ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

قرآنی سفر کے مظاہر

 

 

 

بریگیڈئر آفتاب احمد خان (ر)

ترتیب و تدوین: اعجاز عبید

 

 پیش لفظ

 

اسلامی فکر صدیوں سے جمود کا شکار ہے جبکہ علامہ اقبال[1] ایک بصیرت افروز فلسفی، شاعر، اور عالم نے ایک متبادل راستہ کا تصور کیا ان کے ویژن میں بنیادی طور پر اسلامی فکر کو متحرک اور ارتقاء پذیر ہونا چاہیے، جو قرآن کی پائیدار تعلیمات اور رسول اللہﷺ کی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، جو تمام ادوار کے لیے قابل اطلاق ہو۔  قران کی مرکزیت پر قرآن[2] اور رسول اللہﷺ نے بہت زور دیا مگر افسوس کہ قرآن کو متروک العمل کر دیا گیا[3]۔ اقبال اور ڈاکٹر برق[4] کے مجربات و محسوسات بھی قرآن پر فوکس اور (inspire) کرتے ہیں۔ ابتدا امن ایسا ہی تھا مگر پھر بھی، جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا، قرآن مومنوں کے دلوں اور دماغوں میں اپنے مرکزی مقام سے پیچھے ہٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے، آہستہ آہستہ پس منظر میں دھندلا جاتا ہے۔  قرآن ایک ایسی مقدس کتاب بن گئی جسے خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر رکھا جائے، وضو کے بغیر ہاتھ نہ لگایا جائے، برکتوں کے لیئے تلاوت اور تعظیم کی جائے، اور مختصراً قرآن متروک العمل مقدس کتاب بن کر رہ گئی جس کا تذکرہ حریت انگیز طور پر قرآن میں پہلے سے موجود ہے[5]۔

دو دہائی قبل صراط مستقیم کی جستجو اور حصول علم کے جذبہ اور عزم سے غیر معمولی سفر کی شروعات کی جو طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا۔  یہ سفر (Odyssey) قرآن پر مرکوز اسلامی فکر کے مطالعہ، تفکر و  تحقیق پر ایک گہری توجہ کا ذریعہ بن گیا۔  وسیع قرآنی مطالعہ میں متعدد قرآنی تفسیروں کا گہرا مطالعہ شامل ہے۔  اہم آیات کے لیے، تقریباً 75 تراجم کے تجزیے اور مختلف ادوار میں مشہور علماء کی تصنیف کردہ متعدد تفسیروں پر غور و خوض کے ساتھ اصل عربی متن کی جانچ کی گئی۔  لفظ بہ لفظ تراجم انگریزی سے عربی اور عربی سے عربی لغویات کا استعمال کرتے ہوئے متن کے حقیقی معنی کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔  ڈیجیٹل فضا نے تحقیق کے بے مثال مواقع فراہم کئے۔  اس تگ و دو کا مقصد خود تشریحات کرنا یا مرضی کے معانی مسلط کرنا نہیں بلکہ تفہیم میں اختلافات کی نشاندہی کرنا اور درست مفہوم تک رسائی حاصل کرنا تھا۔  علماء اور با شعور افراد کے ساتھ مکالمے اور ای ایکسچینجز[6] بہت مفید ثابت ہوئے اگرچہ ان میں بہت چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن سوچ میں فکری اختلافات سے حقائق تک رسائی کی اہمیت آشکار ہوئی۔ متنوع سوچ حصول علم کا ایک مثبت طریقہ ہے۔

تحقیق میں غیر فرقہ وارانہ انداز اپنایا گیا ہے جس کا مقصد تعصبات کو کم کرنا، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ حتمی علم اور فہم اللہ کے پاس ہے۔

اہم موضوعات پر اس جستجو و تحقیق سے حاصل نتائج کا خلاصہ مرتب ہے۔ جو بیانیہ منظر عام پر آتا ہے، سب کو ایک ایسے سفر پر جانے کی دعوت دیتا ہے جو علامہ اقبال جیسے صاحب بصیرت سکالر، فلاسفر، شاعر کے خیالات[7] اور ڈاکٹر برق کے خدشات[8] سے پیچیدہ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔  ان دانشوروں نے قرآن کے اندر موجود ابدی حکمت سے گہرا وجدان پایا، ایک ایسا علم و حکمت جو علم کے حصول کو نمایاں طور پر تشکیل کر سکے دیا ہے۔

اس جستجو میں ہمارے ایمان کے لا زوال بنیادی اصولوں پر گہرا یقین پوشیدہ ہے، جیسا کہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ حدیث جبرائیل[9] میں ہمارے سامنے ہے۔ ہم اس ایمان کے ساتھ بغیر کسی رد و بدل کے کھڑے ہیں۔  تاویلات کی کسی بھی کوشش سے صحیح راستے سے ہٹنے اور گمراہی کی طرف جانا امر لازم ہے، جس سے قران نے کھل کر آگاہ کر دیا[10]۔  تاہم اسلام کے بنیادی اصولوں کے علاوہ دوسرے پہلوؤں میں، قرآن سے اخذ کردہ اصولوں کو ہر دور میں لاگو کیا جا سکتا ہے، جو حکمت اور رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ تالیف وسیع تحقیق کے ایک مرحلے کا اختتام ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منسوب روایت کردہ احادیث کی درستی اور ترسیل کے ذرائع کے متعلق گہری تحقیق ہے جس کے ساتھ دوسرے اہم موضوعات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت رسول اللہﷺ سے رہنمائی[11] کو نظر انداز کرنا سرا سر گمراہی ہے۔ درست احادیث کی پہچان[12] کے بنیادی اصول رسول اللہﷺ سے بہتر کون بیان کر سکتا ہے [13]؟

اس علمی سفر سے حاصل ذخیرہ[14] اردو[15] اور انگریزی[16] زبانوں میں آسانی سے قابل رسائی ہے، جو ویب سائٹس، بلاگز، ای بکس[17] (eBooks)، مضامین اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر پھیلا ہوا ہے۔  مزید برآں، سترہ سال تسلسل سے حاصل قرانی حکمت کے اشارات دی ڈیفنس جنرال (Defence Journal)[18] کے صفحات کے ذریعے بھی مہیا ہیں۔

اس فکری سفر کا آغاز کرنے والے قارئین کے لیے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ اپنے موجودہ تصورات کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور فٹ نوٹس میں پیش کیے گئے جامع حوالہ جات کا مطالعہ کریں تو ذہن میں اٹھنے والے لا تعداد سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں۔  اگر مزید وضاحت کی خواہش ہو تو رائیٹر سے رابطہ[19] بھی ممکن ہے۔ یہ مجموعہ ایک پُل کے طور پر اللہ کے پیغام کی گہری سمجھ کو فروغ دینے کو کوشش کرتا ہے۔

انسانی فطرت کی فطری حدود کو تسلیم کرتے ہوئے احقر نا بدانستہ طور پر سرزد ہونے والی غلطیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہے۔

بریگیڈیئر آفتاب احمد خان (ر)

[September 29 2023 | ۱۲ ربیع الاول ۱۴۴۸ ھ]

 

 

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

 

تعارف

 

انسان کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے، انسانی فطرت میں اور رسول بھیج کر ان پر کتب نازل کر کے آخری رسول اللہﷺ پر آخری کتاب قرآن نازل فرمائی۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر پر قائم رہیں اُس کی ذمہ داری پھر اُنہی پر ہے:

1۔وَ عَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ "سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمّہ ہے”(سُورۂ نحل، آیت۹)

2۔ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدیٰ "راستہ بتانا ہمارے ذمّہ ہے”(سُورہ لَیل، آیت۱۲)

3۔اِنَّآ اَوْ حَیْنَآ اَلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلیٰ نُوْحٍ وَّ النَّبِیِّیْنَ مِنْم بَعْدِہ۔۔۔۔۔۔  رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ "(اے نبی) ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔۔۔۔۔  اِن رسولوں کو بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجّت نہ رہے” (النساء، ۱۶۵۔۱۶۴)

4۔یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ، فَقَدْ جَآءَکُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ  "اے اہلِ کتاب تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا نہ خبردار کرنے والا۔  سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا آ گیا” (المائدہ۔ ۱۹)۔

 

اللہ کے سامنے ہم کو خود اکیلے جوابدہ ہونا ہے

 

1۔ "لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا” (سورة الأنعام، آیت۹۴)

2۔”یہ اکیلا ہمارے پس آئے گا”(سورۂ مریم، آیت۸۰)

3۔”اِن میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہو گا”(سورۂ مریم، آیت ۹۵)۔

 

قرآن تو موجود ہے مگر سنت کا کیا ہوا؟

 

کیا اللہ، رسول اللہﷺ، خلفاء راشدین سے بھول ہوئی کہ سنت کی کتابت کا بندوبست نہ کیا اور تمام راوی صحابہ فوت ہو گئے؟ (استغفر اللہ)

اللہ کی ہدایت کی روشنی میں رسول اللہﷺ خلفاء راشدین نے سنت رسول اللہﷺ کی ترسیل کا طریقہ اور اصول واضح کر دیئے جن پر پہلی صدی حجرہ میں عمل درآمد بھی ہوا۔ پھر "عقلمند” پیدا ہوئے جنہوں نے اس "غلطی” کو درست کرنے کی کوشش کی، حقائق مسخ ہوئے۔ بدعت یا نافرمانی کی بحث کو الگ رکھتے ہوئے، بزرگان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں اور اصل موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

اب درجنوں فرقے معمولی فقہی اختلافات پر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا تے پھرتے ہیں اور اپنی من پسند کتب حدیث سے دلیل بھی رکھتے ہیں، مخالفین کی حدیثوں کو چھپاتے، نظر انداز کرتے ہیں۔

جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے ہدایت کا مکمل اہتمام کر دیا تو اب اللہ سے یہ شکایت نہیں کر سکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔  یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے پہلے اوپر بیان کی گئی ہے۔

 

وصیت رسول اللہﷺ

 

رسول اللہﷺ نے فرمایا: "میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا” (ابن ماجہ 43) میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت[20] ہے (فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ)، اور ہر بدعت گمراہی ہے (وَ کُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ)[21]

 

کون "صراط مستقیم” پر ہے اور کون "ضلالہ” پر؟

 

کیا ہم نے "صراط مستقیم” تلاش کرنے کی خود کوشش کی؟

یہ اس سمت میں ایک طویل "قرآنی سفر” کی روداد ہے۔

 

اسلام دین کامل

 

قرآن کا بنیادی تصور (fundamental concept) ہے کہ "دین کامل” ہو گیا تو اس میں کوئی ایسی نئی بات جو احکام قرآن میں نہ ہو، تاویلات سے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔[22] اسلام دین کامل[23] (Perfected) ہے،اس میں نئے عقائد، نظریات، عبادات و طریقے شامل کرنے یا ترمیم کرنے سے کامل کو غیر کامل، "نامکمل” یا "ناقص” کرنا ہے جس سے منع کر دیا گیا[24]۔ قانون (شریعت) کے نفاذ کے لیے حدود (parameters) کا تعین ضروری ہے تاکہ ان حدود کی خلاف ورزی واضح طور پر معلوم ہو سکے، اگر حدود کی تعریف نہ کی جائے یہ نامکمل چھوڑ دیا جائے تو ایک معیار ممکن نہیں۔

دین کامل سے انحراف (بدعہ deviations) کی جانچ اور کنٹرول "پیمائش کے مستقل معیار” (Consistent Standards of Measurement) کے بغیر نا ممکن ہے۔ انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے یہ کام کیا، تو کیا اللہ تعالیٰ لوگوں کو بغیر کسی اساس، مستقل معیار کے آزاد چھوڑ دے گا کہ جس کے دل میں جو آئے وہ اسے اسلام کا نام دے؟ یہ فیصلہ اللہ نے کسی کی صوابدید پر نہیں چھوڑا، قرآن اور رسول اللہﷺ کے علاوہ حضرت جبریل علیہ اسلام کو بر سر عام بھیج کر سب کو بتلا دیا یہ ایک عجیب منفرد واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی، اسے کیسے نظر انداز کر دیا گیا؟

 

دین اسلام کیا ہے؟

 

مسلمانوں کو اختلاف و ضلالت سے بچانے کے لئے قرآن[25] کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم ہے اور مسلم معاشرہ میں لوگ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں [26]۔  سوشل میڈیا نے یہ کام آسان کر دیا ہے مگر ایک رویہ بہت عام ہے کہ صرف اپنے آپ کو ہی درست مسلمان سمجھتے ہیں اور دوسروں کو کم عقل، جاہل، گمراہ۔ ممکن ہے کہ یہ خیال درست ہو؟

 

 

 

بین الاقوامی بنیادی مستقلات International Constants

 

کسی چیز کو چیک کرنے کے لینے کسی معیار (standard) کی ضرورت ہوتی ہے جس سے تقابل کیا جا سکنے۔ پیمائش کے بنیادی مستقلات، کائنات کی موروثی خصوصیات (Inherent properties of the universe) سے ماخوذ ہیں۔  یہ مستقلات (Constants) کائنات کے فزیکل قوانین اور خصوصیات کے بنیادی پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔  "پیمائش کے بنیادی مستقلات” ضروری ہیں کیونکہ؛ (i) کائنات کی موروثی خصوصیات کی نمایندگی (ii) عالمگیر مطابقت (iii) طبیعی قوانین کی بنیاد (iv) نظریات اور تھیوریوں پر کنٹرول اور پابندیاں اور (v) پیمائش کی درستگی کا ایک معیار۔  عام زندگی میں معیار؛ میٹر، کلوگرام اور لیٹر وغیرہ کی مثال ہے۔

 

مابعدالطبیعات کی پیمائش Measuring Metaphysics

 

مذہبی و اخلاقی، روحانی اقدار کا اگرچہ مقداری طور پر پیمائش کرنا انسان کے لئیے مشکل ہے، لیکن اخلاقی اور مذہبی اقدار کو اکثر بنیادی اصولوں اور رہنما گائیڈ لائنز کے لحاظ سے ان پر ایمان اور عمل درآمد کی بنیاد پر معیار کے جائزوں کے ساتھ۔  زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں، بنیادی عقائد بنیادی طور پر مذہبی نصوص، تعلیمات اور روایات سے اخذ کیے گیے ہیں، جس کی تاویلوں میں اختلاف سے فرقے وجود میں ہیں۔ تورات میں ‘دس احکام'[27] کو یہود بنیادی اور نصاریٰ اخلاقی احکام کے طور پر تسلیم کرتے ہیں مگر تاویلات اور دوسری کتب (تورات و انجیل کے علاوہ) سے بنیادی احکام اخذ کر کے اصل مقصد سے ہٹ گیے۔[28]

دس احکام یہودی قانون کے لیے بنیادی ہیں، جو تورات کے دیگر 613 احکام سے الگ خدا کے عالمی اخلاقی ضابطے کی نمائندگی کرتے ہیں۔  یہ 613 احکام مختلف مذہبی فرائض، غذائی قوانین، اور پادریانہ رسومات کا احاطہ کرتے ہیں۔  دس احکام ان باقی احکام کے لیے ایک مذہبی بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں۔  فیلو اور دیگر اسکالرز نے دوسرے احکام کو دس احکام کے تحت ان کو مربوط رکھ کر درجہ بندی کی۔ مسیحیت میں بہت فرقوں کا خیال ہے کہ یسوع کی تعلیمات نے عہد نامہ قدیم کے اخلاقی قانون کو پورا کیا، بشمول دس احکام۔  وہ یسوع کو قانون کی حتمی تکمیل کے طور پر دیکھتے ہیں، اس پر ایمان اور خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت کو بنیادی رہنما اصولوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ [29]

اسلام میں اللہ نے حدیث جبرائیل[30] سے (بارہ احکام) نے ایک معیار قائم کر دیا تاویلوں کی بجائے واضح طور پر ایک مکالمے سے اسلام میں ایمان کے چھ بنیادی عقائد اور عبادت کے پانچ ستونوں اور ‘احسان’ کو بیان کر دیا گیا جبکہ وہ قرآن میں بھی موجود ہیں۔ اب یہ اسلام کے ساتھ مخصوص ہے کہ ایمان جو کہ ایک غیر مادی شئے (metaphysical) ہے، اس کا مادی (physical) ارکان سے مل کر ایک معیار (standard) مقرر کر دیا جس سے (deviation) کی پہچان ممکن ہے۔  لہذا اسلام میں یہودیت اور مسیحیت کی طرح مذہبی پیشواؤں کے لئیے اپنی صوابدید پر تاویلوں سے معیار سے مختلف بنیادی اصول اخذ کرنا ممکن نہیں یہی "بدعہ ضلالہ”[31] ہے اس کا پھیلاؤ حقیقی بدعت (وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ) سے توجہ ہٹانا (dilute) کرنا ہے۔  لیکن جو ایسا کرتے ہیں وہ اہل کتاب کی تقلید میں گمراہی کا راستہ اپناتے ہیں۔ یہ اللہ کا قائم کردہ ایک فول پروف بندوبست ہے جس کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔[32]

 معیاری مستقلات اسلام Islamic Standard Constants

 

اللہ مالک کائنات ہے اور ہر جگہ موجود ہے وہ لا محدود ہے، مشرق، مغرب، شمال جنوب جدھر بھی چہرہ کریں وہ موجود ہے۔ تمام زمین پاک مسلمانوں کے لینے مسجد ہے مگر مکّہ میں مسجد الحرام خاص ہے، قبلہ ہے کہ اس کی طرف منہ کر کے صَلَاة‎ ادا کی جاتی ہے جبکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ حج اور عمرہ بھی اسی کے مضافات احرام کی حدود میں ادا کیا جاتا ہے کسی اور جگہ یا مسجد کو یہ مقام حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لا محدود ذات کی عبادت کے لینے حدود اور طریقہ کار کا ایک "مسقل معیار” اللہ کی طرف سے متعین کر دیا گیا تاکہ اتفاق ہو، انتشار نہ ہو۔ ایک سمت اور معیار سے مسلم اور غیر مسلم کا فرق بظاہر معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح اسلام کا دائرہ کار بہت وسیع ہے مگر اس کے بنیادی اصولوں، یعنی "معیاری مستقلات اسلام” ( Islamic Standard Constants) کی تعریف قرآن اورحضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعہ (define) کر دی گئی، یہ انسانی محددات (caters for human limitations) کا ازالہ کرتے ہیں تاکہ اصولوں اور احکامات کا نفاذ ایک بنیادی مستقل معیار (Basic Constant Standard) کے مطابق ہو، اور اس بنیادی مستقل معیار ( Basic Standard Constant) سے انحراف (deviations) "بدعہ ضلالہ”[33] کو چیک کیا جا سکتا ہے۔ مگر مذہبی پیشواؤں نے دین کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیمائش کے معیار پر قائم رہنے ہی بجائے اس کا دائرۂ کر وسیع کر دیا تاکہ اصل سے توجہ ہٹ جائیے۔  یہودیت اور مسیحیت کی طرح مذہبی پیشوا اپنی مرضی یا صوابدید سے آیات قرآن ور احادیث کی تاویلوں سے مختلف باتوں کو دین قرار دے کر فرقہ بازی کر سکیں جس سے اللہ نے منع کیا، لا تعلقی کا حکم فرمایا۔[34]

 

کون درست ہے اور کون غلط؟

 

یہ فیصلہ اس دنیا میں صرف قرآن سے ممکن ہے جو بلا شک مکمل، محفوظ "الفرقان”[35] (حق و باطل میں فرق کی پہچان) ہے سنت رسول اللہﷺ، سیرت پاک قرآن کا نمونہ تھی[36]۔ مگر کیسے یقین ہو کہ جو بات آپﷺ سے منسوب کر کے بیان کی جا رہی ہے وہ آپ نے واقعی بیان فرمائی تھی؟[37] جبکہ ایک ہی موضوع پر اختلافی روایت[38] ملتی ہیں بلکہ کچھ تو قرآن کے بھی برخلاف پائی جاتی ہیں ایسی باتوں کو آپ نے مسترد کیا[39]۔ (مستند احادیث متواتر، جن کی تعداد امام سیوطی نے ۱۱۳ شمار کی[40]، باقی گمان، اندازے ہیں جو بھی نام رکھ لیں)۔

دنیا دار الامتحان ہے، اللہ نے ہدایت کا مکمل بندوبست کر دیا۔ امتحان کا سلیبس صرف ایک کتاب القرآن ہے جس کا عملی نمونہ رسول اللہﷺ، ان کے بعد آپﷺ کی تربیت یافتہ ٹیم کے لیڈرز خلفاء راشدین و صحابہ کرام، ان سب کی متفقہ سنت میں بھی صرف ایک کتاب میں کوئی شک نہیں۔ امام، أئمة، علماء کی رہبری[41] اور بعد میں لکھی گئی کتب اگر قرآن کے مطابق ہوں تو قبول ہو سکتی ہیں [42] مگر ہر نئی بات (کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ)[43] مسترد و ممنوع ہے [44]، عقل و شعور[45] کا استعمال بہت اہم ہے۔ دعوہ[46] کی ضرورت ہے۔

اُمُّ الکِتٰبِ۔ آیٰت مُّحکَمٰتٌ 3: 7

قرآن کا معیار اتنا سخت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیات قرآن کو دو اقسام میں تقسیم کر دیا اور احکام کے لینے "آیات محکمات” کی شرط لگا دی، ان کو "ام الکتاب”، قرآن کی بنیاد قرار دیا، یعنی وہ آیات جو بالکل واضح ہیں صرف ایک معنی نکلتا ہے، دوسری آیات جن کے ایک سے زیادہ معنی ممکن ہیں، شبہات ہیں، ان کی تاویلات مختلف ہوتی ہیں، ان کی بنیاد پر احکام نہیں اخذ کیئے جا سکتے۔ اسلام مکمل کامل ہے کسی امام، عالم، پیر کے پاس کوئی اتھارٹی نہیں کہ اس میں رد و بدل کر سکے، کامل (perfected) کو خراب نہ کامل کر سکتے ہیں اپنی تاویلات سے یا محترم مقدس شخصیات کے نام پر اپنے نظریات داخل کر کہ ان شخصیات کی توہین کرے۔

ہُوَ الَّذِیۤ اَنزَلَ عَلَیکَ الکِتٰبَ مِنہُ اٰیٰتٌ مُّحکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِم زَیغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنہُ ابتِغَآءَ الفِتنَۃِ وَ ابتِغَآءَ تَاوِیلِہٖ ۚوَ مَا یَعلَمُ تَاوِیلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘ ؔ وَ الرّٰسِخُونَ فِی العِلمِ یَقُولُونَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّن عِندِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الاَلبَابِ ﴿سورة آل عمران3: 7﴾

ترجمہ:  وہی اللہ تعالیٰ ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔  اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں:  ایک ” اٰیٰتٌ مُّحکَمٰتٌ” جو کتاب کی اصل بنیاد (اُمُّ الکِتٰبِ) ہیں اور دوسری "متشابہات” (مختلف المعنی اور مختلف المراد)۔  جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ "متشابہات” ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کی تَاوِیلِ کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔  بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔  اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف عقل مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں (قران، سورة آل عمران 3: 7)[47]

اس آیت کے مطابق احکام صرف قرآن کی "اٰیٰتٌ مُّحکَمٰتٌ” جو قرآن کی اصل بنیاد (اُمُّ الکِتٰبِ) ہیں ان سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی نئی بات (بدعة) کسی کی مرضی یا تاویل سے اسلام کی تعریف میں داخل نہیں کی سکتی۔ اس آیت (3: 7) کے معنی کو بھی تاویلوں سے تبدیل کر کے فرقہ واریت کا جواز نکالنے کا بند و بست کیا گیا۔ متشابہات کے معنی کو حروف مقطعات، الغیب اور ذات باری تعالیٰ تک محدود کر کے جبکہ جس آیت کے ایک سے زیادہ معنی ہوں وہ بھی "متشابہات” میں شامل ہیں۔ اسی طرح "الرّٰسِخُونَ” (علم میں پختہ کار) کا مطلب یہ کہ یہ ہمارے ائمہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ "متشابہات” کے معنی معلوم ہیں۔ تو کیا ائمہ، رسول اللہﷺ سے بھی اوپر ہیں؟ قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ کو جو کچھ ملا انہوں نے بتلا دیا کچھ نہ چھپایا[48]۔ گردشی دلائل اور تاویلوں سے نہیں سے نہیں بلکہ "اٰیٰتٌ مُّحکَمٰتٌ” جو کتاب کی اصل بنیاد (اُمُّ الکِتٰبِ) سے ہی احکام حاصل ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال (رح) نے خوب فرمایا:

آں کتابِ زندہ، قرآنِ حکیم:  حکمتِ او لایزال است و قدیم

نسخۂ اسرارِ تکوینِ حیات:  بے ثبات از قوتش گیرد ثبات

حرفِ او را ریب نے، تبدیلئے:  آیہ اش شرمندۂ تاویل نے

(ترجمہ) وہ کتابِ زندہ جسے قرآن حکیم کہتے ہیں۔ اس میں حکمت کی درج باتیں ہمیشہ رہنے والی اور پرانی ہیں۔  وہ ( قرآن پاک) زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بھیدوں کا نسخہ ہے۔  بے ثبات بھی اس کی وجہ سے ثابت قدم ہو جاتا ہے۔ اس کے حروف میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس کی آیاتِ بینات کی کوئی غلط تاویل نہیں ہو سکتی ہے (اقبال)[49]

اسی اصول کو احادیث پربھی لاگو کیا جائیے جو انسانی کوشش ہے تو گمراہی مشکل ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا، سورہ آلعمران،آیت7[50]،[51] کو بھی تاویلات سے معنی تبدیل کرنے کی کوشش اور پھر نظر انداز کر دیا گیا، نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

 

ام السنة۔ حدیث جبرائیل

حدیث جبرائیل[52] نے اسلام، ایمان اور احسان کو بیان کر دیا جو کہ آیات محکمات پر مشتمل ہے۔ ان پر اگر کوئی مسلمان اختلاف کرتا ہے تو وہ قرآن کا انکار کرتا  ہے، کیونکہ حدیث جبرائیل کی بنیاد قرآن کی "آیات محکمات” پر ہے جن سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔

اسلام اور ایمان [53]کیا ہے اس بنیادی سوال کو قرآن اور رسول اللہﷺ [54] نے واضح کر دیا مگر پھر خاص طور پر ایک منفرد انداز جس کوئی مثال نہیں ملتی، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ سے بر سر عام مکالمہ کے ذریعہ اسلام، ایمان اور احسان کو بیان فرما دیا تاکہ کسی کو کوئی شک نہ رہے۔ "حدیث جبرائیل” کو "ام السنہ”‘ قرار دیا گیا ہے ، یعنی سنت کی جڑ اور بنیاد۔ جیسے سورۃ الفاتحہ کو "اُمّ القرآن”  قرار دیا گیا ہے ‘ یعنی قرآن مجید کے فلسفہ و حکمت کی جڑ اور بنیاد، خلاصہ۔ حدیث جبرائیل ( ہر مسلمان کو یاد ہو کم از ترجمہ[55]) جو در اصل قرآن کی "آیات محکمات” پر مشتمل ہے [56]۔ ان میں اللہ کی وحدانیت، فرشتوں، انبیاء اور کتب اللہ (حضرت محمدﷺ کی نبوت، قرآن مجید بطور کلام اللہ) آخرت، تقدیر پر ایمان اور اسلام کے ستون (مثلاً، شہادہ، نماز، روزہ، زکات، حج) عقائد و عبادات شامل ہیں۔  ان بنیادی باتوں سے انحراف یا ترمیم اسلامی عقائد سے انحراف سمجھا جا سکتا ہے۔  اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں، اس میں تاویلات کے زور پر تبدیلی یا کوئی نئی بات شامل کرنا، کسی مسلمان کو قابل قبول نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ کے احکام میں تبدیلی کرنے والا اللہ تعالیٰ کا شریک "رب” ہونے کا دعوی دار بن جاتا ہے (9: 31)[57]، ایسا کرنا بذات خود بدعة و ضلالہ بلکہ شرک ہو گا (جو کہ صدیوں سے ببانگ دہل جاری ہے [58])۔ رسول اللہﷺ کے فرمان "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ” کو قرآن کی آیت 3: 7 سے بھی سپورٹ حاصل ہے اسے ذہن نشین کر لیں:

 

مذہبی پیشواؤں کی بندگی۔ شرک

رسول اللہﷺ اپنی امت اور مذہبی پیشواؤں کے یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلنے پر سخت انتباہ کیا[59]۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام علیہ السلام کا یہودی علماء سے خطاب، مسلمان علماء پر آج بھی اتنا ہی لاگو ہے جیسا دو ہزار سال قبل علماء یہود پر تھا:

"تم لوگوں کی رہنمائی کر تے ہو۔ لیکن تم ہی اندھے ہو۔ تم تو پینے کے مشروبات میں سے چھوٹے مچھر کو نکال کر بعد میں خود اونٹ کو نگل جا نے وا لوں کی طرح ہو۔” (انجیل متی 23: 24)[60]

علماء کو رب بنانا در اصل اللہ تعالیٰ کی بات چھوڑ کر ان کی باتوں پر چلنا ہے [61]، یہ بات یہود و نصاریٰ کی طرح مسلمان علماء میں عام ہے، جس کی ایک مثال "ام السنہ” میں بیان کردہ اساس اسلام، جس میں کوئی نئی بات شامل کرنا یا کمی بیشی کرنا "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ” ہے علماء کے لینے عام بات ہے۔ مذہبی پیشواؤں کی بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ کی چند مثالیں پیش ہیں۔ ان بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی پیشوا، ام السنہ [ معیاری مستقلات اسلام (Islamic Standard Constants)] کے علاوہ دوسری باتوں کو بدعات کے کھاتہ میں ڈال کر "رب”[62] بن بیٹھے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے زیر اثر رکھ سکیں اور اس سے فقہ وارانہ فتنہ انگیزیاں ایک دوسرے پر دشنام طرازی کرنا عام ہے۔ رسول اللہﷺ صحابہ اکرام اور بزرگان دین سے منسوب روایت کی حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے مگر قرآن اور رسول اللہﷺ کی ہدایات[63]کی روشنی سے چیک کیا جا سکتا ہے صرف سلسلہ راویان کافی نہیں۔ جو روایت قرآن اور عقل کے برخلاف ہوں وہ کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ "رب کا کلام سچائی اور انصاف میں کامل ہے اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں (لَّا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ) ( 6: 115)[64]۔ رسول اللہﷺ تو قرآن کی زندہ مثال تھے آپﷺ کا اعلی اخلاق تھا[65]۔

 

خواہشات نفس بطور معبود

"کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود[66] بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہو سکتے ہو”(25: 43 قرآن)[67]

خواہش نفس کو معبود (إِلَٰہَہُ) بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بُت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔  حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:  ماتحت ظل السمآء من الٰہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عز و جل من ھوی یتبع، "اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو”۔  (طبرانی)۔

قرآن بار بار واضح کرتا ہے کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا در اصل اس کو خدائی میں اللہ کا شریک ٹھیرانا ہے، خواہ آدمی اس دوسرے کو زبان سے خدا کا شریک قرار دیتا ہو یا نہ قرار دیتا ہو۔  بلکہ اگر آدمی ان دوسری ہستیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی امر الٰہیٰ کے مقابلے میں ان کے اوامر کا اتباع کر رہا ہو تب بھی وہ شرک کا مجرم ہے۔  یہ شرک اعتقادی نہیں بلکہ شرک عملی ہے اور قرآن اس کو بھی شرک ہی کہتا ہے۔

حدیث مبارکہ ہے:  ( لَا یُؤمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّیٰ یَکُونَ ہَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ  (السّنۃ لابن أبی عاصم:  ۱۴)

’’تم میں کوئی ایک مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ اس کی خواہشات اس کے تابع ہو جائیں جو میں آیا ہوں (یعنی قرآن)‘‘ [68]

ہر ایک معاملہ میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کریں نہ کہ کسی انسان یا اپنی خواہشات کے نفس پر عمل کرنے کے لیے زبردستی قرآن و سنت سے تاویلات نکال کر گمراہی کے راستہ پر چل پڑیں۔

 

گمراہ کن نظریات

قرآن کی آیات محکمات، ام الکتاب اور ام السنہ حدیث جبرئیل کو چھوڑ کرتا ویلات پر قائم نظریات و عقائد بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں:

دین ‘اسلام’ کے نام کے ساتھ شخصیات، شہروں، عمارتوں، کتابوں، گروہوں وغیرہ کے نام، فرقہ وارانہ سابقہ و لاحقہ جات جوڑنا اور اس بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ پر فخر کرنا۔

رسول اللہﷺ کے بعد کسی امام یا نبی پر ایمان رکھنا وغیرہ۔

آخری کتاب قرآن کے ساتھ کسی دوسری کتاب یا کتب کو وحی[69] قرار دینا، پھر اس کے ذریعہ قرآن پر کنٹرول حاصل کر کے قرآن کو متروک العمل[70] کر دینا (قرآن 25: 30)۔ (مزید لنک[71])۔ یاد رہے کہ رسول اللہﷺ کو قرآن کے علاوہ علم [72]بھی عطا کیا گیا، جس کا ایک حصہ حضرت عمر (رضی اللہ) کو دیا گیا[73]۔

 

کتابت حدیث پر اہم ترین احادیث

ایک اہم ترین صحیح حدیث بڑی کتب حدیث میں نہیں نظر آتی، اس کی درستگی کی شہادت قرآن[74]، سنت رسول اللہﷺ، سنت خلفاء راشدین[75] [ابی داود 4607، ترمذی 2676، ابن ماجہ 42، 43[76] کو قبول کر کے عمل کریں یا تمام احادیث کا انکار] اور پہلی صدی حجرہ کے بعد تک اس پر عمل درآمد سے تاریخی طور پر بھی ثابت ہے۔ ابو ہریرہ (رضی اللہ)[77] نے مرتے دم تک حدیث نہ لکھی، لکھنے سے منع فرما تے، مٹا دیتے، کیا ان کو اور دوسرے صحابہ کو کتاب حدیث، لکھنے کی پابندی ختم ہونے کا علم نہ تھا؟ احادیث لکھنے کی عام اجازت نہ تھی۔ انفرادی نوٹس کی اجازت حافظہ کی کمزوری پر کسی کو ملی، کسی کو انکار۔

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السَّرَّاجُ، بِنَیْسَابُورَ،حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ:  حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ:  خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ، صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ، وَنَحْنُ نَکْتُبُ الْأَحَادِیثَ، فَقَالَ:  «مَا ہَذَا الَّذِی تَکْتُبُونَ؟»، قُلْنَا:  أَحَادِیثَ سَمِعْنَاہَا مِنْکَ۔ قَالَ:  «أَکِتَابًا غَیْرَ کِتَابِ اللَّہِ تُرِیدُونَ؟ مَا أَضَلَّ الْأُمَمَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِلَّا مَا اکْتَتَبُوا مِنَ الْکُتُبِ مَعَ کِتَابِ اللَّہِ»۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَةَ فَقُلْتُ:  أَنَتَحَدَّثُ عَنْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:  «نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنِّی وَلَا حَرَجَ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ»۔ کَذَا رَوَى لَنَا السَّرَّاجُ ہَذَا الْحَدِیثَ، وَرَوَاہُ غَیْرُ الْأَصَمِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ الدُّورِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ الْخَرَّازُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدٍ، فَاللَّہُ أَعْلَمُ

مفہوم:  ابو ہریرہ (رضی اللہ) نے فرمایا کہ:  اللہ کے رسول اللہﷺ ہمارے پاس آئے، اور ہم احادیث لکھ رہے تھے، اور آپﷺ نے فرمایا ا:  "یہ کیا لکھ رہے ہو؟” ہم نے کہا:  ہم نے جو آپ کی احادیث سنی ہیں لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:  کیا تم کتاب اللہ کے علاوہ کوئی اور کتاب لکھنا چاہتے ہو؟ تم سے پہلی امتیں گمراہ ہو گئی تھیں کیونکہ انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ دوسری کتابیں لکھیں۔  ابو ہریرہ نے کہا، اور میں نے کہا:  یا رسول اللہ، کیا ہم آپ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا:  "ہاں، میرے بارے میں بات کرو کوئی حرج نہیں مگر جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اسے اپنی جگہ جہنم میں پاتے۔ ” فَاللَّہُ أَعْلَمُ

["تقیید العلم للخطیب،33]،(لمکتبة الشاملة، فتح الباری ۱ / ۲۰۸[78])۔، [الفاظ میں فرق کے ساتھ، مسند احمد، حدیث:  10670، صحیح مسلم، حدیث:  7510، تقیید العلم، الخطیب البغدادی49)[79]،[80]،[81]،[82]

الراوی:  أبو سعید الخدری | المحدث:  شعیب الأرناؤوط | المصدر:  تخریج المسند لشعیب | الصفحة أو الرقم:  11092 | خلاصة حکم المحدث:  صحیح | التخریج:  أخرجہ مسلم (2004) بعضہ فی أثناء حدیث، وابن ماجہ (37) مختصراً، وأحمد (11092) واللفظ لہ[83] [1،2،3،4،5،6]

[1] https://shamela۔ws/book/11344/15

[2] https://dorar۔net/hadith/sharh/149085

[3] https://ar۔lib۔efatwa۔ir/43553/1/33

[4]http://quran1book۔blogspot۔com/2020/06/hadith۔html

[5] https://islamicurdubooks۔com/hadith/hadith.php?tarqeem=1&bookid=4&hadith_number=37

[6] https://defencejournal۔com/2020/12/10/oral۔hadiths۔permissible۔with۔related۔verses۔from۔quran/]

 

 

 

 ترسیل حدیث کے اہم اصول

 

قرآن و سنت سے ‘ترسیل حدیث’ کے ماخوذ اصول[84] بہت اہم ہیں جنہیں نظر کر کے اپنے طور پر اصول نافذ کرنا شرک ہے (قرآن 9: 31)[85]۔ ان کے مطابق حدیث متن کا قرآن[86] اورعقل و فہم [87]کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یہ تجویز کرے کہ اونٹ کا پیشاب کسی خاص بیماری کا مؤثر علاج ہو سکتا ہے تو ایسی روایت کو بلاشبہ گستاخانہ اور ہتک آمیز کوشش قرار دے کر رد کیا جا سکتا ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو پیغمبرﷺ کا مشن طبی مشورے دینا تھا اور نہ ہی ایسی ناپاک اشیاء جو کہ طہارت برقرار رکھنے کے لیے ممنوع ہیں، استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے [88]۔  لہٰذا پیشاب کے میڈیکل فوائد بیان کرنے کی بجایے ایسی روایت کو اس اعتماد کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے کہ پیغبرﷺ نے ایسا نہیں فرمایا ہو گا، یہ عین رسول اللہﷺ کے فرمان[89] کے مطابق ہو گا۔

سلسلہ اسناد بھی اہم ہے، ترسیل حدیث کا مروجہ مسنون طریقہ بذریہ حفظ و بیان[90] (کتاب صرف قرآن [91]) ہے۔مباحث اور تاویلوں ہے ان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہﷺ کے احکام پہلے واضح کر دینے گیے ہیں [92]۔ یاد رہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے جس کی نافرمانی کی سزا جہنم ہے۔[93]

قرآن کے ساتھ (مقابل) درجنوں کتب[94] کی گھمن گھیریوں میں لوگوں کو چکرا کر مذہبی پیشوا من مانی تاویلات[95] سے اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہیں جس سے ممانعت پرقرآن[96] سنت رسول اللہﷺ [97]اوراجتماعی سنت چاروں خلفاء راشدین متفق ہیں [98]، یہ ریکارڈڈ، محفوظ شدہ، قابل تصدیق حقیقت ہے جس کا تاویلات اور دروغ گوئی سے بھی انکار ممکن نہیں [99]۔

قرآن ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، مگر سنت، حدیث کی کتابت سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا[100] کیونکہ پہلی امتیں (یہود و نصاریٰ[101]) کتاب اللہ کے علاوہ (مسیحی انجیل کے علاوہ عہد نامہ جدید21 اور یہود تورات کے علاوہ تلمود کی 38) کتب لکھ کر گمراہ ہو چکیں [102] یہ غلطی آخری امت نے نہیں دہرانی تھی (اس اہم ترین حدیث کو مشہور کتب حدیث میں شامل نہ کرنے سے حقائق مسخ نہیں ہو سکتے) رسول اللہﷺ کے حکم کے مطابق سنت اور حدیث، عمل اور زبانی حفظ[103] و بیان، سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔

چاروں خلفاء راشدین[104] کی اجتماعی سنت میں بھی تدوین قرآن ہے مگر کتابت احادیث نہیں۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہش پر مشاورت، غور فکر اور استخارے کے بعد خلیفہ راشد، ثانی[105] نے کیا جس کو بعد والوں اور سب نے قبول کیا اس طرح عملی طور پرچاروں خلفاء راشدین کا اجماع سنت بن گیا وہ سنت جسے دانتوں سے پکڑنے کا حکم رسول اللہﷺ نے دیا تھا[106]، نا کہ پیروں تلے روندنے کا (استغفراللہ)۔ بظاہر الفاظ سخت لگتے ہیں مگر اس سے کم نرم الفاظ نہیں ہو سکتے دین کا اہم ترین بنیادی مسئلہ ہے، "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ”، یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے احکام پر عمل کی غفلت یا سستی نہیں بلکہ انکار، بغاوت، بدعة سے بہت آگے ہے۔ سب مسلمان حدیث رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں کچھ نے تو حدیث کو اپنی پہچان بنا رکھا مگر جب ان کی اور سب کی توجہ احادیث ابی داود 4607، ترمذی 2676، ماجہ 42، 43 کی طرف کی جاتی ہے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث کا ایک حصہ ("کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ”) خوب زور شور سے مخالف فرقوں پر لاگو کرتے ہیں مگر دوسرا حصہ (فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَہْدِیِّینَ الرَّاشِدِینَ تَمَسَّکُوا بِہَا وَعَضُّواعَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ) [107] ترجمہ: ( تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا) پر بات کرنا پسند نہیں کرتے، ناراض ہو جاتے ہیں، منکر حدیث بن جاتے ہیں، کیوں؟ دلیل کا جواب دلیل ہے (قُلْ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ إِن کُنتُمْ صَادِقِینَ۔ اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو( 2: 111 ‏)[108] یا غلطی تسلیم کر کے اصلاح کریں۔ بزرگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد مگرہم کو گوں گا شیطان بننے کی بجایے غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی کوشش کرنا ہو گی۔ حدیث سے استفادہ کے لینے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)[109] اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور و فکر کیا جا سکتا ہے [110]۔

پہلی صدی گزر گئی[111]۔ رسول اللہﷺ کے حکم اور خلفاء راشدین کے اجماع سنت کے مطابق، سنت رسول اللہﷺ عمل سے اور حدیث زبانی حفظ[112] و بیان، سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔

پہلی صدی کے مسلمان کا دین اسلام کامل تھا۔ ان کی ہدایت کی بنیاد، ایک اللہ، ایک رسول اللہﷺ اور ایک کتاب قرآن تھی جس میں کوئی اور شریک نہ تھا۔ پھر تیسری صدی[113] بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ کی آ گئی جب "أَطِیعُوا اللَّہَ وَالرَّسُولَ”[114] کا مطلب عملی طور پر تبدیل ہو گیا دو ڈھائی صدیوں میں تینوں کے شریک پیدا ہو، مذہبی پیشواؤں نے تاویلوں اور تحریروں سے دلائل کے زور پر رب[115] بن بیٹھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ قرآن تو "آیات محکمات”[116] کے بغیر احکام قبول نہیں کرتا (مزید تفصیل لنکس پر[117]، [118])

قرآن و سنت کے احکام کی خلاف درزی کا نتیجہ درجنوں فرقے اور لا تعداد ذیلی فرقے ہیں، وقت کے ساتھ کچھ ختم ہوتے ہیں تو نئے پیدا ہو جاتے ہیں۔ احادیث کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں تک پہنچ چکی ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے جبکہ تحقیق کے بعد کمی ہونا چاہیے [119]۔ عبادات کے احکام قرآن سے ملتے ہیں، مگر تفصیلات سنت رسول اللہﷺ سے ملتا ہے۔ مگر سنت میں اختلاف ہے اسی لینے چار سنی فقہ اور شیعہ فقہ کے علاوہ مزید اہل سنہ میں وہابی[120] (سعودیہ راستہ بدل چکا[121]) سلفی، اہل حدیث، غیر مقلد بھی کہلاتے ہیں۔[122] ذیلی فرقوں کا شمار نہیں۔ صَلَاة‎ کی ادائیگی اور عبادات میں کچھ فرق پایا جاتا ہے جس پر پانچوں فقہ نے قبول کر لیا ہے۔ لیکن ایک بڑا فرق، قرآن نے تین اوقات صَلَاة‎[123] کا واضح ذکر کیا، اور پانچ کا مبہم۔ سنت رسول اللہﷺ پانچ صَلَاة‎ (اہل سنہ) کی ہے اور اور تین اوقات میں جمع صَلَاة‎[124] کی بھی ہے، جس پر اہل تشیع عمل کرنے ہیں۔ سب سنت پر عمل پیرا ہیں جو تنقید کرتا ہے وہ سنت رسول اللہﷺ پر تنقید کرتا ہے۔ ایسے معاملہ پر تنقید کی بجائے خاموشی بہتر ہے، جس کے پاس جو سنت پہنچی ہے اس پر عمل کرتا ہے۔ مگر کسی کی طرف سے من گھڑت تاویلات قبول نہیں کی جا سکتیں۔ قرآن کی آیات محکمات سے مدد لی جا سکتی ہے۔ بہت علماء[125] اصل سادہ دین کامل کی بحالی کی بجائے قرآن کی آیات محکمات کو چھوڑ کر دوسری آیات کی تاویلوں اور ذخیرہ احادیث میں سے اپنا من پسند مواد اکٹھا کر کے نئے نئے فرقہ نئے ناموں سے بناتے رہتے ہیں، مخالفین پر بدعة کا الزام لگا تے ہیں، مخالفین کے مضبوط و درست دلائل کو مخفی رکھتے ہیں۔ جب کہ "اسلام” اللہ کا دیا نام ہے اور دین اسلام کامل[126] ہو چکا [127]۔

ز مَن بر صُوفی و مُلآ سلامے:  کہ پیغامِ خُدا گُفتَند ما را

ولے تاویلِ شاں در حیرت اَنداخت:  خُدا و جبرئیلؑ و مصطفیؐ را

میری جانب سے صُوفی و مُلّا کو سلام پہنچے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہم تک پہنچائے، لیکن انہوں نے اُن احکامات کی جو تاویلیں کیں، اُس نے اللہ تعالیٰ، جبرائیل ؑاور محمد مصطفیﷺ کو بھی حیران کر دیا۔ (علامہ محمد اقبال)

 

فرقہ واریت

 

عبادات کی تفصیل قرآن میں موجود ہے مگر بہت کچھ سنت سے ملتا ہے۔ مگر سنت میں اختلاف ہے اسی لینے چار سنی فقہ اور شیعہ فقہ کے علاوہ مزید اہل سنہ میں وہابی[128] (سعودیہ راستہ بدل چکا[129]) سلفی، اہل حدیث، غیر مقلد بھی کہلاتے ہیں۔[130] ذیلی فرقوں کا شمار نہیں۔ صَلَاة‎ کی ادائیگی اور عبادات میں کچھ فرق پایا جاتا ہے جس پر پانچوں فقہ نے قبول کر لیا ہے۔ لیکن ایک بڑا فرق، قرآن نے تین اوقات صَلَاة‎[131] کا واضح ذکر کیا، اور پانچ کا مبہم۔ سنت رسول اللہﷺ پانچ صَلَاة‎ (اہل سنہ) کی ہے اور اور تین اوقات میں جمع صَلَاة‎[132] کی بھی ہے، جس پر اہل تشیع عمل کرنے ہیں۔ سب سنت پر عمل پیرا ہیں جو تنقید کرتا ہے وہ سنت رسول اللہﷺ پر تنقید کرتا ہے۔ ایسے معاملہ پر تنقید کی بجائے خاموشی بہتر ہے، جس کے پاس جو سنت پہنچی ہے اس پر عمل کرتا ہے۔ مگر کسی کی طرف سے من گھڑت تاویلات قبول نہیں کی جا سکتیں۔ قرآن کی آیات محکمات سے مدد لی جا سکتی ہے۔

 

دہشت گردی شرک اور پیغام پاکستان

 

القاعدہ، داعش، ISIS، بوکو حرام، ٹی ٹی پی اور اس قسم کی دہشت گرد عسکری سیاسی تنظیموں کو اسلام دشمن طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے، اسلامی ممالک کی نیم اسلامی، غیر اسلامی جابرانہ، کرپٹ حکومتوں اور معاشروں میں فتنہ و فساد کے لیے استعمال کرتے ہیں ان گروہوں نے مظلوم مسلمانوں کو نفاق، انتشار، دہشت گردی، قتل و غارت اور عدم استحکام کے علاوہ کچھ نہیں دیا یہ نفاذ اسلامی نظام کا نعرہ عوامی ہمدردی کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کا عملی طریقہ غیر اسلامی ہے۔ اس پر پاکستان کے ہزاروں علماء کا متفقہ فتوی "پیغام پاکستان” ایک اہم دستاویز ہے [133] جس کا مطالعہ اور عمل ہر پاکستانی عالم دین[134] اور عام مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

 

شرک میں حصہ دار

 

شرک اور اس میں حصہ داری عام وبا ہے، ایک مثال تکفیری طالبان کا خود کش حملہ جو کہ حرام ہے اس کو کو حلال سمجھتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے حکم کا انکار، کفر کرتے ہیں:  خود کشی اسلام میں حرام ہے: (البقرہ: 195)[135] (البخاری 4207)، معصوم لوگوں کا قتل حرام (قرآن 5: 32)[136]، فتنہ و فساد حرام (33;5)، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے احکام کے برخلاف اپنے احکام جاری کر کہ حرام کو حلال قرار دیتے ہیں یہ رب بنتے ہیں، جو کہ شرک ہے (قرآن 9: 31)[137]، اللہ کے احکام کو کوئی نہیں بدل سکتا ( لَّا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ) (6: 115)[138]

اس لینے تکفیری طالبان کیا مشرک نہیں؟ جو ان کا حمایتی ہو، وہ بھی ان کے شرک میں حصہ دار ہے [139]، افغان طالبان حکومت اور ہمارے اندر لاعلم لوگ۔۔  جو چند اسلامی اقدام پر خوش ہوتے ہیں اور مشرکین مکہ کی طرح خواتین کے حقوق، تعلیم اور دوسری قبائلی رسوم و رواج کو ترجیح دینا۔۔۔  اسلام میں مکمل داخل ہونا ہوتا ہے یہ نامکمل اسلامی شریعت، اسلام کی توہین ہے۔

"جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے ” (قرآن 4: 85)[140]

اپنے ایمان کی حفاظت کریں، دہشت گردی کو مسترد کریں (پیغام پاکستان)[141] اور مزید اس طرح تاویلوں پر قائم گمراہ کن نظریات کو مسترد کریں (رسالة التجدید)

 

عبادات پر فقہی اختلافات

 

اس قسم کے اختلافات پر جھگڑ کرنا مناسب نہیں، کیونکہ سب کے پاس قرآن و سنت سے دلائل ہیں کسی لاعلم کے علاوہ کوئی زی عقل کسی امام یا مذہبی لیڈر کی اندھی تقلید نہیں کر سکتا جب تک قرآن و سنت سے دلیل نہ ہوں، جوکہ کسی دوسرے فقہ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحت یا ہمارا امتحان کہ قرآن میں بیان نہیں فرمایا جبکہ وضو اور تیمم کا بیان موجود ہے۔ نماز کی تفصیل نہیں بیان کی اور سنت پر چھوڑ دیا مگر صَلَاة‎ کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سکھلایا اس کے تمام اجزاء قرآنی اشارات پر مبنی ہیں، مگر اللہ کے رسول کے سوا ان ارشادات کو جمع کر کے کوئی شخص بھی نماز کی یہ ہیئت ترتیب نہیں دے سکتا تھا[142]۔ سنت کی کتابت سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا[143] کیونکہ پہلی امتیں (یہود و نصاری[144]) کتاب اللہ کے علاوہ کتب لکھ کر گمراہ ہو چکیں [145] یہ غلطی آخری امت نے نہیں دہرانی تھی، پھر چاروں خلفاء راشدین[146] کی اجتماعی سنت بھی یہی ہے، بہت مشاورت اور استخارے کے بعد یہ فیصلہ ہوا اور سرکاری طور پر قرآن کی تدوین کے بعد بھی پہلی صدی گزر گئی[147]۔ سنت نسل در نسل، زبانی بیان، ذاتی نوٹس اور عملی طور پر منتقل ہوتی رہی۔ (تفصیل لنکس[148]، [149])

کیا بعد کے عقلمندوں کو ان اصحاب کی نییت، عقل و فراست، علم اور خلوص پر شک ہے؟ یہ رسول اللہﷺ اور چاروں خلفاء راشدین کی سنت ہے جس کو جبڑوں سے پکڑنے کا حکم فرمایا۔[150] قرآن و سنت کے احکام کی خلاف درزی کا نتیجہ پانچ، چھ، پچاس، ستر فرقے اورلا تعداد ذیلی فرقے ہیں، وقت کے ساتھ کچھ ختم ہوتے ہیں تو نئے پیدا ہو جاتے ہیں۔ احادیث کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں تک پہنچ چکی ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے جبکہ تحقیق کے بعد کمی ہونا چاہیے [151]۔ بہت علماء[152] اصل سادہ دین کامل کی بحالی کی بجائے قرآن کی آیات محکمات کو چھوڑ کر دوسری تاویلوں اور زخیرہ احادیث میں سے اپنا من پسند مواد اکٹھا کر کے نئے نئے فرقہ نئے ناموں سے بناتے رہتے ہیں مخالف درست دلائل کو مخفی رکھتے ہیں جبکہ”اسلام” اللہ کا دیا نام ہے اور دین کامل[153] ہو چکا [154]۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان یاد رکھیں: "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سِوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مُقّرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بُہتان باندھا۔ ” (قرآن 4: 48)[155]، عقلمندوں کے سوا کوئی نصیحت قبول نہیں کرتا۔  (قرآن 2: 269)[156]، "۔۔۔ اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں ہر وہ چیز بتا دے گا، جس میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے "(قرآن 5: 48)[157]

بدعة۔۔۔

https://salaamone۔com/wp۔content/uploads/2019/01/Bida۔pdf

 

 نتائج

 

1۔ اساس اسلام کی تعریف، "معیاری مستقلات اسلام” ( Islamic Standard Constants) "ام السنہ” میں شامل آیت مُّحکَمٰتٌ (اُمُّ الکِتٰبِ)[158] پر مشتمل ہیں جو کہ پہلے بیان کیے جا چکے ہیں، یہی اساس اسلام، دین کامل ہے اور ان سے انحراف (deviations)، تبدیلی، کمی یا اضافہ "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ ” ہے۔

2۔ خلفاء راشدین نے جو نئے اقدامات لینے ان کا تعلق "ام السنہ” سے نہیں اس لینے وہ "کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ ” میں شامل نہیں۔

3۔سنت خلفاء راشدین کا اتباع (انفرادی یا اجتماعی سنت) در اصل حکم رسول اللہﷺ کی تعمیل ہے کہ رسول اللہﷺ نے خلفاء راشدین کی سنت کو دانتوں سے پکڑنے کا حکم فرمایا[159]، خلفاء راشدین کی سنت کا ذکر اپنی سنت سے علیحدہ کیا کہ اس میں نئی بات ہو گی مگر "ام السنہ” سے الگ، اسی لینے خلفاء راشدین کی سنت پر تنقید در اصل رسول اللہﷺ پر تنقید ہے۔

 

تجاویز

 

"امر بالمعروف نہی المنکر” کی تبلیغ کے لیے ان امور پر زور دیں جو بنیادی احکام اور متفقہ ہیں

ام القرآن[161] اور ام السنہ[162] پر سمجھوتہ ممکن نہیں، ان پر تاویلات نا قابل قبول ہیں۔

کوئی نیا نظریہ، اصول یا احکام "آیات محکمات” سے دلیل کے بغیر نا قابل قبول۔

فقہی اختلافات جو تاویلات اور غیر متفقہ احادیث پر قائم ہیں پر عوامی مباحث لاحاصل ہیں، ان کو علماء تک محدود رکھنا چاہیے۔

تاویلات کے زور پر شرک کی لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے جس کا سد باب ضروری ہے۔

عبادات اہم ہیں، معاشرہ میں معاملات، حقوق العباد[163] میں بہت کمزوری پائی جاتی ہے جس پر بہت توجہ کی ضرورت ہے [164]۔ اللہ کا فرمان ہے:

"۔۔ تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا۔” (20: 123)[165]

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (25: 30)

 

 حرف آخر

 

اب کسی نئے دین یا فرقہ کی ضرورت نہیں پس اسلام دین کامل جو کہ "ام السنہ” حدیث جبرائیل[166] میں بیان کر دیا گیا، کی طرف واپسی کا سفر خود طے کرنا ہے۔ اسلام کا آغاز سرزمین عرب سے ہوا مگر یہ ایک عالمی دین ہے جس کے پیروکار متنوع ثقافتی پس منظر اور خطوں میں پھیلے ہوے ہیں۔  اس کے نتیجہ میں، مسلمانوں نے مختلف ثقافتی طریقوں اور روایات کو فروغ دیا ہے جو ایک خطہ سے دوسرے میں مختلف ہو سکتے ہیں۔  ان ثقافتی طریقوں میں لباس، کھانا، سماجی رسم و رواج اور خوشی غمی کی تقریبات، طریقے شامل ہو سکتے ہیں۔  مسلم دنیا کے اندر ثقافتی طریقوں کے تنوع کو امت مسلمہ کی افزودگی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔  یہ مختلف معاشروں میں اسلام کی موافقت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام ہر طرح کے مقامی رسوم و رواج کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ ام السنہ” حدیث جبرائیل[167] میں بدعات قابل قبول نہیں۔ مگر جب سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات اور طب جیسے شعبوں میں اختراعات کی بات آتی ہے تو یہ مذہبی لحاظ سے بدعة نہیں، یہ قبول کی جاتی ہیں اور در حقیقت حوصلہ افزائی کی جاتی ہیں، بشرطیکہ یہ اسلامی اصولوں اور اخلاقیات سے متصادم نہ ہوں۔  اسلام فکری جستجو کی ایک بھرپور روایت رکھتا ہے اور معاشرے کی بہتری کے لیے علم اور ترقی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔  مسلمان ایک زندہ، ترقی پذیر قوم کے طور پر دنیا میں ترقی و تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہو کر نئی نئی ایجادات و اطوار کو قبول کر کے اقوام کی قیادت کی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں مگر اسلام کی اساسی بنیاد پر سمجھوتہ کے بغیر!

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ پر چلے اور دوسروں کو بھی نصیحت کرے۔

اللہ کو بھی جواب اکیلے دینا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ:  "تم ہمارے پاس اسی طرح تن تنہا آ گئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا تھا وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہمیں تو تمہارے وہ شفاعت (شُفَعَآءَ)[168] کرنے والے کہیں نظر نہیں آ رہے جن کے بارے میں تمہارا دعوی تھا کہ وہ تمہارے معاملات طے کرنے میں (ہمارے ساتھ) شریک ہیں۔  حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارے سارے تعلقات ٹوٹ چکے ہیں اور جن کے بارے میں تمہیں بڑا زعم تھا وہ سب تم سے گم ہو کر رہ گئے ہیں (قرآن:  6: 94)[169]

 

 ہم کیا کریں؟

 

جس جگہ کھڑے ہیں ادھر ہی رہیں، اپنے عقائد و نظریات کو "آیات محکمات”، ام الکتب اور ام السنہ۔ حدیث جبرائیل سے خود چیک کریں، جہاں تصحیح کی ضرورت ہو کریں۔ فقہی اختلافات جن کی بنیاد قرآن کی آیات محکمات پر نہ ہو مسترد کریں، لیکن اگر مختلف روایات پر ہو تو درگذر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ قرآن سے متضاد نہ ہوں۔ قرآن اور رسول اللہﷺ کے احادیث کے معیار اور اصولوں [170] کی بنیاد پر احادیث کی ‘تدوین نو’ کی ضرورت ہے، جو سکالرز، محدثین (Artificial Intelligence)[171] کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ فی الحال انفرادی طور پر تصدیق کی جا سکتی ہے۔ یہ مضمون صرف ایک تعارف ہے، اگلا قدم "مقدمہ”[172] کا مطالعہ، پھر تحقیق (ریسرچ پیپر eBook) کا مطالعہ[173] ویب سائٹس پر مضامین[174] بھی موجود ہیں۔ یہ ایک وقت طلب کام ہے جس کو اطمینان سے مرحلہ وار کیا جانا سکتا ہے۔

صرف اللہ تعالی، رَبِّ الْعَالَمِینَ کی بندگی کریں [175]۔ اپنے علماء اور ساتھیوں کو بھی نصیحت کریں، [176] اگر کوئی بات نہیں مانتا ور اپنے علماء، ائمہ، مذہبی پیشواؤں اور اپنے نفس کی بات پر چلتا ہے [177] (یعنی عملاً ان کو اپنا رب مانتا ہے) تو آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ (وَمَا عَلَینَاۤ اِلَّا البَلٰغُ المُبِینُ) اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے (القرآن36: 17)۔ لیکن نصیحت کرتے رہیں۔

اللہ کے فرامین سے یہ ظاہر ہے کہ:

شرک:  ناقابل معافی

 

سب سے پہلے یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ "توحید” اسلام کی بنیاد ہے جس کا برعکس "الحاد” اور "شرک” ہیں۔ اللہ کائنات کا اکلوتا حاکم ہے۔  جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا یا اس کی مخلوق میں سے کسی کی دینی اطاعت کی تو اسے رب بنا لیا (9: 31) اس نے واقعی بہت بڑا گناہ کیا۔  اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے (، 4: 116،4: 48)[178] یہ ایک سخت وارننگ ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ دوران بحث شرک کی کسی بھی صورت یا مشابہت سے بچا جا سکے:

اکثر وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں (اور خود کو مسلمان کہتے ہیں) شرک کرتے ہیں (12: 106)

اس زمرے میں وہ لوگ شامل ہیں جو اپنی خواہشات کی عبادت کرتے ہیں (45: 23)

اور وہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ کا بیٹا ہے، [179] تثلیث کو مانتے ہیں (4: 171)، (5: 73، 5: 72)

اور جو اپنے مذہبی پیشواؤں کی اطاعت کرتے ہیں یہ ان کو رب ماننا ہے (قرآن 9: 31)

اللہ کے عطا کردہ نام اسلام، مسلم کو نامکمل سمجھ کر فرقہ واریت کے سابقے لاحقے لگا کر ربوبیت کرتے۔(9: 31، 39: 12، 22: 78)[180]

وہ لوگ جو انسانی عبادت اور فرقہ پرستی میں ملوث ہیں [181](30: 31،32)، (42: 21)[182]

وہ لوگ جو انسان کی بنائی ہوئی کتابوں کی پیروی کرتے ہیں، بجانے اللہ کی کتاب کے، (7: 185)،77: 50،45: 6)[183] (6: 122)، (6: 137)[184]

اور جو لوگ قرآن کے بعد وحی کا دعویٰ کرتے ہیں یا اس پر یقین رکھتے ہیں، کسی بھی شکل میں (33: 40) (6: 62)، (7: 173)، (7: 191)

ایسے لوگ انسانیت کے اعلیٰ مقام سے گر جاتے ہیں۔۔ اللہ کے علاوہ کسی بھی ہستی کی اطاعت، عبادت کرنا ہے، انسان کی "ذات” کو انسانی سطح سے نیچے لے جاتا ہے (22: 31)۔

"۔۔ تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا۔” (20: 123)[185]

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (25: 30)[186]

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِینَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ‎﴿البقرة۲۸۶﴾‏

٭٭٭

 

 

 

حوالہ جات

 

[1]مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد علامہ اقبالؒ کو عہدِ حاضر میں اعجاز قرآن کا مظہر قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں:  ’’میرے نزدیک عہد حاضر میں قرآن کے اعجاز کا سب سے بڑا مظہر علامہ اقبال کی شخصیت ہے۔  بیسویں صدی میں علامہ اقبال جیسا ایک شخص جس نے وقت کی اعلیٰ ترین سطح پر علم حاصل کیا، جس نے مشرق و مغرب کے فلسفے پڑھ لئے، جو قدیم اور جدید دونوں کا جامع تھا، جو جرمنی اور انگلستان میں جا کر فلسفہ پڑھتا رہا، اُس کو اس قرآن نے اس طرح Possess کیا اور اس پر اس طرح چھاپ قائم کی کہ اُس کے ذہن کو سکون ملا تو صرف قرآنِ حکیم سے اور اس کی تشنگیِ علم کو آسودگی حاصل ہو سکی تو صرف کتاب اللہ سے گویا بقول خود اُن کے ؎

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی:  مرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں!

[1] https://bit.ly/Reconstruction۔Iqbal

http://www.zindgienau.com/Issues/2017/September2017/images/unicode_files/heading3.htm

[2]https://bit.ly/QuranKaTaarif https://bit.ly/HadithConform2Quran

https://bit.ly/WhyTejdeed

[3] قرآن 25:30 / قرآن متروک العمل :

https://bit.ly/QuranAbandoned https://bit.ly/Hadith-Basics

[4] https://salaamone.com/2islam/

[5]  قرآن 25:30

https://bit.ly/QuranAbandoned

[6] علماء اور اہل علم لوگوں سے تبادلہ خیالات:

https://quran1book.blogspot.com/2020/06/QnA.html

https://bit.ly/Discussion-QA19

https://salaamone.com/muslim-only

[7]  https://bit.ly/Reconstruction-Iqbal

[8 ] https://salaamone.com/2islam/

[9] https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

https://bit.ly/Hadis-Jibril

[10] 3:7 قرآن Master Key 4 Quran کلید قرآن :

https://bit.ly/Key4Quran

[11]  https://bit.ly/HadiStandard

https://bit.ly/Hadith-Basics

https://bit.ly/HadithConform2Quran

[12] رسول اللہ ﷺ کا معیار حدیث:

https://bit.ly/HadiStandard

[13] علم الحديث کے سات سنہری اصول (علم الحديث سبع قواعد ذهبية:

https://bit.ly/Hadith-Basics

[14] رسالة التجديد :تحقیقی مقاله (ای – بک)

https://bit.ly/TejdeedResearch

[15]  https://quran1book.blogspot.com/

[16] https://quran1book.wordpress.com/

[17] https://quran1book.blogspot.com/2020/06/e-book.html

https://SalaamOne.com/books

https://FreeBookPark.blogspot.com

https://bit.ly/Revival-RisalaAlTejdeed-pdf

[18]https://defencejournal.com/author/aftab-khan

[19]  FB@IslamiRevival, Twitter/X@QuranAhkam, Email: Tejdeed@gmail.com

[20] ، بدعة گمراہی (وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ’):

https://bit.ly/Bidaah

[21]  [ابن ماجہ, 42 , ابی داود 4607 ، ترمزی 2676 وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كتاب السنة باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ حكم صحيح (الألباني)]

https://bit.ly/WaseyatRasool

[22]  https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/5:3(3:7)

https://bit.ly/Key4Quran /

[23] دین ‏کامل :

https://bit.ly/Deen-Kamil

[24] بدعة :

https://salaamone.com/bida/

[25]https://quran1book.blogspot.com/2023/06/19QA.html

ttps://tanzil.net/#trans/ur.maududi/3:102 -106

[26] https://trueorators.com/quran-tafseer/3/104

https://tanzil.net/#search/quran/%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%88%D9%81

[27]  https://wp.me/scyQCZ-basics

[28]https://en.wikipedia.org/wiki/Ten_Commandments

[29]https://en.wikipedia.org/wiki/Ten_Commandments

[30]  https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

https://bit.ly/Hadis-Jibril

[31] بدعة گمراہی (وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ’) :

https://bit.ly/Bidah

https://SalaamOne.com/bida

[32]Islam Judaism and Christianity Sources of Fundamental Beliefs:

https://wp.me/scyQCZ-basics

[33] بدعة گمراہی (وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ’) :

https://bit.ly/Bidah

https://SalaamOne.com/bida

[34] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/6:159

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/3:102-108

[35] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/3:4

[36]  مسلم 1739 –

https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=2&hadith_number=1739

[37] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/49:6

 

[38]  http://bit.ly/38fgwDq\

https://quran1book.wordpress.com/2020/11/16/hadith/

http://bit.ly/3a92u7B

[39] https://bit.ly/Hadith-Basics

[الرئيسية الكفاية في علم الرواية للخطيب, باب الكلام في أحكام الأداء وشرائطه، حديث رقم 1303]

[40] https://quran1book.blogspot.com/2020/06/hadith-sunnah.html

https://salaamone.com/mutwatir/

[41] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/4:59

[42]https://quran1book.blogspot.com/2021/11/Deviation.html

[43]احادیث  کو قرآن 3:7 سے بھی مدد ملتی ہے۔

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/3:7

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/59:7

[44]https://quran1book.blogspot.com/2021/08/Bidah.html

[45] https://salaamone.com/ur-intellect/

[46] https://SalaamOne.com/dawa

[47]https://bit.ly/Key4Quran

https://trueorators.com/quran-tafseer/3/7

[48]https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/5:67

خطبہ حج

https://trueorators.com/quran-tafseer/5/67

https://www.islamicurdubooks.com/tafseer/tafseerbab_detail2.php?ftafseerbab_id=815

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/5:15

[49]http://www.zindgienau.com/Issues/2017/September2017/images/unicode_files/heading3.htm

[50]https://quransubjects.blogspot.com/2021/03/quran-key.html

[51]  https://trueorators.com/quran-tafseer/3/7

[52]https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

https://bit.ly/Hadis-Jibril

[53] تجديد ایمان:

https://bit.ly/Aymaan

[54] https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=46

[بخاری46 مسلم 100]

[55] https://bit.ly/Hadis-Jibril

حدیث ِجبرائیل اُمّ السنۃ

یہ حدیث احادیث کی پانچ کتابوں میں ہے اور پانچ ہی صحابہؓ سے منقول ہے‘ یعنی حضراتِ عمر بن خطاب،  ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور ابو عامر رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے چار طریق سے مروی ہے. ان میں سے جو متفق علیہ روایت ہے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے، لیکن جو مقبول ترین روایت ہے، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور صحیح مسلم (کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان ) میں ہے.

[56]حدیث کی قبولیت ، قرآن سے مشروط؛ : تفہیم القرآن ، تفسیر 53:18 نوٹ 14

https://bit.ly/HadithConform2Quran

[57] علماء حق اور علماء سوء، عالموں کو رب بنانا (قرآن 9:31 /

https://bit.ly/UlemaAsRab

https://quran1book.blogspot.com/2020/06/ulema-as-gods.html

[58] البدعة الكبيرة

Big Bid’ah: https://salaamone.com/big-bidah

https://bit.ly/BigBida

[59] یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر :

https://bit.ly/YahoodONasara

[60]https://www.biblegateway.com/passage/?search=%D9%85%D8%AA%D9%91%DB%8C%2023&version=ERV-UR

[61] https://bit.ly/UlemaAsRab

[62] علماء حق اور علماء سوء، عالموں کو رب بنانا

https://bit.ly/UlemaAsRab

[63]  https://bit.ly/Hadith-Basics

[64]  https://tanzil.net/#6:115

[65]  (مسند احمد91/6ا، (القلم 4:68)،

https://tanzil.net/#68:4

[66] https://bit.ly/NafsElaha

https://trueorators.com/quran-tafseer/25/43

[67] http://salaamone.com/nafas

https://trueorators.com/quran-tafseer/25/43

[68] (تفہیم القرآن)

[69] وحی متلو اور غیر متلو تحقیقی جائزہ1

https://bit.ly/WahiGhairMatlo-1

وحی "متلو” اور "غیر متلو” تحقیقی جائزہ2

https://bit.ly/WahiGhairMatlo-2

[70] قرآن متروک العمل :

https://bit.ly/QuranAbandoned

[71] دو اسلام – ڈاکٹر برق :

https://salaamone.com/2Islam

[72] https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7006

[73] (بخاری 7006 ومسلم 6190 ) (مشکوٰۃ المصابیح, حدیث نمبر: 5988)

[74]https://quran1book.blogspot.com/2021/07/Best-Hadith.html

[75] خلفاء راشدین الْمَهْدِيِّينَ کی سنت کی شرعی حیثیت اور کتابت حدیث:

https://bit.ly/Sunnah4Caliphs

[76] رسول اللہ ﷺ کی الوداعی وصیت، حکم (ابی داؤد 4607, ترمذی 2676، ماجہ 42، 43) کا انکار

https://bit.ly/WaseyatRasool

[77] ہزاروں احدیث کے راوی صحابہ حضرت ابو ھریرہ، عبد اللہ بن عبّاس ، عبد اللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عمر، زيد بن ثابت، ابو سعید خضری (رضی الله عنہم ) کا پابندی کتابت احادیث پر مرتے دم تک عمل کیا۔

https://bit.ly/SahabaObey

[78] https://shamela.ws/book/11344/15

[79] https://defencejournal.com/2020/12/10/oral-hadiths-permissible-with-related-verses-from-quran

[80] https://ar.lib.efatwa.ir/43553/1/33

[81]https://quran1book.blogspot.com/2020/06/hadith.html

[82] https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=4&hadith_number=37

[83]  https://dorar.net/hadith/sharh/149085

[84] علم الحديث کے سنہری اصول :

https://bit.ly/Hadith-Basics

[85] https://tanzil.net/#trans/en.sahih/9:31

عالموں کو رب بنانا:

https://bit.ly/UlemaAsRab

[86]  (قرآن 10:15,,23:120,7:157,18:27,18:26)/ https://tanzil.net/#trans/en.sahih/10:15

(مشکوٰۃ المصابیح،حدیث, 190, 189) (سنن دارقطنی: ۱؍۱۱۷)، (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 237)،   (رواہ احمد (۲/ ۱۸۵ ح ۶۷۴۱۹) و ابن ماجہ (۸۵), [ صحیح مسلم 2950،  [ابی داؤد 1905],  (البخاری، حدیث:7277), [الرئيسية الكفاية في علم الرواية للخطيب, باب الكلام في أحكام الأداء وشرائطه، حديث رقم 1303]

[87] (قرآن 2:269), ” [ مسند احمد- حدیث: 22505],  ( تفہیم القرآن، سید ابو اعلی مودودی، تفسیر،الحج، 22:1  نوٹ1 )

[88]https://darulifta-deoband.com/home/ur/Food–Drinks/55040,

https://quran1book.blogspot.com/2023/07/Urine-Treatment.html

[89]  [ مسند احمد- حدیث: 22505]

[90] [(مشکوٰۃ المصابیح, حدیث نمبر: 228, صحیح، رواہ الشافعی (فی الرسالۃ ص ۴۰۱ فقرہ: ۱۱۰۲ ص ۴۲۳) و البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۳۸) و الترمذی (۲۶۵۸) و احمد (۱/ ۴۳۶) تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ العلم 10 (3660)، سنن ابن ماجہ/المقدمة: 18 (230) (تحفة الأشراف: 3694)، و مسند احمد (1/437)، و (5/183)، وسنن الدارمی/المقدمة 24 (235) (صحیح)

[91]  (قرآن:177, 2:285، 39:23، 45:6، 77:50،7:185، 4:87)  ["تقييد العلم للخطيب 33], [الفاظ میں فرق کے ساتھ ، مسند احمد، حدیث: 10670.مزید ملاحظہ، ابی داؤد 4607, ترمزی 2676، ماجہ 42، صحیح مسلم، حدیث: 7510، تقييد العلم ، الخطيب البغدادي : 49), (لمكتبة الشاملة , فتح الباري ١ / ٢٠٨) [,2,3,4,5,6,1], الراوي : أبو سعيد الخدري | المحدث : شعيب الأرناؤوط | المصدر : تخريج المسند لشعيب | الصفحة أو الرقم : 11092 | خلاصة حكم المحدث : صحيح | التخريج : أخرجه مسلم (2004) بعضه في أثناء حديث، وابن ماجه (37) مختصراً، وأحمد (11092) واللفظ له

[92]  [ابی داؤد 4607, ترمزی 2676، ماجہ 42، 43]

[93]  (قرآن:، 4:80, ,47:33, ,8:22, ,4:14,,8:20, ,47:33, 3:132) ،

https://bit.ly/ObeyAllahORasool

[94] قرآن و حدیث اور” توریت و تلمود” موازنہ\

https://bit.ly/Talmud-Hadis /

یہود و نصاری کے نقش قدم پر\

https://bit.ly/YahoodONasara

[95] https://bit.ly/Critical-Inquiry

[96] قرآن بہترین حدیث کی کتاب – اَحسَنَ الحَدِیثِ:

https://bit.ly/QuranBestHadis

[97]  https://bit.ly/HadisBookBan

[98]  https://bit.ly/Sunnah4Caliphs

[99] رسالة التجديد کی کیا ضرورت ہے؟ تجديد الإسلام: تجديد الإسلام : مقدمہ:

https://bit.ly/WhyTejdeed

[100]  http://lib.efatwa.ir/43553/1/33

https://quran1book.blogspot.com/2020/10/hadith-ban.html

[101]https://quran1book.blogspot.com/2020/06/jews-christian-footsteps.html

[102]https://quran1book.blogspot.com/2020/06/hadith.html

[103]  مشكوة المصابيح 228, سنن ابي داود: 3660 (نضر الله عبدا سمع مقالتي فحفظها ووعاها واداها فرب ) اللہ اس شخص کے چہرے کو تر و تازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا، اسے یاد کیا، اس کی حفاظت کی اور پھر اسے آگے بیان کیا،

https://bit.ly/Hadith-Basics

https://www.islamicurdubooks.com/hadith/hadith.php?tarqeem=1&bookid=23&hadith_number=228

[104]https://quran1book.blogspot.com/2020/05/Last-Will.html

[105] حضرت عمر (رضی الله) نے حدیث کتابت پر پابندی کیوں لگائی اور پھر باقی خلفاء راشدین نے اس پر عمل کیوں کیا ؟

https://bit.ly/WhyUmerBanHadis

[106]  https://bit.ly/Sunnah4Caliphs

[107] خلفاء راشدین الْمَهْدِيِّينَ کی سنت کی شرعی حیثیت اور کتابت حدیث:

https://bit.ly/Sunnah4Caliphs

[108]  https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/2:111

[109]https://www.britannica.com/technology/artificial-intelligence

[110]  https://bit.ly/Digital-HadithsAI

[111]https://quran1book.blogspot.com/2021/08/Bidah.html

 

[112]  مشكوة المصابيح 228, سنن ابي داود: 3660 (نضر الله عبدا سمع مقالتي فحفظها ووعاها واداها فرب ) اللہ اس شخص کے چہرے کو تر و تازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا، اسے یاد کیا، اس کی حفاظت کی اور پھر اسے آگے بیان کیا،

https://bit.ly/Hadith-Basics

https://www.islamicurdubooks.com/hadith/hadith.php?tarqeem=1&bookid=23&hadith_number=228

[113] فقیہ و محدثین ٹائم لائن-:

https://bit.ly/4Fiqh6HadisBooks

[114] https://bit.ly/ObeyAllahORasool

https://wp.me/scyQCZ-list

[115]  https://bit.ly/UlemaAsRab

[116] https://bit.ly/Key4Quran

https://bit.ly/HadithConform2Quran

[117]

https://quran1book.blogspot.com/2021/08/tajdeed.html

[118]https://quran1book.wordpress.com/2020/11/16/hadith/

[119]  https://quran1book.blogspot.com/2021/11/Fundamental-Hadiths.html

[120]  https://ur.wikipedia.org/wiki/وہابیت

[121]https://quran1book.blogspot.com/2021/06/revival.html /

https://www.youtube.com/watch?v=cWLmulSqF24

[122]  https://darulifta-deoband.com/home/ur/taqleed-fighi-schools/67305

[123] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/11:114

https://trueorators.com/quran-tafseer/11/114

https://trueorators.com/quran-tafseer/2/238

https://trueorators.com/quran-tafseer/17/78

https://makarem.ir/compilation/reader.aspx?mid=61989&catid=0

[124]  https://salaamone.com/salah-join/

[125]https://quransubjects.blogspot.com/2020/07/ulema.html

[126] https://trueorators.com/quran-tafseer/5/3

https://bit.ly/KatmaneHaq

[127]  https://salaamone.com/muslim-only/

[128]  https://ur.wikipedia.org/wiki/وہابیت

[129]https://quran1book.blogspot.com/2021/06/revival.html /

https://www.youtube.com/watch?v=cWLmulSqF24

[130]https://darulifta-deoband.com/home/ur/taqleed-fighi-schools/67305

[131] https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/11:114

https://trueorators.com/quran-tafseer/11/114

https://trueorators.com/quran-tafseer/2/238

https://trueorators.com/quran-tafseer/17/78

https://makarem.ir/compilation/reader.aspx?mid=61989&catid=0

[132]  https://salaamone.com/salah-join/

[133] https://paighampakistan.wordpress.com/paigham-e-pakistan/

[134] Unfortunately most of them demand money to preach this Fatwa, hence not known to many people.

[135] https://tanzil.net/#2:195

https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=4207

[136]  https://tanzil.net/#5:32

https://tanzil.net/#5:32

[137]  https://tanzil.net/#9:31

[138]  https://tanzil.net/#6:115

[139]:4:85

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/4:85

[140] https://tanzil.net/#4:85

https://trueorators.com/quran-translations/4/85

[141]https://paighampakistan.wordpress.com/paigham-e-pakistan/

[142] https://trueorators.com/quran-tafseer/87/15

(تفہیم القرآن نوٹ15)

[143] http://lib.efatwa.ir/43553/1/33

https://quran1book.blogspot.com/2020/10/hadith-ban.html

[144]https://quran1book.blogspot.com/2020/06/jews-christian-footsteps.html

[145https://quran1book.blogspot.com/2020/06/hadith.html

[146]https://quran1book.blogspot.com/2020/05/Last-Will.html

[147]https://quran1book.blogspot.com/2021/08/Bidah.html

[148]https://quran1book.blogspot.com/2021/08/tajdeed.html

[149]https://quran1book.wordpress.com/2020/11/16/hadith/

[150]https://quran1book.blogspot.com/2021/08/Bidah.html

[151]https://quran1book.blogspot.com/2021/11/Fundamental-Hadiths.html

[152]https://quransubjects.blogspot.com/2020/07/ulema.html

[153] https://trueorators.com/quran-tafseer/5/3

https://bit.ly/KatmaneHaq

[154] https://salaamone.com/muslim-only/

[155] https://trueorators.com/quran-tafseer/4/48

[156] https://salaamone.com/ur-intellect/

[157] https://trueorators.com/quran-tafseer/5/48

[158] https://bit.ly/Key4Quran

https://trueorators.com/quran-tafseer/3/7

[159]  https://bit.ly/Bidah

[160]  https://salaamone.com/bida-2/

[161] https://bit.ly/Key4Quran

[162]https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

[163]https://quran1book.blogspot.com/2022/11/Haqooq-ul-Ibad.html

[164]https://quran1book.blogspot.com/2022/03/AhkamAlQuran.html

[165]https://trueorators.com/quran-tafseer/20/123

[166]https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

[167]https://quran1book.blogspot.com/2022/07/Hadis-Jibril.html

[168] شفاعت اور شریعت:

https://bit.ly/Shfaat

https://bit.ly/Haqoq-ul-Ibaad

[169]https://trueorators.com/quran-translations/6/94

[170]  https://bit.ly/HadiStandard

https://bit.ly/Hadith-Basics

https://bit.ly/HadithConform2Quran

[171]  ڈیجیٹل حدیث AI :  https://bit.ly/Digital-HadithsAI

[172]  https://bit.ly/WhyTejdeed

[173] تحقیقی مقالہ :

https://bit.ly/TejdeedResearch

Research paper Eng:  https://bit.ly/Tejdeed-Islam-PDF \

[174] https://bit.ly/Risala-Tejdeed انڈکس

[175] https://trueorators.com/quran-tafseer/1/1

[176] اس مضمون کو سوشل میڈیا پر شیئر  کریں  اور پرنٹ لے کر فوٹو کاپیاں تقسیم کریں-

[177]  https://bit.ly/Critical-Inquiry

[178]https://trueorators.com/quran-translations/4/48

[179]https://quransubjects.blogspot.com/2020/07/ulema.html

[180]   https://bit.ly/IslamMuslim

[181]  https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/30:31

[182]  https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/42:21

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/30:31

https://tanzil.net/#trans/ur.maududi/6:122 -137

[183]   https://bit.ly/HadisBookBan

[184] قرآن بہترین حدیث کی کتاب – اَحسَنَ الحَدِیثِ:

https://bit.ly/QuranBestHadis

[185]  https://trueorators.com/quran-tafseer/20/123

[186]https://quran1book.blogspot.com/2021/09/Quran-Neglected.html

٭٭٭

ماخذ:

https://salaamone۔com/Odyssey/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل