ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

بین کرتی آوازیں

 

 

نسترن احسن فتیحی

 

 

کوئی کہانی زندگی کا واضح اور مکمل چہرہ نہیں دکھا سکتی۔ یہ بکھرے ہوئے ریزوں میں اپنی موجودگی درج کراتی رہے گی اور زندگی کی گزرگاہ پر اپنے اپنے حصوں کی کرچیاں سمیٹ کر ہم اپنا وجود زخمی اور روح روشن کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ تاکہ آنے والے زمانوں کے لیے اس راہ گزر پر انسانیت کے ادراک کا جو دیا روشن ہے وہ ہمیشہ روشن رہے۔

نسترن

 

 

مصنفہ کا تعارف

 

نام/ قلمی نام: نسترن احسن فتیحی

والد: مرحوم سید محمد احسن

والدہ: مرحومہ حمیدہ احسن

تاریخ پیدائش: ۱۷ جنوری ۱۹۶۳ء

مقام پیدائش: سمستی پور، بہار (انڈیا)

تعلیم: ایم اے اردو  (گولڈ میڈلسٹ)، ۱۹۸۶ء

پی ایچ ڈی پنجاب یونیورسٹی (چنڈی گڑھ)۱۹۹۱ء

مستقل سکونت: علی گڑھ (یو پی) انڈیا

شوہر کا تعارف: سابق پروفیسر علی رفاد فتیحی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

بیٹیاں: ڈاکٹر سنبل فتیحی، ڈاکٹر سمن فتیحی

اعزازات: یوپی اردو اکیڈمی سے ’’ایکوفیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘‘ کو پہلا انعام حاصل ہوا اور بہار اردو اکیڈمی سے ’’ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘‘ کو دوسرا انعام ملا۔

ناول: ۔

لفٹ۔ (پہلا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۰۳ء، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ۔

لفٹ (دوسرا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۷ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

نوحہ گر۔ مطبوعہ ۲۰۲۱ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

تنقید و تحقیق: ۔

’’ایکو فیمینزم اور عصری اردو تانیثی افسانہ‘‘۔ (پہلا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۶ء ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

’’ایکو فیمینزم اور عصری اردو تانیثی افسانہ‘‘۔ (دوسرا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۸ء۔ عکس پبلیکیشن کراچی پاکستان۔

’’قانونی فرہنگ‘‘ این سی پی یو ایل کے لیے ایک پروجکٹ ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۸ء۔

دیگر ادبی سرگرمیاں: ۔

آن لائن اردو جریدہ ’’دیدبان‘‘ کی مجلسِ ادارت کے ساتھ ساتھ کتابی سلسلہ کی تزئین، ترتیب اور اشاعت میں سلمیٰ جیلانی اور سبین علی کے ساتھ شامل۔

کتابی سلسلہ: ۔

(۱)دیدبان۔ جلد۔ ۱۔ ’عالمی ادب سے انتخاب ‘ مطبوعہ ۲۰۱۷ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

(۲) دیدبان۔ جلد۔ ۲۔ ’عالمی ادب سے انتخاب‘ مطبوعہ ۲۰۱۸ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

(۳)دیدبان۔ جلد۔ ۳۔ ’عالمی مزاحمتی ادب‘ مطبوعہ ۲۰۲۱ء،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

https: //www.deedbanmagazine.com/

بلاگ نوحہ گر: ۔

nauhagerblogspot.com

ای میل ایڈریس: ۔

fatihi.nastaran@gmail.com

٭٭٭

 

انتساب

 

 

والد محترم محمد احسن اور امی حمیدہ احسن

خسر محترم علی عباد فتیحی اور ممی زاہدہ خاتون

کے نام

کہ جن کی شفقت، محبت، تربیت اور دعائیں۔۔۔

زندگی کے سخت ترین سفر میں سائبان کی طرح ہر سرد گرم سے بچاتی رہیں۔

 

 

پیش لفظ

 

ادب انسانی ذہن کی اعلیٰ ترین تخلیقی کارگزاری ہے۔ ادب کے ذریعے انسان نے اپنے اندر چھپے رموزِ فطرت کو اپنے تخیل، ماحول اور گرد و پیش کے انسلاک سے ایسے طور بیان کیا کہ سامع و قاری اسی تجربے، لطف و انبساط اور کرب سے ہم آشنا ہوئے جس سے اس معاشرے کا ایک اہم اور حساس فرد (ادیب) گزرتا ہے۔ اسی تخلیقی تجربے نے انسانی قوتِ اظہار و قوتِ مخترع کو ارتقاء کی ایسی سیڑھی پہ چڑھایا جس کا عمل ہنوز جاری و ساری ہے۔ جب تک انسان ہر نئے وقت و ماحول میں نئے تجربے، نئی بصیرت سے گزرے گا وہ دوسروں کو ادب کے واسطے اُس آگہی میں شامل کرتا رہے گا۔ قیاس ہے کہ انسان نے ازمنہ قدیم میں ادب سے ناطہ آگہی کے عذاب سے گزرنے کے بعد ہی جوڑا ہو گا۔

آگہی کی روشنی جہاں انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے وہیں اس کی تپش انسانی ذہن کے درون کو مسلسل سلگائے رکھتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہوتی ہے کہ ایک انسان جو اچھا بھلا اپنی زیست کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے، قلم سے ناطہ اس کی معاشی ضرورت بھی نہیں وہ لکھنے لگ جائے اور لکھے بھی وہ کہانیاں، وہ آوازیں جنھیں عام لوگ سنیں تو یوں سنیں گویا خاموش صدائیں ہوں۔ کسی اخبار کے اندرونی صفحات میں لگی دو کالمی مختصر خبر جو کبھی مرکزی صفحات پہ آویزاں چکا چوند تصاویر اور چٹ پٹی خبروں جیسی اہمیت حاصل نہیں کر سکتی، انسانی رویوں کے تضادات اور نئے نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچے میں جکڑے بمشکل سانس لیتے لوگ، یہ کہانیاں جب افسانوں میں ڈھلتی ہیں تو متن اور بین المتن سماج کے وہ تضادات سامنے لاتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کا پروان چڑھایا ہوا مشتہر بیانیہ ہرگز نہیں ہوتا۔

نسترن فتیحی بنیادی طور پہ ناول نگار ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو ناول ’’لفٹ‘‘ اور ’’نوحہ گر‘‘ منظرِ عام پر آ چکے ہیں لیکن جب وہ افسانہ لکھتی ہیں تو اس میں ناول نگاری کا شائبہ تک نہیں ملتا۔ ان کے کردار اور واقعات بڑی مہارت سے مختصر بیانیے میں سموئے ہوتے ہیں اور اکثر افسانوں میں کسی ایک احساس، واقعے یا ایک کیفیت کو لے کر بُنی گئی کہانی میں وحدتِ تاثر و حسنِ اظہار کا عمدہ نمونہ ملتا ہے۔ ان کے تخلیقی وفور و اسلوب کی بات کی جائے تو نسترن فتیحی کی تحریروں میں سب سے نمایاں خصوصیت معاشرتی اور انسانی فطرت کے تضادات ہیں۔ خواہ وہ انفرادی و داخلی سطح پہ کوئی کہانی لکھیں یا سماج کے بڑے گروہ کو لے کر کوئی موضوع منتخب کریں، کردار کوئی بھی ہوں وہ تضادات کو نشان زد کیے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہی تضادات حساس ذہن کی آگہی کا سامنا ہونے پہ مصنفہ کی میوز muse  بنتے ہیں۔ ان کے سامنے چیختا چلاتا نعرے لگاتا ہجوم میوٹ mute ہو جاتا ہے اور پس منظر میں کسی این فرینک کی پرانی ڈائری بلند آہنگ میں اپنا احتجاج رقم کروانے لگ جاتی ہے۔ کئی بار ایسا لگتا ہے کہ کہانی میں محض مصنفہ کی ذات اظہار نہیں پا رہی بلکہ اس میں پورا سماج ایک اکائی بن کر اظہار پا رہا ہے۔

ان کے کرداروں میں وہ خبریں سانس لیتی ہیں جنھیں کمرشل مفادات کے لیے اخبار پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ ان میں پسے ہوئے دیہی طبقات کی صدائیں ہیں اور تیز تر شہری ثقافت میں زندگی کے ساتھ دوڑتے بھاگتے بچھڑ جانے والے، سانس بحال کرنے کی تگ و دو کرتے محنت کش ہیں۔ جو چاہ کر بھی اپنی کہانی خود بیان نہیں کر سکتے مگر نسترن فتیحی کا حساس قلم ان کی آواز بنتا ہے۔

’’ڈائل ٹون‘‘ سے لے کر ’’انگلی کی پور پہ گھومتا چاند‘‘ یہ دو افسانے اصل میں ماضی سے حال کا وہ تیز ترین سفر ہے جس میں کبھی رشتے پاس تھے تو بد عنوان معاشرے میں اصول پرست انسان کے اصول شکست خوردہ ہوتے رہے اور جب ٹیکنالوجی کی ترقی نے ڈائل ٹون والے فون سے چھٹکارہ دلایا تو اپنے پیارے فون کے میسینجر میں چیٹ ہیڈ کی صورت گھومتے ہوئے چاند دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چاند جو کردار کے لیے بہت اہم اور عزیز ہیں، کیسے ٹیکنالوجی انھیں قریب تو لے آئی ہے مگر یہ ایسی قربت ہے جس میں فاصلے ایک آنسو کی صورت آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہیں۔

’’کال بیلیا‘‘ ایک تانیثی مزاحمتی افسانہ ہے جس میں مرکزی کردار، خانہ بدوش اور نیچ سمجھی گئی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ باہر کی دنیا میں وہ پرفارمنگ آرٹ میں بطور رقاصہ بڑا نام کما کر بھی اپنے علاقے میں ایک محکوم اور نچلی ذات کی عورت ہو کر ظلم سہتی اور پھر مزاحم ہو جاتی ہے۔ یہ عورت تانیثیت کا استعارہ ہے۔ ’’نسل‘‘ افسانے میں جنگلات کے قریب رہنے والے پسماندہ لوگوں کی حالت زار بیان کی گئی ہے اور کیسے ایک نایاب نسل کے شیر کی مادہ کو بچانے کی خاطر تمامتر سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے مگر ایک انسانی عورت اسی دوران نقل و حرکت پہ پابندی سے کس طرح تن تنہا دردِ زہ کی شدت برداشت کرتی ہے۔ یہ افسانہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں اپنی اپنی نسل کے تحفظ کے لیے جبلت کے کیا مطالبات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ افسانہ بین السطور مفاہیم کے کئی در وا کرتا ہے۔

پرچھائیں، پروا کسے ہے، ایڈہیسیو اور سادہ اوراق مابعد جدے دیت کے رنگ میں شہری زندگی کے پسِ منظر میں انسان کے اندر دھیرے دھیرے سلگتے وہ احساسات ہیں جنھیں ترقی کی چکا چوند میں بڑی سہولت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انسان ترقی تو کر رہا ہے مگر اس ترقی کا جو خراج اسے ادا کرنا پڑ رہا ہے وہ بھی معمولی نہیں۔

نسترن فتیحی کے افسانے کسی بھی قاری پہ الگ الگ طور پہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان افسانوں کے بارے میں بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مراعات یافتہ کو بے چین کرنے کے ساتھ ساتھ اسی وقت پسماندہ اور بے چین افراد کے احساسات پر نرم پھائے جیسے ہیں۔

سبین علی

25 اپریل 2023ء

لاہور

٭٭٭

 

دیباچہ

ابھی ہم انسان اور انسان کے درمیان کی جنگ، نفرت اور مقابلے کی نفسیات سے پوری طرح نکلے بھی نہیں تھے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے جہاں اب انسان اور مشین کے درمیان مقابلہ اور جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ہم نو آبادیاتی ترقی کا فائدہ جتنا بھی اٹھا لیں اس کے مضمرات کا نقصان بھی ہم انسانوں کو ہی اٹھانا ہے۔ یعنی آج جب تکنیکی ترقی کے اس دور میں عصری ادب میڈیا کا حصہ بن چکا ہے اور اس نے اپنی حدود کو مختلف جہتوں میں بڑھا دیا ہے، ہم اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو نقصان سے بھی ہم ہی نبرد آزما ہیں۔ اب ہم ایک مکمل نئی دنیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب ہمارے سامنے میٹا ورس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی شکل میں مزید نئے چیلنجز ہیں جو ترقی کے ساتھ ساتھ انسانیت اور انسانی رشتوں کے لیے تنزل کی نئی کہانیاں رقم کریں گے۔ اس لیے اس سے جڑے نئے نئے موضوعات ہمارے ذہن و دل پر دستک دینے کو تیار ہیں۔

اس سے پہلے کہ اس نئی دستک کی طرف متوجہ ہوا جائے کچھ خیر خواہ احباب اور دوستوں کے اصرار پر اپنے منتخب افسانوں کو کتابی شکل میں شائع کروانے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ ورنہ میں یہی سمجھتی تھی کہ رسائل کے بعد سوشل میڈیا ہی ان کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں یہ یقیناً کم وقت میں دور تک پھیل جاتے ہیں۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ یہاں وقت، بصیرت، گہرائی اور ارتکاز کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے ادب کی حقیقی تعریف ایک ٹویٹ میں ختم نہیں ہوتی کہ ’’ادب اچھا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا اور ادب کے درمیان ایک رشتہ ہے لیکن اس رشتے کے باوجود سوشل میڈیا ادب نہیں ہے۔ ادب کے مطالعے کے لیے وقت اور ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ آپ کتاب کے ساتھ جد و جہد کرتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ جد و جہد کرتی ہے، اس طرح کتاب کے معنی اور مفہوم تک آپ کی رسائی ہوتی ہے۔ گویا ادب آپ کے خیالات کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور ایک منفرد زاویے سے سوچنا اور محسوس کرنا سکھاتا ہے۔ شاید سوچنے اور محسوس کرنے کی یہی قوت انسانوں کو مشین پر فوقیت عطا کرے گی۔ اس لیے ادب میٹا فورسز ہے اور بنیادی سطح پر تبدیلی لاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں اور روح کو چھوتا ہے۔ ادب کا فوری اثر نہیں ہوتا، اس میں موجود پیغام کو پھیلنے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک طویل عرصے تک موجود رہتا ہے۔

کتابی شکل میں یہ میرا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ میرے افسانے اب تک پاکستان اور ہندوستان کے مختلف موقر ادبی رسائل و جرائد کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ جن میں شاعر، فنون، ادبِ لطیف، آج کل، جمنا تٹ، زبان و ادب، ثالث، دربھنگہ ٹائمز وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنے افسانے سے متعلق کچھ نہیں کہنا سوائے اس کے کہ اس افسانوی مجموعے میں میرے ابتدائی دور کے چند افسانے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ میرا پہلا افسانہ ’’تشنگی‘‘ 1991 میں ’’شاعر‘‘ میں شائع ہوا تھا پھر کشمکش، ایڈ ییسو، ڈائل ٹون ’’شاعر‘‘ میں ہی تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ ان افسانوں کو اس مجموعے میں شامل کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ وقت اور زمانے کی تبدیلی ایک دن میں رو نما نہیں ہوتی۔ زندگی کی شکست و ریخت رفتہ رفتہ اپنا چولا بدلتی ہے۔ اس میں ہم اگر بہت کچھ پاتے ہیں تو بہت کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔ میرے ان نئے اور پرانے افسانوں میں انسانی تہذیب، رشتے اور نفسیات کی ان ہی بدلتی اور بکھرتی ہوئی تصویر کا عکس ملتا ہے۔ وقت کا ارتقاء ایک تہذیب کا زوال بھی ہوتا ہے اور ادب اس کا آئینہ یا تاریخی دستاویز بن جاتا ہے جس کی اہمیت وقت کے ساتھ گزرے زمانے کو سمجھنے کے لیے بڑھ جاتی ہے۔ کل کا ڈائل ٹون، آج انگلی کی پور پر گھومتا چاند بن جاتا ہے۔ آج جب کہ ادب خود تکمیل اور شائع ہونے کی جلدی میں ہے اور سوشل میڈیا اس کے لیے وردان ثابت ہو رہا ہے، میں کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی۔ بہت دیر سے سہی مگر چند خیر خواہ دوست اور احباب کے اصرار پر مجھے یہ حوصلہ ملا کہ اسے کتابی شکل میں شائع کروا لوں۔ ان سارے دوستوں اور احباب کا میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ ساتھ ہی اعجاز عبید صاحب کا بھی شکریہ جنھوں نے میرے افسانوں کو ای بک کی شکل میں کمپائل کر کے اپنی ڈیجیٹل اردو لائبریری میں محفوظ کر دیا تھا۔ ورنہ لیپ ٹاپ خراب ہو کر فارمیٹ ہونے کے بعد مجھے اس کی ایک بھی سافٹ کاپی ملنا ممکن نہ ہوتی۔

آخیر میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے ظفر اقبال صاحب کے ساتھ ان کی پوری اشاعتی ٹیم کا بھی شکریہ جنھوں نے اس ارادے کو ممکن اور سہل بنا دیا۔

نسترن احسن فتیحی

٭٭٭

 

افسانے

 

 

بین کرتی آوازیں

 

سارا نے بے چینی سے ٹہلنا شروع کیا۔ خیال بھی بلبلے کی طرح ہوتے ہیں، کسی لمحے میں ایک خیال جیسے ہی پیدا ہوتا ہے ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے پھر دوسرا، تیسرا اور نتیجے میں ایک تذبذب کی کیفیت، ایک اضطراب۔ اس کے اندر یہ اضطراب شور اور سناٹوں کے تصادم نے پیدا کیا ہے جو نہ جانے کب سے اس کا پیچھا کرتا رہا ہے اور جب اس کے اندر یہ تصادم بڑھتا ہے تو اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور وہ اٹھ کر ٹہلنے لگتی ہے، چہرہ ست جاتا ہے اور اسے ابکائی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کا یہ اضطراب دوسروں پر بآسانی عیاں ہو جاتا ہے اور اسی لیے وہ سب کی نظروں سے بچنے کے لیے پریس سے اٹھ کر اوپر آ جاتی ہے، اپنے پیچھے سوال جواب اور چہ می گوئیاں چھوڑ کر۔ ’’کیا ہوا۔۔۔؟ پھر میگرین۔۔؟ آرام کرو۔۔ فضول کام میں سارا دن۔۔۔‘‘ کتنی بڑبڑاہٹیں اس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہیں۔

یہ گھر اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے، چھے کمرے ہیں مگر زمین کا پھیلاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اوپر بڑھے ہوئے ہیں۔ ہاں! اس میں رہنے والے افراد ضرور زیادہ ہیں۔ اس پر یہ کہ نچلی منزل کے دو کمرے گودام ہی بنے رہتے ہیں۔ ہمیشہ اوپر سے نیچے تک ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے اخبار، گرد سے اٹی کچھ نصابی کتابیں، سیاسی اشتہارات کے پرچے اور کئی طرح کی رسید کاپیاں۔ اس کا دل چاہتا کہ اس سارے عذاب سے ان دونوں کمروں کو نجات دلا دے تاکہ اس کمرے کے ساتھ ساتھ گھر کے مکین بھی کچھ کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔

اس نے اوپر کی بالکنی سے نیچے جھانکا۔ دھوپ چھاؤں نے دیوار پر پرچھائیں سی بنا رکھی تھی۔ ’’تم باہر مت نکلو، خطرہ ہے، بہت ٹریفک ہے۔ سامنے آنا ضروری ہے کیا؟ ایک طرف رہو۔۔۔‘‘ اس سناٹے میں آواز گونجی مگر اس آواز کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس کے چاروں طرف آوازیں تھیں، بے شمار آوازیں۔ گاڑی کا ہارن، کوکر کی سیٹی، کسی کے ہنسنے اور چلانے کی آواز۔ کوئی بہت قریب سے بولا تھا، ’’میرا بچہ بہت بیمار ہے۔ رام نام ستیہ ہے۔ کوئی مر گیا ہے۔‘‘ وہ بالکنی سے ہٹ گئی۔ آوازیں دھیمی ہوئیں۔ ان آوازوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب غیر حقیقی آوازیں ہیں مگر اس کے سناٹوں کی آواز حقیقی ہے، وہ اسے لے کر ڈوبنے لگتی ہے۔ اس نے ٹی وی کھول لیا۔ ایک چینل سے دوسرے چینل پر، فلمیں، رپورٹروں کے چیخنے کی آوازیں، مضحکہ خیز مباحثوں کا پینل یا کسی سیاسی لیڈر کا مسکراتا ہوا چہرہ۔ وہ چینل بدلنا بھول جاتی ہے، جان بوجھ کر یا غلطی سے آواز کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ منسٹر کے مسکراتے ہوئے لب ہل رہے ہیں۔ ان کے پاس مسکرانے کی کیا وجہ ہے، یہ کیسے مسکرا سکتے ہیں؟ کیا دنیا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے؟ چل ہی رہا ہو گا تب ہی کہیں سے گانے کی آواز آ رہی ہے۔ وہ اپنے اندر اور باہر کی آوازوں کا گلا نہیں گھونٹ سکتی، وہ کہیں نہ کہیں سے در آتی ہیں اور اس کی سماعت سے ٹکرانے لگتی ہیں۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتی ہے۔ ’’سارا! کھانا کھا لو!‘‘ نانی کہتی ہیں۔

’’نانا نہیں آئے کیا؟‘‘ وہ پوچھتی ہے۔ خیالات کے بلبلوں کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے وہ نانا سے جرح کرنا چاہتی ہے۔

’’نہیں۔‘‘ جواب ملتا ہے۔

’’ارے آج پھر میگرین کا اٹیک ہے کیا؟ تو آرام کرو۔‘‘ ماموں زاد بہن نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ گودام میں چلی جاتی ہے۔ اسی گودام کی وجہ سے اسے نانا کے کام اور گھر سے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے وہ موٹی سی عینک آنکھوں پر چڑھائے اپنے پریس کے کاموں میں لگے رہتے تھے جو گیراج میں چلتا ہے اور اسی گیراج میں ایک چھوٹے سے علیحدہ حصے میں ان کا دفتر بنا ہوا ہے۔ کمپوزر، پرنٹر اور پبلشر کا سارا کام نانا ہمیشہ اکیلے ہی دیکھا کرتے تھے۔ نہ جانے کب سے۔۔۔؟

وہ بہت چھوٹی تھی جب دعا مانگا کرتی تھی کہ یا خدا باڑھ آ جائے اور یہ سارا کباڑ سیلاب بہا کر لے جائے مگر نہ سیلاب آیا نہ پریس بند ہوئی۔ ہاں کبھی کبھی اخبار ضرور بند ہو جاتا جب پولیس نانا کو پکڑ کر لے جاتی تھی۔ کچھ دن ان کے مہمان رہ کر وہ اپنی ملیح سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس آ جاتے اور اخبار پھر نکلنے لگتا۔ مگر نانا کی غیر حاضری والے دورانیہ میں جب ماموں پریس چلاتے تو وہ نصابی کتابیں اور رسید کی ہی چھپائی کروایا کرتے تھے۔ وہ رفتہ رفتہ جان گئی تھی کہ نانا کے اخبار بکتے کم تھے اور گودام کی زینت زیادہ بن جاتے تھے۔ پر اب اس پلیا روڈ پر ’’آج کی آواز‘‘ کا پریس کچھ زیادہ زور و شور سے چلنے لگا ہے کیونکہ اب وقار ماموں پوری طرح اس کام میں شریک ہو گئے ہیں اور اب کمپیوٹر پر کمپوزنگ ہوتی ہے۔ وہ بھی ماس کمیونیکیشن کی پڑھائی مکمل کر کے اخبار سے منسلک ہو گئی ہے۔ ایک مستقل کالم لکھنے کا کام اس کے سپرد ہے۔ نانا اب کام میں حصہ نہیں لے پاتے، کبھی کبھی پریس کے آفس میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ماموں کو اب دماغ کی نہیں کچھ کارندوں کی ضرورت ہے۔ پریس کی دوسری مشینوں کی طرح بے جان پرزے جو سوچنا نہ جانتے ہوں۔ نانا اپنی ضعیفی کے باوجود سوچنا بھی جانتے ہیں اور ان کی اس سوچ کی ایک پہچان اور عزت بھی ہے۔ ’’آج کی آواز‘‘ کے عزیز احمد سے ہر سوچنے والا دماغ واقف تھا مگر ماموں کو اب پیسے کی ضرورت تھی۔ عزت تو نانا نے ’’آج کی آواز‘‘ کے لیے کما ہی لی تھی۔

ماموں وقار اس سے بھی کمپوزنگ کے کاموں میں مدد لینے لگے تھے مگر وہ اسے ایک کمپیوٹر کی طرح ہی کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں انسان کی طرح نہیں۔ صبح چار بجے یہ اخبار وین پر لوڈ ہو کر اپنی منزل کی تلاش میں روانہ کر دیے جاتے ہیں۔ جب سے ماموں نے کام سنبھالا ہے پولیس کم آنے لگی ہے۔ ماموں نئے زمانے کے پروردہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہمارا قانون، ہماری پولیس اور ہماری نوکر شاہی اعلیٰ ستائش کے لائق ادارے ہیں اور ان پر نکتہ چینی کرنا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔ ان کے اخبار کے صفحات پر رنگین خوبصورت تصاویر نے بھی کافی جگہ گھیر لی ہے۔ اردو زبان کی کم ہوتی ہوئی قدر کو بڑھانا وہ جانتے ہیں اسی لیے اب ’’آج کی آواز‘‘ کے صفحات پر خبریں کم اور اشتہار زیادہ لگتے ہیں۔ کبھی کبھی ماموں اور نانا میں بحث ہو جاتی ہے اور نانا دل برداشتہ ہو کر چپ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہر موقعے پر وہ گودام میں چلی جاتی ہے۔ اس شور سے گھبرا کر پناہ لینے کی اب وہ بہترین جگہ بن چکی ہے جہاں عجیب سی پراسرار خاموشی ہے۔ وہ خاموشی اس سے بات کرتی ہے، اخبار کی سرخیاں طرح طرح کی شکلوں میں اس پر منکشف ہونے لگتی ہیں۔ ان سرخیوں سے ہم کلام ہو کر اسے سکون ملتا ہے اور اس کا اضطراب کم ہونے لگتا ہے۔ وہ ان آوازوں کو آزاد کر دینا چاہتی ہے جنھیں اس گودام میں قید کر دیا گیا ہے۔ گودام کے سناٹوں میں ان آوازوں کا بین سر پٹختا ہے اور اسے پا کر ہم کلام ہو جاتا ہے۔

ان آوازوں سے دوستی کرنا اسے نانا نے ہی سکھایا ہے۔ جب وہ بہت چھوٹی تھی اس کی ماں نے اسے نانا کے گھر چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کے والد کے فوت ہو جانے پر ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس نئے گھر میں اس کے لیے گنجائش نہ تھی۔ وہ ماں کے آنے پر بہت چیختی، روتی، اس کے پیروں سے لپٹ لپٹ جاتی مگر ماں کی جانے کیسی مجبوری تھی؟ سارہ نہیں سمجھ پاتی اور اگر زیادہ پچھاڑیں کھاتی تو گودام میں گھسیٹ کر بند کر دی جاتی کیونکہ اس وقت وہ اس گودام کے اندھیرے کمرے سے بہت ڈرتی تھی۔ اس کی سسکیاں حلق میں گھٹ جاتیں، اوپر تلے رکھے اخبار عجیب عجیب حیوانی شکلیں بنانے لگتے جیسے اسے زندہ نگل جائیں گے۔ ماں کے چلے جانے کے بعد کبھی وقار ماموں کبھی نانی یا نانا اسے وہاں سے نکال لے جاتے۔ نانا نے ایک بار اس کے خوف کو سمجھ لیا پھر وہ اپنی انگلی پکڑا کر اسے وہاں اکثر لے جایا کرتے اور اخبار کے پرانے پرچے کھول کر خبروں، کہانیوں اور واقعات سے اس کی دوستی کراتے۔ پھر اس کی سمجھ میں آنے لگا کہ اس گھر کی بہترین جگہ یہ گودام ہے۔ ماں کے آنے کا اسے اب انتظار نہ رہتا اور آنے پر پرواہ نہ رہتی۔ اب اسے کبھی زبردستی کھینچ کر گودام میں مقید نہ کرنا پڑتا۔ ماں کے آنے پر وہ خود گودام میں آ جاتی اور ماں کے جانے کے بعد ہی نکلتی کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ ماں اپنے شوہر کے سامنے اس کی موجودگی کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے ماں کی بے اعتنائی سے یہاں پناہ لیتے لیتے ان آوازوں سے اس کی گہری دوستی ہو گئی۔ وہ ایک ایک کی التجا سنتی۔ اسے لگتا تھا کہ پلیا روڈ کی اس دم گھونٹو فضا، نالیوں کی بدبو اور اندر باہر کے شور سے اس کا دل جیسے گھبرا جایا کرتا ہے ویسے ہی اس گودام میں بہت سی سچی آوازوں کا گھبراتا ہو گا۔

ماموں کے نکالے ہوئے ’’آج کی آواز‘‘ میں زور شور سے اس قصبے اور شہر کی ترقی کی خبریں چھپتی ہیں مگر وہ جانتی ہے کہ یہ ترقی کسی منصوبے اور تخیل کے بغیر والی ترقی ہے۔ کوئی منصوبہ، سڑک، بجلی، پانی کچھ نہیں۔ اسے یقین نہیں آتا کہ وہ دہلی جیسے شہر کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس کے با وجود یہ بھی سچ ہے کہ شہر اور قصبوں کے مکان اور زمین کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ لوگوں کے پاس پیسے آ گئے ہیں۔ کالا بازاری کے پیسے، دھوکے اور کرپشن کے پیسے۔ ایسے پیسے والوں کی اطمینان کی خبروں کو ماموں ’’آج کی آواز‘‘ پر سجا دیتے ہیں کیونکہ انھیں بزنس کا طریقہ معلوم ہے۔ جہاں یقین نہ ہو وہاں امیدیں دھڑا دھڑ بک جاتی ہیں۔ کھلے گریبان والی تصویروں سے سجا اخبار ہر پان اور نائی کی دکان کی زینت ضرور بنتا ہے۔ ایسے اخبار لفافے بنانے اور ریک پر بچھانے کے کام میں آنے کے لیے ردی میں بک کر بھی کچھ قیمت دے جاتے ہیں۔

زندگی میں مایوسی پھیلانے والے کالم پڑھنے کی فرصت آج کسی کے پاس نہیں ہے۔ وقار ماموں اس کے لکھے کالم پر روز برستے ہیں مگر نانا کی طرح اسے بھی جھوٹی امیدوں کے پیچھے چند سچی آوازوں کی موت منظور نہیں۔ نہیں!!! وہ ان آوازوں کو مرنے نہیں دے گی۔ اخبار اور ٹی وی میں ان آوازوں کی جگہ نہیں تو کیا ہوا، وہ اپنے اخبار کے کالم میں انھیں جگہ دے گی۔ جب وہ ہر خبر کے لیے روز اخبار کے عملے کے ساتھ یہاں وہاں کی خاک چھانتی ہے تو اسے ہر خوشی، ہر خبر یا ہر ظلم اور جبر کے پیچھے بین کرتی کچھ آوازیں جکڑنے لگتی ہیں۔ مگر خبر بنانے والے ان آوازوں سے بچ بچا کر اپنی ذہانت اور مہارت سے ان خبروں کو پالش کر کے چمکا لیتے تھے اور وہ ان آلائشوں کو اپنے لیے جمع کر لاتی۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کی کون سی طاقت ان اداروں کو ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر لیتی ہے۔ اسی لیے کوئی ریپ کیس ہو یا قتل، عوام پر کوئی جبر ہو یا کرپشن، لوگوں کا غم و غصہ سڑکوں پر ضرور ابل پڑتا اور وہ ہر بھیڑ، ہر انتشار کا خود حصہ بن جاتی ہے۔ پوری طاقت سے اس غم اور غصے کو وہاں تک پہچانے کے لیے تگ و دو کرتی ہے جہاں اس کا ازالہ ہو سکے مگر یہ غم و غصہ صرف ایک اجتماع ہوتا ہے جس پر دھا را ایک سو چوالیس لاگو کر دیا جاتا ہے۔ وہ قانون جو ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف بغاوت روکنے کے لیے بنا وہی قانون آج بھی لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے لاگو کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دان ان ہی لکیروں کو پیٹ رہے ہیں، قانون آج بھی بنتے ہیں مگر اس میں انسانیت کی فلاح سے زیادہ ذاتی مفاد کی آمیزش ہوتی ہے۔ قانون بننے کے لیے کسی نربھیا کو بے موت مرنا پڑتا ہے، کسی بستی کو جلنا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر نو جہاد اور ریپ جیسی قانون شکنی کے بعد آرڈیننس تیار ہوتا ہے پھر اسے پاس کرنے نہ کرنے پر لڑا ئیاں ہوتی ہیں، ملک کے کندھے پر اخراجات کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور اس درمیان عوام اپنی امید اور نا امیدی کو، اپنے احتجاج اور مایوسی کو، انڈیا گیٹ پر موم کے آنسوؤں میں بہا دیتے ہیں۔ اور جب وہ ان آنسوؤں کو اپنے کالم میں سمیٹ لاتی ہے تو وقار ماموں اس کے ایسے کالم کو اس کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ جذباتیت سے بھری ہوئی تحریر ہے، جذبات اور تجارت کا گزارہ ایک ساتھ ممکن نہیں۔

وہ اس دنیا میں کچھ روشنی، کچھ خوشی، کچھ رنگ تلاش کرنا چاہتی ہے مگر اپنی زمین سے دور بھی خوشی اور رنگ کی تلاش میں راکھ، دھواں اور خون کے علاوہ اسے کہیں کچھ نہیں ملتا۔ وہ سرحد پار سے بھی بے شمار درد سمیٹ لاتی ہے، اس کا کالم سرخ دھبوں سے داغدار ہو جاتا ہے، پشاور کے بچوں کی موت کا درد سرحد پار کر کے اس کے اندر آ کر بیٹھ جاتا ہے اور وہ اس درد کو اوڑھ لیتی ہے۔ درد جو سوال پیدا کرتے ہیں۔ ہزاروں سوال تھے جو اسے جینے نہیں دیتے تھے۔ اس کے اندر خاموشی اور آوازوں کا تصادم جاری رہتا اور وہ کالم میں اپنا درد انڈیل کر سارا بوجھ معاشرے پر منتقل کرنا چاہتی ہے مگر کالم چھپا تو وقار ماموں نے اسے بالکل بدل دیا۔ استفسار پر انھوں نے اس سے کہا، ’’تم ابھی سیکھو۔ خبر اور درد کو الگ کرنا سیکھو، یہ تمہارا ٹریننگ پیریڈ ہے۔‘‘

اس کے اندر پھر ایک چیخ گھٹ گئی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ چین سے رہنے والے ان آہوں، آنسوؤں اور دھبوں کی صرف خبروں سے بھی اپنی دنیا کو پاک کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ کیا اس ظلم پر وہ اپنے ہی اخبار میں ذرا سی جگہ نہیں پا سکتی، مگر کہہ نہ سکی۔ ماموں نے سختی سے کہا، ’’تم ان نقصانات سے واقف نہیں۔ اس لیے ایسی جذباتیت سے کام لیتی ہو، اپنا فوکس چینج کرو۔‘‘

وہ پھر نئی خبر کے پیچھے بھاگی، نئی آوازوں کے پیچھے، کبھی جن پتھ جو سیاسی تحریکوں کے لیے ممنوعہ علاقہ ہے۔ وہاں غبارے بیچنے والے اور سیر و تفریح کے شوقین کا جمگھٹا لگا رہتا تھا جیسے دنیا سیر و تفریح اور خرید و فروخت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ مگر ماموں کو نہ جانے یہاں کون سی خبر نظر آتی ہے، ان کا کیمرہ مین خوبصورت چہروں کا تعاقب کرتا ہے اور خبریں گھڑ لیتا ہے۔

’’سارا تم کہاں ہو؟ نانی پریشان ہو رہی ہیں۔‘‘ فون پر اس کے ماموں زاد بھائی زید کی آواز آئی۔

’’میں آ جاؤں گی اندھیرا ہونے سے پہلے۔‘‘ اس نے فون کاٹ دیا۔ آوازوں کے تعاقب میں وہ لوگ جنتر منتر پر آئے۔ وہاں اس وقت ہندوستان کی اس چھ کروڑ آبادی کے نمائندے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو رہے تھے۔ وہاں میڈیا اور سیاست سے نظر انداز کیے ہوئے لوگ پولیس اور قانون کی کینہ توز نظروں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے کچھ بنیادی ضرورتوں کی مانگ لے کر جمع ہو رہے تھے۔ رہنے اور کھانے کا حق، کام اور جینے کا حق مگر یہ ڈھور ڈنگر تھے، پالتو جانوروں کے برابر بھی ان کا حق نہیں تھا۔ یہ جسموں کے وہ انبار تھے جو نہ جانے کن دراڑوں سے نکل آتے ہیں، جن کے لیے کوئی بستی، روزگار یا گوشۂ عافیت نہیں تھی، جو جمہوریت پر یقین رکھنے کے لیے ہڑتالوں، ہنگاموں، نعروں پر یقین رکھتے تھے، جن کی آنکھیں خوابوں سے خالی تھیں اور ان کی جلد کا رنگ بے اعتنائی کی دھوپ میں سیاہ ہو گیا تھا۔ راحت کا نیا کالم تیار تھا۔ یہ کسی ریپ کا قصہ نہیں تھا کہ وہ بہت غیر اہم خبر تھی کیونکہ اب ہر دن ایسی خبریں آتی تھیں، یہ کوئی مسلمان اور ہندو خبر بھی نہیں تھی کہ اس پر تعصب کا الزام لگے، یہ خبر تو اس چھ کروڑ عوام کی تھی جو توجہ اور انصاف مانگ رہی تھی، جو بھک مری، باڑھ اور سوکھے کی زد میں تھی۔

گھر آ کر اس نے اطمینان سے اپنا کالم ماموں کے حوالے کیا اور سکون کی نیند سو گئی۔ دوسرے دن اخبار اس کے ہاتھ میں تھا۔ ماموں نے کالم میں کچھ تبدیلی کی تھی۔ سارا کی جمع کی ہوئی تفصیلات کے ساتھ منسٹروں کے کچھ حسین وعدوں کا اضافہ تھا، ریلی کو بہتر ڈھنگ سے سنبھالنے کے لیے نظم و ضبط کی تعریف تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں آئے اس طبقے کے نمائندوں کی آواز، ضرورت اور مقصد کی ایک ہلکی سی آہٹ بھی اس کے کالم میں موجود نہ تھی۔ اپنے کالم کو دیکھ کر وہ حیران تھی۔ جملوں کی نشست و برخاست کی تبدیلی سے اس کے کالم کا مفہوم ہی بدل چکا تھا اور اسے لگ رہا تھا جیسے یہ پوری دنیا ایک گودام ہے جس میں اسے پھر سے بند کر دیا گیا ہے۔ جہاں کچھ خوفناک ہیولے اس کی چیخوں کو اس کے گلے میں گھونٹ دیتے ہیں اور اس کی سسکیاں بھی بین کرتی ان آوازوں میں شامل ہو کر اسے خوفزدہ کر رہی ہیں اور اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور اسے ابکائیاں محسوس ہوتی ہیں۔ اس کی ماموں زاد بہن اس سے پوچھ رہی ہے، ’’کیا ہوا۔۔؟ پھر میگرین کا اٹیک۔۔۔۔؟‘‘

٭٭٭

صندوق

سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد بستر پر آ کر ٹیک لگاتے ہوئے لگتا جیسے میرا وجود چار سمتوں میں تقسیم ہونے کی رسہ کشی میں مبتلا ہے۔ جسم کو جب آسائش، مصنوعات، زیبائش اور نمود کی خواہش میں بے جا مصروفیات کے لیے کولہو کا بیل بنا دیا جاتا ہے تو روح ان بندشوں سے راہِ فرار کی تلاش میں سر پٹکتی ہے۔ مصروفیات اور گہما گہمی کی اس دنیا میں جسم اور روح کے مرکب وجود کے اندر بوند بوند جمع ہوتی ہوئی اداسی اور خالی پن، تضاد کا شکار ہو کر کھلے ماحول، ہریالی اور مٹی کی سوندھی مہک کے پیچھے بھاگنا چاہتا ہے۔ جہاں مٹی کی سوندھی مہک کے ساتھ خالص محبت اور وافر اوقات اپنے اور اپنوں کے درمیان گزارنے کے لیے ہوتے تھے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ ہم کرنا کچھ چاہتے ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، آخر میں ہاتھ اور پیر، دل و دماغ سب بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بھی جسم کے ہر حصے نے بغاوت کر دی تو میں بے جان سی بستر پر پڑی رہی مگر دماغ بہت تیزی سے گردش میں تھا۔ وہ ابھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، نظر نے دماغ کا ساتھ دیا اور سامنے کے صندوق پر میری نظر ٹک گئی۔ دماغ نے دل کو بہکایا کہ اٹھو اور اپنی جادو کی اس پٹاری کو کھولو، جس میں طرح طرح کے سنہرے دن، منقش یادیں اور اجلے اجلے خواب بند ہیں، جنھیں وقت بے وقت نکالنے سے مردہ روح توانا ہو جاتی ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ روح کو توانا کرنے کی مہلت بھی نہیں دیتے۔ دل نے سرگوشی کی کہ اٹھو ذہن تو پہلے ہی صندوق پر سوار ہو چکا تھا مگر جسم کے باقی حصوں نے انکار کر دیا۔ میں دماغ کی سازش پہچان رہی تھی، دل کی ماننا چاہتی تھی اور ہاتھ پیروں کی بے کسی سمجھ سکتی تھی۔ رسہ کشی چلتی رہی اور میں خاموش تماش بین بنی یہ سب دیکھتی رہی-

پھر ایک کہانی شروع ہوئی جس میں امی تھیں مگر نہیں… یہ ایسے تو نہیں شروع ہوئی تھی۔ یہ میرے حال سے شروع ہو کر ماضی کے سفر پر نکلنے کی کہانی تھی، جہاں میں اور میری بیٹیاں ہیں، جینے کی جد و جہد ہے اور بے شمار بے جا مصروفیات ہیں۔ جو نہ کبھی کسی کے اندر جھانکنے کا وقت دیتی ہیں نہ باہر کی وسعتوں سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دیتی ہیں کہ یہ وسعتیں بڑی آلودہ ہو چکی ہیں۔ ان میں نکلنے سے خوف آتا ہے، دم گھٹتا ہے، اس سے بہتر تو یہ صندوق ہے جسے کھول کر میں ایک خوب صورت جوڑا لیے کھڑی ہوں گو مگو کی کیفیت میں۔ یہ جوڑا بہت پہلے کا بنا ہوا ہے۔ ہاں! بہت پہلے کا۔ لیکن اس وقت بھی میں کہیں کی شہزادی نہیں تھی مگر ایک جادوئی محل میں رہتی تھی۔ جہاں خوشی کا احساس صرف سفید اور اودے بادلوں، تتلیوں کے لمس اور شوخ رنگوں میں یا آسمان کی نیلی روشنی یہاں تک کہ دھول بھری طویل دوپہر میں درختوں کے سائے میں تھا۔ جب زندگی میرے لیے پرانے بکسے سے نکلے رنگ برنگے ریشم کی طرح لش لش کرتی سامنے پھیلی تھی جس میں لپٹ کر مجھے خود کو بادلوں سے بھی ہلکا اور نرم محسوس کرنا تھا۔ میری زندگی کسی سند باد یا الف لیلیٰ کی داستان نہیں تھی پھر بھی لگتا جیسے پریاں ہر وقت مجھے کسی جادوئی قالین پر بٹھا کر ایسے دیس میں لے گئی تھیں جہاں تحیر، تجسس اور دلچسپی تھی، جہاں مٹ میلی پیلی روشنی میں ہر رنگ ہر شبیہ پگھلی ہوئی سی لگتی، جہاں بڑے بھائی بہنوں کی ہنسی اور سرگوشیاں، امی کے پکوان اور ابا کی گھرکیوں کی تہہ میں لگتا جیسے کوئی اور شے ہو، جا دو جیسی کوئی بات!!! دماغ کے آس پاس دھند کا ایک دبیز کہرا اور اس کے پار ہر نقش، ہر بات، ہر یاد بہت ملائم، خوبصورت اور رنگین۔ یہ وہ جوڑا ہے جسے میری امی نے برسوں کی ریاضت سے تیار کیا تھا، جس کے ایک ایک ٹانکے میں انھوں نے اپنے خوابوں کے ستارے ٹانکے تھے، جس کا ہر دھاگا ان کی دعاؤں سے پرویا گیا تھا، جس میں تہہ در تہہ ان کی جائز ضرورتوں کی قربانیاں بچھا دی گئی تھیں۔ وہ جوڑا خوابوں، دعاؤں اور قربانیوں کے بوجھ سے اتنا بھاری ہو گیا تھا کہ میں گزرتے ہوئے ماہ و سال کے ساتھ اسے ہمیشہ نکال کر دیکھتی اور اس کی تہہ میں اپنے بھی کچھ خواب سجا کر اسے واپس صندوق میں ڈال دیتی۔ آج میں گو مگو میں تھی جیسے اپنے اور اپنی ماں کے خواب کسی کے سپرد کرنا چاہتی ہوں۔ میں کسی شہزادی کی تلاش میں بیٹیوں کے پاس گئی کہ کوئی تو یہ جوڑا پسند کر لے مگر وہ کامدار جوڑا دیکھ کر راغب نہیں ہوتیں۔ وہ سادہ مگر برانڈڈ کرتیاں جینز پر پہنتی ہیں، پیر میں کولہا پوری چپلیں ڈال کر ہمیشہ وقت کا پیچھا کرتی نہ جانے کس سمت بھاگ رہی ہیں۔۔۔؟ نہیں جانتیں کہ وقت سے قدم ملا نا نا ممکن ہے۔ وہ ہم پر سے گزر جاتا ہے، ہمیں روند کر مگر میں دل سے قدر بھی کرتی ہوں ان کے اس خیال کی کہ ہر آنکھ کو اپنے خواب خود دیکھنے چاہییں مگر وہ نہیں جانتیں کہ نئی آنکھوں سے خواب نوچ کر ان میں خوف اور دہشت بھرنے کا کاروبار چل پڑا ہے۔

میں نہ جانے کیسے اس جوڑے کے ساتھ ماضی کے سفر پر نکل جاتی ہوں مگر اس احساس کے ساتھ کہ ماضی میں زندہ ہوں اور حال کو ایک دوسرے شہر کے محفوظ کمرے میں چھوڑ آئی ہوں۔ حیران بھی ہوں کہ حال کی گرفت سے چھوٹ کر ماضی کی طرف مراجعت کیسے ممکن ہوئی۔ مگر بہت خوش ہوں جیسے بہت ہلکی ہو گئی ہوں، جسم کے بوجھ سے آزاد، ایک روح کی مانند۔ بے سر و سامانی بھی پریشان نہیں کر رہی بس کندھے سے جھولتا ایک بیگ ہے اور اس میں وہی بھاری کامدار جوڑا۔ ہاتھ میں ناکافی پیسے اور پیروں میں چپل بھی نہ جانے کس کی پہن آئی ہوں مگر ایک عجیب سا شوق ہے۔ چلی جا رہی ہوں، پیچھے جو کہ میرا حال ہے اسے چھوڑ آنے کی فکر بھی ہے، سب کی ناراضگی کا خوف بھی مگر یہ شوق ہر فکر پر بھاری ہے۔ میں جانتی ہوں کہ بتا کر میں وہاں سے نہیں نکل سکتی تھی اور مجھے آنا ہی تھا۔ آنکھیں ترس رہی ہیں اس کوچہ و در کو دیکھنے کے لیے۔ اب میں ایسی گلیوں میں ہوں جو سب جانی پہچانی ہیں۔ ارے یہ تو وہی موڑ ہے جس کے سگنل کے کھلنے کے انتظار میں رکشے پر گھنٹوں بیٹھنا پڑتا تھا مگر اس کے اطراف میں نہ کوئی میدان ہے، نہ اس میدان میں درختوں کا کوئی سلسلہ جس کی چھتنار چھایا میں تھکے ہوئے مسافر سستایا کرتے تھے۔ وہاں ایک برج بن گیا ہے اس لیے لمبی مسافت والے اب رک کر سستاتے نہیں بس گزر جاتے ہیں۔

اس وقت بھی اسی موڑ پر رکشے میں بیٹھی ہوں۔ میرے ساتھ دو اجنبی سواریاں ہیں، ایک خستہ حال ادھیڑ عمر عورت شکل سے مسلمان لگتی ہے اور دوسری سانولی نک چڑھی نوجوان عورت جو یقیناً ہندو ہے۔ آج رکشہ یہاں سگنل بند ہونے کی وجہ سے نہیں کھڑا بلکہ سامنے ایک جلوس جا رہا ہے۔ کس بات کا شور ہے سمجھ نہیں آ رہا، رکشے پر ان دو عورتوں کے درمیان میں کب وارد ہوئی نہیں جانتی مگر دونوں میری وجہ سے ادھر ادھر سے جھک کر تکرار کر رہی ہیں۔ میں وجہ جاننا چاہتی ہوں کہ بحث کس بات کی ہے مگر وہ نک چڑھی لڑکی نہیں بتاتی۔ اس میں مجھے اپنی ایک سہیلی کی شباہت نظر آ رہی ہے۔ کیا یہ اس کی بیٹی ہے؟ مگر دل نہیں مانتا۔ وہ تو بہت اچھے مزاج کی تھی۔ ہولی میں بنائے گئے مال پوئے کا ذائقہ آج تک زبان پر ہے اور عید پر اس کی سویوں کی فرمائش کیسے بھول سکتی ہوں۔ مگر اس لڑکی کے چہرے پر ایسا کوئی رنگ ہے جو ہولی اور عید کی ساری خوشیوں پر حاوی ہو گیا ہے، ایک زرد سا پھیکا رنگ۔ میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں مگر مسلمان عورت دھیرے سے اشارہ کرتی ہے کہ میں خاموش رہوں۔ مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ تکرار جلوس سے متعلق ہے اور ان کی تکرار سیا ست اور مذہب پر ہے۔ جلوس چھٹتے ہی وہ نک چڑھی لڑکی رکشے سے اتر کر غائب ہو جاتی ہے۔ میں اسے روکنا چاہتی ہوں مگر وہ عورت مجھے روکنے نہیں دیتی جیسے کسی مصلحت سے مجھے با ور کرانا چاہتی ہے۔ میں اس کے التفات سے تنگ ہو رہی ہوں۔ میں آزاد خیال، نڈر اور بے باک ہوں، اپنے ارادوں، خوابوں اور زندگی کے لیے کوئی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتی۔ وہ مخلص، بدحال ادھیڑ عمر عورت جیسے صدیوں سے میرے پیچھے ہے، مجھے گریز سکھاتی ہے، مجھے لگتا ہے جیسے میرے خواب کے اور میرے درمیان وہ ہمیشہ حائل ہوتی رہی ہے۔ میں حال کی بندشوں سے کتنی مشکل سے فرار حاصل کر پا ئی ہوں۔ آج میں آزاد رہنا چاہتی ہوں، ہر گریز اور بوجھ سے۔ وہ میری گلی میں رکشہ موڑنے کو کہتی ہے مگر مجھے شک ہے کہ یہی میری گلی ہے۔ یہ تو میرے حالیہ شہر سے مشابہت رکھتا ہے، طویل قامت عمارت نے ہر جگہ سر اٹھا رکھا ہے، منزل پر پہنچنے کی جلد بازی اور خوشی میں بھی مجھے احساس ہے کہ اس پر خلوص عورت کے لیے مجھے کچھ کرنا چاہیے مگر میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ میں اس کے حصے کا کرایہ بھی دے سکوں۔ ایک دم یوں لگا جیسے میرے دل کا چور اس عورت نے پکڑ لیا اور صرف نرمی سے مسکرائی۔ مجھے اس نرمی سے چڑ سی ہو رہی ہے۔ اب میری ساری توجہ اپنے دیرینہ گھر کو دیکھنے کی جستجو میں آگے سڑک پر ہے۔ میں اچانک انگلی اٹھا کر کہتی ہوں کہ یہی ہے میرا گھر اور تڑپ کر اترتی ہوں۔ اتنا شاندار سجا ہوا بالکل نیا بنا ہو جیسے۔ ذہن سے چپکا ایک بوسیدہ بوڑھا مکان سرک گیا سامنے نئے پیرہن میں وہی گھر کیسا خوبصورت لگ رہا ہے۔ میں نے کبھی تخیل میں بھی اسے ایسے آراستہ نہیں کیا تھا۔ کس نے سجایا ہو گا؟ اب کون رہتا ہے یہاں؟ میری حیرانی فزوں تر ہو رہی تھی۔ میں رکشے سے کود کر اتری، وہ عورت بھی میرے ساتھ اتر آئی تو مجھے ناگوار گزرا۔ ایسے خوبصورت وصال کے لمحوں میں ایک اجنبی کی شمولیت مجھے منظور نہیں تھی۔ میں ذرا رعونت سے آگے بڑھ گئی۔ میری سرد مہری سے ٹھٹھک کر وہ عورت چند سیڑھیاں چڑھ کر با ہری منڈ یر پر ٹک گئی اور میں نے غنیمت جانا۔ سب سے ملنے کے بعد اسے اندر بلا لوں گی۔ نہ جانے کون ہے یا یہیں پر چائے بھجوا دوں گی۔

اندر برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے میں سوچنے لگی کہ عجیب بات تھی مکان تو نئے پیرہن میں تھا مگر باہری منڈیر ماہ و سال کی مار سے بوسیدہ ہو رہی تھی۔ میں نے برآمدے میں قدم رکھا۔ یقین نہیں آتا یہ میرے سیدھے سادے والدین کا وہی سیدھا سادہ برآمدہ اور وہی کمرہ ہے۔ کونے والی میز پر کیسے خوبصورت ڈیکوریشن پیسز رکھے ہوئے ہیں۔ نئے چمکتے ہوئے صوفے اور دروازوں پر پردہ۔ میں حیرانی سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ چھوٹی بھتیجی شازیہ اندر سے نکلی، حیرانی سے میری طرف دیکھا اور لپٹ کر رونے لگی۔ میں بھی رو رہی تھی تب ہی آپا نمودار ہوئیں۔ خوشی سے ایک چیخ ما ری، ’’تم!! اب فرصت ملی ہے؟‘‘ انہوں نے محبت سے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ان کی آنکھیں نم تھیں مگر چہرہ خوشی سی دمک رہا تھا۔ ہلچل کی آواز پر امی آئیں۔ ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ شدتِ جذبات سے یا جب وہ کچن سے اٹھ کر آتیں تو ایسے ہی چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا۔

میں نے شازیہ سے پوچھا، ’’یہ گھر کس نے آراستہ کیا؟ جاوید نے؟؟‘‘ پھر میں نے غور کیا کہ امی بار بار باہر کی طرف اس خستہ حال عورت کو دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے ساتھ ہے؟

میں نے کہا، ’’نہیں!!‘‘ اور ایک اچٹتی نگاہ باہر ڈالی۔ اس کے چہرے پر انتظار تھا مگر کس بات کا؟ میں سمجھ نہیں پائی۔ میں ابھی اپنی اس خوشی کو جینا چاہتی تھی جس میں امی تھیں، آپا تھیں اور میرا جدی گھر بوسیدہ نہیں بلکہ آراستہ تھا۔ جہاں بھتیجے بھتیجیوں کی کامیابیاں نقش تھیں مگر پھر کہانی کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ ماضی، ماضی بن گیا اور میں حال میں بغیر کسی سفر کے واپس آ چکی تھی۔ تخیل میں ایک بوسیدہ گھر ابھرا جہاں ایک خستہ حال ادھیڑ عمر عورت ٹوٹی ہوئی منڈیر سے ٹیک لگائے آج بھی ٹکی ہوئی ہے۔ ہاں اب اس کے ہاتھ میں وہی بھاری کامدار جوڑا ہے جسے میں اتنے سالوں سے ڈھو رہی تھی۔ شاید اس پر مہربان ہو کر میں نے اسے یہ پکڑا دیا ہو مگر وہ خستہ حال عورت حیران سی آج بھی وہیں کیوں بیٹھی ہے؟ کون ہے وہ؟؟؟

٭٭٭

انگلی کی پور پر گھومتا چاند

کمرے میں اندھیرا در آیا تھا۔ زاہدہ بی نماز پڑھ کر بمشکل اٹھیں اور دھیرے دھیرے سنبھل کر چلتے ہوئے دریچے تک گئیں اور اس کے دونوں پٹ کھول دیے۔ کام والی لڑکی اب تک نہیں آئی تھی۔ انھوں نے آنکھیں سکوڑ کر کھڑکی کے قریب میز کا سہارا لے کر باہر آنگن میں دیکھا مگر وہاں سناٹے اور اندھیرے کے علاوہ کوئی آہٹ، نہ کوئی روشنی نظر آئی۔ وہ وہاں سے ہٹتے ہوئے بدبدائیں، ’’دریچے اس لیے تو نہیں کھلے رکھے جاتے کہ ان سے تاریکی در آئے مگر جب باہر اندھیرا ہو تو اجالا کہاں سے اندر آئے گا۔‘‘

ملازمہ ضرور آس پڑوس میں کام کی لیے نکلی ہو گی تو اب تک نہ لوٹی ہو گی ورنہ آنگن والے کونے کی کمرے میں روشنی ضرور ہوتی اور انھیں یہ تسلی ہو جاتی کہ وہ بس اب آ ہی رہی ہو گی۔ اب وہ خود کسی کام کی نہیں رہ گئی تھیں، چاہیں بھی تو لالٹین نہیں جلا پائیں گی، ماچس ملے گی نہ کمزور ہاتھوں سے شیشہ صاف ہو سکے گا۔ بجلی تو کبھی اس قصبے میں جلدی آتی ہی نہیں پھر بھی سوئچ بورڈ تک جا کر سوئچ آن کیا۔ جانے موبائل بھی کہاں رکھ کر بھول گئی ہیں، اب قویٰ کمزور ہو گئے ہیں، ٹھیک سے دکھائی دیتا ہے نہ کچھ یاد رہتا ہے۔ انھوں نے کھڑکی کے قریب جا کر میز پر موبائل تلاش کرنا چاہا پر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ مایوسی سے دریچے کے قریب لگے اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر میز پر پھر کچھ ٹٹولنے کی کوشش کرنے لگیں اور مایوس ہو کر ہاتھ کھینچ لیا۔ انھیں مغرب کے وقت کمرے میں اندھیرا سخت نا پسند تھا مگر یہ لڑکی کبھی وقت پر کام کرنے نہیں آتی۔ اب جب وہ آئے گی تب ہی روشنی ہو گی یا موبائل اور چشمہ ملے گا۔ آج برسات کی یہ شام، یہ کا لی شام، ان کی نظروں میں کیسی سیاہی لے کر اتر رہی ہے۔ اس سیاہی نے کیسی معصوم خوشیوں کو، کتنے نازک احساسات کو، رشتوں کی صداقت اور پاکیزگی کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا ہے۔ انھیں لگا کہ ان کا دل ان جانے بوجھ سے دبا جا رہا ہے۔ یہ غربت کی سیاہی ہے نہ بجلی بتی کی کمی۔ یہ اندھیرا تو اپنوں سے دوری کا ہے۔ چار بیٹوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی وہ اس عمر میں تنہا رہ گئیں کہ ایک لائیٹ جلانے کے لیے اوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جس گھر میں اولاد ہوتے ہوئے روشنی نہیں، آواز نہیں، وہاں سے برکت اور خوشیاں تو روٹھ ہی جائیں گی۔ ’’یا اللہ تو نے انسانوں کو زندگی صرف اس لیے عطا کی ہے کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے‘‘ وہ بدبداتی ہوئی اٹھیں اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی صحن میں نکل آئیں۔

یہاں پر رکھی چوکی پر بیٹھتے ہوئے انھیں وہ دن یاد آئے جب اسی چوکی پر اپنے آخری وقت میں ان کے شوہر بیٹھا کرتے تھے۔ کتنے تنہا، بے بس اور کمزور لگنے لگے تھے اپنے آخری دنوں میں۔ اپنی کرب ناک سوچوں کے ساتھ پہروں اسی پر تنہا بیٹھے رہتے جبکہ انھوں نے اپنی زندگی میں کیا کچھ حاصل نہیں کیا۔ دولت، عزت اور اتنے سارے بیٹے، بہو اور پوتے پوتیاں۔ جنھیں وہ ہر دولت سے بڑھ کر اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔ اور سب سے چھوٹی چار بھائیوں کی اکلوتی بہن منی۔ ان کے گھر کی رونق، ان کی بیٹی مگر آخیر وقت میں بچوں کی جدائی کا صدمہ انھیں ایسا لگا کہ زندگی سے ہی منہ موڑ گئے۔ ’’میرے بارے میں بھی نہ سوچا، کم از کم دونوں ایک دوسرے کے سہارے جی تو رہے تھے‘‘۔ وہ چوکی پر بیٹھے بیٹھے خاموشی سے باتیں کرنے لگیں۔ جب جب وہ خاموشی کو خود سے مخاطب پاتیں تو ماضی کے لمحوں کے بے شمار جلتے بجھتے چراغ ان کے اندر روشنی بھر دیتے اور وہ باہر پھیلی تاریکی سے بالکل لا تعلق ہو جاتیں۔ باہر کی تاریکی سے اندر کی روشنی تک کا سفر کرنا انھوں نے بڑی ریاضت سے سیکھا تھا۔ یہ سیکھتے سیکھتے چہرے کی سلوٹوں کی تہہ میں کئی خوشیوں کی جوت، کیسے کیسے آنسوؤں کی نمی سمٹ آئی تھی اور چہرہ گئے وقتوں سے ساری ملاحت سمیٹ کر معصومیت اور نور کا ہالہ بن گیا تھا۔

وہ اندھیرے برآمدے میں نہ جانے کب تک یوں ہی بیٹھی رہیں اور خاموشی ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی۔ کبھی اپنے چاروں طرف بچوں کی ریل پیل محسوس کرتیں، کبھی اپنے بزرگوں کے آگے خود کو دوڑتا بھاگتا محسوس کرتیں، کبھی حسین پل کے چراغ ان کی جھریوں میں مسکراہٹ کا اجالا بکھیر دیتے تو کبھی کسی کی جدائی کے لمحوں کی کسک آنکھوں میں نمی بن کر تیرنے لگتی۔ بچوں کی بہتر تعلیم نے انھیں دنیا میں وہ مقام دلایا کہ چاروں بیٹے چار ملکوں میں جا بسے۔ بس ایک بیٹی ہے جو اپنے ملک میں اور قریب کے شہر میں بس گئی اور ہر کچھ دن بعد آ جاتی ہے۔ وہی ضد لے کر کہ امی میرے ساتھ چلیے اور ہر بار وہ ٹال جاتی ہیں۔ وہ یہ سوچ کر رہ جاتی تھیں کہ چار بیٹوں کے ہوتے ہوئے داماد کے سر جا پڑوں اور کہیں بیٹوں کو شکایت نہ ہو جائے کہ امی نے ان کے ساتھ رہنا گوارہ نہیں کیا۔

بیٹوں کے پاس گئی تو تھیں مگر سب جانے کس مصروفیت میں رہتے ہیں۔ وہاں بھی تو انھیں سارا دن اجنبی ملک میں تنہا ہی رہنا تھا تو ایسی عمر میں مٹی کی پکار کو وہ کیسے ان سنا کر دیں۔ یہاں بیٹوں نے ان کے لیے آسائش کا سارا سامان مہیا کر دیا ہے۔ ہر سال آتے بھی ہیں کچھ نہ کچھ نئے زمانے کا تحفہ لے کر، بجلی سے چلنے والی بے شمار چیزیں جو یہاں آ کر ڈبہ بن جاتی ہیں۔ اپنے والد کی موت کے بعد بیٹوں نے انھیں کتنا بڑا سا فون لا کر دیا کہ امی آپ تنہا رہتی ہیں اسے ہر وقت پاس رکھا کریں۔ پوتے نے کتنی مشکل سے انھیں سمجھایا کہ یہ واٹس ایپ ہے، یہ فیس بک میسنجر اور یہ فون ریسیو کرنے کا طریقہ۔ وقت اور ضرورت نے انھیں فون کا استعمال تو سکھا دیا مگر اپنے بھلکڑ دماغ کا کیا علاج کریں۔ بجلی تو آتی جاتی رہتی ہے مگر کئی بار وہ موبائل چارج کرنا بھول جاتی ہیں۔ اتنی پریشانیوں کے باوجود نہ جانے کون سی طاقت انہیں یہاں سے باندھے رکھتی ہے۔ سارے گزرے ہوئے دن، سارے زندہ خوبصورت لمحے ان کے اسی کھنڈر نما گھر اور جسم میں ایک ساتھ سانس لیتے ہیں اور سانس کی یہ ڈور وہ اپنے آخری وقت تک تھام کر رکھنا چاہتی ہیں، مرنے سے پہلے نہیں مرنا چاہتیں۔ آنگن میں اگی خود رو جھاڑیاں جس طرح دہشت زدہ کھڑی لرزتی رہتی ہیں ویسے ہی ان کا دھواں دھواں وجود تنہائی میں دہشت زدہ سا یہاں وہاں ڈولتا رہتا ہے۔ کبھی بان کی ڈھیلی چارپائی پر تو کبھی نماز کی چوکی پر نماز ختم کر کے دعا مانگنے کے بعد۔ وہ آنگن کے کونے میں لگے اس گھنے درخت کو ایک ٹک دیکھے جاتیں جس کے نیچے خزاں رسیدہ پتوں کا ڈھیر سا جمع رہتا مگر خیالوں میں وہ روشن دن اجاگر ہوتے جب گرمیوں کی ہر شام اس کے نیچے صفائی کر کے پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور ایک تازہ اور ٹھنڈا پانی کا مٹکا وہاں رکھا جاتا مٹی کے کورے پیا لے کے ساتھ اور ہر آتا جاتا وہاں رک کر ٹھنڈا میٹھا پانی پیتا، ان کے شوہر کے پاس کچھ دیر بیٹھتا اور ایک کپ چائے پی کر رخصت ہوتا۔ اب ابتری ہے، تنہائی ہے مگر پھر بھی وہ خود کو یہاں محفوظ و مامون سمجھتی ہیں۔ یہاں کی ہوا اسی قبرستان سے گزر کر سرگوشیاں کرتی ہوئی آتی ہے جہاں ان کے سارے بزرگ اور اپنے محوِ خواب ہیں۔ کبھی کبھی تو تہجد پڑھتے وقت انہوں نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ ان کے نورانی پیکر ان کے اس پاس موجود ہیں، مسکراتی نظروں سے انھیں دیکھ رہے ہیں اور وہ بے چین ہو جاتیں ان کے ساتھ جانے کے لیے مگر دوسرے لمحے سب غائب ہو جاتے اور انھیں لگتا یہ ان کا واہمہ تھا۔ مگر بہت دیر تک کمرے کی فضا معطر رہتی اور وہ سرشار سی بیٹھی دعاؤں کا ورد کرتی رہتیں۔ جی چاہتا کوئی آس پاس ہو تو اس سے پوچھیں، ’’کیا یہ عطر کی خوشبو تمھیں بھی آ رہی ہے؟ یا یہ بھی میرا واہمہ ہے؟‘‘

’’اماں کمرے میں چلیے، رات ہو گئی۔‘‘

کام والی کی آواز پر وہ چونک گئیں۔ ’’تو کب آئی؟‘‘

’’کب کی۔۔۔ کام بھی ختم، روٹی بنا دی ہے۔ وقت پر کھا لیجیے گا۔‘‘ وہ انھیں اندر لے جا کر بستر پر بٹھاتی ہوئی بولی۔

’’لالٹین جلائی؟‘‘ انھوں نے پوچھا تو رانی ہنسنے لگی۔

’’بجلی تو آ گئی اماں پھر لالٹین کس لیے۔‘‘

’’دیکھ مجھ سے بحث نہ کر، بجلی کا کیا ہے ابھی پھر چلی جائے گی۔‘‘ وہ ناراض ہوئیں۔

’’اماں منی باجی منع کرتی ہیں کہ رات میں لالٹین نہ جلایا کرو۔‘‘

’’میں منی سی تیری شکایت کروں گی۔ تو کبھی وقت پر نہیں آتی۔‘‘

رانی ہنسنے لگی۔ ’’اور جب آتی ہوں تو بھی آپ کو کہاں پتہ چلتا ہے۔‘‘

رانی اپنا کام بھلے برے ختم کر کے چلتی بنی۔ وہ ان کی خاموش ویران آنکھوں میں کبھی نہ جھانکتی۔ جو اندھیرے کوئیں جیسی یادوں کا سارا کچرا سمیٹ کر کہیں دور ڈوب گئی تھیں۔ ان کے جھری بھرے چہرے کی مسکراہٹ کے اجالے کو بھی نہ سمجھتی جو اپنے ضعیف ہاتھوں میں موبائل ڈھونڈ کر مضبوطی سے تھامتیں اور بار بار اس سے پوچھتیں، ’’دیکھ تو رانی! اس کی بیٹری تو ختم نہیں ہو گئی۔‘‘ رانی کام کر کے رخصت ہوئی تو ان کے چہار طرف اگر کوئی چیز ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھی تو وہ اس کمرے میں موجود چھپکلی اور چوہے تھے۔ یہ جاندار ہمیشہ سناٹے اور سونے پن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں شاید اس لیے کہ یہ انسان کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔ زاہدہ بی اب دھیرے سے تکیے کے سہارے نیم دراز ہو گئیں۔

کیا یہ ان کا وہی گھر ہے؟ ہنستا چہکتا مہکتا۔ نہیں!! یہ تو بالکل اجنبی ماحول ہے۔ کسی نے ایسے گھر اور گاؤں کی تمنا نہیں کی تھی۔ جانے یہ کیسی سیاہی ہے جس نے ان کے سارے جذبے سارے احساس کو نگل لیا ہے۔ زاہدہ بی نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ چار بیٹوں کے باوجود اس گھر میں سناٹا وقت سے پہلے در آیا تھا، سب کے ہوتے ہوئے بھی۔ اور اسی غم میں ان کے شوہر چلے گئے اور اب یہ تنہائی ان کا مقدر ہے۔ یہ کیسا بکھراؤ ہے اور کیوں ہے یہ بکھراؤ؟ انھیں اب اپنے بچوں کا ایک ایک چہرہ یاد آنے لگا۔ ہر چہرے میں اب بھی وہی ملاحت وہی کشش ہے جو کبھی اس گھر اور یہاں کی محفلوں کی جان ہوا کرتی تھی۔ جو چہرے اس آنگن کی پیشانی کا چاند تھے وہ اب ایسے ہی غروب ہو چکے ہیں جیسے برسات کی اس کا لی شام نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنگن میں بسیرا کر لیا ہو۔ وہ آج بھی دلوں میں موجود محبت اور خلوص کی حرارت کو محسوس کر سکتی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ درمیان میں میلوں کی مسافت نے محبت کی اس حرارت کو نگل لیا ہے۔ دل ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر دھڑک رہے ہیں، اپنی اپنی زندگی پوری کر رہے ہیں۔ مگر اب آنگن کی پیشانی پر کوئی چاند نظر نہیں آتا۔

ہلکی سی ٹوں ٹوں کی آواز نے انھیں ان کی سوچوں کے بھنور سے کھینچ لیا۔ وہ چونک کر سیدھی بیٹھ گئیں۔ تکیے کے نیچے سے آواز آئی تھی۔ تو موبائل یہاں ہے۔ انھوں نے تکیہ اٹھایا، موبائل کی اسکرین روشن تھی۔ ان کے سارے چاند موبائل کی اسکرین پر فیس بک میسنجر میں اتر کر معدوم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے کانپتے لرزتے ہاتھوں میں مضبوطی سے موبائل کو تھاما اور نرمی سے اپنی انگلی کی پور سے فیس بک میسنجر کو چھوا۔ گول گول چاند کی طرح کئی چہرے اسکرین پر جگمگا اٹھے۔ چشمہ نہیں تھا آس پاس اس لیے پیغام پڑھ نہیں سکتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے باری باری ہر چہرے کو ایسی نرمی سے چھوا جیسے اپنے بیٹوں کے چہروں کو چھو رہی ہوں۔ وہ اس چاند کو چھو تو سکتی ہیں، انھیں دل بھر کر اپنی انگلیوں کی پوروں سے اسکرین پر گھما بھی سکتی ہیں مگر انگلی کی پور پر گھومتا ہوا یہ چاند ان کی زندگی کے اندھیرے آنگن میں روشنی نہیں بکھیرتا۔ یہ ایک چھلاوہ ہے، یہ ایسا چاند ہے جو کبھی کبھی ٹوں ٹوں کی آواز سے اپنے موجود ہونے کا احساس کروا جاتا ہے مگر اس چاند میں اتنی بھی طاقت نہیں، اتنی بھی روشنی نہیں کہ ان کی آنکھوں سے ڈھلکتے ہوئے آنسو کسی کو نظر آ سکیں۔

٭٭٭

یہ عجیب عورتیں

نظروں کے سامنے گہری دھند تھی، گرد و غبار تھا شاید۔ اس کا چہرہ ذرا سا چمکا تھا اس دھند کے پیچھے مگر شور اور بھیڑ میں وہ گم ہو گئی۔ میں نے اسے دوبارہ دیکھنے کی جستجو کی مگر نہیں! دھند بہت گہری ہے۔ یہ گرد و غبار نہیں کہرا ہے شاید یا رات کا ملگجا اندھیرا۔ میری جستجو جد و جہد میں بدل گئی۔ میں اسے دیکھنا چاہتی تھی مگر مجھے اس بھیڑ میں زور کا دھکّا لگا اور میں لڑکھڑا گئی۔

’’عجیب عورت ہے۔‘‘ کوئی بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اور میں اپنی جگہ کھڑی اچانک بھیڑ سے الگ ہو گئی جیسے ہوا میں معلّق۔ ہاں کسی کو پہچاننے کا یہ طریقہ صحیح ہے۔ میں نے ایک لمبی سانس لی اور اس چہرے کو یاد کرنے کی کوشش کی، کون تھی وہ؟ حجاب تھا اس کے چہرے پر یا نہیں؟ وہ تو برہنہ سر گھوم رہی تھی۔ شاید نوجوان سی تھی مگر پیشانی پر چند لکیریں بڑی واضح تھیں۔ پر یہ اچانک میں اس کے پیچھے کیوں پڑ گئی تھی۔ مجھے یاد آیا جب وہ میرے پاس سے گزری تھی تو کسی نے کہا تھا۔ ’’عجیب عورت ہے یہ۔‘‘ اور میں نے تجسس میں ادھر نظر دوڑائی تھی مگر وہ چہرہ سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن بہت شناسا بھی لگا تھا اور تب سے کانٹا سا بن گیا تھا اور دل میں چبھ رہا تھا۔ ایک معمّے کی طرح اور میں اس معمّے کو حل کرنا چاہتی تھی۔ کسی نے دھکّا دے کر مجھے بھی تو عجیب کہا تھا۔ یہ تو ایک ایسا خطاب ہے جو کبھی نا کبھی ہر عورت کو ملتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خود کو نہ جانے کتنے سانچوں میں ڈھالتی چلی جاتی ہے اور بدلے میں اسے اس خطاب سے نواز دیا جاتا ہے۔

میں اپنی جستجو چھوڑ کر گھر واپس جانا چاہتی تھی مگر راستے کی دھند میں جیسے کھو گئی تھی۔ نظر نے ساتھ دینا چھوڑ دیا مگر میری سوچ نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ میں اپنے ذہن میں ان عجیب عورتوں کا خاکہ مرتّب کرتی رہی۔ اور کیوں نہ کرتی؟ یہ لفظ ’’عجیب‘‘ اتنا سادہ بھی نہیں ہے بلکہ اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنی پیچیدہ یہ عورتیں۔ اس لفظ کے اندر پرت در پرت مفہوم کی دنیا آباد ہے کیونکہ یہ اپنے اندر محبت، نفرت، غصّہ اور جھنجھلا ہٹ سب کو سمیٹ لیتا ہے اور عجیب بن جاتا ہے پھر کسی نہ کسی عورت کو خطاب کی طرح عطا کر دیا جاتا ہے۔ میں اسی خطاب کا پیچھا کرتے ہوئے جیسے بادلوں پر سوار ہو گئی جن میں بہت سارے رنگ شامل تھے۔ میں دونوں ہاتھوں سے ان رنگوں کو ہٹا کر جیسے کوئی واضح اور ٹھوس شبیہ تلاش کر رہی تھی مگر سب رنگ آپس میں خلط ملط ہوئے جا رہے تھے۔ ان رنگین بادلوں میں تیرتے ہوئے کبھی کبھی مجھے لگتا جیسے میں گہرے سمندر میں ڈوبتی جا رہی ہوں اور سانس لینا بھی میرے لیے دشوار ہے۔ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور ذہن کی دھند چھٹ گئی۔ میں اپنے کمرے اور اپنے بستر پر تھی، محفوظ و مامون۔ سانس لے رہی تھی، سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتی تھی۔ دھند تھی، نہ بادل اور نہ ہی کہیں گہرا سمندر تھا۔ نہ ہی الجھے الجھے خیال تھے بس دل پر کچھ بوجھ سا تھا اور سر میں درد۔

تو یہ عجیب عورتوں کی تلاش مجھے خواب میں پریشان کر رہی تھی۔ کیسی گھٹن تھی خواب میں۔ توبہ!!! میں نے کروٹ بدلی۔ لگتا ہے عرصے سے پرسکون ہو کر نہیں سوئی۔ کبھی بے خوابی میں پریشان سوچ الجھائے رکھتی ہے، کبھی نیند میں دھندلے خواب۔

کچن کی کھٹ پٹ سے اندازہ ہوا کہ سونی آ چکی ہے اور روز کی طرح جلدی میں ہے۔ میں منہ ہاتھ دھو کر جب تک کچن میں پہنچی تو وہ چائے بنا چکی تھی۔ میں بالکنی میں آ کر بیٹھ گئی۔ خواب کا تاثر زائل نہیں ہوا تھا۔ دل پر ایک بوجھ سا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ عرصہ سے دل میں ایک ان جانی پھانس سی چبھی تھی جس سے بے خوابی کی شکایت رہنے لگی تھی اور جب نیند آتی بھی تو اس طرح کے خواب پریشان کرتے۔

’’آنٹی! سب کام کر چکی ہوں۔ آج مسالہ آپ خود گرائینڈر میں پیس لیں؟‘‘ اس نے چائے کا کپ مجھے تھماتے ہوئے کہا۔

’’کیوں؟‘‘ میں نے ذرا سا چڑ کر سوال کیا۔

’’میں نے آج نئی کرتی پہنی ہے۔ مسالے کی سل پر نہیں بیٹھوں گی۔‘‘ یہ چھبیس یا ستائیس سالہ دوشیزہ سونی کے نخرے تھے۔ جو روز نئی نئی کرتی پہن کر آتی تھی اور کام سے جی چرایا کرتی تھی، مگر کچھ اس طرح استدعا کرتی کہ غصّہ نہیں آتا تھا۔

’’ٹھیک ہے۔ جیسے جی چاہے کر لو۔ پر تمہارا روز کا یہی ڈرامہ ہے۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر لہراتی ہوئی میرے سامنے سے نکل گئی۔

سونی بڑی عجیب ہے۔ کبھی اپنے حالات سے نالاں نظر نہیں آتی۔ ہر وقت ہنستی مسکراتی اچھے لباس میں صاف ستھری نظر آتی ہے۔ اس کی ایک بیٹی اور ایک ناکارہ شوہر ہے۔ وہ عجیب اس لیے ہے کہ شوہر سے پٹ کر اور ہر وقت طلاق ملنے کی دھمکی کے باوجود اس کے خلاف رپورٹ نہیں کرتی۔ جب لوگ اسے بتاتے ہیں کہ قانون بن گیا ہے تو یہ کہہ کر سب کو لاجواب کر دیتی ہے کہ قانون بنانے والوں سے کہو، ان عورتوں کو پہلے انصاف دلوائیں جو دن رات پاور اور پیسے والوں کے ذریعے نوچی کھسوٹی جا رہی ہیں۔ وہ مجھ پر اپنی ناکامیوں کا غصہ نکال لیتا ہے پر میری عزّت کا رکھوالا تو ہے۔ دوسروں کی بہو بیٹیوں کو تو نہیں نگل رہا۔ اسے ضد تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر اپنی بیٹی کو تعلیم دلوائے گی۔ وہ مجبوری، بے بسی اور آنسو کو حقارت سے دیکھتی تھی۔ محنتی تھی مگر اپنے کام کو آسان بنانے کا ہنر جانتی تھی۔ وہ ایسے گھر اپنے کام کے لیے منتخب کرتی تھی جہاں کم اور سلجھے ہوئے کام ہوں، چھوٹی فیملی ہو اور ہر وقت کی بک بک جھک جھک نہ ہو۔ وہ اپنے کام کو جاب کہلوانا پسند کرتی تھی اور اپنی بیٹی سے ہمیشہ کہتی کہ تو پڑھ لکھ کر مجھ سے اچھی جاب کرنا۔ آفس والی، گھر والی نہیں!! ایک دن مجھے اخبار دیتے ہوئے صفورہ زرگر کی تصویر پر انگلی رکھ کر بولی، ’’میں اپنی بیٹی کو ایسا بناؤں گی۔ پڑھی لکھی اور بہادر۔‘‘

وہ خود بھی تو بہادر تھی۔ کتنی ہمت سے پچھلے دنوں اپنے نا مساعد حالات کے باوجود مظاہرے میں ساری رات حاضر رہتی تھی کیونکہ جینے کے لیے دن میں اسے مزدوری کرنا تھا۔ یہ ہمّت اور یہ جذبہ مجھ میں کیوں مفقود ہے۔ میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے سوچا اور کپ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔

اور یہ صفورہ زرگر۔۔ یہ بھی تو کتنی عجیب لڑکی ہے۔ اتنی کم عمر، نئی شادی شدہ اور تین ماہ کی حاملہ مگر اس نے کیا کچھ برداشت نہیں کر لیا اس چھوٹی سی عمر میں۔ اپنی پہاڑ جیسی ہمّت سے پورے ایک نظام سے ٹکرا جانا کیا معمولی بات ہے۔ اس کی ہمت نے نظام کے جبر کو ہی نہیں بلکہ اس جبر کی زد میں آئے اس خوف کو بھی للکارا تھا جو دلوں میں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ اسی للکار نے تو میرے خوف کو کھینچ کر روشنی میں کھڑا کر دیا تھا اور میں خود سے شرمندہ تھی۔ پچھلے دنوں ایک سو ایک دن چلنے والے اس احتجاج میں ایک دن کے لیے بھی میں اس اندھے قانون اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اپنی آواز شامل نہیں کر پائی تھی۔ گھر اور گرہستی کی مصروفیات چھوڑ کر اس طرح کے احتجاج اور مظاہرے میں شامل ہونا کیا آسان بات ہے۔ ہر وقت گولیوں، بموں اور پولیس کی لاٹھیوں کے خوف کے سائے میں۔ وہ بھی دسمبر اور جنوری کی خون منجمد کر دینے والی اس سردی میں، آسمان کے نیچے، جبکہ ہر انسان اپنے گھروں کی محفوظ چار دیواری میں آرام دہ رضائیوں میں دبکا رہتا ہے۔ میں بھی تو دبکی رہی تھی، میں نے خواب کے دھندلکے میں کئی بار صفورہ کا چہرہ بھی دیکھا تھا، ایک پر اعتماد چہرہ۔ کیا تمہیں اپنی نئی شادی شدہ زندگی کی فکر نہیں، نہ اس بدنامی کی جو تمہارے نام سے منسوب کی جا رہی ہے اور نہ ہی اپنے آنے والے بچّے کی یا اس کے روشن مستقبل کی اور وہ حقارت سے قہقہے لگاتی دھند میں غائب ہو جاتی جیسے کہہ رہی ہو، ’’کون سا روشن مستقبل؟ کون سی زندگی۔‘‘ میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا۔ میں نیند اور جاگنے کا فرق بھولتی جا رہی تھی۔ حقیقت اور خواب جب خلط ملط ہو جائیں تو جینا محال ہو جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی دو انتہاؤں کے درمیان یہ خواب ہی تو ہے جس کے پیچھے ہم زندگی بھر دوڑتے ہیں۔ اگر ان کے درمیان کی تفریق ختم ہو جائے تو ہم تعبیر ڈھونڈنا بند کر دیتے ہیں تب زندگی ہمیں ڈرانے اور تھکانے لگتی ہے۔ میں سچ مچ تھک گئی تھی، سوچتے سوچتے ڈر جاتی تھی کیونکہ بھول گئی تھی کہ جن پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے اس کے لیے کوئی ہے جو دریا میں راستے بنا دیتا ہے اور اپنی ساری طاقت کے باوجود فرعونیت غرق ہو جاتی ہے مگر ایسے نتائج کے لیے پہلے خود دریا میں اترنے کی ہمّت کرنی پڑتی ہے۔

دروازے کی گھنٹی بجی تو میرے خیالوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ میری چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ میں دروازے کی طرف دوڑی اس خیال سے بھی کہ سونی کے جانے کے بعد سے دروازہ تو کھلا ہوا ہو گا۔ نہ جانے کون ہے اس وقت۔ دیکھا تو پڑوس والی دادی کھڑی تھیں۔ انھیں ساری بلڈنگ کے ہر عمر کے لوگ دادی کہتے تھے۔

’’السلام علیکم!!!‘‘ میں نے گرمجوشی سے کہا۔

’’وعلیکم السلام! آج حلیم بنایا تھا۔ گھر کا ہے اور بالکل صفائی سے بنا ہوا ہے۔ اگر کوئی پرہیز نہیں تو لے لو۔‘‘ انھوں نے پیالہ میری طرف بڑھایا۔

’’ارے! آپ کے ہاتھ سے کیسا پرہیز، پر آپ نے کیوں زحمت کی؟ مجھے بلا لیا ہوتا یا میں سونی کو بھیج دیتی۔‘‘

’’نہیں بھئی! پانچ ماہ سے گھر میں بند ہوں۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی صبح کی سیرتو ختم ہی ہو گئی ہے۔ اب اسی بہانے میں ذرا اپنے فلور پر ہی چل پھر لیتی ہوں اور دیکھو ماسک بھی لگاتی ہوں۔‘‘

’’اتنی صبح صبح آپ نے حلیم تیار بھی کر لیا؟‘‘ میں نے پیالہ پکڑتے ہوئے کہا۔

’’یہ صبح ہے؟ گیارہ بجنے والے ہیں۔‘‘

’’آپ اندر تو آئیے۔ میں نے تو ابھی صبح کی چائے بھی نہیں پی۔ اس لیے میرے لیے یہ صبح کی شروعات ہی ہے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’دیر تک سونا تم نئی نسل والوں کا طریقہ ہے۔ ہم تو پانچ بجے اٹھنے والے لوگ ہیں۔ ویسے بھی سارا دن اور ساری رات احتجاج میں شامل ہونے کی عادت نے صبح ہی صبح سارا کام ختم کر لینے کی عادت کو اور بھی پختہ کر دیا ہے۔‘‘ وہ اندر آ کر صوفے پر بیٹھ گئیں

میں حیرت کے سمندر میں غرق ہو گئی۔ اسّی سالہ اس خاتون کے خون میں کہاں سے اتنی گرمی آ گئی کہ برف گراتے آسمان کے نیچے بیٹھنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا تھا ان میں۔ ’’کیا ہوا بی بی؟ کس سوچ میں گم ہو؟ میرا پیالہ خالی کر کے لے آؤ۔‘‘ میں ان کی آواز کے ساتھ سوچوں کی گرداب سے باہر آئی۔

’’جی! ابھی لائی۔ مسز فرحان تو بہت تعریف کرتی ہیں آپ کے کھانوں کی۔‘‘ میں ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ واپسی میں چائے کی ٹرے میرے ہاتھ میں تھی۔

’’ارے چائے بنانے کی زحمت کیوں کی؟‘‘ انھوں نے خوش دلی سے ماسک اتارتے ہوئے کہا

میں نے دو پیالیوں میں چائے نکالی اور ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، ’’آج آپ کے ساتھ ہی سہی۔‘‘ مسکرا کر بولیں، ’’مسز فرحان کے یہاں بھی حلیم دے کر آئی ہوں۔ آفس بند ہونے کی وجہ سے آج کل تو گھر میں ہی ہیں۔ کرونا نے سب کو قید کر دیا ہے۔ ان کے شوہر کہنے لگے کہ۔۔ ’گھر کے کھانے کا مزہ تو آپ کی وجہ سے آتا ہے ورنہ نغمہ ہوٹل کا بنا ہوا لا کر سرو بھی خود سے نہیں کرنا چاہتیں۔ اب لاک ڈاؤن میں سب بند ہے اور ہر وقت گھر میں پکا پکا کر بیگم کی حالت خراب۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد بولیں، ’’کتنی عجیب ہیں نا؟ کھانا بنانا بھلا کیا مشکل۔‘‘

’’جی! ورکنگ ہونے کی مجبوری ہے۔ بے چاری گھر سے دس گھنٹے تو باہر ہی رہتی تھیں۔ اس لیے باہر کے کھانے کی عادت پڑ گئی ہو گی۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں اسی لیے میں نے کہہ دیا کہ جو کھانا ہو مجھے کہہ دو میں بنا دیا کروں گی۔ خوش ہو گئے دونوں کہنے لگے، آپ کے یہاں کا صاف ستھرا بنا ملے تو میں اپنے دوستوں سے بھی کہوں گا آپ سے منگوا لیا کریں۔ آپ یہ کام شروع کر دیجیے۔ مفت کیوں کھلاتی ہیں۔‘‘

’’ہاں پر۔۔۔ اس عمر میں اتنی محنت آپ کیسے۔۔۔۔؟‘‘

’’ارے بی بی! یہ میرا شوق ہے۔ میں اپنی کام والی کی مدد سے سب کر لوں گی۔ مجھ سے خالی نہیں بیٹھا جاتا۔ سب نے اپنی اپنی نوکرانی کو بلانا شروع ہی کر دیا ہے۔ میں بھی بلواتی ہوں پر ہر طرح کی احتیاط لازمی رکھتی ہوں۔‘‘

’’جی! احتیاط تو لازمی ہے۔ قدرت نے ایک عجیب امتحان میں ڈال دیا ہے ساری انسانیت کو۔‘‘

’’اس کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اس کی ذات سے نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ اچھا خدا حافظ! تمھیں بھی ابھی کام ہو گا۔ چلتی ہوں۔‘‘ وہ چائے کی خالی پیالی میز پر رکھتی ہوئی کھڑی ہو گئیں۔

جاتے جاتے وہ ایک اور عجیب عورت سے میرا تعارف کروا گئیں۔ مسز فرحان سے۔۔۔ بلکہ دو عجیب عورتوں سے۔ خود بھی تو عجیب ہیں۔ اسّی سال کی عمر میں نہ جانے کہاں سے اتنا جوش اور شوق سنبھال کر باقی رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے کمرے میں واپس آئی تو لگا جو پھانس دل میں چبھی ہے وہ ابھی تک نکلی نہیں ہے۔ اب بھی میں اس مطلوبہ چہرے تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی، نہ خواب میں اور نہ ہی حقیقت میں۔ یہ ساری عجیب عورتیں ہمارے ہی درمیان کی معمولی عورتیں ہیں جو کوئی نا کوئی زندگی کا مقصد لے کر بس جیے چلی جا رہی ہیں، میری طرح۔

مجھے اوپر کے فلیٹ والی سنیتا یاد آئی، سنگل پیرنٹ۔ اسے میں کبھی معمولی نہیں سمجھتی تھی۔ شوہر کے مسلسل جبر کا شکار، شادی کے آٹھ سال بعد اپنے بچّوں کے ساتھ الگ ہو گئی۔ تعلیم یافتہ، خوبصورت اور اسمارٹ۔ کھل کر جیتی ہے۔ لڑکوں کے ساتھ دوستی رکھنا، خوب گھومنا، مست رہنا اس کے لیے معیوب نہیں ہے مگر ان باکس میں گلدستے، دل اور بوسے بھیجنے والوں کو دور تک رگید دیتی ہے۔ زندگی ہو یا ان باکس، حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرنے والوں کو حد میں رکھنے کے لیے اس کی ایک گرم نگاہ ہی کافی ہے۔ اس کا کوئی بھی عمل مخفی نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنے موبائل میں پاس ورڈ لاک رکھنا پسند نہیں کرتی کیونکہ وہ اپنے کسی عمل پر پشیمان نہیں رہتی۔ اس کے بچّے بہت پیارے ہیں جن پر وہ اپنی جان نچھاور کرتی ہے۔ اس لیے ان کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتی ہے۔ گاؤں چھوڑ کر شہر بھی اسی لیے آئی کہ ان کا مستقبل محفوظ کر سکے پر جب سے شہریت قانون آیا ہے، فکرمند رہتی ہے۔ میکے اور سسرال کسی کا سہارا نہیں، صرف اسکول کالج کی ڈگری ہے۔ اب وہ کیسے اور کہاں سے لائے اپنے پرانے کاغذات۔ کہتی ہے، ’’اب سے پہلے خود کو کبھی تنا کمزور محسوس نہیں کیا۔‘‘ اس وقت احساس ہوا تھا کہ وہ بھی ایک معمولی اور کمزور سی عورت ہے۔

میں نے سوچا شاید اپنی کمزوری اور معمولی پن سے جوجھنے کی ادنیٰ سی خواہش انھیں عجیب بنا دیتی ہے۔ ڈگر سے ہٹ کر بنے بنائے راستوں پر چلنے سے انکار کی کوشش۔ ہاں! یہ سب عورتیں نہ تو خاص ہیں اور نہ ہی غیر معمولی۔ یہ سب معمولی عورتیں ہیں، سب عورتوں کی طرح۔ اپنے بچوں، اپنے سہاگ اور اپنے مستقبل کے لیے سر گرداں اور پریشان۔ پھر میں ان ہی کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں۔ مجھے خواب میں ان کے ہی مختلف ہیولے کیوں نظر آتے ہیں۔ ہم سب معمولی عورتوں میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں، سب میں چند خوبیاں اور چند خامیاں ہیں بس۔ پھر ہمیشہ یہ عجیب کی تلاش مجھے ایک بند دروازے کے سامنے لے جا کر کیوں کھڑا کر دیتی ہے۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ میرے بیٹے کا ہو گا۔ میں اسے ہندوستان سے باہر بھیج کر کتنی خوش تھی کہ اس کا مستقبل محفوظ کر دیا ہے پر اب ڈرنے لگی ہوں۔ فون کی آواز سے بھی بچتی ہوں کہ فون پر نہ جانے کیا سننے کو ملے۔ دنیا میں کوئی جگہ ہے جو محفوظ ہو؟ میں نے دعا کرتے ہوئے فون ریسیو کیا کہ سب خیریت ہو۔

’’امّی! مجھے گھر واپس آنا ہے۔‘‘

’’کیا ہوا بیٹا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ یا نوکری؟‘‘ میری آواز حلق میں پھنسنے لگی۔

’’اسپیشل فلائیٹ سے کافی لوگ اپنے اپنے ملک لوٹ رہے ہیں کرونا کی وجہ سے۔ میرا دل یہاں نہیں لگ رہا۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، اپنے ملک میں، اپنے گھر پر۔‘‘

’’ہاں، ہاں بیٹا!!! واپس آ جاؤ۔ میرا بھی دل نہیں لگ رہا۔ حالات جیسے بھی ہوں مل کر ہمّت بنی رہتی ہے۔‘‘

’’شکریہ امّی!! میں کل بتا دوں گا کہ کب کی فلائیٹ ہے۔‘‘

کبھی کبھی ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جو ہو رہا ہے وہ بہتر ہے یا نہیں۔ مجھے لگا کہ اس کی نوکری جا چکی ہے جسے وہ ابھی بتانا نہیں چاہتا تاکہ میری ہمّت بنی رہے۔ ایک نوکری جانے سے مستقبل تو ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس خبر سے، اس فیصلے سے مجھے ایک سکون حاصل ہوا جیسے میری کھوئی ہوئی طاقت واپس مل رہی ہو۔ ایسا لگا کہ ذہن سے ساری دھند صاف ہونے لگی ہے۔ میں خود کو جن عورتوں سے بالکل الگ سمجھ رہی تھی اس ایک خبر سے اب خود کو اسی قطار میں کھڑا ہوا دیکھ سکتی تھی اور میرا چہرہ بھی ان سارے معمولی چہروں میں شامل ہو چکا تھا۔ یہ سارے معمولی چہرے مل کر ایک بھِیڑ میں بدل گئے جس میں سونی بھی تھی، اسّی سالہ دادی بھی، اکیلی بچوں کی پرورش کرنے والی پڑوسن سنیتا بھی اور گھر اور کچن کے کام سے گھبرانے والی مسز فرحان بھی۔ یہ سارے چہرے ضرب ہوتے ہوتے ایک لا متناہی بھیڑ میں بدل گئے۔ ایک سیلاب کی طرح سڑکوں پر ابل آئے۔ یہ ساری کی ساری عجیب عورتیں طاقت کا استعارہ بن کر ابھریں اور ساری دنیا کی نظروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ انھوں نے اپنی فولادی ہمّت سے طاقت، حکومت، قانون سب کی سانسیں پھلا دیں۔ جو ان کے سامنے آتا ان کی پھنکار سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا۔ آسمان سے برسنے والی موسم کی شدّت بھی ان کے پیر اکھاڑ نہ سکی۔ موت کا خوف بھی انہیں باز نہ رکھ سکا۔ اپنے آنچل میں اپنے لعل کو سمیٹے، اپنی ہی زمین پر اپنے آنے والی نسلوں کے لیے اور ان کے مستقبل اور حقوق کے لیے بھِیڑ بن کر سڑکوں پر بیٹھ گئیں تھیں۔ ان کی اس عجیب ہمّت اور خصلت نے بد خواہوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ میرا لعل بھی واپس آ رہا تھا بلکہ اسے بھیج کر میں اب تک خود دھوکے میں جی رہی تھی۔ میں ان سے الگ نہیں تھی، مجھے بھی اس کے مستقبل کی فکر کرنی تھی۔ پرندے لوٹ کر گھونسلے میں ہی آتے ہیں اور اس گھونسلے کو محفوظ رکھنا ہمارا فرض تھا۔ میرے دل میں سکون اتر آیا۔ میں اب خود کو ان عجیب عورتوں میں شامل کر کے پر سکون ہو گئی تھی۔ دریا پر ہمارے قدم پڑ چکے تھے۔

٭٭٭

ہٹلر

چلتی ہوئی بس میں ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری کو پڑھتے ہوئے نہ جانے کب میری توجہ پوری طرح بس کی کھڑکی کی طرف مبذول ہو چکی تھی۔ بس کی رفتار اس کے شیشوں کو جھانجھر کی طرح بجا رہی تھی۔ اس بے ہودہ آواز نے میرا دل کتاب سے اچاٹ کیا تھا یا شیشے کے کھسکنے سے باہر سے آنے والی تیز یخ بستہ ہوا نے، جس میں تلوار کے دھار جیسی کاٹ تھی یا شاید بار بار ہاتھ اٹھا کر اس شیشے کو بند کرنے کی کوشش مجھے زیادہ اذیت دے رہی تھی؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

موبائل کے میسج ٹون کی مدھم آواز مسلسل جاری تھی جس کی طرف سے میں لاپروا تھی – شاید اس لیے کہ گود میں رکھی ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری اب بھی میرے دماغ پر حاوی تھی۔ بلکہ میں تصور میں ہی سہی اس ڈائری کی راوی کے مردہ جسم میں حلول کر کے نیدر لینڈ کے ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۵ء کی زندگی کو جی رہی تھی۔ میں ہٹلر کے زمانے کی دنیا کے ایک گمنام عقوبت خانے میں ایک بیمار پندرہ سالہ لڑکی کی اذیت جھیل رہی تھی۔ مگر اس بے کار سی بس نے مجھے ایک نئی اذیت میں مبتلا کر کے واپس اکیسویں صدی کی آزادی، خود مختاری، معاشی بہتری اور بے فکری کے دور میں کھینچ لیا تھا جہاں اب بھی یہ الفاظ رومانیت پسندی کی مثال بھر تھے۔

اس سے پہلے کہ میں پوری طرح چوکس ہوتی بس ایک جھٹکے سے رک گئی۔ ’’کیا ہوا۔‘‘ بس کے اندر ایک سراسیمگی در آئی۔ ’’ٹریفک جام ہے کیا؟‘‘

’’نہیں! کوئی ریلی لگتی ہے۔‘‘ ایک آواز آئی۔ کچھ گاڑیاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے لوگوں سے بھری ہوئی گزر رہی تھیں۔ ہلّڑ مچاتے ہوئے لوگ نہ جانے کس گمان میں تھے۔

’’اس طرح کب تک رکیں گے؟‘‘ کسی نے بے چین ہو کر سوال کیا۔

’’آگے نکلنے کا راستہ نہیں ہو گا، ابھی تو بہت بڑی بھیڑ اسی طرف آ رہی ہے۔ دیکھیے پرائیوٹ کار والے کیسے اپنی گاڑیاں موڑ موڑ کر واپس بھاگ رہے ہیں۔‘‘

’’حد ہے، بھاگ کیوں رہے ہیں؟ ریلی ہے، گزر جائے گی۔‘‘ ایک آدمی نے کندھے اچکائے۔

’’آپ نہیں جانتے؟‘‘ جواب میں دوسرا طنزیہ مسکرایا۔

؎     اس طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ کا یہ فائدہ تو ہے کہ آپ کتنے بھی بے خبر ہوں، چاہتے نہ چاہتے سارے سوال اور جواب کانوں میں پڑ کر آپ کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر کر دیتے ہیں۔ میں بھی خیالی دنیا سے نکل کر حال میں پوری طرح واپس آ چکی تھی۔ ایک شور کی آواز قریب آتی جا رہی تھی۔ کچھ لوگ بے چین ہوئے تو کھڑکی کھول کر اور سر باہر نکال کر قریب آتے شور کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے بھی کوشش کی۔ ہلڑ اور بدتمیزی کا اندازہ کر کے کسی نے مشورہ دیا۔ ’’بس کنارے پر اتار لو۔ بھیڑ کا کیا بھروسہ۔‘‘

’’ہاں! ریلی نکل جانے دو۔‘‘ کئی لوگوں نے تائید کی۔

’’کیا مصیبت ہے؟ میرا ایک ٹیسٹ ہے آج، چھوٹ نہ جائے۔ کنارے پر کر کے دھیرے دھیرے بڑھو۔‘‘

’’گاؤں کی پتلی سڑک ہے اور دیکھ نہیں رہے سامنے کا ہجوم؟ کدھر سے نکل سکتے ہیں؟‘‘ یہ کنڈکٹر تھا جو اس لڑکے کو جواب دے رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ انسان اچھے دور میں کتنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کو ناقابل برداشت سمجھتا ہے۔ جبکہ ہر دور میں کہیں نہ کہیں کئی ملکوں میں یا خطوں میں، جنگ و جدل جیسے حالات اور اس کے زہریلے اثرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو انسانی زندگیوں کو جہنم زار بنا دیتے ہیں۔ ہم تو پھر بھی آزاد ملک کے خود مختار باشندے ہیں۔ میں پھر تانا شاہی کے دور کی بربریت کے خیال سے اس دور کے ان دیکھے دکھوں میں ڈوبنے لگی۔

’’آج وقت پر نہ پہنچے تو مَنڈی بند ہو جائے گی۔ مہاجن سے حساب کرنا تھا۔‘‘ ایک غریب کسان نے بے چین ہو کر پہلو بدلا۔

سب کے اپنے اپنے غم تھے۔ سکون اور سہولت سے جینے کی خواہش رکھنے والے محنتی لوگ۔ اپنی زندگی کو پٹری پر رکھنے کی جد و جہد میں اپنی ذات اور زندگی سے پرے دیکھنا ہی بھول گئے تھے یا حالات انھیں اس کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے۔ اس بس میں بیٹھے سارے لوگ اپنے خوابوں سے صرف ایک فرلانگ کی دوری پر رہتے تھے اور یہ مان بیٹھے تھے کہ اپنی ذات کی حد تک کی گئی ان کی فکر سے سارے مسائل دور ہو جائیں گے۔ کوئی طالب علم امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے بے روزگاری کے گڑھے سے ایک ہی جست میں باہر نکلنا چاہتا تھا، کوئی کسان بینک سے قرض لینے کی امید باندھ کر اچھی فصل کے خواب پال رہا تھا، کوئی بچہ ماں باپ کی محفوظ پناہ گاہ سے نکل کر ہوسٹل جا رہا تھا، کسی عورت نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے زندگی کو پر آسائش بنانے کا خواب آنکھوں میں سینچ رکھا تھا۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ ایک آزاد جمہوریت کا حصہ ہیں اور وہ زمانے کی ساری ہلچل کو خود سے مناسب دوری پر رکھنے کے قائل اور عادی تھے۔ مگر زندگی کی اوبڑ کھابڑ سڑک پر دھچکے کھاتی ہوئی دوڑنے والی ان کی بس رکی تو وہ سب جھنجھلا اٹھے۔ انھیں اس بات سے زیادہ کوئی فکر اور کوئی تکلیف نہیں تھی کہ ان کا سفر جسے وہ جاری رکھنا چاہتے تھے ٹھہر گیا تھا۔ نعروں کی تیز آواز قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ کوئی سیاسی ریلی ہی تھی۔

’’بس کنارے پر اتار لینا ہی ٹھیک ہے۔‘‘ ڈرائیور نے کہا اور بس سڑک سے ہٹا کر نیچے کچی زمین میں اتار دی۔ اس کے آگے پیچھے چند اور سواریاں بھی سڑک سے ہٹ جانے میں اپنی عافیت سمجھ رہی تھیں۔ اب سڑک یک طرفہ ٹریفک کے لیے صاف تھی۔ جس سے ٹریکٹر ٹرالی، بس، ٹرک، کار، جیپ یہاں تک کہ موٹر سائیکل اور سائیکل بھی، غرض ہر طرح کی سواریاں، گاڑیاں اور اس میں بھرے ہوئے انسان گزر سکتے تھے جن کی جیبوں کی طرح ان کے دماغ بھی خالی تھے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح سواریوں پر لدے ہوئے تھے۔ وہ لوگ اسی آزاد جمہوریت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ذرا دوسری طرح کے لوگ تھے، ملک میں ان کا حصہ مردم شماری کی حد تک تھا اور تعلیم، نوکری، گھر زمین ہر طرح کی سہولت سے محروم ملک کے ان باشندوں کی اہمیت اچانک الیکشن سے پہلے بڑھ جاتی تھی اور اپنی اس اہمیت پر یہ پھولے نہیں سماتے تھے۔ ان کے خالی دماغ کو ایک خاص مقصد کے تحت ایسے ترتیب دیا گیا تھا کے وہ سرکس کے جانور سے مشابہ لگ رہے تھے جنھیں کچھ کرتب دکھانے کے بعد چند نوالے ملنے کی امید ہوتی ہے۔ گندے فقرے، نفرت بھرے نعرے، غلیظ قسم کی گالیاں اور ایک ہلڑ مچاتی عوام کی ریلی نہیں ریلا تھا جو گزر رہا تھا اور خاموش تماش بینوں کے دلوں میں دہشت پیدا کر رہا تھا۔ اس میں پا پیادہ بھیڑ کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ اچانک پیدل چلنے والی ایک ویسی ہی بھِیڑ سڑک سے اتر کر بس اور کنارے پر کر کھڑی گاڑیوں کو گھیر کر کھڑی ہونے لگی۔ بس کے مسافر خوفزدہ ہو کر اپنی اپنی جگہ سمٹ گئے۔ میرے بغل کی سیٹ پر ایک کرتا پاجامہ اور سر پر گول سی کروشیہ کی بنی ہوئی سفید ٹوپی میں بیٹھا چودہ سال کا لڑکا سہم کر مجھ سے بولا، ’’یہ لوگ کیا کرنے والے ہیں آنٹی!! ؟‘‘

میں نے اضطراری طور پر اس کے سر سے ٹوپی اتار کر اپنے پرس میں رکھ لی، ’’شیی ی! کچھ نہیں کریں گے۔ ڈرو مت، چپ بیٹھے رہو۔ کیا نام ہے تمہارا؟‘‘

’’احمد۔‘‘ اس نے بہت دھیمی آواز میں کہا۔

’’آ۔۔ آپ کا نام، آنٹی؟‘‘ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔ شاید وہ مجھ سے بھی خوفزدہ تھا یا شاید میری ساڑھی دیکھ کر میرے مذہب کا اندازہ لگا رہا تھا، اور اسے محفوظ کر دینے کے میرے اضطراری عمل سے اسے کچھ حوصلہ ملا تھا۔ شاید وہ یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ اس وقت وہ میری آڑ میں محفوظ ہے کہ نہیں۔

’’اتر سب نیچے اتر۔‘‘ کوئی شیشے کے باہر چلایا۔ اس بے رحم اور اجّڈ آواز سے میرا سر چکرا گیا۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصّے میں میرے ذہن میں وہ سارے فساد گھوم گئے جو اس طرح کی بھیڑ نے سر انجام دیے تھے۔ میں نے احمد کا سرد ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ نہ جانے یہ اس کا خوف کم کرنے کی کوشش تھی یا میں اپنا ڈر سنبھالنے کا جتن کر رہی تھی۔ چھوٹے بچوں کو ان کی ماؤں نے اپنے آنچل میں چھپا لیا تھا۔

’’یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟‘‘ بس میں بیٹھے کچھ تعلیم یافتہ نوجوان تیوری چڑھا کر اپنی جگہ سے اٹھنے لگے تو ان کے پاس بیٹھے لوگوں نے انھیں واپس بٹھا دیا۔ ’’چپکے بیٹھے رہو۔ جھگڑا مت کرنا۔ بھِیڑ پاگل ہوتی ہے۔‘‘

’’یہ ہمیں اتار کیوں رہے ہیں؟‘‘ ایک لڑکا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔

’’آنٹی!! یہ ہمیں۔ کہیں۔‘‘

’’کچھ نہیں ہو گا۔ پولیس بھی تو ہو گی اتنی بڑی ریلی کے ساتھ۔‘‘ میں نے اسے کچھ بھی بولنے سے روکتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی مگر خود میرا دل جیسے کنپٹیوں میں دھڑک رہا تھا۔ اچانک کچھ لفنگے اجڈ اور خود سر لڑکے بس میں چڑھے اور کود کر ڈرائیور کے سر پر پہنچ گئے۔ نہ جانے اس سے کیا کہا کہ وہ اپنے سامنے لگی بھگوان کی تصویر دکھا کر دہائی دینے لگا مگر انھوں نے اس سے زبردستی بس اسٹارٹ کروائی اور اندر مسافروں کی طرف رخ کیا۔ اس لڑکے کے ہاتھ پر میری گرفت مضبوط ہوئی اور ذہن میں نہ جانے کتنی طرح کے خیالات کوند گئے۔

’’سب لوگ چپ چاپ گاڑی سے اتر جاؤ۔ جلدی کرو۔‘‘

’’ارے کیا کر رہے ہو بھائی۔‘‘ ایک دیہاتی بزرگ نے ہاتھ جوڑ لیا۔

’’تاؤ! صرف اترنے کو ہی بول رہے ہیں۔ چلو اتر لو۔‘‘ سب اترنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ کسی نے اپنے سامان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

’’نہ نہ!! سامان چھوڑ کر اترو۔ چپ چاپ۔‘‘ اس نے تمنچہ لہرایا۔

اس دیہاتی بزرگ نے پھر بھی اپنی گٹھڑی بغل میں دبائی اور اپنی جگہ سے آگے بڑھا۔

’’تاؤ! اسے چھوڑ جاؤ ہمارے لیے۔‘‘ اس نے جارحانہ انداز میں بزرگ کو روکا۔ اس بوڑھے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا شاید ساری جمع پونجی اس کے ساتھ تھی، وہ گڑگڑانے لگا۔ سب اس بوڑھے کو گڑگڑاتے دیکھ رہے تھے اور بس سے خاموشی سے اترتے جا رہے تھے، مسافروں سے بس خالی ہونے لگی۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، نوجوان۔ سب ایک پاگل بھیڑ کی زد میں تھے اور اس بپھری ہوئی بے مقصد بھیڑ کی آنکھوں میں سب تہ و تیغ کر دینے کا غرور ایسے بھرا ہوا تھا کہ ان آنکھوں میں خواب دیکھنے کی جگہ باقی نہ بچی تھی۔

ان ہلّڑ بازوں میں سے دو دروازے پر کھڑے ہو گئے تھے اور کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی ہوتا تو اس سے چھین لیتے۔ پھر ایک طرف قطار میں کھڑے ہونے کی تاکید بھی کرتے جا رہے تھے۔ مجھ سے آگے ایک نقاب پوش عورت کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ جو بچی تھی ڈر کر رونے لگی۔ دوسرے ساتھی نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا اور ڈانٹ کر کہا کہ ابھی جو کرنے نکلے ہو اس پر دھیان دو۔ میں نے اترتے ہوئے احمد کا ہاتھ نہ چھوڑا اور پرس خود ہی ان لفنگوں کی طرف بڑھا دیا۔ اس افرا تفری میں نہ جانے کب میری ’’اینی فرینک‘‘ والی کتاب احمد نے پکڑ لی تھی۔

ایک نے کتاب پر تمنچہ رکھ کر پوچھا، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’کتاب۔‘‘ میں منمنائی۔

’’ٹھیک ہے اس چوزے کو یہیں چھوڑ کر تم جاؤ۔‘‘

’’نہیں۔‘‘ میں نے اسے خود سے چمٹاتے ہوئے کہا۔

’’یہ ہمارے ساتھ ریلی میں جائے گا۔‘‘ وہ بھونڈی ہنسی ہنسنے لگا۔

’’یہ کہیں نہیں جائے گا۔‘‘ میری آواز خوف اور غم سے کانپ رہی تھی اور اندر سے اس بوڑھے کسان کی گڑگڑانے کی رقت آمیز آواز فضا میں دہشت بھر رہی تھی۔

وہ بد تمیزی سے ہنسے تب ہی اندر ڈرائیور کے سر پر کھڑے ان کے ساتھی چلائے، ’’جلدی کرو۔‘‘

مجھ سے مخاطب لڑکے نے تمنچے کی ایک ٹھوکر سے کتاب دور پھینک دی اور کھا جانے والی نظروں سے احمد کو دیکھا۔ میں جلدی سے اس کے ساتھ بس سے اترنے والے لوگوں کی بھیڑ میں جا کر کھڑی ہونے لگی کہ احمد کو کچھ دوسرے لڑکوں نے اپنے درمیان کھینچ لیا۔ وہ سب اسے تھپڑ لگا رہے تھے، ادھر سے ادھر ایک دوسرے کی طرف دھکے دے کر بے شرمی سے ہنس رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا جیسے چار پانچ کتوں کے نرغے میں ایک اکیلی بلی پھنس گئی ہے اور سب اسے ان جنگلی کتوں کی طرح شکار کرنے سے پہلے پنجے مار رہے ہیں۔ میری آنکھوں سے اب آنسو جاری ہو گئے میں نے بس سے اترنے والے لوگوں کی طرف بے بسی سے دیکھا سب کے چہروں پر تکلیف تھی مگر سب خاموش تھے۔ میں اچانک غصے سے لرزنے لگی اور چیختی ہوئی آگے احمد کی طرف بڑھی۔ مگر ایک نوجوان جو بس میں بھی کھڑے ہونے کی کوشش میں بٹھا دیا گیا تھا مجھ سے پہلے ان لفنگوں کی طرف بڑھا اور احمد کو کھینچ کر میری طرف کر دیا۔ میں نے اسے سمیٹ کر اپنے بازوؤں میں کر لیا۔ سب کے دھڑکتے ہوئے دلوں میں اس وقت ایک ہی سوال تھا کہ اب یہ لوگ کیا کریں گے۔ لٹے پٹے انداز میں اپنی کھلی پگڑ کے ساتھ بدحال دیہاتی بزرگ اترنے والوں میں شاید بس کا آخری مسافر تھا۔

نیچے ابھی احمد کو ان لفنگوں کے نرغے سے نکالنے والے لڑکے کے ساتھ کچھ دھکا مکی شروع ہی ہوئی تھی کہ اچانک انسانوں کی اس بپھری ہوئی بھیڑ کا رخ ان گاڑیوں کی طرف ہو گیا، جواب تک سواری اتار کر خالی کروائی جا چکی تھیں۔ سب سیٹ گھیرنے کی جلدی میں دھکا مکی کرتے ہوئے ادھر لپک رہے تھے۔ اندر سے لے کر باہر چھت تک سب لد گئے انھیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت ان سے کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں اور انسانوں کی بھیڑ کے ساتھ پولیس کی جیپ کا گزر بھی ایسے ہو رہا تھا جیسے وہ کاٹھ کے بنے ہوئے ہوں یا سب کچھ وہی اور ویسے ہی ہو رہا ہو جیسے ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہندوستان کی وہ عام عوام تھی جسے ریلی میں شامل ہونے کے لیے مختلف مقامات سے جمع ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ انھوں نے مفت کی شراب پی رکھی تھی، آج ان کا مقصد ایک مخصوص جگہ پر پہنچنا تھا۔ ریلی کی ساری گاڑیاں یکے بعد دیگرے گزرتی جا رہی تھیں۔ ان گزرنے والوں کا شور و غوغا اس لاقانونیت کو اور بھی خوفناک بنا رہا تھا مگر زبان گنگ ہو چکی تھی۔ میں، احمد اور وہ نوجوان اس وقت وہاں رہ جانے والے ان سارے لوگوں میں سے ذرا الگ کھڑے یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ہمارے سر سے وہ پاگل بھیڑ ٹل چکی ہے۔

ہمارے ساتھ کنارے اترنے والی دوسری گاڑیاں بھی ہماری بس اور مال غنیمت کے ساتھ اسی ریلی میں شامل ہونے کے لئے نکل گئیں۔ اور آزادی، خود مختاری، اکیسویں صدی میں جینے کا سارا یقین اور خوش کن احساس بس کے ساتھ اور اس گزرنے والی سیاسی ریلی کے شور، نعروں اور ہلڑ کے ساتھ نیست و نابود ہو چکا تھا۔ پیچھے رہ گئی خواب پالنے والی آنکھیں، ان آنکھوں میں اب خواب کی جگہ خوف و ہراس کا رنگ بھرا ہوا تھا۔ یہ سب خود کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں سمجھ رہے تھے اور یقیناً یہ سب ایسی صورت حال میں پڑنے سے ہمیشہ خود کو محفوظ سمجھتے تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ اس وقت اگر اس بھیڑ کا رخ دوسری طرف نہ مڑ گیا ہوتا تو احمد کا یا اس نوجوان کا کیا حشر ہوتا؟ مگر یہاں کھڑے لوگ بس یہ سوچ رہے تھے کہ اب سب ٹھیک ہو چکا ہے اور وہ کچھ انتظام کر کے اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ مگر میں ایسا نہیں سوچ پا رہی تھی بلکہ مجھے خیال آ رہا تھا کہ ہٹلر، مسولینی کے زمانے کے بارود برساتے آسمان کے نیچے تہہ خانے میں چھپی دھیرے دھیرے بیماری اور موت کی طرف بڑھتی ہوئی ’’این فرینک‘‘ اور اس کے ساتھ جنگ میں پھنسے لوگوں نے اپنے چہار طرف سڑتی گلتی لاشوں کو دیکھ کر بھی تو سوچا ہو گا کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شاید کسی دن انھیں ان حالات میں پہنچا دینے والے ظالم کے دل میں خدا رحم ڈال دے گا اور بے قصور لوگوں کی زندگی کو جہنم بنانے سے وہ باز آ جائے گا۔

میں یہ سوچنے سے خود کو کسی طرح روک نہیں پائی کہ جنگ کا طریقہ وقت کے ساتھ بدل ضرور جاتا ہے مگر کچھ لوگ اسے ختم کبھی نہیں ہونے دیتے۔ مجھے لگا کہ آج بھی میں کچھ مرے ہوئے لوگوں کے درمیان کھڑی ہوئی ہوں اور مردہ لاشوں میں یہ شعور کہاں ہوتا ہے کہ وہ کچھ سوچ سکیں اور جان سکیں کہ وہ کن حالات میں جی رہے ہیں۔ اس لیے اس کھلے آسمان کے نیچے ہوتے ہوئے بھی میں ایسا محسوس کر رہی تھی جیسے ایک گیس چیمبر کے گھٹن زدہ ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہوں اور یہ ایسا تہہ خانہ ہے جس میں تازہ ہوا کا گزر بند ہو چکا ہے۔ ٹھٹھری ہوئی کہر آلود فضا اور ڈوبتے ہوئے دن کے اجالے پر چھانے والے نارنجی رنگ کے پھیلاؤ میں اس بھیڑ کے ہاتھ میں لہرانے والا جھنڈا آزاد ہندوستان کا ترنگا نہیں تھا بلکہ شفق کی سرخی اور خوف کی سیاہی کے ساتھ مل کر یہ خون آشام ہو گیا تھا اور بھیڑ کے کندھوں پر جمہوریت کا جنازہ اپنے پیچھے گونگے بہرے لوگوں کو چھوڑ کر دور نکلتا جا رہا تھا۔ ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری پیروں کی ٹھوکروں کی زد میں آ کر دھول میں مل چکی تھی اور اس کی راوی کے چہرے کا پیلا پن صدیوں کا سفر کر کے اب میرے پاس کھڑے اس معصوم لڑکے کے چہرے پر نمودار ہو چکا تھا اور ہٹلر کا چہرہ جا بجا پوسٹروں میں ہر سو مسکراتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

٭٭٭

کشمکش

آج مجھے شدّت سے احساس ہو رہا تھا کہ اپنی ہی نظروں میں گر جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پانچ سو روپے کے نوٹ کے پیچھے چھپے قوی ہیکل سوالات اپنی شکلیں بدل بدل کر مجھے پریشان کر رہے تھے اور میں بس کے باہر بھاگتے ہوئے مناظر سے زیادہ اپنے اندر چھپے ان پریشان کن سوالوں کے گرداب میں پھنستا جا رہا تھا۔

آج ہی کی تو بات تھی، صبح صادق کا اجالا ابھی نہ پھیلا تھا۔ دور دور تک سناٹے اور تاریکی کا راج تھا۔ فضا میں حبس بہت تھا۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا چورا ہے تک پہنچا اور مجھے یہ دیکھ کر یک گونہ سکون ہوا کہ سڑک کنارے ایک سائیکل رکشہ موجود تھا۔ رکشے کے قریب جا کر میں نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ رکشے والا ایک کثیف سا کپڑا منہ پر ڈالے رکشے کی سیٹ پر گہری نیند سو رہا ہے۔ میں نے ایک اضطراری کیفیت میں گھڑی دیکھی۔ ساڑھے تین بج چکے تھے۔ میری بس چار بجے کی تھی اور بس اسٹینڈ تک جانے میں یہاں سے آدھ گھنٹہ تو لگ جاتا ہے اس لیے اب میرے پاس رکشے والے کو نیند سے جگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

’’ارے بھئی!! اٹھو، بس اسٹینڈ چلنا ہے۔‘‘ میری آواز سناٹے میں سر دھنتی رہ گئی۔ میں نے اس بار رکشے والے کے کاندھے کو ہلکے سے چھوا۔ ’’اٹھو!! بس اسٹینڈ جا نا ہے۔‘‘

’’مجھے نہیں جانا ہے صاحب! دوسرا رکشہ دیکھیں۔‘‘ اس نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا مگر مجھے برا نہیں لگا۔ آخر میں اس کی گہری نیند میں مخل ہوا تھا مگر میرا اضطرار بڑھ رہا تھا۔ میں کسی بھی طرح یہ بس چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔

’’چلو بھئی! یہاں کوئی دوسرا رکشہ نہیں ہے۔‘‘ اس بار ذرا زور سے جھنجھوڑتے ہوئے میں نے کہا۔ میری آواز میں بے چارگی عود کر آئی تھی مگر وہ راضی نہیں ہوا۔

”طبیعت ٹھیک نہیں ہے صاحب! مجھے نہیں جانا ہے۔‘‘ اس بار اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کندھے پر رکھا اور اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا۔

میں نے موقع غنیمت جانا اور پائیدان پر اس کے پیر کے پاس زبردستی کے انداز میں اپنا بریف کیس رکھتے ہوئے کہا، ’’چلو بھا ئی! بس چھوٹ جائے گی، میرے پاس وقت بالکل نہیں کہ دوسرے رکشے کا انتظار کروں۔‘‘

’’کہا نا صاحب! طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ بھی ایک ضدّی ہی تھا۔

مجھے غصہ آنے لگا مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا، ’’ارے! تم کچھ زیادہ پیسے لے لینا۔ میرا جانا بہت ضروری ہے، بس تم یہ بس پکڑوا دو، بڑی مہربانی ہو گی۔‘‘

میرے لجاجت بھرے انداز کا اثر تھا یا پیسے کی بات کا، وہ رکشے سے اتر آیا اور میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اچک کر رکشے پر بیٹھ گیا۔ اس نے بڑی قباحت سے رکشہ آگے بڑھایا اور میں نے پھر گھڑی دیکھی، دس منٹ یہیں پر ضائع ہو چکے تھے۔ میری تشویش بڑھ گئی۔ ’’ذرا جلدی پہنچا دو، بہت دیر ہو گئی ہے۔‘‘

’’کون سی بس لینی ہے صاحب!‘‘ اس نے پیڈل پر اپنے جسم کا زور بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

’’دلّی والی پہلی بس۔ چار بجے ہی نکلتی ہے۔‘‘

’’اوہ اچھا!‘‘ کہتے ہوئے اس میں کچھ تیزی آئی اور وہ پیڈل پر تیز تیز پیر مارنے لگا۔ اب صبح کی سرخی نمودار ہو رہی تھی اور تاریکی کی چادر سمٹتی جا رہی تھی۔ سڑک بالکل سنسان تھی اور رکشہ مناسب رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ میں نے سوچا قصبے نما اس شہر میں زندگی اب تک سوئی پڑی ہے اور دلّی کی سڑکوں پر زندگی کب کی جاگ چکی ہو گی۔

’’بس مل تو جائے گی نا؟‘‘ میں نے فکر مندی سے پوچھا۔

’’کیا ٹیم ہوا ہے صاحب۔۔۔۔؟‘‘

’’پونے چار۔۔۔ اب بس چھوٹنے میں پندرہ منٹ ہی رہ گئے ہیں۔‘‘

’’اچھا!! دیر تو ہو گئی ہے۔۔۔ پر میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو بس مل جائے۔‘‘ اس نے پوری محنت سے رکشہ چلاتے ہوئے کہا۔

اس کی یقین دہانی اور اس کی محنت سے میرا دل اس کے لیے پسیجنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک ادھیڑ عمر کا نحیف سا شخص تھا۔ میں نے دل میں سوچا آج اسے اچھے پیسے دے کر خوش کر دوں گا۔ میری کاروباری سوچ نے فوراً نفع نقصان کا حساب لگایا کہ اگر اس نے بس پکڑوا دی تو میں ایک بڑے نقصان سے بچ جاؤں گا۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھا نے کے لیے کہا، ’’تم آج مجھ سے زیادہ پیسے لے لینا اور ڈاکٹر کو بھی دکھا لینا۔‘‘

’’آپ بہت بھلے مانس ہیں صاحب! دو دن سے طبیعت ڈھیلی تھی تو رکشہ نہیں کھینچا اس لیے دو دن سے کھانا بھی نہیں ملا ہے۔ میں اسی لیے آپ کو منع کر رہا تھا، وہ تو آپ کی مجبوری دیکھی تو چلا آیا۔‘‘ وہ اب جتنا تیز رکشہ چلا رہا تھا، اتنی ہی تیزی سے باتیں بھی کر رہا تھا۔ ’’ہم غریب لوگوں کا یہی تو ہے صاحب! کسی دن کام کی ہمت نہ ہو تو پھر بھوکے ہی مرو۔‘‘ اس نے اپنی پھولتی ہوئی سانسوں میں کہا۔

یہاں سڑک ہلکی چڑھائی کی طرف تھی اس لیے اسے کافی زور لگانا پڑ رہا تھا۔ وہ رکشہ چلاتے ہوئے پیڈل کو اوپر سے نیچے کی طرف زور لگاتے وقت پورے جسم سے کھڑا ہو جاتا اور اس طرح وہ اپنے بیمار جسم سے پوری مشقت کر رہا تھا لیکن میں اس سے یہ بھی نہ کہہ سکتا تھا کہ وہ آرام آرام سے چلے۔ اس کی پرانی قمیض اس کے جسم سے بالکل چپک گئی تھی۔ درمیان میں کسی کسی وقت وہ انگلیوں کی پوروں سے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کو سمیٹ کر ایک طرف جھٹک دیتا مگر رکشے کی رفتار کم نہ کرتا۔ اب اسے دھن سوار ہو گئی تھی کہ مقررہ وقت سے پہلے وہ بس اسٹینڈ پہنچا دے۔ ’’مل جائے گی بس صاحب! چار تو ابھی نہیں بجے نا۔ اب زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘ وہ اپنی پھولتی سانسوں میں بھی مسلسل باتیں کیے جا رہا تھا جیسے مجھ سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا ہو۔

میری نا امیدی بھی امید میں بدل رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ آج اسے پچاس روپے کی جگہ دو سو ضرور دے دوں گا۔ دل اس اجنبی، غریب اور بیمار شخص کے لیے احساسِ تشکر سے بھر گیا۔

’’وہ رہا بس اسٹینڈ صاحب!‘‘ وہ خوشی سے چلایا۔ میرے چہرے پر بھی رونق دوڑ گئی۔ قریب پہنچنے پر دلی جانے والی پہلی بس بالکل سامنے ہی کھڑی نظر آ گئی، نکلنے کو بالکل تیار۔ وہ اسٹینڈ سے نکل کر گیٹ کے پاس کھڑی تھی ڈرائیور اپنی سیٹ پر موجود اور انجن اسٹارٹ۔ میں رکشہ پوری طرح رکنے سے پہلے ہی کود کر اترا اور جیب سے پرس نکال کر پیسے نکالنے لگا۔ رکشہ والا بھی ایک طرف رکشہ روک کر کنارے کھڑا فتح مندی سے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنا پسینہ خشک کر رہا تھا۔

میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ پرس میں ایک بھی چھوٹا نوٹ موجود نہ تھا، سب پانچ سویا ہزار کے تھے۔ میں نے بس کے دروازے سے لٹکے ہوئے کنڈکٹر کی طرف دیکھا جو مجھے رکشے سے اترتے ہوئے دیکھ کر میرا ہی منتظر تھا۔ ’’جلدی کیجیے۔‘‘ وہ چلایا۔

’’ٹکٹ لے لوں؟‘‘ میں نے اس سے کہا کیونکہ مجھے ٹکٹ سے زیادہ روپے کھلوانے کی فکر تھی۔

’’آیئے! بس میں ہی بن جائے گا۔‘‘ وہ پھر چلایا۔ بس اب اپنی جگہ سے کھسک رہی تھی۔ اس نے دروازے پر دب کر میرے چڑھنے کے لیے جگہ بنائی۔ میں نے رکشے والے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور بریف کیس اٹھا کر بس کی طرف لپکا میرے پیچھے رکشہ والا بھی تھا۔ چڑھنے سے پہلے میں نے کنڈکٹر سے کہا، ’’چینج دے دو پانچ سو کا۔‘‘

’’نہیں ہیں۔۔۔ آیئے!! جلدی کیجیے۔‘‘ وہ اپنی کرخت آواز میں چیخا –

’’سو دو سو ہیں تو وہی دے دو۔ اندر حساب کر لینا۔‘‘ میں نے ایک اور کوشش کی۔

’’پہلے اندر آئیے۔‘‘ وہ بد ستور بولا۔ میں بس پر چڑھ گیا، بس بہت آہستگی سے اب بھی رینگ رہی تھی اور رکشے والا بس کے دروازے کا ڈنڈا پکڑے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ کنڈکٹر اب میری طرف مخاطب نہیں تھا بلکہ باہر آدھے دھڑ سے لٹکا ہوا آوازیں لگا رہا تھا۔ میں نے گھبرا کر رکشے والے کی طرف دیکھا کیونکہ بس کی رفتار بڑھ رہی تھی اور کچھ مسافروں سے مخاطب ہوا کہ شاید کسی کے پاس چینج ہو۔ رکشہ والا ساتھ ساتھ اب تقریباً دوڑ رہا تھا، اسی طرح بس کے دروازے کا ڈنڈا پکڑے ہوئے۔ مسافر نفی میں سر ہلا رہے تھے اور میری نظریں سب کے چہروں سے پھسلتی ہوئی ادھر سے ادھر جا رہی تھیں۔ بس اب گیٹ سے باہر آ چکی تھی، میں نے دیکھا رکشے والا پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ میں شاید چلّا کر ڈرائیور کو روکنا چاہتا تھا مگر دیکھ رہا تھا کہ وہ اب نہیں رکے گا۔ اب میرے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ میں پانچ سو کا یہ نوٹ ساتھ دوڑتے ہوئے رکشے والے کی طرف پھینک کر اسے دے دوں۔ مگر اسی کشمکش میں، میں نے دیکھا کہ بس اپنی رفتار پکڑ چکی ہے۔ پھر بس کے پچھلے شیشے سے میں نے دیکھا کہ وہ بس کے پیچھے اب بھی دوڑ رہا تھا، اس کے دونوں ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے تھے اور وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ نظروں سے اوجھل ہوتا گیا مگر پانچ سو روپے کا وہ نوٹ میری مٹھی میں بھنچا ہوا تھا۔

٭٭٭

پرچھائیں

صبا نے راستے پر چلتے چلتے اپنی پرچھائیں کو دیکھا، کتنا بھی تیز قدم بڑھا لے وہ اس کے آگے ہی رہے گی۔ حقیر، بونی، بے ہودہ پرچھائیں، اسے اس کی کم مائے گی کا احساس کرانے کے لیے وہ اس کے سامنے رہ کر منہ چِڑاتی رہتی ہے لیکن کبھی جب وہ پیچھے جاتی ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے تو اپنا قد اتنا بڑا کر لیتی ہے کہ وہ نظروں میں نہ رہ کر بھی جیسے اسے دبوچ لیتی ہے اور وہ بے بس و کمزور پڑ کر اس کی موجودگی کے احساس سے نکل نہیں پاتی۔ یہ پرچھائیاں اتنی شکلیں کیوں بدلتی ہیں، کیوں نہیں تھوڑی دیر اسے اکیلا چھوڑ دیتی ہیں۔ اسے تو لگتا ہے کہ وقت کا کوئی بھی پہر ہو، اجالا یا اندھیرا ہو، وہ ان پرچھائیوں میں جیتے جیتے تھک گئی ہے۔ اپنی گنجلک سوچوں کے ساتھ وہ گھر پہنچ چکی تھی۔

صبا نے سبزی کا تھیلا ڈائننگ ٹیبل پر رکھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے تھکن زیادہ ہے یا پیاس۔ گھر پہنچ کر تھیلے اور پرس سے چھٹکارا پانے کے بعد دو قدم بڑھا کر اب اس سے فریج تک بھی نہ جایا جا سکا لیکن پیاس سے ہونٹ سوکھ رہے تھے، اکتوبر کے اوائل میں گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی لیکن چڑھتے سورج کی دھلی دھلائی سفید دھوپ کی تپش نے جیسے جسم سے پانی ہی نہیں خون بھی نچوڑ لیا ہو۔ اس نے سامنے بیڈ روم میں بستر پرا پنے دونوں پیر پھیلائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے اپنی بڑی بیٹی پنکی کو دیکھا، وہ اپنے فیس بک کے دوستوں کی دنیا میں گم تھی۔ تبھی دوسرے کمرے سے راجو آیا، پارے کی طرح تھرکتا ہوا۔

’’آپ آ گئیں ممی! بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے فریج پر رکھی ٹوکری سے ایک سیب اٹھایا۔

’’ہاں، آ گئی۔ لفٹ خراب ہے، چار منزل چڑھتے چڑھتے حالت خراب ہو گئی۔ ذرا پانی تو پلاؤ۔‘‘

’’یے۔۔ یے۔۔ یے۔۔‘‘ پاس کے کمرے سے شور کی آواز آئی۔ کوئی وکٹ گری تھی، راجو اپنی آواز بھی اس شور میں شامل کرتا ہوا ادھر دوڑ گیا اور صبا کے الفاظ اس شور میں گم ہو گئے۔

’’منی!!!‘‘ صبا نے پکارا۔ چھوٹی بیٹی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ’’منی!!!‘‘ صبا نے پھر پکارا-

’’اف فوہ ممی! فون پر ہوں۔‘‘ منی نے بالکنی سے سر اندر کر کے اسے ایک جھڑکی دی۔ صبا کی سانسیں برابر ہو چکی تھیں۔ اس نے اٹھ کر فریج سے بوتل نکالی اور ٹیبل کے پاس آ کر گلاس سیدھا کر کے پانی اس میں ڈالنے لگی۔

’’ممی! ایک گلاس مجھے بھی۔‘‘ سامنے سے بڑی بیٹی پنکی نے آواز لگائی۔ وہ گلاس اٹھا کر پنکی کو دے آئی، اس میں اس وقت قوتِ مدافعت نہ تھی۔ پھر خود پانی پی کر بوتل بھر کر واپس فریج میں رکھی اور ٹی وی روم میں گئی۔ وہاں راجو اپنے پاپا کے ساتھ ٹوئینٹی ٹوئینٹی میچ دیکھنے میں محو تھا۔ ان دونوں کی محویت میں کوئی فرق نہ آیا اور صبا دو منٹ وہاں پر کھڑی ہو کر لوٹنے لگی۔ لیکن شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھیں یا نہ دیکھیں ان دونوں کے بیچ ایک ٹیلی پیتھی ہوتی ہے، شاید اسی ٹیلی پیتھی کی وجہ سے اس کے شوہر بلال نے اس کی موجودگی اور واپسی کو اچانک محسوس کیا اور اس کی دل جوئی کرنے کے لیے جاتی ہوئی صبا سے کہا، ’’صبا دیکھو! آج میچ میں بہت مزہ آ رہا ہے۔‘‘

’’ہوں۔۔۔‘‘ صبا کے قدم نہیں رکے کیونکہ وہ بہت بے مزہ ہو چکی ہے، اپنے چہار طرف ہلتی ڈولتی پرچھائیوں سے۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ اگر رک بھی گئی تو یہ پرچھائیاں اس کے اپنے قد کو ہی بونا اور بد ہیئت کر کے دکھا دیں گی۔ وہ وہاں سے آ کر الماری سے اپنے لیے ایک سوتی ساڑھی نکالتی ہے –

’’ممی! جلدی کھانا بنا دو۔ مجھے اور پاپا کو بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ صبا کی سماعت سے یہ آواز ٹکرائی اور وہ اپنی سلک کی ساڑھی اتار کر سوتی ساڑھی باندھ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ آج دو اکتوبر کی چھٹی ہے اور آج ہی اتوار بھی ہے۔ ایک چھٹی نہ ملنے کا سب کو افسوس ہے اور آج اسی چھٹی کی وجہ سے سب گھر پر ہیں ورنہ اس وقت کون گھر میں رہتا ہے۔ کس نے کہاں، کب، کتنا کھایا؟ کسی کو معلوم نہیں رہتا اس لیے چھٹی کے دن کو صبا کچھ اسپیشل ٹچ دینا چاہتی ہے۔ شوہر اور بچوں کے لیے اور اپنے لیے بھی، اس کے اندر چند دہائیوں پہلے والی ایک عورت زندہ ہے جو ہر وقت اس کا دل مٹھیوں میں لے کر بھینچتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی ملنے والی چھٹّیوں کی اس کے لیے بھی وہی اہمیت ہے جو دوسروں کے لیے ہے۔ اس کا جسم بھی آج بے حس و حرکت بستر پر پڑا رہنا چاہتا ہے پر اس کے اندر والی عورت کا بھوت نکل کر اسے اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اسے بے حسی سے پڑے رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے اندر کی عورت پر اس کی ماں کی پرچھائیں نظر آتی ہے جس کے سارے جذبے بے لوث تھے مگر صبا مختلف ہے۔ وہ اپنی ہستی مٹا دینے میں فخر محسوس نہیں کرتی۔ بڑی بے چارگی سے مدد کے لیے سب کی طرف دیکھتی ہے پر اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ صرف کچھ لوگوں کی پرچھائیاں وہاں ہوتی ہیں ؛ بلال کی، راجو کی، پنکی اور منی کی۔ جو وہاں اتنے ہی موجود ہوتے ہیں، جتنی اس کی یادوں میں ماضی کی پرچھائیاں۔ وہ کام کرتے کرتے کب ماضی کی پرچھائیوں کے ساتھ ہوتی ہے اور کب حال کی اسے خود پتا نہیں چلتا۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا زمانہ ایسا ہے جسے اس کے بچے پرانا زمانہ کہہ کر اس کی سوچوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور اس کے بڑے نیا زمانہ کہہ کر جھڑک دیا کرتے ہیں۔ اسے اپنے بچپن کے زمانے کا موہ بھی جکڑے رہتا ہے اور بہت یاد آتا ہے۔ کیونکہ اس زمانے کی بڑی بڑی ڈیوڑھیاں، آنگن، دالان اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے خاندان اور ان کی تہذیبیں سب غائب ہو گئی ہیں۔ صبا نے سوچا بادشاہ اور نواب کی بات تو وہ نہیں جانتی پر حویلیوں اور کوٹھیوں کو سکڑ سمٹ کر گھر میں بدلتے اس نے اس زمانے سے اس زمانے تک آتے آتے ہی دیکھا تھا۔ تب اسے بھی چھوٹے اور خوش و خرّم خاندان کا تصوّر بڑا بھلا لگتا تھاپر اب لگتا ہے بڑے خاندان کے ساتھ بڑے بڑے سہارے اور امداد بھی غائب ہو گئے ہیں۔ نہ جانے کب اور کیسے خوشی کی گٹھری وہیں چھوٹ گئی اور ہم اپنے ساتھ صرف بوجھ اٹھا لائے۔ چھوٹے بڑے کام کا بوجھ، تنہائی کا بوجھ، لاتعلقی کا بوجھ۔ وہ پرانی تہذیبیں ہی ہیں جو اس کی نسوں میں دشمن بن کر دوڑ رہی ہیں اور یہ یوں ہی ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں پر جب کسی نسل کے ساتھ دم توڑتی ہیں تو پورے معاشرے کو مردہ بنا جاتی ہیں۔

’’ممیی ی!!!‘‘ راجو کی آواز نے اسے ماضی سے حال کی پرچھا ئیوں کے بیچ کھینچ لیا۔

اس نے مکسر کا سوئچ آف کیا، گلاس ٹرے میں لگا کراس میں موسمّی کا جوس ڈالا اور سب کو جا جا کر جوس کا گلاس پکڑا دیا۔ فون کی گھنٹی بج رہی تھی، راجو نے صبا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر کہا، ’’ممی! دو اوور‘‘ رہ گئے ہیں پلیز آپ دیکھ لیں۔‘‘ صبا نے اپنا غصہ ضبط کر لیا اور فون کی طرف گئی۔

’’رہنے دو ممی میرے لیے ہے۔ موبائل پر سگنل نہیں آ رہے ہیں۔‘‘

صبا کا غصہ پھوٹ پڑا، ’’کس سے اتنی دیر سے بات کر رہی ہو۔‘‘

منی نے کھا جانے والی نظروں سے ماں کو دیکھا اور فون اٹھا لیا۔ ’’یہ تم نے کس طرح مجھے۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ صبا کی بات پوری ہوتی، بلال کی آواز آئی، ’’اب اس وقت تم لوگ لڑنے مت لگ جانا۔‘‘

صبا کو اپنی ساس یاد آ گئیں جو ہمیشہ ایسے موقعے پر بلال کو روک دیا کرتی تھیں اور اس کا ساتھ دیتے ہوئے کہتیں، ’’ماں کچھ بھی بچّے کی بھلائی کے لیے بولتی ہے تو تم بیچ میں مت بولا کرو۔‘‘ صبا کا دل بھر آیا، اس بار حال کی نہیں پیچھے سے ماضی کی پرچھائیوں نے اپنا قد بڑا کیا اور اسے دبوچ لیا۔ صبا باورچی خانے میں چلی گئی اور تیزی سے سبزیاں کاٹنے، چاول دھونے اور پیاز تلنے میں لگ گئی۔

’’ممی!! ممی! کہہ دیجیے میں گھر پر نہیں ہوں۔‘‘ پنکی بغیر چپّل کے ہی ہاتھ میں موبائل لیے دوڑ کر آئی۔ صبا نے اس کے بغیر چپّل کے پیروں کو چِڑ کر دیکھا، آج ہی اس نے بستر کی چادر بدلی تھی۔ پھر اپنے گیلے ہاتھوں کو دیکھا۔

’’لیجیے۔۔‘‘ پنکی اس سے ضد کر رہی ہے۔ وہ ساڑھی کے آنچل سے ہاتھ پونچھ کر فون ریسیو کرتی ہے۔

’’کون آرتی۔۔؟ آدھے گھنٹے بعد کر لینا۔ وہ باتھ روم میں ہے۔۔۔ ہاں! نہا رہی ہے۔‘‘ پنکی ماں سے ناراض ہو گئی کہ اس نے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ گھر پر ہی نہیں ہے۔

’’کیوں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

’’آپ نہیں سمجھتیں ہیں ممی! آ کر بیٹھ جائے گی۔‘‘

’’تو کون سا تم ضروری کام کر رہی ہو؟‘‘

’’اتنے دن بعد دوستوں سے آن لائن ملی ہوں۔‘‘

’’جن دوستوں سے تم کبھی ملی نہیں ان کے لیے بچپن کی دوست سے۔۔۔‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی پنکی پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے اور صبا پھر سے اپنی پریشان سوچوں کے گرداب میں چکرانے لگتی ہے۔ ماں باپ نے پہلے بچوں کو دوست بنایا پھر دھیرے دھیرے اب وہ کسی بات میں دخل اندازی برداشت نہیں کرتے۔ بلال پر اپنے کام کی اتنی تھکن سوار رہتی ہے کہ اسے ان چیزوں سے جیسے کوئی مطلب نہیں۔ سب اپنے اپنے محور پر بس گھوم رہے ہیں، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں جیسے سب کا ساتھ ہونا ایک اتفاقی بات ہو، جیسے کچھ اجنبیوں کا ایک ہی کوپے میں سفر کرنا، ایک اجنبیت کے ساتھ ایک دوسرے کو جاننا سمجھنا اور الگ الگ منزلوں کے انتظار میں رہنا۔ اور صبا کو اپنی دخل اندازی ایسی ہی لگتی ہے جیسے آپ کسی دوسرے کی برتھ پر زبردستی اپنے لیے جگہ بنائیں اور آپ کی اس جرأت پر لوگ آپ کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھیں۔

کھانا تیار ہو چکا تھا، گرم گرم کھانا۔ صبا کو خوشی ہے کہ وہ آج اپنے سارے کاموں پر اپنے بچوں اور شوہر کو ترجیح دے کر ان کے لیے تر و تازہ کھانا تیار کر پائی ہے، جو روز نہ کر پانے پر اس کے اندر دہائیوں پہلے والی عورت اسے کچوکے لگاتی رہتی ہے اور اسے اندر سے خوش نہیں رہنے دیتی۔ مگر اس وقت صبا نے گنگناتے ہوئے ٹیبل پر کھانا لگایا۔ سلاد، رائتہ، گوبھی، مٹر اور ٹماٹر کی سبزی، دال، زیرہ چاول اور گرم گرم گھی لگی روٹیاں۔ وہ پنکی اور منی کو آواز دیتی ہوئی بلال اور راجو کو بلانے چلی جاتی ہے۔

’’چلو کھانا تیار ہے۔‘‘ اسے ایک منٹ کی دیر بھی اب منظور نہیں۔

’’ارے صبا! بور مت کرو لا سٹ اوور چل رہا ہے۔‘‘

ٍ     صبا کو غصہ آتا ہے۔ ’’راجو تمہیں بھوک لگی تھی؟؟؟‘‘

’’ممی یہیں پر پلیٹ میں لا دیں نا! پلیز۔۔!‘‘

’’ہاں صبا! یہیں پر پلیٹ میں دے دو۔ ایک دن تو چھٹی کا ملا ہے اسے اپنے طور پر جینے دو۔‘‘

وہ پلٹ کر جانے لگتی ہے۔ ’’تمھاری ممی کو اس کے علاوہ اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ کھانا کھانا بس ہر وقت کھانا۔۔۔‘‘ بلال اور راجو ایک ساتھ ہنستے ہیں۔ صبا کو لگتا ہے اس کی بونی پرچھائیں اس کے قدموں سے الگ ہو کر اس پر ہنس رہی ہے۔

صبا کا سر ناچ رہا ہے نہ جانے تھکن سے، مایوسی سے یا غصے سے۔ اس سے زیادہ اس کے اندر والی عورت مجروح ہوئی ہے۔ وہ تیزی سے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتی ہے۔ پنکی اپنا کھانا لے کر واپس لیپ ٹاپ کے پاس جا چکی ہے، منی اسے غصے میں دیکھ کر جلدی سے ٹیبل پر آ جاتی ہے اور اپنا کھانا لے کر کھانے لگتی ہے۔ صبا نے بلال اور راجو کو پلیٹ میں کھانا نکال کر انھیں تھما دیا اور خود اسٹڈی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی۔ ٹیبل پر کاپیوں کا انبار لگا ہے، اسکول کے امتحان کی رپورٹ بھی تیار کرنی ہے، آج کا دن اس نے یوں ہی برباد کر دیا۔ منی اس سے پوچھنا چاہتی ہے آپ نہیں کھائیں گی۔۔؟ پر نہیں پوچھ پاتی اس کا موڈ دیکھ کر ڈر گئی ہے۔ صبا اپنے کام میں لگ جاتی ہے۔ اس کے پاس سب سے انتقام لینے کا یہی ایک طریقہ ہے، خود کو اذیت دینا، جس کا ادراک شاید ہی کسی کو ہو۔ اب وہ اپنے کام میں اتنی محو ہے کہ اسے احساس ہی نہیں ہوتا کب بجلی چلی گئی۔ پا ور کٹ ہوتے ہی راجو کو اپنے باہر کے دوست یاد آ جاتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا ہے۔ بلال اس کمرے سے اس کمرے میں آتے جاتے کھانس کھنکھار کر صبا کی توجہ کے متمنی ہیں۔

’’صبا تم نے کھانا کھایا۔۔؟‘‘ بلال نے پوچھا۔

’’یہ کام ختم کر کے کھا لوں گی۔‘‘ صبا نے مختصر جواب دیا۔

’’کھانا اچھا تھا۔‘‘ بلال نے کہا۔ صبا چپ ہے، وقت گزر جانے کے بعد الفاظ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔

’’منی اور پنکی تو سو گئی ہیں۔‘‘ بلال نے بات آگے بڑھائی۔

’’ہاں!‘‘ صبا کی آواز جیسے بہت دور سے آئی۔

’’بہت بوریت ہے یار!!! کیا کروں؟‘‘ بلال کی آواز میں احتجاج ابھر آیا۔

’’سو جاؤ۔‘‘ صبا اپنے کام سے سر نہیں اٹھاتی اور اپنی سرد مہری پر ایک کمینی سی خوشی محسوس کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے وہ اپنی بونی پرچھائیں پر پیر رکھ کر کھڑی ہے لیکن صبا نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کے اندر کی چند دہائیوں پہلے والی مجروح عورت دور کھڑی حیران اور اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی ہے جیسے وہ اسے نہیں پہچانتی۔

٭٭٭

ڈائل ٹون

اُسے اچانک مایوسیوں نے آ گھیرا جبکہ وہ سمجھتا تھا کہ مایوسی، تھکان، نا امیدی جیسی چیزیں اس کی سرشت میں داخل نہیں لیکن وہ غلط سمجھتا تھا۔ آخر وہ بھی تو انسان ہے اور ہر انسان کی طرح اپنا زیادہ تر وقت اس عارضی دنیا کی فانی اور لایعنی اشیاء کے لیے تگ و دو کرتے اور حرص و ہوس میں گزارتے گزارتے اچانک تھکن محسوس کرنے لگا ہے اور اس تھکن کی بنیادی وجہ شاید ادھر ملنے والی مسلسل ناکامی تھی۔ اس ناکامی نے اس کے اندر عجیب سی بے بسی، کڑھن اور جھلّاہٹ بھر دی تھی۔ وہ بجھا بجھا سا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی جن سوالوں کا، جن منتظر نگاہوں کا اسے سامنا کرنا تھا وہ اس سے بچنا چاہتا تھا مگر وہ بے بس تھا۔

گھر پہنچ کر اس نے ایک لا تعلقی اور سنجیدگی کا انداز اپنایا اور کمرے میں جا کر ایک طرف بیگ پھینکا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ بیوی اس کی آہٹ پا کر لپکتی ہوئی آئی مگر اس کی سنجیدگی دیکھ کر چہرہ کچھ بجھ سا گیا۔ اس کی نظروں میں وہی سوال تھا جس سے وہ بچنا چاہتا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور بیوی نے سمجھ بوجھ کا پتہ دیتے ہوئے کولر آن کر دیا۔ کولر کی ہوا کا ٹھنڈا اور نم جھونکا دماغ پر چڑھی گرمی کو کم کرنے میں ذرا کارگر ثابت ہوا۔

’’سنو! یہ شربت پی لو۔‘‘ بیوی کی سریلی آواز بھی سرپر ہتھوڑے کی طری بجی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ واقعی پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا۔ مسکراہٹوں کی پھوار گراتی ہاتھ میں شربت کا گلاس لیے سامنے کھڑی بیوی اس وقت اچھی لگی۔ اس کا تناؤ ذرا کم ہوا۔ بستر پر ذرا سا اُٹھ کر تکیے کا سہارا کمر کو دیتے ہوئے اس نے گلاس پکڑ لیا۔ اب وہ سوچ رہا تھا خواہ مخواہ گھر آتے وقت وہ تناؤ میں تھا۔ اب تک اس کی بیوی پائینتی پر بیٹھ چکی تھی اور وہ شربت کے ننھے ننھے گھونٹ لے کر نس نس میں دوڑتی ہوئی غصّے اور جھنجھلاہٹ کی چنگاریوں کو ٹھنڈا کر رہا تھا۔

تبھی بیوی نے بڑی لگاوٹ سے پوچھا، ’’آج گئے تھے کیا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ؟؟؟‘‘ اس نے شاکی نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا۔ بیویاں اگر اپنے بیویانہ حقوق سے باز آ جاتیں تو محبوباؤں کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی۔

’’کیا تم ٹیلی فون کے اس چکر کو بھول نہیں سکتیں۔‘‘ آخر کار جھلاہٹ لفظوں سے عیاں ہوہی گئی۔

’’میں تو صرف پوچھ رہی تھی۔‘‘ اس نے ذرا روہانسی آواز میں کہا اور جھٹک کر اٹھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جیسے اپنی اوڑھی ہوئی لگاوٹ اس کے قدموں میں جھاڑ کر چلی گئی ہو، جیسے مرغیاں اپنے پروں سے گرد جھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس نے جھنجھلا کر ایک ہی سانس میں شربت کا گلاس یوں چڑھایا جیسے جلتا ہوا الکوہل حلق میں انڈیلا ہو اور گلاس ایک طرف پٹخ کر لیٹ گیا۔

دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز اور جوتوں کی کھٹ کھٹ سے اندازہ ہوا کہ تینوں بچے بھی اسکول سے واپس آ گئے ہیں۔ اب وہ متوقع تھا کہ بچے باری باری اس کے پاس آئیں گے اور سوالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

’’ڈائل ٹون آیا۔۔۔؟‘‘

’’آج بھی نہیں۔۔۔؟‘‘

’’پندرہ دن ہو گئے ہمارے یہاں فون انسٹالڈ (installed) ہوئے۔‘‘

’’پاپا گئے تھے۔۔۔؟‘‘

’’میرے دوست کے یہاں تو تیسرے دن ہی ڈائل ٹون آ گیا تھا۔۔۔‘‘

اور یہ صرف اس کا خیال نہیں تھا بلکہ کان میں اس قسم کی آوازیں پڑ رہی تھیں۔ بچے اپنی ماں کے کان اور جان کھا رہے تھے۔ کسی وقت بھی اس کی باری آ سکتی تھی۔ وہ ابھی آنے والی اس افتاد کے تناؤ میں ہی تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ کولر کے بند ہوتے ہی یہ آوازیں اور واضح، اور قریب محسوس ہونے لگیں اور ماحول میں پھلی ہوئی گرمی میں حلول ہو کر اس کے دماغ کی نسوں میں ناقابلِ برداشت کھنچاؤ ڈالنے لگیں۔ وہ بلبلا کر کھڑا ہو گیا۔ پہلے جوتے اور موزے اتار کر پھینکے پھر بنیان اور لنگی پہن کر کمرے سے باہر نکلا۔ بچوں پر ایک سخت سی نظر ڈالی۔ ’’اتنی دیر سے آ کر تم لوگ صرف باتیں بنا رہے ہو۔ اب تک ڈریس چینج کیوں نہیں کیا؟‘‘ پھر وہ بیوی سے مخاطب ہوا، ’’بجلی آتے ہی کھانا نکالو۔ اس گرمی میں کھانا کیسے کھایا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ بدبداتا، جھلّاتا بلا ارادہ ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی جھلّاہٹ سے بظاہر ہر طرف سانپ سونگھ گیا تھا مگر جھلّاہٹ بھرے وہ الفاظ سب کی سماعت سے ہوتے ہوئے سب کے وجود میں حلول کر گئے تھے اور اب ہر چہرہ تناؤ میں نظر آ رہا تھا۔

بجلی تو سسرال سے روٹھی ہوئی بہو کی طرح غائب تھی جسے نہ آنا تھا نہ آئی اور سب کے تناؤ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ بیوی نے اپنی جھنجھلاہٹ بچوں پر نکالی اور انھیں ڈانٹ پھٹکار کر کھانا کھلا دیا۔ دونوں بیٹے اب بنیان اور نیکر پہنے بو کھلا بوکھلا کر بات بات پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ ان کی بنیانیں جیسے پسینے سے نہیں بلکہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھیں اور کیوں نہ ہوتیں، بھائیوں کے بیچ کی محبت آج کل کے بجلی اور پانی کی طرح ناپید ہو گئی تھی۔ بڑی بیٹی البتہ ایک ہاتھ میں کھجور کا پنکھا لیے زور زور سے ہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے فلمی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۔ جب آس پاس آسودگی اور آسائش کے چہروں پر خراشیں پڑنے لگیں تو ایسے موقعے پر نئی نسل خوبصورت میگزین کی مردہ تصویروں کے روشن اور تاب ناک چہروں سے زندگی کی حرارت اور خوشی تلاش کرتی نظر آتی ہے۔

’’چار بج گئے ہیں۔ آ کر کھانا کھالو۔‘‘ بیوی کی آواز میں بلاوا کم اور دھمکی زیادہ تھی۔ وہ اٹھا اور ڈائیننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔ ایک ایک کرسی کھسکا کر اس کی بیوی اور بیٹی بھی بیٹھ گئیں۔ کھانا کھاتے ہوئے اسے لگا کہ آج کی ساری روداد سنا کر شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے اور سب کا تناؤ بھی۔

’’میں گیا تھا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ مگر وہ آدمی تھا نہیں۔ دو گھنٹے بیٹھا رہا تب جا کر آیا۔‘‘

’’کیا کہا اس نے؟‘‘ بیٹی نے بڑی بے چینی سے پوچھا۔

’’آج ایک نیا بہانہ، پرسوں بلایا ہے۔‘‘

’’اُف کتنی کمیونیکیشن پرابلم ہم لوگ فیس (Face)کر رہے ہیں۔ پاپا! میری کئی سہیلیوں کے یہاں اب تو انٹرنٹ کی سہولت بھی ہے۔ کئی کے پاس موبائل فون ہے اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا فون اتنی بھاگ دوڑ کے بعد ملا بھی تو نہ اب تک نمبر ملا ہے نہ ہی ڈائل ٹون‘‘۔

’’اوپر ساہنی صاحب کا فون بھی لگ گیا ہے۔‘‘ بیوی نے اطلاع دی تو اسے یاد آیا اس نے اور ساہنی نے ایک ساتھ ہی فون کے لیے اپلائی کیا تھا۔

شام گہری ہوئی تو گرمی سے پریشان لوگ اپنے اپنے فلیٹ سے باہر نکلنے لگے۔ عورتیں اور بچے بھی ادھر اُدھر سے نکل کر فلیٹ کے سامنے بڑے لان میں جمع ہو رہے ہیں۔ سب کے چہروں پر بے زاری جھلک رہی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے نلکوں میں پانی بھی نہیں آ رہا ہے اور پانی نہ آنے سے برتن نہیں دھُلے ہیں تو کھانا کیسے بنے۔ بچّے البتہ ناسازگار ماحول میں بھی کھیل کود میں فوراً مگن ہو جاتے ہیں اور یہاں بھی ان کا گروپ الگ طرح کے کھیلوں میں مصروف ہوتا جا رہا ہے۔

’’ارے بھائی! کوئی ٹرانس فارمر جل گیا ہے۔ ابھی بجلی دفتر میں فون کیا تو معلوم ہوا۔ دو گھنٹے اور لگیں گے اسے ریپئر(repair) ہونے میں۔‘‘ ساہنی نے اس کی طرف آتے ہوئے اطلاع دی۔

جب نیا نیا فون ہو تو جوش میں انسان اسے جلدی ہی کھڑکاتا ہے۔ اس نے سوچا اور روکھی سی ’’ہوں‘‘ سے ساہنی کو ٹالنا چاہا مگر جس خطرے کو اس نے پہلے ہی سونگھ لیا تھا وہ سامنے آیا اور ساہنی نے اگلا سوال داغا، ’’تمہارے فون کا کیا ہوا۔۔۔؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ ویسا ہی ہے۔‘‘

’’تم نے لائین مین کو پیسے نہیں دیے ہوں گے۔‘‘

’’دیے تھے نا بھائی صاحب! پورے سو روپے۔‘‘ اس کی بیوی نا جانے کب پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی اور اب ساہنی کی بات کا جواب دے رہی تھی۔

’’آپ نے کچھ زیادہ دیے تھے کیا۔۔۔؟‘‘

’’آج کل تین سو کا ریٹ چل رہا ہے۔‘‘ ساہنی نے اپنی خاص جان کاری ذرا دھیمی آواز میں ان لوگوں تک پہنچائی اور اس کا خون پھر بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچنے لگا۔ اس کرپٹ سو سائٹی کا تانا بانا آخر ہم اپنے ہاتھ سے ہی تو تیار کرتے ہیں تو پھر بعد میں ہر قدم پر سر پکڑ کر روتے کیوں ہیں؟؟؟ مگر وہ کس سے کرتا یہ سوال۔۔۔؟ اس لیے اپنے اس خیال کو خود تک ہی محدود رکھا۔

’’ان سے کتنی بار کہا رشوت نہیں دے سکتے تو کم سے کم ایس۔ ڈی۔ او سے ایک بار مل لیتے یا کسی ایسے آدمی کو پکڑتے جس کی پہنچ اوپر تک ہو۔ بھلا ایسا کرنے میں تو کوئی برائی نہیں۔‘‘

وہ چپ رہتا ہے، کچھ کہنے کا فائدہ نہیں۔ یہاں پر کمیونیکیشن پرابلم نہیں کمیونیکیشن گیپ ہے۔ اگر وہ اپنے دل کی کہے گا تو سمجھنا تو دور کوئی سننا بھی نہیں چاہے گا۔ جیسے ابھی خود اسے اپنی بیوی کی یا ساہنی کی باتیں گراں لگ رہی تھیں۔ اس کے بیوی بچّے تو اس وقت صرف ایک ہی بات سننا چاہتے تھے کہ ایسا کیا کِیا جائے کہ فون کی گھنٹی بج اٹھے اور وہ سوچتا ہے کہ آخر جب اپلائی کر کے ایک سال وہ اپنی باری کا انتظار کر سکتا ہے تو ایک ماہ اور کیوں نہیں۔ کچھ دیر اور آس پڑوس کے لوگ اسے طرح طرح کے مشورے دیتے رہے اور وہ صبر کے گھونٹ بھرتا رہا۔ وہ کس کس کو سمجھاتا جبکہ اس کے اپنے بھی اس کی دانست میں ان نا سمجھوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئے تھے۔ اچانک بجلی آ جانے سے پوری بلڈنگ جگمگا اُٹھی اور ان تمام لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔

کئی دن اور معمول کے مطابق یو نہی سرک گئے۔ اس نے ہر طرف کے دباؤ سے گھبرا کر اپنے مزاج کے خلاف بھی کئی کام کیے۔ کئی طاقتور لوگوں کے دروازے پر گیا مگر ہوا کیا۔ اپنی بے چینی اور کمتری کا احساس اس کی انا کو کچو کے لگا گیا اور معاملہ جہاں تھا وہاں ہی رکا رہا۔ وہ سوچتا کہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس میں اپنی انا سے سمجھوتا کرنا پڑے، اسے مجروح کرنا پڑے جبکہ بیوی کہتی، ’’یہ انا، اصول، خود داری سب ناکامیاب لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ بدلتے ہوئے وقت میں ان باتوں کی قیمت ویسے ہی گرتی جا رہی ہے جیسے ڈالر کے آگے انڈین کرنسی۔ اس لیے کبھی کبھی اپنے آدرشوں کی چادر میں چھپنے کے بجائے اسے ایک طرف اٹھا کر پھینکنے کی طاقت بھی خود میں پیدا کرنی چاہیے۔ ورنہ زندگی کے یہ کھوکھلے اصول کبھی کبھی ہم سے بڑی قیمتی شے چھین لیتے ہیں اور ناکامی کی کالک قسمت پر تھوپ دیتے ہیں۔‘‘

مگر اتنی بھاگ دوڑ اور تگ و دو کے بعد اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ اپنے اصولوں کو پکڑ کر بیٹھا رہتا تو کم از کم آج اسے یہ تکلیف تو نہ ہوتی جو بار بار ان کے اور اُن کے آگے گڑ گڑا کر، دوڑ کر بھی کچھ حاصل نہ کر پانے سے ہو رہی ہے۔ کچھ دنوں سے وہ سب کی چبھتی نظروں کو محسوس کر رہا تھا جیسے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہو یا ہر طرف ہر چیز ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے صرف اسی میں کوئی کمی ہے جو اب تک وہ ایک ادنیٰ سا کام نہیں کروا پایا۔ اس سسٹم سے کسی کو کوئی شکایت نہیں جہاں پر کام یوں ہوتا ہے جیسے وہ نوکری نہیں احسان کر رہے ہوں۔ اب تو اسے بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ فون انسٹالڈ (installed) کرنے کے بعد بھی بیس دنوں سے اسے ڈائل ٹون اور نمبر نہیں دیا جا رہا ہے۔ صبر اور تحمل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اب تو بچوں نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ بیوی کی ضد بھی ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ بس کبھی گھر میں اس طرح کا تذکرہ نکل جاتا کہ فلاں کے یہاں اتنی جلدی فون لگ گیا جبکہ ہم لوگوں کو اتنے دن ہو گئے اور دور کیوں جایا جائے، آج کل تو ہر بات کے پیچھے ساہنی کی مثال دی جانے لگی تھی۔ اس طرح کے تبصرے اب اس کے اندر ایک ضد بنتے جا رہے تھے اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ اب رشوت دے کر ہر گز کامیابی کی کوشش نہیں کرے گا، سیدھے راستے سے ہی کوشش کرتا رہے گا اور انھیں ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر ڈائل ٹون دینا ہی پڑے گا۔ اور وہ ثابت کر دے گا کہ یہ ہمارے اوپر ہی منحصر ہے کہ ہم کون سا طریقہ اپنانا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی اس کی بیوی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ اس طرح کی باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تھا اس لیے ہوا یہ کہ گھر میں ایک سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔

ادھر اس نے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ وہ روزانہ ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر جا کر معلومات حاصل کرتا اور دیکھتا کہ وہ تنہا پریشان نہیں تھا۔ اس کے جیسے نہ جانے کتنے لوگ روزانہ اس دفتر کے چکر لگا یا کرتے۔ ایک دن ایسی ہی ایک مایوسی سے بھری تپتی دوپہر میں اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نا جانے کیوں اور کیسے اسے ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر میں یہ جواب ملا، ’’آپ گھر جا کر فون ریسیو کریں۔ ابھی چند گھنٹوں میں ڈائل ٹون دیتا ہوں۔‘‘

وہ حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ آج کی یقین دہانی میں سچائی کی جھلک تھی۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ سب کے سامنے سرخرو ہو جائے گا۔ گھر آتے ہی اس نے بیوی کو یہ خوشخبری دی مگر یہاں بھی اسے حیرت ہوئی جب اس خبر سے بجائے خوش ہونے کے ایک طنزیہ سی ہنسی اُس کے چہرے پر کمان کی طرح کھنچ گئی۔ بیوی کے چہرے کے طنزیہ خطوط کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ شاید اسے یقین نہیں آیا ہے کہ وہ آج بالکل صحیح خبر لے کر آیا ہے۔ خیر! کچھ دیر میں یقین بھی آ جائے گا۔ جب تک اس گرمی اور انتظار کی کوفت سے نجات پانے کے لیے اس نے سوچا کہ وہ نہا کر آ جائے۔

ابھی وہ باتھ روم سے نکل کر تولیہ سے اپنے گیلے بالوں کو خشک کرنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہی ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک آسودہ سی اطمینان بخش مسکراہٹ ابھر آئی۔ آخر کار وہ جیت گیا اور بغیر رشوت کے اپنی کوششوں سے اسے کامیابی ملی تھی۔ بیوی بچے سب فون کی طرف لپک چکے تھے۔ وہ اطمینان سے اپنے بالوں میں کنگھی کرتا رہا۔ گھر میں آئی خوشی کی یہ لہر اسے عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ بیٹی نے فون اُٹھا کر اپنا نمبر نوٹ کیا۔ تبھی بیوی نے رسیور اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بات شروع کی، ’’تھینک یو بھائی صاحب! مہربانی آپ کی۔ آگے بھی خیال رکھیے گا کبھی فون خراب ہو تو۔ آپ کو مل گیا تھا نا؟ پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔ خواہ مخواہ اتنا انتظار کرنا پڑا۔ میں نے ساہنی صاحب کے ذریعے آپ کا تحفہ بھیجا تھا۔ ٹھیک۔! (وہ ہنسی) ہاں!! ہاں!!! کیوں نہیں، ہم بھی ہمیشہ آپ کا خیال رکھیں گے۔ او کے، تھینک یو۔‘‘

اب اس کی بیوی نے ریسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا تھا اور وہ سُن سا کھڑا تھا۔ وہ ہار گیا تھا۔ یہ باتیں تیزاب کا تاثر رکھتی تھیں جو اس کے یقین، اس کے اعتماد اور اس کے اندر کے سچے انسان کو جھلسا گئی تھیں۔ اس نے آئینے میں دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ یہ مسخ شدہ چہرہ اس کا ہے یا ایک سیدھے اور سچے انسان کا۔۔۔؟

٭٭٭

نسل

جدنی محتاط قدموں سے آفیسرز کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سہمی ہوئی نظروں سے وہ چاروں طرف کسی کسی وقت دیکھ لیتا جہاں کے سارے درخت اور پتّے، ٹیلے اور میدان، چرند و پرند اس کے جانے پہچانے تھے۔ جہاں کی ہوا اس کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی، جہاں کے پانیوں کی سطح اس کا آئینہ تھی۔ وہی علاقہ آج اس کے لیے کتنا اجنبی ہو گیا تھا بلکہ اجنبی کر دیا گیا تھا۔

یہاں سے تاڑ کے پیڑوں کے جھنڈ کے بیچ بنی اس کی جھونپڑی صاف نظر آ رہی تھی۔ بائیں طرف ایک ٹیلا اور دائیں طرف کچھ دور تک پھیلا نا ہموار میدان۔ کچھ لوگوں کی زندگی کی طرح جس میں کوئی بھی قدم سیدھا نہیں پڑتا۔

وہ اسی کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا حالانکہ پہرے پر بیٹھے سپاہیوں نے اسے کئی بار دھتکارا تھا۔ ’’ادھر بھولے سے بھی پیر مت رکھنا۔ شکاری سمجھ کر گولی چلا دی تو دوش دینے کے لیے سمے نہیں ملے گا۔‘‘ مگر ضرورتوں کی لاتعداد مگرمچھ اپنے خوفناک اور تیز دانت دکھا دکھا کر اسے موت کے کنویں کی طرف دھکیلتے تھے۔ شاید اسی کنویں سے اسے ایک چلّو پانی ملنے کی آس تھی۔ آفیسرز کیمپ کے پیچھے سے جنگل شروع ہوتا تھا جسے فی الحال احتیاطی تدابیر کے طور پر خاردار تاروں کی باڑ نصب کر کے محفوظ کیا گیا تھا۔ باڑ کے اس طرف دس بارہ فٹ گہرے گڑھے کھود دیے گئے تھے۔ یہ ساری حفاظتی کاروائی اس شیر اور شیرنی کے جوڑے کے لیے کی گئی تھے جو ایک کم یاب نسل (Rare Breed) تھی اور یہ نسل ختم ہونے پر آ گئی تھی۔

سب سے پہلے پاس کے گاؤں والوں نے سمڈیگا سے ذرا دور جہاں جنگل شروع ہوتے تھے اس نسل کے ایک شیر کو مردہ پایا۔ سیدھے سادھے گاؤں والوں کو بھی اب ان حیوانوں کی اہمیت کا اندازہ تھا اس لیے انھیں مردہ شیر کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور فکر بھی۔ شیر آخر مرا کیسے؟ یہاں کے باشندے اور جانور کبھی ایک دوسرے کی طرزِ زندگی میں مخل نہ ہوتے تھے۔ معاملات کی سنگینی کا اندازہ کر کے کچھ گاؤں والوں نے قریب کے تھانے میں خبر کر دی۔ پہلے تو پولیس نے معمولی کاروائی کی پھر نہ جانے کیا ہوا پورے پولیس کے عملے کے سا تھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پھر اس صوبے کے گورنر سب حرکت میں آ گئے۔ جدنی کو صرف اتنا سمجھ میں آیا کہ ایک شیر کی موت نے اس گاؤں کی کایا پلٹ دی تھی۔ وہی سڑک، وہی میدان، وہیں جنگل، وہی آسمان اور وہی زمین مگر حالات یکسر بدل گئے تھے۔

جب سے ان کے چہار طرف بکھرے قدرتی وسائل پر پابندی عائد کی گئی تھی جدنی کو لگ رہا تھا کہ زمین ان کے لیے مزید سخت اور آسمان مزید گرم ہو گیا ہے۔ اپنے ہی علاقے میں وہ نظر بند تھے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا تھا۔ جنگل کا بڑا حصّہ خاردار تاروں سے گھیر دیا گیا تھا، انھیں ایک کونے میں سمٹنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وہ آزادی سے اب ندی کے کنار گھوم بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ شک کے گھیرے میں تھے کہ کہیں کوئی اس پانی کو زہر آلود نہ کر دے۔ نا جانے کتنے لوگ ان حالات سے تنگ آ کر یہ علاقہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔ برس ہا برس سے رہنے والے لوگ اگر جا رہے تھے تو دوسری طرف آفیسرز کیمپ لگائے جا رہے تھے۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ کالے کالے ننگ دھڑنگ وجود کی جگہ، رنگ برنگی پوشاکوں کے لہرانے کا سماں تھا۔ سرخ شعلوں کے درمیان بھونے جانے والے گوشت کی بو فضاؤں میں بکھر رہی تھی، ساتھ ہی میوزک، قہقہے، پکنک اور خیرہ چشم زیورات، قیمتی ملبوسات، چہرے سے زیادہ چمکتے ہوئے ہیرے اور کندن کے آویزے، گویا اسی طرح کی رنگ بھری اور امنگ بھری محفل۔

جدنی کی سمجھ میں کیا آتا۔ نا جانے کون تھے یہ لوگ؟ کیوں آئے تھے۔۔۔؟ جدنی نے تو کبھی ایسی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ اس نے تو ہمیشہ کڑوے کسیلے دھوئیں کے سا تھ ابلتے ہوئے بھات (چاول) ہی دیکھے تھے۔ اس کی دنیا تو اس کی جھونپڑی میں تھی جس کے لیے وہ اس ناسازگار ماحول کو چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی مہوا جو پیٹ سے تھی، دو قدم بھی چلنے سے قاصر تھی تو دو کوس کیسے چلتی؟ اس لیے وہ یہیں جما ہوا تھا اور آج آس کی ایک ڈور تھامے اس اجنبی ماحول کی طرف بڑھ رہا تھا کیونکہ اتنے دنوں میں اسے سبھاش بابو کا بڑا سہارا ہو گیا تھا۔ سبھاش بابو بھی سب لوگوں کے ساتھ شہر سے آئے تھے لیکن اب وہ سب کی طرح بالکل اجنبی نہیں لگتے تھے۔ کیونکہ وہ کئی بار ادھر ادھر ملے تھے تو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے بات کرتے تھے۔ حال چال پوچھ لیتے تھے۔ انھوں نے ہی کہا تھا، ’’کیمپ میں آئے ہوئے لوگوں کی چاکری (خدمت)کر لو گے تو دو جوم (وقت) کے کھانے کا بندوبست ہو جائے گا۔‘‘ اور آج تو مہوا تکلیف میں تھی، اس نے سبھاش بابو سے سنا تھا کہ شہر سے دیونا (ڈاکٹر) بھی آیا ہے۔ وہی کوئی دوائی دے تو کچھ آرام مل جائے اس کی مہوا کو۔ مہوا کی تکلیف کا خیال کرتے ہی وہ تیز قدم اٹھانے لگا۔

مہوا نے اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھ سے تھام کر دیکھا۔ آج جیسے سارا بوجھ نیچے سرک گیا ہو اسی لیے پیڑو اس بوجھ سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی اندر بیٹھا آری چلا رہا ہو۔ وہ درد کی چُبھن سے پریشان ہو کر جھونپڑی کی نم آلود زمین پر بیٹھ گئی اور دیوار کا سہارا پیٹھ کو دیتے ہوئے دونوں پیر پھیلا دیے۔ اماں تو کہتی تھی کہ جب زچگی کے دن قریب آتے ہیں تو پیٹ لٹک جاتا ہے مگر ابھی تو اس کا ان گنا مہینہ ہی چل رہا ہے۔ پھر یہ تکلیف۔۔؟ اس نے ہاتھ سے پیٹ کو سہلایا جیسے درد کو اپنے چنگل میں کرنا چاہتی ہو اور دوسرے ہاتھ کے ناخن سے لاشعوری طور پر زمین کی مٹی کریدتی رہی۔ اس کی نظریں بار بار جھونپڑی کے در کی طرف اٹھ جاتیں۔ جہاں نہ کوئی پر دہ ہے نہ کوئی دروازہ۔ بس خس اور پھوس کی دیواروں کے بیچ اندر باہر آنے جانے کے لیے تھوڑی کھلی جگہ چھوڑ دی گئی تھی اور اس کی بے چین نظریں اس طرف بار بار اٹھ رہی تھیں۔ وہ کسے پکارے؟ پانی کے لیے حلق خشک ہو رہا تھا۔ جدنی اسے تسلّی دے کر گیا تھا کہ جلدی لوٹے گا پر ابھی تک۔۔۔۔ جبکہ اسے معلوم ہے کہ کاکی بھی چلی گئی۔ گاؤں سے لوگوں کا ہجوم روز ہی نکل جاتا ہے۔ سب کو اپنی پڑی ہے، سب پولیس اور شہری بابوؤں سے ڈرتے ہیں۔ ارے! صاف صاف کہہ دیں کہ ہم نے نہیں مارا شیر کو، بلکہ ہمارے یہاں پر رہنے سے شکاری لوگ ڈرتے ہیں جنگل کا رُخ کرنے سے۔ ہماری وجہ سے تو ان کی اور حفاظت ہوتی ہے۔ پر سب ڈرپوک ہیں سالے۔ اب مصیبت میں وہ کیسی نپٹ اکیلی رہ گئی۔ اس نے بے چین ہو کر سر سہلایا۔ ’’بوہسو تنا‘‘۔ (میر اسر درد کر رہا ہے) اس کی بڑبڑاہٹ بڑی واضح تھی۔ خود ہی چونک کر ہنس پڑی۔ کسے سنا رہی ہے اپنی تکلیف۔۔۔۔؟ وہ اٹھی اور پانی کا لوٹا اٹھا کر حلق تر کیا اور جھونپڑی سے باہر نکلی۔ دور دور تک جدنی آتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ وہ کوئی پہلا بچہ تو جننے جا نہیں رہی تھی، یہ تیسرا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب بھی اس کی عمر اتنی کم ہے کہ شہری لڑکیوں کی شادی کا اس عمر میں کوئی سوچتا تک نہیں۔ اب یہ تیسرا بچّہ تھا اس لیے اسے اتنا تجربہ تو تھا ہی اور وہ سمجھ سکتی تھی کہ اب یہ تکلیف رکنے والی نہیں۔ اس ہون(بچہ) کو دنیا میں آنے کی بڑی جلدی ہے۔ جیسے اس کی ذات برادری والوں کو بھی ہر بات کی ہمیشہ جلدی رہتی ہے۔ شادی بیاہ کی جلدی، بوڑھے ہونے کی جلدی، اسی طرح مرنے کی جلدی، اب ایک معمولی سے واقعے پر گاؤں چھوڑنے کی جلدی۔ اس کی شادی بھی تو جدنی سے تیرہ سال کی عمر میں کر دی گئی تھی اور سترہ سال کی عمر میں وہ پہلی بار ماں بن گئی۔ پھر یہ سلسلہ ہر سال چل پڑا اس طرح صرف انیس سال کی عمر میں وہ تیسری بار ماں بننے جا رہی تھی۔

جدنی کیمپ کے پاس پہنچا تو دیکھا۔ سبھاش بابو کئی لوگوں کی ساتھ کرسیوں پر بیٹھے باتوں میں مشغول ہیں۔ وہ ایک کنارے کھڑا ہو گیا اور جب سبھاش کی نظر اس پر پڑی تو بڑے آدر بھاؤ سے اس نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ سبھاش نے سر کی جنبش سے جواب دے کر اشارہ کیا کہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرے اور باتوں میں پھر سے لگ گئے۔ جدنی تھوڑے فاصلے پر اکڑوں بیٹھ گیا اور بے دلی سے باتیں سننے لگا۔ در اصل مہوا کا تکلیف سے سیاہ پڑتا چہرہ اس کی نظروں میں گھوم رہا تھا۔ اس نے بے چینی سے سبھاش کی طرف دیکھا مگر وہ بہت زور و شور سے کسی بحث میں مصروف تھے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ لکھتے بھی جا رہے تھے۔ جدنی کو یاد آیا کہ سبھاش بابو نے بتایا تھا کہ وہ کسی اخبار کے دفتر میں کام کرتے ہیں اور آج کل یہاں کے خبروں کی رپورٹ تیار کر کے بھیجتے ہیں۔ اس وقت بھی موضوع بحث وہی شیر تھا۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ’’یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان تسکروں کا ساتھ یہاں کے کچھ مقامی لوگ دے رہے تھے کہ نہیں؟ کیونکہ اب شیر کی کھال کے علاوہ اس کی ہڈی، بون میرو، چربی اور مختلف حصوں کی بڑھتی مانگ اور قیمتوں کی وجہ سے شیروں کا غیر قانونی شکار بڑھ گیا ہے۔ اگر مقامی لوگوں نے اس کام میں ان کا ساتھ دیا ہے تو ہم ان کے ذریعے ہی تسکروں کے اس گینگ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

’’پر اب یہ کام بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ گاؤں چھوڑ کر جا چکے ہے کیونکہ یہاں کے مقامی لوگوں کی زندگی کا انحصار اس جنگل پر ہی تھا۔ جہاں اب ہمارے اینٹی پوچنگ اسکوائیڈ کی تعیناتی کر دی گئی ہے اور اس حصّے میں داخل ہونا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔‘‘ سبھاش نے کہا پھر اسے جدنی کا خیال آیا تو اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔

اس کے قریب آنے پر سبھاش نے کہا۔ ’’صاحب لوگوں کو اپنا نام بتاؤ۔‘‘ جدنی کی گھبراہٹ بھانپ کر اس نے پھر کہا، ’’لُتم لُتم؟‘‘

’’جدنی۔۔۔ صاحب!‘‘ اس نے بمشکل کہا پھر سب اس سے تھوڑی دیر تک چند سوال کرتے رہے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ صرف سبھاش بابو وہیں بیٹھے رہے اور جدنی کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جدنی نے کندھے پر اپنا انگوچھا برابر کیا اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔

’’سب ٹھیک تو ہے۔‘‘ سبھاش نے نرمی سے پوچھا۔

’’نہیں صاحب! مہوا کی پیڑا بڑھ رہی ہے۔ کوئی دوائی کا جگاڑ ہو جاتا تو۔۔۔ اب تو ہم جنگل سے جڑی بھی نہیں لا سکتے نا صاحب! اور ہمارے واسطے کو نوکام بھی ہو صاحب تو۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہاں، ہاں کیوں نہیں۔ میں نے بات کر لی ہے۔ کچھ تو تم یہاں کے چائے، پانی کا کام دیکھ لینا۔ لیکن تمہارا ایک اہم کام یہ ہے کہ تم جنگل کے چپّے چپّے سے واقف ہو اس لیے جب گشت پر نکلنا ہو گا تب تم ہماری مدد کے لیے ساتھ رہو گے۔‘‘

’’بڑی کرپا صاحب!!‘‘ جدنی احساسِ تشکر کے بار سے دب گیا۔

’’اور سنو!! یہاں ہم اپنے آدمیوں سے تمہاری پہچان کروا دیں گے۔ تم بھی نظر رکھنا کہ کوئی باہر کا آدمی ادھر آ کر شیرنی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کو بچہ ہونے والا ہے اگر اسے نہ بچایا گیا تو یہ نسل ختم ہو جائے گی۔ سمجھ گئے نا۔ اچھا چلو! اب تمہاری مہوا کو دیکھ آئیں اور اس کے لیے کچھ دوائی بھی میں اپنے دوست سے تمھیں دلوا دیتا ہوں۔‘‘ پھر دونوں مہوا کا حال بتا کر چند دوائیوں کے ساتھ جھونپڑی پر واپس آئے تو دیکھا مہوا کا درد سے برا حال تھا۔ جدنی نے جلدی سے اسے درد روکنے کی دوا کھلائی اور سبھاش سے التجا کی، ’’صاحب! یہاں تو اکیلی یہ مر جائے گی۔ جنگل سے ہو کر ایک سیدھا راستہ جاتا ہے جو چھوٹا پڑے گا۔ آپ کی کرپا ہو تو ہمیں اس سے جانے کی انومتی دلوا دیں۔ پھر میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر لوٹ آتا۔‘‘ جدنی کی آنکھوں میں جو بے چارگی تھی اس نے سبھاش کو پگھلا دیا۔ اپنے آپ میں یہ ایک مشکل کام تھا مگر اس نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ تھوڑی دیر انتظار کرے وہ کاروائی پوری کروا کر آتا ہے۔

سبھاش کے جانے کے بعد جدنی نے اپنی کمسن بیوی کے سیاہ پڑے چہرے کو دیکھ کر پوچھا، ’’تھوڑا جوم (کھانا) لے گی۔‘‘

’’نہ رے! اس دوائی سے تھوڑا چین ملا ہے۔‘‘ مہوا نے اپنی کمزور آواز میں کہا۔

’’اچھا اب تھوڑا آرام کر۔ اماں کے پاس چلنے کے لیے تجھے ہمت کرنا ہو گی ورنہ یہاں اکیلی کیا کرے گی اس گھڑی۔‘‘

’’یہ اتّے سارے لوگ یہاں کیا کرنے آئے ہیں رے جدنی!‘‘ مہوا نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔

’’کیا کرے گی سن کر۔ وہی شیر جو مر گیا ہے نا اس کی نسل بچانے آئے ہیں۔ شیرنی گا بھن ہے۔ تجھے معلوم ہے سبھاش بابو بات کر رہے تھے کہ اس کے ایک بچے کی قیمت سات لاکھ (روپیہ) ہو گی۔ اگر کوئی چڑیا گھر والا اس کو پوسنے (پرورش) کے لیے لے جائے گا تو سرکار کو سات لاکھ روپیا دے گا۔‘‘

’’سات لاکھ؟ باپ رے!!! ای سات لاکھ سمجھنے کے لیے تو ہمیں سات جنم لینے پڑیں گے۔ ہم تو جانوروں سے بھی برا بھاگ لے کر آئے ہیں رے جدنی۔‘‘ مارے غم کے اس کی آنکھوں کے کور بھیگنے لگے۔

’’ہاں! جانتی ہے ہم تو بتا بھی نہیں سکتے کہ ای ہمارا تیسرا بچہ ہے۔‘‘

’’کا ہے۔۔۔؟‘‘

’’سبھاش با بو نے منع کیا ہے بتانے سے۔ کہہ رہے تھے قانون بن گیا ہے کہ جس گھر میں تیسرا بچہ جنمے گا اس کو نہ سرکاری کام ملے گا، نہ کوئی اور سہولت، نہ دوائی، نہ ڈاکٹر۔ اور وہ ہم کو کام دلوانے کا وعدہ کیے ہیں۔‘‘

صدمے اور حیرانی سے مہوا گنگ رہ گئی۔

٭٭٭

خوشبو

جمنی نے کھانستے کھانستے اپنا سینہ دبا لیا۔ پھر کھانسی کے زور پر مشکل سے قابو پاتے ہوئے اس نے اپنی دھندلی نظروں کو ادھر ادھر گھماتے ہوئے بے حد نحیف آواز میں بیٹی کو پکارا، ’’للیا!!!! ارے او للیا۔۔۔۔۔‘‘

للیا اس ایک کمرے کے کچّے مکان کے دروازے پر اپنے پیر پھیلائے یوں بیٹھی تھی جیسے کسی محل کی راج کماری ہو۔ اس کے سانولے تندرست چہرے پر بھولے پن کے ساتھ ساتھ ایک قِسم کا غرور بھی جھلکتا تھا۔ ماں کی پکار پر اس نے ناگواری سے اندر ایک جھلنگی چارپائی پر سمٹی ہوئی ماں کے کمزور و جود کی طرف دیکھا اور پھر اسی لاپرواہی سے چپ چاپ بیٹھی رہی۔

جمنی کو ایک بار پھر زور کی کھانسی اٹھی اور وہ کھانستے کھانستے رکی تو اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ اس نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے پانی کو پونچھتے ہوئے ایک بار پھر بیٹی کو پکارا تو وہ پیر پٹکتی ہوئی اندر آئی اور قدرے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا، ’’سمجھ گئی۔۔۔ سمجھ گئی۔ تیرے پیٹ میں پھر آگ لگی ہے۔ اس لیے میں برتن دھونے جاؤں اور روٹی لا کر تیرے پیٹ کا دوزخ بھروں۔‘‘

’’اری سن تو۔۔۔۔ ۔۔ ذرا پانی دے دے۔ اپنے آپ ہی تو سب سمجھ لیتی ہے۔ اپنے لیے نہیں کہتی اگر جانے کو کہتی ہوں تو تیرے لیے، نہیں گئی تو کھائے گی کیا۔‘‘ جمنی ذرا سانس لینے کے لیے رُکی، پھر بولی، ’’کھانسی سے گلا سوکھ گیا ہے۔ ذرا لوٹے میں پانی دے اور جا کام پر۔ نہیں تو اوشا بہن جی ناراض ہوں گی۔ روز نیا کام کہاں سے ڈھونڈے گی پگلی۔‘‘

’’میں آج کام پر نہیں جاؤں گی۔‘‘ للیا نے سرکشی سے کہا اور لوٹا اٹھا کر جھپاک سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

جمنی کو للیا کا یہ غصّہ بھی پیارا لگا اور اس کا دل ترس سے بھر گیا۔ سولہ سترہ سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے، کھیلنے اور کھانے کے دن مگر اس کا باپ تو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے قابل بھی نہیں۔ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ جب وہ خود اس عمر کی تھی تب کتنی بے فکر، خوش اور مطمئن تھی اس کی زندگی۔ دیکھنے میں جیسی للیا ہے ویسی ہی وہ بھی تھی۱۶، ۱۷ برس کی عمر میں۔ اس نے اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ پیروں کو دیکھا۔ ان پچیس سالوں میں اس کا جسم غریبی، جد و جہد اور بھوک کی تپش میں پگھل کر ختم ہو چکا تھا۔ شادی کے بعد اس نے کچھ دن بھی تو سکھ کے نہیں دیکھے تھے۔ شادی کے پہلے انیس برس ایسے گزارے تھے کہ غم اور فکر جیسے الفاظ سے بھی وہ نا آشنا تھی۔

للیا پانی لے کر آئی تو جمنی کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا۔ پانی لیتے ہوئے اس نے ممتا بھری نظروں سے للیا کو دیکھا۔ ’’بیٹی! جا، ضد مت کر، آج نہیں گئی تو سارا دن بھوکی رہے گی۔‘‘

’’تجھے بھوک نہیں ہے؟‘‘ للیا نے سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ پوچھا۔

’’نہیں رے! مجھے اب بھوک نہیں لگتی۔ وہ تو زندہ ہوں اس لیے ایک روٹی حلق سے اتارنی پڑتی ہے۔‘‘ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔

’’ہاں تجھے بھوک کیوں لگے گی۔ تجھے پوریاں ملیں تبھی کھائے گی۔‘‘ للیا کی بات سن کر جمنی چپ رہی تو للیا نے کہا، ’’میں جا رہی ہوں۔ اب سانجھ کو ہی لوٹوں گی تیری روٹی لے کر۔‘‘

’’اری سن!‘‘ جاتی ہوئی للیا کو اس نے جلدی سے پکارا۔ ’’تو بہن جی سے کہنا تھوڑا آٹا ہی دے دیں۔ روٹی مت لینا۔ گھر میں سانجھ کو چولھا جلتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘

ماں کی بات سن کر للیا کا پارہ پھر ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ ’’بس تجھے ہری ہری سوجھنے لگی۔ ایک تو میں سارا دن ادھر مر کر آؤں۔ پھر یہاں تیرے لیے گرم روٹی پکاؤں۔ دم نکلنے کو ہے اور شوقینی میں کمی نہیں آئی۔‘‘ للیا بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

تو جمنی اپنے آپ سے ہی بولی۔ ’’تو نہیں سمجھے گی رے! مجھے روٹی کی بھوک نہیں۔ مجھے تو سانجھ کو پکتی ہوئی روٹی کی خوشبو چاہیے۔ میرا پیٹ اسی سے بھر جائے گا۔ روٹی کی خوشبو تو کیا جانے۔‘‘ جمنی ڈوبنے لگی اپنے ماضی میں، جہاں مٹھاس ہی مٹھاس تھی۔ یادوں کی مٹھاس، یادوں کی کسک، پر نا جانے یہ کون سا درد ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔ آنسوؤں کی لڑی اس کی آنکھوں سے ڈھلک کر اس کی میلی کچیلی ساڑھی کے پلو میں جذب ہو گئی اور آنکھوں کے سامنے اسے اپنا بچپن اور لڑکپن ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔ کھانسی کے ایک اور زور دار دورے کے بعد وہ بالکل نڈھال ہو گئی مگر یا دوں نے پیچھا نہ چھوڑا۔

اسے یاد آیا کہ جہاں اس نے ہوش سنبھالا تھا، وہ ایک بہت ہی کھاتا پیتا گھرانا تھا۔ جہاں اس کی ماں کام کرتی تھی اور اس بڑے سے گھر کے شاندار باورچی خانے کے پاس اس کی ماں کا کمرہ تھا۔ دونوں ماں بیٹی اسی کمرے میں رہتی تھیں۔ اس گھر کا ہر کام اور خاص کر باورچی خانہ اس کی ماں کے سپرد تھا۔ وہ خود تو وہاں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت کھیلتی رہتی تھی۔ اس گھر کے ہر فرد کے ساتھ رہ کر اس نے ہر ہنر اور پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا حالانکہ وہ یہاں کے دوسرے بچوں کی طرح اسکول نہیں جاتی تھی اور اکثر ان کے جوٹھے کھانے اور اتارے کپڑے بھی اس کے حصّہ میں آتے تھے مگر اسے یہ سب کچھ برا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ اپنی حیثیت سے واقف تھی اور ساتھ ہی ان لوگوں کے خلوص اور محبت سے شاکی بھی نہیں تھی۔ اس نے اسی گھر میں ہوش سنبھالا اور یہیں اپنے شوق اور ان لوگوں کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھ گئی۔ اس طرح گزرتے ہوئے وقت نے اس کے لاشعور میں اس ماحول کو اس طرح اتار دیا تھا کہ اسے کسی آہٹ کا گمان تک نہ ہوا۔ وہ بہت خوش اور مطمئن زندگی وہاں گذار رہی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ بچپن سے ہی شام کو پکنے والی روٹی کی خوشبو اسے اتنی اچھی لگتی تھی چاہے وہ اس وقت کتنا بھی دلچسپ کھیل کھیل رہی ہو روٹی کی اس مہک سے کھنچی چلی آتی اور للچائی ہوئی نظروں سے ماں کو دیکھنے لگتی۔ جبکہ ماں کو اس کی اس عادت سے چڑ تھی اس لیے جمنی کو دیکھتے ہی وہ جھلا جاتی۔ ’’بس!! دو چار روٹیاں بھی نکلنے نہیں دیتی اور موئی بلّی کی طرح سونگھتی ہوئی پہنچ جاتی ہے اور بھی تو بچے ہیں اس گھر میں مگر کسی کو تیری طرح بھوک نہیں لگتی۔‘‘

اپنی اس جھنجھلاہٹ کے ساتھ وہ ایک روٹی اس کے ہاتھ میں اس طرح پکڑا دیتی جیسے کہہ رہی ہو، جا مر، میرا پیچھا چھوڑ۔ جمنی نا جانے کب سے اسی طرح ماں کی جھڑکیوں کے ساتھ شام میں پکنے والی روٹی کھاتی آ رہی تھی اور اس وقت کی یہ ایک روٹی اسے دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر اچھی لگتی مگر ایک وقت ایسا آیا کہ اسے اس طرح روٹی لے کر کھانے میں شرم آنے لگی۔ لیکن شام میں پکنے وا لی روٹی کی خوشبو سے اس کا وہی لگاؤ رہا۔ اس کی کشش اس کے لیے اب بھی اسی طرح باقی تھی۔ وہ کہیں بھی رہتی، کچھ بھی کرتی رہتی اس وقت کی یہ خوشبو وہ اپنی سانسوں میں بھر لیتی، روح میں اتار لیتی۔

اسے اس تلخ حقیقت کا احساس تک نہیں ہوا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا اور جب وقت کے گھومتے ہوئے پہیے کے نیچے اس کا اپنا وجود آیا تو وہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گئی۔ تب اسے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ وقت کے ایک ہی سرد اور ظالم جھونکے نے گھر کے ہر فرد کو سوکھے پتوں کی طرح بکھیر دیا ہے۔ نہ جانے کب چپکے سے اس گھر کی بزرگ ہستی دادی امّاں نے اجل کی گود میں پناہ لے لی۔ ماں وقت سے پہلے کچھ ہی دن کی بیماری میں چل بسی اور روحی آپا پیا دیس سدھاریں۔ پھر گھر میں اس کی شادی کی بات ہونے لگی۔۔ اب وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی کیونکہ اس گھر میں وہ جس جس کے بے حد قریب تھی وہ سب جا چکے تھے۔ اب اسے سب سے زیادہ جس سے لگاؤ تھا وہ دادا ابّا تھے لیکن ان کے رعب اور دبدبے کے آگے ان کے سامنے نظر اٹھانے کی بھی ہمت اس میں نہیں تھی۔ بس دور دور سے ہی ان کا ہر خیال رکھتی۔ ان کے سفید ریشم سے بالوں والا سر، ان کے سفید کمزور پیرا سے اتنے بلند، اتنے عظیم لگتے کہ اس کا دل چاہتا کہ وہ ان کے قدموں میں اپنا چہرہ چھپا کر خوب روئے اور کہے دادا ابّا، ’’مجھے اس گھر سے الگ مت کیجیے۔ مجھے یہیں ایک کونے میں پڑا رہنے دیجیے۔ میں ماں کی طرح پورا گھر سنبھال لوں گی لیکن میری شادی مت کیجیے۔‘‘

وہ جب جب سنتی کہ اس کے لیے کوئی رکشہ والا، کوئی مزدور یا کوئی درزی دیکھا جا رہا ہے تو وہ لرز جاتی۔ وہ جس نے بچپن سے اس ستھرے ماحول کو اپنا سمجھا ہے وہ کیسے ایک جاہل شخص کی اجڈ باتوں، گالیوں اور اوچھی حرکتوں کے ساتھ زندگی گزار سکے گی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ خود ایک کم ذات، غریب اور بے سہارا لڑکی ہے۔ ایک سبزی بیچنے والی کی بیٹی جس نے بعد میں اپنا پیشہ چھوڑ کر اس گھر میں پناہ لے لی تھی۔ اسی لیے کبھی اس نے سنہرے سپنے نہیں سجائے تھے۔ پھر بھی وہ جانتی تھی کہ اس باغ کا پھول نہ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں سے اکھاڑ کر کہیں اور لگایا گیا تو وہ پھر سے کھل نہیں پائے گی، مرجھا جائے گی کیونکہ وہ یہاں کی آب و ہوا کی عادی ہو چکی تھی۔ اسے پہلی بار یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ وہ اس گھر کا حصہ کبھی تھی ہی نہیں بلکہ صرف ایک نوکرانی تھی مگر وہ اپنی قسمت کی لکیر نہیں بدل سکتی تھی۔

انیسواں سال پورا ہوتے ہی اس کی شادی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کر دی گئی۔ گھر والے یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ روز ٹیکسی سے اچھی رقم کمانے والے شخص کے ساتھ جمنی خوش رہے گی۔ جمنی نے بھی نکاح کے بول کے ساتھ خود کو اس ڈرائیور کے ساتھ بندھا پایا کہ کبھی اس بندھن سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی پوری پوری کوشش کی۔ شروع میں تو رزق آ بھی جاتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس میں کمی ہوئی اور کسی طرح غربت اور تنگدستی میں شب و روز گزرتے رہے۔ شادی کے سات آٹھ سال بعد بیٹی ہوئی مگر اس وقت تک حالات اور بھی بد سے بدتر ہو چکے تھے۔ اس کے شوہر کی پینے کی لت بڑھ گئی تھی اور کام کرنے کی عادت کم ہو گئی اس لیے جمنی ہی ادھر ادھر کام کر کے گزارے کا انتظام کرتی۔ مگر اسے احساس تھا کہ وہ بیٹی کی اچھی پرورش تو کیا کرتی اسے پورا کھانا کپڑا بھی نہیں دے پاتی تھی۔ اسے اپنا بچپن یاد آتا اور للیا کو دیکھتی تو گھٹن اور دکھ کے احساس سے بھر جاتی۔ دکھ کا یہ احساس اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ گیا اور بیالیس برس کی عمر میں ہی وہ معذور ہو کر چار پائی پر لیٹ گئی۔ اب اس کی ذمہ داریاں دو سال سے للیا ڈھو رہی تھی۔ جب سے اس نے کھاٹ پکڑی تھی شاید ہی کبھی گھر میں چولہا جلتا ہو۔

جمنی نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے لگا کہ ماضی میں ڈوبتے ابھرتے اس کا پورا دن نکل گیا تھا اور شام اتر آئی تھی۔ اس نے اپنے سینے میں تیز جلن محسوس کی۔ بڑی مشکل سے ہاتھ بڑھا کر لوٹا اٹھایا اور پانی کا گھونٹ لیا تو لوٹا اس کے ہاتھ سے پھسل گیا اور وہ سر چار پائی کی پٹی پر ڈال کر ہانپنے لگی جیسے ایک لمبا سفر کرتے کرتے اب تھک گئی تھی، ہار گئی تھی۔ تبھی للیا کو ٹھری میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں دو چار لکڑیاں اور ایک پوٹلی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی۔

’’ماں دیکھ! میں تیرے لیے آٹا لے آئی۔ تجھے بھوک لگی ہو گی نا۔۔۔؟ ابھی گرم گرم روٹی پکاتی ہوں۔‘‘ للیا نے چہکتے ہوئے کہا تو جمنی نے اپنی دھندلی آنکھیں کھولیں۔  ’’کیا بات ہے رے!! آج بڑی خوش ہے۔‘‘

’’ماں! اوشا دیدی نے آج مجھے اپنا ایک سوٹ اور پانچ روپے دیے ہیں اور دیکھ تیرے لیے آٹا بھی۔‘‘

اس نے جلدی جلدی آٹا گوندھتے ہوئے کہا تو جمنی کے نحیف چہرے پر مسکراہٹ کی پرچھائیں آئی۔

للیا روٹی پکا رہی تھی اور جمنی کی نظریں پکتی ہوئی روٹی سے اٹھتی ہوئی بھاپ پر تھیں۔ جو ماحول میں رچ بس کر اس کی روح میں اترتی جا رہی تھی، اسے سیراب کرتی جا رہی تھی۔ للیا دو روٹی تھالی میں ڈال کر ماں کے قریب آئی اور اسے اٹھانے کے لیے سہارا دینے کی کوشش کی تو جمنی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا اور اپنی کمزور آواز میں کہا، ’’یہ تو کھا لے بیٹی!!! میرا پیٹ تو اس خوشبو سے ہی بھر گیا۔‘‘

للیا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا مگر اس وقت جمنی کے چہرے پر ایک ایسی تسلی تھی جیسے اس کے نحیف وجود میں روٹی کی خوشبو کی پیاس باقی نہ ہو، جیسے اس کی زرد آنکھوں سے اس کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی تسکین جھانک رہی ہو۔

٭٭٭

ادراک

وہ دریچے سے لگی خاموش کھڑی باہر ہوتی بارش کو دیکھ رہی ہے اور بارش کی بوندوں نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے مگر ملیحہ کو اندازہ ہے کہ باہر کے مو سم سے زیادہ سرد اس کے جذبات ہو چکے ہیں۔ اس نے شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا اور سرد ہواؤں کی زد میں کھڑی بوندوں کا تماشہ دیکھتی رہی۔ بارش کی ہر بوند گڑھے میں جمع پانی میں دائرہ بناتی جاتی ہے اور وہ دائرہ اس میں گم ہوتا جاتا ہے۔ وقت کی ندی میں بھی لمحوں کی برسات ہو رہی ہے اور لمحوں کے دائرے گم ہوتے جا رہے ہیں مگر اب وہ یہ جان گئی ہے کہ کچھ لمحے کبھی گم نہیں ہوتے ان کا وجود باقی رہتا ہے، ہمیشہ۔۔۔ کہیں نہ کہیں، کسی تاریخ میں یا کسی دل میں یا کسی ذہن میں۔ اور وہ دائرہ پھیلتا جاتا ہے اور پھیلتے پھیلتے ساری دنیا پر محیط ہو جاتا ہے اس لیے کہ اس لمحے میں بڑی قوت ہوتی ہے۔

اس نے بھی اپنے اندر کے برف کے صحرا کو پار کرتے ہوئے اپنے لیے ڈھیروں قوت جمع کر لی ہے مگر اس کے اندر آنسو منجمد ہو چکے ہیں، کیونکہ اس کے اندر خوشنما یادوں کی کوئی حرارت باقی نہیں۔ پر یہ تو اسے آج پتہ چلا کہ اب اس کے دل میں عرفان کے لیے نفرت، غصہ یا بدلہ جیسی کوئی چنگاری بھی باقی نہ رہ گئی تھی۔ عمر کی اس طویل مسافت کے بعد آج اچانک جب وہ سامنے آیا تو اس کے لیے سرد مہری کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ بس ایک سوال تھا کہ اب اسے پلٹ کر دیکھنے کی کیا ضرورت آ پڑی مگر اسے بیٹوں کے درمیان چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی، کوئی چیخ پکار یا سوال جواب کیے بغیر۔ خاموش تو وہ اس دن بھی رہ گئی تھی جب ایک دن عرفان نے کہا کہ اسے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔ وہ ششدر کھڑی رہ گئی تھی اور اس پر سے ایک لمحے میں صدیاں بیت گئی تھیں، درد اور بے یقینی، مایوسی اور امید کی کیفیت میں اس پر وقت آ کر ٹھہر سا گیا۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے؟ محبت کی تقدیس کو ایسے بھی پامال کیا جا سکتا ہے کہ کسی کی بے لوث محبت کو یوں ٹھکرا دیا جائے؟ کسی اجنبی ملک میں ایک اور عورت کے لیے۔ وہ عرفان کے ساتھ اپنے ملک، اپنے ہر رشتے سے دور اس کی والہانہ محبت کے ساتھ ہی تو آئی تھی اگر اسے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے تو پھر وہ کیا تھا۔

وہ دونوں کتنے خوش تھے، ان کے تین پھول سے بچے تھے۔ نہیں نہیں! عرفان ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اس سے ضرور کوئی لمحاتی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ مگر عرفان چلا گیا اور وہ بہت دنوں تک خود کو دھوکا دیتی رہی کہ وہ واپس آ جائے گا اس کے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔ وہ جانتا تو تھا کہ یورپ آنے کی ضد ملیحہ کی نہیں اس کی اپنی تھی، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملیحہ کبھی اپنے ملک میں بھی تنہا نہیں نکلی اور اس کے پاس گریجویشن کی ایک ڈگری کے علاوہ کچھ نہیں، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ عرفان کے بغیر ایک پل ایک لمحہ نہیں رہ سکتی تھی مگر وہ نہ لوٹا۔ اتنے سال کی اطاعت کا حساب برابر کرنے کا نہ جانے یہ کون سا طریقہ تھا، اس نے بس ملیحہ پر یہ احسان کیا کہ پس انداز کی ہوئی رقم اس کے پاس چھوڑ دی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ جائے۔

بے یقینی اور مایوسی کی ایسی ہی کیفیت میں ملیحہ کو لگتا کہ وقت اس کے سینے میں اپنے خونی پنجے گاڑے ٹھہر گیا ہے اور امید و مایوسی، بے یقینی اور انتظار میں ٹھہرے ہوئے وہ لمحے اس پر سے صدیاں بن کر گزر گئے۔ ٹھہرے ہوئے ان لمحوں میں وہ انتظار کرتی رہی کہ زندگی جلد ہی پہلے کی طرح ہموار گزرے گی، جس میں چھوٹے چھوٹے ملول کرنے والے جھگڑے ہوں گے، ناراضگی اور تیکھا پن ہو گا، بچوں کی فکریں ہوں گی اور ان سب چیزوں کے ساتھ چہرے پر نقوش چھوڑتے لمحے ہوں گے، ایک ساتھ بچوں کو بڑا کرتے ہوئے کیسا لگتا ہو گا، کیسا لگتا ہو گا عاشق اور معشوق کا دھیرے دھیرے ضعیف ہونا، کمزور ہو کر اور مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا، زندگی کی ڈگر پر آگے بڑھتے ہوئے دھندلی آنکھوں سے پیچھے مڑ کر ایک ساتھ گزارے ہوئے حسین پل دیکھنا۔۔؟ مگر اس کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا، دل پر گزرے خزاں کے مو سم نے زندگی کے سارے رنگ اڑا دیے تھے اور زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں وہ تن و تنہا کھڑی تھی، اس کے سر پر ذمہ داریوں کی ننگی تلوار جھول رہی تھی۔ اس کی ذرا سی لغزش، اس کی کم ہمتی، اس کے ساتھ تین اور زندگیوں کو ہلاک کرنے کا موجب بن سکتی تھی مگر عرفان کی بے وفائی نے اس کا قتل نہیں کیا تھا بلکہ اس کی نسوں سے جینے کی خواہش نچوڑ لی تھی اور وہ اندر سے اتنی کھوکھلی ہو چکی تھی کہ اسے کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا۔ ان دنوں وہ کیسے کیسے اپنا احتساب کیا کرتی۔ اسے لگتا کہ میاں بیوی کے رشتے کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نے ہمیشہ اپنی ہی شخصیت کی تراش خراش کی، اس عورت کو اوڑھ لیا خود پر جیسی عرفان کو چاہیے تھی اور خود سے اس ملیحہ کو ہی دور کر دیا جو اس کی شخصیت کی پہچان تھی، یہاں تک کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنوں سے کالے کوسوں دور چلی آئی۔ کوئی اپنا پاس نہ تھا کہ اس برے وقت میں کسی کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکی، کسی کی گود میں سر رکھ کر سسک بھی نہ سکی۔ اس نے کہاں کبھی سوچا تھا کہ وہ دو جدا جدا فرد تھے۔ اس کی خوشی کے لیے خود کو تراش تراش کر اتنا ہلکا کر دیا کہ وہ خود وجود سے عدم میں چلی گئی اور ہوتے ہوئے بھی نہ رہی۔ یک جان دو قالب ہونے کے لیے اس نے کب اپنے وجود کو ہی مٹا ڈالا اسے پتہ بھی نہ چلا اور اچانک عرفان نے اسے احساس کرایا کہ وہ ایک منفرد وجود ہے اور اسے اپنے قلب سے جھاڑ کر الگ کر دیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کھو چکی ہے۔ اس میں مدغم ہو کر خود کو کھوکھلا اور اسے مضبوط کر چکی ہے، توازن برقرار رکھنے کے لیے وہ ہمیشہ خود کو ہی چھیلتی رہ گئی اور ملیحہ سے مسز عرفان بن کر رہ گئی مگر پھر مسز عرفان کے چولے کو اتار پھینکنے کے لیے جانے کیسے اس نے اپنے وجود کے سارے بکھرے ٹکڑوں کو سمیٹ کر خود کو یکجا کیا تھا۔ پھر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو اسے لگا نہ جانے کب سے، مہینوں اور سالوں سے نہیں بلکہ شاید صدیوں سے اس نے آئینہ نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کے اپنے تو نہیں تھے، سیاہ بالوں کی تہوں سے جھانکتی سفیدی کا ہلکا ہلکا سٹروک وقت کے فنکار نے نہ جانے کب اس کے بالوں پر لگایا تھا۔ وہ اتنی بے خبر کیسے تھی کہ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ اس کے سراپا کو کوئی یوں تبدیل کر رہا ہے اور یہ اداس اترا ہوا چہرہ بھی اس کے پاس کوئی تھا؟ جو اس نے پہن لیا تھا۔ اسے تو یاد نہیں پڑتا کہ زندگی میں ایسا کوئی چہرہ خرید کر اس نے کبھی اپنے لیے رکھا ہو۔ مگر یہ تو تھا موجود، اپنی ساری کی ساری تلخ سچائیوں کے ساتھ۔ اس کے بے حس وجود پر جیسے کسی نے بے دلی سے اٹکا دیا ہو اور اسی چہرے کی طرف چھے نئی نکور پر امید نگاہیں اٹھتی تھیں۔ منجھدار میں پھنسی ناؤ کو پار لگانے کے لیے اور وہ ان نگاہوں کی تاب نہ لا کر اپنے ہاتھوں اور پیروں کو دیکھتی، انہیں اٹھا کر مدد کے لیے ان معصوم ہاتھوں کو تھام لینا چاہتی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہ ڈوبنے دینے کا وعدہ لے کر مگر یہ کیا اس کے ہاتھوں اور پیروں کی تو سکت ہی ختم ہو چکی تھی۔ وہ انہیں اٹھانا چاہتی پر اٹھانے کی طاقت نہ ملتی۔ عرفان اب اس کے لیے دفن ہو چکا تھا مگر لگتا تھا وہ دفن ہو چکی ہے۔ اگر پوری نہیں تو اس کا آدھ ادھورا وجود عرفان کے ساتھ ضرور دفن ہو چکا تھا اسی لیے اس کے اندر کوئی حوصلہ، خواہش اور طاقت کی ہلکی سی رمق بھی باقی نہ تھی مگر کوئی سمجھتا کیوں نہیں۔۔؟ سب اس کی طرف کیوں امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔؟ سب کیوں سمجھتے ہیں کہ اب وہ ان بچوں کو زندگی عطا کرے گی۔ کیوں؟ اس کے اندر جب اتنی ساری چیزیں ایک ساتھ مر چکی تھیں تو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی کیوں نہیں مر گئی۔ اسے لگتا وہ پہلے کی طرح کبھی کھڑی نہیں ہو پائے گی۔ وطن واپس لوٹنے کا خیال اسے اور کمزور کر دیتا، یہاں یہ تین معصوم چہرے اسے مرنے نہیں دیتے تھے، وہاں دو ضعیف چہروں کی مایوسی وہ کیسے سہہ پائے گی۔

وہ اپنی اس شکست خوردگی کے ساتھ وطن لوٹنا نہیں چاہتی تھی مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ کون سی دنیا ہے۔؟ یہ وہ دنیا تو نہ تھی جسے آج تک اس نے عرفان کے ساتھ دیکھا سمجھا اور برتا تھا، یہ وہ دنیا بھی نہ تھی جو اس کے بچپن اور لڑکپن میں پھول بن کر اس کی راہوں میں بچھی تھا۔ یہ تو ایک الگ اجنبی اور نا مہربان دنیا تھی جس کی اسے عادت نہ تھی۔ اسے لگتا وہ وقت جو گزر گیا وہ صرف ایک خواب تھا۔ آنکھ کھلی اور تلخ حقیقت کی دھوپ میں اس کا پورا وجود، اس کی روح اور اس کے تین معصوم بچے جھلستے نظر آئے۔ اس کا دل چاہتا کوئی اسے زور سے جھنجھوڑ کر کہے کہ اب جاگ جاؤ اور یہ سخت جھلسا نے والے لمحات ایک بھیانک خواب ثابت ہوں مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا۔ وہ سچ مچ حقیقت کی بے حد سخت اور گرم زمین پر تن و تنہا کھڑی تھی اور اسے یقین نہ آتا کہ کبھی اس کے ہاتھ اپنے بچوں کے ہاتھوں کو مضبوطی عطا نہیں کر پائیں گے۔ وہ تنہا کیسے بچوں کی تعلیم و تربیت کرے گی۔ اسے یقین نہ آتا کہ اس کا اپنا عرفان اتنا سنگ دل اور خود غرض تھا۔ عرفان کی محبت نے اسے اتنا کمزور، بے بس اور غیر ذمہ دار بنا دیا تھا۔ کیا باہر کی بے رحم دنیا سے سابقہ نہ پڑنا انسان کو اتنا کھوکھلا کر جاتا ہے، کیا محبت اور توجہ انسان کو ناکارہ بناتے ہیں۔۔؟ پھر آج تک وہ جو سنتی سمجھتی اور دیکھتی آئی تھی محبت کے لیے، جو یقین رکھتی تھی وہ سب ایک حادثے میں ایسے بکھر گئے جیسے ان کا وجود ہی نہ تھا اور وہ ایک زخمی پرندے کی طرح زندگی کی برہنہ شاخ پر بیٹھی تھی۔ اپنی پرواز کھو کر جینا اتنا المناک تھا کہ اس کے دل میں موت کی خواہش شدت سے جاگتی۔

وقت کی ندی میں لمحوں کی برسات پھر بھی نہ رکی اور زمانہ گزرتا ہی رہا۔ وہ سہمی ہوئی اپنی آغوش میں اپنے بچوں کو سمیٹے بیٹھی رہی۔ وقت اور موسم کے ساتھ لوگوں کے رویے تبدیل ہونے لگے۔ پس انداز کی ہوئی رقم ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل گئی اور بھنور میں پھنسی ناؤ ڈوبنے لگی۔ سہارے کے لیے کس کی طرف دیکھتی۔ زندہ رہنے کی ننگی ضرورتیں بڑی ظالم ہوتی ہیں، وہ غم اور خوشی کے ہر کہرے کو اپنی حدت سے پگھلا کر غائب کر دیتی ہیں۔ ان ضرورتوں نے اس کے ارد گرد کے کہرے کو بھی کاٹنا شروع کر دیا اور اس کہرے کے پرے اسے تین بھیگے ہوئے بے حد ملائم چہرے نظر آئے، معصوم اور ملائم، اس نے ان چہروں کے ارد گرد اندھے بہرے اور گونگے آسمان اور زمین کو دیکھا اور ان بھیگے اور ملائم چہرے کی ساری بارشیں اس کے مردہ دل پر برس گئیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اپنے دکھ سے زیادہ بڑا ماں کا دکھ ہوتا ہے جو اسے مرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ اسے جینا تھا اور اپنے بچوں کے لیے جینا تھا۔ اس نے اپنے وجود کے سارے ٹکڑوں کو پھر ایک بار سنبھالا اور اس میں اپنا مردہ دل ڈال کر خود کو کھڑا کیا اور الماری کھول کر ایک بھولا بسرا کاغذ کا ٹکڑا ڈھونڈھ کر نکالا۔ وہ اس بے مایہ، بے قیمت کاغذ کے ٹکڑے کو غور سے دیکھتی رہی جو وقت کے ساتھ اس کی طرح زردی مائل ہو گیا تھا۔ اس نے اسے حاصل کرنے کے بعد کبھی اس کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا اور ایک مقدس صحیفے کی طرح خوبصورت کپڑے میں لپیٹ کر بھول گئی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی مقدس صحیفہ جزدان میں لپیٹ کر پہنچ سے بھی زیادہ اونچی جگہ پر رکھ کر انسان بھول جاتا ہے۔ آج وہی کاغذ کا بے جان ٹکڑا کسی زندہ چیز کی طرح اس کی ہتھیلی پر دھڑک رہا تھا اور اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ ملیحہ ابھی بھی زندہ ہے، بس اتنے سالوں میں عرفان کو پا کر وہی اسے بھول بیٹھی تھی۔ اسی یقین سے ذرا سی طاقت لے کر پھر اس نے اپنی زندگی کی صلیب کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور جینے کا شعور ڈھونڈھنے لگی۔ کم ہمتی، خوف اور بے یقینی نے بڑی ٹھوکریں لگائیں مگر ہر ٹھوکر اس کے اندر ضد بنتی گئی۔ وہ ضد ہمت میں پھر بے خوفی میں اور پھر یقین میں بدلنے لگی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ دنیا کے سامنے سرخرو ہونا خدا کے سامنے سرخرو ہونے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اپنی بقاء، حیا اور یقین کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ ایک غیر مرئی طاقت اس کے ساتھ ہے جو اس کی مدد کر رہی ہے۔ ایک این جی او میں نوکری ملنے کے بعد اپنی زندگی کے ہر ناروا سلوک کو اس نے منفی کرنا سکھ لیا جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھی اور وہ اپنے بچوں اور نوکری کے مضبوط سہارے کے ساتھ کمزوروں کی طاقت بننے کا کام کرنے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنے وجود کے ہر گوشے کو پرانی والی ملیحہ کی ان آرزوؤں سے روشن کر لیا جسے کبھی قابل اعتنا ہی نہیں سمجھا تھا اور وہ مصروف ہوتی گئی۔ وہ اپنے بچوں کی ماں باپ اور دوست سب کچھ بن گئی۔

وقت کی ندی میں لمحوں کی بارش ہوتی رہی اور اس کے بچوں کے بھیگے معصوم چہروں پر اطمینان کی سرخی اور یقین کا سورج جھلملانے لگا۔ اس کی شخصیت کا وقار اس کے اپنے بل بوتے پر لوٹ رہا تھا۔ لوگوں کا ناروا رویہ مثبت ہوتا جا رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ بعض لمحوں میں بڑی قوت ہوتی ہے۔ وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ ان کا دائرہ پھیلتے پھیلتے پوری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے کہ وہ لمحہ کون سا ہے جسے آپ کو اپنی قوت بنانا ہے۔ جب ہم کمزور لمحے کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں تو وہ ہمیں ناکامی کے بھنور میں ڈبو دیتا ہے اور جب ہم اس کمزور لمحے پر فتح پا لیتے ہیں تو اپنی ناؤ کو اس بھنور سے نکال لے جاتے ہیں جہاں اور بھی بہت سے جاندار لمحات وقت کی ندی پر برسنے کو تیار ملتے ہیں۔

آج وہ ایک کمزور عورت نہیں تھی۔ اس کا اپنا ذاتی گھر تھا جس میں آنے والی ساری دھوپ، ہوا اور بارشیں اس کی تھیں۔ گزرے ہوئے لمحے اسے کمزور اور اداس نہیں کرتے تھے، طاقت دیتے تھے مگر آج یہ کون سی کمزوری اس پر حاوی ہو گئی ہے۔ باہر بارش تھم چکی تھی، دن کا اجالا اندھیرے سے گلے مل رہا تھا اور دریچے میں کھڑے کھڑے اس کے پاؤں جیسے شل ہو چکے تھے تب ہی اسے اپنے کمرے میں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، اس کے بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا آہستہ قدموں سے قریب آیا۔ باقی دوجو پیچھے کھڑے تھے ان میں سے ایک نے کمرے کا بلب روشن کیا۔

’’ماں آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟ دیکھیے۔ ہم نے کافی بنائی ہے۔‘‘ اس نے صرف سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ تو وہ ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسے دھیرے سے کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا، ’’وہ چلے گئے ہیں۔‘‘ اور کافی کا مگ اسے پکڑا دیا۔۔

’’اب کیا لینے آئے تھے؟‘‘

’’شاید ہماری محبت یا آپ کی معافی۔ تہی دامن تھے۔ ہم پر اپنا حق جتا رہے تھے۔‘‘

’’پھر تم لوگوں نے کیا کہا؟‘‘ اس نے بہت تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔

’’آپ بتائیے ہم نے کیا کہا ہو گا؟‘‘ منجھلا اپنا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔

’’معلوم نہیں۔۔۔ تم نے کیسے، کیا کہا؟ مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ان سے تمہارا خون کا رشتہ ہے۔ خون کے رشتے نہ ٹوٹتے ہیں نہ ختم ہوتے ہیں، یہ تو ہر زمانے میں باقی رہنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمیشہ چلتے ہیں۔ اب اچھی طرح چلیں یا بری طرح بس چلتے رہتے ہیں، کبھی کبھی یہ گھسٹ گھسٹ کر بھی چلتے ہیں مگر چلتے ضرور ہیں، یہ نہ مرتے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں۔ یہ اتنے سخت جان ہوتے ہیں کہ انسان مر جاتا ہے تب بھی یہ رشتے زندہ رہتے ہیں۔ یادوں اور دعاؤں میں، نذر و نیاز میں، آنسوؤں اور مسکراہٹوں میں اور یہ رشتے سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہوئے بار بار دفنائے جانے کے باوجود سانس لیتے رہتے ہیں۔ یہ کہانی بن کر زندہ رہتے ہیں اور جب ان کہانیوں کے ورق بھی زرد ہو جاتے ہیں اور پلٹنے کے قابل نہیں رہتے تب یہ رشتے شجروں میں زندہ رہتے ہیں مگر رہتے ضرور ہیں۔‘‘

’’آپ کی کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے ماں۔‘‘ چھوٹا بیٹا جانے کب اس کے قدموں میں آ کر بیٹھ گیا تھا اس نے پیار سے اس کے گھنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔

’’آپ نے صحیح کہا۔ ہم نے ان سے بالکل یہی کہا کہ اب آپ ہمارے لیے صرف ہمارے شجروں میں زندہ ہیں اور یہ آپ کی ہی چوائس تھی۔‘‘

اس نے اپنے مگ کو ٹیبل پر رکھ کر اپنے دونوں بازو پھیلا دیے اور اپنی آغوش میں انھیں لے لیا۔ چھوٹا پہلے ہی اس کے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھا تھا اور ملیحہ کو یقین ہو گیا تھا کہ محبت کبھی کسی کو کمزور نہیں کرتی۔ اس کی شخصیت کی بقاء کرتی ہے، یقین کو مستحکم کرتی ہے۔ جو چیز آپ کو کمزور کرے اور آپ کے یقین کو توڑ دے وہ محبت نہیں ہوتی۔ عرفان کی محبت محبت نہیں تھی۔ محبت تو یہ ہے جسے اس نے بہت سنبھال کر رکھا ہے اور انہیں ایک ایسا انسان بنایا ہے جو اپنی زندگی میں آنے والی عورتوں کو ایک مکمل وجود سمجھیں گے۔ برا وقت لمحوں کی اس برسات میں شامل ضرور ہوتا ہے مگر اسے اپنی ساری زندگی پر محیط کر لینا اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ آج اس کی روح پورے غرور سے، سر بلندی سے اور فخر سے سر اٹھا کر اس نیلگوں آسمان کی بلندی کو چھونے کے لیے تیار تھی۔ اسے اس کا ادرک ہو چکا تھا کہ وہ ایک الگ اور مکمل وجود تھی، ہمیشہ سے۔۔۔ بس پہلے اس کا ادراک نہ تھا اب ہے۔

٭٭٭

تشنگی

میں تھک کر چور ہو چکی تھی۔ آج صبح سے میں نے مشینی انداز میں سارے کام کیے تھے۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو دن کے دو بج رہے تھے۔ پھر میری نظر اپنی ملگجی اور شکن آلود ساڑھی پر گئی، بہت دیر تک کچن میں کام کرنے کے باعث مجھے گرمی بھی لگ رہی تھی اور بس کے آنے سے پہلے مجھے تیار ہو جانا تھا، اس لیے نہانے کے ارادے سے کپڑے نکالنے کے لیے الماری کی طرف گئی۔ لیکن سنگھار میز کے سامنے ٹھٹھک گئی۔ آج سنگھار میز کا شیشہ بہت چمک رہا تھا اور اس میں میرا سراپا بہت واضح ہو گیا تھا۔ مجھے لگا جیسے آج آئینہ کی ساری دھول مجھ پر آ گئی ہے۔ مجھے اپنا ملگجا سا سراپا اپنی ہی نظروں میں عجیب لگا۔ روز جب اسی آئینے پر دھول کی ہلکی سی پرت کے پیچھے میں اپنا چہرہ دیکھتی تو اس چہرہ پر چھائی تھکان مجھ سے چھپی رہتی تھی۔ آج صاف و شفاف آئینے میں اپنا تھکا اور ملگجا سا سراپا، وقت سے پہلے سر پر کہیں کہیں سے جھانکتے دو چار سفید بال میرے حالات کی چغلی کھا رہے تھے جیسے میری ہی محنت پر مجھے منہ چڑا رہے تھے۔ میں جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی۔ وہاں بھی مجھے جھنجھلاہٹ ہوئی۔ کیا پہنوں جو اچھا بھی ہو اور یہ بھی نہ لگے کہ میں نے کوئی خاص تیاری کی ہے۔ دو چار اچھے جوڑے جو کہیں آنے جانے پر ہی نکلتے تھے اور گھر میں پہننے کے سارے بے جوڑ، بد رنگ سے، اچانک میری نظر اپنی اس سوتی ساڑھی پر رک گئی جو قیمتی نہ سہی مگر مجھے بہت پسند تھی۔ آج کے لیے مجھے سب سے زیادہ یہی مناسب لگی۔ اسے میں نے دھوبی سے پریس کروا کر رکھا تھا اس لیے نکالنے کا دل بھی نہیں کر رہا تھا کیونکہ دھوبی کے یہاں کپڑے بھیجنا بھی میرے لیے لگژری تھی۔ پھر یہ سوچ کر کہ ایسے موقع پر چند روپے کے پریس کی قربانی دی جا سکتی ہے، میں نے وہ ساڑھی نکال لی۔

نہا کر نکلی تو کسی حد تک تھکان اور گرمی سے نجات مل چکی تھی۔ میرا موڈ بھی خوشگوار ہو گیا تھا۔ پہناوا بھی انسان کی شخصیت پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔ میں نے بال سنوارتے ہوئے خود کو پھر سے آئینے میں دیکھا۔ میں زرد رنگ کی میرون باڈر والی ساڑی میں بڑی گریس فل لگ رہی تھی۔ بالوں سے جھانکتی ہلکی سی سفیدی ان کپڑوں سے بہت میچ کر رہی تھی۔ اب میں مطمئن تھی۔ عذرا کو آنے میں ابھی چند گھنٹوں کی دیر تھی اور میں اپنا سارا کام ختم کر چکی تھی۔ میں باہر چھوٹے سے برآمدے میں نکل آئی۔ بستر پر لیٹنے کی خواہش تھی مگر ساڑھی کی کریز خراب ہونے کا ڈر تھا اس لیے برآمدے ہی میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ بادل گھِر آئے تھے اور خوش گوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھلے لگ رہے تھے۔ میں نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں اور کچھ دیر خالی الذہن سی بیٹھی رہی۔ دل پر کچھ عجیب سے احساسات کا غلبہ تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میں بہت خوش ہوں یا اس خوشی میں اداسی کا رنگ بھی گھلا ہوا ہے۔ آج صبح جب سے ٹیلی گرام آیا تھا کہ عذرا شام کو یہاں آ رہی ہے صرف چند گھنٹوں کے لیے تب ہی سے میں نے ایک پل بھی ضائع نہیں کیا تھا۔ خوشی اور بے چینی کا احساس مجھ پر غالب تھا لیکن اس خبر کے ساتھ ہی میں گھر کے کاموں میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ اپنی اس کیفیت پر زیادہ دھیان نہ دے سکی۔ گھر کو نئے سر سے سے صاف کیا تھا۔ ایک ایک چیز کو صاف کر کے چمکایا تھا۔ بستر کی چادریں بدل ڈالی تھیں اور احمد کو آفس جانے سے پہلے سو بار تاکید کی تھی کہ مجھے کچھ چیزیں بازار سے لادیں تاکہ شام کی پر تکلف چائے کا انتظام کر سکوں۔ احمد نے فہرست پر سرسری سی نظر ڈالی تھی اور آفس جانے سے قبل سامان لا کر دے دیا تھا۔ ایک دو بار میری ساری تیاریوں کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا بھی تھا مگر بولے کچھ بھی نہیں تھے۔ میں جانتی تھی کہ وہ دکھاوے کے بہت خلاف ہیں اور میری ان تیاریوں کی ان کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ اسے یقیناً فضول سمجھ رہے تھے اسی لیے میں ان سے نظریں چراتے ہوئے کچن میں چلی گئی تھی۔ بہر حال آج اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کیونکہ آج میری عزیز ترین سہیلی آنے والی تھی۔ ایک ایسی سہیلی جس سے میں ہمیشہ ہی مرعوب رہی ہوں۔ خوشی، بے چینی اور کرب کا ملا جلا احساس جیسے مجھ میں گھل رہا تھا۔ تیزی سے کام کرتے ہوئے بھی میرا ذہن اپنے ماضی میں چکراتا رہا۔ ایک بہت خوبصورت دور، دو لڑکیاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہر وقت مسکراتی اور کھلکھلاتی ہوئی، کبھی تتلیوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی، کبھی امرود اور جامن کے پیڑ پر چڑھی ہوئی پھر وقت کا گھومتا ہوا پہیہ یہ خوبصورت دور اپنے ساتھ لے گیا اور اس دور کی خوش گوار، بے فکر اور انمول گھڑیاں ماضی کے کسی عمیق کھڈ میں جا گریں۔

اب تھا ایک نیا دور۔۔ نئے عزم، نئی امنگوں کے ساتھ۔ لڑکپن کی حدود سے نکل کر جوانی میں قدم رکھتی ہوئی دو ننھی کلیاں، عذرا اور نسرین۔ برسات کی پھوار سے دھلے اور نکھرے ہوئے اس تازہ کھلے پھول کی طرح جو ہر ایک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ عذرا بے حد چنچل، سانولی صورت اور تیکھے نقوش والی پیاری سی لڑکی۔ ہر وقت مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی جیسے مسکراہٹ اس کی شخصیت کا ایک اہم حصّہ ہو اور اس کے بغیر اس کا وجود نامکمل۔ دوسری طرف میں، میرے اندر دوسروں کی زبانی اپنی تعریفیں سن سن کر خوبصورتی کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔ میرے سفید رنگ اور بڑی بڑی آنکھوں کے کئی متوالے تھے۔ یہ وہ دور تھا جو زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے، جہاں بہاریں ہوتی ہیں، خوشیاں ہوتی ہیں، سہانے خواب ہوتے ہیں۔ روشن مستقبل کے سہانے خواب۔ میں نے اپنی زندگی کے اس خوبصورت دور میں ہمیشہ محسوس کیا کہ میں ہر پل، ہر لمحہ سر شار رہتی ہوں۔ میرے وجود میں ایک بے نام سی خوشی ہر وقت گھلی ملی رہتی، ایک خواہ مخواہ کا غرور میری نس نس میں بس گیا تھا۔ میری ساری سہیلیاں کافی امیر و کبیر گھر کی لڑکیاں تھیں۔ میرے پاس میری ساری دولت میری خوبصورتی تھی اچھی اچھی امیر لڑکیوں نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میں ان کی محبت میں اپنی اصلیت پہچاننے سے انکار کرنے لگی۔ مجھے اپنی امیر سہیلیوں کی ہر بات اچھی لگتی۔ میں ہر بات میں آنکھ بند کر کے ان کی تائید کرتی، ان کی آزادی اور بے فکری کی نقل کرتی۔ خود کو ان کے جیسا دکھانے کے لیے مجھے کیا کیا جتن کرنے پڑتے۔ وہ کالج میں روزانہ کھانے پینے پر بے دریغ خرچ کر دیتیں اور ایسے موقع پر میری مٹھی میں دبے ہوئے گنے چنے نوٹ پسیج پسیج جاتے۔ ہر بناوٹ کے باوجود میں اس وقت اپنا احساسِ کمتری نہیں چھپا پاتی۔ میں وقتی طور پر یہ بھول کر کہ میں نے ایک متوسط طبقے میں جنم لیا ہے، بہت اونچے اونچے خواب دیکھنے لگی تھی۔ میرے کچے ذہن پر آزاد اور امیر سہیلیوں کی لفّاظی اپنا رنگ جماتی چلی گئی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جس کے میں خواب دیکھتی۔ پھر بھی میرے اندر کچھ ایسا بھی تھا جو اس کے بالکل برعکس تھا۔

کبھی کبھی لگتا کہ میری ساری خوشیاں بڑی سطحی ہیں بلکہ ان ساری خوشیوں کے پیچھے ایک بے چینی، ایک اضطراب کی کیفیت بھی ہے جسے میں شعوری طور پر خود سے دور رکھتی اور اسے اپنے آپ پر حادی نہیں ہونے دنیا چاہتی تھی۔ لیکن پھر مجھ میں بڑی تبدیلی آنے لگی، میں سنجیدگی سے اپنے حالات کا تجزیہ کرتی۔ آخر کار مجھے لگا کہ میں نے اپنے دکھ اور اضطراب کی وجہ جان لی ہے، اپنے سے زیادہ اونچے طبقے کی سہیلیاں بنا کر، ہمیشہ میں نے اپنی انا کو مجروح کیا ہے۔ گھر میں چھوٹی بڑی ضرورتوں کے لیے پاپا کو جد و جہد کرتے دیکھتی۔ ہماری ضرورتوں کے لیے آرام کرنے کی عمر میں بھی انھیں کام کرنا پڑتا تھا اور پاپا کے متفکر چہرے کو دیکھ کر میرے دل سے خوشی کے سارے احساسات پھسل پھسل جاتے۔ پھر میرا دل چاہتا کہ پاپا کے ضعیف وجود سے چمٹی ہوئی پریشانیاں اور ممی کے نازک سراپا سے الجھی ہوئی پریشانیوں کو ایک پل میں دور کر دوں۔ کچھ تو کر سکوں سب کے لیے کہ ان کے پریشان چہروں پر خوشی، بے فکری اور ہنسی کی پھوار برسنے لگے مگر میں کچھ بھی نہ کر سکی۔ میرے سارے چھوٹے بڑے خواب زمین بوس ہوتے چلے گئے۔ گریجویشن کے بعد میں گھر بیٹھ گئی۔ ان سہیلیوں کا ساتھ چھوٹا اور میں نے اپنے حالات کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ حالات سے سمجھوتا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ عذرا مجھ سے اکثر ملتی رہتی تھی۔ پھر شادی ہو گئی اور میں ایک نئے گھر اور نئے ماحول میں آ گئی۔ اپنے شفیق والدین سے دور، ان کے لیے کچھ کرنے کے عزم کو و ہیں کہیں چھوڑ کر۔ یوں تو زندگی بڑی مطمئن گذر رہی تھی۔ سب کچھ ہی تھا، سب سے بڑھ کر ایک اچھا چاہنے والا بلند کردار ساتھی اور اس کے علاوہ زندگی کو سادگی سے گزارنے کے تمام ذرائع۔ پھر بھی میں کبھی کبھی بہت دکھی ہو جاتی کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک روایتی بیوی بن کر زندگی گذاروں گی۔ کیا کچھ بننے کے خواب دیکھے تھے مگر کچھ نہیں بن سکی۔ اس طرح گزرتے وقت کے ساتھ میں نے اپنے سارے احساسات کو تھپکیاں دے دے کر سلا دیا اور اس پر صبر کی سل رکھ دی۔ اب بہت کم ایسی باتیں سو چا کرتی اور اب میرے پاس ایسی باتیں سوچنے کا وقت ہی کہاں تھا لیکن آج اتنے دنوں بعد۔ عذرا کی آمد کی خبر نے پھر مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سارے سوئے ہوئے احساسات جاگ اٹھے تھے۔ میرے اندر وہی مصنوعی نسرین سرا بھار رہی تھی جسے اپنے گھر کی ہر چیز بد رنگ اور پھیکی نظر آ رہی تھی۔ عذرا کے سامنے خود کو اچھے سے اچھا پیش کرنے کے لیے میں نے کتنی محنت کی تھی۔ آخر وہ ایک بڑے گھر کی فرد تھی اور اب خود ہی وہ ایک بڑی پوسٹ پر تھی۔ میرا اضطراب بڑھنے لگا، مجھے انتظار کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ اتنی دیر سے کلف والی پریس کی ہوئی ساڑھی میں خود کو اسٹیچو بنائے بنائے مجھے تھکن محسوس ہونے لگی تھی۔ دونوں بچے گھر کو بے ترتیب نہ کر دیں اس لیے میں نے بڑی فراخ دلی سے انھیں پاس والے پارک میں جا کر کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔

آخر خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور عذرا کے آنے پر میں اس کے خیر مقدم کے لیے دوڑی۔ احمد بھی آفس سے آ چکے تھے۔ بچوں کو پارک سے بلا کر میں نے پڑھنے بٹھا دیا تھا۔ عذرا اور میں ایک دوسرے سے اتنے دنوں کے بعد ملے تھے کہ ہم والہانہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ہماری آنکھیں خوشی سے نمناک تھیں۔ ہم دونوں بہت دیر تک ماضی کی سہانی یادوں کو کرید کرید کر خوش ہوتے رہے۔ عذرا بہت بدل گئی تھی، اب وہ ایک شوخ و شنگ لڑکی نہیں رہی تھی بلکہ اس کی شوخی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ وہ کافی بھاری بھرکم بھی ہو گئی تھی۔ ہاں اس نے مجھے دیکھ کر کہا کہ نسرین تم بالکل نہیں بدلیں صرف بالوں میں ذرا سفیدی جھلکنے لگی ہے۔ احمد بھی عذرا سے ملے اور اس کی دلچسپ باتوں پر مسکراتے رہے لیکن پھر جلد ہی انھوں نے ہم دونوں سہیلیوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ عذرا نے میرے پیارے بچوں کی بہت تعریف کی اور انھیں بہت سارے تحائف دیے۔ وہ مجھ سے اور میرے مختصر سے کنبے سے مل کر بہت خوش تھی اور اس خوشی کا اظہار بار بار کر رہی تھی۔ لیکن ان سب کے باوجود اس عذرا میں اور پہلی والی عذرا میں ایک نمایاں فرق نظر آ رہا تھا۔ اور وہ یہ کہ عذرا کی جو آنکھیں ہر وقت مسکراتی ہوئی سی نظر آتی تھیں، آج ان آنکھوں میں ایک ویرانی سی تھی۔ آخر کار میں نے دل کی بات اس سے پوچھ ہی لی۔ عذرا پہلے تو میرا سوال سن کر مسکرائی پھر سنجیدہ ہو گئی اور بڑی آہستگی سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، ’’تم نے پوچھا ہے نسرین تو میں ضرور بتاؤں گی۔ میں بہت تنہا ہوں۔ آج تم نے جس اپنے پن سے پوچھا ہے شاید میں اس خلوص کی گرمی سے میں پگھلنے لگی ہوں۔ تمھیں نہیں معلوم کہ شادی کے دو سال بعد ہی میں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ میرے گلشنِ حیات میں کبھی کوئی پھول نہیں کھلا۔ ازدواجی زندگی میں ناکامی کے بعد میں نے پھر شادی نہیں کی۔ میری زندگی بڑی ویران ہے۔ تم جانتی ہو نسرین۔ اعلیٰ سوسائٹی بڑی کھوکھلی ہوتی ہے۔ وہاں صرف پیسوں کی کھنک ہے، خلوص اور محبت کی گرمی نہیں اور میں نے اب جانا ہے زندگی میں روپیہ ہی سب کچھ نہیں۔ میں نے ایک غلط ساتھی کا انتخاب کیا تھا جو عیش پسند تھا، جو ہر رات اپنے لیے ایک بیوی خرید سکتا تھا۔ ایسے آدمی کے ساتھ میں ساری زندگی کیسے گزارتی۔ پھر مجھے شادی کے نام سے چڑ ہو گئی۔ مگر آج تم سے مل کر لگا کہ میں غلط تھی۔ ہر آدمی میرے شوہر کی طرح تو نہیں ہوتا۔ تم اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہو۔‘‘

عذرا اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی مگر میں حیرت سے عذرا کو دیکھ رہی تھی۔ یہ عورت جس کو میں نے ہمیشہ رشک کی نگاہ سے دیکھا وہ کتنی دکھی ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ وہ ہر طرح سے کامیاب اور مکمل زندگی جی رہی ہو گی۔

عذرا کو رخصت کر کے میں نڈھال سی بستر پر گر گئی۔ کیسی ہے یہ زندگی۔ کیا یہاں ہر انسان پیاسا ہے۔ ایک تشنگی کے احساس سے جھٹپٹاتا ہوا، اپنے آپ میں ادھورے پن کا احساس لیے ہوئے۔ اس تشنگی، اس پیاس کا نام ہی شاید زندگی ہے۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل