ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا اقتباس پڑھیں…..
ماضی بعید کے جنگل
کینیتھ اینڈرسن
اردو ترجمہ
محمد منصور قیصرانی
۴۔ ہندوستان کی کچھ گیم سینکچوریز
میں نے شمالی ہندوستان کی پانچ گیم سینکچوریوں کا چکر لگایا ہوا ہے۔ یہ اور ان کے علاوہ اور بہت سی سینکچوریوں کو حکومت نے قائم کیا تھا تاکہ معدوم ہوتے جانوروں کو بچایا جا سکے۔ ان جانوروں میں ریاستِ گجرات کے گیر جنگلات میں پایا جانے والا ایشیائی ببر شیر، ایک سینگ والا گینڈا جو نیپال اور آسام میں ملتا ہے، ہندوستانی جنگلی بھینسے جو گینڈے کی مانند نیپال اور آسام میں ملتے ہیں، بارہ سنگھے شامل ہیں۔
میں نے ان سینکچوریوں کی سیر کے دوران دو امریکی اور ایک کینیڈین دوستوں کی ہمراہی اختیار کی اور اس سفر کی یاداشتیں متواتر لکھتا رہا۔ میں ذیل میں بمبئی کے لیے بنگلور کے ہوائی اڈے سے ابتدا کرتا ہوں۔ یہ سفر ۳ مارچ ۱۹۷۰ کی صبح شروع ہوا۔ ہم بیلگام کے اوپر سے گزرے تو جلد ہی کئی جگہوں پر جنگلاتی آگ دکھائی دی۔ یہ آگ پونا اور بمبئی کے درمیان گھاٹ (پہاڑی سلسلوں) کے جنگلات میں لگی ہوئی تھی۔
ڈیڑھ گھنٹہ بعد ہم بمبئی کے سانتا کروز ہوائی اڈے پر اترے اور میں نے نٹراج ہوٹل جانے کے لیے ٹیکسی پکڑی۔ میرے ساتھی ۱۵ گھنٹے کی تاخیر کے بعد پہنچے۔
اگلی صبح ہم سب ریاست گجرات کے چھوٹے سے ہوائی اڈے کیشود کو روانہ ہوئے جہاں سے گیر جنگلات کے وسط تک مہمانوں کے جانے کا انتظام ہوتا ہے اور مہمانوں کی قیام گاہ کے طور پر گیر جنگل میں ہی ایک کشادہ فارسٹ لاج ہے۔ ہمارے لیے ڈکوٹا جہاز تیار تھا اور جب ہم روانہ ہوئے تو جہاز انتہائی آرام سے اڑا اور بحرِ عرب کی تنگ سی پٹی کو عبور کیا۔ یہ پٹی بمبئی کو سوراشٹر کے جزیرہ نما سے الگ کرتا ہے اور یہ علاقہ ریاست گجرات کا مغربی کنارہ ہے۔ ہم کئی دخانی جہازوں کے اوپر سے گزرے اور پانی میں اچھلتی ڈولفنیں بھی دکھائی دیں۔
کیشود کا ہوائی اڈہ سمندر سے چند میل دور ہے اور وہاں ایک وین ہمیں منتظر ملی تاکہ ۵۵ میل دور ساسن گیر لے جائے جو ببر شیروں والے جنگل کے وسط میں واقع ہے۔ راستے میں ہمیں وراول کی بندرگاہ دکھائی دی اور سومنات کا مندر بھی یہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محمود غزنوی نامی مسلمان حملہ آور ۱۰۲۶ میں منصوبہ بندی کے ساتھ اس مندر کو تباہ کرنے آیا تو دو ہزار پجاری یہاں جمع ہوئے اور انہوں نے بتوں پر گنگا جل اور پھولوں کی برسات دن رات جاری رکھی تاکہ محمود غزنوی کو شکست ہو۔ محمود غزنوی مندر تباہ کرنے میں ناکام رہا۔
راستہ خشک اور گرد آلود تھا اور جنگل کا بھی یہی حال تھا۔ جگہ جگہ ببول کے درخت تھے اور اکا دکا ساگوان کے پستہ قامت درخت بھی دکھائی دے جاتے۔ ساگوان کے درخت نہ ہوتے تو یہ بالکل افریقی جنگل دکھائی دیتا۔
’گیسٹ ہاؤس‘ نامی فارسٹ لاج میں مناسب ساز و سامان اور خانساماں موجود تھا جس نے میز پر کھانا چن دیا۔ یہاں محکمہ جنگلات کے حکام بہت دوستانہ اور تعاون کرنے والے تھے۔
شام کو پانچ بجے ’لاین شو‘ یعنی ببر شیروں کا تماشہ طے تھا۔ یہاں سے ۸ میل دور ایک بھینس بطور چارہ بندھی تھی اور پاس موجود ببر شیروں کے خاندان کو محکمہ جنگلات کے شکاری یا چوکیدار (جنوبی ہندوستان میں انہیں فارسٹ گارڈ کہا جاتا ہے) وہاں لے کر آتے۔ ان میں سے اکثر تو کافی معمر تھے اور جب انہوں نے محکمہ جنگلات میں ملازمت اختیار کی تو یہ جنگل جونا گڑھ کے مسلمان حکمران کی ملکیت تھا۔ جونا گڑھ کے حکمران نے پاکستان کا رخ کیا کہ ہندوستان نے اس کی ریاست پر قبضہ کر لیا اور گیر کا جنگل ہندوستانی ریاست گجرات کے علاقے سوراشٹر کا حصہ بنا۔ شکاری اور چوکیدار کی خدمات گجرات کے صوبے کو منتقل کر دی گئیں مگر زیادہ تر کی وردی پر جے ایف یعنی جوناگڑھ فارسٹ درج ہے۔
مہمانوں کو چارے کی ہلاکت کا منظر دیکھنے کی اجازت نہیں کہ اس کو بے رحمی سمجھا جاتا ہے۔ جب ببر شیر اسے مار لیں تو پھر کھانے کا منظر دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ چارے کی قیمت ۱۵۰ روپے مہمانوں سے وصول کی جاتی ہے اور اگر وہ کیمرہ استعمال کرنا چاہیں تو اس کی قیمت الگ ہے۔
ببر شیروں کو بلانے کا انداز بھی کافی دلچسپ ہے۔ دو چوکیدار ’کھک کھک‘ اور ’کرو کرو‘ کی آوازیں نکالتے رہے۔ ببر شیروں کو یہ تو اندازہ نہیں ہوا کہ یہ آوازیں کون نکال رہا ہے مگر وہ اس کی جانب کھینچے چلے آئے۔
حفاظت کے حوالے سے ان چوکیداروں یا شکاریوں کے پاس ایک نالی بارہ بور کی بندوق بھی تھی جس میں گراپ بھرے تھے۔ میں نے ان بندوقوں کا معائنہ کیا توان کی عمر شکاریوں کے برابر نکلی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں ہتھیاروں کی کیا ضرورت تو انہوں نے بتایا کہ کبھی کبھار کوئی نوجوان ببر شیر جب کھانے کے دوران اپنے اردگرد تماشائیوں کو پھرتے دیکھتا ہے تو اسے پسند نہیں کرتا۔ جب ایک ببر شیر غصے سے غرائے تو پورا غول غصے میں آ جاتا ہے اور پھر خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
ایک شکاری نے اردو میں مجھے بتایا، ’صاحب، میں لڑکپن سے ببر شیروں کو کھانے پر بلا رہا ہوں۔ مجھ سے قبل میرے والد، داد اور پردادا بھی یہی کرتے آئے تھے۔ ہمیشہ ان کی دم اور آنکھوں پر توجہ رکھیے۔ جب ان کی دم ہلنے لگے اور پھر پشت سے اونچی ہو جائے اور آنکھیں گول کی بجائے آدھی بند ہو جائیں اور ان کے منہ سے آواز نکلنے لگے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ جب ببر شیر ایسی حالت میں دہاڑے تو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگیں، اگرچہ آپ دور نہیں جا پائیں گے۔ ان شیطانوں کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب غصے ہو جائیں۔ ہمیشہ ان کی دم اور ان کی آنکھوں پر توجہ رکھیں‘۔
ان بندوقوں کو خطرے کی حالت میں ہوا میں چلانے کا حکم تھا کہ شیروں پر چلانے سے کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ آواز سن کر شیر پرسکون ہو جاتے۔ ذاتی طور پر میرا خیال یہ ہے کہ ان بندوقوں کا مقصد محض چوکیداروں کی ہمت افزائی تھا۔
پانچ بجے کے فوراً ہی بعد چھ شیروں کا غول آن پہنچا۔ اس غول میں دو جوان شیرنیاں اور چار کم عمر بچے تھے۔ شاید دونوں شیرنیوں کے دو دو بچے ہوں۔ عام شیر کے برعکس ببر شیر آپس میں خاندان کی صورت میں رہتے ہیں اور دوسرے شیروں سے نہیں لڑتے۔
ہماری ہمت بڑھتی رہی اور ہم قریب سے قریب تر ہوتے گئے اور ۳۰ فٹ کے فاصلے تک پہنچ گئے۔ میرے دوستوں کے پاس کیمرے تھے اور وہ ہر ممکن تیزی سے تصاویر کھینچ رہے تھے۔ ایک بار ایک شیرنی کو ہماری قربت پسند نہ آئی اور اس نے بھینس کو پچھلی ٹانگ سے پکڑا اور رسی توڑ کر اسے دور لے جانے لگی۔
اچانک دونوں چوکیدار بھاگتے ہوئے بھینس کی اگلی ٹانگ پکڑ کر کھینچنے لگے۔ رسہ کشی شروع ہو گئی جس میں ایک جانب شیرنی اور دوسری جانب دو انسان تھے۔ پانچ ببر شیر اور بہت سے انسان تماشائی بن گئے۔ اگر مجھے کوئی شخص یہ بتاتا تو مجھے یقین نہ آتا۔ شیرنی زیادہ طاقتور تھی، سو وہ بھینس کو کھینچتی رہی۔ اس موقعے پر دونوں چوکیداروں نے بھینس کی ٹانگ چھوڑی اور شور مچاتے شیرنی کی سمت بڑھے۔ شیرنی نے لاش کو چھوڑا اور پاس کھڑی ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔
باقی پانچوں شیر بھی پوری توجہ سے دیکھ رہے تھے۔ ہم بھی حیران تھے۔ بعجلت مگر آسانی سے دونوں نے لاش کو گھسیٹ کر واپس درخت سے باندھ دیا۔ اب مجھے گیر کے ببر شیروں کی ہمت پر شک ہونے لگا کہ وہ آرام سے واپس لوٹ کر پیٹ بھرنے لگے۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بھینس کی ہڈیاں بچ گئیں۔
شیرنی کے بچے پیٹ بھرنے کے بعد ہم میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کی ماؤں کا بھی پیٹ بھرا ہوا تھا اور وہیں لیٹ کر اونگھنے لگیں۔ سورج مغربی افق کے قریب پہنچ چکا تھا۔
ماؤں کی عدم توجہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دو بچے ہمارے گرد گھومنے اور آوازیں نکالنے لگے۔
بوڑھے چوکیدار نے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے ہٹنے کو کہا اور سرگوشی کی، ’صاحب، پیچھے ہٹ جائیں۔ اگر ان کی ماں بیدار ہو گئی تو مصیبت میں پڑ جائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ شیطان لوگ کتنے خطرناک ہوتے ہیں‘۔
جلد ہی دونوں شیرنیاں بیدار ہوئیں اور بچی کھچی لاش کو آئیں۔ اب اس پر شاید ہی کوئی گوشت بچا ہو۔ ہمارے ایک آسٹریائی ساتھی نے جو کہ پیشہ ور فوٹوگرافر تھا، چوکیداروں سے کہا کہ وہ شیروں کو ہٹا دیں تاکہ وہ اس درخت کے ساتھ مائیکروفون لٹکا دے۔ پھر جتنی دیر وہ تصاویر کھینچا رہا، ان کی آوازیں بھی ٹیپ پر ریکارڈ ہوتی رہیں۔
اس دوران ایک شیرنی کو اس کا بچہ تنگ کر رہا تھا اور وہ اسے سرزنش کر رہی تھی۔ آسٹریائی آدمی نے یہ آوازیں بھی ریکارڈ کیں۔ پھر اس نے یہ آوازیں دوبارہ چلائیں تو اپنی آوازیں سن کر شیروں کی عجیب کیفیت ہوئی۔
اچانک انہوں نے منہ چلانا بند کر دیا۔ ان کے سر چند گز دور ایک نالے کو مڑ گئے۔ پہلے تو ہمیں کچھ نہ دکھائی دیا مگر اگلے لمحے ببول اور ٹیک کے درخت کے درمیان سے ایک بہت خوبصورت ببر شیر نکل آیا۔ اس کی ایال افریقی ببر شیر سے ذرا کم تھی۔ کم ہوتی روشنی میں بھی ہمیں اس کی کہنیوں پر لمبے بالوں کے گچھے دکھائی دے رہے تھے۔
چوکیدار گھبرا گئے۔ انہوں نے فوراً ہمیں پیچھے ہٹا دیا۔ ہٹتے ہٹتے ہم ۵۰ گز دور وین تک پہنچ کر اندر بیٹھ گئے۔
پھر ہمیں بوڑھے چوکیدار نے بتایا، ’صاحب، یہ غصیلا ببر شیر ہے۔ جب یہ آتا ہے تو ہمیں فوراً تماشا روکنا پڑتا ہے۔ اسے نہ تو کاریں پسند ہیں اور نہ ہی انسانی موجودگی۔ دوسرے شیر بھی اس سے ڈرتے ہیں‘۔
جب ہم نے مڑ کر دیکھا تو چھ کے چھ شیر مختلف سمتوں کو جا رہے تھے۔ ببر شیر نے ہڈیوں کو سونگھا اور پھر ہوا کو سونگھا۔ پھر سماعت شکن دہاڑ سنائی دی۔
روشنی کم تھی مگر ہمارے فوٹوگرافر ساتھیوں نے فوٹو کھینچنے تھے۔ چوکیدار گھبرائے ہوئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ رکنے کا مطلب مصیبت میں پڑنا ہے۔ انہوں نے ڈرائیور کو روانہ ہونے کا حکم دیا۔ جب ہم نے شکایت کی تو بوڑھا شکاری بولا، ’صاحب، ہم آپ سب کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ یہ ببر شیر پورا شیطان ہے۔ اگر اس نے حملے کا ارادہ کیا تو ہماری زنگ آلود بندوقیں اسے روک نہیں سکتیں۔ اللہ جانے کہ کارتوس بھی چلیں گے یا نہیں کہ یہ بھی بہت پرانے ہیں۔ جب بھی یہ ببر شیر پہنچتا ہے تو ہم اس سے کافی فاصلہ رکھتے ہیں۔ آپ نے خود ہی دیکھا کہ دیگر شیر بھی اس کی موجودگی سے خائف تھے‘۔
تاریکی چھا رہی تھی کہ ہم وہاں سے نکلے۔ راستے میں چند چیتل، اکا دکا مور اور چوسنگھے دکھائی دیے۔ ایک میل سے تھوڑا دور جب تاریکی گہری ہونے لگی تو ہمیں ببر شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ تاریکی کی وجہ سے ہم دیکھ تو نہیں سکے مگر یہ آواز چند گز کی دوری سے آتی محسوس ہوئی۔
بوڑھے چوکیدار نے ڈرائیور سے رکنے کا کہا اور پھر وین کا دروازہ بجانے اور ‘کھک کھک‘ کی آواز نکالنے لگا۔ چند ہی منٹ میں ایک نوجوان ببر شیر نکل کر ہمیں دیکھنے لگا۔ شاید اسے توقع ہو کہ ہم اسے کچھ کھانے کو دیں گے۔ ہم چند منٹ رکے اور پھر گاڑی سے باہر نکلے تو ببر شیر تاریکی میں غائب ہو گیا۔
جب ہم گیسٹ ہاؤس پہنچے تو مزید دلچسپی کا سامان موجود تھا۔ رینج آفیسر نے ہمارے لیے تیندوے کی نمائش کا بندوبست بھی کیا ہوا تھا۔ رات کے کھانے کے بعد ہم بنگلے سے تین سو گز دور ایک گزرگاہ پر پہنچے جہاں ایک بکری پہلے سے ہی بندھی ہوئی تھی جسے تیندوا شام کو مار چکا تھا۔ یہ تیندوا مفت کے چارے کا عادی ہو چکا تھا کہ محکمہ جنگلات کے اہلکار ہر دوسرے روز اس کے لیے بکری باندھتے تھے۔ بھینس والے چارے کی مانند یہاں بھی بکری کی ہلاکت کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی مگر جب تیندوا پیٹ بھرنے لگتا تو پھر دیکھنے کی اجازت تھی۔ اس بکری کی قیمت ۶۰ روپے تھی۔
تماشا تیار تھا۔ تیندوا بکری پہلے ہی مار چکا تھا اور بکری کا رنگ کالا تھا۔ ایک چوکیدار نے لاٹھی سے تیندوے کو بھگا دیا تھا اور وہ خود بکری کے ساتھ بیٹھ گیا۔ تاریکی چھا چکی تھی اور فلڈ لائٹس لگا دی گئی تھیں۔ مطلوبہ مقام کے قریب ایک نیم دائرے کی شکل میں آہنی پنجرہ سا بنا ہوا تھا جو ہمارے لیے بنایا گیا تھا۔
جب ہم اس میں جمع ہو گئے تو لاٹھی والے چوکیدار نے اپنی جگہ چھوڑی اور ہمارے ساتھ پنجرے میں پہنچ گیا۔
تیندوا شاید اسی بات کا منتظر تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ اس کے لیے نیا نہیں تھا مگر وہ سوچتا تو ضرور ہو گا کہ اسے پہلے روکنے کے بعد بکری کھانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے اور یہ بھی کہ انسان کتنے احمق ہیں، سیدھا سیدھا اسے کھانے کی اجازت کیوں نہیں دے دیتے۔
چند ہی لمحوں بعد تیندوا بکری پر پہنچ گیا۔ فلڈ لائٹس کی شدت بڑھ رہی تھی اور ۱۰ منٹ میں پورا منظر دن کی طرح روشن ہو گیا۔ تیندوے کو اس سے الجھن ہوئی ہو گی کہ اس نے دو بار بکری کو کھینچ کر لے جانے کی کوشش کی مگر بکری کو رسی سے درخت کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ مایوس ہو کر تیندوا بیٹھ کر بکری کو کھانے لگا۔
اگر لگڑبگڑ بھی اتفاق سے نہ آن پہنچتا تو یہ سارا تماشا کافی اکتا دینے والا ہوتا۔ لگڑبگڑ چھپتا چھپاتا تیندوے کے پیچھے سے آیا مگر تیندوے نے اس کی موجودگی بھانپ لی۔ فوراً ہی اس نے غرا کر لگڑبگڑ کی سمت بڑھ کر اسے بھگانے کی کوشش کی۔ لگڑبگڑ بھاگا اور تیندوا اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ روشنی کم کر دی گئی۔
جلد ہی تیندوا واپس لوٹا اور چند لمحے بعد لگڑبگڑ بھی پہنچ گیا اور اس کی ہمت بڑھ چکی تھی۔ اس بار تیندوے کی غراہٹ کے جواب میں لگڑبگڑ اپنی منحوس ہنسی ہنستا رہا۔ اس نے تیندوے سے ہاتھا پائی کرنے کی ہمت نہیں کی۔
اس بار ہمارے ساتھ جوان چوکیدار تھا جسے اپنی بیوی کی یاد ستانے لگی کہ یہ تماشا اس نے بہت بار دیکھا ہوا تھا۔ سو وہ زور سے کھانسا اور روشنیاں بجھا دیں۔
تیندوے کا تماشا اب ختم ہو گیا تھا۔ تاریکی چھا گئی تھی اور جلد ہی ہم واپس آرام دہ فارسٹ لاج آن پہنچے جہاں آرام دہ بستر ہمارے منتظر تھے۔
آدھی رات کو میں برآمدے میں گیا۔ میرے ساتھی سو رہے تھے۔ کافی دور سے ببر شیر کی دہاڑ سنائی دی جو مخالف سمت کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر کچھ دیر تک گونجتی رہی اور پھر ختم ہو گئی۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید یہ وہی بدمزاج ببر شیر ہو۔
اگلی صبح چھ بجے سے قبل ہم لوگ بیدار ہو کر پانچ چھ میل دور ایک جھیل کو روانہ ہو گئے جہاں طلوعِ آفتاب کا منظر قابلِ دید ہوتا ہے۔ ہم ہندوستان کے خشک علاقے اور موسمِ گرما کے وسط میں تھے مگر صبح کافی خنک تھی۔
جھیل کنارے ایک چیتل کی آواز سنائی دی اور پھر جھیل کے پانی پر طلوع ہوتے سورج کے چمکدار راستے پر اس کا خاکہ دکھائی دیا۔ بیس موروں کا جھنڈ چیتل کے ۱۰۰ گز قریب سے گزرا جو ابھی تک پانی پی رہا تھا۔ اچانک ہمیں نیچے وادی سے ببر شیر کی دہاڑ سنائی دی جو ہم سے زیادہ دور نہ تھا۔
نر سانبھر نے یہ آواز سنتے ہی دھانک کی آواز لگائی اور سیدھا پہاڑی کے اوپر کو بھاگا۔ میں اپنے دوستوں سے زیادہ پرجوش ہو گیا۔ مجھے علم تھا کہ شیروں اور ببر شیروں کی عادات مختلف ہیں۔ میں سیدھا اس ببر شیر کی آواز کی سمت دوڑا اور میرے ساتھی میرے پیچھے تھے۔
جلد ہی ہم ایک ریتلی ندی پر پہنچے۔ اس پر نرم زمین پر شیر کے چوڑے پگ ثبت تھے۔ گیر میں شیر نہیں بلکہ ببر شیر پائے جاتے ہیں سو یہ نشانات ببر شیر کے تھے۔
ہم نے رفتار بڑھائی اور جلد ہی ببر شیر کو جست لگا کر ایک جھاڑی میں چھپتے دیکھ لیا۔ ظاہر ہے کہ ببر شیر کو اندازہ تھا کہ ہم جنگل کے عام چوکیدار نہیں بلکہ اجنبی افراد ہیں۔ جو چند لمحے ہمیں ببر شیر دکھائی دیا، اس میں اس کی ایال نظر نہ آئی تھی۔ عین ممکن ہے کہ یہ نوجوان ببر شیر ہو۔ تاہم یہ شیطان ببر شیر نہ تھا۔
جب ہم کار کو واپس لوٹے تو سورج طلوع ہو چکا تھا۔ راستہ اونچے پہاڑ کے کنارے سے گزرتا ہے سو ہمیں جھیل صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس میں کئی جگہ جیسے درختوں کے تنے تیر رہے ہوں۔ مجھے علم تھا کہ یہ تنے نہیں بلکہ مگرمچھ ہیں۔ واپسی کے سفر میں ہمیں کئی چیتل اور مور دکھائی دیے اور ایک جگہ جنگلی سوروں کا چھوٹا غول بھی دکھائی دیا۔
جنگل سے گزرتے ہوئے راستے میں ہمیں ملدھاری قبائل کے کئی دیہات ملے۔ یہ لوگ اپنے مویشی گیر کے جنگلات میں چراتے ہیں۔ یہ لوگ بہت رنگ برنگے ہوتے ہیں۔ مردوں نے ڈھیلی ڈھالی جیکٹ اور بہت بڑے گھیرے والی شلواریں پہنی ہوتی ہیں اور سر پر رنگین پگڑی۔ اس کے علاوہ گلو بند، ہڈیوں سے بنی چوڑیاں اور ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے۔ عورتیں مقامی خانہ بدوش قبائل کی مانند لباس پہنتی ہیں جو شوخ رنگ کی ساڑھی، چست جیکٹ، گلو بند، چوڑیاں، بالیاں، منکے وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ لوگ انتہائی خوبصورت ہوتے ہیں۔ ان کے بچے والدین کی ہو بہو نقل ہوتے ہیں مگر زیادہ شوخ کپڑے پہنتے ہیں۔
ماضی میں جب گیر کے جنگل میں گھاس بکثرت اور پانی عام تھا تو یہاں جنگلی جانور بھی بکثرت تھے۔ ببر شیروں کو قدرتی خوراک مل جاتی تھی اور وہ پالتو مویشیوں پر کم ہی توجہ دیتے تھے۔ یہ لوگ بھینس کی ایک قسم پالتے ہیں جو مڑے ہوئے سینگوں والی ہوتی ہے۔
ملدھاری لوگ اپنے جانوروں کے ساتھ جنگل میں خوش رہتے ہیں اور بھینسوں کا دودھ اور دودھ سے بنی دیگر چیزیں ساہوکار کو بیچتے ہیں کہ ساہوکار انہیں بوقتِ ضرورت ادھار دیتا ہے۔ جوناگڑھ ریاست کے خاتمے کے بعد مسائل پیدا ہو گئے کہ پھر سوراشٹر اور کچھ سے بھی مویشی یہاں چرائی کے لیے لائے جانے لگے۔ بیرونی مویشی لگ بھگ ۴۸۰۰۰ سالانہ جبکہ ملدھاریوں کے اپنے مویشی ۲۱۰۰۰ ہیں۔ یہاں ملدھاریوں کی کل ۱۲۹ بستیاں آباد ہیں جنہیں جنوبی ہندوستان میں مویشی پٹی کہا جاتا ہے۔ گیر کے جنگلات میں اتنی زیادہ چرائی ہونے لگی کہ یہاں پانی اور چارے کی شدید کمی ہو گئی اور بیچارے ملدھاریوں کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ مویشیوں کی تعداد بڑھنے سے یہاں ان کی بیماریاں جنگلی جانوروں کو لگنے لگیں۔ چارے کی کمی سے جنگلی حیات متاثر ہوئی اور جنگلی جانوروں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کا ایک اور سبب بڑھتے ہوئے چور شکاری بھی تھے۔
ان سب وجوہات کی بنا پر ببر شیر بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے ملدھاریوں کی بھینسوں اور مویشیوں کو بڑی تعداد میں مارنا شروع کر دیا۔ ملدھاریوں کی غربت بڑھتی گئی کہ وہ اپنے مویشی باڑے میں رکھ کر نہیں پال سکتے تھے۔ ان کے دودھ پر لگنے والے بلدیاتی ٹیکس سے لاگت بڑھتی گئی اور وہ شہر میں نہیں رہتے، سو انہیں دودھ اور مکھن کی فروخت سے متعلق بلدیاتی فوائد بھی نہ مل سکے۔
مایوسی کی انتہا دیکھیے کہ ملدھاری آتشیں اسلحہ خریدنے کی سکت بھی نہ رکھتے تھے، انہوں نے ببر شیر کے شکار کردہ جانوروں میں زہر رکھنا شروع کر دیا۔ جب ببر شیر دوسری بار کھانے کو لوٹتے تو بے خبری میں زہر کھا کر تکلیف دہ موت مرتے۔
جنوبی ہندوستان کے جنگلات سے شیروں، تیندوؤں اور لگڑبگڑ کے تقریباً معدوم ہونے کی بھی یہی وجہ ہے۔ تاہم شیر اور تیندوے وغیرہ اکیلے شکار کرتے اور کھاتے ہیں جبکہ گیر کے جنگلات میں یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہے کہ ہندوستانی ببر شیر افریقی ببر شیروں کی مانند گروہ کی شکل میں شکار کرتے اور پیٹ بھرتے ہیں۔ سو ایک جانور کے زہر آلود ہونے سے ببر شیر کا پورا خاندان مر جاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کچھ ہی عرصہ قبل نو ببر شیر اسی طرح مارے گئے تھے۔ اب سوچیے کہ گیر کے جنگلات کے یہ ببر شیر ایشیائی ببر شیر کی واحد موجود نسل ہیں۔
گیر کے جنگلات کے گرد کاشتکاری ہو رہی ہے اور اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور گیر کا رقبہ سکڑتے سکڑتے ۱۳۰۰ مربع کلومیٹر یا ۵۷۶ مربع میل تک محدود ہو گیا ہے۔ ببر شیروں کی تعداد شمار کی گئی تو ۱۹۵۵ میں ۲۴۷ ببر شیر پائے گئے۔ یہ تعداد ان کے پگوں کے مشاہدے سے کی گئی تھی۔ اگلی مرتبہ تعداد کو ۱۹۶۸ میں شمار کیا گیا تو محض ۱۷۷ ببر شیر بچے تھے جو سابقہ تعداد میں چالیس فیصد کمی کو ظاہر کر رہے تھے۔ گیر کے ببر شیروں کے سر پر معدومیت کی تلوار لٹک رہی ہے۔
ایک صدی قبل گیر کا رقبہ تین گنا زیادہ تھا۔ موجودہ اندازہ ہے کہ اس کا ۶۳ فیصد رقبہ اب کاشت ہو رہا ہے۔ جنگل کی کٹائی اور زیادہ سے زیادہ مویشیوں کی آمد کے علاوہ یہاں چور شکاری بھی ہیں اور ببر شیروں کے شکار کو زہرآلود بھی کیا جا رہا ہے، سو ان ببر شیروں کی قسمت میں معدومیت لکھی ہے۔
اس سینکچوری میں چوتھائی سے بھی کم جنگلی حیات بچی ہے۔ ببر شیروں کے بچاؤ کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ملدھاریوں کے مویشیوں پر ہاتھ صاف کریں۔ اب وہ پیٹ بھر کر کم ہی کھا سکتے ہیں۔ ببر شیر شب بیدار شکاری ہے۔ ملدھاری اپنے مویشی رات کو باڑے میں بند رکھتے ہیں، سو انہیں دن کو شکار کرنا پڑتا ہے۔
وین پر سوار ہم ملدھاریوں کی بستیوں کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ وہ سب گھاس پھونس سے بنی جھونپڑیاں تھیں۔ ہر بستی کے درمیان مویشیوں کے لیے خالی جگہ چھوڑ کر باقی ہر جانب خاردار جھاڑیوں سے مضبوط باڑ سی بنا دی گئی تھی اور کئی جگہوں پر یہ مٹی اور پتھروں سے بنی ہوئی دیوار تھی۔ اس کی شکل کسی حد تک افریقی بوما سے ملتی تھی۔ یہاں جنگل بھی افریقی جنگل سے مماثل اور خاردار جھاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ واحد فرق یہ تھا کہ اکا دکا ٹیک کے درخت دکھائی دے جاتے تھے۔
اگر ببر شیر اس باڑ یا دیوار پر چڑھ کر اندر گھسے اور ایک بھینس کو مار بھی لے تو اسے لے کر واپس نہیں نکل سکتا۔ اس کے علاوہ ملدھاری مل کر شور مچاتے اور ببر شیر کو بھگا دیتے ہیں تاکہ بھینس کی کھال اتاری جا سکے۔
جنوبی ہندوستان میں بھی جب شیر مویشی مارتا ہے تو چرواہے اسے بھگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات شیر کو یہ مداخلت پسند نہیں آتی اور وہ حملہ کر کے چرواہے کو زخمی یا ہلاک بھی کر دیتا ہے۔ اس طرح شیر یا تیندوا آدم خور بن سکتا ہے۔ مجھے پتہ چلا تھا کہ گیر کے جنگل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر بہت کم۔ جب کوئی ببر شیر آدم خور بن جاتا ہے تو اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
اس سینکچوری میں مارے جانے والے جانوروں کی نصف تعداد ببر شیروں کا کھاجا بنتی ہے اور اس کے باہر ۸۰ فیصد۔ باقی کے جانور تیندوؤں کا شکار بنتے ہیں۔ یہاں عام شیر نہیں پائے جاتے۔
جب ببر شیر شکار مارتا ہے اور اسے بھگا کر مویشی کی کھال اتار لی جاتی ہے تو ببر شیر کو پوری طرح پیٹ بھرنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہیں ضرورت سے زیادہ شکار کرنا پڑتا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ببر شیر کے مارے ہوئے ۲۳ فیصد جانوروں سے ببر شیر ایک لقمہ بھی نہیں کھا پاتا جبکہ مزید ۲۰ فیصد سے ۱۰ کلو سے بھی کم گوشت کھا پاتا ہے۔
ببر شیروں کا سامنا ملدھاریوں سے ہوتا رہتا ہے اور ملدھاریوں کی کل ۱۲۹ بستیاں یہاں ہیں جبکہ باہر سے آنے والے ہزاروں مویشیوں کے مالکان الگ ہیں۔ جب بھی کوئی جانور مارا جاتا ہے تو اگر اس کے مالک کو پکڑے جانے کا ڈر نہ ہو تو وہ ببر شیر گولی مارنے یا زہر دینے سے گریز نہیں کرتا۔
جب کوئی پالتو جانور سینکچوری سے باہر مارا جائے تو حکومت اس کا معاوضہ ادا کرتی ہے مگر سینکچوری کے اندر مارے جانے والے جانور کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا کہ اس کا فائدہ کوئی نہیں۔ سینکچوری کا مقصد ایشیائی ببر شیروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا بندوبست ہے مگر اس مقصد کو پورا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
قدرتی حیات کا تین چوتھائی ویسے بھی یہاں سے غائب ہو چکا ہے۔ سینکچوری کی زیادہ تر زرخیز زمینیں کاشتکاری کے لیے مختص ہیں اور کچھ اس طرح واقع ہیں کہ پوری سینکچوری دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گئی ہے۔ درختوں بالخصوص ٹیک کی کٹائی متواتر جاری ہے جبکہ مویشیوں کی کثرت سے نئے درخت لگانا ممکن نہیں رہا۔ ہر سال تقریباً ۵۰۰۰ من چارہ مویشیوں کے لیے کاٹا جاتا ہے۔ سینکچوری اب ایک مصنوعی ماحول بن کر اپنے مقصد کو کھو چکی ہے۔ بچے کھچے ایشیائی ببر شیروں کی موجودگی کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ ادھر مبذول ہوئی ہے مگر ہندوستان کی حکومت ہی واحد فریق ہے جو اس آخری لمحے پر کاروائی کر کے اسے بچا سکتی ہے۔
مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مرکزی حکومت نے اس موقع پر گجرات کی ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر ایک نئی سکیم شروع کی ہے جس کا نام ’دی گیر لائن سینکچوری پراجیکٹ‘ ہے۔ اس کی ابتدا جنوری ۱۹۷۲ میں ہوئی۔ گجرات کے گورنر شری شریمان نرائن نے دو پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھی۔ ایک تو یہ کہ گیر میں نہ صرف ببر شیر بلکہ تمام جنگلی حیات کو چور شکاروں، زہر اور بیماریوں سے بچایا جائے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملدھاریوں کی سماجی اور معاشی صورتحال بہتر بنائی جائے۔
اس ضمن میں بہت ساری میٹنگیں ہوئیں اور آخرکار گجرات کی حکومت نے مندرجہ ذیل احکامات جاری کیے:
۱۔ باہر سے آنے والے تمام تر مویشیوں کا سینکچوری میں داخلہ بند کر دیا جائے
۲۔ اس کے گرد باقاعدہ جنگلا یا باڑ لگائی جائے
۳۔ ملدھاریوں کو سینکچوری کے باہر زمین دی جائے تاکہ وہ اس علاقے کو چھوڑ جائیں اور اس ضمن میں ان کی مرحلہ وار مدد اور نگرانی کی جائے
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان اقدامات پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تو ایک دہائی میں ہی گیر کے ببر شیر ناپید ہو جائیں گے۔ جب تک بلند بانگ دعووں کی بجائے عملی اقدامات پر توجہ نہ دی جائے گی، تب تک ببر شیر کو بچانا ممکن نہیں۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا احکامات جاری ہونے کے پورا ایک سال بعد بھی ملدھاریوں کی تمام ۱۲۹ بستیاں سینکچوری کے اندر قائم تھیں۔
ناشتے کے بعد دس بجے ہم لوگ فارسٹ لاج سے نکلے اور وین میں بیٹھ کر گرد آلود راستے پر چل پڑے جو یہاں کی سابقہ مسلمان ریاست کا صدر مقام تھا۔ اس شہر کا نام جونا گڑھ ہے۔ یہاں مسلمانوں کے مقابر اور مساجد کی کثرت ہے۔ سرکٹ ہاؤس میں دوپہر کا کھانا کھا کر ہم ونکانیر کے شاہی محل کو چل دیے جہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات مہاراجہ اور ان کے بیٹے یواراج کا مہمان بن کر گزارنی تھی۔ ساسن گیر سے محل تک کا فاصلہ ۱۰۵ میل بنتا ہے۔
پیٹرول کی وجہ سے ہمیں کچھ دیر ہو گئی مگر ہم لگ بھگ ساڑھے پانچ بجے محل پہنچ گئے۔ مہاراجہ اور ان کے بیٹے نے بذاتِ خود ہمارا استقبال کیا اور ہار پہنائے۔ میرے دوست بہت خوش ہوئے۔
اگلی صبح ہم یواراج کے ساتھ ۳۸۰۰ ایکڑ پر مشتمل ان کے ذاتی جنگل کو روانہ ہوئے جو ۶ میل دور تھا۔ یہ سارا علاقہ نشیب و فراز پر مشتمل تھا اور جگہ جگہ ببول کے پست قد درخت اگے ہوئے تھے۔ زمین بہت خشک تھی۔ یواراج نے شکایت کی کہ ان کے خاندانی جنگل میں ونکانیر کے لوگوں نے سڑکیں بنائی ہیں اور جب بھی موقع ملے، یہ لوگ چور شکار کرنے اور قیمتی درخت کاٹنے سے گریز نہیں کرتے۔
پھر ہم ایک مکان کو پہنچے جہاں مہاراجہ کے ذاتی رینج آفیسر اور دو فارسٹ گارڈ رہتے تھے۔ ہماری آواز سن کر یہ لوگ باہر نکلے اور زور دار انداز سے سلامی دی۔
ایک گارڈ کو ساتھ لے کر ہم لوگ پہاڑی راستوں پر چل پڑے۔ راستے میں ہمیں مختلف گروہوں کی شکل میں ۱۶ نیل گائے دکھائی دیں۔ سب سے بڑے گروہ میں ۵ نر نیل گائے یعنی نیلے تھے۔ پھر ہمیں دو چنکارے بھی ملے جو کالے ہرن سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ایک لومڑی اور بے شمار کشمیرے بھی دکھائی دیے۔ یواراج نے بتایا کہ برسات میں یہاں کالا تیتر اور کشمیرے بکثرت ملتے ہیں مگر گرمی کی آمد پر یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ یہاں ہمیں جگہ جگہ سیہی کی کھدائی اور اس کے بل دکھائی دیے۔
یواراج نے ہمیں پیشکش کی کہ اگر ہم ایک دن اور رک جائیں تو وہ ہمیں کچھ کے جنگلی گدھے بھی دکھائے گا۔ یہ گدھے خچر کے برابر اونچے ہوتے ہیں اور ونکانیر سے ۱۰۰ میل شمال کی جانب خشک علاقے میں رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے وقت تنگ تھا اور ہم اس دعوت کو قبول نہ کر سکے۔ جب ہم محل کو لوٹے تو وہاں بہت بڑی تعداد میں مور دکھائی دیے۔ گجرات میں مور کا شکار ممنوع ہے۔ پی ہوں پی ہوں کی آوازیں مسلسل آتی رہیں۔
یواراج نے خود کو ہمارا رہنما مقرر کر دیا تھا اور وہ ہمیں اپنے ذاتی فارم پر شہر سے باہر لے گیا۔ اس فارم پر بہترین فرنیچر، اپنا سوئمنگ پول اور پتہ نہیں کیا کیا سہولیات تھیں۔
ساتھ ہی ایک قدیم کنواں تھا جس پر سنگِ مرمر سے بنے دو چبوترے تھے۔ کنویں سے پانی کا فوارہ اچھل رہا تھا جس کی باریک پھوار نچلے چبوترے پر پڑ رہی تھی۔ یہاں اتنی خنکی تھی کہ جیسے ہم ایئر کنڈیشنڈ برآمدے میں کھڑے ہوں۔
دوپہر کا کھانا کھا کر ہم احمد آباد کو روانہ ہوئے جو ۱۴۰ میل دور ہے۔ سارا راستہ ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسری دنیا میں ہوں کہ یہ علاقہ جنوبی ہندوستان سے بہت مختلف ہے۔ سارا علاقہ جھلسا ہوا اور نیم صحرائی ہے اور جگہ جگہ سڑک کنارے اونٹوں کی قطاریں چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان پر سوار مرد و خواتین عجیب نظارہ پیش کرتے تھے۔ کئی اونٹوں پر گھریلو ساز و سامان، برتن، کمبل، چارپائیاں اور کپڑوں وغیرہ کے بہت بڑے بنڈل لدے ہوئے تھے۔ سہ پہر کافی گرم تھی۔ جب ہم احمد آباد پہنچے تو سبزہ دکھائی دینے لگا۔ شام کو ہم منزلِ مقصود پر جا پہنچے۔
نل سروور جھیل کی سیر بھی ہمارے پروگرام میں شامل تھی کہ اس جھیل کو پرندوں کی پناہ گاہ کا درجہ حاصل ہے۔ ہم اس جھیل کو نہ جا سکے کہ دو سال تک بارشیں نہ ہونے سے جھیل اب مکمل طور پر خشک ہو چکی تھی۔ ہم نے یہاں کے بہت عمدہ چڑیا گھر کا رخ کیا جہاں بہت بڑی تعداد میں جنگلی جانور اور دنیا بھر کے پرندے دیکھے۔ میرے لیے سانپوں والا خانہ زیادہ دلچسپی کا سبب تھا اور کالا ناگ دیکھ کر تو میں انتہائی خوش ہوا۔ اس علاقے کی مٹی کا رنگ بہت گہرا ہے اور عموماً اسے سیاہ مٹی ہی کہتے ہیں۔ اس زمین پر رہنے والے جانوروں کے لیے گہرا رنگ اہمیت رکھتا ہے ورنہ انہیں دور سے ہی دیکھ لیا جائے۔
شیروں اور تیندوؤں کے علاوہ یہاں افریقی ببر شیر کا جوڑا اور گیر کے جنگل سے لائی گئی دو ببر شیرنیاں اور ایک ببر شیر بھی موجود تھا۔ گیر والا ببر شیر انتہائی بدمزاج تھا اور اپنے رکھوالے کے ساتھ ساتھ ہم پر حملہ آور کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے سامنے تو گیر والا شیطان ببر شیر بھی کچھ نہ تھا۔ قدرتی طور پر درندے اپنے قدرتی مسکن میں اتنے بدمزاج نہیں ہوتے۔
سہ پہر کو ہم لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے اودے پور روانہ ہوئے اور ۵۵ منٹ کے انتہائی تکلیف دہ سفر کے بعد وہاں جا پہنچے۔ شاید صحرائی علاقے اور گرم موسم کی وجہ سے ہماری پرواز ناہموار رہی تھی۔ نیچے کے مناظر بھی اتنے قابلِ دید نہ تھے۔ ہوائی اڈے سے ہم موٹر کے ذریعے ایک بڑی اور شاندار جھیل کو پہنچے جہاں ایک موٹربوٹ ہماری منتظر تھی۔ اس پر بیٹھ کر ہم جھیل کے اندر بنے بہت سے جزائر میں سے ایک پر پہنچے۔ یہ جزیرہ دیگر جزائر کی نسبت بہت مختلف تھا کہ یہاں لیک پیلس ہوٹل نامی ایک خوبصورت ہوٹل بنا ہوا ہے جس کے ۶۵ کمرے ہیں۔ زیادہ تر کمروں سے آپ براہ راست جھیل کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹل کا اپنا باغ بھی ہے جہاں بے شمار درخت اور پھولدار پودے اگے ہیں۔ اس ہوٹل کی ملکیت مہارانا اودے پور کے پاس ہے جو ماضی قریب تک اپنی ریاست کے مالک رہے تھے۔ اب وہ اس ہوٹل کو اپنی نگرانی میں چلا رہے ہیں۔
شام کو ہم ایک دوسرے جزیرے پر کھانا کھانے گئے جہاں مہارانا کا اپنا محل ہے۔ اب یہ محل ۲۳ کمروں کا گیسٹ ہاؤس ہے اور بہت خوبصورت سوئمنگ پول بھی ہے۔ محل میں بنے نقش و نگار انتہائی خوبصورت ہیں جو قدیم مغل اور راجپوت طرز کے ہیں۔ مہارانا کا اپنا محل جھیل کے قریب اور ایک اور محل پہاڑی پر بنا ہے۔ پہاڑی والا محل ایسا تھا جیسے عقاب کا نشیمن ہو اور اس تک پہنچنا کافی مشکل لگتا تھا۔
مہارانا نے جھیل کنارے بہت سی کمین گاہیں بنوائی ہوئی ہیں جہاں سے بیٹھ کر شکار کیا جا سکتا ہے۔ اودے پور شہر کے ارد گرد ایک فصیل کی باقیات موجود ہیں جو کبھی مغل حملہ آوروں سے بچاؤ کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
جب سورج مغربی پہاڑیوں کے قریب پہنچا تو جھیل کی سطح پر سرخی مائل سنہری راستہ دکھائی دینے لگا۔ اچانک تیز آوازیں آنے لگیں اور عجیب سا منظر دکھائی دیا۔ ہزاروں طوطے ہر طرف سے آنے لگے کہ ان کے سونے کا مقام جھیل کنارے درختوں پر تھا۔ لگ بھگ ۱۰۰۰۰ طوطے ہر شام یہاں سونے کے لیے آتے ہیں۔ بعض طوطے ۵۰ میل دور سے آتے ہیں۔ صبح کو سبھی طوطے اپنے اپنے علاقوں کو چلے جاتے ہیں تاکہ دانہ چگ سکیں اور پھر شام ہوتے ہی لوٹ آتے ہیں۔ ایسا کئی صدیوں سے ہو رہا ہے اور یہاں کے حکمرانوں نے کبھی طوطوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی وجہ سے ہر سال طوطوں کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔
رات کو گیدڑوں کے غولِ بیابانی کی آوازیں آنے لگیں جو میں سینکڑوں بار جنگل میں شب بیداری کے دوران سن چکا تھا۔ ان کے غول ہر سمت پھر رہے تھے اور ایک دوسرے پر چلا رہے تھے۔
اگلی صبح ہم نے لانچ کے ذریعے ساحل کا رخ کیا جہاں ایک کار ہمیں مہارانا کے محل لے گئی جو سنگِ مرمر اور سنگِ سیاہ سے بنی عظیم الشان عمارت تھی۔ اس کے شیشے رنگین تھے اور دیواروں پر عجیب و غریب نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ قدیم دور کی زرہ بکتر اور تلواریں بھی دیواروں پر ٹنگی تھیں۔ پاس ہی ایک قدیم مندر بھی تھا۔ شام کو ہم جیسمل جھیل کو گئے جو گیم سینکچوری ہے۔ اس کا فاصلہ محل سے ۳۵ میل ہے اور سارا راستہ خشک جنگل اور پہاڑی ہے۔
اس بہت وسیع جھیل پر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگا۔ مہارانا کے یہاں بھی دو محل ہیں جو دونوں کناروں پر واقع ہیں۔ جھیل میں کافی مچھلیاں تھیں جو بار بار پانی کی سطح پر نمودار ہوتی تھیں۔ شام کو مطلع صاف تھا۔
پھر ہم جیسمل سینکچوری کے لیے کار میں روانہ ہوئے جو ۵ میل دور ہے۔ یہاں تیندوے کا ایک مختلف تماشا ہمارا منتظر تھا۔ جنگل کافی گھنا مگر بہت خشک تھا۔ راستے میں چیتل کے دو جھنڈ دکھائی دیے اور کئی نروں کے سینگ بہت بڑے تھے۔ ہماری منزل ایک نگرانی والا مینار تھا جو اب استعمال نہیں ہوتا جو سابقہ مہارانا نے بنوایا مگر موجودہ حکمران نے اسے کمین گاہ بنا دیا تھا۔ پتھر سے بنا یہ مینار تین منزلہ تھا اور دیواروں میں جگہ جگہ گولی چلانے کے لیے سوراخ بنائے گئے تھے۔ دور سے چھوٹا سا قلعہ دکھائی دیتا تھا اور اس سے نیچے ایک وادی کا منظر دکھائی دیتا تھا جہاں سے خشک ندی گزرتی تھی۔ وادی کی دوسری جانب پہاڑی تھی جہاں درختوں اور جھاڑ جھنکار کے باوجود گھاس کے قطعے دکھائی دیتے تھے۔
اس قلعہ نما مینار سے ۵۰ گز دور ۵ فٹ اونچا چبوترا تھا اور لگ رہا تھا کہ یہ مستقل نوعیت کا ہے۔ اس پر ایک بھورے رنگ کی بکری بندھی ہوئی تھی اور اس کے نیچے ایک برتن میں پانی رکھا تھا۔
مینار کے نیچے چار کاریں پہلے سے موجود تھیں اور جب ہم مینار پر چڑھے تو دیکھا کہ تیسری منزل پر ایک فلمی اداکارہ اور اس کے دوست احباب جمع تھے۔ ہر کھڑکی کے پاس ان لوگوں کی کرسیاں موجود تھیں اور یہ لوگ بیٹھ کر تمباکو نوشی کرتے اور اونچی آواز سے باتیں کر رہے تھے۔
جلد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اس جگہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ سو ہم ایک منزل نیچے چلے گئے جہاں شکار کی نیت سے جگہ جگہ سوراخ بنے ہوئے تھے۔ یہاں چار مناسب جگہیں تلاش کر کے ہم لوگ جم گئے۔
اس دوران میں نے اپنے ہمراہ موجود فارسٹ رینج آفیسر سے پوچھا کہ کیا ہم تیندوے کو شکار کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں؟ میں نے وضاحت کی کہ گیر کے جنگل میں ہمیں ببر شیر کو شکار کرتے ہوئے دیکھنے کی اجازت نہیں تھی کہ اس طرح کسی جاندار کی جان لینے کی ترغیب مل سکتی تھی۔ افسر مسکرایا اور بولا، ’وہ لوگ گجراتی ہیں اور ہم راجپوت‘۔
پھر افسر اوپری منزل پر چلا گیا جہاں فلمی اداکارہ اپنے احباب کے ساتھ تھی اور فوراً ہی شور تھم گیا۔
میں نے ایک سوراخ سے مادہ چیتل کو نیچے وادی سے گزرتے دیکھا اور اس کے بعد بڑی تعداد میں مور گزرنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد نیچے وادی میں سائے سے نمودار ہونے لگے جو جنگلی سور تھے۔ پھر اچانک سامنے ایک جھاڑی کے پیچھے معمولی سی حرکت سے میری توجہ مبذول ہوئی۔ میں نے غور سے دیکھا تو نیچے جھکا ہوا ایک تیندوا دکھائی دیا۔ اس کی آمد کو کوئی نہیں دیکھ سکا۔ سوا چھ بج رہے تھے۔ تیندوا وہیں لیٹا رہا۔ ظاہر ہے کہ اسے انسانی موجودگی کا احساس تھا اور وہ اندھیرے کا منتظر تھا۔
ساڑھے چھ بجے اس نے ہلکی سی حرکت کی مگر حملہ نہیں کیا۔ ۷ بجے جب کافی اندھیرا چھا رہا تھا تو اس سے مزید صبر نہ ہو سکا اور اس نے سیدھا چبوترے پر جست لگائی اور بکری کی سمت چلنے لگا۔ بکری بیچاری رسی کی لمبائی کے مطابق پیچھے ہٹی مگر تیندوے نے اسے گلے سے دبوچ لیا۔ بکری ہلکی سی ممیائی اور ذرا ٹانگیں چلائیں۔ جب تک بکری کی جان نہ نکل گئی، تیندوے نے اس کا سر نیچے چبوترے سے لگائے رکھا۔
تاریکی کافی ہو گئی اور اب منظر مشکل سے دکھائی دے رہا تھا۔ فارسٹ رینج آفیسر نے روشنی کے لیے بٹن دبایا مگر روشنی نہ ہوئی۔ شاید بجلی بند ہو گئی تھی۔
تیندوا بکری کی شہ رگ سے خون پیتا رہا اور چند منٹ بعد اسے چھوڑ کر نیچے اترا اور پانی پینے لگا۔ صاف لگ رہا تھا کہ تیندوا اس معمول کا عادی ہے۔ پھر تاریکی اتنی ہو گئی کہ منظر دکھائی دینا بند ہو گیا۔
جب فلمی اداکارہ نیچے اتری تو ہمیں دیکھ کر مسکرائی۔ جلد ہی ہم واپس اودے پور جا رہے تھے۔
اگلے دن دوپہر تک کچھ کرنے کو نہیں تھا اور پھر ہم ہوائی اڈے کو روانہ ہو گئے۔ یہاں سے ہم لوگ ناگپور جا رہے تھے جہاں بذریعہ کار ہم کانہا نیشنل پارک کو جانے والے تھے۔ راستہ میں کئی بار تاخیر ہوئی کہ موسم بھی مناسب نہیں تھا اور دہلی میں پائلٹ اور مسافر کی تلخ کلامی بھی اس کی وجہ بنی کہ مسافر انجن چلنے کے بعد آیا تھا۔ اگلی صبح منہ اندھیرے ہم ناگپور کے ہوائی اڈے پر اترے۔ بارش مسلسل جاری تھی۔
۷ بجے ہمیں پھر ۲۱۰ میل کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ ہمارے لیے ایک کار اور ایک رینج روور تھی کہ سینچکوری میں بعض مقامات پر کار کا جانا ممکن نہ تھا۔ اس کے علاوہ لینڈ روور کے پیچھے بندھی گاڑی میں ہمارے کیمپ کا ساز و سامان، باورچی، خانساماں اور ہر قسم کی خوراک شامل تھی۔ اس کے علاوہ بڑے ڈبے میں برف بھی رکھی گئی تھی۔ ناگپور ریاست مہاراشٹر کا حصہ ہے جبکہ کانہا مدھیہ پردیش کا۔ ریاستی حد عبور کرتے وقت ہمیں ایک سرکاری فارم بھرنا پڑا۔ ہمارے ساز و سامان کا بھی بغور معائنہ کیا گیا۔ پتہ نہیں کہ حکام کیا تلاش کر رہے تھے۔ تلاشی کے بعد فوراً جانے کی اجازت مل گئی۔
منزل سے چالیس میل قبل کار کیچڑ میں پھنس گئی۔ ایک گھنٹہ قبل تیز بارش شروع ہو گئی تھی اور سڑک دلدل بن چکی تھی۔ جب ہم اس کیچڑ سے نکلے تو پتہ چلا کہ ایک ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔ کیچڑ میں ٹائر بدلنا امرِ محال تھا۔ ہم نے رک کر لینڈ روور کا انتظار کیا۔
خوش قسمتی سے لینڈ روور جلد ہی پہنچ گئی۔ ہم کار سے اتر کر جیپ میں سوار ہو گئے اور ہمارے ملازمین جیپ سے اتر کر کار میں آ گئے۔ ان کے ذمے کار کا ٹائر بدل کر اسے لے آنا تھا۔
حالیہ بارش کے بعد سڑک انتہائی برے حال میں تھی۔ پیچھے بندھے ٹریلر کی وجہ سے جیپ کو بھی آگے بڑھنے میں کافی دشواری پیش آ رہی تھی۔ ہم جنگل کی تین چوکیوں سے گزرے جہاں چور شکاروں کے لیے تنبیہی اعلان درج تھے۔ ہر چوکی پر ہم سے محصول لیا گیا۔ آخرکار ہم گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔
جب ہم نے ٹریلر سے سامان اتارا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے ساتھ کتنی بڑی مقدار میں اشیائے خورد و نوش آئی ہیں۔ میں جب جنوبی ہندوستان میں شکار کے لیے جاتا تھا تو میرے پاس انتہائی کم سامان ہوتا تھا اور دوسرے روز سے میری خوراک خشک چپاتیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ بھنا گوشت تو باقاعدہ عیاشی تھی جو پہلے دن ساتھ دیتی اور دوسرے روز سے محض چپاتیوں پر گزارا ہوتا تھا۔ البتہ چائے کافی مقدار میں ساتھ لے جاتا تھا۔ اب ہمارے پاس ٹرکی، مرغی، بکری کا گوشت، مچھلی اور ہر قسم کے پھل تھے۔ البتہ مجھے کہیں بھی روٹی نہ دکھائی دی اور نہ ہی گائے کا گوشت۔
پھر ہم جیپ پر سوار ہو کر جنگل کو چل دیے۔ ایک فرلانگ پر ہی ہمیں چیتل کے غول در غول دکھائی دینے لگے۔ بعض نروں کے سینگ تو انتہائی شاندار تھے۔ کئی جگہوں پر چیتلوں کے ساتھ اور کئی جگہوں پر ہمیں صرف کالے ہرنوں کے غول بھی دکھائی دیے۔ وقفے وقفے سے ہمیں پوری طرح بالغ نر کالے ہرن دکھائی دیتے جن کے پیٹ سفید اور باقی سارا جسم سیاہ کالا ہوتا تھا تاہم زیادہ تر نر کم عمر تھے۔ بچوں کے ساتھ بھی بے شمار مادائیں تھیں۔ مور بھی بکثرت تھے اور ہمیں دو سرخ جنگلی مرغ دکھائی دیے۔ ایک جنگلی مرغ تو اڑ کر ایک طرف چلا گیا جبکہ دوسرا کچھ فاصلے تک ہماری گاڑی کے آگے بھاگتا رہا اور پھر جھاڑیوں میں گھس گیا۔
وسطی اور شمالی ہندوستان کے سرخ جنگلی مرغ جنوبی ہندوستان کے سفید پشت والے جنگلی مرغ سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ دونوں اقسام کی اپنی اپنی جولان گاہیں ہوتی ہیں جو وہ کبھی نہیں بدلتے۔ وسطی اور شمالی ہندوستان کا مرغ نسبتاً چھوٹا اور اس کے پروں کا رنگ گہرا سرخ ہوتا ہے اور آواز گھریلو مرغ سے مشابہ۔ جنوبی ہندوستان کا مرغ بڑا ہوتا ہے اور اس کی پشت پر پروں کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ اس کی آواز گھریلو مرغ سے بہت الگ ہوتی ہے۔ دونوں اقسام میں جنوبی ہندوستان والا مرغ کہیں زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔
مغرب کے وقت ہم لوگ گیسٹ ہاؤس لوٹے تو دیکھا کہ خانساماں نے اپنا کمال دکھایا اور کھانا تیار تھا۔ برآمدے میں میز لگا دی گئی جہاں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے ہم نے جنگل سے آنے والی آوازیں بھی سننا جاری رکھیں۔ جلد ہی ہمیں عجیب سی آوازیں سنائی دیں جو نر چیتل سے زیادہ بھاری تھیں، جیسے نر سانبھر کی آوازیں ہوں۔ میں نے یہ آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ پتہ چلا کہ یہ بارہ سنگھے کی آواز ہے۔ یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ چند برسوں بعد یہ جانور صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ جسامت میں یہ سانبھر سے ذرا سا چھوٹا ہوتا ہے اور رنگ گہرا بھورا۔ سانبھر کی مانند اس کی آواز کافی بھاری ہوتی ہے اور گردن اور گلے پر لمبے بال ہوتے ہیں جو ایال سے مشابہ ہیں۔ یہ چیتل سے کافی بڑے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے یہ جانور کافی بیوقوف ہوتے ہیں۔ بارہ سنگھے سست رفتار، پر شور اور خطرے کی صورت میں تیز ردِ عمل نہیں دکھاتے۔ سانبھر ان سے بڑا ہوتے ہوئے بھی تیز رفتار ہوتا ہے۔ نر بارہ سنگھے کی عادات نر نیل گائے سے مشابہ ہوتی ہیں اور پانچ یا چھ نر مل کر ایک گلے کی شکل میں رہتے ہیں۔
ان عادات کی وجہ سے اس کی تباہی یقینی ہو گئی ہے۔ ان کے بڑے دشمنوں میں چور شکاری، شیر، تیندوے، جنگلی کتے اور لگڑبگڑ شامل ہیں۔ یہ خوبصورت جانور کبھی پورے ہندوستان میں بکثرت ملتا تھا مگر اب معدومیت کے قریب ہے۔ کانہا کے جنگل میں ۵۵ بارہ سنگھے بچے ہیں۔ قاضی رنگا اور دیگر سینکچوریوں میں ان کی کچھ زیادہ تعداد ہے۔ ہر جگہ ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔ گیر کے ببر شیر، قاضی رنگا کے شمال مشرق میں ایک سینگ والے گینڈے کی مانند ان کی معدومیت بھی انتہائی قریب ہے۔
ابھی میں سویا نہیں تھا کہ مجھے شیر کی دہاڑ سنائی دی جو گیسٹ ہاؤس سے نصف میل دور تھا۔ مجھے اس شیر کی آواز سن کر بہت خوشی ہوئی۔
اگلی صبح ساڑھے چھ بجے ہم لوگ سیر پر نکلے اور جلد ہی بارہ سنگھوں کا غول دکھائی دے گیا۔ اس میں پانچ نر تھے۔ ایک میل دور ہمیں بارہ سنگھے کی چار مادائیں دکھائی دیں۔ تھوڑا آگے ہمیں کالے ہرن کے تین غول اور چیتل کے بے شمار غول دکھائی دیے۔ ہر غول میں سو سے زیادہ جانور تھے۔ مورنیوں کے غول کے غول دکھائی دیتے رہے اور اکا دکا نر مور بھی نظروں سے گزرے۔ منظر بہت پرسکون تھا کہ اچانک ہمیں موروں کے پیچھے گھات لگاتے ہوئے دو گیدڑ دکھائی دیے۔ سچ ہے کہ موت سے کہیں مفر نہیں۔
پارک نما علاقہ چھوڑ کر جیپ ان پہاڑیوں کو چل دی۔ جلد ہی ہمیں پہاڑیوں پر جنگلی سوروں کا ایک جوڑا دکھائی دیا جو سال کے اونچے درختوں کے نیچے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ کانہا کا جنگل جنوبی ہندوستان کے جنگل سے بہت مختلف ہے۔ یہاں سال کے درخت بکثرت ہیں جو بہت اونچے، سیدھے اور سبز ہوتے ہیں۔ یہاں امبل ناپید ہے اور خاردار درخت بھی نہیں ملتے۔ خاردار درختوں اور بڑے ہاتھیوں کی عدم موجودگی میں کانہا میں گھومنے میں کوئی خطرہ نہیں۔ بحیثیتِ مجموعی کانہا کے جنگل میں مٹرگشت انتہائی محفوظ ہے۔
اگلی صبح ہم لوگ گھنے جنگل سے ہوتے ہوئے ۳۰ میل کے پہاڑی سفر کے بعد ایک میدان نما وسیع علاقے میں جا پہنچے۔ اس کے چاروں طرف گھنا جنگل تھا۔
ہمیں بتایا گیا کہ محکمہ جنگلات اس میدان کو مستقبل میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کے لیے ہوائی پٹی میں بدلنا چاہتا ہے تاکہ یہاں ڈکوٹا جہاز اتر سکیں۔ اس طرح ناگپور سے ۲۱۰ میل کا سفر آسان ہو جائے گا۔
یہ سطح مرتفع ماضی کے مشہور شوٹنگ بلاک کے سامنے واقع ہے جس کا نام بنڈلا بلاک ہے۔ اس جگہ کا نام ابھی تک وہی ہے۔ ماضی میں مدھیہ پردیش کو وسطی صوبجات کہا جاتا تھا اور یہ جنگل انتہائی شاندار شیروں کے شکار کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا۔ راستے میں ہمیں ۷ سانبھر ایک ساتھ دکھائی دیے جو عجیب بات ہے کہ سانبھر عموماً تنہائی پسند ہے۔ کئی جگہوں پر لنگوروں کے غول ملے اور سرخ جنگلی مرغ اور کاکڑ بھی دکھائی دیے۔ اس کے علاوہ چیتل اور کالے ہرن کے بے شمار غول بھی ملے۔
اگلی صبح ہم پھر لینڈ روور میں بیٹھے اور روانہ ہوئے تو چیتل اور کالے ہرن کے غول در غول دکھائی دیے اور بے شمار مور اور چند بارہ سنگھے بھی ملے۔ بارہ سنگھوں کو بچانے کی خاطر حکام سوچ رہے ہیں کہ ان کو مضبوط باڑ لگا کر چند میل کے رقبے میں چھوڑ دیا جائے تاکہ شیر، تیندوے، لگڑبگڑ، جنگلی کتے اور چور شکاری ان کا شکار نہ کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو بھی گیا تو پھر یہ بارہ سنگھے جنگلی تو نہیں کہلائے جا سکیں گے۔ خیر، باڑ کے اندر موجود ۵۰ بارہ سنگھے، بغیر باڑ کے صفر بارہ سنگھوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔
اب ہم لوگ لینڈ روور کے سفر سے اکتا چکے تھے۔ محکمہ جنگلات کے ۳ ہاتھی کرایہ پر دستیاب تھے، سو ہم نے دو ہاتھیوں پر سوار ہو کر ندی نالوں کا چکر لگانے کا سوچا کہ شاید شیر یا تیندوے پر نظر پڑ جائے مگر ہمیں بارہ سنگھے اور کالے ہرن ہی دکھائی دیے۔
چار بجے ہم واپس لوٹے اور جیپ پر سوار ہو کر شیروں کی تلاش میں نکلے مگر چیتل، مور، سرخ جنگلی مرغ اور لنگور ہی ملے۔ نیوزی لینڈ سے آنے والا جوڑا شام کو ہاتھیوں پر سوار ہو کر نکلا اور ہم سے زیادہ خوش قسمت ثابت ہوا۔ میاں بیوی الگ الگ ہاتھیوں پر سوار ہو کر مختلف سمتوں کو گئے۔ واپسی پر جیک ڈون یعنی شوہر کو ایک نر چیتل زمین پر پڑا ملا جو اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چند گز آگے اس نے ایک تیندوے کو جھاڑیوں میں چھپتے دیکھا۔ چیتل کافی زخمی تھا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ جیک کی ہتھنی حال ہی میں کانہا جنگل میں منتقل ہوئی تھی سو کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ اس نے چیتل اور تیندوے کو دیکھ کر دو بار فرار ہونے کی کوشش کی مگر مہاوت نے بروقت سنبھال لیا۔ اگلے نصف گھنٹے کے دوران جیک نے نہ صرف تیندوے کو تلاش کر کے اس کی تصاویر اتاریں بلکہ اس کو درخت پر چڑھ کر اترتے ہوئے اور پھر ایک چٹان پر بھی چڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس کی بیوی مارگریٹ ڈون دوسرے ہاتھی پر تھی اور اس نے ایک چیتل کے بچے کو مرا ہوا پایا۔ اسے مارنے والے درندے نے اسے نہیں کھایا تھا بلکہ گیدڑوں کا غولِ بیابانی اس سے پیٹ بھر رہا تھا۔
رات کو بنگلے میں محکمہ جنگلات کے افسر نے اصرار کیا کہ ہم اس کے ساتھ نو بجے جیپ پر نکلیں اور سپاٹ لائٹ کی مدد سے شیر یا جنگلی سور کو دیکھنے کی کوشش کریں۔ کانہا جنگل میں گاڑی پر سوار ہو کر رات کو سپاٹ لائٹ کی مدد سے جنگلی جانوروں کو دیکھنا سختی سے منع ہے۔ یہ افسر خود اس جنگل کا مہتمم تھا، سو اس نے ہماری خاطر یہ بے اصولی کرنا قبول کر لی۔ ہمیں راستے میں ایک بہت بڑا جنگلی سور ملا اور مادہ اس سے چند قدم پیچھے تھی مگر کوئی شیر نہ دکھائی دیا۔ واپسی پر بنگلے کے قریب ہمیں چیتلوں اور کالے ہرنوں کے غول کے علاوہ دو سانبھر بھی ملے۔
صبح پو پھٹنے پر یہ افسر ہمیں لے کر پھر نکلا۔ اس بار ہم اپنی لینڈ روور پر سوار تھے۔ ہم ایک چاٹن (نمکین مٹی والا مقام) پر پہنچے جہاں ایک بلند مینار بنا ہوا تھا۔ اس مینار پر چڑھنے کے لیے سیڑھی بھی لگی ہوئی تھی۔ اس مینار کے سامنے ایک بڑا تالاب تھا جس میں جگہ جگہ کنول کے پھول اگے ہوئے تھے۔ تالاب سے چند گز دور چاٹن تھی جو ایک گڑھا بن چکی تھی۔ یہاں ایک سانبھر مٹی چاٹ رہا تھا کہ ہماری آہٹ سن کر بھاگ نکلا۔ تالاب سے بہت سے پرندے اڑنے کی آواز آئی جن میں برہمنی بط اور سپاٹ بل نامی پرندے بطورِ خاص دکھائی دیے۔ تیز آوازیں نکالتے یہ پرندے دائرے کی شکل میں چکر کاٹتے رہے۔
اس کے علاوہ کچھ اور جانور بھی ہماری آمد سے متاثر ہوئے۔ ہمیں ۱۴ جنگلی سور اور ۶ بچھڑے دکھائی دیے اور ان کے ساتھ پرانا خرانٹ نر بھی تھا۔ یہ جانور ہمارے مینار کے سامنے چھوٹے تالاب سے پانی پی رہے تھے اور اوٹ کی وجہ سے ہم انہیں پہلے نہ دیکھ پائے۔ تالاب ہماری آمد والے راستے کے مغربی جانب تھا اور یہاں پارک نما علاقہ ہے۔ جھیل، مینار اور چاٹن راستے کے مشرقی جانب تھے اور جنگل دکھائی دیتے تھے۔ اس طرح دو مختلف علاقوں کے درمیان راستے نے ایک طرح سے حد بندی کر دی تھی۔ ہماری آمد کو بھانپ کر نر جنگلی سور نے اپنے ریوڑ کے ہمراہ راستہ عبور کر کے جنگل میں گھسنے کی کوشش کی مگر ہم بار بار لینڈ روور اس کے سامنے لاتے رہے۔
کم از کم ۱۲ مرتبہ ہم نے جیپ کو آگے پیچھے کر کے ان کا راستہ روکا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ریوڑ اب بے چین ہو رہا ہے اور اس کے سربراہ نر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔ نر نے ایک تیز آواز نکالی اور اگلے پیر سے زمین کھودتے ہوئے اپنا سر ہماری جیپ کی سمت کیا تو ہم نے انہیں روکنے کی کوشش ترک کر دی۔ جنگلی سور ہم سے محض ۳۰ گز دور تھے۔ ان کے گزرنے کا منظر بہت شاندار تھا۔
صبح کی دھند ابھی موجود تھی اور تھوڑا آگے جا کر ہمیں سانبھر دکھائی دیا جو کھلے میدان میں چر رہا تھا۔ مزید آگے دو بارہ سنگھے چرتے ملے۔
ہمارے ساتھ موجود افسر نے گاڑی آگے پیچھے کر کے ان تینوں کو بھی جنگل میں گھسنے سے کچھ دیر روکے رکھا اور اتنی دیر میرے ہمراہیوں نے کئی اچھی تصاویر لے لیں اور پھر ہم آگے بڑھ گئے۔
چیتل اور کالے ہرن کے غول ہمیں ہر جگہ ملتے رہے اور مور بھی۔ جب ہم ناشتے کے لیے واپس پہنچے تو بہت خوش تھے۔ دوپہر کے کھانے پر ہمارے لیے ایک نئی چیز منتظر تھی۔ اس افسر نے بتایا کہ اس نے گزشتہ روز ہمارے لیے ایک بھینس بندھوا دی تھی جسے شیر مار چکا ہے۔ اس نے دعوت دی کہ ہم اس کے ساتھ ہاتھیوں پر سوار ہو کر شیر کو دیکھنے چلیں۔ ہم سب فوراً تیار ہو گئے۔ تینوں ہاتھی تیار ہو گئے۔ ایک ہاتھی پر ہم لوگ، دوسرے پر سیاحوں کا ایک اور گروہ جبکہ تیسرے پر ایک نوجوان جرمن جوڑا سوار ہونے تھے۔
ہاتھیوں کو روانہ ہونے کا کہہ کر ہم لوگ آدھے گھنٹے بعد لینڈ روور پر چل پڑے جبکہ باقی لوگوں کو محکمہ جنگلات کی دو جیپیں لا رہی تھیں۔ مطلوبہ مقام پر ہاتھی منتظر ملے۔ ان پر سوار ہو کر ہم چل پڑے۔ ہمارا ہاتھی سب سے بڑا تھا اور یہ افسر بھی ہمارے ساتھ بیٹھا۔ ایک قطار میں چلتے ہوئے تینوں ہاتھی گارے پر پہنچے۔
جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، لاش مطلوبہ مقام پر نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ دو گھنٹے قبل محکمہ جنگلات کے اہلکار نے بھینس کا چکر لگایا تو لاش دیکھی۔ پھر وہ سیدھا ہمارے پاس آیا۔ شیر پاس ہی کہیں موجود ہو گا اور اس نے اہلکار کو دیکھ لیا ہو گا۔ اس کے جاتے ہی شیر نے رسی توڑی ہو گی اور بھینس کی لاش سمیت چمپت ہو گیا۔ میں نے ہاتھی کی پشت پر بیٹھے بیٹھے لاش گھسیٹنے کے نشانات تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ شیر نے لاش کو شاید اٹھا کر منتقل کیا ہو گا۔ جب شیروں کو شبہ ہو جائے تو وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کئی شیر اپنے شکار کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں اور لاش جھاڑ جھنکار سے اٹکتی ہوئی گزرتی ہے اور کافی نشانات چھوڑتی جاتی ہے۔
اس علاقے میں خار دار نباتات نہیں تھی اور جھاڑیاں بھی اکا دکا دکھائی دے رہی تھیں، سو شیر لاش کو اٹھا کر لے گیا۔ ایک اور امکان یہ تھا کہ گیر کی طرح کانہا میں بھی مردہ جانوروں کی کھال اتارنے والے چور موجود ہوں گے جو درندوں کے شکار کی کھال اتار کر بیچ دیتے ہوں گے۔ شاید شیر نے پہلے کئی بار ایسے ہی نقصان اٹھایا ہو گا اور شکار کو اٹھا کر لے گیا ہو گا۔
قدرتی شکار کو ہٹانے کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے کہ اس طرح درندہ جب بھاگتا ہے تو پھر واپس نہیں لوٹتا بلکہ ایک اور جانور مار کر اپنا پیٹ بھر لیتا ہے۔ کبھی یہ جنگلی جانور ہوتا ہے تو کبھی پالتو مویشی اس کے ہتھے چڑھتا ہے اور اس کے مالک پھر درندے کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ جب شیر یا تیندوے کے شکار کی کھال اتاری جاتی ہے تو آدمی اس کی لاش پر فولیڈول نامی زہریلا مادہ لگا دیتے ہیں۔ یہ مادہ کرم کش ہے اور انتہائی سستے داموں حکومت مہیا کرتی ہے۔ اس طرح آدمی نہ صرف اپنی ہلاک شدہ گائے کی کھال اتار کر اس کو بیچ دیتا ہے بلکہ لاش کو کھانے کے بعد شیر بھی زیادہ دور نہیں جا پاتا اور جائے وقوعہ پر ہی مر جاتا ہے۔ اس کی کھال سے مزید پیسے ملتے ہیں۔
جو شیر بھینس کو اٹھا کر لے گیا ہو گا، کافی بڑا ہو گا کہ کم عمر شیر یا عام جسامت کی شیرنی کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔
میں نے ہاتھی سے اتر کر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ میری کمر کی بلندی پر ایک پتہ ٹوٹا ہوا تھا اور کچھ آگے اسی لکیر میں ایک سبز ٹہنی ٹوٹی ہوئی تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ شیر لاش کو اٹھا کر اسی سمت لے گیا تھا۔ اس جگہ کافی پتے گرے ہوئے تھے اور اگر شیر گھسیٹ کر لے جاتا تو صاف نشان مل جاتے۔
شیر سیدھا نیچے وادی میں اترا۔ افسر نے بتایا کہ جس پہاڑی پر ہم موجود ہیں، اس کے نیچے ندی بہتی ہے اور کئی جگہ پانی جمع رہتا ہے۔ یہ مقام یہاں سے ایک فرلانگ دور ہے۔ شیر سیدھا ندی کو گیا ہو گا۔
میں پھر ہاتھی پر سوار ہوا اور ہم نے تینوں ہاتھیوں کو ایک دوسرے سے سو گز دور رکھ کر ندی کا رخ کیا۔ میں وسطی ہاتھی پر سوار تھا جبکہ جرمن جوڑا ہمارے دائیں جانب جبکہ باقی لوگ بائیں جانب والے ہاتھی پر سوار تھے۔ ندی کی موجودگی کی علامت ہمیں دور سے سبز درختوں کی پٹی کی صورت میں مل گئی۔ ندی کے اونچے کنارے پر پہنچ کر ہم رکے ہی تھے کہ دائیں جانب سے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ اس جانب دیکھا تو فرار ہوتے ہوئے شیر کی پچھلی ٹانگیں اور دم دکھائی دی۔ جرمن جوڑا ہمارے دائیں جانب تھا اور انہوں نے دہاڑ بھی سنی اور شیر کو صاف دیکھا تھا۔ جب ندی کے ساتھ بھاگتا ہوا شیر ان کے قریب پہنچا تو انہیں دیکھ کر اپنا راستہ بدل کر ندی کے دوسرے کنارے سے ہوتا ہوا نکل گیا۔
ہمارے نیچے ندی میں پانی کے ایک چھوٹے تالاب کے کنارے بھینس کی ادھ کھائی لاش پڑی تھی۔ شیر پھر نہ دکھائی دیا۔ ہم لوگ کافی مایوس ہوئے اور پھر واپس جیپوں کو لوٹے اور ان پر سوار ہو کر گیسٹ ہاؤس آ گئے۔ سہ پہر کو ہم لوگ واپس ناگپور روانہ ہو گئے۔
واپسی کے راستے پر ہم نے ایک بڑے تالاب کو دیکھا جو اب خشک ہونے والا تھا۔ ناگپور اور کانہا میں بارشوں کے باوجود درمیانی علاقہ خشک سالی کا شکار تھا۔ پورے گاؤں کے چھوٹے بڑے جمع ہو کر تالاب سے ٹوکریوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ بعض مچھلیاں چار سے پانچ پاؤنڈ وزنی تھیں۔
رات کے دو بجے ہم ہلکی بوندا باندی کے دوران ہوائی جہاز پر سوار ہو کر ناگپور سے کلکتہ روانہ ہوئے۔ کلکتہ ہمارا کوئی کام نہیں تھا بلکہ ہم جہاز بدل کر جورہاٹ جانے والے تھے۔ یہ قصبہ شمال مشرقی آسام میں واقع ہے اور یہاں ہم کار پر سوار ہو کر ہندوستان کی سب سے بڑی سینکچوری قاضی رنگا کی جانب روانہ ہوتے جہاں ہم نے ایک سینگ والے گینڈے، جنگلی بھینس، بارہ سنگھے، شیر اور ہاتھی دیکھنے تھے۔
میں بکنگ کلرک کے پاس پہنچا تاکہ ٹکٹوں کی تسلی کر کے اپنا سامان رکھوا سکوں۔ کلرک نے بتایا کہ مطلوبہ کلرک سوا چھ بجے آئے گا جبکہ جہاز نے ۷ بج کر ۵ منٹ پر روانہ ہونا تھا۔ کلکتہ کے ہوائی اڈے پر وقت گزارنے کا واحد مقام ڈائننگ روم ہے۔ سو ہم وہیں ٹکے رہے اور آخر مطلوبہ کلرک آن پہنچا۔ اس نے ہمارے نام کو فہرست میں دیکھا اور پھر بتایا کہ بے شک ہماری ٹکٹیں بک ہو چکی تھیں مگر کنفرم نہیں ہوئیں۔ بکنگ کا کام کوئی بھی کر سکتا ہے مگر کنفرمیشن کے لیے ہوائی کمپنی کی طرف سے تصدیق ہونی چاہیے کہ جہاز میں جگہ بھی ہے۔ ہماری ٹکٹوں کی کنفرمیشن نہیں ہوئی تھی اور جہاز پہلے سے ہی بھرا ہوا تھا۔
خیر، اس نے کہا کہ پندرہ منٹ انتظار کر لیں تاکہ شہر سے مسافروں کو لانے والی کوچ آ جائے گی۔ اگر اس میں چار آدمی کم ہوئے تو پھر وہ ہمیں سوار کرا دے گا۔ شہر اور ہوائی اڈے کا فاصلہ ۹ میل ہے۔
کوچ ساڑھے چھ پہنچی اور ۴ آدمی کم تھے۔ پھر اس نے ہم سے پرمٹ مانگے۔
ہم نے یک زبان ہو کر پوچھا: ’کیسے پرمٹ؟‘
اس نے بتایا کہ ہم سب غیر ملکی ہیں جبکہ جورہاٹ کا علاقہ ناگا لینڈ کے قریب ہے اور وہاں غیر ملکیوں کو جانے کے لیے الگ سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ یہ اجازت ہمیں کلکتہ میں آسامی حکام ہی دے سکتے ہیں۔
اس بارے میں ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ ہم نے اصرار کیا کہ ہم قاضی رنگا جا کر گینڈے دیکھنے ہیں، ناگا لینڈ سے ہمارا کیا تعلق؟ اس نے کندھے اچکائے اور بولا کہ اجازت نامے کے بغیر ہم نہیں جا سکیں گے۔
ہمارا ایک امریکی ساتھی جو پروفیشنل فوٹوگرافر تھا اور اس سفر سے لی گئی تصاویر اس نے رسالوں میں چھپوانی تھیں۔ اس کا پارہ بلند ہو گیا۔ جتنا وقت ضائع ہوتا، اتنا اس کے پیسے بھی ضائع ہوتے۔ اس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ مطلوبہ افسر مسکرایا اور بولا کہ ہم کچھ بھی کر لیں، شہر تک جانا ممکن نہیں کہ ہڑتال جاری ہے اور تمام تر ٹرانسپورٹ بند ہو چکی ہے۔ اگر ہم پیدل بھی ۹ میل چلے جائیں تو بھی ہڑتال کی وجہ سے مطلوبہ دفتر بند ہی ملے گا۔
آخرکار ہمیں شہر جانے کے لیے سواری مل گئی اور ہم شہر کے ایک بڑے اور بہترین ہوٹل پہنچ گئے۔ وہاں کمرے بک کرانے اور سامان رکھنے کے بعد ہم نے اطمینان کی سانس لی۔ ہڑتال جزوی تھی اور زیادہ تر کاروبارِ زندگی رواں دواں تھے۔ ہم نے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا آسامی حاکم کے دفتر جا پہنچے۔ وہاں ہمارے پاس پورٹ نمبر لینے کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر بتایا گیا کہ یہ لوگ ایک دو روز مزید تفتیش کے بعد ہمیں اجازت نامے دے دیں گے۔ جو نے پھر ہنگامہ برپا کر دیا۔ ہم نے بمشکل اسے باہر نکالا۔ اگر ہم چند لمحے اور اسے باہر نہ نکالتے تو ہمارے اجازت نامے ملنے سے قبل ہی منسوخ ہو چکے ہوتے۔
وقت گزارنے کے لیے ہم نے کلکتہ دیکھنے کا سوچا۔ اس طرح واپسی پر ہمیں کلکتہ رکنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
سب سے پہلے ہم چڑیا گھر گئے اور وہاں مشہور تین سفید شیر اور ان کے تین نوعمر سفید بچے دیکھے۔ ان کا رنگ لگ بھگ سفید ہی تھا جو منفرد نظارہ تھا۔ ایک شیر کی جسامت بہت بڑی تھی۔ سبھی شیر الگ الگ پنجروں میں تھے۔ یہاں ہم نے گائل بھی دیکھی جو جنگلی سور کی جسامت مگر سیدھے سینگوں والا جانور ہے۔ یہ جانور مشرقی آسام اور برما کی سرحد کے پاس سے آیا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستانی گینڈا اور گیر اور افریقی ببر شیر بھی دکھائی دیے۔ چڑیا گھر میں ایک جھیل بھی ہے جہاں ہر قسم کی جنگلی بطخیں موجود تھیں جو ہر سال چار ماہ کے لیے بیرونِ ملک سے آتی ہیں۔
جو کا مزاج بحال ہو گیا تھا اور قاضی رنگا جانے کے لیے رکاوٹیں بھول گیا تھا۔ ساڑھے پانچ بجے جب ہم ہوٹل پہنچے تو پتہ چلا کہ انڈین ایئرلائن نے کلکتہ سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں روک دی ہیں کہ مغربی بنگال کی حکومت مستعفی ہو گئی ہے اور ایک اور ہڑتال ہو گئی ہے۔
اس خبر سے جو کا پارہ چڑھ گیا اور صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی۔ اس نے کہا کہ ہم جہاز کرائے پر لے کر یا ٹیکسی سے چلے چلتے ہیں جو کہ ممکن نہ تھا۔
یہ سب پیر کے روز ۱۶ مارچ ۱۹۷۰ کو ہوا۔ رات کے کھانے پر پتہ چلا کہ اگر سیاسی صورتحال سنبھل جائے تو ہم اجازت نامے ملنے کے بعد بدھ کے روز جا سکیں گے۔
منگل کے روز ہم نے شہر کی سیر کی اور کچھ دکانوں پر بھی رکے۔ دوپہر کو پتہ چلا کہ سیاسی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور مسلح پولیس کے دستے جگہ جگہ گشت کر رہے ہیں۔ ٹیکسیوں کو روک دیا گیا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہوٹل سے قدم باہر رکھنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ کلکتہ میں پندرہ لاکھ بے گھر افراد سڑکوں پر رہتے ہیں۔ یہ لوگ سڑکوں پر کھاتے پیتے اور سڑکوں پر ہی سوتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کے دوران پیدل شہر کو جانا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ کسی بھی راہ چلتے کو چھرا گھونپ سکتے ہیں اور سیاسی جماعتوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔
سہ پہر کو امید کی کرن نمودار ہوئی کہ ہمارے پرمٹ آ گئے۔ مجھے تو توقع تھی کہ اس پر کافی دن لگ جائیں گے۔ ہم لوگ رات کا کھانا کھا کر جلدی سو گئے تاکہ صبح ۵ بجے اٹھ کر تیار ہونے کے بعد ۷ بجے والی پرواز (اگر روانہ ہوئی تو) پکڑ سکیں۔
مجھے تیسری منزل سے اپنا سوٹ کیس اور ایئر بیگ سیڑھیوں کے ذریعے نیچے لانا پڑا کہ لفٹ کام نہیں کر رہی تھی اور ہوٹل کے ملازمین بے فائدہ تھے کہ انہیں بخشش دینے کی اجازت نہیں۔ جب ہم ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہوائی کمپنی کا دفتر میدانِ محشر بنا ہوا تھا۔ کسی کو علم نہ تھا کہ ہم سات بجے والی پرواز پکڑ سکتے ہیں یا یہ کہ پرواز روانہ بھی ہو گی۔
سات بجے، آٹھ اور پھر تین بج گئے۔ ہم لوگ وہیں کے وہیں موجود رہے۔ ہم نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا، سو ہمارا برا حال تھا۔ جو کا خیال تھا کہ وہ عدالت کے ذریعے پیسے واپس لے گا اور پھر ہندوستانی صدر، وزیرِ اعظم اور امریکی سفارت خانے کو اس کی کاپیاں بھیجے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہمارے آس پاس بنگالی لوگ بول رہے تھے اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میرے بنگلور والے گھر کے پاس اونچے درختوں پر رات کو سونے کے لیے جو ہزاروں تلیئر شور مچاتے ہیں، وہی شور ہو رہا ہو۔
کسی کو علم نہ تھا کہ جورہاٹ جانے والی پرواز کب جائے گی اور آیا کہ جائے گی بھی کہ نہیں۔ اس دوران ہوائی کمپنی کے افسران کو حکم ملا کہ وہ جزوی ہڑتال کریں (ایسی ہڑتال جس پر کم سے کم کام کیا جائے) جبکہ قلیوں کو مکمل ہڑتال کا حکم جاری ہوا۔
سوا تین بجے لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ فلائٹ نمبر ۲۱۱ کینسل ہو گئی ہے۔ خوش قسمتی سے ہمیں ہوٹل واپس جانے کے لیے ٹیکسی مل گئی اور یوں لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔
میں بہت ضدی طبعیت کا آدمی ہوں، سو میں نے ہوائی کمپنی کے دفتر کا رخ کیا اور آخر کار یقین دہائی حاصل کر لی کہ ہم چاروں افراد اگلے روز فلائٹ نمبر ۲۴۹ پر صبح ۶ بج کر ۱۰ منٹ پر روانہ ہوں گے جو جمعرات ۱۹ مارچ کو روانہ ہو گی۔ جب میں خوش خوش ہوٹل لوٹا تو پتہ چلا کہ میرا کمرہ کسی اور کو دے دیا گیا ہے۔
ہم لوگ پونے پانچ بجے ہوٹل سے ڈم ڈم ہوائی اڈے کو روانہ ہوئے۔ ہوائی اڈے پر وہی ہجوم کی کیفیت تھی۔ خوب زور آزمائی، دھکم پیل اور کافی پیسے کر کے ہم جہاز پر سوار ہو گئے اور ساڑھے نو وائکاؤنٹ جہاز ہمیں لے کر ہوائی اڈے سے اڑا تو ہم نے مڑ کر کلکتہ شہر پر نظر ڈالنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔
٭٭٭
۵۔ انائی بِڈا ہلّا کی شیرنی
انائی بِڈا ہلّا کا لفظی ترجمہ ’گڑھا جس میں ہاتھی گرا‘ بنتا ہے۔
یہ ندی جنوب کی سمت بہتی ہے اور اس کا منبع کمپی کاری وادی کے پاس موجود پہاڑوں میں ہے۔ یہ مقام تامل ناڈو میں ضلع سیلم کے قصبے پناگرام کے شمال میں واقع ہے۔ پہلے یہ سابقہ مدراس پریزڈینسی کا حصہ تھا۔ ایک مقام پر یہ ندی کافی اونچائی سے گرتی ہے جہاں ۲۰۰ فٹ اونچی آبشار ہے۔ یہ آبشار گرینائٹ یا سنگِ خارا کے پتھروں پر گرتی ہے اور پانی کی رگڑ سے یہاں کافی گہرا گڑھا بن چکا ہے کہ یہ آبشار ہزاروں سال پرانی ہے۔
برسات میں اس گڑھے میں پانی بھر جاتا ہے اور بہت تیزی سے بہتا ہے مگر گرمیوں میں ندی رک جاتی ہے اور محض گڑھے میں پانی بھرا رہ جاتا ہے جو کافی عجیب دکھائی دیتا ہے۔ اس کی اصل گہرائی کا کسی کو علم نہیں مگر اندازہ ہے کہ یہ ۳۰ فٹ سے زیادہ گہرا ہے۔ جوں جوں گرمی بڑھتی ہے، پانی بخارات بن کر اڑتا ہے اور تالاب کی سطح نیچے ہوتی جاتی ہے۔ پانی کی سطح اور تالاب کے کنارے کے درمیان انتہائی ہموار پتھر ہیں جن پر کائی اور دیگر لیس دار نباتات اگی ہیں۔ اگر کوئی جانور اس تالاب میں گر جائے تو پھر اس کے بچ نکلنے کی تمام امیدیں ایک طرح سے دم توڑ دیتی ہیں۔
اس مقام کا نام اسی وجہ سے مشہور ہے۔ ایک بار گرمیوں میں ایک ہاتھی پانی کی تلاش میں یہاں آن نکلا۔ پانی کی سطح نیچے ہو چکی تھی۔ ہاتھی نے سونڈ ڈال کر پانی نکالنے کی کوشش کی مگر پانی اس کی پہنچ سے باہر تھا۔ پھر اس نے مزید آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پھسل کر نیچے پانی میں جا گرا۔
ہاتھی بہترین تیراک ہوتے ہیں مگر مچھلی کے سوا کوئی اور جانور ہمیشہ کے لیے نہیں تیر سکتا۔ متّور کو جانے والے چند گاڑی بان یہاں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ہاتھی کی چیخیں اور ڈوبنے کی آوازیں سنیں۔ یہ لوگ پانی گاڑیاں چھوڑ کر تالاب کے کنارے آ کر بیٹھ گئے اور ہاتھی کو ڈوبتا دیکھ کر خوش ہونے لگے۔
کہا جاتا ہے کہ ہاتھی نے بار بار باہر نکلنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کے پیر پھسل جاتے اور وہ واپس جا گرتا۔
گاڑی بان اتنے خوش تھے کہ انہوں نے وہیں آگ جلا کر رات بسر کی۔ آخرکار ہاتھی پانی میں ڈوب گیا۔ گاڑی بانوں نے صبح منہ اندھیرے ہاتھی کے ڈوبنے کی آوازیں سنیں۔ پورے دو ہفتے بعد ہاتھی کا جسم اتنا پھول گیا کہ وہ سطح پر نمودار ہوا۔ تعفن ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا اور ہاتھی کے جسم سے کھال اور گوشت کے بڑے بڑے لوتھڑے پانی میں تیر رہے تھے۔
اس واقعے کے بہت عرصے بعد تک کوئی جانور اس تالاب کے قریب نہ آیا۔ کم از کم ۳۰ سال گزر گئے کہ یہاں ایک شیر آن کر رہنے لگا۔ یہ شیر آدم خور تھا اور مقامی افراد کو کھانے لگا۔ ایک روز یہ شیر اسی تالاب میں گر گیا۔ خیر، یہ کہانی کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
اس علاقے میں شیر کم عرصہ ہی رکتے ہیں۔ یہ علاقہ انگریزی کے حرف U کی مانند ہے جس کا منہ بائیں جانب ہو۔ نچلا کنارہ اس مقام کو ظاہر کرتا ہے جہاں دریائے چنار دریائے کاویری میں جا ملتا ہے اور بالائی کنارہ اس مقام کو ظاہر کرتا ہے جہاں انائی بِڈا ہلّا ہے۔
شیر بعض اوقات دریائے کاویری کو تیر کر عبور کر کے آرام سے چنار کو جاتے اور راستے میں چیتل، سانبھر اور سور سے پیٹ بھرتے جاتے۔ کبھی کبھار بچھڑے یا بھینس پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے جو پانا پٹی اور متھور سے مل جاتے۔ پھر یہ شیر انائی بڈھا ہلّا کے تالاب کے گرد گھوم کر اس کے پیچھے کی پہاڑیوں پر چڑھتے اور پھر مزید سات میل آگے ’دریائے تلواڈی‘ کو جا پہنچتے۔ یہ درحقیقت ایک بڑا اور گہرا پہاڑی نالہ ہے جو مغرب کی سمت ۱۵ میل دور کاویری سے جا ملتا ہے۔ یہ مقام دریائے چنار اور کاویری کے سنگم سے ۷ میل اوپر ہے۔
یہ شیر دریائے کاویری کے دوسرے کنارے سے آتے اور مشرق کی سمت گھومتے پھرتے دریائے چنار تک جاتے اور پھر شمال کو مڑ کر انائی بڈھا ہلّا ندی کے ساتھ چل کر مغرب کو مڑتے اور تلواڈی نالے سے ہو کر کاویری تک پہنچتے اور پھر اسے تیر کر عبور کرنے کے بعد مخالف سمت کولیگل پہاڑوں پر چڑھتے۔
مزے کی بات یہ دیکھیے کہ تمام شیر بعینہٖ یہی کرتے اور کبھی کسی شیر نے مخالف سمت سے آنے کی کوشش نہیں کی۔ میں ان جنگلوں میں بہت برس تک شکار کھیلتا رہا ہوں اور کبھی کسی شیر کو اس کے خلاف چلتے نہیں دیکھا۔ یہاں ساری زندگی گزارنے والے مقام قبائل پجاریوں سے پوچھ تاچھ سے بھی یہی پتہ چلا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسا ہی دیکھا ہے۔ شاید یہ جنگل کے ان اسراروں میں سے ایک ہے کہ جن پر ہمیشہ پردہ پڑا رہے گا۔
یہ شیر ہمیشہ جنگلی جانوروں سے پیٹ بھرتے اور اگر جنگلی جانور نہ ملتا تو کسی مویشی پر ہاتھ صاف کر جاتے۔
اب ہماری داستان میں ایک شیرنی داخل ہوتی ہے جسے انائی بِڈا ہلّا کی شیرنی کا نام دیا گیا۔ یہ شیرنی تقریباً ہر چار ماہ بعد اسی راستے سے گزرتی۔ بعض اوقات شیرنی اس سے بھی زیادہ وقفے سے گزرتی۔ یہاں کے مقامی بتاتے ہیں کہ اس علاقے سے شیرنی کو گزرنے میں چار سے چھ ہفتے لگتے۔ ان لوگوں کو تلواڈی والے راستے پر شیرنی کے پگ دکھائی دیتے جہاں وہ ندی کی سرد ریت پر چلتی ہوئی جاتی۔ اس ندی کے کنارے پر آرکڈ نامی اونچی گھاس کے قطعے تھے۔ اس طرح چلتے چلتے شیرنی دریائے کاویری کے کنارے تک پہنچ جاتی۔ یہاں شیرنی رکے بغیر سیدھا پانی میں اترتی چاہے برسات کی وجہ سے دریا چڑھا ہوتا یا چاہے گرمی کی وجہ سے دریا کا پانی بہت کم ہو چکا ہوتا۔ اس جگہ پہنچ کر شیرنی نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ یعنی شیرنی بہت اچھی تیراک تھی۔
اس کا مسکن شاید دریا کے دوسری جانب کولیگل والی پہاڑی تھی جہاں وہ کسی غار میں رہتی ہو گی۔ یہاں اس کا جوڑا بھی ہو گا کہ اس بار شیرنی پورا ایک سال سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد بھی واپس نہ لوٹی۔
ایک روز شیرنی لوٹ آئی۔ اس کے قدموں کے جانے پہچانے نشانات ریت پر دکھائی دینے لگے۔ اس بار اس کے ساتھ دو اور چھوٹے قدموں کے نشانات بھی تھے۔ یعنی شیرنی اکیلی نہیں بلکہ بچوں کے ساتھ یہاں سے گزر رہی تھی۔
یہ علاقے کے باسیوں کی انتہائی بدقسمتی تھی کہ شیرنی کے ہمراہ اس کے بچے بھی تھے اور آخر شیرنی اور اس کے بچوں کے لیے بھی یہ بدقسمتی کا سبب بن گئے۔
یہاں مویشیوں کی ہلاکت کے لیے درندے ذمہ دار ہوتے اور یہ نقصان اتنا کم ہوتا تھا کہ لوگ توجہ نہ دیتے۔ یہ لوگ مالکان سے جھوٹ بول دیتے کہ جانور مر گیا تھا یا گہری کھائی میں گر کر مر گیا تھا۔
اس بار شیرنی نے اپنے بچوں کے ہمراہ دل کھول کر مویشی مارنا شروع کر دیے اور تب وادی میں مویشی تھے بھی نسبتاً کم۔ جنگلی جانور کی تلاش میں پورا دن گزر جاتا اور شیرنی کو کم ہی شکار ملتا اور اسے بچوں سمیت بھوکا سونا پڑتا۔ بچے اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ اگر انہیں دودھ پلایا جاتا تو ان کے تیز پنجوں اور دانتوں سے شیرنی کے تھن زخمی ہو جاتے۔ تاہم مویشیوں کا شکار انتہائی آسان تھا اور پلے ہوئے مویشی آسانی سے شکار ہو جاتے تھے۔
لگ بھگ ہر تیسرے دن ایک مویشی مارا جانے لگا کہ بچے بہت پیٹو تھے۔ اب چرواہے مالکان کو یہ بھی نہیں بتا سکتے تھے کہ بیماری سے اتنے جانور مر رہے ہیں۔ سو چرواہوں نے جو کہ تمام تر پجاری ذات کے تھے، نے مل کر میرے ملازم شکاری رنگا کو بلوا بھیجا۔ رنگا پناگرام رہتا تھا جو اس وادی سے ۸ میل دور ہے۔
میں نے کئی جگہ رنگا کے بارے میں بات کی ہے۔ رنگا اور بیرا جنگل کی سیر کے دوران میرے ہمراہ ہوتے تھے اور مقامی جنگلات کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جس سے ہم تینوں واقف نہ ہوں۔ بیرا چور شکاری رہ چکا تھا اور مرتے دم تک رہے گا۔ رنگا البتہ کافی دلچسپ آدمی تھا۔ اس نے چور شکاری کے طور پر کام شروع کیا اور پھر گاڑی بان، شکاری، کسان اور پھر چھوٹا سا زمیندار بن گیا۔ اس نے اپنی پہلی بیوی کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس وجہ سے جیل یاترا کر آیا تھا۔ پھر جیل کے تجربے کی روشنی میں اس نے اپنی دوسری بیوی اس طرح قتل کی کہ سب کا شک متوفیہ کے چچا کی طرف منتقل ہو گیا۔ تاہم اس نے سوچا کہ اگر اس نے تیسری بیوی کو قتل کرنے کی کوشش کی تو پکڑا جائے گا، سو اس نے چوتھی اور پھر پانچویں شادی بھی کر لی۔
خیر، رنگا کی بیویوں کو چھوڑ کر کہانی کی طرف لوٹتے ہیں۔ پجاریوں کی بات سنی۔ اس کے پاس بہت پرانی مزل لوڈر رائفل تھی جو بہت کارآمد ہتھیار ہے۔ اس کی مدد سے وہ گرمیوں کی رات کو چھپ کر بہت سی مادہ سانبھر، چیتل اور چاندنی راتوں میں اس کے گنے کے کھیتوں پر آنے والے کئی سور بھی مار چکا تھا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اس کی مدد سے شیرنی کو آسانی سے مار لے گا۔
اس نے پجاریوں کو ہدایت کی کہ جب بھی کوئی مویشی مارا جائے تو وہ اس کی لاش کو ٹہنیوں سے چھپا دیں تاکہ گِدھ وغیرہ اسے نہ ہڑپ کر جائیں۔ پھر اس کی طرف اطلاع بھیجی جائے تاکہ وہ جلد از جلد پہنچ سکے۔ وہ فوراً آ جائے گا اور نگرانی کرے گا تاکہ شیرنی لاش کو ہٹا نہ دے۔
یہاں تک منصوبہ بے حد کامیاب رہا۔ شیرنی نے بچوں کے ہمراہ ایک بھینس ماری اور وہ سب تقریباً آدھی لاش کھا گئے۔ چرواہوں نے بقیہ حصہ چھپا دیا اور رنگا کو اطلاع دے دی۔ رنگا اپنی رائفل سمیت فوراً پہنچ گیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ لاش کے آس پاس مناسب فاصلے تک ایک ہی درخت تھا جس پر انتہائی مناسب مقام پر شاخ بھی تھی مگر احمق چرواہوں نے اسی شاخ کو کاٹ کر بھینس کی لاش چھپا دی۔ پورا جنگل سامنے تھا مگر انہیں وہی ایک شاخ کاٹنی تھی جہاں رنگا کے بیٹھنے کے لیے مناسب مچان باندھی جا سکتی تھی۔
رنگا نے دوسرے مقام کی تلاش شروع کی تو نزدیک ترین مناسب درخت اسی سے سو گز دور دکھائی دیا۔ مزل لوڈر کے لیے یہ بہت بڑا فاصلہ ہے کہ رات کے وقت فاصلوں کے تعین میں غلطی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں اس رائفل سے کیے گئے کئی فائر انتہائی کامیاب رہے تھے۔ رات کی تاریکی میں ٹارچ کی مدد سے اتنی دور سے گولی چلانے کے لیے رنگا کو اچھی خاصی خوش قسمتی بھی درکار تھی۔
شیرنی اور بچے وقت پر آ گئے اور رنگا نے ان کی آمد کی آہٹ سن لی۔ اس نے گوشت کھانے کی آوازیں سن لیں اور بچوں کی آپس میں چھینا جھپٹی بھی۔
عین اس وقت اس نے اپنی مزل لوڈر پر دھاگے سے بندھی ٹارچ جلائی۔
سیل کافی کمزور تھے یا فاصلہ زیادہ تھا، رنگا کو بمشکل شیرنی کی چمکتی ہوئی سرخی مائل آنکھیں دکھائی دیں۔ قسمت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس نے لبلبی دبا دی۔
لبلبی دبتے ہی دھماکہ ہوا اور مزل لوڈر کی نال سے شعلہ نکلا اور پھر بارود کے دھوئیں نے اس کے سامنے پردہ تان دیا۔ رنگا کو علم تھا کہ اس کی گولی خطا نہیں گئی۔ اسے شیرنی کے تکلیف سے کراہنے اور غصے سے دہاڑنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
رات کے اندھیرے میں درخت کی شاخ پر بنی کمزور مچان پر بیٹھ کر مزل لوڈر بھرنا بہت مشکل کام ہے مگر رنگا نے کسی نہ کسی طرح اسے سرانجام دے ہی دیا۔ پھر اس نے ٹارچ جلائی تو کمزور سی روشنی میں اسے دھبہ نما لاش دکھائی دی مگر شیرنی اور اس کے بچوں کا کوئی نشان نہ تھا۔
جب دن چڑھا تو چرواہے اور رنگا مل کر گئے اور دیکھا کہ شیرنی کو گولی لگی تھی۔ زمین پر خون کے چند قطرے دکھائی دیے اور پھر مزید پیچھا کرنے پر انہیں گھاس اور پتوں پر خون کے دھبے اور چھینٹے دکھائی دیے۔ یہ نشانات پہاڑی سے نیچے کو جا رہے تھے اور دریائے چنار کو عبور کر گئے۔ اس موسم میں دریائے چنار میں بمشکل ایک فٹ گہرا بہاؤ ہوتا ہے۔
دوسرے کنارے پر پہنچ کر انہوں نے گھنی گھاس سے شیرنی اور اس کے بچوں کے گزرنے کے نشانات دیکھے۔ یہاں بھی خون کے نشانات بکثرت تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ شیرنی کے دائیں پہلو پر گولی لگی ہے کہ شیرنی کے پگوں سے لنگراہٹ نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ خون کے نشانات بھی اتنے گہرے نہیں تھے کہ زخم کے گہرا ہونے کے بارے میں کچھ معلومات ملتیں۔ گھاس کو عبور کر کے شیرنی نے ایک چھوٹی مگر خار دار جھاڑیوں سے بھری پہاڑی کا رخ کیا اور اس پہاڑی کی دوسری جانب خون کے نشانات ختم ہو گئے۔ عین ممکن ہے کہ زخم پر چربی کی تہہ آ گئی ہو۔
عام ہندوستانیوں کی مانند ان لوگوں نے خوش ہو کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی کہ اب شیرنی سے پیچھا چھوٹ گیا ہے۔ اب شیرنی زخموں کی تاب نہ لا کر کہیں جھاڑیوں میں مر جائے گی یا عین ممکن ہے کہ کمزوری کی حالت میں دریائے کاویری عبور کرنے کی کوشش میں ہی ڈوب جائے گی۔ شیرنی کے بچوں کے بارے میں انہوں نے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
دو ماہ بعد ایک اندھیری رات کو بیل گاڑیوں کا ایک قافلہ انائی بِڈا ہلّا تالاب کے اوپر سے ہو کر وادی کو جا رہا تھا جہاں دریائے چنار میں گرنے والی ندی بہتی ہے۔ اس وادی میں سبزہ بہت گھنا ہے اور ہاتھی اور ریچھ کے علاوہ سانبھر اور کاکڑ بھی عام ملتے ہیں۔ درندے اور چیتل زیادہ اوپر اور چھدرے علاقے میں ہوتے ہیں کہ وہاں گھات لگانے کے لیے درندوں کو کم موقع ملتا ہے مگر درندوں کو وہیں زیادہ شکار ملتا ہے۔ جنگلی کتے اور پسو وغیرہ بھی وادی میں عام ملتے ہیں۔
سب سے آگے والی بیل گاڑی کے نیچے لالٹین بندھی تھی اور دو بھینسے جتے تھے۔ لالٹین کی مدھم سی روشنی تھی اور یہ لالٹین بھینسوں کی دم کے قریب بندھی تھی۔ اس جگہ لالٹین باندھنے کی وجہ یہ ہے کہ پالتو بھینسے انتہائی احمق ہوتے ہیں اور اگر لالٹین ان کے آگے لٹکائی جاتی تو وہ آگے بڑھنے سے انکار کر دیتے۔ پتہ نہیں کیوں۔ شاید بھینسے یہ سمجھتے کہ روشنی گھر کی ہے اور اب انہیں آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں۔ سامنے اندھیرا ہو تو وہ سمجھتے ہوں گے کہ ابھی گھر دور ہے، سو رکنا نہیں۔ اگرچہ یہ دلیل اتنی عقلی نہیں مگر بھینسے بھی کم عقل ہوتے ہیں۔ بیل کی جگہ بھینسے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کٹے ہوئے بانس بہت بھاری ہوتے ہیں اور راستہ دشوار چڑھائی والا۔ بھینسا بیل سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
ایک لالٹین جب اتنی دور بندھی ہو تو ظاہر ہے کہ بھینسوں کو بھی کچھ نہیں دکھائی دیتا اور نہ ہی گاڑی بان کو۔ ویسے بھی بارہ گاڑیوں کے قافلے میں ایک لالٹین ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ شاید اس طرح انہیں تسلی رہتی ہو گی کہ جب انہیں کچھ نہیں دکھائی دے رہا تو ڈرنا کاہے کا۔ اب اگر ہاتھی راستے سے تھوڑا دور کھڑا ہے تو اسے دیکھ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ ہاتھی دکھائی ہی نہیں دے گا۔ ویسے بھی جب تک ہاتھی پاگل نہ ہو، جنگل سے گزرتی بیل گاڑیوں پر توجہ نہیں دیتا۔ خواہ مخواہ اسے دیکھ کر پریشان ہونے سے کیا فائدہ۔
اگر ہاتھی پاگل نہ سہی، بدمزاج ہوا تو بیل گاڑیوں کی وجہ سے پریشان ہو گا۔ مگر گاڑی بان کیا کر سکتا ہے؟ اگر وہ رکا تو اس کے پیچھے والی گاڑی اس سے ٹکرا کر رکے گی اور اس کے پیچھے والی گاڑی اور پھر اس کے پیچھے والی گاڑی۔ اب اس تنگ سی پگڈنڈی پر گاڑی موڑ کر واپس تو نہیں جایا جا سکتا۔ سو رکنے کا فائدہ؟ اگر ہاتھی بہت قریب بھی آ گیا تو گاڑی میں اسی مقصد کے لیے ٹین کا خالی پیپہ رکھا ہوتا ہے کہ اسے بجا کر ہاتھی کو بھگایا جا سکے۔ اگر پھر بھی ہاتھی نہ رکا تو گاڑی بان اتر کر واپس بھاگ سکتا ہے۔ اگر پریشانی میں گاڑی بان رستہ چھوڑ کر جنگل میں جا گھسا تو عین ممکن ہے کہ وہاں ایک اور ہاتھی اس کا منتظر ہو۔ سو جتنی دیر ہاتھی پہلی گاڑی کو تباہ کرنے پر لگائے گا، اتنی دیر میں گاڑی بان کافی دور نکل چکا ہو گا۔ ویسے بھی ہاتھی کا رخ پھر دوسری اور پھر تیسری گاڑی کی جانب ہو جائے گا۔ گاڑی بان کے علاوہ گیارہ دوسرے افراد بھی قافلے میں ہیں اور جتنی دیر انہیں بیدار ہو کر صورتحال کو سمجھنے میں لگے گی، اتنی دیر میں ہاتھی ان تک پہنچ چکا ہو گا۔ اپنی جان بچانا سب سے اہم ہے۔
اگر سانپ ہوا تو؟ زہریلا سانپ پگڈنڈی عبور کر رہا ہو تو؟ اگر بھینسے نے اس پر کھر رکھ دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دو گھنٹے بعد ایک بھینسا کم ہو جائے گا۔
تاہم گاڑی بان کو ہمیشہ گاڑی میں ہی سوار رہنا چاہیے۔ اگر وہ ہاتھی کے خوف سے گاڑی کے پیچھے چلا تو اس کے ساتھ وہی ہو سکتا ہے جو ایک گاڑی بان کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ آدمی ہمیشہ گاڑی کے پیچھے پیدل چلتا تھا۔ اسے ۷ میل دور ایک جگہ ہاتھیوں کا غول راستے میں ملا۔ یہ آدمی اکیلا سفر کر رہا تھا اور شام کا وقت تھا۔ سو اس نے واپس لکڑہاروں کے کیمپ کا رخ کیا اور رات وہیں گزاری۔ اگلی صبح وہ پو پھٹنے سے قبل روانہ ہوا۔ اس بار یہ شخص گاڑی کے پیچھے چل رہا تھا کہ اگر ہاتھی دکھائی دیے تو وہ فوراً بھاگ جائے گا۔
اس بار ہاتھی کی بجائے راستے میں ایک کوبرا ملا جس کی کمر گاڑی کے پہیے کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ جونہی کوبرا کو اس آدمی کا پیر دکھائی دیا، اس نے ڈس لیا۔ یہ آدمی ایک اور میل چل کر مُتور کے فارسٹ بنگلے پہنچا جہاں میں مقیم تھا۔ یہ آدمی پو پھٹنے پر پہنچا۔ میں نے متاثرہ مقام پر گہرا چیرا دیا اور اس نے چلانا شروع کر دیا۔
یہ سب بیکار رہا۔ دو گھنٹے میں ہی یہ آدمی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پولیس نے مجھے دو دن تک مسلسل تنگ کیے رکھا۔ چونکہ سانپ نے اسے پیر پر کاٹا تھا جہاں میں نے پھر شگاف ڈال کر اسے چلایا تھا۔ سو جگہ جگہ خون کے دھبے موجود تھے۔ پولیس کو یہ دھبے مشکوک لگے۔ میں اس بارے میں پہلے ہی کسی کتاب میں لکھ چکا ہوں۔
اس بار گاڑی بان کے لیے ہاتھی نہیں بلکہ ایک بھوکی شیرنی اور اس کے دو بھوکے بچے منتظر تھے۔ انہوں نے پورے کاروان کو گزرنے دیا اور آخری گاڑی پر حملہ کیا۔
گاڑی بان بے خبر سو رہا تھا اور اسے علم بھی نہ ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو جیسے خلا میں تیر رہا ہو۔ دراصل گاڑی پگڈنڈی کے ساتھ بہنے والے نالے میں گر رہی تھی۔ اس کو سماعت شکن دہاڑیں بھی سنائی دے رہی تھیں اور ساتھ ساتھ بھینسوں کی چنگھاڑیں بھی۔ ایک بھینسے کی گردن میں شیرنی کے دانت گڑے ہوئے تھے اور شیرنی کی نصف جسامت کے برابر بچے دوسرے بھینسے کے اطراف میں لٹکے ہوئے تھے۔
پھر گاڑی، بھینسے، شیرنی اور اس کے بچے، سبھی نالے کی تہہ میں جا گرے جو زیادہ گہرا نہ تھا۔ گاڑی بان الگ جا گرا۔ بھینسوں کا جوا ٹوٹ گیا۔ شیرنی کے بچے جس بھینسے پر حملہ آور تھے، وہ ایک سمت بھاگ گیا جبکہ بچہ اپنی ماں سے جا ملا جو دوسرے بھینسے سے چمٹی ہوئی تھی۔ دوسرا بچہ پہلے ہی اس بھینسے پر حملہ آور تھا۔ دو منٹ بعد بھینسا ختم ہو گیا۔
گاڑی بان بعجلت کمبل سے نکلا تو سامنے ہی شیرنی اور اس کے بچے بھینسے کو مار رہے تھے۔ ستاروں کی روشنی میں اس نے نالے کے کنارے کا رخ کیا اور راستے پر جا چڑھا۔ دور اسے دیگر گاڑی بانوں کے فرار کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ان لوگوں نے جب اپنے پیچھے شور سنا اور نیند سے بیدار ہوئے تو انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ آخری گاڑی پر کوئی آفت ٹوٹی ہے۔ شیر کی دہاڑ سن کر ان کو وجہ کا بھی علم ہو چکا تھا۔ سو انہوں نے سیدھا گاڑیاں بھگا دیں۔ انہیں نہ تو کوئی فکر تھی اور نہ ہی کوئی سوچ کہ ان کے ساتھی پر کیا بیتی ہو گی۔ ویسے بھی ان گاڑیوں کو روکنے کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ جونہی بھینسوں نے شیر کی دہاڑ سنی تو دوڑ لگا دی۔ پورا قافلہ اس تنگ سے راستے پر بھاگتا رہا۔ آخری گاڑی بان بیچارہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگتا رہا۔
اس واقعے کی خبر دور دور تک پھیل گئی اور رات کو بیل گاڑیوں پر سفر بند ہو گیا۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا کہ شیرنی کی بھوک بڑھ گئی۔ اسے نہ صرف اپنا بلکہ بچوں کا بھی پیٹ بھرنا ہوتا تھا۔ اُس وقت کسی کو علم نہیں ہوا کہ شیرنی کا دایاں کندھا بری طرح متاثر ہوا ہے اور کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ رنگا کی مزل لوڈر سے شیرنی کو کافی نقصان پہنچا تھا۔
بھوک سے مجبور ہو کر شیرنی نے دن دیہاڑے مویشی مارنے شروع کر دیے۔ اس کوشش میں اس کے بچے ساتھ ہوتے تھے جو تیزی سے شکار کرنا سیکھ رہے تھے۔ نا تجربہ کاری کی وجہ سے ان کا طریقہ کافی ظالمانہ تھا۔ ٹوٹے ہوئے کندھے کی وجہ سے ان کی ماں زیادہ بہتر شکار نہ کر سکتی تھی۔ ان کے مارے ہوئے جانور بری طرح زخمی ہو کر مرتے اور بعض اوقات شیرنی اور بچے زندہ جانور سے پیٹ بھرنے لگتے تھے۔ عام شیر کا مارا ہوا شکار انتہائی تیزی اور نفاست سے موت کے گھاٹ اترتا ہے جو اس کی گردن توڑ کر اسے چشمِ زدن میں ہلاک کر دیتا ہے۔
یہ حملے چھ ماہ تک جاری رہے اور بچوں کی مہارت بڑھتی گئی۔ اب وہ شکار مارنے کے قابل ہو گئے اور ماں سے مدد نہیں لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی زخمی ماں کو نہیں چھوڑا اور اس کے ساتھ ہی رہے۔ جوں جوں بچے جوان ہوتے گئے، ان کی اشتہا بڑھتی گئی اور مویشیوں کی ہلاکت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
صورتحال ایسے ہی رہتی مگر اچانک مریپّا نامی چرواہے نے ایک غلطی کر دی۔ جب اس کی دودھیل گائے پر حملہ ہوا تو بھاگنے کی بجائے اس نے تین شیروں سے گائے بچانے کی کوشش کی۔ یہ حملہ اس کے کھیت کے کنارے ہوا تھا۔ اگر ایک شیر ہوتا تو شاید بھاگ بھی جاتا۔ تین شیروں کو بھگانا ممکن نہ تھا۔
اگر آپ کو جنگل میں گھومنے کا موقع ملے تاکہ جنگلی حیات کو دیکھ سکیں اور اگر کہیں شیروں کے جوڑے یا پورے خاندان سے سامنا ہو (آج کل اس کے امکانات انتہائی کم رہ گئے ہیں) تو فوراً رک جائیں اور ذرا سی بھی حرکت نہ ہو۔ بھاگنے کی کوشش بھی نہ کریں کہ کتے کی مانند شیر بھی ہر بھاگتی شئے کا پیچھا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو کسی اوٹ میں آ جائیں اور ہر ممکن طور پر ساکت ہو جائیں۔ اگر ایک شیر یا دو تیندوے بھی ہوں تو آپ کو شاید ہی کوئی خطرہ ہو۔ جب دو شیر یا بچوں والی شیرنی ہو تو بچاؤ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ انہیں مداخلت پسند نہیں اور اپنی تعداد سے انہیں زیادہ حوصلہ ملتا ہے۔ ہاتھیوں کے ساتھ یہ اصول بالکل الٹ ہے۔ اگر ہاتھی اکیلا ہو یا بچے کے ساتھ ہتھنی ہو تو اس سے فاصلہ رکھنا ہی بہتر ہے۔ مگر بیس یا تیس ہاتھیوں کا جھنڈ سامنے ہو تو اکیلے انسان کو بھی کوئی خطرہ نہیں۔
مریپا نے ان کی طرف بھاگنے کی مہلک غلطی کی تھی جب تین شیر تازہ ماری ہوئی گائے پر سوار تھے۔ شاید اس کا خیال ہو کہ گائے کو بچا سکے گا۔ بے شک وہ بہادر تو تھا مگر احمق بھی نکلا۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنی جان گنوا چکا تھا۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ تینوں میں سے کس نے اسے ہلاک کیا تھا۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

