ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

سخندانِ فارس

 

محض حصہ اول

 

محمد حسین آزادؔ

پیشکش: اردو محفل

 

 

ایک اہم نوٹ

 

یادش بخیر یہ کتاب اردو محفل (https:urduweb.org/mehfil) میں ۲۰۰۹ء میں نا مکمل ٹائپ کی گئی تھی۔ مشہور عام ویب گاہ ریختہ ڈاٹ آرگ کی ابتدا سے بہت پہلے۔ اردو محفل کی رکن سیدہ شگفتہ اور مرحوم رکن سید نایاب حسین نقوی نے اس کے حصہ اول کے سو صفحات سکان (Scan)کئے تھے۔ اور مرحوم رکن محمد وارث اسدؔ نے کچھ ابتدائی صفحات یہاں ٹائپ کئے تھے:

https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%B3-1.22686/#post-513137

پھر محفل کے ہی رکن محمد شمشاد خان نے تقریباً مکمل کتاب کی ٹائپنگ شروع کی تھی۔ لیکن اس میں سنسکرت/ دیو ناگری کی کمپوزنگ مکمل چھوڑ دی گئی تھی۔ اور کئی صفحات جن کی سکیننگ درست نہیں ہوئی تھی، چھوڑ دئے گئے تھے۔ یہ کتاب اب تک اسی حالت میں رہی۔ اردو محفل کے بند ہونے پر میں نے سارا ڈیٹا کاپی کیا اور پھر اس کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ حصہ اول کے باقی صفحات آرکائیو میں موجود پی ڈی ایف فائل سے حاصل کئے گئے۔ متن کی املا جدید اردو کی طرز پر درست کی گئی۔ (مثلاً ’دونو‘ کی جگہ ’دونوں‘) اور دیوناگری خود میں نے اور اردو کا باقی متن میں نے اور اردو محفل کے ہی ایک اور پرانے رکن سید عاطف علی نے ٹائپ کیا۔ اور اب یہ کتاب مکمل ہو کر پیش کی جا رہی ہے۔

اس متنی صورت میں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا یونی کوڈ متن اپنے مقالہ جات میں محقق حضرات بآسانی کاپی پیسٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

اعجاز عبید

سپرنگ، ٹیکسس، ریاستہائے متحدہ امریکہ

۹ اگست ۲۰۲۶ء

 

 

 

انتساب

 

مرحوم اردو محفل کے مرحوم ارکان

محمد شمشاد خان

محمد وارث اسدؔ

اور

سید نایاب حسین  نقوی

کی یادوں کے نام

 

تمہید

 

سخندانِ فارس مدّت سے پھٹے پرانے کپڑوں میں پڑا سوتا تھا۔ کم فرصتی وقت کو ٹالتی تھی۔ یہاں تک کہ کل سے پرسوں، اور مہینوں سے برسوں ہو گئے۔ جب بندۂ آزاد ایران سے آیا تو ہم زبانی کے جذبوں نے زور کیا۔ مصلحت نے کہا کہ اس وقت اُدھر کے خیالات تازے ہیں، سب سے پہلے اسے پورا کرنا چاہیئے۔ ناچار نظر ثانی شروع کی، فرصت کم، کام بہت، کئی مہینے گزر گئے۔ پھر بھی جس طرح جی چاہتا ہے، سر انجام نہ کر سکا۔ جانتا ہوں کہ حالتِ موجودہ اس کی مشتہر کرنے کے قابل نہیں مگر کیا کروں انتظارِ فرصت میں ۱۵ برس گزر گئے۔ اب اہلِ طلب کے تقاضے غالب اور دل مغلوبِ مروّت ہے۔ خدا کے سپرد کر کے مطبع کے حوالے کرتا ہوں، الٰہی حسنِ قبول روزی کر۔

 

دعا کا محتاج

 

بندۂ آزاد محمد حسین عفی عنہ

 

 

 

حصّۂ اوّل

 

یورپ میں علمِ زبان کے شوقینوں نے مُلک مُلک کی زبانیں سیکھ کر انواع و اقسام کے فائدے حاصل کئے۔ ایک اُن میں سے یہ ہے کہ مختلف زبانوں کے معائنہ اور مقابلہ سے ان کی قوموں، نسلوں اور ان کے باہمی رشتوں کے پتے نکال لئے۔ اس دریافت کا سلسلہ دیکھنے کے قابل ہے کہ کہاں سے سراغ نکلا اور کیونکر قدم بہ قدم آگے چلا۔ افسوس کہ عزیزانِ وطن کو ان باتوں کا شوق نہیں، نہ زمانہ فرصت دیتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کام میں مہارت پیدا کی ہے، وہ لفظوں کو دیکھ کر صاف پہچان لیتے ہیں کہ یہ فلاں زبان کا لفظ ہے، جس طرح کوئی سیّاحِ مردم شناس ناواقف شخص کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ فلاں ولایت کا آدمی ہے۔

خیالات کی ترقّی نے قدم آگے بڑھایا تو نظر آیا کہ جن جن قوموں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں اگرچہ آج جدا جدا ہیں اور دور دراز ملکوں میں رہتی ہیں اور ان کی زبانیں بھی غیر زبان کہلاتی ہیں، مگر ایک زمانہ ضرور ہو گا کہ جس میں ان کی ایک زبان ہو گی، اسی کے الفاظ ایک گھرانے کے آدمی ایک گھر میں رہ سہہ کر بولتے ہوں گے اور ایک ہی الفاظ گھروں کے کاروبار میں کام دیتے ہوں گے یا یہ دونوں زبانیں ایک زبان سے اس طرح نکلی ہوں گی جس طرح ایک ماں باپ کی دو بیٹیاں جدا ہو گئیں۔ قسمت کی گردش نے بھائی بندوں کو کہیں سے کہیں پھینک دیا، پھر جس طرح ملکوں کی آب و ہوا آدمیوں کے رنگ روپ، ڈیل ڈول، رسم و رواج بدل دیتی ہے اسی طرح لہجوں، آوازوں اور تلفّظ کے فرق سے اُن کے لفظوں کے ڈیل ڈول اور عبارتوں کے جوڑ توڑ میں فرق آ گیا۔ تم روز دیکھتے ہو کہ ایک دادا کی اولاد سے لڑکے بالے پھیل کر رنگ برنگ کے اشخاص ہو جاتے ہیں، اسی طرح سمجھ لو کہ اُن کی زبان کی ایک اصل تھی جن سے لفظوں کی اولاد اور نسلیں پھیل کر نئی مخلوقات پیدا ہو گئی، جو ایک الگ زبان معلوم ہوتی ہے (دیکھو ایرین قوم کا حال صفحہ ۶۱ و ۱۵۰ میں)۔

میری غرض یہاں اُس مبارک نسل سے متعلق ہے کہ کسی زمانے میں ایک گھرانے کی ولادت، ایک گھر کے رہنے سہنے والے، ایک بولی کے بولنے والے، ایک مذہب کے ماننے والے، ایک ریت رسم کے برتنے والے، گروہ گروہ اور انبوہ انبوہ وطن چھوڑ کر روانہ ہوئے۔ ایک قطار نے ہند کا رخ کیا، ایک نے ایران کا۔ ان دونوں کی زبانیں گویا ایک ماں کی دو بیٹیاں، جو بہن ہند میں پلی ہندو ہو گئی، جس نے ایران میں پرورش پائی ایرانی کہلائی۔

باوجودیکہ ہزاروں برس کی جدائی اور سلطنتوں کے انقلاب نے رشتوں کو فرسودہ کر دیا، سب رنگ روپ خاک میں مل گئے اور فارسی قدیم کو فارسی حال سے مقابلہ کرو تو ایسی ہو گئی جیسے سنسکرت بھاشا اور اردو۔ اس پر بھی جب ژند پاژند، پہلوی، دری اور پھر سنسکرت میں آگاہی پیدا کرتے ہیں تو قیافہ شناسوں کو بہت سے لفظوں کے چہروں پر ایک نسل کے خط و خال جھلکتے معلوم ہوتے ہیں۔ اہلِ نظر جب ایک فارسی کتاب کے صفحہ پر غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک خاندان کے لوگ ہیں، ہاں قد و قامت اور رنگوں میں فرق آ گیا ہے، اپنی اپنی وضع کے لباس پہنے سامنے پھرتے ہیں۔

ڈیڑھ سو برس ہوئے کہ ٹیک چند بہار اور خان آرزو دو فلسفی لغتِ فارسی کے دلّی میں پیدا ہوئے۔ یہ فارسی زبان کے ماہر تھے اور ہندی ان کے وطن کی زبان تھی۔ دونوں زبانوں کے مقابلہ کرنے کا آسان موقع تھا، اس لئے ہزاروں برس کا مٹا ہوا سراغ صاف نکل آیا۔

۱۷۸۳ء میں سر ولیم جونس نے ہندوستان میں آ کر سنسکرت اور فارسی پڑھی۔ خدا جانے صاحب نے اپنی طبیعت کے لگاؤ سے یا ان دونوں کی تصنیفات سے یہ نکتہ پایا۔ غرض انہوں نے ولایت میں جا کر چرچا پھیلایا اور وہاں کے زباں دانوں سے نئی دریافت کا تمغا حاصل کیا۔

مجھے اس تحقیقات کا شوق نہیں، جنون ہے۔ لڑکپن میں بھی لفظوں کے حروف کو ہیر پھیر، ادل بدل کر فارسی اور سنسکرت کے لفظوں کا ملایا کرتا تھا۔ اس زبان میں تھوڑی تھوڑی معلومات بھی پیدا کی، بڑی کوشش سے ژند، پہلوی اور دری کی کتابیں جو مل سکیں، بہم پہنچائیں۔ انہی کے لئے بمبئی گیا پھر ایران تک سفر کیا، موبدوں اور دستوروں سے ملا، ایک برس وہاں رہا لیکن افسوس یہ ہے کہ فائدہ بہت کم حاصل ہوا۔

اہلِ یورپ نے اس تحقیقات کو بہت پھیلایا ہے، شرم کی بات ہے کہ اتنی دُور کے لوگ اتنی کوششیں کریں اور ہم اپنے پیارے وطن اور عالی نژاد بزرگوں کی زبان سے ایسے بے غرض اور بے پروا رہیں۔ جو کچھ آزاد کی ناتمام تحقیق نے میدانِ تلاش میں دانہ دانہ چن کر سرمایہ بنایا ہے، قلم کی معرفت کاغذ کے حوالہ کرتا ہے۔ یہ سینہ صاف امانت دار ہے، دیانت سے اہلِ طلب تک پہنچا دے گا اور چونکہ اس ضروری مطلب کی بنیاد فنِ فیلالوجیا (زبانوں کی فلسفی تحقیقات) پر ہے جو ابھی اکثر عزیزانِ وطن تک نہیں پہنچا اس لئے پہلے اس کے ضروری اصول لکھتا ہوں، اسطرح کہ بیان فضول اور خیالات کو طول نہ ہو لیکن مطلب کی بات رہ بھی نہ جائے۔

 

فیلالوجیا

لغات اور زبانوں کی فلسفی تحقیقات کے اصول

 

یہ ایک قدیمی فن فلاسفۂ یونان کا ہے۔ اس سے مختلف زبانوں کی اصلیں اور ان کا تعلق ایک دوسرے سے معلوم ہو جاتا ہے۔ عرب اور فارس جہاں سے پہلے ہمیں علوم کے ذخیرے ملے، ان میں اس کے اصول و فروع کا پھیلاؤ بہت نہیں ہوا اور جس قدر ہوا گم ہو گیا۔ اب جو کچھ ہے انگریزی میں ہے، وہ اسے فلولوجی کہتے ہیں لیکن اگر کوئی رسالہ اس کا ترجمہ ہو تو امید نہیں کہ ہموطن بھائیوں کا دل روشن کر سکے کیونکہ انگریزی کے مصنف کئی کئی زبانوں کے ماہر ہوتے ہیں وہ ہر زبان کی طاقت اس میں خرچ کرتے ہیں اور انگریزی، یونانی، لاطینی، عبرانی وغیرہ پر بنیاد رکھتے ہیں، یہاں ان طرفوں میں اندھیرا ہے، ہم لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔ اس لئے میں فارسی اور سنسکرت لفظوں کی چقماق سے آگ نکالوں گا۔ امید ہے کہ کچھ نہ کچھ اجالا ہو گا۔ ایشیائی زبانوں میں تحقیقات فلولوجی کا ابھی تک رواج نہیں ہوا۔ اہلِ یورپ نے اسے یونان سے لیا تھا، اسی واسطے علمِ مذکور کا نام فلولوجی چلا آتا ہے (فلسفۃ اللّسان)۔ اب میرے دوست مجھے چند منٹ کے لئے اجازت دیں کہ اول چند مطالب بیان کروں جن سے معلوم ہو کہ زبان جس سے تقریر یا گویائی مراد ہے وہ کیا شے ہے؟

وہ اظہارِ خیال کا وسیلہ ہے کہ متواتر آوازوں کے سلسلہ میں ظاہر ہوتا ہے جنہیں تقریر یا سلسلۂ الفاظ یا بیان یا عبارت کہتے ہیں۔ اسی مضمون کو ایک شاعرانہ لطیفہ میں ادا کرتا ہوں کہ زبان (خواہ بیان) ہوائی سواریاں ہیں جن میں ہمارے خیالات سوار ہو کر دل سے نکلتے ہیں اور کانوں کے رستے اوروں کے دماغوں میں پہنچتے ہیں۔ اس سے رنگین تر مضمون یہ ہے کہ جس طرح تصویر اور تحریر قلم کی دستکاری ہے جو آنکھوں سے نظر آتی ہے اسی طرح تقریر ہمارے خیالات کی زبانی تصویر ہے جو آواز کے قلم نے ہوا پر کھینچی ہے، وہ صورتِ ماجرا، کام، مقام اور ساری حالت کانوں سے دکھاتی ہے۔

خیالات کا مرتبہ زبان سے اول ہے لیکن جب تک وہ دل میں ہیں، ماں کے پیٹ میں ادھورے بچے ہیں، تقریر میں آ کر پورے ہوتے ہیں اور تحریر کا لباس پہن کر بھر پور۔ لوگ جو خیالات سے مطلب نگاری اور نکتہ پردازی میں جان کھپاتے ہیں، اس نکتہ کو انہی کا دل جانتا ہے۔

دنیا میں اظہارِ مراتب کی کاروائی تین طرح سے ہو سکتی ہے، اشارات، تقریر، تحریر۔ ان میں زبان یعنی تقریر اپنی توضیح کی زیادتی اور محنت کی کمی سے اول نمبر ہو گئی ہے اور حق پوچھو تو کاروائی کے لئے سب برابر ہیں۔ اب یہ کہو کہ زبان کیونکر پیدا ہوئی؟ سبحان اللہ، ہر مذہب کی کتاب یہی خبر دیتی ہے کہ ہماری زبان خاص خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے، یہ ہمیں ساتھ لے کر بہشت میں جائے گی، اور اسی کے ذریعے سے ہم اہلِ جنت سے باتیں کریں گے[1]۔ لیکن غور کر کے دیکھو تو صانعِ مطلق نے اپنی صنعتِ کاملہ سے انسان ایک ایسا طلسمِ قدرت بنایا ہے کہ وہ خود زبان پیدا کر سکتا ہے اور یہ راز خیال کو وسعت دینے سے کھلتا ہے۔

ہے انساں صانعِ قدرت کا اک صندوقِ سربستہ
ولیکن یہ نہیں کھلتا کہ اس میں بولتا کیا ہے

راہِ تہذیب کے مسافرو، ذرا ابتدائی آفرینش کی طرف مُڑ کر نگاہ کرو کہ انسان پیدا ہوا ہے، اس میں دل ہے، دماغ ہے، خیالات ہیں اور سب طرح کی ضرورتیں بھی ہیں مگر اظہارِ مطلب کا اوزار نہیں۔ وہ کیونکر گزارہ کرتا ہو گا؟ اچھا آج جو انسان بے زبان ہیں اور پہلے سے سو درجے زیادہ ضرورتیں رکھتے ہیں، انہیں دیکھو کیا کرتے ہیں؟ وہ کون؟ گونگے، کہ اپنے اشاروں میں دنیا کی کوئی بات نہیں چھوڑتے، سب کچھ کہہ دیتے ہیں، اور گونگوں پر کیا منحصر ہے تم خود اکثر نہیں بولتے، سر کو آگے کو ہلا کر ہاں ظاہر کر دیتے ہو، دونوں شانوں کی طرف ہلا کر نہیں اور غور کرو تو یہ طبعی حرکت ہے۔ گھوڑے، ہاتھی وغیرہ چارپائے جب مالک کا ارادہ ماننا نہیں چاہتے تو کس طرح سر جھڑجھڑا کر سرکشی سے انکار دکھاتے ہیں۔ شوقِ سیاحت مجھے خود کئی ملکوں میں لے گیا، جہاں میں گونگا تھا کیونکہ نہ میں کسی کی سمجھتا تھا نہ کوئی میری، وہاں گذارے کا وسیلہ اشارے ہی تھے۔ انسان جوش ہائے مختلف کا تھیلا ہے، جب کسی بات میں ناراض یا خفا ہوتا ہو گا تو اس کی طبیعت سخت آواز نکالتی ہو گی، نہیں، غرّاتا ہو گا۔ تم جانتے ہو کہ سمجھ بھی اپنے اپنے درجہ میں ہر جاندار کو ملی ہے۔ کُتّے، بلّی کو دیکھو، جب تمھیں خوش کرنا چاہتے ہیں تو کن کن حرکتوں اور جنبشوں سے لگاوٹ کرتے ہیں اور کیسی مہین مہین نرم نرم آوازیں سناتے ہیں، اسی طرح ابتدائی انسان بھی دوسرے کا غصہ دھیما کرنے کو عجز و نیاز کی حرکات کام میں لانے لگا ہو گا۔ گونگوں کو بھی دیکھ لو اپنے اشاروں کو رنگ برنگ کی آوازوں سے مدد پہنچاتے ہیں۔

تم اب بھی کُتّے، بلّی، سانپ وغیرہ جانوروں کو ڈرانے یا ہٹانے کے لئے لکڑی کھٹ کھٹا کر کام لیتے ہو، کبھی دوسرے شخص کو ہشیار یا آگاہ یا اپنی طرف متوجہ کرنے کو تالی بجا کر، چھچکار کر، کھنکھار کر آگاہ کرتے ہو۔ آواز کا سمجھ جانا جاندار مخلوق کی طبیعت میں داخل ہے، جو جو بولیاں بول کر آپس میں سمجھتے سمجھاتے ہوں گے، وہ تو خدا ہی جانے، مگر بلّی کو دیکھو، کسی ملک کی ہو، خواہ غافل سوتی ہو، خواہ کسی طرف جاتی ہو، جب پھِش پھِش کر کے آواز دو گے فوراً دیکھنے لگے گی۔ کُتّا کسی ولایت کا ہو جب تم چُس چُس کر کے آواز دو گے ضرور چوکنّا ہو کر دیکھنے لگے گا بلکہ محبت کی دُم بھی ہلانے لگے گا، یہ عموماً بازاری کتّوں کا حال ہے اور جو تعلیم یافتہ ہیں اُن کا تو کیا کہنا۔

جب یہ بات قرینِ قیاس ٹھیری کہ انسان بھی ابتدائے آفرینش میں اشاروں سے سمجھتا سمجھاتا تھا تو یہ بھی ظاہر ہے کہ سوچنے اور ایجاد کرنے کی لیاقت اُسے خدا نے دی تھی۔ برس دو برس کے بچّوں کو دیکھو فقط چیخیں ہی مارتے ہیں یا مُہمل آوازیں کام میں لاتے ہیں، جس بات کو جی چاہتا ہے یا کچھ چیز مانگتے ہیں یا نہیں کرنا چاہتے ہیں تو انگلیوں کے اشاروں سے، سر کے ہلانے سے اور اُونہہ اُونہہ نے نے کر کے تمھیں اپنی خواہشیں جتا دیتے ہیں، رفتہ رفتہ کچھ اور آوازیں بھی ٹھیرا لیتے ہیں، مثلاً پانی کے لئے مَم مَم اور کھانے کو پَہ پَہ یا ہپہ وغیرہ وغیرہ۔ تم نے دیکھا، اعضائے تکلّم میں ہونٹ سب سے زیادہ نرم ہیں، ذرا سے ارادہ میں ہل جاتے ہیں، انہی سے یہ صدائیں نکلی ہیں نہ کہ مسوڑوں سے یا ناک سے یا کان سے۔ رفتہ رفتہ کچھ اور آوازیں نکالنے لگتے ہیں یا سیکھ جاتے ہیں۔ البتہ ان کے استاد یا رہنما بھی ہوتے ہیں (وہ کون؟ یہی گھر والے) اور یہ آوازیں بھی اوّل ان چیزوں اور ان آدمیوں پر کام آتی ہیں جو ان کے آس پاس ہوتے ہیں۔

اسی طرح فرض کرو کہ آفرینش عالمِ طفولیت میں ہے اور ایک جگہ دو چار ہی آدمی رہتے ہیں۔ اس وقت ان کے کیا معاملات؟ اور کیا سامان ہیں؟ ایک پہاڑ کے بن مانس یا صحرا کے حبشی پر خیال کرو کہ اُس کے پاس ایک ہڈی ہے، وہ اس میں گوشت نوچ نوچ کر کھا رہا ہے۔ فرض کرو ایک ویسا ہی جنگلی اس پر ہاتھ بڑھا کر، آنکھیں نکال کر، گردن کو اینٹھا کر غرّایا۔ تو پہلا جنگلی ضرور سمجھ گیا ہو گا کہ یہ ہڈی چھیننی چاہتا ہے۔ اگر برخلاف پہلی حالت کے اُوں اُوں کر کے، نرم نرم مہین آواز نکالی اور غریبی کا رنگ دکھا کر آنکھیں چندھیائیں اور آہستہ آہستہ ہاتھ بڑھایا تو وہ سمجھ گیا ہو گا کہ یہ بیچارا بھی بھوکا ہے، عاجزی سے ہڈّی مانگتا ہے اور یہ حالتیں تم روز اکثر حیوانوں میں مشاہدہ کرتے ہو۔ بعد اُس کے اِس کے کھانے پینے کے علاوہ اور چیزوں کے لئے بھی آوازیں مقرر ہو گئی ہوں گی، پھر رفتہ رفتہ لفظ پیدا ہو گئے ہوں گے۔

تاریخی لطیفہ۔ اکبر کے دربار میں گفتگو ہوئی کہ انسان کی اصلی زبان کیا ہے؟ ایک مکان عالیشان شہر سے الگ تجویز ہوا، چند حاملہ عورتوں کو وہاں رکھا، گونگی انّائیں، مامائیں، گونگے خدمتگار باہر کے لئے نوکر کئے، جب بچّے پیدا ہوئے تو ماؤں کو الگ کر کے بے زبانوں کو گونگی انّاؤں کے سپرد کر دیا، پرورش کی ضروریات سب حاضر اور حکم تھا کہ کوئی بولتا آدمی ان کے پاس نہ پھٹکنے پائے، جب بچّے چار چار پانچ پانچ برس کے ہوئے تو بادشاہ خود گئے، بچّوں کو سامنے لا کر چھوڑ دیا، سب جنگلی جانوروں کی طرح غائیں پائیں کرتے تھے، ایک بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔

تم ننھّے ننھّے بچّوں کو دیکھتے ہو؟ جو چیزیں انہیں نظر آتی ہیں اور انہی سے کام پڑتے ہیں، انہی کے لئے سب سے پہلے اشارے اور آوازیں بھی قرار دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اوّل پیاری ماں اور پیارا باپ ہوتا ہے، یہ بھی ظاہر ہے بچّوں کے اعضا کا جز جز قابو میں نہیں ہوتا کہ حروف میں امتیاز اور فرق پیدا کر سکیں۔ سب سے آگے وہی ہونٹ ہیں، انہیں میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور بچہ کہتا ہے مَ مَ بَ بَ۔ اس بات کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اختلافِ وطن اور آب و ہوا کے فرق سے طبیعتوں میں فرق ہوتا ہے لیکن چونکہ انسانیت کے لحاظ سے سب ایک تھے، اس لئے دیکھو طبیعت کے استاد نے سب کو ایک ہی نام سکھایا، گرچہ ذرا ذرا سا فرق ہو گیا ہے۔

لیکن تقریباً سب زبانوں میں ماں باپ کے نام، جو بچّہ سب سے پہلے سیکھتا ہے ایسے اصوات سے مرکّب ہیں جن کا تلفّظ ہونٹوں کی جنبش یا محض منہ کھول کر آواز نکالنے سے ہوتا ہے، مثلاً

انگریزی میں باپ کو پاپا کہتے ہیں، ماں کو ماما۔

عربی میں باپ کو اب یا ابا کہتے ہیں، ماں کو ام

فارسی میں باپ کو بابا کہتے ہیں، ماں کو مام

اشارات میں دیکھ لو، طبیعتِ انسانی کا اتحاد ہر ملک کے بچّہ سے اشارہ کے لئے پہلے انگلی اٹھواتا ہے پھر آواز سے کہواتا ہے یہ یہ، پھر پاس کے لئے یہ اور دُور کے لئے وہ ہو جاتا ہے۔

بچّہ پہلے چیزوں کے نام یعنی اسما سیکھتا ہے، اسی واسطے جب کوئی چیز لینی چاہتا ہے تو فقط اسی کا نام لے کر پکارتا ہے، بھوکا ہوتا ہے تو دُو دُو دُو دُو کہتا ہے، پیاسا ہوتا ہے تو فقط مَم مَم کہتا ہے، مٹھائی کو جی چاہتا ہے تو چیجی بلکہ چی کہتا ہے۔ جب گویائی میں ذرا زورِ رفتار پیدا ہوتا ہے تو فعل بھی لگانے لگتا ہے مگر غلط سلط، رفتہ رفتہ حروف لگا کر باتیں کرنے لگتا ہے۔ زبان کے انجان پردیسیوں کو دیکھا اور خود سیاحتوں میں تجربہ ہوا کہ غیر ملک میں جا کر لین دین، کام کاج میں پہلے فقط اسموں سے کام نکالنا پڑتا ہے، مثلاً روٹی چاہئے تو پیسے دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نان یعنی پیسے موجود ہیں روٹی دو۔ دکان دار روٹی دکھاتا ہے اور انگلی کا اشارہ کرتا ہے یعنی ایک پیسا یا دو پیسے، اسی طرح گھی، نمک وغیرہ۔ چند روز کے بعد کچھ فعل یاد ہو جاتے ہیں، حرف سیکھ لیتا ہے، اسی کہنے سننے میں آدھے سارے جملے جوڑنے لگتا ہے۔ باعتبارِ ولادت کے اشارت کا نمبر اوّل تھا لیکن کلام بہت اچھی کار گزاری کرتا ہے، اس لئے زبان اُس پر چرب ہوئی اور ادائے مطلب کا کام اٹھا لیا۔

 

الفاظ جن سے زبان کا کام چلتا ہے کیونکر پیدا ہوئے؟

 

ایک گروہ کثیر ایک ہی دادا کی اولاد ہو۔ لیکن جب کنبہ کنبہ ایک ایک پہاڑی یا قطعہ قطعہ زمین پر الگ الگ بستے ہوں۔ تو ضرور ہے کہ ضرورت وقت یا قدرتی اتفاق اُن میں نئی چیزیں پیدا کریں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر مقام میں ایک ہی چیز کا جُدا جُدا نام پُکارا جائے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک ہی چیز کے لئے مختلف مقاموں کے نام جمع کریں تو ہر چیز کے کئی کئی نام ہوں گے۔ پھر جب کہ سلطنت کا امین یا باہمی ارتباط آمد و رفت کا۔۔۔۔۔۔ جال پھیلائے۔ اور تعلیم و تربیت عام ہو جائے۔ تو بہت سے نام خود بخود گر جائیں گے۔ اور ہر شے کے لئے ایک نام رہ جائے گا۔ وہ کبھی تو مناسبت کے سبب سے زیبا و برجستہ ہو گا۔ اور کبھی جو بندھ گیا وہی موتی۔ اُس وقت یہ ضرور ہے کہ ہر شے کو نام خاص سے پکارنے کے لئے سب کا اتفاق ہو گا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ لفظ کیا شے ہے؟ تو تم کہہ سکتے ہو کہ وہ ایک زبانی تصویر ہے یا پتا نشان ہے کسی چیز کا۔ یا فعل کا۔

دُنیا ہمیشہ ترقی کے رستہ میں رواں ہے۔ کیسی ہی ابتدائی حالت ہو۔ شائستگی پھیلے جائے گی۔ علوم اور فنون کی دستکاری نئی چیزیں پیدا کرے گی۔ لین دین جسے ترقی نے تجارت کا خطاب دیا ہے۔ ایک جگہ کی چیزیں دوسری جگہ پہنچائیں گے۔ اس سبب سے بھی نئے الفاظ ہر جگہ پیدا ہوں گے۔ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچیں گے۔ کیونکہ چیزیں اور کام نئے ہیں۔ دیکھو لو! یہی سبب ہے کہ دیہات میں الفاظ کم ہوتے ہیں شہروں بہت۔ اور شہری الفاظ کی خوش آوازی۔ خوش نوائی۔ اور لطافت گاؤں والوں کو اپنی شاگردی پر مجبور اور مشتاق کرتی ہے اسی کو خاص و عام کا اتفاق کہتے ہیں اور اس سے الفاظ اور اصطلاحیں پیدا ہوتی ہیں۔

اب کوئی پوچھے کہ تقریر کیونکر پیدا ہوئی؟ تم صاف کہہ دو گے کہ انسان میں جو چیخنے چلانے کی خاصیت ہے۔ وہ باہمی ضرورتوں اور آپس کے برتاؤ سے اصلاح اور ترقی کرتے کرتے تقریر ہو گئی۔ اور رفتہ رفتہ یہ رُتبہ پیدا کیا۔ کہ جس طرح ایک مصور کامل کسی انسان یا باغ یا محل کا نقشہ کھینچ کر اُس کی کیفیت آنکھوں کے رستے سمجھاتا ہے۔ صاحب زبان اپنے مافی الضمیر اور حرکتِ اعضا کے مجموعہ کو آواز کے رنگ میں کانوں کے رستے سمجھاتا ہے۔ پس گویائی گویا ایک عمدہ آلہ ادائے خیال کا ہے۔ لیکن نامکمل۔ کیونکہ کونسا قادر الکلام ہے۔ جو دل کے خیال کو جوں کا توں پورا پورا اپنے لفظوں میں ادا کر دے۔ عمدہ سے عمدہ کلام دل کے خیالات کی تصویر ہے۔ لیکن جو نیچے پانی میں ہے جو گدلا ہے۔ یا عکس ہے ایسے آئینہ میں جو دھندلا ہے۔

تم نے خیال کیا! زبان یعنی تقریر گویا انسان کے دل۔ انسان کی خواہش اور اُس کے حرکات اعضائی کا مجموعی خلاصہ ہے۔ اسی خیال سے زبان عرب کے ابتدائی محققوں میں عباد بن سلیمان ضمیری نے کہہ دیا۔ کہ "الفاظ اپنے حروف۔ اعراب اور آوازوں کے ذرعیے سے خود بخود اپنے معنی بتلاتے ہیں۔ مگر یہ رائے عموماً درست نہیں۔ اصفہانی نے شرح منہاج بیضاوی میں لکھا ہے کہ جمہور اہل لغت اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ اگر یہی بات ہوتی تو ہر شخص ہر لفظ کے معنی سمجھتا۔ بتانے اور لغت میں دیکھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ دوسرے اکثر دیکھا جاتا ہے۔ کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوتے ہیں۔ جو باہم مخالفت ہیں۔ اگر الفاظ بالطبع اپنے معنوں پر دلالت کرتے تو یہ کیونکر ہو سکتا تھا۔ البتہ لفظ بھی بعض جگہ اپنے معنوں پر آپ اشارہ کرتا ہے۔ دیکھو۔

تندر (رعد) کو خیال کرو۔ اس لفظ میں گرج زور و شور سُنائی دیتا ہے یا نہیں؟

درشت کو دیکھو۔ کرخت پر خیال کرو۔ سختی اور کھُردرا پن نہیں پایا جاتا؟

تیر کی "ی” کو مد کی کشش میں دیکھو۔ صاف نظر آتا ہے کہ کوئی تیز چیز تیز رو ہے کہ سیدھی چلی جاتی ہے۔

خُم یا خُنب بولنے میں بھی اپنی پھُلاوٹ اور گلاوٹ کی تصویر دکھاتا ہے۔

یورپ کے دانا کہتے ہیں کہ پہلے طبیعت کی تاثیر نے حالت کے مناسب آوازیں نکالی تھیں۔ پھر استعمال اور تہذیب نے انہی کو لفظ بنا دیا۔ یہ رائے قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔

چہچہہ بُلبُل کی آوازِ مُسلسل کا نام ہوا۔ کو کو۔ فاختہ کی آواز متواتر کا۔

غُرّش۔ جانوروں کی خفگی کی آواز۔ قہقہہ۔ انسانی کی ہنسی۔

غوغا۔ غُلغُلہ۔ غُلغُل۔ شور و غُل انسان کا ہوا۔

کوہستان خراسان و ایران کے کوے دیکھے۔ چیل سے ذرا چھوٹے ہوتے ہیں۔ اور بولنے میں صاف کُلغ کُلغ آواز دیتے ہیں۔ کلاغ اُن کا نام ہو گیا۔

چغوک اسی آواز کے سبب سے چڑے کا نام ہوا (یعنی چڑیا کا نر)۔

تم ضرور کہو گے کہ اپنے رنگ آواز۔ اور ادا کے انداز اور دل کی حالت کو ملا کر جو معنی چاہو پیدا کر لو۔ اصلی لفظ میں تو ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔ یہ بھی درست ہے۔ لیکن میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ زبان انسان کی آواز۔ دل اور اشاراتِ اعضائی کا مجموعہ ہے۔ اس صورت میں کسی جُز کو روکنا نہیں چاہیے[2]۔

ولادتِ زبان کی بنیاد تم نے دیکھ لی؟ پہلے کچھ اشارے تھے۔ پھر کچھ آوازیں۔ پھر باہمی اتفاق سے کچھ الفاظ آپس کے سمجھنے سمجھانے کے لئے مقرر ہو گئے۔ پش جب آفرینش بڑھے اور آبادی پھیلے۔ تب بھی واجب ہے کہ وہی الفاظ کام میں لائیں۔ کہ سب کی سمجھ میں آئیں۔ اور عام فہمی کے سبب سے اُنہیں سب سے پہلے کام میں لائیں۔ [3]

زبان میں کسی کو اپنی طرف سے ایک لفظ بھی ایجاد کرنے کا اختیار نہیں ہے! یہ ہو سکتا ہے کہ میں شادمی کہوں اور اس کے معنی رکھوں آدمی۔ اسے شاید میرے نوکر چاکر یا دوست آشنا سمجھنے بھی لگیں مگر اور سب کب مانیں گے! اور مانیں کیا؟ اگر چند لفظ ایسے تصنیف کر لوں تو کوئی میری بات بھی نہ سمجھے گا۔

اسی بنیاد پر عرب کے اہل تحقیق نے کہا ہے کہ لغت[4] وہ ہے کہ جس پر جمہور کا اتفاق ہو۔ اصطلاح وہ ہے جس پر خاص گروہ کا اتفاق ہو۔ البتہ کوئی علمی مصنف یا صاحبِ ایجاد و قادر الکلام شخص بھی الفاظ ایجاد کر سکتا ہے۔ لیکن اُن کے قیام عمر کے لئے اسے بھی جمہور کا حسن قبو حاصل کرنا پڑے گا۔

عزیزانِ وطن! ولادتِ الفاظ اور آفرینش زبان کے خیالات مجملاً آپ کے تصور میں آ گئے ہوں گے۔ اب یہ سُنئے کہ فلسفی زبان کا منصب کیا ہے؟ اُسکا منصب ہے تقریر کے ہر لفظ کو کُریدنا جس سے کہ زبان مرکب ہے۔ اس سے شاید تم یہ سمجھے ہو گے۔ کہ فلسفی زبان کو اکثر زبانوں کے لفظ اور معنی خوب آتے ہوں گے۔ وہ عبارت میں مبتدا۔ خبر۔ مضاف، مضاف الیہ۔ صلہ۔ موصول وغیرہ وغیرہ کو خوب سمجھتا ہو گا۔ نہیں! یہ تو بہت ادنیٰ کام ہے۔ وہ لفظ کی اصل و نسل ولادت سے وقتِ موجود تک دریافت کرتا ہے۔ تم نے کسی نیاریئے یا تیزابئے کو دیکھا ہے؟ جب ایک دھات کی ڈلی اُس کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ اُسے دیکھتا ہے اور جانچتا ہے کہ ایک مادہ ہے یا کئی مادے گٹھے ہوئے ہیں۔ تب کبھی تیزاب سے۔ کبھی آنچ کے زور سے گلا کر اُن کا جوڑ جوڑ کھول لیتا ہے کہ اس کی اصل کہاں پہنچی ہے۔ اسی طرح ماہر زبان ایک لفظ کو لیتا ہے وہ تیزاب یا آنچ کام میں نہیں لاتا۔ فقط عقل کے تیزاب سے حرفوں کے جوڑ بند کھولتا ہے۔ اور معنوں کو سوچ کر اس کی ساری اصل نسل دریافت کر لتا ہے۔

میرے دوستو! تم حیران ہو گے کہ لفظ کی ولادت اور نسل کیا؟ ہاں لفظ کی بھی ولادت اور نسل ہوتی ہے۔ اور وہ اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ فلسفی لفظ کے جز جز کو الگ کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وقت بوقت اُن کی اسل کس کس ملک اور کس کس قوم میں پہنچتی ہے۔ اُن میں کیا رشتے ہیں؟ اور کیونکر وہ رشتے پیدا ہوئے ہیں؟ اور ملک ملک اُن کے معنوں یا حرفوں میں کیا تغیر پیدا ہوئے ہیں۔ پھر اور زبانوں کے لحاظ سے اپنی باتوں پر غور کرتا ہے۔ اُن کے نتائج کو بھی جانچتا ہے۔ اور مطابقت اور مقابلہ کرتا ہے۔ یعنی ایک زبان کے لفظ دوسری زبان سے کن کن باتوں میں شفق ہیں اور کونسی باتیں ہیں کہ ایک ہی کے لئے خاص ہیں۔ پھر ان سببوں کی جستجو کرتا ہے جو زبان میں تبدیلی کا عمل کر رہے ہیں۔ اور یہ غیر منقطع کام ہے کبھی ترقی کے رنگ میں ہوتا ہے۔ کبھی تنزل میں۔ مگر جاری ہمیشہ رہتا ہے اور اسی کو زبان کی اصل نسل کہتے ہیں۔ اب چند مثالیں توضیح مطلب کے لئے لکھتا ہوں:

گریبان کو فلسفی زبان نے دیکھا۔ بان پر جوڑ معلوم ہوا۔ اس نے گرے کو دیکھا تو فارسی قدیم میں بمعنی گُلو پایا۔ سمجھ گیا کہ اس جُزو لباس کا گلے پر قبضہ ہے اس لئے اس کا نام گریبان رکھا ہو گا۔ کہ مالک گلو ہے۔ سنسکرت میں دیکھا تو وہاں گریوا (ग्रीवा) انہی معنوں میں آیا ہے۔ اور بان سنسکرت میں وان (वान) ہے۔ ثابت ہو گیا کہ ایک گھرانے کی نسل ہے۔ ملک اور مُدت کے انقلاب سے آواز بدل گئی۔ یہاں مر گیا وہاں جیتا ہے۔

کلابتون کو سب پہنتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ فلسفی زبان اُس کا بل کھولتا ہے۔ اور دیکھتا ہے کہ کلابہ۔ کلاوہ (سوت کا لچھا)۔ آتون ترکی میں سونے کو کہتے ہیں وہی سُنہرا لچھا ہوا۔

نیلوفر کو بے خبر آدمی ایک گُلِ خود رو سمجھے گا۔ فلسفی زبان دیکھے گا کہ نیلوپر۔ نیلوفل۔ نیلوپل۔ نیلپر سب طرح مستعمل ہوا ہے۔ تب اِدھر اُدھر نظر دوڑائے گا۔ اُس وقت معلوم ہو گا۔ کہ سنسکرت میں نیل (नील) نیلا۔ اُت پل (उतपल) پنکھڑی ہے۔ یعنی نیلی پنکھڑی والا پھول۔ فارسی میں ادل بدل ہو کر کچھ سے کچھ ہو گیا۔

ناہار اور نہار ہندوستان میں بھی سب جانتے ہیں۔ فلسفی زبان نے دیکھا تو "ن” پر جوڑ معلوم ہوا۔ اہار کو دیکھا تو فارسی بلکہ سنسکرت میں بھی بمعنی خورش آیا ہے۔ سمجھ گیا کہ صبح سے جب تک کچھ نہ کھایا ہو اُس وقت تک ناہار یا نہار ہے۔ [5]

خربوزہ کو سونگھا تو بو آئی کہ مرکب ہے۔ خر کو دیکھا بمعنی کلاں بھی آتا ہے۔ بُزہ کو دیکھا تو فارسی قدیم میں بمعنی ثمر ہے۔ سمجھ گیا کہ بڑا پھل تھا۔ اس لئے خربُزہ نام رکھا ہو گا۔ سنسکرت میں بھی بعینہ یہی دو جُز۔ اور یہی معنی ہیں۔

میرے دوستو! تم دل میں کہتے ہو گے کہ اس توڑ جوڑ اور لفظوں کے رگ پٹھے چیرنے سے کیا فائدہ؟ جب ہم ایک زبان سیکھتے ہیں۔ تو اس میں یہی غرض ہوتی ہے۔ کہ اور کی بات سمجھ لیں اپنی بات سمجھا دیں۔ اس کے لئے اتنا کافی ہے۔ کہ لفظوں کے معنی آ گئے۔ عبارت کا مطلب معلوم ہو گیا۔ والسلام۔ میں بھی یہی کہتا ہوں۔ بے شک زبان سیکھنی ہو تو اس سے زیادہ کاوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ذرا خیال کر کے دیکھو۔ جب تم کوئی شکل اقلیدس کی حل کرتے ہو یا ایک حساب کے سوال کا جواب نکال لیتے ہو۔ یا ایک بچہ کوئی پہیلی بوجھتا ہے تو کیا خوشی ہوتی ہے! ہزاروں پھول پھل، بوٹیاں۔ نباتات۔ جمادات ہیں۔ اگر اُن کے مزے اور اصلی تاثیریں معلوم کر کے تمہیں خوشی حاصل ہوتی ہو گی تو لفظوں کی اصلیت دریافت کر کے بھی ضرور خوشی ہو گی۔ جن الفاظ کی توضیح میں نے بیان کی۔ انہیں سن کر کس کے دل کو فرحت نہیں ہوئی۔ البتہ بد مزہ۔ بے مغزے کہ الفاظ کو فقط مُنہ کی بھاپ یا پیٹ کا سانس سمجھتے ہیں۔ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ ہونٹ سے لفظ نکلے ہوا ہو گئے۔ اُن کے نزدیک کچھ بات ہی نہیں۔

الفاظ ظاہر میں ہوائی جنبشیں ہیں۔ لیکن حقیقت میں مستقل چیزیں ہیں۔ تم ضرور پوچھو گے کہ الفاظ مستقل چیزیں کیونکر ہو سکتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی چیز مثلاً چاکو یا قلم درکار ہوتا ہے۔ اگر ایک لڑکے سے بھی کہتے ہو تو فوراً اُٹھا لاتا ہے۔ دور ہو یا پاس۔ حالانکہ تم نے فقط لفظ کہا تھا چاکو یا قلم کی تصویر بنا کر نہیں دی۔ دیکھو لفظ نے اُس کے دل پر اصل شے کا کام دیا۔

تم لفظوں میں فقط اتنا ہی نہ سمجھو کہ برائے نام خاص خاص چیزوں پر اشارے کرتے ہیں۔ غور کرو گے تو پاؤ گے کہ وہ بھی اور چیزوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں۔ ترقی و تنزل کرتے ہیں۔ سفر کرتے ہیں اور اس میں طبیعت اور رنگ بدلتے ہیں۔ اور مر بھی جاتے ہیں۔ ان کے حالوں۔ چالوں اور انقلابوں کو دیکھو گے تو معلوم ہو گا۔ کہ جس طرح قوموں کی تاریخیں اپنے حالات و مقالات سے کملائے ہوئے دلوں کو شگفتہ کرتی ہیں۔ لفظوں کی تاریخیں اپنے لطف و خوبی کے ساتھ اُس سے زیادہ دماغوں کو شاداب کرتی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا فائدہ ہو گا کہ لفظوں ہی کے مقابلہ اور مطابقت میں قوموں۔ نسلوں اور اُن کے خاندانی رشتوں کے سر رشتے نکل آئے۔

الفاظ کے تغیر طبیعت اور اُن کے رنگ بدلنے پر تمہیں ضرور کھٹکا گزرے گا۔ کہ اسما حقیقت میں اشیا کے نام ہیں۔ جب چیزیں نہیں بدلیں اور نام اُن کے بدل گئے تو الفاظ اور معانی میں عجب خلط ملط پیدا ہو گا۔ میرے دوستو! یہ تغیر ضرور ہوتے ہیں۔ اور وہ قباحت نہیں پیدا ہوتی۔ جس کا تمہیں خطر ہے۔ دیکھو؟

جیب۔ عرب میں اول سینہ کو اور دل کو بھی کہتے تھے۔ پھر گریبان کو کہنے لگے کہ سینہ پر ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ جَوب بمعنی قطع ہے۔ گریبان کترا ہوا ہوتا ہے۔ اس لئے اُس کا نام جیب رکھا۔ عرب کے لوگ جُبہ یا کُرتہ کے گریبان میں ایک تھیلی ٹانک کر اُس میں چیز رکھ لیا کرتے تھے۔ مُدت کے بعد اُسی کا نام جیب ہو گیا۔

فارس میں وہ تھیلی گریبان سے ڈھلک کر کمر کے نیچے آ گئے۔ اور نام وہی جیب رہا۔ تماشا یہ کہ اب گھڑی کے شوقینوں نے چھاتی کے بائیں طرف جگہ دی۔ اور کوٹ پتلون والوں نے کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔ پھر بھی وہی جیب ہے۔ اور عرب میں جیب وہی گریبان ہے۔

جب عرب میں علم ریاضی کا چرچا اور علم مثلث کا یونانی سے ترجمہ ہوا تو جو خط کسی قوس یا اُس کے زاویہ کا اندازہ بتائے اُسے جیب کہنے لگے۔ کیونکہ وہ بھی قوس کے لئے ایسا ہے جیسے سینہ کے لئے گریبان۔

شمع عرب میں موم کو کہتے ہیں۔ پھر موم کی شمعیں بننے لگیں۔ ان کا نام بھی شمع ہی رہا۔ فارس میں آ کر چربی کے قالب میں ڈھلیں۔ یہاں شمع عام ہو گئی۔ موم کی بتی ہو خواہ چربی کی۔ عرب میں شمع وہی موم ہے۔

اسباب عربی میں جمع سبب کی ہے۔ فارسی میں اسباب خانہ داری کو کہتے ہیں۔

شراب عرب میں پینے کو اور اُس چیز کو کہتے ہیں جو پینے میں آئے۔ فارس میں مرادف بادہ ہو گیا۔

(۱) بعض الفاظ سفر کر کے آتے ہیں۔ اور ملک غیر میں بے عزت ہو جاتے ہیں۔ [6]

غلام۔ عرب میں نو خط لڑکے کو کہتے ہیں۔ فارس میں لونڈی کا نر غلام۔

مہتر فارسی میں سردار کو کہتے ہیں۔ ہندوستان میں چوڑھا ہو گیا۔

خلیفہ کا رتبہ عرب میں نائب پیغمبر اور خلیفہ الٰہی تک پہنچا ہوا ہے۔ ہندوستان میں نائی کو کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں لفظ ایجاد نہیں ہوتے۔ نئے خیالات کے ادا کرنے میں پرانے الفاظ مدد کرتے ہیں۔ مثلاً:

نفط رال کا مرادف ہے۔ اب مٹی کے تیل کو بھی کہتے ہیں۔

مداد پہلے سیاہی کو کہتے تھے۔ اب پنسل کو بھی کہتے ہیں۔ پہلے قلم سرمہ اور کلک فرنگی کہتے تھے یہ لفظ مر گئے۔

بوقلموں۔ چند سال سے فیل مرغ (پیرو) وہاں پہنچا ہے۔ اسے بوقلموں کہتے ہیں۔

(۲) کبھی دو لفظ مرکب کر لیتے ہیں۔ مثلاً: –

سیب زمینی آلو کو کہتے ہیں۔ یہ بعینہ ترجمہ ہے پو ٹے ٹو کا۔ پس معلوم ہوا کہ فرانس کے رستہ سے پہنچا ہے۔

آبجوش سوڈا واٹر کو کہتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ہزاروں لفظ پیدا ہو گئے ہیں۔

(۳) کبھی مشتق کر لیتے ہیں۔ وہاں بھی اب برف کوزوں میں جماتے ہیں۔ اُسے بستنی کہتے ہیں۔

(۴) کبھی جو شے آتی ہے اپنا نام ساتھ لاتی ہے۔ تلگراف ایران میں تار کے پیغام کو کہتے ہیں۔ اس میں تصرف کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہشت روز است خط نوشتہ بودم۔ جواب نیامد۔ ناچار امروز تیل زدہ ام (آج میں نے تار دیا ہے)۔

منات نوٹ کو کہتے ہیں۔ روسی لفظ ہے۔

پرتغال۔ ایک قسم کا رنگترہ ہوتا ہے۔ اس کا پودا پرتگال سے آیا تھا۔ وہی نام ہو گیا۔

کالسکہ بگی کو کہتے ہیں۔ یہ بھی روسی لفظ ہے۔ ایسے سینکڑوں لفظ ایران میں زباں زدِ خاص و عام ہیں۔ اور اکثر چیزوں کے نام بدل گئے ہیں۔ پہلے ناموں کو سمجھو کہ مر گئے۔

چاپ چھاپے کا کام ہندوستان سے گیا۔ اسی واسطے یہ نام پایا۔

(۵) علمی الفاظ اور علمی اصطلاحیں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اکثر زندہ رہتی ہیں اور کاروائی کرتی ہیں۔ علم ہمیشہ ترقی کرتا ہے۔ اور اصلاح پاتا ہے۔ اس لئے بعض الفاظ جلد مر جاتے ہیں۔ نئے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آج سے ۳۰ برس پہلے کی ریاضی یا جغرافیہ کی کتاب اُردو زبان میں دیکھو تو یہ تعجب جاتا رہے گا۔

(۶) خوش ایجاد نام بھی اکثر کم عمر اور ناپائدار ہوتے ہیں۔

محمود غزنوی جب ہندوستان میں آیا اور آم کھایا۔ تو بہت بھایا۔ مگر نام سُن کر ہنسا اور کہا۔ سخت ستم ہے کہ ایسا لطیف میوہ اور نام میں یہ فحش! اسے نغزک کہنا چاہیے کہ اسم با مسمیٰ ہو چنانچہ بعض فارسی کی کتابوں میں نغزک بعض میں انبہ لکھتے ہیں۔ امیر خسرو نے قران السعدین میں ہندوستان کے میووں کی تعریف کرتے کرتے آم کے باب میں بھی چند اشعار لکھے ہیں:

نغزکِ خوش مغز کنِ بوستاں

خوب تریں میوہ ہندوستاں ​

نعمت خان عالی نے اپنے دوست حسن خاں کو آموں کی رسید لکھی۔ اس کی نظم میں ایک شعر ہے کہ نہیں بھولتا:

انبہ فرستاد حسن خاں گمن

انبتہ اللہ نباتاً حَسَن​

اکبر نے صدہا چیزوں کو ناموں کے خلعت دئے۔ کوئی باقی ہے کوئی پُرانا ہو کر پھٹ گیا۔ ایک دن اصطبل خاصہ میں گھوڑوں کے دیکھنے کو آیا۔ ہلاک خور ٹوکرے بھر بھر کر کثافتیں اُٹھا رہے تھے۔ فرمایا کہ بڑی محنت کی روٹی کھاتے ہیں۔ انہیں حلال خور کہنا چاہیے۔ آج تک وہی نام چلا آتا ہے۔

ہار کو کہا کہ سنگار کی چیز۔ اور مبارک چیز پر ہار کا نام آنا بد شگونی ہے۔ اسے پھُل مال کہا کر۔ یہ سرسبز نہ ہوا۔

اسی خیال سے گھوڑے کی اندھیری کا اُجیاری نام رکھا۔ یہ پیش نہ گئی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے اب ہم اندھیری کہتے ہیں اس وقت اسے بھی اندھیاری کہتے تھے۔

جہانگیر نے شراب کا نام رام رنگی رکھا۔ مگر رنگ نہ جما۔

جمعرات کا نام مبارک شنبہ رکھا کہ جو خوشی ہمیں ہوتی ہے اکثر اسی دن ہوتی ہے۔ پیر کا نام گم شنبہ رکھا۔ لکھتا ہے کہ مجھے جو غم یا فکر ہوتا ہے اسی دن ہوتا ہے۔ اس کا نام ایام ہفتہ سے گُم ہونا چاہیے۔

محمد شاہ نے بلبل ہندوستان کا نام گلدم رکھا تھا۔ اب تک اسی طرح چلا آتا ہے۔

वायु

کو پہلے سنگترہ کہتے تھے۔ محمد شاہ نے کہا کہ اس لطیف میوہ کو پتھر مارنا سخت ستم ہے۔ رنگترہ کہا کرو کہ خوش رنگ بھی ہے۔ تر و تازہ بھی ہے۔

شاہ عالم نے کو گلسرہ کہا مگر شہرت نے نامنظور کیا۔

کنجر اور کنجری ہندی میں زنِ رقاصہ کو کہتے تھے۔ اکبر نے ایک دن خوش ہو کر کہا کہ انہیں کنچنی کہا کرو۔

نواب سعادت علی خاں نے ملائی کا نام بالائی رکھا۔ اہل لکھنؤ اب بھی بالائی کہتے ہیں۔ اور شہروں میں شہرت نہ ہوئی۔

عزیزانِ وطن! تم ضرور کہتے ہو گے کہ زبان کی عمر کیا؟ اور اُس کی تاریخ کیا؟ یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔ عالم میں بہت سے ملک۔ بیشمار اہل ملک اور ہزاروں قومیں ہیں۔ اسی طرح زبانوں کا بھی عالم گروہ در گروہ سمجھو۔ کہ تھا۔ اور ہے۔ اور ہوتا رہے گا۔ جس طرح قومیں بڑھیں۔ چڑھیں۔ ڈھلیں اور فنا ہو گئیں اور ہوں گی۔ اسی طرح زبانوں کا عالم ہے۔ کہ اپنے الفاظ کے ساتھ آباد ہے وہ اور اُس کے الفاظ پیدا ہوتے ہیں۔ ملک سے ملک میں سفر کرتے ہیں۔ حروف و حرکات اور معانی کے تخیر سے وضع بدلتے ہیں۔ بڑھتے ہیں۔ چڑھتے ہیں۔ ڈھلتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔

تغیرات مذکورہ اکثر تغیر سلطنت کے صدمہ سے ہوتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کم ہوتے ہیں۔ پھر بھی ضرور ہوتے ہیں۔ کیونکہ عادت الٰہی اسی رستہ پر جاری ہے اور رہے گی۔ اور میں عنقریب اُس کی کیفیت دکھاؤں گا۔

امن و عافیت کے زمانہ میں بھی تغیر کی دستکاری الفاظ و عبارت پر اپنا کام کئے جاتی ہے۔ ان میں آفرینش۔ ترقی اور فنا کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور بہت چپکے چپکے چلتا ہے۔ لیکن اُسی طاقت اور اُسی انداز سے۔ جیسے دریا کا بہاؤ یا ہوا کا رُخ۔ جس کا پھیر کسی کے اختیار میں نہیں۔ قوم اپنے گھر میں قائم اور ملک برقرار ہوتا ہے۔ پھر بھی تغیر مذکور اپنا کام کئے جاتا ہے۔ نثر میں شیخ بو علی سینا کی حکمت فارسیہ وغیرہ۔ نظم میں دیوان شاہ ناصر خسرو۔ شاہنامہ وغیرہ۔ دیکھو لو۔ صدہا لفظ ہیں۔ کہ اب بولنے میں نہیں آتے۔ صدہا ہیں۔ کہ فرہنگوں میں دیکھے بغیر معنی نہیں معلوم ہوتے۔ صدہا ہیں کہ فرہنگوں میں بھی نہیں ملتے۔ اسی کر مرنا کہتے ہیں۔

جب ایک زبان کی تصانیف مغتلفہ کو عہد بعہد اور سال بسال برابر سجاتے ہیں۔ اور تغیرات مذکورہ پر نظر کرتے ہیں تو زبان کا عالم ایک سرزمین معلوم ہوتی ہے۔ کہ فصل بہ فصل پُرانے نباتات جل کر خاک ہوتے جاتے ہیں اور نئے اُگ کر اُن کی جگہ کو ہرا کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ فلسفی زبان خواہ زمین کی طبیعت سے خواہ انسان کی ضروریات اور کاروائی پر نظر کر کے فقط تغیرات زبان کی تاریخ ہی نہیں جان لیتا۔ بلکہ جس طرح ایک تجربہ کار مؤرخ یا سلطنت کا مدبر سابق اور موجودہ حالت کو دیکھ کر آئندہ کے واقعات پر پیش بینی کرتا ہے۔ یہ زبان موجودہ کے حالات پر حکم لگاتا ہے اور بتاتا ہے کہ آئندہ کس طرح اور کس انداز میں بڑھے گی۔ یا دب جائے گی۔ چنانچہ فارسی پر ایک زمانہ میں عرب کی چڑھائی تھی۔ اب ممالک یورپ کا زور نظر آتا ہے۔

الفاظ جو سفر و سیاحت کر کے ملک غیر سے آتے ہیں۔ اور زبان میں گھر بناتے ہیں وہ اکثر تجارت کی وکالت یا قوموں کے ارتباط سے راہ پاتے ہیں۔ زبانوں میں عام دستور یہ ہے کہ بعض لباس۔ بعض کھانے۔ بعض اجناس۔ بعض علمی مطالب اور اُن کے سامان ملک غیر سے آئے۔ وہ یا تو اپنے نام ساتھ لائے یا یہاں آ کر یہیں کی زبان سے نام پائے۔ فارس میں عرب کا تسلط ہوا۔ اور ملک۔ مملکت۔ مذہب۔ سکونت سب کو روک لیا۔ کہ یہی رستے زبان کے استقلال یا انقلاب کے تھے۔ اہل ملک بہت تو مسلمان ہو گئے۔ بہت سے آوارہ ہو گئے۔ اور جو بھاگنے کے قابل ہی نہ تھے۔ وہ گمنامی کے غاروں اور پہاڑوں میں بیٹھ رہے۔ زبان قومی کی حفاظت کون کرتا؟ علوم۔ فنون۔ کتابیں اور علمی سامان جو یونان سے پہلو مارتے تھے۔ اس طرح فنا ہوئے کہ نام و نشان تک نیست و نابود ہو گئے۔ پھر جو علم۔ ادب اور شائستگی نے رونق پھیلائی۔ وہ علما اور شرفائے عرب سے پھیلی۔ یا اُن نو مسلموں سے جنہوں نے عربیت اور اسلام کا جامہ پہن لیا تھا اور اُسی کر فخر سمجھتے تھے۔ اقبال سلطنت ایک ایسی برکت ہے۔ کہ جس قوم کے ماتھے کو لگ جاتا ہے۔ اُس کے ہر چیز بلکہ بات بات دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے ہزاروں فارسی کے لفظ گم ہو کر فنا ہو گئے۔ ہزاروں رہے۔ مگر بے رغبتی کے سبب بے رواج ہو کر متروک ہو گئے۔

بہت سے نئے الفاظ ہیں کہ سلاطین چغتائی کے عہد میں اشیائے مختلف کے لئے ہندوستان کے اہل انشا یا دربار کے اراکین نے پیدا کئے۔ یہاں کی معتبر تاریخوں میں مسلسل ہیں۔ اور اُن شعرا کے کلاموں میں منظوم ہیں۔ جو کہ ہندوستان میں تھے یا آئے اور رہ کر چلے گئے۔

رسد۔ جن معنوں میں بولتے ہیں ایران میں کہو تو کوئی نہ سمجھے گا۔ وہاں سورسات کہتے ہیں۔

منشی۔ ایران میں کسی کو کہیں تو اُس کے لفظی معنی (یعنی انشا پرداز) سمجھے جائیں گے اور بس۔ جسے یہاں منشی کہتے ہیں۔ وہاں اُسے میرزا کہتے ہیں۔

تمسک۔ ہندوستان میں جن معنوں میں متعارف ہے ایران میں کہیں تو کوئی نہ سمجھے گا۔

رسید۔ یہاں قبض الوصول کو کہتے ہیں۔ ایران میں کہیں تو کوئی نہیں سمجھتا۔

گاؤ تکیہ۔ ہندوستانی فارسی ہے ایران میں متکا کہتے ہیں۔

روشنائی۔ لکھنے کی سیاہی کو کہیں تو کوئی ایرانی نہیں سمجھتا۔ وہ مرکب کہتے ہیں۔

دست پناہ۔ ہندوستانی فارسی ہے۔ وہاں آتشگیر کہتے ہیں۔

مالیدہ یا ملیدہ۔ ہندوستان میں کہتے ہیں۔ وہاں کوئی نہیں سمجھتا۔ وہ چنگنالی کہتے ہیں۔

اسی طرح عطر دان۔ پاندان وغیرہ وغیرہ۔ ہزاروں لفظ ہیں کہاں تک لکھوں۔

اکثر الفاظ ہیں کہ عربی۔ فارسی یا ہندی میں اپنے اپنے معنوں میں مستعمل تھے اور ہیں۔ ہماری آنکھوں کے دیکھتے دیکھتے انقلابِ زمانہ نے نئے خیالات پیدا کئے اور وہی الفاظ جُون بدل کر نئے معنوں کے لئے نامزد ہوئے۔

تہذیب کے معنی لغت میں ہیں پاک کردن۔ اصلاح کردن۔ اب سولزیشن کے معانی کی ہیئت مجموعی جو کُچھ ہے تمہارے ذہن میں ہے۔ اور یہ خیال بھی انگریزی سے ہماری زبان میں آیا ہے۔ تم خود غور کر کے دیکھو! جن جن معنوں کی رعایت سے آج لفظ تہذیب بولا جاتا ہے۔ اور اس میں کوٹ پتلون اور پھُندنے دار ٹوپی بھی شامل ہے۔ وہ حقیقی معنوں سے کس قدر علیٰحدہ ہیں۔ یہ خیال اور یہ لفظ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے پیدا ہوئے ہیں۔ اور یہی حالت ہے شائستگی کی۔

تعلیم یافتہ کے لفظی معنی تم جانتے ہو۔ انگریزی میں جسے ایجوکیٹڈ کہتے ہیں۔ اب ہم اسے تعلیم یافتہ کہتے ہیں۔ لیکن اس میں کئی صفتیں اور مقصود ہو گئی ہیں۔ جن میں شرافت کی بربادی اور کوٹ پتلون کی فرضیت لازم کی گئی ہے۔ جو تعلیم یافتہ کے اصلی معنوں سے بالکل الگ ہیں۔ یہ خیال انگریزی سے آیا اور حال ہی میں یہ لفظ بھی اس کے لئے نامزد ہوا۔

بلند نظری کے لفظی معنی ظاہر ہیں۔ لیکن حال کی تحریروں اور انگریزی ترجموں میں بلند نظر ایسے عالی دماغ۔ ہمت والے شخص کو کہتے ہیں کہ کوئی بلند رتبہ اور عمدہ حالت اس کی خاطر میں نہ آئے۔ ہمیشہ ترقی کا طالب رہے اور اس کی تحصیل میں کسی خطرناک تدبیر سے اندیشہ نہ کرے۔ یہ لفظ بھی تیس چالیس برس سے پیدا ہوا ہے۔

عزت طلب۔ میں یہ لفظ عالم طفولیت میں اکثر شرفا کے باب میں سُنا کرتا تھا۔ جو شخص کہ سامان۔ لباس۔ اخلاق۔ اطوار۔ عادات اور معاشرت احباب میں ہمیشہ ایسی حالت کے ساتھ رہے جس سے حکام اور خاص و عام اُس کے ساتھ بہ عزت پیش آئیں۔ اُسے تعریف کے ساتھ کہتے تھے کہ فلاں شخص عزت طلب آدمی ہے۔ لفظ مذکور تحریر میں داخل نہ تھا۔ اب مدت سے متروک ہے۔ ہم سے کچھ پہلے پیدا ہوا۔ اور ہمارے سامنے مر گیا۔

وضعدار بھی ایسے ہی شخص کو کہتے تھے۔ اور تہذیب انگریزی سے پہلے یہ الفاظ شرفا کے لئے تعریف میں داخل تھے کہ پابندی وضع لازمہ شرافت تھی۔ دلی میں اب بھی وضعداری سے بانکپن اور حسن مراد لیتے ہیں۔

اخبار۔ جس صورت سے اب جاری ہیں پہلے یہ صورت ہی نہ تھی۔ اسی واسطے اس کے لئے نام بھی نہ تھا۔ یہ لفظ۔ ان معنوں کے ساتھ ہندوستان میں اب پیدا ہوا ورنہ ظاہر ہے کہ اخبار جمع خبر کی ہے اور بس۔ اہل ایران نے اس کے لئے روز نامہ یا خبر نامہ پیدا کیا۔ اور یہ مناسب تر ہے۔

صاحب لوگ۔ عرب میں صاحب بمعنی ہم صحبت ہے۔ پھر اور لفظوں کے ساتھ مل کر فاعلیت کے معنی پیدا کرنے لگا۔ مثلاً صاحب الصولۃ۔ و الملک و الدولۃ۔ فارس میں آ کر صاحبِ ملک۔ صاحب دولت۔ صاحب مال رہا۔ ہندستان میں آ کر لفظ تعظیمی ہوا۔ میر صاحب۔ مرزا صاحب۔ نواب صاحب۔ اسی نوے برس سے صاحبانِ انگریز کے نام کا جُز ہو گیا۔ پھر جو کمینہ سے کمینہ کرسٹان ہو۔ وہی صاحب لوگ ہو گیا۔

کوٹھی۔ ہندوستان میں صاحب لوگ لباس تجارت میں آئے تھے۔ چونکہ تاجروں کا رہنا سہنا۔ ملنا جُلنا۔ لین دین تاجروں ہی سے ہوتا تھا۔ اول اول معاملات بھی بنگالہ کے تاجروں اور مہاجنوں ہی سے ہوتے ہوں گے۔ عالمِ مسافرت میں انہیں نوکر چاکر درکار ہوئے ہوں گے۔ وہ بھی انہیں سے لئے ہوں گے۔ عالیشان مہاجنوں اور سوداگروں کی دُکانوں کو کوٹھی کہتے ہیں۔ چونکہ صاحب لوگ لباس تجارت میں تھے۔ جب کسی سے ملتے جلتے ہوں گے کوٹھی پر جا کر ملتے ہوں گے۔ وہ پوچھتے ہوں گے۔ آپ کی کوٹھی کہاں ہے۔ یہ پتا بتا دیتے ہوں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ کوٹھی گھر کو کہتے ہیں۔ کیونکہ مسافر تھے۔ ان کی دُکان اور کوٹھی ایک ہی تھی۔ ان کے نوکر بھی کوٹھی ہی کہتے ہوں گے۔ کام کے موقع پر آپ کہتے ہوں گے۔ یہ چیز ہماری کوٹھی پر لے آؤ۔ اور لوگ کہتے ہوں گے جاؤ۔ یہ چیز صاحب کی کوٹھی پر دے آؤ۔ مدت کے بعد تجارت کا پردہ اُٹھا دیا۔ وہی گھر دار الحکومت ہو گئے۔ جب سے کوٹھی کا نام جو محاورہ میں آ گیا تھا۔ وہی رہا اور یہ نیک نیتی کا پھل ہے۔

چھٹی۔ بنگالہ کے ہندو مسلمان خط کو چٹھی کہتے ہیں۔ ابتدا میں جب کوئی صاحب لوگوں کو کچھ لکھتا ہو گا۔ نوکر آ کر کہتا ہو گا۔ صاحب یہ چٹھی آئی ہے۔ یہ بھیجتے ہوں گے تو کہتے ہوں گے۔ یہ چٹھی فلانے مہاجن کو دے آؤ۔ اُن سے باتیں کرتے ہوں گے۔ تو بھی چٹھی ہی کا لفظ محاورہ میں آتا ہو گا۔ صاحب لوگ اُردو اور ہندی کے محاورے سے واقف نہ تھے۔ چٹھی ہی کہتے رہے۔ آگے کے شہروں میں بڑھے۔ پھر بھی جو لفظ محاورہ میں آ گیا تھا۔ اُسی طرح رہا۔ یہاں تک کہ اب انگریزوں کے خطوط اور ہر انگریزی خط کو چٹھی کہتے ہیں۔

بڑا دن۔ دسمبر کی ۲۵ تاریخ کو بڑا دن کہتے ہیں۔ حالانکہ برس کا سب سے بڑا دن یہ نہیں۔ البتہ ۲۵ سے دن بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ لیکن محاورہ میں یہی نام ہو گیا۔ جب کہتے ہیں۔ سب سمجھ جاتے ہیں۔ ایسے ایسے ہزاروں لفظ ہیں کہاں تک لکھوں۔

 

زبان کا جینا اور مرنا

 

زبان اپنے کمال جوانی اور زور زندگانی پر شمار کی جاتی ہے۔ جبکہ اُس کے ذخیرہ میں ہر علم۔ ہر فن کی تصنیفات ہوں۔ اور ہر قسم کے حالات و مطالب کے ادا کرنے کے واسطے الفاظ و محاورات کے سامان حاضر ہوں۔ اس کا مضائقہ نہیں کہ الفاظ مذکور و خاص اسی کے ملک کی آفرینش ہوں خواہ غیر ملکوں سے آئے ہوں۔ زبان کا استقلال اور آئندہ کی زندگی چار ستونوں کے استقلال پر منحصر ہے۔ (۱) قوم کا ملکی استقلال۔ (۲) سلطنت کا اقبال (۳) اُس کا مذہب (۴) تعلیم و تہذیب۔

اگر یہ چاروں پاسبان پورے زوروں سے قائم ہیں۔ تو زبان بھی زور پکڑتی جائے گی۔ ایک یا زیادہ جتنے کمزور ہوں گے اُتنی ہی زبان ضعیف ہوتی جائے گی۔ یہاں تک کہ مر جائے گی۔ مرنا اُس کا یہی کہ خواص و عوام کی زبانیں اس کے بولنے سے اور قلم اُس کے لکھنے سے مُنہ پھیر لیں۔ یعنی نہ کہیں بولی جائے۔ نہ اس میں تصنیف و تالیف کا رواج رہے۔

زبان کا انقلاب کُلی اکثر انقلاب تاریخی سے ہوتا ہے۔ وہ طوفان اُسے چاروں طرف سے تہ و بالا کر دیتا ہے اور اسی میں اکثر زبانیں فنا ہو جاتی ہیں۔ میں اس موقع پر یونان اور روما کی زبانوں کے مرنے کا ذکر نہ کروں گا۔ کیونکہ میں اور میرے ہموطن اُن کے حال سے بے خبر ہیں۔ اُنہی چند زبانوں کا حال سُناتا ہوں۔ جنہیں سب جانتے ہیں۔

 

سنسکرت کی زندگی

 

(۱) قوم گھر میں قائم ہے اور یہ شکر کا مقام ہے۔

(۲) سلطنت کے اقبال کے ساتھ زبان کا اقبال رخصت ہوا۔ زبان کو کون سنبھالے۔ دیکھ لو تصنیف و تالیف اور زبان کی ترقی بند ہے۔

(۳) مذہب فقط گھروں میں قائم ہے۔ زبان کو زور دیتا ہے مگر بہت کم۔

(۴) قدیمی تعلیم۔ قومی تہذیب اور علوم و فنون بھی نہ رہے۔ پہلے صرف ضرورت اے وقت کے سبب سے مسلمانوں کی تعلیم و تہذیب پسند کرنی پڑی تھی۔ اب انگریزی ہے۔ دو نئے رنگوں نے (سلطنتِ مغلیہ و انگلشیہ) پُرانے رنگ کو مدھم کر دیا ہے۔ ان سب باتوں پر نظر کر کے دیکھ لو زبان سنسکرت کا کیا حال ہے۔

 

فارس کی قدیمی زبان

 

(۱) قوم آوارہ وطن ہو کر بدحال ہو گئی۔

(۲) سلطنت نے اُسے چھوڑ دیا (مصلحت وقت نے رائج الوقت فارسی اس کے مُنہ میں رکھ دی)۔

(۳) مذہب فقط اتنا زبان کو سنبھالے رہا۔ کہ مرنے جینے اور ریت رسوم کے کام میں آتی ہے۔ وہ بھی ان پڑھ لوگ بے سمجھے الفاظ میں کُچھ کا کچھ کہہ لیتے ہیں۔ سمجھتے اصلا نہیں۔

(۴) تعلیم اور تہذیب اور علوم قدیمہ سب مٹ گئے۔ اب زبان مذکور کی حالت کو دیکھ لو کہ کیا ہے۔ ژند۔ پاژند۔ پہلوی کو کوئی جانتا بھی نہیں۔

 

سنسکرت اور فارسی زبان کی فیلالوجیا

 

عزیزانِ وطن! فارسی اور سنسکرت کی قرابت قدیم کا سلسلہ آج گروہ گروہ مخلوقاتِ الفاظ کو اپنے کے سامنے حاضر کرتا ہے جن کے قیافے اور شکل و شباہت اُن کے اتحاد نسل پر شہادت دیں گے۔ پہلے اتنی بات اور بھی سُن لو کہ یورپ میں فلسفہ زبان کے ماہروں نے بہت سی زبانوں کو پڑھا اور ہر زبان میں حرفوں کی ترکیب۔ لفظوں کے جوڑ بند اور عبارتوں کے انداز پر خیال کر کے کل زبانوں کو تین حلقوں میں انتظام دیا ہے۔ ہر حلقہ میں کئی کئی شاخیں لگائیں۔ نکتہ اس میں یہ ہے۔ کہ جو ایک نسل کی زبانیں ہیں۔ اُن کے الفاظ کی نسل ایک ہی حلقہ میں ملے گی۔ دوسرے حلقہ میں نہ جائے گی۔ اس تقسیم نے بڑی آسانی کر دی۔ کہ الفاظ کے سراغ لگانے والے کو اپنی سوئی جنگل جنگل میں ڈھونڈنی نہ پڑی۔ اور ظاہر ہے کہ جنگل کی نسبت کسی چیز کو ایک محلہ میں ڈھونڈنا اتنا دشوار نہیں۔

تینوں حلقوں کی تفصیل یہ ہے: –

(۱) ایرین۔ اس کی شاخیں ہندوستانی۔ ایرانی۔ یونانی۔ لاطینی۔ فرنچ۔ جرمن روسی وغیرہ وغیرہ۔

(۲) شیمیٹک۔ اس کی شاخیں۔ عربی۔ عبرانی۔ کلدانی وغیرہ وغیرہ۔

(۳) تیورنین۔ اس کی شاخیں متفرقات۔ جن میں بہت سی بے قاعدہ اور بے علم زبانیں شامل ہیں۔ مثلاً تاتار۔ سیام۔ برما۔ کمبجا پیگو وغیرہ کی زبانیں۔

اب غرض اصلی پر آتا ہوں اور اسے دو فصلوں میں تقسیم کرتا ہوں: –

(۱) جب دو زبانیں ہمارے سامنے پیش ہوں تو اُن کی نسل اور خاندانوں کی اصل پہچاننے کے کیا اصول ہیں۔ یعنی ہم اُن کے رنگ و روپ اور خط و خال کو کس نظر سے دیکھیں۔ جس سے پہچان لیں کہ دونوں کی اصل نسل ایک ہے یا نہیں ہے۔ اور سنسکرت اور فارسی بہنیں ان قیافوں سے ایک گھرانے کی اولاد معلوم ہوتی ہیں یا نہیں۔

(۲) ان دونوں کے الفاظ جو مشابہ ہیں۔ ان میں تغیر و تبدل کن اصول کے بموجب ہوئے ہیں۔

 

آغازِ مقصد

 

عزیزانِ وطن! گزشتہ لیکچر میں سُن چُکے ہو کہ جب ایک ملک کی اجناس و اشیا دوسرے ملک میں آتی ہیں۔ تو اپنے نام ساتھ لاتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ کہ رستہ میں سے نئے نام لیتی آتی ہیں۔ کبھی یہاں آ کر نیا نام پاتی ہیں۔ اس طرح ہر ملک میں اکثر اشیا کے لئے الگ الگ نام ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر چیزیں لازمی اور ناگزیر ہوتی ہیں۔ جن کے برتنے اور نام لینے سے کسی وقت بلکہ ابتدائے آفرینش اور شروع انسانیت میں بھی کسی کو چارہ نہ تھا۔ ہاں جبکہ جماعت مذکور کی جمیعت پھیلی ہو گی۔ تو جہاں جہاں لوگ پھیل گئے ہوں گے۔ اشیائے مذکورہ کو اپنے ناموں سمیت ساتھ لے گئے ہوں گے۔ پس جن دو زبانوں میں ایسی چیزوں یا کاموں کے نام بعینہ یا کُچھ تغیر کے ساتھ ایک ہوں۔ تو جان لو کہ یہ دونوں قومیں ضرور کسی وقت ایک گھرانے اور ایک گھر کی رہنے والی تھیں۔ اور اسی سُراغ پر چلو گے تو اور بہت سے لفظ نکل آئیں گے۔ جن سے امر مذکور کی تصدیق ہو گی۔ یہ سراغ کئی شاخوں میں چل کر منزل آگاہی پر پہنچتے ہیں۔

(۱) نہایت قریبی رشتہ داروں کے نام ہیں جن سے کوئی گھر بلکہ اولاد آدم کی نسل خالی نہیں رہ سکتی۔ اگر دو زبانوں میں یہ ایک ہی ہیں۔ تو جان لو کہ بولنے والوں کی اصل بھی ایک ہی تھی۔

نام اقربا       فارسی        سنسکرت

باپ          پدر۔ باب      पितृ (پتری)

ماں           مادر۔ مام       मातृ (ماتری)

بھائی          برادر          भ्रातृ (بھراتری )

بہن          خواہر          श्वसृ (سُوسری )

بیٹا           پور           पुतृ (پُتر)

بیٹی           دختر          दुहितृ (دُہتری)

داماد          داماد          जामाता (جاماتا)

سُسر          خُسر[7]          श्वस्र (سُؤسر)

(۲) اعضائے بدن بھی انسان سے کبھی جُدا نہیں ہوتے۔ جن دو زبانوں کے اتحادِ اصل کی بابت تحقیق مدِ نظر ہو۔ ان میں اعضا کے ناموں کو دیکھو۔ اگر دونوں زبانوں میں ایک ہی نام ہے تو جانو کہ دونوں کے بزرگ ضرور کسی وقت میں ایک جگہ رہتے تھے۔

فارسی  سنسکرت            فارسی  سنسکرت

سر    शिर् (شِر)             زبان   जिव्हा (جوہا)

تارُک  तालुक (تالُک)         گُلُو     गव(گل۔ گوگو)

چشم    चक्शु(چکشو)           گرے۔ گردن   ग्रीवा (گریوا)

ابرُو           भ्रु (ابھرو)      بازو یا باہو      बाहु (باہو)

دند            दंत (دنت)     دوش         दोशन (دوشن)

دست         हस्त (ہست[8])  سُرین         श्रोनि (شرونی)

مُشت          मुष्टिक्(مُشٹک)  زانو    जानु (جانو)

اَنگُشت        अन्गुष्टاَنگُشت   پاے   पाद (پاد)

پشت         पृष्टپریشٹ      استہ،ہستہ      अस्थि(استھی)

کِش                कुक्षि(کُکشی )(کھوکھ)     خون   शूनड़ ( شونڑ)

ناف          नाभि (نابھی)

(۳) قدرتی اشیا کہ ہر جگہ موجود ہیں اور ابتدائے آفرینش سے اخیر تک دُنیا ان سے خالی نہ ہو گی۔ ان کے ناموں کو بھی دیکھو۔ اگر وہ ایک ہیں یا قریب قریب ہیں تو جان لو کہ اس نسل کی اصل ایک تھی۔

خدا۔ سنسکرت میں स्वधाता سُودھاتا۔

زمین۔ سنسکرت میں यमा جما۔ دیکھو صفحہ ۱۶۲۔

سورج۔ فارسی میں ہور۔ سنسکرت میں सूर्यسوریہ۔ دیکھو صفحہ ۷۴،۲۰۳)

چاند۔ ماہ मास ماس۔

تارا فارسی ہے۔ وہی سنسکرت میں تارا तारा ہے۔

روز سنسکرت میں روج रोज اور روجری रोजरी روشنی ہے۔

رات فارسی میں شب ہے۔ سنسکرت میں शपा شپا ہے۔

شام سنسکرت میں شائم सायंشام کو کہتے ہیں۔

باد فارسی ہے۔ سنسکرت वातوات ہے۔ ہوا فارسی ہے۔ سنسکرت میں वायुوایو ہے۔

گرمی۔ سنسکرت میں گریشم ग्रीष्मہے یا گرکھیم۔ اور گرم گھام घामہے۔

کیا عجب ہے کہ سنسکرت میں دو معنوں کے لئے جُدا جُدا لفظ رہے۔ فارسی میں گرم سے گرمی نکال لی۔ موسم کے لئے لفظ ہو گا وہ گم ہو گیا۔

سرد۔ سنسکرت میں شردशरद یا شرت शरतہے۔ تعجب یہ ہے کہ عربی میں شتا بمعنی سرما ہے۔ شاید اس میں پہلوی کا شمول ہو۔

(۴) جو اجناس کہ انسان کے لوازمات ضروری سے ہیں اور کوئی آبادی اُنکی ضرورت سے خالی نہیں ان کے ناموں کو دیکھو۔ اگر اس قسم کی چیزوں کو دونوں زبانوں میں ایک ہی نام سے پُکارتے ہیں۔ تو جان لو کہ دونوں کے بولنے والے کسی زمانے میں ایک گھر کے رہنے والے تھے۔

آتش فارسی हुताशनہتاشن

دود فارسی धूम دھوم۔ دھواں

آب فارسی आपآپ

آہار فارسی आहारاہار۔ خوراک (دیکھو صفحہ ۸۵)

استا فارسی अशतاشت (دیکھو صفحہ ۸۵)

گراس فارسی ग्रास گراس

گندم فارسی गोधुम گودھوم

جَو فارسی यव یَو

ماش فارسی माष ماش۔ ہندوستان میں جسے مونگ کہتے ہیں۔ ایران میں ماش کہتے ہیں۔ اور ماش کو ماش سیاہ کہتے ہیں۔

برنج۔ فارسی ब्रीही بریہی۔ اور بیہی بھی کہتے ہیں۔

شالی فارسی शाली شالی

شیر فارسی क्षीर کھشیر۔ دود

ماست فارسی मस्तु مستو

کرپاس۔ فارسی करपास کرپاس۔ روئی اور سوت کو بھی کہتے ہیں۔

تار فارسی तान تان۔ دیکھو تنیدن سے مشتق ہے۔

پود فارسی ब्युतिبیوتی

گرم سوت فارسی गर्भसूत گربھ سُوت

خُم فارسی कुम्भ کُمبھ

پیالہ فارسی पीना پینا۔ پیالنا۔ چونکہ پینے سے مشتق ہے اس لئے یقین ہے کہ فارسی میں بھی کوئی مصدر اسی ماخذ کا ہو گا۔ اب مر گیا۔ اور جب بات کو یہاں تک گنجائش ہوئی تو کہہ سکتے ہیں کہ عہد قدیم میں پانی بھی فارسی میں ضرور ہو گا۔ ورنہ کیا سبب ہے ۹۰۰ برس سے زیادہ گُزرے۔ حکیم سنائی جو کبھی خراسان سے ہند میں نہیں آئے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں:

نہ دراں معدہ جز حسد زندہ

نہ دراں دیدہ قطرہ پانی​

پیمانہ۔ فارسی ہے۔ سنسکرت پرمان प्रमाण

چرم۔ فارسی ہے۔ سنسکرت چرم चरम یعنی چمڑا ہے۔

دار۔ فارسی میں درخت۔ اور اُس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جس سے چھت چھائیں۔

سنسکرت میں دار दार اور دارد दारू لکڑی کو کہتے ہیں۔ اسی سے ہے دارچینی۔

در فارسی ہے۔ سنسکرت میں دوارہ اور خانہ کو खशां کھشان کہتے ہیں۔

پوزہ۔ فارسی۔ بوز پھل کو کہتے ہیں۔

شاخ शाखाشاکھا

تعجب یہ ہے کہ درخت دیودار देवदार فارسی میں دیودار ہے۔ اور عرب نے شجر الجن ترجمہ کیا۔

دور۔ سنسکرت میں दूर ہے۔ ضدِ نزدیک۔

نزد۔ فارسی ہے۔ سنسکرت میں नींद ہے۔

دیر۔ ضد زُود۔ سنسکرت میں धीर دھیر ہے۔

راست۔ یعنی سیدھا۔ سنسکرت میں ऋजु رِجو

سفید श्वेत سبیت

سیاہ श्याम شیام

سنگم اور سنگار۔ فارسی میں فریق و ہمراہی کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں سنگم संगम ہمراہی اور رفاقت ہے۔

سنگ۔ فارسی میں پتھر کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں شان शण کہتے ہیں۔

(۵) جانوروں کے نام جن سے کسی زمانہ میں آبادی خالی نہیں ہوتی۔ انہیں بھی دیکھو۔

فارسی  سنسکرت

مرد    मरतप مرتپ

زن    जनीجنی

نر      नर نر

فارسی میں نر کے مقابلہ پر مادہ کو رکھ دیا ناری خدا جانے کیا ہو گئی۔ غالباً کچھ لفظ اسی مادہ سے ہو گا۔

کپی    بندر دیکھو صفحہ ۶۲۔

گاؤ     गो گُو

میش۔ بھیڑ      मेष میش

اسپ  अश्व اَشَو

خر     खर خر

اُشتر    उष्ट्र اُشٹر

سگ   शुनक شنک

شغال   श्रिगाल سری گال

خوک   शूक्र شوکر

موش  मूशक سوشک

مگس   मक्षिका مکھشیکا

کلاغ   काक کاک

چتوک چغوک     चटिका چُٹکا

(۶) کوئی قوم اور اس کی کوئی حالت ایسی نہیں جس میں اُسے گننے کی حاجت نہ ہوتی ہو۔ اس واسطے جن دو زبانوں کا اتحاد دریافت کرنا ہو۔ اُن کے شمار اعداد کو بھی دیکھو۔ کم سے کم ایک سے دس تک۔ اور دہا کے اور صدی اور ہزار ضرور ملتے ہوں گے۔

فارسی         سنسکرت

یک     एक    ایک

دو      द्वि     دُئی

سہ     त्रि         تری

چہار/چار चतुर      چُتر

پنچ     पंज        پنج

شتس   शष्ट्        ششٹ

ہفت  सप्त        سپت

ہشت  अष्टन     اشٹن

نُہ     नव        نَو

دہ     दश        دش

بیست  विंशति وِنشتی

سی    त्रिंशति ترنشتی

چہل   चत्वारिंशति چتو ارنشتی

پنجاد   पंजाशति پنجاشت

شصت शष्टि       ششٹی

ہفتاد   सप्तति سپتتی

ہشتاد   अष्टि      اشیتی

نود     नवति     نوتی

صد۔ [9] ست शत   شت

ہزار   सहस्त्र     سہسر

عزیزانِ وطن! ان دو زبانوں میں مدت دراز سے بے حد مسافت پڑ گئی ہے۔ مگر گنتی کو دیکھو۔ کتنی قریب ہے قرابت میں اور کیا ہوتا ہے؟ باوجود اس کے ۳ اور سہ کے عدد میں جو اختلاف ہے کانٹا سا کھٹکتا تھا۔ ایک دن برہان قاطع میں نظر پڑا کہ پہلوی میں ۳۰۰ کو تیرست کہتے ہیں۔ دل اس سراغ پر آگے بڑھا۔ معلوم ہوا کہ زبان ژند میں ۳ کو ترایو کہتے تھے۔ حرف اول اس کا ایسی آواز دیتا ہے۔ جو "تَ” "تھَ” یا "سَ” کے بیچ میں ہے۔ جیسے عربی میں "ثَ”۔ اس کا مبدّل اور مخفف ترا ہوا۔ اور سَتَ ژند میں وہی صد ہے جو سنسکرت میں شَتَ ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلوی میں ۳ کو سہ کہتے ہیں۔ اور "س” لکھتے ہیں۔ وہ بھی مخفف و مبدل ترایو کا ہے۔ کیونکہ حرف مذکور "س” کی بھی آواز دیتا ہے۔ تخت جمشید کی پُرانی کتابوں میں ایک جگہ ہے اتھنگینا یعنی اسنگینا۔ اور جس سواری کو سنسکرت میں رتھ रथ کہتے ہیں۔ ژند میں رث اور پہلوی میں رَس کہتے اور لکھتے تھے۔ پس برہان قاطع میں جو تیرست کو پہلوی لکھا ہے یہ غلطی ہے ژند لکھنا چاہیے تھا۔

اعداد فاعلی بھی دیکھو دونوں زبانوں میں کتنے مطابق ہیں: –

فارسی                       سنسکرت

یکم           प्रथम                  پرتھم

دوم          द्वितीय  دویت

سام          त्रितीय  ترتیہ

چہارم         चतुर्थ                 چترتھ

پنجم           पंजम्                  پنجم

ششم        शष्टम्          ششٹم

ہفتم          सप्तम्   سپتم

ہشتم          अष्टम्   اشٹم

نہم           नवम्                  نووم

دہم           दशम्             دشم

بستم          बिशंतम् بشنتم

سی ام         त्रिशंतम् ترشتم

چہلم          चत्वारिंशतम्       چتوارنشتم

پنجاہم         पंजांशितम्      پنجانشتم

شصتم         शष्टितम्          ششٹی تم

ہفتادم        सप्तितम्               سپتی تم

ہشتادم        अष़टीम्  اشٹیم

نووم          नवत्                  نوات

صدم          शितम्         شتم

 

جب تم دیکھتے ہو کہ اشیائے مذکورہ کے لئے دونوں زبانوں میں ایک ہی نام ہیں تو دل تصدیق کرتا ہے کہ دونوں کے صاحب زبان بھی ضرور ایک ہوں گے۔ انہی سراغوں پر چل کر لغت کی کتابوں میں داخل ہو۔ تب پُرانے لفظ قدم بقدم آگے رستہ بتائیں گے۔ اس اندھیرے میں کبھی تاریخ کا چراغ۔ کبھی جغرافیہ کی لاٹھی لے کر چلو گے تو کتب مذکورہ میں حالاتِ قدیمہ کا گورستان نظر آئے گا۔ پھر وہ خرابے آنکھوں میں پھر جائیں گے۔ جہاں معلوم ہو گا کہ دونوں قوموں کے باپ دادا ایک زمانہ میں یہیں رہتے سہتے۔ کھاتے پیتے۔ سوتے بیٹھتے تھے۔ اور اسی ایک بولی میں باتیں کر کے زندگی بسر کر گئے۔

اب میں مبادلہ کے قواعد شروع کرتا ہوں۔ لیکن اس میں چند باتوں کا خیال رکھو۔ یعنی اتحاد الفاظ کئی قسم کا ہے۔

اول اتحاد ابتدائی یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے روئے زمین پر بود و باش شروع کی ہو گی اور اولاد کا سلسلہ جاری ہوا ہو گا تو وہ سب ایک جگہ رہتے ہوں گے۔ اسی واسطے سب ایک بولی میں بات چیت کرتے ہوں گے۔ اور اسی بنیاد پر سب کی ایک زبان ہو گی۔ کچھ مدت کے بعد آبادی کی بہتات اور جگہ کی کوتاہی سے اطراف عالم میں پھیلے ہوں گے۔ مقامات کے اختلاف سے ضرورتیں بھی بدلی ہوں گی۔ حالتوں کے اختلاف نے نئی چیزیں اور نئے کام پیدا کئے ہوں گے۔ ان کے لئے کچھ نئے لفظ پیدا ہوئے ہوں گے، کچھ پہلے لفظوں میں تبدیلیاں ہوئی ہوں گی۔ رفتہ رفتہ زبانوں میں یہ اختلاف پیدا ہوا ہو گا۔ جو آج دیکھ رہے ہو۔ بہت سے الفاظ ادل بدل گئے بہت سے نئے بن گئے ہوں گے۔ صرف بعض الفاظ مشترک رہ گئے۔ اُن کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ (دیکھو صفحہ ۸۴)۔

دوم۔ اتحاد وسطی کہ ایک قوم کے لوگ وطن سے نکل کر پھیلے۔ کچھ کہیں جا بسے کچھ کہیں۔ کئی سو بلکہ کئی ہزار برس کے بعد دونوں کی زبانوں کو دیکھتے ہیں تو پہچانی نہیں جاتیں۔ پھر بھی جب الفاظ و لغات کا پرکھنے والا غور کرتا ہے۔ تو تاڑ جاتا ہے کہ ایک کان کے نگینے ہیں۔ ڈول ڈھنگ۔ رنگ سنگ بدل گئے ہیں۔ یہ ایسے جیسے ایک آریہ سے فارسی اور سنسکرت۔ انگریزی۔ فرنچ۔ یونانی۔ جرمنی وغیرہ نکلیں۔ اور اُن میں الفاظ مختلفہ ملتے جُلتے نظر آتے ہیں۔ ان سب کی اصل کو آریہ سمجھنا چاہیے۔

سوم۔ دو غیر قوموں کے اشخاص نے دنیاوی اتفاقات کے ذریعوں سے آمد و رفت پیدا کی اور آپس میں مل کر سہنے لگے۔ ایک نے دوسرے سے ضروریاتِ زندگی کی چیزیں حاصل کیں۔ ایک ملک کی چیزیں دوسری جگہ جانے لگیں۔ کاروبار۔ اوصاف۔ صنائع بدائع میں الفاظ بھی خلط ملط ہو گئے۔ تم دیکھتے نہیں! عربی نے فارسی کو کتنے الفاظ دیئے۔ پھر عربی فارسی نے ہندی کو کیا کچھ دیا؟ اور فارسی نے خود آ کر ہندی سے کیا کچھ لیا؟ پھر انگریزی نے عرب سے کتنے الفاظ و مطالب لئے۔ اب اردو کو کیا دے رہی ہے۔ اور کیا کیا اُس سے لے رہی ہے۔ عرب اور فارس کی طرف دیکھو! یورپ کی زبانیں وہاں کیا دستکاری کر رہی ہیں۔ مجھے اس مقام پر نمبر اول سے بحث نہیں۔ کیونکہ پُرانی ہڈیوں کے اُکھیڑنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ نمبر سوم سے بھی بحث نہ کروں گا۔ جو آنکھوں کے سامنے کی باتیں ہیں۔ اُن کی فہرست بنانے سے کیا حاصل۔ البتہ نمبر دوم تحقیق کا مقام ہے۔ کہ ہمارے تمہارے بزرگوں کی زبانیں ہیں۔ انہیں بڑی غور سے دیکھنا چاہیے۔ کہ سنسکرت اور فارسی کے لفظ جو اصل میں متحد ہیں۔ اُن میں تبدیلیاں کن اصول کے بموجب ہوئی ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر تمہاری زبان کو ایسا ملکہ ہو جائے گا۔ کہ جہاں اس طرح کا لفظ پاؤ گے حرفوں کو اُلٹ پلٹ کر فوراً معلوم کر لو گے کہ اصل دونوں کی ایک ہے۔

اب دیکھئے! یہ اتحادِ اصلیت ۷ رنگ میں ظاہر ہوتا ہے: –

(۱) لفظ اور معنی کسی میں تغیر نہیں آتا۔ مثلاً کُلال कुलाल فارسی میں بھی کمہار کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں بھی कलाल् ہے۔

کپی فارسی میں بھی بندر کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں بھی कपि ہے۔

شالی शाली دھان دونوں جگہ یکساں ہیں۔

جنگل فارسی میں بھی بمعنی صحرا مستعمل ہے۔ سنسکرت میں بھی जंगल ہے۔

شال دونوں جگہ یکساں ہے۔

آہار فارسی میں خوراک ہے۔ سنسکرت میں بھی आहार ہے۔

موری۔ یعنی پانی کا نکاس دونوں گھروں میں ایک ہے۔

نام नाम دونوں جگہ ایک ہے۔

نیل नील دونوں زبانوں میں ایک ہی رنگ ہے۔

نو नव (نیا) دونوں جگہ برابر ہے۔

نیک नीक دونوں زبانوں میں اچھا ہے۔

گراس یعنی نوالہ دونوں زبانوں پر ایک ہی مزا دیتا ہے۔

جال जाल دونوں زبانوں میں ایک ہی معنوں کو شکار کرتا ہے۔

(۲) حرکت یا حرکتیں تبدیل ہوتی ہیں۔ مثلاً: –

وَد۔ فارسی میں حکیم عاقل و دانشمند کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں وِد विद् بمعنی دانستن ہے۔

ہَلاہِل فارسی میں اور ہلاہل हलाहल سنسکرت میں زہر قاتل ہے۔

مہر فارسی میں۔ اور مِہِر मिहिर् سنسکرت میں آفتاب کا نام ہے۔

(۳) ایک حرف یا کئی حروف میں تغیر ہوتا ہے۔ مثلاً: –

ماہ۔ فارسی میں چاند کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں ماس मास् ہے۔

دہ۔ فارسی میں ۱۰ ہے۔ سنسکرت میں दश دش ہے۔

پاے۔ پادَ पाद پاؤں ہے۔

(۴) لفظوں میں کچھ تغیر نہیں ہوتا۔ معنوں میں فرق آ جاتا ہے: –

بالا۔ فارسی میں بالا نیچے کے مقابل ہے۔ اور قد و قامت کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں بالا बाला اُس لڑکی کو کہتے ہیں۔ جو جوانی کی اُٹھان میں ہو۔

نر۔ فارسی میں مقابل مادہ ہے۔ سنسکرت میں نر नर مرد۔ ناری नारी عورت ہے۔ خدا جانے کہ اصل میں عام تھا۔ ہند میں رہ کر خاص ہو گیا۔ یا اصل میں خاص تھا۔ فارس میں جا کر انسان و حیوان کے لئے عام ہو گیا۔

کام۔ فارسی میں مقصد و مطلب ہے۔ سنسکرت میں خاص مطلب نفسانی کو کام काम کہتے ہیں۔

دیو देव سنسکرت میں روح پاک ہے۔ فارس مین بھی عہد قدیم میں روح پاک کو کہتے تھے۔ جب زرتشت نے مذہب میں فرق ڈالا تو اہل شیطان کو دیو کہنے لگے۔

آرام۔ فارسی ہے۔ سنسکرت میں आराम عیش باغ کو کہتے ہیں۔ اسی سے ہے باغ ارم۔

بَن۔ فارسی میں باغ یا زراعت کو کہتے ہیں۔ اور اُس کے کارندہ کو بنوان کہتے ہیں۔ سنسکرت میں بن बन ایسے جنگل کو کہتے ہیں جہاں تمام درخت چھائے ہوں اور قدرت نے پھلے پھولے درخت لگائے ہوں۔

گنج۔ فارسی میں خزانہ کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں गंज زر کثیر ہے۔

بال۔ فارسی میں پرندوں کے پروں کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں बाल آدمی اور چرندوں کے بالوں کو کہتے ہیں۔

روم۔ فارسی میں آدمی کے بالوں کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں روم रोम یا لوم लोम آدمی کے بدن کے رونگٹوں کو کہتے ہیں۔

مایہ۔ فارسی میں اصل شے کو کہتے ہیں۔ جس پر افزائش اور کامیابی واقع ہو سکے۔ سنسکرت میں مایا माया اُس چیز کو کہتے ہیں۔ جس سے نیست۔ ہست ہو اور نابود، موجود ہوجائے۔ اسی لحاظ سے قدرت الٰہی کو کہتے ہیں۔ اور ہیولٰے یعنی مادہ کو بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اُسی سے دُنیا موجود ہوئی ہے۔

(۵) لفظوں مین کچھ تغیر نہیں ہوتا۔ معنوں میں فرق آ جاتا ہے۔ مثلاً: –

سُمن۔ فارسی میں ایک خاص پھول کا نام ہے۔ سنسکرت سُمن सुमन عموماً پھول کو کہتے ہیں۔

آش۔ فارسی میں اُس کھانے کو کہتے ہیں جو پینے میں آئے۔ کتب لغت میں مطلق طعام کو بھی لکھا ہے مگر آشا سیدن سے مشتق کہا ہے۔ سنسکرت میں آش आश کھانا ہے۔

دام۔ فارسی میں جال کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں دام दाम رسی کو کہتے ہیں۔

(۶) فقط جو ہر لفظ میں گھٹاؤ بڑھاؤ ہوتا ہے۔ معنوں میں کُچھ فرق نہیں آتا۔ مثلاً: –

یک۔ فارسی میں "ا” ہے۔ سنسکرت میں ایک एक ہے۔

مِہ۔ فارسی میں بڑے اور بزرگ کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں مہا महा ہے۔

پُور۔ فارسی میں بیٹا ہے۔ سنسکرت میں پُتر पुत्र ہے۔

انگارہ۔ فارسی میں آگ کا دہکتا ڈلا ہے۔ سنسکرت میں अंगार ہے۔

(۷) کمی بیشی کُچھ نہ ہو۔ فقط کیفیتِ حروف میں فرق ہوتا ہے۔ مثلاً: –

اُشتر۔ فارسی میں اونٹ ہے۔ سنسکرت میں اُشٹر उष्ट्र اونٹ کو کہتے ہیں۔

مُشت۔ فارسی میں مُٹھی ہے۔ سنسکرت میں مُشٹ मुष्ट وہی مٹھی ہے۔

(۸) کبھی مُبادلہ کے ساتھ حرفوں کا پس و پیش ہوتا ہے۔ مثلاً فارسی کا چرخ چرخ ہو کر چکر चक्र ہو گیا۔

(۹) اختلافات مذکورہ میں سے کئی اختلاف ہوتے ہیں اور ساتھ ان کے معنوں میں بھی فرق آ جاتا ہے: –

آستان۔ فارسی میں گھر کی دہلیز ہے۔ ستان کثرت ظرفی کے لئے آتا ہے۔ مثلاً: –

گلستان۔ بوستان۔ کوہستان۔ سنسکرت میں ستھان स्थान عموماً جگہ کو کہتے ہیں۔

شنا۔ فارسی میں تیرنے کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں شنان स्नान نہانا ہے اور ظاہر ہے کہ بے نہانے کے تیرنا کب ہو سکتا ہے۔

کف۔ فارسی میں مشہور لفظ ہے۔ سنسکرت میں کپھ कफ ایک خلط بدن ہے۔ کہ اصل میں کف ہوتا ہے۔

بستر۔ فارسی میں بچھونا ہے۔ سنسکرت میں بسترت विस्तरित بچھا ہوا ہے۔

بندہ۔ فارسی میں غلام کو کہتے ہیں۔ کیونکہ بند بمعنی قید ہے۔ یہ بھی قید حکم۔ قید اطاعت یا قید وفا میں ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑی قید اطاعت اور قید وفا خدا کی ماننی چاہیے۔ اس لئے بندہ خدا ہوا۔ اسی سے بندگی بمعنی اطاعت اور عبادت ہوئی۔ اور سنسکرت میں دِند विन्द بمعنی سلام اور عجز و نیاز ہے۔ چنانچہ شاگرد جب اُستاد کے سامنے جاتا ہے۔ وِند جگت گرؤں विन्द जगत् गुरुं اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل دونوں کی ایک ہے۔

آرام بن۔ فارسی میں اُس باغ کو کہتے ہیں جو آبادی میں ہو۔ سنسکرت میں آرام عیش باغ کو کہتے ہیں۔ اور فارسی میں بن ایسے باغ کو کہتے ہیں۔ جو شہر کے باہر ہو۔ اور کھیتوں اور زراعت کو بھی کہتے ہیں۔

(۱۰) احتیاط۔ ایک قسم کے اتحاد کا پرکھنا بڑے غور کا کام ہے۔ اس کی مثالوں کو سُن کر اہل نظر ہشیار ہو جائیں گے۔ اور سمجھیں گے کہ جب تک دو زبانوں میں پوری مہارت نہ ہو۔ دو لفظوں میں اتحادِ اصلیت پر حکم لگانا خطرناک امر ہے۔ تم دیکھو گے کہ دو زبانوں کے بعض لفظوں میں حروف و حرکات کا اتفاقی اتفاق ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں ایک دوسرے سے اصلا تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً: –

جاروب فارسی میں مشہور لفظ ہے۔ جا۔ روب۔ اہل فارس تخفیف دے کر جارو بھی کہتے ہیں۔ ہندی میں جھاڑو ایک مستقل لفظ ہے کہ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ اور جھاڑنا اس کا مصدر ہے۔ ناواقف سمجھتے ہیں کہ جھاڑو۔ جارو دونوں ایک ہیں۔

جناب۔ عربی کا ایک لفظ ہے جنب اس کا ماخذ ہے۔ شمٹک کے دائرہ میں سے ہے۔ ایرین سے کُچھ تعلق نہیں۔ سنسکرت میں जनाब انہی معنوں میں مستعمل ہے اور تعظیمی موقع پر بولا جاتا ہے۔ لیکن وہ حقیقت میں مرکب ہے جن जन آدمی اور اَو आव رکھیا کرنے والا۔ اور۔ آپت आपत سچا۔ معتبر۔ پرورندہ اور لائق بھی ہے۔ اسی واسطے۔ جناب۔ جن۔ آپت۔ ناواقف آدمی دونوں کو ایک سمجھے گا اور جو دونوں زبانوں کی اصلوں سے واقف ہو گا۔ وہ اس پر ہنسے گا۔

انتقال۔ عربی لفظ ہے۔ اس کا ماخذ نقل ہے۔ معنی ہیں۔ نقل مکان۔ مجازاً مرنے کو بھی کہتے ہیں۔ بعض ناواقفوں سے میں نے خود سُنا۔ کہتے ہیں انت अंत انتہا۔ یا موت۔ کال काल وقت۔ یعنی وقت اخیر۔ یا وقت موت۔ اور اس لئے کہتے ہیں کہ انت کال اور انتقال ایک ہی ہیں۔

اختیار۔ عربی لفظ ہے۔ خیر۔ خیار اس کا ماخذ ہے۔ فارسی میں آ کر اس نے اور معنی پیدا کر لئے۔ اتفاق ہے کہ ان معنوں میں زبان سنسکرت میں ادھی کار अधिकार اور ہی لفظ ہے۔ ناواقف کہتے ہیں کہ دونوں ایک ہیں۔

انتہا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں۔ انتہا کا شوق پیدا ہوا اور انتہا کی خوشی ہوئی۔ یہ اصل میں سنسکرت سے نکلا ہے۔ انت अंत تھاہ थाह یا اِن۔ تہاہ۔ وہ گھر اور یا جس کی تہ نہ ملے۔ اُسے کیا معلوم کہ یہ عربی لفظ ہے۔ اس کا ماخذ نہایت ہے اور اس میں نفی کا کچھ تعلق نہیں۔

اپنا تجربہ۔ ایک دفعہ جوانی کی ہمت اور شوق سیاحت مل کر مجھے ترکستان کے ملک میں لے گئی۔ بلخ سے چند منزل آگے بڑھ کر ہمارا قافلہ اُترا۔ اُن ملکوں کے لوگ کم علم۔ کم معلومات ہوتے ہیں۔ اپنی آرام طلبی اور رستوں کی دشواری انہیں ادھر کے سفر میں سد راہ ہوتی ہے۔ اس لئے ہمارے ملک کے آدمیوں کے ساتھ شوق سے ملتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات معلوم کر کے خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ گاؤں کے لوگ آ کر قافلہ میں پھرنے لگے۔ دستور ہے کہ اہل آبادی۔ روٹیاں۔ گھی۔ دودھ۔ دہی۔ انڈے۔ گوشت۔ مُرغیاں۔ قالین (اپنے ہاتھ کے بنے ہوئے) لاتے ہیں۔ قافلہ والے قیمت میں کپڑا۔ سوئیاں۔ رانگ۔ پیتل کی انگوٹھیاں۔ جگنیاں۔ کانچ اور شیشہ کے دانے دے کر خریدتے ہیں۔ ایک ترک بچہ طالب علم میرے بستر کے پاس آ رکا۔ دو تنگے[10] میرے ہاتھ میں تھے۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے اُس نے پوچھا۔ در ملک شما ہمیں تنگہ رواج دارد۔ ایک افغان کا بستر برابر تھا۔ وہ بولا کہ۔ در ہند روپیہ کلدار است فرنگی براں تصویر خود را نقش می کند۔ طالب علم نے میری طرف دیکھ کر کہا۔ چہ طور۔ میں نے کہا۔ راست می گوید[11] روپیہ ہند سہ برابر تنگہ شماست۔ اُس نے پوچھا۔ تصویر چرا نقش می کند؟ میں نے کہا۔ سکہ سلطنت است۔ در دور دائرہ نام و سیانہ اش تصویر شاہ است۔ آن ہم تمام نیست۔ کلہ اش را نقش می کنند۔ ترک بچہ بولا۔ آرے بہمیں سبب روپیہ را کلہ دار نام کردہ باشند۔ کلدار کو کلہ دار کا مخفف سمجھا۔ خوب سمجھا۔ مگر غلط سمجھا۔

ایک دن میں کوکان میں چند اشخاص کے ساتھ بیٹھا تھا۔ چائے کا دور چل رہا تھا۔ ایک بُڈھے فرتوت نے پوچھا۔ کہ درمُلکِ شما فرنگی سلطنت مے کند؟ میں کہا۔ بلے۔ اُس نے کہا۔ اوچہ نام دارد؟ میں کہا۔ بادشاہ در ملک فرنگ بپایہ تخت خود است۔ برائے ما نائبے فرستادہ است۔ او حکم میراند۔ بادشاہ ما ہما نست۔ پوچھا۔ آخر اوچہ نام دارد۔ میں نے کہا۔ بعد ہر چند سالے عوض می شود۔ البتہ باعتبار عہدہ و منصب آں را لات میگویند۔ ایک بولا گو برناس[12] باشد (یہی گورنر) میں نے کہا۔ بلے۔ ہمچیں۔ ایک اور ترک نے کہا۔ لات چہ معنی دارد؟ میں نے تامل کیا کہ کیا کہوں۔ دوسرا بولا۔ ہماں لات و منات ہست۔ دوسرا بولا۔ نے! فرنگ بت پرست نیست۔ بُڈھے ازبک نے کہا۔ آخر کافر است۔ کفر بہر جا یکیست۔ لات شاں ہماں لاگ و منات باشد۔

اب تم غور سے خیال کرو۔ ہندوستان میں جو انگریزی روپیہ کے لیے کلدار کا لفظ پیدا ہوا۔ یہ بھی ایک عجیب اور اتفاقی ولادت تھی۔ پھر بھولے بھالے ترک نے جو اس کے لئے وجہ نکالی یہ عجیب در عجیب اتفاق ہے۔

لاٹھ کو اور لارڈ کے معنوں کو دیکھو کہ ہندوستان میں آ کر لفظ میں کیا تغیر پیدا ہوا؟ اور معنی اس کے یہاں کیا خیال پیدا کرتے ہیں؟ پھر اُس اُزبک کو دیکھو کہ کیا سمجھا۔ اور دلیل کیا خوب پیدا کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلیت الفاظ کی تحقیق بہت نازک کام ہے۔ قیاس و انداز ہمارا ہرگز قابل اطمینان نہیں۔ اندھیرے میں تیر پھینکتے ہیں۔ لگا تو لگا ورنہ یا قسمت۔

دیکھو! پہلا قدم اس تحقیق کا یہ ہے کہ۔ جب دو لفظ دریافت طلب تمہارے سامنے آئیں۔ تو اُن کی ملتی ہوئی آواز۔ اور یکساں شکل و شباہت پر نہ بھُولو۔ ہر ایک کو جوڑ بند کو کھولو۔ اور اُن کی اصل کی طرف پیچھے ہٹو۔ اگر دونوں بیٹھتے بیٹھتے ایک اصل میں جا پہنچیں تو جانو ایک نسل ہے۔ اور ایک گھر کے لفظ ہیں۔ اور اگر اصلیں جُدا جُدا ہوں تو جانو کہ رشتہ کُچھ نہیں فقط شباہت نے شُبہ ڈالا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

حوالے

[1] یہ بھی درست ہے، یونان کی زبان نے فلسفۂ الٰہی کو پھیلا کر خدا پرست فلاسفر کو بہشت میں پہنچایا، سنسکرت نے ہند میں دھرم گیان، عرب نے معرفتِ الٰہی سکھایا۔

[2] اور یہی سبب ہے کہ اگر ایک فصیح صاحب تقریر لیکچر دے رہا ہو۔ اور تم اس پر قید لگا دو۔ کہ کس طرح کی حرکت اعضا میں یا تغیر چہرہ میں نہ آنے پائے تو دیکھو گے کہ بات بھی نہ کر سکے گا۔

[3] یہاں سے یہ ثابت ہوا کہ جس لفظ پر محاورہ صاد کر دے وہی فصیح ہے وہی درست ہے۔ صحیح لفظ ہو اور محاورہ میں نہ ہو تو ناروا ہے۔ اگر اور کچھ نہیں تو کلام کو بد مزہ یا مکروہ ہی کر دے گا۔

[4] لغت کسی زبان کے عام الفاظ جسے ملک مذکور کے عام رہنے والے سمجھتے تھے یا سمجھتے ہوں یا زبان مذکور کے جاننے والے جانتے ہوں۔ اسی کو کہتے ہیں کہ لفظ کے معنی قوم نے تسلیم کئے اور اصطلاح وہ ہے کہ گروہ خاص میں متعارف ہو۔ مثلاً جو بات پہل کی کشت سے ہو اسے ہیلبند کہتے ہیں دیکھو لو نعمت خان عالی نے وقائع میں فرضی مہاجن کا معائنہ کیا۔ اس کا شعر ہے:

آل صوربِ جہاہتِ پیلان ہیستہ بول

مارا بچہ ہستیہ شہایب و کتاب کرد

جو شخص اہل شطرنج کی اصطلاح کو جانتا ہو گا وہ اس شعر کا لطف اُٹھائے گا غیر کی سمجھ میں نہ آئے گا۔

[5] ایران میں کہتے ہیں نہار حاضر است یعنی دسترخوان پر صبح کا کھانا چُنا ہوا ہے۔ آئیے نوش جان فرمائیے۔ اور ہنوز نہار نہ کردم۔ یعنی ابھی صبح کا کھانا نہیں کھایا۔

[6] آلتہ۔ وصف کردن۔ شہوت۔ صحبت کردن و صحبت دوشتن۔

[7] دیکھو فصل "خ” اور اس کے مبادلے۔

[8] خان آرزو اور ٹیک چند، دو محقق ہمارے کہتے ہیں کہ "اَسَ” بمعنی فرسودن ہے۔ "تین” حرف نسبت۔ آستین پہونچے کو گھستی ہے اس لئے اُس نے یہ نام پایا۔ بندۂ آزاد کہتا ہے کہ دست، ہست، ہست سے است۔ پھر استی۔ پھر آستی۔ پھر آستین ہو گیا ہو گا۔ پھر دیکھو۔ ذستا زبانِ ژند میں بمعنی دست ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ ژند کی ژ جب سر لفظ پر ہو۔ تو فارسی میں ذ پڑھی جاتی ہے۔ شاید "ذ” "س” کے ساتھ ہو کر "ہ” ہوئی ہو۔ اور سنسکرت میں ہست ہو گیا ہو۔ اور "تے” اپنے اصل پر رہا۔

[9] اسی سے ہے دویست یعنی دو صد

[10] تنگہ۔ ترکستان بخارا میں چاندی کا سکہ ہوتا ہے ۵ آنے سے کچھ زیادہ

[11] افغان کا مطلب یہ تھا کہ تصویر کے ذکر سے ہماری بُت پرستی ثابت کرے اور ترک بچہ کے خیالات اسلامی کو چمکارے۔

[12] روس کی بدولت یہ لفظ وہ بھی جان گئے تھے، گورنر کو برناس کہتے تھے۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل