ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

 

نوحہ گر

 

 

(ناول)

نسترن احسن فتیحی

 

 

انتساب

 

صفدر ہاشمی، بنائیک سین، اور میگھا پاٹیکر جیسے ایکٹیوسٹس
کے نام
آج کے سماج میں جن کا کردار اس ناول کو لکھنے کی تحریک بنا۔۔۔

اور

یاسمین باجی
کے نام
جن کی شبیہ راحت کے کردار میں ڈھال کر
ان کی یاد کو جلاء بخشنے کی کوشش کی۔۔۔۔

نسترن احسن فتیحی

 

 

تمہید

 

دنیا اپنی لا متناہی وسعت میں شطرنج کی بساط کی طرح اس کے سامنے پھیلی ہوئی تھی، اور اہرمن زندگیوں کو مہرہ بنائے اپنی چالیں چل رہا تھا …. اس مات اور شہ مات کی چالوں میں کچھ بھی ایسا نہ تھا، جو نیا تھا مگر منظر اور پس منظر لمحہ لمحہ بدل رہا تھا …… اور ….. برتر و بالا یَزداں حیران و پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا، اپنی ہی بنائی مخلوق کی کارستانیاں ….
…. اس نے انسان کو ایک الگ سی چیز عطا کی تھی، جو اس نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی تھی.. … ذہن۔
اور … ہزارہا سال سے انسان اپنے ذہن کی کارستانیوں کا تماشہ دکھا رہا تھا لیکن ابھی تک تھکا نہیں تھا۔ ہر روز ایک نئی ہمّت، جفا کشی، چالبازی، دھوکہ، ایثار اور محبّت کی کہانی اس کے سامنے ہوتی…. خالق سوچتا انسان کا یہ روپ تو بالکل نیا ہے اور وہ اس کا اعمالنامہ از سر نو مرتّب کرواتا۔ انسانیت کی مدد کے لئے اس نے پیغمبر اور نبی بھی بھیجے۔۔ شاید اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اپنی اس پارہ صفات مخلوق کا ہر رنگ دیکھ لینے کے بعد ہی شطرنج کی بساط کی طرح پھیلی ہوئی اس دنیا کو یکلخت سمیٹنے کے لئے کوئی وقت آخر مقرّر کرے گا۔ مگر وہ وقت کون سا ہو گا اور آخر کب آئے گا…؟ وہ اس راز کو افشا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ تاہم وہ کچھ اور بھی دیکھنے کا متمنی تھا، اس لئے وہ بنی نوع انسان کو مہلت دئے جا رہا تھا.. کیونکہ اس نے ذہن کے ساتھ ہر عام و خاص انسان کے دل میں باطل کی تاریکی سے لڑنے کے لئے روشنی کا ایک ننھا سا قطرہ شامل کر دیا تھا، جس میں برکت اور وسعت انسان کی اپنی کوششوں کے مرہون منّت تھی اور وہ اسی نور کی ہلکی سی رمق کا کرشمہ دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ چاند اور سورج کو تسخیر کرنے کا دعویٰ کرنے والے اپنی ہی ذات میں پنہاں نور کے اس ننھے سے جز کو پہچان پاتے ہیں یا نہیں … تب ہی اس نے ایک انوکھی چیز دیکھی….. اس نے دیکھا کہ اس وسیع دنیا کے ایک چھوٹے سے خطّے کی ایک معمولی سی لڑکی نے اپنی شخصیت سے ایک بالکل انوکھے قسم کا نور اپنے اطراف پھیلانا شروع کر دیا ہے، اور اس نور نے دنیا کے ایک اندھیرے حصے کو اپنے ہالے میں لے لیا ہے۔ اور… اس نے دیکھا کہ… اس پرانی دنیا میں، جس میں اہرمن اپنی ساری عیاریوں کے ساتھ شطرنج کی بساط پر مات اور شہ مات کے چالوں میں مگن ہے۔ اس کی حقیر سمجھی جانے والی مخلوق کے توسط سے … ایک نئی کہانی ظہور پذیر ہو رہی ہے۔ رنگ و نور کی کہانی۔۔۔
نسترن

ایک نغمہ، ایک شعلہ، ایک راگ
گہ خموشی، گہ سکوں، گہ اضطراب
٭٭٭

 

 

باب۔ ۱: نشیمن

 

 

1

’’نشیمن‘‘ کا ایک چوتھائی حصّہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہلالی چاند کی ناکافی روشنی اُس حصّے کے خط و خال کو واضح کرنے کے لئے ناکافی تھیں …………… جب کہ اُس کا بقیہ تین حصّہ۔ روشن زندہ اور متحرک تھا۔ اُس حصّے کو روشنی کے لئے چاند کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔
پون بیگھے میں پھیلی ہوئی حویلی کا مغربی حصّہ پوری طرح نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
راحت، دونوں ………….. روشن اور تاریک حصّے کو جوڑنے والے یا علیحدہ کرنے والے کمرے کی چھت کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ اس کمرے میں اب ظہیر بھائی رہتے ہیں۔ یہ وہی کمرہ تھا جس میں دادی رہتی تھیں۔ ان کی شخصیت کا دبدبہ ایسا تھا کہ بچّے وقت بے وقت اس کمرے سے گزر کر اس آنگن سے اس آنگن نہیں آتے جاتے بلکہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت کے راستے آیا جایا کرتے تھے۔ اس لئے کمرے کی حیثیت اس حویلی میں واقعی عجیب تھی، یہی کمرہ دونوں حصّوں کو جوڑتا بھی تھا اور یہی دونوں حصّوں کو الگ کرنے کا کام بھی کرتا تھا۔ اس کمرے کی چھت کے دونوں سرے سے ایک ایک سیڑھی اُن حصّوں کے آنگن کی طرف اُترتی تھیں۔ مغربی حصّہ چھوٹا اور پرانا بنا ہوا تھا جبکہ مشرقی حصّے کی توسیع گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ہوتی گئی، ادھر کے بیشتر حصے کی تعمیر نئی تھی اور یہ کافی کشادہ اور وسیع تھا۔ جس کے آنگن سے چڑھ کر راحت ابھی ابھی آئی تھی۔ راحت دونوں روشن اور تاریک حصّے کو جوڑنے والے کمرے کی چھت کی سیڑھیوں پر بیٹھی سر کی ذرا سی جنبش سے ’’نشیمن‘‘ کے دونوں حصّوں کا جائزہ لے سکتی تھی۔ اُس نے روشن حصّے کی طرف دیکھا۔ سڑک سے ملحقہ بڑے کمرے سے قہقہوں کی آواز آ رہی تھی۔ چھوٹے چچا اور اُن کی پنچایت ………….. چائے کا دور اور گاؤں کی سیاست …………… دادا ابّا کے انتقال کے بعد سے یہ سب کچھ ایسے ہی چلا آ رہا تھا اور آجکل تو نشیمن میں فوزیہ کی شادی کی گہما گہمی کا بھی اضافہ ہے۔ بڑی چچی جن کو وہ تائی امی کہتی تھی ان کو بس لڑکیوں کی شادی کر دینے میں ہی ہر مسئلے کا حل نظر آتا ہے، اس کے لئے بھی کوشش کر چکی تھیں مگر اس نے اپنی ضدی طبیعت کو سامنے رکھ کر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی، لیکن فوزیہ کی اپنی ماں کے سامنے ایک نہ چلی اور گریجویشن کرتے ہی آج یہاں شادی کے جشن کا اہتمام ہو گیا۔۔ جہاں سے ابھی ہنسی قہقہے کی آواز آ رہی ہے، اُس بڑے کمرے کا داخلی دروازہ ایک ایسی راہداری سے گزر کر حویلی کے صدر دروازے سے مل جاتا ہے، جس کی پیشانی پر۔ ’’نشیمن …. تعمیر۔ 1930‘‘ بہت خوبصورت بیل بوٹوں کے ساتھ نقش ہے، جسے وہ اپنے بچپن سے دیکھتی آ رہی تھی، مگر اس وقت اُس کی نظروں کی زد میں نہیں۔ ..اسی بڑے کمرے سے اندرونی حصے کی طرف ملحقہ ایک بر آمدہ جس پر ہر وقت سفید چادر اور مسند کے ساتھ دو چوکیوں کا فرش لگا رہتا ہے۔ ایک طرف کونے میں دادا ابّا کی آرام کرسی ویسے ہی رکھی ہے جیسے ان کی زندگی میں رکھی رہتی تھی مگر اس میں لگا ہوا کپڑا بد رنگ ہو چکا ہے پراس کی مضبوطی اب بھی مخدوش نہیں ہوئی۔ اسی آرام کرسی پر شام کے وقت دادا ابا تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ کر حقہ گڑگڑاتے ملاقاتیوں کے درمیان گھرے رہتے تھے۔ یا صبح ناشتے کے بعد گھر کے سارے بچّے اسی دو چوکی کے فرش پر بیٹھ کر انہیں اپنے اپنے اردو کے سبق سنایا کرتے۔ اور جو اچھی طرح اپنے سبق یاد کر کے آتا اسے ان کی طرف سے ایک ٹافی ملتی، اور اس وقت ملنے والی یہ ٹافی کسی ٹرافی سے کم نہ لگتی۔۔۔ پر اب یہ تایا ابو ّ کے بیٹھنے کی جگہ ہے جس پر وہ صبح اخبار اور شام کے وقت تھوڑی دیر کے لئے تنہا بیٹھے کوئی کتاب پڑھا کرتے ہیں۔ مغرب کی اذان کے وقت اٹھ کر اندر چلے جاتے ہیں۔
آنگن کی کیاریوں میں پانی کے چھڑکاؤ کے ساتھ ایک فرحت بخش ٹھنڈک اور مٹّی کی بھینی بھینی خوشبو ماحول میں رچی بسی رہتی ہے۔ جہاں سے اُٹھ کر راحت یہاں آئی ہے، …… وہ بھی اس اندھیرے آنگن کی تلاش میں، جہاں اب کچھ بھی نہیں ہے۔۔ نہ کوئی پرچھائیں، نہ کوئی آہٹ اور نہ کوئی خوشبو…. جبکہ اس سے متصل دوسرے حصّے کا وہ بڑا سا آنگن روشن، رنگین اور پر بہار ہے …….وہاں کے کمرے روشن اور زندگی کی رونق سے معمور ہیں۔ اس طرف کے باورچی خانے میں، جہاں سے آنے والی آوازوں سے عورتوں کی مخصوص قسم کی مصروفیتوں کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہ تھا۔ اس بڑے سے کنبے کے بہت سے افراد، مختلف کمروں میں، اپنی اپنی مصروفیتوں میں، اپنی دلچسپیوں میں اور اپنی اپنی خوشیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ فوزیہ اس سے چھوٹی تھی مگر اپنی شادی سے خوش بھی تھی، اور اسی کی ضد سے اس شادی میں شرکت کے لئے وہ کئی سال بعد یہاں آ سکی تھی۔ اپنی مصروفیتوں میں وہ اتنے سال یہاں سے دور رہ کر بھی کچھ نہیں بھولی تھی۔ اور آج بھی اس گھر میں سب کچھ ویسے ہی چل رہا تھا۔ باورچی خانے سے جڑا ہوا مشرق کی طرف مُڑ جانے والا ایک اور طویل برآمدہ اور اُس سے جڑا ایک چھوٹا کمرہ………. جو اُس کی ماں کا تھا۔ اور اُن کی قناعت پسندی اور اُن کے صبر نے ہر طرف سے کھسکاتے کھسکاتے اُنہیں اُس کمرے میں مقید کر دیا تھا۔ راحت نے ایک ٹھنڈی سانس لی ……… کیا کسی کو اتنا بے ضرر، اتنا صابر اور اتنا قناعت پسند بھی ہونا چاہیئے۔ وہ تھوڑی سی مضبوط ہوتیں اور اس گھر میں اپنی صحیح جگہ بنا پاتیں تو شاید راحت کی کڑھن اور گھٹن اتنی نہ بڑھی ہوتی۔ اور شاید اس گھر میں وہ اتنی بد نام نہ ہوتی، اُس روشن حصّے سے اجنبیت کا ایک شدید احساس بچپن سے اُس کے اندرون میں کہیں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔
اور زندگی کے اتنے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد بھی اُس میں کمی نہ آئی تھی۔ معلوم نہیں اتنے سال بعد یہاں کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اُس کے لئے کدورتیں کم ہوئی ہوں گی یا نہیں۔ اُس کے ڈاکٹر بن جانے کے بعد سب کو یقیناً یہ اُمید ہو گی کہ وہ اپنی دیرینہ ساری عادتوں، ساری دلچسپیوں اور سارے فطور کو وہیں بھول آئی ہو گی اور اُس کے اندر سے ایک نئی راحت، سمجھ دار اور اطاعت گزار راحت نے سر اُبھارا ہو گا۔ مگر اُس کے اندر ایک بے چین روح تھی جو ہر وقت اُسے ایک الگ ڈگر پر چلنے کے لئے ہی اُکسایا کر تی، …ہمیشہ متعین راستوں سے ہٹ کر، مگر اس بار وہ اپنے بڑوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ہے، نہ جانے اس بار وہ سہولت سے یہاں وقت گزار پائے گی یا نہیں۔ اس بار سب نے اس سے جس گرمجوشی کا مظاہرہ کیا ہے اسے بھی سب کے جذبات کا پوری طرح خیال رکھنا پڑے گا۔ وہ جانتی تھی کہ رات کے اس پہر یوں شادی کے پر رونق ماحول سے نکل کر یہاں چھت کے اس ویران اور اندھیرے کونے کی سیڑھیوں پر بیٹھنا، اسے سب کی نظروں میں مشکوک ٹھہرائے گا اور ممکن ہے یہ اس کا ایک ناقابل معافی گناہ بھی قرار پائے، مگر اتنے سالوں بعد گھر آ کر، وہ خود کو یہاں آنے سے روک نہ پائی، اور رات کے کھانے کے بعد سب سے چھپتی چھپاتی یہاں آ گئی تھی۔ اُسے تاریک آنگن کی طرف اُترنے والی ان سیڑھیوں کے اوپر بیٹھے بیٹھے کچھ دیر ہو چکی تھی۔ اور اسے اندازہ تھا کہ اب اُدھر اُس کی تلاش شروع ہو چکی ہو گی۔ … یہاں ان بے رونق، بے رنگ در و دیوار سے ماضی کی کتنی روشن، زندہ اور تابناک یادیں جڑی ہیں۔ آج بھی اس ویران آنگن میں جہاں کبھی زندگی کھلکھلاتی تھی …… جہاں اُس کی نشو و نما ہوئی تھی۔ اور جو اُس کا اپنا تھا ….. اور آج کی تاریخ میں اجاڑ اور ویران تھا ….. مگر چہار طرف اچھی بُری یادوں کا کیسا ذخیرہ یہاں موجود تھا ………… اور وہ ان یادوں کو سمیٹنا چاہتی تھی ………. اُن یادوں سے اپنا دامن بھر لینا چاہتی تھی ……. اُنہیں پھر سے ویسے ہی محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ ویران آنگن کی گہری ہوتی ہوئی رات کے سناٹے کی طرف رخ کئے سیڑھیوں پر بیٹھی رہی۔ اب اس اندھیرے گھر سے آ کر اُسے یہاں سے اُٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ ہاں ہاتھ تھام کر سیڑھیوں پر بٹھانے والی یادیں ضرور تھیں۔ اس کے عقب میں نشیمن کے روشن حصے سے ہلکے ہلکے شور اور قہقہوں کی آتی ہوئی آواز احساس دلا رہی تھی کہ اسے یہاں سے اب اٹھ جانا چاہئے۔ وہ با دلِ نا خواستہ اُٹھی۔ سیڑھیوں نے جیسے قدم تھام لئے تھے۔ بچپن سے دوستی تھی ان سیڑھیوں سے، جب دادی کی ڈانٹ کے خوف سے وہ ان کے کمرے سے نہ گزر کر اس چھت کے راستے اس آنگن سے اس آنگن بھاگا کرتی۔ ایک ہوک سی اٹھی دل میں نہ وہ لوگ رہے نہ ان کی محبتیں اور نفرتیں۔ اب جو لوگ اس گھر میں رہ گئے ہیں، ان لوگوں کے ذہنوں میں اس حصے کی دیواروں کی طرح اس سے جڑے لوگوں کی یادیں بھی بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ مگر وہ کیسے سمجھائے اپنے دل کو کہ اپنی ماں کی طرح صبر اور شکر اس نے نہیں سیکھا، ان پرانی بوسیدہ دیواروں کے لئے اس کے کچھ خواب ہیں اور اس سے جڑی یادیں اس کے لئے ان زندہ لوگوں سے بھی زیادہ زندہ اور روشن ہیں، جو اسے جینے کا حوصلہ اور جواز فراہم کرتی ہیں۔ اُس نے چپکے سے اپنے دل میں امید کا ایک ننھا سا دیا روشن کیا اور جدھر سے آئی تھی اُدھر واپس مڑ گئی کیوں کہ اسے اندازہ تھا کہ اُس طرف بھی دو مہربان نگاہیں اُس کی منتظر ہوں گی۔

2

راحت کو چھت سے اترتے کسی نے نہ دیکھا رات کے کھانے کی گہما گہمی ختم ہونے کے بعد رت جگّے کا پروگرام تھا… گلگلے بننے کی تیاری چل رہی تھی، گاؤں کی عورتیں بڑے جوش اور شوق سے آدھ من آٹے اور گڑ سے ساری رات گیت گا گا کر اسے بنائیں گی۔ مٹّی کے چولہے پر بڑے سے کڑاھ میں تیل ڈال دیا گیا تھا یعنی آٹے اور گڑ سے گندھا اور ہلکا خمیر اٹھا یا ہوا آٹا تلنے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔ اب گلاب جامن کی شکل اور سائیز کے یہ گلگلے سنہرے سنہرے تل کر نکال لئے جائیں گے۔ اور صبح یہ پورے گاؤں میں تقسیم کروا دیا جائے گا۔۔ راحت سب کی مصروفیت اور ہنسی ٹھٹھول سرسری نگاہ سے دیکھتی ہوئی چپکے سے ماں کے کمرے میں جا کر ان کے بستر پر لیٹ گئی۔۔ بس یہی ایک کمرہ تھا جہاں کوئی ہنگامہ اور شور نہیں تھا، اس کی ماں کی شخصیت کی طرح سادہ اور ہر سج دھج سے عاری۔ ایک طرف نماز کی ایک چوکی، برسوں پرانی ایک مسہری اور ایک طرف دیوار سے لگا اداس سا سنگار دان، جس پر سنگار کی ایک چیز بھی موجود نہ تھی۔ کیا وہ کبھی اس میں اپنا عکس دیکھتی ہوں گی؟۔ انہیں تو دوسروں کی تکلیفوں اور ضرورتوں کو دیکھنے سے ہی فرصت نہیں، گھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر وہ اپنی اداس یادوں کا تکیہ لگا کر یہیں سو جاتی ہوں گی۔ ابھی خود کو بھول کر مہمانوں کی خاطر و مدارات میں لگی ہوں گی۔ راحت ..ماں کے متعلق سوچتے سوچتے سو گئی۔
اس کی آنکھ کھلی تو کمرے کی مشرقی کھڑکی کے سامنے سو رج کا گولا بالکل پورے چاند کی طرح ٹھنڈا، سیاہی مائل آسمان کی پیشانی پر سہاگن کی بندی کی طرح چمک رہا تھا۔ ماں نماز سے فارغ ہو کر اپنے بستر کو درست کر رہی تھیں۔ اس نے حیران ہو کر سورج کی طرفٖ دیکھا۔۔۔ راحت کی آنکھ کھلتی دیکھ کر وہ مسکرائیں۔ نماز نہیں پڑھی طلوع آفتاب کا وقت ہو گیا۔ اُٹھ جاؤ میں چائے بنانے جا رہی ہوں کل جب میں کمرے میں آئی تو تم بے خبر سو رہی تھی۔۔‘‘ انہوں نے پاس آ کر پیار سے اس کے بالوں کو سہلایا اور کمرے سے نکل گئیں۔
آج اتنے دنوں بعد ایسی فرصت سے امّی کے کمرے میں سونا اور جاگنا اُسے کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ جسم کے پور پور سے جیسے تھکن بوند بوند ٹپک کر باہر نکل گئی ہو اور جسم بالکل ہلکا پھلکا اور دماغ بالکل پر سکون ہے اس وقت، جی چاہ رہا ہے کہ صبح صادق کا وقت یوں ہی تھم جائے۔ اور کھڑکی کے چہرے پر طلوع آفتاب کی بندی یوں ہی ٹنکی رہے۔ مگر یہ کیا۔۔ ان چند لمحوں میں سورج کی بندی کھسک کر اوپر چلی گئی تھی اور اب کھڑکی سے آدھی نظر آ رہی تھی۔ اُس کی سرخی کے ساتھ اب اُس کے چہار طرف روشنی کی سپیدی کا ایک ہالہ سا بھی بن گیا تھا۔ راحت غور سے اُدھر دیکھتی رہی اور اُسے احساس ہوا کہ وہ بہت تیزی سے کھسکتا جا رہا تھا۔ شاید اُسے دنیا کو جگانے کی بہت جلدی تھی۔ اور ایک پل ضائع کئے بغیر وہ اپنے سفر پر گامزن تھا۔ لوگوں کی سُستی دیکھ کر اُس کا جلال اور بھی فزوں ہو رہا تھا۔ راحت کو یقین تھا جب وہ کمرے سے باہر جا کر اُس کی طرف دیکھے گی تو اُس سے نظریں نہ ملا پائے گی۔ اب وہ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا مگر کھڑکی کے باہر اُس نے اپنے وجود کی روشنی کے پہرے بٹھا دئے تھے۔ راحت نے کسل مندی سے انگڑائی لی اور کروٹ بدل کر دیوار کی طرف رخ کر کے آنکھیں بند کر لیں۔ ابھی وہ اس آلسی صبح کو پکڑے رہنا چاہتی تھی۔ کیونکہ نہ جانے کتنے دنوں بعد اُسے یہ سکون میسّر آیا تھا۔ اور اس سکون میں سوتے اور جاگتے ہوئے کتنی اچھی بُری یادیں تھیں …… جو نہ جانے کن اندھیرے کونوں کھدروں سے جوق در جوق نکلی چلی آتیں ….؟ وہ آنکھ کھلی رکھتی تو بھی نظر آتیں۔ اور ضدّی بچوں کی طرح اُس کی انگلی تھام کر اُسے اپنے درمیان کھینچ لیتیں۔ اور وہ اُن میں دھیرے دھیرے یوں شامل ہو جاتی جیسے وہی سچ ہے باقی کچھ بھی نہیں۔ پھر اُسے کچھ بھی یاد نہ رہا۔ نہ حال اور ماضی کا کوئی تصوّر باقی رہا۔ خیالات کی بہتی ہوئی دھارا میں اُس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور یادوں کے تھپیڑے اُسے کبھی ادھر کبھی اُدھر بھٹکاتے رہے۔ کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں اُس کا بچپن گزرا تھا………….. جس کے چپّے چپّے اور ذر ّے ذرّے سے اُس نے محبت کی تھی۔ جہاں جذبوں اور رشتوں کو اُس نے پہچاننا اور نام دینا سیکھا تھا۔ جہاں سپنوں کو پنکھ ملے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اُس نے وہ معصوم وقت گزارا تھا جب اُس کے چہار طرف کی دنیا بڑی خوبصورت تھی، جن میں بڑی گہما گہمی بڑی رنگا رنگی، بڑی مصروفیت تھی۔ اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ رل مل کر وقت کیسے سرک جاتا کہ اُس کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوتا۔ اُس وقت اُن کے ذہنوں میں زندگی کی خوبصورتی اور بدصورتی، اچھائی اور بُرائی کمی اور طمانیت کا کوئی الگ الگ خانہ نہ تھا۔ سارے جذبے ساری تصویریں، سارے خیال بڑے گڈ مڈ، غیر واضح اور نا مکمل تھے۔ اسی لئے زند گی کے کینوس پر بڑی گنجائش تھی۔ ان رنگوں کو اُبھارنے اور نکھارنے کی۔
مگر بہت شروع سے، شاید شعور کی سرحد کے کہیں بہت پہلے سے اُس نے محسوس کیا تھا کہ اُس کے اندر بھی ایک دنیا تھی جو باہر کی دنیا سے بالکل الگ تھی اور ہر وقت بڑی خاموشی سے اُس کے ساتھ ساتھ شب و روز کا سفر طے کرتی۔ اُس دنیا میں کوئی شور نہ تھا، کوئی مصروفیت نہ تھی۔ مگر ایک سرگوشی تھی جو ہر وقت اُس کی توجّہ باہر سے اندر کھینچنے کی کوشش کرتی رہتی۔ یا اُس کے دل کو چٹکیوں سے مسلتی رہتی۔ اندر کی دنیا میں بے پناہ اُداسی بھری رہتی۔ شاید باہر کی دنیا میں اس کی شمولیت اندر کی دنیا کو پسند نہ تھی۔ اندر کی اس سرگوشی سے وہ چیں بہ چیں ہوتی۔ مگر نہ معلوم اُس اداسی بھری دنیا میں کون سی کشش تھی کہ بار بار وہ باہر کی گہما گہمی سے بھاگ کر اپنی اُسی دنیا میں پناہ لینے کے لئے بے چین ہو جاتی۔ کیونکہ وہاں اُسے لگتا کہ سکون اور طمانیت کا احساس تھا۔ پہاڑی جھرنوں کی طرح شفاف جذبے تھے، کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی آزادی تھی۔ نہ تھوپے ہوئے قانون تھے، نہ اوڑھی ہوئی تہذیب تھی، نہ لالچ کے ناگ تھے اور نہ کچھ کھو دینے کا ڈر تھا۔ اندر کی اس دنیا کے آسمان کا رنگ اپنی مرضی کا ہوتا……….. یہاں کی زمین بے داموں ملتی ……بے کنار ….. جس کی ابتداء اور انتہا کی تمیز کرنا مشکل تھا۔ جس پر سوچ کے گھوڑے بڑی تیز رفتار سے کسی سمت بھا گتے نہ تھکتے۔ جہاں کے رشتے خاموش نرم و نازک جھاڑیوں کی طرح محبت کی ہوا کی خنکی سے ہلکے ہلکے کانپتے، ہلکورے لیتے ہوئے سانس لیتے۔ اور جن میں معصوم خرگوشوں جیسے جذبے اپنی چمکتی سُرخ آنکھوں کو مچمچاتے ہوئے یہاں وہاں پناہ لیتے۔ پھدک کر نکلتے اور پھر اُن میں ہی جا کر چھُپ جاتے۔ ان ننھے معصوم جذبوں کو وہ جب چاہے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتی۔ اُنہیں سہلاتی پچکارتی اور پھر اُن ہی جھاڑیوں میں چھوڑ دیتی۔
تب اُسے معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اُس کے سامنے ان دو دنیاؤں میں تال میل بٹھانے کی کبھی اجازت نہ دے گا۔ باہر کی دنیا کے اپنے اصول تھے ……. اُس کا اپنا قانون تھا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ رشتے ناطے، محبت نفرت، اپنے پرائے اور ہم رُتبہ، ہم پلّہ کے کتنے خانے الگ الگ بنا دیئے گئے تھے۔ جن کے بارے میں سوچنا، کرنا اور بولنا تھا، زندگی کسی کی اور اختیار کسی کا۔ دماغ کسی کا اور فیصلہ کسی کا۔ نہ جانے کیوں باہر کی دنیا میں با ضابطہ کچھ لوگ یہ طے کرتے کہ آپ کو کیوں کیسے اور کس کے لئے جینا ہے۔ کبھی کبھی باہر کے اصول و ضوابط اُسے باغی بنا دیتے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُسے احساس ہو چلا تھا کہ دونوں دنیاؤں کے اصول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اُس کا دل بڑی تیزی سے باہر کے اصولوں کو رد کرتے، مگر اُس کی یہی ضد اور یہی کوشش اُسے سب سے مختلف بناتی گئی۔ لوگ اُس سے بہت جلد متنفّر ہو جاتے۔ اور اُس کے اندر کی سہل پسندی، امن پسندی اور انصاف پسندی نے یا پھر زندگی میں پے در پے رونما ہونے والے سانحات نے باہری دنیا میں اُسے ضدّی، خود سر، غصّہ ور اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا اور دھیرے دھیرے سب اُسے "freak” کہنے لگے۔ اس کی ضد اور اس کے غصّے پر قابو پانے کے لئے اس کے چھوٹے چچا ناظر نے اپنے مرحوم بھائی اور اس کے ابّا کی خواہش کا حوالہ دے کر اُسے بورڈنگ میں بھیج دیا۔ جہاں ڈسیپلن کی چکی نے اُسے خوب پیسا، اُس کا چورما بنا۔ اور اُسے پھر سے ایک نئے چاک پر گڑھا گیا۔ اور وہ اندر اور باہر کی ساری دنیاؤں کو بھول کر اُس متعیّن راستے پر بڑھتی رہی اور تعلیم مکمل کر کے وہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ اب اُس کی زندگی کی ڈگر سیدھی اور بے خطر تھی۔ جس پر آگے جا کر اُس کے سنہرے مستقبل کی منزلیں تھیں۔ جہاں معاشی سہولت کے ساتھ جسمانی طمانیت تھی۔ جہاں اپنی کھینچی ہوئی حد بندی کے اندر تحفظ کا مضبوط احساس تھا۔ جہاں اپنی رہائش، اپنی غذا اور اپنے خواب تھے اور زندگی میں ایک با عزّت مقام پا لینے کا خیال تھا۔ مگر نہ جانے کیوں اس سرزمین پر قدم رکھتے ہی اُس کے دل کی کسک جاگ اُٹھی تھی۔ اندر کی دنیا کی سر گوشی نے اُسے کبھی چین نہیں لینے دیا تھا۔ اور وہ سو چتی رہتی تھی کہ کیا یہ کامیابی اُسے خوش کر رہی تھی؟ اور یہاں یہ سوال اُس کے دل و دماغ کو زیادہ مضبوطی سے جکڑتا جا رہا تھا۔۔ کہ ایک بے سمجھ سرگرمی کے ساتھ اس بے خطر راستے پر بڑھے جانا ہی اُسے طمانیت دے سکتا تھا؟۔ جہاں مشکل تر مراحل سے گزرے بغیر منزل پر پہنچنے کی خوشی خوشی ہو سکتی تھی؟۔ یا اپنی عملی کامیابی کو اپنے وجود کی سطح پر مکمّل کر کے اور اپنی ذات تک محدود کر کے وہ خوش رہ سکتی تھی۔؟کیا ابّا نے اسے ڈاکٹر بنانے کا خواب اسی لئے دیکھا تھا کہ وہ یہاں سے ہمیشہ دور رہے۔۔ مگر وہ کس سے پوچھے؟ ایسے بہت سے سوال تھے جو یہاں سر اُبھار رہے تھے۔ پر ان کا جواب دینے والا یہاں کوئی نہیں تھا۔
’’راحت تم پھر سو گئی۔ اُٹھو دن چڑ ھ آیا ہے، برش کرو چائے بھی تیار ہے۔‘‘ عالیہ بیگم نے دو بارہ کمرے میں آ کر اُسے آواز دی۔ مگر وہ جاگتے ہوئے بھی آنکھیں بند کئے پڑی رہی۔ عالیہ بیگم سمجھ گئیں کہ یہ شادی کے ہنگاموں سے پناہ لینے کی اس کی ناکام سی کوشش ہے۔ وہ اپنی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر کمرے سے نکل گئیں تا کہ اُس کے لئے چائے کی ایک گرم کپ لے آئیں اور اپنی اس سر پھری بیٹی کو سمجھا سکیں کہ زندگی کے ہر رنگ کو قبول کرنا کتنا ضروری ہے، کتنی بھی بڑی ہو جائے گی اس کا بچپنا جانے والا نہیں۔ دل ہی دل میں سوچتی وہ کمرے سے باہر چلی گئیں۔

3

ظہیر عبّاس اپنے کمرے کے سامنے کے برآمدے میں بیٹھے تھے، ان کی گود میں ایک کتاب کھلی پڑی تھی….. مگر ذہن بھٹک رہا تھا۔۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اب تین سال بعد راحت وطن لوٹی تھی۔ اس کی شبیہ میں از سر مو فرق نہ آیا تھا مگر اس کی شخصیت میں ایک نمایاں تبدیلی نظر آ رہی تھی۔ وہ زیادہ پر وقار، سنجیدہ اور با اعتماد نظر آ رہی تھی۔ بات بات میں جھلّانے والی، کٹی کٹی اور خاموش خاموش رہنے والی۔۔۔ یہ ہر گز وہ راحت نہ تھی۔ اس میں ایک استحکام اور وقار نظر آ رہا تھا، حالانکہ وہ شروع سے خاموش طبع تھی، انھیں اچھی طرح یاد ہے وہ اسے بچپن میں کس قدر چھیڑتے تھے اور وہ متانت سے صرف مسکرا دیتی، پھر وہ اسے چڑانے کے لئے پوچھتے کہ کیا تمہاری زبان کسی چوہے نے کتر لی؟ پھر بھی وہ صرف مسکرا کر رہ جاتی، وہ چاہتے تھے کہ وہ ان سے لڑے، کچھ بولے پر ناکام رہتے۔۔ مگر ظہیر کو اس سے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ کی ضرورت نہ پڑی، اس کی آنکھیں جن کے لئے غلط بیانی کرنا ممکن نہ تھا، اس کے دل کی بات صاف صاف کہہ دیتی تھیں۔ وہ نظریں بچپن سے ایک بھروسے، یقین اور دوستی کا پیغام لے کر ان کی طرف اٹھتی رہیں۔۔ جیسے اس بار بھی جب جب ان کا سامنا اس سے ہوا اس کی آنکھوں نے کہ دیا تھا کہ وہ صلح چاہتی ہے، ان پچھلی تلخیوں کو بھلا کر جس میں خود ان دونوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔۔ ظہیر نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس لی اور سر کرسی کے پشت سے ٹیک دیا… انہیں یاد آیا کہ وہ کیسے اسے ہزار طرح سے چھیڑتے، ستاتے رہتے تھے، کئی بار اس سے کسی بات پر تلخی ہو بھی جاتی، تو وہ اس سے زیادہ دیر ناراض نہ رہ پاتے۔۔ رفتہ رفتہ جیسے ان کی عادت بن گئی، اس کا ہر طرح خیال رکھنے کی۔۔ وہ بات نہ مانتی تو لڑائی بھی ہوتی۔۔۔ پلٹ کر وہ سوری کہہ دیتی اور وہ مسکرا دیتے مگر کبھی اس سے صرف یہ نہ کہہ سکے کہ وہ اس سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتے۔ وہ یہ بھی نہ کہہ سکے … کہ .وہ اس کی نظروں میں اعتماد کے ساتھ اپنے لئے الفت بھی دیکھنا چاہتے تھے نہ جانے کب سے …، .شاید ہمیشہ سے ہی، لیکن احساس بعد میں ہوا۔ کیونکہ اس کے دراز سبک بالوں کے درمیان اس کا انتہائی سنجیدہ اور متین نظر آنے والا چہرہ ان کی کمزوری بن گیا تھا، وہ یہ بھی نہ کہہ سکے کہ مسکرانے سے پہلے اس کے ایک گال پر گہرا سا گڑھا جو رقصاں دکھائی دیتا تھا، وہ دل کی کدورتوں کو دھو کر پاک کر دینے کی طاقت رکھتا تھا۔ اور اس کی تمام حرکات و سکنات جو شائستگی اور سبک دستی کا مظہر تھیں، اور اس کا خاموش شرمیلا پن جو بہت ساری دوسری خوب صورتیوں کے معیار سے زیادہ خوبصورت تھیں، ان کے جیسے متین شخص کا بھی دل جیت بیٹھے تھے۔
پھر حالات نے ایک ایسا رخ اختیار کیا کہ اس گھر کی ہنسی، بے فکری اور خوشی کو کسی کی نظر لگ گئی۔۔ وقت نے زخم کا اندمال کر دیا اور سب اپنی اپنی تعلیم میں مصروف ہو کر بہت کم ملنے لگے۔۔ راحت کے لئے ان کے اپنے دل میں جانگزیں ہونے والی پسندیدگی مصروفیتوں اور حالات کی نذر ہو گئی، کبھی کسی چھٹّی میں ملاقات ہوتی تو بچپن والی بے تکلفی کی جگہ ایک تکلف بھری دوستی پنپنے لگی۔ مگر افسوس کہ ابھی وہ دونوں اپنی اس دوستی کو کچھ سمجھ پاتے کہ اچانک بڑوں نے وہ فیصلہ سنا دیا جسے سننے کے لئے دونوں تیار نہیں تھے، اس لئے حیران رہ گئے۔ ابھی تو راحت کی میڈیکل کی تعلیم پوری ہوئی تھی پھر ہاؤس جاب ختم ہوتے ہی یہ فیصلہ راحت کو گراں گزرنا ہی تھا اور ان سے ان کے بڑے ماموں نے کچھ پوچھا ہی کب تھا، آج سے تین سال پہلے کی ہی تو بات ہے بڑے ماموں اور بڑی ممانی نے جب ان دونوں کے رشتے کی بات چھیڑ دی تو ظہیر کو لگا جیسے ان کے دل کا چور پکڑ لیا گیا ہو۔ انہیں اس وقت خوشی سے زیادہ خجالت ہوئی۔۔۔ اس وقت وہ خود اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے تھے کہ بڑوں کے اس فیصلے پر پہنچنے کا مقصد صرف اتنا سا تھا کہ گھر کی جائیداد گھر میں رہ جائے۔ مگر یہ بات کچھ اس طرح سامنے آئی کہ کم از کم اس وقت ظہیر اور راحت اس کے لئے ہرگز تیار نہ تھے۔ اس وقت تک تو وہ خود اپنے اس میلان کو اچھی طرح نہیں سمجھ پائے تھے، ہاں وہ دل ہی دل میں راحت کی طرف سے ایسی یقین دہانی ضرور چاہتے تھے جو خود ان کے اپنے دل میں تھی اور یہ کہ وہ اس کا موقف جان سکیں، مگر اس کا موقع نہیں ملا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ جان یا سمجھ پاتے… بڑوں نے اچانک جو فیصلہ لیا اور وہ فیصلہ جس طرح سامنے آیا… اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنا تھا۔ راحت نے صاف صاف انکار کر دیا، راحت کے انکار سے انہیں کس قدر صدمہ ہوا تھا۔۔ جبکہ وہ جانتے تھے، اس انکار میں ان کے لئے کوئی ناپسندیدگی نہ تھی، بلکہ اس کے دل کا وہ غصّہ ابھر کر سامنے آ گیا تھا جو اس نا انصافی کی صورت میں اس کے اندر جمع ہوتا رہا تھا جو وہ اپنی اور اپنی ماں کی زندگی کے ساتھ ہوتا دیکھتی آئی تھی۔ فخرو ماموں کی موت کے بعد سے ہر فیصلہ ان سے پوچھے بغیر ان پر تھوپ دیا جاتا تھا۔ اور شاید زندگی بھر کے لئے کئے گئے اس فیصلے میں بھی اس سے نہ پوچھا جانا اسے بری طرح کھل گیا تھا۔ ظہیر خود بھی تو کتنے حیران ہوئے تھے کہ ایک بار ان سے بھی رائے نہ لی گئی۔
در اصل یہ فیصلہ بڑی ممانی کا تھا، جو اس گھر میں نہ جانے کب سے سب کی زندگیوں سے متعلق فیصلہ لینے کا حق اپنے پاس رکھتی تھیں۔۔ جنہوں نے اس فیصلے کے لئے بھی نہ تو وقت کا صحیح تعین کیا تھا، نہ کسی کی رائے لی تھی، نہ ہی ایسا سوچنے کے لئے ان کا مقصد صحیح تھا۔ کیونکہ ان کے اس فیصلے کی وجہ نانا جان حامد حسین کی وہ وصیت بن گئی تھی جس میں انہوں نے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ ان تین یتیم بچوں کے نام کر دیا تھا۔ بلال اور راحت تو ان کے پوتے اور پوتی تھے مگر ظہیر تو ان کے نواسے تھے، جسے قسمت کی ستم ظریفی نے اس در پر لا پٹکا تھا۔ اور نانا کی محبت میں ان کے حصّے میں بھی بہت سی زمینیں آ گئی تھیں۔ بہر حال اس گھر کے بڑوں نے جو بھی سوچا ہو اور راحت سے ان کی شادی کروانے کی خواہش کی وجہ جو بھی ہو… یہ ایک المیہ ہی تھا کہ نہ جانے کب سے ظہیر کے اپنے دل میں بھی یہ خیال آرزو بن کر پلنے لگا تھا۔ اس لئے انہیں یہ فیصلہ اتنا برا نہیں لگ سکتا تھا، جتنا راحت کو لگا۔ اور اس کے اس انکار نے ان کی ہر امید کو بجھا کر رکھ دیا تھا، ساتھ ہی اس انکار نے خاندانی سیاست کو بہت پراگندہ کر دیا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بڑی ممانی انجمن آرا اور چھوٹی ممانی ناہید کی ذہنیت کو کبھی بھی صحیح ڈگر پر ڈالنا ممکن نہ تھا۔ در اصل وہ کیا چاہتی تھیں یہ سمجھنا مشکل تھا بس ظہیر کو اتنا پتا تھا کہ وہ ہر فیصلے، ہر موقعے پر اپنی برتری چاہتی تھیں۔ اور راحت کے انکار نے ان کے احساس برتری کو ٹھوکر مار دی تھی، وہ اپنی کہی بات کو پتھر کی لکیر سمجھتی تھیں۔ اب اپنی تذلیل کا بدلہ عالیہ ممانی سے لینے کا کوئی موقع نہ چھوڑتی تھیں۔ راحت کی ماں عالیہ ممانی کا تعلیم یافتہ ہونا بھی ان کے لئے ایک مسئلہ تھا۔ اپنی دیورانی اور جٹھانی کی ان سے کوئی ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھیں کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو ہی جاتی کہ عالیہ ممانی کی مخالفت شروع ہو جاتی تھی … جیسے .. انہیں کبھی اس گھر میں اس بات کی اجازت نہیں ملی کہ وہ اپنا اسکول کھول لیں۔ فخر حسین جو عرف عام میں فخرو کہلاتے تھے جب انہیں بیاہ کر لائے تھے تو وہ پٹنہ کے ایک اچھے اسکول میں بی ایڈ کر کے پڑھا رہی تھیں … سسرال کے ماحول میں نوکری کرنا ان کے لئے ممکن نہیں رہا، نہ ہی یہاں کوئی ایسا اسکول تھا … تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ان کے شوہر نے انہیں یہ خواب دکھایا تھا اور وہ دل سے چاہتے بھی تھے کہ عالیہ ممانی یہاں اپنا اسکول کھول لیں، مگر پہلے تو انہیں اپنی ساس سے اس کی اجازت نہ ملی … پھر پے در پے حادثات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ عالیہ ممانی پتھر کی طرح خاموش ہو گئیں۔ بلکہ سر جھکا کر ان لوگوں کی ہر بات پر سرِ تسلیم خم کرنے لگیں اور بس یہی بات راحت کے دل میں گرہ بنتی گئی۔ وہ ماں کی بے قدری سے نالاں رہتی، شاید ان کی اسی بے قدری کو دیکھ کرنانا جان نے اپنی وصیت میں ان تینوں یتیموں کے نام اچھی خاصی زمین اور پرانا مکان کر دیا تھا۔ اپنے جوان بیٹے کی موت کے بعد ان کی نگاہِ دور رس نے بہت کچھ سمجھ لیا تھا۔ اسی لئے آخری وقت میں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے ناظر حسین سے وعدہ لیا تھا کہ وہ ان سب کا اپنے بچّوں کی طرح خیال رکھیں گے اور ناظر ماموں نے ہمیشہ اس وعدے کا پاس رکھا۔ مگر راحت اپنے چچا ناظر کی محبت کی قائل ہوتے ہوئے بھی اپنی دونوں چچی کے ناروا سلوک کو نظر انداز نہ کر پاتی، زندگی نے اس سے اس کی سب سے قیمتی چیز چھین لی تھی، والد کا سایہ سر پر ہوتا تو اس کی ماں کی حیثیت اس گھر میں کچھ اور ہوتی، اس لئے وہ چڑچڑی اور ضدّی ہو گئی تھی۔۔ غیر محسوس طریقے سے اس کے اندر یہ ضد پختہ ہو گئی کہ وہ اپنے یا کسی کے خلاف زیادتی اور جبر برداشت نہیں کرے گی۔۔ اسی لئے وہ ان کی طرف سے کی گئی اپنی فکر کو بھی اپنے خلاف سمجھنے لگی۔۔ کیونکہ ان کا انداز اور سلوک محبت بھرا نہیں ہوتا تھا بلکہ طنزیہ اور تضحیک آمیز ہوتا تھا۔۔۔ وہ ان کی کوئی بات نہ مانتی اور رفتہ رفتہ پھر یہی اس کی عادت بن گئی اور وہ غصّہ ور، سنکی اور ضدی مشہور ہو گئی۔ اس سے جو کہا جاتا وہ اس کا الٹا کرتی۔ شاید اسی لئے اس نے ان سب کے اس فیصلے کی سختی سے مخالفت کی۔۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ بھی کبھی کوئی اسے راضی نہ کر سکا۔
ظہیر نے صحافت میں ماسٹرس کیا تھا اور اب اپنا اخبار نکال رہے تھے۔ ان کا کام اچھا چل رہا تھا۔ اردو اخبار نکالنے کا کام ان کے والد بھی رانچی سے کیا کرتے تھے۔ مگر ان کی وفات کے بعد یہ دھیرے دھیرے بند ہو گیا۔ تعلیم مکمل کر کے ظہیر نے پھر سے اسے شروع کرنے کی ہمت دکھائی، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں اخبار ’’نئی آواز‘‘ نکالنے لگے، اردو صرف جذباتی وابستگی کی وجہ سے اور ہندی۔۔ اس کے وسیع سرکولیشن کی وجہ سے، کہ خریدار تو اب انگریزی یا ہندی اخبار کے ہی رہ گئے تھے۔ کچھ عرصے بعد ناظر کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے ہندی اخبار کا پریس مدان پور میں لگا لیا، نانا کی طرف سے ملی ہوئی ایک زمین میں انہوں ںے نے اپنا پریس کھول لیا تھا۔ اس طرح مدان پور سے ہندی ایڈیشن نکالنے کا کام شروع ہوا۔۔ جسے وہ خود دیکھتے تھے جب کہ رانچی میں والد کی پریس کو زندہ کرنے کے لئے ان کا پرانا عملہ کام کرنے لگا تھا، اکثر و بیشتر خود بھی جاتے رہتے تھے۔ رانچی میں اپنے والد کی جائیداد کے بھی وہ تنہا وارث تھے۔ اس طرح وہاں بھی اپنے آفس اور مکان کو آباد رکھنا ان کے لئے بہت مشکل نہ رہا۔ اور انہیں اپنا پروفیشنل کیرئر وہیں سے شروع کرنے میں بہت آسانی ہوئی۔ اس طرح اسی تجربے کی بنیاد پر اور اپنے ناظر ماموں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے مدان پور سے اپنے اخبار کا ہندی ایڈیشن نکالنے لگے، کیونکہ انہیں بہت جلد اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ صرف اردو کا اخبار نکال کر زندہ رہنا ممکن نہیں۔۔ شروع شروع میں ناظر ماموں کے تعلقات سے یہاں ان کے اخبار کو خوب اشتہارات ملتے اور آس پاس کے سارے گاؤں میں ہندی کے اخبار کی مانگ بھی بہت تھی۔ ان کا اخبار دیکھتے ہی دیکھتے سارے علاقے میں بہت جلد مقبول ہو گیا۔۔ اب انہیں نہ تو اشتہار کا تردد کرنا پڑتا نہ ہی اس کے سرکولیشن کی فکر۔۔۔ کتنے ہی نوجوان کو وہ اب روزگار دینے کے قابل تھے۔ ان کے پریس میں اب ان کی اپنی کئی گاڑیاں کھڑی رہنے لگی تھیں۔۔ وہ زیادہ مدان پور میں رہتے اور اکثر رانچی بھی نکل جایا کرتے۔ جس کے لئے انہوں نے ایک شاندار جیپ خرید لی تھی۔ ان کا کام ہی ایسا تھا کہ بھاگ دوڑ کرنی پڑتی۔۔۔ کبھی پٹنہ تو کبھی جموئی، کبھی رانچی کبھی آس پاس کے گاؤں اور جنگل میں وقت بے وقت انہیں خود بھی جانا پڑتا تھا۔
ظہیر کے دل میں کبھی کبھی خیال آتا کہ راحت کا پروفیشن ان سے الگ ہے وہ کامیابی کی جن منزلوں کی طرف بڑھ چکی ہے اس کا انکار واجب ہے۔ اس کی زندگی کی ڈگر ان سے الگ اور مختلف ہو چکی ہے۔ اسے ان سے بہت بہتر رفیق حیات مل جائے گا، اور یہی سب سوچ کر وہ اپنے دل کو سمجھا لیا کرتے۔ اب تو وہ اپنے کام میں ڈوبے رہتے اور اپنی شادی کے تقاضے کو ہنس کر ٹالتے رہتے، اور ان کی اس ٹال مٹول کے لئے سب راحت کو قصور وار سمجھتیں، جس نے کسی کی خواہش کا احترام نہیں کیا تھا، اور اس غصّے کا اظہار بارہا بڑی ممانی طرح طرح سے کرتی رہتی تھیں۔ اکثر کف افسوس ملتے ہوئے کہتیں کہ ان دونوں یتیم بچوں کی آپس میں شادی گھر کی گھر میں نبٹ جاتی تو راحت کے نام کی جائیداد باہر تو نہ جاتی۔ کبھی کہتیں ظہیر کے لئے باہر کی لڑکی لانے سے وہ اسے ہمارے خاندان سے الگ کر دے گی۔۔۔ اتنی بڑی جائیداد لے کر اگر یہ الگ ہو گئے تو کتنا برا ہو گا۔۔۔ عالیہ ممانی سر جھکا کر خاموشی سے سنتیں۔۔ مگر راحت کے انکار نے گھر کے زیادہ تر بڑوں کو اس سے اور بھی بد ظن کر دیا تھا، اس طرح بڑی ممانی اس کدورت کا بدلہ اپنے ہر سلوک سے عالیہ بیگم سے لیتیں … مگر وہ اتنی اعلیٰ ظرف اور اتنی صابر تھیں کہ خاموشی سے ہر بات کو درگزر کرتی رہتی تھیں۔ اور ظہیر یہ سب دیکھ اور سمجھ رہے تھے اس لئے ان کے دل میں اپنی ممانی عالیہ بیگم کے لئے بہت عزّت تھی۔ وہ بچپن سے اپنی تینوں ممانی میں عالیہ بیگم سے زیادہ انسیت محسوس کرتے تھے کیونکہ اس گھر میں وہی ایک ایسی تھیں جنہوں نے ہمیشہ ظہیر کو ایک ماں کا پیار دیا تھا اور اپنے سارے ماموں زاد بھائی بہنوں میں ظہیر ہمیشہ راحت اور بلال کے زیادہ قریب رہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان لوگوں کا غم مشترک تھا، راحت اور بلال نے جب اپنے والد کو کھویا تو اس سے بہت پہلے ظہیر نے ماں اور باپ دونوں کی دائمی جدائی کا داغ برداشت کیا تھا اور بہت بچپن میں ہی راحت کے والد فخر حسین انہیں نانیہال میں لے آئے تھے، کیونکہ ظہیر کے دادیہال میں کوئی نہیں تھا، ایک پھوپھی تھیں جو سعودی عرب میں رہتی تھیں۔ وہ بھتیجے کو ساتھ لے جانا چاہتی تھیں مگر فخرو ماموں نے تعلیم کا حوالہ دے کر اپنے ساتھ رکھنے کی ان سے اجازت لے لی تھی۔۔ اس لئے ظہیر کا دادیہال کے دور کے رشتہ داروں سے بھی رابطہ ٹوٹ گیا۔ اور وہ نانیہال کے ہو کر رہ گئے۔ دادیہالی جائداد کے وہ بلا شرکت غیرے تنہا وارث تھے۔ کسی چیز کی کمی نہ تھی علاوہ قریبی رشتوں کے اور محبت کے۔۔ جو اس گھر میں انہیں سب سے زیادہ اپنے نانا سیّد حامد حسین کے علاوہ فخرو ماموں اور عالیہ ممانی سے ملتی رہی تھی۔ فخرو ماموں کی وفات کے بعد ناظر ماموں نے بھی ایک سرپرست کا بہتر کردار ادا کیا۔۔۔ گھر میں باقی سب بھائی بہن سے ٹھیک ٹھیک سے تعلقات تھے، سب کی عمر اور سب کے مزاج الگ الگ مگر راحت کے لئے جو نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا اسے وہ اپنے آپ سے بھی چھپائے رکھتے خاص کر اس وقت سے اور بھی زیادہ جب سے اس نے اس رشتے سے انکار کیا تھا۔
ظہیر اپنے خیالات سے اس وقت چونکے جب انہوں نے دیکھا کہ راحت جانے کب سے وہاں پس و پیش میں کھڑی ان کی محویت میں مخل ہونے میں جھجھک محسوس کر رہی ہے..
..‘‘ارے تم۔۔۔؟‘‘ وہ ہڑبڑا کر سیدھے ہوئے جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑ لئے گئے ہوں۔
’’ظہیر بھائی.. میں … جب سے آئی ہوں ..شادی کے اس ہنگامے میں …آپ سے ڈھنگ سے بات ہی نہیں کر پائی۔‘‘ اس نے اٹک اٹک کر کہا جیسے اتنا بولنے کے لئے بڑی ہمت جمع کرنی پڑی ہو۔
’’تم کب سے بات کرنے میں یقین کرنے لگیں..‘‘ وہ ہولے سے مسکرائے۔
’’در اصل… وہ میں …‘‘ کسی جھجھک کے تحت وہ ہکلا رہی تھی۔
’’بیٹھ تو جاؤ۔۔ ہم میں اتنا تکلّف تو کبھی نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’’جی۔۔ آپ نے مجھے معاف کر دیا۔‘‘ وہ بیٹھتی ہوئی جلدی سے بولی، جیسے اگر ابھی نہ کہا تو کہیں ہمت ساتھ نہ چھوڑ دے۔
نہ جانے کیوں ظہیر نے زور سے قہقہہ لگایا … پھر راحت کی خشمگیں نگاہوں کو دیکھ کر بولے۔ ’’ناراض مت ہونا ..ہنسی اس لئے آئی کہ برسوں پرانی اپنی اور تمہاری لڑائی یاد آ گئی، جب لڑ کر میں تم سے ایک دن بات نہ کرتا تو تم اسی طرح سہمی ہوئی آ کر مجھ سے یہی جملہ دہراتی تھی اور میں سارا غصہ بھول جاتا تھا۔‘‘
’’تو آج ..؟ کیا یہ سمجھوں کہ آپ سارا غصہ بھول گئے۔؟‘‘ راحت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بہت چالاک ہو تم۔۔۔ اس بار قصور بڑا ہے تو پہلے سزا ملے گی پھر معافی۔‘‘
’’یعنی سب کی طرح آپ بھی مانتے ہیں کہ جو یہ لوگ چاہ رہے تھے وہ صحیح تھا۔۔۔؟‘‘
’’ارے نہیں …. میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔‘‘ ظہیر ہڑبڑا گئے پھر بولے ’’ہم لوگ ایک اچھے دوست تو تھے ہی، تم یہی بات سہولت سے مجھے کہہ دیتیں تو میں ناظر چچا کو سمجھا دیتا۔ اتنا بڑا تماشہ تو نہ بنتا۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ وہ مجھے بس ایک دم سے غصّہ جو آ جاتا ہے … اس وقت اچھا برا نہیں سوچ پاتی۔ سوری …اسی بات کی تو معافی مانگ رہی ہوں۔‘‘
’’تمہارا قصور مجھ پر اعتبار نہ کرنا ہے۔۔ معافی لینی ہے۔۔ تو تم ہی بتاؤ کیا سزا دوں۔۔‘‘
’’اور میں سزا ماننے سے انکار کروں تو۔۔۔؟‘‘
’’پھر بھی معافی …‘‘ وہ دھیرے سے بولے اور دل میں سوچا کہ ’کیا تم نہیں جانتیں کہ میں تم سے ناراض نہیں رہ سکتا یا جان کر انجان بنتی ہو۔ ‘
’’سوری ظہیر بھائی .. اگر میں نے آپ کا دل دکھایا، مگر مجھے یقین ہے کہ آپ چچی جان کی حرکتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی کوئی معقول بات معقول وقت پر نہیں کرتی ہیں۔‘‘ اس نے خجل ہو کر کہا۔
’’خیر۔۔ یہ بات تو اب بہت پرانی ہو چکی، اس کا اب کیا ذکر۔۔۔‘‘ انہوں نے الجھ کر کہا۔
’’کیونکہ اس کے بعد میں آئی ہی کہاں، اب آئی ہوں تو یہ خلش دور کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’چھوڑو اس ذکر کو، یہ بتاؤ کتنے دن کی چھٹی ہے۔‘‘
’’دو ہفتے کی۔۔‘‘ مگر مجھے آپ سے اپنے کام کے سلسلے میں بہت ضروری مشورہ کرنا ہے۔ کیونکہ یہاں آپ کے علاوہ میری بات سمجھنے والا کوئی نہیں۔ امی بھی نہیں۔۔‘‘ اس نے اداسی سے کہا۔
’’عالیہ ممانی کو کچھ مت کہو۔‘‘، انہوں نے خفگی دکھائی پھر کہا۔
’’اس ہنگامے میں تو ممکن نہیں کہ کوئی بات ہو سکے۔ کسی مناسب وقت میں بات کریں گے، ذرا شادی کا ہنگامہ کم ہو جائے۔‘‘ پھر ذرا توقف کے بعد بولے۔
’’اور میرا خیال ہے کئی لوگ ہمیں یہاں ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔ تو تم جاؤ اب عالیہ ممانی کے کام میں مدد کرو۔‘‘
’’ظہیر بھائی سب سے پہلے ہم کزن ہیں، بچپن سے اکٹھے بڑے ہوئے کسی کو کوئی حق نہیں کہ۔۔‘‘
’’جب جی چاہے بتا دینا ہم لوگ فرصت میں بات کر لیں گے‘‘ ظہیر نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
وہ متانت سے مسکرائی تو ظہیر نے نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔ اور دھیرے سے بولے۔۔۔۔
’’اور میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔ ناراض ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
ظہیر کو نارمل پا کر راحت نے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ ’’کسی بھی تعاون کی ضرورت ہو تو آپ کے علاوہ کس کے پاس جا سکتی ہوں۔ ہمیشہ کی طرح۔۔‘‘
’’بے شک …‘‘ ظہیر ہولے سے مسکرائے۔
اظہار تشکّر کی ایک نظر ان پر ڈال کر وہ وہاں سے جانے لگی، پھر ٹھٹھک کر رکتی ہوئی بولی، ’’میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں۔ میرے دل میں بھی آپ کے لئے احترام کبھی کم نہیں ہوا اور جانتی ہوں آپ میری پوری مدد کریں گے۔‘‘
’’ایسی کون سی مدد کی ضرورت آ پڑی اچانک۔‘‘
’’ہے کوئی ایسی ہی بات۔۔‘‘ وہ ہولے سے ہنسی تو گالوں پہ رقصاں گڑھا اور بھی گہرا ہو گیا۔ ظہیر نے خاموشی سے بڑی گہری نظر اس پر ڈالی اور واپس کتاب پر نظریں گڑا لیں۔ راحت انہیں الجھا الجھا چھوڑ کر وہاں سے جا چکی تھی۔ اور وہ سوچ رہے تھے۔ ایک کمزور سی اداس سی لڑکی میں اتنی طاقت کہاں سے آ گئی۔۔ وہ بہت بدل چکی تھی اور اس بدلی ہوئی مضبوط راحت کو وہ کبھی پھر سے کمزور اور سہما ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ انہیں لگا اس کے دل میں اس کے کسی کلیگ یا دوست کے لئے پسندیدگی ہو گی اور ناظر ماموں تک وہ اپنی بات میرے ذریعے سے پہنچوانا چاہتی ہے۔ آخر فوزیہ کے بعد اب ناظر ماموں اس کی شادی میں تاخیر نہیں کریں گے اور اس بات کا احساس راحت کو بھی اچھی طرح ہو گا۔ انہوں نے اپنا دل مضبوط کیا یہ سننے کے لئے کہ راحت جسے پسند کرتی ہے اس کے لئے انہیں ہی آگے آ کر اس کی مدد کرنی ہے۔ اور وہ ایسا ضرور کریں گے۔
شادی کے موقعے پر راحت کا چھوٹا بھائی بلال اور دونوں چچا کے بیٹے احمد اور اطہر گھر آئے ہوئے تھے۔ بلال اور اطہر ہم عمر تھے اور بنگلور کے ایک انجینئرنگ کالج میں ایک سال پہلے ہی دونوں نے داخلہ لیا تھا، کھلنڈرا پن اب تک ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ جبکہ احمد فوزیہ کے سگے بڑے بھائی اور ظہیر سے عمر میں دو سال ہی چھوٹے تھے اور کالج میں لکچرر تھے۔
عورتوں اور لڑکیوں کے پاس تو ہزار کام تھے مگر اطہر اور بلال ہر وقت باہر والے بڑے آنگن میں کرکٹ کھیلتے رہتے۔ اور کبھی کبھی ظہیر اور بڑے چچا منظور حسین کے بیٹے احمد کو بھی اپنے کھیل میں زبردستی شامل کر لیتے۔ آج دوپہر کے وقت کھانے سے پہلے ظہیر اور احمد بھی اس کھیل میں کود پڑے۔ آنگن میں قنات لگانے والوں نے انہیں باہر والے حصے کے میدان میں جا کر کھیلنے پر مجبور کر دیا۔ راحت گھر میں آئے ہوئے لوگوں سے بالکل مانوس نہ تھی، بہت دیر فوزیہ کے پاس بیٹھ کر اس کے کپڑے اور دیگر سامان پیک کرتی رہی پھر ماں کی تلاش میں نکلی تو انہیں بہت مصروف دیکھ کر اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کرے۔ لڑکوں کی طرح کرکٹ کے کھیل میں مگن نہ ہو سکتی تھی نہ عورتوں کی طرح گھر کے کام میں اس کا دل لگتا، فوزیہ مایوں بیٹھ چکی تھی، ناظر چچا کی بیٹی منیزہ جو اطہر سے کئی سال چھوٹی تھی اور ابھی آٹھویں جماعت میں ہی تھی، اپنی ہم عمر خالہ زاد بہنوں کے ساتھ کھیل کود میں مست تھی۔۔ بس ایک راحت تھی جو کسی گروپ میں فٹ نہ تھی اپنی امی کی دلجوئی کی خاطر ان محفلوں میں شریک بھی ہوتی تو اکتا کر جلد ہی وہاں سے اٹھ آتی۔ اس وقت بھی اٹھ کر آنگن کی طرف آئی۔۔
موسم بدل رہا تھا سردی جا جا کر لوٹ آتی تھی، گھر کے شور و غل سے بچنے کے لئے ایک پناہ کی تلاش تھی اور آنگن کی دھوپ کی خواہش اسے آنگن میں کھینچ لائی مگر یہاں قنات لگانے والوں کا ہنگامہ تھا۔ اچانک اس کی نظر سیڑھی کے پاس باورچی خانے کے باہر والے حصے کی طرف پڑی، جہاں بڑے آنگن سے پارٹیشن کے لئے خوبصورت جالی دار دیوار کھڑی کی گئی تھی تاکہ باہر سے آنے والوں کی نظر ایک دم باورچی خانے کی طرف نہ پڑے، وہ قریب پڑی ایک چارپائی کھینچ کر سیڑھی والی دیوار کی آڑ میں لے آئی۔ جو آنگن میں قنات لگانے والوں کے ہنگامے سے الگ بھی تھا اور اس کی سفید جالیدار دیواروں سے دھوپ چھن کر آ رہی تھی… وہ چھن کر آتی ہوئی اس ہلکی دھوپ میں اپنی شال سے منھ ڈھک کر لیٹ گئی۔۔ اب کسی کی نظر اس پر اسی وقت پڑ سکتی تھی جب کوئی سیڑھی پر چڑھتا، یا جالی کے اس طرف آتا۔ ہلکی نرم دھوپ میں اسے آخرکار پناہ مل ہی گئی۔ اس کے چہار طرف بڑا شور تھا اور اس کے اندرون بھی بہت شور تھا…. وہ ان دونوں کیفیتوں میں ڈوبتی ابھرتی وہاں لیٹی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ امی اسے یہاں دیکھتے ہی فکر مند ہو جائیں گی کہ وہ سب سے کٹی کٹی کیوں ہے مگر وہ کچھ دیر ان سب سے دور رہنا چاہتی تھی۔ اس نے سوچا…. وہ سب جو اس کے اپنے ہی ہیں ..مگر وہ دوسری دنیا کے باشندے لگتے ہیں یا وہ خود ان کے درمیان کسی اور سیارے سے آئی ہوئی عجیب و غریب مخلوق۔ جسے دور دور سے دیکھ کر سب زیر لب مسکراتے۔ اس کی چچازاد بھائی بہنوں کے نانیہال کے سارے لوگ اور دور پار کے سب رشتے دار۔ جو اس شادی میں جمع ہوئے تھے۔ خاص کرناہید چچی کی بھابھی اور بہنیں۔ نہ جانے ناہید چچی نے اس کے بارے میں ان لوگوں کو کیا کچھ بتا رکھا ہے۔ ان کے حرکات و سکنات اس کے لئے بہت نا زیبا ہوتے تھے۔ اور راحت کے اندر اس کی اپنی ماں جیسی برداشت نہیں تھی۔ اس کے نانیہال سے کبھی کوئی نہیں آتا، اسے ہمیشہ لگا کہ امّی کو اس گھر میں سارے حقوق نہیں ملے، تو بھلا وہ کیوں سب کی پرواہ کرتی رہے۔ اس لئے وہ ان سب سے دور رہنے کی کوشش کرتی۔ اس کا سادہ رہن سہن اور اس کی پوشاک سب کچھ ہی ان کے لئے مذاق کا موضوع تھا۔ مگر اسے پرواہ نہیں تھی، وہ دیکھتی تھی کہ ان سب کی صبح روز ایک ہی طرح سے شروع ہوتی اور ایک ہی انداز میں بستر پر جا کر ختم ہو جاتی۔ فیشن اور پوشاک کی فکر سے زیادہ انہیں دوسرا کوئی شوق نہیں تھا۔ ان کے زرق برق لباس اور شوخ و شنگ باتیں راحت کے پلے نہ پڑتی اور وہ چاہ کر بھی ان لوگوں کے ساتھ کبھی گھل مل نہ پاتی۔۔۔ نوجوانوں کا گپیں ہانکنا اور عورتوں کا جا و بیجا مصروفیات اور شکوہ شکایتوں میں سر گرم رہنا۔ مردوں کی بے سود لمبی لمبی سیاسی بحثیں …. اسے یہ سب بڑا بے مصرف، بے سود لگتا۔۔۔ کیا زندگی ایسی بھی ہو سکتی ہے؟…. جہاں گھر کے کام ہوں یا سیاسی اور مذہبی بحثیں، کھیل ہو یا پڑھائی، نیاز و نماز ہو یا عشق و عاشقی…. سب ایک روٹین ہو جیسے … بس ایک بے ڈھنگے پن سے، پوری بے حسی کے ساتھ….. بلا سوچے سمجھے پورا کئے جانا … بلا مقصد…. دھیرے دھیرے اس کے آس پاس کا شور کم ہونے لگا۔۔۔ اور سارے چہرے اور ساری شبیہ بڑی گڈمڈ ہو گئی۔۔۔ راحت نے دیکھا کہ وہ ایک بہت اونچے ٹیلے پر دھیرے دھیرے چڑھ رہی ہے اور ہر طرف دھندچھائی ہوئی ہے۔ دھند کم ہونے پر اس نے دیکھا بہت اونچائی سے اسے کوئی بلا رہا ہے … مگر وہ پہچان نہیں پا رہی تھی، وہ پلٹ کر جانے لگا، تو اچانک اسے لگا کہ یہ ابّا کی شبیہ ہے، وہ تیز تیز چڑھنے کی کوشش کرنے لگی، اوبڑ کھابڑ راستوں پر تیزی سے بڑھتے ہوئے اس کی سانس پھولنے لگی۔ مگر وہ جلد اوپر پہنچنا چاہتی تھی، اس شبیہ کے گم ہونے کے خوف سے اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، اچانک اسے ٹھوکر لگی اور وہ گری ایکدم اوپر سے نیچے کی طرف اور ایک زور کا دھماکا ہوا۔ راحت چیخ کر اٹھ گئی۔۔۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ پسینے سے شرابور تھی۔ دھماکوں کی آواز کے ساتھ آس پاس کا بے پناہ شور اس کی سماعت سے ٹکرایا…. اور اس کی سمجھ میں آیا کہ وہ خواب دیکھ رہی تھی اور یہ دھماکا ان پٹاخوں کا ہے جو شادی میں آئے ہوئے بچّے جلا رہے ہیں۔ اس نے نظر اٹھائی تو دیکھا سیڑھیوں پر ظہیر کھڑے بغور اسے دیکھ رہے ہیں۔
’’کیا ہوا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی آنکھ لگ گئی تھی …، پٹاخوں سے ڈر گئی۔‘‘
’’ہووووں….‘‘ وہ زیر لب مسکرائے پھر بولے ’’جسے جاگتے میں کسی سے ڈر نہیں لگتا وہ سوتے میں ڈر گئی۔‘‘
’’آپ تو کرکٹ کھیل رہے تھے۔۔۔؟‘‘ راحت نے ان کے چھیڑنے کو نظر انداز کر کے پوچھا۔
’’ہاں کہیں سے کچھ بچّے پٹاخے لے آئے اور زیادہ تر کرکٹ پلیئر پٹاخوں کی طرف متوجّہ ہو گئے۔
’’اچھا..‘‘. وہ ہنسی پھر بولی۔۔
’’میرے سر میں درد ہو رہا ہے، میں چائے لینے جا رہی ہوں … آپ لیں گے۔‘‘
’’ارے چائے کا انتظام تو آج باہر ہے، تم رکو میں بلال سے بھجواتا ہوں۔۔۔ وہ مڑ کر جانے لگے تو راحت کی نظروں میں خواب والی شبیہ کوندھ گئی۔۔۔ تو کیا اس نے خواب میں ظہیر بھائی کو دیکھا؟؟ یا ابّا کو…..؟؟؟؟ مگر وہ گری کیوں …. کیا تعبیر سمجھوں …. اوووونھ … اس نے اپنے سر کو جھٹکا۔ سامنے سے بلال اس کے لئے چائے لے کر آ رہا تھا۔ چائے دے کر وہ اسی تیزی سے جانے کے لئے پلٹا کہ سامنے سے منیزہ آ گئی، ’’بلال بھائی مجھے بھی پٹاخے چاہئے۔‘‘ ’’اطہر سے مانگو اس کے پاس بہت سارے ہیں‘‘، اس نے منیزہ کی چٹیا کھینچ کر کہا تو وہ زور سے چیخی۔ راحت نے بھائی کو جھڑکا۔۔۔ ’’اسے کیوں ستا رہے ہو؟‘‘ تو وہ ہنستا ہوا بولا۔۔۔ ’’اچھا چلو میں دلواتا ہوں پٹاخے۔۔‘‘ وہ خوش ہو گئی اور دونوں بھاگتے ہوئے باہر چلے گئے۔ راحت ان کے بچپنے پر مسکرائی اور اسے اچھا لگا کہ اس کا بھائی زندگی کو سب کی طرح انجوائے کرتا ہے۔ اپنی بہن کی طرح freak نہیں ہے۔ اس سے ایک دو نہیں پورے دس سال چھوٹا ہے۔ پھر اچانک اس کی نظر ظہیر پر پڑی تو وہ اپنی سوچوں سے چونک پڑی وہ اپنی چائے لے کر سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔
’’آپ کہاں جا رہے ہیں، ظہیر بھائی؟؟۔‘‘
’’کہیں نہیں۔۔۔ بس کبھی کبھی چھت کی ہلکی دھوپ میں بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘
’’رکئے۔۔۔ میں بھی آتی ہوں وہ پیر میں سلیپر ڈال کر تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔‘‘ اس نے سوچا اگر چھت پر کوئی اور نہیں ہوا تو کیوں نا ظہیر بھائی کو اسی وقت اپنی بات بتا دوں کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ تب اس کی نظر برآمدے میں کھڑی ناہید چچی کی بہن پر پڑی جو عجیب سی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں، شادی میں آئے ہوئے نہ جانے کتنے مہمانوں کی نظر میں اس کی یہ حرکت مشکوک ٹھہرے گی۔ وہ انہیں نظر انداز کر کے ظہیر کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔ اور اس نے سوچا آج کی گوسپ کا مواد اس نے انہیں فراہم کرا دیا ہے اب ان سب کی رات اچھی گزر جائے گی، اور اپنی اس سوچ پر خود بخود مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمایاں ہو گئی۔

4

شادی کا ہنگامہ ختم ہونے کے بعد آج راحت کو فرصت سے نشیمن کے پرانے حصے کو دیکھنے کا وقت ملا۔ وہ مکان کے پرانے والے حصے کے سامنے اُداس اور حیران کھڑی تھی۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کا اپنا دل اتنا اُداس اور مجروح ہے یا اس مکان کی حالت، اس رات جب وہ اوپر آئی تھی تو تاریکی میں اس کی ناقص حالت کا ذرا احساس نہ ہوا تھا۔ اُس نے دیکھا ایک چپ چاپ، اُداس اور مظلوم مکان اپنی جگہ خاموش کھڑا تھا …….کچھ پہچانا اور کچھ انجان سا … مکان کی بے حد اُداس آنکھیں جیسے نیچے گڑی جا رہی تھیں …. راحت نے محسوس کیا کہ وہ بالکل لا تعلق سا کھڑا تھا، اس نے پہلے کی طرح بڑھ کر اُسے اپنی آغوش میں نہیں لیا …………… جیسے بستر مرگ پر پڑا آدمی رشتے، ناطے اور ہر دنیاوی چیزوں سے لا تعلق ہو جاتا ہے ……… جیسے اُسے اب اس کی بالکل پرواہ نہیں تھی۔ کہ اُس کی طرف مُڑ کر پل دو پل کو آئے ہوئے لوگ اُس سے کتنی اور کس طرح کی محبت کرتے ہیں۔ اُس میں کوئی بھی غم اور خوشی برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ راحت کی آنکھیں نم ہونے لگیں ….. لان کے سامنے کا پھاٹک بانس کی پھٹّیوں کا تھا۔ جو بے حد بوسیدہ ہو چکا تھا اور ٹوٹ کر ایک طرف کو جھک سا گیا تھا۔ اُس نے دھیرے سے لان میں قدم رکھا۔ آنسوؤں نے آنکھوں کو دھندلا کر دیا تھا، مکان کے اس حصّے سے سارے لوگ، سارے رنگ، ساری کیاریاں اور ساری خوشبو… اس کے بچپن کے بے فکر لمحوں کی طرح غائب ہو چکی تھیں۔ پھولوں کی کیاریوں کی بجائے جگہ جگہ خود رو پودوں کے جنگل اُگ آئے تھے۔ برآمدے پر بھی گرد کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی۔ اور برآمدے کے کنارے لگی ہوئی لکڑی کی ریلنگ مکڑی کے موٹے موٹے جالوں سے بھری ہوئی تھی…. برآمدے میں دس دس فٹ پر لگے گول ستون پر آج بھی سرخ پینٹ چڑھا ہوا تھا مگر جگہ جگہ سے اس کا پلاسٹر پھول کر ادھڑ چکا تھا۔ برآمدے کے سب سے آخری ستون سے لگ کر چمیلی کی بیل برآمدے کی سرخ ٹائیلوں والی چھت پر پھیل گئی تھی۔ اُس کی بے ترتیب گرد آلود پتّیوں والی اداس شاخوں نے برآمدے کا آدھا حصّہ ڈھک دیا تھا۔۔ دروازے بھی بوسیدہ ہو چکے تھے۔ مگر اس خستہ حالی کے باوجود دیواریں آج بھی بہت مضبوط تھیں، اتنی موٹی دیواروں کا رواج اب ختم ہو چکا تھا۔ ہاں چھت کی سُرخ ٹائل شاید بندروں کے کودنے کی وجہ سے جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی تھیں۔ اور ٹائیلوں کے نیچے لگی موٹی موٹی شہتیر وقت کی گرد سے سیاہ نظر آ رہی تھیں۔ اور اُس پر بے شُمار دیمک کی ایسٹرن اور ویسٹرن لائین بچھ چکی تھی۔ ٹائیل اور شہتیر کے بیچ کے شگاف میں فربہ چھپکلّیوں کی ایک پشت پروان چڑھ رہی تھی۔ راحت برآمدے میں گرد و غبار اور چمیلی کی بے ترتیب پھیلی شاخوں سے بچتی بچاتی دروازے تک پہنچی جس پر کوئی تالہ نہیں تھا کیونکہ یہاں صرف یادوں کا خزینہ دفن تھا، جس کی اہمیت صرف ان کے لئے تھی جو اسے سنجوئے رکھنا چاہتے تھے، زنگ آلود لوہے کا ہینڈل بڑی مشکل سے کھلا۔ وہ راہداری میں داخل ہو گئی۔ راہداری کی داہنی طرف بڑا سا ہال اور اس کے سامنے برآمدہ تھا جس سے دو سیڑھی نیچے اتر کر ایک چوکور سا آنگن تھا۔ اس آنگن کو پار کر کے دوسری طرف دادا ابّا کا کمرہ جو اُس مکان کے جنوب کی طرف ندی والی سڑک سے مُلحق تھا اور اس کمرے کی ایک کھڑکی اس سڑک پر کھلتی تھی ……….. اسی کمرے میں دو دروازے تھے ایک اسی چوکور آنگن میں کھلتا تھا جس سے ہو کر وہ ابھی ابھی اس کمرے کا تالہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی دوسرا اس آنگن کی طرف جس کی باونڈری ندی والی سڑک کی طرف تھی۔ راحت نے بمشکل اس دروازے کو بھی کھول لیا۔ بند کمرے میں دن کی تیز روشنی نہ جانے کتنے عرصے بعد داخل ہوئی، وہ دوسری طرف نکل آئی، یہ قدرے لمبا سا آنگن تھا، جس میں میٹھے پانی کا کنواں اور کروندے کا درخت تھا۔۔ جو اُس وقت اُجاڑ اور ویران تھا۔ وہ اب اسی آنگن میں تھی جس کا نظارہ کل رات کی نیم تاریکی میں سیڑھی کے اوپری حصے سے کر چکی تھی۔ یہاں بے شمار ٹوٹی پھوٹی چیزیں پڑی تھیں۔ پرانی سائیکل، لکڑی کا صندوق، بانس کی سیڑھی، خالی سیمنٹ کی بوریاں، ڈرم حتیٰ کہ دھان جھاڑے ہوئے بوجھے بھی آنگن کی ایک طرف کی دیوار کے سہارے ڈھیر کی شکل میں جمع تھے۔ یہاں تک کہ سامنے دادی کے کمرے تک جانے کا راستہ ان جنگل جھاڑ سے بھرا ہوا تھا۔۔ اُس نے آنگن کی حالت پر دل گرفتہ ہو کر دادا کے کمرے میں واپس قدم رکھا۔ ہر کھڑکی دروازہ بند ہونے سے نتھنوں میں گرد و غبار کی موجودگی کا شدید احساس گھٹن پیدا کر رہا تھا۔ کونے میں دادا ابّا کی گول میز آج بھی ویسے ہی رکھی تھی۔ اُس پر کچھ کتا بیں چند فائیلیں ایک ریڈیو اور ٹارچ بھی ویسے ہی موجود تھا۔ اس نے دھیرے سے ٹارچ اٹھا لیا۔ وہ بالکل ہلکے ٹن کا بنا ہوا تھا اندر بیٹری نہیں تھی اس لئے اس میں کوئی وزن نہیں تھا۔ اس وقت پلاسٹک سے بننے والی چیزیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ ٹارچ کے بڑے سے بٹن پر انگوٹھا رکھ کر اس نے دباؤ ڈالا مگر زنگ لگنے کی وجہ سے وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔ اسے یاد آیا۔۔۔ دادا ابا کے ہاتھ میں یہ ٹارچ دیکھ کر کیسے سارے بچے اس فکر میں رہتے تھے کہ تھوڑی دیر کے لئے ٹارچ ان کے ہاتھ میں آ جائے اور وہ اس بٹن کو بار بار دبا کر اس کی ہلکی سی کھٹ کھٹ کی آواز سنیں اور اس کی جلتی بجھتی روشنی سے محظوظ ہوں۔ اور کبھی کبھی دادا ابّا اسے گود میں بٹھا کر اس کی ننھی سی ہتھیلی کو جلتے ہوئے ٹارچ کے اوپر رکھ دیتے تھے اور اس کی ہتھیلی انگلیاں بالکل سرخ نظر آنے لگتی تھیں اور وہ اس کھیل سے خوشی کی کلکاری مارتی تھی۔ راحت نے گال پر ڈھلک آئے آنسوؤں کو آہستگی سے پونچھا اور ٹارچ کو واپس میز پر رکھ دیا۔ میز کے پیچھے دیوار گیر شیشے کی الماری کے دو خانے کتابوں سے اٹے پڑے تھے۔ اوپر کے خانے میں ایک پورٹریٹ کسی آرٹسٹ کا بنایا ہوا خوبصورت فریم میں جڑا سامنے رکھا تھا، اس میں سے جھلکتا وقار، وضع داری اور جلال دیکھ کر ایک ہوک سی دل میں اٹھی۔۔ یہ پردادا کی تصویر تھی۔۔ جسے دادا ابا بے حد عزیز رکھتے تھے، ان دھندلی تصویروں میں ایک پورے دور کی عکاسی تھی۔ ایک وقار تھا۔ اور دلوں میں پنہاں نہ جانے کتنی کہانیاں تھیں جو تصویر دیکھ کر یاد آ جاتی تھیں۔
اسے یہ بھی اچھی طرح یاد تھا کہ دادا ابّا اپنے ابا کی طرح زمیندارانہ جاہ و جلال کا پرتو نہیں تھے بلکہ بہت ہی سادہ لوح اور نرم رو انسان تھے ساتھ ہی مطالعے کے بڑے شوقین تھے۔ بڑھاپے تک بڑے انہماک سے لکھتے پڑ ھتے رہے۔ جب وہ مطالعے میں غرق ہوتے تو انہیں بے خبر سمجھ کر سارے بچے پیر دبا دبا کر ان کے کمرے کے سامنے سے نکلتے اور کروندے کے درخت کے نیچے جمع ہو کر اپنی جھولیاں بھرتے۔ جبکہ بچے جانتے تھے کی وہ پھل اور پھول کو اس طرح توڑنے کی کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ وقت آنے پر خود ہر چیز اپنی موجودگی میں تڑواتے اور ہر جگہ بھجوا دیتے۔ اس لئے کبھی ایسی حرکت کرتے ہوئے پکڑے جانے پر سخت تنبیہ ہوتی۔ اور صبر کی تلقین کے ساتھ مل بانٹ کر کھانے کی نصیحت سننی پڑتی۔ انہیں نام و نمود سے کبھی کوئی دلچسپی نہ رہی۔ وہ کم گو، کم خوراک اور قناعت پسند انسان تھے۔ وہ ساری عمر بے لوثی سے علم کی خدمت میں مصروف رہے۔ انہوں نے غریب بچوں کو اپنی طرف سے کتاب دے کر ان میں تعلیم کی جوت جگائی، انہیں قران کے ساتھ عصری تعلیم کی طرف راغب کیا۔ مذہبی مجالس میں کتنی تقریریں کیں۔ وہ ایک اچھے استاد کے ساتھ ساتھ اچھے مقرّر بھی تھے مگر یہ سب کچھ وہ معاشرے کے لوگوں کے بہبود کی خاطر کیا کرتے، اُن کی تصنیفات ہر جگہ بکھری پڑی ہیں، مذہبی مضامین اور مقالے۔ ان کی زندگی کا نصب العین غریب بچوں تک دین اور دنیا کی تعلیم پہچانا تھا۔ پر اس بات کا انہیں افسوس تھا کہ جس نے تعلیم حاصل کر لی وہ اس گاؤں کو چھوڑ گیا۔ یہاں روزگار کے بہتر مواقع جو نہ تھے۔ ایسے موقعے پر اس نے دادا ابا کو ہمیشہ مایوس ہوتے دیکھا تھا۔ وہ کہتے سب باہر چلے جائیں گے تو یہاں کون دیا جلائے گا۔ دادا ابا صوفی صفت انسان تھے، لکھتے، پڑھتے، پڑھاتے مگر کبھی انہوں نے اپنی تحریروں کو شائع نہ کروایا، ان کا جذبہ بے لوث اور منفعت کی خواہش سے عاری تھا۔
راحت نے حیرت سے سو چا …………. کیا ان چیزوں کی قدر اس گھر میں کسی کو نہیں۔ تایا ابّو اور ناظر چچا زمین جائداد میں ہی الجھے رہے مگر ظہیر بھائی اور احمد بھائی کو تو علم و ادب سے شغف ہے، وہ تو ان کی قدر و منزلت سے واقف ہوں گے۔ احمد بھائی بھی یونیورسٹی میں لکچرر ہیں اور ظہیر جرنلسٹ … دادا جان کی ساری زند گی کا حاصل یہاں موجود ہے۔ کیا یہ انمول خزانہ یونہی اس نا معلوم اندھیرے کونے کی نذر ہو جائے گا۔ یہی سب سوچتی ہوئی وہ کمرہ بند کر کے واپس آنگن عبور کرتی ہوئی برآمدے میں چلی آئی پھر اُس کمرے کی طرف بڑھی۔ جو اُس کے ابّا اور امی کا تھا۔ اُس کا دل لہو ہو رہا تھا اور قدم منَ منَ بھر کے۔ یہ کمرہ آسانی سے کھل گیا، کمرے میں آ کر اس کے وسط میں رکھی قدیم طرز کی دھول بھری مسہری پر بیٹھ گئی۔ باہر کھلنے والی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اور اُس سے روشنی اندر آ رہی تھی۔ اُسے لگا یہاں کچھ اچھے لمحے، ہنستے مسکراتے لمحے، چپکے چپکے ادھر اُدھر سے جھانک رہے تھے۔ شریر بچّوں کی طرح جیسے سامنے آتے شرما رہے ہوں۔ مگر یہ کیا …نہ جانے شریر آنکھوں والے سارے لمحے اچانک غائب ہو گئے۔ اور یہاں امّی کے کمرے میں اسی مسہری پر ابّا کی میّت ویسے ہی لیٹی تھی۔ بالکل سیدھی ……. سفید پُر سکون چہرہ لئے جیسے جسم میں خون کی ایک بوند بھی باقی نہ ہو۔ ۴۵ سال کی عمر بھی کوئی مرنے کی عمر ہوتی ہے۔ نہ جانے آنسوؤں کا پھندا گلے میں پڑ رہا تھا، یا اُسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ اپنی ڈبڈباتی آنکھوں سے سامنے دیوار سے لگی قوی ہیکل الماری کو دیکھا جو قانون کی کتابوں سے اٹی پڑی تھی۔ وہ مسہری سے اُٹھ کر الماری کے پاس گئی اور اپنی انگلیوں سے کتابوں کو بہت آہستگی سے چھوا۔ آنکھوں میں رکے ہوئے آنسو گالوں پر اب بلا روک ٹوک ڈھلک آئے ……. اُس دن ابّا یہیں پر کھڑے تھے۔ ایسے ہی اپنی مطلوبہ کتاب کی تلاش میں ہاتھ اُٹھائے کتاب دیکھ رہے تھے۔ تبھی کھڑکی سے …… راحت کی سسکی نکل گئی۔ اُس دن چیخ نکلی تھی کیونکہ وہ اُس وقت ابّا کے پاس ہی تو کھڑی ہوئی تھی۔ وہ ان کی چائے لے کر کمرے میں آئی تھی۔۔ انہوں نے کہا تھا ’’بس دو منٹ بیٹا‘‘۔۔۔ اور کوئی کتاب الماری میں تلاش کر رہے تھے، مگر زندگی نے وہ اگلے دو منٹ بھی انہیں نہ دئے۔۔ کہ وہ راحت کی لائی ہوئی چائے اس کے ہاتھ سے لے لیتے، اگلے لمحے اس نے اپنی آنکھوں سے ابّا کو گرتے دیکھا تھا اور ساتھ ہی ایک کراہ سُنی تھی۔ ایک درد جو اُس دوپہر ابّا کے سینے میں آگ کا گولا بن کر گھسا تھا اور کراہ بن کر ہونٹوں تک آیا تھا۔ آج سے آٹھ سال قبل اٹھنے والا ابّا کا وہ درد …، راحت کے دل میں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس درد میں اُسے ابّا تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اپنے اس درد کا علاج اب اسے خود کرنا تھا۔ اُس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔ مگر اب اس درد کو سنبھالنا وہ سیکھ گئی ہے۔ آج سے آٹھ سال قبل اُسے روتے روتے غش پڑ جایا کرتے تھے، وہ سوتے سوتے اُٹھ کر چیخنا شروع کر دیتی تھی مگر وقت اس کے زخم کو بھی مندمل کرتا گیا اب اس درد سے اُسے غش نہیں پڑا کرتے تھے، بلکہ حوصلہ ملتا تھا اُس ارادے اور اس عزم کو جو اُس نے اپنے آپ سے کیا تھا۔ اور اب اپنا وہ عہد وہ عزم پورا کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ بلال تو اس وقت صرف نو یا دس سال کا تھا وہ بھی اب تک ابّا کی کوئی بات نہیں بھولا۔ مگر شکر ہے کہ یہ حادثہ اس نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔ راحت نے اپنے دل میں یہ اعتماد پیدا کر لیا تھا کہ بلال کے لئے وہ سب کچھ کرے گی جو ابّا رہتے تو اس کے لئے کرتے۔ اسے تو ابّا خود میڈیکل کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے ان کے سامنے بھی وہ ایک بار کمپیٹیشن دے چکی تھی مگر کامیاب نہیں ہوئی تھی پھر وہ اچانک چلے گئے، ان کا خواب تھا کہ بیٹی ڈاکٹر بن جائے۔ مگر اس حادثے نے اس کا حوصلہ توڑ دیا تھا۔ مگر ان کے اس خواب کو آگے چھوٹے چچا نے پورا کروانے میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دی۔ وہ اپنے چھوٹے چچا کا یہ احسان مانتی تھی کہ انہوں نے اسے ابا کا خواب پورا کرنے کا حوصلہ دیا تھا اور اس کا موقع فراہم کیا تھا۔ ورنہ شاید اتنے بڑے صدمے کے بعد وہ بھٹک جاتی۔ یہ چھوٹے چچا تھے جنہوں نے اسے ٹوٹنے نہ دیا، بعد میں راحت نے بھی خود کو سنبھال لیا تھا۔۔ اس شوق اور اس جنون کے ساتھ کہ وہ اس زمین پر ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ نا انصافی کے خلاف کھڑی رہے گی۔
اُس نے پڑھا تھا کہ دھات کو تپا کر جتنا پیٹا جاتا ہے وہ اُتنا ہی مضبوط ہوتا ہے۔ اور اس کی ہر تہہ میں بورک ایسڈ ڈالا جاتا ہے تا کہ پرتوں کے بیچ سے آکسیجن نکل جائے اور اُس میں زنگ نہ لگے۔ اُس نے بھی اپنی زندگی کے اس عظیم حادثے کے درد کو یادوں کے ہتھوڑوں سے اتنا پیٹا تھا کہ اُس کا دل کافی پختہ اور مضبوط ہو چکا تھا۔ ہر گناہ، زیادتی اور جبر کے خلاف ہمیشہ لڑنے کے لئے اور ہر گزرتے لمحے کی تہہ میں وہ محنت شاقّہ کے بورک ایسڈ سے اپنے ارادے کو زنگ لگنے سے بچاتی رہتی تا کہ آرام و آسائش کی آکسیجن کسیِ تہہ میں باقی نہ رہ جائے اور اُس کے ارادے کو زنگ نہ لگ جائے۔ اور محنت کی اُسی طاقت نے آج اُسے ڈاکٹری کے اُس مقام پر پہنچا دیا جہاں اُس کی عمر کے لوگ کم پہنچ پاتے ہیں۔ ابّا کے ہونٹوں کی اُس کراہ کو آرام دینے کے لئے اب تک اُس نے کتنے لبوں سے کراہ کو نوچ کر پھینکا ہے۔ مگر اُسے لگا عمل کا وقت تو اب آیا ہے عمل کا میدان تو یہاں ہے۔ اُس نے ایک نئے عزم سے اپنے دو پٹّے سے اپنی سُرخ ناک اور آنکھیں پونچھ لیں۔ اب اس کے ارادے کو کوئی متزلزل نہ کر سکتا تھا۔ اسے یہیں رہ کر کام کرنا تھا۔ اسے لگا وہ تنہا نہیں ہے۔۔۔ اس کے دادا اور ابّا دونوں یہیں کہیں ہیں۔ اس کے ارادے کو حوصلہ بخشنے کے لئے۔

5

راحت واپس آئی تو لگا…. خوشگوار موسم ہونے کے باوجود … بند مکان کے گرد و غبار اور بند مکان میں امس بھری فضا نے اسے پسینے سے شرابور کر دیا ہے۔۔ .وہ غسل خانے میں چلی گئی، جہاں وہ دھول پسینے کے ساتھ دل کا غبار بھی آنسؤں کی صورت نکال سکتی تھی۔ عالیہ بیگم نے آ کر کئی بار آواز دی۔۔‘‘راحت چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ جلدی نکلو۔‘‘ راحت نہا کر نکلی تو باہر بیٹھک کے پاس والے دالان میں کچھ شور و غل کا احساس ہوا۔ مگر وہ اپنے گیلے بالوں کو تولیے میں لپیٹ کر امّی کے کمرے کے دروازے کے پاس کرسی ڈال کر بیٹھ گئی اور چائے پینے لگی۔ عالیہ بیگم نے قریب آ کر اُسے غور سے دیکھا۔
’’کہاں غائب تھیں تم ….؟‘‘
’’کہیں نہیں نہا …..ر ہی تھی …‘‘
’’مجھ سے جھوٹ مت بولو ..پرانے آنگن میں گئی تھیں۔؟‘‘
’’جب آپ جانتی ہیں تو پھر ….‘‘
’’راحت اس طرح بند گھر میں تنہا نہیں جایا جاتا۔‘‘
’’کیوں .. کوئی آسیب ہو گا؟‘‘
’’راحت تم بالکل نہیں بدلی ہو … وہی ضد، وہی خود سری۔‘‘
’’امّی لوجیکل بات کیجئے نا۔ کیا ہوا جا کر ایک نظر دیکھ آئی۔ وہاں کسی کی روح ہو گی بھی تو میرے دادا کی اور میرے ابّا کی۔ جو میرے آنے کی منتظر ہو گی۔‘‘
عالیہ بیگم خاموش رہیں مگر خفگی سے اُسے دیکھا۔ راحت نے چائے کی کپ میز پر رکھ کر ماں کی کمر میں دونوں بازو حمائل کر دیئے۔
’’میری اچھی امّی .. میں جانتی ہوں کوئی میرا ساتھ دے نہ دے آپ ضرور دیں گی۔‘‘
’’کیسا ساتھ۔۔۔؟‘‘
’’چھوڑئے۔۔ یہ بتائے ابا کے دوست تھے نا ایک جیون داس کاکا۔۔ وہ کہاں ہیں آجکل۔‘‘
’’معلوم نہیں۔۔۔ بیٹا تم یہ بات اس گھر میں نہ کرو۔۔ تو اچھا ہے۔‘‘
’’کیوں؟۔۔‘‘
’’بس میں نے کہہ دیا نا۔۔ اب کوئی ایسی بات نہیں۔ اور بھلا ظہیر سے تم نے کیا کہہ دیا ہے ناظر سے سفارش کرنے کو۔۔‘‘
’’ظہیر بھائی نے آپ کو بتا دیا۔۔۔؟‘‘
’’ہاں ظہیر نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے ان سے کیا کہا ہے مگر …‘‘
’’مگر وگر نہیں ….. آپ کی بیٹی اب بہت بڑی اور بہت میچیور ہو گئی ہے۔ آز ما کر دیکھئے، اچھا دیکھئے کیا پرانے گھر سے آ کر میں بے ہوش ہوئی۔‘‘
’’راحت ………‘‘ عالیہ بیگم نے پیار سے اُس کے سر پر چپت لگائی۔ ’’سالہا سال سے بند پڑے گھر میں موذی جانور، کیڑے مکوڑے ہو سکتے ہیں۔‘‘
’’امّی!!!.. کیوں ایسی حالت میں پہنچنے دیا آپ نے مکان کے اس حصے کو۔ ابا کو گئے سات سال ہوئے ہیں اور صرف سات سال میں ایسی حالت کیسے ہو گئی۔‘‘ راحت نے بڑی رقت سے شکوہ کیا۔‘‘
’’میرے پاس کیا وسائل تھے بیٹا۔۔ یہ تو ناظر کا احسان ہے کہ انہوں نے میرے دونوں بچوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔ تو میں کیسے نہ ادھر ان لوگوں میں مل کر رہتی۔‘‘
’’آپ اس گھر کی منجھلی بہو ہیں امی، اور دادا ابا نے وہ پرانا حصہ آپ کو لکھ دیا ہے، آپ پڑھی لکھی ہیں۔۔ اپنی زمینوں کے معاملات خود سنبھالتیں، اپنے حصے میں مالکن کی طرح رہتیں نہ کہ سب کے ساتھ نوکرانیوں کی طرح۔‘‘
’’ایسی باتیں نہ کرو راحت مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ تم جانتی ہی کیا ہو؟ اس گاؤں کو … یہاں کے لوگوں کو۔ جتنی آسانی سے تم نے یہ سب کہہ دیا وہ اتنا آسان نہیں۔ اور راحت اپنی ضد چھوڑ دو، ناظر تمہیں یہاں آ کر کام کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے .. نہ میں ایسا چاہوں گی۔ ظہیر نے تمہارے کہنے پر ناظر سے بھی بات کر لی پر انہوں نے صاف انکار کر دیا ہے۔‘‘
’’کیا۔۔؟ ظہیر بھائی نے چھوٹے چچا سے بات کر بھی لی۔۔؟‘‘ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔
’’ہاں اور انہوں نے اس بے چارے ظہیر کو بھی ڈانٹ پلائی اور مجھے بھی بلا کر سمجھایا کہ تمہیں ایسا کرنے سے باز رکھوں۔‘‘
’’میں ایک بار خود ان سے بات کروں گی۔‘‘
’’نہیں تم ایسا بالکل نہیں کرو گی۔‘‘
’’امی مجھے چھوٹے چچا سے ایک بار بات تو کرنے دیں۔‘‘
’’نہیں ہر گز نہیں، ناظر صرف تمہارے گارجین نہیں ہمارے محسن بھی ہیں، میں نہیں چاہتی تمھاری کسی بات سے ان کی دل آزاری ہو۔ اور یہ کوئی وقت ہے ان باتوں کا گھر میں شادی کا ہنگامہ ہے، مہمان ہیں۔‘‘
’’اب آپ یہ زیادتی کر رہی ہیں۔‘‘
’’بس خاموش ہو جاؤ۔۔ میں نہیں چاہتی کہ اس بار کوئی ایسی بات کرو کہ پھر ایک تماشہ کھڑا ہو۔‘‘
وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔۔۔ ’’میں آپ کی طرح ہار ماننے والی نہیں۔‘‘
’’کیا کہا تم نے؟۔۔۔‘‘ عالیہ بیگم نے آنکھ نکال کر اسے دیکھا۔
’’کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہو کر سیدھی بیٹھ گئی۔۔ مگر اس کے اندر کی آواز کیسے خاموش ہوتی جو بچپن سے دیکھتی آئی تھی کہ یہاں تو ہر بات اور ہر فیصلے پر ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے،
بات نہ تو ضد کی تھی اور نا ہی انا کا مسئلہ تھا۔۔۔ یہ تو اس سمجھ کی بات تھی جو عمر اور تعلیم کے ساتھ اس کے اندر دھیرے دھیرے ایک انکر کی طرح پھوٹی تھی اور اب زندگی اور زمانے کے حالات کے تجربے میں ایک تناور درخت بن گئی تھی جو اپنے تہذیبی اور خاندانی اقدار کے رکھ رکھاؤ کے خیال اور خاندان کی خواہ مخواہ کی بدنامی خوف کے تودے کے نیچے دبائی نہ جا سکتی تھی۔ اور نا مساعد حالات میں اس کی یہ ضد اور بڑھ جاتی تھی۔ اور راحت اسے اپنا حق سمجھتی تھی کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اسے زندگی کیسے گزارنی ہے اور اپنا یہ حق کسی اور کو دینا نہیں چاہتی۔ وہ ماں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ ابا کے ساتھ جو ہوا وہ کیوں ہوا۔۔۔ کیسے ہوا؟ لیکن یہاں اس موضوع پر بات کرنا بھی ممنوع تھا اس لئے جانتی تھی کہ یہ سوال زبان پر آتے ہی اس کے یہاں رکنے کی خواہش کی اور بھی شدت سے مخالفت ہو گی۔ معلوم نہیں اس ذکر میں کون سا اندیکھا خطرہ اور کس کا نقصان و فائدہ چھپا تھا۔ راحت نہ جانے کتنی دیر ان خیالوں میں گم رہتی کہ اچانک ماں کی آواز پر وہ اپنی محویت سے چونک اٹھی۔
’’راحت بیٹا … تم اس حادثے کو بھول جاؤ … سب کی طرح خوش رہا کرو۔ جیسے چاہو گی جہاں چاہو گی ہم وہیں تمہاری شادی کریں گے۔ مگر اپنے دل سے سارے خدشات، سارے غم دور کر دو۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں امّی، خوش رہنے کے لئے کچھ بھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی، یہ یاد رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ ہم اپنے فرائض صحیح طریقے سے ادا کر رہے ہیں کہ نہیں۔‘‘
’’کون سے فرائض ہیں ابھی تم پر۔۔؟‘‘
’’بہت سے .. آپ نہیں سمجھیں گی۔‘‘
’’تو سمجھاؤ نا۔۔۔ شاید اس کی ادائے گی میں تمہاری کچھ مدد ہی کر سکوں۔۔۔‘‘
’’ایک جملے میں نہیں سمجھایا جا سکتا ہے امّی … آپ کے ساتھ رہنے لگوں گی تو آپ سمجھ جائیں گی۔۔ بس وعدہ کیجئے کہ مجھ پر ہمیشہ اعتبار کریں گی۔‘‘
’’امی جی۔۔۔۔‘‘ راحت کو اپنے پیچھے سے ایک کھنکتی ہوئی آواز آئی۔ تو اُس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ ۱۲ سال کی چمکتی آنکھوں والی سانولی سی ایک لڑکی کھڑی تھی۔
’’لیجئے آپ کی ایک اور بیٹی آ گئیں۔۔۔‘‘ راحت نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں جھمکی …. کیا بات ہے۔‘‘ عالیہ بیگم نے پوچھا۔
’’یہ ہے کون؟۔۔۔ شادی میں اس ننھی سی بچی نے کتنا کام کیا۔ پہلے تو اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘
’’ارے یہ مہتو کی بیٹی ہے۔ تمہیں یاد ہیں مہتو؟‘‘
’’مہتو کاکا … بالکل یاد ہیں۔۔۔ بے حد ایماندار اور محنتی انسان …کیسے بھول سکتی ہوں ان کو۔‘‘
’’ہاں اس خاندان نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا، اپنے بچوں کو بھی گھر کے کاموں میں مدد کے لئے بھیجتا رہتا ہے۔ تم نے دیکھا تو ہو گا پہلے بھی، بس پہچانا نہیں، تین سالوں میں کافی لمبی جو ہو گئی ہے اور گھر کے کاموں میں کافی مدد کرنے لگی ہے۔‘‘
’’اچھا …….، راحت نے جھمکی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کھینچا۔‘‘
’’تمہارا کیا نام ہے جھمکی۔‘‘ راحت نے پوچھا تو جواب میں بڑی کھنکتی ہوئی ہنسی گونجی۔
’’ارے تم نام بتاؤ …‘‘
’’دھت دیدی ……… آپ تو ہمرا نام اپنے بول دیں۔‘‘ جھمکی پھر ہنسی ….
’’تم تو بڑی پیاری لڑکی ہو۔ تمہارا نام جھمکی جس نے بھی رکھا بالکل ٹھیک رکھا، تمہاری پائیل کی جھنکار جو تمہارے ساتھ چلتی ہے۔‘‘ راحت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’دھت۔۔۔‘‘ وہ شرما گئی۔
’’کس نے لا کر دیا ہے یہ پائیل۔‘‘
’’سومواری میلا سے مائی لائی تھی۔‘‘
’’اسے پائیل پہننے کا بہت شوق ہے، ہر کسی سے بس یہی ایک فرمائش کرتی ہے۔‘‘ عالیہ بیگم نے ہنستے ہوئے بتایا۔
’’اچھا جھمکی کیا کہہ رہی تھی۔‘‘ پھر انہوں نے جھمکی سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
’’یہ آپ کے لئے ………….. جھمکی نے ہاتھ آگے بڑھا کر کاغذ میں کچھ مڑا تڑا عالیہ بیگم کی طرف بڑھایا۔
’’کیا ہے اس میں…‘‘ انہوں نے مڑے تڑے کاغذ کو کھولنے کی سعی کی تو جھمکی جلدی سے بولی۔
’’بتاسا ….‘‘ (بتاشا) آپ کے لئے لائے ہیں۔‘‘ ’’اچھا کس خوشی میں ….‘‘ عالیہ بیگم نے مسکرا کر پوچھا۔
’’او ہمرے گھر میں بھینس آئی ہے……‘‘ جھمکی نے پوری بتیسی نکال کر خبر سُنائی۔
’’ارے واہ۔‘‘ انھوں نے بتاشا توڑ کر ذرا سا ٹکڑا اپنی زبان پر رکھا ذرا سا راحت کے منھ میں ڈالا اور بچا ہوا سارا ٹکڑا جھمکی کے منھ میں ڈال دیا پھر بولیں ’’اچھا چلو …. ذرا مسالا پیس کر دے دو جلدی سے، کتنا کام میں نے کر لیا اور تم اب آئیں۔‘‘
ـــ’’بابا بھینس لائے تھے نا۔۔ اسی میں دیر ہو گئی۔۔۔‘‘ دونوں باتیں کرتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئیں۔

6

فوزیہ کی رخصتی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا، گھر کب کا مہمانوں سے خالی ہو چکا تھا۔ بلال اور اطہر ابھی اپنے ہوسٹل واپس نہیں گئے تھے۔ مگر ان کا چہرہ اترا ہوا تھا کیونکہ آج ان کی چھٹی کا آخری دن تھا۔۔ ناشتے کی میز پر پورا کنُبہ موجود تھا۔ راحت جس کا گندمی چہرہ ہمیشہ کی طرح سادہ اور ہر سج دھج سے پاک تھا۔ اس وقت نہا کر رنگت نکھری نکھری سی تھی اور اُس کے کالے دراز بال پشت پر گیلے ہونے کی وجہ سے کھُلے چھوڑ دیئے گئے تھے۔ جنہیں ڈھکنے کے لئے اُس نے دوپٹہ اچھی طرح سے اپنے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ اپنے تایا ابّا اور تائی امّی کے احترام میں ہلکا سا سر پر بھی کھینچ لیا تھا۔ راحت اس وقت بھائیوں کے اداس چہرے کو دیکھ کر خود بھی اداس ہو رہی تھی۔ ظہیر اس لڑکی سے جتنا بھی اجتناب برتتے وہ اپنی سادگی کے ساتھ ان کے حواس پر اتنا زیادہ حاوی ہوتی جاتی۔ اس لئے اس وقت وہ ہر طرف سے بظاہر بے پرواہ۔۔ سنجیدگی کے ساتھ اپنے ناشتے کی پلیٹ پر جھکے رہے۔
’’یہ باہر شور کیسا ہے۔‘‘ منظور حسین نے ناظر سے دریافت کیا۔ انہیں گاؤں کے زیادہ تر لوگ بڑے مالک کہا کرتے تھے۔
’’جشن منا رہے ہیں بھائی جان۔‘‘ ناظر نے جواب دیا۔
’’کیسا جشن اور یہ جشن منانے یہاں کیوں چلے آئے ہیں۔۔‘‘
’’جگدیش بابو نے کچھ کسانوں کو بینک سے لون دلوایا ہے گائے بھینس خریدنے کے لئے، وہی خرید کر آئے ہیں اور اسی کا جشن من رہا ہے۔‘‘
’’لاحول ولا…..‘‘
’’بھائی جان وہ سب آپ کے بھی منتظر ہیں، اپنے بڑے مالک کے حضور شکر گزاری کے طور پر کب نہیں آتے ہیں۔ ابّا کی وفات کے بعد بھی کیا یہ طور طریقے بدلے ہیں۔‘‘
’’یہ مت کہو ! ابّا نے کب انہیں اتنا شوخ کیا تھا جتنا تم نے انہیں سر چڑھا رکھا ہے، ادب لحاظ کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ کرسی پر برابری سے بیٹھتے ہیں۔‘‘
’’بھائی جان۔۔۔ نئی نسل بدل رہی ہے، ۔ باپ دادا قدموں میں بیٹھنا ہی اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے، اب بیٹے اور پوتے خود کو کسی سے کمتر نہیں سمجھتے۔‘‘
’’بات کمتری اور برتری کی نہیں۔۔۔ تمیز اور تہذیب کی ہے۔‘‘
’’آپ کی اس بات سے متّفق ہوں۔۔۔ خود سر اور بد تمیز تو ہو گئے ہیں یہ لڑکے اور نکمّے بھی۔ ’’ناظر نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔
’’اب یہ کم بخت ایک ہفتے تک اسی کا جشن مناتے رہیں گے۔‘‘ انجمن آرا نے اپنے مخصوص انداز میں چڑھ کر کہا۔
’’اب ان کے لئے یہ جشن منانے والی خبر بھی ہے بھابھی، جن کے لئے سو دو سو روپے مسئلہ ہیں، ہزاروں کی بھینس لینا ان کے لئے کہاں ممکن ہو پاتا۔‘‘
’’تو اتنی رقم آئی کہاں سے؟؟’’انجمن آرا نے پھر پوچھا۔
’’کئی غریب کسانوں کو جگدیش بابو نے بینک سے لون دلوایا ہے۔ اس کام کے لئے۔‘‘
’’مگر لون لینے کے لئے ضمانت کے طور پر کوئی زمین دکھانی پڑتی ہے نا، جگدیش بابو کے پاس تو زمین نہیں، کہیں تم نے اپنی زمین پر تو لون نہیں دلوا دیا۔‘‘ منظور حسین نے بھنویں سکیڑ کر بھائی سے پوچھا۔ راحت نے تایا ابا کی گفتگو میں زمین جائداد کے لئے تفکر کو شدت سے محسوس کیا۔
’’ہاں …………… اللہ کارساز ہے۔۔‘‘ ناظر نے بڑے بھائی کو بہت مختصراً جواب دیا۔
’’اچھا تو شکر گزاری کی یہ وجہ ہے۔‘‘ تایا ابا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔
راحت نے سوچا ایک ہی کنبے میں کتنے مختلف خیالات کے لوگوں کا اجتماع ہے، ایک ناظر چچا ہیں بے حد دنیا دار اور کھلے خیالات کے انسان۔ ایک اس کے ابا تھے.. بے حد جذباتی اور نرم دل اور یہ تایا ابا ہیں بے حد خود پسند اور کسی حد تک خود غرض۔ جانے کب اور کیسے بن گئے۔۔ اسے یاد آیا اِس بار جب وہ آئی اور اتنے دنوں بعد تایا سے ملی تو تایا جان کی نرم نرم سی پرانی والی شفقت یاد آئی………..اس بار اسے تایا جان بہت کمزور اور بوڑھے لگ رہے تھے …………….. راحت کو لگا جیسے وہ اپنے والد سے مل رہی ہے۔ اس سے پہلے اسے تایا جان میں اپنے ابا سے شباہت کا احساس اس شدّت سے نہ ہوا تھا۔ اسے لگا جیسے نوجوانی کے بعد اچانک اُس کے ابّا بوڑھے ہو گئے ہوں۔ تایا ابّا بڑے لحیم شحیم گورے اور مضبوط جسم کے مالک ہوا کرتے تھے، عمر میں ابّا سے دس سال بڑے تھے۔ اب ان کی صحت کافی گر گئی ہے۔ اُس کے ابّا تو ہمیشہ سے ذرا کمزور، دبلے پتلے اور گندمی رنگت کے تھے، …….. مگر تایا ابّا اب کمزور ہو کر جیسے ابّا کے پیکر میں ڈھل گئے تھے۔ رنگ اب اُتنا سفید نہ رہ گیا تھا، پہلے والی صحت بھی نہ رہی تھی۔ ۶۳ سال کی عمر میں وہ ستّر سے زیادہ عمر کے لگنے لگے تھے …. کان کی موٹی موٹی لویں جھول رہی تھیں۔ بس ابّا کے چہرے پر ماہ و سال کو اپنے نقوش چھوڑنے کا موقع زندگی نے نہ دیا تھا۔ کان تو بالکل ابّا کی یاد دلا رہے تھے۔ اپنے دونوں بھائی سے کافی بڑے ہونے کی وجہ سے ان کا شروع سے کافی رعب تھا بھائیوں پر۔ اُنہوں نے اُس کے سلام کے جواب میں شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو گلے میں پڑنے والا آنسوؤں کا پھندا آنکھوں میں چھلک آیا۔ وہ کبھی تایا ابّا سے اتنی بے تکلف نہ تھی مگر بے ساختہ اُن کا ہاتھ تھام کر اپنی چھلکتی آنکھوں سے لگا لیا تھا۔ اُنہوں نے حیرت سے راحت کو دیکھا۔ نہ وہ اس بے تکلفی کے عادی تھے اور نہ ہی قائل ………… بڑھتی عمر میں کمزور ہونے کے بعد چھوٹے بھائی کی شباہت اُن میں چاہے کتنی بھی اُبھر آئی ہو مگر مزاج میں تضاد تھا۔ وہ سب کے لئے مشفق ضرور تھے مگر حیرت انگیز طور پر ہر جذبات سے عاری نظر آتے۔ اُن کی شخصیت اُس جزیرے کی مانند تھی جو پانی کے بیچ رہ کر بھی سب سے الگ رہتا ہے۔ راحت اپنی جذباتیت اور بے ساختگی پر خجل سی ہو آئی تھی۔
’’کیا بات ہے؟ تم کچھ کھا نہیں رہیں۔‘‘ ناظر کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے چونک اٹھی۔
’’جی .. جی کھا رہی ہوں وہ ہکلائی ..‘‘ مگر دل میں یہ خیال ضرور آیا کہ ناظر چچا ابّا سے صرف دو سال چھوٹے تھے مگر ان میں اپنے بھائی کی کوئی شباہت نہیں۔۔ تایا ابّو میں زیادہ ہے۔
’’بلال تم لوگوں کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟‘‘
’’ٹھیک چل رہی ہے چچا جان ابھی تو پہلا سال ہی ہے بی ٹیک کا۔‘‘
’’شکر ہے تمہیں کمپیوٹر انجینئرنگ میں دلچسپی تھی اور اس میں ہی داخلہ مل گیا۔ مگر اطہر تمہیں تو الیکٹریکل میں مل سکا، دل لگ رہا ہے؟‘‘
’’جی ابّو۔۔۔ دل لگ گیا ہے۔‘‘
’’باہر کی یونیورسٹی کے لئے کوئی ٹسٹ دینا ہوتا ہے نا؟‘‘ ناظر نے بلال سے پوچھا۔
’’وہ TOEFL کا اور Gate کا امتحان دینا ہے، مگر ابھی نہیں۔‘‘
’’خیال رکھنا۔۔۔ وقت پر سب نکالو اور خوب محنت کرو تو ایم ٹیک باہر سے کروا دوں گا۔ انشا اللہ۔‘‘
’’جی ضرور۔۔۔ ہم محنت کر رہے ہیں۔‘‘
’’اور اطہر تم۔۔ تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں۔ یونیورسٹی کیسی ہے؟۔‘‘ ناظر نے بیٹے سے پوچھا۔
’’بہت اچھی یونیورسٹی ہے۔۔ مگر ہوسٹل میں دل نہیں لگتا۔‘‘ اطہر نے بہت دبی ہوئی آواز میں کہا۔
’’کیوں؟ کیا کوئی پریشانی ہے۔‘‘ انہوں نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔
’’اسے ہوم سکنس بہت ہے چھوٹے چچا۔۔۔ میں سمجھاتا رہتا ہوں۔‘‘ بلال نے کہا۔
’’عجیب بات ہے، دونوں بھائی ساتھ ہو۔۔ دل کیوں نہیں لگتا۔۔۔ لگاؤ دل۔۔ یہاں کیا کرو گے رہ کر، کھیت میں کام کرو گے؟ سارے ہوم سکنس والے اسی گھر میں جمع ہونا تھے۔‘‘ انہوں نے اتنی رکھائی اور تلخی سے کہا کہ بچے خاموش ہو گئے۔
راحت نے محسوس کیا کہ ظہیر بھائی کی اس کی سفارش کی کا نتیجہ ہے چچا کے مزاج کی یہ تلخی، جو اس نے کروائی ہے۔ ظہیر بی اس وقت معمولی طور پر سنجیدہ ہیں۔ اسے افسوس ہوا کہ اس کی وجہ سے ہی ان کا موڈ خراب ہے۔۔ بلکہ اسی بات نے سب کو اندر ہی اندر الجھا رکھا ہے اور سب کے چہرے پر ایک تناؤ ہے۔ ظہیر نے اسے کہا تو تھا کہ یہاں رکنے اور کام کرنے کی اس کی سفارش وہ کر تو دیں گے مگر انہیں یقین ہے کہ اسے اجازت ملنے والی نہیں۔۔
’’منیزہ ناشتہ ہو گیا تو جاؤ اسکول کے لئے تیار ہو جاؤ رکشہ آتا ہو گا۔ تمہاری امی تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔‘‘
عالیہ بیگم نے دھیرے سے منیزہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’جی چھوٹی امّی‘‘ کہتے ہوئے وہ اُٹھ گئی۔ پھر دھیرے دھیرے سب اُٹھ گئے۔ گور کا میز پر سے بر تن اُٹھا نے لگا۔ انجمن آرا بیگم اور عالیہ بیگم پھر باورچی خانے میں چلی گئیں۔ ناظر تولیہ میں ہاتھ پوچھتے ہوئے دوبارہ کمرے میں آئے تو راحت نے کہا۔
’’چچا جان آپ سے ظہیر بھائی نے کوئی بات کی ہے‘‘
’’ہاں کی تو تھی ….‘‘ وہ بہت سنبھل کر بولے۔ جیسے راحت سے اس ہمّت کی توقّع انہیں نہ ہو۔
’’میں دادا ابّا والے پرانے مکان کی صفائی اور مرمّت کروا کر اپنی کلینک اُس میں شروع کروں۔؟‘‘
’’ناظر نے ایک گہری نظر راحت پر ڈالی۔ پھر ملائمیت سے پوچھا۔
’’بٹیا …کیا یہ ممکن نہیں کہ تم دہلی کی اپنی نوکری کو جاری رکھو۔‘‘
’’ممکن تو ہے چچا جان ….. مگر میری خواہش ….‘‘
’’دیکھو راحت …….. ہم لوگوں کو لگتا ہے کہ وہاں تمہارے لئے ترقی کے مواقع زیادہ ہیں۔ سکون اور سہو لت زیادہ ہے۔ ’’انہوں نے راحت کی بات درمیان میں کاٹ کر کہا۔
’’جی مجھے علم ہے … مگر میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ مجھے اس طرح کی ترقی سے زیادہ خوشی یہاں کام کر کے ملے گی۔‘‘
تم کچھ دیر بعدمیرے پاس بیٹھک میں آؤ۔ جس وقت وہاں کوئی نہ ہو، تم سے تفصیل سے اس مو ضوع پر بات کر نی پڑے گی۔‘‘
راحت نے دیکھا اس کے تایا جان جو ابھی ابھی ہاتھ دھوکر کمرے میں آئے تھے اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں، پھر وہ ناظر سے مخاطب ہوئے۔‘‘ ناظر اسے بتا دو کہ مکان کا وہ حصہ بہت مخدوش ہو چکا ہے، میں نے ایک بلڈر سے بات بھی کر لی ہے وہ اچھے پیسے دینے کو تیار ہے، جس سے ان کی شادی ا ور بلال کی پڑھائی کا خرچ بہ آسانی نکالا جا سکے گا، اس لئے اب کوئی نیا شگوفہ نہ چھوڑیں۔‘‘
عالیہ بیگم متفکّر سی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں، جو نہ جانے کب وہاں آ کر کھڑی ہو گئی تھیں، اس کے تایا کچھ ناراض سے وہاں سے جا چکے تھے۔
ظہیر بھی خاموشی سے وہاں سے نکل گئے، وہ اپنی کوشش تو کر ہی چکے تھے اور شاید عالیہ ممانی نے راحت کو بتا دیا ہو گا کہ وہ اس کوشش میں ناکام رہے اسی لئے اب وہ خود ناظر ماموں سے بات کر رہی ہے۔ وہ اس کی ہمّت پر حیران تھے۔۔ کیا انہوں نے اب تک راحت کو ٹھیک سے سمجھا ہی نہیں۔۔؟ انہیں اپنے پست خیالات پر شرمندگی ہوئی، انہیں یاد آیا کہ اس نے ان سے مدد طلب کی تھی تو وہ کیا سوچ رہے تھے کہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔۔۔ لاحول ولا… وہ اپنی بے وقوفی پر سخت شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔ راحت الگ قسم کی لڑکی ہے اس کا عزم دیکھ کر اس کے لئے عزت اور احترام بڑھ جاتا ہے۔ وہ اب راحت کے لئے متفکر تھے کہ کیسے اس کی ہر جائز خواہش میں اس کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیں۔
راحت اپنے چھوٹے چچا کے فارغ ہوتے ہی بیٹھک میں آئی تو ناظر نے اپنی آرام کرسی پر بیٹھتے ہوئے اُسے سامنے کے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب وہ بیٹھ گئی تو انہوں نے بہت ٹھہر ٹھہر کر کہنا شروع کیا۔
’’بیٹی ……… میں تمہارے جذبے کی قدر کرتا ہوں …… تم جو بھی کہہ رہی ہو اُن باتوں سے مجھے بھائی جان یاد آ گئے۔ تم پر شاید اُن کا ہی یہ اثر ہے۔ پھر بھی میرا دل نہیں مانتا۔ ابھی بھائی جان کا زخم سب کے دلوں میں گہرا ہے…. پھر بھی تم یہاں آ کر کام کرنے کی اجازت چاہتی ہو۔ یہاں تمہیں کوئی سہولت ڈھنگ کی نہیں ملے گی۔۔ یہاں سے تقریباً دو کوس دور ایک فیکٹری کا پرائیوٹ ہاسپیٹل ہے اور کچھ نہیں …. کوئی یہاں آنا نہیں چاہتا۔ سر کاری ہاسپیٹل میں الّو بولتے ہیں۔ اور یہاں کا ماحول بھی صحیح نہیں ہے۔‘‘
’’آپ لوگ بھی تو اسی ماحول میں رہتے ہیں چچا جان۔‘‘
’’اسی لئے بتا رہا ہوں کہ یہاں کی سختیاں تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔ اگر یہاں کا ماحول صحیح رہتا تو کیوں ہمیں ہر بچے کو اسکول کے بعد ہوسٹل میں رکھ کر پڑھانا پڑتا۔ تو جب پڑھانا یہاں ممکن نہیں تو کام کرنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔‘‘
’’چچا جان میں بہت پچھڑے علاقوں میں کام کر چکی ہوں۔ یہاں تو گھر کی ساری سہولیات میّسر ہوں گی، آپ لوگوں کا ساتھ رہے گا۔ میں نے تو چھتّیس گڑ ھ کے دانتے واڑا جیسے نکسلی گڑھ میں کام کیا ہے۔ وہاں آس پاس کے گاؤں جگدل پور اور بیربل گاؤں میں کئی کئی دن رہ کر آئی ہوں۔ مدھیہ پردیش کا سب سے پچھڑا گاؤں جہاں صرف مٹی سے بنے پچاس مکان تھے اور کوئی جینے کی بنیادی سہولیات نہیں وہاں دو سال کام کر کے آ رہی ہوں۔ اس کے علاوہ ایسی ایسی جگہوں پر گئی ہوں جہاں پتّھروں پر سوئی ہوں، مچھّروں سے کٹوایا ہے۔ جہاں دور دور تک طبّی سہولیات نہیں ہوتیں ہر ایسی جگہ جا کر کام کیا ہے، ایسی جگہوں پر ہماری بہت ضرورت ہوتی ہے اور کوئی جانا نہیں چاہتا۔‘‘
’’تو تم ہی ایک بے وقوف رہ گئی ہو۔‘‘ ناظر نے جھنجھلا کر کہا۔
’’میں کون سا یہاں اکیلی رہوں گی، اپنے لوگوں کے درمیان رہوں گی، یہیں تو میرے بھائی بہن ……….. آپ سب رہتے ہیں۔‘‘
’’تمہارے بھائی بہن اور چچی کا واسطہ باہر کی دُنیا سے نہیں پڑتا، فوزیہ پٹنہ سے اپنا گریجوایشن مکمل کر کے آئی اور شادی کے بعد سسرال سدھاری۔ کیونکہ بھائی جان اور بھابھی بھی کبھی بچّوں کو اس ماحول میں نہیں رکھنا چاہتے۔ منیزہ جب دسویں کر لے گی تو اسے بھی آگے کی تعلیم کے لئے کسی مناسب کالج یا یونیورسٹی میں بھیجوں گا، جو کم از کم ہمارے گاؤں یا جموئی شہر میں بھی نہیں۔۔ ظہیر اور احمد دونوں کی تعلیم بھی باہر ہوئی اور اب نوکری بھی۔۔ بلال فخرو بھائی کی نشانی اور تمہارا اکلوتا بھائی ہے اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری، ذہین لڑکا ہے اسکالر شپ پر اسے ملک سے باہر کی یونیورسٹی میں مواقع ملنے کی امید ہے، پھر بھی امریکا بھیجنے میں کافی خرچ آئے گا، اس لئے عالیہ بھابھی کی اجازت سے اس مکان کا سودا طے ہو چکا ہے۔ تم خود سوچو تمہارے اس ایک فیصلے سے کتنی مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ تمہیں اندازہ تو ہے زمینوں کی کاشت اور جائیداد کے سہارے گھر ضرور شان سے چل جاتا ہے مگر .دیگر اخراجات کا کیا؟ .. اور دوسری بات تمہارا تو پرو فیشن اُن لوگوں کے بیچ جا کر کام کرنے کا ہے …جو عجیب و غریب ہیں اور بھروسے کے قابل نہیں۔‘‘
’’چچا جان … آپ نکسلیوں کے ڈر سے کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں میں پو رے گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ جن میں مزدور، کسان، ٹھیکیدار، جنگل کے آدی باسی، مچھوارے اور بھیس بدل کر رہنے والے نکسلی بھی ہیں۔ کالے دل والے سفید پوش بھی اور ہمارے گاؤں میں آب ڈھونڈھنے آنے والے نیتا بھی۔‘‘
’’مجھ میں آدمی پہچاننے کی صلاحیت ہے ….. میں صرف ضرورت مندوں کے لئے کام کروں گی۔‘‘
’’تو کیا گولی لگے نکسلی کی مدد نہیں کرو گی۔ نہیں کرو گی تو وہ تمہیں اپنا کام کروانے بندوق کے زور پر لے جائیں گے اور کرو گی تو اُن کی مدد کرنے کے الزام میں پولیس بند کر دے گی۔‘‘
’’چچا جان آپ تو ایسے بات کر رہے ہیں جیسے یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ راحت نے احتجاجاً کہا۔
’’یہاں جو قانون ہے اُسے لچر قانون کہتے ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جھارکھنڈ اور بہار جیسے صوبے میں پچاس ہزار سے بھی زائد ایسے لوگ ہیں جن کے خلاف مختلف عدالتوں میں غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہو چکے ہیں پر اُنہیں اب تک پولیس گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ ہمارا گاؤں ایک ایسے صوبے جموئی کے اندر آتا ہے جو ہندوستان کا سب سے پچھڑا علاقہ مانا جاتا ہے، اور اس کے پندرہ سو تیس گاؤں میں سے یہ ایسا بدقسمت گاؤں ہے، جو جنگل پہاڑ اور ندی جیسے قدرتی وسائل سے گھرے ہونے کے باوجود دنیا کی بنیادی سہولتوں اور ترقیّوں کے لئے آج تک ترس رہا ہے۔‘‘
’’میں نے اپنے سروے رپورٹ میں یہی تو بتایا ہے کہ یہاں ڈھنگ کا ایک اسپتال تک نہیں، صوبے کے سرکاری اسپتال تک کی حالت دگرگوں ہے۔ اسکول نہیں، تعلیم نہیں، پہاڑی سے گھرے اس علاقے کے لوگوں کی زندگی کھیتی پر منحصر ہے، اور ان دو ندیوں پر جن کے سنگم پر یہ آباد ہے۔ علاقے کی یہ بد حالی ہی میرے یہاں آنے کی وجہ بن سکتی ہے۔ اور مجھے یہاں آ کر کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔‘‘
’’سروے رپورٹ میں یہ نہیں بتایا؟۔۔ کہ یہ گاؤں جس میں آتا ہے وہ صوبہ سترہ اٹھارہ لاکھ کی آبادی والا علاقہ ہے، اور اتنی بڑی آبادی میں صرف دس پولس اسٹیشن ہیں اور ہاں اپنی سروے رپورٹ میں یہ بھی لکھو کہ اس صوبے کے پندرہ سو تیس گاؤں میں صرف دس بلاک ہیں اور ایک سو ترپن پنچایت ہے۔ جہاں کا کرائم ریٹ اتنا زیادہ ہے کہ کسی پولس محکمے کو اس کا حساب رکھنے کی فرصت نہیں ملتی۔۔ کسی طرح معاملات اگر پنچایت تک پہنچ جائیں تو وہاں کے من مانے فیصلے ماننے پر سب مجبور ہیں۔۔ کیونکہ کسی کے پاس عدالت اور وکیل تک جانے کے پیسے نہیں ہوتے۔ نہ ہی اتنا شعور ہے۔ جہاں کی سڑکوں پر سے محکمہء پولس کے لوگ بھی گزرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔‘‘
چچا جان آپ مجرموں کی بات نہ کریں ….. ہمارے گاؤں کے سیدھے سادے مظلوموں کی بات کریں۔‘‘
’’ٹھیک ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ، بقول تمہارے یہاں کے سیدھے سادے مظلوم اور غریب، کیسے ہیں۔‘‘ ناظر کو راحت کی بحث سے کچھ طیش آ گیا تھا۔ دو لمحے کے توقف کے بعد انہوں نے کہنا شروع کیا۔۔
’’یہاں کے جیسی خصوصیات کا حامل شاید ہی کوئی دوسرا گاؤں ہو گا، تم نے بہت سے گاؤں دیکھے ہیں نا؟ میں نے بھی دیکھے ہیں۔ جن میں پچھڑا پن، بد حالی، جہالت اور مفلسی دیکھی ہے۔ بہت سے گاؤں دیکھے جہاں ستھرا پن، قناعت پسندی، ایمانداری اور سادگی دیکھی۔ مگر یہ گاؤں اب بالکل انوکھا بن چکا ہے۔ یہاں کے لوگ عجیب و غریب ہیں۔ اگر آپ انہیں غریب اور مسکین سمجھ کر محنت و مزدوری پر ہی سہی بلائیے تو ہر گز نہ آئیں گے بلکہ بُرا مان جاتے ہیں۔ اگر آپ انہیں بھرا پُرا سمجھ کر بات کیجئے تو رونا شروع کر دیتے ہیں۔ نہیں معلوم انہیں کسِ زمرے میں رکھا جائے۔ یہ نہ جاہل ہیں نہ تعلیم یافتہ، یہ نہ مفلس ہیں نہ معاشی طور پر مستحکم۔ نہ توہم پرست نہ نئی روشنی کے دلدادہ۔ در اصل یہ توہم پرستوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ کیونکہ ان کے افعال اور اعمال کا کوئی بھرو سہ نہیں ہوتا۔ ان کے کورے ذہنوں کو اب کئی قسم کی باہری طاقتیں پراگندہ کر رہی ہیں۔‘‘
’’ان کے افعال اور اعمال کو کوئی راستہ دکھانے والا چاہئے.. چچا۔ . ان کی مدد کرنی ہو گی۔ تبھی ہمارا صوبہ ترقی کرے گا۔‘‘ راحت نے لقمہ دیا تو ناظر بولے۔
’’کر چکا تمہارا صوبہ ترقّی ….تم جانتی ہو ان کی نئی نسل کے تن پر کپڑا پورا ہو یا نہ ہو .. ہاتھ میں موبائل ضرور رہنے لگا ہے۔ سیلون میں جا کر یہ بال نیلے پیلے کروانے لگے ہیں۔ کھیتوں میں باپ کے ساتھ کام نہیں کرتے بلکہ ریت کے ٹرک بھرتے ہیں۔ پیسے کماتے ہیں اور اُسے یوں اُڑاتے ہیں۔ غذا نہ ملنے سے بچّہ مرنے لگتا ہے تو ہمارے پاس دوڑے آتے ہیں کہ قرض دو۔ اور دوسری طرف بد عنوانی، حکمرانی، ریت مافیا اور نہ جانے کیا کچھ گھن کی طرح معاشرے کو چاٹ رہا ہے۔
خیر چھوڑو ….. مگر تمہیں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آج اتنے سال بعد ایسا لگ رہا ہے تمہاری زبان سے فخرو بھائی بول رہے ہیں۔ انہیں بھی خدمت خلق کا سودا سمایا تھا۔ یہاں کے مظلوموں کو استحصال اور جبر سے نجات دلانے آئے تھے۔ مگر ملا کیا۔ بے وقت کی شہادت … اسی لئے کہہ رہا ہوں اُسی راستے پر قدم مت بڑھاؤ۔ ہم لوگ ایک اور داغ برداشت نہ کر سکیں گے۔‘‘
’’چچا جان مجھے ایک موقع دیجئے اگر میں ناکام رہی تو خود واپس چلی جاؤں گی۔ مجھے آپ کے معاشرے کے ان جرائم پیشہ لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا، مجھے تو جنہیں علاج کی، غذا کی اور تعلیم کی ضرورت ہے ان کے لئے کام کرنا ہے۔‘‘
’’کیا تمہارے ابّا نے ایسی سخت زندگی کے انتخاب کے لئے ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا تھا۔‘‘
’’معلوم نہیں انہوں نے کیا سوچ کر مجھے ڈاکٹر بنانا چاہا تھا مگر میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ زندہ ہوتے تو میرے اس فیصلے سے بہت خوش ہوتے۔‘‘
ناظر اس کی اس بات سے آب دیدہ ہو گئے اور بے ساختہ اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ پھر بھرّائی ہوئی آواز میں بولے … ’’یہ کہہ کر تم نے مجھے مجبور کر دیا …پر دل نہیں مانتا… خیر اب تم با ہوش اور پڑھی لکھی ہو، چلو کچھ دن ایسا بھی کر کے دیکھ لو۔‘‘
’’شکریہ چچا جان مجھ پر بھروسہ کرنے کے لئے۔۔ ایک بات اور کہ میں ابا والا حصّہ کبھی بھی امی کو فروخت نہیں کرنے دوں گی، وہ صرف آپ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اس سودے کی مخالفت نہ کر پائی ہوں گی اور مخالفت کرنا ان کے مزاج میں ہی کہاں ہے۔ آپ بلال کی تعلیم یا کسی بھی اخراجات کی فکر نہ کریں، آپ نے اس قابل بنا دیا ہے کہ میں اب یہ ذمہ داری اٹھا سکتی ہوں۔ اس لئے وعدہ کیجئے کہ تایا ابو کو پرانا حصّہ فروخت نہ کرنے کے لئے آپ سمجھا لیں گے۔ اسی خیال سے اس بار آئی تھی کہ اس سلسلے میں آپ سے اجازت لوں مجھے یقین ہے آپ میری خواہش کو میری ضد نہ سمجھیں گے۔‘‘
’’ابھی کتنے دنوں کی چھٹّی ہے۔؟‘‘
’’پرسوں واپس جا رہی ہوں، اگر آپ نے اجازت دے دی تو یہاں ڈیپیوٹ depute)) کرنے کے لئے ایپلیکیشن دینی ہو گی اور اس ایپلیکیشن کے ساتھ کچھ فیکٹس اور فیگر بھی دینے ہوں گے کہ اس جگہ کا چناؤ میں نے کس بنیاد پر کیا ہے۔ اس لئے مجھے درمیان میں پھر آنا پڑے گا۔‘‘
’’ہمم…… دل تو نہیں مانتا پر سوچنے دو۔‘‘
’’بس ایک بار مجھے اپنا کام کر لینے دیجئے آپ کو تسلی نہ ہوئی تو میں واپس چلی جاؤں گی۔‘‘
’’تو کیا یہاں اپنی پرائیوٹ کلینک کھولنی ہو گی یا …‘‘
’’فرنڈ سرکل ایک انٹرنیشنل آرگنائیزیشن ہے جو اپنی شرطوں پر کام کرتی ہے۔ اس کے سیمینار اور کانفرنسز دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتے رہتے ہیں۔‘‘
’’ماشاء اللہ۔۔۔۔‘‘
’’یہ مجھے ہی طے کرنا ہے کہ اس فیلڈ میں کام کرنے کا میرا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ اور اپنی رپورٹ میں مجھے یہ سب مینشن کرنا ہو گا۔ وہاں سے ریلیو ہونے میں مجھے ابھی ایک سال لگ سکتا ہے۔‘‘
’’تو کیا سوچا ہے؟… کیسے کرو گی؟….اگر یہاں آتی ہو ..؟‘‘
راحت کا دل خوشی سے اچھل پڑا اسے لگا جیسے اس کے ناظر چچا نیم رضا مند ہو چکے ہیں۔ اس نے اپنے احساسات چھپاتے ہوئے کہا۔
’’دادا ابّا والے حصے کی مرمت اور رنگ و روغن کا کام شروع کروانا چاہتی ہوں۔ مگر پہلے وہاں جا کر ڈسکس کر لوں اگر یہ ممکن ہوا تو جب بھی دوبارہ آئی ادھر رینوویشن کا کام شروع کروانا ہو گا ‘‘
’’یعنی تم یہاں باضابطہ اپنی ایک کلینک کھولنا چاہو گی۔۔‘‘
’’جی ہاں کچھ ایسا ہی سوچ رہی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے ….سوچنے دو۔۔۔ بھائی جان سے بھی بات کرنی ہو گی۔ معلوم نہیں وہ تیار ہوں گے کہ نہیں۔۔۔ اب جاؤ تم بھی آرام کرو۔
’’جی۔۔۔۔‘‘ راحت ناظر کو سوچوں میں غرق چھوڑ کر وہاں سے اٹھ آئی۔

7

راحت کا اندازہ صحیح نکلا اسے میڈیکل فرینڈ سرکل کے پروجکٹ کے تحت کام کرنے کے لئے اپنے گاؤں میں آنے کی اجازت مل گئی، خاص کر تایا ابّو کو سمجھانا آسان نہیں تھا مگر انہیں بھی ناظر نے کسی طرح قائل کر لیا تھا۔ راحت بے حد مسرور نظر آ رہی تھی۔۔ وہ واپسی کے لئے اپنی بکھری چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔ اسے مسرور دیکھ کر عالیہ بیگم نے کہا۔۔ ’’آخر تم نے اپنی ضد پوری کر لی۔ اس بار بھی ناظر کو قائل کر ہی لیا۔‘‘
’’آپ خوش نہیں ہیں میرے اس فیصلے سے۔۔۔؟‘‘ اس نے بیگ میں اپنا سامان ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’بات خوشی کی نہیں … فکر کی ہے … ہم سب تمہارے لئے فکر مند ہیں۔‘‘
’’ممانی جان …‘‘ برآمدے سے ظہیر کی آواز آئی۔
’’ہاں ظہیر بیٹے اندر آ جاؤ۔۔‘‘ عالیہ بیگم نے دروازے کا پردہ سرکاتے ہوئے کہا۔
وہ اندر آئے تو راحت نے کہا … ’’السلام علیکم۔‘‘
.. ’’وعلیکم السلام … مبارک ہو۔‘‘ اس کا کھلا کھلا چہرہ دیکھ کر ظہیر نے کہا۔ ’’کیا یہاں آنے کے لئے تم سچ مچ اتنی خوش ہو۔۔۔‘‘
’’بہت خوش …. ظہیر بھائی۔‘‘
’’یقین نہیں ہوتا …ایسی پچھڑی ہوئی جگہ میں آنے کے لئے کوئی اتنا خوش کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘
’’آپ لوگ نہیں سمجھیں گے۔۔۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’بہر حال میں یہ کہنے آیا تھا کہ پرسوں تمہاری فلائٹ ہے، چھوٹے ماموں جان نے کہا ہے کہ تمہیں پٹنہ ائر پورٹ پر میں ڈراپ کر دوں تو مجھے ذرا فلائیٹ کا وقت بتا دو۔‘‘
’’میری فلائیٹ پرسوں یعنی ۲۲ تاریخ کو نہیں ہے بلکہ ۲۳ کی ہے، لیکن پرسوں ہی نکلنا ہو گا کیونکہ بہت بے وقت ہے صبح ساڑھے چار بجے۔۔‘‘
’’ارے شام کی فلائیٹ لینی چاہئے تھی نا۔۔۔ تو صبح صبح یہاں سے نکلنا ٹھیک رہتا۔‘‘
’’شام میں سیٹ ملی نہیں؟‘‘
’’ٹھیک ہے چلو پرسوں آرام سے نکلیں گے۔ پھر بھی شام چار بجے تک تیار ہو جانا یہاں ٹریفک بہت رہتا ہے۔ رات نو دس بجے تک احمد کے فلیٹ پر پہنچ جائیں گے ؛صبح وہاں سے تمہیں ائر پورٹ چھوڑ کر میں رانچی نکل جاؤں گا۔‘‘
’’احمد بھائی وہاں ہوں گے نہیں .وہ تو فوزیہ کو لانے گئے ہیں؟.‘‘
’’کیوں نہیں ہوں گے، وہ کل ہی فوزیہ کو چھوڑ کر واپس چلا جائے گا۔۔‘‘
’’تو وہ پرسوں ہمارے ساتھ ہی کیوں نہیں چلتے۔۔؟‘‘
’’میں نے بھی اس سے یہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھ چلو، تو اس نے کہا امتحانات چل رہے ہیں… انویجیلیشن ڈیوٹی ہے۔ اس لئے رک نہیں سکتا۔‘‘
’’امّی آپ بھی چلئے نا ہمارے ساتھ پٹنہ تک۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی … فوزیہ آنے والی ہے سسرال سے اور ظہیر کو فوراً یہاں واپس تو آنا نہیں ہے۔ وہ وہاں سے رانچی چلے جائیں گے۔‘‘
’’میں آپ کو چھوڑ کر یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔۔ میں تو آتا جاتا رہتا ہی ہوں۔ راحت صحیح کہ رہی ہے، کب سے آپ نہیں نکلیں۔‘‘
’’تم کس کی باتوں میں آ گئے۔۔ راحت کی کوئی بات صحیح ہوتی ہے کبھی۔‘‘
’’چھوڑئے نا ظہیر بھائی انہیں کوئی نہیں بدل سکتا۔۔۔ آپ مجھے جانے سے پہلے ایک بار کھیت پر لے چلئے نا بہت دنوں سے ہریالی نہیں دیکھی۔‘‘
’’یہ لو ایک نیا فطور۔۔۔‘‘ عالیہ بیگم نے اس کے پریس کئے ہوئے کپڑے اس کے پاس رکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیسی بچکانی ضد ہے۔‘‘
ظہیر کو خاموش دیکھ کر اس نے پھر کہا…
’’جھمکی کئی بار مجھے کھیت پر چلنے کی دعوت دے چکی ہے، آج چلیں۔‘‘
’’ناظر ماموں تو شاید کچھ نہ کہیں مگر بڑے ماموں کو معلوم ہو گیا تو تمہیں یہاں کام کرنے کی اجازت جو اتنی مشکل سے ملی ہے، اسے وہ فوراً بدل دیں گے۔ جانتی نہیں کہ شریف گھر کی عورتیں کھیتوں پر نہیں جاتیں۔ گاؤں میں رہنا ہے تو یہاں کے طور طریقے اپنانے ہوں گے۔‘‘
’’ظہیر بھائی .. آپ بھول گئے؟ دادا ابا بھی بگھی بلا کر گھر کی ساری شریف بیبیوں کو کبھی کبھی کھیت پر بھیجتے تھے۔ تب ہم کتنے چھوٹے تھے‘‘ اس نے یاد دلایا۔
’’پر اب یہ گاؤں پہلے جیسا نہیں رہا سب کچھ بدل گیا ہے۔‘‘
’’کیا بدل گیا ہے … ویسے ہی تو سیدھے سادے لوگ ہیں پہلے کی طرح۔‘‘
’’وہم ہے تمہارا۔۔۔ ایک تو آس پاس دور دور تک بس اپنے خاندانی لوگوں کے کھیت، کھلیان اور باغات تھے۔۔۔ نانا ابّا کا دبدبہ تھا۔۔ سال میں ایک یادو بار جب حویلی کی بیبیاں کھیتوں پر جاتی تھیں تو ہفتوں سے ان کے استقبال کی تیاری ہوتی تھی۔۔ آم کے باغیچوں میں جھولے لگتے تھے۔ کھیت مزدوروں کی بیویاں حاضر رہتی تھیں مرد کام گار دور دور رہتے تھے۔‘‘ ظہیر نے اسے یاد دلایا۔
’’ہاں مجھے بھی یاد ہے ہم سب بچّے اور خاندان کی عورتیں دن بھر کی موج مستی کے بعد گھر واپس آتے تھے۔۔ اور اس دن دادی امّاں کھیت میں کام کرنے والی ساری عورتوں کو سوتی ساڑی بانٹا کرتی تھیں۔‘‘ راحت نے کہا۔
’’وہ وقت اور اس وقت کی برکتیں اور رونق ہی کچھ اور تھی۔‘‘ اب تو خاندان کے زیادہ تر لوگ اپنی اپنی زمینیں فروخت کر کے شہروں میں جا بسے۔ ایک ہم ہی باقی رہ گئے ہیں مدان پور میں۔ ’’عالیہ بیگم کھوئی کھوئی آواز میں بولیں۔
’’اور کیا اب ان حالات میں بڑے ماموں یا چھوٹے ماموں جان بھی کہاں کسی کو جانے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘ ظہیر نے پھر کہا
’’چھوٹے چچا کی فکر نہ کریں … ان کی ذمہ داری میری ….وہ کچھ نہیں کہیں گے …اور تایا ابّو اور تائی امّی احمد بھائی کے ساتھ فوزیہ کو لانے گئے ہوئے ہیں تو بس کچھ دیر کے لئے لے چلئے۔۔‘‘ اس نے منت شروع کی تو ظہیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ ’’ٹھیک ہے تو ابھی چلو۔۔ یہ سب بعد میں کرنا۔ ہم لوگ جائیں ممانی جان۔‘‘
’’پتہ نہیں بھائی مجھے تو راحت کی یہ خود سری اچھی نہیں لگتی۔‘‘
’’اوہ امّی۔۔۔ میں جلد آ جاؤں گی ….میرا باقی سامان آپ رکھ دیں‘‘ وہ اٹھتی ہوئی بولی۔
’’خواہ مخواہ۔۔۔ ناظر کیا سوچیں گے۔۔۔‘‘ انہوں نے الجھ کر کہا۔
’’انہیں عادت پڑ جائے گی۔۔ کیونکہ میں یہاں آ کر گھر میں بیٹھنے والی نہیں۔۔۔ میرا کام گھوم گھوم کر ہی ہو گا۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی بولی اور خدا حافظ کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
ظہیر نے انہیں تسلّی دی۔۔۔’’مت گھبرائیں فوراً واپس لے آؤں گا۔‘‘
دونوں کے کمرے سے جانے کے بعد عالیہ بیگم راحت کا بقیہ سامان بیگ میں ڈال کر اسے بند کرنے لگیں۔
کچھ ہی دیر میں ظہیر کی جیپ کھیت والی پگڈنڈی پر دوڑ رہی تھی۔
اُسے کھلے آسمان کے نیچے دور دور تک پھیلے ہرے بھرے کھیتوں کا منظر بڑا بھلا لگتا تھا۔ ویسے بھی فوزیہ کی شادی کے بعد بلال اور اطہر کے ہوسٹل واپس جاتے ہی نشیمن میں بڑا گونجتا ہوا سناٹا سنائی دیتا۔۔۔ اتنے دنوں بعد وہ گاؤں کی مختلف سی زندگی سے ہر طرح محظوظ ہو رہی تھی اور اس کا یہ یقین پختہ ہوتا جا رہا تھا کہ یہاں آ کر رہنے کا فیصلہ اس کا کوئی وقتی اور جذباتی فیصلہ نہیں تھا … بلکہ شاید یہی وہ مقام تھا جہاں اسے اپنی بہتر خدمات سر انجام دینے کے لئے خدا نے اس کے دل میں یہ جنون ڈال دیا تھا۔
کھیت پر دور سے آتی ہوئی جیپ کو دیکھ کر جھمکی اور گورکا قلانچے بھرتے ہوئے پگڈنڈی والی سڑک پر آ گئے۔ راحت جیپ سے اتری تو جھمکی نے کہا ـ’’دیدی چلو۔‘‘ دوڑنے کی وجہ سے اس کی سانس پھول رہی تھی۔ راحت نے ظہیر کی طرف دیکھا تو ظہیر نے کہا۔ ’’تم کچھ دیر یہاں رکو میں ایک ضروری کام کر کے آتا ہوں۔‘‘
وہ اثبات میں سر ہلا کر کھیت کی پگڈنڈیوں پر اُن کے ساتھ چلنے لگی۔ ارے کتنی دور اور چلنا ہے۔ بس وہ دو کھیت چھوڑ کر۔۔۔۔ اُدھر۔۔۔۔ مائی بیٹھی ہے وہاں۔۔۔۔ راحت نے نظر اٹھائی۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ۔۔ کھیتوں میں ربیع کی فصل لگائی جا چکی تھی۔ گندم کی کاشت کے بعد اس کے ننّھے پودوں کے سر ابھارنے سے چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آ رہی تھی جیسے کھیتوں میں سبز قالین بچھا دیا گیا ہو۔ جس کے درمیان تنہا یا جھنڈ کی شکل میں بیٹھی عورتیں، اس میں نکل آئے کھر پتوار کو چن رہی تھیں جنہیں وہ موتھا کہتی تھیں۔ بقول ان کے یہ موتھا الگ نہ کیا جائے تو ساری فصل برباد ہو جاتی ہے۔ وہاں کاشتکار اپنی فصلوں میں پانی لگا رہے تھے۔ ورنہ پانی کی کمی کے باعث گندم کی بالیوں میں دانے چھدرے اور چھوٹے ہونے کا ڈر رہتا ہے۔
وہاں کام کرتے ہوئے ان سب کے چہروں پر خوشیاں ہی خوشیاں رقص کر رہی ہیں۔ اچھے دن کی آمد کا احساس انسان میں کیسی توانائی، کیسی خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ اس خوشگوار ماحول کو ان دیہاتی لوگوں کے گانے نے اور بھی پر کشش بنا دیا تھا۔۔ کہیں کہیں کسی کھیت کی کیاریوں میں بیٹھی عورتیں اور بچے آلو نکال کر ڈھیر کی شکل میں جمع کر رہے تھے۔
جھمکی نے چھپّر کے نیچے سے چار پائی کھینچ لی اور راحت سے اُس پر بیٹھنے کو کہا۔ مہتو اور کنیا بھی بہت خو ش ہو کر اُس کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔
’’ارے آپ لوگ اپنا کام کیجئے۔ میں یہاں بیٹھ کر دیکھوں گی۔‘‘
گورکا دوڑ کر کسی کھیت سے ہرے چنے کی جھاڑ توڑ لایا اُس کی خاطر میں وہ بچھا جا رہا تھا۔
’’یہ کیا ہے؟ گورکا اور آج تم یہاں کھیت پر کیسے۔؟‘‘
’’ہرے چنے ہیں دیدی کھائیے۔۔ مولی اور آلو لینے آئے ہیں۔ بڑے مالک نے بھیجا ہے۔‘‘ اُس نے چار پائی پر اُس کے پاس چنے کی ہری ہری جھاڑ رکھتے ہوئے کہا۔ جھمکی چھلکوں سے چنے نکال کر اُسے دینے لگی۔ راحت نے ہرے تازہ چنے مُنھ میں ڈالے کیسی مٹھاس تھی ان تازہ چنوں میں …. ایسی لذّت، مٹھاس اور آسودگی۔ بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹل کے مسحور کن ماحول اور خوابناک فضا میں کیا کبھی کسی کو مل سکتی تھی؟ جو یہاں کی تازگی اور خالص پن میں تھی۔
’’ارے یہ کیا مہتو بھائی۔۔۔۔ اتنے چنے آپ کیوں لے آئے۔‘‘ مہتو کو اس نے اتنے سارے چنے کے پودے لاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
’’ارے بی بی۔۔۔۔ اس میں دانے تو تھوڑے سے ہی نکلیں گے۔ آپ کون سا روج روج۔۔۔۔ یہاں آ رہی ہیں۔ لے بی بی کو آگ پر بھون کر کھلا۔‘‘ اُس نے ہرے چنے کے جھاڑ کو نیچے زمین پر رکھتے ہوئے کنیا سے کہا۔
کنیا زمین میں سوکھے پتّے اور سوکھی ٹہنیاں اکٹّھی کر کے جلانے لگی۔ پھر اُس آگ پر چنے کی جھاڑ بھون کر راحت کی مدارات میں لگ گئی۔ اُس کے ننّھے ننّھے بچوں نے کنیا کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ چنے کی ہری شاخوں کی چٹ پٹ، پٹ پٹ کی آواز آگ پر بھونے جانے کی وجہ سے چاروں طرف بکھرنے لگی۔ اور بھونے ہوئے ہرے چنے کے سوندھے پن نے اُس کے مزے کو اور بھی دو بالا کر دیا۔
دور ایک کھیت کے کنارے بورنگ کے موٹے پائیپ سے سفید جھاگ دار پانی پگھلی ہوئی چاندی کی طرح خوشنما منظر پیش کر رہا تھا۔ اُس کی کل کل کی آواز چہار طرف سے پیاسی مخلوق کو اپنی طرف کھینچ لیتی۔ ابھی موسم ٹھنڈا تھا پھر بھی ایک دو جانور آس پاس گھوم رہے تھے اور بہت سے پرندے اس کے پائیپ پر آ کر بیٹھتے پھر اڑ جاتے۔۔
’’مہتو کاکا وہ بورنگ اپنے ہی کھیت کا ہے کیا۔ یا کسی اور کا ہے۔؟‘‘ راحت نے پوچھا۔
’’اپنا ہی ہے بی بی …. وہ دیکھئے یہاں سے وہاں تک سب آپ کے کھیت ہیں۔۔ دور دور تک اور کسی کا نہیں۔‘‘
’’ہاں بہت دنوں بعد آئی ہوں بچپن میں تو بہت آتی تھی۔۔‘‘
’’دیکھئے یہ سب کسان اور ساری عورتیں۔۔۔ سب آپ کے کھیت میں کام کرتی ہیں۔‘‘
’’یہ سب اپنے کھیت میں کام کر رہی ہیں میرے کھیت میں نہیں …‘‘ راحت نے ہنس کر کہا تو مہتو بھی سادگی سے ہنس دیا۔
’’بورنگ پر چلو جھمکی ….‘‘ راحت نے چارپائی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’اچھا۔۔‘‘ جھمکی اور اس کا بھائی گورکا دوڑ کر بورنگ پر چلے گئے، کنیا کے دوسرے بچے اس کے ہاتھ سے چنے لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سب کو آپس میں الجھا چھوڑ کر وہ بھی بورنگ کی طرف بڑھ گئی۔ عورتیں مسکرا مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھیں اور ساتھ ہی اپنا کام بھی کرتی جا رہی تھیں، ان میں سے کچھ نوجوان عورتوں نے گھونگھٹ میں اپنا آدھا چہرہ چھپا رکھا تھا۔۔۔ راحت نے سوچا ضرور یہ گھونگھٹ میں نظر آنے والی عورتیں اس گاؤں کی بہویں ہوں گی۔ اور بیٹیاں سر منھ کھولے آزادی سے اپنا کام کر رہی تھیں۔۔ اسے یہ تفریق بھی عجیب لگی مگر روایت کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ بورنگ کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں اُن بچّوں کے ساتھ وہ بھی بچّہ بن کر کھیلتی رہی۔ مگر پانی بہت ٹھنڈا تھا، اگر گرمی ہوتی تو زیادہ مزہ آتا پھر بھی خوب دل بھر کر اُس نے ہاتھ پیر دھوئے، پھر وہاں پر جمع ہو جانے والے بچّوں کو وہاں سے ہٹاتی ہوئی بولی۔۔۔ ’’ٹھند لگ جائے گی اب ہٹو یہاں سے، بیمار پڑ گئے تو میں سب کو انجکشن لگا دوں گی۔‘‘ بچے ہنستے ہوئے وہاں سے بھاگے۔۔ وہ بھی کھیت کے کنارے آ گئی۔ وہاں پگڈنڈی پر ایک پرانے نیم کے پیڑ کی جڑ پر بیٹھ گئی۔ جس کی چھتنار شاخوں کے سائے میں پہلے سے ہی کئی چھوٹے بچے کھیل رہے تھے۔۔ وہ ان کو کھیلتے ہوئے دیکھتی رہی۔ بورنگ چلنے کے شور کی آواز کی وجہ سے اُس نے جیپ کے آنے کی آواز نہ سنی تھی، مگر جیپ کے نزدیک آنے پر اس کے ہارن پر مڑ کر دیکھا۔ ظہیر آ گئے تھے، انہوں نے اشارہ کیا کہ اب چلو۔
’’اتنی جلدی آ گئے آپ، ابھی تو بہت اچھا لگ رہا ہے یہاں بیٹھنا۔‘‘
’’چلو بہت دیر ہو گئی ہے۔ کافی دیر سے نکلے ہوئے ہیں۔‘‘
’’دیدی ابھی اور رکئے۔‘‘ جھمکی نے کہا۔
’’نہیں پھر آؤں گی کسی دن۔‘‘
’’بہت اچھا لگا، تھینک یو ظہیر بھائی۔‘‘ وہ ہنس کر جیپ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔ پھر اس نے دیکھا گورکا ایک تھیلا اٹھائے، دوڑا چلا آ رہا ہے۔
’’ظہیر بھائی اسے بھی گھر جانا ہے شاید۔۔‘‘
’’اچھا آنے دو۔‘‘ گورکا کے ساتھ پیچھے پیچھے مہتو نے بھی ایک بوری اٹھا رکھی تھی۔
’’ہری سبزی اور آلو ہے بی بی۔ آپ لوگ گھر ہی جا رہے ہیں تو اسی پر رکھ دیتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے رکھ دیجئے پیچھے۔۔‘‘ ظہیر نے جواب دیا۔
’’تم کو بھی چلنا ہے؟’’ظہیر نے پوچھا تو گورکا نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’جاؤ۔۔۔ اپنے تھیلے کے ساتھ پیچھے بیٹھ جاؤ‘‘ اجازت ملتے ہی گورکا جھٹ پٹ جیپ پر چڑھ گیا۔ بوری اور تھیلا بھی پیچھے رکھا جا چکا تھا ظہیر نے جیپ آگے بڑھا لی۔
’’ویسے آپ کہاں گئے تھے۔‘‘ ظہیر کو سنجیدہ دیکھ کر وہ بولی۔
’’ایک لوکل رپورٹر سے کسی خبر کی تصدیق کرنی تھی، اور تفصیل حاصل کرنی تھی، اسی سے ملنے گیا تھا۔‘‘
’’کیسی خبر۔۔؟ آپ بہت سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔‘‘
’’اب آ ہی رہی ہو جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ یہاں اچھی خبریں کم ہی ملتی ہیں۔‘‘
’’پھر بھی … مجھے بتائیے کیا کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔‘‘
’’حادثے تو ہوتے ہی رہتے ہیں، اور ہمارا کام بھی ایسا ہے کہ ہر حادثے کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔‘‘
’’آپ تو چیف ایڈیٹر ہیں ’’نئی آواز‘‘ کے، یہ کام تو رپورٹر کا ہے …‘‘
’’رہنے دو … کسی ایسے اخبار کا مالک نہیں جس کے دو درجن اسٹاف ہوں۔ ایک چھوٹا سا آفس۔ چند اسٹاف کے ساتھ ساری بھاگ دوڑ خود کرنی پڑتی ہے۔‘‘
’’رہنے دیں … اب اتنی کسر نفسی سے کام لینے کی ضرورت نہیں … معلوم ہے آپ کا کام کتنا پھیل چکا ہے … یہ آپ کا مزاج ہے کہ مالک کی طرح آفس میں نہیں بیٹھتے۔‘‘
’’اچھا خیر یہی سہی …‘‘
’’پر آپ نے خبر تو سنائی نہیں۔۔ کیا حادثہ ہوا ہے۔‘‘
’’افففف تم پیچھے پڑ جاتی ہو۔‘‘ ظہیر نے جیپ کو پگڈنڈی سے نکال کر پکّی سڑک پر کر لیا تھا۔
’’بس جاننا چاہتی ہوں کہ چچا جان نے مجھے یہاں آنے سے اتنا ڈرایا ہے تو آخر کیا حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔‘‘
’’تلنگا گاؤں سے تقریباً گیارہ کیلو میٹر دور جھاڑی نما جنگل میں ایک پیڑ سے سولہ سال کی لڑکی کی لاش لٹکی ہوئی ملی ہے۔ جسے پولس نے ایز یوزوایل خود کشی کا کیس بتا دیا ہے۔ اسی کی تفصیل لینے گیا تھا۔‘‘
’’اوہ افسوس ناک۔۔۔ کون تھی لڑکی پتہ چلا۔؟‘‘
’’ہاں … اسی تلنگا گاؤں کے رہنے والے سیمون مورمو کی بیٹی مریم مورمو کے طور پر اس کی پہچان ہوئی ہے۔ باقی آگے کی تفتیش کس ایمانداری سے ہو گی خدا جانے۔‘‘
راحت کو خاموش دیکھ کر ظہیر نے کہا۔۔۔ ’’اسی لئے نہیں بتا رہا تھا … دل برا ہو گیا نا۔۔؟‘‘
’’میں بھی جن لوگوں کے درمیاں کام کرتی ہوں وہاں بھی اچھی خبریں نہیں ہوتیں… صرف دکھ، پریشانی اور افلاس۔‘‘
’’پر ہم کر کیا سکتے ہیں…؟‘‘ ظہیر نے کہا
’’جتنا کر سکیں .. مظلوم طبقے کے لئے اتنا تو کرنا ہی چاہئے۔ اب اگر اس خبر کو پوری سچّائی سے آپ اپنے اخبار میں جگہ دے دیں تو سمجھئے آپ نے اپنے حصّے کی نیکی تو کما لی۔‘‘
’’رائیٹ۔۔۔ آجکل خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا پریشر بہت رہتا ہے۔‘‘
’’بالکل۔۔۔ اب اسی خبر میں اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ پتہ چل جائے کہ یہ خودکشی نہیں مرڈر ہے تو کیا آپ پوری سچّائی سے اسے شائع کر سکیں گے۔‘‘
’’ڈیپنڈ کرے گا۔۔۔ کہ مجرم کون ہے، سچ کیا ہے ..کئی بار تو وکٹم ہی ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ خبر چھپا لو… ظاہر نہ کرو۔۔ خیر چھوڑو یہ بتاؤ تم نے اتنے دنوں میں یہاں کیا کیا دیکھا۔ تمہیں ماموں جان نے جگدیش بابو سے ملوایا تھا نا۔‘‘
’’جی۔۔۔ وہ میرے لئے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔ ان کے ساتھ آس پاس کے ایک دو گاؤں دیکھنے گئی تھی اور مجھے وہی نظر آیا جو مجھے یہاں دیکھنے کی توقع تھی۔۔ غربت، بیماری، بھوک اور سہولیات کی کمی۔‘‘
’’گویا بہت سوچ سمجھ کر یہاں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ظہیر نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’جی ہاں بالکل …اچھا یہ چند تصویر دیکھئے۔ میں نے کل لی تھی۔۔۔‘‘
جھگیوں کی، …مٹی کے گھروں کی، …ننگ دھڑنگ بیمار بچّوں کی، ….ایک ضعیفہ کی جو اپنا آدھا ٹوٹا چشمہ دھاگے سے باندھ کر کان پر اٹکائے مہوا کے پتوں سے ٹوکری بن رہی تھی۔
موبائیل ظہیر کے سامنے کرتے وقت راحت نے دیکھا گورکا پیچھے بالکل کنارے کی طرف جا کر باہر جھکا جا رہا ہے اس طرح اسے چلتی ہوئی جیپ میں تیز ہوا لگ رہی تھی اور اس کے چہرے پر عجیب سی مسرّت ناچ رہی تھی۔
’’ٹھیک سے بیٹھو گر جاؤ گے۔۔۔‘‘ راحت نے ڈپٹ کر کہا تو ظہیر نے بھی اسے تنبیہ کی۔ پھر راحت کی طرف متوجہ ہو کر بولے..
’’بہت ہی شاندار تصویر لی ہے تم نے۔ آرٹسٹک تصویریں ہیں۔؟ اس آرٹ کے پیچھے کا المیہ، ماحول کی سوگواریت، چہروں کی بے کسی، اپنی ساری باریکیوں کے ساتھ اس میں اجاگر ہیں۔۔‘‘
’’سچ کہا آپ نے۔۔۔ در اصل میں اسی المیہ، اسی درد کو سب کی زندگی سے دور کرنا چاہتی ہوں۔ ہم سب اپنی زندگی میں خوشی چاہتے ہیں، سکون چاہتے ہیں اور میں اس بات کی قائل نہیں کہ کچھ لوگ ایک بہترین چمکتی ہوئی دنیا کے لئے کچھ لوگوں کے مقدر میں صرف بھوک اور بیماری لکھ دیں۔‘‘
’’خدا تمہیں کامیابی دے۔ مگر یہ کام کسی جہاد سے کم نہیں، اس لئے آسان نہیں۔‘‘
’’جانتی ہوں ظہیر بھائی۔۔۔ آسان اس لئے نہیں کہ ہر طرح کی نا انصافی اور ظلم کو ہم تقدیر سمجھ کر قبول کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔‘‘
’’ویسے اس سے الگ ایک بات پوچھوں؟ اتنی اچھی فوٹوگرافی… کہاں سے سیکھی؟‘‘ ظہیر نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’میرا ایک کلیگ ہے … انور جو بہت اچھا فوٹوگرافر بھی ہے … فوٹو گرافی اس کا پیشن ہے …اسی سے کچھ گر سیکھ لئے۔‘‘
’’گڈ اس تصویر پر ایک اسٹوری بنا کر دو اخبار کے لئے۔‘‘
’’ارے یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔۔۔ ہاں کہیں گے تو سیدھی سیدھی رپورٹنگ کر سکتی ہوں۔‘‘
’’جی نہیں … میرے پاس رپورٹر ہیں۔‘‘ دونوں ہنسنے لگے۔
’’باپ رے باپ مار ہو گیا …‘‘ اچانک گورکا کی تیز اور پر تجسس آواز نے انہیں چونکا دیا۔ دونوں اس طرف متوجہ ہوئے۔
’’ہاں …لگتا ہے یہاں کچھ ہوا ہے دیکھو جگدیش کاکا کے اسکول کی طرف یہ بھیڑ کیوں بھاگی جا رہی ہے۔‘‘
’’ارے ہاں ….‘‘ راحت نے تائید کی۔
’’ظہیر نے جیپ کی رفتار دھیمی کی اور قریب سے گزرتے ہوئے ایک آدمی کو مخاطب کیا۔۔۔ ’’اسکول پر کچھ ہوا ہے کیا؟‘‘
’’تاتی اڑما مر گئی .۔‘‘
’’ارے جگدیش کاکا آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔‘‘ سامنے سے سائیکل پر جگدیش بابو کو آتا ہوا دیکھ کر ظہیر نے آواز لگائی۔
’’سرکاری اسپتال میں کوئی ڈاکٹر بیٹھا ہی نہیں ہے۔۔ اسے ہی دیکھنے گیا تھا۔ اس وقت تو وہ سویپر بھی نہیں ہے جو صبح صفائی کرنے آتا ہے اور ہاسپیٹل کھول جاتا ہے۔ بس باہر اسپتال کے برآمدے میں دو کتّے ضرور سو رہے ہیں۔‘‘ جگدیش بابو نے جھنجھلاتے ہوئے بتایا۔
’’یہ تاتی اڑما کون تھی؟‘‘
’’اب تک تو مر ہی گئی ہو گی بے چاری۔۔ اس کو سمے پر ڈاکٹر نہیں ملا۔‘‘
’’یہ راحت ساتھ ہے کہئے تو ہم لوگ آپ کے ساتھ چلیں …‘‘ ظہیر نے جلدی سے کہا۔
’’ارے ..اہو بھاگیہ …. مجھے کیوں یاد نہ آیا کہ ہماری بٹیا بھی تو یہیں ہے آجکل۔۔۔ بیٹی دیکھ لو گی چل کر۔‘‘
’’کیوں نہیں کاکا۔۔۔ آپ بھی جیپ پر ہی آ جائے۔ جلدی پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’رے کلّوا ….‘‘ انہوں نے ادھر ادھر دیکھ کر کلّو کو پکارا
’’جی ماس ساب ..‘‘ وہ دوڑ کر آیا۔
’’یہ سائیکل پکڑ … اسکول پر پہچا دینا ہم ان کے ساتھ جا رہے ہیں۔‘‘
’’جی …..‘‘ اس نے سائیکل لے لی اور وہ جیپ میں بیٹھ گئے۔
’’اسے بھی سائیکل سے گھر چھوڑ آؤ … ہمیں واپسی میں دیر ہو سکتی ہے۔‘‘ ظہیر نے گورکا کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
’’گورکا کود کر جیپ سے اتر گیا اور بھائی سے سبزی کا تھیلا اٹھانے کو کہا۔
’’نہیں وہ رہنے دو ہم آ ہی جائیں گے کچھ دیر میں۔۔۔ تم جاؤ گھر اور سنو امّی سے میرا میڈیکل بیگ مانگ کر بھائی سے بھجوا دینا ..‘‘ راحت نے گورکا کو سمجھایا تو اس نے مستعدی سے ہامی بھری۔
’’اب بتائے …کون تھی یہ تاتی اڑما؟’’ظہیر نے جیپ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’جموئی سے کچھ دوری پر ایک گاؤں ہے …..مسہڑ گاؤں نام سنا ہو گا؟‘‘
’’جی …کئی بار جا چکا ہوں وہاں۔ کیا ہوا؟‘‘
’’ارے تب تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ وہاں کے حالات کتنے برے ہیں نہ گھر، نہ بجلی نہ پانی۔ ڈاکٹر اور اسکول تو بھول ہی جاؤ۔ ایک پکا مکان نہیں اس گاؤں میں۔۔ وہاں کی کچھ عورتیں اور مرد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتے ہیں۔ کافی دور چل کر جانا پڑتا تھا‘‘
’’اچھا … ہاں ..‘‘
‘ اُسی فیکٹری کا اپنا ایک اسپتال بھی ہے۔‘‘
’’کون نہیں جانتا۔۔۔ فیکٹری کے اس اسپتال کو … وہی تو ایک ڈھنگ کا اسپتال ہے اس اطراف میں۔۔؟‘‘
’’وہ . اُسی فیکٹری میں کام کرتی تھی اور حاملہ تھی، کام پر ہی اچانک طبیعت خراب ہوئی …..تو سب اسے .فیکٹری کے اسپتال لے گئے جہاں اسے بھرتی کرنے سے اس لئے انکار کر دیا .کیونکہ نیچی ذات والوں کے لئے وہ اسپتال نہیں ہے‘‘
’’اوہ!!!……….‘‘ راحت نے یہ سن کر بے حد افسوس سے کہا………
‘‘جموئی کا صدر اسپتال بہت دور پڑتا ..اس لئے یہ لوگ اسے مدان پور کے سرکاری اسپتال لے کر بھاگے۔ یہ بھی کوئی کم دور نہیں اور نہ کوئی بس، نہ ایمبولنس۔۔ نہ گاڑی نہ گھوڑا … کہیں سے سائیکل رکشہ ملا اسی پر لائے۔‘‘
’’وہاں ایڈمٹ کیا …؟‘‘ راحت نے پوچھا
’’وہاں بھی کوئی نہ ملا۔۔۔ تب روتے دھوتے میرے پاس پہنچے۔ اسے اسکول پر ٹھہرا دیا.. اس کی حالت اچھی نہیں تھی بے ہوش لگ رہی تھی۔۔ میں اس سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر کا گھر جانتا ہوں وہاں گیا تو پتہ چلا وہ ہاسپیٹل گیا ہے، ڈھونڈھتے ہوئے پھر سرکاری اسپتال پہنچا پر وہاں کوئی ہوتا تو ملتا، اب لوٹ رہا تھا تو آپ لوگ مل گئے۔‘‘
اسکول کے باہر جیپ رکی، سب اتر کر جلدی سے اندر گئے لوگوں نے کافی بھیڑ لگا رکھی تھی۔ جگدیش بابو نے ڈانٹ ڈپٹ کر سب کو ہٹایا۔
راحت نے اس کی نبض دیکھی پھر مایوسی سے ظہیر کو دیکھا … یہ زندہ نہیں ہے۔ وہ دھیرے سے پھسپھسائی۔۔ پھر بجھے دل کے ساتھ اس کا معائنہ کیا۔ راحت نے دیکھا گٹھیلے بدن کی صحت مند اور نو جوان لڑکی تھی۔ وہ آج بھی کام پر تھی، یہ سوچ کر راحت کو گہرا رنج ہوا۔ اگر بروقت طبی امداد پہنچائی جاتی تو واقعی اُس کی جان کو بچایا جا سکتا تھا۔
’’فیکٹری سے لاتے وقت، راستے میں ہی اس کی موت ہو چکی تھی۔ پیٹ میں بچہ ختم ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ حیرت ہے اسی حالت میں وہ کام پر چلی گئی … شاید سمجھ نہ سکی ..اس کے ساتھ کون ہے۔ بلائیے اسے …‘‘
’’فیکٹری کے اسپتال میں اسے ایڈمٹ نہیں کیا۔ اسی بات کا تو ہنگامہ ہے۔ وقت پر اُسے علاج مل جاتا تو شاید وہ آج زندہ ہوتی۔‘‘ جگدیش بابو کی آواز میں جھنجھلاہٹ اور غصّہ اُمڑ آیا۔
’’بالکل بچ سکتی تھی … اگر وقت پر آپریٹ کر کے بچے کو نکال لیا جاتا … مگر ایسا نہیں ہوا اور اس کے جسم میں زہر پھیل گیا۔۔ دیکھئے ہونٹ وغیرہ کتنا نیلا پڑ گیا ہے۔ اگر اسی طرح تھوڑی دیر اور رہی تو پورا جسم نیلا پڑ جائے گا۔‘‘
’’اُف …….مگر اب تو یہ پولس کیس ہے …..‘‘ ظہیر نے کہا۔
ایک قبائلی دبلا پتلا نوجوان روتا ہوا اُس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر آ کھڑا ہوا۔ ’’اب کچھ نہیں ہو سکے گا کا۔۔؟ مالک!‘‘
راحت نے غصّے سے اُسے دیکھا۔ ’’اب کیوں رو رہے ہو۔۔۔‘‘ اچانک راحت چیخ پڑی …….
وہ لڑکا سٹپٹا گیا …ظہیر اور جگدیش بابو نے حیران ہو کر راحت کو دیکھا۔
’’اس طرح مجھے مت دیکھئے…یہ اس کا شوہر ہے؟‘‘
’’ہاں ..‘‘ جگدیش بابو بولے
’’اس کی موت کے ذمّے دار تم بھی اُتنے ہی ہو جتنے فیکٹری والے ……. اس حالت میں اُسے کام کیوں کرنے دیا……….‘‘ اس لڑکے کو مخاطب کر کے راحت نے کہا۔
’’کا کرتے ہم ….. ایک مہینے سے وہ چھٹّی مانگ رہی تھی۔ مگر فیکٹری والے چھٹی نہیں دے رہے تھے۔‘‘
’’اُس کو تکلیف کب سے تھی؟‘‘
’’کئی دن سے مگر کل رات سے کچھ زیادہ بے چین تھی۔ . کل فیکٹری میں جب اسے درد شروع ہوا تھا۔ اسی وقت ایڈمٹ کرنے لے گئے تھے۔‘‘ اُس نے گمچھے سے اپنی آنکھیں پونچھ کر کہا۔
’’اور اس کئی دن کی بے چینی میں تمہیں ایک دن بھی اُسے کسی ڈاکٹر کو دکھانے کا خیال نہیں آیا۔‘‘ راحت کا غصّہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ ظہیر نے اُسے خود کو سنبھالنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ کچھ دیر کرسی پر خاموش بیٹھی رہی۔ پھر سر اُٹھا کر اس کے شوہر کو تفصیل سے بتایا۔ کل رات کے کسی پہر ہی بچّہ پیٹ میں مر چکا تھا۔ آج اُسی حالت میں وہ کام پر چلی گئی …. کام کے دوران اُس کا درد بڑھا اور بر وقت آپریشن نہ ہونے سے جسم میں زہر پھیل گیا۔‘‘ تاتی اڑما کے دوسرے رشتے دار بھی وہاں جمع ہو چکے تھے، تفصیل جان کر بین کرنے لگے، بات باہر بھیڑ تک پہنچ گئی تھی اور اب وہ سب فیکٹری مالکوں کے نام لے لے کر مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ اور غصّے میں نظر آ رہے تھے۔
’’یہ جو تم لوگ فورا دوسروں پر الزام لگا کر خوش ہو جاتے ہو، کبھی سوچا ہے کہ اس کی موت کے ذمہ دار تم خود بھی ہو۔ اگر وقت پر سدھ لیتے تو فیکٹری کے بھروسے اس کی جان پر نہ بن آتی۔ مگر جب تک موت کے منھ میں نہ پہنچ جاؤ ڈاکٹر اور دوا کا خیال نہیں آتا۔‘‘
جگدیش بابو کے اشارے پر سب باہر چلے گئے۔
جگدیش بابو نے راحت اور ظہیر سے دھیرے دھیرے کچھ دیر بات کی۔ راحت اثبات میں سر ہلاتی رہی پھر ظہیر راحت کو گھر چھوڑنے چلے گئے۔ اور جگدیش بابو پولس کو فون کرنے لگے۔
دوسرے دن سارے مقامی اخبار میں یہ خبر آ گئی۔ جس سے ناظر کو یہ بھی پتہ چلا کہ راحت نے نہ کہ صرف اسے جا کر دیکھا تھا بلکہ اس کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی بنا کر دے دیا تھا۔ انہوں نے فوراً راحت کو طلب کیا۔
’’سُنا ہے تم جگدیش بابو کے ساتھ دھیرے دھیرے لیڈر بنتی جا رہی ہو۔‘‘
’’میں تو صرف اپنا کام کرنے گئی تھی۔‘‘
’’مرے ہوؤں کو زندہ کرنا تمہارا کام ہے ……. یا جھگڑے جھنجھٹ والے کیس میں اپنی ٹانگ اڑانا۔‘‘
’’سارا قصّہ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔‘‘ راحت نے دبی آواز میں کہا۔
’’پھر بھی تم نے ڈیتھ سرٹیفیکٹ بنا کر دے دیا۔‘‘
’’جھوٹا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا، سچ میں اس کی موت ہو گئی ہے چچا جان۔‘‘
’’تم ایک ان چاہی لڑائی کا حصّہ بن گئی ہو راحت۔ اب یہ لوگ فیکٹری مالکوں پر پولیس کیس کریں گے۔ تم نے اس لڑائی کی بنیاد ڈال دی ہے راحت …………. اس غلط جگہ پر ہر انسان اس دلدل میں ایسے ہی اُترتا ہے۔ بلکہ پولس کے آنے سے پہلے تم نے یہ کیس ہاتھ میں لیا کیسے؟۔‘‘
’’آپ پریشان نہ ہوں …..میں نے صرف اپنا کام کیا ہے، میں جب اس کے پاس پہنچی اس کی ڈیتھ ہو چکی تھی، میں لوٹ آئی۔ بعد میں ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بنوا کر وہ لوگ لے گئے ۔۔ اب آگے اس کیس سے میرا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔‘‘
راحت نے زبان سے یہ کلمات ادا کئے۔ مگر اُس نے خود محسوس کیا کے اس کا دل اس بات کے حق میں گواہی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جو بولنا چاہتی تھی وہ نہیں بول رہی تھی۔ کیوں کہ یہاں بڑوں کی غلط باتوں کا صحیح جواب بھی بد تمیزی میں شمار کیا جا تا تھا۔ وہ اُس سماج کا حصّہ تھی جہاں بہت سے ان چاہے گناہ لوگوں سے اس لئے سر زد ہوتے تھے کیونکہ وہ خود کو محفوظ اور مامون رکھ کر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔ خود ہر پریشانی سے بچنے کے لئے یہ سماج ہر حس کو دبا دینے میں اور بے حسی کا مکوٹھا چڑھا لینے میں بے حد ماہر ہے۔ وہ سر جھکا کر اُن کی جھڑکیاں سُنتی رہی۔ چھوٹے چچا بھی اپنی جگہ غلط نہیں تھے اُن کی کہی ہوئی ایک ایک بات صحیح اور سچّی تھی اور اُس کی فکر میں کہی جا رہی تھی۔ اُن کی سوچ اور اُن کا تجربہ اور اُن کا نظریہ یہی تھا۔ اپنی اور صرف اپنی بقاء اور ترقی…….. اور پورے سماج کا تقریباً یہی رویّہ ہوتا ہے۔ لڑائی میں تو وہ لوگ کودتے ہیں، جن کی یہ لڑائی ہوتی ہے یا پھر اُس کے جیسے چند سر پھرے ………. اپنے جذبے کو کسی تحریک سے جوڑ کر یا کسی مقصد سے …………. راحت کو تو سب کچھ اپنے دل و دماغ سے پوچھ کر کرنا تھا۔ نہ یہ سماج نیا تھا، نہ یہ دنیا نئی تھی ……. نہ یہاں کے مسائل نئے …… راحت کو خوب معلوم تھا کہ استحصال کا یہ کھیل نیا نہیں ہے۔ مظلوموں پر ظلم ہر زمانے میں ہوا ہے۔ مگر اس میں اس کھیل کو برداشت کرنے کا مادّہ نہ تھا۔ اپنے سامنے ہونے والے ہر ظلم کے خلاف وہ کھلّم کھلّا کھڑی رہنا چاہتی تھی۔ وہ انصاف اور انسانیت پر مبنی کوئی ایسا نظام مرتّب کرنا چاہتی تھی۔ جس سے عام آدمی کو راحت مل سکے۔ ………… اور اب اُسے یہ سمجھ میں آنے لگا تھا کہ وہ سچ مچ اپنے ابّا جیسی تھی سر پھری۔ اسی لئے ابّا کے بعد اب گھر میں سب لوگ اُسے بھی freak کہنے لگے تھے۔ طاقتور کے خلاف کمزوروں کی لڑائی لڑنے والے، اپنے مفاد کے بجائے دو سروں کے مفاد کی پرواہ کرنے والے freak ہی تو کہے جا سکتے ہیں۔
’’راحت سُن رہی ہو ………….. کیا کہا میں نے……….‘‘
چچا کی تیز آواز پر راحت اپنے خیالوں سے چونکی ………………
’’جی …………. جی …………….‘‘ وہ ہکلائی ……………..
’’جاؤ ………. اگر یہاں رہ کر کام کرنا ہے تو اس طرح کے معاملات سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کرنا ہو گا۔‘‘
’’جی بہتر ………….‘‘
’’میں جگدیش بابو سے بھی پوچھوں گا، ان سے اس بیوقوفی کی مجھے امید نہیں تھی۔ میں نے ان سے تمہیں اس لئے ملوایا تھا کہ جب تم یہاں آؤ گی ان کے این جی او کے کارکنان کی مدد تمہیں ملتی رہے اور مجھے اطمینان رہے۔ مگر انہوں نے تو ابھی سے اپنے مفاد کے لئے تمہارا استعمال کرنا شروع کر دیا۔‘‘
’’ان سے کچھ نہ کہئے گا وہ تو اتفاقیہ راستے میں ملاقات ہو گئی اور ہم لوگ ان کے ساتھ چلے گئے۔ وہ میرے پاس نہیں آئے تھے۔ آئندہ میں محتاط رہوں گی‘‘ کہہ کر وہ وہاں سے اداس دل کے ساتھ اُٹھ آئی۔
اُس وقت اُسے بھی نہیں پتا تھا اور ناظر کو بھی نہیں کہ وہ بہت جلد ایک نئے مشن سے جڑنے والی ہے اور بہت جلد اُسے ایک نیا کیڑا کاٹنے والا ہے۔ اور یہ کیڑا اُسے شوق سے نہیں کاٹے گا۔ بلکہ وہی حالات جو ناظر کو اپنا دامن بچا کر چلنے کی سیکھ دیتے ہیں۔ وہی حالات راحت کو ایک نئے مشن سے جڑنے پر مجبور کرنے والے تھے۔

 

 

 

باب۔ ۲: نکسٹ … لائیٹ

 

 

8

رات کے کھانے پر ناظر نے راحت کو مخاطب کر کے کہا کہ … ’’پرسوں تم جا رہی ہو؟‘‘
’’جی … چھوٹے چچا …‘‘
’’تو … تمہارا یہاں آنے کا فیصلہ پکّا ہے۔؟‘‘
’’جی انشاء اللہ…‘‘
’’اس بار گاؤں کے حالات کا سروے کر کے …تمہیں کیا اندازہ ہوا؟ کیا تمہیں ــ لگتا ہے کہ یہاں کام کرنا آسان ہو گا۔؟‘‘
راحت کچھ دیر خاموش رہ کر بولی۔ .. ’’ہمیں آسانیاں دیکھ کر علاقہ نہیں چننا ہے… بلکہ وہاں کی مشکلات دیکھ کر یہ چیلنج قبول کرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’ہممم … چلو ..ٹھیک ہے یہ بھی کر کے دیکھ لو۔۔‘‘
’’شکریہ چچا جان … کل ایک دن اور ہے میرے پاس … کیا کل میں جنگل والی آبادی کے سروے پر جا سکتی ہوں ..؟‘‘
’’ضروری ہے …؟‘‘
’’جی رپورٹ بنانے میں آسانی رہے گی، سنی سنائی باتوں پر میں کوئی دعویٰ پیش کرنا نہیں چاہتی۔‘‘
’’تو کل جلدی اٹھ جانا، میں خود بھی چاہتا ہوں تم جانے سے پہلے ایک بار جنگل کا دورہ کر لو۔۔۔ وہاں رہنے والوں سے خود مل کر دیکھ آؤ کہ تمہیں کن حالات میں کام کرنا ہو گا اور کن لوگوں کے لئے۔‘‘
راحت کے ساتھ ظہیر، عالیہ بیگم، ناہید سب نے انہیں حیرت سے دیکھا۔ یہ وہ کہہ رہے تھے، راحت کو بھی یقین نہیں ہوا۔
’’ماموں جان آپ راحت کو جنگل کا دورہ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔‘‘ ظہیر نے آخر کار اپنی حیرت کا اظہار کر ہی دیا۔
’’جی ہاں … یہ جس طرح کے کام کے لئے یہاں آنے کی بات کر رہی ہیں … تو انہیں گاؤں، جنگل کا دورہ تو کرنا ہی پڑے گا۔۔ میں چاہتا ہوں یہاں کے ماحول کا اندازہ کر کے راحت کو کسی فیصلے پر پہنچنا چاہئے۔۔۔ مجھے ڈر ہے کہ کل کو یہاں آنے کے بعد انہیں پچھتانا نہ پڑے۔‘‘
’’آپ کو ایسا کیوں لگا؟ ’’ظہیر نے پوچھا۔
’’ارے کل میں نے بی ڈی او سے ملاقات کی تھی ان کو ساری بات بتائی۔ انہوں نے کہاں ٹریننگ کے لئے ریسیڈنٹ ڈاکٹر جو گاؤں کے سرکاری اسپتال میں بھیجے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ٹریننگ پوری کئے بغیر کسی نہ کسی بہانے سے پہلے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہاں ٹکنا ہی نہیں چاہتے۔ اسی لئے میرے دماغ میں آیا کہ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے انہیں گاؤں کا ہر حصّہ گھوم لینا چاہئے، شاید کہ حالات دیکھ کر تائب ہو جائیں۔‘‘
’’اگر میرا تب بھی یہی فیصلہ ہوا تو۔۔۔۔؟’’راحت نے دھیمے سے پوچھا۔
’’تو تمہاری مرضی … پر مجھے لگتا ہے، ان سارے حالات کو دیکھ کر تمہیں ایک بار اپنے فیصلے پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہئے۔‘‘
’’جی … بہتر۔‘‘
’’میں ڈرائیور گوپال کو صبح آنے کے لئے کہہ دوں گا، ساتھ میں مہتو کا بیٹا کلّو بھی جائے گا، وہ آج کل گاؤں میں ہی ہے۔ اس کے علاوہ جگدیش بابو کے این جی او میں کام کرنے والی متانن ساتھ ہو لیں گی۔ تمہیں اب وہاں تنہا تو نہیں بھیج سکتا۔‘‘
’’جی چچا جان۔۔ میں تیار رہوں گی۔‘‘
’’تم کل فری ہو ظہیر؟‘‘
’’نہیں ماموں جان کل ایک پریس کانفرنس میں جانا ہے مجھے۔‘‘
’’اچھا چلو کوئی بات نہیں کافی لوگ ہیں دل چاہے تو جگدیش بابو کو ساتھ لے لینا۔‘‘
’’نہیں چچا جان … اس کی ضرورت نہیں ہو گی میں جلدی واپس آ جاؤں گی۔‘‘
’’علی الصبح ڈرائیور گوپال حاضر ہو گیا۔ ناظر نے کلو کو بھی بلا لیا تھا۔ ناظر نے کہا کہ میں جگدیش بابو کے این جی او تک ساتھ چلتا ہوں۔ ان کے یہاں کام کرنے والی لڑکیاں تمہارے ساتھ ہو جائیں گی تو اچھا ہے۔‘‘
’’آپ کہاں زحمت کریں گے میں خود کہہ کر انہیں ساتھ لے لوں گی۔‘‘
’’اچھا۔۔۔ جاؤ۔‘‘
وہ خدا حافظ کہہ کر نکل آئی۔ اندر ہی اندر وہ خوش تھی کہ چچا جان اس کے کام کی نوعیت سے واقف تھے اور اب اسے سپورٹ کر رہے تھے۔۔ جنگل کے سروے کی خواہش جانے سے پہلے آخر کار پوری ہو گئی۔
ایک چھوٹے سے کمرے کے سامنے این جی او مسکان کا بورڈ لگا تھا۔ کلّو نے کہا چھوٹے مالک نے فون کر دیا تھا میں انہیں بلا کر لاتا ہوں۔ جلد ہی دو لڑکیوں کو ساتھ لے کر جگدیش بابو کلّو کے ساتھ باہر آئے۔
’’آداب کاکا۔‘‘ راحت جیپ سے اترتی ہوئی بولی۔
’’جیتی رہو … کل ناظر بابو نے فون پر مجھے بتا دیا تھا۔۔ تو یہ دونوں تیار ہیں، تمہارے ساتھ ہی لوٹ بھی آئیں گی۔ بس وقت پر نکل جاؤ اور اندھیرا ہونے سے پہلے لوٹ آنا ہے۔‘‘
’’جی ضرور …‘‘
یہ نکوشا اور وملا ہے۔ ان کا گھر اسی جنگل والی آبادی میں ہے۔ چپّے چپّے سے واقف ہیں یہ، تمہیں آسان راستے سے لے جائیں گی۔‘‘
’’چچا جان کسی متانن کو ساتھ لے جانے کی بات کہہ رہے تھے وہ کہاں ہے؟‘‘ راحت نے لڑکیوں سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
’’ہا ہا ہا …..‘‘ جگدیش بابو نے قہقہہ لگایا۔۔ وہ دونوں لڑکیاں بھی مسکرانے لگیں۔
راحت کو حیران دیکھ کر جگدیش بابو نے کہا ’’یہی دونوں متانن ہیں … جو بھی لڑکیاں سوشل ورکر کے روپ میں کام کرتی ہیں نا …انہیں یہاں "متانن” کہا جاتا ہے۔‘‘
’’اچھا …‘‘ راحت بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکی۔
’’انہیں ان کے نام سے لوگ نہیں بھی جانتے تو ان کا ڈریس کوڈ دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ این جی او کی طرف سے مدد دینے آنے والی متانن ہیں۔ تب وہ لوگ کچھ سہیوگ بھی کرتے ہیں کیونکہ انہیں متانن بہنوں پر پورا بھروسہ ہوتا ہے …‘‘
’’جی سمجھ گئی۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی بولی۔
’’ٹھیک ہے آپ لوگوں کو اب نکلنا چاہئے تاکہ جلد واپس آ سکیں۔ جنگل میں شام جلد اتر آتی ہے۔‘‘ جگدیش بابو نے گوپال سے کہا۔
جیپ میں یہ پورا قافلہ پہلے بیس کیمپ پر پہنچا پھر انہیں آئی ڈی دکھا کر اور ان سے پاس بنوا کر آگے بڑھا اور چک پوسٹ والی برج سے ہو کر ایک لمبی گھماؤ دار پگڈنڈی والی سڑک پکڑ کر پہلے اس جنگل کی پچھلی طرف بنے مہوا ہاٹ میں پہنچا۔
’’کیا وہاں جانے کے لئے ہر بار یہ فارمیلیٹیز کرنی پڑتی ہیں۔؟’’راحت نے پوچھا۔
’’اس طرح نئے لوگوں کو گاڑی واڑی لے کر جانے کے لئے اور خاص کر اس راستے سے جانے کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم لوگوں کے جانے کا تو اور بھی بہت سا راستہ ہے۔‘‘ ایک متانن نے جواب دیا۔
’’یہاں چائے ناشتہ کر لیجئے، پھر آگے بڑھئے۔ جیپ تو بس یہیں تک کے لئے ہے۔ آگے تو پیدل ہی جانا ہو گا۔‘‘ گوپال نے کہا۔
راحت کی خواہش چائے، ناشتے کی نہیں تھی مگر اس نے سوچا گوپال کلّو نکوشا اور وملا اتنی صبح کہاں کچھ کھا پی کر آئے ہوں گے اس لئے وہ مان گئی۔
’’یہاں کیا ملے گا گوپال بھیا۔۔۔‘‘
’’لٹّی، چوکھا اور بہت اچھی پوری جلیبی بھی ملے گی۔ یہی مہوا ہاٹ ہے … یہاں آس پاس کے گاؤں کے لوگ آتے ہیں ہاٹ بازار کرنے۔ اس لئے صبح سے ہی پوری چھننے لگتی ہے. اور اس لٹّی کا تو جواب نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے سب کو ناشتہ کروا دیجئے لیکن میں صرف چائے لوں گی۔‘‘
گوپال نے ایک درخت کے نیچے جیپ کھڑی کر دی۔ سب اتر آئے صبح کے ساڑھے سات بجے تھے، یہ ایک چھوٹی سی دکان کے سامنے پہنچ کر بنچ پر بیٹھ گئے۔
پھر وہاں انہوں نے آلو کی مزیدار سبزی کے ساتھ پوری کھائی اور صبح کی چائے کا لطف اٹھایا، ضد کر کے گوپال نے ایک کاغذ کی پلیٹ راحت کو بھی پکڑا ہی دیا، ان کا دل رکھنے کے لئے اس نے صرف ایک جلیبی لے لی۔ اسے کہاں عادت تھی اتنی صبح کچھ کھانے کی۔‘‘
’’چائے بہت اچھی تھی‘‘ راحت نے تعریف کی۔
’’یہاں کی یہ چائے بہت مشہور ہے۔ یہاں آ کر کوئی یہ چائے پئے بنا نہیں جاتا۔‘‘
’’یہ پیسے آپ رکھئے …اب ہم لوگ نکلیں۔؟۔‘‘
’’جی یہاں سے آپ کو پیدل ہی جانا ہے …میں اب یہیں اپنی جیپ پر سوتا ہوں۔ اسی جگہ پیڑ کے نیچے آپ لوگوں کی واپسی کا انتظار کروں گا۔‘‘
راحت نے اثبات میں سر ہلایا۔
متانن بہنیں جنگل کے رخ کو جانے والی پگڈنڈی پر بڑھنے لگیں۔ یہ مہوا ہاٹ جنگل سے سٹا ہوا تھا جہاں سارے آدی باسی محنت سے جمع کئے ہوئے مہوا کو بیچنے آتے اور مہوا دے کر اپنے زندہ رہنے کا سامان بدلے میں حاصل کیا کرتے۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے بنے پنکھے ٹوکری سوپ بھی فروخت کرتے تھے۔ کبھی کبھی ان کے پاس بیچنے کے لئے مرغی اور بکری بھی ہوتی تھی۔ کلو راحت کے احترام میں اُن سے چار قدم پیچھے چل رہا تھا۔ اور متانن بہنیں اپنی مٹکدار برق رفتار چال کے ساتھ سب سے آگے نکل چکی تھیں۔ اُن میں بلا کی پھرتی اور جسمانی چستی تھی۔ ان کا کام ان علاقوں میں گھوم گھوم کر لوگوں میں ایک شعور بیدار کرنا تھا۔۔ اپنی مقامی زبان میں وہ اپنی قوم کی عورتوں کو بنیادی باتیں بتاتیں…انہیں صفائی، دوا اور صحت کی اہمیت پر دوسروں سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا پاتیں۔ اور اس طرح اس پچھڑی ہوئی آدی باسی قوم میں ان متانن بہنوں کی ایک پہچان اور ان کی ایک عزّت تھی۔ راحت نے اس سہولت کا تصوّر بھی نہیں کیا تھا، اسے اندازہ ہوا کہ ان کی مدد سے ان لوگوں میں اس کے لئے بہت جلد اجنبیت اور بے تعلّقی کم ہو جائے گی۔ ان تک اپنا پیغام پہنچانا بھی آسان رہے گا۔
راحت اپنے خیالوں میں گم ان راستوں پر اپنے قدم سنبھال کر اُٹھا رہی تھی۔ تب نکوشا نے کہا … ’’ارے ڈاکٹر دیدی آپ تو بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔‘‘
’’مجھے تمہاری طرح ان راستوں کی عادت نہیں۔۔۔‘‘
دونوں رک گئیں۔۔۔ اس کے قریب آنے پر نکوشا نے ہاتھ بڑھایا … میرا ہاتھ پکڑ لیجئے۔
’’نہیں میں ٹھیک ہوں بس تمہاری طرح تیز نہیں چل سکتی۔۔ تم لوگ روز اسی راستے سے آتی ہو؟۔‘‘
نہیں جیپ سے آئے، اس لئے ادھر سے آئے یہ سنسان راستہ نہیں ہے کوئی نا کوئی اس پر چلتا ہوا ملے گا، مگر ہم لوگ تو ناؤ سے ندی پار کر کے آتے ہیں وہ راستہ چھوٹا ہے جلدی گاؤں میں پہنچتے ہیں۔‘‘
’’مجھے بھی اسی سے لانا تھا نا۔۔‘‘
’’مالک آپ کو ادھر سے نہیں بھیجتے، کیونکہ وہ سنسان راستہ ہے۔‘‘
راستہ پتھریلا اور اوبڑ کھابڑ تھا۔ راحت کو لگا یہ بہت زیادہ دشوار گزار راستہ ہے۔
’’یہاں سے کتنی دور ہے‘‘ راحت نے تھک کر پوچھا..
’’یہاں سے تو دور ہے دیدی ہم ایکدم الٹی طرف سے جو آئے ہیںـ۔‘‘
’’افففف … راحت کی سانس پھول رہی تھی، وہ ایک پتھر پر ٹک گئی، تو متانن بہنیں بھی رک گئیں۔ کلو بھی کھڑا ہو گیا۔ دو چار دیہاتی ادھر سے انھیں دیکھتے ہوئے گزرے تو ہاتھ اٹھا کر کہا سلام کرتے. متانن بہنوں کی طرف سے بھی جواب دیا جاتا۔۔ .مگر نکوشا نے جواب میں کئی بار ’’لال سلام‘‘ کہا تو راحت نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
’’میں چھتیس گڑھ کی طرف سے آئی ہوں اس لئے مجھے ایسے بولنے کی عادت ہے۔‘‘ اس نے راحت کی حیرت دیکھ کر صفائی پیش کی۔
’’اوہ اچھا۔۔۔ میں بھی ادھر کام کر چکی ہوں وہاں تو ہر عام آدمی ایسے ہی سلام رتا ہے۔‘‘ راحت کی بولنے میں سانس پھول رہی تھی۔
’’آپ تو ابھی سے تھک گئیں۔۔۔‘‘ ایک متانن بولی۔
’’مجھے بھی عادت پڑ جائے گی .. گھبراؤ مت۔‘‘ راحت نے ہنس کر جواب دیا۔
وہ پھر آگے بڑھنے لگیں اس طرف راستے بھر لال سلام کا سلسلہ چلا۔۔ آخر کار بیس منٹ کا راستہ چالیس منٹ میں طے ہوا۔
’’ادھر بھی سب لوگ لال سلام کیوں کہہ رہے ہیں۔ مجھے عجیب لگنے لگتا ہے، یہ تو نکسلی علاقے کا رواج ہے۔‘‘ راحت نے پوچھا۔
’’دیدی تھوڑے سے فرق کے ساتھ آپ کو جنگل کے اندر ایک سا کلچر ملے گا۔۔ پہناوا، کھان پان یا سلام سب ملتا جلتا۔۔ بس بھاشا کچھ الگ ہو جاتی ہے جس سے آپ پہچان سکتی ہیں کہ کون جھارکھنڈ کا ہے کون بہاری اور کون چھتیس گڑھ سے آیا ہے۔‘‘
’’اچھا۔۔۔‘‘
’’ان میں سے بہت سے گھومتے رہتے ہیں۔۔۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ دھیرے دھیرے سب سمجھ جائیں گی۔‘‘
وہ سبھی جب آبادی میں پہنچے تو کافی چہل پہل نظر آئی۔ لوگ جھنڈ بنائے یہاں وہاں بات کر رہے تھے۔ برگد کے پُرانے پیڑ کے نیچے سب سے زیادہ بھیڑ تھی۔ راحت نے متانن بہنوں سے پوچھا۔ ’’اس آبادی میں اتنے لوگ رہتے ہیں؟۔‘‘
’’یہ سب آس پاس کے گاؤں کے ہیں دیدی۔۔ آج کوئی نیتا آ رہے ہیں مدان پور میں۔۔۔ یہ سب وہیں جانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔‘‘
’’….آج ادھر دو ہزار لوگ تو جمع .ہو ہی گئے ہیں….یہ سارے لوگ کوس دو کوس کے گاؤں سے چل کر آئے ہیں۔ نیتا جی کے آنے کا سُن کر کا فی لوگ آ گئے ہیں۔‘‘
’’اچھا۔ اس لئے آج آتے وقت اتنے لوگ راستے میں ملے۔‘‘
’’سب کی اپنی اپنی بپتا۔ سوچتے ہیں ان سے مل کر اپنی تکلیف بتائیں گے۔ تو کچھ لوگ اس لالچ میں بھی آتے ہیں کہ پارٹی کی طرف سے پینے کھانے کو ملے گا۔‘‘
’’ہاں یہ لوگ صرف بھیڑ بن کر رہ گئے ہیں، جنہیں بھیڑوں کی طرح جو جدھر چاہے ہنکا لے جائے …‘‘
’’ان کا عقیدہ ہے کہ نیتا جی اچھے انسان ہیں، مگر نوکر شاہی اور بیچ کے دلال اور ادھیکاری صحیح نہیں ہیں۔ اور ان تک پہنچنے والی اسکیم بندر با نٹ ہو جاتی ہے۔ ان کو کچھ ملتا نہیں۔ ’’متاننِ نکوشا بولی۔
’’بات تو صحیح ہے ….. یہی ہوتا ہے ہمیشہ…‘‘ دوسری متانن بولی۔
راحت کو حیرت ہوئی کہ یہ سیدھی سادی آدی باسی لڑ کیاں اتنا سو چنا اور بولنا جانتی ہیں۔
’’آج تو سچ مچ روز سے زیادہ بھیڑ ہے‘‘… کلو نے پہلی بار زبان کھولی۔
’’مگر یہ جنگل میں کیوں جمع ہیں؟ انہیں تو مدان پور جانا چاہئے تھا۔‘‘
’’جائیں گے۔۔ اتنی صبح سب یہاں اکٹھے ہوں گے پھر یہاں سے ساتھ جھنڈ کی شکل میں نکلیں گے۔‘‘
’’اچھا۔۔‘‘
’’جی یہ ایسے موقعوں پر جھنڈ میں نکلتے ہیں تو پولس سے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔‘‘ نکوشا نے ایک اور انکشاف کیا۔
’’آج کس سے ملیں گی دیدی؟، اگر کوئی بہت بیمار ہو تو اسے بھی دیکھیں گی۔؟‘‘
’’آج تو جنگل کا سروے کرنے آئی ہوں، یعنی صرف یہ دیکھنے کہ لوگ کیسے رہتے ہیں، کیا سہولتیں ہیں۔۔؟ اور کیا نہیں۔ لیکن کسی کو دیکھنا ضروری ہو تو بتا دینا۔‘‘
’’دیدی ایک لڑکی ہے ماڑوی اندا بہت چھوٹی عمر میں شادی ہو گئی۔۔۔۔ گربھوتی (حاملہ) ہے۔‘‘
’’اوہ …. اس کی کیا عمر ہے؟‘‘
’’ابھی سولہ سال کی ہے۔ اس کو دیکھ لیجئے گا دیدی۔‘‘
’’ٹھیک ہے، چلو۔‘‘
’’آج بس گاؤں کا چکّر لگا کر لوٹنا ہے دیر نہیں کرنا۔‘‘ کلّو نے یاد دہانی کرائی۔
’’ہاں دیر نہیں ہو گی۔۔۔‘‘ راحت نے کہا
’’وہ دیکھئے، یہاں بھیڑ میں عورتوں کے جھنڈ میں بیٹھی ہے، ماڑوی اندا۔ وہ رہی ……‘‘ وملا نے کہا۔
’’انہیں آتا دیکھ کر عورتوں کے جھنڈ میں جیسے مکّھیاں بھنبھنا نے لگی ہوں۔ سب سرگوشیوں میں باتیں کر رہی تھیں۔ راحت اُن کے قریب پہنچی تو اُس میں سے کچھ ہڑ بڑا کر کھڑی ہو گئیں اور ہاتھ جوڑ دئے۔ ایک دو لڑکیوں نے جھک کر پاؤں چھو لئے۔
’’ارے ارے پیر مت چھونا‘ راحت نے ہڑ بڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا لئے۔ بچّے حیران اور اچکچائی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ راحت نے سوچا ..ایک دن ان نظروں کی اجنبیت اسے کم کرنا ہے۔
’’یہ ڈاکٹر دیدی ہیں … تم لوگوں سے ملنے آئی ہیں۔ کسی کو کوئی تکلیف ہے تو بتاؤ۔‘‘
سب چپ رہیں۔۔ ایک بوڑھی عورت بولی … ’’ہم کو آنکھ سے ایکدم سجھائی نہ دیت ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں آپ کو ایک ڈاکٹر کا پتہ بتاؤں گی، وہ آنکھ کے ڈاکٹر ہیں۔ مفت علاج ہو گا۔ مگر وہاں جانا پڑے گا۔ جلد ہی گاؤں میں آ کر رہنے لگوں گی تو کہیں جانا بھی نہیں پڑے گا .. اسپتال ہی آپ کے پاس آیا کرے گا۔‘‘
اس بوڑھی عورت کے چہرے پر مسکراہٹ کھل گئی۔
’’ماڑوی اندا ادھر آؤ دیدی کے پاس‘‘ نکوشا نے کہا۔
’’دھت …‘‘ وہ شرما کر اندر بھاگی۔
’’چلو اندر چلو….۔‘‘ وہیں دیکھ لیتے ہیں۔
راحت کو ساتھ لے کر نکوشا ایک جھونپڑی کے اندر چلی گئی۔۔ راحت نے اس لڑکی کا اچھی طرح معائنہ کیا، پھر نرمی سے کہا…
’’پہلا بچہ ہے؟‘‘
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
’’بہت کمزور ہو، اپنا بہت خیال رکھنا اچھے سے کھانا پینا۔ طاقت کی کچھ دوائیاں بھجوا دوں گی نکوشا سے وہ کھاتی رہنا اور بھاری سامان بالکل مت اٹھانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے ہامی بھری۔
’’روز پانی لانے جاتی ہے۔۔‘‘ وملا نے شکایت کی۔
’’اب مت لانا۔۔۔ اسے سمجھاؤ نکوشا۔‘‘
وہ شرما کر ہنسنے لگی… تو نکوشا نے کہا، ’’دانت کیوں نپوس رہی ہے۔ ہماری بات تو سنتی نہیں پر ڈاکٹر دیدی جو کہہ رہی ہیں اسے یاد رکھنا‘‘
’’پانی کا بالٹی بھاری تھوڑے ہوتا ہے۔‘‘
’’اففففف۔۔ اب تمہیں کیسے سمجھاؤں۔ پانی کی بالٹی ہی نہیں، تمہیں کچھ بھی نہیں اٹھانا۔‘‘ راحت نے حیرانی اور افسوس سے سر جھٹکا۔
’’اِن کو کیا اور کیسے سمجھائیں دیدی یہ لوگ تو ہر وقت اپنا سارا سامان سروں پر اٹھائے خانہ بدوشوں کی طرح ادھر سے ادھر گھومتے رہتے ہیں۔‘‘
’’اس کا تیسرا مہینہ چل رہا ہے اکتوبر کی کسی تاریخ میں ڈیلیوری ممکن ہے۔ اس وقت میں تو رہوں گی نہیں کوشش کرنا کسی اسپتال میں ایڈمٹ کر دو۔۔ تاکہ کسی طرح کا خطرہ باقی نہ رہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے دیدی اس کی ماں کو سمجھا دوں گی۔‘‘
ماڑوی اندا کی ماں دوڑ کر گلاس میں پانی لائی۔۔ ’’ارے اس کی ضرورت نہیں … آپ بس اس کا خیال رکھئے، بہت کمزور ہے۔‘‘
اس کی ماں نے گلاس ماڑوی اندا کو پکڑا دیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر جیسے راحت کا شکریہ ادا کیا۔ راحت سمجھ گئی کہ وہ اس کی بات اچھی طرح نہیں سمجھ پا رہی۔ اور اپنی زبان میں کچھ کہتے ہوئے ہچک رہی ہے۔
’’تمہیں ہی ان لوگوں کو سمجھانا اور دھیان رکھنا ہو گا۔‘‘ راحت نے نکوشا سے کہا۔
’’ٹھیک ہے دیدی، آپ بے فکر رہئے۔۔۔ دھیان بھی رکھیں گے اور دوا بھی لا کر دے دیں گے۔‘‘
’’گڈ۔‘‘
راحت جھگّی سے باہر آئی تو کلّو نے کہا۔۔
’’ادھر وہ ..کچھ لوگ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔‘‘
’’کون ہیں؟ کیا بات ہے؟’’راحت نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہم سب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ راحت نے دیکھا کچھ کالے مضبوط جسم کے آدی باسی میلے میلے کپڑوں میں کھڑے تھے۔ سر پر سب نے گمچھا باندھ کر چہرے کے ایک طرف جھولتا ہوا چھوڑ رکھا تھا۔ جیسے کسی مہم پر نکلنے والے ہوں۔
راحت کو سامنے دیکھ کر سب نے کورس میں کہا۔ـ ’’لال سلام‘‘ وہ اب تک اس سلام کے انداز سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی۔ اس جنگل میں ہر عورت مرد ایک دوسرے سے ملتے وقت لال سلام کرتے تھے اور رخصت ہوتے وقت ان کا مخصوص جملہ ہوتا تھا کہ ’’ہم پھر ملیں گے۔‘‘
’’جی کہئے…..‘‘ راحت نے حیران ہو کر پوچھا۔ تو اُن میں سے ایک عمر رسیدہ آدمی آگے بڑھ آیا۔ اور بولا۔
’’بیٹی تم ہمیں نہیں جانتیں۔ پر ہم تم کو جانتے ہیں۔ تمہارے ابّا ہم لوگوں کے لئے بہت کچھ کر چکے ہیں۔ ہم سب اُن کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہم، تم میں بھی ان ہی کی چھایا (پرچھائیں) دیکھتے ہیں۔‘‘ اُس بوڑھے شخص نے بڑی لجاجت سے کہا۔
راحت نے آج سے پہلے بھی اپنے والد کی عزّت اور محبت گاؤں والوں کے دلوں میں دیکھی اور محسوس کی تھی۔ آج وہ پھر اُسی کا اظہار اُس کے سامنے یوں کیوں کر رہے تھے، اُس کی سمجھ میں نہ آیا۔ کہ کیا کہے۔
’’میرے سامنے ہاتھ مت جوڑیے بابا آپ بڑے ہیں …. کہئے میں کیا کروں؟ کیا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘
’’نہیں بیٹی ہم تو او بد نصیب ہیں جس کی پوتی ما لکوں کے جلم (ظلم) سے مری ہے۔ تم نے اُسے دیکھا تھا نا۔؟‘‘
راحت کو کل والا واقعہ یاد آ گیا۔۔
’’اچھا تاتی اڑما۔۔۔ وہ آپ کی پوتی تھی۔‘‘
’’ہاں بیٹی … ہمیں پتہ ہوتا کی اپنے گاؤں میں تمہارے جیسی ڈاکٹرنی آئی ہوئی ہے تو ہم اسے بچا لیتے۔۔۔ پر اس کا بھاگ ہی خراب تھا۔‘‘
’’آپ لوگوں کو پہلے ہی اس کی سدھ لینی چاہئے تھی۔‘‘
’’غلطی ہو گئی بٹیا … بھاری غلطی۔‘‘
’’اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں …. جگدیش کاکا نے ڈیٹھ سرٹیفیکیٹ بنانے کو کہا تھا میں نے بنا کر دے دیا تھا۔‘‘
’’نیتا جی آ رہے ہیں، تم پڑھی لکھی ہو ہم جانتے ہیں، نیتا جی سے تم ملو اُن کو اُس کا پورا حال بتاؤ۔ وہ تمہاری بات جلدی سمجھیں گے۔‘‘ اُس بوڑھے نے کہا۔
’’لیکن بابا میں نیتا جی سے نہیں مل سکتی۔ آپ چچا جان سے کہئے وہ ان کو جانتے ہیں۔ اور جگدیش کاکا ہیں نا۔ وہ بات کریں گے …نیتا جی سے آپ گھبرائیے مت۔‘‘
’’لیکن تمھاری بات کا الگ اثر ہوتا۔ تم بتا دیتیں کہ وہ جی سکتی تھی۔ اُس کو بچایا جا سکتا تھا۔ وہ تمھاری بات جھو ٹی نہیں مان سکتے۔‘‘
’’لیکن۔؟‘‘ راحت تذبذب میں تھی، انہیں کیا اور کیسے سمجھائے۔ یہ نیتا لوگ تو عام عوام کو دور سے ہی اپنی جھلک دکھاتے ہیں اور ویسے بھی اب وہ کہاں یہاں رہنے والی تھی نہ جانے اب کب واپسی ہو یا نہ بھی ہو۔۔۔ کیا پتہ، کل ناظر چچا کون سا فرمان جاری کر دیں۔
اسے خاموش دیکھ کر کلّو نے کہا۔
’’دیر ہو گئی ہے پریشان نہ کرو۔۔۔ یہ سب ان کا کام نہیں ہے مالک کے پاس جاؤ۔۔۔۔ ہٹو ہٹو۔‘‘ راحت نے کلّو کو اشارے سے منع کیا۔
’’اچھا بتائیے ان سے مل کر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ میں خود چچا جان سے کہوں گی کہ وہ آپ کی بات اوپر پہنچا دیں؟‘‘
’’دھیا (بیٹی)….ہم نے سنا ہے اُس کے آدمی (شوہر) کو ہرجانا ملے گا۔ مرنے والی کے نام پر۔ پچّیس ہجّار روپے (پچیس ہزار روپے)۔ ای سچ ہے کا۔‘‘ اس ضعیف نے پوچھا۔
’’اگر یہ سچ ہے تو آپ لوگ کبھی مت لیجئے گا یہ معاوضہ۔‘‘ راحت نے غصّے سے کہا۔
’’کیوں دھیا۔۔۔۔؟‘‘
’’کیوں؟ یہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، کیوں۔ کیا آپ کے پوتی کی جان کی قیمت صرف پچیس ہزار رو پئے لگا کر ان سب کے گناہ دھُل جائیں گے۔ اور کیا وہ پوری رقم آپ کو مل پائے گی۔۔۔؟ سب کا حصہ نکلتے نکلتے آپکے ہاتھ میں دس ہزار کی رقم بھی آ جائے تو بڑی بات ہے۔ آپ سب مل کر ایک جٹ ہو کر نیتا جی سے کہئے کہ وہ معاوضے میں آپ لوگوں کو بھی اسپتال جانے اور علاج کرانے کا حق دلوائیں یا پھر ویسی سہولت دیں۔ آدی باسی اور ہریجن کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں مگر ان کے لئے کوئی سہولت نہیں۔۔ آپ کے لئے آپ کے گاؤں میں ایک الگ اسپتال بنوا دیں تا کہ کوئی ایسی موت پھر نہ مر ے۔ پچیس ہزار سے کیا اور کس کا بھلا ہو گا۔ یہ تو وہ آپ لوگوں کو شانت (خاموش) رکھنے کا معاوضہ سوچ کر آ رہے ہیں۔ اور یہی وقت ہے بات کو منوانے کا۔ جان والی تو اپنی جان سے گئی۔ مگر اس کے نام پر آپ سب کے بھلے کے لئے یہ کام ہو جائے تو اب کوئی اور ایسی بے وقت کی موت نہ مرے۔‘‘
’’کہتی تو تم ٹھیک ہو بیٹی۔ میری پوتی شہید ہو گئی، ہمیں اس کے نام پر ایک شہید اسپتال ملنا چاہئے، مگر میرے بیٹے کے لئے پچیس ہزار بہت ہے۔ وہ نہیں چھوڑے گا۔‘‘
’’اسے سمجھانا اور شرم دلانا تو آپ لوگوں کا کام ہے، اپنے لوگوں کا بھلا کرنا چاہتا ہے یا صرف چار دن کی عیش کرنا چاہتا ہے۔ وہ بھی مری ہوئی بیوی کے نام پر ملنے والے پیسے پر۔‘‘
راحت کی اس بات سے اُن لوگوں کے چہروں پر ایک خوشی کی چمک آئی اور وہ جوش سے بھر گئے پھر اس میں سے کچھ نعرے لگانے لگے۔
’’شہید اسپتال لے کر رہیں گے۔۔۔۔۔ ڈا کٹرنی صاحب زندہ باد۔‘‘
’’یہ سب مت کیجئے۔۔۔ جیسے بھی ہو اپنی مانگ وہاں تک پہنچائیے اور آپ کا بیٹا نہ مانے تو اسے جگدیش بابو سے ملنے کے لئے کہئے۔۔‘‘
راحت نے سب کو ہاتھ اُٹھا کر خاموش کرتے ہوئے کہا۔ پھر بو لی۔ ’’میں اگر یہاں رہتی تو خود کچھ کر سکتی تھی۔ مگر آپ لوگ ایک جُٹ رہیں۔ اپنی بات پر اٹل رہیں اور اس مانگ کو لے کر مار پیٹ، ہنگامہ نہ ہونے دیں تو آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔‘‘
اسی بیچ کھاٹ لا کر کسی نے املی کے پیڑ کے نیچے رکھ دیا اور راحت سے اُس پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ وہ بیٹھ گئی تو اُس کے قدموں کے پاس یہاں وہاں ساری عورتیں بیٹھ گئیں۔ عورتوں کے جھنڈ کے پیچھے مردوں کا مجمع جٹنے لگا۔
راحت نے ہنس کر کہا ’’کیا سچ مچ نیتا جی آ رہےہیں یا ایسے ہی ایک ہفتے سے افواہ پھیلی ہے۔‘‘
’’آنے والے تو ہیں بی بی، جگدیش بابو بتا رہے تھے کہ الیکشن آنے والا ہے۔ اُسی کے لئے گاؤں۔ گاؤں جا رہے ہیں۔‘‘
’’لیکن وہ تو مدان پور گاؤں میں آ رہے ہیں آپ لوگ ابھی تک ادھر کیوں جمع ہیں؟‘‘
’’ہاں سنا ہے دو پہر بعد تین بجے تک آئیں گے۔ ہم لوگ تب ہی جائیں گے، بڑی کڑی سیکورٹی ہے۔ آج اُدھر۔‘‘
’’ایسا کیجئے۔ جگدیش بابو سے مل لیجئے۔ اور بھی جو سمسیا ہو سب لکھ کر دے دیجئے اُن کو۔ وہ آپ لوگوں کی ساری بات لکھت (تحریر) میں اُن کے سامنے پہنچا تو دیں گے۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہاں پر آپ لوگوں کو اپنی بات کہنے کا کوئی موقع ملے گا۔‘‘
’’ہاں بیٹی۔۔۔۔۔ تم نے بہت صحیح بات کہی۔‘‘ بابا نے کہا۔ سب بڑے خوش ہوئے۔ اور ضد کرنے لگے کہ اُن کی شکایتوں کو سلسلے وار کاغذ پر و ہی لکھ دے۔
’’اچھا۔ اپنی اپنی سمسیائیں بتائیے۔۔‘‘ راحت نے پیڈ اور پین سنبھال لیا۔ یہ سوچ کر کہ ان کے مسائل کی فہرست ناظر چچا کے حوالے کر دے گی۔
’’ہاں بو لئے ..نمبر .. ایک‘‘
مگر راحت کو اندازہ نہیں تھا۔ کہ اُن کی زندگیاں مسائل اور مشکلوں کی کھان ہیں۔ وہ کیا لکھے اور کیا نہ لکھے۔ اُن کے کس مسئلے کو کس نمبر پر رکھے۔ ایک ساتھ اتنی آوازیں۔۔۔۔۔ اتنے مسائل۔۔۔۔۔ راحت نے پیڈ بند کر دیا۔ سب اُس کا منھ دیکھنے لگے۔ تو اُس نے کہا۔
’’پہلے میں آپ کی مشکل سمجھ لوں پھر میں خود اُسے کاغذ پر لکھ کر ماسٹر صاحب یعنی جگدیش بابو سے مل لوں گی۔‘‘
ایک بوڑھی عورت بولی۔۔۔۔۔ ’’بیٹی۔۔۔۔۔ ہم عورتن کو ای کمپنی والے "ہلوا ہا سور بند ھوا” بنا کر رکھت ہیں۔ جمیندارن (زمیندار) بھی۔۔۔۔۔ جبکہ ہم سے کام تو پو را لیت ہیں۔‘‘
’’یہ ہلوا ہا سور بند ھوا کیا ہوتا ہے کاکا۔‘‘ راحت نے پہلی بار یہ لفظ سنا تھا۔
’’مطلب بیٹی عورتوں کو کم مجوری (مزدوری) ملتی ہے۔ کیونکہ وہ عورت ہیں اس لئے۔ مگر کام اُتنے ہی گھنٹے کریں گی۔۔۔۔۔ فیکٹری ہو یا کھیت۔‘‘
’’اُف۔۔۔۔۔‘‘ راحت نے حیران ہو کر اُس بوڑھی عورت کی طرف دیکھا۔
’’بال سفید ہو گئے کم مجوری پر کام کرتے کرتے۔‘‘
’’مزدوری کتنی ملتی ہے کھیتوں پر کام کرنے کی۔‘‘ راحت نے پوچھا۔
’’بیٹی مجوری کے لئے کچھ دنوں سے لڑائی چل رہی ہے۔ اس لڑائی سے پہلے۔ ۲۱ بوجھا پر ایک بوجھا ملتی تھی۔ اب لڑائی کے بعد دس بوجھا پر ایک بوجھا ملنے لگا ہے۔‘‘
’’یعنی دس بوجھا غلّہ مالک کا اور ایک بوجھا غلّہ مزدور کا۔‘‘
’’ہاںدھیا ..‘‘
’’اور فیکٹری میں۔‘‘
’’مزدوروں کو دو سو پچاس روپیہ دہاڑی اور عورتوں کو ستّر روپیہ۔ یہ بھی لڑائی کے بعد ہوا اس پہلے اور کم ملتا تھا۔‘‘
’’اُففوہ۔۔۔۔۔‘‘ راحت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’یہ کس لڑائی کی بات آپ کر رہے ہیں۔‘‘ راحت نے پوچھا۔
’’یہی جن وادی کرانتی۔۔۔۔۔ جو کرانتی کاری کرتے ہیں۔ بھیڑ میں سے کسی نے کہا تو راحت کو اُن کی معصومیت بڑی بھلی لگی۔ اُس کرانتی (تحریک) کے بارے میں اُن کا کیا نظریہ ہے اور وہ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ جاننے کے لئے اس نے کسی رپورٹر کی طرح سوال کرنا شروع کیا۔
’’یہ کرانتی کاری کیسے لڑتے ہیں اپنی لڑائی۔۔۔۔۔‘‘
’’بہت سے طریقے ہیں بیٹی۔۔۔۔ سبھا، بند، آرتھک ناکے بندی، ساماجک بہشکار، جن عدالت، دھرنا، گھیراؤ، ریلی، مشعل جلوس، چکّا جام، پتلا دہن، نکّڑ ناٹک، خاموش جلوس‘‘
’’پر میں نے تو سُنا ہے کہ بندوق اُٹھا چکے ہیں یہ کرانتی کاری۔‘‘ راحت نے جواب میں کہا۔
’’ہاں اپنی سینا بھی بنانے لگے ہیں۔۔۔۔۔ مُکتی واہنی سینا۔۔۔۔۔ آتم رکھشک سینا۔ یہ کرانتی کا آخری داؤ ہے۔۔۔۔۔‘‘ کسی نے کہا۔
’’ہاں جنگل کے اندر آتم رکھشک سینا۔۔۔ اور باہر SSB یعنی سشکت سیما بل۔۔ درمیان میں پستے آپ لوگ ہیں۔‘‘ راحت نے کہا۔
’’سچ کہا۔۔۔‘‘ کئی آوازیں آئیں۔
’’یہ۔۔۔۔ آرم اسٹرگل۔۔۔۔ یعنی ہتھیار اُٹھا کر لڑائی۔ ہے نا۔؟ اچھا یہ بتائیے۔ آپ لوگ اُن کے ساتھ ہیں یا اُن سے الگ۔‘‘
راحت نے شا ید بہت نازک سوال انجانے میں کرد یا۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر چپّی رہی مگر ایک نے کہا۔
’’ارے بی بی کوئی پولیس کی آدمی تھوڑے ہی ہیں۔ جو جیل میں بند کر دیں گی۔‘‘
’’ہاں۔ ابھی یہ رام نریش جیل کاٹ کر آیا ہے نا، اس کو نکسل وادی کہہ کر جیل میں بند کر دیا تھا۔‘‘
’’اچھا۔۔۔ کیوں کیا کیا تھا کہ پکڑے گئے؟ کیا ان کے ساتھ کسی مڈ بھیڑ میں پکڑے گئے۔۔؟؟‘‘ راحت نے پوچھا
وہ کوئی انیس یا بیس سال کا لڑکا تھا۔ بڑے بھولے پن اور بیوقوفی سے بولا۔
’’ایک سبھا میں بیٹھے تھے جا کر۔‘‘
’’صرف سبھا میں جا کر بیٹھنے سے جیل ہو گئی۔‘‘
’’ہاں ..‘‘
’’اچھا جانتے ہو۔۔ نکسلائیٹ یا نکسل وادی کس کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ہم کا جانیں۔۔۔۔۔ ہم تو ان پڑھ گنوار ہیں۔‘‘ اُس نے کھسیا نا ہو کر کہا۔
بہت سے نو جوان لڑکوں نے یہی جواب دیا۔ ایک نے کہا۔
’’آپ جو کہیں ہم نکسلی ہیں کہ کون۔۔۔۔۔۔۔ ہم تو مجور (مزدور) آدمی ہیں۔‘‘
ایک اور لڑکے کو جوش آیا۔۔۔۔۔۔ ’’ہمارے گاؤں میں سنگھٹن آنے سے پہلے سنا تھا۔ نکسلی برے ہوتے ہیں، اور منڈی کاٹ لیتے ہیں۔ لیکن یہ دشمنوں کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے۔ یہ اچھے لوگ ہیں اور ہمارے حق میں ہیں۔‘‘
’’ہاں گے۔۔۔۔ انگریجی میں لائیٹ کا مطلب ہوتا ہے۔ پرکاش تو یہ نقشہ لائیٹ ہیں بھارت کا نیا نقشہ بنانے والے اور پرکاش لانے والے۔‘‘ ایک دوسرے لڑکے نے اپنے انداز میں تشریح پیش کی۔ یہ کلّو کے کندھے پر بڑے دوستانہ انداز میں ہا تھ رکھ کر کھڑا تھا۔
اب کلّو سے بھی چپ نہ رہا گیا۔ شا ید وہ دلّی کی ہوا کھا کر زیادہ ہی تیز ہو گیا تھا۔۔۔۔ ۔ بولا۔
’’یہ لوگ نکسٹ لائیٹ ہیں یعنی آنے والی روشنی۔‘‘
وہاں موجود اس سوچ سے اختلاف رکھنے والے لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ یہ نس کاٹ کر لائیٹ لائیں گے۔ ہونھ۔۔‘‘
’’اگر اپنا حق مانگنا ہم کو نکسلی بناتا ہے تو ہاں ہم نکسلی ہیں۔‘‘
’’ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو چھ انچ چھوٹا کرتے ہیں منڈی کاٹ کر۔‘‘ مخاطب گروپ کے کسی فرد نے کہا۔
’’نکسل وا دی برے نہیں ہیں۔ یہ تو ہمارے حق کی لڑائی لڑتے ہیں۔ اور ہماری مزدوری کے لئے تین کلو اناج زمیندار سے مانگتے ہیں۔‘‘
بحث لمبی ہوتی دیکھ راحت نے کہا ’’ٹھیک ہے۔ کاکا میں آپ لوگوں کی سمسیا کے لئے نیتا جی سے خود چاہے نہ ملوں مگر جگدیش کاکا اور چچا جان سے ضرور بات کروں گی۔ بھروسہ رکھئے اور اسپتال کی مانگ آپ لوگ بھی اُن کے سامنے ضرور رکھئے۔ اور ان لڑکوں کو سمجھائیے کہ آپس میں بحث بازی کر کے انہیں کچھ نہیں ملنے والا، صحیح اور غلط کی پرکھ کریں اور صحیح کا ساتھ دیں قانون سے اوپر کچھ نہیں ہے۔ اسے ہاتھ میں نہ لیں۔‘‘
’’قانون کو تو قانون والوں نے بیچ کھایا ہے بیٹی۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ جنہوں نے اسے اپنی جوتوں کی نوک پر دھر لیا ہے۔‘‘ راحت نے حیرت سے اس بزرگ کی بات سنی۔ اس کی بوڑھی آنکھوں سے زندگی کا گہرا مشاہدہ مترشح تھا۔ اب وہ کھڑی ہو گئی۔ اسے ان کے حالات، ان کی تکلیفوں، ان کے دکھ کا ہلکا سا شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔ وہ کیا ان کی مدد کر سکتی ہے۔ جہاں جینے کی بنیادی سہولیات نہیں۔ غذا نہیں، تعلیم نہیں ان کے لئے وہ کیا کرے اور بھلا کیسے کرے اس کے اختیار میں کیا ہے۔۔ اس نے گھبرا کر سوچا۔۔۔ شاید چچا جان نے مجھے یہی مایوس کن تصویر دیکھنے کے لئے بھیج دیا ادھر…. تاکہ میں ہمت ہار جاؤں۔
’’بس .. اب مجھے چلنا چاہئے۔ دیر ہو گئی، میں کوشش کروں گی آپ کی بات اوپر تک پہنچ جائے۔‘‘
ان سب سے 6رخصت ہو کر وہ کلّو اور متانن بہنوں کے ساتھ وہاں سے نکل آئی۔ واپسی میں گشتی پولس ملی۔۔ اس نے انہیں روکا۔ راحت نے پاس نکال کر دکھایا۔
’’چلئے۔۔ جائے، ادھر مت آیا کیجئے میڈم، جنگل میں.. نکسلی چھپے رہتے ہیں۔‘‘
’’آپ فکر نا کریں سر میں چھتّیس گڑھ جیسے علاقے میں بھی کام کر چکی ہوں، مجھے ان لوگوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور مہوا ہاٹ میں ڈرائیور ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔ ہم لوگوں کی جیپ ہاٹ میں کھڑی ہے۔‘‘
’’کچھ بھی ہو میڈم، جب سرچ آپریشن ہو تو عام پبلک کا داخلہ ممنوع کر دیا جاتا ہے۔ سیفٹی کا سوال ہے۔‘‘
’’ایسی صورت میں ہمیں پرمیشن بھی تو نہیں ملے گی۔ آج ملی ہے تو آئے ہیں۔۔ کوئی واردات ہو گئی ہے کیا؟‘‘
’’یہاں کب واردات ہو جائے کہا نہیں جا سکتا۔ آج سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔‘‘
’’اچھا۔۔۔ تو ہم لوگ اپنے راستے جائیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میڈم جائیے، کچھ دن محتاط رہئے‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ راحت ہاٹ کی طرف بڑھ گئی، کلو تیزی سے آگے بڑھ گیا جبکہ متانن اس کے ساتھ چلتی ہوئی بولیں۔
’’آپ سے تو بہت اچھی طرح بات کی۔۔ ہم لوگوں کو تو کئی بار تھانے میں بلا لیتے ہیں۔۔ بیکار کی پوچھ گچھ۔۔‘‘
’’کیسی پوچھ گچھ؟..‘‘
’’فوٹو دکھا کر پوچھتا ہے اسے دیکھا ہے۔؟ اسے دیکھا ہے۔۔۔ ایک ہی فوٹو کو ہمیں پانچ سال سے دکھا رہا ہے …پھر سنتے ہیں اسے پکڑ لیا، کبھی کہتے ہیں مار گرایا، پھر کچھ دن بعد ان ہی کی تلاش شروع …وہی مرے ہوئے آتنکی جیوت کیسے ہو جاتے ہیں؟‘‘
وملا نے کہا۔۔ ’’بے قصوروں کو مارتے ہیں نا اس لئے ان کا بھوت ان لوگوں کو ڈراتا رہتا ہے۔‘‘
راحت کو نکوشا کے اس جملے سے اچانک ہاورڈ فاسٹ کا ناول ’’اسپارٹے کس’’ یاد آ گیا۔ جس میں اسپارٹے کس کی موت کے باوجود اس کی طاقت اور اس کی واپسی کا خوف پورے ناول میں ظالموں کے دل پرچھایا رہتا ہے۔ رومن امپائیر میں غلاموں پر بربریت کی داستان کا نیم تاریخی ناول جس میں اسپارٹے کس کا کردار غلام ہو کر بھی بہادر تھا اور جتنے دن بھی سہی اپنی غیرت کے ساتھ زندہ تھا۔ اور اپنی ذلت بھری زندگی کو قبول نہیں کرتا۔ انسان مر جاتے ہیں مگر غیرت اور بہادری کبھی نہیں مرتی۔ آنے والی نسلوں کے اٹھے ہوئے سر کے ساتھ وہ ان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔۔
’’کیا سوچ رہی ہیں دیدی۔۔۔‘‘ ’’آ۔۔۔ں، کچھ نہیں۔‘‘ اس نے چونک کر کہا اور پھر سوچنے لگی کہ آج ان لوگوں کے خیالات جان کر، اتنے قریب سے ان سے باتیں کر کے اور ان کی مشکلات کو سمجھنے کے بعد وہ ان لوگوں سے اور بھی ہمدردی اور اپنا پن محسوس کر رہی ہے۔ کتنے معصوم اور نا سمجھ لوگ تھے۔ جو اپنے اپنے مسائل اور اپنی اپنی سمجھ کی وجہ سے کئی طرف اور کئی طرح کے لوگوں کے مقصد کے لئے کچّے مال کی طرح استعمال کیے جا رہے تھے۔ اور اتنی چھوٹی سی بات کوئی سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔ بلکہ ان کے ہر عمل کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ کر یا دکھا کر ان کی ہستی کو ڈھال بنا کر استعمال کر رہا تھا۔

9

ناظر اپنے گاؤں اور قصبے کے مقبول ترین انسان تھے۔۔ ہر ادنی اور اعلیٰ کے کام آنے والے، اس لئے انہیں لوگ طرح طرح کے القاب سے نوازتے رہتے۔ ناظر میاں اور چھوٹے سرکار، مائی باپ، حجور۔ ایک ہی انسان کے اتنے سارے نام شاید صرف اس لئے پڑ گئے تھے کہ وہ مختلف کردار ایک ساتھ نبھاتے تھے۔ اپنے گھر میں اُن کے بڑے بھائی کی موجودگی کے باوجود وہ گھر کے سرپرست اور کرتا دھرتا تھے، گھر کے باہر غریبوں اور مزدوروں کے علاوہ ….. گاؤں کے زمینداروں میں بھی اپنا پورا دبدبہ رکھتے تھے۔ اُن کے مشورے سے گاؤں کے سیاست کی ساری پالیسی طے ہوتی تھی۔ بڑی ہی سمجھ داری سے وہ مزدور اور کسان کو بھی اپنی مٹّھی میں رکھتے تھے۔ اور بڑی چالاکی بھری نرمی سے بغیر کسی نقصان کے اُنہیں ساتھ لے کر چلنے کے قائل تھے۔ کبھی بُرے وقت میں بغیر سود کے قرض دے دیا، تو کسی کی بیٹی کی شادی میں بارات کو کھلانے کے لئے اناج بھیج دیا۔ کسی کی چھت گری تو اپنی کوٹھی سے چار پانچ بانس کٹوا کر بھیج دئے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی اُن کی خدمت میں یوں حاضر رہتا کہ وہ اس سے اپنے اور کئی کام نکلوا لیتے۔ مزدور ہوں یا غریب کسان، آئے دن ہاتھ منھ پھیلائے کھڑے رہتے۔ بانس کے لئے اُن کی استعداد نہیں تھی کہ وہ سو سوا سو روپے میں ملنے والے ایک بانس بھی خرید سکیں۔ اس لئے بس اُنہیں ناظر بابو کی اتنی شرط پوری کرنی پڑتی کہ وہ ٹھیکیدار جو گاؤں میں عمارت تعمیر کر رہے تھے یا ریت کے ٹرک بھرواتے تھے یا ناؤ بنواتے تھے اُن کو جب ضرورت پڑے تو فوراً ناظر بابو کی بانس کی کوٹھی سے اچھے داموں پر بانس بکوایا کریں۔ ایک تو اُن کے بانس اچھی قیمتوں پر نکل جاتے تھے دوسرے ان مزدوروں سے پوری مدد بھی مل جاتی اور وہ غریب بانس کاٹنے سے لے کر خریدار تک پہنچانے اور قیمت وصول کر لانے کی ذمّہ داری بھی نبھاتے تھے۔ بدلے میں انھیں ہمیشہ یہاں سے پوری مزدوری مل جاتی تھی اور وقت ضرورت بانس بھی۔ نہ وہ مزدوری کاٹ کر دیتے تھے نہ کبھی روک کر رکھتے تھے، اس لئے مزدور ان کی ایک آواز پر دوڑے چلے آتے تھے۔ مزدور بس اتنا یاد رکھتے تھے کہ برے وقت پر یہی ایک دروازہ ہے جہاں وہ مدد کے لئے دوڑے آ سکتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ناظر بابو کا دبدبہ ایسا تھا کہ وہ ذرا سی بھی چوک کرنے کی گُستاخی برداشت نہ کرتے ورنہ اُن کی طرف سے جو تنے بونے کے لئے ملے ہوئے کھیت، اپنے کارندوں سے چھین کر کسی اور کو دے دینے میں انہیں دو منٹ بھی نہ لگتے تھے۔ اُن کے پاس ہر وقت اتنے کارندے رہتے تھے کہ دوسرے زمیندار کبھی کبھی اپنی پریشانیوں میں ناظر بابو سے مدد مانگنے آ جاتے تھے۔ صبح سے لے کر دس بجے رات تک باہر کے بڑے کمرے یا اُس کے سامنے والے دالان میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ اندر سے چائے جاتی رہتی، پان کے بیڑے بنتے رہتے اور دس سالہ لڑکا گورکا اندر باہر دوڑتا رہتا ……….. بنا تھکے۔ جیسے اُس کے پیروں میں کوئی چکر گھنّیِ لگی ہو۔ اور واحد عالیہ بیگم تھیں، جنہیں اُس وقت گورکا پر بہت ترس آتا جب وہ دن بھر کی بھاگ دوڑ سے تھکا ہارا سب کی نظروں سے بچتا بچاتا سات بجتے بجتے سے کسی ٹیبلِ یا کُرسی کی پشت پناہی میں ایک اندھیرا سا کونا تلاش کر کے اونگھتے اونگھتے لڑھک جاتا۔ مگر یہی وہ وقت ہوتا جو معزّز مہمانوں کے آنے کا وقت تھا۔ اس وقت آنے والے مہمانوں کے لئے چائے کے ساتھ اکثر نمکین اور حلوہ کی طشتری کا اضافہ بھی ہو جا تا تھا۔ اور نیند سے نڈھال گورکا کو تائی امّی زور سے ایک ہتھّڑ سر پر لگاتیں۔
’’ابھی سے سو رہا ہے مردود ……………. جا چائے لے جا باہر ………‘‘ اور وہ ہڑبڑا کر کھڑا ہو جاتا۔ پھر یہ سلسلہ اُس وقت ختم ہوتا جب ناظر اندر کھانا کھانے آتے۔ جب تک اندر کھانے کا سلسلہ چلتا۔ تب تک تھکا تھکا یا گور کا کسی اندھیرے کونے میں جا کر نیند کی گود میں سما جاتا۔ عالیہ بیگم کبھی اُسے رات کا کھانا نہیں کھلا پائیں۔ اُس کے کھانے کی تھالی صبح تک یونہی باورچی خانے میں کسی دوسری پلیٹ سے ڈھک کر پڑی رہتی۔ عالیہ بیگم کا دل کرتا کہ وہ کسی طرح اُس کے بچپن کو آزاد کر دیں۔ جہاں اُسے پانچ کٹّھا زمین کے عوض میں بے دام کی غلامی نہ کرنی پڑے۔ جہاں وہ گھر کے دائرے کے اندر ہر ایک کے حکُم پر آنکھ کھلنے سے لے کر آنکھ بند ہونے تک دوڑ نہ لگاتا رہے بلکہ باہر کھلے آسمان کے نیچے بے فکری سے دوڑ لگائے۔ اُس کی بہن جھمکی بھی گھر کا کام آ کر کر جاتی ہے مگر اُس کے جھاڑو اور مسالے کا کام ختم ہوتے ہی۔ وہ پھر آزادی سے یہاں وہاں آیا جایا کرتی اور بہت خوش رہتی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کی طرح اس چہار دیواری میں ہر وقت محصور نہ رہتی۔ مگر اس کا بھائی ناظر بابو کا نوکر تھا اور انہیں ہر وقت ایک تابعدار کی ضرورت تھی۔ اور گورکا کا بچپن اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے پانچ کٹھاز مین کے عوض گروی رکھ دیا گیا تھا۔
جادو یادو بھی اس گاؤں کا زمیندار تھا مگر اپنی رعیت سے کام لینے کا اس کا طریقہ اور اصول سب بہت الگ تھا۔ اس لئے اسے مہتو سے ایک بغض تھا، جو صدیوں سے چلی آ رہی تفریق کا نتیجہ تھا، اس لئے اس کی سوچ میں کوئی غریب یا کم ذات، کسی امیر یا اونچی ذات والے کی حکم عدولی کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ دنیا بدل رہی تھی مگر انسانی برابری کا تصور جادو یادو جیسے لوگوں کے لئے نہیں تھا۔ اس کے پاس مہتو سے بغض پالنے کے لئے بہت سی وجہیں تھیں، مہتو اس کا گناہگار اس لئے تھا کہ وہ پشتوں سے چلے آ رہے رشتے کو توڑ کر ایک مسلمان زمیندار کی غلامی کرنے لگا تھا۔ جبکہ دونوں زمیندار اُسے بٹائی پر ملے ہوئے کھیت کے لئے ایک سا اناج یا ایک سی مزدوری دیتے تھے۔ یہی گاؤں کی پالیسی تھی کہ ہر جگہ ایک سی اجرت دی جائے۔ زمیندار کسانوں کے لئے سرکار کی طرف سے طے کی گئی ’’مینیمم ویج‘‘ سے بھی کم در پر کام لیتے تھے مگر ان نادار لوگوں کو اس کی خبر تک نہ تھی۔ ناظر کے لئے مہتو کی یہ وفا داری جادو یادو سمجھ نہ پاتا، کیونکہ اسے اس بات پر ہرگز یقین نہ تھا کہ ناظر بابو نے مہتو کو پانچ یا چھ کٹھّا زمین کاشت کے لئے جو دے رکھی ہے وہ اُسے بٹائی پر نہیں دی گئی ہے، بلکہ اس کا پورا غلہ وہ بلا عذر اپنے گھر لے جاتا ہے۔ نہ ہی اس سے اس پر مالگزاری لی جاتی ہے۔ بس بدلے میں وہ ان کے گھریلو کام کاج کی ذمّہ داری اپنے بچّوں سے پوری کرواتا ہے۔ اور ان کی دوسری زمینوں پر بھی بٹائی کے حساب پر کاشت کاری کر رہا ہے۔ اس طرح گاؤں کی ایک سی اجرت دینے والی شرط بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اور ان کی رحمدلی سے زمین کے ایک ٹکڑے کا پورا غلہ اسے ملتا رہتا ہے۔ جادو یادو کا انداز اپنے دبدبے کو قائم رکھنے کا بڑا الگ تھا۔ گالی گلوج، لات جوتا، اور اُس کے بعد اُس کے پالتو لٹھیت۔ وہ اسی کا قائل تھا کہ کمزور کو دبا کر رکھو، اُنہیں سر اُٹھانے مت دو۔ پیٹ بھر کھانے سے بغاوت کی طاقت آتی ہے۔ تو اُنہیں اُن کی اُجرت بھی تر سا کر دو۔ لیکن جادو یادو بھول گیا تھا کہ اکیسویں صدی میں بربریت نہیں بلکہ برابر کا جادو چلتا ہے۔ اور ناظر کو اپنے والد سے ورثے میں سخاوت ملی تھی اور کچھ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے سب سے ہنس کر بات کرنا، اُن کا دکھ سُکھ پوچھنا، جادو کا اثر رکھتا تھا۔ اور وہ کسی طرح بھی خسارے میں نہ رہتے تھے۔
اِس وقت بھی مہتو میلی سی دھوتی میں کندھے پر گمچھا رکھے بڑا غمگین اُن کے سامنے بیٹھا تھا۔ ’’سر کار ہم کا کریں آپ ہی بتائیے۔‘‘ اُس نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’اب پھر کیا ہو گیا؟۔۔‘‘
’’سرکار…جب سے ہم جادو یادو سے کیس جیت گئے ہیں، اپنی جمین کا۔۔ اس کا لٹھیت راستہ روک روک کر دھمکی دیتا ہے۔‘‘
’’ارے دھمکی سے کیا بگاڑ لے گا؟ زمین ملی کہ نہیں؟۔۔۔‘‘
’’نہیں ہجور .۔ اسی لئے تو دھمکاتا ہے کہ ہم ڈر کر چپ بیٹھ جائیں اپنی جمین کا کبجا چھوڑ دیں۔ ایک دن اس کے دھمکانے پر بس پوچھنے لگے کی ہم کیا بگاڑے ہیں تو دو ہاتھ رسید کر دیا … ناک منھ سے خون نکل آیا۔‘‘
’’ارے گورکا باپو کو چائے نہیں پلائے گا۔ جا۔۔۔ چائے لے کر آ اور ساتھ میں دو بسکٹ بھی۔ ’’اُنہوں نے گورکا کو مخاطب کیا۔ تو وہ اندر کی طرف دوڑ گیا۔
’’وہ چاہتا کیا ہے تم سے؟…‘‘
’’ہم سے، ہمارے بچّوں سے بیوی سے بیگار لینا چاہتا ہے۔ اب اس کی چاکری کریں کہ بچّوں کا پیٹ پالنے کو مجوری (مزدوری) کریں۔‘‘
’’تمہارے باپ دادا تو یہی کرتے آئے تھے … تم سے بھی وہی چاہتا ہے۔ مگر گھبراؤ مت میں جگدیش بابو کو بھیجوں گا اس کے پاس، اس سے بھی نہیں مانا تو پنچ سے بات کرنی ہو گی۔‘‘
گورکا چائے لے کر آیا تو اُس کے باپو کو چھوٹے سرکار تسلّی دے رہے تھے۔ اور وہ گمچھے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔ چائے اُس کے سامنے رکھ کر گورکا اپنے باپ کے گھٹنے کے قریب بیٹھ گیا۔ اور اُس کے گھٹنے پر آہستگی سے اپنا کمزور سا ہاتھ رکھا۔ جیسے اُس کے غم میں اُسے سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
’’چلو چائے پیو۔ انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، تمہارے جگدیش بابو کہاں ہیں آجکل نظر نہیں آتے۔‘‘
’’ہاں سرکار…. آج ان سے بھی ملے تھے، بولے ہیں اسنان دھیان کے بعد آپ کے پاس آئیں گے۔ سو آتے ہی ہوں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم کھیت پر جاؤ۔ کام میں دل لگاؤ۔ جگدیش بابو آتے ہیں تو ہم لوگ کوئی حل سوچیں گے۔‘‘
مہتو نے چائے ختم کی اور ادب سے ہاتھ جوڑ کر رخصت ہو گیا۔ مگر پھرِ فوراً واپس اندر آیا۔ ’’جگدیش بابو آ گئے سرکار۔‘‘
’’بھیج دو اندر …………‘‘
’’نمستے ناظر بابو ……….‘‘
’’آداب …………. بیٹھئے۔‘‘ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’’تو ہم چلیں سرکار ………….‘‘ مہتو نے پوچھا تو دونوں نے ایک ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔ ناظر نے جیسے ہی گورکا کی طرف مڑ کر دیکھا وہ اُن کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اندر کی طرف دوڑ گیا۔
’’کہئے جگدیش بابو کس کام پر آج کل لگے ہوئے ہیں آپ۔‘‘
’’بس اپنا کام تو جَن سیوا ہے………….. سو وہی کرتے ہیں۔‘‘
’’آج کل آپ نے ایک بد نام سیوا بھی شروع کر دی ہے۔ گاؤں میں بڑی چرچا ہو رہی ہے۔‘‘
’’اب ناظر بابو آپ تو ایسے مت بولئے۔ یہ تو وہ لوگ بول رہے ہیں جن کے ہت (فائدے) میں میرا کام بادھک (رکاوٹ بننا) ہو رہا ہے۔‘‘ جگدیش بابو نے انکساری سے کہا۔
’’نہیں میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دوسروں کا ہِت کرنا آپ کے لئے اَہِت نہ بن جائے۔‘‘ کسیِ خدشے کی وجہ سے ناظر نے تنبیہ کی۔
’’آپ کے پریوار کا ساتھ تو پرانا ہے، اس لیے اگر آپ جیسے لوگوں کا ساتھ رہے تو میرا کام آسان ہو جائے۔‘‘
’’یہ مت کہیے جگدیش بابو۔ آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے فخرو بھائی کے حادثے کے بعد ہر ایسے آدمی سے دوری بنا لی جو سرکاری پالیسی کے خلاف کام کرتا نظر آتا ہے۔‘‘
’’جی جانتا ہوں اور اب آپ کے سیاسی رشتے کافی مضبوط بن گئے ہیں، کیا ان لوگوں کی طرف سے کوئی شکایت آئی ہے۔‘‘
’’دیکھئے آپ میرے لئے نئے نہیں، کب سے آپ کو جانتا ہوں مگر بیچ بیچ میں مجھے کچھ ایسی ہی خبر ملتی ہے کہ آپ ان ہی لوگوں کی آئیڈیالوجی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جن کے میں خود ان سے کوسوں دور رہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’معلوم نہیں آپ کا اشارہ کس طرف ہے؟ ہم تو صرف غریب اور کسان کی بات کرتے ہیں۔ ان کے ہت (فائدہ) کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ جگدیش بابو ذرا دھیمے ہو گئے۔
’’ہاں …….. آپ بے زمین لوگوں کو ہم سے ہماری زمین چھین کر دے دینا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے باپ دادا کی زمین یوں ہی ڈگرے ڈگرے کر دیں۔ اور خود بھی بھیک کا پیالا لے کر اُن کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اور آپ سمجھتے ہیں اس سے سماج میں اونچ نیچ ختم ہو جائے گی۔ آپ کانو سانیال کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نہیں۔‘‘
’’اگر ٹھیکیداروں اور پونجی پتیوں سے اُنہیں مناسب اُجرت دلوانا، نیتاؤں کے فلاحی منصوبوں کا فائدہ اُن تک پہنچا پانا اور ایسی کوشش کرنا جس میں غریبوں کی ترقّی اور فلاح ہے یعنی گاؤں میں اسکول اور اسپتال بنوانے کی کوشش، کیا یہ سارے کام سماج دشمنی کے ہیں۔۔ میں یہ نہیں کرتا کہ انہیں ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دوں۔ لاٹھی اور بندوق کے زور پر مساوات لانے کی کوشش کو بالکل غلط سمجھتا ہوں۔ آپ مجھے کس بنیاد پر کانو سانیال کی آئیڈیالاجی سے متاثر بتا رہے ہیں۔۔‘‘
’’جن کے ساتھ اور جن کے لئے کام کر رہے ہیں اس بنیاد پر۔‘‘
’’مزدور، کسان، آدی باسی یا قبائلی۔۔۔ ان کے لئے کام کرتا ہوں، اور یہ قوم ڈیپ اور ڈیول کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، کچھ اس میں نکسلی بن گئے ہیں مگر۔۔۔‘‘
’’کیا نکسل تحریک بندوق کے زور پر نہیں چل رہی؟‘‘ ناظر نے ان کی بات درمیان میں کاٹ دیا۔
’’جی، مگر سب نکسل وادی نہیں ہیں۔ میں کچھ کچھ آپ کی بات اب سمجھ رہا ہوں، شاید میرے بارے میں آپ کے کان کسی نے بھرے ہیں کہ میں کبھی کانو سانیال کے ساتھ تھا۔‘‘
’’جی ایسا ہی ہے۔ طرح طرح کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔‘‘
’’اچھا تو سنئے۔۔ کانو سانیال بھی یہ مانتے تھے کہ ان کا آندولن بھٹک گیا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی بننے کے بعد یہ صرف دو سال میں تین ٹکڑے میں بٹ گیا تھا۔ میں ان کے بہت سے سبھا اور میٹنگ میں گیا ہوں، آخری دنوں میں وہ بہت کمزور ہو گئے تھے اور ڈپریشن میں بھی تھے۔ لیکن آپ یقین مانئے کہ میں ایسے کسی آندولن سے نہیں جُڑا ہوں۔ جو بندوق اُٹھاتے ہیں۔ بارہ پندرہ سال پہلے کبھی چلا گیا تھا ان سے ملنے، اس وقت سمجھ اتنی وکست نہیں ہوئی تھی۔ اب تو میں یا میرا پورا جیون ایسے لوگوں کے لئے ارپت ہے، کوئی کچھ بھی کہے، میں تو شوشِت ورگ (وہ طبقہ جس کا استحصال کیا جائے) کے لئے ہی کام کر رہا ہوں۔ اپنے این۔ جی۔ او کے تحت ہم پچھڑے علاقوں میں دوا، ڈاکٹر اور جاگرکتا پھیلانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’پر یہاں یہ کیوں مشہور ہو رہا ہے کہ آپ ماؤ وادی کیمپ سے جُڑے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ سماج سیوا کے نام پر اپنی تنظیم میں آدی باسیوں کو بھرتی کرتے ہیں اور جس طرح آپ مزدور اور کسان کو مجتمع کرتے ہیں اس سے لوگوں کو لگتا ہے کہ جو کانو سانیال کرنا چاہتے تھے وہی اب آپ کر رہے ہیں۔‘‘
"No.. no…its totally wrong. I don’t agree with you on this point. There is no existence of Maoism. Because we did not agree with that”
جگدیش بابو جب جوش میں آتے تھے تو انگریزی بولنے لگتے تھے اس وقت بھی یہی ہوا۔
’’یعنی یہ صرف افواہ ہے۔‘‘
’’یہ افواہ۔۔۔ جادو یادو کے گرگے پھیلا رہے۔۔ کیونکہ کسانوں کا حق سب سے زیادہ وہی مار رہا ہے اور اسے میرے این جی او سے پریشانی ہے۔ ارے کسی individual یا کسی پولس کو مارنے سے ویوستھا (stablishment) نہیں ختم ہو جاتا، جس کو یہ سمجھ نہ آئے وہی کرائم کرے گا۔ نہ ہی کانو سانیال ماؤ واد کو revolutionary مانتے تھے۔ وہ اسے terrorism اور left adventurism کہتے تھے۔‘‘
’’کیا نکسل ماؤ سے الگ ہے؟‘‘ ناظر کو اب بھی لگ رہا تھا کہ جگدیش بابو کا جھکاؤ نکسل تحریک کی طرف ہے۔
’’ناظر بابو، وہ کیسے اور کتنا الگ ہے اس بات کو چھوڑئے۔۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف یہ سب بھرم پھیلایا جا رہا ہے۔ میرے کام سے اُن لوگوں کو بادھا (پریشانی) آ رہی ہے جو اپنا الّو سیدھا کرنے کے لئے غریبوں اور اَن پڑھ لوگوں کا شوشن (استحصال) کرتے ہیں۔ رہی بات آدی باسیوں کو بھرتی کرنے کی تو۔ میرے این۔ جی۔ او میں کچھ آدی باسی عورتیں بھرتی کی گئی ہیں اُن کی ٹریننگ کروائی گئی ہے تا کہ شہر سے آئے ہوئے ڈاکٹر یا کاریہ کرتا کے ساتھ مل کر وہ اپنے علاقے، اپنی زبان اور اپنے جنگل کے جیون اور لوگوں تک آسانی سے ہمارا فلاحی منصوبہ پہنچوانے میں مدد کر سکیں۔ کیونکہ وہ اس علاقے، اس جیون اور حالات سے پریچت (آشنا) ہیں ایسے میں اُن کی مدد سے باہر سے آ کر کام کرنے والوں کو آسانی ہو جاتی ہے۔‘‘ جگدیش بابو نے ایک ہی سا نس میں احتجاجاً اتنا سب کچھ کہہ دیا۔
’’میں تو اس لئے کہہ رہا تھا کہ آپ مجھ سے بڑے ہیں میرے بڑے بھائی جیسے ذرا محتاط رہئے۔ فخرو بھائی کے ساتھ کیا ہوا یہ آپ کو معلوم ہی ہے۔ جب کہ وہ بھی حق داروں کے حق کی بات کرتے تھے۔۔ اور اپنی ہماری بات چھوڑئے۔۔۔ خود کانو سانیال کے ساتھ کیا ہوا، ان کی تحریک کئی ٹکڑوں میں بٹی وہ کتنے ناخوش تھے ان سب باتوں سے اور عمر کے اس حصے میں۔۔۔ ضعیفی میں وہ خود کشی پر آمادہ ہوئے۔ سوچا ہے آپ نے کیوں۔‘‘
’’ہاں، جب ان کی موت ہوئی تھی وہ ۲۰۱۰ء کی بات ہے۔ میں تو انہیں ایک ہی بات کے لئے پسند کرتا تھا۔۔۔ غریبوں کے دکھ درد کے لئے کھڑے رہنا۔ مگر اپنے آندولن کے بھٹکنے اور ٹوٹنے سے وہ بہت دکھی تھے۔‘‘
’’لیکن نکسل باڑی میں جو ہوا، اس واقعے کے بعد سے میں اس بات کو کیسے گوارا کر سکتا ہوں۔۔‘‘ ناظر نے کہا۔
’’وہاں جو ہوا اسے میں بھی برا سمجھتا ہوں، غلط غلط ہی کہلائے گا۔۔ آپ کے بھائی فخرو بابو سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔۔ کسی تحریک سے نہیں جڑنا۔۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ دکھانا۔ اور اپنا کام مظلوموں کے لئے چپ چاپ کرنا. یہ سب ان سے ہی سیکھا ہے‘‘
’’بھیا کو کیا ملا یہ سب کر کے؟ اور فخرو بھائی کے دوست جیون داس۔ ان کا حال دیکھئے۔۔۔ اتنے دشمن بنا لئے ہیں کہ ہمیشہ رو پوش رہتے ہیں۔‘‘
’’یہ وڈمبنا (بدقسمتی) ہے کہ سچ کے لئے کھڑے ہونے والوں کو مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ وہ جہاں بھی ہیں حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اس لئے روپوش رہتے ہیں کہ لڑائی کو انجام پر پہنچانے سے پہلے مرنا نہیں چاہتے۔‘‘ ان کے دل میں آیا کہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ.. ’’اپنے بھائی کے قتل کے کیس کے لئے آپ تونہیں کھڑے ہوئے، ڈر گئے۔‘‘ مگر اتنی تلخ بات زبان پر نہ آ سکی۔
‘‘فلاحی منصوبے میں شامل ہر آدمی ایک دن مار دیا جاتا ہے یا غائب ہو جاتا ہے؟ اور معلوم نہیں آپ کا یہ فلاحی منصوبہ آپ کے لئے کیا ثابت ہو گا؟‘‘
’’ناظر بابو !جیون داس ہوں یا میں ہوں۔۔ ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔۔ زند گی کا جو مقصد ہے وہ صاف اور سچا ہے۔‘‘
’’پھر لوگ اتنی باتیں کیوں بنا رہے ہیں؟‘‘
’’کون لوگ۔۔؟؟ وہی نا جن کے دل میں ڈر ہے کہ جیون داس سامنے آ کر نہ کھڑے ہو جائیں۔ ڈرانے کی کوشش وہ کرتے ہیں جو جھوٹ کے راستے پر چلتے ہیں اور خود ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں کو ان سنا کر دیجئے۔‘‘
’’جو بھی ہو مجھے آپ کی فکر رہتی ہے۔ اور مت بھولئے کہ ان کی مدد کرتے کرتے آپ لوگ خود راستے سے بھٹک کر ان کے ساتھ نہ کھڑے ہو جائیں۔‘‘
’’ناظر بابو .. ایک بات کہوں؟ سچ میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، ڈرتے وہ لوگ ہیں جو غلط کام کرتے ہیں۔ ڈر کر کیا ہو گا؟ ہم لوگ اپنا کام چھوڑ دیں؟۔۔‘‘
’’بس ذرا محتاط رہیں۔ اور اپنے سنگٹھن میں صحیح لوگوں کو رکھیں۔‘‘
’’جی ہاں۔۔ ہمارے سنگھٹن میں ’’متاننِ بہنیں‘‘ ہیں جو آدی باسی ہیں، ان سب کا پولس ویری فیکیشن کروا رکھا ہے ان کا ایک ڈریس کوڈ ہے۔ جو ہمیشہ ڈیوٹی پر لال باڈر والی بلو رنگ کی ساڑی پہنتی ہیں۔ اپنے این جی او میں ان متانن بہنوں کے ساتھ کچھ لڑکوں کو بھی رکھا ہے میں نے … وہ بھی آدی باسی ہیں، بے حد جوجھارو اور محنتی کارکن ہیں جو دور دور کے پچھڑے علاقوں میں جا کر بہ آسانی کام کر پاتے ہیں۔ مگر لوگ ان کے آدی باسی ہونے سے ہی ان پر شک کرنے لگتے ہیں۔ یہ تو زیادتی ہے۔۔‘‘
’’کچھ دوسرے لوگوں کو بھی رکھئے۔ مل جل کر رہیں گے تو ایسا شک نہیں ہو گا۔‘‘
’’ایک تو میرے کام کے لئے وہی لوگ زیادہ ٹھیک ہیں، اور کیا آپ نہیں جانتے گاؤں کے لوگ انہیں کس طرح اچھوت سمجھتے ہیں ..نہ ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، نہ ہی ان کے لئے۔‘‘
’’ہاں یہ تو آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔‘‘
‘‘یہ لوگ گاؤں جنگل کے لوگوں سے، اس کلچر سے اور جنگل کے مشکل راستوں سے جتنے پریچت (واقف) ہیں اتنا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔۔‘‘
’’اچھا یاد آیا راحت کا جنگل کا ٹرپ کیسا رہا۔۔۔ آنے کے بعد مجھ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ آج اسے واپس بھی جانا ہے۔‘‘
’’میں بھی نہیں ملا، نکوشا بتا رہی تھی کہ اسے وہاں گھوم کر اچھا لگا۔ دل تو نہیں چاہتا کہ بٹیا کو جانے دیں۔ مگر یہاں کام کرنا مشکل بھی ہے۔۔ زیادہ تر ڈاکٹر یہاں آ کر کام نہیں کرنا چاہتے، بجلی، پانی اور دوسری چیزوں کی دقّت اُنہیں راس نہیں آتی۔ سرکاری اسپتال کا ڈاکٹر شہر جا کر اپنی پرائیوٹ کلینک میں بیٹھتا ہے۔ یہاں صرف سیلری اٹھانے آتا ہے۔‘‘
’’ہاں وہی تو کہہ رہا ہوں، مسائل بہت ہیں یہاں۔ پر اسے کون سمجھائے، وہ یہاں آ کر کام کرنا چاہتی ہے۔‘‘
’’ہمارے لئے تو یہ اچھی خبر ہے۔۔ ا‘‘
’’میں نے آپ سے اتنی پوچھ گچھ اسی لئے تو کی ہے، یہاں کام کرنے دینے کے لئے میں اس کی پیٹھ پر ایک مضبوط سہارا ڈھونڈھ رہا ہوں۔ آپ کے این جی او کے کارکنان سے اسی آگے بھی مدد ملتی رہے تو مجھے پوری تسلّی ہو جائے۔ راحت فخرو بھائی کی بیٹی ہے، اپنے ارادے پر اٹل۔ اسے میں کیا اب کوئی بھی یہاں آنے سے روک نہیں سکتا۔ اس لئے آپ کا این جی او اس کے ساتھ رہنا چاہئے۔‘‘
’’جی ضرور، آپ نہ بھی کہتے تو ہم اپنی بٹیا کی ہر مدد کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اتنی سی بات تھی اور آپ نے اتنا گھما کر پوچھا مجھے تو ڈرا ہی دیا۔‘‘
’’نہیں میں ڈرانے کے لئے نہیں، اپنا ڈر نکالنے کے لئے اتنی تفصیل سے پوچھ رہا تھا.. کبھی کبھی ایک افواہ یا جھوٹ بار بار سنو تو دل میں شبہ پیدا ہونا لازمی ہے۔۔۔‘‘
’’یہ بہت اچھا کیا آپ نے سامنے سے پوچھ لیا، آپ لوگوں کا بھروسہ میری طاقت ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں … راحت بیٹی پر آنچ نہ آنے دوں گا …ہمارا این۔ جی۔ او رجسٹرڈ ہے، بلکہ ہمارے یہاں کام کرنے والے لڑکے لڑکیوں کا ڈریس کوڈ اسی لئے ہے کہ دور سے پہچانی جا سکیں۔ ان کے پاس آئی ڈی ہے، ان کا پولس ویریفیکیشن ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو آپ مجھے بتا چکے مگر یہ ڈریس کوڈ رکھنے کی اور کوئی خاص وجہ..؟‘‘ ناظر نے پوچھا۔
’’جی ہاں بہت خاص وجہ ہے، یہاں پولس اور جنگل دونوں خطروں سے انہیں بچانے کے لئے۔ پولیس ویری فیکیشن اسی لئے ضروری تھا۔ ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں جنگل میں جانا کتنا مشکل ہے۔ آدی باسی سب کو آسانی سے جنگل میں آنے نہیں دیتے اور پولس کسی کو بھی۔۔۔ کبھی بھی نشانہ بنا لیتی ہے۔ اب یہ متانن انہی آدی باسیوں میں سے ہیں تو وہ انہیں روکتے نہیں اور ساتھ پولس کی اجازت بھی انہیں ملی ہوئی ہے۔‘‘
’’اچھا ………. چلئے اگر ایسا ہے تو ہم سے جو بن پڑے گا ہم بھی کریں گے، مگر آپ کو یہاں کے زمینداروں کے دل سے یہ ڈر نکالنا ہو گا کہ آپ ماؤ وادی سنگھٹن سے جڑے ہیں۔‘‘
ناظر نے بڑی سنجیدگی سے کہا تو جگدیش بابو جھٹ سے بولے۔
’’آپ جیسے لوگوں کا ساتھ اور سہیوگ ہو تو اپنے آپ ہی سب کو وشواس آنے لگے گا۔ آپ نے تو ہمارا مان بڑھا دیا یہ کہہ کر کہ راحت بیٹی کے ساتھ ہمارے این جی او کی ورکر کام کریں گی۔‘‘
’’ارے نہیں۔۔۔ مل جل کر رہنے سے دونوں کو آسانی ہو گی۔‘‘
’’ویسے آپ نے راحت بٹیا کو اجازت کیسے دے دی؟ مجھے اس بات پر ضرور حیرت ہے۔‘‘
’’کہا نا آپ سے، وہ کسی کے منع کرنے سے کب ماننے والی ہے۔ پر ڈرتا تو میں بھی ہوں۔‘‘
’’جی۔۔ میں یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ آپ لوگوں نے کیا کچھ کھویا ہے یہاں۔‘‘
’’اب تو ہم لوگ اس بات کے ذکر سے بھی گریز کرتے ہیں۔۔۔‘‘ ناظم نے بڑے کرب سے کہا۔
’’معاف کیجئے گا ناظر بابو۔‘‘ وہ خجل سے ہو گئے۔
’’ارے چھوڑئے اس بات کو۔۔۔ میں تو آپ سے یہ کہہ رہا تھا کہ ….. یہاں کے زمینداروں میں ماؤ وادیوں کے لئے ایک ڈر اور نفرت ہے۔ اس لئے آدی باسی لوگوں کے ساتھ کام کرنے پر سب سے پہلے یہی خیال دل میں آتا ہے کہ ………‘‘
’’میں سمجھتا ہوں ناظر بابو ……… یہ آدی باسی اتنے پچھڑے ہوئے ہیں کہ انہیں غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لئے انہیں جاگرک کرنا اور بھی ضروری ہے۔ ورنہ بہت سے لوگ انہیں ڈھال کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی آڑ میں بہت کچھ کرتے ہیں۔ خود کبھی سامنے نہیں آتے۔ اور دونوں طرف یہ ہی مارے جاتے ہیں۔ اسی لئے اپنا تو یہی دھرم ہے، جن کا شوشن ہو رہا ہے اُسے روکنا ہے۔ بھوکوں کے پیٹ میں روٹی پہنچانی ہے، مریضوں تک دوا۔ تھوڑی جاگرکتا اور تھوڑی تعلیم پھیلانا چاہتا ہوں۔ بس ………… اور اس میں آپ لوگوں کی مدد در کا رہے۔‘‘
’’اصل میں جب سے وسط بہار کے دلیل چک بگھورا میں 1987 میں ماؤ وادیوں کے ایک ہتھیار بند دستے نے وہاں کے ۵۴ زمینداروں کو ایک ساتھ مار ڈالا تھا۔ تب سے … ان آدی باسیوں کو آپ جیسے غیر جانب دار لوگ بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘‘ ناظر نے کہا۔
’’وہ بات تو بہت پرانی ہو گئی، مگر اب بھی یہ ان پڑھ ہیں، مفلس اور ضرورت مند ہیں، اس لئے کوئی بھی انہیں اپنے مفاد کے لئے آج بھی استعمال کر لیتا ہے، کسی کے خلاف بھڑکا کر، انہیں سامنے کر کے۔۔ تاکہ الزام اور نقصان ان کا ہو، یہ ایک ٹول کی طرح استعمال کئے جاتے ہیں۔‘‘
’’استعمال کرنے والے وہی نکسلی ہیں نا؟۔۔‘‘
’’صرف نکسلی نہیں، سیاست دان، سرکاری اہلکار سب ہی کرتے ہیں۔۔۔ آپ ان کی زندگی اور اس کی مشکلوں کو کبھی قریب سے دیکھئے…. تو ان سے نہیں، اپنے آپ سے نفرت ہو جائے گی۔ کہ وہ کس مشکل میں جیتے ہیں‘‘
’’آپ تو ایسے بات کر رہے ہیں جیسے میں یہاں نہیں باہر رہتا ہوں‘‘ ناظر نے ہنس کر کہا۔
’’نہیں یہ بات نہیں آپ ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔۔ جانتا ہوں مگر ان کی زندگیوں کو نزدیک سے نہیں دیکھتے۔‘‘
’’یہ نیک کام آپ ہی کیجئے…….. پر مجھے نہیں لگتا کہ سماج کے ڈھانچے کو بدلنا اتنا آسان ہے۔ آپ کِس کِس سے لڑیں گے …… آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اُس طبقے کے لئے کام کرنے کھڑے ہوئے ہیں جو استحصال کا شکار ہے یعنی صرف ایک استحصال کے شکار غریب طبقے کے لئے آپ کام کرنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ یہ بھول رہے ہیں کہ ان کے لئے کام کرنے کے لئے ہر اس طبقے سے آپ کو لڑنا پڑے گا جو ان کا استحصال کرتے ہیں۔ آپ کس کس سے لڑیں گے۔؟‘‘
’’یہ تو آپ صحیح کہہ رہے ہیں ناظر بابو۔ ان کا استحصال چہار طرف سے ہوتا ہے…………..‘‘
’’جی ہاں ………….. اُن کی محنت کا استحصال زمیندار کرتے ہیں، اُن کے بھولے پن کا سیاست دان، اُن کی مجبوری اور بے کسیِ کا استحصال پونجی پتی اور ٹھیکیدار کرتے ہیں۔ آپ کس کس سے لڑیں گے۔ یہ سماجی طور پر ٹھکرائی ہوئی، حرماں نصیب قوم ہے۔‘‘
’’اٹ ازِ اے سیڈ ریلیٹی آف انڈیا۔‘‘ جگدیش بابو نے تاسّف سے کہا۔ ’’آج بھی ہمارے صوبے میں اس قدر غریبی ہے۔ وکاس، راحت اور کلیان کے لئے، مخصوص سرکاری رقموں میں بندر بانٹ جاری رہتی ہے۔ کچھ بے کار، بے ضمیر اور سماج کو گھن کی طرح کھانے والے لوگ سیاست میں آ گئے ہیں اور سرکار کے ان ہی کرپٹ لوگوں کا نہ انداز نظر بدلتا ہے اور نہ ہی جینے کا ڈھب، مگر یہ سوچ کر کہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے …. ہمیں اپنا کام تو کرنا ہی ہے۔ سماج میں کرانتی آئے یا نہ آئے مگر برائی سے لڑنے کے لئے ہمیں اپنا۔ اپنا دھرم پورا کرنا ہے۔‘‘ جگدیش بابو نے کہا۔
’’چلئے اگر یہی آپ کا مقصد ہے تو ہم کیا ہمارا اللہ بھی آپ کے ساتھ ہے۔ لیکن کسی ایم سیِ سیِ و غیرہ کے کاریہ کرتا کو ہم سے مدد کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ اُن کا بنیادی نظریہ آرام اسٹرگل (Arm struggle) کا ہے میری نظر میں ایسے لوگ جمہوری نظام کو رد کرنے والے ہیں۔‘‘
’’آپ صحیح کہہ رہے ہیں ناظر بابو …. یہ ماؤسٹ کمیونسٹ سنِٹر ایک Hard line wing ہے۔ اس کے علاوہ IPF (Indian peoples front ) اور BPKS ( بہار پردیش کِسان سبھا) کا قیام عمل میں آیا۔ IPF کا مقصد قومی سیاست میں حصہ لینا ہے اور BPKS کا مقصد کسِان تحریک کو بڑھانا ہے۔ میں نے بھی کچھ دن ایم سیِ سی ِ کے کاریہ کرتا کے روپ میں کانو سانیال اور ان لوگوں کے ساتھ کام ضرور کیا تھا پر جلد ہی مجھے لگا کہ میں ایک ان چاہی لڑائی کا حصہ بنتا جا رہا ہوں، اس لئے میں اُن سے الگ ہو گیا اور گاؤں چھوڑ کر یہاں آ گیا۔ اور و ہی بد نامی میرے پیچھے پیچھے چلی آئی ہے۔ پر اب سماج سیوا اپنے دم پر کرتا ہوں کسی سنگٹھن کے ساتھ مل کر نہیں۔‘‘
’’چلئے …….. پھر مجھے آپ سے کوئی بیر نہیں، میں تو اُن لوگوں کے خلاف ہوں جو فیوڈلزم (Feudalism) اور عوام (Indian masses) کے فرق کو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کا طریقۂ کار انڈر گراؤنڈ رہ کر سماج سیوا کے نام پر عوام کی حمایت حاصل کر کے اُن کی شرکت سے خون خرابے کا کھیل کھیلنا ہے۔ جو قابلِ نفرت ہے۔ اور اس سے کسی کا بھلا ممکن نہیں۔‘‘
’’اچھا میری شکایت کرنے والا وہی داروغہ ہے نا۔۔؟ جسے آپ ہمیشہ دروغ گو داروغہ کہتے ہیں۔‘‘
’’ہا ہا ہا۔۔۔۔‘‘ ناظر نے قہقہہ لگایا۔
’’جی ہاں، پولس اور کیا کرے گی ایک رائی لیتی ہے پھر اس کا پہاڑ بناتی ہے پھر اس کے نام پر دبش ڈالتی ہے اور ان غریبوں میں سے آٹھ دس کو اٹھا لیتی ہے، چار چھ کو مار گراتی ہے، کاغذ کا پیٹ بھر کر اپنے سینوں پر ستارے سجا لیتی ہے تاکہ اس کی ترقی نہ رکے۔ such is the condition of the country۔‘‘
’’نہیں سارے آفیسرز ایسے نہیں ہیں بعض ایماندار بھی ہیں۔۔‘‘
’’ہنھ۔۔۔ جگدیش بابو طنز سے ہنسے۔۔۔ جنہیں معاشرے اور قانون کے لئے سوچنا اور کرنا ہے وہ اپنے گھر پریوار کے لئے سوچتے اور کرتے ہیں۔۔ ان آفیسرز سے زیادہ تو ملک کے حکمراں کرپٹ ہیں۔۔۔ ان کے پیٹ کا دوزخ اتنا گہرا ہے کہ دولت کے لئے بلیک ہول بن گیا ہے۔۔ بھرتا ہی نہیں۔‘‘
’’بات تو صحیح ہے آپ کی، ان گنے چنے ایمانداروں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔۔‘‘
’’….اب جادو یادو کو ہی دیکھئے وہ بھی تو زمیندار ہے مگر غریبوں کا شوشن (استحصال) کرنا ہی اُس کا پہلا دھرم ہے اور میری لڑائی ایسے ہی ادھرمیوں سے ہے۔‘‘
’’یہ مت بھولئے کہ وہ صرف زمیندار نہیں … ایم ایل اے کا چمچہ بھی ہے اور اس کا پالتو سفید پوش گنڈا بھی۔ اس لئے اس کے سات خون معاف ہو جاتے ہیں۔ ’‘‘
’’کچھ بھی ہو پاپ کا گھڑا ایک دن بھرتا ہے۔‘‘ جگدیش بابو نے اُٹھتے ہوئے کہا۔
’’یہ سب محاورے اب پرانے ہو گئے انہیں ترک کر دیجئے۔ اور انصاف کی کامیابی کے لئے نئے راستے تلاش کیجئے۔‘‘
’’مہتو کی مدد کر کے آپ نے بڑی مہربانی کی ہے۔ آپ کی زمین پر اسے آسانی سے لون مل گیا۔ کامیابی کے راستے پر چلنے میں آپ لوگوں کی مدد درکار ہے۔‘‘
’’ہاں آپ نے اُس بے چارے کو بھینس تو دلوا دیا…مگر سوچتا ہوں کیا وہ کبھی لون کی قسط ادا کر سکے گا؟۔‘‘
’’اس کے بیٹے کو کوئی اچھی سی نوکری دلوانے کی کوشش کروں گا، مجھے یقین ہے مہتو ویسے بھی ساری قسط ادا کرے گا، بہت نیک آدمی ہے۔ فی الحال اس کے بیٹے کلّو کو منریگا میں لگواتا ہوں۔‘‘
’’منریگا میں پیسہ کس کو ملتا ہے سب بیچ کے دلال کھا جاتے ہیں۔ خیر کچھ کیجئے اس کے بیٹے کے لئے ورنہ اُس کی قرقی ضبطی میں میری زمین چلی جائے گی جسے دکھا کر آپ نے اُسے لون دلوایا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ناظر زور سے ہنسے۔
تو جگدیش بابو بھی کھسیانی ہنسی ہنس کر جاتے جاتے بو لے۔۔ ’’نہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘‘

10

عالیہ بیگم نے بیٹی کو مسرور دیکھ کر پوچھا ’’کیا بات ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں…. آپ لوگوں کا ساتھ اچھا لگ رہا ہے۔ سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے جیسے میں چاہتی ہوں۔‘‘
’’جب ویسا ہونے لگے جیسا دوسرے چاہتے ہوں تب بھی خوش رہ کر دکھاؤ تو مانوں۔‘‘ عالیہ بیگم نے بڑے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’کیا مطلب؟..‘‘ راحت نے کچھ نا سمجھتے ہوئے کہا۔
’’کچھ نہیں … فوزیہ کے بعد اب ناظر تمہارے فرض سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اونھ دیکھا جائے گا۔ مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں، اتنی جلدی شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’کب تک نہیں کرنی؟ ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’پلیز امّی۔۔۔ تین سال کے لئے اگر یہاں آ گئی تو آپ کو بہت وقت ملے گا مجھے قائل کرنے کے لئے۔‘‘
راحت کو ماں کی آنکھوں میں کچھ ارمان جاگتے ہوئے نظر آئے، تو اس نے جھنجھلاہٹ محسوس کی …
پھر بات کا رخ موڑتے ہوئے بولی، یہ آپ کر کیا رہی ہیں؟
’’منیزہ کا سوٹ چھوٹا کر رہی ہوں، جھمکی کے لئے۔‘‘
’’دوپہر کے کھانے کے بعد ذرا دیر کے لئے آرام کر لیا کیجئے۔۔ مشین کی طرح لگی رہتی ہیں۔‘‘
’’مجھے عادت نہیں لیٹنے کی تو کیا کروں۔‘‘
’’امّی ایک بات مانیں گی میری۔ ’’راحت نے بہت لجاجت سے کہا۔
’’تمہاری کوئی بات ماننے والی ہو تب نا۔‘‘
’’آپ جھمکی اور اس جیسے بہت سے بچوں کے لئے اس سے بہتر کام کر سکتی ہیں جو آپ ابھی کر رہی ہیں۔‘‘
’’مجھے معلوم تھا تم ایسا ہی کچھ بولو گی۔‘‘
’’تو غلط کہا کیا۔؟ آپ کی اتنی ڈگری ایسے ہی برباد جائے گی۔؟ آپ نے بی ایڈ۔ کیا ہے، کم سے کم ان ناخواندہ بچوں کو ہی پڑھا لیجئے۔‘‘
’’اب ان سب باتوں کا کیا فائدہ۔ جب پڑھا رہی تھی تب تو چھوڑنا پڑا۔ اب کسی چیز کا شوق باقی نہیں۔‘‘
’’مجھے آپ کی اس حالت پر بہت غصہ آتا ہے، آپ ہی نے ہمیں سکھایا تھا جو اپنی مدد آپ نہیں کرتے ان کی اللہ بھی مدد نہیں کرتا۔‘‘
’’اب کیا میں کسی کو پڑھاؤں گی۔‘‘
’’مخالفت تو ہر بات پر ہوتی ہے امّی اور یہ صرف شوق کی بات نہیں ضرورت کی بات ہے۔ ایک نسل کو سنوارنے کی بات ہے۔ اب دادی بھی نہیں رہیں کہ وہ آپ کو کام کی اجازت نہیں دیں گی۔‘‘
’’اب مجھے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں رہی، نہ ہی ہمت اور صحت ہے۔‘‘
’’بات آپ کی ضرورت کی نہیں ہے امی، آپ کے وقار کی ہے، اس گھر میں آپ کی حیثیت کی ہے۔ آپ کس طرح سب کی خدمت میں..‘‘
’’راحت .. مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا .. میں اپنی خوشی سے یہ فرائض نبھاتی ہوں۔‘‘ انہوں نے نا خوشگواری سے اس کی بات کاٹ دی۔
’’لیکن مجھے تائی امی اور ناہید آنٹی کا سلوک آپ کے ساتھ برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
’’وہ ان کا عمل اور ظرف ہے بیٹا … تمہیں ان سب کا انداز یاد رہا …مگر ناظر کی محبت اور توجہ بھول گئی، ناظر نے اپنے بھائی کے جانے کے بعد کبھی تم لوگوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی …مجھے پوری عزت اور تم لوگوں کو پوری توجہ اور محبت دی ہے، اور ظہیر کو بھی پوری محبت سے اپنایا اور پرورش کی۔ ناہید کو اسی لئے غصہ آتا ہو گا نا کہ ان کے شوہر کی توجہ اور محبت بانٹنے والے اتنے لوگ ہیں۔‘‘
’’اف امی میں آپ کی طرح نہیں سوچ سکتی۔ میں ہمیشہ غلط کو غلط ہی کہوں گی۔‘‘
’’اگر میں کہوں کہ تم جن لوگوں کی خدمت پر معمور ہو گئی ہو….ان سے تمہیں کیا فائدہ ہے آخر۔‘‘
’’امی وہ مجبور اور نادار لوگ ہیں، خود غرض اور کینہ پرور نہیں۔ ان کی مدد خدمت خلق میں شمار ہو گا۔۔ آپ کی ضرورت ان لوگوں کو زیادہ ہے انہیں نہیں جن کے لئے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔‘‘
’’اچھا رہنے دو اس بحث کو میں نے تو اپنا سہاگ ہی قربان کر دیا ان نادار لوگوں پر، جن کی بات تم کر رہی ہو۔۔۔ اب تم وقف ہو گئی ہو۔ میری یہی قربانی بہت ہے۔‘‘
اچانک راحت کی نظر گھڑی پر پڑی … ’’امّی چار بجے مجھے نکلنا ہے اب میں تیار ہو جاتی ہوں۔ ابھی تک نہایا بھی نہیں ہے۔۔ دعا کیجئے گا کہ میں وہاں سے جلد ریلیو ہو کر آ سکوں۔‘‘
’’انشاء اللہ ضرور دعا کروں گی۔۔ اتنے دنوں بعد گھر آئی چند ہفتے ساتھ رہی تو اب میرا بھی دل چاہتا ہے تم کہیں نہ جاؤ۔‘‘
’’میری پیکنگ تو ہو گئی ہے نا؟‘‘
ہاں۔۔ بس تم نہا کر آؤ ۔۔۔ اچھا راحت !تم نے کتنی خوبصورتی سے بات گھما دیا، میں تم سے پوچھنے والی تھی کہ کہیں تمہارے رشتے کی بات کی جائے یا تمہیں کوئی پسند ہے؟۔‘‘
راحت نے چونک کر ماں کو دیکھا۔ ’’یہ سوال آپ کے ذہن میں کیوں آیا امّی؟‘‘
’’اس لئے کہ مجھے لگتا ہے بہت جلد یہ سوال ناظر مجھ سے کرنے والے ہیں۔ اور مجھے تمہارا عندیہ معلوم ہونا چاہئے تاکہ میں انہیں صحیح جواب دے سکوں۔‘‘
’’آپ لوگوں کا ذہن بھی کہاں کہاں جاتا ہے، میں ابھی ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘
عالیہ بیگم نے ایک اطمینان بھری سانس لی، اس کے ایک بار کے انکار سے یہ خدشہ انہیں اکثر ستایا کرتا تھا، مگر بیٹی کا عندیہ جان کر انہیں یک گونہ سکون ہوا۔ شائد آج بھی ان کے دل میں بیٹی کے لئے ان کی پہلی پسند ظہیر ہی تھے مگر وہ اپنی پسند اس پر تھوپنا بھی نہیں چاہتی تھیں۔
’’امی ظہیر بھائی صبح سے نظر نہیں آ رہے؟ وہ ہیں کہاں؟‘‘
’’کیوں اچانک تمہیں ظہیر کا خیال کہاں سے آ گیا۔‘‘
’’کیوں ان کا خیال آ جانا کوئی عجوبہ بات تو نہیں ..‘‘ راحت نے خفگی سے کہا۔ ’’ان کے ساتھ ہی نکلنا ہے اور یہاں سے تقریباً ۱۹۲کیلو میٹر جانا ہے دیر ہو گئی تو میری فلائیٹ مس ہو گی‘‘ وہ پیر پٹکتی ہوئی غسل خانے کی طرف چلی گئی۔
عالیہ بیگم اس کی اس خفگی پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔
راحت نہانے کے بعد بالکل تیار تھی اور ٹیبل پر جھکی بڑے انہماک سے کچھ لکھ رہی تھی۔
عالیہ بیگم نے کہا۔۔ ’’راحت اب جلدی نکلو راستے میں ٹریفک جام ملا تو فلائیٹ مس نہ ہو جائے۔ تھوڑی دیر پہلے تو تمہیں بڑی فکر ہو رہی تھی۔‘‘
’’جی امّی بس دو منٹ! اس نے ٹیبل پر رائیٹنگ پیڈ پر جھکے جھکے کچھ لکھتے ہوئے کہا۔
’’اب اس وقت کھڑے کھڑے تم کیا لکھ رہی ہو؟۔۔ جلدی نکلو ظہیر ناظر سب تمہارے انتظار میں کھڑے ہیں۔‘‘
’’اففففف ….امی جا رہی ہوں، آپ تو مجھے ڈرانے لگتی ہیں۔‘‘ وہ کاغذ فولڈ کر کے لفافے میں ڈالتی ہوئی بولی۔
’’یہ ہے کیا۔۔۔؟‘‘ عالیہ بیگم نے تجسس سے پوچھا۔
’’لو لیٹر۔۔۔ میں جسے پسند کرتی ہوں اس کے نام۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے شرارت سے ماں کو دیکھا۔
اس بار ناراض ہونے کی باری عالیہ بیگم کی تھی۔۔۔ ’’تم بد تمیز کب سے ہو گئی۔۔۔‘‘
’’سوری ….مگر یہ سچ میں لو لیٹر ہی ہے۔۔ چچا جان کو دوں گی کہ اسے منزل پر پہنچا دیں۔‘‘ اس نے ماں کو ہنستے ہوئے گلے لگا لیا۔ پھر الگ ہوتے ہوئے بولی … ’’خدا حافظ امّی جلد ملوں گی۔‘‘
’’سب سے مل کر جاؤ۔‘‘
’’جی چلئے ادھر ہی جا رہی ہوں۔۔ تائی امی کی طرف …‘‘ پھر وہ سب سے رخصت ہو کر باہر بیٹھک میں آئی۔
’’نکلو بھئی بہت دیر ہو رہی ہے‘‘ ناظر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ظہیر اس کا سامان جیپ پر رکھوا رہے تھے۔
’’چچا جان۔۔۔ آپ سے ایک کام تھا، آپ ناراض نہ ہوں تو بتاؤں۔‘‘
’’اب اس وقت …کیا کام۔۔۔؟‘‘
’’میں نے سنا ہے کہ آپ کی کنسٹیچواینسی کے ایم ایل اے اور کچھ دوسرے اہم لوگوں سے آپ کے اچھے روابط ہیں۔‘‘
’’ہاں ہیں تو؟ کہنا کیا چاہ رہی ہو۔‘‘
’’جی آپ ناراض نا ہوں اس لئے یہ خط میں نے اپنے نام سے نہیں لکھا۔۔ آپ کی طرف سے لکھا ہے۔۔‘‘ راحت نے جلدی سے کہا۔
’’کیسا خط۔۔۔؟ کیا یہ پہیلیاں بجھانے کا وقت ہے‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ اسے آپ اپنی طرف سے انہیں دیں۔‘‘ راحت نے وہ خط انہیں بڑھایا۔
’’کیا ہے اس خط میں؟‘‘ انہوں نے مشکوک انداز میں راحت کو دیکھتے ہوئے وہ خط لے لیا۔ اور کھول کر پڑھنے لگے۔
راحت چپ چاپ ان کے چہرے کے تاثرات دیکھتی رہی۔
’’یہ کام تمہارا یا میرا نہیں ہے، جگدیش بابو تو کر ہی رہے ہیں یہ سب کچھ۔ یا یہ خیال تم نے ہی سب کے دماغ میں بھرا ہے۔ سنا ہے بہت زور سے ایک نئے اسپتال کی مانگ اٹھائی گئی ہے۔‘‘
’’آپ سوچئے گا اس پر، مجھے لگتا ہے اس کی بہت ضرورت ہے یہاں۔‘‘
’’جگدیش بابو کو دے دوں گا یہ لیٹر۔۔‘‘
’’نہیں چچا جان، جگدیش کاکا کی بات کا اتنا اثر نہیں ہو گا، آپ کے جو رسوخ ہیں وہ کام آئیں گے، آپ کی بات دوسری ہے، آپ اگر کوشش کر دیں تو ان غریبوں کے لئے ایک الگ اسپتال کی منظوری مل سکتی ہے۔‘‘
’’ہوں۔۔۔۔‘‘ ناظر نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔ ’’جتنی آسانی سے تم نے کہہ دیا یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔‘‘
’’چچا جان سیاسی لوگ ہر کام میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں، بس ان کی سمجھ میں اگر یہ آ جائے کہ اس کار خیر میں ان کا بہت بڑا فائدہ پوشیدہ ہے تو یہ کام بھی آسان ہو جائے گا، بس انہیں کوئی سمجھانے والا چاہئے۔‘‘
’’کبھی کبھی مجھے تم سے ڈر لگنے لگتا ہے۔۔ سیاست کی اتنی گہری سمجھ تم میں کہاں سے آ گئی۔‘‘ ناظر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اب یہ نا تو کوئی خطرے والا کام ہے اور نا ہی کسی سے دشمنی لینے والا، اور یہ کار خیر آپ کے علاوہ کوئی اور اس گاؤں میں نہیں کر سکتا۔‘‘
’’ایک سرکاری اسپتال ہے، اس کی تو یہ حالت ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں …..ایک نیا کھل جائے تو اس کی بھی وہی حالت ہو گی۔‘‘
’’یہی تو پوائینٹ ہے جو ہمارے فیور میں جائے گا۔۔۔ ایک سو ترپن گاؤں میں ایک سرکاری اسپتال، جس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے، چند پرائمری ہیلتھ سینٹر اور چند پرائیوٹ کلینک جس میں ڈاکو نما ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔ ایک فیکٹری کا اسپتال جو مخصوص لوگوں کے لئے ہے۔ ہاں ایک صدر اسپتال بھی ہے جموئی میں۔ اس کی بلڈنگ تو اچھی ہے پر ڈاکٹر وہاں بھی نہیں ملتے۔‘‘
’’اور تم جو کلینک کھول لو گی۔۔۔‘‘ ظہیر نے لقمہ دیا جو سامان رکھوا کر ابھی ابھی اندر آئے تھے۔
’’چچا جان چاہتے ہیں میں کچھ سال کام کر کے یہاں سے چلی جاؤں … یہ اسپتال کھلوا کر مجھے جب تسلّی ہو گی کہ اب سب یہاں ٹھیک ہے تب ہی میں یہاں سے جانے کا سوچوں گی نا۔‘‘
’’چلو دیکھتا ہوں اس سلسلے میں کیا ہو سکتا ہے۔ اب تم دیر مت کرو۔‘‘
راحت خوش ہو گئی، اسے بس اتنی ہی تسلّی چاہئے تھی کہ وہ اپنی طرف سے کوشش کریں گے۔ اب وہر ناظر کا شکریہ ادا کر کے ماں اور منیزہ کی طرف مڑی جو اسے چھوڑنے باہر تک آ گئی تھیں۔ اور سب سے مل کر خوش خوش رخصت ہو گئی۔
ظہیر کی جیپ نیشنل ہائی وے ۲۹ پر تیزی اور سبک روی سے دوڑی چلی جا رہی تھی، دونوں اس قدر خاموش تھے جیسے ان کے پاس کہنے سننے کو کچھ بچا نہیں تھا۔ اپنے اپنے احساسات اور خدشات میں محصور، خاموشی سے بیٹھے تھے۔ شائد دونوں ہی اداس تھے، مگر دونوں کی اداسی کی وجہ الگ الگ تھی۔ دونوں اس ایک حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے بھی اس وقت دونوں الگ الگ نظریات کے حق میں الگ الگ سمتوں کے سفر پر ہیں۔ بظاہر ظہیر کی توجہ سڑک پر تھی، مگر دل یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ زندگی میں اپنے مقصد کو پانے کے لئے اس حد تک قربانی دی جائے کہ اپنا وجود ہی باقی نہ رہے۔۔ زندگی کے اس موڑ پر ایک عجیب سی کشمکش کی کیفیت تھی۔ مستقبل جب بالکل تاریکی میں ہو تو دل اور دماغ سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔۔ جینے کے لئے ہلکی سی ایک امید زندہ رہنی چاہئے۔۔ ظہیر اس امید کو اپنے اندر تلاش کر رہے تھے … جبکہ راحت اس امید کو خود سے باہر زمانے میں اس تلاش کے لئے بھٹک چکی تھی۔۔۔ دونوں اپنی اپنی خیالی دنیا آباد کئے اداس اور خاموش تھے۔ .احساس کی سطح پر منتشر خیالات میں ڈوبے دونوں نے آپس میں بہت کم بات کی۔۔۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ دن کی روشنی بھی پیچھے چھوٹتی گئی۔ کبھی کبھی جیپ کوئی خطرناک موڑ کاٹتی۔۔۔ پٹھار کی ترائی میں پلاس کے سرخ پھولوں پر سورج غروب ہو رہا تھا۔۔۔ شفق جیسے زمین پر اتر آئی تھی۔۔۔۔ گزرتے ہوئے منظر میں تھکی ہوئی پہاڑی ندیاں کبھی کبھی ابھر آتیں۔۔۔ جیسے پتھروں پر اپنا وجود گھسیٹتے گھسیٹتے تھک گئی ہوں۔۔۔ گرمی سے پہلے ہی گرمی کا احساس انہیں مار چکا تھا۔۔ مگر یہ کب اپنا رخ بدل کر پتھروں کو اپنے وجود سے ریزہ ریزہ کر دیں گی یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کی سبک روی میں ایک اندیکھا طوفان پنہاں تھا۔۔ اپنی منزلوں کی طرف جاتے مسافروں کی آنکھوں میں پلاس کے پھولوں کی سرخی اتر کر شفق میں ڈھل گئی تھی۔ مستقبل کے خوش آئند خیال اور خواب کے خوشنما رنگ نہ جانے کیوں، پیچھے چھوٹ جانے والے سنہرے دنوں کے رنگوں کی کسک کے ساتھ مل کر ڈوبتے سورج کی اداسی میں شامل ہو گئے تھے۔ راحت کو لگا کبھی کبھی یہ آنکھیں حال میں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے ان حالات کو دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں جن میں وہ زندہ رہتی ہیں۔ کیونکہ حال، ماضی اور مستقبل کو الگ کر کے دیکھنے کی کوشش ہم سے وہ بصیرت چھین لیتی ہے .جس سے حالات اور معاشرے کی الجھی گتھیوں کو سلجھایا جا سکے.. اور المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی اس کمی سے واقف ہی نہیں ہوتے۔
جیپ اب سیدھی اور چکنی سڑک پر آ گئی تھی۔۔۔ جس میں دور تک جاتا ہوا راستہ اسٹریٹ لائیٹ میں صاف نظر آ رہا تھا۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل