ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

بانسری نواز کی واپسی

 

 

 

ڈاکٹر سیما شفیع

 

 

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (۲۹)

 

ترجمہ: کنز العرفان

(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں۔

 

 

____________________________

انتساب

 

اپنے والدین کے نام کہ آج جو کچھ ہوں ان ہی کی بدولت ہوں۔

اپنی محترم استانی ڈاکٹر پروین اعظم کے نام جنہوں نے میڈیکل کے ساتھ ساتھ میرا رشتہ قرآن سے جوڑا۔

____________________________

 

 

 

 

 

 

ایک تعارف

 

امی جی کا گھر پورے محلے کی جان ہے۔ اور کیوں نہ ہو ہر ایک کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ان کے گھر میں نکل ہی آتا ہے۔ امی جی ایک پچھتر سالہ، عبادت گزار، متلون مزاج، نہایت شفیق، پاکیزہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ بڑی حویلی، نیک اولاد اور مال و دولت کی فراوانی کے باوجود امی جی اور ان کے گھرانے کی خاکساری محلے سے باہر بھی مشہور ہے۔ امی جی کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو سب شادی شدہ ہیں۔ چاروں بیٹے حویلی میں اپنے الگ الگ احاطے میں اپنے بیوی بچوں اور ملازمین کے ساتھ مقیم ہیں۔ امی جی کا اپنا علیحدہ احاطہ ہے جس میں بڑے بڑے مہمان خانے دونوں بیٹیوں ان کے بچوں اور ملازمین کے کمرے کے علاوہ دوسرے مہمان رشتہ داروں کی رہائش کا بندوبست بھی ہے۔ احاطے جدا ہونے کے باوجود سب مل کر رہتے ہیں۔ عام دنوں میں شام کی چائے اور رات کا کھانا اور خاص مواقع پر تمام اوقات کے چائے، کھانے پانچ باورچی خانوں میں پکنے کے بعد امی جی کے احاطے میں مل کر کھائے جاتے ہیں۔ شام کی چائے عام طور پر امی جی کے آنگن میں پڑے بڑے سے مسہری نما تخت، (جسے بچے امی جی کا شاہی تخت کہتے ہیں) کے اردگرد پڑی کرسیوں، چارپائیوں اور میزوں پر بیٹھ کر پی جاتی ہے۔

امی جی کی حویلی چونکہ اندرون شہر ایک کشادہ سے محلے میں واقع ہے، جہاں اردگرد کم و بیش آٹھ سے دس بڑے بڑے گھر ہیں مگر ان کے محلے کے ساتھ ہی ایک دو چھوٹے چھوٹے محلے متصل ہیں جہاں لگ بھگ بیس بائیس چھوٹے چھوٹے گھر ہیں۔ جن کے مرد و خواتین مختلف گھروں میں یا دکانوں میں ملازمت کر کے اپنے بچوں کے پیٹ پالتے ہیں۔

روزانہ شام کو امی جی کے آنگن میں ایک چھوٹی سی محفل سجتی ہے، جس میں امی جی گھر کے تمام افراد، محلے کی خواتین اور بچوں کے علاوہ گھر کی ملازم خواتین کے مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرتی ہیں۔ اور قرآنی آیات کی تفہیم و تفسیر پر ایک مختصر سا درس بھی دیتی ہیں۔ آئیے امی جی کے آنگن میں رونما ہونے والی کچھ کہانیوں کے ذریعے ہم بھی قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امی جی کا خاندان

بیٹے: غضنفر ، اسفر ، سفیر ، اسجد

بہوئیں: کرن، ثروت، زینب، شازیہ،

پوتے: احمر، حمزہ، شارق، ریحان، ہادی، ارباز،

پوتیاں: ملائکہ، عروسہ، نئیر، ثوبیہ، سارہ، مسکان، فجر، مناہل،

بیٹیاں: سامعہ، اسماء

داماد : زاہد، اشفاق

نواسے: اشعر، حاشر،

نواسیاں: تہنیت، مروہ، اقصیٰ

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر :1

معجزات کے سفیر

 

 

شام کا وقت تھا اور سب بچے امی جی کے گرد بیٹھے کہانیاں سننے کے لیے جمع تھے۔ ننھی مسکان نے معصومیت سے امی جی کی طرف دیکھا اور بولی۔ "امی جی، عروسہ کہہ رہی تھی کہ ہم بابا آدم کی اولاد ہیں۔ کیا سچ مچ ہم مالی بابا، آدم بابا کی اولاد ہیں؟”

یہ سن کر سب بچے ہنس پڑے۔ نئیر نے مسکان کے گال کو کھینچا اور مسکراتے ہوئے بولی، "مسکان، بے وقوف! مالی بابا کا صرف نام آدم ہے، وہ اللہ کے نبی حضرت آدم علیہ السلام نہیں ہیں۔ وہ تو باغبانی کرتے ہیں، اور حضرت آدمؑ تو اللہ کے پہلے نبی ہیں، جنہیں اللہ نے جنت میں مٹی سے پیدا کیا تھا۔”

مسکان نے اپنے گال کو سہلاتے ہوئے حیرت سے پوچھا، "تو مالی آدم بابا بھی تو سارا دن مٹی میں کام کرتے ہیں؟”

امی جی نے مسکان کو گود میں بٹھا لیا اور نرمی سے کہا، "مسکان بیٹا، نئیر نے ٹھیک کہا۔ مالی بابا ایک عام انسان ہیں، لیکن حضرت آدمؑ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں اللہ نے دنیا کا پہلا انسان اور پہلا نبی بنایا۔ ہم سب ان کی اولاد ہیں، اس لیے انہیں بابا آدم کہا جاتا ہے۔”

عروسہ نے پوچھا:

"امی جی، آخر اللہ نے انبیاء کو اس دنیا میں کیوں بھیجا، میرا مطلب ہے انبیاء کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ نے انسان کو سمجھ بوجھ بھی دی ہے، کیا ہم خود کتابیں پڑھ کر نہیں سمجھ سکتے تھے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟”

امی جی مسکرائیں اور بولیں:

"عروسہ بیٹا، اس کا جواب میں تمہیں ایک قصے کے ذریعے دیتی ہوں۔ غور سے سنو:

 

ایک دن دریا میں ایک شکاری آیا۔ اس نے ایک کانٹے والی ڈوری پر گوشت کا ٹکڑا لگا کر پانی میں پھینک دیا۔ ایک چھوٹی مچھلی نے اس بوٹی کو دیکھا اور اسے کھانے کے لیے لپکی۔ لیکن ایک بڑی مچھلی نے اسے روک لیا اور کہا:

"بیوقوفی مت کرو۔ اس بوٹی کے اندر ایک کانٹا چھپا ہوا ہے جو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ اگر تم نے یہ کھایا، تو کانٹا تمہارے حلق میں چبھ جائے گا، اور تمہارے تڑپنے کی حرکات شکاری تک پہنچ جائیں گی۔ وہ ڈور کھینچ کر تمہیں پانی سے باہر نکال لے گا، تمہیں مارے گا، اور پھر انسان تمہیں آگ پر کھولتے ہوئے تیل میں بھون کر کھا جائیں گے۔”

چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کا مذاق اڑانے لگی اور بولی:

"آپ جاہل ہیں، جو پرانی باتوں پر یقین رکھتی ہیں۔ میں نے سمندر میں ہر طرف گھوم پھر کر خود تحقیق کی ہے، اور مجھے شکاری، آگ، یا کھولتے تیل کا کوئی وجود نہیں ملا۔ آپ مجھے پرانی گھسی پٹی جھوٹی کہانیاں نہ سنائیں!”

یہ کہہ کر چھوٹی مچھلی نے بوٹی کھا لی۔ کانٹا چبھا، وہ تڑپنے لگی، اور شکاری نے اسے پانی سے باہر نکال لیا۔ اس کے بعد بڑی مچھلی کی بتائی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوئی۔

امی جی نے رک کر بچوں کو دیکھا، جو حیرت سے یہ کہانی سن رہے تھے، اور پھر بولیں:

"بیٹا، یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔ انبیاء علیہم السلام ہمیں آنے والے وقت کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ موت کے بعد ایک دنیا ہے، جہاں ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔ کچھ لوگ ان پر یقین کر لیتے ہیں اور اپنی زندگی سیدھے راستے پر گزارنے لگتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی ظاہری سمجھ اور تحقیق پر بھروسہ کرتے ہیں اور انبیاء کی باتوں کو جھٹلا دیتے ہیں۔ لیکن جب موت کا کانٹا چبھ جاتا ہے، تو سچائی ان پر عیاں ہو جاتی ہے، تب واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔”

سب بچے خاموشی سے امی جی کی باتیں سن رہے تھے۔ مسکان نے دھیرے سے کہا:

"امی جی، ہمیں ہمیشہ انبیاء کے راستے پر چلنا چاہیے، ہے نا؟”

امی جی نے محبت سے مسکان کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:

"بالکل بیٹا، اللہ کے انبیاء نے جو راستہ دکھایا ہے، وہی سب سے سیدھا اور محفوظ راستہ ہے۔”

یہ سن کر عروسہ نے فوراً سوال کر دیا۔ "امی جی، قرآن میں کتنے انبیاء کا ذکر ہے؟”

امی جی نے مسکرا کر جواب دیا۔ "قرآن میں پچیس انبیاء کا ذکر ہے، بیٹا۔ ان سب انبیاء کو اللہ نے اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجا تاکہ وہ صحیح راستہ اختیار کریں۔”

اب احمر نے کہا۔ "امی جی، لیکن ہماری اسلامیات کی کتاب میں تو لکھا ہے کہ دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے ہیں، پھر قرآن میں صرف پچیس انبیاء کا ذکر کیوں کیا گیا؟ سب کا ذکر کیوں نہیں؟”

امی جی نے احمر کی طرف دیکھ کر کہا، "یہ بہت اچھا سوال ہے، بیٹا۔ اللہ نے قرآن میں ان انبیاء کا ذکر کیا جن کی زندگیوں اور واقعات میں ہمارے لیے سب سے زیادہ سبق اور ہدایت ہے۔ باقی انبیاء بھی عظیم تھے، لیکن قرآن میں جن کا ذکر ہے، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔”

حمزہ نے جلدی سے پوچھا۔ "امی جی، نبی اور رسول میں کیا فرق ہوتا ہے؟”

امی جی نے کہا۔ "ہمم! یہ بھی بہت اچھا سوال ہے، حمزہ۔ نبی وہ ہوتا ہے جسے اللہ اپنی ہدایت دیتا ہے، اور وہ اپنی قوم کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ رسول وہ نبی ہوتا ہے جسے اللہ نئی شریعت یا کتاب دے کر بھیجتا ہے تاکہ وہ اس پر عمل کروائے۔”

ہادی نے جلدی سے پوچھا۔ "امی جی، شریعت کیا ہوتی ہے؟”

امی جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ "بیٹا، شریعت اللہ کے دیے ہوئے اصول اور قوانین کا مجموعہ ہے۔ یہ لفظ ‘شارع’ سے نکلا ہے، جیسے سڑک یا راستہ۔ جس طرح سڑک کے اصول ہوتے ہیں تاکہ سب محفوظ طریقے سے سفر کریں، اسی طرح شریعت ہمارے لیے زندگی گزارنے کے اصول ہیں تاکہ ہم سیدھے راستے پر رہیں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔”

اب مناہل نے کہا۔ "امی جی، کیا قرآن میں مذکور تمام انبیاء ایک ہی نسل سے تھے؟ مطلب جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے، اور سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے، تو کیا نبوت اسی طرح باپ سے بیٹے کو وراثت میں ملی؟ امی جی ہمیں ذرا قرآن میں مذکور ان پچیس انبیاء کے نام اور ان کی قوموں کے بارے میں بھی بتائیں۔”

امی جی نے مناہل کے سوال کو سراہتے ہوئے کہا۔ "بہت خوبصورت سوال ہے، بیٹا۔ تمام انبیاء ایک ہی نسل سے نہیں تھے۔ اللہ نے ہر قوم میں نبی بھیجے، اور نبوت کسی کی ذاتی ملکیت یا وراثت نہیں تھی۔ یہ اللہ کا انتخاب ہوتا تھا کہ کس کو نبی بنایا جائے۔ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت یوسفؑ اور حضرت یعقوبؑ کے معاملے میں ضرور نبوت ایک ہی خاندان میں تھی، لیکن دیگر انبیاء مختلف قوموں سے آئے۔ اب میں آپ کو قرآن میں مذکور انبیاء کے نام اور ان کی قوموں کے بارے میں بتاتی ہوں۔ غور سے سنیں:

حضرت آدمؑ پوری انسانیت کے والد، اللہ نے انہیں مٹی سے بنایا وہ دنیا کے پہلے انسان تھے۔ اللہ نے انہیں بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور تمام چیزوں کے نام اور علم سکھایا۔

حضرت نوحؑ کی قوم کو طوفان سے سبق ملا، انہیں آدم ثانی یعنی دوسرا آدم بھی کہا جاتا ہے کیونکہ طوفان نوح نے ساری دنیا کو تباہ کر دیا تھا صرف وہ انسان اور جانور بچ گئے تھے جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ اللہ نے انہیں ایک عظیم کشتی بنانے کی ہدایت دی، جس میں اللہ کے ماننے والے اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا بچا لیے گئے، جب کہ طوفان نے نافرمان قوم کو ہلاک کر دیا۔

حضرت ادریسؑ پہلے نبی جنہوں نے قلم سے لکھنا سکھایا۔ انہیں اللہ نے آسمان پر بلند کیا اور قلم کے ذریعے علم سکھایا۔

حضرت ہودؑ قوم عاد کو ہدایت دینے کے لئے دنیا میں آئے، قوم عاد اپنے بہت بڑے قد اور مضبوط جسامت کے لئے مشہور ہے۔ انہوں نے قوم عاد کو بار بار خبردار کیا، اور ان کی بداعمالیوں کے نتیجے میں ایک زبردست آندھی کے ذریعے ان پر عذاب آیا۔

حضرت صالحؑ نے قوم ثمود کو اللہ کا پیغام دیا، حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ نے اونٹنی کا معجزہ عطاء فرمایا تھا۔ اللہ نے ان کے معجزے کے طور پر قوم ثمود کے لیے ایک زندہ اونٹنی تخلیق کی، جو ایک چٹان سے نکلی تھی۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے والد کی قوم کو توحید کا درس دیا، کیونکہ ان کے والد بت پرست تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ یعنی اللہ کے دوست تھے۔ ان کو اللہ نے کئی معجزے عطا فرمائے جیسے انہیں آگ میں ڈال دیا گیا، لیکن اللہ نے آگ کو ان کے لیے ٹھنڈا کر دیا۔ اس کے علاوہ، انہیں بیت اللہ کی تعمیر کا شرف بھی حاصل ہوا۔

حضرت لوطؑ نے اپنی قوم کو برے کاموں سے روکا، ان کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی بد اعمال قوم کو الٹ کر ہلاک کر دیا۔

حضرت اسماعیلؑ نے مکہ کے لوگوں کو ہدایت دی، انہوں نے اللہ کے حکم پر قربانی کے لیے خود کو پیش کیا، اور اللہ نے ان کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا۔ اسی لیے انہیں ذبیح اللہ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت اسحاقؑ بنی اسرائیل کے جد امجد تھے، انہیں اللہ نے نبوت اور برکت عطا کی، اور ان کی نسل میں انبیاء پیدا کیے۔

حضرت یعقوبؑ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے والد تھے۔ اللہ نے انہیں صبر اور دعاؤں کے ذریعے ان کے بیٹے حضرت یوسفؑ سے دوبارہ ملا دیا۔

حضرت یوسفؑ نے مصر کی قوم کو سچائی اور عدل سکھایا۔ انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا گیا، اور مصر کے خزانے کا انچارج بنایا گیا۔

حضرت شعیبؑ نے قوم مدین کو دھوکہ دہی سے منع کیا۔ ان کی دعا کے نتیجے میں قوم مدین پر عذاب نازل کیا گیا، جو زمین لرزنے کی صورت میں تھا۔

حضرت ایوبؑ صبر کی علامت تھے۔ اللہ نے حضرت ایوبؑ سے ان کی بیماری کے دوران صبر کا امتحان لیا، اور پھر انہیں شفا دے کر نعمتیں عطا کیں۔

حضرت ذوالکفلؑ عدل کرنے والے نبی تھے۔ اللہ نے انہیں انصاف اور صبر کی علامت بنایا گیا۔

حضرت موسیٰؑ فرعون اور بنی اسرائیل کو ہدایت دینے کے لیے دنیا میں تشریف لائے۔ اللہ نے انہیں کئی معجزات عطا کیے، جیسے ید بیضاء (روشن ہاتھ)، عصا کا سانپ بن جانا، اور دریائے نیل کو دو حصوں میں تقسیم کرنا۔ من و سلوی کا نزول وغیرہ۔

حضرت ہارونؑ کو اللہ نے حضرت موسیٰؑ کے معاون کے طور پر نبوت دی گئی، اور وہ فصاحت و بلاغت میں ماہر تھے۔

حضرت داؤدؑ بنی اسرائیل کے عظیم بادشاہ تھے۔ اللہ نے انہیں لوہا نرم کرنے کا معجزہ دیا اور انہیں زبور عطا کی۔ ان کی آواز میں بے پناہ حسن تھا۔

حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے جنات، ہواؤں اور جانوروں پر اختیار دیا۔ انہوں نے جنات اور جانوروں پر حکومت کی۔ ان کے معجزات میں چیونٹیوں اور پرندوں کی زبان سمجھنا بھی شامل تھا۔

حضرت الیاسؑ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنی قوم کو توحید کا درس دیا، اور ان کی دعا سے اللہ نے بارش کو روکا اور پھر دوبارہ برسایا۔

حضرت الیسعؑ نے اپنی قوم کو سیدھا راستہ دکھایا۔ انہیں معجزات کے ذریعے اپنی قوم کو ہدایت دینے کا اختیار دیا گیا۔

حضرت یونسؑ کو اللہ نے ایک لمبے عرصے تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا، جہاں انہوں نے اللہ سے دعا کی، اور اللہ نے انہیں وہاں سے نجات دی۔

حضرت زکریاؑ نے اپنی قوم کو صبر اور دعا کا درس دیا۔ اللہ نے انہیں بڑھاپے میں اولاد عطا کی، اور ان کی دعاؤں کو قبول کیا۔

حضرت یحییٰؑ سچائی اور عدل کے علمبردار تھے۔ انہیں بچپن سے حکمت عطا کی گئی، اور وہ ہمیشہ حق بات کرتے تھے۔

حضرت عیسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو معجزات دکھائے۔ اللہ نے انہیں مُردوں کو زندہ کرنے، پیدائشی اندھوں کو بینائی دینے، کوڑھیوں کو شفا دینے، اور مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانے کے معجزات دیے تھے۔

حضرت محمدؐ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اللہ نے آپؐ کو پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اور آپؐ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم اللہ کے آخری نبی ہیں جو شریعت بھی لائے اور ہدایت بھی، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ کو بھی اللہ نے معجزات عطا فرمائے، آپؐ کو سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید عطا ہوا، جو قیامت تک ہدایت کا ذریعہ ہے۔”

"اور امی جی یہ بھی کہ قرآن کا نزول باقی آسمانی کتابوں کی طرح ایک کتاب کی شکل میں نہیں ہوا بلکہ قرآن کو اللہ نے اپنے برگزیدہ فرشتے جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم پر باقاعدہ وحی کی صورت آہستہ آہستہ تربیت کے ساتھ تقریباً 23 برس کے عرصہ میں اتارا۔”

امی جی سانس لینے کو رکیں تو ہادی نے فورا ٹکڑا جوڑا۔

"بالکل!، اور نزول قرآن کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب آپؐ چالیس برس کے تھے اور یہ سلسلہ ان کی وفات سنہ ۱۱ھ تک جاری رہا۔” حمزہ کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ اس نے مزید معلومات فراہم کیں۔

امی جی نے مسکرا کر سب کو دیکھا اور سر ہلاتے ہوئے اپنی بات کو دوبارہ وہیں سے جوڑا۔

"اس کے علاوہ، مکہ سے بیت المقدس تک ایک رات میں سفر کرنا جسے قرآن نے اسراء کا نام دیا، اور سفر میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام پیغمبروں سے ملاقات اور با جماعت نماز، پھر بیت المقدس سے آسمانوں تک کا سفر جسے قرآن نے معراج کہا، سفر معراج میں اللہ سے ملاقات اور کلام، یہ سب آپؐ کے معجزات ہیں۔

اور ہاں! انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کرنا جس کے اثرات آج بھی چاند پر موجود ہیں اور کنکریوں کا آپؐ کے ہاتھ میں کلمہ پڑھنا وغیرہ اس کے علاوہ بھی کئی معجزات ہیں۔

ریحان نے حیرت سے کہا۔ "امی جی، یہ بُراق کیا ہے؟، اور کیا قرآن میں تمام انبیاء کی کہانیاں موجود ہیں؟ یہ کتنی دلچسپ کہانیاں ہیں! آپ ہمیں سنائیں ناں!”

امی جی نے مسکرا کر کہا۔ "بیٹا بُراق اس سواری کا نام ہے جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے شب معراج میں مکہ سے بیت المقدس اور پھر آسمانوں تک کا سفر کیا۔ بُراق دراصل عربی لفظ برق سے مشتق یعنی نکلا ہے، جس کے معنی ہیں بجلی۔ احادیث سے ثابت ہے چونکہ اس مخلوق کی رفتار بجلی کی طرح تھی اور اس کا رنگ بھی آسمانی بجلی کی طرح چمکیلا سفید تھا اس لئے اسے بُراق کا نام دیا گیا۔ اور ان شاء اللہ، میں آپ سب کو قرآن میں مذکور انبیاء کی کہانیاں الگ الگ تفصیل سے سناؤں گی، کیونکہ ان کہانیوں سے ہمیں زندگی گزارنے کے بہت سے اسباق ملتے ہیں، جیسے ہمیشہ سچ بولیں، اچھے اخلاق اپنائیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں وغیرہ۔”

سب بچوں نے خوش ہو کر کہا۔ "امی جی، ہمیں بہت مزہ آیا! ہم ضرور سنیں گے۔”

٭٭٭

 

 

 

کہانی نمبر :2

سَبْحٌ

 

(تیراکی/ فرض کی ادائیگی میں سرگرمِ عمل)

 

آنگن میں بیٹھی سب لڑکیوں کا ہنس ہنس کر برا حال تھا!

تہنیت بیچاری سب کے درمیان سمٹی سی بیٹھی تھی۔ چہرہ شدت جذبات سے سرخ ہوا جا رہا تھا، اب یہ طے کرنا مشکل تھا کہ وہ کونسی جذباتی کیفیت میں تھی۔

شرم!

یا غصہ!

امی جی سب بچیوں کو یوں کھلکھلاتے دیکھ کر مسکرائیں اور بے اختیار ان کے دل سے دعا نکلی!

یا اللہ انہیں یوں ہی خوش و خرم رکھ، صراط مستقیم اور خوش بختی عطاء فرما، اور میرے سب بچوں کو اپنے حفظ امان میں رکھ! آمین!

مسکراتی ہوئی باہر برآمدے میں آئیں تو بچیوں کے قہقہے دبی دبی مسکراہٹوں میں تبدیل ہو گئے۔

"کیا لطیفے سنائے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟

ہم بھی تو سنیں۔۔۔۔!”

امی جی نے بڑے پیار سے سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"امی جی۔۔۔۔! وہ۔۔۔۔!”

"تہنیت کہہ رہی ہے کہ اسے تیراکی سیکھنی ہے، کیونکہ۔۔۔۔۔۔”

"ہی۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔”

مناہل اپنی ہنسی پر کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔

"کیونکہ۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟”

امی جی نے حیرت سے مناہل اور پھر باری باری سب کے چہروں پر نظر دوڑائی۔

"امی جی۔۔۔ وہ۔۔۔!”

"تہنیت کا کہنا ہے کہ تیراکی سیکھنے کا حکم قرآن میں ہے۔۔۔۔۔۔!”

"اور۔۔۔ اور، یہ ہم پر فرض ہے!”

مناہل نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی پر بند باندھا۔

"امی جی! یہ میں نہیں کہہ رہی یہ میری ہم جماعت عائشہ کو اس کی استانی نے بتایا ہے کہ قرآن مجید میں سورہ الحدید کا پہلا لفظ ہے۔ "سَبَّحَ” جس کا مطلب ہے”تیراکی!”

اور ہم سب کو تیراکی سیکھنی چاہئیے۔ مگر فرض کا لفظ نہیں استعمال کیا۔ یہ اپنی طرف سے گرہ لگا رہی ہیں!”

تہنیت نے جلدی جلدی اور قدرے روہانسی ہو کر اپنی صفائی پیش کی۔

"تو۔۔۔۔۔ اس میں ہنسنے والی کیا بات تھی؟”

امی جی کی حیرت بدستور قائم تھی۔

"اور اگر تہنیت یہ بھی کہہ دے کہ تیراکی فرض ہے تو بھی غلط نہیں!”

"کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

ایک ساتھ بہت سی حیرت زدہ آوازیں نکلیں۔

"امی جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

"تیراکی فرض ہے؟”

ثوبیہ اور مناہل کے منہ سے ایک ساتھ ایک ہی سوال برآمد ہوا۔

"بھئی سورہ الحدید تو یہی کہہ رہی ہے!”

امی جی نے شرارتی نظروں سے بچیوں کی جانب دیکھا پھر چمن میں کرکٹ کھیلتے پوتوں اور نواسوں پر ایک نظر ڈالی جو حیرت سے اپنا کھیل روک کر امی جی کی جانب دیکھ رہے تھے۔

"امی جی!۔۔۔کیا تیراکی مردوں اور عورتوں سب پر فرض ہے؟”

احمر کھیل چھوڑ کر امی جی کی طرف آتے ہوئے مستفسر ہوا۔

"بالکل جس طرح علم کا حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔ بالکل اسی طرح!”

امی جی کے جواب نے سب کو مزید ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

اشعر، حاشر ، حمزہ، شارق، ریحان، ہادی، ارباز، اور تمام لڑکیاں عروسہ، نئیر، ثوبیہ، سارہ، مسکان، فجر، مناہل، تہنیت، مروہ، اور اقصیٰ سب ہی امی جی کے اردگرد جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے۔

"مگر علم کا تیراکی سے کیا مقابلہ؟”

عروسہ نے پوچھا،

گویا کہ حیرتوں کے پہاڑ تھے جو ان کے سروں پر ٹوٹ رہے تھے۔

"ہممم۔۔۔”

امی جی نے دماغ میں الفاظ ترتیب دینا شروع کئے، پھر گویا ہوئیں۔

"سورہ الحدید کی پہلی آیت کسے یاد ہے؟”

"مجھے!”

تہنیت نے فورا ہاتھ اٹھایا۔

"سناؤ!”

امی جی نے کہا۔

"اعوذ بالله من الشيطن الرجيم.”
"بسم الله الرحمن الرحيم.”
"سَبَّحَ لِلّـٰهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ ۝”

"اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔”

تہنیت نے بڑے جوش و جذبے سے پہلی آیت مع ترجمہ قرأت سے پڑھی۔

"ہمممم”

” چلو بھئی تہنیت نے تو آسان کر دیا ترجمہ کر کے!”

"اب بتاؤ زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ کیا کر رہے ہیں؟”

امی جی نے سوال کیا۔

"اللہ کی پاکیزگی بیان کر رہے ہیں!”

سب نے مل کر جواب دیا۔

"اور اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟”

امی جی نے ایک اور سوال کیا۔

"تسبیح۔۔۔!”

مناہل نے کچھ ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔

"بالکل!”

"تسبیح!”

"اب لفظ تسبیح کا غور سے جائزہ لیتے ہیں۔ حرف بہ حرف۔ کیونکہ اگر ہم نے تدبر کرنا ہے۔ اور تدبر کا مطلب ہے تعاقب کرنا۔تو ہمیں قرآن کے الفاظ کو مکمل طور پر سمجھنا ہوگا۔”

"امی جی! سمجھنے کے لئے تعاقب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟”

ہادی نے سوال داغا۔

” دراصل قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے، جامع کا مطلب جانتے ہو ناں؟”

امی جی نے درمیان میں سوال کیا مبادا بچے بات کو نہ سمجھ رہے ہوں۔

"جی جی ، مکمل”

اب کے حاشر نے جواب دیا۔

"ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے، جس میں آخرت تک کے مسلمانوں کے لئے زندگی گزارنے کا مکمل نظام موجود ہے۔”

"صرف مسلمانوں کے لئے؟”

اقصٰی نے پوچھا۔

"قرآن کون پڑھتا ہے؟”

امی جی نے بھی جواباً سوال کر دیا۔

"مسلمان!”

ننھی مسکان نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

"ہاں!۔۔۔۔۔۔۔۔”

امی جی نے ساتھ ہی بیٹھی مسکان کو پیار کیا۔

"ویسے تو قرآن کے مخاطب تمام انسان ہیں، اور دنیا میں اپنا مقررہ وقت یعنی زندگی گزارنے کا طریقہ سب کے لئے ہے۔ پورا چارٹر آف لائف ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کا لکھا ہوا ایک مکمل منشور یا دستور یا آئین یا اصولوں کی فہرست جو آپ کو آسان لگے وہ سمجھیں۔ مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن ہمیں اگر براہ راست بھی ایک بات بتا رہا ہے، تو اس کے پیچھے بھی کچھ پہیلیاں پوشیدہ ہوتی ہیں اور انہیں پہیلیوں کا ہمیں پیچھا کر کے انہیں بوجھنا ہوتا ہے۔”

"امی جی! کوئی مثال دے کر سمجھائیں ناں!”

مناہل کے کہنے پر حاشر اور احمر نے بھی سر ہلا کر اس کی بات کی تائید کی۔

"مثال۔۔۔۔۔، جیسے قرآن میں جگہ جگہ یہ دو الفاظ بطور حکم ہمیں نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”

"وَأَقِیمُوا الصَّلَاةَ”

"اب اس کا ترجمہ کیا ہے؟”

"صلواة قائم کرو! نہ کہ نماز پڑھو”

"ان دونوں میں کیا فرق ہے؟”

اشعر نے پوچھا۔

"نماز پڑھنے۔۔۔۔۔۔ اور قائم کرنے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن میں صرف نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے بلکہ نماز قائم کرنے کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ اگر صرف نماز پڑھنے کا حکم ہوتا تو زندگی میں ایک آدھ بار نماز کا ادا کر لینا ہی کافی ہوتا، کیوں؟”

امی جی نے سب کی طرف دیکھا۔

"بالکل”

فجر ترنت بولی۔

"اور امی جی! میرا خیال ہے کہ صرف نماز پڑھنا، تو زبان سے کچھ کلمات اور آیات کی ادائیگی ہے، اس کے علاوہ اٹھ بیٹھ کر کچھ ارکان کا بجا لانا ہے۔ جبکہ نماز کو احادیث میں دین کا ستون کہا گیا ہے: ’’الصلاۃ عماد الدین‘‘۔ تو ستون پڑھنے کی چیز تو نہیں ہوتی ناں؟ بلکہ ستون کو تو عمارت کو سہارا دینے کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔”

"اور ستون سیدھا کھڑا کر کے قائم کیا جاتا ہے، تاکہ دین کی عمارت قائم رہے!”

فجر کی تفصیل بیان کرنے پر نئیر بھی پیچھے رہنے والی نہیں تھی، لہٰذا اس نے بھی ترنت ٹکڑا جوڑا۔

اتنی سیر حاصل بحث شروع ہو چکی تھی۔ چھوٹے بڑے سب بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔

حاشر کہاں پیچھے رہنے والا تھا فوراً بولا۔

"کچھ ماہ پہلے ہمارے اسلامیات کے استاد ہمیں پڑھا رہے تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ظاہری اور باطنی حقوق ادا کئے جائیں۔”

"نماز کے ظاہری حقوق یہ ہیں کہ ہمیشہ، ٹھیک وقت پر پابندی کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور نماز کے فرائض، سنتیں اور مستحبات کا خیال رکھا جائے اور تمام مفسدات و مکروہات سے بچا جائے۔ جبکہ باطنی حقوق یہ ہیں کہ آدمی دل کو غیرُ اللہ کے خیال سے پاک کر کے اللہ کے حضور متوجہ ہو۔”

"یعنی نماز کے قیام کے لئے جسمانی اور روحانی پاکیزگی ضروری ہے!”

مروہ نے پہلی مرتبہ گفتگو میں حصہ لیا۔

"بالکل۔۔۔۔۔ اور جگہ اور لباس بھی پاک ہونا چاہئیے!”

عروسہ بولی۔

"اور اگر نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھی جائے گی، تو لوگ آپس میں ملیں گے۔ ایک دوسرے سے کچھ سیکھیں گے۔ ہے ناں۔۔۔۔۔۔؟”

"بلکہ ایک دوسرے کے حالات جان کر ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔”

حمزہ کی بات کو شارق نے آگے بڑھایا۔

"ہاں۔۔۔۔ اور جب لوگ ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوں گے، تو ایک بہترین معاشرہ قائم ہو گا!”

ریحان نے نماز کے قیام کا مقصد بیان کر دیا۔

"بس یہی ہے تدبر یعنی تعاقب جو آپ سب نے ابھی کیا، ایک پہیلی جو سب نے مل کر بوجھی! آؤ اب دوسری پہیلی بوجھیں، یعنی تیراکی فرض ہے!”

امی جی جو نہایت محبت سے سب بچوں کو بات سے بات نکالتے دیکھ رہی تھیں، ان کے خاموش ہونے کے بعد بولیں۔

سب بچے خاموشی سے امی جی کی طرف دیکھنے لگے۔

"عربی ایک بہت دلچسپ زبان ہے۔ اس میں بظاہر بڑے لمبے چوڑے الفاظ ہیں لیکن در حقیقت ہر لفظ صرف تین حروف کا بنا ہے۔ چار حروف بھی ہوتے ہیں لیکن بہت کم۔

ان تین حروف کو کسی بھی لفظ کا روٹ ورڈ کہتے ہیں، یعنی جڑ یا بنیادی لفظ”

تو ہم بات کر رہے تھے کہ ‘زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ کیا کر رہے ہیں؟’

"اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے رہے ہیں!”

‘اور اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کو عربی میں تسبیح کہا جاتا ہے!'”

امی جی نے دوبارہ وہیں سے سلسلہ جوڑا۔

"عام طور پر تسبیح کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں اس تسبیح کا خیال آتا ہے!”

امی جی نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح دکھائی۔

"پھر تسبیح کے خیال کے ساتھ ہی کیسی شخصیت ذہن میں آتی ہے؟”

انہوں نے پھر سوال کیا تاکہ بچے بور نہ ہوں اور موضوع سے بندھے رہیں۔

"آپ۔۔۔۔۔!”

"چوکیدار بابا”

"چاچا بابو”

"بوڑھے لوگ”

"پیر فقیر”

"مولوی صاحب”

” مہروش کی دادی”

مختلف جوابات سامنے آئے۔

"کبھی اپنا آپ ذہن میں آیا؟۔۔۔۔۔ نہیں ناں!۔۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے ذہن میں تسبیح کے حوالے سے جو خاکہ بنا ہے ہم اپنے آپ کو اس سانچے میں فٹ نہیں دیکھتے۔ اس لئے کہ ہمیں تسبیح کے معنی ہی معلوم نہیں۔ اب لفظ تسبیح کا غور سے جائزہ لیتے ہیں۔ حرف بہ حرف۔”

تسبیح کا روٹ ورڈ ہے ’س ب ح‘ یعنی سبح۔

سَبَّحَ کے کئی معنی ہیں جیسے، تیرنا، پاکی، آزادی، خود کو اللہ کے سپرد کر دینا، پھیلنا، بہت کام کرنا، محنت کرنا وغیرہ۔۔۔۔۔”

"مگر اس کا اصطلاحی معنی ہے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا کیونکہ وہی ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہے۔ آزاد ہے۔”

"سَبَّحَ صرف اللہ کی تعریف کرنا نہیں، بلکہ مسلسل تعریف کرنا ہے۔ اس میں مسلسل کا معنی پایا جاتا ہے۔”

"واپس اسی لفظ پہ آتے ہیں جو سَبَّحَ کا اصل معنی ہے۔”

"سَبَّحَ کہتے ہیں … تیرنے کو۔ چاہے وہ فضا میں ہو، پانی میں یا خلا میں جیسے سیارے اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔”

"تیرنا کیا ہوتا ہے؟”

"تیرنے والے لفظ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کے معنی میں کیوں استعمال کیا؟”

"اب تصور کریں، کہ آپ نے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے اور درمیان میں سمندری یا فضائی راستہ ہے۔ کیسے پہنچیں گے؟”

"سمندری جہاز”

"ہوائی جہاز”

"کشتی بھی ہو سکتی ہے”

"ہیلی کاپٹر”

"ٹائر ٹیوب”

"تیر کر”

"تیراکی”

"سوئمنگ”

پھر مختلف جوابات آئے۔

"اب تیرنے کے عمل کو ذہن میں لائیں!”

امی جی نے ایک اور تصور کی کھڑکی کھولی۔

"اچھا یہ بتائیں تیرنے کے لیے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟”

"پانی!” سب نے ایک ساتھ کہا۔

"شاباش!” امی جی نے خوش ہو کر کہا۔ "اور بتاؤ، اڑنے کے لیے کیا چاہیے؟”

"ہوا!” احمر نے فوراً کہا۔

امی جی نے ذرا آنکھیں سکیڑ کر پوچھا،

"ہوا تو چاروں طرف موجود ہے، پھر ہم کیوں نہیں اڑ سکتے؟”

عروسہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا،

"کیونکہ اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہییں!”

"شاباش!” امی جی نے کہا،

"بالکل ٹھیک۔ اب سوچو، اگر ہم پرندوں کی طرح قدرتی پر نہ رکھتے ہوئے پریکٹس بھی کریں، تو کیا ہم ان کی طرح اڑ سکتے ہیں؟”

"نہیں!” سب نے ایک ساتھ کہا۔

امی جی نے مسکرا کر کہا،

"ہاں، ہم پرندوں کی طرح تو نہیں اڑ سکتے، مگر ہم انسانوں کی طرح ضرور اڑ سکتے ہیں۔

جیسے ہم مچھلی کی طرح پانی کے اندر نہیں تیر سکتے، مگر ہم انسانوں کی طرح پانی کی سطح پر تیر سکتے ہیں۔”

احمر نے حیرت سے کہا،

"امی جی، انسانوں کی طرح تیرنے کی تو سمجھ آ گئی، مگر یہ انسانوں کی طرح اڑنا کیسا ہوتا ہے؟”

امی جی نے پیار سے سمجھایا،

"دیکھو بیٹا، ہم مچھلی نہیں ہیں، مگر پانی کی سطح پر تیرنا سیکھ لیتے ہیں۔

اسی طرح ہم پرندے نہیں، مگر ہوائی جہاز بنا کر ہوا میں سفر کر سکتے ہیں۔

انسانوں کی طرح اڑنے اور تیرنے کا مطلب ہے، عقل، محنت، صبر، ہمت، سیکھنے کے عمل اور مشق سے قدرت کے اصولوں کے قریب پہنچ جانا۔”

"اوہ! اب سمجھ آیا!” احمر نے قہقہہ لگایا۔

امی جی نے مسکرا کر کہا،

"چلو اب یہ بتاؤ، کیا ہم زمین کے اندر تیر سکتے ہیں؟”

"نہیں!” ریحان نے جواب دیا۔

"کیوں نہیں؟”

"کیونکہ تیرنے کے لیے پانی چاہیے!” ریحان نے فوراً کہا۔

امی جی نے سر ہلاتے ہوئے کہا،

"بالکل ٹھیک۔ ہم مٹی سے بنے ہیں، یہ مٹی ہمارا گھر ہے، ہمارا کھانا پینا، ہماری زندگی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔

اسی طرح مچھلی کا گھر پانی ہے اور پرندے کا گھر ہوا، ان کی زندگی بھی انہی سے جڑی ہوئی ہے۔

اسی لیے جیسے مچھلیاں ہوا میں نہیں تیر سکتیں اور پرندے پانی میں نہیں اڑ سکتے اسی طرح انسان بھی ہر وقت ہوا یا پانی میں نہیں رہ سکتا۔”

تہنیت نے سوچتے ہوئے کہا،

"انسان کو تیرنے کی ضرورت کب پڑتی ہے؟” امی جی نے پوچھا۔

"جب وہ کسی سیلاب یا طوفان میں پھنس جائے!” ریحان نے فوراً جواب دیا۔

"بالکل ٹھیک۔” امی جی نے شفقت سے کہا،

"یعنی تیرنے کی ضرورت خاص حالات میں پیش آتی ہے، جب انسان کو بچاؤ کی ضرورت ہو۔ ایسے ہی جیسے ہوائی جہاز ہر وقت نہیں اڑتا، بلکہ جب ہمیں لمبا سفر کرنا ہوتا ہے، تب ہم ہوا میں پرواز کرتے ہیں۔”

احمر نے بات آگے بڑھائی،

"یعنی ہم تیرنا یا اڑنا تب ہی استعمال کرتے ہیں جب کوئی خاص ضرورت ہو۔”

امی جی نے مسکراتے ہوئے کہا،

"درست کہا۔ مگر یاد رکھو، اگر انسان عام حالات میں تیراکی نہ سیکھے، اور اس کی پریکٹس یعنی مشق نہ کرے، تو خاص حالات میں کیا ہو گا؟

وہ پانی میں ڈوب جائے گا، طوفان میں بہہ جائے گا۔

اسی لیے عقل مند وہی ہے جو پرسکون دنوں میں بھی تیراکی سیکھتا رہے، تاکہ مشکل وقت میں وہ خود کو بچا سکے۔”

مناہل نے آہستہ سے کہا،

"امی جی، یہ زندگی بھی ایک سمندر ہی ہے۔ اگر ہم اس میں تیرنا نہ سیکھیں، تو ڈوب سکتے ہیں۔”

امی جی نے مسکرا کر کہا،

"بالکل میری جان، یہی اصل بات ہے۔ زندگی کے سمندر میں جو تیرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کسی طوفان سے نہیں ڈرتا۔ زندگی میں تیرنا سیکھنے کا مطلب ہے علم، صبر، محنت، ہمت اور تجربہ حاصل کرنا۔ جو انسان عام دنوں میں خود کو سنبھالنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ مشکل وقت میں کبھی نہیں ڈوبتا۔”

"کیا تیراکی صرف مشکل حالات میں ہی کام آتی ہے؟۔۔۔۔۔۔ معذرت آپ کی بات کاٹی!”

احمر نے معذرت خواہانہ انداز میں پوچھا۔

"اس کا جواب آپ سب دو گے! کیونکہ میں جاننا چاہوں گی کہ میری بات آپ کے دل میں کتنی حد تک اتری!”

امی جی نے استفہامیہ نظروں سے بڑے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"ہنہہ” مناہل (جو میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہے) نے کھنکھار کر گلہ صاف کیا پھر گویا ہوئی۔ "میرا خیال ہے کہ تیراکی کا عمل دخل ہماری روزمرہ زندگی میں بھی اتنا ہی ہے جتنا مشکل حالات میں، کیونکہ اگر ایک ڈاکٹر طب کے سمندر میں تیراکی میں مہارت حاصل نہیں کرے گا تو مریضوں کو بیماریوں کے طوفان سے کیسے بچائے گا۔”

"شاباش! میری جان یعنی میری تیراکی کی مہارت کام آ گئی!” امی جی خوشی سے سرشار ہو گئیں۔

"جی بالکل امی جی اگر آپ جیسے اساتذہ علم کے سمندر میں تیراکی کی مہارت نہیں حاصل کریں گے تو، ہم جیسے نادان شاگرد زندگی کے اس پل صراط کو کیسے پار کر پائیں گے۔”

ان کا سب سے بڑا پوتا ریحان (جس کا انجنیئرنگ میں آخری سال تھا۔) جوش جذبات سے آبدیدہ ہو کر گویا ہوا۔

"ہاں اور اگر آپ انجنیئرز اپنے علم کے سمندر میں تیراکی کی مہارت حاصل نہیں کرو گے تو تمام بلڈنگز، پل، سڑکیں وغیرہ ختم ہو جائیں، دنیا ویرانوں میں تبدیل ہو جائے۔ ہے ناں!”

احمر نے فوراً ریحان کے شعبے کی اہمیت اجاگر کی۔

"پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ تیراکی ہم سب پر فرض ہے؟”

تہنیت نے بڑے طمطراق سے اکڑ کر کہا۔

"امی جی مجھ پر بھی تیراکی فرض ہے؟”

چار سالہ ننھی مسکان نے معصومیت سے پوچھا۔

"ہاں بالکل! آپ کا سمندر آپ کی عمر کے مطابق ہے۔ جس میں اپنا قرآن کا سبق، کلمے، نماز، سیکھنا، سکول کا سبق، کھانے، پینے، سونے جاگنے کے آداب و اوقات کو درست رکھنا، بولنا، چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، بڑوں کا کہنا ماننا وغیرہ شامل ہیں۔ یہی آپ کی تیراکی کی مشقیں ہیں۔ میں اچھی تیراک بنوں گی، اور فرسٹ آؤں گی انشاء اللہ!”

"انشاء اللہ! مگر آپ کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، بس اپنی دنیا سنوارنی ہے!”

امی جی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

کافی دیر سے خاموش بیٹھی سارہ نے کچھ الجھی ہوئی نظروں سے امی جی کی طرف دیکھا اور ہچکچاتے ہوئے بولی۔

"امی جی سورہ الحدید کی پہلی آیت میں جو ذکر ہے۔ ’اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔۔۔۔۔‘ تو کیا یہ ایسا ہو گا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’تیراکی کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔۔۔۔‘”

سب نے یکدم سارہ کی جانب حیرت سے دیکھا۔

"ظاہر ہے!”

مناہل بولی۔

"کیسے؟”

اس نے پھر سوال داغا۔

"ایک منٹ!”

امی جی نے ہاتھ اٹھا کر مناہل کو روکا۔

"سارہ کو ابھی پوری طرح سمجھ نہیں آئی، اور آپ سب اسے ایسے خشونت بھری نظروں سے مت دیکھو!”

"ہر انسان کے سمجھنے کا اپنا لیول ہوتا ہے۔ ابھی اس کی عمر بھی اتنی نہیں۔”

پھر سارہ سے مخاطب ہوئیں۔

"سارہ ابھی تک جتنی گفتگو تیراکی کے بارے میں ہوئی، تمہیں سمجھ آئی؟”

"جی! امی جی، اتنا تو میں سمجھ گئی کہ ہر ایک کا اپنا اپنا سمندر ہے اپنی عمر، اپنی لیاقت، اپنے شعبے کے مطابق ہر ایک نے اپنی دنیا میں زندگی گزارنے کے مطابق تیراکی کے فن میں مہارت حاصل کرنی ہے، مگر مجھے سمجھ یہ نہیں آئی کہ اس آیت کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ترجمہ ایسا ہو کہ۔۔۔۔۔۔ ’تیراکی کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔۔۔۔‘ تو آسمان اور زمین میں صرف انسان تو نہیں ہیں، پودے، پرندے اور جانور بھی ہیں، چاند، سورج، سیارے اور ستارے بھی ہیں اور جنات بھی تو ہیں!۔۔۔۔”

اب امی جی بھی حیران ہو کر سارہ کو دیکھ رہی تھیں۔ انہیں امید نہیں تھی کہ سارہ اتنا گہرائی میں سوچ سکتی ہے۔

"سارہ میرا خیال ہے کہ یہاں بیٹھے تمام افراد میں سے آپ سب پر سبقت لے گئی ہو۔ شاباش! ہمیں اتنی ہی گہرائی سے سوچنا چاہئیے۔ یہی تدبر ہے یہی سَبَّحَ ہے۔”

"بیٹا! کائنات کی ہر شے جو جو نام آپ نے گنوائے وہ بھی اور جو نہیں گنوائے وہ بھی، یعنی تمام نباتات و جمادات، جن و انس، چرند و پرند، سب تیر رہے ہیں اپنے اپنے مدار میں۔ سب اپنے اپنے بحر کے مشاق تیراک ہیں۔ کوئی کسی دوسرے کے مدار کو پار کرنے کی کوشش نہیں کرتا یہی کائنات کا حسن ہے، اور اپنی حدود کا خیال رکھنا در اصل اللہ کی بڑائی اور بزرگی کا اعتراف ہے، یہی ثناء خوانی ہے۔”

امی جی کا مفصل جواب سن کر سارہ نے ایک آسودہ لمبی سانس لی، جیسے اس کے ذہن کی بہت سی گرہیں ایک ساتھ کھل گئی ہوں۔

یہی حال باقی بچوں کا بھی تھا۔

سب نے تخت پر پڑے جزدان سے تسبیح اٹھا لی۔ اور رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا کا ورد شروع کر دیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 3

الماعون

(استعمال کی معمولی اشیاء)

 

"اب مہروش دادی سے کہہ رہی ہوں گی! دادی جان فجر کہہ رہی ہے ہمارے گھر کفگیر نہیں ہے، ہم چمچہ استعمال کرتے ہیں!”

"ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔”

فجر نے ہاتھ کو چمچے کی طرح ہلاتے ہوئے قہقہہ لگایا۔ سب بچے ہنسنے لگے۔

"پھر پھر پھر پھر۔۔۔۔ دادی بولیں گی”

فجر نے جلدی جلدی دوپٹہ سر کے گرد لپیٹ کر "پھر” کی گردان کرتے ہوئے تخت پر پڑی امی جی کی عینک ناک پر ٹکائی، اور کمر جھکا کر منہ پوپلا کر کے دادی کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔”ارے بٹیا نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا پہلے ہمسائے کا خیال ماں جائے جیسا رکھا جاتا تھا۔ اب تو کوئی ہمسائے کو باسی روٹی کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔ جاؤ بٹیا جاؤ یہ لو چابیاں الماری سے اپنا کفگیر نکال لاؤ۔”

سب بچوں کا ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا تھا۔

امی جی جو صدر دروازے سے اندر داخل ہو چکی تھیں۔ اس سارے ڈرامے کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا دیں اور برآمدے میں داخل ہوتے ہوئے سامنے جھاڑو لگاتی سُکھی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔

"کون سے ڈرامے کی مشق ہو رہی ہے۔”

امی جی نے ہاتھ میں پکڑی نمک کی پیالی تخت پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

چار سالہ مسکان دوڑتی ہوئی امی جی کی طرف آئی۔

"امی جی ڈرامہ نہیں یہ فجر باجی مہروش باجی کی دادی کی نقل اتار رہی ہیں، وہ ابھی مہروش باجی آئی تھیں کہہ رہی تھیں کہ دادی بڑا کفگیر مانگ رہی ہیں چاول کے لئے۔”

"یہ نمک کے ڈبے میں ڈال دو!”

امی جی نے چادر لپیٹ کر تخت پر رکھی اور نمک کی پیالی اٹھا کر سُکھی کو دیتے ہوئے بولیں،

"پھر دے دیا تم نے؟”

فجر کی جانب رخ کر کے اس سے پوچھا۔

"نہیں دیا ناں!”

مسکان پھر ہنستے ہوئے بولی، اسے بے اختیار فجر کی اداکاری یاد آ گئی تھی۔

"کیوں؟”

امی جی نے حیرت سے فجر کو دیکھا۔

"امی جی مہروش کی دادی کو عادت پڑ گئی ہے، ہر وقت کچھ نہ کچھ مانگنے کی، کبھی قینچی، کبھی چھان، کبھی تھرماس وغیرہ وغیرہ حالانکہ ان کے گھر میں سب کچھ موجود ہو گا۔”

فجر نخوت سے بولی۔

"سُکھی گھر میں نمک ہے؟”

امی جی سُکھی سے مستفسر ہوئیں جو نمک کی پیالی ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی۔

"جی جی! کافی بہت ہے، میں یہی پوچھنا چاہ رہی تھی کہ یہ کسی درگاہ کا دم کیا ہوا نمک ہے کیا؟”

"نہیں یہ میں زبیدہ کے گھر سے مانگ کر لائی ہوں۔ اور یہ دوپٹہ بھی”

انہوں نے ایک سادہ سستا سا کالا دوپٹہ سکھی کی طرف بڑھایا۔”

یہ استری کر کے میری الماری میں کالے سوٹ کے ساتھ لٹکا دینا، کل ہمسائے میں جو شادی ہے اس میں پہنوں گی۔”

سُکھی حیرت سے امی جی کو دیکھ رہی تھی۔

"اس سوٹ کے ساتھ تو اتنا قیمتی دوپٹہ اور شال ہے۔ پھر آپ ان غریب لوگوں سے یہ دوپٹہ کیوں لے آئیں؟”

"اور یہ نمک۔۔۔۔۔”

شاید حیرت کی وجہ سے سکھی نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ سب بچے بھی حیرت سے امی جی کو دیکھ رہے تھے۔

"اس نمک اور دوپٹے کی مجھے ضرورت نہیں تھی مگر زبیدہ کے غریب گھرانے کو ہمارے گھر سے ہر وقت کسی نہ کسی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اور وہ ہماری امارت سے مرعوب ہو کر کسی بھی چیز کے مانگنے میں ہچکچائے گی، خوفزدہ ہو گی کہ ہم نے انکار کر دیا یا ہم نے اس کا پرچار کر دیا تو اس کی انا کو ٹھیس پہنچے گی۔”

"جیسے تم سب نے مہروش کی دادی کے ساتھ کیا!” (انہوں نے خشمگین نظروں سے سب کو دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی)

"اب اگر میں اس کے گھر سے کچھ مانگ لاؤں گی تو وہ پورے حق کے ساتھ بلا خوف اپنی ضرورت کی اشیاء ہم سے مانگیں گی۔”

سب بچوں کے سر شرمندگی سے جھک گئے تھے۔

امی جی تخت پر بیٹھ چکی تھیں۔

"تم سب کو پتہ ہے؟ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اللہ کے نزدیک بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔”

"جن چیزوں کو ہم در خور اعتنا سمجھتے ہیں اس پر ہماری جنت و جہنم کا حساب ہے۔”

"قرآن کریم کی سورة نمبر ایک سو سات، سورة الماعون میں اسی کا ذکر ہے۔ ماعون کا مطلب ہے۔ معمولی استعمال کی اشیاء۔”

"اس سورة میں معمولی استعمال کی چیزیں ادھار دینے سے منع کرنے والوں کے بارے میں وعید آئی ہے معمولی اشیاء معمولی استعمال کی چیزیں ہر وہ گھریلو سامان جس سے خود فائدہ اٹھایا جائے اور دوسروں کو دیا جائے۔”

امی جی دکھی دل سے بولے چلی جا رہی تھیں، حالانکہ زیادہ بولنا ان کا وطیرہ نہیں تھا۔

"امام حاکم رحمہ اللہ کا قول ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادتِ رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ استعمال کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ یعنی اس پر کوئی اجرت نہ دیں۔”

"ہمسایوں کے ہم پر بڑے حقوق ہیں۔ یہ بات صرف احادیث سے ثابت نہیں بلکہ قرآن سے بھی ثابت ہے۔ کیونکہ عام طور پر معمولی استعمال کی اشیاء ہمسائے ہی مانگتے ہیں۔”

"اس سے نہ صرف آپس میں پیار محبت بڑھتی ہے بلکہ ایک دوسرے کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔”

"اور امی جی اگر ہماری ہم جماعت ہم سے پنسل ربڑ وغیرہ مانگے تو کیا وہ بھی ماعون ہیں؟”

عروسہ نے بڑے پتے کی بات پوچھی۔

"بالکل! شاباش عروسہ! معمول میں استعمال ہونے والی ہر شے جس کی تمہارے ہمسائے، ہم جماعت، ہمجولی کو ضرورت ہو اور اس کے استعمال سے اسے فائدہ بھی پہنچے اور تمہارا نقصان بھی نہ ہو ماعون کہلاتا ہے۔”

"اور اگر ہمسائے کی بجلی نہ ہو تو کیا اس کو اپنے گھر سے بجلی کا کنکشن دینا بھی ماعون ہے؟” اسامہ نے فوراً سوال کیا۔

"نہیں بیٹا! میں نے کہا ناں جس سے تمہیں بھی کوئی نقصان نہ ہو۔ ہاں اگر کچھ محدود وقت کی ضرورت ہو بجلی خراب ہے سخت گرمی ہے کچھ دیر میں ٹھیک ہونے کے امکانات ہیں تو ٹھیک ورنہ اس طرح بجلی کا کنکشن دینا لڑائی جھگڑے کی ابتداء ہے۔”

امی جی نے اسامہ کے سوال کا تفصیلی جواب دیا۔

"اللہ مجھے معاف کرے صراط مستقیم عطا فرمائے، آئندہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی حقیر نہیں سمجھوں گی۔”

فجر روہانسی ہو گئی۔

"اچھا فجر اٹھو اب جلدی سے مہروش کی دادی کو بڑا کفگیر دے کر آؤ اور ان سے معذرت بھی کر لینا۔”

امی جی نے پیار سے فجر کی پیٹھ تھپکتے ہوئے اسے اٹھایا۔

٭٭٭

 

 

 

کہانی نمبر: 4

التَّکَاثُرُ

(مال کی کثرت)

 

سفیر چاچو کا تبادلہ چترال کے خوبصورت علاقے بمبوریت میں ہوا تو احمر، ریحان، حمزہ اور ہادی خوشی سے اچھل پڑے۔ سب نے ایک ساتھ شور مچایا۔ "چاچو، اس بار تو ہمیں بھی ضرور ساتھ لے کر چلیں!”

سفیر چاچو نے ہنس کر کہا۔ "اچھا بھئی، تیاری کر لو، اس بار تم سب میرے ساتھ جاؤ گے۔”

لمبے سفر کے بعد جب گاڑی وادیِ بمبوریت میں پہنچی تو بچوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اونچے پہاڑ، نیلا شفاف دریا، سرسبز درخت اور ٹھنڈی ہوا۔ ہادی نے خوشی سے کہا۔ "یہ تو جنت جیسا منظر ہے!”

چاچو نے مسکرا کر کہا۔ "یہ پاکستان کا چھپا ہوا خزانہ ہے، بیٹا۔”

چند دن کی سیر کے دوران ایک دن چاچو نے کہا۔ "چلو، آج میں تمہیں ایک پرانے قبرستان میں لے کر جاتا ہوں جو یہاں کا مشہور اور عجیب و غریب مقام ہے۔” بچے تجسس سے ان کے پیچھے چل پڑے۔ قبرستان پہنچ کر سب حیرت سے قبروں کو دیکھنے لگے۔ ہر قبر کے اوپر لکڑی کے ڈبے رکھے تھے جن میں کپڑے، پرانے برتن اور کچھ زیورات بھی رکھے ہوئے تھے۔

ہادی نے چونک کر کہا۔ "ارے! ہم تو سنتے آئے تھے کہ قارون نے اپنا خزانہ زمین میں دفن کیا تھا۔ کیا یہاں بھی خزانے دفن ہیں؟”

چاچو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مرنے والے کا سامان اس کے ساتھ رکھ دینا چاہیے تاکہ وہ دوسری دنیا میں استعمال کر سکے۔”

چند دن بعد جب بچے گھر واپس پہنچے تو سب سے پہلے امی جی کو اپنے سفر کی کہانی سنائی۔ ہادی نے جوش سے کہا۔ "امی جی! آپ کو پتہ ہے بمبوریت والے مردے کے ساتھ کپڑے، سونا اور برتن رکھتے ہیں۔ کیا واقعی مرنے کے بعد ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟”

امی جی نے گہری سانس لی اور کہا۔ "نہیں بیٹا، یہ سب دنیا کے دھوکے ہیں۔ قرآن میں سورۂ التکاثر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

اَلہَاکُمُ التَّکَاثُرُۙ ۱ حَتّٰى زُرتُمُ المَقَابِرَ ۲

یعنی تمہیں دنیا کا مال و دولت اکٹھا کرنے کی دوڑ نے غافل کر رکھا ہے، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔”

احمر نے حیرت سے پوچھا۔ "تو پھر لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟”

امی جی نے کہا۔ "بیٹا، پرانے زمانے میں بھی لوگ یہی سمجھتے تھے کہ دولت اور سامان ساتھ لے جائیں گے۔ مصر کے بادشاہ، جنہیں فرعون کہا جاتا تھا، اپنی قبروں میں خزانے رکھتے تھے اور لاشوں کو حنوط کر کے محفوظ کرتے تھے تاکہ وہ خراب نہ ہوں۔”

حمزہ نے فوراً سوال کیا۔ "حنوط؟ یہ کیا ہوتا ہے امی جی؟”

امی جی نے مسکرا کر سمجھایا۔ "حنوط کا مطلب ہے لاش کو خاص تیل اور جڑی بوٹیوں میں لپیٹ کر محفوظ کرنا، تاکہ وہ صدیوں تک خراب نہ ہوں۔ جیسے راعمسیس کی ممی آج بھی محفوظ ہے۔”

ریحان نے چونک کر کہا۔ "امی جی! یہ راعمسیس کون تھا؟”

امی جی نے پیار سے مسکرا کر کہا۔ "بیٹا، راعمسیس مصر کا وہ بادشاہ تھا جو حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے پیچھے گیا تھا اور سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔”

"مگر امی جی اس کا نام تو فرعون تھا!” ریحان نے معذرت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے امی جی کی بات کاٹی۔

"بالکل ریحان!، راعمسیس بھی ایک فرعون تھا۔” امی جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ جانتی تھیں کہ بچوں کو سمجھ نہیں آئی مگر وہ چاہتی تھیں کہ بچے سوال کریں تاکہ نہ صرف بچوں کی دلچسپی قائم رہے بلکہ انہیں اچھی طرح سمجھ بھی آئے۔

"میرا خیال ہے ہم سب کو سمجھ نہیں آئی، کیوں؟” حمزہ نے تائید طلب نظروں سے سب کو دیکھتے ہوئے کہا۔

"بچو! فرعون نام کسی شخص کا نام نہیں بلکہ یہ مصر کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا یا یوں سمجھ لو کہ عہدہ ہوتا تھا، جیسے آج کل ملکوں میں صدر یا وزیرِ اعظم کا عہدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ اور ملکوں میں بادشاہوں کے عہدے کے لیے مختلف لقب ہوتے تھے، جیسے ایران کے بادشاہ کا لقب ‘کسریٰ’، چین کے سلطان کا لقب ‘خاقان’، یمن اور حضرموت کے فرمانروا کا لقب ‘تبع’، ترکی میں ‘سلطان’، اور ہندوستان کے مغل بادشاہوں کو شہنشاہ کہا جاتا تھا۔”

احمر نے سر ہلا کر کہا۔ "اچھا تو فرعون اصل میں ایک لقب تھا، نام نہیں۔”

امی جی نے کہا۔ "بالکل بیٹا! راعمسیس بھی ایک فرعون تھا۔ یہ وہی بادشاہ ہے جو حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے پیچھے گیا تھا اور سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔ جب اس کی لاش نکالی گئی تو اس میں سمندری نمک کی مقدار بہت زیادہ پائی گئی، جس سے پتا چلا کہ یہ وہی شخص ہے جو سمندر میں ڈوبا تھا۔”

حمزہ نے حیرت سے کہا۔ "یعنی آج بھی اس کی لاش محفوظ ہے؟”

امی جی نے کہا۔ "ہاں بیٹا، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی فرمایا ہے کہ ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو آنے والوں کے لیے نشانی بن جائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کا مال و دولت کچھ کام نہیں آتا۔”

ریحان نے سوچتے ہوئے کہا۔ "تو جو لوگ مردے کے ساتھ سامان رکھتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں نا؟”

امی جی نے نرمی سے کہا۔ "ہاں بیٹا، یہ صرف ان کا وہم ہے یا ان کی ایک غلط سوچ ہے۔ انسان دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے، ساتھ جاتی ہیں تو صرف نیکیاں اور اچھے اعمال۔”

احمر نے پختہ لہجے میں کہا۔ "امی جی! ہم وعدہ کرتے ہیں کہ زیادہ چیزیں اکٹھی کرنے کے بجائے نیک کام کریں گے۔”

امی جی نے خوش ہو کر سب کے سروں پر ہاتھ رکھا اور دعا دی۔ "اللہ تم سب کو دین اور دنیا میں کامیاب کرے۔ دنیا کی ہر چیز یہیں رہ جانی ہے، ساتھ جانی ہیں تو صرف نیکیاں اور اچھے اعمال۔”

٭٭٭

 

 

 

کہانی نمبر: 5

زلزال

(زمین کا لرز کر بوجھ نکال پھینکنا)

 

ہادی کافی دیر سے چپ بیٹھا سب کی باتیں سن رہا تھا۔ آخر اس نے گہری سوچ کے بعد کہا،

"امی جی، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب اس دنیا کا مال و متاع دوسری دنیا میں ہمارے کام نہیں آئے گا تو اس دنیا کی نیکیاں وہاں کیسے کام آئیں گی؟ آخر نیکی بھی تو اسی دنیا میں کی جاتی ہے نا، تو وہ وہاں کیسے فائدہ دے گی؟”

امی جی نے مسکرا کر ہادی کی طرف دیکھا، جیسے یہی سوال وہ سننا چاہتی ہوں۔

"بہت خوب ہادی، بہت اچھا سوال ہے۔ یہ سوال صرف تمہارا نہیں، بڑے بڑے عقلمند لوگ بھی اس پر سوچتے رہے ہیں۔ آج ہم اس پر تھوڑا سا تدبر کرتے ہیں۔”

احمر، ریحان اور حمزہ بھی قریب آ بیٹھے۔ انہیں معلوم تھا کہ جب امی جی کہتی ہیں "تدبر کرتے ہیں” تو بہت کچھ نیا اور دلچسپ سننے اور کرنے کو ملتا ہے۔

ہادی چونکہ جغرافیہ اور دنیا کی معلومات میں بہت دلچسپی رکھتا تھا، اس لیے امی جی نے بات کو اسی زاویے سے سمجھانا شروع کیا۔

"اچھا بتاؤ، اگر تمہیں پاکستان میں کچھ خریدنا ہو تو کس کرنسی میں خریداری کرو گے؟”

سب بچے ایک ساتھ بول اٹھے۔ "پاکستانی روپے میں!”

امی جی نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔ "اچھا، اگر ہم انگلینڈ چلے جائیں تو کیا پاکستانی روپے سے خریداری کر سکتے ہیں؟”

"نہیں!” ریحان فوراً بولا۔ "وہاں تو پاؤنڈ چلتا ہے۔”

"بہت خوب!” امی جی نے خوشی سے سر ہلایا۔ "مگر امریکہ میں تو کر سکتے ہیں نا؟”

"نہیں کیونکہ امریکہ میں تو ڈالر چلتا ہے!” احمر نے فوراً کہا۔

"سعودی عرب میں؟”

"ریال۔” حمزہ نے پر جوش انداز میں کہا جیسے کوئی کوئز جیت گیا ہو۔

"اور دبئی میں؟”

” دبئی میں درہم، قطر میں قطری ریال، کویت میں دینار، بھارت میں بھارتی روپیہ، بنگلہ دیش میں ٹکا، چین میں آر ایم بی یا یوآن اور جاپان میں ین!” ہادی نے جلدی جلدی سب ملکوں کے نام اور کرنسیاں گنوائیں، جیسے کوئی امتحان دے رہا ہو۔

امی جی نے ہنستے ہوئے کہا۔ "واہ بھئی، ماشاء اللہ بڑے ہوشیار ہو گئے ہو۔ دیکھو بچو! جیسے اس دنیا کے ہر ملک کی اپنی کرنسی ہوتی ہے، اسی طرح ہر جگہ کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ پاکستان کا روپیہ انگلینڈ میں نہیں چل سکتا اور انگلینڈ کا پاؤنڈ یہاں بیکار ہے۔ جب اس دنیا کے اندر یہ حال ہے تو سوچو، دوسری دنیا میں ہماری کرنسی کیسے کام کر سکتی ہے؟ وہاں کے اصول تو یہاں سے بالکل مختلف ہوں گے۔”

حمزہ نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔ "یعنی وہاں یہ روپے، ڈالر یا ریال کام نہیں آئیں گے؟”

"بالکل نہیں” امی جی نے نرمی سے کہا۔ "یہی حال کھانے، کپڑوں اور اوزاروں کا بھی ہے۔ ہر ملک کے کھانے اور لباس الگ ہوتے ہیں۔ اسی طرح دوسری دنیا میں بھی سب کچھ الگ ہو گا۔ اس لیے اس دنیا کی کرنسی اور چیزیں وہاں بے کار ہوں گی۔”

ہادی کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا۔ "مگر امی جی، اگر ہمارے بینک اکاؤنٹ میں رقم ہو تو ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنے اکاؤنٹ سے اس ملک کی کرنسی نکلوا سکتے ہیں نا؟ جیسے پاکستانی بینک اکاؤنٹ سے سعودی عرب میں ریال یا دبئی میں درہم نکلوا سکتے ہیں۔”

امی جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ہاں بیٹا، لیکن اس کے لیے بینک میں انٹرنیشنل ٹرانزیکشن کی سہولت کھلوانی پڑتی ہے۔ جب یہ سہولت مل جاتی ہے تو آپ اپنی رقم دنیا کے کسی بھی کونے میں وہاں کی کرنسی میں نکال سکتے ہیں۔”

سب بچوں نے دلچسپی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے کہ بات آہستہ آہستہ اب ان کی سمجھ میں آ رہی ہو۔

امی جی نے کہا۔ "بالکل اسی طرح ایک انٹر یونیورس اکاؤنٹ بھی ہوتا ہے، جہاں ہم نیکیاں جمع کراتے ہیں۔ یہ نیکیاں اس دنیا کی کرنسی ہیں، لیکن جب ہم دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو یہی نیکیاں دوسری دنیا میں ہماری کرنسی بن جاتی ہیں۔”

ریحان نے چونک کر پوچھا۔ "انٹر یونیورس اکاؤنٹ؟ یہ کیسا اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”

امی جی نے نرمی سے کہا۔ "یہ وہ اکاؤنٹ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس کھولا جاتا ہے۔ جب ہم نیک کام کرتے ہیں، کسی کی مدد کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، والدین کی خدمت کرتے ہیں یا اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں تو ہماری نیکیاں اس اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔”

ہادی کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ "اچھا تو یہ بالکل کریپٹو کرنسی جیسا نظام ہوا؟”

احمر نے فوراً کہا۔ "کریپٹو کرنسی کیا ہوتی ہے؟”

امی جی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "کریپٹو کرنسی ایسی کرنسی ہے جو نظر نہیں آتی، جیسے بٹ کوائن۔ دنیا میں لوگ بٹ کوائن سے چیزیں خریدتے ہیں، لیکن وہ سکے یا نوٹ نظر نہیں آتے، بس ڈیجیٹل طور پر اکاؤنٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح نیکیاں بھی نظر نہیں آتیں، لیکن ان کی اصل قدر دوسری دنیا میں سامنے آتی ہے۔”

ہادی نے جوش سے کہا۔ "اچھا! تو نیکیاں ایک طرح ہماری دوسرے جہاں کی کریپٹو کرنسی ہوئیں!”

"نیکیاں ہماری اصل کریپٹو کرنسی ہیں جو انٹر یونیورس اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں نیکیاں کرو، صدقہ دو، اچھے کام کرو، تاکہ جب دوسری دنیا میں جاؤ تو تمہارے پاس اتنی کرنسی ہو کہ وہاں کی نعمتیں خرید سکو۔” امی جی نے رسان سے سمجھایا۔

حمزہ نے حیرت سے کہا۔ "تو جنت کی چیزیں بھی خریدنی پڑیں گی؟”

امی جی نے قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "ہاں، اللہ تعالیٰ نے سورۂ کہف اور سورۂ العصر میں یہی بتایا ہے کہ وقت قیمتی ہے اور نیک عمل ہی اصل سرمایہ ہیں۔ قیامت کے دن یہی نیکیاں ہمارے لیے جنت کے دروازے کھولیں گی۔ یعنی دنیا میں آپ جو بھی نیک عمل کرتے ہیں، وہ آپ کے انٹر یونیورس اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتا ہے، جس کی مدد سے آپ جنت اور اس کی سہولیات خریدتے ہیں۔”

ریحان نے آہستہ آواز میں کہا۔ "اگر اکاؤنٹ خالی ہوا تو؟”

امی جی کی آنکھوں میں سنجیدگی آ گئی۔ "پھر وہاں کوئی خریداری نہیں کر سکے گا، نہ جنت ملے گی اور نہ وہاں کی نعمتیں۔ اس لیے ابھی سے اپنے اکاؤنٹ میں نیکیاں جمع کرنا شروع کرو۔”

ریحان نے تجسس سے پوچھا۔ "امی جی، لیکن یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ہمارے اکاؤنٹ میں کتنی نیکیاں جمع ہیں؟”

امی جی نے کہا۔ "بیٹا، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وعدہ فرمایا ہے کہ کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔ سورۂ زلزال میں ارشاد ہے:

فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَہُ

یعنی جس نے ذرّے برابر بھی نیکی کی ہو گی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔ تو فکر نہ کرو، ہر چھوٹی بڑی نیکی وہاں محفوظ ہو رہی ہے۔”

ہادی نے سوچتے ہوئے کہا۔ "یعنی جو ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، اچھا بولتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، بڑوں کا ادب کرتے ہیں، یہ سب ہماری کرنسی بنتی جا رہی ہے؟”

امی جی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "بالکل بیٹا۔ یہ سب تمہارے نیکیوں کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا جا رہا ہے، اور جب تم وہاں جاؤ گے تو تمہیں حیرانی ہو گی کہ ایک چھوٹا سا اچھا عمل بھی کتنی بڑی دولت بن گیا۔”

احمر نے شوخی سے کہا۔ "امی جی، پھر تو ہم بھی نیکیاں جمع کریں گے اور دوسری دنیا میں بڑے نواب بنیں گے!”

سب بچے ہنس پڑے۔

امی جی نے مسکرا کر کہا۔ "ہاں بیٹا، وہاں کے نواب وہ ہوں گے جنہوں نے یہاں نیکیاں کمائی ہوں گی۔ دنیا کے خزانے، سونا چاندی، سب یہی رہ جائیں گے۔ وہاں کے محلات اور باغات انہی کو ملیں گے جنہوں نے نیکیاں بھیجی ہوں گی۔”

ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔ "اچھا، تو جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ دنیا میں بس مال جمع کر لو، تو وہ بالکل غلط سوچتے ہیں۔”

امی جی نے سر ہلا کر کہا۔ "ہاں بیٹا، وہ سمجھتے ہیں کہ دولت انہیں ہمیشہ خوش رکھے گی، لیکن اصل خوشی دوسری دنیا میں ملے گی، اور اس کے لیے یہاں اس دنیا میں نیکیوں کی کرنسی جمع کرنی ہو گی۔”

بچوں کی آنکھوں میں ایک نیا جوش تھا۔

ہادی نے پختہ لہجے میں کہا۔ "امی جی، آج سے میرا ارادہ ہے کہ روز کچھ نہ کچھ نیکی کروں گا۔ تاکہ میرا انٹر یونیورس اکاؤنٹ بھر جائے۔”

امی جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "شاباش بیٹا، یہی سمجھداری ہے۔ دنیا کی چیزیں یہیں رہ جائیں گی، لیکن نیکیاں تمہارے ساتھ جائیں گی اور ہمیشہ کام آئیں گی۔”

ریحان نے ہنس کر کہا۔ "اور میں اپنے جیب خرچ میں سے ہر ہفتے کسی کو ضرور صدقہ دوں گا!”

حمزہ نے کہا۔ "اور میں جھوٹ نہیں بولوں گا، چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو!”

احمر بولا۔ "میں گھر سے نکلتے ہوئے ایک تھیلا ہاتھ میں رکھوں گا تاکہ راستے میں آنے والا ہر کاغذ اور گند اس میں ڈال کر کوڑے کے ڈبے میں ڈال سکوں۔ میں گھر اور محلے کی صفائی کا خیال رکھوں گا تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں۔”

امی جی نے ان سب کو پیار سے گلے لگا لیا اور کہا۔ "اللہ تم سب کو کامیاب کرے اور تمہارے نیکیوں کے اکاؤنٹ کو بھرتا رہے۔”

بچے دیر تک اس بات پر سوچتے رہے۔ انہیں لگا جیسے دنیا اور آخرت کا رشتہ پہلی بار اتنے صاف لفظوں میں سمجھ آیا ہو۔ ان سب کے دل میں ایک نئی خواہش جاگی نیکیاں جمع کرنے کی خواہش، تاکہ دوسری دنیا میں ان کا انٹر یونیورس اکاؤنٹ انہیں خالی نہ ملے۔ وہ ایک دوسرے سے رات دیر تک تبادلہ کرتے رہے کہ کس طرح اپنے انٹر یونیورس اکاؤنٹ کو بھریں گے، تاکہ جب دوسری دنیا کا سفر شروع ہو تو ان کے پاس سب سے قیمتی کرنسی، یعنی نیکیاں، موجود ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

کہانی نمبر: 6

والْعَصْرِ

(زمانے کی قسم)

 

اتوار کی شام تھی۔ آسمان پر ہلکی سنہری روشنی پھیلی تھی اور

دور کہیں سورج ڈھلتے ڈھلتے بادلوں میں چھپ رہا تھا۔ صحن میں بچھے بڑے تخت پر سب بچے آ بیٹھے تھے۔ احمر نے تکیے سے ٹیک لگا لی، حمزہ اور ہادی آمنے سامنے بیٹھے کسی بات پر مسکرا رہے تھے، عروسہ اور ملائکہ آہستہ آہستہ کھسر پھسر کر رہی تھیں، اور صوبیہ نئیر کے بالوں میں چوٹیاں بنا رہی تھی۔

مغرب کی نماز کے بعد امی جی برآمدے میں پڑے تخت کی طرف آئیں تو دیکھا کہ مسکان ضد کر رہی تھی،

"ملائکہ باجی! مجھے پائڈ پائپر کی کہانی سنائیں، پلیز!”

عروسہ نے خوفزدہ آواز میں کہا۔ "مسکان پلیز!، کوئی اور کہانی سن لو، تمہیں پتہ ہے مجھے اس کہانی سے ڈر لگتا ہے!”

مگر مسکان ضد کر رہی تھی کہ وہی کہانی سنے گی۔

ملائکہ نے مسکرا کر کہا۔ "ٹھیک ہے، سنو!” سب بچے اس کے گرد بیٹھ گئے۔

ملائکہ نے کہانی شروع کی۔ "بہت زمانہ پہلے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں اتنے زیادہ چوہے ہو گئے تھے کہ لوگ تنگ آ گئے۔ پھر ایک جادوگر آیا، جس کے پاس بانسری تھی۔ جیسے ہی اس نے بانسری بجائی، گاؤں کے سارے چوہے اس کے پیچھے پیچھے نکل گئے اور دریا میں جا کر ڈوب گئے۔ لوگ خوش ہوئے، مگر جب بانسری والے نے انعام مانگا تو انہوں نے وعدہ توڑ دیا۔ پھر وہ غصے میں آ گیا، بانسری بجائی اور سارے بچے بھی اس کے پیچھے چل پڑے اور کوئی نہ جان پایا کہ وہ بچے کہاں گئے۔”

صحن کے اوپر آسمان میں ایک دلکش منظر تھا۔ سارا دن کھیتوں، درختوں اور کھلی فضاؤں میں اڑنے والے پرندے اب اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے۔ کوئی جوڑا ساتھ ساتھ اڑ رہا تھا، کوئی اپنی رفتار تیز کر کے پیچھے رہ جانے والے ساتھی تک پہنچ رہا تھا، اور کچھ چھوٹے پرندے آسمان پر لمبی قوسیں بناتے ہوئے اپنے گھونسلوں میں جا اترتے تھے۔ ان کے پروں کی سرسراہٹ اور ہلکی سی چہچہاہٹ شام کے سکون میں گھل کر ایک میٹھا سا گیت بن کر پھیل رہی تھی۔ امی جی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "دیکھو، شام کو سارے دن کے تھکے ہارے پرندے بھی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں مگر آج کا انسان!۔۔۔۔۔۔۔ بے وقوف ہے جو بانسری نواز کی دھن کے پیچھے دور دیس کے سفر پر نکل جاتا ہے۔”

عروسہ نے امی جی سے پوچھا۔ "امی جی، آپ کے خیال میں پائڈ پائپر دوبارہ بھی آ سکتا ہے؟”

امی جی نے دھیرے سے مسکرا کر کہا۔ "آ سکتا ہے کیا مطلب، بیٹا وہ گیا ہی کب تھا۔ بلکہ یوں کہہ لو کہ وہ تو روپ بدل کر کب کا واپس آ چکا ہے۔”

بچوں کی نظریں تجسس سے امی جی پر جم گئیں۔ احمر نے پوچھا۔ "امی جی! کیا بانسری نواز واپس آ گیا ہے؟”

"ہاں اور آج وہ دنیا کا سب سے بڑا اور عجیب چور بن چکا ہے۔” امی جی نے آواز کو رازدارانہ انداز میں بھاری بنا کر کہا۔

ہادی نے حیرت سے پوچھا۔ "بڑا تو سمجھ آ گیا، مگر عجیب کیوں؟”

امی جی نے سب بچوں پر نظر دوڑائی اور بولیں۔ "عجیب اس لیے کہ وہ تمہارا روپیہ پیسہ یا سونا چاندی نہیں چراتا۔”

ریحان نے حیرانی سے کہا۔ "پھر کیا چراتا ہے؟”

امی جی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ "انسان کی سب سے قیمتی چیز، وقت!”

بچے خاموش ہو کر غور سے سننے لگے۔ امی جی نے دھیرے سے کہا۔ "پہلے پائڈ پائپر کے ہاتھ میں بانسری تھی، مگر آج کے پائڈ پائپر کے ہاتھ میں ایک جادوئی فون ہے۔ اس فون سے رنگ برنگی اسکرینیں نکلتی ہیں۔ گیمز، ویڈیوز، ڈرامے، ٹک ٹاک کے گانے اور وہ ہمیں بہلا کر کہتا ہے، ’بس ایک ویڈیو اور دیکھ لو، ایک لیول اور کھیل لو‘ اور ہم اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ سورج کب ڈوب گیا، ہوم ورک رہ گیا اور نماز کا وقت کیسے نکل گیا۔”

ملائکہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ "یہ تو بالکل ہم پر فٹ بیٹھتا ہے!”

سب بچے کھلکھلا کر ہنس دیے مگر امی جی نے نرمی سے سمجھایا۔ "ہنسنے کی بات نہیں ہے، بیٹو۔ یہ نیا بانسری والا تمہارا وقت چرا لیتا ہے، تمہاری توجہ کھا جاتا ہے، اور تمہیں ایسے راستوں پر لے جاتا ہے جہاں سے لوٹنے پر تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔”

انہوں نے دھیرے سے قرآن کی آیت پڑھی:

"وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ”

"وقت کی قسم! بے شک انسان نقصان میں ہے۔”

پھر نرمی سے کہا۔ "بچو، وقت سب سے قیمتی خزانہ ہے۔ جو اسے سنبھال لیتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں، اور جو اسے بانسری والے کے پیچھے ضائع کر دیتے ہیں، وہ خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔”

احمر نے آہستہ سے کہا۔ "یعنی اصل چوری تو ہمارا وقت ضائع کر دینا ہے۔”

امی جی نے سر ہلا کر کہا۔ "بالکل بیٹا، یہی سب سے بڑی اور عجیب چوری ہے۔ بانسری والے کو پہچان لو، چاہے وہ کسی بھی روپ میں آئے، اور اپنے وقت کی حفاظت کرو۔”

صحن میں شام کی خنکی اور پرندوں کی آوازوں کے درمیان بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دل ہی دل میں ارادہ کر لیا کہ اب وہ اپنے وقت کو ضائع نہیں کریں گے اور جدید بانسری نواز کے جادو سے بچیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 7

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰىۙ

"یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے خود کو پاک کر لیا۔”

 

آج اتوار کا دن تھا چھٹی کی وجہ سے سب گھر پر تھے۔

فجر صبح سے کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

نئیر اور عروسہ بھی اسے دیکھ کر کافی پریشان تھیں کئی مرتبہ اسے مختلف مشورے بھی دیئے مگر کسی مشورے میں انہیں خود بھی جان دکھائی نہ دی۔

امی جی نے کئی مرتبہ آتے جاتے تینوں پر نظر ڈالی مگر کچھ نہ پوچھا۔

وہ چاہتی تھیں کہ بچے اپنا مسئلہ خود آ کر بیان کریں یا خود اسے حل کریں۔

آخر کار تنگ آ کر تینوں بچیاں امی جی کے پاس آ گئیں۔

امی جی جو اپنی کتابوں کی الماری کی ترتیب درست کر رہی تھیں، انہیں دیکھ کر مسکرائیں!

"نہیں حل ہوا؟”

تینوں حیرت سے امی جی کو دیکھنے لگیں۔

"آآ۔ آ۔۔ آپ کو کس نے بتایا؟”

فجر نے ہکلاتے ہوئے پوچھا!

"تمہاری پریشانی نے!”

امی جی ایک مرتبہ پھر مسکرائیں!

"کیا؟”

نئیر حیرت زدہ سی بولی!

"یہی کہ کوئی ‘ترچ میر’ ہے جو ہماری فجر کو سر کرنا ہے!”

امی جی کے چہرے پر اب مسکراہٹ کے علاوہ کچھ شرارت کا عنصر بھی نمایاں تھا۔

فجر کے خوبصورت خدوخال نے جیسے مدت بعد مسکراہٹ محسوس کی ہو اسی لئے کافی کھنچی ہوئی تذبذب کی شکار مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا۔

قدرے متذبذب، قدرے پر سکون اس نے ایک لمبی سانس لے کر آخر کار دل کا حال امی جی کے سامنے ایک جملے میں رکھ دیا۔

"امی جی میں برقعہ پہننا چاہتی ہوں!”

امی جی کے چہرے کی مسکراہٹ کے ساتھ موجود شرارت کی جگہ حیرت نے لے لی، کیونکہ پانچویں جماعت کی طالبہ فجر ابھی صرف دس برس کی تھی۔

(یہ اور بات کہ اپنی صحت مند جسامت کی وجہ سے وہ چودہ کی نظر آتی تھی، اور بلا کی حسین بھی تھی)

"سکول کے سامنے کچھ لڑکے ہمیں تنگ کرتے ہیں!”

امی جی کی خاموشی کو ناراضگی سمجھتے ہوئے کمزور سی چھوٹی سی دِکھنے والی فجر کی ہم عمر عروسہ فوراً بولی۔

"تم بھی پہنو گی؟”

امی جی نے حیرت سے عروسہ کو دیکھا،

"نا۔ ا ا۔ ہی۔۔ امی جی!”

عروسہ کھسیانی سی ہو گئی۔

"صرف فجر”۔

"امی ابو نے منع کیا ہے؟”

فجر سے سوال کیا گیا۔

"انہیں ابھی نہیں بتایا۔ اور وہ روکیں گے بھی نہیں! بلکہ امی تو پہلے مجھے بڑی چادر لینے کا کہہ چکی ہیں۔”

"تو کون روک رہا؟”

امی جی مستفسر ہوئیں۔

"لوگ کیا کہیں گے؟”

عروسہ اور نئیر اکٹھے بولے۔

"اب جیسے مناہل باجی میڈیکل کالج تک پہنچ چکی ہیں، اب انہیں قرآن تجوید سے پڑھنے کا شوق ہے، مگر لوگوں کی باتوں کے ڈر سے اپنا شوق پورا نہیں کر پا رہیں!”

مناہل کو قریب آتا دیکھ کر فجر نے جلدی سے بات بدلنے کی کوشش کی۔

امی جی ایک مرتبہ پھر چونکیں۔

مناہل کو دیکھتے ہوئے بولیں جو ان کے قریب بیٹھ چکی تھی۔

"کیوں مناہل اس میں کیا شرم ہے؟”

"اس عمر میں امی جی! لوگ ہنسیں گے نہیں؟”

"بلکہ باتیں بنائیں گے کہ اتنی لائق تھی کہ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا اور قرآن کو بیچ میں چھوڑ دیا!”

"ہممم!”

امی جی نے کچھ سوچتے ہوئے ایک لمبا ہنکارا بھرا۔

"تو برقع پہننے کو فجر کی عمر کم ہے اور قرآن پڑھنے کو مناہل کی عمر زیادہ ہے۔ لوگ تو باتیں بنائیں گے۔ کیونکہ لوگوں کا تو کام ہی یہ ہے۔ تو کیا ہم لوگوں کی وجہ سے اپنے کام اپنی ضروریات اپنی ترجیحات چھوڑ دیں؟”

سوالیہ نظروں نے سب کے چہروں کا طواف کیا۔

"ایک کہانی سنو!”

"ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک قافلہ جس میں بوڑھے، بچے، جوان، عورتیں سب شامل تھے، ایک ریگستان میں بھٹک گیا۔

کافی عرصہ بھٹکتے رہنے کے بعد جب سب زاد راہ ختم ہو چکا تھا، ایک رات انہیں ایک شہر کی بلند و بالا دیواریں نظر آئیں قریب پہنچے تو دیواروں جتنا ہی اونچا آہنی گیٹ نظر آیا جو بند تھا۔

گیٹ کھٹکھٹایا گیا، لوگ چیخے چلائے آوازیں دیں مگر آدھی رات کا وقت تھا گیٹ نہ کھلا۔

قافلے کے جوانوں نے فیصلہ کیا کہ دیوار پر چڑھ کر گیٹ دوسری جانب سے کھولا جائے۔

لہذا جوان سیدھی مضبوط بلند فصیل پر لگے چڑھنے۔

عورتوں بچوں اور بزرگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ گر گئے تو ہڈی پسلی سلامت نہیں رہے گی۔ مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

قافلے کے کمزور ساتھیوں کی جان بچانا بھی ضروری تھا۔”

امی جی نے بڑے پیارے انداز میں آواز کو ہمدردی کے تاثرات سے مزین کیا۔

"جوان جوں جوں اوپر چڑھتے گئے لوگوں کا شور بڑھتا گیا۔

ہر ایک آواز اپنا خوف لئے ہوئے تھی۔

اور پھر آہستہ آہستہ ایک ایک جوان ہمت ہارتا گیا اور گرتا گیا۔

حتی کہ تمام جوان نیچے آ گرے مگر لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ ایک جوان دیوار پر بیٹھا دوسری جانب پلٹ رہا تھا۔

اور تھوڑی دیر بعد اس نے گیٹ کھول دیا قافلہ شہر میں داخل ہو گیا۔

نوجوانوں نے اس جوان کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ بزرگوں نے اس سے حیرت سے معلوم کیا کہ وہ کیسے دیوار سر کرنے میں کامیاب ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ جوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرہ تھا۔

امی جی نے لمبا وقفہ دے کر جملہ مکمل کیا۔

اس کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ وہ نیچے کھڑے لوگوں کی آوازیں نہیں سن سکا۔ اور اپنے مصمم ارادے پر قائم رہا۔”

امی جی کے لہجے میں ایک جوش تھا۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا، "اس سے کیا معلوم ہوا کہ آپ جب بھی کوئی کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو سب سے بڑی رکاوٹ لوگوں کا ڈر ہوتا ہے جو آپ کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور ہمارے اپنے اوپر اعتماد کو ختم کر دیتا ہے ہمیں بزدل بناتا ہے۔”

"اگر ہم بھی لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں اور اپنا کام کرنے کی ٹھان لیں تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔”

سب بچیوں کی آنکھوں میں عزم اور امید کے جگنو چمکنے لگے۔

امی جی پرسکون سی وضو کرنے کے لئے آٹھ گئیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہانی نمبر: 8

کاظمین الغیظ

(غصے کو دبانے والے)

 

ایک مرتبہ پھر سے دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔

بارہ سالہ نئیر نے دس سالہ عروسہ کے بال مٹھیوں میں جکڑ کر کھینچنا شروع کئے تو عروسہ نے اس کے بازو میں اپنے دانت گاڑھ دئیے۔

دونوں کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی منہ سے گاہے بگاہے ہذیانی انداز میں چیخیں اور مغلظات کی پھوار جاری تھی۔

"ارے ارے چھوڑو! کیا تم دونوں ہر وقت کتوں کی طرح ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے رہتے ہو!”

"اور تم تینوں یہاں کیا کر رہی ہو چھڑا نہیں سکتیں؟”

امی جی نے نئیر اور عروسہ کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتے ہوئے ایک غضب ناک نظر کچھ فاصلے پر کھڑی اریبہ، ثوبیہ، اور مروہ پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اب کیا ہوا؟”

انھوں نے ملامتی انداز میں پوچھا۔

"اس نے میرا کانسی کا گھوڑا چوری کیا ہے جو بڑے ابا نے میری سالگرہ پر گفٹ کیا تھا!”

نئیر کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔

"میں نے کوئی چوری نہیں کی کمینی!”

عروسہ نے آنکھیں نکالیں نئیر نے اس کے گالی دینے پر ایک مرتبہ پھر اس پر جھپٹنے کی کوشش کی جیسے امی جی نے ناکام بنا دیا۔

"امی جی اس وقت بھی جب میں نے اس سے گھوڑے کے بارے میں پوچھا تو اس نے مجھے گالی دی۔”

نئیر قہر آلود نگاہوں سے عروسہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔

دونوں کے چہرے اس وقت حیوانی ساخت کے معلوم ہو رہے تھے بلکہ ان دونوں پر ہی کیا موقوف نئیر کا ساتھ دیتی تایا زاد مروہ اور عروسہ کے حق میں اس کی دونوں بہنیں اریبہ اور ثوبیہ کے چہرے غصے سے لال ہو رہے تھے۔

اور وہ بھی ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

"سُکھی یہ پانی ادھر لے آؤ!” امی جی نے پانی کا جگ اور گلاس لئے اپنے کمرے کی طرف جاتی ماسی کو پکارا۔

"جی! امی جی”

سُکھی نے امی جی کا اشارہ پا کر ٹرے میں موجود دونوں گلاسوں میں پانی بھر کر نئیر اور عروسہ کی طرف بڑھائے۔

جنھیں اب امی جی برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھتے ہوئے اپنے دونوں جانب بٹھا چکی تھیں۔

دونوں پانی پی کر خاموشی سے بیٹھی رہیں۔

باقی بچے بھی تخت پر بیٹھ چکے تھے۔

مگر ایک تو ان کی عمریں نئیر اور عروسہ سے کم تھیں دوسرے امی جی کی ڈانٹ کے خوف سے خاموشی سے ساری کاروائی میں صرف تماش بین کی حد تک حصہ دار تھے۔

"تمھیں کیوں لگا کہ تمھارا گھوڑا عروسہ نے چرایا ہے؟”

انھوں نے نئیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ملائمت سے پوچھا،

"کیونکہ یہ روز بڑے ابا سے ویسا ہی گھوڑا لانے کی فرمائش کرتی تھی۔”

نئیر بپھرے ہوئے لہجے میں بولی۔

"آرام سے آرام سے!”

امی جی ہاتھ سے اسے آواز نیچی رکھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں،

"یہ بات تحمل سے بھی ہو سکتی تھی!”

"اس کو شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی!”

وہ ایک مرتبہ پھر ہتھے سے اکھڑ گئی۔

"اگر تمھیں اسی ٹون میں بولنا ہے تو پھر جاؤ یہاں سے تمھارا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔”

امی جی اکتا کر بولیں۔

"سوری!”

نئیر نے خاموش ہو کر سر جھکا لیا۔

"عروسہ! تم نے اٹھایا اس کا گھوڑا؟”

امی جی نے جان بوجھ کر چوری کا لفظ نہیں استعمال کیا۔

"نہیں امی جی قسم لے لیں!”

عروسہ جو نہایت با ادب بیٹھی تھی دھیرے سے بولی مگر اس کے لہجے میں بے بسی کے ساتھ ساتھ سچائی بھی جھلک رہی تھی۔

"مجھے پسند ضرور تھا اور ابا سے اصرار بھی کیا مگر چوری! (روتے ہوئے) چوری کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی۔”

"اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!”

بڑے ابا نے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سب کو برآمدے میں بیٹھے دیکھ کر با آواز بلند سلام کیا اور آ کر امی جی کے قریب جھکے، امی نے ان کا سر چوم کر سلام کا جواب اور دعا دی۔

بڑے ابا کچھ پراسرار سے انداز میں مسکراتے ہوئے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ چکے تھے ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا پیکٹ تھا۔

شاید اپنی تھکاوٹ میں وہ ماحول کی سنگینی کو نہ بھانپ سکے۔

انھوں نے سب کی خاموش نظریں پیکٹ پر مرکوز دیکھ کر پیکٹ اٹھا کر کھولا اور اس میں سے ایک ڈبہ نئیر کی جانب بڑھایا،

"سوری بیٹا صبح آپ سو رہی تھیں تو یہ گھوڑا میں نے آپ کی الماری سے اٹھا لیا تھا!”

"کیونکہ کافی دنوں سے عروسہ مجھ سے مانگ رہی تھی مگر مجھے خود تو موقع نہیں مل رہا تھا بازار جانے کا اور ڈرائیور کو سمجھ نہیں آ رہی تھی لہذا میں نے ڈرائیور کو تمھارا گھوڑا نمونے کے طور پر دیا کہ بالکل ایسا ہی عروسہ کے لئے بھی لے آئے۔”

"اور میں نے ان گھوڑوں پر تم دونوں کے نام بھی کھدوا دئیے تاکہ لڑائی نہ ہو۔”

سب بچوں نے ساکن و ساکت خالی نظروں سے پہلے بڑے ابا کی طرف پھر امی جی کی طرف دیکھا! امی جی کی نظروں میں خاموش تنبیہہ دیکھ کر بچے پھر بڑے ابا کی طرف دیکھنے لگے۔

بڑے ابا کچھ حیران ہوئے

"تمھیں خوشی نہیں ہوئی عروسہ”

انھوں نے تعجب سے گھوڑا ہاتھ میں پکڑے خاموش بیٹھی عروسہ سے پوچھا۔

عروسہ اور نئیر اکٹھی اٹھ کر بڑے ابا کے گلے لگ گئیں دونوں رو رہی تھیں پھر دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں۔

بڑے ابا کچھ حیران ہوئے مگر تھکاوٹ کی وجہ سے ان کی آپس کی محبت اور گفٹ ملنے کی خوشی پر محمول کرتے ہوئے اٹھ گئے

"بھئی مجھے تو بھوک لگی ہے”

کہتے ہوئے اندر چلے گئے۔

نئیر پشیمان سی امی جی کی طرف آئی۔

امی جی نے نئیر اور عروسہ دونوں کو اپنی طرف کھینچ کر پہلے گلے لگایا پھر اپنے ساتھ بٹھا کر گویا ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

"متقی لوگوں کی ایک صفت ہوتی ہے "کاظمین الغیظ!”

"غیظ” کا مطلب ہے "غصہ” اور "کظم” کا معنی ہے "دبانا”۔

غصہ دبانے والے کو "کاظم” کہا جاتا ہے۔

"کاظمین الغیظ” وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے غصے کو پی جاتے ہیں، اور اللہ کے دربار میں سرخرو ہو جاتے ہیں۔”

"مگر یہ بھی یاد رکھو جو غصے پر قابو نہیں پاتا اس کو غصہ نکلنے کے بعد ایک شدید افسوس گھیرے میں لے لیتا ہے۔

جیسے ابھی نئیر کی حالت ہے۔ کاش کہ میں صبر کر لیتی!، اتنا کچھ نہ بول دیتی!”

"سوچو! ہم غصے کی وجہ سے اپنے کتنے تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔”

"غصے میں ہمیں سمجھ نہیں آتی اور ہم گالم گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا تم کر رہی تھی”

عروسہ کی جانب دیکھتے ہوئے۔

"مگر امی جی مجھے تو غصہ اس لئے آیا کہ نئیر باجی غلط بات کر رہی تھی۔”

عروسہ جلدی سے اپنے دفاع میں بولی۔

"بیٹا، غصہ کس وجہ سے آتا ہے؟”

امی جی رسان سے بولیں، "ظاہر ہے انسان کو غصہ خلاف مرضی بات پہ ہی آتا ہے۔ گالیاں دے کر کوئی اپنے آپ کو سچا ثابت نہیں کر سکتا۔”

"غصہ ہمیشہ الزام لگنے پر ہی آئے گا، اعزاز ملنے پر تو نہیں آئے گا ناں۔”

"بہن بھائیوں کی چھوٹی موٹی باتیں تمھیں غصہ دلائیں گی۔ وہ ان کا عمل ہے۔ تمھارا کام کیا ہے؟

غصے کو پی جانا۔

صبر اور استقامت سے حالات کو سنبھالنا۔”

"نئیر دو سال بڑی ہے تم سے اس نے الزام لگایا تم نے جھٹ گالی دے کر الزام کو رد کیا۔

جواباً اس کا نہ صرف شک راسخ ہوا بلکہ گالی کی وجہ سے اس کا غصہ دو بالا ہو گیا.”

"ایسا ہی ہے ناں!۔۔۔۔ کہ نہیں؟”

انھوں نے استفہامیہ نظروں سے عروسہ کو دیکھا۔

"اور نئیر چھوٹے بہن بھائی پہ چیخا جا سکتا ہے لیکن اپنے بزرگوں کے سامنے ہم سب اچھے بن جاتے ہیں حالانکہ ان کی باتیں بھی بری لگ جاتی ہیں، امی کی ابو کی، تایا کی، اور میری”

امی جی نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔

"تو جیسے اپنے سے بڑوں کے ساتھ ہم غصہ کنٹرول کرتے ہیں ویسے ہی چھوٹوں اور کمزوروں کے ساتھ بھی کنٹرول کی ضرورت ہے۔”

"ہماری مس کہتی ہیں کہ، غصہ ختم کرنے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، اور پانی پی لو۔” اریبہ جلدی سے بولی۔

"بالکل صحیح کہتی ہیں! یہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔ جیسے میں نے ان دونوں کو بٹھایا پانی پلایا۔ ہیں ناں”

انھوں نے اپنی بات کی تائید مانگتے ہوئے بات کو جاری رکھا۔

"اور آخری بات جیسے ٹی وی کے ریموٹ کنٹرول کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے ہو اپنے پاس رکھنے کے لئے اسی طرح اپنے موڈ کا ریموٹ کنٹرول بھی اپنے پاس رکھو غصے کے حوالے نہ کرو!”

سب بچے ہنستے ہوئے امی جی سے لپٹ گئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 9

 

ستار العیوب

(عیبوں کو چھپانے والا)

 

"یار غلط بات میں کبھی برداشت نہیں کرتا۔”

"میں تو سچ بولوں گا چاہے دوستی ٹوٹتی ہے چاہے رشتہ!”

"میں نے خود اسے سہراب انکل کے گھر سے نکلتے دیکھا ہے۔”

"حالانکہ ابو اور تایا اس بات کے سخت خلاف ہیں۔”

حمزہ جذباتی انداز میں بولے چلا جا رہا تھا۔ جبکہ اس کے چچا زاد (ہادی) اور پھوپھی زاد (شارق) بھائی اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے۔

"ہوا کچھ یوں تھا کہ حمزہ کا تایا زاد (ارباز) سہراب انکل کے بیٹے احمر کا کلاس فیلو تھا۔

حمزہ کو احمر ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا شاید اس کی قابلیت کی وجہ سے۔ سہراب انکل کا گھر دو گلی چھوڑ کر تیسری گلی میں تھا۔

نہایت شفیق انسان تھے مگر جوانی کی ایک غلطی کی وجہ سے بدنام تھے۔

لہذا تمام خاندان سے ان کے گھر کسی کا آنا جانا نہیں تھا۔

امی جی کے گھرانے کے کسی فرد کو بھی ان کے گھر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

مگر آج حمزہ نے ارباز کو ان کے گھر سے نکلتے دیکھا۔

اسی لئے وہ بہت جذباتی ہو رہا تھا۔

اتنے میں گھر کا صدر دروازہ کھلا اور ارباز اندر داخل ہوا۔

حمزہ اسے دیکھتے ہی گھر کے اندر دوڑا اس کے پیچھے ہادی اور شارق بھاگے تاکہ اسے روک سکیں۔ ارباز حیرت زدہ اندر داخل ہوا تو ہادی اور شارق نے حمزہ کو دونوں طرف سے پکڑ رکھا تھا۔

نجانے وہ کس چیز سے اسے روک رہے تھے۔

"کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟”

ارباز ان کے قریب جاتے ہوئے بولا۔

"تم سہراب انکل کے گھر گئے تھے؟”

حمزہ عجیب سے انداز میں بولا۔

"چپ کرو!”

ارباز نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا جسے حمزہ نے دھکیل دیا۔

"میں چپ رہنے والا نہیں! تمھاری ساری حرکات میں آج تایا ابو کو بتا کر رہوں گا۔”

وہ چمک کر بولا۔

"دیکھو تم کچھ نہیں جانتے!”

ارباز دھیمے لہجے میں بولا۔

"اور میں اس سے زیادہ جاننا بھی نہیں چاہتا کہ سہراب انکل کا گھر ہمارے لئے علاقہ ممنوعہ ہے۔ آج میں کوئی پردے ڈالنے والا نہیں۔”

وہ ایک مرتبہ پھر ہتھے سے اکھڑ گیا۔

امی جی جو کمرے کے آدھ کھلے دروازے سے تمام کاروائی دیکھ رہی تھیں اٹھ کر بیٹھ گئیں اور حمزہ کو آواز دے کر کمرے میں آنے کا کہا۔

شارق، ارباز اور ہادی بھی ساتھ کمرے میں داخل ہو گئے۔

"آؤ بیٹھو!”

انھوں نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے بلایا۔

"حمزہ بیٹا باتیں تو بہت سی سمجھانے طلب ہیں مگر تمہاری تمام باتوں پر بھاری ایک بات نے مجھے لرزا دیا۔”

"آج میں کوئی پردے ڈالنے والا نہیں”

امی جی نے اس کی بات دہرائی۔

حمزہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر امی جی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

"میں نے سب سن لیا!”

"تم سچ بولو گے!”

"تمھیں رشتوں کی پرواہ نہیں!”

"تم سے غلط باتیں برداشت نہیں ہوتی!”

"تمھیں کچھ جاننے کا شوق نہیں!”

"تم پردہ پوشی نہیں کرو گے! ہے ناں؟”

حمزہ نے سر جھکا لیا۔

"سچ ضرور بولو! کہ اس کا حکم ہے مگر اپنے بارے میں!”

"رشتوں کی پرواہ نہ کرنے والے کے لئے کوئی بخشش نہیں!”

"برداشت تو غلط باتیں کی جاتی ہیں۔ صحیح باتوں کو برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی!”

"جاننا نہیں چاہتے تو جذباتی کیوں ہوتے ہو!”

"اور پردہ پوشی نہیں کرو گے تو اپنے رازوں کی پردہ دری کے لئے بھی تیار رہنا!”

"تمھیں پتہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک صفت ستار العیوب بھی ہے!”

"یعنی عیبوں پہ پردہ ڈالنے والا۔”

"یہی وجہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو دیکھتا ہے تو اسے اس کا وہ چہرہ نظر آتا ہے جسے وہ دوسروں کو دکھانا چاہتا ہے یعنی بے عیب۔”

"اللہ کی اس صفت کا پردہ ہمارے عیبوں کو چھپا دیتا ہے۔”

"اور سوائے اللہ کے کوئی ایک دوسرے کے عیب نہیں دیکھ سکتا۔”

"معلوم ہے اگر ہمارے درمیان سے یہ پردہ ہٹ جائے اور ہم ایک دوسرے کا اصلی چہرہ دیکھ سکیں ایک دوسرے کی سوچ پڑھ سکیں تو کیا ہو؟”

"ایک دوسرے سے بھروسہ اُٹھ جائے ہم سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔”

"ارباز کو سہراب کی طرف میں نے بھیجا تھا کچھ رقم دے کر سہراب کافی عرصے سے بیمار پڑا ہے گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہیں اور احمر کی کئی مہینوں کی فیس ادا نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام سکول سے کٹ گیا ہے۔”

حمزہ کا جھکا ہوا سر کچھ اور جھک چکا تھا،

اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے،

اس سے ندامت کے مارے بولا نہیں جا رہا تھا۔

امی جی نے اسے گلے سے لگا لیا۔

"غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں۔ ان کو مان لینا خاکساری ہے۔”

"اپنی ضد، انا، ہٹ دھرمی پر قائم رہنا شیطانی صفت ہوتی ہے!”

"میں معذرت خواہ ہوں امی جی! یا اللہ مجھے معاف فرما، کہ میں کبھی کسی کی پردہ دری نہ کروں!”

اس نے دل سے دعا کی۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 10

صلواة فجر

(صبح کی نماز)

 

ہادی، حمزہ، شارق، ارباز، احمر اٹھو شاباش فجر قضاء نہ ہو جائے۔

بڑے ابا مسجد جاتے ہوئے بچوں کے کمرے میں جھانکتے ہوئے بولے۔

ہادی نے کروٹ بدلی اور آنکھیں زور سے مِیچ لیں۔

ایک نرم گرم سی آکٹوپس نما چیز اس کے سر پر آ بیٹھی اس کے بہت سے ہاتھ تھے۔

اس نے اپنے دو ہاتھ ہادی کے کانوں پر رکھے دو آنکھوں پر اور باقی ہاتھوں سے اس کے ہاتھ پیر جکڑ لئے۔

ہادی کچھ دیر کے لئے خوفزدہ ہوا،

"میری آنکھ میں دیکھو”

آکٹوپس نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اپنا چکنا چمکتا چھوٹا سا سر اس کے سامنے کیا۔

اس کے ماتھے پر ایک ہی بڑی سی بغیر پپوٹے کی ہیبت ناک سی آنکھ تھی۔۔۔۔۔۔

جس میں ہادی نے ڈرتے ڈرتے جھانکا اور کھو گیا۔

ویڈیو گیمز، جھولے، کھلونے، ٹافیاں، مٹھائیاں نجانے کیا کیا تھا۔

ہادی اس طلسماتی دنیا میں کھو گیا۔

پھر آکٹوپس نے اپنے مزید ہاتھ بڑھا کر اس کے دل کو جکڑنا شروع کر دیا۔

اس کے دل کے گرد گرہیں لگانا شروع کر دیں۔ ہادی کسمسایا مگر آکٹوپس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔

"اللہ اکبر اللہ اکبر”

ہادی کو ایک جھٹکا لگا۔

اس نے آنکھیں کھول دیں مگر اس مخلوق نے اس کو جکڑے رکھا۔

ہادی نے ایک مرتبہ پھر کروٹ بدلی وہ دوبارہ آنکھیں موندنا چاہتا تھا۔

مگر اذان کی آواز مسلسل اس کے کانوں سے ٹکراتی رہی۔

"الصلاة خیرٌ من النوم”

"نماز نیند سے بہتر ہے”

اس مخلوق کی گرفت ہادی کے کانوں آنکھوں اور پھر آہستہ آہستہ جسم پر کمزور پڑنے لگی۔

ہادی اللہ کا نام لیتے ہوئے ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا اور دعا پڑھنے لگا۔

"الحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَیْہِ النُّشُورُ۔۔۔۔”

دل پر لگی ایک گرہ ایک جھٹکے سے کھل گئی۔ ہادی کچھ دیر بیڈ پر بیٹھا رہا سب بچے بستر چھوڑ کر جا چکے تھے۔

"حی علی الصلاة اور حی علی الفلاح”

دور سے آتی ایک اور اذان کی آواز اس کے کان میں پڑی۔

"نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف آؤ”۔

ہادی سر جھٹک کر بستر سے نکلا اور جب وہ واش بیسن کا نلکا کھول کر کھڑا وضو کرنے لگا تو دل پہ لگی دوسری گرہ بھی جھٹکے سے کھل گئی۔

پیروں میں چپل ڈالی اور مسجد کی جانب دوڑ لگا دی۔

نماز بس کھڑی ہوا چاہتی تھی۔

آخری صف میں جائے نماز پہ کھڑے ہو کر اس نے سنت پڑھنے کی نیت باندھی۔

"اللہ اکبر” کہہ کر رفع یدین کیا۔

دل پہ لگی نجانے کتنی گرہیں ایک ایک کر کے کھلتی چلی گئیں۔

اور وہ مخلوق اب اس کے کان میں کھسپھسانے لگی۔

"یار کل شارق نے ہوم ورک کے بدلے گیند دینے کا وعدہ کیا تھا۔”

"ارے یہ کیا یہ دوسری رکعت ہے یا پہلی؟”

"ذہن میں شک ڈالا”

شکر ہے یاد آ گیا ورنہ ابھی پہلی رکعت میں بیٹھ جاتا۔

"اف کیا ہے یہ!”

"میرا دماغ ایک جگہ مرکوز کیوں نہیں ہو رہا۔”

"اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم”

اس نے تعوذ پڑھی تو جادو ہو گیا تعوذ پڑھتے ساتھ ہی وہ مخلوق یکدم عنقا ہو گئی۔

اعوذ باللہ معجزے کر دیتا ہے۔

لوگ آزماتے نہیں ورنہ اس سے بڑی دوا کیا ہو گی کوئی؟

باقی نماز اس نے امام صاحب کی اقتداء میں سکون سے پڑھی۔

سلام پھیر کر جب اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ہادی اپنے دل میں ایک عجیب سا سکون اور خوشی محسوس کر رہا تھا۔

پہلی دفعہ ہادی کو سمجھ آیا تھا کہ نبی کریمﷺ کو فجر کی دو رکعتیں دنیا میں سب سے زیادہ عزیز کیو تھیں۔

کیوں اپنے آخری وقت میں بھی وہ فرماتے رہے۔

"صلواة صلواة صلواة”

اور اس کیفیت کا اندازہ اسی کو ہو سکتا ہے جسے فجر پڑھنے کی توفیق حاصل ہو جائے۔ یہ سب شاید رات کو امی جی کے دئیے درس کا فسوں تھا۔

رات امی جی نے نماز اور خصوصاً فجر کی اہمیت بتائی تھی۔

اور اللہ سے محبت اس سے بات کرنے کا طریقہ بتایا تھا۔

ہادی کے خیال میں اب وہ اللہ سے ایک رشتہ بنانے کے قابل ہو گیا تھا۔

اس نے اپنے نفس اپنی نیند کو ہرا دیا تھا۔

اب اللہ اسے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کر لے گا۔

کیونکہ اللہ کو فجر کی نماز پسند ہے۔

"اب وہ بھی نماز کی پابندی کر کے اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو جائے گا۔”

"انشاء اللہ” اس نے کھلی فضا میں ایک لمبی سانس لی۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 11

لَا یَسْخَرْ

(مذاق نہ اُڑاؤ)

 

سب گھر کے بڑے صحن میں مختلف ٹولیوں میں بیٹھے تھے ایک طرف عورتوں کی مجلس جو امی جی کے تخت کے گرد کرسیاں ڈالے بیٹھی تھیں۔

سامنے ہی ایک کے میز اردگرد سارے بچے بیٹھے تھے۔

جبکہ مرد حضرات کچھ فاصلے پر چارپایوں پر بیٹھے سردیوں کی دھوپ بھی سینک رہے تھے، اور سبز چائے کے ساتھ خشک میوے کا مزہ لیتے ہوئے کچھ ضروری مسائل پر اظہار رائے بھی جاری تھا۔

خواتین کا موضوع گفتگو تو ظاہر ہے کپڑے جوتے جیولری یا کھانے پکانے کی تراکیب ہی ہوں گی۔

امی جی خاموشی سے اپنے دوپٹے پر کروشیہ کرتے ہوئے پیار بھری نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کے کان سب کی طرف لگے ہوئے تھے۔۔۔۔

اچانک ان کے کان سے ثوبیہ کی آواز ٹکرائی؛۔۔

"سارہ دیکھو!”

"کتنی سریلی آواز ہے اور کیا ٹیلنٹ ہے اس لڑکی میں کتنی مشکل طرز کو کس احسن طریقے سے نبھا رہی ہے۔”

"حالانکہ شکل دیکھو اس کی میری طرح حسن تو چھو کر بھی نہیں گزرا اسے!”

پندرہ سالہ ثوبیہ کا نہایت حسرت کے ساتھ "میری طرح” کہنے پر تمام کزنز آگے بڑھ بڑھ کر اس کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔ ہر ایک نے اس پر اپنی اپنی رائے دینا فرض عین سمجھا۔۔۔

"ارے واقعی! کتنی کالی رنگت ہے اس کی”

فجر بولی۔

"دانت تو دیکھو”

ارباز نے ہنستے ہوئے گلوکارہ کے بڑے دانتوں کا تمسخر اڑایا۔

"قد بھی ڈیڑھ گٹھ سے زیادہ نہ ہو گا”

شارق نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

"اور ناک تو بالکل پکوڑے جیسی ہے۔”

ریحان کے تبصرے پر قدرے موٹی ناک رکھنے والی نئیر اور ثوبیہ اپنا دل مسوس کر رہ گئیں۔

ہادی نے اپنی کالی رنگت اور حمزہ نے اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے کوئی تبصرہ نہ کیا۔

امی جی پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھیں آخر ان سے رہا نہیں گیا۔

"کس قدر آسانی سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا لیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا، کہ ہم کس گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔”

"کس ذات کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔”

"اس احسن الخالقین کا جو ایک کے بعد دوسری، تیسری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو احسن تقویم یعنی بہترین ساخت پر بنایا ہے۔”

"لیکن ہمیں دوسروں کا مذق اڑاتے وقت یہ یاد ہی کب رہتا ہے؟”

امی جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے گلا رندھ گیا اور آواز لرزنے لگی۔

تمام مرد و خواتین بھی ان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے امی جی نے سورہ التین کی تلاوت شروع کر دی۔

” قسم ہے انجیر کی!”

"قسم ہے زیتون کی!”

"قسم ہے طور سینا کی!”

"اور قسم ہے امن والے شہر یعنی مکہ کی!”

"بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا!”

امی جی نے ایک لمبی سانس لے کر اپنے جذبات کو قابو کیا اور بات جاری رکھتے ہوئے بولیں۔

"ایک مومن پر جس طرح دوسروں کی جان اور اس کے مال کو نقصان پہچانا حرام ہے۔ اسی طرح اس کی عزت اور آبرو پر حملہ کرنا بھی سختی سے منع ہے۔

عزت و آبرو کو نقصان پہچانے کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں ایک آسان ترین طریقہ کسی کو تمسخر کا نشانہ بنانا ہے۔

مذاق اڑانے کا عمل در اصل دوسروں کی عزت و آبرو پر براہ راست حملہ اور اسے نفسیاتی طور پر مضطرب کرنے کا ایک اقدام ہے۔

اس تضحیک آمیز رویے کے دنیا اور آخرت دونوں میں بہت منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔

چنانچہ باہمی کدورتیں، رنجشیں، لڑائی جھگڑے، انتقامی سوچ، بدگمانیاں، حسد اور سازشیں نہ صرف دنیاوی زندگی کو جہنم بناتے ہیں۔ بلکہ انسان اللہ کی رحمت سے محروم ہو کر ظالموں کی فہرست میں چلا جاتا ہے، اپنی نیکیاں گنوا بیٹھتا ہے اور آخرت میں خود ہی تضحیک کا شکار ہو جاتا ہے۔”

"مگر امی جی اس لڑکی نے تو ہماری کوئی بات نہیں سنی پھر اس کا دل کیسے دکھے گا۔”

فجر جو خاصی پشیمان تھی مگر آخر کار اپنی حرکت کے لئے تاویل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی۔

"پھر تو دہرا گناہ ہوا، تمسخر کا بھی اور غیبت کا بھی”

امی جی نے اسے پیار سے دیکھا اور فجر کا سر ندامت سے جھک گیا۔

فجر اپنی ماں کی طرح نہایت گوری رنگت اور سنہرے بالوں کی وجہ سے انگریز دکھتی تھی۔

اپنی اکلوتی بیٹی کی پشیمانی کو محسوس کرتے ہوئے امی جی کے سب سے چھوٹے بیٹے سفیر بولے "مگر امی جی وہ حدیث بھی تو ہے ناں کہ

"ان اللہ یحب الجمال”

"پھر اس کا کیا مطلب ہے؟”

انھوں نے اپنی بیوی کے خوبصورت چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

"لوگ ہمیشہ خوبصورت عورتوں کی طرف دیکھنے اور خوبصورت چیز سے نفع حاصل کرنے کے لئے اسی حدیث کو بطور دلیل استعمال کرتے ہیں!”

یہ حدیث امام مسلم رحمہ اللہ علیہ نے صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا، تو ایک شخص کہنے لگا آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کیا جائے اور لوگوں کو حقیر اور اپنے آپ کو اونچا سمجھا جائے۔”

اور سنن ترمذی اسے ایسے بیان کرتا ہے کہ

"بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھنا پسند کرتا ہے” یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ یہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی دی ہوئی نعمتوں کا اثر نظر آئے کیونکہ یہ اس جمال اور خوبصورتی میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور پھر یہ باطنی طور پر بھی جمال اور خوبصورتی ہے کہ اس کی نعمت کا شکر ادا کیا جائے، تو اس لیے واجب اور ضروری ہے کہ ظاہری جمال اور خوبصورتی نعمت کے ساتھ ہو اور باطنی جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کر کے ہو۔”

امی جی نے اتنے پیارے طریقے سے حدیث شریف کا ترجمہ سنایا کہ مزید تفصیلات کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

سفیر کو ایک لمحے کو یوں لگا جیسے اس کے دماغ کی کئی گرہیں اکٹھی کھل گئیں ہوں۔ امی جی نے بات جاری رکھی

"حسن اور خوبصورتی دو الگ الگ معیار ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر حسین بندہ خوبصورت ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر خوبصورت بندہ حسین ہو۔ اور پھر حسن اور خوبصورتی کا قد و قامت، خدوخال، کھال کی رنگت سے تو دور دور کا واسطہ ہی نہیں۔ یاد رکھو حسن کے بڑے رنگ ہیں۔ ظاہری بھی باطنی بھی۔

صرف ظاہری رنگت کو حسن کہہ دینا حسن کے ساتھ زیادتی ہے۔”

کہتے ہوئے انھوں نے ثوبیہ کی جانب دیکھا جو ہمیشہ سے احساس کمتری کا شکار تھی۔

"مصور کے شاہکاروں کی تضحیک ہے”

انھوں نے بات جاری رکھی،

"مصور کے شاہکاروں کی تضحیک و تمسخر اڑانا در اصل مصور کا تمسخر اڑانا ہے۔ اور یہ رویہ اس قدر ناپسندیدہ ہے کہ اللہ نے اس کو براہ راست موضوع بنایا ہے۔

سورہ الحجرات کی آیت نمبر گیارہ میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ،

"اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔”

مذاق اڑانا، کسی انسان کی تحقیر کرنا اور اسے بے عزت کرنا ہے۔

اسی لئے کسی کی آبرو کو نقصان پہچانے کی واضح الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرے گا تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی نفل اور فرض عبادات قبول نہیں ہوتی۔”

در اصل مذاق اڑانے کا عمومی مقصد کسی مخصوص شخص کی تحقیر کرنا اور اسے کمتر مشہور کرنا ہوتا ہے۔

اور یاد رکھو کسی کو کمتر ثابت کرنے کے پیچھے ہمیشہ تکبر کا رویہ کارفرما ہوتا ہے۔

اور تکبر کی قرآن و حدیث میں سخت الفاظ میں مذمت بیان ہوئی ہے!”

"تو بس معافی مانگو اپنے خالق سے کہ وہ اپنے آپ کو احسن الخالقین کہتا ہے، اپنے مصور سے کہ ہم سب اپنے مصورِ واحد کے شاہکار ہیں، مختلف رنگوں کے شاہکار، مختلف قد و قامت اور خدوخال کے شاہکار، مختلف طرح کے حسن کے ساتھ، کہ وہ ہمارے بارے میں قرآن میں فرماتا ہے کہ

"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘”،

اس کائنات کے کوئی دو ایک سانچے میں نہیں بنے، ہر ایک کا سانچہ الگ، رنگت الگ، صحت الگ، فطرت الگ، صحبت الگ، سکت الگ، مگر مصور؟”

سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے۔ "صرف ایک”

سب دم بخود سنتے رہے۔

مرد خواتین اور بچے سب یوں سر جھکائے خاموش بیٹھے تھے۔

مانو سانپ سونگھ گیا ہو۔

کیونکہ ہر ذہن میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی معیار حسن کا بت موجود تھا جسے نہایت خوبصورتی سے غیر محسوس انداز میں امی جی نے چکنا چور کر دیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 12

کلمہ طیبہ

(پاک لفظ)

 

"پہلے کلمے! اوئے پہلے کلمے!”

تخت پر بچوں کو قرآن پڑھاتی امی جی کے کانوں سے مسکان کی آواز ٹکرائی۔

جو شرارتی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے "طیبہ” (ذاکرہ ماسی کی بیٹی جو کل ہی گاؤں سے آئی تھی) کو پہلا کلمہ کہہ کر بلا رہی تھی۔

امی جی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

"مسکان بیٹے!”

انھوں نے پیار سے اسے بلایا۔

(چار سالہ مسکان جو ابھی پہلا کلمہ یاد کر رہی تھی۔)

"جی امی جی!”

مسکان شرارتی انداز میں کھلکھلاتے ہوئے امی جی کی طرف دوڑی آئی۔

"کیا نام لے رہی تھیں آپ طیبہ باجی کا؟”

"پہلا کلمہ!”

فوراً جواب آیا۔۔۔۔

"کیوں؟”

امی جی نے مسکراتے ہوئے اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھایا۔

"پہلا کلمہ طیبہ۔۔۔”

"طیب معنی پاک۔۔۔”

"لاَ اِلٰہَ اِلَّا للہُ۔۔۔۔۔۔”
"مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ۔۔۔۔۔۔۔”

"اللہ کے سوا۔۔۔۔”

"کوئی عبادت کے۔۔۔۔۔”

"لائق نہیں۔۔۔۔۔”

"اووور۔۔۔۔۔۔۔”

"حضرت محمد۔۔۔۔۔۔۔”

"صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔۔۔”

"اللہ کے رسول ہیں۔۔۔۔۔۔”

مسکان نے لہک لہک کر پورے rhythm (تال) کے ساتھ پہلا کلمہ مع ترجمہ پڑھ لیا۔

"ہوں۔۔۔۔۔۔”

امی جی نے اس کے گال کو چوم کر ایک لمبی پرسکون سانس لی اور استفہامیہ نظروں سے بچوں کی طرف دیکھ کر گویا ہوئیں۔

"کلمہ کسے کہتے ہیں؟”

"با معنی لفظ کو۔۔۔۔۔۔”

اریبہ نے جلدی سے جواب دیا۔

"یعنی؟”

امی جی نے پوچھا۔

"یعنی جس لفظ کے معنی ہوں۔”

اریبہ نے پھر جواب دیا۔

"اردو اور عربی گرائمر کی رو سے اسم، فعل، اور حرف کو کلمہ کہتے ہیں۔”

عروسہ نے جلدی سے اضافہ کیا۔

"امی جی ایک بات کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی، کہ کلمہ تو ایک بامعنی لفظ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے شش کلمے تو پورے جملے بلکہ عبارتیں ہیں۔ تو ان کو کلمہ کیوں کہا جاتا ہے؟”

ملائکہ نے سوال کیا۔

"اس کا جواب تو عروسہ نے دے دیا مگر اسے خود بھی معلوم نہیں ہوا۔”

سب کے چہروں پر استفہامیہ نشان واضح تھے اور لب خاموش۔

امی جی نے آہستہ سے مسکان کو گود سے اتار کر پاس ہی بٹھاتے ہوئے سلسلہ کلام جوڑا۔

"ابھی عروسہ نے کہا کہ کلمہ اسم، فعل، اور حرف کو کہا جاتا ہے یعنی ایسے لفظ جو کسی شخص، جگہ، چیز، جذبہ، یا پیشہ وغیرہ کا اسم یعنی نام ہو یا فعل یعنی کام ہو۔ اور نام یا کام ہمیشہ ایسا ہو گا جو معنی رکھتا ہو۔ جسے سب سمجھتے ہوں۔

یعنی کلمہ کا اطلاق یا اپلیکیشن application ایک معنی پر ہے۔ لہذا اگر پوری عبارت ایک ہی معنی دے تو اسے کلمہ ہی کہا جائے گا۔

سمجھ آئی؟”

امی جی نے سب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

"جیسے پہلے کلمے کا نام ہے طیبہ جس کے معنی ہیں پاکیزگی۔”

عروسہ نے ایک بار پھر جواب دینے میں پہل کی۔

"اور یہ کلمے قرآن میں کہاں ہیں میں نے تو آج تک نہیں دیکھے؟”

ہادی نے بڑے عجیب سے انداز میں سوال کیا۔

"آپ نے قرآن کو پوری توجہ اور تراجم کے ساتھ پڑھا کب ہے؟”

(پیار سے ڈانٹتے ہوئے)

"ایسا مت بولا کرو! جب اپنا علم کم ہو تو یہ طریقہ شیطانی تاویل میں آتا ہے۔”

"بہر حال سنو!”

"پہلی بات تو سمجھنے کی یہ ہے کہ ہمارے جو چھے رائج کلمے ہیں۔ ان کے نام اور عنوان قرآنِ مجید یا احادیثِ مبارکہ میں اکٹھے نہیں ہیں، البتہ ان کلموں کی عبارات کتاب و حدیث میں موجود ہیں، بعض کلمات مکمل موجود ہیں اور بعض مختلف جگہوں سے ٹکڑوں کی صورت میں اکٹھے کئے گئے ہیں۔”

"ان کے نام، تعداد و ترتیب وغیرہ محض اس وجہ سے قائم کیے گئے ہیں تاکہ ان ناموں اور ترتیب کے اعتبار سے انہیں یاد کر کے ان مواقع میں پڑھنا آسان ہو جائے جن مواقع پر پڑھنے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم دی ہے۔”

"ان میں پہلے دو کلموں، یعنی کلمہ طیبہ و شہادت کو تو حصول ایمان میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، جبکہ باقی چاروں کلمے فضیلت کے حصول اور ایمان کی تقویت کے لیے ہیں۔”

"امی جی ان کلموں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟” حاشر نے پوچھا۔

"ضرورت کیوں پیش آئی!”

امی جی نے حاشر کے الفاظ سوچتے ہوئے دہرائے! پھر سب بچوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جیسے ان کی سمجھ دانی کے مطابق الفاظ کا انتخاب کر رہی ہوں۔

"اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں جانتے ہو ناں سب؟”

"جی! سب یک زبان بولے۔”

"تین بنیادی عقائد ہیں۔ توحید، رسالت اور قیامت!” نئیر نے فوراً جواب دیا۔

"جی اور باقی ان سے تعلق رکھتے ہیں۔”

ارباز نے اضافہ کیا۔

"جیسے ہم ایمان مفصل اور ایمان مجمل پڑھتے ہیں۔”

ثوبیہ نے ایک اور ٹکڑا جوڑا۔

"بالکل، اللہ پر ایمان، رسولوں پر ایمان، فرشتوں، آسمانی کتابوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان ہی ہمارے بنیادی عقائد ہیں۔

عروسہ نے تفصیل بیان کی۔

بچے اب تدبر کرنا سیکھ گئے تھے۔

"شاباش! ہاں تو اسلامی عقائد کی تدوین یعنی ایک جگہ جمع کرنے کے مختلف ادوار (دور کی جمع) میں جب غیر عرب لوگوں کو عربی زبان میں اسلامی عقائد یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید و صفات کے کلمات سمجھانے اور کفر و شرک سے بے زاری اور استغفار وغیرہ کے کلمات کی تعلیم دینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اسلام کے بنیادی عقائد کو اہلِ علم نے ایمانِ مفصل، ایمانِ مجمل اور چھے کلموں کی صورت میں جمع کر دیا۔”

"اب ان کلموں کے نام دیکھو اور ترتیب پر غور کرو۔”

"پہلا کلمہ طیبہ یعنی پاکیزگی اور حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔

یعنی پہلے کلمے کو پڑھ کر سمجھ کر اور اس پر عمل کرنے سے نصف ایمان کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔”

"دوسرا کلمہ شہادت یعنی گواہی دینا۔

یاد رکھیں ہمیشہ پاکیزہ بندے کی گواہی قابل قبول ہوتی ہے۔”

"تیسرا کلمہ تمجید یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنا۔”

"چوتھا کلمہ توحید یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی یکتائی یعنی وحدانیت بیان کرنا۔”

"پانچواں کلمہ استغفار یعنی گناہوں سے توبہ کرنا۔”

"اور چھٹا کلمہ ردِ کفر یعنی باطل یا کفر کو مٹانا۔”

سمجھ آ گئی امی جی نے سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"جی بالکل سمجھ آ گئی!”

مسکان جلدی سے بولی۔

"تمھیں کیا سمجھ آئی؟”

امی جی حیرت سے چار سالہ مسکان کو دیکھتے ہوئے بولیں۔

"یہی کہ جب طیبہ باجی بڑی ہو جائے گی تو اس کا نام شہادت ہو جائے گا۔”

سب اس کی معصومیت پر ہنس پڑے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہانی نمبر: 13

لَا تَقْنَطُوْا

(مایوس نہ ہو)

 

سکول سے واپسی پر حمزہ، ہادی، شارق، ارباز اور احمر اچھلتے کودتے گھر کی طرف جا رہے تھے۔

"ارے یہ کیا ہے؟”

احمر کی نظر ایک بلی پر پڑی جو گلی کے قریب ایک مین ہول میں پھنسی ہوئی تھی۔

بلی زور زور سے چیخ رہی تھی اور پوری طاقت لگا رہی تھی مگر اس گٹر سے باہر نہ نکل پا رہی تھی۔ سب بچے بلی کو دیکھ کر اس کی طرف دوڑے ان کے دل میں بلی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی۔

شارق نے مین ہول پر جھک کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا کہ بلی اس کا ہاتھ پکڑ کر زور لگائے گی تو شاید باہر نکل آئے۔

بلی بیچاری پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی سمجھی کہ یہ بچہ اسے نقصان پہچانے کا ارادہ رکھتا ہے لہذا وہ شارق کے ہاتھ کو پنجے مارنے لگی۔

شارق گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔

اب ہادی نے نیچے جھک کر اپنا ہاتھ بڑھایا مگر بلی اس کو بھی پنجے مارنے لگی۔

ہادی نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا کہ بلی شاید اس کا ہاتھ تھام کر مین ہول سے نکل پائے لیکن اس مرتبہ بھی بلی نے اس کے ہاتھ پر خوب پنجے مارے۔

یہ دیکھ کر حمزہ بولا۔۔۔۔

"چھوڑ دو ہادی بلی کی فطرت ہے یہ کبھی بھی تمہاری مدد نہیں لے گی۔”

احمر بھی بولا۔۔۔۔

"ہادی چھوڑ دو تمہارا ہاتھ ہی زخمی ہو جائے گا۔” شارق جو پہلے ہی بلی کے خوف کا نشانہ بن چکا تھا غصے میں بولا۔۔۔۔۔۔

"کیوں اپنا ٹائم ضائع کرتے ہو، چھوڑو اس کو۔ نکلنا ہوا تو خود ہی نکل آئے گی ورنہ کسی گاڑی کے نیچے آکے مر جائے گی۔”

"خود کو بلاوجہ ہلکان مت کرو۔”

مگر ہادی جو بلی کی مدد کی غرض سے اپنا ہاتھ زخمی کروا چکا تھا۔

انکی باتوں پر ٹس سے مس نہ ہوا اور ایک بار پھر اپنا ہاتھ پیار سے آگے کر دیا۔

اب کے ارباز غصے میں بولا

"یار ہادی تمھیں ایک بات سمجھ نہیں آتی، چھوڑو اسے!”

تھوڑی دیر بلی اسی طرح ہادی کو پنجے مارتی رہی پر آخرکار بلی

سمجھ گئی کہ اس نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہچانا۔

بلی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور لگایا اور مین ہول سے باہر آ گئی اور اپنی راہ لی۔

ہادی خوشی سے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ بڑے ابا نے سامنے سے آتے ہوئے سارا منظر دیکھ لیا تھا۔

نزدیک آ کر ہادی کو اپنے قریب کیا اس کا ماتھا چوم کر شاباش دی اور بولے۔۔۔۔۔۔

"بچوں اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟”

سب نے حیرت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔

"اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملا کہ دنیا میں لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بولتے رہتے ہیں۔

دنیا کا آسان ترین کام تنقید کرنا ہے، جب بھی کوئی اچھا کام کرو تو ارد گرد کی نہ سنو۔

ہمیشہ دوسروں کی مدد کرو اور ہر ایک کے ساتھ ویسا برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں!

قرآن حکیم کا کہنا ہے کہ انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا ہی سب سے بڑا شیطانی ہتھیار ہے!

اسی لئے تو سورۃ الزمر کی آیت 53 میں حکم دیا گیا ہے کہ "مایوس نہ ہوں۔” اور مایوسی کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔”

تمام بچے شرمندہ تھے۔

انہوں نے دل میں یہ تہیہ کر لیا کہ آئندہ کبھی بھی شیطان کا ہتھیار نہیں بنیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 14

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ

(کم تولنے والوں کے لیے خرابی ہے)

 

"چاچا بابو کو چاہیے کہ وہ اب شوکت چاچو کو گھر بیچ کر امریکہ جانے کی اجازت دے دیں”۔

بارہ سالہ حاشر نے خاموشی کے طلسم کو توڑا۔ "اور خود کہاں جائیں؟”

ثوبیہ نے استفسار کیا۔

"بھئی اور بچے بھی تو ہیں ان کے اکیلے شوکت چاچو ہی مجرم ہیں بس؟”

"حاشر!”

منفی رویہ تو ایک طرف مجرم کہنے پر غضنفر (حاشر کے والد) نے اس کو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے تالی بجائی

"واہ میرے شیر سپوت کل یہ وچار آپ کے میرے لئے بھی ہوں گے”

نہایت طنزیہ انداز میں گویا ہوئے۔

"ارے بابا آپ اس کی بات کو سنجیدہ لے رہے ہیں جو کل دو نوٹ پچاس پچاس کے لے گیا پیاز اور ٹماٹر لانے اور پورا ایک گھنٹے بعد خالی ہاتھ واپس آیا کہ میں بھول گیا تھا کہ کونسے نوٹ سے پیاز اور کونسے سے ٹماٹر خریدنا ہے۔”

ملائکہ (حاشر کی بڑی بہن) کی اس بات نے پوری محفل کو زعفران زار بنا دیا۔

"تو بندہ لکھ کے دیتا ہے ناں”

حاشر غصے میں کہتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔

"پھر دونوں نوٹوں پر لکھ تو دیا تھا ناں!”

ملائکہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔

"امی جی! وہ رشیدہ چاچی کل شکایت کر رہی تھیں کہ ہمیں بھی جینے کا حق ہے۔ جیسے شوکت چاچو کے بھائی بہن دوسرے ملکوں میں بیٹھے مزے کر رہے ہیں۔ ہم بھی جانا چاہتے ہیں۔”

ملائکہ نے بھائی کی بات کو آگے بڑھایا۔

"تو انھیں روکا کس نے ہے، جائیں!”

امی جی کے لہجے میں ہلکی سی ترشی آئی۔

آخر چاچا بابو ان کے سسر کے بھائی تھے۔

"وہ کہہ رہی تھیں کہ ہم یہ گھر بیچیں گے تو باہر جانے کی رقم ہاتھ میں آئے گی۔”

ملائکہ نے تفصیل بتائی۔

"اور وہ یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ چاچا بابو ہماری جائیداد پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں!”

حاشر نے جلدی جلدی بتایا کہ کوئی درمیان میں ٹوک نہ دے۔

"تم اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتے” ثوبیہ نے اسے پھر ٹوکا۔

"امی جی چاچا بابو شوکت چاچو کو گھر کیوں نہیں بیچنے دیتے؟”

حاشر نے ثوبیہ کی ڈانٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔

"بیٹا یہ گھر چاچا بابو کا ہے۔ اس میں ان کی ساری اولاد کے حصے ہیں۔”

امی جی نے سمجھایا۔

"مگر رحمت چاچو، برکت چاچو اور سکینہ پھوپھی تو باہر ملکوں میں رہتے ہیں وہ تو مالدار ہیں۔”

"کل طلحہ (شوکت کا بیٹا) کہہ رہا تھا کہ اگر چاچا بابو نے جائیداد تقسیم کی تو ہم تو سڑک پر آ جائیں گے۔”

"لا حول و لا قوة إلا باللہ۔ کیا اول فول بول رہا ہے” غضنفر نے بیٹے کو ٹوکا۔

امی جی نے ایک نظر ساتھ والے گھر پر ڈالی پھر حاشر پر اور بولیں:

"حاشر بیٹا وراثت کی اپنی تقسیم ہوتی ہے۔ یہ امیری غریبی پر نہیں ہے۔

ہر انسان اپنی محنت سے مالدار ہوتا ہے دوسروں کے حقوق غصب کرنے سے انسان زوال کی طرف جاتا ہے کیونکہ وہ شیطان کا راستہ اپناتا ہے۔”

"امی جی! یہ اللہ رکھی کو بھی رشیدہ بی بی سے ایک شکایت ہے۔۔”

سکھی نے بات کاٹی۔

"ہاں بولو!”

امی جی نے اللہ رکھی کی طرف مڑ کر دیکھا

"امی جی! وہ پچھلے مہینے میں نے رشیدہ باجی کے گھر بارہ چھٹیاں کر لی تھیں اب وہ میری تنخواہ نہیں دے رہیں۔”

"چھٹیاں کیوں کی تھیں؟”

"وہ جی میرے مامے کی بہو جو ہے ناں پنڈ میں اس سے میری بڑی دوستی ہے اس کی بہن کی شادی تھی تو میں اس کی شادی میں گئی تھی۔”

"بارہ دن؟”

امی جی نے حیرت سے سکھی کو دیکھا

"وہ جی ہمیں بھی تو شادی غمی کرنی ہوتی ہے ناں جی!”

"جب تمھاری غمی خوشی اتنی ضروری ہے تو پھر ملازمت کیوں کرتی ہو؟”

امی جی کے چہرے پر اب کوفت نظر آ رہی تھی۔

"ملازمت میری مجبوری ہے جی!”

اللہ رکھی روہانسی ہو گئی۔

"اور غمی خوشی؟”

امی جی نے سوال کیا اور سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔

"ہر انسان اپنی اپنی مجبوریوں سے بندھا ہوا ہے۔”

جواب نہ پا کر امی جی تمام ملازماؤں کی جانب دیکھ کر بولیں جو بڑی توجہ سے امی جی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

"تمھاری مجبوری ملازمت۔۔۔ ہماری ملازم!”

"کسی کے پاس درختوں پر پیسہ نہیں لگا کہ تمھیں توڑ کر دے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی کا ملازم ہے۔ اگر تمھارے ان پر حقوق ہیں تو ان کے بھی تم پر حقوق ہیں۔ ہم سب کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اور ہم سب پر ایک دوسرے کی طرف فرائض بنتے ہیں۔

پچھلی مرتبہ بھی تم نے کہا کہ میت ہوئی تھی ایک مہینہ پرائی میت کے غم میں تم نے گزارا یہ نہیں سوچا کہ پیچھے جو ذمہ داریاں چھوڑ آئی ہوں وہ کون پوری کرے گا۔ جب تم ان ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتی ہو کہ وہ رشیدہ کا گھر ہے وہ جانے اس کی ذمہ داری جانے تو اس نے تو پھر ذمہ داری نبھائی۔

ابھی پرسوں ذاکرہ یہ کہہ کر نکلی کہ ایک دن میں تین دن کا کام نمٹا کر جا رہی ہوں چھٹی کی تنخواہ نہیں کاٹنا۔ تو کیا وہ ایک وقت میں دو دن کا کھا سکتی ہے کہ پھر دو دن نہ کھائے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی آخر ہم اپنے حقوق لینے پر آئیں تو پورے بلکہ ان سے اضافی کی توقع کرتے ہیں مگر جب حقوق کی ادائیگی کا وقت ہو تو ڈنڈی مار جاتے ہیں۔

قرآن میں اس پر ایک پوری سورہ نازل ہوئی ہے۔

سورہ المطففین!”

"مگر یہ سورہ تو مدینہ کے دکانداروں کے ماپ تول کے دو معیار رکھنے کی وجہ سے نازل ہوئی تھی۔” غضنفر جس نے قرآن ترجمہ سے پڑھا تھا۔ ترنت بولا۔

امی جی نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔

"بالکل صحیح! مگر کیا قرآن کسی ایک زمانے کے لوگوں کے لئے نازل ہوا؟”

"نہیں بلکہ اس کا ہر لفظ اپنے اندر اتنا تنوع رکھتا ہے کہ اگر تفکر و تدبر کرنے بیٹھیں تو زندگیاں گزر جائیں ہر لفظ انسان کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک لفظ کئی پہیلیاں لئے ہوئے ہے۔ اب ہمارا کام کیا ہے؟”

"تفکر و تدبر کر کے ان پہیلیوں کو بوجھنا اور اپنے خیالات کا افق وسیع کرنا ہے۔”

"یہ افق کیا ہوتا ہے؟”

فجر نے سوال کیا

"افققققق!”۔۔۔

امی جی نے پر سوچ انداز میں افق کو تھوڑا کھینچا تو بڑی بہو ثروت نے ان کی مشکل آسان کر دی وہ ایم اے اردو بھی تھی اور ایک پرائیویٹ سکول چلا رہی تھی۔

"فجر بیٹا سامنے دیکھو کہاں تک نظر آتا ہے میرا مطلب ہے نگاہ کا اختتام کس چیز پر ہوتا ہے۔”

امی جی کے تخت کے سامنے کرسی پر بیٹھی فجر نے سامنے دیکھا اور بولی

"دیوار۔۔۔!”

"شاباش اور تمھیں ملائکہ بیٹا؟”

فجر کے ساتھ بیٹھی ملائکہ سے سوال ہوا۔

"امی جی کے پیچھے دیوار میں جو کھڑکی ہے اس کی جالی سے اندر پورا کمرہ پھر غسل خانے کے کھلے دروازے اور جلتی بتی کی وجہ سے پورا غسل خانہ نظر آ رہا ہے۔”

"بہت خوب!”

تخت کے ساتھ بیٹھے حاشر کو دیکھتے ہوئے۔

"آپ کی نظر کہاں تک کام کر رہی ہے؟”

"صحن سے باہر چمن کی دیوار پر لگی بوگن ویلیا کے سبز پتوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

"سے جھانکتے ٹائلز پر بیچاری چیونٹیاں جو اپنے بچوں کے لئے رزق حلال اپنی کمر پر لادے خراماں خراماں اپنے بلوں کی جانب محو سفر ہیں۔”

اپنی باری کا منتظر حاشر تیزی سے بولا مگر ثوبیہ نے اس کی بات درمیان سے اچک لی۔

سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

"آخر اتنے ڈرامے کی کیا ضرورت تھی۔” ثوبیہ کے استفسار پر اسے پتنگے لگ گئے۔۔۔۔۔۔

"اور ملائکہ باجی نے جو ڈرامہ کیا اسے تو شاباشیاں دی جا رہی تھیں!”

اس نے پاس بیٹھی ماں کو گلہ آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

جواباً ثروت نے اس کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔

"یہ ہے نظر کا افق۔ ہمارے تمام حواس کا ایک افق ہوتا ہے جسے بہتر کیا جا سکتا ہے مختلف طریقوں سے کیونکہ در اصل افق کی کوئی انتہا نہیں ہوتی جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے ایک اور دنیا جنم لیتی ہے۔ امی جی آپ بتا رہی تھیں اپنے افق کو وسعت دینے کی۔۔۔”

منتظر بیٹھیں امی جی نے سلسلہ کلام جوڑا

"اور قرآنی آیات پر تفکر و تدبر کا تقاضہ ہے کہ ان پر ہمہ جہتی یعنی جامع نگاہ ڈالی جائے اسے ہر طرف سے سوچا جائے۔”

"غضنفر کی بات بالکل درست ہے کہ سورہ المطففین مدنی سورہ ہے۔”

"مکی مدنی سورتوں کا فرق تو معلوم ہیں ناں کہ؟”

امی جی نے اپنی بات روک کر ایک اور سوال اٹھایا۔

"جی۔۔۔۔۔”

سب بچے یک زبان بولے

"شاباش۔۔۔۔۔ اریبہ مکی سورتیں کون سی ہیں؟”

"جو مکہ میں نازل ہوئیں۔”

فوری جواب آیا

"اور مدنی؟”۔۔۔۔

انھوں نے شارق اور ریحان کو باری باری دیکھا

"جو مدینہ میں نازل ہوئیں!”۔۔۔۔۔

دونوں کی طرف سے یکساں جواب آیا امی جی کو انہی جوابات کی توقع تھی۔

"نئیر جو سورتیں طائف میں نازل ہوئیں وہ قرآن میں کہاں ہیں؟”

اب بچوں کو احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔

نئیر بھی ہونقوں کی طرح منہ کھولے امی جی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

"جو سورتیں ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے کسی بھی علاقے میں۔۔۔۔۔۔ وہ مکی ہیں اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں وہ مدنی۔۔۔۔۔!”

امی جی نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر سمجھایا۔ "ان کی پہچان یہ ہے کہ جو ہجرت سے پہلے کی سورتیں ہیں چونکہ اس وقت مسلمان نہ ہونے کے برابر تھے اس لئے ان میں دعوت اسلام ہے ۔۔۔۔۔۔۔”

"ان سورتوں کے مخاطب انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔”

"اور ان میں انبیاء کے قصے ہیں ۔۔

کفار کے سوالات کے جوابات ہیں۔

جیسے سورہ کہف میں چار قصے در اصل چار جوابات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

"جبکہ مدنی سورتوں کے مخاطب مومن ہیں ۔۔۔۔۔ اس میں جنت اور دوزخ کے نقشے ہیں ۔۔۔۔۔۔ انعامات و عذاب کا ذکر ہے ۔۔۔۔ مومنین کی تربیت ہے۔”

"ہاں!۔۔۔ تو ہم بات کر رہے تھے سورہ المطففین کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔”

امی جی نے قرآن اٹھاتے ہوئے بات جاری رکھی۔

"بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ”
"وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ”

"بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے۔”

امی جی نے سورہ کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔

آخری آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے ان کی نظر ہمسائے میں کھلی کھڑی کے پیچھے بیٹھی رشیدہ پر پڑی (اس نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور امی جی نے سر کے اشارے سے جواب دیتے ہوئے بات جاری رکھی)

"مگر اس آیت کو ہم اب مختلف تناظر سے دیکھتے ہیں۔”

انھوں نے قرآن بند کر کے واپس جزدان میں رکھا، اور سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔

"آپ سب کا کیا خیال ہے کہ صرف تاجر یا دکاندار ہی ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں؟”

"نہیں بلکہ یہ ہر جگہ ہوتا ہے زندگی کے ہر مرحلے پر ہم ایک نادیدہ دوڑ میں ایک دوسرے کو پچھاڑتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ اپنے فرائض سے رو گردانی کر رہے ہیں۔ اگر غضنفر ثروت کو تنخواہ نہیں دے رہا کہ وہ خود کما رہی ہے تو وہ اس کا حق غصب کر رہا ہے۔ چاہے ثروت غضنفر سے زیادہ ہی کما رہی ہو مگر حق تو حق ہے۔”

"اگر شوکت اپنی بیوی رشیدہ کو مورد الزام ٹھہرا کر خاموشی سے اپنے باپ کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہا ہے تو وہ اپنے فرائض میں ڈنڈی مار رہا ہے۔ کیونکہ وہ لاکھ بیوی کو الزام دے مگر روز قیامت اپنے باپ کے بارے میں جواب دہ شوکت ہو گا اس کی بیوی نہیں۔”

"اگر اللہ رکھی تنخواہ تو پورے دنوں کی مانگتی ہے مگر کام پورا نہیں کرتی چھٹیاں کرتی ہے تو وہ اپنے فرائض سے رو گردانی کر رہی ہے۔”

"اگر سکھی غسل خانہ دھونے کے بجائے صرف پانی ڈال دیتی ہے تاکہ دھلا ہوا محسوس ہو تو اپنے فرائض سے رو گردانی کر رہی ہے۔”

"اگر ذاکرہ نظر بچا کر کچھ سالن بغیر پوچھے تھیلی میں ڈال کر فریزر میں چھپا دیتی ہے کہ جاتے ہوئے ساتھ لے جائے گی تو۔۔۔۔ ڈنڈی ماری” (ذاکرہ چوری پکڑے جانے پر سمٹ گئی)

"اگر صبوحی آنکھ بچا کر گندے برتن صاف برتنوں میں رکھ دے تو۔۔۔ ڈنڈی ماری۔”

"اگر ثروت اپنے سکول کے اساتذہ سے کام تو پورا لے مگر تنخواہ دیر سے اور مختلف اشیاء کی مد میں کٹوتی کر کے دے یا سٹاف تنخواہ کا تقاضہ وقت پر کریں بونس کی توقع بھی رکھیں مگر اپنا وقت کلاس میں ضائع کریں۔”

"اگر سفیر بینک کے کام کے بہانے بینک سے باہر اپنے کام نبٹاتا پھرے۔”

"اگر اسجد اعلی معیار کی رقم لے کر ادنی معیار کا مال سپلائی کرے۔”

"اگر بچے والدین اور اساتذہ سے اپنے حقوق تو پورے مانگیں مگر فرائض پورے کرنے میں خود کو کم عمر، مصروف، کمزور اور نجانے کیا کیا تصور کریں”

"اگر مائیں فیڈر کے دودھ بچوں کو پلانے کے بعد دائیوں کے ہاتھوں میں پلنے والے بچوں سے اپنے حقوق کی توقع کرے۔

تو سب ڈنڈی مار رہے ہیں۔”

"انسان صبح سے شام تک اپنے آپ کو بیچتا ہے۔”

"استغفر اللہ!”

سکھی کے بلند آواز استغفار پر امی جی کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی مگر انھوں نے بات جاری رکھی۔

"انسان اپنی صلاحیت، محنت، ذہانت بیچ رہا ہے اپنا فن بیچ رہا ہے۔”

"ڈاکٹر اپنی طبی صلاحیتیں، وکیل قانونی مہارتیں، سرجن اپنی مہارتیں اساتذہ اپنی تعلیم اور گھریلو ملازم اپنی خدمات بیچ رہے ہیں۔”

"اب ان تمام خدمات کو دکان میں رکھی اشیاء تصور کریں پھر دیکھیں ہم اپنے ناپ تول میں کتنے انصاف سے کام لے رہے ہیں۔”

رشیدہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ اپنے کئے پر نادم تھی۔

وہ پڑھی لکھی نرم دل خاتون تھیں مگر چونکہ شادی کے شروع میں چاچا بابو نے انھیں قبول نہیں کیا تھا۔ تو اب اسے بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا۔ مگر آج اسے احساس ہوا کہ وہ بڑے خسارے کا سودا کر رہی تھی۔

کچھ ایسا حال امی جی سمیت سب کا تھا۔

"حل بتایا ہے ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے!”

امی جی نے بڑے پیار سے سب کے افسردہ چہروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

"حل کیا ہے؟”

ثروت نے پوچھا۔

"توبہ!”

امی جی نے جواب دیا۔

"توبہ!”

تقریباً تمام افراد کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

"بالکل اور کونسی توبہ پتہ ہے؟”

"توبة النصوح”

امی جی جواب کا انتظار کئے بغیر بولیں۔

"توبة النصوح کیا ہے امی جی؟”

ثوبیہ نے استفسار کیا۔

"یہ ایک لمبی کہانی ہے اگلی محفل میں اس پر بات کریں گے آج کے لئے ہم نے دل سے توبہ کرنی ہے اور اپنے ساتھ عہد کرنا ہے کہ حقوق کے حصول سے پہلے فرائض کی ادائیگی کریں گے۔”

"ان شاء اللہ!”

سب یک آواز بولے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہانی نمبر: 15

غَیِّرُواْ أَنْفُسِہِمْ

(انہوں نے خود کو بدل لیا)

 

إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ

خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت خود تبدیل نہیں کر لیتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

"اسلام علیکم امی جی!”

"ہائے دادی جان!”

” ہیلو دادی جی!”

مختلف آوازیں پودوں کو پانی دیتی امی جی کے کانوں سے ٹکرائیں۔

امی جی نے مڑ کر دیکھا تو آٹھ دس لڑکیاں بشمول ملائکہ نئیر اور عروسہ گھر کے صدر دروازے سے اندر داخل ہو چکی تھیں۔

مشترکہ سلام ان ہی کی طرف سے پیش ہوا تھا۔ جس کے بعد کچھ حیرت سے ملائکہ، نئیر اور عروسہ کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

"وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!”

امی جی نے پانی کا پائپ کیاری میں رکھا اور لڑکیوں کی جانب بڑھیں

"AMMI JEEEE……?”

خالص انگریزی لہجے میں

ملائکہ کی ہم جماعت تشمیم عرف ٹِمی اپنی حیرت کو مزید نہیں چھپا سکی۔

"دادی کو بڑے چھوٹے اپنے پرائے سب امی جی کہتے ہیں۔”

ملائکہ نے ان کی حیرت دور کی۔

” Waoo that’s interesting”

اتنی دیر میں امی جی ہاتھ خشک کر کے ان تک پہنچ چکی تھیں۔

انہوں نے فرداً فرداً سب کو قریب کر کے پیار کیا۔ اور ملائکہ کو دیکھ کر بولیں

"بیٹا انہیں مہمان خانے میں بٹھاؤ۔ میں تمہاری امی کو بھیجتی ہوں۔”

"جی امی جی!”

ملائکہ نے مودبانہ جواب دیا اور انہیں لے کر اندر چلی گئی۔

ملائکہ نے کالج میں فرسٹ پوزیشن لی تھی جس کی خوشی میں آج ان کے گھر میں ملائکہ کی پانچ سہیلیوں کی دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔

ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہنیں جو نئیر اور عروسہ کی ہم جماعت تھیں وہ بھی مدعو تھیں۔

امی جی جب مہمان خانے میں داخل ہوئیں تو ان کی چاروں بہوئیں مہمانوں سے مل رہی تھیں، جبکہ سکھی، ذاکرہ اور صبوحی شربت پھل اور دوسرے لوازمات میز پر سجا رہی تھیں۔

ثروت (ملائکہ کی امی) نے امی جی کو اندر آتے دیکھ کر فوراً ان کے لئے صوفے سے ان دیکھی گرد جھاڑی،  کشن درست کیا ان کو صوفے پر بٹھایا پھر ساتھ ہی دوسرے صوفے پر خود براجمان ہو گئی۔

"امی جی یہ تشمیم ہے سب اسے پیار سے ٹِمی کہتے ہیں۔”

نیلی جینز کی پینٹ، آدھی آستین کی سرخ شرٹ اور گلے میں جھولتے دوپٹے میں ملبوس ٹمی نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا۔

"یہ اس کی جڑواں بہن تسنیم عرف سنی!”

ایک جیسی شکل و صورت مگر خوبصورت انگوری اور سفید رنگ کے قمیص شلوار کے ساتھ سر پر نفاست سے اوڑھے دوپٹے میں سنی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

"یہ ان کی چچا زاد مہک۔”

کالی پینٹ، سفید کشیدہ کاری والا زرد کرتا اور گلے میں جھولتا سفید دوپٹہ۔

"یہ ایلس ڈیسوزا!”

گلابی شلوار قمیض میں ملبوس گورے رنگ اور سبز آنکھوں والی انگریز لڑکی۔

"یہ پونم!”

زیتونی رنگت اور ملیح نقوش کی حامل دھان پان سی لڑکی جو مہک اور ٹمی کی طرح پینٹ شرٹ میں ملبوس تھی۔

"یہ ایمی ہے ایلس کی بہن اور عروسہ کی ہم جماعت۔”

"یہ نئیر کی ہم جماعت سپنا، پونم کی بہن اور یہ تنویلہ، مہک کی بہن ہے۔”۔۔۔۔۔۔

ملائکہ نے جلدی جلدی تعارف سمیٹا۔

امی جی نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا۔

اور ملائکہ سے سوال کیا

"تمہاری بیسٹ فرینڈ ان میں سے کون سی ہے؟”

"امی جی ہمارا فرینڈ گروپ ہے ہم چھے۔۔۔۔۔”

"میرا مطلب ہے کہ ایک ہوتا ہے ناں فاسٹ فرینڈ جو گروپ میں بھی تھوڑا ہٹ کر ہوتا ہے۔”

امی جی نے ملائکہ کی بات کاٹتے ہوئے اپنا موقف واضح کیا۔

"Sunny and Alice!”

پونم جلدی سے خالص انگریزی لہجے میں بولی۔

"Even when we are in a group,…. these three will often be seen in pairs, especially…. Sunny and Malaika, and the position is always back and forth…. Now look, Sunny took the second position. Malaika is on first and Alice is on fourth position……”

(ہم گروپ میں بھی ہوں تب بھی یہ تینوں اکثر سر جوڑے نظر آئیں گی خصوصاً سنی اور ملائکہ، اور پوزیشن بھی ہمیشہ آگے پیچھے اب دیکھیں سنی نے سیکنڈ پوزیشن لی ہے اور ملائکہ نے پہلی جبکہ ایلس نے چوتھی پوزیشن لی)۔

مہک نے انگریزی میں تفصیل بتائی۔

امی جی نے سکون کا سانس لیا۔

لڑکیاں آپس میں گپ شپ میں مصروف ہو گئیں امی جی انتظامات دیکھنے کھانے کے کمرے کی طرف آ گئیں۔

کان ابھی بھی لڑکیوں کی آپس میں فرنگی زبان میں گپ شپ اور دل ان کے فرنگی لبادوں میں اٹکا ہوا تھا۔

"Wao what a beautiful decoration piece!”

"Is it imported?”

"And look at this one , amazing……!”

ٹمی اور پونم ایک ایک ڈیکوریشن پیس اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔

جبکہ مہک ابھی بھی سوالیہ نظروں سے ملائکہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔

"نہیں یہ میری چچی اور امی جی کے ہاتھ کے بنے ہیں۔”

"منجھلی چچی (نئیر کی امی) نے کورس کیا ہے ڈیکوریشن، پوٹری اور انٹیرئیر ڈیزائننگ کا۔”

"وہ آرٹسٹ بھی ہیں لینڈ اسکیپ پینٹنگ اور اسلامک کیلیگرافی ان کی فیلڈ ہے۔”

 

"I have heard that your mother runs a private school which is very successful. And she is highly educated as well as a poet.”

(میں نے سنا ہے کہ تمھاری امی نجی سکول چلاتی ہیں جو بہت کامیاب ہے۔ اور وہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعرہ بھی ہیں۔)

ٹمی کے سوال پر ملائکہ مسکرائی اور فخر سے سر اونچا کر کے بولی۔

” ہمارے گھر کی مثال ایک جواہرات کے خزانے جیسی ہے اس میں ہر نگینہ ہر ہیرا اپنی مثال آپ ہے۔”

"Waoooo!”

ٹمی بہت متاثر نظر آ رہی تھی۔

"Well! It means your mother and other women in your family must have studied abroad.”

"That is why they are so talented.”

"نہیں! بلکہ ان سب نے تو گورنمنٹ کے سکولوں سے اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کی ہے۔”

"What?۔۔۔۔۔۔ Urdu medium!”

ٹمی کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

"Then what did they do to succeed?”

"They Must have done English language courses am I right ?”

امی جی جو کافی دیر سے ٹمی کی باتیں سن رہی تھیں۔ آخر کار پہلے (بچی کی تسلی کے لئے) انگریزی میں ہی خالص انگریزی لہجے میں گویا ہوئیں۔

"Sweet heart!”

"why do you think success comes from English language? Or only those who study abroad are talented.”

"English is only a language not a skill or ability.”

"And each country has its own language, its own talents, skills, capabilities, abilities and their own customs and culture. AL Hamad o Lillah we are Muslims, we have the strongest religious culture.”

(میری جان! انگریزی زبان سامراج کی باقیات میں سے ہے۔ ہم نے غلامی کے ہر نشان کو مٹا کر اپنی نسل کو حقیقی آزادی سے ہم کنار کرنا ہے۔ اپنے اقدار کی پاسداری کرنی ہے۔)

"کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی کا انحصار اور دنیا میں اس کی عزت و تکریم، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اپنی تاریخ، نظریات، روایات، اقدار، زبان، ثقافت اور تہذیب کے معاملے میں حساس ہے۔

بچو! انگریزی بولنا برا نہیں مگر انگریزی کو ترقی و کامیابی کی نشانی سمجھنا بے وقوفی ہے۔”

"اور افسوس کے ساتھ کہوں گی کہ، انگریزوں کو ان کی زبان کی وجہ سے اعلی و ارفع سمجھتے ہوئے کھانے پینے اوڑھنے پہننے میں ان کی تقلید کرنا تو میری نظر میں جاہلیت ہے۔”

” ناراض نہ ہونا بچو۔”

امی جی کو خدشہ ہوا کہ کہیں بچیاں پریشان نہ ہو جائیں۔

"اس میں آپ لوگوں کا قصور نہیں یہ تو غلامی کا وہ زہر ہے جو آج سے کچھ عرصہ قبل انگریزوں نے ہماری رگوں میں نہایت چالاکی سے اتارا۔”

"کیا چال تھی ان کی!” امی جی نے آہ بھری۔ "برصغیر میں آئے!۔۔۔۔۔، ہماری نفسیات سمجھنے کیلئے ہماری زبانیں پڑھیں!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری خوبصورت زبانیں فارسی، اردو، اور سنسکرت کے عالم بنے۔ اپنے اوپر مختلف بولیوں کے لبادہ چڑھاتے گئے، اور ہماری زبان کے جسم کو بے لباس کرتے گئے۔ ہمارے چند فیصد امیر طبقے کو انگریزی زبان سکھائی اور اکثریت غریب طبقے کو اس زبان سے دور رکھا۔ پھر انگریزی بولنے والوں پر انعامات و اکرامات کی بارش شروع کر دی۔ اب یہ فطرت انسانی ہے کہ جس شئے تک رسائی مشکل ہو، اسے ہی کامیابی سمجھ بیٹھتے ہیں۔”

"لہذا اکثریت زبان سے مرعوب ہوتی گئی اور اپنے اسلاف کی عظیم تاریخ بھلا بیٹھی اور یوں وہ ہماری تاریخ کو پائمال کر گئے۔ ہمارے حال کو بے حال کر گئے۔ ہم اپنے وطن میں ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی ہماری کیا مجبوری ہے کہ پرائی زبان و ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں؟ ہمیں عبرت پکڑنی چاہیے اُن نسلوں سے جو آج مجہول النسب ہیں! ورنہ ہم بھی بے نام و نشان ہو جائیں گے!”

ٹمی، مہک اور پونم کے سر شرمندگی کے احساس سے جھک گئے۔ جبکہ سنی اور ایلس ڈیسوزا نے اپنے دل میں ایک نامعلوم سا سکون محسوس کیا۔

"سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمیں ہمارے رب اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے بھی غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔”

"کیا اسلام میں انگریزی بولنے کی اجازت نہیں؟”

ایلس ڈیسوزا نے حیرت سے پوچھا۔

"ارے نہیں اسلام میں کسی بھی زبان کے بولنے پر کوئی پابندی نہیں، مگر دوسروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔”

"سورہ آل عمران کی ایک آیت

یَآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا

جس کا ترجمہ تفسیر عثمانی میں کچھ یوں کیا گیا ہے کہ

اے ایمان والو تم نہ ہو (جاؤ) ان کی طرح جو کافر ہوئے۔

سنن ترمذی میں ایک روایت ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:

"جو شخص ملتِ اسلامیہ کے علاوہ کسی اور امت کے ساتھ مشابہت اختیار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں، اِرشاد فرمایا کہ تم یہود اور نصاری کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو”۔ (سنن الترمذی، کتاب الاستیذان، رقم الحدیث: ۲۶۹۵) اس حدیث کی شرح میں صاحب تحفة الأحوذی لکھتے ہیں کہ ’مراد یہ ہے کہ تم یہود و نصاریٰ کے ساتھ ان کے کسی بھی فعل میں مشابہت اختیار نہ کرو۔‘ (تحفة الاحوذی: ۷/۵۰۴)

بد قسمتی سے ہمارے پاس خوبصورتی کا معیار گورا رنگ اور قابلیت کا معیار انگریزی ہے۔ ہمارے ملک میں بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کا واحد مقصد انگریزی سکھانا ہوتا ہے۔”

ملائکہ کی امی ثروت نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

"کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اگر معیار تعلیم انگریزی ہے تو انگریز اپنے بچوں کو اسکول میں کیوں داخل کرواتے ہیں؟”

"ہماری ذہنی غلامی کا تماشہ دیکھیں ہم نے اسکولز تک کو انگریزی اور اردو میڈیم بنایا ہے۔ ملک کا غریب طبقہ اردو پڑھے گا جبکہ امیر انگریزی۔ دنیا کی پچھلی دس ہزار سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو کسی قوم نے کسی غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی۔”

"تخلیق، تحقیق اور جستجو کا تعلق فرنگی زبان سے نہیں ہوتا۔ اس قوم کا نوجوان بھلا کیسے کچھ سوچ سکتا ہے جس کا واحد مقصد اپنی انگریزی درست کر کے اعلیٰ نوکری حاصل کرنا ہو۔ اور وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے جس کے اعلی عہدوں کی بنیاد قابلیت کے بجائے انگریزی زبان پر رکھی جائے۔”

کم از کم میں نے تو آج تک دنیا میں کہیں بھی قابلیت کا کوئی نمونہ انگریزی کی وجہ سے نہیں دیکھا۔”

"بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔”۔۔۔

امی جی نے تائید کی۔

"انگریزی ضرور سیکھنی چاہئیے مگر، اردو کی حفاظت بھی ہمارا فرض ہے۔ کیونکہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں ہماری غیرت، ہماری شناخت اور ہمارے دین و تہذیب و تمدن کی محافظ ہے۔

جو قومیں اپنی زبان کو ترک کر دیتی ہیں، پھر چاہے کتنی مالدار ہی کیوں نہ ہو جائیں ان کے نصیب میں صرف ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے۔”

"انگریزی زبان سے ہمارا رشتہ صرف غلامی کا ہے۔”

"امی جی اس ضمن میں علامہ اقبال کیا خوب فرمایا: "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(تسنیم عرف سنی "جو علامہ اقبال کی شاعری کی دلدادہ تھی” نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے تمام گفتگو کو انجام دے دیا)

"اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے”

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 16

حسد

(دوسرے کی نعمت کا زوال چاہنا)

 

 

"امی جی کافر بھی نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں؟”

رمضان کا بابرکت مہینہ چل رہا تھا۔

فجر نے نماز پڑھ کے جائے نماز شیلف میں رکھتے ہوا پوچھا۔

"نہیں بیٹا کافر کا مطلب ہے اللہ کی وحدانیت، نبوت یا شریعت کا انکار کرنے والا تو جو اللہ کو مانتا ہی نہ ہو تو وہ کیوں نماز روزہ جیسی عبادت کرے گا۔”

امی جی نے سمجھاتے ہوئے اپنی جائے نماز شیلف میں رکھی۔

"اچھا!”

فجر کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے:

"کل جب میں مہروش کے گھر گئی۔۔۔۔۔ تو اس کی پھوپھی۔۔۔ نماز پڑھ رہی تھیں اور ان کا روزہ بھی تھا!”

اس نے نہایت حیرانگی سے اپنا جملہ ٹکڑوں میں مکمل کیا۔

"کیا مطلب تمہیں کس نے کہا کہ مہروش کی پھوپھی کافر ہیں؟”

اب حیران ہونے کی باری امی جی کی تھی۔

"مہروش کی امی ایک دن اپنی بہن کو بتا رہی تھیں کہ صفورہ آنٹی پکی جادوگرنی ہیں اور کالا جادو کراتی ہیں، مجھے اس کے جادو کو توڑنے کے لئے کسی جادوگر سے ملنا پڑے گا۔ تو خالہ نے کہا کہ وہ تو کافر ہیں، کیا تم بھی اپنا مذہب خراب کرو گی؟”

"مگر کل میں نے دیکھا وہ تو نماز پڑھ رہی تھیں اور روزہ بھی۔۔۔۔۔۔”

امی جی کو مسکراتے دیکھ کر فجر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

"فجر بیٹا صفورہ آنٹی کافر نہیں مسلمان ہیں۔ اگر وہ کالا یا سفید کسی بھی قسم کا جادو کراتی ہیں تو یہ ان کے ایمان کی کمزوری اور جاہلیت ہے مگر کفر نہیں۔ ہاں مگر ایک بات یاد رکھنی چاہئے۔”

امی جی نے فجر کو برآمدے میں پڑے تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

"کہ ایمان کی کمزوری اور جاہلیت کو کفر میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔”

"وہ کیسے؟”

فجر نے تخت پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

"وہ ایسے کہ ایمان کی کمزوری کا مطلب ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان کمزور ہے اور آپ اپنی خواہشات کو جلد از جلد پورا کرنے کے لئے غیر اللہ کو بھی اپنا اِلٰہ بنا سکتے ہو۔”

"اِلٰہ کیا ہوتا ہے؟”

فجر نے سوال کیا۔

"اِلٰہ یعنی معبود، جس کی عبادت کی جائے۔”

امی جی نے سمجھایا۔

"یعنی ہندوؤں کی طرح بت پرستی؟”

فجر ترنت بولی۔

"نہیں بیٹا! غیر اللہ کی پرستش کے لئے سجدہ لگانا ضروری نہیں، بلکہ دل سے اسے مشکل کشا مان لینا بھی کافی ہے۔ جیسے کوئی انسان یہ سوچے کہ پیسہ ہر مشکل کا حل ہے، کوئی یہ سوچے کہ فلاں درگاہ یا پیر صاحب ہماری دلی مرادیں پوری کر سکتا ہے۔ کوئی سوچے کہ تعویذ، جادو سے میں اپنا کام کروا سکتا ہوں یا دوسروں کے کام روک سکتا ہوں، یہ سب پرستش کی اقسام ہیں۔”

"امی جی لوگ جادو کیوں کرواتے ہیں؟”

فجر نے ایک اور سوال کیا۔

"حسد!”

امی جی نے مختصر جواب دیا۔

"حسد؟”

فجر نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔

"آؤ ایک ایکٹیوٹی کرتے ہیں۔”

امی جی نے پین اور ڈائری اٹھائی اور ایک خالی صفحہ کھول کر اس پر ایک لکیر لگائی پھر پین اور ڈائری فجر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولیں،

"اس لکیر کو چھوئے بغیر، کاٹے بغیر، مٹائے بغیر چھوٹا کر کے دکھاؤ۔”

فجر نے لکیر کو ہر انداز سے دیکھا مگر اسے سمجھ نہیں آئی کہ بغیر چھوئے، کاٹے، مٹائے کیسے لکیر کو چھوٹا کرے۔

"ایسا ممکن ہے؟”

اس نے پر سوچ انداز میں امی جی سے پوچھا!

"بالکل!”

وہ پھر سوچ میں ڈوب گئی مگر کچھ سمجھ نہ آئی تو آخر تنگ آ کر ڈائری امی جی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی

” آپ کر کے دکھائیں”

امی جی نے اس لکیر کے برابر میں ایک اور لکیر کھینچی جو پہلی لکیر سے لمبی تھی۔

"اب بتاؤ پہلی لکیر چھوٹی ہو گئی؟”

امی جی نے مسکرا کر پوچھا،

"بالکل ہو گئی!”

فجر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بڑے جوش سے بولی۔

"ہمیں اپنی زندگی بالکل اسی فلسفے سے گزارنے کا حکم ہے۔ زندگی کی دوڑ میں اگر کسی کو شکست دینی ہے تو اس کی ٹانگ نہیں کھینچنی بلکہ اپنی سپیڈ بڑھانی ہے۔ حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے اپنے اندر کچھ کر گزرنے کی چنگاریوں سے جوش و جذبے کی آگ لگانی ہے۔”

"تو اس کا جادو سے کیا تعلق امی جی؟”

فجر کے خیالات ابھی تک جادو تعویذ کے گرد گھوم رہے تھے۔

"تمہارے خیال میں جادو یا تعویذ کوئی کس لئے کراتا ہے؟”

"دوسروں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے ان کے راستے روکنے کے لئے، ان کے کام بگاڑنے کے لئے۔” فجر کو خاموش دیکھ کر امی جی نے خود ہی جواب دے دیا۔

"اور اس سے جادو تعویذ کرنے والے کو کیا حاصل ہوتا ہے؟”

امی جی نے ایک اور سوال کیا۔

"شاید کچھ نہیں!”

فجر کچھ متذبذب لہجے میں بولی۔

"بس یہی حسد ہے جس سے حاسد کو کچھ حاصل تو نہیں ہوتا مگر جس سے حسد کیا جائے اس کا نقصان ہو جاتا ہے۔”

امی جی نے پیار سے سمجھایا۔

اب فجر حسد کے فلسفے کو مکمل سمجھ چکی تھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 17

توبہ النصوح

(خالص توبہ)

 

"وہ بالکل عورتوں کی طرح تھا!”

"تو کیا وہ مرد تھا؟”

"پتہ نہیں، مگر مس نے بتایا کہ اس نے سچے دل سے توبہ کی تو اس کی وجہ سے سچی توبہ کو توبہ النصوح کہتے ہیں۔”

"اچھا چلو وہ کہانی سناؤ جو مس نے سنائی تھی۔”

"مجھے پوری طرح یاد تو نہیں مگر میں یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔”

باتوں کی آواز سے امی جی کی آنکھ کھلی تو کھڑکی کے باہر بچوں پر نظر پڑی، جہاں امی جی کا دوپٹہ اوڑھے تخت پر بچوں کو اردگرد بٹھائے بارہ سالہ نئیر بڑے انہماک سے بچوں کو کہانی سنا رہی تھی۔

اور سارے بڑے ادب اور خاموشی سے کہانی سن رہے تھے۔

"ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ نصوح ایک آدمی تھا جس نے عورت بن کر ملکہ کے محل میں ملکاؤں اور شہزادیوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

امی جی وضو کر کے باہر آئیں تو ان کی گفتگو اور کہانی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

"امی جی نصوح کی کہانی سنائیں پلیز۔۔۔۔۔۔”

سب بچے مل کر بولنے لگے۔

"اچھا، اچھا!”

امی جی نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

"پہلے تو توبہ النصوح کا مطلب سمجھ لو پھر کہانی سناتی ہوں!”

سب بچے متوجہ ہو کر خاموشی سے امی جی کو دیکھنے لگے۔

"قرآن کی آیت ہے۔

” یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَى اللّہِ تَوْبَہً نَصُوحاً ” (۱)

اے ایمان لانے والو! خدا کی بارگاہ میں خالص توبہ کرو۔”

"اب ”نصوح” کے معنی بعض مفسرین "خالص” بتاتے ہیں۔”

"توبہ النصوح یعنی؟”

امی جی نے سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا!

"خالص توبہ”!

سب بچے یک زبان بڑے جوش سے بولے۔

"بالکل! اور بعض مفسرین اس کا معنی نصیحت یا تنبیہ سے بتاتے ہیں۔ یعنی، توبہ النصوح سے مراد وہ توبہ جس کی لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اس کی طرح توبہ کریں۔”

امی جی نے روانی سے تفصیل بتائی۔

"سمجھ آئی؟”

امی جی نے سوال کیا۔

"جی! توبۃ النصوح ایسی خالص توبہ کرنے کو کہتے ہیں جس کی نصیحت خود اللہ نے ہمیں قرآن میں کی ہے۔”

نئیر نے جلدی سے الفاظ جوڑے، اور کیا خوب جوڑے!

"بالکل میری جان!”

امی جی نے نئیر کو پیار سے قریب کر کے سر پر چوما، اور سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔

"توبۃ النصوح قرآن کا لفظ ہے اس لئے ہم اسے کسی نصوح نامی بندے کی وجہ سے توبۃ النصوح نہیں کہہ سکتے، ہاں! اس بندے کی خالص توبہ کی وجہ سے اس کا نام نصوح پڑا یہ کہا جا سکتا ہے۔”

امی جی نے پاس بیٹھی نئیر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"اب آتے ہیں تمہاری مس کی سنائی ہوئی کہانی کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

"در اصل یہ کہانی مولانا جلال الدین رومی کی کتاب مثنوی معنوی کی ایک حکایت ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ نصوح ایک ایسا آدمی تھا جو بالکل عورتوں جیسا دِکھتا تھا، عورتوں جیسی آواز، چال جسامت اور شکل و صورت، اور اپنی اسی ظاہری شکل و صورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے زنانہ حمام میں نوکری حاصل کی۔

کوئی بھی اس کی حقیقت نہیں جانتا تھا، سب اس کو عورت سمجھتے تھے۔

وہ جانتا تھا کہ میں ایک غلط کام کر رہا ہوں جس کے لئے اس نے کئی بار اللہ سے توبہ کی مگر پھر توبہ توڑتا رہا۔

ایک دن حمام میں شہزادی کا ایک قیمتی ہیرا کھو گیا۔

شہزادی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔ نصوح حقیقت کھلنے کے بعد رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو اس نے سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی درگاہ میں دل سے توبہ کی۔

اور خدا سے وعدہ کیا کہ بس آخری بار میرا پردہ رکھ لے آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا۔ اچانک شور اٹھا کہ ہیرا مل گیا، نصوح نے خدا کا شکر ادا کیا اور بہانہ بنا کر حمام کی نوکری چھوڑ دی، اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر عبادت میں مشغول ہو گیا۔”

امی جی سانس لینے کو رکیں تو بچوں کے چہروں پر نظر پڑی۔

سب بچے پوری دلچسپی سے کہانی سن رہے تھے۔ اور امی جی کی آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ کبھی منہ کھولتے، تو کبھی پوری آنکھیں کھول لیتے۔

امی جی نے مسکراتے ہوئے سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔۔۔

"ایک دن اسے ایک بھینس ملی جو اس کے قریب گھاس چر رہی تھی اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آ گئی ہے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں جب تک اس کا مالک نہ آئے، لہٰذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا کچھ دن بعد بھینس نے ایک پیارا سا بچہ دیا۔

اب نصوح اس کا دودھ استعمال کرنے لگا اور دودھ کا پورا حساب رکھنا بھی شروع ہو گیا۔

کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آ نکلا۔ تمام مسافر پیاس کی شدت سے نڈھال تھے انہوں نے نصوح سے پانی مانگا۔

نصوح نے سب کی پانی اور دودھ سے تواضع کی اور انہیں ان کی منزل تک جانے کا آسان راستہ بتایا۔ قافلے والوں نے خوش ہو کر نصوح کو بہت سارا مال و دولت دیا۔”

"مفت میں؟”

شارق نے حیرت سے سوال کیا۔

امی جی نے دس سالہ شارق کی جانب دیکھا اور مسکرائیں، کہانی چھوڑ کر اس کو سمجھانا زیادہ مناسب سمجھا۔

"ہاں مفت میں! کیونکہ عام طور پر بھٹکے ہوئے قافلوں کو لوٹ لیا جاتا تھا۔ مسافروں کو یا تو مار دیا جاتا تھا یا غلام بنا لیا جاتا تھا۔ یہاں تو نصوح نے ان کی نہ صرف تواضع کر کے جان بچائی بلکہ انہیں راستہ بھی بتایا۔ بہت بڑا احسان تھا، ہے ناں؟”

امی جی نے پھر بچوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

"جی! امی جی، اگر نصوح ان کو پانی اور دودھ نہ دیتا تب بھی وہ مر جاتے اور ساری دولت نصوح کو مل جاتی۔”

"بالکل! تو نصوح نے ان پیسوں سے وہاں ایک کنواں کھدوا لیا تاکہ مسافروں کو آسانی رہے۔”

گیارہ سالہ انجم کے جواب کے بعد امی جی نے فوراً سلسلہ کلام جوڑا کیونکہ اذان میں وقت کم رہ گیا تھا۔

"رفتہ رفتہ اردگرد آبادی بھی بڑھنے لگی اور دور دور تک نصوح کی شہرت بھی، اسے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس کی شہرت بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ نے ملنے کا پیغام بھیجا مگر نصوح نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آ سکتا۔

بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا مگر چونکہ اسے نصوح سے ملنے کا اشتیاق تھا لہٰذا اس نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آ سکتا تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔

جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا تو راستے میں ہی ملک الموت نے بادشاہ کی روح قبض کر لی۔

اس زمانے کے رواج اور بادشاہ کی نصوح سے عقیدت کی وجہ سے، لوگوں نے نصوح کو تخت پر بٹھا دیا۔

نصوح نے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا اور اسی شہزادی سے شادی کر لی جس کا ہیرا گم ہوا تھا۔

ایک دن نصوح تخت پر بیٹھا، عوام کے مسائل سن رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہو گئی تھی آپ کی عدالت سے اپنی بھینس کا طلب گار ہوں نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال و دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔

وہ شخص کہنے لگا، نہ تو میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔ بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے یہ سارا مال اور دولت تمہارا انعام اور سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو، وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہو گئے۔ اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو یا خالص توبہ کو توبہ النصوح کہتے ہیں۔”

"اللہ سبحان و تعالیٰ ہمیں بھی توبہ النصوح کی توفیق عطا فرمائے!”

"آمین!”

سب بچوں نے مل کر کہا۔

"اب سمجھ آئی؟”

امی جی نے ایک مرتبہ پھر نئیر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"امی جی، مس کی سنائی کہانی میں بھول گئی تھی، مگر اب نہیں بھولوں گی کیونکہ آپ نے بہت پیارے انداز میں سنائی۔”

نئیر نے جواب دیا۔

"مجھے بھی نہیں بھولے گی!”

سب بچے اپنے اپنے جوش کا اظہار کرنے لگے۔

"شاباش! چلو اب سب نماز کی تیاری کرو۔”

امی جی نے سب کو پیار سے کہا اور اندر کمرے کی طرف چلی گئیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 18

وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ

(جس کو چاہے عزت دے)

 

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ بِیَدِکَ الْخَیْرُؕ اِنَّکَ عَلٰى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔

نئیر قرآن کی تلاوت کر رہی تھی کہ اچانک سورہ آل عمران کی آیت نمبر چھبیس پر آ کر رک گئی۔

"امی جی! اس آیت کے ترجمے میں لکھا ہے ’اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!) یوں عرض کیجئے اے اللہ! اے کُل بادشاہی کے مالک آپ جسے چاہے بادشاہی عطا فرما دیں اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیں اور آپ جسے چاہے عزت عطا فرما دیں اور جسے چاہے ذلیل کر دیں ساری بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بے شک آپ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہیں۔‘ کیا بادشاہوں کی بھی ذلت ہوتی ہے؟ ان کے پاس تو پورے ملک کی حکمرانی ہوتی ہے، تو ان کی بے عزتی کون کر سکتا ہے؟”

امی جی نے مسکرا کر نئیر کو دیکھا اور بولیں۔۔۔۔۔۔

"چلو ایک کہانی سناتی ہوں۔”

سارے بچے امی جی کے اردگرد بیٹھ گئے۔

"ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک نیک صفت بادشاہ جو حافظ قران بھی تھا۔ اس نے سنا تھا کہ صحابہ کرام جب تلاوت کرتے تو آیات کی تفسیر جاننے کے لیے مختلف علاقوں کے سفر کیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ جب وہ تلاوت کر رہا تھا تو یہی آیت جو ابھی نئیر نے تلاوت کی یعنی سورہ آل عمران کی آیت نمبر چھبیس جس کا ترجمہ ہے کہ۔۔۔

’(اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم!) یوں عرض کیجئے اے اللہ! اے کُل بادشاہی کے ما لک آپ جسے چاہے بادشاہی عطا فرما دیں اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیں اور آپ جسے چاہے عزت عطا فرما دیں اور جسے چاہے ذلیل کر دیں ساری بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بے شک آپ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہیں۔‘ اس ترجمے نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بادشاہت سے نوازا ہے اور ایک عزت دی ہے کیا کوئی ایسا بھی ہے جو میری بے عزتی کر سکے اگلے دن وہ اپنے مصاحبوں کے ساتھ شکار کے لئے سفر پر نکل گیا۔ اس نے اپنے مصاحبوں کو حکم دیا کہ کہا کہ کوئی بھی جانور جس کے سامنے سے گزرے گا وہ اس کا پیچھا اکیلے کرے گا کسی دوسرے کو اس کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں اسی طرح تمام مصاحب مختلف جانوروں کا پیچھا کرتے ہوئے بچھڑ گئے۔

بادشاہ بھی ایک ہرنی کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے جنگل میں بہت دور نکل گیا، ہرنی بھی اس کے ہاتھ نہ آئی اور سخت تھکاوٹ نے اس کا بڑا حال کر دیا۔ لہٰذا اس نے اپنا گھوڑا ایک درخت کے نیچے کھڑا کیا اور خود اسی درخت کے نیچے لیٹ گیا درخت کے سائے میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کا گھوڑا غائب تھا وہ تھوڑا پریشان ہوا اور آخر کار ایک راستے کی طرف چل نکلا کیونکہ اسے بھوک بھی لگی تھی اور اسے راستہ بھی ڈھونڈنا تھا تاکہ رات کا اندھیرا ہونے سے پہلے پہلے وہ کسی آباد جگہ پر پہنچ سکے۔

چلتے چلتے اسے دور سے ایک قلعے کی فصیلیں نظر آئیں وہ قریب گیا تو قلعے کا صدر دروازہ بند تھا پرانے زمانے میں مختلف شہروں یا ملکوں کے گرد دیوار ہوا کرتی تھی۔ وہ صدر دروازے کے پاس تھک ہار کر لیٹ گیا کہ صبح ہوتے ہی جب دروازہ کھلے گا تو وہ اندر داخل ہو جائے گا۔ اتفاق دیکھئیے کہ اس ملک میں ایک شخص نے شاہی خاندان کے ایک فرد کو قتل کیا اور اس کا شاہی لباس پہن کر بھاگ گیا۔ اس ملک کے شہنشاہ نے حکم جاری کیا کہ ہر قیمت پر قاتل کو پکڑا جائے پورے ملک میں شہنشاہ کے کارندے پھیل گئے اور قاتل کی تلاش شروع ہو گئی چونکہ ملک کا دروازہ بند تھا تو ان کے ذہن میں یہی تھا کہ باہر تو کوئی جا نہیں سکتا ملک کے اندر ہی کہیں ہو گا۔

ساری رات ڈھونڈنے کے باوجود قاتل نہ ملا۔ صبح سویرے جب محافظوں نے صدر دروازہ کھولا تو بادشاہ کو شہر کی دیوار کے قریب سویا ہوا پایا۔

انہوں نے سوچا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے شاہی خاندان کے فرد کو قتل کیا اور اس کا لباس پہن کر بھاگ گیا وہ پکڑ کر اسے بادشاہ کی پاس لے گئے۔ بادشاہ نے بھرپور کوشش کی کہ محافظ اس کی بات سن لیں مگر محافظوں نے اسے دھکے دئیے اور اس کا شاہی لباس اس کے جسم سے کھینچ کر اتارا، بادشاہ نے انہیں بتایا کہ ان کو کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے وہ ایک بادشاہ ہے۔ مگر محافظوں نے نہ صرف اس کا تمسخر اڑایا بلکہ اسے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے۔ محل پہنچنے پر جس وقت شہنشاہ کو قاتل کے مل جانے کی اطلاع بھجوائی گئی تو شہنشاہ اس وقت اپنے بیرون ملک مہمانوں کے ساتھ مصروف تھا۔

شہنشاہ نے حکم دیا کہ قاتل کو زندان میں ڈال دو، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس طرح بادشاہ کو اس کا لباس تبدیل کروا کر قیدیوں والے لباس میں زندان میں ڈال دیا گیا اور شہنشاہ اسے بھول گیا۔

چونکہ بادشاہ کی عادت تھی کہ وہ روزانہ صبح تلاوت کرتا تھا اور اس کی آواز نہایت پر سوز تھی وہ ایک خوش الحان قاری تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ تلاوت کر رہا تھا تو اس وقت شہزادی باغ میں چہل قدمی کر رہی تھی۔ اس نے جب اتنی خوبصورت آواز میں تلاوت سنی تو حکم جاری کیا کہ پتہ لگایا جائے کہ یہ کون تلاوت کر رہا ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ ایک قاتل قیدی ہے تو اس نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے اس قیدی سے قرآن پڑھنا ہے۔ شہزادی قرآن پڑھنے کی بہت شوقین تھی لہٰذا اس نے بادشاہ سے قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔

دن گزرتے رہے ایک دن جب شہزادی سورہ آل عمران کی ایت نمبر چھبیس تک پہنچی تو جیسے ہی بادشاہ نے اس آیت کی تلاوت کی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور بے ہوش ہو گیا۔ سب پریشان ہو گئے۔ شاہی حکیم کو بلایا گیا۔ ہوش میں آنے کے بعد جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے اپنا واقعہ سنایا، کہ میں ایک بادشاہ تھا اور اج ایک قیدی کی زندگی گزار رہا ہوں میں اسی آیت کی تفسیر جاننے کے لیے سفر پر نکلا تھا۔ شہنشاہ نے اس کے ملک میں کارندے بھجوا کر پتہ کروایا جس سے معلوم ہوا کہ بادشاہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے لہذا اسے بہت عزت اور احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک بھجوایا گیا۔

اپنے تخت پر بیٹھنے کے بعد اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور حکم صادر کر دیا کہ آج سے ہمارے ملک میں کسی کو بھی اس کے لباس، دولت، عہدے اور مرتبے سے نہیں پہچانا جائے گا، ہر ایک کو مساوی نظر سے دیکھا جائے گا۔ کیونکہ عزت اور ذلت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 19

توکل

(کسی ذات پر اعتماد)

 

"وہ دیکھو! ارے وہ دیکھو!”

ہانیہ اور ماہم بیک وقت زور سے چلاتے ہوئے، ہاتھ سے جھیل میں تیرتی بطخ کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔

(امی جی کی بہن اپنے پوتے پوتیوں سمیت دو دن سے ان کے مہمان تھے۔ آج موسم خوشگوار ہونے کی وجہ سے سب نے مل کر جھیل کنارے پارک جانے کا پروگرام بنایا۔)

ہانیہ اور ماہم کی آواز نے سب بچوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔

"کیا ہے وہاں؟”

مسکان نے پوچھا۔

ہانیہ کی بہن زونیشہ اور ماہم کی بہن فاطمہ بھی دوڑتی ہوئی آئیں۔

"وہ دیکھو! وہ بطخ کتنی ظالم ہے۔ اپنے بچوں کو پانی میں گرا رہی ہے۔”

ہانیہ نے سب کی توجہ بطخ کی جانب دلائی۔ جو واقعی بار بار اپنی کمر پر چڑھتے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنا بدن جھٹک کر نہایت بے رحمی سے پانی میں گرا دیتی۔ بچے شور مچاتے ہوئے دوبارہ اس کی کمر پر چڑھتے اور وہ پھر جھٹک کر گرا دیتی۔

"آؤ ان بچوں کی مدد کریں!”

ہانیہ نے بچوں سے کہا۔۔۔۔

بچوں کی فوج بطخ کے بچوں کو ان کا حق دلانے میدان میں اتر گئی۔ سارے بچے سینہ تانے خدائی خدمتگار بنے بطخ کے بچوں تک پہنچے۔ مگر جیسے ہی ماہم اور مسکان نے آگے بڑھ بطخ کے بچے پانی سے نکالنے چاہے۔ بطخ چیختی ہوئی ان کی طرف دوڑی۔ سارے بچے ڈر کر بھاگے۔

اب ایک اور ہی منظر تھا آگے آگے بچے، ان کے پیچھے بطخ، اور بطخ کے پیچھے اس کے بچے۔۔۔۔۔۔۔

انسانی بچے، بطخ کے بچے اور بطخ سب ہی چیخ رہے تھے۔

آخر بڑے ابا کو بیچ میں آ کر یہ دوڑتی زنجیر توڑنی پڑی۔

بطخ کو ڈرا کر مع بچوں کے واپس جھیل کی جانب روانہ کیا اور انسانی بچوں کو امی جی کی طرف۔

سب بچے کچھ خوف کچھ غصے کے ملے جلے جذبات سے مغلوب تھے۔

"کتنی بد تمیز ہے یہ بطخ!”

ماہم نے غصے سے کہا۔

"ڈرامہ باز! کیسے اپنے بچوں کو پانی میں ڈبو کر جان سے مارنا چاہتی تھی۔ اور جب ہم نے بچوں کی مدد کرنا چاہی تو ہمارے پیچھے پڑ گئی۔”

ہانیہ کا غصہ بھی عروج پر تھا۔

امی جی ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ آہستہ سے آ کر ان کے ساتھ بیٹھیں اور ان کے آگے پلیٹوں میں چپس اور کباب ڈالتے ہوئے بولیں۔

"بچوں!۔۔۔۔ بطخ اپنے ننھے بچوں کو مار نہیں رہی تھی بلکہ یہ قدرت کا قانون ہے۔ بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو شروع شروع میں جھیل میں بطخ کے اوپر سواری کرتے ہیں، بطخ ان کو لے کر تیرتی رہتی ہے۔ چند دن بعد بطخ اپنا بدن جھٹک جھٹک کر بچوں کو پانی میں گراتی ہے تاکہ وہ تیرنا سیکھ لے۔ "فرض کرو بطخ ایسا نہ کرے تو پتہ ہے کیا ہو گا؟”

امی جی نے سوال کیا۔

سب بچے نہایت انہماک سے امی جی کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے صرف "نہیں” میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

"ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کا وزن بڑھتا چلا جائے گا یعنی وہ بڑے ہوتے جائیں گے اور بطخ ان کے وزن سے ڈوب جائے گی!”

امی جی نے خود ہی ان کے علم میں اضافہ کیا۔

"امی جی کیا انسان بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟”

مناہل نے سوال کیا۔

"بالکل! یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔  انسان بھی کچھ عرصہ اپنے بچوں کو کھلاتے پلاتے چلاتے ہیں پھر انہیں خود اپنے پیروں پر کھڑا کر دیتے ہیں۔”

"اچھا! تو یہ بچوں کا امتحان ہوتا ہے!”

ہادی نے بزرگوں کی طرح سر ہلا کر کہا۔

"پاگل! بچے تو چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ تو ان کی امی کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کسے اپنے بچوں کو تیرنا سکھاتی ہے، ہیں ناں امی جی!”

مناہل نے ہادی کو سمجھانے کے بعد امی جی سے تائید بھی مانگی۔

"یہ والدین اور بچوں دونوں کے توکل کا امتحان ہوتا ہے۔”

امی جی نے مسکرا کر کہا۔

"توکل؟”

ہانیہ نے حیرت سے امی جی کو دیکھا۔

"توکل کا کیا مطلب ہے؟”

اب عروسہ نے سوال کیا۔

” آپ جانتے ہیں وکیل کون ہوتا ہے؟”

امی جی نے ایک اور سوال کر دیا۔

"وہ جو عدالت میں ہوتا ہے۔ اور لوگوں کے کیس لڑتا ہے۔”

مناہل نے تفصیلی جواب دیا۔

"بالکل! وکیل اسے کہتے ہیں جو دوسروں کے کام کی نگرانی کرے۔ اس کے حق میں بولے۔ اور توکل کہتے ہیں کسی کام یا معاملے کو کسی کے سپرد کر دینا۔ یعنی کسی کو اپنا وکیل بنا لنا، یا کسی پر مکمل بھروسا کرنا۔ جبکہ توکل باللہ کہتے ہیں اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے کیا تھا۔”

"امی جی حضرت ہاجرہ علیہ السلام کا واقعہ سنائیں ناں!”

نئیر لاڈ سے بولی۔

امی جی نے سب بچوں کی طرف دیکھا سب ہی واقعہ سننے کو بے تاب تھے۔ انہوں نے الفاظ جوڑے اور بولنا شروع کیا۔

"حضرت بی بی حاجرہ نام ہے توکل باللہ کا۔ قرآن سورہ آل عمران کی آیت نمبر ایک سو انسٹھ میں فرماتا ہے۔

’اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ۔‘

جس کا ترجمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شک اللہ تعالیٰ توکل رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔”

"حضرت ہاجرہ کی کہانی میں وہاں سے شروع کروں گی جب اللہ کے دوست (خلیل اللہ) حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اکلوتے دودھ پیتے بچے اور جوان بیوی کو اللہ کے حکم پر مکہ کے صحرا میں چھوڑ جاتے ہیں۔

آپ لوگوں نے کبھی صحرا کی تصویر دیکھی ہے؟”

امی جی نے پھر ایک سوال کیا۔

"جی ہم نے کارٹون میں بھی صحرا دیکھا ہے اور انٹرنیٹ پر بھی!”

حاشر بولا۔

"کتنا خاموش اور خوفناک ہوتا ہے صحرا جب انسان تنہا ہو۔ ہیں ناں!”

امی جی نے تائید طلب نظروں سے سب کی طرف دیکھا اور بات جاری رکھی۔

"نہ دور دور تک پانی نہ کھانا پینا، نہ کوئی چھت نہ سایہ، اور پھر ایک چھوٹے بچے کا ساتھ، مگر حضرت ہاجرہ کو اللہ پر پورا بھروسہ تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر سے یا اللہ سے کوئی گلہ نہیں کیا۔ بلکہ کہا کہ اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”

"حضرت ہاجرہ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جب اپنے بچے کو بھوکا دیکھ کر بیتاب ہوتی ہے تو وہ کیا کرتی ہے؟؟ کیا سب چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جاتی ہے اور ہماری طرح خالی دعائیں فریادیں کرتی ہے؟ نہیں! بلکہ وہ دو پہاڑیوں کے درمیان چکر کاٹتی ہیں۔ صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا، کہ شاید کہیں پانی نظر آ جائے۔

اللہ فرماتا ہے، حرکت میں برکت ہے، توکل کرو اور دوڑ لگاؤ ہمت ہار کے بیٹھ نہ جانا، جو بھی اللہ پر توکل کرے گا اللہ اس کو ضائع نہیں کرئے گا۔۔۔ اللہ نے حضرت اسماعیل کے قدموں میں زمزم نکالا، جس میں ہر بیماری کی شفا ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی کو اللہ نے کہاں پیدا کیا؟

لق و دق صحرا میں! جہاں زندگی کی کوئی امید نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے ایسی بے جان مٹی کو دوبارہ زندگی بخش دی۔ اسی طرح قیامت میں بھی ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔۔۔

ایک اور اہم بات اللہ تعالیٰ نے اس عظیم عورت کے ذریعے صحرا کو مکہ بنایا۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ عورت سے گھر بنتا ہے اللہ نے تو پورا شہر حضرت بی بی ہاجرہ کی وجہ سے آباد کر دیا۔۔

یہ اللہ نے ہمارے لئے ایک مثال قائم کر دی۔ کہ اللہ پر توکل کرنے والوں کو اللہ ضائع نہیں کرتا۔”

سب بچے توکل کو مکمل طور پر سمجھ گئے۔۔۔۔۔ کہ توکل کسی پر بھروسہ کرنے کو کہتے ہیں۔

بچوں نے ایک مرتبہ پھر بطخ کی جانب دیکھا اس کے بچے اب بھی بار بار ماں کی کمر پر چڑھتے اور وہ انہیں جھٹک دیتی۔ ایک بچہ تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ گیا تھا اور بڑے اعتماد کے ساتھ پانی پر تیر رہا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 20

بیت العنکبوت

(مکڑی کا گھر)

 

 

سردیوں کی دوپہر تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سارے بچے کھیلنے کے بعد برآمدے میں آ بیٹھے تھے۔ نماز کے بعد حسبِ عادت سب امی جی کے گرد جمع ہو گئے۔ مسکان نے کہا:

"امی جی، پلیز کوئی اچھی سی کہانی سنائیں!”

امی جی نے مسکرا کر کہا: "ضرور! چلو آؤ، آج میں آپ سب کو مکڑی کے گھر کی کہانی سناتی ہوں۔”

احمر نے جوش سے قریب ہوتے ہوئے کہا: "جسے قرآن مجید نے سورہ عنکبوت میں بیان کیا ہے؟”

امی جی نے پیار سے کہا: "بالکل، یہ کہانی ہمیں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سکھاتی ہے۔”

پھر انہوں نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا:

"بہت زمانہ پہلے لوگ جب کسی مشکل میں پڑ جاتے تو اللہ کے بجائے کسی بڑے انسان، کسی بزرگ یا کسی مخلوق کو پکارنے

لگتے۔ کوئی سمجھتا پہاڑ میرا سہارا ہے، کوئی درخت کے نیچے دیا جلاتا، کوئی مزاروں پر چادر چڑھا کر، پیسے دے کر سوچتا کہ اب یہ مجھے بچا لیں گے۔ وہ سب اپنے لیے کمزور سہارے ڈھونڈتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کی مثال ایسے دی، کہ ان سب کا سہارا مکڑی کے جالے جیسا ہے۔”

ہادی نے فوراً کہا: "جی بالکل! مکڑی کا جالا تو ذرا سی ہوا یا جھٹکے سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔”

امی جی نے اثبات میں سر ہلایا: "بالکل! مگر مکڑی اپنے جالے کو مضبوط سمجھتی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ سب گھروں سے کمزور ترین گھر ہے۔ اسی طرح انسان بھی اگر اللہ کے سوا کسی اور شے پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے سہارے بھی مکڑی کے گھر کی طرح کمزور ہوتے ہیں۔”

پھر امی جی نے قرآن کی آیت تلاوت کی:

’مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّہِ أَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْہَنَ الْبُیُوتِ لَبَیْتُ الْعَنکَبُوتِ ۖ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ‘

پڑھنے کے بعد امی جی نے کہا: "بچو!، آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’کاش وہ جانتے۔‘”

ملائکہ نے سے پوچھا: "امی جی، یہ کاش وہ جانتے کا کیا مطلب ہے؟”

امی جی نے سمجھایا: "اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ جان لیتے کہ ان کے سب سہارے مکڑی کے جالے جیسے کمزور ہیں، تو وہ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے۔ اللہ نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ انسان سوچے اور سمجھ کر اپنی زندگی کا سب سے مضبوط سہارا اللہ کو بنائے۔”

ریحان نے سنجیدگی سے کہا۔ "یعنی اصل علم یہی ہے کہ ہمیں پتا چل جائے کہ سب کچھ ٹوٹ سکتا ہے، سب ختم ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کا سہارا کبھی نہیں ٹوٹتا۔”

امی جی نے مسکرا کر کہا: "بالکل بیٹا، یہی حقیقت ہے۔ کاش سب انسان یہ جان لیں۔”

بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سب نے دل ہی دل میں دعا کی کہ وہ ہمیشہ اللہ کو ہی اپنا سہارا بنائیں گے اور مکڑی کے جالے جیسے کمزور سہاروں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔

صحن میں ہوا چلتی رہی اور آم کے درخت کی پتیاں سرسرا کر جیسے بچوں کی دعا پر آمین کہہ رہی تھیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 21

الأعراف

 

 

امی جی مغرب کی نماز ختم پڑھ کر کمرے سے باہر آئیں تو دیکھا آنگن میں تخت کے ساتھ رکھی کرسیوں پر عروسہ باقی بچوں سے الگ تھلگ گہری سوچوں میں ڈوبی بیٹھی تھی۔ اس کی گود میں ایک کتاب کھلی تھی، مگر اس کی نظریں کتاب کے بجائے دور کہیں افق میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔

امی جی نے مسکرا کر کہا:

"عروسہ بیٹا! کیا بات ہے؟ کوئی پریشانی ہے کیا؟”

عروسہ چونک گئی:

"نہیں امی جی! میں ویسے ہی سوچ رہی تھی کہ کیا انسان بھی غبارے کی طرح پھول کر ہوا میں اُڑ سکتا ہے؟”

امی جی ہنس پڑیں:

"یہ کیسی انوکھی سوچ ہے؟”

عروسہ کرسی سے اٹھ کر امی جی کے پاس تخت پر آ بیٹھی اور کہنے لگی:

"امی جی! آپ اکثر کہتی ہیں کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر چیز کا ذکر ہے، ہر انسان کا ذکر ہے۔ تو کیا اس میں پے کرافٹ کا بھی ذکر ہے؟”

تمام بچے جو قریب ہی بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے، حیرت سے پہلے عروسہ اور پھر امی جی کی جانب دیکھنے لگے۔

امی جی نے کہا:

"ہاں، کیوں نہیں ہے! پے کرافٹ کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔”

"کیا؟۔۔۔۔۔۔۔ پے کرافٹ کا ذکر قرآن میں ہے؟” ہادی نے حیرت سے تقریباً اچھلتے ہوئے پوچھا۔

"بالکل ہے! در اصل قرآن میں کسی انسان یا قوم کا ذکر اس کا نام لے کر نہیں ہوتا بلکہ اس کا احوال اور انجام اس کا ذکر ہوتا ہے۔”

"کون سی سورہ میں پے کرافٹ کا ذکر ہے؟” مناہل نے دلچسپی سے پوچھا۔

"سورۃ الأعراف میں!” نہایت سادگی سے جواب آیا۔

"امی جی! اعراف کا کیا مطلب ہے؟” نئیر نے پوچھا۔

"اعراف کا مطلب ہے اونچائی یا بلندی۔”

"ہمممم۔۔۔ بالکل بالکل! پے کرافٹ بھی بے وزن ہو کر غبارے کی طرح ہوا میں اُڑنے لگا تھا، یعنی بلندی پر چلا گیا تھا۔” عروسہ نے پر جوش ہو کر کہا۔

"اچھا! تو تم اتنے غور سے پے کرافٹ کی کہانی پڑھ رہی تھی؟” امی جی نے ایک مرتبہ پھر مسکراتے ہوئے سوال کیا۔

"جی جی! وہی تو غبارے کی طرح ہوا میں اُڑنے لگا تھا۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ پے کرافٹ اعراف کے مقام پہ پہنچ گیا تھا؟”

"نہیں، اعراف کا مطلب بلندی ہے مگر اصل بلندی اللہ کے قریب ہونے میں ہے۔ وہ تو اپنی خواہشات کی پیروی میں بے وزن ہو کر ہوا میں اُڑنے لگا تھا۔” امی جی نے بڑے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔

"امی جی! یہ پائے کرافٹ کون تھا؟” مسکان نے معصومیت سے پوچھا۔

"یہ رافیل ایئر کرافٹ کا بھائی تھا!” حمزہ نے اسے چھیڑا تو سب ہنسنے لگے۔

اور مسکان، جو حمزہ کی بات سن کر بردباری سے سر ہلانے لگی تھی، سب کو ہنستے دیکھ کر روہانسی ہو کر امی جی کو دیکھنے لگی۔

عروسہ نے اسے اپنے قریب کیا اور گود میں پی انگریزی کی کتاب کھول کر ایک تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے بولی:

"یہ ہے پے کرافٹ!”

مسکان خجالت بھول کر دلچسپی سے تصویر کو دیکھنے لگی۔ نئیر، ثوبیہ، ہادی، ریحان اور احمر بھی جھک کر تصویر دیکھنے لگے۔

"اس کی کیا کہانی ہے؟” ریحان نے پوچھا۔

"ہاں بھئی! عروسہ پہلے سب کو کہانی سنا دو، پھر تمہارے سوال کا جواب دوں گی۔” امی جی نے کہا۔

"جی امی جی!” عروسہ تابعداری سے بولی۔

"یہ کہانی لندن کے ایک کلب کے سرپرست پائے کرافٹ کی ہے۔”

عروسہ نے ذرا ڈرامائی انداز میں آغاز کیا۔

وہ اتنا موٹا اور بھاری بھرکم آدمی تھا کہ جب کرسی پر بیٹھتا تو وہ کرسی بیچاری چرچرانے لگتی، جب زمین پر قدم رکھتا تو زمین ہلنے لگتی۔

کلب کے سب لوگ اس سے بچتے تھے، کیونکہ وہ جس سے بھی ملتا اپنے وزن کا رونا رونے لگتا۔

اس کی بھوک بہت بے قابو تھی۔ وہ کھانے کا اتنا شوقین تھا کہ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے بھی ہمیشہ کھانے پینے کے نسخے ہی ڈھونڈا کرتا۔ ہر ایک سے کہتا کہ:

"میں کیا ایسا کھاؤں کہ میرا وزن کم ہو جائے؟”

ایک دن اسے پتہ چلا کہ کلب کے ایک ممبر فارملن کی دادی کا تعلق ہندوستان سے ہے اور وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کے نرالے ٹوٹکے جانتی ہیں۔

بس پھر کیا تھا! پے کرافٹ فارملن کے پیچھے پڑ گیا کہ:

"مجھے دادی کے ٹوٹکوں سے کوئی وزن ختم کرنے کا نسخہ لا کر دو۔”

آخر تنگ آ کر فارملن ایک دن اس کے لئے کاغذ پر لکھا ایک نسخہ لے آیا۔

پے کرافٹ نے فوراً گھر جا کر نسخے کی مطلوبہ اشیاء منگوائیں اور نسخہ بنا کر پہلے اپنا وزن اپنے کمرے میں رکھی مشین پر دیکھا، اور نسخے کے مطابق ایک خوراک کھا لی۔

اب وہ بار بار کبھی جا کر مشین پر اپنا وزن دیکھتا، کبھی شیشے میں اپنے موٹے جسم کا جائزہ لیتا۔

اگلے دن بھی جب اسے کوئی فرق نظر نہیں آیا تو نسخے کی دو خوراکیں بنا کر کھا گیا۔ اس طرح چند دن بعد جب اسے مشین وزن کم بتانے لگی تو اس نے نسخے کی بڑی بڑی خوراکیں بنا کر دن میں کئی مرتبہ کھانا شروع کر دیں۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس دوران اس نے اپنا کھانا بھی بالکل کم نہیں کیا بلکہ خوب ڈٹ کر من پسند کھانے بھی کھاتا رہا۔

پھر ایک دن فارملن کو ایک تار ملتا ہے!۔۔۔”

اچانک عروسہ کہانی سناتے سناتے رک کر امی جی کی طرف مڑی اور پوچھنے لگی:

"امی جی! مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پے کرافٹ اپنے دوست فارملن کو تار کیوں بھیجتا ہے؟ ٹیلی فون کیوں نہیں کرتا؟”

"چونکہ یہ بہت پرانی کہانی ہے، یعنی انیس سو تین کی، جب ٹیلی فون ایجاد تو ہو چکا تھا مگر اس کا استعمال عام نہیں تھا۔ لوگ خطوط اور تار کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے۔”

امی جی نے رسان سے سمجھایا۔

"امی جی! یہ تار کیا ہوتا ہے؟” ریحان نے جلدی سے پوچھا۔

"ہمارے زمانے میں تو ٹیلی فون ہر گھر میں موجود تھا مگر ہمارے والدین کے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھ کر پیغام بھیجتے تھے۔ لیکن خط آنے جانے میں چونکہ بہت وقت لگتا تھا، اس لیے جب کسی کو بہت جلدی میں کوئی ضروری بات بتانی ہوتی تھی، جیسے کسی کی آنے جانے یا کسی کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع، مبارکی یا تسلی وغیرہ، تو وہ خط کی بجائے ‘تار’ بھیجتے تھے۔ یعنی تار بھی خط ہی تھا مگر ایک بہت چھوٹا اور جلدی پہنچنے والا خط ہوتا تھا، جو کوڈ کی شکل میں بجلی کے تاروں کے ذریعے بھیجا جاتا تھا۔ اسی لئے اسے تار کہا جاتا ہے۔”

امی جی نے تفصیل سے سمجھایا، پھر عروسہ کو دیکھتے ہوئے بولیں:

"ہاں تو فارملن کو پے کرافٹ کا تار ملا! کیا لکھا تھا تار میں؟”

عروسہ دوبارہ سنبھل کر بیٹھی اور گویا ہوئی:

"تار میں لکھا تھا: خدا کے لیے جلدی پہنچو!”

"بس یہ ہوتا ہے چھوٹا خط یعنی تار کے الفاظ۔ اچھا تو پھر کیا ہوا؟”

امی جی نے ہاتھ کے اشارے سے عروسہ کو روکا، بچوں کو سمجھایا اور پھر اس کو کہانی جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

عروسہ کسی رو بوٹ کی طرح دوبارہ کہانی سنانے لگی:

"تار میں لکھا تھا: خدا کے لیے جلدی پہنچو! فارملن گھبرا کر پائے کرافٹ کے گھر جا پہنچا۔ خانساماں نے کہا:

‘صاحب چوبیس گھنٹوں سے کمرے میں قید ہیں!’

اندر گیا تو کیا دیکھتا ہے، پائے کرافٹ چھت سے چپکا ہوا ہے جیسے کوئی بڑا غبارہ! نسخے نے اس کا وزن تو ختم کر دیا تھا، مگر اس کی جسامت وہی تھی۔

فارملن بہت پریشان ہو گیا۔ اس نے اسے کچھ بھاری کتابیں پکڑائیں تاکہ وہ نیچے آ سکے۔

بہت سوچ بچار کے بعد فارملن نے اس کے کوٹ میں لوہے کے ٹکڑے رکھے اور اس کے بریف کیس کو بھی لوہے سے بھر کر اس کے ہاتھ میں دیا تاکہ وہ پہلے کی طرح نارمل زمین پر چل پھر سکے۔

اسے اس کی حالت دیکھ کر ہنسی بھی آ رہی تھی۔ آخرکار ہنستے ہوئے بولا:

‘پائے کرافٹ! اگر کبھی سمندری سفر میں تمہارا جہاز ڈوبنے لگے تو تم آرام سے کچھ وزن اپنے جسم سے علیحدہ کر کے تیرتے ہوئے ساحل تک پہنچ سکتے ہو!’

آخرکار بڑی مشقت اور کئی دنوں کی محنت کے بعد وہ اسے کلب لے آیا۔ مگر پائے کرافٹ کی عادات میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ پہلے کی طرح بدستور خوب کھاتا رہا اور دوسروں کو اپنے موٹاپے کا دکھ سناتا رہا۔ آخرکار فارملن تنگ آ گیا اور اس کا یہ راز ایک کہانی کی صورت لکھ کر دنیا کے سامنے لے آیا۔”

کہانی ختم ہوئی تو نئیر نے چونک کر کہا:

"امی جی! اس کا مطلب ہے پائے کرافٹ کا جسم بڑا تھا مگر وزن نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے وقعت ہو گیا، بالکل ایسے ہی جیسے اعمال کمزور ہوں تو انسان اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتا ہے؟”

امی جی نے خوش ہو کر کہا:

"بالکل بیٹا! یہی تو اعراف کا فلسفہ ہے۔ انسان کی غیر ضروری خواہشات اور بے فائدہ عادات اسے اس مقام پر لے آتی ہیں جہاں نہ جنت میں جانے کا حق بنتا ہے نہ جہنم سے نجات ملتی ہے۔”

ہادی بولا:

"تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں نیکیاں زیادہ کریں تاکہ ہمارے اعمال بھاری ہو جائیں۔”

عروسہ نے جوش سے کہا:

"اور ہمیں غیر ضروری خواہشات کو کم کرنا چاہیے، ورنہ ہم بھی پائے کرافٹ کی طرح جیبوں میں وزن بھر کر چلتے رہیں گے!”

حمزہ نے تجسس سے پوچھا:

"امی جی! آپ نے تو کہا تھا کہ پائے کرافٹ کا ذکر سورہ اعراف میں ہے، لیکن آپ نے اس بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں!”

امی جی نے مسکرا کر کہا:

"ہاں بھئی! اب اسی بات کی طرف آتے ہیں۔ اچھا بیٹا، تم ہی بتاؤ پائے کرافٹ سب سے زیادہ کیا کرتا تھا؟”

حمزہ فوراً بولا:

"زیادہ کھاتا تھا!”

امی جی نے سب کو غور سے دیکھا اور پھر قریب جزدان میں رکھا قرآن کھول کر سورہ اعراف کی ایک آیت پر انگلی رکھتے ہوئے کہا:

"بالکل! سورۃ الأعراف کی آیت نمبر اکتیس میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے:

’کُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ‘

’کھاؤ اور پیو، مگر حد سے نہ بڑھو۔ بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘”

سب بچے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ نئیر بولی:

"یعنی پائے کرافٹ حد سے زیادہ کھاتا تھا، اس لیے وہ اللہ کو پسند نہ تھا؟”

امی جی نے سر ہلایا:

"ہاں بیٹا! یہی اصل بات ہے۔”

پھر ثوبیہ نے پوچھا:

"لیکن امی جی! وہ اپنی خواہشات کا غلام بھی تو تھا نا؟”

امی جی نے جواب دیا:

"بالکل! اور قرآن اس کو سورۃ الأعراف کی آیت نمبر چھیالیس میں یوں بیان کرتا ہے:

’وَبَیْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّا بِسِیمَاہُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ ۚ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ‘

’اور ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہو گی، اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، اور وہ جنت والوں کو پکاریں گے کہ سلام ہو تم پر! وہ خود جنت میں داخل تو نہیں ہوئے ہوں گے، لیکن تمنا کر رہے ہوں گے۔‘”

ریحان نے آہستہ سے افسوس بھرے لہجے میں کہا:

"پائے کرافٹ بھی شاید ایسی ہی حالت میں تھا؟ خواہشات کے پیچھے لگ کر وہ بے وزن ہو گیا، جیسے اعراف پر کھڑا کوئی شخص جس کا دل تو چاہتا ہے مگر وہ جنت کا حصہ نہیں بن سکتا۔”

امی جی نے خوش ہو کر کہا:

"واہ بیٹا، بالکل ٹھیک سمجھا تم نے۔”

امی جی نے بچوں کو دیکھتے ہوئے کہا:

"اچھا! پائے کرافٹ کی ایک اور بری عادت پر شاید تم لوگوں نے غور نہیں کیا! وہ ہر وقت اپنا رونا روتا اور دوسروں کو بھی بے سکون کرتا۔ یہ بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ سورۃ الأعراف کی آیت نمبر چھپن اسی بات کو بیان کیا گیا ہے۔”

پھر امی جی نے آیت پڑھی:

’وَلَا تَبْغُوا الْفَسَادَ فِی الْأَرْضِ‘

"اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔”

شارق نے سر ہلا کر کہا:

"یعنی دوسروں کو پریشان کرنا بھی زمین میں فساد پھیلانے جیسا ہے؟”

امی جی نے جواب دیا:

"ہاں بیٹا! دوسروں کا سکون برباد کرنا بھی فساد کی ایک شکل ہے۔”

اب ارباز بولا:

"امی جی! پائے کرافٹ غرور بھی کرتا تھا نا؟ وہ اپنے موٹاپے کا رونا روتا ضرور تھا مگر اندر سے خود کو سب سے الگ سمجھتا تھا۔”

امی جی نے مسکرا کر کہا:

"بالکل! غرور بھی انسان کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کا ذکر بھی سورۃ الأعراف کی آیت نمبر ایک سو چھیالیس میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

’سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِیَ الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ۖ وَإِن یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوا بِہَا‘

’میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو ہٹا دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور اگر وہ ہر نشانی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لاتے۔‘”

ہادی نے فوراً کہا:

"غرور کی وجہ سے انسان اللہ کی نشانیاں دیکھ کر بھی سیدھا راستہ نہیں پکڑتا!”

امی جی نے کہا:

"جی ہاں بیٹا! اور یہی پائے کرافٹ کی حالت تھی۔ اسے ایک بڑی نشانی ملی تھی کہ وہ بے وزن ہو گیا اور ہوا میں اڑنے لگا، مگر پھر بھی اس نے اپنی عادتیں نہ بدلیں۔”

مروہ نے آہستہ سے کہا:

"امی جی! اصل میں وہ بلندی پر گیا ضرور، مگر اللہ کے قریب نہ جا سکا۔”

امی جی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں:

"شاباش بیٹی! یہی ہے سورہ اعراف کا سبق۔ بلندی صرف جسمانی نہیں، اصل بلندی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو پا کر اللہ کا قرب حاصل کرے۔”

بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سب نے مل کر کہا:

"ہم اپنی خواہشات کے غلام نہیں بنیں گے، ہم اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے۔”

عروسہ نے پر جوش ہو کر کہا:

"یعنی پائے کرافٹ کی کہانی صرف ایک مزاحیہ قصہ نہیں ہے بلکہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنی خواہشات کے غلام بن گئے تو اللہ کے ہاں ہماری کوئی وقعت نہیں رہتی!”

امی جی نے سب کو پیار سے دیکھا اور کہا:

"چلو بچو! اب بتاؤ، تم نے اس کہانی اور سورہ اعراف سے کیا سیکھا؟”

مسکان نے سب سے پہلے آہستہ آواز میں کہا:

"میں نے سیکھا کہ زیادہ کھانا اللہ کو پسند نہیں۔”

حمزہ نے جوش سے کہا:

"میں نے سیکھا کہ خواہشات کے پیچھے بھاگنے والا انسان بے وزن ہو جاتا ہے۔”

احمر نے کہا:

"اور میں نے سیکھا کہ غرور کرنے والا کبھی اللہ کے قریب نہیں ہو سکتا۔”

ریحان بولا:

"اور میں نے سیکھا کہ دوسروں کو پریشان کرنا بھی گناہ ہے۔”

شارق نے کہا:

"اصل بلندی یہ ہے کہ اللہ کے قریب ہوا جائے۔”

ارباز نے مسکراتے ہوئے کہا:

"میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر پائے کرافٹ نے اپنی عادتیں بدل لی ہوتیں تو وہ بھی کامیاب ہو سکتا تھا۔”

نئیر نے آہستہ سے کہا:

"اعراف کا مطلب ہے بلندی، لیکن یہ بلندی صرف تب ملتی ہے جب انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔”

مناہل نے کہا:

"جو لوگ خواہشات کے غلام ہوتے ہیں وہ جنت کے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں، مگر اندر نہیں جا پاتے۔”

مروہ نے دھیرے سے کہا:

"اصل بلندی یہ ہے کہ انسان اللہ کا بندہ بنے، اپنے نفس کا نہیں۔”

عروسہ نے آخر میں سب کی طرف دیکھ کر کہا:

"پائے کرافٹ کی کہانی ہمیں ہنساتی ضرور ہے، مگر در اصل یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری اپنی کمزوریاں دکھاتا ہے۔”

امی جی نے مسکرا کر سب کو گلے لگایا اور کہا:

"شاباش بچو! یہی ہے سورہ اعراف کا سبق۔”

"چلو! اب ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ اس کا نام ہے جنت کا انٹری کارڈ۔”

سب بچے چونک گئے۔ ہادی نے کہا:

"کیا ہمیں جنت میں جانے کے لیے کوئی کارڈ چاہیے ہو گا؟”

امی جی نے ہنستے ہوئے کہا:

"ہاں بیٹا، بالکل چاہیے ہو گا۔ لیکن یہ کارڈ کاغذ یا پلاسٹک کا نہیں ہو گا بلکہ ہمارے اعمال کا ہو گا۔”

مسکان نے معصومیت سے پوچھا:

"امی جی! کیا ہم بھی کارڈ بنا سکتے ہیں؟”

امی جی نے کہا:

"جی ہاں! ہم ہی تو بنائیں گے۔ چلو، سب کاغذ، پنسل، پیمانہ اور ربڑ لے آئیں۔”

سب مطلوبہ اشیاء لا کر امی جی کے اردگرد بیٹھ گئے۔

امی جی نے کہا:

"ہر کاغذ پر ایک سیدھی لکیر کھینچو۔ دائیں طرف لکھو نیکیاں اور بائیں طرف لکھو غلطیاں۔”

سب نے جوش سے اپنے کارڈ بنا لیے۔ مسکان نے گلابی رنگ سے پھول بنائے، مناہل نے رنگین ستارے، اور حمزہ نے شوخی سے اوپر لکھ دیا: وی آئی پی انٹری کارڈ!

امی جی نے سمجھایا:

"بیٹا! روز شام کو یہ کارڈ نکال کر دیکھنا۔ دائیں طرف لکھو آج تم نے کون سی نیکیاں کیں، اور بائیں طرف لکھو تم سے کون سی غلطیاں ہوئیں۔ پھر دیکھو کس طرف زیادہ ہے۔”

مناہل نے پوچھا:

"اگر غلطیاں زیادہ ہوں تو؟”

امی جی نے نرمی سے کہا:

"پھر اللہ سے معافی مانگو اور کل کوشش کرو کہ نیکیاں بڑھ جائیں۔ یوں آہستہ آہستہ تمہارا کارڈ نیکیوں کے حسن سے چمکتا ہوا بنتا جائے گا۔”

عروسہ نے کہا:

"امی جی! یہ تو بالکل ترازو کی طرح ہے۔”

امی جی نے خوش ہو کر کہا:

"جی ہاں! قیامت کے دن بھی اعمال کا ترازو ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الأعراف میں ہی فرماتے ہیں:

’جس کا پلڑا بھاری ہو گا وہ کامیاب ہو گا، اور جس کا پلڑا ہلکا ہوا وہ گھاٹے میں رہے گا۔‘”

سب بچے بڑی توجہ سے سن رہے تھے۔

نئیر نے کارڈ پر پھول بناتے ہوئے کہا:

"امی جی! تو پھر ہم سب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے کارڈ کا دایاں حصہ بھاری ہو۔”

"بالکل بیٹا!” امی جی نے پیار سے کہا۔

اسی وقت شارق نے شرارت سے کہا:

"میرا دایاں حصہ تو روز سب سے زیادہ بھاری ہو گا، کیونکہ میں تو روز سب کو چاکلیٹ کھلاتا ہوں!”

امی جی نے شارق کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:

"بیٹا! اصل نیکی وہی ہے جس میں دکھاوا نہ ہو۔ یاد رکھو، یہ کارڈ اللہ کو دکھانے کے لیے ہے، ایک دوسرے کو نہیں۔”

سب بچے گہری سنجیدگی سے سر ہلانے لگے۔ پھر عروسہ نے کہا:

"امی جی! اب سے روز شام کو ہم سب اپنے اپنے کارڈ پر نیکیاں اور غلطیاں لکھیں گے، اور اللہ سے دعا کریں گے کہ ہمارا دایاں حصہ بھاری ہو جائے۔”

امی جی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور سب بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے دعا کی:

"یا اللہ! ان ننھے دلوں کی دعا قبول فرما، ان کے کارڈ ہمیشہ نیکیوں سے بھرے رہیں، اور ہم سب کا دایاں پلڑا قیامت کے دن بھاری ہو۔”

سب بچوں نے زور سے کہا:

"آمین!”

اس دن کے بعد سب بچے ہر رات سونے سے پہلے اپنے اپنے جنت کے انٹری کارڈ دیکھتے، دائیں طرف نیکیاں لکھتے، بائیں طرف غلطیاں، اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرتے کہ کل کا دن آج سے بہتر ہو۔

٭٭٭

 

 

 

کہانی نمبر: 22

رِضْوَانُ اللَّہِ

(اللہ کی رضا)

 

چھٹی کا دن تھا۔ گھر کے سب بچے برآمدے میں دھوپ سینکتے ہوئے اپنے اپنے مشغلوں میں لگے تھے۔ کوئی مونگ پھلی چھیل رہا تھا، تو کوئی ہنسی مذاق میں مصروف تھا۔ بڑے تخت پر مناہل نے لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا اور اپنے میڈیکل اسائنمنٹ پر تیزی سے ٹائپ کر رہی تھی۔ امی جی مہمان خانے میں ہمسائیوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔

کچھ دیر بعد وہ مہمانوں کو دروازے تک چھوڑنے گئیں اور جاتے جاتے نرمی سے بولیں،

"ہمیشہ یاد رکھنا، انسان کے اطمینان میں اللہ کی رضا ہے۔”

مہمان خواتین مسکراتے ہوئے رخصت ہوئیں اور امی جی دھیرے قدموں سے واپس آ گئیں۔ تخت پر بیٹھتے ہی عروسہ نے ہنستے

ہوئے کہا:

"امی جی، آپ تو مہروش کی دادی اور پھپھو کو دروازے تک چھوڑنے گئیں، کہیں وہ دوبارہ نہ لوٹ آئیں!”

امی جی مسکرا دیں،

"بیٹا، یہ سنتِ نبویﷺ ہے کہ مہمان کو خوش آمدید کہا جائے اور جاتے وقت دروازے تک چھوڑا جائے۔”

پھر ذرا ٹھہر کر بولیں،

"اللہ کی رضا یہی ہے کہ ہم نیت صاف رکھیں اور وہ کام کریں جن میں سکون ہو۔”

مناہل نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے سوچتے ہوئے کہا:

"امی جی، یہ کہنا درست نہیں کہ انسان کے اطمینان میں اللہ کی رضا ہے؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کی رضا میں انسان کا اطمینان ہے؟”

امی جی نے سب بچوں کو نرمی سے دیکھا اور بولیں:

"دونوں باتیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اصل سکون اللہ کی رضا میں ہے۔ لیکن جب بندہ راضی رہتا ہے، تو اللہ بھی اس پر راضی ہوتا ہے۔ اللہ تو بے نیاز ہے، وہ صرف ہماری بھلائی چاہتا ہے۔”

حمزہ نے بے تابی سے پوچھا:

"امی جی، اللہ کن چیزوں سے راضی ہوتا ہے؟”

امی جی نے ذرا ٹھہر کر کہا:

"سچ بولنے سے، دوسروں کی مدد کرنے سے، غیبت سے بچنے سے، اور حسد نہ کرنے سے۔ یہ سب چیزیں دل اور معاشرے کو سکون دیتی ہیں۔ سورۃ الحجرات میں اللہ فرماتا ہے کہ کسی کی غیبت نہ کرو، کیا تم پسند کرو گے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ؟ غیبت دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہے اور رشتوں کو کاٹ دیتی ہے۔”

ریحان نے فوراً سوال کیا:

"اور حسد؟”

امی جی نے نرمی سے کہا:

"حسد تو دل کو اندر سے جلا دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ حسد نیکیوں کو ایسے ختم کر دیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ حسد سے صرف ہمارا سکون جاتا ہے، جس سے حسد کیا جاتا ہے اس کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔”

نئیر نے معصومیت سے پوچھا:

"اور شکر؟”

امی جی نے مسکراتے ہوئے کہا:

"شکر دل کو سکون دیتا ہے۔ جب ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرتے ہیں تو ہماری نظر ان چیزوں پر نہیں جاتی جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”

مناہل نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بات بدلی:

"امی جی، آیت الکرسی کے بارے میں کچھ بتائیں۔”

امی جی نے ذرا سوچ کر کہا:

"یہ قرآن کی سب سے عظیم آیت ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور قدرت کی ایسی وضاحت ہے جو دل کو سکون دے دیتی ہے۔ ذرا تصور کرو کہ تم کسی اندھیرے جنگل میں ہو جہاں کوئی راستہ دکھانے والا نہیں۔ اچانک ایک روشنی نمودار ہوتی ہے، جو نہ صرف راستہ دکھاتی ہے بلکہ ہر خطرے سے بھی بچاتی ہے۔ آیت الکرسی بھی ویسی ہی روشنی ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے، اللہ اس کے دل سے خوف دور کر دیتا ہے اور سکون عطا کرتا ہے۔”

ہادی نے شوق سے کہا:

"امی جی، سورۃ البقرہ کی آخری آیات کے بارے میں بھی کچھ بتائیں، میں نے سنا ہے کہ وہ رات کو پڑھنی چاہئیں۔”

امی جی نے شفقت سے کہا:

"بالکل بیٹا! یہ آیات ایمان اور دعا کا حین امتزاج ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ جیسے کوئی بچہ بھاری بوجھ اٹھانے لگے تو والدین فوراً آگے بڑھ کر اس کا بوجھ کم کر دیتے ہیں، بالکل ویسے ہی اللہ بھی ہماری کمزوریوں کو جانتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔ انہی آیات میں اللہ نے ہمیں دعا سکھائی ہے کہ ہم معافی اور آسانی مانگیں۔”

کچھ لمحوں کے سکوت کے بعد امی جی نے نرمی سے کہا:

"یاد رکھو، اللہ کی رضا میں ہی ہماری خوشی ہے۔ جب ہم سچ بولتے ہیں، شکر کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں، تو دل کو سکون ملتا ہے۔ اللہ نہ تو ہماری عبادت کا محتاج ہے اور نہ ہمارے اعمال کا، لیکن یہ سب چیزیں ہماری اپنی زندگی کو بہتر اور دل کو ہلکا کر دیتی ہیں۔”

بچے خاموشی سے سنتے رہے۔ ان کے دل اللہ کی محبت اور شکرگزاری سے بھر گئے۔ جیسے جیسے سورج ڈھل رہا تھا، صحن میں سنہری روشنی بکھر رہی تھی اور سب کے دلوں میں ایک عجیب سی نرمی اور سکون اتر رہا تھا – جیسے اللہ کی رضا نے پورے گھر کو اپنی آغوش میں لے لیا ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہانی نمبر: 23

اخلاص

(خالص ایمان)

 

گھر میں آج بڑی رونق تھی۔ سب بچے صحن میں ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے، کوئی کپڑے جمع کر رہا تھا، کوئی کمبل، کوئی کھلونے۔ فرش پر ڈبوں، تھیلوں اور کپڑوں کے انبار لگے تھے۔ کہیں فجر برتن جمع کرتی نظر آ رہی تھی، تو کہیں سارہ پرانی چادریں تہہ کرتی۔ ہادی، حمزہ اور ریحان صحن سے کچن تک دوڑتے پھر رہے تھے۔

کوئی کہتا۔ "یہ دوائیوں کا تھیلا یہاں رکھو!”

کہیں سے آواز آتی۔ "بسکٹ اور دودھ الگ الگ رکھو نا!”

اور سب سے چھوٹی، چار سالہ مسکان اپنے ننھے ہاتھوں میں اپنے کھلونے لیے بار بار کہہ رہی تھی۔ "یہ بھی رکھ لو، یہ بھی لے جاؤ!”

سیلاب زدگان کے لیے اسکول میں امدادی کیمپ لگا تھا۔ سب بچے اپنے اپنے گھروں سے سامان اکٹھا کر رہے تھے۔ کپڑے، چپل، کمبل، چادریں، دوائیاں، برتن، دال، چاول، بسکٹ، دودھ کے ڈبے، یہاں تک کہ کھلونے بھی۔

ہادی نے فخر سے کہا،

"دیکھنا سب سے زیادہ سامان ہمارے گھر سے ہو گا۔”

نئیر نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا،

"ہر طرف ہماری واہ واہ ہو گی۔”

عروسہ نے بھی جوش سے کہا،

"ہاں، اور جب پرنسپل اسمبلی میں پورے سکول کے سامنے ہماری تعریف کریں گی نا، تو مزہ آ جائے گا!”

"ارے اسمبلی چھوڑو، جب اخبارات میں ہماری تصویر چھپے گی نا تو پورے شہر میں مشہور ہو جائیں گے!”

ریحان اور ارباز نے قہقہہ لگایا،

حمزہ جسے ہمیشہ فیس بک اور ٹک ٹاک کے لائکس کی فکر رہتی، ہنستے ہوئے بولا،

"اور جب ہماری خبر فیس بک اور ٹک ٹاک پر آئے گی تو پھر تو دنیا بھر میں ہم ہیرو کہلائیں گے!”

سب کے چہروں پر خوشی اور فخر کی چمک تھی۔

وہ ہنستے، مسکراتے، تھیلوں میں چیزیں رکھتے، اونچے اونچے خیالی قلعے تعمیر کر رہے تھے۔

ان کے خیالات پر تعریفوں، تصویروں، لائکس اور کمنٹس کی رنگین روشنیوں کا ڈیرا تھا۔

اتنے میں اچانک امی جی کی آواز آئی:

"پک گیا؟”

سب چونک گئے۔

"کیا؟” سب نے ایک ساتھ کہا۔

امی جی، جو نمازِ عشاء کے بعد تلاوت کے لیے باہر صحن کی طرف جا رہی تھیں، دروازے پر رُک کر بولیں،

"پلاؤ!”

"پلاؤ؟” عروسہ حیران رہ گئی۔

"کون پکا رہا ہے پلاؤ؟” نئیر نے فوراً پوچھا۔

امی جی نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا،

"تم سب!”

سب بچے بیک زبان بولے۔ "ہم سب؟”

امی جی نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،

"ہاں بھئی، تم سب ابھی مل کر خیالی پلاؤ پکا رہے تھے۔ سوچا اگر پک گیا ہو تو ایک پلیٹ مجھے بھی دے دینا!”

یہ کہہ کر وہ صحن میں جا کر اپنے تخت شاہی پر بیٹھ گئیں۔

سب بچے الجھے ہوئے اور شرمندہ سے ان کے پیچھے جا کر صحن میں ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔

ہادی نے پریشان ہو کر پوچھا،

"امی جی، کیا ہم کچھ غلط کر رہے تھے؟”

عروسہ بولی۔ "امی جی، ہم تو سیلاب زدگان کے لیے سامان جمع کر رہے ہیں، اس میں ایسی کیا بات تھی کہ آپ ناراض لگ رہی ہیں؟”

امی جی نے ایک گہری سانس لی۔

"بیٹا، نیکی تو کر رہے ہو، مگر تمہاری باتوں میں نیکی کی خوشبو کم، دکھاوے کی خوشبو زیادہ ہے۔ تم مدد نہیں، تعریف کے خواب دیکھ رہے ہو۔”

سب بچے خاموش ہو گئے۔

ہادی نے نظریں جھکا لیں۔

فجر نے آہستہ سے کہا۔ "لیکن امی جی، ہم تو نیک کام کی خوشی کا مزہ لے رہے تھے!”

امی جی بولیں،

"ہاں بیٹا، خوش ہونا غلط نہیں۔ مگر یاد رکھو نیکی وہ ہے جو صرف اللہ کے لیے کی جائے، نہ کہ واہ واہ کے لیے۔ اگر نیکی میں دکھاوا آ جائے تو وہ صرف خیالی پلاؤ بن جاتی ہے خوشبو بھی نہیں، ذائقہ بھی نہیں۔ نیکی وہ ہوتی ہے جس میں اخلاص ہو۔”

یہ سنتے ہی حمزہ نے پوچھا،

"امی جی، اخلاص کیا ہوتا ہے؟”

مسکان جو اب تک خاموش بیٹھی تھی، فوراً بول اٹھی،

"جی جی، مجھے پتہ ہے اخلاص کیا ہے!”

سب حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔

"کیا ہے؟” ہادی نے پوچھا۔

مسکان نے گہری سانس لی اور معصوم لہجے میں بلند آواز سے سنانا شروع کیا،

"قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔”

سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔

مسکان نے حیران ہو کر سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

"میں نے تو کوئی غلطی نہیں کی نا؟”

امی جی نے ہنستے ہوئے اسے گود میں لیا،

"نہیں میری گڑیا، تم نے بالکل صحیح پڑھی ہے۔ شاباش!”

پھر انہوں نے سب بچوں کی طرف دیکھ کر کہا،

"اخلاص کا مطلب ہے خالص ہونا جیسے دودھ میں اگر پانی ملا دو تو وہ اپنی اصل کھو دیتا ہے۔ نیکی بھی ایسی ہی ہے، جب اس میں دکھاوا یا واہ واہ کی چاہ آ جائے تو اس کی مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کام خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ جب دل میں صرف یہ نیت ہو کہ ‘اللہ خوش ہو جائے ’ تبھی نیکی مکمل ہوتی ہے۔”

ہادی نے پوچھا،

"تو پھر اس سورہ کا نام اخلاص کیوں ہے؟”

"کیا مطلب؟”

امی جی نے حیرت سے ہادی کی جانب دیکھا۔

"میرا مطلب ہے، اس سورہ میں تو اللہ کی وحدانیت کو بیان کیا گیا ہے تو پھر اس سورہ کا نام اخلاص کیوں ہے؟، اس میں تو اللہ کی رضا کا کوئی ذکر ہی نہیں!”

ہادی نے تفصیلاً اپنا مدعا سمجھایا،

امی جی مسکرا کر بولیں،

"کیوں نہیں ہے اخلاص کا ذکر! اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں خالص سچائی بیان کی ہے کہ وہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کسی کو پیدا کیا۔ یعنی اس میں صرف اللہ کی ذات کا خالص تعارف ہے، جس میں کسی ملاوٹ یا شریک کی گنجائش نہیں۔ یہی تو اصل اخلاص ہے خالص ایمان۔ یہ سورہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، کوئی اس جیسا نہیں۔ جب دل میں صرف اللہ کی محبت ہو اور باقی سب خواہشیں نکل جائیں، تو پیچھے ‘اخلاص’ رہ جاتا ہے۔”

مناہل، جو امتحان کی تیاری میں مصروف تھی ان کی گفتگو سن کر باہر صحن میں آئی اور تدبر کا حصہ بنتے ہوئے پوچھا،

"امی جی، ایک بات سمجھ نہیں آتی۔ اس سورہ کو قرآن کا ایک تہائی کیوں کہا جاتا ہے؟”

امی جی نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما اور بولیں،

"اس سوال کا جواب ہم قرآن سے لیتے ہیں، صرف چار آیات پر مشتمل یہ چھوٹی سی سورہ بہت عظیم ہے۔ چلیں مل کر سورۃ الاخلاص کی ایک ایک آیت پر تدبر کرتے ہیں۔”

پہلی آیت کہتی ہے،

قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ

’کہہ دو، وہ اللہ ایک ہے۔‘

یہ اعلان ہے کہ اللہ ایک ہے۔ صرف گننے میں ایک نہیں، بلکہ یکتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں۔”

"یعنی صرف ایک نمبر نہیں بلکہ واحد اور انوکھا؟”

تہنیت نے وضاحت چاہی۔

"بالکل! اگر دو سورج نکل آئیں تو کیا ہو گا؟”

امی جی نے پوچھا۔

"دنیا جل جائے گی!”

ریحان نے جواب دیا۔

"اگر دو چاند ہوں تو؟”

"پوری کائنات کا نظام بگڑ جائے!”

حاشر نے کہا۔

"اسی لیے کائنات کا ایک ہی مالک ہے، اور وہ اللہ ہے۔”

"قُلْ ہُوَ ٱللَّہُ أَحَدٌ”

امی جی نے بات مکمل کرتے ہوئے آیت دہرائی اور پھر گویا ہوئیں،

"شان نزول اس سورہ کا یہ ہے کہ اہلِ عرب اجنبی سے کہتے تھے، ما انسب لنا یعنی تمھارا نسب کیا ہے، اپنا نسب بتاؤ تاکہ پہچان ہو۔ اسی طرح جب انہوں نے نبی کریمﷺ سے پوچھا ‘آپ کے رب کا نسب بتائیے ’ تو اللہ نے یہ جواب دیا کہ ان سے کہہ دیں کہ وہ بے مثال اور یکتا ہے اس کا کوئی نسب نہیں۔ اللہ کسی قبیلے یا خاندان سے تعلق نہیں رکھتا۔

اب دوسری آیت کو دیکھیں،

اللّٰہُ الصَّمَدُ

’اللہ بے نیاز ہے۔‘

صمد کا مطلب ہے بے نیاز۔ اللہ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، سب کو اللہ کی ضرورت ہے۔”

"امی جی جیسے ہمیں کھانے پینے کی ضرورت ہے؟”

عروسہ نے پوچھا۔

"جی بالکل!”

امی جی نے تائید کی۔

"امی جی! اللہ کی بے نیازی کو کیسے سمجھیں؟ انسانوں میں تو بے نیاز اسے کہتے ہیں جسے کوئی پرواہ نہ ہو، کوئی ضرورت نہیں ہو۔”

مناہل نے ایک مرتبہ پھر سوال کیا۔

"قرآن کہتا ہے:

اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ

یعنی اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ ہمیں ہر شے کی ضرورت ہے سانس کی، پانی کی، کھانے کی، رشتہ داروں کی، دوستوں کی، نوکری کی، پیسے کی، اور پڑھائی کی، ہم سب ہر طرح کے سہاروں کے محتاج ہیں۔ مگر اللہ کسی کا محتاج

نہیں۔ سمجھ آئی؟”

امی جی نے مناہل سے پوچھا۔

"جی بالکل!” مناہل نے سر ہلا کر کہا۔

"یعنی اللہ سب سے بڑا سہارا ہے؟”

مروہ نے معصومیت سے کہا۔

"بالکل بیٹا! اللہ ہی سب کا سہارا ہے۔”

اچھا تیسری آیت ہمیں بتاتی ہے کہ،

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ

"نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔”

"امی جی! سب کے تو امی ابو ہوتے ہیں، اللہ کے کیوں نہیں؟”

ننھی مسکان نے پوچھا۔

امی جی مسکرا دیں۔

"کیونکہ اگر اللہ بھی کسی کا بیٹا یا باپ ہوتا تو وہ بھی مخلوق کی طرح محتاج ہو جاتا۔”

"یعنی اللہ سب کا خالق ہے، مگر خود کسی کی تخلیق نہیں!”

فجر نے خوش ہو کر کہا۔

ثوبیہ نے سنجیدگی سے کہا:

"امی جی، کچھ قومیں نعوذ باللہ بعض پیغمبروں کو اللہ کے بیٹے بھی کہتی تھیں، ہیں نا!”

امی جی نے سر ہلاتے ہوئے افسوس بھرے لہجے میں کہا،

"ہاں بیٹا، بعض یہودیوں نے حضرت عزیرؑ کے بارے میں یہ کہا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں دعویٰ کیا۔ مگر قرآن نے صاف کہہ دیا اللہ نہ تو کسی کا باپ ہے نہ بیٹا۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی ہستی مخلوق کی طرح نہیں کہ ابتدا یا انتہا ہو۔”

"ہممم!” ثوبیہ نے سر ہلاتے ہوئے صرف ہممم کہنے پر اکتفا کیا۔

"اب دیکھتے ہیں چوتھی آیت کو،

’وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ‘

’اور نہ کوئی اُس کے برابر ہے۔‘

اس جیسا کوئی نہیں۔ نہ طاقت میں، نہ علم میں، نہ شان میں۔”

"یعنی کوئی مقابل نہیں!”

احمر نے پوچھا۔

"ہاں بیٹا! جیسے ہم کھیلوں میں، امتحانات میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کا کوئی ہمسر نہیں۔ وہ اکیلا اور بے مثال ہے۔”

ریحان نے کہا:

"امی جی، اس کا مطلب یہ ہے کہ سورہ اخلاص ہمیں دکھاوے سے بچنے اور صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کا سبق دیتی ہے؟”

امی جی نے محبت سے کہا:

"بالکل! یہ سورہ ہمیں اخلاص سکھاتی ہے۔ یعنی نیت میں کسی قسم کا دکھاوا نہ ہو، ہر عمل صرف اللہ کے لیے ہو۔ چاہے پڑھائی ہو، کھیل ہو یا نیکی اگر اللہ کے لیے ہے تو وہ قیمتی ہے۔ یہ سورہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ ہی اصل سہارا ہے، اسی کی رضا مقصد ہے۔”

احمر نے دھیرے سے کہا:

"پھر تو چھوٹے چھوٹے کام بھی بڑے بن جاتے ہیں؟”

امی جی مسکرائیں:

"ہاں بیٹا، نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی خزانہ بن جاتا ہے۔ یہی اخلاص ہے۔”

مسکان نے اپنی گڑیا کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا،

"تو پھر پلاؤ پک جاتا ہے؟”

امی جی نے مسکرا کر کہا،

"بالکل، میری گڑیا۔ جب نیت میں اللہ کی رضا شامل ہو، تب نیکی کا پلاؤ سچ مچ پک جاتا ہے۔”

سب بچے ہنس پڑے، مگر اس بار ان کے دلوں میں ایک خاموش عہد تھا۔

اب نیکی دکھاوے کے لیے نہیں، بلکہ خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو گی۔

٭٭٭

 

 

 

 

____________________________

اعترافات

 

1۔ چونکہ میں تفسیر القرآن میں محترم ڈاکٹر اسرار احمد، محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی، محترمہ نمرہ احمد اور محترم ابو یحی کی شاگردوں میں سے ہوں لہٰذا ان کی باتوں کا رنگ میری تحاریر میں زیادہ نظر آئے گا۔

2۔ میں نے احادیث اور قرآنی آیات کے ترجمہ و تفسیر کے لئے شاملہ اردو ایپ، اور اسلام 360 ایپ کا استعمال کیا ہے

____________________________

 

 

 

____________________________

دعا

 

اللہ تبارک و تعالیٰ میرے والدین کی بخشش فرمائے اور ہم سب کے "امی جی کے آنگن” کو ہمیشہ آباد رکھے۔

 

____________________________

تشکر:  مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل