جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ
ڈاؤن لوڈ کریں
جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ
انتساب
اُردو غزل کے اُن شعرا کے نام
جنھوں نے اس صِنف کی زُلفیں سنواریں
لیکن وہ
معتوب ٹھہرائے گئے
پیش لفظ
اُردو غزل کی تشکیل ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔ غزل کی صنف کوا س اعتبار سے یہ غیر معمولی وقعت حاصل رہی ہے کہ اسے شعرا نے ہمیشہ سر پر بٹھایا اور تکریم کی نگاہ سے دیکھا۔ محمد قلی قطب شاہ سے لے کر میر تقی میر تک اُردو غزل نے اپنا ارتقائی دور نہایت کامیابی سے مکمل کیا۔ میر تقی میر سے مرزا داغ دہلوی تک غزل کا کلاسیکی دور بھی کامیابی سے مکمل ہوا۔
مرزا داغ کے بعد سے اُردو غزل نے جدت کے عناصر کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ یہ سلسلہ حسرت موہانی سے ہوتا ہوا فیض و فراق تک پہنچ کر اپنی انتہا کو چھو گیا۔ اُردو غزل نے اس عہد میں کئی رنگ بدلے اور وضع اختیار کی، اس کے باوجود اس کے اجتماعی رنگ و روپ میں اضافہ ہی ہوا۔ جدید اُردو غزل کا تصور قیامِ پاکستان سے شروع ہوتا ہے جو اکیسویں صدی تک چلا آیا ہے۔
بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز سے جہاں اُردو غزل نے کئی نئے موڑ لیے وہاں اس کے ظاہری و باطنی خد و خال میں بھی واضح بدلاؤ کو محسوس کیا گیا۔ شعرا نے تشکیل کے اس عمل کو دلچسپی اور فنکاری سے انجام دیا۔ اس معاملے میں بیسیوں ایسے شعرا کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جنھوں نے اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کتاب کو چار ابو اب میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے باب میں جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں پاکستانی شعرا کے کردار اور ان کی خدمات کا مختصر تجزیہ کیا گیا ہے جبکہ دوسرے باب میں ہندوستانی شعرا کے کلام پر نقد و نظر کیا گیا ہے۔ اسی طرح باب سوم میں جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں پاک و ہند کی شاعرات نے جو حصہ ڈالا ہے اسے دیکھا گیا ہے اور باب چہارم میں نئی آوازوں کے لب و لہجے اور غزل کے فن کو استعمال کرنے کی تنوعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ کتاب ایک طرح کا ارتقائی تجزیہ ہے جس میں سینکڑوں شعرا کے کلام کو ارتقائی اعتبار سے تجزئیاتی ڈسکورس کے تحت ایک منطقی ترتیب سے پرکھا گیا ہے اور ان کے کلام سے غزل کی تشکیلِ نو کے سفر کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اُردو غزل کی جدید تشکیل کا عمل جاری ہے اور اکیسویں صدی اس لحاظ سے اہم ترین عہد ہے کہ اب غزل کہنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
قوی اُمید کی جا سکتی ہے کہ غزل کی یہ صنف دیگر اصناف سے بڑھ کر ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرے گی کہ اب تنگنائے غزل کا زمانہ ختم ہوا اور کہہ لو جو کہنا ہے کا چلن عام ہے۔
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ
بابِ اول: جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں پاکستانی شعرا کا حصہ
اُردو غزل دیگر شعری اصناف کی نسبت زیادہ فعال، متحرک اور پُر اثر رہی ہے۔ اس کی ساخت، بناوٹ، بُنت اور تراش خراش میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھا گیا۔ صنفِ غزل کو شعرا نے دیگر شعری و ذیلی اصناف کی نسبت زیادہ اہمیت دی اور اس کی وقعت کو کسی صورت کم نہ ہونے دیا۔
اُردو غزل کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے سرحدوں کی قید میں خود کو مقید نہیں ہونے دیا۔ مابعد تقسیم اس کے ارتقا میں پاکستانی شعرا نے اپنا فعال کر دار ادا کیا ہے۔ اُردو غزل کا سفر قریباً آٹھ سو برس کو محیط ہے۔ ہزاروں شعرا نے اپنے دواوین یاد گار چھوڑے۔ اُردو غزل کا سرمایہ محفوظ رہنے اور شعرا کا کلام دیگر اصناف کی نسبت زیادہ پڑھے، چھپنے اور گفتگو کا حصہ بننے کی وجہ اس کی ترسیل کا فطری نظام ہے۔
اُردو غزل انسان سے متصل جملہ جذبات و احساسات کا اظہار کرنے کی صلاحیت سے متصف ہے۔ دُنیا جہاں کے موضوعات کو اس نرم و نازک اور چلبلی سی لطیف صنف میں کھپا دینے کی گنجائش موجود ہے۔ اُردو غزل کی گردن مارنے والے سیکڑوں شعرا اور نقاد سامنے آئے اور طعن و ملامت سے اس کا گلہ گھوٹنے کی کوشش میں ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود نامراد رہے۔ اُردو غزل ہر دور میں عوام و خواص کی مقبول صنف رہی ہے۔ جب تک اُردو زبان موجود ہے، صنفِ غزل کو زوال اور تنزل کا اندیشہ بھی لاحق نہیں ہو سکتا۔
ناصرؔ کاظمی تقسیم کے بعد اُردو غزل کو ناصر کاظمی ایسا غزل گو شاعر نصیب ہوا جس نے غزل کو معراج کی انتہا پر لا کھڑا کیا۔ ناصر کی اُداسی، تنہائی، غم اور حسن و عشق کی تڑپ نے اُردو غزل کو میر و غالب کا تاثر یاد دلایا۔ ناصر کی غزل کا سہل ممتناعی انداز ایسا عمدہ اور دلآویز تھا کہ گہری سے گہری اور معمولی سے معمولی واقعہ اس سانچے میں ڈھل کر لاجواب بن جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں: "ناصر کاظمی ہماری غزل کے گنے چنے دو ایک اوریجنل شاعروں میں سے ایک ہیں۔”۱ ناصر نے تقسیم کے تجربے کو جس شدت سے پیش کیا یہ کام کسی اور شاعر کے بس کی بات نہ تھی۔
؎دل کی گہرائیوں میں ڈوب کے دیکھ
کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں
؎رات اندھیری ہے تو اپنے دھیان کی مشعل جلا
قافلے والوں میں کس کو کس کی پروا ہے نہ پوچھ
فیض احمد فیض کا نام اُردو غزل اور نظم کی روایت میں ہمیشہ فخر سے لیا جائے گا۔ فیض نے سیاست اور ادب کو جس طرح باہم آمیختہ کیا جو انھیں پر ختم ہے۔ فیض نے اپنی سیاسی اور فکری نظریات اور تصورات کو غزل کی زبان میں عمومی اور نظم کے طور سے خصوصی پیش کیا۔ ان کی غزل کا رنگ غنائی اور موسیقیت سے لبالب ہے۔ پروفیسر قمر رئیس لکھتے ہیں: "فیض کا مختصر سرمایہ سخن اُردو شاعری کی تاریخ کا سنگ میل ہے۔ فیض کی مختصر چند غزلیں بے پناہ مقبولیت کی حامل ہیں۔ انھوں نے اپنے رنگِ سخن سے ہم عصر شعرا کو حد درجہ متاثر کیا۔ فیض کی لفظیات پُر اثر، معنی خیز اور جمالیاتی رکھ رکھاؤ کا عمدہ قرینہ لیے ہوئے ہیں۔”۲
؎دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دلِ پُر خوں کا ہنر تو دیکھو
؎جو کچھ بھی بن نہ پڑا فیضؔ لُٹ کے یاروں سے
تو رہزنوں سے دُعا سلام ہوتی رہی
احسان دانش رومانوی دور میں ابھرنے والے شاعر ہیں جنھوں نے مزدوری کا حق بھی ادا کیا اور شاعری کا فرض بھی بخوبی نبھایا۔ ان کی نثر بھی اعلی اور نظم بھی اعلی۔ احسان نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کی غزل میں سچے اور کھرے جذبات کی روانی موجود ہے جس کی تلخی پڑھنے والے کے حواس پر بھی اثر کرتی ہے۔
؎نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہو گا
؎آدمی کو خود نہیں اپنے سفر سے آگہی
اس کی قسمت میں تو اک منزل ہے اک منزل کے بعد
احمد ندیمؔ قاسمی ایک ہمہ جہت ادیب تھے۔ ان کو اُردو ادب میں منگلا ڈیم کہتے ہیں یعنی انھوں نے نظم و نثر دونوں جہات کے ذیلی دھاروں میں خوب قلم چلایا اور جو بھی لکھا وہ امر ہوا۔ قاسمی کی نظموں اور غزلوں میں زندگی کی روشن امید دکھائی دیتی ہے۔ فکر کی گہرائی اور طبیعت کی سنجیدگی نے مل کر غزل کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ ندیم کی غزل کا رنگ اخلاقی اور مشرقی اقدار کی ترجمانی کا نمائندہ بن گیا ہے۔ ممتاز حسین نے لکھا: "قاسمی کی غزلوں میں لطافت اور حلاوت بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ انھوں نے شاعری میں انسانوں کے جذبات کی خوب ترجمانی کی ہے۔”۳
؎خراشیں دل کی اُمڈیں گی ندیمؔ اک سیلِ خوں بن کر
یہی پگڈنڈیاں مل جل کے بن جائیں گی شہرائیں
؎آبلوں پر جو حنا باندھے مجھے یہ بھی بتائے
کیوں بایں درماندگی وارفتہ منزل بھی ہوں
صوفی غلام مصطفی تبسم بہ حیثیت یادگارِ زمانہ شخصیات میں شامل اُردو غزل کے معتبر شاعر ہیں جنھوں اُردو، فارسی اور عربی میں استعداد حاصل کی۔ ان کی شخصیت، شاعری اور مزاج ایسا سبھاؤ والا ہے کہ کچھ بھی کہیے اچھا اور بھلا ہی محسوس ہوتا ہے۔ صوفی صاحب نے غزل کو سادگی، برجستگی اور روانی سے مزین کیا۔ حُسن و عشق کے بیان میں متانت اور سنجیدگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ لطیف اور مترنم انداز میں شعر موزوں کرنے کا خدا داد سلیقہ رکھتے تھے۔
؎دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی
؎سخت بیگانہ حیات ہے دل
آؤ اس آشنا کی بات کریں
قتیل شفائی نے گیت کی صنف کو امر کر دیا۔ قتیل کی غزلوں میں مصنوعی آب و ہوا کی رنگینی اور آراستگی کی فراوانی ہے۔ قتیل نے محبت کے فلسفے کو قسم قسم کے جداگانہ تصورات میں بیان کیا ہے۔ ان کے یہاں محبت کا تجربہ داخلی کیفیت کا کرب لیے ہوئے ہے۔
؎مے کدے بند ہوئے ڈھونڈ رہا ہوں تجھ کو
تو کہاں ہے مجھے آنکھوں سے پلانے والے
؎تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
ساحرؔ لدھیانوی قتیل شفائی کے متوازی ان کے ہمعصر شاعر کا رنگ و آہنگ طلسماتی تھا۔ ساحر کے گیت کو ان کے بقول واقعی ایک زمانے نے گایا اور ہنوز، ان کی شعریات کا اثر برقرار ہے۔ ساحر نے زندگی کو جس طور سے دیکھا اُسی انداز میں پیش کر دیا۔ ساحر کے ہاں سحر طاری کر دینے والی غزلیہ شعریت ملتی ہے جس سے اُردو غزل نے بہت فیض اُٹھایا۔ پروفیسر عبد القوی دسنوی لکھتے ہیں: "ساحر کی غزل کا ماحصل حسن و عشق کا بیان ہے۔ ساحر نے اضطرار او اضطراب کو جس انداز سے بیان کیا ہے وہ دل کو مضطرب بھی کرتا ہے اور دماغ کو متاثر بھی۔”۴
؎تمہارے عہدِ وفا کو میں عہد کیا سمجھوں
مجھے خود اپنی محبت کا اعتبار نہیں
؎دُنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
ظہیرؔ کاشمیری ساحر کی غزل کا طلسم ان کے ہاں بھی تقلید کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ ایک بڑا شاعر اپنے اُسلوبِ شعری سے ایک جہان کو متاثر کرتا ہے خواہ وہ قاری ہو یا شاعر یا استاد شاعر سبھی پر یہ اثر برابر پڑتا ہے۔ ظہیر نے اردو غزل کو انسانی عظمت کا ترجمان بنایا۔ ظہیر کے یہاں ایک جدا قسم کا بیانیہ ملتا ہے جو ان کا اپنا ترشا ہوا ہے۔ ظہیر نے سیاسی محاذ پر بھی اپنی شاعرانہ رائے دیں دیں مگر زیادہ توجہ غزل کی معنویت سے اثریت کی طرف مبذول رہی۔
؎تیری چشمِ طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پُر نم بھی
محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی
؎ہم نے تو کروٹوں میں جوانی گزار دی
حسرت سے بزمِ غیر کا در دیکھتے رہے
مختارؔ صدیقی راشد کے بر عکس غزل کی معتبر آواز ہیں۔ مختار نے ذوق جمال کو لذت حیات قرار دیا۔ ان کی غزل میں رومانی مزاج، عصری یلغار کے ساتھ مدغم ہو کر حسیاتی گونج کی فضا پیدا کرتا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کی نمائندگی کرنے والے اس شاعر نے جدیدیت اور کلاسیکیت کو ایک نئی تازگی اور ندرت بخشی جس سے غزل کے تشکیلی سفر نے مہمیز کا کام کیا۔
؎آٹھ پہر آشفتہ خیالی کسی کو بھلا خوش آتی ہے
جی مانے تو ہم بھی کچھ دلجمعی کا سامان کریں
؎میری آنکھوں ہی میں تھے ان کہے پہلو اُس کے
وہ جو اک بات سنی میری زبانی تم نے
یوسفؔ ظفر کو اُردو غزل کی روایت میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ یوسف نے غزل کو جاگیردارانہ عہد کی یادگار سمجھا۔ ان کے ہاں قدامت پسندی کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ محنت و مزدوری، مشقت و ریاضت کا بیان ان کی غزل کا مرکزی موضوع ہے۔ زندگی کی تلخیوں اور اپنوں کی طوطا چشمیوں کو انھوں نے غزل کے دامن میں کمال فنی چابکدستی سے سمویا۔
؎پھیل کر آنکھوں میں دھندلاہٹیں لہراتی ہیں
اب مرے سامنے پردے کے سوا کچھ بھی نہیں
؎تو سمجھتی ہے کوئی اور نہیں تیرے سوا
میری نظروں پہ کوئی اور نہیں چھا سکتا
قیوم نظرؔ اس سلسلے کی آخری کڑی ہیں جنھوں نے غزل کے امکانات کو وسیع کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ قیوم کی غزل میں کسی ہونی کو انہونی کرنے کی تلاش کا عمل برسر پیکار ہے۔ دُکھ، درد اور آفات و جنجال کو انھوں نے زندگی کا ماتم بنا کر پیش کیا۔ کہیں کہیں یاسیت کے ساتھ امید کی سرخی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہیئت کے تجربوں سے مضمون کی جمالیاتی حسن کو مجروح کر گئے۔
؎ مجھ کو چھپ چھپ کے بار بار نہ دیکھ
اس حقیقت کو بے نقاب نہ کر
؎میسر جو کسی پہلو نہ آئیں
وہی اُن کی ملاقاتیں حسیں ہیں
سیف الدین سیفؔ اُردو غزل کے قد آور شاعر ہیں۔ سیف نے غزل کو پڑھنے سے زیادہ گنگنانے کی چیز بنایا ہے۔ سیف کا انداز بیان واقعی ہم عصر سے نرالا، انوکھا اور منفرد ہے۔ سیف نے حسن و عشق کے جملہ موضوعات کو کمال فنی چا بک دستی اور جذبے کی حدت سے غزل کے سانچے میں ڈھال کر روایت کا حق ادا کیا ہے۔ سادگی اور سلاست کا جواب نہیں ہے۔
؎خلش یوں بھی تھی یادِ پیہم سے لیکن
بہت بھولنے پر بہت یاد آئے
؎چلے ہیں سیفؔ وہاں ہم علاجِ غم کے لیے
دلوں کو درد کی دولت جہاں سے ملتی ہے
شانؔ الحق حقی کا نام اُردو ادب میں عزت سے لیا جاتا ہے۔ شان نے لسانیات میں اہم کام کیا۔ انھوں نے غزل کہی اور خوب کہی۔ ان کی غزلوں کا رنگ غنائی اور موسیقی سے عبارت ہے۔ ان کے ہاں روزمرہ، محاورہ اور ہندی و مقامی الفاظ کی آمیزش ملتی ہے۔ الفاظ کا در و بست خوب جاتے ہیں۔ حُسن و عشق کے معاملات کا اُتار چڑھاؤ اور سبھاؤ کے قرینے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شان الحق کی غزل بہترین کرافٹ اور آرٹ کی مظہر ہے۔ ڈاکٹر عقیل احمد رضوی لکھتے ہیں: "حقی کی غزل رچی ہوئی اور نکھری ہوئی ہے، ان کی غزلوں میں حسن و عشق کی نفسیات کا کلاسیکی رچاؤ نہایت عمدہ ہے۔”۵
؎ذوقِ نظر کے دم سے گوارا ہے رنجِ زیست
خود کو بھی دیکھتے ہیں تماشا سمجھ کے ہم
؎گردشِ جام رہے سوختہ جانوں کو نصیب
پھر بُرا کیا ہے جو یہ گردشِ دوراں بھی رہے
باقیؔ صدیقی کا شمار جدید اُردو غزل میں ہوتا ہے۔ باقی نے غزل کی جملہ کلاسیکی روایت کو من و عن نہ صرف پڑھا تھا بلکہ شعور کے نہاں خانے میں دخیل بھی کیا تھا۔ باقی کے ہاں چھوٹی بحر میں خیال کی جملہ پرتوں کا فرداً فرداً تخیلی اور تجرباتی بیان پڑھنے والے پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ مالک رام لکھتے ہیں: "باقی صدیقی کے ہاں تیکھے پن اور طنز کی نشتریت سے غزل کو اور بھی دلکش بنا دیا ہے۔ زبان و بیان پر یکساں قدرت نے باقی کی غزل کو پڑھنے سے زیادہ گنگنانے کی چیز بنا دیا ہے۔“۶
؎زندگی ہے وہ آئینہ جس میں
اپنی صورت نظر آتی ہے
؎شوقِ نظارہ کا پردہ اُٹھا
نظر آنے لگی دنیا ہم کو
صباؔ اکبر آبادی نے غزل کی زبان کو لطافت کے لسانی شعور سے آشنا کیا۔ ان کی فکر کا خام مسالہ مشاہدے کے چراغ سے ماخوذ ہے۔ صبا نے غزل کو غرابت و ثقالت اور گنجلک الفاظ کی بھرمار سے باہر نکال کر سادگی و سلاست کا مرقع بنایا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں: "صبا تخلیقی عمل میں لفظ کی قدر و قیمت اور اس کے برمحل استعمال سے بخوبی آگاہ تھے، ان کے ہاں لفظ کی نقل کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔”۷
؎کسی کے نام کا خط اک نمائشِ فن تھا
ہر ایک لفظ سنوارا مصوری کی طرح
؎جلائیں گے پھولوں کے انگار اک دن
چِتا بن کے پھونکے گی سونی سجریا
جمیل الدین عالیؔ کا شمار اُردو شعرا میں صف اول کے شعرا میں ہوتا ہے۔ عالی جی نے دوہوں میں شہرت پائی۔ ان کی غزل پر بھی دوہے کے پیرامیٹر کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ ان کی غزل میں داخلی احساس کی شدت آرزو مندی کی کسک کے ساتھ آمیخت ہو گئی ہے۔ افسردگی اور قنوطیت کے بر عکس معصومیت اور ربودگی کا احساس فراواں ہے۔ حسن و عشق کے قصص کو تمثیل سے زیادہ تجرباتی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قاضی جمال حسین لکھتے ہیں: "عالمی سچائی کو جھوٹ اور دل فریبی کو دل نشینی میں بدلنے کی بجائے سیدھے سادے انداز میں بے ساختہ کہہ جاتے ہیں جو پُر اثر اور دل پذیر تجربے کی طرح روح میں اُترتا ہے”۔ ۸
؎اب تک مجھے نہ کوئی مرا راز داں ملا
جو بھی ملا اسیرِ زمان و مکاں ملا
؎اتنی قدر ہوئی پر اب تک اُن سے داد کی خواہش ہے
اتنی عمر گنوائی عالیؔ پھر بھی رہے نادانوں میں
ضیاؔ جالندھری نے اُردو غزل کو اپنے اُسلوب سے مزید تقویت پہنچائی۔ ضیا نے غزل کو ایک قسم کی تجربہ گاہ بنایا اور اس کی تراش خراش میں نت نئے اسالیبِ شعری متعارف کروائے۔ ان کے ہاں ایہام و ابہام کی ذو معنویت کا غلبہ ہے۔ سیاسی و سماجی انحطاط اور تہذیبی ارزانی کا نوحہ بھی تمثیلی انداز میں غزل کے پیکر میں سمونے کے ہنر میں مشاق ہیں۔ ضیا نے نظم اور غزل کو باہم مدغم کر دیا ہے جس سے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
؎اب ہے وہ نگاہ نہ وہ تبسم
کچھ اور تھی گاہ گاہ کی بات
؎اب زندگی کو دیکھ کر نہ آنکھیں موند لیں
جاگے ہیں مستِ خوابِ گراں اتفاق سے
تابش دہلوی کے ہاں زبان کی صفائی، سلاست اور متصوفانہ اقدار کی ترجمانی کا ایسا شستہ و رفتہ بیان ہے کہ غزل خود گنگنانے لگتی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں: "تابش کو جدید غزل گو شعرا میں اساتذہ کی صف میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ ان کی غزلوں میں تخلیقی و فنی پختگی کی ریاضت کا عمدہ اظہار ملتا ہے۔”۶۲
؎کیوں ہے مری تقدیر سے وابستہ زمانہ
گردش کوئی خود بھی سحرو شام تو لیتے
؎نہ کوئی آنسو نہ کوئی نالہ، غمِ محبت سناؤں کیسے
نہ کوئی افسانہ زیرِ عنواں، نہ کوئی عنواں سر فسانہ
حمایتؔ علی شاعر جدید اُردو غزل کو جدت اظہار، ندرت نظر اور تازگیِ بیان سے ہمکنار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ حمایت نے سائنسی اور صنعتی دور کی حیران کن استعجابیوں کو غزل کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ غزل ایک اظہار کا ذریعہ ہے جس میں ہر طرح کے موضوعات کو آسانی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ حمایت نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی۔ حمایت کے ہاں جبر و استحصال، نا انصافی اور معاشرتی ناہمواریوں کا ذکر ملتا ہے۔
؎آنکھ کھُلی تو پلکیں نم تھیں
دیکھ لیں خوابوں کی تصویریں
؎آئے ہیں غمِ عشق میں ایسے بھی مقامات
دل خوں ہوا اور آنکھ سے آنسو بھی نہ ڈھلکے
اطہر نفیسؔ جدید اُردو غزل میں اخلاقی اقدار کی مثبت فکر کو نمایاں کرنے میں بڑا حصہ ہے۔ اطہر نے غزل کو فکر سے آشنا کیا۔ ان کی غزل کا رنگ پختہ اور تازہ ہے۔ اطہر نے رومان کو بھی سطحی باندھنے کی بجائے متانت اور سلیقے سے برتا ہے۔ محمد شمس الحق لکھتے ہیں: "اطہر نفیس کی غزل میں تغزل کی رچی بسی ہوئی کیفیت متحرک اور رواں ہے جس سے تخلیقی عمل کی تازگی اور خود کلامی کا پتہ چلتا ہے۔”۹
؎عشق کرنا جو سیکھا تو دنیا برتنے کا فن آ گیا
کاروبارِ جنوں آ گیا ہے تو کارِ جہاں آ گیا
؎راہِ وفا دشوار بہت تھی، تم کیوں میرے ساتھ آئے
پھول سا چہرہ کملایا اور رنگ حنا پامال ہوا
عبید اللہ علیمؔ کا شعری سفری اُردو ادبیات کا خزینہ ہے۔ عبید نے غزل میں عصری تنہائی، ذات کی بے چینی اور روایتی اقدار کی تنزلی کا نوحہ پیٹا ہے۔ عبید کے ہاں محبت اور نفرت کی کشمکش کا خوبصورت بیان ملتا ہے۔ عبید نے اپنا رنگِ سخن میر، ناصر، اور فراق و جون سے مستعار لیا ہے اس لیے ان کا رنگِ غزل کلاسیکی اور جدیدیت کا سنگم معلوم ہوتا ہے۔
؎مجھ پر طاری ہے رہِ عشق کی آسودہ تھکن
تجھ پہ کیا گزری مرے چاند بتا کیوں چُپ ہے
؎جتنے آگ کے دریا ہیں سب پار ہمیں کو کرنا ہیں
دُنیا کس کے ساتھ آئی ہے دُنیا تو دیوانی ہے
شیر افضلؔ جعفری کے ہاں غزل کا مزاج معاشرت کا آئینہ بن گیا تھا۔ افضل نے پنجاب کی دیہی ثقافت اور فطرت کو غزل کا رنگ دیا۔ افضل کی زبان پر گرفت نے ان کے ہاں پنجابیت کو معاشرتی تشخص کے اظہار کا نمائندہ بنایا۔ ڈاکٹر وحید قریشی لکھتے ہیں: "شیر افضل جعفری نے مقامی رنگ میں شاعری کو سکہ بند طرزِ احساس سے بچایا جس سے غزل کا مزاج انوکھا اور دل پذیر لوچ میں ڈھل گیا۔”۱۰
؎وقت ان سے شراب لیتا ہے
مست ہیں ماہ و سال آنکھوں میں
؎مفلسی کی تیر اندازی نہ پوچھ
آرزوئیں مات کھا کر رہ گئیں
صہباؔ اختر کا نام جدید اُردو غزل کے تشکیلی سفر کی روایت میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ صہبا نے غزل کو ایک نئی معنویت سے آشنا کیا۔ صہبا کے ہاں جمالیاتی شعور کی پرتیں اسَرار کی گرہیں کھولتی دکھائی دیتی ہیں۔ صہبا نے غزل کو تخیل سے نکال کر حقیقت کے سانچے میں ڈھالا۔ محمد شمس الحق لکھتے ہیں: "صہبا نے صاف ستھری غزلیں کہیں ہیں، ان کی غزل کی خوبی اس کا ابہام سے پاک ہونا ہے۔”۱۱
؎خالی ہیں نعمتوں کے حسین خوان کیا کریں
یارانِ ذائقہ ہیں پریشان کیا کریں
قمرؔ جمیل کی شاعری کا رنگ ان کا خود ساختہ ہے جس میں ان کے تخیل کو زیادہ دخل ہے۔ قمر نے خوابوں کو شاعری کا مرکز بنایا اور ایسی لفظیات اور تلازمے استعمال کیے جس سے لفظ کا صوتی آہنگ مجروح ہوا۔ قمر نے استعارات سے مابعد طبیعاتی تصورات کا کام لیا۔ ان کی نظمیں بھی باہم الجھی ہوئی ہیں۔ زبان البتہ سادہ اور سبک روی سے عبارت ہے۔ نظم عمدہ کہتے تھے۔ شعر اچھے نکالنے کا فن انھیں خوب آتا تھا۔
؎ہم ہیں شناوروں کا اوج اپنے مسافروں کی فوج
ہم نے جلائیں موج موج اپنی خودی کی کشتیاں
؎بسترِ مرگ پر مجھے جینے کے خواب دے گئے
جاؤں انھی کے سامنے ان کا کلام ڈال دوں
ناصرؔ شہزاد اُردو غزل کی توانا آواز ہے جنھوں نے غزل کے اُسلوب کی تشکیلِ نو کو نئے سرے سے متعارف کروانے کی کوشش کی۔ ان کے ہاں ہندی لفظیات کا کثرت سے استعمال ایک رجحان کے طور پر سامنے آیا۔ ناصر غزل کو شہر کی فضا سے باہر نکال کر دیہات کی چیز بنا دیا۔ ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں: "ناصر شہزاد نے غزل کو ارضی اور رنگارنگ بنایا۔ انھوں نے قصبات و دیہات کی زندگی کو تشبیہوں، استعاروں اور علامتوں سے مرصع کیا۔”۱۲
؎قلعوں کے یہ حصار، نہیں قربتوں کے دیار
ان برجیوں کے پار ہوائے فراق ہے
؎کھیسہ ہو جب تہی تو تعلق بھی گمرہی
گھر میں ہو زر تو رشتہ ہے بھائی سے بہن کا
حبیب جالبؔ مزاحمت پسند باغی شاعر ہیں۔ ان کی نظموں اور غزلوں میں احتجاج کا عنصر فراواں ہے۔ حبیب نے زندگی کی سختیوں اور سیاست کی رنگینوں کو نظم و غزل میں یکساں بیان کیا۔ حبیب کے ہاں تغزل کا عنصر بے ساختہ نظر آتا ہے۔ سادہ، آسان اور سہل انداز میں گہری رمز بھری بات یوں کرتے ہیں کہ دل پر چوٹ کرتی ہے۔
؎پھر رہی ہیں آنکھوں میں تیرے شہر کی گلیاں
ڈوبتا ہوا سورج پھیلتے ہوئے سائے
؎درد تو آنکھوں سے بہتا ہے اور چہرہ سب کچھ کہتا ہے
یہ مت لکھو وہ مت لکھو آئے بڑے سمجھانے والے
مصطفیؔ زیدی کا شمار اُردو نظم و غزل کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ مصطفی نے غزل کو حسن و عشق کا مرقع بنا دیا تھا۔ انھوں نے رومان کو زندگی کا مقصدِ اولین قرار دیا۔ مغربی شاعری کی جملہ شعریات سے مستفید اس شاعر نے محبت کی جنسی و جسمانی لذت کو دو آتشہ بنانے میں اپنا ہنر صرف کر ڈالا۔
؎پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند
اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح
؎وہ جن کے درِ ناز پہ جھکتا تھا زمانہ
آتے تھے بڑی دور سے چل کر اسی گھر میں
محسنؔ احسان قد آور شاعر ہیں۔ ان کی غزل میں رومان انگ انگ میں بھرا دکھائی دیتا ہے۔ صاف زبان کے رسیا محسن نے جذبوں کی گداز کیفیات کو مترنم انداز میں شعر کے قالب میں کھپایا ہے۔ شعر پڑھتے ہوئے مفہوم از خود آشکارا ہو جاتا ہے۔
؎یہی مزاج ہے اپنا کسی کا دل نہ دُکھے
جدائیوں کو بھی چاہا ہے قربتوں کی طرح
؎کتنی خاموشی ہے بام و در و دیوار پہ آج
دل جو دھڑکا تو یہ سناٹا بکھر جائے گا
سلیم احمد نے مشینی دور کے خلاف نظموں اور غزلوں میں خوف مزاحمت کی۔ ان کی تنقید بھی خاصے کی چیز ہے۔ ان کی نظموں کا پھیلاؤ غزل کی نسبت زیادہ ہے۔ سلیم نے غزل کو اظہار جذبات تک محدود نہیں کیا بلکہ اسے سیاسی و سماجی تنزل کے پروردہ نظام کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال کیا ہے۔ احمد جاوید نے لکھا: "سلیم احمد غالب کی طرح بت شکن تھا جس نے قدما کے دستور کو پاش پاش کر ڈالا اور اپنے لیے ایک الگ راستہ منتخب کیا جس پر وہ خود اکیلے ہی چلے۔”۱۳
؎ایک اجنبی کے ساتھ میں کہاں نکل آیا
یہ تو میری بستی کا راستا نہیں لگتا
؎دیکھ کر تجھے میں نے اور کچھ نہیں دیکھا
پھر بھی رنگ ہیں کتنے میری چشمِ حیرت میں
ساغرؔ صدیقی کے نام سے مشہور ہونے والے محمد اختر غزل کے قد آور شاعر تھے۔ ان کی غزل حسن و محبت کی حسین امتزاج ہے۔ ساغر نے محبت پر خود کو قربان کر دیا۔ ساغر کی غزل میں تخیل کی کارفرمائی ذاتی تجربے کی لَے سے اُبھرتی محسوس ہوتی ہے۔ ساغر نے معاشرتی تنزل اور متصوفانہ موضوعات کو سادہ، آسان اور سہل انداز میں پیش کیا۔ ان کے نام سے بہت سا کلام منسوب ہے جس کی حقیقت و صداقت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
؎دل کہ جس کو فقیر کہتے ہیں
ایک اجڑی ہوئی گلی ہے ابھی
؎چند نغمے جو مرے سازِ جنوں نے چھیڑے
مستی چشمِ غزالاں سے اُلجھ بیٹھے ہیں
تنویرؔ سِپرا کا شمار اُردو غزل کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ عمر بھر محنت و مزدوری سے کام رکھا۔ شعر کہے اور جی بہلایا۔ تنویر کی غزل میں معاشرے کے پسے ہوئے طبقے اور نفرین آمیز خواہشات کا بیان ملتا ہے۔ سچائی، دیانت اور غیر جانبدارانہ روئیے کا اظہار ان کی غزل کا موضوع ہے۔
؎جو صرف چھلکتے ہوئے دریاؤں پر برسے
تنویرؔ وہ برسات نہیں چاہیے مجھ کو
؎کل تک کسی کے لمس کا کتنا تھا اشتیاق
اب رو رہا ہوں برف کے پہلو میں لیٹ کر
منیرؔ نیازی کو عہدِ حاضر کی غزل گوئی میں اہم مقام حاصل ہے۔ منیر نے شاعری کا آغاز تقسیم کے بعد کیا اور غزل و نظم میں تمثیلی جہان آباد کرنے اور علامتوں سے غزل کا کینوس پورٹریٹ کرنے میں عمر صرف کر دی۔ مینر کی غزل میں جدیدیت سے بیر اور معاشرتی ناہموایوں سے ردعمل کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ مینر نے خواب دیکھے اور حسب توقع تعبیر نہ ملنے پر ماتم کیا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں: "منیر نے غزل کے جملہ رموز و علائم میں اختراعی روش کو برقرار رکھا ان کی غزل کا دائرہ علامتوں کے وسیع تاریک جنگل کی طرح پھیلا ہے جس میں قاری جگہ جگہ بہکتا ہے۔”۱۴
؎ایک ہی رُخ کی اسیری خواب ہے شہروں کا اب
ان کے ماتم ایک سے، ان کی براتیں ایک سی
؎وصالِ ارض و سما کا سماں ہے جیسے کوئی
اندھیرا اتنا ہوا، کچھ سجھائی دیتا نہیں
شکیبؔ جلالی کی شاعری پاکستان و ہند میں ساحر کی طرح مشہور رہی۔ ان کی غزلیں اور نظمیں مختصر وقت میں شہرت کو جا پہنچی۔ بدقسمتی سے انھوں نے زندگی کو آگے بڑھانے میں عجلت کی اور خود کشی سے خود کو اور اُردو غزل کو حیران کر گئے۔ شکیب کے ہاں داخلی اور خارجی رجحان کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ انھوں نے غزل کو پیکر تراشی اور تمثال کاری سے مزین کیا۔
؎کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر
؎بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اٹھائے گزرا
کوئی اس شہر میں سستانے کو نہیں ٹھہرا
محبوبؔ خزاں کا شمار اُردو غزل کے معتبر شعرا میں ہوتا ہے۔ محبوب نے زندگی کے رنگا رنگ مظاہر کو اشعار کے قالب میں ڈھالا۔ محبوب کی انفرادیت ان کے موضوعات کا چناؤ ہے۔ محبوب نے غزل کو سنجیدگی اور متانت سے مزین کیا۔ ان کے سطحی اور عامیانہ جذبات کی ترجمانی نہیں ملتی۔
؎اے دل کوئی تجھ سا بھی ستمگر نہیں دیکھا
جلوؤں کو شکایت کہ پلٹ کر نہیں دیکھا
؎نہ اُلجھو مرے اجنبی اس طرح
بدلتی نہیں زندگی اس طرح
شہزاد احمد کی غزل میں معاشرتی ناہمواری اور پیچ در پیچ گتھیوں کا سلجھاؤ سلیقہ شعار انداز میں ملتا ہے۔ شہزاد نے لفاظی کی بجائے نکتہ آرائی سے کام لیا۔ ان کے ہاں موضوعات کا تنوع غزل کے کینوس کو وسیع کرتا نظر آتا ہے۔ شہزاد نے اسلوب کو متانت اور سنجیدگی کے رس سے مشکبار کیا ہے۔ ممتاز الحق نے لکھا: "غیر معمولی تمثیل کاری کو فن کا درجہ دینے میں شہزاد کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی تمثال کاری قاری کو محسور کر دیتی ہے۔”۱۵
؎عشق اور بے وفائی بہت ہو چکی
اب کسی اور ہی کیفیت میں ملیں
؎وہ روشنی تھی ستارے بھی ماند پڑنے لگے
کوئی چراغ جلایا نہ اس کے جانے تک
جونؔ ایلیا کا شمار اُردو غزل کے صف اول کے شعرا میں ہوتا ہے جس نے اُردو غزل کی ساخت کو بدل ڈالا۔ اُردو غزل میں مدت بعد اگر کسی نے جدت اور ندرت کا خام مسالہ ڈال کر اس کی نیو کو مضبوط کیا تو وہ جون ایلیا ہیں۔ جون نے اُردو غزل کو عہدِ حاضر کی صفِ اول کی صنف بنا دیا۔ جون کا کام ان کے لائف اسٹائل کی وجہ سے زیادہ پہچانا نہ جا سکا۔ جون نے حیات و ماورائے حیات کے ممکنہ موضوعات کو کھنگال کر بحرِ مختصر میں سادہ، آسان اور مترنم انداز میں پیش کیا ہے۔
جون نے معاشرت، اخلاق، آدمیت، انسانیت، سائنسی خرافات اور کہنہ علوم و فنون کے بوسیدہ تصورات و نظریات سے بیزاری کا فلسفہ غزل میں پیش کیا گیا ہے۔
؎اب کیا حسابِ رفتہ و آیندہ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ سال تھا
؎ہیں ذات کا وہ زخم کہ جس کا شگافِ رنگ
سینے سے دل تلک ہے پہ خنجر ہے گُم یہاں
محسنؔ بھوپالی کی غزل کا آہنگ سب سے جدا ہے۔ محسن نے انسانی اقدار اور مذہبی اقدار کا ماتم کیا ہے۔ عہد و پیمان اور اعتماد و بھروسہ کی مضبوط دیوار کو ریت ہوتے ان سے دیکھا نہیں جاتا۔ محسن نے حسن و محبت کے رعنائی آمیز تصورات کو غزل کی زبان بنایا ہے۔ عزیز حامد مدنی لکھتے ہیں: "محسن کی غزلوں میں جبر و استحصال کے خلاف صدائے احتجاج موجود ہے، انھوں نے زندگی کی حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے۔”۱۶
؎تجھ پہ کھُل جائے گا خود اپنے بھی ہونے کا جواز
لا کبھی عکس کو آئینہ جاں سے باہر
؎ہماری سخت جانی کوئی دیکھے
بلائیں حامی و ناصر رہی ہیں
احمد فرازؔ کی شاعری اپنے عہد کی ترجمان شاعری ہے۔ احمد فراز نام واحد شاعر ہیں جنھیں بطور شاعر ہر مکتبہ فکر سے عزت ملی اور وقار کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ احمد فراز نے زندگی کو جام کی طرح پیا اور ہر کیفیت کو رومان اور محبت کے حسین امتزاج سے شعر میں گوندھ کر روح کی سرشاری کا لمسِ جاوداں بنا دیا۔ احمد فراز کے ہاں معاشرتی ناہمواریوں، سیاسی تخریب کاریوں اور تہذیبی ارزانیوں کا جملہ احتجاجی بیان ملتا ہے۔ احمد فراز نے غزل کو بغاوت کا علم بنایا اور اپنے وطن و زمین سے محبت کا حق ادا کیا۔
؎ہر اک کو زَعم تھا کس کس کو ناخدا کہتے
بھلا ہوا کہ سفینہ کنارے جا لگا
؎پھر تو نے چھیڑ دی ہے کئی ساعتوں کی بات
وہ گفتگو نہ کر کہ تجھے بھی ملال ہو
امجد اسلام امجدؔ جدید اُردو غزل کے رجحان ساز نمائندہ شاعر ہیں۔ ان کی نظمیں اور غزلیات عہدِ جدید کی مخصوص صورتحال کی عکاس ہیں۔ امجد اسلام امجد نے متعدد جہات پر کام کیا اور یادگار سرمایہ چھوڑا۔ حال ہی میں ان کا انتقال اُردو ادب کے لیے گراں خسارے کا سبب بنا۔ امجد نے محبت کو شاعری کی معراج اور چہرہ بنایا۔ ان کی غزل میں حسن و عشق اور محبت و عقیدت کا جو انداز ملتا ہے وہ ان کا اپنا تراشیدہ ہے۔ خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہیں۔
؎دل ہمارا ہے چاند کا وہ رُخ
جو ترے رُخ کی روشنی میں نہیں
؎اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے
تاروں کی رہگذر میں یہ ماہ رو ہے کون!
شبنمؔ رومانی کی رومان انگیز غزلیں ان کی فنی پختگی کا پتہ دیتی ہیں۔ شبنم نے ایمائیت اور اعجاز سے کام لیا۔ ان کے ہاں تہذیبی روایات کی ارزانی کا ماتم ملتا ہے۔ مایوس اور نا امید ہونے کی بجائے اچھے وقت کا انتظار ان کی شاعری میں پڑھنے والے کو حوصلہ اور تازگی فراہم کرتا ہے۔ شبنم نے غزل کو لطیف اور کومل پیرائے میں تراش کر مرصع کیا ہے۔ مصرعوں کی روانی اور چستی زبان پر گرفت کا پتہ دیتی ہے۔
؎رات جس طرح گزرتی ہے سرِ محفل شوق
دن اُسی طرح سرِ دشتِ منیٰ گزرا ہے
عزیزؔ حامد مدنی اچھے شاعر تھے۔ انھوں نے "جدید اُردو شاعری” لکھ کر اُردو شاعری کے وسیع جہان کو یکجا مقید کر دیا ہے۔ عزیز کے ہاں جذبوں کی سرشاری کا مجموعی تاثر ملتا ہے جس سے احساس کی نزاعی کیفیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ شمیم احمد نے لکھا: "مدنی صاحب نے اپنی نظموں اور ذلوں میں نووارد تجربوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عمل کسی اور شاعر کے کم دکھائی دیتا ہے۔”۱۷
؎وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے
؎وفا کی داستانیں سننے والا کون تھا لیکن
خدا کا شکر ہے دو چار آنکھیں ہو گئیں پرنم
مشفقؔ خواجہ کی مشفق آرائیاں اُردو ادب کی زینت ہیں۔ انھوں نے تنقید و تحقیق میں عمدہ کام کیا۔ بطور شاعر ان کی غزل کا رنگ کلاسیکی روش کا غماز ہے۔ مشفق نے زندگی کے نشیب و فراز کو جس طرح دیکھا ویسے ہی غزل کے سانچے میں ڈھال دیا۔ زندگی کی تلخی، ناہمواری اور معاشرتی جبر کے متشدد روئیے کو نرمل، کومل اور دل پذیر الفاظ میں بیان کرنے کا خدا داد سلیقہ رکھتے تھے۔
؎دب گیا زیرِ زمیں اک غم شدہ حیران شہر
دیکھتا ہے خواب سے اُٹھ کر تجھے ویران شہر
؎کسی نگاہ پہ اُن ساعتوں کا رمز کھلے
جو خود نما سبب زندگی میں ڈھلتی ہیں
اسلمؔ انصاری کی غزل کا رنگ کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ جدت سے ہم آغوش دکھائی دیتا ہے۔ اسلم کے ہاں تمثال نگاری کا اہتمام تخصیصی توجہ لیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر نجیب جمال لکھتے ہیں: "اسلم انصاری کی غزل خارجی تجربے اور داخلی واردات کی کشمکش کو اظہار کا سلیقہ عطا کرتی ہے جو تخلیقی عمل کے تکنیکی تجربے کو وسعت بخشتا ہے۔”۱۸
؎نقش ایسا ہو کہ تصویر بنا دے سب کو
عکس ایسا ہو کہ بہتا ہوا دریا ٹھہرے
؎جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
فارغؔ بخاری پُر گو شاعرِ غزل ہیں۔ ان کے ہاں تجربوں کی نت نئی واردات غزل کے قاری کو چونکانے کا کام کرتی ہے۔ فارغ نے مصرعوں کے اوزان میں متعین وزن سے انحراف کیا اور اپنے انفرادی رنگ کو رائج کرنے کی کوشش بھی کی۔ فارغ کے ہاں خیال کی سطح عمومی نوعیت کی اور بیان کا انداز کلاسیکی طرز کا ہے۔ فارغ کی غزل میں لسانیاتی اپج کا تغیر مشاہدے کے تاثر کو مجروح کرتا دکھائی دیتا ہے۔
؎زندگی کی دھڑکنوں کو جس نے تھا جکڑا ہوا
آپ بھی ہم کو وہی زنجیر پہناتے ہیں
؎اول اول وہ نظر اک بادہ گلفام تھی
آخر آخر شکستہ جام ہو کر رہ گئی
غلام محمد قاصرؔ کو اسی قبیل کی شعری روایت کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان کی غزل اپنے عہد کی ترجمان معلوم ہوتی ہے۔ قاصر نے مروج اوزان کے نظام سے انحراف کرتے ہوئے نئے تجربات کیے ہیں جس سے غزل کے امکانات میں وسعت آئی ہے۔
؎ہوئی ہیں بند آنکھیں خواب جاگے
سمندر سو گئے گرداب جاگے
؎تیری یاد کا پر تو، چاندنی چراغ اور دل
کس قدر اُجالوں سے ایک رات بنتی ہے
ثروتؔ حسین کی شاعری کا اعجاز ان کی کلاسیکی روایت سے وفا داری کے عہد کی اُستواری ہے۔ ثروت نے قدیم رنگِ سخن کو جدید طرز سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کی غزل میں تلمیحات کے ذریعے شعر کی پر توں میں جذبوں کی حدت سُلگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
؎اک روز میں بھی باغِ عدن کو نکل گیا
توڑی جو شاخِ رنگ فشاں ہاتھ جل گیا
؎جسے انجام تم سمجھتی ہو
ابتدا ہے کسی کہانی کی
محسنؔ نقوی نے غزل کو رومانیت کا مرکزی دروازہ قرار دیا جس سے گزر کر دل محلے کی سیر کی جاتی ہے۔ محسن نے انسانی توقیر کی ارزانی اور معاشرتی اقدار کی گراوٹ کو مذہبی منافرت سے منسوب کر کے دیکھا اور پھر خود اسی منافرت کا شکار ہو گئے۔ محسن کی غزل ایک وسیع تخیلی کائنات کا احاطہ کرتی ہے جس میں عہد و پیمان سے ہجر و وصال کی جملہ داستانِ لیلائی ملتی ہے۔
؎تمام رات رہی دل میں روشنی کی لکیر!
مثالِ شمعِ سحر وہ بھی جل بجھی اب تو
؎تم تو نزدیکِ رگِ جاں تھے، تمہیں کیا کہتا؟
میں نے دشمن کو بھی دشمن نہیں سمجھا یارو
خورشیدؔ رضوی غزل کی خدمت میں گشتہ نصف صدی سے اپنا تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خورشید کے ہاں متفرق زبانوں کی لفظیات کا خزینہ موجود ہے جسے برمحل اور بر موقع استعمال کرنے کا سلیقہ انھیں خوب آتا ہے۔ زبان و بیان پر یکساں قدرت نے خورشید کی غزل کو افلاکی تابانی بخشی ہے جس سے مضمون کی ترسیل میں روانی کا بہتا دھارا محسوس ہوتا ہے۔
؎تھم جا پل بھر سمندِ ایام
اک لمحہ ملا ہے عمر بھر میں
؎کون سی سمت سے توڑوں خود کو
ہے کہیں مجھ میں کوئی بات عجیب
ظفرؔ اقبال کا فنی سفر پچاس برس سے زیادہ ہو چلا۔ ان کے ہاں غزل میں کئی تجربات ہوئے اس کے باوجود مطلعے نکالنے اور مصرعے تراشنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کی لفظیات کثیر اللسانی اور ذو معنویت کی حامل ہیں۔ غزل کا رنگ سطحی ہونے کے باوجود معاشرتی ارزانی اور اخلاقی تنزل کے ملے جلے گلہ آمیز خیالات کا بیان غلبہ کیے ہوئے ہے۔ ظفر نے اینٹی غزل کے چکر میں غزل کا حلیہ بگاڑ ڈالا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں: "ظفر اقبال نے کثیر اللسانی لغات کو غزل کے تنگ دامن میں ٹھونس کر مضحکہ خیزی کی جو صورت پیدا کی اُس سے اینٹی غزل کا رجحان تقویت پکڑنے کے باوجود زیادہ دیر چل نہ سکا۔”۱۹
؎اُسی چوکھٹ پہ پڑا رہتا ہے
دل ہے، کیا کیجیے غرضی ہے میاں
؎وہ روٹھتا رہے اور ہم اُسے منایا کریں
کہا تھا کس نے یہ تقسیمِ کار کرنے کو
باصر سلطانؔ کاظمی ناصر کاظمی کے صاحبزادے ہیں۔ بطور شاعر ان کی اپنی جدا شناخت ہے۔ باصر کے ہاں اپنے والد کی طرح ہجرت کے مسائل، تنہائی اور اداسی کے مضامین ہونے کے باوجود جدید فضا کی عکاسی بھی ملتی ہے۔ باصر نے غزل کے جدید امکانات کو اپنے شعری تجربے اور مشاہدے کی طولانی سے وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں قدامت کی نسبت جدت، تازگی اور ندرت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
؎ایک دُشمن کی کمی تھی باصرؔ
وہ بھی اک دوست نے پوری کر دی
؎بنا علاج بھی جیتے تھے اچھے خاصے ہم
مرض تو کچھ بھی نہ تھا مر گئے دوا سے ہم
ڈاکٹر منورؔ ہاشمی نوے کی دہائی کے ممتاز غزل گو شاعر ہیں۔ ڈاکٹر منور ہاشمی تدریس و تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کی غزل کا آہنگ کلاسیکی روایت کے تتبع کا آئینہ دار ہے۔ منور ہاشمی کے ہاں تغزل کے خالص نمونے ملتے ہیں۔ منور ہاشمی نے غزل کے جملہ اسالیب سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے لیے الگ کینوس پورٹریٹ کیا اور کامیابی سے اپنے عہد کی مخصوص سیاسی و سماجی اور اقتصادی صورتحال کی ترجمانی کی۔ منور کی غزل میں زبان و بیان کے علائم و رموز کا خیال بطور خاص رکھا گیا ہے جس سے شعر کی حسیت میں تفہیم کی سہولت بڑی آسانی سے در آئی ہے۔
؎ایک لمحہ میرے آگے نہ رکا وہ منظر
میں نے جس کے لیے بینائی بچا رکھی تھی
؎کرچی کرچی عکس ہو جاتا ہے ہر تدبیر کا
ٹوٹ بھی جائے کبھی گر آئینہ تقدیر کا
سلیم کوثرؔ کی غزل کا اُسلوب جداگانہ جدید مزاج کا حامل ہے۔ سلیم نے غزل کے فنی معیار کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے آرائشی عناصر سے مصرعوں کے در و بست کا نظام وضع کیا ہے۔ غزل کو خارجی عناصر کی نسبت داخلی حسیت سے مزین کرنے کی شعوری کوشش خیال کی سطحوں کو موسیقی کے مترنم آہنگ سے ہم آہنگ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
؎ایک صفحہ کہیں تاریخ سے خالی ہے ابھی
آخری جنگ سے پہلے تمہیں مہلت دوں گا
؎مرا حصہ بھی ہے اس روشنی میں
پسِ دیوار شب میں بھی جلا ہوں
افتخارؔ عارف کی غزل میں فکری اپج کا جہان آباد ہے جس میں سماج اور معاشرے کے تنزل کا نوحہ بھی ملتا ہے اور حُسن و محبت کا کلاسیکی روایتی انداز بھی موجزن دکھائی دیتا ہے۔ گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں: "افتخار نے کلاسیکی روایت کو خوش سلیقگی سے نبھایا اور بے تکلف لہجہ پیدا کیا۔ ان کی آواز میں سوز، نرمی اور گداز ہے جو عین غزل کی زبان ہے۔”۲۰
؎شکستِ خوابِ گزشتہ پہ نوحہ خوانی ہوئی
پھر اس کے بعد سجی محفل شبینہ خواب
؎ذرا سی دیر کا ہے یہ رواجِ مال و منال
ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ
احمد مشتاق عہدِ حاضر کے توانا اور غزل کی آبرو کے سند یافتہ شاعر ہیں جن کی شعری حسّیت نے اُردو غزل کو مہجری موضوع کے آفاقی تصور سے آگاہ کیا۔ احمدؔ مشتاق کا فنی سفر پچاس برس سے زائد عرصہ پر محیط ہے اور ہنوز جاری ہے۔
احمد مشتاق کی زبان اور اُسلوب میں غزل کی صدیوں کی روایت بول رہی ہے۔ احمد نے غزل کو محبت کی زبان بنایا اور نفرت کے آلودہ ماحول سے بچایا۔ احمد کے ہاں زندگی کے جملہ موضوعات کی شاعرانہ اُپج دکھائی دیتی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا: "احمد مشتاق کی شاعری ایک زمانہ کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ بلا شبہ اُردو ادب میں عہدِ حاضر کا سب سے بڑا شاعر اگر کسی کو قرار دیا جائے تو احمد مشتاق اس انتخاب پر پورا اُترتا ہے۔”۲۱
؎تو دیارِ حُسن ہے، اونچی رہے تیری فصیل
میں ہوں دروازہ محبت، کھلا رہتا ہوں میں
؎کچھ تو سراغ مل سکے موسمِ دردِ ہجر کا
سنگِ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے
صابرؔ ظفر کا تخلیقی سفر پچاس برس کو محیط ہے۔ ان کے شعری مجموعوں کی تعداد ان کی شعوری عمر کے برابر ہے۔ صابر کے ہاں بسیار نویسی کے باوجود موضوع کی ندرت اورخیال کی تازگی کا عنصر باقی ہے۔ صابر روزمرہ مشاہدات اور تخیلی تصورات سے غزل کے گلستان میں بیل بوٹے کھلاتے، اگاتے اور ترشتے رہتے ہیں۔
؎وہ دل ہی کیا، دھڑک کے، قیامت نہ جس نے کی
زندہ بھی ہے وہ شخص، محبت نہ جس نے کی
؎میں نے ہموار کر لیا آخر
تیرے دل میں خرام کا رستہ
جلیلؔ عالی کا شعری سفر بھی صابر کی طرح نصف صدی کو محیط ہے۔ یہ معمر شاعر اپنے رنگِ سخن میں تازگی اور شگفتگی کے عنصر کو ہنوز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جلیل کے ہاں انسانی جذبوں کے توسط سے احساسات کی دُنیا بسانے کی شعوری کوشش ملتی ہے جس میں وہ با آسانی شعر نکالنے کے فن سے آشنا ہیں۔
؎ہر اک منزل پہ کچھ منظر سہانے ڈھونڈ لیتا ہے
سفر میں دل، بہلنے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے
؎دھُن ہے کہ سجے گھر بھی دل میں ہے مگر ڈر بھی
دیوار نہ گر جائے تصویر بدلنے سے
غلام حسین ساجدؔ کا شمار عہدِ حاضر کے توانا شعرا میں ہوتا ہے۔ غلام حسین کے ہاں خیال کے تخیلی تسلسل کا عنصر فراواں ملتا ہے۔ غلام حسین نے اندر کی دنیا کی بجائے خارج کے جملہ مظاہر کو غزل کا موضوع بنایا جو ان کا اپنا شخصی انفراد ہے۔
؎تمام شہر میں پھیلی ہوئی ہے نیند مری
فشارِ خواب سے چھلکا ہوا ایاغ ہوں میں
؎چراغ جل نہ سکے گا جو اُس کی آنکھوں میں
دھروں گا اُس کو کسی طاق پر اُٹھا کر میں
خالد شریفؔ کا شمار ممتاز غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔ خالد ایک معمر شاعر ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر پچاس برس کو محیط ہے۔ خالد کے ہاں زندگی کے متنوع تجربات کا عنصر ملتا ہے۔ خالد کی شہر کی زندگی کی بے اطمینانی اور بے چینی کو شعر کا پیرہن بنایا ہے۔ خالد کا مزاج ایک ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہے جس میں بھنور کرب لیتا دکھائی دیتا ہے۔ رشتوں کے تقدس اور ان کی اہمیت خالد کی شاعری کا مرکزی محور ہے۔
؎اک دشتِ رضا تھا اسی رستے کے کنارے
اے راست رود! اس رہِ پامال سے آگے
انور مسعود عہدِ حاضر کے مقبول ترین معمر شاعر ہیں۔ ان کا پنجابی کلام ان کی شہرت ہے۔ فارسی میں بھی طبع آزمائی کی۔ اُردو میں قطعات میں نام کمایا۔ اُردو غزل میں سنجیدہ موضوعات پر قلم اُٹھایا۔ معاشرتی ناہمواریوں اور مناقشوں کے تضادات کا مزاحیہ اور کہیں گہرے طنزیہ انداز میں اظہار کرتے ہیں۔ قرات اور پڑھنت کے معاملے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ اپنا اندازِ رنگ سب سے جدا رکھتے ہیں۔
؎کوئی اک بات ایسی کہہ گیا تھا
تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا تھا
؎ابھی جو دیکھ رہی تھی نگاہ بھر کے مجھے
کدھر گئی میرا روزہ خراب کر کے مجھے
محمد اظہار الحقؔ عہدِ حاضر کے جید شعرا میں شاملِ فہرست نمایاں شاعر ہیں جنھوں نے دنیا کے معاملات کے ساتھ متصوفانہ موضوعات اور اسلامی تہذیب و تمدن کے روشن آثار کو غزل کی زبان بنایا۔ ان کی فکر میں گہرائی اور کلام میں شعری اظہار کی انفرادیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیان سنجیدہ، وجیع اور ٹھہراؤ کا تاثر لیے ہوئے ہے۔ غلام حسین ساجد نے لکھا: "محمد اظہار الحق کی غزل کا سارا منظر الف لیلوی ہے۔ ان کی غزل مسلم تہذیب کے عروج و زوال کے در کھولتی متعارف کرواتی نظر آتی ہے۔”۲۲؎
؎سُموں تلے روند دے خوشی سے مگر یہ سن لے
گناہ اے شہ سوار میں نے کہیں کیا تھا
افضالؔ احمد سید اپنی نظموں کے ماورائی حُسن بیان کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں یہی پُر اسراریت پائی جاتی ہے۔ افضال کے زبان سے دلچسپی اس کی صناعی کے پیش نظر غزل کو کلاسیکی رنگ سے ممیز کرنے اور جدیدیت سے ہمکنار کرنے میں کمک فراہم کرتی ہے۔ افضال نے تراکیب اور تلمیحات کے متنوع استعمال سے شاعری کا قصر مرصع کیا ہے۔
؎جب مقابل وہ سرشتِ شرر ایجاد آئی
خود سے وحشی کو بھی فتراک سے آمادہ کیا
؎اک شام تیرے ساحلِ بے اختیار پر
اک مرگِ بے نوشتہ تقدیر چاہیے
خالد اقبال یاسرؔ جواں مرگ شاعر تھے۔ ان کی غزل میں الفاظ کی از سر نو تشکیل و ترمیم کا فنی التزام حیران کن ہے۔ یاسر کی غزل میں ایک طرح کر کربلائی صورتحال دکھائی دیتی ہے گویا وہ حق و باطل کی کشمکش میں کسی ایک کے حق میں سرنگوں ہونے کی جد و جہد میں نہال اپنی شناخت کے معمہ کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
؎بھول جانا تھا جسے، ثبت ہے دل پر میرے
یاد رکھنا تھا جسے، اُس کو بھلا بیٹھا ہوں
؎لپکتے جاتے ہیں سارے ہی رونقوں کی طرف
جہاں ہے کوئی اکیلا وہاں کوئی تو ہو
سحرؔ انصاری اکیسویں صدی کا ہنوز اُردو غزل کا بڑا نام ہے جو ظفر اقبال، افتخار عارف اور احمد مشتاق کی صف میں شامل ہے۔ سحر نے غزل کو محبت کی زبان قرار دیا ہے۔ سحر کے ہاں زندگی آلام و افکار کا مجموعہ ہے جسے بحر صورت زیست کرنا پڑتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا "سحر انصاری کی غزل کا پھیلاؤ جدیدیت کے سیاق کو آفاقی صداقت بناتا نظر آتا ہے۔ سحر نے روایتی قدغنوں سے احتراز کرتے ہوئے غزل کو ذہنی حساسیت کا ترجمان بنا یا ہے۔”۲۳
؎خوشی سے پی لیا زہرابِ زندگی ہم نے
ہماری آنکھ میں اشکِ غمِ رواں نہ ملا
؎یوں تو اک لمبا سفر ہے یہ شبِ فرقت مگر
آپ آ جائیں تو لمحوں میں سمٹ جائے گی رات
انورؔ شعور قد آور شاعر ہیں۔ ان کے ہاں متنوع اسالیبِ شعری کا امتزاج ملتا ہے۔ انور نے کلاسیکی روایت کو بھی نبھایا اور جدیدیت سے بھی متصل رہے۔ انور کے ہاں انسان بذات خود مرکزی موضوع ہے۔ انور نے عشق اور حُسن اور معاملاتِ حُسن کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔ ان کے ہاں اخلاقی اقدار اور معاشرتی عدم توازن کی ارزانی کا شدید تنقیدی رجحان ملتا ہے۔
؎کہاں ہے اب وہ مشقِ آوارگی کی
سنبھل جاؤں گا لیکن لڑکھڑا کے
؎ایک ایک چیز وقت کے ہاتھوں بکھر گئی
دل میں بسی ہوئی ہے تری آرزو ہنوز
پیرزادہ قاسمؔ کے ہاں زندگی کے متنوع موضوعات دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کا سفر پچاس برس کو محیط ہے۔ قاسم نے سائنسی علوم کے وسیع مطالعہ کا حاصل اُردو شاعری میں مشاہدے کی مدد سے انڈیل دیا۔ قاسم کی غزل کا رنگ تازگی اور جدت کا پرتو ہے۔ قاسم نے پاکستانی سماج کی خلفشار اور سیاست کے ایوانوں میں ہونے والی تخریب کاریوں پر کھل کر لکھا ہے۔ قاسم کی غزل سراپا احتجاج کا عکس پیش کرتی ہے۔
؎پیاسی زمین کو ایک جُرعہ خون ہے بہت
میرا لہو نچوڑ کر پیاس بجھا دیا کرو
؎یہ میری ہار تھی، کارِ جہاں سے ہارا میں
بچھڑنے والے تجھے یاد آنا چاہیے تھا
سعودؔ عثمانی کی غزل کا کینوس تشکیک سے عبارت ہے۔ مسعود نے اجتماعی تشخص کے فلسفے کو تج کر اپنی انفرادیت قائم کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ مسعود کی غزل میں خارجی عوامل کی کارفرمائی داخلی نظام کو متاثر نہیں کرتی۔ ایک طرح کا نرگسی رویہ ان کی غزل پر گہری چھاپ ثبت کیے ہے۔
؎میں دشتِ جاں میں بکھر کر بھی شاد ماں ہوں سعودؔ
کہ دُکھ بہت ہیں مگر رنجِ رائے گانی نہیں
؎راہ تھی سرخ گلابوں کے لہو سے روشن
پاوں رکھا نہیں جاتا تھا، مگر رکھا تھا
عباسؔ تابش پاکستانی اُردو غزل کے دورِ حاضر کا نمائندہ شاعر ہے۔ عباس کی غزل نے جدید غزل کے وسیع امکانات کو روشن کیا۔ کلاسیکی روایت میں جدت کا عنصر آمیختہ کر کے غزل کے قد کو بڑھانے میں عباس کا بڑا ہاتھ ہے۔ عباس کی شاعری معاشرے کے اجتماعی احساس کی شاعری ہے۔ عباس نے جذبات و احساسات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ان کے اشعار غزل سے جدا کر دئیے جائیں پھر بھی ان میں تکمیلِ موضوع کی قطعیت کا احساس ہوتا ہے۔
؎پلکیں بھی بہہ گئیں خس و خاشاک کی طرح
میں اپنے ساحلوں کے اثر سے نکل گیا
؎دیوار ہے کسی کی، دریچہ کسی کا ہے
لگتا ہے گھر کا گھر ہی اثاثہ کسی کا ہے
شاہینؔ عباس نے اُردو غزل کو متروک اور مردود کیے ہوئے الفاظ سے روشناس کروایا۔ شاہین کی غزل کا رنگ کلاسیکی ہے مگر موضوعات اور مسائل عہدِ حاضر کے ہیں۔ انسانی بے توقیری اور رزالت کی کمین سوچ کا پروردہ نظام انھیں بہت کھٹکتا ہے۔ مصرعے تراشنے اور باریک نکات کو عام فہم انداز میں بیان کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ سادہ، آسان اور رواں اندازِ شعر شاہین کا انفرادی وصف ہے۔
؎پانی یہاں سے چل دیا تجھ کو پکارتے ہوئے
بیٹھ اب اپنے حوض پر پانی کا انتظار کر
؎میرے لہجے سے خون رِسنے لگا
خامشی کو دُعا بناتے ہوئے
اکبرؔ معصوم کی غزل میں سادگی، سلاست اور روانی ملتی ہے۔ اکبر نے سیدھے سادے انداز میں غزل کا سانچہ تیار کیا ہے جس میں مشکل سے مشکل موضوع اور تاثر کو آسانی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ اکبر کی غزل تنہائی، کربِ ذات اور سماجی انحرافات سے متشکل ہوئی ہے۔ اکبر کے ہاں ایک تخیلی دنیا ہے جس کے موجد اور خاتم اکبر خود ہیں۔ شعر عمدہ کہتے ہیں اور مصرعے نگینے کی طرح چمک دار ہوتے ہیں۔ اکبر کی غزل پر اساتذہ فن سے استفادہ کا گہرا رجحان ملتا ہے۔
؎مجھ کو تو وہ بھی ہے معلوم، جو معلوم نہیں
یہ سمجھ بوجھ نہیں ہے، مری نادانی ہے
؎بستر پہ گر رہی ہے سیہ آسماں سے راکھ
وہ چاندنی کہاں ہے، وہ مہ رو کہاں گیا
مقصود وفاؔ عمدہ غزل کہہ رہے ہیں۔ ان کی غزل میں ایک نامعلوم سی حساسیت اور تشکیک ملتی ہے۔ مقصود نے حوادثِ زمانہ کو معاشرے کی جداگانہ روش سے مملو کر کے دیکھا ہے۔ مقصود کے ہاں شکایتِ دروں بینی اور تفاوتِ شرکتِ غیر کا فلسفہ تصنع رنگ کا ملمع اختیار کیے قاری کے حواس کو ششدر کرتا ہے۔
؎کھل کے میں وصل کی باتیں نہیں کرتا پھر بھی
باتوں باتوں میں تقاضا تو کیا ہے میں
؎یہ جو ویرانی میں خوشبوئے صبا شامل ہے
اس تباہی میں تو لگتا ہے خدا شامل ہے
ڈاکٹر ضیاؔ الحسن عہد حاضر کی غزل کا توانا سنجیدہ شاعر ہے۔ ڈاکٹر ضیا الحسن جامعہ پنجاب میں اُستاد ہیں۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی تخلیقات نے شاعری کی اُٹھان کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ بطور شاعر ضیا الحسن کم گو شاعر ہونے کے باوجود تغزل کے اعتبار سے ایک جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔
؎خواب و خیال سمجھے تو موجود ہے جہاں
کچھ بھی سوائے نکتہ موہوم کچھ نہیں
؎ہم بھی نہیں ہوں گے یہ جہاں بھی نہیں ہو گا
کچھ ایسے مٹیں گے کہ نشاں بھی نہیں ہو گا
احمدؔ حسین مجاہد کی غزل کا رنگ کلاسیکی مزاج سے ثقیل ہونے کے بعد جدت کی تاثیر لیے ہوئے ہے۔ احمد نے تلاش اور جستجو کے عمل کو شعوری طور پر قبول کیا اور اس آوارگی میں خوب لطف اُٹھایا ہے۔ احمد حسین کے ہاں لفظیات کا ایک خاص رچاؤ ملتا ہے جو مضمون کی تفہیم میں بے حد اہمیت کا حامل ہے۔
؎تجھ حُسن سے معاملہ کس آن میں ہوا
میں تو جوان ہی میرؔ کے دیوان میں ہوا
؎اک نئی منزل کی دھُن میں دفعتاً سرکا لیا
اس نے اپنا پاؤں میرے پاؤں پر رکھا ہوا
قمر رضاؔ شہزاد کا نام اُردو غزل کی اکیسویں صدی میں نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے جس میں یہ کامیاب رہے۔ غزل میں مکالمے کی فضا غالب سے مستعار معلوم ہوتی ہے۔ الفاظ کے سبھاؤ اور استعمال کے قرینے سے خوب آگاہ ہیں۔
؎بہت مجبور لوگوں میں رہا ہوں
نہیں معلوم کیا تاریک کیا روشن رہے گا
شناورؔ اسحاق عمدہ شعر کہتے ہیں۔ نسلی خلا اور اس سے متاثر ہوتی مشرقی اقدار کا نوحہ شناور کی غزل کا پسندیدہ موضوع ہے۔ شناور نے مذہب کی مصنوعی تاویل کو مادہ پرستی کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے ہاں محاکات اور امیجری کی ملی جلی کیفیت ملتی ہے۔
؎اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے
جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا ہوا تھا
؎کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا
عجیب درد ہے بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا
ادریسؔ بابر عہدِ حاضر کی توانا آواز ہے۔ ادریس نے نظموں اور غزلوں میں اپنے افکار کی ترجمانی کا جدید انفرادی اُسلوب تراشا ہے۔ ادریس کے ہاں سماج کے کھوکھلے نظام اور مشرقی اقدار کی آئے روز بگڑتی صورتحال کا مخصوص بیانیہ ملتا ہے۔ ادریس نے ‘نفس فی ذات’ کے وسیلے سے اپنے دور کی نوجوان نسل کو اندھے کنویں میں گرنے سے بچانی کی کوشش کی ہے۔ شعر کا رنگ و آہن قاری کی توجہ کو مبذول کرتا ہے۔
؎اس زمیں پر اجنبی ہونے کا غم
پھر وہی ہم، پھر وہی ہونے کا غم
؎ہمیں اب صبر کرنے کا نہ کوئی مشورہ دے
کہ ہم یہ تجربہ پہلے سے کر بیٹھے ہوئے ہیں
اعتبارؔ ساجد پاکستانی ممتاز شاعر ہیں۔ ان کی لفظیات علامتی فطرت سے ہم کلام کرتی ہیں۔ اعتبار ساجد نے غزل کا کینوس فطرت کے رنگا رنگ مظاہر پر رکھا ہے۔ انسانی جذبات کی وسیع کائنات کو اعتبار کے ہاں خاص معنویت حاصل ہے جس کا ذکر ان کے مشقت طلب مصرعوں میں بڑے رچاوٹ سے دکھائی دیتا ہے۔ اعتبار ساجد کا نصف صدی کا شعری سفر اُردو غزل کے ارتقا کا اہم حوالہ ہے۔
؎میں خوشبوؤں کا پیمبر ضرور ہوں ساجدؔ
مگر معاملہ اس شہرِ بے فضا کا ہے
؎نکہت و نور کا سفر تو نے تو خیر طے کیا
کشتہ رہگذر ہوئے پھول، چراغ، شام، دل
حسنؔ عباسی ممتاز شاعر ہیں۔ شعر کہتے ہیں لیکن شعریت کو مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں۔ سوال اُٹھانے اور جواب سے عاجز کر دینے کی شعری حسّاسیت رکھتے ہیں۔ حسن کے ہاں مذہبی سے دلچسپی اور مذہبی تاویلات سے موجودہ صورت کو جواز فراہم کرنے کا سلیقہ بطور خاص دکھائی دیتا ہے۔
؎شرط اتنی کہ بارش کی طرح تم آنا
دیکھا کیسے میں شاخوں سے نکل آؤں گا
؎اُس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے
اظہرؔ فراغ کے ہاں مرکز سے دور معاشرت کی ترجمانی کا روایتی انداز ملتا ہے۔ اظہر نے روایت کو جدید ہم عصر شعری تقاضوں کے ساتھ مدغم کرنے اپنے شعری بیانیے کی عمارت استوار کی ہے۔ اظہر کی نکتہ آرائی اور تمثیلی واردات کا شعری آہنگ غضب کا ہے۔ اظہر کے ہاں قدیم روایت اور سماجی ثقافت کے کہنہ تمدن کا ناسٹلجیا موجود ہے جس نے غزل کو ماضی پرست بنا دیا ہے۔
؎ہم اگر اب کے سال بھی نہ ملے
پھر ادھیڑو گی تم سوئیٹر کیا
اتبافؔ ابرک جدید لب و لہجے کے نوجوان شاعر ہیں۔ ان کے ہاں جذبات کی شدت اور رشتوں کی منافقت کا رد عمل بہت گہرا ملتا ہے۔ سماجی توازن کے انحطاط کو دل سے لگائے ہوئے ہیں۔ الفاظ کے مرادی معنوں میں تصرف سے شعوری کام لیتے ہیں۔ بے باک اور کاٹ دار اسلوب کی روایت میں عمدہ شعر نکالنے کا فن جانتے ہیں۔
؎آج لگتا تھا بس تماشا تھا
وہ تعلق جو بے تحاشا تھا
محمد سلیم ساگرؔ نوجوان شاعر ہیں۔ عمدہ غزل کہتے ہیں۔ یاسیت اور دردو کرب سے مملو اشعار دہلوی دبستان کی روایت سے استفادے کی یاد دلاتے ہیں۔ مرورِ وقت کے ساتھ سلیم کا لب و لہجہ سامنے آئے گا۔
؎میری دھڑکن کی گواہی تو مرے حق میں نہیں
ایک احساس سا رہتا ہے کہ ہوں زندہ ہوں
قیصرؔ وجدی عمدہ شاعر ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر گزشتہ چالیس برس کو محیط ہے لیکن مرکز سے دور اور اپنی ذات میں محصور ہونے کی وجہ سے سامنے نہ آ سکے۔ ان کی غزل کا رنگ کلاسیکی اور انداز جدید ہے۔ قیصر نے فرسودہ رسم و رواج اور قدامت کی زنجیروں کو توڑا ہے اور اپنا ایک خاص بیانیہ تشکیل دیا ہے۔
؎دیے وفا کے اگر ہم جلانے لگتے ہیں
ستم ہوا کے ہمیں آزمانے لگتے ہیں
؎ایک تو سزا سی زندگی اُس پر تمہاری یاد
رات پوچھے تو قیامت سے کم نہیں
افضلؔ خان کی غزل میں کلاسیکی روایت کا بھرپور استفادہ شامل ہے۔ افضل نے سامنے کی سختیوں اور مصائب کو جان کا روگ نہیں بنایا بلکہ اس کو خام مسالہ سمجھ کر غزل کے کینوس پر زندگی کے حوادث کو پورٹریٹ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ افضل کی گہری رمزیت اور ادراک کیا تھاہ گہرائی کا تموج شعر کے جمالیاتی تشخص کو جداگانہ شناخت عطا کرتا ہے۔ افضل مستقبل کا نمائندہ شاعر ہے۔
؎لے لے کوئی ہم سے سخن آرائی ہماری
ہوتی ہے بہت صرف توانائی ہماری
؎بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا
وصیؔ شاہ اکیسویں صدی کے آغاز میں تیزی سے ابھرنے والے مقبول خاص و عام شاعر ہیں جنھوں نے نوجوان نسل کو شاعری کا دلدادہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس عہد میں احمد فراز کی شاعری کا چرچا تھا جب وصی شاہ کی نظمیں اور اشعار ہر جگہ پڑھنے اور سننے کو ملتے تھے۔ وصی شاہ کے ہاں نوجوان نسل کے جذباتی ذہنیت اور محبت و حُسن کے روح پرور لمساتی حساسیت کو غزل کے کینوس پر پورٹریٹ کرنے کا خداداد سلیقہ ودیعت ہے۔ گو، اب ان کی وہ شہرت نہیں رہی لیکن ایک کامیاب اور ممتاز شاعر کی حیثیت اب بھی ان کا نام لیا جاتا ہے۔
؎اُس نے سلو ابھی لیے ہوں گے سیہ رنگ لباس
اب محرم کی طرح عید مناتی ہو گی
؎میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
اخترؔ عثمان عہدِ حاضر کا روایتی جدید شاعر ہے جس کی علمیت اس کے تغزل پر غالب رہتی ہے۔ بغاوتی لب و لہجے سے مملو غزل نے ان کے فن کو قدرے دبایا ہے اور ان کی فکر کے سوتے پھوٹنے کی بجائے دب سے گئے ہیں۔
؎اب ہو بھی چکے مری سلامی
ہونٹوں پہ حروف جم گئے ہیں
؎کن سبز سموں کی میں کتھا ہوں
سب چُپ ہیں غبارِ مخملیں میں
ناصرؔ بشیر کی شاعری روزمرہ کے معاملات اور معاشرت و سیاست کے احوال کا روزنامچہ ہے۔ ناصر نے نظم عمدہ کہی البتہ غزل میں معیار کو ہنوز نہ چھو سکے۔ ان کے ہاں عصری مسائل کی عکاسی اور مذہبی نزاعات کا بیان شدت سے ملتا ہے۔ محبت کو لایعنی سمجھتے ہیں اور چاہے کی تمنا بھی کرتے ہیں۔
؎کمزور ہوں پر اتنا بھی کمزور نہیں ہوں
دُشمن بھی رات دن مرے حق میں دُعا کرے
؎سوال کرتی ہے ہم سے ہماری بے سمتی
مسافرو! تمہیں اذنِ سفر دیا کس نے
شوکتؔ فہمی اُردو غزل کے مقبول شعرا ہیں۔ ان کا لب و لہجہ بے باک اور شخصیت متاثر کن ہے۔ الفاظ کا بے جا استعمال نہیں کرتے۔ مخصوص تلازمات سے شعری استعارے تراشتے ہیں۔ اپنے اُردو گرد کی سیاسی و سماجی صورتحال کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرنے کا وصف رکھتے ہیں۔
؎وہ مجھ سے اتنی محبت جتانے لگتا ہے
کبھی کبھی تو مجھے خوف سا آنے لگتا ہے
؎میں اس کی قبر پہ کتبہ لگا کے آیا ہوں
جو مٹ گیا مرا نام و نشاں مٹاتے ہوئے
شبیرؔ حسن کے ہاں کربلائی لہجے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ غزل کا رنگ بھی کربلائی اور یاسیت زدہ ہے۔ شعر میں تڑپ اور اثر کی حدت قلب گھائل کرتی ہے۔ شبیر کی شعری اُٹھان روایت کے مطالعے کی دین ہے۔ شبیر کا شعری ذوق ان کے نمائندہ شاعر ہونے کی دلیل ہے۔
؎میں نے یاروں کو تھما دی ہے یہ دُنیا داری
میرے ہاتھوں سے یہ ہر بار الٹ جاتی ہے
؎مجھے یہ جچتے نہیں تشنہ کام جاتے ہوئے
شکوہ قصر اُٹھا لیں غلام جاتے ہوئے
واجدؔ میر عمدہ شاعر ہیں۔ مشاعروں میں باقاعدہ کثرت ان کی پہچان ہے۔ غزل کا رنگ تیکھا اور تنقیدی ہے۔ شعر کہتے ہوئے موضوع سے بہک جاتے ہیں۔ روایت کے تتبع اور جدت سے ہم آہنگی شعر کی حساسیت کو زائل کرتی ہے۔ واجد کے ہاں عصری شعور کا غلبہ خاصے کی چیز ہے
؎جھانکتا کون ہے گریباں میں
آئینہ کس کے رو بہ رو ہے یہاں
؎آنکھ کی پُتلیوں کو غور سے دیکھ
تیری تصویر ہو بہو ہے یہاں
سبحانؔ احمد کا شعری سفر اکیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوا۔ سبحان نے عہدِ حاضر کے ہنگامی موضوعات کا غزل کا حصہ بنا یا ہے۔ نوجوان شاعر ہیں۔ عمدہ شعر کہتے ہیں۔ شعری حسیت کے رموز و علائم سے بخوبی واقف ہیں۔ مستقبل قریب میں نمائندہ شاعر کے طور پر ابھریں گے۔
؎میں ایک ٹھہرا ہوا پل، تو بہتا دریا ہے
تجھے ملوں گا تو پھر ٹوٹ کر ملوں گا میں
؎ہماری مٹی سے کیا بنے گا
بہت بنا تو خدا بنے گا
تہذیب حافی اکیسویں صدی کی نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر کا شمار اس وقت دُنیا بھر میں موجود اُردو زبان اور غزل سے محبت رکھنے والوں میں عزت سے لیا جاتا ہے۔ تہذیب نے فطرت کو اور خالصتاً انسانی جذبات کی بے ساختگی اور اجلاہٹ کو پہلی بار اُردو غزل میں پیش کیا۔ روایتی بیان و بدیع کے لوازمات سے غزل کو نہ صرف آزاد کیا بلکہ ایک نیا اسلوب متعارف کروایا جو موجودہ عہد کا اُسلوب اور پیرایہ اظہار ہے۔
؎کیسے اُس نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا
چہرہ بدلا، رستہ بدلا، بعد میں گھر بدلا
؎بنا چکا ہوں میں محبتوں کے درد کی دوا
اگر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
اکرامؔ عارفی اگرچہ عباس تابش کے عہد کا شاعر ہے لیکن مرکز کے شعرا کی شعوری نظر اندازی کی وجہ سے زیادہ نمایاں نہ ہو سکا۔ سہل ممتنع میں اکرام سے بہتر اُردو غزل کہنے والا موجودہ دور میں خال خال نظر آتا ہے۔ اکرام نے جون کی مشاعرے کی ادا کو نقل کر کے اپنی ساکھ مجروح کی وگرنہ ایک بڑا شاعر یہ ہنوز ہے۔ اکرام کے ہاں محبت، احساس، جذبہ اور قربانی کا بیان خوبصورت اور دلفریبی کا سماں لیے ہوئے ہے۔
؎جو میرا رنج سے بھرا دل ہے
آپ کا درد آشنا دل ہے
؎تیری آنکھوں کی تمنا سے کنارا کر لوں
کیسے ممکن ہے کہ مٹی کو ستارا کر لوں
عمیرؔ نجمی کا شمار بھی اکیسویں صدی کے ابھرتے ہوئے نوجوان شعرا میں سر فہرست ہوتا ہے۔ عمیر نجمی کے ہاں تہذیب و ثقافت اور سماج و تمدن کے اچھوتے اور دلآویز مظاہر ملتے ہیں۔ عمیر نے انسانی جذبوں کی صداقت کو سادہ، آسان اور برمحل انداز میں غزل میں برتا۔ عمیر کے ہاں محبت کوئی تخیلی شغل نہیں بلکہ جان سے گزر کر اس کی قدر کو سر آنکھوں پہ اٹھائے رکھنے کا جذبہ ہے۔ عمیر نے اچھوتے۔ دلفریب اور نئے موضوعات کو اُردو غزل میں متعارف کروایا ہے۔
؎دو منٹ بیٹھ میں بس آئینے تک ہو آؤں
اسی وقت اِس میں مجھے دیکھنے آتا ہے کوئی
؎تم نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا میں
کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہیں سر نہ لگے
علیؔ زریون کا شمار پاکستانی اُردو غزل کی نئی اور موجودہ نسل کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ علی زریون کے غزل کے لب و لہجے کو جدید اطوار پر استوار کیا ہے۔ ان کے ہاں انگریزی سمیت روزمرہ استعمالات کے الفاظ کا استعمال ملتا ہے۔ علی زریون، تہذیب حافی اور اس قبیل کے شعرا نے غزل کو روایت سے الگ کر کے اسے جدت عطا کی ہے۔ سنجیدہ اور معمر شعرا کی طرف سے تنقید کی زد میں رہنے کے باوجود کچھ نیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
؎کیا کیا عقلوں شکلوں والے اُسے کے سامنے آتے ہیں
آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں تکتی پکی اپنے یار کی ہے
؎عصر کے وقت میرے پاس نہ بیٹھ
مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے
فیضانؔ ہاشمی نئی نسل میں تیزی سے ابھرنے والے نیم خوابیدہ سے مد ہوش نوجوان ہیں جن کی شعری ریاضت اور موضوعات کے انتخاب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان نے کلاسیکی روایت کو دل سے محسوس کیا اور روح میں اُتار لیا ہے۔ فیضان کے ہاں گو، روایتی موضوعات کی تکرار ملتی ہے لیکن یہ تکرار نئے مفاہیم کے در وا کرتی ہے۔ فانی، میر، فراز اور جون کی ملی جلی کیفیت سے متشکل فیضان کی شاعری کا سراپا حیران کن ہے۔
؎دل میں رہنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
تم کو معلوم نہیں کون یہاں تھا پہلے
؎میں ایک گلاس زمین پر گرانا چاہتا ہوں
ہمارے بیچ کی خاموشی بڑھتی جا رہی ہے
ذیشانؔ اختر کے ہاں نئی نسل کی ترجمانی کا حسین انداز ملتا ہے۔ ذیشان اختر کی لفظیات اپنی ہیں۔ کلاسیکی روایت کے جملہ موضوعات اور اسالیب سے ان کا استفادہ محسوس ہوتا ہے۔ عہدِ حاضر کے ہنگامی معاملات اور تیزی سے بدلتی معاشرتی اقدار کا نوحہ ناصحانہ انداز میں ذیشان کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔ محبت سے آگے احترامِ محبت کا فلسفہ ذیشان نے اُردو غزل میں متعارف کروایا ہے۔
؎دُنیا میں جس طرح بھی گزارے کا کام ہے
میری طرح کسی تھکے ہارے کا کام ہے
؎سورج پہ ہاتھ ڈالنے کا سوچتا ہوں میں
پلکوں پہ جب سے ایک ستارا اُٹھایا ہے
رحمانؔ فارس اکیسویں صدی کی نئی نسل کے سنجیدہ شعرا میں اب شمار ہوتا ہے۔ ان کی غزل میں ہر طرح کی رنگا رنگی اور بو قلمونی دکھائی دیتی ہے۔ گاؤں سے شہر کی طرف مسافرت اور حوادث و سانحات سے لبریز شعری حسیت کو ہر طرح سے غزل کے کینوس پر پورٹریٹ کرنے میں رحمان کو داد دینا پڑتی ہے۔ رحمان کے ہاں روایت اور جدت کی آمیزش موجود ہے۔ ان کی شاعری اور شعری رمزیات کا پھیلاؤ مرور وقت کے ساتھ جدت اختیار کر رہا ہے۔
؎بس اتنا سوچ لینا ہم کو بلوانے سے پہلے
کہ ہم آنے لگے تو عمر بھر آیا کریں گے
؎مجھے ان پڑھ سمجھ کر چھوڑ جانے والی لڑکی!
تیرے بچے نصابوں میں میری غزلیں پڑھیں گے
خرمؔ آفاق جدید اُردو غزل کے ابھرتے ہوئے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں غزل کا رچاؤ جذباتی کیفیات سے مغلوب ملتا ہے۔ خرم نے غزل کے کہنہ اسالیب سے خود کو آزاد کر کے عہدِ حاضر کی نوجوان نسل کے پیش آمدہ معاملات کو جدید غزل کی زبان بنایا۔ خرم کے مصرعوں میں گوٹے کی چارد کی نقاشی سی محسوس ہوتی ہے۔
؎کسی کے ساتھ شرارت ضرور کرتے ہیں
جو بے وفا ہوں محبت ضرور کرتے ہیں
مژدمؔ خان کا تخلیقی سفر عہدِ حاضرکے مسائل سے جداگانہ ہے۔ مژدم نے سوشل میڈیا کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کے ہاں متشدد رویہ نظر آتا ہے۔ اپنے افکار کی ترسیل کے لیے جو تلازمے انھوں نے برتے ہیں وہ ان کے اپنے وضع کردہ ہیں۔ معاشرتی رسوم و رواج سے نوجوان نسل کا انحراف ان کے ہاں شدت سے نوحہ کناں نظر آتا ہے۔
؎مایوسیوں کی دیویوں کا حال دیکھ لو
کہتی ہیں فاصلے سے خدوخال دیکھ لو
؎ٹھہراؤ تو اُس میں تھا ہی نہیں رُکی تو نکل لیا کرتی تھی
میں کپڑے بدلتے سوچتا تھا وہ مرد بدل لیا کرتی تھی
عمار اؔ قبال کا شمار اکیسویں صدی کے نوجوان شعرا میں ممتاز اور مقبول شعرا میں ہوتا ہے۔ عمار نئی نسل کے واحد شاعر ہیں جنھوں نے کلاسیکی روایت کے جملہ دبستان شاعری کو پڑھا اور اس سے استفادہ کیا۔ ان کی شعری ریاضت سے معلوم ہوتا ہے کہ شعر کہنا اور کچھ نیا کہنا کس طرح ممکن ہوتا ہے۔ اپنے اندازو اطوار سے سراپا شاعر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مستقبل میں عمار استاد شعرا میں دکھائی دیتا ہے۔
؎مجھ سے بنتا ہوا تو اور تجھ کو بناتا ہوا میں
گیت گاتا ہوا تو گیت سناتا ہوا میں
؎ خود ہی جانے لگے تھے اور خود ہی
راستہ روک کر کھڑے ہوئے ہیں
احمدؔ عبداللہ نئی نسل میں غالباً نوخیز شاعر ہیں۔ ان کی غزل کا تیور، الفاظ کا در و بست اور خیالات کی ترتیب کا انداز چونکا دینے والا ہے۔ دیہی معاشرت، مشرقی تہذیب اور کہنہ تمدن کی جملہ صورتیں ان کی غزل میں کتنی سہولت اور آسانی سے مدغم ہو گئی ہے۔ یہ امر میرے لیے حیران کن ہے۔ احمد عبد اللہ کا تخلیقی سفر یونہی جاری رہا تو بہت جلد نمائندہ شعرا میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ نمونہ کلام دیکھیے:
؎میرے تحفوں نے محبت کا بھرم توڑ دیا
چوڑیاں تنگ نکل آئی ہیں اور ہار کھلے
؎اوڑھ لی ہے چہرے پہ جھوٹی ہنسی
اب بنا تصویر اب سب ٹھیک ہے
اکیسویں صدی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے سوشل میڈیا کی سہولت میسر ہے۔ اب رسالوں میں چھپنے کی حسرت لیے شاعر دنیا سے گمنام نہیں مرتا بلکہ یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل ذرائع سے جو لکھتا ہے آن کی آن پوری دنیا تک پہچانے کی سہولت رکھتا ہے۔ قارئین اور ناظرین اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ شاعر میں شعر کہنے اور خیال کو نباہنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ مرور وقت کے ساتھ یہی شاعر ایک مشکل مقابلے سے نکل کر سامنے آتا ہے اور اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے۔ وقت خود بڑا منصف ہے۔ جس دیے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے کے مصداق شاعر اور شاعری باقی رہتی ہے۔
عہد حاضر میں تیزی سے ابھرتے ہوئے نئی نسل کے پاکستانی شعرا میں سر فہرست افکار علوی، دانش نقوی، رمزی عاصم، زاہد بشیر، شعیب مغیرہ، نادر بار شاہ، سعد ضیغم، سید علی شاہ رخ، احمد عبداللہ، سعد سجاد، تجمل کاظمی، احمد رضوان، طارق احمد وغیرہ شامل ہیں۔ ذیل میں ان کے کلام کا نمونہ پیش خدمت ہے جس سے ان شعرا کی فنی تموج اور فکری اپج کے بارے میں رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
؎تجربہ تھا سو دُعا کی تاکہ نقصان نہ ہو
عشق مزدور کو مزدوری کے دوران نہ ہو (افکار علوی)
؎دیکھو اب مجھے میری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے (دانش نقوی)
؎شام ہوتی ہے تو اُس گھر کی طرف
عادتاً اپنے آپ قدم جاتے ہیں (رمزی عاصم)
؎حسیں ہوں تو نہیں مگر حسیں کیا ہوا ہے
میرے دیے نے مجھے آتشیں کیا ہوا ہے (نادر بار شاہ)
؎کچھ نہیں کہتے آنے والے لوگوں کو
کیا کہیے مے خانے والے لوگوں کو (سعد ضیغم)
؎وہ جتنی دیر میں کشتی قریب لاتا ہے
ہم اتنی دیر میں دریا کے پار ہوتے ہیں (سید علی شاہ رخ)
؎لہروں کے اُس شور نے دل پر ایسا وار کیا
خوف کے مارے رات گزاری خواب میں دریا پار کیا (سعد سجاد)
؎نظر میں رعب بھی رکھتے تھے اور محبت بھی
ہم ایک تیر سے دو، دو شکار کرتے تھے (تجمل کاظمی)
؎میں نے ہر بات چھپا لی بڑی آسانی سے
آئینہ دیکھ رہا تھا مجھے حیرانی سی (احمد رضوان)
؎میں تیرے عہد سے پھرنے پہ تیرا کیا کر لوں
میں تو کچھ حسبِ ضرورت بھی نہیں کر سکتا (طارق احمد)
٭٭
حوالہ جات
1۔ عبد القوی دسنوی، پروفیسر، اُردو شاعری کی گیارہ آوازیں، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1993، ص82
2۔ اسلوب احمد انصاری، پروفیسر، ادب اور تنقید، سنگم پبلشنگ ہاؤس، الہ آباد، 1968، ص64
3۔ خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر، تاریخِ ادبیات مسلمانانِ پاکستان و ہند، جلد پنجم، پنجاب یونی ورسٹی، پریس، لاہور، 2012، ص208
4۔ فخر الکریم صدیقی، پروفیسر، وامق کی فکری و فنی جہات، مشمولہ، کتاب نما، دسمبر، 1989، ص46
5۔ محمد زکریا، خواجہ، ڈاکٹر، تاریخِ ادبیات مسلمانانِ پاکستان و ہند، جلد پنجم، پنجاب یونی ورسٹی، پریس، لاہور، 2012، ص237
6۔ شمس الرحمن فاروقی، اثبات و نفری، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1986، ص137
7۔ عقیل احمد رضوی، ڈاکٹر، جدید اُردو غزل کی تاریخ، نیشنل بک فاونڈیشن، اسلام آباد، 1988، ص634
8۔ ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر، اُردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی مطالعہ، مجلس ترقی ادب، لاہور، 2008، ص232
9۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، دیباچہ، چراغِ سحر، ادارہ یادگار غالب، کراچی، 1982، ص7
10۔ شمیم حنفی، سلام مچھلی شہری کی شاعری، مشمولہ، سہ ماہی، اُردو ادب، علی گڑھ، 2001، ص55
11۔ محمد شمس الحق، پیمانہ غزل، جلد دوم، نیشنل بک فاونڈیشن، اسلام آباد، 2009، ص175
12۔ عقیل احمد رضوی، ڈاکٹر، تاریخ جدید اُردو غزل، نیشنل بک فاونڈیشن، اسلام آباد، 2015، 1988، ص704
13۔ محمد حسن، ڈاکٹر، مشمولہ، مضمون، ناصر شہزاد کی غزل کا منظر نامہ، ماہنامہ، روحِ ادب، ممبئی، سن ندارد، ص46
14۔ احتشام حسین، اُردو ادب کی تنقیدی تاریخ، القمر انٹر پرائز، لاہور، 2008، ص169
15۔ ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر، اُردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی سفر، مجلس ترقی ادب لاہور، 2008، ص168
16۔ ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر، اُردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی سفر، مجلس ترقی ادب لاہور، 2008، ص168
17۔ شاہد کمال، کراچی میں اُردو نظم و غزل، طارق پبلی کیشنز، 1999، ص129
18۔ عزیز حامد مدنی، جدید ارو شاعری، جلد دوم انجمن ترقی اُردو، پاکستان، کراچی، 1994، ص188
19۔ محمد شمس الحق، پیمانہ غزل، جلد دوم، نیشنل بک فاونڈیشن، اسلام آباد، 2009، ص203
20۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، محمد شمس الحق، مشمولہ، پیمانہ غزل، جلد دوم، نیشنل بک فاونڈیشن، اسلام آباد، 2001، ص220
21۔ شمیم احمد، میری نظر میں، زمرد پبلی کیشنز، کوئٹہ، 1992، ص78
22۔ گوپی چند نارنگ، نئی تنہائیوں کا شاعر، مشمولہ مضمون، مہر دو نیم، مکتبہ دانیال، کراچی، 1991، ص23
23۔ غلام حسین ساجد، دیباچہ، مشمولہ، مضمون، نئی پاکستانی غزل، نئے دستخط، لاہور، ص89
٭٭٭
بابِ دوم: جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں ہندوستانی شعرا کا حصہ
اُردو غزل بطور صنف سخن اوائل سے شعرا کی دلچسپ صنف رہی ہے۔ اُردو زبان کے آغاز میں اسے جو شعرا میسر آئے، انھوں نے اس کی نوک پلک سنوارنے میں اپنا خونِ جگر صرف کیا۔ اس صنف کی خوبی یہی ہے کہ اس کی گردن مارنے والے سیکڑوں آئے اور خاک میں مل گئے لیکن اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ یہ صنف اپنی تمام تر جولانیوں، توانائیوں اور جذباتی رو کے وسیع تر پھیلے سلاسل کے ساتھ ہنوز موجود ہے اور پوری کمک کے ساتھ موجود رہے گی۔
اُردو زبان میں نثر کی نسبت نظم کو شروع سے زیادہ دلچسپی سے لکھا، پڑھا اور محفوظ کیا گیا ہے۔ شعرا کے اوائل میں مثنوی پر توجہ دی، بعد ازاں غزل کی طرف متوجہ ہوئے تو اسی کے ہو کر رہ گئے۔ غزل کی صنف اپنے تمامتر عناصر و لوازمات کا خزانہ رکھتی ہے جو ایک انسان کی جملہ کیفیات و واردات اور تجربات و حوادث کی عکاس ہوتی ہے۔ اُردو غزل نے قریباً آٹھ سو برس کا سفر طے کیا ہے۔ ہزاروں شعرا نے اس صنف کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ اس صنف کی خوش قسمتی ہے کہ اسے قلی قطب شاہ سے بہادر شاہ ظفر تک بادشاہِ وقت نے اپنے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا اور اس میں اظہارِ ذات کے سبھی مشاہدات و تجربات کو مثلِ نگیں پرو دیا۔
اُردو غزل کا سفر کلاسیکی غزل سے مابعد کلاسیکی تک تسلسل سے صدیوں جاری رہا۔ مابعد جدید غزل سے جدید غزل اور جدید سے جدید ترین تک آتے آتے اکیسویں صدی میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ غزل کا رنگ و آہنگ اور لب و لہجہ میں مرورِ وقت کے ساتھ بدلاؤ آتے گئے اور اس کا چہرہ مہرہ مزید نکھر کر ترش کر مصفی و مقیش ہوا۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد دو نئے ملک ہندوستان اور پاکستان نے جنم لیا۔ اُردو زبان نہ اِدھر کی رہی اور نہ اُدھر کی رہی۔ سرحد کی دیوار حائل ہونے سے سب سے زیادہ نقصان اُردو زبان اور اس کی اصناف کو ہوا۔ زبانیں کسی ملک، قوم اور افراد کی مِلک نہیں ہوتی۔ اُردو کی یہ بد قسمتی رہی کہ اسے سیاست کی نذر کر کے اِس کے فروغ میں مصنوعی رکاوٹیں حائل کی گئیں جو رفتہ رفتہ دم توڑ گئیں۔ اُردو زبان کے ارتقا اور اس کی جملہ اصناف کا فروغ آج بھی جاری ہیں۔ سرحد کی فصیل حائل ہونے کے باوجود دونوں طرف کے شعرا نے اس زبان کی جملہ اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔
پاکستان میں جدید اُردو غزل کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔ پاکستان میں اس صنف کو ایک سے بڑھ کر ایک شاعر میسر ہے۔ یہی صورتحال ہندوستان میں ہے۔ ہندوستان میں جدید اُردو غزل کو نئے چہرے اور نئی آوزیں میسر آئی ہیں جنھوں نے روایت کو بھی نبھایا اور جدید لب و لہجے اور نئے موضوعات کو بھی غزل کی نازک اور کومل لَے میں کامیابی سے ڈھالا۔
شاعر چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، شاعر مشہور کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ شاعر کو کسی معیار، پیمانے اور کسوٹی پر پرکھا نہیں جاتا۔ اس کا لکھا، کہا اور سنایا ہوا اس کی فکری تموج اور شاعرانہ اُپج کا غماز ہوتا ہے۔ ذیل میں جن شعرا کا انتخاب کیا گیا ہے، ان کے کلام میں وہ گہرائی، گیرائی اور فکری تموج موجود ہے جس سے یہ صنف دیگر اصناف کو منہ چڑاتی دکھائی دیتی ہے۔
اس باب میں ہندوستان میں صنفِ غزل کے قیام ہندوستان کے بعد سے عہدِ حاضر تک کے نمائندہ شعرا کا انتخاب کیا گیا ہے جنھوں نے جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس انتخاب میں یقیناً بہت سے مزید اہم شعرا کے نام نہیں آ سکے ہوں گے۔ اس کی وجہ باب کے اختصار کی تحدید کو ملحوظِ خاطر رکھنا مقصود ہے۔
اصغرؔ گونڈوی جدید اُردو غزل کے انیسویں صدی کے ربع ثانی کے صفِ اول کے شاعر ہیں۔ ان کی طبیعت میں صوفیانہ رچاوٹ کی شدت نے غزل کو درویشانہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد لکھتے ہیں: ”اصغر کا متصوفانہ لب ولہجہ انھیں اپنے ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی غزل میں اعلیٰ معیار کی شائستہ زبان مضمون کے کثیر المعنی تناظر میں ڈھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے“۱
؎اُس آستاں سے اُٹھائی نہ پھر جبیں میں نے
حرم میں سجدہ پیہم تھی ایک دردِ سری
؎اسیرانِ بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیے
تڑپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
ناطقؔ لکھنوی نے کلاسیکی روایت کی تقلید ضروری کی لیکن اپنا جدا رنگ اپنانے کی کوشش بھی کی۔ ناطق نے غزل کو تغزل بنانے کی شعوری کوشش میں زبان کے اُصول سے انحراف کیا جس سے خیال کی اثریت میں کمی واقع ہوئی۔ ناطق کے پسندیدہ موضوعات میں اخلاقی اور متصوفانہ فکر کا غلبہ غزل کے مزاج پر حاوی دکھائی دیتا ہے۔
؎ڈھل گیا عمر کا دن دور میں اب جام آیا
آفتاب آیا مگر حیف سرِ شام آیا
؎پھرتے ہیں ڈھونڈتے ہوئے ہر لالہ زار میں
اک پھول کھو گیا ہے ہمارا بہار میں
مبارکؔ عظیم آبادی قدیم وضع کے شاعر تھے۔ مبارک نے داغ استاد کے رنگ کو عمر بھر اختیار کیے رکھا۔ غزل کے موضوعات میں دنیا کی بے مروتی، بے حسی اور گلہ و ماتم سر فہرست ہیں۔ مبارک نے تخیل پر زور دینے کی بجائے آورد پر محنت کی اور شعر کو فنی باریکیوں اور فکری تموج سے آشنا کرنے کی شعوری کوشش کی۔
؎ظلم ہے ترکِ ستم کر کے پشیماں ہونا
قہر ہے اس پہ ترا سر بہ گریباں ہونا
؎دام آفریں تھی مرغِ تہِ دام کی تڑپ
مشکل کو اس نے اور بھی مشکل بنا دیا
جگر مراد آبادی کی شاعرانہ تربیت کلاسیکی اور جدید دو طرز میں ہوئی۔ ان کے ہاں فکر کی گہرائی اور فن کی اونچائی کا سنگم دکھائی دیتا ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور لکھتے ہیں: ”جگر اس دور کے سب سے زیادہ مقبول اور مشہور غزل گو شعرا میں سے ہیں۔ ان کو لوگ مانیں یا نہ مانیں ان کے کلام پر سر بھی دھنتے ہیں“۲
جگر نے غزل میں تغزل کے عنصر کو غزل کا جزو لازم بنا دیا تھا جس سے غزل کی زبان مزید نکھر گئی اور لطیف و منزہ خیالات کی ترسیل نسبتاً سہل ہو گئی۔
؎یہ حُسن ہے کیا؟ یہ عشق ہے کیا؟ کس کو ہے خبر اس کی لیکن
بے جام ظہورِ بادہ نہیں، بے بادہ فروغِ جام نہیں
؎میں جہاں ہوں، ترے خیال میں ہوں
تو جہاں ہے، مری نگاہ میں ہے
فراقؔ گورکھپوری کا نام بلند آواز میں پکارا جاتا ہے اور ادب و نقد حضرات متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ فراق کی غزل میں فکرو فلسفہ عود کر آتا ہے اور تنہائی کے آگے سر نگوں کیے بیٹھ جاتا ہے۔ فراق نے کلاسیکی روایت کو آٹے پانی کی طرح آمیختہ بنا کر جدید غزل کے سانچے میں سمویا ہے۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں: ”فراق کی غزلیں ان کے انفرادی جذبات سے بوجھل ہیں، اس کا اضطراب، اس کی سپردگی و معصومیت اور اس کا شعورِ آگہی پھوٹ پھوٹ نکل رہی ہے۔ حسن و عشق کی کیفیات کو عشقیہ شاعری میں ایک نیہ طرز اور آہنگ عطا انھوں نے کیا۔“۳
؎غم و نشاط ترے کس طرح کوئی جانے
ہنسی لبوں پہ نہیں آنکھ بھی پُر آب نہیں
؎نہیں ہیں پھول تو خاروں کا چھیڑ سکتا ہوں
خزاں میں رفتہ بہاروں کو چھیڑ سکتا ہوں
پرویزؔ شاہدی کا نام بھی مخدوم کے ہم عصر شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی غزل کا رنگ کلاسیکی ہے۔ ان کے ہاں ترقی پسندی اور سیاسی تغزل کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔ پرویز کی غزلوں میں حسن و عشق کے جذبات نا ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے ہاں جام و مستی اور سرور و انبساط کا تذکرہ کثرت سے ملتا ہے۔
؎اے دل! کہاں ہے تری وہ بیباکیِ سخن
کچھ کہہ رہے ہیں بخیہ گرانِ لب و دہن
؎گلے میں بانہیں ڈال کر منا ہی لیں گے ڈالیاں
گلوں سے روٹھ بھی گئی اگر صبا تو کیا ہوا؟
معین احسن جذبیؔ اُردو غزل کی روایت میں ایک بڑا نام ہے۔ ان کی غزل کا رنگ سیاسی ہونے کے بعد ادبیت کی فضا لیے ہوئے ہے۔ ان کے ہاں کلاسیکی رنگ کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے غزل کو امید کا استعارہ بنایا ہے اور موسیقی کے عنصر کے رچاؤ سے غزل کی حِسیت کو شِیریں کر دیا ہے۔
؎اے محبت کیا قیامت ہے کہ تیری راہ میں
ایک دیوانہ خرابِ ہر ستم ہوتا رہے
؎ہجر کی رات ہے طویل، وصل کی صبح دور ہے
جذب ابھی ہے ناتمام، خام ابھی شعور ہے
شکیل بدایونی جدید اُردو غزل کی توانا آواز ہے۔ شکیل کی شاعری کا مزاج کلاسیکی ہے۔ ان کے لہجے کا اُتار چڑھاؤ لفظیات کے در و بست سے مہمیز ہوتا ہے۔ جگر کے اسلوبِ شعری سے متاثر تھے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا لکھتے ہیں: ”شکیل کی شاعری کا مزاج کلاسیکی غزل نے تیار کیا ہے۔ ان کی شاعری میں بحور، الفاظ اور تراکیب کی بُنت کا عمل مصرعوں کی تراش خراش سے عیاں ہے۔“۴؎ شکیل کی غزل میں جدت، ندرت اور روانی کے ان کے بعض اشعار کو ضرب المثل بنا دیا ہے۔
؎یوں ختم داستانِ محبت ہوئی شکیلؔ
جیسے کوئی حسیں غزل گا کے رہ گیا
؎گمانِ ترکِ وفا ہے ترکِ تغافل پر
زمانہ وقت سے پہلے بدلتا جاتا ہے
جان نثارؔ اختر نے غزل کو غزل ہی رہنے دیا ہے۔ ان کی غزل میں کلاسیکی اور جدت کی آمیزش نے رومانوی لب و لہجے تو تازگی بخشی ہے۔ نثار کے ہاں واقعیت اور اپنایت کا احساس باہم مدغم صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ نثار نے غزل میں تغزل کے عنصر کو برتنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ ان کی نظموں میں بھی اسی رنگِ سخن کی گہری چھاپ موجود ہے۔
؎یارو اپنے عشق کے قصے یوں بھی کم مشہور نہیں
کل تو شاید ناول لکھے جائیں، ان رومانوں پر
؎ایک بھی خواب نہ ہو جن میں وہ آنکھیں کیا ہیں
اک نہ اک خواب تو ان آنکھوں میں بساؤ یارو
شمیمؔ کرہانی نے غزل کو جذباتی رو کے متوازی قلبی حدت کے انفعالی تاثر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ شمیم نے الفاظ سے تاریخی شعور کا کام لیا ہے۔ زبان سادہ مگر فکرا تھاہ گہرائی کی حامل ہے۔ شعر پڑھتے ہوئے شعر کے سیاق سے ذہن اُلجھتا محسوس ہوتا ہے۔
؎یہ دل فریب چاند ہے کہ نیم جاں چکور
یہ موت کا سکوت ہے کہ زندگی کا شور
؎لرز رہے ہیں ستارے کہ اس زمین پہ ہم
تلاشِ جادہ شمس و قمر کو نکلے ہیں
نشورؔ واحدی اسی عہد کا ممتاز شاعر ہے جس کے ہاں غزل واقعی ایک جاندار اظہار کا پیرایہ بن گئی ہے۔ نشور نے ریاض خیر آبادی کے شعوری تتبع میں خمریہ موضوعات پر لکھا اور اس میں اضافہ کیا۔ رندانہ تجربات کو غم کی لے سے ملفوف کر کے غزل کے ذائقہ کو بقول فراز شراب کو شرابوں میں ملا کر نشہ بڑھایا۔ ترنم اور درد اور موسیقی کا سنگم نشور کی غزل کا حسن اعجاز ہے۔
؎عشق پُر نیرنگ تیری بے مثالی ہے عجب
عجز کا پہلو بھی داخل ہے ترے اعجاز میں
؎نہیں معلوم دل کھو کر پھر اپنا حشر کیا ہو گا
جہاں تک دل ہے اُن کی مہربانی ہوتی جاتی ہے
مجروحؔ سلطانپوری اُردو غزل کے نمایاں شاعر ہیں جنھوں غزل کو مشاعروں سے نکال کر پردے پر یعنی فلم انڈسٹری میں پہنچایا۔ مجروح کی غزل میں کلاسیکی روایت کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے غزل کی نزائیت کو صرفِ نظر نہیں کیا بلکہ زبان کی حلاوت کو جذبے کی لطافت کے ساتھ مدغم کرنے غزل کی مجموعی صورت کو بیان کا مرقع بنا دیا ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے لکھا ہے: ”مجروح نے غزل کو جدید اسلوب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں عہدِ جدید کی امیجری اور آراستگی کا بیان کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔“۵
؎جگائیں ہم سفروں کو، اُٹھائیں پرچم شوق
جو خارِ راہ کو بھی شمعِ رہگذار کرے
؎راس آئے تو ہے چھاؤں بہت برگ و شجر کی
ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر ریز بہت ہے
کیفیؔ اعظمی کا نام ہر حوالے سے اُردو ادب میں باقی رہے گا۔ کیفی کی فلمی دنیا میں خدمات اپنی جگہ ؛ان کی شاعری کا قد ان کے ہمعصر میں نسبتاً اونچا ہے۔ کیفی نے غزل میں جدید لب و لہجے کو ابھارا اور اپنے فکری میلانات سے غزل کے سانچے کو از سر نو تشکیل دیا۔ ڈاکٹر مظفر حنفی لکھتے ہیں: "کیفی کے اشتراکی نظریات کا درجہ عقیدت مندانہ ہے مگر ان کی غزل کا رنگ ایمائیت کے فلسفے کے گرد گھومتا ہے۔“۶
؎آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے
آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی
؎ابھی کھلیں گے نہ پرچم، ابھی پڑے گا نہ رن
کہ مشتعل ہے مگر متحد نہیں ہے وطن
کمار پاشیؔ کی نظموں کے آگے ان کی غزل کا چراغ نہ جل سکا۔ انھوں نے نظم میں شہرت حاصل کی تاہم ان کی غزل بھی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ کمار نے معاشرتی تنزل کو انسان کی بے حس طبیعت کے پیش نظر اجتماعی احتجاج بنا کر پیش کیا ہے۔ اخلاقی تموج کی ناہمواری اور تہذیبی گراوٹ کی گھمبیر کشمکش ان کی غزل کا ماحصل ہے۔ کمار نے انسانی جذبات کو بے توقیر ہوتے دیکھ کر سر پہ دھول ڈال کر ماتم کیا ہے۔
؎ٹوٹ کرتا رے گرے کل شب مری دہلیز پر
اُس کی بھی آنکھیں گئیں اور میں بھی اندھا ہو گیا
؎ہم یہ کیا جانیں کہ کیوں صبر و سکوں جاتا رہا
تو جو اک دن پاس آ بیٹھے تو سمجھائے ہمیں
بیدل حیدری کی غزل کا رنگ کلاسیکی مزاج لیے ہوئے ہے۔ بیدل نے غزل کے کینوس کو علامتوں، محاکات اور استعاروں سے سجایا ہے۔ ان کا ذاتی مشاہدہ تجربے کی بھٹی سے کندن ہو کر مصرعوں میں ڈھلا ہے۔ شعر کہنے کے فن سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اپنے عہد کے عصری مسائل کی تصویر کشی میں ماہر ہیں۔ غزل کے رنگ کو تکرار لفظی سے پھیکا نہیں پڑنے دیا۔
؎اُس کا پیکر مری سوچوں نے تراشا کیسے
محوِ حیرت ہوں قریب اتنا وہ آیا کیسے
؎چھوڑ کر دھوپ گلی میں مرا سایہ مجھ کو
اس کی دیوار سے لپٹا ہے تو کتنا خوش ہے
مظہر امامؔ نے غزل کی صنف میں تجربات کیے اور "آزاد غزل” کا تجربہ ان سے منسوب ہو کر رہ گیا۔ مظہر نے غزل کے کینوس کو وسعت دینے کے لیے اس کے عروضی نظام سے انحراف کیا۔ آل احمد سرور نے لکھا: ”مظہر امام نے ترقی پسندی کے زیر اثر جدیدیت کو غزل میں شامل کرنے کی کوشش کی جس میں یہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔“۷
؎جتنے پتے تھے، سب ہی ہوا دے گئے
کس پہ تکیہ رہا ہے ترے شہر میں
؎تجھے اے ہم سفر! کیسے سنبھالوں
بہکتا راستہ ہے اور میں ہوں
جگن ناتھ آزادؔ کی شاعری ان کے تنقیدی و تحقیقی کام کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے دب سی گئی لیکن اسے نظر انداز ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ جگن نے غزل کو انسانی موضوعات کے محدود دائرے سے باہر نکال کر آفاقیت سے متصل کیا۔ ان کے ہاں ہجر و وصل اور یاس و نراس کی ملی جلی کیفیت نظم و غزل میں برابر ملتی ہے۔ حیات و کائنات سے دلچسپی کا عنصر واضح دکھائی دیتا ہے۔ سید عقیل رضوی لکھتے ہیں: ”آزاد کا آہنگ ان کی شاعرانہ شخصی وصف کا پتہ دیتا ہے۔ آزاد نے غزل کو ماورائیت اور ملکوتی فضا میں تعمیر کرنے کی بجائے اس کی نیو زمین سے اُٹھائی ہے۔“۷؎؎
؎گم ہو چکی ہے کہکشاں گردِ راہ میں
اب دیکھیے ہو ختم ہمارا سفر کہاں
؎مجھے ہر اک قدم پر سابقہ تھا تازہ محفل سے
مجھے ہر اک قدم پر یاد تیری انجمن آئی
آنند نرائن ملاؔ کا شعری سفر دلچسپی آہنگ لیے ہوئے ہے۔ نرائن نے کلاسیکی اساتذہ کے رنگِ سخن سے خوب استفادہ کیا۔ ان کی غزلوں میں متانت، سنجیدگی اور سلیقہ شعاری کا خاص اہتمام دکھائی دیتا ہے۔ عصرِ حاضر کی تابناکی اور توانائی کی حدت بھری فضا قاری کو متوجہ کرتی ہے۔ سادہ اور آسان زبان میں دل پہ گزری اور بدن پہ سہی واردات کو بیان کرتے ہیں۔
؎تری جفا کو جفا میں تو کہہ نہیں سکتا
ستم ستم ہی نہیں ہے جو دل کو راس آئے
؎آداب محبت بھی ہیں عجب دو دل ملنے کو راضی ہیں
لیکن یہ تکلف حائل ہے پہلا وہ اشارا کون کرے
قابلؔ اجمیری نے اُردو غزل کو چونکانے والا لہجہ دیا ہے۔ قابل کی لفظیات شعوری حِسّیت اور گہری رمزیت سے بھری ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے لکھا: ”قابل اجمیری کی شاعری پڑھنے سے اس کی سوجھ بوجھ اور فنی دسترس کا پتہ چلتا ہے۔ شعری کہنے کی فطری صلاحیت قابل کی شاعرانہ اُپج کا واضح ثبوت ہے۔ قابل نے سہل ممتنع کو حقیقی معنوں میں غزل کی ہمرکاب بنایا ہے جس سے شعر کی حِسّیت اور بڑھ گئی ہے۔“۸
؎تمہیں چشمِ مخمور پر ناز کیوں ہے
یہ خوابِ بہاراں تو ہم دیکھتے ہیں
؎دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہو گا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہو گا
علیؔ جواز زیدی نے "دو ادبی اسکول” لکھ کر اُردو غزل کی لکھنوی اور دہلوی روایت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ علی جواز خود ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔ ان کے ہاں دل کی دھڑکن کو سینے پر ہاتھ رکھے بغیر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انسانی کرب کی تمام سطحیں علی جواد کے ہاں آہ بن کر ابھرتی ہیں۔ سچائی اور صداقت کے اس پیکر نے غزل کو حُسن و صداقت کا مرقع بنا دیا۔
؎ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں
جل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں
؎اب درد میں وہ کیفیتِ درد نہیں ہے
آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے
شہابؔ جعفری نے ماورائی موضوعات کو طِلسمی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی غزل میں فطرت کے سبھی رنگ جلوہ گر ہیں۔ شہاب نے علامتوں اور تمثیلوں سے اپنے عہد کی مخصوص مخدوش صورتحال کا نقشہ کھینچا ہے۔ احتشام حسین نے لکھا: "شہاب کے ہاں علامتوں کی تجریدیت سے معنوی حسن پیدا ہوا ہے جو غزل کے امکانات کو روشن کرتا ہے۔”۹؎
؎زندگی غم ہی سہی، غم بھی ہمارا نہ رہا
اب محبت کا ہمیں کوئی سہارا نہ رہا
؎مٹی کریدتے ہیں ہر اک رہگذر کی ہم
اے زندگی کہاں تری جاگیر کھو گئی
اشہرؔ ہاشمی کے ہاں بھی روایت سے استفادہ کا رجحان دکھائی دیتا ہے۔ اشہر نے نظم میں اپنے افکار کا بیانیہ جدت پر جبکہ غزل میں کلاسیکی اُسلوب پر رکھا ہے۔ اشہر کے ہاں سماجی و سیاسی اور تہذیبی انحطاط کی گراوٹ کا شدید ردِ عمل ملتا ہے۔ اشہر کی غزل میں سطحیت کم اور داخلی ورود زیادہ ملتا ہے۔
؎راکھ کے اندر چنگاری ہے، یہ کیا جانتے ہم
خشک لبوں کا تم پلکوں سے رشتہ جانتے ہیں
؎تیرے بنا جینے کا سلیقہ بھی ہے لیکن
جینے کے لیے تیری ضرورت تو بہت ہے
سرورؔ بارہ بنکوی نے اُردو غزل کو سہل ممتنع کے دلآویز لہجے سے مزین کیا ہے۔ سرور کے عہد میں ان سے بڑا گہری بات کو آسان تر الفاظ میں کہنے والا کوئی نہ تھا۔ ”سرور نے اُردو غزل کو تجربے کی لفاظی گرفت سے آشنا کروایا ہے۔“۱۰
؎میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
تیرے حُسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
وحیدؔ اختر کا طرزِ کلاسیکی غزل کی معنویت کو دو چند کرنے کا مسبب بنا۔ وحید نے نظم میں بھی کلاسیکی روایت کو بخوبی نبھایا۔ وحید کے ہاں عصری حسّیت کی پیش کش کا نظام جدیدیت کے تصور سے متصل دکھائی دیتا ہے۔ مشاہدات و تصورات کا بیان ان کی تجربہ گاہ سے وارد معلوم ہوتا ہے۔ وحید نے الفاظ کے نِت نئے استعمالات کے متنوع پہلو غزل کے سانچے کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے تراشے۔
؎دوستی اُن سے بھلا کیسے نباہی جائے
جو گریزاں ہیں مگر ہونٹوں پہ انکار نہیں
؎کوئی گلی، کوئی گھر، کچھ سراغ تو ہو گا
کہ گم ہے دل، مگر اب ایسا لا پتا بھی نہیں
مخمورؔ سعیدی جدید اُردو غزل کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ مخمور نے غزل کی تنگ دامانی کو اپنے رومانوی خیالات سے وسعت دینے کی کوشش کی۔ ان کی غزل میں محبت مرکزی موضوع کی حیثیت سے موجود ہے۔ وجود کی اذیت سے متصل کشمکش کا تجرباتی انحطاط مخمور کی غزل میں نہایت سلیقے سے بیان ہوا ہے۔
؎ہے مری حدِ رسائی تک مری پہچان کچھ
میں جہاں تک جا نہیں سکتا، وہاں میں کون ہوں؟
؎ہم بھی اپنے روز و شب کے ہیں اسیر
وہ بھی کچھ حالات سے مجبور ہے
کرشنؔ بہاری نور نے اُردو غزل کو ایک نیا جدید سانچہ دیا جو روایت سے ہٹ کر تھا۔ مشکل یہ تھی کہ اس تغزل سے لبریز سانچے میں کسی اور شاعر کو شعر کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کرشن کے ہاں کلاسیکی روایت کے استفادے کے ساتھ اپنی لفظیات کو مخصوص علامتی تلازموں کے ساتھ آمیختہ کرنے کی خداداد صلاحیت میسر تھے جس سے انھوں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ کرشن بہاری کی غزل کا تخلیقی سفر اُردو غزل کی تشکیلِ نو کی ایک اہم کڑی ہے۔
؎نہ کوئی سمت نہ جادہ نہ منزلِ مقصود
یگوں یگوں سے یونہی بے رخی کی قید میں ہوں
؎ادھورے خوابوں سے اُکتا کے جس کو چھوڑ دیا
شکن نصیب وہ بستر مری تلاش میں ہے
ظہیرؔ غازی پوری نے غزل کی کلاسیکی روایت کو تھامے رکھا۔ شعر عمدہ تراشتے ہیں۔ نظم کی دوڑ تخیل کے اسپ کے سپرد رکھتے ہیں۔ غزل لو بندھے ٹکے اصول سے ذرا منحرف نہیں ہونے دیتے۔ زبان پر گرفت نے مضمون کی ادائی کو سہل اور رواں بنا دیا ہے۔ جستجو اور کھوج کے عمل سے مسلسل غزل کا ارتقا ہوتا ان کی شعری سفر میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
؎اپنے ہی عکس تھے دھُندلے شاید
آئینے تو نہ تھے اندھے شاید
؎کوئی منصور مرے جسم کے اندر بھی ہے
میرا انجام مجھے پھر سے بتا دو یارو
محمد علویؔ کی غزل کا سادہ مزاج اور سہل انداز غزل کے قاری کو بہت بھایا۔ محمد علوی نے اپنے ارد گرد کی دنیا کو قدامت کی زنجیروں سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ ان کے ہاں رسم و رواج اور اونچ نیچ کے تصورات سے بیزاری اور رہائی کا تاثر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا: ”انسانی مزاج کے متنوع پہلوؤں کو محمد علوی نے اس طرح شعر کے سانچے میں پرویا کہ اس کی ثانی مثال نہیں ملتی۔“۱۱
؎دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں
اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں
؎دیکھا نہ ہو گا تو نے مگر انتظار میں
چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ
بشیر بدرؔ کا فنی سفر ساٹھ برس کو محیط ہے۔ کومل، نرمل اور گداز جذبوں کو بشیر نے عام فہم یعنی بول چال کے انداز میں بیان کر کے ان جذبوں کی توقیر میں اضافہ کیا۔ بشیر کا فنی سفر ہنوز جاری ہے۔ ان کی غزل میں ہندوستانی سماج اور تہذیب سے متصل اندیشوں اور توقعات کا بیانیہ پُر اثر انداز میں ملتا ہے۔ بشیر نے غزل میں موسیقی کے عنصر کو خوب رچاوٹ کے ساتھ مدغم کیا ہے۔
؎اک پل کی زندگی مجھے بے حد عزیز ہے
پلکوں پہ جھلملاؤں گا اور ٹوٹ جاؤں گا
؎لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے
یوں یاد تری شب بھی سینے میں جلتی ہے
سمپورن سنگھ (گلزارؔ) اُردو زبان و ادب کا قابلِ فخر حوالہ ہیں۔ گلزار نے اردو فلمی دنیا کو ناقابلِ فراموش نغموں اور اسکرپٹ سے نوازا۔ گلزار کی نظمیں، غزلیں۔ تروینیاں اور قطعات ان کی یادگار ہیں۔ گلزار کا تخلیقی سفر ہنوز جاری ہے۔ گلزار نے امیجری اور پیکر تراشی کو تشبیہات و استعارات کی زبان میں جس طرح آشکارا کیا وہ ان پر ختم ہے۔ گلزار کی زبان، اظہار، اسلوب، پیش کش سمیت تخلیقی کا ہر عمل متاثر کن ہے۔
؎عمر بھر موت کے تعاقب میں
زندگی سنگرام کرتی ہے
؎سانس لیتے ہیں جیتے رہے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
شین کاف نظامؔ عہدِ حاضر کی غزل کا بڑا نام ہے۔ شین کاف نے غزل کے جملہ اسالیب میں طبع آزمائی اور تخیل کی جولانیوں سے عجب وضع کے مضامین نکالے۔ شین کاف کے ہاں غضب کی سادگی اور پُر اثر لہجے کی حدت پائی جاتی ہے۔ برجستگی اور روانی ان کی غزل کا خاص وصف ہے۔
؎کوئی آواز نہ پیغام نہ جذبوں کا جھکاؤ
کس لیے کس کے لیے پھر میں پلٹ کر دیکھوں
؎اب بام و در کا سرد بدن چاٹتی ہے دھوپ
زینوں کو پار کر کے کہاں آ گئی ہے دھوپ
انیسؔ انصاری نے عمدہ غزل کہی۔ ان کے ہاں موضوعات کی تکرار ملتی ہے لیکن خیالات میں تنوع موجود ہے۔ شعر کا خارجی رنگ اچھوتا اور دلکش ہے جبکہ داخلی رنگ سطحی اور معمولی محسوس ہوتا ہے۔
؎تو، تو اس وقت کہیں وقفِ مسرت ہو گی
مجھ کو معلوم ہے یہ لمحہ راحت ہے تیرا
؎دیکھ لیجیے، نہ پسند ہو تو کوئی بات نہیں
عشق نایاب سہی، حُسن تو کمیاب نہیں
راحتؔ اندوری نے اُردو غزل کو فیض احمد فیض کی طرح سیاست و معاشرت کا احتجاجی عَلم بنایا۔ راحت کے ہاں وطن سے محبت اور دھرتی کی مقدس روایات سے بگاڑ میں کارفرما عناصر کے خلاف شدت اپنی انتہا کو پہنچی نظر آتی ہے۔ راحت اکیسویں صدی کے بھارت کے مقبول ترین شعرا میں سر فہرست تھے۔ ان کی غزل کا رنگ جدید تیکھا، نوکیلا اور چبھن آور ہے۔ رومانوی مضامین کے بیان میں اپنا خاص انداز رکھتے ہیں۔ موصوف مشاعرہ کے کامیاب شاعر تھے۔
؎زندگی کا کوئی بھی تحفہ نہیں ہے میرے پاس
خون کے آنسو تو غزلوں کے حوالے کر دئیے
؎جن چراغوں سے تعصب کا دھُواں اُٹھتا ہے
ان چراغوں کو بجھا دو تو اُجالے ہوں گے
پروفیسر وسیمؔ بریلوی عہدِ حاضر کے کہنہ مشاق شاعر ہیں جنھوں نے غزل کو اس کی اپنی زبان میں اظہار کا ذائقہ چکھایا۔ وسیم نے سادہ، آسان اور سہل انداز میں زندگی کے تلخ و شیریں تجربات و حوادث اور سانحات کو پیش کیا۔ شعر کہتے ہیں گویا دل سے بات دل میں اُتر جاتی ہے۔
؎یہ لگ رہا ہے کہ ہر زخم بھر جاتا ہے
یہ کن لبوں پہ مرے دل کی داستاں گئی
؎غم میں یوں ڈوبے ہوئے ہم تری محفل سے چلے
جیسے اک راہ کسی پیار کی منزل سے چلے
جاویدؔ اختر مشہور فلمی نغمہ نگار، کہانی کار ہیں۔ ان کی شخصیت اُردو شعر و ادب کا معتبر حوالہ ہے۔ جاوید کی غزل کا رنگ سب سے مختلف ہے۔ طویل بحر میں موضوع کو ایسے تحدید میں لاتے ہیں کہ کہیں کوئی نقص باقی نہیں رہتا۔ ان کے لکھے ہوئے گیت، اشعار اور گفتگو میں پیش کیے اقوال و نکات پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ جاوید نے اُردو غزل کے جدید ترین لب و لہجے کو کلاسیکی رنگ سے پینٹ کر کے اس کے حُسن کو تابانی و فروزنی بخشی ہے۔
؎دل بجھا، جتنے تھے ارمان سبھی خاک ہوئے
راکھ میں پھر یہ چمکتے ہیں شرارے کیسے
؎جھکا درخت ہوا سے، تو آندھیوں نے کہا
زیادہ فرق نہیں جھکنے، ٹوٹ جانے میں
شارقؔ کیفی قد آور شاعر ہیں۔ شارق نے نظم و غزل میں طبع آزمائی کی اور اپنے عہد کے مقبول اور ممتاز رجحان ساز شاعر قرار پائے۔ شارق نے انسانی معاملات سے متصل جملہ جذبات کو ایک خاص انداز میں اظہار دیا ہے جو ان کی اُردو غزل کو خاص دین ہے۔ شارق نے رومانس کی معنویت کو جملہ افکار کے فلسفے میں تحلیل کر کے دیکھا ہے۔
؎جان دینے کا وقت آ ہی گیا
اس تماشے کے بعد فرصت ہے
؎نیند اب آنے ہی والی ہے مجھے
اب جنوں کم ہونے والا ہے مرا
فرحتؔ احساس عصر حاضر کے ممتاز شاعر ہیں جنھوں نے سنجیو صراف کے ہمراہ "ریختہ” ایسی ویب سائٹ کو متعارف کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا شعری منظر نامہ کائناتی وسعت کا حامل ہے۔ غالبؔ و میرؔ و داغؔ و ناصرؔ کا لب و لہجہ ان کے ہاں ایک آواز بن کر ابھرا ہے۔ ان کی غزل میں حُسن و عشق کا رعب دار بیان ہے جس میں سمجھوتے کی نسبت چیلنج کی فضا دکھائی دیتی ہے۔ الفاظ سے کام لینے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔
؎تجھے خبر ہو تو بول اے مرے ستارہ شب
مری سمجھ میں تو آتا نہیں اشارہ شب
؎کبھی نیچا رہا سر اور کبھی چھوٹے رہے پاؤں
میں بھی ہر بار کہاں اپنے برابر نکلا
عالم خورشید عمدہ غزل گو ہیں۔ ان کی غزل کا رنگ جدید معنویت کے ساتھ کلاسیکی رنگِ سخن کا پیرو نظر آتا ہے۔ عالم نے تجرید و تجسیم کی اضداد کو باہم متشکل کرنے کی تمثالی تجربہ کاری کی ہے جس سے شعر کی تفہیم اُلجھ جاتی ہے۔
؎ترے خیال کو زنجیر کرتا رہتا ہوں
میں اپنے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہوں
؎کچھ رستے مشکل ہی اچھے لگتے ہیں
کچھ رستوں کو ہم آسان نہیں کرتے
عطا عابدی نے تحقیق و تنقید میں زیادہ وقت گزارا۔ شعر نسبتاً کم کہے لیکن عمدہ کہے۔ کسی ایک موضوع پر مستقل اپنی رائے کا اظہار نہ کر سکے۔ جو، جی میں آیا پختہ اور رواں ہونے سے قبل احاطہ تحریر میں لے آئے جس سے شعر کا رنگ پھیکا اور بے سواد ہو گیا ہے۔
؎کبھی تو رخِ شب غم کا کرو ادھر کو بھی
نشاطِ صبح سے اب رشتہ اپنا جوڑو بھی
؎کبھی نہ کھل کے ملا وہ نصیب کیسا تھا
قریب تھا مرے لیکن قریب کیسا تھا
نعمان شوق "ریختہ” فاونڈیشن سے وابستہ عہد حاضر کے عمدہ شاعر ہیں۔ سماج میں ہونے کے بدلاؤ اور عالمی تغیرات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ شعر میں رد عمل کا رجحان ملتا ہے۔ ظلم و ستم کی ناؤ کو اپنے مخالف بہتے دیکھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ حسن میں قناعت کے قائل ہیں۔ متین ہیں جذباتی نہیں ہوتے۔
؎یہ سارے زخم مجھے آگہی نے بخشے ہیں
خبر کے پاس مرا اندمال کچھ بھی نہیں
؎میں اپنے سائے میں بیٹھا تھا کتنی صدیوں سے
تمہاری دھوپ نے دیوار توڑ دی میری
خالدؔ محمود کی غزل دبستانِ لکھنو کی قدیم روایت کا تتبع کرتی دکھائی دیتی ہے۔ خالد نے اپنے مخصوص تخیلی افکار کو تغزل کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ خالد کے ہاں تجربے سے اخذ معنویت کا گہرا تاثر شعر کی بُنت تاثر چھوڑتا دکھائی دیتا ہے۔ رشتوں کی گراوٹ کا کرب خالد نے براہ راست محسوس کیا ہے۔
؎سگِ دُنیا پکارا جا رہا ہے
ہر ایک جانب اشارا جا رہا ہے
؎شکوہ کروں کہ شکر کروں آسمان کا
سر پر نہیں گرا مرے چھپر مکان کا
سراجؔ اجملی کا شمار عمدہ غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔ سراج نے غزل میں فکر کی گہرائی کو تمثیلی پرتو میں قدرے سنجیدہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی آواز میں ایک ٹھہراؤ اور اپنا پن ہے جو سطحی خیال کو بھی دلآویز بنانے کا کام کرتا ہے۔
؎یہ جو تصویر میں اشکوں کی فراوانی ہے
غم نہیں ہے یہ کوئی اور پریشانی ہے
؎اب اور کیا نگہِ بے نیاز میں کم ہو
یہ مشتِ خاک کہ پہلے سے ہے بہت ارزاں
رسولؔ ساقی نے فکر و خیال کی آمیزش سے زبان کی نزاکتوں اور تلازموں کا بھر پور استعمال کیا۔ رسول کی غزل کا استعجابی رنگ پڑھنے والے پر اپنے افکار کی تابناکی واضح کرتا ہے۔ شعر میں تشکیک کا عنصر موجود ہے۔ تازگی اور برجستگی کے ساتھ روانی بھی موجود ہے۔
؎وہ میری دشمنی کا سامنا کر بھی نہیں سکتا
وفا کے نام پرکر لے وہ جتنا جور کرنا ہے
؎مرے سب خواب پانی ہو گئے ہیں
مگر آنکھوں سے بہتا کچھ نہیں ہے
نوشادؔ احمد کریمی کی غزل کا تحقیقی رنگ شعری تاثر کو زائل کرتا ہے۔ نوشاد نے سماجی تنزل کے یاسیت زدہ ماحول میں اُمید کی شمع جلائی ہے۔ الفاظ سے تجسیم کاری کرتے ہیں اور ذاتی تجربوں کو داستانی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ زبان پر گرفت ہے، عمدہ شعر نکال لیتے ہیں۔
؎چراغِ عجز بہ دستِ خلوص جل نہ سکا
کہاں سے ہوتی فلک پر مری دُعا روشن
؎میں لکھ رہا ہوں غم کی کہانی ورق ورق
ٹپکا قلم سے آنکھ سے پانی ورق ورق
ظہیرؔ رحمتی عہدِ حاضر کے عمدہ غزل گو شاعر ہیں۔ ان کے کلام کی فنی پختگی وسیع مشاہدے کی دین ہے۔ تجربے کو سامنے نہیں لاتے مشاہدے سے سماج کے دوہرے معیار کو پرکھتے ہیں۔ رشتوں ناتوں اور تعلق داریوں کی منافقت اور کھوکھلی معاشرت کو بے باکی سے بیان کرتے ہیں۔ شعر میں کائناتی آفاقی محسوس ہوتی ہے۔
؎یہ کس نے طاق میں آنکھوں کی سرخیاں رکھ دیں
کہ روشنی میں شب انتظار ختم ہوئی
؎زمانے بھر کو ہے اُمید اُسی سے
وہ نا اُمید ایسا کر رہا ہے
شہپرؔ رسول کی غزل تلازموں اور صوتی اشاروں سے اظہار کے وسیلے تلاشتی ہے۔ شہپر نے علامتوں کا استعمال کیے بغیر غزل کو علامتی اندازِ تکلم بخشا ہے۔ الفاظ سے دلچسپی نے ان کی غزل کو نگار خانہ بنا دیا ہے۔ اپنی مرضی سے تخیل کو لگام ڈال کر موزوں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
؎بچ گیا میں کہ بھروسے کے اُسی پار رہا
ہو گیا زخموں سے چھلنی مرا سارا سارا
؎وہ برہمی کی جو اک داستاں تھی ختم ہوئی
اسے کہو کہ وہ اُس سے وہ بات اب نہ کے
منورؔ رانا کی شاعری میں ایک جہان آباد ہے۔ منور نے اپنی غزل کو سماجی اقدار سے انحراف کے روئیے کے خلاف مرکوز کر رکھا تھا۔ ماں کا تصور ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ ہے۔ منور نے اپنا منفرد اُسلوب وضع کیا اور خوب غزل کی زلفیں سنواریں۔ منور کا شعری سفر پچاس برس کو محیط ہے۔ شعری حِسّیت اور مشاہدے کی گہرائی منور رانا کی غزل کو آفاقی بنا نے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
؎سیلاب کا پانی کبھی روکا نہیں جاتا
کیوں راستہ تو دیدہ تر کاٹ رہا ہے
؎ہم غریبوں میں چلے آئے بہت اچھا کیا
آج تھوڑی دیر کو گھر میں اُجالا ہو گیا
لیاقتؔ جعفری پونچھ کشمیر سے متصل ممتاز عہد حاضر کے شاعر ہیں۔ ان کی غزل کا رنگ احتجاجی ہے جو کشمیر کی صورتحال سے مشروط ہے۔ لیاقت نے جدید غزل کو وسیع تناظر میں برتا ہے۔ ان کی اپنی لفظیات اور خاص اسلوب ہے جس سے گہری کاٹ دار حسیت کو شعر کے پردے میں قاری تک احتجاج کی صورت پہنچاتے ہیں۔ کرب و درد و نارسائی اور بے بسی کیا تھاہ میں غرق امید کو اچھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
؎وجود اپنا ہے اور آپ طے کریں گے ہم
کہاں پہ ہونا ہے ہم کو کہاں نہیں ہونا
؎میں کچھ دنوں سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں
نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے
معینؔ شاداب مشاعرے کی نظامت کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ معین کی شاعری کا رنگ مقلدانہ ہے۔ انفرادیت کی کمی ہے التبہ شعر عمدہ کہنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ شعر کی شعریت سے زیادہ شعر کے خارج پر دھیان دیتے ہیں۔
؎ذرا سی دیر کو تم اپنی آنکھیں دے دو مجھے
یہ دیکھنا ہے کہ میں تم کو کیسا لگتا ہوں
؎بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے
بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں
خوشبیرؔ سنگھ شاد غزل کا بڑا نام ہے۔ شاد کے ہاں غزل کے ارتقا کا تسلسل نظر آتا ہے۔ شاد نے غزل میں حسن و عشق کے ساتھ سماجی شعور کی پرتوں کو کھولا ہے اور ممنوعہ موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے۔ ان کے ہاں سماجی انحرافات اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا تنزل دکھائی دیتا ہے۔
؎ترے قد تک پہنچنے کی ہوس میں
میں اپنے قد سے کم تر ہو گیا ہوں
؎تجھ سے بچھڑ کے غم کی شدت سمجھ رہا ہوں
اب تیرے آنسووں کی قیمت سمجھ رہا ہوں
امیر امامؔ نوجوان شاعر ہیں۔ ہندوستانی غزل کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ آواز ہیں۔ ان کی لفظیات اور موضوعات میں گہرا تضاد ہونے کے باوجود اتصال کی ایک گہری رمزیت پائی جاتی ہے۔ شعر کا آہنگ احتجاجی ہونے کے باوجود گداز اور نرمل محسوس ہوتا ہے۔ انسانی جذبات کے بیان کا عمدہ سلیقہ آتا ہے۔ شعر کہتے ہوئے ہوئے ریاضت کا دامن نہیں چھوڑتے۔
؎محسوس کر رہا ہوں خاروں میں قید خوشبو
آنکھوں کو تری جانب اک بار کر لیا ہے
؎وہ جو آدمؑ کو بلا لائی تھی جنت سے یہاں
یار ہم بھی اس مٹی کے پکارے ہوئے ہیں
ابھیشیکؔ شُکلا نئی نسل کے ممتاز شاعر ہیں۔ ان کی ادب اور تہذیب کے جملہ مظاہر پر گہری نظر ہے۔ نوجوان شاعر ہونے کے با وصف ابھیشیک نے غزل کو ایک سنجیدہ فنکار کی طرح برتا ہے۔ ابھیشیک نے زندگی کے نشیب و فراز کے حوادث و معاملات کو غزل کی زبان بنایا۔ عمدہ شعر نکالتے ہیں۔
؎تیری آنکھوں کے لیے اتنی سزا کافی ہے
آج کی رات مجھے خواب میں روتا ہوا دیکھ
؎مقامِ وصل تو ارض و سما کے بیچ میں ہے
میں اس زمین سے نکلوں، تو آسماں سے نکل
ہندوستان میں جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو کا سفر جاری ہے۔ اکیسویں صدی کے اس ہنگامہ پرور دور میں بھی اُردو زبان و ادب کی جملہ اصناف میں تخلیق کاروں کی مشقِ سخن جاری ہے۔ وقت گزرتا ہے اور اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ جاتا ہے۔ شاعر چلا جاتا ہے۔ اپنے پیچھے اپنا سرمایہ خلق چھوڑ جاتا ہے۔ زبانیں زندہ رہتی ہیں۔ ادب زندہ رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ جب تک انسان سوچتا رہے گا۔ اس کا رشتہ قلم سے رہے گا۔ قلم تخلیق کرتی رہی ہے۔ شاعری ہوتی رہے گی۔ پڑھی جاتی رہے گی۔ اُردو غزل اُردو زبان کا تعارف اور چہرہ ہے۔ یہ چہرہ ہمیشہ تاباں و مقیش رہے گا۔
٭٭
حوالہ جات
1۔ شیخ عقیل احمد، ڈاکٹر، اردو غزل کا عبوری دور، دہلی: آفسیٹ پریس، 1992، ص140
2۔ آل احمد سرور، پروفیسر، نئے پرانے چراغ، (لکھنو: ادارہ فروغ اُردو، 1955)، ص195
3۔ اسلوب احمد انصاری، پروفیسر، ادب اور تنقید، (الہٰ آباد: سنگم پبلشنگ ہاؤس) 1968، ص64
4۔ خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر، تاریخِ ادبیات مسلمانانِ پاکستان و ہند، جلد پنجم، (لاہور: پنجاب یونی ورسٹی، پریس، 2012)، ص208
5۔ محمد حسن، پروفیسر، جدید اُردو ادب، (دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1975)، ص101
6۔ مظفر حنفی، ڈاکٹر، جہات و جستجو، (دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1986)، ص48
7۔ عقیل احمد رضوی، ڈاکٹر، تاریخ جدید اُردو غزل، (اسلام آباد: نیشنل بک فاونڈیشن، 1988) ص249
8۔ فرمان فتح پوری، بحوالہ، ڈاکٹر، محمد شمس الحق، مشمولہ، پیمانہ غزل، جلد دوم، (اسلام آباد: نیشنل بک فاونڈیشن، 2001)، ص220
9۔ احتشام حسین، اُردو ادب کی تنقیدی تاریخ، (لاہور: القمر انٹر پرائز، 2008)، ص169
10۔ حقانی القاسمی، مشمولہ، بقدر ظرف ہے تنگنائے غزل، سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز، مدیر، منصور خوشتر، ڈاکٹر، لال باغ، دربھنگہ، 2017، ص61
11۔ شمس الرحمن فاروقی، اثبات و نفی، (دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1986)، ص171
12۔ کوثر مظہری، 80 کے بعد کی غزلیں (انتخاب)، (دہلی: امکان انٹرنیشنل، دہلی، 2001)، ص168
٭٭٭
باب سوم: جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو میں پاک و ہند کی شاعرات کا حصہ
جدید اُردو غزل کے تشکیلِ نو میں جہاں مرد شعرا نے بھر پور حصہ ڈالا وہاں شاعرات بھی پیچھے نہیں رہیں۔ ماہ لقا سے لے کر پروین شاکر تک اور پروین سے لے کر فریحہ نقوی تک خواتین شاعرات نے صنفِ غزل کو عزت دی اور جذبات و احساسات کے جملہ اظہار کے لیے اس صنف کو اختیار کیا۔ ذیل میں اختصار سے خواتین شاعرات کی کاوشات کو اردو غزل کے ارتقا کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پروین شاکر جدید اُردو غزل میں نسائی آواز کو متعارف کروانے والی ممتاز شاعرہ پروین شاکر کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ پروین شاکر نے اُردو غزل میں ریختی کے بعد پہلی دفعہ نسائی جذبات کو پیش کیا۔ اُردو غزل میں خواتین کی دبنگ انٹری پروین شاکر سے ہوئی جس نے اُردو غزل کو وہ کچھ عطا کیا جو صدیوں سے غزل کے حصے میں نہ آیا تھا۔
پروین کی غزل کا رنگ نسوانی جذبات و احساسات کی بھر پور ترجمانی سے مامور ہے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے لکھا: "غزل میں نسائی لب و لہجہ کی ابتدا کا سہرا پروین شاکر کے سر بندھتا ہے۔ پروین نے "خوشبو” کے ذریعے اُردو غزل کو نسائی جذبات سے آشنا کیا”۔ ۱
پروین شاکر نے غزل میں عورتوں کے روزمرہ استعمال کی اشیا کا ذکر پہلی بار کیا ہے جس سے جدید اردو غزل کے نسائی امکان کو وسعت ملی ہے۔
؎اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں، مہرباں چتاؤں میں
؎کچھ اتنی تیز ہے سُرخی کہ دل دھڑکتا ہے
کچھ اور رنگ پسِ رنگ ہے گلابوں میں
فہمیدہؔ ریاض پروین شاکر کی فہمیدہ ریاض ہمعصر نے اُردو نظم کو زیادہ برتا۔ آزاد نظم میں انھوں نے ممنوعہ موضوعات پر کھل کر لکھا اور تنقید و تذلیل کی زد میں رہنے کے باوجود اپنے فکری تلازموں اور منفرد سوچ کو سامنے میں جُتی رہیں۔ انھوں نے غزل میں بھی طبع آزمائی کی۔
؎وہ واسطے کی طرح درمیاں میں کیوں آئے
خدا کے ساتھ مرا جسم کیوں نہ ہو تنہا
؎جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے
جو میرے دل میں ہے اس حرفِ رائے گاں پہ نہ جا
زہرہ نگاہ کا شمار عہدِ حاضر کی معمر شاعرات میں ہوتا ہے جنھوں نے آزاد نظم کو اپنے شعری افکار سے وقار بخشا۔ انھوں نے ستر کی دہائی میں لکھنا شروع کیا اور ہنوز تخلیقی سفر جاری ہے۔ ان کی آواز جاندار اور ناقابلِ فراموش ہے۔ زہرہ نے زبان کی صفائی، بے ساختگی اور روانی کا خاص خیال رکھا ہے۔ ان کی نظموں کا کینوس بہت ترشا اور مرصع کیا ہوا ہے۔ غزل بہت کم کہی لیکن خوب کہی۔
؎شہرت کے گہرے دریا میں ڈوبے تو پھر اُبھرے نہیں
جن لوگوں کو اپنا سمجھا جن لوگوں سے محبت کی
؎ستم تو یہ ہے کہ ہر سیلِ بے لحاظ کے بعد
کوئی گہر بھی نصیبوں میں ساحلوں کے نہیں
پروین فنا سید کا شمار بھی جدید غزل گو شاعرات میں ہوتا ہے جنھوں نسائی لب و لہجے کو ایک توانا آواز دی اور رد عمل کی تمام قوتوں کو اپنے شعوری ادراک سے پس پشت ڈال کر تخلیقی سفر جاری رکھا۔ پروین کے ہاں عورت کی زندگی کا زائچہ خانگی معاملات سے باہر نکل کر آفاق تک پھیلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ گلہ و شکوہ اور رنج و محن کے موضوعات میں بھی انسانی معراج کے تنزل کو غیر محسوس اندازمیں بیان کرنے کا سلیقہ رکھتی ہیں۔
؎زندگی بھر کے اندھیروں کے عوض
ایک پل آنکھ میں سورج اُترا
؎شہ رگ سے قریب تر ہے لیکن
یاں اب بھی وہی حجاب شاید
شاہدہ حسن نے پروین شاکر کے ساتھ تخلیقی سفر شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔ شاہدہ کے ہاں نسائیت کی زد میں آنے والے نسوانی جذبوں کا استحصال مرکزی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاہدہ نے نظم و غزل میں عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر مرد کے شانہ بشانہ متوازی چلنے کی راہ سجھائی ہے۔ سمجھوتے اور مظلوم رسیدہ عورتوں کے مخصوص طبقے کا رنگ بھی ان کی غزل کا فراواں عنصر ہے۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں: "شاہدہ نے غزل کے روایتی اور عمومی لفظیات کو گہرائی کے ساتھ معنوی دُنیا عطا کی ہے جس سے غزل کا سراپا فنی لیاقت کا نمونہ بن گیا ہے۔”۲
؎میں خالی ہاتھ یوں بیٹھی ہوں جیسے
مری اک عمر کا دھن کھو گیا ہے
؎ایک ہی جیسے رات اور دن
گھر پتھرایا جاتا ہے
کشور ناہید کی شاعرانہ اپج زہرہ نگاہ کی سی وقعت رکھتی ہے۔ کشور نے نظم و غزل کے علاوہ نثر میں بھی خوب لکھا۔ ان کی زندگی کا انداز بھی باغیانہ تھا اور سوچ کا دھارا بھی شدید رد عمل کا قائل تھا۔ زندگی کے نشیب و فراز سے متصل حوادث کو کشور نے کمال ہوشیاری سے غزل کے مصرعوں میں چھپایا ہے۔ کشور کی زبان کھردری اور سخت گیر ہے۔ یہ جذباتی ہوئے بغیر بہت کچھ کہہ جاتی ہیں جو بادی النظر میں کہنا آسان نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن لکھتی ہیں: "کشور نے روایت سے بغاوت کو اَنا کا مسئلہ بنا لیا تھا، جدت سے انسلاک اور تہذیب سے منافرت نے اس کی شاعری کو تشخص کے عمومی تفاخر سے محروم رکھا لیکن نسائیت کے فروغ کے لیے ان کی خدمات صف اول کی متقاضی ہیں۔”۳
؎میرے پیچھے میرا سایہ ہو گا
پیچھے مُڑ کر بھی بھلا کیا کرنا
؎کہیں چراغ، کہیں گُل، کہیں پہ زلفِ دوتا
تری گلی میں تھیں طرفہ نشانیاں اپنی
فاطمہ حسن کا شمار اُردو کی ممتاز شاعرات میں ہوتا ہے۔ فاطمہ نے غزل عمدہ کہی اور نظم میں بھی خوب دستگاہ رکھتی ہیں۔ فاطمہ نے نسائیت پر بنیادی نوعیت کا کام کیا ہے۔ حقوقِ نسواں کے حوالے سے فاطمہ کا تحقیقی اور تخلیقی کام اعلیٰ پائے کا ہے۔ غزل میں موضوعات کا انتخاب معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ شعر عمدہ تراشتی ہیں۔ شعری حسیت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
؎بہت گہری ہے اُس کی خامشی بھی
میں اپنے قد کو چھوٹا پا رہی ہوں
؎اب گھُل گیا لہو میں تو انجام کچھ بھی ہو
کیا مل سکے گا زہر کی تاثیر دیکھ کر
مونا شہاب کی غزل کا تانا بانا ہجرت سے متصل مسائل اور روایتی عورت کی خانگی زندگی سے بُنا ہے۔ مونا نے جدید غزل کو عورت کے سراپا داخلی و خارجی چہرے سے متعارف کروانے کے لیے بطور وسیلہ استعمال کیا ہے۔ مونا کی زبان صاف اور دُکھ گہرا ہے۔
؎گھر میرا کھو گیا ہے مگر یاد ہے مجھے
آنگن میں اس کے ایک شجر سایہ دار ہے
؎مجھے عزیز ہے پرکھوں کی آن بھی تو کیا
جو میں وارثِ اہل زبان بھی تو کیا
زیب النسا زیبی کی غزل بھی اپنے عہد کے جدید رجحانات کی ترجمان ہے۔ زیبی نے زندگی کے خفیہ رنگوں کو حوادثِ زمانہ کی سیاہی سے نکھارنے کی کوشش کی ہے۔ زیبی کے فارسی روایت کا تتبع ملتا ہے۔ معاشرتی کرب و نارسائی کا دکھ بہت گہرا محسوس کیا ہے۔ جذباتی اور نا امیدی کا پرتو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
؎بہاریں مسکراتیں ہیں نہ فصل گل ہی آتی ہے
یہ میرے شہر کی سڑکوں پہ تازہ خوں بہانے سے
حمیرا رحمان خواتین شاعرات میں نمائندہ شاعرہ ہے جس کی غزل میں مقامیت کے ساتھ آفاقی شان پائی جاتی ہے۔ حمیرا زندگی کی رنگینوں اور آلام کو خوبصورتی سے غزل کے پیرائے میں سمویا ہے۔ نسوانی حسیت کا گہرا ادراک حمیرا کے اشعار کو تغزل کا چہرہ عطا کرتا ہے۔
؎مری خوش نامیوں میں ہے مری رسوائیوں میں ہے
وہ میری زیست کی چھوٹی بڑی سچائیوں میں ہے
نسیم سید کا شمار کشور ناہید کی قبیل کی شاعرات میں ہوتا ہے۔ نسیم نے غزل کے علاوہ نظم کہی اور عمدہ کہی۔ صالحہ صدیقی لکھتی ہیں: "نسیم نے مظلوم و محکوم اور بے بس و لاچار عورت کی وکالت کی اور اس کے حوصلے اور ہمت کو سراہا ہے۔”۴
نسیم نے خانگی معاملات کی حق تلفی اور پد سری سماج کی اجارہ داری کو غزل کے کینوس پر خوبصورتی سے پورٹریٹ کیا ہے۔
؎آدابِ ضبطِ عشق نہ رُسوا کرے کوئی
اپنی بساط دیکھ کے سودا کرے کوئی
؎دیوارِ انا سے تھیں پرسے اُس کی صدائیں
پتھر ہوئے پر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا
رفعیہ شبنم عابدی کے ہاں تانیثی رجحان کا زیادہ غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ رفعیہ نے زوجین کی باہمی مناظرت اور مجادلت کو خوبصورتی سے نظم اور غزل میں بیان کیا۔ رفعیہ نے زندگی کے نشیب و فراز سے مستعار دُکھوں اور آسائشوں کا نامد کر ان سے نباہ کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔
؎مرے غرور کا پتھر پگھل کے موم ہوا
کہ اُس کی گرم نگاہوں میں پیار ایسا تھا
ذکیہ غزل کی شاعری سماجی شعور کی شاعری ہے۔ ذکیہ نے عورت کے وجود کو ملامتی بنانے کی بجائے انسانی توازن کا اعلیٰ معیار قرار دیا ہے۔ ذکیہ زبان پر گرفت رکھتی ہیں۔ ان کی شعری تلازموں سے لبریز غزل سماج کے دوہرے نظام کو خوب واضح کرتی ہے۔
؎مرا دشمن نہیں کوئی یہاں پر
منافق دوستوں میں گھر گئی ہوں
یاسمین حمید کا تعلق عہدِ حاضر کی قد آور شاعرات میں ہوتا ہے۔ یاسمین نے شاعری میں عورت کے سراپا کو قلمی مصور کیا ہے۔
ان کے ہاں چاند، سورج، ستارے، صحرا، سمندر ایسے تشنہ طلب الفاظ کثرت سے دہرائے گئے ہیں جو شاعرہ کی فکری گہرائی کے خوابیدہ خوابوں کی ناتمام تعبیروں کا پتہ دیتے ہیں۔ خالد علوی لکھتے ہیں: "یاسمین حمید کی غزلیہ موضوعات میں کافی تنوع موجود ہے ان کی بعض غزلوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس پر نظم کے اسلوب کا پرتو ہے۔ یاسمین نے نظم اور غزل میں بہت کم فرق ملحوظ رکھا ہے۔”۶
؎مرے احساس کی مجبوریاں ہیں
اُسے پیچھے بھی مُڑ کر دیکھنا ہے
؎مرا چہرہ ہے برسوں کی کہانی
بہت کچھ دیکھتی ہوں آئنے میں
شبنم شکیل کی شاعری اُردو ادب میں ایک نیا اضافہ ہے۔ شبنم نے اُردو غزل کی اُٹھان کو زندگی کے ذاتی تجربے سے اوپر اُٹھایا ہے۔ ان کی غزل کا رنگ کرب سے عبارت ہے۔ شبنم نے اضطراب کو حاصلِ حیات سمجھ لیا ہے اور اس کے طلسم میں شعری سفر کو بے سود نہیں ہونے دیا۔
؎جن لوگوں کی قُربت میں بہلتا ہے بہت دل
وہ بھی نہ منافق ہوں گے مجھ کو یہ ڈر بھی
؎یہ میرے بچپن کی سہیلی میرے غموں کی ساتھی ہے
کیوں میری کھڑکی سے لگ کر روتی ہے برسات سنو
شفیق فاطمہ شعری نے جدید اُردو غزل کو نسائی جذبات سے تلمیحی رنگ میں آشنا کیا۔ فاطمہ کے شعری مجموعوں میں ارتقا کا عمل تسلسل رکھتا ہے۔ انسانی جذبات و احساسات کا نرمل، کومل اور دلآویز بیان ان کے اشعار میں درد کی شدت کے باوجود گداز اور ٹھہراؤ رکھتا ہے۔
؎وہ ہے اک اچھوتا نقش مر مریں چٹانوں پر
یہ سفید بالوں کا نورِ آسمانی ہے
؎اب انتظار کی گھڑیاں گراں نہیں ہوں گی
وہ میرے فصلِ گذشتہ کے ہم صفیر آئے
عفت زریں کا شمار نمائندہ غزل گو شاعرات میں ہوتا ہے۔ عفت نے شعر کے مختلف اسالیب متعارف کروائے، عفت کے نسائیت مستقل موضوع کی حیثیت سے غزل کا چہرہ بن گیا ہے۔ عفت نے خفیف اشاروں میں ممنوعہ افکار اور نسائی حسیت کو طشت از بام کرنے کی کوشش کی ہے۔ عفت نے جو سپیس آنے والی شاعرات کے لیے بنائی ہے اُسے عہدِ حاضر کی شاعرات نے آگے بڑھ کر لیا ہے۔ اساتذہ کے فن سے استفادہ کا صاف پتہ چلتا ہے۔
؎کیسے پہنچے منزلوں تک وحشتوں کے قافلے
ہم سرابوں سے سفر کی داستاں کہتے ہوئے
؎یہ داستاں ہی سہی دل نشیں اُمیدوں کی
اُداسیوں میں رقم ہو تو زندگی بدلے
مسعودہ حیات کا شعری سفر حساسیت کے درپردہ نسائی نظام کا پرتو ہے۔ مسعودہ نے زندگی کو محبت کی نظر سے دیکھا اور دھوکا کھایا۔ گلہ و شکوہ اور رنج و ماتم کا سنجیدہ اور ٹھہراؤ ہوا اظہار ان کی غزل کا نمایاں وصف ہے۔
؎پھونک ڈالیں نہ کہیں اپنا نشیمن خود ہی
کوئی صورت ہو کہ ہم برق و شرر کو بھولیں
؎اب تمہاری رنجشِ بے جا کے وہ تیور کہاں
جن کو ہم دل میں چھپا لیں آج وہ نشتر کہاں
فاطمہ جائسی کا شمار عہد حاضر کی نمائندہ غزل گو شاعرات میں ہوتا ہے۔ فاطمہ نے زندگی کی ہمہ گیری اور اطوار کی تنگ دامانی کا نقشہ کھینچا ہے۔ آسودہ حالی کی ناشکر گزاری ان کے ہاں نمایاں ہے۔ فکر و فن سے دلچسپی غزل کے رنگ کو پختہ کیے ہوئے ہے۔
؎یہ کیا ہوا کہ جب آزادیاں ملیں ہم کو
ہے خوف اتنا کہ ڈر ڈر کے سانس لیتے ہیں
؎آنکھوں کے لیے اشک تو دل کے لیے اُلجھن
بھیجی ہے مرے واسطے سوغات کسی نے
حمیرا رحمان کا شمار عہد حاضر کی نسائی جذبات سے مملو شاعرات میں ہوتا ہے۔ حمیرا نے بدیسی ممالک میں بسنے والی عورت کے کرب اور مسائل کو شاعری کا موضوع بنایا۔ مشینی دور کی ہنگامی دوڑ میں بے سر و پا عصمت کے بکتے بازار میں نسائیت سے معمور باکرہ کی پکار کون سنتا ہے۔ یہ کرب حمیرا کے ہاں آفاقی شان لیے قاری کو گنگ کر دیتا ہے۔
؎دروازوں میں رکھے کمخواب و اطلس گَل چکے ہیں
نئے پیرانوں کا شوق بڑھتا جا رہا ہے
؎اپنے آپ کو جل بھجنے سے کیسے کوئی محفوظ رکھے
کبھی دُکھوں کا انَت الاؤ کبھی اُداسی کا جوالا
ریحانہ قمر نے محبت کے موضوع کے فلسفے کو تنقید کی نگاہ سے پرکھا ہے۔ ریحانہ کے محبت کے سیکڑوں روپ اور زاوئیے دکھائی دیتے ہیں جن میں منافرت اور کھوکھلاہٹ کی اجیرن کر دینے والے بدبو کا گدلا سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے۔ ریحانہ نے جرات سے مونولاگ کے ہتھیار سے مغموم اور یاس لڑکی کو سہارا دیا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور خوف مت کھائے۔
؎کچھ نہیں تھی میں، تو مجھ کو کچھ نہیں کہتے تھے لوگ
جب ملی عزت و میری عزت افزائی گئی
پروین شیر اُردو غزل کا ایک بڑا نام ہے۔ پروین نے مصوری اور موسیقی کی مخصوص علامتوں اور رزمیات کو شعر کے قالب میں ڈھالا۔ شاعری کی حِسی شعریت سے گہری آشنائی تھی۔ نسائی جذبات کی قد آور مبلغ ہیں۔ اشعار طبیعت کی موزونی پر منحصر ہے۔ فکر کی گہرائی سے ادراکِ حیات کا فلسفہ ان کے یہاں پھوٹتا ہے۔ عتیق اللہ نے لکھا: "پروین شیر زندگی کے متنوع چہروں کو ایک چہرے میں مقید کر دیا۔ فنونِ لطیفہ سے دلچسپی ان کی تخلیقی جودت کو بڑھانے میں کام آئی ہے۔”۷
؎تری قربت سے سنور جائے وفا کی تقدیر
شبِ فرقت کو درخشندہ ستارا مل جائے
؎تھکن سے چُور تمہارے قریب آئی ہوں
کہ اب وجود مرا بھی شکست خوردہ ہے
نزہت صدیقی اچھا لکھ رہی ہیں۔ معاشرے کی مصنوعی اور کھوکھلی معاشرت پر کُڑھتی ہیں۔ عورت کو گھر کی چار دیواری میں محصور رہ کر حق مانگے سے باہر نکل کر عملی جہد کرنے پر اکساتی ہیں۔ شعر میں نشتریت جگر چیرتی ہے۔
؎آنکھیں کھُلیں، گناہ کا احساس ہو گیا
غم سے ترے حیات ملی، رہبری ملی
؎یہی سلسلہ ازل سے یہی سلسلہ ابد تک
کبھی زندگی مصیبت، کبھی زندگی ہے راحت
گلنار آفریں کے ہاں نسائی حساسیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان کے ذاتی تجربے خارج کی دنیا سے مختلف نہیں ہیں۔ گلنار نے محبت کو ایک لایعنی جذبہ قرار دیا ہے اور اس کے کالے بادل کی گھٹا میں بھیگنے سے گریز کیا ہے۔
؎اپنے آنچل کے تقدس کی قسم کھاتی ہوں
سیکڑوں جلوے نظر کے لیے انجانے ہیں
؎میرے بچو! گھر کا آنگن تم بِن کتنا سُونا ہے
رات کو پہروں روئی تھی جب دھیان تمہارا آیا تھا
زاہدہ زیدی نے غزل کی زمین کو اپنے اتھاہ گہرے خیالات سے وسعت دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں نسائی جذبات کی ترجمانی سنجیدہ انداز میں ملتی ہے۔ جذباتی ہونے کی بجائے انسانی نفسیات کی گرہوں کو تجربے کی سِپر سے چاک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
؎اب حلقہ گرداب ہی آغوش سکوں ہے
ساحل سے بہت دور ڈبوئے ہیں سفینے
؎جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دُنیا ساری
ہم انھیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں
اوشا بھدروریہ کے ہاں نسائی جذبے کی ترجمانی مخصوص علامتی انداز میں ملتی ہے۔ اوشا نے عورت کے مسائل کو کم اور اس کی اہمیت کو زیادہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ زبان پر گرفت اور مطالعے کی وسعت سے خیالات میں گہرائی اور تنوع پایا جاتا ہے۔
؎ہر یاد مری روح میں خوشبو سی کھلی ہے
تو میرا وہ لمحہ ہے جو گزرا نہیں لگتا
؎گھر کے دروازے پہ دستک لکھ گئی پاگل ہوا
دل یہی کہتا رہا تو لوٹ آئے گا ضرور
ریحانہ عاطف خیر آبادی نے معشوق، عاشق اور عشق کی تثلیث کو شاعرانہ توازن بخشا ہے۔ ریحانہ کے ہاں ارضی فلسفے کی استعاراتی تفہیم ملتی ہے۔ ریحانہ نے سماجی اقدار کا ذکر کیا ہے۔ ریحانہ کی غزل میں روزمرہ مسائل کے ساتھ فکر کے ارتقا کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
؎کس کو پہچا نو گے جا کر کیا گرو گے شہر میں
پاؤ گے ہر ایک کے چہرے کو اب بدلا ہوا
؎میں نے مانا وہ سمندر ہے مگر کس کام کا
ایک قطرہ بھی کسی کو جو پلا سکتا نہیں
ملکہ نسیم نے غزل کو تنہائی، افسردگی، بے چینی اور نامعلوم خوف سے متعارف کروایا ہے۔ ملکہ کی زندگی کے شب و روز نا قابل یقین حوادث میں گزرے جس کا اثر ان کی فکر پر براہ راست پڑا۔
؎کسی کے ساتھ ذرا دور چل کے دیکھو تو
کسی کے درد کو پلکوں سے چُن کے دیکھو تو
؎دلوں کو جھکنے جھکانے کا فن اگر آ جائے
جہاں سے تفرقہ بازی کا ہر چلن مٹ جائے
ساجدہ خاتون تشنہ کے ہاں شاعری محض شغل بازی کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت سے آگے حصول کی چیز ہے۔ ساجدہ نے معاشرتی تنافر کو سماجی تنزل سے مدغم کر کے دیکھا ہے۔ چہروں کے پیچھے چھپی مفاد پرستی اور متوحش نگاہوں کی زنائی خواہشیں ان کی شاعری میں حساس دل کو گھائل کر تی دکھائی دیتی ہیں۔
؎نئی اک دُنیا بنانے کو جی چاہتا ہے
جہاں کو گلے سے لگانے کو جی چاہتا ہے
؎اپنی حاجت کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں
چارہ گر کوئی نہیں، درد کا درماں نہیں
عذرا پروین نے اپنا منفر لہجہ متعین کیا ہے۔ ان کی نظم کا کینوس کھلے آسمان کی طرح وسیع ہے۔ غزل میں متنوع رنگوں کی آمیزش ہے۔ زمانے کو نئے انداز سے دیکھتی ہیں اور اپنی رائے سے قاری کو محاسبے تک لے آتی ہیں۔
؎میں پھر تمہارے قدموں سے چل پڑی ہوں شاید
تم جاگتے ہو مجھ میں میں سو رہی ہوں شاید
؎میں جس میں بھیگ کر ہو جاؤں بادل
گھٹا ایسی مرے چت چور برسا
فرح زہرا گیلانی نے مغربی ادب سے استفادہ کیا ہے۔ ان کے ہاں مغربی اساطیر کی بازگشت سنائی دیت ہے۔ فرح نے عورتوں کے وجود کو مردوں کی کمین نگاہوں سے مستور رکھنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ عورت کے جذبات کی سطحی ترجمانی فرح کو بُری لگتی ہے۔ یہ مرد کی طرح سوچنے کو ترجیح دیتی ہے۔
؎بے مہریوں کی دھوپ نے جھلسا کے رکھ دیا
میں ریزہ ریزہ ہو کے جہاں میں بکھر گئی
؎مجھ کو یخ بستہ ہواؤں نے بتایا یہ بھی
وہ پرندہ ہے کہیں دور چلا جائے گا
حمیدہ معین رضوی کے ہاں شدید ردِ عمل کی صاف آواز سنائی دیتی ہے۔ حمیدہ نے تیزی سے بدلتے سماج کی غیر معمولی رفتار میں عورتوں کو قدم بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ وقت کی اس رفتار کے ساتھ تصورات کی گراوٹ کو حمیدہ نے خوبصورت انداز میں شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔
؎لڑکیاں جو کتاب لکھی رہی ہیں
زندگی کے عذاب لکھ رہی ہیں
ساجدہ زیدی ایک معمر کہنہ مشق شاعرہ ہیں۔ ان کی غزل کا خمیر مشرقی اخلاقیات کی بے توقیری سے اُٹھا ہے۔ انھوں نے عصرِ حاضر کے انسان کی بے بسی، تنہائی، کسمپرسی اور لایعنیت کے فلسفہ کو شعروں میں بیان کیا ہے۔ زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور خوابوں کی تشنہ تعبیروں کی کسک ساجدہ کے ہاں شدت سے آگہی سے متصف ذہن کو متاثر کرتی ہے۔
؎ترے خیال سے آگے مری نظر پہنچے
ہمارے عشق کا ہر اک زباں پہ چرچا ہو
؎دھنک کے رنگوں کی پرواز مجھ میں جب ہوتی
میں تتلی کاڑھنے لگتی تھی پیرہن کے لیے
تسنیم عابدی کی شاعرانہ اُٹھان ان کے ذاتی تجربات کی مرہون منت ہے۔ تسنیم نے عورت کے جذبات کی جملہ عکاسی کی ہے۔ بطور عورت انھوں نے پدر سری نظام میں اپنے حق کے حصول کے لیے شعر کو ہتھیار بنایا ہے۔ ان کا تخلیقی سفر جاری ہے۔
؎سو نہیں گیا، مجھے سمجھا نہیں گیا
تاریخ میں مجھے لکھا نہیں گیا
آشا پربھات نے رسالوں میں لکھا اور انھیں خوب سراہا گیا۔ بہت کم گو ہیں لیکن عمدہ سخن شناس ہیں۔ ان کی غزل کا رنگ داخلی ہے۔ زبان پر گرفت کی وجہ سے تخیلی پیکر تراشنے میں خصوصی ملکہ رکھتی ہیں۔
؎یہ بات الگ ہے کہ توجہ نہ دی ہم نے
دل کھینچے والے تو نظارے بھی بہت تھے
صوفیہ انجم تاج بنیادی طور پر ایک شاعرہ ہیں۔ ان کی مصورانہ قوت رنگوں سے کینوس پورٹریٹ نہیں کرتی بلکہ اشعار میں ڈھل کر انھیں مرقع بنانے کے کام بھی آتی ہے۔ صوفیہ نے اپنے گردو نواح کے ماحول اور معاشرت کے جزئیات کے ساتھ غزل کے سانچے میں پرویا ہے۔
؎میں کب سے ماضی کے تانے بانے ادھیڑتی اور بُن رہی ہوں
بتائے کوئی میں جاگتی ہوں کہ کرچیں خوابوں کی چُن رہی ہوں
؎ہوں نگاہ میں وہی رونقیں، وہی رسم و راہ میں لذتیں
کوئی ایسی تازہ ہوا چلے، مرا نقشِ ماضی ابھار دے
اِندرا شبنم کے ہاں نسائی شعور ذاتی تجربے سے مہمیز ہوا ہے۔ اِندرا نے غزل کو اپنے اندر کی خلفشاری کے انخلا کے لیے استعمال کیا۔ ان کے ہاں بے کسی اور لاچاری کی مفلسانہ مبالغہ پسندی نظر آتی ہے۔ عورت کی محدود کائنات کو اپنے قلم سے وسیع کرنے کی کوشش میں مگن ہیں۔
؎لگتا ہے من پہنچ گیا وہاں
پریم ندیاں جہاں سے جاری ہیں
؎سچائی جیون کی چاہے کچھ بھی ہو
ہم کو تو سب افسانہ سا لگتا ہے
شاہدہ نسیم نے نسائی تصور کو باضابطہ تحریک کی شکل دی ہے۔ مرد سماج میں عورت کو عزت دے جینے اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا شعور شاہدہ کی غزل کا مرکزی موضوع ہے۔ عمدہ شعر تراشتی ہیں۔
؎تم کیا گئے کہ لے گئے آنکھوں سے سارے خواب
ورنہ ہمارے بگڑے مقدر میں کیا نہ تھا
شہلا نقوی نے معاشرتی مسائل پر لکھا۔ ان کا شعری سفر ہنوز جاری ہے۔ انھوں نے پدر سری نظام اور مردوں کی حقوق پر اجارہ داری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شہلا کی غزلوں میں مصرعوں کی بُنت اور تراش خراش سے زبان پر گرفت اور مضمون پر دسترس کا پتہ چلتا ہے۔
؎وقت کی آندھی سے یوں ہر سو بگولے بن گئے
ہو گئی روپوش منزل بھی نقابِ گرد میں
؎شہلاؔ سارے دن کے لمحے صرف زمانے بھر پہ کیے
شام ہوئی تو گھر کو لوٹی پھر کاموں میں ڈوب گئی
ترنم ریاض نے متعدد جہات پر کام کیا ہے۔ ان کی نثری کاوشات گراں قدر ہیں۔ بطور شاعرہ انھوں نے نظم اور غزل میں طبع آزمائی کی اور قد آور شاعرہ کے طور پر سامنے آئیں۔ ترنم کے ہاں مخصوص لفظیات کا ڈکشن ہے جس سے نزاعی مسائل اور معاشرے میں درپیش ہنگامی صورتحال کا ٹھہراؤ اور قدرے سبھاؤ سے استعمال کرتی ہیں مصرعوں میں تازگی اور شعر میں جدت غضب کی ہوتی ہے۔
؎گھر کے اندر انا کے جھگڑے کیوں دہراتے رہتے ہو
سیدھی رہ اپنا لو، پسلی ہوں، ٹیڑھی ہو جاؤں گی
نصرت آرا کے ہاتھ زیادہ تر جذباتی اور سطحی قسم کا تاثراتی اظہار ملتا ہے۔ خانگی مسائل کے علاوہ رومانوی دور کی کسک اور نا آسودہ خواہشوں کی تڑپ ان کی شاعری کو گداز بناتی ہے۔ شعر میں برجستگی کا عنصر موضوع کی نزاکت سے آگہی کا پتہ دیتا ہے۔
؎جیون کے موسم کو کیسے روپ بدلتے دیکھا
ہنستے ہوئے بادل سے میں نے خون برستے دیکھا
سیدہ نسرین نقاش نے اُردو غزل کے اکیسویں منظر نامے پر اپنی مستقل شناخت بنائی ہے۔ ان کی شاعری میں عورت مرکزی موضوع کی حیثیت سے موجود ہے۔ نسرین نے مرد سماج کو کوسنے کی بجائے عورت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
؎کوئی آئے گا نہ مجھ سا بخدا میرے بعد
ختم ہو جائے گا دستورِ وفا میرے بعد
ثمینہ راجا نے اُردو شاعری کو خواتین شعرا میں وہ مقام عطا کیا ہے جس کی یہ مستحق تھی۔ ثمینہ نے پروین شاکر اور فہمیدہ ریاض کے اُسلوب کا تتبع کیا اور انھیں کی طرح ممنوعہ موضوعات پر جرات سے قلم اُٹھایا اور اپنی انفرادیت قائم کی۔
؎اُس کی بانہوں میں سمٹ جانے کی گھٹ جانے کی خواہش، توبہ
رات جب دیر تلک چاند تہہِ آب گرفتار رہا
؎نچوڑ لیں مرے چہرے کی سرخیاں، پھر بھی
گریز پا مرے گھر سے بہار کیوں گزرے
رخسانہ جبیں نے جدید غزل کے کینوس کو سماجی آلام سے پورٹریٹ کرنے کی بجائے نسائی استحصال کے بیان کے لیے رنگ کو ترنگ سے شناسا کیا ہے۔ رخسانہ نے تخیل کی مدد سے تجربے کی حقیقت کو شعر کے پردے میں بیان کیا جس سے انسانی توازن کے مشخص فلسفے کا احیا ممکن ہوا۔
؎ایک معمہ ہے وہ، ویسے کتنا بھولا بھالا ہے
ایک اک رنگ انوکھا اس کا ہر انداز نرالا ہے
جیوتی سکسینہ نے غزل میں آفاقی سچائیوں اور ارضی جُل سازیوں اور فتنہ پردازیوں کو نمایاں کیا۔ جیوتی نے زندگی کو جس طرح محسوس کیا ویسے ہی لکھ ڈالا۔ اشعار عموماً توجہ کو مبذول کرتے ہیں۔
؎شمع مدھم لو پرشیاں خامشی افسردگی
بزم میں ان کے چلے جانے کا منظر دیکھنا
سلطانہ مہر نے شاعری کی اور بہت خوب کر رہی ہے۔ سلطانہ کے ہاں سماج میں ہر طرف جاری اندھیر نگری اور حقوق کی حق تلفی کا مرصع رد عمل ملتا ہے۔ سلطانہ مہر نے عورت کے وجود سے متصل اندیشوں اور امکانات کے خدشوں کو سادہ، آسان اور سہل انداز میں مرد سماج کے پروردہ ٹھیکے داروں تک پہنچایا ہے جس میں ان کی شاعرانہ معنویت کی فکری اُٹھان کا ہاتھ ہے۔
؎میں اپنے شک چھڑک دوں کہ خاک دب جائے
ابھی نہ آؤ ابھی تو غبار راہ میں ہے
؎جس جس کو تو گوہر سمجھا کنکر سے وہ بدتر تھا
اے دلِ سادہ اب بھی سنبھل جا کب تک دھوکے کھائیں ہم
مینو بخشی جدید اردو غزل کی معتبر آواز ہے جس نے اُردو غزل کے ایوان میں شاعرات کو ایک ممتاز مقام دلایا ہے۔ پروین شاکر کے بعد بھارت میں مینو بخشی کی شاعری حوالہ بنی۔ انھوں نے اپنی نظموں اور غزلوں میں جس طرح عورت کے وجود اور ذات و تشخص سے متصل تصورات و نظریات کو تفہیم عطا کی، یہ خلا صدیوں بعد پُر ہوا ہے۔ سچائی راستی بے باکی اور نڈر لب و لہجے کی اس شاعرہ نے غزل کے فنی حُسن کو مزید چمکایا اور بڑھایا ہے۔
؎دو دن کی زندگی جو مرے نام ہو گئی
اے عشق وہ بھی موردِ الزام ہو گئی
؎اُسے سمجھانے جو بیٹھوں وہ سمجھانے لگے مجھ کو
نتیجہ دل کے سمجھانے کا نکلے بھی تو کیا نکلے
حمیدہ شاہین کا شمار جدید لب و لہجے کی ماڈرن خواتین شاعرات میں ہوتا ہے۔ حمیدہ نے غزل کو مردوں کے کہنے کی چیز نہیں رہنے دیا بلکہ اپنے بلند شعری احساس سے اسے نسائیت کی زبان بنایا ہے۔ حمیدہ شاہین کے لہجے میں بے باکی اور بے خوفی سر چڑھ کر بولتی ہے۔ روایات کی پاسداری اور احترامِ انسانیت کا یکساں توازن ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ ہے۔ حمیدہ شاہین بلا شبہ عمدہ شعر کہتی ہیں۔
؎کدھر تلاش کروں اعتبارِ چشم و خرد
طلب کو لے گئے بہلا کے التباس کہاں
؎فرط حیرت سے بدن گُنگ ہے، جاں لب بستہ
آپ کو جیت لیا، آپ کی حقدار ہوئی
حمیرا شاہین عمدہ شاعرہ ہیں۔ ان کے ہاں نسائیت کا پرچار معمولی اور روزمرہ معاملات کے سلگتے تڑپتے احساس سے وا ہوتا ہے۔ حمیرا نے حوادثِ زمانہ کی کسک سے شعری توازن کو سینچا ہے اس لیے ان کے ہاں نسائی لہجے میں معصوم اور گداز کے کی موجودگی کم ہے اس کے باوجود شعر توجہ کو کھینچتے ہیں۔
؎بہت اچھے بہانے آ گئے ہیں
ہمیں آنسو چھپانے آ گئے ہیں
؎سرابِ خوش گمانی سے کہیں آگے کھڑی ہوں
میں خود اپنی کہانی سے کہیں آگے کھڑی ہوں
عنبرین حسیب عنبر کا شمار عہدِ حاضر کی مقبول ترین شاعرہ میں ہوتا ہے۔ پروین شاکر کے بعد جس شاعرہ کو سب سے زیادہ توجہ اور پیار ملا ہے وہ عنبرین حسیب عنبر ہیں۔ عنبرین نے مشاعرہ کی نظامت کو کمال خوبصورتی سے اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کٹھن اور مشکل مرحلے کو نہایت آسانی اور کامیابی سے نبھا رہی ہیں۔ عنبرین کی غزل کا رنگ تیکھا، شوخ اور سلجھا ہوا ہے۔ ان کی شاعرانہ حسیت منجھے ہوئے مشاق چتر کار کی طرح تصور کو مقیش کرتی ہے تو کوئی نقص باقی نہیں رہنے دیتی۔
؎تری پسند میں ڈھلتی نہیں مری ذات
میں روز نت نئے سانچے بناتی رہتی ہوں
؎فیصلہ بچھڑنے کا جب کر لیا ہے تم نے
پھر مری تمنا کیا مری اجازت کیوں
نصرت مہدی کی غزل کا رنگ جدید اور کلاسیک روایت کے ملے جلے رجحان سے تشکیل پایا ہے۔ نصرت نے غزل کو احتجاج کی زبان بنایا۔ انھوں نے نثری نظم میں شہرت حاصل کی۔ آج کل غزل پر زیادہ توجہ صرف کر رہی ہیں۔ ان کے ہاں آمد کی نسبت آورد کی کارفرمائی زیادہ نظر آتی ہے۔
؎یہ حوصلہ جو ابھی بال و پر میں رکھا ہے
تمہاری یاد کا جگنو سفر میں رکھا ہے
؎کرتی پھرتی تھی اُجالوں کی قبا مری تلاش
اور میں تھی کہ اندھیروں کے کسی غار میں تھی
ثروت زہرا بطور نظم نگار مشہور ہیں۔ غزل کم کہتی ہیں البتہ عمدہ شعر نکالنے کا سلیقہ رکھتی ہیں۔ ثروت کے ہاں عورت کے وجود کو ہمیشگی خطرہ لاحق ہے اور بہت جلد سے اپنے تمام تر حواس کے ساتھ نابود کر دی جائے گی۔ ثروت نے اپنے عہد کی عورت کو کمزور قرار دینے کی بجائے اسے مردِ آہن کے آگے دتیز دھار سِپر کی طرح کھڑا ہونا سکھایا ہے۔ ثروت کے اس بے باک اور نڈر روئیے کو نقادوں نے بہت سراہا ہے۔
؎مرے جذبوں کو یہ لفظوں کی بندش مار دیتی ہے
کسی سے کیا کہوں کیا ذات کے اندر بناتی ہوں
؎دھُوپ کی اک زباں حرف نے سیکھ لی
جو بھی احساس تھا شاعری کھا گئی
صائمہ آفتاب عمدہ شاعرہ ہیں۔ ان کے ہاں نسائی جذبات کا سلجھا انداز ملتا ہے۔ صائمہ کے ہاں ایک ترشا ہوا اسلوب ملتا ہے جو ان کی نظموں کو بہت سوٹ کرتا ہے لیکن غزل کہتے ہوئے ان کا دم گھٹتا ہے۔ ان کے ہاں گہری معنویت کی سطحی پرتیں بکھری اور منتشر ملتی ہیں۔ ریاضت سے ہچکچاہٹ کے پیش نظر ان کی شاعری کا رنگ ابھی تک پختہ نہیں ہو سکا۔
؎بچھڑنے کی سہولت نہ مل جائے
مکیں کو اذنِ ہجرت نہ مل جائے
؎نبھانا ہے بہر صورت یہ کاروبارِ دُنیا
کہ عشق و عاشقی کا سلسلہ کافی نہیں ہے
ناصرہ زبیری کا شمار ایک سوشل ایکٹوسٹ اور صحافی کی حیثیت سے ہے۔ ان کی شاعری کا رنگ بھی قدرے صحافیانہ ہے۔ ناصرہ نے غزل کہی اور خوب کہی۔ ل ان کی نظم میں معاشرت اور سیاست کا ملا جلا رجحان ملتا ہے۔ ناصرہ نے عورت کو دکھوں اور مظالم سے اٹی پوٹلی قرار دینے کی بجائے پدر سری نظام میں سامنے آنے کی دعوت دی ہے۔ ان کے اشعار اپنے اندر معاشرت کو منافقت کا گہرا نوحہ لیے ہوئے ہیں۔
؎نہیں ہے یوں کہ اُسے ہم تمام بھول گئے
وہ شکل یاد رہی اس کا نام بھول گئے
؎تمہارے عہد الفت کی خلافت مان لی دل نے
تمہارے بعد یہ بیعت نہیں ہو پائی کوشش کی
علینہ عطرت عہدِ حاضر کی ممتاز شاعرات میں مقبول نسائی لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ علینہ نے غزل کو نسائی جذبات سے مامور کیا ہے۔ علینہ کے ہاں اپنے مخصوص الفاظ ہیں جنھیں روایتی اور پیش آمدہ واقعات کے بیان میں استعمال کرنے کا خداداد سلیقہ رکھتی ہیں۔ فطرت سے ہم آہنگی اور سماجی اقدار کی کھلی منافقت میں بہ حیثیت عورت سروائیو کرنے کی جرات علینہ کی غزل کا چہرہ ہے۔
؎شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
بس اک دُعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا
؎کوئی ملا ہی نہیں جس سے حالِ دل کہتے
ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم
راحیلہ اشرف راجپوت بہت کم لکھتی ہیں۔ مشاعروں میں برابر شرکت سے بطور شاعرہ پہچان بنائی۔ کلام میں سنجیدگی اور گہرائی پائی جاتی ہے۔ غزل عمدہ کہتی ہیں اور آمد کی قائل ہیں۔ مرور وقت کے ساتھ ان کے کلام میں متنوع رنگوں کی آمد کا رجحان دکھائی دیتا ہے۔
؎یہ میرے خواب کا رستہ ہے گزر سکتے ہو
بن کے اک نقش میرے دل میں اُتر سکتے ہو
؎ہم اپنے دل سے محبت نکال پھینکیں گے
تمہارے حکم کی تعمیل کر کے چلتے ہوئے
تسنیم کوثر کم گو شاعرہ ہیں۔ ان کی غزل میں نسائیت موضوعات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اپنے سے ناراض رہنے اور سمجھوتے کی چادر میں قناعت سے زندگی بسر کرنے کا رجحان تسنیم کی غزل کی اساس ہے۔ تسنیم کے ہاں غزل کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔
؎درد کے تیر جگر کے پار ہوا کرتے تھے
ہم محبت کے سزاوار ہوا کرتے تھے
؎فیصلے اب بھی سرِ دار ہی ہوتے ہیں یہاں
فیصلے تب بھی سرِ درار ہوا کرتے تھے
سیماب ظفر غزل گو شاعرہ ہیں۔ عہد حاضر کی نمائندہ شاعرات میں آپ کا نام لیا جانا چاہیے۔ سیماب کی غزل کا رنگ پختہ اور پُر اثر ہے۔ سیماب بے روایتی مضامین بھی باندھے لیکن محض روایت پر انحصار نہیں کیا بلکہ عہدِ حاضر کے جملہ ماحول کے رد عمل کو بھی غزل کا حصہ بنایا۔ طویل بحر میں غزل کہنا سیماب کا نیا تجربہ ہے جسے سراہا جا رہا ہے۔
؎کون دروازہ کھلا رکھتا برائے انتظار
رات گہری ہو چلی رہرو عبث ہے کل پکار
؎کوچہ ہائے دل و جاں کی تیرہ شبو آس مرتی نہیں
آخری سانس بھرتے ستارو سنو آس مرتی نہیں
رخسانہ صبا جدید لب و لہجے اور بلند آہنگ کی حامل شاعرہ ہیں جنھوں نے روایت سے استفادہ کے باوجود اپنے لیے نیا شعری اسلوب وضع کیا۔ رخسانہ کے ہاں عورت محض عورت نہیں بلکہ کائنات کی تمام موجودات کے مظاہر کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ رخسانہ کے ہاں موضوعات کا اختصاصی چناؤ ملتا ہے جس سے شعر تراشنے کی ریاضت کا احساس ہوتا ہے۔
؎گرچہ دہلیز پہ لا کر بھی بٹھائی گئی میں
دھُول تھی راہ گزر کی، سو اُڑائی گئی میں
؎کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرف دعا اور میں
خاموشی کے ساتھ ہیں دونوں میرا خدا اور میں
تنویر انجم کی غزل عہدِ حاضر کی غزل کا اجتماعی منظر نامہ ہے۔ تنویر انجم نے نظم کہی اور خوب کہی لیکن غزل میں ان کی فکری اُٹھان نہایت بلند ہے۔ تنویر کے ہاں معاشرت اور سماج کے سنگم سے پنپنے والے جرائم کی نشاندہی ملتی ہے۔ تنویر نے غزل کو جذباتی کیفیت سے نکال کر مبارزت اور مکالمے کی چیز بنایا ہے۔ تنویر کے اشعار ایک انتخاب معلوم ہوتے ہیں جن پر تخلیقی ورود کا گمان گزرتا ہے۔
؎شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں
پھر لوگ میرے اندر سنسان ہو گئے ہیں
عشرت آفریں کا شمار عہدِ حاضر کی ممتاز ترین خواتین شاعرات میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں گہری سماجی معنویت اور نسائی شعور ملتا ہے۔ عشرت نے زندگی کے نسائی پہلو کو حوادثِ زمانہ کے سلاسل میں رکھ کر دیکھا ہے۔ عشرت کی غزل کا رنگ فطری اور اصلی ہے۔ ان کے ہاں اشعار کی تہ در تہ پرتیں آپس میں متصل و مدغم ہیں جن میں عورت کے وجود اور تشخص سے منسوب اندیشوں، واہموں اور الزام تراشیوں کے سائے لپٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
؎شمعیں اور سائے سے دیکھے گئے طوفان کی رات
اس حویلی میں جو مدت سے بہت ویران تھی
؎صبحِ وصال کی کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں
راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہیں
ناہید ورک مہجری شاعرہ ہیں۔ ان کے ہاں وطن سے دور ملک اغیار میں مقیم عورت کے مسائل اور اس کی ذات سے متصل اندیشوں اور واہموں کا ذکر ملتا ہے۔ ناہید نے غزل کو مترنم بنایا اور موسیقیت کے آہنگ سے مترنم بحور کا انتخاب کیا۔ ان کی نظمیں موضوعات کے اعتبار سے توجہ کھینچتی ہیں۔
؎مرا ہو کے بھی نہ وہ ہو سکا
یہ عجیب صورتحال ہے
؎نیند میں جاگتا ہی رہتا ہے
دل ترے عشق کی دھمال میں گم
عارفہ شہزاد اُردو ادب کی استاد ہیں۔ شاعری کے علاوہ نثر بھی لکھتی ہیں۔ ان کی نظموں کا پھیلاؤ آفاقی ہے اور غزل بھی زمین سے اُٹھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ مابعد جدیدیت کے ابہام و اوہام اور تصورات کیا تھاہ معنویت ان کی مخصوص شعری لفظیات میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
؎تجھے آغاز ہی سے پڑھ لیا تھا
ترے چہرے پہ سب لکھا ہوا تھا
؎خواب میں جاگتی بے خوابی پتہ پوچھتی ہے
کیا کہیں نیند بھی ہوتی ہے سلانے والی
فرح رضوی کا شعری سفر تیس سال کو محیط ہے۔ فرح کے ہاں نسائی شعور کا گہرا ادراک ملتا ہے۔ فرح نے غزل کے سانچے کو نسائی حسّیت سے معمور کیا ہے۔ فرح کے ہاں سادہ اور عام فہم انداز ملتا ہے جو ان کی شاعرانہ اپج کا عکاس ہے۔
؎حسرت کے داغ دست طلب سے نہیں دھُلے
بھاری تھے خواب آنکھ سے پورے نہیں دھُلے
؎ہمارے زخم تماشا نہیں ہیں غیرت ہیں
سو اس لیے بھی چھپاتے ہیں اک زمانے سے
شازیہ اکبر کی نظمیں بہت وائرل ہو رہی ہے البتہ غزل بھی ان کے ہاں سلجھی اور متانت لیے ہوئے ڈگ بھرتی دکھائی دیتی ہے۔ شازیہ نے عہد حاضر کے مسائل کو عورت کی آنکھ سے دیکھا اور حیرت بھری آنکھ کو محو تماشا بنا دیا۔ شازیہ کے ہاں احتجاج کے ساتھ حق کے حصول کا رد عمل بھی دکھائی دیتا ہے۔
؎دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں
شہر کے سارے لوگ رلانے آتے ہیں
؎کوئی اپنے لیے شاید زیادہ جی نہیں سکتا
کسی کا آخری پیغام ہے یہ رابطہ کر لو
فریحہ نقوی نوجوان شاعرات میں ابھرتی ہوئی شاعرہ ہیں جن کے غزلیہ موضوعات انوکھے، منفرد اور دلآویز ہیں۔ فریحہ نے مشاعروں میں شرکت سے شہرت حاصل کی۔ ان کے ہاں آمد کی نسبت آورد اور ستائش کی نسبت ریاضت کا گمان گزرتا ہے۔ فریحہ کی غزل کا تیور آنے والے وقت کی غزل کا نمائندہ دکھائی دیتا ہے۔
؎ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں
اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں
؎تمہیں پتا ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں
تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں
شمامہ اُفق کا شمار جدید لہجے کی شاعرات میں ہوتا ہے۔ شمامہ نے حوادثِ زمانہ اور گھریلو نزاعات کو غزل کی زبان دی۔ شمامہ کے ہاں لفظیات کے انتخاب سے شعر کا سانچہ تیار کرنے کی ریاضت دکھائی دیتی ہے۔ شمامہ نے خود کو غزل میں تلاش کرنے کی جستجو کر رکھی ہے۔
؎دہشت کے موسم میں کھلنے والے پھول
پتی پتی بکھرے کون سنبھالے پھول
؎میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز
مرا رقص انوکھا رقص ہے مجھے اپنے آپ پہ ناز
رابعہ بصری بلتستان سے ہیں۔ ان کی غزل میں شمالی علاقہ جات کی عکاسی ملتی ہے۔ عورت کو پہاڑوں کی طرح سخت جان اور چاردیواری میں محصور رابعہ کے ہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ رابعہ نے غزل میں فطرت کے متنوع رنگوں کو نسائی آہنگ میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
؎سیاہ شال پہ جو اشک کاڑھتا ہو گا
کسے خبر تھی اُسے مجھ سے مسئلہ ہو گا
؎غم ترا آنکھ کے پانی سے نکل آیا تھا
درد پھر اپنی فشانی سے نکل آیا تھا
صائمہ اسحاق کا تعلق جنوبی سندھ سے ہے۔ ان کی غزل اور نظم کا پھیلاؤ زمان و مکان کی تحدید سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرح کی بے چینی اور اضطراب ہے جو صائمہ کے ہاں صداقت اور جواز بن کر غزل کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ صائمہ کا شعری تموج صنفِ غزل کے ارتقا کا معتبر حوالہ ہے۔
؎زمین میلی ہے نہ آسمان میلا ہے
دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے
؎لوگ حیران ہیں کیوں دیکھ کے تم کو آخر
اس تجسس میں تمہیں دیکھنے آئے ہم بھی
انعمتا علی غزل گو شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعرانہ اُٹھان روایت سے استفادے کا پتہ دیتی ہے۔ انعمتا نے غزل کو اظہار کا وسیلہ بنانے کی بجائے عورت کے وجود کی بقا قرار دیا ہے۔ انعمتا کے ہاں شعری تلازمے اور علامات کا مخصوص انداز ملتا ہے جس سے ان کی شعری حسیت کے در وا ہوتے ہیں۔
؎رونے کا سلیقہ مجھے اسلاف نے بخشا
یہ ماتمی آنکھیں مجھے ورثے میں ملی ہیں
؎میں بلندی سے گرائی گئی جس محنت سے
اس میں اپنوں کے بھی کردار نظر آتے ہیں
مقدس ملک کا شعری سفر دو دہائیوں پر مشتمل ہے۔ ان کی غزل میں روایت کا تتبع ہے اور جدید رجحان کی طرف مراجعت بھی۔ مقدس نے سہل اور آسان بحر میں سہل ممتنع کے انداز کو اختیار کیا۔ عام فہم اور روزمرہ لفظیات سے شعری گلستان منقش کرتی ہیں۔ عمدہ شعر کہہ رہی ہیں۔
؎اس نے نظریں ہی پھیر لی مجھ سے
کچھ نہیں رہ گیا سوالوں میں
؎میں سوچتی ہوں کہ پھر جرم کس کے سر جائے
سبھی ثبوت اسے بے نگاہ کرتے ہیں
سبیلہ انعام صدیقی غزل کے علاوہ نظم اور رباعیاں کہتی ہیں۔ عمدہ شاعرہ ہیں۔ شعری سفر جاری ہے اور عمدہ کلام کہہ رہی ہیں۔ نسائی روایت کی امین اور جدید لب ولہجے کی دلدادہ اس شاعرہ کی لفظیات پڑھنے والے کو اپنے اثر میں لے لیتی ہیں۔
؎وہ میرے ہاتھ سے برسات کے زمانے میں
پکوڑے کھائے گا اور چائے بھی پیے گا، ہی
؎وفا کے راز سے پردہ نہیں اُٹھاؤں گی
میں دل کے زخم تہ دل سے ہی چھپاؤں گی
جاناں ملک کی غزل کا رنگ منفرد اور روایت سے ہٹا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کے لوازمات کا رد عمل ان کی غزل میں دکھائی دیتا ہے۔ کہنہ اور غیر مستعمل الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ علامات و اوہام اور تمثیل سے دلچسپی ہے۔ ہندی ادب سے گہری وابستگی علامات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ عمدہ شعر کہہ رہی ہیں۔
؎پاس رہا تو قربت کا احساس نہ تھا
اس نے جانے کی ٹھانی تو کانپ گئی
؎بس ایک دھوکا رہ جاتا ہے
بندہ تنہا رہ جاتا ہے
نیل احمد کا شمار اکیسویں صدی کے اوائل کی ممتاز شاعرات میں ہوتا ہے۔ نیل احمد کے ہاں غزل کا نظمیہ انداز ملتا ہے۔ بات کو کھول کر بیان کرنے کی بجائے کہانی کے توسل سے سامنے لانا نیل احمد کا فنی اختصاص ہے۔ نسائی جذبے کی سُر مالا کو فنی جاذبیت سے معمور نیل احمد نے کیا ہے۔
؎دل کی اداسیوں کا کوئی سبب نہیں ہے
بس یہ سبب ہے میرے کی اداسیوں کا
؎سارے جذبے تری چاہت کے دکھائی دیتے
کاش آنکھوں میں کہیں دل بھی دھڑکتا ہوتا
بلقیس خان کا شعری سفر بیس برس کو محیط ہے۔ نوجوان شاعرہ ہیں۔ جذبات بھی جوان اور اظہار بھی بلا کی تابناکی لیے ہوئے ہے۔ محبت کے دریا کو پار کرنے کے بعد دھوکے کے سیراب سے لبریز اس شاعرہ کی غزل میں فنی پختگی کے سبھی لوازمات شعری دکھائی دیتے ہیں۔
؎سمجھ رہی ہوں تو رستہ بدلنا چاہتا ہے
میں تیرے لہجے کی ساری جہات دیکھتی ہوں
؎میرے پیروں کو ڈسنے والا سانپ
میری گردن میں کیوں حمائل ہے
ایمان قیصرانی عمدہ غزل کہہ رہی ہیں۔ ان کے یہاں عصری مسائل کا شعور اور سماجی انحطاط کا نوحہ فراواں ملتا ہے۔ ایمان قیصرانی نے غزل کو مرد کی طرح سنبھالا اور نبھایا ہے۔ موضوعات کے انتخاب اور بیان کے سلیقے سے شاعرہ کے وسعت مشاہدہ اور برق رفتار تخیل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
؎دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے
؎ہنسنے رونے سے گئے ربط بڑھانے سے گئے
ایسی افتاد پڑی سارے زمانے سے گئے
عاصمہ طاہر کا شمار نوجوان شاعرات میں ہوتا ہے۔ نسائی لہجے کو ڈھال بنا کر مشاعروں میں توجہ حاصل کی۔ ان کے ہاں عورت کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے اور وجود رکھتی ہے اور اسے حق ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند کا دھڑ لے سے اظہار کرے اور رد عمل بھی ظاہر کرے۔ عاصمہ نے غزل کے سبھاؤ کو نرمل کی بجائے کھردرا کیا ہے جو عہدِ حاضر کی ناگزیز ضرورت ہے۔
؎مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان
جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں
؎شام کھلتی ہے تیرے آنے سے
لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے
ڈاکٹر ثمینہ گل اُستاد ہیں۔ شاعرہ ہیں۔ خوبصورت شعر کہتی ہیں۔ کم گو ہیں لیکن شعر کا آہنگ بلند بانگ ہے۔ ثمینہ نے غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی لیکن غزل میں ان کا دل زیادہ اسیر ہے۔ محبت ان کا مرکزی موضوع ہے۔ ہلکے پھلکے انداز میں طنز کے تیز دھار تیر شعر کو نشتر بنا دیتے ہیں۔
؎محبت کے سبھی جذبے تمہارے نام کرتی ہوں
وفا کے دل نشیں قصے تمہارے نام کرتی ہوں
؎بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں
مجھے اکثر یہ اپنوں کے رویے مار دیتے ہیں
صنفِ غزل میں نووارد شاعرات میں پاک و ہند اور دنیا بھر میں پھیلی خواتین شاعرات میں سیکڑوں نام آتے ہیں جن کے ہاں غزل کے وسیع امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ ان شاعرات نے غزل کی صنف کو کمال دلچسپی سے اپنے اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے اور قوی امید ہے کہ آنے والے دو تین عشروں میں ان نووارد شاعرات میں جس دیے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا کے مصداق نمائندہ شاعرات کہلانے کی مستحق ہوں گی۔
ان شاعرات میں ماریہ نقوی، نادیہ گیلانی، ایمان شہزادی، سدرہ افضل، صباحت عروج، عنبرین صلاح الدین، سدرہ سحر عمران، طاہرہ غزل، جہاں آرا تبسم، نوشین قمیرانی، صنوبر الطاف، تمثیل حفصہ، سارہ خان، فاطمہ مہرو، تجدید قیصر، سندھو ستار پیرزادہ، انعم جاوید، ثانیہ خان، انجیل صحیفہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نمونہ کلام ملاحظہ کیجیے۔
؎اُس سے بلا کی چاہ تھی دل کے قریب تھا
پر چھوڑنا پڑا وہ بہت ہی عجیب تھا (ماریہ نقوی)
؎اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی
تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی (نادیہ گیلانی)
؎تمہاری ذات پہ پہلا سوال کرتے ہوئے
خوشی ہوئی مجھے اپنا ملال کرتے ہوئے (سدرہ افضل)
؎گئی صدی میں حساب رکھا نہ رہزنوں کا
نئی صدی میں سراغ کیسے ملے سَروں کا (طاہرہ غزل)
؎بانجھ پن میں مضائقہ ہے کیا
عشق بچہ ہے پالتے رہنا (نوشین قیصرانی)
؎بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن
کس سے ملنے چلا ہے آدھا دن (صنوبر الطاف)
؎مجھ کو تو خیر خانہ بدوشی ہی راس تھی
تیرے لیے مکان بنانا پڑا مجھے (تمثیل حفصہ)
؎خواب ٹوٹے تو مری پلکوں پہ آئے سائے
کس طرح آج مری آنکھوں میں چھائے سائے (سارہ خاں)
؎ترے حواس پہ طاری تھا اب بچھڑ جانا
میں ہوش میں تھی مگر نیم خواب ہونا پڑا (تجدید قیصر)
؎فضا میں رنگ سے بکھرے ہیں چاندنی ہوئی ہے
کسی ستارے کی تتلی سے دوستی ہوئی ہے (انجیل صحیفہ)
٭٭
حوالہ جات
1۔ خالد علوی،: ”پروین شاکر کی: خوشبو“ مشمولہ، قمر رئیس، پروفیسر، مرتبہ، ”معاصر اُردو غزل“، (دہلی: اُردو اکادمی، 1994)، ص144
2۔ ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر، ”اُردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی مطالعہ“،)لاہور: مجلس ترقی ادب لاہور، 2008)، ص309
3۔ فاطمہ حسن، ڈاکٹر، ”خاموشی کی آواز“، (کراچی: انجمن ترقی اُردو، پاکستان، کراچی، 2019)، ص94
4۔ صالحہ صدیقی، ”اکیسویں صدی کی اُردو غزل میں تانیثی تصور“، مشمولہ،)غزل نمبر(، مرتبہ، منصور خوشتر، (دربھنگہ: ستمبر2017)، ص172
5۔ نصر غزالی، ڈاکٹر، مشمولہ، ”شہناز نبی کا شعری سفر: مغربی بنگال کا شعری و نثری ادب“، مرتبہ، شاید اساز، (اثبات و نفی پبلی کیشنز، 2005)، ص105
6۔ خالد علوی، ”پاکستان کی غزل کے نئے رجحانات“، مشمولہ، ”اُردو غزل عہد بہ عہد“، مرتبہ، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، (لاہور: دار الشعور، 2015)، ص201
7۔ عتیق اللہ، ”پروین شیر: عہدِ ناتمام کی شاعرہ“، (حیدر آباد: مکتبہ شعر و حکمت، 2011)، ص90
٭٭٭
باب چہارم: اُردو غزل کی چند نئی آوازیں
اکیسویں صدی میں اُردو غزل کہنے والوں کے لیے ایک سہولت اور آسانی یہ میسر ہے کہ اب کلام کی ترسیل اور ابلاغ کا کام نہایت آسان ہو گیا ہے۔ آپ غزل کہیے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیجیے۔ ایک زمانہ تھا جس شاعر غزل کہتا تھا، سنانے کی خواہش ہی رہتی تھی اور غزل پرانی ہو کر کاغذات کی قبر میں راکھ بن جاتی تھی۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ اب ایک شعر ہوا ہے تو وہ بھی پوسٹ کر کے داد وصول کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس ہنگام پرور دور میں غزل کہنا اور قارئین کی نسبت سامعین سے مسلسل داد وصول کرنا یقیناً مشکل ہو گیا ہے۔
اب وہی شاعر زیادہ دیر سکرین پر برقرار رہے گا جس کے ہاں کچھ نیا کہنے کی صلاحیت ہو گئی۔ یوں تو ہر شاعر جب نو آموز میدانِ سخن میں تشریف فرماہوتا ہے تو سب پر چھا جانے کی شعوری کوشش کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ جذبات کی ندی سوکھتی جاتی ہے اور منجمد تالاب کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ تاہم کچھ نام ایسے ضرور رہ جاتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ شاعری کے سفر میں ہولے ہولے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں جہاں دیگر اصنافِ ادب میں نئے نام سامنے آ رہے ہیں وہاں اُردو غزل کہنے والوں کا ایک جہان آباد دکھائی دیتا ہے۔ سینکڑوں شعرا میں سے چند ایک شعرا کا انتخاب کرنا یقیناً کٹھن امر ہے۔ ذیل میں چند ایک شاعر کا مختصر تعارف و کلام پیش کیا جا رہا ہے جو اکیسویں صدی کے اُردو غزل کے منظر نامے پر دیر تلک جمے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
احمد ذوہیب کا تعلق کراچی سے ہے۔ احمد ذوہیب اُردو غزل کی بالکل نئی آواز ہے جس کے ہاں تازہ واردات کا چشم دید احوال ملتا ہے۔ احمد نے غزل کے فن کو مشاقی سے سیکھا ہے۔ اس کے ہاں آمد کی نسبت آورد کا رنگ زیادہ نظر آتا ہے۔ غزل کہنے کا سلیقہ موجود ہے۔ قوی اُمید ہے آنے والے وقت میں احمد کی غزل جدید اُردو غزل کے معیاری لب و لہجے کو متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ احمد ذوہیب کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے جو نئی نسل کی منفرد سوچ کے عکاس ہیں۔
؎گھٹیا لہجے میں بازاری بات کریں
شاعر بھی اب کب معیاری بات کریں
؎آتے جاتے لوگ مسلسل تکتے ہیں
رستے میں ہم کیسے ساری بات کریں
؎زوہیبؔ ہم مشقت سے گھبرائے کب تھے
مگر دل دُکھی ہے تو کارِ زیاں پر
فاحد محمود سوختہ اکیسویں صدی کی اُردو غزل کا تیزی سے اُبھرتا ہوا نام ہے جس کے موضوعات میں اگرچہ روایتی پن موجود ہے تاہم جدت اور انفرادیت کا احساس بھی چھلکتا ہے۔ فاحد کے ہاں عصرِ حاضر کے مسائل کی شاعرانہ صناعی ملتی ہے۔ فاحد نے پرانی زمینوں میں نئے مضامین باندھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لب و لہجے میں نفیس طنز کی گہری پرتیں شعر کے پردے میں ملفوف ہو کر قاری کے دل میں چھید کرتی ہیں۔ فاحد کے ہاں تغزل کی نغمگی کے ساتھ درد کی لے کا سنگم بھی موجود ہے جو آنے والے وقت میں ان کی غزل کا حوالہ بنے گا۔ فاحد کے چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ کیجیے۔
؎سب کچھ اُجڑ چکا تھا، ہوا بولتی نہ تھی
اب شہرِ بے قضا میں صدا بولتی نہ تھی
؎آئے ہیں عرش والے مرے ہاتھ دیکھنے
کہتے ہیں آ کے تری دُعا بولتی نہ تھی
؎مجھے سائے سے ٹھوکر لگ گئی ہے
میں دیواریں پکڑ کے چل رہا تھا
؎دستک جو نہیں اُس کی میسر اُسے کہنا
دیوار میں اک زخم ہے یہ در اُسے کہنا
؎ہر اشک تو آنکھوں سے بہایا نہیں جاتا
کچھ زخم تو رہ جاتے ہیں اندر اُسے کہنا
علی قائم نقوی کا شمار جدید اُردو غزل کے نو آموز شعرا میں ہوتا ہے۔ علی قائم نے اُردو غزل کی روایت کے تتبع کی کوشش نہیں ہے۔ ان کے ہاں بہت کچھ کہنے کی عمدہ شعری لیاقت موجود ہے۔ شعر کہنے کا انداز بخوبی جانتے ہیں۔ زبان و بیان پر گرفت کا اندازہ ان کے تخیل کی جولانی سے کیا جا سکتا ہے۔
اکیسویں صدی کی اُردو غزل کے ربع ثانی کے اہم ناموں میں علی نقوی کا شمار کیا جانا ضروری ہے۔ علی قائم کی شعری لفظیات ان کے سخن فہمی اور مشاقی کا پتہ دیتی ہے۔ علی قائم کے ہاں عصرِ حاضر کے جملہ تناظرات کا عکس واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ علی قائم نے لفظ اور معنی کے باہمی فلسفے کو اچھی طرح سمجھا ہے۔ ان کے اشعار میں بلا کی ادراکی پائی جاتی ہے۔ چند اشعار بطور نمونہ دیکھیے جس میں علی قائم نقوی کا شاعرانہ انداز ان کے ہم عصر سے ممتاز اور منفرد دکھائی دیتا ہے۔
؎جو لوگ عزت و اکرام سے کھڑے ہوئے ہیں
یہ گر گئے تھے تیرے نام سے کھڑے ہوئے ہیں
؎صرف اس وجہ سے مایوس نہیں ہوتا میں
اب کسی شخص سے مانوس نہیں ہوتا میں
؎سپردِ صحبتِ تکمیل کر گیا ہے مجھے
یہ کون جسم میں تبدیل کر گیا ہے مجھے
؎اُس نے اک بار کہا کون یہاں ہے مرا
مرے بازو میری اوقات سے بڑھ کر نکلے
؎قبائے صبر و ہنر داغدار کیا کرتے
تیرے اسیر تھے راہ فرار کیا کرتے
مقداد احسن عمدہ غزل کہ رہے ہیں۔ ان کی غزل میں روایت کی پیروی دکھائی دیتی ہے۔ ہلکے پھلکے شعر کہتے ہیں۔ چھوٹی بحر کا نسبتاً زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ شعر کہنے کا سلیقہ انھیں آتا ہے۔ تخیل سے زیادہ ریاضت اور آمد سے زیادہ تجربے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک گھٹن سی لیے ہوئے ہے۔
مقداد احسن کے ہاں اُردو غزل کی متنوع پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ لفظ و معنی کی اہمیت اور ان کے بر محل استعمال سے واقف ہونے کی وجہ سے کم گوئی کو سخن فہمی کا معیار سمجھتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مقداد احسن یونہی کڑے معیار کے ساتھ غزل کہتا رہا تو آنے والے وقت میں اُردو غزل کی روایت کے پھیلاؤ میں اس کا نام نمائندگان کی حیثیت سے لیا جائے گا۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیے۔
؎توا تنی روشنی کیسے کشید کرتا ہے
میں سوچتا ہوں ترے آس پاس کیا ہو گا
؎صبر کا پھل تو مل گیا ہے مجھے
لیکن اس میں ذرا مٹھاس نہیں
؎بھرم تھوڑا تو رکھ لیتا ہمارا
کبھی اُس سے تعلق تھا ہمارا
؎خراشیں دیکھ لی چہرے پہ اُس نے
پر اُس نے دل نہیں دیکھا ہمارا
احمد طارق نوجوان نسل میں تیزی سے ابھرنے والا غزل گو شاعر ہے جس کی غزل میں شوخی، شرارت اور طنز کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ احمد طارق نے اپنی غزل کی اُٹھان روایت کے خمیر سے مستعار لی ہے۔ احمد کے شعر کہنے کی صلاحیت فطرتاً موجود ہے جسے احمد نے بہت پہلے جان لیا ہے اس لیے بعض اشعار سطحی نوعیت کے ہونے کے باوجود شاعرانہ معیار کی غمازی کرتے ہیں۔ احمد کے ہاں جس چیز کا خلا محسوس ہوتا ہے وہ ریاضت کی کمی کا ہے۔
احمد نے ذاتی تجربے کو بہت جلد عصر کا اجتماعی المیہ قرار دے ڈالا ہے جس سے اس کی شاعرانہ اُپج کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ احمد ابھی غزل کے میدان میں نووارد ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ بہت جلد ان کے لب و لہجے میں تازگی اور جدت کا عنصر در آئے گا۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیے۔
؎میرے غموں کا تمسخر اُڑانے والے سُن
یہ تیرا قہقہہ میری طرف ادھار رہا
؎وہ مر چکا تھا مرے واسطے مگر لوگو
مرے ہوؤں کو بھی اس دل کا انتظار رہا
؎تو کس کی یاد میں روتا ہے رات بھر احمدؔ
تیرے مکان سے بہت روشنی نکلتی ہے
؎بتا خود کو بھلا کیسے سنواروں
مجھے غم آئنوں میں دِکھ رہا ہے
اُسامہ میر کے ہاں غزل کا نیا لب و لہجہ متعارف ہوا ہے۔ اسامہ نے غزل کی روایتی اُداسی کو ایک نئی صورت عطا کی ہے۔ اسامہ کے ہاں غمِ جاناں کے ساتھ غمِ دوراں کا اظہار بھی ملتا ہے۔ اسامہ نے غزل کی بیرونی فضا کو اپنے اندر کے کرب سے تعمیر کیا ہے۔ اسامہ کے ہاں غزل کی ندی تازہ پانی کے بہتے دھارے کی طرح متشکل دکھائی دیتی ہے۔
اُسامہ نے شعر کہنے سے قبل جملہ شعری روایت کا مطالعہ کیا ہے۔ اسامہ کیل لفظیات میں ایک قسم کا اعتدال اور سنجیدگی کی ترتیب دکھائی دیتی ہے جو اس کی اپنی وضع کردہ ہے جس سے غزل کا شاعرانہ احساس مجروح ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ اسامہ ابھی غزل کہنے کی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ آنے والے دور میں ان کی غزل نئے رنگ تخلیق کرے گی۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیے۔
؎یہ سخن سے مرتب ہوئی لغات مری
یہ تیرے دستِ ہنر سے میرے اشارے بنے
؎بہت ہنگامہ خیزی پہلی پہلی ساعتوں میں تھی
مگر اب خلوتِ مشکل میں آسانی سے رہتا ہوں
؎مجھے پتہ ہے کسی میں یہ شے نہیں موجود
ہر ایک شخص میں کیوں اعتبار ڈھونڈتا ہوں
؎میں ایسے عالم وحشت میں ہوں کہ تنہائی
پکارتی ہے مجھے میں پکار ڈھونڈتا ہوں
ضیا مذکور کے ہاں اُردو غزل کو نئی اُٹھان ملتی محسوس ہوتی ہے۔ نو آموز شعرا میں کئی ایسے نام ہیں جن کی غزل کا لب و لہجہ حیران کر دیتا ہے۔ تشبیہ و استعارہ کا برمحل اور موزوں استعمال اس قدر سلیقے سے ضیا مذکور کے ہاں ملتا ہے کہ ایک لمحے کو حیرانی ہوتی ہے ہے کہ شباب سے معمور جذبے کی شدت کو کس قدر سہولت سے علامت و تمثیل کا رنگ پہنا کر مجاز کی شدت کو حقیقت کے پردے پر عیاں کر دیا گیا ہے۔ ضیا مذکور کے ہاں الفاظ کا در و بست اس بات کا متقاضی ہے کہ بہت جلد یہ نوجوان شاعر اُردو غزل کے جدید منظر نامے پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیے۔
؎عجیب حادثہ ہوا، عجیب سانحہ ہوا
میں زندگی کی شاخ سے ہرا بھرا جدا ہوا
؎ہوا چلی تو اُس کی شال میری چھت پہ آ گری
یہ اُس بدن کے ساتھ میرا پہلا رابطہ ہوا
؎یہ اُس کی محبت ہے کہ رُکتا ہے تیرے پاس
ورنہ تیری دولت کے سِوا کیا ہے تیرے پاس
؎دریا کے تجاوز کا بُرا ماننے والے
دریا ہی کا چھوڑا ہوا رقبہ ہے تیرے پاس
؎تقسیم بھی تقسیم نہیں لگتی کسی کو
دیوار اُٹھانے کا سلیقہ ہے تیرے پاس
مژدم خان کے ہاں اُردو غزل کا بانکا انداز دکھائی دیتا ہے۔ مژدم نے اُردو غزل کی نوک پلک سنوارنے کے بجائے خود کو غزل کے حوالے کر دیا ہے۔ مژدم کے موضوعات مختلف اور منفرد ہیں۔ انھوں نے غزل کو جذبات کے اظہار کے ساتھ عصرِ حاضر کے معیارات اور ترجیحات کے سانحات کا نوحہ بنانے کی شعوری کوشش کی ہے۔
مژدم کی غزل میں سادگی، سلاست اور روانی کی روایت موجود ہے۔ مژدم چھوٹی بحر میں بڑی بات کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امید کی جاتی ہے چند برسوں میں انور شعور، جون ایلیا کی طرح سہل ممتنع کے فروغ میں مژدم کا شمار بھی کیا جائے گا۔ چند اشعار بطور نمونہ دیکھیے۔
؎مجھ سے بہتر تو مل گیا ہے تمہیں
اور اللہ سے کیا گلہ ہے تمہیں
؎یعنی تم اتنی خوب صورت ہو
چھوٹا بچہ بھی دیکھتا ہے تمہیں
؎بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر
پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر
؎اتنا جھکا دیا ہے ترے ہجر نے مجھے
بچہ بھی سر سے لے گیا دستار کھینچ کر
مرورِ وقت کے ساتھ اُمید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے عشرے میں مزید کئی نئے نام سامنے آئیں گے جو اُردو غزل کی اُٹھان کو مزید مستحکم رکھنے میں اپنا خونِ جگر صرف کریں گے۔ اُردو زبان کی یہ خاص انفرادیت ہے کہ یہ بہتے پانی کو قبول کرتی ہے اور منجمد کو سڑاند کی نذر کر دیتی ہے۔ اُردو غزل کا وجود اکیسویں صدی کے انھیں شعرا کے دامن سے متصل ہے۔
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائلیں فراہم کیں
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

