ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

عربی زبان میں خود نوشت سوانح نگاری کا ارتقاء

 

 

ڈاکٹر صفدر سلطان اصلاحی

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

تعارف

 

انسان اپنی جبلّت اور فطرت کی بنیاد پر ہر دور اور ہر زمانے میں زیادہ سے زیادہ علم و معرفت کے حصول کے لیے سرگرداں رہا ہے۔ اس کی سعی و جہد کی جہات ہمیشہ سے مختلف اور متنوع رہی ہیں۔ وہ خارجی اور ذاتی ذرائع کو استعمال کر کے کائنات کے رازہائے سربستہ کی تلاش و جستجو میں منہمک رہا ہے۔ ظاہر ہے، انسان جو اس قدر اپنے گرد و پیش سے دل چسپی رکھتا ہو، اپنی ذات سے کبھی غفلت نہیں برت سکتا تھا۔ اس کی ذات خود ایک جہان ہے اور یہاں صرف اس کی رسائی ہو سکتی ہے۔ وہ جہاں ایک طرف اپنی ذات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہیں دوسری طرف اپنے احساسات و تأثرات سے دوسروں کو بھی آگاہ کرتا ہے۔ اپنی ذات سے متعلق انسان کا یہ دو طرفہ عمل ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ چنانچہ جب ہم دورِ جاہلی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہاں بھی فہمِ ذات اور اظہارِ ذات کی مختلف پھوٹی ہوئی اور غیر منظم کوششیں نظر آتی ہیں، جن کے عملی مظاہر آج بھی فخریہ، ہجویہ اور دوسری نوعیت کے قصائد کی شکل میں موجود ہیں۔ اسلام کی آمد کے بعد جب علوم و فنون کو باضابطہ ترقی ملی اور لکھنے پڑھنے کا رواج عام ہوا تو دوسری اصنافِ سخن کی طرح سیرت نگاری کو بھی پھلنے پھولنے کا بھرپور موقعہ میسر آ گیا۔

قبل اس کے کہ قدیم عربی ادب میں سیرت نگاری کی تاریخ اور اس کے ارتقائی مراحل کا جائزہ لیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قدماء کی اس صنف سے آگہی اور واقفیت کی تفصیلات کا پتا لگایا جائے۔ اس سے اس فن کے تعلق سے ان کے موقف کے فہم و معرفت میں مدد ملے گی اور زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ ادب کی اس اہم ترین صنف کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہا ہے ؟

 

 

 

خود نوشت سوانح عمری کے لیے مستعمل اصطلاحات

 

قدیم عربی ادب کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں خود نوشت سوانح عمری کے لیے دو الفاظ استعمال ہوتے تھے: ایک ’سیرۃ‘ اور دوسرا ’ترجمہ‘۔ عربوں کے یہاں فرد کی تاریخ نے مختلف شکلیں اختیار کی۔ ان میں اولین شکل ’سیرۃ‘ کی تھی۔ سیرۃ کا یہ لفظ ’سار، یسیر، سیراً‘ سے نکلا ہے جس کے مختلف معانی ہیں (۱) جانا، روانہ ہونا، چلنا (۲) طریقہ و مذہب (۳) سنت (۴) ہیئت (۵) حالات (۶) کردار (۷) کہانی (۸)آں حضرتﷺ کے مغازی کا بیان (۹) آپؐ کے پورے احوال زندگی کا بیان۔ ۱؎

اس لفظ کے اصطلاحی مفہوم کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ لفظی معنیٰ ’طریقہ‘ سے نکل کر شرع میں اس پر خاص معنیٰ ’طریقۃ المسلمین فی المعاملۃ مع الکافرین‘ (کافروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں مسلمانوں کا طریقہ) غالب آ گیا۔ شروع میں یہ آں حضورﷺ کی جنگوں میں طریقۂ کار کے لیے بولا جاتا تھا، بعد میں تمام امور میں آپؐ کے طریقۂ کار کے لیے بولا جانے لگا، بلکہ اس سے بھی وسیع ہو کر اس کا استعمال دوسرے لوگوں کے طریقۂ کار کے لیے بھی ہونے لگا۔ ۲؎

عربوں میں سیرت نگاری کی مختلف شکلیں رہی ہیں۔ بعض کتابیں مخصوص طور سے کسی ہستی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتی ہیں اور بعض کتابوں میں بہت سے لوگوں کے تذکرے ہوتے ہیں۔ ان سب کے لیے الگ الگ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ سرِ دست لفظ ’سیرۃ‘ یہاں زیرِ بحث ہے۔ اس کا اطلاق شروع میں صرف رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ اور غزوات پر ہوتا تھا، لیکن بعد میں عام ہو کر دوسرے لوگوں کی زندگیوں کے لیے بھی اس کا استعمال ہونے لگا۔ مثلاً عوانہ کلبی (م۱۴۷ھ) نے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ اور ان کے خاندان کی تاریخ ’سیرۃ معاویۃ وبنی امیۃ‘ کے نام سے تحریر کی۔ ۳؎ اس کا تذکرہ ابن ندیم نے کیا ہے۔ اس کا زمانۂ ظہور سیرۃ ابن اسحاق (م۱۵۱ھ) سے قریب لگتا ہے۔ بعد کے زمانوں میں یہ زیادہ عام معنوں میں استعمال ہونے لگا۔ خود سیرت نگاری کا فن جب آگے بڑھا تو اس کی بہت سی شاخیں ’طبقات‘، ’تراجم‘ اور جرح و تعدیل‘ وغیرہ کے ناموں سے وجود میں آ گئیں۔

جہاں تک لفظ ’ترجمہ‘ کا معاملہ ہے تو اس کا استعمال ساتویں صدی کے اوائل تک نہیں ملتا۔ ساتویں صدی ہجری میں سب سے پہلے یاقوت حموی نے اپنی معجم میں اس لفظ کا استعمال کسی شخص کی سوانح کے معنیٰ میں کیا۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ابو الفرج الاصفہانی نے اپنی کتاب الأغانی میں اس لفظ کا استعمال نہیں کیا، حالاں کہ انھوں نے بہت سے شعراء اور ادباء کی زندگیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ اس کی جگہ خبر اور اخبار کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لفظ ترجمہ کا استعمال اصطلاحی طور سے مختصر سوانح حیات کے لیے اور لفظ سیرت کا استعمال طویل سوانح حیات کے لیے ہونے لگا۔ یہ تفریق بھی ماضی میں تھی۔ اب جدید اصطلاح میں ان دونوں کو ہم معنیٰ تصور کیا جاتا ہے اور پھر یہیں سے ’السیرۃ الذاتیۃ‘ یا ’الترجمۃ الذاتیۃ‘ کا استعمال لفظ ’خود نوشت‘ (Autobiography) کے معنی میں ہونے لگا۔ ۴؎

 

 

 

عربی میں خود نوشت سوانح عمریوں کا آغاز

 

سیرت نگاری کا فن عربوں میں اپنی ابتدائی شکل سے لے کر آج تک مختلف شکلیں اختیار کر چکا ہے۔ اس کی تقسیم اور تہذیب نیز اسے بہتر، مفید اور ثمر آور بنانے کے لیے اس کے اصول و ضوابط اور اوصاف و خصائص کاتعین بھی کیا گیا ہے۔ سطور ذیل میں اس کی ایک مخصوص اور نازک صنف ’خود نوشت‘ سے متعلق بعض باتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

سیرت نگاری کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق جو دوسرے فنون عربوں میں متعارف ہوئے ان میں خود نوشت سوانح نگاری بھی ہے۔ غالباً اس کی طرف توجہ فارسی اور یونانی آداب سے واقفیت کے بعد ہوئی۔ ایرانیوں کے بارے میں عربوں کو یہ معلوم ہوا کہ ان کے بادشاہ اور دوسرے قومی رہ نما اپنی ذاتی زندگی اور وصیتیں اپنے لڑکوں کے لیے قلم بند کر دیا کرتے تھے، پھر دوسری قوموں کے ساتھ اختلاط کے بعد انھیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی شخصیت کے تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ جزیرۂ عرب سے باہر نکلنے کے بعد زندگی کے مختلف میدانوں میں عربوں نے جو وسیع و عریض متمدن دنیا دیکھی اور اس پر فتح حاصل کی تو انھیں اپنے تجربات و مشاہدات سے دوسرے لوگوں کو رو شناس کرانے کی فکر دامن گیر ہوئی۔ ۵؎ اس کے علاوہ بعض دوسرے اسباب بھی ہیں جن کی وجہ سے قدماء نے اپنے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ انھوں نے باضابطہ خود نوشت کا لفظ تو نہیں استعمال کیا، لیکن جو کچھ لکھا وہ اس اصطلاح کے مطابق تھا۔ یہ سوانح عمریاں اپنے مصنفین کی زندگیوں کی کس حد تک تصویر کشی کرتی ہیں اور ان میں نمائندہ کتابیں کون سی ہیں ؟ پھر ان میں کیا کمیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ؟ ان کا جائزہ آئندہ سطور میں لیا جائے گا۔

 

 

 

قدیم خود نوشت سوانح نگاری کے محرکات

 

قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مختلف مقاصد اور محرکات کے تحت لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی پشت پر ایک مقصد ہوتا ہے جو مصنف سے لکھنے کا بار بار مطالبہ کرتا ہے، جب یہ اصرار کی حد تک بڑھ جاتا ہے تو مصنف کے لیے اپنی قومی زندگی کے احوال اور نجی تجربات کا بیان ضروری ہو جاتا ہے۔ بعض مصنفین اپنی تالیفِ خود نوشت کے محرکات کا تذکرہ کر دیتے ہیں اور بعض تذکرہ تو نہیں کرتے، لیکن ان کی خود نوشت کے مطالعہ سے ان کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ خواہ مصنف تذکرہ کرے یا نہ کرے، کچھ داخلی محرکات تو ضرور کار فرما ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک سے زائد محرکات کار فرما ہوتے ہیں۔ قدیم عربی خود نوشت سوانح میں کچھ مشترک اوصاف پائے جاتے ہیں۔ خوبیوں میں یہ اشتراک عوامل اور محرکات میں اشتراک کے باعث پیدا ہوا۔ اگر عوامل و محرکات کے لحاظ سے ان خود نوشت سوانح عمریوں کی تقسیم کی جائے تو یہ کچھ اس طرح ہو گی۔

۱- مدافعانہ اور معذرت خواہانہ: اس میں مصنف اپنے کسی خاص فکر اور موقف کی وضاحت کرتا ہے اور اگر عوام و خواص میں اس کے کسی نظریہ یا عمل کے بارے میں کوئی غلط فہمی پائی جاتی ہو تواس کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قدیم عربی سرمایے میں حنین بن اسحاق، سموال بن یحییٰ المغربی اور ’طبیب مصری‘ کی خود نوشتیں اسی مقصد کے تحت لکھی گئی ہیں۔ مفصل اور طویل تالیفات میں المؤید فی الدین کی ’سیرۃ المؤید فی الدین داعی الدعاۃ‘۶؎ امیر عبد اللہ بن یلقین کی ’التبیان عن الحادثۃ الکائنۃ بدولۃ بن زیری فی غرناطہ‘ ۷؎ اور علامہ ابن خلدون کی ’التعریف بابن خلدون و رحلتہ شرقا و غرباً‘ ۸؎ اسی قسم کی خود نوشتوں میں شمار کی جاتی ہیں۔

۲- روحانی کش مکش کی تصویر گری کرنے والی: اس قسم میں وہ خود نوشت سوانح عمریاں شامل ہیں جن کے مؤلفین روحانی اعتبار سے اضطراب و انتشار کے شکار رہے ہیں، ان میں سے بعض کو کوئی متعین راہ مل گئی اور بعض آخری وقت تک یوں ہی سرگرداں رہے۔ ایسی تالیفات میں امام غزالی کی ’المنقذ من الضلال‘ ۹؎ امام رازی کی ’السیرۃ الفلسفیۃ‘، حارث محاسبی کی ’کتاب النصائح‘ کے بعض حصے اور ابن ہیثم کی اپنی خود نوشت بطور مثال پیش کی جا سکتی ہیں۔ ۱۰؎

۳- معاشرے کی رسوم اور رواج کے خلاف اپنے تاثرات کا اظہار: اس مقصد کے لیے لکھی جانے والی تالیفات میں ابو العلاء المعری کے بعض رسالے اور ابو حیان التوحیدی کی ’فی مثالب الوزیرین‘، ’فی الصداقۃ و الصدیق‘ اور ’الإمتاع و المؤانسۃ‘ ہیں۔ لیکن اس مقصد کے لیے کسی مستقل بالذات تصنیف کا پتا نہیں چلتا۔ کسی دوسرے مقصد کے تحت لکھی گئی تالیفات میں یہ مقصد بھی موجود پایا گیا ہے۔

۴- اپنی مثالی زندگی کی تصویر کشی: اس میں انشا پرداز اپنی اخلاقی، عقلی اور فکری زندگی کی تفصیلات سے آگاہ کرتا ہے، تاکہ لوگ ان سے مستفید ہوں۔ اس کی مثال عبد الرحمن بن جوزی کی ’لفتۃ الکبد فی نصیحۃ الولد‘، عبد الوہاب شعرانی کی لطائف المنن اور حلآج، ابن عربی اور سہروردی کی اپنی ذات سے متعلق تحریریں ہیں۔ خالص فکری زندگی کے تمام مراحل کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھی جانے والی تالیفات میں البیرونی، رازی، ابن الٰہیثم، سخاوی، سیوطی اور ابن طولون کی تحریریں ہیں۔ مؤخر الذکر کی تالیف کا نام ’الفلک المشحون فی أحوال محمد بن طولون‘ ہے۔ ۱۱؎

۵- زندگی کے تجربات اور اہم یادگار واقعات کو محفوظ رکھنے کی خواہش: اس میں وہ تالیفات شامل ہیں جن کی تحریر کا مقصد اپنی مفید اور مؤثر زندگی کے تجربات و مشاہدات کی تصویر کشی ہو۔ عربی ادب میں اُسامہ بن منقذ کی ’کتاب الاعتبار‘ ۱۲؎، ابن حزم کی ’طوق الحمامۃ فی الألفۃ و الالّاف‘ ۱۳؎ اور عمارہ یمنی کی ’النکت العصریۃ‘ اس قسم کی بہترین مثالیں ہیں۔

مذکورہ بالا مباحث سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عربی ادب میں اظہارِ ذات کی اعلیٰ و ارفع شکل ’خود نوشت‘ کا وجود بہت عرصہ پہلے سے رہا ہے اور یہ کہ اس کی تالیف کے محرکات بھی وہی رہے ہیں جو دوسری زبانوں میں پائے جاتے ہیں۔

 

 

 

 

خود نوشت سوانح عمریوں کے خصائص و امتیازات

 

 

قدیم عربی خود نوشت کے تعلق سے ایک اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جسے ہم آج یومیات، ذکّرات اور اعترافات کے نام سے جانتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس زمانے میں یہ اصطلاحات عام نہیں تھیں، البتہ ان کے مشمولات عربی زبان کی بہت سی تالیفات میں موجود ہیں، چنانچہ اگر ہم اس نقطۂ نظر سے عربی سرمایے کا جائزہ لیں تو قاضی فاضل کی کتاب ’فی منادماتہ‘ کا طرز، اسلوب اور مواد آج کے زمانے میں معروف اصطلاح ’یومیات‘ سے بڑی حد تک ملتا جلتا ہے۔ اسی طرح بہت سے سیاحوں نے بھی اپنے سفرنامے روز بروز تحریر کرنے کا معمول بنا رکھا تھا۔ ان کا یہ طرز بھی یومیات سے ملتا جلتا ہے۔ مذکّرات کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ ایسی تحریریں تو بہ کثرت موجود ہیں جن میں شخصیات، احوال و واقعات اور تجربات و مشاہدات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ مذکّرات سیرت کی ان کتابوں کے ساتھ مل کر بھی آئے ہیں جن میں وزراء اور حکام کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف انھیں اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں قلم بند کرتا ہے، گویا ان میں مصنف کی ذات اور دوسروں کی سیرت دونوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ اس طرح کی کتابوں میں، نسوی کی ’سلطان جلال الدین‘ اور ابن شداد کی ’سلطان صلاح الدین‘ کا نام بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ’اعترافات‘ کا سلسلہ زیادہ عام اور مقبول ہوا ہے۔ ان کا تعلق زیادہ تر روحانی اور فکری مسائل سے ہوتا ہے۔ خاص طور سے اپنے گناہوں، جسمانی لذت اندوزیوں اور دیگر لغزشوں کا بیان کر کے کبھی اظہارِ ندامت کیا جاتا ہے اور کبھی اظہار فخر۔ اسی طرح کبھی کبھی سرگرداں اور پریشان حال دکھا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں محاسنی کی ’النصائح الدینیۃ‘ اور امام غزالی کی ’المنقذ من الضلال‘ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ ابن ہیثم اور رازی کی تحریروں میں بھی اس طرح کے اعترافات بہ کثرت موجود ہیں۔ ۱۴؎

دور حاضر کی خود نوشتوں میں پر جوش انقلابیت، معاشرے سے علی الاعلان بغاوت اور روایات و اقدار کا کھلے عام استہزا اور تمسخر کا جو انداز پایا جاتا ہے، قدیم عربی ادب کی خود نوشتوں میں یہ چیز زیادہ ابھری ہوئی نہیں ملتی۔ وہاں بالعموم حوالگی اور خود سپردگی کا رنگ غالب ہے، حتی کہ بعض وہ شخصیات جن کی صلابت اور مصائب برداشت کرنے میں بے پناہ مشق و ممارست ضرب المثل تھی وہ بھی مشکلات کے سامنے سپر ڈال دیتی ہیں اور گوشہ نشینی و جلاوطنی کو ترجیح دیتی ہیں۔ گویا ان کے پیچھے ان کا یہ نظریہ کام کرتا ہے کہ ان کے بارے میں سوچنا، غور و فکر کرنا اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے سعی و کوشش کرنا ان کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ یہ قضا و قدر کے فیصلے کے تحت انجام پاتے ہیں۔ ان لوگوں میں علامہ ابن خلدون جیسے فرد بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کش مکش کا وہ احساس جو فن کی تخلیق کا باعث ہوتا ہے، قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں میں بہت کم زور ہے، البتہ نفس سے کش مکش اور تصادم تو ہر آن اور ہر لمحہ موجود ملتا ہے۔ ۱۵؎

اس کے بالمقابل اعتراف، صراحت اور نفس کی کم زوریوں کی وضاحت کا عنصر عربی خود نوشتوں میں قدرے نمایاں ہے، خاص طور سے ان لوگوں کی تحریروں میں جو کسی مخصوص فکری اور روحانی زاویۂ نظر کے مالک ہوں۔ مثلاً ابن ہیثم اس حقیقت کا صاف اعتراف کرتے ہیں کہ دینی امور میں اپنے تمام تر انہماک اور توجہ کے باوجود انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا، چنانچہ انھوں نے عقلی امور میں انہماک اور توجہ کو اپنا مقصود بنا لیا۔ اسی طرح امام غزالی نے اس کا اعتراف کیا کہ انہیں بدیہی امور کے علاوہ ہر معاملے میں شک و شبہ ہو گیا تھا، لیکن انھوں نے بعد میں اپنی اس انقلابیت کو تصوف کی آغوش میں آ کر ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ ۱۶؎ البتہ جہاں تک ذاتی زندگی میں بعض مخصوص حالات کے تحت بعض حقائق کے اعتراف کا معاملہ ہے تو عربی خود نوشتوں یا مذکّرات یا یومیات میں اس کا وجود بہت کم ملتا ہے۔ ہاں ابن حزم کو اس میدان میں ضرور یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ’طوق الحمامۃ‘ میں عشق و محبت کے بعض واقعات کا اعتراف کیا ہے اور ان کے تعلق سے اپنے دل کی گہرائیوں سے بعض حقائق پیش کیے ہیں۔ ۱۷؎

جس طرح قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں میں ہمیں انقلابیت اور اپنی کم زوریوں کے اظہار کی کمی نظر آتی ہے اسی طرح نفسیاتی عمق کی بھی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ وصف مذکورہ بالا دونوں اوصاف کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اس کا وجود بڑی حد تک فرد اور معاشرے کے درمیان اور فرد کے بارے میں اور اپنے معاشرے کے بارے میں خیالات کے درمیان ہم آہنگی اور توافق کی موجودگی پر منحصر ہے۔ یہ اس انفرادی فخر کے بالمقابل بھی بہت گہری چیز ہے جو اپنی اچھائیوں اور دوسروں کی برائیوں کے تذکرہ پر قائم رہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی سطحیت پائی جاتی ہے، کیونکہ شخصیت کی فلسفیانہ توجیہ یہاں کم زور یا ناپید ہے۔ یہاں ناولوں، افسانوں، ڈراموں اور سوانح عمریوں میں خارجی حرکات و سکنات اور عوامل کے نقل کرنے میں تو مہارت کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن اندرونِ نفس غوّاصی اور غوطہ خوری کی کوشش بہت کم ہوتی ہے، حالانکہ یہی وہ عمق ہے جس کی وجہ سے شخصیات کو بقا و دوام کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ ۱۸؎

مذکورہ بالا مباحث میں قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں کے اندر جو اہم کم زوریاں بتائی گئی ہیں ان کی موجودگی کے بعض اسباب (مثلاً طبعی نسیان، قصداً نظرانداز کرنا، فطری حیا و شرم وغیرہ) تو وہ ہیں جو ہر زبان کی خود نوشت سوانح عمریوں کے لیے مسئلہ بنے ہیں، لیکن بعض اسباب عربوں سے خاص طور پر متعلق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ عرب فطرۃً دیگر قوموں کے بالمقابل زیادہ باحیا اور خوددار واقع ہوئے ہیں۔ وہ اپنے یا اپنے بھائیوں کے مصائب طشت از بام کرنے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ عرب جس دین کے علم بردار ہیں اس کی تعلیمات اولاً اخلاقی مفاسد پر ہر طرح سے قدغن لگاتی ہیں۔ ثانیاً ان کے تذکرہ اور تشہیر کو بھی سختی سے ممنوع قرار دیتی ہیں۔ تیسرے یہ کہ عربوں کی معاشرت میں اخلاقی مفاسد کو بہر حال ہمیشہ ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ ان خود نوشتوں میں بہت زیادہ وضاحت اور صاف گوئی کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ عربوں کی سیاسی صورت حال بھی ہے۔ یہ صورت حال ہمیشہ پیچیدہ اور آزادیِ فکر و رائے پر پابندی کی قائل رہی ہے۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی نے ایک سبب کی طرف مزید رہ نمائی کی ہے، لکھتے ہیں:

’’آریوں کے بالمقابل سامیوں کے یہاں چونکہ شخصیت کا تصور بڑا پر پیچ رہا ہے، اس لیے عربوں میں خود نوشت سوانح نگاری کا فن اس قدر ترقی پذیر نہیں ہو سکا جتنا آریائی نسل کے لوگوں میں ہوا۔ انھوں نے اس ادبی صنف کو اپنی فکری اور تحریری سرگرمیوں کی جولان گاہ بنایا، یہاں تک کہ اسے ادب کا ایک اعلیٰ فن بنا دیا، کیونکہ ان کے اندر اپنی شخصیت کا احساس بہت قوی اور واضح ہے۔ عربوں میں سے جنھوں نے اس باب میں کچھ لکھا ہے ان میں سے بیش تر خالص عرب نہیں تھے، بلکہ دوسری جنسوں سے مرکب تھے ‘‘۔ ۱۹؎

قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں میں صراحت اور وضاحت کی کمی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ وصف وہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے، کیونکہ جو شخص ابن الٰہیثم، رازی اور ابن خلدون وغیرہ کی تحریروں کا مطالعہ کرے گا وہ ان میں اس وصف کی موجودگی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ابن الٰہیثم نے صاف طور سے لوگوں کے معتقدات کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی طرح محمد بن زکریا رازی نے اپنی کتاب ’السیرۃ الفلسفیۃ‘ میں رائج الوقت فلسفیانہ افکار اور معاشرتی رسوم کے خلاف اپنا ذاتی موقف پیش کیا، جس کے باعث وہ مطعون ہوئے، لیکن اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا۔ اسی طرح علامہ ابن خلدون نے بھی مختلف سیاسی و سماجی مسائل کے ضمن میں عام لوگوں سے ہٹ کر اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

اگر مضمون اور مواد سے ہٹ کر خالص فنی لحاظ سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ عہد ماضی کی بیش تر عربی خود نوشت سوانح عمریوں میں فن کی وہ تمام خوبیاں اور عناصر پائے جاتے ہیں جو انھیں عہد جدید کی خود نوشت سوانح عمریوں سے قریب کر دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا اسلوب صاف اور واضح، عبارتیں شیریں، پیش کش خوب صورت اور سلیس اور اندازِ بیان افسانوی ہوتا ہے۔ ان سے ماضی کی تمام یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور واقعات و تجربات کی تصویر کشی سے جذبات میں حرکت اور حرارت پیدا ہو جاتی ہے۔

ان خود نوشت سوانح عمریوں میں سے بیش تر نے زمانی و مکانی عناصر کے اثبات، شخصیات اور مقامات کے ناموں کی وضاحت اور تاریخ کی روشنی میں واقعات کی تفصیل وغیرہ پر توجہ دی ہے۔ اسی کے ساتھ اِن میں زبان اور اسلوب وغیرہ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس طرح یہ آپ بیتیاں کسی حد تک قاری کی توقعات پر پوری اترتی تھیں۔ چنانچہ انھیں عوام و خواص کے درمیان یکساں مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سے بعض کے افسانوی طرز بیان نے ان سے دل چسپی اور شغف میں مزید اضافہ کر دیا۔

قدیم خود نوشت سوانح عمریوں کے فنّی محاسن اور بعض کم زوریوں کا جو کچھ تذکرہ سطور بالا میں کیا گیا ہے وہ فی الواقع ان کی مجموعی تصویر ہے، ورنہ اگر انفرادی طور سے ہر خود نوشت سوانح عمری کو الگ الگ جانچا پرکھا جائے تو اس پہلو سے بھی بعض کمیاں مل سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بیش تر جدید تعریف کی رو سے خود نوشت کی فہرست سے خارج ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ بعض خود نوشت سوانح نگاروں نے اس سمت بہترین کوششیں کی ہیں اور اپنے احوال کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی اور دوسری ضروری شرطیں پوری کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی، جن میں ابن الٰہیثم، امیر عبد اللہ، محمد بن زکریا رازی، اسامہ بن منقذ، ابن خلدون اور شعرانی کا نام خاص طور سے قابلِ ذکر ہے، لیکن ان مشاہیر ادب و تاریخ کی خود نوشت سوانح عمریوں میں کسی نہ کسی پہلو سے کچھ کمیاں ایسی باقی رہ گئیں جن کے باعث وہ عربی سرمایے کی اچھی اور نمائندہ کوشش ہونے کے باوجود جدید تعریف کے مطابق مکمل نہیں قرار پاتی ہیں۔ ان میں سے دو خود نوشت سوانح عمریاں جدید تعریف پر بڑی حد تک پوری اترتی ہیں: ایک الاعتبار لأسامہ بن منقذ اور دوسری مذکّرات الأمیر عبد اللہ۔ اول الذکر زبان و بیان کے اعتبار سے فن کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ زبان سلیس اور انداز افسانوی ہے۔ اس سے مؤلف کی طویل زندگی کے تجربات اور شخصیت کے پیچ و خم ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اسی طرح امیر عبد اللہ کی خود نوشت ان کی شخصیت کے تمام مراحل کی عکاسی کرتی ہے۔ امیر عبد اللہ ایک بہترین اسلوب کے مالک تھے۔ ان کی زندگی آسائشوں اور کلفتوں سے عبارت تھی۔ اس لیے متوقع طور پر یہ ایک دل چسپ اور لائق مطالعہ خود نوشت بن گئی ہے۔ اس میں حقائق سے زیادہ تعرض کیا گیا اور تصور و خیال سے کم سے کم مدد لی گئی ہے۔

 

 

 

قدیم خود نوشت سوانح عمریوں کا اجمالی تعارف

 

 

قدیم عربی خود نوشت سوانح عمریوں کے سرمایے پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیئت اور شکل و صورت کے اعتبار سے ان کے درمیان تنوّع اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض خود نوشتیں اگر مکمل ہیں تو بہت سی غیر مکمل۔ اسی طرح بعض کی حیثیت مستقل بالذات خود نوشت کی ہے تو بعض کی حیثیت ضمنی اور ذیلی ہے۔ ٹھیک اسی طرح چونکہ یہ خود نوشت سوانح عمریاں مختلف طبقات اور مختلف میدان کے لوگوں کے ذریعہ لکھی گئی ہیں اس لیے ان کے مضمون اور دوسری تفصیلات میں بھی فرق ہے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض قدیم خود نوشت سوانح عمریوں کا تعارف پیش کیا جائے۔ ۲۰؎

۱-                       رسالۃ عن سیرۃ حنین بن إسحاق

 

حنین بن اسحاق (م۲۶۰ھ) نے یہ رسالہ یونانی طبیب اور فلسفی جالینوس سے متأثر ہو کر لکھا ہے۔ اس میں اس نے اپنی زندگی کے واقعات بیان کیے ہیں اور ان مشکلات کا ذکر کیا ہے جو اس کے حاسدین کی سازشوں سے خلیفہ متوکل کے دربار میں پیش آئی تھیں۔ یہ رسالہ ابن ابی اصیبعہ کی کتاب ’عیون الانباء فی طبقات الأطباء‘ میں مذکور ہے۔

 

۲-                       السیرۃ الفلسفیۃ                               (محمد بن زکریا رازی)

 

یہ رسالہ بھی جالینوس سے متأثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس میں رازی نے اپنی فلسفیانہ زندگی کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ابن ابی اصیبعہ کی کتاب میں اس کا کچھ حصہ موجود ہے۔

 

۳-                       النکت العصریۃ                                    (عمارۃ الیمنی)

 

یہ کتاب فی الواقع مصری وزراء کے بارے میں ہے، لیکن اس میں مصنف نے اپنی زندگی کی داستان بھی قلم بند کی ہے اور اپنی بہت سی حکایات اور قصائد کا ذکر کیا ہے۔

 

۴-                       منادمات                                  (قاضی فاضل)

 

قاضی فاضل نے اس میں اپنی زندگی کی بہت سی باتیں نقل کی ہیں۔ اس کتاب کو عربی زبان میں اعترافات کی نوعیت کی کتاب سمجھا جاتا ہے۔

 

۵-                       الفلک المشحون فی أحوال محمد بن طولون

 

دسویں صدی ہجری کے معروف مؤرخ محمد بن علی بن طولون نے یہ رسالہ مستقل طور سے اپنے حالات کے بیان میں لکھا ہے۔

 

۶-                       لفتۃ الکبد الی نصیحۃ الولد         (عبد الرحمن بن الجوزی)

 

یہ رسالہ اصلاً ابن جوزی نے اپنے بیٹے کی نصیحت کے لیے لکھا ہے، لیکن چونکہ اس میں اپنی تالیفات اور حکایات کو بھی نقل کیا ہے اس لیے اسے خود نوشت کی قبیل کا سمجھا جاتا ہے۔

 

۷-                       الضوء اللامع لأہل القرن التاسع                                                (شمس الدین سخاوی)

 

یہ کتاب نویں صدی کے لوگوں کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے اپنی زندگی کے احوال بھی بیان کیے ہیں۔

 

۸-                       الإحاطۃ فی أخبار غرناطۃ                                                                       (لسان الدین بن خطیب)

 

اس کتاب میں مصنف نے غرناطہ کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ اپنے احوال زندگی بھی شامل کر دیے ہیں۔

 

۹-                       حسن المحاضرۃ فی أخبار مصر والقاہرۃ                                                (جلال الدین السیوطی)

 

اس کتاب کا معاملہ بھی مذکورہ بالا دونوں کتابوں کی طرح ہے کہ اس میں مصنف نے اپنے احوال زندگی بھی بیان کر دیے ہیں۔

 

۱۰-         سیرۃ ابن الٰہیثم

 

اس کتاب کے بعض اقتباسات ابن ابی اصیبعہ نے اپنی کتاب میں نقل کیے ہیں۔ ابن ہیثم کی جرأت، بے باکی اور صاف گوئی قابل ستائش سمجھی جاتی ہے کہ اس نے مختلف عقائد اور دیگر مسلّم امور و روایات کے خلاف آواز بلند کی اور شک کا اظہار کیا۔ ۲۱؎

مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ بعض دوسری تحریریں بھی ملتی ہیں جن میں مصنفین نے اپنی زندگیوں کے احوال خود بیان کیے ہیں، مثلاً ابن ابی اصیبعہ ہی نے ابن سینا، موفق الدین البغدادی اور ابن رضوان کی مختصر خود نوشتیں اپنی کتاب میں نقل کی ہیں۔ ۲۲؎ اسی طرح جاحظ، ابو حیان توحیدی اور صلاح الصفدی وغیرہ کی بھی ایسی تحریریں موجود ہیں جن میں ان کے احوالِ زندگی اور حکایات و واقعات مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ بھی عربی زبان میں بعض دوسری تالیفات کا وجود ملتا ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے اپنے مصنفین کا تعارف پیش کرتی ہیں۔

 

 

 

عربی کی چند خود نوشت سوانح عمریوں کا مفصل تعارف

 

عربی زبان کی مختصر یا طویل، اسی طرح مستقل یا غیر مستقل خود نوشت سوانح حیات کے مذکورہ اجمالی تعارف کے بعد اب بعض ایسی تصنیفات کا تعارف مقصود ہے جو قدرے طویل ہیں اور جن کی حیثیت بھی مستقل بالذات جیسی ہے۔ ان میں ان کے مؤلفین نے اپنے احوالِ زندگی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ ایسی چھ قدیم کتابوں کا سطورِ ذیل میں تذکرہ کیا جا رہا ہے:

 

۱- طوق الحمامۃ فی الألفۃ و الألّاف

 

یہ کتاب ابن حزم اندلسیؒ (۳۸۴-۴۵۶ھ) کی تالیف ہے۔ امام ابن حزم مختلف دوسری خوبیوں اور اوصاف کے علاوہ فقہ کے ایک مستقل مسلک کے بانی ہیں۔ دینی امور میں ان کا تشدّد اور جارحانہ انداز معلوم و معروف ہے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی یہ کتاب اپنے جذبات محبت کی تعبیر و تفصیل کے لیے تحریر کی ہے۔ عربی زبان کے ذخیرۂ کتب میں اس کتاب کو اس حیثیت سے نمایاں مقام ہے کہ اس میں مصنف کے کم زور گوشۂ زندگی بھی دائرہ تحریر میں آ گئے ہیں۔ یوں موجودہ اصطلاح کے مطابق یہ ’اعترافات‘ کی نوعیت کی کتاب ہے۔ ۲۳؎ مصنف کی صاف گوئی اور صراحت کا عالم یہ ہے کہ مذہبی حیثیت کے حامل ہونے کے باوجود اپنے تجرباتِ عشق و محبت کھول کر بیان کر دیتے ہیں۔ اس کتاب میں ہزاروں چھوٹی چھوٹی حکایاتِ محبت مذکور ہیں۔ اس کا انداز افسانوی ہے۔ اس میں کل تیس فصلیں ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے پانچویں صدی ہجری کے اندلس کی اندرونِ خانہ صورت حال ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ صورت حال بے حد ابتر تھی۔ فارغ البالی اور خوش حالی کی وجہ سے لذت اندوزی اور نفس پرستی کا ہر طریقہ وہاں عام تھا۔ ظاہر ہے، اسی سماج سے ابن حزم کو بھی واسطہ پڑا تھا۔ انھوں نے بھی مختلف ادوار اور مراحل سے گزر کر علمی و دینی لحاظ سے شہرت حاصل کی تھی۔ انھوں نے کوئی بات مخفی نہیں رکھی اور اپنے احوالِ دل اور کیفیاتِ قلبی بڑی دقت اور مہارت سے لوگوں کے سامنے پیش کر دیں۔ ۲۴؎

اس کتاب کے ابواب اور اس کے مشمولات دیکھ کر ہی اس کے مصنف کی باریک بینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کے تیس ابو اب میں سے دس میں محبت کے اصول بتائے گئے ہیں۔ بارہ ابو اب میں محبت کے اغراض و مقاصد اور اس کی پسندیدہ و ناپسندیدہ صفات بتائی گئی ہیں۔ پھر چھ ابو اب میں محبت کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ کیا گیا ہے اور آخری دو ابو اب میں پاکیزگی کے فائدے اور معصیت کے نقصانات بتائے گئے ہیں۔ پوری کتاب میں بڑی حد تک محبت کی تمام شکلوں اور جزئیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب مصنف کی اور اس عہد کے پورے معاشرے کی زندہ تصویر پیش کر دیتی ہے۔ کتاب کی ادبی، فنی اور دوسری خوبیوں کی بنیاد پر اسے عربی زبان کی ایک بہترین خود نوشت قرار دیا گیا ہے۔ کتاب میں جگہ جگہ نفسیاتی تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ ۲۵؎

اس کتاب میں مذکورہ خوبیوں کے ساتھ بعض خامیاں بھی ہیں۔ مثلاً کتاب میں بعض واقعات کی نسبت مصنف نے صراحت سے اپنی طرف نہیں کی ہے۔ بس اشاروں کنایوں سے کام لیا ہے۔ زندہ لوگوں کے واقعات خاص طور سے بغیر نام کی صراحت کے بیان کیے ہیں۔ بہت سی یادیں بھی نسیان کی شکار ہو گئیں۔ ساتھ ہی کتاب میں اشعار کی کثرت ہے۔ کہیں کہیں صنائع و بدائع کی بھی زیادتی معلوم ہوتی ہے۔ کہیں کہیں ’عریاں ادب‘ (الادب المکشوف) کا مظاہرہ بھی ہوا ہے۔ ۲۶؎

 

۲- السیرۃ المؤیدیۃ

 

اس کتاب کے مؤلف المؤید فی الدین ہبۃ اللہ بن موسیٰ بن داؤد الشیرازی (۳۹۰-۴۷۰ھ) ہیں۔ یہ فاطمی سلطنت کے زبردست داعی تھے۔ انھوں نے اپنی اس کتاب میں اپنی زندگی کے ایک متعین مرحلہ (۴۲۹ تا ۴۵۰ھ) کی تصویر کشی کی ہے۔ ۲۷؎ یہ وہی مؤید ہیں جن کے ابو العلاء المعری سے گوشت کھانے سے اجتناب اور نباتات پر اکتفا کرنے کے سلسلے میں طویل مراسلت ہوئی تھی۔ یہ بلندی درجات اور جاہ و عزت کے حد سے زیادہ طلب گار تھے۔ مشہور بویہی فرماں روا ابو کالیجار کو انھوں نے اپنے اسماعیلی مذہب کا حامی بنا لیا، جب کہ وہ اس کا بے حد مخالف تھا۔ پھر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایران سے مصر گئے، یہاں فاطمیوں نے انہیں کوئی خاص مقام نہیں دیا۔ چنانچہ وہ پوری سلطنت میں سرگرداں رہے یہاں تک کہ بساسیری کے ساتھ مل کر خلافت عباسیہ کے خلاف سازش کی۔ اس میں انھیں کامیابی ملی اور بغداد کے منبروں پر فاطمی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ مؤید کی نظر میں یہ پورا زمانہ بے حد اہم تھا۔ وہ یہ دیکھ کر کہ کسی مؤرخ کا قلم اس کا حق ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، انھوں نے خود اس کام کی انجام دہی کا عزم کیا اور اس کے نتیجے میں یہ کتاب منظر عام پر آئی۔

مؤید نے اس کتاب میں تفصیل سے ان واقعات اور حادثات کو بیان کیا ہے جو ابو کالیجار کے دربار میں پیش آئے اور اپنے خلاف ہونے والی ان سازشوں کا ذکر کیا ہے جن کے باعث اسے ایران چھوڑ کر مصر جانا پڑا اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے بساسیری کے ساتھ مل کر خلافت عباسیہ کے خلاف سازش کرنے میں کامیابی ملی؟ اس کے اسباب و عوامل کیا تھے ؟ ۲۸؎ ان امور کے علاوہ کتاب میں جگہ جگہ دوسرے دینی، فقہی اور معاشرتی امور کا تذکرہ ہے۔ ان سے مصنف کی قوتِ مناظرہ اور بحث و جدال کا ثبوت ملتا ہے۔

کتاب میں مصنف کے تین اہم مراحلِ حیات کی تصویر کشی تین الگ الگ ابو اب میں کی گئی ہے۔ یہ کتاب چونکہ ایک پر آشوب دور کی یادگار ہے اس لیے اس کی تاریخی، معاشرتی اور سیاسی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاذ محمد حسین کامل نے اِسے صرف مصنف کی سوانح حیات نہیں، بلکہ پورے نصف صدی کی تاریخ کا ایک اہم مأخذ قرار دیا ہے۔ ۲۹؎ بلاشبہ مصنف کا اپنے زمانے کے حالات سے بڑا گہرا ربط و تعلق تھا، اس لیے اس عہد کے بارے میں تفصیلی معلومات ان کی اس کتاب سے مل جاتی ہیں۔

کتاب کی اس اہمیت کے باوجود اس پر بعض اعتراضات بھی کئے گئے ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ مصنف نے بہت سے پرپیچ مسائل میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے اور دوسرے فاطمی مبلغین کی طرح پردہ داری سے کام لیا ہے۔ خود اپنی زندگی کی بہت سی تفصیلات سے پردہ نہیں اٹھایا ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی (پیدائش سے لے کر تعلیم و تربیت تک) بالکل پردۂ خفا میں ہے۔ ۳۰؎ دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلوب پیچیدہ ہے۔ اس میں سلاست اور روانی نہیں ہے۔ سجع کا بہ کثرت استعمال ہے، جب کہ خود مصنف نے ابو العلاء کے بعض رسائل میں اسے عیب قرار دیا تھا۔ ۳۱؎ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کتاب میں غرور اور تعلّی کے احساسات غالب ہیں، ہر جگہ اپنے وقار اور اَنا کا تحفّظ کیا گیا ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ واقعات کی تاریخ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے، چنانچہ پانچویں صدی ہجری کی کسی تاریخی کتاب کی مدد کے بغیر بہت سی باتیں واضح نہیں ہو پاتی ہیں۔ ۳۲؎

مذکورہ بالا بیش تر اعتراضات اپنی جگہ پر صحیح ہیں، لیکن اس سے قطع نظر بہ حیثیت ایک خود نوشت اس کی اہمیت مسلم ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین کامل نے اپنی کتاب ’فی أدب الفاطمیۃ‘ میں اسے اپنے موضوع پر بہترین کتاب قرار دیا ہے اور اس کو عربی زبان میں خود نوشت سوانح نگاری کی اولین کوششوں میں شامل کیا ہے۔ ۳۳؎

 

۳- التعریف بابن خلدون و رحلتہ غرباً و شرقاً

 

علامہ ابن خلدون کا زمانہ بھی پر آشوب، پرپیچ اور اضطراب انگیز رہا ہے، چنانچہ انھوں نے اپنی سوانح قلم بند کی اور اس میں اپنی ابتدائی زندگی کی تفصیلات بھی فراہم کر دیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں ان کے خطوط اور اشعار کی بھی معتدبہ تعداد ہے۔ لیکن اس کی تالیف کا بنیادی مقصد کچھ امور کی وضاحت اور تفصیل پیش کرنی تھی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ اندلس میں انھوں نے بہت سے انقلابات میں شرکت کی ہے۔ لوگ، یہاں تک کہ ان کے دوست لسان الدین ابن الخطیب بھی انھیں ناپسند کرنے لگے تھے۔ اسی طرح مصر میں انھیں متعدد بار قضا کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن ہر بار انھیں معز ول کر دیا گیا، اس سے یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اس کا سبب لوگ خود ان کو قرار دینے لگیں۔

مذکورہ دو اسباب اور بعض دوسرے اسباب کی بنا پر انھوں نے اپنی خود نوشت تحریر کی۔ اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی کی جزئیات کا اِحاطہ کرنا اپنا مقصود نہیں بنایا تھا، چنانچہ اپنی ابتدائی بیس سال کی زندگی چند صفحات میں سمیٹ دی اور بچپن و نوجوانی کے بہت سے امور و مسائل سے تعرض نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی علمی اور سیاسی تاریخ لکھنا زیادہ مقدم سمجھتے تھے، خاص طور سے وہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے۔ اپنی کتاب میں تاریخ اور سنین لکھنے کا انھوں نے بہت زیادہ اہتمام کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے اساتذہ، شیوخِ طریقت اور ساتھیوں کے بہت سے واقعات کی تاریخ بھی لکھ دی ہے۔ ۳۴؎ یہ اس کتاب کا ایک اہم وصف ہے۔ اس میں خاص طور سے اس عتاب کا ذکر ہے جو مختلف حکم رانوں کی طرف سے ان پر نازل ہوتا رہا اور انھوں نے ہر ایک کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ان کی طرف سے اس وقت بھی، جب یہ واقعات پیش آئے اور ان واقعات کو قلم بند کرتے وقت بھی، کسی طرح کا منفی رد عمل ظاہر نہیں ہوا۔ یہ بڑے ظرف کی بات ہے۔ ۳۵؎

ابن خلدون کی اس کتاب پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں مراسلات کی کثرت ہے۔ ۳۶؎ مراسلات اگر بہ قدر ضرورت نقل کر لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس کتاب میں طویل مراسلات بے موقع اور بے محل نقل کیے گئے ہیں۔ ابن خلدون کو خود اس کا احساس تھا کہ ان سے کتاب کا مقصد فوت ہو جائے گا، لیکن وہ اسے افادۂ عام کے لیے نقل کرنے پر مصر تھے۔ وہ صرف اپنے مراسلات ہی نہیں، بلکہ دوسروں کے مراسلات بھی نقل کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے ساتھی ابنِ خطیب کے دس صفحہ کے ایک مراسلے کو پورا نقل کر دیا ہے۔ ۳۷؎ اسی طرح اس کتاب پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں بعض واقعات و حادثات کی تکرار ہے اور بعض واقعات مقصد سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ علامہ ابن خلدون ان کے نقل کرنے کو حق بہ جانب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے قاری کو مراجعت میں آسانی ہو گی۔ ۳۸؎ اس کتاب پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس میں ابن خلدون کے فکری ارتقا، اسلوب تحریر اور فلسفۂ زندگی کے بارے میں تفصیلات نہیں ہیں۔

ان اعتراضات کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کتاب ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔ اس میں ایک زمانے کے سیاسی اور معاشرتی احوال کی بہترین تصویر بیان کر دی گئی ہے۔ ان احوال سے مصنف کا خود گہرا تعلق تھا۔ تفصیلات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور معتدل شخصیت کے مالک تھے۔ قضا کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں انھوں نے حق کا دامن ہمیشہ تھامے رکھا۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں، انھیں متعدد بار معز ول کیا گیا، لیکن وہ جادۂ حق سے کبھی منحرف نہیں ہوئے۔ اولاً وہ قضا کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے تھے، لیکن بادشاہِ وقت کی طرف سے کسی اصرار کو ٹالتے بھی نہیں تھے۔ عزل و نصب کے سلسلے میں بادشاہِ وقت کے تمام اقدامات کو وہ قبول کرتے تھے اور ان پر کوئی ردِّ عمل ظاہر نہیں کرتے تھے۔ ۳۹؎

 

۴- کتاب الاعتبار

 

یہ کتاب مشہور مرد مجاہد اسامہ بن منقذ (م۵۸۴ھ) کی یاد گار ہے۔ مذکّرات کی نوعیت کی یہ کتاب مصنف کی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کو عام فہم انداز میں پیش کرتی ہے۔ اپنی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اسے چھٹی صدی ہجری کے حالات و واقعات کے بارے میں واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مصنف نے اس میں خاص طور سے شام اور مصر کے اسلامی معاشرے اور صلیبی جنگوں میں اپنی شرکت اور شجاعت و جواں مردی کے واقعات بیان کیے ہیں۔ عہد ایوبی میں صلیبی جنگوں کا جو طویل سلسلہ رہا ہے اس کے بارے میں یہ کتاب بیش قیمت مواد فراہم کرتی ہے۔ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کا مصنف بہترین شاعر، ادیب اور سپہ سالار تھا، اس لیے اسے کوئی واقعہ قلم بند کرنے میں دقّت پیش نہیں آئی۔ واقعات کی جمع و تدوین میں صداقت، امانت اور عدل و انصاف کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس کا اعتراف مسلم محققین کے علاوہ مستشرقین کو بھی ہے۔ ۴۰؎

کتاب کا مرکزی موضوع مصنف کی جواں مردی اور شجاعت کا بیان ہے۔ مصنف نے بچپن کی زندگی سے ایسے واقعات نقل کیے ہیں جو اس کی بہادری پر دلالت کرتے ہیں۔ اس جوہرِ گراں مایہ کی دیکھ ریکھ اور تزئین و آرائش میں ان کے والد کی تربیت کا خصوصی دخل تھا۔ وہ ان کے کسی بھی جرأت مندانہ اقدام پر نکیر نہیں کرتے تھے۔ ۴۱؎

مصنف کو شکار کھیلنے سے بھی بہت زیادہ دل چسپی تھی۔ اس سے متعلق کئی واقعات کتاب میں ذکر کیے گئے ہیں، جو ان کی بے خوفی، ہمت اور حوصلے کی بہترین دلیل ہیں۔ اسی طرح صلیبیوں کے ساتھ معرکہ آرائی کے بے شمار واقعات مذکور ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں یہ فلسفہ بار بار دہرایا ہے کہ ’موت کا ایک وقت متعین ہے، یہ اپنے وقت پر آئے گی، انسان اگر جلدی مرنا چاہے تو یہ اس کے لیے ممکن نہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے خطرات میں اپنے کو ڈالتا رہے ‘۔ ۴۲؎

کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں مسلم اور عیسائی مردوں اور عورتوں کی نفسیات اور طبائع کا بہترین مطالعہ کیا گیا ہے۔ قاری اسے پڑھ کر دل چسپی کا بہت سا سامان پا لیتا ہے۔ اس میں اپنی ذات کی مبالغہ آمیز مدح و توصیف بھی نہیں ہے۔ البتہ اس کتاب کی کمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں زبان کہیں کہیں بے ربط معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنف نے پیرانہ سالی میں اسے ترتیب دیا اور کسی کی مدد سے اسے مدون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ غلطیاں باقی رہ گئی ہیں۔ کتاب میں عوامی زبان کے الفاظ اور ترکیبیں بھی ہیں، کیونکہ مصنف کا عوامی زندگی سے گہرا رابطہ تھا اور وہ اس کتاب کو ہر طبقہ کے لوگوں کے لیے لکھ رہا تھا۔

 

 

۵- المنقذ من الضلال

 

یہ کتاب مشہور اسلامی مفکر اور فلسفی امام غزالیؒ کی تحریر کردہ ہے۔ اس میں انھوں نے اپنے اندرون میں برپا اس کش مکش کی تصویر کھینچی ہے جو فکر و فلسفہ کی وادیوں میں سرگرداں ہونے کی وجہ سے انھیں درپیش تھی۔ ۴۳؎ حتّیٰ کہ شدید روحانی اضطراب و انتشار سے دوچار ہونے کے بعد انھیں حق کی معرفت ہوئی اور ریب و تشکیک کا زمانہ ختم ہوا۔ وہ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھیں علم و معرفت کی راہ میں مشکلات و مصائب برداشت کرنے کا شوق بچپن سے تھا۔ وہ ہر بات کا تنقیدی مطالعہ کرتے تھے۔ تقلید و اتباع ان کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھی۔ اپنی اس طبیعت کی وجہ سے وہ تمام موروثی عقائد اور روایات پر شک کرنے لگے۔ حقیقت کی تلاش میں انھوں نے مختلف فلسفیانہ مسالک کا مطالعہ کیا، لیکن کہیں تشفی نہیں ہوئی۔ آخر کار تصوف کا مطالعہ کیا اور یہاں ان کی متاعِ گم شدہ انھیں حاصل ہو گئی۔ وہ صوفیہ سے بے حد متأثر ہوئے اور انھیں اپنا آئیڈیل بنایا۔ اس نئی یافت کے بعد وہ دنیا اور اس کے علائق سے کنارہ کش ہو گئے، حالاں کہ ان کے ساتھیوں نے انھیں روکا، لیکن وہ بغداد میں اپنا علمی و تدریسی حلقہ چھوڑ کر شام، فلسطین اور حجاز چلے گئے، آخری وقت میں پھر بغداد لوٹ آئے، لیکن اپنی قلبی کیفیت کی تسکین و تسلی کے لیے وہ برابر تصوف سے جڑے رہے۔ کیوں کہ یہی مسلک ان کے نزدیک مبنی برحق تھا۔ ۴۴؎

امام غزالی کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اپنی روحانی سراسیمگی اور قلبی اضطراب کی پوری تصویر کھینچ دی ہے۔ کسی بات کو کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ امت کے درمیان امام غزالی کو جو مقام حاصل تھا اس کی بنا پر اگر وہ چاہتے تو بہت سی باتیں چھپا لے جاتے، کم از کم عقائد میں اپنے ریب و تشکیک کا تذکرہ نہ کرتے۔ ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت بیان کرنے پر بھرپور قدرت رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں جس طرح انھوں نے مختلف مواقع پر اپنے اندرونی جذبات و احساسات کی تعبیر کی ہے وہ ان کی قوتِ بیان اور اظہار ما فی الضمیر کی بہترین مثال ہے۔

 

۶– مذکّرات الأمیر عبد  اللہ

 

یہ کتاب، جیسا کہ نام سے واضح ہے، غرناطہ کے آخری مسلم فرماں روا امیر عبد اللہ کی خود نوشت ہے۔ ان کی زندگی سازشوں، آزمائشوں اور تباہیوں کے درمیان گزری۔ انھیں ایک طرف عیسائیوں کا مقابلہ کرنا تھا تو دوسری طرف مرابطین کے فرماں روا یوسف بن تاشقین کی ناراضی، عتاب اور حملے سے بچنا تھا۔ حکومت کم زور ہو چکی تھی اور مفاد پرست وزراء اور امراء دونوں طرف ساز باز کر کے امیر عبد اللہ کو ہر طرح سے مفلوج کر دینا چاہتے تھے۔ افواہوں کا بازار گرم تھا اور امیر کے ہر عمل اور حرکت کی غلط اور بے بنیاد تعبیر پیش کی جا رہی تھی۔ ۴۵؎ ان حالات میں امیر نے اپنی خود نوشت لکھنے کا فیصلہ کیا اور اپنے خلاف عائد کردہ تمام الزامات کا جواب دیا اور اپنے تمام اقدامات اور اپنی تمام پالیسیوں کی وضاحت کی۔ انھوں نے صورت واقعہ بلا کسی کمی یا زیادتی کے لوگوں کے سامنے رکھ دی۔

یہ کتاب جلاوطنی کے زمانے میں لکھی گئی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مرابطین نے اس کے مصنف کو خالی ہاتھ، بے یار و مددگار غرناطہ سے نکال دیا۔ ایک شخص جو کبھی ہر چیز کا مالک رہا ہو اس کے لیے ویرانی، بے سرو سامانی اور تنہائی کی زندگی کتنی اذیت ناک ہو گی اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس عالم میں انسان جو کچھ لکھتا ہے اس میں جذبات کی حرارت اور حقائق کی صداقت کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ امیر عبد اللہ کی خود نوشت میں یہ سب کچھ ہے، اس کے مطالعہ سے قاری بے حد جذباتی ہو جاتا ہے۔ ۴۶؎ اور اس کی تمام ہم دردیاں مصنف کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ امیر عبد اللہ نے اس کتاب سے اپنا دفاع کرنا چاہا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت ہر طرح کے دفاع سے بالاتر ہے۔ تاریخ خود صحیح اور غلط کو واضح کر دیتی ہے۔

اس کتاب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں مصنف کی ذاتی زندگی اور نجی حالات کے ساتھ ساتھ اندلس کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا بھی صاف اور واضح نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ایک قیمتی تاریخی دستاویز قرار پاتی ہے جس سے مصنف کی شخصیت اور اس عہد کے معاشرے کی صورت حال دونوں کے حقائق نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اس کتاب کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس کا انداز بیان ادبی ہے۔ امیر عبد اللہ کا امتیاز ہی ان کا شیریں اور دل چسپ ادبی اسلوب ہے۔ اس میں مکالمات کو اس طرح فنی قالب میں پیش کیا گیا ہے کہ پوری صورت حال اپنی حقیقی شکل میں سامنے آ جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان مکالمات کو جان دار انداز میں پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت حاصل تھی۔ انھوں نے زندگی کے واقعات میں حرکت اور حرارت پیدا کر دی اور اسے خیال اور تصور کی جس مقدار سے مزین کر دیا، عربی خود نوشتوں میں اس کی نظیر مشکل سے ملے گی۔ اس لیے اپنی خوبیوں کی بنیاد پر یہ کتاب قارئین کی جمالیاتی حس کو بیدار کر دیتی ہے اور اس کے اندر مزید مطالعہ کا شوق پیدا کرتی ہے۔ اسے بار بار پڑھنے سے اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ڈرامہ یا افسانہ ہے، حالانکہ بات ایسی نہیں ہے۔ یہ اس کی فنی خوبی ہے۔ مصنف کی پیش کش کا انداز ہی نرالا ہے۔ ۴۷؎

٭٭٭

 

 

 

 

حواشی و مراجع

 

۱؎    القاموس المحیط، فیروز آبادی، ۲/۵۶

۲؎    اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب لاہور

۳؎    علم التاریخ عند المسلمین، روزنتال، ترجمہ الدکتور صالح احمد العلی، ص۱۴۱

۴؎    الترجمۃ الذاتیہ، یحییٰ ابراہیم، ص۳۱

۵؎    الموت والعبقریۃ، عبد الرحمان بدوی، ص۱۱۹

۶؎    ناشر: دارالکاتب العربی ۱۹۴۹ء

۷؎    ناشر: دارالمعارف، مصر ۱۹۵۵ء

۸؎    ناشر: اللجنۃ، مصر ۱۹۵۱ء

۹؎    ناشر: مکتبۃ الانجلو ۱۹۵۲ء

۱۰؎   عیون الانباء فی طبقات الاطباء، ابن ابی اصیبعہ، الٰہیئۃ، ۱۸۸۲ء

۱۱؎   تحقیق محمد کرد علی-ط احمد عبید بدمشق

۱۲؎   تحقیق فیلپ حتی، ط-برنستون

۱۳؎   ط-قاہرہ ۱۹۵۵ء

۱۴؎   عیون الانباء فی طبقات الاطباء، ابن ابی اصیبعہ، الترجمۃ الشخصیۃ، شوقی ضیف، ص۱۲/۳۶

۱۵؎   فن التراجم، عادل غضبان، مجلۃ الکتاب، ج۷، اپریل ۱۹۴۹ء، ص۵۰۷-۵۰۸

۱۶؎   حضارۃ الاسلام، جردینام، ترجمہ عبد العزیز توفیق، ص۴۴۷-۴۴۸

۱۷؎   فن السیرۃ، احسان عباس، ص۱۲۱-۱۲۲

۱۸؎   ایضاً، ص۱۲۳

۱۹؎   الموت والعبقریۃ، عبد الرحمان بدوی، ص۱۱۵

۲۰؎   قدیم عربی خود نوشت کی تفصیلات، طبقات الاطباء، از ابن ابی اصیبعہ، الموت والعبقریۃ،    از عبد الرحمان بدوی اور معجم الأدباء ازیعقوب حموی سے مأخوذ ہیں۔

۲۱؎   الترجمۃ الشخصیۃ، شوقی ضیف، ص۱۲، ۹۳

۲۲؎   طبقات الاطباء، ابن ابی اصیبعۃ، ج۲، ص۲، ۳، ۹۲، ۹۹

۲۳؎   فن السیرۃ، احسان عباس، ص۱۲۱

۲۴؎   طوق الحمامۃ، ابن حزم، ص۲۹

۲۵؎   فن السیرۃ، احسان عباس، ص۱۲۲-۱۲۳

۲۶؎   اس کی ایک مثال کتاب کے صفحہ نمبر ۶۲ پر موجود ہے۔

۲۷؎   السیرۃ المؤیدیۃ، المؤید فی الدین، دارالکتاب العربی المصری، ۱۹۴۹ء

۲۸؎   السیرۃ المؤیدیۃ، ص۶۰-۶۹

۲۹؎   فی ادب مصر الفاطمیۃ، محمد کامل حسین، ص۱۱۶

۳۰؎   مقدمہ محمد کامل حسین لکتاب السیرۃ المؤیدیۃ، ص۱۳

۳۱؎   فن السیرۃ، احسان عباس، ص۱۳۰

۳۲؎   دیوان المؤید، تحقیق محمد کامل حسین ص۱۶۹

۳۳؎   ایضاً، ص۱۱۷

۳۴؎   التعریف بابن خلدون، ابن خلدون، ص۱۲، ۶۰

۳۵؎   ایضاً، ص۶۷

۳۶؎   ایضاً، ص۸۲-۸۴

۳۷؎   ایضاً، ص۱۳۰

۳۸؎   ایضاً، ص۲۷۸

۳۹؎   فن السیرۃ، احسان عباس ص۱۲۰

۴۰؎   مقدمہ فلیب حتی لکتاب الاعتبار،ص ب

۴۱؎   کتاب الاعتبار، ص۱۰۲

۴۲؎   کتاب الاعتبار، ص۱۶۲

۴۳؎   المنقذ من الضلال، الغزالی، ص۳۳-۴۰

۴۴؎   ایضاً، ص۵۱

۴۵؎   ذکّرات الأمیر عبد اللہ، ص۱۲۱

۴۶؎   بطور مثال کتاب کا صفحہ نمبر ۱۵۸ دیکھا جا سکتا ہے۔

۴۷؎   الترجمۃ الذاتیۃ، دکتور یحییٰ ابراہیم، ص۴۱

٭٭٭

ماخذ: ’تحقیقاتِ اسلامی‘، علی گڑھ، جولائی تا ستمبر ۲۰۰۸ء

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل