ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

مکمل کتاب پڑھیں…..

میری یادوں میں برلن

(سفر نامہ)

عشرت ناہید

عمر رفتہ کی ہر اک طاق پہ جلتا ہے دیا
تم سے ملنے کا، بچھڑنے کا، سنبھل جانے کا

               (عشرت معین سیماؔ)

انتساب

عزیز دوست عشرت معین سیما و انور ظہیر رہبر صاحب

رب کی مہر بھائی نظر

نعمت خدا یان، رحمت رب مشا

کے نام

مقدمہ

پروفیسر خالد محمود

انسان فطرتاً مہم جو اور سفر پسند واقع ہوا ہے۔ وہ دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے۔ شوقِ سیاحت اس کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ سفر کی ایسی سہولیتیں میسر نہیں تھیں جیسی آج ہیں اس کے باوجود وہ اپنی جستجو اور خواہش کو دبا نہیں سکا۔ ساری مشکلات برداشت کیں، مصائب جھیلے، پریشانیاں اٹھائیں مگر پائے استقامت میں ذرا بھی لغزش نہیں آنے دی۔ بادِ مخالف اس کے اسپِ شوق کو تازیانہ ثابت ہوئی۔ جب قدم بڑھا تو بڑھتا ہی چلا گیا۔ پیچھے ہٹنا تو کجا ٹھہرنے کا بھی نام نہیں لیا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب جدید ٹیکنالوجی خصوصاً گوگل اور یوٹیوب کی مدد سے گھر بیٹھے ہی دنیا دیکھی جا سکتی ہے، پھر سیر و سیاحت کی کیا ضرورت ہے؟ لوگ کیوں سفر کی زحمت اٹھائیں گے؟ مگر یہ خیال خام ثابت ہو چکا ہے۔ آج صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ انٹر نیٹ کی مدد سے موبائل یا ٹی وی پر دنیا کے حسین و جمیل مناظر اور حیران کن مقامات دیکھ کر شوق دید میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور سفر و حضر کی سہولتوں نے شوقِ سیاحت کو جنون کی حد تک بڑھا دیا ہے۔ موسمِ سفر میں ذرائع آمد و رفت سے لے کر قیام گاہوں تک ہر جگہ ایک ہجومِ عاشقاں نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت ناہید بھی اسی ذوق فراواں کے ساتھ سرگرم سفر ہیں۔ ان کا ’’جذبۂ بے اختیار شوق‘‘ بھی قابل دید ہے۔

عشرت ناہید کا سفرنامہ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ جرمنی کے دارالحکومت برلن کی سیر کراتا ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے برلن نہیں دیکھا۔ اس سفرنامے کی مصنفہ ڈاکٹر عشرت ناہید مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کی لکھنؤ برانچ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ شخصی اعتبار سے محترمہ ایک مہذب، شائستہ، شیریں کلام، شگفتہ فطرت، ذہین اور مشرقی تہذیب سے مالامال شریف النفس خاتون ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اچھی افسانہ نگار بھی ہیں۔ ان کے سفر برلن کی پوری کہانی بڑی دلچسپ ہے جسے ان کے بے تکلف اور شگفتہ اسلوب نگارش نے مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ان کا یہ اسلوب سفرنامے کے بیانیہ سے زیادہ داستان، افسانہ، ڈرامہ اور رپورتاژ کے اسالیب سے مرکب ہے جس میں جا بجا اس کے خالق کی شوخ مزاجی اور کھلنڈرا پن بھی جھلک مارتا رہتا ہے۔ آغاز سے اختتام تک پورا سفرنامہ، سفر نگار کے طرزِ فکر و اندازِ تحریر کے جن شعوری اور غیر شعوری مراحل سے گذرتا ہے ان میں ’شعور کی رو کا پلہ‘ سب پر بھاری ہے۔ قدم قدم پر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی خصلت نے انہیں عظیم فکشن نگار قرۃ العین حیدر کا مقلد بنا دیا ہے۔ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ میں سفر، سفرنامہ اور سفرنامہ نگار کے ذہنی، قلبی اور علمی اشتراک کے زیر اثر جن خوبیوں کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے اور جن سے لطف اندوز ہونے کے جا بجا مواقع حاصل ہوتے ہیں ان میں تکلم کی بے ساختگی، بیان کی شگفتگی، لہجے کی شائستگی، ممتا کا جوش اور خلوص کی تمام صورتیں اور ساری علامتیں متاثر کن ہیں۔

سفرنامہ نگاری میں مشاہدات اور مشاہدات میں باریک بینی کی بڑی اہمیت ہے۔ زیر گفتگو سفرنامہ نگار کا مشاہدہ گہرا اور مطالعہ وسیع تر ہے۔ طرزِ تحریر میں قاری کو جذب کر لینے کی صلاحیت ہے اور وہ مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ ہندوستان سے باہر عشرت ناہید کا یہ پہلا سفری تجربہ تھا۔ اس پہلے سفر کا آغاز کس طرح ہوا یہ دلچسپ کہانی انہیں کی زبانی سنئے۔ لکھتی ہیں:

’’ہوا یوں کہ جون 2017 میں جرمنی کے دار الحکومت برلن کی اردو تنظیم ’اردو انجمن برلن‘ کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں درج تھا کہ ان کی تنظیم اس سال سر سید احمد خاں کی دو سری صد سالہ تقریب منعقد کر رہی ہے جس میں مجھ سے شرکت کی درخواست ہے۔ دعوت نامہ پڑھ کر میں دھیمے سے مسکرا دی۔‘‘

برلن کے دعوت نامے پر عشرت صاحبہ کا خوشی سے اچھل پڑنے کے بجائے دھیمے سے مسکرانا در اصل اپنے آپ پر طنز کے مترادف ہے ایسا طنز جو نا امیدی اور مایوسی کے بطن سے پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ وہ روایتی ماحول ہے جس میں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ وہ وجہ انہوں نے اگلے ہی جملے میں بیان کر دی ہے کہ میں نے تو یہاں ہندوستان میں بھی کبھی کسی صوبے کا سفر اکیلے نہیں کیا تھا۔ بھلا کیسے یورپ جا سکتی تھی وہ بھی اکیلی!

مشرق کے قدیم معاشرے میں لڑکیوں کی تربیت اسی ڈھب سے ہوا کرتی تھی چنانچہ ان کے ذہن نے اس دعوت نامے کو قابل عمل نہیں سمجھا اور ان کے شوخ و چنچل مزاج نے اس خاموش مگر طنز آمیز تبصرے کے ساتھ کہ دعوت نامے کو بہت بابرکت سمجھ کر اٹھا کر رکھ دیا کہ ’’نہ دادا مریں گے نہ بیل کٹے گی‘‘ لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا دادا بھی زندہ رہے اور بیل بھی کٹ گئی بلکہ منڈھے چڑھ گئی۔ عشرت ناہید آغازِ سفر کے سارے مراحل طے کرتے ہوئے جہاز میں جا بیٹھیں اور ان کا جہاز فرینکفرٹ کی جانب پرواز کرنے لگا لیکن جہاز کے اندرونی معاملات میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ صرف یہ اطلاع دینے کے بعد کہ دہلی سے فرینکفورٹ کا فاصلہ ۶۱۳۴ کلومیٹر تھا جسے جہاز نے سات گھنٹے بیالیس منٹ میں طے کیا۔ شعور کی رو نے اپنا کام شروع کر دیا۔ اب جہاز آگے جا رہا تھا اور عشرت کا ذہن پیچھے کی جانب سفر کر رہا تھا۔ انہیں کے الفاظ میں ’’کبھی ابا شدت سے یاد آتے کہ کاش وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے، امی کی دعائیں یاد آ رہی تھیں‘‘ آس پاس کے مناظر بھی انہیں اپنی جانب متوجہ نہ کر سکے بس ایک فلسفیانہ سوچ تھی جس نے انھیں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ خیالات کا یہ تسلسل جو دلی میں جہاز کے ٹیک آف سے شروع ہوا تھا فرینکفورٹ میں لینڈنگ کے ساتھ ختم ہوا۔ اپنے خاندان، گھر بار اور خصوصاً بچوں سے جو ابھی کم عمر ہی تھے، غیر معمولی وابستگی کی وجہ سے عشرت ناہید بار بار ان کیفیات سے گذری ہیں۔ بچوں سے پہلی طویل جدائی تھی اس لیے کئی مرتبہ جذباتی ہو گئیں اور کئی بار رقت طاری ہوئی۔ یوں تو مشرق کی تمام خواتین سفرنامہ نگاروں کا رویہ کم و بیش یکساں ہے۔ ان میں کئی باتیں اور کئی قدریں مشترک ہیں جو خواتین کے سفرناموں کو مردوں کے سرناموں سے واضح طور پر الگ کرتی ہیں۔ ان کے سفرناموں کا مطالعہ کرتے ہوئے فوری طور پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم کئی خاتون کو پڑھ رہے ہیں اور یہ معلوم ہونے میں بھی دیر نہیں لگتی کہ یہ خواتین نہ صرف مشرقی ہیں بلکہ مشرق کا مزاج بھی رکھتی ہیں۔ روشن خیال ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر عورت کی جنسی بے راہروی کو پسند نہیں کرتیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ تو مغرب سے مرعوب ہیں اور نہ اپنی تہذیب سے بے زار اور متنفر۔ انھیں مغرب کے اخلاق و معاملات اور حق گوئی و حق شناسی کا اعتراف بھی ہے اور ان کے سماجی سروکار و ترجیحات سے اختلاف بھی کرتی ہیں۔ ان کی اپنی زبان ہے، اپنا لہجہ ہے، اپنا محاورہ ہے، اپنے جذبات و احساسات ہیں، اپنی خواہشیں ہیں، اپنی مسرتیں ہیں۔ مسرتوں کے اظہار کا اپنا طریقہ ہے، ایثار پسندی ہے، رحم دلی ہے، اطاعت شعاری ہے، چاہت ہے، ممتا ہے اور وہ سب کچھ ان کا اپنا ہے جو ان کی مشرقیت اور نسائیت کی شناخت قائم کرتا ہے۔

عشرت ناہید کا سفرنامہ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ سترہ چھوٹے بڑے ابواب پر مشتمل ہے۔ عنوانات پر کشش اور پر تجسس ہیں اور یہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ اس میں اپنے آپ کو پڑھوانے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اس سفر بیتی کی طویل طویل نشستوں میں طولانی قصوں کے سیشن دیکھ کر کہیں کہیں سفر نامے پر حضر نامے کا گمان گزرتا ہے اور کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں برلن کم اور ہندوستان زیادہ ہے۔

دوسرا باب بعنوان ’’محبتوں کا سفر‘‘ عشرت ناہید کے میزبان انور ظہیر رہبر ان کی بیگم عشرت معین سیما اور دونوں بیٹیوں سارا اور مایا سے ملاقات کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ یہ دونوں مہمان نواز شریف ہستیاں عشرت ناہید کی میزبان اور دوست ہی نہیں اردو دوست بھی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ عشرت معین سیما شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ رہبر صاحب مصنف اور اور اردو تنظیم برلن کے فعال نائب صدر ہیں۔ والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی دونوں بیٹیاں آبائی تہذیب مین رچی بسی ہیں۔ گویا ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ شاید اسی خانہ خوش نہاد کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی باب سے منسلک تیسرے باب کی پہلی نشست میں عشرت ناہید اپنے میزبانوں کو گھر بیٹھے لکھنؤ اور اجین کی سیر کراتی ہیں۔ اب آپ اس سیر کو آن لائن کہیں یا آف لائن لیکن میرے نزدیک زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ محترمہ ایک فل ٹائم رہبر کی رہبری انھیں کے گھر میں بیٹھ کر فرما رہی تھیں۔

چوتھے باب میں اردو انجمن برلن کی جانب سے منعقد ہونے والی سر سید تقریب کا احوال ہے۔ یہی وہ تقریب ہے جس میں عشرت ناہید کو اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ اس باب میں انجمن کا تعارف اور اس کے پروگراموں کا مفصل بیان ہے جس سے اہل اردو فیضیاب ہو سکتے ہیں۔ اردو کی نئی بستیوں میں اس زبان کے بے لوث دوستوں اور خدمت گاروں کے کارناموں سے باخبر ہونا مسرت و شادمانی اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ عشرت ناہید نے پروگرام اور اس کے منتظمین کا نہایت خلوص سے تعارف کرایا ہے جو قرض بھی تھا اور فرض بھی۔ پروگرام کے بعد شیزاں ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے الماریوں میں رکھی ہوئی شراب کی بوتلوں کو عشرت ناہید نے بڑی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہے، لکھتی ہیں:

’’میری نظر سامنے کی الماریوں پر پڑی تو وہاں مختلف رنگوں اور خوبصورت بوتلوں میں سجی دھجی انگور کی ایک بیٹی نہیں کئی بیٹیوں کو موجود پایا بلوریں گلاس سے سجی ٹیبل بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ شیشے کی الماریاں وہ خوبصورت قد و قامت کی بوتلیں اور گلاس کسی کے لبوں کو چھو لینے کی معصوم تمنا لیے مایوس نظر آ رہے تھے۔‘‘

ہمارا خیال ہے کہ بوتلوں اور گلاسوں سے کہیں زیادہ وہ خود مایوس نظر آ رہی تھیں۔

پانچویں باب کا عنوان ’’افسانے کا افسانہ‘‘ ہے اس کا آغاز بچوں سے گفتگو کے ساتھ ہوتا ہے۔ عشرت نے اپنے بچوں کو ممتا کی آغوش میں لے کر سفر کیا ہے جیسے کوئی ماں چھوٹے بچوں کو کندھے سے لگا کر یا گود میں لے کر گھر کا کام کاج کرتی ہے اور یہ ماں ہی کر سکتی ہے۔ ابواب کے تمام عناوین برجستہ، برمحل اور سفرنامہ نگار کی تخلیقی ذہانت کا ثبوت ہیں۔ اس باب میں بھی ایک گھر ہے، گھر کے افراد ہیں اور کچھ مہمان ’’قصہ چہار درویش‘‘ کی طرح اپنی اپنی آپ بیتی سناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ ان کی آپ بیتیاں ادب تک محدود ہیں۔ اندازِ گفتگو بے تکلفانہ اور حسبِ معمول شگفتہ ہے جو قاری کو باندھے رکھتا ہے۔ ان نشستوں کا فائدہ یہ ہے کہ آپ عاشقانِ اردو سے واقف ہو جاتے ہیں اور یہ فائدہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔ اسی دوران محفل افسانہ کا ذکر آیا اور یہ باب مختصر افسانے کی طرح پانچ صفحات میں سمٹ گیا۔

چھٹا باب ’’وقت کا بہتا دریا‘‘ بظاہر پانچویں باب سے بھی مختصر ہے مگر معنی خیز ہے۔ اس میں برلن زیادہ ہے۔ اس میں جرمنی کے مشہور و معروف قیصر ولہیم کی سیر کرائی گئی ہے جسے اب امن کا میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ یہ چرچ دوسری جنگ میں بم باری کے باوجود صحیح و سالم کھڑا رہا۔ کہیں کہیں سے یہ عمارت تھوڑی بہت منہدم ہوئی جو کہ ایک اہم بات ہے۔ اس میوزیم میں کئی چیزیں غیر معمولی ہیں۔ پاس میں ہی یوروپا سینٹر میں ایک پانی کی مدد سے چلنے والی لائق دید گھڑی بھی ہے جو شیشے کے فلاسک میں پانی دوڑا کر چلائی گئی ہے۔ یہاں سے نزدیک ہی برلن کا سینٹر، کوڈام ہے جہاں پہنچ کر عشرت ناہید کو ’’پیسہ‘‘ اخبار کے مالک اور ایڈیٹر منشی محبوب عالم، مبشر علی زیدی اور ابن انشاء یاد آ جاتے ہیں۔ جو ان علاقوں کی سیر کر چکے تھے اور جن کے سفرناموں نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔

اس باب کا اختتام ایک ماں کے جذبات اور ممتا کے جذباتی اظہار کے ساتھ ہوا ہے۔ لکھتی ہیں:

’’رات نو بجے تک ہم گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر پہنچتے ہی بچوں کے میسیجز دیکھے ان کے اسکول ٹیسٹ چل رہے تھے، ان کے ڈیڈی نے وھاٹس ایپ پر ساری تفصیل لکھ چھوڑی تھی۔ جواب لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ رہی تھیں آج چوتھا دن تھا بچوں سے دور ہوئے مجھے ایان مشا بے طرح یاد آ رہے تھے۔ آج میرے صبر کا پیمانہ لبریز تھا، بہت سارے آنسو ضبط کا دامن چھوڑ آب رواں میں بدل گئے تھے۔‘‘

’’عشق نہ دیکھے ذات پات‘‘ سفرنامے کا ساتواں اور شاعرانہ عنوان ہے۔ اس شاعرانہ عنوان کا تعلق اظہار محبت کے ایک جذباتی منظر سے ہے جس میں بس اسٹینڈ پر ایک لڑکا اپنی گرل فرینڈ کو شدت جذبات کی مغلوبیت کے ساتھ گلے لگا کر رخصت کر رہا تھا۔ یورپ میں یہ مناظر عام ہیں مگر سفرنامہ نگار کو جس چیز نے متاثر کیا وہ انھیں سے سنئے:

’’لڑکا ایک دم گورا یوروپی اور لڑکی ایک دم کالی بھجنگ۔ افریقن کہوں کہ نائیجیرین، لیکن وہی بات ہے نا کہ محبت رنگ و نسل، ذات پات کہاں دیکھتی ہے۔ صحیح کہا ہے کسی نے

بھوک نہ دیکھے جھوٹا بھات

پیاس نہ دیکھے دھوبی گھاٹ

نیند نہ دیکھے ٹوٹی کھاٹ

عشق نہ دیکھے ذات پات

اسی فلسفیانہ اور شاعرانہ گفتگو کے ساتھ عشرت ناہید یہ خوش خبری سناتی ہیں کہ ’’اب ہمارا برلن کے سیاحت کا سفر شروع ہو رہا ہے‘‘ اور واقعی انہوں نے جو کہا تھا وہی ہوا یعنی ان کا برلن کی سیاحت کا سفر شروع ہو گیا۔ اس سیاحت کا آغاز انہوں نے فری یونیورسٹی سے کیا اور اس یونیورسٹی کے کلاس روم کی وسعت، طلبا کی تعداد اور کتابوں کے ذخائر سبھی کا تعارف کرایا۔ یہ دیکھ کر اور سن کر حیرت ہوئی کہ ایک کلاس روم شادی ہال سے بھی بڑا تھا اور فزکس کے ایک لکچر میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ شامل ہوتے ہیں۔ ہم سبھی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، بڑے بڑے درجات دیکھے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کی المینٹری اردو کلاس میں طلبہ اور طالبات کی تعداد سو سے زیادہ ہو جاتی ہے تو بہت زیادہ کہی جاتی ہے مگر اس تعداد کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ لیکن غور کیا جائے تو بنیادی فرق تدریس کے جدید و قدیم وسائل کا ہے۔ یونیورسٹی سے واپسی پر عشرت ناہید ایک دلچسپ اور خوش گوار صورت حال کے مقابل ہوتی ہیں جو انہیں حیرت و مسرت سے ہم کنار کر دیتی ہے لکھتی ہیں:

’’اب ہم یونیورسٹی سے واپسی کے راستے میں تھے راستے میں کئی جگہ سڑک کے کنارے ٹیلی فون بوتھ نظر آئے، ایسے ٹیلی فون بوتھ جہاں فون کی گھنٹی نہیں بجتی جب ان کے قریب گئے اور ٹیلی فون بوتھ کے دروازے پر جرمنی زبان میں جلی حرفوں میں کچھ لکھا ہوا تھا جس کا ترجمہ تھا ’’ایک کتاب دو اور ایک کتاب لو‘‘ دروازہ کھولنے پر اندر فون کے بجائے کتابوں کی چھوٹی سی الماری تھی جہاں قرینے سے تقریباً دو سو پچاس کتابیں رکھی ہوئی تھیں میرے استفسار پر رہبر صاحب نے رہبری فرمائی کہ یہ سمجھیے کہ یہ جرمنی کی سب سے چھوٹی لائبریری ہے جو کہ بچوں میں خاص طور پر مقبول ہے وہ بہت شوق سے اپنے گھر سے ایک کتاب لے کر آتے ہیں اسے یہاں رکھ کر دوسری لے جاتے ہیں۔ اس بات نے مجھے حیران کر دیا، اور جرمنوں کی علم دوستی نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا‘‘

آٹھویں باب کا عنوان ہے ’’کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے‘‘ محض چونتیس سطری ہے اس باب میں عشرت ناہید احسان شناسی کے جذبے سے سرشار ہیں اور اس کے عملی اظہار کا اخلاقی فریضہ ادا کرنا چاہتی ہیں چنانچہ یہ پورا باب اپنے میزبان (خصوصی) اردو انجمن برلن کے روحِ رواں اور اس کے بنیاد گزار جناب عارف نقوی کی نذر کر دیتی ہیں جو انھیں کے گھر کی ضیافت کے لیے وقف ہے۔ عشرت اگر چاہتیں تو کسی اور باب میں بھی اس دعوت کو ایڈجیسٹ کر سکتی تھیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا مجھے ان کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ ان کی نیک نفسی نے اپنے میزبان و محسن کو ان کے حسن سلوک کے شایان شان اہمیت دی۔ عارف نقوی صاحب کی اردو خدمات کو دیکھتے ہوئے وہ ہر اعزاز و اکرام کے مستحق ہیں۔ بحیثیت انسان بھی انتہائی خلیق، ملنسار اور علمی اعتبار سے لائق و فائق ہیں۔ ہندوستان میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اس دعوت میں جرمن بیویوں کی یہ خوبی بطور خاص بیان کی گئی تھی کہ جرمن بیویاں با وفا ہوتی ہیں۔ واضح ہو کہ عارف صاحب کی اہلیہ جرمن ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ اطلاع بہم بھی پہنچائی گئی تھی کہ عارف صاحب نے ہندوستانی کھانے خود بنائے تھے۔ واضح ہو کہ عارف صاحب کی اہلیہ جرمن ہیں۔ اس باب میں اور کئی باتیں ہوئیں جو ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔ مثلاً برلن میں نہروں کا خوبصورت جال ہے۔ جرمن جھوٹ نہیں بولتے۔ (ہٹلر کے معتمد خاص گوبلز کو بھول جائیے) اور محترم عارف نقوی صاحب ایک ماہر کک ہیں۔ وغیرہ۔

نواں باب ’’آوازوں سے محروم شہر‘‘ کے عنوان میں لفظ محروم کی شمولیت سے یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ آوازیں چوں کہ زندگی کی علامت ہیں اور یہاں یہ مفقود و معدوم ہیں اس لیے لفظ محروم طنزاً استعمال کیا گیا ہے مگر نہیں۔ سفرنامے کے متن میں یہ لفظ سکون کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ در اصل اس میں صاحب خانہ یعنی عشرت سیما اور ان کے گھر کے دوسرے افراد اپنے کاموں سے باہر جا چکے تھے عشرت ناہید ان کے گھر میں تنہا تھیں انھیں یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ کہیں جائیں تو گھر کی چابی اپنے پاس رکھیں بصورتِ دیگر اندر آنا مشکل ہو گا۔ عشرت نے اس ہدایت پہ عمل کیا۔ لکھتی ہیں:

’’میں چابی لے کر باہر آ گئی دروازہ کھولتے ہی خوش گوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے استقبال کیا میں بھی اس پر مسرت فضا کو لبیک کہتے ہوئے چہل قدمی کو نکل پڑی، باہر بڑا سکون تھا۔‘‘

اس اقتباس کے بعد سفرنامہ نگار کو آوازوں سے محروم شہر میں خموشی سے محروم اپنے شہروں کی یاد آ جاتی ہے اور وہ اپنے شہروں کی چیخ پکار کو یاد کرنے لگتی ہیں انھیں کے الفاظ میں:

’’اپنے ملک اپنے شہر سے ایک لا شعوری موازنہ میرے ذہن میں چل رہا تھا جہاں صبح سے ہی "کباڑیی ی ی۔۔۔”، تو کبھی "آلو، میتھی تازی تازی سبزی لے لو” کی آواز سنائی دیتی‘‘

اس کے بعد یادوں کے جھروکے کھلتے ہیں تو کافی دیر تک کھلے ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بیاسی سال کی ایک ضعیفہ کو نوجوان لڑکیوں کی طرح سائیکل چلاتے دیکھتی ہیں تو ان کا شاعرانہ تخیل جاگ اٹھتا ہے، انھیں اقبال یاد آتے ہیں جنھوں نے کہا تھا:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

وہ اس میں اتنا اضافہ کر کے کہ ’’چاہے وہ کسی عمر کی ہو‘‘ اس ضعیفہ کا اپنے ملک کے ضعیفوں سے تقابل کرنے بیٹھ جاتی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ جرمن بزرگ کی صحت کا راز در اصل تازہ ہوا، کھلی فضا، کھانے کی کوالٹی اور سائیکل کی سواری ہے، جو یہاں جملہ عوام کو میسر ہے۔

دسویں باب کا عنوان ’’شہر طلسماں ہے یہ‘‘ ایک قدرے طویل باب ہے۔ اس میں بہت سے لائق دید مقامات کی سیر کرائی گئی ہے جیسے ٹی وی ٹاور، خودکار دروازوں کی ٹرین، (جو اب عجوبہ نہیں رہی ) ٹرین میں چڑھنے اترنے اور نشست و برخاست کے آداب اور نظم و ضبط کا سلیقہ اور نظام توجہ طلب ہے۔ اس کے ساتھ اپنے ملک سے موازنے اور مقابلے کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہتا ہے جسے تضادات سے ابھار کر طنز بلیغ بنا دیا گیا ہے۔ مثلاً برلن کی ٹرین میں اپنی ٹرین کے سفر کا طنز آمیز تصوراتی بیان ملاحظہ ہو:

’’ارے بھئی یہ سفر بھی کوئی سفر ہے بھلا؟ کوئی کسی کو زور سے آواز نہیں دیتا کہ’جلدی آ جاؤ جگہ مل گئی، جگہ مل گئی‘ کہ سارے مسافر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں، نہ ہی کوئی سامان رکھ کر کسی کے لیے سیٹ روکتا ہے، ہمارے یہاں کی طرح چیخ چیخ کر چائے چائے کی آوازیں لگاتے دوڑتے چائے والے بھی نہیں تھے، نہ ہی بھیک مانگنے والے نہ ہی اخبار بیچنے والے۔ بس سب کچھ ایک مشین کی طرح اصولوں پر چل رہے ہیں۔ وقت کی ایک گردش ہے اور آدمی اس پر کاربند، اصولوں پر چلنے سے زندگی بہت آسان ہو جاتی ہے، سارا نظام درست چلتا ہے اور ترقی کی راہوں کی رفتار بھی تیز ہوتے ہوتے تیز تر ہو جاتی ہے لیکن اس کا ایک منفی اثر یہ بھی تو ہوتا ہے انسان بس وقت کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کو دیکھتے دیکھتے ہی بسر ہو جاتی ہے، یہاں کے لوگوں کا طرز حیات وقت کی پابندی کی وجہ سے ہی مشینی سا ہے‘‘

جرمنی میں بریڈ کی دکانیں بہت ہیں اس تعلق سے کچھ دلچسپ باتیں بھی ہیں جنھیں آپ براہ راست سفرنامہ نگار کی زبانی سنیں تو بہتر ہو گا لکھتی ہیں:

’’جرمن لوگ بریڈ کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اس لیے یہاں تقریباً تین سو سے زائد اقسام کے بریڈ دیکھنے کو اور کھانے کو ملتے ہیں۔ کچھ بہت نرم سے تو کچھ سخت سے ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں صبح کا ناشتہ، ظہرانہ، عصرانہ اور عشائیہ سب کے لیے الگ الگ طرح کی بریڈ ملتی ہے‘‘

عشرت ناہید نے لوکل ٹرین کے اندر ایک لڑکے کو نہ صرف سائیکل کے ساتھ سفر کرتے دیکھا بلکہ یہ منظر دیکھ کر حیرت زدہ بھی ہوئیں کہ وہ نوجوان گرد و پیش کے ماحول سے بے نیاز نہایت اطمینان سے اپنی سائیکل کی مرمت کرہا تھا اور مسافروں کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ ایک وائلن نواز کمسن فنکارہ کو دیکھا جو وائلن پر بڑی خوبصورت دھن بجا رہی تھی۔ آس پاس کھڑے لوگ اس کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور سائڈ میں رکھے اس کے بوکس میں یورو (کرنسی) ڈال رہے تھے۔ عشرت سیما نے بتایا یہ کوئی پیشہ ور مانگنے والی نہیں ہے بلکہ طالب علم ہے۔ جب طلبہ کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ ہر کس و ناکس کے آگے دست طلب دراز نہیں کرتے، اپنے فن کو بیچ کر پیسہ کماتے ہیں۔ ایک عالی شان گھڑی دیکھی جو دس میٹر اونچائی پر نصب ہے اس میں 146 ملکوں کے نام اور تاریخوں کا اندراج تھا۔ یہ گھڑی سیاحوں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھی۔ عشرت ناہید نے اس گھڑی میں دہلی کو تلاش کیا اور وقت دیکھا تو ہندوستانی وقت کے مطابق وہ گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی جب کہ برلن میں اس وقت دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے۔ اس طرح سیر و تفریح سے لطف لیتے ہوئے عشرت ناہید اور ان کے میزبان ٹی وی ٹاور پہنچے۔ جس کی اونچائی 368 میٹر ہے اور اس کا ریوالونگ ریسٹورینٹ 207 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ دو سو افراد بیک وقت اس میں سما سکتے ہیں۔ لفٹ کے ذریعے ریسٹورنٹ کی بلندی پر پہنچ کر عشرت ناہید نے شیشے کی دیوار سے باہر کی دنیا پر نظر ڈالی تو انھیں اقبال کی نظم ’’روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے‘‘ یاد آنے لگے:

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اسی کے ساتھ خوش گفتاری کا سلسلہ بھی جاری رہا اور عشرت ناہید اپنی دوست عشرت معین سیما اور ان کے شوہر انور ظہیر رہبر کے ہمراہ ہنستے کھیلتے لافامیہ ریسٹورینٹ پہنچ گئے، کھانا کھایا اور قدم قدم پر ہر شے کا اپنے ملک سے کبھی خاموش اور کبھی با آواز بلند موازنہ کرتے ہوئے گھر واپس آ گئے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اور پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ پردیس میں ہر چیز کا اپنے دیس سے موازنہ ایک فطری عمل ہے عشرت ناہید اس عمل کو دہراتے ہوئے بیک وقت دو ملکوں کے درمیان سفر کرتی ہیں۔ ایک کو چشمِ حیرت سے دیکھتی ہیں اور ایک چشم حسرت سے۔

گیارہویں باب ’’سلام اے خاتون اول‘‘ میں عشرت ناہید نے جرمنی کی چانسلر انجیلا میریکل کو ان کی جادوئی شخصیت کے شخصی اوصاف، بلندی فکر اور انتظامی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر ان کی خدمت میں سلام کا نذرانہ پیش کیا ہے جو ایک بہترین آغاز اور بہت اچھا خراج عقیدت ہے۔ اس باب میں سب سے پہلے برلن کی پارلیا مینٹ ’’روٹے راتھ ہاؤس‘‘ سے گزر ہوتا ہے یہ عمارت اور اس کے دفاتر اس قدر صاف ستھرے ہیں کہ آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ رہبر صاحب پوری پارلیامینٹ سے متعلق سرکاری کاموں کے تمام سالانہ مصارف کی مجموعی رقم بتا کر حیران کر دیتے ہیں۔ یہ رقم اس قدر قلیل تھی کہ یقین کرنا مشکل ہے۔ چنانچہ یہاں بھی موازنے کی صورت نکل آئی بلکہ یہاں تو موازنہ لازمی ہو گیا تھا تاہم اس کے بعد صرف شرمندگی ہاتھ لگی۔ جرمن خاتون اول یعنی جرمن چانسلر کی سادگی بے مثال تھی وہ ’’نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز‘‘ کا جیتا جاگتا نمونہ تھیں۔ ان کے حالات سن کر موصوفہ یقیناً واجب الاحترام ہو جاتی ہیں مثلاً یہی بات کہ وہ چانسلر ہاؤس میں رہائش پذیر نہیں بلکہ اپنے اسی عام فلیٹ میں رہتی ہیں جس میں چانسلر بننے سے پہلے رہا کرتی تھیں۔ ان کے گھر کے باہر صرف ایک سنتری ہے۔ انھوں نے اپنے ملک کے لیے بہت سے ترقیاتی کام کیے ہیں اس لیے عوام میں بہت مقبول ہیں۔ خاتون اول کی خوبیاں سن کر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ شعور کی رو عشرت ناہید کو تنہا چھوڑ دیتی۔ وہ آئی اور رضیہ سلطان اور اس کے عروج و زوال کی پوری داستان ساتھ لے کر آئی۔ اسی داستان میں خود کلامی، احتساب اور مختلف متصادم اور متحارب خیالات نے عشرت ناہید کو دنیا و مافیہا سے اس درجہ بے خبر کر دیا کہ عشرت معین سیما کو ان کا شانہ دبا کر بیدار کرنا پڑا۔ عشرت ناہید مناظر و واقعات کے ساتھ ماضی کی یادوں میں عموماً اسی طرح کھو جاتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر ہم سفر دوستوں میں اچانک شاعری کا شوق پیدا ہوا اور وہ ایک دوسرے کو مختلف شعراء کے یک موضوعی اشعار سنانے لگے۔ عشرت ناہید نے ایک جرمن خاتون کا سراپا بیان کرتے ہوئے اپنی خاکہ نگاری کمال بھی دکھایا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

سرخ و سفید رنگت، چھوٹا قد، فربہی مائل جسم چہرے پر متانت، سفید شرٹ، کالی لمبی اسکرٹ اس پر کالا ہی کوٹ سر پر سفید ٹوپی، ہاتھ میں آبنوسی چھڑی ویسی ہی جیسی ہمارے یہاں بزرگ استعمال کرتے ہیں، اس شخصیت میں ایک کشش تھی اور وجہ کشش تھی ان کی مسکراہٹ۔‘‘

اس خاتون کو دیکھ عشرت ناہید ایک بار پھر دریائے حیرت میں غوطے کھانے لگیں کیوں کہ خاکے والی یہ جرمن خاتون بھکارن نکلیں لیکن ہمیں یاد آیا کہ ہم نے بھی یورپ امریکہ اور کنیڈا کے اسفار میں ہر جگہ اسی سج دھج کے فقیر دیکھے ہیں۔ آگے ایک بڑا چرچ دیکھا۔ عریانیت کے مناظر دیکھ کر انھوں نے ان مناظر کو عورت کی حرمت کو پامال کرنے والے مغربی ہتھکنڈے قرار دیا۔ ’’برانڈن بورگ‘‘ نامی عظیم الشان گیٹ دیکھا تو عشرت ناہید کو لکھنؤ کا رومی دروازہ یاد آ گیا۔ یہ معلوم ہونے کے بعد جرمن انجینئر نے ایک میوزیم کی عمارت کو ثابت و سالم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیا تھا اور ایک چرچ کو اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا تو عشرت ناہید کو ایک بار پھر دریائے حیرت سے گزرنا پڑا، اطلاعات واقعی حیرت انگیز تھیں۔ بہر حال دوستوں کی یہ ایک چھوٹی سی منڈلی حیرتوں کی سیر کرتی قلم کاروں کی محفل میں جا پہنچی۔

بارہواں باب ’’شکست و ریخت کا گواہ شہر‘‘ پھر حیرتوں کو جگاتا ہے۔ یوں تو ہر سفرنامہ نگار نئی دنیا کی تلاش و جستجو کے دوران دریائے حیرت میں غوطہ زنی کرتا ہے اور تجربات و مشاہدات کے ہیرے جواہرات جمع کرتا ہوا مسرت انگیزیوں سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس باب میں بھی یہ سب ہوا اور کثرت سے ہوا۔ پوٹس ڈام شہر کی، جو برلن سے محض سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، سیر کرائی گئی۔ برطانوی جاسوس ہمفرے کا تذکرہ کیا گیا جس نے سرد جنگ کے دوران مسلمانوں کے درمیان رہ کر ان میں تفرقہ ڈالنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ تہذیبی تاریخ کا بیان خاصہ معلومات افروز ہے۔ نیز لہجے کے ساتھ افسانوی رنگ اور فلسفیانہ انداز کچھ اور گہرا ہو گیا ہے۔ مثلاً یہ اقتباس:

’’یہ موسم خزاں کا تھا جو کہ علامت ہے تمام منفی خیالات کی، ہجر کی تاریکی کی لیکن کیا خزاں بھی اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے یہ تو کبھی بھی تصور میں نہیں تھا۔ حد نگاہ تک پتے ہی پتے راہوں میں بکھرے تھے۔ پیڑ پتوں سے سے بظاہر پوری طرح بے نیازی برت رہے تھے لیکن ان کے ٹوٹ کر بکھر جانے پر افسردہ تو تھے لیکن ان کی افسردگی بھی انہیں خوشنما بنا رہی تھی کیونکہ گرنے سے پہلے ہی وہ پیڑوں پر تین رنگ لیے تھے ہرا، زرد اور لال رنگ۔ ہرا رنگ جہاں ایک نئی امید اور خوشی کا مظہر تھا تو زرد رنگ مایوسی کا اور لال رنگ تو ہے ہی نئے جوش و جذبے کا نام۔ یہ قدرت بھی نا کیسے کیسے فلسفے چھپائے رکھتی ہے اپنے ہر عمل میں، موسم ہے بدل جاتا یونہی، کیسے بدل جاتا بھلا قدرت کو تو اس سے اس پیکر گلِ کو ایک نیا سبق دینا بھی تو مقصود ہے، تب ہی تو ہر جگہ معرکہ بیم و رجا پیش کر دیا ہے۔‘‘

عشرت نے ایک مزار پر آلو دیکھے تو حیرت ہوئی کہ مزاروں پر تو پھول چڑھائے جاتے ہیں نہ کہ آلو۔ معلوم ہوا کہ بادشاہ فریڈریش دوئم کا مزار ہے۔ اس نے پہلی بار جرمن عوام کو آلو سے متعارف کرایا تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں تین سو قسم کے آلو پائے جاتے ہیں۔ سینکڑوں قسم کے انگوروں کی بھی زیارت ہوئی۔ وہیں مرحوم بادشاہ کے گیارہ کتوں کی قبریں تھیں جنھیں وہ بہت عزیز رکھتا تھا۔ ایک جرمن خاتون کی بغیر اجازت تصویر کھینچ لی گئی تو اس نے اس بد اخلاقی پر خفا ہو کر اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا۔ یہ ایک اچھا سبق تھا جو اس کے ذریعے دیا گیا۔ قدیم بادشاہ کے محل سے متصل ایک پن چکی دیکھی جو پن چکی کے مالک نے بادشاہ وقت کے خلاف مقدمہ جیت کر حاصل کی تھی۔ اور اس دور کی عدالت نے اپنے اس جرات مندانہ عمل سے انصاف کو سربلند کیا تھا۔ اس قسم کے واقعات دہرانے سے انسانی عظمت کے ایقان میں پختگی آتی ہے۔ سفرنامہ نگار اگر قابل ذکر اور غیر قابل ذکر واقعات و مقامات کی اہمیت سے واقف ہو تو انھیں واقعات کا انتخاب کرتا ہے جن کی اخلاقی، معلوماتی، تفریحی، مادی یا عبرت آموز افادیت مسلم ہو۔ عشرت ناہید میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔

سفرنامے کا تیرہواں باب ’’یاد ماضی عذاب ہے یا رب‘‘ کا آغاز میر کے مشہور قطعے سے ہوا ہے۔

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا

عشرت ناہید نے اپنے سفرنامے کو جا بجا بر محل اشعار سے سجایا اور معنی خیز بنایا ہے۔ اشعار کے انتخاب سے صاحب انتخاب کے ادبی ذوق کے معیار کی تصدیق ہوتی ہے۔ انھوں نے کم و بیش سارے اشعار میں معیار کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ اس باب میں جرمنی کی نازی حکومت کے ظالم و جابر جنرل ہٹلر کا احوال ہے۔ اسی مناسبت سے ان کی ذہانت نے یہاں یہ قطعہ نقل کیا ہے مگر انھوں نے ہٹلر کی زندگی کے اسی تاریک پہلو کو اپنی گفتگو کا حصہ نہیں بنایا بلکہ اس سنگ دل انسان کی انسانیت سوز حیات کے دوسرے متضاد پہلو یعنی اس کی داستانِ عشق پر بھی خاصی تیز روشنی ڈالی ہے اور چوں کہ وہ افسانہ نگار ہیں اسی لیے اس میدان میں ان کے اشہب قلم کی جولانی اور طبیعت کی روانی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس باب میں عشرت ناہید سب سے پہلے ہٹلر کی مختصر سوانح حیات بیان کرتی ہیں اور اس کے بعد ہٹلر کی محبوبہ ایوا کا تعارف شروع ہوتا ہے اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر سفرنامہ غروب اور افسانہ طلوع ہو جاتا ہے۔ مثالیں ملاحظہ کیجیے:

۱۔ ’’ایوا اپنے آفس پہنچ چکی تھی۔ اس نے آہستگی سے میز کی دراز سے ایک لفافہ نکالا جس میں سے ایک تصویر تھی۔ وہ اس تصویر کو ایک ٹک نہارتی رہی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ تصویر کا شہزادہ آج بھی اس کے خواب میں آیا تھا اور اسے اپنے ساتھ وہاں لے گیا تھا جہاں کے لیے سفید گاؤن پہننے کی خواہش ہر جوان لڑکی کا سپنا ہوتی ہے۔ اس کا شہزادہ اس کے ہاتھوں کو تھام کر انگوٹھی پہنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر حیا کی سرخی تھی۔ سترہ سالہ ایوا کے جذبات مچل رہے تھے۔ اس کے خواب اسے مخمور کر رہے تھے۔ ابھی نجانے وہ کتنی دیر تک اپنے خیالوں کی دنیا میں گم رہتی کہ کسی نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اس نے آواز پر سر اٹھایا تو پلکیں جھپکنا ہی بھول گئیں، وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ نیلی نیلی چھوٹی مگر ذہانت سے بھری آنکھیں، بالائی لب کے اوپر چھوٹی کالی مونچھیں، گہرے بھورے بال۔ درمیانہ قد وہ اسی سے مخاطب تھا۔ یہ تو وہی ہے ایڈولف! اس نے دھیرے سے خود کلامی کی۔ اس کے چہرے پر مسرت تھی، وہ اپنے اندرونی جذبات چھپانا چاہتی تھی لیکن اس کے گالوں پر چھائی سرخی نے سب کچھ عیاں کر دیا تھا۔‘‘

۲۔ ’’ایوا بہت خوبصورت تھی۔ بیضوی چہرہ، روشن پیشانی، خم دار ابرو، محبت کے جذبے سے بوجھل پلکیں، سرخ و سفید رنگت، عارض پر ہلکی ہلکی لالی، صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم۔ حسن تو اس پر تمام تھا‘‘

۳۔ ’’سنہری بالوں میں نیلے رنگ کا چھوٹا سا کلپ، ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک، عارض پر ہلکی سی سرخی، ہلکے آسمانی رنگ کا گاؤن پہنے وہ قیامت خیز لگ رہی تھی۔ آنکھوں میں انتظار کے دئیے روشن تھے۔ وہ سراپا انتظار بن چکی تھی۔‘‘

اس سفرنامے میں کئی واقعات ہیں جن کا بیانیہ سفرنامے سے نکل کر من مانی کرتا ہے اور پھر سفرنامے میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایوا کی محبت کا انجام المیہ ہے۔ وصل محبوب کے بعد ایوا کی موت اور ہٹلر کی خودکشی کا بیان مفصل اور متاثر کن ہے۔ سفرنامہ نگار نے ہٹلر کی ایک زبردست مداح اور قوم پرستی کی علمبردار ساوتری دیوی سے بھی جو ایک برطانوی ماں اور اطالوی باپ کی اولاد ہے، ملاقات کروا دی ہے۔ مجموعی طور سے یہ باب پر از معلومات ہے۔

چودہواں باب ہمبولڈ یونیورسٹی کی سیر کراتا ہے اسی لیے سفرنامہ نگار نے اسے بجا طور پر ’’منبع علم و نور‘‘ کا نام دیا ہے۔ یوں ہر یونیورسٹی بلکہ ہر تعلیم گاہ منبع علم و نور ہوتی ہے لیکن اس کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں نظریۂ اضافیت کے نظریہ ساز البرٹ آئن اسٹائن نے بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دی ہیں اس کے علاوہ یہاں مجسموں کی بھیا یک دنیا آباد ہے۔ یوں تو پورا جرمنی بلکہ پورا یورپ مجسموں سے آباد ہے مگر بادشاہوں کے ذوق و شوق کی بدولت یہاں بھی مجسمہ سازی کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ عشرت ناہید چوں کہ خود ایک مرکزی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اس لیے تعلیمی نظام سے اچھی واقفیت رکھتی ہیں چنانچہ انھیں اس یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو سمجھنے سمجھانے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ انور ظہیر اور ان کی بیگم سے مکالمہ کرتے ہوئے پوری یونیورسٹی کی سیر کی۔

پندرہواں باب ’’محبت فاتح عالم‘‘ اگر چہ مختصر ہے مگر اس اعتبار سے بہت خوبصورت اور نہایت خوش کن ہے کہ اس میں دیوار برلن کی شکست و ریخت سے لے کر تعمیر و تشکیل تک پوری کہانی کا اولاً جاں سوز و دل شکن بعدہٗ پر جوش و مسرت بخش بیان ہے۔

سولھویں باب ’’سجدوں کی گواہ زمیں‘‘ مین برلن کے اس علاقے کی سیر ہے جسے کرائس برگ اور عرف عام میں ’’منی استنبول‘‘ کہتے ہیں اور جہاں ترک باشندے رہائش پذیر ہیں۔ یہ یہاں کیوں رہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی تعمیر نو کے موقع پر ترک مزدوروں کو بطور مہمان مزدور ( گیسٹ ورکر) ایک معینہ مدت کے لیے یہاں لایا گیا تھا لیکن کام ختم ہونے کے بعد بھی ان میں سے بیشتر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اب یہاں ان کی تیسری چوتھی نسل آباد ہے۔ یہ لوگ نوکری کے بجائے تجارت کرنا پسند کرتے ہیں، انھوں نے یہاں ایک خوبصورت مسجد بھی بنائی ہے جس میں پندرہ سو افراد ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہیں ان کا ایک قبرستان بھی ہے۔ مصنفہ نے اگر چہ یہاں کے ڈونر کباب کی بہت تعریف کی ہے مگر اسی وقت وطن کی محبت کے جوش میں انھیں ٹنڈے کے لکھنؤی کباب یاد آ جاتے ہیں۔ تاہم وہ یہ نہیں بتاتیں کہ اصل ٹنڈا مر چکا ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے کبابوں کا ذائقہ تا حال سوگ میں ہے۔

سترھواں باب ’’زاد راہ‘‘ جو کہ آخری باب بھی ہے، ایک صفحے سے کم ہے۔ عنوان زاد راہ بڑا معنی خیز اور تخلیقی ہے۔ زاد راہ کے لغوی معنی ہیں راستے کا خرچہ یا توشہ۔ عشرت ناہید نے سفر برلن کی خوش گوار یادوں کو مہکتی، گنگناتی رم جھم برساتوں جیسی یادوں سے تعمیر کیا ہے گویا ایسی یادیں جنھوں نے مشامِ جاں کو معطر کر دیا ہو، سارے وجود میں موسیقی اور اور نغمگی پیدا کر دی ہو اور رم جھم برسات کی خنکی سے روح میں محبت کی آگ بھر دی ہو۔ اپنے ان جذبات و احساسات کو سفر نامہ نگار عشرت ناہید نے شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے لکھتی ہیں:

اب کی بار زاد راہ تھیں، یادیں، مہکتی یادیں، گنگناتی یادیں، رم جھم برساتوں سی یادیں،

ہنستی مسکراتی یادیں،

مضبوط رشتوں کی یادیں،

ادب سے وابستہ یادیں،

ادبی محافل کی یادیں،

شفقتوں کی یادیں،

تتلی کے خوشنما پروں سی یادیں،

پھر آسمان سے زمین پر آتے ہی حقیقت کا غیر جذباتی پہلو ان کی نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے اور وہ ان خیالات کے ساتھ اپنے سفر کو منزلِ اول سے ہم کنار کر دیتی ہیں اور اس طرح اپنے گھر میں داخل ہوتی ہیں جیسے کوئی پرندہ لمبی اڑان کے بعد اپنے آشیانے میں داخل ہوتا ہے۔

کہ مسافر کو تو لوٹ آنا ہی ہوتا ہے

اپنے مکان و آشیانے پر

آشیانہ خوبصورت آشیانہ جہاں منتظر میرے دل کے مکین

میرا لخت جگر، میری نور نظر اور میرے دل کا سکون۔

یہیں سے اس سفر کا مسرت بخش آغاز ہوا تھا اور یہیں سفرنامے کا بصیرت افروز اختتام عمل میں آیا۔

سفر شرط ہے مسافر نواز بہتیرے۔ ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے۔

پروفیسر خالد محمود

جامعہ ملیہ یونیورسٹی، دہلی

٭٭٭

اظہار تشکر

جرمنی کے مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار شیلر نے کہا ہے

’’جب تم سے محبت کرنے والے تمہیں آواز دیتے ہیں تو یہ آواز وہ واحد آواز ہوتی ہے جو تمہیں نہ صرف نظر آتی ہے بلکہ تم اسے دل میں محسوس بھی کرتے ہو۔‘‘

یقین جانیے ایسی ہی آواز مجھے بھی سنائی دی تھی اور محسوس ہوئی تھی جب جرمنی کے شہر برلن کی تنظیم اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی صاحب کی جانب سے مجھے دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ وہ دعوت نامہ اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سر سید کے دو سو سالہ جشن میں شرکت کرنے کے لیے تھا۔ دعوت نامہ پا کر مجھے بے حد خوشی ہوئی، جانے کا خیال تو دل میں نہیں آیا تھا کیونکہ اس وقت تک میں نے ہندوستان میں ہی کسی شہر کا اکیلے سفر نہیں کیا تھا تو جرمنی تک جانا تو خیال و گمان سے بھی پرے تھا۔ دعوت نامہ کو بے حد متبرک چیز سمجھ کر سنبھال کر رکھ لیا لیکن جب دو تین دن کے بعد چچا جان پروفیسر صادق صاحب سے دہلی بات ہوئی اور باتوں باتوں میں دعوت نامہ کا ذکر کیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے برلن جانے کے لیے کہا۔ میں بہت حیران اور خوش ہوئی اور یوں ان کی حوصلہ افزائی ہی میرا رخت سفر بنی۔

دوسری طرف برلن سے میری دوست نرمی و حلاوت کا پیکر، خلوص کی مظہر میری نیم ہم نام عشرت معین سیما اور ان کے شوہر جو کہ اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں، دونوں کا پر خلوص اصرار۔ عشرت ہر وقت ہمت بندھاتی رہیں کہ بس آپ ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں اس کے بعد تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

لیکن میرے پیروں میں دو خوبصورت زنجیریں تھیں جو ذرا سی پیر کی جنبش پر چھن چھن کرنے لگتی تھیں اور یہ مدھر جھنکار قدم بڑھانے سے روک لیتی تھی لیکن جب ان سے بھی عشرت نے بات کی اور پیار سے سمجھایا کہ ممی کے ساتھ میں بہت سارے کھلونے اور تحفے بھیجوں گی وہ خوشی خوشی میرے جانے کی تیاری میں مدد کروانے لگے اور پھر عشرت نے بچوں سے کیا وعدہ نبھایا بھی۔

میرے دوست و احباب کی نیک خواہشات بھی ساتھ تھیں جن میں بطور خاص میرے مشفق و مربی علامہ اعجاز فرخ صاحب جنہوں نے سفر سے لے کر سفر نامہ تک شجر سایہ دار کی طرح دعائیں سایہ فگن رکھیں۔ راجہ یوسف صاحب، (کشمیر)، نصرت اعوان صاحبہ (کراچی) کا خلوص ساتھ رہا اور یوں ہم برلن پہنچ گئے۔

برلن میں میرا سات دن قیام رہا، خوب سیر کی۔ ہر دن برلن کے کئی چہرے نظر آتے رہے، کئی روپ دکھائی دیتے رہے۔ جو خوش رنگ بھی تھے تو بد رنگ بھی۔ کہیں قدیم شہر اپنی وراثت کو سنبھالے دامن سمیٹے تو کہیں نظریں چراتا نظر آیا تو کہیں جدید برلن اپنی پوری آب و تاب اور بڑے کر و فر کے ساتھ جلوہ گر ملا۔ اس دوران وہاں کے طریقہ تعلیم کو بھی سمجھا کہ ترقی یافتہ قومیں کس طرح اپنے نونہالوں کی آبیاری کرتی ہیں، کیسا طرز زندگی انہیں دیتی ہیں۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت کو بھی ان چند دنوں میں جتنا کچھ سامنے نظر آتا رہا دیکھتی رہی۔ غیر ملکیوں کا اس دیار غیر کو اپنا مسکن بنا لینے کی وجوہات بھی واضح ہوئیں تو وہیں ان کے دلوں میں وطن کی محبت کا چراغ بھی روشن ملا۔ مشرقی اور مغربی تہذیب کا خوبصورت امتزاج بھی دیکھا۔ یہ سب ذہن میں محفوظ تھا جسے لکھنے کا کئی بار ارادہ کیا لیکن مصروفیات زندگی کچھ تساہل طبیعت وجہ بنتی رہی۔ آخر جب دنیا کے ایک بڑے حصے میں زندگی کی رفتار اچانک تھم گئی، ہم گھروں میں مقید ہو گئے، زمینی اور ہوائی راستے مسافروں کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے رہ گئے۔ کچھ وقت تو کرونا کی دہشت اور کسی بھی پل زندگی کے ہی سفر کر جانے کا خدشہ و خطرہ سر پر منڈلاتا رہا لیکن جب تھوڑے حواس بحال ہوئے تو اس وقت کو غنیمت جان سفر برلن کو یادوں کے پٹارے سے نکال صفحہ قرطاس پر اتارنے کے لیے قلم اٹھا ہی لیا۔ اور روداد سفر لکھ ڈالی۔

اس سفر کے لیے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب اسلم پرویز صاحب کی دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے نہ صرف اجازت نامہ مرحمت فرمایا بلکہ اپنی خصوصی نیک خواہشات بھی بطور رخت سفر دیں۔ لکھنؤ کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبد القدوس صاحب کا شکریہ ادا کرنا بھی میں اپنا اولین فرض سمجھتی ہوں کہ انہوں نے میرے سفر کے سلسلے میں یونیورسٹی سے متعلق ہر مرحلے میں میری بھر پور معاونت کی۔ لکھنؤ کیمپس کے تمام رفقائے کار کی بھی نیک خواہشات کے لیے ممنون ہوں۔

سفر نامہ اپنے تئیں مکمل کرنے کے بعد جب اس کا ذکر پروفیسر خالد محمود صاحب جو کہ میرے عم محترم کا درجہ رکھتے ہیں، سے کیا، وہ بہت خوش ہوئے تب میں نے اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ آپ اس پر اظہار خیال فر ما دیں تو تحریر کو اعتبار مل جائے گا۔ اور واقعی انہوں نے میری اس خواہش کو حقیقت میں بدل کر میرا سفر برلن مکمل کروا دیا۔

میرا سفر رب کی رضا اور ان ہستیوں کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا ایک تو میرا بھائی ڈاکٹر نظر محمود مدیر و ناشر روز نامہ نیا نظریہ۔ نظر نے میرے جانے کی پوری کاروائی کی، قدم قدم پر میرے ساتھ رہے، دوسری میری دوست عشرت معین سیما اور ان کے شوہر انور ظہیر رہبر صاحب جو اپنے نام کے مصداق رہبری فرماتے رہے۔ ان کے مشفقانہ رویہ کے باعث مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ یہ سفر اور سفر نامہ ان کی مدد کے بغیر نا ممکن تھا۔ ان کے لیے شکریہ کے الفاظ بے معنی ہیں پھر بھی رسماً ہی سہی ان کا شکریہ۔ تیسرے میرے بچے اگر وہ ضدی اور نا سمجھ ہوتے تو ممکن لفظ کے معنی ہی بدل جاتے۔ جن کے لیے ہر دم دعا ہے رب سے کہ ان کے نصیب میں

عروج لکھنا کمال لکھنا

کبھی نہ حرف زوال لکھنا۔

آمین

عشرت ناہید

ان دیکھے خواب نے مانگی تعبیر

راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ایسے میں ہم نے سفر کو وسیلہ ظفر بنانے کی ٹھانی ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ ٹھانی تو میں نے نہ تھی بس ٹھن گئی تھی ہوا یوں کہ جون 2017 میں جرمنی کے دار الحکومت برلن کی اردو تنظیم ’اردو انجمن برلن‘ کے صدر عارف نقوی اور نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں درج تھا کہ ان کی تنظیم اس سال سر سید احمد خاں کی دوسری صد سالہ تقریب منعقد کر رہی ہے جس میں مجھ سے شرکت کی درخواست ہے۔ دعوت نامہ پڑھ کر میں دھیمے سے مسکرا دی۔ میں نے تو یہاں ہندوستان میں کبھی کسی شہر کا تنہا سفر نہیں کیا تھا، بھلا کیسے یورپ، جرمنی اور پھر برلن جا سکتی تھی وہ بھی اکیلے!! دعوت نامے کو بہت با برکت سمجھ کر اٹھا کر رکھ دیا اور سوچا کہ نہ دادا مریں گے اور نہ بیل کٹے گی۔ اور ویسے بھی نہ تو کبھی بند آنکھوں سے نہ ہی جاگتی آنکھوں سے، میں نے کبھی کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جو سامنے کھڑا تعبیر مانگ رہا تھا۔ جب یہ دعوت نامہ موصول ہوا ان دنوں موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے میں اپنی امی کے گھر اجین میں تھی۔ دعوت نامہ پا کر خوشی تو بہت تھی، گھر میں ذکر کیا سب نے خوشی کا اظہار تو کیا لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم جا سکتی ہو۔ نہ ہی میں نے سوچا، دوسرے دن میری ٹیلی فون پر اپنے چچا جان (پروفیسر صادق صاحب) سے بات ہوئی میں نے ان سے دعوت نامے کا ذکر کیا تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ’تم ضرور جاؤ۔‘

میں نے حیرانی سے کہا ’چچا جان کیا کہہ رہے ہیں۔ میں برلن! برلن جاؤں؟‘

’ہاں ہاں کیوں نہیں جاؤ گی؟ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے تیاری کرو اچھا سا پیپر لکھو جو وہاں پڑھنا ہو گا اور جانے کی تیاری کرو۔‘

’وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔‘

’کیا لیکن‘

’چچا جان بچوں کو کیسے چھوڑ کر جاؤں گی؟‘

’جیسے یونیورسٹی جاتی ہو۔‘

’ارے چچا جان ایک ہفتے کا پروگرام ہے اور سفر کے دو تین دن الگ‘

’تو کیا ہوا تمہیں جانا چاہیے‘

چچا جان کا حوصلہ دینا تھا کہ سمجھئے میں تو جانے کے لیے تیار ہی ہو گئی۔

اب دوسرا مرحلہ شوہر صاحب سے اجازت کا تھا انہوں نے بخوشی اجازت دے دی کیونکہ بات چچا جان کی تھی اور چچا جان ہم دونوں کے بزرگ تھے ان کی کہی بات ہمارے لیے حرف آخر کا درجہ رکھتی تھی۔

دوسرے ہی دن میں نے یونیورسٹی میں اجازت نامے کی درخواست لکھنؤ کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبد القدوس صاحب کو بھیجی اور ساتھ ہی فون پر بھی بات کی۔ انہوں نے اس دعوت نامے پر از حد خوشی کا اظہار کیا، اپنی جانب سے ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بنا درخواست یونیورسٹی ہیڈ کوارٹر یعنی حیدرآباد فارورڈ کر دی۔ اب مرحلہ تھا یونیورسٹی سے جواب آنے کا، کچھ دن بعد وہاں سے ایک میل موصول ہوا جس کے ساتھ ایک پروفارما تھا جسے پر کرنے کے ساتھ ساتھ برلن میں پیش کیا جانے والا مقالہ بھی منسلک کرنا تھا، پروفارما میں یہ بھی بتانا تھا کہ میرے سفر کے مقاصد کیا ہیں؟ میرے کانفرنس میں شرکت کرنے سے یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو نیز یونیورسٹی اور ملک کو اور جس ملک میں جا رہی ہوں کیا فائدہ ہو گا؟ کس طرح کے اثرات مرتب ہوں گے؟ یعنی عالمی اثرات کے کیا امکانات ہیں؟ اس ساری کاروائی کے بعد بھی ایک طویل انتظار رہا پروگرام کی تاریخیں نزدیک آ رہی تھیں اور یونیورسٹی کے مراحل مکمل نہیں ہو رہے تھے پھر میں نے وائس چانسلر صاحب سے براہ راست رابطہ قائم کیا انہوں نے خصوصی دلچسپی لے کر فوری طور پر اس کام کو انجام تک پہنچوایا۔ اب ویزہ اپلائی کرنا تھا۔ جس کے لیے دہلی جانا تھا، چھوٹا بھائی نظر جو ان دنوں دہلی سے اجین گیا ہوا تھا وہ وہاں سے اور میں لکھنؤ سے دہلی کو روانہ ہوئے، دوسرے دن ۶ ستمبر کو دہلی پہنچے، ہم نے ایک ایجنٹ کے زریعے ویزہ فارم وغیرہ تیار کروا لیا تھا۔ دن میں ایک بجے سے پہلے ہمیں ویزہ آفس پہنچ جانا تھا، وقت کا اچھا خاصا مارجن لے کر ہم گھر سے نکلے بس خطا یہ کر بیٹھے کہ بجائے میٹرو کے اپنی گاڑی سے چل پڑے، سو سزا ایسی ملی کہ خدا ہی یاد آ گیا۔ دہلی کا ٹریفک اور پھر جام اس کا، دھواں تھا کہ مد ہوش کیے جا رہا تھا، اور وقت کی رفتار ہوش اڑا رہی تھی اور سچ پوچھیے تو اسی وقت ہمیں وقت کی اہمیت کا بھی صحیح طور پر اندازہ ہوا کہ وقت کی قیمت اس سے پوچھئے جس کی نظروں کے سامنے سے دو منٹ کی دیری میں ٹرین چھوٹ گئی ہو اور منزل زندگی دور بہت دور۔۔ ۔ خیر ہم ویزہ آفس پہنچے میں اندر کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔ وہاں بیٹھی پیاری سی کامنی لڑکی نے میرے آنے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا شولڈر بیگ اٹھایا کاندھے پر لیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں تو کھڑی کے کھڑی ہی رہ گئی۔ پھر ہمت کر کے اپنی بات اس سے کہی۔ اس نازنین نے ایک نظر گھڑی کی طرف تو دوسری نظر میری طرف ڈالی، ایک بج کر پانچ منٹ ہوا چاہتے تھے۔ میں نے ملتجی نظروں سے پلیز کہا اس نے پاس کھڑے آفیسر سے آہستہ سے بات کی، جنہوں نے گردن ہاں میں ہلا کر کچھ جواب دیا۔ پھر اس پیاری سی لڑکی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کرسی پر بیٹھ کر ضروری کار روائی کر کے ایک سلپ میری طرف بڑھا دی جسے میں نے بڑی مضبوطی سے اپنی مٹھی میں دبا لیا۔ وہ ایک ٹوکن تھا۔ جسے لے کر میں اندر گئی، جہاں بہت سارے کاؤنٹر تھے، جن کے سامنے ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈ لگے ہوئے تھے، جن پر ٹوکن نمبر آ رہے تھے۔ یہاں اچھی خاصی بھیڑ تھی۔ لوگ وہاں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے میں بھی خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئی، یہاں ایک بات کہنا چا ہوں گی کہ اس وقت مجھ پر بہت گھبراہٹ طاری تھی وجہ! وجہ وہی مشرقی ماحول، گو کہ میں ایک مرکزی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھی، لیکن زندگی کے معاملات میں بالکل صفر تھی، ہمیشہ بھائیوں پر منحصر رہی، ہر کام کے لیے، کہیں جانا ہو تب ہمیشہ ایک نہ ایک بھائی ساتھ ضرور ہوتے تھے شادی کے بعد یہ ذمہ داری کچھ کچھ میاں جی اٹھا لیتے تھے لیکن زیادہ تر اب بھی بھائی ہی دیکھتے تھے، دہلی میں بھی چھوٹا بھائی ساتھ تھا، لیکن چونکہ انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے یہاں اکیلی تھی۔ اب میں نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوری توجہ کاؤنٹرز کی جانب مرکوز کر دی تھی اور دھیان سے دیکھ اور سن رہی تھی کہ وہ دیگر لوگوں سے کس طریقے کے سوالات کر رہے ہیں کونسے کاغذات دیکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنے کاغذات پر بھی نظر ڈالی انہیں ترتیب سے رکھا۔ کاؤنٹر پر جانے والوں سے سب سے پہلے ٹوکن والی سلپ ہی لی جا رہی تھی، میں نے سوچا اسے پہلے اوپر رکھ لوں، اسے ہاتھ میں پھر کاغذوں میں دیکھا ندارد، ارے یہ کہاں گئی، اپنے دائیں بائیں کرسی کے اوپر نیچے چاروں طرف دیکھ لیا وہ ننھا سا پرزہ نجانے کہاں ہوا ہو گیا اور میری تو جیسے ہوائیاں ہی اڑا گیا۔ میں پریشان پریشان بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس پر لکھا نمبر تک تو یاد نہیں کیسے پتہ چلے گا کہ کس کاوئنٹر پر جانا ہے؟ میرے سامنے والے کاؤنٹر پر تقریباً آٹھ لوگوں کے بعد ایک نمبر ڈسپلے ہوا اس پر کوئی بھی اٹھ کر نہیں گیا، چند ثانیے انتظار کے بعد کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے نام پکار دیا۔ میں فوراً اٹھ کر گئی اس نے ٹوکن سلپ مانگی، میں نے کہا گم ہو گئی۔ اس نے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا کہیں کاغذوں میں ہے لیکن مجھے مل نہیں رہی۔ پھر اس نے مجھ سے جرمنی جانے کا مقصد پوچھا،

میں نے بتایا ’’کانفرنس میں جا رہی ہوں‘‘

’’کس قسم کی کانفرنس ہے؟‘‘

’’لٹریری‘‘

’’کہاں ٹھہریں گی آپ کے فارم میں یہ بات تو درج ہی نہیں ہے۔‘‘

میں ایک دم پریشان ہو گئی کہ میرے پاس عشرت کے گھر کا پتہ تو تھا لیکن اس وقت وہاں نہیں تھا۔

میں نے کہا ’’میری دوست کے گھر ٹھہروں گی۔‘‘

پھر مجھے خیال آیا کہ میرے دعوت نامے پر یہ بات لکھی ہوئی ہے میں نے فوراً ان کی توجہ اس طرف دلائی وہ مطمئن ہو گئے، کہنے لگے۔

’’بچے کتنے ہیں؟‘‘

میں چونکہ گھبرائی ہوئی تھی بول پڑی ’’مجھے نہیں پتہ کہ ان کے یہاں کتنے بچے پڑھتے ہیں۔‘‘

’’میں آپ کے بچے پوچھ رہا ہوں‘‘ وہ مسکرا دیا۔

’’جی دو ہیں۔‘‘

’’کتنی عمر ہے ان کی؟‘‘

’’6 سال اور 8 سال‘‘

’’کس کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہیں؟‘‘

’’بچے اپنے والد کے پاس ہیں‘‘

’’واپسی کب کی ہے آپ کی‘‘

’’جی 23 ستمبر‘‘

مجھے اس کے اتنے سوالوں سے الجھن سی ہونے لگی تھی۔

اس کاؤنٹر کے بعد مجھے دوسرے کیبن میں بھیجا گیا جہاں لڑکیاں تھیں انہوں نے بھی مجھ سے ذاتی سوالات ہی کیے اور باتیں کرتے کرتے میری پانچوں انگلیوں کے نشانات لے لیے۔

ان سب کار روائیوں کے بعد مجھے باہر جانے کے لیے کہا گیا۔

باہر آ کر میں نے اپنے بھائی نظر کو بتایا کہ ایسے ایسے سوالات کر رہے تھے۔

تب اس نے جواباً کہا کہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ کہیں آپ وزٹ ویزہ لے کر وہیں رک تو نہیں جائیں گی کیونکہ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، جب تم نے کہا کہ بچے چھوٹے ہیں تب انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ تم واپس آؤ گی ہی۔ اب تمہارا ویزہ جلدی آ جائے گا ان شاء اللہ۔

میں اسی رات ٹرین سے لکھنؤ کے لیے روانہ ہو گئی۔

دوسرے دن میں نے اپنے مشفق و مربی علامہ اعجاز فرخ صاحب کو حیدرآباد فون پر بتایا کہ مجھے جرمنی سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے، ویزہ کے لیے درخواست بھی دے دی ہے، وہ بہت خوش ہوئے اور حسب عادت ایسی دعائیں دیں کہ آنکھیں نم ہونے لگیں۔ پھر انہوں نے مجھے سفر سے متعلق چھوٹی چھوٹی کار آمد باتیں سمجھائیں، انہوں نے میرا مقالہ توجہ سے سنا۔ کچھ مفید مشورے دئیے، سفر کا حوصلہ دیا یہی حوصلہ میرا زاد راہ بنا۔

علامہ اعجاز فرخ صاحب حیدر آباد کی اس شخصیت کا نام ہے جو تعارف کی محتاج نہیں، جو ایک زندہ و جاوید تاریخ حیدرآباد کا مرقع ہیں۔ جن کے قلم کی ضو فشانیاں مرقع حیدر آباد کی شکل میں اپنے آپ کو منوا چکی ہیں اور انداز تحریر سے ہی نہیں انداز تقریر سے ایک عالم کو مبہوت کر اس دور کے تہذیب و تمدن کی سیر کروا دیتے ہیں۔ اس جہان میں لے جاتے ہیں جو اب صرف تاریخ کی کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔ میرے مشفق سر پرست تجربات زندگی سے عرق کشید کر کے راہ حیات معطر کرنے کے ہنر سے آراستہ ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔

12 ستمبر کو ویزہ ملا اور پندرہ کی شام لکھنؤ سے دہلی کے لیے میری روانگی تھی جہاں سے رات دو بجے برلن کی فلائٹ تھی۔

لکھنؤ ائیر پورٹ کی جانب روانہ ہوتے ہوئے دل خوش بھی تھا اور اداس بھی، بچوں کو چھوڑ کر جانا بڑا سخت مرحلہ تھا گو کہ کوئی یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ میں نے ایان مشا کے بنا کہیں جانے کا ارادہ کیا تھا، اس سے پہلے 2016 میں ریفریشر کورس کے لیے دہلی گئی تھی تب بھی دونوں کو اپنی بہنوں کے پاس چھوڑا تھا لیکن اب میں تنہا ملک سے باہر جا رہی تھی شاید اس وجہ سے یہ کیفیت تھی۔

ائیر پورٹ پر ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا لکھنؤ سے دہلی تک کی پرواز گھریلو اڑان کے زمرے میں آتی ہے جبکہ دہلی سے برلن بین الاقوامی۔ دونوں میں سامان کا وزن الگ الگ تھا، میں نے انٹرنیشنل کے فلائٹ کے مطابق وزن رکھا تھا پہلے ہی مرحلے پر ہی ڈیوٹی لگ گئی کہ میرا سامان پندرہ کلو سے زیادہ تھا، میں نے کاؤنٹر پر بیٹھے نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ’بھائی میرے مجھے دہلی سے آگے جانا ہے میرا ٹکٹ دیکھیے اس کے اعتبار سے معاملہ کیجیے‘ لیکن مجال ہے اس پر کچھ اثر ہوا ہو، آخر کار مجھے سامان کا ٹیکس ادا کرنا ہی پڑا۔ یہ نظام تو میری سمجھ سے تو بالا تر تھا، اور شاید یہاں کھلی دھاندلی ہو رہی تھی۔ خیر۔ جیٹ ائیر ویز کے ذریعے اب میں دہلی ائیر پورٹ ٹرمینل تین پر تھی جہاں لفتھانسا ائیر ویز سے مجھے اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ دہلی ائیر پورٹ اور بطور خاص ٹرمینل تھری دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دیوار پر خوبصورت ہتھیلیاں، مخروطی انگلیاں جو رقص کی مختلف مدراؤں کو دکھا رہی تھیں وہ اتنی دلفریب تھیں کہ میرا خیال ہے کہ اس نظارے کو دیکھ کر ہر غیر ملکی سیاح کے قدم چند ثانیے کے لیے تو ضرور ٹھہر جاتے ہوں گے ویسے یہ میرا خیال ہی نہیں دعویٰ بھی ہے۔ ضروری کار روائیاں اور چیکنگ کے مرحلے سے گزر کر اب میں وہاں پہنچ چکی تھی جہاں سے مجھے برلن کی فلائٹ ملنا تھی یہاں رات میں بھی دن کا سا سماں تھا، روشنیوں کی جگمگاہٹ بہت بھلی لگ رہی تھی، وہیں لاؤنج کے بیچ میں راجکمار سدھارتھ (مہاتما بدھ) کا کانسے کا ایک بڑا سا مجسمہ نصب تھا، راجکمار کے لبوں پر وہی ازلی دلفریب مسکراہٹ سجی ہوئی تھی جو ان کی شخصیت کا خاصہ رہی تھی لیکن جانے کیوں مہاتما بدھ کے مجسمہ کو دیکھ کر عقیدت کے جذبات پیدا نہیں ہوئے بلکہ میانمار یاد آ گیا۔ میں نے مجسمے سے نظریں ہٹا لیں۔ چونکہ میری فلائٹ میں ابھی بہت وقت تھا اس لیے میں سکون سے تھی اور اپنے گھر والوں سے مستقل رابطے میں تھی، ادھر عشرت اور رہبر صاحب سے بھی رابطہ قائم تھا جو ہمت اور حوصلہ دے رہے تھے۔ اس وقت جذبات میں طغیانی ایک فطری عمل تھا جسے میں روک نہیں سکتی تھی، مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اس وقت میرے بھائی بہنوں کے دل کیا کہہ رہے ہوں گے۔ بڑے بھائی سب سے زیادہ فکر مند تھے کہ اکیلی جا رہی ہے، ظاہر ہے جب ایسے ماحول میں پرورش ہوئی ہو جہاں گھر سے اکیلے کہیں جانے کا رواج نہ رہا ہو ہر جگہ بھائی یا امی ابا ساتھ رہے ہوں وہ سات سمندر پار جا نے کی ٹھان لے، دل تو ہولائے گا ہی نا، بس ان کی تو دعائیں چل رہی تھیں ہدایتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں جبکہ باقی سب ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ سب میرے ساتھ بشمول شوہر صاحب کے جاگ رہے تھے۔ بالکل ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب مجھے خدا حافظ کہنے ساتھ آئے ہوئے ہوں۔ لکھنؤ میں میرے بچے دس بجے شب بخیر کہہ کر سو چکے تھے۔

لفتھانسا ائیر ویز اپنی بہترین کار کردگی کی وجہ سے مقبول ائیر ویز میں شمار ہوتی ہے اور مہنگی ترین بھی، اس کی مقبولیت کا سبب ہوائی جہاز کے اندر جانے کے بعد سمجھ میں آیا، زیادہ تر مسافر غیر ملکی تھے، ہندوستانی کم تھے، میں اپنے آپ میں گم زیادہ تھی اس لیے اس وقت جہاز کے اندر کے ماحول میں میری دلچسپی کم تھی لیکن پھر دہلی سے فرینکفرٹ کا فاصلہ 6134 کلو میٹر یعنی 3811 میل تھا۔ جسے جہاز نے سات گھنٹے بیالیس منٹ میں طے کیا۔ یہ پورا سفر سکون سے انجام پایا۔ سامنے مانیٹر پر جہاز اڑتا ہوا نظر آتا رہا۔ پیاری پیاری ائیر ہوسٹس تھوڑی تھوڑی دیر میں اپنی مختلف نوعیت کی ضیافت میں مصروف تھیں۔ ویج نان ویج کی پسند بھی پوچھ لیتی تھیں لیکن جانے کیوں حرام حلال کا ایسا خیال دل میں آیا کہ نان ویج تو ٹھیک ویج لینے کو بھی من نہ مانا اور اتنا لمبا سفر صرف جوس اور بریڈ کی دو سلائس پر اکتفا کرتے ہوئے پورا کر ڈالا۔ جہاز اپنی پرواز طے کر رہا تھا اور میرا ذہن اپنی۔

کبھی ابا شدت سے یاد آتے کہ کاش وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے، امی کی دعائیں یاد آ رہی تھیں امی میری امی! ان کا ہی تو خواب تھا جسے میں پورا کر رہی تھی۔ میری امی نے ہی میری منزل کا تعین کیا تھا کہ میری بیٹی کسی کالج یا یونیورسٹی میں جائے گی۔ دوسری ان کی بڑی خواہش تھی کہ میں افسانے لکھوں، انہوں نے کبھی مجھے روایتی ماؤں کی طرح گھر کے کاموں کی تلقین نہیں کی۔ میرے ہاتھ میں کتابیں دیکھ دیکھ کر مانو ان کا خون بڑھ جایا کرتا۔ کیسی پیاری میری ماں۔ گھر کا پورا ماحول ادبی تھا۔ امی اجین کے حلقہ نسواں کی صدر تو ابا شاعر، ادیب اور صحافی کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت گار بھی۔ امی نے طنز و مزاح کا شعری مجموعہ مرتب کیا تو احمد جمال پاشا جن کا شمار اپنے وقت کے اہم ناقدین اور مزاح نگاروں میں ہوتا ہے امی کو تقریباً آٹھ صفحات کا خط لکھا۔ ابا کا ’اعتبار‘ کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا تو ساتھ ہی نثر میں ’ کالیداس ایک مطالعہ‘ نے ان کی ادبی حیثیت کو استحکام بخشا۔ بطور صحافی نیا سماج کے اجین ایڈیشن نے انہیں صحافت کی دنیا میں متعارف کروایا۔ گھر کا ماحول بھی کتنا خوبصورت تھا، شام مغرب کے بعد کھانا کھا لیا جاتا اس کے بعد چہل قدمی معمول تھی، ابا اقبال کے شعر پڑھتے اور امی ہمیں اس کے معانی و مطالب بتاتیں،

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

اقبال کی یہ پہلی غزل تھی جو مجھے اسی چہل قدمی میں یاد ہوئی تھی۔ جب ماحول والدین نے ایسا بنایا ہوا ہو تو امی کا یہ خواب تو تعبیر پانا ہی تھا نا۔ خیالوں کا سلسلہ ماں سے ہوتا ہوا اپنے ماں بننے تک پہنچا جا رہا تھا۔ ایان مشا کا خیال آنکھوں میں آنسو لا رہا تھا۔ میرے پیارے معصوم بچے کتنے صابر تھے۔ کتنے شوق سے انہوں نے ماں کو سفر پر روانہ کیا تھا، تیاریاں کروائی تھیں۔ بس ایک ہی بات تھی مما ہمارے لیے کیسے کھلونے لائیں گی۔ بس مشا نے آنے سے ایک دن پہلے میری جان مٹھی میں لا دی تھی۔ آخری دن اعلان کر دیا کہ مما کے ساتھ میں عشرت آنٹی کے یہاں برلن جا رہی ہوں، بس جا رہی ہوں! اس کا مخصوص تحکمانہ لہجہ جو اس کا خاص انداز ہے اور جس کے بعد ہماری یعنی ممی ڈیڈی کی مجال نہیں کہ ٹال دیں۔ میرے تو ہاتھ پیر ہی ٹھنڈے ہو گئے تھے کیونکہ اس نے نہ صرف اعلان کیا تھا بلکہ میری پیکنگ کے سامان میں اپنی فراکیں بھی رکھ دی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کو کیسے سمجھاؤں بڑی مشکل سے اس سے کھلونوں کی پسند پوچھی کہ اسے برلن سے کیا منگوانا ہے؟۔ میں تو خود اپنی پسند سے لے لوں گی نا ابھی سے کیوں بتاؤں؟‘‘ اکیسویں صدی کی چالاک بچی۔

پھر میں نے اسے گود میں بٹھا کر بہت سارا پیار کر کے پاسپورٹ دکھایا سمجھایا کہ ’’بیٹا دیکھو اس میں آپ کی فوٹو نہیں ہے اس لیے آپ ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھ پائیں گی۔‘‘

’’تو کیا ہوا مما ابھی فوٹو کھینچ کر لگا دو نا۔‘‘

خیر بڑی مشکل سے وہ ایک کھیلنے والی رنگ لانے پر راضی ہوئی اور میری جان میں جان آئی۔ یہ سب منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہے۔ میری سوچیں عورت کے ممتا کے روپ پر اٹک کر رہ گئی تھیں، شاید کسی مفکر نے کہا ہے کہ عورت مکمل ہی تب ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ عورت تو ماں بننے کے بعد صرف ماں ہی رہ جاتی ہے، اس کے لیے یہ جہاں یہ کائنات زمین آسمان سب سمٹ کر صرف ماں کا وجود بن جاتے ہیں، اس کی تمام تر سوچیں صرف اولاد تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ مجھے بار بار امی کا اس وقت کا وہ جملہ یاد آ رہا تھا، جب میں کالج سے گھر پہنچنے والی ہوتی تھی اور امی اوپر کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرکائے میرا انتظار کر رہی ہوتی تھیں اور اس وقت مجھے اس بات پر بہت غصہ آتا تھا اور میں ان سے کہتی تھی کہ ’’امی اب میں بچی نہیں ہوں کہ آپ یوں فکر مند کھڑی رہیں‘‘، وہ بڑے پیار سے کہتی تھیں کہ ’’بیٹا یہ بات تمہیں تب سمجھ میں آئے گی جب تم خود ماں بنو گی کہ تمہاری ماں کیوں ہر دن کھڑکی میں کھڑی تمہارا انتظار کرتی رہتی ہے۔‘‘ لیکن خدا کی قدرت کہ مجھے ماں بننے کا شرف ایک طویل عرصے کے بعد حاصل ہوا اور جب ایان اسکول جانے لگے تب مجھے سمجھ میں آیا کہ بچہ جب گھر سے جائے تو ماں کیسے سراپا انتظار بن جاتی ہے، اس کا وجود تو ساری کائنات چھوڑ صرف ماں میں ڈھل جاتا ہے، وہ تو ماں کے سوا کچھ رہ ہی نہیں جاتی یہی وجہ تھی کہ مجھے کیمپس میں آنے والے سب بچے اپنی اولاد سے محسوس ہوتے، کئی بار جب میں ان کی پانی کی بوتلیں چیک کر لیتی کہ وہ پانی برابر پی رہے ہیں یا نہیں یا وہ سارا دن یہاں کلاسز اٹینڈ کرتے ہیں تو لنچ ساتھ لائے یا نہیں تو وہ ہنس کر کہتے کہ ’’میم جب آپ ٹفن باٹل پوچھتی اور چیک کرتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی اسکول میں ہی ہیں کسی یونیورسٹی میں نہیں پہنچے۔‘‘

میرے خیالات کے تسلسل کو جہاز کے اعلان نے توڑا جو فرینکفرٹ ہوائی اڈے پر پہنچنے کا تھا۔

جہاز فرینکفرٹ پہنچ چکا تھا اور میں ایک نئی دنیا میں۔ فرینکفرٹ کا ائیر پورٹ بہت بڑا تھا لیکن ذرا بھی خوبصورت نہیں بس طویل طویل راہداریاں جو چلتے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی کہہ رہی تھیں، ان راہوں پر خوبصورت لڑکیاں اور خوش شکل لڑکے ضرور تھے جو مسافروں کو راہ دکھانے میں مدد کر رہے تھے۔

ائیر پورٹ نے مجھ پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کیا کیونکہ میں لکھنؤ اور دہلی کے ائیر پورٹ سے موازنہ کر رہی تھی۔ چلتے چلتے خیال آیا کہ یہاں کے مادہ پرست لوگ بھلا تہذیب اور ثقافت کی اہمیت کو کیا جانیں جو ائیر پورٹ سجاتے میرا ملک جو اپنی ایک الگ تہذیبی شناخت رکھتا ہے، جہاں قدم قدم پر گنگا جمنی تہذیب کے مناظر دل کو لبھاتے ہیں، بھلا یہ لوگ کیا اس کی برابری کریں گے، ایک فخر کا احساس میرے دل میں ابھرا اور جو ذرا مرعوبیت یورپ کے نام پر دل میں تھی یکسر غائب گئی۔

اب میرے قدموں میں ایک نیا اعتماد تھا۔ اس ائیر پورٹ پر بھی ایک مرتبہ پھر چیکنگ کا مرحلہ سامنے تھا اور اس بار تو دہلی سے زیادہ باریکی سے چیکنگ کی جا رہی تھی شاید یہ لوگ مسافروں پر اعتماد کم کرتے ہیں یا عدم تحفظ کا شکار ہیں لیکن ایک خاص بات ضرور تھی کہ وہ مسافروں کے ساتھ بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہے تھے تا کہ مسافر پریشانی محسوس نہ کریں۔ اب مجھے خوش شکل خوش مزاج جرمن متاثر کرنے لگے تھے، تندہی سے کام نپٹا رہے تھے اور ایک مسکراہٹ تھی کہ لبوں پر ٹھہری سی لگ رہی تھی جس میں پیشہ ورانہ انداز کم اور حقیقت زیادہ جھلک رہی تھی۔ شاید یہ محنتی قوم اپنے کام سے سچی محبت کرتی ہے اور یہ مسکراہٹ اسی کا شاخسانہ تھی اور شاید کہاں یہ تو یقین کرنے والی بات تھی کہ جرمنی ایک ایسا ملک تھا جس نے دونوں جنگ عظیم میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا تھا نتیجتاً شکست فاش سے بھی دوچار ہوا، ملک تباہی کی جو مار جھیل چکا تھا کہ اس کے بعد یوں اٹھ کھڑے ہونا کہ امریکہ اور چین کے بعد تیسرا امیر ترین ملک بن جانا معمولی بات تو نہیں تھی۔ اپنے ملک کی دوبارہ مثبت شبیہ دنیا کے سامنے پیش کرنا تو یہ سب اس قوم ہی کے ذریعے ہوا نا، یہ جفا کش قوم واقعی لائق تعظیم ہے۔ جس وقت پاسپورٹ چیک کرانے کا مرحلہ آیا تب کاؤنٹر پر بیٹھے نوجوان نے مسکراتے ہوئے گڈ مارننگ کہا۔ میں نے جواباً وش کرتے ہوئے پاسپورٹ اور ٹکٹ اس کی جانب بڑھا دیا اس نے مانیٹر پر کچھ اندراج کیا پھر مسکراتے ہوئے سوال کیا ’’آپ برلن کیوں جا رہی ہیں؟‘‘

’’ایک لٹریری کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے۔‘‘

’’ہندوستان کے کس شہر سے آئی ہیں؟‘‘

اس کے سوال کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ مجھ سے شرارتاً پوچھ رہا ہو، مجھے حیرانی بھی ہوئی کہ یہ سب تو اس کے مانیٹر پر آ رہا ہو گا پھر بھی سوال، خیر یہ ان کی ڈیوٹی تھی اور جواب دینا میرا فرض تھا۔

’’آپ کس سبجیکٹ کی ٹیچر ہیں؟‘‘

’’اردو لٹریچر‘‘

میرے اردو لٹریچر کہنے پر پھر ایک اچھی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی جو صرف چند ثانیے کے لیے تھی۔

اس نے مجھے ’بیسٹ آف لک‘ کہا اور پاسپورٹ میری طرف بڑھا دیا۔

اب میں اس گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں سے برلن کے لیے ہوائی جہاز ملنا تھا۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ جہاز ایک گھنٹہ کی دیری سے نو پینتالیس کے بجائے دس پینتالیس پر پرواز کرے گا۔ موبائل تو دہلی سے اڑان بھرتے ہی بے وفائی کر چکا تھا۔ اس کا بنا روح کے جسد میرے پرس میں پڑا شدت سے منتظر تھا کہ کب اس کی سانسیں بحال ہو جائیں، کب اسے انٹر نیٹ نام کا آکسیجن میسر ہو جائے، اور وہ پھر سے جی اٹھے۔ میں یہ سوچ کر پریشان تھی کہ اپنے میزبانوں سے کیسے رابطہ کروں اور انہیں بخیر یہاں تک پہنچنے کی اطلاع دوں کیونکہ عشرت بہت اچھی طرح جانتی تھیں کہ کتنی بہادر خاتون کو انہوں نے بلایا ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ موبائل کسی طرح ائیر پورٹ کے انٹرنیٹ سے منسلک ہو جائے لیکن انسلاک بھی تو ایک کشش چاہتا ہے، جو دیار غیر میں محسوس نہیں ہو رہی تھی، میری ساری کوششیں ناکام رہیں سو خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی اور مسافروں کا جائزہ لینے لگی۔ زیادہ تر مرد عورتیں یوروپین ہی لگ رہے تھے شکل و صورت سے بھی اور لباس سے بھی۔ اب میری بیوقوفانہ سوچیں میرے ارد گرد ڈیرہ ڈال رہی تھیں کہ میں ایسی جگہ ہوں جہاں سے کہیں رابطہ نہیں کر سکتی تھی، کسی کو اپنے ہونے کا پتہ نہیں دے سکتی تھی، کیسی عجیب دنیا بنائی ہے اوپر والے نے، خدائی مخلوق ہر جگہ موجود مگر بھانت بھانت کی بولی بولنے والی۔ اگر میں کسی مشکل میں پھنس جاؤں تو؟ یہ خیال آتے ہی خدا سے رابطہ جڑ گیا دعائیں پڑھنے لگی۔ اسی دوران ایک ادھیڑ عمر کا جوڑا میری ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھا۔ ذرا بھی گورا نہیں نہ تھا، نہ ہی تیکھے نقوش تھے نہ ہی قد سرو سا، بس ہمارے ہندوستانی، پاکستانیوں سا عام جوڑا۔ مرد کا گندمی رنگ اور درمیانہ قد تھا۔ جبکہ خاتون کا چہرہ پر کشش تھا وہ برقعہ پہنے ہوئے تھیں، چہرہ کھلا ہوا تھا، خاتون کی رنگت مرد کی بہ نسبت قدرے صاف تھی لیکن چونکہ میری نظروں کے سامنے تو جرمن تھے اور سفید رنگ یا گوری رنگت کیا ہوتی ہے انہیں دیکھ کر سمجھ میں آ رہا تھا ہاں اگر وہ خاتون ہندوستان پاکستان میں ہوتیں تو انہیں گورا ہی کہا جاتا لیکن یورپ کے باشندوں کے لحاظ سے وہ گوری نہیں تھیں۔ ہلکے سلیٹی رنگ کا اسکارف گندمی رنگت پر بھلا لگ رہا تھا۔ میں خوش ہو گئی کہ یہ تو ضرور میری مدد کر سکتے ہیں۔ ’’السلام علیکم‘‘ میں نے سلام کیا جواب بھی ملا۔ ’’آپ اردو جانتے ہیں؟‘‘

جواب تو یقینی طور پر ہاں سوچے بیٹھی تھی لیکن انہوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ ’’نہیں وہ اردو نہیں جانتے کیونکہ وہ ترکی ہیں۔‘‘

میں حیران ان کی شکل دیکھنے لگی کہ بھلا یہ کس زاویے سے ترکی ہیں، کہاں اتنی خوبصورت قوم اور کہاں یہ دونوں، یقیناً ملاوٹی سامان ہے خیر میں نے ان سے گزارش کی۔

’’کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ مجھے ایک کال کرنا ہے میرا فون انٹر نیٹ سے منسلک نہیں ہو پا رہا ہے، آپ اس نمبر پر بات کروا دیجیے بڑی مہربانی ہو گی‘‘

ان جناب نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فوراً نمبر ملا کر میری بات انور ظہیر رہبر صاحب سے کروا دی۔ جبکہ عورت بڑی دزدیدہ نظروں سے میرا جائزہ لیتی رہی جسے فی الوقت میں نے نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔

فون ملتے ہی مشفق میزبان نے مجھے تسلی دی اور بتایا۔

’’ہم نہ صرف آپ کے جہاز کو ٹریس کیے ہوئے ہیں بلکہ آپ کے گھر والوں سے بھی رابطے میں ہیں آپ بالکل پریشان نہ ہوئیے ہم وقت پر ائیر پورٹ پر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔‘‘

بات ختم کر کے میں نے ان مہربان مسافروں کا شکریہ ادا کیا، اتنی مروت، اتنا اخلاق مشرق میں ہی ہوتا ہے یہ میرا یقین تھا اور کہیں نہ کہیں اس ترکی کہنے والی فیملی کے جد امجد مشرقی ہی رہے ہوں گے۔ اس بات پر تو یقین کامل تھا۔

اب میں اطمینان سے بیٹھ گئی۔ ذہن پر سکون ہوا تو وحید قمر صاحب یاد آئے جو فرینکفرٹ میں رہتے ہیں، وحید قمر صاحب جن سے میرا تعارف فیس بک کے ذریعے ہی ہوا تھا، انہوں نے مجھے عالمی افسانہ فورم کے بارے میں بتایا اور وہاں ایڈ کیا تھا، جہاں سے میری افسانہ نگاری کی ایک بار پھر سے شروعات ہوئی۔ عالمی افسانہ فورم در اصل سوشل میڈیا پر کہانی کاروں اور افسانہ نگاروں کا ایک فورم ہے۔ جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک افسانہ نگاروں کو عالمی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانا ہے اور انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ وحید قمر صاحب اسی عالمی فورم کے ایڈمن ہیں، خود بھی ایک اچھے افسانہ نگار ہیں، خوش مزاج، خوش شکل سے وحید قمر سے جب میں نے لکھنؤ سے پوچھا تھا کہ ’’کیا آپ اردو انجمن برلن کے پروگرام میں جا رہے ہیں؟‘‘

’’جی دعوت نامہ تو موصول ہوا ہے۔‘‘

’’دیکھ لیجیے اگر پروگرام بنا سکیں تو شاید ہماری ملاقات ہو جائے۔‘‘

چند ثانیے کی خاموشی کے بعد ان کا بے حد حیران سا جملہ۔ ’’کیا!!!!!!

’’آپ کیا کہہ رہی ہیں، کیا آپ برلن آ رہی ہیں؟ کیا واقعی!!!!!!‘‘

’’جی میں برلن آ رہی ہوں۔‘‘

بے حد پر مسرت انداز میں انہوں نے خوش آمدید کہا۔

اسی طرح ہما فلک صاحبہ سے بھی بات ہوئی ہما فلک صاحبہ جو کہ جرمنی کے اسٹٹگارٹ شہر میں رہتی ہیں ایک اچھی افسانہ نگار ہی نہیں میری اچھی سی دوست بھی ہیں، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں برلن آ رہی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئیں لیکن ان کا پروگرام میں آنا کئی وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں تھا جس کا ہم دونوں کو ہی افسوس رہا۔

برلن کے طیارے کی پرواز کا اعلان ہونے لگا تھا، میں اپنے خیالات سے باہر نکل آئی تھی اور مسافروں کی قطار میں کھڑی ہو گئی، فرینکفرٹ سے برلن کی دوری زیادہ نہیں تھی۔ ائیر پورٹ پہنچ کر بے تابی تھی جلدی سے باہر نکلنے کی اور عزیز دوست سے گلے ملنے کی لیکن وہ کہتے ہیں نا ظالم سماج ہمیشہ سے محبت کی راہ میں حائل ہوتا آیا ہے، دو ملنے والوں کے ہجر کے لمحے طویل نہ کر دے تب تک اسے چین ہی نہیں ملتا، سو یہاں بھی وہی ہوا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ دو سہیلیوں کے درمیان ظالم سماج کون، کیوں اور کیسے حائل؟ جی وہ۔ ظالم سماج ہی کی شکل میں میرے سامنے گھومتا رہا سب کو ان کا رخت سفر دیتا رہا اور میں تہی دامن سی بڑی آس اور امید کے ساتھ کبھی اس کی راہ گزر کو دیکھتی تو کبھی مڑ کر باہر شیشے کے پار۔ جہاں پر اشتیاق عشرت نظر آ رہی تھیں تو وہیں اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ دکھائی دے رہا تھا تو کبھی رہبر صاحب پر تشویش نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ افف یہ شیشے کی دیوار، دیوار تو دیوار ہے چاہے شیشے کی ہو یا اینٹوں کی چاہے دلوں میں ہو یا سرحدوں پر کھنچی ہوئی ہو دوریاں بنا ہی دیتی ہے، ملن کی راہیں وقتی طور پر ہی سہی روک تو دیتی ہی ہے۔ وقت گزرتا جا رہا تھا تقریباً سارے ہی مسافر جا چکے تھے، اب مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ وہ میرے ساتھ بے وفائی کر گیا ہے یا تو دہلی ہی میں رک گیا یا پھر ممکن ہے اسے فرینکفرٹ بھا گیا ہو۔ اب میں ان نمبروں کو تلاش کرنے لگی تھی جن پر ایسے وقت میں کال کی جاتی ہے اور گم ہونے والوں کا پتہ لگایا جاتا ہے کہ دفعتاً میری مسرت کا ٹھکانہ نہ رہا، وہ اکیلا نہ کوئی آگے نہ پیچھے خراماں خراماں چلا آ رہا تھا۔ میں نے ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالی تیزی سے کیا سختی سے اس کو پکڑا ایک جھٹکے سے اٹھایا اور کھینچتی ہوئی باہر لے آئی۔ صاف شفاف فرش پر گھسیٹے جانے پر اس نے ذرا سی بھی چوں چرا نہیں کی کیونکہ اسے بھی علم ہو گیا ہو گا کہ اس کی خطا ناقابل معافی ہے اور سزا کے طور پر مزید سختی کی جا سکتی ہے۔ دروازے سے باہر آتے ہی رہبر صاحب نے ہاتھ بڑھ کر اس کا ہینڈل تھام لیا۔

سلام کے ساتھ ہی عشرت نے گرمجوشی سے گلے لگا لیا فرط مسرت سے آنکھیں نم ہونے کو تھیں کہ عارف نقوی صاحب نے پھولوں کا گلدستہ خوش آمدید کہتے ہوئے بڑھایا۔ رہبر صاحب نے سفر کے دوران کوئی پریشانی تو نہ ہوئی؟ سوال کیا، باتیں کرتے ہوئے ہم ان کی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے رہبر صاحب نے کال ملا کر نظر سے بات کروائی یہ کہتے ہوئے کہ ’’بھئی آپ کے بھائی بڑے فکر مند ہو رہے ہیں دو مرتبہ کال آ چکی ہے پہلے اپنی آواز سے انہیں تسلی دے دیجیے کہ خیر سے آپ پہنچ چکی ہیں‘‘ میں نے نظر سے بات کی اور خود بھی پر سکون ہو گئی۔

برلن میں ان دنوں مئیر کے انتخابات کا موسم تھا۔ عارف صاحب اور رہبر صاحب کبھی مجھ سے لکھنؤ کی باتیں کرتے تو کبھی انتخابات کی باتیں کرتے ہوئے عشرت اور مجھے شریک گفتگو کر لیتے۔ برلن کا موسم بہت خوشگوار تھا مجھے تو ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈک محسوس ہوئی لیکن بقول میزبانوں کے ہلکا گلابی جاڑا تھا جس کا ذکر عارف صاحب فون پر کر چکے تھے ساتھ ہی تاکید بھی کی تھی کہ گو کہ یہاں موسم ہمارے لحاظ سے گلابی سردی والا ہے لیکن آپ کو یہ سرد لگے گا اس لیے گرم کپڑے رکھ لیجیے گا۔ جس پر میں نے عمل بھی کیا۔

٭٭٭

محبتوں کا مسکن

ہم عشرت کے دولت خانہ پر پہنچ چکے تھے جو کہ شہر سے تھوڑا دور پرسکون سے علاقے ٹیلٹو میں تھا اور گھر میں داخل ہونے پر پتہ چلا کہ گھر نہیں بلکہ بے حد نفاست اور سلیقہ کا منہ بولتا پیکر ہے جس کی ہر چیز مانو پکار پکار کر کہہ رہی تھی یہ گھر نہیں ہے یہ محبت کا آشیانہ ہے جہاں ہر ایک شے میں ایک داستان عشق پوشیدہ ہے اور یہ داستان نہ صرف آرائش و زیبائش اور نہ صرف تہذیب کی نمائندگی کر رہی تھی بلکہ محبت کا ایک ایک رنگ نمایاں کر رہی تھی۔ مکینوں کے ذوق کی گواہی دے رہی تھی۔ یہ ایک ایسا گھر تھا جو ہر دیکھنے والے کے دل میں خواہش پیدا کر دے کہ میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے۔

ہنستے مسکراتے برلن اور لکھنؤ کی باتیں کرتے کرتے ہم سب نے پر تکلف ظہرانہ لیا، اس کے بعد رہبر صاحب تو عارف صاحب کو ان کے گھر ڈراپ کرنے چل دئیے۔ اب میں اور عشرت گھر میں تھے اور تھیں ہماری باتیں۔

میری اور عشرت کی یہ پہلی ملاقات تھی، فیس بک پر ہم ایک عرصے سے ایک دوسرے کے دوست تھے، اکثر ہم ایک دوسرے کو ’میری نیم ہم نام دوست‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ سوئے اتفاق انور ظہیر رہبر صاحب جو کہ اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں 2016 میں لکھنؤ کانفرنس میں تشریف لائے ان کے ساتھ عشرت نے اپنا سفر نامہ ’گامزن‘ بھیجا تھا۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے میں بھی گئی تھی، اسی وقت عارف نقوی صاحب سے اور انور ظہیر رہبر صاحب سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ عارف نقوی صاحب کو گو کہ میں جانتی تھی کہ آپ ہر سال برلن سے تشریف لاتے ہیں اور قلم کی روانی کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ تقریباً ہر سال ہی ان کی ایک کتاب کے اجرا کی تقریب ہوتی ہے، ایک عرصے تک عارف صاحب کو میں شارب رودولوی صاحب کا بھائی ہی سمجھتی رہی کہ وہ اپنے بھائی کے یہاں آتے ہیں اور اسی دوران ان کی کتاب کا اجرا بھی ہوتا ہے۔ میں نے عشرت کا سفر نامہ لیا اور اپنی کتاب ’حیات اللہ انصاری: شخصیت اور ادبی کارنامے‘ انہیں دی۔ یہ عشرت کا سفر نامہ ’گامزن‘ ہی تھا جس میں انہوں نے نجانے کون سی خوشبو ڈال کر بھیجی تھی جو کشاں کشاں ان کی طرف اس طرح سے کھینچ لے گئی تھی کہ آج میں ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھی ان سے خوش گپیوں میں مصروف تھی۔

جہاں عشرت کے خلوص کے رنگ یوں جلوہ گر تھے کہ انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی مایا کا روم میرے لیے سیٹ کیا ہوا تھا جو ان کے خود کے روم کے برابر ہی تھا، مایا جو کہ دسویں کلاس میں تھی اور ان دنوں انگریزی زبان کا چھ ماہ کا کورس کرنے کے لیے آسٹریلیا گئی ہوئی تھی۔ اسی دن شام میں بڑی بیٹی سارہ بھی ہیمبرگ سے آ گئی تھی۔ سارہ بھی اپنی تعلیم برلن سے مکمل کر گریجویشن کی پڑھائی ہمبرگ سے کر رہی تھیں۔ سارہ خصوصی طور پر اردو انجمن کے پروگرام کے لیے برلن آئی تھی۔ میں سارہ کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہی تھی، سارہ جو برلن میں ہی پیدا ہوئی، جس کو ان کی ماما نے اپنی گود میں بٹھا کر جرمن زبان کی کلاسز اٹینڈ کیں، جس کی پرورش پورے جرمن ماحول میں ہوئی، وہ تو ایک دم مشرقی روایتی لڑکی نکلی۔ جس کے لیے میرا تصور تھا جینس ٹاپ میں منہ ٹیڑھا کر کے یا تو انگریزی بولے گی یا جرمن لیکن وہ اتنے پیار سے گلے ملی اور اردو میں ایان مشا کے بارے میں باتیں کرنے لگی پھر کچھ دیر بعد اجازت لے کر کچن میں کیک بنانے میں مصروف ہو گئی۔ رشک آیا مجھے عشرت کی تربیت پر۔ اور یاد آیا نیپولین کا قول ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘۔

باتیں کرتے کرتے میرے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر عشرت نے مجھے کچھ دیر آرام کرنے کے لیے کہا۔ میں نے کمرے میں جا کر پہلے بچوں سے باتیں کی پھر آنکھیں بند کرتے ہی نیند کی آغوش میں کچھ یوں سمائی کہ رات نو بجے عشرت کے آواز دینے پر جاگی۔ نیند اتنی گہری تھی کہ جاگنے پر کچھ دیر تک تو سمجھ ہی نہ آیا کہ دن ہے یا رات ہے نہ ہی خیال کہ میں خود کہاں ہوں؟ عشرت کی دوسری آواز پر چونکی اور اب سمجھ میں آیا کہ میں تو برلن میں اپنی دوست کے گھر ہوں۔ اب جب میں یہ سفر نامہ لکھ رہی ہوں تو خیال آ رہا ہے کہ روز محشر فرشتے پکاریں گے تو ایسا ہی کچھ حال ہو گا ہمارا۔

جب نیچے پہنچی تو سارہ ٹیبل پر کھانا چن رہی تھیں کہنے لگیں۔ ’’دیکھیے آنٹی کیک تیار ہے اور ڈنر بھی۔‘‘

ماشاء اللہ کہتے ہوئے میں نے دیکھا کہ سلیقہ مندی تو اس جرمن لڑکی پر ہی تمام ہو رہی تھی۔

ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان کھانا کھا کر عشرت اور رہبر صاحب تو اپنے روم میں چلے گئے انہیں کل کے پروگرام کی تیاریاں کرنا تھیں۔ میں اور سارہ باتیں کرنے لگے۔ مجھے تجسس تھا کہ یہاں اسکولوں میں کس طریقے کا نظام تعلیم رائج ہے اور مایا جو کہ ابھی دسویں جماعت ہیں وہ کس قسم کا کورس کرنے آسٹریلیا گئی ہیں۔ سارہ نے بتایا کہ ان کا گریجویشن چل رہا ہے۔ جبکہ مایا ابھی ہائی اسکول میں ہے، یہاں پر چونکہ مادری زبان جرمن ہے لیکن انگریزی زبان اگر بہت اچھی ہے تو آگے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے مایا چھ ماہ کا انگریزی زبان کا کورس کرنے کے لیے آسٹریلیا گئی ہوئی ہے۔ وہاں کا تعلیمی نظام مجھے خاصا متاثر کن لگا ساتھ ہی انگریزی زبان کی مقبولیت کا اندازہ بھی ہوا۔

٭٭٭

ذکر دوستاں اور ذکر ہندوستاں

دوسرے دن صبح فرینکفرٹ سے وحید قمر صاحب پروگرام میں شرکت کی غرض سے تشریف لے آئے تھے۔ عشرت، رہبر صاحب، وحید قمر صاحب اور میرے لیے یہ بڑا خوبصورت وقت تھا کہ ہم عالمی افسانہ فورم کے دوست ایک ساتھ ایک میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ جرمن اسٹائل میں ناشتہ لگایا گیا تھا۔ میں نے ٹیبل کا جائزہ لیا۔ ڈائیننگ ٹیبل پر جو ٹیبل میٹ رکھے گئے تھے وہ ذرا نئی قسم کے تھے چاپنگ بورڈ کی طرح لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تختے نما، براؤن بریڈ، مکھن، چاکلیٹ، ساس وغیرہ۔ اب میرا امتحان تھا کہ جرمن بریڈ میں کس طرح کھاؤں گی؟ سب مزے لے رہے تھے۔

وحید قمر صاحب کا اصرار تھا کہ ناشتے کی شروعات عشرت صاحبہ کریں۔

’’آپ بھی تو مہمان ہیں۔‘‘ میں نے کہا

’’آپ بڑی مہمان ہیں کیوں کہ آپ سمندر پار سے آئی ہیں۔‘‘

بڑی مہمان پر سب ہنس پڑے۔

جرمن بریڈ تھوڑا سخت ہوتی ہے اور اسے پہلے چھری سے کاٹا جاتا ہے۔ چاپنگ بورڈ کی طرح کے چھوٹے چھوٹے میٹ نما تختے رکھنے کا سبب سمجھ میں آ گیا تھا۔ باتوں باتوں میں رہبر صاحب اور وحید قمر صاحب اپنے ملک پاکستان کی باتیں کرنے لگتے جن میں وہاں کی خرابیوں کا بھی ذکر ہونے لگتا تو وحید قمر صاحب فوراً سنبھل کر یہ ضرور کہہ دیتے تھے کہ

’’دشمن ملک کی دوست ہمارے ساتھ بیٹھی ہیں۔ باتوں میں ذرا احتیاط لازمی ہے۔‘‘

آپ احتیاط کی بات کرتے ہیں جناب۔ ہم تو وہ دوست ہیں جو علی سردار جعفری کی بات پر عمل کرنا پسند کرتے ہیں کہ:

گفتگو بند نہ ہو

بات سے بات چلے

صبح تک شام ملاقات چلے

وہ جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہے سنگ دشنام

طنز چھلکائے تو چھلکایا کریں زہر کے جام

تیکھی نظریں ہوں

ترش ابروئے خم دار رہے

گفتگو بند نہ ہو

بات سے بات چلے

’’واہ بھئی بہت خوب‘‘ عشرت نے ستائش کے انداز میں کہا یہ تو وہی نظم ہے نا جب آپ کے یہاں سے سمجھوتہ ایکسپریس چلنے کے وقت کہی گئی تھی۔

’’جی بالکل درست کہا‘‘ میں نے جواب دیا۔

یوں ہلکے پھلکے خوشگوار ماحول میں ناشتہ چلتا رہا۔

ناشتے کے بعد ہم سب ڈرائینگ روم کے صوفوں پر بیٹھ گئے جس کے سامنے شیشے کا دیوار نما دروازہ تھا جو خوبصورت ہلکے رنگوں کے پردوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ پردے ہٹاتے ہی باہر کا منظر سامنے تھا، وہ عشرت کے گھر کا عقبی حصہ تھا جہاں چھوٹا سا باغیچہ تھا، ان دنوں پھولوں کی بہار آئی ہوئی تھی یہ بہار بھی بتا رہی تھی کہ مکینوں کے یہاں خوش مزاجی ہی نہیں خوش رنگی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وحید قمر صاحب کو ہندوستان کے بارے میں جاننے کا اشتیاق تھا وہ مجھے لکھنؤ کے حوالے سے جانتے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ

’’آپ کا وطن لکھنؤ ہی ہے؟‘‘

’’لکھنؤ میرا وطن ہے بھی اور نہیں بھی کیونکہ لکھنؤ سے میرے خاندان کا تعلق ضرور رہا ہے میرے ابا جان کی ممانی یہیں لکھنؤ کی تھیں‘‘

ابا کی ممانی جو میری دادی تھیں۔ بہت اچھی داستان گو تھیں، مجھے میرے بچپن کا زمانہ یاد آ گیا جب گرمی کے موسم میں سر شام چھت پر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا، دن بھر کی تپش سہن کی ہوئی چھت پر جب پانی پڑتا تو وہ پہلے بھاپ کی شکل میں اپنا غصہ ظاہر کرتی، پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبو سے فضا کو معطر کر دیتی، جب زمین پوری ٹھنڈی ہو جاتی تب اس پر صاف شفاف بستر لگائے جاتے، پانی کی صراحیاں رکھ دی جاتیں، کبھی بیلے کے پھولوں کو اس کے ڈھکنوں پر رکھ دیا جاتا تو خوشبو بہتی ہوا کے ساتھ مل کر گنگناتی جسے سن کر شب مالوہ اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ گر ہونے لگتی۔ ذرا اسے کمی لگتی تو چاند کو ہمنوا بنا کر ستاروں کی کہکشاں سے خود کو سجا لیتی۔ جہاں سارا خاندان چھوٹے بڑے بچے بالے بہو بیٹیاں سب جمع ہو جاتے۔ تب دادی سے کہانی کی فرمائش ہوتی اور وہ لکھنؤ کی تہذیب کی نمائندہ دادی جن کے ہر انداز میں نفاست اور نزاکت تھی۔ کسی داستان کو چھیڑ دیتیں۔ دور دیس میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جسے ایک دن ساعت بد میں دیونی اٹھا لے گئی۔۔۔۔

سب خاموش محو حیرت و تجسس کے ساتھ انہیں دیکھتے رہتے، سماعتیں ہر کردار کو پیکر کا رنگ دیتی رہتیں، کب چاند تھک کر بچوں کو نیند کی آغوش میں پہنچا دیتا اور پتہ ہی نہیں چلتا، کہانی آگے بڑھتی چلی جاتی شہزادہ پکارتا چاندنی او چاندنی بال کھول نیچے لٹکا تب میں اوپر آؤں، اور چاندنی کی زلفوں کے سہارے وہ اس تک پہنچ جاتا اور پھر ایک دن وہ شہزادی کو دیونی کے چنگل سے آزاد بھی کرا لیتا۔ رات کا دامن تنگ ہونے لگتا وہ کہتیں بس اب کل۔ نجانے کتنے خواب سننے والوں کی آنکھوں میں سج جاتے جس سے پلکی بوجھل ہو جاتیں اور سب اپنی اپنی جگہوں پر پہنچ محو خواب ہو جاتے۔ دو تین راتوں میں وہ داستان ختم ہو جاتی۔ دادی کی کہانیاں یاد رہ گئیں اور دادی اب خود ایک داستان بن گئی ہیں۔

’’کہاں کھو گئیں ڈاکٹر صاحبہ‘‘ وحید قمر صاحب نے کہا، میں نے چونک کر اپنی بات کو سنبھالا

’’دادی کے بعد ایک طویل عرصے تک ہمارا لکھنؤ سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ دوبارہ اس شہر سے اس وقت سلسلہ جڑا جب میرے بڑے بھائی مظہر محمود کی ملازمت لکھنؤ دور درشن میں ہوئی اور پھر 1912 میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سیٹیلائٹ کیمپس لکھنؤ میں میرا تقرر ہوا۔

’’تو پھر آپ کا وطن؟‘‘

’’میرا وطن تو بڑا تاریخی شہر ہے اجین۔‘‘

اجین یہ نام انہوں نے پہلی بار سنا تھا

’’اس کی کیا خاص تاریخ ہے؟‘‘

’’جناب اس شہر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کا شمار ہندوستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، مذہب، ادب اور امن و آشتی کے حوالے سے یہ اپنی پہچان رکھتا ہے پھر اس کی عظمت راجہ وکرما دتیہ کے نام سے ہے۔ راجہ وکرم اپنی شجاعت، سخاوت اور انسان دوستی، عدل و انصاف کا پیکر۔ انہیں ہمارا داستانوی ادب آج بھی وکرم بیتال اور سنگھاسن بتیسی کے حوالے سے جانتا ہے۔ فورٹ ولیم کالج میں جب داستانوں کے تر جمے کروائے جا رہے تھے تب یہاں کاظم علی جوان اور للو لال جی نے سنگھاسن بتیسی کو بھی اردو کے قالب میں ڈھال کر راجہ وکرم کو امر کر دیا تھا۔

’’یعنی یہ تو ادبی کارناموں کے لیے اپنی بڑی پہچان رکھتا ہے۔‘‘

’’جی قمر صاحب سنسکرت کے عظیم شاعر کالیداس کی جنم بھومی بھی یہی شہر ہے۔ وہی کالیداس جس کے لیے مشہور ہے کہ ایک مرتبہ وہ پیڑ پر چڑھ کر ڈالی کاٹ رہا تھا، لیکن بیٹھا ہوا بھی اسی ڈالی پر تھا۔ نتیجہ تو آپ سوچ ہی سکتے ہیں۔ وہی کالیداس جو یوروپ میں ہندوستان کا شکسپئیر کہلایا۔ اس نے صنف ڈرامہ کو شہرہ آفاق ڈرامہ و کردار شکنتلا دیا۔ جس کا جرمن زبان میں فورسٹر نے 1791 میں اور ہر ڈر نے 1803 میں ترجمہ کیا اور آپ کے گوئٹے صاحب کے یہاں بھی شکنتلا کا ذکر ملتا ہے۔

ہندو عقیدے کے مطابق ایک روایت ہے کہ ان کے بھگوان کرشن نے بھی اجین ہی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ دنیاوی اور مذہبی دونوں علوم کا مرکز یہ شہر رہا ہے۔ اس کی مذہبی اہمیت بھی کم نہیں ہے، یہاں ہندو مذہب کے مطابق ایک بہت بڑا کمبھ کا میلہ جو کہ ہر بارہ سال کے بعد لگتا ہے۔ وہ بھی اس کی پہچان ہے۔

’’وہاں مسلم آبادی کتنی ہے اور ان کی کیا صورتحال ہے؟‘‘

’’18 فیصد مسلم ہیں۔‘‘

’’مسلمانوں کی حالت وہاں ٹھیک ہے؟‘‘

’’جی بالکل، بتایا نا میں نے بہت سکون کا شہر ہے یہاں خواجہ معین الدین چشتیؒ کا مزار ہے، وہ یہاں اسلام کی تبلیغ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے اسی شہر کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہاں ایک یونیورسٹی ہے جو کہ وکرم یونیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ میری تعلیم بی اے، ایم اے سے لے کر بی ایڈ، پی ایچ ڈی سب اسی یونیورسٹی میں ہوئی ہے‘‘

’’ایسا ہے میرا وطن میں نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن میرا تعلق شہر اندور سے بھی ہے کیونکہ وہاں میرا سسرال ہے۔‘‘

’’ارے واہ اندور کو تو ہم جانتے ہیں راحت اندوری وہیں کے ہیں نا؟‘‘

’’جی ہاں راحت اندوری میرے ددھیالی عزیزوں میں سے ہیں۔‘‘

بڑے کمال کے شاعر ہیں، بڑے جرات مند، نڈر اور بے باک، منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔

جب وہ گھن گرج کے ساتھ کہتے ہیں

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

تو یقیناً نفرتوں کی فصیلیں کھڑی کرنے والوں کے دل اس آواز سے کانپ اٹھتے ہوں گے۔

ہماری باتوں کا سلسلہ میرے وطن سے چلتا ہوا پھر لکھنؤ کی طرف آ گیا تھا۔

لکھنؤ کے ذکر میں رہبر صاحب کی خصوصی دلچسپی تھی کیونکہ وہ یہاں آ چکے تھے۔ شہر کو دیکھ چکے تھے۔ تلاش مزار میرؔ میں بھٹکے بھی تھے لیکن وائے ناکامی کہ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے اور زمیں والوں نے ان آسماں صفت لوگوں کی نشانیاں بھی کیسی پامال کیں کہ ڈھونڈے نہیں ملتے ان کے نشاں۔

جی ہاں لکھنؤ تو اب نہیں ملتا۔ بس ملتی ہیں اس کی پر چھائیاں امام باڑوں، عمارتوں، بازاروں میں۔

’’لکھنؤ کیا ہے بس اب تو عمارتوں کا نام ہی لکھنؤ رہ گیا ہے۔ لیکن یہ تو سچ ہے کہ آج بھی جو عمارتیں ہیں داستان سے کم نہیں، بڑے امام باڑے کی ہی تاریخ دیکھ لیں۔ 1784 لکھنؤ کی تاریخ کا تاریک سال تھا جسے لکھنؤ کے نواب آصف الدولہ کی دریا دلی کا یادگار سال بنا دیا۔ قحط سالی نے رعایا کو بھوکوں مار دیا تھا۔ آصف الدولہ اپنی رعایا کی خود داری برقرار رکھنا جانتے تھے، اس کے ہاتھوں میں کشکول نواب کو کسی طور پر منظور نہ تھا اور انہوں نے انوکھی تدبیر نکالی، ایک نایاب امام باڑہ تعمیر کرنے کا حکم دے دیا۔ ماہر معمار کفایت اللہ نے اس کی تعمیر کروائی۔ دن بھر مزدور کام کرتے شام انہیں اجرت مل جاتی۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹ جاتے۔ لیکن رات بھر میں امرائے شہر اسے توڑ دیتے۔ اس طرح دونوں کا بھرم قائم رہا اور یوں دس سال تک اس کی تعمیر کا سلسلہ چلتا رہا۔ امام باڑے کے اندر صرف ایک عمارت نہیں کئی عمارتیں ہیں۔ آصفیہ مسجد، بھول بھلیاں وغیرہ۔

لکھنؤ کی وجہ تسمیہ پر بھی بڑی دلچسپ باتیں ہوئیں۔ رہبر صاحب کا کہنا تھا کہ ’’انگریزی زبان سے اس کا نام ہے۔

تب میں نے بتایا کہ ’’جناب اس شہر کی قدامت کو دیکھئے پھر ان فرنگیوں کی آمد کو، بھلا وہ کیسے لکھنؤ کا نام رکھنے کی جسارت کر سکتے تھے۔ یہ تو اس کی گومتی ندی سے جڑی کہانی ہے کہ ایک وقت تھا جب آج غریب سی نظر آنے والی گومتی کے پاٹ اتنے چوڑے تھے کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حد نگاہ جل ہی جل نظر آتا تھا اور اس میں لاکھ ناویں چلا کرتی تھیں سو اس کا نام لاکھ ناؤ بگڑتا ہوا لکھنؤ میں تبدیل ہو گیا اور انگریزی میں یہ لک ناؤ lucknow بن گیا۔‘‘

’’ہاں آپ نے اپنے ایک افسانے میں اس کا ذکر کیا ہے، اور کئی لوگوں نے کہا تھا کہ پہلی بار لکھنؤ کے نام کی یہ تاریخ معلوم ہوئی۔‘‘

’’جی لیکن آج اس گومتی کے کنارے اتنے سمٹ گئے ہیں یا یہ کہیے کہ اس نے بھی انسان کی بدلتی تہذیب کے ساتھ اپنے دامن کو بھی چھوٹا کر لیا ہے کہ نوابین کے اس شہر کے نام سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ گفتگو کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ سارہ بٹیا چائے بنا لائیں، بہترین سی چائے جو باتوں کا مزا دوبالا کر گئی۔ عشرت بھی ہمارے ساتھ آ چکی تھیں لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ وہ باتیں تو کر رہی ہیں مگر پھر بھی خاموش سی ہیں، کہیں کھو سی جاتی تھیں۔

آؤ چپ کی زبان میں ناصر

اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں۔

والا معاملہ تھا۔ لیکن پھر وہ کچھ دیر میں ایسے شگفتہ انداز میں باتیں کرنے لگیں کہ مجھے اپنے خیال کو وہم سمجھنا پڑا۔

وحید قمر صاحب کی باتوں میں لکھنؤ کو لے کر تجسس تھا کہ کیا لکھنؤ اب بھی ویسا ہی ہے جیسا قرۃ العین حیدر کی تحریروں میں ملتا ہے؟ انہوں نے ان کے ناول ’ آگ کا دریا کا ذکر کیا کہ اس میں انہوں نے لکھنؤ کی جس تہذیب و ثقافت کا ذکر کیا ہے، گلی کوچے دکھائے ہیں ان کی جھلک کیا آج بھی نظر آتی ہے؟‘‘

رہبر صاحب نے کہا ’’ہاں میں نے اس لکھنؤ کو دیکھا ہے، جب میں وہاں گیا تو عمار رضوی صاحب کے یہاں مجھے اس تہذیب کی جھلک نظر آئی تھی۔‘‘

’’جی آپ نے جس تہذیب کو دیکھا ہے وہ بہت کم جگہ نظر آتی ہے۔ جس کا ذکر قرۃ العین حیدر کے یہاں اور دیگر کتابوں میں ملتا رہا ہے، جس کی وجہ سے لکھنؤ کی اپنی خاص پہچان رہی ہے۔ وہ ڈیوڑھیوں پر چراغ جلتا رہے، سہاگ کی چوڑیاں کھنکتی رہیں، دعائیں دینے والے بزرگ نہیں رہے، بلکہ آج کی نسل تو ڈیوڑھی کو ہی نہیں پہچانتی کہ وہ کیا ہوتی ہے؟

’’آنٹی ویسے بتائیے نا کہ ڈیوڑھی کیا ہوتی ہے؟‘‘ سارہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

ڈیوڑھی در اصل یہ سمجھو کہ جس طرح آجکل اپارٹمنٹ میں چوکیدار کے لیے جو چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے جہاں بیٹھ کر وہ آنے والوں کی انٹری کرتا ہے اور پھر مکینوں کو اطلاع دیتا ہے کہ فلاں صاحب یا صاحبہ آپ سے ملنے آئے ہیں، اسی طرح حویلی میں داخل ہونے سے پہلے صدر دروازے پر چھوٹا سا احاطہ ہوا کرتا تھا جس میں ایک چراغ سر شام روشن ہوتا تھا جو کہ اس حویلی میں زندگی کی علامت بھی ہوا کرتا تھا وہاں گھر کا سب سے معتبر نوکر یا نوکرانی موجود رہتے تھے جو آنے والوں کا خیر مقدم کیا کرتے تھے۔‘‘

’’آنٹی آپ نے کوئی ڈیوڑھی دیکھی ہے؟‘‘

’’ہاں سارہ جس وقت میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہی تھی تب میرا لکھنؤ آنا ہوا تھا اور میں نے فرنگی محل میں ہی قیام کیا تھا تب وہاں ڈیوڑھی تھی۔ لیکن اب وہ بھی وہاں نہیں رہی کیونکہ فرنگی محل بھی اپنے ورثاء میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور وہ لوگ اب جدید طرز کے مکانات تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘

’’فرنگی محل کیا انگریزوں کا محل تھا؟‘‘ سارہ کی دلچسپی مزید بڑھ گئی۔

’’نہیں یہ انگریزوں کا محل نہیں تھا بلکہ یہ ایک فرنگی تاجر کی ملکیت تھی۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں موجودہ لکھنؤ کی آباد کاری شروع ہو چکی تھی اور یہ شہر تجارت کا مرکز بن گیا تھا۔ اس زمانے میں ایک فرانسیسی تاجر یہاں آیا اور حکومت مغلیہ سے پروانہ اقامت حاصل کر کے چوک سے متصل قیام کیا تھا۔ وہ گھوڑوں کا تاجر تھا اور بہت جلد اس نے تجارت میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ غالباً تین چار مکانات ملحق کر کے ایک کوٹھی نما شکل دے دی تھی اور اسی حویلی میں وہ رہا کرتا تھا۔ حویلی کا نام فرنگی محل اس نے خود رکھا تھا۔ اسی نام سے کوٹھی موسوم ہو گئی تھی۔ اس تاجر کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد حکومت نے اس تاجر کی املاک ضبط کر لی تھیں اور جب اپنے وقت کے بہت معتبر مولانا قطب الدین سہالی کو مقامی جاگیرداروں نے قتل کر دیا تب اورنگ زیب نے بطور تلافی فرنگی محل ان کے خاندان کو رہائش کے لیے دے دیا تھا۔ حیات اللہ انصاری اسی خاندان کے وارثین میں سے ہیں۔ اس لیے میرا فرنگی محل جانا ہوا تھا، آج بھی وہ جگہ موجود ہے اور وہاں پر حیات اللہ انصاری کے نام پر مدرسہ حیات العلوم ان کی بہو شہناز سدرت نے قائم کیا ہوا ہے۔ لیکن اس کی عمارت جدید طرز کی ہی ہے۔

پھر تو تہذیب بھی مٹ ہی گئی ہو گی؟ سوال کیا

جی ہاں وہیں کے ایک شاعر ہارون رشید صاحب نے اس کا نوحہ کچھ یوں بیان کیا ہے

بدل رہا ہے لکھنؤ بھی آج اپنا پیرہن

وہ پہلے آپ کی یہاں نشانیاں نہیں رہیں

جدید طرز کے مکانوں کا ہے ایک سلسلہ

حویلیاں وہ بام و در وہ برجیاں نہیں رہیں

ویسے بدلتے وقت نے یا یہ کہیے کہ اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو یہ تہذیب تو اسی وقت زوال پذیر ہونے لگی تھی جب انگریزوں کا تسلط اودھ پر ہو گیا تھا۔ واجد علی شاہ اپنے منصب سے معطل کر دئیے گئے تھے اور انہوں نے لندن جانے کے لیے کلکتہ کی جانب اپنا رخت سفر باندھ لیا تھا۔ آزادی کے بعد تو نئی تہذیب و تمدن نے اپنے پیر پوری طرح پھیلا لیے، طرز زندگی ہی بدل گیا لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں خال خال ہی سہی، چنندہ گھرانوں میں ہی سہی اس کا نظارہ دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے، وہ آداب و اطوار، وہ وضع، وہ انداز گفتگو، وہ رکھ رکھاؤ۔‘‘

’’لکھنؤ تو اردو کا مرکز رہا ہے کیا اب بھی وہاں ادبی محفلیں سجتی ہیں؟‘‘ وحید قمر صاحب نے سوال کیا

’’جی ہاں ادبی محفلیں خوب سجتی ہیں، مشاعرے تو آج بھی لکھنؤ کی پہچان ہیں، اور ادب کا فروغ بھی خوب ہو رہا ہے، سیمینارز اور دیگر ادبی پروگرامز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔‘‘

باتوں سے باتیں نکلتی چلی جا رہی تھیں بقول ندا فاضلی ’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ سلسلہ اور آگے بڑھتا کہ رہبر صاحب نے گھڑی کی طرف دیکھا، وقت کافی ہو گیا تھا عشرت کھانا لگانے اٹھ کھڑی ہوئیں، یوں ایک اچھی سی محفل برخاست ہوئی۔

٭٭٭

سر سید تقریب

آج وہ تقریب تھی جس کے لیے مجھے یہاں مدعو کیا گیا تھا۔ اردو انجمن برلن جس کا قیام 1996 میں عارف نقوی صاحب کی سر پرستی میں عمل میں آیا۔ عارف نقوی صاحب نے اپنے چند ہم خیال احباب جن میں ڈاکٹر بٹنیا رو بوتکا، کشور مصطفیٰ، فضل اختر، ناصر علی خان، مستعین خان وغیرہ کے ساتھ مل کر اردو انجمن برلن قائم کی اور۔ ان احباب نے مل کر اس کا لائحہ عمل تیار کیا، بعد میں اس کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب بھی اس کاروان میں شامل ہو گئے۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ اردو زبان کے حسن اور پیغامات کو جرمن عوام تک پہنچایا جائے۔ اسی خیال کے تحت اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام لا تعداد تقاریب کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ انجمن کسی خاص مذہب اور قومیت تک محدود نہیں ہے اسی وجہ سے اس میں ہر مذہب و ملت اور قومیت کے دانشوران شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس انجمن نے اپنا پہلا پروگرام ’یاد غالب‘ کے نام سے کیا اور پھر تو سلسلہ چل پڑا اردو سے وابستہ تقاریب کا جن میں یوم بہادر شاہ، یوم کیفی، یوم فراق، کے ایم اشرف، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر علیم، فیض کی صد سالہ سالگرہ، پروفیسر احتشام حسین، سعادت حسن منٹو، اسرار الحق مجاز کی یاد، سردار جعفری کی صد سالہ تقریب، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں تقریبات وغیرہ منائی گئیں۔ جن میں مختلف ممالک سے ادباء و دانشوران شرکت کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے پروفیسر مظفر حنفی، پروفیسر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر خالد جاوید، پروفیسر راجم پلے، عمار رضوی صاحب وغیرہ تو پاکستان سے فتح محمد ملک، راحت سعید، مبشر زیدی اور قائم خانی وغیرہ۔ ہندوستانی پاکستانی ادیبوں کے علاوہ جرمن، ہندی، پنجابی، بنگالی، فارسی کے دانشور اور شعرا بھی اس بینر تلے تشریف لا چکے ہیں۔

آج ہم بھی اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ جس طرف ہم سے پہلے وحید قمر صاحب اور رہبر صاحب پروگرام ہال کے انتظامات دیکھنے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ہال کے انتظام میں بینر لگانے سے لے کر مہمانوں کی ضیافت کا سامان ترتیب دینا تک شامل تھا۔ ہم لوگ خواجہ ذوالقرنین صاحب کے ساتھ تین بجے کے قریب روانہ ہوئے تاکہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچ جائیں۔ خواجہ ذوالقرنین صاحب عشرت اور رہبر صاحب کے خاندانی دوست تھے جو کہ ایک عرصے سے برلن میں مقیم تھے۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں سوئے اتفاق ان کی بیگم اور بچے ان دنوں پاکستان گئے ہوئے تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا بڑا ملال رہا کیونکہ عشرت جس محبت سے ان کا ذکر کر رہی تھیں وہ بتا رہا تھا کہ دیار غیر کے رشتے کتنی مضبوط ڈور سے بندھے ہوتے ہیں۔ راستے میں خواجہ صاحب نے ایک پھول والے کے یہاں سے مہمانان کے لیے بڑے خوبصورت گلدستے خریدے۔ اب ہم برلن کی سیر کر تے ہوئے برلن کے ضلع شونے برگ کی طرف گامزن تھے۔ شونے برگ یعنی ’’خوبصورت پہاڑ‘‘ لیکن مجھے وہ علاقہ پہاڑ پر بسا ہوا تو نہیں لگ رہا تھا، راستے کا سبزہ، کشادہ سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں اور ان کے رنگ بتا رہے تھے کہ ترقی یافتہ ملک کیسے ہوتے ہیں، لوگوں کا اژدہام مفقود سب اپنی اپنی راہوں کے مسافر منزلوں کی طرف گامزن، رفتار تیز تر زندگی کی بھی اور گاڑیوں کی بھی کیونکہ ٹریفک نظام لائق تحسین تھا۔ پیدل چلنے والے مجال ہے جو ایک قدم بھی اپنی لین سے باہر نکالیں، ویسے ہی گاڑیاں بھی اپنی رفتار اور سائیڈ سے ذرا سا بھی انحراف گناہ عظیم سمجھتے ہوئے رواں تھیں اور میں سوچ رہی تھی ایسا ڈسپلن تو ہمارے یہاں چھبیس جنوری کی پریڈ میں ہی نظر آتا ہے۔

پروگرام ہال جس کا نام ’پلاسٹ‘ تھا اس کا اردو ترجمہ ’محل‘ ہوتا ہے، کے دروازے پر مشفق مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے لکھنؤ کی وہ ہستی کھڑی تھیں جنہوں نے جرمنی میں بطور خاص اس کے دار الخلافہ برلن میں اردو کی جوت جگائی تھی۔ جرمنوں کو اردو کی شیرینی سے واقف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جی ہاں عارف نقوی صاحب موجود تھے۔ گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے خیریت پوچھی۔ ان سے باتیں کرتے ہوئے ہم ہال میں اندر داخل ہوئے۔ بڑا سا ہال تھا، جس میں داخل ہوتے ہی باہر والی ٹھنڈک ہلکی گرماہٹ میں تبدیل ہوتی محسوس ہوئی۔ اندر دائیں جانب گرم کوٹ ٹانگنے کے لیے اسٹینڈ رکھے ہوئے تھے جس پر مہمانان کے کوٹ ٹنگے ہوئے تھے۔ سامنے خوبصورت پھولوں سے سجا اسٹیج تھا۔ نیچے حاضرین کی نشستیں تھیں، جن پر اردو کے شائقین ہندوستانی، پاکستانی اور جرمن ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر یک گونہ خوشی کا احساس ہوا۔ اس ملک میں اردو کی محبت اور پھر اس کے اظہار کے لیے یہاں جمع ہونا، حیرت انگیز بات تھی۔ جنہیں میں نے دل کے ایک اچھے سے گوشے میں یادوں کی پوٹلی میں چھپا لیا۔

اسٹیج روشن ہوا۔ ایک بڑے پردے پر سر سید نظر آنے لگے۔

پروگرام میں پہلے سر سید پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جسے انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب نے تیار کیا تھا۔ دستاویزی فلم میں سر سید کی زندگی کے مختلف رنگوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس دور کی زبوں حالی اور اس سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ان کی انتھک محنتوں اور خدمات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان کے بارے میں اہم شخصیتوں کے خیالات و تاثرات کو بھی پیش کیا گیا تھا۔ اب فضا پوری طرح سر سید کے نظریات و خیالات اور ان کی خدمات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہو چکی تھی کہ بنگالی گلو کار دھیرج رائے کی خوبصورت آواز نے ہارمونیم کے تار چھیڑتے ہوئے سماں مزید خوبصورت بنا دیا تھا۔ انہوں نے چند گیت پیش کیے جس کے بعد پروگرام شروع ہونے کا اعلان کیا۔ انور ظہیر رہبر صاحب نے اردو میں اور مس جاریہ نے جرمن زبان میں نظامت کی۔ صدارت کے لیے عارف نقوی صاحب کو پھر وحید قمر صاحب کو اور بلجیم کی راجدھانی بروسلز سے تشریف لائے جیو ٹی وی کے بیورو چیف انچارج و ڈائریکٹر جناب خالد حمید فاروقی صاحب اور مجھے شہ نشین پر آنے کے لیے دعوت دی، میں نے آہستہ روی سے اپنے قدم شہ نشین کی طرف بڑھائے کہ یہ میری زندگی کے بہت ہی اہم ترین قدم تھے، وہ چھوٹی چھوٹی تین سیڑھیاں مجھے ایک نئی منزل کی طرف لے جا رہی تھیں، میں اپنے قدم سہج سہج کر رکھ رہی تھی ایک احساس خوشی کا جسے الفاظ کا پیرہن عطا کرنا نا ممکن ہے۔

الفاظ میں آتی ہے کہاں کیفیت دل

محسوس جو ہوتا ہے بتایا نہیں جاتا

ویسے تو میں دعوت نامے کے موصول ہونے سے لے کر یہاں تک پہنچنے اور ایک ان دیکھے خواب کی تعبیر پر ہی حیران اور مسرتوں کے جذبوں سے سرشار تھی۔ ساتھ ہی زندگی کی اس عطا پر خوش بھی تھی، شکر گزار بھی تھی اپنے رب کی، اپنے والدین کی کہ جن کی کاوشوں، جن کی تربیت نے مجھے اس مقام تک پہنچایا تھا، چند ثانیے تک مجھ پر اداسی کی کیفیت بھی چھائی۔ اپنے ابا کو یاد کر کے کہ آج وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے۔ اللہ مغفرت کرے میرے ابا کی۔ شکریہ کے جذبات ان کے لیے بھی موجزن تھے جن کی وجہ سے میں آج وہاں تھی، ہاں بھئی وہی میری عزیز ترین میری نیم ہم نام عشرت اور ان کے شوہر نامدار انور ظہیر رہبر صاحب کے لیے۔

عارف نقوی صاحب کی صدارت میں پروگرام کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں نہ صرف ہندوستانی اور پاکستانی لوگ تھے بلکہ وہ جرمن بھی تھے جو اردو سیکھ رہے ہیں اور جو اردو نہیں جانتے ہیں وہ بھی یہاں موجود تھے۔

اور میرے خیال میں یہ بات قابل غور ہے کہ سائنسدانوں کا یہ ملک ادبی ذوق میں بھی کتنا آگے ہے۔

پروگرام کے حاضرین کو ذو لسانی نظامت نے باندھے رکھا تھا، پروگرام کا آغاز روایتی انداز میں ہوا مہمانان کا استقبال خوبصورت مہکتے پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا، جس وقت صدر عارف نقوی صاحب اور نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب نے مجھے ’ آنر آف اردو انجمن‘‘ برلن کا سرٹیفکٹ اور مومنٹو دیا اسے لیتے ہوئے پھر مسرتوں کی یلغار تھی، بے انتہا خوشی جنہیں کیمرہ مین چابکدستی سے کیمرے میں قید کر رہے تھے۔

محترم ظہور احمد صاحب کو، جو ایک انٹرنیٹ اخبار بھی چلاتے ہیں اور ایک اچھے فوٹوگرافر بھی ہیں۔ ان کو فخر اردو انجمن کے اعزاز سے نوازا گیا۔

پروگرام کے دوسرے مرحلہ کتب کے اجرا کا تھا، جس میں عارف نقوی صاحب کی کتاب ’راہِ الفت میں گامزن‘ کی رسم اجراء ناچیز کے ہاتھوں انجام پائی۔ جس پر محترمہ عشرت معین سیما نے مقالہ پڑھا، کتاب پر تبصرے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی صاحب کی اردو انجمن سے جذباتی اور عملی وابستگی کو بھی بیان کیا۔ دوسری کتاب ڈاکٹر عشرت معین سیما کا شعری مجموعہ ’جنگل میں قندیل‘ تھی، جس کی رسمِ اجراء محترم خالد حمید فاروقی نے ادا کی، عشرت کا شمار نئی نسل کی اہم شاعرہ کے طور پر کیا جاتا ہے ان کے اس مجموعے سے پہلے ایک افسانوی مجموعہ اور سفر نامہ منظر عام پر اچکے ہیں۔ تیسری کتاب میری دوست ڈاکٹر ریشماں پروین ایسوسیٹ پروفیسر کھن کھن جی گرلز کالج، لکھنؤ کی پروفیسر شمیم نکہت پر مرتب کی ہوئی ’’تاثر و تنقید‘‘ تھی، جسے میں پروفیسر شارب رودولوی صاحب سے بطور خاص لے کر گئی تھی، کا اجراء وحید قمر صاحب نے کیا۔ میری کتاب ’’حیات اللہ انصاری شخصیت اور ادبی کارنامے‘‘ کا اجرا بھی اسی محفل میں تالیوں کی گونج میں انجمن کے نائب صدر انور ظہیر صاحب کے ہاتھوں ہوا۔

میری کتاب کے اجرا پر صدر محترم عارف نقوی صاحب نے کہا کہ "’حیات اللہ انصاری۔ شخصیت اور ادبی کارنامے‘۔ مجھے ان کی کتاب دیکھ کر روحانی خوشی ہوئی، اس لئے ہی نہیں کہ یہ میری ہم وطن ناہید صاحبہ نے لکھی ہے بلکہ ایک ایسی اہم شخصیت کے بارے میں لکھی ہے جس کی میں بہت قدر کرتا ہوں۔ میں حیات اللہ انصاری اور ان کی اہلیہ سے ذاتی طور سے اچھی طرح واقف تھا۔ دیکھنے میں وہ دونوں نہایت ہی سیدھے سادے، محبت اور خلوص سے بھر پور، شرافت کا مجسمہ تھے۔ وہ اردو کی بقا اور فروغ کے لئے بہت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ جس وقت بہت سے اردو کے ادیب مایوسی کا اظہار کر رہے تھے۔ حیات اللہ انصاری اور ان کی بیگم اردو کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ حیات صاحب بہت ہی اچھے افسانہ نگار بھی تھے اور ان کے مقالے بے مثال تھے۔ روزنامہ قومی آواز لکھنؤ، جس کے وہ چیف ایڈیٹر تھے، اس میں ان کے اداریے ہم نوجوانوں ہی نہیں، بلکہ بہت سے لوگوں کی رہنمائی کے لائق تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔ غرضیکہ ہزاروں خوبیوں کے مالک تھے۔، مجھے وہ دن بھی یاد آ گیا جب وہ لکھنؤ میں آل انڈیا ہندی اردو سنگم کے ایک جلسے میں میری ایک کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر بھی بولنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ بہت سے لوگ اس بات کو بھول گئے ہوں گے کہ حیات اللہ انصاری مغربی برلن اور مشرقی برلن میں بھی آ چکے ہیں۔ بہر حال عشرت ناہید صاحبہ قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اس اہم شخصیت کی زندگی کو کتاب میں سمو دیا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں۔”

استقبال اور اجرا کے بعد سب سے پہلے بروسلز سے تشریف لائے محترم خالد حمید فاروقی صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی انہوں نے سر سید کے حالات کو بیان کیا۔

وحید قمر صاحب نے سر سید کے تعلیمی نظریات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جسے شائقین ادب نے پسند کیا۔

جب مجھے بولنے کے لیے مدعو کیا گیا تو میں تو شدت جذبات سے مغلوب تھی، کچھ لمحے مجھے خود پر قابو پانے میں لگے، پھر صدر محترم اور شہ نشین پر تشریف فرما حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہنا شروع کیا۔

‘‘پروگرام کی صدارت فرما رہے محترم عارف نقوی صاحب

شہ نشیں پر جلوہ افروز محترم خالد حمید صاحب محترم وحید قمر صاحب، اعلیٰ ادبی ذوق کے حامل معزز حاضرین اکرام!

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ زندگی میں ایسے مواقع آ جاتے ہیں کہ جب جذبات و خیالات میں تلاطم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے شدت جذبات کے سامنے الفاظ بے معنی ہونے لگتے ہیں مسرت کے لمحے مغلوب کرنے لگتے ہیں تو پھر۔۔۔

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب سینے کے اندر متلاطم ہوں خیالات

کچھ ایسی ہی حالت سے اس وقت میں دوچار ہوں۔ بے حد خوشی ہے مجھے آپ سب کے درمیان اپنے آپ کو پا کر۔

شکر اس رب عظیم کا اس تخلیق کار کا جس نے ثقافت، سائنس، جدید فنون اور حروف سازندوں کے شہر میں مجھے پہنچایا۔ شکر رب کا یوں بھی کہ یہاں پہنچنے کا ذریعہ بنایا عشرت معین سیما کو، رہبر صاحب اور عارف نقوی صاحب کو۔

مجھے یہاں اس ہال میں ادب و ثقافت اور سنہری تہذیب سے جڑی ان ہستیوں میں سر سید احمد خاں کا وہ ویژن دکھائی دے رہا ہے جو سر سید نے ادب کے اسٹیج سے یا یوں کہیے کہ تہذیب الاخلاق کے صفحات سے سائنٹفک سوسائٹی کی شروعات کر کے دیا تھا جس کے ذریعے مسلمانوں کے کردار میں انقلابی تبدیلی لا کر ان کی سوچ و فکر کو نیا آسمان عطا کر دیا تھا۔ اقرا کی اہمیت کو جس طرح سر سید نے سمجھا تھا جس جنون کے ساتھ جدید نصاب تعلیم سے قوم کے نام نئی روشنی کی کرنیں لکھی تھیں، کچھ اسی طرح کا کام آپ سب یہاں کر رہے ہیں۔ آپ نے دیار غیر میں اردو کا ایک ایسا چراغ فروزاں کیا ہے جس کی تابانی اس کے بنیادی مراکز ہندوستان اور پاکستان کو بھی آج جلا بخش رہی ہے۔ اس کی ضیا ضامن ہے اس بات کی کہ اس قندیل کو یہاں روشن کرنے والی شخصیتیں اپنے آپ میں خود ایک انجمن کا سا کردار رکھتی ہیں۔

انجمن اردو برلن سے تھوڑا بہت غائبانہ تعارف کا موقع گاہے بہ گاہے مجھے ملتا رہتا تھا اس وقت جب انجمن کے صدر عارف نقوی صاحب لکھنؤ تشریف لاتے تھے۔ ان کی کتابوں کا اجرا ہوتا یا ان کی آمد کی خوشی میں کسی ادبی تقریب کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن انجمن سے صحیح طور پر متعارف ہونے کا موقع 3 مئی 2016ء کو اس وقت ملا جب تنظیم کے نائب صدر محترم انور ظہیر رہبر صاحب ایک کانفرنس میں لکھنؤ تشریف لائے اور انہوں نے وہاں ایک فلم کے ذریعے انجمن کی بیس سالہ کار کردگیوں سے واقف کروایا۔

میں اس موقع پر انجمن کے صدر عارف نقوی صاحب کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض عین سمجھتی ہوں کہ انہوں نے مجھے اس پروگرام میں شرکت کا موقع عنایت کیا۔

میں بطور خاص انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی ممنون ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے یہاں آنے کی پر زور دعوت دی بلکہ اپنے نام کے مصداق ہر وقت اس ضمن میں میری رہبری بھی فرماتے رہے۔

میری میزبان میری دوست، خلوص کا پیکر، نرمی و حلاوت کی مظہر عزیز از جان عشرت کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کیونکہ جب کبھی احساسات حاوی ہوتے ہیں تو یہ الفاظ ساتھ چھوڑ کر دور جا کھڑے ہوتے ہیں۔ میری چھوٹی سی پیاری سی میزبان سارہ کا بھی شکریہ، بہت محبتیں۔

ساتھ ہی اظہار مسرت آپ تمام اہل جرمن کے لیے بھی کہ آپ سب نے یہاں تشریف لا کر نہ صرف اردو دوستی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ آپ کے اس خلوص اس بھائی چارے کے جذبے نے پورے عالم کو ایک امن کا پیغام بھی دیا ہے جس کی اس وقت انتہائی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ ہم بلا تفریق مذہب و ملت ملک و زبان ایک جگہ جمع ہیں۔

اس موقع پر میں صمیم قلب سے اظہار ممنونیت پیش کرتی ہوں اپنی یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم اسلم پرویز صاحب کے لیے جنہوں نے مجھے یہاں آنے کا اجازت نامہ نیک خواہشات کے ساتھ مرحمت فرمایا اور یونیورسٹی کی جانب سے نمائندگی کرنے کا موقع عنایت کیا۔

شکر گزار ہوں حکومت ہند اور حکومت جرمنی کی بھی کہ ویزہ دیا جو کہ وسیلہ بنا آپ کی اور ہماری ملاقات کا۔ معزز حاضرین رسم تشکر کے بعد سر سید کی دوسری صد سالہ تقریب کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش ہوئے میں ان کی شخصیت کی طرف آتی ہوں۔ میرے مقالے کا عنوان ہے ’’سر سید کے چند خواب‘‘

میری خوش بختی کہ میرے مقالے کو بھی پسند کیا گیا اور ادائیگی کو بھی۔ میرے مقالے کے بعد ناظم پروگرام نے جب یہ کہا کہ ایک خاتون جو کہ جرمن ہیں، ابھی اردو سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہیں، وہ بھی اس پروگرام میں تشریف لائی ہوئی ہیں، وہ جانا چاہ رہی تھیں لیکن ہماری مہمان کی آواز کے سحر نے انہیں یوں گرفتار کر لیا کہ انہوں نے مجھے میسیج کیا کہ میں جانا چاہ رہی تھی لیکن یہ جو خاتون بول رہی ہیں ان کی باتیں تو میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں لیکن ان کا بولنے کا جو انداز ہے وہ اتنا اچھا ہے کہ میں انہیں سننے کے لیے رکی ہوئی ہوں۔ ہال میں تالیوں کی گڑگڑاہٹ نے ان کے اس کمنٹ کی تائید کر ڈالی۔

میرے مقالے کا جرمن زبان میں ترجمہ عارف نقوی صاحب کی صاحب زادی نرگس نے بڑے اچھے انداز میں پڑھا۔ جس سے اہل جرمن زبان خاصے محظوظ ہوئے۔ میرا مقالہ بھی اس کتاب میں موجود ہے۔

پروگرام کے صدر عارف نقوی صاحب نے اردو انجمن برلن کا پورا تعارف کراتے ہوئے اس کی سر گرمیوں کا ذکر کیا، اسی دوران ہی ڈاکٹر صغیر افراہیم صاحب کی کال آئی اور انہوں نے فون پر ہی تمام حاضرین کو مخاطب کر کے اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔ اس پروگرام میں پروفیسر صغیر افراہیم صاحب ان کی اہلیہ سیما صغیر صاحبہ اور میرٹھ سے پروفیسر اسلم جمشید پوری صاحب تشریف لانے والے تھے لیکن پروفیسر صغیر افراہیم صاحب سیما صغیر صاحبہ کی علالت کی وجہ سے اور اسلم جمشید پوری صاحب بروقت ویزہ نہ مل پانے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے تھے۔

اس پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرہ تھا۔ جس میں ناچیز کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ مشاعرے کی شاندار نظامت ڈاکٹر عشرت معین سیما نے کی۔ جس میں عارف نقوی صاحب، علی حیدر وفا، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر، سرور غزالی، امرین سلیم، محمد ارشاد، ہندی کی شاعرہ سوشیلا شرما اور پنجابی کی پرم جیت کور نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ شعراء کے مقابلے میں شاعرات کی تعداد زیادہ تھی۔ جو ان کے ادبی ذوق کی غماز تھی، ان کے شعری کاوشیں لائق داد تھیں۔ غزل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف اردو میں ہندی میں، بلکہ پنجابی میں بھی غزلیں سنائی گئیں اور پسند کی گئیں۔

یو این آئی کے دہلی کے نمائندے عابد انور صاحب نے اس خبر کی رپورٹنگ کی جسے ہندوستان کے تمام اردو اخبارات نے ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے اخبارات نے بھی اہمیت دی۔ جس کا اندازہ مجھے میری ایک مشفق دوست کوثر بیگ صاحبہ جو کہ جدہ میں مقیم ہیں، کی پوسٹ سے ہوا انہوں نے لکھا تھا کہ عشرت کے جرمنی جانے اور کانفرنس میں شرکت کرنے کی خبر جدہ کے ایک اخبار سے ملی۔

پروگرام کے ختم ہونے پر سلسلہ تھا ملاقاتوں کا۔ ہم وطن تو ہم وطن تھے یوں خلوص سے ملے کہ شدید احساس ہوا کہ یہ دیار غیر بھی کیا ہے، یہ ہجرتیں بھی کیسی محبتوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ ہجرتیں بھی تو کئی طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک تو وہی تھی جس کی وجہ سے یہ تمام لوگ جر منی میں رہائش پذیر تھے یعنی مسئلہ معاش۔ لیکن ایک ہجرت وہ بھی تو ہوتی ہے نا کہ ہم کہیں نا جائیں اور پھر بھی اپنے وطن وہاں کی گلیوں میں گھوم آئیں۔ علی حیدر وفا سے ملاقات کے وقت جس محبت سے انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بھی اتر پردیش کے امروہہ سے ہے، ان کی آنکھوں کی چمک نے مجھے اسی ہجرت کا احساس ہی نہیں کروا دیا بلکہ اس چمک میں ہی کہیں ایک جھلک اس ہجرت کے تمام درد کو عیاں بھی کر گئی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک انجینئیر ہیں لیکن مزاج کے اعتبار سے شاعر۔ علی حیدر وفا صاحب بزم ادب برلن کے صدر ہیں۔

وہیں ملاقات ہوئی بالی ووڈ ہالی ووڈ اور جرمن فلموں کے اداکار جناب ارشاد پنجتن صاحب سے۔ ارشاد پنجتن صاحب کی جائے پیدائش حیدرآباد ہے۔ مائم آرٹسٹ بننے کا جنون انہیں حیدرآباد سے دہلی اور پھر جرمنی لے آیا تھا۔ جہاں انہوں نے اپنی اداکاری کا لوہا منواتے ہوئے مینی تاز شو، فری رینر جیسی فلمیں کیں۔ جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کتاب زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے ہندوستان تھیٹر کا ذکر چھیڑ دیا کہ ہندوستان تھیٹر جو کہ قدسیہ زیدی کا قائم کردہ گروپ تھا اسی نے مجھے اپنے فن کے مظاہرے کا نہ صرف موقع دیا تھا بلکہ وہیں سے میری پہچان بھی قائم ہوئی تھی۔ پھر یادوں کے جزیروں کی سیر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس گروپ کو جوائن کرنے سے پہلے انہوں نے دہلی میں کتھک رقص کی با قاعدہ ٹریننگ بھی اس زمانے کے مشہور و معروف رقص کے ماہر استاد رگھو ون نائر اور نریندر شرما سے لی تھی اور یہ نریندر شرما جناب اودے شنکر جی کے شاگرد تھے، اپنے استاد کے ذکر نے ان کے لہجے کو فخر کا انداز دے دیا تھا آواز میں عقیدت و نیاز مندی جھلکنے لگی تھی۔ مجھے بے اختیار کبیر کا دوہا یاد آیا کہ

’گرو گووند دوؤ کھڑے کا کے لاگوں پاؤں

بلیہاری گرو آپ کی گووند دیو بتائے

استاد کو جب ایسے شاگرد مل جاتے ہیں تو ان کی عمر بھر کی ریاضتوں کا صلہ مل جاتا ہے۔

مائم آرٹ اداکاری کی وہ قسم ہے جس میں بنا کسی مکالمے کے خاموش اداکاری کے ذریعے پوری کہانی بیان کر دی جاتی ہے۔ اس میں چہرے پر سفید پینٹ لگا دیا جاتا ہے اور پر اثر میک اپ کر کے آرٹسٹ کو اسٹیج پر اتار دیا جاتا ہے جہاں وہ خاموش داستان بیان کرتا ہے۔ ان کے فن کو یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ارشاد پنجتن نے اپنا آخری سولو مائم اپنے وطن حیدرآباد میں ’واک آف لائف‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔

ارشاد صاحب کی شخصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ رقص اور موسیقی کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا کہ یہ دنیا بھی کتنی اچھی ہوتی ہے فن کار زبان سے کچھ نہ کہے لیکن حساس دلوں کے تار یوں چھیڑ دے کہ حاضرین اس کے سروں میں خود کو ڈھلا محسوس کرنے لگیں۔ اسی کی داستان کا حصہ بن جائیں۔ رقص و موسیقی کا ادب سے گہرا تعلق ویسے تو ڈرامے میں نظر آتا ہے لیکن فن کار تو فن کار ہوتے ہیں انہوں نے کیسے کیسے فن کے مظاہرے کیے ہیں، کتھا کلی کی معروف رقاصہ مایا کرشنا راؤ نے منٹو کے افسانے ’کھول دو‘ کو تنہا رقص کے ذریعے پیش کیا۔ اس مظاہرے کے ذریعے پہلی بار رقص، تھیئٹر، ڈرامہ اور اداکاری کو کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے سے مدغم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جو کہ کامیاب کوشش رہی۔

در اصل برلن میں جتنی بھی ہستیوں سے اس وقت ملاقات ہو رہی تھی سب ہی نابغہ روزگار شخصیات تھیں۔ وہ لوگ وہاں اپنی ایک مثبت شناخت کے ساتھ اپنے آپ کو منوا رہے تھے، چاہے وہ ہندوستانی ہوں یا پاکستانی۔

ٹی ایس فوڈ کے تاجر جناب طارق محمود اور سہیل انور صاحب جو کہ جرمنوں کو پاکستانی مسالوں کی خوشبو اور ذائقوں سے محظوظ کروا رہے ہیں۔ محفل میں موجود تھے۔ تو وہیں دیسی دھوم ریڈیو کے اردو پروگرامز کے روح رواں جناب توصیف نعمان صاحب بھی تھے۔ جنہوں نے دیسی دھوم کے لیے انٹرویو کی پیشکش کی جسے ہم نے بھی محبت کے ساتھ قبول کیا۔ در اصل یہ جو میری دوست ہیں نا عشرت، انہوں نے میرا سارا پروگرام طے کیا ہوا تھا کہ مجھے کب کہاں لے جائیں گی کہاں کی سیر کروائیں گی۔ ان کی محبتیں تو مجھے ہر پل مقروض کیے ہوئے تھیں۔

جب عشرت نے میرا تعارف سوشیلا جی سے کروایا تو انہوں نے بڑے پیار سے گلے لگایا۔ موصوفہ اردو ہی نہیں ہندی ادب کی شمع کو بھی وہاں روشن کیے ہوئے تھیں۔ جمشید پور کے رزاق صاحب جو کہ اسلامی جماعت کے رکن تھے موجود تھے، آفتاب صاحب، امرت کور صاحبہ اور بھی کئی لوگ ملے اور دل میں گھر کر گئے۔

سب سے ملاقات کرتے ہوئے جب ہم ہال سے نکلے ہیں تقریباً ۸ بج چکے تھے۔ وہاں سے ہم سب کو ایک شاندار ریسٹورینٹ شیزان میں لے جایا گیا جو کہ منسٹری آف فارن آفس کے قریب، ٹیلٹوا کینال کے کنارے پر تھا، ٹیلٹوا کنال پورے برلن سے گزرتی ہے۔ یہ کنال عشرت کے گھر کے قریب سے شروع ہوتی ہے اور پورے شہر میں گھومتی ہے۔ برلن مڈل (برلن مٹے) Berlin Mitte میں واقع اس ریسٹورینٹ شیزان کے مالک محمد عمر صاحب جو کہ پاکستانی ہیں، اس انجمن کو تعاون کرتے ہیں۔ ریسٹورنٹ بڑا ہی نفاست والا خوبصورت سا تھا۔ کھانے میں قورما، دال، سبزی، چاول سلاد تناول کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر گفتگو کبھی سنجیدہ رہی تو کبھی شگفتہ، گپ شپ کرتے ہوئے میری نظر سامنے کی الماریوں پر پڑی تو وہاں مختلف رنگوں اور خوبصورت بوتلوں میں سجی دھجی انگور کی ایک بیٹی نہیں کئی بیٹیوں کو موجود پایا، بلوریں گلاسوں سے سجی ٹیبل بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی، لیکن چونکہ ریسٹورنٹ کا وہ حصہ ہمارے لیے محفوظ تھا اس لیے دوسرے صارف اس طرف نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ شیشے کی الماریاں، وہ خوبصورت قد و قامت کی بوتلیں اور گلاس کسی کے لبوں کو چھو لینے کی معصوم تمنا لیے مایوس سے نظر آ رہے تھے۔ ڈنر کر کے جب ہم گھر پہنچے تقریباً بارہ بج چکے تھے۔ گھر پہنچ کر جیسے ہی موبائل آن کیا بچوں کے وائس میسیجز تھے چونکہ وقت کا فرق زیادہ تھا اس لیے بات کرنا ممکن نہیں تھی۔ ایان مشا کی آوازیں سن کر دل بے چین ہو گیا اتنی شدت سے ان کی یاد آئی کہ بس آنسو ہی نکل پڑے، دن بھر کے پروگرام کی خوشی پر بچوں کی جدائی غالب آ چکی تھی۔ میں نے بچوں کے وائس میسیجز کا جواب دیا اور پھر آج کے گزرے دن کو سوچتے سوچتے تو کبھی بچوں کی یاد میں آنسو گراتے گراتے تکیہ بھیگتا رہا اور نجانے کس لمحے نیند کی دیوی نے مہربان ہو کر اپنی آغوش میں لے لیا۔

٭٭٭

افسانے کا فسانہ

دوسرے دن صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے میں نے اپنے بچوں سے بات کی، دونوں کی آواز میں فرق تھا، یاد کر رہے تھے۔

’’مما آپ واپس کب آئیں گی؟‘‘

’’بیٹا بہت جلد آ جاؤں گی۔‘‘

’’مما آپ کا پروگرام کیسا ہوا؟‘‘ ایان پوچھ رہا تھا

’’مما خوب اچھا لگ رہا ہے آپ کو وہاں؟‘‘

’’مما آپ نے کھلونے لے لیے ہمارے لیے؟‘‘ بہت سارے معصوم سوال تھے، جن کے جواب دیتے ہوئے آنکھیں برسنے کو تیار ہو رہی تھیں لیکن بات کر کے دل کو سکون ہوا۔ ناشتہ کرنے کے دوران ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ عشرت ساتھ بیٹھ کر بھی ساتھ نہیں ہیں، وہ کچھ پریشان ہیں، مختصر سا ناشتہ کرتے ہی وہ اوپر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ مجھے اور وحید قمر صاحب کو رہبر صاحب اور سارہ کمپنی دے رہے تھے، ہمارا موضوع گفتگو پروگرام ہی تھا، یہ ہم دوستوں کی زندگی کا بے حد یادگار پروگرام تھا، ہم میں سے کسی نے بھی عالمی افسانہ فورم جوائن کرتے وقت کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ فورم یوں ایک دن ملاقات کا سبب بنے گا۔ بہت شکر گزار تھے ہم سب ایک دوسرے کے بھی اور عالمی افسانہ فورم کے بھی۔

گفتگو کا سلسلہ اب عالمی افسانہ فورم کی جانب مڑ گیا تھا۔

’’عالمی افسانہ فورم نہ ہوتا تو ہم لکھنؤ، برلن اور فرینکفرٹ میں بیٹھے کبھی ملنے کا تصور بھی نہیں کرتے آخر یہ فورم بنانے کا خیال آپ کو کیونکر آیا؟‘‘ میں نے وحید قمر صاحب سے پوچھا۔

’’در اصل میری بڑی خواہش تھی کہ میں کچھ ایسا کروں کہ تمام افسانہ نگار ملیں، میں کافی عرصہ العین ابو ظہبی میں رہا۔ وہاں ایک اچھا ادبی سرکل بن بھی گیا تھا جس میں ہندوستان کے مختلف شہروں کے لوگ شامل تھے ہم کچھ پاکستانی بھی تھے، ہماری ادبی محفلیں ہوتی تھیں ہم شاعری سنتے، افسانے سناتے۔ وہاں سے پھر میں انگلینڈ آیا۔ وہاں میری ملاقات ہندوستان کے بڑے ادیب مغنی تبسم صاحب کی بہن صدیقہ شبنم صاحبہ اور ان کے شوہر سے ہوئی۔ وہ خود ایک اچھی شاعرہ اور ان کے شوہر حبیب حیدرآبادی انشائیہ نگار تھے۔ ان کے یہاں ادبی محافل ہوتی تھیں۔ وہاں مجھے ساقی فاروقی صاحب اور شاہدہ احمد کے سامنے بھی افسانے پڑھنے کا موقع ملا، جہاں میرے ادب کے ذوق میں نکھار آیا۔ جب میں جرمنی آیا تب تک تو سوشل میڈیا کا وجود ظہور میں آ چکا تھا، یہاں اب میرے لیے اس خواب کو عملی جامہ پہنانا آسان تھا۔ سو میں نے اپنے چند ہم خیال ساتھیوں سے مشورہ کیا اور عالمی افسانہ فورم کی بنیاد 2015 میں رکھ دی اور اس فورم پر ہر سال آن لائن افسانہ میلہ کا انعقاد کرنا شروع کیا۔

اس کے کچھ مقاصد بھی تھے، جن میں سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ افسانہ نگاروں کو ایک عالمی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانا اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرانا ہے۔ کتنی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ پاک و ہند کی حکومتوں کے درمیان ٹوٹتے بنتے غیر یقینی تعلقات اور سرحدوں پر نا مساعد حالات کے باوجود ہند و پاک کے افسانہ نگار باقاعدگی سے اس عالمی آن لائن میلے میں شامل ہوتے ہیں اور دیکھیے آپس میں کیسے اخوت محبت اور بھائی چارے کے رشتے استوار ہوئے ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے۔ فورم کے ذریعے ہی دونوں اطراف کے افسانہ نگار ایک دوسرے سے متعارف ہوئے، اور دنیا بھر میں پھیلے قارئین تک ان کی تخلیقات پہنچیں، ایک دوسرے کو جانا، دوستیاں قائم ہوئیں۔‘‘

’’اور دیکھیے اعتماد و اعتبار کا یہ عالم کہ ہم اکیلے ہی صرف فورم کی دوستی کے دھاگے سے بندھے یہاں چلے آئے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ہاں بھئی یہ آپ کا تاریخی قدم ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ عالمی افسانہ فورم کا مورخ اسے سنہری حرفوں میں تحریر کرے گا۔‘‘ وحید قمر صاحب نے کہا۔

’’نوازش جناب عالی‘‘

جس پر رہبر صاحب نے پرجوش انداز میں کہا ’’عالمی افسانہ فورم۔ زندہ باد

عالمی افسانہ فورم۔۔ زندہ باد‘‘

اس دوران عشرت بھی آ گئی تھیں۔

اب گفتگو کا سلسلہ افسانوں کی جانب مڑ گیا تھا اور بڑے دلچسپ تجربے ہم سب نے بیان کیے کہ کس نے پہلا افسانہ کب لکھا؟ شروعات رہبر صاحب سے ہوئی وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوئے ’’یہ اس زمانے کی بات ہے جب آتش جوان تھا، جوان نہیں تھا بلکہ جوان ہو رہا تھا اور کراچی کے معروف آدم جی سائنس کالج میں گیارہویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت میرا پہلا افسانہ ’منزل‘ اخبار جنگ کے سنڈے میگزین میں چھپا تھا۔

اس سے پہلے کئی کالم بھی جنگ میں چھپ چکے تھے جو والد مرحوم بہت فخر سے عزیزوں کو دکھایا کرتے تھے۔ لیکن افسانہ نگاری تو دور افسانے ہی انہیں پسند نہیں تھے، اس لیے جب افسانہ چھپا تو میں نے انہیں نہیں دکھایا اور سوئے اتفاق ان کی نظر سے گزرا بھی نہیں، اس افسانے کی اشاعت کے کچھ دنوں بعد میرے خالو پنجاب سے تشریف لائے تو دوپہر کے کھانے پر ابو کے سامنے مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ’’انور تمہارا افسانہ منزل پڑھا۔ بھئی تم نے تو بہت ہی اچھا لکھا ہے‘‘ ابو چونکے کہ افسانہ کب لکھ ڈالا، اب میں ابو کے سامنے سر جھکائے خاموش کھڑا تھا، پھر ابو نے کہا لاؤ مجھے دکھاؤ۔۔۔۔ خیر ڈرتے ڈرتے اسے ابو کے سامنے پیش کر دیا، خالو نے اخبار لے لیا کہ چلو میں سناتا ہوں‘‘ پھر ابو نے مجھے بلایا اور کہا کہ بہت اچھا لکھا ہے قلم کی حرمت کو کبھی مت بھولنا‘‘

اس دن کے بعد سے دوستوں کے علاوہ خاندان میں بھی خبر گردش کر گئی کہ میں افسانے لکھنے لگا ہوں۔ لیکن ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ میری شاعری اور افسانہ نگاری کی طرف توجہ میری بڑی بہن شاہین باجی کی مرہون منت تھی۔‘‘

بہت خوب جناب۔

وحید قمر صاحب گویا ہوئے۔

’’میرا تعلق پنجاب کے شہر ملتان سے ہے، لکھنے کا شوق امی کی بدولت رہا، وہ ہمیں کہانیاں لکھ کر دیتی تھیں، انہی سے شوق جاگا، جبکہ اردو نہ تو میری مادری زبان تھی نہ ہی میرے اجداد کی رہی تھی لیکن ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی اس لیے لکھنا پڑھنا اردو ہی میں تھا، اور میں نے تیرہ چودہ سال کی عمر میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بچوں کی کہانیاں لکھیں جو شائع بھی ہوئیں۔ تاہم جسے ایک مکمل اور بھر پور افسانہ کہا جا سکے وہ اٹھارہ انیس سال کی عمر میں لکھا تھا، جو پہلے پاکستان کے ایک مقامی ادبی رسالے میں شائع ہوا اور پھر بیسویں صدی میگزین میں شائع ہونے کے لیے بھیجا۔ اس کا نام ’’دھوپ‘‘ تھا۔ افسانہ بھیجنے کے بعد توقع یہ تھی کہ فوراً چھپ جائے گا لیکن ایک طویل عرصے تک شائع نہیں ہوا، مجھے مایوسی ہونے لگی لیکن جب شائع ہوا تو بے انتہا خوشی محسوس ہوئی تھی۔ اس زمانے میں بیسویں صدی ہی واحد رسالہ تھا جو ہندوستان اور بیرون ملک میں یکساں طور پر معروف تھا، اس میں افسانہ چھپ جانا بہت بڑی اور خوشی کی بات تھی۔‘‘ کچھ لمحے توقف کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگے:

’’ایک اور دلچسپ بات بتاؤں، جب میرا پہلے کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا افسانہ چھپا تو قارئین کی طرف سے خطوط بھی ملنے لگے، جو کہ کبھی کبھار ہی ملتے تھے۔ جب تیسرا افسانہ ’آئیڈیل‘ کے نام سے چھپا تھا تو اس افسانے کے بعد مجھے سعودی عرب کے ایک دور دراز شہر سے ایک لڑکی کے خط موصول ہونے لگے۔‘‘

’’اوہو، خوب‘‘ عشرت مسکرائیں

’’اب ان کا نام بتاؤں یا نہ بتاؤں؟‘‘ وحید قمر صاحب کی نگاہوں میں شرارت تھی۔

’’بتا ہی دیجیے ہم ہمہ تن گوش ہیں‘‘ رہبر صاحب نے حوصلہ بڑھایا۔

’’چلیے جانے دیجیے کیونکہ اب وہ کہاں ہوں گی میں کہاں، بس یہ ضرور تھا کہ ایک انتظار رہا کرتا تھا اور ان کے خطوط مہینوں میں ملا کرتے تھے اس میں میرے افسانے کی تعریف ہوتی تھی۔‘‘

’’صرف افسانے کی تعریف ہوتی تھی؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

وحید قمر صاحب کے چہرے پر یادوں کے گلاب کھلے ہوئے تھے، آنکھوں میں بھی خطوط کے الفاظ کی چمک صاف نظر آ رہی تھی جسے دیکھ کر ہم محظوظ بھی ہو رہے تھے۔

بات جاری رکھتے ہوئے وحید قمر صاحب نے کہا کہ ’’ایک وہ زمانہ تھا کہ ایک خط بھی موصول ہو جاتا تھا تو خوشی کی انتہا نہ ہوتی تھی اور آج یہ وقت ہے کہ افسانہ فورم پر پوسٹ ہوا اور چند گھنٹوں میں ڈھیروں قارئین اسے پڑھ لیتے ہیں اور سینکڑوں کمنٹس آ جاتے ہیں لیکن وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک خط کے ملنے سے ہوا کرتی تھی۔ وہ خطوط آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔‘‘

’’ظاہر ہے جب سرمایہ ہی ’’چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط‘‘ ہوں تو خوشی تو ہونا ہی تھی۔‘‘

وحید قمر صاحب کے ہونٹوں پر بھی دبی دبی سی مسکراہٹ تھی جو ان دنوں کے راز طشت از بام کر رہی تھی۔

اب میری باری تھی میں نے بتایا کہ ’’پہلا افسانہ میں نے گریجویشن کے دوران لکھا تھا گھر کا ماحول ادبی تھا، امی کی بڑی خواہش تھی کہ میں لکھوں کچھ بھی لکھوں۔ اس وقت ڈائجسٹ پڑھنے کا جنون تھا، پاکیزہ آنچل، مشرقی آنچل، سو اسی انداز میں پہلا افسانہ ’کچھ ایسے بہار آئی‘ لکھا اور وہ شائع ہونے کے لئے بھیج بھی دیا لیکن چونکہ افسانہ خالص رومانوی تھا اگر ابا امی نے دیکھا تو کیسا سوچیں گے، اس لیے اسے عشرت گل کے نام سے بھیجا اور وہ مشرقی آنچل میں شائع بھی ہو گیا۔ اس شمارے کو میں نے پہلے تو چھپا دیا۔ لیکن پہلی تخلیق شائع ہونے کی خوشی چھپائے نہ چھپے، چار دن بعد ہی امی کو بتایا انہوں نے دیکھا پڑھا اور بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ تب پھر دو افسانے اور لکھے جو مشرقی آنچل میں شائع ہوئے اور پھر افسانے لکھنے کا سلسلہ کچھ ایسا رکا کہ افسانہ فورم میں جا کر ہی دوبارہ شروع ہو پایا، جس کے لیے میں افسانہ فورم اور بطور خاص وحید قمر صاحب کی اور خورشید حیات صاحب کی ممنون ہوں جنہوں نے مجھے دوبارہ افسانے لکھنے کی طرف مائل کیا۔‘‘

میرے بعد عشرت نے اپنی دلچسپ کہانی سنائی۔

یوں گویا ہوئیں ’’پہلا افسانہ اور پہلی محبت کبھی نہ بھولنے والا تاثر رکھتے ہیں اور ہم تو آج تک اس پہلے افسانے اور پہلی محبت کو تھام کر زندگی کی گاڑی آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔‘‘

’’ارے واہ‘‘

’’ویسے میں نے بھی لکھنے کی شروعات بچوں کی کہانی سے ہی کی تھی، لیکن جب کالج میں داخلہ لیا اس وقت ہمارے پڑوس میں نگہت نسیم اور دلشاد نسیم سے ملاقات ہوئی، دلشاد نسیم خواتین ڈائجسٹ نکال رہی تھیں، انہی کے کہنے پر پہلا افسانہ لکھا جو شائع ہوا۔ اس میں نام صرف سیما لکھا، بعد میں سیما غزل کے نام سے لکھا لیکن جب معلوم ہوا کہ ایک معروف افسانہ نگار کا نام سیما غزل ہے تو پھر اپنے ہی نام پر آ گئی۔ لیکن مخفف کر کے ع۔ م۔ س لکھا۔‘‘

’’گھر میں کب پتہ لگا کہ آپ افسانے لکھنے لگی ہیں۔‘‘

’’یہ سارے نام اسی لیے تو تھے کہ گھر میں پتہ نہ چلے کیونکہ ہمارے گھر میں بھی روایتی ماحول تھا بس ابا ہی تھے جو بہت روشن خیال تھے، پھر بھی گھر میں افسانے لکھنا تو دور پڑھنا بھی منع تھا۔

پھر ہوا یوں کہ ڈائجسٹ میں تو عشرت سیما نام چلتا رہا کیونکہ وہ ابا اور گھر والے نہیں پڑھتے تھے، لیکن ایک افسانہ جب اخبار میں شائع ہوا تو گھر میں سب نے پڑھ لیا، خاص طور سے ابا نے، جانتے ہیں کیا ہوا؟‘‘

’’کیا ہوا ہو گا ڈانٹ پڑی ہو گی اچھی سی‘‘

’’ارے نہیں بھئی توقع کے بر خلاف ابا نے تو خوشی سے گلے لگا لیا، ابا ادب اور شاعری کو انسانی جذبات کا اظہار مانتے تھے، ابا کی شہ پر ہی میں نے آگے جا کر ابلاغ عامہ کا شعبہ اپنے لیے منتخب کیا اور تخصیص ادب کو بنیاد بنا کر اسی میدان میں آگے عملی دنیا میں قدم رکھا۔‘‘

’’اور پہلی محبت کا کیا ہوا؟‘‘

’’اس کا حال تو ہم سے سنیے، ان کی پہلی محبت کو بھی بڑی پذیرائی حاصل ہوئی کیونکہ بے دام گرفتار قفس تو ہم ہی ہوئے۔‘‘ رہبر صاحب نے بڑی مسکین سی شکل بنا کر کہا اور سب ہنس پڑے۔ یوں ہم سب نے بڑی اچھی یادوں کو سمیٹا اور محفل افسانہ میں شرکت کی تیاری کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ گیارہ بجے ہمیں پہنچنا تھا۔

میں تیار ہو رہی تھی اور ایک بے چینی میرے اندر عشرت کو لے کر بھی تھی بس دل چاہ رہا تھا کہ عشرت سے بات کروں کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ وہ کیوں مجھے اداس سی لگ رہی ہیں؟ کیوں مسکراہٹ پھیکی پھیکی سی ہے؟ کیا مجھ سے کوئی خطا ہو گئی؟ کیا پریشانی ہے کیونکہ میں اندر سے بہت غیر مطمئن محسوس کر رہی تھی، آج عشرت کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ ٹھیک سے سوئی بھی نہیں ہیں۔ پھر میں نے ہمت کی اور عشرت سے پوچھ ہی لیا۔ انہوں نے جو بتایا میں ششدر سی کھڑی رہ گئی۔ ان کی بڑی بہن یاسمین باجی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہی تھیں، ان کی حالت بہت تشویشناک تھی اور ان کا ایک بڑا آپریشن اس وقت کراچی میں چل رہا تھا۔ دوبئی سے ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ یاسمین باجی نے ہی عشرت کی پرورش کی تھی کیونکہ عشرت محض چار سال کی ہی تھیں کہ ان کی امی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں تب سے باجی نے ہی انہیں ماں کا پیار دیا تھا، وہی باجی آج زندگی کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ یہ حوصلہ یہ ہمت افف! یہ عشرت ہی تھیں کہ اپنا درد اپنی پریشانی چھپائے مہمان نوازی میں مصروف تھیں، پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کام کر رہی تھیں۔ ذرا بھی کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا تھا کہ کہیں کوئی یہ نہ پوچھ لے ’کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو‘ اب میرا دل اور ذہن پریشان تھا میں نے دل سے دعا کی کہ اللہ باجی کا آپریشن کامیاب ہو اللہ انہیں زندگی دینا۔ آمین۔

محفل افسانہ کا انعقاد جس ریسٹورنٹ میں کیا گیا تھا اندر اخل ہوتے ہی سامنے استقبالیہ میز پر ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے بدھ کا چھوٹا سا مجسمہ رکھا ہوا تھا۔ مہاتما بدھ! سدھارتھ امن کی تلاش اور امن کا پیغام دینے والا، جس نے اشوک جیسے جنگ جو کا دل کلنگا کے میدان میں یوں پلٹا تھا کہ قتل و غارت گری سے تائب ہو گیا تھا۔ وہ اشوک جس نے اپنے ہی ۹۹ بھائیوں کا قتل کر کے بھی کف افسوس نہ ملا تھا، وہ جو لاکھوں افراد کو جنگوں کی نذر کر کے کبھی نہ ملول ہوا تھا، قتل و غارت گری سے توبہ کر امن کا پیامبر بن گیا تھا لیکن پھر!!! یہ لیکن پھر، لمحہ بھر میں میری سوچ کو میانمار لے گیا جہاں رہنے والے مہاتما بدھ کے سفاک بھگتوں نے انہیں شرمندہ کر ڈالا اور لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے مرتکب ٹھہرے، اب بدھ، میانمار لازم و ملزوم ہو گئے ہیں یعنی جب بھی بدھ کی مورت سامنے آئے گی ایک سفاک قوم اور درد کا سمندر بھی ساتھ لائے گی۔

آگے بڑھے تو سامنے ریسٹورنٹ کے مالک جاوید صاحب کھڑے تھے۔ مہمانوں سے بڑے تپاک سے مل رہے تھے، جسے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ یوروپی ممالک میں بسنے والے مشرقی لوگ آپس میں کس قدر خلوص کا رشتہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ عشرت نے ان سے ملوایا تو انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ بھی ہندوستان ہی سے ہیں۔ جھارکھنڈ کا شہر جمشید پور ان کا آبائی وطن ہے۔ جرمنی آنے پر انہوں نے پہلے کسی دوسری جگہ کام کیا اور اب تقریباً پانچ سال سے وہ اپنے اس ریسٹورنٹ کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز ان کی بیگم ہیں، جن کا نام ریا ہے۔ ریا کا تعلق دہلی سے ہے جاوید صاحب سے شادی کے بعد وہ بھی یہیں آ گئی ہیں۔ ا ٓج وہ اپنی بچی کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ریسٹورنٹ نہیں آ پائی تھیں۔ ریا آرٹسٹ ہیں ان کے آرٹ کے نمونے اس ریسٹورنٹ میں جگہ جگہ بطور خاص دیواروں پر نظر آ رہے تھے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے اس کے بائیں طرف والی دیوار پر ایک گول دائرہ نما سورج بنا ہوا تھا جس کی کرنوں کو مختلف دالوں سے سجا کر پینٹ کیا ہوا تھا، اسی طرح سامنے کی دیوار بھی ان کے مصوری کے فن کی مظہر تھی ہم نے وہاں پر اپنی تصویریں بنوائیں۔ بزم ادب برلن کے سیکریٹری سرور غزالی صاحب تشریف لا چکے تھے اور اب محفل افسانہ کا آغاز ہو رہا تھا۔ جس کی نظامت کی ذمہ داری ایک بار پھر انور ظہیر رہبر صاحب انجام دے رہے تھے۔ عارف نقوی صاحب، سرور غزالی صاحب، وحید قمر صاحب، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر صاحب اور ناچیز نے افسانے سنائے تھوڑی داد تھوڑی تنقید کے ساتھ بہترین ظہرانہ تناول کیا۔

شکر خدا کہ کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی ناصر اعظم بھائی کی کال عشرت کے پاس آ چکی تھی کہ یاسمین باجی کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور کامیاب رہا ہے گو کہ ابھی وہ ہوش میں نہیں آئی ہیں لیکن اب خطرے کی بات نہیں ہے، ابھی وہ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں ہیں۔ ایک سکون اطمینان سب کے چہروں پر پھیل گیا۔ عشرت اب کافی حد تک مطمئن نظر آ رہی تھیں۔ اب دوران گفتگو ان کی مسکراہٹ بھی نظر آنے لگی تھی۔ وحید قمر صاحب کی روانگی کا وقت ہو رہا تھا۔ سرور صاحب عارف صاحب کو ڈراپ کرنے اور ہم وحید قمر صاحب کو بس اسٹاپ تک پہچانے کے لیے روانہ ہو گئے۔ وحید قمر صاحب سے یہ ملاقات یادگار رہی، انہوں نے فرینکفرٹ آنے کی دعوت دی یہ کہتے ہوئے کہ برلن سے زیادہ خوبصورت مناظر وہاں ہیں لیکن چونکہ میری مدت قیام مختصر تھی اس لیے جانا ممکن ہی نہیں تھا۔ اگلی بار جب بھی آئی تب کے لیے پکا وعدہ لے کر وہ رخصت ہوئے۔۔ فرینکفرٹ گوئیٹے کا شہر جہاں گوئٹے کی ہر چیز، مکان، اس کے استعمال شدہ سامان وغیرہ کو نوادرات میں شمار کر سہیج کر رکھا ہوا ہے۔ گوئٹے جرمن زبان کا عظیم شاعر جس کے یہاں کے فکر و فلسفہ کے اثرات اقبال کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔ اس شہر کو دیکھنے کی تمنا میری بھی تھی لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

وقت کا بہتا دریا

اسی شام ہمیں توصیف نعمان صاحب کے دیسی دھوم کے اسٹوڈیو بھی پہنچنا تھا اس لیے آج صرف ایک ہی جگہ سیر کے لیے جا سکتے تھے، سو ہم قیصر ولہیم میموریل چرچ دیکھنے نکل گئے۔ چرچ جانے کے لیے جہاں گاڑی پارک کی وہیں قریب میں یوروپا سینٹر (مال) تھا جس کے شیشے میں برلن کی فٹ بال ٹیم کا جھنڈا لگا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس ٹیم کا نام ہیرٹا برلن اسپورٹ کلب (Herrths BSC) ہے۔ ہم سیر کرتے ہوئے پہلے ولہیم چرچ گئے جسے اب امن کا یادگار میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ پہلی نظر میں یہ چرچ آثار قدیمہ کی عمارت لگ رہا تھا کھنڈر نما۔ اس چرچ کی 1891ء سے 1895 کے بیچ تعمیر ہوئی تھی۔

میں نے عشرت سے پوچھا کہ ’’یہاں بھی ہمارے ملک کی طرح پرانی عمارتوں کی حفاظت نہیں کی جاتی؟ اس کی مرمت نہیں کی گئی؟‘‘

تب انہوں نے بتایا کہ ’’یہ چرچ دوسری جنگ عظیم کے وقت بمباری کے باوجود صحیح و سالم کھڑا رہا بس کہیں کہیں سے عمارت تھوڑی منہدم ہوئی تھی۔ 1950 میں منہدم حصے کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا گیا اس کی مرمت کر دی گئی اور اسے ایک یاد گار کے طور پر سہیج کر رکھا گیا ہے۔ اس چرچ میں عبادت بھی نہیں ہوتی ہے۔ عبادت کے لیے اسی کے سامنے ایک دوسرا چرچ تعمیر کیا گیا، نیا اور پرانا دونوں کا ایک ہی نام ہے۔‘‘

چرچ کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف حضرت عیسیٰ کا سفید مجسمہ سینے پر ہاتھ رکھے مغموم کھڑا تھا مانو انسان کی اس سفاکیت پر شرمندہ سا تھا، نوحہ کناں تھا اس انسانیت پر جس نے ایک عبادت گاہ کو پہلے بموں سے شکستہ کیا اور اب ایک علامت بنا دیا تھا۔ سامنے شیشوں کے شو کیس تھے جن میں دیواروں اور چھت کے بعض ٹکڑوں کو باقیات کے طور پر سنبھال کر رکھا گیا تھا۔

بائیں طرف دیوار پر فریم کی ہوئی تصاویر تھیں جن میں مذہبی پیشوا اپنی آن بان کے ساتھ کھڑے تھے ان میں کچھ ایک تصاویر وہ بھی تھیں جن میں اس چرچ کی پہلی عمارت ایستادہ تھی۔

چرچ کے بالکل ساتھ ہی یوروپا سینٹر ہے یہ بہت ہی خوبصورت جدید طرز کا مال ہے۔ اندر داخل ہوئے تو ایک فزکس کیمسٹری کی لیباریٹری سامنے آ گئی۔ کچھ لمبی تو کچھ چھوٹی ٹیوبز، کیمسٹری کے تجربہ کرنے والے چھوٹے بڑے فلاسک ان میں ہرے رنگ کا مرکب۔ جو ایک فلاسک سے دوسرے میں جا رہا تھا، کبھی یو ٹیوب کی طرف تو کبھی لمبی ٹیوب کی طرف پھر گول فلاسک میں۔ رہبر صاحب نے پوچھا کہ ’’یہ کیا ہے کچھ سمجھ میں آیا؟‘‘

میں نے کہا کہ ’’لیباریٹری کا ساز و سامان ہے کچھ بنایا جا رہا ہے یا تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن تجربہ کرنے والے سائنسداں مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے۔‘‘ میرے تفصیلی جواب پر وہ مسکرا دئیے اور کہنے لگے۔

’’یہ گھڑی ہے اس میں یہ دیکھیے دائیں جانب یہ جو چھوٹے فلاسک ہیں یہ منٹ ہیں اور جو بائیں جانب بڑے فلاسک ہیں گھنٹے ہیں۔ سیکنڈز کے حساب سے پانی ٹیوبز میں دوڑ رہا ہے۔ جب گھنٹہ پورا ہو گا تو یہ ٹیوب اور چھوٹے فلاسک پورے خالی ہو جائیں گے اور یہ ہرا مرکب جو وقت ہو رہا ہو گا اس میں جمع ہو جائے گا محض ایک سیکنڈ کے لیے اور پھر دوبارہ رفتار پکڑ لے گا۔ ہے نا نئے انداز کی گھڑی۔‘‘ انہوں نے ستائشی انداز میں میری طرف دیکھا میں مسکرا دی اور کہا کہ

’’جی جناب لاجواب ہیں یہ وقت کی نلیاں بھی‘‘

میں توجہ سے اسے دیکھ رہی تھی بڑی پرکشش گھڑی تھی، وہی چوبیس گھنٹے جی وہی ساٹھ منٹ کا کھیل وہی ساٹھ سیکنڈ کی ٹک ٹک اور میں سوچ رہی تھی یہ وقت بھی نا ہر دم بس اپنی رفتار سے چلتا ہی رہتا ہے رکنے تھکنے کا تو نام ہی نہیں۔ انسان ہی ہے جو تھک تھک کر اس کے سامنے ہار ہی نہیں مان لیتا بلکہ جان تک دے دیتا ہے لیکن یہ وقت پھر بھی لمحہ بھر کو بھی نہیں ٹھہرتا۔

وہیں نیچے کے فلور پر بڑا پر کشش سا بھالو نظر آیا۔ بھالو جو کہ برلن کا قومی جانور اور قومی نشان بھی ہے۔ برلن کی سیر کرتے وقت جا بجا قومی نشان مختلف رنگوں میں کبھی مختلف جسامت میں سامنے آتا رہا جو وہاں کے باشندوں کی ملکی محبت کا اظہاریہ ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ہمارے قومی جانور کو اتنی عزت نہیں ملی ہوئی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب ہندوستان میں 1982 میں ایشین گیمز ہوئے تھے تب ہاتھی اپو کو اس کی علامت بنایا گیا تھا اور وہ اتنا زیادہ پسند کیا گیا تھا کہ یہاں کے لوگوں کے ذہن پر وہ ایک عرصہ چھایا رہا اور ایسا بھی ہوا کہ معلومات عام کے سوال قومی جانور کے جواب میں ہاتھی ہی لکھا جانے لگا تھا۔

وہیں سے کوئی آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر کوڈام ہے۔ کوڈام برلن کا سینٹر مقام ہے۔ یہ اس وقت بھی مرکز تھا جب صرف مغربی برلن تھا، اُس وقت بھی یہ ایک با رونق مہنگا ترین علاقہ تھا۔ سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک کشش رکھتا تھا آج بھی اس کی رونق اُسی طرح بر قرار ہے۔

یہ وہی علاقہ ہے جہاں اردو کے نامور مصنف ابن انشا ٹہل رہے تھے اور ان کے سفر نامے میں اس مقام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ابن انشا کے سفر نامے ’آوارہ گرد کی ڈائری‘ اور اس سے وابستہ واقعہ میں نے مبشر علی زیدی کی وال پر پڑھا تھا کہ کس طرح ابن انشا نے جب انہیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1967 میں یوروپ بھیجا تو وہ اپنے ساتھ منشی محبوب عالم ’پیسہ اخبار‘ کے ایڈیٹر و مالک کے سفر نامے ’پہلا سفر‘ کو ساتھ لے کر گئے اور اس میں بیان کردہ واقعہ کی تصدیق برلن کے مشہور اخبار بیرلیٹ ٹاگ بلٹ کے دفتر جا کر کی تھی اور پھر اپنے سفر نامے ’آوارہ گرد کی ڈائری‘ میں ایک باب ’برلن ہمارا اور منشی جی کا‘ نام سے ایک باب لکھا تھا۔ جب 1914 میں اسی اردو انجمن برلن کی دعوت پر مبشر علی زیدی وہاں پہنچے تو ان کے ذہن میں بھی وہ سفر نامہ رہا، اس کی تلاش میں وہ بھی لائبریری پہنچے کیونکہ اخبار 1939ء میں بند ہو چکا تھا اس لیے لائبریرین کو اخبار کا نام اور تاریخ 15 جولائی 1900 بتائی اور اخبار کا صفحہ نمبر 9 اسکین کروا لائے۔ سوئے اتفاق ان کی وال پر میری نظر پڑ چکی تھی اور آج جب ہم اس راستے سے گزر رہے تھے تو یہ واقعہ بھی مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا تھا جسے سفر نامہ لکھتے وقت مبشر علی زیدی کی وال سے مدد لیتے ہوئے میں نے بھی لکھ ڈالا۔

مبشر علی زیدی نے ابن انشا کے سفر نامے سے پیسہ اخبار اور منشی محبوب عالم کی یاد ایک بار پھر تازہ کر دی تھی اور اخبار کے صفحات کو زندہ و جاوید کر دیا تھا۔ ان سے اجازت لے کر میں نے بھی وہ اخبار کی اسکین کاپی یہاں پیش کر دی ہے تاکہ صحافت سے وابستہ قارئین مستفید ہو سکیں۔[1]

منشی محبوب عالم کے سفر نامے سادہ بیانی میں بھی سحر انگیزی رکھتے ہیں، ان کے سفر نامہ ’’سفر نامہ یورپ‘‘ جو 1908 میں شائع ہوا تھا اسی کے سحر میں گرفتار ہو کر ایک ہندو نوجوان اپنے گھر سے پیسہ چوری کر کے یوروپ کے سفر پر نکل کھڑا ہوا تھا۔ اللہ اعلم یہ واقعہ سچ ہے یا نہیں کیونکہ اسے میں نے تو محمد برکت علی کے ایک مضمون ’سفر نامہ ادب کا ایک حصہ‘ میں پڑھا تھا۔

شام سات بجے ہم نعمان صاحب کے گھر طرف روانہ ہو گئے۔ نعمان صاحب کا گھر برلن کے علاقے پانکو میں ہے۔ جہاں پہنچنے کے لیے ہم ویڈنگ علاقے سے گزرے جو کہ برلن کے شمال مشرق میں ہے۔ ویڈنگ علاقہ وہ ہے جہاں ہندوستانی، پاکستانی، بنگلا دیشی، ترکی اور عربی بڑی تعداد میں رہتے ہیں یعنی یہ سمجھیے کہ غریب الدیار کالونی ہے۔ وہیں پاس میں شمال کی جانب ائیر پورٹ ہے اس لیے ہر تھوڑی دیر میں وہاں سے ہوائی جہاز اپنی پرواز کا منظر دکھاتے بلکہ اپنی گرجدار آواز سے ڈراتے بھی رہتے ہیں۔ نعمان صاحب پیشے سے انٹریپرینر (entrepreneur) ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے میں اور جدت کے حامی ہیں۔ پچھلے آٹھ سال سے جرمن میں مقیم ہیں اور یہاں کی قومیت حاصل کر چکے ہیں۔ آئی ٹی کمپنی اور جرمنی میں پہلے دیسی دھوم ریڈیو کے بانی ہیں اور اس ریڈیو کے ذریعے اردو بولنے والوں کی آواز بن کر جرمن ثقافت کی ہم آہنگی کے لیے کوشاں ہیں۔

نعمان صاحب کے اسٹوڈیو میں سرور غزالی صاحب انٹرویو کے لیے پہنچنے والے تھے لیکن کسی ضروری کام کی وجہ سے نہیں آ سکے اس لیے یہ ذمہ داری نعمان صاحب نے ہی نبھائی۔ نعمان صاحب کا اسٹوڈیو اور گھر ایک ہی جگہ تھے۔ نعمان صاحب نے انٹرویو بھی لیا اور ریکارڈنگ بھی کی۔ میرے وطن، میرے قائم مقام وطن لکھنؤ اور ادب کے متعلق بہت ساری باتیں، اردو افسانے کے عصری تقاضوں، اردو کے مستقبل کو لے کر پیدا ہونے والے خدشات وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ سلسلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک چلا، جسے یو ٹیوب پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ انٹرویو ختم ہوتے ہی نعمان صاحب اپنے ڈرائینگ روم میں لے گئے جہاں ان کی بیگم انیلا نے پر تکلف چائے کا اہتمام ترکی کے خاص بسکٹوں کے ساتھ کر رکھا تھا۔ نعمان صاحب اور ان کی بیگم کچھ دن پہلے ہی ترکی کا دورہ کر کے آئے تھے تھے اور بسکٹ وہ وہیں سے لائے تھے۔ نعمان صاحب کے اجداد کا تعلق تو ویسے ہندوستان ہی سے تھا لیکن ان کے والدین پاکستانی تھے۔ انیلا بھی آئی ٹی مینیجمنٹ سے وابستہ تھیں۔ دوران گفتگو ان کا دو سالہ بیٹا فارس نعمان اپنی شرارتوں سے ہمیں محظوظ کر رہا تھا اور مجھے اپنی بیٹی مشا اور ایان یاد آ رہے تھے کہ بچے کیا کر رہے ہوں گے۔ میرا دل اداس ہونے لگا۔ رات نو بجے تک ہم گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر پہنچتے ہی بچوں کے میسیجز دیکھے ان کے اسکول ٹیسٹ چل رہے تھے، ان کے ڈیڈی نے وھاٹس ایپ پر ساری تفصیل لکھ چھوڑی تھی۔ جواب لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ آج چوتھا دن تھا بچوں سے دور ہوئے، ایان مشا بے طرح یاد آ رہے تھے۔ آج میرے صبر کا پیمانہ لبریز تھا، بہت سارے آنسو ضبط کا دامن چھوڑ آب رواں میں بدل گئے تھے۔

٭٭٭

عشق نہ دیکھے ذات پات

دوسرے دن صبح صبح وھاٹس ایپ آن کیا اور بچوں سے دیر تک بات کی تو دل پر سکون ہو گیا، پھر دوسرے پیغامات دیکھنے لگی جس نے مجھے بڑی خوشگوار حیرت میں لے لیا۔ امامہ کا میسیج تھا۔ امامہ میری قابل فخر شاگرد پوچھ رہی تھی ’’میم کیا آپ جرمنی آئی ہوئی ہیں؟‘‘ امامہ نے فیس بک پر میری پوسٹ اور تصاویر دیکھ لی تھیں۔

’’ہاں بیٹا میں برلن میں ہوں۔‘‘

’’میم تو پھر میم آپ میرے پاس بھی آئیے‘‘ بڑا ہی پیار بھرا اصرار تھا۔

’’تم تو انگلینڈ میں ہو نا؟‘‘

’’تو کیا ہوا‘‘ وہ بضد تھی۔

’’امامہ بیٹے میں کیسے آ سکتی ہوں؟‘‘

’’میم آپ کا ویزہ تو شینگن ویزہ ہو گا آپ آ سکتی ہیں میرے پاس۔‘‘

یوروپ میں شینگن ویزہ کی وجہ سے ایک ملک سے دوسرے یوروپی ملک میں جانا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ امامہ یہ بات جانتی تھی۔

میں نے جواباً کہا کہ ’’امامہ تم شاید بھول رہی ہو کہ انگلینڈ شینگن میں نہیں آتا۔‘‘

’’میم مجھے بہت اچھا لگے گا کہ میرے میکے سے میری امی آ گئیں ہوں جیسے۔‘‘

میں سوچ رہی تھی کہ یہ بیٹیاں بھی کیا ہوتی ہیں نا، بس میکہ ہی ان کی جان ہوتا ٰ ہے۔ سچ ہی ہے کہ ماں سے مائکہ، باپ سے مان اور بھائی سے شان۔ ا ور اب یہ ایک بیٹی کیسی معصومیت سے، کس مان سے بلا رہی تھی۔ پھر میں نے سمجھایا کہ ’’بیٹا میں صرف سات دن کے لیے آئی ہوں اور تمہیں پتہ ہے نا کہ ایان مشا کو بھی چھوڑ کر آئی ہوں اس لیے زیادہ نہیں رک سکتی، پلیز بیٹا۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تمہیں وہاں کیسا لگ رہا ہے؟‘‘

میں نے اس کا ذہن دوسری طرف کرنے کی غرض سے موضوع بدلا۔

اور وہ بہل بھی گئی۔

امامہ اور حمنہ یہ دو بہنیں ہیں، دونوں نہایت ذہین اور خوبصورت ہیں، دونوں کیمپس کی شان تھیں حمنہ نے 2016 میں پوری یونیورسٹی میں اردو میں پہلی پوزیشن پر لا کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جس دن حمنہ کو میڈل ملنا تھا اسی دن امامہ نے اپنی نئی زندگی میں قدم رکھا اور انگلینڈ چلی آئی تھی۔

امامہ سے بات کر کے میں نیچے آئی۔ سارہ بٹیا ہمبرگ جانے کو تیار تھیں۔ تقریباً صبح نو بجے ہم انہیں ڈراپ کرنے بس بان ہوف یعنی سینٹرل بس اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ برلن کا مصروف ترین بس اسٹیشن ہے، یہاں سے جرمنی کے ہر شہر کے لیے ہی نہیں بلکہ یورپ کے تمام ملکوں کے لیے بھی بسیں ملتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں ہر دوسرے منٹ پر کوئی بس آ رہی تھی یا جا رہی تھی۔ ہمبرگ جانے کے لیے ہر بیس منٹ میں ایک بس موجود تھی اور اسی طرح ایک بس ہمبرگ سے برلن آ رہی تھی۔ بس انٹر نیٹ پر جائیے مطلوبہ شہر تلاش کیجیے ٹکٹ بک کیجیے۔ ای ٹکٹ بس پر چڑھتے وقت اسکین کروائیے اور اس آرام دہ بس کا جو کہ اندر سے ہوائی جہاز کی طرح لگتی ہے سفر کیجیے اور مزے کی بات یہ ہے کہ بسوں کا ٹکٹ حیرت انگیز طور پر نہایت سستا ہوتا ہے۔ وقت کے حساب سے ٹکٹ کی قیمت ہوتی۔ صبح جائیں گے تو ذرا مہنگا کچھ دیر ہوئی تو قدرے سستا ہو گا۔ بس میں وائی فائی کی سہولیت بھی مفت جوائن کریں اور اپنے دوستوں کو اچھی اچھی سیلفی بھیجیں، باتیں کریں یا گانے سنیں۔ آ مد و رفت کا یہ ذریعہ بھی کیا ہے نا! جدید سہولیات نے اسے کتنا حسین اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ ایک وہ دور تھا جب مہینوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچا جاتا تھا۔ راستوں کی دشواریاں اففف کہ بیان سے باہر۔ سارہ ہمبرگ کے لیے اپنی مطلوبہ بس میں بیٹھی تھی ابھی اس بس کی روانگی میں کچھ وقت تھا۔ ہم لوگ بس کے روانہ ہونے کے منتظر تھے۔ وہیں سامنے ایک جوڑا کھڑا تھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا کوئی آٹھ دس مہینے کا بچہ بھی پرام میں لیٹا ہوا مزے سے بسا سٹیشن کا معائنہ کر رہا تھا لیکن اس کے والدین عجب جذباتی کیفیت میں ایک دوسرے کو وداع کر رہے تھے، دنیا سے بے نیاز وہ ایک دوسرے کے کبھی گلے مل رہے تھے تو کبھی ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے، مجھے ان کی طرف جس بات نے متوجہ کیا تھا وہ تھا رنگوں کا تضاد، لڑکا ایک دم گورا یوروپی اور لڑکی ایک دم کالی بھجنگ، افریقن کہوں کہ نائیجیرین لیکن وہی بات ہے نا کہ محبت رنگ و نسل، ذات پات کہاں دیکھتی ہے، یہ تو وہ جذبہ ہے جو دلوں میں یوں اچانک جاگتا ہے کہ اصول و نظریات، ذات پات، رنگ و نسل سب منہ اٹھائے اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ صحیح کہا ہے کسی نے

بھوک نہ دیکھے جھوٹا بھات

پیاس نہ دیکھے دھوبی گھاٹ

نیند نہ دیکھے ٹوٹی کھاٹ

عشق نہ دیکھے ذات پات

عشق تو عشق ہے معشوق کی کس ادا پر عاشق جان پیش کر دے خود کو فنا کر دے، کب یہ بیج دل میں نمو پا کر تناور درخت بن جائے، پتہ ہی نہیں چلتا اور بندہ سب کچھ ہار کر محبوب کے قدموں میں سر نگوں ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ منظر میرے سامنے تھا۔ سارہ کی بس نے روانگی کا ہارن دیا اور میں سوچوں سے باہر نکل آئی۔

بس اسٹیشن سے باہر نکلنے کے بعد اب ہمارا برلن کی سیاحت کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا۔ ہم فری یونیورسٹی کی طرف گامزن تھے، اس یونیورسٹی کا قیام اس وقت عمل میں آیا تھا جب برلن فرانس انگلینڈ اور امریکن سیکٹر میں منقسم تھا۔ ظاہر تھا کہ برلن کا مہنگا ترین علاقہ ڈالم ڈوروف اور سیلن ڈوروف امریکن سیکٹر کے حصے میں ہی آنا تھا، سو ایسا ہی یہاں بھی ہوا۔ اسی علاقے میں امریکنوں نے اس یو نیورسٹی کو قائم کیا۔ رہبر صاحب اور عشرت نے اپنی تعلیم وہیں حاصل کی تھی۔ تقریباً 55 ہزار طلبا یہاں علم سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ فزکس کے ایک لیکچر میں ہی تقریباً ڈیڑھ ہزار تک طلبا ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک کلاس روم کو جھانک کر دیکھا، کلاس روم کیا وہ تو ایک شادی ہال سے بھی بڑا ہال تھا یا یہ کہیے کہ پہلے کے زمانے کا سنیما ہال۔ انڈولجی کے شعبہ میں اردو ہندی کی بے شمار کتابیں دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔

اب ہم یونیورسٹی سے واپسی کے راستے پر تھے۔ راستے میں کئی جگہ سڑک کے کنارے ٹیلی فون بوتھ نظر آئے، ایسے ٹیلی فون بوتھ جہاں فون کی گھنٹی نہیں بجتی، جب ان کے قریب گئے تو ٹیلی فون بوتھ کے دروازے پر جرمنی زبان میں جلی حرفوں میں کچھ لکھا ہوا تھا جس کا ترجمہ تھا ’’ایک کتاب دو اور ایک کتاب لو‘‘ دروازہ کھولنے پر اندر فون کے بجائے کتابوں کی چھوٹی سی الماری تھی، جہاں قرینے سے تقریباً ڈھائی سو کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ میرے استفسار پر رہبر صاحب نے رہبری فرمائی کہ یہ سمجھیے کہ یہ برلن کی سب سے چھوٹی لائبریری ہے جو کہ خاص طور پر بچوں میں مقبول ہے۔ بچے بہت شوق سے اپنے گھر سے ایک کتاب لے کر آتے ہیں اسے یہاں رکھ کر دوسری لے جاتے ہیں۔ اس بات نے مجھے حیران کر دیا اور جرمنوں کی علم دوستی نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔ عشرت بتا رہی تھیں کہ ’’یہ پہلے ٹیلی فون بوتھ تھے جب موبائل فون آ گئے تب ان کی اہمیت پوری طرح ختم ہو گئی تو ان کا استعمال یوں کیا گیا کہ انہیں چھوٹی سی لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا۔ جن لوگوں کے پاس فاضل کتابیں ہوتی ہیں، جنہیں وہ پڑھ چکے ہوتے ہیں، انہیں وہ یہاں لا کر رکھ دیتے ہیں اور دوسرے کتب کے شائقین انہیں لے جاتے ہیں، پڑھنے کے بعد وہ بھی کسی ایسے ہی بوتھ پر واپس رکھ دیتے ہیں۔‘‘

بہت ہی خوبصورت اور کار آمد بات تھی۔ ہمارے گھروں میں کتابیں اگر کوئی پڑھنے والا نہ ہو تو کباڑی کے ترازو میں چلی جاتی ہیں یا پھر دیمک کی غذا بن جاتی ہیں۔ ٹیلی فون بوتھ کے اس استعمال ہی کی طرح گھروں کا غیر ضروری سامان بھی سڑک کے کنارے رکھا ہوا نظر آیا۔ وہاں کے باشندے گھر کا وہ سامان جو ان کی ضرورت کا نہیں ہوتا اسے باہر کنارے رکھ کر نگر نگم کو اطلاع دے دیتے ہیں، نگر نگم چوبیس گھنٹے کا وقت دیتی ہے اس دوران اگر کسی کو اس سامان کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسے اٹھا لے جاتا ہے وگرنہ چوبیس گھنٹے کے بعد نگر نگم کا عملہ اسے لے جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار مجھے تو بہت اچھا لگا۔

٭٭٭

[1] یہ اس ڈیجیٹل ایڈیشن میں شامل نہیں۔ اصل کتاب میں اس سفر سے متعلق کئی تصاویر بھی اس برقی نسخے میں شامل نہیں ہیں۔ ناشر

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل