پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

 

ہوا کے ساتھ ساتھ

 

(فلمی گیت)

 

 

آنند بخشی

 

انتخاب و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

فلم: زندگی زندگی

موسیقار، آواز: سچن دیو برمن

 

زندگی اے زندگی ۔ زندگی، تیرے ہیں دو روپ

زندگی اے زندگی ۔ زندگی، تیرے ہیں دو روپ

بیتی ہوئی راتوں کی باتوں کی تو چھایا

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

کبھی تیرے کرنیں تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہائے رے

اب تو ہی میرے جی میں آگ لگائے

کبھی تیرے کرنیں تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہائے رے

اب تو ہی میرے جی میں آگ لگائے

چاندنی اے چاندنی ۔ چاندنی، تیرے ہیں دو روپ

ٹوٹے ہوئے سپنوں کی اپنوں کی تو چھایا

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

آتے جاتے پل کیا ہیں سمے کے یہ جھولے ہیں

بچھڑے ساتھی کبھی یاد آئے کبھی بھولے ہیں

آتے جاتے پل کیا ہیں سمے کے یہ جھولے ہیں

بچھڑے ساتھی کبھی یاد آئے کبھی بھولے ہیں

آدمی اے آدمی ۔ آدمی، تیرے ہیں دو روپ

دکھ سکھ کے جھولوں کی پھولوں کی تو چھایا

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

کوئی بھولی ہوئی بات مجھے یاد آئی ہے

خوشی بھی تو لائی تھی اور آنسو بھی تو لائی ہے

کوئی بھولی ہوئی بات مجھے یاد آئی ہے

خوشی بھی تو لائی تھی اور آنسو بھی تو لائی ہے

دل لگی اے دل لگی ۔ دل لگی، تیرے ہیں دو روپ

کیسے کیسے وعدوں کی یادوں کی تو چھایا

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

چھایا وہ جو بنے گی دھوپ

٭٭٭

فلم: پشپانجلی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: مکیش

جانے چلے جاتے ہیں کہاں،

دنیا سے جانے والے جانے چلے جاتے ہیں کہاں،

کیسے ڈھونڈے کوئی ان کو، نہیں قدموں کے بھی نشاں

دنیا سے جانے والے جانے چلے جاتے ہیں کہاں

جانے ہیں وہ کون نگریا،

جانے ہیں وہ کون نگریا

آئے جائے خط نا کھبریا،

آئے جب جب ان کی یادیں،

آئے ہونٹوں پہ فریادیں،

جا کے پھر نہ آنے والے

جانے چلے جاتے ہیں کہاں ۔۔۔

دنیا سے جانے والے جانے چلے جاتے ہیں کہاں

میرے بچھڑے۔۔۔۔

میرے بچھڑے جیون ساتھی،

ساتھی جیسے دیپک باتی،

مجھ سے بچھڑ گئے تم ایسے،

ساون کے جاتے ہی جیسے،

اڑ کے بادل کالے کالے،

جانے چلے جاتے ہیں کہاں

دنیا سے جانے والے جانے چلے جاتے ہیں کہاں

کیسے ڈھونڈے کوئی ان کو، نہیں قدموں کے بھی نشاں

جانے چلے جاتے ہیں کہاں ۔۔۔

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، منا ڈے

شام ڈھلے جمنا کنارے کنارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

کبھی رکے کبھی چلے رادھا چوری چوری

پیا کہے آ جیا مانے نہیں گوری

شام ڈھلے جمنا کنارے کنارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

رادھا شرمائے منوا گھبرائے

پن یا بھرنے کو جائے نہ جائے

ہیّا ہو ۔۔۔

کھڑی سوئے برج بالا برج میں ہے ہوری

کانہا رنگ دیں گے توہے ہائے برجوری

لوگ کریں گے یہ اشارے اشارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

کوئی کہے شیام سے نہ بانسری بجائے

چین کسی کا جو چت چور نہ چرائے

ڈگ مگ ڈولے جیا کی نیّا

چلے جب پروئیا چھیڑے بنسی کنہیا

جادو بھرے نینا ڈارے نینن کی ڈوری

سوئے سارا جگ جاگے ایک چکوری

رات کٹے گن گن کے تارے تارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

پنگھٹ پہ سکھیاں کرتی ہے بتیاں

موہن سے لاگی رادھا کی انکھیاں

جو بھی ملے یہی پوچھے سن او کشوری

گئی کہاں نندیا رے بندیا توری

رام قسم چھیڑیں گے سارے سارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

شام ڈھلے جمنا کنارے کنارے

آ جا رادھے آ جا توہے شیام پکارے

٭٭٭

فلم: آمنے سامنے

موسیقی: کلیان جی آنند جی

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

کبھی رات دن ہم دور تھے، دن رات کا اب ساتھ ہے

وہ بھی اتفاق کی بات تھی، یہ بھی اتفاق کی بات ہے

تری آنکھ میں ہے خمار سا، مری چال میں ہے سرور سا

یہ بہار کچھ ہے پئے ہوئے، یہ سماں نشے میں ہے چور سا

کبھی ان فضاؤں میں پیاس تھی، ابھی موسم برسات ہے

وہ بھی اتفاق کی بات تھی، یہ بھی اتفاق کی بات ہے

مجھے تم نے کیسے بدل دیا، حیراں ہوں میں اس بات پر

مرا دل دھڑکتا ہے آج کل تیری شوخ نظروں سے پوچھ کر

مری جاں کبھی مرے بس میں تھی، اب زندگی تیرے ہاتھ ہے

وہ بھی اتفاق کی بات تھی، یہ بھی اتفاق کی بات ہے

یوں ہی آج تک رہے ہم جدا، تمہیں کیا ملا، ہمیں کیا ملا

کبھی تم خفا، کبھی ہم خفا، کبھی یہ گلا، کبھی وہ گلا

کتنے برے تھے وہ دن صنم، کتنی حسین یہ رات ہے

وہ بھی اتفاق کی بات تھی، یہ بھی اتفاق کی بات ہے

٭٭٭

فلم: بدلتے رشتے

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: لتا منگیشکر، مہیندر کپور

لتا: میری سانسوں کو جو مہکا رہی ہے

یہ پہلے پیار کی خوشبو

تیری سانسوں سے شاید آ رہی ہے

شروع یہ یہ سلسلہ، اسی دن سے ہوا تھا

شروع یہ یہ سلسلہ، اسی دن سے ہوا تھا

اچانک تو نے جس دن مجھے یونہی چھوا تھا

اچانک تو نے جس دن مجھے یونہی چھوا تھا

لہر جاگی جو اس پل، تن بدن میں

وہ من کو آج بھی بہکا رہی ہے

یہ پہلے پیار کی خوشبو

تیری سانسوں سے شاید آ رہی ہے

مہیندر: بہت ترسا ہے یہ دل تیرے سپنے سجا کے

بہت ترسا ہے یہ دل تیرے سپنے سجا کے

یہ دل کی بات سن لے، میری بانہوں میں آ کے

یہ دل کی بات سن لے، میری بانہوں میں آ کے

جگا کے انوکھی پیاس من میں

یہ میٹھی آگ جو دہکا رہی ہے

لتا: یہ پہلے پیار کی خوشبو

تیری سانسوں سے شاید آ رہی ہے

یہ آنکھیں بولتی ہیں، جو ہم نہ بول پائے

جگی وہ پیاس من کی، نظر میں جھلملائے

ہونٹوں پہ تیری ہلکی سی ہنسی ہے

میری دھڑکن بہکتی جا رہی ہے

یہ پہلے پیار کی خوشبو

تیری سانسوں سے شاید آ رہی ہے

٭٭٭

فلم: آپ آئے بہار آئی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

رفیع: دل شاد تھا کہ پھول کھلیں گے بہار میں

مارا گیا غریب اسی اعتبار میں

لتا: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا

مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا

اگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتا

رفیع: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا ۔۔۔

لتا: نہ تھا منظور قسمت کو نہ تھی مرضی بہاروں کی

نہیں تو اس گلستاں میں

نہیں تو اس گلستاں میں کمی تھی کیا نظاروں کی

مری نظروں کو بھی کوئی نظارا مل گیا ہوتا

اگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتا

رفیع: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا ۔۔۔

خوشی سے اپنی آنکھوں کو میں اشکوں سے بھگو لیتا

مرے بدلے تو ہنس لیتی

مرے بدلے تو ہنس لیتی، ترے بدلے میں رو لیتا

مجھے اے کاش تیرا درد سارا مل گیا ہوتا

اگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتا

لتا: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا

ملی ہے چاندنی جن کو یہ ان کی اپنی قسمت ہے

مجھے اپنے مقدر سے

مجھے اپنے مقدر سے فقط اتنی شکایت ہے

مجھے ٹوٹا ہوا کوئی ستارا مل گیا ہوتا

اگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتا

رفیع: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

سارے زمانہ پہ موسم سہانے پہ

اس دل دیوانے پہ ویرانی سی تھی چھائی

آپ آئے بہار آئی

آپ آئے بہار آئی

آپ کا ہی تھا سب کو انتظار

آپ کا ہی تھا سب کو انتظار

آپ کے لئے سب تھے بے قرار

ہوائیں گھٹائیں فضائیں

باغوں میں پھولوں نے لی جھوم کے انگڑائی

آپ آئے بہار آئی

آپ آئے بہار آئی

آپ نے کیا آ کے احسان

آپ نے کیا آ کے احسان

تھا یہ ویرانہ اب ہے گلستان

پکاریں نظارے یہ سارے

گلشن کی گلیوں سے کلیوں سے سنئے آواز یہ آئی

آپ آئے بہار آئی

آپ آئے بہار آئی

لیجئے نا بس اب جانے کا نام

لیجئے نا بس اب جانے کا نام

روٹھ جائیں گے جلوے یہ تمام

یہ بستی یہ مستی یہ ہستی

ایسا نہ ہو جائے بن جائے یہ محفل پھر تنہائی

آپ آئے بہار آئی

آپ آئے بہار آئی

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

پوچھے جو کوئی مجھ سے بہار کیسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے بہار کیسی ہوتی ہے

نام تیرا لے کے کہہ دوں کہ یار ایسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے گھٹا گھنگھور کیسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے گھٹا گھنگھور کیسی ہوتی ہے

تیرے جیسی ہوتی ہے اور کیسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے گھٹا گھنگھور کیسی ہوتی ہے

گستاخی میں نے کبھی کی نہیں میں کیا پاگل ہوں، نہیں جی نہیں

ویسے تو میں نے کبھی پی نہیں پر میں ایسا بے خبر بھی نہیں

پوچھے جو کوئی مجھ سے شراب کیسی ہوتی ہے

نام تیرا لے کے کہہ دوں جناب ایسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے بہار کیسی ہوتی ہے

تجھ کو کیوں آئی حیا؟ کیا پتہ

نہ جانے جنت کیا ہے؟ کیا پتہ

مجھ کو یہ باتیں بھلا کیا پتہ

پوچھے جو کوئی مجھ سے حور کیسی ہوتی ہے

نام تیرا لے کے کہہ دوں حضور ایسی ہوتی ہے

پوچھے جو کوئی مجھ سے بہار کیسی ہوتی ہے

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

لتا: تم کو بھی تو ایسا ہی کچھ ہوتا ہو گا، او سجنا

کشور: کیسا؟ کیسا؟

لتا: تیری یاد ستاتی ہے، نیند نہیں آتی ہے، راتوں میں

تیری یاد ستاتی ہے، نیند نہیں آتی ہے، راتوں میں

کشور: تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا، او سجنی

لتا: کیسا آ آ ۔۔۔

کشور: تیرا پیار ستاتا ہے، چین نہیں آتا ہے، راتوں میں

تیرا پیار ستاتا ہے، چین نہیں آتا ہے، راتوں میں دونوں: تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا۔۔۔

کشور: میری حالت جیسی ہے، تیرا حال بھی ایسا ہے

میری حالت جیسی ہے، تیرا حال بھی ایسا ہے ہلکا ہلکا سا جیا میں جانے درد یہ کیسا ہے ۔۔۔

تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا، او سجنی

لتا: کیسا؟ کیسا؟

کشور: تارے گنتا میں رہتا ہوں، ، جاگتا رہتا ہوں، راتوں میں

تارے گنتا میں رہتا ہوں، ، جاگتا رہتا ہوں، راتوں میں

لتا: ان بھیگی فضاؤں سے، ان ٹھنڈی ہواؤں سے

ان بھیگی فضاؤں سے، ان ٹھنڈی ہواؤں سے

آگ سی لگتی ہے، جیا میں ساون کی گھٹاؤں سے ۔۔۔

تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا، او سجنا

کشور: کیسا؟

لتا: انتظار تیرا کرتی ہوں، ، آہیں میں بھرتی ہوں، راتوں میں

انتظار تیرا کرتی ہوں، ، آہیں میں بھرتی ہوں، راتوں میں

کشور: یہ مست نظر تیری، میرے ہوش اڑاتی ہے

یہ مست نظر تیری، میرے ہوش اڑاتی ہے

لتا: یہ تیری مستی مجھے بھی مد ہوش بناتی ہے ۔۔۔

تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا، او سجنا

کشور: کیسا؟

لتا: روز خواب میں تو آتا ہے، دل دھڑکاتا ہے، راتوں میں

روز خواب میں تو آتا ہے، دل دھڑکاتا ہے، راتوں میں

دونوں: تم کو بھی تو، ایسا ہی کچھ، ہوتا ہو گا۔۔۔

٭٭٭

فلم: چندن کا پلنا

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: لتا منگیشکر

شرابی شرابی میرا نام ہو گیا

مرا نام کا ہے کو بدنام ہو گیا

شرابی شرابی میرا نام ہو گیا

شاعروں نے مجھ کو لکھا ساقی جناب

آپ نے کس لئے مجھے سمجھا خراب

ایسا کیا مجھ سے کوئی کام ہو گیا

شرابی شرابی میرا نام ہو گیا

آپ روز میری نظروں سے پیتے رہے

اس نشے کے سہارے ہی جیتے رہے

لیکن خدا کی قسم بڑے خود غرض ہیں

او میں نے پی مجھ پہ یہ الزام ہو گیا

شرابی شرابی میرا نام ہو گیا

جی آپ کو دیکھ کے یاد آیا مجھے

آپ نے شیشے سے کیوں بنایا مجھے

پتھروں کی زمیں پہ گرایا مجھے

ٹوٹ کے دیکھئے شیشہ جام ہو گیا

شرابی شرابی میرا نام ہو گیا

٭٭٭

فلم: ڈارلنگ ڈارلنگ

موسیقی: راہل دیو برمن

آوازیں: آشا بھوسلے، کشور کمار

اے بھول گئے تم ہم کو یاد نہیں کیا تم کو

ارے کل ملے تھے ہم تمہیں آج پھر ملنا تھا

ارے ملاقات ایک رات کی رات

رات گئی بات گئی ہو

رات گئی بات گئی سب گئے

روز نئے پیار کا نیا دور زندگانی نئی

دیکھ کر ہم نکلے بے وفا ہرجائی

کل ملے تھے ہم تم

سب جذبات کی اک رات کی رات

رات گئی بات ۔۔۔

آج ہمارا بھی پیار پرانا ہوا گرو معاف کرنا

ایک صورت دیکھتے زمانا ہوا معاف کرنا

بیوفائی تم سے سیکھ لی ہم نے بھی

کل ملے تھے ہم تم

رات گئی بات ۔۔۔

٭٭٭

آواز: کشور کمار

ایسے نہ مجھے تم دیکھو

سینہ سے لگا لوں گا

تم کو میں چرا لوں گا تم سے

دل میں بسا لوں گا

تیرے دل سے اے دلبر دل میرا کہتا ہے

پیار کے دشمن لوگ مجھے ڈر لگتا رہتا ہے

تھام لو تم میری بانہوں میں تمہیں سنبھالوں گا

تم کو میں چرا لوں گا تم سے

دل میں بسا لوں گا

دھیمی دھیمی آگ سے شعلہ بھڑکایا ہے

دور سے تم نے اس دل کو کتنا تڑپایا ہے

میں اب اس دل کے سارے ارماں نکالوں گا

تم کو میں چرا لوں گا تم سے

دل میں بسا لوں گا

پیار کے دامن میں چن کر ہم پھول بھر لیں گے

راستے کے سارے کانٹے دور کر دیں گے

جان من تم کو اپنی میں جان بنا لوں گا

تم کو میں چرا لوں گا تم سے

دل میں بسا لوں گا

٭٭٭

فلم: چپکے چپکے

موسیقی: سچن دیو برمن

آواز: لتا منگیشکر

اب کے سجن ساون میں

اب کے سجن ساون میں

آگ لگے گی بدن میں

گھٹا برسے گی نظر ترسے گی مگر

مل نہ سکیں گے دو من ایک ہی آنگن میں

اب کے سجن ساون میں

دو دلوں کے بیچ کھڑی کتنی دیواریں

کیسے سنوں گی میں پیا پریم کی پکاریں

چوری چپکے سے تم لاکھ کرو جتن، سجن

مل نہ سکیں گے دو من ایک ہی آنگن میں

اب کے سجن ساون میں

اتنے بڑے گھر میں نہیں ایک بھی جھروکا

کس طرح ہم دیں گے بھلا دنیا کو دھوکا

رات بھر جگائے گی یہ مست مست پون، سجن

مل نہ سکیں گے دو من ایک کہ آنگن میں

اب کے سجن ساون میں

تیرے میرے پیار کا یہ سال برا ہو گا

جب بہار آئے گی تو حال برا ہو گا

کانٹے لگائے گا یہ پھولوں بھرا چمن، سجن

مل نہ سکیں گے دو من ایک ہی آنگن میں

اب کے سجن ساون میں

آگ لگے گی بدن میں

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، مکیش

باغوں میں کیسے یہ پھول کھلتے ہیں

کھلتے ہیں بھنوروں سے جب پھول ملتے ہیں

ہو ۔۔۔ باغوں میں کیسے یہ پھول کھلتے ہیں

ہو۔۔۔۔

موسم بہاروں کے لگتے ہیں کیوں پیارے

ہنستے ہیں روتے ہیں کلیوں کے سنگ سارے

کلیوں کے کھلنے سے دل بھی کھلتے ہیں

باغوں میں کیسے یہ پھول کھلتے ہیں

اچھا اب تم بولو ایسا کب ہوتا ہے

بڑے وہ ہو مت چھیڑو ایسا تب ہوتا ہے

جب تیرے نینوں سے میرے نین ملتے ہیں

باغوں میں کیسے یہ پھول کھلتے ہیں

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

چپکے چپکے چل ری پرویا

او چپکے چپکے چل ری پرویا

چپکے چپکے چل ری پرویا

بانسری بجائے رے، راس رچائے دیا رے دیا

گوپیوں سنگ کنہیا

چپکے چپکے چل ری پرویا

پاگل پون سے، کیسے کوئی بولے

پاگل پون سے، کیسے کوئی بولے

گوری کے مکھ سے، گھنگھٹا نہ کھولے،

ڈولے، ہولے سے من کی نیا

گوپیوں سنگ کنہیا

چپکے چپکے چل ری پرویا

یہ کیا ہوا مجھ کو، کیا ہے یہ پہیلی

یہ کیا ہوا مجھ کو، کیا ہے یہ پہیلی

ایسے جیسے کہ کوئی رادھا کی سہیلی میں بھی،

ڈھونڈھو قدم کی چھیاں

گوپیوں سنگ کنہیا

چپکے چپکے چل ری پرویا

ایسے سمے پہ کوئی، چپ بھی رہے کیسے

ایسے سمے پہ کوئی، چپ بھی رہے کیسے

باندھ لئے رت نے پگ میں گھنگھرو جیسے

ناچے من تا تھئی تا تھی یا

گوپیوں سنگ کنہیا

چپکے چپکے چل ری پرویا

٭٭٭

فلم: چھوٹا بھائی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: لتا منگیشکر

ماں مجھے اپنے آنچل میں چھپا لے ، گلے سے لگا لے

کہ اور میرا کوئی نہیں

پھر نہ ستاؤں گا کبھی پاس بلا لے، گلے سے لگا لے

کہ اور میرا کوئی نہیں

ماں مجھے اپنے آنچل میں چھپا لے

بھول میری چھوٹی سی بھول جاؤ ماتا

ایسے کوئی اپنوں سے روٹھ نہیں جاتا

روٹھ گیا ہوں، میں تو مجھ کو منا لے ، گلے سے لگا لے

کہ اور میرا کوئی نہیں

ماں مجھے اپنے آنچل میں چھپا لے

گود میں تیری آج تک میں پلا ہوں،

انگلی پکڑ کے تیری ماں میں چلا ہوں،

تیرے بنا مجھ کو اب کون سنبھالے ، گلے سے لگا لے

کہ اور میرا کوئی نہیں

ماں مجھے اپنے آنچل میں چھپا لے

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

دیا جگے ساری رینا

نندیا نہ آئے

نندیا نہ آئے

راہ تکے ویاکل نینا

نندیا نہ آئے

نندیا نہ آئے

سپنا نہیں کوئی سنگ کرن کے

گیت نہیں کوئی پاس پون کے

سپنا نہیں کوئی سنگ کرن کے

سوئیں بھلا کیسے پھول چمن کے

تاروں کا بھی ہے یہی کہنا

نندیا نہ آئے

نندیا نہ آئے

للا للا لوری گا کے سناؤں

میں اپنی پلکوں کا پلنا بناؤں

للا للا لوری گا کے سناؤں

میں تیری نندیا کو کیسے بلاؤں

تیری طرح وہ بھی مانا نہ کہنا

نندیا نہ آئے

نندیا نہ آئے

دیا جگے ساری رینا

نندیا نہ آئے

نندیا نہ آئے

٭٭٭

فلم: دیور

موسیقی: روشن

آواز: مکیش

بہاروں نے میرا چمن لوٹ کر

خزاں کو یہ الزام کیوں دے دیا

کسی نے چلو دشمنی کی مگر

اسے دوستی نام کیوں دے دیا

بہاروں نے میرا چمن لوٹ کر

میں سمجھا نہیں اے میرے ہم نشیں

سزا یہ ملی ہے مجھے کس لئے

میں سمجھا نہیں اے میرے ہم نشیں

سزا یہ ملی ہے مجھے کس لئے

کہ ساقی نے لب سے میرے چھین کر

کسی اور کو جام کیوں دے دیا

بہاروں نے میرا چمن لوٹ کر

مجھے کیا پتہ تھا کبھی عشق میں

رقیبوں کو قاصد بناتے نہیں

مجھے کیا پتہ تھا کبھی عشق میں

رقیبوں کو قاصد بناتے نہیں

خطا ہو گئی مجھ سے قاصد مرے

ترے ہاتھ پیغام کیوں دے دیا

بہاروں نے میرا چمن لوٹ کر

خدایا یہاں تیرے انصاف کے

بہت میں نے چرچے سنے ہیں مگر

خدایا یہاں تیرے انصاف کے

بہت میں نے چرچے سنے ہیں مگر

سزا کی جگہ اک خطا وار کو

بھلا تو نے انعام کیوں دے دیا

بہاروں نے میرا چمن لوٹ کر

خزاں کو یہ الزام کیوں دے دیا ۔۔۔

٭٭٭

آواز: مکیش

آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم

گزرا زمانا بچپن کا

ہائے رے اکیلے چھوڑ کے جانا

اور نہ آنا بچپن کا

آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم

وہ کھیل وہ ساتھی وہ جھولے

وہ دوڑ کے کہنا آ چھو لے

ہم آج تلک بھی نا بھولے

ہم آج تلک بھی نا بھولے

وہ خواب سہانا بچپن کا

آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم

اس کی سب کو پہچان نہیں

یہ دو دن کا مہمان نہیں

مشکل ہے بہت، آسان نہیں

مشکل ہے بہت، آسان نہیں

یہ پیار بھلانا بچپن کا

آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم

مل کر روئیں فریاد کریں

ان بیتے دنوں کی یاد کریں

اے کاش کہیں مل جائے کوئی

اے کاش کہیں مل جائے کوئی

وہ میت پرانا بچپن کا

آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

دنیا میں ایسا کہاں سب کا نصیب ہے

کوئی کوئی اپنے پیا کے قریب ہے

دنیا میں ایسا کہاں سب کا نصیب ہے

دور ہی رہتے ہیں ان سے کنارے

جن کو نہ کوئی مانجھی پار اتارے

ساتھ ہے مانجھی تو کنارا بھی قریب ہے

دنیا میں ایسا کہاں سب کا نصیب ہے

چاہے بجھا دے کوئی دیپک سارے

پریت بچھاتی جائے راہوں میں تاریں

پریت دیوانی کی کہانی بھی عجیب ہے

دنیا میں ایسا کہاں سب کا نصیب ہے

برکھا کی رت ہو یا دن ہوں بہار کے

لگتے ہیں سنے سنے بن تیرے پیار کے

تو ہے تو زندگی کو زندگی نصیب ہے

دنیا میں ایسا کہاں سب کا نصیب ہے

٭٭٭

فلم: آپ کی قسم

موسیقی: راہل دیو برمن

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

 

کروٹیں بدلتے رہے ساری رات ہم، آپ کی قسم

آپ کی قسم

غم نہ کرو دن جدائی کے بہت ہیں کم، آپ کی قسم

آپ کی قسم

یاد تم آتے رہے اک ہوک سی اٹھتی رہی

نیند مجھ سے، نیند سے میں بھاگتی چھپتی رہی

رات بھر بیرن نگوڑی چاندنی چبھتی رہی

آگ سی جلتی رہی، گرتی رہی شبنم

آپ کی قسم

آپ کی قسم ۔۔۔

جھیل کی  یہ  آنکھوں میں عاشق ڈوب کے کھو جائے گا

زلف کے سائے میں دل نغمہ بھرا سو جائے گا

تم چلے جاؤ نہیں تو کچھ نہ کچھ ہو جائے گا

ڈگمگا جائیں گے ایسے حال میں قدم

آپ کی قسم

آپ کی قسم ۔۔۔

روٹھ جائیں ہم تو تم ہم کو منا لینا صنم

دور ہوں تو پاس ہم کو تم بلا لینا صنم

کچھ گلا ہو تو گلے ہم کو لگا لینا صنم

ٹوٹ نہ جائے کبھی یہ پیار کی قسم

آپ کی قسم

آپ کی قسم ۔۔۔

٭٭٭

آواز: کشور کمار

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

پھول کھلتے ہیں، لوگ ملتے ہیں

پھول کھلتے ہیں، لوگ ملتے ہیں مگر

پت جھڑ میں جو پھول مرجھا جاتے ہیں

وہ بہاروں کے آنے سے کھلتے نہیں

کچھ لوگ جو سفر میں بچھڑ جاتے ہیں

وہ ہزاروں کے آنے سے ملتے نہیں

عمر بھر چاہے کوئی پکارا کرے ان کا نام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

آنکھ دھوکا ہے، کیا بھروسہ ہے

آنکھ دھوکا ہے، کیا بھروسہ ہے سنو

دوستوں شک دوستی کا دشمن ہے

اپنے دل میں اسے گھر بنانے نہ دو

کل تڑپنا پڑے یاد میں جن کی

روک لو روٹھ کر ان کو جانے نہ دو

بعد میں پیار کے چاہے بھیجو ہزاروں سلام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

صبح آتی ہے، شام جاتی ہے

صبح آتی ہے، شام جاتی ہے یونہی

وقت چلتا ہی رہتا ہے رکتا نہیں

ایک پل میں یہ آگے نکل جاتا ہے

آدمی ٹھیک سے دیکھ پاتا نہیں

اور پردے پہ منظر بدل جاتا ہے

ایک بار چلے جاتے ہیں جو دن رات صبح و شام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

چوری چوری چپکے چپکے

پلکوں کے پیچھے سے چھپ کے

کہہ گئی ساری بتیاں

انکھیاں، دو انکھیاں

یہ انکھیاں، دو انکھیاں

ہونٹوں پر تھا لاج کا پہرہ

دھڑک گیا یہ دل نہ ٹھہرا

بن گئی پریم کی پتیاں

انکھیاں، دو انکھیاں

یہ انکھیاں، دو انکھیاں

آنے کو تو نیند بھی آئی

کچھ نہ پوچھو رام دہائی

جاگی ساری رتیاں

انکھیاں، دو انکھیاں

یہ انکھیاں، دو انکھیاں

لاکھ چھپائے میرا رانی

من موہن کی پریم دیوانی

جان گئی جان گئی جان گئی

جان گئی سب سکھیاں

انکھیاں، دو انکھیاں

یہ انکھیاں، دو انکھیاں

٭٭٭

فلم: آشا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: لتا منگیشکر، آشا بھوسلے

شیشہ ہو یا دل ہو آخر ٹوٹ جاتا ہے

لب تک آتے آتے ہاتھوں سے ساغر چھوٹ جاتا ہے

کافی بس ارمان نہیں، کچھ ملنا آسان نہیں

دنیا کی مجبوری ہے، پھر تقدیر ضروری ہے

یہ دو دشمن ہیں ایسے، دونوں راضی ہوں کیسے

ایک کو مناؤں تو، دوجا روٹھ جاتا ہے

بیٹھے تھے کنارے پہ، موجوں کے اشارے پہ

ہم کھیلے طوفانوں سے، اس دل کے ارمانوں سے

ہم کو یہ معلوم نہ تھا، کوئی ساتھ نہیں دیتا

مانجھی چھوڑ جاتا ہے، ساحل چھوٹ جاتا ہے

دنیا ایک تماشہ ہے، آشا اور نراشا ہے

تھوڑے پھول ہیں، کانٹے ہیں، جو تقدیر نے بانٹے ہے

اپنا اپنا حصہ ہے، اپنا اپنا قصہ ہے

کوئی لٹ جاتا ہے، کوئی لوٹ جاتا ہے

٭٭٭

فلم: آئے دن بہار کے

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: لتا منگیشکر، مہیندر کپور

لتا: یہ کلی جب تلک پھول بن کے کھلے،

انتظار، انتظار، انتظار کرو، انتظار کرو

مہیندر: انتظار وہ بھلا کیا کرے، تم جسے

بے قرار، بے قرار، بے قرار کرو،

لتا: انتظار کرو

مہیندر: پیار میں پیار کی بھی اجازت نہیں

پیار میں پیار کی بھی اجازت نہیں

بے رخی ہے اجی یہ محبت نہیں

لتا: آ رہا ہے مزہ، تم شکایت یہی،

بار بار، بار بار، بار بار کرو، انتظار کرو

لتا: حسن پہ تو اثر ہونے والا نہیں

حسن پہ تو اثر ہونے والا نہیں

عشق تم کو نہ کر دے دیوانہ کہیں

مہیندر: ہے یہ دیوانگی بھی قبول، تم اگر

ہم سے پیار، ہم سے پیار، ہم سے پیار کرو،

لتا: انتظار کرو

مہیندر: روز ہم نے بیاں یہ فسانہ کیا

روز ہم نے بیاں یہ فسانہ کیا

روز تم نے نیا ایک بہانا کیا

لتا: یہ بہانا مگر، آخری ہے صنم

اعتبار، اعتبار، اعتبار کرو، انتظار کرو

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، آشا بھوسلے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

ہم لٹ جائیں، دل کھو جائے، بس آج قیامت ہو جائے

ہے وقت ابھی توبہ کر لو، اللہ مصیبت ہو جائے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

تم کو معلوم نہیں شاید کتنے بیدرد صنم ہوں گے

یہ آپ نے سچ فرمایا ہے، الفت میں لاکھ ستم ہوں گے

ہیں لاکھ ستم منظور ہمیں، بس ایک عنایت ہو جائے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

ہر ایک سانس کو، ہر ایک دھڑکن کو وہ اپنی یاد بنا ڈالے

تم آج اگر ایک نغمہ ہو، تم کو فریاد بنا ڈالے

غیروں سے تو ہو شکوہ تم کو، خود سے بھی شکایت ہو جائے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

ہر ایک خطا اس دنیا کی اس ایک خطا سے بہتر ہے

یہ پیار نہیں ایک درد سہی، یہ درد دوا سے بہتر ہے

بس چین ہمیں آ جائے جو بے چین طبیعت ہو جائے

اے کاش کسی دیوانے کو ہم سے بھی محبت ہو جائے

٭٭٭

آواز: آشا بھوسلے

اب کے برس بھی بیت نہ جائے

یہ ساون کی راتیں

دیکھ لے میری یہ بے چینی

اور لکھ دے دو باتیں ۔۔۔

خط لکھ دے سانوریا کے نام بابو

کورے کاغذ پہ لکھ دے سلام بابو

وہ مان جائیں گے، پہچان جائیں گے

کیسے ہوتی ہے صبح سے شام بابو

وہ مان جائیں گے، پہچان جائیں گے

کیسے ہوتی ہے صبح سے شام بابو

خط لکھ دے ۔۔۔

سارے وعدے نکلے جھوٹے

سامنے ہو تو کوئی ان سے روٹھے

لے گئی بیرن شہر پیا کو

رام کرے کہ ایسی نوکری چھوٹے

انہیں جس نے بنایا غلام بابو

کورے کاغذ پہ لکھ دے سلام بابو

وہ جان جائیں گے، پہچان جائیں گے

کیسے ہوتی ہے صبح سے شام بابو

جب آئیں گے سجنا میرے

کھن کھن کھنکیں گے کنگنا میرے

پاس گلی میں گھر ہے میرا

اس دن تو بھی آنا انگنا میرے

کچھ تجھ کو میں دوں گی انعام بابو

کورے کاغذ پہ لکھ دے سلام بابو

وہ جان جائیں گے، پہچان جائیں گے

کیسے ہوتی ہے صبح سے شام بابو

خط لکھ دے ۔۔۔

اور بہت کچھ ہے لکھوانا

کیسے بتا دوں تجھے تو بیگانا

شرم سے آنکھیں جھک جائیں گی

دھڑک اٹھے گا مورا دل دیوانہ

بس آگے نہیں تیرا کام بابو

کورے کاغذ پہ لکھ دے سلام بابو

وہ مان جائیں گے، پہچان جائیں گے

کیسے ہوتی ہے صبح سے شام بابو

خط لکھ دے ۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

سنو سجنا پپیہے نے کہا سب سے پکار کے

سنبھل جاؤ چمن والو کہ آئے دن بہار کے

پھولوں کی ڈالیاں بھی یہی گیت گا رہی ہیں

گھڑیاں پیا ملن کی نزدیک آ رہی ہیں

ہواؤں نے جو چھیڑے ہیں، فسانے ہیں وہ پیار کے

دیکھو نا ایسے دیکھو، مرضی ہے کیا تمہاری

بے چین کر نہ دینا، تم کو قسم ہماری

ہم ہی دشمن نہ بن جائیں کہیں اپنے قرار کے

باغوں میں پڑ گئے ہیں، ساون کے مست جھولے

ایسا سماں جو دیکھا، راہی بھی راہ بھولے

کہ جی چاہا یہیں رکھ دے، عمر ساری گزر کے

٭٭٭

فلم: اجنبی

موسیقی: راہل دیو برمن

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

کشور: بھیگی بھیگی راتوں میں، میٹھی میٹھی باتوں میں

ایسی برساتوں میں، کیسا لگتا ہے؟

لتا: ایسا لگتا ہے تم بن کے بادل،

میرے بدن کو بھگو کے مجھے چھیڑ رہے ہو

چھیڑ رہے ہو

میرے بدن کو بھگو کے مجھے چھیڑ رہے ہو

چھیڑ رہے ہو

امبر کھیلے ہولی ائی ماں

بھیگی موری چولی، ہمجولی، ہمجولی

بھیگی موری چولی، ہمجولی، ہمجولی

او، پانی کے اس ریلے میں ساون کے اس میلے میں

چھت پہ اکیلے میں

کیسا لگتا ہے

کشور: ایسا لگتا ہے

تو بن کے گھٹا اپنے سجن کو بھگو کے کھیل کھیل رہی ہو

کھیل رہی ہو

لتا: ایسا لگتا ہے

تم بن کے بادل میرے بدن کو بھگو کے مجھے چھیڑ رہے ہو

چھیڑ رہے ہو

کشور: برکھا سے بچا لوں تجھے

سینہ سے لگا لوں

آ چھپا لوں آ چھپا لوں

برکھا سے بچا لوں تجھے

سینہ سے لگا لوں

آ چھپا لوں آ چھپا لوں

دل نے پکارا دیکھو رت کا اشارہ دیکھو

اف یہ نظارا دیکھو

کیسا لگتا ہے، بولو؟

لتا: ایسا لگتا ہے کچھ ہو جائے گا

مست پون کے یہ جھوکیں سیاں دیکھ رہے ہو

دیکھ رہے ہو

ایسا لگتا ہے

تم بن کے بادل میرے بدن کو بھگو کے مجھے چھیڑ رہے ہو

چھیڑ رہے ہو

٭٭٭

آواز: کشور کمار

 

ایک اجنبی حسینہ سے یوں ملاقات ہو گئی

پھر کیا ہوا، یہ نا پوچھو، کچھ ایسی بات ہو گئی

ایک اجنبی، حسینہ سے، یوں ملاقات ہو گئی

وہ اچانک آ گئی، یوں نظر کے سامنے

جیسے نکل آیا گھٹا سے چاند

چہرے پہ زلفیں بکھری ہوئی تھیں

دن میں رات ہو گئی

ایک اجنبی حسینہ سے یوں ملاقات ہو گئی

جان من جان جگر، ہوتا میں شاعر اگر

کہتا غزل تیری اداؤں پر

میں نے یہ کہا تو، مجھ سے خفا وہ

جان حیات ہو گئی

ایک اجنبی حسینہ سے یوں ملاقات ہو گئی

خوبصورت بات یہ، چار پل کا ساتھ یہ

ساری عمر مجھ کو رہے گا یاد

میں اکیلا تھا مگر، بن گئی وہ ہمسفر

وہ میرے ساتھ ہو گئی

ایک اجنبی حسینہ سے یوں ملاقات ہو گئی

٭٭٭

فلم: امر پریم

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: کشور کمار

ہوں ں ں ں۔۔۔۔

چنگاری کوئی بھڑکے، تو ساون اسے بجھائے

ساون جو اگن لگائے، اسے کون بجھائے،

ہو ۔۔۔ اسے کون بجھائے

پت جھڑ جو باغ اجاڑے، وہ باغ بہار کھلائے

پت جھڑ جو باغ اجاڑے، وہ باغ بہار کھلائے

جو باغ بہار میں اجڑے، اسے کون کھلائے

ہو ۔۔۔ اسے کون کھلائے

ہم سے مت پوچھو کیسے، مندر ٹوٹا سپنوں کا

ہم سے مت پوچھو کیسے، مندر ٹوٹا سپنوں کا

لوگوں کی بات نہیں ہے، یہ قصہ ہے اپنوں کا

کوئی دشمن ٹھیس لگائے، تو میت جیا بہلائے

من میت جو گھاؤ لگائے، اسے کون مٹائے

ہو ۔۔۔ اسے کون مٹائے

نہ جانے کیا ہو جاتا، جانے ہم کیا کر جاتے

نہ جانے کیا ہو جاتا، جانے ہم کیا کر جاتے

پیتے ہیں تو زندہ ہیں، نہ پیتے تو مر جاتے

دنیا جو پیاسا رکھے، تو مدرا پیاس بجھائے

مدرا جو پیاس لگائے، اسے کون بجھائے

ہو ۔۔۔ اسے کون بجھائے

مانا طوفاں کے آگے، نہیں چلتا زور کسی کا

مانا طوفاں کے آگے، نہیں چلتا زور کسی کا

موجوں کا دوش نہیں ہے، یہ دوش ہے اور کسی کا

مجدھار میں نیا ڈولے، تو مانجھی پار لگائے

مانجھی جو ناؤ ڈبوئے، اسے کون بچائے

ہو ۔۔۔ اسے کون بچائے

چنگاری ۔۔۔

ہوں ہوں ہوں۔۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

رینا بیتی جائے، شیام نہ آئے

رینا بیتی جائے، شیام نہ آئے

نندیا نہ آئے، نندیا نہ آئے

رینا بیتی جائے ۔۔۔

شام کو بھولا، شیام کا وعدہ

شام کو بھولا، شیام کا وعدہ

سنگ دئے کے، جاگے رادھا

نندیا نہ آئے، نندیا نہ آئے

رینا بیتی جائے ۔۔۔

کس سوتن نے روکی ڈگریا

کس سوتن نے روکی ڈگریا

کس بیرن سے لاگی نجریا

نندیا نہ آئے، نندیا نہ آئے

رینا بیتی جائے ۔۔۔

برہا کی ماری، پریم دیوانی

برہا کی ماری، پریم دیوانی

تن من پیاسا انکھیوں میں پانی

نندیا نہ آئے، نندیا نہ آئے

رینا بیتی جائے ۔۔۔

٭٭٭

آواز: کشور کمار

کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا

چھوڑو بیکار کی باتوں میں کہیں بیت نا جائے رینا

کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا

چھوڑو بیکار کی باتوں میں کہیں بیت نا جائے رینا

کچھ ریت جگت کی ایسی ہے، ہر ایک صبح کی شام ہوئی

کچھ ریت جگت کی ایسی ہے، ہر ایک صبح کی شام ہوئی

تو کون ہے، تیرا نام ہے کیا، سیتا بھی یہاں بدنام ہوئی

پھر کیوں سنسار کی باتوں سے، بھیگ گئے تیرے نینا

کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا

چھوڑو بیکار کی باتوں میں کہیں بیت نا جائے رینا

کچھ تو لوگ کہیں گے ۔۔۔

ہم کو جو طعنے دیتے ہیں، ہم کھوئے ہیں ان رنگ رلیوں میں

ہم کو جو طعنے دیتے ہیں، ہم کھوئے ہیں ان رنگ رلیوں میں

ہم نے ان کو بھی چھپ چھپ کے آتے دیکھا ان گلیوں میں

یہ سچ ہے جھوٹی بات نہیں، تم بولو یہ سچ ہے نا

کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا

چھوڑو بیکار کی باتوں میں کہیں بیت نا جائے رینا

کچھ تو لوگ کہیں گے ۔۔۔

٭٭٭

فلم: انوراگ

موسیقی: سچن دیو برمن

آواز: لتا منگیشکر

نیند چرائے، چین چرائے، ڈاکا ڈالے تیری بنسی

نیند چرائے، چین چرائے، ڈاکا ڈالے تیری بنسی

ارے دن دہاڑے

ارے دن دہاڑے، چوری کرے، رات بھر جگائے

ڈاکا ڈالے تیری بنسی۔۔۔۔

من میں لگے ایسے اگن، جیسے چمکے بجریا بادل میں

من میں لگے ایسے اگن، جیسے چمکے بجریا بادل میں

چپ کے کبھی لے جاؤں گی، تیری بنسری چھپا کے آنچل میں

کا ہے شام ڈھلے

کا ہے شام ڈھلے، قدم تلے، مجھ کو بلائے

ڈاکا ڈالے تیری بنسی۔۔۔۔

سمجھی تھی میں، نٹ کھٹ ہے تو، بس ماکھن چرایا کرتا ہے

سمجھی تھی میں، نٹ کھٹ ہے تو، بس ماکھن چرایا کرتا ہے

دیوانی میں نہ جانی، تو کاہے پنگھٹ پہ آیا کرتا ہے

موہے لاج آئے

موہے لاج آئے، ہائے نہیں بات کہی جائے

ڈاکا ڈالے تیری بنسی ۔۔۔

بنسری کی دھن سن کے پیا، جیا میرا کہیں کھو جاتا ہے

بنسری کی دھن سن کے پیا، جیا میرا کہیں کھو جاتا ہے

میں کیا کہوں، کیا نہ کہوں، موہے نا جانے کیا ہو جاتا ہے

گیت پریت بھرے

گیت پریت بھرے گائے، سدھ بدھ بسرائے

ڈاکا ڈالے تیری بنسی ۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

سن ری پون، پون پرویا

میں ہوں، اکیلی البیلی تو سہیلی میری

بن جا ساتھیا

چل تو میرا آنچل تھام کے

انجانے رستے اس گاؤں کے

ساتھی ہیں یہ میرے نام کے

نین یہ نگوڑے کس کام کے

ڈولے میرا من، ایسے جیسے نیا، میں ہوں ۔۔۔

کوئی تو ہو ایسے پوچھے بات جو

گروں تو پکڑ لیوے ہاتھ جو

ہنسے روئے سدا میرے ساتھ جو

سوئے جاگے سنگ دن رات جو

ایسے ہو ملن، جیسے دھوپ چھیاں، میں ہوں۔۔۔

٭٭٭

فلم: بنیاد

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

کشور: پکارو مجھے پھر پکارو

پکارو مجھے پھر پکارو

مرے دل کے آئینہ میں زلفیں آج سنوارو

لتا: پکارو مجھے پھر پکارو

پکارو مجھے پھر پکارو

مری زلفوں کے سائے میں آج کی رات گزارو

کشور: پھر پکارو مجھے پھر پکارو

گلشن میں ایسی چھاؤں ایسی دھوپ نہیں

کلیوں میں ایسا رنگ ایسا روپ نہیں

جو بھی میرے یار سا پھول کوئی لے کے آؤ بہارو

پکارو مجھے پھر پکارو

لتا: چاندنی کی اس اندھیرے میں ضرورت نہیں

کچھ سوچیں کچھ دیکھیں ہم کو فرصت نہیں

جاؤ کہیں جا کے چھپ جاؤ آج کی رات ستارو

کشور: پکارو مجھے پھر پکارو

کشور: اپنے خوابوں کی جو دنیا بسائیں گے ہم

آسمانوں سے بھی آگے نکل جائیں گے ہم

دو: ساتھ ہمارے تم چلنا اے رنگین نزارو

کشور: پکارو مجھے پھر پکارو

٭٭٭

فلم: جال

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

رفیع: ہم ہم، لتا: ہم ہم

رفیع: ہم ہم، لتا: ہم ہم

رفیع: او اوہو ہو ۔۔۔ مزاج گرامی

لتا: دعا ہے آپ کی

رفیع: مزاج گرامی، لتا: دعا ہے آپ کی

رفیع: بڑی خوبصورت ادا ہے آپ کی

لتا: بڑی خوبصورت نگاہ ہے آپ کی

لتا: مزاج گرامی دعا ہے آپ کی

مزاج گرامی دعا ہے آپ کی

رفیع: کھویا کھویا سا کچھ گم سم،

میں آج کل رہتا ہوں، ہر محفل میں

کھویا کھویا سا کچھ گم سم،

میں آج کل رہتا ہوں، ہر محفل میں

کوئی دوا تو بتلاؤ کہ درد رہتا ہے

ذرا سا دل میں

لتا: یہی درد دل تو دوا ہے آپ کی

یہی درد دل تو دوا ہے آپ کی

لتا: مزاج گرامی، رفیع: دعا ہے آپ کی

لتا: مزاج گرامی، رفیع: دعا ہے آپ کی

لتا: مرضی ہے آج کیا فضا کی،

جو آج میرا دل یوں ہی دھڑکا رہی ہے

مرضی ہے آج کیا فضا کی،

جو آج میرا دل یوں ہی دھڑکا رہی ہے

کیا ہو گیا ہے اس ہوا کو

جو ایسے میری زلفوں کو بکھرا رہی ہے

رفیع: کرے کیا کہ عاشق ہوا ہے آپ کی

کرے کیا کہ عاشق ہوا ہے آپ کی

رفیع: مزاج گرامی، لتا: دعا ہے آپ کی

رفیع: مزاج گرامی، لتا: دعا ہے آپ کی

رفیع: آئے نہ نیند محبت میں،

تو رات سہانی کوئی کیسے گزارے

آئے نہ نیند محبت میں،

تو رات سہانی کوئی کیسے گزارے

سوتا ہے چین سے زمانا

گزارتا ہوں، میں رات گن گن کے تارے

لتا: خطا ہے یہ کس کی؟ خطا ہے آپ کی!

خطا ہے یہ کس کی؟ خطا ہے آپ کی!

لتا: مزاج گرامی، رفیع: دعا ہے آپ کی

لتا: مزاج گرامی، رفیع: دعا ہے آپ کی

بڑی خوبصورت ادا ہے آپ کی

لتا: بڑی خوبصورت نگاہ ہے آپ کی

رفیع: مزاج گرامی، لتا: دعا ہے آپ کی

رفیع: مزاج گرامی، لتا: دعا ہے آپ کی

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

کسی کو میں شام و سحر ڈھونڈھتا ہوں،

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

یہ مہکی ہوئی رات کتنی حسیں ہے

یہ مہکی ہوئی رات کتنی حسیں ہے

مگر میرے پہلو میں کوئی نہیں ہے

مگر میرے پہلو میں کوئی نہیں ہے

محبت بھری اک نظر ڈھونڈھتا ہوں،

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

مرے دل میں آ جا، نگاہوں میں آ جا

مرے دل میں آ جا، نگاہوں میں آ جا

محبت کی رنگین راہوں میں آ جا

محبت کی رنگین راہوں میں آ جا

تجھی کو میں او بے خبر ڈھونڈھتا ہوں،

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

کدھر جاؤں ویران ہیں میری راہیں

کدھر جاؤں ویران ہیں میری راہیں

کسی کو نہ اپنا سکیں میری آہیں

کسی کو نہ اپنا سکیں میری آہیں

میں آہوں میں اپنے اثر ڈھونڈھتا ہوں،

اکیلا ہوں، میں ہمسفر ڈھونڈھتا ہوں،

محبت کی میں رہگزر ڈھونڈھتا ہوں

٭٭٭

فلم: جیون مرتیو

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: لتا منگیشکر، محمد رفیع

رفیع: جھلمل ستاروں کا آنگن ہو گا

رم جھم برستا ساون ہو گا

ایسا سندر سپنا اپنا جیون ہو گا

لتا: جھلمل ستاروں کا آنگن ہو گا ۔۔۔

رم جھم برستا ساون ہو گا

ایسا سندر سپنا اپنا جیون ہو گا

رفیع: پریم کی گلی میں ایک چھوٹا سا گھر بنائیں گے

کلیاں نہ ملیں، نہ سہی، کانٹوں سے سجائیں گے

بگیا سے سندر وہ بن ہو گا

رم جھم برستا ساون ہو گا

لتا: جھلمل ستاروں کا آنگن ہو گا

رفیع: رم جھم برستا ساون ہو گا

لتا: تیری آنکھوں سے سارا سنسار میں دیکھوں گی

دیکھوں گی اس پار یا اس پار میں دیکھوں گی

نینوں کو تیرا ہی درشن ہو گا

رم جھم برستا ساون ہو گا

لتا: جھلمل ستاروں کا آنگن ہو گا

رفیع: رم جھم برستا ساون ہو گا

رفیع: پھر تو مست ہواؤں کے ہم جھوکے بن جائیں گے

لتا: نینا سندر سپنوں کے جھروکھے بن جائیں گے

من آشاؤں کا درپن ہو گا

رم جھم برستا ساون ہو گا

دونوں: رم جھم ستاروں کا ساون ہو گا

جھلمل ستاروں کا ساون ہو گا

۔۔۔اداس روپ۔۔۔

روئیں گی یہ آنکھیں پھر بھی میں تو مسکراؤں گی

دکھ کے طوفانوں سے بھی میں نہ گھبراؤں گی

جب ساتھ میرے میرا ساجن ہو گا

رم جھم برستا ساون ہو گا

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

زمانہ میں اجی ایسے کئی نادان ہوتے ہیں

وہاں لے جاتے ہیں کشتی جہاں طوفان ہوتے ہیں

شمع کی بزم میں آ کر کے پروانے سمجھتے ہیں

یہیں پر عمر گزرے گی یہ دیوانے سمجھتے ہیں

مگر اک رات کے یہ تو فقط مہمان ہوتے ہیں

زمانہ میں اجی ایسے کئی نادان ہوتے ہیں

محبت سب کی محفل میں شمع بن کر نہیں جلتی

حسینوں کی نظر سب پر چھری بن کر نہیں چلتی

جو ہیں تقدیر والے بس وہی قربان ہوتے ہیں

زمانہ میں اجی ایسے کئی نادان ہوتے ہیں

ڈبو کر دور ساحل سے نظارا دیکھنے والے

لگا کر آگ چپکے سے تماشہ دیکھنے والے

تماشہ آپ بنتے ہیں تو کیوں حیران ہوتے ہیں

زمانہ میں اجی ایسے کئی نادان ہوتے ہیں

٭٭٭

فلم: لاکھوں میں ایک

موسیقی: راہل دیو برمن

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

کشور: چندا او چندا۔ چندا او چندا

کس نے چرائی تیری میری نندیا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

ہنس کے میں تیرا من بہلاؤں

اپنے یہ آنسو مگر کسے میں دکھاؤں

ہنس کے میں تیرا من بہلاؤں

اپنے یہ آنسو مگر کسے میں دکھاؤں

میں نے تو گزارا جیون سارا بے سہارا، ہو

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

چندا او چندا کس نے چرائی تیری میری نندیا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

لتا: تیری اور میری، ایک کہانی

ہم دونوں کی قدر کسی نہ جانی

تیری اور میری، ایک کہانی

ہم دونوں کی قدر کسی نہ جانی

ساتھ یہ اندھیرا، جیسے میرا، ویسے تیرا، ہو

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

لتا: چندا او چندا۔ کس نے چرائی تیری میری نندیا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

کشور: جاگیں ساری رینا تیرے میرے نینا

٭٭٭

فلم: کالی گھٹا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

کالی گھٹا چھائی، پریم رتو آئی

آئی آئی آئی آئی تیری یاد آئی

تجھے ڈھونڈھے میرے نین

نہیں نیند، نہیں چین

کالی گھٹا چھائی، پریم رتو آئی

یونہی نہیں چلی آئیں بہاریں

پھول یونہی نہیں کھلے

کچھ تو ہے کارن، اتنے یگوں سے

دو پریمی نہیں ملے

چھوٹا سا جیون، لمبی جدائی،

کالی گھٹا چھائی، پریم رتو آئی

پربت پربت گلشن گلشن

میلے ملن کے لگے

ایک ہی پل میں نیند سے جیسے

درد ہزاروں جگے

دل کی لگی نے لی انگڑائی

کالی گھٹا چھائی، پریم رتو آئی

برہا کی کالی راتوں کے

رنگ سے کاجل بنا

کاجل مل گیا انسون میں تو

کالا بادل بنا

کس بادل نے آگ لگائی

کالی گھٹا چھائی، پریم رتو آئی

آئی آئی آئی آئی تیری یاد آئی

٭٭٭

فلم: آرادھنا

موسیقی: سچن دیو برمن

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

رفیع: آ ۔۔۔، گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

لتا: گلی گلی، رفیع: کلی کلی

لتا: گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

مممم۔۔۔ آ آ آ آ۔۔۔۔

لتا: ذرا دیکھو سجن بے ایمان بھنورا کیسے مسکائے

رفیع: ہائے کلی یوں شرمائے

گھونگھٹ میں جیسے کوئی چھپ جائے

لتا: ہائے ذرا ۔۔۔، رفیع: ہائے کلی ۔۔۔

لتا: رتو ایسی ہائے کیسی یہ پون چلی گلی گلی

گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

رفیع: گلی گلی، لتا: کلی کلی

رفیع: گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

ممم مم آ آ آ آ

رفیع: کسی کو کیا کہیں ہم دونوں بھی ہیں دیکھو کچھ کھوئے

لتا: کھوئے ہوا کیا اوئے اوئے جاگے جیا میں ارمان سوئے

رفیع: سوئے کسی کو ۔۔۔

لتا: کھوئے ہوا کیا ۔۔۔

رفیع: رتو ایسی ہائے کیسی یہ پون چلی گلی گلی

گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

لتا: گلی گلی، رفیع: کلی کلی

لتا: گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

آآآآآ ۔۔۔

لتا: سنو پاس نہ آؤ، کلیوں کے بہانے پیار نہ جتاؤ

رفیع: جاؤ چلو بات نہ بناؤ

بھونرے کے بہانے آنکھ نہ لڑاؤ

لتا: جاؤ سنو پاس ۔۔۔

رفیع: جاؤ چلو بات ۔۔۔

لتا: رتو ایسی ہائے کیسی یہ پون چلی گلی گلی

گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

رفیع: گنگنا رہے ہیں بھونرے کھل رہی ہیں کلی کلی

لتا: گلی گلی، رفیع: کلی کلی

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

کشور: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

لتا: سونا آنگن تھا جیون میرا

بس گیا پیار جس پہ تیرا

کشور: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

کشور: ٹوٹ نہ جائے سپنے میں ڈرتا ہوں،

نت دن سپنوں میں دیکھا کرتا ہوں

ٹوٹ نہ جائے سپنے میں ڈرتا ہوں،

نت دن سپنوں میں دیکھا کرتا ہوں

نینا کجرارے متوارے یہ اشارے

خالی درپن تھا یہ من میرا

رچ گیا روپ اس میں تیرا

لتا: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

لتا: چین گنوایا میں نے نندیا گنوائی

ساری ساری رات جاگوں دوں میں دہائی

چین گنوایا میں نے نندیا گنوائی

ساری ساری رات جاگوں دوں میں دہائی

کہوں کیا میں آگے نیہا لاگے جی نا لاگے

کوئی دشمن تھا یہ من میرا

بن گیا میت جا کے تیرا

کشور: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

کشور: باغوں میں پھولوں کے کھلنے سے پہلے

لتا: تیرے میرے نینوں کے ملنے سے پہلے

کشور: باغوں میں پھولوں کے کھلنے سے پہلے

لتا: تیرے میرے نینوں کے ملنے سے پہلے

کشور: کہاں تھیں یہ باتیں

لتا: ملاقاتیں

کشور: ایسی راتیں

لتا: ٹوٹا تارہ تھا یہ من میرا

کشور: بن گیا چاند ہو کے تیرا

دونوں: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

کشور: کورا کاغذ تھا یہ من میرا

لکھ لیا نام اس پہ تیرا

لتا: سونا آنگن تھا جیون میرا

بس گیا پیار جس پہ تیرا

٭٭٭

آواز: کشور کمار

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو

آئی رت مستانی کب آئے گی تو

بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

پھول سی کھل کے، پاس آ دل کے

دور سے مل کے، چین نہ آئے

پھول سی کھل کے، پاس آ دل کے

دور سے مل کے، چین نہ آئے

اور کب تک مجھے تڑپائے گی تو

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو ۔۔۔

آئی رت مستانی کب آئے گی تو

بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

پیار کی کلیاں، باغوں کی گلیاں

سب رنگ رلیاں، پوچھ رہی ہیں

پیار کی کلیاں، باغوں کی گلیاں

سب رنگ رلیاں، پوچھ رہی ہیں

گیت پنگھٹ پہ کس دن گائے گی تو

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو ۔۔۔

آئی رت مستانی کب آئے گی تو

بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

کیا ہے بھروسہ، عاشق دل کا

اور کسی پے، یہ آ جائے

کیا ہے بھروسہ، عاشق دل کا

اور کسی پے، یہ آ جائے

آ گیا تو بہت پچھتائے گی تو

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو

آئی رت مستانی کب آئے گی تو

بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

چلی آ، آ تو چلی آ ۔۔۔

٭٭٭‎

آواز: کشور کمار

روپ تیرا مستانہ، پیار میرا دیوانہ

بھول کوئی ہم سے نہ ہو جائے

رات نشیلی مست سماں ہے

آج نشہ میں سارا جہاں ہیں

رات نشیلی مست سماں ہے

آج نشہ میں سارا جہاں ہیں

آئے شرابی موسم بہکائے ۔ اے ۔ اے ۔ اے ۔۔۔

روپ تیرا مستانہ، پیار میرا دیوانہ

بھول کوئی ہم سے نہ ہو جائے

آنکھوں سے آنکھیں ملتی ہیں جیسے

بے چین ہوکے طوفاں میں جیسے

آنکھوں سے آنکھیں ملتی ہیں جیسے

بے چین ہوکے طوفاں میں جیسے

موج کوئی ساحل سے ٹکرائے ۔ اے ۔ اے ۔ اے ۔۔۔

روپ تیرا مستانہ، پیار میرا دیوانہ

بھول کوئی ہم سے نہ ہو جائے

روک رہا ہے ہم کو زمانا

دور ہی رہنا پاس نہ آنا

روک رہا ہے ہم کو زمانا

دور ہی رہنا پاس نہ آنا

کیسے مگر کوئی دل کو سمجھائے ۔ اے ۔ اے ۔ اے ۔۔۔

روپ تیرا مستانہ، پیار میرا دیوانہ

بھول کوئی ہم سے نہ ہو جائے

٭٭٭

فلم: بیراگ

موسیقی: کلیان جی، آںند جی

آوازیں: محمد رفیع، آشا بھوسلے

رفیع: پیتے پیتے کبھی کبھی یوں جام بدل جاتے ہیں

جام بدل جاتے ہیں

جام بدل جاتے ہیں

ارے کام بدل جاتے ہیں، لوگوں کے نام بدل جاتے ہیں

رفیع: یہ پروانۂ شمع مہمان ہے اک رات کا

یہ پروانۂ شمع مہمان ہے اک رات کا

دل کی باتیں چھیڑ دوں، ڈر ہے بس اس بات کا

یہاں سے وہاں تک جانے میں، وہاں سے یہاں تک آنے میں

لوگ یہ کہتے ہیں جی

لوگ یہ کہتے ہیں جی

بند لفافے میں بھی، دل کے پیغام بدل جاتے ہیں

پیتے پیتے کبھی کبھی یوں جام بدل جاتے ہیں

آشا: دو رخ ہر تصویر کے، حیراں ہوں میں دیکھ کے

رفیع: حیران ہوں میں دیکھ کے

آشا: ہے اک چہرہ اور بھی، چہرے پہ ہر ایک کے

رفیع: چہرے پہ ہر ایک کے

آشا: نظر کو نظر جو آتا ہے، فریبِ نظر کہلاتا ہے

نیند کے اک جھونکے سے، آنکھ کے اس دھوکے سے

رفیع: رام اور شیام بدل جاتے ہیں

دونوں: پیتے پیتے کبھی کبھی یوں جام بدل جاتے ہیں

٭٭٭

فلم: انجانا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

رفیع: رم جھم کے گیت ساون گائے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

لتا: ہونٹوں پہ بات دل کی آئے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

لتا: تیرا میرا پوچھے ناتا

بڑی وہ یہ گھٹا گھنگھور ہے

چپ ہوں، ایسے میں کہہ دوں کیسے

میرا ساجن نہیں تو کوئی اور ہے

کہ تیرا نام ہونٹوں پہ میرے

تیرے سپنے میری آنکھوں میں

رفیع: رم جھم کے گیت ساون گائے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

رفیع: میرا دل بھی ہے دیوانہ

تیرے نینا بھی ہیں نادان سے

کچھ نہ سوچا، کچھ نہ دیکھا

کچھ بھی پوچھا نہ اس انجان سے

چل پڑے ساتھ ہم ایسے، کیسے

بن کے ساتھی، راہوں میں

رفیع: رم جھم کے گیت ساون گائے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

بڑی لمبی جی کی باتیں

بڑی چھوٹی برکھا کی راتیں

لتا: کہنا کیا ہے، سننا کیا ہے

کہنے سننے کی اب کیا بات ہے

دونوں: بن کہے، بن سنے دل نے دل سے

کر لیں باتیں، باتوں میں

رفیع: رم جھم کے گیت ساون گائے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

لتا: ہونٹوں پہ بات دل کی آئے، ہائے

بھیگی بھیگی راتوں میں

٭٭٭

فلم: بابی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: لتا منگیشکر

ٹوٹ کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے میرے سینے میں

آ گلے لگ کے مر جائیں، کیا رکھا ہے جینے میں

انکھیوں کو رہنے دے، انکھیوں کے آس پاس

دور سے دل کی بجھتی رہے پیاس

انکھیوں کو رہنے دے

درد زمانہ میں کم نہیں ملتے

سب کو محبت سے غم نہیں ملتے

ٹوٹنے والے دل ہوتے ہیں کچھ خاص

دور سے دل کی بجھتی رہے پیاس

انکھیوں کو رہنے دے، انکھیوں کے آس پاس

رہ گئی دنیا میں نام کی خوشیاں

تیرے میرے کس کام کی خوشیاں

ساری عمر ہم کو رہن ہے یوں اداس

دور سے دل کی بجھتی رہے پیاس

انکھیوں کو رہنے دے، انکھیوں کے آس پاس

٭٭٭

آواز: شیلیندر سنگھ

میں شاعر تو نہیں مگر اے حسیں

جب سے دیکھا میں نے تجھ کو، مجھ کو

شاعری آ گئی

میں عاشق تو نہیں مگر اے حسیں

جب سے دیکھا میں نے تجھ کو، مجھ کو

عاشقی آ گئی

پیار کا نام میں نے سنا تھا مگر

پیار کیا ہے یہ مجھ کو نہیں تھی خبر

میں تو الجھا رہا الجھنوں کی طرح

دوستوں میں رہا دشمنوں کی طرح

میں دشمن تو نہیں مگر اے حسیں

جب سے دیکھا میں نے تجھ کو، مجھ کو

دوستی آ گئی

سوچتا ہوں اگر میں دعا مانگتا

ہاتھ اپنے اٹھا کر میں کیا مانگتا

جب سے تجھ سے محبت میں کرنے لگا

تب سے ایسے عبادت میں کرنے لگا

میں کافر تو نہیں مگر اے حسیں

جب سے دیکھا میں نے تجھ کو، مجھ کو

بندگی آ گئی

٭٭٭

آواز: چنچل

بیشک مندر مسجد توڑے، بلھے شاہ یہ کہتا

بیشک مندر مسجد توڑے، بلھے شاہ یہ کہتا

پر پیار بھرا دل کبھی نہ توڑو ۔۔۔ اس دل میں دلبر رہتا

جس پلڑے میں تلے محبت ۔۔۔

جس پلڑے میں تلے محبت اس میں چاندی نہیں تولنا

توبہ میری نا ڈولنا میں نی بولنا

او نہیں بولنا جا، میں نہیں بولنا جا

او میں نہیں بولنا جا، ڈولنا میں نی بولنا

توبہ میری نہ ڈولنا میں نی بولنا

آگ تے عشق برابر دونوں پر پانی آگ بجھائے

آگ تے عشق برابر دونوں پر پانی آگ بجھائے

عاشق کے جب آنسو نکلے، اور اگن لگ جائے

تیرے سامنے بیٹھ کے رونا ۔۔۔

او تیرے سامنے بیٹھ کے رونا دل کا دکھڑا نہیں ٹولنا

ڈولنا میں نی بولنا

او نہیں بولنا جا، میں نہیں بولنا جا

وے میں نہیں بولنا جا، بولنا میں نی بولنا

توبہ میری نہ ڈولنا میں نی بولنا

وے میں نہیں بولنا، او وے میں نہیں بولنا

وے میں نہیں بولنا، تے میں نہیں بولنا

نہیں بولنا، ڈولنا میں نی بولنا

نہیں بولنا، نہیں بولنا ۔۔۔

٭٭٭

فلم: چاندنی

موسیقی: شیو ہری

آواز: لتا منگیشکر

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

ملن ہو گا ابھی اک رات کی دوریاں ہیں

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

لمبی لمبی وہ کالی کالی راتوں میں

کاہے چوڑیاں کھنکتی ہیں ہاتھوں میں

لمبی لمبی وہ کالی کالی راتوں میں

کاہے چوڑیاں کھنکتی ہیں ہاتھوں میں

نہ آنا تو نگوڑی چوڑیوں کی باتوں میں

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

لے جا واپس تو اپنی بارات منڈیا

میں نہیں جانا نہیں جانا تیرے ساتھ منڈیا

لے جا واپس تو اپنی بارات منڈیا

میں نہیں جانا نہیں جانا تیرے ساتھ منڈیا

جگائے گا جگائے گا تو ساری رات منڈیا

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

آتے جاتے گلی میں میرا دل دھڑکے

میرے پیچھے پڑے ہیں آٹھ دس لڑکے

آتے جاتے گلی میں میرا دل دھڑکے

میرے پیچھے پڑے ہیں آٹھ دس لڑکے

وے لے جائیں کسی دن یہ سپیرے ناگن پھڑکے

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

میرے گھٹنوں سے لمبی ہائے میری چوٹی ہے

میری آنکھ شطرنج کی گوٹی ہے

میرے گھٹنوں سے لمبی ہائے میری چوٹی ہے

میری آنکھ شطرنج کی گوٹی ہے

میرے بابل نہ پھر کہنا ابھی تو چھوٹی ہے

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

میرے درزی سے آج میری جنگ ہو گئی

کل چولی سلائی آج تنگ ہو گئی

میرے درزی سے آج میری جنگ ہو گئی

کل چولی سلائی آج تنگ ہو گئی

اوئے شاوا شاوا

کرے وہ کیا تو لڑکی تھی پتنگ ہو گئی

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

میرے سیاں کیا یہ برا کام تو نے

کہیں کا بھی نہیں چھوڑا مجھے ہائے رام تو نے

میرے سیاں

میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیاں ہیں

تھوڑا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

٭٭٭

فلم: بے تاب

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: شبیر کمار

یہ میری زندگی بے جان لاش تھی

برسوں سے پیار کو تیری تلاش تھی

بس آج میری کھوئی تقدیر مل گئی

تیری تصویر مل گئی ۔۔۔

اب کے بہار میں اس انتظار میں

دل کا وہ حال تھا، مشکل یہ سال تھا

دیوانے کے لئے اک زنجیر مل گئی

تیری تصویر مل گئی ۔۔۔

تصویر میں مگر یہ کون ہے بتا

اس کو ذرا اٹھا مجھ کو یہاں بٹھا

کیا کام اس کا رانجھے کو ہیر مل گئی

تیری تصویر مل گئی ۔۔۔

آئی ہے ٹوٹ کر اس پر جوانیاں

بچپن کی ہے مگر ساری نشانیاں

میرے حسین خوابوں کی تعبیر مل گئی

تیری تصویر مل گئی ۔۔۔

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، شبیر کمار

جب ہم جواں ہوں گے جانے کہاں ہوں گے

لیکن جہاں ہوں گے وہاں پر یاد کریں گے

تجھے یاد کریں گے ۔۔۔

یہ بچپن کا پیار اگر کھو جائے گا

دل کتنا خالی خالی ہو جائے گا

تیرے خیالوں سے اسے آباد کریں گے

تجھے یاد کریں گے ۔۔۔

ایسے ہنستی تھی وہ ایسے چلتی تھی

چاند کے جیسے چھپتی اور نکلتی تھی

سب سے تیری باتیں تیرے بعد کریں گے

تجھے یاد کریں گے ۔۔۔

تیرے شبنمی خوابوں کی تصویروں سے

تیری ریشمی زلفوں کی زنجیروں سے

کیسے ہم اپنے آپ کو آزاد کریں گے

تجھے یاد کریں گے ۔۔۔

زہر جدائی کا پینا پڑ جائے تو

بچھڑ کے بھی ہم کو جینا پڑ جائے تو

ساری جوانی بس یوں ہی برباد کریں گے

تجھے یاد کریں گے ۔۔۔

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، شبیر کمار

اپنے دل سے بڑی دشمنی کی

کس لئے میں نے تم سے دوستی کی

اپنے دل کو جلا کے روشنی کی

کس لئے میں نے تم سے دوستی کی

تم نے اچھا سہارا دیا

بے سہارا مجھے کر دیا

کل گلے سے لگایا مجھے

آج ٹھکرا دیا بے وفا

تم نے اچھی صنم دل لگی کی

کس لئے میں نے تم سے دوستی کی

آسماں بن گئی یہ زمیں

میرے ہمدم مرے ہم نشیں

تم نے دیکھی مری بے رخی

بے بسی میری دیکھی نہیں

میں ہوں تصویر اک بیکسی کی

کس لئے میں نے تم سے دوستی کی ۔۔۔

ہر خوشی بس پرائی ہوئی

میری دشمن خدائی ہوئی

مجھ کو اب تو تو پہچان لے

مجھے سے یہ بیوفائی ہوئی

میں نے تم پہ فدا زندگی کی

کس لئے میں نے تم سے دوستی کی ۔۔۔

٭٭٭

آواز: شبیر کمار

پریمی ہوں، پاگل ہوں، میں، پاگل ہوں، میں، پاگل ہوں، میں

روپ کا ساگر ہوں میں، ساگر ہوں میں، ساگر ہوں میں

پیار کا بادل ہوں میں

پروتوں سے آج میں ٹکرا گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

تم بلاؤ میں نہ آؤں ایسا ہرجائی نہیں

اتنے دن تم کو ہی میری

اتنے دن تم کو ہی میری یاد تک آئی نہیں

آ گیا جادو کا موسم آ گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

ہو ہو پروتوں سے آج میں ٹکرا گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

عمر ہی ایسی ہے کچھ یہ تم کسی سے پوچھ لو

ایک ساتھی کی ضرورت

ایک ساتھی کی ضرورت پڑتی ہے ہر ایک کو

دل تمہارا اس لئے گھبرا گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

ہو ہو پروتوں سے آج میں ٹکرا گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

کھول کر ان بند آنکھوں کو جھروکھوں کی طرح

چور آوارہ ہوا کے مست جھونکوں کی طرح

ریشمی زلفوں کو میں بکھرا گیا

تم نے دی آواز لو میں آ گیا

ہو ہو ہو پروتوں سے آج میں ٹکرا گیا ۔۔۔

٭٭٭

فلم: دل والے دلھنیا لے جائیں گے

موسیقی: جتن، للت

آوازیں: لتا منگیشکر، اُدت ناراین۔ ساتھی

کورس: یہ کڑیاں نشہ دیاں پڑیاں

یہ منڈے گلی کے غنڈے

یہ کڑیاں نشہ دیاں پڑیاں

یہ منڈے گلی کے غنڈے

نشہ دیاں پڑیاں

گلی کے غنڈے

ادت: ہو، ہو

مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا

مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا

لینے تجھے او گوری آئیں گے تیرے سجنا

مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا، او ہو، او ہو

لتا: ہو، آ۔۔۔۔

سہرا سجا کے رکھنا، چہرہ چھپا کے رکھنا

سہرا سجا کے رکھنا، چہرہ چھپا کے رکھنا

یہ دل کی بات اپنے دل میں دبا کے رکھنا

کورس: سہرا سجا کے رکھنا، چہرہ چھپا کے رکھنا

مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا

ہوئے، ہوئے، ہوئے

ہوئے، ہوئے، ہوئے

ادت: اڑ اڑ کے تیری زلفیں، کرتی ہیں کیا اشارے

دل تھام کے کھڑے ہیں، عاشق سبھی کنوارے

لتا: چھپ جائے ساری کڑیاں، گھر میں شرم کے مارے

گاؤں میں آ گئے ہیں پاگل شہر کے سارے

ادت: نظریں جھکا کے رکھنا، دامن بچا کے رکھنا

نظریں جھکا کے رکھنا، دامن بچا کے رکھنا

لینے تجھے او گوری آئیں گے تیرے سجنا

کورس: مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا

سہرا سجا کے رکھنا، چہرہ چھپا کے رکھنا

ادت: میں ایک جوان لڑکا، تو ایک حسین لڑکی

یہ دل مچل گیا تو میرا قصور کیا ہے

لتا: رکھنا تھا دل پہ قابو، یہ حسن تو ہے جادو

جادو یہ چل گیا تو میرا قصور کیا ہے

ادت: رستا ہمارا تکنا، دروازہ کھلا رکھنا

رستا ہمارا تکنا، دروازہ کھلا رکھنا

لینے تجھے او گوری، آئیں گے تیرے سجنا

لتا: کچھ اور اب نہ کہنا، کچھ اور اب نہ کرنا

کچھ اور اب نہ کہنا، کچھ اور اب نہ کرنا

یہ دل کی بات اپنے، دل میں دبا کے رکھنا

کورس: مہندی لگا کے رکھنا، ڈولی سجا کے رکھنا

سہرا سجا کے رکھنا، چہرہ چھپا کے رکھنا

شاوا۔۔۔ ہوئے، ہوئے

شاوا ۔۔۔ ہوئے، ہوئے

شاوا ۔۔۔ ہوئے، ہوئے

٭٭٭

آوازیں: آشا بھوسلے، ابھیجیت

ہوں ۔۔۔ لا لا لا ۔۔۔

آشا: ذرا سا جھوم لوں میں

ابھیجیت: ارے نا رے نا رے نا

آشا: ذرا سا گھوم لوں میں

ابھیجیت: ارے نا رے نا رے نا

آشا: آ تجھے چوم لوں میں

ابھیجیت: ارے نا رے بابا نا

آشا: میں چلی بن کے ہوا

ابھیجیت: رب میرے میں نو بچا

آشا: موسم بھی بے ایمان مستی کا یہ سماں

روکو لوگو! زمیں پہ گرنے لگا آسماں

ٹھمک ٹھمک کے جھولوں گی

میں اڑ کے گگن کو چھو لوں گی

میں چلی بن کے ہوا

ابھیجیت: رب میرے میں نو بچا ۔۔۔

آشا: ٹھنڈی ٹھنڈی پون جلتا ہے یہ بدن

جی چاہتا ہے بنا لوں تجھ کو اپنا سجن

ہوا نہیں یہ پہلے کبھی میری چال بدل گئی ابھی ابھی

میں چلی بن کے ہوا

ابھیجہیت: رب میرے میں  نو بچا ۔۔۔

ابھیجیت: جاتی ہے تو کہاں جان من جان جاں

لڑکی ہے تو خوبصورت لڑکا میں نوجواں

تجھے گلے لگا لوں آ پلکوں میں بٹھا لوں آ

ہو گیا مجھے نشہ

آشا: رب میرے میں نو بچا ۔۔۔

ابھیجیت: ذرا سا جھوم لوں میں

آشا: ارے نہ رے نہ رے نہ

ابھیجیت: ذرا سا گھوم لوں میں

آشا: ارے نا رے نا رے نا

ابھیجیت: آ تجھے چوم لوں میں

آ: ارے نہ رے بابا نا

ابھیجیت: میں چلی بن کے ہوا

آشا: رب میرے میں نو بچا

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

میرے خوابوں میں جو آئے، آ کے مجھے چھیڑ جائے

میرے خوابوں میں جو آئے، آ کے مجھے چھیڑ جائے

اس سے کہوں کبھی سامنے تو آئے

میرے خوابوں میں جو آئے، آ کے مجھے چھیڑ جائے

کیسا ہے کون ہے وہ جانے کہاں ہے

کیسا ہے کون ہے وہ جانے کہاں ہے

جس کے لئے میرے ہونٹوں پہ ہاں ہے

اپنا ہے یا بیگانہ ہے وہ

سچ ہے یا کوئی افسانہ ہے وہ

دیکھے گھور گھور کے یونہی دور دور سے

اس سے کہوں میری نیند نہ چرائے

میرے خوابوں میں جو آئے، آ کے مجھے چھیڑ جائے

جادو سے جیسے کوئی چھلنے لگا ہے

جادو سے جیسے کوئی چھلنے لگا ہے

میں کیا کروں دل مچلنے لگا ہے

تیرا دیوانہ کہتا ہے وہ

چپ چپ سے پھر کیوں رہتا ہے وہ

کر بیٹھا بھول وہ، لے آیا پھول وہ

اس سے کہوں جائے چاند لے کے آئے

میرے خوابوں میں جو آئے، آ کے مجھے چھیڑ جائے

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، کمار سانو، کورس

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

کورس: آ ۔۔۔

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

اب یہاں سے کہاں جائیں ہم

تیری بانہوں میں مر جائیں ہم

لتا: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

اب یہاں سے کہاں جائیں ہم

تیری بانہوں میں مر جائیں ہم

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

کورس: آ ۔۔۔

لتا: آنکھیں میری، سپنے تیرے

دل میرا، یادیں تیری

کمار: میرا ہے کیا، سب کچھ تیرا

جان تیری، سانسیں تیری

لتا: میری آنکھوں میں آنسو تیرے آ گئے

مسکرانے لگے سارے غم

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

لتا: اب یہاں سے کہاں جائیں ہم

تیری بانہوں میں مر جائیں ہم

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

لتا: یہ دل کہیں، لگتا نہیں

کیا کہوں، میں کیا کروں

کمار: ہاں، تو سامنے بیٹھی رہے

میں تجھے دیکھا کروں

لتا: تو نے آواز دی دیکھ میں آ گئی

پیار سے ہے بڑی کیا قسم

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

لتا: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم

کمار: اب یہاں سے کہاں جائیں ہم

تیری بانہوں میں مر جائیں ہم

کورس: آ ۔۔۔

کمار: تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم

کورس: آ ۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

لتا: نہ جانے میرے دل کو کیا ہو گیا

ابھی تو یہیں تھا ابھی کھو گیا

ہو گیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا

لاکھ کر لے تو انکار سجنا

دل دار سجنا، ہے یہ پیار سجنا

دیکھا نہ تو نے، مڑ کے بھی پیچھے

کچھ دیر تو میں رکا تھا

جب دل نے تجھ کو روکنا چاہا

دور تو جا چکا تھا

ہوا کیا نہ جانا، یہ دل کیوں دیوانہ

ہو گیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا

لاکھ کر لے تو انکار سجنا

دل دار سجنا، ہے یہ پیار سجنا

اے وقت رک جا، تھم جا، ٹھہر جا

واپس ذرا دوڑ پیچھے

میں چھوڑ آئی، خود کو جہاں پہ

وہ رہ گیا موڑ پیچھے

کہاں میں، کہاں تو

یہ کیسا ہے جادو

ہو گیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا

لاکھ کر لے تو انکار سجنا

دل دار سجنا، ہے یہ پیار سجنا

٭٭٭

فلم: دو راستے

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: محمد رفیع

یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

جو یہ آنکھیں شرم سے جھک جائیں گی

ساری باتیں یہیں بس رک جائیں گی

جو یہ آنکھیں شرم سے جھک جائیں گی

ساری باتیں یہیں بس رک جائیں گی

چپ رہنا، یہ افسانہ کوئی ان کو نہ بتلانا کہ

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

زلفیں مغرور اتنی ہو جائیں گی

دل کو تڑپائیں گی، جی کو ترسائیں گی

زلفیں مغرور اتنی ہو جائیں گی

دل کو تڑپائیں گی، جی کو ترسائیں گی

یہ کر دیں گی دیوانہ، کوئی ان کو نہ بتلانا کہ

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں

انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی

٭٭٭

آواز: کشور کمار

خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

مرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں

مرے نصیب میں اے دوست، تیرا پیار نہیں

نہ جانے پیار میں کب میں زباں سے پھر جاؤں

میں بن کے آنسو خود اپنی نظر سے گر جاؤں

تیری قسم ہے میرا کوئی، اعتبار نہیں

مرے نصیب میں اے دوست، تیرا پیار نہیں

میں روز لب پہ نئی ایک آہ رکھتا ہوں،

میں روز ایک نئے غم کی راہ تکتا ہوں،

کسی خوشی کا میرے دل کو انتظار نہیں

مرے نصیب میں اے دوست، تیرا پیار نہیں

غریب کیسے محبت کرے امیروں سے

بچھڑ گئے ہیں کئی رانجھے، اپنی ہیروں سے

کسی کو اپنے مقدر پہ اختیار نہیں

مرے نصیب میں اے دوست، تیرا پیار نہیں

خزاں کے پھول پہ آتی کبھی بہار نہیں

میرے نصیب میں اے دوست، تیرا پیار نہیں

٭٭٭

فلم: ڈریم گرل

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: کشور کمار

ڈریم گرل، ڈریم گرل، ڈریم گرل، ڈریم گرل

کسی شاعر کی غزل، ڈریم گرل

کسی جھیل کا کنول، ڈریم گرل

کبھی تو ملے گی، کہیں تو ملے گی،

آج نہیں تو کل، ڈریم گرل

سمٹی گلابوں میں، لپٹی حجابوں میں

سمٹی گلابوں میں، لپٹی حجابوں میں

سانسوں میں آتی ہے بھیگی شرابوں میں

پاس رہتی ہے وہ پل دو پل، کون؟ ڈریم گرل

جب دیکھتی ہے وہ، میں پوچھ لوں گا تو

جب دیکھتی ہے وہ، میں پوچھ لوں گا تو

شبنم، گھٹا، چاندنی بن جاتے ہیں دوستوں

رنگ روپ ہے وہ لیتی بدل، ہے، ڈریم گرل

٭٭٭

فلم: دشمن

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: کشور کمار

ہاں، سچائی چھپ نہیں سکتی، بناوٹ کے اصولوں سے

کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے!

میں انتظار کروں، یہ دل نثار کروں

میں تجھ سے پیار کروں، او مگر میں کیسے اعتبار کروں؟

جھوٹا ہے تیرا وعدہ!

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدے پہ تیرے مارا گیا، بندہ میں سیدھا سادہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

تمہاری زلف ہے یا، سڑک کا موڑ ہے یہ

تمہاری آنکھ ہے یا، نشہ کا توڑ ہے یہ

کہا کب کیا کسی سے، تمہیں کچھ یاد نہیں

ہمارے سامنے ہے، ہمارے بعد نہیں

کتاب حسن میں تو وفا کا نام نہیں، ارے!

محبت تم کرو گی؟ تمہارا کام نہیں!

محبت تم کرو گی؟ تمہارا کام نہیں!

اکڑتی خوب ہو تم، میری محبوب ہو تم

اکڑتی خوب ہو تم، مری محبوب ہو تم

نگاہِ غیر سے بھی مگر منسوب ہو تم

کسی شاعر سے پوچھو، غزل ہو یا رباعی

بھری ہے شاعری میں تمہاری بیوفائی

ہو! دامن میں تیرے پھول ہیں کم اور کانٹے ہیں زیادہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدے پہ تیرے مارا گیا، بندہ میں سیدھا سادہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

ترانے جانتی ہے، فسانے جانتی ہے

کئی دل توڑنے کے بہانے جانتی ہے

کہیں پہ سوز ہے تو، کہیں پہ ساز ہے تو

جسے سمجھا نہ کوئی وہی اک راز ہے تو

کبھی تو روٹھ بیٹھی، کبھی تو مسکرائی، ارے!

کسی سے کی محبت، کسی سے بیوفائی!

کسی سے کی محبت، کسی سے بیوفائی!

اڑائے ہوش توبہ! تری آنکھیں شرابی

اڑائے ہوش توبہ! تری آنکھیں شرابی

زمانہ میں ہوئی ہے، انہیں سے ہر خرابی

بلائے چھاؤں کوئی، پکارے دھوپ کوئی

ترا ہو رنگ کوئی، ترا ہو روپ کوئی

ہو! کچھ فرق نہیں نام تیرا، رضیہ ہو یا رادھا!!

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدے پہ تیرے مارا گیا، بندہ میں سیدھا سادہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

وعدہ تیرا وعدہ، وعدہ تیرا وعدہ

٭٭٭

فلم: ہاتھی میرے ساتھی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: کشور کمار

نفرت کی دنیا کو چھوڑ کے پیار کی دنیا میں

خوش رہنا میرے یار

اس جھوٹ کی نگری کو چھوڑ کے گاتا جا پیارے

امر رہے تیرا پیار

جب جانور کوئی، انسان کو مارے

کہتے ہیں دنیا میں، وحشی اسے سارے

ایک جانور کی جان آج انسانوں نے لی ہے

چپ کیوں ہے سنسار

بس آخری سن لے، یہ میل ہے اپنا

بس ختم اے ساتھی، یہ کھیل ہے اپنا

اب یاد میں تیری بیت جائیں گے رو رو کے

جیون کے دن چار

٭٭٭

فلم: ہرے رام ہرے کرشن

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: کشور کمار

پھولوں کا تاروں کا، سب کا کہنا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

پھولوں کا تاروں کا، سب کا کہنا ہے

یہ نہ جانا دنیا نے تو ہے کیوں اداس،

تیری پیاسی آنکھوں میں پیار کی ہے پیاس،

آ میرے پاس آ، کہہ جو کہنا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

بھولی بھالی جاپانی گڑیا جیسی تو،

پیاری پیاری جادو کی پڑیا جیسی تو،

ڈیڈی کا ممی کا، سب کا کہنا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

جب سے میری آنکھوں سے ہو گئی تو دور

تب سے سارے جیون کے سپنے ہیں چور

آنکھوں میں نیند نا من میں چینا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

دیکھو ہم تم دونوں ہیں اک ڈالی کے پھول

میں نہ بھولا تو کیسے مجھ کو گئی بھول

آ میرے پاس آ، کہہ جو کہنا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

جیون کے دکھوں سے یوں ڈرتے نہیں ہیں

ایسے بچ کے سچ سے گزرتے نہیں ہیں

سکھ کی ہے چاہ تو دکھ بھی سہنا ہے

ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے

ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے

پھولوں کا تاروں کا، سب کا کہنا ہے

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

کشور: کانچی رے کانچی رے، پریت میری سانچی

رک جا نہ جا دل توڑ کے

جھوٹا ہے یہ غصہ تیرا سچا نہیں

سچے پریمی کو تڑپانا اچھا نہیں

واپس نہ آؤں گا میں جو چلا جاؤں گا

واپس نہ آؤں گا میں جو چلا جاؤں گا

یہ تیری گلیاں چھوڑ کے، اے اے

کانچی رے کانچی رے، پریت میری سانچی

رک جا نہ جا دل توڑ کے

تیرے ہاتھوں میں ہے میری ڈوری جیسے

کچے دھاگے سے میں بندھا آیا ایسے

مشکل ہے جینا، دے دے او حسینہ

مشکل ہے جینا، دے دے او حسینہ

واپس میرا دل موڑ کے، اے اے

کانچی رے کانچی رے، پریت میری سانچی

رک جا نہ جا دل توڑ کے

لتا: کانچا رے کانچا رے، پیار میرا سانچا

رک جا نہ جا دل توڑ کے

رنگ تیرے میں یہ تن رنگ لیا

تن کیا ہے میں نے من رنگ لیا

بس چپ ہی رہنا، اب پھر نہ کہنا

بس چپ ہی رہنا، اب پھر نہ کہنا

رک جا نہ جا دل توڑ کے، اے اے

کانچا رے کانچا رے

کشور: کانچی رے کانچی رے

ہو۔۔۔۔

٭٭٭

فلم: ہمالے کی گود میں

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آواز: مکیش

چاند سی محبوبہ ہو مری کب ایسا میں نے سوچا تھا

چاند سی محبوبہ ہو مری کب ایسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

نہ رسمیں ہیں نہ قسمیں ہیں

نہ شکوہ ہے نہ وعدے ہیں

اک صورت بھولی بھالی ہے

دو نینا سیدھے سادے ہیں

دو نینا سیدھے سادے ہیں

ایسا ہی روپ خیالوں میں تھا

جیسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

میری خوشیاں ہی نہ بانٹے

میرے غم بھی سہنا چاہے

دیکھے نہ خواب وہ محلوں کے

میرے دل میں رہنا چاہے

اس دنیا میں کون تھا ایسا

جیسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

ہاں تم بالکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا

٭٭٭

فلم: جیوتی

موسیقی: سچن دیو برمن

آوازیں: لتا منگیشکر، منا ڈے

سوچ کے یہ گگن جھومے ابھی چاند نکل آئے گا

جھلمل چمکیں گے تارے سوچ کے یہ گگن جھومے

چاند جب نکل آئے گا دیکھے گا نا کوئی گگن کو

چاند کو ہی دیکھیں گے سارے چاند جب نکل آئے گا

رات دیکھو کتنی ہے کالی ابھی چاند نکل آئے گا

پھول جو کھلے نا تو کیسے، باغوں میں آئے بہار

دیپ نہ جلے تو سانوریا کیسے مٹے اندھکار

رات دیکھو کتنی ہے کالی ابھی چاند نکل آئے گا

چاند سے بھی تم حسین ہو نزدیک آؤ ذرا

چاند کے نکلنے تلک تو تم جگمگاؤ ذرا

رات دیکھو کتنی ہے کالی ابھی چاند نکل آئے گا

٭٭٭

فلم: گیت

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آواز: محمد رفیع

آ جا تجھ کو پکاریں میرے گیت رے، میرے گیت رے

او میرے متوا، میرے میت رے

آ جا تجھ کو پکاریں میرے گیت رے، میرے گیت رے

نام نہ جانوں تیرا دیش نہ جانوں

کیسے میں بھیجوں سندیش نہ جانوں

یہ پھولوں کی یہ جھولوں کی رت نہ جائے بیت رے

آ جا تجھ کو پکاریں میرے گیت رے، میرے گیت رے

ترسے گی کب تک یہ پیاسی نجریا

برسے گی کب میرے آنگن بدریا

توڑ کے آ جا چھوڑ کے آ جا، دنیا کی ہر ریت رے

آ جا تجھ کو پکاریں میرے گیت رے، میرے گیت رے

٭٭٭

فلم: جب جب پھول کھلے

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

دونوں چمن میں رہتے تھے

ہے یہ کہانی بالکل سچی

میرے نانا کہتے تھے

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

بلبل کچھ ایسے گاتی تھی

جیسے تم باتیں کرتی ہو

وہ گل ایسے شرماتا تھا

جیسے میں گھبرا جاتا ہوں،

بلبل کو معلوم نہیں تھا

گل ایسے کیوں شرماتا تھا

وہ کیا جانے اس کا نغمہ

گل کے دل کو دھڑکاتا تھا

دل کے بھید نہ آتے لب پہ

یہ دل میں ہی رہتے تھے

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

لیکن آخر دل کی باتیں

ایسے کتنے دن چھپتی ہیں

یہ وہ کلیاں ہیں جو اک دن

بس کانٹے بن کے چبھتی ہیں

اک دن جان لیا بلبل نے

وہ گل اس کا دیوانہ ہے

تم کو پسند آیا ہو تو بولوں

پھر آگے جو افسانہ ہے

اک دوجے کا ہو جانے پر

وہ دونوں مجبور ہوئے

ان دونوں کے پیار کے قصے

گلشن میں مشہور ہوئے

ساتھ جئیں گے ساتھ مریں گے

وہ دونوں یہ کہتے تھے

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

پھر اک دن کی بات سناؤں

اک صیاد چمن میں آیا

لے گیا وہ بلبل کو پکڑ کے

اور دیوانہ گل مرجھایا

اور دیوانہ گل مرجھایا

شاعر لوگ بیاں کرتے ہیں

ایسے ان کی جدائی کی باتیں

گاتے تھے یہ گیت وہ دونوں

سیاں بنا نہیں کٹتی راتیں

سیاں بنا نہیں کٹتی راتیں

مست بہاروں کا موسم تھا

آنکھ سے آنسو بہتے تھے

ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

آتی تھی آواز ہمیشہ

یہ جھلمل جھلمل تاروں سے

جس کا نام محبت ہے وہ

کب رکتی ہے دیواروں سے

اک دن آہ گل و بلبل کی

اس پنجرے سے جا ٹکرائی

ٹوٹا پنجرہ چھوٹا قیدی

دیتا رہا صیاد دہائی

روک سکے نا اس کو مل کے

سارا زمانہ ساری خدائی

گل ساجن کو گیت سنانے

بلبل باغ میں واپس آئے

یاد سدا رکھنا یہ کہانی

چاہے جینا چاہے مرنا

تم بھی کسی سے پیار کرو تو

پیار گل و بلبل سا کرنا

پیار گل و بلبل سا کرنا

٭٭٭

آواز: محمد رفیع، لتا منگیشکر

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

آتی ہے جب یہ رت مستانی

بنتی ہے کوئی نہ کوئی کہانی

اب کے بس دیکھے بنے کیا فسانہ

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

سچ ہی کہا ہے پنچھی ان کو

رات کو ٹھہریں تو اڑ جائیں دن کو

آج یہاں کل وہاں ہے ٹھکانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

باغوں میں جب جب پھول کھلیں گے

تب تب یہ ہرجائی ملیں گے

گزرے گا کیسے پت جھڑ کا زمانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

یہ بابل کا دیس چھڑائیں

دیس سے یہ پردیس بلائیں

ہائے سنیں نا یہ کوئی بہانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

ہم نے یہی ایک بار کیا تھا

ایک پردیسی سے پیار کیا تھا

ایسے جلائے دل جیسے پروانہ

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

پیار سے اپنے یہ نہیں ہوتے

یہ پتھر ہیں یہ نہیں روتے

ان کے لئے نہ آنسو بہانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

نا یہ بادل نا یہ تارے

یہ کاغذ کے پھول ہیں سارے

ان پھولوں کے باغ نہ لگانا

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

ہم نے یہی ایک بار کیا تھا

اک پردیسی سے پیار کیا تھا

رو رو کے کہتا ہے دل یہ دیوانہ

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

یہاں میں اجنبی ہوں

یہاں میں اجنبی ہوں

میں جو ہوں، بس وہی ہوں

میں جو ہوں، بس وہی ہوں

یہاں میں اجنبی ہوں

یہاں میں اجنبی ہوں

کہاں شام و سحر تھے کہاں دن رات میرے

بہت رسوا ہوئے ہیں یہاں جذبات میرے

نئی تہذیب ہے یہ نیا ہے یہ زمانا

مگر میں آدمی ہوں وہی صدیوں پرانا

میں کیا جانوں یہ باتیں ذرا انصاف کرنا

مری گستاخیوں کو خدارا معاف کرنا

یہاں میں اجنبی ہوں

تری بانہوں میں دیکھوں صنم غیروں کی بانہیں

میں لاؤں گا کہاں سے بھلا ایسی نگاہیں

یہ کوئی رقص ہو گا کوئی دستور ہو گا

مجھے دستور ایسا کہاں منظور ہو گا

بھلا کیسے یہ میرا لہو ہو جائے پانی

میں کیسے بھول جاؤں میں ہوں ہندوستانی

یہاں میں اجنبی ہوں

مجھے بھی ہے شکایت تجھے بھی تو گلا ہے

یہی شکوہ ہماری محبت کا صلا ہے

کبھی مغرب سے مشرق ملا ہے جو ملے گا

جہاں کا پھول ہے جو وہیں پہ وہ کھلے گا

تیرے اونچے محل میں نہیں میرا گزارا

مجھے یاد آ رہا ہے وہ چھوٹا سا شکارا

یہاں میں اجنبی ہوں

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

یہ سماں

سماں ہے یہ پیار کا

کسی کے انتظار کا

دل نہ چرا لے کہیں میرا

موسم بہار کا

یہ سماں۔۔۔

بسنے لگے آنکھوں میں کچھ ایسے سپنے

کوئی بلائے جیسے نینوں سے اپنے

بسنے لگے آنکھوں میں کچھ ایسے سپنے

کوئی بلائے جیسے نینوں سے اپنے

یہ سماں۔۔۔

مل کے خیالوں میں ہی اپنے بلم سے

نیند گنوائی اپنی میں نے قسم سے

مل کے خیالوں میں ہی اپنے بلم سے

نیند گنوائی اپنی میں نے قسم سے

یہ سماں۔۔۔

٭٭٭

فلم: جینے کی راہ

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، آشا بھوسلے، اوشا منگیشکر، ہیم لتا

رفیع: بچو!

ایک سمے کی بات سنو، اندھیاری تھی رات سنو

دیپک چوری ہو گیا، چاند کہیں پر کھو گیا

بچہ: پھر کیا ہوا؟

رفیع: چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

آشا:  چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

گلیوں میں وہ نصیب کے مارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

ان کی نظر کا جس نے نظارا چرا لیا

ان کے دلوں کا جس نے سہارا چرا لیا

اس چور کی تلاش میں سارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

اوشا: غم کی اندھیری رات میں جلنا پڑا انہیں

پھولوں کے بدلے کانٹوں پہ چلنا پڑا انہیں

دھرتی پہ جب گگن کے دلارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

ہیم لتا: ان کی پکار سن کے یہ دل ڈگمگا گیا

ہم کو بھی کوئی بچھڑا ہوا یاد آ گیا

بھر آئی آنکھ ہمارے نکل پڑے

چندا کو ڈھونڈھنے سبھی تارے نکل پڑے

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

آنے سے اس کے آئے بہار، جانے سے اس کے جائے بہار

بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

میری زندگانی ہے میری محبوبہ

گنگنائے ایسے جیسے بجتے ہوں گھنگھرو کہیں پہ

آ کے پروتوں سے، جیسے گرتا ہو جھرنا زمیں پہ

جھرنوں کی موج ہے وہ، موجوں کی روانی ہے میری محبوبہ

بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

اس گھٹا کو میں تو اس کی آنکھوں کا کاجل کہوں گا

اس ہوا کو میں تو اس کا لہراتا آنچل کہوں گا

حوروں کی ملکہ ہے پریوں کی رانی ہے میری محبوبہ

بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

بیت جاتے ہیں دن، کٹ جاتی ہے آنکھوں میں راتیں

ہم نہ جانے کیا کیا کرتے رہتے ہیں آپس میں باتیں

میں تھوڑا دیوانہ، تھوڑی سی دیوانی ہے میری محبوبہ

بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

بن سنور کے نکلے آئے ساون کا جب جب مہینہ

ہر کوئی یہ سمجھے ہو گی وہ کوئی چنچل حسینہ

پوچھو تو کون ہے وہ، رت یہ سہانی ہے، میری محبوبہ

بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

٭٭٭

فلم: جواری

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آوازیں: مکیش، لتا منگیشکر

ہمسفر اب یہ سفر کٹ جائے گا

راستے میں جی نہ اب گھبرائے گا

اس قدر رنگین ہیں لمحات یہ

ہم قدم پہلے کہاں تھی بات یہ

کوئی حسرت تھی نہ کوئی یاد تھی

زندگی کیا تھی کوئی فریاد تھی

دل مرا تو مجھ سے بھی انجان تھا

ایک پتھر کی طرح بے جان تھا

پیار تیرا اب اسے دھڑکائے گا

ہمسفر اب یہ سفر کٹ جائے گا

سونی راہیں اور کالی رات تھی

اپنی تو پرچھائیں بھی نا ساتھ تھی

ہر قدم پر آ رہا تھا یہ خیال

تنہا منزل تک پہنچنا ہے محال

ایسے میں ویران سے ایک موڑ پر

جی اٹھی میں تیری صورت دیکھ کر

اب یہ ویرانہ چمن کہلائے گا

ہمسفر اب یہ سفر کٹ جائے گا

میری نظروں کو ہے دنیا سے گلا

چل دیا وہ چھوڑ کر جو بھی ملا

مجھ پہ لوگوں نے کئے ہیں جو ستم

میں بڑی مشکل سے بھولی ہوں، صنم

دیکھنا تو بھی یہی کرنا نہیں

دل جلوں سے دل لگی کرنا نہیں

عمر بھر ورنہ یہ غم تڑپائے گا

یہ مسافر راہ میں رہ جائے گا

یہ رہا وعدہ نہ دن وہ آئے گا

ہمسفر اب یہ سفر کٹ جائے گا

٭٭٭

فلم: کالا سمندر

موسیقی: این۔ دتا

آوازیں: محمد رفیع، آشا بھوسلے

رفیع: مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم، مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر، دل دل گیر لے کر

لٹی جاگیر لے کر، جلی تقدیر لے کر

کیا کرو گے کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

آشا: چلے ہو اب نہ جانے کب ملو گے

سبب کوئی بنے گا تب ملو گے

نہ جینے کا نہ مرنے کا بہانا

کٹے گا کیسے فرصت کا زمانا

ہمیں دے جاؤ ایک اپنی نشانی

بڑی ہو گی تمہاری مہربانی

سکوں کی تو کوئی تدبیر ہو گی

ہمارے پاس یہ تصویر ہو گی

رفیع: مری تصویر بھی مجھ سی کہاں ہے

کہ یہ بیجان ہے یہ بے زبان ہے

تمہارے کام یہ نہ آ سکے گی

تمہارا دل نہ یہ بہلا سکے گی

جنون میں تو گریباں چاک ہو گا

کہ پروانا تو جل کر خاک ہو گا

تمہارے سامنے جب ہم نہ ہوں گے

یہ غم تصویر سے تو کم نہ ہوں گے

یونہی تڑپو گے تم آہیں بھرو گے

کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

آشا: بجا ہے بات یہ ہم مانتے ہیں

نہ بہلے گی طبیعت جانتے ہیں

کریں گی حسرتیں فریاد اکثر

کہ تم آیا کرو گے یاد اکثر

غم فرقت نہ ہو گا یوں گوارا

مگر تھوڑا سا تو ہو گا سہارا

جدائی میں ملاقاتیں کریں گے

کہ ہم تصویر سے باتیں کریں گے

رفیع: خیالوں میں بسا لو میری صورت

مری تصویر کی ہے کیا ضرورت

مری یادوں کو سمجھو یادگاریں

خزاں میں بھی رہیں گی پھر بہاریں

سمے خوابوں کا ہوتا ہے سہانا

کبھی آنا کبھی مجھ کو بلانا

ہمیں اک دوسرے کی دید ہو گی

نگاہوں کی، دلوں کی عید ہو گی

نہ مانو گے تو رو رو کے مرو گے

کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

آشا: بہانے پر بناتے ہو بہانا

دیوانے ہو بناتے ہو دیوانا

خدا جانے تمہیں انکار کیوں ہے

ہمیں پھر بھی تمہیں سے پیار کیوں ہے

بڑے بے درد ہو، دل توڑتے ہو

ستم کے تیر ہم پہ چھوڑتے ہو

نہ ایسی بے وفا بے تیر ہو گی

بھلی تم سے تو یہ تصویر ہو گی

رفیع: گزارش آپ کے دل دار کی ہے

وجہ اک اور بھی انکار کی ہے

زمانہ کی نگاہوں سے بچا کے

اسے تم لاکھ رکھو گے چھپا کے

کسی دن دیکھ ہی لے گا زمانا

بڑا مشہور ہو گا یہ فسانا

جو لوگوں کی زباں تک بات پہنچے

تو پھر جانے کہاں تک بات پہنچے

کہو کیا پیار کو رسوا کرو گے

کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم مری تصویر لے کر

آشا: ہمیں منظور یہ رسوائیاں ہیں

کہ ان سے بھی بری تنہائیاں ہیں

رفیع: محبت کے نہیں دستور ایسے

ہمیں چرچے نہیں منظور ایسے

آشا: وفا میں لوگ لٹاتے ہیں جانیں

تمہیں عاشق بھلا ہم کیسے مانیں

رفیع: شبہ ہو عشق میں تو امتحاں لو

مری تصویر نہ لو میری جاں لو

کہو جانِ وفا اب کیا کہو گے

کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

رفیع: زباں کیوں رک گئی ہے

ہو، نگاہ کیوں جھک گئی ہے

اجی گھبرا گئے کیا

کہو شرما گئے کیا

ابھی ہے رات باقی

ابھی ہے بات باقی

ابھی سے ہار بیٹھے

دل و جاں وار بیٹھے

نیا انداز کوئی

نئی پرواز کوئی

لبوں کو سی لیا کیا

زہر کو پی لیا کیا

چلے تکرار آگے

چلو سرکار آگے

بنے تصویر کیا بیٹھے رہو گے

کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے تم

مری تصویر لے کر

٭٭٭

فلم: کٹی پتنگ

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: مکیش

جس گلی میں تیرا گھر نہ ہو بالما

اس گلی سے ہمیں تو گزرنا نہیں

جو ڈگر تیرے دوارے سے جاتی نہ ہو

اس ڈگر پر ہمیں پاؤں دھرنا نہیں

جس گلی میں تیرا گھر نہ ہو بالما

زندگی میں کئی رنگ رلیاں سہی

ہر طرف مسکراتی یہ گلیاں سہی

خوبصورت بہاروں کی کلیاں سہی

جس چمن میں تیرے پگ میں کانٹے چبھیں

اس چمن سے ہمیں پھول چننا نہیں

جس گلی میں تیرا گھر نہ ہو بالما

آ یہ رسمیں یہ قسمیں سبھی توڑ کے

تو چلی آ چُنر پیار کی اوڑھ کے

یا چلا جاؤں گا میں یہ جگ چھوڑ کے

جس جگہ یاد تیری ستانے لگے

اس جگہ ایک پل بھی ٹھہرنا نہیں

جس گلی میں تیرا گھر نہ ہو بالما

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

نہ کوئی امنگ ہے، نہ کوئی ترنگ ہے

میری زندگی ہے کیا اک کٹی پتنگ ہے

آکاش سے گری میں، اک بار کٹ کے ایسے

دنیا نے پھر نہ پوچھا، لوٹا ہے مجھ کو کیسے

نہ کسی کا ساتھ ہے، نہ کسی کا سنگ ہے

میری زندگی ہے کیا، اک کٹی پتنگ ہے

لگ کے گلے سے اپنے، بابل کے میں نہ رو سکی

ڈولی اٹھی یوں جیسے، ارتھی اٹھی ہو کسی کی

یہی دکھ تو آج بھی میرا انگ سنگ ہے

میری زندگی ہے کیا، اک کٹی پتنگ ہے

سپنوں کے دیوتا کیا، تجھ کو کروں میں ارپن

پت جھڑ کی میں ہوں چھایا، میں آنسوؤں کا درپن

یہی میرا روپ ہے یہی میرا رنگ ہے

میری زندگی ہے کیا، اک کٹی پتنگ ہے

٭٭٭

آواز: کشور کمار

پیار دیوانہ ہوتا ہے، مستانہ ہوتا ہے

ہر خوشی سے، ہر غم سے بیگانا ہوتا ہے

پیار دیوانہ ہوتا ہے، مستانہ ہوتا ہے

شمع کہے پروانے سے، پرے چلا جا

میری طرح جل جائے گا، یہاں نہیں آ

شمع کہے پروانے سے، پرے چلا جا

میری طرح جل جائے گا، یہاں نہیں آ

وہ نہیں سنتا اس کو جل جانا ہوتا ہے

ہر خوشی سے ہر غم سے بیگانا ہوتا ہے

رہے کوئی سو پردوں میں ڈرے شرم سے

نظر اجی لاکھ چرائے، کوئی صنم سے

رہے کوئی سو پردوں میں ڈرے شرم سے

نظر اجی لاکھ چرائے، کوئی صنم سے

آ ہی جاتا ہے جس پہ دل آنا ہوتا ہے

ہر خوشی سے، ہر غم سے بیگانا ہوتا ہے

سنو کسی شاعر نے یہ، کہا بہت خوب

منع کرے دنیا لیکن، میرے محبوب

سنو کسی شاعر نے یہ، کہا بہت خوب

منع کرے دنیا لیکن، میرے محبوب

وہ چھلک جاتا ہے جو پیمانا ہوتا ہے

ہر خوشی سے، ہر غم سے بیگانا ہوتا ہے

پیار دیوانہ ہوتا ہے، مستانہ ہوتا ہے

ہر خوشی سے، ہر غم سے بیگانا ہوتا ہے

٭٭٭

فلم: کھلونا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: محمد رفیع

ہو ۔۔۔ کھلونا، جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

مجھے اس حال میں کس کے سہارے چھوڑ جاتے ہو

کھلونا، جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

میرے دل سے نہ لو بدلا زمانہ بھر کی باتوں کا

ٹھہر جاؤ سنو مہمان ہوں میں چند راتوں کا

چلے جانا، ابھی سے کس لئے منہ موڑ جاتے ہو

کھلونا، جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

گلا تم سے نہیں کوئی مگر افسوس تھوڑا ہے

کہ جس غم نے مرا دامن بڑی مشکل سے چھوڑا ہے

اسی غم سے میرا پھر آج رشتہ جوڑ جاتے ہو

کھلونا، جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

خدا کا واسطہ دے کر منالوں، دور ہوں لیکن

تمہارا راستا میں روک لوں، مجبور ہوں لیکن

کہ میں چل بھی نہیں سکتا ہوں اور تم دوڑ جاتے ہو

ہو، کھلونا، جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

تری شادی پہ دوں تجھ کو تحفہ میں کیا

پیش کرتا ہوں دل ایک ٹوٹا ہوا

خوش رہے تو سدا، یہ دعا ہے میری

بے وفا ہی سہی، دلربا ہے میری

خوش رہے تو سدا۔۔۔

جا میں تنہا رہوں تجھ کو محفل ملے

ڈوبنے دے مجھے، تجھ کو ساحل ملے

آج مرضی یہی، ناخدا ہے میری

خوش رہے تو سدا۔۔۔

عمر بھر یہ میرے دل کو تڑپائے گا

درد دل اب میرے ساتھ ہی جائے گا

موت ہی آخری بس دوا ہے میری

خوش رہے تو سدا۔۔۔

٭٭٭

فلم: میں تلسی تیری آنگن کی

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: لتا منگیشکر

میں تلسی تیرے آنگن کی

کوئی نہیں میں

کوئی نہیں میں تیرے ساجن کی

میں تلسی تیرے آنگن کی

مانگ بھی تیری، سندور بھی تیرا

سب کچھ تیرا، کچھ نہیں میرا

توہے سوگندھ میرے انسوَن کی

میں تلسی تیرے آنگن کی

کاہے کو تو مجھ سے جلتی ہے

اے ری موہے تو تو لگتی ہے

کوئی سہیلی بچپن کی

میں تلسی تیرے آنگن کی

٭٭٭

فلم: مریادا

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آواز: مکیش

زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

بہار آنے سے پہلے خزاں چلی آئی

خوشی کی چاہ میں میں نے اٹھائے رنج بڑے

خوشی کی چاہ میں میں نے اٹھائے رنج بڑے

میرا نصیب کی میرے قدم جہاں بھی پڑے

یہ بد نصیبی میری بھی وہاں چلی آئی

زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

اداس رات ہے ویران دل کی محفل ہے

اداس رات ہے ویران دل کی محفل ہے

نہ ہم سفر ہے کوئی اور نہ کوئی منزل ہے

یہ زندگی مجھے لے کر کہاں چلی آئی

زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

بہار آنے سے پہلے خزاں چلی آئی

زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی

٭٭٭

آواز: محمد رفیع

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

جدائی میں نظر آتی ہیں یہ سب خواب کی باتیں

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

یہ تنہائی نہیں تھی اس جگہ تھی پیار کی محفل

تیرے غم سے گلے مل کر جہاں اب رو رہا ہے دل

یہیں ہنس ہنس کے ہوتی تھیں کبھی اپنی ملاقاتیں

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

میرے مایوس ہونٹوں پہ تیرے غم کی کہانی ہے

کہانی یہ نہیں غم کی، یہ الفت کی نشانی ہے

یہ آنسو اور یہ آہیں محبت کی ہیں سوغاتیں

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

نہ ایسے دل تڑپتا تھا نہ میں ایسے ترستا تھا

اسی گلشن میں دیکھو تو کبھی ساون برستا تھا

اسی وادی میں اب ہونے لگیں اشکوں کی برساتیں

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

پتہ میں پوچھتا پھرتا ہوں تیرا اس زمانے سے

ہوا کیا حال اس دل کا ترے اک دور جانے سے

جنازے بن گئیں اس دل کے ارمانوں کی باراتیں

محبت کے سہانے دن جوانی کی حسیں راتیں

٭٭٭

فلم: میرے ہم سفر

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آوازیں: لتا منگیشکر، مکیش

کسی راہ میں، کسی موڑ پر

کہیں چل نہ دینا تو چھوڑ کر، مرے ہمسفر، مرے ہمسفر

کسی حال میں، کسی بات پر

کہیں چل نہ دینا تو چھوڑ کر، مرے ہمسفر، مرے ہمسفر

میرا دل کہے کہیں یہ نہ ہو، نہیں یہ نہ ہو، نہیں یہ نہ ہو

کسی روز تجھ سے بچھڑ کے میں، تجھے ڈھونڈھتی پھروں دربدر

مرے ہمسفر، مرے ہمسفر

ترا رنگ سایا بہار کا، ترا روپ آئینہ پیار کا

تجھے آ نظر میں چھپا لوں میں، تجھے لگ نہ جائے کہیں نظر

مرے ہمسفر، مرے ہمسفر

ترا ساتھ ہے تو ہے زندگی، ترا پیار ہے تو ہے روشنی

کہاں دن یہ ڈھل جائے کیا پتہ، کہاں رات ہو جائے کیا خبر

مرے ہمسفر، مرے ہمسفر

٭٭٭

فلم: ملن

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: مکیش

مبارک ہو سب کو سماں یہ سہانا

میں خوش ہوں، میرے آنسوؤں پہ نہ جانا

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

ہزاروں طرح کے یہ ہوتے ہیں آنسو

اگر دل میں غم ہو تو روتے ہیں آنسو

خوشی میں بھی آنکھیں بھگوتے ہیں آنسو

انہیں جان سکتا نہیں یہ زمانا

میں خوش ہوں، میرے آنسوؤں پہ نہ جانا

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

یہ شہنائیاں دے رہی ہیں دہائی

کوئی چیز اپنی ہوئی ہے پرائی

کسی سے ملن ہے کسی سے جدائی

نئے رشتوں نے توڑا ناتا پرانا

میں خوش ہوں، میرے آنسوؤں پہ نہ جانا

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

میں تو دیوانہ دیوانہ دیوانہ

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، مکیش

مکیش: ساون کا مہینہ، پون کرے سور

لتا: پون کرے شور

مکیش: پون کرے سور

لتا: پون کرے شور

مکیش: ارے بابا شور نہیں سور، سور، سور

لتا: پون کرے سور

مکیش: ہاں، جیا را رے جھومے ایسے، جیسے بن ما ناچے مور

ہو ساون کا مہینہ پون کرے سور

جیا را رے جھومے ایسے

جیسے بن ما ناچے مور

موجوا کرے کیا جانے ہم کو اشارہ

جانا کہاں ہے پوچھے ندیا کی دھارا

مرضی ہے تمہاری، لے جاؤ جس اور

جیا را رے جھومے ایسے

جیسے بن ما ناچے مور

راما غضب ڈھائے یہ پرویّا

نیّا سنبھالو کت کھوئے ہو کھویا

پرویا کے آگے چلے نا کوئی زور

جیا را رے جھومے ایسے

جیسے بن ما ناچے مور

جن کے بلم بیری، گئے ہیں بدیسوا

لائی ہے جیسے ان کے پیار کا سندیسوا

کالی اندھیاری گھٹائیں گھنگھور

جیا را رے جھومے ایسے

جیسے بن ما ناچے مور

ساون کا مہینہ پون کرے سور

جیا را رے جھومے ایسے

جیسے بن ما ناچے مور

٭٭٭

فلم: نمک حرام

موسیقی: راہل دیو برمن

آواز: کشور کمار

ندیا سے دریا، دریا سے ساگر

ساگر سے گہرا جام

ندیا سے دریا، دریا سے ساگر

ساگر سے گہرا جام

ہو ہو ہو جام میں ڈوب گئی یاروں میرے جیون کی ہر شام

ہو ہو ہو جام میں ڈوب گئی یاروں میرے جیون کی ہر شام

ندیا سے دریا، دریا سے ساگر

ساگر سے گہرا جام

جو نہ پئے وہ کیا جانے، پیتے ہے کیوں ہم دیوانے یار اہا

جب سے ہم نے پینا سیکھا، جینا سیکھا مرنا سیکھا یار اہا

او ہم جب یوں نشہ میں ڈگمگانے لگ گئے

ہو ہو ہو دل کی بے چینی کو آیا تھوڑا سا آرام

ندیا سے دریا، دریا سے ساگر

ساگر سے گہرا جام

میرا کیا میں غم کا مارا، نشہ میں عالم ہے سارا یار اہا

کسی کو دولت کا نشہ، کہیں محبت کا نشہ یار اہا

او کہہ کر اے شرابی سب پکاریں اب مجھے

ہو ہو ہو اور کوئی تھا یہ تو نہیں تھا پہلے میرا نام

ندیا سے دریا، دریا سے ساگر

ساگر سے گہرا جام

٭٭٭

آواز: کشور کمار

دئے جلتے ہیں، پھول کھلتے ہیں

بڑی مشکل سے مگر دنیا میں لوگ ملتے ہیں

جب جس وقت کسی کا یار جدا ہوتا ہے

کچھ نہ پوچھو یارو دل کا حال برا ہوتا ہے

دل پہ یادوں کے جیسے تیر چلتے ہیں

دئے جلتے ہیں، پھول کھلتے ہیں

دولت اور جوانی ایک دن کھو جاتی ہے،

سچ کہتا ہوں ساری دنیا دشمن بن جاتی ہے

عمر بھر دوست لیکن ساتھ چلتے ہیں

دئے جلتے ہیں، پھول کھلتے ہیں

اس رنگ دھوپ پہ دیکھو ہرگز ناز نہ کرنا،

جان بھی مانگے یار تو دے دینا، ناراض نہ کرنا

رنگ اڑ جاتے ہیں، دھوپ ڈھلتے ہیں

دئے جلتے ہیں، پھول کھلتے ہیں

٭٭٭

فلم: پھول بنے انگارے

موسیقی: کلیان جی، آنند جی

آواز: مکیش

چاند آہیں بھرے گا پھول دل تھام لیں گے

حسن کی بات چلی تو سب ترا نام لیں گے

چاند آہیں بھرے گا

آنکھیں نازک سی کلیاں

بات مصری کی ڈلیاں

ہونٹ گنگا کے ساحل

زلفیں جنت کی گلیاں

تیری خاطر فرشتے، سر پہ الزام لیں گے

تیری خاطر فرشتے، سر پہ الزام لیں گے

حسن کی بات چلی تو سب ترا نام لیں گے

چاند آہیں بھرے گا

کچھ کہے گی ہوا بھی کچھ کہے گی گھٹا بھی

اور ممکن ہے تیرا ذکر کر دے خدا بھی

پھر تو پتھر ہی شاید، ضبط سے کام لیں گے

پھر تو پتھر ہی شاید، ضبط سے کام لیں گے

حسن کی بات چلی تو سب ترا نام لیں گے

چاند آہیں بھرے گا

چاند آہیں بھرے گا پھول دل تھام لیں گے

حسن کی بات چلی تو سب ترا نام لیں گے

چاند آہیں بھرے گا

٭٭٭

فلم: پیا کا گھر

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: کشور کمار

یہ جیون ہے اس جیون کا

یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے رنگ روپ

یہ جیون ہے اس جیون کا

یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے رنگ روپ

تھوڑے غم ہیں، تھوڑی خوشیاں

یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے چھاؤں دھوپ

یہ جیون ہے

یہ نہ سوچو اس میں اپنی ہار ہے کہ جیت ہے

یہ نہ سوچو اس میں اپنی ہار ہے کہ جیت ہے

اسے اپنا لو جو بھی جیون کی ریت ہے

یہ ضد چھوڑو، یوں نا توڑو ہر پل ایک درپن ہے

یہ جیون ہے

دھن سے نہ دنیا سے گھر سے نہ دوار سے

سانسوں کی ڈور بندھی ہے پریتم کے پیار سے

دنیا چھوٹے، پر نا ٹوٹے  یہ کیسا بندھن ہے

یہ جیون ہے

اس جیون کا یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے رنگ روپ

تھوڑے غم ہیں تھوڑی خوشیاں یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے چھاؤں دھوپ

یہ جیون ہے

٭٭٭

فلم: رضیہ سلطانہ

موسیقی: لچھی رام

آوازیں: محمد رفیع، آشا بھوسلے

ڈھلتی جائے رات، کہہ لے دل کی بات

شمع پروانے کا نہ ہو گا پھر ساتھ

مست نظارے، چاند ستارے، رات کے مہماں ہیں یہ سارے

اٹھ جائے گی شب کی محفل نور سحر کے سن کے نقارے

ہو نہ ہو دوبارہ ملاقات

ڈھلتی جائے رات، کہہ لے دل کی بات

نیند کے بس میں کھوئی کھوئی، کل دنیا ہے سوئی سوئی

ایسے میں بھی جاگ رہا ہے، ہم تم جیسا کوئی کوئی

کیا حسیں ہے تاروں کی بارات

ڈھلتی جائے رات، کہہ لے دل کی بات

جو بھی نگاہیں چار ہے کرتا، اس پہ زمانا وار ہے کرتا

راہِ وفا کا بن کے راہی، پھر بھی تمہیں دل پیار ہے کرتا

بیٹھا نہ ہو لے کے کوئی گھات

ڈھلتی جائے رات، کہہ لے دل کی بات

٭٭٭

فلم: شرافت

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: لتا منگیشکر

شریفوں کا زمانہ میں اجی بس حال وہ دیکھا

کہ شرافت چھوڑ دی میں نے

شرافت چھوڑ دی میں نے

محبت کرنے والوں کا یہاں انجام وہ دیکھا

کہ محبت چھوڑ دی میں نے

چھڑا کے ہاتھ اپنوں سے چلی آئی میں غیروں میں

پہن لی گھنگھروؤں کی پھر وہی زنجیر پیروں میں

میں گاؤں گی میں ناچوں گی اشاروں پہ ستمگاروں کے

بغاوت چھوڑ دی میں نے

شرافت چھوڑ دی میں نے

نہ ہیرا ہے نہ موتی ہے نہ چاندی ہے نہ سونا ہے

نہیں قیمت کوئی دل کی یہ مٹی کا کھلونا ہے

مری دیوانگی دیکھو کہ کہنا مان کے دل کا

یہ دولت چھوڑ دی میں نے

شرافت چھوڑ دی میں نے

٭٭٭

فلم: سہانا سفر

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: محمد رفیع

ساری خوشیاں ہیں محبت کی زمانہ کے لئے

میں نے تو پیار کیا آنسو بہانے کے لئے

ساری خوشیاں ہیں

کاش یہ جذبۂ دل کام تو آ جاتا کبھی

ان کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آ جاتا کبھی

یاد کر لیتے مجھے بھول ہی جانے کے لئے

ساری خوشیاں ہیں

خون دل خون جگر خون تمنا کے سوا

ساری دنیا میں مجھے رنگ نہ کوئی بھی ملا

اپنے ارمانوں کی تصویر بنانے کے لئے

ساری خوشیاں ہیں

٭٭٭

فلم: سیتا اور گیتا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: کشور کمار، آشا بھوسلے

ہوا کے ساتھ ساتھ

گھٹا کے سنگ سنگ

او ساتھی چل

مجھے لے کے ساتھ چل تو

یوں ہی دن رات چل تو

سنبھل میرے ساتھ چل تو

لے ہاتھوں میں ہاتھ چل تو

او ساتھی چل

ایک تو یہ موسم ہے بڑا سہانا

اپنا تو یہ دل بھی ہے دیوانہ

پربت سے آ کے نہ ٹکرا جانا

تو بن کے بادل

او ساتھی چل

ہنستی ہے یہ دنیا تو ہنسنے دے

ارے ناگن بن کر اس رت کو ڈسنے دے

مجھ کو اپنی آنکھوں میں بسنے دے

او بن کے کاجل

او ساتھی چل

اپنی ریشمی زلفیں لہرانے دے

مجھ کو اپنی بانہوں میں آنے دے

تھک گئی آج بہت میں اب جانے دے نا

ملیں گے پھر کل

او ساتھی چل۔۔۔۔

٭٭٭

فلم: ایک دوجے کے لئے

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آواز: لتا منگیشکر، ایس. پی. بال سبرامنیم

لتا: ہو، تیرے میرے بیچ میں

ہو، تیرے میرے بیچ میں

کیسا ہے یہ بندھن انجانا

کیسا ہے یہ بندھن انجانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

ایک ڈور کھینچے دوجا دوڑا چلا آئے

ایک ڈور کھینچے دوجا دوڑا چلا آئے

کچے دھاگے میں بندھا چلا آئے

ایسے جیسے کوئی ۔۔۔

ایسے جیسے کوئی، دیوانہ

ایسے جیسے کوئی، دیوانہ

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

ایس پی: ہو ہو آپڑیا

لتا: ہا ہا جیسے سب سمجھ گیا

پہنوں گی میں تیرے ہاتھوں سے کنگنا

پہنوں گی میں تیرے ہاتھوں سے کنگنا

جائے گی میری ڈولی تیرے ہی انگنا

چاہے کچھ کر لے ۔۔۔

چاہے کچھ کر لے زمانا

چاہے کچھ کر لے زمانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

ایس پی: نی رومبا اڑ گا ار کے

لتا: رمبا؟ یہ رمبا ممبا کیا ہے؟

اتنی زبانیں بولیں لوگ ہمجولی

اتنی زبانیں بولیں لوگ ہمجولی

دنیا میں پیار کی ایک ہے بولی

بولے جو شمع ۔۔۔

بولے جو شمع پروانا

بولے جو شمع پروانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

ایس پی: پروا الئے نلا پادرا

لتا: کیا؟

کیسا ہے یہ بندھن انجانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

ایک ڈور کھینچے دوجا دوڑا چلا آئے

ایک ڈور کھینچے دوجا دوڑا چلا آئے

کچے دھاگے میں بندھا چلا آئے

ایسے جیسے کوئی ۔۔۔

ایسے جیسے کوئی، دیوانہ

ایسے جیسے کوئی، دیوانہ

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

نیند نہ آئے مجھے چین نہ آئے

نیند نہ آئے مجھے چین نہ آئے

لاکھ جتن کر روک نہ پائے

سپنوں میں تیرا

ہو، سپنوں میں تیرا آنا جانا

میں نے نہیں جانا، تو نے نہیں جانا

تیرے میرے بیچ میں ۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

لتا: ہم بنے تم بنے ایک دوجے کے لئے

اس کو قسم لگے جو بچھڑ کے اک پل بھی جئے

ایس پی:

I don’t know what you say

I don’t know what you say

لتا: تم ہو بدھو جان لو

You are handsome

مان لو

سب باتوں کو چھوڑ کے آنکھوں کو پہچان لو

آنکھوں نے آنکھوں سے وعدے یہی کئے

اس کو قسم لگے ۔۔۔

ایس پی:

I don’t know what you say

I don’t know what you say

But I want to dance and play

But I want to dance and play

I want to play the game of love

I want you in the name of love

لتا:

Hey، come here

ایس پی:

Not here there up in the sky

Come with me I want to fly

Don’t stop let the whole world know

Come fast

Come fast

Don’t be slow

Life is fire love is snow

لتا:  عشق پر زور نہیں غالب نے کہا ہے اسی لئے

اس کو قسم لگے ۔۔۔

ایس پی:

I don’t know what you say

I don’t know what you say

لتا:

We are made for each other

سمجھے!

٭٭٭

آوازیں: ایس. پی. بال سبرامنیم، انورادھا پوڈوال

ایس پی: میرے جیون ساتھی، پیار کئے جا

انورادھا: واہ! واہ!

ایس پی: ہاں ہاں! میرے جیون ساتھی، پیار کئے جا

جوانی دیوانی

انورادھا: او و!

ایس پی: خوب صورت، ضدی، پڑوسن

ستیم شوم سندرم، ستیم شوم سندرم

ستیم شوم سندرم

انورادھا: جھوٹا کہیں کا!

ایس پی: جھوٹی کہیں کی؟ ہاں، ہرے راما ہرے کرشنا

انورادھا: دھت! چار سو بیس، آوارہ!

ایس پی: دل ہی تو ہے

انورتادھا: ہے!

س: عاشق ہوں بہاروں کا، تیرے میرے سپنے، تیرے گھر کے سامنے،

آمنے سامنے، شادی کے بعد!

انورادھا: شادی کے بعد؟ او باپ رے!

ایس پی: ہاں ہاں ہاں، ہاں! ہمارے تمہارے!

انو: کیا؟

ایس پی: منا، گڈی، ٹنکو، ملی، شن شناکی بوبلا بو،

کھیل کھیل میں شور! شور، شور ۔۔۔

انورادھا: بھول گئے؟

ایس پی : جانی میرا نام

انورادھا: اچھا؟

ایس پی: چوری میرا کام، جانی میرا نام، یو، چوری میرا کام

انورادھا: او!

ایس پی: رام اور شیام

انورداھا: دھت، بنڈل باز!

ایس پی: لڑکی، ملن، گیت گاتا چل، پیار کا موسم

انورادھا: بے شرم!

ایس پی: آہا ہاہاہاہا! پیار کا موسم

انورادھا: بے شرم ۔۔۔

ایس پی: ستیم شوم سندرم، ستیم شوم سندرم

ستیم شوم سندرم

میرے جیون ساتھی، پیار کئے جا

انورادھا: جا جا!

ایس پی: جوانی دیوانی

خوب صورت، ضدی، پڑوسن، ستیم شوم سندرم

عشق عشق عشق!

انورادھا: Naughty boy.

ایس پی: ہا ہا! عشق عشق عشق

انورادھا: Bluff master.

ایس پی: یہ راستے ہیں پیار کے، چلتے چلتے، میرے ہمسفر

انورادھا: آہ!

ایس پی: ہم سفر، دل تیرا دیوانہ، دیوانہ مستانہ،

چھلیا، انجانا

انورادھا: (ہنستی ہے) پگلا کہیں کا!

ایس پی: چھلیا، انجانا، عاشق، بیگانا، لوفر، اناڑی

بڑھتی کا نام داڑھی، چلتی کا نام گاڑی

بڑھتی کا نام داڑھی، چلتی کا نام گاڑی

جب پیار کسی سے ہوتا ہے، یہ صنم

انورادھا: او ہو!

ایس پی: جب یاد کسی کی آتی ہے، جانِ من

انورادھا: سچ؟

ایس پی: بندھن، کنگن، چندن، جھولا، چندن، کنگن، بندھن، جھولا، بندھن

جھولا، کنگن جھولا، چندن جھولا، جھولا جھولا جھولا جھولا

دل دیا درد لیا، جھنک جھنک پائل باجے،

چھم چھما چھم

گیت گایا پتھروں نے، سرگم، ستیم شوم سندرم

ستیم شوم سندرم، ستیم شوم سندرم

میرے جیون ساتھی، پیار کئے جا

انورادھا: چل چل!

ایس پی: جوانی دوانی، خوب صورت، ضدی، پڑوسن

ستیم شوم سندرم، ستیم شوم سندرم

Sing with me come on!

انورادھا، س: لا لا لا لا لا لا

ایس پی:

come on! Good!

دونوں: لا لا لا لا لا لا

٭٭٭

فلم: آن ملو سجنا

موسیقی: لکشمی کانت، پیارے لال

آوازیں: محمد رفیع، لتا منگیشکر، ساتھی

 

رنگ رنگ کے پھول کھلے ہیں

موہے بھائے کوئی رنگ نا

اب آن ملو سجنا

دیپک سنگ پتنگا ناچے

کوئی میرے سنگ نا

اب آن ملو سجنا ۔۔۔

آن ملو

سجنا سجنا سجنا سجنا ۔۔۔

ڈھوندتے توہے تاروں کے چھاؤں میں

کتنے کانٹے چبھے میرے پاؤں میں

تو نے صورت دکھائی نہ زالما

پردیسی ہوا رہ کے گاؤں میں

ہو ہو ہو ہو۔۔۔۔۔

اوئے شابا شابا

پریت میت بن سونا سونا

لاگے مورا انگنا

او اب آن ملو سجنا ۔۔۔

آن ملو

سجنا سجنا سجنا سجنا ۔۔۔

آئی باغوں میں پھولوں کی سواریاں

میلے کی ہو گئی سب تیاریاں

تیرا میرا ملن کب ہو گا

ملی پریتم سے سب پنہاریاں

ہو۔۔۔۔۔

اوئے شابا شابا

دور دور رہ کے جینے سے

میں آ جاؤں تنگ نا

او اب آن ملو سجنا ۔۔۔

آن ملو

سجنا سجنا سجنا سجنا ۔۔۔

کیسے پوچھوں میں پریم کی پہیلیاں

سنگ ہوتی ہیں تیری سہیلیاں

وے چنا کس دم کیا یہ سہیلیاں

میریا راتا نے گنیا اکیلیاں

ہو۔۔۔۔۔

او شابا شابا

رات رات بھر نیند نہ آئے

کھن کھن کھنکے کنگنا

او اب آن ملو سجنا ۔۔۔

آن ملو

سجنا سجنا سجنا سجنا ۔۔۔

٭٭٭

آوازیں: لتا منگیشکر، کشور کمار

 

لتا: اچھا تو ہم چلتے ہیں

کشور: پھر کب ملو گے

لتا: جب تم کہو گے

کشور: جمعرات کو

لتا: ہاں ہاں آدھی رات کو

کشور: کہاں؟

لتا: وہیں ۔۔۔۔ جہاں کوئی ۔۔۔ آتا جاتا۔۔۔۔  نہیں

اچھا تو ہم چلتے ہیں ۔۔۔

کشور: کسی نے دیکھا تو نہیں تمہیں آتے

لتا: نہیں میں آئی ہوں، چھپ کے چھپا کے

کشور: دیر کر دی بڑی

ذرا دیکھو تو گھڑی

لتا: اف فو، میری تو گھڑی بند ہے

کشور: تیری یہ ادا مجھے پسند ہے

لتا: دیکھو باتیں واتیں کر لو جلدی جلدی

پھر نہ کہنا ابھی آئی ابھی چل دی

کشور: تو آؤ پاس بیٹھیں پل دو پل

لتا: آج نہیں کل

کشور: یہ تو اک بہانا ہے

لتا: واپس گھر بھی جانا ہے

کشور: کتنی جلدی یہ دن ڈھلتے ہیں

ہائے! ٹاٹا ۔۔۔

لتا: اچھا تو ہم چلتے ہیں

کشور: پھر کب ملو گے

لتا: جب تم کہو گے

کشور: کل ملو یا پرسوں

لتا: پرسوں نہیں، نرسوں

کشور: کہاں؟

لتا: یہیں یہاں کوئی آتا جاتا نہیں

اچھا تو ہم چلتے ہیں ۔۔۔

کشور: اڑا ہے کس لئے تیرا رنگ گوری

لتا: ہماری پکڑی گئی ہے بس چوری

کشور: ۔ اچھا؟

لتا: رام جانے کیا ہو اب

کشور: کیسے ہوا یہ غضب

لتا: میرا آنچل جو ذرا ڈھل گیا

ساری دنیا کو پتہ چل گیا

کشور: کیسے کھیلیں گے اب آنکھ مچولی

لتا: لے جا آ کے میرے گھر سے میری ڈولی

کشور: تیرے گھر والے نہ کر دے انکار

لتا: سب ہیں تیار، سب ہیں تیار

کشور: سن لے پھر دل کی فریاد

لتا: بس باقی شادی کے بعد

پیا دیکھو، دئے جلتے ہیں

کشور: اچھا ۔۔۔

لتا: اچھا تو ہم چلتے ہیں ۔۔۔

٭٭٭

آواز: لتا منگیشکر

تیرے کارن، تیرے کارن

تیرے کارن میرے ساجن

جاگ کے پھر سو گئی

سپنوں میں کھو گئی

آگ لگے ساری دنیا کو

میں تیری ہو گئی رے بالم

تیرے کارن، تیرے کارن ۔۔۔

آ جا ۔۔۔

پریتم کتنا ہی بلائے

نہ جاؤں لاج نے روکا

پر آدھی رات میں اٹھ کے

اٹھ کے ملتے ہی موقع

یہ گئی وہ گئی

سپنوں میں کھو گئی

آگ لگے ساری دنیا کو ۔۔۔

نکلی یہ سوچ کے گھر سے

سیّاں سے مل آؤں گی

پل دو پل ٹھہر کے جلدی

میں واپس آ جاؤں گی

پیا ملن کو گئی

تو سپنوں میں کھو گئی

آگ لگے ساری دنیا کو ۔۔۔

رنگ لایا چوری چوری

یہ ملنا تیرا میرا

راتوں کا پتہ چلا نا

باتوں میں ہوا سویرا

ہائے! نیند میری تو گئی

سپنوں میں کھو گئی

آگ لگے ساری دنیا کو ۔۔۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل