ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

 

شیر دہاڑتا ہے

 

 

 

 

کینیتھ اینڈرسن

اردو ترجمہ

محمد منصور قیصرانی
ترمیم و تدوین: اعجاز عبید

 

 

 

انتساب

 

قدیم ہندوستان کے نام جہاں میں بصد خوشی کئی سال رہا تھا اور نئے ہندوستان کے لئے جو آزادی اور جمہوریت اور ایک نئی راہِ زندگی کی تلاش میں سرگرم ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

تعارف

 

 

دیباچے اتنے اہم نہیں اور انہیں شاید ہی کبھی پڑھا جاتا ہو۔ ظاہر ہے قاری پڑھنے کے لیے کتاب خریدتا ہے تاکہ اس سے لطف اندوز ہو اور کچھ نیا سیکھے۔ اس سلسلے میں اسے مصنف کی بات سے زیادہ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ قبل اس کے کہ میں جنوبی ہندوستان کے جنگلوں کے بارے میں اپنی چند داستانیں سناؤں، میں ان جنگلوں اور ان کی جنگلی حیات کی بقاء کے بارے میں درخواست کروں گا۔ اس سے نہ صرف ہم بلکہ آئندہ نسلیں بھی لطف اندوز ہو سکیں گی۔ وقت پہلے ہی ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔

حکومت ہند، ہر ریاست اور صوبے، ہر شکاری اور ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں موجود انمول جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

پرندوں اور جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنی ہیں مگر یہ کافی نہیں۔ قوانین لکھے گئے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ جنگل کے محافظوں اور نگہبانوں کو مناسب معاوضہ نہیں ملتا اور رشوت بھی اہم وجہ ہے۔

میسور کی پوری ریاست میں اور مدراس ریاست میں سیلم ضلعے میں بالخصوص شیر اور تیندوے اب تقریباً معدوم ہو گئے ہیں۔ انہیں دیہاتیوں نے کیڑے مار زہر سے نیست و نابود کر دیا ہے۔ یہ زہر حکومت کی طرف سے فصلوں کے بچاؤ کے لیے مفت دیا جاتا ہے۔ دیہاتی تیندوے اور شیروں کے شکار کردہ جانور پر اس زہر کا چھڑکاؤ کر دیتے ہیں اور جب یہ درندے اپنے شکار کو دوبارہ کھانے آتے ہیں تو واپسی میں چند گز ہی چل کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ نہ صرف شیر اور تیندوے بلکہ گیدڑ، لگڑبگڑ، گدھ اور کوے بھی اس زہر کا شکار ہوتے ہیں۔

پانی کے منابع پر موجود چور شکاری ہر سال سینکڑوں ہرنوں اور دیگر چرندوں کا شکار کرتے ہیں۔ چند روپے یا گوشت کا کچھ حصہ سرکاری اہلکار کو دے کر قصہ گول کر دیا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہی سرکاری اہلکار حکومت کی طرف سے انہی جانوروں کے تحفظ کے لیے تنخواہ بھی لیتے ہیں۔

موت دبے پاؤں ہندوستان کی جنگلی مخلوق کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ اگر حکومتی اور انفرادی سطح پر انتہائی سنجیدگی سے اقدام نہ کیے گئے تو جنوبی ہندوستان کے جنگلوں سے بے شمار جانور معدوم ہو جائیں گے۔ اس وقت بھی پانی تقریباً سر کے اوپر سے گزر رہا ہے۔

مجھے ان داستانوں کو لکھتے ہوئے جیسے لطف ملا ہے، امید ہے کہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ آپ کو بھی انہیں پڑھتے ہوئے ملے گا۔ انہیں لکھتے ہوئے میرے ذہن میں ان بیتے دنوں کی یاد تازہ ہوئی ہے اور جنگل کے مناظر، خوشبوئیں، جنگلی آوازیں اور زندگی اور موت کی کشمکش بھی یاد آتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۔ منچی کا نووارد

 

 

پر پیچ راستے کے اطراف میں بانس کے گھنے اور اونچے درخت تھے اور گھنی گھاس اگی ہوئی تھی۔ بانس کے درخت پر بیج اگ رہے تھے اور ہر گرہ سے اضافی پتے نکل رہے تھے جن میں ہزاروں بیج ہوتے تھے۔ یہ بیج شکل میں گندم کے بیج سے مشابہ لیکن کچھ چھوٹے ہوتے ہیں۔ چھوٹی جسامت کے باوجود ہزاروں بیجوں کی وجہ سے درخت کا تنا جھک جاتا ہے۔ جونہی ہوا چلتی، یہ جھکے ہوئے تنے عجیب عجیب آوازیں نکالتے تھے۔

یہ بیج بارش کی طرح زمین پر گرتے اور قالین کی طرح زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ اس تنگ راستے پر گرنے والے بیج زیادہ تر گل سڑ جاتے ہیں تاہم اِدھر اُدھر کسی نہ کسی بیج سے کونپل نکلتی دکھائی دے جاتی ہے۔ بیجوں کی یہ تہہ لکڑی کے برادے کی مانند لچک دار ہوتی ہے۔ اس پر حرکت کرتے جانور کی آواز چھپ جاتی ہے اور درندے ایک جھنڈ سے دوسرے جھنڈ کو شکار کی تلاش میں گھومتے ہیں۔ اوپر پرندے اپنی تیز چونچ سے بیج کتر کتر کر کھاتے ہیں۔ یہ پرندے شکل و صورت میں توتے سے ملتے جلتے لیکن مختصر جسامت کے ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت گھریلو بجری گر توتوں سے دگنا زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے عجیب رنگ ہوتے ہیں۔

اس راستے پر چلنے والا اکیلا مسافر ان پرندوں کی بجائے اپنے سامنے، پیچھے اور اطراف میں بار بار دیکھتا چل رہا تھا۔ ہر جھنڈ کے نزدیک پہنچ کر وہ رکتا اور اس سے ہو کر گزرنے سے قبل اپنی تیز اور بے چین آنکھوں سے اچھی طرح جائزہ لیتا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور تو نہیں چھپا۔ اس کے کان ان پرندوں کی بجائے کوئی اور آواز سننے کو بے چین تھے۔ اسے جن آوازوں کو سننے کی امید تھی ان میں بانس کی شاخ ٹوٹنے، اسے چبانے اور نگلنے کی آواز تھی یا پھر ان بیجوں کی تہہ پر کسی بھاری جسم والے جانور کے گزرنے کی آواز۔

اسے خوف تھا کہ کہیں اکیلے ہاتھی یا ہاتھیوں کے گروہ کا سامنا نہ ہو جائے۔ اس موسم میں امکانات تھے۔ اس کی سماعت قاتل کو سننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ایسا قاتل جو پرندوں یا ہاتھیوں کی مانند شور نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی سبزی خور تھا۔ یہ قاتل انتہائی بے رحم شکاری اور اس وقت انتہائی بھوکا تھا۔

یہ آدمی پُجاری ذات سے تعلق رکھتا تھا جو جنوبی ہندوستان کے ضلع سالم کے جنگلوں میں آباد ہیں۔ جس پگڈنڈی پر یہ آدمی چل رہا تھا وہ جنگلوں سے گزرتی ہوئی ائیور کی وادی سے ہو کر ۱۰ میل دور منچی جاتی تھی۔ منچی کی وادی پتھریلی پہاڑی ڈھلوانوں پر تھی۔ راستہ وادی میں نیچے اترتا ہے اور ایک پتھریلی ندی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ کئی دفعہ راستہ اس ندی سے ہو کر گزرتا ہے اور کہیں راستہ اور ندی پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ دونوں اطراف اونچی اونچی پہاڑیاں ہیں اور راستہ گھنے اور قد آور بانس کے جھنڈوں کے درمیان گزرتا ہے۔

مکڑی کے مہین مہین جالے جو بمشکل ہی دکھائی دیتے تھے، بار بار اس کے منہ سے چپک جاتے کہ اس کی پوری توجہ جنگلی ہاتھیوں کی ممکنہ موجودگی پر مرکوز تھی۔ وہ جالوں کو بار بار نوچ کر پھینکتا تھا۔ یہ جالے راستے کے آر پار کے درختوں کے درمیان ۶ انچ بڑی مکڑیوں نے بنائے تھے۔ یہ جالے کم از کم ۱۰ فٹ چوڑے اور انتہائی مضبوط ریشوں سے بنتے ہیں۔ ان پر پڑی شبنم سورج کی روشنی سے چمکے تو ایسا لگتا ہے جیسے بے شمار موتی چمک رہے ہیں۔ ہر طرف خاموشی تھی اور صرف پرندوں کے دانے چگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

اس پجاری کا نام کیرا تھا اور ہر بار جب گھنے بانسوں کو جھنڈ اس کے سامنے آتا تو وہ تسلی کرتا کہ اس کے پیچھے جنگلی ہاتھی نہ چھپے ہوں۔ بے چارہ کالی کھال والے قاتل کو نہ دیکھ سکا جو پلک جھپکائے بغیر زمین سے چپکا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔

کیرا نے دو بار شیر کی دہاڑ سنی، پھر شیر نے حملہ کر دیا۔

کیرا جونہی پیچھے مڑا، بڑے بڑے کھلے جبڑوں نے اسے دبوچ لیا۔ وہ ایک بار چلایا، ’ائیو‘۔ پھر وہ خاموش ہو گیا۔ ایک لمحے کو تمام پرندے چپ کر گئے کہ انہیں حادثے کا علم ہو گیا۔ چند لمحے گزرے تو انہوں نے دوبارہ سے چہچہانا اور دانا دنکا چگنا شروع کر دیا۔

پہاڑی کے ایک جانب لنگوروں کا غول پیٹ بھر رہا تھا۔ ان کی جانب سے ہومپ ہومپ کی آوازیں اور پہاڑی کی دوسری جانب سے ان کی بازگشت آ رہی تھی۔ اچانک چوکیدار لنگور نے دو بار شیر کی ہلکی سی دہاڑ سنی اور اس کے فوراً بعد اس نے آدمی کی اس سے بھی ہلکی چیخ سنی۔ اسے فوراً پتہ چل گیا کہ شیر نے شکار کیا ہے اور مخصوص آواز سے پورے غول کو خبردار کر دیا کہ قاتل نزدیک ہے اور پھر شور کرتا ہوا اوپری شاخوں پر پہنچ کر دیکھنے لگا کہ قاتل کہاں ہے۔

چوکیدار لنگور نے بار بار ہاہ، ہاہ، ہرر کی آوازیں نکالیں۔ تمام لنگوروں نے کھیل کود بند کر دی اور دہشت کے مارے اوپری شاخوں پر منتقل ہو گئے۔ نیچے زمین پر موجود ہرنوں وغیرہ نے پہلے شیر اور پھر بندروں کی آوازیں سنیں تو فوراً ہی پہاڑی کے اوپر کو بھاگے اور وادی سے دور نکل گئے۔

وقت گزرتا گیا اور جنگلی حیات اپنے معمول پر لوٹ آئی۔ پرندوں کو اسے بھولنے میں چند لمحے لگے جبکہ ہرنوں وغیرہ کو ایک گھنٹہ۔ اگر اس دوران پجاریوں کا دوسرا ساتھی بھی شیر کا شکار نہ ہو جاتا تو دور واقع منچی کی وادی کے پجاریوں کو اسے بھولنے میں ایک یا دو ماہ لگتے۔ لیکن ان کا ایک اور ساتھی دو ہفتوں بعد اور تیسرا ۱۰ دن بعد مارا گیا۔

ان باتوں کو بھلانا پجاریوں کے لیے ممکن نہ تھا۔ ان پر عجیب طرح کا خوف چھا گیا۔ ان کے گاؤں پر ایک آفت نازل ہو گئی۔ آدم خور شیر یہاں رہنے آ گیا تھا۔

ان کے قبیلے کا رہن سہن جنگل اور اس میں موجود اشیاء پر منحصر تھا۔ یہ لوگ موسم کے مطابق اونچے پتھروں اور درختوں پر لگے جنگلی شہد کے چھتے اکٹھے کرتے، گوہ پکڑ کر دیہاتی حکیم کو بیچ آتے جو اس کی دم سے نامردی کی اکسیر دوا تیار کرتا، مختلف ادویاتی تاثیر رکھنے والی نباتات جمع کرتے، جنگلی بانس، گھاس اور املی کے پھل کاٹ کر جمع کرتے۔ ان تمام افراد کی مجموعی آمدنی سے زیادہ رقم یورپ یا امریکہ کا باشندہ اپنے کتے کی خوراک پر خرچ کر دیتا ہے۔ ان کا کام، ان کی بقاء، سب جنگل پر منحصر تھے۔ اب اسی جنگل میں عفریت نے رہائش رکھ لی۔ ہر شخص جب اپنی گھاس پھونس کی جھونپڑی سے صبح نکلتا تو اسے شام کو بخیریت واپسی کا یقین نہ ہوتا۔ نہ ہی کوئی عورت اور نہ ہی کوئی بچہ محفوظ تھا کیونکہ آدم خور کا دوسرا شکار ۹ سالہ لڑکی اور تیسرا شکار ۱۴ برس کی حاملہ دلہن تھی۔

ان میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے کچھ نہ کیا۔ یہ واحد آدمی میرا پرانا دوست بیرا تھا جس نے مجھے جنگل کے طور طریقے سکھائے۔ پہلے بھی اس نے مجھے کمپی کاری کے قاتل کے شکار پر بلایا تھا جس کے بارے میں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ اب ایک بار پھر سے منچی کے لوگوں کو اس بلا سے بچانے کے لیے وہ مجھے بلانے جا رہا تھا۔

اس بار پیغام بھیجنے کی بجائے بیرا خود آیا۔ منچی سے ائیور تک ۱۰ میل چلنے کے بعد وہ مزید ۹ میل آگے دینکنی کوٹا پیدل ہی پہنچا۔ یہاں سے اس نے بس پکڑی اور بنگلور کا رخ کیا۔

اس کے بیان کردہ واقعات سے ظاہر تھا کہ یہ تینوں واقعات بالکل ہی کم وقت میں یعنی کل ۲۴ دنوں میں، منچی سے ۴ میل کے دائرے اور اس وادی میں ہی ہوئے تھے جسے مکڑیوں کی وادی کے نام سے میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔

ان واقعات سے پتہ چلا کہ یہ آدم خور شیر نا تجربہ کار ہے۔ ہو سکتا ہے یہ شیر نوعمر ہو جس نے کسی وجہ سے آدم خوری شروع کر دی ہو یا اپنے زخموں سے مجبور ہو کر بھوک کی وجہ سے انسانی شکار پر مائل ہو گیا ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ یہ آدم خور شیرنی ہو جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے انسانی شکار کرنے لگی ہو۔ ان اطراف میں جنگلی جانور اور پالتو مویشی بکثرت ہونے کی وجہ سے تیسری صورت کے امکان بہت کم تھے۔

حقائق بتا رہے تھے کہ یہ ناتجربہ کار شیر ہے۔ تجربہ کار آدم خور شیر اتنے کم وقت میں ایک ہی جگہ اتنے شکار نہیں کرتا۔ تجربے کے ساتھ آدم خور شیر کی مکاری بڑھتی جاتی ہے۔ ایسے شیر کئی میل پر محیط علاقے میں شکار کرتے ہیں۔ اچانک ہی کسی جگہ آن پڑتے ہیں اور شکار کر کے لمبے عرصے کے لیے گم ہو جاتے ہیں۔ ایسے درندوں کا شکار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

بہتر تھا کہ میں فوراً اس شیر کا پیچھا کرتا اور علاقہ چھوڑنے سے قبل ہی اسے ہلاک کر دیتا۔ ایک بار یہ شیر تجربہ کار ہو گیا تو بہت محتاط ہو جاتا۔ جونہی دیہاتی اسے ہلاک کرنے کے لیے کوششیں کرتے تو اس کو ہلاک کرنا دشوار تر ہو جاتا۔ اس طرح یہ شیر خوف زدہ یا زخمی ہو کر مزید چالاک اور خطرناک ہو جاتا۔

یہ علاقہ میرا دیکھا بھالا تھا۔ بہت سالوں تک میں اس جنگل، بانس کے گھنے جھنڈوں، تنگ وادی، اس کے آس پاس موجود علاقے اور سوپاتھی کے مقام پر دریائے چنار تک گشت کرتا رہا تھا۔ مشرقی پہاڑی سلسلہ زیادہ بلند تھا اور گتھراین پہاڑی پر ختم ہوتا ہے۔ نزدیک ہی کوڈی کرائے کا خوبصورت فارسٹ بنگلہ تھا۔ کمپے کرائے کی وادی مغربی سلسلے کے دوسری جانب تھی۔ علاقہ بھی وہی تھا جہاں میں پچھلی بار کمپے کرائے کے آدم خور کے شکار پر آیا تھا۔ وہ شیر کافی تجربے کار اور وادی کے جنوب اور مغرب میں سرگرم تھا۔ موجودہ شیر وادی کے شمال میں منچی کی آبادی اور ائیور کے راستے پر سرگرم تھا۔ اس وجہ سے میں نے اس شیر کے شکار کو بہت سہل سمجھا۔

بیرا اور اپنے کیمپ کے ساز و سامان کو سٹڈبیکر پر لاد کر میں نے کم از کم ہفتے بھر کا آٹا بھی لے لیا۔ ڈبل روٹی، مکھن، سبزیاں بالخصوص آلو، چائے، کافی، چینی، اپنے بستر اور خیمے کو بھی لاد کر ہم دینکانی کوٹا اور ائیور کو چل دیے۔ ائیور سے ہمیں منچی تک پیدل ہی چلنا تھا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ مجھے اور بیرا کو سارا سامان اٹھا کر ۱۰ میل آگے کا سفر طے کرنا ہوتا۔ خوش قسمتی سے یہاں چڑھائی کم اور زیادہ تر حصہ اترائی تھا۔

میں ڈبہ بند اغذیہ سے ہر ممکن گریز کرتا ہوں۔ ڈبوں سے سہولت رہتی ہے مگر مقامی لوگوں کی طرح میں بھی تازہ اور سادہ خوراک ہی پسند کرتا ہوں۔ اس وجہ سے میں ان بیماریوں سے بچا ہوں جو زیادہ مہذب لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔

میں نے خیمہ بیرا کے سر پر رکھا اور بستر اپنی کمر پر لاد لیا۔ کٹ بیگ اور آٹا وغیرہ میں نے بیرا کو تھمائے اور خود بقیہ اشیاء اور رائفلیں اٹھا لیں۔ ہم پر بہت وزن تھا لیکن بیرا پر ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔ وہ ایسے چل رہا تھا جیسے وہ خالی ہاتھ ہو۔

وادی بہت گرم اور مرطوب تھی اور میرا بدن پسینے میں نہایا ہوا۔ آگے چلنے کی وجہ سے میرے ہمراہی کے لیے کسی جنگلی ہاتھی سے جا بھڑنے کا خطرہ زیادہ تھا لیکن پیچھے چلنے کی وجہ سے مجھے شیر کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا۔ آدم خور بالعموم راستے پر چلنے والے آخری آدمی پر حملہ کرتا ہے۔ شیر کا حملہ ہو یا ہاتھی کا، ہم پر اتنا وزن لدا تھا کہ شاید ہی کچھ کر پاتے۔ اس وقت میرے ذہن میں ہاتھی یا شیر نہیں تھے بلکہ میں سوچ رہا تھا کہ ہم کتنی جلدی منزل پر پہنچ کر اس وزن سے چھٹکارا پاتے ہیں۔

آخر ہم منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔ تالاب کے کنارے پہنچ کر میں نے رائفل کے سوا ہر چیز اتار پھینکی۔ یہ تالاب آگے چل کر ہماری داستان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں چائے درکار تھی، ڈھیر ساری چائے۔ میں نے بیرا سے کہا کہ وہ تالاب سے چائے کی کیتلی میں پانی بھر کر اور آگ جلائے۔ جلد ہی ہم دونوں چائے پی رہے تھے اور دنیا پھر سے نئی نئی لگنے لگ گئی تھی۔

اس وقت تک وادی سے بیرا کے دوست بھی پہنچ گئے۔ یہ سب پجاری تھے۔ خوراک کی کمی کا شکار اور دبلے پتلے لیکن فولاد کی مانند سخت جان۔ مردوں کے جسم پر صرف لنگوٹی جبکہ عورتوں نے باریک ساڑھیاں پہن رکھی تھیں جو چیتھڑوں کی شکل میں لٹک رہی تھیں۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو لڑکے اور لڑکیاں الف ننگے تھے۔

حسبِ معمول سلام دعا کے بعد بیرا نے بتایا کہ وہ صاحب کو لانے بنگلور پہنچا اور صاحب نے فوراً ہی مدد کی حامی بھر لی۔ ہر طرف حیرت بھری آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے فوراً ہی موقعے سے فائدہ اٹھایا اور بڑے لڑکوں کو لکڑیاں جمع کرنے بھیج دیا اور ایک مرد سے کہا کہ وہ میرے برتنوں میں پانی بھر دے۔ جتنی دیر میں یہ کام پورے ہوتے، میں نے بیٹھ کر بھنے گوشت اور مکھن سے چپڑی روٹیوں سے اپنا پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ میں نے لوگوں سے آدم خور کے بارے میں سوالات بھی شروع کیے۔

جو مجھے بیرا پہلے بتا چکا تھا، اس سے زیادہ معلومات نہ ملیں۔ ایک نئی بات پتہ چلی۔ جب بیرا مجھے لانے کے لیے بنگلور روانہ ہوا تو اسی دن سہ پہر ۴ عورتیں پانی بھرنے گئیں۔ آدم خور کے پیش نظر دن کو ۳ بجے کے بعد تالاب پر کوئی نہ جاتا تھا۔ یہ عورتیں ایک دوسرے سے قریب رہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ۴ عورتوں کو ایک ساتھ دیکھ کر آدم خور حملہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے پانی بھر کر واپسی کا رخ کیا کہ اچانک ایک بوڑھی عورت نے ۵۰ گز دور جنگل کنارے حرکت محسوس کی۔ اس نے مزید غور سے دیکھا۔ اس کی ساتھیوں نے جب اسے کسی چیز کو گھورتے دیکھا تو انہوں نے بھی توجہ ادھر کی۔ وہاں جھاڑی کے نیچے بہت بڑے شیر کا سر دکھائی دیا۔ یہ شیر انہیں بھوکی نگاہوں سے دیکھ کر غرا رہا تھا۔ چیخیں مارتے ہوئے انہوں نے اپنے گھڑے پھینکے اور بھاگ کر ۲۰۰ گز دور بستی کا رخ کیا۔ اس بار شیر نے ان پر حملہ نہیں کیا اور وہ بحفاظت گھروں کو پہنچ گئیں۔

ان ۴ عورتوں میں سے ۲ اس وقت یہاں تھیں۔ ایک نے اپنے ہاتھوں کو گز بھر پھیلا کر کہا کہ شیر کا سر اتنا بڑا تھا جبکہ دوسری جو نسبتاً نوجوان تھی، نے بتایا کہ شیر اتنا بڑا تھا کہ وہ ان چاروں عورتوں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بخوشی کھا جاتا۔ بات پوری کرنے پر اس کے چہرے پر دبی دبی ہوئی مسکراہٹ تھی جو شاید مجھے حوصلہ دے رہی تھی کہ جب ہم سب کھائے جا چکے ہوتے تو شیر کے پیٹ میں مجھے اچھے دوست ملتے۔

شیر کے بارے میں نئی خبر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے بیرا کو بھی مسکراتے دیکھا۔ پرانا شکاری ہونے کے ناطے اسے پتہ تھا کہ کام نسبتاً آسان ہو چکا ہے۔ اگر شیر کل شام ادھر ہی تھا تو عین ممکن تھا کہ آج شام کو بھی ادھر آتا۔ عین ممکن تھا کہ وہ اب بھی ہمیں چھپ کر دیکھ رہا ہو۔

اس خبر کی وجہ سے میں نے اپنا خیمہ تالاب کے کنارے نصب کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ بستی کے اندر خیمہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ پجاری چاہے دیگر معاملات میں جتنے بھی اچھے ہوں، صفائی کے معاملے میں انتہائی لاپرواہ ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ میرا سامان اٹھا کر گاؤں کے دوسرے سرے پر جامن کے درخت کے نیچے لے جائیں۔ وہاں میں نے اپنا خیمہ لگا کر سامان اندر رکھ دیا۔

میں نے سوچا کہ تالاب اور شیر ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ بہت سال قبل کمپی کرائے کے آدم خور کے تعاقب میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی۔ یہ واقعہ چند میل دور بہت سال قبل پیش آیا تھا جب میں نے پوری رات ایک کنویں کے کنارے بسر کی تھی تاکہ آدم خور مجھ پر گھات لگا سکے۔ میرا انتظار بے کار گیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آدم خور اتنا تجربہ کار نہ ہو اور مجھے مایوس نہ کرے۔ تالاب کے آس پاس اپنا سفید خیمہ نصب کرنے سے پورا منصوبہ ہی بے کار ہو جاتا۔ تجربہ کار آدم خور خیمے کو دیکھ کر حملہ کرنے کی کوشش کرتا، نو وارد آدم خور اسے دیکھتے ہی غائب ہو جاتا۔ یہ محض توجیہ تھی جس سے بیرا نے بھی اتفاق کیا۔ رات کے واقعات نے ہم دونوں کو غلط ثابت کیا۔

سورج ڈوبتے ہی میں نے قبل از وقت کھانا کھا لیا اور سارا بھنا گوشت ختم ہو گیا۔ اس بار میں نے چائے نہیں بنائی اور پانی بھی بہت کم پیا۔ میرا تجربہ ہے کہ آدم خور کی تلاش میں رت جگا کرنا ہو تو کم سے کم پانی اور دیگر مشروبات پینے چاہیں۔ فطرت سے لڑا نہیں جا سکتا اور شکاری سے سرزد ہونے والی معمولی سی حرکت اس کی موجودگی کا راز افشا کر سکتی ہے۔

رات تاریک ہونے کی وجہ سے میں نے پرانے منصوبے کو ملتوی کر دیا۔ اُس بار چاندنی رات تھی اور میں نے جان بوجھ کر شور کرتا رہا تھا تاکہ آدم خور متوجہ ہو سکے۔ یہ رات انتہائی تاریک تھی اس لیے ایسی حماقت سوچنا ہی فضول ہوتی۔ شیر تو مجھے دیکھ اور سن سکتا لیکن میں اس کی موجودگی سے بے خبر ہی رہتا۔ اس کی آواز مجھے تب ہی سنائی دیتی جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔

اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اس بار میں تالاب کے کنارے سے ۲۰ گز کے فاصلے پر اگے ببول کے درخت سے ٹیک لگا کر اور جنگل کی طرف منہ کر کے بیٹھوں گا۔ بے حس و حرکت بیٹھنے کی وجہ سے مجھے امید تھی کہ آدم خور عقب سے مجھے نہیں دیکھ پائے گا۔ میری پشت پر درخت کی وجہ سے آدم خور کو حملہ کرنے کے لیے دائیں یا بائیں جانب سے آنا پڑتا۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا ہوتا جس سے آدم خور الجھ جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے میری موجودگی کی بالکل بھی خبر نہ ہوتی۔ اگر وہ مجھے دیکھ بھی لیتا تو مجھے بے حرکت دیکھ کر وہ تفتیش کرنے میں کچھ وقت لگا دیتا۔ مجھے یقین تھا کہ اس دوران لازماً کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہوتی۔

بیرا نے میرا منصوبہ سنا تو اسے بلا جھجھک حماقت کہا۔ عین ممکن تھا کہ شیر بغیر کسی آواز کے براہ راست حملہ ہی کر دیتا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ عقب سے حملہ کرتا۔ مجھے نہ تو کچھ دکھائی دیتا اور نہ ہی کچھ سنائی جبکہ آدم خور مجھے دیکھ اور سن رہا ہوتا۔ بیرا مجھے دوبارہ زندہ نہ دیکھ پاتا۔ ممکن تھا کہ آدم خور اس طرف کا رخ ہی نہ کرتا۔ آدھی رات کو وہ تالاب پر کیا کرنے آتا؟ اسے بخوبی علم تھا کہ سارے انسان محض دن کے اجالے ہی میں تالاب پر آتے ہیں اور رات کو نہیں۔

بولتے ہوئے اس کی نیت ظاہر تھی۔ وہ مجھے اس منصوبے سے روک رہا تھا۔

میں نے فوراً ہی اسے روکا۔ ’میں جانتا ہوں لیکن یہ واحد امید ہے‘۔

وہ مسئلہ گمبھیر بنانے پر تلا ہوا تھا۔

’میں آپ کو شیر کی خاطر بیٹھنے سے نہیں روک رہا۔ میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھوں گا اور ہم مل کر شیر کا انتظار کریں گے‘۔ اس نے تیزی سے کہا۔

’احمق۔ تمہارا دماغ چوہے کے دماغ سے بھی چھوٹا ہے۔ کیا تمہاری موجودگی سے تاریکی کم ہو جائے گی؟ کم از کم آج رات مجھے میرے منصوبے پر عمل کرنے دو۔ کل پھر دیکھیں گے کہ کیا کر سکتے ہیں‘۔ میں نے ہر ممکن رکھائی سے کہا۔

’اگر کل آپ زندہ ہوئے تو‘۔ اس کا جواب تھا۔

سورج ڈوبنے سے گھنٹہ بھر قبل میں اس تالاب کنارے اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ ببول کا درخت میری ٹیک بنا اور جنگل میرے سامنے تھا۔ جنگل سے چھوٹی ندی گزرتی تھی اور اس کے پیچھے وہ پگڈنڈی تھی جہاں سے ہم آئے تھے۔ مجھے امید تھی کہ آدم خور جلد ہی یہاں سے گزرے گا اور مجھے دیکھ لے گا۔ اس طرح مجھے بھی اسے دیکھنے کا موقع مل جاتا جیسا کہ اس نے ۴ عورتوں کو دیکھتے وقت خود کو ظاہر کیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ ایسا تاریکی چھانے سے قبل ہو جاتا۔ آدم خور نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

بستی کے سارے پجاریوں نے جھونپڑوں کے سامنے خاردار جھاڑیاں کاٹ کر جمع کر رکھی تھیں اور اندر گھس کر انہوں نے دروازوں کے سامنے جھاڑیوں کو اچھی طرح جما دیا۔ میں نے خود سنا کہ انہوں نے جھونپڑوں کے اندر گھس کر دروازوں کے سامنے ندی سے لائے پتھر بھی رکھ دیے۔ یہ لوگ حفاظت خود اختیاری کے قائل تھے۔ انہیں مجھ پر اتنا اعتبار نہیں تھا۔

سورج مغربی پہاڑوں کے پیچھے چھپ گیا۔ افق پر رنگ بدلتے رہے۔ میرا رخ شمال مشرق کو تھا، مجھے کسی حد تک غروب آفتاب کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا تھا۔ آخر تاریکی چھا گئی۔

میں غروبِ آفتاب سے لطف اندوز ہونے کے دوران جنگل کی آوازیں بھی سنتا رہا۔ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت جنگل میں گونجنے والی آوازیں موسیقی ہوتی ہیں۔ لنگوروں کے دو غول مخالف سمتوں کے پہاڑوں پر تھے اور ان کا شور سنائی دے رہا تھا۔

اچانک چوکیدار لنگور نے خطرے کی آواز بلند کی تو یہ آوازیں دہشت زدہ چیخوں میں بدل گئیں۔ یہ آواز وقفے وقفے سے آتی رہی۔

میرے قریب والے غول کی آوازیں رک گئیں لیکن چوکیدار لنگور کی آواز دونوں غولوں سے ہی سنائی دیتی رہی۔ میں یہ آوازیں سن کر جھومتا رہا۔

تجربہ کار شکاری کے کان لنگور کی عام آواز اور خطرے کی آواز کا فرق جانتے ہیں۔ ان آوازوں سے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ دور والا لنگور خطرے کو دیکھ رہا ہے جبکہ نزدیک والے لنگور کی آواز محض اپنے ساتھی کے جواب میں تھی۔

دونوں لنگوروں کی آوازیں بتدریج کم ہوتی گئیں۔ اچانک ندی سے جنگلی مرغ کی آواز آنے لگی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ اچانک مور نے خطرے کی آواز نکالی اور اس کا بھاری جسم پھڑپھڑاتا ہوا اڑا تاکہ کسی درخت پر پہنچ کر محفوظ ہو سکے۔

مجھے علم تھا کہ شیر آ چکا ہے۔ وہ مخالف سمت والے پہاڑ سے نیچے اترا جہاں لنگور نے اسے دیکھ لیا۔ ندی عبور کرنے کے دوران وہ جنگلی مرغوں اور مور کو خبردار کرتے ہوئے اب تالاب کی طرف آ رہا تھا جہاں میں اس کا منتظر تھا۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیا اب اسے قریبی لنگور دیکھ پائے گا؟ لنگور بلندی پر سہی لیکن بہت دور تھا۔ اناڑی آدم خور بھی اپنی موجودگی کو بغیر کسی وجہ کے ظاہر نہیں کرتا۔ اچانک نزدیکی لنگور نے خطرے کی آواز نکالی۔ اس کی آواز سے ظاہر تھا کہ اس نے آدم خور کو دیکھ لیا ہے۔ اس بار شیر میری توقع سے کہیں زیادہ قریب تھا۔

میں شیر کو دیکھنے اور سننے سے تا حال قاصر تھا۔ ہر طرف تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ جنگل کنارے والی جھاڑیاں اب ہیولہ بن گئی تھی۔ اچانک جنگل پر عجیب خاموشی چھا گئی۔ دور والا لنگور خاموش تھا جبکہ نزدیک والے لنگور کی آوازیں اب بھی وقفے وقفے سے آ رہی تھیں۔

میرے دائیں اور بائیں پہاڑوں کی چوٹیاں غیر واضح ہو گئیں۔ آسمان پر ستارے چمکنے لگے۔ میں نے ایک ستارے کو بغور دیکھنا شروع کیا۔ یہ ستارہ اپنا رنگ مسلسل بدل رہا تھا۔

اپنے سامنے تاریکی کو گھورنے کے ساتھ ساتھ میں بار بار دائیں اور بائیں جانب بھی دیکھ رہا تھا۔ میں نے احتیاطاً سانس لینا بھی آہستہ کر دیا تھا۔ بار بار میں نے سانس روک کر کچھ سننے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

اچانک ہی تالاب کے دوسرے کنارے سے سانبھر بولا۔ "دھانک دھانک”۔

پھر وہ سانبھر بھاگا تو اس کے سموں کی آواز چند لمحوں بعد گم ہو گئی۔ اس کی پکار دیر تک سنائی دیتی رہی۔

میں ان جنگلی جانوروں کا شکر گزار تھا کہ انہوں نے مجھے شیر کی آمد کا بتایا۔ یہ اتنی یقینی تھی کہ جیسے میں نے شیر کو اپنی آنکھوں سے چند گز کے فاصلے سے دیکھا ہو۔ سوال یہ تھا کہ کیا شیر نے مجھے دیکھ لیا ہے؟ کیا وہ مجھے دیکھ پائے گا؟

جنگل میں بے حس و حرکت بیٹھنے کی اہمیت سے میں بخوبی واقف ہوں۔ اس طرح میں بے حس و حرکت بیٹھ گیا تاکہ شیر کی فوری توجہ سے بچ سکوں۔

ایسا محسوس ہوا کہ لمحے منٹوں اور منٹ گھنٹوں میں بدلتے چلے گئے۔ اچانک میں نے دائیں جناب ہلکی سی آواز سنی جیسے پتہ الٹا ہو۔ یہ آواز تالاب سے آئی تھی۔ ہوا بالکل ساکن تھی اس لیے پتے کی حرکت کا موجب کوئی جانور ہی ہو گا جو آہستگی سے جھاڑیوں میں چل رہا ہو۔ اگلے چند ہی لمحوں میں یہ جانور میرے قریب سے گزرتا۔

سانس کو عارضی طور پر روک کر میں نے سننے کی کوشش کی لیکن مزید کوئی آواز نہ آئی۔ میری ہر حس بتا رہی تھی کہ شیر گزر چکا ہے اور اب میرے عقب والے ببول کے درخت کے پیچھے والی جھاڑیوں میں ہے۔ اچانک ہی میرے اندر یہ خواہش زور پکڑنے لگی کہ مڑ کر اپنے عقب میں موجود خطرے کا سامنا کروں۔ اگر میں مڑتا تو لازماً کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہوتی۔ یہ آواز چاہے جتنی دھیمی ہوتی، شیر لازمی سن لیتا اور مڑ کر تحقیق کرنے آتا۔ اس لیے میں نے اپنی خواہش کو دبایا اور صرف سر کو موڑ کر عقب میں دیکھنے کی کوشش کی کہ کہیں شیر آ تو نہیں رہا۔ چند انچ دور مجھے محض درخت کا تنا ہی دکھائی دے رہا تھا۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ تجسس کتنی دیر رہا۔ اچانک مجھے پیچھے گاؤں سے ایک کتے کی دہشت زدہ چیخ سنائی دی۔ پریشانی ختم ہو گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔ دو باتیں واضح تھیں۔ اول یہ کہ شیر میری موجودگی سے آگاہ ہوئے بغیر گزرا اور دوسرا یہ کہ یہ آدم خور ہی تھا۔ ورنہ کوئی بھی شیر جان بوجھ کر انسانی آبادی کے قریب نہیں آتا۔

اسی وقت میرے ذہن ایک احمقانہ خیال میں آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں بیٹھا رہا تو فضول ہو گا۔ میں نے سوچا کہ آدم خور کو انسانی شکار نہ ملا تو اسی راستے سے اس کی واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے راستے سے نکل جائے۔ اگر وہ اسی راستے سے لوٹا بھی تو اس بار وہ میرے عقب سے آئے گا اور میں اسے دیکھ نہیں سکوں گا جبکہ وہ مجھے دیکھ سکتا ہے۔

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہیں رکنے کی بجائے بستی کو جانے کی حماقت کیوں کی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اٹھ کر بستی کی طرف چل پڑوں اور ٹارچ کی روشنی میں راستہ دیکھتا جاؤں۔ جب قریب پہنچوں گا تو ٹارچ کی روشنی میں شیر کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر اس پر گولی چلا سکوں گا۔ اس طرح کام آسان ہو جاتا۔

اس طرح میں نے یہ حماقت کر دی۔ اگر میں اسی جگہ بیٹھا رہا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ شیر پانی پینے تالاب کو لوٹتا اور درخت کے پیچھے محفوظ مقام سے میں اس پر گولی چلا سکتا تھا۔ میں خاموشی سے اٹھا اور جھکی ہوئی حالت میں بستی کو چل پڑا جو ۲۰۰ گز دور ہو گی۔

چند ہی قدموں میں مجھے اپنی حماقت کا اندازہ ہو گیا۔ پگڈنڈی براہ راست بستی کو جاتی تھی لیکن اس تاریک رات میں مجھے کچھ نہ دکھائی دیا اور میں ٹھوکریں کھانے لگا۔ اتنا شور ہو رہا تھا کہ آدم خور دور سے ہی خبردار ہو جاتا۔ پھر مجھے ببول کے درخت کا خیال آیا۔ میں نے پھر بھی پیش قدمی جاری رکھی۔ مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ آدم خور کسی بھی جھاڑی کے پیچھے مجھ سے ۵ گز دور بھی ہو سکتا ہے اور مجھے اس کی موجودگی کا بالکل بھی اندازہ نہ ہوتا۔

بستی والے کتے کے ساتھ اس کے دیگر ساتھی بھی بھونکنے لگے۔ کئی کتے جس طرح بھونک رہے تھے، اس سے نڈر سے نڈر آدم خور بھی فرار ہو جاتا۔ مجھے کم ہی امید تھی کہ شیر شکار کی تلاش جاری رکھے گا۔ اگر وہ واپس لوٹتا تو عین ممکن تھا کہ ہمارا سامنا ہو جاتا۔

اس خیال سے میں نے دوسری غلطی یہ کی کہ قبل از وقت ٹارچ جلا لی۔ تاریکی کاٹتی ہوئی روشنی نکلی تو آدم خور مجھے دکھائی نہ دیا۔ نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے اس نے دہاڑنا شروع کر دیا۔ مجھے جھاڑیوں سے اس کی نقل و حرکت کی آوازیں اور دہاڑیں آتی ہوئی سنائی دیں۔

اب مزید چھپنا ممکن نہ تھا۔ میرا شکار فرار ہو گیا اور میں نے مایوسی کی حالت میں واپس پجاریوں کے جھونپڑیوں کا رخ کیا اور حماقت پر خود کو برا بھلا کہتا آیا۔ وادی میں پہنچ کر میں نے بیرا کو بلایا جو فوراً ہی ایک جھونپڑے سے نکل آیا۔ وہ بیدار تھا اور سرِ شام سے ہی لنگوروں کا شور اور دیگر آوازیں سن رہا تھا۔ کتوں کے بھونکنے سے اسے حیرت ہوئی مگر شیر کی دہاڑ سے بات واضح ہو گئی۔ تب اسے علم ہوا کہ آدم خور گاؤں میں پہنچ چکا تھا۔ پھر مجھے دیکھ کر اسے اور بھی حیرت ہوئی۔

میں نے اسے تفصیل بتائی تو اس نے کچھ یوں طنز کیا: ’آپ کسی خرگوش کو تلاش کر رہے تھے؟ شاید عمر کی وجہ سے عقل متاثر ہوئی ہے‘۔

۸ بج چکے تھے اور چونکہ اور کچھ کرنے کو نہیں تھا، سو میں اپنے خیمے کی طرف گیا جو میں نے گاؤں کے باہر گاڑا تھا اور وہیں لالٹین جلا کر لٹکانے کے بعد اپنے لیے چائے تیار کرنے لگا۔ چائے سے فارغ ہو کر میں نے خیمے کا پردہ بند کیا اور زمین پر بستر بچھا کر لیٹ گیا۔ سونے سے قبل میں نے لالٹین بجھا دی کہ مجھے روشنی میں سونے کی عادت نہیں۔

اچانک میں بیدار ہو گیا۔ شہروں میں تو ہم آرام سے بستر پر اینڈتے ہوئے کئی منٹ بعد اٹھتے ہیں۔ جنگل میں بیدار ہونے کے ساتھ ہی آدمی کو پوری طرح خبردار ہونا چاہیے۔ ایک لمحے کی غفلت بھی آخری ثابت ہو سکتی ہے۔

آنکھیں کھولتے ہوئے مجھے خطرے کا ہلکا سا احساس ہو گیا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر رائفل تھام لی جو بھری ہوئی اور بستر کے پاس رکھی تھی۔ اس کے لمس نے مجھے نیا حوصلہ دیا۔ پھر میں بیٹھا تو مجھے پوری طرح احساس ہو رہا تھا کہ میں خطرے میں ہوں۔

ایک لمحے کو تو مجھے کچھ نہ سنائی دیا۔ پھر مجھے ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دی جو ایک یا دو لمحے کو رکتی اور پھر شروع ہو جاتی۔ پھر خیمے کا ایک کنارہ اوپر ہوا اور نیچے سے کوئی چیز داخل ہوئی۔ یہ چیز فرش کو ٹٹول رہی تھی۔ یہ کیا سانپ تھا؟

پھر یہ چیز میرے بستر سے ٹکرائی اور فوراً اسے باہر کو کھینچا۔ بستر، چادر، خیمہ، سب چِر گیا۔ یہ تو آدم خور کا پنجہ تھا جو باہر تھا۔

اس کو خیمے کے اندر انسان کی موجودگی کا علم ہو گیا تھا مگر خوش قسمتی سے اسے خیمے کی کمزوری کا علم نہ تھا۔ اس نے نیچے سے پنجہ گھسا کر ٹٹولنے کی کوشش کی کہ شاید انسان ہاتھ آ جائے۔ اس نے خاموشی سے ایسا کیا کہ شکار خبردار نہ ہو۔ اس کا شکار میں تھا۔ میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کر دیا۔

میں نے رائفل چھتیائی اور نال کا رخ اندازے سے شیر کی سمت پھیرا اور لبلبی پر انگلی رکھی۔

یاد رہے کہ اس وقت خیمے کے اندر مکمل تاریکی تھی اور مجھے شیر کے بارے میں کوئی علم نہ تھا کہ کدھر ہو گا۔ اندازے سے میں نے شیر کی اگلی حرکت کا انتظار کیا۔ شیر نے ایک بار پھر پنجہ اندر گھسایا اور بستر کو ٹٹولنے لگا۔

پھر میں نے لبلبی دبا دی۔

کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اور رائفل میں نیا کارتوس بھرا۔ پھر میں نے فوراً دو اور گولیاں چلائیں۔

شیر کی طرف سے خاموشی رہی۔ کیا شیر مر گیا ہو گا؟ اگر ایسا ہوتا تو شیر مرتے ہوئے بھی کوئی نہ کوئی آواز ضرور نکالتا۔ کیا شیر زخمی ہو گا؟ اگر زخمی ہوتا تو دہاڑتا۔ کیا شیر فرار ہو گیا ہے؟ شاید میرا نشانہ خطا ہوا ہو گا۔ اس خاموشی کی یہی ایک وجہ ممکن تھی۔

میں نے ایک اور ناقابلِ تلافی غلطی کر دی۔ میری ٹارچ رائفل پر ہی لگی ہوئی تھی۔ میں نے گولی چلانے سے قبل اسے کیوں نہ جلایا؟ ایک یا دو سیکنڈ کی روشنی میں مجھے پوری طرح اندازہ ہو جاتا کہ شیر کہاں ہے۔ اس کی بجائے میں نے احمقوں کی مانند اندھیرے میں تین گولیاں اس طرح چلائیں کہ مجھے شیر کے بارے میں میں کوئی علم نہ تھا کہ کہاں ہو گا۔

میں نے ٹارچ کی روشنی میں خیمے کے پردے کھولے اور آدم خور کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ فرار ہو چکا تھا۔ مجھے اس کے فرار کی سمت کا اندازہ نہ ہو سکا۔

تین گولیوں نے منچی وادی کے پجاریوں کو بیدار کر دیا تھا اور بیرا وغیرہ اب مجھے پکار رہے تھے۔ اگر میں فوراً انہیں جواب نہ دیتا تو یہ لوگ یہاں آ جاتے۔ میں نے گاؤں کا رخ کیا اور سب کو بتایا کہ کیا ہوا۔

سب نے میرے ساتھ چل کر خیمے میں تینوں گولیوں کے سوراخ اور شیر کے پنجوں سے ہونے والی تباہی دیکھنے پر اصرار کیا۔ ساتھ ساتھ یہ لوگ بھگوان کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے مجھے آدم خور سے بچایا۔ جب میں انہیں چھوڑ کر واپس جانے لگا تو بیرا نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جھونپڑے ہی میں سو جاؤں اور دوبارہ خیمے میں جا کر خطرے کا شکار نہ بنوں۔

میں نے اس کی دعوت نرمی سے رد کی اور خیمے کو لوٹا۔ میں نے لالٹین اٹھائی ہوئی تھی جس کی روشنی کافی تھی۔ مایوسی اور حماقت نے مجھے دیر تک سلائے رکھا۔ پھر میرے خیمے کے باہر سے آوازیں آئیں۔ میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا تو پورے گاؤں کے پجاری باہر نیم دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ رات چلائی جانے والی ۳ گولیاں کالے جادو کی وجہ سے خالی گئیں۔ کسی نے مجھ پر اور میری رائفل پر کالا جادو کر دیا تھا۔ کس نے، کیوں اور کیسے کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اس جادو کی کاٹ کے بغیر میری کامیابی ممکن نہیں۔

ہندوستانی جنگلوں میں رہنے والے لوگ اس طرح کے توہمات کا شکار رہتے ہیں اور شہروں کے باسی بھی اس سے پاک نہیں۔ مجھے علم تھا کہ میں جتنی بھی بحث کرتا، انہوں نے ہار نہیں ماننی۔ اگر میں ان کی بات نہ سنتا تو وہ تعاون چھوڑ دیتے اور سارا ملبہ کالے جادو پر ہی گرتا۔ سب سے آسان حل ان کی بات سے اتفاق کرنا تھا۔

میں نے بہ آواز بلند اس آدمی کو برا بھلا کہا اور پھر ان پجاریوں سے پوچھا کہ وہ اس کی کاٹ کر سکتے ہیں؟

سب سے معمر پجاری نے کہا کہ وہ پوجا سے جادو کی کاٹ کر دیتا ہے مگر اس پر ۵ روپے خرچ ہوں گے۔ اس نے بتایا کہ اس پیسے سے وہ ایک مرغا اور دیگر اشیا خریدے گا اور کچھ پیسے اس کا معاوضہ ہوں گے۔

میں نے اسے فوراً ۵ روپے دے دیے اور خود سونے کے لیے خیمے میں گھس گیا۔ مایوسی سے نیند نہ آئی۔ کچھ دیر بعد ذبح ہوتے مرغ کی آواز سنائی دی اور پھر دھوئیں اور اگربتی کی خوشبو سے اندازہ ہوا کہ پوجا شروع ہو چکی ہے۔

کچھ دیر بعد بیرا نے مجھے باہر سے آواز دی: ’جناب، اٹھیں اور باہر آ جائیں۔ جادو کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ اب پھر سے شیر کو تلاش کرتے ہیں۔ شیر بھی مل جائے گا اور ایک ہی گولی سے آپ اس کو ہلاک بھی کر دیں گے‘۔

ابھی پوجا پوری نہیں ہوئی تھی۔ بوڑھے جادوگر پجاری نے میری رائفل مانگی۔ پھر رائفل کو زمین پر رکھ کر اس نے کندے کے دونوں جانب چونے اور کسی چیز سے سفید اور لال رنگ کے کئی نشان بنائے۔ پھر اس نے مرغے کی آنتوں کا دائرہ بنایا اور چھ مرتبہ رائفل کی نالی پر اوپر سے نیچے گھمایا۔ ساتھ ساتھ منتر بھی پڑھتا رہا۔ پھر اس نے دہکتے انگارے چاروں سمت بکھیرتے ہوئے شیر کو بہ آواز بلند بلایا تاکہ وہ آ کر گولی کھائے۔

اس دوران دن کافی چڑھ آیا تھا۔ اسی جادوگر کا ۲۰ سالہ نوجوان پوتا مُتّو اور بیرا میرے ساتھ آدم خور کی تلاش میں روانہ ہونے کو تیار تھے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ دن کے وقت کسی جنگل میں شیر اور بالخصوص آدم خور کی تلاش میں مارے مارے پھرنا بیکار بات ہے۔ بیرا کی مہارت پر مجھے اندھا اعتبار تھا مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ بھی ان خرافات کا شکار ہو گیا تھا۔

میری شکل سے بیرا کو اندازہ ہو گیا مگر اس نے اصرار کیا کہ فضول کی باتوں میں وقت نہ ضائع کروں بلکہ سیدھا اس کے ساتھ جنگل چلوں۔ اسے اپنے جادوگر پر پورا بھروسہ تھا۔ ہم روانہ ہوئے۔ بیرا سب سے آگے، پھر میں اور پھر نوجوان۔ جونہی ہم وادی سے نکلے تو میں نے ترتیب بدل دی اور مُتّو کو درمیان میں رکھا۔ اگر آدم خور ہمیں دیکھ لیتا تو دیگر آدم خوروں کی مانند ہمیشہ قطار کے آخری آدمی پر حملہ کرتا۔ اس صورت میں نہتے مُتّو کا مارا جانا یقینی تھا۔

ہم پہاڑ سے نیچے اتر کر ندی کو پہنچے جہاں ہم نے شیر کے پگ تلاش کرنے شروع کیے۔ نئے اور پرانے بے شمار پگ تھے جن میں فرق کرنا ضروری تھا۔ جلد ہی تالاب کو آنے کے شیر کے پگ مل گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں وہاں چھپا بیٹھا تھا۔ پھر ایک فرلانگ دور شیر کے مزید تازہ پگ ملے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا دوسرے پگ اس وقت بنے جب شیر نے ٹارچ کی روشنی دیکھ لی تھی یا پھر جب میں نے اس پر تین گولیاں چلائی تھیں۔ ان پگوں میں چاروں پیروں کے نشان الگ الگ تھے اور تلوے سے مٹی اکھڑی ہوئی تھی جو اس بات کی علامات ہیں کہ شیر نے اپنے فرار کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور ڈر کر بھاگا تھا۔ ظاہر ہے کہ شیر بہت خوفزدہ ہو کر بھاگا تھا۔ خون کی عدم موجودگی سے واضح تھا کہ شیر زخمی نہیں ہوا۔

کچھ دور پگ دائیں مڑ کر سیدھا ندی کے مشرقی کنارے پر چڑھے۔ عین اسی جانب جب گزشتہ شام کو شیر نیچے اترا تھا تو لنگور نے آواز دی تھی۔ اس بار بھی شیر اسی راستے پر چلا۔ شاید اس کی کچھار تھوڑی دور گتھراین پہاڑ پر کسی غار میں ہو۔

اب ہوا یہ کہ جونہی ہم نے چھوٹے بانسوں کا جھنڈ عبور کیا تو زمین پتھریلی ہو گئی اور پگ غائب۔ جگہ جگہ گھاس کے گچھے اگے ہوئے تھے۔

دونوں پجاری جنگل کے ماہر تھے مگر یہاں پہنچ کر چکرا گئے۔ پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے چکر کاٹ کر شیر کے پگ تلاش کرنا شروع کر دیے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے کسی نہ کسی کو گھاس کا کچلا ہوا پتہ یا الٹا ہوا پتھر دکھائی دے جاتا۔ جلد ہی یہ علامات بھی ختم ہو گئیں اور ہم رک گئے۔ شیر کے بارے میں میں یہ تو اندازہ تھا کہ وہ اوپر گیا ہے مگر مزید کچھ کہنا ممکن نہ تھا۔

ہم نے سرگوشیوں میں مشورہ کر کے طے کیا کہ پہاڑی پر چڑھ کر دیکھیں کہ کوئی غار تو نہیں۔ قطار کی بجائے ہم نے پھیل کر بڑھنے کا فیصلہ کیا تاکہ زیادہ جگہ دیکھی جا سکے۔ بیرا میری دائیں جانب سو گز اور مُتّو میری بائیں جانب سو گز گیا اور ہم نے انتہائی محتاط انداز سے پیش قدمی شروع کر دی۔ دونوں مجھے پوری طرح دکھائی دے رہے تھے۔

راستہ بہت پتھریلا اور سخت ہو گیا اور پتھروں کی تعداد اور جسامت بڑھتی گئی مگر غار نہ ملا۔ یہ پہاڑی ۵۰۰ فٹ اونچی تھی مگر جب ہم چوٹی پر پہنچے تو دیکھا کہ دوسری جانب سخت ڈھلوان اور سامنے ہری بھری وادی میں بانس کے بکثرت جھنڈ تھے۔ پھر سامنے ہی گتھراین پہاڑ کی چوٹی تھی۔

میرا اشارہ پا کر دونوں مجھ سے سو سو گز دور رہتے ہوئے نیچے کو چل پڑے۔ اس سمت زمین زیادہ زرخیز تھی۔ پتھر اور چٹانیں بھی کم تھیں اور جگہ جگہ اونچی اور گھنی گھاس کے جھنڈ کے علاوہ جھاڑیاں اور چھوٹے درخت بھی دکھائی دینے لگے جن کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور پھر بانسوں کا جنگل آ گیا۔ یہ ہرا جنگل اتنا گھنا تھا کہ پتوں سے کم ہی روشنی چھن کر زمین تک پہنچ رہی تھی۔ مجھے فوراً احساس ہوا کہ میرے ساتھی خطرے میں ہیں کہ اب وہ میری نظروں سے اوجھل تھے اور میں ان کی مدد کو نہ پہنچ سکتا تھا۔ جونہی میں نے یہ سوچا، مُتّو کی چیخ سنائی دی اور شیر کی غراہٹ بھی، جیسے شیر نے حملہ کیا ہو۔ فوراً ہی بیرا نے شور مچایا تو شیر کی آواز رک گئی۔ میں نے بھی شیر کو بھگانے کے لیے شور مچایا اور ہم نے اس سمت دوڑ لگا دی۔

فاصلہ اتنا نہیں تھا۔ ہم جلد ہی پہنچ گئے اور دیکھا کہ مُتّو منہ کے بل پتھروں کے ڈھیر کے قریب گھاس پر پڑا تھا اور اس کی گُدی پچکی ہوئی تھی۔ گردن اور دائیں کندھے پر شیر کے دانتوں کے نشان تھے۔ شیر نے پہلے اسے کاٹا اور پھر اس کے سر پر پنجہ مارا تھا۔ ہم نے اس کی جان بچانے کے لیے شور کیا تھا مگر شیر پر الٹا اثر ہوا اور اس نے مُتّو کو ختم کر دیا۔

پتھروں کے پیچھے لیٹی گھاس بتا رہی تھی کہ شیر وہاں چھپا تھا۔ جب مُتّو گزرا تو شیر نے جست لگا کر پیچھے سے حملہ کیا۔ ہم نے اس کی لاش سیدھی کی۔ شیر کے پنجے کی قوت سے اس کے ڈھیلے باہر نکل آئے تھے اور زبان دانتوں تلے آ کر تقریباً الگ ہو گئی تھی۔ لاش کے پاس خون کا چھوٹا تالاب تھا۔

میرا جی مالش کرنے لگا۔ بیرا کا سیاہ چہرہ سفید پڑ گیا مگر وہ خاموش رہا اور میں بھی کچھ نہ بولا۔ کہنے کو کچھ تھا جو نہیں۔ یہ میری غلطی تھی کہ نہتے نوجوان کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا تھا۔

میری گھڑی پر ۱۱ بج رہے تھے اور سورج بہت گرم ہو چکا تھا۔

ہمیں سنبھلنے میں کچھ وقت لگا۔

پھر میں نے بیرا سے کہا: ’تمہیں تو یقین تھا کہ پوجا کے بعد شیر کی ہلاکت بچوں کا کھیل ہو گی۔ الٹا ہمارا ساتھی مارا گیا‘۔

بیرا کچھ دیر بعد بولا: ’احمق بڈھے کو مرغے کی قربانی دینی تھی مگر اس نے ایک روپیہ بچانے کے لیے مرغی خریدی۔ ایک روپے کے بدلے پوتے کی موت‘۔

میں نے اس پر توجہ نہ دی۔ میرے ذہن میں ایک منصوبہ بن رہا تھا۔ میں گھاس سے گزر کر پتھروں کے ڈھیر تک پہنچا اور ایک پتھر پر چڑھا۔ یہاں سے لاش بمشکل ۱۰ گز دور تھی۔ یہاں ۴ پتھر تھے جن میں سے سب سے بڑا ۳ فٹ اونچا تھا جس پر میں کھڑا تھا۔ باقی سب کافی چھوٹے تھے۔

پھر میں نے منصوبہ بنا لیا۔ یہاں کچھ پتھر پڑے تھے، اگر ہم یہاں کچھ اور پتھر لا کر رکھتے تو شیر کو شبہ نہ ہوتا۔

میں نے مڑ کر بیرا سے کہا: ’رات تاریک ہو گی اور شیر واپس لوٹے گا۔ ہمیں لاش یہیں چھوڑنی ہو گی۔ شیر بہت بھوکا ہے۔ اگر ہم یہاں کچھ اور پتھر لا کر رکھ دیں تو میرے چھپنے کے لیے کمین گاہ بن جائے گی۔ اتنے قریب سے ٹارچ کی روشنی میں شیر کو ہلاک کرنا مشکل نہ ہو گا‘۔

بیرا بولا، ’جناب، آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ جونہی شیر یہاں کمین گاہ دیکھے گا، اسے فوراً خطرے کا احساس ہو جائے گا۔ عین ممکن ہے وہ بھاگ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پتھروں پر جست لگا کر آپ کے سر پر پہنچ جائے اور آپ کو احساس بھی نہ ہو۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ جا کر اس کے کمینے دادے کو اس کے پوتے کی موت کی خبر دوں۔ پھر گاؤں والے آ کر اس کی لاش کو اٹھا کر رات تک جلا دیں گے۔ پھر اس کی روح کو سکون ملے گا۔ اگر اس کی لاش کو شیر کی خوراک بنانے کے لیے چھوڑ دیا گیا تو اس کی روح جنگلوں میں بھٹکتی پھرے گی اور ہمارے لیے مشکلات پیدا کرے گی‘۔

میں نے اس کی بات کاٹی، ’شیر اس کی لاش کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ میں یہاں اسی لیے بیٹھوں گا۔ کیا آدم خور کو مارنے یہ عمدہ موقع نہیں؟ اگر میں آج رات اسے ہلاک کر سکوں تو کتنی زندگیاں بچ جائیں گی۔ بطور شکاری، تم خود سوچو کہ ایسا عمدہ موقع ضائع کرنا عقلمندی ہے؟‘

بیرا کچھ دیر چپ رہا۔ لگ رہا تھا کہ میری بات اسے قائل کر رہی ہے۔ پھر اس نے معصومیت سے کہا، ’جناب، ہم نے اس کی لاش ہر طرف تلاش کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہے۔ اب میں جا کر سب کو بتاتا ہوں۔ کل صبح ہم پھر سے تلاش کریں گے۔ آج رات آپ یہاں بیٹھیں اور میں نظروں سے اوجھل مگر قریب کسی درخت پر بیٹھ جاؤں گا تاکہ آپ کو مدد کی ضرورت ہو تو پہنچ جاؤں‘۔

اس طرح بیرا نے اپنے ضمیر کو مطمئن کیا اور ہم منصوبے پر عمل کرنے کے لیے اٹھے۔

شیر کی توجہ سے بچنے کے لیے ہم نے ۲۰۰ گز دور جا کر ایک اور مقام سے پتھر اٹھا کر اس جگہ لانا شروع کیے۔ ۴ پتھر پہلے تھے اور ہم مزید ۶ پتھر لائے اور ایک دائرہ سا بنا دیا۔ پھر اس پر ہم نے چھوٹے پتھر رکھے اور ۳ فٹ اونچی چاردیواری بنا دی۔ زیادہ اونچی بناتے تو شیر کو شبہ ہو جاتا۔

پھر ہم نے پتھروں کے درمیانی خلا کو سخت گھاس سے بھرا جو ہم کچھ فاصلے سے توڑ کر لائے تھے۔ یہ سب کام بہت طویل اور مشقت طلب تھا کہ دھوپ شدید گرم تھی اور پتھر اور گھاس دور سے لانی تھیں۔

صبح جب ہم منچی سے نکلے تو جادوگر نے ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ ہم شیر کو ہلاک کر لیں گے۔ میں نے صرف رائفل اٹھائی تھی۔ پانی کی بوتل یا ٹارچ خیمے میں ہی رکھی تھیں۔ بیرا کو یہ سب سامان لانے کو اکیلا بھیجنا ظلم ہوتا۔

یہ سب بحث کر کے ہم نے طے کیا کہ ہمیں ابھی یہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ میں اس ۳ فٹ اونچے ’قلعے‘ میں بیٹھتا جبکہ بیرا کچھ فاصلے پر نظروں سے دور ایک درخت پر بیٹھ جاتا۔ امید تھی کہ آدم خور کو لاش کا مقام یاد ہو گا اور وہ لوٹ آئے گا۔ ہماری خواہش تھی کہ شیر کہیں قریب چھپ کر ہمیں نہ دیکھ رہا تھا کہ پچھلے ۳ گھنٹے سے ہم کمین گاہ بنا رہے تھے۔ اگر وہ قریب چھپ کر ہمیں دیکھ رہا ہوتا تو اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں تھی۔ واحد امکان یہ تھا کہ شیر پانی کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھ گیا ہو گا اور اس نے ہمیں نہ دیکھا ہو گا۔ نیچے وادی میں جانے کے امکانات نہیں تھے کہ ندی خشک ہو چکی تھی۔

ہم نے بیرا کی خاطر درخت تلاش کرنے کے لیے چکر لگایا اور نصف فرلانگ دور املی کا ایک بڑا درخت دکھائی دیا جس پر بیرا رات گزار سکتا تھا۔

سوا دو بجے جب دن انتہائی گرم تھا، میں نے بیرا کو املی کے درخت پر چڑھایا۔ بیرا نے مجھے بار بار کہا کہ خبردار رہوں اور سو نہ جاؤں۔ جب میں اپنی جگہ پہنچ کر بیٹھا تو زمین شدید گرم تھی۔ اکڑوں بیٹھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر اس طرح بیٹھنے سے میرا سر دیوار کے اوپر ہوتا اور اس طرح زیادہ دیر بیٹھنا بھی ممکن نہ تھا۔ مجھے سر جھکا کر بیٹھنا تھا۔

جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ جھکے ہوئے سر کی وجہ سے مجھے شیر کی آمد کا پتہ نہیں چل سکتا اور شیر میرے سر پر پہنچ جاتا۔

پھر میں اپنی پناہ گاہ سے نکلا اور کچھ دور جا کر گھاس کے کئی مٹھے توڑے اور اپنے ہیٹ کے اردگرد اٹکا دیے۔ اس پر کچھ وقت لگا۔ جب اسے کچھ دور سے دیکھا جاتا تو ہیٹ کی بجائے گھاس دکھائی دیتی۔

پھر ہیٹ پہن کر میں اپنی پناہ گاہ میں پہنچا اور پھر ساکت ہو کر اکڑوں بیٹھ گیا۔ میری آنکھیں دیوار سے ذرا اونچی تھیں۔ میں اپنے سر کو انتہائی آہستگی سے حرکت دے کر اپنے دائیں، بائیں اور عقب میں بھی دیکھ سکتا تھا۔ ہیٹ میں گھاس لگانے کا اضافی فائدہ یہ تھا کہ اگر شیر میرے سر کو ہلتا دیکھتا تو بھی اسے یہی لگتا کہ ہوا سے گھاس ہل رہی ہے۔

کچھ دیر بعد میرے ٹخنے دکھنے لگے اور پنڈلیاں سن ہو گئیں۔ مجھے وقفے وقفے سے ہلنا پڑتا تھا۔ ۴ بجے زمین اس قابل ہوئی کہ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ سکتا۔

اس دوران گرد و پیش انتہائی خاموش رہے۔ کسی جانور یا پرندے کی نہ تو آواز آئی اور نہ ہی کوئی حرکت دکھائی دی۔ شاید شیر بھی سورج کی گرمی سے بچنے کے چکر میں ہو گا۔ دو بار مجھے حرکت دکھائی دی۔ ایک بار ایک بڑی گوہ گزرتی دکھائی دی اور دوسری مرتبہ درخت سے لٹکتا چھوٹا اژدہا دکھائی دیا جب اس نے نیچے سے گزرتی گلہری کو پکڑا۔ مجھے گلہری پہلے دکھائی دی اور اژدھا تب دکھائی دیا جب وہ گلہری کو پکڑ کر مروڑ رہا تھا۔

۵ بجے ہوا کی گرمی دور ہو گئی۔ تب مجھے یاد آیا کہ میں نے صبح سے پانی نہیں پیا اور اگلی صبح منچی جانے تک مجھے پانی نہیں ملنا تھا۔

پھر پہاڑی کے کنارے سے تیتر بولا اور چند منٹ میں دوسری طرف سے دوسرا تیتر بولا۔ چند منٹ میں دونوں آمنے سامنے پہنچ کر لڑنے لگے۔ مجھے ان کی لڑائی تو نہیں دکھائی دی مگر آواز سے اندازہ ہو رہا تھا۔ ۱۰ منٹ کی لڑائی کے بعد ایک تیتر نے ہار مان لی اور اڑ گیا۔ دوسرا تیتر فتح یاب ہو کر بولتا رہا۔

اس لڑائی کی وجہ سے وقت تیزی سے گزرا۔ پانچ بج کر چالیس منٹ پر جنگلی مرغوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وقفے وقفے سے مور کی آواز بھی آتی۔ سینکڑوں بلبل بھی بولنے لگے۔ یہ خوشگوار آوازیں جس نے ایک بار سنیں، انہیں کبھی نہیں بھلا سکتا۔

تاہم ان پر زیادہ توجہ دینا میرے لیے مناسب نہ تھا۔ اب مجھے زیادہ توجہ دینی تھی کہ رات قریب آ رہی تھی اور آدم خور کے لوٹنے کا وقت ہو چلا تھا۔ اس وقت پہاڑ پر سے ایک لنگور بولا اور دوسری پہاڑی پر سے دوسرا لنگور بولا۔ پھر ان کے پورے غول درختوں پر اچھلنے کودنے، بولنے اور شور مچانے لگے۔ لنگور میری نظروں سے اوجھل تھے مگر میں چشمِ تصور سے انہیں دیکھ سکتا تھا۔

لنگوروں کی وجہ سے مجھے بہت مدد ملی۔ مجھے علم تھا کہ لنگوروں کے ہر قبیلے کا چوکیدار نگران بیٹھا ہو گا جس کی تیز نگاہ سے کچھ نہیں چھپ سکتا۔

سورج میری پشت پر پہاڑیوں کے غروب ہو گیا اور وادی پر تاریکی چھانے لگی۔ گھاس پھونس اور جھاڑیاں دھندلا گئے۔ فاصلوں کا تناسب بگڑ گیا۔ کچھ دیر بعد ہر طرف ملگجا سا اندھیرا تھا اور محض قریب والی چند جھاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ ہر چیز تاریکی میں چھپتی چھپتی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

میرے اپنے عقب سے پھڑپھڑاہٹ کی آواز اور پھر چوں چوں سنائی دی۔ بڑے کانوں والی چمگادڑ حشرات کی تلاش میں اڑ رہی تھی۔ چند مکھیاں مچھر میرے ہیٹ کے پاس تھے تو چمگادڑ ان سے پیٹ بھرنے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایک شب بیدار پرندہ میری بنائی ہوئی منڈیر پر آ بیٹھا۔ وہ اتنا قریب تھا کہ میں ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ سکتا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پرندے کو میری موجودگی کا علم نہیں ہو پایا۔ پھر اس نے اپنی بھیرویں الاپنا شروع کر دی۔

جب اس پرندے کی نظر مُتّو کی لاش پر پڑی تو فوراً اڑ گیا۔ کچھ دیر بعد دور سے اس کی آواز دوبارہ آنے لگی۔

اب جھاڑیاں، گھاس، پتھر اور مُتّو کی لاش میری نظروں سے اوجھل ہو چکی تھیں۔ ہر طرف رات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ رات کو ستاروں کی روشنی مناسب حد تک منظر دکھا سکتی ہے۔ جب میں نے نظریں اٹھائیں تو آسمان پر چند ہی ستارے دکھائی دیے کہ بادل چھا رہے تھے۔

آدم خور کو میری موجودگی محسوس کر کے اپنی خوراک بنانے کے لیے یہ بہترین رات تھی اور مجھے اس کی آمد کی خبر بھی نہ ہو پاتی۔ اتنی تاریکی میں شیر بھلا کیسے دکھائی دیتا۔ ایک طرح سے میں آدم خور کے رحم و کرم پر تھا۔ اچانک مجھ پر شدید خوف طاری ہوا اور کپکپی شروع ہو گئی۔ میں نے بیرا کے عقلمندانہ مشورے کو چھوڑ کر کتنی حماقت کی تھی۔ میرا دل چاہا کہ میں چیخ کر بیرا کو بلاؤں یا بھاگ کر اس کے پاس املی کے درخت پر محفوظ ہو کر بیٹھ جاؤں۔ گھٹن کا احساس ہونے لگا۔ مجھ پر گھبراہٹ چھانے لگی اور سارے جسم سے پسینہ چھوٹنے لگا۔ دور فاصلے پر الو کی منحوس آواز سنائی دی۔

عین اسی وقت نیچے وادی میں ندی کے پاس کہیں سے دم توڑتے سانبھر کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز دوبارہ آئی اور پھر تیسری بار، پھر خاموشی چھا گئی۔

مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ نر سانبھر کی آواز ہے۔ مادہ سانبھر کی آواز باریک جبکہ چیتل کی آواز اس سے فرق ہوتی ہے۔ نر سانبھر کو مارنے والے تین ہی جانور ہو سکتے ہیں: جنگلی کتوں کا غول، تیندوا یا شیر۔ جنگلی کتے غول کی شکل میں شکار کرتے ہیں اور بہت شور کرتے ہیں۔ میں نے جنگلی کتوں کا امکان رد کر دیا۔ یا تو تیندوا ہو گا یا پھر شیر۔ کوئی اور جانور نر سانبھر کو نہیں مار سکتا۔ تیندوے کو سانبھر گرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔

زیادہ امکان شیر کا ہی تھا۔ مگر یہ شیر آدم خور تھا یا عام شیر؟ ممکن ہے کہ کوئی شیر ادھر سے گزر رہا ہو اور سانبھر کو دیکھ کر اسے مار لیا ہو؟ مجھے علم تھا کہ آدم خور محض انسانی گوشت پر زندہ نہیں ہے کہ اس کے شکار کردہ انسانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ شیر بہت بھوکا تھا اور کچھ وقت سے اسے کھانے کو کچھ نہ ملا تھا۔ امکان یہی تھا کہ آدم خور نے ہی سانبھر مارا ہو گا۔ شاید وہ مُتّو کی لاش کو آ رہا ہو گا کہ سانبھر راستے میں مل گیا۔

سانبھر مر چکا تو خاموشی چھا گئی۔ شیر نے بقیہ رات پیٹ بھرنے میں گزارنی تھی اور یہاں نہ آتا۔ رت جگا بیکار جاتا۔ یہ سوچ بہت مایوس کن تھی۔

تاہم فوری خطرے سے نجات کی کیفیت بھی تھی اور اپنی بزدلی پر مایوسی بھی کہ چند لمحے قبل میں اسی شیر کی آمد کے خوف سے لرز رہا تھا اور تاریکی میں آدم خور کا خیال ہی میرے اوسان خطا کرنے کو کافی تھا۔

بیرا نے بھی دم توڑتے سانبھر کی آواز سنی ہو گی اور میری طرح وہ بھی سوچ رہا ہو گا کہ آیا یہ آدم خور نے شکار کیا ہے یا کسی اور درندے نے۔ معلوم نہیں کہ بیرا نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہو گا۔ سانبھر کی موت سے فوری خطرہ تو ٹل گیا تھا۔ اب میں پرسکون تھا اور سوچ رہا تھا کہ آدم خور لوٹے گا یا نہیں۔

اگلا نصف گھنٹہ جنگل میں خاموشی رہی۔ جیسے جنگل کے باسیوں کو خبر ہو گئی ہو کہ موت ان کے تعاقب میں ہے اور جس نے آواز نکالی، وہ مارا جائے گا۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ ابھی ۱۰ بھی نہیں بجے تھے، پوری رات پڑی تھی۔

اس کے بعد جنگل کی زندگی پھر سے بیدار ہونے لگی۔ چند گز دور دائیں جانب کاکڑ گھاس چر رہا تھا۔ نیچے وادی میں ندی کے کنارے ہاتھی بانس کھا رہا تھا۔

جب وادی سے گرم ہوا اٹھی تو پہاڑ کی چوٹی سے سرد ہوا نیچے اترنے لگی۔ ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور ایک جھونکے سے مُتّو کی لاش کی بو کاکڑ تک پہنچی۔ کاکڑ فوراً چند گز بھاگ کر رکا اور پھر بھونکنے لگا۔

اس کی آواز چند منٹ تک وقفے وقفے سے آتی رہی۔ اتنی چھوٹی جسامت کے جانور کی اتنی اونچی آواز سن کر حیرت ہوتی ہے۔ خاموش رات میں کاکڑ کی آواز ایک میل دور سے بھی سنائی دیتی ہے۔

کچھ دیر بعد ہاتھی ندی میں اوپر کی سمت چلا گیا۔ اس کے راستے میں سانبھر کی لاش پڑتی تھی جس پر تیندوا یا شیر موجود تھا۔ ہاتھی زور سے چنگھاڑنے لگا۔

پھر میں نے شیر کی غصیلی دہاڑ سنی۔ ہاتھی اسی طرح شور کرتا رہا اور ہاتھی بھی وقفے وقفے سے دہاڑتا رہا۔ میں اس منظر کو چشمِ تصور سے دیکھ سکتا تھا۔ شیر اپنا پیٹ بھر رہا تھا کہ ہاتھی آن پہنچا۔ اب یہ کہنا تو ممکن نہیں تھا کہ آیا ہاتھی اور شیر لڑائی شروع کریں گے یا راہِ فرار اختیار کریں گے۔

ہاتھی کی چنگھاڑ بدلنے لگی۔ خوف والی آواز بتدریج غصے والی آواز میں بدلتی گئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہاتھی نر ہے اور اسے بانس کے جھنڈ کے قریب شیر کی موجودگی پسند نہیں۔ سو اس کا پارہ چڑھ رہا تھا۔

اب شیر کیا کرے گا؟ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ شیر نے ہاتھی کا سامنا نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے شکار کردہ جانور سے ہٹ گیا۔ اچانک خاموشی چھا گئی اور ہاتھی شیر کو بھگا کر خاموش ہو گیا۔

مغرب کے بعد سے چھائے ہوئے بادل ایک گھنٹہ قبل جا چکے تھے اور اب ستاروں کی روشنی میں مجھے مُتّو کی لاش مناسب حد تک دکھائی دے رہی تھی۔ اب اگر آدم خور آتا تو مجھے کچھ نہ کچھ دکھائی دے جاتا۔ اب مجھے پھر خیال آیا کہ آیا ہاتھی سے جھگڑا کرنے والا شیر عام تھا یا آدم خور۔ اس کی بزدلی سے تو یہی لگا کہ آدم خور ہی ہو گا۔

اچانک مجھے شیر کی غراہٹ سنائی دی جو صرف ایک ہی بار آئی اور میں اندازہ نہ لگا سکا کہ کس سمت یا کتنے فاصلے سے آئی ہے۔ ایک اندازہ تھا کہ یہ میرے عقب میں کچھ نیچے سے آئی تھی مگر یقین سے کہنا ممکن نہ تھا۔

ہر ممکن خاموشی سے میں نے انتہائی آہستگی سے تھوڑا بائیں جانب رخ کیا۔ اب مجھے دائیں جانب لاش دکھائی دے رہی تھی اور اگر کوئی جانور بائیں جانب سے آتا تو وہ بھی دکھائی دے جاتا۔

ہاتھی نے شیر کا رخ جس طرح بدلا تھا، مجھے اس پر خوشی ہوئی۔ شیر کو اب شاید اپنا دن والا شکار یاد آ جائے۔ غصے کا اظہار کرتے ہوئے شیر اب اس جانب آ رہا تھا۔

میری قسمت ساتھ دے رہی تھی۔ نہ صرف شیر نے اپنی آمد کا اعلان کیا بلکہ غصے کی وجہ سے بھی وہ زیادہ محتاط نہ تھا۔ اتنی تاریکی میں شیر کی آمد کی پیشگی اطلاع ملنا بہت اہم تھا۔ شاید اسے میری موجودگی کا علم بھی نہ ہوتا۔

شیر دو بار مزید غرایا۔ پھر مجھے بائیں جانب تاریکی میں ایک متحرک سایہ سا دکھائی دیا جو اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ یہ سایہ دوبارہ کافی قریب دکھائی دیا۔ اس کا رخ میری جانب تھا۔

شیر پھر غرایا۔ ابھی تک اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔ یہ آواز اسی سائے سے آ رہی تھی اور سائے کا رخ میری جانب تھا۔

تاریک سایہ جھاڑی کے پیچھے غائب ہو گیا۔ چند لمحے بعد سایہ بائیں سے دائیں سیدھا مُتّو کی لاش پر پہنچا جو ۱۰ گز دور تھی۔ اس نے میری کمین گاہ کی طرف ذرا سی بھی توجہ نہ دی۔

شیر اتنا مشتعل تھا کہ لاش پر پہنچ کر بھی غراتا رہا اور لاش کی چیر پھاڑ شروع کر دی۔ ہاتھی کی وجہ سے اسے سانبھر کی لاش چھوڑنی پڑی تھی۔ اب اس کا غصہ مُتّو کی لاش پر نکل رہا تھا۔

مجھے احساس ہوا کہ مجھے شیر کو پہلی گولی سے ہلاک یا معذور کرنا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ نہ کر سکے۔ وہ مجھ سے بمشکل ۱۰ گز دور تھا مگر مجھے محض دھبہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ میرے پاس ٹارچ بھی نہیں تھی اور نہ ہی روشن دیدبان۔ میری پرانی اعشاریہ ۴۰۵ بور کی ونچسٹر کے عام دیدبان تھے۔

جتنی دیر شیر لاش کو بھنبھوڑتا، میں نے کچھ کرنا تھا۔ جونہی شیر ذرا پرسکون ہو کر پیٹ بھرنا شروع کرتا تو اس کو میری ہلکی سی حرکت بھی دکھائی دے جاتی اور فوراً حملہ کر دیتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس نے سانبھر کو اتنا کھا لیا ہو کہ اب اسے بھوک نہ ہو۔ اس صورت میں اگر شیر چلا جاتا تو واپس نہ لوٹتا۔

میں نے اعشاریہ ۴۰۵ بور کی رائفل کا کندہ شانے سے لگایا اور پوری احتیاط کی کہ رائفل کی نال پتھر سے نہ ٹکرائے۔ رائفل کو سختی سے تھام کر میں نے اندازے سے شیر کے ہیولے پر نشانہ لیا۔

شیر پر مہلک نشانہ لینا ممکن نہ تھا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ نشانہ یکسر خطا جاتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ شیر زخمی ہو کر مجھ پر ہی حملہ کر دیتا۔ شیر کی فوری ہلاکت کا امکان سو میں سے صرف ایک تھا۔

میں نے احتیاط سے سانس روکا اور لبلبی دبا دی۔

دھماکے کی آواز پہاڑیوں میں شدت سے گونجی اور شیر بھی دہاڑنے لگا۔ خوش قسمتی سے شیر کا رخ مخالف سمت تھا، اس نے سوچا کہ اس پر جھاڑیوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ شیر نے جست لگائی اور قریب ترین جھاڑی پر غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ میرا اندیشہ درست نکلا اور شیر محض زخمی ہوا تھا۔ اس کا مزاج پہلے ہی ہاتھی کی وجہ سے برہم تھا، زخمی ہونے کے بعد اس کے غصے کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔

میں نے غلطی کر دی۔ بجائے اس کے کہ میں خاموش رہتا اور شیر جھاڑی پر غصہ اتارنے کے بعد چلا جاتا، میں نے اس پر دوسری گولی چلا دی۔

اس کے بعد شیر کا رویہ انتہائی خوفناک ہو گیا۔ دوسری گولی کھا کر وہ ہوا میں اچھلا اور نیچے گر کر نیم دائرے میں گھوما اور اس کا رخ میری طرف ہو گیا۔

فوراً میں کھڑا ہوا اور شیر پر جب تیسری گولی چلائی تو وہ ۲ گز دور تھا۔ پھر میں نے اپنی پیچھے پتھروں کی دیوار سے جست لگائی۔ نیچے گرا تو جیسے پیروں میں ہزاروں سوئیاں چبھی ہوں۔ میں ۱۱ گھنٹوں سے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا سو دورانِ خون رک گیا تھا۔

خوش قسمتی سے شیر پتھروں کے دوسری جانب رکا رہا۔ اس کی آوازوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شدید زخمی ہے اور شاید مرنے والا ہو۔

میں گھٹنوں کے بل اٹھا اور آہستہ آہستہ دیوار کی دوسری جانب دیکھا۔ شیر دوسری جانب پڑا تڑپ رہا تھا۔ چوتھی گولی سے اس کا خاتمہ ہو گیا۔

جب شور ختم ہوا تو مجھے بیرا کی آواز آئی جو چلا چلا کر پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا۔ میں نے اسے بتایا کہ شیر ختم ہو چکا ہے اور اسے اپنی طرف بلایا۔ چند منٹ بعد بیرا آن پہنچا اور میں نے اسے پوری تفصیل بتائی۔ نیچے ندی میں ہاتھی پھر چنگھاڑا۔

بیرا مجھے لے کر سیدھا منچی پہنچا۔ وہاں دوسری بار میں نے ساری تفصیل سنائی۔ ساری بستی والے ہمارے ساتھ لالٹینیں اٹھا کر شیر اور مُتّو کی لاشیں لانے روانہ ہو گئے۔

میری پہلی گولی شیر کے پیٹ میں لگی۔ دوسری گولی شانے کے پاس اس کی ریڑھ کی ہڈی پر لگی۔ دوسری گولی نے اس کو فرار ہونے سے روکا تھا۔ حسب توقع آدم خور جوان شیر تھا جو اس کی ناتجربہ کاری سے ظاہر تھا۔ پجاریوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم نے مُتّو کی لاش کو چارہ کیوں بنایا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ ان کا جادوگر اتنا احمق کیوں تھا؟ پھر ہم نے انہیں بتایا کہ آدم خور اپنے انجام کو پہنچا۔

اس پر وہ خاموش ہو گئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۲۔ پیدّاچیرُوُو کا لنگڑا

 

اگر آپ گنتاکل سے میٹر گیج والی ٹرین پر مشرق کی طرف سفر کریں تو راستے میں بزوادہ (موجودہ نام وجے واڑا) آئے گا۔ یہاں آندھرا پردیش کے بہترین جنگلات پائے جاتے ہیں جو دروناچلم جنکشن اور نندیال کے بعد آتے ہیں۔ یہاں بسواپرم، چیلما، بوگوڈا اور دگوامیٹّا کے سٹیشن آتے ہیں۔

ریلوے کی پٹڑی کے دونوں جانب جنوبی ہندوستان کے بڑے اینٹلوپ نیل گائے بکثرت ملتے ہیں۔ ان جنگلوں میں چِنا منترالمنا کے فارسٹ ریسٹ ہاؤس کے آس پاس تو بہت ہی زیادہ نیل گائیں ہیں۔ کبھی ان کی تعداد ہر جگہ بہت زیادہ تھی مگر اب جنوبی ہندوستان کے اکثر جنگلوں میں نیل گائے لگ بھگ معدوم ہو چکی ہے۔

نیل گائے کے علاوہ یہاں جنگلی سور عام ہیں اور جانوروں کی کثرت کے سبب شیر اور تیندوے بھی بہت زیادہ ہیں۔ اگر کسی وجہ سے درندوں کی فطری خوراک کم پڑ جائے تو پھر ان کی توجہ پالتو مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کی طرف ہو جاتی ہے جنہیں مقامی چروا ہے گاؤں کے پاس چراتے ہیں۔ پھر وہ وقت آتا ہے کہ جب درندے اور انسان مقابل آ جاتے ہیں کہ چروا ہے اور دیہاتی حملہ آور درندوں کو نیزوں، پھندوں، گولیوں اور دیگر ذرائع سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیر اور تیندوے اور بھی کئی وجوہات سے زخمی ہو سکتے ہیں۔ جب زخمی درندے فطری خوراک پانے کے قابل نہ رہیں تو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے انسان سب سے آسان ذریعہ رہ جاتا ہے۔

کئی سالوں کے دوران یہاں کئی آدم خور پیدا ہوئے۔ میں ان میں سے ایک کے بارے میں میں ذکر کر چکا ہوں جو مندرجہ بالا سٹیشنوں کے آس پاس شکار کرتا رہا تھا۔ یہ کہانی ایک ایسے آدم خور کے بارے میں میں ہے جو یہاں سے چند میل دور شمال کی جانب ظاہر ہوا تھا۔

اس مقام تک پہنچنے کے لیے آپ دگوامیٹّا نہ اتریں بلکہ مزید ۴۰ میل کا سفر کر کے مرکاپور روڈ پہنچیں۔ وہاں اتر کر آپ سڑک سے شمال کی جانب مزید ۴۰ میل جائیں۔ یہاں سڑک بہت خوبصورت پہاڑوں سے اترتی ہے۔ اس جگہ کا نام سری سیلم ہے جو کسٹنا (موجودہ نام کرشنا) دریا کے اوپر ہے۔ پہلے یہ دریا مدراس اور حیدر آباد کے درمیان حدبندی کا کام کرتا تھا۔ برطانوی راج ختم ہو گیا اور نظام بھی چلے گئے اور یہ علاقہ اب آندھرا پردیش کا حصہ بن گیا ہے جو ہندوستان کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ سری سیلم میں پہلے ایک مندر تھا مگر اب زراعت اور بجلی کے منصوبے کی وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

 

گزرے برسوں میں جب حالات سازگار تھے تو سڑک مرکاپور ریلوے سٹیشن سے ۲۰ میل دوری سے لے کر کسٹنا دریا تک ایسے جنگل سے گزرتی تھی جہاں شیر رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ جنگل نہ تو بہت خاردار ہیں اور نہ ہی بہت گھنے۔ مناسب اونچی گھاس اور کم بلند درختوں کی وجہ سے شیروں کے لیے چھپنا آسان ہوتا ہے اور یہاں ہرن اور سور بہ آسانی پائے جاتے ہیں جو ان کا شکار بنتے ہیں۔ نیچی پہاڑیاں اور جگہ جگہ گزرتی ندیاں شدید گرمیوں میں بھی خنکی، سایہ اور پانی مہیا کرتی ہیں۔ جنوبی جنگلوں میں عذاب بننے والے پسو بھی یہاں نہیں پائے جاتے اور مغربی گھاٹ والی جونکیں بھی نہیں ہوتیں۔ جونکیں تو پھر بھی اکا دکا مل جاتی ہیں مگر پسو صرف بارشوں کے بعد عارضی طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

تیندوے اور بالخصوص شیر یہاں عام ملتے تھے۔ ان کا گزارا نیل گائے اور ہرنوں پر ہوتا ہے اور یہاں شکاری بھی کم ہی آتے ہیں۔ نیل گائے کو بعض شکاری پسند کرتے ہیں مگر ان کے شکار پر مکمل پابندی کی وجہ سے شکاریوں کو یہاں آنے کی کم ہی ضرورت پڑتی ہے۔ موسم بھی سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں شدید گرم ہوتا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان جنگلوں میں زیادہ سڑکیں وغیرہ نہیں پائی جاتیں کہ جن پر گاڑی چل سکے۔ اگر آپ نے سڑک سے دور جانا ہو تو یا تو پیدل چلیں یا پھر بیل گاڑی پر۔ ان وجوہات سے سری سیلم کے جنگلات میرے لیے خصوصی دلچسپی کا سبب تھے۔ یہاں پہنچ کر میں شہری زندگی کی چہل پہل سے نجات پا لیتا تھا۔

یہاں ایک بستی کا نام پیدّاچیروُو ہے جو مرکاپور سے سری سیلم جانے والی سڑک کے مغرب میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے بیل گاڑی پر ۱۸ میل کا سفر کرنا پڑتا ہے اور سارا راستہ جنگل سے گزرتا ہے اور کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا۔ پیداچیروو چھوٹی بستی ہے جس کے جنوب میں خوبصورت جھیل ہے۔ بیل گاڑی کا راستہ اسی جھیل سے گزر کر جنوب کی سمت چند میل دور پہاڑی تک پہنچتا ہے۔ یہاں راستہ انتہائی دشوار چڑھائی سے ہوتا ہوا دوسری جانب رولاپینٹا بستی کو جاتا ہے۔ یہاں ایک اور دیہات ڈورنالا سے آتماکور جانے والی سڑک بھی اس سے آن ملتی ہے۔ مزید جنوب میں چنّامنترالامنا کا ریسٹ ہاؤس ہے جہاں نیل گائیں بکثرت ہیں۔

مندرجہ بالا چھوٹی جھیل ہر طرف جنگل سے گھری ہے اور جنگل میں شیروں کی کثرت ہے۔ شیر اتنے ہیں کہ وہ سبھی تیندوے کھا چکے ہیں۔ نومبر سے جنوری تک ہر سال ملاپ کے موسم میں مغرب کے بعد ہمیشہ اور دن میں بھی اکثر شیرنیوں کی آواز سنائی دیتی ہے جو شیروں کو تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات شیرنیوں کی خاطر لڑنے والے شیروں کی خوفناک آوازیں بھی آتی ہیں۔

میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں کہ جب درندوں کی فطری خوراک کم پڑ جائے تو ان کا رخ پالتو مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کی طرف ہو جاتا ہے۔ جب درندے جنگلی یا پالتو جانوروں کو بھی مارنے کے قابل نہ رہیں تو آدم خور بنتے ہیں۔ میرے علم میں ایک کے سوا باقی ہر واقعے میں درندوں کی معذوری کا سبب انسان کے ہاتھوں لگنے والے زخم تھے جو گولی، چھرے یا پھندے سے لگے تھے۔ میں اس استثنائی واقعے کے بارے میں میں اب لکھ رہا ہوں۔

پیداچیروو کے آدم خور کے سلسلے میں انسان یکسر بے قصور تھا۔ جب میں نے اسے شکار کیا تو پتہ چلا کہ دوسرے شیر سے لڑائی میں اس کی دائیں آنکھ اور دائیاں کان ضائع ہو گئے۔ دوسرے شیر نے دائیں بازو پر بری طرح کاٹا کہ اس کے پٹھے کٹ گئے اور آدم خور لنگڑانے لگا۔ ان معذوریوں کے باعث شیر اپنی فطری خوراک حاصل کرنے کے قابل نہ رہا۔ شیر کے اگلے پنجے بالخصوص دائیاں پنجہ شکار کے دوران سب سے اہم ہوتا ہے۔ حملے کے دوران جب شیر جانور کی گردن یا گلا پکڑتا ہے تو بازوؤں کی مدد سے اسے گراتا ہے۔ گرتے ہی جانور کی گردن ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی ڈھلتی ہوئی عمر بھی ایک وجہ تھی۔ جب دائیاں بازو بیکار ہوا تو شیر پساری (خرگوش کی جسامت کا ہرن) سے بڑا جانور پکڑنے کے قابل نہ رہا۔ جتنے مہینے زخم بھرتے رہے، اس کو بھوکا رہنا پڑا۔ پھر اس کو جو بھی انسان ملا، اس نے مار کھایا۔ سست رفتاری اور دیگر معذوریوں کے باوجود انسان اس سے بچ کر نہ جا سکتا تھا۔

پیداچیروو کے لوگوں نے مجھے بعد میں بتایا کہ انہیں کئی روز تک شیرنی کے بلاوے سنائی دیتے رہے۔ پھر مسئلہ شروع ہوا۔

کرسمس اور ملاپ کے موسم سے ذرا قبل ایسا ہوا کہ شیرنی کے لیے دو شیر جمع ہوئے اور لڑنے لگے۔ لڑائی مغرب کے وقت شروع ہوئی اور نصف شب تک جاری رہی۔ دونوں ہی شیر کافی زخمی ہوئے۔ ایک شیر جب پانی پینے جھیل کے کنارے پہنچا تو وہاں کیچڑ میں خون کا چھوٹا تالاب چھوڑ گیا۔ دوسرا شیر پیدّاچیروو سے رولاپینٹا والے ریتلے راستے پر چلتا ہوا ڈورنالا اور آتماکور گیا۔ نرم زمین پر اس کے تین پیروں کے پگ اور خون کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ ساتھ ہی چوتھا پیر گھسیٹنے کی لکیر تھی۔

وقت گزرتا رہا اور اکا دکا بکری یا بھیڑ غائب ہوتی رہی اور ساتھ لنگڑے شیر کے پگ دکھائی دیتے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس لڑائی میں کم از کم یہ شیر تو زندہ بچ گیا۔

گاؤں کے بوڑھے اس بارے میں میں سرگوشیوں میں بات کرتے تھے۔ کئی لوگوں نے پہلے بھی ایسے واقعات سنے تھے۔ چند ایک تو ایسے واقعات کا مشاہدہ بھی کر چکے تھے۔ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ بھیڑوں، بکریوں اور کتوں کی گمشدگی کا مطلب یہ تھا کہ مستقبل کا آدم خور تیار ہو رہا ہے۔ شیر عموماً ایسے چھوٹے شکار سے گریز کرتے ہیں اور ان پر تب ہی گزارا کرتے ہیں جب وہ فاقوں سے مرنے والے ہوں۔ ان کی فطری خوراک زیادہ بڑے جانور ہوتے ہیں۔

پہلا انسانی شکار جلد ہی ہوا اور پھر آدم خور کے بارے میں میں لوگ مزید سرگوشیوں میں بات کرنے لگے۔ یہ شکار ایک گاڑی بان تھا اور شام کو بستی لوٹ رہا تھا۔ گاڑی میں ۵ میل دور سے کاٹے بانس لدے تھے۔ گاڑی جھیل کے کنارے کنارے راستے سے گزری اور یہ آدمی اپنے بیلوں کو پانی پلانے کے لیے رکا۔ اس نے گاڑی نہیں کھولی کہ پھر اس کو اکیلا بیلوں پر نہ لاد سکتا۔

بیلوں کو پانی پلانے سے قبل یا فوراً بعد گاڑی بان بھی پانی پینے کو اترا ہی تھا کہ شیر نے اس پر حملہ کر دیا۔

شیر کو دیکھتے ہی بیل گاڑی سمیت فراٹے بھرتے غائب ہو گئے۔ ان کا رخ جنگل کی طرف تھا اور ڈھلوان پر گاڑی الٹ گئی۔ ایک بیل کی ران کی ہڈی ٹوٹ کر کھال پھاڑتی ہوئی پیٹ میں گھس گئی اور اس کا فرار ممکن نہ رہا۔ دوسرے بیل کی گردن سے گاڑی اتری تو وہ بھاگ کر دیہات کی سمت چلا گیا۔ گاؤں میں اکیلے بیل کی آمد سے ہلچل مچ گئی۔ رات ہونے والی تھی، سو گاڑی بان کی بیوی کے واویلے پر کسی نے توجہ نہ دی اور کوئی تلاش پر نہ نکلا۔

اگلے روز جب سورج کافی بلند ہو گیا تو گاؤں کے مرد تلاش میں نکلے۔ دو کے پاس چقماقی بندوقیں اور باقیوں کے پاس نیزے اور لاٹھیاں تھیں۔ جلد ہی انہیں الٹی ہوئی بیل گاڑی مل گئی اور زخمی بیل بھی۔ گاڑی بان غائب تھا۔

انہوں نے گاڑی کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے جھیل پر پہنچ کر لنگڑے شیر کے پگ تلاش کر لیے۔ کچھ لوگ گاڑی بان کی لاش تلاش کرنا چاہتے تھے مگر بندوقوں والے دونوں آدمی بزدل نکلے۔ ایک نے بہانہ کیا کہ اس کی بندوق ناکارہ ہے اور نہیں چلے گی۔ دوسرے نے سچ کہہ دیا کہ اس کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ نتیجتاً سب لوگ واپس لوٹ آئے اور گاڑی بان کی لاش نہ مل پائی۔

دوسرا شکار کنویں سے پانی بھرنے آنے والی ایک عورت تھی۔ یہ واقعہ بھی شام کو پیش آیا مگر یہ مقام گاؤں سے ۱۰۰ گز دور تھا۔ یہاں جنگل تو نہیں مگر قریب ہی پیپل کا جھنڈ تھا جس کے ساتھ ناریل کے درخت تھے۔ ان درختوں کے ایک جانب باڑ اور پھر دوسری جانب فالتو زمین تھی جس پر گھاس اور جھاڑیاں تھیں۔ اصل جنگل نصف میل دور سے شروع ہوتا تھا۔ کنواں کے مقام پر پچھلے ۱۰۰ سال سے کوئی شیر نہیں دیکھا گیا تھا۔

لنگڑا آدم خور اس روز وہاں آن پہنچا۔ جب متوفیہ نے شیر کے حملے پر شور مچایا تو دو عورتوں نے دیکھا کہ شیر اس عورت کو اٹھا کر لے جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر شیر کو لنگڑاتے دیکھا جو متوفیہ کو شانے سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔ اس کا رخ پیپل کے جھنڈ کی طرف تھا۔ دونوں عورتیں چلاتی ہوئی گاؤں کو بھاگیں۔

پھر انسانی شکاروں کا تانتا بندھ گیا۔ ایک روز مجھے اپنے پرانے تیلگو دوست باینّا کا خط ملا جو مرکا پور روڈ ریلوے سٹیشن کے پاس رہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ پیداچیروو گاؤں میں آدم خور شکار کر رہا ہے۔ اس نے مجھے شکار کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ وہ میرے ساتھ شکار پر چلے گا اور ہر ممکن سہولت کا بندوبست کرے گا اور یہ کہ اگر میں مرکاپور روڈ تک ٹرین پر سفر کروں تو باقی کا سفر اس کی لینڈ روور پر کر لیں گے۔

ایسی دعوت کون رد کر سکتا ہے۔ میں نے اسے تار بھیجا کہ میں اگلے روز رات کو ایکسپریس ٹرین سے روانہ ہو رہا ہوں۔ اس سے اگلے روز دوپہر کو میں مرکاپور روڈ ریلوے سٹیشن پر اترا۔

باینّا بہت مخلص انسان ہے اور اس کے لیے مہمان نوازی بہت اہم ہے۔ بعض اوقات تو وہ وہم کی حد تک چلا جاتا ہے۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں دو گھنٹے پہلے ہی گرم غسل کا انتظام ہو چکا تھا۔ پھر مرغ پلاؤ کی بہت بڑی طشتری میرے سامنے رکھ کر حکم دیا کہ اسے ختم کروں۔ مجھے کافی محنت کرنی پڑی کہ اگر ایک چاول بھی باقی بچ جاتا تو باینّا کو تکلیف ہوتی۔

جب یہ دعوت تمام ہوئی تو پھر ہم اس کے گھر کے عقب میں بنے گیراج کو گئے۔ وہاں باینّا کی لینڈ روور تھی۔ اس پر سپرنگ والی مسہریاں، کرسیاں، میز، کینوس باتھ ٹب، چلمچی، چھوٹا ریفریجریٹر، پنکھا (دونوں مٹی کے تیل سے چلتے تھے) اور خدا جانے کیا کچھ۔ اس کے علاوہ بوریوں میں کھانے پینے کا سامان بھر کر رکھا تھا جو ایک ماہ کے لیے کافی رہتا۔ چار چولہے تھے جن میں سے ایک ڈبل رینج کُکر تھا۔ برتن، ہانڈیاں، پانی کے ڈرم اور پتہ نہیں کیا کیا لدا تھا۔ ہم دونوں کہاں بیٹھتے، میری سمجھ میں نہیں آیا۔

باینّا نے کہا کہ اگر میں رات اس کے گھر سونا چاہوں تو ہم اگلے روز صبح کو روانہ ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں بالکل تازہ دم ہوں، سو روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس نے فوراً حامی بھر لی۔ ایک گھنٹے بعد پوری طرح لدی پھندی لینڈ روور سری سیلم روانہ ہو گئی۔

ہم نے دورانالا دیہات کے بعد سڑک چھوڑ دی اور ۱۸ میل کے مشکل راستے پر روانہ ہو گئے۔ یہ راستہ ہمیں سیدھا پیداچیروو لے آیا۔ راستے میں ہم تملابیالو سے گزرے جہاں میں نے ناتجربہ کاری کے دنوں میں ایک آدم خور سے دو دو ہاتھ کیے تھے۔ گاؤں پہنچ کر میں جیپ سے اتر کر ایک گھر کی دہلیز پر بیٹھ گیا جبکہ باینّا نے تیلگو جیسی مشکل زبان میں مقامی افراد سے بات شروع کر دی۔

جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ رہائش کے لیے مناسب جگہ تلاش کر رہا تھا۔ مجمعے میں مقامی سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی تھا سو اس نے ہمارے لیے اپنے سکول کا ہال مختص کر دیا۔

ہم نے جیپ وہاں لے جا کر خالی کی۔ جب سارا سامان اترا تو ہال بھر چکا تھا۔ آدھے سے زیادہ سامان ایک طرح سے بیکار ہی تھا۔

دیہاتیوں نے ہمارے لیے پانی بھر کر پہنچایا۔ ہمیں غسل خانہ اور لیٹرین بھی دکھائے گئے جو ایک اور عمارت میں تھے۔ کافی دیر بعد جا کر ہم اپنے ہمراہ لائے چاول اور سالن کھانے بیٹھے۔

ملگجا اندھیرا ہو رہا تھا مگر گاؤں کے لوگوں کی آمدورفت کم نہ ہوئی۔ لوگ آتے اور تیلگو میں سوالات کرتے اور باینّا انہیں جواب دیتا۔ پھر میں نے آدم خور کے بارے میں علم رکھنے والے تین یا چار افراد چنے اور اپنی رائفل اٹھا کر ان کے ساتھ باہر نکلا۔

چاندنی رات تھی۔ گاؤں کی گلی سیدھی گاؤں کے ساتھ واقع جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ نصف فرلانگ بعد جھیل شروع ہوتی تھی۔ چاندنی میں چمکتا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا۔

میں نے ہمراہیوں کے ساتھ گلی میں گشت شروع کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے باہر نکلنا خطرناک ہو گا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ میں کسی پرسکون جگہ بیٹھ کر ان سے بات کرنا چاہتا ہوں، شیر آیا تو میں سنبھال لوں گا۔ جلد ہی ہم جھیل کنارے جا پہنچے۔ خنکی کی وجہ سے بہت خوشگوار ماحول تھا۔ چاندنی چھٹکی ہوئی تھی اور ہم دور دور تک دیکھ سکتے تھے۔

میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھی بار بار ادھر ادھر دیکھتے تھے۔ جب ہم کھلے میں پہنچے جہاں شیر کے چھپنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ان کے ڈر کی کوئی وجہ نہ تھی۔ آہستہ آہستہ میں نے ان سے آدم خور کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ میرے ہمراہی منتیں کرنے لگے کہ میں آدم خور کو ہر قیمت پر ختم کر دوں۔

باینّا کو میری روانگی پر حیرت ہوئی تھی اور وہ ۲۰ آدمیوں کے ساتھ مجھے تلاش کرتا آن پہنچا۔ میں نے اگلے روز کا خاکہ بنانے کے لیے بات شروع کی۔

عین اسی وقت شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ ہمارے عین سامنے اور جھیل کے دوسرے کنارے کے جنگل سے شیر کی دہاڑ وقفے وقفے سے آتی رہی۔ میرے لیے یہ آواز بہت خوشگوار تھی۔ آدم خور کی لنگڑاہٹ کے بارے میں مجھے اتنا علم ہو چکا تھا کہ میں اسے دیکھتے ہی پہچان لیتا۔ میرا پیٹ بھرا تھا اور معلومات بھی لے چکا تھا، سو مجھے شیر کی آواز میں دعوت سی محسوس ہوئی۔ چاندنی رات بہت روشن تھی۔

میں نے کھڑے ہو کر ساتھیوں کو بتایا کہ میں شیر کے پیچھے جا رہا ہوں۔ یہ سن کر وہ دم بخود رہ گئے۔ مگر ان کے بولنے سے قبل ہی میں روانہ ہو گیا۔ راستہ چکر کاٹ کر جھیل کے دوسرے کنارے پر پہنچتا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر کم از کم ایک میل یا اس سے کچھ زیادہ دور تھا۔ میں اس کے خاموش ہونے سے قبل شیر تک پہنچنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے شیر پانی پینے آ رہا ہو گا۔

میں ۱۵ منٹ سے بھی کم وقت میں مطلوبہ مقام پر پہنچ گیا۔ شیر ابھی تک بول رہا تھا مگر اب وقفے طویل تر تھے۔ اب وہ اتنا قریب تھا کہ اس کی دہاڑ سے زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ میں نے راستہ چھوڑ کر براہ راست جنگل سے گزر کر شیر تک جانے کا فیصلہ کیا جس سے مشکل شروع ہو گئی۔

مجھے بخوبی علم تھا کہ اگر میں راستہ چھوڑ کر جنگل سے گزرا تو جھاڑ جھنکار سے پیدا ہونے والے شور سے شیر کو میری آمد کا علم ہو جائے گا۔ اگر عام شیر ہوا تو بھاگ جائے گا اور اگر آدم خور ہوا تو مجھ پر ہی گھات لگا کر پہلو یا عقب سے حملہ کرے گا۔ از حد ضروری تھا کہ میں پگڈنڈی تلاش کر کے اس پر چلتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچ کر شیر کو پہلے دیکھ لیتا۔

خوش قسمتی سے مجھے پگڈنڈی مل گئی جو جنگلی جانوروں کی گزرگاہ تھی۔ اس پر چلنا آسان تو نہ تھا مگر وہ مطلوبہ سمت ہی جا رہی تھی۔ شیر ابھی تک اسی جگہ سے دہاڑ رہا تھا مگر وقفے اب طویل تر ہوتے جا رہے تھے۔

اس راستے پر چلتے ہوئے میں نے پیش قدمی جاری رکھی اور جگہ جگہ رک کر میں راستے کا جائزہ لیتا رہا کہ کہیں ٹھوکر نہ کھاؤں۔ میرے اندازے کے مطابق شیر ابھی ۲۰۰ گز دور تھا کہ خاموش ہو گیا۔ جونہی مجھے شیر کی خاموشی کا احساس ہوا، میں رک گیا کہ اب میرے پاس شیر کے مقام کا اندازہ لگانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ الٹا میرے قدموں کی آہٹ سن کر شیر خبردار ہو جاتا۔ عین اسی وقت مجھے ایک خیال سوجھا۔ راستے کے دائیں جانب کیکر کا درخت تھا۔ اس کا تنا اتنا موٹا تھا کہ میں اس کے پیچھے چھپ سکتا تھا۔ مجھے اس کے پیچھے بے حس و حرکت رہنا تھا ورنہ شیر دیکھ لیتا۔

میں اس درخت کے پیچھے چھپا اور طویل سانس لے کر میں نے شیر کی آواز نکالی۔ میں نے دو بار آواز دی اور پھر خاموش ہو گیا۔ میرے سامنے سے شیر کی انتہائی غصے کی آواز آئی۔ وہ طیش میں آ گیا کہ دوسرے شیر کو اس کے علاقے میں گھس کر دہاڑنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ شیر غصے سے پاگل ہو کر دہاڑتا ہوا میری طرف آ رہا تھا۔ درخت جس جگہ اگا تھا، وہاں راستہ کئی گز تک سیدھا تھا۔

جلد ہی شیر دکھائی دیا جو زقندیں بھرتا میرے پاس سے گزرا اور مجھے نہ دیکھ پایا۔ میں آہستہ سے کھانسا۔

شیر فوراً رکا اور میری سمت مڑ کر دیکھنے لگا۔ اسے علم ہو گیا تھا کہ یہ آواز دوسرے شیر کی نہیں بلکہ کسی انسان کی ہے۔ اب اس کے ردِ عمل سے اندازہ ہوتا کہ وہ آدم خور ہے یا عام شیر۔

میں درخت کے پیچھے بالکل ساکن کھڑا تھا۔ شیروں میں قوتِ شامہ بالکل نہیں ہوتی، مگر اسے علم ہو گیا کہ درخت کے پیچھے کچھ ہے۔ پھر اس نے چند لمحے رک کر بائیں جانب تین یا چار قدم اٹھائے اور مجھے دیکھ لیا۔

ہم دونوں نے ایک دوسرے کو فوراً پہچان لیا۔ اسے میری موجودگی اور مقام کے بارے میں علم ہوا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ آدم خور نہیں۔ اس کی چال میں لنگراہٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہم ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔

اگلے تین یا چار لمحوں میں ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ اگر وہ مجھ پر حملہ نہ کرتا تو میں اس بے گناہ شیر کو مارنے کے ہرگز حق میں نہ تھا۔ میں نے پہلے شیر کی آواز نکال کر اسے غصہ دلایا اور پھر کھانسی کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔ غصے کی حالت میں شیر بے قابو ہو جاتے ہیں۔

شیر نیچے جھکا تو مجھے علم ہو گیا کہ وہ حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے اس کا نشانہ لے کر لبلبی پر انگلی رکھی ہی تھی کہ اچانک شیر نے رخ بدلا اور فرار ہو گیا۔ شیروں کا یہی غیر یقینی رویہ ان کا شکار مشکل بناتا ہے۔

میں نے چند منٹ انتظار کیا تاکہ شیر دور چلا جائے اور میرے حواس بھی بحال ہو جائیں۔ پھر میں اسی راستے پر چل کر واپس گاؤں پہنچا جہاں میں نے باینّا اور دیگر لوگوں کو سارا واقعہ سنایا۔ انہوں نے بعد میں بتایا کہ انہیں میری زندہ واپسی کی کوئی توقع نہیں تھی۔

اگلے ۳ دن میں ہم نے چارے کے لیے ۴ جانور خریدے اور انہیں ایسی مناسب جگہوں پر باندھ دیا جہاں نالے اور راستے گزرتے تھے۔ یہ تمام مقامات جھیل سے ایک میل سے کم فاصلے پر تھے۔ ہر گارے کے ساتھ ہم نے درخت پر مچان بھی بندھوا دی۔

یہاں میری ملاقات ایک چنچو آدمی سے ہوئی جو انتہائی بہادر ثابت ہوا۔ چنچو قبائل جنگلوں میں رہتے ہیں اور اکثر تیر کمان سمیت دکھائی دیتے ہیں۔ چنچو محض غلیظ لنگوٹی پہنتے ہیں اور یہی ان کی ساری متاع ہوتی ہے۔ اس کا چنچو کا نام ’اپو‘ تھا۔ یہ آدمی ہمیشہ مسکراتا اور ہنسی مذاق کرتا رہتا۔

اپو نے مجھے مشورہ دیا کہ کہاں کہاں گارے باندھے جائیں اور اس نے مچانیں بھی خود ہی باندھیں۔ مجھے اس کی مسکراہٹ نے جیت لیا تھا۔ وہ مچان بنانے کا ماہر تھا۔ اس نے مچان کو اس طرح چھپایا کہ نیچے کھڑے ہو کر اور مچان کے مقام جانتے ہوئے بھی مجھے مچان تلاش کرنے میں دقت ہو رہی تھی۔

پہلی اور دوسری رات کچھ نہ ہوا۔ جہاں میری مڈبھیڑ شیر سے ہوئی تھی، اس سے چوتھائی میل دور میں نے ایک گارہ بندھوایا تھا۔ تیسری رات اسے مار کر آدھا کھا لیا گیا۔ چوتھی رات میں اس کی لاش پر بیٹھ کر قاتل کا انتظار کرنے لگا۔

یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ یہ لنگڑے آدم خور کی کارستانی تھی یا دوسرے عام شیر کی۔ بدقسمتی سے اس جگہ کسی قسم کے پگ دکھائی دینا ممکن نہ تھے۔ یہ شیر تاریکی چھانے سے قبل ہی پہنچ گیا حالانکہ شیر تاریکی چھانے کے بعد ہی آتے ہیں۔ تیندوے البتہ سورج ڈوبتے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس شیر نے اپو کی بنائی ہوئی بہترین مچان کی طرف دیکھے بغیر سیدھا لاش پر پہنچ کر ہی دم لیا۔

اس کی چال بالکل ٹھیک تھی۔ یعنی یہ آدم خور نہیں تھا۔

میں نے اپنی مچان کی عمدگی کا جائزہ لینے کی خاطر تیندوے کی آواز نکالی۔ شیر غصے سے بے قابو ہو گیا۔ اس نے تیندوے کو تلاش کرنا شروع کیا۔

میں نے دوبارہ آواز نکالی اور پھر خاموش ہو گیا۔

شیر دہاڑتا ہوا سیدھا میری مچان والے درخت پر چڑھ دوڑا۔ میں غلطی کر چکا تھا۔ شیر تیندوے کے پیچھے پاگل ہو رہا تھا اور میرا درخت کچھ ایسا تھا کہ اس پر چڑھنا بہت آسان تھا۔ میں ۱۵ فٹ کی بلندی پر بیٹھا تھا۔

جب شیر مچان کے نیچے پہنچا تو نظروں سے غائب ہو گیا۔ جب شیر جست لگا کر پہلے دو شاخے پر چڑھا تو درخت ہلنے لگا۔ مجھے اس کے پنجوں سے درخت کی چھال پر رگڑ اور دہاڑ صاف سنائی دے رہی تھی۔ یہ درخت اتنا بڑا نہ تھا، اور ہم دونوں کے مجموعی وزن سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ میری مچان لرز رہی تھی۔

معاملہ ہاتھ سے نکلنے والا تھا۔ چند لمحوں بعد وہ مچان پر چڑھ آتا۔ اسے مچان پر حملہ کر کے مجھے گرا دینا تھا اور پھر جا کر غور کرتا کہ میں تیندوا نہیں انسان ہوں۔

میں نے اسے ’شو شو‘ کی آواز نکال کر جھڑکا اور مچان پر کھڑا ہو گیا کہ جونہی شیر کا سر یا پنجہ دکھائی دے تو گولی چلا دوں۔ شیر کو جب تیندوے کی جگہ انسانی آواز سنائی دی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور اس نے پسپائی اختیار کی۔ چند روز قبل اس نے کیکر کے درخت کے سامنے میرا مقابلہ کرنے کی بجائے فرار کو ترجیح دی تھی۔

دہاڑ اچانک تھم گئی اور شیر نے زمین پر چھلانگ لگائی۔ رکے بغیر وہ جھاڑیوں سے بھاگتا ہوا گزرا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

کیمپ لوٹ کر میں نے اپنے ساتھیوں کو سارا واقعہ سنایا۔ سب حیران ہوئے مگر اپو ہنس ہنس کر بے حال ہو گیا۔ بار بار وہ اپنی رانیں پیٹتا اور پھر قہقہے لگاتا۔ پھر اس نے بمشکل کہا: ’شیر بیچارہ پتہ نہیں کیا سوچتا ہو گا۔ چند روز قبل شیر کی آواز سن کر جب پہنچا تو سامنے شیر انسان بن گیا تھا۔ آج تیندوے نے انسانی روپ دھار لیا۔ شیر خود کو پاگل سمجھ رہا ہو گا‘۔

اگلے روز میں نے مردہ بچھڑے کو ہٹوا کر ایک اور بچھڑا بندھوا دیا۔ اسی رات وہ بھی مارا گیا۔ ہم نے بچھڑے کو عین اسی جگہ اور اسی مچان کے ساتھ باندھا تھا، سو ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ پچھلی رات کے تجربے کے بعد عام شیر تو واپس نہ لوٹتا۔ جب اپو اور اس کے ساتھیوں نے لوٹ کر مجھے گارے کے مارے جانے کی اطلاع دی تو میرا حوصلہ بلند ہو گیا۔ اپو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جا کر ہر روز بچھڑوں کی خبرگیری کرتا تھا۔ مجھے یہ اطلاع صبح ۹ بجے ملی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بچھڑا آدم خور نے ہی مارا ہو گا۔

بلند حوصلے کے ساتھ میں سہ پہر کو ہی مچان پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نیولا آیا۔ شاید اسے بہت بھوک لگی ہو گی کہ اس نے جلدی جلدی پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ جب اس کا پیٹ اچھی طرح بھر گیا تو وہ چلا گیا۔

اس کے جاتے ہی بٹیر نما پرندوں کا جھنڈ نمودار ہوا اور بچھڑے کی لاش کو چھونے کی بجائے اس کے قریب جمع ہونے والے حشرات اور کیڑوں کو کھانے لگا۔ ہزاروں مردار خور مکھیاں انڈے دے چکی تھیں جن سے جلد ہی سنڈیاں بنتیں۔ سنڈیاں گوشت کھاتیں اور پرندے ان سے پیٹ بھرتے۔ ۲۴ گھنٹے سے بھی کم وقت میں لاش کی جگہ محض ہڈیاں بچ جاتیں۔ اس کام کے لیے سنڈیاں کافی تھیں۔ اگر گدھوں، گیدڑوں یا لگڑبگڑ کو علم ہو جاتا تو لاش اندھیرا چھانے سے قبل ہی صاف ہو جاتی۔

میرا اندازہ تھا کہ ۸ بجے تک لنگڑا آدم خور پہنچ جاتا۔

اچانک جنگلی مرغ کی آواز سنائی دی اور گھڑی دیکھے بغیر ہی مجھے علم ہو گیا کہ ساڑھے پانچ بجنے والے ہوں گے۔ شام ہونے والی تھی اور مجھے آدم خور کے جلد آنے کی توقع تھی۔

عقب میں جھیل سے موروں کے دو غول بولنے لگے۔ پھر گولاموٹھی پرندے کی آواز آئی جو نروں کو بلا رہی تھی۔ اس آواز کو سننے والے تمام نر سورج غروب ہونے سے قبل اس مادہ تک پہنچ جائیں گے۔

جلد ہی جنگل پر ملگجا اندھیرا چھانے لگا۔ اس وقت نہ تو روشنی ہوتی ہے اور نہ اندھیرا، انسان کو فاصلے کا اندازہ نہیں رہتا اور ہر چیز کی شکل بدل جاتی ہے۔

میرے عقب میں پرندوں کے اڑنے کی آواز آتی رہی۔

اچانک کسی وجہ سے لال سر والے طوطے اڑے۔ میں سوچنے لگا کہ طوطے کیوں اڑے ہوں گے؟ کیا انہوں نے جنگلی بلی دیکھی ہو گی یا پھر شیر دیکھا ہو؟

وقت گزرتا رہا۔

پھر مجھے چمگادڑوں کی آواز آئی جو حشرات پکڑ کر کھا رہی تھیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ چمگادڑ کی آواز اتنی اونچی ہوتی ہے کہ انسانی کان اسے سننے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایک شب بیدار پرندہ میرے سامنے سے ہوتا ہوا میرے پیچھے جا کر کہیں بیٹھا اور ’چک چک‘ کی آواز لگانے لگا۔

اچانک اس کی آواز بند ہوئی اور اس نے اڑان بھری۔ عین اسی وقت مجھے مچان کے نیچے سے گہرے سانس کی آواز آئی۔ مجھے علم ہو گیا کہ شیر آ گیا ہے۔

شیر عین میرے نیچے کھڑا اپنے شکار اور اطراف کا جائزہ لے رہا تھا کہ کوئی دشمن تو نہیں چھپا ہوا۔ کیا شیر اوپر مچان کو دیکھے گا؟ کافی دیر تک تجسس رہا اور پھر متواتر اور مدھم آواز آنے لگی۔ شیر پیشاب کر رہا تھا۔

میں خوش ہو گیا کہ یہ اس بات کی علامت تھی کہ شیر ہر طرح سے مطمئن ہے اور اسے کوئی خطرہ یا شبہ نہیں ہوا۔

اگلے لمحے شیر سیدھا لاش کی طرف چل پڑا۔ اندھیرا تو تھا مگر اتنا نہیں کہ میں شیر کی چال نہ دیکھ پاتا۔ شیر کی چال میں ذرا بھی لنگراہٹ نہ تھی۔ کل والا شیر پھر نازل ہو گیا۔

شیر چلتے ہوئے ایک بار رکا اور پھر سیدھا لاش پر پہنچا۔

ایک بار تو میں نے سوچا کہ اسے گولی مار ہی دوں کہ وہ پہلے ہی دو گارے مار چکا تھا۔ شاید اور بھی گارے مارتا۔ گارے خاصے مہنگے ہوتے ہیں۔

پھر میں نے رک کر سوچا کہ کیا یہی تو آدم خور نہیں؟ مجھے آدم خور کے لنگڑے ہونے کے بارے میں بتایا گیا تھا مگر کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تھا۔ شاید بتانے والے کو غلط فہمی ہوئی ہو۔

مگر پھر سابقہ دو مواقع پر اس کا رویہ یاد آ گیا۔ اگر وہ آدم خور ہوتا تو خرگوش کی مانند دم دبا کر ہرگز نہ بھاگتا۔ یہ شیر اب مسئلہ بن گیا تھا۔ میں نے رائفل اٹھائی اور اس کے پیٹ کے نیچے کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔

اندھیرے کے باوجود مجھے گولی سے اڑنے والی دھول دکھائی دی اور شیر کی کمر پہلے کمان بنی اور پھر جست لگا کر وہ غائب ہو گیا۔

میں مچان سے نیچے اترا اور رائفل کو کاندھے سے لگائے ٹارچ روشن کر کے گاؤں چل پڑا۔

اگلے روز اس جگہ ایک اور گارا بندھوا دیا۔ امید تھی کہ رات والا شیر اسے ہاتھ نہیں لگائے گا۔ مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر اس شیر نے اس گارے کو بھی مار دیا تو پھر میں اسے گولی مار دوں گا۔

اس بار شیر نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ مگر وہ آیا ضرور۔ رات کو دس بجے سے بارہ بجے تک اس کی دہاڑ سنائی دیتی رہی۔ اس نے گارا دیکھ لیا اور بہت بھوکا تھا۔ مگر اسے یاد تھا کہ ایک بار شیر انسان بنا، پھر تیندوا انسان بنا اور پھر تیسری بار اس کے عین نیچے دھماکہ ہوا تھا۔ اس کی ہمت جواب دے رہی تھی مگر گارے پر للچا بھی رہا تھا۔ وہ دو گھنٹے تک دہاڑتا رہا۔

اگلی صبح تمام گارے زندہ سلامت تھے۔ مگر اپو کے پاس ایک خبر تھی۔ اس نے ایک بچھڑے کے پاس لنگڑے شیر کے پگ دیکھے تھے۔ شیر نہ صرف اس کے پاس سے گزرا بلکہ اس کے قریب رک کر اس کا جائزہ بھی لیا۔ مگر اس نے شکار نہیں کیا۔ اپو کا خیال تھا کہ یہ آدم خور ہی تھا کہ اسے بچھڑے پسند نہیں۔ ہم جتنی کوشش کرتے، آدم خور انہیں نہ مارتا۔ اپو نے مشورہ دیا کہ میں بھینس کے بچھڑے کی جگہ گائے کے بچھڑے باندھوں۔

پھر اس نے بتایا کہ ایک اور کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیا۔ اپو بولا کہ کیوں نہ وہ اور میں ہر روز رات کو آدم خور کی تلاش میں نکلا کریں۔

میں نے جواب دیا کہ عمدہ خیال ہے مگر ایسا ہی ہے جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کی جائے۔

اپو کو مثال سمجھ نہ آئی۔ بھوسے کا ڈھیر تو اس نے دیکھا ہوا تھا مگر سوئی کیا چیز ہے؟ اس نے کبھی سلے ہوا لباس نہیں پہنا، سو اسے سوئی کی سمجھ نہ آئی۔ میں نے کئی بار سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔ پھر میں نے زمین سے ٹہنی اٹھائی اور اس سے کانٹا توڑ کر اسے دکھا کر کہا کہ اگر یہ کانٹا بھوسے کے ڈھیر میں ہو تو کتنی دیر میں ملے گا۔ اس بات پر وہ میرا مقصد سمجھ گیا۔

پھر میں نے اسے بتایا کہ عین اسی طرح میلوں پر محیط اس جنگل میں ایک لنگڑے شیر کی تلاش ایسا ہی بے مقصد کام ہو گا۔ میری بات سمجھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ پھر اس نے قہقہے لگانا شروع کر دیے۔

اس بحث میں ناشتے کو دیر ہو گئی۔ جونہی ناشتہ ختم ہوا، ہم روانہ ہو گئے۔ اپو جنوب مغرب کو جھیل کے راستے پر چل رہا تھا جو پہاڑ کے کنارے سے ہو کر دوسری جانب وادی میں اترتا ہے۔ یہاں خشک نالہ وادی سے گزرتا ہے۔ جہاں فائر لائن اس نالے سے گزرتی ہے، وہیں ہم نے گارہ باندھا تھا۔

اپو مجھے جس راستے سے لے کر آیا، وہ عین اسی مقام سے گزرتا تھا جہاں فائر لائن نالے سے گزرتی تھی۔ اسی راستے پر تین یا چار میل آگے جا کر چنچوؤں کی چھوٹی بستی تھی۔ ان کے دیہات نہیں ہوتے بلکہ جنگل کے بیچ ایک چھوٹا سا گول جھونپڑا ہوتا ہے جس میں آٹھ دس افراد کا خاندان رہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا جھونپڑا پاس ہی ہو یا پھر کئی میل دور۔

ہم نے جان بوجھ کر یہ جگہ چنی۔ شیر نالے سے گزرتا، فائر لائن سے یا پگڈنڈی سے، اس کا یہاں سے گزرنا لازم تھا۔ اب ہمارے سامنے مخالف سمت سے آنے والے لنگڑے آدم خور کے پگ واضح تھے۔

میں نے ان کا بغور جائزہ لیا۔ تین پیروں کے پگ تو واضح تھے مگر چوتھے کا نشان غیر واضح تھا۔ عموماً جب شیر چلتا ہے تو چاروں پیروں کے الگ الگ نشان بنتے ہیں۔ اگر وہ گھات لگا رہا ہو تو پچھلے پیر اس کے اگلے پیروں کے نشان پر پڑتے ہیں تاکہ کوئی آواز نہ پیدا ہو۔ سو دو نشان دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شیر تین پیروں پر چل رہا تھا اور چوتھے پیر میں کوئی نقص تھا۔

آخر آدم خور کے پگ دکھائی دے گئے۔ ان کا درمیانی فاصلہ برابر نہیں تھا یعنی چلتے ہوئے وہ بری طرح لنگڑاتا تھا۔ اس کا اگلا دائیں پنجہ بری طرح متاثر تھا۔ یعنی اس کا زخم ابھی تک ہرا تھا۔ شیر کے پنجے کا نقش زیادہ پرانا نہیں تھا۔

ہم نے ۲۰۰ گز مزید آگے تک دیکھا کہ شیر کہاں جنگل سے نکلا تھا۔ اس مقام پر اس نے ہمارا گارا دیکھا اور اس کی طرف آیا۔ قریب پہنچ کر شیر بچھڑے سے ۱۰ فٹ دور رک کر جائزہ لینے کے بعد آگے بڑھ گیا۔

مجھے کافی حیرت ہوئی۔ شیر کی معذوری سے تو لگتا تھا کہ شیر بہت بھوکا ہو گا کہ اس کے لیے شکار آسان نہیں ہو گا۔ اس نے بچھڑا کیوں نہیں مارا؟ شاید اسے بھوک نہیں ہو گی۔ بھوک کی حالت میں آدم خور کو انسانی یا حیوانی شکار کا موقع ملتا تو وہ کبھی نہ چھوڑتا۔

ہم نے بچھڑے کو وہیں چھوڑا اور پگوں پر چل پڑے۔ شیر پانچ یا چھ گز آگے جا کر مڑا اور جنگل میں گھسا اور نالہ عبور کر کے دوسری جانب جنگل کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر خشک پتوں کی وجہ سے ہمیں شیر کے پگ دکھائی دینا بند ہو گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ شیر کہیں جانے کے ارادے سے نکلا تھا اور گارے کو دیکھنے کے لیے راستے سے ہٹا اور پھر واپس اسی جانب چل پڑا۔

اپو اور میں نے سوچا کہ ہمیں بھی اسی سمت جانا چاہیے کہ پگ تو دکھائی نہیں دے رہے مگر سمت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ جلد ہی ہم جنگلی جانوروں کی پگڈنڈی پر پہنچ گئے۔ زمین یہاں بھی سخت ہی تھی اور پگ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سانبھر اور ہرن کے سخت کھروں سے نشان دکھائی دیے۔ تھوڑا آگے چل کر ہم نے ریچھ کے پیٹ بھرنے کے نشانات دیکھے۔

اپو بولا کہ لنگڑا شیر اسی گزرگاہ پر ہی جا رہا تھا اور چونکہ نشانات نہیں تھے، میں نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ یہاں سے جنگلی جانور بکثرت گزرتے تھے اور جلد ہی ہمیں سوروں کے ایک غول کے نشانات ملے جو مخالف سمت سے آ رہے تھے۔ شیر کا کوئی نشان ابھی تک نہیں ملا تھا۔

مزید آگے چل کر ہمیں شیر کے پگ ملے۔ یہاں راستہ ایک نالے سے گزرتا تھا۔ نالے کی نرم مٹی پر ہمیں لنگڑے شیر کے پگ واضح دکھائی دیے۔ ہم شیر کا درست پیچھا کر رہے تھے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے پیش قدمی جاری رکھی کہ شیر کہاں جا رہا تھا۔

ہم ایک میل سے زیادہ چلنے کے بعد چھوٹی پہاڑی پر جا پہنچے۔ چوٹی سے دوسری جانب دیکھا تو ہمارے نیچے چھوٹا صاف قطعہ تھا جس سے راستہ گزر کر چنچو لوگوں کی اس آبادی کو جا رہا تھا جس کے بارے میں میں پہلے بتا چکا ہوں۔ ہم جس گزرگاہ پر چل رہے تھے، وہ اس پہاڑی کو عبور کرنے کا مختصر راستہ تھی اور لنگڑے شیر کا رخ اسی آبادی کی طرف تھا۔

ہم نے سفر جاری رکھا اور نصف میل بعد ہمیں چنچو لوگوں کی بنائی پگڈنڈی ملی۔ یہاں شیر نے اسی پگڈنڈی کا رخ کیا اور اس کے پگ یہاں صاف دکھائی دیے۔ ہم مزید ایک میل ان کا پیچھا کرتے رہے کہ ہمیں سامنے سے آوازیں سنائی دیں۔ موڑ مڑنے کے بعد ہمیں ۱۰ چنچو دکھائی دیے جو تیز چلتے اور اونچی آواز میں بولتے آ رہے تھے۔ سبھی کے پاس تیر کمانیں تھیں اور کچھ کے پاس نیزے اور کلہاڑیاں بھی تھیں۔

انہوں نے ہمیں دیکھا تو فوراً ہماری جانب بڑھے۔ ہمیں فوراً معلوم ہو گیا کہ پچھلی رات ایک چنچو کو یہیں سے شیر لے گیا تھا۔

جب ہم ان سے ملے تو انہوں نے تفصیل سے بات بتائی۔ ان سب کو آدم خور کی موجودگی کا علم تھا اور جب بھی کہیں جاتے تو پوری جماعت بنا کر جاتے تھے۔ کالا ان کا ایک ساتھی تھا مگر وہ ہمیشہ آدم خور کو کمتر سمجھتا تھا کہ وہ شکاری تھا اور شیر اس کا شکار بنتے تھے۔ اس نے سب کو بتا رکھا تھا کہ شیر اس سے ڈرتے ہیں۔ پچھلے روز اس نے اپنی کلہاڑی اور تیر کمان سنبھالی اور جنگل میں شکار کو نکل گیا۔ دوپہر کو خالی ہاتھ لوٹا اور بیوی سے بولا کہ اسے کوئی شکار ہاتھ نہیں لگا۔ مگر اس نے بتایا کہ آبادی کے پاس ہی اسے شہد کا ایک چھتہ دکھائی دیا ہے جو وہ توڑ لائے گا۔

کھانے سے فارغ ہو کر کالے نے تیر کمان اور نیزہ وغیرہ وہیں چھوڑے اور کلہاڑی، ماچس اور کچھ سرکنڈے وغیرہ لے کر نکلا۔ ساتھ ہی اس نے شہد جمع کرنے کے لیے خالی ڈبہ اٹھا رکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد چنچو لوگوں نے کلہاڑی کی ضربوں کی آواز سنی اور حیران ہوئے کہ انہیں یہ چھتہ کیوں نہیں دکھائی دیا۔

عین اسی وقت انہیں کالا چیخا: ’شیر۔ شیر‘۔ پھر اس نے مدد کے لیے پکارا اور پھر خاموشی چھا گئی۔

کالا کو اس کی بیوی سمیت کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا، کسی کو عجلت نہ تھی کہ وہ اس کی مدد کو پہنچتا۔ انہوں نے کالا کی واپسی کا انتظار کیا مگر وہ کافی دیر تک نہ لوٹا۔ پھر سب لوگ جمع ہو کر اس کی تلاش میں نکلے۔ درخت، چھتہ اور کلہاڑی تو وہیں تھے مگر کالا غائب تھا۔ انہیں درخت کے تنے سے نکلنے والی گوند دکھائی دی جو شیر کے ناخنوں سے لگی خراشوں سے رس رہی تھی۔ شیر نے تنے پر پیر رکھ کر اپنے بائیں پنجے سے کالا کو گرایا تھا۔ شیر اتنی پھرتی نہ دکھا سکتا تھا، سو کالا کو چلا کر مدد مانگنے کا وقت مل گیا۔ شیر معذور نہ ہوتا تو کالا کو علم بھی نہ ہوتا اور شیر اسے لے جاتا۔ اگر درخت چند فٹ اور بلند ہوتا تو کالا بچ جاتا۔

آدم خور نے کالا کو جھاڑیوں میں گھسیٹا جہاں لنگوٹی کی دھجیاں اور خون کے نشان تھے۔ ان لوگوں نے نشانات کا پیچھا کیا اور کچھ دور جا کر رک گئے کہ کوئی بھی کالا کو پسند نہ کرتا تھا۔ وہ اس کی خاطر اپنی جان کیوں خطرے میں ڈالتے؟ انہیں علم تھا کہ کالا مر چکا ہے۔ اب پیچھا کرنے سے کیا فائدہ ہوتا؟ پھر انہیں خیال آیا کہ پاس والے گاؤں میں دو صاحب اسی شیر کو مارنے آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وہیں جانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم تاریکی چھا چکی تھی۔

اگلی صبح انہوں نے آرام سے ناشتہ کیا اور پھر ہمیں یہ خبر سنانے چل پڑے۔ اس طرح ہماری ملاقات ہوئی۔ گارے کے مقام سے ہمیں آدم خور کی منزل کا علم ہو چکا تھا، سو یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس نے بچھڑا کیوں نہ مارا تھا۔

بظاہر خوب پیٹ بھرنے کے بعد شیر واپس جھیل کو گیا۔ پانی پینے کے بعد اس نے واپسی کے لیے جو راستہ اختیار کیا، وہ بچھڑے کے قریب سے گزرتا تھا۔ اس لیے بچھڑے کو دیکھنے کے باوجود شیر کو اتنی بھوک نہیں تھی کہ وہ اسے ہلاک کرتا۔

شاید اس نے پچھلی رات چنچو سے اچھی طرح پیٹ بھرا ہو گا اور پانی پینے نکلا ہو گا۔ یہاں پہنچ کر اسے انسانی شکار یاد آیا ہو گا، سو اس نے واپسی کا رخ اختیار کیا ہو گا تاکہ پھر کھا سکے۔ واپسی پر ہی اس نے بچھڑا دیکھا مگر چنچو کے گوشت کا ذائقہ اسے بچھڑے سے بہتر لگا ہو گا حالانکہ چنچو میں اب کیا بچا ہو گا۔

ہم نے چنچوؤں کو اپنی کہانی سنائی تو وہ شیر کی تلاش میں ہماری مدد کو تیار ہو گئے۔ ہمیں کالا کی باقیات سے ہی شیر کا نشان ملنا تھا۔ چنچوؤں کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ان کو شیر کی ہلاکت مطلوب تھی کہ آدم خور کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں تھی۔ ۱۱ چنچو ہمارے ساتھ شیر کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ چند گز بعد شیر جنگل میں گھس گیا تھا۔ اس بار شیر کے گزرنے کے نشانات ۱۱ عدد چنچوؤں سے نہ بچ سکے اور جلد ہی ہم ایک چھوٹے اور خشک نالے تک جا پہنچے جہاں پہنچ کر شیر مڑا۔ ہم اس کے پگ دیکھنے لگے اور چنچو بولے کہ یہاں سے ان کی بستی چوتھائی میل دور ہے۔ جلد ہی ہمیں لاش کا تعفن محسوس ہوا اور کچھ دور چل کر گوشت خور مکھیوں کا شور سنائی دیا۔ ہمیں کالا کی لاش مل گئی۔ اس کا انجام وہی ہوا تھا جو اس سے پہلے بہت سے شکاریوں کا ہو چکا تھا اور آئندہ بھی بہت سے شکاریوں کا ہو گا۔ یہ انجام ان کا مقدر بنتا ہے جو ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

چنچو کی لاش پر بہت کم گوشت بچا تھا۔ سر، ہاتھ اور پیر سلامت تھے۔ آدم خور انہیں کم ہی کھاتا ہے۔ پنڈلی کی ہڈیاں اور پسلیاں بھی چبائی ہوئی تھیں اور ریڑھ کی ہڈی بھی بکھری ہوئی تھی۔

آدم خور بہت بھوکا ہو گا کہ اس نے اتنا گوشت کھایا۔ مجھے ایک بار پھر حیرت ہوئی کہ اتنی بھوک کے باوجود شیر نے بچھڑے کو کچھ نہیں کہا۔

تھوڑی دور ایک چنچو کو ران کی ایک ہڈی ملی۔ دوسری غائب تھی۔ شاید کوئی گیدڑ یا لگڑبگڑ لے گیا ہو گا۔

ہم نے سرگوشیوں میں مشورہ کیا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ میں مچان بنا کر رات کو بیٹھوں تو کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کام بیکار ہے کہ لاش پر گوشت نہیں بچا۔ ظاہر ہے کہ گیدڑ یا لگڑبگڑ تو آتے مگر شیر کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ ویسے بھی شیر متعفن لاشیں نہیں کھاتے۔

اچانک مجھے یاد آیا کہ شیر بہت بھوکا تھا۔ میں نے مچان پر بیٹھ کر قسمت آزمانے کا سوچا۔ شیر کے آنے کا ہلکا سا امکان تھا۔ میں نے ہمراہیوں کو جب یہ بات کہی تو سبھی اس بات پر متفق ہو گئے۔ جلد ہی انہوں نے اپو کی زیرِ نگرانی مچان کی تیاری شروع کی اور جلد ہی بہترین مچان تیار ہو گئی۔

لاش سے ۳۰ گز دور اور بہت گھنے درخت پر اپو نے مچان بندھوائی۔ مچان زمین سے ۲۰ فٹ اونچی تھی تاکہ لاش صاف دکھائی دیتی رہے۔ ہم نے ران کی ہڈی بھی دیگر ہڈیوں کے پاس رکھ دی۔

اپو کو دیگر افراد کے ساتھ چھوڑ کر میں بعجلت پیداچیروو روانہ ہوا تاکہ کچھ کھا کر اور رات کے لیے سامان لا سکوں۔ باینّا کو جب ان واقعات کا علم ہوا تو بہت خوش ہوا اور نیک خواہشات ظاہر کیں۔

چار بجے میں واپس لوٹا اور اپو کو دو اور افراد کے ساتھ مچان پر بیٹھا دیکھا۔ انہوں نے بچی کھچی لاش کو پتوں سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ گِدھوں کو دکھائی نہ دے۔ میری آمد پر وہ نیچے اترے، لاش سے پتے ہٹائے اور بستی چل دیے۔ اپو نے رات وہیں گزارنی تھی۔

اپو کی روانگی کے بعد میں نے شیر کے بارے میں سوچا کہ اس کی معذوری کی وجہ کیا ہو گی؟ آیا وہ دوسرے شیر سے لڑائی کے نتیجے میں معذور ہوا یا چور شکاری نے اس پر الٹی سیدھی گولی چلائی ہو گی؟ اس کی معذوری اتنی شدید تھی کہ اسے بچھڑے کو مارنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ فاقوں سے اس کی حالت بری ہو گی کہ چھوٹے موٹے جانور یا اکا دکا انسان ہی سے اسے اپنا پیٹ بھرنا پڑتا تھا۔

یہ سوچ حوصلہ افزا تھی کہ اتنا بھوکا شیر ہر ممکن طور پر واپس لوٹتا چاہے اس نے پچھلی رات خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔

شام نسبتاً خاموشی سے آئی۔ چند پرندے اور چھوٹے جانور جیسا کہ بندروں کی آواز آئی تھی ورنہ جنگل بہت خاموش تھا۔ اگر جانور اور پرندے بکثرت ہوتے تو وہ شیر کی آمد سے بروقت خبردار کر دیتے۔ ایک دو بار تیتر بولا مگر جنگلی مرغیاں اور مور غائب تھے۔ بہت سوچنے کے بعد مجھے وجہ سمجھ آئی۔ چنچو بستی ہی اس کی وجہ تھی۔ ان شکاریوں نے اپنی بستی کے آس پاس تمام پرندے شکار کر کے کھا لیے تھے۔

تاریکی چھانے لگی تو شب بیدار پرندے بولنے لگے۔ یہ پرندے دن کے وقت نہیں دکھائی دیتے اور ان کا شکار مشکل ہے۔ چنچو انہیں نہیں کھاتے اور ان کی جان بچی ہوئی تھی۔ ان کی آواز نے شام کی خاموشی توڑی۔ خشک نالے میں کہیں دور سے ایک شبینہ بگلا بولا۔ بہت دور گیدڑوں کا جوڑا بولنے لگا۔

آندھرا پردیش میں ایک خاص قسم کا ٹڈا ملتا ہے جو میں نے مدراس اور میسور میں کہیں نہیں دیکھا۔ اس کی آواز کافی بلند ہوتی ہے اور جب یہ بڑی تعداد میں بولیں تو دوسری ہر آواز غائب ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی آواز اتنی اونچی ہوتی ہے جیسے پاس ہی کوئی ٹریکٹر چل رہا ہو۔

سورج غروب ہوتے ہی یہ شور سنائی دینے لگا۔ وقت کے ساتھ یہ شور بڑھتا چلا گیا۔ اور کوئی آواز نہ سنائی دے رہی تھی۔ اچانک شور مدھم ہونے لگا۔ پہلے دور والے جھینگر چپ ہوئے اور چند ہی لمحوں میں میرے قریب والے جھینگر بھی خاموش ہو گئے۔ جیسے ٹریکٹر اچانک بند ہو گیا ہو۔

اچانک خاموشی چھا گئی جو اعصاب شکن تھی۔ پتہ نہیں کہ سب جھینگر اچانک ایک ساتھ کیوں چپ ہو گئے؟

دور شبینہ بگلے چلا رہے تھے کہ اچانک مجھے اس خاموشی کی وجہ سنائی دی۔ آدم خور وادی میں دہاڑ رہا تھا۔ اس کی دہاڑ تین بار سنائی دی۔

اب مجھے علم ہو گیا تھا کہ جھینگر کیوں چپ ہوئے۔ ان کے شور کی وجہ سے مجھے شیر کی دہاڑ سنائی نہیں دی تھی مگر انہوں نے سن لی۔ جب وہ خاموش ہوئے تو مجھے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ مگر جھینگروں کو آدم خور یا شیر سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ چپ ہو گئے؟ میں اس بارے میں سوچنے لگا۔ یہ سوال مجھے اتنا تنگ کرنے لگا کہ بعد میں گھر پہنچ کر میں نے مدراس میں ایک ماہرِ فطریات سے رابطہ کیا اور اس کی وجہ پوچھی۔ اس کا جواب بہت سادہ تھا۔ کہانی کے اختتام سے قبل آپ کو پتہ چل جائے گا۔

آدم خور ابھی تک دہاڑ رہا تھا اور ہر بار اس کی آواز قریب تر آ رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ اسے کالا کی لاش کھینچ رہی تھی۔ مگر اس طرح دہاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ بات عجیب تھی کہ شیر اپنے شکار پر لوٹتے وقت بہت خاموشی سے اور محتاط ہو کر آتے ہیں۔ دہاڑ کر اپنی آمد کا اعلان کرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔

اگلے نصف گھنٹے تک میں خاموشی سے شیر کے اگلے قدم کا منتظر رہا۔

شیر مچان سے ۵۰ گز تک پہنچا مگر وہیں رک گیا۔ اس جگہ وہ جھاڑیوں میں چھپ کر دہاڑ رہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کو بھی اپنی پناہ گاہ سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ دیر بعد اس نے مچان کے گرد چکر کاٹنے شروع کر دیے اور اس کی دہاڑ کی شدت بڑھتی گئی۔

جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ آدم خور کو معلوم تھا کہ میں مچان پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ مگر اسے پتہ کیسے چلا؟ اسے مچان تو دکھائی نہیں دی ہو گی کہ وہ بہت دور سے دہاڑنے لگا تھا۔ واحد امکان یہی تھا کہ اسے مچان اور میرے بارے میں شروع سے ہی علم تھا۔ اس نے دہاڑ کر مجھے بھگانے کی کوشش کی۔

مچان بناتے وقت شیر کہیں قریب چھپا تھا۔ جب اس نے انسان کی موجودگی جان لی تو اسے معلوم ہو گیا کہ انسان کی موجودگی اس کی جان کا خطرہ بن سکتی ہے۔ ہر آدم خور کی مانند اسے انسان سے خطرہ محسوس ہوتا تھا مگر انسانی گوشت کی بھوک اسے واپس لے آئی تھی۔ اس کا خیال ہو گا کہ اس کے شور کی وجہ سے میں ڈر کر بھاگ جاؤں گا تاکہ وہ اپنا پیٹ بھر سکے۔ اس نے اپو اور اس کے ساتھیوں کو بستی جاتے دیکھا اور اب تسلی کر کے پیٹ بھرنے آ رہا تھا۔

آدم خور دہاڑتا اور چکر لگانا رہا۔ میں صبر سے منتظر رہا۔ میرا اندازہ تھا کہ اگلے آدھے گھنٹے تک علم ہو جائے گا کہ آدم خور کیا کرے گا۔ یا تو آدم خور میری موجودگی کو نظرانداز کر کے لاش پر آئے گا یا پھر میں بے صبرا ہو کر نیچے اتروں اور آدم خور کی تلاش میں نکل پڑوں۔ تیسرا امکان یہ بھی تھا کہ شیر بچ کر نکل جاتا۔ اس چیز سے مجھے ہر قیمت پر بچنا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ نصف گھنٹہ بیت گیا۔ پھر مزید دس منٹ گزرے۔ آدم خور ظاہر نہ ہوا۔ اب آدم خور چکر لگانے کی بجائے ایک بڑی اور گھنی جھاڑی کے پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ یہ جھاڑی ستاروں کی مدھم روشنی میں دھبہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہاں بیٹھ کر شیر دہاڑ رہا تھا اور اسے توقع تھی کہ میں نیچے اتر کر چلا جاؤں گا۔

جب کچھ کرنے کا وقت آئے تو میں بہت بے صبرا ہو جاتا ہوں۔ میں نے خاموشی سے درخت سے اترنا شروع کیا۔ میں جتنی بھی احتیاط کرتا، میری حرکات آدم خور کو صاف سنائی دے رہی ہوں گی۔ کیا آدم خور مجھے درخت سے اتر کر کالا کی لاش تک جانے کا موقع دے گا؟ اصل خطرہ یہ تھا کہ میرے اترنے کے دوران آدم خور حملہ کر دیتا۔ یہ ایسا مرحلہ تھا کہ میں رائفل استعمال نہ کر سکتا۔ یہ سوچ کر خوف سے میں پسینے پسینے ہو گیا اور میرے ہاتھ پھسلنے لگے۔ مگر میں نے اپنے پیروں سے پوری مدد لی اور آرام سے نیچے اترا۔ اگر میں گرتا تو آدم خور کے رحم و کرم پر ہوتا۔

ابھی میں آدھا اترا تھا کہ دہاڑ رک گئی۔ شیر نے میری آہٹ سن لی تھی کہ میں اتر رہا ہوں۔ کیا وہ قریب آ کر تفتیش کرے گا؟ اسے کرنا تو یہی چاہیے تھا۔ شاید وہ تنے سے چند فٹ دور ہوتا۔

اس سوچ سے میرے ہاتھ پیر پھول گئے اور میں نے رفتار بڑھا دی۔ ایک دو بار تو میں پھسل کر گرنے بھی لگا تھا، پھر سنبھل گیا۔ ستاروں کی روشنی تو کافی تھی مگر گھنے درخت کی وجہ سے تنا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے ہر پیر سنبھال کر رکھنا پڑتا تھا۔ جب پیر زمین سے لگے تو مجھے تسلی ہوئی۔ فوراً یہ میں نے کندھے سے بھری ہوئی رائفل اتاری اور تنے سے پشت لگا کر آدم خور کے حملے کا انتظار کرنے لگا۔

ہر طرف خاموشی تھی۔ جھینگر چپ تھے۔ آدم خور شاید گھات لگا رہا ہو۔ اس کی آمد کی کچھ نہ کچھ آواز تو ہونی تھی، جس سے سمت کا اندازہ ہو جاتا۔ کوئی بھی سرسراہٹ یا آواز نہ سنائی دی۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی۔

پھر اچانک ہی شیر بے صبرا ہو گیا۔ اس نے دہاڑتے ہوئے حملہ کیا۔

شیر میرے سامنے نہیں بلکہ میرے عقب میں تنے کی دوسری جانب تھا۔

میں نے دہاڑ سنی تو مڑا۔ درخت کا تنا میرے سامنے کا منظر چھپائے ہوئے تھا۔ جونہی میں نے ٹارچ جلائی تو روشنی پلٹ کر میری آنکھوں میں پڑی۔

اپنے سامنے تیز روشنی دیکھ کر بھی شیر خود کو نہ روک پایا۔ دہاڑتا ہوا شیر اچانک تنے کے پہلو اور میری بائیں جانب سے نمودار ہوا۔ میں نے فوراً دائیں جانب جست لگائی تاکہ شیر کے اور میرے درمیان درخت کا تنا رہے اور ساتھ اس کی سر پر گولی چلا دی جو دو گز دور تھا۔

شیر نے دوڑ کے ساتھ مڑنے کی ناکام کوشش کی جب تک وہ واپس درخت تک پہنچتا، میں نے چلا ہوا کارتوس نکال کر نئی گولی بھر لی تھی۔ دوسری گولی میں نے فرار ہوتے ہوئے شیر کے پچھلے جسم پر چلائی اور شیر غائب ہو گیا۔

شیر خاموشی سے فرار ہوا اور ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ میں نے پوری توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ شاید شیر کے عالمِ نزع کی آواز آئے یا جیسے زخمی شیر دہاڑتا ہے۔ ہلکا زخمی شیر بھی کوئی نہ کوئی آواز تو نکالتا ہی ہے۔ جب شیر فرار ہوتا ہے تو اس کے فرار کی آواز آتی رہتی ہے۔

مکمل خاموشی رہی۔ میں نے دس یا پندرہ منٹ اور انتظار کیا اور ٹارچ کی روشنی اس جگہ مرکوز رکھی جہاں شیر غائب ہوا تھا۔

خاموشی نہ ٹوٹی۔ سانبھر یا چیتل کی آوازیں بھی نہ سنائی دیں کہ جو شیر کو دیکھ کر بولتے۔ کیا میری پہلی گولی مہلک ثابت ہوئی تھی؟ شاید آدم خور کی لاش چند گزد ور پڑی ہو۔

پھر مجھے ایک جھینگر کی آواز آئی۔ پھر دوسرے جھینگر بونے لگے۔ آخر سارا جنگل ان کی آواز سے گونجنے لگا۔ جیسے ٹریکٹر پھر چل پڑا ہو۔

ایک بات یقینی تھی کہ آدم خور آس پاس نہیں تھا۔

میں نے سکون کا سانس لیا۔ رائفل اور ٹارچ کو جھکا کر میں نے زمین کا جائزہ لیا کہ جہاں میں نے شیر کے سر پر گولی چلائی تھی۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میں آگے بڑھا جس طرف شیر گیا تھا۔ اس دوران میں کالا کی لاش کے پاس سے گزرا اور وہاں دیکھا جس جگہ شیر غائب ہوا تھا۔ کوئی نشان نہ ملا۔

میں آگے بڑھ کر جھاڑیوں تک گیا اور پتوں کا جائزہ لیا۔ نہ تو خون کا نشان ملا اور نہ ہی کوئی اور نشان کہ شیر نے زخمی ہونے کے بعد جھاڑیوں کو چبایا یا کترا ہو۔

پھر یاد آیا کہ گولیاں چلنے کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ شاید دونوں ہی گولیاں خطا گئی تھیں۔ پہلی گولی تو دو میٹر سے بھی کم فاصلے پر چلائی گئی تھی۔

چنچو بستی کا راستہ مجھے اندھیرے میں نہ ملتا، سو میں واپس مچان پر چڑھ گیا اور وہیں رات گزاری۔ آدم خور اب اور زیادہ محتاط ہو جائے گا اور کبھی شکار پر واپس نہیں لوٹے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ زیادہ بھوکا ہو گا اور زیادہ آدمی مارے گا۔ چنچو ہی اس علاقے کے واحد باسی تھے، سو ان کو قیمت ادا کرنا پڑتی۔ آدم خور کو میرے غلط نشانے کا بدلہ اب ان سے لینا تھا۔

۴ بجے جا کر مجھے نیند آئی اور پو پھٹتے ہی اپو اور دیگر چنچو آن پہنچے۔ انہوں نے رات دو گولیوں کی آواز سنی تھی اور جب میں نے انہیں تفصیل بتائی تو اپو نے کچھ نہ کہا۔ تاہم اس نے جس طرح مجھے دیکھا، اس کی مایوسی واضح تھی۔

اب اور تو کچھ کرنا ممکن نہ تھا، چنچو اپنی بستی اور ہم پیداچیروو لوٹ گئے۔ سارا راستہ اپو اور میں نے خاموشی سے کاٹا۔ بولنے کے لیے تھا ہی کیا۔

باینّا نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ انسان یا تو ہمیشہ ناکام رہتا ہے یا پھر کبھی کامیاب تو کبھی ناکام۔ ہمیشہ کامیابی ممکن نہیں۔ میں خاموشی سے سونے چلا گیا۔

اگلے دو روز کچھ نہ ہوا۔ پھر باینّا نے کہا کہ کھانے پینے کا سامان کم ہو رہا ہے اور وہ مرکاپور سے مزید سامان لاتا ہے۔ اتنا زیادہ سامانِ خورد و نوش ہم ختم کر چکے تھے۔ ذاتی طور پر میں بد دل ہو چکا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آدم خور بہت مکار نکلا۔

یہاں اپو کام آیا۔ اس نے باینّا سے کہا کہ وہ جا کر سامان لائے اور اس دوران وہ میرے ساتھ جنگل میں شیر کی تلاش جاری رکھے گا۔ باینّا نے کہا تو سہی کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں مگر پھر چپ کر کے چلا گیا۔

باینّا اگلے روز صبح چھ بجے مرکاپور کے لیے نکلا جبکہ اپو اور میں جنگل کو۔ اس بار اپو کے ساتھ کلہاڑی اور اس کا کتا بھی تھا۔ بیچارہ کتا مریل اور لاغر سا تھا اور اس کے کان بچپن میں ہی کاٹ دیے گئے تھے۔ ہندوستانی دیہاتوں میں پالتو کتوں کے کان کاٹنا عام بات ہے کہ اس طرح وہ ایک خاص قسم کی مکھیوں سے بچے رہتے ہیں۔ مجھے ان کا نام تو معلوم نہیں مگر یہ مکھیاں گھوڑوں اور کتوں کو تنگ کرتی ہیں اور ان کا تعلق افریقی سیسی مکھی کے خاندان سے ہے۔ اس کے ڈنک سے تکلیف تو بہت ہوتی ہے مگر کوئی بیماری نہیں ہوتی۔

اس کتے کا نام ادیپّا تھا اور لگ رہا تھا کہ اس نے ۶ ماہ سے کچھ نہیں کھایا۔ تیلگو زبان میں ادیاپا مردانہ نام ہے۔ میں نے پوچھا کہ انسانی نام کتے کو کیوں دیا ہے تو وہ بولا کہ اس کی اپنے ہمسائے سے نہیں بنتی۔ اس نے ہمسائے کے نام پر کتے کا نام ادیاپا رکھا۔ یہاں اپو ہار گیا کہ ادیاپا ذات کا دھوبی تھا اور اس نے اپنے ایک گدھے کا نام اپو رکھ دیا۔ ان گدھوں پر وہ میلے کپڑے دھونے لے جاتا تھا۔

اپو، اس کا کتا اور میں، ہم تینوں جھیل کے مشرقی کنارے کے گرد چکر کاٹ کر اس جگہ پہنچے جہاں پڈاچیروو سے آنے والا راستہ اتماکور اور دورانالا کو ملانے والی سڑک سے جڑتا ہے۔ جھیل کے سرے پر جھاڑیاں چھدری ہیں اور مور اور تیتر بکثرت ہیں۔ اس جگہ ہمیں کالے ہرن کے چھوٹے غول بھی دکھائی دیے، گھنے جنگل کی نسبت کالے ہرن مزروعہ علاقے کے قریب زیادہ ملتے ہیں۔ ایک پرانا نر دکھائی دیا جس کی کھال کالی سیاہ اور شاندار خوب پیچ دار سینگ تھے۔ وہ کھڑا ہو کر ہمیں دیکھتا رہتا۔ جب ادیپّا نے بھونک کر اس کا پیچھا کیا تو وہ ماداؤں کے ساتھ چوکڑیاں بھرتا غائب ہو گیا۔ کتا ہمیں ملامت بھری نظروں سے دیکھنے لگا کہ ہم نے اسے پیٹ بھرنے کا موقع نہیں دیا۔

ہندوستان میں اینٹلوپ نسل سے تعلق رکھنے والا کالا ہرن سب سے خوبصورت جانور ہے۔ کبھی ہزاروں کی تعداد میں کالے ہرن دکھائی دیتے تھے۔ تیر کمان، نیزوں، آتشیں ہتھیاروں، کتوں اور پھندوں سے اتنا شکار کیا گیا کہ اب کہیں کہیں کالے ہرن دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بچاؤ کے لیے حکومت نے قوانین وضع کیے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ جب یہ ہرن معدوم ہو گئے تو پھر شاید لوگوں کو شعور آئے گا۔

کالے ہرن کی بدقسمتی دیکھیے کہ یہ جگالی کرنے والا جانور ہے۔ بعجلت چرنے کے بعد جگالی کرتا ہے۔ جگالی کے دوران ہرن نہ تو زیادہ تیز بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی دور تک جا پاتا ہے۔ اگر کچھ فاصلے تک پیچھا کیا جائے تو تھک کر گر جاتا ہے۔ مقامی شکاریوں کو یہ بات معلوم ہے۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ چرنے کے کتنی دیر بعد جگالی کا عمل شروع ہوتا ہے اور کتنی دیر جاری رہتا ہے۔ جب وہ کسی غول کو پیٹ بھرتا دیکھتے ہیں تو چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب ہرن جگالی کرنے بیٹھیں تو چند منٹ انتظار کرنے کے بعد شکاری کتوں، بندوقوں اور ہر قسم کے ہتھیار لے کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ہرن خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہیں مگر نوجوان ہرن اور ہرنیاں زیادہ دور نہیں جا پاتے۔ جب وہ تھک کر گرتے ہیں تو کتے ان کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں یا انسان شکار کر لیتے ہیں۔

اپو اور میں تھوڑا دور گئے ہوں گے کہ ہمیں چار نیل گائے کے پگ دکھائی دیے۔ عموماً نیل گائے اکیلا چرتا ہے مگر یہ چاروں ایک ساتھ پچھلی رات پانی پینے جھیل پر گئے تھے۔ ان کے پگ سانبھر سے مشابہ ہیں مگر نیل گائے کے کھر زیادہ لمبے اور نسبتاً پتلے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ہمیں رکنا پڑا کہ ان پگوں کے اوپر ایک بڑے نر شیر کے پگ ثبت تھے۔

اپو اور میں نے ان کا بغور جائزہ لیا اور اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ کچھ دور جا کر ہمیں یقین ہوا کہ یہ لنگڑے آدم خور کے پگ نہیں۔ اس کے چاروں پیروں کے پگ صاف دکھائی دے رہے تھے۔ یہ شاید وہی شیر تھا جو پہلے روز دکھائی دیا تھا۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔

دوپہر کو جھیل سے ۱۰ میل دور پہنچ گئے۔ ہمارا رخ جنوب کی سمت تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ آدم خور اس سے زیادہ دور نہیں جاتا ہو گا۔ ہم نے سرگوشیوں میں بات کر کے واپسی کا رخ کیا۔ ہمارا رخ ایسا تھا کہ پڈوچیرو کے پاس جھیل کے مغربی کنارے سے ہو کر گزرتے۔ اس مقام سے چنچو بستی دو میل دور تھی۔

مسئلہ یہ تھا کہ یہاں سے کوئی پگڈنڈی بھی سیدھی شمال کو نہیں جاتی۔ سبھی کا رخ جنوب مغرب یا شمال مشرق کی سمت تھا۔ ہمیں راستہ بنا کر جنگل سے گزرنا پڑا۔ ہماری رفتار کافی سست رہی۔ ہر چند قدم پر راستہ بنانا پڑتا۔ واپسی کا راستہ دُگنا ہو گیا اور جگہ جگہ قطب نما سے مدد لینی پڑی۔

تین بجے سورج شدید گرم ہو گیا اور ہم پسینے سے نہائے ہوئے ایک ٹیلے نما پہاڑی کے پاس پہنچے۔ اس پر ایک طرف چٹان نکلی ہوئی تھی۔ اس چٹان کے نیچے سرد اور صاف پانی ٹپک رہا تھا۔ اس پانی سے بمشکل دو فٹ چوڑا تالاب بن گیا تھا۔ پانی کی مقدار اتنی کم تھی کہ تالاب کی حد تک پانی تھا مگر بہنے کے قابل نہ تھا۔ صاف اور سرد پانی کا ملنا ہمارے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوا۔

یہاں نرم مٹی پر لنگڑے آدم خور کے پگ دکھائی دیے جیسے لنگڑا آدم خور باقاعدہ یہاں سے پانی پینے کا عادی ہے کہ پگ کافی زیادہ تھے۔ ہمارا حوصلہ بلند ہو گیا۔ نہ صرف پینے کو پانی مل گیا بلکہ آدم خور کا پتہ بھی۔ میں نے اعشاریہ ۴۰۵ کی رائفل زمین پر رکھی اور لیٹ کر پانی پینے لگا۔ میں نے اپو سے پوچھنے کا تکلف بھی نہ کیا کہ میرے ذہن میں یہی تھا کہ میں صاحب ہوں اور پہلا حق میرا ہے۔ اپو نے انتظار کیا۔

شکر ہے کہ اپو رک گیا کیونکہ آدم خور نے عین اسی وقت حملہ کیا۔ شاید اس روز میرا دماغ ٹھکانے نہیں تھا۔

آدم خور ’عوف عوف‘ کرتا ہوا ہم پر حملہ آور ہوا۔

رائفل کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر میں گھٹنے کے بل جھکا اور مڑ کر شیر کی طرف دیکھا۔ شیر ۱۵ فٹ دور سے پھدکتا ہوا آ رہا تھا۔ لنگڑاہٹ کی وجہ سے وہ دوڑ نہ سکتا تھا۔ اپو اپنی جگہ کھڑا کلہاڑی لہراتا رہا۔ کتا بری طرح بھونک رہا تھا۔ لاغر اور بھوک سے نڈھال کتا انتہائی بہادری سے آدم خور کا حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔

ظاہر ہے کہ شیر کو یہ سب منظر بہت عجیب لگا ہو گا کہ ابھی تک وہ دھوکے سے حملہ کرتا آیا تھا۔ اس کے شکار چلاتے تو تھے مگر کبھی مزاحمت نہیں ہوئی تھی۔ اب اس کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہوا کچھ لہرا رہا تھا جبکہ حقیر کتا اس پر بھونک رہا تھا۔ ہاں میں جھکا ہوا اس کے لیے مناسب شکار تھا۔

یہاں پہنچ کر آدم خور لمحہ بھر رکا۔ یہ لمحہ اس کی موت کا لمحہ ثابت ہوا۔ میں نے جھکی ہوئی حالت میں نشانہ لے کر اس پر دو گولیاں چلائیں۔

بعد میں آدم خور کی لاش کا معائنہ کیا تو بات سچ نکلی کہ اس کی معذوری کا سبب دوسرے شیر سے لڑائی تھی۔ اس کی ٹانگ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس مرتبہ انسان بے قصور ثابت ہوا۔

اپو اور اس کے کتے کا شکریہ، جب باینّا لوٹا تو میں نے اسے اطلاع دی کہ اس کی تازہ خریداری ضائع جائے گی۔ اگر اپو اور اس کا کتا شیر کا سامنا کرنے کو نہ رکتے تو آدم خور بلا رکے مجھ پر حملہ کر دیتا۔

جھینگروں والی بات رہ گئی تھی۔ میرے مدراسی دوست نے بتایا کہ شیر کی دہاڑ سے زمین کانپتی ہے۔ جھینگر کے کان نہیں ہوتے مگر ان کو تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ زمین کانپنے کی وجہ سے جھینگر خوفزدہ ہو کر چپ ہو جاتے ہوں گے۔

٭٭٭

 

۳۔ ناقابلِ فہم معاملات

 

جنگل کا رخ ہمیشہ ہی شکار کی نیت سے نہیں کیا جاتا۔ میں جوں جوں بوڑھا ہو رہا ہوں، مجھے معقول وجہ کے بغیر شکار کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔ ذیل میں آپ کو کچھ الگ قسم کے واقعات کے بارے میں بتاتا ہوں جو جنگل کے حوالے سے مجھے دیکھنے کو ملے۔

نیلگری پہاڑی سلسلے کے دامن میں مغرب کی سمت موجود علاقے میں گھنا جنگل ہے اور یہاں بارش بکثرت ہوتی ہے۔ جہاں کم بارش ہوتی ہے، وہاں جنگل نسبتاً چھدرا ہے۔ صدیوں سے یہ زمین کاشت ہو رہی ہے اور یہاں انسان آباد ہیں۔ جگہ جگہ اجڑے دیہات اور مندر دکھائی دیتے ہیں اور قلعے بھی پائے جاتے ہیں جن کے گرد اب جنگل اگا ہوا ہے۔ ماضی کی یہ یادگاریں بتاتی ہیں کہ یہاں کبھی تہذیب زندہ تھی۔

مجھے چیما ناتھ کی مویشی پٹی یاد ہے جہاں ۶ جھونپڑیاں ہیں اور یہ پٹی دو ایکڑ پر مشتمل ہے۔ بستی کے اردگرد خاردار کانٹوں کی ۳ فٹ اونچی باڑ ہے۔ اندر مویشیوں کے گوبر کا فرش ہے کہ یہاں کئی دہائیوں سے سینکڑوں مویشی رہتے آئے ہیں۔ گرمیوں میں جب چارہ ختم ہو جاتا ہے تو مویشی یہاں سے دور بھیج دیے جاتے ہیں اور گوبر کی تہہ سیمنٹ کی مانند سخت ہو جاتی ہے۔ بارشوں کے ساتھ ہی مویشی بھی لوٹتے ہیں۔ بارش، مویشیوں کے پیشاب اور سینکڑوں مویشیوں کے کھروں تلے یہ فرش کیچڑ بن جاتا ہے۔ مویشی بان اس کے وسط میں رہتے ہیں۔ آپ کو ان سے بات کرنی ہو تو اسی کیچڑ سے گزر کر جانا ہو گا۔

یہاں میں اس پٹی سے نصف میل دور بہت بڑے اور اجڑے ہوئے مندر کے بارے میں بات کروں گا۔ مندر کی دیواروں کے اندر انجیر کے درخت ہیں جبکہ اندرونی حصہ جہاں صرف برہمن جا سکتے ہیں، کافی حد تک اصلی شکل میں ہے۔ اس کے گرد چاردیواری ہے۔ اندر جگہ جگہ آڑے ترچھے چوبی ستون ہیں۔ آخر آپ لکڑی کے ۶ انچ موٹے دروازے تک پہنچتے ہیں۔ اس کو بند کرنے والی لکڑی ابھی تک موجود ہے۔ باہر تانبے کے کنڈے اور بیرم یعنی لیور لگے ہیں تاکہ دروازہ باہر سے بھی کھولا جا سکے۔ دروازے کو اپنی جگہ قائم رکھنے کے لیے فولادی چوگاٹھ استعمال ہوئے ہیں جو ابھی تک سلامت ہیں۔ دروازہ عجیب سی آواز سے کھلتا ہے۔ جب دروازے بند ہو جائیں تو فرار کا راستہ نہیں بچتا۔

مندر کی عمارت گرینائٹ یعنی سنگ خارا سے بنی ہے اور اس کے سامنے چند گز پر قدیم کنواں ہے جس پر بھی سنگ خارا لگا ہے اور لگ بھگ ۱۵۰ فٹ گہرا اور اتنا ہی چوڑا ہے۔ گرینائٹ کی کئی سلیں گر چکی ہیں اور کنواں خشک ہے۔

مندر سے ایک میل دور سنگی قلعہ ہے جس کے گرد خندق بنی ہے۔ اس میں بھی جنگل چھایا ہوا ہے۔ مقامی قبائل اس کے قریب بھی نہیں جاتے اور عام افراد کا جانا ویسے بھی محال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں چند روزہ وبا کے دوران مرنے والے ہزاروں افراد کی روحیں بھٹکتی ہیں۔ اصل بات کا کسی کو علم نہیں۔ روایت ہے کہ دو یا تین صدیاں یا اس سے بھی پہلے یہاں وبا پھیلی تھی۔

بخار کی بڑی وبا شروع ہوئی اور ہزاروں کی تعداد میں انسان مرنے لگے۔ بخار میں مبتلا ہونے والا فرد اگلے دن تک زندہ نہ بچتا۔ اس کا کوئی علاج نہ تھا اور نہ ہی ڈاکٹر۔ جہاں بیمار گرتا، وہیں مر جاتا اور اس کی لاش پڑی رہتی کہ دفنانے کو کوئی نہیں تھا۔ تعفن اتنا تھا کہ ۷ میل دور اور پہاڑ کی نصف بلندی پر واقع کل ہٹی کے لوگوں تک بو جا رہی تھی۔ جو چند لوگ بچے، وہ وادی سے فرار ہو گئے۔ سامان اٹھانے کے لیے بھی کوئی نہ رکا۔ اس طرح یہ آبادی ختم ہو گئی۔ سڑتے گوشت اور ہڈیوں سے مردارخور پورا سال اپنا پیٹ بھرتے رہے۔

کوئی نہیں جانتا یہ بخار کیا تھا۔ مگر تباہی سے سبھی واقف ہیں۔ یہ چھوت کا مرض تھا۔ خیال ہے کہ یہ طاعون کی انتہائی متعدی شکل ہو گی۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس علاقے میں کوئی انسان نہ بچا اور نہ ہی کوئی وبا ختم ہونے پر واپس لوٹا۔

ماضی میں مندر کے اندرونی مقدس مقام پر اجنبی، ماس خور یا غیر ملکی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ قدیم پنڈت برہمن تھے اور اس مقام پر جانے سے قبل ننگے پیر اور محض دھوتی پہن کر جاتے تھے۔ جب آپ یہاں جوتوں سمیت چلتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے۔

اندر ایک طرف چبوترہ ہے جہاں پانچ سنگی بت ہیں۔ یہ سبھی بت ہندو مت کے مقدس ترین جانور بیل کے ہیں۔ روایتی طور پر بیل کو بیٹھا دکھاتے ہیں۔ سب سے بڑا بت ایک فٹ اونچا اور اڑھائی فٹ لمبا ہے اور سب سے چھوٹا بت چار انچ اونچا اور دس انچ لمبا ہے۔ ایک جانب چھ انچ اونچا تانبے سے بنا دیا رکھا ہے مگر اب اس کا رنگ خراب ہو چکا ہے۔ یہ دیا چھوٹے ستون پر رکھا ہے۔

میں آپ کو کئی سال پرانا واقعہ سناتا ہوں۔ میں چند سیاحوں کو ساتھ لے کر مندر گیا۔ یہ سیاح مجھے جنگل میں ملے اور یکسر اجنبی تھے۔ انہوں نے مندر کے بارے میں سن رکھا تھا اور مجھ سے پوچھا کہ مندر تک کیسے جائیں۔ مندر کا راستہ کافی دشوار تھا، میں ان کے ساتھ آیا۔ کل ۴ سیاح تھے۔ ہم اندرونی مقدس مقام پر رکے اور پتھرع کے بیلوں کو دیکھنے لگے جنہیں نندی کہا جاتا ہے۔ ایک سیاح جس کا نام کیپٹن نیڈ فرض کر لیتے ہیں، آسٹریلیا سے آیا تھا اور اس کی نظر تانبے کے دیے پر پڑی۔

اس نے فوراً کہا، ’یہ میں بطور یادگار لے جاتا ہوں‘۔ یہ کہہ کر اس نے دیا جیب میں ڈال لیا۔

میں نے اسے روکا۔ اس کی بیوی مارگریٹ نے میری ہاں میں ہاں ملائی۔

اس نے کہا کہ اسے اس دیے کی ضرورت ہے۔

اس کی جیب سے دیا جھانک رہا تھا۔ جب ہم نکلے تو مجھے افسوس ہوا کہ نجانے کتنی صدیوں بعد دیا اپنے مقام سے ہٹایا گیا ہو گا۔ میں اپنے کیمپ کو لوٹا جبکہ سیاح ۱۷ میل دور اووٹی کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ چار پانچ روز قیام کے بعد وہ لوگ واپس چلے جائیں گے۔

۴ روز بعد میں سڑک پر چل رہا تھا کہ ایک کالے اور پیلے رنگ کی ٹیکسی میرے پاس سے گزری اور رک گئی۔ جنگل میں ٹیکسی کی آمد انوکھی بات تھی۔ میں نے جھانکا تو یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ اندر کیپٹن نیڈ کمبل اوڑھے اور تکیے کی ٹیک لگائے لیٹا تھا اور اس کی بیوی ساتھ پریشان بیٹھی تھی۔

مجھے دیکھتے ہی وہ زور سے بولی، ’خدا کا شکر ہے مسٹر اینڈرسن کہ آپ مل گئے۔ جان کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے‘۔

اس نے تفصیل سے بتایا کہ جب شام کو وہ لوگ اوٹی پہنچے تو جان کو شدید بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر نے دیکھا تو بتایا کہ اسے لو لگی ہے اور علاج کے لیے دوائیں دیں۔

رات کو نیڈ کا بخار ۱۰۶ ڈگری تک جا پہنچا اور وہ ہذیان بکنے لگا۔ اس کی بیوی اور دوستوں نے پھر ڈاکٹر بلایا۔ نیڈ کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سوچا کہ اسے کالے بخار یا ملیریا کا شدید حملہ ہوا ہے۔ کونین کھلائی گئی مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ تیسرے روز اس کی بیماری مزید شدت اختیار کر چکی تھی۔ ہسپتال کے عملے نے بے بسی ظاہر کی کہ انہیں بخار کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔ نیڈ کو وقفے وقفے سے ہوش آتا تھا۔ ایک بار جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا، ’مجھے یہ دیا واپس اسی مندر میں لے جانا ہو گا۔ کار یا ٹیکسی منگواؤ اور فوراً میرے ساتھ چلو۔ اگر میں نے یہ دیا آج واپس نہ پہنچایا تو میں کل مر جاؤں گا۔ مجھے اپنے ہاتھ سے یہ دیا واپس لوٹانا ہے‘۔

پھر اس نے بتایا کہ اس نے خواب دیکھا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے دیا واپس مندر میں رکھ رہا ہے۔ جب مارگریٹ نے ڈاکٹر کو بتایا تو ڈاکٹر مسکرا کر بولا کہ یہ محض ہذیان ہے۔

مارگریٹ کو یقین تھا کیونکہ ہوٹل کے کمرے کی میز پر دیا رکھا تھا۔ وہ اس سے نظریں نہ ہٹا سکی۔ جیسے دیا اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔

مارگریٹ نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی جان بچانے اسے ٹیکسی پر واپس لے جا رہی ہے۔

ڈاکٹر بولا کہ نیڈ کی طبعیت بہت خراب ہے اور اگر اس حالت میں لے جایا گیا تو وہ فوری مر سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے اجازت دینے یا ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔

مارگریٹ نے واپس جا کر نیڈ کو بتایا تو وہ بولا، ’میں نے آج ہی دیا لوٹا دیا تو ٹھیک، ورنہ کل تک مر جاؤں گا‘۔

بیوی نے کہا کہ وہ ٹیکسی پر جا کر دیا واپس رکھ آتی ہے۔ مگر اس نے اصرار کیا کہ وہ خود جائے گا۔ اس طرح یہ دونوں مجھے ٹیکسی میں ملے۔

میں فوراً ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر اسے راستہ سمجھانے لگا۔ ہم جلد ہی مندر کے قریب پہنچ گئے مگر ٹیکسی آگے نہیں جا سکتی تھی۔ نیڈ کو اب ہوش آ چکا تھا اور وہ بولا کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے دیا واپس رکھے گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ مندر کی دیوی جانتی ہو گی کہ تم سچے دل سے توبہ کر کے دیا واپس لا رہے ہو۔ سو وہ تمہیں معاف کر دے گی۔ تم یہیں رکو، ہم واپس رکھ کر آتے ہیں۔

نقاہت سے اس کا برا حال تھا مگر اس نے سر ہلا کر ہماری بات سے اتفاق کیا۔ اس کی بیوی نے دیا اٹھایا اور میرے پیچھے چلنے لگی۔ ہم نے اندر پہنچ کر دروازہ کھولا اور پانچ بتوں کے پاس مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر دیا واپس رکھ دیا۔ روتے ہوئے اس نے دعا مانگی۔ پھر ہم خاموشی سے ٹیکسی کو لوٹے۔

نیڈ سو رہا تھا۔ اس کا ماتھا پسینے سے بھییگا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ لگایا تو محسوس ہوا کہ اس کا بخار اتر چکا ہے۔ ہم نے اسے کمبل اچھی طرح اوڑھایا اور کھڑکی کا شیشہ بند کر دیا تاکہ ٹھنڈی ہوا نہ لگے۔ میں نے ٹیکسی والے کو ہدایت کی کہ وہ سیدھا اوٹی ہوٹل جا کر ہی رکے۔

اب ہسپتال جانے کی کیا ضرورت تھی۔ نیڈ ٹھیک ہو چکا تھا۔ جب ٹیکسی روانہ ہوئی تو اس کی بیوی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔

معزز قارئین، یہ تمام واقعات عین اسی طرح پیش آئے۔ اس کی توجیہ پیش کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ آپ اپنی مرضی سے جو چاہیں سوچیں۔

٭

 

حال ہی میں ایک اور واقعہ ماون ہلّا سے نصف میل دور وادی میں پیش آیا تھا۔ یہ جگہ اوٹی سے ۱۵ میل دور تھی اور واقعہ بظاہر کالے جادو کا شاخسانہ تھا۔

اس وادی میں ایک خوش شکل لڑکی رہتی تھی جس کی شادی گروپلی کے ایک آدمی سے طے ہوئی تھی۔ ہندوستان میں لڑکا لڑکی اپنی شادی کا فیصلہ خود نہیں کرتے بلکہ یہ ان کے والدین کا کام ہے جو خوب بھاؤ تاؤ کر کے شادی طے کرتے ہیں۔ عموماً لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو شادی کے بعد دیکھتے ہیں۔ یہ معاملہ کچھ مختلف تھا کہ لڑکے اور اس کے والدین نے ماون ہالا کا چکر لگا کر لڑکی کو دیکھا تھا اور لڑکے نے جب لڑکی کو پسند کر لیا تو ان کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔

ان لوگوں کا تعلق ایریلا ذات سے تھا اور ان کا رواج تھا کہ لڑکے والے لڑکی کی والدین کو منہ مانگی رقم دیتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے یہ لڑکی کی قیمت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں عموماً لڑکی کی طرف سے جہیز دیا جاتا ہے۔

عین وقت پر لڑکے کے والدین نے کہا کہ وہ رقم نہیں دے سکتے۔ لڑکی کے والدین نے غصے میں منگنی توڑ کر مطلوبہ رقم دینے پر تیار ایک اور آدمی چن لیا۔

گروپلی والا آدمی سخت خفا ہوا اور اس نے جنگل کے راستے ۱۰۰ میل دور کولیگل قصبے کا رخ کیا۔ یہ قصبہ دریائے کاویری کے کنارے آباد ہے اور یہاں بہت مشہور کالا جادوگر رہتا تھا۔ اس آدمی کو خاصے پیسے خرچ کرنے پڑے کہ جادوگر نے بھینٹ چڑھانے کے لیے ایک بھیڑ مانگی تاکہ اس کا خون کسی بد روح کی نذر کر کے اس سے کام لے۔ پورے چاند کی رات کو ۳ بجے یہ تقریب ہوئی۔

۱۰۰ میل دور ماون ہلا میں یہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ گھر میں سو رہی تھی کہ عین ۳ بجے اس کے پیٹ میں زبردست مروڑ اٹھا۔ اس نے فوراً لوٹا اٹھایا اور باہر کا رخ کیا۔ عموماً ہر گھر کے پیچھے چند گز دور ہی گھر والے حوائجِ ضروریہ سے فراغت حاصل کیا کرتے تھے۔

لڑکی نے بتایا کہ جونہی وہ فارغ ہوئی تو اس کے سامنے دو نامعلوم آدمی اچانک نمودار ہوئے۔ انہوں نے لڑکی کو ساڑھی سے پکڑا اور اسے ساتھ گروپلی جانے کا کہنے لگے۔ لڑکی کو احساس ہوا کہ اس کا سابقہ منگیتر اسے بہانے سے بلوا رہا ہے، اس نے کہا کہ وہ دن نکلنے پر روانہ ہو جائے گی۔ اس پر آدمیوں نے اسے کہا کہ فوراً ساتھ چلے۔ جب لڑکی نے کہا کہ ۱۰۰ میل بہت طویل فاصلہ ہے تو یہ آدمی اسے اٹھا کر چلنے کو تیار ہو گئے۔

گفتگو یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکی کی نگاہ ان کے پیروں پر پڑی تو اس پر دہشت طاری ہو گئی۔ ان آدمیوں کے پیر زمین سے نہیں لگ رہے تھے۔ چاندنی رات میں اسے زمین تو صاف دکھائی دے رہی تھی مگر ان آدمیوں کے پیر ہی نہیں تھے۔

اس نے ڈر کر چیخ ماری۔ گھر والے فوراً بھاگے تو وہ آدمی ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ لڑکی نے جب ساری بات بتائی تو ہمسائیوں نے سوچا کہ اس نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو گا کہ دور دور تک کوئی اجنبی نہ دکھائی دیا۔

لڑکی اتنی خوفزدہ تھی کہ اس نے دن بھر کچھ نہ کھایا۔ شام کو ساڑھے سات بجے رات کے کھانے کا وقت ہوا تو وہ بھی دال چاول کھانے بیٹھی۔ ہندوستان میں ہاتھ سے کھانا کھایا جاتا ہے، سو اس نے انگلیوں سے لقمہ اٹھایا اور منہ میں ڈالا۔ عین اسی لمحے اسے لگا کہ جیسے اس کے منہ میں آگ لگ گئی ہو اور لقمہ پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر لقمہ اگلا تو اس کے منہ سے نکلنے والا لقمہ در اصل پتھر تھا۔

یہ مسئلہ ۸ روز تک چلتا رہا۔ میں ان دنوں ماون ہلّا آیا ہوا تھا اور مجھے اس بارے میں پتہ چلا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ صبح کو یا دن کو کسی بھی وقت لڑکی آرام سے کھا سکتی تھی۔ یہ مسئلہ صرف سورج غروب ہونے کے پیش آتا تھا۔

مجھے ایسی عجیب باتوں سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے، سو میں نے فوراً اس وادی کا رخ کیا جہاں میں لڑکی اور اس کے والدین سے ملا۔ پھر میں نے ان کے ہمسائے اور بستی کے لگ بھگ سبھی لوگوں سے بات کی۔ وہ یہ سب دیکھ چکے تھے اور انہوں نے ان باتوں کی تصدیق کی۔ لڑکی کے باپ نے اس کے منہ سے نکلنے والے سبھی پتھروں اور دیگر چیزوں کو محفوظ کر رکھا تھا۔ میں نے اس سے یہ سب مانگ لیے اور اب یہ تحریر لکھتے وقت یہ سب میرے سامنے رکھے ہیں۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے: ۶ مختلف جسامت اور وزن کے پتھر جن میں سے سب سے بڑا ۳ اونس، پکی مٹی کے ۶ مختلف ٹکڑے، ۲ کوئلے اور شیشے کی بوتل کا ایک ٹوٹا ہوا ٹکڑا۔

یہ مسئلہ رات کے کھانے کے وقت ہوتا تھا، سو میں رات ۷ بجے لوٹا کہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔

لڑکی چٹائی پر غنودگی کی حالت میں لیٹی تھی اور آس پاس دس بارہ آدمی جمع تھے۔ اس کے چہرے پر پسینہ تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا منہ ایسے چلتا جیسے کچھ چبا رہی ہو۔

میں وہمی آدمی ہوں۔ مجھے لگا کہ یہ لڑکی جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے کہ وہ خود سے اس آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ شاید اس نے دن کے وقت خود یا کسی اور کی مدد سے پتھر کا ٹکڑا پہلے سے ہی چھپا رکھا ہو گا۔ کھانا کھاتے وقت وہ جان بوجھ کر یہ پتھر منہ میں ڈال لے گی۔ میں نے فریب کا پول کھولنے کا سوچا۔

میں نے اسے منہ کھولنے کا کہا۔ اندھیرا چھا چکا تھا، میرے پاس ٹارچ تھی۔ میں نے اس کے کھلے منہ میں روشنی ڈالی مگر کچھ نہ دکھائی دیا۔ اچانک میں نے بتائے بغیر اس کے منہ میں انگلی ڈال کر اس کی زبان کے نیچے دیکھا۔ اس بیچاری نے خاموشی سے برداشت کیا۔ پھر میں نے اس کی گردن تھام کر اس کے مسوڑھوں اور گالوں کے درمیان انگلی پھیری کہ کہیں پتھر نہ چھپا ہو۔ اس کا منہ پوری طرح خالی تھا۔ اب اس کا منہ چلنا بند ہو گیا تھا۔

نصف گھنٹے بعد اس کے سامنے رات کا کھانا رکھا گیا۔ جب وہ کھانے کو بیٹھی اور لقمہ بنایا تو میں نے اسے روک دیا۔ پھر اس کی ماں کو بلا کر میں نے کہا کہ وہ اس کے ہاتھ میں موجود لقمے میں انگلی مارے اور چاولوں اور دال کو بھی دیکھے۔ مگر کوئی پتھر نہ ملا۔

لڑکی نے لقمہ بنایا تو میں نے اس کی انگلیوں کو اچھی طرح دیکھا کہ کہیں پتھر نہ چھپا ہو۔ جب اس نے لقمہ منہ میں ڈال کر چبانا شروع کیا تو میں بہت خوش ہوا کہ اب پتھر کہاں سے آئے گا۔ میں نے سوچا کہ لڑکی کا پول کھل گیا ہے۔

اگلے لمحے لڑکی کے دانتوں تلے کچھ سخت سا آیا اور مجھے بھی اس کی آواز سنائی دی۔ اس کے چہرے پر موجود دہشت اصلی تھی۔ ہلکی سی سسکی کے ساتھ اس نے لقمہ اگل دیا۔ تھالی میں ایک پتھر گرا۔

اسی وقت میں نے چلا کر لڑکی کو کہا کہ وہ منہ کھلا رکھے اور اسے گُدی سے پکڑ کر میں نے دائیں ہاتھ کی انگلی اس کے منہ میں ڈال دی۔ یقین کیجیے کہ اس کے منہ میں چاول یا دال کا ایک دانہ تک نہ تھا۔ پورا لقمہ غائب تھا۔

لڑکی کو نوالہ چبانے کا وقت نہ ملا تھا اور نہ ہی اس نے نگلا ہو گا کیونکہ میں اسے متواتر دیکھتا رہا تھا۔ اتنا بڑا لقمہ اگر وہ نگلتی تو اس کے حلقوم سے گزرتے وقت صاف دکھائی دیتا۔ جو پتھر اس نے اگلا، وہ تین اونس وزنی اور اس وقت میرے سامنے رکھا ہے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگلی شام میں نے پھر یہی دیکھا۔ میں نے اس بار بھی لڑکی کا منہ کھول کر اچھی طرح دیکھا کہ اس نے پہلے سے کچھ نہ چھپایا ہوا ہو۔ اس بار شیشے کا ٹکڑا نکلا۔ یہ بھی اس وقت میرے سامنے رکھا ہے۔ شیشے کے تیز کناروں سے اس کی زبان یا مسوڑھے زخمی ہونے سے کیسے بچے ہوں گے۔ پورا لقمہ غائب ہو چکا تھا۔ اس بار تماشائیوں کا زیادہ بڑا مجمع اکٹھا تھا۔

ان واقعات کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ اگلی صبح ایک سادھو آیا۔ یہ آدمی ہندوستانی، میرا ہم عمر، عیسائی اور سادہ سا تھا۔ اس شام میں لڑکی کے گھر یہ دیکھنے ذرا جلدی چلا گیا کہ یہ آدمی کیا کرے گا۔ یہ آدمی زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور مجھے دیکھ کر اٹھا اور مسکرانے لگا۔ صاف اور بے داغ انگریزی میں اس نے تعارف کرایا کہ وہ اوٹی سے آیا ہے۔ اس نے لڑکی کے بارے میں سنا اور سیدھا بس پکڑ کر مسینی گڈی پہنچا اور وہاں سے ۳ میل کا پیدل سفر کر کے یہاں آیا۔

اس نے بتایا کہ اسے خدا نے ان مسائل کو حل کرنے کی طاقت دی ہے۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور شاید کچھ تلخ بھی بول گیا۔

’سو تم یہاں اس لڑکی کے علاج کی کوشش کرنے آئے ہو؟‘

’نہیں جناب۔ میں اسے ٹھیک کرنے آیا ہوں۔ مجھے اوٹی سے یہاں اسی لیے بھیجا گیا ہے۔ خدا مجھے مایوس نہیں کرے گا۔ خدا ایسا نہیں کر سکتا‘۔

اس کے اعتقاد کے سامنے میں کچھ نہ بول سکا۔ پھر پٹاسوامی نامی یہ آدمی لڑکی اور اس کے والدین سے بات کرنے لگا۔ جلد ہی لڑکی، والدین اور مجمعے سے اسے پوری کہانی کا علم ہو گیا۔ آخر میں میں نے پچھلے ۲ روز کا ماجرا بھی اسے سنایا۔

اس دوران لڑکی کو پسینہ آنے لگا اور اس کا منہ چلنے لگا۔ پچھلے ۲ روز سے میں یہی دیکھ رہا تھا۔ پُٹّاسوامی خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اس نے کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ شاید دعا کر رہا ہو گا۔

ایک بار پھر میں نے لڑکی کا منہ کھول کر اس کے تالو، زبان کے نیچے اور حلق تک کا جائزہ لیا۔ اس کے منہ میں کچھ بھی نہ تھا۔

پھر رات کا کھانا اس کے سامنے لا کر رکھا گیا جو دال چاول پر مشتمل تھا۔ یہ مقامی لوگوں کی واحد خوراک ہے۔ لڑکی نے چاول اور دال کا لقمہ بنا کر منہ میں ڈالا اور چبانا شروع کیا۔ عین اسی وقت پٹا سوامی زور سے پکارا:

’نزراتھ کے یسوع مسیح کے نام پر، تم جو بھی ہو، میں حکم دیتا ہوں کہ اس لڑکی سے نکل جاؤ‘۔

ایک بار پھر لڑکی کے دانت پتھر سے ٹکرائے اور اس نے چیخ ماری اور اس پر دورہ پڑ گیا۔ اس نے بال نوچنے اور دانت پیسنے شروع کر دیے۔ پٹا سوامی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور وہ چلایا۔

’نزراتھ کے یسوع مسیح کے نام پر، اسی لمحے نکل جاؤ‘۔

لڑکی کو ایک جھٹکا لگا اور اس کا جسم ایسے مڑا جیسے تشنج کا دورہ ہو۔ پھر اس نے چاول اور دال اگل دیے اور ذرا سا کانپ کر ساکت ہو گئی۔ چند منٹ بعد اس میں حرکت پیدا ہوئی۔ پٹاسوامی نے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔ اب لڑکی کے منہ میں پتھر کی بجائے دال چاول تھے۔

پٹاسوامی نے نرمی اور خوشی سے کہا: ’شکریہ یسوع مسیح‘۔

لڑکی ٹھیک ہو گئی تھی۔ ہم سب اس سادہ سے آدمی سے نکلنے والی روحانی لہروں سے متاثر ہو گئے۔

میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں، سو مجھے اس پر پورا یقین ہے۔

٭

 

میں اب جس آدمی کے بارے میں بات کروں گا، وہ ایک چور، ڈاکو اور ۹ افراد کا قاتل تھا۔

یہ کہانی کئی سال پہلے شروع ہوئی۔ اس آدمی کا نام سلواراج تھا۔ پولیس کے مطابق: ’عمر ۳۶ سال، قد ۵ فٹ ۷ انچ، گہرا سانولا رنگ، بل کھائی مونچھوں کے سرے کنپٹی تک اٹھے ہوئے۔ باہر کو نکلا ہوا اوپری ہونٹ اور دائیں ابرو سے کان کی لو تک گہرے زخم کا نشان‘۔

ابتدا خاندانی جھگڑے سے ہوئی۔ سلواراج کے باپ کا جھگڑا ہمسائے سے ہوا۔ ہمسائے نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک رات سڑک پر گھات لگائی اور اس کے باپ کو قتل کر کے اس کی لاش کو درخت سے باندھ دیا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔

سلواراج اس وقت نوجوان تھا۔ اسے لڑائی کا علم تھا مگر اس نے چپ سادھ لی مگر باپ کے قتل کو بھلانا بھی نا ممکن تھا۔ اس نے اپنے بھائی اور دیگر ۵ افراد کو ملا کر قاتلوں کے گھروں پر ہلہ بول کر ۹ افراد کو ٹوکے کے وار کر کے قتل کر دیا۔

اس پر بہت شور ہوا کہ سبھی اس قتلِ عام کی وجہ اور قاتلوں کو بخوبی جانتے تھے۔ سلواراج کے ۳ رشتہ دار جو اس قتل میں شریک تھے، کو پکڑ کر مقدمہ چلانے کے بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ سلواراج، اس کا بھائی اور ۲ ساتھی چھپ گئے۔

لڑائی پھیل گئی اور پولیس کچھ نہ کر سکی۔ مقتولین کے لواحقین نے ان چاروں کی تلاش شروع کر دی۔ حسبِ معمول مخبری ایک عورت کی وجہ سے ہوئی۔ سلواراج کے بھائی نے کسی کی بیوی کو ورغلا کر اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ اس کے شوہر نے انتقام لینے کے لیے ان کی کمین گاہ کی نشاندہی کر دی۔ حملہ آوروں نے جھونپڑی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ سلواراج کا بھائی اور عورت تو جل کر مر گئے مگر سلواراج اور دیگر دو ساتھ بچ نکلے۔

پولیس پھر آئی اور دو حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا اور دونوں کو پھانسی ہو گئی۔ دونوں فریق جنگل میں چھپ گئے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے اور پولیس سے بھی خطرہ تھا۔

تمام مال اسباب، زمین اور روزگار چھِن جانے سے سلواراج کو زندہ رہنے کے لیے جد و جہد کرنا پڑی۔ پولیس کی وجہ سے کہیں ملازمت کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ اس نے لوٹ مار شروع کر دی مگر اس میں بھی ہر ممکن طور پر انسانیت کے دائرے میں رہنے کی کوشش کرتا رہا۔

سلواراج ڈاکو بن گیا۔ اسے جنوبی ہندوستان کا رابن ہڈ کہہ لیجیے۔ اس نے امیروں کو لوٹ کر غریبوں کا پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ زمیندار، امیر تاجر، دکاندار اور بنیے اس کا نشانہ بنتے مگر وہ لوٹ مار کا بہت معمولی سا حصہ اپنے لیے رکھتا۔ باقی سب معذوروں، غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیتا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ لوگ اس بارے میں دو دھڑوں میں بٹ گئے۔ امیر لوگ جو اقلیت تھے اور پولیس اس کو برا سمجھتے جبکہ غریبوں کی بڑی اکثریت اسے فرشتہ سمجھتی۔

نکلے ہوئے ہونٹ کی وجہ سے سلواراج کو ’ممپٹی واین‘ کی عرفیت ملی۔ اس کا مطلب ممپٹی کے منہ والا تھا۔ مقامی زبان میں بیلچے کو ممپٹی کہتے ہیں۔ اس نے جنگل میں ہی زندگی بسر کرنا شروع کی۔ اس کا دائرہ عمل کئی میل دور تک پھیلا تھا جو ضلع کولیگل کے مشرقی سرے کے دریائے کاویری کے کنارے سے لے کر ضلع سالم، دودا ہالا اور دریائے چنار سے آگے پناگرام کے قصبے تک تھا۔

سلواراج پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور اسے کوئی نہ پکڑ سکا۔ شمالی ہندوستان میں وادئی چنبل کے مان سنگھ کی مانند جنوبی ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ لوگ اس کے بارے میں کبھی مخبری نہ کرتے بلکہ اسے پولیس کی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاع پہنچا دیتے۔

ممپٹی واین کا طریقہ واردات بہت سادہ تھا۔ اس کے مخبر اسے امیر اور بڑے تاجروں کی آمدنی کے بارے میں اطلاع دیتے۔ پھر وہ رات کو ان کے دروازے پر جا پہنچتا اور قتل کرنے کی دھمکی دے کر ان سے کافی پیسے بٹور کر فرار ہو جاتا۔

وہ لکڑی چوروں سے بھی پیسے وصول کرتا۔ رات گئے جب چور جنگل کے کسی دور افتادہ گوشے میں جا کر درخت کاٹ کر لاری پر لادتے اور گاڑی کا انجن چلاتے تو عین اسی وقت ممپٹی واین نمودار ہوتا اور بندوق تان کر ۵۰ روپے کا مطالبہ کرتا۔ اسے مخبری سے روکنے کے لیے ۵۰ روپے مل جاتے۔

ایک بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور نے گیئر بدل کر گاڑی بھگانے کی کوشش کی۔ ممپٹی واین نے ڈرائیور کو تو کچھ نہ کہا مگر گولی چلا کر لاری کے پچھلے دونوں پہیے پھاڑ دیے۔ ظاہر ہے کہ ڈرائیور کو رقم ادا کرنا پڑی اور اضافی نقصان یہ کہ اس کے پاس محض ایک اضافی پہیہ تھا، دوسرا پہیہ لاتے لاتے دن نکل چڑھ آتا۔ چوروں نے ساری لکڑی اتار کر چھپا دی مگر بچ نہ سکے۔ انہیں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور پھر انہیں جیل ہوئی اور لاری بھی ضبط ہو گئی۔ ویسے بھی ایک پہیے کی قیمت ۶۰۰ روپے تھی جبکہ ممپٹی واین محض ۵۰ روپے مانگ رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد ممپٹی کو بہت شہرت ملی جبکہ چوروں کو افسوس ہوا۔

پولیس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ممپٹی واین نے اوسطاً ہر سال ۲۵۰۰۰ روپے کمائے مگر شاید اس سے دگنی رقم پولیس کو رپورٹ ہی نہ ہوئی ہو گی۔ ممپٹی عموماً مشکوک ذرائع آمدنی والے افراد کو لوٹتا تھا جو پولیس کے پاس جانے سے گھبراتے تھے۔

وہ ہمیشہ تنہا واردات کرتا۔ اس نے خاکی قمیض اور خاکی پتلون پہنی ہوتی تھی اور ایک پہلو سے بڑا چاقو اور دوسرے سے خنجر لٹکتا تھا۔ بارہ بور کے کارتوسوں کی پیٹی اس کے شانے پر ہوتی تھی جن میں گراپ اور گولی، دونوں شامل تھے۔ اس کے پاس ۱۲ بور کی چوری شدہ گیکو بندوق تھی جس کا وہ خاص خیال رکھتا تھا۔ بعض اوقات وہ پٹکا بھی باندھتا تاکہ دور سے جنگل کا چوکیدار لگے، مگر عموماً ننگے سر رہتا تھا۔

ممپٹی واین عورتوں کا خاص خیال کرتا تھا اور بدقسمتی سے ان کا شوقین بھی تھا۔ اس کی بیوی میچری گاؤں میں رہتی تھی جو میٹّور ڈیم سے ۱۰ میل دور ہے۔ جنگلوں میں جگہ جگہ اس کی داشتائیں تھیں مگر اسے اپنی بیوی ہمیشہ یاد رہی۔ اس کے فرار کے بعد چھ ماہ تک پولیس نے اس کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا مگر ممپٹی واین اپنی بیوی سے ملنے آتا رہا۔ ایک بار اس نے برقع پہن کر چکر لگایا اور اس کے جانے کے بعد پولیس کو خبر ہوئی۔

ایک ماہ بعد ایک اور برقع پوش عورت اس کے گھر آئی تو پولیس نے اسے دبوچ کر اسے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دیں۔ بدقسمتی سے یہ اصلی عورت تھی اور اس نے واویلا کر کے پورا گاؤں جمع کر لیا۔ گاؤں والے بھی پولیس کا مذاق اڑانے کو تیار بیٹھے تھے۔ بعد میں اس عورت نے مسکراتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ وہ ممپٹی واین کے کہنے پر ہی آئی تھی تاکہ پولیس کی بھد اڑے۔

اس واقعے کے بعد ممپٹی واین کا حوصلہ اور بلند ہو گیا اور وہ پولیس کو حقیر سمجھنے لگا۔ اس نے رات کو تھانے کے باہر لکھوا دیا کہ وہ فلاں روز اس گاؤں کا چکر لگائے گا۔ سپاہیوں سے بھری دو ویگنوں کو مچیری بھیج دیا گیا اور ہر سپاہی کو ممپٹی واین کا حلیہ زبانی یاد کرا دیا گیا۔

اس حلیے کا کوئی آدمی ظاہر نہ ہوا۔ دوپہر کو جب سپاہی کھانا کھا رہے تھے تو ایک صفا چٹ آدمی آیا جس کی دائیں آنکھ نہیں تھی۔ اس نے پولیس والوں سے کھانا مانگا۔ چند نرم دل سپاہیوں نے اسے کچھ کھانا دیا۔

کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ المونیم کا ٹفن غائب ہے۔ سب کا شک اسی فقیر پر گیا کہ سبھی فقیر چور سمجھے جاتے ہیں۔ دو روز بعد علی الصبح ایک سپاہی کو تھانے کے دروازے پر وہی ٹفن کیریئر ملا جس میں کاغذ پر درج تھا کہ ممپٹی واین ٹفن کے لیے مشکور ہے۔

پولیس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انہوں نے ۳۰۰ پولیس والوں کو پچاس پچاس کے گروہ بنا کر جنگل چھاننے اور ممپٹی واین کو لانے کے لیے بھیج دیا۔ انہیں محتاط رہنے کا حکم دیا گیا کہ چند روز قبل ہی ممپٹی واین نے ایک آدمی کے گھر ڈکیتی کے دوران رائفل چوری کی تھی۔ رائفل کے ساتھ گولیاں نہیں تھیں مگر پھر بھی پولیس والوں کو محتاط رہنے کا کہا گیا۔

جب پولیس جنگل کو چھان رہی تھی تو ممپٹی واین پناگرام پہنچا کہ وہاں ایک سینما والے آئے ہوئے تھے جو گاؤں گاؤں میں فلم دکھاتے تھے۔۔ اس نے آرام سے آدھا شو دیکھا اور پھر سیدھا کیشیئر کے پاس پہنچا اور اسے دھمکا کر پیسے لے لیے۔ وہ آدمی بیچارہ سٹپٹایا کہ اس طرح مالکان چوری کا الزام اس کے سر لگائیں گے۔ ممپٹی واین نے فوراً اسے کاغذ پر لکھ کر دیا کہ ڈکیتی کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ جانے سے پہلے اس نے کیشیئر کو ۵ روپے دیے تاکہ وہ کسی مناسب ہوٹل سے کھانا کھا لے۔ جب مالکان کو اطلاع ملی تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔

اگلی صبح ممپٹی واین نے اوتاملائی کی سب سے بڑی دکان کا رخ کیا۔ اس نے کالا مفلر پہن رکھا تھا اور کالا کوٹ بھی۔ کوٹ کے نیچے سے اس نے دو دھاری خنجر نکالے اور دکاندار کو دھمکا کر اس سے ۶۳ روپے وصول کر لیے۔

انہی دنوں پناگرام کا رہنے والا سیلم جیل کا ایک اہلکار ملازمت سے برطرف ہو کر بہت مایوس اور پریشان گھر واپس آیا۔ جب اسے ممپٹی واین کی تازہ واردات کا علم ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ پہلے ممپٹی واین کا اعتماد حاصل کرے اور پھر اسے گرفتار کروا کے نوکری پر بحال ہو جائے۔

اس نے ہوشیاری سے اپنے منصوبے پر عمل شروع کیا۔ اس نے خبر پھیلا دی کہ وہ حکومت سے بہت مایوس ہے اور اب ممپٹی واین کے لیے مخبری کا کام کرے گا اور اسے ضلع سیلم کے تمام امیر افراد کے بارے میں اطلاعات دے گا۔ جلد ہی یہ خبر ممپٹی واین تک پہنچ گئی۔ اس نے ایک آدمی کے ذریعے بات چیت شروع کی اور پھر طے پایا کہ وہ اگلے روز ایک مخصوص درخت کے نیچے رات کو ۱۰ بجے ملنے آئے گا۔ اس آدمی نے فوراً پولیس کو جا کر خبر دی کہ پناگرام سے محض ۸ میل دور یہ ملاقات طے ہوئی تھی۔ طے پایا کہ پولیس ساڑھے دس بجے چھاپہ مارے گی اور سابقہ جیل اہلکار کا کام ہے کہ وہ ممپٹی واین کو گرفتار کر کے پولیس کا انتظار کرے۔ بدلے میں اس کو جیل کی ملازمت پر بحال کر دیا جائے گا۔

اگلی رات ۱۰ بجے دونوں مطلوبہ مقام پر ملے اور بیٹھ گئے۔ بدقسمتی سے بیٹھتے وقت اس سابقہ ملازم کی بے احتیاطی سے ہتھکڑیاں پتھر سے ٹکرائیں اور آواز پیدا ہوئی جو ممپٹی واین نے فوراً سن لی۔

اس نے پوچھا: ’یہ ہتھکڑیاں کاہے کو لائے ہو؟‘

اس آدمی کو معلوم ہو گیا کہ اس کا راز کھل گیا ہے۔ سو اس نے جست لگا کر ممپٹی واین کو دبوچ لیا۔ دونوں ہی ہٹے کٹے اور مضبوط آدمی تھے، سو خاموش جد و جہد شروع ہو گئی۔ اس آدمی نے ممپٹی واین کو نیچے گرا کر اس کا گلا دبوچا ہوا تھا کہ ممپٹی واین کے ہاتھ وہی پتھر آ گیا اور اس نے اس آدمی کی کنپٹی پر زور سے مارا۔ چند لمحے کے لیے پولیس والا سن ہو گیا اور اتنی دیر میں ممپٹی واین نے اپنا خنجر نکال لیا۔ جب پولیس والا دوبارہ اس کے قریب پہنچا تو تیز دھار خنجر سے ممپٹی واین نے اس کی تین انگلیاں اڑا دیں۔ زخمی ہو کر وہ آدمی چلایا اور اسے یقین ہو گیا کہ اب دھوکے کی وجہ سے ممپٹی واین اس کی جان لے لے گا۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ممپٹی واین کی منت سماجت شروع کر دی۔

اتنی دیر میں پولیس وین کی آواز سن کر ممپٹی واین خبردار ہو گیا۔ اس نے جنگل سے نکل کر تین یا چار ماہ کا وقت خاموشی سے گزارا۔ پھر جب اس نے دوبارہ وارداتیں شروع کیں تو دھرماپوری اور کرشناگیری میں اس کا نام سنا گیا۔ اس دوران اس نے دھرماپوری سے ۳ میل دور ایک کار والے کو لوٹا تو ایک دوربین بھی ہاتھ لگی۔ پھر اس نے واپس پرانے جنگلوں کا رخ کیا۔ اس کی واپسی کافی ڈرامائی تھی۔

انہی دنوں اتوار کے روز پولیس سپرنٹنڈنٹ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوگینائکل آبشار پر پکنک مننے کا سوچا۔ انہوں نے جیپ ۱۰۰ گز دور چھوڑی۔ آبشار میں نہانے اور کھانے پینے کے بعد جب یہ لوگ واپس لوٹے تو جیپ میں موجود کیمرہ غائب تھا اور جیپ پر ۵ جگہ پر چاک سے تامل زبان میں درج تھا: ’ممپٹی واین، ڈاکوؤں کا راجہ‘۔

میں ان علاقوں میں اکثر آتا جاتا تھا اور کئی بار اس کے بارے میں سنا بھی۔ شروع میں اس کی داستان سن کر مجھے اس سے ہمدردی ہوئی مگر پھر اس کی وارداتوں کا سن کر ہمدردی دور ہو گئی۔ میں نے اسے بدمعاش سمجھنا شروع کر دیا۔ جب پولیس والی مندرجہ بالا واردات کا سنا تو بہت ہنسی آئی اور سوچا کہ اس سے ملا جائے۔

ایک روز میں کئی دوستوں کے ہمراہ ہوگینائکل آبشار پر مچھلی کے شکار پر آیا۔ ہم سب کو بہت مزہ آیا۔ ممپٹی واین نے ایک اور واردات کر دی۔

مدراس سے آئے انجینیر کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ آبشار کے اوپر دریا پر ڈیم بنانے کے امکانات کا جائزہ لے۔ سروے کا کام زور و شور سے جاری تھا۔ ایک میل اوپر جہاں تعمیر کے مجوزہ مقام پر کیمپ لگا کر ۱۰۰ مزدور بھرتی کیے گئے۔ ان کا کام سڑک بنانا، سوراخ کرنا اور سروے میں مدد کرنا تھا۔ انجینیر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک عارضی رہائش گاہ بنائی گئی۔ ایک اور جھونپڑا بنا کر وہاں ایک کلرک تعینات کیا گیا جو ہر ہفتے مزدوروں کو مزدوری دیتا۔

دو روز قبل ممپٹی واین آیا اور اس نے اگلے ہفتے کی تنخواہ کے ۳۵۰ روپے لوٹ لیے۔ پچھلے ہفتے کا کام ہو چکا تھا اور اس ہفتے کی تنخواہ کو اس نے ہاتھ بھی نہ لگایا کہ وہ اسی روز دی جانی تھی۔

پھر اس نے فشریز انسپکٹر کے بنگلے پر دستک دی جو ایک میل دور وادی اتائی ملائی میں رہتا تھا۔ اس نے دستک دے کر کہا کہ وہ جنگل کا چوکیدار ہے اور چور شکاریوں کے بارے میں مطلع کرنے آیا ہے۔ انسپکٹر نے جب دروازہ کھولا تو سامنے ممپٹی واین کھڑا تھا۔ ایک لمحے میں اسے بات سمجھ میں آ گئی مگر دروازہ بند کرنے سے قبل ہی ممپٹی واین اندر گھس آیا۔ حسبِ معمول دو خنجر نکال کر اس نے دھمکایا۔ خوش قسمتی سے گھر پر محض ۵۱ روپے ہی تھے، ممپٹی واین انہیں لے کر چلا گیا۔

میں فشریز انسپکٹر سے ملا اور پھر انجینیر سے بھی، جس نے مجھے کلرک سے ملوایا۔

اس وقت مجھے ڈاکو کی سرگرمیوں سے زیادہ ڈیم کی فکر تھی۔ ڈیم کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ جنگل زیر آب آ جاتا۔ یہاں شہر آباد ہو جاتا۔ اوتائی ملائی کی پوری وادی بشمول میرے جھونپڑے کے، سب کے سب ہی پانی میں غرق ہو جاتے۔ یہ جھونپڑا میں نے ۲۰ سال قبل زمین کا ٹکڑا خرید کر بنایا تھا۔

میں نے اس بارے میں جب انجینیر سے تفصیلی بات کی تو اس نے کہا کہ وہ مجھے اپنی جیپ پر ساتھ لے جا کر تعمیر کا مقام دکھاتا ہے۔ میں فوراً تیار ہو گیا۔ ایک اور آدمی بھی ہمارے ساتھ ہو لیا۔ اس کے پاس سرکاری رائفل تھی۔ اس کا سر ننگا اور اس نے سفید دھوتی اور خاکی قمیض پہن رکھی تھی۔ اس نے جرابوں کے بغیر سرکاری بوٹ پہن رکھے تھے۔

جب ہم روانہ ہوئے تو میں نے انجینیر سے پوچھا کہ اس آدمی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مسکرایا اور بولا کہ یہ پولیس کا سپاہی ہے اور جہاں بھی اسے جانا ہو، یہ آدمی ساتھ جاتا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ممپٹی واین اسے لوٹ نہ لے یا تاوان کے لیے اغوا نہ کر لے۔ انجینیر اس بات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

جلد ہی ہم مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے اور وہاں ہم دریا کے کنارے چلنا شروع ہو گئے۔ انجینیر کو اشارہ کر کے میں نے سپاہی سے گفتگو شروع کر دی اور ڈاکو کے بارے میں پوچھا۔ اس نے فوراً بتایا کہ وہ سرکاری ملازم ہے مگر سبھی حکومتی اہلکار احمق ہیں کہ انہوں نے اکیلے سپاہی کو اس بیکار ہتھیار کے ساتھ اتنے بڑے انجینیر کو ممپٹی واین جیسے ڈاکو کے ہاتھوں بچانے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔

میں نے پوچھا کہ رائفل میں کیا خرابی ہے تو اس نے شانے سے رائفل اتار کر مجھے تھما دی۔

’یہ رائفل نہیں، بندوق ہے۔ اس کی شکل ایسی بنائی گئی ہے کہ رائفل لگتی ہے‘۔ اس نے بتایا۔

میں نے بھی اس ہتھیار کو دیکھا تو یہ اعشاریہ ۴۱۰ کی بندوق تھی جس کا کندہ ایسے بنایا گیا تھا کہ دور سے تھری ناٹ تھری رائفل لگتی تھی۔ پھر اس نے کارتوسوں کا تھیلا کھول کر مجھے دکھایا تو اس میں اعشاریہ ۴۱۰ کی بندوق کے کارتوس تھے۔

’اس چڑی مار بندوق سے اب میں کیسے انجینیر صاحب کو بچاؤں گا جبکہ ممپٹی واین پکا نشانچی ہے۔ میری بندوق کی گولی ۵۰ گز بھی نہیں جاتی۔ ممپٹی واین ۶۰ گز دور بیٹھ کر میرا مذاق اڑاتا رہے گا اور چاہے تو مجھے گولی مار کر انجینیر صاحب کو بھی چھلنی کر دے‘۔ یہ کہہ کر سپاہی نے تھوک پھینکی۔

میں نے سنجیدہ شکل بناتے ہوئے سپاہی سے پوچھا: ’اگر ممپٹی واین اس چٹان یا ان درختوں کے پیچھے سے نکل آئے تو تم کیا کرو گے‘۔

سپاہی نے یہ سنتے ہی جھرجھری لی اور خوفزدہ نظروں سے ۷۰ گز دور چٹان اور اس سے پرے درختوں کو دیکھتے ہوئے بولا: ’جناب، میں بیوی بچوں والا آدمی ہوں۔ ۶ بچے ہیں اور سب سے چھوٹا ابھی پالنے میں ہے۔ اگر ممپٹی واین سامنے آیا تو میں اس کھلونے کو پھینک کر فرار ہو جاؤں گا‘۔

ہم اس کی بات سن کر ہنسے تو سپاہی کو احساس ہوا کہ اس نے غلط بات کر دی ہے۔ پھر میں نے اسے کہا: ’تم ممپٹی واین تک یہ بات پہنچا دو کہ دورائی اینڈرسن اس سے ملنا چاہتا ہے‘۔

تین چار ماہ گزر گئے۔ پھر چند دن سکون سے گزارنے کی نیت سے میں دریائے چنار کے کنارے اپنی ۱۲ ایکڑ زمین کی طرف گیا۔ یہ جگہ ہوگنائکال سے ۱۲ میل دور ہے جہاں دریائے چنار اور دریائے کاویری ملتے ہیں۔ اس زمین پر میرا پرانا دوست اور ملازم رنگا رہتا اور کاشتکاری کرتا تھا۔ اس نے ایک سرے پر ایک جھونپڑا بھی بنایا ہوا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں دوسرے سرے پر خیمہ لگا کر رہوں گا مگر رنگا نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ رہوں۔

اس نے بتایا کہ یہاں ایک پاگل ہاتھی ہے جو خیمہ دیکھتے ہی وہ چڑھ دوڑے گا اور مجھے سوتے میں کچل دے گا۔

’پاگل ہاتھی؟ محکمہ جنگلات نے تو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا‘۔ میں نے کہا۔

موسمِ گرما کا وسط تھا اور سارا جنگل اور دریائے چنار، دونوں ہی پوری طرح خشک تھے۔ ایسی جگہ ہاتھی کا پایا جانا ممکن نہ تھا کہ کئی میل تک پانی نہیں تھا۔ اس موسم میں محض دریائے کاویری میں ہی پانی ہوتا ہے۔

’واقعی پاگل ہاتھی ہے؟‘ میں نے مشکوک ہو کر پوچھا۔

میری نظروں کی تاب نہ لا کر رنگا نے اپنی آنکھیں جھکا لیں اور سرگوشی میں بولا: ’ممپٹی واین آیا ہوا ہے۔ وہ میرا جاننے والا ہے اور کل رات چاندنی میں مجھ سے ملنے آیا تھا۔ جب وہ آپ کو میرے ساتھ دیکھے گا تو کچھ نہیں کہے گا۔ اگر آپ اکیلے خیمے میں ہوئے تو کیا پتہ وہ آپ کو قتل بھی کر دے‘۔

میں نے خوش ہو کر کہا: ’اسے کہو کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ کہنا کہ آج رات کو میرے خیمے میں آ کر مل لے‘۔

رنگا نے دہشت زدہ ہو کر کہا: ’میں کہوں؟ کیا میں اس کا دوست ہوں؟‘

میں نے جواب دیا: ’میں جانتا ہوں کہ تم اس کے دوست ہو۔ مگر میں کسی سے نہیں کہوں گا‘۔

سو میں نے ایک کونے پر خیمہ گاڑا۔ اس رات ۱۰ بجے میں رنگا کے ساتھ الاؤ کے سامنے بیٹھا اور طویل گپ شپ کے بعد سونے چلا گیا۔ رنگا اپنے جھونپڑے کو گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے لالٹین بجھا دی تھی ورنہ پتنگے اور مچھر تنگ کرتے۔ چاندنی رات تھی اور منظر بہت روشن تھا۔ چوتھائی میل دور مجھے درختوں کا ذخیرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ دریائے چنار بہتا ہے۔ میں ڈاکو کے بارے میں سوچتے سوچتے سو گیا۔

اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ کوئی آواز سنائی نہ دی تھی مگر مجھے معلوم ہو گیا کہ میں اکیلا نہیں۔ میرے خیمے کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ایک بندوق تھی اور اس کا رخ میری جانب۔ خاکی قمیض، پہلوؤں سے بندھے دو خنجر، ایک شانے پر بارہ بور کے کارتوسوں کی پٹی اور دوسرے پر دوربین لٹک رہی تھی۔ اس کے سر پر پگڑی تھی اور اس کی مونچھیں بل کھاتی ہوئی کنپٹی تک جا رہی تھیں۔ اس نے بھورے جوتے پہن رکھے تھے۔

میں نے آنکھیں مسل کر دیکھا مگر وہ آدمی موجود تھا۔ گھڑی پر دو بج رہے تھے۔

میں اٹھا اور مسکراتے ہوئے بولا: ’خوش آمدید ممپٹی ویان۔ میں بہت دنوں سے تم سے ملنا چاہ رہا تھا‘۔

’بکواس بند کرو گورے۔ میں کام سے آیا ہوں۔ باہر نکلو اور میرے سامنے کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تم پر نگاہ رکھ سکوں۔ اگر تم نے شور کرنے یا بھاگنے کی کوشش کی تو گولی مار دوں گا۔ میں یہاں تمہاری رائفل، بندوق اور پیسے لینے آیا ہوں‘۔ اس نے کہا۔

مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ میں اس آدمی سے ملنے کو بے تاب تھا اور وہ مجھے لوٹنے پہنچ گیا۔ خیر، میں اسے روک بھی تو نہ سکتا تھا۔

میں نے بیٹھے بیٹھے کہا، ’ممپٹی ویان، میں تم سے دوست بن کر ملنے کو بے تاب تھا۔ میں نے تمہارے کارنامے سنے اور ان کا معترف ہوں، چاہے کچھ سے مجھے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ تم بہادر انسان ہو۔ اب مجھے شدید مایوسی اور افسوس ہو رہا ہے کہ تمہارا رویہ تمہیں بزدل، شیخی خورا اور جھوٹا ثابت کر رہا ہے‘۔

اس بات پر اسے شدید غصہ آیا اور بولا، ’مجھے غصہ نہ دلاؤ گورے، ورنہ۔۔ ۔‘

خوفزدہ ہوتے ہوئے بھی میں میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، ’دیکھو ممپٹی واین، تم جانتے ہو کہ کیا ہو گا۔ اگر تم نے ایک گورے کو گولی ماری یا اس کو لوٹا تو حکومت تمہارے پیچھے لگ جائے گی۔ تمہارے پیچھے پلٹن والے (فوجی) آئیں گے اور سارے جنگل چھان کر تمہیں چوہے کی طرح پکڑ کر گولی مار دیں گے۔ ویسے بھی میں تمہارا دوست بننا چاہتا تھا مگر تمہیں عقل ہی نہیں‘۔

ہم دونوں ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے تھے۔ مگر میں اندر سے کافی خوفزدہ تھا۔ یہ آدمی کئی قتل کر چکا تھا۔ کیا وہ مجھے بھی گولی مارے گا یا خنجر استعمال کرے گا؟ جثے سے کافی طاقتور لگ رہا تھا۔

وہ بھی جانتا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں مگر مجھے یہ علم نہ تھا کہ وہ کتنا جھوٹ بول رہا ہے۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ میں اس کا جھوٹ پکڑ چکا ہوں۔ اگلے لمحے اس کی بندوق کی نال جھک گئی۔ اس نے بدلی ہوئی آواز میں کہا:

’دورائی، تم عجیب انسان ہو۔ تم نے رحم کی بھیک نہیں مانگی۔ سچ بتاؤ کہ تم یہاں مجھے پکڑنے یا نقصان پہچانے نہیں آئے؟ وعدہ کرو کہ تم کسی کو، حتیٰ کہ رنگا کو بھی نہیں بتاؤ گے کہ ہم آج ملے ہیں؟‘

میں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا، وعدہ، ممپٹی ویان۔ چلو ہاتھ ملاؤ‘۔ پھر میں نے اٹھ کر باہر نکلتے ہوئے کہا۔

ڈاکو نے اپنی بندوق زمین پر رکھ دی اور گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ پھر ہم وہیں زمین پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ مجھے معلوم تھا کہ اسے بہت عرصے سے کسی سے بات کرنے کی خواہش ہے۔ اس نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر بات تفصیل سے سنائی۔ جب ہماری بات شروع ہوئی تو اس کا لہجہ فخریہ اور شیخی بھرا تھا۔ تاہم بتدریج مایوسی آتی گئی۔ اس کی گفتگو سے واضح ہوتا گیا کہ اسے گزرے دنوں پر افسوس ہے۔ وہ اب اس چکر سے نکلنا چاہتا ہے۔ مجھے اس پر بڑا ترس آیا اور اس کی مدد کرنے کو دل چاہا۔

آخر اس کی کہانی ختم ہوئی اور کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر چاندنی میں اس کی طرف دیکھ کر میں بولا:

’دو غلط باتیں مل کر صحیح بات نہیں بناتیں۔ اگر کسی نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم انہیں قتل کرو۔ خیر، جو ہوا، سو ہوا‘۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

میں نے بات جاری رکھی، ’میرا مشورہ تو یہ ہونا چاہیے کہ تم خود کو پولیس کے حوالے کر دو۔ مگر شاید تمہیں پھانسی ہو جائے۔ اگر میں تمہیں کہوں کہ اسی طرح مفرور زندگی گزارتے رہو تو یہ بھی غلط ہو گا۔ ہر آدمی تمہارے خلاف ہے‘۔

یہاں اس نے میری بات کاٹی، ’میرے دوستوں کا کیا ہو گا؟ میرے اتنے مخبر ہیں جو مجھے پولیس کی نقل و حرکت اور دیگر باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں؟ انہوں نے تمہارے بارے میں بھی بتایا تھا‘۔

پھر اس نے بتایا کہ انجینیر کے ساتھ موجود پولیس کے سپاہی نے اسے بتایا تھا کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس سپاہی کا باپ اس کا دوست تھا۔ ’وہ مجھے دیگر پولیس والوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ رنگا بھی میرا دوست ہے‘۔

میں نے ایک اور طرح سے بات کی، ’تمہیں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا؟ تمہیں کسی دوست کی تلاش نہیں؟ کوئی ایسا تو ہو کہ تم جس سے بات کر سکو، جس سے دل کا بوجھ ہلکا کر سکو؟ ایسے کتنے آدمی ہوں کہ جن سے تم اس طرح کھل کر بات کر سکو جیسا اب کر رہے ہو؟‘

اس نے جواب دیا کہ ہاں اسے تنہائی ستاتی ہے اور اسے دوست بھی درکار ہیں مگر کرے تو کیا کرے؟

مجھے اس کی حالت پر بہت ترس آیا کہ اس کے مسائل بہت گمبھیر ہیں۔ پھر مجھے ایک خیال آیا۔ میں نے اس سے کہا:

’تم ایسا کرو کہ رات کے اندھیرے میں دریائے کاویری پر جاؤ اور آبشار کے نیچے والے تالاب میں اپنی رائفل، بندوق، کارتوس، خنجر اور دوربین، سب پھینک دو۔ وہاں پانی ۲۰۰ فٹ گہرا ہے۔ سب چیزیں ڈوب جائیں گی اور پھر کبھی نہیں دکھائی دیں گی۔ اپنے کپڑوں سے بھی چھٹکارا پاؤ۔ سب کچھ وہیں پھینک دو۔ اپنی مونچھیں منڈوا دو۔ اور ہاں اپنے کپڑے پانی میں پھینکو گے تو وہ تیرنے لگیں گے۔ انہیں جلا دو۔ پھر بلیگنڈو سے ہوتے ہوئے دودا ہالا جاؤ۔ جہاں یہ ندی کاویری سے ملتی ہے، اس سے ۳ میل اوپر کی جانب ندی عبور کرو اور تگاٹی کے جنگل سے ہوتے اوریگام جاؤ۔ وہاں سے سیدھا چلتے ہوئے مدراس کو چھوڑ کر میسور ریاست میں گھس جاؤ۔ وہاں پولیس کو تمہارے بارے میں کوئی خبر نہیں ہو گی۔ جب تم شاہراہ پر پہنچ جاؤ تو دائیں مڑ کر کنکن ہلی کا راستہ پوچھ کر اس طرف چل پڑو۔ کنکن ہلی سے ۳۳ میل دور بنگلور ہے جہاں میں رہتا ہوں۔ بنگلور پہنچ کر مجھ سے ملو تو میں تمہاری مزید مدد کروں گا۔ پیدل یہ سفر طے کرنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ کوشش کرو کہ اس دوران تمہاری داڑھی مونچھ اور سر کے بال نہ بڑھنے پائیں ورنہ پہچان لیے جاؤ گے۔ راہ چلتے ہوئے کام بھی کرتے جاؤ تاکہ کچھ پیسے بھی ملتے رہیں۔ اگر تمہارے پاس زیادہ رقم ہوئی تو لوگوں کو شک پڑے گا۔ میں تمہیں بنگلور کا پتہ دیتا ہوں‘۔

اس نے مجھے یقین دلایا کہ اس کے پاس پیسے کافی ہیں مگر اس نے کہا کہ میں اسے اپنا پتہ کاغذ پر لکھ کر دوں۔

میں نے انکار کیا اور بولا، ’نہیں ممپٹی واین، تم پکڑے گئے اور میرا پتہ تمہاری جیب سے نکلا تو میں مشکل میں پڑ جاؤں گا۔ میں آسان کر کے بتاتا ہوں، یاد کر لو‘۔

ممپٹی نے سر ہلایا اور میں اسے پتہ بتانے لگا۔

’میرا نام اینڈرسن ہے، دورائی اینڈرسن۔ روز میرا نام کئی بار دہراتے رہو تاکہ یاد رہے‘۔ اس نے میرا نام کئی بار دہرایا۔ پھر میں بولا، ’میں تماشہ بنگلے (عجائب گھر) کے پاس رہتا ہوں جو گوری ملکہ (کوئین وکٹوریا) کے بت کے پاس ہے۔ یاد رکھو۔ جب تم بنگلور پہنچو گے تو وہاں تم گوری ملکہ کے بت اور تماشہ بنگلے کا پتہ پوچھو گے۔ بت اور بنگلے کے درمیان لال رنگ کا ایک بڑا گھر ہے۔ یہ میرا گھر ہے۔ اینڈرسن دورائی۔ اب یہ سب ہدایات ہر روز کئی بار دہراتے رہو‘۔

ہم زمین پر بیٹھے تھے۔ پھر اس نے جھک کر میرے پاؤں چھوئے تو وہ بلک بلک کر رو رہا تھا۔

’دورائی، تم میرے مائی باپ ہو۔ اس پوری دنیا میں تم ہی میرے واحد دوست ہو۔ کچھ دیر قبل میں تمہیں قتل کرنے آیا تھا۔ اب میں وہی کروں گا جو تم نے بتایا ہے‘۔

مجھے اپنے حلق میں کچھ پھنستا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کا سر تھپک کر اسے اٹھایا۔ اس کی پگڑی کھل کر زمین پر گر گئی تھی۔

جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو میں نے اسے کہا، ’اب تم جاؤ۔ پانج بچ رہے ہیں۔ جنگلی مرغ بولنے لگے ہیں اور کچھ دیر میں پو پھٹنے والی ہے اور چاندنی کی جگہ سورج کی روشنی آ جائے گی۔ مگر ہمت رکھو اور میری ہدایات پر عمل کرو۔ بھگوان کرے کہ ہماری ملاقات جلد ہو‘۔

پھر اس نے جھک کر میرے قدم چومے اور پھر بندوق اٹھا کر میری نظروں سے دور ہو گیا۔ دو منٹ میں ہی رنگا آن پہنچا۔

’لگتا ہے کہ دورائی ساری رات نہیں سوئے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے ہیں۔ شاید ہاتھی نے تنگ کیا ہو گا یا پھر مچھر بہت تھے؟‘

بعض اوقات رنگا بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ سو میں نے سختی سے کہا، ’میں رات بھر آرام سے سویا، تم جانتے ہو کہ میں صبح کو جلدی اٹھتا ہوں‘۔

رنگا معنی خیز انداز سے کھانسا اور پھر عام لہجے میں بولا، ’شاید رات کے پچھلے پہر مجھے خواب دکھائی دیا کہ دو آدمی چاندنی میں زمین پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک تو جناب آپ خود تھے جبکہ دوسرے آدمی نے خاکی کپڑے پہنے تھے اور ہاتھ میں بندوق پکڑے تھا۔ آپ دونوں رات بھر باتیں کرتے رہے۔ کیوں جناب، بہت عجیب خواب ہے نا؟‘

میں سختی سے بولا، ’رنگا، یہ خواب چاہے جتنا عجیب ہی کیوں نہ ہو، خواب ہی تھا۔ یاد رکھو کہ دوبارہ اس خواب کی بات کسی سے نہ کرنا، مجھ سے بھی نہیں۔ ورنہ ہماری ۳۵ سال پرانی دوستی اسی وقت ختم ہو جائے گی‘۔

رنگا نے فوراً بدلے ہوئے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا، ’ارے نہیں جناب، رات تو میں بہت سکون سے سویا۔ پیٹ اتنا بھر گیا تھا کہ خواب نہیں آئے‘۔

میں نے مسکرا کر اس سے ہاتھ ملایا۔ اس نے بھی مسکرا کر میرا ہاتھ تھام لیا۔ ہماری دوستی قائم تھی۔

اس کے بعد مجھے اکثر ممپٹی واین کا خیال آتا رہا اور ۳ ماہ گزر گئے۔ ایک روز میں نے گھر میں دوپہر کا کھانا کھایا ہی تھا کہ کتے بھونکنے لگے۔ میرا السیشن اور دوسرا دیسی کتا عقبی دروازے کی سمت بھونکتے ہوئے لپکے۔ ان کے سامنے فقیر تھا۔

فقیر نے ہاتھ میں لاٹھی پکڑی ہوئی تھی اور داڑھی مونچھیں صفا چٹ۔ اس نے میلی لنگوٹی، ٹوٹے چپل اور گول چشمہ لگا رکھا تھا۔ اس کی گردن میں لکڑی کے منکوں کی مالا تھی۔ ماتھے پر ذات کو ظاہر کرنے والی لال اور سفید لکیریں تھیں۔

اس کی کالی بھور آنکھیں مجھے لاتعلقی سے دیکھ رہی تھیں۔ عجیب سے لہجے میں اس نے کہا، ’کیا گورے کے گھر سے کچھ خیرات مل سکتی ہے؟‘

مجھے اس پر بہت غصہ آیا اور جی چاہا کہ برا بھلا کہوں اور گریبان سے پکڑ کر باہر دھکیل دوں۔ جب میں قریب پہنچا تو اچانک اس کی دائیں آنکھ سے کنپٹی تک پھیلے مندمل زخم کے نشان پر نگاہ پڑی۔

یہ تو ممپٹی واین تھا۔ اسے بھی پتہ چل گیا کہ میں اسے پہچان چکا ہوں۔ اس کی ساری اکڑفوں غائب ہو گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

میرا بیٹا ڈونلڈ کام پر تھا۔ بیوی باہر گئی ہوئی تھی۔ کام والا چھوکرا موجود تھا۔ میں نے ممپٹی واین سے رکنے کا کہا اور پھر چھوکرے کو آواز دے کر بلایا اور اسے ۲ میل دور ٹرین سٹیشن سے ٹرینوں کا نظام الاوقات لانے کے لیے بھیج دیا۔ اس کی واپسی ڈیڑھ گھنٹے سے قبل ممکن نہیں تھی۔

جب چھوکرا چلا گیا تو میں نے ممپٹی واین کو اندر بلایا اور اسے چائے اور بسکٹ اور پتہ نہیں کیا کیا پیش کیے اور پھر پوچھا کہ اتنے دن کہاں اور کیسے گزرے۔

اس نے بتایا، ’جناب، میں نے آپ کی ہدایات پر بعینہٖ عمل کیا تھا۔ اسلحہ اور کارتوس پھینکتے وقت میرا دل بہت دکھا مگر میں نے پھینک دیے۔ باقی کام آسان تھا۔ میں میسور ریاست کی حدود میں پہنچ کر کنکن ہلی پہنچ گیا۔ وہاں مزدور کے طور پر امیر تاجر کے ہاں کام مل گیا۔ دورائی، کاش کہ میں بتا سکتا کہ وہ اپنے ملازموں کے ساتھ کیسا ناروا سلوک رکھتا ہے۔ کاش کہ میں پرانا ممپٹی واین ہوتا تو اس کا ٹینٹوا دبا دیتا۔ اس کے رویے سے میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب کسی آدمی کے لیے کام نہیں کروں گا۔ میں دیکھ چکا تھا کہ سڑک پر بہت سارے فقیر رہ رہے تھے۔ اکثر نے سادھو کا روپ دھارا ہوا تھا۔ سب کے پیٹ بھرے تھے۔ ان کو کھانا مل ہی جاتا تھا۔ میں بھی سادھو بن گیا۔ میرا نام اوم کرشنا ہے۔ اچھی خاصی کمائی کر لیتا ہوں۔ ابھی میں جنوب کو جا رہا ہوں اور امید ہے کہ جلد ہی مدراس پہنچ جاؤں گا جہاں مستقل قیام پذیر ہو جاؤں گا‘۔

میں نے فوراً اس کی بات کاٹی اور کہا، ’مدراس مت جانا ممپٹی، میرا مطلب ہے اوم کرشنا۔ وہاں تمہیں آسانی سے پہچان لیا جائے گا۔ میں تمہیں شمال کو جانے کا مشورہ دوں گا کہ تم حیدر آباد ریاست کو چلے جاؤ۔ اپنے علاقے سے جتنا دور رہو گے، اتنا ہی بہتر ہو گا‘۔

اس نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر بات مان لی، ’آپ صحیح کہتے ہیں دورائی‘۔

پھر وہ جانے کے لیے اٹھا۔ میں نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے انکار کر دیا اور بولا، ’آپ نہیں بلکہ میں آپ کا مقروض ہوں۔ ہاں، یاد آیا۔ میں آپ کے لیے کچھ لایا ہوں۔ پرانے دنوں کی یہ واحد نشانی باقی ہے‘۔

پھر اس نے اپنی لنگوٹی سے سونے کی ایک انگوٹھی نکالی۔

میں نے سختی سے پوچھا، ’کہاں سے چرائی ہے؟‘

اس نے جواب دیا، ’میں نے چرائی نہیں۔ اوتائی ملائی پر ڈیم بنانے والے انجینیر صاحب نے دی تھی۔ وہ اس روز اپنے محافظ کے ساتھ گشت پر تھا۔ اس احمق محافظ کے پاس کھلونا بندوق تھی جس کی شکل رائفل سے مشابہ ہے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ میں اس بندوق کی اصلیت جانتا ہوں۔ میں نے ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر پولیس والے کو دھمکایا کہ اگر اس نے کوئی حرکت کی تو میں اسے گولی مار دوں گا۔ یہ سنتے ہی پولیس والے نے اپنی بندوق پھینکی اور فرار ہو گیا‘۔

اوم کرشنا اس بات پر خوب ہنسا اور پھر بات جاری رکھی۔ ’میں نے پولیس والے کی بندوق اٹھا کر دریا میں پھینک دی اور پھر انجینیر کے پاس گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ بہت پرسکون اور سپاہی کے فرار پر ہنس رہا تھا۔ میں نے پاس جا کر سختی سے اسے پیسے دینے کو کہا۔ انجینیر نے مجھے عجیب بات کہی، "ممپٹی ویان، دھمکی مت دو۔ نرمی سے مانگنا سیکھو”۔ پھر اس نے جیب سے ۱۰ روپے نکال کر مجھے دیے اور اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر دی۔ میں نے اسے رقم اور انگوٹھی واپس کرنا چاہی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ بے شک وہ بہت اچھا اور بہادر انسان تھا۔ میں نے کچھ عرصہ تو انگوٹھی پہنے رکھی۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر میں اسے بیچتا ہوں تو پکڑا جاؤں گا۔ مگر یہ ہماری ملاقات سے پہلے کی بات ہے دورائی۔ اس ملاقات کے بعد میں نے کوئی بھی غیر قانونی حرکت نہیں کی۔ اب یہ آپ کے لیے میری جانب سے تحفہ ہے‘۔

چمتکار ہو ہی گیا۔ ممپٹی واین جیسا قانون شکن سدھر گیا تھا۔

کچھ دیر بعد اوم کرشنا چلا گیا اور دوبارہ کبھی نہ دکھائی دیا۔ ایک سال گزر گیا۔ میں نے اس کے بارے میں کئی بار سوچا مگر اس کی کوئی اطلاع نہ ملی۔ کئی بار میں ہوگینائکال اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گیا مگر کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ شاید وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا تھا۔ دو ماہ بعد اچانک خبر پھیل گئی۔ ممپٹی واین مارا گیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے اسے قتل کر کے حکومت کے مقرر کردہ انعام کو حاصل کر لیا تھا۔ ممپٹی واین پر ۲ سال قبل مدراس کی حکومت نے ۵۰۰ روپے اور ۵ ایکڑ زمین کا انعام رکھا تھا، چاہے زندہ پیش کیا جائے یا مردہ۔

اس بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں کہ ممپٹی واین کیسے مرا۔ ایک کے مطابق وہ اپنی بیوی سے ملنے آیا تھا جبکہ دوسری کے مطابق وہ اپنی ایک داشتہ کے پاس لوٹا جسے وہ بہت پسند کرتا تھا۔ خیر، بیوی ہو یا داشتہ، عورت ہی اس کی تباہی کا سبب بنی۔ اس عورت کا بھائی مقروض تھا۔ اس عورت نے ممپٹی واین کا پسندیدہ کھانا بنایا اور اس میں بہت طاقتور کیڑے مار دوا ملا دی۔ ممپٹی نے جونہی کھانا کھایا تو چند منٹ میں طبعیت بگڑ گئی۔ اسی وقت عورت کا بھائی پہنچا اور اسے گولی مار دی۔ ممپٹی واین پر انعام کی شرط یہ تھی کہ اسے زندہ گرفتار کیا جائے یا دفاع میں ہلاک کیا گیا ہو۔ زہر خورانی کے بارے میں قانون خاموش تھا۔

کہانی کا انجام یہ ہوا کہ اس آدمی کو انعام مل گیا۔ ممپٹی واین کی لاش کو دھرماپوری کے تھانے لا کر رکھ دیا گیا اور کچھ دیر بعد اس کی تدفین ہو گئی۔

٭

 

اگلی کہانی میں نہ تو جادو ٹونا ہے اور نہ ہی برے آدمی۔ یہ کہانی ایک عجیب نر ہاتھی سے متعلق ہے۔

پہلی بار اس ہاتھی سے شام ساڑھے چار بجے میرا سامنا ہوا جب میں گاڑی پر جنگل سے گزر رہا تھا۔ یہ مقام انائی کتی کے فارسٹ لاج سے ۲ میل جبکہ اس باب کے شروع والے مندر سے ۱۰ میل دور تھا۔ یہ ہاتھی جنگل میں ہمارے دائیں جانب ۵۰ گز دور اطمینان سے چر رہا تھا۔

کار میں سیاح اور شوقیہ فوٹوگرافر سوار تھے جو بیرون ملک سے یہاں فطرت کا مشاہدہ کرنے آئے تھے۔ ہاتھی نے ہمیں ایسے نظرانداز کیا جیسے دور دور تک کوئی ذی حس موجود نہ ہو۔

میں کار کی عقبی نشست پر تھا اور میرا دوست کار چلا رہا تھا۔ ایک سیاح نے اس سے پہلے ہاتھی محض چڑیا گھر میں دیکھا تھا، وہ میری سرگوشی کو نظر انداز کر کے نیچے اترا اور کار سے ہاتھی کی جانب نصف فاصلے تک چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر وہ رکا اور ہاتھی کی کئی تصاویر لیں۔ پھر اس نے ہاتھ ہلانا اور شور مچانا شروع کر دیا۔ ہاتھی نے توجہ نہ دی۔ اس پر اس آدمی نے پتھر اٹھا کر ہاتھی کو مارنے شروع کر دیے۔ ایک پتھر خطا گیا، دوسرا درخت کی ٹہنی سے ٹکرا کر نیچے ہاتھی پر گرا۔ تیسرا پتھر ہاتھی کے چہرے پر لگا۔

اس پر بھی ہاتھی نے کوئی ردِ عمل نہ دیا بلکہ رخ پھیر کر درخت کی دوسری جانب چلا گیا۔

ہاتھی کا یہ رویہ انتہائی عجیب تھا۔ اس سلوک کے بعد تو کوئی بھی ہاتھی کبھی بھی اتنا پرسکون نہیں رہ سکتا۔ عام ہاتھی تو کار کو دیکھتے یا اس کی آواز سنتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ اتنے پتھر کھا کر تو ہاتھی غصے سے پاگل ہو جاتا۔ مجھے یقین تھا کہ ہاتھی اس پر ہلہ بول دے گا۔ یہ آدمی انتہائی حماقت کی حد تک دلیر تھا۔ اس کی اس حرکت کے نتیجے میں اس کی یا ہماری سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ جنگلی ہاتھیوں کو چھیڑنا، ان کا شکار کرنا یا ان پر پتھراؤ کرنا، خلاف قانون ہیں۔

بڑی مشکل سے ہم اسے واپس کار میں لائے اور چل پڑے۔ ۶ بجے ہماری واپسی اسی راستے سے ہوئی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ آیا ہاتھی دکھائی دے گا یا نہیں۔ ابھی ہم اس مقام سے ایک فرلانگ دور تھے کہ ہمیں ہاتھی دکھائی دے گیا۔ اس بار وہ سڑک کی دوسری جانب اور نسبتاً قریب تر تھا۔ اس کا رخ ہماری ہی جانب تھا۔ ہم اسے دیکھنے کو رکے تو ہاتھی ہماری پروا کیے بغیر اپنی خوراک چباتا رہا۔

ہم نے بغور اس کا مشاہدہ کیا۔ ہاتھی کی صحت اچھی تھی۔ کوئی زخم یا کسی قسم کی بیماری کی علامات بھی دکھائی نہ دیں۔ یہ کافی بوڑھا نر تھا کہ اس کے کانوں کے اوپری سرے جھک گئے تھے اور ماتھے پر گڑھے تھے۔

ایک بار پھر وہی آدمی نیچے اترا اور پتھر پھینکنے لگا۔ ہاتھی ہم سے محض ۲۰ فٹ دور اور ہماری ہی جانب دیکھ رہا تھا۔ یہ خطرے کی بات تھی۔

ہاتھی رخ بدل کر پیٹ بھرتا رہا۔ اس کا رویہ بہت عجیب تھا۔ پالتو ہاتھی بھی اس طرح کا سلوک برداشت نہیں کر سکتے۔ اس آدمی نے چلا کر کہا کہ وہ اس ہاتھی کو ہاتھ لگانے جا رہا ہے۔ اس پر ہم سب گاڑی سے نکل کر اسے زبردستی واپس کھینچ لائے۔

اس نے کار میں بیٹھ کر کہا، ’لعنت ہو ہندوستانی ہاتھیوں پر، یہ تو خرگوش نکلے‘۔

رات کو کھانے کی میز پر مجھ سے ایسے سوالات کیے گئے جن کے جواب میرے پاس نہیں تھے۔ آخر ہاتھی اتنا بزدل کیوں تھا؟ سوچتے سوچتے مجھے نیند آ گئی۔

اگلی صبح ناشتے کے بعد میں نے دو کرومبا شکاری پکڑے اور اپنی رائفل سمیت ان کے ساتھ ہاتھی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ہم نے کل والی جگہ پر کار ٹھہرائی اور جنگل میں گھس گئے۔ کرومبا کے لیے ہاتھی کا پیچھا کرنا بہت آسان تھا۔ نصف میل دور دریائے انائی کتی کی سمت ہمیں ہاتھی مل گیا۔ دریا یہاں سے ڈیڑھ میل مزید آگے تھا۔ وہ درخت کے نیچے سکون سے کھڑا تھا۔

کرومبا بہت محتاط تھے مگر میں کل کے تجربے کے پیشِ نظر کافی نڈر تھا۔ میں سیدھا ہاتھی کی جانب بڑھا جبکہ میرے ساتھی مناسب فاصلے پر ٹھہر گئے۔ میں بہت قریب پہنچ گیا مگر ہاتھی نے توجہ نہ دی۔

میں نے اس کے گرد چکر لگایا کہ شاید کہیں زخم یا بیماری کی کوئی علامت دکھائی دے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہاتھی اندھا ہو یا پھر بہرہ۔ یا اس کی قوتِ شامہ بیکار ہو۔ ظاہر ہے کہ اس کا رویہ غیر معمولی تھا۔

جب میں نے اس کے گرد دوسرا چکر لگایا تو محسوس کیا کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ آنکھیں بالکل عام تھیں اور سوجن یا سرخی کی کوئی علامت نہ دکھائی دی۔ ہاتھی مست بھی نہیں تھا اور نہ اندھا۔ اس نے سونڈ میری طرف بڑھا کر سونگھا۔

پھر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ آہستگی سے اس نے سونڈ بڑھا کر ایک ٹہنی توڑی اور کھانے لگا۔ اگر وہ زخمی یا بیمار ہوتا تو اتنی آسانی سے ٹہنی توڑ کر نہ کھاتا۔ اس کے بڑھاپے کی علامت کے طور پر اس کے ماتھے اور کنپٹی پر گڑھے سے تھے اور کانوں کے اوپری سرے جھکے ہوئے۔ بیرونی دانتوں کی جڑیں بھی سیاہ پڑ چکی تھیں۔

دونوں کرومبا فاصلے پر کھڑے مجھے چکر لگاتے دیکھتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک بولا، ’دورائی، بزرگ (یہ لوگ ہاتھی کو ہمیشہ بزرگ یا دانش مند کہتے ہیں) کی عمر بہت ہو چکی ہے۔ اب وہ پانی کے قریب رہ کر سکون سے مرنا چاہتا ہے‘۔

ہم لوگ کیمپ کو لوٹے۔ اگلے روز میں ایک کام سے ۱۹ میل دور گڈالور گیا۔ وہاں مجھے گنے سے لدی کئی بیل گاڑیاں دکھائی دیں۔ میں نے ہاتھی کا سوچ کر ایک درجن گنے خرید لیے۔ ہر گنا ۶ فٹ لمبا تھا۔

اگلی صبح میں انائی کتی گیا اور میرے ساتھ ۳ کرومبا گنے اٹھائے ہوئے تھے۔ ہم نے ہاتھی کو مٹھی کے ایک بڑے درخت کے نیچے کھڑا دیکھ لیا۔

میں نے محتاط ہو کر پیش قدمی کی اور قریب جا پہنچا۔ ہاتھی نے مڑ کر ہمیں دیکھا۔ میں نے ایک ساتھی کے ہاتھ سے دو گنے لے کر اپنے بائیں ہاتھ سے ہاتھی کی جانب بڑھائے۔ رائفل میرے دائیں ہاتھ میں تھی۔

جب میں چند فٹ دور رہ گیا تو ہاتھی نے اپنی سونڈ دہری کر لی۔ اس کے کان ہلے۔ پھر اس نے کان اپنے سر سے جوڑ لیے۔ یہ بری علامت تھی۔

میں رکا مگر گنے اسی کی جانب بڑھائے ہوئے خاموش رہا کہ انسانی آواز سے جنگلی جانور گھبراتے ہیں۔ ہاتھی نے سونڈ لہرا کر میرے ہاتھ سے گنا چھین لیا۔ پھر اس نے گنا زمین پر کئی بار مارا۔ پھر رک کر اس نے سوچا کہ اسے منہ میں رکھنا ہے، پاؤں تلے کچلنا ہے، پھینکنا ہے یا اس منحنی سے انسان پر حملہ کرنا ہے۔

بہت احتیاط سے اس نے پھر گنا اپنے منہ میں رکھا اور چبانا شروع کیا۔ جونہی رس اس کے منہ میں گیا تو اس کا رویہ بدل گیا۔ شاید اس نے پہلے گنا کبھی نہیں چکھا تھا کہ اس علاقے میں دور دور تک گنے کی کاشت نہیں ہوتی یا شاید اس کی پیدائش کہیں دور ہوئی ہو جہاں گنا ہوتا تھا۔ خیر جو بھی ہو، گنا کھاتے ہوئے مجھے دیکھتا رہا۔

جب پہلا گنا ختم ہو گیا تو میں نے اسے دوسرا گنا دیا۔ اس بار اس نے فوراً گنا لے کر کھانا شروع کیا۔

کرومبا لوگوں کے پاس باقی گنے تھے جو کچھ دور کھڑے تھے۔ مجھے علم تھا کہ وہ مجھے پاگل سمجھ کر میرے قریب نہیں آئیں گے۔ میں اپنی رائفل نیچے رکھنا نہیں چاہتا تھا، سو میں نے مزید چکر لگا کر باقی ۴ گنے لا کر ہاتھی کو کھلائے۔ اس طرح اس ہاتھی کا اور میرا باہمی تعلق بن گیا۔

اگلے روز میں ۲۱ میل دور گنڈلوپیٹ گیا اور وہاں گنے ملتے ہیں۔ میں نے کافی گنے خریدے۔ واپسی پر میں اپنے دوست چندرن سے ملا جو مداملائی کا فارسٹ رینج افسر ہے۔ اس کے زیرِ انتظام علاقہ ہاتھی کے موجودہ مقام کے پاس ہی ہے۔ اسے میں نے پوری کہانی سنائی اور پوچھا کہ اس نے ایسا پہلے کبھی سنا ہے؟ اس نے حیران ہو کر کہا کہ اس نے پہلے کبھی کسی ہاتھی کا ایسا رویہ دیکھا نہ سنا۔ پھر چندرن نے مجھے دو سال پہلے کے ایک واقعے کے بارے میں یاد دلایا جس میں وہ اور میں اس کی سرکاری جیپ پر ایک جرمن دوست کے ساتھ محفوظ جنگل میں گئے تھے۔

اُس موقعے پر جیپ ایک تنگ سے راستے سے پہاڑی سے اتر رہی تھی اور موڑ مڑتے ہی اس کے سامنے ایک ہاتھی نظر نظر آیا جو بانس گرا کر ان سے پیٹ بھر رہا تھا۔ بانسوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ ہاتھی نے ہمیں دیکھا تو سیدھا ہماری جانب بڑھا۔ ہم سب نہتے تھے۔ خوش قسمتی سے ڈرائیور ماہر تھا اور اس نے اپنے اوسان بحال رکھے اور جیپ کو کھائی میں نہ گرنے دیا۔ دوسری جانب عمودی پہاڑی تھی۔ فرار کا راستہ نہ تھا۔

جب جیپ رکی تو ہاتھی سیدھا اس کے بونٹ کی طرف بڑھا اور ریڈی ایٹر کو سونگھ کر اس نے بونٹ پر سونڈ ماری۔ ڈرائیور نے جیپ کو ریورس کیا اور جلد ہی موڑ مڑ کر ہم ہاتھی کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ۱۰ منٹ بعد ہم آگے بڑھے تو ہاتھی جا چکا تھا مگر بانس راستے پر پڑے تھے۔ ہم نے نیچے اتر کر بانسوں کو کاٹا تو ہاتھی واپس لوٹ آیا۔

ہم سب فوراً جیپ میں بیٹھ کر ریورس ہوئے اور ایک فرلانگ دور جا کر راستہ اتنا چوڑا ہوا کہ ہم جیپ موڑ سکیں۔

چندرن نے ایک اور حالیہ واقعہ بھی بتایا۔ وہ اسی جیپ اور اسی ڈرائیور کے ساتھ سیاحوں کو سیر کرانے گیا تھا۔ ایک پونچی یعنی ہاتھی کا بچہ سامنے آیا اور جیپ کی آواز سے ڈر گیا۔ اس کی ماں ساتھ ہی تھی اور اس نے جیپ دیکھی تو اسے دشمن سمجھی۔ اس نے سیدھا جیپ پر حملہ کر کے اسے الٹایا اور پھر بچے کو ساتھ لے کر چلی گئی۔ خوش قسمتی سے ہتھنی کو بچے کی اتنی فکر تھی کہ اس نے جیپ پر سوار انسانوں کو کچھ نہ کہا۔ جیپ کو کافی نقصان پہنچا اور کئی سیاح زخمی بھی ہوئے۔

ان واقعات کی روشنی میں انائی کتی کا ہاتھی انوکھا تھا۔

اگلے روز پھر میں اسے گنے کھلانے جا پہنچا۔ اس بار اس نے فوراً ہی گنے قبول کر لیے مگر اتنا بھوکا نہیں تھا۔ اس نے محض دو گنے کھائے۔ باقی دو گنے اس نے سونڈ سے چھو کر رد کر دیے۔

اس سے اگلے روز ہم پھر اس جگہ پہنچے تو ہاتھی نے گنے چکھنے سے بھی انکار کر دیا۔ وہ محض کھڑا سونڈ سے گنوں کو چھوتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور اداس لگ رہا تھا۔ جب میں جانے لگا تو اس نے منہ موڑ لیا۔

اگلے روز میں کچھ مصروف تھا۔ چوتھے روز میں صبح ۹ بجے پہنچا تو میرے ساتھ گنے اور کرومبا بھی تھے۔ ہاتھی غائب تھا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ ہاتھی کہاں مل سکے گا۔ ہم اس بڑے تالاب کی جانب روانہ ہو گئے جہاں کرومبا کے مطابق ہاتھی مرنے آتے ہیں۔

وہاں ہمیں ہاتھی کی لاش ملی۔ اس خشک موسم میں تالاب میں محض ۴ فٹ گہرا پانی تھا۔ اس نے پہلو کے بل لیٹ کر اپنا سر اور سونڈ پانی میں ڈبو رکھی تھی، دوسرا پہلو پانی کے اوپر تھا۔

اس طرح ہمیں جواب مل گیا کہ ہاتھی جب بہت بوڑھے ہوتے ہیں تو کہاں جاتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں۔ وہ خود کو دریا یا پانی میں ڈبو دیتے ہیں۔ نہ صرف میں نے اس پہیلی کو بوجھ لیا بلکہ اس ہاتھی سے عجیب سا تعلق بھی بنا لیا جو نہایت مختصر ثابت ہوا۔

٭٭٭

 

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل