ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا نمونہ پڑھیں
جہانِ تغزل
(فن، روایت اور رجحانات)
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ
انتساب
ڈاکٹر امامہ ریاست کے نام
جس نے خوابوں سے منہ موڑ کر
ماں کے قدموں تلے
تعبیروں کو دفنا ڈالا
ہنستے مسکراتے
کلامِ غالبؔ میں محاوراتِ الف کی شاعرانہ پیش کش۔ مختصر جائزہ
کسی بھی زبان کے شاعر کی جملہ شاعری کی خوبی کا معیار یہ متعین کیا جاتا ہے کہ اس کے کلام میں محاورات، ضرب الا امثال اور کہاوتوں کا کتنا استعمال ہوا ہے۔ شعر میں محاورے کے استعمال کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ زبان میں یہ سونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے۔ محاورے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عام فہم ہوں، لوگوں کی زبان پر آسانی سے رواں ہو جائیں اور عوام میں یکساں مقبول ہوں۔
کلاسیکی اُردو شعرا کے کلام میں یہ صفت پوری طرح پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کلاسیکی شعرا کے کلام کو سند امتیاز حاصل ہے۔ محاورے کے استعمال کے حوالے سے ایک خوبی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ کلاسیکی شعرا نے اپنے کلام میں محاورات کا اس قدر استعمال کیا ہے کہ ان محاورات کو اگر اکھٹا کر لیا جائے تو ایک ضخیم لغت تیار ہو سکتا ہے۔ کلاسیکی شعرا کے کلام میں محاورات کا استعمال کلاسیکی شعریت کو جدید شعرا کے فنی آہنگ سے ممتاز کرتا ہے اس کی وجہ اساتذہ کے علم بیان و بدیع اور صنائع و ابلاغ پر دسترس ہے۔
زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی ترقی کا آئینہ ہوتی ہے، جس کا اظہار الفاظ سے منسلک جذبات کی وابستگی سے ہوتا ہے۔ محاوروں اور کہاوتوں سے اس میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ محاورہ عربی زبان سے رواج پاتے ہوئے اُردو زبان میں آیا۔ اُردو میں یہ” محاورہ "اور انگریزی میں ” Idiom "کہلایا۔
محاورہ زبان کا روپ اور سنگھار ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے نثر کی عزت بڑھ جاتی ہے اور نظم کا قد کاٹھ بلند ہو جاتا ہے۔ محاورے سے شعر میں حُسن اور جاذبیت پیدا ہو تی ہے جبکہ زبان و بیان کی شائستگی دل میں گھر کر جاتی ہے۔
دُنیا کی کوئی بھی زبان محاورے سے خالی نہیں ہے۔ محاورے کے بغیر کوئی بھی فن پارہ ادب عالیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ محاورے سے زبان کی تنومندی اور ارتقائی اوج متشکل ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے لفظوں کی کثیر الجہتی پرتیں کھُلتی ہیں اور کلام میں اختصار پیدا ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے زبان کی باریکی اور لطافت کے در وا ہوتے ہیں۔ معنی کو الفاظ کے پیرہن میں سجا، سنوار کر پیش کرنے کا نام محاورہ ہے۔ مطالب کو سمندر کے کوزے میں بند کرنے کا نام محاورہ ہے۔ محاورہ زبان کے پھیلاؤ اور خیال کی وسعت پر گرفت کو مضبوط کرتا ہے۔ محاورہ کثیر الجہتی مطالب کو کم سے کم الفاظ میں بیان کو محاورہ کہا جاتا ہے۔
دورانِ گفتگو محاورے کے پس پردہ خاص مطالب کو ادا کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ طرز فکر محاورے کے اُسلوب سے عدم دلچسپی رکھنے والوں کو مفاہیم کے ابہامی سراب میں مبتلا کر سکتا ہے جبکہ بادی النظر میں بُعد کے معنیٰ کو قُرب کی آگہی عطا کرتا ہے۔ محاورہ میں رمز و ایمائیت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے جس سے کسی خاص بات کو عام سے جُدا کرنا اور ابلاغ کا کام لینا علامات و استعا ات سے نسبتاً آسان اور سہل ہوتا ہے۔
محاورے وضع کرنے والے شعرا اور ادیب اب کثرتاً باقی نہیں رہے لیکن اُردو زبان و ادب میں جو محاورات متقدمین کی دین ہیں وہ آج بھی اُن کے زندہ اور باقی رہنے کا جواز ہیں۔ ذخیرہ محاورات سے اُردو زبان و ادب کے رئیسانہ مزاج کا پتہ چلتا ہے۔
محاورہ ضرب المثل سے بالکل الگ اور جدا چیز ہے۔ ضرب المثل کی بنیاد تجربے پر ہوتی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک مکمل جملہ ہوتا ہے جبکہ محاورہ لسانیاتی سیاق میں وضع کیا ہوا "اختصاریہ” ہوتا ہے جس میں مفصل بات، تجربے اور مشاہدے کا بیان ہوتا ہے۔ محاورے کو اہل زبان گرامر کے اُصولوں کے تحت وضع کرتے ہیں جس میں عام لفظ ہونے کے باوجود خاص مطالب پوشیدہ ہوتے ہیں۔ محاورے کے الفاظ مبہم اور پیچ دار ہوتے ہیں جس میں رمز و ایمائیت کی آمیزش ہوتی ہے۔
محاورے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کے توسط سے شعر سنتے ہی زبان پر رواں ہو کر حافظے کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ شعر میں محاورہ، ضرب المثل اور کہاوت کا استعمال شعر کو چار چاند لگا دیتا ہے جس سے شعر زبردستی زبان پر رواں ہو جاتا ہے۔
محاورے سبھی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کی عوامی زبان اور مقامی لب و لہجے کی آمیزش سے زبانیں اپنے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ اُردو زبان میں پُر اثر اور دیدہ زیب محاورات کا ایک ذخیرہ موجود ہے جو لوگوں کے رویوں کے پس منظر میں پہناں تاریخ کی سماجی حیثیت اور عوامی رجحان کا پتہ دیتا ہے۔
ان کے ذریعے لوگوں کی زندگی کے دُکھ، سکھ، خوشیاں، اذیتیں، خواہشیں، آرزوئیں، محرومیوں اور ناکامیوں اور نفسیاتی الجھنوں سمیت تہذیب و تمدن کی پرچلت کا اظہار ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ زبان وہ ہے جو زمانے کی مشکلات اور مصائب سے گزر کر اور رَد و قبول کے بھنور سے نکل کر آگے بڑھتی ترقی کا سفر جاری رکھتی ہے۔ اس میں نئے نئے الفاظ، نئی نئی اصطلاحیں اور نئے نئے محاورات بنائے، اُردوائے اور وضع کیے جاتے ہیں ؛جو زبان کی طبعی عمر اور قد و قامت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس سے زبان کے وسیع استعمال کا اندازہ ہوتا ہے اور زبان نئے ذائقے سے آشنا ہوتی ہے۔ اس میں نئی جہتیں اور نئے راستے کھلتے ہیں جس سے ترقی کا سفر ہوتا چلا جاتا ہے۔
اُردو زبان میں محاورات کا استعمال اس قدر عام ہے کہ بعض علمی اور ادبی حلقے اس وصف کو زبان دانی کا معیار قرار دیتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگ محاورے کے لغوی معنی جانے بغیر شعر میں استعمال محاورے کے پس منظر میں پہناں مفہوم کو سمجھ لیتے ہیں۔ یہ آگہی محاورے کی اہمیت اور زبان دانی کی اُٹھان کا پتہ دیتی ہے۔
محاورہ زبان کی خاص بول چال کو کہا جاتا ہے۔ اُردو زبان پاک و ہند میں یکساں بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ کلاسیکی اُردو زبان کے دہلی اور لکھنو کے مراکز گو، آج اُس طرح باقی نہیں رہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جدید دور میں جہاں اُردو دُنیا کی تیسری بڑی زبان بن چکی ہے۔ پاکستان میں اس کا چلن، روزمرہ اور محاورہ کے تناظر میں مزید کم ہو گیا ہے۔ انگریزی زبان کی یلغار اور مغرب نواز پالیسیوں نے اس زبان کو عام بول چال کی زبان سے ہٹا کر سمندر پار زبانوں بالخصوص انگریزیت سے جوڑا کر اس کے حُسن کو گہنا دیا ہے۔
ٹھیٹھ اُردو زبان کی روایت، اپنی اصلی صورت میں اب شاید ہی پاک و ہند کے کسی علاقے میں رائج ہو گا۔ البتہ کچھ مخصوص طبقوں اور علاقوں میں اب بھی اُردو زبان کے ٹھیٹھ لب و لہجے کی گونج سنائی دیتی ہے مگر اس کی لَے مبہم اور مدھم ہو گئی ہے۔ کلاسیکی شعرا نے اپنے کلام میں محاوروں کو دُلہن کے فطری سنگھار کی مانند اس کی نوک پلک کو سنوارنے پر توجہ دی ہے۔ ان شعرا کے کلام میں جا بجا محاورات کا استعمال ان کے ذوق مشرقیت کا پتہ دیتا ہے۔
انسانی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے۔ ہر دور کے انسان کا تقاضا رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بہتر سے بہترین چیز حاصل کرے یعنی اچھے دن گزارے، معتبر ذرائع تلاش کرے اور اپنا نام پیدا کرے۔ اس خواہش کے پیش نظر انسان نے سماج میں شروع سے شعوری اور لاشعوری طور پر سماجی طرزِ زندگی میں بہتری اور اچھائی کے لیے نئے نئے منصوبے بنائے۔ اس دور کے انسان کے میں اصلاح اور بہتری کی تڑپ، اُمنگ ہمیشہ سے رہی ہے۔
زبان جب ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ اُس میں ابلاغ کی سبھی خوبیاں در آتی ہیں۔ ایجاز و اختصار اس کا وطیرہ بن جاتا ہے۔ محاورے کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اس سے معنوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اشارہ و کنایہ، رمز و ایما کا وصف پیدا ہوتا ہے جو سماج کی ضرورت اور تقاضا ہے۔ زبان جب محاورے کے رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ تب محاورہ رنگین و رعنا اور دلکش و پُر اثر ہو جاتا ہے۔
محاورہ کسی بھی زبان کی کیفیات، نقائص، وسعت، باریکیوں اور نزاکتوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ سماج کی باہمی زبان میں جب دو افراد بات چیت کرتے ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ درست اُسلوب اور آہنگ میں بات چیت کی جائے ؛خوبصورت اور دیدہ زیب الفاظ کا استعمال گفتگو کے معیار کو معنی خیز بنا دیتا ہے۔
محاورے میں اختصار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ وہ استعارہ، اشارہ، کنایہ، ایما؛ علامتی لوازمات بھی اس کی بنیاد میں مضمر ہوتے ہیں۔ جس سے محاورہ ایک تازہ ترکیب اور شگفتہ جملے کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس میں الفاظ بہت کم استعمال ہوتے ہیں لیکن معانی کا ایک وسیع سلسلہ اپنے اندر رکھتا ہے جو کہ ایک جملے میں سمائے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کے منتخب کردہ الفاظ میں بھی انتخاب کی بڑی احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ کم سے کم الفاظ کا استعمال ایک ایسا اُستادانہ کمال ہوتا ہے جسے ہر لکھاری نہیں کر سکتا۔
اُردو کا ایک محاورہ ہے۔ "اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا”۔ اس کے پس منظر میں ایک مفصل کہانی ملتی ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ کیا کچھ کرنا پڑتا ہے اور کیسے کیسے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ کس قدر محنت کرنا پڑتی ہے اور اس کے لیے کتنی بھوک برداشت کرنا پڑتی ہے۔ کتنا صبر کرنا پڑتا ہے۔ کس کس کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اس قدر طول طویل کہانی کو خلاصتاً ایک چھوٹے سے جملے (محاورہ)”اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا "میں سمو دیا جاتا ہے۔ اس طرح ہر محاورے کے پس منظر میں ایک کہانی پوشیدہ ہوتی ہے ؛تاہم کچھ محاورے ایسے بھی ہیں جن کے پس منظر میں پنجاب کی تاریخ اور ثقافت نظر آتی ہے۔
کوئی بھی شعر یا مصرعہ جس میں محاورے کا استعمال کیا گیا ہو؛ جو نفسِ مضمون کے اعتبار سے کامل اور مکمل ہوتا ہے۔ اس میں اگر محاورہ حذف کر دیا جائے تو اس خلا کو پورا کرنے کے لیے بڑی مشکل پیش آ سکتی ہے ؛کیوں کہ محاورہ کا متبادل اور کوئی لفظ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اختصار گوئی کے فن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محاورے کی اس کمی کو برتا (محاورے کا متبادل استعمال کیا)گیا ہے تو یہ بات درست قرار نہیں دی جا سکتی۔
کسی نے کہا تھا "جس دن تمھیں بولنا آ جائے گا، تم ایک لفظ بھی نہیں بول سکو گے” اور جب تک بولنا نہیں آئے گا تم جگہ جگہ استہزا کرتے رہو گے۔ زبان کا بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے کہ جب کوئی زبان ترقی یافتہ ہو جاتی ہے ؛اس میں جامعیت در آتی ہے۔ اس میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس میں خوبصورت تراکیب، تشبیہات و استعارات اور محاورات اپنے پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
دُنیا میں اب تک جو زبانیں مانی اور تسلیم کی گئی ہیں ان کے لسانیاتی کینوس میں جامعیت اور وسعت پائی جاتی ہے۔ اس جامعیت اور وسعت کے پیش نظر علامہ اقبال نے اُردو زبان کے بارے میں:
ع گیسوئے اُردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
کہہ کر اس کی ترقی پذیری کا ذکر کیا ہے۔ علامہ نے اسے ترقی یافتہ بننے کے عمل سے روشناس کروانے کا فن(دوسری زبانوں سے اختلاط و روابط)بتایا ہے۔
شاعری کی کسی بھی صنف کو تخلیقی اظہار کا ذریعہ بناتے وقت بحور و اوزان کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ شعری تلازموں کو بھی اس کے ساتھ منسلک سمجھا جاتا ہے۔ خیالات و احساسات کے خارجی اظہارو ابلاغ کے روپ سروپ کو با معنی بنانے کے لیے بیان و بدیع سے کام لینا پڑتا ہے تاکہ اس میں کہے جانے والی بات کی تفہیمی تشنگی زائل ہو جائے۔ اسی طرح محاورہ بھی زبان کی اصناف میں سے ایک لطیف لسانی صنف ہے جو سب سے چھوٹی اور مختصر یعنی یک جملہ(محاورہ)ہوتی ہے۔
محاورے کے کچھ اُصول، قاعدے کُلیے اور ضابطے ہوتے ہیں۔ شاعری کی طرح اس میں آہنگ، ترنم، موسیقیت، غنائیت اور نغمگی کی معنی خیز لَے موجود ہوتی ہے۔ نثر کی طرح ایک خاص رِدھم اور وزن ہوتا ہے۔ اس کے ہجوں اور الفاظ میں ایک خاص طرح کی موزونیت ہوتی ہے۔ الفاظ کی کو ملتا اور سجلتا کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے دیدہ زیب اور پُر اثر الفاظ کا چناؤ کرنا ہوتا ہے۔ غیر مہذب اور ثقیل و مبہم الفاظ سے گریز کرنا پڑتا ہے۔
مختصر یہ کہ محاورہ صدیوں کے ردّ و قبول کی گردشوں، تھپیڑوں اور آزمائشوں سے گزر کر زدِ خاص و عام میں معروف ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ محاورہ میں اگر یہ وصف نہ پایا جاتا تو یہ بے معنی ہو کر رہ جاتا۔
کلاسیکی اُردو شعرا کے کلام میں میرؔ، غالب اور داغؔ کے کلام کی خصوصیت اور پذیرائی کی وجہ ان گنت لسانی خوبیوں کے علاوہ محاوروں کا استعمال بھی ہے محاورے بڑے پُر اثر اور معنویت سے بھر پور ہیں جن میں ابلاغ کی ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ انھیں محاوروں کی وجہ سے میرؔ، غالبؔ اور داغؔ ؔ کے کلام کو امرتا اور دوام نصیب ہوا ہے۔ ان محاوروں کی یہ برکت ہے کہ کسی حاذق کو کوئی بات یا محاورہ سنایا جائے تو وہ فوراً میرؔ، غالبؔ اور داغؔ کا شعر سنا دے گا۔ میر، غالب اور داغ نے غزلیات میں محاورات کا استعمال کر کے گویا محاورہ کو ناقابلِ تردید سند فراہم کر دی ہے۔
غالب کی زبان کا جائزہ لیا جائے یا ان کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے ؛دونوں میں یکساں اور تسلسل سے ایک بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ زبان کا استعمال فن کی حیثیت رکھتا ہے جس میں تہذیب کا رچاؤ اور معاشرت کی جھلک ہوتی ہے۔
غالب کی غزل میں صوتی آہنگ اور موسیقی کا فنکارانہ نظام ایک خاص جگہ لیے ہوئے ہے۔ غالب کو الفاظ کے استعمال پر جو قدرت اور مہارت حاصل ہے۔ غالب شناس اور ادب ذوق اس سے بخوبی واقف ہیں۔ لفظوں کے مزاج سے شناسائی اور استعمال کا طریقہ جو غالب کی غزل میں ملتا ہے شاز ہی کسی اور شاعر کے ہاں اتنی روانی اور تسلسل سے موجود ہے۔
الفاظ کی صوتی ترتیب سے معنی میں موسیقی و ترنم کا آہنگ پیدا کر لینا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ غالب کو انتخابِ الفاظ میں میر اینسؔ ایسا ملکہ تھا۔
غالب کی غزل میں محاورات کا ایک بیش بہا خزانہ موجود ہے۔ میرؔ کے بعد سب سے زیادہ محاورے غالب کے ہاں استعمال ہوئے ہیں۔ غالب کے بعد محاورات کے سلسلے میں داغ کا نام سر فہرست ہے جن کا نام آتے ہی محاورات کا تصور ابھر آتا ہے۔ غالب نے موضوع کی مناسبت سے محاورات کاخوبصورت اور دل آویز استعمال کیا ہے جس سے ان کے شاعری کے ظاہری حسن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
محاورہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل زبان سے مسلمہ ہو یعنی سند یافتہ ہو۔ غالب کی زبان پر اعتراض کی گنجائش بہت کم ہے۔ ان کے اُسلوب اور شاعرانہ عظمت کا ایک زمانہ معترف ہے۔
غالب کے کلام کا اعجاز اختصار اور جامعیت میں ہے اختصار اور جامعیت بظاہر متضاد عنصر ہے۔ شاعری میں اس کا التزام سانس دوبھر کر دیتا ہے۔ غالب کے ہاں اختصار اور جامعیت کا التزام نہایت خوبی اور عمدگی سے ہوا ہے۔
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا
غالب کے مذکورہ اشعار دیکھیں اور ان کی مشکل پسندی کے حامل اشعار دیکھیں تو انسان چکرا کر رہ جاتا ہے کہ بیک وقت سہل ممتنع میں لکھنے والا سنگلاخ زمین میں دور از کار تراکیب و تشبیہات سے بلیغ اشعار کیسے تراش لیتا ہے۔ یہ وصف غالب کے ہاں ملتا ہے۔
مرزا غالب کی زبان مشکل ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن محض مشکل ہونے کی بنا پر اس کی فنی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ غالب کے ہاں مشکل پسندی الفاظ کی نقش گری نہیں ہے بلکہ فکر اور خیالات کی مشکل پسندی ہے جو ان کی طبیعت کے میلان اور مشاہدے کی گہرائی کا پتہ دیتی ہے۔
شمار سبحہ مرغوب پیشہ مشکل پسند آیا
تماشائے بیک کف بردن صد دل پسند آیا
غالب کی مشکل پسندی کو لے کر ان کے ہم عصروں نے ان کے خوب لّتےلیے، پھبتیاں کسیں، فقرے تراشے اور ہجویں کہی گئیں لیکن غالب نے اپنی روش کو بدلنے کی زحمت گوارا نہ کی بلکہ ان سب کے جواب میں کہا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی
مشکل پسندی کے بے معنی ہونے کا احساس در اصل غالب کی شیفتہ، مولوی فضل الحق اور مرزا خانی کوتوال کی صحبتوں اور محافل میں ہونے والی روزمرہ کی گفتگو اور فارسی ادبیات کا گہرائی سے مطالعہ اور اپنی انانیت کا سر چڑھ کر بولتا خمار تھا جس سے دست بردار ہونا غالب کے لیے آسان نہ تھا۔
ذیل میں غالب کے کلام میں مستعمل محاورات کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے غالب کے ہاں محاورے کی بنت کے عمل سے لے کر محاورے کے موزوں شاعرانہ استعمالات کی متنوع صورتوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔
غالب نے کلاسیکی غزل کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جہاں محاورے کو بر محل اور موزوں استعمال کرنے کی شعوری کوشش کی ہے وہاں محاورے کی بُنت میں جدت اور تازگی کے عنصر کو مزید توانا کرنے کی سعی بھی کی ہے۔ غالب کے دیوان میں استعمال ہونے والے محاورات پر اگرچہ فارسیت کا غلبہ ہے لیکن مشرقیت کا عنصر یکسر خارج نہیں ہوا ہے۔ غالب کے بعد محاورات کے بہترین استعمال و اظہار کے حوالے سے مرزا داغ کا نام آتا ہے۔ مرزا داغ نے محاورے کو جتنی عزت اور تحسین دلوائی ہے، یہ در اصل غالب ہی کا محرک و تقدم ہے۔
محاوراتِ الف سے مراد وہ محاورات ہیں جو الف ممدودہ اور الف مقصورہ کی ذیل میں آتے ہیں۔ یہ محاورات ردیف وار ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں جنھیں اس طرح پیش کرنے کا مقصد غالب کے ہاں دیوان کی ردیف وار یعنی مردفانہ ترتیب کو فنِ محاورہ کے تناظر میں پرکھنا ہے۔ مرزا غالب کے ہاں محاورات کے پیش کش کے سینکڑوں انداز موجود ہیں۔ غالب چوں کہ زبان و بیان کا اُستاد شاعر ہے اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ ان کے ہاں فن بدیع کی جملہ اصناف کا موزوں استعمال ملتا ہے۔
غالب کے ہاں جہاں روزمرہ اور محاورہ کا بیان و استعمال ملتا ہے وہاں تشبیہ، استعارہ، تلمیح وغیرہ کا استعمال بھی جا بجا نظر آتا ہے۔ یہ مضمون خاص طور سے غالب کے ردیف الف کے تحت استعمال کیے جانے والے محاورات کی پیش کش کے مختصر جائزے پر مشتمل ہے اس لیے اس مضمون کو اختصار کی وحدت میں مقید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کلام غالب میں محاورات الف کی تدوین کے سلسلے میں محاورات کے سندی ہونے کی تصدیق کے حوالے سے اُردو زبان کے مایہ ناز ماہرین لغات کی مستند لغات سے محاورے کے سند ہونے کی تصدیق کا حوالہ بھی درج کیا گیا ہے تاکہ غالب کے ہاں محاورے کی اہل زبان و اہل لغات کے ہاں سند ہونے کی تصدیق مسلم ہو سکے نیز محاورہ کے مرادی اور شاعرانہ معنی کا تعین بھی کیا گیا ہے علاوہ ازیں جس شعر میں محاورے کا استعمال ہوا ہے اُس شعر کا ددیوانِ غالب سے حوالہ بھی دیا گیا ہے تاکہ قاری کو محاورہ مع شعر تلاش کرنے اور تصدیق کرنے میں سہولت رہے۔
﴿محاورات الف﴾
آب دینا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۱۷۰(تلوار پر صقیل کرنا)
کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
آبرو جانا
ج۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۵۱(بے عزتی ہونا، رُسوا ہونا، نام نہ رہنا)
ہر بوالہوس نے حُسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
آتش برسنا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۲۶(ناقابل برداشت صورتحال میں گھرنا)
مجھے اب، دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ، یاد آیا
کہ فُرقت میں تری، آتش برستی تھی گلستاں پر
آگ بھڑکنا
ع۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۳۱۲(شدت جذبات سے مشتعل ہو جانا)
سوزِ دل کا کیا کرے بارانِ اشک
آگ بھڑکی مینہ اگر دم بھر کھلا
آتش زیر پا ہونا
نور اللغات، دیوان غالب: ۳۱(بے چین ہونا، بے قرار ہونا)
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موئے آتش دیدۂ حلقہ ہے مری زنجیر کا
آرام دینا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۶۳۱(چین دینا، سکھ پہچانا، راحت دینا(طنزاً))
ہوسِ گل کا تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
آرام سے ہونا
جدید اُردو لغت، دیوان غالب: ۸۵(نتیجہ سے باخبر ہونا، مطمئن ہونا)
(یہ محاورہ دہلی کی تہذیب کا ترجمان ہے جہاں حُسن و عشق کی چپقلشوں کی خوبصورت روایت صدیوں پورے طمطراق سے جاری رہی جس کا ذکر اس محاورے میں مذکور ہم تک آ پہنچا ہے۔ )
حُسن غمزے کی کشاکش سے چھُٹا میرے بعد
بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
آرے چلنا
فرہنگ آصفیہ، دیوان غالب: ۳۳۱(سخت اذیت سے گزرنا، رنج جھیلنا)
(یہ تلمیحی محاورہ ہے جسے غالب نے کمال فنکاری سے شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ )
کس روز تہمتیں نہ تراشا کئے عدو
کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کئے
آس ہونا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۵۲۱(خواہش ہونا، آرزو ہونا)
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
تسکیں کو دے نوید کی مرنے کی آس ہے
آغاز و انجام جاننا
فرہنگ میرؔ، دیوان غالب: ۳۱۴(نتیجہ معلوم ہو جانا، اصلیت معلوم ہو جانا)
(سہل ممتنع ایسے شعر میں مذکورہ محاورہ باندھ لینا غالب کی لسانی دسترس کا اظہار ہے۔ )
ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
تیرا آغاز اور ترا انجام
آتش بجھانا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۸۶۱(آگ ٹھنڈی کرنا، جذبات انگیختہ کر لینا)
(عشق کی آگ کو محاورے میں بیان کر دینا غالب کی اُستادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ )
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
آگ برسنا
ع۔ اُر۔، دیوان غالب: ۲۶(جدائی کی شدت کو محسوس کرنا، انتہائی کسک میں ہونا)
مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
آگ دبنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۷۲۱(انتہائی جذباتی ہونا، ناقابل برداشت کیفیت میں مبتلا ہونا)
(غالب کے تشبیہ اور استعارے اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ شعر کے حُسن کو فروزاں و تاباں کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ )
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھ
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
آگے آنا
فرہنگ میرؔ، دیوان غالب: ۲۸۱(پیش آنا، کیے ہوئے کو پانا)
ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے
آگے بولنا
محاورات آتش، دیوان غالب: ۸۳۲(حد سے متجاوز ہونا)
پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے
آگے پہنچنا
نور اللغات، دیوان غالب: ۶۵۱(سبقت لے جانا، آگے آگے پہنچنا)
خدا کے واسطے داد اس جنوں شوق کی دینا
کہ اُس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
آگے چلنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۶۵۱(پیش قدمی کرنا، سبقت لیے ہونا)
(غالب کے ہاں وارفتگی کا یہ عالم محاورے میں جس طرح باندھا گیا ہے ،ی شاعرانہ رفعت کا یہ اعجاز صرف غالب کے ہاں نظر آتا ہے۔ )
عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
کہ اپنے سائے سے سر پانو سے ہے دو قدم آگے
آنکھ سے لہو ٹپکنا
ہندوستانی محاورے، دیوان غالب: ۸۵۱(شدید گریہ زاری کرنا، آبدیدہ از حد ہونا)
(غالب معمولی گریہ زاری کے قائل نہیں ؛آنکھ سے لہو رونے کو اصل رونا گردانتے ہیں۔ )
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
آنکھوں میں دم ہونا
فرہنگ سوداؔ، دیوان غالب: ۲۸۱(اُمید ہونا، خواہش ہونا، آرزو جوان ہونا)
( کثرت شراب نوشی کا بیان بطور محاورہ، ان کی لسانی دسترس کا شاہکار ہے۔ )
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دَم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
آنکھیں دکھانا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۱۸۱(نظارہ کروادینا
(محبوب کو سر عام بے نقاب دیکھنے کی خواہش کا ذکر غالب کے اکثر اشعار میں ملتا ہے۔ غالب کے محبوب کی نرگسیت کے آگے برہنہ چہرگی مات کھا جاتی ہے۔ )
منہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتاب
کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
آنکھیں رنگین ہونا
فرہنگ میرؔ، دیوان غالب: ۷۰۲(صدمہ سے بھری ہونا)
غمِ شبیرؓ سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
کہ رہیں خونِ جگر سے مری آنکھیں رنگین
آنکھیں مُند جانا
فرہنگ ولی دکنی، دیوان غالب: ۴۵(قریب مرگ ہونا، دم نزع ہونا)
(یہ محاورہ داغ کی معاملہ بندی اور تصور حُسن کی پسندیدگی کے اظہار کا بہترین نمونہ ہے۔ )
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
یار لائے مری بالیں پہ اُسے پر کس وقت
آہ کرنا
ع۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۷۳(واویلا کرنا، گلہ کرنا، سنج و فغاں کرنا)
اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آپ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
آہیں اُبھرنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۲۰۱(ناکامیء حسرت کی کسک کا شدت اختیار کر جانا)
بسکہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بَہ پَے
آہیں کوتاہی قسمت سے مژگاں ہو گئیں
آئے بِن نہ رہنا
وضع۔ دیوان غالب: ۵۷۱(ملاقات کیے بغیر نہ رہ سکنا)
(غالب نے نسائی جذبے کا اظہار بھی مردانہ لب و لہجے میں کیا ہے۔ )
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہیے
آئینہ سبز ہونا
فرہنگ ولی دکنی، دیوان غالب: ۱۵(خوشحالی اور شادابی کا نمو پذیر ہونا)
(یہ محاورہ غالب کا وضع کردہ ہے جو ان کی شعری اختراع ہے۔ اس محاورے میں غالب کی فطرت سے پسندیدگی کو جذبات کے انگیختہ رجحان سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ )
تاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صیقل
دیکھ برسات میں سبز آئینے کا ہو جانا
اپنا سا منہ لے کے رہ جانا
فرہنگ غالب، دیوان غالب: ۵۴(انتہائی شرمندہ ہونا، خلاف توقع معاملہ ہونا)
(غالب نے دل دینے اور اس کی بے توقیری ہونے کو محاورے میں بیان کیا ہے جو، ان کی شعر فہمی اور زبان شناسی کا نمونہ ہے۔ )
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
اپنی خبر کو جانا
وضع۔ دیوان غالب: ۳۹(خود شناسی کی جستجو میں ہونا)
(یہ محاورہ داغ نے تراشا ہے جس کا شعری استعمال اس سے پہلے ایسی ہنرمندی اور فنکاری سے پہلے نہیں دیکھا۔ )
پھر بیخودی میں بھول گیا راہِ کُوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
اپنی سی کرنا
مخزن المحاورات، دیوان غالب: ۱۱۰(کوشش کرنا، بھر پور سعی کر لینا)
وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں
اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
اپنے کو کھینچنا
دلی کے محاورے، دیوان غالب: ۶۱۱(پرہیز کرنا، مصلحتاً اجتناب کرنا)
(یہ محاورہ اہل دلی میں مستعمل ہے جسے غالب نے شعر میں استعمال کر کے متاخرین کے لیے نمونہ فراہم کیا ہے۔ )
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہے؟
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
اپنے کو دیکھنا
وضع۔ دیوان غالب: ۲۱۱(اپنی اصلیت و وقعت پر غور کرنا(طنزاً))
(یہ محاورہ، گو، روزمرہ بھی مستعمل ہے تاہم غالب کے شعری سیاق میں اسے بطور محاورہ باندھا گیا ہے۔ محبوب کی ستم دیدگی کو دیدۂ نخچیر سے مماثل کر کے غالب نے ہرجائی پنے کو خوبصورتی سے واضح کر دیا ہے۔ )
اپنے کو دیکھتا نہیں، ذوقِ ستم تو دیکھ
آئینہ تا کہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو
اپنے کو کھو آنا
فرہنگ میر، دیوان غالب: ۴۴۱(وارفتہ ہو جانا، فریفتگی سَوا ہو جانا)
(غالب کے ہاں وارفتگی اور فریفتگی کا عنصر ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے جس کا اظہار بکثرت اشعار میں دکھائی دیتا ہے۔ )
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں، اپنے کو کھو آئے
اپنی آگ کے خس و خاشاک ہونا
وضع۔ دیوان غالب: ۴۸۱(اپنے آپ میں فنا ہو جانا، حاجاتِ آلام عشاق سے بے نیاز کر لینا)
(یہ محاورہ "اپنی آگ میں جلنا/ جل جانا” مستعمل ہے جسے داغ نے فارسیت کے غلبے تلے دبا دیا ہے۔ غالب کے ہاں فارسی کی آمیزش بعض اوقات پورے محاورے کو اپنے اثر میں لے لیتی ہے اور بعض اُردو محاوروں کو فارسیت زدہ کر کے چھوڑتے ہیں۔ غالب کے ہاں فارسیت کا اثر دیگر مقامی بولیوں، پراکرتوں اور لہجوں سے بڑھ کر ملتا ہے۔ )
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
اپنی قسم آپ ہونا
محاورات آتش، دیوان غالب: ۸۴۱(خود گواہ ہو جانا، اپنے تئیں شاہد ہونا)
(یہ محاورہ غالب کا وضع کردہ ہے جس میں غالب نے فنا کے تصور کو مشاہدے کی تجرباتی کیفیت سے بطور گواہ اپنی ذات سے ثابت کیا ہے جو لائق داد ہے۔ )
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
اپنے آپ میں نہ سمانا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۶۲۲(بہت زیادہ خوش ہونا، بے حد مسرت ہونا)
جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا
اُٹھ جانا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۵۰(جگہ چھوڑ دینا، کنارہ کشی اختیار کر لینا(کنایتاً))
(یہ محاورہ غالب کی ذاتی زندگی کے مسائل اور ہم عصر شعرا کی چپقلشوں کی سنگینی کا پتہ دیتا ہے۔ )
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اُٹھ جائیں کیا
اِترائے ہوئے پھرنا
ع۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۸۵۱(شیخی میں آنا، غرور و تفاخر میں حد سر گزرے ہونا)
(اس محاورے کے پس منظر میں غالب نے بہادر شاہ ظفر کے اُستاد ابراہیم ذوقؔ پر ان کے اُستاد ہونے کی حیثیت سے چوٹ کی ہے جس کا تذکرہ ان کی سوانح میں مولانا حالیؔ نے خوب لکھا ہے۔ محاورے اور شعر کے اُسلوب اور مضمون کا جواب نہیں ہے۔ )
ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اِتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
اتنا ہونا
دلی کے محاورے، دیوان غالب: ۸۵(کچھ کر سکنا، ہمدرد و غم خوار ہونا، مونس ہجراں ہونا)
(غالب کے ہاں غم اور یاسیت بھی مہمیز کا کام کرتے ہیں کہ انسان یاسیت کی بجائے خوش آمدی کا قائل ہو جاتا ہے۔ )
غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دُنیا میں کوئی
کہ کرے تعزیت مہرو وفا میرے بعد
اثر دیکھنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۱۰۰(تاثیر دیکھنا، نتیجہ دیکھنا، رد عمل ظاہر ہونا)
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
ہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں
اجازت دینا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۳۵۱(موقع دینا، فرصت مہیا کرنا)
(ستم کی اجازت اور آزار کا مزہ لینے کی خواہش؛ جہاں رقیب کے لیے مسرت کا باعث ہے ؛ وہاں ستم کی خُو کو، توانا کیے رکھنا؛ ایک سچے عاشق کی نشانی ہے۔ )
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
اچھا کہنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۵۹۱(سراہنا، حوصلہ بڑھانا، اہم ماننا)
(یہ محاورہ اپنے دامن میں غالب کے تخیل ایسی وسعت لیے ہوئے ہے۔ )
غالبؔ بُرا نہ مان جو واعظ بُرا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
ادا نکلنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۷۰۱(انداز ایجاد کرنا، منفرد طریقہ وضع کرنا)
پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا کہ بِن کہے
اُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ ہوں
احسان اُٹھانا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۹۱۱(کسی کا ممنون ہونا، زیر بار منت ہونا)
صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اُٹھائیے
طاقت کہاں جو دید کا احساں اُٹھائیے
احسان رہنا
ج۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۲۷۱(زیر بار منت رہنا، ممنون رہنا)
(یہ محاورہ غالب کی شعری عظمت کا نمونہ ہے جو لائق داد ہے۔ )
سرمہ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
ارزانی ہونا
مخزن المحاورات، دیوان غالب: ۹۵(عطا ہونا، میسر ہونا، دستیاب ہونا)
(جلوہ مئے کے بیان کا اس سے بڑھ کر کیا نمونہ ہو گا کہ غالب کے ہاں در و دیوار مجسم ہو کر جھومنے لگ گئے ہیں۔ )
ہوئی ہے کس قدر ارزانیِ مے جلوہ
کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر دَر و دیوار
ارمان نکلنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۱۹۰(آرزو پوری نہ ہونا، کسک رہ جانا، تشنگی باقی رہنا)
(یہ شعر غالب کے مشہور اشعار میں سے ہے اور اس شعر میں غالب نے جس انداز میں ارمان کے نکلنے کی کسک کو بطور محاورہ بیان کیا ہے وہ یقیناً لائق داد ہے۔ )
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
اُڑتی خبر ہونا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۷۹۱(غیر مصدقہ بات، خوش گمانی، سرسری بات)
(غالب نے معمولی بات کو غیر معمولی رنگ دے کر محاورے کی ایسی بُنت تراشی ہے کہ ان کے ذوقِ فطرت کا پتہ چلتا ہے۔ )
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
اُڑنے نہ پانا
دلی کے محاورے، دیوان غالب: ۸۴۱(مبتلائے آلام ہونا، مقید ہو جانا)
(یہ محاورہ در اصل غالب کی خانگی معاملات کے بارے میں ہے۔ غالب کی تیرہ برس کی عمر میں شادی انھیں ناگوار محسوس ہوئی تھی جس کا تذکرہ ان کے خطوط اور اشعار میں بکثرت پڑھنے کو ملتا ہے۔ غالب کی آوارہ مزاجی انھیں ایک جا بندھ کر رہنے میں ہمیشہ حائل پرواز رہی۔ )
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیاں کے
اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
اُستاد ہونا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۳۴(ماہر ہونا، فن میں یکتا ہونا(کنایتاً))
(یہ محاورہ غالب نے مشہور شاعر بادشاہِ غزل میر تقی میرؔ پر پھبتی کسی ایسا گمان ہوتا ہے۔ غالب کے روئیے اور شعر کے الفاظ کی بُنت سے غالب کا میرؔ سے تشکیک آمیز حسد محسوس کیا جا سکتا ہے، اسے رشک بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب کی فکری کثیر الجہتی رجحان پر مبنی ہے۔ )
ریختے کے تمہیں اُستاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
اِس رنگ سے
وضع۔ دیوان غالب: ۴۸۱(نفرین آمیز انداز سے، عبرت بھری روش سے )
(یہ محاورہ غالب کا وضع کردہ ہے جس میں محبوبِ بے مروت کی سنگینی بے مہری کا جلوہ دیکھئے کہ ایسے بے مہر سلوک سے دُشمن کے دل میں بھی غالب نے اپنے لیے جگہ بنا لی ہے جبکہ محبوب کو کچھ بھی نہ کہا۔ )
اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے اسدؔ کی نعش
دُشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گئے
اشارہ پانا
ج۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۳۵۱(رضامندی چاہنا، زحمت ہونا، ایما پانا)
اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
طوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے
اشارہ چاہنا
نور اللغات، دیوان غالب: ۶۶۱(اذن چاہنا، رسائی مطلوب ہونا)
چاک مت کر جیب، بے ایامِ گل
کچھ اُدھر کا بھی اشارہ چاہیے
اشارے ہوا کرنا
ہندستانی محاورے، دیوان غالب: ۳۳۱
(رمز و ایمائیت سے کام لینا، غمزوں کنایوں سے ادائے مدعا بیان کرنا)
اُس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
بیٹھا رہا، اگرچہ اشارے ہوا کیے
اعتبار مٹنا
محاورات نسواں، دیوان غالب: ۴۲۱(وقعت ختم ہو جانا، نا معتبر ہو جانا)
(غالب نے اس محاورے میں ہستی کے پیش نظر وقعت زیاں کو فلسفہ محاورے میں کمال ہنر مندی سے سمویا ہے۔ )
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
اعتبار ہونا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۱۳(بھروسہ ہونا، مان ہونا، یقین محکم ہونا)
(اس محاورے کا شعر میں ہونا؛ جواب نہیں ہے غالب کے شاعرانہ اُسلوب کا۔ )
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟
افسون پھونکنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۵۹۱( محو دید کی دیوانگی درپئے ہونا)
پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا
افسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے
اک بات ہے
وضع۔ دیوان غالب: ۲۸۱(عام بات ہے، معمولی واقعہ ہے )
(غالب نے اعجاز مسیحا کو ایک بات یعنی معمولی بات کہ کر اس تلمیح کو مزید مختلف زاویے سے دیکھنے کا دَر کھول دیا ہے۔ یہ وصف صرف غالب کے ہاں ہے کہ معمولی کو غیر معمولی اور غیر معمولی اور معمولی بات بنا لیتے ہیں۔ )
اِک کھیل ہے اوَرنگِ سیلماں ؑ مرے نزدیک
اِک بات ہے اعجازِ مسیحاؑ مرے آگے
اگلے وقتوں کے (لوگ) ہونا
فرہنگ میرؔ، دیوان غالب: ۸۰(پرانے زمانے کے ہونا، کہنہ روایات کے پیرو ہونا)
(اس محاورے سے پتہ چلتا ہے کہ غالب اپنے عہد کی زبان تھے اور انھوں نے کہنہ روایات و تصورات کو کس قدر غائر نظر سے مشاہدہ کیے ہوئے تھا اور ان کے بارے میں کس قسم کا رویہ اور نکتہ نظر رکھتے تھے۔ )
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انھیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں
اُلٹا پھر آنا
ع۔ اُر۔ ل۔ ج، دیوان غالب: ۳۳(رضا مندی ظاہر نہ کرنا، بے توقیری محسوس کرنا)
(اس محاورے سے غالب کی انانیت اور نرگسیت کا عمیق مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ )
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں کہ ہم
اُلٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
اللہ اللہ کرنا
دلی کے محاورے، دیوان غالب: ۹۳۲(نفاق سے کام لینا، مفاد پرستی کا شیدا ہونا)
کہتے ہیں کہیں خدا سے، اللہ اللہ!
وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے!
اُمید بر آنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۲۴۱(خواہش پوری ہونا، توقع کے عین مطابق ہو جانا)
(اس محاورے میں غالب نے اُمید و یاس کا فلسفہ انتہائی چابک دستی سے پیش کر دیا ہے۔ )
کوئی اُمید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
انتظار کھینچنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب: ۷۵(انتظار کرنا، کسی چیز کی شدت سے طلب ہونا)
(جتنا خوبصورت شعر ہے ؛اتنا ہی خوبصورت محاورے کی شعر میں پیش کش ہے۔ )
نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
انتقام لینا
اُردو محاورے، دیوان غالب: ۲۰۱(تنگ کرنا، چھیڑیں کرنا(طنزاً)خدمت کروانا)
(غالب نے مذہبی پس منظر کی حامل اس حور نما تصوراتی مخلوق جسے قدرت حق نے جنت میں مردوں کے لیے وقف کر رکھا ہے، غالب اسے محبوب بے مروت سے منسوب کر کے کیسا نکتہ تراشا ہے کہ داد دئیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ )
اِن پری زادوں سے لیں گے خُلد میں ہم انتقام
قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
انسان ہونا
فرہنگ میرؔ، دیوان غالب: ۸۲(مرد حقیقی ہونا، معاشرتی رکھ رکھاؤ کا حامل انسان ہونا)
(اس محاورے میں غالب نے انسانی فلسفہ حیات کا ذکر کیا ہے جو ان کی شاعری میں نمایاں حیثیت سے زیر بحث آیا ہے۔ )
بسکہ دُشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
انصاف ہونا
فیروز اللغات، دیوان غالب: ۵۳(برابری کا توازن ہونا، جانچ میں عدل ملحوظ ہونا)
(اس شعر میں محاورے کے ذریعے غالب نے حساب اعمال کے مذہبی فلسفے کا ذکر کیا ہے جو اہل اسلام کے مطابق بعد از قیامت ظہور پذیر ہو گا۔ )
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
انگشت رکھنا/ اُٹھانا(حرف پر)
دیوان غالب: ۳۵(جملہ کسنا، نقص نکالنا)
(یہ محاورہ غالب نے فارسی سے اخذ کیا ہے اُردو میں اس کے متبادل(حرف پر انگلی اُٹھانا۔ اُنگلی اُٹھانا)مستعمل ہے۔ )
لکھتا ہوں اسد سوزشِ دل سے سخن گرم
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
ایجاد کرنا
اُ۔ ل۔ ت، دیوان غالب،: ۷۷(پیدا کرنا، تخلیق کرنا، سامنے لے آنا)
ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نفس عطرِ سائے گل
(ایسی) بات ہونا
وضع۔ دیوان غالب: ۲۴۱(سبب ہونا، مصلحت ہونا، وجہ ہونا)
(یہ روزمرہ اور محاورہ دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ غالب نے اسے بطور محاورہ استعمال کیا ہے اور بات کی باریکی اور جزئیات کی حسّیت کو اس محاورے میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ )
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
ایک نہ شُنیدن(ایک نہ سننا)
دیوان غالب: ۳۸(مطلق پروانہ ہونا، حد درجہ بے مروت ہونا)
(یہ محاورہ فارسی سے اخذ شدہ ہے۔ غالب کی فارسیت اُردو پر اپنا دبیز اثر رکھتی ہے جو ان کے بیشتر اشعار اور غزلیات میں جا بجا نظر آتی ہے جس سے بعض اوقات طبیعت اُوب جاتی ہے۔ )
میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

