ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

 

کلیاتِ نظرؔ

 

 

محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی

 

ترتیب و تدوین: تابش صدیقی، اعجاز عبید

 

 

انتساب

محبّانِ رسولؐ کے نام

 

 

حمد

ضیائے کون و مکان لا الٰہ الا اللہ
بنائے نظمِ جہاں لا الٰہ الا اللہ
شفائے دردِ نہاں لا الٰہ الا اللہ
سکونِ قلبِ تپاں لا الٰہ الا اللہ
نفس نفس میں رواں لا الٰہ الا اللہ
رگِ حیات کی جاں لا الٰہ الا اللہ
بدستِ احمدِ مرسل ؐ بفضلِ ربِّ کریم
ملی کلیدِ جناں لا الٰہ الا اللہ
دلوں میں جڑ جو پکڑ لے تو برگ و بار آئیں
ابھی ہے زیرِ زباں لا الٰہ الا اللہ
ہے تار تار اسی سے تو چادرِ ظلمت
چراغِ نور فشاں لا الٰہ الا اللہ
شجر حجر ہوں کہ جنّ و بشر کہ ماہی و مرغ
سبھی کے وردِ زباں لا الٰہ الا اللہ
سرور و کیف و حلاوت نظرؔ جو ہے درکار
صباح و شام بخواں لا الٰہ الا اللہ
٭٭٭

 

نعتیں

 

 

وہ سرورِ کونین وہ اللہ کے محبوب
اے صلِّ علیٰ خوب ہے واللہ بہت خوب
پھیرا رخِ انور طرفِ قبلۂ مرغوب
راضی ہے خدا بھی بہ رضائے دلِ محبوب
یوں صاف کروں روضۂ اقدس کو تو کیا خوب
ہو شوق کے ہاتھوں میں مرے پلکوں کی جاروب
غالب ہیں وہ دنیا میں وہ خورسند بہ عقبیٰ
سرکار کی الفت سے جو دل ہو گئے مغلوب
وہ ختمِ رسل ہیں جسے تسلیم نہیں یہ
وہ راندۂ درگاہِ خداوند وہ مغضوب
پردہ شبِ اسرا کا جو سرکاؤ تو دیکھو
یک جا ہیں سرِ عرشِ بریں طالب و مطلوب
یا رب ہو عطا شربتِ دیدارِ محمدؐ
دے یا کہ نہ دے چشمۂ تسنیم کا مشروب
دل شاد ہوئے سن کے سرِ بزم سبھی لوگ
تم نے یہ سنائی جو نظرؔ نعتِ خوش اسلوب
٭٭٭

 

جب ان کا ذکرِ محبت مری زباں سے چلا
سر شکِ اشک بھی پہنائیِ نہاں سے چلا
بندھا تھا تارِ نبوت جو اس پہ ختم ہوا
یہ سلسلہ نہ پھر آگے شہِ شہاںؐ سے چلا
خبر کسے تھی کہاں پر ہے اور کیسا ہے
پتہ خدا کا ہمیں شاہِ انس و جاں سے چلا
ہے اس کا زخمِ محبت قلوب میں گہرا
سراغ اس کا مجھے آہِ عاشقاں سے چلا
اسے تھی ایک ہی منزل حریمِ پاک خدا
وہ دم زدن میں رسا تھا جو خاکداں سے چلا
نقوشِ پا سے اجاگر ہے رہگذارِ حیات
دئیے جلا کے چلا وہ جہاں جہاں سے چلا
تھا غم زدہ شبِ ہجرت دلِ شہِ خوباں
کہ جب حرم سے اٹھا بزمِ دوستاں سے چلا
تھا پھول پھول فسردہ کلی کلی خاموش
وہ دارِ خلد کو جب میرے گلستاں سے چلا
دیارِ پاک چلے کارواں پئے دیدار
کوئی کہاں سے چلا ہے کوئی کہاں سے چلا
نہ دل ہوا کسی صورت نظرؔ شریکِ سفر
میں واپسی پہ اکیلا اس آستاں سے چلا
٭٭٭

 

 

ہے تمنا شہرِ طیبہ ہم بھی جا کر دیکھتے
ذرہ ذرہ ہے جہاں کا روح پرور دیکھتے
سیر کب ہوتا یہ دل جب شہرِ دلبر دیکھتے
ایک کیا ہم سیکڑوں چکر لگا کر دیکھتے
روضۂ انور پہ جب نیچے سے اوپر دیکھتے
نور کا سیلِ رواں تا چرخِ چنبر دیکھتے
دیکھتے ہی رہتے جب جالی کے اندر دیکھتے
روضۂ اقدس کا منظر سیر ہو کر دیکھتے
دیکھتے مسجد کے در محراب و منبر دیکھتے
شکر کے سجدے میں پھر دل دیکھتے سر دیکھتے
ماہ و اختر شب کو دن میں شاہِ خاور دیکھتے
گنبدِ خضراء پہ سب ہوتے نچھاور دیکھتے
قدِّ سرو و خندۂ گل، غنچۂ تر دیکھتے
کیا کہیں کیا کیا مناظر روح پرور دیکھتے
جان و دل، تارِ نفس اک اک معطر دیکھتے
بے خودی ہوتی، فضائے مشک و عنبر دیکھتے
فخر سے ہوتے ہوئے اونچا مقدر دیکھتے
سامنے اپنے نگوں بختِ سکندر دیکھتے
آنکھ میں اشکوں کے ہم رخشندہ گوہر دیکھتے
دل میں برپا اک تمناؤں کا محشر دیکھتے
نیند آتی شب کو جب میدانِ محشر دیکھتے
ساقی کوثر سے ملتے جامِ کوثر دیکھتے
سر پہ رکھتے، چومتے، آنکھوں میں رکھتے خاک وہ
جو بھی ہو سکتا عقیدت سے وہ سب کر دیکھتے
یہ بھی ہے اک آرزو اے کاش پوری ہو وہیں
خواب کے عالم میں ان کا روئے انور دیکھتے
حشر تک آسودہ رہتی یہ تمہاری مشتِ خاک
خاکِ طیبہ میں نظرؔ اے کاش مل کر دیکھتے
٭٭٭

 

 

 

فضلِ رب ہے جو کیا مجھ کو ثنا خواں تیرا
خادمِ ہیچ مداں اس پہ ہے نازاں تیرا
کوئی ہمسر نہیں اے خاصۂ خاصاں تیرا
مرتبہ ہے شبِ اسرا سے نمایاں تیرا
ماورا سرحدِ ادراک سے عظمت تیری
وصف کس سے ہو بیاں خواجۂ گیہاں تیرا
اپنے محبوب کی امت میں کیا ہے شامل
میرے رب مجھ پہ ہے دو گونہ یہ احساں تیرا
دامنِ دل میں سمیٹا ہے انہیں چن چن کر
مجھ کو ہر حرفِ سخن ہمسرِ مرجاں تیرا
یہ نہ ہوتا تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا
دین و دنیا کا اجالا ہے یہ قرآں تیرا
اس کے پینے سے تو دنیا ہی بدل جاتی ہے
مرحبا جرعۂ پیمانۂ عرفاں تیرا
افقِ وقت پہ روشن ہے مثالِ خورشید
قابلِ دید ہے وہ عہدِ درخشاں تیرا
بات ہی اور ہے صدیقؓ کی تیرے، یوں تو
مرتضیٰؓ تیرا، عمرؓ تیرا، ہے عثماںؓ تیرا
حشر میں ایک نیا حشر نہ برپا ہو جائے
عام دیدار ہو جب اے شہِ خوباں تیرا
مانعِ راہِ مدینہ ہے خدا جانے کیوں
کیا برا ہم نے کیا گردشِ دوراں تیرا
شرط بس یہ ہے تو آ جائے نظرؔ محشر میں
کام میرا ہے پکڑ لوں گا میں داماں تیرا
٭٭٭

 

 

کہتا ہوں صاف صاف تکلف کئے بغیر
فرحاں نہ ہو یہ دل تری مدحت لکھے بغیر
روشن نہ ہو ضمیر نہ ہو روح مطمئن
تیری کتاب اور حدیثیں پڑھے بغیر
قومِ ستم شعار نے توڑے ستم ہزار
چھوڑی نہ ایک بات بھی رب کی کہے بغیر
کافی یہی دلیلِ نبوت ہے عقل کو
موتی لٹائے علم کے لکھے پڑھے بغیر
تاریخِ انبیاء کی شہادت سے میں کہوں
پورا ہوا نہ کارِ رسالت ترے بغیر
داد و دہش کا آپ کی صد مرحبا یہ حال
لوٹا نہ در سے کوئی بھی جھولی بھرے بغیر
کوئی بشر بھی پا نہ سکے گا رہِ حیات
حلقہ بگوشِ سرورِ عالمؐ ہوئے بغیر
ہو مغفرت نہ داخلِ فردوس ہو سکے
خم خانۂ حجاز کی صہبا پئے بغیر
اجرِ صلوٰۃ و صوم تو مشروط ہے مگر
اجرِ درود رہ نہیں سکتا ملے بغیر
حبِّ نبیؐ ہو دل میں اگر موجزن تو پھر
ملتا نہیں ہے چین مدینہ گئے بغیر
منزل نہ مل سکے کسی رہرو کو اے نظرؔ
ختم الرسل کے نقشِ قدم پر چلے بغیر
٭٭٭

 

 

لکھ رہا ہوں مدحتِ شاہنشہِ گردوں سریر
المدد اے خالقِ کون و مکاں نعم النصیر
ذکرِ خیرِ مصطفیٰؐ ہے موجبِ خیرِ کثیر
ہو خدا راضی قلوبِ بندگاں ہوں مستنیر
فیض یابِ نور تھا ہر ذرۂ کون و مکاں
جلوہ گر تھا عرش پر جس رات وہ بدرِ منیر
دیدنی ہے فقر اس کا جاہِ شاہانہ کے ساتھ
زندگی کر دی بسر بر لقمۂ نانِ شعیر
اس کے نورِ باطنی کا یہ تصرف مرحبا
ہم نشیں اس کے رہے جو، ہو گئے روشن ضمیر
راہِ حق سے تا نہ بھٹکیں رہروانِ زندگی
صفحۂ ہستی پہ اس نے کھینچ دی سیدھی لکیر
دین و دنیا دونوں بن جائیں اگر ہے آرزو
اس کے بتلائے ہوئے رستوں پہ چلنا ناگزیر
جس میں جتنا ظرف ہو حکمت کے موتی رول لے
از کتابِ اَلعزیز اتری جو اس پر بے نظیر
اس کی خوشنودی ملے تو رب کی خوشنودی ملے
یعنی خوشنودی ہے اس کی موجبِ فوزِ کبیر
حشر کی رسوائیوں سے ڈر رہا ہوں میں شہا
ہو کرم کی اک نظرؔ مجھ پہ بوقتِ دار و گیر
٭٭٭

 

 

توصیفِ نبیؐ کا مجھے مقدور نہیں ہے
چپ سادھ لوں یہ بھی مجھے منظور نہیں ہے
وہ دین و شریعت ہو کہ اخلاق و محاسن
کس پہلو سے آقا مرا مشہور نہیں ہے
ہے نامِ مبارک سے ہی ظاہر تری عظمت
اس نام میں اک حرف بھی مکسور نہیں ہے
عقبیٰ میں ہے وہ باعثِ خسران و ندامت
محفل میں اگر آپ کا مذکور نہیں ہے
صہبائے محبت تری اللہ فزوں دے
گو نشّہ ہے لیکن ابھی بھرپور نہیں ہے
ہر شخص سلامی کو تری جائے مدینہ
جو گردشِ حالات سے مجبور نہیں ہے
ہے بارشِ انوارِ خدا شہرِ نبیؐ میں
جلوہ فگنی مثلِ سرِ طور نہیں ہے
مانا کہ بہت دور ہوں مسکن سے نبیؐ کے
یاد اس کی مرے دل سے مگر دور نہیں ہے
دوبارہ درِ قدس پہ پہنچائے نظرؔ کو
اللہ کی رحمت سے یہ کچھ دور نہیں ہے
٭٭٭

 

 

ہوں آج محوِ ثنائے رسولِ زریں تاج
رگوں میں فرطِ مسرت سے ہے لہو موّاج
کیا ثبوت فراہم زہے شبِ معراج
خدا کے سارے رسولوں کا مصطفیٰؐ سرتاج
صفِ رسل میں وہی ایک ہے شہِ لولاک
رسائے عرشِ معلّیٰ وہ صاحبِ معراج
کتاب اس کی ہے محکم خلل سے ہے محفوظ
جو صدیوں پہلے تھی ویسی ہی حرف حرف ہے آج
درِ حبیبِ خدا ہے یہاں کمی کیا ہے
ہر ایک وقت کھڑے ہیں ہزارہا محتاج
شرف ملا یہ انہیں آپ ہی کی نسبت سے
کہ مؤمنین کی مائیں ہیں آپ کی ازواج
مثالِ سایہ رہے ساتھ تیرے جو تا عمر
بفضلِ رب وہ ترے پاس ہی ہیں دونوں آج
نظامِ دینِ شہِ انس و جاں ہے مستحکم
نظامِ قیصر و کسریٰ نہیں کہ ہو تاراج
وہ عاصیوں کی شفاعت کریں گے روزِ حساب
وہ لاج والے ہیں رکھیں گے امتی کی لاج
مجھے تو چاہئے سرمایۂ سخن تیرا
مری نظرؔ میں ہے اک اک سخن ترا پکھراج
٭٭٭

 

 

بغیرِ رحمتِ یزداں نہ ممکن ہے نہ آساں ہے
ثنا خوانِ محمدؐ ہوں تو میرے رب کا احساں ہے
کوئی سب لکھ دے اس کی حمد کب اس کا امکاں ہے
کہ وہ ہے جس قدر ظاہر اسی نسبت سے پنہاں ہے
وہ ہے پیغمبرِ آخر مطاعِ نوعِ انساں ہے
وہ سرکارِ دو عالم ہے بر آں محبوبِ یزداں ہے
شہنشہ ہیں گدائے در وہ ایسا شاہِ شاہاں ہے
درِ اقدس پہ اس کے ازدحامِ میر و سلطاں ہے
وہ انسانوں کا ہادی ہے بذاتِ خود بھی انساں ہے
مقام اونچا ہے لیکن متصل ہی بعدِ یزداں ہے
نظر آنا نہ آنا اس کا مثلِ مہرِ تاباں ہے
جو اک مطلع سے غائب دوسرے مطلع پہ رخشاں ہے
ضیائے ماہ و انجم ہو نہ ہو کیا کام ہے مجھ کو
بہ یادِ شاہِ خوباں قلب میں میرے چراغاں ہے
شریعت نے کئے حل عقدہ ہائے زندگی سارے
ہمیں اب کچھ نہیں مشکل ہمیں ہر کام آساں ہے
شفاعت چاہئے ان کی، کرم کی اک نظرؔ شاہا
سرِ محشر وہی ہیں اور میرا کون پرساں ہے
٭٭٭

 

 

نعت شایانِ نبیؐ ہو نہیں اس کا امکاں
میں تو لکھتا ہوں کہ رہ جائے نہ دل میں ارماں
وہ ہے سرتاجِ رسولاں وہ ہے شاہِ خوباں
وہ ہے محبوبِ خداوند وہ شاہِ گیہاں
پاک دامان و خوش اندام ہے شاہِ خوباں
خوش دل و خوش نگہ و خوش سخن و خوش الحاں
زلفِ سنبل سے بھی خوش تر ہے وہ زلفِ پیچاں
صبحِ خنداں ہو نچھاور وہ ہے روئے تاباں
دل میں پیوست ہوں ایسے ہیں خدنگِ مژگاں
رشکِ یاقوت ہیں لب دُرِّ عدن ہیں دنداں
وہ ہے مستغنی ہر شان و شکوہِ شاہاں
ہے کوئی شیش محل اور نہ در پر درباں
وہ ہے ناراضگی رب سے ہمیشہ ترساں
وہ ہمہ وقت ہے خوشنودی رب کا خواہاں
اپنے اصحاب کی محفل میں ہو گوہر افشاں
رزم گاہِ حق و باطل میں وہ مردِ میداں
مشکلیں اتنی اٹھائی ہیں برائے امت
مرحبا ہو گئی ہر مشکلِ امت آساں
اپنی امت کے لئے اس کی پریشاں قلبی
اٹھ کے راتوں کو دعا جو بہ حضورِ یزداں
جس کی گردن میں پڑا طوقِ غلامی اس کا
وہ ہے آزاد زِ آلامِ بلائے دوراں
کوئی محروم نہیں جود و کرم سے اس کے
رحمتِ کون و مکاں ہے وہ عمیم الاحساں
چشمِ انساں پہ سب اوصافِ نبیؐ کب روشن
دیکھ سکتا نہیں انساں بہ نگاہِ یزداں
روضۂ پاک کی ہم نے بھی زیارت کی ہے
بارِ دیگر بھی نظرؔ دل سے ہے عہد و پیماں
٭٭٭

 

 

تکمیلِ ثنا کر دے یہ انساں میں نہیں دم
ذات ایسی، صفات ایسی تری جانِ دو عالم
در زمرۂ خاصانِ خدا سب سے معظم
وہ رحمتِ دارین ہے وہ خیرِ مجسم
وہ منبعِ ہر علم وہ گنجینۂ حکمت
دنیا کا معلِّم ہے وہ ہے رب کا معلَّم
کیوں کیف نہ ہو کیوں نہ کرے صبح یہ چم چم
وہ عالمِ ظلمات میں آیا تھا سحر دم
ہر قولِ نبیؐ حق ہے کہ فرمودۂ حق ہے
ہر بات دل آویز ہے ہر فیصلہ محکم
انساں ہوں کہ جنات، فرشتے ہوں کہ غلماں
خواہاں ترے دیدار کے اے حسنِ مجسم
بخشی جو کتاب آپ نے قرآنِ مقدس
ہر دکھ کا مداوا ہے ہر اک زخم کا مرہم
آتا ہے وہ جب یاد دل آرائے مدینہ
کافور نہاں خانۂ دل سے ہو ہر اک غم
طائف کا سنا مت مجھے وہ قصۂ خونیں
اے واعظِ لَسَّان ذرا ہوش ذرا تھم
کس درجہ مقدس ہے نظرؔ والی طیبہ
از عرش سلام آتے ہیں اس ذات پہ پیہم
٭٭٭

 

 

کیفِ دل کب سخن وری سے ملے
ہاں مگر مدحتِ نبیؐ سے ملے
علم و دانش نہ آگہی سے ملے
راہِ حق اس کی پیروی سے ملے
روئے روشن ہو رشکِ ماہِ منیر
لب گلِ تر کی پنکھڑی سے ملے
اہلِ عالم کو رہنما کامل
ہر سبق سیرتِ نبیؐ سے ملے
دینِ قیم صحیفۂ قرآں
یہ خزانے اسی سخی سے ملے
لے کے لوٹے وہ دولتِ ایماں
ان سے جو نیک نیتی سے ملے
علم و عرفاں کے سب درِ نایاب
بس اسی ایک جوہری سے ملے
کیسی ہے رب کی شانِ یکتائی
یہ خبر بھی ہمیں اسی سے ملے
یہ شرافت اسی نے سکھلائی
دوست کی طرح اجنبی سے ملے
جو نہ ہو اس کے دین کا تابع
چین کیا ایسی زندگی سے ملے
کہیں ملتا نہیں وہ کیف و سرور
جو ترے در کی حاضری سے ملے
جامِ کوثر نظرؔ کو ہے امید
آپ کی بندہ پروری سے ملے
٭٭٭

 

 

الفاظ و معانی کے بل پر زنہار یہ سر انجام نہیں
یعنی کہ ثنائے ختمِ رسل انسان کے بس کا کام نہیں
کیا وحی جلی، کیا وحی خفی، ارشادِ خدا سب پہنچایا
تا حشر خدا کے بندوں کو اب کوئی نیا پیغام نہیں
اقوالِ نبیؐ سے کھلتے ہیں اسرار و رموزِ قرآنی
قرآں کے مطالب ہیں واضح اب ان میں کوئی ابہام نہیں
میخانے پہ ان کے جمع ہیں سب، ہر رند بلا تفریق پئے
تقسیم بقدرِ ذوق ہے یاں تقسیم بقدرِ جام نہیں
سب لوگ ہیں اس کی امت میں پیغمبرِ آخر وہ سب کا
سب رحمتِ عالم اس کو کہیں، کب اس کی محبت عام نہیں
اللہ رے ان کی شب خیزی، وہ ذوقِ عبادت دستِ دعا
اف بخششِ امت کی خاطر بے چین ہے دل آرام نہیں
اس طرح سے دعوت کس کو ملی، کب عرش پہ کوئی اور گیا
انعام ہوا جو خاص ان پر، خاصانِ خدا پر عام نہیں
بتلا دیئے سب احکامِ خدا، توضیح بھی کی، تشریح بھی کی
قربان شریعت پر ان کی، ہیں کون سے جو احکام نہیں
دنیا بھی سنواری عقبیٰ بھی، خالق سے ملایا بندوں کو
مرہونِ پیمبر ہیں بے شک، انسان جو کالانعام نہیں
تا وسعتِ ذوقِ قلب و نظرؔ پیتا ہوں اسی میخانہ سے
سرمستِ مئے توحید ہوں میں، بدمستِ مئے گلفام نہیں
٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل