ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

خلاصۂ قرآن مجید

ابتسام الٰہی ظہیر

ترتیب و تدوین: اعجاز عبید

 

 

1.  پہلے پارے کا خلاصہ

 

پہلے پارے کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے۔ اس سورہ کو اُمّ الکتاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پارہ سورہ البقرہ کی آیت 141تک ہے۔ سورہ فاتحہ کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے، بسم اللہ کی تلاوت کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم ہر کام کا آغاز اللہ کے نام کے ساتھ کرتے ہیں، جو نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ میں اللہ کی حمد اور ثنا کا بیان ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو کہ مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوم جزا کا مالک ہے۔ یومِ جزا ایک ایسا دن ہے، جس میں جزا اور سزا کا صحیح اور حقیقی فیصلہ ہو گا۔ ہر ظالم کافر اور غاصب کو اپنے کیے کا جواب دینا پڑے گا۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ میں اس عقیدہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرنے والے اور تُجھ ہی سے مدد مانگنے والے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی طلب کی گئی ہے جو کہ ان لوگوں کا راستہ ہے، جن پر اللہ کا انعام ہوا اور ان لوگوں کا راستہ نہیں، جو اللہ کے غضب کا نشانہ بنے یا گمراہ ہوئے۔

سورہ فاتحہ کے بعد سورہ بقرہ ہے۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں تین گروہوں کا ذکر کیا گیا:

ایک ایمان والوں کا گروہ، جن کا اللہ، یوم حساب، قرآن اور سابقہ کتب پر ایمان ہے اور جو نمازوں کو قائم کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔

دوسرا گروہ کافروں کا گروہ ہے، جو کسی بھی طور پر ایمان اور اسلام کے راستے کو اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ تیسرا گروہ منافقین کا گروہ ہے، جو بظاہر تو ایمان کا دعویدار ہے، لیکن ان کے دِلوں میں کفر چھُپا ہوا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ان کو چاہیے کہ قرآن کی کسی سورت جیسی کوئی سورت لے کر آئیں، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے کہ اس آگ سے ڈر جائیں، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے جد امجد جناب آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ آدم کی پیدائش کا واقعہ ان تمام سوالوں کا جواب پیش کرتا ہے کہ انسان کی پیدائش کب کیوں اور کیسے ہوئی۔

انسانوں کی تخلیق سے قبل زمین پر جنات آباد تھے، جنہوں نے زمین پر سرکشی اور بغاوت کی، جسے کچلنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو کہ جس میں ابلیس بھی شامل تھا، روانہ کیا۔ ابلیس، اگرچہ گروہ جنات سے تھا، لیکن مسلسل بندگی کی وجہ سے وہ فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے بعد ابلیس کے دل میں ایک خفیہ تکبر کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ جس سے اللہ علیم و قدیر پوری طرح آگاہ تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر انسانوں کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا اور فرشتوں سے مخاطب ہو کر کہا: میں زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتے اس سے قبل زمین پر جنات کی یورش دیکھ چکے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ! تُو زمین پر اُسے پیدا کرے گا، جو خون بہائے گا اور فساد پھیلائے گا، جبکہ ہم تیری تعریف اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ نے کہا: جو میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔ اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے بنا نے کے بعد ان کو علم کی دولت سے بہرہ ور فرمایا اور ان کو اشیا کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔ اس کے بعد فرشتوں اور آدمؑ کو جمع کر کے بعض اشیا کے ناموں کے بارے میں ان سے سوالات کیے، چونکہ فرشتے ان اشیاء سے بے خبر تھے، اس لیے انہوں نے اللہ کی پاکیزگی کا اعتراف اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔ اللہ نے آدمؑ کو ان اشیاء کا نام بتلانے کا حکم دیا تو انہوں نے ان اشیا کے نام فوراً بتلا دیئے۔ اللہ نے فرشتوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ میں زمین و آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھُپاتے ہو، اس کو بھی جانتا ہوں۔ جب آدم کی فضیلت ظاہر ہو گئی، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے سامنے جھُک جائیں۔ فرشتوں میں چونکہ سرکشی نہیں ہوتی، اس لیے تمام فرشتے آدم کے سامنے جھُک گئے، تاہم ابلیس نے آدم کی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اس تکبر پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل و خوار کر کے اپنی رحمت سے دُور فرما دیا اور آدم کو ان کی اہلیہ کے ساتھ جنت میں آباد فرمایا۔ ابلیس نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہتی دنیا تک آدمؑ اور ان کی ذُریت کو راہِ ہدایت سے بھٹکانے کے لیے سرگرم رہے گا۔

جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو جنت میں آباد فرمایا تو ان کو ہر چیز کھانے پینے کی اجازت دی، مگر ایک مخصوص درخت کے قریب جانے اور اس کا پھل کھانے سے روک دیا۔ ابلیس جو کہ آتش انتقام میں جل رہا تھا۔ اس نے آدم اور جناب حوا علیہا السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ آپ کو شجر ممنوعہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں آپ کو ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔ آدم اور ان کی اہلیہ حوا علیہا السلام وسوسے میں مبتلا ہو کر شجر ممنوع کے پھل کو کھا لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر خفگی کا اظہار فرماتے ہیں اور ان سے لباسِ جنت اور جنت کی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں اور ان کو جنت سے زمین پر اُتار دیتے ہیں۔

آدم اور حوا علیہا السلام جب معاملے پر غور کرتے ہیں تو انتہائی نادم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دُعا مانگتے ہیں۔ آدم اور حوا علیہا السلام جب اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں تو اللہ ان کی خطا کو معاف فرما دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس امر کا بھی اعلان کر دیتے ہیں کہ زمین پر رہو میں تمہارے پاس اپنی طرف سے ہدایت کو بھیجوں گا۔ پس، جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ اس کو غم ہو گا، نہ خوف۔

اللہ تعالیٰ نے یہود یوں پر اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کی نافرمانیوں اور ناشکریوں کا بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کو نازل فرمایا: ان کو رزق کی تگ و دو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر بادلوں کو سایہ فگن فرما دیا اور ان کو دھوپ سے محفوظ فرما دیا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بارہ چشموں کو جاری فرما دیا، لیکن ان تمام نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد بھی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نا شُکری کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے عمل کو قبول فرما، بے شک تو سننے اور جاننے والا ہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا بھی مانگی ائے اللہ! اہلِ حرم کی رہنمائی کے لیے ایک ایسا رسول بھی مبعوث فرمایا جو ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیمؑ کی دعا کو قبول فرما کر جناب رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا۔

 

2. دوسرے پارے کا خلاصہ

 

دوسرے پارہ میں سورہ بقرہ آیات 142 سے 252 تک شامل ہیں۔ اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا، تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کے طرف چہرہ کر کے نماز کو ادا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلے کو تبدیل کر کے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے۔ نبیﷺ اس تمنا کے اظہار کے لیے کئی مرتبہ اپنے چہرے کو آسمان کی طرف اُٹھایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی دلی تمنا کو پورا فرما کر بیت اللہ الحرام کو قبلہ بنا دیا۔

اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قبلے کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ لینا چاہتا ہے کہ کون رسول کریمﷺ کا سچا پیرو کار ہے اور کون ہے، جو اپنے قدموں پر پھر جانے والا ہو۔ وگرنہ جہتیں تو ساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق و مغرب اللہ کے لیے ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے، صراط مستقیم پر چلا دیتا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اہل کتاب کے پختہ علم والے لوگ رسول کریمﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے، جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود، ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق چھپاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں "تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا”۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارا ذکر کرنا شروع کر دے، تو ہماری کوئی مصیبت اور کوئی دکھ باقی نہیں رہ سکتا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب ہو کر کہا "اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان مشکل میں ہو، اس کو مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے نماز اور صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید، نصرت اور محبت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ پس، جو کوئی بھی حج اور عمرہ کرے اس کو صفا اور مروہ کا طواف کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ایسے لوگوں پر اللہ اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو، یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات، یومِ حساب، تمام انبیاء اور ملائکہ پر پُختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو۔ نماز کو قائم کرنے والا ہو، زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو۔ وعدوں کو پُورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی میں صبر کرنے والا ہو اور جس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے، وہی حقیقی متقی ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قانون قصاص اور دیت کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا، تاہم، اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت لے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، لیکن زندگی بہر حال قصاص لینے میں ہی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو اس بات کی رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو وہ بعد میں کسی اور وقت اپنے روزوں کو پُورا کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتلائی کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے کیلنڈر کو دیکھنے کے لیے صرف آنکھوں کی ضرورت ہے۔ انسان کے پاس، اگر بینائی ہو تو انسان صرف چاند کو دیکھ کر ہی وقت کا تعین کر سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حج کے آداب کا ذکر کیا کہ حج میں بے حیائی، لڑائی اور جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اور یہ بھی کہا کہ حاجی کو زادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ بعض لوگ دُعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں بہترین دے، جبکہ بعض لوگ جو ان کے مقابلے میں بہتر دُعا مانگتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ "اے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا”۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے، جن کو ایمان لانے کے بعد تکالیف، مصائب اور زلزلوں کو برداشت کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سابقہ امتوں کی تکالیف سے اس لیے آگاہ فرمایا، تاکہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جنت میں جانا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے تکالیف اور آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ صحابہ کرامؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بڑا گہرا اثر لیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں بے مثال قربانیاں دیں۔ حضرت بلالؓ کو صحرا کی تپتی ہوئی سرزمین پر لٹایا گیا۔ تپتی ریت پر ان کی کمر کو جھلسا دیا گیا۔

ان کے سینے پر سنگ گراں رکھا گیا، آپ کے سینے میں سانس تنگ ہو گیا، لیکن پھر بھی آپ احد احد کا نعرہ لگاتے رہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ ابو جہل نے ان کے جسم کے نازک حصوں پر نیزوں کی انی کو مارا اور ستم بالائے ستم کہ آپ کی ایک ٹانگ کو ایک اونٹ کے ساتھ اور دوسری ٹانگ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ باندھا گیا، ایک اونٹ کو ایک طرف ہانکا گیا اور دوسرے اونٹ کو دوسری سمت ہانکا گیا۔ سمیہ رضی اللہ عنہا کا وجود چرچرایا اور دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ سمیہ رضی اللہ عنہا نے جام شہادت کو نوش فرما لیا، لیکن اللہ کی توحید سے ہٹنا گوارا نہیں کیا۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں بتلایا کہ گو ان میں بعض فائدے والی باتیں بھی ہیں، لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ اس لیے بنی نوع انسان کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ناپاکی کے ایام میں عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا اور طلاق کے مسائل کو بھی بیان فرمایا کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس دو دفعہ ہوتا ہے، اگر وہ مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق دے دے، تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے، لیکن؛ اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر رجوع کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے رضاعت کی مدت کا ذکر کیا کہ عورت اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلا سکتی ہے۔ اس کی بعد اللہ نے بیوہ کی عدت کا ذکر کیا کہ بیوہ عورت کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن تک عدت پوری کرے۔

اس کے بعد اگر وہ کہیں اور نکاح کرنا چاہے، تو اسے اجازت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی حفاظت کا ذکر کیا کہ تمام نمازوں خصوصاً درمیانی، یعنی عصر کی نماز کی حفاظت کرنی چاہیے۔

 

 3. تیسرے پارے کا خلاصہ

 

تیسرا پارہ سورہ بقرہ آیت 253 سے سورة آل عمران آیت 92 تک مشتمل ہے۔ تیسرے پارے کے شروع میں اللہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے، ان میں سے بعض نے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے درجات کو اللہ نے بلند فرما دیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام رسولوں میں سے سب سے زیادہ بلند مقام ہمارے نبیﷺ کا ہے۔

اس پارے میں آیت الکرسی ہے، جو کہ قرآن مجید کی سب سے افضل آیت ہے۔ آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ، شیاطین کے حملوں سے محفوظ فرما لیتے ہیں۔

تیسرے پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے اہم واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ پہلا واقعہ جناب ابراہیمؑ کا دربار نمرود میں اُس کے ساتھ اللہ کی ذات کے بارے میں مناظرانہ مکالمے کا ہے۔ جس وقت ابراہیمؑ دربار نمرود میں جا کر اللہ کی توحید کی تبلیغ کرتے ہیں، تو ابراہیم اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کہتے ہیں: میرا پروردگار زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں نمرود کہتا ہے کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں۔ اس ظالم نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ابراہیمؑ اس کے مکر کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لے کر آتا ہے، پس تُو اس کو مغرب سے لے کر آ۔ یہ بات سن کر نمرود کے لبوں پر چپ کی مہر لگ گئی، اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ اس مطالبے کو پورا کرنا نا ممکن ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے (حضرت عزیر) کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ایک اجڑی ہوئی بستی کے پاس سے گزرے اور کہا کہ یہ بستی کیوں کر دوبارہ زندہ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے عزیر کو سو برس کے لیے سلا دیا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ؑ

حضرت عزیر اور جناب ابراہیمؑ کا واقعہ یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب اللہ تعالیٰ انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دیں گے، تو مردہ انسان بالکل صحیح حالت میں اٹھ کر کھڑے ہوں گے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بھی ذکر کیا ہے اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو اللہ تعالیٰ سات سو گنا کر کے پلٹائیں گے اور کئی لوگوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سود کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے، ان کا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

سورہ بقرہ کے بعد سورہ آلِ عمران ہے۔ سورہ آلِ عمران کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا، جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں اس امر کا بھی ذکر کیا کہ وہ رحم مادر میں انسانوں کو جس طرح چاہتا ہے، صورت عطا فرما دیتا ہے، وہ بغیر رنگ، روشنی اور کینوس کے دھڑکتے ہوئے دل والا انسان بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید میں دو طرح کی آیات ہیں، ایک محکم اور دوسری متشابہ۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہات کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہل ایمان کہتے ہیں جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہے اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آلِ عمران کو دنیا پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دیں گی۔ آپ کے یہاں پر بچے کی بجائے بچی کی ولادت ہوئی۔ جناب عمران کی اہلیہ نے اپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور آپ کا نام مریم رکھ کر آپ کو جناب زکریا کی کفالت میں دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جناب مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیا اور آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام ایام اللہ کی بندگی میں صرف ہوتے رہے، یہاں تک کہ بارگاہ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے۔ حضرت زکریاؑ جو مریمؑ کے خالو بھی تھے، ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے، جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ انہوں نے سیدہ مریم سے پوچھا کہ آپ کے پاس یہ بے موسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں۔ کہا: اللہ کی طرف سے آتے ہیں، وہ جس کو چاہتا ہے، بلا حساب رزق دیتا ہے۔ حضرت زکریاؑ بے اولاد تھے اور آپ کی بیوی بانجھ تھیں۔ سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھ کر جناب زکریا بھی رحمت الٰہی سے پُر امید ہو گئے اور آپ نے دعا مانگی: اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما۔ حضرت زکریاؑ محراب میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ فرشتے نے آپ کو پکار کر کہا: "اے زکریا! آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یحییٰ نامی پارسا اور سردار بیٹے کی بشارت ہو”۔ حضرت زکریا اس کے بعد تین دن تک خلوت نشین ہو کر اللہ کے ذکر اور تسبیح میں مشغول رہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ سیدہ مریم کا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا، جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ شفا یاب ہو جاتے۔ حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اللہ کے حکم سے گھر میں کھائے جانے اور باقی رہ جانے والے کھانے کی بھی خبر دیتے تھے۔ حضرت عیسیٰؑ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا قرار دینے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے، جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ہو جا تو وہ ہو گئے۔ (قرآن میں حضرت آدم اور عیسیٰ علیہ السلام کا نام بھی برابر ۲۵ مرتبہ ہے) اس سورہ میں اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ کفار حضرت عیسیٰؑ کی جان کے درپے تھے۔ اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو بشارت دی کہ میں آپ کو اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رسول کریمﷺ کے مقام کا بھی ذکر کیا ہے کہ عالم ارواح میں اللہ نے انبیاء کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں رسول اللہﷺ آ جائیں تو پھر ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہ انبیاء پر لازم ہو گا۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کفر پر مرنے والے، اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں، تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے میں انہیں معاف نہیں کریں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔

 

4. چوتھے پارے کا خلاصہ

 

چوتھا پارہ سورة آل عمران آیت ۹۳ سے سورة النساء کی آیت ۲۳ تک مشتمل ہے۔ شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے، جو تمہیں محبوب ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو، اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام نے اپنے محبوب ترین مال کو بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا شروع کر دیا تھا۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں انس بن مالک سے مروی ہے کہ جناب ابو طلحہ بہت مالدار صحابی تھے۔ ان کا سب سے محبوب مال بیرحاء کا باغ تھا، جو مسجد نبوی کے بالمقابل تھا۔ رسول کریمﷺ کبھی کبھار اس باغ میں تشریف لاتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول کریمﷺ سے عرض کی کہ میرا سب سے محبوب مال بیرحاء کا باغ ہے، میں اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کرتا ہوں۔

اس پارے میں اللہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور ہر صاحب استطاعت مسلمان پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ جو بھی اس گھر میں داخل ہوتا ہے اس کو امن حاصل ہو جاتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اگر اہل ایمان، اہل کتاب کے کسی گروہ کی اطاعت اختیار کریں گے، تو وہ ان کو ایمان کی سرحدوں سے نکال کر کفر کی حدود میں داخل کر دیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو اس بات کی نصیحت کی کہ ان کو اللہ کی رسی کو مضبوطی کے سا تھ تھام لینا چاہیے اور [1] فرقہ واریت میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رسی سے مُراد قرآن مجید ہے۔ اگر تمام مسلمان مضبوطی کے ساتھ قرآن کو تھام لیں تو ان کے باہمی اختلافات با آسانی دور ہو سکتے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ قیامت کے دن اہل ایمان کے چہرے سفید اور ایمان کو ٹھکرانے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ سفید چہروں والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے، جبکہ سیاہ چہرے والے اپنے کفر کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے بات کا بھی ذکر کیا کہ مسلمان بہترین اُمت ہیں، جن کی ذمہ داری نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا ہے، اگر ہم صحیح معنوں میں بہترین اُمت بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں [2] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے راستے پر چلنا چاہیے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف آئے تو کافر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوشی حاصل ہو تو کافر، غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اگر مسلمان صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں تو کافروں کی کوئی خوشی اور ناراضگی مسلمانوں کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔

اس سورہ میں اللہ نے غزوہ بدر کا ذکر کیا ہے کہ اللہ نے نبی کریمﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے تین ہزار فرشتوں کو اتارے گا اور اسی طرح اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کافر مسلمانوں تک رسائی حاصل کر لیں گے اور مسلمان صبر و استقامت سے ان کا مقابلہ کریں، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ پانچ ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اتارے گا۔ سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کی مدد ایک ہزار فرشتوں سے کی جائے گی، جن کے بعد مزید فرشتے آئیں گے۔ اللہ نے ساتھ ہی یہ بھی فرما یا کہ فرشتوں کی مدد تو ایک خوشخبری ہے، وگرنہ اصل میں تو مدد فرمانے والی اللہ کی ذات بالا صفات ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! سود در سود کھانے سے اجتناب کرو۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنت کی طرف تیزی سے بڑھنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ جنت کا عرض زمین اور آسمان کے برابر ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنتی مومنوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ جب ان سے صغیرہ یا کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہو جاتا ہے، تو انہیں اللہ کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔

غزوۂ احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس نقصان کی وجہ سے مسلمان بہت دکھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ

اگر تمہیں زخم لگا ہے تو تمہاری طرح تمہارے دشمنوں کو بھی زخم لگا ہے اور ان ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں اور اس ذریعے سے اللہ مومنوں کو بھی جانچ لیتے ہیں اور کئی لوگوں کو شہادت کا منصب بھی عطا فرما دیتے ہیں۔ اللہ کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوشی اور غم، تکلیف اور راحت اللہ کی طرف سے ہے اور دنوں کے پھرنے میں اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے .

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی ایذا رسانی کی باتیں سنو گے، لیکن تم نے دل گرفتہ نہیں ہونا اور صبر اور تقویٰ کو اختیار کرنا ہے بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔ اللہ کے نبیﷺ کے بارے میں مشرکین، عیسائی اور یہودی طرح طرح کی باتیں کرتے رہے اور ان کے ساتھ ساتھ منافقین کا سردار عبد اللہ ابن ابی بھی اپنے ساتھیوں کی ہمراہی میں رسول اللہﷺ کو ایذا دینے میں مصروف رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی مدد فرمائی اور آپ کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ناکام اور نامراد بنا دیا۔

سورہ آل عمران کے بعد سورہ النساء ہے۔ سورہ النساء کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے، جو کہ ان کا پروردگار ہے اور اس نے ان کو ایک جان، یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا اور ان سے ان کی زوجہ کو پیدا کیا اور پھر کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ذات پات اور برادری وجہ عزت نہیں اس لیے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے صنفی بدامنی کو روکنے والی ایک تدبیر بھی بتلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "تم اپنی من پسند دو، تین اور چار عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو، تاہم اگر تم محسوس کرو کہ تم انصاف نہیں کر سکتے تو ایسی صورت میں ایک ہی کافی ہے”۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے مسائل کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والد کی جائیداد میں سے بیٹوں کا بیٹیوں کے مقابلے میں دُگنا حصہ رکھا ہے۔ اگر کسی انسان کی صرف بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں وہ انسان کی دو تہائی جائیداد کی مالک ہوں گی اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو وہ نصف جائیداد کی مالک ہو گی۔ شوہر اپنی بیوی کی جائیداد میں ایک چوتھائی حصے کا مالک ہو گا، جبکہ بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں آٹھویں حصے کی مالک ہو گی۔ والد اور والدہ کا اپنے بیٹے کی جائیداد میں چھٹا حصہ ہو گا، اسی طرح بے اولاد شخص کی جائیداد اس کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گی۔

جائیداد کی تقسیم سے قبل انسان کے ذمہ واجب الادا قرض کو ادا کرنا چاہیے اور اگر اس نے کسی کے حق میں کوئی وصیت کی ہو جو کہ ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی، اس کو ادا کرنا چاہیے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے حق مہر کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ "انسان اپنی بیوی کو حق مہر کے طور پر خزانہ بھی دے سکتا ہے اور انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ حق مہر دینے کے بعد اس کو واپس لینے کی کوشش کرے”۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

5. پانچویں پارے کا خلاصہ

پانچواں پارہ سورۃ النساء کی آیت 24 سے 147 تک مشتمل ہے۔ چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے چنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر کیا کہ نہ ان میں بُرائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ ان میں غیر مردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اُسے عورت کے اہل خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں۔

اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین بھی فرما دیا کہ مرد، عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہمیشہ مرد و زن کے باہمی حقوق کا ذکر کیا ہے، لیکن حتمی فیصلے کرنے کے حوالے سے مردوں کو عورتوں پر یک گونہ فوقیت دی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو مردوں کی وہبی فضیلت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عام طور پر گھروں کے اخراجات مردوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے والدین، قریبی اعزہ و اقارب، یتیموں، مسکینوں، قریبی ہمسایوں اور دور کے ہمسایوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

اس پارے میں اس آیت کا بھی نزول ہوا کہ اے ایمان والو! نماز کے قریب نہ جاؤ، جبکہ تم حالت نشہ میں ہو، یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس آیت کے شان نزول کے حوالے سے ابو داؤد، نسائی اور ترمذی نے الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ہے کہ "عبد الرحمان بن عوف نے شراب حرام ہونے سے پہلے چند مہاجرین اور انصار صحابہ کو دعوت پر مدعو کیا۔ انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی، جب نماز کا وقت آیا تو عبد الرحمان بن عوف نے نماز پڑھائی۔ نشہ کی وجہ سے آپ کوئی لفظ پڑھنا بھول گئے، جس سے آیت کے معنی بالکل بدل گئے تو اللہ نے اس پر مذکورہ بالا آیت کا نزول فرمایا”۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد سورۃ مائدہ میں اللہ نے آیات کا نزول فرما دیا کہ "اے ایمان والو بے شک شراب، جوا، بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس، تم ان سے بچو کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔” اور شراب ہمیشہ کیلئے حرام ہو گئی۔

اللہ تعالیٰ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر سکتے ہیں، لیکن وہ شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کریں گے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے حسد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسد کرنے والے لوگ در حقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ابراہیم علیہ السلام کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔

اللہ نے اس پارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ

"اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچا دو۔” امانتوں میں ہر قسم کی امانتیں چاہے اللہ کی ہوں یا بندوں کی سبھی شامل ہیں۔

رسول کریمﷺ کو اہل مکہ دشمنی کے باوجود امین کہتے تھے اور جس دن آپ ہجرت فرما رہے تھے، اس دن بھی کفار کی امانتیں آپ کے پاس تھیں، جن کو لوٹانے کی ذمہ داری آپﷺ ، حضرت علیؓ کے سپرد کر کے مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:

"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار( یا علم) والوں کی بھی، پھر، اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔”

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت لازمی ہے اور صاحب اختیار کی اطاعت بھی ہونی چاہیے، لیکن، اگر تنازع کی صورت پیدا ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو حرف آخر سمجھنا چاہیے۔

امام احمد نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ رسول کریمﷺ نے ایک انصاری صحابی کی قیادت میں ایک فوجی دستے کو بھیجا، دستے کے امیر کسی بات پر لوگوں سے ناراض ہو گئے تو انہوں نے آگ جلائی اور لوگوں کو اس میں کودنے کے لیے کہا۔ دستے کے ایک نوجوان نے لوگوں کو کہا کہ ہم لوگ رسول کریمﷺ پر آگ سے بچنے کے لیے ایمان لائے ہیں، اس لیے ہم جلدی نہ کریں، یہاں تک کہ رسولﷺ سے پوچھ لیں۔ جب انہوں نے واپس آ کر رسول کریمﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے کہا کہ اگر تم لوگ اس میں کود جاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر لیڈر یا حاکم قرآن و سنت کے خلاف یا عوام کے مفادات اور مصالح کے خلاف کوئی اقدامات کر رہا ہو تو اس کے ان نا جائز اقدامات کو قبول کرنا خلاف دین ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اہمیت کا بھی ذکر کیا کہ جو رسول کریمﷺ کی اطاعت کرتا ہے، وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ اسی طرح اس پارے میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ

"جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔”

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے تحفے اور سلام کے جواب دینے کے آداب بھی بتلائے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر جواب اور بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے، جتنا وصول کیا گیا ہو۔ اس پارہ میں اللہ تعالیٰ نے دار الکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں، اگر وہ ایسا نہ کر سکیں، تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ اگر وہ ہمت اور استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتے تو ان کو اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا، تاہم ایسے لوگ اور عورتیں، جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز حالت جہاد میں بھی معاف نہیں، تاہم جہاد اور سفر کے دوران نماز کو قصر کیا جا سکتا ہے۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے، جبکہ ایک حصے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز کو ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے نماز کو بر وقت اور احسن انداز سے ادا کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والوں کی بھی مذمت کی ہے اور ارشاد فرمایا کہ جو کوئی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسولﷺ کی مخالفت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دیں گے اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے، جو کہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتلاتے ہیں کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں تو اللہ تعالیٰ کو انہیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایمان اور شکر گزاری کے راستے کو اختیار کرنا ہو گا۔

6. چھٹے پارے کا خلاصہ

چھٹا پارہ سورہ النسا آیت 148 سے سورہ المائدہ کی آیت 77 تک مشتمل ہے۔ پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس طرز عمل کا ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات کو تو مانتے ہیں لیکن رسولﷺ کی بات کو نہیں مانتے یا دوسرے ترجمے کے مطابق اللہ کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو تو مانتے ہیں لیکن رسول اللہﷺ کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ حق سے انکاری ہیں جبکہ مومنوں کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرامین کو بیک وقت مانتے ہیں یعنی اللہ کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہودی سیدہ مریم علیھا السلام کی کردار کشی کیا کرتے تھے حالانکہ وہ پارسا اور پاک دامن عورت تھیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ یہودی اپنی دانست میں عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کر چکے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسیٰؑ کو یقیناً شہید نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانوں کی سمت اٹھا لیا۔ اسی طرح ان کو اللہ نے سود کھانے سے روکا تھا لیکن وہ اس غلط کام میں مسلسل ملوث رہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے لیے درد ناک عذاب کو تیار کر دیا تھا۔ لیکن اہل کتاب کے پختہ علم والے لوگ جو کہ قرآن اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان لے آتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کر دیا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنی دلیل اور واضح روشنی قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جو بھی قرآن مجید کو مضبوطی کے ساتھ تھامے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل اور رحمت میں داخل فرمائے گا اور اس کو صراط مستقیم پر چلائے گا۔

اس کے بعد سورت مائدہ ہے اور اس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے وعدے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور ان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انہیں کامیابی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ گناہ اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔

اس پارے میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور اسلام کو بحیثیت دین تمہارے لیے پسند کر لیا ہے۔” امام بخاریؒ، امام مسلمؒ اور امام احمدؒ نے طارق بن شہابؓ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آیا اور کہا اے امیر المومنین آپ لوگ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو یوم عید بنا لیتے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کونسی آیت ہے تو یہودی نے آیت مذکورہ بالا کا ذکر کیا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مومنہ عورتوں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت دی ہے لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ سورۃ البقرہ اور سورۃ الممتحنہ کے مطابق مسلمان عورتوں کو صرف مسلمان مردوں ہی سے شادی کرنی چاہیے۔

سورت مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے اس قول کو رد کیا کہ وہ معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ مریمؑ اور زمین پر جو کوئی بھی موجود ہے ان کو فنا کے گھاٹ اتار دے تو اللہ تعالیٰ کو کون پوچھ سکتا ہے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ "اللہ نے تم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔ تم میں انبیاء مبعوث کیے گئے اور تم کو بادشاہت عطا کی گئی اور تم کو وہ کچھ عطا کیا جو کائنات میں کسی دوسرے کو نہیں ملا۔” اللہ کے احسانات کا احساس دلانے کے بعد حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو کہا کہ اے میری قوم! تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا اگر تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ گے تو یقیناً تم غالب آؤ گے۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس حوصلہ افزا بات کو سن کر بھی وہ بزدل بنے رہے اور کہنے لگے:

"اے موسیٰؑ جب تک وہ لوگ وہاں رہیں گے ہم لوگ کبھی وہاں نہیں جائیں گے تم اور تمہارا رب جائے اور جنگ کرے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰؑ اس سارے منظر کو دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئے اور اللہ کی بارگاہ میں آ کر کہنے لگے:

"اے میرے رب! مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر کوئی اختیار حاصل نہیں پس تو ہمارے اور نافرمانوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ موسیٰؑ کی نافرمانی کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ منزل سے بھٹک گئے اور چالیس برس تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔

آج ہمیں بھی اپنے حالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہیں ہماری محرومیوں اور زوال کی وجہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے راستے سے ہٹنا تو نہیں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کے دو بیٹوں کے اختلاف کا بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ نے ایک بیٹے کی قربانی کو قبول کر لیا جبکہ دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی اس نے اپنے بھائی کو حسد کا شکار ہو کربلا وجہ شہید کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے واقعہ کو بیان فرما کر انسان کے قتل کی شدید مذمت کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو ایک انسان کا ناحق قتل کرتا ہے وہ ایک انسان کا قتل نہیں کرتا پوری انسانیت کا قتل کرتا ہے اور جو ایک کو زندہ کرتا ہے وہ ایک کو زندہ نہیں کرتا پوری انسانیت کو زندہ کرتا ہے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین پر فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزا کو تجویز کیا ہے کہ ان کو پھانسی دے دینی چاہیے یا ان کو قتل کر دینا چاہیے یا ان کے ہاتھوں اور پیروں کو کاٹ دینا چاہیے یا ان کو جلا وطن کر دینا چاہیے۔ یہ دنیا میں ان کے کیے کی سزا ہے اور آخرت کا عذاب تو انتہائی درد ناک ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جو ان سے دلی دوستی رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو اس امر کی تلقین کی ہے کہ اللہ کے نازل کردہ پیغامات کو پھیلائیں، آپ کے دشمن آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ذات باری کے بارے میں منفی اقوال کو بھی پیش کیا کہ معاذ اللہ وہ کہتے ہیں کے اللہ کے ہاتھ تنگ ہیں۔ اللہ نے کہا کہ ان کے ہاتھ تنگ ہیں اور ان پر لعنت ہو اپنے اس قول کی وجہ سے۔ اللہ نے کہا کہ اس کے ہاتھ کھلے ہیں وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جناب داؤد اور عیسیٰ علیھما السلام نے بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی اس لیے کہ وہ بُرائی کے کاموں سے روکنے کی بجائے خود اس میں ملوث ہو چکے تھے اور ان کا یہ کام انتہائی برا تھا۔ ہم مسلمانوں کو بھی برائی کے کام سے روکنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔

7. ساتویں پارے کا خلاصہ

ساتواں پارہ سورہ المائدہ آیت 82 سے سورہ الانعام کی آیت 110 تک مشتمل ہے۔ اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں، وہ کہتے ہیں، اے ہمارے رب ہم ایمان لائے، ہمارا نام بھی (اسلام کی) گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار کے شر سے بچنے کیلئے مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں، کافر مسلمانوں کے بارے میں حبشہ کے بادشاہ کو اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حبشہ کا نرم دل عیسائی بادشاہ نجاشی جناب جعفر طیار کی زبان سے قرآن کی تلاوت سنتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے اور اُس نے اپنا شمار اسلام کی گواہی دینے والوں میں کروا لیا۔

ساتویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب ہو کر کہا کہ اُنہیں پاک چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے پاک رزق کو کھانا چاہیے اور اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی بلا ارادہ کھائی گئی قسموں پر مواخذہ نہیں کرتے، لیکن جب کسی قَسم کو پوری پختگی سے کھایا جائے، تو ایسی صورت میں انسان کو اس قَسم کو پورا کرنا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات کا نزول فرمایا ہے، جن میں صراحت سے شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "اے ایمان والو بے شک شراب، جوا، بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس، تم ان سے بچو، تاکہ کامیاب ہو جاؤ، بے شک شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے تو کیا تم لوگ باز آ جاؤ گے”

جب ان آیات کا نزول ہوا تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے کہا: اللہ! ہم رک گئے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو حلال قرار دیا ہے اور حالت احرام میں خشکی کے شکار کو منع کیا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت سوال کرنے سے بھی روکا ہے۔ کئی مرتبہ کثرتِ سوال کی وجہ سے جائز اشیاء بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ اللہ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے عیسیٰؑ سے کہا: "کیا آپ کا رب ہمارے لیے آسمان سے دستر خوان کو اتار سکتا ہے۔ عیسیٰؑ نے حواریوں کے اس بلا جواز مطالبے پر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا "اللہ سے ڈر جاؤ اگر تم مومن ہو” حواریوں نے عیسیٰؑ کی اس نصیحت کے جواب میں کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کریں اور ہم جان لیں کہ ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور اس پر گواہ رہیں” عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کے اصرار پر دعا مانگی: "اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل فرما جو ہمارے اول اور آخر کے لیے عید اور تیری جانب سے ایک نشانی بن جائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہت ہی بہتر رزق دینے والا ہے” ۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں وہ (دستر خوان) تمہارے لیے اتاروں گا پھر جو کوئی تم میں سے اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہو گا” ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے نبی کی باتوں کو بلا چون و چرا ماننا چاہیے۔ جب بھی کبھی اللہ سے نشانی مانگ کر اس کے راستے کو چھوڑا گیا اللہ نے چھوڑنے والوں کو بہت برا عذاب دیا۔

اس سورت میں اللہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جناب عیسیٰؑ سے پوچھیں گے کہ کیا انہوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ان کی اور ان کی والدہ سیدہ مریم کی پوجا کی جائے۔ عیسیٰؑ جواب میں کہیں گے یا اللہ! میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں جسے کہنے کا مجھے حق نہیں۔ میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میرے اور اپنے رب اللہ کی پوجا کرو۔ انبیاء نے ہمیشہ اپنی اُمتوں کو توحید کا درس دیا، لیکن یہ ان اقوام کی بد نصیبی تھی کہ انبیاء کے راستے کو چھوڑ کر شرک کی دلدل میں اتر گئے۔

سورۃ المائدہ کے بعد سورہ انعام ہے۔ سورہ انعام کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو زمین اور آسمان کا خالق ہے اور جس نے اندھیروں اور اُجالوں کو پیدا کیا لیکن کافر پھر بھی اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کو رہنے کا ایک وقت دیا پھر ایک مخصوص مدت کے بعد اس کو زندہ کیا جائے گا، لیکن انسان ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک کا شکار ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ ہی ہے آسمان اور زمین میں جو کہ انسان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے، جو وہ کماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی ملکیت کی و سعت کا بھی ذکر کیا اور ارشاد فرمایا کہ دن اور رات میں جو کچھ بھی موجود ہے، اسی کا ہے اور وہ سننے اور جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ انسان کو کوئی گزند پہچانا چاہیں تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور اگر وہ اس کو خیریت سے رکھیں تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہیں، یعنی انسان کی حالت کو بدلنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا کہ اہل کتاب کے صاحب علم لوگ رسول اللہﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح کوئی اپنے سگے بیٹے کو پہچانتا ہے، اس کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لا کر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کافروں کے طعن و تشنیع رسول اللہﷺ کو دکھ پہنچاتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ یہ ظالم لوگ در حقیقت آپ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کے خزانوں کی چابیاں ہیں اور ان کوا س کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور کوئی پتا جو زمین پر گرتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتے ہیں اور کوئی ذرہ جو کہ زمین کے کسی اندھیرے مقام پر پڑا ہے وہ اس کو بھی جانتے ہیں اور ہر خشک و تر سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس پارے میں اللہ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ جناب ابراہیمؑ نے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کی بت پرستی کی بھر پور طریقے سے مذمت کی۔ بت پرستی کی مذمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اجرام سماویہ کی حقیقت کو بھی لوگوں پر کھول دیا۔ جگمگ کرتے ستارے، چاند اور سورج کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر اعلان کر دیا میں قوم کے شرک سے بری ہوں اور اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں، جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں شامل نہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ انہیں غیراللہ کے پجاریوں کو گالی نہیں دینی چاہیے کہ یہ لوگ معاذ اللہ جواب میں اللہ کو گالی دیں گے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ آنکھوں کو پاتا ہے، مگر آنکھیں اس کو دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں، تاہم سورۃ القیامۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ جنتی جنت میں جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت سے بھی بہرہ ور ہوں گے۔

8. آٹھویں پارے کا خلاصہ

آٹھواں پارہ سورہ الانعام آیت 111 سے سورہ الاعراف آیت 88 تک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا "اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو وہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ سوائے، اس کے کہ اللہ چاہے” ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین مکہ اور کفار عرب نے رسول اللہﷺ سے مختلف طرح کی نشانیوں کو طلب کرنا شروع کیا۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہئیں، کبھی وہ کہتے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور کبھی وہ کہتے کہ ہمارے آبا، جو دنیا سے چلے گئے ہیں، ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کافروں کی نشانیاں طلب کرنے والی بات کوئی حق پرستی پر مبنی نہیں، بلکہ یہ تو صرف اور صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی نشانی کے اسلام کو قبول کر لیا، جبکہ مکہ کے بہت سے کافر متعدد نشانیوں کو دیکھ کر بھی مسلمان نہ ہوئے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، جس چیز پر غیر اللہ کا نام لیا جائے، اُسے کھانا درست نہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ اللہ نے یہودیوں پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا، لیکن یہودیوں کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہو گئے۔ بخاری و مسلم نے ابو ہریرہؓ سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اللہ کی مار ہو یہود پر جب چربی ان کے لیے حرام کر دی گئی، تو اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔”

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں، جنہوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا، جو انسانوں پر حرام ہیں۔ پہلا رزق، جو انسانوں پر حرام ہے، وہ مردار ہے، اسی طرح بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ بھی، اُن پر حرام ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا کہ وہ اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے بارے میں کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا توہم اور ہمارے آباء و اجداد ہرگز شرک نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے، اللہ تعالیٰ مزید کہتے ہیں کہ اے نبی! آپ ان کو کہہ دیجئے کہ( جو اللہ نے تحریر کیا ہے) کیا تم اس کو جانتے ہو؟ اگر جانتے ہو تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ لوگ غلطی تو خود کرتے ہیں، لیکن خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر کیا کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، اپنی اولاد کو بھوک کے خوف سے قتل نہیں کرنا چاہیے، فحاشی چاہے چھپی ہوئی ہو، چاہے علانیہ، اس کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہیے، کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے، یتیم کے مال کو نا جائز طریقے سے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ترازو کو صحیح طریقے سے پکڑنا چاہیے، جب بات کی جائے عدل سے کرنی چاہیے، چاہے قریبی عزیز بھی اس کی زد میں آئے اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے یا اس کے نام پر کیے گئے وعدوں کو پُورا کرنا چاہیے اور ان تمام نصیحتوں کا بنیادی مقصد انسانوں میں عقل اور تقویٰ پیدا کرنا ہے، اسی آٹھویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا، سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے والا ہوں۔

سورت [9] الاعراف شروع ہوتی ہے، اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ پیارے حبیبﷺ جو قرآن آپ پر نازل کیا گیا ہے، آپ اس کی پیروی کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے وزن کا ذکر کیا ہے کہ کل قیامت کو وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہو گا، تو جس کا پلڑا بھاری ہو گا، وہ کامیاب ہو گا اور جس کا پلڑا ہلکا ہو گا تو یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ہمارے آیات کو رد کر کے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کے لئے مختلف طرح کے پیشے بھی بنائے اور پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں آنے کے آداب کا بھی ذکر کیا کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد میں آنا چاہیے۔

آگے چل کر اسی پارے میں اصحاب اعراف کا ذکر آتا ہے۔ اصحابِ اعراف ایسے لوگ ہوں گے، جو جہنم کے عذاب سے تو محفوظ ہوں گے، لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت فرماتے ہوئے انہیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہنا چاہیے۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے، جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔ ان کا تفصیلی ذکر سورہ ہود میں ہو گا۔

9. نویں پارے کا خلاصہ

نواں پارہ سورت اعراف آیت 88 سے سورہ انفال آیت 40 تک مشتمل ہے۔ آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ اُن کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام و حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔ اللہ کے نبیؑ نے جب اُنہیں پورا تولنے اور ماپنے کا حکم دیا تو انہوں نے ایک دوسرے کو مخاطب ہو کر کہا کہ اگر تم نے شعیب علیہ السلام کی پیروی کی تو گھاٹے میں پڑ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں حقیقی خسارہ اور گھاٹا تو شعیب علیہ السلام کو جھٹلانے والوں کے لیے تھا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان اور تقویٰ کو اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسمان اور زمین سے بر کات کے دروازے کھول دیں گے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ کے احکامات کو جھٹلاتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کی فرعون کے دربار میں آمد کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ علیہ السلام فرعون کو توحید کی دعوت دینے آئے اور فرعون نے سر کشی کا مظاہرہ کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اللہ کی عطا کردہ نشانیوں کو ظاہر فرما یا آپ نے اپنے عصا کو زمین پر گرایا تو وہ بہت بڑا اژدہا بن گیا، آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں ڈال کر باہر نکالا تو وہ روشن ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی واضح نشانیوں کو دیکھ کر بھی فرعون اور اس کے مصاحب سرکشی پر تلے رہے اور جناب موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو جادوگر قرار دے دیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ نے فرعون اور اس کے قبیلے پر مختلف قسم کے عذاب مسلط کیے۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی پھلوں کے نقصانات کے ذریعے، کبھی خون کی بارش کے ذریعے، کبھی جوؤں، مینڈکوں اور ٹڈیوں کی بارش کے ذریعے ان پر اپنے عذاب نازل کیے۔ ہر دفعہ آتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر آل فرعون اپنی اصلاح کا وعدہ کرتے، لیکن جب وہ عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ نافرمانی پر آمادہ ہو جاتے یہاں تلک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سے ہم کلام ہونے کا شرف عطا کیا اور چالیس روز تک آپ سے کلام کرتے رہے۔ اس کلام کے دوران جناب موسیٰ علیہ اسلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا اے پروردگار کیا میں تجھ کو دیکھ نہیں سکتا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ نہیں لیکن ایک دفعہ کوہ طور پر نظر کریں اگر یہ اپنی جگہ جما رہا تو آپ مجھ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی تجلیات کو کوہ طور پر گرایا تو طور ریزہ ریزہ ہو گیا اور جناب موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ جب جناب موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا: اے پروردگار آپ کی ذات پاک ہے اس بات سے کہ ان آنکھوں سے آپ کو دیکھا جا سکے۔

موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے گئے تو آپ اپنی عدم موجودگی میں جناب ہارون علیہ السلام کو نگران کے طور پر مقرر کر کے گئے تھے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے سونے چاندی کا ایک بچھڑا بنا کر اس میں جبرائیل علیہ السلام کے قدموں سے چھونے والی راکھ کو ڈال کر جادو پھونکا تو اس میں سے حقیقی بچھڑے کی طرح آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے اُسے پوجنا شروع کر دیا۔ ہارون علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کو بہت سمجھایا کہ یہ شرک ہے اور اس سے بچنا چاہیے، لیکن ان نادانوں نے جناب ہارون کی نصیحت کو پس پشت ڈال دیا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے بعد جب توریت کو لیے ہوئے پلٹے تو اپنی قوم کے لوگوں کو شرک کی دلدل میں دھنسے ہوئے پایا۔ آپ اس منظر کو دیکھ کر اتنا غضبناک ہوئے کہ آپ نے جناب ہارون کی داڑھی کے بالوں کو پکڑ لیا۔ جناب ہارون نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ اے برادر عزیز میں نے ان کو بہتیرا سمجھایا، لیکن انہوں نے میری کسی نصیحت کو قبول نہ کیا۔ میں نے اس لیے زیادہ اصرار نہیں کیا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ میں نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو آپ نے اپنے اور جناب ہارون کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ پروردگار! ان کے اور فاسقوں کے درمیان تفریق پیدا فرمائیں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن (یوم سبت) والی آزمائش کا بھی ذکر کیا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک بستی کے رہنے والے یہودیوں کو اللہ نے ہفتے کو مچھلیوں کے شکار سے روکا۔ وہ ہفتے کے دن جال لگا لیتے اور اتوار کو مچھلیاں پکڑ لیتے۔ ان نافرمانوں کو اس بستی کے ایک گروہ نے نیکی کی نصیحت کی جبکہ ایک گروہ غیر جانبدار تھا، غیر جانبدار گروہ نے نصیحت کرنے والے گروہ کو کہا تم ان لوگوں کو سمجھا کر کیا کر لو گے کہ جو ہلاکت یا اللہ کے عذاب کا نشانہ بننے والے ہیں۔ اس پر نصیحت کرنے والی جماعت نے کہا: اس کار خیر سے ہمارا عذر ثابت ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے یہ لوگ بھی راہ راست پر آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کا نشانہ بنا دیا اور ان کے چہرے اور جسم مسخ کر کے انہیں بندروں کی مانند کر دیا۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی دو عظیم خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا ذکر توریت اور انجیل میں بھی مذکور تھا۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرما یا تھا۔ آپ کی رسالت زمانوں اور علاقوں کی حدود سے بالا تر ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے خوبصورت نام ہیں اور ہمیں اللہ کو ان ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آ کر ان سے پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟۔ اللہ نے کہا کہ آپ ان کو فرما دیجیے کے اللہ کے سوا اس کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب قرآن مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو اس کو توجہ سے سننا چاہیے اور خاموشی کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توجہ سے قرآن سننے کی وجہ سے انسانوں پر رحم فرمائے گا۔

اس کے بعد سورت انفال ہے۔ سورت انفال میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے بدر کے معرکے میں مسلمانوں کی قلیل تعداد کے باوجود ان کو کافروں پر غالب کیا اور ان کی مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے اتارے۔ سورت اٰل عمران میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ نے تین ہزار اور اس کے بعد صبر و استقامت کے مظاہرے کی صورت میں پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا وعدہ فرمایا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اہل ایمان کو جب اللہ اور اس کے رسول بلائیں تو ان کو فوراً ان کی پکار کا جواب دینا چاہیے۔ اس لیے کہ ایمان والوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر عمل پیرا ہو کر زندگی ملتی ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جس جگہ پر رسول اللہﷺ مو جود ہوں یا جس قوم کے لوگ استغفار کرنے والے ہوں ان پر اللہ کا عذاب نہیں آ سکتا، یعنی رسولﷺ کے انتقال پُر ملال کے بعد امت مسلمہ کے پاس عذاب سے بچنے کے لیے آج بھی استغفار کا ہتھیار موجود ہے۔

10. دسویں پارے کا خلاصہ

دسواں پارہ سورہ انفال آیت 41 سے سورة التوبة آیت 92 تک مشتمل ہے۔ اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا ذکر کیا ہے کہ اس مال غنیمت میں اللہ اور اس کے رسول کا صوابدیدی اختیار پانچویں حصے کا ہے، یعنی رسول اللہﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اپنی مرضی کے ساتھ تقسیم کر سکتے تھے۔

دسویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا ہے کہ شیطان لعین اس معرکے میں انسانی شکل میں موجود تھا اور کافروں کو لڑائی کے لیے اکسا رہا تھا۔ سراقہ بن مالک کے روپ میں موجود شیطان کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جبریلؓ کی قیادت میں فرشتوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان میدان بدر سے فرار ہونے لگا۔ کافروں نے اس سے پوچھا کہ سراقہ تم تو ہمیں فتح کی نوید سنا رہے تھے، اب کہاں بھاگے جا رہے ہو، اس پر شیطان نے جواب دیا: میں وہ دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ کا خوف دامن گیر ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی متواتر بد عہدیوں اور خیانت کے بعد اس آیت کا نزول فرمایا کہ اگر آپ کو کسی قوم کی جانب سے خیانت کا ڈر ہو تو اس کا معاہدہ لوٹا کر حساب برابر کر دیجئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس سورہ میں اللہ نے مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ کافروں سے مقابلے کے لیے ہر ممکن طاقت اور فوجی گھوڑوں کو تیار رکھیں۔ اس تیاری کی وجہ سے اللہ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب ہوں گے اور وہ دشمن بھی جن کو مسلمان نہیں جانتے اور اللہ کے راستے میں مسلمان جو خرچ کریں گے ان کو اس کا پورا پورا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ مسلمان افرادی اعتبار سے کمزور بھی ہوں تو کفار پر غالب رہتے ہیں۔ ایک دور میں ایک مسلمان دس پر غالب آتا تھا۔ گزرتے دور میں مسلمان کی طاقت میں کمی آ گئی ہے، لیکن پھر بھی ایک مسلمان ہمیشہ دو کافروں پر بھاری رہے گا۔

اس کے بعد سورہ توبہ ہے جو قرآن مجید کی واحد سورہ ہے، جس سے پہلے بسم اللہ مو جود نہیں۔ اس کی دو وجوہ بیان کی گئی ہیں کہ یا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو غضب میں نازل کیا اور یا پھر یہ سورہ انفال کا حصہ ہے۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، جو شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے دیتا ہے، ایسا شخص مسلمانوں کی جماعت سے منسلک ہے اور دینی اعتبار سے ان کا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بعض کافر اس بات پر اتراتے تھے کہ ہم حرم کی صفائی کرتے ہیں اور حاجیوں کو ستو پلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حرم اور حاجیوں کی خدمت سے کہیں زیادہ بہتر اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کی خوشنودی کے لیے جد و جہد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے قبیلے، تمہارے مال جو تم اکٹھا کرتے ہو، تمہاری تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور گھر جن میں رہنا تمہیں مرغوب ہے، تم کو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں کیے جانے والے جہاد سے زیادہ پسند ہیں تو انتظار کرو جب تک کہ اللہ کا عذاب نہیں آ جاتا۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے حنین کے معرکہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کا ہمیشہ یہ طرز عمل رہا کہ وہ قلتِ وسائل اور افرادی قوت میں کمی کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر ثابت قدم اور اللہ کی غیبی نصرت و حمایت کے طلب گار رہے، لیکن حنین کا معرکہ ایسا تھا، جس میں مسلمانوں کی تعداد اور افرادی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس تعداد کی کثرت اور فراوانی نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک فخر کی کیفیت پیدا کر دی۔ جب مسلمان کافروں کے آمنے سامنے ہوئے تو ہوازن کے تجربہ کار تیر اندازوں نے یک لخت مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے، تاہم نبیﷺ پورے وقار اور شجاعت کے ساتھ میدان جنگ میں ڈٹے رہے۔ رسول کریمﷺ کی استقامت کی وجہ سے مسلمان بھی دوبارہ حوصلے میں آ گئے اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی۔ مالک کائنات نے مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرما دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ جنگوں میں فتح وسائل کی کثرت اور فراوانی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور نصرانیوں کے برے عقیدے کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہودی ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ عزیر علیہ السلام، اللہ کے بیٹے ہیں (مدینہ کے یہودی کا ایسا عقیدہ ہو) اور عیسائی ہرزہ سرائی کرتے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، یہ باتیں انہوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں اور اللہ کی ان پر مار ہو جو یہ جھوٹ بولتے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے، جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں، مگر اس کو راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ قیامت کے دن سونے اور چاندی کو آگ میں پگھلانے کے بعد ان کی پیشانیوں کو، پہلوؤں کو اور پشتوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ اس چیز کے سبب ہے جو تم اکٹھا کرتے ہو۔ پس، اکٹھا کرنے کا مزا چکھ لو۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا کہ زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ہیں۔ اس پر فقیروں کا حق ہے، مساکین کا حق ہے، زکوٰۃ اکٹھی کرنے والوں کا حق ہے، اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والوں کا حق ہے، قیدی کا حق ہے، تاوان کے تلے دبے ہوئے لوگوں کا حق ہے، مسافر کا حق ہے اور اللہ کے راستے میں اس کو خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ منافق مرد اور عورت ایک دوسرے میں سے ہیں اور یہ بھی بتلایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں، یعنی غلط عقائد اور اعمال والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھی اور صحیح عقائد اور اعمال والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہو تے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو اس بات کی تلقین کی کہ انہیں کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔ کافروں کے ساتھ جہاد تلوار کے ذریعے اور منافقوں کے ساتھ دلائل کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض منافقین کے اعمال کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے گا تو ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مال دے دیا تو وہ بخل کرنا شروع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق لکھ دیا، اس دن تک جب ان کی اللہ کے ساتھ ملاقات ہو گی۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ تبوک کے موقع پر فتنے کا عذر پیش کر کے پیچھے رہ جانے والے اس منافق کا بھی ذکر کیا، جس نے کہا تھا کہ روم کی خوبصورت عورتیں دیکھ کر مجھ سے صبر نہیں ہو سکے گا اور میں فتنے میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ رسول کریمﷺ نے اس کو رکنے کی اجازت دی، تو اللہ نے واضح کر دیا کہ در حقیقت یہ بہانہ بنا کر پیچھے رہنے والے لوگ فتنے کا شکار ہو چکے ہیں اور اللہ نے جہنم کو منکروں کیلئے تیار کر دیا ہے۔

11. گیارہویں پارے کا خلاصہ

گیارہواں پارہ سورہ توبہ آیات 93 سے سورة ہود آیت 5 تک مشتمل ہے۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے مہاجر اور انصار صحابہؓ میں سے ایمان پر سبقت لے جانے والے صحابہؓ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں اور بہت سے لوگ منافقت کی موت مر رہے ہیں، اگر چہ رسول اللہﷺ ان کو نہیں جانتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دُگنا عذاب دوں گا۔

گیارہویں پارے میں اللہ نے ان منافقین کا ذکر کیا ہے، جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگر اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یا کسی وادی کو طے کیا تو اس عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کا ان کو اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

رسول اللہﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ کرامؓ سے مالی تعاون کا تقاضا کیا تو حضرت عثمانؓ نے سات سو اونٹ مع سامان اللہ کے راستے میں خرچ کر دیے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے مال کا نصف حصہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیا، جبکہ جناب ابو بکرؓ نے اپنا سارا مال رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا گھر میں کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ تو جناب ابو بکرؓ نے جواب دیا گھر میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کو چھوڑ کر آیا ہوں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کو مارتے ہیں اور خود بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو تے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس سورت کے آخر میں جا کر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی صفات کا ذکر کیا کہ تم میں سے ایک رسول تمہارے پاس آیا جو کہ کافروں پر زبردست ہے، مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسول اللہﷺ کی ذات اور ان کے پیغام سے رو گردانی کر یں تو رسول اللہﷺ اعلان فرما دیں کہ میرے لیے اللہ کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کیا انسانوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی کو نازل کیا جائے، جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ان کو ڈرائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا، تا کہ تم اس کے ذریعے سالوں اور مہینوں کا حساب لگاؤ۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ بے شک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ سے ڈر نے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو مخاطب ہو کر کہا کہ اے لوگو !تم تک تمہارے رب کی نصیحت آ پہنچی ہے، جو شفا ہے، سینے کی بیماریوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے لیے۔ اے حبیبﷺ ! اعلان فرمائیں، اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہل ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے، جسے تم اکٹھا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرما دیا کہ ” خبردار اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم” اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ کو اختیار کرنے والے ہوں گے۔

اس کے بعد سورہ یونس ہے اور سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کا ذکر کیا ہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کر حضرت موسیٰؑ نے دعا مانگی "اے ہمارے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے مصاحبوں کو دنیا کی زینت اور مال عطا کیا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے برگشتہ کرے۔ اے پروردگار! تو ان کے مال اور دولت کو نیست و نابود فرما اور ان کے دلوں کو سخت بنا تاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں، جب تک کہ دردناک عذاب کونہ دیکھ لیں” ۔

اللہ نے موسیٰؑ کی دعا کو قبول فرما لیا اور ہر طرح کا عذاب دیکھنے کے باوجود بھی فرعون ہدایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا، یہاں تک کہ جب موسیٰؑ بنی اسرائیل کے لوگوں کو لے کر نکلے تو اس نے اپنے لشکر سمیت ان کا تعاقب کیا۔ جب موسیٰؑ سمندر کو پارکر گئے تو اللہ نے سمندر کی لہروں کو آپس میں ملا دیا۔ فرعون سمندر کے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میں فرعون نے پکار کر کہا: "میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں” ۔ اللہ نے فرعون کے ایمان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا اب ایمان لائے ہو؟ اس سے پہلے تک تو توُ نافرمانی اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس، آج ہم تیرے جسم کو سمندر سے نکال لیں گے، تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے اللہ کے عذاب کی نشانی بن جائے اور بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں۔ اس واقعے سے ہمیں نصیحت حاصل ہوتی ہے کہ انسان کو دنیا اور اقتدار کے نشے میں اندھے ہو کر اپنے انجام اور آخرت کو فراموش نہیں کر دینا چاہیے، اس لیے کہ اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم یونسؑ کا بھی ذکر کیا ہے کہ جب یونسؑ اپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہو کر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آ کر با جماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم پر ناراض ہو جائیں اور وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے اجتماعی توبہ کا راستہ اختیار کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی بارگاہ میں آ کر اجتماعی توبہ کرنے کی توفیق دے، تاکہ ہماری اجتماعی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

12. بارہویں پارے کا خلاصہ

بارہواں پارہ سورہ ہود آیت 6 سے سورہ یوسف آیت 52 تک مشتمل ہے۔ سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں، جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کا ذکر کیا، جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنیں۔ حضرت نوحؑ کی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نبی نوحؑ نے اپنی قوم کو شرک سے باز رہنے کی تلقین کی، مگر انہوں نے جناب نوحؑ کا شدید مذاق اڑایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی مدد فرمائی۔ آسمان اور زمین سے بارش اور سیلاب کی شکل میں پانی جاری کر دیا، جس کی زد میں حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے اور نافرمان بیوی سمیت تمام کافر آ گئے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ قوم عاد بھی قوم نوح کی طرح شرک کی بیماری میں مبتلا تھی۔ جناب ہودؑ اُن کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے رہے، لیکن انہوں نے حضرت ھود علیہ السلام کی ایک نہ سنی۔ قوم عاد کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مسلّط کر دیا، جس نے ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے، جس طرح کٹے ہوئے درخت کی شاخیں ہوتی ہیں۔

قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کا ذکر کیا۔ قومِ ثمود کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کو فراموش کر چکے تھے۔ قومِ ثمود کے لیے اللہ نے اپنی ایک نشانی کو ظاہر فرما دیا۔ اللہ کے حکم سے بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی، جس سے ایک اونٹنی نکلی۔ اس اونٹنی نے باہر نکلتے ہی بچہ دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کی بجائے اونٹنی کے پیروں کو کاٹ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوئے اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا۔ فرشتے نے چیخ ماری اور اس چیخ کی وجہ سے بستی کے لوگوں کے بھیجے اور دماغ پھٹ گئے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کا ذکر کیا۔ قومِ لوط کے لوگ ہم جنس پرستی کی بیماری کا شکار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے پاس عذاب والے فرشتے بھیجے اور ان فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ بدکاروں کی اس بستی پر عذاب کو مسلّط کر دیں۔ فرشتوں نے بستی کو اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے کچل دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومِ مدین کا ذکر کیا، جو کہ شرک کی برائی کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کا شکار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلّط کر دیا، جس چیخ کے ساتھ قوم ثمود تباہ ہوئی تھی۔

سورہ ہود کے بعد سورہ یوسف ہے۔ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا ہے۔ جناب یوسف نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد گرامی جناب یعقوب سے اپنا یہ خواب بیان کیا، تو یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے بیٹے، آپ نے اپنا خواب اپنے بھائیوں کو بیان نہیں کرنا، اس لیے کہ وہ سننے کے بعد حسد کا شکار ہو جائیں گے۔

ادھر یہ معاملہ ہو رہا تھا، اُدھر جناب یوسفؑ کے سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ ہم جوان ہیں، لیکن بابا یعقوب، جناب یوسف ہی سے پیار کرتے ہیں، کیوں نہ کسی بہانے سے بھائی یوسف کو بابا سے علیحدہ کر دیا جائے، تاکہ ہم ان کے منظور نظر بن سکیں۔ بھائی اکٹھے ہو کر جناب یعقوبؑ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں روانہ نہیں کرتے، وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف جائے اور ہم ان کے ساتھ کھیلیں۔ جناب یعقوبؑ نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ اور کوئی بھیڑیا اس کو نہ کھا جائے۔ بھائیوں نے کہا کہ بابا ہم جوان ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا بھائی یوسف کو کھا جائے۔ جناب یعقوب نے یقین دہانیوں پر جناب یوسف کو اپنے بیٹوں کے ساتھ روانہ کر دیا۔ جناب یوسف کے بھائیوں نے جناب یوسف کو ایک کنوئیں میں پھینک دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے جناب یعقوبؑ کے پاس آ گئے کہ بھیڑیا جناب یوسف کو کھا گیا ہے۔ اس پر یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ میں صبر کروں گا، اللہ کو پتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

جناب یوسف جس کنوئیں میں موجود تھے، وہاں سے ایک قافلے والوں کا گزر ہوا، انہوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا، جناب یوسفؑ کنوئیں سے باہر نکل آئے۔ اہل قافلہ مصر جا رہے تھے، انہوں نے جناب یوسف کو مصر کے ایک بڑے گھرانے میں فروخت کر دیا۔ جناب یوسف کی خوبصورتی اور وجاہت کو دیکھ کر اس گھر کے مالک نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ جناب یوسف کو اپنا بیٹا بنا لیں گے، امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائیں گے۔ جناب یوسف علیہ السلام جب جوان ہوئے تو گھر کی مالکن ان پر بُری نظر رکھنے لگی اور ایک دن اس نے ان کو بُرائی کی دعوت دی، جس کو جناب یوسف نے ٹھکرا دیا۔ اس عورت نے جناب یوسفؑ پر بُرائی کا الزام لگا یا، لیکن اللہ نے محل میں ایک بچے کو قوت گویائی عطا کر کے جناب یوسف کو اس الزام سے بری کروا دیا۔

عزیز مصر کی بیوی فتنے کا شکار تھی، اس نے یوسف علیہ السلام کو مصر کی دیگر عورتوں سے مل کر فتنے کا نشانہ بنانا چاہا، تو جناب یوسفؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ اللہ! مجھے برائی سے بچا کر جیل میں پہنچا دے۔ اللہ نے جناب یوسف علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما کر ان کو جیل میں پہنچا دیا۔ جیل میں آپ کی ملاقات دو قیدیوں سے ہوئی۔ ان دونوں قیدیوں کو آپ نے توحید کی دعوت دی اور دعوت دینے کے بعد ان دونوں قیدیوں نے اپنے خواب، حضرت یوسف علیہ السلام کو بتلائے۔ ایک قیدی نے خواب دیکھا کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے، جبکہ دوسرے قیدی کو خواب آیا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں، جن سے پرندے کھانا کھا رہے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے تو قیدیوں کو توحید کی دعوت دی اور اس کے بعد جناب یوسف نے فرمایا کہ ایک آدمی بادشاہ کا ساقی بنے گا، جبکہ دوسرے کو پھانسی ہو گی، جس آدمی نے بادشاہ کا ساقی بننا تھا، اس کو جناب یوسفؑ نے کہا کہ بادشاہ کو بتلانا کہ جیل میں ایک بے گناہ قیدی پڑا ہے، لیکن آزاد ہونے والا قید یہ بات بھول گیا اور یوسف علیہ السلام کئی برس تک جیل میں قید رہے۔

اسی اثنا میں بادشاہ وقت کو خواب آیا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات سر سبز بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں۔ اس پر بادشاہ کے ساقی کو جناب یوسف علیہ السلام کی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت! جیل خانے میں ایک بہت بڑا عالم فاضل قیدی ہے، جو اس کی صحیح تعبیر بتلا سکتا ہے۔ جناب یوسف علیہ السلام سے جب تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ آنے والے سات سال قحط سالی کے ہوں گے اور اس کے بعد خوشحالی اور ہریا لی ہو گی۔ جناب یوسفؑ کی تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ انہیں جیل سے بلایا جائے۔ جناب یوسفؑ نے کہا کہ جب تک میری اعلانیہ بے گناہی ثابت نہیں ہو گی، میں جیل سے نہیں نکلوں گا۔ جناب یوسفؑ کے مطالبے پر عزیز مصر کی بیوی نے برملا جناب یوسف علیہ السلام کو پاک دامن قرار دیا۔ جس کے بعد یوسف علیہ السلام جیل سے باہر آنے پر آمادہ ہو گئے۔

جناب یوسف علیہ السلام کا باقی واقعہ تیرھویں پارے میں بیان ہو گا۔

13. تیرہویں پارے کا خلاصہ

تیرہویں پارے کا آغاز سورہ یوسف آیت 53 سے ہوتا ہے اور سورہ ابراہیم مکمل آیت 52 تک۔ جناب یوسفؑ جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے جناب یوسفؑ کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپؑ ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیز مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔ جناب یوسفؑ نے زرعی نظام کو بڑی توجہ سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں میں مستقبل کے لیے بہترین پلاننگ کی یہاں تک کہ جب پوری دنیا میں قحط سالی عام ہو گئی تو مصر کی معیشت انتہائی مضبوط اور مستحکم ہو چکی تھی۔ قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے دنیا بھر سے قافلے مصر پہنچنے شروع ہو گئے۔ جناب یعقوبؑ کے بیٹوں نے بھی مصر کا رخ کیا۔ جب وہ عزیز مصر کے محل میں داخل ہوئے تو جناب یوسفؑ اپنے بھائیوں کو پہچان گئے، جب کہ آپ کے بھائی آپ سے غافل تھے۔ آپ نے باتوں باتوں میں اپنے بھائیوں سے کہا کہ اگلی مرتبہ اپنے چھوٹے بھائی بنیا مین کو بھی ساتھ لانا، اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو نہ لائے تو تمہیں غلے سے کچھ بھی نہیں ملے گا اور ساتھ ہی جو پونجی ان کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے لائے تھے اس کو بھی اپنے بھائیوں کے سامان میں ڈال دیا۔

جب جناب یوسفؑ کے بھائی جناب یعقوبؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے عزیز مصر کی بہت زیادہ تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا کہ عزیز مصر کی خواہش تھی کہ ہم بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے کر جائیں۔ جناب یعقوبؑ نے جواب میں کہا کہ کیا میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح میں نے اس سے قبل یوسفؑ کے معاملے میں تم پر اعتماد کیا تھا۔ اس پر جناب یعقوبؑ کے بیٹے خاموش ہو گئے۔ جب سامان کھولا گیا تو اس میں سے غلے کے ساتھ ساتھ پونجی بھی برآمد ہو گئی۔ اس پر یعقوبؑ کے بیٹوں نے کہا دیکھیے بابا عزیز مصر نے تو ہماری پونجی بھی ہمیں دے دی ہے۔ اب جناب یعقوبؑ نے کہا کہ میں بنیامین کو تمہارے ساتھ اس صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ۔ بیٹوں نے جناب یعقوبؑ کے سامنے حلف دیا تو جناب یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا۔

جب یوسفؑ کے بھائی دوبارہ ان کے پاس پہنچے تو جناب یوسفؑ نے جناب بنیامین کو علیحدہ ایک طرف کر لیا اور ان سے کہا کہ میں آپ کا بھائی یوسفؑ ہوں۔ اس کے بعد یوسفؑ نے اپنا پیالہ جناب بنیامین کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو اعلان کروایا گیا کہ قافلے والو تم چور ہو۔ جناب یعقوبؑ کے بیٹوں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہو گیا تو اس کی کیا سزا ہو گی؟ جواب میں جناب یوسفؑ کے بھائیوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جو مجرم ہو گا وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہو گا۔ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو جناب بنیا مین کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو گیا۔ جناب یوسفؑ کے بھائیوں نے اس موقع پر بڑے عجیب رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو اس سے قبل ان کے بھائی یوسفؑ نے بھی چوری کی تھی۔ اس پر جناب یوسفؑ نے کہا کہ جو تم الزام تراشی کرتے ہو اس کی حقیقت سے اللہ تعالیٰ بخوبی آگاہ ہیں۔ جناب یوسفؑ کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ہم بھائیوں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیں۔ جناب یوسفؑ نے کہا کہ معاذ اللہ ہم کسی مجرم کی جگہ کسی دوسرے کو کس طرح پکڑ سکتے ہیں۔ جناب یوسفؑ کے ایک بھائی نے کہا کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ بابا یعقوبؑ مجھے اجازت نہیں دیں گے یا اللہ تعالیٰ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہیں فرما دیتے۔

جناب یوسفؑ کے بھائی جناب یعقوبؑ کے پاس پہنچے اور ان کو جناب بنیامین کی گرفتاری کی خبر دی تو جناب یعقوبؑ نے بلند آواز سے جناب یوسفؑ کا نام لیا اور آپ اتنی شدت سے روئے کہ آپ کی بینائی بھی گل ہو گئی۔ جناب یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ آپ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوں اور جناب یوسفؑ اور ان کے بھائی کو تلاش کریں۔

اب جناب یوسفؑ کے بعض بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالت بدلی ہوئی تھی۔ غربت اور مفلوک الحالی نے ان کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا، انہوں نے جناب یوسفؑ کے پاس آ کر اپنی غربت کی شکایت کی اور صدقے کا تقاضا کیا تو جناب یوسفؑ نے پوچھا کیا آپ بھول گئے جو آپ نے اپنے بھائی یوسفؑ کے ساتھ کیا۔ بھائیوں نے کہا کہ آپ یوسفؑ کو کیسے جانتے ہیں کہیں آپ ہی تو یوسفؑ نہیں؟ کہا میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا، بے شک جو صبر اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اس موقع پر جناب یوسفؑ کے بھائی انتہائی شرمسار ہوئے اور انہوں نے آپ سے معافی چاہی تو جناب یوسفؑ نے کہا کہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا اور اللہ بھی تمہیں معاف کرے۔ جناب یوسفؑ نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیض اتار کر دی اور کہا کہ جناب یعقوبؑ کے چہرے پر ڈالنا ان کی بینائی واپس آ جائے گی اور آئندہ ان کو بھی اپنے ہمراہ لانا۔

جناب یعقوبؑ کے بیٹے جب آپ کی قمیض لے کر روانہ ہوئے، تو جناب یعقوبؑ نے اپنے گھر میں موجود بیٹوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے بیٹے یوسفؑ کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس پر بیٹوں نے کچھ بے ادبی والے الفاظ کہے جناب یعقوبؑ خاموش ہو گئے۔ جب مصر سے آپ کے بیٹے آئے اور انہوں نے آپ کے چہرے پر قمیض ڈالی تو جناب یعقوب کی بینائی واپس آ گئی۔ جناب یعقوب کے گھر میں موجود بیٹوں نے ان سے معافی طلب کی۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو معاف کر دیا۔ سب اہل خانہ مصر کو روانہ ہوئے۔ جب جناب یوسفؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے جناب یعقوبؑ کو تخت پر بٹھا لیا۔ جناب یعقوبؑ اور ان کے گیارہ بیٹے جناب یوسفؑ کے سامنے جھک گئے۔ اس شریعت میں تعظیمی سجدہ جائز تھا جبکہ مسلمانوں کے لیے تعظیمی سجدہ منع ہے۔ حضرت یوسفؑ نے اس موقع پر پروردگار عالم کا شکر ادا کیا اور دعا مانگی کہا ے میرے پروردگار ! مجھے اسلام پر موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملا دینا۔ جناب یوسفؑ کا واقعہ عروج و زوال کی ایک داستان اور صبر اور استقامت کی دستاویز ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ صبر کا پھل ضرور دیتا ہے، چاہے اس میں کچھ دیر ہو۔

اس کے بعد سورۃ الرعد ہے۔ آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں جتلاتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ہر قوم میں ایک ہادی مبعوث فرمایا۔ یہ بھی بتلایا کہ بجلی کی کڑک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتی ہے اور فرشتے اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں۔ فرمایا کہ دلوں کا امن اور سکون اللہ کے ذکر اور اس کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔

اس کے بعد سورہ ابراہیم ہے۔ ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کی دنیاوی اور اخروی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی دعائیں مانگیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے جذبات سے معمور رہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی سیرت میں ہمارے لیے یہ درس اور سبق موجود ہے کہ ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیے اور کسی بھی وقت اس کی حمد کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

14. چودھویں پارے کا خلاصہ

چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے اور سورة النحل مکمل شامل ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہ ﷺ کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں، تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔ قرآن مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بے شک ہم نے ہی ذکر (مراد: فرقان حمید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزیّن کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا، مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ تعالیٰ شہاب ثاقب سے نشانہ بناتے ہیں۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ فرشتے جناب لوطؑ کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیمؑ کے پاس آئے۔ انہوں نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انہیں بتلایا کہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوطؑ کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ سوائے، لوطؑ کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط علیہ السلام کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔

اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول کریمﷺ کا مذاق اڑاتا ہے، اس سے نبٹنے کیلئے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، ولید، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط رسول کریمﷺ کو مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ اللہ نے میدان بدر میں ان کو حسرت ناک انجام سے دوچار کر دیا۔ ابو لہب کے ایک بیٹے نے رسول کریمﷺ کا استہزا کیا تو ایک کاروباری سفر کے دوران جنگل کا شیر اس کو کھا گیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول کریمﷺ کو سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآن عظیم، یعنی سورہ فاتحہ عطا کی گئی ہے۔

سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں، روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں، تا کہ وہ لوگوں کو ڈرائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا اور وہ کچھ پیدا فرمایا، جس کو انسان نہیں جانتا۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو الٰہ نہیں پکڑنے چاہئیں بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خداؤں کی بات کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کو رد کیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کیلئے عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں، جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے، لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ فلٹریشن کا یہ غیر معمولی پلانٹ خالق کائنات کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ تعالیٰ ہی سہارا دیتے ہیں۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھروں کو ہمارے لیے جائے سکونت بنایا ہے، جو سکون انسان کو اپنے گھر میں حاصل ہوتا ہے، وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ پر قرآن مجید کو اس لیے نازل فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں، جو ان پر نازل کیا گیا ہے، گویا کہ رسول کریمﷺ کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول کریمﷺ پر قرآن، اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا، بلکہ محمدﷺ روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومیؓ) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ رسول کریمﷺ کی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول کریمﷺ کو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے، جبکہ رسول کریمﷺ پر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربی مبین (صاف صاف) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید کو روح القدس نے رسول کریمﷺ کے قلب پر نازل کیا، تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا، لیکن وہ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق، اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے، انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دعوت و تبلیغ کا طریقہ بھی بتلایا کہ دعوت دین کا کام بڑی حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہو نا چاہیے۔ بے شک اللہ کو پتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعدائے دین کی تکلیفوں پر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا اور یہ بھی بتلایا ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے، جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی، یقیناً اس کو اللہ کی تائید بھی حاصل ہو جائے گی۔

15. پندرھواں پارے کا خلاصہ

پندرھویں پارہ سورہ بنی اسرائیل سے سورہ کہف آیت 74 تک مشتمل ہے۔ شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "پاک ہے وہ ذات، جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔”

حضرت رسول کریمﷺ، جبرائیل امین علیہ السلام کی معیت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے، جہاں آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء صف باندھے موجود تھے۔ رسول کریمﷺ نے نماز کی امامت فرمائی اور تمام انبیاء نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی اور یوں کائنات کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی گئی کہ رسول کریمﷺ صرف  آنے والوں کے ہی امام نہیں، بلکہ جانے والوں کے بھی امام ہیں۔ جب رسول کریمﷺ سفر معراج سے واپس آئے، تو ابو جہل نے جناب ابو بکر صدیقؓ سے پوچھا کہ کیا کوئی انسان ایک رات میں بیت المقدس کا سفر کر کے واپس آ سکتا ہے، تو جناب ابو بکرؓ نے کہا: "ایسا ممکن نہیں” ابو جہل نے کہا: "پھر جس کو آپ نبی مانتے ہیں انہوں نے اس سے بھی بڑی بات کی ہے کہ وہ بیت المقدس اور اس کے بعد آسمانوں کی سیر کر کے واپس آ گئے ہیں۔” حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ "اگر رسولﷺ نے ایسا کہا ہے، تو پھر درست کہا ہے۔ اس لیے کہ رسول کریمﷺ کی کوئی بات کسی بھی حالت میں غلط نہیں ہو سکتی ہے۔” اس پارے میں اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر وہ دونوں (والد، والدہ) یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں، تو ان کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے محبت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکانا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار ان پر رحم کر جس طرح وہ بچپن میں مجھ پر رحم کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کے حق ادا کرنے چاہئیں اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے، یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے، اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائے گا۔ اس سورہ میں فجر کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنا باعث برکت ہے اور اس وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو تہجد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز نبیﷺ پر امت کے مقابلے میں لازمی تھی اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کو قیامت کے روز مقام محمود عطا فرمائیں گے۔ اس سورہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو، چاہے رحمان کہہ کے پکارو، اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، اس کو جس نام سے چاہو پکارو۔

سورہ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے۔ سورۃ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کر دیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے، جو کہ عیسیٰؑ اور عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں نہ تو ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے۔ پس، یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے بعض مومن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے، جو کہ وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انہیں 309 برس کے لیے سلا دیا اور اس کے بعد جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہوں گے تو ان کا خیال یہ تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے واقعات بیان کر کے در حقیقت توجہ آخرت کی طرف مبذول کر وائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس تک لوگوں کو سلا کر بیدار کر سکتا ہے کیا وہ قبروں سے مردہ وجودوں کو برآمد نہیں کر سکتا؟

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کا بھی ذکر کیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اس وقت سب سے بڑا عالم میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت بڑا مقام عطا کیا تھا، لیکن یہ جواب اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کو کہا کہ دو دریاؤں کے سنگم پر چلے جائیں، وہاں پر آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہو گی، جن کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے۔ جناب موسیٰؑ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو آپ کی ملاقات جناب (خضرؑ) سے ہوئی۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے جناب خضرؑ سے پوچھا کہ اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد و ہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں، مجھے بھی سکھلائیں گے۔ جناب خضرؑ نے جواب میں کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے اور آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے، جن کو آپ جانتے ہی نہیں۔ موسیٰؑ نے جناب خضرؑ کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے۔ کچھ چلنے کے بعد آپ ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ جب اترنے لگے تو خضر نے کشتی میں سوراخ کر دیا جناب موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کر دیا۔ جناب خضرؑ نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔ جناب خضرؑ اور موسیٰؑ پھر چل دیئے، کچھ آگے جا کر ایک خوبصورت بچہ نظر آیا۔ جناب خضرؑ نے بچے کو قتل کر ڈالا، جناب موسیٰ علیہ السلام سے نہ رہا گیا آپ نے پھر جناب خضرؑ کے اس عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا، یہ جاننے کے لیے اسی مضمون پر سولہویں پارے میں کچھ بحث کریں گے۔

16. سولہواں پارے کا خلاصہ

سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے میں جناب موسیٰؑ کی جناب خضرؑ سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام جناب خضر کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوبصورت بچے کے قتل پر بھی بالکل مطمئن نہ تھے۔ اس لیے آپ نے اس پر بھی اعتراض کیا تھا۔ جناب خضرؑ نے جناب موسیٰؑ کو کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰؑ نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب، اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے اپنے سے علیحدہ کر دیجئے گا۔ جناب خضرؑ اور موسیٰؑ اکٹھے آگے بڑھتے ہیں، حتیٰ کہ ایک بستی میں جا پہنچتے ہیں۔ بستی کے لوگ بڑے بے مروت تھے، انہوں نے دو معزز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی۔ اس بستی میں ایک جگہ ایک دیوار گر چکی تھی۔ جناب خضرؑ اس کی تعمیر نو شروع کر دیتے ہیں۔ جب دیوار مکمل ہو گئی اور جناب خضرؑ نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا تو جناب موسیٰؑ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ جناب خضرؑ نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آ پہنچا ہے، میں آپ کو ان تمام کاموں کی تعبیر سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ حضرت خضرؑ نے جناب موسیٰؑ کو بتلایا کہ کشتی میں میرے سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جا کر کشتی رکی تھی، وہاں پر ایک غاصب بادشاہ کی حکومت تھی، جو ہر بے عیب کشتی پر جبراً قبضہ کیے جا رہا تھا۔ میں نے اس کشتی میں سوراخ کر دیا، تا کہ کشتی کے مسکین مالک، بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں، جس خوبصورت بچے کو میں نے قتل کیا، وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا، اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچہ عطا فرمانے والے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے، دیوار کی تعمیر نو کا، تو وہ دیوار ایک ایسے گھر کی تھی، جو بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھا، جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا اور مالک کائنات چاہتے تھے کہ بچے جوان ہو جائیں اور بڑے ہو کر اپنے خزانے کو نکال لیں اور جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم پر کیا۔ یہ واقعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مکمل علم، اللہ کی ذات کے پاس ہے اور وہ جتنا کسی کو دینا چاہتا ہے، دے دیتا ہے، اگر چہ جناب موسیٰؑ اولوالعزم رسول تھے، لیکن اللہ نے بعض معاملات کا علم، خضرؑ کو عطا فرما دیا، جن سے جناب موسیٰؑ واقف نہ تھے۔

سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توانائیوں کو دنیا کی زیب و زینت کے لیے وقف اور صرف کرنے والے لوگوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے۔

سورہ کہف کے بعد سورہ مریم ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ جناب زکریاؑ جناب مریم کے کفیل اور خالو تھے۔ جب انہوں نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس بے موسمی پھل دیکھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی، اے پروردگار تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب زکریاؑ کی فریاد کو سن کر انہیں بڑھاپے میں یحییٰؑ سے نواز دیا، اسی طرح جناب مریم سلام اللہ علیہا کے پاس جناب جبرائیلؑ آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ آپ کہتی ہیں کیا میرے گھر بیٹا پیدا ہو گا؟ جبکہ میں نے تو کسی مرد کی خلوت کو بھی اختیار نہیں کیا۔ جبرائیل امینؑ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو پھر وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتے۔ وہ کُن کہتے ہیں تو چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ جب عیسیٰؑ پیدا ہوتے ہیں تو سیدہ مریم لو گوں کے طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ نے کہنا ہے کہ میں نے رحمن کیلئے روزہ رکھا ہوا ہے، اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔ جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھو لی میں بچے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن، اے عمران کی بیٹی نہ تو آپ کا باپ برا آدمی تھا اور نہ آپ کی ماں نے خیانت کی تھی، یہ آپ نے کیا کر دیا؟ جناب عیسیٰؑ نے مریم سلام اللہ علیہا کی گود سے آواز دی: میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ گود میں لیٹے ہوئے بچے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔

سورہ مریم کے بعد سورہ طٰہٰ ہے۔ سورہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی کوہ طور پر اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ جب موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا کہ موسیٰؑ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جناب موسیٰؑ نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کو اپنی چھڑی زمین پر گرانے کا حکم دیا۔ چھڑی زمین پر گرتے ہی اژدھے کی شکل اختیار کر گئی، جسے دیکھ کر جناب موسیٰؑ خوف زدہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کو عصا اٹھانے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ دوبارہ اپنی شکل میں واپس آ جائے گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کو

فرعون کے سامنے جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار میرے سینے کو کھول دے، میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کر دے، تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہل خانہ میں سے ہارونؑ کو میرا وزیر بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی دعا کو قبول کیا اور ہارونؑ کو آپ کا نائب بنا دیا۔ آپ، دربارِ فرعون میں آئے تو فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کیلئے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے وہ لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں، آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جناب موسیٰؑ کا ذہن علم و حکمت سے پُر تھا آپ نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گمراہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تباہ و برباد کر دیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا۔ جب جناب موسیٰؑ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو قوم موسیٰ نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ موسیٰؑ جب واپس پلٹے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا ہوا دیکھ کر انتہائی غضبناک ہوئے اور جناب ہارون سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ جناب ہارونؑ نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ کہیں یہ لوگ منتشر نہ ہو جائیں۔

جناب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگا کر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور اس جھوٹے معبود کی بے بسی اور بے وقعتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کر دیا۔

17. سترہویں پارے کا خلاصہ

سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیا سے ہوتا ہے اور سورہ حج شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے، لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتلایا کہ اگر کسی شے کا علم نہ ہو تو اہل علم سے اس بارے میں سوال کر لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی کے ساتھ زندہ کیا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتے ہیں۔ جب حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکر کرنا چاہیے اور جب حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے۔

اس پارے میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزان عدل قائم کریں گے، اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہو گی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا، وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہو گی۔ سورہ انبیا میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیمؑ کی جوانی کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں، جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا: ہم نے اپنے باپ اور داداؤں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ تم اور تمہارے باپ کھلی گمراہی میں تھے۔ انہوں نے کہا: کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمہارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے، جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں، اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کے خلاف ضرور کار روائی کروں گا۔ پس ابراہیمؑ نے ان کی عدم موجو گی میں بت کدے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے تو انہوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا۔ انہوں نے کہا: جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے، وہ یقیناً ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے کہا، ہم نے ابراہیم علیہ السلام نامی ایک نوجوان کو ان بتوں کے بارے میں باتیں کرتے سنا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اسے سب کے سامنے لاؤ، تاکہ لوگ اسے دیکھیں۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابراہیم، کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے؟ انہوں نے کہا: اس بڑے بت نے یہ کیا ہے، اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو، پھر انہوں نے اپنے دل میں اس بات پر غور کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے حقیقت میں تم لوگ ظالم ہو، پھر حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری ہو گئے اور کہنے لگے کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ جناب ابراہیمؑ نے کہا: تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر، جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ اس دعوت توحید پر بستی کے لوگ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ابراہیم کو جلادو اور اگر اپنے معبودوں کی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ ابراہیمؑ کو جلانے کے لیے چتا کو بھڑکایا گیا۔ جب چتا بھڑک اٹھی تو ابراہیمؑ نے دعا مانگی "حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل” ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اس پر اللہ نے کہا: اے آگ! تُو ابراہیم، پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے جناب ابراہیمؑ کے خلاف سازش کرنی چاہی تو ہم نے انہیں بڑا خسارہ پانے والا بنا دیا۔

پھر اللہ نے جناب داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت کا اور ایوب علیہ السلام کے صبر کا ذکر کیا کہ آپ شدید بیماری کے باوجود اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کی دعا قبول کر کے آپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دیا۔ جناب یونسؑ کے واقعے کا بھی ذکر ہے کہ آپ جب غم کی شدت سے دوچار تھے تو آپ نے پروردگار عالم کو ندا دی کہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی ذات پاک ہے اس تکلیف سے جو مجھ کو پہنچی ہے اور بے شک یہ تکلیف مجھے اپنی وجہ سے آئی ہے” تو اللہ نے جناب یونسؑ کی فریاد سن کران کے دکھوں کو دور فرما دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرما دیا کہ جو کوئی بھی حالت غم میں جناب یونسؑ کی طرح اللہ کی تسبیح کرے گا تو اللہ جناب یونسؑ ہی کی طرح اس کے غم کو دور فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے منصب کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔

سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہے۔ اور اس زلزلہ کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو پرے پھینک دے گی اور لوگ حالت نشہ میں نظر آئیں گے، جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے بدر کے معرکے کا بھی ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے اور یہ جنگ نسل، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیمؑ کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرایئے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کریں، تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آئیں۔ وہ اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد کو حاصل کر سکیں اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کریں، جو اللہ نے بطور روزی انہیں دیے ہیں۔ پس، تم لوگ اس کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودان باطل کو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے اگر مکھی ان سے جبراً کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں پلٹا سکتے۔

18. اٹھارہویں پارے کا خلاصہ

اٹھارہویں پارے کا آغاز سورۂ مومنون سے ہوتا ہے، سورة النور اور سورة الفرقان آیت 20 تک۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے، جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وہ مومن کامیاب ہوئے، جنہوں نے اپنی نمازوں میں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا، جنہوں نے لغویات سے اجتناب کیا، جو زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں، جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں۔ جو صاحب ایمان ایسا کرے گا، وہ فردوس کا وارث بن جائے گا” ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کافروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا تو وہ چیخ پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا، آج چیخ پکار مت کرو بے شک ہمارے مقابلے میں کسی طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ ہماری آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تو تم ایڑیوں کے بل بھاگ پڑتے تھے۔ تکبر کرتے اور اپنی رات کی محفلوں میں اس قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے۔

اللہ تعالیٰ کافروں کی غفلت اور سرکشی کو اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا انہوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آ گئی ہے، جو ان کے آباء کے پاس نہیں آئی یا انہوں نے اپنے رسولﷺ کو پہلے سے نہیں پہچانا، جو ان کا انکار کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو واضح فرما رہے ہیں کہ رسول کریمﷺ کی سابقہ زندگی ان کے سامنے ہے، اس لیے ان کو صادق اور امین رسول کا انکار نہیں کرنا چاہیے اور صرف اس وجہ سے قرآن کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ان کے آباء و اجداد کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ان کو حق پر مبنی دعوت پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی اس وحی کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ در حقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع ہو جائے، حالانکہ اگر وحی کو ان کی خواہشات کے تابع کر دیا جائے تو آسمان و زمین میں موجود ہر چیز فساد کا شکار ہو جائے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کر دیا ہے اور انہوں نے ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آنا؛ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوبارہ پیش ہوں گے اور ان کو اپنے کئے کا جواب دینا ہو گا۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا۔ سورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے فحاشی کی روک تھام کیلئے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ زانی اور زانیہ (غیر شادی شدہ) کو ایک سو کوڑے مارنے چاہئیں:

یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، شاید کہ تم سبق لو (1) زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے (سورة النور 2: 24)

اللہ تعالیٰ نے پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے کی مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہوں کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگنے چاہئیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہیں کرنی چاہیے اور ان کا شمار فاسقوں میں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ نے سورت نور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اظہار فرما دیا اور قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو ازواج مطہرات کی حرمت اور ناموس کے بارے میں باخبر کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بھی سمجھایا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے اور اگر کوئی کسی کی کردار کشی کرے تو سننے والے کو فوراً سے پہلے کردار کشی کو بہتان سے تعبیر کرنا چاہیے اور اس بات کو سمجھ جانا چاہیے کہ اگر کسی واقعہ پر چار گواہ موجود نہ ہوں تو الزام تراشی کرنے والا اللہ کی نظروں میں جھوٹا ہے۔ معاشرے میں برائی کی روک تھام کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے اور مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کے ساتھ ساتھ پردہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے اپنی زینتیں چھپانے کا حکم دیا۔

اللہ تعالیٰ نے غیر شادی شدہ مرد کی شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کو غنی فرما دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے کہ جو تجارت اور سودا گری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہو تے۔

اللہ تعالیٰ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسولﷺ کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور صحیح کامیابی انہیں صاحب ایمان لوگوں کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ جو ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین پر خلافت عطا فرمائیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے سابقہ اہل ایمان کو خلافت ارضی سے نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو اپنے نبیؐ ہی کی حیات مبارکہ میں پورا فرما دیا اور سر زمین حجاز پر آپ کی حکومت کو قائم کر دیا اور آپؐ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کو بھی خلافت سے بہرہ ور فرما دیا اور خلفائے راشدین کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہا، یہاں تک کہ ایمان کی کمی اور بد عملی کی شدت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حاکم سے محکوم اور غالب سے مغلوب کر دیا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا کہ ان اوقات ممنوعہ میں کسی کے گھر جانا درست نہیں۔ ایک وقت عشاء کے بعد دوسرا فجر سے پہلے اور تیسرا ظہر کے بعد۔ ان تین اوقات میں کسی کے گھر جانا درست عمل نہیں ہے۔ ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لے کر ملاقات کرنے کیلئے جا سکتا ہے۔

اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کے احکامات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ رسولﷺ کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں، ان کو ڈر جانا چاہیے کہ کہیں وہ دنیا میں فتنے کا نشانہ نہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے بعد سورہ فرقان ہے، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے، وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا، تا کہ وہ دنیا والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں۔ فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نیکی اور بدی، ہدایت اور گمراہی، شرک اور توحید، حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو فرقان کہہ کر پکارا ہے۔

19. انیسویں پارے کا خلاصہ

انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان آیت 21 سے ہوتا ہے، سورۃ الشعراء اور اختتام سورة النمل آیت 55 پر۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول اللہﷺ کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آ جانے کے بعد اس سے غافل کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔

سورہ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم ہود، قوم ثمود اور قوم لوط پر آنے والے عذاب کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ ان تمام اقوام نے تمام نبیوں کی تکذیب کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے کسی ایک نبی کی تکذیب کرتا ہے وہ کسی ایک کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ تمام انبیاء علیہ السلام کی تکذیب کرتا ہے۔

سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ سابقہ انبیاء نے اپنی قوموں کے لوگوں سے اپنی دعوت کے بدلے کسی اجر کو طلب نہیں کیا بلکہ وہ سب اس دعوت کے بدلے جہانوں کے پروردگار سے اجر کے طلبگار تھے۔ لیکن یہ ان کی قوم کے لوگوں کی ناعاقبت اندیشی تھی کہ انہوں نے خلوص کے ساتھ دی جانے والی دعوت کو نظر انداز کر دیا اور ان کی مخالفت پر تلے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی تائید اور نصرت فرمائی اور ان نافرمانوں کو نشانِ عبرت بنا دیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو انہیں پوجتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھلایا، جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ جو مجھے امراض سے شفا عطا فرماتا ہے، جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی جیسی خوبصورت اور واضح زبان میں اتارا اور اس کو جبرائیل امین رسول اللہﷺ کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرا سکیں اور کہا کہ اس کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی شیطان اترتا ہے۔ وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اور صرف باتیں بنانے میں معروف رہتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے اور ایمان کے بعد انہوں نے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔

سورۃ الشعراء کے بعد سورة النمل ہے۔ سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے مثال معجزات عطا فرمائے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان علیہ السلام کو علم کی نعمت سے مالا مال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جناب داؤد علیہ السلام کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی باتیں سمجھنے کی قوت بھی عطا فرمائی اور اس کے ساتھ ساتھ جنات، انسانوں اور ہواؤں پر حکومت دی تھی۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ جناب سلیمان علیہ السلام اپنے دربار میں جلوہ افروز تھے کہ آپ نے ہدہد کو غائب پایا۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان نہ کی تو میں اس کو شدید عذاب دوں گا یا اس کو ذبح کر دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ہدہد آیا تو اس نے کہا کہ جناب سلیمان علیہ السلام! آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جبکہ انہیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جناب سلیمانؑ اس ملکہ کے نام خط لکھتے ہیں۔ ملکہ خط کو پاتی ہے تو جناب سلیمان علیہ السلام کو تحفے تحائف بھجوا دیتی ہے۔ جناب سلیمان علیہ السلام تحفوں کو دیکھ کر کہتے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ اپنے درباریوں کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کو تخت کے سمیت میرے دربار میں لے کر آئے، اس پر ایک بہت بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کو تخت کے سمیت یہاں لا سکتا ہوں۔ اس پر ایک ایسا شخص کھڑا ہوا جس کے پاس کتاب کا علم تھا اور وہ اللہ کے اسمائے اعظم کا علم رکھنے والا تھا۔ اس نے کہا میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے حاضر کر دوں گا۔ آناً فاناً تخت وہاں آ گیا۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کے تخت میں تبدیلی کر کے ملکہ سے پوچھا کیا یہ تمہارا ہی تخت ہے تو جواب میں ملکہ نے کہا ہاں یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس کے بعد جناب سلیمانؑ نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی۔ اس حصے کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھ کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ کو شیشے کے فرش سے گزرنے کے لیے کہا تو ملکہ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ کہیں اس کی ٹانگیں گیلی نہ ہو جائیں۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے کہا: ملکہ یہ فرش شیشے کا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے ملکہ کو جتلایا کہ تم پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جناب سلیمان علیہ السلام اصل میں ملکہ کو بتلا رہے تھے کہ اسی طرح تم سورج کی روشنی اور اللہ تعالیٰ کے نور میں بھی فرق نہیں کر سکی۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ ملکہ نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتلاتا ہے کہ ہمیشہ دین کی دعوت حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے۔

20. بیسویں پارے کا خلاصہ

بیسویں پارے کا آغاز سورۃ نمل سے ہوتا ہے۔ شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحید کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کے سوا کون ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا؟ اور آسمان سے پانی کو اتارا؟ جس کی وجہ سے مختلف قسم کے باغات اُگتے ہیں اور فرمایا کون ہے جس نے زمین کو قرار دیا ہے؟ اور اس میں پہاڑوں کو لگایا اور اس میں نہروں کو جاری فرمایا؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی الٰہ ہے۔ پھر پوچھا، اللہ کے سوا کون ہے جو بے قراری کی حالت میں کی گئی دعاؤں کو سننے والا ہو اور جو تکلیف پہنچتی ہے اس کو دور فرمانے والا ہو۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو خشکی اور رات کی تاریکیوں میں انسانوں کی رہنمائی فرمانے والا ہے اور کون ہے جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجنے والا ہو، کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے جو تخلیق کا آغاز کرنے والا ہو اور دوبارہ اس کو زندہ کرنے والا ہو اور کون ہے جو زمین و آسمان سے رزق عطا فرمانے والا ہو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔

سورہ نمل کے بعد سورہ قصص ہے۔ سورہ قصص میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ فرعون ایک برس بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرواتا اور ایک سال ان کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ جناب موسیٰؑ اس سال پیدا ہوئے جس سال فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کی والدہ کو وحی کے ذریعے ڈھارس بندھائی اور فرمایا جب خدشہ ہو کہ فرعون کے ہرکارے آ پہنچے ہیں تو انہیں جھولے میں لٹا کر سمندر کی لہروں کی نذر فرما دیں۔ جناب موسیٰؑ کی والدہ نے ایسے ہی کیا۔ سمندر کی لہروں نے جھولے کو فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔ فرعون کی اہلیہ جناب آسیہ نے جھولے میں ایک خوبصورت بچے کو آتے دیکھا تو فرعون سے کہا کہ اسے قتل نہ کریں یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گا، ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے اور یہ ہمارے لیے نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔ ادھر موسیٰؑ کی بہن بھی جھولے کے ساتھ ساتھ فرعون کے محل تک پہنچ گئیں، چنانچہ بچے کو دودھ پلانے کی تلاش ہوئی تو اس لمحے جناب موسیٰؑ کی بہن آگے بڑھیں اور کہنے لگیں کہ کیا میں آپ کو ایک ایسے خانوادے سے آگاہ نہ کروں جو آپ کے لیے اس بچے کی کفالت کر دے۔ فرعون آمادہ ہو گیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو اُن کی والدہ سے ملا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب منظر ہے کہ دشمن، موسیٰؑ کی والدہ کو دودھ پلانے کی اجرت دے رہا تھا۔

جب جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو علم و حکمت سے بہرہ ور فرما دیا۔ ایک دن جناب موسیٰؑ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ فرعون کے قبیلے کا ایک آدمی بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے آدمی نے جب موسیٰؑ کو دیکھا تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی دہائی دی۔ جناب موسیٰ نے بنی اسرائیل کے آدمی کی حمایت میں فرعونی کو ایسا گھونسا رسید کیا کہ وہ ڈھیر ہو گیا۔ یقیناً یہ قتل سہو تھا۔ آپؑ نے پروردگار عالم سے توبہ و استغفار کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا: اگلے دن پھر وہ ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے تو وہی بنی اسرائیلی کسی اور سے گتھم گتھا تھا، حضرت نے اُس کی مدد کے لیے ہاتھ اٹھایا، تو وہ سمجھا کہ آپ اُسے مارنے لگے ہیں۔ اس ہڑبڑاہٹ میں اس نے کل کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اسی اثنا میں موسیٰؑ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ فرعون کے ہرکارے ان کو تلاش کر رہے ہیں۔ آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی رہنمائی کی اور ان کو مدین کے گھاٹ پر پہنچا دیا۔ موسیٰؑ مدین کے گھاٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ پانی نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں اور وہاں پر دو لڑکیاں بھی پانی لینے آئی تھیں لیکن رش کی وجہ سے پانی لینے سے قاصر تھیں۔ جناب موسیٰؑ نے ان کے لیے پانی نکالا اور ایک طرف ہٹ کر سائے میں بیٹھ گئے۔ بھوک اور پیاس محسوس کی تو پروردگار عالم سے دعا مانگی اے میرے پروردگار تو میری جھولی میں خیر کو ڈال دے۔ دعا مانگنے کی دیر تھی کہ یکا یک انہی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی انتہائی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی جناب موسیٰ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ جو آپ ہمارے کام آئے ہیں اس کا آپ کو صلہ دیا جا سکے۔ جناب موسیٰؑ مدین کے بزرگ شخص (بعض مفسرین کے مطابق حضرت شعیبؑ) کے پاس پہنچے۔ آپ نے ان کو اپنے حالات سے آگاہ کیا تو جناب شعیبؑ نے کہا کہ آپ میرے پاس رہیں اور آپ نے جناب موسیٰؑ کی شادی بھی اپنی بیٹی سے کر دی۔ دس برس کے بعد جناب موسیٰؑ نے وطن واپسی کا ارادہ کیا۔ راستے میں طور پہاڑ کے پاس سے گزرے تو دور سے آگ جلتی نظر آئی، اہلیہ سے فرمانے لگے کہ تم ذرا ٹھہرو میں طُور پہاڑ سے آگ لے کر آتا ہوں کہ اس سے سردی اور ٹھنڈ دور ہو جائے گی۔ جب طور پر پہنچے تو خالق کائنات نے آواز دی، اے موسیٰؑ !میں اللہ عزیزو حکیم ہوں۔ اس موقع پر آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نواز دیا اور آپ کے عصا کو معجزاتی عصا اور آپ کے ہاتھ کو نورانی بنا دیا۔ جناب موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ اے پروردگار ! میرے بھائی ہارونؑ کو بھی نبوت عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی یہ دعا بھی قبول کی۔ جناب موسیٰؑ فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ موسیٰؑ نے ہر طرح اس کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کے لشکریوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں پچھلی قوموں اور افراد کا ذکر کیا ہے جنہوں نے وقت کے حاکموں کے ظلم اور استبداد کی پروا نہ کی اور اللہ کی توحید پر بڑی استقامت کے ساتھ کاربند رہے اور اپنے ایمان کے دعوے کو عمل سے ثابت کیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اسی طرح مشرک غیر اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی پکار میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ بے شک ان کے نظریات مکڑی کے کمزور گھروں کی طرح ہوتے ہیں۔

21. اکیسویں پارے کا خلاصہ

اکیسویں پارے کا آغاز سورہ عنکبوت آیات ۴۶ سے ہوتا ہے اور اختتام سورة الأحزاب آیت ۳۰ پر۔ اللہ تعالیٰ حبیبؐ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے، اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، بیشک نماز فحاشی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ پہلے سے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، ورنہ اہل باطل شک کرتے۔ اللہ کے حبیب نے کسی مکتب یا مدرسے سے تعلیم حاصل نہیں کی؛ اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو اہلِ باطل کے شک میں کوئی وزن ہوتا، لیکن آپﷺ کا بغیر کسی سابقہ تعلیم کے قرآن مجید جیسی کتاب کو پیش کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ کے نبی اور اس کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ واضح آیات ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل علم کے سینوں میں محفوظ فرما دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی آیات سے جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بد اعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی پر ہوتے ہیں تو وہ شرک کا ارتکاب اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، جو لوگ میرے راستے میں جد و جہد کرتے ہیں میں ان کو اپنا راستہ ضرور دکھاؤں گا اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ سورہ عنکبوت کے بعد سورہ روم ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب روم کے اہلِ کتاب کو ایران کے آتش پرستوں سے شکست ہوئی۔ کفار مکہ ایرانیوں کی اس فتح پر دلی طور پر بہت خوش تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مومنوں کی دل جوئی کیلئے اس امر کا اعلان فرمایا کہ اہل روم مغلوب ہو گئے، قریب کی سرزمین (شام) میں اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند ہی سالوں میں غالب آئیں گے۔ پہلے بھی ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کے پاس تھا اور بعد میں بھی صرف اسی کے پاس رہے گا اور اس دن مومن خوش ہو جائیں گے۔

جب ان آیات کا نزول ہوا مشرکین مکہ نے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو نا ممکن خیال کیا۔ ابی بن خلف تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرط لگانے پر اتر آیا کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ کافر اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اختیارات سے نا واقف تھے، اس لیے کہ ان کی نگاہ صرف ظاہری حالات پر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت سے ایک سال قبل ایرانیوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور 2 ہجری میں ایرانیوں کا سب سے بڑا آتشکدہ بھی رومی فتوحات کی لپیٹ میں آ گیا اور اسی سال بدر کے معرکے میں مسلمانوں کو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا اور مسلمانوں کی خوشیاں دو چند ہو گئیں کہ رومیوں کی فتح کی اچھی خبر سننے کو مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی کافروں کے مقابلے میں فتحیاب فرما دیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے اللہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔

سورہ روم کے بعد سورہ لقمان ہے۔ سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ، نمازیں قائم کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ بعض لوگ لغو باتوں کی تجارت کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے ذلت والے عذاب کو تیار کر دیا ہے۔ سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان کا ذکر کیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے دانائی سے نوازا تھا۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کچھ قیمتی نصیحتیں کی تھیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹے شرک نہ کرنا، شرک بہت بڑا ظلم ہے اور اپنے بیٹے کو والدین کی خدمت کی بھی تلقین کی، نیز اللہ کے علم کی وسعتوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی چٹان کے اندر یا آسمان و زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی سامنے لائے گا۔ بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کو یہ بھی حکم دیا کہ اے میرے بیٹے !نماز قائم کر، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روک اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔ بے شک یہ بڑی ہمت والے اور ضروری کام ہیں۔ آپ نے اپنے بیٹے کو مزید یہ نصیحت کی کہ لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر (یعنی بے رُخی) اور زمین پر اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ تعالیٰ اکڑ کر چلنے والے متکبرین کو پسند نہیں کرتا، اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست رکھ۔

اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے غیب کی ان پانچ باتوں کا ذکر کیا ہے، جن کو صرف وہ جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بے شک اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ جانتا ہے، بارش کب ہو گی اور وہ جانتا ہے جو ماں کے رحم میں ہے اور کسی نفس کو نہیں پتا کہ وہ کل کیا کر سکے اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے۔ اس کے بعد سورہ سجدہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اس نے ملک الموت کی ڈیوٹی انسانوں کی ارواح قبض کرنے پر لگائی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کر تے ہوئے بتلایا کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا اہتمام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بتلایا ہے کہ مومن اور گناہ گار برابر نہیں ہو سکتے۔ مومن کا مقدر جنت، جبکہ سرکشی اور نافرمانی اختیار کرنے والے کا مقدر جہنم کے انگارے ہیں۔

سورت سجدہ کے بعد سورہ احزاب ہے۔ سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے جنگ خندق کا ذکر کیا ہے کہ جس میں کافروں کی افرادی قوت دیکھ کر منافقین کے دلوں پر ہیبت طاری ہو گئی تھی، جبکہ اہل ایمان پوری استقامت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ چوبیس ہزار کے لشکر جرار نے مدینے پر حملہ کیا۔ رسول کریمﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کے علاوہ سترہ سو یہودی حلیف تھے۔ سترہ سو حلیف اتنی بڑی فوج کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ اب رسول کریمﷺ کے ہمراہ صرف جانباز مسلمانوں کی ایک مختصر جماعت تھی۔ مسلمانوں نے جب اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے تیز آندھیوں اور فرشتوں کی جماعتوں کے ذریعے اہل ایمان کی مدد فرمائی اور کافر کثرت تعداد اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ذلت اور شکست سے دوچار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم حساب کی آمد کا یقین ہے، اس کیلئے رسول کریمﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ رسول کریمﷺ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں اور گھریلو زندگی، سماجی زندگی، انفرادی زندگی، اجتماعی زندگی میں ان کی ذات ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

22. بائیسویں پارے کا خلاصہ

بائیسویں پارے کا آغاز سورہ احزاب آیات ۳۱ سے ہوتا ہے اور اختتام سورة یس آیت ۲۷ پر ہوتا ہے۔ سورہ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی امہات المومنین میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے گا اور نیک اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دُگنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق کو تیار کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو نرم آواز سے بات نہ کیا کریں تاکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ ان کی آوازوں کو سن کر طمع نہ رکھے اور معروف طریقے سے بات کریں۔ اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی کہ وہ اپنی گھروں میں مقیم رہیں اور جاہلیت کی بے پردگی اور بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کریں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نبی کے گھر والوں سے ناپاکی کو دور کر دیا جائے اور ان کو پاک صاف کر دیا جائے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے منہ بولے بیٹے کے مسئلے کو بھی واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کریں اور صبح شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا کریں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو کہہ دیں کہ وہ جلباب اوڑھا کریں۔ جلباب سے مراد ایک ایسا لباس ہے، جس نے عورت کو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ڈھانکا ہو اور صرف ایک آنکھ نظر آ رہی ہو اور اس لباس کا مقصد یہ تھا کہ وہ پہچان لی جائیں اور کوئی ان کو تنگ نہ کرے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حوالے سے بتلا یا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو جہنمیوں کو اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس موقع پر جہنمی یہ کہیں گے کہ اے کاش !ہم نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات مانی ہوتی اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی بات مانی، پس انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ان کو دُگنا عذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات کی نصیحت کی ہے کہ اے ایمان والو !تم ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات سے ان کی برأت ظاہر کر دی اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والے تھے۔ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نبی کی تکریم کریں اور آپ کی ذات کا ہر ممکن دفاع کریں۔ اس سورت میں سچی بات کہنے کے فوائد بھی بتلائے گئے کہ اگر بات سیدھی کی جائے تو معاملات سنور جاتے ہیں اور اللہ حق گو شخص کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

سورۃ الاحزاب کے بعد سورہ سبا ہے۔ سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس کیلئے آسمان و زمین میں موجود سب کچھ ہے اور اس کی حمد آخرت میں ہے اور وہ باخبر حکمت والا ہے۔ وہ جانتا ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ رحمت کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب داؤد اور سلیمان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب داؤد کیلئے پہاڑ اور پرندوں کو مسخر فرما دیا اور لوہے کو ان کے ہاتھوں میں نرم کر دیا تھا اور جناب سلیمان کیلئے مہینے کے سفر پر آنے جانے والی ہواؤں کو مسخر فرما دیا تھا اور جنات کو ان کے احکامات کے تابع کر دیا تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا ذکر کیا ہے کہ یقیناً سبا والوں کیلئے ان کے مقام رہائش میں نشانی تھی کہ ان کے دائیں اور بائیں دو باغ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو کہ پاکیزہ شہر ہے اور گناہوں کو معاف کرنے والا رب ہے، لیکن انہوں نے رو گردانی کی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے ان پر ایک سخت امڈتا ہوا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغوں کو بد مزہ پھل، جھاؤ اور کچھ بیری والے باغوں میں بدل دیا ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم صرف ناشکروں کو ایسا بدلہ دیتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو جمیع انسانیت کیلئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، مگر لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی۔

سورہ سبا کے بعد سورہ فاطر ہے۔ سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ تمام تعریفیں زمین اور آسمان بنانے والے اللہ کیلئے ہیں۔ اس نے فرشتوں میں سے بھی رسول چنے ہیں، بعض فرشتے دو پروں والے بعض تین اور بعض چار پروں والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی خلقت میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ جناب جبرائیل امینؑ کو، جو فرشتوں کے سردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے چھ سو پر عطا فرمائے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان گمراہ لوگوں کا ذکر کیا کہ جن کو ان کے غلط اعمال بھی اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی رحمتؐ کو دلاسہ دیتے ہیں کہ آپ ان اعمال پر حسرت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کو پتا ہے، جو یہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، دنیا میں جتنی عورتیں حاملہ ہوتیں اور جتنی بچوں کو جنتی ہیں اور جو کوئی بھی بوڑھا ہوتا ہے اور جس کی عمر کم ہوتی ہے، اللہ کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دھوپ اور چھاؤں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے رہے ہیں کہ جو شخص ہدایت کے راستے پر ہو وہ گمراہ انسانوں کے برابر نہیں ہوتا۔

سورہ فاطر کے بعد سورہ یٰس ہے۔ سورہ یٰس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا بے شک محمدؐ رسولوں میں سے ہیں اور ان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کافر ہیں ان کو ڈرایا جائے یا نہ ڈرایا جائے، ان کے لیے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ رسول کریمؐ اس کو ڈراتے ہیں، جو کہ قرآن مجید کی پیروی کرتا اور اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اختیار کرنے والا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کا ذکر کیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو رسولوں کو بھیجا لیکن بستی والوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے تیسرے رسول سے اُن کی تائید کی۔ ان رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں، جس پر بستی والوں نے کہا کہ رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور (معاذاللہ) تم جھوٹ بول رہے ہو۔ دریں اثنا بستی کے پرلے مقام سے ایک شخص دوڑتا آیا اور قوم کو مخاطب کر کے کہا: اے میری قوم کے لوگو! ان (یہ تینوں اللہ کے رسول ہیں) کی پیروی کرو وہ تم سے کچھ بھی طلب نہیں کر رہے اور وہ ہدایت پر ہیں، پھر کیا ہوا، یہ سب کچھ تئیسویں پارے میں بیان ہو گا۔

23. تئیسواں پارے کا خلاصہ

تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰس آیت 28 سے ہوتا ہے اور سورہ الزمر آیت 31 پر اختتام۔ بائیسویں پارے میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مرد مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی پوجا کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف مجھ کو پلٹ کر جانا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ اگر مجھے کوئی نقصان پہچانا چاہیں تو وہ میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے۔ بستی والوں نے اس کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اس کو شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جبکہ ہماری ہڈیاں چور چور ہو چکی ہوں گی۔ فرمایا کہ وہی ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جس نے پہلی مرتبہ ان کو پیدا کیا تھا اور اس کو ہر قسم کی تخلیق کی پوری خبر ہے۔

اس کے بعد سورۃ الصافات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی تخلیق کے مقاصد واضح کیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے ذریعے آسمان کو زینت عطا کی اور ان میں سے بعض ستاروں کو اللہ تعالیٰ آسمان کی خبریں چوری کرنے والے شیاطین کو مارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں، پھر جناب ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جناب اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہارے گلے پر چھری چلا رہا ہوں، اب بتاؤ کہ تمہاری رائے کیا ہے۔ جناب اسماعیلؑ نے جواب میں کہا: بابا آپ وہ کام کریں، جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ جب ابراہیمؑ نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو پکارا کہ آپ نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول فرما کر جہاں اخروی جزا کو ان کا مقدر بنا دیا، وہیں پر رہتی دنیا تک کے لیے بھی آپ کی قربانی کو ایک مثال بنا دیا۔ اسی سورت میں جناب یونس علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ رسولوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک لاکھ افراد کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ جناب یونسؑ جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کثرت سے تسبیح کی، جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتلاتے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ان عیبوں سے جو مشرک اس سے جوڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا سلام ہو رسولوں پر اور اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے، جو پروردگار ہے جہانوں کا۔

اس کے بعد سورہ صٓ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جناب رسول کریمﷺ کی دعوت پر اعتراض کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے الہ واحد کی عبادت کا درس دیا اور باقی تمام معبودوں کی نفی کی اور یہ بات مشرکین کو کسی طور گوارا نہیں تھی، پھر جناب داؤد علیہ السلام کی حکمت اور قوتِ بیان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرزند جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے پروردگار عالم سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار مجھ کو بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی دوسرے کے نصیب میں نہ آئے، بیشک تو بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو ایسی سلطنت عطا فرمائی کہ جنات اور ہواؤں کو آپ کے تابع فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت زیادہ انعامات کیے، لیکن آپ اس تمام انعام و اکرام کے باوجود اللہ کی بندگی میں مشغول رہے اور اپنی توانائیوں کو اللہ کی توحید کی نشر و اشاعت کیلئے لگاتے رہے اور جب بھی کبھی آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ کہیں اللہ کی ذات کے ساتھ شرک ہو رہا ہے تو آپ اس مقام تک رسائی حاصل کرتے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے۔ سبا کی ملکہ سے آپ کے تنازعے کا اصل سبب یہی تھا کہ سبا کے لوگ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے ملکہ سبا کو اپنے دربار میں حاضر کر کے توحید کی دعوت دی، جس کو اس نے قبول کر لیا۔

اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی بیماری اور شفا کا بھی ذکر کیا۔ جناب ایوب علیہ السلام طویل عرصہ تک بیمار رہے اور اس بیماری نے آپ کو بے بس کر دیا۔ جناب ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی کہ اے پروردگار، شیطان مجھے تکلیف دے رہا ہے، آپ مجھ پر رحم فرمائیں، بے شک آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی تمام تکلیفوں کو دور فرما دیا۔

اس کے بعد سورہ الزمر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکؐ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ پس، آپ مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مددگار تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان اختلافات کا فیصلہ وہ خود فرمائیں گے اور بے شک وہ جھوٹ بولنے والے گمراہوں کو کچھ ہدایت نہیں دیتے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کو تین اندھیروں میں سے پیدا فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقی گھاٹا ان لوگوں کیلئے ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں گھاٹا دیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو آگ کا عذاب سہنا ہو گا اور ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ایسے کمرے ملنے والے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا، وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو کھلی گمراہی میں ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اُس نے بہترین بات کو نازل کیا، جس کے مضامین میں ہم آہنگی اور تکرار بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر ان کے رونگٹے اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے کوئی اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔

24. چوبیسویں پارے کا خلاصہ

چوبیسویں پارے کا آغاز سورت زمر آیات ۳۲ سے ہوتا ہے اور اختتام سورة فصلت آیت ۴۶ پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا، جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اسے پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔ جھوٹ باندھنے والے لوگوں میں وہ تمام گروہ شامل ہیں، جنہوں نے اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کیا۔ کفار مکہ نے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو، جبکہ یہودیوں نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اقرار دے دیا۔ یہ تمام کے تمام گروہ اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو کافروں کے لیے مقرر فرما دیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ سچائی کی دعوت لے کر آئے اور جس نے آپ کی تصدیق کی وہ اہلِ تقویٰ ہیں اور ان لوگوں کے لیے پروردگار عالم کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو وہ چاہیں گے۔ رسول کریمؐ اس پر رنجیدہ ہو جاتے کہ آپ کافروں کو صراط مستقیم کی دعوت دیتے اور وہ آپ کی حق پر مبنی دعوت کو ٹھکرا دیتے تھے۔ اس پر اللہ نے کہا کہ جو ہدایت کو قبول کرے گا تو وہ اپنے فائدے کے لیے کرے گا اور جو کوئی گمراہ ہو گا اس کا نقصان اسی کی ذات کو ہو گا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے میرے بندو! جو اپنی جانوں پر ظلم کر چکے ہو میری رحمت سے نا امید نہ ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ سب گنا ہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی منظر کشی کی کہ قیامت کے دن تمام زمین اللہ کی مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب صور میں پھونک ماری جائے گی تو آسمان اور زمین میں جتنے رہنے والے ہیں سب بے ہوش ہو جائیں گے۔ سوائے ان کے، جنہیں اللہ چاہے گا۔ پھر دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی اور تمام اعمال نامے رکھے جائیں گے اور انبیا اور شہدا لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔

سورۃ الزمر کے بعد سورۃ مومن ہے، جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تذکرہ کیا ہے کہ عرشِ عظیم کو اٹھانے والے فرشتے اور جو فرشتے اس کے ارد گرد جمع ہیں، سب اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، ایمان والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب !تُو نے اپنی رحمت اور علم کے ذریعے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے، پس تو ان لوگوں کو معاف کر دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی اور تو انہیں جہنم کے عذاب سے نجات دے۔ اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں داخل فرما، جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے ہمراہ ان کے ماں باپ، بیویوں اور اولادوں میں سے ان لوگوں کو بھی داخل فرما، جو نیکی کی راہ پر چلے ہوں، بے شک تو زبردست حکمتوں والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ کافروں کے علاوہ کوئی نہیں ہوتے اور زمین پر ان کے ٹھاٹ باٹھ اور شاہانہ انداز زندگی دیکھ کر انسان کو گمراہ نہیں ہونا چاہیے۔

اس سورت میں قیامت کی ہولناکیوں کا بھی ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شدید غضبناک ہوں گے اور تکرار سے یہ آواز بلند فرمائیں گے کہ "آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟” اور پھر خود ہی جواب دیں گے کہ "اللہ واحد و قہار کی بادشاہی ہے۔” اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس عزم کا بھی ذکر کیا کہ اس نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا ارادہ کیا، تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اپنے اور تیرے پروردگار کی پناہ طلب کرتا ہوں، ہر اس متکبر کے شر سے جو یوم حساب پر یقین نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے قبیلے کے ایک مومن شخص کا بھی ذکر کیا ہے جو دربار فرعون میں ایک اعلیٰ منصب پر فائز تھا اور اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتا تھا، لیکن جب فرعون نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تو اس صاحب ایمان شخص کیلئے یہ بات نا قابل برداشت ہو گئی اور اس نے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اعلانیہ حمایت کی اور اپنے ایمان کا بر ملا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کے ایمان کو قبول کر لیا اور اس کو فرعون کے مکر سے نجات دلا دی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم مدد کریں گے اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی اور جب قیامت قائم ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا۔ بے شک وہ لوگ جو اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں، ان کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔

سورہ مومن کے بعد سورہ حم السجدہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ رسول کریمؐ لوگوں کو ڈرائیں اور ان کو بشارت دیں، مگر لوگوں کی اکثریت قرآن مجید کی دعوت سے اعراض کر لیتی ہے اور کہتی ہے، ہمارے کان اور دل آپ کی دعوت کو سننے اور ماننے سے قاصر ہیں۔ یہ کافروں کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کھلی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے لوگ مشرک اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں، ان کے مدمقابل جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کرنے والے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے اجر کو تیار کر دیا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد و ثمود پر آنے والے عذابوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور انہوں نے اس پر استقامت کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کے وقت فرشتوں کا نزول فرمائے گا اور فرشتے ان کو کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ، تم کو جنت کی بشارت دی جاتی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

25. پچیسویں پارے کا خلاصہ

پچیسویں پارے کا آغاز سورة فصلت آیت 46 سے ہوتا ہے اور اختتام سورة الجاثیة آیت 37 پر۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر اگنے والے پھل کا علم اس کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ، چونکہ خود بنانے والے ہیں، اس لیے اس سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور اپنی ذاتوں میں بھی، یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے۔ اس کے بعد سورۃ الشوریٰ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ فرشتے اپنے رب کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والے اہل ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان ہیں کہ اس کے نورانی فرشتے جہاں اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، وہاں اللہ کے حکم سے اہل ایمان کے لیے دعائے مغفرت بھی کرتے ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آپؐ پر قرآن عربی کی وحی کی ہے، تاکہ آپؐ ام القریٰ اور اس کے گرد بسنے والوں کو ڈرائیں اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیں، جس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں۔ رسول اللہﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے وہ سب کے سب اپنی بستیوں اور اپنے علاقوں کے لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو جمیع انسانیت کا رہنما بنا دیا اور آپ کی دعوت مکہ مکرمہ سے شروع ہوئی، جو کہ بستیوں کی ماں ہے اور اس کے بعد پوری دنیا میں پھیل گئی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو آپ اس دن ظالموں کو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے خوفزدہ دیکھیں گے اور اس کا وبال ان پر آ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وہ جنت کے باغات میں ہوں گے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کو تلقین کی کہ آپ اعلان فرما دیں کہ میں دین کی دعوت کے سلسلے میں کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں، لیکن میں اتنا ضرور چاہوں گا کہ میرے اعزہ و اقارب سے پیار کا سلوک کیا جائے۔ انبیا علیہم السلام دعوت دین کا کام صرف اللہ کی رضا کیلئے کرتے ہیں اور اس کے بدلے وہ دنیا کی زندگانی کے طلب گار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ انسان کو زندگی میں جتنی بھی مصیبتیں آتی ہیں ان کا بنیادی سبب انسان کے اپنے گناہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں کو نظر انداز بھی فرما دیتے ہیں۔ قرآن کے ایک اور مقام پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں پر گرفت فرمائیں تو زمین پر کوئی مخلوق زندہ باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں کے تمام کام مشاورت سے طے ہوتے ہیں، یعنی حقیقی مسلمان ہر کام میں اپنی رائے کے پیچھے چلنے کی بجائے مشاورت کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔

سورۃ الشوریٰ کے بعد سورۃ الزخرف ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو عربی میں اتارنے کی وجہ یہ تھی کہ اہل عرب اس زبان کو جانتے تھے اور اس کو پڑھ کر وہ شعور حاصل کر سکتے ہیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ اپنے نزول سے قبل قرآن مجید لوح محفوظ میں موجود تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد اور قوم کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ میں بے شک تمہارے معبودوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ سوائے اپنے پروردگار کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور یقیناً وہی میری رہنمائی کرے گا۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اس بات کو اپنی اولاد میں بھی جاری فرما دیا، تاکہ وہ حق کی طرف رجوع کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی معاندانہ روش کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی با اثر شخص پر کیوں نہیں اترا۔ اللہ نے کہا: کیا میری رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کے اختیار میں ہے؟ میں جب چاہتا ہوں اور جہاں چاہتا ہوں اپنی رحمت کو اتار دیتا ہوں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے تھے، جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لیے اپنی نشانی بنا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰؑ قیامت کی ایک نشانی ہیں اور حدیث پاک میں اس بات کی صراحت ہے کہ قرب قیامت عیسیٰ علیہ السلام فرشتوں کے جلو میں دمشق کی جامع مسجد کے شرقی مینار کے ساتھ اتریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، جزیے کو موقوف کریں گے اور فتنہ دجال کا خاتمہ فرمائیں گے۔ اس کے بعد سورۃ الدخان ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کو برکت والی رات میں نازل فرمایا، پھر قوم فرعون کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کو آزمائش میں ڈالا اور ان کے پاس ایک عزت والے رسول، یعنی موسیٰ علیہ السلام آئے، جنہوں نے اُن سے کہا: تم اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، میں بے شک تمہارے لیے اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں اور اللہ کے حکم سے سرکشی اختیار نہ کرو، میں بے شک تمہارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں، فرعون نے اس موقع پر جناب موسیٰؑ و سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ جناب موسیٰؑ نے اس سے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے رب سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے دور ہو کر رہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پروردگار عالم کو پکار کر کہا کہ اے رب !یہ تو مجرموں کی قوم ہے۔ تو، اللہ نے ان سے کہا: آپ میرے بندوں کو لے کر رات میں نکل جائیے، آپ کا پیچھا کیا جائے گا اور آپ سمندر کو ٹھہری ہوئی حالت میں چھوڑ دیں گے، بے شک یہ (تعاقب کرنے والے) ڈوبنے والا لشکر ہیں۔

اس کے بعد سورۃ الجاثیہ ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے اور انسانوں اور جانوروں کی تخلیق میں نشانیاں ہیں یقین رکھنے والوں کیلیے اور صبح و شام کی گردش میں اور آسمان سے اترنے والے پانی میں جس سے مردہ زمینیں زندہ ہوتی ہیں اور ہواؤں کے چلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کیلئے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سمندروں کو مسخر کیا، تاکہ اس کے حکم سے ان میں کشتیوں کو چلایا جائے اور اس کے فضل کو تلاش کیا جائے، تاکہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب و حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ رزق بھی دیا اور ان کو جہانوں پر فضیلت دی، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شریعت کو بنی اسرائیل سے لے کر رسول کریمﷺ کے سپرد کر دیا اور رسولؐ کو بھی تلقین کی کہ آپ نے یہود و نصاریٰ کی خواہشات کو کوئی اہمیت نہیں دینی اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنی ہے۔

26. چھبیسویں پارے کا خلاصہ

چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے اور اختتام سورة الذاریات آیت30 پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارتا ہے، جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر استقامت کو اختیار کیا تو نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ غم اور یہ لوگ جنتی ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کو ان کے کیے کی جزا ملے گی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھے برتاؤ کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو اٹھائے رکھا اور تکلیف کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ پینے کی مدت تیس ماہ ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کی انتہا کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا تو اس نے کہا: اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو دی اور مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جنہیں تو پسند کرتا ہے اور تو میری اولاد کی اصلاح کر دے، میں تیری بارگاہ میں آ کر توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں کو معاف کرتے ہیں اور یہ لوگ جنتی ہیں، اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ویسے صبر فرمائیں، جس طرح آپ سے قبل اولوالعزم انبیا، یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام صبر فرماتے رہے اور حضرت محمدؐ نے جب دعوت دین پر صبر کیا تو آپؐ کا صبر تمام انبیائے سابقہ کے صبر پر سبقت لے گیا۔

سورۃ الاحقاف کے بعد سورہ محمد ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ان کے اعمال گمراہ کن ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور رسول کریمﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے جس کو اللہ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا تو اللہ نے ان کی خطاؤں کو معاف کر دیا اور ان کے معاملات کو سنوار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے منکروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل کفر کا رہن سہن اور کھانا جانوروں کے کھانے کی مانند ہے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے۔ جس طرح جانور حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اسی طرح کافر بھی حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تیار کر دیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ قرآن مجید پر کیوں غور نہیں کرتے۔ کیا ان کے دل پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکتے رہے اور ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود رسول کریمﷺ کی مخالفت کی وہ اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے اعمال برباد ہو چکے ہیں۔

سورہ فتح میں رسول کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین کی بشارت دی۔ اس فتح مبین کا پس منظر یہ ہے کہ رسول کریمﷺ اپنے 1400 رفقاء کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ جب منزل قریب آئی تو کافروں نے نبی کریمؐ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ آپؐ نے مذاکرات کیلئے جناب عثمانؓ کو روانہ فرمایا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر رسول کریمﷺ نے اپنے صحابہ سے قصاص عثمانؓ کیلئے بیعت کا تقاضا کیا تو صحابہ کرام نے فوراً نبی رحمت کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ فدا کار مومنوں سے راضی ہوئے اور اللہ نے فرمایا کہ اللہ ان مومنوں سے راضی ہے، جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مبین کی بشارت دی اور ان آیات کے نزول کے بعد رسولؐ اور صحابہ کے دل خوشی سے معمور ہو گئے اور صرف دو برس کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کو فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی حاصل ہو گئی۔

سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسولؐ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو، جس طرح تم میں سے بعض، بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہو۔ ورنہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہیں اس کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر مومنوں کے دو گروہوں کی آپس میں جنگ ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے، اگر ایک گروہ سرکشی پر تلا رہے تو ایسی صورت میں باغی گروہ کے خلاف جنگ کرنی چاہیے، یہاں تک کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کی صلح صفائی کروا دیا کرو۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تجسس کی شدت سے مذمت کی ہے اور بد گمانی کو گناہ قرار دیا ہے۔

سورہ ق میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماوات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا تھا اور چھ دن میں بنانے کے بعد اس کو تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احساس تک بھی نہیں ہوا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جہنم میں جب جہنمی ڈال دیئے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ میرے اندر اور لوگوں کو ڈالا جائے۔ جہنم سے بچ نکل کر جنت میں داخل ہو جانے والے خوش نصیب وہی ہوں گے، جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کیا ہو گا۔ سورہ ق کے بعد سورۃ الذاریات ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی قسمیں اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا ایک اہم وصف بتلایا ہے کہ وہ راتوں کو جاگنے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس سورت میں ایک اور اہم نکتہ یہ بتلایا گیا کہ انسانوں کے رزق کا فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے۔

27. ستائیسویں پارے کا خلاصہ

ستائیسویں پارے کا آغاز سورت اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے اور اختتام سورة الحدید پر۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے۔

اس کے بعد سورہ طور ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ، بیت معمور، بلند و بالا آسمان، سمندر کی لہروں اور کتاب مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آئے گا اور اس دن پہاڑ چلنے لگیں گے۔ اس دن یوم جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔

پھر فرمایا کہ اہل تقویٰ جنت اور نعمتوں میں پروردگار کی عطاؤں سے بہرہ مند ہو رہے ہوں گے اور ان کا رب ان کو عذاب جہنم سے بچا لے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے جوجی چاہے کھاؤ اور پیو اور وہ ایک دوسرے سے جُڑے قطار میں بچھے تختوں پر ٹیک لگائے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کشادہ آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میں دے گا اور اہل ایمان کی اولاد نے بھی اگر ایمان اور اعمالِ صالحہ میں اپنے آباء کی پیروی کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ رسول اللہﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ قرآن مجید جیسی کوئی بات پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں یعنی جو صبر بھی رسول اللہﷺ کریں گے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور معیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

سورۃ النجم میں پروردگار عالم نے فرمایا ہے کہ رسول اللہﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے جب تک مالک کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے سفر معراج کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انہوں نے سفر معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیاں دیکھیں۔ فرمایا کہ کیا جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تم اس پر شک کرتے ہو؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کفر کے اس باطل عقیدے کا بھی ذکر کیا کہ وہ فرشتوں کو عورتیں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو عورتیں قرار دیتے ہیں اور ان کے پاس اس حوالے سے کچھ بھی علم نہیں، وہ لوگ صرف وہم اور گمان کی پیروی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کا بھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایا گیا اور جب وہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں موجود تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بتا رہے ہیں اور موسیقی سننے میں اور دیگر لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

سورت القمر کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ شقِ قمر کا واقعہ رسول اللہﷺ کی ہجرت سے تقریباً پانچ برس قبل رونما ہوا اور چاند جبل حرا کے دونوں طرف ہو گیا۔ اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کافر ایمان لے آتے لیکن وہ سرکشی پر تلے رہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ کفار اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم لوط کا، قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنا دیا پس ہے کوئی جو نصیحت کو حاصل کرے۔

اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے مقام کا ذکر کیا کہ بے شک پرہیزگار لوگ جنت اور نہروں میں ہوں گے، اپنے حقیقی گھروں میں مقتدر بادشاہ کے پاس۔ اس کے بعد سورہ الرحمن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا، انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان بنایا اور ترازو قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قائم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوؤں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنات کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جنت کے حسین مناظر کو بیان کیا کہ جو شخص اپنے رب کے مقام سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو باغ ہیں، وہ دونوں باغ سبز شاخوں والے ہوں گے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔

سورہ الرحمن کے بعد سورہ واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا۔ ایک گروہ مقربین کا دوسرا عام جنتیوں کا اور تیسرا گروہ جہنمیوں کا ہے۔ مقربین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں تیار کی ہیں جبکہ عام جنتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فر حاں ہوں گے جبکہ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا۔ اس کے بعد سورۃ الحدید ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی دو جماعتوں کا بھی ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہؓ کا مقام فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن دونوں گروہ جنتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ایمانی حالت کا بھی ذکر کیا کہ کتاب کے نزول کا ایک عرصہ بعد ان کے دل سخت ہو گئے اور ان کی اکثریت گناہ گار ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تلقین فرماتے ہیں کہ ان کی مانند مت ہو جانا۔

28. اٹھائیسویں پارے کا خلاصہ

اٹھائیسویں پارے کا آغاز سورت مجادلہ سے ہوتا ہے اور اختتام سورة التحریم پر۔ سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللّٰہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضگی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ وہ اس معاملے پر راہنمائی حاصل کرنے کے لیے رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں تو رسول اللہﷺ نے بھی اس مسئلے پر رخصت دینے سے انکار فرما دیا (سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس مسئلے پر آپﷺ سے مزید بات کرنا چاہی تو نبی کریمﷺ نے ان سے اعراض کر لیا)۔ اس پر سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا نے بارگاہ رب العٰلمین میں دعا مانگی کہ اے اللہ! اس سلسلے میں میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ رضی اللّٰہ عنہا کی فریاد سن لی اور حضرت رسول اللہﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کا مکالمہ سن رہا تھا، بے شک اللہ خوب سننے اور بڑا دیکھنے والا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے "ظہار” کے کفارے کے لیے حکم نازل فرما دیا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے "ظہار” کر لیں اور پھر اپنی کی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو انہیں یا تو ایک غلام آزاد کرنا ہو گا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے ہوں گے اور ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے محبت اور نفرت کا معیار بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دشمن کے بارے میں محبت ہو۔ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہے، وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے نفرت کرتا ہے، چاہے وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔

سورہ حشر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، جو رسول اللہﷺ عطا کرتے ہیں، اس کو پکڑ لیا کرو اور جس سے روکتے ہیں اس سے رک جایا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین طبقوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک طبقہ وہ کہ جنہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہجرت کی اور اپنے گھر بار اور اموال کو اللہ کے فضل اور خوشنودی کے حصول کے لیے خیر باد کہہ دیا اور دوسرا طبقہ انصاری صحابہؓ کا تھا جو مہاجرین سے محبت کرتے تھے اور ان کو دیئے گئے مال کے بارے میں اپنے دل میں معمولی سی تنگی بھی محسوس نہیں کرتے تھے اور انہیں اپنے آپ پر ترجیح دیتے تھے چاہے انہیں خود تنگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اور تیسرا طبقہ مہاجرینؓ اور انصارؓ کے بعد آنے والے اہل ایمان کا تھا جنہوں نے مہاجرینؓ اور انصار صحابہ کرامؓ کے لیے یا اپنے سے پیشتر دنیا سے چلے جانے والے مومنوں کے لیے دعا مانگی کہ اے ہمارے رب ! تُو ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما، جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے بارے میں کینہ پیدا نہ فرما۔ بے شک تو بڑی شفقت اور رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو پہاڑ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔

سورت ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اسلام کے دشمنوں سے برأت کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے کردار کو نمونے کے طور پر اہل ایمان کے سامنے رکھا ہے کہ جنہوں نے مشرکوں اور غیر اللہ کے پجاریوں سے کامل برأت کا اظہار کیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ وہ کافر جو مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور ان کے خلاف سازشیں نہیں کرتے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور جو کافر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، ان کے ساتھ سختی والا معاملہ کرنا چاہیے۔

سورت صف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں، جو اللہ کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں۔

سورت جمعہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے ان علماء کا ذکر کیا ہے، جو تورات کو پڑھتے تو ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے، جیسے گدھے پر کتابوں کو لاد دیا جائے، جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھا سکتا ہے، لیکن اس کے معنی اور مفہوم کو سمجھ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جمعہ کے آداب بتلائے ہیں کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو کاروبار چھوڑ کر فوراً جمعہ کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے اور جب جمعہ کی نماز ادا کر لی جائے، تو کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔

سورہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ منافق رسول اللہﷺ کے پاس آ کے زبان سے شہادت دیتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کو پتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں، لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر کیا کہ دنیا کا مال، دولت اور ان کے جسموں کی کیفیت دیکھ کر انسان متاثر ہوتا ہے، لیکن منافقوں کے لیے آخرت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد سورہ تغابن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے حکم سے آتی ہے اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرما دیتے ہیں۔

اس کے بعد سورہ طلاق ہے۔ سورہ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کی مختلف عدتوں کا ذکر کیا ہے کہ بوڑھی عورت کی عدت تین ماہ ہے، جبکہ عام عورت کی عدت تین حیض ہے، جبکہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے فوائد کا بھی ذکر کیا کہ جو تقویٰ کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرماتے ہیں۔

سورت تحریم میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو ایمان و عمل سے مشروط کیا ہے اور ازواج مطہرات اور اہل ایمان کو سیدنا نوحؑ اور سیدنا لوطؑ کی بیویوں کا حوالہ دیا ہے کہ وہ نبیوں کی رفاقت میں رہ کر بھی اپنی بد عملی کی وجہ سے ناکام ہو گئیں اور ان کے مد مقابل فرعون کی بیوی آسیہ سلام اللّٰہ علیہا اور سیدہ مریم سلام اللّٰہ علیہا کامیاب رہیں کہ جنہوں نے اللہ کی بندگی کو اختیار کیا اور اپنے کردار کو ہر طرح کی آلودگی سے بچا لیا۔

29. انتیسویں پارے کا خلاصہ

انتیسویں پارے کا آغاز سورہ ملک سے ہوتا ہے اور اختتام سورة المرسلات پر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا، تاکہ وہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس نے سات آسمان بنائے اور اس نے اس انداز میں ان کو بنایا کہ اس کی تخلیق میں کسی بھی قسم کا کوئی رخنہ یا دراڑ نظر نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور ان کے ذریعے وہ شیطان کو رجم بھی کرتے ہیں۔

سورۃ القلم میں ارشاد ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺ کا اخلاق عظیم ہے۔ رسول کریمﷺ نے خود بھی اعلان فرمایا تھا کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث کیا گیا ہے۔ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کا اخلاق کیسا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپﷺ کا اخلاق قرآن تھا، یعنی جو کچھ قرآن میں اللہ نے آپؐ پر نازل فرمایا۔ آپﷺ ساری زندگی اسی پر عمل پیرا رہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک سخی اور نیک زمیندار کا بھی ذکر کیا کہ وہ اپنے باغات کی آمدنی میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو احسن طریقے سے ادا کیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ فصلوں کی کٹائی میں سے کسی غریب کو کچھ بھی ادا نہ کریں گے۔ جب فصلوں کی کٹائی کا وقت آیا تو وہ صبح سویرے نکلے، تاکہ راستے میں ان کو کوئی مسکین نہ مل جائے۔ جب وہ باغ میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر کھیت یا باغ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ ان کو شک ہوا کہ وہ راستہ بھول گئے ہیں لیکن اچھی طرح غور کرنے کے بعد وہ سمجھ گئے کہ وہ راستہ نہیں بھولے بلکہ ان کا باغ اجڑ چکا تھا۔ یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ جب مال کو راہ خدا میں خرچ نہ کیا جائے تو اس مال کے ضائع ہونے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ کافر، رسول کریمؐ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ جب وہ قرآن کو سنتے تو نعوذ باللہ آپ کو مجنون کہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ آپؐ کو اپنی نگاہوں سے گرانا چاہتے ہیں اس لیے آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن مجید جہانوں کیلئے نصیحت ہے۔

سورۃ الحاقہ: الحاقہ سے مراد حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں قیامت کو حقیقت کے نام سے پکارا اور اس حقیقی کھڑکھڑاہٹ کو جھٹلانے والوں کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورت میں قومِ ثمود اور عاد کے انجام سے آگاہ کیا، جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو ایک چیخ کے ذریعے اور قوم عاد کو تیز ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیا تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کے بارے میں کافروں کے اقوال کو نقل کر کے ان کی تردید کی ہے۔ کافر، رسول کریمﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، جو کچھ بھی آپ پر اترا ہے، پروردگار نے اتارا ہے اور اس میں جھوٹ والی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات پر جھوٹ باندھنے والے کو کبھی فلاح نہیں دیتے، جبکہ اللہ کے حبیبﷺ کے تذکروں کو اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک جاری و ساری فرما دیا ہے۔

سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا ذکر کیا ہے کہ اس کی طوالت پچاس ہزار برس کے برابر ہو گی وہ دن ایسا ہو گا کہ مجرم کی خواہش ہو گی کہ اپنا آپ چھڑوانے کیلیے اپنے بیٹے یا اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو پیش کر دے یا زمین میں جو کچھ ہے، اس کو بطور فدیہ دے دے۔ اس دن جو لوگ عذاب سے بچیں گے، ان کے اوصاف بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرنے والے ہوں گے۔ یہ لوگ امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے۔ یہ لوگ حق کی گواہی پر قائم رہنے والے ہوں گے اور نماز کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور یہ لوگ جنتوں کے حق دار ٹھہریں گے۔

سورہ نوح میں اللہ تعالیٰ نے جناب نوح علیہ السلام کی دین کیلئے محنت کا ذکر کیا کہ جناب نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے صبح شام پوری تندہی سے اللہ کے دین کی خدمت کی اور اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ وہ پروردگار سے استغفار کیا کریں، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ بارشوں کو ان کی مرضی کے مطابق نازل فرمائے گا اور مال اور بیٹوں میں بھی اضافہ کرے گا اور ان کیلئے نہروں کو چلا دیں گے اور باغات کو آباد کر دیں گے۔

سورہ جن میں اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک جماعت کے قبول اسلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ قرآن کیا خوبصورت کلام ہے ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پس، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پروردگار کا مقام بہت بلند ہے، نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا۔ انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کو بھی توحید کی دعوت دی چنانچہ انسانوں کی طرح جنات کی بھی ایک جماعت اہل توحید میں شامل ہو گئی۔

سورہ مزمل میں اللہ تعالیٰ نے حبیبؐ کو کہا ہے کہ وہ پوری رات عبادت نہ کیا کریں بلکہ نصف رات، اس سے کچھ زیادہ یا کم عبادت کیا کریں، اس لیے کہ انہوں نے دن کو بھی بہت سے کام انجام دینے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا نام وقفے وقفے سے لیتے رہا کریں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن جس حد تک ممکن ہو ضرور پڑھنا چاہیے۔

سورہ مدثر میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے انجام بد کا ذکر کیا اور فرمایا جو قرآن مجید کو غرور کی وجہ سے جھٹلاتے ہیں، انہیں جہنم کا مزا چکھنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے پہریدار فرشتوں کی تعداد انیس بتلائی ہے اور جہنم میں لے کر جانے والے بڑے بڑے گناہوں میں، نماز میں کوتاہی اور مساکین کو کھانا نہ کھلا نے کا بھی ذکر کیا ہے۔

سورة القیامة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا کہ یقیناً قیامت آئے گی اور کافر جو اللہ کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو دوبارہ کیسے بنائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے انگلیوں کے پوروں تک کو بھی دوبارہ ٹھیک ٹھیک پیدا کرنا مشکل نہیں ہے۔

سورة الانسان (دہر) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان پر ایک دور ایسا تھا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے قطرے سے اسے دیکھنے اور سننے والا بنا دیا۔ اس کو دو راہیں بھی بتلا دیں چاہے شکر کرے یا انکار کرے۔

سورة المرسلات میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا دن قرار دیا ہے اور کامیابی و کامرانی کو اہل تقویٰ کا مقدر قرار دیا ہے۔

30. تیسواں پارے کا خلاصہ

تیسویں پار سورة النبإ (78) سورہ الناس (114) تک 36 سورہ پر مشتمل ہے، پارے کا آغاز سورة النبإ سے ہوتا ہے۔

سورة النبإ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہو گی، اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات اور اختلافات تھے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی سزا کا بھی ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہا ہزار سال جہنم کی قید میں پڑے رہیں گے۔

سورہ نازعات میں پروردگار عالم ارشاد فرماتے ہیں، جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے بچا لیا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔

سورہ عبس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا بھائی اپنے بھائی سے، بیٹا اپنے والدین سے اور بیوی اپنے شوہر سے بھاگے گی اور والدین اپنے بیٹے سے بھاگیں گے۔ ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ وہ آگ سے کسی بھی طور پر بچ جائے، چاہے اس کے بدلے کسی دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔

سورہ تکویر میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن مجید کل کائنات کے ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے، جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں۔

سورہ انفطار میں اللہ تعالیٰ نے جہاں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا، وہیں دنیا میں انسانوں کے حساب کتاب کو نوٹ کرنے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا، جن کو کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ کراماً کاتبین انسانوں کے عمل کو نوٹ کرتے ہیں اور یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسانوں کو پیش کیا جائے گا۔

سورہ مطففین میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے، جو اپنے حق میں تو ترازو کو پوری طرح استعمال کرتے ہیں، لیکن دوسروں کے لیے ترازو میں کمی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سورہ انشقاق میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ انسان محنت و مشقت کا خوگر ہے اور اس کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے، جس سے اس نے ملاقات کرنی ہے، اگر انسان اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے گا تو اس کو آسان حساب کا سامنا کرنا پڑے گا، ۔

سورہ بروج میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب اخدود کی بستی کا ذکر کیا کہ جنہیں ایمان لانے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اہل ایمان نے اس سزا کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا، لیکن دعوت توحید سے دستبردار ہونا گوارا نہیں کیا۔

سورہ طارق میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا اور جو اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے پیدا کر سکتا ہے، وہ انسان کو اس کی موت کے بعد آسانی سے زندہ بھی کر سکتا ہے، اس لیے انسان کو اپنی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

سورۃ الاعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگوں کی نگاہ دنیا کی زندگی پر ہوتی ہے، لیکن حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

سورة الغاشیة میں آخرت کے حالات کا بیان ہے۔

سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ نے سابق اقوام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ مومن کو مخاطب ہو کر کہیں گے، اے نفس مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف راضی ہو کر پلٹ جا اور میرے بندوں اور میری جنت میں داخل ہو جا۔

سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ عطا فرمائے اور اس کی رہنمائی دو راستوں (ہدایت اور گمراہی) کی طرف کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے، جو صحیح راستے پر چلے گا، جنت میں جائے گا اور جو غلط راستہ اختیار کرے گا، وہ جہنمی ہو گا۔ اس کے سورہ شمس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو تخلیق کیا اور اس میں نیکی اور برائی کی سمجھ کو الہام کر دیا تو جو اپنے نفس کو نیکی کے راستے پر چلائے گا وہ جنتی ہو گا اور جو اپنے نفس کو آلودہ کرے گا وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔

سورۃ الیل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، جس نے صدقہ دیا اور نیکی کی تائید کی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کی راہ آسان کر دیں گے۔ جس نے بخل کیا اور اچھی بات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکل راستے، یعنی جہنم کے راستے کو ہموار کر دیں گے۔

سورہ ضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی تلقین کی ہے کہ پروردگار کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور ان کا اظہار بھی کرنا چاہیے

سورہ الم نشرح میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کے تذکروں کو بلند کر دیا ہے۔

سورة التین میں انسان کی ساخت بلندی پستی سزا و جزا کا تذکرہ ہے۔

سورہ علق میں اللہ تعالیٰ نے حبیبﷺ کو پروردگار کے نام سے پڑھنے کا حکم دیا کہ اس نے انسان کو سکھا یا جو کہ وہ نہیں جانتا تھا

سورہ قدر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا اور قدر والی رات ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے۔

سورة البینة اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقیناً جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بد ترین خلائق ہیں۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں۔

سورة الزلزلة میں قیامت کا تذکرہ ہے جب مین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی , اُس روز وہ اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی۔ اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا , اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا۔

سورة العادیات: انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ مدفون ہے اُسے نکال لیا جائے گا اور حساب کتاب گا۔

سورة القارعة: اس سورہ کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چَونکایا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ اِس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اُس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اِس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھر یں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بِکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دھُنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی تو اُس میں فیصلہ اِس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کوے نیک اعمال بُرے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں، اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے بُرے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب ہو گا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اُس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی۔ [تفہیم القرآن]

سورة التکاثر: اِس سورہ میں لوگوں کو اُس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذّتیں اور جوہ و اقتدار حاصل کرنے اور اُس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے، اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور اِس ایک فکر نے اُن کو اس قدر منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اِس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے میں تم کو آخرت میں جواب دہی کرنی ہو گی۔ [تفہیم القرآن]

سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر انسان کو ناکام کہا ہے کہ ہر انسان نا کام ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو اختیار کیا اور حق بات اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔

سورہ عصر جامع اور مختصر کلام کا بے نظیر نمونہ ہے۔ اِس کے اندر چند جَچے تُلے الفاظ میں معنی کی ایک دُنیا بھر دی گئی ہے جس کو بیان کرنے کا حق ایک پوری کتاب میں بھی مشکل سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بالکل دو ٹوک طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی فلاح کا راستہ کون سا ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا راستہ کون سا۔ امام شافعی بہت صحیح کہا ہے کہ اگر لوگ اِس سورۃ پر غور کریں تو یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابۂ کرام کی نگاہ میں اس کی اہمیت کیا تھی، اُس کا اندازہ اِس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن حِصْن الدّارِمی ابو مدینہ کی روایت کے مطابق اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اُس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سُورۃ عصر نہ سُنا لیتے (طَبَرانی)۔ [تفہیم القرآن ]

سورة الہمزة: اِس میں چند ایسی اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں زر پرست مالداروں کے اندر پائی جاتی تھیں، جنہیں ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں فی الواقع اُس کے معاشرے میں موجود ہیں، اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے، کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں ہیں۔ اِس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اُن لوگوں کا کیا انجام ہو گا جن کا یہ کردار ہے۔ یہ دونوں باتیں (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں اُس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں جس سے سامع کا ذہن خود بخود اِس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اِس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے، اور چونکہ دنیا میں ایسے کردار والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے ہی نظر آتے ہیں، اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر ہے۔ [تفہیم القرآن ]

سورة الفیل:: سورۂ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات چھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اِس سورۂ میں اِس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں اکتفا کیا گیا ہے۔

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ (1) کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ (2) اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے (3) جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے (4) پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا (5)

واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔ مکّے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہلِ عرب اِس بات کے قائل تھے کہ ابرہہ کے اِس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی تھی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ اور چند سال تک قریش کے لوگ اِس واقعہ سے اس قدر متأثر رہے تھے کہ اُنہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۂ فیل میں اِن تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کو یاد دلانا کافی تھا، تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً، اور اہلِ عرب عموماً، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آخر اِس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اِس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے اُنہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔ [تفہیم القرآن ]

سورة قریش: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے زمانہ میں یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے، اِس لیے اُن کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سورۃ کے چار مختصر فقروں میں قریش سے صرف اِتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ جب تم خود اِس گھر (خانۂ کعبہ) کو بُتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اِس گھر کے طفیل یہ امن عطا کیا، تمہاری تجارتوں کو یہ فروغ بخشا، اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب فرمائی، تو تمہیں اُسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ [تفہیم القرآن]

سورة الماعون: آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔ اُن کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو عَلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور اُن منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں، مگر دل میں آخرت اور اُس کی جزا و سزا اور اُس کے ثواب و عِقاب کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرزِ عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ [تفہیم القرآن]

سورۃ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کو حوض کوثر کی بشارت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا ہے کہ آپ کا دشمن بے نام و نشان رہے گا۔ ان کے بعد تین قل ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی پناہ طلب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

سورة الکافرون: کفّار کے دین اور اُن کی پوجا پاٹ اور اُن کے معبودوں سے قطعی برأت، بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور اُنہیں بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لاتعلقی ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بار ہا حضورؐ کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں میں قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھتے دیکھا ہے۔ (اِس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، تِرْمذی، نَسائی، ابن ماجہ، ابن حِبّان اور ابن مَردویَہ نے ابن عمرؓ سے نقل کی ہیں)۔

حضرت خَبّابؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹو تو قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو، اور حضورؐ کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورۃ پڑھ لیا کرتے تھے (بزّار، طَبَرانی، ابن مردویہ)

ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں سے فرمایا ”میں تمہیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو (ابو یَعلیٰ، طَبَرانی)۔

حضرت اَنَسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت مُعاذ بن جَبَل سے فرمایا سوتے وقت قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے برأت ہے (بَیْہَقِی فی الشعب)۔

فَرْدَہ بن نَوفَل اور عبد الرحمان بن نَوفَل، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہؓ الاَشْجَعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیئے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے برأت ہے (مُسند احمد، ابو داؤد، تِرمِذی، نَسائی، ابن ابی شَیبہ، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقِی فی الشعب)۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بنؓ حارثہ کے بھائی حضرت جَبَلہ بنؓ حارثہ نے حضور سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا (مُسند احمد، طَبَرانی)۔ [ماخوذ از تفہیم القرآن]

سورة النصر: اِس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہو جائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا جس کے لیے آپؐ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپؐ کو حکم دیا گیا کہ آپؐ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول ہو جائیں کہ اُس کے فضل سے آپؐ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہوئے، اور اُس سے دعا کریں کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپؐ سے ہوئی ہو اُسے وہ معاف فرما دے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی وفات سے پہلے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں سُبْحَانَ اللہِ وَ بَحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ) کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپؐ نے اب پڑھنے شروع کر دیے ہیں؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اُسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتَح (مُسند احمد، مسلم، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)۔ اسی سے ملتی جُلتی بعض روایات میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپؐ اپنے رکوع و سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہتے تھے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ یہ قرآن (یعنی سورۂ نصر) کی تاویل تھی جو آپؐ نے فرمائی تھی (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نَسائی، ابن ماجہ، ابن جریر)۔

ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخرت کے لیے محنت و ریاضت کرنے میں اِس قدر شدّت کے ساتھ مشغول ہو گئے جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے (نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔ [ماخوذ۔ تفہیم القرآن]

سورة اللھب: نام لے کر جب آپؐ کے چچا ابو للھب کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔

ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ (1) اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا (2)

جب علی الاعلان رسول کے اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔ اِس معاملہ میں فلاں ابنِ فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔

سورة الاخلاص: قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اُس کی بنیاد تین عقیدے ہیں۔ (۱) ایک توحید۔ (۲) دوسرے رسالت اور (۳)تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اُس نے اللہ تعالیٰ پر سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کر دیا جو تمام مشرکانہ تصورات کا قلع قمع کر دیتا ہے اور اُس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ میں اِس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپؐ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اِس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اِس کو پڑھیں اور عام الناس میں اِسے پھیلائیں، کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے (توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کر دیتی ہے جو فوراً انسان کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نَسائی، تِرمِذی، ابن ماجہ، مُسند احمد، طَبَرانی، وغیرہ میں اِس مضمون کی متعدد احادیث ابو سعید خُدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدَّ رْدا، مُعاذ بن جَبَل، جابر بن عبد اللہ، اُبَیّ بن کَعب، امّ کُلثوم بنت عُقْبَہ بن ابی مُعَیط، ابنِ عمر، ابن مسعود، قَتادہ بن النُعمان، اَنَس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں۔

مُعَوِّذَّتَیْن

سورة الفلق: اور سورة الناس کو مُعَوِّذَّتَیْن کھا جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دو سورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں، اور مُصْحَف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن اِن کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور اِن کے مضامین ایک دوسرے سے اِتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ اِن کا ایک مشترک نام ”مُعَوِّذَتَیْن“ (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بَیْہَقی نے دلائلِ نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اِسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام مُعَوِّذَتَیْن ہے۔

آپ کے خلاف جادو ٹونے کیے جا رہے تھے تاکہ آپ یا تو وفات پا جائیں یا سخت بیمار پڑ جائیں، یا دیوانے ہو جائیں۔ شیاطینِ جِنّ و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہو کر آپ سے دور بھاگنے لگیں۔

اِن حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم سے فرمایا گیا کہ اِن لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں طلوعِ صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادوگروں اور جادوگرنیوں کے شر سے، اور حاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اُس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ شیاطینِ جن میں سے ہو یا شیاطینِ اِنس میں سے۔ یہ اُسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسیٰ نے اُس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں اُن کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اِنِّی عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُوٴمِنُ بِیَوْمِ الْحِسابِ، ”میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اُس متکبِّر کے مقابلے میں جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا“(المومن، ۲۷) وَانِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ، ”اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اِس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو“۔ (الدُّخان۔ ۲۰)۔

روایات کی رو سے حضورؐ پر جادو کیا گیا تھا، اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہو گئے تھے، اور اس اثر کو دور کرنے کے لیے جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ کو یہ سورتیں پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔

بکثرت صحیح احادیث میں یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہر رات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں معوّذتین، یا بعض روایات کے مطابق مُعوّذات (یعنی قل ہو اللہ اور معوِّذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم پر، جہاں جہاں تک بھی آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے، انہیں پھیرتے تھے۔ آخر بیماری میں جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہ نے یہ سورتیں (بطور خود یا حضورؐ کے حکم سے) پڑھیں اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرے۔ اس مضمون کی روایات صحیح سندوں کے ساتھ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں۔

سورہ فاتحہ اور اِن سورتوں کی مناسبت:

معوّذتین کے بارے میں قابل توجہ قرآن کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوّذتین پر۔ اب ذرا دونوں پر ایک نگاہ ڈالیے۔ آغاز میں اللہ رب العالمین، رحمٰن الرحیم، اور مالک یوم الدین کی حمد و ثنا کر کے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی میں بندگی کرتا ہوں اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں، اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔ جو اب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کے لیے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے، اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو رب الفلق، رب الناس، مالک الناس اور الہ الناس ہے، عرض کرتا ہے کہ میں ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ہی کی پناہ لیتا ہوں، ا اور خصوصیت کے ساتھ شیاطین جن و انس کے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ راہِ راست کی پیروی میں وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں۔ اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ [ماخوذ۔ تفہیم القرآن]

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

٭٭٭

ماخذ:

https://quransubjects.blogspot.com/2019/10/parah-1-30. html

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل