں سے چھلنی اور مسخ شدہ لاش تیسرے ہاتھی کی دُم سے بندھی ہوئی تھی جو زمین پر مسلسل گھسٹنے کے باعث اپنی شناخت کھو نے لگی تھی۔ دہلی کے باشندے قسمت اور تقدیر کے یہ عبرت ناک انقلاب دیکھ کر محوِ حیرت تھے۔ (10)

ابتدا میں تو بادشاہ گر سید برادران کے سامنے فرخ سئیر کٹھ پتلی بن گیا لیکن جب اسے موہوم شاہی کی یاد آئی تو وہ مطلق العنان بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ اس نے بھی اپنے پیش رو کی طرح ظلم و ستم کو وتیرہ بنا لیا۔ فرخ سئیر نے بادشاہ بنتے ہی تین مغل شہزادوں کو بینائی سے محروم کر دیا اور ایک شاعر (سید محمد جعفر زٹلی ) نے جب فرخ سیر کے بارے میں درجِ ذیل طنزیہ شعر کہا تو شاعر کے خلاف انتہائی سخت اقدام کا فیصلہ کر بیٹھا۔

سکہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر

بادشاہے تسمہ کش فرخ سئیر

حریتِ فکر کے مجاہد سید محمد جعفر زٹلی کا یہ شعر سن کر فرخ سئیر آگ بگولاہور گیا اور اس نے ایک زیرک اور جری شاعر کو تختۂ دار پر کھنچوا دیا۔ سید محمد جعفر زٹلی نے اپنی شاعری میں اپنے عہد کے حالات و واقعات کو نہایت بے باکی کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے :

گیا اخلاص عالم سے عجب کچھ دور آیا ہے

ڈرے سب خلق ظالم سے عجب کچھ دور آیا ہے

نہ یاروں میں رہی یاری، نہ بھائیوں میں وفاداری

محبت اُٹھ گئی ساری عجب کچھ دور آیا ہے

نہ بولے راستی کوئی، عمر سب جھوٹ میں کھوئی

اُتاری شرم کی لوئی، عجب کچھ دور آیا ہے

اس عہد کے اُردو شعرا نے اپنی شاعری میں حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے جبر کے خلاف ایک واضح لائحۂ عمل اختیار کیا اور آمریت کے خلاف اپنی نفرت کا بر ملا اظہار کیا۔ سیاسی اور معاشرتی زبوں حالی کے باعث تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں اردو شعرا نے ایک شان استغنا کے ساتھ حریتِ فکر کا علم بلند رکھا:

 

                 ولی محمد ولیؔ دکنی (1667-1707)

 

حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے

بے گناہاں کوں ستایا نہ کرو

اپنی خوبی کے اگر طالب ہو

اپنے طالب کوں جلایا نہ کرو

آزاد کوں جہاں میں تعلق ہے جال محض

دل باندھنا کسی سوں دِل پر وبال محض

غنچے کے سر کوں دیکھ گریباں میں عندلیب

بولی ظہورِ خلق یو ہے انفعال محض

 

 

                 سراج اورنگ آبادی(1714-1763)

 

درویش منش شاعر سراج اورنگ آبادی کا تعلق مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے تھا۔ عنفوان شباب ہی سے سراج نے تصوف کی راہ کا انتخاب کیا اور دنیا کی بے ثباتی پر توجہ مرکوز کر دی۔ اپنے عہد کے حالات کی ترجمانی میں اس حساس شاعر نے نہایت خلوص سے کام لیا۔

عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہی

شرم و حیا و مہر و شفقت نہیں رہی

دو رنگی خوب نہیں یک رنگ ہو جا

سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا

 

                 شیخ ظہور الدین حاتم(1783 – 1699)

 

شیخ ظہور الدین حاتمؔ کا آبائی پیشہ سپاہ گری تھا۔ شاہ حاتم نے پہلے ایہام گوئی کی تحریک کا ساتھ دیا لیکن جلد ہی معاشرتی زندگی کے مسائل کو موضوع سخن بنا لیا۔ شاہ حاتم کی شاعری میں ذاتی تجربہ اور مشاہدہ اشعار کی تاثیر میں اضافہ کرتا  ہے۔ شاہ حاتمؔ نے قحط الرجال کے اُس دور میں شہر آشوب لکھ کر زندگی کے تلخ حقائق سے پر دہ ہٹایا ہے۔ شاہ حاتمؔ کی شعری تخلیقات بالخصوص شہر آشوب کو تاریخی تناظر میں دیکھیں تواسلوب میں حق گوئی کا معترف ہو نا پڑتا ہے۔

شہوں کی بیچ عدالت کے کچھ نشانی نہیں

امیروں بیچ سپاہی کی قدردانی نہیں

بز رگوں بیچ کہیں بوئے مہربانی نہیں

تواضع کھانے کی چا ہو کہیں تو پانی نہیں

گویا جہان سے جاتا رہا سخاوت و پیار

 

                میر محمد تقی میرؔ  (1722-1810)

 

میر محمد تقی میرؔ  (1722-1810)نے مغلوں کی زوال پذیر حکومت میں زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات کی زبوں حالی کی لرزہ خیز کیفیات اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔ تاریخ کے اس اعصاب شکن دور میں انسانیت پر جو کوہِ غم ٹوٹے اُنھیں دیکھ کر میر تقی میرؔ تڑپ اُٹھے اور ان کی شاعری دلی رنج، کرب، آہ اور زاری سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔ رعایا فاقہ کشی کا شکار تھی، شاہی خزانہ خالی تھا مگر بادشاہوں کی عیاشی میں کوئی فرق نہ آیا۔ میر تقی میرؔ کی شاعری میں اُس عہد کے کرب ناک حالات، اخلاقی پستی اور اذیت ناک ماحول کی جس حقیقت پسندانہ انداز میں لفظی مرقع نگاری کی گئی ہے اسے پڑھ کر قاری کے لیے گریہ ضبط کرنا محال ہو جاتا ہے۔ تاریخ کی چشم کشا صداقتوں کا یہ احوال فکر و خیال کے نئے دریچے وا کرتا ہے۔ گو ان خضاب آلود بُڈھے کھوسٹ منافقوں کے ہاتھ میں جنبش نہیں ہوتی مگر ان کی حریص و غلیظ آنکھوں میں اس قدر دم ہوتا ہے کہ مہ جبیں حسیناؤں کو دیکھ کر رال ٹپکانے لگتے ہیں۔ میر تقی میرؔ نے جامۂ ابو جہل میں ملبوس منافقوں کے مکر، جنسی جنون اور ہوس کا پردہ فاش کیا اور ان کے قبیح کردار اور کریہہ حرکات کے خلاف حرفِ صداقت لکھنا اپنا شیوہ بنایا :

شیخ کو اِس بھی سن میں ہے گی ہوس

تنگ پوشی سے چولی جاوے چس

ہوئے گاسِن شریف ساٹھ برس

دانت ٹُوٹے گیا ہے کلا دھس

دیکھ رنڈی کو بہہ چلی ہے رال

 

                مرزا محمد رفیع سوداؔ(1713-1781)

 

مرزا محمد رفیع سوداؔ(1713-1781) نے شاہ حاتم سے اکتسابِ فیض کیا۔ سوداؔکی شاعری میں عصبیت، تنگ نظری، منافقت اور انتہا پسندی پر گرفت کی گئی ہے۔ دہلی کے زوال پذیر معاشرے میں اخوت، یگانگت، خلوص، دردمندی اور انسانی ہمدردی کی اساس پر استوار مذہب کی ابد آشنا آفاقی تعلیمات کے بارے میں ابہام پیدا کر نے کی مذموم کوششیں کی جانے لگیں۔ اخلاقی زوال اور ذہنی پستی کا یہ حال تھا کہ مسلمہ صداقتوں اور حقائق کو خرافات کے سرابوں میں گُم کر دیا گیا۔ سوداؔ نے مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے بے سروپا مباحث کے تباہ کُن اثرات کے بارے میں متنبہ کیا۔

لشکر کے بیچ آج یہی قیل و قال ہے

کھانے کی چیز کھا نے کا سب کو خیال ہے

یوں دخل امرو نہی میں کرنا محال ہے

جو فقہ داں ہیں سب کا یہ اُن سے سوال ہے

اک مسخرہ یہ کہتا ہے کوا حلال ہے

اس عہد کے حالات و واقعات اور ان سے وابستہ عوامل کے بارے میں سوداؔ کا اسلوب ان کی جرأت اظہار کا عمدہ نمونہ ہے۔ جبر سے مصلحت پر مبنی مصالحت یا الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرناسوداؔ کے ادبی مسلک کے خلاف ہے۔ زبان و بیان پر ان کی قدرت، اظہار و ابلاغ پر ان کی خلاقانہ دسترس اور جوشِ بیان سے ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ قاری ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں اپنے آنسو چھپانے کی ان کی مساعی پر داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس دھوپ بھری دنیا میں تصنع، مکر و فریب، منافقت، جعل سازی اور ہوس زر کی اساس پر استوار سب خود ساختہ معائر سوداؔ  کی گل افشانی گفتار کے سیل رواں میں و خاشاک کے مانند بہہ جاتے ہیں۔

اب جہاں دیکھو واں جھمکا ہے

چور ہے، ٹھگ ہے، اُچکا ہے

کس طرح شہر کا نہ ہو یہ حال

شیدی فولاد اب جو ہے کتوال

شہر کے بیچ کیا کہوں میں اب

روزِ محشر کی دھُوم ہے ہر شب

خلق جب دیکھ کر کے یہ بیداد

کرتے ہیں کو توال سے فریاد

بولے ہے وہ کہ میں بھی ہوں ناچار

گرم ہے چوٹٹوں کا اب بازار

یارو کچھ چل سکے ہے میرا زور

دیکھو تو ٹُک کہاں کہاں ہے چور

کس کو ماروں میں کس کو دوں گالی

چوری کرنے سے کون ہے خالی

مچ رہا ہے اب اس طرح کا سانگ

ہے خدا کے بھی گھر میں چور کی تھانگ

بچ سکے کیونکہ اب کسی کی شے

ملا مسجد کا صبح خیز یا ہے

کریں انصاف اب جوان و پیر

کیا ہے اس میں بھلا مری تقصیر

رتبہ دُزدی کا اس قدر ہے بلند

چرخ کے گھر پہ کہکشاں کی کمند

 

                 ولی محمد نظر اکبر آبادی(1740-1830)

 

نظیر اکبر آبادی نے آخری عہدِ مغلیہ کی بد انتظامی اور طوائف الملوکی کی وجہ سے معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی قباحتوں کے خلاف بھر پور آواز بلند کی۔ نظیر اکبر آبادی نے عوامی زندگی کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا اور وہ خود بھی اس تجربے کا حصہ بن گئے تھے۔ مظلوم اور پس ماندہ طبقات کے جذبات و احساسات کو انھوں نے نہایت خلوص کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔ فطرت کے اصولوں اور تقدیر کے سر بستہ رازوں کے بارے نظیر اکبر آبادی کے خیالات زندگی کی حقیقی معنویت کو اُجاگر کرنے کا وسیلہ ثابت ہوتے ہیں۔ اردو نظم میں عوامی زندگی کے موضوعات کی لفظی مرقع نگاری کے سلسلے میں نظیر اکبر آبادی کو بنیاد گزار کی حیثیت حاصل ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ’’بنجارہ نامہ ‘‘، ’’آدمی نامہ ‘‘، اور، ‘‘کل جگ نہیں کر جگ ہے یاں ‘‘ جیسی یادگار نظمیں لکھ کر اردو نظم کی ثروت میں جو اضافہ کیا اُس کی بنا پر نظیر اکبر آبادی کو بابائے اُردو نظم کہا جاتا ہے۔ نظیر اکبرآبادی کی شاعری میں پائی جانے والی اشاریت کی کیفیت سے قاری کے ذہن میں ایساردعمل پیدا ہوتا ہے جو زندگی کی حرکت و حرارت کو حقیقی تناظر میں سامنے لاتا ہے۔ آخری عہدِ مغلیہ میں دہلی کے زوال پذیر معاشرے میں منافقت، ریاکاری، دروغ گوئی، جعل سازی، پیمان شکنی اور ہوس نے اخلاقی اعتبار سے معاشرے کو مفلس و قلاش کر دیا تھا۔ کٹار بند دہشت گردوں نے خوف اور دہشت کیف فضا پیدا کر دی تھی اور کوئی قوت ایسی نہ تھی جو ان پیشہ ور قاتلوں کو لگام ڈال سکتی۔

کیا کیا فریب کہیے دنیا کی فطرتوں کا

مکر و دغا و دُزدی ہے کام اکثروں کا

جب دوست مل کے لُوٹیں اسباب مشفقوں کا

پھر کس زباں سے شکوہ اب کیجیے دشمنوں کا

ہشیار یار جانی یہ دشت ہے ٹھگوں کا

یاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا

آخری عہدِ مغلیہ میں فرخ سیرنے بادشاہ گر سید برادران کے چُنگل سے بچ نکلنے کی کوشش کی تو وہ ان مکار اور طاقت ور امرا کے غیظ و غضب اور عتاب کا نشانہ بن گیا۔ اپریل 1719میں جب سید برادران نے فرخ سیر کو تاج و تخت سے محروم کیا تو شہنشاہ ہند کو ایک بے وقعت ملزم کی حیثیت سے پا بہ جولاں لال قلعہ سے نکالا گیا۔ اس موقع پر فرخ سیر کی معمر ماں، بہنیں اور مغل شہزادیاں گریہ و زاری کر کے دست بستہ رحم کی التجا کر رہی تھیں۔ طالع آزما اور مہم جُوسید برادران کے پروردہ شقی القلب دہشت گرد، نمک حرام لُٹیرے، اُجرتی بد معاش اور پیشہ ور قاتل معزول بادشاہ فرخ سیر کو مغل شہزادیوں کے گھیرے میں سے گھسیٹ کر باہر نکال لائے اور اور اسے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھڑی میں محبوس کر دیا جہاں اسے اندھا کرنے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد عالم گیر ثانی اور شاہ عالم ثانی کا دور مغلیہ سلطنت کی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ رفتہ رفتہ مغلیہ حکومت کا رہا سہا وقار اور بچا کھچا رعب و جلال خاک میں مِل گیا اور ان جعل ساز کٹھ پُتلی حکمرانوں نے اپنی کوتاہ اندیشی سے قومی وقار کی دھجیاں اُڑا دیں۔ سید برادران کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ یہ بادشاہ گر جس شہزادے کو جوتا مارتے وہ قصر شاہی میں مسند اقتدار پر فائز ہو جاتا۔ حیف صد حیف کہ جن بد اندیش اور بد اعمال عناصر کا مقام تختہ تھا وہ لال قلعہ میں تخت طاؤس پر براجمان ہو گئے۔ سید برادران کی رعونت اب حد سے بڑھنے لگی تھی، ایک دن حسین علی نے سر عام یہ بات کہی ’’میں وہ ہوں کہ جس شہزادے کو جُوتی ماردوں وہ بادشاہ بن جائے‘‘(11)۔ ان بادشاہ گر سادات کی ریشہ دوانیوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اٹھارہ فروری 1719سے چودہ اگست 1719تک کے مختصر عرصے میں تین کٹھ پُتلی بادشاہوں کو تختِ طاؤس پر بٹھایا گیا اور پھر ان نام نہاد بادشاہوں کو بے نیلِ مرام لال قلعہ سے نکال کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب دھکیل دیا گیا۔ اب فطرت کی انتہائی سخت تعزیریں سید برادران کا تعاقب کر رہی تھیں۔ جب ان فراعنہ نے روشن اختر (محمد شاہ رنگیلا)کو بادشاہ بنایا تو حالات کا رخ بدل گیا اور ان مغرور بادشاہ گر سادات کے ستارے گردش میں آ گئے۔ محمد شاہ سدا رنگیلا نے اٹھائیس برس تک(1719-1748) بر عظیم کے مجبور عوام کے چام کے دام چلائے۔ محمد شاہ رنگیلا جب تختِ طاؤس پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں کام یاب ہو گیا، تو دربار میں نظام الملک آصف جاہ جیسے زیرک، فعال اور مستعد مشیر موجود تھے مگر المیہ یہ ہوا کہ ملک بھر کے سفہا، اجلاف و ارذال، مشکوک نسب کے بھڑوے، مسخرے، لُچے، شہدے اور تلنگے بھی دربار میں گھُس بیٹھے تھے۔ اس کٹھ پُتلی بادشاہ کے ساتھ قسمت نے یاوری کی اور اس نے 1720میں سادات بارہہ سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ حسین علی کو 1720میں فتح پور سیکری کے قریب قتل کر دیا گیا اور حسن علی کو 1722میں زہر دے دیا گیا۔ سادات بارہہ جب فطرت کی تعزیروں کی زد میں آ گئے تو محمد شاہ رنگیلا ایک رذیل رقاصہ اور بدنام جسم فروش طوائف کوکی جیو اور خواجہ سرا خدمت گار خان کے چُنگل میں پھنس گیا اور ان کے اشاروں پر ناچنے لگا۔ اسی عہد میں نظام الملک نے 1725میں دکن میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی۔ مرہٹوں کے ساتھ طویل جنگوں نے مرکزی حکومت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ مر ہٹوں کی سر کشی مغل حکومت کے لیے دردِ سر بن گئی تھی۔ باجی راؤ نے علم بغاوت بلند کیا اور 1738میں دہلی پر دھاوا بول دیا اور محمد شاہ رنگیلا سے اپنی من مانی شرائط پر صلح کی اور واپس روانہ ہوا۔ اسی دوران نادر شاہ نے 1739میں دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 13فروری1739صبح نو بجے سے لے کر سہ پہر دو بجے تک نادر شاہ کے حکم پر دہلی میں نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جس میں تیس ہزار انسان موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے۔ نادر شاہ نے لوٹ مار کی انتہا کر دی اور تخت طاؤس، کوہ نور ہیرا، ستر کروڑ روپیہ نقد اور پندرہ کروڑ روپیہ تاوان جنگ لیا۔ شاہی خزانہ خالی ہو گیا اور بادشاہوں نے اپنی عیاشی کے لیے زر و مال بٹورنے کے ہر حربہ استعمال کیا۔ اس سانحے پر تاباں نے کہا تھا :

داغ ہے حملۂ نادر سے مرا دِل تاباں

نہیں مقدور کہ جا چھین لوں تختِ طاؤس

جہاں دار شاہ کے بیٹے عزیز الدین عالم گیر ثانی(عہد حکومت :دو جون 1754تا انتیس نومبر 1759) نے جب اقتدار سنبھالا تو اس کی عمر پچپن سال تھی۔ دس مئی 1758کو اس بادشاہ کے لیے سواریستیاب نہ تھی اور بادشاہ کو لال قلعہ دہلی کے قصر شاہی سے جامعہ مسجد 1.8کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑا۔ شہزادہ علی گوہر(شاہ عالم ثانی) کا دیوان شاکر خان روایت کرتا ہے کہ ایک دِن خیرات خانے میں غربا، مساکین، بیواؤں اور فاقہ کش معذوروں کے لیے تیار کیا گیا شوربا جب شاہی معائنے کی غرض سے شہزادے کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے آہ بھر کر کہا:

’’یہ محل کی بیگمات کو دے دو، کیونکہ حرم کے مطبخ میں تین دِن سے چُو لھا نہیں جلا۔ ‘‘( 12)

بنگال کے صوبے دار علی وری خان نے 1740میں خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ علی وردی خان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی مرہٹوں نے علی وردی خان کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ علی وردی خان نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے مخالفین کا منھ بند کرنے کے لیے بات چیت کا فیصلہ کیا اور مفسدوں کو اڑیسہ کا صوبہ دے کر ان کو خاموش کر دیا۔ اس کے علاوہ بارہ لاکھ روپے بطور چوتھ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ بنگال پر انگریزوں کی حریصانہ نظر کو محسوس کرتے ہوئے علی وردی خان نے انگریزوں کو اپنے مقبوضات کو مضبوط کرنے سے باز رکھا تاہم علی وردی خان نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے انگریزوں سے تعلقات خراب ہونے کی نوبت نہ آنے دی۔ علی وردی خان نے 9 اپریل 1756 کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ بنگال اور بہار میں علی وردی خان کے عہد حکومت میں مغل حکمرانوں کا اثررسوخ نہ ہونے کے برابر تھا۔ تاریخ ایک حیران کُن مسلسل عمل سے عبارت ہے جس کا امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ کٹھن، پُر پیچ اور ناہموار را ہوں پر بھی ہزارہا دشواریوں، سخت ترین مقامات، جان کاہ صدمات، ہولناک رکاوٹوں اور صبر آزما تکالیف کے باوجود ماضی اور حال کے واقعات کی گرد سے دامن بچاتے ہوئے مستقبل کی جانب سفر جاری رکھنے پر مائل کرتی ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تاریخ کا یہ عمل مستقل نو عیت کا ہوتا ہے جو نہایت خاموشی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ بعض لوگوں کو تاریخ کا یہ عمل تیز گام محسوس ہوتا ہے تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے آہستہ خرام ہونے کے شاکی دکھائی دیتے ہیں۔ تاریخ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور اس کا مشاہدہ کرنے والوں پر یہ گمان گزرتا ہے کہ گردشِ ایام کا پیچھے کی جانب پلٹنا در اصل پیچھے کی طرف سرکنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک اٹل اور مسلمہ صداقت ہے کہ تاریخ کسی صورت میں لوٹ کر نہیں آ سکتی۔ حال کے واقعات ماضی کا حصہ بن کر تاریخ کے طوماروں میں دب جاتے ہیں۔ رخشِ حیات پیہم رواں دواں رہتا ہے، تاریخ کے مسلسل اور مستقل عمل کی راہ میں دیوار بننے والوں کا نام لوحِ جہاں سے حرفِ مکرر کے مانند مٹا دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا سفر در اصل روشنی کے سفر کے مانند ہے جو جمود، قیام، سکوت اوریکسانیت سے قطعی نا آشنا ہے۔ قلزمِ ہستی کا قافلہ اس قدر تیز گام ہے کہ اقوام و ملل کے جاہ و جلال اور کبر و نخوت کے سفینے اس کی تند و تیز موجوں کے گرداب میں ایسے اُلٹے کہ پھر ان کا کہیں اتا پتا نہ ملا۔ تاریخ کی برق رفتاریوں اور اس کی محیر العقول پیش قدمی کا عدم اعتراف کرنے اور تاریخ کے مسلسل عمل کوپسپائی پر محمول کرنے والوں کی کور مغزی، بے بصری اور ذہنی افلاس کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ تاریخ کا توبس ایک ہی سبق ہے کہ آج تک کسی نے تاریخ سے سبق سیکھا ہی نہیں۔ جو اقوام اپنی تاریخ کو فراموش کرنے کے ناقابل معافی جُرم کی مرتکب ہوتی ہیں تاریخ انھیں عبرت کا سبق بنا دیتی ہے اور ان کا جغرافیہ یکسر بدل جاتا ہے۔

بر عظیم کی تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے جو بادشاہوں کی غفلت کو سامنے لاتے ہیں۔ چودہ مارچ 1758کو واٹسن نے اپنے ایک دھمکی آمیز مکتوب میں سراج الدولہ کو حالات کی سنگینی سے متنبہ کرتے ہوئے لکھا:

“I shall kindle such a flame in your country as all the water in the ganges shall not be able to extinguish(13)

ہوسِ ملک گیری میں مبتلا انگریزوں نے موقع پرست، ابن الوقت عیاروں اور غداروں سے جوڑ توڑ کر لیا اور سراج الدولہ کی افواج کے سالار اور مارِ آستین میر جعفر کو بھاری رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ کلائیو نے بائیس جون 1757کو سراج الدولہ کے علاقے پر دھاوا بول دیا۔ اس کے مسلح دستوں میں دو ہزار دو سو مقامی سپاہی اور آٹھ سو یورپی انفنٹری اور آرٹلری سپاہی شامل تھے۔ پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ نے اپنی پچاس ہزار فوج کے ساتھ برطانوی استعمار کی بڑھتی ہوئی یلغار کو روکنے کی سعی کی مگر تئیس جون1757کو سراج الدولہ کی مسلح افواج کے سالارِ اعلیٰ میر جعفر کی غداری، بے غیرتی اور بے ضمیری کے باعث سراج الدولہ کو شکست ہوئی۔ میر جعفر کے بیٹے میرن کے حکم پر ایک اُجرتی بد معاش اور پیشہ ور قاتل نے دو جولائی 1757کو میر جعفر کی مُرشد آباد کی اقامت گاہ کے بابِ غداراں کی نمک حرام ڈیوڑھی کے نزدیک حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ اپنانے والے مردِ حق پرست سراج الدولہ کی زندگی کی شمع گُل کر دی۔ بابِ غداراں کے محسن کش اور پیشہ ور قاتل میر میرن کے بارے میں کلائیو نے وارن ہیسٹنگز کو اپنے ایک ذاتی مکتوب میں تحریر کیا :

’’مجھے اکثر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ نوجوان کُتا اپنے باپ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا۔ میں کئی بار اس بُوڑھے احمق (میر جعفر)کو سمجھا چکا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کے ہاتھ میں زیادہ اختیارات و طاقت نہ دے۔ ‘‘(14)

سراج الدولہ کی المناک شہادت کے بعد کلا ئیو نے اورم (ORME ) کو جو خط لکھا اس میں کبر و نخوت کا جو تاثر مو جود ہے وہ قا بل غور ہے۔

“I am possessed of volumes of materials for the continuation of your history , in which will appear fighting, tricks, chicanery, intrigues, politics and the lord knows what (15)”

پلا سی کی جنگ کے بعد انگریزوں کی دہشت گردی کی انتہا ہو گئی اور بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومت کو جان کے لالے پڑ گئے۔ اگر میر جعفر پلاسی کے میدان میں چند سکوں کے عوض اپنے ضمیر اور قومی حمیت کا سودا نہ کرتا تو حالات کچھ اور ہوتے۔ کلائیو کو مسلمانوں کے جذبۂ شوق شہادت سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن میر جعفر کی ضمیر فروشی اور غداری کے باعث حالات بدل گئے۔ اگر نمک حرام میر جعفر پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کی پیٹھ میں چھُرا نہ گھونپتا تو پلاسی کی جنگ میں برطانوی استعمار کو منھ کی کھانا پڑتی۔ پلاسی کی جنگ میں ظالم و سفاک برطانوی استبداد کے نمائندے کلائیو کو ایسی ذلت ناک شکست ہوتی جو بنگال میں برطانیہ کی مکمل تباہی اور انہدام پر منتج ہوتی۔ (16)حالات کا رُخ جس تیزی سے بدل رہا تھا مگر بر صغیر کے مقامی حکمرانوں کو اس کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو نے برطانوی استعمار اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف بھر پور جد و جہد کی اور فسطائی جبر کے خلاف سینہ سپر ہو کر عظمتِ کردار کا ثبوت دیا۔ ٹیپو سلطان کی شجاعت سے انگریز بہت خوف زدہ تھے۔ انھوں نے مقامی حکمرانوں سے ساز باز کر لی اور نظام دکن اور مر ہٹوں سے فوجی دستے طلب کیے۔ انگریزوں کے پاس چار ہزار سپاہی تھے جب کہ انھوں نے بائیس ہزار مقامی سپاہی بھی بھرتی کیے۔ نظام نے سولہ ہزار سپاہی بھیجے اور مر ہٹوں نے بھی اپنے دستے روانہ کیے۔ مجموعی طور پر انگریزوں کے پاس پچاس ہزار سپاہیوں کا لشکر تھا۔ سلطان فتح علی ٹیپو کی فوج تیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ انگریزوں نے سرنگا پٹم کے قلعے کی دیوار میں شگاف ڈال دیا اور جارحانہ انداز میں سلطان فتح علی ٹیپو کی قلعے میں محصور فوج کو پچھاڑ دیا۔ چار مئی 1799کو ٹیپو سلطان نے برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد انگریزوں نے بر ملا یہ کہنا شروع کر دیا کہ فتح علی ٹیپو کی بعد وہ ہندوستان کے بلا شرکت غیرے حکمران بن گئے ہیں۔ اس زمانے میں یہ بات زبان زد عام تھی:

’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا۔ ‘‘(17)

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے چرب زبان تاجر یہ تاثر دیتے تھے کہ مقامی باشندے ان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تاج برطانیہ کے وفادار ہیں۔ اس موضوع پر پنڈرل مون نے اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے :

’’واقعی یہ دور برطانوی راج کا سنہری زمانہ ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کی بے حد عزت کی جاتی تھی۔ ہر کوئی اس کا احترام کرتا تھا۔ اگر آج بھی تمھیں امرتسر جانے کا اتفاق ہو تو وہاں ملکہ کا بُت نصب مِلے گا جِس کی ناک توڑ دی گئی ہے۔ ‘‘(18) آخری عہدِ مغلیہ میں امور مملکت چلانے کی استعداد سے محروم کٹھ پُتلی بادشاہوں نے تو لُٹیا ہی ڈبو دی۔ آخری عہدِ مغلیہ میں حکمرانوں کی نا اہلی، تن آسانی اور بُزدلی نے اقوام عالم کی صف میں تماشا بنا دیا۔ جہاں دار شاہ نے جب ایک مر تبہ برہنہ تلوار دیکھی تو مارے خوف کے وہ دم دبا کر بھاگ نکلا۔ (19) جس وقت یورپ میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے عظیم الشان جامعات کے قیام پر توجہ دی جا رہی تھی، اس وقت بر صغیر میں پُر شکوہ مقبروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا۔ مغلوں کے اقتدار کے تین سو سال میں کوئی ایسا عظیم علمی ادارہ وجود میں نہیں آیا جو قوم میں صحیح نظر و بصیرت کی تخلیق میں ممد و معاون ثا بت ہوتا ۔ (20) یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ یہاں بھیڑ چال عام ہو گئی۔ رعایا کے خوش حال طبقے نے بھی موت کے بعد اپنے لیے مقبروں کی تعمیر میں گہری دلچسپی لی۔ آخری عہدِ مغلیہ میں حکمران رعایا کا خون نچوڑ کر جو زر و مال جمع کرتے تھے وہ شاہی خاندان کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ جاتا تھا۔ مغل شہزادے جنھیں سلاطین کہا جاتا تھا ان کی کاہلی، تن آسانی، بے عملی، بزدلی اور عیاشی کے ہر طرف چرچے تھے۔ کام کاج سے بیزار اور پتنگ بازی، بٹیر بازی، چوسر، گنجفہ، کبوتر بازی، شطرنج اور مرغوں کی لڑائی میں گہری دلچسپی رکھنے والے سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا یہ سلاطین اپنی بد اعمالیوں کے باعث شیاطین کے روپ میں مظلوم رعایا کے لیے ایک عذاب بن چکے تھے۔ سال 1848میں رقص و سرود کی محفلوں میں دادِ عیش دینے والے اس قماش کے ناکارہ سلاطین کی تعداد 2104تک جا پہنچی۔ مقامی حکومت کی کشتی ڈوبنے کے قریب تھی جب کہ یورپ کا شاطر سرمایہ دار اور نو آبادیاتی نظام کا پروردہ آبادکار کیا سے کیا ہو گیا۔ برطانوی استعمار کے مکر کی چالوں اور یہاں کے حکمرانوں کے ذہنی افلاس اور بے بصری کے باعث یہاں کا بُدھو وہی کا وہی بُدھو ہی رہا۔ سلطنت مغلیہ کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرہٹہ جنگ جُو نے اپنے غیظ و غضب اور جارحیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا   ’’شاخوں کو کاٹنے چھاٹنے سے کیا فائدہ ہے۔ تنے پر کلہاڑا ما رو، جب وہ کٹ جائے گا تو شاخیں خود بہ خود ہی گر جائیں گی ‘‘(21 ) بدنام طوائف لال کنور اوراس کی ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز زہرہ کنجڑن جب قصر شاہی میں گھس بیٹھیں تو ایوانِ اقتدار کا وقار خاک میں مِل گیا۔ اکبر جو شاہ عالم کا بیٹا تھا وہ بھی اس جنسی جنون میں اپنے باپ سے کم نہ تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ اٹھارہ بیویوں کا شوہر تھا۔ (22) جنسی جنون اور اخلاقی بے راہ روی کی اس انتہائی الم ناک صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ گلشنِ ہند کی ہر شاخ پر بُوم و شِپر نے بسیرا کر لیا اور فضا میں زاغ و زغن کی پرواز آفاتِ ناگہانی کا اشارہ تھیں۔

مہا راجہ سند ھیا کی فوجی امداد اور تعاون کے بغیر شاہ عالم کی کو ئی حیثیت نہ تھی۔ مغل شہنشاہ شاہ عالم نے غلام قادر روہیلہ کے والد ضابطہ خاں کو معزول کر دیا تھا۔ یکم جولا ئی 1788 کو غلام قا در روہیلہ نے دہلی پر دھا وا بول دیا۔ افلاس زدہ شاہ عالم نے منتقم مزاج غنیم کی فوج سے مقابلہ کیا مگر اس کے معتمد سرداروں نے غلام قادر روہیلہ سے ساز باز کر لی چار ہفتے تک غلام قادر روہیلہ کی افواج نے دہلی میں لوٹ مار کا با زار گرم رکھا۔ 30 جولا ئی 1788کوغلام قادر شاہی محل کے دروازے پر خدمت شاہی میں بار یا بی کی در خواست لے کر پہنچا۔ اس نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر شاہ عالم کو یقین دلایا کہ اس کا مقصد محض اظہار اطاعت و وفا داری ہے۔ اس نے جنگ کے دوران کی جانے والی قتل و غارت اور لُوٹ مار سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ شاہ عالم اس کے فریب میں آ گیا اور انتہائے سادگی کے باعث مات کھا گیا۔ شاہ عالم کے حکم سے اس شاہی مہمان کے استقبال کے لیے قصرِ شاہی کے دروازے کھول دئیے گئے۔ جوں ہی شاہی محل کے دروازے کھُلے غلام قادر روہیلہ کے سا تھ دو ہزار مسلح سپا ہی بزور شمشیر شاہی محل میں گھس گئے۔ غلام قادر روہیلہ نے دولت کی تلاش میں محل کا کو نا کونا چھان مارا، ملا زمین کو ایذائیں دیں، بیگمات کی تلا شی لی مگر چند زیورات کے علا وہ اسے کچھ نہ ملا تو وہ پیچ و تاب کھا نے لگا اور شاہ عالم سے خزانے کے بارے میں پوچھا اور خنجر نکال لیا۔ انگریز مصنف ما ئیکل ایڈورڈز نے اس واقعے کی روداد یوں بیان کی ہے :

’’10 اگست 1788 کے دن جب غلام قادر روہیلہ مغل حکمران شاہ عالم کے بیان سے مطمئن نہیں ہوا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کمینے کو زمین پر گرا دو اور اسے اندھا کر دو۔ چنانچہ مغل شہنشاہ کو ٹھوکر مار کر تخت سے گرایا گیا اوراس کی آنکھوں میں سوئیاں ڈالی گئیں، شہنشاہ درد و کرب سے چیختا رہا۔ آخر جب سوئیاں اس کی آنکھوں میں اچھی طرح پیوست ہو گئیں تو غلام قادر نے شہنشاہ سے پو چھا :

’’کہو اب تمھیں کچھ دکھا ئی دیتا ہے ؟‘‘

شہنشاہ نے جواب دیا : ’’ہاں مجھے تمھارے اور اپنے درمیان قرآن دکھا ئی دیتا ہے۔ ‘‘(23)

نشے میں چُور بے رحم خُونی غلام قادر روہیلہ نے اگلے روز خنجر کے ذریعے شاہ عالم کی دونوں آنکھیں نکال دیں۔ شاہ عالم کے تین خادم اور دو ماشکی آگے بڑھے اور خون میں لت پت بادشاہ کی جان بخشی کی التجا کی تو غلام قادر روہیلہ نے شاہ عالم کے ان بے گناہ ملازمین کے سر تن سے جُدا کر دئیے۔ غلام قادر روہیلہ نے مغل شہنشاہ کو دس ہفتے پا بہ جولاں رکھا اور مفلس و نابینا، نحیف و نزار اور بے بس و لاچار بادشاہ پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس سانحہ کے بارے میں ما ئیکل ایڈورڈز لکھتا ہے :

’’ایک دن (غلام قادر نے )دو شہزادیوں کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا جن کے حسن و جمال کے بارے میں اس نے بہت تعریف سنی تھی۔ شہزادیاں مناسب لباس میں با نقاب حاضر ہوئیں۔ مگر اس نے شہزادیوں کو برہنہ کیا اور ان کی چھاتیوں اور رانوں پر دست درازی کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس سے پہلے کہ معاملہ آگے بڑھتا، مغل شہزادیوں کو ایک سکھ سردار نے اس ظالم سے بچایا۔ ‘‘(24)

غلام قادر روہیلہ نے ہر طرف اندھیر مچا رکھا تھا یہاں تک کہ مہاراجہ سندھیا نے فوجی کارروائی کر کے ظالم و سفاک مہم جُو غلام قادر روہیلہ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور مالی اور ذہنی اعتبار سے قلاش اور بصارت اور بصیرت سے عاری شاہ عالم کو رہا کرا کے اسے بادشاہ کے منصب پر بحال کر دیا۔ حکومت کی کم زوری کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہو گا کہ طالع آزما اور مہم جُو حملہ آور جب چاہتے دہلی پر ہلہ بول دیتے۔ قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا، لوٹ کھسوٹ روز مرہ کا معمول بن گیا تھا۔ سیاسی زوال کے ساتھ ساتھ بر صغیر میں اخلاقی زوال کے لرزہ خیز دور کا بھی آغاز ہو چُکا تھا۔ تاریخی حقائق کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دورِ انحطاط میں اخلاقی پستی بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اپنی قوت، ہیبت اور تمام تر سفاکی، بے حسی اور دہشت گردی کے باوجود نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی خاندان مغلیہ کی خواتین کی بے حرمتی کے مرتکب نہ ہوئے لیکن غلام قادر روہیلہ نے جس اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس موضوع پر ایک نظم لکھی ہے جس میں غلام قادر روہیلہ کی سفاکی کو قابل نفرت قرار دیا ہے :

رہیلہ کس قدر ظالم، جفا جُو، کینہ پرور تھا

نکالیں شاہِ تیموری کی آنکھیں نوکِ خنجر سے

دیا اہلِ حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نے

یہ اندازِ ستم کچھ کم نہ تھا آثارِ محشر سے

بنایا آہ سامانِ طرب بے درد نے اُن کو

نہاں تھا جِسم جِن کا چشمِ مِہر و ماہ و اختر سے

لرزتے تھے دِلِ نازک، قدم مجبورِ جنبش تھے

رواں دریائے خوں شہزادیوں کے دیدۂ تر سے

مغلیہ سلطنت مسلسل رو بہ زوال تھی، دہلی کی جنگ جو سال 1803میں ہوئی اس میں میدان انگریزوں کے ہاتھ رہا۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ شہنشاہِ ہند کے فرمان کے تحت برطانوی افواج کے فاتح سالارِ اعلیٰ جنرل لیک (General Lake) کا دہلی میں پُر جوش استقبال کیا گیا۔ مفلس و نابینا شاہ عالم آلامِ ضعیفی سے مضمحل ایک ٹوٹے ہوئے بوسیدہ شامیانے کے نیچے اپنی حسرتوں اور تمناؤں کے مرقد پر سر بہ زانو بیٹھا حسرت و یاس کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ شاہ عالم کی سلطنت کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی حدود دِلی سے پالم تک(سترہ کلو میٹر) ہیں۔ جب یہ بادشاہ فوت ہوا تو اس کے بعد اکبر ثانی (1837 -1806) اور بہادر شاہ ثانی (1857 – 1837) عہدِ رفتہ کی کہانی کے راوی بن گئے اور خاندان تیموریہ کی عظمت رفتہ کی نوحہ خوانی میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہوئے ہوئے زندگی اور اقتدار کے دِن گننے لگے۔ ماحول اور معاشرہ جن اجتماعی مصائب کے اعصاب شکن نرغے میں تھا اس کا اثر فکر و نظر پر مسموم اثرات مرتب ہوئے۔ زندگی کی تلخیاں روز افزوں تھیں اور راحت کا تصور خیال خام بنتا جا رہا تھا۔ بقول مرزا محمد رفیع سوداؔ :

سوداؔ  جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش

مشکل بہت ہے ان کو، جو رکھتے ہیں آگہی!

احمد شاہ ابدالی کی یلغار بھی مغلیہ سلطنت کی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ اٹھارہویں صدی کی انتہائی ہولناک جنگ پانی پت کی تیسری لڑائی جو چودہ جنوری 1761کو دہلی سے ساٹھ میل شمال میں واقع پانی پت کے میدان میں مر ہٹوں اور احمد شاہ ابدالی کے درمیان ہوئی اس میں مر ہٹوں کو شکست ہوئی۔ اس ایک روزہ جنگ میں چالیس ہزار افغان اور اسی قدر مرہٹے لقمۂ اجل بن گئے۔ جنگ کے بعد افغان سپاہیوں نے جوش انتقام میں مزید چالیس ہزار مرہٹوں کو بار ہستی سے سبک دوش کر دیا۔ اُردو کے ممتاز شاعر قائمؔ چاند پوری(پیدائش: 1722، وفات:1793) جو میر تقی میرؔ، خواجہ میر دردؔ، مرزا محمد رفیع سوداؔ، قلندر بخش جرأتؔ اور مصحفیؔ کے معاصر تھے۔ اس عہد کے حالات کے بارے میں انھوں نے کھُل کر لکھا ہے۔ قائم چاند پوری نے اس عہد نا پُرساں کے الم ناک واقعات کو اپنے اشعار کے قالب میں یوں ڈھالا ہے :

لشکر میں مر ہٹے کے جو کوئی ہوئے ہیں بند

دیکھے ہیں ان کے ظلم کے سب پست اور بلند

اب نام فوج سُن کے اُڑ جائیں جوں پرند

سچ ہے جس کو سانپ سے پہنچے کبھو گزند

رسی کو جانتا ہے کہ مارِ سیاہ ہے

سمجھا تو اس قدر بھی اے بھڑوے، خبیث، خر

کِس پر ہوا یہ مظلمہ، ٹُوٹا کنہوں پہ زر

ہر نیک و بد پہ آدمی کرتا ہے یاں نظر

تُو تو خدا کے فضل سے اُس باپ کا پِسر

جِس کا خطاب شاہ حماقت پناہ ہے

میر تقی میرؔ(پیدائش:آگرہ 1722، وفات:لکھنؤ 1810) نے قومی ابتلا اور آزمائش کی اس گھڑی میں جب ہر طرف غم و آلام کی گھٹا چھا گئی تھی اور اُمید کی کوئی کِرن دکھائی نہیں دیتی تھی، دلِ بینا کو سنبھالے رکھا اور ہجومِ غم اور مصائب کے ازدحام میں بھی حوصلے اور امید کی شمع فروزاں رکھنے پر اصرار کیا۔ میر تقی میرؔ کی شاعری میں حقائق کی نہایت خلوص اور دردمندی کے ساتھ لفظی مرقع نگاری کی گئی ہے۔ مرہٹوں کی غارت گری اور عماد الملک کی بیداد گری نے ہر شخص کو مایوسی اور بے بسی کی تصویر بنا دیا تھا۔ میر تقی میرؔ نے اپنی شاعری کے ذریعے قومی بیداری، جہد و عمل اور ذہنی شعور کی حیاتِ جاوداں پر توجہ مرکوز رکھی۔ میر تقی میرؔ کے اشعار پڑھ کر آج کے دور کا قاری بھی چشم تصور سے اس عہد کی دھندلی سی ایک تصویر دیکھ لیتا ہے۔ میر تقی میرؔ کی شاعری میں ایک حساس تخلیق کار کی تخلیقی فعالیت اور پر خلوص شخصیت کا کرشمہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتا ہے :

جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا

ہمارے وقت میں تو آفتِ زمانہ ہوا

چور، اُچکے، سِکھ، مرہٹے، شاہ و گداسب خواہاں ہیں

چین سے ہیں جو کچھ نہیں رکھتے فقر بھی اِک دولت ہے

شہاں کہ کحل جواہر تھی خاکِ پا جن کی

اُن ہی کی آنکھ میں پھرتی سلائیاں دیکھیں

میر تقی میرؔ کے کلام میں اس عہد کے سیاسی، معاشرتی اور سماجی حالات سے اس قدر بیزاری دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنے عہد کی زندگی کو جبر مسلسل سمجھ کر اس سے بغاوت پر اُتر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں مایوسی اور بیزاری کے بجائے صبر و تحمل کا عنصر حاوی ہے۔ ایک حساس اور خود دار تخلیق کار کی حیثیت سے میر تقی میرؔ نے اپنی شاعری میں بھی اپنے عہد کے حالات اور حکمرانوں کی عیاشیوں پر نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں اظہار خیال کیا ہے۔ بیرونی حملہ آوروں کی یلغار کے باعث بر صغیر کے باشندوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔ میر تقی میرؔ نے ان اعصاب شکن حالات کے بارے میں لکھا ہے۔

’’چونکہ ان جفا کاروں کی بن آئی تھی، لوٹتے کھسوٹتے ایذائیں دیتے ستم ڈھاتے عورتوں کی بے حرمتی کرتے۔ ۔ ۔ ۔ ہر گلی کوچے میں، ہر بازار میں یہ غارت گر تھے اور ان کی دارو گیر ہر طرف خونریزی، ہر سمت ظلم و ستم، ایذائیں بھی دیتے اور طمانچے مارتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر جل گئے۔ محلے ویران ہو گئے۔ سیکڑوں لوگ ان سختیوں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانے شہر کا علاقہ جسے رونق اور شادابی کے باعث ’’جہان تازہ‘‘ کہتے تھے، منقش دیوار کے مانند تھا جہاں تک نظر جاتی تھی، مقتولوں کے سر، ہاتھ، پاؤں اور سینے ہی نظر آتے تھے۔ ان مظلوموں کے گھر ایسے جل رہے تھے کہ آتش کدہ کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔ جہاں تک آنکھ دیکھ سکتی تھی خاک سیاہ کے سوا کچھ نہ دکھائی دیتا تھا۔ جو مظلوم مرگیا(وہ گویا) آرام پا گیا (اور)جو ان کی زد میں آ گیا بچ کر نہ جا سکا۔ ‘‘ (25)

میر تقی میر نے ’’در حال لشکر ‘‘میں آخری عہدِ مغلیہ میں شاہی دربار اور اُس عہد نا پُرساں کی سپاہ کی حالتِ زار کی لفظی مرقع نگاری کرتے ہوئے حقائق کی ترجمانی کی ہے۔

چار لُچے ہیں مستعد کار

دس تلنگے جو ہوں تو ہے دربار

ہیں وضیع و شریف سارے خوار

لُوٹ سے کچھ ہے گرمیِ بازار

سو بھی قندِ سیاہ ہے یا ماش

بر صغیر کے طول و عرض میں اندرونی اور بیرونی لوٹ مار روزمرہ کا معمول تھا۔ معاشی ابتری، خانہ جنگی، بد امنی اور دہشت گردی کے باعث پورا ملک عبرت کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ ویرانی، بربادی اور غربت و افلاس کی نحوست کا چاروں طرف غلبہ تھا۔ شکستہ عمارتیں، سنسان حویلیاں، چلتے پھرتے ہوئے مُردے، بے گور و کفن لاشیں اور زندہ در گور انسان بے مہریِ عالم کا  نوحہ  بن کر فکر و خیال کے لیے عبرت کا تازیانہ تھے۔ طوائف الملوکی کے اس تباہ کُن دور میں کوئی اُمید بر نہ آتی اور سیاسی و معاشرتی سطح پر اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ حقیقت میں شاہ عالم برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے طاقت ور نمائندوں کے ہاتھ میں کٹھ پُتلی بن چکا تھا۔ اس نام نہاد بادشاہ کے عہد میں دہلی پر جو نحوست برس رہی تھی اور آٹھ سو برس قدیم تاریخی اقدار کو جس بے دردی سے پامال کیا جا رہا تھا اس کا نقشہ میر تقی میرؔ نے اِن الفاظ میں کھینچا ہے :

’’حاصلِ کلام شرارت پیشہ مغل، فساد انگیز مرہٹے جانے والے ہیں اور حضرت ظلِ سبحانی قدسی صفات دو تین منشیوں کے ساتھ کسی آنے جانے والے کی تشویش کے بغیر قلعہ معلی میں اطمینان سے رہیں گے۔ اگر قلعہ حصار کے ہر ہر کنگرے کی دن میں سو بار سیر کو نکلیں تو کس کا حجاب مانع ہو گا اور اگر بازار میں پیدل نکلیں حاجب کہاں کہ ہٹو بچو کہے، یہ رنگ نظر آتا ہے کہ اہلِ حرفہ جنگل کو نکل جائیں اور سپاہی بھیک مانگیں، ہر شخص اپنا رستہ لے، خوب شہر کی رونق ہو گی؟‘‘(26)

میر تقی میرؔ کے متخیلہ میں تہذیبی اور ثقافتی شعور کا ادراک ان کے منفرد اسلوب اور زبان و بیان پر خلاقانہ دسترس کا منھ بو لتا ثبوت ہے۔ اپنے عہد کے عصری روّیوں کو میر تقی میرؔ نے نہایت خلوص کے ساتھ اپنے اسلوب میں جگہ دی ہے۔

جس زمانے میں مرزا محمد رفیع سوداؔ دہلی میں مقیم تھے فرخ سیر نے ایوانِ اقتدار میں اپنے قدم رکھ دئیے تھے۔ عیاش مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا (عرصۂ اقتدار:1719-1748)کے عہد حکومت میں بسنت خان خواجہ سرا کولال قلعہ دہلی میں اہم مقام حاصل تھا۔ بسنت خان خواجہ سرا، مہربان خان اور احمد علی خان کی سر پرستی اور عنایات سے مرزا محمد رفیع سوداؔآلام روزگار کی تمازت سے محفوظ رہے۔ آخری عہدِ مغلیہ میں اِنتظامِ سلطنت بُری طرح تباہ ہو چکا تھا۔ معاشی بد حالی، غربت و افلاس، جہالت اور کوتاہ اندیشی نے صرف سیاسی زوال کی راہ ہموار نہیں کی کہ بل کہ معاشرے کو اخلاقی دیوالیہ پن کیا تھاہ گہرائیوں کی جانب دھکیل دیا۔ سودا کی شاعری انحطاط پذیر معاشرے کی تباہی کو حقیقی تناظر میں پیش کرتی ہے مرزا محمد رفیع سوداؔ کی تخلیق ’’قصیدہ تضحیک روزگار‘‘ میں گھوڑا مغلیہ سلطنت کی جان کنی کی کیفیت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔ اس گھوڑے کی نا طاقتی کا احوال بیان کرتے ہوئے سوداؔ نے مبالغہ سے کام لیا ہے اور گھوڑے کی علامت ایک ایسے نفسیاتی کُل کے رُوپ میں سامنے آتی ہے جس سے لا شعور کی توانائی کو متشکل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

آخری عہدِ مغلیہ میں شاہ عالم کی بے بضاعتی کسی سے پوشیدہ نہ تھی۔ مغل شہنشاہ جو کسی زمانے میں بائیس صوبوں کے حاکم ہوتے تھے اب ان کی حالت زار یہ تھی کہ صوبوں نے مرکزی حکومت کے خلاف صف آرائی شروع کر دی اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ شاہ عالم کی بے بسی اور بے چارگی کا یہ حال تھا کہ ’’کول‘‘ (موجودہ علی گڑھ )کی فوجداری بھی اس کے اختیار میں نہ رہی۔ اس قدر بے توقیری کے باوجود شاہ شطرنج کی ڈھٹائی کا یہ حال تھاکہ وہ پھر بھی بائیس صوبوں خاوند بنا بیٹھا تھا۔ آخری عہدِ مغلیہ میں لال قلعہ میں مقیم بادشاہوں نے شمشیر و سناں سے ناتا توڑ کر طاؤس و رباب سے عہدِ وفا استوار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت زوال کا شکار ہو گئی مگر ان لرزہ خیز حالات میں بھی حریتِ ضمیرسے جینے کی راہ اپنانے والے ادیبوں نے زندگی کی حیات آفریں اقدار کی ترجمانی کرتے ہوئے اقتضائے وقت کے مطابق عصری آگہی کو پروان چڑھانے کی مقدور بھر سعی کی۔ مغلوں کا جاہ و جلال تو تاریخ کے طوماروں میں دب کر قصۂ پارینہ بن گیا لیکن اس عہد کے ادیبوں نے تخلیق ادب کو مقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہم دوشِ ثریا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ اس کے معجز نما اثر سے اُردو زبان کی ثروت اور وقعت میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے ہر عہد کے ادب میں نشاں ملیں گے۔ مرزا محمد رفیع سوداؔ کی شاعری سے متاثر ہو کر شاہ عالم نے ایک مرتبہ یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اس شاعر کو ملک الشعرا کا خطاب دینا چاہتا ہے۔ اس پیش کش کے بارے میں سُن کر مرزا محمد رفیع سوداؔ نے نہ صرف اسے مسترد کر دیا بل کہ بر ملا کہا کہ ملک الشعرا بننے کے لیے انھیں کسی جابر سلطان کی بیساکھیوں کی احتیاج نہیں۔ اگر ان کے کلام میں جان ہو گی تو وہ خود انھیں ملک الشعرا کے منصب پر فائز کرے گا۔ ( 27) سلطانی ٔ جمہور کے حامی مرزا محمد رفیع سوداؔ کی یہ سوچ ان کی خود داری کی مظہر ہے۔ سوداؔ نے اس پر آشوب عہد میں درباریوں، مصاحبوں، منصب داروں، سپاہیوں اور امرا کی خستہ حالی اور دیگر معاشرتی عیوب کو اپنی ہجویات میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر عہد کا قاری چشم تصور سے اس ماحول کا احساس و ادراک کر نے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک مفت خور، لیموں نچوڑ قماش کا نو دولتیا جس کی خِست و خجالت اس کے لیے باعث ننگ و عار بن گئی تھی اور وہ بخل میں سفلگی کی حد سے بھی متجاوز تھا اپنے بیٹے کی فضول خرچی عیاشی اور آوارہ گردی کا شکوہ کرتے ہوئے اسے اپنے مرحوم باپ کی مثال دیتا ہے وہ کس طرح لوگوں کی جیب کاٹ کر اپنی تجوری بھرتا رہا۔

جو کوئی اس کے گھر میں نو کر تھا

رات کو اس پہ یہ مقرر تھا

پھرتا وہ ٹکڑے مانگتا گھر گھر

لا تا آقا کے آگے جھولی بھر

اچھے چُن چُن کے آپ کھا تے تھے

بُرے تنخواہ میں لگا تے تھے

پیدا کر گئے تھے اس طرح اجداد

سو یہ بد بخت دے ہے یوں بر باد

سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، انتظامی شکست و ریخت اور بادشاہوں کی عیاشی کے باعث نراجیت کا ماحول پیدا ہو چکا تھا اور دہلی کی زوال پذیر معاشرتی زندگی میں اخلاقی، سیاسی اور سماجی برائیوں نے گمبھیر صورت اختیار کر لی تھی۔ سوداؔ نے معاشرتی زندگی کی زبوں حالی، اخلاقی دیوالیہ پن اور سماجی قباحتوں پر تیشۂ حرف سے کاری ضرب لگانے میں کبھی تامل نہ کیا۔ ادیبوں نے اس اعصاب شکن ماحول میں تہذیبی انحطاط کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک بحرانی دور میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے پُر عزم اور با ضمیر ادیبوں نے تہذیبی و ثقافتی اقدار اور روایات کے تحفظ کو اپنا مطمح نظر بنایا اور ہجوم غم و آلام میں دِل کو سنبھالتے ہوئے پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہے۔ انھوں نے حوصلے اور اُمید کا دیپ فروزاں رکھنے پر اصرار کیا کیوں کہ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ ظلم کی شب بالآخر ڈھلے گی۔ اپنی شگفتہ شاعری میں سوداؔ نے مبالغہ اور طنز کی آمیزش سے جس طرح اشہبِ قلم کی جولانیاں دکھائی ہیں وہ قاری کے لیے انوکھا تجربہ ثابت ہوتی ہیں۔ سوداؔ نے میر ضاحک کی بسیار خوری کے بارے میں لکھا:

آگ لگ کر کسی گھر سے دُود

ایک ذرہ بھی گر کرے ہے نمود

لوگ تو دوڑیں ہیں بُجھانے کو

دوڑے یہ لے رکابی کھانے کو

اس لیے ہجو خلق کرتا ہے

گالیاں کھانے تک بھی مرتا ہے

نہیں ڈرتا یہ لاٹھی پاٹھی سے

کیا کرے لاٹھی اس کی کاٹھی سے

آوے جو کھینچ سامنے تلوار

جب تلک پہنچے اُس کا اِس تک وار

مورچے کی طرح یہ اس پر آئے

کھتی سے پیپلے تک کھا جائے

سوداؔ کے ہاں اس بات پر شدید کرب پایا جا تا ہے کہ سیاسی زوال کے نتیجے میں ہندوستان کی رعایا پر عرصۂ حیات تنگ ہو رہا ہے۔ معاشی اختلال نے افراد کو ذہنی سکون سے محروم کر دیا تھا اور آلامِ روزگار سے عاجز آ کر تباہ حال لوگ انتہائی تکلیف دِہ حالات اور جبر کے ماحول سے بیزار ہو کر دوسرے شہروں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔ جس وقت دہلی میں عیاش مغل بادشاہوں کے اقتدار کی بساط اُلٹ رہی تھی اور متعدد اہلِ کمال دہلی سے لکھنؤ ہجرت کر گئے توسوداؔ نے دہلی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ لکھنؤ کے نواب شجاع الدولہ نے سوداؔ کو لکھنؤ آنے کی دعوت دی لیکن سوداؔ نے ایک شان استغنا سے یہ دعوت قبول نہ کی اور یہ رباعی لکھ کر ارسال کی :

سوداؔ پئے دنیا تُو بہ ہر سُو کب تک

آوارہ ازیں کُوچہ بہ آں کُو کب تک

حاصل یہی اِس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تُو کب تک

انسان جب گردشِ ایام کی زد میں آ جاتا ہے تو سب تدبیریں اُلٹی ہو جاتی ہیں اور حالات کے جبر سے بعض ناپسندیدہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ نواب آصف الدولہ کے عہد میں سودؔ ا نے دہلی کے حالات سے دِل برداشتہ ہو کر لکھنؤ جانے کا فیصلہ کیا۔ اہلِ لکھنؤ نے اس باکمال شاعر کو سر آنکھوں پر جگہ دی۔ اس کے ساتھ ہی میر تقی میرؔ بھی جنھیں زمانے نے متصل پراگندہ روزی اور پراگندہ دِل رکھا تھا لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ ان دونوں شعرا نے اپنی زندگی کے باقی ایام لکھنو ٔ میں گزارے اور اسی شہر کی زمین نے اردو شاعری کے یہ آسمان اپنے دامن میں چھُپا رکھے ہیں۔ میر تقی میرؔ کی قبر پر لکھنؤ کا ریلوے سٹیشن تعمیر ہو چُکا ہے۔ سوداؔ کو اپنی تہذیبی میراث اور شاندار تاریخی روایات کا شدت سے احساس ہے۔ تخلیق فن کے لمحوں میں سوداؔ کے خیالات و محسوسات ایک تسلسل کے ساتھ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے اظہار کا وہ روپ دھار لیتے ہیں کہ یہ امرا واضح ہو جاتا ہے کہ انھیں اپنی درخشاں روایات سے بے نیازی بر تنا کسی طور گوارا نہیں۔ جبر کے سامنے سپر انداز ہونا اور کالے قوانین کی تعمیل کے بارے میں سوداؔ نے کبھی سوچا بھی نہیں۔ مسلمہ اقدار اور روایات سے انحراف کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرتی زبوں حالی افراد کے امن و سکون کو نگل لیتی ہے۔ سوداؔ نے مصائب و آلام کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا اور حالات کا رُخ دیکھ کر صحیح سمت میں قدم اُٹھایا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوداؔنے کٹھن حالات سے دِل برداشتہ ہونے کے بجائے انھیں نوشتۂ تقدیر سمجھ کر نہ صرف انھیں قبول کیا بل کہ ان سے بڑی حد تک سمجھوتہ بھی کر لیا اور اپنے لیے ایک واضح نصب العین کا تعین کر لیا۔ وہ نصب العین یہ تھا کہ اجتماعی غم کی اس فضا میں تزکیۂ نفس کی خاطر شگفتہ مزاجی کو شعار بنایا جائے اور اپنی گل افشانی گفتار سے خزاں میں بھی بہار کی عطر بیزی کا احساس اُجاگر کیا جائے۔

شاعری میں شگفتگی کا کرشمہ یہ ہے کہ تخلیق کار کے مانند قاری بھی اپنے آنسو ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں چھُپانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم سوداؔ اپنی شگفتہ شاعری میں طنز کی آمیزش سے تلخی کے بجائے مقصدیت کی تمنا رکھتے ہیں۔ اپنی حقیقت پسندی اور جرأت اظہار کے وسیلے سے انھوں نے مغلیہ حکومت کے عہدِ زوال کی معاشرت کی جس مؤثر انداز میں لفظی مرقع نگاری کی ہے وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ آخری عہدِ مغلیہ میں سیاسی زوال نے ایسے وبال کی صورت اختیار کر لی جس نے معاشرتی اور سماجی زندگی کو مکمل انہدام کے قریب پہنچا دیا اور لوگوں کا جینا محال ہو گیا۔ نا اہل حکمرانوں اور شورش پسند باغیوں نے زندگی کی اقدارِ عالیہ کو پسِ پشت ڈال کر عوامی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنا دیا تھا۔ نظامِ اقدار کو شدید خطرات کا سامنا تھا اور یہ حقیقت کسی سے مخفی نہ تھی کہ حالات کا مدو جزر تہذیبی سطح کو بھی زیر و زبر کر سکتا ہے۔ معاشرے میں ایک ایسی محیر العقول تبدیلی کے آثار نمایاں تھے جن کو دیکھتے ہوئے اس امر کا اندیشہ تھا کہ کہیں تہذیبی اثاثہ، زندگی کے حقائق اور اقدار و روایات کی بو قلمونی اپنی تابانیوں سے محروم نہ ہو جائیں۔ نفسیات اور علم بشریات کے ماہرین کا خیال ہے کہ مایوسی اور جبر کے ماحول میں جس طرح طیور اپنے آشیانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں اُسی طرح عقوبت و اذیت کے مسموم حالات میں تخلیق ادب کے سوتے بھی خشک ہونے لگتے ہیں۔ سوداؔ نے ان پُر آشوب حالات میں اپنی بھر پور تخلیقی فعالیت سے حوصلے اور اُمید کی مشعل فروزاں رکھی۔ سوداؔ کی شگفتہ شاعری نے سنگلاخ چٹانوں اور جامد و ساکت پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوایا۔ سیاسی زوال کے زمانے میں تخلیقی عروج کی یہ مثال تا ابد فکر و نظر کو مہمیز کرتی رہے گی:

پوچھا سوداؔ سے میں اک روز کہ اے آوارہ

تیرے رہنے کا معین بھی مکاں ہے کہ نہیں

یک بیک ہو کے بر آشفتہ لگا وہ کہنے

کچھ تجھے عقل سے بہرہ بھی میاں ہے کہ نہیں

دیکھا میں قصر فریدون کے اوپر اک شخص

حلقہ زن ہوکے پکارا کوئی یاں ہے کہ نہیں

اودھ کی حکومت بھی اپنی ناقص منصوبہ بندی کے باعث زوال کا شکار تھی۔ اودھ کے مقتدر حلقوں کی حیثیت طلائی تار پر اپنے رقص کے جوہر دکھانے والی ایک کٹھ پُتلی سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ایک ایسی مضحکہ خیز کٹھ پُتلی کے روپ میں سامنے آتے تھے جس کی ڈور ایسٹ انڈیا کمپنی کے شاطر منصوبہ سازوں کے ہاتھ میں تھی۔ اودھ کے کٹھ پُتلی حکمرانوں نے اپنے تمام اقتصادی اور عسکری وسائل برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتا اہل کاروں کے قدموں میں ڈھیر کر دئیے اور خود ان کے دست نگر بن کر اپنی جعلی شان و شوکت اور اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ لکھنؤ کے دبستان شاعری کے نمائندہ اُردو زبان کے ممتاز شاعر اور اس عہد کے حالات کے چشم دید گواہ شیخ قلندر بخش جرأت ( یحییٰ امان: 1748-1810)نے اپنی شاعری میں حالات کی حقیقت پسندانہ لفظی مرقع نگاری کی ہے۔ جعفر علی خان حسرت کے اِس ذہین شاگرد نے جو عالم شباب میں بصارت سے محروم ہو گیا تھا اپنی بصیرت سے گردشِ ایام اور اودھ کے فرماں رواؤں کی حالتِ زار پر اپنے رنج کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے :

اس امر میں قاصر تو فرشتہ کی زباں ہے

کیا کیا میں بتاؤں کہ زمانہ کی کئی شکل

ہے وجہ معاش اپنی سو جو جس کا یہ بیاں ہے

سب پیشہ یہ تج کر جو کوئی ہو متوکل

جورو تو سمجھتی ہے نکھٹو یہ میاں ہے

اور بیٹی کے دل کو ہے خرافت کا تیقن

بیٹے کو جنوں ہونے کا بابا کے گماں ہے

آرام سے کٹنے کا سنا تو نے کچھ احوال

جمعیت خاطر کوئی صورت ہو، کہاں ہے ؟

دنیا میں تو آسودگی رکھتی ہے فقط نام

عقبی میں یہ کہتا ہے کوئی اس کا نشان ہے

سو اوس پہ تیقن کسی کے دل کو نہیں ہے

یہ بات بھی گو بندہ ہی کا محض گماں ہے

یاں فکر معیشت ہے تو واں دغدغۂ حشر

آسودگی حرفیست نہ یاں ہے نہ وہاں ہے

سوداؔکی شاعری میں شگفتگی کا کرشمہ دامنِ دِل کھینچتا ہے تاہم اس میں طنز کی آمیزش سے وہ تلخی کے بجائے مقصدیت کی تمنا رکھتے ہیں۔ اپنی حقیقت پسندی اور جرأت اظہار کے وسیلے سے انھوں نے مغلیہ حکومت کے عہدِ زوال کی لرزہ بر اندام معاشرت کی جس انداز میں لفظی مرقع نگاری کی ہے وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ آخری عہدِ مغلیہ میں سیاسی زوال نے ایسے وبال کی صورت اختیار کر لی جس نے معاشرتی اور سماجی زندگی کو مکمل انہدام کے قریب پہنچا دیا اور لوگوں کا جینا محال ہو گیا۔ نا اہل حکمرانوں اور شورش پسند باغیوں نے زندگی کی اقدارِ عالیہ کو پسِ پشت ڈال کر عوامی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنا دیا تھا۔ نظامِ اقدار کو شدید خطرات کا سامنا تھا اور یہ حقیقت کسی سے مخفی نہ تھی کہ حالات کا مدو جزر تہذیبی سطح کو بھی زیر و زبر کر سکتا ہے۔ معاشرے میں ایک ایسی محیر العقول تبدیلی کے آثار نمایاں تھے جن کو دیکھتے ہوئے اس امر کا اندیشہ تھا کہ کہیں تہذیبی اثاثہ، زندگی کے حقائق اور اقدار و روایات کی بو قلمونی اپنی تابانیوں سے محروم نہ ہو جائیں۔ نفسیات اور علم بشریات کے ماہرین کا خیال ہے کہ مایوسی اور جبر کے ماحول میں جس طرح طیور اپنے آشیانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں اُسی طرح عقوبت و اذیت کے مسموم حالات میں تخلیق ادب کے سوتے بھی خشک ہونے لگتے ہیں۔ سوداؔ نے ان پُر آشوب حالات میں اپنی بھر پور تخلیقی فعالیت سے حوصلے اور اُمید کی مشعل فروزاں رکھی۔ سوداؔ کی شگفتہ شاعری نے سنگلاخ چٹانوں اور جامد و ساکت پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوایا۔ سیاسی زوال کے زمانے میں تخلیقی عروج کی یہ مثال تا ابد فکر و نظر کو مہمیز کرتی رہے گی:

پوچھا سوداؔ سے میں اک روز کہ اے آوارہ

تیرے رہنے کا معین بھی مکاں ہے کہ نہیں

یک بیک ہو کے بر آشفتہ لگا وہ کہنے

کچھ تجھے عقل سے بہرہ بھی میاں ہے کہ نہیں

دیکھا میں قصر فریدون کے اوپر اک شخص

حلقہ زن ہوکے پکارا کوئی یاں ہے کہ نہیں

اودھ کی حکومت بھی اپنی ناقص منصوبہ بندی کے باعث زوال کا شکار تھی۔ اودھ کے مقتدر حلقوں کی حیثیت طلائی تار پر اپنے رقص کے جوہر دکھانے والی ایک کٹھ پُتلی سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ایک ایسی مضحکہ خیز کٹھ پُتلی کے روپ میں سامنے آتے تھے جس کی ڈور ایسٹ انڈیا کمپنی کے شاطر منصوبہ سازوں کے ہاتھ میں تھی۔ اودھ کے کٹھ پُتلی حکمرانوں نے اپنے تمام اقتصادی اور عسکری وسائل برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتا اہل کاروں کے قدموں میں ڈھیر کر دئیے اور خود ان کے دست نگر بن کر اپنی جعلی شان و شوکت اور اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ لکھنؤ کے دبستان شاعری کے نمائندہ اُردو زبان کے ممتاز شاعر اور اس عہد کے حالات کے چشم دید گواہ شیخ قلندر بخش جرأت ( یحییٰ امان: 1748-1810)نے اپنی شاعری میں حالات کی حقیقت پسندانہ لفظی مرقع نگاری کی ہے۔ جعفر علی خان حسرت کے اِس ذہین شاگرد نے جو عالم شباب میں بصارت سے محروم ہو گیا تھا اپنی بصیرت سے گردشِ ایام اور اودھ کے فرماں رواؤں کی حالتِ زار پر اپنے رنج کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے :

کہیے نہ انھیں امیر اب اور نہ وزیر

انگریزوں کے ہاتھ یہ قفس میں ہیں اسیر

جو کچھ وہ پڑھائیں سو یہ منھ سے بولیں

بنگالے کی مینا ہیں یہ پُورب کے امیر

جس وقت پُورا ہندوستان معاشی ابتری اور اقتصادی زبوں حالی کا عبرت ناک منظر پیش کر رہا تھا اس وقت لکھنؤ کے حالات قدرے بہتر تھے۔ آصف الدولہ نے اپنی فوج کو خدمات سے فارغ کر کے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کو دفاعی ذمہ داریاں تفویض کر دیں جن کے تمام اخراجات حکومت اودھ ادا کرنے کی پابند تھی۔ سعادت خان برہان الملک کے بعد اودھ کے حکمرانوں نے شمشیر و سناں سے اپنا تعلق توڑ لیا اور طاؤس و رباب اور رقص و سرود ان کے مشاغل بن گئے۔ شجاع الدولہ(1732-1775) ایک کم زور حاکم تھا اور انتظامی صلاحیتوں اور فہم و فراست سے عاری تھا۔ وہ رقص و موسیقی کا دلدادہ تھا۔ پُورے ہند سندھ کی پیشہ ور رذیل طوائفوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی غرض سے لکھنؤ کا رُخ کیا۔ قحبہ خانوں اور چنڈو خانوں کی متعدد ڈیرہ دار طوائفیں اور بھڑوے شجاع الدولہ کے ٹکڑوں پر پلتے تھے۔ شجاع الدولہ کا زیادہ وقت رقص و موسیقی کے محفلوں میں گزرتا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب شجاع الدولہ لمبے عرصے کے لیے طویل مسافت طے کر کے بیرونی علاقوں کے دورے پر روانہ ہوتا تو ان بے غیرت اور بے ضمیر طوائفوں کا ہجوم بھی ساتھ روانہ ہوتا۔ (28) آصف الدولہ(1748-1797) کو فوجی مہمات اور انتظام سلطنت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ معاشرتی زندگی کے ڈھنگ ہی نرالے تھے جہاں ڈُوم، ڈھاڑی، ڈیرہ دار طوائفیں، مغنیائیں، رقاصائیں، خانگیاں، رنڈیاں، بھڑوے اور مسخرے قحبہ خانوں میں داد عیش دینے کے فراواں مواقع فراہم کر رہے تھے۔ معاشرتی زندگی میں جنسی جنون، فحاشی اور عیاشی کا زہر سرایت کر گیا۔ شعر و ادب بھی اس مسموم ماحول سے متاثر ہوا، شاعری میں سعادت یار خان رنگینؔ نے اہلِ ہوس کے جنسی جنون اور گھٹیا عیاشی کی تسکین کے لیے جنسی جنون اور فحش گوئی کی مظہر صنف شاعری ریختی اختراع کی۔ اُس عہد میں اُردو کے جن شعر انے ریختی میں طبع آزمائی کی ان میں جرأتؔ، ناسخؔ، رندؔ، مسیحؔ، انشاؔ، امانتؔ، جان صاحبؔ، لاڈوؔ اور نازنینؔ شامل ہیں۔ انگریز شاطر اس کور مغز اور نا اہل حاکم آصف الدولہ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے اطاعت کیش رفیق کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور اس کٹھ پُتلی سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے بعد آصف الدولہ عیش و نشاط کی محفلیں سجانے اور دوسرے مشاغل میں مصروف رہتے۔ (29)آصف الدولہ کا دربار عیاش مسخروں اور ضمیر فروش بھڑووں کا مرکز بن گیا۔ لکھنؤ کا وہ دربار جو ماضی میں اہلِ کمال کا ٹھکانہ سمجھا جاتا تھا اب اس میں بہ جز رذیل اور پوچ مصاحبوں کے آصف الدولہ کے دربار میں کسی کا نشان بھی نہیں تھا۔ (30)آصف الدولہ سے قبل شاہانِ اودھ جو کثیر رقوم مملکت کی فلاح، استحکام اور دفاع پر خرچ کرتے تھے وہ آصف الدولہ نے ذاتی نمود و نمائش، تصنع پر مبنی آرائش و زیبائش اور تعیش پسندی کی بھینٹ چڑھا دی۔ واجد علی شاہ کا دربار حاکمیت، افادیت اور صلاحیت سے محروم تھا۔ معاشرتی زندگی میں اخلاقی زبوں حالی کے باوجوداس عہد میں فنون لطیفہ کی سر پرستی قابل ذکر ہے۔ اوپیرا (Opera) یعنی موسیقی کو ڈرامے کی شکل میں پیش کرنا اس عہد میں مقبول ہوا۔ واجد علی شاہ کو فرانسیسی اوپیرا سے گہری دلچسپی تھی، وہ چاہتا تھا کہ ہندوستانی اوپیرا کو بھی اسی انداز میں پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آصف الدولہ نے آغا حسن امانتؔکی خدمات حاصل کیں اور منظوم ڈرامہ لکھنے پر مائل کیا۔آغا حسن امانتؔ کی معرکہ آرا تصنیف ’’اندرسبھا‘‘(1847-1853)اسی عہد کی یاد دلاتی ہے۔ اِندر سبھا اردو کا پہلا منظوم سٹیج ڈرامہ ہے جو پہلی بار 1853میں سٹیج پر پیش کیا گیا۔ ایک شہزادے اور پری کی یہ منظوم داستان محبت بہت مقبول ہوئی اور اس کے بعد بر صغیر میں صنف ڈرامے کو نئی آب و تاب نصیب ہوئی۔ آخری عہدِ مغلیہ میں نوابان اودھ نے لکھنؤ میں فنون لطیفہ کی جس طرح سر پرستی کی اس کی بدولت مایوسی کے بادل چھٹ گئے اور عوام کے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ نصیب ہوا۔ سحر لکھنوی نے اس عہد کے لکھنو کی معاشرت کی چکا چوند اور عیش و عشرت کے بارے میں کہا تھا:

خدا آباد رکھے لکھنؤ کے خوش مزاجوں کو

ہر اِک گھر خانۂ شادی، ہر اِک کُوچہ ہے عشرت گاہ

نوابانِ اودھ کی اطاعت کیش وفاداری کے باعث انگریز ان پر بے حد مہر بان تھے۔ شما لی ہند وستان میں شاہانِ اودھ کا فی عرصہ تک انگریزوں اور دوسری قوتوں سے محفوظ رہے یہاں تک کہ 1856 میں یہ علا قہ انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔ (31) اس کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہوس ملک گیری کے اپنے نو آبادیاتی چُنگل کو مزید پھیلا دیا اور پُورے بر صغیر پر غاصبانہ قبضے کی ٹھان لی۔ بر صغیر میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس خطے کی ارضی و ثقافتی میراث کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ایڈورڈ سعید( Edward Wadie Said ,1935-2003) نے نو آبادیاتی دور میں ثقافتی میراث پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں لکھا ہے :

“All cultures tend to make representations of foreign cultures the better to master or in some way control them. Yet all the cultures make representations of foreign cultures and in fact master or control them. This is the distinction, I believe of modern Western cultures. It requires the study of western knowledge or representations of the non-European world to be a study of both the representations and the political power they express.”(32)

بر صغیر کے ادیبوں نے تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا اور تخلیقِ فن کے لمحوں میں اسے زادِ راہ بنانے کی سعی کی۔ تاریخ سے وابستہ حقائق پر گہری نظر رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ماضی کے تجربات قومی کردار کی تشکیل اور ملی تشخص کو اُجاگر کرنے میں دوامی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ اُردو شعرا نے اپنے افکار کی جولانیاں دکھاتے وقت جہاں زندگی کے خارجی حقائق کو پیشِ نظر رکھا ہے وہاں داخلی بصیرت کو بھی اپنے افکار کی اساس بنایا ہے۔ سائنسی اندازِ فکر اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ جذبات و احساسات کی تمازت سے بچتے ہوئے حقائق کی گرہ کشائی کی جائے لیکن کوئی بھی تخلیق کار ایام گزشتہ کی کتاب مرتب کرتے وقت اپنے جذبات و احساسات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ آخری عہدِ مغلیہ کی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت قاری چشم تصور سے نہ صرف اس عہد کے حالات و واقعات کی ایک جھلک دیکھ لیتا ہے بل کہ تخلیق کاروں کے جذبات و احساسات کے بارے میں سب باتوں کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔

 

                 مآخذ

 

  1. H.H.Dodwell:The Cambridge History Of India,Vol.1,Cambridge University Press,London,1929,Page,77

2.William Harrison Wood ward:A Short History Of the Expansion of the British Empire,Cambridge University Press, 1991,Page 173.

(3)محمود خان منگلوری:تاریخ جنوبی ہند، پبلشرز یو نائیٹڈ، لاہور، بار دوم، 1947، صفحہ 249۔

(4) H. H DODWELL : The Cambridge History of India , Volume V , Page 101

(5)اشتیاق حسین قریشی ڈاکٹر:بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ، جامعہ کراچی، اشاعت دوم، 1983، صفحہ225۔

(6)A.P NEWTON:The British Empire Since 1783,Methuen & Company London,2ndEdition 1935,Page ,7.

(7)ای۔ پی۔ مون:وارن ہیسٹنگز اور انگریزی راج، اُردو ترجمہ سید محمد اولاد علی گیلانی، کتاب منزل، لاہور، بار اول، 1951، صفحہ10۔

(8)گستاولی بان ڈاکٹر:تمدن ہند، اردو ترجمہ مولوی سید علی بلگرامی، مطبع شمسی آگرہ، 1913، صفحہ 161۔

  1. William Irvine :Later Moughals,Vol,1,Universal Books ,Lahore, Page ,192 (9)

(10)غلام حسین ذوالفقار ڈاکٹر:اردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر، مطبع جامعہ پنجاب، لاہور، 1966 ، صفحہ61۔

(11)کلب علی خان فائق رام پوری:مومن، مجلس ترقی ادب، کلب روڈ، لاہور، اشاعت اول، 1961، صفحہ2۔

12)) وقار عظیم سید (مرتب):تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند، مطبع جامعہ پنجاب، لاہور، ساتویں جلد، صفحہ9۔

  1. 13. H Dodwell: The Cambridge History Of India, Vol. V, Page 146.

(14)ای، پی مون: وارن ہیسٹنگز اور انگریزی راج، اردو ترجمہ، سید اولاد علی گیلانی، کتاب منزل، لاہور، ، ,1951 صفحہ 43

(15)H.H. Dodwell: The Cambridge History of India, vol V Page 151

  1. 16. Ramsay Muir: A short history of British Commonwealth, George Phillip andSons,London,1947, Page775.

17))سید حسن ریاض:پاکستان نا گزیر تھا جامعہ کراچی، اشاعت سوم، جون 1982، صفحہ 19۔

(18 ) پنڈرل مون : ہندوستان میں اجنبی راج، مکتبہ جدید لاہور، سال اشاعت درج نہیں ، صفحہ 43

(19) ڈاکٹر مبارک علی : آخری عہد کا مغلیہ ہندوستان، نگارشات، لاہور، مارچ 1986 ، صفحہ 28

(20) ڈاکٹر آغا افتخار حسین : قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ، مجلس ترقی ادب، لاہور، طبع دوم، جون 1985 صفحہ50

(21) ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی :بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ صفحہ 225

(22) ڈاکٹر مبارک علی : آخری عہد کا مغلیہ ہندوستان صفحہ 33

(23)ڈاکٹر آغا افتخار حسین : قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ، مجلس ترقی ادب، لاہور، طبع دوم، جون 1985صفحہ45

(24) بہ حوالہ ڈاکٹر آغا افتخار حسین : قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ، مجلس ترقی ادب، لاہور، طبع دوم، جون 1958 صفحہ47

(25) بہ حوالہ ڈاکٹر مبارک علی : آخری عہد کا مغلیہ ہندوستان صفحہ21

(26) کلب علی خان فائق رام پوری:مومن صفحہ14

(27)عبداللہ یوسف علی:انگریزی عہد میں ہندوستانی تمدن کی تاریخ، کریم سنز پبلشرز، کراچی، اشاعت اول، 1967، صفحہ56

(28)ابو اللیث صدیقی ڈاکٹر :لکھنؤ کا دبستانِ شاعری، اُردو مرکز، لاہور، 1956، صفحہ32

(29)حسن اختر ملک ڈاکٹر :تنقیدی اور تحقیقی جائزے، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ستمبر 1983، صفحہ89

(30)وقار عظیم سید (مدیر):تاریخ ادبیات مسلمانانِ پاکستان و ہند، جلد ہفتم، صفحہ26

(31) شیخ محمد اکرام : رود کو ثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور طبع دو از دہم 1988 ، صفحہ600

  1. 32. Edward W. Said: Culture And Imperialism, Vintage Books, New York,1994,Page 100

٭٭٭

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید