ڈاؤن لوڈ کریں

تابش صدیقی کی فائلیں:

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

 

باز تدوین کردہ فائلیں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

 

نقش ہائے رنگ رنگ

 

فارسی شاعری اور اردو ترجمے کا انتخاب

 

 

انتخاب و ترجمہ

محمد وارث

مرتب

محمد تابش صدیقی

 

پیش لفظ

 

فارسی شاعری اپنے اندر معنی و خیال کی ایک دل نشیں دنیا رکھتی ہے۔ محمد وارث صاحب نے اس دنیا سے اپنے پسندیدہ اشعار منتخب کیے اور ان کے رواں اردو تراجم کے ذریعے ان کی لطافت قارئین تک پہنچائی۔ ان کے انتخاب میں ممتاز کلاسیکی شعرا کے ساتھ ایسے اہلِ سخن بھی شامل ہیں جن کا کلام عام قاری تک نسبتاً کم پہنچتا ہے۔

«نقش ہائے رنگ رنگ» انہی منتخب فارسی اشعار اور اردو تراجم کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا بنیادی مواد محمد وارث صاحب کے بلاگ «صریرِ خامۂ وارث» اور اردو محفل میں شائع ہونے والی ان کی تحریریں ہیں۔ کتاب کا نام ان کے فیس بک صفحے ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘  سے لیا گیا ہے۔

محمد وارث صاحب نے اپنے بلاگ ’’صریرِ خامۂ وارث‘‘ پر یونیکوڈ اردو کی ترویج کے لیے اس کے مندرجات کو نقل کرنے کی اجازت دی ہے، اور اپنی تحریروں، مضامین اور شاعری کی نقل کے وقت بطورِ مصنف اپنا نام درج کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کتاب میں ان کی تحریروں اور اردو تراجم کی نسبت انہی کے نام سے رکھی گئی ہے۔

حوالہ: صریرِ خامۂ وارث — بلاگ کی مستقل ہدایت

https://muhammad-waris.blogspot.com/p/blog-page.html

مطالعے میں سہولت کے لیے شعرا کو اس مجموعے میں ان کے منتخب اشعار کی تعداد کے لحاظ سے زیادہ سے کم کی ترتیب میں رکھا گیا ہے؛ مساوی تعداد کی صورت میں نام کی الف بائی ترتیب ملحوظ ہے۔ جہاں ایک شاعر کا نام مختلف صورتوں میں رائج ہے، وہاں ایک معروف صورت اختیار کی گئی ہے۔

اس کتاب کی تحقیق و تدوین میں مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات، بالخصوص چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)، سے مدد لی گئی۔ ان سے اردو محفل اور محمد وارث صاحب کے بلاگ پر موجود مواد کی تلاش، دستیاب متن کا تقابل، تکراری اندراجات کی نشاندہی، شاعر وار ترتیب، ایک ہی غزل کے منتشر اشعار کی یکجائی، اشاریہ سازی اور کتاب کے قابلِ تدوین مسودے کی تیاری میں معاونت حاصل کی گئی۔

 

محمد وارث — ایک تعارف

 

محمد وارث اسدؔ (۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء — ۱۵ دسمبر ۲۰۲۳ء) ان اہلِ ذوق میں سے تھے جنھوں نے ادب کو محض مطالعے یا تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی زندگی کا ایک مستقل اور محبوب مشغلہ بنا لیا۔ شاعری، علمِ عروض، تحقیقِ متن اور بالخصوص فارسی زبان و ادب سے ان کی غیر معمولی دل چسپی ان کے علمی و ادبی ذوق کا نمایاں ترین پہلو تھی۔ فارسی شاعری کے انتخاب اور اردو ترجمے کے سلسلے میں ان کی کاوشیں اردو کے ان قارئین کے لیے ایک قابلِ قدر سرمایہ ہیں جو فارسی زبان سے براہِ راست استفادہ نہیں کر سکتے۔

سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے محمد وارث کی رسمی تعلیم کا میدان تجارت اور کاروباری انتظامیات تھا۔ انھوں نے ایم بی اے کیا اور عملی زندگی میں تجارت کے شعبے سے وابستہ رہے، مگر ان کی اصل دل چسپی کتابوں، شاعری، زبان اور ادب سے تھی۔ مطالعے سے ان کی محبت محض پسندیدہ کتابوں تک محدود نہ تھی؛ وہ شعر کے معنی و مفہوم، زبان کی نزاکتوں، عروضی ساخت اور ادبی روایت کے مختلف پہلوؤں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ غالبؔ سے ان کی خصوصی عقیدت تھی اور اسی نسبت سے انھوں نے شاعری کے لیے اسدؔ تخلص اختیار کیا۔

فارسی زبان و ادب سے ان کی وابستگی محض ایک علمی دل چسپی سے کہیں بڑھ کر تھی۔ انھوں نے خود ایک موقع پر لکھا تھا:

’’فارسی شاعری میرا عشق ہے، اور ٹھانی تو یہی ہے کہ تا دمِ واپسیں میں ’عاشق‘ ہی رہوں گا۔‘‘

یہ الفاظ ان کے ذوق اور ادبی سرگرمیوں کی شاید سب سے جامع تعبیر ہیں۔ انھوں نے فارسی شاعری کے مطالعے، انتخاب اور ترجمے کو برسوں جاری رکھا اور اس کام میں قارئین کی تعداد، داد و تحسین یا شہرت کو بنیادی اہمیت نہیں دی۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق وہ اس وقت بھی فارسی شاعری کا ترجمہ کرتے تھے جب اسے پڑھنے اور پسند کرنے والے بہت کم تھے۔

محمد وارث فارسی شاعری کو برصغیر کے عظیم تہذیبی و ادبی ورثے کا ایک نہایت اہم حصہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اس ورثے سے دوری محض ایک زبان سے ناواقفیت نہیں بلکہ اپنی صدیوں پر محیط ادبی روایت کے ایک بڑے حصے سے محرومی تھی۔ اپنے بلاگ کے تعارف میں انھوں نے برصغیر میں فارسی شاعری کے عظیم الشان ورثے کے بتدریج ضائع ہونے پر تشویش ظاہر کی اور اس کی حفاظت کو اپنے بلاگ کے مقاصد میں شمار کیا۔ ان کی فارسی شاعری سے متعلق کاوشوں کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ وہ فارسی کے عمدہ اشعار اردو کے قارئین تک پہنچا کر دو زبانوں کے درمیان اس قدیم ادبی رشتے کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔

ان کی اس خدمت کا ایک اہم مرکز اردو محفل تھا، جہاں انھوں نے جون ء میں ’’انتخاب فارسی کلامِ غالب مع منظوم تراجم‘‘ اور ’’انتخاب فارسی کلامِ اقبال مع ‘‘ جیسے سلسلے شروع کیے۔ ان تحریروں میں وہ صرف اشعار اور ان کے تراجم پیش کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ حسبِ ضرورت شاعر کے فکری پس منظر، کلام کی خصوصیات اور اشعار کے مفہوم پر بھی روشنی ڈالتے تھے۔ خصوصاً اقبال کے فارسی کلام سے ان کی دل چسپی اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی تھی کہ اقبال کی شاعرانہ اور فکری عظمت کا مکمل ادراک ان کے فارسی کلام کے مطالعے کے بغیر ممکن نہیں۔

جنوری ء میں انھوں نے اردو محفل پر ’’خوبصورت فارسی اشعار مع ‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کیا، جو بعد میں فارسی شاعری سے دل چسپی رکھنے والے متعدد احباب کی شرکت سے ایک وسیع ادبی ذخیرے کی صورت اختیار کر گیا۔ اس سلسلے میں حافظ شیرازی، سعدی، مولانا روم، امیر خسرو، عبدالرحمٰن جامی، صائب تبریزی، عبدالقادر بیدل، فیضی، عرفی، غالب اور اقبال سمیت مختلف ادوار کے فارسی شعرا کا کلام پیش کیا گیا۔ محمد وارث نے خود بھی اس میں کثرت سے اشعار اور تراجم شامل کیے اور دوسرے اہلِ ذوق کی شرکت سے اسے ایک علمی و ادبی مکالمے کی صورت دینے میں کردار ادا کیا۔

ان کے تراجم کی ایک نمایاں خصوصیت اصل شعر کے مفہوم سے وفاداری اور اردو میں سادہ و واضح اظہار ہے۔ وہ عموماً فارسی شعر کا نثری ترجمہ کرتے تھے اور جہاں کسی لفظ، ترکیب یا خیال کی توضیح ضروری محسوس ہوتی، وہاں مختصر تشریح بھی شامل کر دیتے تھے۔ ان کا مقصد فارسی شعر کو اردو کے کسی نئے شعری سانچے میں ڈھالنے سے زیادہ اس کا مفہوم قاری تک پہنچانا تھا، تاکہ اصل شاعر کا خیال، جذبہ اور مدعا حتی الامکان اپنی درست صورت میں منتقل ہو سکے۔

ترجمے کے معاملے میں ان کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے کیے ہوئے تراجم کو بھی معنی کے اعتبار سے پرکھتے تھے۔ اگر کسی ترجمے میں اصل شعر کا مفہوم تبدیل ہو جاتا تو وہ اس کی نشان دہی کرتے اور درست مفہوم واضح کرنے کی کوشش کرتے۔ اسی طرح اشعار کی نسبت اور انتساب کے معاملے میں بھی انھیں احتیاط ملحوظ رہتی تھی۔ ان کے لیے کسی شعر کی خوب صورتی اپنی جگہ اہم تھی، لیکن شاعر کی درست شناخت اور اصل مفہوم تک رسائی بھی کم اہم نہ تھی۔

فارسی شاعری کے بڑے ناموں سے ان کی محبت کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کا انتخاب چند معروف شعرا تک محدود نہیں رہا۔ مختلف زمانوں اور دبستانوں کے شعرا کے کلام میں دل چسپی ان کے وسیع مطالعے کی عکاس ہے۔ فارسی ادب میں انھیں بالخصوص فیضی، بیدل، غالب اور اقبال پسند تھے، تاہم ان کے انتخاب میں دیگر بہت سے شعرا کے اشعار بھی ملتے ہیں۔ اس تنوع نے ان کے پیش کردہ فارسی کلام کو محض چند مشہور اشعار کی تکرار کے بجائے فارسی شاعری کے مختلف رنگوں سے آشنائی کا ذریعہ بنایا۔

ان کی ادبی سرگرمیوں کا ایک اور اہم مرکز ان کا بلاگ ’’صریرِ خامۂ وارث‘‘ تھا، جہاں فارسی اور اردو شاعری، تراجم، علمِ عروض، تقطیع اور دوسرے ادبی موضوعات پر ان کی تحریریں محفوظ ہیں۔ اردو یونیکوڈ کے فروغ سے انھیں خاص دل چسپی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اردو زبان اور اس کے ادبی سرمائے کی انٹرنیٹ پر موجودگی میں اضافہ ہو اور اہلِ ذوق کو معیاری ادبی مواد آسانی سے دستیاب ہو۔

فارسی شاعری کے حوالے سے ان کا فیس بک صفحہ ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نام غالب کے فارسی شعر سے مستعار تھا:

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ

اس صفحے پر انھوں نے فارسی کے منتخب اشعار اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیے۔ یوں فارسی شاعری کا وہ سرمایہ، جس تک رسائی کے لیے پہلے فارسی زبان سے واقفیت یا مخصوص کتابوں کا مطالعہ ضروری تھا، اردو کے عام ادب دوست قاری تک بھی پہنچنے لگا۔ یہ کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتخابِ شعر، ترجمہ اور ادبی ورثے کی ترویج، تینوں پہلوؤں کا حامل تھا۔

محمد وارث کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو ان کا علمی انکسار اور دوسرے اہلِ علم کی قدر دانی بھی تھی۔ اردو محفل میں ان کے مکالموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اختلافِ رائے میں بھی سنجیدگی اور شائستگی کو ملحوظ رکھتے تھے۔ علمِ عروض سے متعلق ان کی تحریریں اور مبتدی شعرا کی رہنمائی بھی ان کے ادبی ذوق کا اہم حصہ تھیں۔ وہ خود بھی شعر کہتے تھے، تاہم ان کی نمایاں علمی خدمات میں کلاسیکی شاعری کا مطالعہ، اس کی تفہیم اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوششیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

دسمبر ء میں ان کی وفات کے ساتھ اردو کی آن لائن ادبی دنیا ایک صاحبِ ذوق، کتاب دوست اور فارسی شاعری کے مخلص شیدائی سے محروم ہو گئی۔ تاہم ان کا علمی و ادبی سرمایہ اردو محفل، ان کے بلاگ اور دوسری آن لائن تحریروں میں آج بھی موجود ہے۔ اس منتشر مواد کو محفوظ کرنا، اس کی درست نسبت اور ترتیب کا اہتمام کرنا اور اسے قارئین کے سامنے قابلِ استفادہ صورت میں پیش کرنا ان کے کام سے حقیقی استفادے کی ایک صورت ہے۔

زیرِ نظر مجموعہ ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘ اسی جذبے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں محمد وارث کے منتخب کردہ فارسی کلام اور ان کے پیش کردہ اردو تراجم کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ مختلف مقامات پر بکھرا ہوا یہ ادبی سرمایہ ایک جگہ محفوظ ہو سکے اور فارسی سے شغف رکھنے والے موجودہ اور آئندہ قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔

محمد وارث نے فارسی شاعری سے اپنی محبت کا اظہار محض الفاظ میں نہیں کیا، بلکہ برسوں کے مطالعے، انتخاب اور ترجمے سے اسے ایک عملی صورت دی۔ ان کی اس خدمت کی قدر و قیمت کا اندازہ شاید آنے والے زمانوں میں زیادہ اچھی طرح ہو، جب ان کے تراجم کے ذریعے فارسی شاعری سے متعارف ہونے والے قارئین اس زبان کے وسیع و عریض ادبی جہان کی طرف متوجہ ہوں گے۔

فارسی شاعری ان کا عشق تھی، اور اس عشق کی ایک یادگار ان کے منتخب کیے ہوئے وہ اشعار اور تراجم ہیں جو اب بھی اہلِ ذوق کے لیے لطف و معنی کا سامان رکھتے ہیں۔

محمد تابش صدیقی

 

 

امیر خسرو دہلوی

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم

رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔

٭٭

ابر می بارد و من می شوم از یار جدا
چون
کنم دل بہ چنین روز ز دلدار جدا

برسات کا موسم ہے اور میں اپنے دوست سے جدا ہو رہا ہوں، ایسے (شاندار) دن میں، میں کس طرح اپنے دل کو دلدار سے جدا کروں۔

ابر باران و من و یار ستادہ بہ وداع
من جدا گریہ کناں، ابر جدا، یار جدا

برسات جاری ہے، میں اور میرا یار جدا ہونے کو کھڑے ہیں، میں علیحدہ گریہ و فریاد کر رہا ہوں، باراں علیحدہ برس رہی ہے، اور یار علیحدہ رو رہا ہے۔

سبزہ نوخیز و ہوا خرم و بستان سرسبز
بلبلِ روئے سیہ ماندہ ز گلزار جدا

تازہ تازہ اگا ہوا سبزہ اور دل خوش کرنے والی ہوا اور سرسبز باغ ہے، اور ایسے میں سیاہ چہرے والی بد قسمت بلبل گلزار سے جدا ہونے کو ہے

اے مرا در تہ ہر موی بہ زلفت بندے
چہ کنی بند ز بندم ہمہ یکبار جدا

اے میرے محبوب تو نے مجھ کو اپنی زلف کے ہر بال کی تہ کے نیچے باندھ لیا ہے، تو کیا باندھے گا جب تو مجھے یکبار ہی اس بند سے جدا کر دے گا۔

دیدہ از بہر تو خونبار شد، اے مردم چشم
مردمی کن، مشو از دیدۂ خونبار جدا

اے آنکھ، میری آنکھ کی پتلی تیرے لیے پہلے ہی خونبار ہو گئی ہے، مہربانی کر اب تو ان خون بہانے والی آنکھوں سے جدا نہ ہونا۔

نعمتِ دیدہ نخواہم کہ بماند پس ازیں
ماندہ چون دیدہ ازان نعمتِ دیدار جدا

میں نہیں چاہتا کہ اس کے بعد میری آنکھوں کی نعمت دیدار کی نعمت سے جدا رہے۔

حسنِ تو دیر نپاید چو ز خسرو رفتی
گل بسے دیر نماند چو شد از خار جدا

اے محبوب تیرا حسن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا، جب تو خسرو کے پاس سے چلا گیا کہ جب کوئی پھول کانٹے سے دور ہو جاتا ہے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا۔

٭٭

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا، میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو شکار کے لیے آئے گا۔

کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

عشق میں جو کشش ہے وہ تجھے اس طرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی، تو اگر میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔

بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آ جا کہ میں زندہ رہوں۔ اس کے بعد جب کہ میں زندہ نہ رہوں گا تو پھر تو کس کام کے لیے آئے گا۔

بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل و دین و جان سب چھین لیے ہیں، کیا ہو گا اگر تو اسی طرح دو تین بار آئے گا۔

٭٭

دلم در عاشقی آوارہ شُد، آوارہ تر بادا
تَنم از بیدِلی بیچارہ شد، بیچارہ تر بادا

میرا دل عاشقی میں آوارہ ہو گیا ہے، اور زیادہ آوارہ ہو جائے۔ میرا جسم بے دلی سے بیچارہ ہو گیا ہے، اور زیادہ بیچارہ ہو جائے۔

گر اے زاہد دعائے خیر می گوئی مرا ایں گو
کہ آں آوار
ۂ کوئے بتاں، آوارہ تر بادا

اگر اے زاہد تو میرے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو میرے لیے یہ کہہ کہ کوئے بتاں کا آوارہ، اور زیادہ آوارہ ہو جائے۔

دلِ من پارہ گشت از غم نہ زانگونہ کہ بہ گردد
اگر جاناں بدیں شاد است، یا رب پارہ تر بادا

میرا دل غم سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے اور اس طرح بھی نہیں کہ وہ ٹھیک ہو جائے، اگر جاناں اسی طرح خوش ہے تو یا رب میرا دل اور پارہ پارہ ہو جائے۔

ہمہ گویند کز خونخواریش خلقے بجاں آمد
من ایں گویم کہ بہرِ جانِ من خونخوارہ تر بادا

سبھی کہتے ہیں کہ اس کی خونخواری سے خلق کی جان تنگ ہو گئی ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ میری جان کے لیے وہ اور زیادہ خونخوار ہو جائے۔

چو با تر دامنی خو کرد خسرو با دوچشمِ تر
بہ آبِ چشمِ مژگاں دامنش ہموارہ تر بادا

اے خسرو، اگر تیری دو بھیگی ہوئی آنکھوں نے تر دامنی کو اپنی عادت بنا لیا ہے تو تیرا دامن آنکھوں کے آنسوؤں سے اور زیادہ بھیگ جائے۔

٭٭

کافرِ عشقم، مُسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ، حاجتِ زُنّار نیست

میں عشق کا کافر ہوں، مجھے مسلمانی درکار نہیں، میری ہر رگ تار تار ہو چکی ہے، مجھے زنار کی حاجت نہیں۔

از سرِ بالینِ من برخیز اے ناداں طبیب
درد مندِ عشق را دارُو بجز دیدار نیست

اے نادان طبیب میرے سرہانے سے اٹھ جا، عشق کے بیمار کو تو صرف دیدار ہی دوا ہے۔

شاد باش اے دل کہ فردا برسرِ بازارِ عشق
مژدۂ قتل است گر چہ وعدۂ دیدار نیست

اے دل تو خوش ہو جا کہ کل عشق کے بازار میں، قتل کی خوش خبری ہے اگرچہ دیدار کا وعدہ نہیں ہے۔

ناخدا در کشتیٔ ما گر نباشد، گو مباش
ما خدا داریم، ما را ناخدا درکار نیست

اگر ہماری کشتی میں ناخدا نہیں ہے تو کوئی ڈر نہیں کہ ہم خدا رکھتے ہیں اور ہمیں ناخدا درکار نہیں۔

خلق می گوید کہ خسرو بُت پرستی می کُند
آرے آرے می کنم، با خلق ما را کار نیست

خلق کہتی ہے کہ خسرو بت پرستی کرتا ہے، ہاں ہاں، میں بت پرستی کرتا ہوں مجھے خلق سے کوئی کام نہیں ہے۔

٭٭

عاشق شدم و محرمِ ایں کار ندارم
فریاد کہ غم دارم و غم خوار ندارم

میں عاشق تو ہو گیا ہوں مگر اس کام کا میرے پاس کوئی محرم راز نہیں ہے، فریاد ہے کہ مجھے غم تو ہے لیکن کوئی غم خوار نہیں ہے۔

آں عیش، کہ یاری دہدم صبر، ندیدم
واں بخت، کہ پرسش کندم یار ندارم

میرے پاس نہیں ہے وہ عیش کہ یار مجھے صبر دے، میرے پاس نہیں ہے وہ قسمت کہ یار خود میرا حال پوچھے۔

بسیار شدم عاشقِ دیوانہ ازیں پیش
آں صبر کہ ہر بار بُد ایں بار ندارم

اس سے پہلے بھی میں بہت دفعہ عاشق و دیوانہ ہوا، لیکن وہ صبر جو ہر بار حاصل تھا، اب کے نہیں ہے۔

دل پُر ز غم و غصۂ ہجرست ولیکن
از تنگ دلی طاقتِ گفتار ندارم

دل ہجر کے غم و غصے سے پر تو ہے لیکن تنگدلی کی وجہ سے مجھے طاقتِ گفتار نہیں ہے۔

خوں شد دلِ خسرو ز نگہداشتنِ راز
چوں ہیچ کسے محرمِ اسرار ندارم

راز کی حفاظت کر کر کے خسرو کا دل خون ہو گیا ہے لیکن افسوس کہ کوئی بھی محرمِ اسرار نہیں ہے۔

٭٭

نیست در شہر گرفتار تر از من دِگَرے
نبُد از تیرِ غم افگار تر از من دِگَرے

پورے شہر میں کوئی اور شخص مجھ جیسا گرفتار نہیں ہے، غموں کے تیر سے کوئی اور مجھ جیسا زخمی نہیں ہے۔

بر سرِ کُوئے تو، دانم، کہ سگاں بسیار اند
لیک بنمائی وفادار تر از من دِگَرے

میں جانتا ہوں کہ تیرے کوچے میں بہت سے سگ ہیں لیکن ان میں کوئی بھی مجھ سا وفادار نہیں ہے۔

کارواں رفت و مرا بارِ بلائے در دل
چوں رَوَم، نیست گرانبار تر از من دِگَرے

کارواں چلا گیا اور میرے دل میں جدائی کا بوجھ ڈال گیا، کس طرح چلوں کہ کوئی اور مجھ سا گراں بار نہیں ہے۔

خسروَم، بہرِ بُتاں کُوئے بکو سرگرداں
در جہاں بود نہ بیکار تر از من دِگَرے

میں خسرو ہوں اور کو بکو بتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں، اس جہاں میں مجھ سا بیکار کوئی نہیں ہے۔

٭٭

منم بہ خانہ تن اینجا و جاں بجائے دگر
بہ دل تُوئی و سخن بر زباں بجائے دگر

میرا جسم یہاں پر ہے اور جان کسی اور جگہ پر ہے۔ دل میں تو تُو ہی ہے اور زبان پر بات کسی اور جگہ کی ہے۔

بہ بوستاں رَوَم از غم، ولے چہ سود کہ ہست
دلم بجائے دگر، بوستاں بجائے دگر

غم کی وجہ سے میں باغ میں چلا جاتا ہوں لیکن کیا فائدہ کہ میرا دل تو کسی اور جگہ ہے اور باغ کسی اور جگہ۔

کُجا بہ کُوئے تو ماندِ نسیمِ باغِ بہشت
زمینست جائے دگر، آسماں بجائے دگر

بہشت کے باغ کی ہوا تیرے کوچے کی مانند کس طرح ہو سکتی ہے کہ زمین کسی اور جگہ پر ہے اور آسمان کسی اور جگہ۔

نشاں ز کوئے تو پرسند و من ز بس غیرت
تو جائے دیگر و گویم نشاں بجائے دگر

تیرے کوچے کا پتہ مجھ سے پوچھتے ہیں اور میں غیرت کی وجہ سے کسی اور جگہ کا پتہ بتا دیتا ہوں جبکہ تو ہے کسی اور جگہ۔

مگو کہ یارِ دگر کن، کنم اگر بینم
لطافتے کہ تو داری ہماں بجائے دگر

یہ مت کہہ کے کوئی اور دوست بنا لے۔ میں بنا ہی لوں اگر دیکھوں تیرے جیسی لطافت کسی اور جگہ۔

بگو، چگونہ تواں گفت زندہ خسرو را
کہ اُو بجائے دگر ماند و جاں بجائے دگر

تو خود ہی بتا کہ خسرو کو کس طرح زندہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تو کسی اور جگہ ہے اور اس کی جان کسی اور جگہ۔

٭٭

از من آں کامیاب را چہ غمست
زیں شبِ ماہتاب را چہ غمست

اس کامیاب (محبوب) کو مجھ سے کیا غم ہے، ماہتاب کو رات کا غم کب ہوتا ہے۔

ذرّہ ہا گر شوند زیر و زبر
چشم
ۂ آفتاب را چہ غمست

اگر تمام ذرے زیر و زبر بھی ہو جائیں تو سورج کے چشمے کو ان کے زیر و زبر ہونے کا کیا غم ہے۔

گر بسوزد ہزار پروانہ
مشعلِ خانہ تاب را چہ غمست

اگر ہزار پروانے بھی جل مریں تو گھر کو روشن کرنے والی مشعل کو اس کا کیا غم ہے۔

خرمنِ من کہ گشت خاکستر
آتشِ پُر عذاب را چہ غمست

میری جان کی کھیتی جل کر راکھ ہو گئی مگر عذاب سے پُر آگ کو اس کا کیا غم ہے۔

گر مرا نیست خوابے اندر چشم
چشمِ آں نیم خواب را چہ غمست

اگر میری آنکھوں میں نیند نہیں رہی تو اس کا اس نیم خواب آنکھوں (والے) کو کیا غم ہے۔

خسرو ار جاں دہد تو دیر بزی
ماہی ار میرد آب را چہ غمست

خسرو تو جان دیتا ہے لیکن تو دیر تک زندہ رہ کہ مچھلی کے مرنے کا پانی کو کیا غم۔

٭٭

جاں ز تن بُردی و در جانی ہنوز
درد ہا دادی و درمانی ہنوز

تُو میرے جسم سے دل کو نکال کر لے گیا لیکن اس کے اندر جان ابھی باقی ہے، تو نے بہت درد دیئے لیکن ان کا علاج ابھی باقی ہے۔

آشکارا سینہ ام بشگافتی
ہمچناں در سینہ پنہانی ہنوز

تو نے میرے سینے کو پھاڑ دیا ہے لیکن ابھی تک تُو اسی طرح میرے سینے میں پوشیدہ ہے۔

مُلکِ دل کردی خراب از تیغِ ناز
داندریں ویرانہ سلطانی ہنوز

اپنی تیغِ ناز سے تُو نے میرے دل کے ملک کو ویران کر دیا لیکن اس ویرانے میں ابھی تک تیری ہی حکمرانی ہے۔

ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

تو نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے، اپنا نرخ بڑھا کہ یہ ابھی تک ارزاں ہے۔

جور کردی سالہا چوں کافراں
بہرِ رحمت نامسلمانی ہنوز

کافروں کی طرح تو نے سال ہا سال ظلم و ستم کئے لیکن رحمت کے لیئے ابھی تک نا مسلمانی موجود ہے۔

جاں ز بندِ کالبد آزاد گشت
دل بہ گیسوئے تو زندانی ہنوز

جان جسم کی قید سے آزاد ہو گئی ہے لیکن دل ابھی تک تیری زلفوں کی قید میں ہے۔

پیری و شاہد پرستی نا خوش است
خسروا تا کے پریشانی ہنوز

وقتِ پیری شاہد پرستی اچھی بات نہیں، خسرو تو کب تک اس پریشانی سے دوچار رہے گا کہ جو ابھی تک ہے۔

٭٭

(دیگر)

من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔

٭٭

گفتی اندر خواب گہہ گہہ روئے خود بنمایمَت
ایں سخن بیگانہ را گو، کاشنا را خواب نیست

تُو نے کہا کہ میں گاہے گاہے خواب میں آ کر تجھے اپنا چہرہ دکھاؤں گا، ایسی باتیں بیگانوں سے کہہ کیونکہ جو تیرا آشنا ہے اُس کے لیے نیند ہی کب ہے۔

٭٭

زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اس کی زبان میرے منہ میں ہو۔

٭٭

عمرے بہ گردِ کوئے تو گشتم چو بیدلاں
نے دل بہ دستم آمد و نے آرزوئے دل

ساری عمر میں نے بیدل (عاشق) لوگوں کی طرح تیرے کوچے میں گھُومتے ہوئے گزار دی، لیکن نہ ہی دل میرے ہاتھ میں آیا اور نہ ہی دل کی کوئی آرزو۔

٭٭

زہے شادی کہ اُو آید، ببیند حالِ من، لیکن
من ایں شادی نمی خواہم کہ اُو غمناک خواہد شد

زہے یہ خوشی کہ وہ (میرے پاس) آئے اور میرا حال دیکھے، لیکن میں ایسی خوشی نہیں چاہتا کہ وہ (میرا حال دیکھ کر) غمناک ہو جائے گا۔

٭٭٭

علامہ محمد اقبال

(پیامِ مشرق، غزل (فریبِ کشمکشِ عقل))

فریبِ کشمَکَشِ عقل دیدنی دارَد
کہ میرِ قافلہ و ذوقِ رہزنی دارد

عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے کی چیز ہے کہ یہ قافلہ کی امیر ہے لیکن رہزنی کا ذوق رکھتی ہے، یعنی راہنمائی کا دعویٰ کرتی ہے اور غلط راستہ پر ڈالتی ہے۔

نشانِ راہ ز عقلِ ہزار حیلہ مپرس
بیا کہ عشق کمالے ز یک فنی دارد

راستے کا نشان ہزار حیلے بنانے والی عقل سے مت پوچھ۔ آ اور عشق سے پوچھ کہ یہ ایک فن کا کمال رکھتا ہے، یعنی منزل کا نشان اور راستہ عشق ہی بتا سکتا ہے۔

فرنگ گرچہ سخن با ستارہ میگویَد
حذر کہ شیوۂ اُو رنگِ جوزنی دارَد

فرنگ اگرچہ ستاروں سے گفتگو رکھتا ہے لیکن اس سے بچو کہ اس کا طریقہ جادوگری کا رنگ رکھتا ہے۔

ز مرگ و زیست چہ پرسی دریں رباطِ کہن
کہ زیست کاہشِ جاں، مرگ جانکنی دارَد

موت اور حیات کے بارے میں کیا پوچھتے ہو کہ اس پرانی سرائے یعنی دنیا میں زندگی، جان کے آہستہ آہستہ گھلنے کا اور موت جسم سے جان کو نکالنے کا نام ہے۔

سرِ مزارِ شہیداں یکے عناں درکش
کہ بے زبانیِ ما حرفِ گفتنی دارد

ہم شہیدوں کے مزار کے پاس ذرا باگ روک کہ ہماری بے زبانی بھی گفتگو کا حرف رکھتی ہے۔

دگر بدشتِ عرب خیمہ زن کہ بزمِ عجم
مے گذشتہ و جام شکستنی دارد

ایک دفعہ پھر عرب کے صحرا میں خیمہ لگا کہ عجم کی بزم وہ شراب ہے جو فرسودہ ہو چکی اور اس کے جام توڑنے کے قابل ہیں۔

نہ شیخِ شہر، نہ شاعر، نہ خرقہ پوش اقبال
فقیر راہ نشین است و دل غنی دارد

اقبال نہ شیخِ شہر ہے، نہ شاعر اور نہ ہی خرقہ پوش صوفی وہ تو راستے میں بیٹھنے والا فقیر ہے لیکن دل غنی رکھتا ہے۔

٭٭

(جاوید نامہ، مناجات)

ما ترا جوئیم و تو از دیدہ دور
نی غلط، ما کور و تو اندر حضور

ہم تجھے ڈھونڈ رہے ہیں اور تو آنکھوں سے دور ہے، نہیں نہیں یہ غلط ہے، ہم اندھے ہیں تو تُو سامنے ہے۔

٭٭

یا کشا ایں پردۂ اسرار را
یا بگیر ایں جانِ بے دیدار را

یا تو ان بھیدوں کے پردے کو ہٹا دے، یا پھر اس جان کو جو تیرے دیدار سے محروم ہے واپس لے لے۔

٭٭

نخلِ فکرم نا امید از برگ و بر
یا تبر بفرست یا بادِ سحر

میرے فکر کا درخت برگ و بار سے محروم ہے، یا تو اس کے لیے کلہاڑا بھیج دے یا پھر بادِ سحر۔

٭٭

عقل دادی ہم جنونے دِہ مرا
رہ بجذبِ اندرونے دِہ مرا

تو نے مجھے عقل دی ہے، مجھے جنوں بھی دے۔ مجھے اپنے اندرونی جذب تک کا راستہ عطا کر۔

٭٭

علم در اندیشہ می گیرد مقام
عشق را کاشانہ قلبِ لا ینام

علم فکر کے اندر مقام رکھتا ہے۔ عشق کا گھر ایسا دل ہے جو سوتا نہیں، جو دلِ بیدار ہے۔

٭٭

علم تا از عشق برخوردار نیست
جز تماشہ خانۂ افکار نیست

علم جب تک عقل سے پھل کھانے والا، فیض اٹھانے والا نہیں ہے، وہ افکار کے تماشہ خانہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

٭٭

ایں تماشہ خانہ سحرِ سامری است
علم بے رُوح القدس افسونگری است

یہ تماشہ خانہ سامری کا جادو ہے۔ علم روح القدس کے بغیر جادو گری ہے۔

٭٭

بے تجلّی مردِ دانا رہ نبُرد
از لکد کوبِ خیالِ خویش مُرد

دانا مرد نے تجلی کے بغیر راستہ نہ چلا اور نادان خیالوں کی دولتیوں سے مر گیا۔

٭٭

بے تجلّی زندگی رنجوری است
عقل مہجوری و دیں مجبوری است

تجلی کے بغیر، زندگی غم اور تکلیف، عقل دوری اور دین مجبوری ہے۔

٭٭

(پیامِ مشرق، محاورۂ خدا و انسان)

جہاں را ز یک آب و گِل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی

میں نے یہ جہان ایک ہی پانی اور مٹی سے پیدا کیا تھا، تو نے اس میں ایران و توران و حبش بنا لیے۔

من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی

میں نے خاک سے خالص فولاد پیدا کیا تھا، تو نے اس سے شمشیر و تیر و توپ بنا لیے۔

تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را

تو نے اس سے چمن کے درخت کاٹنے کے لیے کلہاڑا بنا لیا، نغمہ گاتے ہوئے پرندوں کے لیے قفس بنا لیا۔

تو شب آفریدی، چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم

تو نے رات بنائی میں نے چراغ بنا لیا۔ تو نے مٹی بنائی میں نے اس سے پیالہ بنا لیا۔

بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم

تو نے بیابان، پہاڑ اور میدان بنائے۔ میں نے اس میں خیابان، گلزار اور باغ بنا لیے۔

من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم

میں وہ ہوں کہ پتھر سے آئینہ/شیشہ بناتا ہوں، میں وہ ہوں کہ زہر سے شربت/تریاق بناتا ہوں۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غزل (صد نالۂ شب گیری))

 

صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے

رات بھر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں آفت لانے والی صبحیں، سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اور ایک دل کو لبھانے والا شعر ایک طرف۔

در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوَت چیست؟
آں تیشۂ فرہادے، ایں حیلۂ پرویزے

عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔

با پردگیاں بر گو کایں مشتِ غبارِ من
گردیست نظر بازے، خاکیست بلا خیزے

فرشتوں سے کہہ دو کہ میری یہ مشتِ غبار، ایک گرد ہے لیکن نظر رکھنے والی، ایک خاک ہے لیکن طوفان اٹھانے والی۔

ہوشم برد اے مطرب، مستم کند اے ساقی
گلبانگِ دل آویزے از مرغِ سحر خیزے

اے مطرب میرے ہوش اڑا دیتی ہے، اے ساقی مجھے مست کر دیتی ہے، سحر کے وقت پرندے کی دل کو لبھانے والی آواز۔

از خاکِ سمرقندے ترسم کہ دگر خیزد
آشوبِ ہلاکوے، ہنگامۂ چنگیزے

میں ڈرتا ہوں کہ پھر اٹھے گا سمرقند کی خاک سے، ہلاکو خان کا فتنہ اور چنگیز خان کا ہنگامہ۔

مطرب غزلے بیتے از مرشدِ روم آور
تا غوطہ زند جانم در آتشِ تبریزے

اے مطرب مرشدِ روم کی کوئی غزل، کوئی شعر لا، تاکہ میری جان شمس تبریز کی آگ میں غوطہ زن ہو۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غزل (فرقی ننہد عاشق))

فَرقے نہ نہد عاشق در کعبہ و بتخانہ
ایں جلوتِ جانانہ، آں خلوتِ جانانہ

عاشق کعبہ اور بت خانہ میں کوئی فرق روا نہیں رکھتا، اس کے لیئے یہ (بت خانہ) اگر محبوب کی جلوت ہے تو وہ (کعبہ) محبوب کی خلوت ہے۔

شادم کہ مزارِ من در کوئے حرم بستند
راہے ز مژہ کاوم از کعبہ بہ بتخانہ

میں خوش ہوں کہ میرا مزار کعبہ کے کوچے میں ہے، میں اپنی پلکوں سے کعبہ سے بت خانہ تک کا راستہ بنا رہا ہوں۔

از بزمِ جہاں خوشتر، از حُور و جناں خوشتر
یک ہمدمِ فرزانہ و ز بادہ دو پیمانہ

دنیا کی محفل اور حور و جنت سے بہتر ہے ایک عقل مند دوست کا ملنا اور اس کے ساتھ بادہ کے دو پیمانے پینا۔

ہر کس نگہے دارَد، ہر کس سُخَنے دارَد
در بزمِ تو می خیزَد، افسانہ ز افسانہ

ہر شخص اپنی نگاہ رکھتا ہے، ہر کوئی اپنی (ہی) بات رکھتا ہے، تیری بزم میں (جب تیرا ذکر چلتا ہے) تو بات سے بات نکلتی ہی چلی جاتی ہے۔

ایں کیست کہ بر دلہا آوردہ شبیخونے؟
صد شہرِ تمنّا را یغما زدہ تُرکانہ

یہ کون ہے کہ جس نے دلوں پر شب خون مارا ہے اور تمناؤں کے سینکڑوں شہروں کو ترکوں کی طرح حملہ کر کے لوٹ لیا ہے۔

در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
یزداں بہ کمند آور اے ہمّتِ مردانہ

میرے جنون کے بیابان میں جبریل تو ایک ادنیٰ شکار ہے، اے ہمتِ مردانہ خدا پر کمند ڈال۔

اقبال بہ منبر زد رازے کہ نہ باید گفت
نا پختہ بروں آمد از خلوتِ میخانہ

اقبال نے منبر پر (سرِ عام) وہ راز کہہ دیا ہے جو کہ نہیں کہنا چاہیئے تھا، وہ (شاید) میخانہ کی خلوت سے خام نکلا ہے۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غلامی)

آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِ قباد و جَم کرد
یعنی از خوئے غلامی ز سگاں خوار تر است
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد

آدمی اپنی بے بصری (اپنی حقیقت سے بے خبری) کی بنا پر آدمی کی غلامی کرتا ہے، وہ (آزادی و حریت) کا گوہر تو رکھتا ہے لیکن اسے قباد و جمشید (بادشاہوں) کی نذر کر دیتا ہے۔

یعنی اس غلامی کی عادت میں وہ کتوں سے بھی زیادہ خوار ہو جاتا ہے، (کیونکہ) میں نے نہیں دیکھا کہ (کبھی) کسی کتے نے دوسرے کتے کے سامنے سر خم کیا ہو۔

٭٭

(زبورِ عجم، بہ خوانندۂ کتاب)

می شَوَد پردۂ چشم پرِ کاہے گاہے
دیدہ ام ہر دو جہاں را بنگاہے گاہے

کبھی تو گھاس کا ایک تنکا میری آنکھوں کا پردہ بن جاتا ہے اور کبھی میں ہر دو جہاں کو ایک نگاہ میں دیکھ لیتا ہوں۔

وادیِ عشق بسے دور و دراز است ولے
طے شود جاد
ۂ صد سالہ بآہے گاہے

عشق کی وادی یا منزل بڑی دور و دراز ہے لیکن کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ سو سال کا راستہ ایک آہ میں طے ہو جاتا ہے۔

در طلب کوش و مدہ دامنِ امید ز دست
دولتے ہست کہ یابی سرِ راہے گاہے

طلب میں لگا رہ اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ، یہ ایک ایسی دولت ہے کہ کبھی سرِ راہ ہاتھ آ جاتی ہے۔

٭٭

(ارمغانِ حجاز)

دلے در سینہ دارم بے سرورے
نہ سوزے در کفِ خاکم، نہ نورے
بگیر از من کہ بر من بارِ دوش است
ثوابِ ایں نمازِ بے حضورے

میں اپنے سینے میں بے سرور دل رکھتا ہوں، میری مٹی کی مٹھی میں یعنی جسم میں نہ سوز ہے اور نہ ہی نور۔

مجھ سے واپس لے لے کہ میرے کندھوں کا بوجھ بنا ہوا ہے، اس بے حضور نماز کا ثواب۔

٭٭

(جاوید نامہ، طاسینِ گوتم)

چشمِ مخمور و نگاہِ غلط انداز و سرود
ہمہ خوب است ولے خوشتر ازاں چیزے ہست

مست آنکھیں، غلط انداز نگاہیں اور رنگ و رامِش (ہاں) سب کچھ بہت خوب ہے لیکن اس سے بھی بہتر کوئی چیز (موجود) ہے!

٭٭

متاعِ طاعتِ خود را ترازوئے بر افرازد
ببازارِ قیامت با خدا سوداگری کردہ

زاہد اور عابد اپنی اطاعت کے خزانے کو ترازو میں تولتے ہیں گویا قیامت کے بازار میں خدا کے ساتھ سوداگری کرتے ہیں۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غزل (می تراشد فکر ما))

می تَراشَد فکرِ ما ہر دم خداوندے دِگر
رَست از یک بند تا افتاد دَر بندے دگر

ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا تراشتی ہے، جب وہ ایک قید سے نکلتی ہے تو کسی اور قید میں گرفتار ہو جاتی ہے۔

٭٭

(بانگِ درا، «میں اور تو»)

بہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نیست
تو گر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شُد؟

اس گلستان (کائنات) میں کسی بھی چیز کو قرار نہیں ہے، (آج) تو اگر بہار ہے اور ہم خزاں ہیں تو پھر کیا ہوا؟

٭٭

(پیامِ مشرق، حکمت و شعر)

بوعلی اندر غبارِ ناقہ گم
دستِ رومی پرد
ۂ محمل گرفت

بوعلی سینا اونٹنی کے غبار میں گم ہو گیا اور رومی نے کجاوہ کا پردہ پکڑ لیا۔

ایں فرو تر رفت و تا گوہر رسید
آں بگردابے چو خس منزل گرفت

رومی سمندر میں گہرا اتر گیا اور گوہر تک پہنچ گیا۔ سینا نے تنکے کی طرح بھنور میں ہی منزل اختیار کر رکھی۔

حق اگر سوزی ندَارَد حکمت است
شعر میگردَد چو سوز از دل گرفت

حق میں اگر سوز نہیں ہے تو وہ حکمت، ہے فلسفہ ہے، لیکن جب وہ دل سے سوز حاصل کرتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غزل (صورت نپرستم))

در بُود و نبودِ من، اندیشہ گماں ہا داشت
از عشق ہویدا شد ایں نکتہ کہ ہستم من

میرے ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں عقل بہت سے اور طرح طرح کے گمان رکھتی تھی، لیکن یہ نکتہ عشق سے ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔

٭٭

(زبورِ عجم؛ جاوید نامہ، طاسینِ گوتم)

مئے دیرینہ و معشوقِ جواں چیزے نیست
پیشِ صاحب نَظَراں حور و جَناں چیزے نیست

پرانی شراب اور جوان معشوق کوئی چیز نہیں ہے، صاحبِ نظر کے سامنے حور اور جنت کچھ بھی نہیں ہے۔

٭٭

(پیامِ مشرق، غزل (مرا ز دیدۂ بینا))

اگر نہ بوالہوسی با تو نکتۂ گویم
کہ عشق پختہ تر از نالہ ہائے بے اثر است

اگر تُو ہوس پرست نہیں ہے تو میں تجھے ایک نکتہ بتاؤں کہ عشق بے اثر نالوں سے پختہ تر ہو جاتا ہے۔

٭٭

(ارمغانِ حجاز، قطعہ)

بیا تا کار این امت بسازیم
قمار زندگی مردانہ بازیم
چنان نالیم اندر مسجدِ شہر
کہ دل در سین
ۂ ملّا گدازیم

آؤ تا کہ اس امت کے (بگڑے ہوئے) کام سنواریں، زندگی کی بازی مردانہ وار کھیلیں۔ شہر کی مسجد میں اس طرح نالہ و فریاد کریں کہ ملّا کے سینے میں دل کو گداز کر دیں۔

٭٭

(پیامِ مشرق، حیاتِ جاوید)

گماں مبر کہ بپایاں رسید کارِ مغاں
ہزار باد
ۂ نا خوردہ در رگِ تاک است

یہ خیال نہ کر کہ کارِ مغاں ختم ہو چکا ہے، (ابھی تک) ہزاروں (قسم کی) نہ پی گئیں شرابیں انگور کی بیل میں ہیں۔

٭٭

(پس چہ باید کرد، قندھار و زیارتِ خرقۂ مبارک)

وقت است کہ بکشائم مے خانۂ رومی باز
پیرانِ حرَم دیدم در صحنِ کلیسا مست

(اب) وقت ہے کہ میں رومی کا میخانہ دوبارہ کھولوں (کیونکہ) میں نے حرم کے پیروں کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے۔

٭٭

(زبورِ عجم)

گرفتم ایں کہ جہاں خاک و ما کفِ خاکیم
بہ ذرّہ ذرّۂ ما دردِ جستجو ز کجاست؟

میں نے جان لیا، مان لیا کہ یہ جہان خاک سے ہے اور ہم بھی فقط ایک مُشتِ خاک ہی ہیں لیکن ہمارے ذرے ذرے میں یہ جو دردِ جستجو ہے یہ کہاں سے ہے؟

٭٭٭

صائب تبریزی

در لباس از خونِ بلبل جامہ رنگیں می کندئ
ہر کہ صائب می زند بر گوش
ۂ دستار گُل

(اصل میں) بلبل کے خون سے اپنے لباس میں جامے کو رنگین کرتا ہے، اے صائب، ہر وہ کہ جو( ٹہنی سے توڑ کر) اپنے گوشۂ دستار میں پھول سجاتا ہے۔

٭٭

زبانِ لاف رُسوا می کند ناقص کمالاں را
کہ رُو بر خاک مالد پرفشانی بستہ بالاں را

جو لوگ اپنے فن میں ناقص ہوں (کامل نہ ہوں) اُن کو شیخی مارنا رُسوا ہی کرتا ہے کہ جیسے جس پرندے کے پر بندھے ہوئے ہوں اور وہ اُڑنے کی کوشش کرے تو اُس کا منہ خاک پر رگڑا جاتا ہے۔

٭٭

گر ببینی ناکساں بالا نشیند صبر کن
روئے دریا کف نشیند، قعرِ دریا گوہر است

اگر تُو دیکھے کہ نااہل اور نالائق لوگ رتبے میں تجھ سے بلند ہیں تو صبر کر، کیونکہ سمندر کے اوپر جھاگ ہوتی ہے اور گوہر سمندر کی تہہ میں ہوتا ہے۔

٭٭

آبِ خضر و مئے شبانہ یکیست
مستی و عمرِ جاودانہ یکیست

آبِ حیات اور رات کی شراب ایک ہی چیز ہیں، مستی اور عمرِ جاودانہ ایک ہی چیز ہیں۔

بر دلِ ماست چشم خوباں را
صد کماندار را نشانہ یکیست

ہمارے ہی دل پر خوباؤں کی نظر ہے، سینکڑوں کمانداروں کے لیے نشانہ ایک ہی ہے۔

٭٭

پیشِ آں چشمہائے خواب آلود
نالہٴ عاشق و فسانہ یکیست

اُن خواب آلود آنکھوں کے سامنے، عاشق کا نالہ و فریاد اور افسانہ ایک ہی چیز ہیں۔

کثرتِ خلق، عین توحید است
خوشہ چندیں ہزار و دانہ یکیست

مخلوق کی کثرت عین توحید ہے کہ خوشے چاہے ہزاروں ہوں دانہ تو ایک ہی ہے۔

پلہٴ دین و کفر چوں میزان
دو نماید، ولے زبانہ یکیست

دین اور کفر کے پلڑے ترازو کی طرح دو ہیں لیکن ان کی سوئی تو ایک ہی ہے۔

عاشقے را کہ غیرتے دارد
چینِ ابرو و تازیانہ یکیست

غیرت مند عاشق کے لیے، محبوب کی چینِ ابرو اور تازیانہ ایک ہی چیز ہیں۔

پیشِ مرغِ شکستہ پر صائب
قفس و باغ و آشیانہ یکیست

صائب، پر شکستہ پرندے کے لیے، قفس اور باغ اور آشیانہ ایک ہی چیز ہیں

٭٭

روزگارِ زندگانی را بہ غفلت مگزراں
در بہاراں مست و در فصلِ خزاں دیوانہ شو

زندگی کے دن غفلت میں مت گزار، موسمِ بہار میں مست ہو جا اور خزاں میں دیوانہ۔

٭٭

مرا ز روزِ قیامت غمے کہ ہست، اینست
کہ روئے مردُمِ عالم دوبارہ باید دید

روزِ قیامت کا مجھے جو غم ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کے لوگوں کا چہرہ دوبارہ دیکھنا پڑے گا۔

٭٭

اظہارِ عجز پیشِ ستم پیشگاں خطاست
اشکِ کباب باعثِ طغیانِ آتش است

ستم پیشہ، ظالم لوگوں کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا غلطی ہے کیونکہ کباب سے گرنے والے قطرے آگ کو مزید بھڑکا دیتے ہیں۔

٭٭

از عالمِ پُرشور مجو گوہرِ راحت
کایں بحر بجز موجِ خطر ہیچ ندارد

فتنہ و فساد و شورش و آشوب سے بھرے عالم میں راحت کے موتی مت تلاش کر کہ اِس دریا میں موجِ خطر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

٭٭

رنگِ شکستہ را بہ زباں احتیاج نیست
صائب عبث چہ دردِ خود اظہار می کُنی

اُڑے ہوئے رنگ کو زبان سے اظہار کی ضرورت نہیں ہے، صائب تُو کیوں عبث ہی اپنے درد کا اظہار کرتا ہے۔

٭٭

مشکل است از کوئے اُو قطعِ نظر کردَن مرا
ورنہ آسان است از دنیا گزر کردن مرا

اُس کے کُوچے کی طرف سے میرا قطعِ نظر کرنا مشکل (نا ممکن) ہے، ورنہ دنیا سے گزر جانا تو میرے لیے بہت آسان ہے۔

٭٭

می شوند از گردشِ چشمِ بُتاں زیر و زبرئ
عشقبازاں را غمے از گردشِ افلاک نیست

وہ تو چشمِ بتاں کی گردش سے ہی زیر و زبر ہو جاتے ہیں، عاشقوں کو گردشِ افلاک کا تو کوئی غم نہیں ہے۔

٭٭

یادگارِ جگرِ سوختۂ مجنوں است
لالۂ چند کہ از دامنِ صحرا برخاست

مجنوں کے سوختہ جگر کی یادگار ہیں، وہ چند لالے کے پھول جو صحرا کے دامن میں کھلتے ہیں۔

٭٭

چندیں ہزار شیشۂ دل را بہ سنگ زد
افسانہ ایست ایں کہ دلِ یار نازک است

اُس نے تو ہزاروں شیشے جیسے دل پتھر پر دے مارے اور توڑ دیے، یہ بات کہ محبوب کا دل بڑا نازک ہے، افسانہ ہی ہے۔

٭٭

ما ز غفلت رہزناں را کارواں پنداشتیم
موجِ ریگِ خشک را آبِ رواں پنداشتیم

ہم نے اپنی غفلت سے لٹیروں کو ہی کارواں سمجھ لیا اور خشک ریت کی موج (سراب) کو ہی آبِ رواں سمجھ لیا۔

٭٭

صائب از گردِ خجالت، شدہ در خاک نہاں
موجۂ رحمتِ دریائے عطائے تو کجاست

صائب شرمندگی کی گرد سے خاک میں جا چھُپا ہے، تیری عطا کے دریا کی موجِ رحمت کہاں ہے؟

٭٭

گُل چہ می دانَد کہ سیرِ نکہتِ اُو تا کجاست
عاشقاں را از سرانجامِ دلِ شیدا مپرس

پھُول کیا جانے کہ اُس کی خوشبو کہاں کہاں تک پہنچتی ہے، لہٰذا عاشقوں سے اُن کے دلِ شیدا کے سرانجام کے بارے میں کچھ مت پوچھ۔

٭٭

اگرچہ وعدۂ خوباں وفا نمی دانَد
خوش آں حیات کہ در انتظار می گذرَد

اگرچہ خوباں کا وعدہ، وفا ہونا نہیں جانتا (وفا نہیں ہوتا، لیکن) میں اس زندگی سے خوش ہوں کہ جو (تیرے) انتظار میں گزر رہی ہے۔

٭٭

یادِ رخسارِ ترا در دل نہاں داریم ما
در دلِ دوزخ، بہشتِ جاوداں داریم ما

تیرے رخسار کی یاد دل میں چھپائے ہوئے ہیں یعنی دوزخ جیسے دل میں ایک دائمی بہشت بسائے ہوئے ہیں۔

٭٭

در چشمِ پاک بیں نبوَد رسمِ امتیاز
در آفتاب، سایۂ شاہ و گدا یکے است

نیک (منصف؟) نگاہیں ایک کو دوسرے سے فرق نہیں کرتیں (کہ) دھوپ میں بادشاہ اور فقیر کا سایہ ایک (جیسا ہی) ہوتا ہے۔

بے ساقی و شراب، غم از دل نمی روَد
ایں درد را طبیب یکے و دوا یکے است

ساقی اور شراب کے بغیر غم دل سے نہیں جاتا کہ اس درد (دردِ دل) کا طبیب بھی ایک ہی ہے اور دوا بھی ایک۔

صائب شکایت از ستمِ یار چوں کند؟
ہر جا کہ عشق ہست، جفا و وفا یکے است

صائب یار کے ستم کی شکایت کیوں کریں کہ جہاں جہاں بھی عشق ہوتا ہے وہاں جفا اور وفا ایک ہی (چیز) ہوتے ہیں۔

٭٭

پاک طینت را کمالے نیست دانشور شدن
ہیچ حاجت نیست خاکِ کربلا را زر شدن

پاک طینت، نیک سرشت، اچھی فطرت والے کے لیے کوئی کمال نہیں ہے کہ وہ دانشور بھی ہو جائے، جیسے کربلا کی خاک کو کسی قسم کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ سونے کی بن جائے۔

بر ضعیفاں ظلم کردن ظلم بر خود کردن است
شعلہ ہم بے بال و پر شد تا خس و خاشاک سوخت

کمزور لوگوں پر ظلم کرنا دراصل خود اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، جب خس و خاشاک جل گئے تو (اُن کو جلانے والا) شعلہ خود بھی کمزور اور ناتواں ہو گیا اور بجھ گیا۔

٭٭٭

سعدی شیرازی

(بوستان، نعتِ رسولِ اکرم ﷺ)

خدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کنی خاتمہ
اگر دعوتم رد کنی، ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام

اے خدا حضرت فاطمہؓ کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا۔

چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر، کہ میں آلِ رسولﷺ کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔

سعدی ناتمام و حقیر آپﷺ کا کیا وصف بیان کرے، اے نبیﷺ آپ پر صلوۃ و سلام ہو۔

کسے را کہ شیطاں بَوَد پیشوا
کجا باز گردد براہِ خدا

جس کا راہ نُما شیطان ہو، وہ کب خدا کی راہ پر واپس آتا ہے۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

برگِ درختانِ سبز پیش خداوند ہوش
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار

صاحبِ عقل و دانش کے سامنے سبز درختوں کا ایک ایک پتا کردگار کی معرفت کے لیے ایک بڑی کتاب ہے۔

٭٭

من اگر ہزار خدمت بکنم گناہگارم
تو ہزار خون ناحق بکنی و بے گناہی

میں اگر ہزار خدمت بھی کروں تو پھر بھی گناہگار ہوں اور تُو ہزاروں خون ناحق کرتا ہے اور پھر بھی بے گناہ ہے۔

٭٭

گر بہ تیغم بزنی با تو مرا خصمی نیست
خصم آنم کہ میانِ من و تیغت سپر است

اگر تُو مجھ پر تلوار چلائے تو تیرے ساتھ میری کچھ دشمنی نہیں ہے، میں تو اُس کا دشمن ہوں کہ جو میرے اور تیری تلوار کے درمیان سپر بنے۔

٭٭

(گلستان، دیباچہ)

دو چیز طیرۂ عقل است، دَم فرو بستن
بوقتِ گفتن و گفتن بوقتِ خاموشی

دو چیزیں عقل کے لیے سبکی اور شرمساری کا باعث ہیں، چُپ رہنا بولنے کے وقت، اور بولنا چُپ رہنے کے وقت۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، طیبات، غزل)

دیدۂ سعدی و دل ہمراہِ تست
تا نہ پنداری کہ تنہا می روی

سعدی کے دیدہ و دل تیرے ہمراہ ہیں، تا کہ تجھے یہ خیال نہ آئے (تو یہ نہ سوچے) کہ تُو تنہا جا رہا ہے (تنہا ہے)۔

٭٭

(گلستان، دیباچہ)

بگفتا من گِلے ناچیز بُودم
و لیکن مدّتے با گُل نشستم

اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گُل کے ساتھ نشست رہی ہے۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

گُل نسبتے ندارد، با روئے دلفریبَت
تو درمیانِ گُل ہا، چوں گُل میانِ خارے

پھُول تیرے دلفریب چہرے کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں رکھتا کیونکہ تُو پھولوں کے درمیان ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی پھُول کانٹوں کے درمیان۔

٭٭

باز آ کہ در فراقِ تو چشمِ اُمیدوار
چوں گوشِ روزہ دار بر اللہ اکبر است

واپس آ جا کہ تیری جدائی میں، میری منتظر اور اُمیدوار آنکھوں کی بالکل وہی حالت ہے جیسی افطار کے وقت اللہ اکبر (اذان) کا انتظار کرتے ہوئے روزہ دار کے کانوں کی ہوتی ہے۔

٭٭

بہ لالہ زار و گلستاں نمی روَد دلِ من
کہ یادِ دوست گلستان و لالہ زار من است

میرا دل لالہ زار اور گلستان کی طرف نہیں جاتا کہ دوست کی یاد ہی میرا گلستان اور لالہ زار ہے۔

٭٭

خواہی کہ دگر حیات یابم
یکبار بگو کہ "کشتۂ ماست”

اگر تُو چاہے کہ مجھے دوسری بار زندگی مل جائے تو بس ایک بار کہہ دے کہ "یہ ہمارا مارا ہوا ہے”۔

٭٭

(گلستان، دیباچہ)

گِلے خوش بوئے در حمّام روزے
رسید از دستِ مخدومے بہ دستم

ایک دن حمام میں، ایک مہربان کے ہاتھ سے مجھ تک ایک خوشبودار مٹی پہنچی۔

٭٭

(بوستان، باب نہم، حکایت)

عجب نیست در خاک اگر گُل شگفت
کہ چندیں گُل اندام در خاک خُفت

اگر خاک میں سے پھُول کھلتے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ بہت سے گُل اندام (پھولوں جیسے بدن والے) اِسی خاک میں سوئے ہوئے ہیں۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

برگِ تر خشک می شَوَد بہ زماں
برگِ چشمانِ ما ہمیشہ تر است

سرسبز پتے وقت کے ساتھ سُوکھ جاتے ہیں، لیکن ہماری آنکھوں کے برگ ہمیشہ تر اور سرسبز ہی رہتے ہیں۔

٭٭

گرچہ لایق نبوَد دستِ من و دامنِ تو
ہر کجا پائے نہی فرقِ سر آں جا دارم

چونکہ میرے ہاتھ تیرے دامن کے لایق نہیں ہیں سو تُو جہاں کہیں بھی اپنے پاؤں رکھتا ہے میں وہاں اپنی پیشانی رکھ دیتا ہوں۔

٭٭

گر دوست واقف است کہ بر من چہ می روَد
باک از جفائے دشمن و جورِ رقیب نیست

اگر دوست اِس بات سے واقف ہے کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تو پھر مجھے دشمنوں اور رقیبوں کے جور و جفا کا کوئی ڈر نہیں ہے، کوئی پروا نہیں ہے۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، طیبات، غزل)

سارباں آہستہ رو، آرامِ جاں در محمل است
اشتراں را بار بر پشت است و ما را بر دل است

اے ساربانو، آہستہ چلو کہ ہمارا آرامِ جاں، ہمارا محبوب محمل میں ہے، اُونٹوں کی تو پشت پر بوجھ ہے اور ہمارے دل پر بوجھ ہے۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

مرا بہ ہیچ بدادی و من ہنوز بر آنم
کہ از وجودِ تو موئے بعالمے نفروشم

تُو نے مجھے ایسے ہی بغیر کسی چیز کے بدلے میں دے دیا (بیچ دیا) اور میں ابھی بھی اسی پر (قائم) ہوں کہ تیرے وجود کا ایک بال بھی ساری دنیا کے بدلے میں نہ بیچوں۔

٭٭

بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مَجو
در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما

وفات کے بعد میری قبر زمین میں تلاش مت کرنا، کہ عارف لوگوں کے سینوں میں میرا مزار ہے۔

٭٭

(گلستان، باب ہشتم، حکمت)

گر از بسیطِ زمیں عقل منعدم گردد
بخود گماں نبرد ہیچ کس کہ نادانم

اگر روئے زمین سے عقل معدوم بھی ہو جائے تو پھر بھی کوئی شخص اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرے گا کہ میں نادان ہوں۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

گر دِلے داری بہ دلبَندی بَدہ
ضایع آں کشور کہ سلطانیش نیست

اگر دل رکھتا ہے تو اسے کسی دلدار کو دے دے، ضایع ہو جاتی ہے وہ سلطنت کہ جسکا کوئی سلطان نہ ہو۔

دردِ عشق از تندرستی خوشترست
گرچہ بیش از صبر درمانیش نیست

عشق کا درد تندرستی سے بہتر ہے اگرچہ صبر سے آگے (صبر کے سوا) اس کا کوئی درمان نہیں ہے۔

٭٭

اِمروز روئے یار بسے خوبتر از دیست
اِمسال کارِ من بتر از پار بنگرید

آج کے دن میرے محبوب کا چہرہ کل کے مقابلے میں بہت زیادہ خوبصورت (لگ رہا) ہے، اِس سال میرا حال پچھلے سال کے مقابلے میں اور بھی زیادہ خراب دیکھنا۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، بدایع، غزل)

دیدہ را فائدہ آں است کہ دلبر بیند
ور نہ بیند چہ بوَد فائدہ بینائی را

آنکھوں کا فائدہ اور حاصل یہ ہے کہ وہ دلبر کو دیکھیں اور اگر نہ دیکھیں تو پھر بینائی کا کیا بھی فائدہ۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، غزل)

ملکا، مہا، نگارا، صنما، بُتا، بہارا
متحیرم ندانم کہ تو خود چہ نام داری

اے (خوباں کے) سُلطان، اے چاند، اے محبوب، اے صنم، اے بُت، اے بہار، (تجھے میں کس کس نام سے پکارتا ہوں لیکن پھر بھی) حیران ہوں اور نہیں جانتا کہ تیرا اپنا نام کیا ہے۔

٭٭

(دیوانِ سعدی، بدایع، غزل)

بر حدیثِ من و حُسنِ تو نیفزاید کس
حد ہمیں است سخن دانی و زیبائی را

میرے کلام اور تیرے حُسن سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھ سکتا، سخن دانی اور زیبائی کی حد بس یہی ہے۔

٭٭٭

حافظ شیرازی

میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
تو خود حجابِ خودی حافظ از میاں بر خیز

عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے اے حافظ تو خود اپنے لیے اپنا پردہ ہے سو درمیان سے اٹھ جا۔

٭٭

خلل پزیر بَوَد ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبّت کہ خالی از خلل است

خلل پذیر (بگاڑ والی) ہے ہر وہ بنیاد جو کہ تُو دیکھتا ہے، ما سوائے مَحبّت کی بنیاد کہ وہ (ہر قسم کے) خلل سے خالی ہے۔

٭٭

حافظ اگر سجدہ تو کرد مکن عیب
کافرِ عشق اے صنم گناہ ندارد

حافظ نے اگر تجھے سجدہ کیا تو کوئی عیب نہیں کہ اے صنم عشق کے کافر پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

٭٭

در شبِ ہجراں مرا پروانۂ وصلے فرست
ورنہ از آہے جہانے را بسوزانم چو شمع

شبِ ہجر میں میرے پاس وصل کا کوئی پروانہ بھیج ورنہ شمع کی طرح (اپنی) آہوں سے میں جہان کو جلا ڈالوں گا۔

٭٭

تو و طُوبیٰ و ما و قامتِ یار
فکرِ ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست

تُو ہے اور طُوبیٰ ہے (تجھے جنت کا خیال ہے)، میں ہوں اور دوست کا قد (مجھے اس کے دیدار کا خیال ہے)، ہر کسی کی فکر اس کی ہمت کے اندازے کے مطابق ہوتی ہے۔

دورِ مجنوں گذشت و نوبتِ ماست
ہر کسے پنج روزہ نوبتِ اوست

مجنوں کا دور گذر گیا اور اب ہمارا وقت ہے، ہر کسی کا پانچ (کچھ) دنوں کے لیے دور ہے۔

٭٭

شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں ہائل
کُجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا

اندھیری رات ہے، اور موج کا خوف ہے اور ایسا خوفناک بھنور ہے۔ ساحلوں کے بے فکرے اور ان کی سیر کرنے والے، ہمارا حال کیسے جان سکتے ہیں؟

٭٭

خموش حافظ و از جورِ یار نالہ مکُن
ترا کہ گفت کہ بر روئے خوب حیراں باش

حافظ خاموش رہ اور یار کے ظلم سے نالاں نہ ہو، تجھ سے کس نے کہا تھا کہ خوبصورت چہرے پر عاشق ہو جا۔

٭٭

آنکس است اہلِ بشارت کہ اشارت دانَد
نکتہ ہا ہست بسے، محرمِ اسرار کجاست

اہلِ بشارت وہ ہے کہ جو اشاروں کو سمجھے، بتانے کو نکتے تو بہت سے ہیں لیکن محرمِ اسرار کہاں ہے؟

حافظ از بادِ خزاں در چمنِ دہر مرنج
فکرِ معقول بفرما، گلِ بے خار کجاست

حافظ، زمانے کے چمن میں خزاں کی ہوا سے رنج نہ کر، صحیح بات سوچ، بغیر کانٹے کے پھول کہاں ہے؟

٭٭

در کوئے نیک نامی ما را گذر ندادَند
گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا را

نیک نامی کے کوچے سے ہمیں گزرنے نہ دیا گیا، اگر تمھیں یہ بات پسند نہیں ہے، یعنی ہمارا نیک نام نہ ہونا تو پھر تقدیر کو تبدیل کر دو۔

٭٭

ہر روز دِلَم بَزیرِ بارے دِگرست
دَر دیدۂ من ز ہجر خارے دگرست
مَن جہد ہَمی کُنَم، قضا می گویَد
بیروں ز کفایتِ تو کارے دِگرست

ہر روز میرا دل ایک نئے بوجھ کے تلے ہے، (ہر روز) میری آنکھ میں ہجر کا ایک نیا کانٹا ہے۔ میں جد و جہد کرتا ہوں اور تقدیر کہتی ہے، تیرے بس سے باہر ایک اور کام ہے۔

٭٭

با مَردَمِ نیک بَد نَمی بایَد بُود
در بادیہ دیو و دَد نَمی بایَد بُود
مَفتُونِ معاشِ خود نَمی بایَد بُود
مغرور بَعقلِ خود نَمی بایَد بُود

نیک لوگوں کے ساتھ برا نہیں بننا چاہیئے، جنگل میں شیطان اور درندہ نہیں بننا چاہیئے، اپنی روزی کا دیوانہ نہیں بننا چاہیئے، (اور) اپنی عقل پر مغرور نہیں بننا چاہیئے۔

گُفتی کہ بہ مہ نَظَر کُن و انگار مَنَم
روئے تو ام آرزوست، مہ را چہ کُنَم
مہ چُوں تو کُجا بُود کہ اندر ماہے
یک شب چو رُخَت باشد و باقی چو تَنَم

تو نے کہا کہ چاند کو دیکھ لوں اور سمجھ لے کہ میں ہوں۔ (لیکن) مجھے تو تمھارے چہرے کی آرزو ہے میں چاند کو کیا کروں۔ چاند تجھ جیسا کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ تو ایک مہینے میں، (صرف) ایک رات (چودھویں کی) تمھارے چہرے کی طرح ہوتا ہے اور باقی راتوں میرے جسم کی طرح (نحیف و نزار و لاغر)۔

اوّل بہ وفا جامِ وصالَم دَر داد
چُوں مست شُدَم دامِ جفا را سَر داد
با آبِ دو دیدہ و پُر از آتشِ دل
خاکِ رہِ اُو شُدَم بہ بادَم دَر داد

پہلے تو وفا سے مجھے وصال کا جام دیا، جب میں مست ہو گیا تو جفا کا جال ڈال دیا، دو روتی ہوئی آنکھوں اور آگ بھرے دل کے ساتھ، جب میں اس کی راہ کی خاک بنا تو مجھے ہوا میں اڑا دیا۔

نیکیِ پیرِ مُغاں بیں کہ چو ما بَدمستاں
ہر چہ کردیم، بچشمِ کَرَمش زیبا بُود

پیرِ مغاں کی نیکی تو دیکھ کہ ہم جیسے بد مستوں نے، جو کچھ بھی کیا وہ اس کی نگاہِ کرم میں اچھا (مناسب) تھا۔

نگویَمَت کہ ہمہ سال مے پرستی کُن
سہ ماہ مے خور و نُہ ماہ پارسا می باش

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ سارا سال مے پرستی کرو، تین مہینے شراب پیو اور نو مہینے پارسا بن۔

٭٭

عشقت نہ سرسری ست کہ از سر بدَر شَوَد
مہرت نہ عارضی ست کہ جائے دگر شود

تیرا عشق سرسری نہیں ہے کہ ہمارے سر سے نکل جائے گا، تیری محبت عارضی نہیں ہے کہ کسی دوسری جگہ چلی جائے گی۔

٭٭

وفا کنیم و ملامت کشیم و خوش باشیم
کہ در طریقتِ ما کافری ست رنجیدن

ہم وفا کرتے ہیں، ملامت سہتے ہیں اور خوش رہتے ہیں کہ ہماری طریقت میں رنجیدہ ہونا کفر ہے۔

آناں کہ خاک را بنظر کیمیا کنند
آیا بوَد کہ گوشۂ چشمے بما کنند

وہ کہ جو نظر ڈال کر خاک کو کیمیا کر دیتے ہیں، کاش کہ وہ ایک گوشۂ چشم ہماری طرف بھی کر دیں۔

بسوخت حافظ و در شرطِ عشق و جانبازی
ہنوز برسرِ عہد و وفائے خویشتن است

حافظ جل گیا لیکن عشق اور جانبازی کی شرط میں ابھی تک اپنے عہد و پیمان اور وفا پر قائم ہے۔

کُجَا رَوَم، چہ کُنَم، حالِ دل کرا گویَم
کہ گشتہ ام ز غم و جورِ روزگار ملول

کہاں جاؤں، کیا کروں، حالِ دل کس سے کہوں، کہ اِس زمانے کے ظلم و ستم اور غم کے ہاتھوں میں سخت ملول ہو گیا ہوں۔

مے بے غش است دریاب، وقتے خوش است بشتاب
سالِ دگر کہ دارد، امّیدِ نو بہارے

بغیر ملاوٹ کے (خالص) مے ہے، حاصل کر لے، اچھا وقت ہے، جلدی کر لے، اگلے سال نو بہار کی امید کون رکھے (کہ اگلا سال کس نے دیکھا ہے)۔

با صبا در چمنِ لالہ سحر می گفتم
کہ شہیدانِ کہ اند ایں ہمہ خونی کفناں

لالہ کے چمن میں، صبح کے وقت میں نے بادِ صبا سے پوچھا کہ یہ سارے خونی کفن والے کس کے شہید ہیں؟

ثوابِ روزہ و حجِ قبول آنکس بُرد
کہ خاکِ میکدۂ عشق را زیارت کرد

روزے کا ثواب اور حج کی مقبولیت بس وہی شخص لے گیا کہ جس نے میکدۂ عشق کی خاک کی زیارت کی۔

قصرِ فردوس بہ پاداشِ عمل می بخشند
ما کہ رندیم و گدا، دیرِ مغاں ما را بس

جنت کا محل اعمال کے صلے میں عطا کرتے ہیں، لیکن چونکہ ہم رند اور گدا ہیں سو ہمارے لیے دیرِ مغاں ہی کافی ہے (کہ یہی سب کچھ ہے)۔

٭٭٭

سرمد شہید

چوں پیر شدم گناہ گردید جواں
بشگفت گُلِ داغ بہنگامِ خزاں
ایں لالہ رخاں، طفل مزاجم کردند
گہ متّقیَم، گاہ سراپا عصیاں

جب میں بوڑھا ہوا تو میرے گناہ جوان ہو گئے۔ گویا عین خزاں میں گلِ داغ کھل اٹھا۔ ان لالہ رخوں نے میرا مزاج بچوں جیسا کر دیا ہے کہ کبھی تو میں متقی ہوں اور کبھی سراپا گنہگار۔

ہستی بہ نظر، چہ شد اگر پنہانی
ایں رازِ نہفتہ را تو ہم می دانی
چوں شمع ز فانوس نمائی خود را
پیوستہ دریں لباسِ خود عریانی

تو میری نظر میں موجود ہے کیا ہوا اگر تو پنہاں ہے۔ اور یہ راز میرے ساتھ ساتھ تُو بھی جانتا ہے۔ جیسے شمع اگر فانوس میں بھی ہو تو نمایاں ہوتی ہے تو بھی ایسے ہی نمایاں ہے، تیرے اس لباس یعنی مستور ہونے سے بھی تیری عریانی یعنی ظاہر ہونا پیوستہ ہے۔

چیزے کہ من از جہاں بجاں می طلبم
جاں را بسلامت ز جہاں می طلبم
از مردمِ دنیا و ز دنیا شب و روز
دیگر ہوَسم نیست، اماں می طلبم

وہ چیز کہ جو دنیا سے میں اپنی جان کے لیے چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ میری جان اس دنیا سے محفوظ رہے۔ دنیا والوں سے اور اس دنیا سے شب و روز مجھے کسی اور چیز کی ہوس اور طلب نہیں ہے مگر یہ کہ میں (دنیا اور دنیا والوں کے شر سے) امان میں رہوں۔

سرمد اگرش وفاست خود می آید
گر آمدنش رواست خود می آید
بیہودہ چرا درپئے اُو می گردی
بنشیں، اگر اُو خداست خود می آید

سرمد اگر وہ با وفا ہے تو خود ہی آئے گا۔ اگر اس کا آنا روا اور ممکن ہے تو وہ خود ہی آئے گا۔ تُو کاہے اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، آرام سے بیٹھ رہ، اگر وہ خدا ہے تو خود ہی آئے گا۔

سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔

سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مَکُن
در کوچۂ شک چو گمرہاں سیر مَکُن
ہاں شیوہٴ بندگی ز شیطان آموز
یک قبلہ گزیں و سجدۂ غیر مَکُن

سرمد تو کعبے اور بُتخانے کی باتیں مت کر، شک و شبہات کے کوچے میں گمراہوں کی طرح سیر مت کر، ہاں تو بندگی کا شیوہ شیطان سے سیکھ کہ ایک قبلہ پسند کر لے (پکڑ لے) اور ﴿پھر ساری زندگی﴾ غیر کو سجدہ مت کر۔

سرمد گلہ اختصار می باید کرد
یک کار ازیں دو کار می باید کرد
یا تن برضائے یار می باید داد
یا قطع نظر ز یار می باید کرد

سرمد گلے شکوے کو مختصر کر دے اور ان دو کاموں میں سے ایک کام کر، یا اپنے آپ کو یار کی رضا پر چھوڑ دے، یا (اگر ہو سکے تو) یار سے قطع نظر کر لے۔

اے از رُخِ تو شکستہ خاطر گُلِ سُرخ
باطن ہمہ خونِ دل و ظاہِر گُلِ سرخ
زاں دیر برآمدی ز یُوسُف کہ بباغ
اوّل گُلِ زرد آمد و آخِر گُلِ سُرخ

اے کہ آپﷺ کے رخ (کے جمال) سے گُلِ سرخ شکستہ خاطر ہے، اُس کا باطن تو سب دل کا خون ہے اور ظاہر گل سرخ ہے۔ آپﷺ یوسفؑ کے بعد اس لیئے تشریف لائے کہ باغ میں، پہلے زرد پھول آتا (کھلتا) ہے اور سرخ پھول بعد میں۔

از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند

مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا، اور خلق کی منت سماجت سے بے نیاز کر دیا گیا، شمع کی طرح اس بزم میں مجھے پگھلا دیا گیا اور اس سوختگی کی وجہ سے مجھے محرمِ راز کر دیا گیا۔

صد شُکر کہ دلدار ز من خوشنُود است
ہر دم بہ کرم و ہر نفَس در جُود است
نقصاں بہ من از مہر و محبت نہ رسید
سودا کہ دلم کرد، تمامش سُود است

خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہمارا دلدار ہم سے خوش ہے۔ ہر دم اور ہر لحظہ اس کے جوُد و کرم مجھ پر ہیں۔ اس مہر و محبت میں مجھے ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا کہ میرے دل نے جو سودا کیا ہے وہ تمام کا تمام منافع ہی ہے۔

آں شوخ بہ من نظر نہ دارَد، چہ کُنَم
آہِ دلِ من اثر نہ دارَد، چہ کُنَم
با آنکہ ہمیشہ در دلم می مانَد
از حالِ دلم خبر نہ دارَد، چہ کُنَم

وہ شوخ ہم پر نظر ہی نہیں کرتا، کیا کروں۔ میرے دل کی آہ کچھ اثر ہی نہیں رکھتی، کدھر جاؤں۔ وہ کہ جو ہمیشہ میرے دل میں جا گزیں ہے، اسے میرے دل کے حال کی کچھ خبر ہی نہیں ہے، ہائے کیا کروں، کدھر جاؤں۔

ہر چند گل و خار دریں باغ خوش است
بے یار دل از باغ نہ از راغ خوش است
چوں خونِ دلم، لالہ بہ بیں در رنگست
ایں چشم و چراغ نیز با داغ خوش است

ہرچند کہ اس گلستان میں پھول اور کانٹے خوب ہیں لیکن دوست کے بغیر دل نہ گلستان سے خوش ہے اور نہ ہی چمن زار سے۔ دیکھو کہ لالہ کا رنگ میرے دل کے خون کی طرح ہے، لیکن چمنستان کا یہ چشم و چراغ خوبصورت اسی وجہ سے ہے کہ اس کے دل میں بھی داغ ہے۔

دُوری نَفَسے مرا از اُو ممکن نیست
ایں یک جہتی بہ گفتگو ممکن نیست
اُو بحر، دلم سبوست، ایں حرفِ غلط
گنجائشِ بحر در سبو ممکن نیست

اس سے ایک لمحے کے لیے بھی دُوری میرے لیے ممکن نہیں، اور یہ یک جہتی باتوں باتوں میں ممکن نہیں۔ وہ سمندر ہے، میرا دل پیمانہ ہے، یہ سب باتیں غلط، کیونکہ سبو میں سمندر کی گنجائش ممکن ہی نہیں۔

دلخواہ نہ شد دو چار بارے بہ جہاں
غمخوار نہ دیدیم بکارے بہ جہاں
آں گل کہ دہد بوئے وفا نایاب است
کُن سیرِ خزانے و بہارے بہ جہاں

اس دنیا میں جسے میرا دل چاہتا ہے ایک بار بھی نہیں ملا اور نہ ہی یہاں کوئی غمخوار ملا ہے۔ وہ پھول کہ جس سے بوئے وفا آتی ہو نایاب ہے، چاہے تم اس جہان کی خزاں میں سیر کر لو چاہے بہار میں۔

تنہا نہ ہمیں دیر و حرم خانہٴ اُوست
ایں ارض و سما تمام کاشانہٴ اُوست
عالم ہمہ دیوانہٴ افسانہٴ اُوست
عاقل بوَد آں کسے کہ دیوانہٴ اُوست

صرف یہ دیر و حرم ہی اس کے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ارض و سماوات اس کے کاشانے ہیں۔ ساری دنیا اس کے افسانوں میں کھوئی ہوئی ہے لیکن عقل مند وہی ہے جو صرف اس کا دیوانہ ہے۔

سرمد در دیں عجب شکستے کردی
ایماں بہ فدائے چشمِ مستے کردی
با عجز و نیاز، جملہ نقدِ خود را
رفتی و نثارِ بُت پرستے کردی

سرمد تو نے مذہب میں عجب شکست و ریخت کر دی کہ اپنا ایمان ان مست نظروں پر قربان کر دیا اور اپنا سب کا سب (دین و دنیا کا) سرمایہ بُت پرست پر عجز و نیاز کے ساتھ نثار کر دیا۔

دنیا بمرادِ خویشتن خواہی و بس
عقبیٰ تو نہ کردی ز خداوند ہوس
چوں است نہ دنیا و نہ عقبیٰ بدہند
افسوس، ندامت ز جہاں یابد و بس

تُو بس یہی چاہتا ہے کہ دنیا تجھے تیری خواہشات کے مطابق مل جائے، اور خدا سے آخرت نہیں مانگتا۔ اس طرح تو تجھے نہ دنیا ملے گی اور نہ ہی آخرت اور بس جو کچھ دنیا سے ملے گا وہ صرف ندامت ہے، افسوس۔

از جُرم فزوں یافتہ ام فضل ترا
ایں شد سببِ معصیتِ بیش مرا
ہر چند گنہ بیش، کرم بیش تر است
دیدم ہمہ جا و آزمودم ہمہ را

میرے گناہوں سے تیرا فضل بہت بڑھ کے ہے اور میرے گناہ اسی وجہ سے زیادہ ہیں۔ ہر چند کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن تیرا کرم ان سے بہت ہی زیادہ ہے اور یہی بات میں نے ہر جگہ دیکھی ہے اور یہی بات ہر کسی کا تجربہ ہے۔

دیوانہٴ رنگینیِ یارِ دگرم
حیرت زدہٴ نقش و نگارِ دگرم
عالم ہمہ در فکر و خیالِ دگر است
من در غم و اندیشہٴ کارِ دگرم

میں کسی اور ہی محبوب کی رنگینی کا دیوانہ ہوں۔ میں کسی اور ہی کے نقش و نگار سے حیرت زدہ ہوں۔ ساری دنیا اوروں کے خیال میں محو ہے جبکہ میں اور ہی طرح کے غموں میں مگن ہوں۔

ہرچند کہ صد دوست بہ من دشمن شُد
از دوستیِ یکے دلم ایمن شد
وحدت بگزیدم و ز کثرت رستم
آخر من ازو شدم و اُو از من شد

اگرچہ سینکڑوں دوست میرے دشمن بن گئے لیکن ایک کی دوستی نے میری روح کو امن و قرار دے دیا (اور مجھے سب سے بے نیاز کر دیا)۔ میں نے ایک کو پکڑ لیا اور کثرت کو چھوڑ دیا اور آخرِ کار میں وہ بن گیا اور وہ میں بن گیا۔

٭٭٭

مولانا جلال الدین رومی

(دیوانِ شمس، غزل)

دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست

کل (ایک) شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا (اور کہتا رہا) کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کا آرزو مند ہوں۔

٭٭

ایں جہاں با تو خوش است و آں جہاں با تو خوش است
ایں جہاں بے من مباش و آں جہاں بے من مرو

یہ جہاں بھی تیرے ساتھ اچھا ہے اور وہ جہاں بھی تیرے ساتھ اچھا ہے، لہٰذا اِس جہاں میں میرے بغیر مت رہ اور اُس جہاں میں میرے بغیر مت جا۔

٭٭

ہر کجا ویراں بوَد آنجا اُمیدِ گنج ہست
گنجِ حق را می نجوئی در دلِ ویراں چرا؟

جہاں کہیں بھی ویرانہ ہو وہاں سے خزانہ ملنے کی امید ہوتی ہے، تو پھر تُو ویران اور ٹوٹے ہوئے دلوں میں حق کے خزانے کی تلاش کیوں نہیں کرتا؟

٭٭

(ریاض العارفین، روضۂ اول، بخش)

حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم

میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔

٭٭

(دیوانِ شمس، غزل)

حاجیِ عاقل طواف چند کند ہفت ہفت
حاجیِ دیوانہ ام من نشمارم طواف

عاقل اور ہوش و حواس والا حاجی کچھ طواف (گِن کے) سات سات بار کرتا ہے، میں ایک دیوانہ حاجی ہوں میں طواف شمار ہی نہیں کرتا۔

٭٭

تو مرا جان و جہانی، چہ کنم جان و جہاں را
تو مرا گنجِ روانی، چہ کنم سود و زیاں را

بس تُو ہی میری جان ہے، تُو ہی میرا جہان ہے، مجھے جان اور جہان کی کیا فکر۔ تُو ہی میرا بیش بہا خزانہ ہے جو ہر وقت میرے ساتھ ہے، مجھے سود و زیاں کی کیا پروا۔

٭٭

تو گُل و من خار کہ پیوستہ ایم
بے گُل و بے خار نباشد چمن

تُو پھول ہے اور میں کانٹا ہوں کہ دونوں باہم پیوستہ ہیں، پھول اور کانٹوں کے بغیر چمن نہیں ہوتا (دونوں باہم موجود ہوں تو چمن کا بھی وجود ہوتا ہے)۔

٭٭

(مثنویِ معنوی، دفتر اوّل)

ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر

ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے اس کا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے اس کا چہرہ زیادہ زرد ہے۔

٭٭

(دیوانِ شمس، غزل)

 

بخدا خبر ندارم چو نماز می گزارم
کہ تمام شد رکوعے، کہ امام شد فلانے

بخدا، میں جب نماز پڑھتا ہوں تو مجھے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ رکوع کب تمام ہو گیا اور یہ کہ امام کون تھا۔

٭٭

دوش دیوانہ شدم، عشق مرا دید و بگفت
آمدم، نعرہ مزن، جامہ مدر، ہیچ مگو

گزشتہ شب میں دیوانہ ہو گیا پھر عشق نے مجھے دیکھا اور کہا، اب میں آ گیا ہوں، لہذا نعرے مت لگا، کپڑے مت پھاڑ، اور کچھ مت کہہ۔

٭٭

دل و جاں شہیدِ عشقت، بہ درونِ گورِ قالب
سوئے گورِ ایں شہیداں، بگذر زیارتے کن

(میرے) جسم کی قبر میں دل اور جان تیرے عشق میں شہید ہو کر پڑے ہوئے ہیں، کبھی ان شہیدوں کی قبر کی طرف گذر اور زیارت ہی کر لے۔

٭٭

اے ما و صد چو ما ز پئے تو خراب و مست
ما بے تو خستہ ایم، تو بے ما چگونہ ای

اے کہ ہم اور ہمارے جیسے سینکڑوں تیرے لیے اور تیرے عشق میں خراب اور مست ہیں، ہم تو تیرے بغیر خستہ حال ہیں، تُو بتا تُو ہمارے بغیر کیسا ہے؟

٭٭

بیا بیا کہ مرا بے تو زندگانی نیست
ببیں ببیں کہ مرا بے تو چشم جیحون است

آ جا آ جا کہ تیرے بغیر میری کوئی زندگی نہیں ہے، دیکھ دیکھ کہ تیرے بغیر میری آنکھیں ایسے ہیں جیسے جیحون دریا۔

٭٭

کدام حُسن و جمالے کہ آں نہ عکسِ تو است
کدام شاہ و امیرے کہ اُو گدائے تو نیست

وہ کونسا حُسن و جمال ہے کہ جو تیرا (تیرے حُسن و جمال کا) عکس نہیں ہے؟ وہ کونسا بادشاہ اور امیر ہے کہ جو تیرا گدا نہیں ہے؟

٭٭

ما را نہ غمِ دوزخ و نے حرصِ بہشت است
بردار ز رُخ پردہ کہ مشتاقِ لقائیم

ہمیں نہ تو دوزخ کا کوئی غم اور ڈر ہے اور نہ ہی بہشت کی کوئی حرص اور خواہش ہے، بس تُو اپنے چہرے سے پردہ اُٹھا دے کہ ہم تو تیری دید ہی کے مشتاق ہیں۔

٭٭

اے کیمیا اے کیمیا، در من نگر زیں را کہ من
صد دیر را مسجد کنم، صد دار را منبر کنم

اے کیمیا گر، اے عناصر میں تغیرات کا مطالعہ کرنے والے، میری طرف دیکھ (اور غور کر کہ میں کیسے اور کس طرح عناصر میں تغیرات کرتا ہوں) کہ میں سینکڑوں بُتخانوں کو مسجد بنا دیتا ہوں اور سینکڑوں داروں کو منبر۔

٭٭

مُردہ بُدَم زندہ شُدَم، گریہ بُدَم خندہ شُدَم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شُدَم

میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔

٭٭

(مثنویِ معنوی، دفتر اوّل، آغاز)

کوزۂ چشمِ حریصاں پُر نہ شد
تا صدف قانع نہ شد، پُر دُر نہ شد

لالچی آدمیوں کی آنکھوں کا پیالہ کبھی بھی نہیں بھرا، جب تک سیپ نے (بارش کے صرف ایک ہی قطرے پر) قناعت نہ کی، وہ موتی سے نہ بھرا۔

٭٭

وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است

آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو کمال (حد سے زیادہ) نقصان ہے۔

٭٭

دانی کہ از چہ خندم، از ہمتِ بلندم
زیرا بہ شہرِ عشقت، بر عاشقاں امیرم

کیا تُو جانتا ہے کہ میں کس وجہ سے مسکراتا ہوں؟ اپنی بلند ہمتی کی وجہ سے! اور اسی وجہ سے میں تیرے شہرِ عشق میں سب عاشقوں کا حاکم اور امیر ہوں۔

٭٭٭

سید نصیر الدین نصیر

بہار آمد و سازِ بہار باید و نیست
فغاں کہ گلبدنے در کنار باید و نیست

بہار آ گئی اور بہار کے لوازمات اور ساز و سامان ہونا چاہیئے اور نہیں ہے۔ فغاں و فریاد کہ اک گُل بدن پہلو میں ہونا چاہیئے اور نہیں ہے۔

٭٭

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے
شعلہ روئے عجَبے، غیرتِ ماہے عَجَبے

میرا دل (دل کی دنیا) تاراج کر دیا، اُس کی نگاہ میں عجب فتنہ ہے، اس کے چہرے کا شعلہ عجب ہے، اس ماہ کی غیرت عجب ہے۔

با ہمہ نامہ سیاہی نہ ہراسَم از حشر
رحمتِ شافعِ حشر است، پناہے عجبے

میں اپنے اعمال نامے کی اس تمام تر سیاہی کے باوجود حشر سے نہیں ڈرتا کہ حشر کے دن کے شافعﷺ کی رحمت کی پناہ بھی عجب ہے۔

رُوئے تابانِ تو در پردۂ گیسوئے سیاہ
بہ شبِ تار درخشانیِ ماہے عجبے

تیرا تاباں چہرہ تیرے سیاہ گیسوؤں کے پردے میں ایسے ہی ہے جیسے تاریک شب میں چاند کی درخشانی، اور یہ عجب ہی سماں ہے۔

رہزنِ حُسن ربایَد دل و دیں، ہوش و خرَد
گاہ گاہے سرِ راہے بہ نگاہے عجبے

راہزنِ حسن لوٹ کر لے جاتا ہے دل و دین اور ہوش و خرد، کبھی کبھی سرِ راہے اپنی عجب نگاہ سے۔

نقدِ جاں باختہ و راہِ بَلا می گیرَند
ہست عشاقِ ترا رسمے و راہے عَجبے

نقدِ جان فروخت کر دیتے ہیں اور راستے کی بلاؤں کو لے لیتے ہیں، تیرے عاشقوں کی راہ و رسم بھی عجب ہے۔

خواستَم رازِ دِلَم فاش نہ گردَد، لیکن
اشک بر عاشقیم گشت گواہے عجَبے

میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کا راز فاش نہ ہو، لیکن ہم عاشقوں پر (ہمارے) آنسو عجب گواہ بن جاتے ہیں۔

ذرّۂ کوچۂ آں شاہِ مدینہ بُودَن
اے نصیر از پئے ما شوکت و جاہے عَجَبے

اُس شاہِ مدینہﷺ کے کوچے کا ذرہ بننا، اے نصیر میرے لیے ایک عجب ہی شان و شوکت ہے۔

٭٭

اے دل، مدام بندۂ آں شہر یار باش
بے غم ز گردشِ فلکِ کج مدار باش

اے دل ہمیشہ کے لیے اس شہریار (سردار) کا غلام بن جا، اور کج مدار فلک کی گردش کے غم (غمِ دنیا) سے چھٹکارا حاصل کر لے۔

ہرگز مپیچ گردنِ تسلیم ز امرِ دوست
چوں کوہ در طریقِ رضا استوار باش

دوست کے حکم کے سامنے گردنِ تسلیم کبھی مت اُٹھا، اور پہاڑوں کی طرح رضا و تسلیم کے طریق میں ثابت قدم ہو جا۔

بے سوزِ عشق، زیست بُوَد شمعِ بے فروغ
پروانہ وار مردِ محبّت شعار باش

سوز عشق کے بغیر زندگی ایک بے فروغ شمع ہے، پروانہ وار محبت شعار مردوں کی طرح بن جا۔

لوحِ جبینِ خویش بہ خاکِ درش بِسائے
با روزگار ہمدم و با بخت یار باش

اپنی پیشانی کے خط کو اس کے در کی خاک سے سجائے رکھ اور روزگار کا ہمدم بن جا اور قسمت کا دھنی ہو جا۔

دل را بہ دامِ گیسوئے جاناں اسیر کن
وز بندِ راہ و رسمِ جہاں رستگار باش

دل کو گیسوئے جاناں کا قیدی بنا لے اور دنیا کے رسم و رواج کی قید سے آزاد ہو جا۔

از عشقِ دوست قطع مکن رشتۂ اُمید
آسودہ از ہجومِ غمِ روزگار باش

دوست کے عشق سے امید کا رشتہ منقطع مت کر، اور غمِ روزگار کے ہجوم سے آسودہ ہو جا۔

اے دل، کنوں کہ بارِ امانت گرفتہ ای
محنت بہ جانِ خویش کَش و بُردبار باش

اے دل اب جب کہ تُو نے امانت کا بوجھ اٹھا ہی لیا ہے تو اپنی جان پر محنت اٹھا اور بردبار بن جا۔

سر در رَہَش فدا کن و دل بر رُخَش نثار
خون از جگر چکان و بچشم اشکبار باش

اس کی راہ میں سر فدا کر دے، اور اس کے رخ پر دل نثار، جگر سے خون ٹپکانے اور آنکھوں سے آنسو بہانے والا بن جا۔

تا دُرد نوش ساقیِ کوثر شدی نصیر
سرشارِ بادۂ کرمِ کردگار باش

نصیر چونکہ ساقیِ کوثرﷺ کا دُرد نوش (تہہِ جام و تلچھٹ پینے والا) ہے لہٰذا کردگار کے بادۂ کرم سے سرشار ہے۔

٭٭

تو خود ز صورتِ من حالِ زارِ دل دریاب
چہ آورم بزبان و چہ عرضِ حال کنم

تو خود ہی میری صورت سے میرے دل کی حالتِ زار کا اندازہ کر لے، میں کیا زبان پر لاؤں اور کیا عرضِ حال کروں۔

نہادہ ام بہ درِ عشق تا جبینِ نیاز
سرِ غرور بہ راہِ تو پائمال کنم

میں نے اپنی نیازمند پیشانی اس لیے در عشق پر رکھی ہوئی ہے کہ اپنے مغرور سر کو تیری راہ میں پائمال کروں۔

٭٭٭

نظیری نیشاپوری

نیست در خشک و ترِ بیشۂ من کوتاہی
چوبِ ہر نخل کہ منبر نشَوَد دار کنم

نہیں ہے میرے جنگل ( خدا کی دنیا) میں کوئی بھی خشک و تر چیز بیکار، جس درخت کی لکڑی سے منبر نہیں بن سکتا میں اس سے سولی بنا لیتا ہوں۔

٭٭

بحکمِ عقل، عمل در طریقِ عشق مکن
کہ راہ دُور کند رہبرے کہ دانا نیست

طریقِ عشق میں عقل کے حکم کے مطابق عمل مت کر کہ جو راہبر راہ دُور کر دے وہ دانا نہیں ہے۔

سبزہٴ عیش ز بوم و برِ ہجراں مَطَلب
نیشکر حاصلِ مصر است ز کنعاں مَطَلب

سبزۂ عیش ہجر کی ویران اور بنجر زمین سے نہ چاہ، نیشکر مصر کا حاصل ہے اسے کنعان سے طلب نہ کر۔

رَسَنِ زُلف پئے حیلہ درآویختہ اند
جُز دِلِ تشنہ ازاں چاہِ زَنَخداں مَطَلب

زُلف کی رسی دھوکے اور حیلے سے لٹکائی ہوئی، چاہِ زنخداں (ذقن) سے تشنہ دل کے سوا کچھ نہ طلب کر۔

فرض و سُنّت بتماشائے تو از یادم رفت
پردہ بر رُوئے فگن یا ز من ایماں مَطَلب

تیری دیدار کی وجہ سے میں فرض و سنت سب بھول گیا، یا تو اپنے چہرے پر پردہ ڈال دے یا پھر مجھ سے ایمان طلب نہ کر۔

لختِ دل قُوت کُن و شکّرِ احباب مخواہ
دُودِ دل سُرمہ کُن و کُحلِ صفاہاں مَطَلب

اپنے دل کے ٹکڑوں کو ہی اپنی خوراک بنا اور دوسروں کی شکر نہ چاہ، اپنے دل کے دھویں کو سرمہ بنا لے اور اصفہانی سرمے کی خواہش نہ رکھ۔

آبِ حیواں ز کفِ دُرد کشاں می جوشد
گو خضَر دشت مَپیما و بیاباں مَطَلب

آبِ حیات تو دُرد کشوں کے کف سے اُبلتا ہے، خضر سے کہو کہ دشت پیمائی نہ کر اور بیاباں طلب نہ کر۔

جلوہ از حوصلہ بیش است نظیری، ہُشدار
کشتیِ نوح نشد ساختہ، طوفاں مَطَلب

اے نظیری، جلوہ حوصلے سے کہیں زیادہ ہے، ہوش کر، کشتیِ نوح تو بنائی ہی نہیں سو طوفان طلب نہ کر۔

٭٭

دل کہ جمع است، غم از بے سر و سامانی نیست
فکرِ جمعیّت اگر نیست، پریشانی نیست

دل (خاطر) جمع ہے، سو بے سر و سامانی کا کوئی غم نہیں ہے، اگر جمع کرنے کی فکر نہ ہو تو (دنیا میں) کوئی پریشانی نہیں ہے۔

مَحبّت در دلِ غم دیدہ الفت بیشتر گیرَد
چراغے را کہ دودے ہست در سر زود در گیرَد

غم دیدہ دل میں محبت بہت اثر کرتی ہے، (جیسا کہ) جس چراغ میں دھواں ہو (یعنی وہ ابھی ابھی بجھا ہو) وہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔

ز شغلِ کارِ خودم یک نفَس رہائی نیست
محبتے کہ دہَد از خودم فراغ کجاست

مجھے خود بینی سے ایک لمحے کے لیے بھی رہائی نہیں ہے، وہ محبت کہ جو مجھے خود بینی اور انا پرستی سے نجات دے دے، وہ کہاں ہے؟

٭٭

رُسوا منم وگرنہ تو صد بار در دلم
رفتی و آمدی و کسے را خبر نشد

میں ہی رسوا ہوں وگرنہ تُو تو سو بار میرے دل میں آیا اور گیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔

٭٭

بانگِ نے می بُرَد ز ہوش مرا
می دہد مے ز راہِ گوش مرا

بانسری کی آواز میرے ہوش و حواس لے جاتی ہے گویا یہ مجھے کانوں کے راستے سے مے دیتی ہے۔

٭٭

ایں شرفم بس کہ شوی مشتری
ہیچ مدہ قیمتِ کالائے من

میرے لیے یہ شرف ہی بہت ہے کہ تُو خریدار بنے، تُو میرے مال و متاع و ساز و سامان کی کوئی بھی قیمت ادا نہ کر۔

٭٭

نکند بندۂ مجبور گناہے امّا
ادب آں است کہ در پیشِ تو ملزم باشد

بندۂ مجبور کوئی بھی گناہ نہیں کرتا لیکن ادب (کا تقاضا) یہی ہے کہ تیرے سامنے وہ ملزم (کی طرح کھڑا) ہوتا ہے۔

٭٭

فضلِ اُو چوں ما بسے را بے سبب بخشیدہ است
باعثِ آمرزشِ آمرزگارِ ما مپرس

اُس کے فضل نے ہم جیسے بہت سوں کو بے سبب ہی بخش دیا ہے، لہذا ہمارے بخشنے والے کی بخشش کی وجہ مت پوچھ۔

٭٭٭

عبدالرحمٰن جامی

(فاتحۃ الشباب)

نقشِ شیریں رود از سنگ ولے ممکن نیست
کہ خیالِ رُخش از خاطرِ فرہاد رود

(یہ تو ممکن ہے کہ) شیریں کا نقش پتھروں سے مٹ جائے، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ اُس کے چہرے کا خیال فرہاد کے دل و دماغ سے نکل جائے۔

٭٭

جامی تو ز جامِ مے و بیہوشی و مستی
راہ و روشِ مردمِ ہشیار چہ دانی

جامی تُو تو جامِ مئے عشق سے بیہوش اور مست ہے، تُو ہوشیار (اور چالاک) لوگوں کی راہ و رسم و روش کو بھلا کیا جانے۔

٭٭

گہے بوسم بمستی پائے خُم گہہ دستِ پیمانہ
کنم دریوزۂ فیض از بزرگ و خردِ مے خانہ

مستی میں کبھی تو خُم کی پابوسی کرتا ہوں اور کبھی پیمانے کی دست بوسی، میں میخانے کے بزرگ و خرد، بڑے اور چھوٹے سب سے فیض کی بھیک حاصل کرتا ہوں۔

٭٭

ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں
وَز دلِ پُر حسرتم دُودِ کباب آید بروں

میں اس قدر مست ہوں کہ میری آنکھوں سے (آنسوؤں کی جگہ) شراب باہر آ رہی ہے اور میرے دلِ پُر حسرت سے اس طرح دھواں اٹھ رہا ہے کہ جیسے کباب سے دھواں اٹھتا ہے۔

ماہِ من در نیم شب چوں بے نقاب آید بروں
زاہدِ صد سالہ از مسجد خراب آید بروں

میرا چاند آدھی رات کو اگر بے نقاب باہر نکلے تو سو سالہ زاہد بھی مسجد سے خراب اور اس کا دیوانہ ہو کر باہر نکل آئے۔

صُبح دم چوں رُخ نمودی شُد نمازِ من قضا
سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آید بروں

صبح کے وقت جب تیرا چہرہ دیکھا تو میری نماز قضا ہو گئی کیونکہ سجدہ کیسے روا ہو سکتا ہے جب کہ سورج نکل آئے۔

ایں قدَر رندَم کہ وقتِ قتل زیرِ تیغِ اُو
جائے خوں از چشمِ من موجِ شراب آید بروں

میں اس قدر رند ہوں کہ وقتِ قتل اس کی تلوار کے نیچے، خون کی بجائے میری آنکھوں سے موجِ شراب ابل ابل کر باہر آ رہی ہے۔

یارِ من در مکتب و من در سرِ رہ منتظر
منتظر بودم کہ یارم با کتاب آید بروں

میرا یار مکتب میں ہے اور میں راہ میں کھڑا منتظر ہوں کہ وہ کتاب کے ساتھ کب باہر آتا ہے۔

قطرہٴ دردِ دلِ جامی بہ دریا اُوفتد
سینہ سوزاں، دل کتاں، ماہی ز آب آید بروں

جامی کے دردِ دل کا ایک قطرہ دریا میں گر پڑے تو جلتے ہوئے سینے اور پارہ پارہ دل کے ساتھ مچھلی بھی پانی سے باہر آ جائے۔

٭٭

خُم دیرینۂ مے پیرِ من است اے ساقی
ہر دمم فیضِ دگر می رسد از باطنِ پیر

اے ساقی، پُرانی شراب کا خُم میرا پیر ہے اور ہر دم مجھے اپنے پیر کے باطن سے ایک نیا اور دوسرا ہی فیض ملتا ہے۔

٭٭

جز نالہ مکن کارِ دگر جامی ازیں پس
باشد کہ ز صد نالہ یکے کارگر آید

اے جامی، اِس کے بعد (عاشق ہونے کے بعد) نالہ و زاری و آہ و فغاں کے علاوہ کوئی دوسرا کام مت کر، کہ اِن سو سو نالوں میں سے کوئی ایک تو کارگر ہو گا۔

٭٭

تن اگر بیمار شد برسر میاریدم طبیب
اے عزیزاں کارِ تن سہل است، فکرِ دل کنید

(میرا) جسم اگر بیمار ہو گیا ہے تو میرے علاج کے لیے طبیب مت لاؤ، اے عزیزو، جسم کا علاج تو آسان ہے، کچھ (میرے) دل کی فکر کرو۔

٭٭

بر بیاضِ رُخم مُحرّرِ اشک
قصّۂ دردِ انتظار نوشت

میرے چہرے کی کتاب پر اشکوں کے محرر نے انتظار کے درد کا قصہ لکھ دیا۔

٭٭

جامی نَرَود سوزِ تو از سینہ بگریہ
داغِ دلِ لالہ نشود شستہ بباراں

اے جامی، رونے سے تیرے دل کا سوز اور درد نہیں جانے کا، جیسے بارش سے لالہ کے پھول کے دل کا داغ نہیں دھلتا۔

٭٭

عاشقاں ہر یک بروئے یارِ خود خنداں و شاد
من چنیں غمگیں چرایم، غمگسارِ من کجاست

ہر ایک عاشق اپنے اپنے محبوب کے روبرو خنداں اور شاد ہے، میں ایسے غمگین کیوں ہوں، میرا غمگسار کہاں ہے؟

٭٭٭

مرزا عبدالقادر بیدلؔ

چہ لازم با خرد ہم خانہ بودن
دو روزے می تواں دیوانہ بودن

کیا ضروری ہے کہ ہر وقت عقل کے ساتھ ہی رہا جائے (عقل کی بات ہی سنی جائے)، دو روز دیوانہ بن کر بھی رہنا چاہیئے۔

٭٭

بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفان باش

حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔

٭٭

بیدل کسے بہ عرشِ حقیقت نمی رسد
تا خاکِ راهِ احمدِ مُرسَل نمی شود

بیدل کوئی بھی عرشِ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا کہ جب تک وہ حضورِ پاکﷺ کی راہ کی خاک نہیں بن جاتا۔

٭٭

خواہی بہ دیدہ قد کش و خواہی بہ دل نشیں
سروِ تو مصرعیست کہ در ہر زمیں خوش است

چاہے (ہماری) آنکھوں میں رہ کر نشو و نما پاتا رہ، چاہے (ہمارے) دل میں (جم کے) بیٹھ کہ تیرے قد کا سرو ایک ایسا مصرع ہے کہ جو ہر زمین میں لاجواب ہے۔

٭٭

اگر عشقِ بُتاں کفر است بیدل
کسے جز کافر ایمانی ندارد

بیدل اگر عشقِ بتاں کفر ہے تو کافر کے سوا کوئی ایمان نہیں رکھتا۔

٭٭

با ہر کمال اندکے آشفتگی خوش است
ہر چند عقلِ کل شدۂ بے جنوں مباش

ہر کمال کے ساتھ ساتھ تھوڑی آشفتگی (عشق، دیوانگی) بھی اچھی (ضروری) ہے، ہر چند کہ تُو عقلِ کُل ہی ہو جائے، جنون کے بغیر مت رہ۔

٭٭

عمریست دل بَغَفلتِ خود گریہ می کُنَد
ایں نامۂ سیہ چہ قدَر ابرِ رحمت است

تمام عمر، میرا دل اپنی غفلت پر آنسو بہاتا رہا، یہ میرا سیاہ اعمال نامہ کس قدر ابرِ رحمت (کی مانند) ہے۔

٭٭

بحرفِ ناملائم زحمتِ دل ہا مشو بیدل
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا

بیدل، تلخ الفاظ (ناروا گفتگو) سے دلوں کو تکلیف مت دے، کہ جہاں کہیں بھی کوئی پتھر ہوتا ہے وہ شیشے کا دشمن ہی ہوتا ہے۔

٭٭

بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوہر در دلِ دریا کراں

میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوہر کی طرح سمندر کے دل میں اپنا ایک (الگ تھلگ) گوشہ بنا لیا ہے۔

٭٭

دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد

(ہمارا) دل، کوئے وفا کی خاک ہو گیا، کیا خوب ہوا، اور سر تیری راہ میں تیری تلوار پر فدا ہو گیا، کیا خوب ہوا۔

٭٭

مُشتِ خاکِ ما سراپا فرشِ تسلیم است و بس
سجدۂ ما را جبینے و سرے درکار نیست

ہماری مشتِ خاک سراسر فرشِ تسلیم ہے اور بس اس کے سوا کچھ بھی نہیں، ہمارے سجدوں کو کسی پیشانی اور کسی سر کی حاجت نہیں۔

٭٭

ناصح سخنِ ساختہ ات پُر نمکین است
رحم است بزخمے کہ تو مرہم شدہ باشی

اے ناصح، تیری بنائی ہوئی باتیں تو نمک سے اَٹی پڑی ہیں، رحم اُس زخم پر کہ جس کا مرہم تُو بنا ہو گا۔

٭٭

چوں نفس از مدعائے جُست و جو آگہ نی ام
ایں قدر دانم کہ چیزے ہست و من گم کردہ ام

سانسوں کے آنے جانے (جُست و جو) کی طرح، میں بھی اپنی تلاش کے مقصد و مطلب سے آگاہ نہیں ہوں، ہاں اس قدر ضرور جانتا ہوں کہ کوئی چیز ہے سہی جسے میں گم کر بیٹھا ہوں۔

٭٭

عیش و غمِ تو تابعِ رسم است ورنہ چیست
در عید خندہ و بہ محرم گریستن

تیرا عیش اور تیرے غم سب رسموں کے تابع ہیں ورنہ یہ کیا ہے (اور ایسا کیوں ہے) کہ عید کے دنوں میں ہنسنا اور محرم میں رونا۔

٭٭

گویند بہشت است ہماں راحتِ جاوید
جائے کہ بداغے نہ طپد دل، چہ مقام است؟

کہتے ہیں کہ بہشت ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں دائمی راحت ہے، آرام ہے، سکون ہے، لیکن جس جگہ کسی داغ کی وجہ سے دل بیقرار اور بیتاب ہو کر نہ تڑپے، وہ کیا اور کیسا بھی مقام ہے؟

٭٭٭

مرزا اسد اللہ خان غالبؔ

ما و خاکِ رہگذر بر فرقِ عریاں ریختن
گُل کسے جوید کہ او را گوشۂ دستار ہست

ہم ہیں اور اپنے ننگے سر (فرقِ عریاں) پر رہگزر کی خاک ڈالنا، پھُول تو وہ تلاش کرے کہ جس کے پاس دستار ہو۔

٭٭

وہم خاکے ریخت در چشمم، بیاباں دیدمش
قطرۂ بگداخت، بحرِ بیکراں نامیدمش

وہم نے میری آنکھوں میں خاک ڈال دی تو وہ خاک مجھے بیاباں بن کر نظر آئی، ایک قطرہ تھا جو پگھل گیا اور میں نے اسے بحرِ بیکراں کا نام دے دیا۔

٭٭

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگزر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگِ من است

میری فارسی شاعری دیکھ کہ تجھے رنگ رنگ کے نقوش نظر آئیں، میرے اردو مجموعے کو چھوڑ دے کہ وہ تو میری بے رنگی ہے۔

٭٭

غالب آزادۂ موحد کیشَم
بر پاکی خویشتن گواہِ خویشَم
گُفتی بہ سُخَن بَرفتگاں کس نَرَسد
از باز پَسیں نُکتہ گزاراں پیشَم

اے غالب، میں ایک آزاد منش اور موحد کیش انسان ہوں، اپنی پاک فطرتی پر خود ہی اپنا گواہ ہوں۔ تو نے کہا کہ کوئی بھی (آج کا شاعر) شاعری میں گذشتہ دور کے شعرا تک نہیں پہنچتا، میں‌ بہرحال آخر میں آنے والے نکتہ آفرینوں سے آگے ہوں۔

غالب بہ گُہَر ز دودۂ زاد شَمَم
زاں رو بہ صفائے دمِ تیغست دَمَم
چوں رفت سپہبدی، زدم چنگ بہ شعر
شد تیر شکستہ نیا کانِ قَلَمَم

غالب، میں نسل کے لحاظ سے ایک اچھے اور صاف خاندان کا فرد ہوں، اسی لئے میرا دم تلوار کے دم کی طرح صاف ہے۔ جب خاندان سے سپہ گری ختم ہو گئی تو میں نے ہاتھ میں‌ قلم پکڑ لیا، چنانچہ میرے اسلاف کا ٹوٹا ہوا تیر میرا قلم بن گیا۔

در عالمِ بے زَری کہ تلخ است حیات
طاعت نَتَواں کرد بہ امیدِ نجات
اے کاش ز حق اشارتِ صوم صلوٰت
بودے بَوَجُود مال چوں حج و زکوٰت

مفلسی کی حالت میں جبکہ زندگی تلخ ہوتی ہے، نجات کی امید میں عبادت کیونکر کی جا سکتی ہے۔ کاش کہ خدا کی طرف سے، روزے اور نماز کے سلسلے میں بھی حج اور زکوٰت کی طرح مال کی شرط ہوتی، یعنی نماز اور روزہ بھی صاحبِ استطاعت و صاحبِ نصاب پر فرض ہوتے۔

چون نیست تاب برق تجلی کلیم را
کی در سخن بہ غالب آتش بیان رسد

جب کلیمؑ کو برقِ تجلی برداشت کرنے کی تاب نہیں ہے تو وہ سخن میں غالبِ آتش بیاں تک کیونکر پہنچ سکتے ہیں۔

٭٭

خوش بوَد فارغ ز بندِ کفر و ایماں زیستن
حیف کافر مُردن و آوخ مسلماں زیستن

کفر اور ایمان کی قیدوں اور بندشوں سے آزاد زندگی بہت اچھی خوش گزرتی ہے لہذا افسوس کفر کی موت مرنے پر اور وائے مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے پر۔

٭٭

یقینِ عشق کُن و از سَرِ گُماں برخیز
بہ آشتی بَنشیں یا بہ امتحاں برخیز

(ہمارے) عشق کا یقین کر لے اور ہر قسم کا شک و شبہ چھوڑ دے، (اور یہ مان کر) محبت سے ہمارے پاس بیٹھ یا (ہمارے عشق کا) امتحان لینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

٭٭

رموزِ دیں نشناسم درست و معذورم
نہادِ من عجمی و طریقِ من عربیست

میں رموزِ دین درست اور بالکل صحیح صحیح نہیں جانتا اور اِس سلسلے میں معذور ہوں کیونکہ میری اصل اور بنیاد عجمی ہے اور میرا طور طریقہ عربی ہے۔

٭٭٭

ابو الفیض فیضی دکنی

عشّاقِ تو مُردند و غم و دردِ تو بردند
ایں طائفہ چیزے نگذارند بوارث

تیرے عاشق مر جاتے ہیں اور تیرا غم اور تیرا درد (اپنا سارا مال و متاع) بھی اپنے ساتھ ہی لے جاتے ہیں، یہ گروہ اپنے وارثوں کو کوئی بھی چیز نہیں دیتا۔

٭٭

وائے زاہد کہ بمحرابِ عبادت عمرے
سجدہ ہا کرد و ندانست کہ مسجود کجاست

افسوس اُس زاہد پر کہ جو تمام عمر اپنی محرابِ عبادت میں سجدے کرتا رہا اور یہ نہ جان پایا کہ مسجود کہاں ہے۔

٭٭

گر بدانی قدرِ لذّتِ یکتائی را
بدو عالم ندہی گوشۂ تنہائی را

اگر تُو یگانگت و ندرت اور اکے لے ہونے کی لذت کی قدر جان لے تو دو عالم کے بدلے میں بھی گوشۂ تنہائی نہ چھوڑے۔

٭٭

تا عشقِ بُتاں ساختہ دیوانۂ خویشم
اندیشۂ خویش و غمِ بیگانہ ندارم

چونکہ عشقِ بُتاں نے مجھے اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے اس لیے نہ مجھے اپنی کوئی فکر ہے اور نہ ہی بیگانوں کا کوئی غم ہے۔

٭٭

تُو اے پیماں شکن امشب بما باش
کہ ما باشیم فردا یا نہ باشیم

اے پیماں شکن آج کی رات ہمارے ساتھ رہ، کہ کل ہم ہوں یا نہ ہوں۔

٭٭

تو اے پروانہ، ایں گرمی ز شمعِ محفلے داری
چو من در آتشِ خود سوز اگر سوزِ دلے داری

اے پروانے تُو نے یہ گرمی محفل کی شمع سے حاصل کی ہے، میری طرح اپنی ہی آگ میں جل (کر دیکھ) اگر دل کا سوز رکھتا ہے۔

٭٭

ز شاہراہِ محبت نشاں چہ می پُرسی
اگر قدم نہی از صدق رہنموں کم نیست

شاہراہِ محبت کی نشانیاں کیا پوچھتا ہے؟ اگر تُو سچے دل سے اِس پر قدم رکھے گا تو راہنمائی کرنے والے کم نہیں ہیں۔

٭٭

شوریست عَجَب در سَرَم از جامِ محبّت
سرمستم و جز نعرۂ مستانہ ندارَم

میرے سر میں جامِ محبت سے عجب خمار ہے کہ (ہر وقت) سر مست ہوں اور مستانہ نعرے کے علاوہ اور کچھ نہیں رکھتا (کرتا)۔

٭٭

اے ہم نَفَسانِ محفِلِ ما
رفتید ولے نہ از دِلِ ما

اے ہماری محفل کے ہم نفسو، اے میرے پیارو، تم چلے تو گئے لیکن ہمارے دل سے نہیں۔

٭٭٭

شیخ علی حزیں لاہیجی

زندگی در جمعِ ساماں رفت حیف
صبح در خوابِ پریشاں رفت حیف

افسوس کہ ساری زندگی ساز و سامان جمع کرنے میں گزر گئی، گویا کہ سہانی صبح، پریشان اور ہولناک، وحشت بھرے خواب دیکھنے میں گزر گئی، افسوس صد افسوس۔

٭٭

عُشاق را ز سرو و گُل و ارغواں چہ حظ
بے جلوۂ جمالِ تو از گلستاں چہ حظ

عاشقوں کو سرو اور پھولوں اور ارغواں (سرخ پھولوں والے درخت) سے کیا حظ؟ تیرے جمال کے جلوے کے بغیر گلستاں سے کیا حظ؟

٭٭

قلم کی محرم و قاصد کجا دردِ سخن دارد
چرا احوالِ ما را از زبانِ خود نمی پُرسی

قلم (یعنی تحریر) کب (ہمارے درد کا) محرم ہے اور قاصد کہاں وہ درد بیان کر سکتا ہے جو کہ باتوں میں ہوتا ہے، تُو کیوں ہمارا حال اپنی زبان سے (رو برو ہو کر) نہیں پوچھتا؟

٭٭

صرصر چہ در خرابئ من اضطراب داشت
بر شاخِ گُل نہ بُود گراں آشیانِ من

تُند و تیز ہوا میری خرابی کے لیے کس قدر بے چینی و بے قراری و اضطراب میں تھی، شاخِ گُل پر میرا آشیانہ اتنا بھاری تو نہ تھا۔

٭٭

گفتم بہ بُلبُلے کہ علاجِ فراق چیست؟
از شاخِ گُل بہ خاک فتاد و طپید و مُرد

میں نے ایک بُلبُل سے پوچھا کہ جدائی کا علاج کیا ہے؟ وہ پھولوں کی شاخ سے زمین پر گری، بے قرار ہو کر تڑپی اور مر گئی۔

٭٭

گاہے بہ نگاہے دلِ ما شاد نکردی
حیف از تو کہ ویرانۂ آباد نکردی

تُو نے کبھی ایک نگاہ ڈال کر ہمارے دل کو شاد نہ کیا، افسوس تُجھ پر کہ تُو نے اِس ویرانے کو (کہ جس میں بیش بہا خزانے تھے) آباد نہ کیا۔

٭٭

دل گواہست کہ در پردہ دل آرائے ہست
ہستیِ قطرہ دلیل است کہ دریائے ہست

دل (کا ہونا) گواہ ہے کہ درپردہ کوئی نہ کوئی دل آرا (محبوب) موجود ہے، قطرے کا ہونا ہی اِس بات پر (محکم) دلیل ہے کہ دریا موجود ہے۔

٭٭

اے دل چہ نشستہ ای فسردہ
برخیز بعشقِ یار برخیز

اے دل تُو کیا افسردہ سا پڑا ہوا ہے، اُٹھ، عشقِ یار میں اُٹھ کھڑا ہو۔

٭٭

نیَم بہجرِ تو تنہا دو ہمنشیں دارم
دلِ شکستہ یکے، جانِ بیقرار یکے

میں تیرے ہجر میں تنہا نہیں ہوں بلکہ میرے دو ہمنشیں بھی ہیں، ایک ٹُوٹا ہوا دل اور دوسرا بیقرار جان۔

٭٭٭

عرفی شیرازی

(قصیدہ)

از من بگیر عبرت و کسبِ ہنر مکن
با بختِ خود عداوتِ ہفت آسماں مخواہ

مجھ سے عبرت حاصل کر اور ہنر پیدا کرنے کا خیال چھوڑ دے، تو کیوں چاہتا ہے کہ سات آسمانوں کی دشمنی خواہ مخواہ مول لے لے۔

٭٭

گرفتم آں کہ بہشتم دہند بے طاعت
قبول کردن و رفتن نہ شرط انصاف است

میں نے مان لیا کہ مجھے بہشت بغیر عمل کے ہی مل جائے گی لیکن اسے قبول کرنا اور اس میں اس طرح جانا انصاف کے خلاف ہے۔

٭٭

قبولِ خاطرِ معشوق شرطِ دیدار است
بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است

دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے کہ اپنے شوق کے موافق دیکھنا بے ادبی ہے۔

٭٭

ز آسماں طلبیدم نشانِ راحت، گفت
اگر سوال غلط باشد از جواب چہ حظ

میں نے آسمان سے راحت و نشاط و آرام و سکون و خوشی و آسودگی کا پتا پوچھا تو آسمان سے آواز آئی کہ اگر سوال ہی غلط ہو تو پھر جواب دینے کا کیا لُطف اور کیا فائدہ؟

٭٭

شیریں نکردہ ایم لب از گفت و گوئے کس
لب ہا بہ زہر شستۂ افسانۂ خودیم

ہم نے اپنے لب کسی دوسرے کی گفتگو سے شیریں نہیں کیے ہوئے بلکہ اپنے ہی افسانے کے زہر سے اِن کو تر کر لیا ہے۔

٭٭

می رَوی با غیر و می گوئی بیا عرفی تو ہم
لطف فرمودی، برو، کیں پائے را رفتار نیست

غیر کے ساتھ جا رہے ہو اور کہتے ہو کہ عرفی تو بھی آ جا، تم نے مہربانی کی لیکن جاؤ کہ اِن پاؤں میں چلنے کی سکت ہی باقی نہیں رہی۔

٭٭

آناں کہ وصفِ حُسنِ تو تفسیر می کُنند
خوابِ ندیدہ را ہمہ تعبیر می کنند

وہ لوگ کہ جو تیرے حُسن کے اوصاف کی تفسیر بیان کرتے ہیں، وہ سارے ایسے ہی کہ جیسے ایک اَن دیکھے خواب کی تعبیریں بیان کرتے ہوں۔

٭٭

ایں است التماس کہ ما را پس از وفات
رندانِ بادہ نوش بہ مے شُست و شُو کنند

میری بس یہی التماس ہے کہ وفات کے بعد مجھے رندانِ بادہ نوش مے کے ساتھ غسل دیں۔

٭٭

ہزار حُسنِ عبادت نہ زشتیِ عمل است
متاعِ من دلِ مجذوب و مستیِ ازل است

ہزار حُسنِ عبادت ہے نہ ہی اعمال کی بد نمائی ہے، بلکہ میری متاع تو یہی ایک مجذوب سا دل اور ازلوں کی مستی ہے۔

٭٭٭

واقف لاہوری

داری دِلا اگر سرِ سودائے زُلفِ یار
باید ترا نخست ز سُود و زیاں گذشت

اے دل، اگر تُو زُلفِ یار کو حاصل کرنے کا جنون رکھتا ہے تو سب سے پہلے تجھے سُود و زیاں، نفع و نقصان کا خیال چھوڑنا پڑے گا۔

٭٭

بوئے مروّتے نہ شمیدم ز ہیچ کس
مردم گرفتہ اند ہمہ رنگِ روزگار

کسی بھی انسان سے مجھے مروت کی خوشبو نہیں آتی، یعنی سارے کے سارے انسان سراسر زمانے کے رنگ میں رنگے گئے ہیں۔

٭٭

زخمے زدی کہ تا دمِ پیری کہن نشد
دستِ تو اے جواں چہ قدر ہا مبارک است

تُو نے (مجھے) ایک ایسا زخم لگایا کہ جو بڑھاپے تک پُرانا نہیں ہوا، اے جوان (محبوب) تیرے ہاتھ کس قدر مبارک ہیں۔

٭٭

ترا کہ گفت کہ مائل بسیرِ بستاں باش
بنوش یک دو سہ جامے و خود گلستاں باش

تجھے کس نے کہہ دیا کہ بوستاں کی سیر کی طرف مائل ہو، ایک دو تین جام پی اور خود ہی گلستاں ہو جا۔

٭٭

دلہا سیاہ گشتہ و خونہا سپید شد
ایں است در زمانۂ ما رنگِ روزگار

دل سیاہ ہو چکے ہیں اور خون کا رنگ سفید ہو گیا ہے، ہمارے وقت میں زمانے کا رنگ کچھ ایسا ہی ہے۔

٭٭

ببر یکشب بطرفِ شمع اے پروانہ ہمراہم
کہ من آدابِ گردِ یار گردیدن نمی دانم

اے پروانے، ایک شب مجھے بھی اپنے ہمراہ شمع کی طرف لے جا، کہ میں یار کے گرد گھومنے (طواف کرنے) کے آداب نہیں جانتا۔

٭٭

شوَد سالک ز بندِ خود رہا آہستہ آہستہ
روَد از دست چوں رنگِ حنا آہستہ آہستہ

سالک آہستہ آہستہ ہی اپنی انا کی قید سے رہا ہوتا ہے، جیسے حنا کا رنگ آہستہ آہستہ ہی ہاتھ سے جاتا ہے۔

٭٭

من نمی گویم کہ مجنوں باش و در صحرا نشیں
شہر ہم بد نیست لیکن فارغ از دنیا نشیں

میں یہ نہیں کہتا کہ مجنوں بن جا اور صحرا نشیں ہو جا، شہر بھی برا نہیں ہے لیکن اِس میں دنیا اور دنیا داری سے فارغ ہو کر بیٹھ۔

٭٭

بہ تسبیحِ کواکب کاش دستِ من رسد واقف
جفا ہائے فلک را دل شمردن آرزو دارد

اے واقف، کاش میرا ہاتھ ستاروں کی تسبیح تک پہنچ سکتا کہ میرا دل آسمان کی جفاؤں کو گننے کی آرزو رکھتا ہے۔

٭٭٭

درویش ناصر بخاری/بخارائی

مومن و کافر سوئے حق راہ بُرد
زاہدِ گم راہ بہ باطل ہماں

مومن اور کافر دونوں ہی حق کی راہ پا گئے اور اُس تک پہنچ گئے لیکن راہ گم کردہ (اور ریا کار) زاہد ویسے کا ویسا ہی باطل کے ساتھ ہے۔

٭٭

گویند ناصر از غمِ تو دوست واقف است
خود را بدیں دروغ چرا شادماں کنم؟

اے ناصر، لوگ کہتے ہیں کہ محبوب تیرے غم سے واقف ہے، میں اپنے آپ کو اِس جھوٹ سے شادمان کیوں کروں؟

٭٭

جائے تو دانم کہ دایم در دلِ ریشِ منست
لیک آں مسکین سرگرداں نمی دانم کجاست

میں جانتا ہوں کہ تیری جگہ ہمیشہ کے لیے میرے پارہ پارہ دل میں ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ وہ میرا مسکین سرگرداں دل کہاں ہے؟

٭٭

ترا زحمت شد اے زاہد کہ بشکستی سبوئے من
کہ من زاں بادہ سرمستم کہ در ساغر نمی گنجد

تجھے زحمت ہوئی اے زاہد کہ تُو نے میرا سبو توڑ دیا کیونکہ میں تو اُس بادہ سے سرمست ہوں کہ جو ساغر میں سماتا ہی نہیں۔

٭٭

دل پُر از درد و دیدہ پُر خونست
حالم ایں است، حالِ تو چونست؟

دل درد سے بھرا پڑا ہے اور آنکھیں خونی آنسوؤں سے، میرا حال تو یہ ہے تیرا کیا حال ہے؟

٭٭

وصلِ اُو دیدم، ندارَم تابِ ہجر
سلطنت کردم، گدائی چوں کنم

مجھے اُس کے وصال کا شرف حاصل ہوا ہے اور ہجر کی تاب نہیں ہے، میں نے بادشاہی کی ہے، گدائی کیسے کروں؟

٭٭

مُردن و حشرم گر از بُوئے تو نیست
ذرہ ذرہ خاکِ من مُشکیں چراست؟

میرا مرنا اور حشر اگر تمھاری خوشبو کی وجہ سے نہیں ہے تو پھر میری خاک کا ذرہ ذرہ اس طرح مُشکبار کیوں ہے؟

٭٭

عمرم ہمہ آں بُود کہ در کوئے تو بگذشت
مردن بہ ازیں عمر کہ بے روئے تو بگذشت

میری اصل عمر تو بس وہی تھی کہ جو تیرے کوچے میں گزری اور مرنا اِس عمر (اور زندگی) سے بہتر ہے کہ جو تجھے دیکھے بغیر گزری۔

٭٭٭

ابوطالب کلیم کاشانی

دلے آگاہ می باید، وگرنہ
گدا یک لحظہ بے نامِ خدا نیست

(خدا کو یاد کرتے وقت) ایک باخبر اور حضوری والا آگاہ دل ہونا چاہیے وگرنہ (اگر صرف زبان ہی کا معاملہ ہو تو) بھیک مانگنے والوں کی زبان پر ہر لمحے خدا کا نام ہوتا ہے (لیکن ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے)۔

٭٭

بوقتِ گرسنگی نفسِ دوں گدائی کرد
چو یافت یک لبِ ناں دعویِٰ خدائی کرد

بھُوک کے وقت تو سفلے اور پست نفس نے گدائی کی اور جب روٹی کا ایک ٹکڑا مل گیا تو خدائی کا دعویٰ کر دیا۔

٭٭

جوابِ نامہ ہمیں پارہ کردن است کلیم
مگو کہ قاصدِ من بے جواب می آید

اے کلیم، (میرے) خط کا جواب، یہیں خط کو پھاڑ دینا ہے، لہذا یہ مت کہہ کہ میرا قاصد جواب کے بغیر واپس آیا ہے۔

٭٭

موجیم کہ آسودگیِ ما عدمِ ماست
ما زندہ بہ آنیم کہ آرام نگیریم

ہم موج (کی طرح) ہیں کہ ہمارا سکون ہمارا عدم (مٹ جانا) ہے، ہم اسی وجہ سے زندہ ہیں کہ آرام (سکون) نہیں کرتے۔ یعنی زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے۔

٭٭

ما ز آغاز و ز انجامِ جہاں بے خبریم
اوّل و آخرِ ایں کہنہ کتاب افتادہ است

ہم اس جہان کے آغاز اور انجام سے بے خبر ہیں کہ یہ ایک ایسی پرانی (بوسیدہ) کتاب ہے کہ جس کے شروع اور آخر کے ورق گر گئے ہیں۔

٭٭

ہر کس شناخت قدر مرا، قیمتم شکست
گوہر شناس بے غرضے در جہاں کجاست

جس کسی نے بھی میری قدر پہچانی اُس نے میری قیمت گرا دی، آخر اِس جہاں میں بے غرض گوہر شناس کہاں ہے؟

٭٭

گاہے کہ سنگِ حادثہ از آسماں رَسَد
اوّل بلا بہ مرغِ بلند آشیاں رَسَد

جب کبھی بھی حادثے اور مصیبت کا پتھر آسمان سے برستا ہے تو سب سے پہلی افتاد بلند و بالا آشیانے والے پرندے پر پڑتی ہے۔

٭٭٭

شیخ غلام قادر گرامی

آں ختمِ رُسل شاہِ عرب ماہِ عجم
آں موجِ نخست است ز دریائے قِدم
در تابشِ آفتابِ محشر چہ غم است
دستِ من و دامنِ رسولِ اکرم

وہ ختمِ رُسل کے جو شاہِ عرب اور ماہِ عجم ہیں۔ وہ جو قدامت کے دریا کی پہلی موج ہیں۔ ہمیں محشر کے آفتاب کی گرمی کا کیا غم کہ محشر میں ہم نے اپنے ہاتھ سے دامنِ رسولِ اکرمﷺ تھاما ہو گا۔

گویم ز مسیحا و محمد سخنے
ثانی دگرست نقشِ اوّل دگرست
نسبت در ماہ و مہر من میدانم
کامل دگرست فردِ کامل دگرست

میں مسیحؑ اور محمدﷺ سے کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ دوسرا یعنی مسیح ع کچھ اور ہیں اور اس کائنات کے پہلے نقش یعنی حضورِ اکرمﷺ کچھ اور ہیں۔ میں چاند، جو محدود روشنی کا حامل ہوتا ہے، اور سورج کہ جس کی ضیا پاشیوں سے سارا جہاں چمکتا ہے، کی نسبت اور فرق کو بخوبی جانتا ہوں کہ کامل ہونا یعنی بتدریج مکمل ہونا کچھ اور چیز ہے اور سراسر اور مکمل ترین اور ہر طرح سے اکمل ہونا کچھ اور ہے۔

خاور چکد از شبم بایں تیرہ شبی
کوثر چکد از لبم بایں تشنہ لبی
اے دوست ادب کہ در حریمِ دلِ ماست
شاہنشہِ انبیا رسولِ عربی

میری راتوں میں اس تمام تیرگی کے باوجود سورج چمکتے ہیں۔ میری اس تشنہ لبی کے باوجود میرے ہونٹوں سے کوثر کے قطرے ٹپکتے ہیں۔ اے دوست ادب کہ ہمارے دل کے حریم میں شاہنشاہِ انبیا رسولِ عربیﷺ بستے ہیں۔

پیغمبرِ ما کہ انبیا راست امام
جبریل آوردش از خداوند پیام
بودش برحِکمِ فطرت انجام آغاز
در دائرہِ نبوّت آغاز انجام

ہمارے پیغمبرﷺ کہ جو تمام انبیا کے امام ہیں اور جبریلِ امین ان کے پاس خدا کا پیغام لائے۔ آپﷺ کا انجام اور آغاز دونوں فطرت کی حکمتوں پر مبنی تھے، گویا آپ دائرہ نبوت کا ایک ایسا مقام ہیں کہ جہاں سے آغاز بھی ہوتا ہے اور اختتام بھی۔

فاراں دگرست کوہِ سینا دگرست
موسیٰ دگر و مثیلِ موسیٰ دگرست
در موسیٰ و مصطفیٰ چہ رمزیست غریب
ساحل دگرست، عینِ دریا دگرست

کوہِ فاران کچھ اور چیز ہے اور کوہِ سینا کچھ اور، مُوسیٰ ع کچھ اور ہیں اور مثیلِ مُوسیٰﷺ کچھ اور۔ مُوسیٰ ع اور مصطفیٰﷺ کے درمیان کیا ہی منفرد رمز ہے کہ ساحل کچھ اور چیز ہے یعنی مُوسیٰ اور عین دریا کچھ اور یعنی حضورِ اکرم ص۔

اے ختمِ رُسل جانِ جہاں فارقلیط
خوانند ترا بر آسماں فارقلیط
می گفت مسیح در بشاراتِ جلیل
من میروم آید بجہاں فارقلیط

اے آخری رسول ص، زمانے کی جان فارقلیط۔ آپﷺ کو آسمانوں پر فارقلیط کہا جاتا ہے۔ مسیح ع نے اپنی عظیم و جلیل بشارات میں کہا کہ میں جا رہا ہوں اور اب دنیا میں فارقلیطﷺ آتے ہیں۔

ما را در سینہ داغِ ماہِ عرب ست
بر ما نظرش بے سببی ہا سبب ست
رمزیست نگفتنی بگویم اے دوست
میم است کہ پردہ دارِ عینِ عرب ست

ہمارے سینے میں ماہِ عرب یعنی رسولِ اکرمﷺ کا ہی عشق اور سوز ہے۔ ہمارے حال پر ان کی نظر ہے سو تمام بے سر و سامانی کے باوجود یہی ان کی نظرِ کرم ہی سارے سبب ہیں۔ اے دوست میں تجھ سے ایک ناگفتنی رمز کہتا ہوں کہ میم عرب کے عین کی پردہ دار ہے۔ آخری مصرعے میں وحدت الوجودی صوفیا کا عقیدہ بیان ہوا ہے۔

٭٭٭

طالب آملی

نشاط ہیچ و طرب ہیچ و جام و ساغر ہیچ
ز ہر چہ حاصلِ دہر است عشق و دیگر ہیچ

نشاط و عیش و طرب و خوشی کچھ بھی نہیں، جام و ساغر بھی کچھ نہیں، کسی بھی چیز سے اِس دنیا کا جو کچھ بھی حاصل ہے وہ صرف عشق ہے اور باقی سب کچھ ہیچ ہے۔

٭٭

خود را بدرِ صومعہ گم کردہ ام امروز
امید کہ در گوشۂ میخانہ بیابم

آج میں نے اپنے آپ کو خانقاہ کے دروازے پر گم کر دیا ہے، اُمید ہے کہ میخانے کے کسی گوشے میں خود کو پا لوں گا۔

٭٭

افروختن و سوختن و جامہ دریدن
پروانہ ز من، شمع ز من، گُل ز من آموخت

شمع نے چمکنا، پروانے نے جلنا اور پھول نے گریبان چاک کر کے کھِلنا مجھی سے سیکھا ہے۔

٭٭

بے نیازانہ ز اربابِ کرم می گذرم
چوں سیہ چشم کہ بر سرمہ فروشاں گذرد

میں اربابِ کرم کے پاس سے بے نیازانہ گزر جاتا ہوں جیسے کہ سیاہ آنکھوں والا سرمہ فروشوں کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ (جیسے سیاہ آنکھوں والے کو سرمے کی حاجت نہیں ہوتی ویسے مجھے بھی لوگوں کے کرم اور مہربانی کا احسان لینے کی حاجت نہیں)۔

٭٭

آنچہ بر سینۂ ما رفت ز نیشِ مژہ ای
بر سرِ کوہکن از تیشۂ فولاد نرفت

پلکوں کے نشتر سے جو کچھ ہمارے دل پر گزر گئی وہ تو فرہاد کے سر پر فولاد کا تیشہ مارنے سے بھی نہیں گزری تھی۔

٭٭

شعلہ مزاج مطربا، سخت فسردہ خاطرم
آتشِ نغمہ تیز کن، ساز تمام سوز را

اے شعلہ مزاج مطرب، میرا دل سخت افسردہ ہے، ذرا آتشِ نغمہ تیز کر، اور ساز کو تمام کا تمام سوز بنا دے۔

٭٭٭

عبید زاکانی

دیگراں در بحرِ حرص ار دست و پائے می زنند
ما قناعت کردہ ایم و بر کنار آسودہ ایم

دوسرے لوگ اگر لالچ اور خواہشوں کے سمندر میں ہاتھ پاؤں مارتے ہیں تو ہم نے قناعت اختیار کر لی ہے اور کنارے پر ہی آسودہ ہیں۔

٭٭

مرا دو چشمِ تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا

مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔

٭٭

ہر کو قتیلِ عشق نشد چوں بخاک رفت
ہم بے خبر بیامد و ہم بے خبر برفت

ہر وہ شخص کہ جو عشق کا قتیل نہ ہوا اور خاک میں چلا گیا، وہ اِس دنیا میں بے خبر آیا اور بے خبر ہی چلا گیا۔

٭٭

جوقِ قلندرانیم، در ما ریا نباشد
تزویر و زرق و سالوس آئینِ ما نباشد

ہم قلندروں کے گروہ میں سے ہیں، ہم میں ریاکاری نہیں ہوتی اور مکر و فریب و نفاق و دروغ و دو رنگی و چرب زبانی ہماری سرشت اور ہمارے آئین میں نہیں ہے۔

٭٭

ہرچند بہشت صد کرامت دارد
مرغ و مئے و حورِ سروقامت دارد
ساقی بدہ ایں بادۂ گُل رنگ بنقد
کاں نسیۂ اُو سر بقیامت دارد
(رباعی)

ہرچند کہ بہشت کے بہت سے تحفے اور فیاضیاں اور عطائیں ہیں اور وہاں رنگا رنگ پرندوں کے طعام اور مے اور سرو قامت حوریں ہیں لیکن اے ساقی تُو مجھے یہ گُل رنگ بادہ یہیں نقد دے دے کیونکہ اُس (بہشت) کا اُدھار تو قیامت کو چکائے جانے کا وعدہ رکھتا ہے۔

٭٭

در وضعِ روزگار نظر کُن بچشمِ عقل
احوالِ کس مپرس کہ جائے سوال نیست

زمانے کی وضع قطع اور لوگوں کے حال احوال، عقل کی آنکھوں کے ساتھ (غور و فکر سے) دیکھ لیکن کسی کا بھی حال مت پوچھ کہ پوچھنے کا محل نہیں ہے۔

٭٭٭

نورالدین ظہوری ترشیزی

در شرحِ غمِ خویش کتابے کہ نوشتم
فہرستش اگر عرض کنم چند کتاب است

اپنے غموں کی شرح بیان کرنے کے لیے میں کوئی کتاب کیا لکھتا کہ اگر صرف اُس کی فہرست بیان کروں تو وہ فہرست ہی کچھ کتابوں کے برابر بن جائے۔

٭٭

جُز آستانِ تو جا در جہاں نمی دانم
من و تفکّرِ جائے دگر، دروغ دروغ

تیرے آستانے کے سوا میں ساری دنیا میں کوئی دوسری جگہ نہیں جانتا، میں اور مجھے کوئی دوسری جگہ ڈھونڈنے کی فکر ہو، جھوٹ جھوٹ، بالکل جھوٹ۔

٭٭

واعظ فسانہائے تو شیریں نمی شود
تا تر نمی شود لبِ خشکت ز آبِ تلخ

اے واعظ تیرے سارے افسانے شیریں نہیں ہوتے جب تک کہ تیرے خشک لب آبِ تلخ (شراب کے ذکر) سے تر نہیں ہوتے۔

٭٭

ازیں چہ باک کہ رسمِ وفا نمی دانی
بلاست ایں کہ طریقِ جفا نمی دانی

اِس بات کا کیا ڈر خوف کہ تُو رسمِ وفا نہیں جانتا، اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ تُو جفا کرنے کے طور طریقے بھی نہیں جانتا۔

٭٭

از ظہوری شد بلند آوازۂ افتادگی
در گدائی حشمتم بیں، شوکتِ سلطاں کجاست

ظہوری کی وجہ سے انکساری اور خاکساری کا چرچا ہر طرف ہو گیا، گدائی میں میری حشمت تو ذرا دیکھ، بادشاہوں کی شوکت کہاں ہے؟

٭٭

خُمخانہ ایست ہر بُنِ مُو، مستی ام مپرس
ایں بادہ در پیالۂ من از سبوئے کیست

میرے رُوئیں روئیں میں میخانہ ہے، میری مستی کا عالم نہ پُوچھ، (لیکن اگر بتا سکتا ہے تو یہ بتا کہ) میرے جام میں‌ یہ شراب کس کے سبو کی ہے؟

٭٭٭

ہلالی استرآبادی (چغتائی)

گہ معتکفِ مسجد و گہ ساکنِ دیرَم
یعنی کہ ترا می طلبم خانہ بخانہ

کبھی میں مسجد میں حالتِ اعتکاف میں ہوں اور کبھی مندر کا ساکن ہوں، یعنی میں خانہ بخانہ تیرا ہی طالب ہوں (کہ مسجد و مندر میں تو ہی ہے)۔

٭٭

گر یار کند میل، ہلالی عجبے نیست
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را؟

اے ہلالی، اگر دوست تیری طرف مائل ہے اور تجھ پر مہربانی کرتا ہے تو اِس میں کوئی عجیب بات نہیں کہ بادشاہ اگر گدا کو نواز دیں تو اس میں کیا عجب؟

٭٭

روزِ ہجر از خاطرم اندیشۂ وصلَت نرفت
آرزوئے صحّت از دل کی رود بیمار را؟

ہجر کے دن بھی میرے دل سے تیرے وصل کا خیال نہیں گیا، بیمار کے دل سے صحّت کی آرزو بھلا کیسے نکلے؟

٭٭

رفت آں تازہ گُل و ماند بدل خارِ غمش
گُل کجا جلوہ گر و سرزنشِ خار کجاست

وہ تازہ پھول (ہم سے دُور) چلا گیا اور دل میں اُس کے غم کا کانٹا رہ گیا، (دیکھو تو) پھول کہاں جلوہ گر ہے اور کانٹے کی چبھن کہاں ہے۔

٭٭

گفتی، بگو کہ "بندۂ فرمانِ کیستی؟”
ما بندۂ تو ایم، تو سلطانِ کیستی؟

تُو نے پوچھا کہ بتاؤ "کس کے فرمان کے بندے ہو؟”، ہم تو تیرے ہی بندے ہیں لیکن تُو بتا کہ تُو کس کا سلطان ہے؟

٭٭

خاکِ آدم کہ سرشتند غرض عشقِ تو بُود
ہر کہ خاکِ رہِ عشقِ تو نشد، آدم نیست

خاکِ آدم کہ جس کو اُنہوں (کارکنانِ قضا و قدر) نے گوندھا اور خمیر کیا، اُس سے غرض تیرا عشق تھا، لہذا ہر وہ کہ جو تیرے عشق کی راہ کی خاک نہ ہوا، وہ آدم ہی نہیں ہے۔

٭٭٭

بابا فغانی شیرازی

نیست در حلقۂ مستانِ تو بیگانہ کسے
ہمہ یارند دریں دائرہ، اغیار کجاست

تیرے مستوں کے حلقے میں کوئی بھی ایک دوسرے سے بیگانہ نہیں ہے، اِس دائرے میں سبھی دوست ہیں، اغیار کہاں ہے؟

٭٭

گر از نَفَسِ گُل نشَوَد بوئے تو ظاہر
بلبل نکند ایں ہمہ فریاد و فغان را
(دیوانِ بابا فغانی، قصیدہ)

اگر نفسِ گُل سے تیری خوشبو ظاہر نہ ہوتی تو بلبل یہ تمام فریاد و نالے و آہ و فغاں نہ کرتا۔

٭٭

در جاں ز عشق سوزے، در دل ز طعن داغے
یاراں حذر کہ بارد زیں روزگار آتش

عشق کی وجہ سے جان میں سوزش اور جلن ہے، اور (لوگوں کے) طعنوں سے دل میں داغ ہیں، یارو حذر کرو، بچو کہ یہ زمانہ تو آگ برساتا ہے۔

٭٭

در دستِ روزگار گُلِ آرزوئے من
زآنگونہ شد فسردہ کہ بُو ہم نمی دہد

زمانے کے ہاتھوں میں میری آرزوؤں کا پھول کچھ اس طرح سے مُرجھایا اور مسلا گیا ہے کہ وہ اب خوشبو بھی نہیں دیتا۔ (مُرجھایا ہوا پھول پرانا ہو جائے تو اُس میں خوشبو بھی باقی نہیں رہتی)۔

٭٭

چہ خاک در نظرِ ہمّتَش چہ آبِ حیات
کسیکہ شیوۂ رندانِ رہ نشیں دانست

اُس کی بلند ہمت نظر میں کیا خاک اور کیا آبِ حیات، جس نے کہ رندانِ رہ نشیں کا شیوہ جان لیا۔      ٭٭٭

سر سید احمد خان

فلاطوں طِفلَکے باشَد بہ یُونانے کہ مَن دارَم
مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم

افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں۔

خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفیٰ دارَم
نَدارَد ہیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم

میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفیٰﷺ رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواہَم
ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم

جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوبﷺ کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں۔

فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم

آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔

ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ہا دارَد رہِ واعظ
نَدارَد ہیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم

واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

٭٭٭

شاہ نیاز احمد

نظر بہ عیب مکن در ظہورِ باغِ وجود
کہ طوطیانِ چمن و زاغ و ہم زغن ہمہ اُوست

اس وجود کے گلستان کے ظاہر پر عیب کی نظر مت ڈال کہ طوطیان چمن بھی وہی ہے اور زاغ و زغن بھی وہی ہے۔

از سرّ ِ عشق چو واقف شوی، یقیں دانی
کہ قیس و لیلیٰ و شیریں و کوہ کن ہمہ اُوست

جب تُو عشق کے اسرار سے واقف ہو جائے تو یقین کر لے کہ قیس بھی وہی ہے اور لیلیٰ بھی، شیریں بھی وہی ہے اور فرہاد بھی۔

شنیدہ ام بہ صنم خانہ از زبانِ صنم
صنم پرست و صنم گر و صنم شکن ہمہ اُوست

میں نے صنم خانے میں صنم کی زبان سے سنا ہے کہ صنم پرست بھی وہی ہے اور صنم گر بھی وہی ہے اور صنم شکن بھی وہی ہے۔

رساند مطربِ خوش گو ہمیں ندا در گوش
کہ چوب و تار و صدائے تنن تنن ہمہ اُوست

مطربِ خوش گو کی یہی آواز ہمارے کانوں تک پہنچی ہے کہ (ساز کی) چوب بھی وہی ہے اور تار بھی اور صدائے تنن تنن بھی وہی ہے۔

٭٭

سر و سامانِ وجودم شررِ عشق بسوخت
زیرِ خاکسترِ دل سوزِ نہانم باقیست

میرے وجود کا سارا سر و سامان عشق کے شرارے نے جلا ڈالا، لیکن دل کی راکھ کے نیچے میرا سوزِ نہاں باقی ہے۔

٭٭٭

غنیمت کنجاہی

از بس خیالِ من شدہ لبریز جلوہ اش
ہر جا کہ سر بسجدہ نہم نقشِ پائے اُوست

چونکہ میرا (پیمانۂ) خیال اُس کے جلوؤں سے لبالب بھرا ہوا ہے سو جس جگہ بھی میں سجدے کے لیے سر رکھتا ہوں (جھُکنے کی وجہ سے چھلک کر) وہیں اُس کا نقشِ پا بن جاتا ہے۔

٭٭

نگردد قطع ہرگز جادۂ عشق از دویدن ہا
کہ می بالد بخود ایں راہ چوں تاک از بریدن ہا

عشق کا راستہ دوڑ بھاگ کرنے سے کبھی بھی طے نہیں ہوتا کہ انگور (اور دیگر درختوں) کی شاخ کی طرح، عشق کی راہ بھی کاٹنے سے خود بخود ہی اور بڑھ جاتی ہے۔

٭٭

مَردم برنگِ سرمہ دہندش بدیدہ جائے
معلوم شد غنیمتِ ما خاکپائے کیست

لوگ اُسے سرمے کی طرح آنکھوں میں جگہ دیتے ہیں سو معلوم ہو گیا کہ ہمارا غنیمت کس کی خاکِ پا ہے۔

٭٭

درِیں بساط بوَد بے سبب حریفاں را
بسانِ مہرۂ شطرنج، خانہ جنگی ہا

اِس دنیا کی بساط پر حریفوں کے درمیان خانہ جنگیاں، شطرنج کے مہروں کی طرح، بے سبب اور بے وجہ ہی ہوتی ہیں۔ (دوسرے مصرعے میں بسان کی جگہ برنگ میں ملتا ہے)۔

٭٭

دست شُستن ز اُلفتِ کونین
ہم وضو گشت و ہم دو گانۂ ما

دونوں جہانوں کی اُلفت (اور ہوس) سے ہاتھ دھونا، ہمارا وضو بھی بن گیا اور ہماری دوگانہ (صبح و شام کی) نماز بھی۔

٭٭٭

اہلی شیرازی

عاشق بوصلِ یار کجا می رسد مگر
آئینِ روزگار دگرگوں کند کسے

عاشق وصلِ یار تک کہاں بھی پہنچتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی اس جہان کے قانون قاعدوں اور رسم و رواج کو اُلٹ پلٹ کر دے۔

٭٭

بر فلک ہر شب رسانَم برقِ آہِ خویش را
تا بسوزم کوکبِ بختِ سیاہِ خویش را

ہر رات میں اپنی آہوں کی بجلی آسمان پر پہنچاتا ہوں تا کہ اپنے سیاہ نصیبوں کے ستارے کو اِس سے جلا ڈالوں۔

٭٭

عجب کہ شمع شبے در سرائے من سوزَد
من آں نیَم کہ کسے از برائے من سوزَد

عجب ہے کہ اگر کسی شام میرے گھر میں شمع جلے، کیونکہ میں وہ نہیں ہوں کہ کوئی میرے لیے جلے۔

٭٭

یا منِ ناصبور را سوئے خود از وفا طلب
یا تو کہ پاکدامنے، صبرِ من از خدا طلب

یا مجھ بے تاب و بے قرار و بے صبر کو اپنی طرف پیار محبت اور وفا سے بُلا، یا، تو کہ پاکدامن ہے (اور تیری دعا قبول ہو گی)، خدا سے میرے لیے صبر و قرار مانگ۔

٭٭٭

غنی کاشمیری

غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کُنَد چشمِ زلیخا را

غنی، پیرِ کنعاں ( یعقوبؑ) کے نصیبوں کی سیاہی تو ذرا دیکھ کہ ان کی آنکھوں کے نور (یوسفؑ) نے روشن کیا تو زلیخا کی آنکھوں کو۔

٭٭

فلک در گردش است از بہرِ خوابِ بختِ ناسازم
بُوَد در جُنبشِ گہوارہ راحت، طفلِ بد خُو را

آسمان اس لیے گردش میں ہے تا کہ وہ میرے ناساز نصیبوں کو سُلا دے، جیسے کہ بد خُو، بے قرار و بے چین بچے کے لیے گہوارے کی جنبش میں راحت ہوتی ہے (اور اس سے وہ سو جاتا ہے)۔

٭٭

رفت عمرم در غریبی بر بساطِ روزگار
گرچہ ہمچوں مہرۂ شطرنج دارم خانہ ہا

اِس دنیا کی بساط پر میری ساری زندگی بے وطنی میں گزر گئی، اگرچہ شطرنج کے مہروں کی طرح میں کئی ایک گھر رکھتا ہوں۔

٭٭

معذور بُوَد زاہد اگر جام نگیرد
کز دانۂ تسبیح کفش آبلہ دار است

اگر زاہد جام نہیں پکڑتا تو وہ اِس معاملے میں معذور ہے کہ تسبیح کے دانوں کی وجہ سے اُس کی ہتھیلیوں میں آبلے پڑے ہوئے ہیں (اس لیے جام نہیں تھام سکتا)۔

٭٭٭

رہی معیری

سوختم از آتشِ دل درمیانِ موجِ اشک
شور بختی بیں کہ در آغوشِ دریا سوختم
(شاہدِ افلاکی)

میں آتشِ دل سے اشکوں کی موجوں کے درمیان جل گیا، میری بدبختی تو دیکھ کہ میں عین دریا کی آغوش میں جل گیا۔

٭٭

من خاکم و من گردم من اشکم و من دردم
تو مہری و تو نوری تو عشقی و تو جانی

میں خاک ہوں تُو آفتاب ہے، میں گرد ہوں تُو نور ہے، میں اشک ہوں تُو عشق ہے، میں درد ہوں تُو جان ہے۔

٭٭

کُجا بہ صُحبتِ پاکاں رسی کہ دیدۂ تو
بسانِ شبنمِ گُل اشکبار باید و نیست
(
گریۂ بے اختیار)

 

تُو بھلا کیسے بھی پاک اور نیک (پھُول جیسے) لوگوں کی صُحبت حاصل کر پائے گا کہ (اِس کے لیے) تیری آنکھیں شبنم کی طرح اشکبار ہونی چاہئیں لیکن نہیں ہیں۔

٭٭٭

شیخ بہائی

طمعِ وصال، گفتی، کہ بہ کیشِ ما حرام است
تو بگو کہ خونِ عاشق، بہ کدام دیں حلال است

تُو نے کہا کہ وصال کی طمع رکھنا ہمارے مذہب اور روش میں حرام ہے، (ٹھیک ہے لیکن) یہ بھی کہہ کہ عاشق کا خون کرنا کون سے مذہب میں حلال ہے؟

٭٭

دِلا باز ایں ہمہ افسردگی چیست؟
بہ عہدِ گُل، چنیں پژمردگی چیست؟

اے دل یہ ہر وقت کی افسردگی کیوں ہے، اس موسمِ گل میں یہ پژمردگی کیوں ہے؟

٭٭

در میکدہ دوش زاہدے دیدم مست
تسبیح بہ گردن و صراحی بر دست
گفتم ز چہ در میکدہ جا کردی، گفت
از میکدہ ہم بہ سوئے حق راہے ہست
(رباعی)

کل رات میں نے میکدے میں ایک زاہد کو دیکھا کہ مست تھا، تسبیح گردن میں ڈالی ہوئی تھی اور ہاتھ میں صراحی تھی۔ میں نے پوچھا کہ تُو نے میکدے میں ٹھکانہ کس لیے کر لیا، بولا کہ حق کی طرف ایک راہ میکدے میں سے بھی ہے۔

٭٭٭

شیخ شرف الدین پانی پتی

چوں نباشد جز وصالِ یار درمانے مرا
پس ز شغلِ چارہ سازی، غم گساراں را چہ حظ

جب وصالِ یار کے علاوہ میرا کوئی درمان، کوئی علاج ہی نہیں ہے تو پھر چارہ سازی کے شغل سے غم گساروں کو کیا لُطف؟

٭٭

نہ ترسم ز آتشِ دوزخ نہ پروائے جناں دارم
منم شوریدۂ جاناں نہ خواہم حور و غلماں را

نہ میں آتشِ دوزخ سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی مجھے جنت کی کوئی پروا ہے، میں (اُس ازلی) محبوب کا عاشق و دیوانہ ہوں (اور اُسی کا وصال چاہتا ہوں) مجھے حور و غلمان کی کوئی خواہش نہیں۔

٭٭

ازاں سرّے کہ با محبوب دارم
خبر نبود کراماً کاتبیں را

وہ اسرار و رموز اور راز و نیاز کہ جو میں اپنے محبوب کے ساتھ رکھتا ہوں، اُن کی خبر کراماً کاتبین کو بھی نہیں ہوتی۔

٭٭٭

شیخ فخر الدین عراقی

بیار ساقی ازاں مے کہ ساغرِ اُو را
ز عکسِ چہرۂ تو ہر زماں دگر رنگ است

اے ساقی وہ مے لا کہ جس کے ساغر کا تیرے چہرے کے عکس سے ہر زمانے میں ایک دوسرا (اور نیا) ہی رنگ ہوتا ہے۔

٭٭

ز خود صبرے و آرامے نمی یابم نمی یابم
ز تو لطفے و احسانے نمی بینم نمی بینم

مجھے اپنی طرف سے صبر و قرار و چین و سکون و آرام نہیں ملتا، نہیں ملتا۔ اور تیری طرف سے کوئی لطف و احسان و مہربانی نہیں دیکھتا، بالکل نہیں دیکھتا۔

٭٭

از عکسِ رُخَت دلِ عراقی
گلزار و بہار و باغ و صحراست

تیرے چہرے کے عکس سے عراقی کا دل، گلزار ہے، بہار ہے، باغ ہے، صحرا ہے۔

٭٭٭

غزالی مشہدی

شورے شُد و از خوابِ عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقیست شبِ فتنہ، غنودیم

ایک شور بپا ہوا اور ہم نے خوابِ عدم سے آنکھ کھولی، دیکھا کہ شبِ فتنہ ابھی باقی ہے تو ہم پھر سو گئے۔

٭٭

ذوقِ جنوں از سرِ دیوانہ پُرس
لذّتِ سوز از دلِ پروانہ پُرس

ذوقِ جنون دیوانے کے سر سے پُوچھ اور جلنے کی لذّت پروانے کے دل سے پُوچھ۔

٭٭

از آں علمے کہ دانشمند دارد
چہ حاصل چوں در اُو علمِ نظر نیست

اُس سارے علم سے کہ جو کسی دانشمند کے پاس ہے، کیا فائدہ کہ جب اُس کے پاس علمِ نظر ہی نہیں ہے۔

٭٭٭

فیض کاشانی

چوں کسے را تابِ دیدارِ تو نیست
از جمالت اے مۂ تاباں چہ حظ

جب کسی کو بھی تیرے دیدار کی تاب نہیں ہے تو پھر اے مۂ تاباں تیرے جمال سے کیا لطف و مسرت؟

٭٭

نہ من امروز شدم عاشق و پیمانہ پرست
از دمِ صبحِ ازل تا بقیامت مستم

میں کوئی آج کے دن (تازہ تازہ) عاشق اور پیمانہ پرست نہیں ہوا، بلکہ میں صبحِ ازل کے وقت سے لے کر قیامت تک مست ہی ہوں۔

٭٭

بر زمینِ دل سحابِ عشق می بارد سخن
فیض عاشق شو اگر خواہی سخن گستر شدن

دل کی زمین پر، عشق کا بادل سخن کا مینہ برساتا ہے۔ اے فیض اگر تُو سخنور و شاعر ہونا چاہتا ہے تو پھر عاشق ہو جا۔

٭٭٭

ملک قمی

رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد

میں نے پاؤں سے کانٹا نکالنا چاہا (اور اتنے میں) محمل نظر سے پوشیدہ ہو گیا، میں ایک لمحہ غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا۔

٭٭

صلح کردیم من و غیر، دریں بُود صلاح
زانکہ جنگِ من و اُو باعثِ رسوائیِ تست

میں نے اور غیر نے صلح کر لی اور اسی میں مصلحت اور بھلائی تھی کیونکہ میری اور اُس کی جنگ تیری رُسوائی کا باعث ہے۔

٭٭

فی الجملہ نسبتے بہ تو کافی بوَد مرا
بلبل ہمیں کہ قافیۂ گل شوَد، بس است

قصہ مختصر، تجھ سے نسبت ہونا ہی میرے لیے کافی ہے، جیسے کہ بلبل کے لیے گُل کا قافیہ ہونا ہی بہت ہے۔

٭٭٭

امیر حسن دہلوی

چشمِ حسن گر نریخت بر سرِ کوئے تو خوں
بر در و دیوارِ تو نقش و نگار از کجاست؟

حسن کی آنکھوں نے اگر تیرے کوچے میں خون نہیں بہایا تو پھر تیرے در و دیوار پر یہ سارے نقش و نگار کہاں سے آئے ہیں؟

٭٭

صد نامہ نوشتیم و جوابے ننوشتند
ایں ہم کہ جوابے ننوشتند، جواب است

ہم انہیں سو سو خط لکھتے ہیں اور وہ جواب نہیں دیتے، یہ بات کہ وہ کوئی جواب نہیں لکھتے، جواب ہی ہے۔

٭٭٭

شیخ ابو سعید ابو الخیر

اے دوست طوافِ خانہ ات می خواہم
بوسیدنِ آستانہ ات می خواہم
بے منتِ خلق توشۂ ایں رہ را
می خواہم و از خزانہ ات می خواہم

اے دوست، میں تیرے گھر کا طواف کرنا چاہتا ہوں، اور تیرے آستانے کو چُومنا چاہتا ہوں۔ اور اِس سفر کا سامان لوگوں کا احسان اُٹھائے بغیر چاہتا ہوں، اور یہ زادِ راہ خاص تیرے خزانوں میں سے چاہتا ہوں۔

در دل چو کجیست روئے بر خاک چہ سود
چوں زہر بہ دل رسید تریاک چہ سود
تو ظاہرِ خود بہ جامہ آراستہ ای
دلہائے پلید و جامۂ پاک چہ سود

جب دل ہی میں کجی ہے تو پھر چہرے کو خاک پر رکھنے (سجدے) سے کیا فائدہ؟ جب زہر دل تک پہنچ چکا تو پھر تریاک سے کیا فائدہ؟ تُو اپنے ظاہر (جسم) کو (خوبصورت) لباس سے آراستہ کرتا ہے لیکن جب دل ہی پلید ہو تو پاک صاف لباس سے کیا فائدہ؟

٭٭٭

علامہ شبلی نعمانی

شبہائے ہجر دیدہ ام و باز زندہ ام
گویا کہ کارِ مرگ و قضا را نظام نیست

میں نے ہجر کی راتیں کاٹی ہیں اور پھر بھی زندہ ہوں، اِس کا مطلب تو یہی ہے کہ مرگ و قضا کا یہاں کوئی نظام نہیں ہے۔

٭٭

آں مئے کو ز فرنگست نداریم بجام
بادۂ خُم کدۂ صدق و صفا خواہی، ہست

وہ مے کہ جو افرنگ سے آتی ہے ہمارے جام میں نہیں ہے، ہاں تُو اگر صدق و صفا کے میخانے کی مے چاہتا ہے تو وہ موجود ہے۔

٭٭٭

عمر خیام نیشاپوری

اے مفتیِ شہر از تو پُرکار تریم
با ایں ہمہ مستی از تو ہشیار تریم
تو خونِ کساں خوری و ما خونِ رزی
انصاف بدہ، کدام خونخوار تریم
(رباعیاتِ خیام، نادرہ ایام، رباعی  / رمضانی)

اے مفتیِ شہر ہم تجھ سے زیادہ کارآمد ہیں، اس تمام تر مستی کے باوجود تجھ سے زیادہ ہوش مند ہیں۔ تو لوگوں کا خون پیتا ہے اور ہم انگور کا، تُو خود ہی انصاف کر ہم میں سے زیادہ خونخوار کون ہے۔

ہر چند کہ رنگ و روئے زیباست مرا
چوں لالہ رخ و چو سرو بالاست مرا
معلوم نہ شد کہ در طرب خانۂ خاک
نقّاشِ ازل بہر چہ آراست مرا
(ترانہ ہائے انتخابِ صادق ہدایت، رباعی)

ہر چند کہ میرا رنگ اور روپ بہت خوبصورت ہے، میں لالہ کے پھول کی طرح ہوں اور سرو کی طرح بلند قامت ہوں۔ لیکن معلوم نہیں کہ اس مٹی کے گھر میں جس میں نوحے بپا ہیں، قدرت نے مجھے اس قدر کیوں سجایا ہے۔

٭٭٭

ملک الشعراء محمد تقی بہارؔ

من نگویم کہ مرا از قفَس آزاد کُنید
قفسم بردہ بہ باغی و دلم شاد کنید

میں نہیں کہتا کہ مجھے قفس سے آزاد کر دو، (بلکہ) میرا پنجرہ کسی باغ میں لے جاؤ اور میرا دل شاد کر دو۔

٭٭

روزے کہ دلے را بہ نگاہے بنوازند
از عمر حساب است ہماں روز و دگر ہیچ

وہ دن کہ جس دن دل کو ایک نگاہ سے نوازتے ہیں، ساری عمر میں سے بس وہی دن شمار کے قابل ہے اور باقی ساری عمر کچھ بھی نہیں۔

٭٭٭

میر رضی دانش مشہدی

شمع خود را می گدازَد درمیانِ انجمن
نورِ ما چوں آتشِ سنگ از نظر پنہاں خوش است

شمع انجمن میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے (اور صبح تک ختم ہو جاتی ہے)، ہمارا نور آتشِ سنگ کی طرح نظر سے پنہاں ہے لیکن اچھا ہے (کہ دائمی ہے)۔

٭٭

خدا از دستِ دُشمن کارِ مُحتاجاں بروں آرد
خمِ مے محتسب بشکست، عیدِ بادہ خواراں شد

خدا، دُشمن کے ہاتھوں سے بھی محتاجوں کا کام بنا دیتا ہے، مے کا مٹکا تو محتسب نے توڑا اور (مفلس و محتاج) مے نوشوں کی عید ہو گئی (کہ مفت میں گری ہوئی مے مل گئی)۔

٭٭٭

ابوالقاسم لاہوتی

مُعلمِ تو نیاموختَت حساب، چہ دانی
کہ حسرتِ دلِ پر دردِ من حساب ندارد

تیرے اُستاد نے تجھے حساب پڑھایا ہی نہیں سو تُو کیا جانے کہ میرے پُر درد دل کی حسرتوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔

٭٭٭

امام احمد رضا خان

شَہا بیکس نوازی کُن طَبِیبا چارہ سازی کن
مریضِ دردِ عِصیانَم اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ

اے شاہ، بے کس نوازی کیجیے۔ اے طبیب، چارہ سازی کیجیے، میں گناہوں کے درد کا مارا مریض ہوں، میری مدد کو پہنچیے یا رسول اللہ۔

٭٭٭

امیر قاضی اسیری

اُمیدِ وصلِ تو نگذاشت تا دہَم جاں را
وگرنہ روزِ فراقِ تو مُردن آساں بُود

تیرے وصل کی امید (دل سے) نہ گئی کہ میں جان دے دیتا، وگرنہ تیری جدائی والے دن مرنا تو بہت آسان تھا۔

٭٭٭

پروین اعتصامی

ہر کجا نُور است چوں پروانہ خود را باختن
ہر کجا نار است خود را چوں سمندر داشتن
(
«آرزوہا»)

جہاں کہیں بھی نُور ہے وہاں پروانے کی طرح اپنی جان کی بازی ہار جانا، اور جہاں کہیں بھی نار ہے وہاں سمندر کی طرح خود کو آگ میں جلاتے رکھنا۔

٭٭٭

جگر مرادآبادی

از خرقہ و عمامہ، من ہیچ نمی دانم
گہ گہ مگر ایں ساماں، در رہنِ شراب اولیٰ

خرقہ اور عمامہ کے متعلق میں کچھ بھی نہیں جانتا (اور مجھے ان سے کچھ لینا دینا بھی نہیں ہے)، ہاں مگر یہ کہ گاہے گاہے یہ سامان رہن رکھ کر شراب لینے کے لیے بہترین ہے۔

٭٭٭

حسین پژمان بختیاری

گفتم مرو بجز دلِ من در دلِ کسی
گفتا کہ ایں خرابہ کجا منزلِ من است

میں نے کہا کہ میرے دل کے سوا کسی اور کے دل میں مت جا، اُس نے کہا کہ یہ ویرانہ کہاں میری منزل ہے۔

٭٭٭

حکیم سنائی

بر خود آنرا کہ پادشاہی نیست
بر گیاہیش پادشاہ شمار

جس شخص کو اپنی ذات پر حکمرانی نہیں تو اسے صرف گھاس پر بادشاہ شمار کرو (وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جسے ایک تنکے پر بھی اختیار نہیں۔)

٭٭٭

خاقانی شروانی

تا چشمِ تو ریخت خونِ عشّاق
زلفِ تو گرفت رنگِ ماتم
(قصیدہ)

چونکہ تیری آنکھوں نے عشاق کا خون بہایا ہے (اس لیے) تیری زلفوں نے رنگِ ماتم پکڑا ہوا ہے (وہ سیاہ رنگ کی ہیں)۔

٭٭٭

خواجوی کرمانی

حاجی بعزمِ کعبہ کہ احرام بستہ ای
در دیدہ ساز جائے مغیلاں چنانکہ من
(بدائع الجمال (خواجوی کرمانی)، شوقیات)

اے حاجی کہ تُو نے کعبہ کا عزم کیے ہوئے احرام باندھ لیا ہے تو اب (راستے کے) کانٹوں کے لیے آنکھوں میں جگہ بھی بنا، میری طرح۔

٭٭٭

خواجہ میر درد دہلوی

اُو دل آزار و دل گرفتار است
قصّہ کوتاہ، ماجرا ایں است

وہ دل آزار ہے اور دل (اُس کا) گرفتار ہے، قصّہ کوتاہ، ماجرا بس یہی ہے۔

٭٭٭

سراج الدین علی خان آرزو

محتسب از سخت جانی نے دلم تنہا شکست
شیشہ را گردن، سبو را دست، خم را پا شکست

محتسب نے اپنی سنگ دلی اور بے رحمی کی وجہ سے صرف میرا دل ہی نہیں توڑا بلکہ جام کی گردن، سبو کا ہاتھ اور خم کے پاؤں بھی توڑ دیے۔

٭٭٭

شاہزادی زیب النساء مخفی

روزگارم گر زند زخمے بہ ہر تارِ رگے
کافرم گر یک قدم دنبالِ مرہم می روم

اگر یہ زمانہ، یہ دنیا میری ہر ایک رگ پر بھی زخم لگا دے، تو کافر ہوں اگر میں ایک قدم بھی مرہم کے پیچھے جاؤں۔

٭٭٭

شاہ شجاع

در مجلسِ دہر ساز مستی پست است
نے چنگ بقانون، نہ دف بر دست است
رنداں ہمہ ترکِ مے پرستی کردند
جز محتسبِ شہر کہ بے مے مست است

دنیا کی محفل میں سازِ مستی پست ہے، نہ چنگ، قانون کے ساتھ ہے (دونوں ساز ہیں) اور نہ ہی ہاتھوں میں دف ہے، تمام کے تمام رندوں نے مے پرستی ترک کر دی ہے، سوائے محتسبِ شہر کے، کہ وہ بغیر مے کے ہی مست ہے۔

٭٭

شریف خان شیرازی

بگذر مسیح، از سرِ ما کُشتگانِ عشق
یک زندہ کردنِ تو بصد خوں برابرست

اے مسیح، ہم عشق کے ہلاک شدگان کے سر پر سے گذر جا کہ تیرا ایک مردہ کو زندہ کرنا (کسی کے ارمانوں کے) سو خون کرنے کے برابر ہے۔

٭٭

شہزادہ دارا شکوہ

سلطنت سہل است، خُود را آشنائے فقر کُن
قطرہ تا دریا تَوانَد شُد، چرا گوہر شَوَد

حکومت کرنا تو آسان ہے، اپنے آپ کو فقر کا شناسا کر، (کہ) قطرہ جب تک دریا میں نہ جائے گا، گوہر کیسے بنے گا؟

٭٭٭

شہنشاہ جہانگیر

از من متاب رُخ کہ نِیَم بے تو یک نَفَس
یک دل شکستنِ تو بصد خوں برابرست

میری طرف سے منہ مت پھیر کہ تیرے بغیر میں ایک لحظہ بھی نہیں ہوں، تیرا ایک دل کو توڑنا، سو خون کرنے کے برابر ہے۔

٭٭

شیخ ابو علی رودباری

اے ساقی بادۂ محبت جامے
وے قاصد غمزۂ بتاں پیغامے
تا کے ہدفِ تیرِ تغافل باشیم
قہرے، لطفے، تبسمے، دشنامے

اے ساقی شرابِ محبت کا کوئی جام (پِلا)، اور اے قاصد غمزۂ بتاں کا کوئی پیغام (لا)، ہم کب تک تیرِ تغافل کا ہدف بنے رہیں، کوئی قہر، کوئی لطف، کوئی تبسم، کوئی گالی (ہی محبوب کی طرف سے آئے)۔

٭٭٭

شیخ احمد جام

احمد تو عاشقے بمشیخت ترا چہ کار
دیوانہ باش، سلسلہ شد شد نشد نشد

احمد تُو ایک عاشق ہے، مشیخت (پیر بننے) سے تیرا کیا کام؟ بس دیوانہ بن، (تیرا پیری مریدی کا کوئی) سلسلہ ہوا ہوا، نہ ہوا نہ ہوا۔

٭٭٭

شیخ اوحد الدین کرمانی

یا رب کرمِ تو بے نیاز است آخر
بر خلق درِ فضلِ تو باز است آخر
گیرم کہ من از چارہ گری محرومم
الطافِ تو بیچارہ نواز است آخر

یا رب، تیرا کرم آخر بے نیاز ہے اور تیرے فضل کا دروازہ مخلوق کے لیے ہمیشہ ہی کھُلا ہوا ہے۔ میں نے مانا کہ میں (لوگوں کی) چارہ گری سے محروم ہوں لیکن آخر تیرا لُطف تو بیچارہ نواز ہے۔

٭٭٭

شیخ حسین شہرت شیرازی

خوابِ گرانِ مردم بیدار کرد ما را
بدمستیِ عزیزاں ہشیار کرد ما را

لوگوں کی گہری نیند (میں ہونے کی حالت) نے ہمیں بیدار کر دیا اور عزیزوں کی بدمستی نے ہمیں ہوشیار (اور خبردار) کر دیا۔

٭٭٭

شیخ فاخر زائر

کنند گور پرستاں زیارتِ زاہد
کہ زیرِ گنبدِ دستار زندہ در گور است

قبر پرست، زاہد کی زیارت (ذوق و شوق سے) کرتے ہیں کہ وہ اپنی دستار کے گنبد کے نیچے زندہ ہی قبر میں پڑا ہوا ہے۔

٭٭٭

شیخ فرید الدین عطار

دل عاشقِ رُوئے تست با عہدِ درست
جاں طالبِ وصلِ تو از روزِ نخست
آنکس کہ نہ جست وصلِ تو ہیچ نیافت
و آنکس کہ ترا یافت دگر ہیچ نہ جست

(میرا) دل، محکم اور صحیح صحیح عہد و پیمان کے ساتھ، تیرے ہی چہرے کا عاشق ہے، اور جان پہلے دن ہی سے تیرے وصال کی طالب ہے۔ ہر وہ کہ جس نے تیرے وصال کی جستجو نہ کی اُسے کچھ بھی نہ ملا، اور وہ کہ جسے تُو مل گیا اُس نے پھر کسی اور کی جستجو ہی نہ کی۔

٭٭٭

ظہیر الدین بابر

نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

نو روز ہے، نو بہار ہے، مے ہے، خوبصورت محبوب ہے، بابر بس عیش کی سعی ہی میں لگا رہ کہ دنیا دوبارہ نہیں ہے۔

٭٭٭

عالم بیگ سروری کابلی

لطف و دشنامِ تو تسکینِ دلِ بیہوش است
آتش از آب چہ گرم و چہ خنک خاموش است

تیرا لطف و کرم اور تیری ناراضی اور گالیاں، دونوں ہی میرے بیمار اور بیہوش دل کے لیے تسکین کا باعث ہیں کہ آگ پانی سے بجھ جاتی ہے چاہے پانی گرم ہو چاہے ٹھنڈا۔

٭٭٭

فرصت شیرازی

چرخِ عشقیم و تو ما را چو مہی زیبِ کنار
خونِ دل چوں شفق و اشکِ رواں کوکبِ ماست

ہم عشق کے آسمان ہیں اور تُو ہمارے لیے ایسے ہے جیسے (آسمان کے) پہلو میں سجا چاند، ہمارا خونِ دل جیسے شفق ہے اور اشکِ رواں ستارے ہیں۔

٭٭٭

فروغی بسطامی

تو از قبیلۂ خوبانِ سُست پیمانے
من از جماعتِ عشاقِ سخت پیوندم

تیرا تعلق خوبصورت لیکن کچے اور ناقص عہد و پیمان والے لوگوں کے قبیلے سے ہے (تو کیا ہوا کہ) میں (بھی) سخت بندش اور پکے قول و قرار والی عشاق کی جماعت میں سے ہوں۔

٭٭٭

قاآنی شیرازی

بہ سوئے کعبہ راہ بسیار است
من ز دریا روَم، تو از خشکی

کعبہ کی طرف بہت سے راستے جاتے ہیں، میں اگر دریا کے راستے جاؤں گا تو تُو خشکی کے (حقیقت تک پہنچنے کے کئی ایک ذرائع ہوتے ہیں)۔

٭٭٭

محسن فانی کاشمیری

کی بُوَد دل بستگی ما را بہ اہلِ روزگار
دامنِ دریا گرفتارِ خس و خاشاک نیست

دنیا والوں کے ساتھ ہماری دل بستگی کیسے ہو کہ دریا کا دامن کبھی خس و خاشاک میں نہیں اُلجھتا۔

٭٭٭

محمد رضا عشقی

من عاشقم، گواہِ من ایں قلبِ چاک چاک
در دستِ من جز ایں سندِ پارہ پارہ نیست
(دیوانِ محمد رضا عشقی، غزل
«بے اعتنائی بہ فلک»)

میں عاشق ہوں اور میرا گواہ یہ دلِ چاک چاک ہے، میرے ہاتھ میں (میرے پاس) اس پارہ پارہ سند کے سوا اور کچھ نہیں۔

٭٭٭

مخلص خان عالمگیری

خمارِ ما و درِ توبہ و دلِ ساقی
بیک تبسّمِ مینا، شکست و بست و کُشاد

ہمارا خمار، توبہ کا دروازہ اور ساقی کا دل، مینا کے ایک تبسم سے، ٹوٹ گیا (خمار) اور بند ہو گیا (توبہ کا دروازہ) اور کھِل اٹھا (دلِ ساقی)۔

مرزا رفیع سودا

بُلبُل دلِ نالاں و خیالِ رُخِ اُو گُل
با بلبل و گلزارِ جہاں کار نہ داریم

نالہ و زاری کرتا ہوا (ہمارا) دل بُلبُل ہے اور اُس کے چہرے کا خیال پھول ہے، لہٰذا دنیا کے بلبل اور گلزار سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے۔

٭٭٭

مرزا طاہر وحید قزوینی

ناقصاں را جور می باشد گوارا تر ز لطف
آتشِ سوزاں بہ از آب است خشتِ خام را

ناقص لوگوں (سالکوں) کے لیے جور و جفا و ستم، لطف و مہربانی سے بھی زیادہ گوارا اور پسندیدہ ہوتا ہے، (جیسے کہ) کچی اینٹ کے لیے جلانے والی آگ، پانی سے بہتر ہے۔

٭٭٭

مسعود سعد سلمان

ہمہ از آدمیم ما، لیکن
او گرامی تر است کُو داناست
(دیوانِ مسعود سعد سلمان، قصیدہ)

ہم سب آدمی (سے) ہیں لیکن وہ زیادہ معتبر و معزز ہے جو دانا ہے۔

٭٭٭

مُلّا طغرای مشہدی

باید چو برق خندہ زناں از جہاں گذشت
نتواں چو ابر بر سرِ دنیا گریستن
(گزیدۂ طغرای مشہدی، غزلیات، شمارہ)

بجلی کی طرح جہاں سے ہنستے مسکراتے گزر جانا چاہیے نہ کہ بادل کی طرح دنیا کے سر پر رونا چاہیے۔

٭٭٭

منسوب بہ مولانا رومی

نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردَم
مذاقِ عاشقی دارم، پئے دیدار می گردَم

میں کُوچہ بازار میں یونہی آوارہ اور بے وجہ نہیں گھومتا بلکہ میں عاشقی کا ذوق و شوق رکھتا ہوں اور یہ سب کچھ محبوب کے دیدار کے واسطے ہے۔

٭٭٭

میرزا شفیع اثر شیرازی

ز آبِ گلستاں آموخت شوقم جانفشانی را
بپائے نونہالاں صرف کردم زندگانی را

میں نے گلستاں کو سیراب کرنے والے پانی سے جان قربان کرنے کا شوق حاصل کیا اور ساری زندگی نونہالوں (محبوب لوگوں) کے قدموں میں صرف کر دی۔

٭٭٭

میر سید اسد اللہ فرد بلگرامی

جہادِ نفس بُوَد کارِ شیر مرداں فرد
نہ ہر کہ صف شکند اُو بہادری داند

اے فرد، اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا بھی شجاع لوگوں کا کام ہے، بہادر صرف وہی نہیں ہے کہ جو صف شکن ہو۔

٭٭٭

میر علی اصغر فصیحی

با گوشہ نشیناں بنشیں تا بنشینَد
ہر فتنہ کہ برخاستہ در رہگذر از تو

گوشہ نشینوں کے پاس بیٹھ جا، تا کہ بیٹھ جائے ہر وہ فتنہ کہ جو تیری وجہ سے رہگزر میں اُٹھا ہے۔

٭٭٭

میر واحد بلگرامی

سوختم در آرزویش، کاش اے صورتگراں
گَردۂ تصویرِ اُو سازید از خاکسترم

میں اُس کی آرزو میں جل کر راکھ ہو گیا، کاش اے صورت گرو، تُم اُس کی تصویر کا خاکہ میری راکھ سے بنا دو۔

٭٭٭

میلی ہروی

بیم از وفا مدار و بدہ وعدۂ کہ من
از ذوقِ وعدۂ تو بہ فردا نمی رسم

میرے ساتھ صرف وصل کا وعدہ کر لے اور اس وعدے کو پورا کرنے سے مت ڈر کیونکہ میں تیرے وعدے کے ذوق و شوق اور خوشی ہی سے (مر جاؤں گا اور) وعدے کے وقت تک نہیں رہ پاؤں گا۔

٭٭٭

نادم گیلانی

بیمارِ عشق را ز مسیحا چہ فائدہ
دارد لبِ تو فائدہ، اما چہ فائدہ

بیمارِ عشق کو مسیحا و طبیب سے کیا بھی فائدہ؟ تیرے لب بھی فائدہ رکھتے ہیں، ہاں مگر (ہمیں) کیا فائدہ؟

٭٭٭

ناصر علی سرہندی

اہلِ ہمّت را نباشد تکیہ بر بازوئے کس
خیمۂ افلاک بے چوب و طناب استادہ است

ہمت والے لوگ کسی دوسرے کے زورِ بازو پر تکیہ نہیں کرتے، (دیکھو تو) آسمانوں کا خیمہ چوب اور طنابوں (وہ لکڑیاں اور رسیاں جس سے خیمے کو گاڑتے ہیں) کے بغیر ہی کھڑا ہے۔

٭٭٭

نظام الدین احمد صانع بلگرامی

در جہاں امروز از بس قدرِ اہلِ زر بُوَد
می زند پہلو بہ عیسیٰ ہر کہ صاحب خر بُوَد

اِس دنیا میں آج کل از بس کہ صرف مالدار لوگوں ہی کی قدر ہوتی ہے، لہذا ہر وہ کہ جو صاحبِ خر ہے (گدھے کا مالک ہے یا کچھ حیثیت رکھتا ہے) وہ حضرت عیسیٰ کی برابری کرنے لگتا ہے۔

٭٭٭

واعظ قزوینی

صد حیف کہ ما پیرِ جہاندیدہ نبودیم
روزے کہ رسیدیم بہ ایامِ جوانی

صد حیف کہ ہم جہاندیدہ، گرم و سرد چشیدہ، تجربہ کار بزرگ نہ تھے، اُن دنوں کہ جب ہم نے جوانی کی حدود میں قدم رکھا۔

٭٭٭

وحشی بافقی

اوّل آں کس کہ خریدار شدش مَن بُودم
باعثِ گرمیِ بازار شدش من بودم
(ترکیب بند
«شرح پریشانی»)

سب سے پہلا وہ کون تھا جو اس کا خریدار بنا، میں (آدم، آدمی) تھا۔ اس کے بازار کی گرمی کا باعث میں بنا تھا۔

٭٭٭

ہاتف اصفہانی

آہ کہ تار و پودِ آں رفت بہ بادِ عاشقی
جامۂ تقویِٰ کہ من در ہمہ عمر بافتم

افسوس کہ اُس کے تار و پود (تانے بانے) عاشقی کی (تُند و تیز) ہوا میں اُڑ گئے، وہ جامۂ تقویٰ کہ جسے میں ساری عمر بُنتا رہا۔

٭٭٭

یغمائے جندقی

غلط گفتی "چرا سجّادۂ تقویٰ گِرو کردی؟”
بہ زہد آلودہ بودم، گر نمی کردم، چہ می کردم؟

تُو نے یہ غلط کہا ہے کہ "پارسائی کا سجادہ (پیر مغاں کے پاس) گروی کیوں رکھ دیا؟”۔ میں زہد سے آلودہ ہو گیا تھا اگر ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا؟

٭٭٭

تشکر: تابش صدیقی جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

تابش صدیقی کی فائلیں:

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

باز تدوین کردہ فائلیں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل