شرح دیوان غالب (اردو)

 

نظم طباطبائی

 

ترتیب و تدوین: اعجاز عبید

 

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں

 

ردیف۔ (ا)

 

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

مصنف مرحوم ایک خط میں خود اس مطلع کے معنی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں، ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا لے جانا، پس شاعر خیال کرتا ہے کہ نقش کس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے، اُس کا پیرہن کاغذی ہے، یعنی ہستی اگرچہ مثل ہستی تصاویر اعتبار محض ہو موجب رنج و ملال و آزار ہے، غرض مصنف کی یہ ہے کہ ہستی میں مبداء حقیقی سے جدائی و غیریت ہو جاتی ہے اور اس معشوق کی مفارقت ایسی شاق ہے کہ نقش تصویر تک اُس کا فریادی ہے اور پھر تصویر کی ہستی کوئی ہستی نہیں، مگر فنا فی اللہ ہونے کی اُسے بھی آرزو ہے کہ اپنی ہستی سے نالاں ہے، کاغذی پیرہن فریادی سے کنایہ فارسی میں بھی ہے اور اُردو میں، میر ممنونؔ کے کلام میں اور مومنؔ خاں کے کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے، مگر مصنف کا یہ کہنا کہ ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، میں نے یہ ذکر نہ کہیں دیکھا نہ سنا، اس شعر میں جب تک کوئی ایسا لفظ نہ ہو جس سے فنا فی اللہ ہونے کا شوق اور ہستی اعتباری سے نفرت ظاہر ہو اس وقت تک اسے بامعنی نہیں کہہ سکتے، کوئی جان بوجھ کر تو بے معنی کہتا نہیں یہی ہوتا ہے کہ وزن و قافیہ کی تنگی سے بعض بعض ضروری لفظوں کی گنجائش نہ ہوئی اور شاعر سمجھا کہ مطلب ادا ہو گیا تو جتنے معنی کہ شاعر کے ذہن میں رہ گئے، اسی کو المعنی فی بطن الشاعر کہنا چاہئے، اس شعر میں مصنف کی غرض یہ تھی کہ نقش تصویر فریادی ہے، ہستی بے اعتبار و بے توقیر کا اور یہی سبب ہے کاغذی پیرہن ہونے کا ہستی بے اعتبار کی گنجائش نہ ہو سکی اس سبب سے کہ قافیہ مزاحم تھا اور مقصود تھا مطلع کہنا ہستی کے بدلے شوخی تحریر کہہ دیا اور اس سے کوئی قرینہ ہستی کے حذف پر نہیں پیدا ہوا آخر خود ان کے منہ پر لوگوں نے کہہ دیا کہ شعر بے معنی ہے۔

 

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

کاوِ کاوِ کھودنا اور کریدنا مطلب یہ ہے کہ تنہائی و فراق میں سخت جانی کے چلتے اور دم نہ نکلنے کے ہاتھوں جیسی جیسی کاوشیں اور کاہشیں مجھ پر گذر جاتی ہیں اُسے کچھ نہ پوچھ رات کا کاٹنا اور صبح کرنا جوئے شیر کے لانے سے کم نہیں یعنی جس طرح جوئے شیر لانا فرہاد کے لئے دُشوار کام تھا، اسی طرح صبح کرنا مجھے بہت ہی دُشوار ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے تئیں کوہکن اور اپنی سخت جانی شب ہجر کو کوہ اور سپیدۂ صبح کو جوئے شیر سے تشبیہ دی ہے۔

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہئے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

دم کے معنی سانس اور باڑھ اور یہاں دونوں معنی تعلق و مناسبت رکھتے ہیں کہ سینۂ شمشیر کہا ہے، مطلب یہ ہے کہ میرے اشتیاق قتل میں ایسا جذب و کشش ہے کہ تلوار کے سینہ سے اس کا دم باہر کھینچ آیا۔

 

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

یعنی میری تقریر کو جس قدر جی چاہے سنو، اُس کے مطلب کو پہنچنا محال ہے، اگر شوق آگہی نے صیاد بن کر شنیدن کا جال بچھایا بھی تو کیا، میری تقریر کا مطلب طائر عنقا ہے جو کبھی اسیر دام نہیں ہونے کا غرض یہ ہے کہ میرے اشعار سراسر اسرار ہیں۔

 

بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

مضطرب اور بے تاب کو آتش زیر پا کہتے ہیں اور آتش جب دیرپا ہوئی تو زنجیر پا گویا موئے آتش دیدہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ بال آگ کو دیکھ کر پیچ دار ہو جاتا ہے اور حلقۂ زنجیر کی سی ہیئت پیدا کرتا ہے۔

_______

 

جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہدیہ
مبارکباد اسدؔ غم خوارِ جانِ درد مند آیا

مشہور ہے کہ الماس کے کھا لینے سے دل و جگر زخمی ہو جاتے ہیں تو جو شخص کہ زخم دل و جگر کا شائق ہے، الماس اُس کے لئے ارمغاں ہے، یہ سارا شعر مبارکبادی کا مضمون ہے، کہتا ہے کہ ایسی ایسی نعمتیں اور ہدیے حسن و عشق نے مجھے دئیے، وہ میرا غم خوار ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ غم خوار سے ناصح مراد ہے اور مبارکباد تشنیع کی راہ سے ہے۔

 

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

یعنی ایک قیس کا نام تو صحرا نوردی میں ہو گیا، اس کے سوا کسی اور کی بہتری صحرائے حاسدِ چشم سے نہ دیکھی گئی، گویا کہ صحرا باوجود وسعتِ چشم حاسد کی سی تنگی رکھتا ہے، مگر یہاں شاید کے معنی رکھتا ہے۔

 

آشفتگی نے نقش سویدا کیا دُرست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

داغ سویدائے دل سے ہمیشہ دود آہ اُٹھ اُٹھ کر پھیلا کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ سویدائے دل کی خلقت آشفتگی سے ہے، معنوی تعقید اس شعر میں یہ ہو گئی ہے کہ پریشانی کی جگہ آشفتگی کہہ گئے ہیں، غرض یہ تھی کہ سویدائے دل سے دود پریشان اُٹھا کرتا ہے اور اس کا سرمایہ و حاصل جو کچھ ہے یہی دود آہ ہے جو ایک پریشان چیز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ نقش سویدا خدا نے محض پریشانی ہی سے بنایا ہے اور یہ داغ دود آہ سے پیدا ہوا ہے، جبھی تو اس سے ہمیشہ دھُواں اُٹھا کرتا ہے۔

 

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

یعنی زمانہ عیش اس طرح گذر گیا جیسے خواب دیکھا تھا، نہ اب لطفِ وصل ہے، نہ صدمۂ ہجر کا مزہ ہے، یوں سمجھو کہ مصنف نے گویا اس شعر کو یوں کہا ہے: ’زمانہ عیش نہ تھا بلکہ تھا خواب میں خیال کو‘ الخ۔

 

پڑھتا ہوں مکتبِ غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

غم وہ کیفیتِ نفسانی ہے جو مطلوب کے فوت ہو جانے سے پیدا ہو، مطلب یہ ہے کہ مکتبِ غم میں میرا سبق یہ ہے کہ رفت گیا اور بود تھا، یعنی زمانہ عیش کبھی تھا اور اب جاتا رہا۔

 

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوب برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

یعنی مر جانے ہی سے عیبِ برہنگی مٹا نہیں تو ہر لباس میں میں ننگِ ہستی و وجود تھا، ننگِ وجود ہونے کو برہنگی سے تعبیر کیا ہے، فقط لفظ کا متشابہ مصنف کے ذہن کو اُدھر لے گیا۔

 

تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا

کوہ کن پر طعن ہے کہ رسم و راہ کی پابندی جو دیوانگی و آزادی کے خلاف ہے، اس قدر اس کو تھی کہ جب تیشہ سے سر پھوڑا تو کہیں مرا، اگر نشہ عشق کامل ہوتا تو بغیر سر پھوڑے مر گیا ہوتا، خمارِ نشہ اُترنے سے جو بے کیفیتی اور بے مزگی ہوتی ہے، اُسے کہتے ہیں رسوم و قیود کو بے مزہ و بے لطف ظاہر کرنے کے لئے اُسے خمار سے تشبیہ دی ہے۔

_______

 

 

 

 

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مدعا پایا

یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے۔

 

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی کہ عشق اُس کی دوا ہو گیا اور خود وہ درد بے دوا ہے۔

 

دوست دارِ دُشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا

یعنی آہ میں اثر نہیں، نالہ میں رسائی نہیں، دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دُشمن کا دوست ہے۔

 

سادگی و پرکاری بے خودی و ہوشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

 

یعنی حسینوں کا تغافل کرنا اور عشاق کے حال سے بے خبر بننا یہ فقط عشاق کا دل دیکھنے کے لئے اور جرأت آزمانے کے واسطے ہے، اصل میں پرکاری و ہوشیاری ہے اور ظاہر میں سادگی و بے خبری ہے۔

 

غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

ایک عاشق بے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے کہ یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا تھا۔

 

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا

ڈھونڈا اور پایا کا مفعول بہ دل ہے۔

 

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

’آپ‘ کا اشارہ ناصح کی طرف ہے اور اس میں تعظیم نکلتی ہے اور مقصود تشنیع ہے اور مزہ اور شور نمک کے مناسبات میں سے ہیں، مصنف نے ’مزہ‘ کو قافیہ کیا اور ہائے مختفی کو الف سے بدلا، اُردو کہنے والے اس طرح کے قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ قافیہ میں حروفِ ملفوظہ کا اعتبار ہے، جب یہ ’ہ‘ ملفوظہ نہیں بلکہ ’ز‘ کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اُسے حرف روی قرار دینے سے، اسی طرح سے فوراً اور دُشمن قافیہ ہو جاتا ہے، گو رسم خط اس کے خلاف ہے، لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتے اور وجہ اُس کی یہ ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حرف روی ہونے کے قابل نہیں جانتے۔

_______

 

 

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کے مانند گویا جل گیا

یعنی چپکے چپکے کس طرح جلا کیا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی، ’گویا‘ کا لفظ خاموش کی مناسبت سے ہے، ’مانند‘ کا لفظ بول چال میں نہیں ہے، مگر شعراء نظم کیا کرتے ہیں۔

 

دل میں ذوقِ وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

یعنی رشک کی آگ ایسی تھی کہ معشوق کو دل سے بھلا دیا اور اس کا غیر سے ملنا دیکھ کر ذوقِ وصل جاتا رہا۔ گھر سے دل مراد ہے اور آگ سے رشکِ رقیب۔

 

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

مصنف کی غرض یہ ہے کہ میری نیستی و فنا یہاں تک پہنچی کہ اب میں عدم میں بھی نہیں ہوں اور اس سے آگے نکل گیا ہوں، ورنہ جب تک میں عدم میں تھا، جب تک میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے، عنقا ایک طائر معدوم کو کہتے ہیں اور جب وہ معدوم ہوا تو وہ بھی عدم میں ہوا اور ایک ہی میدان میں آہِ آتشیں و بالِ عنقا کا اجتماع ہوا، اسی سبب سے آہ سے شہپر عنقا جل گیا، لیکن مصنف کا یہ کہنا کہ میں عدم سے بھی باہر ہوں، اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں نہ موجود ہوں، نہ معدوم ہوں اور نقیضین مجھ سے مرتفع ہیں، شاید ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالب شعر بے معنی کہا کرتے ہیں اور اُس کے جواب میں مصنف نے یہ شعر کہا ؂

نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ :: گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

پرے کا لفظ اب متروک ہے، لکھنؤ میں ناسخؔ کے زمانہ سے روزمرہ میں عوام الناس کے بھی نہیں ہے، لیکن دلی میں ابھی تک بولا جاتا ہے اور نظم میں بھی لاتے ہیں، میں نے اس امر میں نواب مرزا خاں صاحب داغؔ سے تحقیق چاہی تھی، اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ لوگوں کی خاطر سے (یعنی لکھنؤ والوں کی خاطر سے) اس لفظ کو چھوڑ دیا، مگر یہ کہا کہ مومنؔ خاں صاحب کے اس شعر میں ؂

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منھ:: اے شبِ ہجر تیرا کالا منھ

اگر پرے کی جگہ اُدھر کہیں تو برا معلوم ہوتا ہے، میں نے کہا کہ ’پرے ہٹ‘ بندھا ہوا محاورہ ہے، اس میں ’پرے‘ کی جگہ، ’اُدھر‘ کہنا محاورہ میں تصرف کرنا ہے، اس سبب سے برا معلوم ہوتا ہے، ورنہ پہلے جس محل پر ’چل پرے ہٹ‘ بولتے تھے اب اُسی محل پر دور بھی محاورہ ہو گیا ہے، اس توجیہ کو پسند کیا اور مصرع کو پڑھ کر الفاظ کی نشست کو غور سے دیکھا: ’دور بھی ہو مجھے نہ دکھلا منھ‘ اور تحسین کی۔

 

عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

یعنی یہ کہاں ممکن ہے کہ اپنی طبیعت کی گرمی ظاہر کر سکوں فقط دشت نوردی کا ذرا خیال کیا کہ صحرا میں آگ لگ اُٹھی اور یہ مبالغہ غیر علوی ہے کہ طبیعت میں ایسی گرمی ہو کہ جس چیز کا خیال آئے وہ چیز جل جائے عرض کو لوگ جوہر کے ضلع کا لفظ سمجھتے ہیں حالاں کہ جوہر کے مناسبات میں سے عرض بہ تحریک ہے نہ بہ سکون۔

 

دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا

دل کو کارفرما بنایا ہے اور داغوں کو چراغاں لفظ چراغاں کو چراغ کی جمع نہ سمجھنا چاہئے۔

 

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب ؔکہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاک اہل دُنیا جل گیا

طرزِ تپاک سے تپاک ظاہری و نفاق باطنی مراد ہے اور افسردگی اور جلنا اس کے مناسبات سے ہیں۔

_______

 

 

 

 

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردہ میں بھی عریاں نکلا

یعنی مجنوں کی تصویر بھی کھنچتی ہے تو ننگی ہی کھنچتی ہے، اس حال میں بھی عشق دُشمن سر و سامان ہے، شوق سے مراد عشق ہے، ہر رنگ کے معنی ہر حال میں اور ہر طرح سے اگر یوں کہتے کہ شوق ہر طرح رقیب سر و ساماں نکلا جب بھی مصرع موزوں تھا، لیکن تصویر کے مناسبات میں سے رنگ کو سمجھ کر ہر رنگ کہا اور ہر طرح و بے طرح کو ترک کیا، مناسبات کے لئے محاورہ کا لفظ چھوڑ دینا اچھا نہیں اور رقیب کے معنی دُشمن کے لئے ہیں۔

 

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا

یعنی زخم دل نے بھی کچھ تنگی دل کی تدبیر نہ کی اور زخم سے بھی دلِ تنگی کی شکایت دفع نہ ہوئی کہ وہی تیر جس سے زخم لگا وہ میری تنگیِ دل سے ایسا سراسیمہ ہوا کہ پھڑکتا ہوا نکلا تیر کے پر ہوتے ہیں اور اُڑتا ہے، اس سبب سے پر افشانی جو کہ صفتِ مرغ ہے، تیر کے لئے بہت مناسب ہے، مصنف مرحوم لکھتے ہیں یہ ایک بات میں نے اپنی طبیعت سے نئی نکالی ہے، جیسا کہ اس شعر میں ؂

نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاں
وہ زخم تیغ ہے جس کو دل کشا کہئے

یعنی زخم تیر کی توہین بسبب ایک رخنہ ہونے کے اور تلوار کے زخم کی تحسین بسبب ایک طاق سا کھل جانے کے۔

 

بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

یعنی تیری بزم سے نکلنا پریشانی کا باعث ہے، پہلے مصرع میں سے فعل اور حرفِ تردید محذوف ہے، یعنی پھولوں کی مہک ہو یا شمعوں کا دھُواں ہو یا عشاق کی فغاں ہو۔

 

دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بقدرِ لب و دنداں نکلا

یعنی جس میں جتنی قابلیت تھی اُس نے اُسی قدر مجھ سے لذتِ درد کو حاصل کیا، ورنہ یہاں کچھ کمی نہ تھی، کام کا لفظ لب و دنداں کے ضلع کا ہے۔

 

تھی نو آموز فنا ہمت دُشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

اے ہمت تو باوجود یہ کہ ابھی نو آموز فنا ہے، کس آسانی سے مرحلۂ فنا کو طے کر گئی، ہمت کو دُشوار پسند کہہ کر یہ مطلب ظاہر کرنا منظور ہے کہ میری ہمت خوف و خطر میں مبتلا ہونے کو لذت سمجھتی ہے۔ یہ کام اشارہ ہے فنا کی طرف یعنی ہم جانتے تھے کہ جان دینا بہت مشکل کام ہے مگر افسوس ہے کہ وہ بھی آساں نکلا۔

 

دل میں پھر گریہ نے اک شور اُٹھایا غالبؔ
آہ! جو قطرہ نہ نکلا، تھا سو طوفاں نکلا

یعنی جس گریہ پر میرا ضبط ایسا غالب تھا کہ میں اُسے قطرہ سے کم سمجھتا تھا، اب وہ طوفان بن کر مجھ پر غالب ہو گیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنسو کا جو قطرہ کہ آنکھ سے نکلا نہ تھا وہ اب طوفان ہو گیا۔

_______

 

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا

باب نبرد یعنی لائق نبرد مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرد میدانِ عشق نہ تھا وہ اس کی دھمکی ہی میں مر گیا، میر ممنون ؔ کے کلام میں باب ان معنی پر بہت جگہ آیا ہے۔

 

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اُڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا

یعنی رنگ میرا جب نہیں اُڑا تھا جب بھی زرد تھا، ورنہ مرنے کے وقت تو سبھی کا رنگ اُڑ کر زرد ہو جاتا ہے اور مردنی چہرہ پر پھر جاتی ہے، یعنی اُڑنے سے مرنے کے وقت اُڑنا رنگ کا مقصود ہے

 

تالیف نسخہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

یعنی فن عشق میں مجھے اور بھی مرتبۂ تصنیف حاصل ہو چکا تھا، میرے عقل و ہوش کا مجموعہ تک فرد فرد غیر مرتب ہو رہا تھا یعنی نا تجربہ کاری کا زمانہ تھا۔

 

دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے آب
اس رہ گذر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا

یعنی میرے دل سے لے کر جگر تک اب تو ایک دریائے خون ہے آگے اسی رہ گذر میں وہ بہاریں تھیں کہ جلوۂ گل جس کے آگے گرد ہوا جاتا تھا، یعنی کسی زمانہ میں ہم بھی دلِ شگفتہ و رنگین رکھتے تھے اور اب خاطر افسردہ و غمگین رکھتے ہیں۔

 

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا

یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی طرح اندوہِ عشق کم ہو جائے، دل بھی جاتا رہا، جب بھی اسی طرح دردِ دل باقی رہا، وہی کے معنی، اسی طرح دوسرا پہلو یہ ہے کہ دل کا جانا خود ہی دردِ دل ہے۔

 

احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا

یعنی میں زنداں میں بند تھا، مگر میرا خیال بیاباں میں تھا، کچھ قید سے چارہ سازی، وحشت نہ ہوئی۔

 

یہ لاش بے کفن اسد ؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

یعنی عجب آزاد تھا کہ لاش بے کفن ہے۔

_______

 

 

شمار سبحہ مرغوب بتِ مشکل پسند آیا
تماشائے بیک کف بردنِ صد دل پسند آیا

مرغوب آیا، یعنی مرغوب ہوا، مشکل پسند بت کی صفت ہے محض قافیہ کے لئے حاصل اس شعر کا یہ ہے کہ اُسے ایک ہتھے میں سو سو دل عاشقوں کے لے لینا پسند ہے، پھر اس سو دل کی ایک تسبیح بھی مصنف نے بنائی ہے اور کہتے ہیں کہ گویا اُسے تسبیح کا شمار بہت مرغوب ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مصنف نے بیک کف بردن صد دل میں حساب عقد انامل کی طرف اشارہ کیا ہے اور عقدِ صد کی یہ شکل ہے کہ چھنگلیا کی سر کو انگوٹھے کی جڑ میں لگا کر انگوٹھا سارا اُس کی پشت پر جما دیتے ہیں، عرب میں اس حساب کا رواج تھا، رسولِ خدا ﷺنے جس حدیث میں فتنۂ چنگیز و ہلاکو و تیمور وغیرہ کی زینب بنت جحشؓ سے پیشین گوئی کی ہے، اس میں ذکر ہے: حضرت ایک دن ڈرے ہوئے ان کے پاس آئے اور فرمایا: ’’لا الہ الا اللہ ویل للعرب من شرقد اقترب فتح الیوم من روم، یاجوج و ماجوج مثل ہذہ‘‘ یہ کہہ کر آپ نے کلمہ کی اُنگلی کو انگوٹھے سے ملا کر حلقہ بنایا ذہیب اور سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو روایت کر کے عقدِ تسعین کی شکل دونوں اُنگلیوں سے بنائی، یعنی کلمہ کی اُنگلی کا سر انگوٹھے کی جڑ میں سے لگا کر انگوٹھے کو اس کی پشت پر جما دیا، فتنۂ تاتار سے کئی سو برس پیشتر کی کتابوں میں بخاری وغیرہ کی یہ حدیث موجود ہے، خوارزم شاہ نے جب دیوارِ ترکستان کو کھدوا ڈالا جب ہی سے چنگیز و ہلاکو و تیمور کو ملی اور سلطنت عرب کو تباہ کر ڈالا، اُس زمانہ میں شاہ خوارزم قطب الدین سلجوقی تھے۔

 

بفیض بے دلی نومیدی جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

یعنی دُنیا کی طرف سے جو بے دلی و بے دماغی ہم کو ہے اس کی بدولت صدمہ نومیدی و یاس کا اُٹھا لینا ہم کو سہل ہے، ہمیں دُنیا پر خود رغبت نہیں ہے، کشود کار کی اُمید ہو تو کیا اور نا اُمیدی ہو جائے تو کیا۔ یہ پہلے مصرع کے معنی ہوئے اور دوسرے مصرع کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا عقدۂ مشکل کشائش کو پسند آ گیا، یعنی اب کبھی اس کی کشائش نہ ہو گی، اس سبب سے کہ کشائش کو اس کا عقدہ ہی رہنا پسند ہے اور پسند اس سبب سے ہے کہ ہمیں پرواہ نہیں، پھر ایسی بے نیازی کشائش کو کیوں نہ پسند آئے۔

 

ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہری قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا

یعنی اسے تماشائے گل کی خواہش ہونا اُس کی بے مہری کا آئینہ ہے اور اس کی جفا جوئی کی دلیل ہے، اس وجہ سے کہ گل میں بسمل بخوں غلطیدہ کا انداز ہے، پہلے مصرع میں سے فعل محذوف ہے۔

_______

 

 

 

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

یعنی لوگ جو دُنیا میں وفا کرتے ہیں، اس کے معنی یہی ہیں کہ تسلی چاہتے ہیں، جب وفا کر کے تسلی نہ ہوئی تو فقط وفا بے معنی و مہمل رہ گیا، حاصل یہ کہ وفا داریِ عشاق بے معنی بات ہے۔

 

سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دم افعی نہ ہوا

مشہور ہے کہ زمرد کے سامنے سانپ اندھا ہو جاتا ہے، مگر تیرا سبزۂ خط کیا زمرد ہے کہ افعی زلف پر اس کا اثر نہ ہوا، یعنی خط نکل آنے کے بعد بھی زلف کی دل فریبی میں فرق نہیں آیا۔

 

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

یعنی مر کے غم سے پیچھا چھڑانا چاہا تو اس نے رسوائی و بدنامی کے اندیشہ سے اسے بھی گوارا نہ کیا، معنوی خوبیاں اس شعر میں بہت سی ہیں، کثرتِ اندوہ علاج میں درماندگی اس پر بھی دل آزاری و جفا کاریِ معشوق، پھر اس حالت میں بھی اسی کی مرضی پر رہنا۔

 

دل گذر گاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفس جادۂ سر منزل تقویٰ نہ ہوا

تار اور رشتہ اور خط اور جادۂ نفس کے تشبیہات میں سے ہیں، غرض شاعر کی یہ ہے کہ اگر تقویٰ نہ حاصل ہوا تو رندی ہی سہی، قافیہ تقویٰ میں فارسی والوں کا اتباع کیا ہے کہ وہ لوگ عربی کے جس جس کلمہ میں ہی دیکھتے ہیں اُس کو کبھی ’الف‘ اور کبھی ’ی‘ کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔ ’’تمنی و تمنا، تجلی و تجلیٰ و تسلی و تسلیٰ و ہیولی و ہیولیٰ و دینی و دُنیا‘‘ بکثرت اُن کے کلام میں موجود ہے۔

 

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کش گل بانگ تسلی نہ ہوا

یعنی اگر تو وعدۂ وصل کرتا تو جب بھی میں خوش تھا، اس وجہ سے کہ وہ عین مقصود ہے اور تو نے وعدہ نہیں کیا تو اس پر بھی میں خوش ہوں کہ احسان سے بچا اور اُس احسان سے جو کبھی نہیں اُٹھایا تھا۔

 

کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجئے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا

یعنی آخری خواہش میں نے یہ کی تھی کہ موت ہی آ جائے اُس سے بھی محروم رہا۔

 

مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریف دمِ عیسیٰ نہ ہوا

اس شعر میں معنی کی نزاکت یہ ہے کہ شاعر حرکتِ لبِ عیسیٰ کو صدائے عیسیٰ کی حرکت سے مقدم سمجھتا ہے، کہتا ہے کہ میں پہلے حرکتِ لب ہی کے اوجھڑ سے مر گیا اور حریفِ دمِ عیسیٰ نہ ہوا، یعنی دمِ عیسیٰ سے معاملہ نہ پڑا اور ناتوانی کے سبب سے صدائے عیسیٰ کے سننے کی نوبت ہی نہ آنے پائی۔

_______

 

 

 

ستائش گر ہے زائد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا

کسی شئے کو طاق پر رکھنا یا بالائے طاق رکھ دینا محاورہ ہے اس کا خیال ترک کر دینے کے معنی پر اور طاق نسیاں پر رکھنا اور بھی زیادہ مبالغہ ہے اور یہاں گلدستہ کی لفظ نے یہ حسن پیدا کیا ہے کہ گلدستہ کو زینت کے لئے طاق پر رکھا کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ باغ کو مقام تحقیر گلدستہ سے تعبیر کیا ہے، یہ بھی حسن سے خالی نہیں لیکن یہ حسن بیان و بدیع سے تعلق رکھتا ہے، معنوی خوبی نہیں ہے۔

 

بیاں کیا کیجئے بیداد کاوشہائے مژگاں کا
کہ ہر اک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا

یعنی سوزن مژگاں نے ایسی کاوشیں کیں کہ میرے جسم میں ہر ایک قطرۂ خوں تسبیح مرجان کا دانہ بن گیا ہے یعنی ہر قطرۂ خون سوراخ پڑ گیا۔

 

نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دستور ہے کہ کسی کے رعب و سطوت کے اظہار کرنے کے لئے جو مرعوب ہو جاتا ہے وہ اپنے دانتوں میں گھانس پھونس اُٹھا کر دبا لیتا ہے تاکہ وہ شخص اسے اپنا مطیع و مغلوب سمجھے اور قصدِ قتل سے باز آئے، شاعر کہتا ہے کہ قاتل کے رعب و سطوت سے بھی میری نالہ کشی نہ موقوف ہوئی میں نے جو تنکا اظہارِ رعب کے لئے دانتوں میں دبایا وہ ریشہ نیستاں ہو گیا اور یہ ظاہر ہے کہ نیستاں میں نے پیدا ہوتی ہے اور نے صاحبِ نالہ ہے غرض کہ وہ تنکا نالہ کشی کی جڑ ہو گیا۔

 

دکھاؤں گا تماشا، دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل ایک تخم ہے سروِ چراغاں کا

یعنی ایک ایک داغ سے نالۂ پر شرر نکلے گا جو سرو چراغاں سے مشابہ ہو گا تو گویا داغ دل وہ بیج ہے جس سے سروِ چراغاں اُگے گا۔

 

کیا آئینہ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوہ نے
کرے جو پرتوِ خورشید عالم شبنم ستاں کا

یعنی جس طرح آفتاب کے سامنے شبنم نہیں ٹھہر سکتی، اُسی طرح تیرے مقابلہ کی تاب آئینہ نہیں لا سکتا آئینہ خانہ کی تشبیہ شبنم ستاں سے تشبیہ مرکب ہے۔

 

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا

یعنی میں وہ دہقان ہوں جس کی سرگرمی خود اُسی کے خرمن کے لئے برق کا کام کرتی ہے یعنی خرمن کو جلا ڈالتی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حرارت غریزی جو کہ باعثِ حیات ہے خود وہی ہر وقت تحلیل و فنا بھی کر رہی ہے۔ ہیولیٰ بمعنی مادہ اور مصنف نے صورت کی لفظ ہیولیٰ مناسبت سے استعمال کی ہے اور تعمیر سے تعمیر جسم خاکی مقصود ہے خون گرم بھنی ہوئی سرگرمی۔ اس شعر میں جو مسئلہ طب مصنف نے نظم کیا ہے اُسے آگے بھی کئی جگہ باندھا ہے۔

 

اُگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

سبزہ سے مراد سبزۂ بیگانہ ہے اس سبب سے کہ جو سبزہ بے موقع اُگتا ہے اُسے سبزۂ بیگانہ کہتے ہیں اور گھر میں سبزہ کا اُگنا بے موقع ہے تو مراد مصنف کی یہ ہے کہ ویرانی کی نوبت یہ پہنچی ہے کہ سبزۂ بیگانہ میرے گھر میں اُگا ہے اور دربان کا کام ہے کہ بیگانہ کو گھر کے اندر سے نکال دے، تماشا کر یعنی یہ سیر دیکھ۔

 

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مردہ ہوں میں بے زباں گورِ غریباں کا

خاموش آدمی کو بے زبان کہتے ہیں اور چراغ کی لو کو زبان سے تشبیہ دیتے ہیں تو بجھے ہوئے چراغ کو بے زبان آدمی کے ساتھ مشابہت ہے اور اسی طرح سے خوں گشتہ آرزوؤں کو گورِ غریباں سے مشابہت ہے۔

 

ہنوز اک پرتوِ نقشِ خیالِ یار باقی ہے
دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

ہنوز کی لفظ سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ خیال بھلانے پر بھی کچھ پرتو اس کا باقی رہ گیا ہے اور اس پرتو میں بھی یہ نور ہے کہ دل پر حجرۂ زندان یوسف کا عالم ہے اور اس شعر میں لفظ افسردہ سے دل کا حجرہ ہونا ظاہر ہوا اور خیال یار کے بھلانے کا سبب بھی اسی لفظ سے پیدا ہے یعنی جب دل افسردہ ہوا تو پھر خیالِ یار کیسا اور افسردگی کو تنگی لازم ہے، اس سبب سے حجرہ اُسے کہا کہ تنگ کوٹھری کا نام حجرہ ہے۔

 

بغل میں غیر کے آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا

مصنف کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رقیب کی بغل میں جو چپکے چپکے تو ہنس رہا ہے مجھے وہ ہنسی خواب میں دکھائی دے رہی ہے اور اُسی ہنسی کا اندازہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ اس انداز کی ہنسی وصل ہی کے وقت ہوتی ہے ورنہ تو میرے خواب میں آ کر میرے ساتھ تبسم پنہاں کرے میرے ایسے نصیب کہاں۔

 

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سر شک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

لہو پانی ایک ہونا رونے کے معنی پر ہے یعنی تیری آنکھ میں آنسو دیکھنے کی تاب کس کو ہے اور اشارہ اس بات کی طرف بھی کیا ہے کہ مژگانِ معشوق جو ہمیشہ دل و جگر عشاق میں کھٹکا کرتی ہے اُس کا آنسو وہی آنسو ہیں جو عشاق کے دل میں پیدا ہو کر آنکھوں کی طرف جایا چاہتے تھے یعنی تیری پلکوں پر جو آنسو ہیں وہ تیرے دل سے نکلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ یہ آنسو وہی ہیں جو عشاق کے دل و جگر میں پیدا ہوئے تھے اور تیری مژہ پر آنسو ہونا اس کی علامت ہے کہ عشاق کا لہو پانی ایک ہو گیا۔

 

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا

یعنی جس رشتۂ فنا میں تمام اوراقِ عالم سئے ہوئے ہیں اُن سے بھولا ہوا نہیں ہوں یعنی فنا ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے ہے۔

_______

 

نہ ہو گا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

ذوق سے صحرا نوردی مراد ہے اور رفتار کو موج اور نقش قدم کو حباب کے ساتھ تشبیہ دینے سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح موج کا ذوق روانی کبھی کم نہیں ہوتا اسی طرح میرا بھی ذوق کم نہیں ہو گا، ایک بیابانِ ماندگی خواہ صد بیابانِ ماندگی کہو مراد ایک ہی ہے یعنی ماندگی مصرع ایک بیابان کہہ کر ماندگی کی مقدار بیان کی ہے گویا بیابان کو پیمانہ اُس کا فرض کیا ہے۔

 

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

بوئے گل دم کھنچنے کے ساتھ ناک میں آتی ہے تو یہ کہنا کہ بوئے گل سے ناک میں دم آتا ہے بیجا نہیں اور ناک میں دم آنا بیزار ہونے کے معنی پر ہے، یہاں دوسرے معنی مقصود ہیں اور پہلے معنی کی طرف ابہام کیا ہے۔

_______

 

سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

اس شعر میں عشق کو برق اور ہستی و خرمن سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں رہن عشق بھی ہوں اور جان بھی عزیز ہے میری دہائی ہے جیسے کوئی آتش پرست برق کی پرستش بھی کرے اور خرمن کے جل جانے کا افسوس بھی کرے، پہلے مصرع میں فعل ’ہوں‘ محذوف ہے حاصل کے معنی خرمن۔ ناگزیر اُلفتِ ہستی ہوں یعنی جان کو عزیز رکھنے پر مجبور ہوں جس طرح یہ کہتے ہیں کہ فلاں امر ناگزیر ہے یعنی ضرور ہے اسی طرح فارسی میں یوں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص ارفلانِ ناگزیر است۔

 

بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

ساحل کی تشنگی مشہور ہے اور اس کا کج دوا کج ہونا خمیازہ کی صورت پیدا کرتا ہے اور خمیازہ خمار کی علامت ہے مطلب یہ ہے کہ شراب پلانے میں جس قدر تیرا حوصلہ بڑھا ہوا ہے پینے میں اُسی قدر میرا ظرف بڑھا ہوا ہے۔

_______

 

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

یعنی جس چیز کو تو عالم حقیقت کا حجاب سمجھتا ہے وہ رباب کا ایک پردہ ہے جس سے نغمہ ہائے رازِ حقیقت بلند ہیں مگر اس کے تال سر سے تو خود ہی واقف نہیں لطف نہیں اُٹھا سکتا۔

 

رنگ شکستہ صبح بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا

یعنی نظارہ اُس کا موسم بہار ہے اور نظارہ سے اُس کے میرا رنگ اُڑ جانا طلوع صبح بہار ہے اور طلوع صبح بہار پھولوں کے کھلنے کا وقت ہوتا ہے غرض یہ ہے کہ بروقت نظارہ میرے منہ پر ہوائیاں اُڑتے ہوئے اور مہتاب چھٹتے ہوئے دیکھ کر وہ سرگرم ناز ہو گا یعنی میرا رنگ اُڑ جانا وہ صبح ہے جس میں گل ہائے ناز شگفتہ ہوں گے۔

 

تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دُکھ ترے مژہ ہائے دراز کا

اس شعر میں ’ہائے‘ یا تو علامت جمع و اضافت ہے یا کلمۂ تاسف ہے، دونوں صورتیں صحیح ہیں۔

 

صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا

اس شعر میں اپنی ناتوانی و نقاہت اور اپنی آہ کی شدت و حدت کا بیان مقصود ہے یعنی اگر ضبط کروں تو ایک ہی آہ میں تحلیل ہو کر فنا ہو جاؤں۔

 

ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اُچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

شیشہ باز مرد شعبدہ باز کو کہتے ہیں جو کہ شعبدہ دکھاتے وقت ہاتھوں کو اور سر کو ہلاتا ہے اور بساط سے وہ فرش مراد ہے جس کے گوشوں پر شراب کے شیشے چنے ہوئے ہیں۔

 

کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا

یعنی دل میرا جو کہ تنگی و گرفتگی سے گرہ ہو کے رہ گیا ناخن غم سے کاوش کا تقاضا کرتا ہے جیسے کوئی اپنا قرض مانگتا ہے اور نیم باز کے لفظ سے یہ ظاہر ہے کہ کاوش غم پہلے بھی ہوئی مگر ناتمام ہوئی۔

 

تاراج کاوشِ غم ہجراں ہوا اسدؔ
سینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا

یعنی اے اسدؔ افسوس دفینہ راز کو غم نے کھود کر نکالا اور تاراج کیا، حاصل یہ کہ غم نے رُسوا کیا۔

_______

 

 

 

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

اس شعر میں یہ اشارہ ہے کہ بزم شاہی میں جو گنجینۂ گوہر ہے تو فقط اسی سبب سے ہے کہ میرے اشعار کا دفتر وہاں کھلا ہے اور یہ دُعا ہے کہ الٰہی در کو کھلا رکھ، اس کے معنی یہ ہیں کہ آباد رکھ اور اس کا فیض جاری رکھ۔

 

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

فقط تاروں کے کھلنے کا سماں دکھایا ہے یہ شعر غزل کا نہیں بلکہ قصیدہ کی تشبیب کا ہے غالباً اور شعر اس کے ساتھ ہوں گے جو انتخاب کے وقت نکال ڈالے گئے۔

 

گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

یعنی دُنیا کی دوستی ایسی ہے کہ ظاہر و باطن یکساں نہیں ہاتھ میں نشتر کھلا ہوا ہونا اظہارِ غم خواری کے لئے ہے یعنی فصد و علاج کا قصد ظاہر کرتا ہے اور آستین میں دشنہ چھپائے ہوئے ہیں یعنی چھریاں مارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

گو نہ سمجھوں اُس کی باتیں گو نہ پاؤں اُس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

اس شعر میں ’کھلنا‘ بے تکلف ہو کر باتیں کرنے کے معنی پر ہے۔

 

ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

’خیالِ حسن‘ یعنی تصور چہرۂ معشوق سے قبر میں باغ بہشت دکھائی دے رہا ہے اس لئے کہ اُس کے چہرہ میں باغ کی سی رنگینی ہے تو گویا کہ تصور حسن اور حسن اعمال کا ایک ہی ثمرہ ہے۔

 

منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

اس شعر میں ’کھلنا‘ زیب دینے کے معنی پر ہے دیکھو معنی ردیف میں جدت کرنے سے شعر میں کیا حسن ہو جاتا ہے۔

 

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصہ میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

فقط معشوق کی ایک شوقی کا بیان منظور ہے اور یہ بہترین مضامین غزل ہوا کرتا ہے۔

 

کیوں اندھیری ہے شبِ غم ہے؟بلاؤں کا نزول
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

پہلے مصرع میں سوال و جواب ہے یعنی تاریکی شبِ غم کا سبب یہ ہے کہ بلندی عرش پر سے بلائیں اُتر رہی ہیں اور تاروں نے اُن کے اُترنے کا تماشہ دیکھنے کے لئے اس طرف سے اُس طرف آنکھیں پھیر لی ہیں یعنی اس کثرت سے اُتر رہی ہیں جیسے میلہ قابل تماشا ہوتا ہے۔

 

کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

دستور ہے کہ خبر مرگ جس خط میں لکھتے ہیں اُسے کھلا ہی روانہ کرتے ہیں اور غربت کے معنی مسافرت۔

 

اُس کی اُمت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شے کے غالبؔ گنبدِ بے در کھلا

یعنی معراج کی شب میں۔

_______

 

 

 

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا

یعنی ابر کا زہرہ آب تھا اور جو گرداب اس میں پڑتا تھا وہ شعلہ جوالہ تھا، یہ فقط میرے سوزِ دل کی تاثیر تھی۔

 

واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
گریہ سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا

یعنی انھیں تو کرم کرنے میں بارش مانع تھی اور میرا روتے روتے یہ حال ہوا تھا کہ پان بجائے پنبۃ بالش کفِ سیلاب تھا۔

 

واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجوم اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا

یعنی تار نگہ میں اس کثرت سے آنسو پروئے ہوئے تھے کہ وہ خود پوشیدہ و مفقود ہو گیا تھا جس طرح دھاگے کو موتی چھپا لیتے ہیں دیکھو پوری تشبیہ پائی جاتی ہے مگر تازگی اس بات کی ہے کہ تشبیہ دینا مقصود نہیں ہے شاعر دو متشابہ چیزیں ذکر کر رہا ہے اور پھر تشبیہ نہیں دیتا ہے۔

 

جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا

یعنی وہاں اس کثرت سے اور اتنی دُور تک تختۂ گل تھا کہ اس کے عکس سے معلوم ہوتا تھا کہ چراغاں نہر میں ہو رہا ہے اور یہاں دُور تک خون کے آنسو بہہ نکلے تھے اور آب جو کے مقابلے میں چشم تر تھی اور شاخ ہائے گل کے جواب میں پلکوں پر لہو کی بوندیں۔ آب جو کے بعد ’کو‘ کا لفظ حذف کر دینا کچھ اچھا نہیں معلوم ہوتا۔

 

یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا

یعنی نیند نہ آنے کے سبب سے میرا سر دیوار کو ڈھونڈ رہا تھا اور میں سر ٹکرانا چاہتا تھا۔

 

یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
جلوۂ گل واں بساط صحبتِ احباب تھا

یعنی ہماری محفل میں شمع آہ روشن تھی اور وہاں کی صحبت میں پھولوں کا فرش تھا، احباب سے معشوق کے احباب مراد ہیں۔

 

فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا

یعنی وہاں رنگ و عیش کی رنگ رلیاں ہو رہی تھیں اور ہم یہاں جل رہے تھے سوختن کے باب سے ماضی و حال و مستقبل کی تصریف مراد ہے نزاکت یہ ہے کہ اس امتداد زمانے کو جو تصریف میں سوختن کے ہے مصنف نے امتداد مکانی پر منطبق کیا ہے دوسرا پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ یہاں کا زمین و آسمان آگ لگا دینے کے قابل ہے۔

 

ناگہاں اس رنگ سے خون نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوش ناخن سے لذت یاب تھا

یعنی اس رنگ سے جو آگے کی غزل میں آتا ہے اور کاوش ناخن استعارہ ہے کاوش غم سے۔

 

نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا

یعنی اگرچہ دل بیتاب بنا مگر اُس کی بیتابی برخلاف مدعا تھی گویا دل بیتاب سپند بزم وصل غیر تھا۔

 

مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
خانۂ عاشق مگر سازِ صدائے آب تھا

یعنی سیلاب کے آنے سے خانۂ عاشق صدائے آب کا ارغنوں بن گیا جس کو سن کر دل کو سرور و نشاط ہے۔ آہنگ کا لفظ مناسب ساز ہے غرض یہ ہے کہ عشاق کو اپنی خانہ خرابی سے لذت حاصل ہوتی ہے۔

 

نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
پہلوئے اندیشہ وقفِ بستر سنجاب تھا

یعنی اگرچہ میں خاک نشیں تھا لیکن میرا دل قناعت کے فخر و ناز کے سبب سے فرش سنجاب پر لوٹ رہا تھا۔

 

کچھ نہ کی اپنے جنونِ نارسا نے ورنہ یاں
ذرّہ ذرّہ روکش خورشید عالم تاب تھا

جنونِ نارسا نے کچھ نہ کی یعنی اکتسابِ فیض سے اور اتحادِ معشوق سے محروم رکھا، ورنہ ایک ایک ذرّہ نے ایسا اکتسابِ نور کیا تھا کہ رشک دہ آفتاب تھا۔

 

آج کیوں پرواہ نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا

یہ قطعہ ہے اور حلقۂ دام کو دیدۂ بے خواب سے تشبیہ دی ہے وجہ شبیہ یہ ہے کہ دیدۂ بے خواب کی طرح حلقۂ دام کھلا رہتا ہے۔

 

میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیل گریہ میں گردوں کفِ سیلاب تھا

یعنی سیلاب گریہ آسمان تک بلند ہو جاتا۔

_______

 

 

 

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

حساب دینا پڑا یعنی آنکھوں سے خون بہانا پڑا گویا خونِ جگر اُس کی امانت تھا۔

 

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ تمثال دار تھا

قاعدہ ہے کہ آئینہ میں ایک ہی عکس دکھائی دیتا ہے لیکن جب اُسے توڑ ڈالو تو ہر ہر ٹکڑے میں وہی پورا عکس معلوم ہونے لگتا ہے اور یہاں ہر ہر عکس کو دیکھ کر ایک ایک آرزو کا خون ہوتا ہے۔ غرض کہ جس آئینہ میں معشوق کے عکس و تمثال کا جلوہ تھا اُس کے ٹوٹنے سے ایک شہر آرزو کا خون ہو گیا یہ کہا ہوا مضمون ہے:

نظر آتے کبھی کا ہے کو اک جا خود نما اتنے

یہ حسن اتفاق آئینہ اُس کے روبرو ٹوٹا

ایک شہر آرزو میں ویسی ہی ترکیب ہے جیسی ایک بیاباں ماندگی و یک قدم وحشت میں ہے۔

 

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سر رہ گذار تھا

ہوا کے معنی آرزو اور رہ گذار سے معشوق مراد ہے۔

 

موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرّہ مثل جوہر تیغ آبدار تھا

یعنی جس طرح تلوار میں جوہر آبدار ہوتے ہیں اسی طرح موج سراب کے ذرّہ تھے حاصل یہ کہ سرزمین عشق پر تلوار برستی ہے۔

 

کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا

یعنی کم ہوئے پر بھی بہت زیادہ نکلا۔

_______

 

 

 

 

بسکہ دُشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

یعنی کمالِ انسانیت کے مرتبہ پر پہنچنا سہل نہیں ہے۔

 

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانہ کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

ٹپک رہا ہے یعنی ظاہر ہو رہا ہے اور ٹپکنے کی لفظ گہر کے لئے اور گریہ کے ساتھ بھی بہت ہی مناسبت رکھتی ہے:

لفظ یہ کہ تازہ است بمضموں برابر است

 

وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا

ہر دم یعنی ہر مرتبہ سانس لینے میں اُس مبدأ حیات و وجود کی طرف دوڑتا ہوں اور اپنی نارسائی سے حیران ہو کر رہ جاتا ہوں۔

 

جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہر آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

یعنی اُس کا جلوۂ حسن یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے دیکھو تو آئینہ چاہتا ہے کہ آنکھ بن جائے اور جوہر یہ چاہتا ہے کہ پلکیں بن جائیں اور آئینہ سے آنکھ کی تشبیہ مضمون مشہور ہے اور یہاں آئینہ سے آئینہ فولادی مراد ہے کہ جوہر اسی میں ہوتے ہیں۔

 

عشرتِ قتل گہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

یعنی قتل گاہ میں عشاق کو ایسی مسرت حاصل ہے کہ شمشیر کو عریاں دیکھ کر وہ جانتے ہیں کہ ہلال عید کا نظارہ دکھائی دیا لفظ ہلال تنگی وزن سے نہ آ سکا اور شعر کا مطلب ناتمام رہ گیا۔

 

لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بصد رنگ گلستاں ہونا

یعنی ہم داغ لے کے چلے اب تجھے باغ باغ ہونا مبارک ہو اور یہی محاورہ ہے باغ باغ ہونے کی جگہ پر گلستاں ہونا خالص مصنف کا تصرف ہے۔

 

عشرتِ پارۂ دل زخم تمنا کھانا
لذتِ ریش جگر عرق نمکداں ہونا

دونوں مصرعوں میں فعل ’ہے‘ محذوف ہے۔

 

کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

یعنی لہو دیکھتے ہی رحم آ گیا کہ یہ میں نے کیا کیا، نہ غصہ آتے دیر لگی نہ پشیمان ہوتے دیر لگی اور ممکن ہے کہ زود پشیماں طعن و طنز سے کہا ہو یعنی جب کام اختیار سے باہر ہو چکا جب رحم آیا کیا جلد پشیمان ہوا۔

 

حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

یعنی اگر ہجر ہے تو وہ آپ چاک کرے گا اور اگر وصل ہے تو شوخی معشوق کے ہاتھوں پر پرزے اُڑ جائیں گے۔

_______

 

 

 

 

شب خمارِ شوق ساقی رست خیز انداز تھا
تا محیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

یعنی رات کو میرے شوق نے قیامت برپا کر رکھی تھی اور شوق میں بے لطفی و بے مزگی جو تھی اس وجہ سے اُسے خمار سے تشبیہ دی اور کہتا ہے کہ یہاں سے لے کر دریائے بادہ تک میرے خمیازہ کا صورت خانہ بنا ہوا تھا یعنی میں نے خمار میں ایسی لمبی لمبی انگڑائیاں لیں جن کی درازی محیط بادہ تک پہنچی، غرض مصنف کی یہ ہے کہ انگڑائیاں لینے میں جو ہاتھ پاؤں پھیلتے تھے وہ گویا شراب کو ڈھونڈتے تھے۔

 

یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

یک قدم وحشت سے وحشت کا مرتبہ ادنیٰ مقصود ہے اور اجزائے دو عالم دشت بمنزلہ اجزائے عالم، عالم دشت یا اجزائے دو صد دشت ہے جس سے مراد کثرت ویرانی ہے یعنی ممکنات نے اپنے مبدأ سے ایک ذراسی وحشت و مغائرت جو کی تو عالم امکان موجود ہو گیا اور اُس وحشت کا ایک قدم جس جادہ پر پڑا گویا وہ اوراق دو صد دشت کا شیرازہ تھا اس سبب سے کہ وحشت میں جب قدم اُٹھے گا دشت ہی کی طرف اُٹھے گا اور عارف کی نظر میں تمام عالم امکان ویران ہے۔ دو عالم دشت کی ترکیب میں مصنف نے دشت کی مقدار کا پیمانہ عالم کو بتایا ہے جس طرح ماندگی کی مقدار کا پیمانہ بیابان کو اور تامل کی مقدار کا پیمانہ زانو کو اور آرزو کا پیمانہ شہر کو قرار دیا ہے۔

 

مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا

مصنف نے صحرا گرد مجنوں کی صفت ڈال کر اُس کے گھر کا پتہ دیا یعنی مجنوں کا گھر تو صحرا ہے اور صحرا وہ گھر ہے جس میں دروازہ نہیں پھر لیلیٰ کیوں وحشی ہو کر اُس کے پاس نہیں چلی آتی کون اُسے مانع ہے۔

 

پوچھ مت رُسوائی انداز استغنائے حسن
دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا

یعنی حسن کو باوجود استغنا ایسی احتیاج ہے کہ ہاتھ حنا کی طرف اور منہ غازہ کی طرف پھیلائے ہوئے ہے۔

 

نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بباد
یادگار نالا اک دیوان بے شیرازہ تھا

بباد دیے یعنی برباد کئے اس میں پارۂ دل کو اوراق سے تشبیہ دی پھر اوراق کو دیوان بے شیرازہ سے تشبیہ دی اور نالہ کو شاعر فرض کیا ہے جس نے اپنی یادگار کو آپ برباد کیا۔ بباد و ادن فارسی کا محاورہ ہے اُردو میں برباد کرنا کہتے ہیں۔

_______

 

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل