محسن خالد محسنؔ اور ان کی نظمیں
’ت لاش‘ کے آئینے میں
ترتیب و تدوین: اعجاز عبید
ڈاؤن لوڈ کریں
محسنؔ کی نثری نظموں کا اِدراکی مطالعہ
فرحت عباس شاہ
پچھلے کچھ برسوں سے میں نے تسلسل سے محسوس کیا کہ آخر کیا وجہ ہے ستر سال گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ بحث موجود ہے کہ آیا نثری نظم شعری صنف ہے بھی کہ نہیں اور اگر ہے تو اس کی ہیئت کیا ہے۔ میں کافی پریشان ہوا جب اورینٹل کالج کے ایک پی ایچ۔ ڈی(اُردو) مدرس نے حلقۂ ارباب ذوق میں اپنی ایک ایسی نثری نظم پیش کی جو نثر مرصع بھی قرار نہیں دی جا سکتی تھی۔
نثری نظم کے بارے میں بنیادی اُصول اور قواعد و ضوابط نہ ہونے کی وجہ سے یہ صنف آج تک متنازع بنی ہوئی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے برس ہا برس نثری نظمیں لکھنے کے بعد جو کچھ سیکھا اسے ادب کے طالب علموں، اساتذہ اور شعراء کے لیے سپردِ قلم کیا تاکہ نثری نظم لکھنے والوں کی رہنمائی ہو سکے کیونکہ یہ ایک انتہائی مشکل اور طاقتور صنفِ سخن ہے۔
مجھے خوشی ہوئی ہے کہ سنجیدہ محقق، با وقار نقاد اور بھرپور شاعر محسن خالد محسنؔ نے اس صنف کو اعتبار بخشا ہے۔ ایک سچا اور شفاف انسان ہی سچا اور اعلیٰ تخلیق کار ہو سکتا ہے اور وہ سچا اور کھرا انسان ہے۔
شاعری اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور پڑھنے والے کے دل کے نہاں خانوں تک پہنچتی ہے۔ اگرچہ بدنصیبی سے چالاک اور مفاد پرست افراد شاعر، ادیب، نقاد اور محققین کا روپ دھار کر حقیقی ادب اور ادیب کو دیوار سے لگانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ فطرت سے نبرد آزما ہونا آسان نہیں ہوا کرتا۔ یہ ایک حقیقی تخلیق کار کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن فطرت ان کے سامنے سچائی سے معمور فنکار کو سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ محسن خالد محسنؔ ایسا ہی ایک فطری شاعر ہے جو نثری نظم کا علم تھام کر اس جعلی طبقے کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نثری نظموں کو اگر "ادراکی تنقیدی” تھیوری کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا اصل حُسن بیک وقت ان کی تخلیقی واردات اور قاری کے ادراک (perception) میں پوشیدہ ہے۔ یہ نظمیں مصنوعی شاعروں کی کاغذی اور جعلی نظموں کا فریبی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی تخلیقی کائنات ہیں جو شاعر کی زندگی کے مختلف حِسی، احساساتی اور شدید جذباتی تجربات کا جمالیاتی اظہار ہیں اور قاری کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ادراک کبھی خارج کے مناظر کو باطن سے جوڑتا ہے، کبھی ذاتی تجربے کو اجتماعی درد کا روپ دیتا ہے اور کبھی کائناتی حقیقت کو ایک دھوکے یا سچائی کی صورت میں سامنے لاتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کا اُسلوب اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ حقیقت بذاتِ خود مکمل اور حتمی نہیں، بلکہ یہ قاری اور کلام کے درمیان تعلق میں جنم لیتی ہے۔
مثلاً نظم "اپنی دُنیا آپ بناؤ” میں شاعر کی خودی اور قربانی کا ادراک سامنے آتا ہے، مگر قاری کے لیے سوال یہ ہے کہ یہ روشنی واقعی اجتماعی آزادی کی نوید ہے یا محض ایک تنہا فرد کا خواب:
"میں
طلسمِ شب کو توڑنے والا چراغ ہوں
اندھیروں کے سینے میں
روشنی کی لکیر کھینچنے والا معمار”
اسی طرح نظم "راہ میں اُچھالے گئے” فرد کے دُکھ کو ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی سچائی بنا دیتی ہے۔
قاری جب یہ سطریں پڑھتا ہے تو اپنے تجربات کو شاعر کی زبان میں ڈھلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
"یہ
صرف ایک صدمہ نہیں
یہ تو وہ بوجھ ہے
جس کی تہہ میں
کئی ناحق سزائیں
کئی ان کہے طعنے
ابھی بھی جلتے ہیں”
نظم "ادلے کا بدلہ” ادراکی تھیوری کے لحاظ سے سب سے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ رزق، خوشی یا عمر واقعی چھن جاتی ہے یا یہ سب ایک وہم ہے۔ یہاں حقیقت قاری کے perception میں بنتی اور بگڑتی ہے:
"یہ
صرف
ادلے کا بدلہ ہے
اِک وہم
اِک الجھاؤ
اِک کھیل”
اسی طرح "دھوکے کا بڑا پن” میں شاعر کائنات کی عظمت کو دھوکے کے پردے میں دیکھتا ہے اور قاری کو بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے دیکھنے کے زاویے پر شک کرے:
"کیا یہ بڑا پن واقعی ہے؟
یا میری آنکھ نے
دھوکے کو
عظمت سمجھ لیا ہے؟”
نظم "میں نہیں دیکھ سکتا” ادراک کی شکست اور بے بسی کی تصویر ہے۔ قاری کو اس میں اپنی ذات کا عکس دکھائی دیتا ہے، جہاں حادثہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ احساسِ نا ممکنات ہے۔ نظم "یہ وہی کمرا ہے” میں یاد اور وقت کا ادراک مرکزی ہے۔ کمرہ اپنی جگہ قائم ہے مگر ادراک بدل گیا ہے، اس لیے محبت اور لمس محض ماضی کے سائے بن گئے ہیں۔
"یہ وہی کمرا ہے
جہاں ہم نے
پہلی رات گزاری تھی
ایک نئی زندگی
کی پہلی لکیر کھینچی تھی”
"عشق کبھی نہیں مرتا” میں عشق کو مختلف شعرا کے ادراکی سانچوں سے دیکھا گیا ہے۔ یہ نظم قاری کے ذہن میں عشق کے ہر تصور کو جگاتی ہے اور ایک کثیر الابعاد perception تخلیق کرتی ہے۔ "روشنی کا جنم” میں ایک نو مولود کے لمس اور ماں کے رشتے کو کائناتی روشنی میں دیکھا گیا ہے، یہ وہ ادراک ہے جو ذاتی تجربے کو ماورائی حقیقت سے جوڑتا ہے:
"کیسے بھول سکتا ہوں
تمہارا وہ معصوم، نو زائیدہ چہرہ
پہلی بار جب تم
آنکھوں میں اُتریں
ہتھیلیوں پر ٹھہریں
اور روح تک رس گئیں”
"احساسِ تفاخر” نظم میں ادراکی زاویہ روحانی اور انسانی پہلو کو چھوتا ہے۔ پہلا انسان کی شکست اور ضد کو اجتماعی انجام کی شکل میں دکھاتا ہے، دوسرا کلام اور الوہی امانت کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے۔
یوں محسن خالد محسنؔ کی یہ نظمیں ادراکی تھیوری کے تحت اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ ہر اصیل، حقیقی اور سچا کلام اپنی ایک حقیقت رکھتا ہے مگر معانی کا ایک نظام قاری کے شعور میں بھی تشکیل پاتا ہے۔ ان نظموں کی دُنیا میں داخل ہونے والا ہر شخص اپنی روشنی، اپنے دھوکے، اپنے دُکھ اور اپنی محبت کو نئے رنگ میں دیکھتا ہے، اور یہی Perceptions کی اصل روح ہے۔
٭٭٭
ت لاش: جستجو اور وجودی المیہ
ڈاکٹر طارق ہاشمی
محسن خالد محسنؔ کے تازہ شعری مجموعے کا عنوان "ت لاش” اپنی ساخت اور صوتی کیفیت کے اعتبار سے غیر معمولی ہے۔ لسانی اعتبار سے اس تکنیک کو "Dislocation of Signifier” بے مکانی حرف یا اشاری انحراف کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں لفظ اپنی عام لغوی معنویت سے ہٹ جاتا ہے اور قاری کو چونکا کر نئے معانی یا تاثر کی تلاش پر مجبور کرتا ہے۔
زبان میں اجنبیت (estrangement) پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ عام سطح سے اوپر اٹھ کر علامتی، استعاراتی یا وجودی دائرے میں داخل ہو۔ مابعد جدید شعر و نثر میں کسی تخلیق کار کے ہاں اس تکنیک کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری کے ذہن میں اچانک جھٹکا پیدا ہو، وہ رُکے، سوچے اور لفظ کے اندر چھپے نئے مفاہیم تلاش کرے۔
محسن خالد محسنؔ نے بھی اس ترکیب کے ذریعے جستجو اور انجام دونوں کو بیک وقت سمو دیا ہے۔ بظاہر یہ "تلاش” ہے، یعنی زندگی کی ازلی جستجو، وجودی سوالات کا سفر اور معنی کی کھوج، لیکن اس کے درمیان حائل وقفہ اسے "لاش” کے قریب لے آتا ہے۔ اس طرح قاری کو یہ احساس ملتا ہے کہ ہر تلاش کا مقدر آخرکار فنا ہے اور ہر جستجو کا انجام ایک لاش کی صورت سامنے آتا ہے۔ یہ عنوان در اصل اس پوری کتاب کے مزاج کا تعین کرتا ہے اور قاری کو یہ بتا دیتا ہے کہ آگے جو کچھ پڑھنے کو ملے گا وہ درد، کرب اور وجودی کشمکش کی گواہی ہے۔
دیباچے میں شاعر نے خود اعتراف کیا ہے کہ یہ نظمیں اس کے ذاتی کرب اور زندگی کے سخت تجربات سے پھوٹی ہیں۔ اس کے بہ قول: "یہ نظمیں یوں سمجھ لیجیے کہ میرے خونِ جگر سے کشید کی ہوئی ہیں۔ یہ در اصل میری ہڈ بیتی ہیں، ان میں میرا کرب اور درد شامل ہے جو میں نے گزشتہ برسوں میں جھیلا ہے۔”
یہ اعتراف بتاتا ہے کہ "ت لاش” کوئی محض لفظی کھیل نہیں بلکہ شاعر کی داخلی دنیا کی سچی عکاسی ہے۔ شاعر کی حساسیت اور سماجی رویوں سے اس کی کشمکش اسے اس مقام پر لے آئی ہے جہاں ہر تلاش ایک زخم میں بدل جاتی ہے اور ہر خواب ایک لاش میں ڈھل کر ختم ہوتا ہے۔
اس عنوان کو سمجھنے کے لیے مجموعے کی بعض نظموں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ نظم "مداوا” میں شاعر اپنے دکھ کو یوں بیان کرتا ہے:
"اب یہ صرف ایک دُکھ نہیں رہا
کتنے اور دُکھ
چُپ چاپ
اِسی ایک دُکھ میں آ بسے ہیں
یہ صرف ایک صدمہ نہیں
یہ تو وہ بوجھ ہے
جس کی تہہ میں
کئی ناحق سزائیں جلتی ہیں”
تخلیق کار کا دُکھ انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی اور تہذیبی دکھ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ دُکھ محض اس کی اپنی ذات کا نہیں بلکہ اس زمانے کے ہر حَسّاس شخص کا ہے جو سماج کی نا انصافیوں سے گزرتا ہے۔
یہی دُکھ شاعر کو "تلاش” پر مجبور کرتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ یہ تلاش آخرکار اس کے وجود کو ختم کر کے لاش میں بدل دیتی ہے۔ نظم "قہوہ خانے” میں وہ اپنی شعری دُنیا کا ایک اور پہلو سامنے لاتا ہے۔ قہوہ خانہ اس کے لیے ایک خانقاہ ہے جہاں فکر اور خیال سانس لیتے ہیں:
"یہی مٹیالی چائے
لفظوں کو جنم دیتی ہے
یہی میلے برتن
نظریوں کی کوکھ بنتے ہیں”
یہاں بھی تلاش جاری ہے۔ کبھی لفظوں کی، کبھی فکر کی، کبھی رفاقت کی۔ لیکن اس تلاش کے باوجود سماج شاعر کو تسلیم نہیں کرتا، جیسا کہ اس نے دیباچے میں واضح کیا کہ شاعر کو اکثر معاشرے میں معتوب قرار دے کر تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مجموعے کی ایک اور اہم نظم "جستجو کا سفر” ہے جس میں تلاش اور محرومی کا بیانیہ پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔
یہاں تلاش محض کسی محبوب کی نہیں بلکہ ایک ایسے وجودی لمحے کی ہے جو انسان کی زندگی کو بامعنی بنا سکے۔ لیکن شاعر اعتراف کرتا ہے کہ یہ لمحہ کبھی نہیں آتا اور اس کی جستجو آخرکار اسے تھکا کر موت کی دہلیز پر لے جاتی ہے۔ اسی تناظر میں کتاب کی مرکزی نظم "تلاش” خاص اہمیت رکھتی ہے۔
شاعر روایت کی عشقیہ داستانوں کو یاد کرتا ہے۔ لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں اور سوہنی مہینوال۔ لیکن ساتھ ہی اپنی تلاش کو ان سب سے جدا بھی کرتا ہے۔
"آس و یاس کے لامتناہی بھنور میں
ہزاروں وجودوں سے گزر کر
سیکڑوں زمانوں کو بسر کر کے
میں اپنی لیلاؤں کا کھوج لگاتا ہوں
آگے، بہت آگے
پہاڑوں سے اُوپر
اَفلاک کی سمت
چلتا چلا جاتا ہوں
کھوج کے اِس سفر میں
ابھی تک کوئی سُراغ نہ ملا
جنم در جنم کی آوارگی میں
میں تھک چکا ہوں”
تلاش کا یہ ایک لامحدود سفر ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور ہر بار شاعر کو نابودی کے قریب لے جاتا ہے۔ اس نظم کے بعد مجموعے کا عنوان اور بھی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ صرف تلاش نہیں بلکہ "ت لاش” ہے، یعنی ایسی تلاش جس کا مقدر لاش بن جانا ہے۔ اس مجموعے میں محبت بھی ایک مستقل استعارہ ہے لیکن وہ محبت جو محض رومانی نہیں بلکہ وجودی اور اجتماعی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ نظم "عشق کبھی نہیں مرتا” میں شاعر کہتا ہے:
"عشق نہ خواب ہے نہ کہانی
یہ تو منصور کی اَنا الحق ہے …
عشق نہ بکتا ہے نہ جھکتا ہے
اور جب ہر سچائی مصلحت میں دفن ہو جائے
تو یہی عشق تنہا مگر سر اُٹھائے کھڑا رہتا ہے”
عشق کا یہ سفر بھی ایک تلاش ہے لیکن ایسی تلاش جو فنا کو تسلیم نہیں کرتی، اگرچہ زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ ہر جستجو ایک دن زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ یوں "ت لاش” کی علامتی معنویت پورے مجموعے میں مختلف صورتوں میں بار بار اُبھرتی ہے۔ کبھی یہ محبوب کی جستجو ہے، کبھی عدل و انصاف کی، کبھی اپنی ذات کے مداوے کی، کبھی اجتماعی نجات کی۔ لیکن ہر بار انجام ایک ہی نکلتا ہے۔ مایوسی، تھکن اور فنا۔
اس مجموعہ نظم کا حُسن یہی ہے کہ شاعر نے اپنی ذات کے دُکھ کو اجتماعی سطح پر بیان کیا ہے۔ وہ محض اپنی شکست کا نوحہ نہیں لکھتا بلکہ یہ دُکھ اس پورے سماج کا دُکھ بن جاتا ہے جہاں حساس آدمی ہمیشہ معتوب رہتا ہے۔ "ت لاش” در اصل ہمارے زمانے کی اس اجتماعی حسرت اور محرومی کا اِستعارہ ہے جو ہر شخص کے دل میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔
٭٭٭
ہجوم میں تنہا شاعر
ڈاکٹر اللہ یار ثاقب
غالباً اکتوبر 2012ء کی ایک صبح تھی، کوئی ساڑھے پانچ اور چھے کا وقت تھا۔ آزاد کشمیر کا ضلع بھمبر، بابِ کشمیر سے کچھ فاصلے پر ایک سہ منزل عمارت کا ایک کمرہ جس میں میری پہلی ملاقات محسن خالد محسن کے سے ہوئی۔ کمرے میں داخلہ ہوا تو دو خوبصورت نوجوانوں ساجد محمود ڈار اور محسن خالد محسنؔ سامنے تھے۔
دُعا سلام کے بعد تھوڑی دیر کے لیے وہاں رُکا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ دونوں دوست جیسے خوبصورت تھے اخلاق اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ سال بھر وقفے وقفے سے ملاقاتیں رہیں اور پھر شاید دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی البتہ برقی رابطہ، ٹیلی فونک، وٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر ضرور رہا۔ ایک دوسرے کے قریب رہے۔ آج تقریباً بارہ سال گزر چکے ہیں اور راقم سمیت ساجد محمود ڈار اور محسن خالد محسنؔ ڈاکٹر (پی ایچ۔ ڈی) بن چکے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ کو اکثر سنجیدہ کیفیت میں دیکھا، کم گو لیکن گہرے، سمجھ میں نہ آنے والی شخصیت۔ اکثر ان کی نظمیں اُن کی آواز میں ویڈیو کی صورت میں سننے کو ملتیں جن میں اُداسی اور تنہائی کی شدت محسوس ہوتی۔ کبھی اُن سے اِس دُکھ کا سبب پوچھنے کی ہمت نہیں ہو پائی۔ بظاہر خوشحال نظر آنے والی شخصیت اندر سے اتنی اُداس کیوں ہے؟
چند دنوں پہلے اُنھوں نے حکم صادر کیا کہ میری آنے والی کتاب "ت لاش” پر اپنی رائے دیں۔ سوچتا رہا بھلا میرے الفاظ کیا اہمیت رکھتے ہیں کسی کے لیے۔ بندہ کچھ لکھوائے تو کسی نامور ادبی شخصیت سے لکھوائے۔ یہ محسن خالد محسنؔ کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھے اس قابل سمجھا۔
محسن خالد محسنؔ کا تیسرا شعری مجموعہ "ت لاش” ہیئتی طور پر ایک ذو معنی تأثر چھوڑتا ہے۔ اس شعری مجموعے میں تنہائی، دُکھ، اُداسی اور کرب ایسے موضوعات ہیں جو سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اُبھرتے ہیں۔ آزاد اور نثری نظم چونکہ پابندِ اوزان و بحور سے آزاد ہوتی ہے اس لیے اس میں داخلی کیفیتوں اور احساسات کو زیادہ براہِ راست اور بے ساختہ طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نثری نظم میں تنہائی کو محض ایک جسمانی یا خارجی حالت نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت کے طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔
اس کیفیت میں شاعر اپنے اور دُنیا کے درمیان فاصلے کو "لفظوں” کی صورت مجسم کرتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کی نظمیں پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ جو تاثر اُبھرتا ہے وہ تنہائی اور داخلی کرب کا ہے۔ ان کے ہاں نظم کسی قصے یا واقعے سے زیادہ ایک کیفیت کا بیان ہے۔ یہ کیفیت کبھی ٹوٹے ہوئے خوابوں کی، کبھی بکھرتے ہوئے لمحوں کی اور کبھی بے نام اُداسی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ محسن خالد محسنؔ کی نثر میں سادگی اور شفافیت کے باوجود ایک ایسی شدت ہے جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
دُکھ اور اُداسی جب نظم میں آتے ہیں تو وہ کسی روایت یا قصے سے بندھے ہوئے نہیں ہوتے، بلکہ ذاتی تجربے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے دُکھ در اصل اس کے اپنے دُکھ ہیں۔
یہ اِشتراک نظم کو ایک آفاقی حیثیت عطا کرتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کی نظموں میں "تنہائی” محض ایک خارجی حالت نہیں بلکہ ایک "وجودی تجربہ” ہے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ انسان ہجوم کے بیچ بھی کس طرح تنہا رہ جاتا ہے۔ اس تنہائی میں ان کے کردار یا ان کی داخلی انا بہت باریک اور حساس سطح پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں کا دُکھ ذاتی ہونے کے باوجود اجتماعی دُکھ میں بدل جاتا ہے:
"دل میں خواہشوں کے بادل
ہر روز پھوٹتے ہیں
پل بھر میں سُوکھ جاتے ہیں
کیوں سکون کی لَے
میری ندی میں نہیں بہتی؟
وہ دریا جو دل کے نگر میں رواں ہے
رات بھر بے قرار چڑھتا رہتا ہے”
کرب کی شدت نظم کو اس کے مخصوص تاثر سے جدا کرتی ہے۔ یہ محض غم یا اُداسی نہیں بلکہ ایک وجودی اضطراب ہے جو انسان کو اس کی ہستی اور وقت کے بہاؤ کے سامنے بے بس کر دیتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کی نظمیات میں یہ کرب کسی داستان یا استعاراتی پیرائے میں نہیں بلکہ سادہ اور براہِ راست مصرعوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
یہی اس کی اصل طاقت ہے کہ معمولی الفاظ بھی غیر معمولی تاثر پیدا کر دیتے ہیں۔ اُداسی اور کرب ان کے اُسلوب میں خاموشی کے ساتھ بہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چیخنے یا بلند آواز میں کہنے کے بجائے دھیرے دھیرے لفظوں کو برتتے ہیں۔ یہی دھیما پن ان کی نظموں کو زیادہ اثر انگیز بنا دیتا ہے۔ قاری یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ اپنی ہی زندگی کے خالی پن کو ان نظموں میں ٹٹول رہا ہے۔
"اب ہم
دو ستارے ہیں
جو ایک ہی آسمان پر چمکتے ہیں
مگر کبھی ایک دوسرے کو
چھو نہیں پاتے”
محسن خالد محسنؔ کی نظموںؔ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ بے ساختگی اور داخلی بہاؤ کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔ ان میں کوئی دکھاوا نہیں، کوئی لفظی بازی گری نہیں، بلکہ سادہ مصرعوں میں وہ احساسات سمٹ آئے ہیں جو انسان کو اندر سے ہلا دیتے ہیں۔ یہی بے ساختگی ان کی شاعری کو ادبی حلقوں میں نمایاں کرتی ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ محسن خالد محسنؔ کی نثری نظمیں تنہائی، دُکھ، اُداسی اور کرب کی اصل روح کو گرفت میں لیتی ہیں۔ وہ زندگی کے گہرے زخموں کو لفظوں کی شکل میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری نہ صرف ان کو پڑھتا ہے بلکہ اپنی ذات میں پوری طرح محسوس بھی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ان کا قلم باطنی واردات کے نہاں خانوں سے کربِ آگہی کے خزینے یونہی طشت از بام کرتا رہے۔ آمین
٭٭٭
محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت لاش”
ڈاکٹر خادم حسین رائے
شاعری اِک طرز ہے ابلاغ کی، شعر میں ابلاغ کو بہت اہمیت رہی ہے۔ کلام میں اگر بلاغت نہ ہو تو وہ بہت جلد لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جاتا ہے۔ اُردو نظم کی روایت اب مضبوط ہو چکی ہے اس میں نظم کے نئے تجربات میں بھی ہو چکے ہیں۔
نظم مُعرا سے آزاد نظم کا سفر نثری نظم کی صورت جاری ہے۔ سن ساٹھ کی دہائی میں نظم کہنے والوں نے بھی نظم میں نئے تجربات کیے، کچھ کامیاب رہے کچھ مرورِ زمانہ کی نذر ہوئے۔ شاعر نظم کا ہو یا غزل کا بنیادی بات جو اس کی شعریات کا حصہ ہوتی ہے یا ہونی چاہیے وہ اس کی پڑھت ہے وہ آسان ہو اور لوگوں کو اپیل کرے۔
شاعر کے ذاتی تجربات اور مشاہدات بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ سماج اور معاشرے میں رونما ہونے والے عوامل اور محرکات شاعر کو خام مال فراہم کرتے ہیں۔ اگر کرب ذاتی ہو تو اس کے بیان کا تجربہ ذاتی ہوتا ہے اس لیے شاعر اسے زیادہ شدت سے بیان کرتا ہے۔
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت لاش” ان کے ذاتی تجربے کا عکس ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ذاتی کرب کو سماج کے کرب سے کشید کر کے اک الگ اور منفرد رنگ دیا ہے۔ انفرادی مسائل اور ذاتی تجربات انسان میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے نئے در، وا کرتے ہیں۔ محسن خالد محسنؔ نے اس وصف سے بہ خوبی اِستفادہ کیا ہے۔ ان کی نظمیں اظہار کے نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں ہیں مگر ان میں ادبیت اور معنویت اپنی بھر پور توانائی سے موجود ہے۔ ان کی نظموں کے عنوانات بعض پرانے ہیں اور کچھ نہایت اچھوتے اور الگ تھلگ جیسے "دھوکے کا بڑا پن، خواہش کا تقدس، جیت کا ماتم، مسخ شدہ عکس، بے مروت تنہائی، عشق فرض کفایہ ہے” وغیرہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بین السطور بھی محسن خالد محسنؔ ایسے کلمات اور نادر مصرعے کہہ جاتے ہیں جو ان کی شعری کرافٹ کی معنویت کو جلا بخشتے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ نے وقت کے تصور کو نہایت عمدہ مثالیں دے کر بیان کیا ہے۔ وقت کیسے بدل جاتا ہے اور بدلتے وقت کا رشتوں کے بدلاؤ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ وقت کا دھارا کیسے بدلتا ہے اور اس کے بدلنے سے ہماری ذاتی زندگی اور پھر معاشرے کے اجتماعی شعور کی کایا پلٹ واقع ہوتی ہے۔ ان نظموں میں آپ ایسے تجربات سے اِستفادہ کر سکتے ہیں۔
انسان میں کچھ جذبات ایسے بھی ہیں جن کے لیے انسان اخلاقیات بھول جاتا ہے۔ جیسے بھوک، افلاس، جنس اور جنسیت، حسد اور بغض وغیرہ۔ محسن خالد محسنؔ نے ان رویوں اور جذبات کو بھی نہایت دانش مندی اور فروتنی سے پیش کیا ہے۔ مخالف جنس کے بارے میں ان کا رویہ کہیں کہیں تلخ ضرور ہوتا ہے مگر ان کی اعتدال پسند فکر اسے زیادہ تُرش ہونے سے بچا لیتی ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظموں میں عشق کے بنیادی کرداروں مثلاً سسی، پنوں، ہیر رانجھا، سوہنی، مہے وال اور لیلیٰ مجنوں ایسی عشق و محبت کی نادر روایت کا ذکر بھی گاہے گاہے دیکھا جا سکتا ہے۔ شاعر رشتوں کو بچانے کے ساتھ ان کے تقدیس کا بھی قائل ہے۔ ان کے مزاج کا دھیما پن اور اپنے کام سے لگن یقیناً انھیں بڑے رتبے پر فائز کرے گی۔
قوی اُمید ہے کہ محسن خالد محسنؔ کا تازہ مجموعہ "ت لاش” ادب کے طلب گاروں اور ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہو گا۔ جس "ت لاش” میں ہمارا شاعر مگن ہے، اللہ کرے وہ تلاش اور کھوج ان کے لیے بار آ ور ثابت ہو۔ آمین
٭٭٭
محسن خالد محسنؔ کی "ت لاش”
ڈاکٹر عظمیٰ نورین
اکیسویں صدی میں دُنیائے ادب میں ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ اپنی ایک معتبر جگہ بنانے میں بہت حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے تنقید، تحقیق، کالم نگاری اور سب سے بڑھ کر شاعری کی جہت میں تین شعری مجموعہ ہائے کلام تخلیق کر کے ادبی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کا تیسرا شعری نظمیہ مجموعہ "ت لاش” اپنے عنوان سے ہی قاری کو مبہوت کر لیتا ہے۔
مذکورہ بالا شعری مجموعہ شاعر کے تخلیق کردہ عنوانات، "تخیل آفرینی، لفظ آفرینی اور معنی آفرینی” کے سبب بارہ مصالحے کی چاٹ محسوس ہوتا ہے۔ جو کسی بھی جگہ لایعنیت اور بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ حسن کا تخیل اور فکری جستجو کا عمیق رنگ محسن خالد محسنؔ کے کلام کا خاصہ ہے۔
محسن خالد محسنؔ کے کلام کو بادی النظر دیکھا جائے تو اس میں احساس سے زیادہ فکر نمایاں نظر آتی ہے اور یہی فکر ان کے موضوعات میں تنوع پیدا کرتی ہے۔ ان کی نظموں میں تنہائی، کرب، نا آسودگی، اضطراب اور آس پاس کے تضادات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاں اکثر داخلی کیفیات خارجی ماحول سے باہمی کشمکش رکھتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے کلام میں گہرائی اور اثر پذیری بڑھ جاتی ہے۔
"ت لاش” کی نظمیں ہڈ بیتی اور جگ بیتی کا حسین امتزاج ہیں۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر نے نہایت زِیرک بینی سے سماج کی ترجمانی خوب کی ہے۔ بلاشبہ ادب اور سماج کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور محسن خالد محسنؔ کی شاعری میں یہ ہم آہنگی اور اتصال ہمیں بدرجہ اَتم دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کہیں خود احتسابی کے نشتر چلاتا تو کہیں معاشرے کا بھیانک چہرہ آشکار کرتا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظموں کا اُسلوب رمزیت سے لبریز ہے۔ وہ کائنات کی حقیقتوں کو انسان کے وجود کے ساتھ جوڑتے ہیں اور غلامی، استحصال، جبر و ظلم کے خلاف ان کی آواز میں ایک احتجاجی تاثر ملتا ہے۔ ان کے ہاں داخلی و خارجی تضادات کے ساتھ ساتھ وجودی سوالات غور طلب ہیں۔
محسن خالد محسنؔ کی شاعری اپنے عہد کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے اور انسانی دُکھوں کے اظہار کے لیے ایک نیا لہجہ اور نیا اُسلوب متعارف کراتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ ان کی شاعری اُردو نظم کے مستقبل کی نئی راہیں متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
٭٭٭
"ت لاش” کا شاعر: محسن خالد محسنؔ
ڈاکٹر انجم یوسف خان
مجھے نہیں لگتا کہ یہ کاغذ پر بکھرے ہوئے ایک شاعر کی قلم سے نکلے ہوئے الفاظ پر مبنی شاعری کی کتاب ہے بلکہ یہ تو یہ ایک انتہائی جذباتی، پُر خلوص اور درد و کرب سے لبریز شاعر کی خود کلامی ہے۔
کتاب کی ایک ایک نظم شاعر کے اپنے کرب، اپنے ہونے اور معاشرے کے ساتھ اس کے تعلق کا ایک دستاویزی بیان ہے۔ قاری کو فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ یہ نظمیں محض مشقِ سخن نہیں بلکہ شاعر کے اپنے خونِ جگر کا نچوڑ ہیں۔ شاعر نے اپنے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات کی ہے، جس میں کوئی مصنوعیت یا بناوٹ نہیں۔
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ نے اپنی نفسیات، ذاتی حساسیت، اس کے معاشرے کے ساتھ تصادم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کرب کو بہت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی آواز ہے جو اپنے گرد و پیش کے بے حِس معاشرے میں گھِرا ہوا ہے۔
یہ الفاظ کم اور معاشرے کے منافقانہ اصولوں، اس کی خود ساختہ شرائط اور ایک حَسّاس انسان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بہت تلخ لیکن سچی تنقید ہے۔ ایک ایسی تنقید جو اس شخص کی جانب سے ہے جو کبھی معاشرتی دباؤ یا نا انصافی کا شکار رہا ہے۔ بعض اوقات محسن خالد محسنؔ اشاروں کنایوں میں کم الفاظ میں بہت بڑی بات کر دیتے ہیں۔ نظم "نادانی” ایک مختصر لیکن جامع فلسفیانہ الفاظ پر مبنی ہے۔
یہ صرف شاعری نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک سبق ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک آئینہ ہے جو ہر وقت دوسروں کو "روشنی” دکھانے اور ان کی غلطیوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف رہتے ہیں، یہ نہیں جانتے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب نرمی سے بات کرنی ہے اور کب سچ کو پوری قوت سے بولنا ہے۔ یہ علم اور حکمت کے درمیان فرق کو بھی واضح کرتی ہے۔
نظم "نادانی” کا عنوان ہی اس نظم کی روح ہے۔ یہ نادانی روشنی (علم) کی نادانی ہے کہ وہ اپنے استعمال کا شعور نہیں رکھتی۔
یہ ایک زبردست آئرنی ہے اور شاعر کی فکری گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ نظم جدید اُردو شاعری کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے۔
٭٭٭
جنوں کی حکایات
ڈاکٹر عابدہ بتول
مرزا غالب نے کہا تھا کہ:
؎ لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
محسن خالد محسنؔ کا یہ نثری شعری مجموعہ بھی مجھے کچھ اسی طرح کی واردات کا پیش خیمہ لگتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ کا تعلق تخلیق کاروں کے ایسے قبیل سے ہے جنھوں نے نثر اور شاعری دونوں اصناف میں لکھا اور خوب لکھا۔ اس قدر بے باکی اور سفاکی سے لکھا ؛گویا سماج کے دُکھ کو اپنی ذات کے دکھ میں یوں سمو دیا کہ یک جاں دو قالب والی کیفیت نظر آنے لگی۔
محسن خالد محسنؔ اس میدان میں نیا نہیں۔ اس سے پیشتر کئی نثری اور شعری تخلیقات کے ذریعے قاری سے داد سمیٹ چکے ہیں۔ اس شعری مجموعے میں شاعر نے اجتماعی عصری ماحول اور وارداتِ قلبی کو شعری قالب میں ڈھال کر قرطاس کی یوں زینت بنایا گویا اس میں قاری کے لیے ایک الگ جہان پیدا کرنے کا سبب نظر آتا ہے۔
شاعر نے اپنے اندر کے کرب اور اذیت کو نظموں کی صورت جب سپردِ قرطاس کیا ہے تو گویا قاری کو مذکورہ بالا شعر کی بھر پور عکاسی حقیقت کا روپ دھارے نظر آئی۔ محسن خالد محسن اپنے اس نثری شعری مجموعے کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
"یہ نظمیں در اصل میری ہڈ بیتی ہیں۔ ان نظموں میں میرا کرب اور درد شامل ہے جو میں نے گزشتہ برسوں میں جھیلا ہے ایک ایسا درد جسے برداشت کرنا میرے لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔ شاعر ہونے کی اذیت صرف ایک شاعر ہی محسوس کر سکتا ہے”۔
محسن خالد محسنؔ کا تعلق ان لکھنے والوں میں سے ہے جو تخلیقی فن سے محبت نہیں عشق کرتے ہیں۔ اپنی تحریروں میں لفظوں کے ایسے نگینے جُڑتے ہیں جن کی چمک قاری کی آنکھوں کو چندھیانے کی بجائے مزید روشن کرتی ہے۔
یہ وہ تخلیق کار ہے جس نے اپنے لفظوں سے قاری کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے اور وہ ایک لڑی میں پروئے لفظوں کے موتیوں کی مالا سے موتی چننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ نے اس مجموعے میں جس قدر چابک دستی سے نثری نظموں میں سماجی اور ذاتی حقیقت کا لبادہ چاک کیا ہے وہ خاصے کی چیز ہے۔ ہر نظم اپنا الگ موضوع اور کرب لیے ہوئے ہے۔
یہ نظمیں قدم قدم پر سسکیاں اور ہچکیاں لیتی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں۔ کبھی کبھی تو قاری کے قدم پکڑ کر فریاد کرنے لگتی ہیں اور قاری کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور کرتی نظر آتی ہیں۔
٭٭٭
"ت لاش” ہڈ بیتی یا جگ بیتی
پروفیسر علی احمد ڈولاؔ
ادب زندگی کی عکاسی کا نام ہے۔ شاعر اپنے ذاتی دُکھ اور اجتماعی تجربات کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ قاری کے دل کی آواز بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محسن خالد محسن کی نئی شعری تصنیف "ت لاش” اسی نوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے جو نہ صرف ان کی بائیو گرافی ہے بلکہ اس عہد کے ہر انسان کی کہانی بھی پیش کرتی ہے۔
یہ کتاب محض نظموں کا مجموعہ نہیں بلکہ محسن خالد محسنؔ کی زندگی کا سفر نامہ بھی ہے جس میں خوشی، محبت، جدائی، شادی اور طلاق سمیت اپنوں کی بے اعتنائی اور سماج کی بے حِسی جیسے پہلو بڑی سچائی کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
شاعر نے اپنی ذات کے زخموں سے رِستے ہوئے خون کو لفظوں کا پیرہن پہنا کر عام قاری کے سامنے یوں پیش کیا ہے کہ قاری کو "ت لاش” میں اپنی جیتی جاگتی زندگی کی جھلکیاں نظر آنے لگتی ہیں۔
محسن خالد محسنؔ کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے ذاتی تجربے کو اجتماعی درد اور انسانی کرب میں ڈھال دیا ہے۔ سابقہ ازدواجی زندگی کی تلخیاں، قانونی جھنجھٹ، اپنوں کی لاتعلقی اور سماجی ناہمواریوں کو یوں اس کتاب میں یوں سمویا ہے کہ قاری کو اپنی ذات کا عکس ہر صفحے پر جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
"ت لاش” کے مطالعے سے یہ حقیقت اُجاگر ہوتی ہے کہ محسن خالد محسنؔ شاعر نہیں بلکہ ایک با شعور فنکار اور محقق ہے جو انسانی جذبات کے عمیق رنگوں کو بھی اپنے مشاہدے کی روشنی میں متشرح کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ ان کی نظمیں ایک پُر احتجاج چیخ بھی ہیں اور ایک سسکی بھی جو اپنے اندر گہری سچائی کی بے باک فکر لیے ہوئے ہے۔
مختصر یہ کہ "ت لاش” ایک ایسی تخلیق ہے جو نہ صرف محسن خالد محسنؔ کی زندگی کی سراپا ترجمان ہے بلکہ اس دور کے ہر شخص کے دل کی کہانی بھی ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے کو کہیں غمگین کرتی ہے تو کہیں اُمید اور حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔
٭٭
محسن خالد محسنؔ : شخص و شاعر
ڈاکٹر سید طاہر علی شاہ
محسن خالد محسنؔ کی نظم بنیادی طور پر انسانی دُکھوں کی ترجمان ہے۔ دُکھوں کی یہ کہانی ذاتی، سماجی اور کائناتی زاویوں کو محیط ہے۔ محسن خالد محسنؔ نے اپنے ذاتی کرب کو ایسے درد بھرے لہجے میں بیان کیا ہے کہ یہ انسان کی انفرادی و اجتماعی ہر دو سطح پر محرومیوں اور شکستہ آرزوؤں کے المناک بیانیے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بیانیہ سماجی سطح پر عدم مساوات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کربناک منظرنامے کو نہ صرف نمایاں کرتا ہے بلکہ اس منظر نامے کو ترتیب دینے والے مکروہ کرداروں کے بھیانک چہروں کی نقاب کشائی بھی کرتا نظر آتا ہے۔ محسن خالد محسنؔ نے اپنے اس بیانیے کو معاصر اُردو نظم کے جدید فنی پیمانوں کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے۔
٭٭٭
"ت لاش” ہجر و کرب سے کشید شعری مجموعہ
ڈاکٹر مجاہد عباس
محسن خالد محسنؔ نے اپنے تازہ شعری مجموعے "ت لاش” کو ہجر و کرب سے ماخوذ نظموں سے معنون کیا ہے۔ نثری نظموں کی اس کتاب میں ہماری ملاقات ایک ایسے شاعر سے ہوتی ہے جس نے اپنی نظموں میں اپنے من پسند مکان سے دوری اور من پسند انسان سے جدائی کے ہجر و کرب کے مرقعے پیش کیے ہیں۔
اس لیے اب اس دُنیا کا ہر مکان ان کی نظموں میں بد صورت، مکروہ اور بے مزہ ہو گیا ہے (نظم: دُنیا)۔ وہ اس دنیا کی بد صورتیوں سے اس قدر بیزار ہیں کہ سننے اور دیکھنے کی اذیت سے آزاد ہو جانا چاہتے ہیں (نظم: کیا یہ ممکن ہے)۔ وہ اپنے کرب نواز محبوب کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن بے بس ہیں کہ یاد چپکے سے دروازہ کھولتی ہے اور اندر آ کر ان کی سانسیں باندھ دیتی ہے (نظم: میں اسے یاد نہیں کرتا)
حالاں کہ اب دونوں کے درمیان راکھ کے ڈھیر اور خاموشی کے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں (نظم: یادوں کی راکھ) لیکن کبھی کبھی یاد کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ چیخ ان کی رگوں میں بھڑکتی ہوئی آگ کا روپ دھار لیتی ہے اور وہ خود کو بے بسی کے آئینے میں اجنبی محسوس کرتے نظر آتے ہیں (نظم: عشق فرضِ کفایہ ہے)
محسن خالد محسنؔ کی یہ نظمیں در اصل اس دُنیا میں انسان کے دکھوں کی داستانیں ہیں۔ اس دُنیا میں روتی بلکتی سانسیں، حیران و پریشان آنکھیں، جیتے مرتے خواب اور وعدوں کی ارزانی ان کی بیزاری و بے قراری کے اسباب ہیں۔
٭٭٭
محسن خالد محسنؔ کا نظمیہ مجموعہ کلام "ت لاش”
ڈاکٹر عطیہ سیدہ
محسن خالد محسنؔ کا تیسرا نظمیہ مجموعہ کلام "ت لاش” وجودی سطح پر اپنی ذات کی تلاش ہے۔ اگرچہ اس کلام کو ہجر و کرب کے احساس سے موسوم کیا گیا ہے اور مجموعہ کلام کی بیشتر نظمیں بھی موضوعاتی اعتبار سے تشنہ آرزوئیں، احساسِ نارسائی اور آس و یاس کے لامتناہی بھنور میں ڈولتی، اُبھرتی سراب در سراب زندگی کا چراغ روشن رکھتی نظر آتی ہیں لیکن شاعر کی حَسّاسیت محض انکشافِ ذات تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر غمِ دوراں سے ٹکراتی ہے۔
شاعر کے دائرہ ادراک میں مذہب، سیاست، ثقافت اور غلام ذہنوں کے رواجوں کی جکڑ بندیاں جذباتی تپش کے ساتھ صفحہ قرطاس پر اُبھرتی اور پھیلتی ہیں جو قاری کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ محسن خالد محسن کی ہجر و کرب کی تہذیبِ محبت کا یہ جلتا چراغ مستقبل میں فکرِ رسا اور حساس دل و ذہن کے لیے روشنی کا پیامبر ثابت ہو گا تو کچھ غلط نہ ہو گا۔
٭٭٭
محسن خالد محسنؔ "ت تلاش” کے آئینے میں
شکیلہ اصغر فلک
محسن خالد محسنؔ کی اس نئی تصنیف کو پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ وہ خیالات اور احساسات کو نثری نظم کے قالب میں ڈھالنے کا غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں۔ چھوٹے اور رواں جملوں پر مبنی یہ نظمیں بظاہر سادہ دکھائی دیتی ہیں مگر اپنے اندر گہری معنویت اور فکری ندرت سموئے ہوئے ہیں۔ ہر نظم ایک تازہ تاثر چھوڑتی ہے اور قاری کو زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے پر اُبھارتی ہے۔ ان کی تحریر میں سچائی اور لطافت جھلکتی ہے جو پڑھنے والے کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
اس مجموعے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں موضوعات کی رنگا رنگی اور زبان کی سلاست ملتی ہے۔ ہر نظم میں جذبے کی روانی اور خیال کی تازگی نمایاں ہے۔ قاری جب ایک بار مطالعہ شروع کرتا ہے تو ان جملوں کی دلکشی اور اثر انگیزی اسے بار بار آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سے پہلے بھی محسن خالد محسنؔ کی متعدد کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں جنہیں قارئین نے بے حد سراہا۔ یہ تازہ مجموعہ اُن کی اس کامیاب ادبی روایت کا تسلسل ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا قلم ہر نئی تصنیف کے ساتھ مزید تابندگی اختیار کرتا جا رہا ہے۔
محسن خالد محسنؔ نہ صرف ایک عمدہ شاعر ہیں بلکہ اپنی خوش مزاجی اور ملنساری کے باعث ادبی حلقوں میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کا خلوص اور اپنائیت ان کی تحریروں میں جھلکتا ہے، جو قاری کو ذہنی سکون کا احساس دیتی ہیں۔ یہ شعری تصنیف اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے جو اپنے اثرات دیر تک قائم رکھے گی۔
٭٭
محسن خالد محسنؔ اور "ت لاش”
ڈاکٹر امامہ ریاست
جب میں نے محسن خالد محسنؔ کی شخصیت کو قریب سے جانا، تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ انسان صرف ظاہری طور پر سنجیدہ، بُردبار اور مددگار نہیں بلکہ اس کی ذات کے اندر ایک ایسا سمندر چھپا ہے جو درد، احساس اور انسان دوستی سے لبریز ہے۔ یہی چیز ان کی شاعری میں جا بجا نظر آتی ہے۔
میری نظر میں ان کی شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ روح کی پکار ہے۔ ایک ایسا اظہار جو سیدھا دل پر دستک دیتا ہے۔
ان کی نثری نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہر سطر میں کوئی نہ کوئی گہرا پیغام چھپا ہوا ہے۔ ان کا اندازِ بیان عام شاعروں سے مختلف ہے۔ انھوں نے روایتی سانچوں سے ہٹ کر اپنے دل کی بات کہی ہے۔ کبھی خاموشی کو آواز دی ہے اور کبھی زخموں کو نظم بنا دیا ہے۔ مثلاً ان کی نظم "راہِ عشق میں” مجھے بے حد متاثر کرتی ہے۔ یہ مصرعے دیکھیے:
"انہوں نے سمجھا
کہ منزل چلنے سے ملتی ہے
مگر راہ عشق میں
قدم نہیں چلتے، دل جلتے ہیں”
"یہ راہ، ان کے لیے ہے
جو اپنی اَنا کو دریچے میں رکھ کر
خود کو خاک بنا لیں”
یہ مصرعے اس معاشرے کے نوجوانوں کے لیے ایک روحانی درس کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ محض عشق کی بات نہیں، بلکہ نفس کی نفی اور باطنی سفر کی علامت بھی ہے۔ جب میں نے ان کی نظموں جیسے کہ "ادھ کھلا دریچہ”، "یقین بد گمانی ہے”، "بے کلی” اور "خاموشی زخم ہے” کا مطالعہ کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ نظمیں صرف شاعرانہ کلام نہیں بلکہ دورِ حاضر کے مسائل کی عکاس بھی ہیں۔ ان میں شاعر کا ذاتی درد بھی جھلکتا ہے اور اجتماعی دکھ بھی۔
محسن خالد محسنؔ کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جو لفظوں کو فقط برتتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔ ان کی نثری نظموں میں سادگی کے ساتھ گہرائی، خاموشی میں صدائیں اور سکوت میں انقلاب نظر آتا ہے۔
ایک اُستاد اور اُردو ادب کی طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں ان کے اس منفرد اُسلوب کو سراہتی ہوں اور دُعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو اور زیادہ اثر انگیزی، وسعت اور دوام عطا کرے۔ اُمید ہے کہ ان کا کلام آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ ثابت ہو گا۔
محسن نامہ
کاشف ضیائی
اکیسویں صدی شعر و سخن کے معاملہ میں "احساس” کی صدی ہے، ہم روزمرہ معمولات میں خوشی و غم کے تجربات سے گزرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے ایسے ہیں جو ان تجربات کی انفعالی صورت کو حوالۂ قرطاس کرتے ہیں اور وہ بھی بہ صورت نظم، یقیناً اس معاملہ میں بہت کم نام لیے جا سکتے ہیں۔
شاعری زبان کا جوہر ہوتی ہے، (اور یہ جوہر بڑی مشکل سے حاصل ہوتا ہے) محسن خالد محسنؔ بھی شاعر ہے لیکن اسے یہ شاعرانہ جوہر چار صفات کی بنیاد پہ حاصل ہوا ہے۔ محسن خالد محسنؔ ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص ہے، اس کی تصدیق اس کے پی ایچ ڈی (اُردو)کے مقالے "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” سے ہو سکتی ہے۔ محسن خالد محسنؔ فکر و احساس کی دولت سے مالا مال ہے۔ ثبوت کے طور پہ اس کے کالمز ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ معاشرے کی اونچ نیچ بہ غور دیکھتا ہے (اور اکثر اس شعوری گرفت سے تنگ بھی ہوتا ہے) لیکن بیان کے سلیقے سے واقف ہے۔ بطور مثال اس کی کتاب "آبِ رواں” دیکھی جا سکتی ہے۔ محسن خالد محسنؔ کے بارے میں پورے اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا یہ شعری مجموعہ "ت لاش” جدید شعری روایت کے مختلف و مماثل سانچوں میں ڈھل کر ہم تک پہنچا ہے۔ شاعرانہ سفر کی اس تیسری منزل کی رسائی پر میں انھیں مبارک باد دیتا ہوں اور قلم کے مزید گویا ہونے پر دُعا گو ہوں۔
٭٭
"ت لاش” ہجر و کرب کی داستان
پروفیسر محمد وقار یونس
محسن خالد محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت لاش” نظر سے گزرا تو یوں محسوس ہوا جیسے نثری نظموں کا ایک خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ یہ "طلسمِ شب کو توڑنے والا” شاعر اپنے اندر اتنی نُدرت لیے ہے کہ کلاسیکی شاعری کی روانی طبع کو چھوڑ کر ایسی نظمیں پڑھنا ایک لمحے کے لیے ایک امتحان معلوم ہوتا ہے مگر جلد ہی "ت لاش” ذہن پر اپنا رنگ جما دیتی ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی شاعری میں ہجر و فراق کا سایہ تو ہے ہی مگر ایک فلسفیانہ سوچ سے لکھی گئی نظمیں ان کے متن کو یونیورسل معنی دے دیتی ہیں۔ ایک نظم "وقت کا حاشیہ” میں وہ گویا انسانی ہستی کو ہی "ازل و ابد کا مقامِ اتصال” قرار دیتے ہیں اور آنکھ بند کر کے وقت کو ساکن کر دیتے ہیں۔
ان کی شاعری میں فطرت کے رنگ ہیں، روز مرہ زندگی کے استعارے ہیں، خاموش صدائیں ہیں اور ان صداؤں میں کبھی احتجاج ہے تو کبھی بغاوت۔ ایک گہری اور وسیع المعنی نظم "خواہش کا تقدس” میں زبان سے نکلنے والے لفظ کو "کُن کی بازگشت” کہہ کر انسان کو ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔ ان کی جملہ نظمیں مختلف سوچوں، رویوں، حالات اور حادثات کی تفسیریں ہیں۔ محسن خالد محسنؔ اکیسویں صدی کی نثری نظم کے اہم شاعر ہیں جو بدلتے اندازِ سخن کے دور میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔
یہ ایک نعمت ہے کہ آج کے دور میں زندگی کو جمالیاتی طور پر دیکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ اللہ ان کے زورِ قلم میں مزید جولانی بخشے۔ آمین
٭٭
محسن خالد محسنؔ …ثانیِ ناصر کاظمی
ڈاکٹر ساجد محمود ڈار
اُردو شاعری میں حُزنیہ لہجے اور داخلی کرب کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنے والے شعرا کی ایک طویل روایت ہے۔ میرؔ سے لے کر ناصرؔ کاظمی تک اس روایت نے نہ صرف اُردو شاعری کو ایک مخصوص رنگ بخشا بلکہ قاری کو غم و حُزن کی جمالیات سے روشناس کرایا۔
موجودہ عہد میں یہ روایت نئے شعرا کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔ انھیں میں ایک اہم نام محسن خالد محسنؔ کا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے داخلی تنہائی، اجتماعی کرب اور عصری انتشار کو نہایت سادہ مگر دلنشین پیرائے میں بیان کیا۔
ان کا مجموعۂ کلام "ت لاش” اُردو نظم میں ایک اہم اضافہ ہے، جس میں ناصر کاظمی کے لہجے کی بازگشت نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے محسن خالد محسنؔ کو بجا طور پر "ثانی ناصر کاظمی” کہا جا سکتا ہے۔
ان کی جملہ نظمیں فنی و فکری شناخت رکھتی ہیں تاہم جس نظم نے مجھے متوجہ کیا وہ "بے سبب اُداسی” ہے جس میں حیرتوں کے اِستعاروں کی قندیلیں خونِ جگر سے روشن دکھائی دیتی ہیں۔ یہ مصرعے ملاحظہ کیجیے:
"خاموش ہے آنگن
جھروکے ویران
کوئی جھانکنے والا نہیں
ایک انجانی اُداسی
ہر کونے میں بسی ہوئی ہے!”
ناصر کاظمی کی شاعری کا بنیادی حوالہ یہی "اُداسی” ہے، لیکن یہ اُداسی محض ذاتی نہیں بلکہ انسانی تجربے کی ایک آفاقی کیفیت ہے۔ ان کے یہاں تنہائی، ہجر اور یادیں بار بار آتی ہیں۔ ناصر کاظمی کہتے ہیں:
؎ دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
دیکھیے کیسے ناصر کاظمی کا حُزنیہ لہجہ قاری کو ایک ایسی فضا میں لے جاتا ہے جہاں دُکھ بھی لطف بن جاتا ہے اور جدائی جمالیاتی تجربہ۔
جہاں تک محسن خالد محسنؔ کے اس نظمیہ مجموعے کا تعلق ہے تو میں یہ کہ سکتا ہوں کہ محسن خالد محسنؔ کی یہ شعری تصنیف "ت لاش” اُردو نظم میں داخلی کرب اور عہد حاضر کی بے سَمتی کی نمائندہ ہے۔ یہ نظمیں فرد کے دکھ کو معاشرتی رویوں کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ "ت لاش” میں شاعر کی داخلی صداؤں کے ساتھ ساتھ سماجی تنقید بھی پوشیدہ ہے۔
ناصر کاظمی اور محسن خالد محسنؔ میں فکری و شعری مماثلتوں کا ایک جہاں ملتا ہے، ناصر اپنی غزلیات میں جبکہ محسن اپنی نظمیات میں اپنے عہد کے روئیوں اور نارسائیوں کو استعارہ بناتا ہے اور علامتی و تمثیلی انداز میں ہجر و کرب سے مصرعوں کو کشید کرتا ہے۔ ناصر کو صرف اپنوں سے بچھڑنے اور ہجرت کا غم ستاتا ہے جبکہ محسن اپنوں سے بچھڑنے کا غم کرب ناک صورت میں چیختے ہوئے سامنے لاتا ہے۔
ناصر جہاں اپنے دوست، احباب اور جائے پیدائش کی جدائی میں نوحہ کناں ہے وہاں محسن اپنی بیٹی سے جدائی کا صدمہ کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ روح تک کانپ جاتی ہے۔ نظم "ایمن فاطمہ کے نام” کے یہ مصرعے ملاحظہ کیجیے:
"کیسے بھول سکتا ہوں
تمہارا وہ معصوم، نوزائیدہ چہرہ
پہلی بار جب تم
آنکھوں میں اتری
ہتھیلیوں پر ٹھہری
اور روح تک اُتر گئی”
مزید دیکھیے ایک(بے بس) باپ کی بیٹی سے محبت و الفت کی لازوال مثال:
"میں نے تمہیں تھاما
تو یوں لگا
جیسے کسی فرشتے کی روح چھو لی ہو "
میں سمجھتا ہوں ناصر کاظمی اور محسن خالد محسنؔ میں کئی پہلوؤں سے مماثلتیں ہیں جنھیں آسانی سے کلامِ باہم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں شعرا مشکل تراکیب سے گریز کرتے ہیں، دونوں کے کلام میں غم کو فنکارانہ انداز میں برتا گیا ہے۔ ناصر کی طرح محسن بھی تنہائی کو شاعری کا مرکزی حوالہ بناتے ہیں، یہاں ناصر کاظمی کی داخلی اداسی اور تنہائی کی فضا پوری طرح محسوس کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ محسن کا شعری لہجہ ناصر کاظمی کی یاد دلاتا ہے، مگر ان کا کلام محض تقلید نہیں ہے۔ "ت لاش” میں محسن خالد محسنؔ نے اپنے عہد کے المیوں کو موضوع بنایا ہے۔ دہشت، خوف، بے حِسی، معاشرتی نا انصافی، بے مروتی اور تنہائی کے تجربے ان کے کلام کو منفرد بناتے ہیں۔ اس طرح وہ روایت کو دُہراتے نہیں بلکہ اسے نئے سماجی سیاق میں برتتے ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ محسن خالد محسنؔ اُردو شاعری کی حزنیہ روایت کو ناصر کاظمی کے لہجے کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی کتاب "ت لاش” اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف اداسی کے شاعر ہیں بلکہ اپنے عہد کے المیوں کے بھی عکاس ہیں۔ ان کی شاعری کو دیکھتے ہوئے "ثانی ناصر کاظمی” کا لقب ان کے لیے بجا ہے۔
٭٭
"ت لاش” کا شاعر
ڈاکٹر اشتیاق احمد
شعری روایت میں تخیل، جذبہ اور مشاہدہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن تجربہ ان کو بامعنی بنا دیتا ہے۔ رویت اور تجربہ اگرچہ دو مختلف چیزیں ہیں لیکن شعری روایت کو نباہتے ہوئے شاعر کا تجربہ شاعری کو پُر تاثیر بنا دیتا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت لاش” قریباً دو دہائیوں کا تلخ و شیریں تجربہ ہے اس میں کہیں آپ کو ن م راشدؔ اور میراؔ جی کی جھلک دکھائی دے گی اور کہیں ناصرؔ و فیضؔ و فراقؔ کی طرح سماجی اقدار کی پامالی کا رونا اور کہیں فرازؔ و جونؔ و ثروتؔ کی طرح داخلی کرب کی چاپ سنائی دے گی تو کہیں احسانؔ و جوشؔ و حفیظؔ کی طرح حقیقی واقعات کی منظر کشی متوجہ کرے گی۔
محسن خالد محسنؔ عہدِ حاضر کا وہ شاعر ہے جس کی زیادہ تر نظموں میں روایت سے انحراف ہے۔ جیسے نظم "شاعر” میں کہتے ہیں:
"زمانے کے شعور سے ماورا
رواجوں کے بوجھ سے پرے
اِک ایسے بھنور میں
اِک نئی روش کی
نِیو ڈال دیتے ہیں”
محسن خالد محسنؔ کے اس شعری مجموعے میں دسیوں ایسی نظمیں ہیں جن کے موضوعات میں روایت کی بازگشت کے ساتھ روایت سے انحراف ملتا ہے اور نئے پن کی انفرادیت بھی جھلکتی ہے جیسے "بے سبب اُداسی، یہ وہی کمرہ ہے، ادلے کا بدلہ، یقین کی بدگمانی، راہِ عشق، راہ خودی” وغیرہ۔
محسن خالد محسنؔ کی شاعری میں حُزن و الم، مایوسی و تنہائی کا احساس نظم "دستک” اور "گونجتی تنہائی” میں دکھائی دیتا ہے جیسے:
"خاموشی کی گونج میں
بس ایک تڑپ باقی رہ جاتی ہے
جو چھپے ہوئے درد کی صدا بن کر
میرے وجود کو چبھتی ہے
اور تنہائی کی گہری گونج میں کھو جاتی ہے”
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نقاد کسی مجموعہ کلام پر نقد و نظر کرتے ہوئے کتاب کی بجائے شاعر کو پیشِ نظر رکھتے ہیں جس سے قاری شاعری کی اُٹھان پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے شاعر کی شخصیت کے طِلسم میں بہک جاتا ہے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مجموعہ کلام میں اگر جذبات کا تنوع دکھائی دیتا ہے تو ان سے ایک قاری اور نقاد کو یہ دیکھنا چاہیے کہ قاری کے دل و ذہن اور شعور پر شاعر کی نظموں نے کیا اثر ڈالا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کے ہاں جذبات و احساسات کی نیرنگی کے ساتھ موضوعات کا ایک وسیع سلسلہ ملتا ہے یعنی انھوں نے خود کو مخصوص موضوعات کی تحدید میں مقید نہیں کیا بلکہ جو کچھ ذات اور وجود و ذہن و قلب پر بیتا اور گزرا ہے اُسے بعینہ لکھ دیا ہے۔
ان کے ہاں محبت، نفرت، منافقت، بے مروتی، تنہائی، بے بسی، احساسِ تفاخر، رُسوائی، ذلت، روایت، جدت، ندرت اور بغاوت ایسے موضوعات جا بجا نظموں کی صورت منظوم ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نثری نظم کی روایت میں محسن خالد محسنؔ ایک اُبھرتا ہوا ستارہ ہے جسے اپنے شعری سفر میں کبھی ٹوٹنا تو کبھی چمکنا پڑے گا کیوں کہ تابندہ ستارے زیادہ دیر دمکا نہیں کرتے۔
اِکیسویں صدی کے شاعر کی "ت لاش”: پروفیسر محمد گلاب دانش
محسن خالد محسنؔ حاذق طبیعت کے حامل ہم پیالہ و ہم نوالہ دوست ہیں۔ علمی و ادبی دُنیا میں معتبر اور سنجیدہ نام ہیں۔ ان کا شمار اکیسویں صدی کے اُن شعرا اور نقادوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کی اعلیٰ روایتوں کو آگے بڑھایا اور نئی نسل کو فکر و فن کی روشنی عطا کی۔
ان کی شخصیت میں سنجیدگی، اخلاقی جُرات اور بے باکی نمایاں نظر آتی ہے۔ معاشرتی ناہمواریوں اور نا انصافیوں کے خلاف ان کی آواز ہمیشہ بلند رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں اور شعری تخلیقات میں زندگی کے دُکھ درد، طبقاتی تفاوت اور محروم طبقات کی ترجمانی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
ان کی نظم و نثر کا خاصہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف فنی اعتبار سے معیاری ہیں بلکہ فکری پختگی اور ادبی سنجیدگی کے حوالے سے معتبر درجہ رکھتی ہیں۔ یہی اوصاف ان کی شخصیت میں بھی جھلکتے ہیں، جس سے ان کا وقار اور بڑھ جاتا ہے۔ "ت لاش” ان کا تازہ شعری مجموعہ ہے جو نثری نظم پر مشتمل ہے۔
اس مجموعہ میں شاعر نے اپنی ہڈ بیتی یوں بیان کی ہے کہ اپنا درد سارے زمانے کا درد بنا ڈالا ہے۔ ان کی نظمیں پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ ایک شخص اس قدر بھی ٹوٹ سکتا ہے اور ریزہ ریزہ ہو کر مجتمع بھی ہو سکتا ہے۔ ان نظموں میں ہر وہ موضوع سمٹ آیا ہے جس کے بارے میں سوچنے سے روح کانپ اُٹھتی ہے۔
گِلہ تو ہر کوئی کر لیتا ہے لیکن گلہ کرنے کا جو سلیقہ محسن خالد محسنؔ نے اپنی نظموں میں برتا ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔ ان کی نظموں میں سماج کی ناہمواری، نا انصافی، طبقاتی تفریق سے لے کر جذبات کی نگری میں پل پل بگڑتی بنتی زندگی کے سانچے نہایت خوبصورت انداز میں شعری مرقعوں کی صورت دیوارِ سخنداں پر آویزاں ہو گئے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی کتابیں اور تخلیقات مستقبل میں آنے والے محققین اور قارئین کے لیے ہمیشہ ایک معتبر حوالہ رہیں گی۔
٭٭
محسن خالد محسنؔ کی "ت لاش”
پروفیسر تانیہ اعوان
محسن خالد محسنؔ کی "ت لاش” اُردو نثری نظم کی ذیل میں آتی ہے جس میں داخلی کیفیات اور وقت کا تصور جو انسانی وجود کی پیچیدگیوں کا عمدہ اظہاریہ ہے۔ محسن خالد محسنؔ کی نظموں کی قرات کے بعد ان کو موضوعات کے اعتبار سے یوں منقسم کیا جا سکتا ہے کہ اس میں "وقت کا بوجھ اور گزرگاہ” کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔
ان کی نظموں میں "کتنی پرانی، کتنی نئی” جیسے مصرعے بار بار وقت کے بہاؤ اور دُنیا کی ناپائیداری کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح "انسانی تنہائی اور بے بسی” ان کے ہاں بہت گہرا تاثر لیے ہوئے ہے جیسے:
"میرے کان نہ سُنیں وہ صدائیں
جس کا سامنا ہر حَسّاس انسان کرتا ہے”
ان کے ہاں "حقیقتِ خواب کی کشمکش” عجب طلسمی انداز لیے ہے۔ شاعر بار بار حقیقت اور خواب کے بیچ فاصلے کو سمیٹنا چاہتا ہے جیسے "ایسے خواب کے اسیر ہوئے”۔ ان کی نظموں میں "وجودی سوالات” اُٹھائے گئے ہیں جن کا جواب قاری سے مانگا گیا ہے جیسے "کیا یہ ممکن ہے؟/کیا میں واقعی بھول گیا ہوں؟” جیسے سوالات وجودی فلسفے سے متصل دکھائی دیتے ہیں۔
"ت لاش” کے اُسلوب پر بات کی جائے تو شاعر نے نظم کے کینوس کو اپنی مرضی سے وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ شاعر کے ہاں وہ تمام فنی و فکری لوازم موجود ہیں جو نظم کے آہنگ کو جدت سے ہم آمیز کرتے ہوئے اسے سماج کا بیانیہ بنا دیتے ہیں۔
شاعر نے علم بیان و بدیع سے پورا کام لیا ہے۔ کوئی ایک نظم ایسی نہیں ہے جہاں کوئی نیا لفظ، ترکیب اور اساطیری عناصر کی کارفرمائی نہ ہو، یوں لگتا ہے جیسے شاعر "ت لاش” کے سفر میں تقابل ادیان و مسالک و مکاتب سے بہت آگے گزر گیا ہے۔ شاعر نے دیو مالائی کہانیوں کے اساطیری کرداروں سے بھی ہست و نیست کے تصورات پر روشنی مستعار لینے کی کوشش کی ہے۔
شاعر نے زبان کا انداز ایسا سادہ، سہل اور رواں برتا ہے کہ یوں لگتا ہے روبرو بیٹھ کر دل کے احوال کو پیش کیا جا رہا ہے۔ محسن خالد محسن نے "ت لاش” میں اپنے اندر کی اندروں کائنات سے ہمیں نہ صرف روشناس کروایا ہے بلکہ بیرون کے مظاہر سے بھی اندرون کے گم شدہ اثاثے کو تلاش کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔
شاعر نے "ت لاش” کی صورت ہر ذی شعور انسان کو اپنے اندر اور باہر کی تفاوت کو سمجھنے اور کائنات میں پھیلے ہوئے جملہ تصورات کو از سرِ نو ترتیب دینے کی دعوت دی ہے۔
شاعر نے قاری کے دل میں ایک انجانی سی خلش پیدا کر دی ہے جیسے کوئی اجنبی آئینہ ہمیں اپنے اندر کی مکروہ صورت کو سامنے لانے پر اصرار کرے اور ہم اپنی حقیقت سے خوفزدہ ہو کر دور ہٹنے کی کوشش کے باوجود پورا سچ بولنے پر آمادگی ظاہر کریں۔
یہ مجموعہ پڑھنے سے زیادہ محسوس کرنے اور محسوس کرنے سے زیادہ اپنے آپ پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
٭٭
اُردو نثری نظم میں اہم اضافہ "ت لاش”
پروفیسر محمد فاروق
محسن خالد محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت تلاش” ان کی فکری و جذباتی کائنات کا عکاس ہے۔ اس میں شامل نظمیں محض ذاتی واردات نہیں بلکہ اجتماعی احساسات اور سماجی حقیقتوں کی ترجمان بھی ہیں۔ شاعر نے اپنی تخلیقات میں ہجر، کرب، محرومی، تنہائی، محبت اور وجودی اضطراب جیسے موضوعات کو نہایت خلوص اور شدتِ احساس کے ساتھ برتا ہے۔
اس مجموعے میں نمایاں طور پر درد اور کرب کی جمالیاتی صورت گری نظر آتی ہے۔ شاعر کے ہاں تنہائی کو "بے مروت” کہا گیا ہے، محبت کو ازلی تلاش کے سفر سے جوڑا گیا ہے اور زندگی کو ایک مسلسل جد و جہد کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ان کی زبان سادہ مگر معنی خیز ہے، جس میں علامتوں اور اِستعاروں کے ذریعے زندگی کے گہرے پہلو سامنے آتے ہیں۔
شاعری میں ایک طرف شخصی واردات جھلکتی ہے تو دوسری طرف یہ نظمیں معاشرتی بے حِسی، نا انصافی اور محرومیوں کے خلاف احتجاج بھی ہیں۔ "ادلے کا بدلہ”، "قہوہ خانے”، "بے مروت تنہائی” اور "خواہش مرگِ مکرر” جیسی نظمیں فرد کے دُکھ کو اجتماعی تناظر میں دِکھتی ہیں۔
"ت تلاش” در اصل قاری کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں خواب اور حقیقت، وصل اور فراق، اُمید اور مایوسی سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہ مجموعہ نہ صرف شاعر کی ذاتی داخلی کائنات کی جھلک نہیں دکھاتا بلکہ موجودہ عہد کے انسان کی نفسیاتی اور سماجی اُلجھنوں کا عکس بھی ہے۔
محسن خالد محسنؔ کا یہ مجموعہ اُردو نظم کے اس دبستان میں ایک اہم اضافہ ہے جو سچائی، صداقت اور کرب کو شعری زبان میں ڈھالنے کی روایت رکھتا ہے۔
٭٭
"ت لاش” کی صدائے باز گشت
ڈاکٹر ثمینہ گل
تخیل، آہنگ اور لفظ انسان کا مزاج بناتے ہوئے سوچ و فکر کی نئی دُنیا کی طرف لے چلتے ہیں جہاں سماج اپنی مٹی سے نفسیاتی شجر کی پرورش کرتا ہے۔ اس شجر کی شاخیں جب کسی تخلیق کار کے زرخیز ذہین کو مہکاتی ہیں جبھی تخلیقی سوتے پھوٹنے لگتے ہیں۔
محسن خالد محسنؔ کی "ت لاش” ہجر و کرب کی نظموں سے مُزین شعری مجموعہ ان کے مزاج کا وہ سماجیاتی شجر ہے جس کی ذاتی کرب اور ہجر کے احساسات کے پانی سے آبیاری ہوئی ہے۔ کرب و ہجر کا اندازہ ان کے عنوان سے بھی لگایا جا سکتا ہے انھوں نے لفظ تلاش کو بھی ہجر کے کرب کے ساتھ لکھ دیا پھر جس طرح کوئی بھی کرب انسانی جسم کے کسی ایک حصے کے ساتھ محدود نہیں رہتا بلکہ وہ رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔
اسی طرح یہ ” ت لاش” کے ساتھ داخل ہو کر صرف تلاش تک نہیں رہتا بلکہ است لاش میں لاش ہے کس کس کی؟ یہ ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ نے قاری کو سوچنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا اور اسے کثیر المعانی بنا کر عنوان کو معنیاتی جہان دے دیا۔
محسن خالد محسنؔ کی نظمیں جدید دور کے کرب اور ہجر کی نئی توضیحات کا مجموعہ پیش کرتی ہیں۔ وقت اور عہد کے پیشِ نظر محسن خالد محسنؔ کا یہ شعری مجموعہ اپنی نظموں کے ساتھ ساتھ منفرد عنوان کے باعث سنجیدہ علم و ادب کی توجہ کا مرکز رہے گا۔
عہدِ جدید میں ادب کی نئی راہ پر گامزن محسن خالد محسنؔ کو دُعاؤں کے ساتھ خوش آمدید کہتی ہوں۔
٭٭
"ت لاش” پر ایک تجزیاتی نظر
ظہیر گیلانی
محسن خالد محسنؔ ایک منجھے ہوئے ادیب، شاعر اور نقاد ہیں۔ "ت لاش” ان کا تیسرا شعری مجموعہ ہے، جس میں شاعر نے زندگی کے کرب، تنہائی کے دُکھ، معاشرتی نا انصافی، وجودی سوالات اور عشق و محبت کے ازلی جذبات کو ایک فکری رچاؤ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ محسن خالد محسنؔ نے اپنی کتاب کا نام تلاش کے بجائے ”ت لاش“ رکھ کر اپنی ندرت پسندی اور جدے دیت کا واضح اشارہ دیا ہے۔
یہ کتاب در اصل شاعر کی اُس بے چینی کا اِستعارہ ہے جو ہر حساس روح کو اپنے وجود، سماج اور رشتوں میں درپیش خلا کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔ اس مجموعے میں شعری زبان سادہ، علامتی اور جدید نظم کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ شاعر نے اپنی وارداتِ قلبی کو انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک وسعت دی ہے۔ یہ نظمیں صرف ذاتی تجربات نہیں بلکہ ایک عہد کی اجتماعی بیگانگی اور اِضطراب کا بیانیہ ہیں۔
"ت-لاش” در اصل ایک حساس شاعر کی نارسائیوں، تنہائیوں، کربِ عشق اور سماجی ناہمواریوں کا آئینہ ہے۔ محسن خالد محسنؔ نے اس میں جدید نظم کی تکنیکوں، علامتوں اور روزمرہ کی زبان کو ایک ساتھ برتا ہے۔ منتخب نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ اردو نظم کے قاری کو نہ صرف جمالیاتی حظ دیتا ہے بلکہ فکری سطح پر جھنجھوڑتا بھی ہے۔
محسن خالد محسنؔ ایک صاحب اُسلوب شاعر ہیں۔ اس مجموعے میں شامل اکثر نظمیں بہت گہرے احساسات میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بطور نمونہ چند نظموں کا تجزیہ پیش خدمت ہے:
بے مروت تنہائی
یہ نظم تنہائی کو ایک زندہ کردار کے طور پر پیش کرتی ہے جو شاعر کے دُکھوں کی غم خوار بھی ہے اور زخموں کو بھرنے والی قوت بھی۔ یہاں تنہائی صرف کمی یا محرومی نہیں بلکہ تخلیق کا محرک ہے۔ شاعر نے ستاروں کے استعارے اور کوہِ قاف کی پری کا ذکر کر کے اس کائناتی تنہائی کو ایک طلسمی فضا میں باندھا ہے۔ اس سے قاری کو احساس ہوتا ہے کہ تنہائی ایک ساتھ دُکھ بھی ہے اور مداوا بھی۔
اپنی دُنیا آپ بناؤ
یہ نظم جدید انسان کی ذمہ داری اور بغاوت کی علامت ہے۔ شاعر اپنی ہستی جلا کر اندھیروں کو منور کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے، مگر معاشرتی جمود اور ہجوم اسے رَد کر دیتا ہے۔ یہاں نظم میں فرد اور سماج کے درمیان کشمکش عیاں ہے۔ شاعر نے اس میں انقلابی ولولہ بھی پیدا کیا ہے کہ نئی دُنیا کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب فرد اپنی ذات کو آگ لگا کر اجتماعی روشنی پیدا کرے۔
مداوا
اس نظم میں شاعر نے ذاتی دکھ اور معاشرتی عتاب کو یکجا کیا ہے۔ نظم کے مصرعے:
’یہ صرف ایک دکھ نہیں
یہ تو وہ بوجھ ہے
جس کی تہہ میں کئی ان کہے طعنے ابھی بھی جلتے ہیں‘
قاری کو اس درد تک لے جاتے ہیں جہاں فرد اپنی محرومی کو پورے سماج کی بے حسی کا حصہ سمجھتا ہے۔
ادلے کا بدلہ
یہ نظم تقسیمِ رزق اور سماجی ناہمواری کا نوحہ ہے۔ شاعر سوال اٹھاتا ہے کہ جن کے رزق چھن گئے، ان کی عمریں کم ہو گئیں، ان کا حصہ کہاں گیا؟ نظم میں احتجاج، سوال اور طنز کی کیفیات ایک ساتھ جمع ہیں۔ یہ نظم محسن خالد محسنؔ کے سماجی شعور اور ان کی تنقیدی نگاہ کا مظہر ہے۔
قہوہ خانہ
یہ نظم قہوہ خانے کی روزمرہ فضا کو ادب کدے اور خانقاہ کی علامت بناتی ہے۔ یہاں سستے ڈھابوں کی چائے، تھکے ہوئے چہرے اور بے نیاز قہقہے در اصل فکری و تخلیقی مکالمے کی علامت ہیں۔ شاعر نے بڑے فنکارانہ انداز میں عام زندگی کو اعلیٰ معنوی تجربے سے جوڑ دیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ نے "ت لاش” میں جہاں اپنے دُکھوں کا اظہار کیا ہے وہاں زمانے کی شکائیتوں کو تعمیری اندازمیں سوچنے والے کے سامنے سوال کی صورت بھی رکھا ہے۔ شاعر یہ چاہتا ہے کہ وہ جن آلام سے گزرا ہے اور جو مصائب اُس نے معاشرتی ناہمواری کے طبقاتی نظام کے تحت اپنی ذات پر جھیلے ہیں، سماج اس تناظر میں خود کو کہاں دیکھتا اور آنکتا ہے۔ "ت لاش” اُردو نثری نظم میں ایک اہم اضافہ ہے۔
٭٭
"ت لاش” بے قرار روح کا مسکن
پروفیسر شہزاد مسیح
محسن خالد محسنؔ کا شعری مجموعہ "ت لاش” محض ایک کتاب نہیں بلکہ شاعر کی بے قرار روح کا مسکن ہے۔ ایک ایسا نوجوان شاعر جو ذاتی زندگی کے سوز و کرب اور پیشہ ورانہ کامیابی کے سنگم پر کھڑا ہے اور زندگی سے آرام و سکون کا متمنی ہے۔ مسلسل ہجر و کرب نے ان کی ذات کو دائمی نا اُمیدی میں دھکیلنے میں کو ئی کسر نہ چھوڑی جیسا کہ نظم "میں نہیں دیکھ سکتا” میں لکھتے ہیں:
"میری اُمیدیں راکھ ہو چکی ہیں
جہاں پہلے قہقہے تھے
اب خاموشی رہتی ہے”
مگر ان تمام نا مصائب حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے مسلسل آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ نظمیات کا یہ مجموعہ ایک عام انسان کی ناکام عشقیہ داستان کی کچھ پنکھڑیاں ہیں جو اپنے محبوب کو دیکھتے ہی آنکھوں میں ان گنت سپنے سجا لیتا ہے جیسا کہ ان کی نظم "بے مروت تنہائی” میں بیان ہے:
"پہلی بار جب تم نظر آئے
یوں لگا
جیسے خواب نے حقیقت کا لباس پہن لیا ہو
گویا کوہ قاف کی پری
میرے مقدر میں اُتر آئی”
مگر یہ خواب جلد ہی ایک بے مروت تنہا ئی کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔ در اصل یہ محبت جو جدائی اور خاموشی کے باوجود زندہ ہے۔
"ت لاش” میں محسن خالد محسنؔ کی شخصیت کا ایک اور پہلو نمایاں طور پر نکھر کے سامنے آیا ہے وہ ہے ان کی اپنی بیٹی ایمن زہرا کے لئے پدرانہ محبت۔ نظم "روشنی کا جنم” میں انہوں نے پدرانہ محبت کو الفاظ کا ایسا لمس دیا ہے کہ قاری اپنے خونی رشتوں کی حِدت محسوس کئے بغیر رہ نہیں سکتا۔
ہجر و کرب کے یہ لمحات محسن خالد محسنؔ کے لیے ایک زخم بھی ہیں اور ان کے تخلیقی فن کی اصل طاقت بھی۔ ان کی تخلیقات صرف ذاتی غم تک محدود نہیں۔ ان میں خاندانی دباؤ اور سماجی حلقوں کی تلخ حقیقتوں پر بھی ایک لطیف مگر پُر اثر تنقید موجود ہے۔
"ت لاش” میں بہت سی نظمیں گویا اس دکھاوے کی دنیا سے نجات کی پکار ہے۔ نظم "ادلے کا بدلہ” ایک ایسی بغاوت کو منعکس کرتی ہے جو تہذیبی ریاکاری اور معاشرتی جبر کے خلاف دل سے اُبھرتی ہے۔
"ت لاش” کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض دُکھوں کا شعری مجموعہ نہیں بلکہ اِستقامت اور حوصلے کا اِستعارہ بھی ہے۔
شاعر ذاتی زخموں کے باوجود اُردو ادب کے ایک لیکچرار کی حیثیت سے، ایک معاصر کالم نگار کی صورت میں اور ایک فنکار کے طور پر اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ اس کی زندگی کا یہ تضاد یعنی اندرونی شکستگی اور بیرونی کامرانی اس کتاب کو غیر معمولی صداقت اور کشش عطا کرتا ہے۔
"ت لاش” صرف ایک شخص کی شکستہ کہانی نہیں بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ فن کس طرح غم کو حسن میں، تنہائی کو نغمے میں اور مایوسی کو طاقت میں بدل دیتا ہے۔
شاعر کی یہ کاوش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں اصل طاقت غم سے فرار اختیار کرنے میں نہیں بلکہ اسے لفظوں میں ڈھال کر امر کرنے میں ہے۔ ان کی نظم "تلاش” میں یہ صورتحال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے:
"میں اپنی لیلاؤں کا کھوج لگاتا ہوں
کھوج کے اس سفر میں
ابھی تک کوئی سراغ نہ ملا
جنم در جنم کی آوارگی سے
میں تھک چکا ہوں”
"ت لاش” ہر اُس قاری کے لیے ہے جو بے باک، بے نقاب اور انسانی تجربے کی گہرائیوں سے لبریز شاعری کو پسند کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جو قاری کے دل میں دیر تک ٹھہرا رہتا ہے۔ یہ شاعر کے اُن زخموں کی مانند جو ابھی بھرے نہیں۔
میری دُعا ہے کی خداوند تعالیٰ ان کی شاعری کو اور نکھارے تاکہ وہ قارئین کی ادبی تشنگی کے لئے ہمہ وقت ایک ساگر کی طرح اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
٭٭
محبت اور زندگی کا بے باک مبصر
ڈاکٹر یاسمین
محسن خالد محسنؔ دورِ حاضر کے ایسے نابغہ روزگار شاعر، محقق، نقاد اور کالم نگار ہیں جن کی گرفت ادب، سماج، معاشرت اور حالات پر یکساں ہے۔ وہ فرد اور معاشرے کے جذبات و احساسات اور نفسیات و کیفیات کے حقیقی نبض شناس ہیں۔
وہ بظاہر دھیمے لہجے اور شرمیلے مزاج کے سیدھے سادھے انسان ہیں لیکن اپنی ذات میں علم و آگہی کا ایک سمندر لیے ہوئے زندگی کی تہ دار تہ پرتوں میں محبت و مروت کے رنگ کشید کرتے نظر آتے ہیں۔
وہ عالمانہ مزاج کے شاعر نہیں ہیں, ان کے ہاں فکرو خیال کی بلند پروازی ان کی عمیق اور فلسفیانہ سوچ کا مظہر ہے۔ وہ دورِ حاضر میں وقت و حالات کے بے لاگ مبصر, محبتوں کے سفیر, ہجر و وصال کے اسیر شاعر شاعر ہیں جو زبان و بیان پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔
اس مجموعہ کلام "ت لاش” میں بھی ان کی شاعری بار بار قلب و ذہن پر دستک دیتی ہے۔ ان کی نظمیں بظاہر ان کی ہڈبیتی معلوم ہوتی ہیں مگر ان میں جگ بیتی کے پیکر ملفوظ کر کے ان جذبوں کو بھی بیان کر دیا جنھیں الفاظ کا جامہ پہنانا بظاہر ممکن نہیں۔ ان کے ہاں زندگی کے ہر پہلو پر نمائندہ بے لاگ بیان انفرادیت لیے ہے۔ یہ مجموعہ اُردو نظم کی روایت میں یقیناً اہم اضافہ ہے۔
٭٭
Mohsin Khalid Mohsin and “Te-Lash”
Prof Shakeel Mnasha
I have had the privilege of knowing Mohsin for more than a decade, and throughout these years his unwavering passion for poetry has remained both expressive and profound.
He possesses the rare ability to transform personal experiences and inner pangs into verses that resonate with mastery, artistry, and emotional depth. His voice adds fresh avenues to the literary landscape, carving out a space that is at once intimate and universal.
One of the most compelling features of his poetry in his book "ت لاش” is his remarkable command over metaphor. His images are vivid, imaginative, and layered with meaning.
In his poem First Fire (Pehli Aag), the manner in which he juxtaposes the warmth of a woman’s body with the radiance of the universe is awe-inspiring. I was struck to the core when I first read these lines:
“When I burn, the barren deserts yearn for light,
When I fade, the heavens turn to endless night”.
(میں جلوں تو صحراؤں میں چراغ جلتے ہیں
میں بجھوں تو آسمانوں پر اندھیرا اتر آتا ہے)
This couplet not only reflects his cosmological imagination but also his sensitive rendering of the feminine spirit as an illuminating force of existence. Mohsin’s poetry, far from being confined to the trappings of ego or gendered dominance, is rooted instead in the realities of human compassion, emotion, and shared vulnerability.
In another poem, My Daughter (Meri Beti), he captures with poignancy the tenderness of fatherly love while courageously confronting the anguish of separation.
Through this poem, he sheds light on a social reality often silenced in our culture — the unquestioned custody rights of the mother after divorce and the prevailing perception that the father’s voice carries little weight. Whether one agrees with his perspective or not, his willingness to articulate such restrained subjects speaks to the courage of his pen.
In sum, Mohsin’s poetry thrives on the expressive reiteration of human experience, the unflinching exploration of silenced themes, and the eloquence of metaphor. It is a voice both brave and beautiful.
I trust that readers will find in these pages the same delight, solace, and reflection that I have.
٭٭
Brief Remarks on “Te-lash”
Prof. Sara Ch
In “Te-lash”, Mohsin Khalid Mohsin presents poetry drawn deeply from his lived experiences of loss, separation, and social realities. The collection carries a tone of sincerity and emotional intensity, blending classical depth with contemporary concerns.
His verses touch on themes of identity, injustice, loneliness, and the search for meaning, using rich imagery and heartfelt metaphors.
While the poems often carry a melancholic and serious tone, they also resonate with resilience and hope, offering readers both personal catharsis and social reflection.
“Te-lash” establishes Mohsin as a thoughtful voice whose poetry is not only self-expression but also a mirror to the collective struggles of society.
٭٭
A Poet & Teacher: Mohsin K Mohsin
Prof. Abdul Wahab
I know Mr. Mohsin is a Lecturer in Govt. Shah Hussain Graduate College, Chung Lahore. I worked with him as a colleague.
I found him a very dedicated and honest man and an expert in his subject. He is very dedicated with the students. So, I’ve read his poems. His poems nicely cover human emotions especially towards his daughter and his sympathy towards his students.
Further, his poems also cover the aspects of social injustice, social inequalities. He is very sensitive person as he imagined different sort of things. I must say he is also very disciplined person so I appreciate his poetry book “Te-lash”, I appreciate his works.
His pieces of work are excellent and these pieces of work are a guideline for the students and the readers. So, I am proud of him.
٭٭
تصانیفِ محسن خالد محسنؔ
شاعری:
کچھ کہنا ہے، دھُند میں لپٹی شام، ت لاش، محبت معاہدہ نہیں
نثر:
آبِ رواں، میرے حبیب، میرے محسن
تحقیق و تنقید:
کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ, توضیحِ تلمیحات, تلمیح کا فن، تلمیحاتِ میرؔ، تلمیحاتِ ناسخؔ، تلمیحاتِ آتشؔ، تلمیحاتِ غالب تلمیحاتِ داغؔ،اُردو غزل میں اسلامی تلمیحات، اُردو غزل میں شخصی تلمیحات، اُردو غزل میں صوفیانہ تلمیحات ،محاورہ کا فن، محاوراتِ میرؔ، محاوراتِ غالبؔ، محاوراتِ داغؔ،مباحثِ فکر و فن ،جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو، اُردو غزل کے معمارِ خمسہ، جہانِ تغزل ،حیات و تصانیفِ اقبالؔ کا معروضی مطالعہ، فرہنگِ خواجہ حیدر علی آتشؔ،انتخابِ شعرِ میرؔ،انتخابِ شعر غالبؔ، انتخابِ شعر اقبالؔ، انتخابِ شعر جونؔ
مرتب و مدون:
اُردو کی نمائندہ ناول نگار خواتین، اُردو کی نمائندہ افسانہ نگار خواتین، میاں بیوی والا عشق، جونؔ ایلیا: شخص و شاعر، خطوطِ غلام الثقلین نقوی
٭٭٭
تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائلیں فراہم کیں
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

