ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

 

دیس بدیس کی کہانیاں

 

 

انتخاب و ترجمہ: اعجاز عبید

 

 

پرستان سے واپسی

امریکی کہانی

ایل فرینک بام

L. Frank Baum

 

اس کا نام تھا ڈوروتھی۔ یوں دیکھنے سننے میں وہ دوسری لڑکیوں کی طرح ہی تھی، لیکن اس میں ایک نادر خصوصیت تھی، جس کا علم بہت کم لوگوں کو تھا۔ ڈوروتھی پریوں کی رانی عظمیٰ کی سہیلی تھی۔ عظمیٰ پریوں کے ملک اوز کی رانی تھی۔ ڈوروتھی کئی بار پریوں کے دیس کی سیر کر چکی تھی۔ عظمیٰ نے اپنے جادو سے کئی بار ڈوروتھی کو آفتوں سے بچایا تھا۔ پریوں کے دیس میں بہت بڑی ایک تصویر تھی۔ عظمیٰ کو اس میں کہیں کا بھی منظر دکھائی دے سکتا تھا۔ اس نے ایک بار ڈوروتھی سے کہا تھا، "جب بھی کوئی پریشانی پیش آئے، مجھے یاد کرنا۔ میں اپنی تصویر میں تمہیں دیکھ لوں گی اور تمہاری مدد کرنے آ جاؤں گی۔”

اس رات ڈوروتھی اپنے چچا سے ملنے جا رہی تھی۔ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو وہاں زیب نام کا لڑکا گھوڑا گاڑی لے کر آیا تھا۔ گھوڑا گاڑی اسے لے کر چل دی۔ وہ اور زیب دونوں آپس میں باتیں کرتے جا رہے تھے۔ تبھی زور کی گڑگڑاہٹ ہوئی۔ زمین پھٹ گئی۔ تیز زلزلے میں گھوڑا گاڑی ایک چوڑی درار میں گر پڑی۔ ڈوروتھی تو مارے ڈر کے چیخ ہی پڑی۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا اور وہ لوگ زمین کے اندر گرتے جا رہے تھے۔

جب ان کے قدم زمین پر لگے تو دیکھا کہ چاروں طرف رنگ برنگی روشنی پھیلی تھی۔ ایک طرف رنگ برنگے شعلے چمک رہے تھے۔ سامنے بستی دکھائی دے رہی تھی۔ وہاں سب مکان شیشے کے بنے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کی ہر چیز صاف نظر آ رہی تھی۔ کئی مکانوں کی چھتیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

ڈوروتھی کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ وہاں رہنے والے آدمی ہوا میں چلتے تھے۔ تبھی اس کا گھوڑا انسانوں کی زبان میں بات کرنے لگا۔ اسے بولتے سن کر تو ڈوروتھی کی حیرت کا ٹھکانا نہ رہا۔

تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ وہاں آئے۔ ایک آدمی کے ماتھے پر تارے کا چمکیلا نشان بنا تھا۔ وہ وہاں کا راجہ تھا۔ اس نے ڈوروتھی سے کہا، "اچھا، تو تمہیں لوگوں نے ہمارے شہر منگابو پر پتھر برسائے ہیں؟”

ڈوروتھی بولی، "شاید زلزلے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ہم لوگ بھی دھرتی پھٹ جانے کی وجہ سے نیچے آ گرے ہیں۔”

"تمہیں میرے ساتھ ہمارے ملک کے کاہن کو دیکھنے کے لیے چلنا ہو گا۔ اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو ٹھیک، ورنہ تمہیں سخت سزا دی جائے گی” راجہ بولا۔

اسی لمحے اوپر سے ایک آدمی اور گرا۔ وہ تھا اوز کا جادوگر، جو ڈوروتھی کا دوست تھا۔ اسے دیکھ کر ڈوروتھی کی ہمت کچھ بڑھی۔ جادوگر بھی ڈوروتھی کو دیکھ کر خوش تھا۔

ان لوگوں کو ایک بڑے محل میں لے جایا گیا۔ وہاں فرش پر آگ جل رہی تھی۔ سب کو آیا دیکھ کر اس آگ میں سے کاہن نکلا۔ عجیب شکل تھی اس کی۔ سارے بدن میں کانٹے اگے تھے۔

اسے دیکھ کر ڈوروتھی خوب ہنسی۔ اس کا دوست جادوگر بھی ہنس پڑا۔ اس پر منگابو کا کاہن ناراض ہو گیا۔ بولا، "میں تم انسانوں کو جانتا ہوں، اگر تم سانس نہ لو تو مر جاؤ گے۔ میں اپنے جادو سے تم سب کی سانس بند کر دوں گا۔”

اور سچ مچ ڈوروتھی کو گھٹن محسوس ہونے لگی۔ یہ دیکھ کر اوز کے جادوگر نے تلوار نکالی اور کاہن کو مار ڈالا۔ تعجب کی بات تھی، کاہن کے بدن سے ذرا بھی خون نہیں نکلا۔ نکلتا کیسے! وہ انسان جو نہیں تھا۔ منگابو کے سب لوگ پھل پھولوں کی طرح پیڑوں پر اگتے تھے۔ جب کوئی مر جاتا تو لوگ اسے زمین میں گاڑ دیتے۔ کچھ دن بعد وہ پھر اگ آتا۔

کچھ منگابو والے کاہن کی لاش کو باغ میں لے گئے۔ ڈوروتھی، جادوگر اور زیب بھی ان کے ساتھ تھے۔ باغ میں ہر پودے پر بچے اگے تھے پھلوں کی طرح۔

اس کے بعد منگابو والوں نے ڈوروتھی، زیب اور جادوگر کو گھیر لیا۔ بولے، "ہم تمہیں ایک ایسے گہرے گڑھے میں پھینک دیں گے، جہاں سے تم لوگ کبھی نہیں نکل سکو گے!”

انہوں نے ان سب کو ایک اندھیری گپھا میں بند کر دیا۔ اسی میں تھا وہ گہرا گڑھا۔

کچھ دیر وہ تینوں اس گپھا میں چپ کھڑے رہے۔ پھر جادوگر نے اپنی جادوئی لالٹین جلا لی۔ اس کی روشنی میں ایک راستا دکھائی دیا۔ پتہ نہیں، وہ کہاں جاتا تھا!

انہوں نے چلنا شروع کیا۔ وہ گھنٹوں چلتے رہے۔ پھر گپھا سے باہر نکل آئے۔ کافی نیچے انہیں ایک گہری گھاٹی دکھائی دی۔ دھیرے دھیرے وہ تینوں اس گھاٹی میں اتر گئے۔ یکایک ڈوروتھی نے چڑیوں کی چہچہاہٹ سنی۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی، مگر ایک بھی چڑیا نظر نہیں آئی۔ حیرت میں ڈوبے وہ چلتے رہے۔ تبھی ڈوروتھی کی بلی نے وہاں اگے ایک پھل کو کھا لیا اور وہ غائب ہو گئی۔

حیران پریشان ڈوروتھی اور اس کے ساتھی وہاں کے ایک مکان میں گھسے تو آواز آئی، "خوش آمدید!”

ڈوروتھی نے پوچھا، "آپ لوگ کون ہیں؟ سامنے کیوں نہیں آتے؟”

جواب ملا، "اس کی بھی ایک دکھ بھری کہانی ہے۔ اس گھاٹی کا نام ‘وہ’ ہے۔ یہاں کچھ دن ہوئے، بہت سے خونخوار بھالو آ گئے تھے۔ انہوں نے بہت لوگوں کو مار ڈالا۔ پھر بھالو یہاں اگنے والے پھلوں کو کھا کر غائب ہو گئے۔ تب ان سے بچنے کے لیے ہم لوگوں نے بھی وہی پھل کھا لئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گھاٹی میں آپ کسی کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ ”

"شاید میری بلی نے بھی وہی پھل کھا لیا ہے۔” ڈوروتھی بولی۔ پھر اس نے کہا، "ہمیں یہاں سے فوراً چل دینا چاہیئے۔ یہ اچھی جگہ نہیں۔”

نظر نہ آنے والی آواز نے پھر کہا، "اس گھر کے باہر تکونے پتوں کا ایک پودا ہے۔ اس کا رس آپ سب اپنے تلووں پر مل لیں تو پانی پر چل سکیں گے۔ ورنہ بھالوؤں سے آپ کا بچنا مشکل ہو گا۔ بھالو پانی پر نہیں چل سکتے۔”

ڈوروتھی، زیب اور اوز کے جادوگر نے ویسا ہی کیا۔ پھر وہ گھاٹی سے باہر جانے والے راستے پر چل دیے۔ یکایک پیچھے سے انہیں بھالوؤں کی آواز سنائی دی۔ سب بھاگ کر ندی میں کود پڑے اور دوسری طرف جا پہنچے۔

آگے پہاڑ کے پار، گرگل یا لکڑی کے آدمیوں کا ملک تھا۔ وہاں لکڑی کے بنے آدمی رہتے تھے۔ وہ لکڑی کے پروں کی مدد سے اڑا کرتے تھے۔ وہاں ہر چیز لکڑی کی ہی تھی۔ مکان، سڑکیں، جانور، پرندے، سب گونگے تھے وہاں۔ لکڑی کے آدمی آپس میں اشاروں سے باتیں کرتے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی نئی مصیبت آئی۔ لکڑی کے آدمیوں نے ان سب کو گھیر لیا۔ زیب اپنی پستول سے گولیاں چلانے لگا، لیکن لکڑی کے آدمیوں پر گولیاں بھلا کیا اثر کرتیں۔ وہ لکڑی میں دھنس کر رہ گئی۔ آخر لکڑی کے آدمی سب کو پکڑ کر لے گئے اور انہیں ایک بہت بڑے مکان میں بند کر دیا۔

"اب کیا ہو گا؟” ڈوروتھی نے کہا۔

زیب بڑے دھیان سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا، "اب ان لکڑی کے آدمیوں کے سونے کا وقت ہو گیا ہے۔ وہ اپنے اپنے پر اتار کر ایک جگہ پر رکھ رہے ہیں۔ اگر کسی طرح ہم ان پروں کو چرا سکیں تو شاید کام بن جائے۔”

زیب کسی طرح قید خانے سے باہر نکل آیا۔ دیواریں لکڑی کی تھیں، اس لئے زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ وہ جلدی جلدی کچھ پر لے آیا۔ لکڑی کے آدمی سو رہے تھے۔

ڈوروتھی، جادوگر اور زیب، سب نے پر اپنے ہاتھوں پر باندھ لئے اور اڑنے لگے۔ مگر تب تک لکڑی کے آدمیوں کو بھی قیدیوں کے بھاگنے کا پتہ چل گیا۔ انہوں نے پیچھا کیا، پر ڈوروتھی اور اس کے ساتھی بچ کر نکل آئے۔

ایک بار وہ جہاں پہنچے، وہاں ایک سیڑھی بنی ہوئی تھی۔ وہ بہت اوپر تک گئی تھی۔ زیب نے کہا، "شاید اس سیڑھی پر چڑھ کر ہم دھرتی پر جا پہنچیں۔”

سب سیڑھیوں پر چڑھنے لگے۔ لیکن سیڑھیاں ایک بند گپھا میں جا کر ختم ہو گئی۔ گپھا میں بڑے بڑے اژدہے پڑے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی وہ سب پھنکارنے لگے۔

"اب کیا ہو گا، ڈوروتھی؟ یہاں سے جانے کا کوئی راستا نہیں ہے۔ اتنی جد و جہد کے بعد ہمیں آخر اژدہوں کا ہی کھانا بننا پڑے گا” زیب نے کہا۔

ڈوروتھی نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ مایوس تو وہ بھی ہو چکی تھی، لیکن پھر یکایک پری رانی عظمیٰ کی یاد آ گئی اسے۔ ڈوروتھی نے عظمیٰ کو یاد کیا۔ تبھی اوز کے پریوں کے دیس میں لگی بڑی سی تصویر پر اژدہوں والی گپھا میں قید ڈوروتھی، زیب، اوز کا جادوگر اور گھوڑا گاڑی- سب کی تصویر ابھر آئی۔

عظمیٰ مسکرائی۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ گپھا میں موجود سب لوگ اژدہوں سے بچ کر جلد ہی اوز کی پریوں کے دیس میں جا پہنچے۔

اپنی سہیلی سے مل کر عظمیٰ بہت خوش ہوئی۔ کئی دن تک وہ سب اوز میں رہے۔ ایک روز ڈوروتھی نے عظمیٰ سے کہا، "چچا جان میرے انتظار میں ہوں گے۔”

عظمیٰ نے ہاتھ ہلایا تو تصویر میں ڈوروتھی کے اداس چچا چچی کی شکلیں دکھائی دیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے۔

عظمیٰ نے کہا، "ڈوروتھی، اب تم جاؤ۔ ہم پھر ملیں گے۔”

اس نے ڈوروتھی اور زیب سے آنکھیں بند کرنے کے لیے کہا۔ اگلے ہی پل ڈوروتھی نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ گھوڑا گاڑی میں چچا جان کے گھر کے باہر کھڑی ہے۔

اسے خیریت سے لوٹ آنے کی خوشی تھی تو پیاری سہیلی پری رانی عظمیٰ سے اتنی جلدی بچھڑنے کا دکھ بھی تھا۔ ہاں، اوز کا جادوگر اوز میں ہی رہ گیا تھا۔ ایک بات اور تھی— اپنی جگہ لوٹ کر گھوڑا انسانوں کی طرح بولنا بھول گیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

متو بکری

اسرائیلی کہانی

 

اسحٰق باشیئوس سنگر

Isaac Bashevis Singer

 

ہنکا، یہودیوں کا خاص تیوہار ہے جو دسمبر میں آتا ہے۔  عام طور پر ان دنوں گاؤں سے شہر جانے والی سڑک برف سے ڈھکی ہوتی ہے۔  پر اس سال سردی تھوڑی ہلکی تھی۔  زیادہ تر وقت اچھی دھوپ کھلی رہتی تھی۔  ہارون، روئیں دار کھالوں کا کاروبار کرتا تھا۔  اس سال اس کی کچھ کمائی نہیں ہوئی تھی۔  اس لئے اس نے گھر کی پرانی بکری – متو کو بیچنے کا فیصلہ کیا۔  بکری ایک تو بوڑھی تھی، اور دودھ بھی کم دیتی تھی۔  شہر کے قصائی نے بکری کے بدلے، آٹھ سکے دینے کا وعدہ کیا۔  ان پیسوں سے ہنکا کے لیے موم بتیاں، آلو، تیل اور بچوں کے لیے تحفے خریدے جا سکتے تھے۔  ان سے گھر کی دوسری ضرورتیں بھی پوری ہو سکتی تھیں۔  ہارون نے اپنے بڑے بیٹے روبن سے بکری کو شہر لے جانے کو کہا۔

قصائی کے پاس جا کر بکری کا کیا حشر ہو گا، یہ ربن کو اچھی طرح پتہ تھا۔  مگر اسے باپ کے حکم کی تعمیل کرنی ہی تھی۔  یہ خبر سن کر روبن کی ماں کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے اور روبن کی بہنیں اینا اور مریم زور زور سے رونے لگیں۔  روبن نے اپنی روئی والی جیکٹ اور ٹوپی پہنی۔  ٹوپی سے اس کے کان ڈھک جاتے تھے۔  سفر کے لیے اس نے اپنی جیب میں دو ڈبل روٹی کے ٹکڑے اور پنیر بھی رکھا۔  پھر اس نے متو کے گلے میں رسی باندھی اور سڑک پکڑی۔  شام تک اسے بکری کو قصائی کے حوالے کرنا تھا۔  رات قصائی کے گھر گذار کر اگلے دن شام تک پیسے لے کر روبن کو گھر واپس آنا تھا۔  جاتے وقت پورے خاندان نے روبن کو سفر کے لئے دعائیں دیں۔  متو چپ چاپ کھڑی رہی۔  روبن نے جب اس کے گلے میں رسی باندھی تو بکری نے اس کا ہاتھ چاٹا۔  متو لوگوں پر یقین کرتی تھی۔  آس پاس کے لوگوں نے اسے ہمیشہ کچھ کھانے کو دیا تھا۔  انہوں نے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔

روبن اور متو نے شہر کی طرف اپنا سفر شروع کیا۔  راستے میں انہیں کھیت، کھلیان اور پھونس کی چھت والی جھوپڑیاں ملیں۔  گاؤں چھوڑتے وقت سورج تیزی سے چمک رہا تھا۔  پر کچھ دیر کے بعد اچانک موسم پلٹ گیا۔  پورب کی اور سے ایک نیلے گہرے رنگ کا بادل، جلدی سے پورے آسمان پر پھیل گیا۔  اس کے ساتھ سرد ہوا بھی بہنے لگی۔  کوے اتر کر نیچے کی طرف اڑنے لگے اور کاؤں کاؤں رٹنے لگے۔  ویسے تو صبح کا وقت تھا، پر جلد ہی شام جیسا اندھیرا چھا گیا۔  تبھی اولے پڑنے لگے اور کچھ ہی دیر میں ملائم سفید برف گرنے لگی۔  اپنی بارہ سال کے عمر میں روبن نے طرح طرح کے موسم دیکھے تھے، پر اس طرح کی تیز برفباری اس نے پہلی بار ہی دیکھی تھی۔  برفباری انتی گھنی تھی کہ اس سے دن کی روشنی پوری طرح چھپ گئی تھی۔  تھوڑی ہی دیر میں سامنے کا راستا پوری طرح سفید برف سے ڈھک گیا۔  روبن اب پوری طرح کھو گیا تھا۔  وہ کہاں تھا؟ اب اسے اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔  برفیلی ہوا جیکٹ چیرتی ہوئی اس کے کلیجہ میں چبھ رہی تھی۔  بکری متو بھی بارہ سال کی تھی اور وہ سردی کے موسم سے اچھی طرح واقف تھی۔  پر اب اس کے پیر بھی ملائم برف میں دھنس رہے تھے۔  تب اس نے روبن کی طرف دیکھا، جیسے وہ پوچھ رہی ہو، “اس خطرناک طوفان میں بھلا ہم لوگ باہر کیا کر رہے ہیں؟”

دھیرے دھیرے برف کی پرت اور موٹی ہوتی چلی گئی۔ برف کے نیچے، روبن کے جوتے ابھی بھی کھیت کی جتی زمین کو محسوس کر پا رہے تھے۔  اسے اتنا ضرور پتہ تھا کہ اب وہ سڑک پر نہیں، بلکہ بھٹک گیا تھا۔  پورب پچھم کا، گاؤں شہر کا، اب اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔  ہوا کے تیز جھونکے، سفید برف کو چاروں طرف اڑا رہے تھے۔  متو اب ایک جگہ پر رک گئی۔  اس کے لیے اگلا قدم رکھنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔  اس نے آگے کے اپنے دونوں پیر زمین میں گڑھا دیے، اور گھر واپس لوٹنے کے لیے ممیانے لگی۔  روبن خطرے کو قبول کرنے کو ابھی بھی تیار نہیں تھا۔  پر اسے اتنا ضرور پتہ تھا اگر انہیں کوئی سہارا نہیں ملا تو وہ دونوں ٹھنڈ سے جم کر جلد ہی مر جائیں گے۔  یہ کوئی معمولی طوفان نہیں تھا۔  برف کی پرت اب اس کے گھٹنوں تک آ پہنچی تھی۔  اس کے ہاتھ سن ہو گئے تھے اور وہ اپنے پنجوں کو محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔  متو کا ممیانا اب رونے کی آواز میں بدل گیا تھا۔  جن انسانوں پر اس نے اعتبار کیا تھا وہ آج اسے دوزخ میں دھکیل رہے تھے۔  روبن اب خدا سےکرنے لگا، "یا خدا، مجھے اور اس بے قصور بکری کو بچاؤ!”

اچانک اسے ایک چھوٹا سا ٹیلہ دکھائی دیا۔  برف کا اتنا بڑا ٹیلہ بھلا کیسے بنا؟ پاس آنے پر پتہ چلا کہ وہ ایک سوکھی گھاس کا ایک ڈھیر تھا، جسے سفید برف نے اپنی آغوش میں لپیٹ لیا تھا۔  ٹیلے میں، ربن کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔  آگے کیا کرنا ہے؟ یہ گاؤں کے اس لڑکے کو اچھی طرح پتہ تھا۔  اس نے پہلے ٹیلے کے اوپر کی برف ہٹائی۔  پھر اس نے سوکھی گھاس کے اس ٹیلے میں بکری اور خود کے لیے ایک چھوٹی سی گپھا بنائی۔  اب باہر چاہیں کتنی بھی ٹھنڈ کیوں نہ ہو، اندر ضرور گرمی ہو گی۔  اور وہاں متو کے کھانے کے لیے افراط میں گھاس بھی موجود تھی۔  جیسے ہی متو نے گھاس کی خوشبو سونگھی ویسے ہی اس کا ممیانا بند ہو گیا، اور اس نے گھاس کھانا شروع کر دی۔  کیونکہ باہر ابھی بھی برف پڑ رہی تھی اس لئے روبن نے گپھا کا منھ بند کر دیا۔  اندر ہوا آنے کے لیے اس نے لاٹھی سے گھاس کے ٹیلے میں ایک چھید ضرور بنایا۔

پیٹ بھر کر گھاس کھانے کے بعد متو اپنے پچھلے پیروں کو موڑ کر آرام سے بیٹھ گئی۔  ایسا لگا جیسے لوگوں کے لئے اس کا اعتماد پھر سے قائم ہو گیا ہو۔  روبن نے ڈبل روٹی کے ٹکڑے اور پنیر کھایا۔  پر اس مشکل سفر کے بعد اسے ابھی بھی بھوک لگی تھی۔  اس نے دیکھا کہ متو کے تھن دودھ بھرے تھے۔  روبن بکری کے پاس ہی لیٹ گیا۔  پھر ربن نے بکری کے تھنوں کو دبایا جس سے دودھ سیدھا اس کے منھ میں جا کر گرے۔  دودھ گاڑھا اور میٹھا تھا۔  متو اس لئے بہت خوش تھی کیونکہ روبن اسے ایک ایسے گھر میں لایا تھا جس کی دیواریں، چھت اور فرش سبھی کھانے لائق تھے!

روبن نے چھید میں سے باہر جھانکا۔  باہر ایک دم گھپ اندھیرا تھا۔  کیا اندھیرا طوفان کی وجہ سے تھا، یا پھر رات ہو گئی تھی؟ خدا کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ گھاس کی گپھا میں اتنی ٹھنڈ نہیں تھی۔  گھاس کے ٹیلے میں سے جنگلی پھولوں کی سوندھی سوندھی خوشبو بھی آ رہی تھی۔  متو کے روئیں دار بدن سے بھی گرمی آ رہی تھی، اس لئے روبن بکری سے لپٹ کر لیٹ گیا۔  وہ ہمیشہ سے ہی متو سے بہت پیار کرتا تھا، مگر اب متو اس کے لیے چھوٹی بہن جیسی تھی۔  وہ وہاں ایک دم اکیلا تھا اور اسے اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی تھی۔  اس لئے اس نے متو سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔

"ہم لوگوں کے ساتھ جو ہوا، اس کے بارے میں تم کیا سوچتی ہو؟”

"میں” بکری نے جواب دیا۔

"اگر مجھے یہ گھاس کا ٹیلہ نہیں ملا ہوتا، تو ہم دونوں ٹھنڈ سے جم کر مر گئے ہوتے !”

"میں۔۔۔”

"اگر برف اسی طرح گرتی رہی، تو ہمیں یہاں کئی دن رہنا پڑ سکتا ہے!”

"میں۔۔۔”

"تم بول نہیں سکتیں، یہ مجھے پتہ ہے۔  پر تم میری بات سمجھتی تو ہو نا؟ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔  کیوں ٹھیک ہے نا؟”

"میں۔۔۔۔۔۔۔” متو نے نیند میں جواب دیا۔  روبن نے گھاس کا ایک تکیہ بنایا اور اس پر سر رکھ کر وہ بھی سو گیا۔  اور متو کی بھی آنکھ لگ گئی۔

جب آنکھ کھلی تو روبن کو دن رات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔  برف نے چھید کو باہر سے بند کر دیا تھا۔  اس نے لاٹھی سے چھید کو دوبارہ کھولا۔  باہر ابھی بھی اندھیرا تھا۔  باہر اب بھی لگاتار برف پڑ رہی تھی اور ہوا ناچ رہی تھی۔  متو نے بھی اپنی آنکھیں کھولیں۔  جب روبن نے اس کا بدن سہلایا تو بکری نے جواب میں کہا، "میں۔۔۔۔۔” شاید اس کے کہنے کا مطلب تھا، "جو کچھ خدا نے ہمیں دیا ہے گرمی، ٹھنڈ، بھوک، خوشحالی، اندھیرا اور روشنی، ہمیں سبھی چیزوں کا تہ دل  سے شکر ادا کرنا چاہیئے۔”

سو کر اٹھنے کے بعد روبن کو بھوک لگی تھی اور وہ خوش تھا کہ متو کے پاس ڈھیر سارا دودھ تھا۔  متو دن بھر کھاتی رہتی کبھی بائیں تو کبھی دائیں سے، کبھی اوپر، تو کبھی نیچے سے!

روبن اور متو نے گھاس کے اس ٹیلے میں تین دن بتائے۔  روبن، متو کے ساتھ ہی بڑا ہوا تھا۔  وہ اسے ہمیشہ سے پیار کرتا تھا، پر ان تین دنوں میں متو کے تئیں اس کا پیار بیشمار بڑھ گیا تھا۔  متو روبن کو دودھ پلاتی اور اسے گرم رکھتی۔  اپنی خاموشی سے بھی وہ اسے پر سکون رکھتی۔  ان تین دنوں میں روبن نے اسے نہ جانے کتنی کہانیاں سنائیں، جنہیں متو نے اپنے کان کھڑے کر کے بڑے دھیان سے سنا۔  جب روبن اس کے ماتھے کو سہلاتا تو متو اس کے ہاتھوں کو پیار سے چاٹتی جب وہ کہتی، "میں” تو اس کا مطلب ہوتا، "میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں” تیسری رات طوفان کچھ تھما اور باہر آسمان میں چاند چمکا۔  دور دور تک پھیلی چاندنی میں برف چمکنے لگی۔  پھر روبن گھاس کے ٹیلے کو کھود کر باہر نکلا۔  باہر سفید سناٹا تھا۔  آسمان میں تارے چمک رہے تھے اور چاند اپنی نرمل روشنی چاروں طرف بکھیر رہا تھا۔

چوتھے دن صبح روبن کو باہر برف پر پھسلنے والی سلیج گاڑی کی آواز سنائی دی۔  گھاس کا ٹیلہ سڑک کے کافی پاس تھا۔  گاڑی پر سوار کسان نے روبن کو قصائی کے پاس شہر جانے کا راستا نہیں، بلکہ گاؤں واپس جانے کا راستا بتایا۔  ٹیلے میں روبن نے طے کیا تھا کہ وہ متو کو کبھی نہیں بیچے گا۔

ادھر گھر والوں اور پڑوسیوں نے روبن اور بکری کو ڈھونڈھنے کی بہت کوشش کی، مگر انہیں ان کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔  وہ دونوں ہمیشہ کے لیے کہاں کھو گئے؟ ماں اور دونوں بہنیں، روبن کو یاد کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں، باپ باہر سے پر سکون، پر وہ بھی اندر سے بہت دکھی تھے۔  تبھی ایک پڑوسی دوڑتا ہوا آیا۔  اس نے روبن اور متو کو سڑک پر آتے ہوئے دیکھا تھا۔  اس سے گھر بھر میں خوشی کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی۔  روبن نے انہیں پوری کہانی سنائی کہ کیسے اسے ایک گھاس کا ٹیلہ ملا اور کیسے متو نے اسے دودھ پلایا۔

اس کے بعد سے گھر میں سب نے متو کو بیچنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔  اب کیونکہ کڑاکے کی سردی پڑنے لگی تھی اس لئے لوگوں کو گرم کھالوں کی ضرورت پڑنے لگی تھی۔  اس سے ہارون کا دھندا چل نکلا تھا۔  ہنکا کے تیوہار پر روبن، مریم اور اینا نے موم بتیاں جلانے کے بعد "ڈرائیڈیل” نام کا ساز بجایا۔  متو الاؤ کے پاس بیٹھی جھلمل کرتی موم بتیوں اور بچوں کو دیکھتی رہی۔  کبھی کبھی روبن اس سے پوچھتا، "متو، کیا تمہیں میرے ساتھ گھاس کے ٹیلے میں بتائے دن یاد ہیں؟” تب متو مسکراتی اور اپنا سفید سر ہلاتے ہوئے کہتی، "میں۔۔۔۔۔” صرف یہ ایک واحد لفظ اس کے سارے خیالات اور اس کے پیار کا اظہار کر دیتے۔

٭٭٭٭

 

 

 

جادوگر ملکان

برطانوی کہانی

 

ارسلا مورے ولیمس

Ursula Moray Williams

 

رڈی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ پھر بھی اس کا نام دور دور تک مشہور تھا۔ وجہ یہ تھی کہ رڈی بہت اچھے کھلونے بناتا تھا۔ اس کے بنائے کئی کھلونے شاہی محل کی زینت بڑھاتے تھے۔ بادشاہ نے اسے کئی بار انعامات دیے تھے۔ ایک بار شہر میں کھلونوں کا مقابلہ ہوا۔ رڈی بادشاہ کے لیے "گانے والی پٹاری” بنا کر لے گیا۔ بادشاہ کو وہ کھلونا بہت پسند آیا۔ سب سوچ رہے تھے، پہلا انعام رڈی کو ہی ملے گا۔ جب بادشاہ سلامت انعام کا اعلان کرنے کھڑے ہوئے تبھی ایک شخص دربار میں آیا۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ وہ بہت حسین تھی اور شاہی پوشاک پہنے ہوئے تھی۔

اس شخص نے بادشاہ سلامت سے کہا، "جہاں پناہ، میرا نام ملکان ہے۔ میں کھلونے بنایا کرتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں آپ میرا بنایا کھلونا دیکھ لیں۔ اس کے بعد ہی انعام کا فیصلہ کریں۔”

بادشاہ نے کہا، "ٹھیک ہے، دکھاؤ اپنا کھلونا۔”

ملکان نے ہنس کر اس لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ بولا، "جہاں پناہ، میں نے ہی اس بولنے والی گڈیا کو بنایا ہے۔”

"بولنے والی گڑیا!” بادشاہ نے حیرت سے کہا۔ دربار میں سبھی حیران رہ گئے۔

ملکان نے کہا، "مہاراج، میں جادو جانتا ہوں، اسی جادو سے میں نے یہ بولنے والی گڑیا بنائی ہے۔”

کئی درباریوں نے گڑیا کو چھو کر دیکھا۔ وہ گوشت پوست کی زندہ لڑکی نظر آ رہی تھی۔ عجیب بات تھی۔ کوئی اس بات پر یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ لڑکی اصل میں گڑیا ہے۔

"جہاں پناہ، میں اپنے جادو سے اور بھی عمدہ کھلونے تیار کر سکتا ہوں” ملکان بولا۔

بادشاہ کچھ پل سوچتے رہے۔ پھر بولے، "ملکان، یہ کھلونا بنانے کا مقابلہ ہے، جادو کا نہیں۔ تم اپنے ہاتھ سے بنا کوئی کھلونا دکھاؤ، تو ہم سوچیں گے۔”

ملکان نے منہ بنا دیا۔ بولا، "جادو سے میں من چاہا کام کر سکتا ہوں، پھر مجھے بیکار کے کھلونے بنانے کی کیا ضرورت؟”

یہ کہہ کر وہ گڑیا کو لے کر دربار سے چلا گیا۔ جہاں جہاں جادوئی گڑیا نے پیر رکھے تھے، وہاں کالے کالے نشان پڑ گئے اور دھواں اٹھنے لگا۔

راجہ نے رڈی کے کھلونے کو پہلا انعام دے دیا۔ مقابلہ ختم ہوا۔ لیکن سب کے دل میں ایک اندیشہ تھا— ملکان کوئی نہ کوئی شرارت ضرور کرے گا۔

ہوا بھی ایسا ہی۔ ملکان نے رڈی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اس نے رڈی کے گاؤں کے پاس کافی زمین خرید لی۔ وہاں ایک اونچی پہاڑی تھی۔ پہاڑی کے اندر ایک خفیہ جادوئی محل بنایا۔ اسی محل میں رہ کر اس نے اپنے جادو سے لکڑی کے کھلونا سپاہی بنائے اور پہاڑی پر جگہ جگہ تعینات کر دئے۔

رڈی کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ گاؤں والوں کے ساتھ پہاڑی پر لکڑی کاٹنے جاتا تھا۔ اس لکڑی سے بہت اچھے کھلونے بنتے تھے۔

ایک دن گاؤں والے لکڑی کاٹنے گئے تو پہاڑی کے اندر طرح طرح کی آوازیں سنائی دیں۔ پتھر لڑھکنے لگے۔ وہاں بہتی ندی کا پانی کھولنے لگا۔ زمین میں دراریں پڑ گئیں۔

سب لوگ ڈر کر بھاگ آئے۔ سوچنے لگے، "نہ جانے پہاڑی کے اندر کیا ہو رہا ہے؟”

اسی شام ایک اجنبی گاؤں میں آیا۔ وہ ملکان کو جانتا تھا۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ ملکان کا منصوبہ کیا ہے۔ اس نے رڈی کو بتایا، "ملکان نے تم سے بدلا لینے کا پلان بنایا ہے۔ وہ پہاڑی کو جادو کے زور سے تمہارے گاؤں سے پرے کھسکا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے، تمہیں کھلونوں کے لیے بڑھیا لکڑی نہ مل سکے۔ ہوشیار ہو جاؤ۔”

اس رات پہاڑی کے اندر سے زور کی آوازیں آتی رہیں۔ رڈی نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا۔ طے ہوا کہ جلدی سے جلدی پہاڑی پر لگے پیڑ کاٹ لئے جائیں۔ لکڑی گاؤں میں اکٹھی کر لی جائے۔ پھر دقت نہیں ہو گی۔ رڈی اور گاؤں والے رات کو ہی پہاڑی پر جا کر لکڑیاں کاٹنے لگے۔ جلدی ہی انہوں نے کافی لکڑیاں گاؤں میں اکٹھی کر لیں۔ اس بیچ پہاڑی کا کھسکنا بھی جاری رہا۔

ایک دن گاؤں والے پہاڑی پر لکڑی کاٹنے گئے تو وہاں لکڑی کے بنے سپاہی دکھائی دئے۔ گاؤں والوں کو شرارت سوجھی۔ انہوں نے لکڑی کا ایک صندوق بنایا۔ اسے پہاڑی پر رکھ دیا۔ صندوق کا ڈھکن کھلا ہوا تھا۔

لکڑی کے دو سپاہی اچھلتے کودتے وہاں آئے اور صندوق میں گھس کر دیکھنے لگے۔ تبھی چھپ کر گاؤں والوں نے رسی سے صندوق کا ڈھکن بند کر دیا۔ لکڑی کے سپاہی قید ہو گئے۔

گاؤں والے صندوق کو اپنے گاؤں میں لے آئے۔ رات کافی ہو رہی تھی۔ لکڑی کے پتلوں کو ایک کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ رات کو گاؤں کے لوگ سو گئے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ کھلونے جادوئی ہیں۔

گاؤں والوں کے سو جانے کے بعد لکڑی کے آدمی صندوق سے باہر نکل آئے۔ وہ ادھر ادھر گھومنے لگے۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ گاؤں میں لکڑیوں کا بہت بڑا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے ماچس اٹھائی۔ کچھ پھوس اکٹھا کیا اور لکڑیوں میں آگ لگا دی۔ تھوڑی دیر میں شعلے بھڑکنے لگے۔ گاؤں والوں کی نیند کھلی تو کافی لکڑیاں جل چکی تھیں۔

پہلے تو کوئی کچھ سمجھ نہیں پایا۔ پھر لکڑی کے پتلوں کی تلاش شروع ہوئی تو وہ نظر نہ آئے۔ اب پتہ چلا، وہ ملکان کے جادو کی شرارت تھی۔

اس حادثے سے رڈی بہت دکھی ہوا۔ اسے لگا جیسے یہ سب اسی کی غلطی سے ہوا ہے۔ صبح صبح وہ کلہاڑی لے کر پہاڑی پر چڑھ گیا۔ اتنے دنوں میں ملکان نے پہاڑی کو گاؤں سے کافی دور کھسکا دیا تھا۔ اب زمین میں جگہ جگہ دراریں نظر آتی تھیں۔ ٹھیک اسی وقت ملکان پہاڑی کے اندر اپنے محل میں بیٹھا تھا۔ دونوں لکڑی کے آدمی اسے اپنے کرتوت سنا رہے تھے۔ تبھی ملکان نے اپنے جادو کے زور سے جان لیا کہ رڈی اکیلا پہاڑی پر آیا ہے۔ اس نے ہاتھ ہلایا تو پہاڑی میں ایک گہری درار پڑ گئی۔ رڈی پھسل کر اس درار میں گر پڑا۔

جب رڈی نہیں لوٹا تو گاؤں والے اسے ڈھونڈنے نکلے۔ اس کا پتہ کیسے چلتا؟ ملکان کے بنائے لکڑی کے پتلوں نے رڈی کو پکڑا اور ایک گپھا میں قید کر دیا۔ وہ سب ایک ایسی زبان بول رہے تھے، جسے رڈی بالکل نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ تبھی لکڑی کے آدمی ایک دم سیدھے کھڑے ہو گئے۔ وہ دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ رڈی نے دیکھا، سامنے سے جادوگر ملکان آ رہا تھا۔

رڈی کو قید میں دیکھ کر ملکان زور زور سے ہنسنے لگا۔ بولا، "رڈی، بادشاہ تمہارے کھلونے کو پہلا انعام تو دے سکتے ہیں، پر تمہیں میرے جادو سے نہیں بچا سکتے۔ تم اپنی جن بچانا چاہتے ہو تو میرا کہنا مانو۔ ورنہ میں پورے گاؤں کو تہس نحس کر دوں گا۔”

رڈی نے ہمت نہیں ہاری۔ بولا،”ملکان، میں تمہاری دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں! میرے ہاتھوں کی طاقت تمہارے جادو سے بڑھ کر ہے۔”

"اچھا!” ملکان ہنس پڑا۔ پھر بولا، "آؤ، تمہیں ایک عجوبہ دکھاؤں!” رڈی کو وہ ایک بہت بڑے ہال میں لے گیا۔ وہاں سترنگی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دھم دھم کی آواز بھی ہو رہی تھی۔ گپھا کی دیوار میں ایک بہت بڑا تالا بنا ہوا تھا۔ آواز اسی سے آ رہی تھی۔

ملکان نے کہا، "رڈی، اس تالے کے پیچھے ایک گھڑی ہے۔ یہ گھڑی کی آواز ہے۔ جب تک گھڑی چلتی رہے گی، پہاڑی تمہارے گاؤں سے پرے کھسکتی رہے گی۔ دھیرے دھیرے گاؤں کی فصل مرجھا جائے گی۔ کنووں اور تالابوں کا پانی سوکھ جائے گا۔ گاؤں میں بیماریاں پھیل جائیں گی۔ میں تم سب سے ایسا بدلا لوں گا کہ تم کبھی نہ بھول سکو گے۔”

ادھر گاؤں کے لوگ پریشان تھے۔ رڈی کا کہیں پتہ نہیں چل رہا تھا۔

گاؤں کی زمین کے نیچے کچھ بونے رہتے تھے۔ انہیں بھی ملکان کی شرارت کا پتہ تھا۔ وہ گاؤں والوں کی مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن ملکان کے جادوئی محل میں جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔

ایک دن رڈی کے جڑواں بیٹے پال اور پیٹرکن باپ کی کھوج میں چلے۔ وہ دونوں کافی چھوٹے تھے۔ پال اور پیٹرکن سے بونے ملے۔ انہوں نے کہا، "بچو، ہمیں معلوم ہے، رڈی پہاڑی کے اندر قید ہے، پر ہم اندر نہیں جا سکتے۔ ہاں، اندر پہنچنے کا راستا کھوجنے میں تمہاری مدد ضرور کر سکتے ہیں۔”

وہ سب مل کر راستہ ڈھونڈنے لگے۔ پہاڑی کھسکنے سے اس میں جگہ جگہ دراریں پڑ گئی تھیں۔ بونے ہر درار میں جا کر دیکھتے تھے۔ ایکا ایک انہیں ایک درار میں سے روشنی کی جھلک ملی۔ اس کا مطلب تھا، درار ایک دم اندر تک تھی۔ بونوں نے پال اور پیٹرکن سے کہا، "تم اس درار میں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔”

دونوں بھائی اس درار میں گھس گئے اور اس تنگ راستے پر بڑھتے رہے۔ پیچھے سے بونے انہیں ہمت بندھاتے رہے۔

راستہ اتنا تنگ تھا کہ بچوں کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی لگتی تھی۔ پھر بھی وہ سامنے دکھتی ہلکی روشنی کے سہارے بڑھے جا رہے تھے۔ تبھی اس درار سے انہیں اپنے ابا رڈی کی جھلک ملی۔ دونوں چلا اٹھے، "ابا جی!”

آواز سن کر رڈی چونک اٹھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تبھی پال نے پھر پکارا۔ اب رڈی کو پتہ چل گیا کہ آواز کہاں سے آ رہی تھی۔ اسے درار میں سے جھانکتے ہوئے دو چہرے دکھائی دیے، اور وہ اپنے بیٹوں کو پہچان گیا۔ رڈی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ کسی طرح اپنے کو سنبھال کر اس نے بچوں سے پوچھا کہ وہ کس طرح وہاں تک آ گئے تھے؟

پال اور پیٹرکن نے اپنے والد کو پوری بات بتا دی۔ کہا کہ گاؤں میں سب کتنے پریشان ہیں۔ اپنے بچوں کو اپنے قریب پا کر رڈی خوش بھی تھا اور اداس بھی۔ وہ انہیں دیکھ سکتا تھا، پر چھو نہیں سکتا تھا۔ وہ پاس ہو کر بھی دور تھے۔ بچوں کے کانوں میں بھی دھم دھم کی آوازیں آ رہی تھیں۔ انہوں نے پوچھا، تو رڈی نے کہا، "اس آواز کو نہیں روکا گیا تو سب کچھ برباد ہو جائے گا۔ یہ ایک گھڑی کی آواز ہے۔ وہ ایک تالے میں بند ہے۔ تالے کی چابی جادوگر ملکان نے بیکار کر دی ہے۔ میں اس تالے کی چابی بناؤں گا۔ تم ماں کے پاس جاؤ۔ ان سے سونا مانگ کر لاؤ۔ چابی کے لیے سونا چاہیئے۔ سونے کی چابی سے ہی جادوئی تالا کھل سکے گا۔”

رڈی نے بچوں کو پوری بات سمجھا دی۔ پال اور پیٹرکن وہاں سے گاؤں لوٹ آئے۔ بونوں نے ان سے کہہ دیا، "تم لوگ آرام سے جاؤ۔ ہم اس راستے کی پہریداری کرتے رہیں گے۔ جب بھی آؤ گے، ہم یہیں ملیں گے۔”

دونوں بھائی ماں کے پاس پہنچے۔ جلدی ہی پورا گاؤں جان گیا کہ رڈی کا پتہ چل گیا ہے اور وہ جادوگر ملکان کی قید میں ہے۔ جادوئی تالے کی چابی بنانے کے لیے سونے کی تلاش ہوئی۔ اب سب کو امید ہو گئی تھی کہ رڈی کو ملکان کی قید سے آزاد کرایا جا سکے گا۔

اسی درار کی راہ سے جا کر پال اور پیٹرکن نے اپنے والد کو سونا دے دیا۔ جب وہ اس درار سے اپنے والد سے بات کر رہے تھے تو جادوگر ملکان وہاں آ گیا۔ اسی وقت درار کے آگے کا پتھر گر پڑا۔ دونوں بچے ملکان کو دکھائی دے گئے۔ اس نے جھٹ انہیں پکڑ لیا۔ جب شام ہو گئی اور بچے نہیں لوٹے تو گاؤں والے فکر مند ہو اٹھے۔ وہ سمجھ گئے کہ پال اور پیٹرکن ضرور کسی مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔

ملکان نے رڈی کو اس کمرے میں بند کر دیا، جہاں جادوئی تالا لگا تھا اور گھڑی کی آواز گونج رہی تھی۔ اس تالے کی چابی ملکان نے کہیں پھینک دی تھی۔ ملکان نے سوچا تھا، رڈی اس طرح ڈر جائے گا لیکن رڈی کو اپنا کام کرنے کا اچھا موقع مل گیا تھا۔ وہ تالے کو دیکھ دیکھ کر سونے کی چابی بنانے کی کوشش میں لگا رہتا۔ ملکان کا جادو سونے پر نہیں چل سکتا تھا، اس لئے اسے پتہ نہ چل سکا کہ رڈی کیا کرتا رہتا ہے۔

رڈی جانتا تھا کہ اگر وقت پر جادوئی تالا نہ کھلا تو پورا گاؤں برباد ہو جائے گا۔ دونوں بچے ملکان کے چنگل میں پھنس گئے ہیں، یہ بات اسے ہر وقت پریشان کرتی رہتی تھی، لیکن پھر بھی وہ چابی بنانے میں جٹا رہتا، کیونکہ وہی آخری امید تھی۔

پہاڑی اب پہلے سے زیادہ کانپنے لگی تھی۔ رڈی نے آخر رات دن محنت کر کے سونے کی چابی تیار کر ہی لی۔ اس وقت وہ کمرے میں اکیلا تھا۔ سامنے وہ بڑا سا جادوئی تالا تھا—اس کے پیچھے گھڑی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ رڈی نے ہوشیاری سے ادھر ادھر دیکھا اور سونے کی چابی تالے میں لگا دی۔ لیکن چابی کو گھمانے کا موقع نہ ملا کہ اسی لمحے جادوگر ملکان اندر آ گیا تھا۔

ملکان نے تالے میں سونے کی چابی لگی دیکھی تو آگ بگولا ہو اٹھا۔ وہ رڈی کی چال سمجھ گیا۔ اس نے اپنا جادوئی ڈنڈا اٹھایا اور رڈی کے جسم سے چھو دیا۔ جادو کے اثر سے رڈی کا جسم پتھر کا ہو گیا۔ وہ دیکھ اور سن تو سکتا تھا، پر چاہ کر بھی ہاتھ پیر نہیں ہلا سکتا تھا۔

رڈی کا یہ حال دیکھ کر ملکان زور سے ہنس پڑا۔ پھر اس نے تالے میں سے چابی نکالنی چاہی، پر چابی تالے کے اندر پھنس گئی تھی۔ اس نے اور زور لگایا تو چابی تالے میں گھوم گئی۔ تالا کھل گیا۔ اب گھڑی کی آواز زور زور سے سنائی پڑنے لگی۔ یہ دیکھ کر ملکان چیخ اٹھا۔ تالا کھلتے ہی ملکان کا جادو ٹوٹ گیا۔ رڈی کے ہاتھ پیروں کی طاقت لوٹ آئی۔ اس نے اچھل کر ملکان کو دھکا دیا۔ ملکان دور جا گرا۔ رڈی نے بڑھ کر گھڑی کو پرے پھینک دیا۔ آواز تھم گئی۔ پہاڑی کا کھسکنا رک گیا۔

ملکان کے جادوئی کھلونے ٹوٹ کر گر پڑے۔ خود ملکان کا جسم جیسے اندر سے جلا جا رہا تھا۔ وہ وہاں سے بھاگ چلا۔ بھاگتا گیا۔ کہاں گیا، کوئی نہ جان سکا۔

رڈی پال اور پیٹرکن کے ساتھ پہاڑی محل سے باہر نکلا اور گاؤں کی طرف چل دیا۔ پہاڑی اب خاموش تھی۔ اس کی سب دراریں بھر گئی تھیں۔ گاؤں کے مرجھائے کھیت ہرے ہو گئے۔ سوکھے ہوئے کنووں اور تالابوں میں پانی آ گیا۔ سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا تھا۔

اس دن کافی عرصے بعد گاؤں والوں کے چہروں پر ہنسی دکھائی دی تھی۔ وہ جیت گئے تھے۔

٭٭٭

 

 

 

واپسی

 

برطانوی کہانی

 

آرتھر سی کلارک

Arthur C. Clarke

 

کالن شیرارڈ اور اس کے ساتھی اپنے اپنے خلائی جہاز میں بیٹھے خلا میں گھوم رہے تھے۔ اچانک شیرارڈ کا جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ بیہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک انجان سیارہ پر پایا۔ وہ سیارہ بہت گرم تھا۔

شیرارڈ نے اپنی آنکھیں کھولیں اور چاروں طرف دیکھا۔ وہ سمجھ نہیں پایا کہ وہ کہاں پر ہے۔ اس نے دیکھا کہ اس کا خلائی جہاز پاس میں ہی پڑا ہے۔ جہاز کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے دوسری طرف نظر دوڑائی تو اسے ایک بڑی پہاڑی دکھائی دی۔ اس پہاڑی کی سطح کالی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ سطح کبھی آگ سے جلی ہو۔ آس پاس بہت سی چٹانیں بھی تھیں۔

اس نے اوپر کی طرف دیکھا تو اسے آسمان نظر آیا، جس میں بے شمار تارے ٹمٹما رہے تھے۔ ان تاروں میں سے ایک تارہ بہت بڑا اور بہت چمکیلا تھا۔ وہاں محسوس ہو رہی بے تحاشا گرمی کے سبب شیرارڈ سوچنے لگا کہ کہیں وہ تارہ سورج تو نہیں۔ کیا وہ زمین سے چل کر سورج کے اتنا نزدیک آ گیا ہے؟ "نہیں، یہ نہیں ہو سکتا” شیرارڈ دل ہی دل میں بدبدایا۔ ہو سکتا ہے، وہ زمین سے کافی دور پہنچ گیا ہو، پر اتنی دور نہیں کہ وہ سورج کے قریب پہنچ گیا ہو۔

وہ رات کا وقت تھا۔ سویرا ہونے میں کچھ ہی گھنٹے باقی تھے۔ اس نے سوچا، جب اس وقت اتنی گرمی ہے تو سورج کے نکلنے پر تو اور بھی خطرناک گرمی ہو جائے گی۔ تب تو وہ موت کے منہ میں ہی چلا جائے گا۔ زمین پر سے نظر آنے والے سورج سے تیس گنا بڑے سورج کی کرنیں اسے جلا کر راکھ کر دیں گی۔ اسے لگا، اس کے آس پاس کی ساری چیزیں سورج کی سخت گرمی سے ہی جل کر کالی ہوئی ہوں گی۔ اس نے پڑھ رکھا تھا کہ دن کے سمے اکارس کا درجۂ حرارت ایک ہزار ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ کہیں یہ اکارس ہی تو نہیں ہے؟

تبھی شیرارڈ کو کپتان میکلیلان کی یہ بات یاد آئی کہ اکارس نظام شمسی کا سب سے گرم حصہ ہے۔

اب صرف ایک ہی امید بچی تھی کہ اگر اس کے ساتھی اسے ڈھونڈ لیں تو شاید اس کی جان بچ جائے۔ اگر اس کے ساتھی سویرا ہونے سے پہلے اسے نہیں ڈھونڈ پائے تو وہ اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

پھر وہ اپنے جہاز کے کنٹرول روم میں گیا اور اس میں لگے آلوں کی مدد سے اپنے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن وہ ان سے ربط پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

شیرارڈ سورج کی گرمی سے بچنے کی کوئی ترکیب سوچنے لگا۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ اسے ایک چٹان نظر آئی، جو بہت بڑی تھی۔ وہ اس چٹان کے پیچھے چھپ کر کچھ دیر سورج کی دھوپ سے بچ سکتا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ دوپہر کے وقت جب سورج ایک دم سر پر چڑھ آئے گا، تب کیا ہو گا؟

تبھی اسے اپنے گھر والوں کا خیال ہو آیا۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے بارے میں سوچنے لگا، حالانکہ اس وقت ان کے بارے میں سوچنا بیکار تھا۔ یہ وقت تو محض یہ سوچنے کا تھا کہ وہ اپنی جان کیسے بچائے۔

"آدمی تاروں کے پار جانے کی کیوں سوچتا ہے؟ کیوں وہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اونچے اونچے پہاڑوں پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے؟” وہ من ہی من بدبدایا۔ وہ مایوس ہوتا جا رہا تھا۔

وہ ایک بڑی چٹان کے پیچھے جا چھپا۔ رات کا تھوڑا ہی وقت بچا تھا۔

اچانک شیرارڈ کے دل میں طرح طرح کے خیالات گھومنے لگے۔ وہ سوچنے لگا، سویرا ہونے پر سورج کی کرنیں اس کی جان لے لیں گی۔ بعد میں سائنس کے میدان میں اور ترقی ہونے پر جب آدمی اکارس پر  آرام سے چلنے میں کامیاب ہو جائے گا تو وہ یہاں اس کی یادگار بنوائے گا، جس پر لکھا ہو گا، "یہاں کالن شیرارڈ نام کے خلائی مسافر نے سائنس کو آگے بڑھانے کی خاطر اپنی جان دی تھی۔”

پھر شیرارڈ کو یاد آیا کہ پرتھوی کے ماہرین ارضیات نے اکارس کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ہمیشہ خلا میں لٹکنے والا چھوٹا سا سیارہ نہیں رہا ہے۔ پہلے زمین کی طرح ہی ایک بڑا سیارہ تھا، جو ایک دھماکے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اکارس اسی بڑے سیارے کا ایک حصہ ہے۔ شاید پہلے اس بڑے سیارہ پر آبادی بھی تھی۔

دھیرے دھیرے تارے مدھم پڑنے لگے اور ساتھ ہی شیرارڈ کی فکریں بھی بڑھنے لگیں۔ اس نے سمجھ لیا کہ اس کی موت یقینی ہے۔ اس نے زمین اور چاند کو سلام کیا۔ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھی سلام کیا۔ اپنے گھر والوں کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا اور اپنی موت کا انتظار کرنے لگا۔ سورج نکل چکا تھا اور وہ دھیرے دھیرے افق کی طرف بڑھ رہا تھا۔ موت اور شیرارڈ کے بیچ میں تھوڑی ہی دوری رہ گئی تھی۔

اچانک اسے آسمان میں ایک چمکیلی چیز دکھائی دی، جو تاروں کی چمک سے بھی زیادہ چمکیلی تھی۔ وہ چمکیلی چیز اس کے سر سے کئی میل اوپر آسمان میں چل رہی تھی۔ جب وہ چیز مڑتی تھی تو اس میں سے سورج کی کرنیں منعکس ہوتی تھیں۔ شیرارڈ یہ دیکھ کر چونک پڑا۔ "یہ کوئی تارہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی دوسرا سیارہ ہو سکتا ہے” شیرارڈ سوچنے لگا۔

شیرارڈ کو سمجھتے دیر نہ لگی کہ یہ اس کے ساتھیوں کا جہاز ہو گا، جس پر لگا کوئی شیشہ چمک رہا ہے۔ شیرارڈ کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔ اب اسے امید ہو گئی کہ وہ بچ جائے گا۔ حالانکہ اب بھی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کی وجہ سے پسینہ آ رہا تھا۔

لیکن اب وہ ایک بار پھر کنٹرول روم میں جا کر پورے حوصلے سے کنٹرول روم میں لگے بٹنوں کو جلدی جلدی دبا کر اپنے ساتھیوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

تبھی اسے کپتان میکلیلان کی آواز سنائی دی۔ کپتان میکلیلان نے کہا،”شیرارڈ، گھبراؤ مت۔ ہم آ رہے ہیں۔ لیکن تم زور زور سے چلاتے رہو، تاکہ ہمیں یہ پتہ رہے کہ تم ٹھیک ہو۔”

"میں یہاں ہوں، ، "شیرارڈ زور سے چلایا،”آپ لوگ جلدی کیجئے۔ میرا سارا شریر جھلسنے والا ہے۔”

"اس کا مطلب ہے کہ میرے ساتھی یہاں سے تھوڑی ہی دور پر ہوں گے” شیرارڈ سوچنے لگا۔ اب اس میں ایک نئی طاقت آ گئی تھی۔

شیرارڈ نے دوبارہ آسمان کی طرف دیکھا۔ وہ چمکنے والی چیز دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شیرارڈ سمجھ گیا کہ اس کے ساتھیوں کا خلائی جہاز اس کے پاس آ رہا ہے۔ پھر اسے وہ جہاز صاف دکھائی دینے لگا۔

شیرارڈ لگاتار چلا رہا تھا۔ تبھی اس کے ساتھیوں کا جہاز اس کے سر کے ایک دم اوپر آ گیا۔ شیرارڈ نے دیکھا، اس جہاز میں کپتان میکلیلان اور اس کا ایک اور ساتھی بیٹھے ہیں۔ ان دونوں نے شیرارڈ کو سیڑھی کی مدد سے اپنے جہاز میں کھینچ لیا اور اس سے پہلے کہ شیرارڈ موت کے منہ میں جاتا، اس کے ساتھی اسے لے کر اڑ گئے۔

٭٭٭

 

 

 

سون مچھلی

 

روسی کہانی

 

آیوسف دیک

Iosif Dik

 

جب میں چھوٹا تھا تو اماں کو ابا جی سے یہ کہتے سنا کرتا تھا، "کیسے عجیب آدمی ہو تم! ٹھیک ہے، ڈرامے سینما کے لیے تمہارے پاس وقت نہیں ہے، پر کبھی کبھار میرے لیے کچھ لا تو سکتے ہو— سینٹ کی شیشی یا اور کچھ۔ لانے کو تو یہ سب میں خود بھی لا سکتی ہوں، پر تم کوئی تحفہ دو تو زیادہ اچھا لگے گا۔”

میرے ابا استادوں کے ایک ٹریننگ کالج میں جغرافیہ کے استاد تھے۔ جب وہ گھر پر ہوتے، ایک موٹی سی کتاب پڑھتے رہتے۔

ایک دن شام کے وقت وہ بڑے خوش خوش لوٹے اور آتے ہی بولے، "آج تم کچھ نہیں کہہ سکو گی۔ لو، پکڑو اسے، دیکھو اس میں کیا کیا ہے۔ تمہاری طبیعت خوش ہو جائے گی!” یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا بریف کیس آگے بڑھا دیا۔

اماں کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ مجھے سینہ سے لگا کر، کمرے میں ناچنے اور چکر لگانے کے لہجے میں کہنے لگیں، "دیکھا جائے، تمہارے ابا جی کیا لائے ہیں؟ دیکھا جائے۔۔۔”

انہوں نے بریف کیس کو بڑے احتیاط سے میز پر رکھ کر کھولا اور فوراً چونک کر بولیں، "یہ کیا ہے؟ یہ میرے لیے کیا لے آئے تم؟ مردوں کے استعمال کے "یو ڈی کولون” کا میں کیا کروں گی؟ میں کیا داڑھی بناتی ہوں،؟ سچ مچ تم بچہ ہی رہو گے!”

اماں کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ اماں کے دکھ سے میں بھی اداس ہو اٹھا۔

میری سمجھ میں ایک بات اور آ گئی۔ میں اور میرے ابا جی ایک ہی زبان میں بات کر سکتے ہیں۔ اماں نے انہیں بچہ کہا تھا اور میں بھی بچہ تھا۔

بس، میں اپنے ابا جی کے پیچھے پڑ گیا، "میرے لیے ایک سون مچھلی لا دیجیے۔ لا دیں گے نا؟ اس بلے کے ساتھ کھیلتے کھیلتے میں اوب گیا ہوں، وہ پنجے مارتا ہے۔ میرے لیے سون مچھلی لا دیجیے۔”

پتاجی سے سون مچھلی کی مانگ کرنے میں میرا ایک خاص مقصد تھا۔ میری ماں پشکن کی پریوں کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ مچھیرے اور سون مچھلی کی کہانی مجھے بڑی اچھی لگتی تھی۔ خاص طور پر جب وہ جادوئی مچھلی انسانی آواز میں کہتی ہے، "اے بوڑھے، مجھے سمندر میں چھوڑ دے، اس کے بدلے میں میں تجھے مالامال کر دوں گی۔”

میں سمجھتا تھا کہ سون مچھلی کوئی عام مچھلی نہیں ہے۔ اگر وہ ہمارے گھر میں آ جائے تو ماں کو روز تحفے ملا کریں گے۔

میرے ابا جی نے حیرت کے ساتھ پوچھا، "تمہیں مچھلی چاہیئے؟ یہ تو میں پہلی بار سن رہا ہوں،۔ تمہاری اماں تو کچھ نہ کچھ لانے کے لیے کہتی ہی رہتی ہے، اب تم بھی کہنے لگے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ اچھا، مان لو تمہارے لیے کوئی یا اور کوئی مچھلی لا دوں تو؟”

میں نے سختی سے کہا، "نہیں، مجھے تو سون مچھلی ہی چاہیئے۔”

آخر وہ راضی ہو گئے اور بولے، "اچھا، لا دوں گا۔ پر تم اس کا کرو گے کیا؟”

میں نے بات کو ٹالنے کے لیے کہا، "مجھے کچھ کام ہے۔ پر دیکھئے گا، آپ بھی خوش ہو جائیں گے۔”

پھر ایک دن ایک شیشے کا مرتبان لے کر ہم کیڑوں پرندوں کی دکان پر گئے۔

اس دکان پر ساری سون مچھلیاں ہی تھیں۔ جب ہم لوٹے تو میرے ہاتھوں میں مچھلی رکھنے کا کانچ کا ایک برتن تھا اور میرے ابا جی وہ مرتبان لئے ہوئے تھے، جس میں سون مچھلی تھی۔

گھر پہنچ کر ہم نے کانچ کے برتن میں تھوڑی ریت ڈالی اور پھر اس میں کنکنا پانی بھرا۔ اس کے بعد وہ مچھلی اس میں ڈال دی۔

پورے پورے دن میں کھڑکی میں رکھی مچھلی کو تاکتا رہتا۔ اپنے کانچ کے گھر میں وہ تیرتی رہتی اور کبھی کبھی اپنے گلپھڑوں سے ریت کو کریدتی، جیسے سچ مچ کے سمندر میں ہو۔

مچھلی سے میری بڑی دوستی ہو گئی۔ میں نے ایک ننھی سی جھونپڑی بنائی اور اسے کانچ کے برتن میں رکھ دیا۔ مچھلی تیرتی ہوئی اس کے دروازے سے داخل ہوتی اور کھڑکی سے نکل جاتی۔ جس طرح میرے ابا جی نے سکھایا تھا، میں کانچ کے برتن پر انگلی سے ٹھک ٹھک کرتا اور مچھلی پونچھ پھیلائے تیرتی چلی آتی۔ لگتا، جیسے وہ کوئی بڑی خفیہ بات بتانے آئی ہے۔

٭٭

 

ایک دن گھر پر کوئی نہیں تھا۔ میں نے بڑی احتیاط سے مچھلی کو برتن میں سے اٹھا لیا۔ وہ ٹھنڈی اور چکنی لگ رہی تھی۔ وہ میری مٹھی میں پھڑپھڑا رہی تھی اور بار بار منہ کھول اور بند کر رہی تھی۔

میں نے سوچا، وہ کچھ کہہ رہی ہے۔ میں اسے اپنے کان کے پاس لے گیا۔ تبھی لگا کہ بلبلے پھوٹنے کی سی آواز میں وہ کہہ رہی ہے، "جو چاہو مانگ لو، تمہیں وہی مل جائے گا۔”

"ٹھیک ہے” کہتے ہوئے میں نے مچھلی کو پھر برتن میں چھوڑ دیا۔ پھر پانی پا کر وہ تیزی سے ادھر ادھر چکر لگانے لگی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ وہ ہماری بات چیت پر خوشی ظاہر کر رہی تھی۔

اس دن شام کو ابا جی کھانے کی میز پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور اخبار پر نظریں دوڑا رہے تھے۔ ماں گھر پر نہیں تھیں، کسی بیمار پڑوسن کو دیکھنے گئی تھیں۔ میں مچھلی کے برتن کے پاس گیا اور کانچ کو انگلی سے ٹھکٹھکا کر دھیرے سے بولا، "سون مچھلی، سون مچھلی! میری ماں کو سینٹ کی شیشی چاہیئے۔ دیکھو، میری بات خالی نہ جائے۔”

اس کے بعد میں سونے چلا گیا۔

اگلے دن برف گر رہی تھی۔ ابا جی برف سے لت پت گھر آئے اور ماں نے باہر کے کمرے میں ان کا کوٹ اتروا کر دھیرے سے جھٹکا تو اس کی جیب سے شیشی کے کھنکنے کی سی آواز آئی۔

جیب سے چھوٹی سی شیشی باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے حیرت سے پوچھا، "یہ کیا ہے؟”

ابا جی نے شرمیلی مسکان کے ساتھ کہا، "کریمیائی گلاب ہے، تمہارے لیے۔”

"میرے لیے؟”

"ہاں، تمہارے لیے۔”

"سچ کہہ رہے ہو؟ پہلے کیوں نہیں بتایا؟”

"اب یہ سب چھوڑو۔” ابا جی نے کچھ برا سا مانتے ہوئے کہا۔

اپنے ابا جی کی تائید میں مَیں بھی بول پڑا، "تمہارے لیے ہے، تمہارے لیے۔ اور بھی بہت سی چیزیں آئیں گی، دیکھتی جاؤ اماں!۔”

ماں نے میری بات سنی ان سنی کر کے بھوئیں سکوڑ کر ابا جی کی طرف دیکھا، خوشی کے جذبے کے ساتھ ہنسیں اور وہ شیشی اپنی ڈتریسنگ ٹیبل پر رکھ دی۔

شام کو مچھلی کے برتن کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا، اس کے ساتھ ایک کاغذ لگا ہے۔ میں نے سوچا، ضرور مچھلی نے کچھ پیغام لکھا ہے اور چپکے سے وہ کاغذ لے لیا۔ پڑوس کی بیمار فینیا آنٹی کے پاس میں اس کاغذ کو لے گیا۔ انہوں نے پڑھ کر سنایا :

"اگڑم بگڑم— بمبا بو! اماں کا کہنا مانو اور کام میں ان کی مدد کرو۔”

کاغذ لوٹاتے ہوئے فینیا آنٹی نے پوچھا، "یہ کیا معاملہ ہے؟”

میں نے کہا، "کچھ نہیں، یوں ہی۔” وہ جادو کے الفاظ میں دہرانا نہیں چاہتا تھا کہ کہیں وہ انہیں یاد نہ کر لیں۔

گھر پہنچ کر میں نے کھانے کی میز صاف کی اور دو جوٹھی پلیٹیں رسوئی میں رکھ آیا۔ میں نے خود ہی اپنا بستر ٹھیک کیا اور پہلی بار بنا اماں کی مدد کے ہاتھ منہ دھوئے۔ سونے کی پوشاک پہن کر میں نے مچھلی کے برتن پر انگلی ٹھکٹھکا کر کہا، "اگڑم بگڑم— بمبا بو! سون مچھلی، اماں کے تحفے کے لیے بہت شکریہ۔ مجھے تین پہیوں کی ایک سائیکل دلا دو، جیسی لیووا کے پاس ہے۔”

عام طور پر میں دیر سے سو کر اٹھتا ہوں، قریب دس بجے۔ اس کے بعد آنکھیں ملتے ہوئے رات کے خوابوں کو یاد کرتا ہوں۔ مگر اس دن میں آنکھیں ملتا ہی رہا اور اپنے کان بھی میں نے کھینچے۔ میرے بستر کی بغل میں چم چم کرتی نئی، تین پہیوں کی ایک سائیکل کھڑی تھی۔

سائیکل کی نِکل کی پالش والی گھنٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں سوچنے لگا، "یہ تو سچ مچ جادو ہی ہے۔ خواہش کرنے کی دیر نہیں کہ پوری ہو جاتی ہے۔ مجھے برابر اماں کی مدد کرتے رہنا چاہیئے۔”

آدھا دن میں اپنی سائیکل پر ہی گھومتا رہا۔ جب مچھلی کو کھلانے کا وقت ہوا تو میں نے اس کا سارا چارہ برتن میں انڈیل دیا۔

اماں نے پوچھا، "یہ سائیکل کہاں سے ملی؟”

مچھلی کے برتن کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے جواب دیا، "ہا ہا، تم دیکھتی تو جاؤ، ابھی تو بہت چیزیں آئیں گی۔”

کھانے کے بعد میں کھڑکی کے پاس جا رہا تھا کہ ابا جی نے مجھے بلا کر دھیرے سے کہا، "اب کچھ دنوں تک مچھلی سے کچھ نہ مانگنا۔ کچھ دن آرام کرنے دو اسے۔”

میں نے ابا جی کی صلاح کو غور سے سنا۔ واقعی اس ننھی سی سون مچھلی کو اتنی بھاری سائیکل دکان سے یہاں تک لانے میں بڑی محنت کرنی پڑی ہو گی۔

میں احاطے میں کھیلتا اور سکیئنگ کرتا رہا۔ میں نے برف سے آدمی کا مجسمہ بھی بنایا۔ اس بیچ مچھلی کو ضرور میری یاد آ رہی ہوگی۔ میں نے سوچا، بلے سے اس کا تعارف کرا دیا جائے۔ پہلے بھی وہ بلا اچھل کر کھڑکی پر چڑھ جاتا تھا، پر ابا جی نے اسے اتنی سختی سے سمجھایا تھا کہ وہ دور سے ہی چمکتی ہوئی سون مچھلی کو تاکتا رہتا تھا۔

نئے تعارف سے وہ بڑا خوش ہوا۔ میں نے جب اسے مچھلی کے برتن کے پاس بیٹھا دیا تو مارے خوشی کے اس کی آنکھیں ایک دم گول مول لگ رہی تھیں۔ وہ میاؤں میاؤں کر رہا تھا اور پنجوں کو بار بار اٹھا اور رکھ رہا تھا۔

اس دن جب میں باہر سے لوٹا تو سون مچھلی برتن میں نہیں تھی۔ بلا میری اور پیٹھ کئے فرش پر بیٹھا بڑے پیہار سے کچھ چبا رہا تھا۔ میرے ذہن میں خوف سما گیا اور میں اس کی طرف لپکا۔ اس کی گردن پکڑ کر اپنی طرف گھمائی تو دیکھا مچھلی کی سنہری دم اس کے منہ میں لگی ہوئی تھی۔

میں نے بلے کو ایک گھونسہ جمایا اور پھر کانچ کے برتن میں ہاتھ ڈال کر ٹٹولا کہ شاید سون مچھلی ابھی بھی اس میں ہو۔ پر وہاں کچھ نہیں تھا۔ اوور کوٹ اور ٹوپی پہنے پہنے ہی میں فرش پر ہاتھ پیر پٹک کر رونے لگا۔

چیخ کر میں نے بلے سے کہا، "پکا شیطان ہے! میں تو سون مچھلی سے کہنے والا تھا کہ ہمیں سمندر کے کنارے کی سیر کو لے چلے اور لیووا سے کہہ دے کہ وہ میرا سکیئنگ کا سامان نہ لے۔۔۔ سون مچھلی سے ایک رائفل اور ہوائی جہاز بھی مانگنے والا تھا، تاکہ کچھ کر کے دکھا سکوں۔ پر اب تو سب کچھ تو نے اپنے پیٹ میں بھر لیا۔”

اسی وقت ابا جی آ گئے۔ سردی سے ان کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔

میں چلایا، "ابا جی!” اور سون مچھلی کی دم انہیں دکھا کر کہا، "یہ سب اس بلے کی حرکت ہے۔ یہ شیطان ہے۔۔۔ مار ڈالئے!”

اپنا بریف کیس ایک طرف رکھ کر وہ میرے پاس بیٹھ کر سمجھانے لگے، "بیٹے، روؤ نہیں، رونے سے کیا ہوگا؟”

ہچکیاں لیتے ہوئے میں نے کہا، "میں سمندر کے کنارے جانا چاہتا تھا۔ ایک رائفل مانگنا چاہتا تھا۔۔۔ سب کے لیے تحفے مانگتا۔”

وہ بولے، "اچھا، تو تمہیں اس بات کا دکھ ہے۔ واقعی تمہارا بڑا نقصان ہو گیا۔ میری پوری ہمدردی تمہارے ساتھ ہے۔ مگر یہ سون مچھلی کی دم بھی بہت کچھ کر دکھائے گی۔”

ابا جی کا کہنا صحیح تھا۔ سون مچھلی کی دم ہم نے پھینک دی تھی، مگر وہ کرامات دکھاتی رہی۔ میرے جنم دن پر اور نئے سال پر تحفے آتے رہے۔ ہم لوگ ایک بار سمندر کنارے چھٹیاں منانے بھی گئے۔ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر میں بڑی بڑی دیر تک سون مچھلی کو آواز دیتا رہا تھا، پر وہ پھر کبھی نہیں آئی۔

برسوں بعد میری سمجھ میں آیا کہ ہم سے پیار کرنے والے اور دن رات محنت کرنے والے ابا جی ہی میری سون مچھلی تھے۔

٭٭٭

 

 

 

امر گھوڑا

 

لاطوائی کہانی

 

ایمانتس زیدونئے

Imants Ziedonis

 

ایک بار دنیا بھر کے گھوڑوں کا کلسہ ہوا۔ دور دور سے تمام گھوڑے وہاں اکٹھے ہوئے۔ سب کے رنگ، قد کاٹھی اور عادتیں الگ الگ تھیں۔ کوئی سفید، کوئی کالا، کوئی بھورا تو کوئی کتھئی۔

ایک سفید عربی گھوڑا دوسروں سے بالکل الگ دکھائی پڑ رہا تھا۔ وہ تھا گھوڑوں کا سردار۔ اچانک وہ آگے آیا۔ زور سے ہنہنایا، پھر بولا، "آپ سب کو بہت ضروری صلاح کے لیے بلایا گیا ہے۔ ہم سب پر ایک بڑی مصیبت آ پڑی ہے۔ وقت سے پہلے اگر ہم ہوشیار نہیں رہے تو ہو سکتا ہے، ہمارا نام و نشان مٹ جائے۔”

کچھ دیر رک کر اس نے پھر کہا، "آپ کو معلوم ہی ہے، سائنس نے حمل و نقل کے نئے نئے ذرائع ایجاز کر لیے ہیں— ریل گاڑی، کاریں، بسیں، سکوٹر، سائیکل، ہوائی جہاز۔ پہلے لوگ سفر کے لیے صرف گھوڑے کی سواری ہی پسند کرتے تھے، لیکن اب ہماری نا قدری ہو رہی ہے۔ ہماری کتنی ہی نسلیں ختم ہو چکی ہیں۔ ایسی حالت میں ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیئے۔”

ہال میں سناٹا چھا گیا۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ تبھی ایک کتھئی گھوڑے نے کہا، "کیوں نہ ہم ایک امر گھوڑا بنا لیں۔ پھر تو ہماری نسل کبھی ختم نہیں ہوگی نا!”

یہ بات سب گھوڑوں کو پسند آئی۔ پر یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ امر گھوڑا کیسے بنایا جائے گا۔

"کیا ہماری طرح وہ بھی گھاس کھا کر پیٹ بھرے گا؟” ایک گھوڑے نے پوچھا، "کیسا ہوگا وہ؟”

سفید گھوڑے نے کہا، "میں نے سب سوچ لیا ہے۔ امر گھوڑا نیلے رنگ کا ہوگا، کیونکہ نیلا رنگ آسمان کا ہوتا ہے۔ اس کے دو پر بھی ہوں گے۔ پریوں کی طرح خوبصورت، رنگ برنگے پر ۔۔ ان سے اڑ کر وہ کہیں بھی جا سکے گا۔ وہ صرف نیلے پھول کھائے گا۔ نیلے سمندر یا گہری جھیلوں کا پانی پیئے گا۔ سب اسے دور سے دیکھیں گے، کیونکہ وہ کسی کے پاس نہیں جا سکے گا۔ کسی سے باتیں نہیں کرے گا۔ کوئی اس کا دوست بھی نہیں ہوگا۔”

سبھی گھوڑے دھیان سے سن رہے تھے۔ تبھی سفید گھوڑے نے پھر کہا، "سامنے دو نیلی پہاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کے بیچ ہے ایک گہری نیلی جھیل۔ جو بھی گھوڑا اس جھیل تک سب سے پہلے پہنچے گا، وہی بنے گا امر گھوڑا۔”

سب گھوڑے جھیل کی اور دوڑے لیکن ایک دبلا، چست گھوڑا وہاں سب سے پہلے پہنچا۔ اسی کو امر بننے کے قابل مانا گیا۔ اس کے سر پر رنگ برنگے پھولوں کا تاج رکھا گیا۔

اس گھوڑے نے اچانک جھیل میں چھلانگ لگا دی۔ اور جب جھیل سے باہر آیا تو اس کا رنگ نیلا ہو چکا تھا۔ دو خوبصورت پر بھی اگ آئے تھے۔

گھوڑوں کے سردار نے اس سے کہا، "اب تم وہ امر گھوڑا ہو، جس پر ہماری امیدیں ٹکی ہیں۔ کسی کے پاس مت رکنا۔ کسی سے باتیں بھی مت کرنا۔ جو دوسرے گھوڑے کھاتے ہیں، وہ مت کھانا۔ نہیں تو تم بھی پھر عام گھوڑوں جیسے بن جاؤ گے۔ ہاں، اگر تمہیں کوئی دکھ ہو تو تین بار جھیل کا چکر لگانا، پھر آسمان کی طرف منہ کر کے ہنہنانا۔ سب گھوڑوں کو پتہ چل جائے گا کہ تم ملنا چاہتے ہو۔ ہم آ جائیں گے۔”

نیلے گھوڑے نے سر ہلایا۔ پھر دیکھتے دیکھتے وہ غائب ہو گیا۔

نیلا گھوڑا زمین پر اپنی مرضی سے جہاں چاہتا، گھومتا پھرتا۔ کبھی پھولوں کی گھاٹی میں آرام کرتا تو کبھی آسمان میں اڑتا پھرتا۔ کچھ دن تو اسے یہ سب بہت اچھا لگا۔ لیکن پھر وہ بور ہونے لگا۔ وہ اکیلا تھا، ایک دم اکیلا۔ کس سے باتیں کرے؟ کس سے کہے اپنا سکھ دکھ۔ دھیرے دھیرے اس کی اداسی بڑھتی گئی۔ ایک دن اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ سوچنے لگا، "ایسی نہ ختم ہونے والی زندگی کا کیا فائدہ، جب کوئی ساتھی ہی نہ ہو۔”

وہ بے تحاشہ دوڑتا ہوا اسی جھیل کے کنارے پر آیا۔ تین چکر لگائے۔ پھر آسمان کی طرف منہ کر کے ہنہنایا۔

تبھی بڑے زور کی آواز ہوئی۔ جیسے سینکڑوں بجلیاں کڑکی ہوں۔ زور زور سے گھنٹے بجنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ سبھی گھوڑے دوڑے دوڑے آئے۔ ایک جگہ جمع ہوئے۔

"کیا بات ہے؟ یہ اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟” گھوڑوں کے سردار نے پوچھا۔

نیلے گھوڑے نے اپنی ساری مصیبت کہہ سنائی۔ پھر بولا، "میں سب سے دور رہوں گا، کسی سے کچھ کہوں گا نہیں، تو میرے امر ہونے سے فائدہ ہی کیا؟”

گھوڑوں نے اس کے دکھ کو محسوس کیا۔ بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا، "ٹھیک ہے، نیلا گھوڑا صبح یا شام کے دھندلکے میں چاہے تو بستی میں آ سکتا ہے۔ وہ چاہے تو خواب میں کسی سے بھی باتیں کر سکتا ہے۔”

نیلے گھوڑے نے ہنہنا کر خوشی ظاہر کی۔ پھر غائب ہو گیا۔ دوسرے گھوڑے بھی اپنی اپنی جگہ پر لوٹ گئے۔

اب شہروں کے آس پاس یا باغ باغیچوں میں نیلا گھوڑا دکھائی دینے لگا۔ کوئی پاس آتا تو وہ اچانک غائب ہو جاتا۔ کبھی کبھار اس کے کھروں کے نشان دکھائی پڑتے۔ باغ باغیچوں میں کھلے نیلے پھول اکثر غائب ہو جاتے۔

ایک دن ایک چھوٹی لڑکی انیتا پڑھنے کے لیے گھر کے پاس والے باغ میں چلی گئی۔ بارش کے دن تھے۔ انیتا اپنا نیلے پھولوں والا چھاتا بھی لے کر گئی تھی۔

چھاتا ایک طرف رکھ کر انیتا پڑھنے بیٹھ گئی۔ وہ زور زور سے کہانیوں کی کتاب پڑھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے کتاب بند کی۔ چھاتا اٹھا کر چلنے لگی، تبھی اس کا دھیان چھاتے کے رنگ پر گیا۔ چھاتا بد رنگ ہو چکا تھا۔ اس پر بنے نیلے پھول غائب تھے۔

انیتا حیران رہ گئی۔ گھر آئی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ماں نے کہا، "لگتا ہے، یہ نیلے گھوڑے کا کام ہے۔ وہ نیلے پھول کھاتا ہے نا!”

پر انیتا کسی بھی طرح مطمئن نہیں ہوئی۔ روتی روتی وہ سو گئی۔ خواب میں اسے نیلا گھوڑا دکھائی دیا۔ بولا، "معاف کرنا، انیتا، میں نے تو یوں ہی کھیل کھیل میں تمہیں چونکانے کے لیے ایسا کیا تھا۔ پر تم برا مان گئیں۔ دراصل میں تم سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ بتانا چاہتا تھا، تم جو کہانیاں زور زور سے پڑھ رہی ہو، انہیں میں نے بھی سنا تھا۔ بے حد اچھی لگیں۔”

"ارے، تم تو بول بھی سکتے ہو!” انیتا نے کہا اور خواب میں ہی ہنس پڑی۔

"باتیں کرو گی مجھ سے؟”

انیتا نے اسکول، گھر اور کہانیوں کی کتابوں کے بارے میں ڈھیروں باتیں امر گھوڑے کو بتائیں۔ گھوڑے نے بھی اسے دنیا بھر کی کہانیاں سنائیں۔ وہ ساری دنیا گھوم چکا تھا۔ بہت کچھ جانتا تھا۔ پھر وہ ہنہنایا اور غائب ہو گیا۔

صبح انیتا اٹھی تو اداس نہیں تھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

قیدی کی رہائی

 

جرمن کہانی

 

ایمل ایرک کاسٹنر

Emil Erich Kastner

 

برف اب بھی گر رہی تھی۔ تیزی سے دوڑتے لڑکوں کے منہ سے نکلنے والی سانس نے بھاپ کے غبارے بنائے۔

جیسے ہی وہ ایڈن سنیما پہنچے، مارٹن نے اپنے ساتھیوں سے کہا، "تم سب آگے بڑھو، میں ابھی واپس آؤں گا۔”

ایڈن سینما کے پاس تیسری جماعت کے کچھ طالب علم کھڑے تھے۔ وہ فلم دیکھنا چاہتے تھے اور دروازے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ مارٹن نے ان سے کہا، "ہمیں تم لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ تم فلم بعد میں بھی دیکھ سکتے ہو، لیکن اس سے پہلے کچھ ضروری کام ہے۔ مڈل اسکول کے کچھ ‘جانوروں’ نے روڈی کرایزکام کو پکڑ لیا ہے۔ ہمیں اسے بچانا ہے۔”

"تو کیا ہم تمہارے ساتھ چلیں؟” ٹوبی نامی لڑکے نے پوچھا۔

"نہیں، تم سب پندرہ منٹ میں فورورک سٹراسے پہنچ جاؤ، اپنے ساتھ کچھ اور لڑکوں کو بھی لے آؤ۔ اور ہاں، اپنی ٹوپیاں اپنی جیبوں میں چھپا کر رکھو، ورنہ وہ شک کرنے لگیں گے۔”

"سمجھ گیا، مارٹن!” ٹوبی نے کہا.

"دیکھو، یہ عزت کی بات ہے۔ ہم چہرہ کھونے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔” مارٹن نے اسے ایک بار پھر خبردار کیا۔ پھر وہ بھاگ گیا۔ جلد ہی، وہ اپنے دوسرے ساتھیوں میں شامل ہو گیا۔

وہ مرکزی سڑک کے بجائے پچھلی گلیوں اور اطراف کی گلیوں سے اپنا راستہ بنا رہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ سڑک پر اتنے لڑکوں کو ایک ساتھ دیکھ کر شاید ان کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا تھا۔

ان کا منصوبہ اپنے دوست (روڈی) کو بچانے کا تھا۔ دوسرے سکول کے لڑکوں نے اسے گھر کے تہہ خانے میں بند کر رکھا تھا۔ روڈی کے پاس ان کی تمام نوٹ بک بھی تھیں۔ وہ یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ روڈی کو کہاں رکھا جا رہا ہے۔ اب، وہ ایک دم اچانک حملہ کر کے اسے آزاد کرنا چاہتے تھے۔

جلد ہی وہ مقررہ جگہ پر پہنچ گئے۔ وہ اپنے اگلے اقدام پر غور کرنے لگے۔

فرینک نامی لڑکے نے مشورہ دیا، "میں امن کے سفیر کے طور پر ایگرلینڈ جاؤں گا۔” "بشرطیکہ آپ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں،” میتھیاس نے طنزیہ انداز میں کہا۔

"تو کیا ہوگا اگر کوئی معاہدہ نہیں ہے! کم از کم ہم یہ تو جان لیں گے کہ انہوں نے روڈی کے ساتھ کیا سلوک کیا!” فرینک نے جواب دیا۔

مارٹن نے فرینک کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا جبکہ وہ خود مخالف سمت میں چلا گیا۔

٭٭

ایگرلینڈ کے گھر پہنچ کر فرینک نے گھنٹی بجائی۔ ایگرلینڈ عمارت کی تیسری منزل پر رہتا تھا۔ جیسے ہی گھنٹی بجی، ایک عورت نے دروازہ کھولا۔ یہ ایگرلینڈ کی ماں تھی۔

"میں آپ کے بیٹے کے ساتھ پڑھتا ہوں،۔ کیا وہ گھر پر ہیں؟” فرینک نے پوچھا۔

"تم خود جا کر دیکھ لو، وہ رہا اس کا کمرا۔” ایگرلانڈ کی ماں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔

فرینک اس کمرے کی طرف مڑ گیا۔ اسے دیکھتے ہی ایگرلینڈ اچھل پڑا، "تم ! تم!”

"میں امن کے سفیر کے طور پر آیا ہوں۔ ” فرینک نے کہا ۔ "روڈی کو رہا کرنے کے لیے تمہاری کیا شرائط ہیں؟”

"شرائط! … صرف ایک شرط — ایک خط لکھو جس میں ہمارا جھنڈا پھاڑنے پر معافی مانگو اور روڈی کی رہائی کی درخواست کرو۔”

"اور اگر ہم نا منظور کر دیں تو؟”

"پھر ہم تمہاری کاپیاں جلا دیں گے… اور خدا کی قسم، ہم روڈی کو اس وقت تک قید رکھیں گے جب تک اس کے سر کا ایک ایک بال سفید نہ ہو جائے۔”

فرینک ہنسا۔ اس نے کہا، "یہ میری آخری وارننگ ہے- روڈی کو جانے دو اور ہماری کاپیاں واپس کر دو۔”

"نہیں، کبھی نہیں!”

"پھر ہم اپنے دوست کو آزاد کرنے کے لیے دس منٹ میں وہاں پہنچ رہے ہیں۔”

یہ سنتے ہی ایگرلینڈ نے ایک کالا کپڑا نکالا، اسے کھڑکی سے باہر لہرایا، اور زور سے چلایا، "ہی ہائا!”

ایگرلینڈ کے گھر سے لوٹ کر فرینک نے سبھی ساتھیوں کو ساری باتیں بتا دیں۔ مارٹن بھی تب تک پہنچ چکا تھا۔ اس نے بتایا کہ روڈی کو کہاں رکھا گیا ہے۔ پھر اس نے اپنا منصوبہ بیان کیا: "ہم میں سے آدھے لڑکے جانی کی قیادت میں سڑک سے کوٹھری پر حملہ کریں گے، جبکہ باقی آدھے میرے ساتھ چلیں گے۔”

وہ سب تیار ہو اٹھے۔

تبھی پیچھے سے آواز آئی، "ٹھہرو!”

سب نے چونک کر پیچھے دیکھا۔

ایک صاحب جن کو وہ جانتے تھے وہیں کھڑے تھے۔ سب نے یک زبان ہو کر انہیں سلام کیا، "ہیلو!”

ان صاحب نے ان سے استدلال کیا، "دیکھو، اس طرح لڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی طرف بھی بہت سارے لڑکے ہیں۔” اس کے بعد انہوں نے ایک حل تجویز کیا: "تم سب لڑنے کے بجائے چیمپئن کا انتخاب کیوں نہیں کرتے؟ انہیں بھی ایسا کرنے دیں۔ اگر تمہارا چیمپئن جیت جاتا ہے، تو انہیں قیدی کو غیر مشروط طور پر واپس کرنا ہوگا…”

دونوں فریقوں کو یہ خیال پسند آیا۔

دونوں پارٹیاں سکول کے میدان میں جمع ہوئیں۔ مٹھیاس کو چنا تو مخالف فریق نے واویرکا نامی لڑکے کو۔

کشتی شروع ہوئی۔ لڑکے اپنے اپنے چیمپیئن کے لیے حوصلہ افزائی کا اظہار کرنے لگے۔ کافی دیر بعد نتیجہ سامنے آیا۔ میتھیاس جیت کر ابھرا۔

لیکن اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ ایگرلینڈ نے انکشاف کیا کہ اس کے ساتھی روڈی کو رہا کرنے کو تیار نہیں تھے۔

مارٹن نے کہا، "ایگرلینڈ، تم اچھے لڑکے ہو۔ اپنے دوستوں کو بتاؤ کہ ہم دو منٹ میں حملہ کرنے والے ہیں۔”

جیسے ہی ایگرلینڈ چلا گیا، مارٹن نے اپنے دوستوں کو حکمت عملی کی وضاحت کی: کچھ لڑکے مخالف فریق کو میدان میں قابض رکھیں گے، جبکہ دوسرے روڈی کو بچانے کے لیے ایگرلینڈ کے گھر جائیں گے۔”

دو منٹ بعد دونوں طرف سے برف کے گولے اڑنے لگے۔

اسی دوران مارٹن اور چند ساتھی ایگرلینڈ کے گھر پہنچ گئے۔ روڈی کی حفاظت کرنے والے دو لڑکوں سے نمٹنا ان کے لیے آسان تھا۔ انہوں نے روڈی کو آزاد کیا اور ایک ہی رسی سے دونوں کو باندھ دیا۔

میدان میں واپس مٹھیاس کی قیادت میں لڑکوں نے ایگرلینڈ کے ساتھیوں کو شکست دی۔ مخالفین بھاگ گئے، صرف ایگرلینڈ وہیں کھڑا رہا۔ تھوڑی دیر بعد مارٹن روڈی کے ساتھ میدان میں پہنچا۔ ایگرلینڈ کو دیکھ کر اس نے کہا، "ہم ایگرلینڈ کے ساتھ شرافت سے پیش آئیں گے۔ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح بزدل نہیں ہے… ایگرلینڈ، تم جا سکتے ہو!”

ایک شکست خوردہ جنگجو کی طرح ایگرلینڈ سر جھکا کر چلا گیا۔ اسی دوران لڑکوں نے ایک زوردار قہقہہ بلند کیا- "ہے ہیّا!”

٭٭٭

ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل