زرد شکایت

نسیم خان

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں

 

زرد شکایت

 

 

 

نسیم خان

 

کتاب   کا  نام: زرد شکایت

صنف: شاعری

مصنف: نسیم خان

 

 

انتساب

 

اپنے بڑے بھائی جمیل خان کے نام  جو بڑا ہونے کے فرض کے علاوہ بڑا انسان ہونے کا بوجھ  بھی ڈھو رہا ہے۔

 

 

 

 

 

پیش لفظ

میں نے جب خود سے پوچھا میں کیوں لکھتا ہوں ؟

میں ماضی میں گیا:

میں نے تب اظہار کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ مجھے مصوری کا شوق تھا مگر وہ میرے بس کا کام نہیں تھا، مجھے گانے کا شوق تھا مگر میری آواز مجھ پر کوڑے برساتی تھی، مجھے ناچنے کا شوق تھا مگر میں بس اپنی روح کو ہی رقص کرا سکا، رقص کبھی بھی نکل کر میرے اعضا تک نہیں پہنچ پایا۔

اس لحاظ سے بات کروں تو شاعری میرے لیے محض اظہار تھی۔ زبان مواصلت ہے اور مواصلت میں اظہار اور سمجھنا سمجھانا دونوں لازمی ہیں مگر شاعری میرے لیے محض اظہار ہے۔ جیسے دودھ پیتے بچے کا رونا جسے بس اس کی ماں ہی سمجھے گی یا کسی گونگے کا اشاروں میں کچھ کہنا جسے بس اس کا حلقہ احباب ہی سمجھ سکے گا۔ شاعری ایک سوتے شخص کا نائٹ مئیر ہے یا زنگ لگے پنکھے کا شور یا گرتی دیوار کی آہیں۔

غرض یہ کہ، ادب یا شاعری میرے لیے ہر شدت کا اظہار ہے یہ شدت لطافت کی بھی ہو سکتی ہے اور کثافت کی بھی۔ گالوں کی لالی یا خون کی لالی دونوں ہی شدتیں ہیں۔

 

میں نے دوسری بار خود سے پوچھا میں کیوں لکھتا ہوں ؟

میں حال میں آیا:

میں لکھتا ہوں کیونکہ میں لکھنا چاہتا ہوں ؛ یہ اظہار سے بہت اوپر کی بات ہے۔ میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہ ہو تب بھی میں لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ لکھنا میرے لیے ایک مشغلہ بن گیا ہے۔

 

میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لکھنا چاہتا ہوں بالکل جیسے کسی بچے کو ہر وقت چاکلیٹ چاہیے ہوتی ہے پھر چاہے اس سے اس کے دانتوں میں کیڑے ہی کیوں نہ پڑیں۔

 

میں نے خود سے پوچھا میں لکھتا کیسے ہوں ؟

میں نے دیکھا:

شاعری ایک گلی کی طرح ہے جس سے میں روز گزرتا ہوں۔ پھر میں نے غور کیا تو دیکھا اس گلی میں روز ایک کتا بھی ہوتا ہے جو کسی دن تو دم ہلا کر مجھے گلی میں سے گزرنے دیتا ہے مگر کسی دن اچانک مجھ پر حملہ کر دیتا ہے۔ آہ، میرا پھولا ہوا سانس!

میں دماغ پر زور ڈالتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں وہ کتا بالکل میں ہوں، مجھے یقین ہے وہ میں ہی ہوں۔

 

 

میرا تخلیقی عمل ایک جیسا نہیں رہا ہے۔ شاعری کی تخلیق کی چند ایک شکلیں یہ ہیں:

 

الف: میں نے کسی لڑکی کو ڈیٹ نہیں کیا ہے مگر میں محسوس کر سکتا ہوں کہ ایک کامیاب ڈیٹ سے خوبصورت بھلا کیا ہو سکتا ہے۔

شاعری کسی بلائنڈ ڈیٹ پہ جانے جیسا ہے۔

 

ب: شاعری کیا ہے ؟

شاعری ایک بھیڑیا ہے جس کے سامنے بغیر ہتھیار کے جانے والا بغیر سر کے لوٹتا ہے۔

 

ج: مجھ سے کسی نے پوچھا نظم کیا ہے ؟

میں نے کہا یہ ایک سیلاب ہے اور شاعر کو لازمی اس کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھار یہ سیلاب شاعر کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور کبھی یہ گزر جاتا ہے مگر شاعر صحیح سلامت وہیں ڈٹ کے کھڑا ہوا ہوتا ہے۔

 

د: کئی دفعہ شاعری ہو چکی ہوتی ہے مگر آپ کو صرف اس کے نیچے اپنا نام لکھنا ہوتا ہے۔

 

نسیم خان ستمبر، 2022

 

 

 

کچھ اس کتاب کی فلٹریشن کے بارے میں

 

میں نے خود پر زندگی طاری کی ہے

خود پر کچھ بھی طاری کرنا خطرناک ہوتا ہے

(یہاں میں کوئی مثال نہیں دوں گا۔ )

ایک ادیب کا المیہ یہ ہے کہ جب لوگ اس سے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو وہ واپس معاشرتی اقدار کی پیروی کرنا شروع کر دیتا ہے تاکہ لوگ اس کو بد کردار اور ان کو بگاڑنے والا نہ سمجھنے لگیں۔ ایک ادیب تب بالکل ایک عام انسان کی طرح سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حدود کی قید سب سے بڑی قید ہوتی ہے۔

 

عرصہ ہوا ہے میں نے اپنی کسی نظم میں خدا کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ زندگی میں کئی بار مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے۔ ایک شاعر اسی دن مر جاتا ہے جس دن وہ پہلا سمجھوتا کر لیتا ہے۔

اب دیکھیں ! اگرچہ میرے زخم میرے وجود سے بہت زیادہ گہرے اور بڑے ہیں حتی کہ میں کئی بار کسی منظر یا دنیا میں موجود کسی بھی چیز کو چھوتا ہوں تو مجھے درد ہوتا ہے

مگر یہاں میں آپ کو کہوں گا کہ زخم چاہے جتنا بھی پھیل جائے جسم سے زیادہ بڑا نہیں ہو سکتا۔

میں ایک گھٹیا شاعر ہوں۔ گھٹیا سے مراد یہاں کاکروچ نہیں ہے۔ کاکروچ میری سب سے پسندیدہ مخلوق ہے جو آسانی سے نہیں مرتی چاہے وہ کتنی ہی گندی جگہ کیوں نہ ہو۔

لکھنا اپنے ناخن تراشنے کا نہیں بلکہ ناخن اکھاڑنے کا عمل ہے مگر ہم درد سے گھبرا جاتے ہیں۔ درد کا تصور ڈراونا ہے۔

میں ایک شعبدہ باز کی طرح تماش بینوں سے ان کے دل کا حال پوچھ کر ان کے سامنے اپنی آنکھوں کی مٹھیاں کھول دیتا ہوں اور انہیں ان کے من پسند مناظر دکھا دیتا ہوں۔

میں اپنے دل کو بغیر کسی سیاق و سباق کے دھڑکنے پر مجبور کرتا ہوں تا کہ سب کو لگے میں محبت سے بھرا ہوا ہوں۔ میں اپنی ناپسندیدگی کو جسم کے اضافی بالوں کی طرح اکھاڑ پھینکتا ہوں۔ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ آوازیں چنی جاتی ہیں تا کہ وہ متعلقہ سماعتوں تک پہنچ سکیں۔ میں ان کے لیے چنا گیا ہوں۔ میں روتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں یہ تمہارے لیے ہے اور ہنستا ہوں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ میں ان کے لیے خوش ہوں۔

دوسری جانب لوگوں کا بھی یہی رویہ ہے کہ مجھے کہنا پڑ رہا ہے:

سب کسی نہ کسی کام سے آتے ہیں

کوئی تو ایک دن آ کر یہ بھی پوچھے:

’’آپ ہی نسیم ہیں ؟

مجھے محبت نے بھیجا ہے ! ‘‘

٭٭

 

 

 

دو قطعے

 

کبھی سوچا ہے میں کیوں چیختا ہوں ؟

اسی سے ہی تو میں زندہ لگوں گا

خدا کے واسطے تصویر مت لو

میں اس میں پیار کا بھوکا لگوں گا

***

 

 

 

 

زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں

احتیاطاً مجھے گلے سے لگا

تو خفا ہے تو یار ایسا کر

احتجاجاً مجھے گلے سے لگا

٭٭٭

 

 

 

ایک آدھ خواہش کا اظہار

 

میں نے ایک گلاب دیکھا

جس کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں

مجھے نہیں معلوم دنیا میں واقعی ایسا کوئی گلاب ہے

یا پھر میں ہی ایسا چاہتا ہوں

کہ ایک گلاب ایسا بھی ہو جس کی آنکھیں ہوں اور ان میں بڑے بڑے آنسو ہوں

مجھے لگتا ہے وہ بہت بھدا لگے گا

مگر میں پھر بھی چاہتا ہوں ایک روتا ہوا گلاب ہو

 

ایک تتلی اڑتے اڑتے زمین پر گر گئی ہے

کیونکہ اس کی آنکھیں آنسوؤں کی وجہ سے اس کے پورے جسم پر بھاری ہو گئی تھیں

ہاں، ایک تتلی ایسی بھی ہونی چاہیے

 

ایک روتا ہوا انسان

جو چاہتا ہے کہ باقی ساری دنیا خوش ہو

اپنے زخم چاٹتا کتا ہے

لہذا میں چاہتا ہوں

کم از کم ایک گلاب اور ایک تتلی بھی میرے ساتھ روئے۔

٭٭٭

 

تیاری

 

کبھی میں

ایک قاتل کی طرح

ہاتھ میں چھری لیے خود کے پیچھے بھاگتا ہوں

اور کبھی

ایک ماں کی طرح

اپنے ماتھے پہ بوسے دیتا ہوں

مگر میں اتنا تو جانتا ہوں کہ آخر میں

قاتل ہمیشہ جیت جاتے ہیں

اور مائیں

اپنے لاڈلوں کی لاشوں کے سرہانے آ بیٹھتی ہیں۔

٭٭

 

 

 

یونہی

میں چھپکلیوں سے اتنا ڈرتا ہوں

کہ جیسے وہ موت کے فرشتے ہوں

مگر میں ایک دن کسی نر چھپکلی سے پوچھنا چاہوں گا

کہ کیا اس کی محبوبہ اب بھی اس کے ساتھ ہے

یا اب وہ اس سے خوش شکل اور اس سے زیادہ

مکھیوں کو نگلنے والی کسی دوسری چھپکلی کے ساتھ ہوتی ہے ؟

 

مجھے اک بھیڑ سے جاننا ہے

کہ کیا اس کی معصوم مسکراہٹ پر

کسی اور کی زہریلی ہنسی کو ترجیح دی گئی ہے ؟

 

مجھے چارلی چپلن کی طرح چلنے والی

کسی بطخ سے اس کی محبت کی کہانی سننی ہے

 

میں دنیا کے سبھی جانداروں سے ان کی زبانی ان کی محبت کی کہانی سننا چاہتا ہوں

میں جاننا چاہتا ہوں

کہ دنیا میں میری طرح ٹھکرائے ہوؤں کی تعداد

کتنی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کچھ لکھنے کے بارے میں

 

میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو کوئی پریشانی آ کر میری شاعری پر بیٹھ جاتی ہے

اور یہ اس کے بوجھ سے ٹوٹ جاتی ہے

 

میں لکھنے بیٹھتا ہوں

تو ایک یاد آ کر میرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہو جاتی ہے

میرے پاس اسے دینے کے لیے کوئی سکے ہوتے ہیں

نہ وہ مجھے اکیلا چھوڑتی ہے

 

میں لکھنے بیٹھتا ہوں

تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے

مجھے ایک قدیم قبرستان کی یاد آتی ہے

جس میں کسی دن مجھے دفن ہونا تھا

 

میں اپنی آنکھیں ڈھونڈنے کے لیے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوں مگر وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا

حتی کہ گڑھے بھی نہیں

میں بھاری دل کے ساتھ اٹھتا ہوں

تو میرا باقی جسم نیچے پھسل جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

پاگل خانہ

 

یہ ایک

سفید دن ہے

سفید روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے

کہ

آفس کی

دیواروں کو سفید پینٹ کیا گیا ہے

کرسیوں میں بیٹھے

سفید کپڑے میں ملبوس

ہر رنگ کے لوگ

سامنے رکھے کمپیوٹروں

کو وہ پلک جھپکائے بغیر

گھور رہے ہیں

وہ

کام کرتے ہوئے لنچ کر رہے ہیں:

برگر

کھاتے وقت

ان کے منہ سے

ہڈیوں کے چبانے کی آوازیں آ رہی ہیں

 

سب کو معلوم ہے کہ

ان کے گرد سفیدی چھائی ہوئی ہے

مگر یہ ایک دن ہے

ایک سفید دن

اور یہاں

کوئی بھی

آدمی

اپنی زرد شکایت درج نہیں

کر سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

منہدم ہوتے انسان

 

کوئی کندھا ملنے تک

سر دیواروں سے ٹکرانا پڑتا ہے

 

سر ڈھ جاتے ہیں جب ان کے لیے کندھے نہ ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

مجھے آگ پسند ہے

 

مجھے آگ پسند ہے

جو ہر شے کو راکھ بنا دیتی ہے

کسی کو لکھے ہوئے خط

کسی کے دئیے ہوئے گلاب

اور کسی گھر کو

 

مگر ایک آگ ایسی بھی ہونی چاہیے

جو دل کے صفحے پر لکھے لفظوں کو راکھ کا ڈھیر بنا سکے

جو اس خوشبو کو جلا سکے جو صرف اور صرف ہمارے دماغ میں ہوتی ہے

جو اس گھر کے تصور کو دھوئیں میں بدل دے جو کبھی کسی دریا کنارے نہیں بن سکا

 

ایک آگ ایسی بھی ہونی چاہیے

جو آنسوؤں کو ہمارے اندر بننے سے پہلے ہی کہیں غائب کر سکے۔

٭٭٭

 

 

 

ہم کبھی کبھار۔۔ ۔۔

 

ہم کبھی کبھار ایسی محبت کر بیٹھتے ہیں

جیسے اصلی پیسوں سے جعلی نوٹ خریدے جائیں

جیسے صابن کو دھویا جائے

جیسے دیوار پر لکھنے سے منع کرنے کے لیے دیوار ہی پر لکھا جائے

جیسے بچے کو گالی سے روکنے کے لیے گالی دی جائے

جیسے کسی سے جدا ہونے کے لیے اسے گلے لگایا جائے

 

ہم کبھی کبھار ایسی محبت کر بیٹھتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

کوئی کچھ کرو

 

مجھے بیٹھے بیٹھے ایسا لگا

میں ایک موٹی ڈائن ہوں

جس نے اپنا دایاں بازو نگل لیا ہے

وہ رو نہیں رہی مگر حیران ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا

 

دوسرے منظر میں

میں ایک بلی کا بچہ ہوں

جو ماں سے بچھڑ کر ٹرک کے نیچے آ گیا ہے

 

ایک گھر کے ایک کمرے میں دو محبت کرنے والے

ٹیبل لیمپ کی روشنی میں ایک دوسرے سے پیار کر رہے ہیں

وہ لیمپ میں ہوں

 

خیر، یہ سب باتیں اپنی جگہ

مگر مجھے ایک ایسی لڑکی کی یاد بھی آ رہی ہے

جو شاید اب بھی میرے لیے اہم ہے

 

کاش! میں بہت بہت زیادہ چیختا

مگر میری آواز کوئی بھی نہ سن پاتا

کیونکہ میں نہیں چاہتا لوگ مجھے کمزور سمجھیں

 

میں اپنا ہاتھ اپنے منہ میں ڈال کر اپنا دل

باہر نکالنا چاہتا ہوں

مجھے لگتا ہے یہ میں نے غلطی سے نگل لیا ہے

 

ایک لڑکی مجھے اتنی زیادہ تکلیف کیسے دے سکتی ہے

کہ میں مہینوں سے خود کے سرہانے بیٹھ کر خود کو تسلیاں دے رہا ہوں

 

مجھے بس اس بات کا ڈر ہے کہ میرا وجود مکمل ختم نہ ہو جائے

اور لوگ مجھے صرف اس کی لکھی ہوئی کہانی نہ سمجھنے لگے

 

خدا سے میری ناراضی چل رہی ہے

اس لیے اے درختو

تم کسی طرح میرا درد کم کر دو

میں نہیں جانتا کہ تم یہ کیسے کرو گے

مگر کچھ بھی کر کے مجھے ٹھیک کر دو

 

میرے پسندیدہ منظرو

کچھ کرو

میں نے اپنے اندر چھلانگ لگا لی ہے

اور مجھے تیرنا بھی نہیں آتا۔

٭٭٭

 

 

 

مدعی ؟

 

وہ محبت کا دعویدار تو تھا

مگر اس کے پاس کوئی بھی دستاویز نہیں تھی:

الماری میں محفوظ کی ہوئی کوئی یاد نہیں

ڈائری میں سوکھا ہوا کوئی گلاب نہیں

صندوق میں سنبھالا ہوا کوئی خط نہیں۔

 

وہ محبت کا دعویدار تھا

تو میں نے اسے ثابت کرنے کا ایک آخری موقع دے دیا

(وہ بڑا پُر جوش تھا)

میں نے اسے اپنے زخم دکھا کر انہیں بھرنے کا کہا

اور اس نے پلک جھپکتے ہی ان میں درست ناپ کی میخیں گاڑ دیں۔

٭٭٭

 

 

 

عشق کی کتھا اور ہاشم ناصر

 

ہاشم ناصر نے

پہلی بار عشق کو ایک چیونٹی کی شکل میں دیکھا

جو اپنے سے بیس گنا زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے بھی

قطار میں چل رہی تھی۔

 

ہاشم ناصر نے

دوسری مرتبہ عشق کو ایک چوہے کی شکل میں دیکھا

جو کتابیں کتر رہا تھا،

بلا امتیاز۔

 

ہاشم ناصر نے

آخری بار عشق کو ایک طوطے کی شکل میں دیکھا

جو سب کچھ رٹ سکتا تھا

ہمدردی، ترس، احسان۔

 

ہاشم ناصر نے طوطے کو اڑنا

رٹایا

اور اس کے بعد سے اس نے محبت کو کہیں نہیں دیکھا۔

٭٭٭

 

 

 

اداکاری

 

ہمیں ایک دوسرے سے محبت نہیں تھی مگر ہم آخری دن تک ایک ساتھ رہے

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کون بڑا اداکار ہے۔

٭٭٭

 

 

 

وہ کہتے ہیں۔۔ ۔۔

 

وہ کہتے ہیں: ’’مضبوط رہو‘‘۔

جیسے کچی دیوار کو

طوفان میں گرنے سے منع کیا جاتا ہے۔

 

وہ کہتے ہیں:

’’سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

جیسے ڈپریشن میرے ساتھ صرف پرینک کر رہا ہو۔

 

وہ کہتے ہیں:

’’وقت سارے زخم بھر دیتا ہے۔‘‘

مگر وہ بھول جاتے ہیں میں زخمی نہیں ہوں

میں بس اڑان بھول چکا ہوں۔

 

وہ کہتے ہیں:

’’زندگی چلتی رہتی ہے۔‘‘

بالکل، یہ کسی ٹرین کی طرح میری روح کے اوپر چلتی رہتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

وہ لڑکی کیا ہے ؟

 

وہ ایک لڑکی سے زیادہ

ایک شہر ہے

جس میں ایک گاؤں سے آیا لڑکا

کھو جاتا ہے

 

وہ ایک لڑکی سے

زیادہ ایک آگ ہے

جو کسی کو بھی گلے لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے

 

وہ ایک لڑکی سے زیادہ

ایک دریا ہے

ہر صبح کوئی لاش اس کے کنارے سے مل جاتی ہے

 

وہ ایک لڑکی سے زیادہ

ایک قبرستان ہے

جہاں بہت سے لوگوں کی روحیں دفن ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

سمندر کا خط

 

یہ ایک نیلا خط ہے

جو مجھے کل رات دو بجے میرے تکیے کے نیچے ملا:

’’مجھے معلوم ہے

تم ایک گلابی خواب سے بیدار ہو کر یہ الفاظ پڑھ رہے ہو اور اس وقت سوچ رہے ہو کہ شاعری کے علاوہ تمہارے لیے کچھ بھی اہم نہیں ہے۔ کیا تم اپنی اداسی کو بھول گئے ہو جس نے تمھیں اپنا گرویدہ بنا لیا ہے ؟

 

یہ ایک گرم دن ہے۔ پنکھا بس اسٹاپ پر موجود بوڑھے مسافر کی طرح پسینے سے تر ہے۔ کمرے کا دروازہ گرم ہوا کے جھونکے سے نیم وا ہوا ہے جیسے کچھ یادیں یہاں داخل ہو چکی ہوں۔ کمرے کی چھت سے اکھڑا ہوا پلستر مجھے زخمی کبوتروں کی یاد دلا رہا ہے۔

 

یہ ایک عارضی دن ہے۔ میں کچھ دیر میں آئس کریم کھانے کے لیے نکل جاؤں گا۔ ہینڈز فری لگا کر بانسری کی دھنیں سنوں گا۔

 

رات کو

میں اپنے تکیے کے نیچے

ایک لفافہ رکھ کر اس میں لیٹ جاؤں گا

مجھے یقین ہے

سمندر کو میرے خط کا شدت سے انتظار ہو گا۔

٭٭٭

 

بد ترین بد دعا کی تلاش میں

 

میں چاہتا ہوں

تم مر جاؤ

چاہے میرے دکھ ختم ہوں یا نہ ہوں

تم مر جاؤ

 

اگر میں دنیا کی بدترین بد دعا جان جاؤں

تو روز تجھے وہ بد دعا دوں۔

 

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ دنیا میں میرا سامنا تم سے ہو گا

تو میں ماں کے پیٹ میں ہی خودکشی کر لیتا۔

 

اس شخص کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے ؟

جو تمہیں ملبے میں بدل دے۔

 

اس شخص کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے ؟

جسے تم بھلانا نہیں چاہتے۔

 

مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا

ہر دکھ ایک ملاقات سے جنم لیتا ہے

 

مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا

بھیڑئیے انسانوں میں چھپ کر حملہ آور ہوتے ہیں

 

مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا

انسان کو کم از کم اتنی بد دعائیں سیکھنی چاہییں

جو وہ چھوڑ جانے والے کو دے سکے۔

٭٭٭

 

 

 

پیاس

 

میں نے

پیاس بجھانی تھی

مگر

محبت کے گھڑے میں

سر پھنسا لیا۔

٭٭٭

 

 

 

میں بھلانے میں ماہر ہوں

 

جب مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا

میں نے تمھیں یاد کیا

جیسے بچے قرآن حفظ کرتے ہیں

میں نے محبت کی

جیسے بچے ضد کرتے ہیں

میں نے محبت کی

جیسے کوئی بجٹ کے باہر خریداری کرتا ہے

میں نے محبت کی

جیسے میں اسی کے لیے بنا تھا

مگر میں سب بھول جاؤں گا

جیسے ضدی بچہ آخر کار روتے روتے چپ ہو جاتا ہے

میں تمھیں بھول جاؤں گا

جیسے کوئی من پسند چیز خریدتے وقت اپنا بجٹ دیکھ کر رُک جاتا ہے

میں تمھیں بھول جاؤں گا

جیسے میں محبت کرنے کے لیے بنا ہی نہیں تھا

میں تمھیں اپنے دل سمیت بھول جاؤں گا

میں تمھیں بھول جاؤں گا

جیسے کوئی پاگل حافظ

قارنی آیات بھول جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اجازت

 

یہ زندگی ہے

اور میں بہت تھک گیا ہوں

 

مجھے ہزاروں باتیں آتی ہیں

مگر میں بولنے کو ایک مشقت سمجھتا ہوں

میں نے بولنا اتنا کم کر دیا ہے

کہ جلد ہی بولنا بھول جاؤں گا

 

دن، ہفتے، مہینے اور سال

میرے سامنے سے تیز رفتار گاڑیوں کی طرح گزرتے جاتے ہیں

مگر میں سڑک پار نہیں کر پا رہا

اس بوڑھے کی طرح جسے کسی کے سہارے کی ضرورت ہو

 

میں کمرے کی یکسانیت سے بیزار ہو کر بھی

اس سے نکلنے کی ہمت نہیں کر سکتا

جیسے یہی میری سزا ہو

 

معلوم نہیں مجھے کتنے دن سے بخار ہے

میرے اندر کیا چل رہا ہے

میں کیا کر رہا ہوں

مجھے کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا

 

شاید میں توپ کے گولے سے بھی نہ مروں

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

زندگی! تمھیں جانے کی اجازت ہے

تمھیں دیر ہو رہی ہو گی

ابدیت اور میں کچھ دیر اور

یہاں بیٹھے رہیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

ضرب المثل

 

کوئی جب کسی سے کہتا ہے

تم اگر دوسروں کی پریشانیاں دیکھو گے تو تمھیں اپنا دکھ، دکھ ہی نہیں لگے گا

 

وہ تب میری بات کر رہا ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

میں اینٹیں جمع کرتا ہوں

 

پچھلی گلی میں ایک تعمیراتی کام ہو رہا ہے

میں وہاں سے ہر دن ایک اینٹ اپنے بیگ میں چھپا کر کمرے میں لاتا ہوں

اور اسے اپنے پلنگ کے نیچے رکھ دیتا ہوں

اب تک میرے پاس سترہ اینٹیں جمع ہو گئی ہیں

 

میں انتظار کر رہا ہوں

کہ کسی دن باقی گھر والے کسی تقریب میں جائیں

اس دن میں سب سے مضبوط اینٹ کو اپنے دائیں ہاتھ میں اٹھا کر

اپنا بایاں ہاتھ ریزہ ریزہ کر دوں گا

 

میں اپنی آنکھوں کو نکال کر

ایک اینٹ سے

مینڈکوں کی طرح کچل دوں گا

 

اپنی زبان کو ایک مگر مچھ کے سر کی طرح

اینٹوں سے تب تک مارتا رہوں گا

جب تک کہ اس سے خون کے پھوارے نہیں پھوٹتے

میں اپنے پیروں کو بلیوں کی دُموں کی طرح اینٹوں سے مار کر

جسم سے الگ کر دوں گا

 

میں اپنے دل کو

ایک بچھو کی طرح ایک ہی وار میں

ختم کر دوں گا

اور اپنی ہتھیلی پر اس کے خون کی دھار کو محسوس کروں گا

 

میرے پاس کافی اینٹیں ہیں

میں اپنے بستر کو

بھی اینٹوں سے مار کر

خون سے لت پت کر دوں گا

میں اپنے کمرے کے ساتھ بھی ایسا کرنا چاہتا ہوں

اور اپنے سارے گھر کے ساتھ بھی

مگر اتنی اینٹوں سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے

 

میرے پاس ایک چھری بھی ہے

جسے میں نے متبادل کے طور پر رکھا ہے

میں کئی بار

چاند کا گلا کاٹنا چاہتا ہوں

میں ہر ستارے کے سینے میں اسے گھونپنا چاہتا ہوں

میں جانتا ہوں

رات اندھیرے میں گم ہو جاتی ہے

مگر میں اندھیرے میں چھری چلاتا رہتا ہوں کہ شاید کبھی تو اس کی آنتیں باہر گر پڑیں گی

 

میں اپنی اینٹوں کو ذبح کرنے کا بھی سوچتا ہوں

مگر مجھے معلوم ہے ان سے خون نہیں بہے گا

تو میں انتظار کرتا ہوں

 

میں کئی بار سوچنے لگتا ہوں

ہو سکتا ہے باقی گھر والوں کے پاس بھی اینٹیں ہوں گی

اس لیے وہ گھر سے باہر نہیں جانتے ہوں گے

 

کاش! میں کم از کم کوئی اینٹ تو بن سکتا تا کہ خون کا ذائقہ زبان پر محسوس کرتا

 

مجھے یقین ہے اینٹیں عمارتوں کے اندر انسان کو قید کرنے سے زیادہ

انسان کے جسم میں پیوست ہونے کے لیے بنی ہیں

مگر مجھے شک ہے کہ جلد یا بہ دیر

اینٹیں بھی زخموں کی طرح بھر جاتی ہوں گی

یا وہ بھی دانہ چگ لینے کے بعد

پرندوں کی طرح اُڑ جاتی ہوں گی

 

کاش! میری اینٹوں میں ایک ایسی اینٹ ہو

جو جسم کے ساتھ ہی مٹی بن جائے۔

٭٭٭

 

 

 

برتری

 

ہم نے احتجاج کیا وہ کس طرح ہم سے برتر ہیں

اگر ہم ایک ہی زمین پر چلتے اور ایک ہی آسمان کے نیچے سوتے ہیں

 

انھوں نے اپنی آبادیوں میں سڑکیں بنا دیں

اعلی قسم کے جوتے پہنے

اور بڑی بڑی گاڑیوں میں سوار ہو گئے

 

انھوں نے فرشیں بچھا دیں

سونے کے لیے پلنگ سجائے

اور اتنے اونچے گھر تعمیر کیے کہ ہم آسمان کے بجائے ان کی چھتوں کے سائے میں آ گئے

 

وہ ہمیشہ ہم سے دس قدم اوپر اور سو قدم آگے رہتے ہیں

گویا انھیں ہمارے سر کُچل کر فرار ہو جانے کی پوری

آزادی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ستم ظریفی

 

 

کئی بار

محبت ہمیں آسمان سے چھلانگ لگانے کا حوصلہ تو دے دیتی ہے

مگر

پر دینا بھول جاتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

معمول

 

ہر صبح جب میری آنکھ کھلتی ہے

تو میں اداس ہو جاتا ہوں

کہ آج پھر میں نیند میں مرنے سے رہ گیا ہوں

 

میں روز صحن میں دانہ چگتی چڑیوں کا مشاہدہ کرتا ہوں

تا کہ میں ان سے اڑنا سیکھ سکوں

یا کم از کم بے پروا ہونا

 

میں اپنے ارمانوں کو ناخنوں کی طرح تراشتا ہوں

اپنے خوابوں کو جسم کے اضافی بالوں کی طرح اکھاڑتا ہوں

اماں تازہ دعاوں کی ٹوکری میرے سامنے رکھتی ہے

اور میں ان میں سے ایک کو چک لگاتے ہوئے شہر میں نکل پڑتا ہوں

 

سڑکوں پر آتی جاتی تیز رفتار گاڑیوں کو دیکھ کر

میں اپنی بھیڑوں کے بارے میں سوچتا ہوں

میں ان کو کسی وادی میں چراتا ہوں اگرچہ میری بھیڑیں رہی ہیں نہ کبھی میں نے انھیں چرایا ہے

 

میں شام کو واک کرتے ہوئے

اچانک تیزی سے بھاگنا شروع کر دیتا ہوں

تا کہ خود کو کسی نابینا کی طرح وہیں کہیں

رستے میں

چھوڑ آؤں

 

چاند نے کئی دن سے میری طرف نہیں دیکھا۔ حالانکہ میں سدھر گیا ہوں اور یہ بات اسے بھی پتہ ہے کہ اب میں دکھی نہیں ہوتا یا کم از کم دکھی نہیں لگتا۔

خیر، نہ دیکھے ! مجھے کیا؟

 

مجھے اس کی پروا نہیں ہے کہ زندگی اتنی مسلسل اداسی سے بھری ہوئی ہے

میں بس بار بار ایک ہی موضوع پر لکھنے سے اکتا چکا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

بابا؟

 

کوڑا دان صبح ٹھیک ناشتے کے بعد

ایک بنگلے کے آگے جھولی پھیلا کر بیٹھ جاتا ہے

گھر کی ملازمہ اس کی جھولی میں آدھے کھائے بریڈ چھنکا دیتی ہے۔

 

دوپہر کے کھانے کے بعد وہ پھر سے ایک بنگلے کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہو جاتا ہے

گھر کا ملازم

دستانے پہنے اس کی ہتھیلیوں میں مختلف کھانے پروس دیتا ہے

اور وہ سر جھکائے وہاں سے چلتا بنتا ہے۔

 

رات کے کھانے کے بعد

کوڑا دان تھکا ہارا ایک کچے مکان میں داخل ہوتا ہے

جہاں بچے اس کی جیبیں ٹٹولنے لگ جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ہجرت

 

انھوں نے چند پیتل کے برتن، زنگ آلود صندوق، چٹائی، تکیے اور باقی سامان کو کیمپ میں سلیقے سے رکھ دیا

سب کچھ اپنی جگہ پر تھا

مگر ہجرت کی وہاں کوئی جگہ نہیں بن پا رہی تھی

لہذا، انھوں نے اس کے گلے میں رسی ڈال کر

اسے اپنے کتے کے ساتھ باہر

بھونکنے کے لیے باندھ دیا۔

٭٭٭

 

 

 

ہمارے کھلونے بڑے ہو گئے ہیں

 

گُڈے گُڑیا کی شادی ہو گئی ہے

اب ان کے کمرے سے برتن توڑنے کی آوازیں آتی ہیں

 

ہمارے ہاتھی، گھوڑے کسی نامعلوم جنگ پر نکل پڑے ہیں

اب ہم ان کی انگلی پکڑ کر انہیں چلنا نہیں سکھا سکتے

 

ہمارے بندر اب شہر میں ناچنے لگے ہیں

ہمارے ہاتھوں سے نوالہ نہیں کھاتے

 

واٹر پِسٹل آگ برسانے لگی ہے

اب ہم اس سے امی کو ڈرا اور ہنسا نہیں سکتے

 

ریل گاڑی اب چھوٹے کنکروں سے نہیں رُکتی

پلک جھپکتے ہی ہمارے سروں پر چڑھ جاتی ہے۔

 

نہ جانے کب ہمارے کھلونے بڑے ہو گئے۔

٭٭٭

 

 

 

اُس نے

 

اس نے پھول اگائے

اور تب اسے معلوم ہوا

دل کے کھلنے کا تعلق پھولوں کے کھلنے سے نہیں ہوتا

 

وہ بارشوں میں بھیگا

مگر کوئی ایسی بارش نہیں تھی

جو اس کے اندر اٹھتے شعلوں کو بجھا سکتی

 

اس نے رقص کیا

مگر وہ جان گیا

وہ کوئی درخت نہیں

جس سے یادوں کے پرندے اُڑ جائیں گے

 

اس نے موسیقی سنی

مگر کوئی بھی ساز

اس کے اندر پھنکارتے سانپوں کو

باہر نہیں نکال سکتا تھا

 

وہ اپنی تنہائی سے تنگ آ گیا

تو اس نے کچھ پرندے پال لیے

مگر جلد ہی اسے احساس ہوا

پرندے دانہ تو چگ لیتے ہیں

مگر دکھ نہیں چگتے

 

اس نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا

اس امید میں کہ شاید کوئی

کسی دن

اس پرانے صندوق کو کھول کر

کچھ پیار کے خط برآمد کر لے۔

٭٭٭

 

 

 

ژسکس

 

ژسکس ایک لفظ ہے

جو

میری اختراع ہے

 

مجھے معلوم ہے

میں شدید دکھ میں وہ الفاظ بناتا ہوں

جو دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہوتے

کیونکہ

میرا دکھ

میرے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

ٹرگر

 

میرا ایک دوست پاگلوں کا ڈاکٹر ہے

اس نے مجھے بتایا

نفسیاتی مریضوں کو مختلف چیزیں ٹرگر کرتی ہیں

میرے پاس ایسے بہت سے مریض ہیں

مثلاً: ایک مریض ہے جو کسی بھی بھورے بالوں والی عورت کو دیکھ کر اس پر ٹوٹ پڑتا تھا

وہ اس کے بال نوچنے لگتا

ہاتھوں اور دانتوں سے جب تک کہ لوگ آ کر اسے دبوچ نہیں لیتے

ایک دوسرا ہے جس کے ناخن بہت لمبے اور میل سے بھرے ہوئے ہوتے تھے

اس کے ہاتھ میں ایک پتھر ہوتا تھا

جسے وہ دوسروں کے لمبے ناخن دیکھ کر ان کی انگلیوں پر مارتا جب تک ان کے ناخن ٹوٹ نہیں جاتے

ایک مریض ہے جو

کسی بھی مرد یا عورت پر جھپٹ پڑتا اور ان کے کپڑے پھاڑ دیتا

 

یہ باتیں سن کر میں سوچ میں پڑ گیا

کہ زندگی ہی سب سے زیادہ مجھے ٹرگر کرتی ہے

جب بھی مجھے یاد آتا ہے کہ

یہ میرے اندر سانس لینے لگی ہے

تو میں اپنا گلا دبانا شروع کر دیتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

مساوات

 

میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے

اداسی نے مجھے گائے کے تھنوں کی طرح خالی کر دیا ہے

___

میں کئی سال سے خود کو ایک چیونٹی بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ میں چاہتا ہوں میں خود سے کئی گنا بھاری زندگی کو اپنے کندھوں پہ اٹھا کر سردیوں کے لیے محفوظ کر سکوں۔

__

میں نے مچھلیوں کی طرح تڑپنا سیکھ لیا ہے پر ابھی تک کوئی بھی ہتھیلیوں میں اٹھا کر مجھے پانی میں چھوڑنے نہیں آیا۔ شاید انسانی مچھلیوں کو پانی میں چھوڑنے کا رواج نہیں ہے۔

__

میں ایک ایسے شہر میں جی رہا ہوں جہاں خوابوں کے منہ پر تکیہ رکھ کر انہیں مار دیا جاتا ہے۔

مجھے بالکل اندازہ ہے کہ یہ نظم زبردستی لکھنے کی کوشش میں اس میں ڈھیلا پن آ رہا ہے مگر میں پھر بھی اس ایک بات کو کہنے کی کوشش کروں گا جو کہنے کے لیے میں نے یہ نظم لکھنا شروع کی تھی۔ یہ نظم ایک لڑکی کے بارے میں ہے۔ ایک لڑکی جس کی وجہ سے میں اداس ہوں۔

میں نے اس کے پیروں میں

’’میں تم سے پیار کرتا ہوں۔‘‘

کا ریڈ کارپٹ بچھا دیا

مگر اسے میرے سینے کے اوپر چلنے میں دلچسپی تھی۔ اس کے سینڈلوں کے نشان اب بھی میرے سینے پہ ہیں۔ اب میں کئی بار ایک ٹوٹی ہوئی سیڑھی بننا چاہتا ہوں جس سے گرنے کے امکانات چڑھنے سے زیادہ ہوں۔

میں ایک جیل نہیں بننا چاہتا جہاں صرف مجرم آئیں۔

 

زندگی اتنی مشکل بھی نہیں تھی

جتنا کہ ایک ناکام محبت نے اس کو بنا دیا ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ اب میرے لیے درست مساوات یہ ہے:

ایک لڑکی = ایک عذاب

٭٭٭

 

 

 

موسیقی

 

میں مسلسل تمھیں پکارتا رہا

چیختا چلاتا رہا

اور تم سر دھنتے رہے۔

٭٭٭

 

 

 

کیا تمھاری آنکھ نم ہو گی؟

 

میں اس گھوڑے کے بارے میں سوچتا ہوں

جو میدانِ جنگ میں

خون دیکھ کر اور چیخیں سن کر بھی کچھ نہیں کر سکتا

وہ تب کیا سوچ رہا ہو گا؟

کیا وہ سمجھ سکے گا کہ وہ کیوں یہاں ہے

اور لوگ ایک دوسرے کو مار کیوں رہے ہیں ؟

___________

میں سوچتا ہوں

کوئی جانور

انسان کی قربانی کیوں نہیں دے سکتا! ؟

___________

ایک کاکروچ کی موت کی خبر نیوز پر نہیں چلائی جاتی

ایک چھپکلی کے خونی پر کوئی مقدمہ نہیں بن سکتا

___________

کبھی کبھار میں سوچتا ہوں

جانور

بالکل احساسات کی طرح ہیں

جن کو چوٹ پہچانے پر کسی کو جیل نہیں ہو سکتی

 

پیار ایک گھوڑا ہے جس پر سوار

ہم

ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں

حتی کہ ہم میں سے کسی ایک یا دونوں کو نقصان پہنچے

_________

کبھی

تمھاری طرف

تیزی سے بڑھتا ہوا میرا

کوئی شعر

ٹرک کے نیچے آ جائے

تو کیا تمھارا دم نکل جائے گا؟

٭٭٭

 

 

 

آڈیشن

 

اپنی ایک آرٹ نظم میں کاسٹ کرنے کے لیے میں نے

پانچ کچھووں کو لائن میں کھڑا کیا

یہ ان کا آڈیشن تھا

 

کچھوا نمبر 1:

میرا نام گوالبندین ہے اور کسی کی ماں کا باپ بھی مجھے ہاتھ نہیں لگا سکتا

میری الزبتھ کو کسی نے آنکھ ماری تو اس کی آنکھیں پھوڑ دوں گا

جئیں تو جئیں کیسے، تمہارے بنا؟

 

کچھوا نمبر 2:

تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، دو سے بھی نہیں

اگر تالی نہ ہو

میں خود سے باتیں کرنے کا عادی ہوں کیونکہ میرے ساتھ کوئی بات نہیں کرتا

میں اپنا سر اپنے جسم میں چھپا سکتا ہوں۔ ایسا کرنا میں نے تب سیکھا جب تلوار بنی تھی۔

 

کچھوا نمبر 3:

(ہونٹوں پر نقلی مونچھ چپکائے ہوئے ؛سر پہ سرخ رو مال باندھے ہوئے )

۱: خوشی کے موقع پر بہنے والے آنسو در اصل کسی پچھلے دکھ کے ہوتے ہیں۔

 

۲: جنہیں نیند آ جاتی ہے

ان کو ضرور تسلی ہو گی

کہ سب بالکل ٹھیک ہے

 

۳: نیند ایک تسلی ہے

دوبارہ اٹھنے کی

یا دوبارہ کبھی نہ اٹھنے کی

 

۴: شکست محض اس بستر کا نام ہے جس پر تھک کر ہم گر جاتے ہیں۔

 

کچھوا نمبر 4:

سائنس سے پہلے دنیا ایک غار میں رہتی تھی پھر ایک دن آبادی اتنی زیادہ ہو گئی کہ مجبوراً ایک سرنگ کے ذریعے دنیا کا ایک کونہ باہر پھینک دیا گیا۔ میں بھی تب ایک پہاڑی کے کندھے پر سوار نکل آیا تھا۔

 

کچھوا نمبر 5:

میں کسی دوڑ کا حصہ نہیں:

اب جبکہ دنیا ایک دوڑ بن چکی ہے

میرے پاوں سُن ہو چکے ہیں

میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کیا یہ بری بات ہے

کہ میں کسی دوڑ کا حصہ نہیں ہوں ؟

(آگے بڑھ کر پانی کا ایک گھونٹ بھرنے کے بعد وہ گلاس کو ٹیبل پر رکھ کر دوبارہ لائن میں کھڑا ہوتا ہے۔ )

اب میں محبت کے بارے میں ایک دو باتیں بتانے لگا ہوں:

ایک تتلی آ کر ایک پھول پر بیٹھ جاتی ہے

محبت ایسے ہی ہوتی ہے۔

 

محبت پہلی ہی نظر میں بتاتی ہے کہ

اسکی آنکھوں کا رنگ کیسا ہو:

جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے

دیکھنا اس کی آنکھوں کا رنگ بدل چکا ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

تھراپی

 

میں شاید ٹھیک ہو بھی جاؤں

مگر تھراپی سے

زندگی کیسے ٹھیک ہو گی؟

 

میں تھراپی سے بھاگا ہوا مریض ہوں

مجھے ٹھیک ہونے سے ڈر لگتا ہے

ٹھیک ہونا پھر سے زخم کھانے کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ندی

 

ہم

ارتقا کے کنارے بیٹھے

غاروں، جنگلوں اور ہتھیاروں سے

اپنی ٹوکریاں بھر رہے ہیں۔

اگر۔۔ ۔۔

 

اگر سب بالکل ٹھیک ہے

تو تمھاری ہنسی سے سڑی ہوئی خاموشی کیوں پھوٹ رہی ہے ؟

تم خود پر فرضی قہقہوں کے پہاڑ کیوں گراتے رہتے ہو؟

 

اگر سب بالکل ٹھیک ہے

تو تم کمرے سے نکل کر دوستوں کے ساتھ گھومنے کیوں نہیں جاتے ؟

کنگھی کرتے ہوئے تمھارے سر سے بالوں کی جگہ دن کیوں جھڑتے ہیں ؟

 

اگر سب بالکل ٹھیک ہے

تو کسی بھی لمحے کسی شعر کا ٹرک تمھیں کچل کیوں دیتا ہے ؟

فلم کے سین میں ہیرو کو لگا چاقو تمھارے پیٹ سے خون کے فوارے کیوں پھوٹ دیتا ہے ؟

 

اگر سب بالکل ٹھیک ہے

تو پینٹنگ میں بھوک سے بلکتے ہوئے بچے کے لیے

تمھاری انگلیوں سے دودھ کیسے رسنے لگتا ہے ؟

 

تم کسی بھی لمحے

کسی آہ کے ساتھ اُڑ کر اُس کبوتر میں کیوں بدل جاتے ہو

جس پہ شکاری نشانہ باندھے ہوئے ہو؟

یا کوئی بھی چیخ تمھیں پاگل بیل کی کھونٹی بنا کر زمین میں کیوں دھنسا دیتی ہے ؟

 

اگر سب ٹھیک ہے

تو تم پر اپنا سر بھاری کیوں ہے ؟

اور تم سر پر چلنے کی مشق کیوں کر رہے ہو؟

٭٭٭

 

 

 

ایک قبر پر

 

میں کبھی کبھار اس سے ملنے چلا جاتا ہوں

اس پر تازہ پھول نچھاور کرتا ہوں

اور چند لمحے اس کے قدموں میں بیٹھنے کے بعد

دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں

وہ لڑکی میرے لیے

اب محض ایک قبر ہے

جہاں میرا دل دفن ہے۔

٭٭٭

 

 

 

لوگ

 

میں جس سے پیار کرنا چاہتا ہوں

وہ میری زندگی سے بھاگ جاتا ہے

جیسے محبت کوئی چھری ہو جس سے میں اس کا گلا کاٹ دوں گا

تب میرا دل کرتا ہے

کہ میں اپنے اندر اپنے جسم کو کچھوے کے سر کی طرح چھپا سکوں:

لوگ گلے سڑے ٹماٹر بن جاتے ہیں

جنہیں زندگی میرے اوپر نجانے کیوں پھینک دیتی ہے

۔۔ ۔۔

لوگ ہمیں لگی ہوئی آگ پر اپنے ہاتھ تاپنے کے لیے ہمارے گرد جمع ہوتے ہیں

لوگ صرف ہمارے ناپ کی قبریں کھود سکتے ہیں

ہمیں دل میں جگہ نہیں دے سکتے

۔۔ ۔۔

لوگ

لوگوں کی طرح آ کر

مجھ سے ہاتھ نہیں ملاتے

مجھے گرم جوشی سے گلے نہیں لگاتے

بلکہ گاڑیوں کی طرح

میرے پاس سے گزر جاتے ہیں

میرے کپڑوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے

ہارن سے ڈراتے ہوئے

یا کچلنے کی کوشش کرتے ہوئے

 

لوگ مجھے مایوس کر دیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

محفوظ رستہ

 

اس نے چالاکی سے میرا خون چوسنے کا

سب سے محفوظ رستہ چنا

میرے ہونٹ چومنے کا۔

٭٭٭

 

 

 

بوم

 

یہ دھماکے کی نہیں

پو پھٹنے کی آواز ہے

گویا

اب شہر کے آرام و سکون کا خون ہر سڑک پر پھیلا ہوا نظر آئے گا

 

نوکریوں پر جانے والے پہلے واک پر جائیں گے

تاکہ کائنات کو اپنی چستی کا ثبوت دے سکیں

بوس کے ہاتھوں سے پہلے ایک بار ٹائی سے اپنا گلا دبا کر دیکھیں گے

بریڈ پر ملائی کے بجائے اپنی آہیں لگا کر ہڑپ کر جائیں گے

 

سڑکوں، پارکوں، ریل گاڑیوں اور گلدستوں کے بیچ سے پھوٹنے والے چہرے

زندگی مضرِ صحت ہے

کا ایڈ دکھائی دیں گے

 

’’سب اچھا ہے‘‘، ’’سب اچھا ہو جائے گا‘‘

کے بیچ کچلی جانے والی آوازوں کے لواحقین کا کچھ پتہ نہیں چلے گا

 

کیا انسان کو اپنے دل جتنا دکھی ہونے کا بھی حق نہیں ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

ایک دن

 

اور ایک دن

اچانک ہمیں

محبت ہو جاتی ہے

جیسے سالوں سے کھڑی

کوئی دیوا ار

ایک ہی لمحے میں

ڈھ جائے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک لڑکی

 

پھولوں پر جھک کر انہیں سونگھ کر توڑنے والی لڑکی

میرے سینے پر جھک گئی ہے

 

یقیناً، اب وہ میرے دل کے ساتھ بھی یہی کرنے والی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

عورت

 

لہجے سے پتہ چل جاتا ہے

وہ تمھیں پکار رہے ہیں

یا تم پر چِلا رہے ہیں

 

دفتر میں بوس ان کی جتنی تذلیل کرتے ہیں

گھر میں اس سے کئی زیادہ وہ تمھاری کرتے ہیں

’’کام چور! ! منہ بند رکھو! قسمت ہی خراب تھی میری ! جاہل! بے وقوف!  ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتی! منہ کیا دیکھ رہی ہو، دفع ہو جاؤ! زندگی عذاب کر کے رکھی ہوئی ہے ! مر کیوں نہیں جاتی؟—–‘‘

 

میرے ابا پچپن سال کے ہیں

اور وہ اب بھی میری اماں پر چِلاتے ہیں حتی کہ اسے مارتے ہیں

وہ سمجھتے ہیں یہ ان کا حق ہے

اور اماں اپنا فرض سمجھ کر چپ چاپ سب سنتی رہتی ہیں

ایک دن میں نے ان سے پوچھا۔ اماں کیا تمہیں تکلیف نہیں ہوتی ؟ابا کو کچھ کہتی کیوں نہیں ؟

انہوں نے کہا:

’’مجھے اتنے زخم آئے ہیں کہ میں بھول گئی ہوں

میرا کوئی جسم بھی ہے۔

بیٹی، مرد کے سامنے چپ ہی رہنا چاہیے !

مردوں کے اندر بھیڑئیے بندھے ہوتے ہیں

جو عورت کی آواز سن کر زنجیریں تُڑوا کر ان پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔‘‘

 

’’اماں، مگر آپ تو چپ رہتی ہیں تو آپ کیوں بھیڑیوں کا شکار بنتی ہیں ‘‘

’’شاید، یہ ان کے پیار کا ایک انداز ہو۔‘‘

 

عورت پیار اور تشدد میں فرق بھول جاتی ہے

وہ بھول جاتی ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے۔ بولنا اس کا حق ہے

مگر وہ اتنی خاموش ہو جاتی ہے کہ کئی بار

اس کی موجودگی بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

تصدیق

 

’ؔ’مجھے خوش رہنا چاہیے ‘‘

ان آنکھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔

٭٭٭

 

 

 

تفصیلات

 

وہ ناخنوں سے شروع ہوتی ہے

اور اس کا نام

سریمیولیشا ہے

 

وہ اپنے ناخنوں پر سوار

کسی بھی سینے

تک پہنچ جاتی ہے

 

اس کا ایک نام متیاری بے شی ہو ہونا چاہیے

جو ظاہر کرے گا کہ

وہ ایک

ہرنی کی ہم عصر رہی ہے

 

وہ کہیں بھی

کسی بھی وقت غائب ہو سکتی ہے

مثلاً:

کسی مرد کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے وقت وہ اپنی انگلیوں سمیت

اس کے سر میں گھس جاتی ہے

یا

کسی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر

وہ اچانک

اس کے دل میں داخل ہو جاتی ہے

 

اس کا نام ربیکا نو شاد رکھا جا سکتا ہے

جس کا مطلب ہو گا کہ وہ

ایک آخری قتل کے دوران

گرفتار ہو جاتی ہے

جب وہ اپنے ناخنوں سے

کوئی سینہ چیر کر اس سے ایک دھڑکتا دل نکالتی ہے

جس میں ڈمپل پڑے ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

 

شکاری کتا

 

ایک یاد وہ شکاری کتا ہے

جو تمھیں تمھارے جسم کی جھاڑیوں سے نکال کر تمھاری روح کو لہو لہان کر دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

جبری گمشدگی

 

ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے پیڑوں کی آکسیجن لیتے ہیں

اپنے دریاؤں کا پانی پیتے ہیں

اپنی زمیں کو بچھاتے اور اپنے آسماں کو اوڑھتے ہیں

 

ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے نام سے پکارے جانا چاہتے ہیں

وہ نام جو ہمیں اپنے آباء و اجداد اور اپنی دھرتی سے ملا ہے

مگر وہ ہمیں باغی قرار دیتے ہیں

 

وہ ہمارے بیٹوں کو سڑکوں پر سے

گندم کے دانوں کی طرح چُگ لیتے ہیں

وہ ہمارے لوگوں کو لاپتہ کر دیتے ہیں

جیسے جادوگر اپنی ٹوپی میں کبوتر کو غائب کر دیتا ہے

وہ ہمارے بچوں کو یوں غائب کر دیتے ہیں

جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں

وہ صرف کاغذات میں زندہ رہتے ہیں:

نام، تاریخِ پیدائش، ولدیت، قوم۔۔ ۔۔

(یقیناً، آثارِ قدیمہ والے کئی سو سال بعد ہماری آہوں کا کوئی قبرستان ڈھونڈ نکالیں گے )

وہ صرف ہمارا بیٹا نہیں ہوتا

بلکہ وہ ایک نسل،

ایک زبان،

ایک جغرافیے

اور ایک تاریخ کو لاپتہ کر دیتے ہیں

 

ان کے بس میں ہوتا

تو وہ سورج کو کسی ٹارچر سیل میں پھینک دیتے ؛

چاند کی لاش کسی بوری سے ملتی۔

 

ان کے بس میں ہوتا تو وہ زندگی کو کسی جعلی انکاونٹر میں مار دیتے

 

کوئی نہیں جانتا

لاپتہ بچوں کی مائیں

ایک دن میں اپنے اندر کتنی دفعہ لاپتہ ہوتی ہیں ؟

 

کوئی نہیں جانتا

لاپتہ لوگوں کی روحوں کو موت کا کونسا فرشتہ پہلے

قبص کرتا ہے ؟

کوئی نہیں جانتا

لاپتہ لوگوں اور سوالوں میں کیا فرق ہوتا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

ڈر

 

میں لوگوں کے درمیان

خود کو بالکل ایک کاکروچ محسوس کرتا ہوں

گویا جلد یا بہ دیر

ان کی سوچ مجھے کچل دے گی۔

٭٭٭

 

 

 

بلوچ

 

ہم وہ ہیں جن کے سوال بوریوں میں بند کسی سڑک پر پھینک دئیے جاتے ہیں

 

ہمارے پہاڑوں کو بیڑیاں پہنا کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے

ہماری معدنیات کو پہاڑوں کی جیبوں سے برآمد ہونے والی منشیات کا نام دے دیا جاتا ہے

ہمارے جھرنوں میں خون ملا کر انہیں ناقابلِ استعمال بنا دیا جاتا ہے

ہمارے درختوں کو

چاروں طرف سے گھیر کر انہیں

پھل پھینکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے

اور ان کے ساؤں پر فائر کھول دی جاتی ہے

ہمارے پرندوں کو ڈرون قرار دے کر

انھیں زمین پر گرا دیا جاتا ہے

ہماری عورتوں کے نافوں سے ہرنوں کی طرح مشک حاصل کیا جاتا ہے

ہمارے مردوں کو بھیڑئیے بتا کر ان کے سینوں میں گولیاں داغ دی جاتی ہیں

ہمارے بچوں کو سنپولے بتا کر ان کے سر کچل دئیے جاتے ہیں

 

مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ

سوال آنکھیں نہیں کہ جن پر ہاتھ رکھ دینے سے نظر آنا بند ہو جائے گا

بلکہ

سوال تو گرہیں ہیں جو سلجھانے کے بعد خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ہماری زندگی کی قیمت صرف ایک مذمتی بیان ہے

 

دنیا مریخ پر آباد کاری کے خواب دیکھ رہی ہے

اور ہم اپنی زمین پر بھی غیر محفوظ ہیں

وہ ہمیں غاروں میں دھکیل دیتے ہیں

پھر کسی دن جب ہم میں سے کوئی غار سے نکل آتا ہے

تو اسے آدم خور بتا کر گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے

 

ان کی بندوقوں کی آگ کو ہمارے آشیانوں کا بخوبی علم ہے

ان کے بم جانتے ہیں کہ ہمارے چیتھڑے کیسے اڑانے ہیں

ہمارے بچوں کے سر جوان ہوتے ہی

پک چکی فصلوں کی طرح کاٹ دئیے جاتے ہیں

وہ ہمارے بچوں کی کتابیں نکال کر ان کے بستوں کو ان کے جسم کے ٹکڑوں سے بھر دیتے ہیں

 

زندگی کے نام پر ہمیں صرف آنکھ مچولی کی اجازت ہے

جب تک کہ وہ ڈھونڈ کر ہمیں مار نہیں دیتے

ہم ان کے لیے اہداف ہیں

جن پر وہ نشانہ بازی سیکھتے ہیں

ہمارے سر کے اوپر کسی سیب کی طرح ہماری قومیت رکھ کر نشانہ باندھ دیا جاتا ہے

دونوں میں سے ایک کو تو گولی لگنی ہی لگنی ہے۔

 

ہماری شرحِ اموات، شرحِ پیدائش سے زیادہ ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اجازت نامہ

 

تم چاہو تو مجھ سے پیار کر سکتے ہو

یا نفرت

میں تمہیں منع نہیں کروں گا

یہ بے نیازی نہیں،

تھکن ہے۔

٭٭٭

 

 

 

جنگ اور مزید جنگ

 

یقیناً جنہوں نے جنگ کا آغاز کیا ہو گا

ان کی مائیں نہیں ہوں گی

جو ان کے سر اپنی گود میں رکھ کر

انہیں بتاتیں

بیٹا، کسی بھی زمین کا ٹکڑا ماں کی گود سے زیادہ پر سکون نہیں ہو سکتا!

 

جنگ مسلط کرنے والے نہیں جانتے کہ

ایک بچے کی موت کے  ساتھ ایک ستارہ بھی بجھ جاتا ہے

اور ایک دن آسمان پر مکمل اندھیرا چھا جائے گا

وہ نہیں جانتے کہ پھولوں کو گولیوں سے چھلنی نہیں کرتے

تتلیوں کو آری سے نہیں کاٹتے

اور قوس قزح کو توپ سے نہیں اڑاتے

وہ نہیں جانتے

خون کوئی مشروب نہیں

آہیں اور سسکیاں کوئی گیت نہیں

انسان ان کے غلام نہیں

اور وہ کوئی خدا نہیں

جن کے باپ مار دئیے گئے ہوں

ان کو ستارے انگلی سے پکڑ کر چلنا کیسے سکھائیں گے ؟

کوئی پیڑ انھیں کندھوں پر کیسے بٹھا کر گلیوں میں گھمائے گا؟

 

جن ماؤں کے بچے مار دئیے گئے ہوں

سورج ان کے سینوں میں توپ کے گولے کی طرح ڈوبتا ہے

 

جن بچوں کی مائیں مار دی گئی ہوں

ان کو چاند اپنی چھاتی سے دودھ کس طرح پلائے گا؟

 

یقیناً جنگ کا آغاز انہوں نے کیا ہو گا

جن کی مائیں اب نہیں رہیں

وہ موت کو غور سے سننا چاہتے ہیں

اور سمجھتے ہیں کہ

سب سے میٹھی لوری وہی ہے جو موت انہیں سناتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

آنکھ مچولی

 

آنکھ مچولی آتی ہے پر

تم کو کھونے کا ڈر بھی ہے

اپنے چھپنے کی باری میں

تم کو ڈھونڈتا رہتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

مینیو

 

مہنگے ہوٹلوں میں کھانے والوں کے مینیو میں

’ہم‘‘

لازمی ہوتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

وداع کے وقت

 

الوداع کے وقت اس نے مجھے مضبوطی سے گلے لگایا

اور میرے ماتھے پر نرمی سے بوسہ ثبت کیا

جیسے مائیں اپنی کبھی نہ لوٹنے والی اولادوں کے ساتھ کرتی ہیں

 

وہ مجھے جنگ پر بھیج رہی تھی

جدائی سے بڑی جنگ اور کیا ہو سکتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

گزارش

 

اچھی دنیا

میری بیٹی بے شک حسین ہے

مگر وہ با صلاحیت بھی ہے

اس کی صلاحیتوں کو پسِ منظر میں چھپا کر

اس کی مورت کو اسٹیج پر لا کر کھڑا مت کرنا

 

اچھی دنیا

میری بیٹی کی زلفوں کو پھندے قرار دے کر

اسے ایک شکاری مت بنا

 

اس کے ہونٹوں کو کلی بتا کر

انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سِل مت دینا

 

اس کی آنکھوں کو سمندر بتا کر

وہاں اس کے خواب ڈوبنے مت دینا

 

اس کی کمر کو بل کھاتا رستہ بول کر

اسے پامال مت کرنا

 

اسے پھول کہہ کر

اس کے انسانی وقار کو پھول کی طرح مت توڑنا

 

اچھی دنیا

میری اچھی اور پیاری دنیا

میری بیٹی کو محض بچے جننے والی مشین مت بنانا

اس کی شناخت صرف ایک گھریلو خاتون تک محدود مت کرنا

اسے خود کو ایک پورا انسان محسوس کرنے کا موقع ضرور دینا

اسے ایک موقع ضرور دینا۔

٭٭٭

 

 

 

آگ

 

فائر فائٹرز نے

آگ پر ہر طرح سے قابو پانے کی کوشش کی عمارت سے اٹھتے شعلے

آہستہ آہستہ سے

نیچے بیٹھنے

وہیں

دھوئیں کے پیچھے سے

نظر آنے والا شخص

حیران کھڑا تھا کہ

فائر فائٹرز

جو آگ اس کے اندر ہے

اُس پر پانی کیوں نہیں ڈال رہے ! ؟

٭٭٭

 

 

 

اس نظم کا عنوان پتہ نہیں کیا ہونا چاہیے! ؟

 

اس کے جوتے گھس گئے

پھر اس کے پاوں

پھر ٹانگیں

کمر

اور

آخر میں اس کا سر

 

جوتے

ریشم نہیں بُنتے

مگر سب کچھ نگل لیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

اٹھو،، شاباش!

 

چاہے جتنی بھی اداسی ہو

بستر سے اٹھو

کمرے سے نکل کر کہیں بھی چلے جاؤ

، کسی پارک

، صحرا

سمندر کنارے

یا کسی کیفے

 

تصویریں اچھی نہ آئیں

تو پوز اور لوکیشن بدل کر کوشش کرنی چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

سینڈوچ

 

میں

دروازے میں پھنس جانے والی انگلی کی طرح

اس دنیا میں پھنس چکا ہوں

میں دکھ رہا ہوں

میں ادھڑ چکا ہوں

مجھ سے خون رس رہا ہے

 

میں

ہجر اور ہجرت

کے بعد شروع ہونے والے دنوں کی طرح ہوں

جو آدھے ماضی کی یاد میں گزارے جاتے ہیں

اور آدھے مستقبل کی فکر میں

 

میں

سفید کاغذ پہ گری سیاہی ہوں

جس کی وجہ سے

بچے کو الو کا پھٹا کہہ کر

مرغا بنایا جاتا ہے

 

 

میں

کوڑے دان سے

نکال کر کھائی جانے والی باسی روٹی کا ٹکڑا ہوں

جس کا باقی حصہ

چند دن پہلے ہی

کھایا جا چکا ہے

 

میں

اپر اور لوئیر کلاس کے بیچ رلنے والا مڈل کلاسیا ہوں

 

میری انگلی؟

میں دروازے میں پھنس گیا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

اندھا کیا مانگے۔۔ ۔۔

 

تمھیں کھو کر جیسے میں نے زندگی کا نقشہ ہی گم کر دیا ہے

مجھے اپنے کمرے سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا

 

میرا وجود

کسی اندھی بڑھیا کی طرح

تمھاری موجودگی کی لاٹھی ڈھونڈ رہا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کھانستی مکھیاں اور زرینہ کیمپ

 

مہاجر کیمپ میں ایک چار سالہ بچی ہے

جس کی روح کی ایک ٹانگ دھماکے میں کٹ گئی تھی

وہ ہنستی ہے تو کئی بار اس کی آواز میں حاملہ دیواروں کی کراہ شامل ہو جاتی ہے

اس کا نام زرینہ ہے۔

 

پچیس سالہ اسفند کے ہاتھوں میں دعا ہے

جسے وہ بوٹی سمجھ کر تھوڑا تھوڑا کر کے دانتوں سے کھینچتا ہے

 

گل ناز کی نیلی آنکھوں سے ہر لمحے مچھلیاں باہر گرتی جاتی ہیں

(کنارے سے ہٹ جانے میں ہی بھلائی ہے

اس طوفانی موسم میں کوئی کیسے سمندر میں پیر پسارے رہ سکتا ہے۔ )

 

راشد کے ہاتھ میں رباب ہے

جسے بجاتے ہوئے وہ ساری دنیا پر دستی بم گرا رہا ہے

بلکہ اس کے ہاتھ میں خنجر ہے

جسے وہ چاند کے گلے پر مارنے کی کوشش کر رہا ہے

وہ سورج کو بالوں سے پکڑ کر زمین پہ دے مارے گا

 

اکبر کا بٹوہ، کائنات ہے

جس میں اس کی محبوبہ کی تصویر لگی ہوئی ہے

وہ اس میں بار بار جھانکتا ہے

مگر وہ ہر بار بارود کے بادلوں میں چھپ جاتی ہے

 

مریم شٹل کاک میں

بوری بند لاش کی طرح سوئی ہوئی ہے

اسکے پیر آسمانی گرد سے اٹے ہوئے ہیں

جاگتے ہی وہ زندگی کے منہ پر تھوکے گی

اور بچے کو اپنی سوکھ چکی چھاتی سے ڈر اور بے رحمی پلائے گی

 

صبح ہوتے ہی

کیمپ کے آئینے سے باہر جاگنے والے

شہد لگی آہوں کو بریڈ کے ساتھ

نگل لیں گے

پھر وہ لوگ خود کو جنگل میں پارک کر لیں گے،

اور ان کی

گاڑیاں شہر کی طرف نکل پڑیں گی۔

٭٭٭

 

 

 

پہلی نظر کا پیار

 

جس سے ہم پہلی نظر میں پیار کر بیٹھتے ہیں

در اصل، اس سے ہم بہت پہلے سے محبت کر رہے ہوتے ہیں

مگر اس دن وہ ہمارے دل سے نکل کر ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

یادیں

 

ایک یاد

بوس کی طرح

تمھارا کالر پکڑ کر

تمھیں تمھاری اوقات بتا تے ہوئے

نوکری سے نکال سکتی ہے

 

ایک یاد

سڑک پر چلتے ہوئے

اچانک

کسی تیز رفتار گاڑی کی طرح

تمھیں کچل سکتی ہے

 

ایک یاد

درخت کے سائے میں سستاتے وقت

ایک بھیڑیے کی طرح

تم پر حملہ آور ہو سکتی ہے

 

ایک یاد

سمندر کنارے

تمھیں پانی میں ڈبو سکتی ہے

 

ایک یاد

تمھارے کمرے کی چھت کی طرح

دھڑام سے تمھارے سر پر گر سکتی ہے

 

یادوں سے بچنا نا ممکن ہے

مگر

ہم حادثوں کے ڈر سے جینا تو نہیں چھوڑ سکتے ناں۔

٭٭٭

 

 

 

دکھ میرا عرفی نام ہے

 

میں اتنا روتا ہوں

کہ میرا نام با آسانی ایک دریا کے نام پر رکھا جا سکتا ہے

دکھ میرا عرفی نام ہے

 

میں آخری بار چار زبانوں میں رویا:

پشتو، اردو، انگریزی اور ایک ایسی زبان میں جو صرف مجھے آتی ہے

 

(آپ کو چاہے کتنی ہی زبانیں کیوں نہ آتی ہوں، بچھڑتے وقت آپ کی زبان پر چیخوں اور سسکیوں کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ )

 

میں نے کوشش کی کہ سب سے تکلیف دہ آواز میں رو سکوں:

میں کرُلایا۔

 

میں نے اپنا نام زخم رکھ دیا:

یادیں مجھے چاٹتی رہتی ہیں۔

 

میں نے ایک شخص سے اتنی محبت کی

جتنی سے ایک مکمل شہر آباد ہو سکتا تھا

میں کنکر اٹھا اٹھا کر اس گھڑے میں پھینکتا رہا

جس میں پانی تھا ہی نہیں

کہانی میں بھی نہیں

 

میں اپنے لیے پریشان ہوں

جیسے کوئی باپ اپنے ناکارہ بیٹے کی فکر میں روز اندر ہی اندر گھلتا ہے

 

میں اپنے لیے اتنا اداس ہوں

جتنی کوئی ماں اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر ہوتی ہے

 

میں اس بوڑھے کی طرح خود پر بوجھ ہوں

جس کی اولاد روز اس کے مرنے کا انتظار کرتی ہے

 

میرے پاس خود کُشی کا جواز ہے

مگر میں اُس کی طرح

اچانک یونہی

گُم نہیں ہونا چاہتا۔

٭٭٭

 

 

 

کتا

 

لوگ گاڑیوں کی طرح

میرے پاس سے گزرتے ہیں

تو میں ان پر بھونکتا ہوں

مجھے نہیں پتہ کیوں

مگر مجھے اس سے سکون ملتا ہے

 

میں اس خارش زدہ کتے کی طرح ہوں

جو اپنے پورے جسم کو کھجاتے کھجاتے

ایک زخم کے مشابہ کر دیتا ہے

 

مجھے کتے پسند نہیں ہیں

مگر پھر بھی میں ایک رحمدل بوڑھے کی طرح

خود کے سامنے کسی پلیٹ میں

ایک ہڈی رکھ دیتا ہوں

تا کہ میں کم از کم بھوک سے نہ مروں۔

٭٭٭

 

 

 

خون کسی بھی استعارے سے گاڑھا ہوتا ہے

 

یہ نظم ایک کنویں کے بارے میں ہے

جس میں اترنے کے لیے

اس میں چھلانگ لگانا ضروری ہے

ایک کنویں سے مراد کچھ بھی ہو سکتا ہے

ایک کنواں

ایک گہرا زخم

یا ایک آنسو۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

نیند سے بیدار ہوتے ہی

میں اپنے دستانوں پر خون پاتا ہوں اور میری دھڑکنیں اتنی تیز ہو جاتی ہیں جیسے میرے دل کے پیچھے پولیس لگی ہو اور یہ مسلسل بھاگ رہا ہو

اس وقت میں چاہتا ہوں کوئی چڑیا مجھے چُگ لے

__

میرے پیچھے کچھ لفظ شکاری کتے بن کر نکلتے ہیں

اور مجھے جھاڑیوں سے باہر کھینچ لاتے ہیں

__

اب میری آواز اتنی بے رنگ ہو چکی ہے

کہ کوئی نہیں جان سکتا سچائی کس رنگ کی ہے

_____

میں ایک چھلانگ سے مشابہ ہوں

میں چاہوں تو بھی مر نہیں سکتا

میں موت سے مشابہ ہوں

____

یہ نظم ایک کنویں کے بارے میں ہے

جو خود کو دہرا رہا ہو

کوئی نہیں جانتا کنویں کا خود کو دہرانا کیسا ہوتا ہے

اس کے لیے میرے پاس کوئی تشبیہہ نہیں ہے

 

میں ایسی حالت میں لکھ رہا ہوں جو عام طور پر نزع کی حالت ہوتی ہے

میں اپنے دل کا نام شاعری نہیں رکھ سکتا

جو گھر کا ستیاناس کر کے کسی نظر نہ آنے والی ماں کے پلو کے پیچھے چھپ رہا ہے

___

میں ایک ایسی نظم ہوں جو سانسوں جتنی نا مکمل ہے

__

لفظ اب بھی میرے پیچھے ہیں

اور اب کی بار میں نے پانی میں چھلانگ لگا دی ہے

مگر کتے پھر سے مجھے باہر کھینچ کر لا رہے ہیں

__

میرے پیچھے میرا ایک قاری لگا ہوا ہے

جو اپنے دونوں ہاتھوں سے کتاب زور سے بند کرتا ہے

اور اسے کھول کر دیکھنے کے بعد پھر سے یہی عمل دہراتا ہے

مگر میں بھِنبھِناتا رہتا ہوں۔۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

رہنما ؟

 

تم نے مجھے ان راستوں پر کھو دیا

جو تمھیں زبانی یاد تھے۔

٭٭٭

 

 

 

دو دھاری

 

مجھے کھو کر مجھے غائب ہوتے دیکھنا

میں اپنے کمرے کو اندر سے کُنڈی لگا دوں گا

اور اس کے اندر ایک اور کمرہ تعمیر کر کے

اس کو بھی کنُڈی لگا دوں گا

 

میں رات میں داخل ہو جاؤں گا: یہ بہترین مورچہ ہے۔ میں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے ایک دن میں اندھیرے میں اتنا گھل مل جاؤں گا کہ ہمیں علیحدہ کرنا نا ممکن ہو جائے گا

 

تم نے مجھے دو دھاری تلوار تھما دی ہے

الوداع کسی کو تلوار تھما دینا ہے کہ وہ

خود یا ماضی میں سے

کسی ایک کو مار ڈالے

 

میں ماضی میں چلا جاؤں گا

تم سے بہت بہت پہلے والی زندگی میں

جہاں میرے نام کا نطفہ تک نہیں ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

انکشاف

 

انسان نے

مرنا

گہری نیند سے سیکھا۔

٭٭٭

 

 

 

بڑھیا

 

گھٹنوں سے سر اٹھا کر

میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں

’’اے خدا ا! ، تیری موجودگی میں بھی میرا یہ حال ہوا ہے۔‘‘

 

دکھ آوارہ کتا نہیں

جسے ہڈی ڈال کر دروازے سے ہٹنے پر مجبور کر دیں گے

بلکہ یہ تو ہماری رگوں میں دوڑتا زہر آلود خون ہے

جسے باہر نکالے بغیر چارہ نہیں

زخم مکھیاں نہیں جنہیں ہم ہاتھ ہلا کر اُڑا دیں گے

بلکہ یہ تو وہ بیج ہیں

جو ہمارے اندر ہزاروں کیکر اُگا دیتے ہیں

لوگ درخت نہیں

جو چپ چاپ ہمیں اپنے سائے میں بیٹھنے دیتے ہیں

بلکہ وہ خستہ حال عمارتوں کی طرح ہمارے اوپر گر جاتے ہیں

 

میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں:

زندگی بستر پر پڑی بڑھیا ہے

اور میں اس کے پیر دبا رہا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

اچھے لوگ

 

سوتے ہوئے لوگ

بس اسی لیے حسین لگتے ہیں

کہ وہ اپنے اصل چہروں کے ساتھ ہوتے ہیں

 

روتے ہوئے لوگ

اسی لیے

برے لگتے ہیں

کہ ہمیں تکرار ناپسند ہے

 

ہنستے ہوئے لوگ

اسی لیے

اچھے لگتے ہیں

کہ وہ ہماری وہ ہنسی ہنستے ہیں

جو ہم نے کہیں کھودی ہے

 

اچھے لوگ

سب کو چاہیے ہوتے ہیں

اسی لیے کوئی اچھا نہیں ہے

کوئی خود کو کیسے کسی دوسرے کو سونپ سکتا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

انتظار

 

میں نے تمھارا انتظار کیا

جیسے

بلوچ مائیں اپنے جگر گوشوں کے لوٹنے کا کرتی ہیں

 

میں نے تمھارا انتظار کیا

جیسے مظلوم

قیامت کا کرتے ہیں

 

میں نے تمہارا انتظار کیا

جیسے ستارے چمکنے کے لیے

رات کا انتظار کرتے ہیں

 

میں نے تمھارا اتنا انتظار کیا

کہ میں بھول گیا

میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں

یا انتظار کے ساتھ ہی پیدا ہوا تھا

 

میں نے انتظار کیا

انتظار کرنے والے کی سانسیں بھی اس کے ساتھ ہی ٹہلتی رہتی ہیں

 

میں نے انتظار کیا

حتی کہ یہ پوری دنیا ایک انتظار گاہ بن گئی

جہاں بیٹھے میں

اب بھی تمھارا انتظار کرتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک ٹانگ پہ کھڑی زندگی

 

سورج جانتا ہے

مجھے اس سے نفرت ہے

اس لیے

وہ میرے کمرے میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتا

۔۔ ۔۔

دن کسی سانپ کی طرح

میرے بستر کے نیچے سے سرک جاتا ہے

تاکہ میں اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے نکل جاؤں

۔۔ ۔۔

باہر آتے ہی

میں زندگی کو ایک ٹانگ اور ایک بازو اوپر کئے ہوئے اپنے سامنے پاتا ہوں

(میں نہیں جانتا یہ سزا اسے کس کی طرف سے مل رہی ہوتی ہے۔ )

 

میں بازاروں میں نکل کر لوگوں کو ادھر ادھر بھاگتے دیکھتا ہوں

تو وہ مجھے موٹر گاڑیاں نظر آتے ہیں

جو کبھی بھی کسی کو کچل سکتی ہیں

 

اس لیے

میں کسی سانپ کی طرح

شہر سے بھاگ کر اپنے کمرے کے اندر گھس جاتا ہوں۔

٭٭٭

 

نائیٹ مئیر

 

دکھ تو یہ ہے کہ جاگنے پر بھی

سانس سینے میں اٹکی رہتی ہے

زندگی سچ ہے کوئی خواب نہیں

٭٭٭

 

 

 

عورت

 

بال کھولے تو دل دہلتا ہے

جنگلی جانور نہ آئیں کہیں

 

بال باندھے تو ایسا لگتا ہے

ساری دنیا سمیٹ لی اس نے

 

اس کی چپ میں خلا کی خاموشی

جیسے دنیا ابھی بنی ہی نہ ہو

 

اس کے لہجے میں جیسے نشتر ہوں

لفظ سینے کے پار ہوتے ہیں

 

اس کی آنکھوں میں ایک منظر ہے

جس میں سب لڑکیاں سُلگتی ہیں

 

اس کی آنکھوں میں ایک منتر ہے

جیسے وہ آگ کو بجھا دے گی

 

وہ کسی نظم سی اداس پری

پڑھنے والوں کا دل جلاتی ہے

٭٭٭

 

 

 

کچھ میٹھا

 

ہر چسکی کے ساتھ

میں اس کے گال کا بوسہ لیتا ہوں

 

پھیکی چائے کے ساتھ کچھ میٹھا لیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ذرا سنبھل کے

 

مجھے نہیں معلوم تھا

مہدی حسن کو سننے والی لڑکی بھی عشق میں دھوکہ دے سکتی ہے

مجھے نہیں معلوم تھا کہ

موسیقی اور عشق کا کوئی تعلق نہیں ہوتا

کسے معلوم تھا

بلیک بورڈ پر چاک سے دل بنانے والا لڑکا

کسی دن سیاہ زلفوں میں

اپنا دل پھنسا لے گا

 

تمھیں معلوم ہے

میں زندگی کی شاخوں سے

کیسے زہریلے دن توڑ رہا ہوں ؟

تمہیں معلوم ہے

میری محبت رسی پر ایک پاوں سے چل رہی ہے ؟

کیا تمہیں معلوم ہے ؟

تم بالکل میری محبت کے نیچے کھڑی ہو؟

کیا تم ؟

آہ، میں نے کہا تھا ناں۔

٭٭٭

 

 

 

سپاہی

 

میں نے محبت کرنے کے لیے

چھٹیوں کا انتظار نہیں کیا

بلکہ اسے ہی کام سمجھا

 

میں نے جتنی محبت کی ہے

اتنی سے پہاڑوں کے اندر دھڑکتے دل پیدا کیے جا سکتے تھے

میں نے جتنی محبت کی ہے

اتنی سے ایک سو منزلہ عمارت تعمیر کرائی جا سکتی تھی

میں نے جتنی محبت کی ہے

اتنی سے ہزاروں دلوں کے پیمانے لبریز ہو کر چھلک سکتے تھے

میں محبت سے بیزار ہو چکا ہوں:

کبھی کبھار آپ بالکل درست سمت جا رہے ہوتے ہیں

لیکن زندگی

یہ شاہرہِ عام نہیں ہے

کا سائن بورڈ لگا کر آپ کو دوسری سمت جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

 

میں اب اپنے بستر سے کہیں نہیں جاتا

اور ایک ریٹائرڈ سپاہی کی طرح ملنے والے

مہمانوں کو اپنی محبت کی مہمات کے قصے سناتا ہوں اور انہیں اپنے زخم دکھاتا ہوں

میرے زخم میری ٹرافیاں ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

تصحیح

 

مجھے مت بتاؤ زندگی کتنی خوب صورت ہے

میرا دل بد صورت نہیں ٹوٹا ہوا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک آدھ خواہش

 

زندگی مجھ پر کسی خوف کی طرح طاری ہے

میں جیتا چلا جا رہا ہوں

جیسے یہی میری سزا ہو

 

میں مرنا تو چاہتا ہوں

مگر میں نے اس کے لیے کبھی محنت نہیں کی

کسی دس منزلہ عمارت کی چھت پر نہیں گیا

پستول چلانا نہیں سیکھا

چھری کو ہاتھ میں پکڑنے کا ڈر ختم نہیں کیا

سمندر کا رخ نہیں کیا

مضبوط رسی نہیں خریدی

 

میں چاہتا ہوں میں مر جاؤں

جیسے تھکن کے بعد بغیر کسی کوشش کے نیند آتی ہے

یا شدید دکھ میں جیسے

آنسو گالوں پر بہنے لگتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

فرق

 

تمھاری محبت پاوں میں آئی موچ تھی

مگر میری محبت تا عمر رہنے والا لنگڑا پن ہے۔

٭٭٭

 

 

 

فرق 2

 

تمھارے بعد بھی میں سانس لیتا ہوں

مگر تمھارے ساتھ یہ فضا معطر تھی

اور اب زہر آلود ہے۔

٭٭٭

 

 

 

فرق 3

 

آپ کے بعد بھی یہ دنیا ہے

پر یہ وسیع نہیں گہری ہے

اپنے کمرے میں گر گیا ہوں میں۔

٭٭٭

 

 

 

ان سنی

 

تم جب کہتی:

’’آہستہ بولو

ہماری باتیں کوئی سن نہ لے‘‘

تو میں سرگوشیوں میں تمھیں دل کا حال سناتا

 

ہماری وہ باتیں کسی نے نہیں سنی ہیں

حتیٰ کہ

تم نے بھی نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

محبت کی شاعری

 

 

میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں

مگر تمہارے لیے میں ایک نظم کو

تمہارے پسندیدہ ریستوران میں بدل سکتا ہوں

جہاں ہم کینڈل لائٹ ڈنر کر سکیں

 

میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں

مگر میں تمہارے لیے ایک ایسی نظم لکھ سکتا ہوں

جس کے کندھے پہ تم جب چاہو سر رکھ سکو

جو تمہارے آنسو پونچھ کر تمہارے ہونٹوں پر مسکان لائے۔

 

میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں

مگر میں ایک ایسی نظم ضرور لکھ سکتا ہوں

جس کے آخر میں ہم ایک دوسرے کو مل جاتے ہیں

اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

کبھی بھی

 

جانے والے کا راستہ مت روکو

ورنہ

وہ تمہارے پار ہو کر جائے گا۔

٭٭٭

 

 

 

الجھن

 

میری چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں

اتنا درد ہے

کہ میں آئینے میں خود سے نظریں نہیں ملا پاتا

 

کبھی تو

درد کیچوے کی طرح

میرے اندر رینگتا ہے

اور کبھی خرگوش کی طرح

قلانچیں بھرتا ہے

 

کبھی میرا پورا جسم ایک پاوں کی طرح سن ہو جاتا ہے

اور کبھی روئی کی طرح اڑنے لگتا ہے

کئی بار میں اپنی موجودگی اور غیر موجودگی کے بیچ اٹک جاتا ہوں

میں صرف ایک یاد بن جاتا ہوں

جب ہم ساتھ تھے

یا ایک سوال

کہ وہ مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟

 

زخم چیونٹیوں کی طرح

مجھے چوستے رہتے ہیں

وہ میرے ٹکڑے میری ہی نگرانی میں سردیوں کے لیے محفوظ کرتے ہیں

 

کاش میں اپنے دل کو

غلطی سے کسی

مینڈک کی طرح کچل سکتا

یا کمرے میں گھسے سانپ کی طرح لاٹھی سے مار کر

آگ میں جھونک سکتا

یا کچھوے کی طرح پہاڑی سے گرا کر

اس کا خول توڑ سکتا

 

خواب ہماری دونوں آنکھیں پھوڑنے والی

دو آتشہ بندوق ہے

میری آنکھوں

میں خون اتر آیا ہے: میں نہیں جانتا

میں

خود کو کہیں مل گیا

تو اپنے ساتھ کیا کروں گا۔

٭٭٭

 

 

 

معمار

 

اس نے

میری ذات کی دیواریں

ایک ایک کر کے

مسمار کر دیں

مجھے یقین ہے

اس کا ارادہ

ان کی نئی اور مضبوط بنیادیں ڈالنے کا تھا

مگر اس سے پہلے کہ وہ ایسا کرتا

اس کو

کسی دوسری عمارت گرانے کے لیے مل گئی

 

باقی باتیں اپنی جگہ

مگر

مجھے یہ سوال ستا رہا ہے

کہ

کیا

محبت

اور تعمیر سازی

ایک ہیں ؟

٭٭٭

 

 

 

مکھیاں

 

یادیں

زخمی دل پر

بیٹھ کر بھنبھناتی ہیں۔

‏‏‏‏‏‏٭٭٭

 

 

 

محبت

 

محبت سکون ہے

جو رات ہمارے سر کے نیچے

تکیے کی طرح رکھ دیتی ہے

محبت ہے

جو سورج پردے سرکاتے ہی

ہمارے چہروں پر انڈیل دیتا ہے

 

محبت میسر ہو

تو زندگی سبزہ زاروں میں کسی ہرنی کی طرح

قلانچیں بھرتی ہے

اور انسان کسی پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھے

پورے جسم کے ساتھ مسکراتے ہوئے

اس نظارے سے لطف کشید کرتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

روانگی سے پہلے

 

تمھاری یاد آتی ہے

تو میں کئی ایک بن جاتا ہوں

میں ایک نہیں رہتا

ایک میں تمھیں پھول پیش کرتا ہے

ایک میں تمھارے پیر پڑتا ہے

ایک میں تمھارے ساتھ چلتا ہے

ایک میں تم سے بہت دور جاتا ہے

ایک —–

مجھے شمار کرو

اگر تم گن نہیں سکتے

خود کو

جن میں ایک مجھ سے پھول لیتا ہے

ایک مجھے پیروں میں گراتا ہے

ایک میرے ساتھ چلتا ہے

اور ایک مجھ سے بہت دور جاتا ہے

 

اس سے پہلے کہ

کاونٹر پر مجھ سے پوچھا جائے

کتنی ٹکٹیں چاہئییں ؟

مجھے شمار کرو۔

٭٭٭

 

 

 

فاصلے

 

فاصلے وہ قدم ہیں

جو اٹھائے نہیں گئے۔

٭٭٭

 

 

 

میں

 

میں ایک نظم بننا چاہوں گا

یا

کوئی شاعر

اوہ

میں ایک شاعر ہی تو ہوں

کیا؟

ہاں میں کوئی نظم بننا چاہوں گا

 

انسان بیک وقت خوش اور شاعر نہیں ہو سکتا

ایک انسان کی خوشی مادی آسائشیں ہیں

اور ایک شاعر کی خوشی خیالات کی فراوانی ہے

میں دہراتا ہوں

ایک انسان بیک وقت خوش اور شاعر نہیں ہو سکتا

ایک دن رات نہیں ہو سکتا

اور ایک رات دن نہیں ہو سکتی

 

میرا خون مسلسل ٹھنڈا ہوا جاتا ہے

دن میرے لیے سردیاں ہیں

جبکہ راتیں گرمیاں

 

میں دن کے دوران اپنے کمرے میں چھپ جاتا ہوں

اور راتوں کو کچھ پر سکون ہو جاتا ہوں: ایسا ہی رہا تو میں جلد ہی کسی کولڈ بلڈڈ جانور میں بدل جاؤں گا۔ میں کاکروچ بننا چاہوں گا جو آسانی سے نہیں مرتا۔

 

نظمیں میرے اندر

چیونٹیوں کی طرح مختلف خیالات سروں پر لیے

چلتی جاتی ہیں

میرے اندر کا موسم بھی

باہر کی طرح سرد ہوتا جاتا ہے

 

بہت بار میں ایک نظم بنتے بنتے رہ جاتا ہوں

میں نہیں جانتا ایک نظم بننا بری بات ہے یا اچھی بات

مگر یہ یقیناً ایک شاعر بننے سے تو کم تکلیف دہ ہو گا

 

میں اپنے خد و خال کو

اپنے اندر

چھپانا چاہتا ہوں مگر

یہ نا ممکن ہے

 

میں بس اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ شیشے میں اپنی شکل دیکھنا چھوڑ دوں

اور اپنے کمرے میں چھپ جاؤں

جب تک یہ طویل جنگ ختم نہیں ہو جاتی۔

٭٭٭

 

 

 

بنجر زمین

 

محبت کا کوئی امکان نہیں ہے

یہ بارش اب یہاں ہوتی نہیں ہے

 

وفا کے پیڑ سارے کٹ چکے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ٹرین کا خواب

 

ٹرین کی داڑھی میں سفید بال اُگ آئے ہیں

اس نے موٹے موٹے شیشوں والے

چشمے پہن رکھے ہیں

وہ چائے کے سپ لیتے ہوئے اخبار پڑھ رہا ہے

 

وہ اب دفتر جانے لگا ہے

اس کی بیوی اسے خدا حافظ کہنے کے لیے ہاتھ نہیں ہلاتی

مگر وہ فرض کرتا ہے

کہ اس کی بیوی موجود ہے

 

وہ دفتر سے لوٹتا ہے

مگر اب وہ

پٹڑی پر ہوتا ہے

وہ چلنے لگتا ہے

چلتا جاتا ہے

جب تک کہ اپنے گھر نہیں پہنچ جاتا

جہاں اس کی بیوی اس کے لیے

ڈنر تیار کر چکی ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کھویا ہوا رستہ/کھائی

 

تم چلے تو

سڑک بھی تمھارے پیچھے سمٹتی ہوئی بہت دور تک چلی گئی

میں

تمھارے پیچھے کس طرح آتا؟

٭٭٭

 

 

 

خوشی کے آنسو

 

خوشی کے موقع پر بہنے والے آنسو در اصل کسی پچھلے دکھ کے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

چرواہا تو بھوکا بھی رہ سکتا ہے

 

اداس چروا ہے کے پاس

کچھ خواب ہیں

جنہیں وہ چرا نہیں سکتا

شہر میں

سڑکوں پہ

 

کیا پتہ کب کوئی گاڑی بھیڑیا بن کر

اس کی بھیڑوں پر حملہ آور ہو جائے

اس کے پاس اس کا کتا بھی نہیں ہے

 

اس کے پاس بس کچھ بھیڑیں ہیں

جنہیں وہ نہیں چرا سکتا

شہر میں

سڑکوں پہ

ہاں، اس کے پاس کچھ اداسی ہے

وہ آج پھر ان سب کو یہی کھلا دے گا۔

٭٭٭

 

 

 

زندگی؟؟؟؟؟؟

 

ایک یاد خون کی طرح میری کلائی یا شاید میری آنکھوں سے رس رہی ہے

اگرچہ خون اور آنسو ایک نہیں ہیں مگر درد کی شدت میں آدمی کو اتنا تو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے زخموں کو پرندے کے گھاؤ بتائے

اور اپنے دل کو ایک تاریک کمرہ جس میں اس کے سوا کوئی نہیں آتا جاتا

 

اگرچہ سے بات شروع کر کے کہاں ختم کی جا سکتی ہے

سوائے اس کے کہ

میں نے تمھیں پیار کیا

تمھیں اپنے دل میں آنے کی اجازت دی

مگر تم کسی تیز دھار تلوار کی طرح میرے آر پار ہو گئی

 

میں بیک وقت اپنا بڑا بھائی، اپنی امی اور ابو ہوں۔ ہم مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مایوس چہروں کو تکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کی موت کے بارے میں فکر مند ہے۔ لگتا ہے ہم کسی قدرتی آفت کے منتظر ہیں۔

 

زندگی بہت مشکل ہے

اتنی مشکل جتنا مشکل ایک دل کا جڑنا ہے

اتنی مشکل کہ اس کا نام موت بھی نہیں رکھا جا سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

ڈسٹ بن

 

ہم

اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب کوئی آ کر زندگی کو ڈسٹ بن میں پھینک جائے گا

تا کہ ہم اپنی بھوک مٹا سکیں

مگر

ہم بھول جاتے ہیں یہ دنیا بھوکے کتوں سے بھری پڑی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کسان

 

جن کے پسینے سے

اُگتے ہیں لہلہاتے کھیت

شاید

کسی دن ان کسانوں کے

جسموں سے

پسینے کے قطرے

تیل بن کر

ٹپک پڑیں گے

اور زمین پر

اُگ آئے گی

دور تک

لہلہلاتی آگ۔

٭٭٭

 

 

 

مشن ایکمپلیشڈ

 

اس نے مجھے گلے لگا کر

انتہائی تیزی سے دھڑکتے میرے دل کو

بالکل پر سکون کر دیا

جیسے ٹائم بم کو ڈی فیوز کر دیا جائے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک دن

 

ایک دن

زندگی میرے پیروں میں

گر جائے گی

تاکہ میں

اسکی تمام تر غلطیوں کو معاف کر دوں

مگر

میں

خاموشی سے

آگے بڑھ جاؤں گا۔

٭٭٭

 

 

 

جاسوس

 

جب بھی تم مجھ سے ملنے آتے ہو

یہ تمھیں اطلاع دیتا ہے

کیسے تم نے سنبھل کے رہنا ہے

اور کرنا ہے کب نیا حملہ

 

دل مِرا سچ میں میرا دل نہیں ہے

تیرا جاسوس ہے کہ جس کو میں نے

اپنے گھر میں پناہ دی ہوئی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

پیانو نواز

 

تم پیانو بجاتے ہوئے

کہیں کھو گئے ہو

مگر

تمھاری انگلیاں سب بتا رہی ہیں

کہ رات ہے

اور تم بستر پر ہو

کسی لڑکی کے ساتھ

اب

تم اسے چھو رہے ہو

نرمی اور

شوق کے ساتھ

 

آہ

اب تمھاری انگلیوں کی سختی سے

لگ رہا ہے

کہ صبح ہے

اور

وہ تمھیں چھوڑ کر چلی گئی ہے

 

اب

تم بند کمرے میں

بیٹھ کر

سر کے بال نوچ رہے ہو

رو رہے ہو

دیکھو

پیانو

بجاتے ہوئے

تمھاری انگلیوں سے

آنسو بہہ رہے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

سائکو پاتھ

 

تم نے میرے دل کو

تڑپا تڑپا کر مار دیا

اور میرے جسم کو

ٹرافی کے طور پر

اپنے پاس رکھ لیا۔

٭٭٭

 

 

 

میں آنسو نہیں لوگ روتا ہوں

 

میں ہر وقت اپنے کمرے میں پڑا رہتا ہوں

اور ہر دن

مکڑی کے جالے سے

اتر آتی ہے

کوئی مکڑی

کوئی محبت

یا کوئی نظم

_____

I ask myself about my most interesting skill

He says, "Too Wizard in dying.”

Maybe he mispronounces "crying”.

 

We

fall in love

to cry

artistically .

______

گوگل میری زبان نہیں سمجھتا

جب میں اس سے کہتا ہوں کہ وہ مجھے چھوڑ کر جانا چاہتی ہے

_____

Hey Siri, how can I vomit my heart?

_______

پرندے میرے نہ اڑ سکنے کی اذیت نہیں سمجھ سکتے: میں یادوں سے آزادی چاہتا ہوں ….

She

Forgot to resume me

شہر گلو کی طرح میرے پیروں سے چپک جاتا ہے

زندگی گلو کی طرح میرے پیروں سے چپک جاتی ہے

شہر گلو بند کی طرح میرے گلے میں رہتا ہے

شہر ٹائی کی طرح میرے گلے میں رہتا ہے

 

میں گاڑیوں کو دیکھتا ہوں

جب وہ جوتے پہنے گھروں سے دفاتر کی جانب بھاگنے لگتی ہیں

میں ریل گاڑیوں کو دیکھتا ہوں

جو ٹوٹے دل لیے سگرٹیں سلگاتی ہیں _____

میں روتا ہوں

مگر میری آنکھوں سے آنسو نہیں لوگ بہتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

بہروپ /غلط فہمی

 

 

داڑھی اور بال بڑھا کر

ہم سمجھتے ہیں

اداسی ہمیں پہچان نہ پائے گی۔

٭٭٭

 

 

 

شکار

 

اک عارضی

محبت کرتے ہوئے

وہ

مستقل مزاجی کا شکار ہوا

 

شکاری

خود

شکار ہوا۔

٭٭٭

 

رات کا ایک ٹکڑا

 

رات کے دو بجنے کو ہیں اور

میرے سینے پر مکڑیاں چل رہی ہیں

چل رہی ہیں یا رینگ رہی ہیں، نہیں جانتا

میں شاید حد سے زیادہ گندا ہو گیا ہوں

رات سے بھی زیادہ

جس میں دن اپنی تمام غلاظتیں پھینک دیتا ہے: ایک دریا میں جیسے کوئی لاش پھینکتے ہیں یا ایک ڈسٹبن میں کوڑا

میں کمرے کی تشبیہہ بھولتے بھولتے رہ گیا تھا

میں ایک گندے کمرے کی طرح ہوں

 

میں رات کا عادی ہوں

اس کے کش لیتا ہوں

جب تک میرے پھیپھڑے زہر سے بھر نہیں جاتے

 

اندھیرے اور مکڑیوں میں سے کون میرے سینے پر چل یا رینگ رہا یا رہی ہیں، میں نہیں جانتا

 

رات اب ایک اونٹنی کی طرح مجھے لیے چلے جا رہی ہے

لیے چلے جانے میں ’ لیے‘ امدادی فعل ہے یا  ’جانے‘، میں کنفیوزڈ ہوں

مگر اس سے اونٹنی کو فرق نہیں پڑتا

اور وہ چل رہی ہے

’’ہم کہاں جا رہے ہیں ؟‘‘

میں خود سے پوچھتا ہوں اور پھر خود ہی جواباً کہتا ہوں

’’اونٹ کو تو ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے

تو ظاہر سی بات ہے ہم ریگستان جا رہے ہیں۔‘‘

’’مگر کس لیے ‘‘

’’ایسے ہی! ‘‘

اس بار میں خود کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا

 

اس کے بعد کا منظر

اور کہانی گھڑنے سے میں معذور ہوں

مگر مکڑیاں اب میرے سارے جسم پر چل یا رینگ رہی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

دستک

 

محبت دستک ہے

مگر کوئی نہیں جانتا کہ

باہر دوست ہو گا یا دشمن

 

اپنی ذمہ داری

پر دروازہ کھولئے۔

٭٭٭

 

 

 

رونا ماؤں کی ایجاد ہے

 

میری ماں پینتالیس کی ہے

وہ اچانک رونے لگتی ہے

وہ ڈپریشن کی گولیاں لیتی ہے

 

چند دن میں عید ہے

اس بار بھی ہم قربانی نہیں کر سکیں گے

بچوں کے کپڑے نہیں ہیں

گھر کو پینٹ بھی نہیں کیا گیا

شاید ماں اسی لیے رو رہی ہے

 

خدا اگر ہمارے گھر کا فرد ہے

تو ہمارے لیے اداس کیوں نہیں ہوتا؟

 

ماں سر پکڑ کر رونے لگتی ہے

جیسے ریل گاڑی نے اس کے سارے خواب کچل دئیے ہوں

 

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے

رونا میری ماں کی ایجاد ہے

 

میں جانتا ہوں

 

زندگی ہمیں شیر کے پنجوں کی طرح چیر پھاڑ رہی ہے

زندگی ہمیں بالوں سے پکڑے زمین پر گھسیٹ رہی ہے

مگر ہم مزاحمت کر رہے ہیں

اپنے زخموں پر پٹیاں باندھ رہے ہیں

 

میں روز

اپنے خوابوں کے سکے

اپنے والدین کی ہتھیلیوں پر رکھتا ہوں

میں پچیس کا ہوں

جان کیٹس چوبیس سال کی عمر میں مر کر ادب کی دنیا میں امر ہو گیا

مگر مجھے یقین ہے اس کی ماں اس کے سامنے کبھی نہیں روئی ہو گی

اس کے باپ کو اس کے سامنے پولیس پکڑ کر جیل نہیں لے گئی ہو گی

___

میں جانتا ہوں کچھ نظمیں محض اسی لیے کمزور رہ جاتی ہیں

کہ ان میں دکھ بیان ہوتے ہیں

____

میں سوچتا ہوں

یا تو میری رگوں میں کوئی بوند نہیں

یا میری انگلیوں میں کوئی بلیڈ نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

عرضی

 

میں محبت کے لیے اہل ہوں

میرے پاس گہری اداسی اور زخموں کی تمام متعلقہ ڈگریاں ہیں

اور کئی سال تک ایک گلی میں انتظار کرنے کا تجربہ ہے۔

ہوشیار۔۔ ۔

 

محبت کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ فریب بھی با آسانی اس کا روپ دھار سکتا ہے:

کئی بار

وہ ہماری محبت کے گھونٹ بھر تو لیتے ہیں

مگر اسے حلق سے نہیں اتارتے

اور ہمارا دھیان بھٹکتے ہی اسے اُگل دیتے ہیں۔

 

کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے

وہ ہمیں محبت کر رہے ہیں

لیکن وہ ہمیں زخمی کر رہے ہوتے ہیں

 

یاد رکھو! بوسے لینے اور خون چوسنے میں فرق ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

خودکشی پر چار اقوال

 

خودکشی کرنے والا بزدل ہوتا ہے نہ بہادر ؛وہ بس تھکا ہوا ہوتا ہے۔

***

لوگ دنیا کو یہ بتانے کے لیے خودکشی کرتے ہیں کہ وہ کتنی اذیت میں تھے۔

***

خودکشی خود کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش ہے۔

***

خودکشی کا سب سے مشکل طریقہ زندہ رہنا ہے۔

٭٭٭

 

مشکل ہے

 

بہت آسانی سے

ان لوگوں کو بھلایا جا سکتا ہے

جو بھلانے کے لائق ہیں

جیسے کہ آتے وقت تم سے نظریں نہ ملانے والے

الوداع کے وقت تمھیں مڑ کر نہ دیکھنے والے

 

یاد رکھو! بہت آسانی سے

تمھیں کوئی بھی مل سکتا ہے

مگر کوئی بھی

آسانی سے تمھیں نہیں اپناتا

آسانی سے اپنانے والے

آسانی سے چھوڑ بھی دیتے ہیں

تو ایسے لوگوں سے دور رہو

دور رہو

ان لوگوں سے جن کی دور کی نظر کمزور ہو

دور رہو

دوربین لگا کر تمھیں جانچنے والوں سے

دوربین سے دشمنوں کو دیکھا جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

واپسی کے لیے ایک نظم

 

اب میں صرف اپنی راہ چلتا ہوں

جیسے میں انسان نہیں کوئی سڑک ہوں

میں بہت سے لوگوں کو گھر تک پہنچاتا ہوں

مگر میں ان کے ساتھ ان کے گھر میں داخل نہیں ہوتا

___

میں دن بھر بھاگتا رہتا ہوں کیونکہ

محبت کے منہ کو میرا خون لگ گیا ہے

___

کئی دن سے میں گھر واپس جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں

وہاں جاتے ہی

میں کسی طرح سے اپنی ٹانگ کاٹوں گا

تا کہ ان راستوں پر دوڑنا چھوڑ دوں

جن پر چلنا بھی نہیں چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

وراثت /ذمہ داری

 

دو لوگ بچھڑتے ہیں

تو ان کی محبت

بوڑھی ماں کی طرح اسی کے پاس رہ جاتی ہے

جس نے اسے پاس رکھنا ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

مشکل چیزیں

 

کچھ چیزیں مشکل ہوتی ہیں

جن میں سے ایک

کسی ایسے انسان سے پیار کرنا ہے

جو تمھیں خود سے پیار نہ کرنے دے

 

میں نے ہر بار اسے

محبت دینے کی کوشش کی

مگر وہ ہر بار میری محبت کو میرے منہ پر دے مارتا تھا

اب بھی میرے اندر پھول اگتے تو ہیں

مگر

میں ان کا گلدستہ بنا کر

اسے پیش نہیں کرتا

 

اب بھی مجھے اس سے پیار ہے

مگر اب میں تھک چکا ہوں

اور تھکن سے بڑی معذوری کوئی نہیں ہے

ہاتھ پیر سلامت ہونے کے باوجود بھی میں اسے دیکھنے نہیں جا سکتا

 

میں اب بھی اس کے لیے شاعری لکھتا ہوں

مگر اب

کسی نظم میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا خواب نہیں دیکھتے

 

کچھ چیزیں مشکل ہوتی ہیں

جن میں سے ایک

اپنے خوابوں کا گھر

ایک الوداع سے زمین بوس ہوتے دیکھنا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

عورت؟

 

عورت؟

اس کی آواز میں صدیوں پر پھیلی دل دہلا دینے والی خاموشی ہے

 

عورت کو صدیوں تک چپ رہنا سکھایا گیا ہے

اس کے لفظ منہ سے نکلتے ہی مچھلیوں کی طرح تڑپنے لگتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

کینوس کے آگے کھڑا شخص

 

میں بہت زیادہ اداس ہوتا ہوں

تو مجھے اپنے جسم سے اٹھتی اداسی کی بو سے متلی آتی ہے

میں اپنے منہ میں انگلیاں ڈال کر

شاعری قے کرنے کی کوشش کرتا ہوں

میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو میری انگلیوں سے خون آلود لفظ رسنے لگتے ہیں

مگر میں اپنی انگلیوں پر پٹیاں نہیں باندھتا

مجھے قسم ہے

میرے اندر موجود خون کے ہر ہر قطرے کی

کہ میں تمھیں بھولنا چاہتا ہوں

میں اپنے اندر ایک تاریک کمرے میں

بہت سی صندوقوں کو یادوں سے بھر کر انہیں تالے لگا دیتا ہوں

اور ان کی چابیاں صندوقوں میں ہی چھوڑ دیتا ہوں

میں جانتا ہوں نیند کو آج پھر آنے میں دیر ہو جائے گی پھر بھی میں بستر پر دراز ہو کر اس کا انتظار کرتا ہوں

____

صبح

نیند سے جاگتے ہی

میں ایسے شرمندہ ہوتا ہوں

جیسے یہ ظلم، بھوک اور اداسی سے بھری دنیا

میں نے ہی نیند میں غلطی سے بنا دی ہو۔

٭٭٭

 

یہی سچ ہے

 

درختوں ہی کی مثال لے لیں

لوگ تمھاری چھاؤں میں سستا کر چلے جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

رات

 

رات کمرے کا کونا ہے

جہاں سسکنے کے لیے کچھ وقت مل جاتا ہے

 

رات پلنگ ہے

جس کے نیچے گھس کر

ہم زندگی کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہیں

 

میں رات کا انتظار کرتا ہوں

جیسے یہ جادوگر کی ٹوپی کی طرح مجھے سب کی نظروں سے چھپا لے گی۔

٭٭٭

 

 

 

اعلانِ لاتعلقی

 

میں نے زندگی سے محض یہی سیکھا ہے

کہ جینا بہت مشکل ہے

 

نیوٹن کے ردِ عمل کے قانون کے مطابق

میں ایک گیند کی طرح

دیواروں سے ٹکراتا ہوں

 

میں اپنے دل کو دور پھینکتا ہوں

اور میری قسمت ہر بار

دانتوں میں دبائے اسے میرے پیروں میں رکھ دیتی ہے

میں محبت کے بارے میں سوچتا ہوں

تو مجھے ایک بارش یاد آتی ہے

جس میں بھیگا ایک نوجوان

خود کو ایک کاغذی کشتی کی طرح ایک نالی میں بہا دیتا ہے

۔۔ ۔۔ ۔۔

یہ سب میرے بس سے باہر ہے

میں خود کی کسی بھی اچھی یا بری حرکت کی ذمہ داری لینے سے اعلانیہ انکاری ہوں

میں نے خود کو ایک

بدقماش بیٹے کی طرح عاق کر دیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

آخری لفظ

 

میں نے مرنے کے بارے میں اتنی دفعہ سوچا ہے

کہ اب تو لگتا ہے موت میرا پسندیدہ گانا ہے

جو میرا ذہن رِپیٹ پہ مجھے سناتا رہتا ہے

 

میں مرنے کے بارے میں اتنی سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں

جیسے یہی میرا خواب ہے

 

میں خود کو بہت زیادہ اکیلا پاتا ہوں

اتنا کہ اس کے لیے میرے پاس کوئی تشبیہ نہیں ہے:

مجھے ایک قبر جیسی گود کی ضرورت ہے

جس میں سکون سے پاوں پھیلا کر سو جاؤں

 

مجھے یادوں سے بس یہی ایک شکایت ہے کہ وہ مجھے احساس دلاتی ہیں

میں کتنا بد نصیب ہوں: ایک یاد مٹھی سے پھسلی ہوئی حقیقت ہے

 

مجھے ایک عرصے سے نیند نہیں آتی

اور مجھے یہ چاہیے بھی نہیں کیونکہ اب میں مسلسل مرنے کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں

 

میرے چند دوست ہیں

جن کے ساتھ میں بہت سی باتیں کرنا چاہتا ہوں

مگر مجھے لگتا ہے

مجھے پھر بھی مرنا چاہیے

کیونکہ درد میرے مساموں سے بہتا چلا جاتا ہے

اور میں کچھ نہیں کر پاتا

 

میں ہدف ہوں

جس کے سینے پر فقط گولیاں داغی گئی ہیں

 

میں ایک کٹا ہوا ہاتھ ہوں

جس کی انگلیوں میں پھنسے قلم سے

آخری لفظ محبت لکھا گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

فہرست

 

میں نے آسان کام کرنا چھوڑ دئیے ہیں

مثلاً گہری نیند سو جانا

جو کہ میرے روز کا کام ہوتا تھا

اب میں بالکل نہیں سو پاتا

یا آنکھوں کی ہتھیلیوں کو محض نیند کے ایک آدھ قطرے سے تر کر دیتا ہوں

 

میں بار بار مرنے کے بارے میں سوچتا ہوں

یقیناً یہ ایک بہت مشکل کام ہے

ایک نس کے کٹنے کے ساتھ شاید

وہ سارا خون نہیں بہہ سکتا

جس سے وہ انسان بھی مر سکے

جو میرے اندر میرے خون پر پلتا ہے

ریل شاید اس انسان کو نہیں کچل سکتی

جو میرے اندر ریل کی طرح بھاگتا رہتا ہے

۔۔ ۔۔

دریا شاید روح کو نہیں ڈبو سکتی

۔۔ ۔۔

 

میں مسلسل سوچتا ہوں

مجھے اب کچھ مشکل کرنا چاہیے

مگر میں محبت نہیں کرنا چاہتا

میں اپنے جسم کو گرہیں لگانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں

میرا دل، پاوں اور ہاتھ

ایک شخص کی تلاش میں ہمیشہ نکل جاتے ہیں

 

میں اپنے دل کو نافرمان اولاد کی طرح عاق کر چکا

میں سب کو بتاتا رہتا ہوں

اس سے میرا کوئی تعلق نہیں

 

میں نے جو مشکل کام کرنے ہیں ان کی ایک مختصر فہرست بنائی ہے:

۱: یادوں کے بھیڑیوں کو واپس جنگل میں پہچانا ہے جو سڑکوں پر نکل کر حملہ آور ہوتے ہیں

۲: میں اپنے دل کو سڑیس بال کی طرح دبانا چھوڑ دوں گا

۳: میں درد محسوس کرنے لگ جاؤں گا اور ہر زخم کھانے کے بعد بڑے بڑے آنسو بہاؤں گا

۴: میں لوگوں کو دیکھ کر مسکراؤں گا اور انہیں بلا جھجھک گلے لگوں گا

۵: میں ایک دن بغیر کوشش کے مر جاؤں گا۔

٭٭٭

 

 

 

بنجر

 

میں تم پر

بارش کے قطروں کی طرح برسا

مگر تم نے ہر طرف سے چھتریاں تھام رکھی تھیں

 

میں نے تمھیں جتنی محبت دی

وہ خوشبوؤں سے مہکتا ایک پورا باغ اُگانے کے لیے کافی تھی

مگر تمھارے دل کی زمین ہی بنجر تھی۔

٭٭٭

 

جادو گر

 

لفظ

اپنی ٹوپی سے

کچھ بھی نکال سکتا ہے

کوئی اڑان بھرتا کبوتر

یا

کوئی آگ اگلتی بندوق۔

٭٭٭

 

 

 

جادو

 

کئی سال پہلے

تم نے میرے ہونٹوں پہ ایک بوسہ رکھا تھا

اور میں آج تک کسی جادوگر کی طرح

اپنے حلق سے

تمھارے نام کی پرچیاں نکال رہا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

او سی ڈی

 

میں ہر کام بڑی شدت سے کرتا ہوں

اور بار بار کرتا ہوں

میں تالا لگا کر چار بار لازمی دیکھتا ہوں

 

کھانا کھانے بیٹھ جاؤں تو تب تک کھاتا چلا جاتا ہوں جب تک کہ مجھے یاد نہیں آ جاتا کہ میں سیر ہو چکا ہوں

یا دسترخوان صاف ہو چکا ہے

 

ایک وقت میں

باسٹھ بار

برش کرتا ہوں

ہر دانت کے لیے دو بار

 

یونیورسٹی سے ایک دن چھٹی نہیں کرتا

ایک دن کی

تو ایسے ایک دنوں کی تعداد بیسیوں ہو جاتی ہے

 

میں ایک کے بعد ایک نظم لکھتا چلا جاتا ہوں

یا

مہینوں تک ایک لفظ نہیں لکھ پاتا

 

عادتوں سے چھٹکارا پانا میرے لیے بہت مشکل ہے

 

مجھے تمھاری یاد آتی ہے

تو آتی ہی رہتی ہے

جب تک کہ تم نہیں آ جاتے

یا تمھارے آنے کے بعد بھی

 

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں نے تمھیں بھلا دیا

تو کیا مرنے کے بعد بھی تم یاد نہیں آ ؤ گے ؟

یاد آیا

یاد ہے وہ دن جب میں نے

تمھیں ایک سو انیس بار چوما تھا

اور تمہارے گال سے خون رسنے لگا تھا؟

 

میں ہر کام بڑی شدت سے کرتا ہوں

بار بار

اس بار

میں نے خود کو تالا لگا دیا ہے

اور چار بار دیکھ چکا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

شناخت

 

کوئی آئی ڈی کارڈ نہیں

کسی دوست، رشتہ دار کا کوئی پتہ نہیں

خودکشی کرنے والے کی جیبوں سے صرف اداسی برآمد ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ترجیحات

 

کشتی بنانی ہو

تو درختوں کی کٹائی کے نقصانات نہیں گنتے۔

٭٭٭

 

 

 

منظر نامہ

 

پہاڑی برف سے ڈھکی ہوئی ہے

تم

قبائلی لباس میں

ریوڑ کو چرانے آ رہی ہو

اور تمھاری بھیڑیں اپنی آنکھوں میں کاجل لگا رہی ہیں

 

سڑک پر ایک بس جا رہی ہے

جیسے کوئی بھیڑیا بھاگ رہا ہو

تمہارے ریوڑ کے پیچھے

 

پہاڑی اب خون سے ڈھکی ہوئی ہے

تم

شہری لباس میں

بس میں سوار ہونے کے لیے اتر رہی ہو

اور اب وہاں کوئی بھیڑ نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

نیند اور خواب

 

دنیا میں جو ہو رہا ہے

مجھے اس کی بھی پروا ہے

لیکن ابھی مجھے کچھ نیند کی ضرورت ہے

 

میں ہتھیلی پر نیند کی گولی رکھ کر حلق میں ایسے پھینکتا ہوں

جیسے کوئی کنویں میں چھلانگ لگاتا ہے

 

لوگ خواب دیکھنے کی اہمیت بتاتے بتاتے

نیند کی اہمیت بتانا بھول گئے ہیں

 

اس عجیب و غریب دور میں،

کسی کو آزادی کی جد و جہد کے لیے بھی نیند سے مت جگاؤ

مجھے نہیں لگتا

نیند سے بہتر آزادی کوئی ہو سکتی ہے

 

فٹ نوٹ:

میں

خود کو

مار نہیں سکتا

اس لیے میں لکھتا ہوں

 

فٹ نوٹ نمبر دو:

فرق بس اتنا ہے کہ

لوگ روٹھ جاتے ہیں

جبکہ پھول مرجھا جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

مشابہت

 

لوگ مجھے فوراً پہچان لیتے ہیں

میری شکل ہو بہو اداسی جیسی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

مماثلت

 

جدائی کے بعد

بستر سے الگ ہونا

محبوب کی بانہوں سے جدا ہونے جیسا لگتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

انتظار، اداسی، محبت اور زخم

 

انتظار اتنا ہی طویل ہوتا ہے جتنی دیر تک ہم کسی کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں

 

اداسی اتنی ہی طویل ہوتی ہے جتنی دور تک ہم کسی کے پیچھے جاتے ہیں

 

محبت اتنی ہی طویل ہوتی ہے جتنی دیر تک ایک پرندہ پنجرے میں ہوتا ہے

 

اور زخم اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں جتنا ہم ان سے کسی کو سیراب کرتے ہیں۔

٭٭٭

 

لوٹ

 

محبت کوئی بندوق نہیں

مگر کچھ لوگ اسے تم پہ تان کر تمھارا سب کچھ

لوٹ لیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

احتجاجی مظاہرے

 

سب کے ماتھوں پر

’’زندگی ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘

لکھا ہوا ہے

 

کچھ خود کو ٹائروں کی طرح جلا کر وقت کی مرکزی شاہراہ بند کر رہے ہیں

اور کچھ خود کے پیچھے کمرہ بند کر کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کر رہے ہیں

 

سب کی آنکھوں میں بس یہی ایک سوال ہے

کہ ان کی نیند کہاں گئی؟

یہ نسل بے خوابی کی وجہ سے خواب دیکھنا بھول چکی ہے

کسی کے پاس خوشی کی کوئی خبر نہیں ہے

کسی کے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے

یہ نسل کئی عرصے سے زندگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

رقص

 

1: انسان اڑ نہیں سکتا

مگر وہ رقص کر سکتا ہے

 

2: انسان اڑ نہیں سکتا

اس لیے وہ رقص کرتا ہے

 

1: رقص فطرت میں تحلیل ہونے کی ایک کوشش ہے

 

2: رقص فضا میں اپنی اداسیاں تحلیل کرنے کا عمل ہے۔

٭٭٭

 

 

 

واپسی؟

 

محبت وہ دروازہ ہے

جو آپ کے اندر جاتے ہی

دیوار بن جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کاشششششششششش

 

میرے پاس کوئی کام نہیں

مگر میرے پاس تھکن بہت ہے

میں کسی کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دینا چاہتا

یہ کم از کم یہ ظاہر کرے گا کہ مجھے کسی کی پروا نہیں ہے

 

میرا دل میرے اندر تھکن سے چور اس غلام کی طرح دھڑک رہا ہے کہ جسے ہر حال میں مشقت کرنی ہے

 

مجھے ایک پرندے کی طرح تمھاری یاد آتی ہے

ایک پرندہ جو اڑنا بھول چکا ہے

اور زخمی پروں کے ساتھ آسمان کو گھورتا ہے

 

میرا دل

سانپ کی طرح

میرے اندر پھنکارنے لگتا ہے

میں بستر سے اتر سکتا ہوں

نہ یہ سمجھ آتی ہے کہ اسے اس کمرے سے کس طرح نکالا جا سکتا ہے

میرا دل ہر وقت

ایک پاگل کتے کی طرح

گلی میں میرا راستہ روکے کھڑا ہوتا ہے

میں ہر بار پلٹ کر بھاگنے لگتا ہوں

 

میرے پاس رونے کے علاوہ

کوئی مناسب مشغلہ نہیں ہے

میں روز پلکوں پر نئے آنسو اُگاتا ہوں

یہی میری باغبانی ہے

 

میں کتابوں کو بھی اب اپنا دوست نہیں سمجھتا

میں ان سے منہ پھیر لیتا ہوں۔ مجھے اس کی ذرا بھی فکر نہیں کہ وہ مجھے مطلبی سمجھنے لگیں

 

کاششششششش

زندگی برف ہوتی

جس سے میں تمھارا اسٹیچیو بناتا

کاش! موت سانس لینے جتنی آسانی سے آ سکتی

 

میں کسی ایسے شخص کا کردار ادا کر رہا ہوں

جو سالوں پہلے مر چکا ہے:

کاش! میں اپنا سر

اپنی موت پر

ٹوپی کی طرح اتار سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

محبت اور میچورٹی

 

محبت ایک بچکانہ عمل ہے ؛ میچیورٹی اس کا سارا مزہ خراب کر دیتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

قدامت

 

ہم انہی چیزوں کو بھلا سکتے ہیں جو ہماری یادداشت کا حصہ ہوں مگر میرے دکھ تو میری یادداشت سے بھی قدیم ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک کہانی کا انجام

 

ایش ٹرے میں

سگرٹوں کی راکھ کے ساتھ ایک گھر کا ملبہ بھی پڑا ہے

جہاں وہ اپنی محبوبہ کے ساتھ

ہنسی خوشی رہنا چاہتا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

سوال

 

جانے والے تو پیچھے سے دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں

مگر اندر کی طرف سے دروازے کو کچھ سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں

جنہیں کھولنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

وجوہات

 

تنہا لوگوں کے چہروں پر ان کے کمرے چسپاں رہتے ہیں

اور صاف صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ وہاں کس قدر اکیلے ہیں

 

کسی کے چہرے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کمرے کے کس کونے میں روتا ہے

بھاری قدموں سے چلنے والے کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اسے کس نے کس مہینے کی کس تاریخ کو چھوڑ دیا تھا

کسی کی تلخی سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر اتنی کڑواہٹ گھولنے والے کو زیادہ میٹھی چائے پسند تھی

 

کسی کا سگرٹ سلگاتے وقت

سوالیہ نظروں سے آسمان کو گھورنا

اس کے زوال کی داستان کو تفصیلاً بیان کرنے کے لیے کافی ہے

 

یہ یقینی ہے کہ

پھولوں کی دکان سے

پھول خریدے بغیر گزرنے والوں کے دل میں کوئی چبھن ہو گی

 

کوئی مسکراتا نہیں

تو ضرور اس کے پاس رونے کی کافی وجوہات ہوں گی

محبت رونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ساتھ

 

ساتھ اتنا ہے، ہجر اتنا ہے:

ایک رستہ ہے جس پہ دونوں ہی

چل کے جاتے ہیں اپنے اپنے گھر۔

٭٭٭

 

 

 

سکون

 

میں نے دنیا کے بڑے بڑے شہر دیکھے ہیں

اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی شہر ایک گود سے بڑا نہیں ہو سکتا

 

’محبت‘ کو تلفظ کرتے وقت

تمہاری آنکھوں میں آسمانوں تک پھیلا ہوا سکون ہوتا ہے

ضرور تمھارے نصیب میں ایک ایسی گود ہے

جو تمھیں کبھی زمین پر نہیں اتارتی۔

٭٭٭

 

 

 

رومی جو کہنا بھول گئے

 

ایک دفعہ رومی یہ کہنا بھول گئے کہ

وہ چلے جاتے ہیں جب وہ تمھاری ساری محبت چوس لیتے ہیں

نیز وہ یہ کہنا بھول گئے کہ

زندگی کمان سے نکلا ہوا تیر بن جاتی ہے

جب آدمی پیار میں ہوتا ہے

رومی کے دل میں ضرور یہ خیال آیا ہو گا کہ

ابدیت ان آنسووں میں موجود ہوتی ہے

جو یادوں سے جڑیں پکڑتے ہیں

رومی پوچھ سکتے تھے

کہ تم سب مختلف ملکوں سے ہو

تو کیا تم میں سے کسی کا تعلق محبت سے بھی ہے ؟

 

اگر وہ اکیسویں صدی کے ڈپریشن زدہ انسانوں کو دیکھ لیتے

تو وہ شاید ایک سائیکاٹرسٹ بنتے

اور وصیت نامے میں ایک جگہ لکھتے

کہ سازش ہو یا چاہے کوئی تفریحی کہانی

کسی محبت کا حصہ مت بنو۔

٭٭٭

 

 

 

اسے زخم پسند ہیں

 

اسے میرے زخم اچھے لگتے ہیں

وہ ہمیشہ کہتی ہے

زخم سے بہترین نقاشی ہو ہی نہیں سکتی

اس سے انسان ایک شاہکار لگتا ہے

(زخم شاہکار بننے کا رف عمل ہوتے ہیں۔ )

 

وہ مجھ میں کسی پرانے زخم کی طرح

تازہ ہو جاتی ہے

(زخم محبت کی کشیدہ کاری ہیں۔ )

 

وہ پکاسو کو ایک جاہل مصور کہتی ہے:

’’وہ بکواس تھا

اس نے کسی کی آنکھ میں چھرا نہیں گھونپا

اس نے کسی کے سر پر شراب کی بوتل نہیں پھوڑی

اس نے کسی کے دل میں سوراخ نہیں کیے

وہ ایک ڈرپوک انسان تھا

وہ مصور کہلانے کے لائق ہی نہیں۔‘‘

 

وہ کہتی ہے:

’’انسان جب اپنے اندر کی دنیا کا مکمل اظہار کر دیتا ہے

تو وہ اپنی نسیں کاٹ لیتا ہے

تاکہ اپنا آخری شاہکار دنیا کو دکھا سکے۔‘‘

 

وہ مجھے ہمیشہ اپنا کبوتر کہتی ہے

اور کہتی ہے:

’’ہمت ہے تو میری فضا سے باہر جا کر دکھاؤ!

 

ایک دن میں نے اسے بتایا:

ہاں یہ سچ ہے کہ

میں تمہارے حصار سے نہیں نکل پاتا

مگر کیا تمہیں پتہ ہے

تم بھی ایک حصار میں ہو

مجھے نہ جانے دینے کے حصار میں

 

وہ میرے زخموں کو چھوتی ہے

وہ اسے ابسٹریکٹ آرٹ کہتی ہے

مگر میں سمجھتا ہوں

یہ آرٹ نہیں محض ناکامی ہے

مگر میں نہیں جانتا

یہ ناکامی ہے

کس کی؟

٭٭٭

 

 

 

رفتار

 

محبت لنگڑا کر نہیں چلتی

تمھیں ہی اس کے ساتھ قلانچیں بھرتے ہوئے جانا ہو گا

ورنہ یہ ہرنی کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے کہیں غائب ہو جائے گی۔

٭٭٭

 

 

 

لاپتہ

 

میں تفتیشی آفیسر کو کیسے بتاؤں

میں نے آخری بار

خود کو تمھارے ساتھ دیکھا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

رات کا کھیل

 

رات چیونٹی کی طرح اپنی دُم سے کھیلنے لگی ہے

وہ سوچتی ہے اس کی دُم ہے

یا شاید چیونٹی ایسا سمجھتی ہے

یا میں ایسا سمجھتا ہوں

وہ جانے کیوں اپنی دُم کو دانتوں میں دبانا چاہتی ہے

______

اس سے پہلے کہ میرا دماغ کام کرنا چھوڑ دے آ کر مجھے اپنی گود میں بٹھاؤ اور مجھے بچوں کی طرح پیٹ بھر اپنے بوسے کھلاؤ!

 

میں زندگی سے ہارا ہوا ہوں۔ میری محبوبہ ! اے میری محبوبہ! تم مجھ سے لپٹ جاؤ! مجھے اپنے کمرے میں لے جا کر اپنے بستر پر اپنے ساتھ سلاؤ! میرے سر کے نیچے اپنا بازو رکھ کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہو جب تک کہ میں سو نہیں جاتا!

_____

آسمان میں موجود

چاند بھی ضرور میری طرح آدھے سر کے درد میں مبتلا ہو گا

وہ مسکرا نہیں رہا

(رات اب بھی اپنی دُم سے کھیل رہی ہے۔ )

 

میں جانتا ہوں تکلیف میرے اندر ہے

میں کسی عمارت سے چھلانگ لگا دوں

تو بھی اس سے کچھ اثر نہیں پڑے گا

اس کے لیے مجھے اپنے اندر جا کر

اپنے سر سے کودنا ہو گا

 

میری سانسیں نتھنوں سے ایسے اندر آ رہی ہیں جیسے کوئی کہیں زبردستی گھسنے کی کوشش کرتا ہے

 

رات میرے اردگرد دائرے کھنیچتی چلی جا رہی ہے

اور میں کسی چیونٹی کی طرح ان میں گھومتا جاتا ہوں

رات اپنی دُم سے کھیل رہی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

سڑتا ہوا انسان

 

تمہارے بعد

میں روز اپنا کوئی حصہ کوڑے دان میں پھینک آتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

رقص

 

تم بارش کو اپنا ساتھی قرار دے کر

اس کے ساتھ رقص کرنے لگتی ہو

تم رقص میں بھیگ جاتی ہو

اور چاہتی ہو کہ بارش تمھارے ساتھ یونہی جھومتی رہے

مگر تم جانتی ہو دنیا کی ہر شے عارضی ہے

سو تم اچانک رک جاتی ہو

اور پھر بھاگنے لگتی ہو جیسے

کوئی تھراپی سے بھاگ جاتا ہے

جیسے کوئی اس سوال سے بھاگ جاتا ہے

’’اب کیسا محسوس کر رہے ہو‘‘

تم بھاگنے لگتی ہو

جیسے تمھیں اولمپکس میں کوئی مڈل مل جائے گا

تم بھاگنے لگتی ہو

جیسے تم ایک ٹائم بم ہو جسے آبادی سے دور جا کر پھینک دینا چاہیے

تم گاڑی کی طرح بھاگنے لگتی ہو

جس کے ڈرائیور کو کہیں جانے کی جلدی ہو

تم ایک گرے ہوئے پل پر سے ایسے گزرتی ہو

کہ جیسے وہ کبھی گرا ہی نہ تھا

تم سمندر پار کرتی ہو

جیسے تم کوئی کشتی ہو

مگر پھر تمھیں یاد آ جاتا ہے کہ سمندر در اصل بارش ہے

جس کے ساتھ تم محوِ رقص تھی

سو تم اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر پھر سے اس کے ساتھ رقص کرنے لگتی ہو۔

٭٭٭

 

 

 

سائکاٹرسٹ

 

کل میرے سائکاٹرسٹ نے مجھے کہا:

’’جن لوگوں سے تمھاری نہیں بنتی، جو تمھیں دکھ دیتے ہیں، ان سے دور رہو! مگر خود کو صرف اپنے کمرے تک محدود نہ رکھو! اچھے دوستوں کے ساتھ لازمی کچھ وقت گزارا کرو‘‘

’’جی ہاں، میں ایسا ہی کروں گا‘‘، میں نے اسے اطمینان دلایا۔

 

میں اسے نہیں بتا پایا

میں خود کے ساتھ خوش نہیں ہوں

خود سے دور کیسے رہا جا سکتا ہے ؟

کیا وہ مجھے خودکشی کا مشورہ دے رہے تھے ؟

دوستوں سے کیا ملوں

میں تو ایک ایسا انٹرورٹ ہوں جو اپنے باقی جسم سے بھی نہیں ملنا چاہتا۔ میں نے اپنے دل سے نکلنا بند کر دیا ہے۔ میں بس دل کے کسی کونے میں بیٹھ کر کسی کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ رہی بات اچھے لوگوں سے ملنے کی تو اچھے لوگ اچھے جوتے اور اچھے کپڑے نہیں جو مناسب قیمت پر با آسانی دستیاب ہوں۔

 

کیا ہی گھٹیا ڈاکٹر ہے ! پڑھا لکھا جاہل! پڑھے لکھے جاہل سامنے والے سے اپنی بات منوا کے ہی دم لیتے ہیں اس لیے میں اس سے زیادہ بحث نہیں کرتا۔ ہم دونوں بس ایک دوسرے کا وقت برباد کرتے ہیں۔ اُسے لگتا ہے وہ مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے مگر وہ نہیں جانتا یہ تو بس میں نے اسے یقین دلایا ہوا ہے کہ وہ مجھ بہت اچھے سے جانتا ہے، مائی فٹ!

 

سائیکاٹرسٹ نے مجھے اچھی نیند لینے کا کہا ہے

اسے لگتا ہے نیند کسی ریل کی ٹکٹ ہے جو بڑی آسانی سے مل جائے گی

میں سو نہیں پاتا

جیسے کوئی مجھے نیند میں مار دے گا

میں سو نہیں پاتا

جیسے نیند نے اپنی چھاتیوں پر مرچی مل دی ہو

تاکہ میں اس کا دودھ نہ پی سکوں

 

سائیکاٹرسٹ نے مجھے خوش رہنے کا کہا ہے

اسے شاید نہیں پتہ خوشی ہماری پالتو بلی نہیں جو ہمارے کہنے پر ہمارے سینے پر آ کودے گی

میری ہمت جواب دے گئی ہے

ڈپریشن آپ کو وہ کچھوا بنا دیتا ہے

جو کہانی میں بھی نہیں جیتتا

میں زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ پاتا

جیسے میرے جسم میں خوشی کے ہارمونز ہی نہیں ہیں

مجھے اپنا آپ کسی غریب کا مکان لگتا ہے

میرا دل کسی خستہ حال چھت کی طرح بارشوں میں رستا رہتا ہے

 

واک سے سب ٹھیک کیسے ہو سکتا ہے ؟

یادیں قبریں نہیں جو اٹھ کر ہمارے پیچھے نہ آ سکتی ہوں

یادیں ہمارے اپنے ہاتھ، پیر ہیں جو ہمارے ساتھ ہی گھر لوٹ آتے ہیں۔

 

اگر کسی کی محبت میں گرفتار ہونا ہمارے بس میں نہیں ہے تو اسے بھلانا ہمارے بس میں کیسے ہو سکتا ہے ؟

 

مجھے گولیوں نے زندہ رکھا ہوا ہے

جیسے میں بیٹری پہ چلنے والا کوئی کھلونا ہوں

میں نیند کی گولی زبان پہ ایسے

رکھتا ہوں

جیسے بھکاری کی ہتھیلی پہ سکہ رکھتے ہیں

 

کئی بار

مجھے لگتا ہے

میں ایک مچھلی ہوں

جو پانی میں ڈوب کے مرنا چاہتی ہے

یا ایک پرندہ

جو آسمان سے کود کر مرنا چاہتا ہے

مگر وہ مچھلی تیرنا بھول سکتی ہے

نہ وہ پرندہ اڑان

مجھے جینا رٹایا گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

جلدی

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

سمندر بارش بننے کا انتظار تک نہیں کرتا

کناروں سے بھاگ کر

دہشتگردوں کی طرح نزدیکی جھونپڑیوں میں گھس جاتا ہے

سوروں کی طرح

کھیتوں کو تہس نہس کر دیتا ہے

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

قوس قزح بارش سے پہلے ہی

آسمان پر نمودار ہو جاتی ہے

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

رات کے ختم ہونے سے پہلے ہی

دن سورج کی طرح

پہاڑوں کے پیچھے سے

نکل آتا ہے

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

دن کے دروازے میں میری انگلی پھنس جاتی ہے

یا رات کے پتھر سے مجھے ٹھوکر لگ جاتی ہے

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

میرا بستر مجھ سے پہلے ہی اٹھ جاتا ہے

میرے جوتے پالش کھڑے ہوتے ہیں

آئینہ ہاتھ میں کنگھی لیے ہوتی ہے

دروازہ کا پلا مجھے ’’جلدی جاؤ‘‘ کا اشارہ کر رہا ہوتا ہے

 

تمھیں دیکھنے کی جلدی میں

دروازے میں انگلی کی بجائے

میرا دل آ جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حیرت

 

شہر والے بڑے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں

کہ رات کو شہر میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا

 

مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے

کہ کل زمین نے ہماری جدائی کے غم میں کروٹیں نہ بدلی ہوں ؟

٭٭٭

 

 

 

میرے ہاتھ۔۔ ۔۔

 

 

میرے ہاتھ اچانک کہیں غائب ہو جاتے ہیں

جب مجھے ایک انسان یاد آ جاتا ہے

پانی سے بھرا گلاس فرش پہ گر جاتا ہے

 

یا جب کسی ایک خاص نمبر پر کال کرنے کے لیے

موبائل اٹھا کر کان سے لگانے کی سوچتا ہوں

یا جب ایک الوداعی خط لکھنے کے لیے انگلیوں میں قلم پکڑنے کا ارادہ کرتا ہوں

میرے ہاتھ کہیں غائب ہو جاتے ہیں

 

وہ میرے پیچھے بھی نہیں ہوتے

شاید کوئی اسے اپنے پیچھے چھپا لیتا ہے

جیسے مائیں

شرارت کر چکنے والے بچوں کو پلو کے پیچھے چھپا لیتے ہیں

 

کوئی

میرے ہاتھوں کو مجھ سے کہیں چھپا لیتا ہے

جیسے یہ ہاتھ نہیں چھریاں ہوں

کہ جن کے ملتے ہی میں اپنی جان لے لوں گا۔

٭٭٭

 

 

 

تلقین

 

پھول

خزاں میں بھی

کانٹا نہیں بنتا

 

مشکل ترین وقت میں بھی اپنی اصل کو مت بھولو۔

٭٭٭

 

 

 

چند لمحے اور

 

وہ جو مر نہیں سکتے

انھیں نیند سے مت جگاؤ

انھیں چند لمحے اور

خود کو یہ یقین دلانے دو کہ وہ مر چکے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

؟؟؟؟

 

میں محبت میں ہارا ضرور ہوں

مگر میں اتنا بھی بے وقوف نہیں ہوں

جو خود کو الزام دیتا رہوں

میں اپنی بربادی کا ذمہ دار نہیں ہوں

دیوار گر جانے کی ذمہ داری کیسے لے سکتی ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

المیہ

 

 

میں لوگوں سے بولتا رہتا تو ہوں

مگر مجھے کوئی نہیں سنتا

شاید میں جہاں بھی جاتا ہوں میرے کمرے کی دیواریں وہاں میرے گرد پھیل جاتی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

بلا عنوان

 

میں کمرے میں بیٹھا ہوا ہوتا ہوں کہ میرے ہاتھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں

میرے پیروں میں جامنی پھول اگنے لگتے ہیں

 

میرا کمرہ مجھے بتاتا ہے

وہ مجھ سے پیار کرتا ہے

مگر مجھے اس کی باتوں پر یقین نہیں آتا کیونکہ

لڑکیوں سمیت اب کسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا

 

وہ لڑکی جو پرندے کی طرح اپنی چونچ سے تمھیں پیار کھلاتی ہے

ایک دن تمھیں اڑنا سکھائے بغیر ہی اڑ جاتی ہے

وہ لڑکی جو ماں کی طرح تمھارے کپڑے بدلتی ہے

ایک دن تمھاری گندی روح اتار کر تمھیں نئی پہنانا بھول جاتی ہے

وہ لڑکی جو تمھیں گلے لگنا سکھا کر تمھیں اس خدا کے پاس چھوڑ دیتی ہے جسے کوئی بھی گلے نہیں لگا سکتا

 

میں اپنے کمرے سے ایسے نکل جاتا ہوں

جیسے اس لڑکی نے مجھے دل سے نکال دیا تھا

 

میں اپنی ایک نظم کو گاڑی بنتے دیکھ کر اس میں سوار ہو جاتا ہوں

اور وہ شہر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتا ہوں

 

جنگل میں، میں چیونٹیوں کی ایک قطار دیکھ کر

ان کے پیچھے چلنے لگتا ہوں

اور ان کے غار میں داخل ہو جاتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک موزوں وجہ

 

ہم ٹھیک نہیں ہوتے

کہ کہیں انھیں یہ نہ لگے ہمارے زخم اتنی جلدی بھر کیسے بھر گئے۔

٭٭٭

 

 

 

یادوں سے لمبا آدمی

 

’’قد سے ہماری تاریخ کا پتہ چلتا ہے

ہم بونے ہوتے جا رہے ہیں:

ڈائنو سار سے چیونٹی تک کا سفر‘‘

 

یہ تمہید شاید کوئی نیا کہنے میں میری مدد کرے:

’’یادیں اور لمبا آدمی‘‘ بنیادی نکات ہیں جن پر میں نے بات کرنی ہے

 

یادیں:

1: ایک نوجوان

پھولوں کا گلدستہ ہاتھ میں لیے

کسی لڑکی کو پیش کر رہا ہے

 

ایک لڑکی، ایک نوجوان سے جس کے ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ ہے،

اس کے خواب لے لیتی ہے

 

2: ایک بنچ پر ایک لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ بیٹھی مسکرا رہی ہے

 

ایک بینچ بیٹھے ہوئے لڑکے پر مسکرا رہا ہے

 

مجھے بالکل لگ رہا ہے کہ میں بالکل اچھا نہیں لکھ پا رہا لہذا اب آدمی کی طرف چلتے ہیں:

 

لمبا آدمی:

آدمی اپنی عمر سے لمبا ہو سکتا ہے:  A

آدمی اپنے خوابوں سے لمبا ہو سکتا ہے: B

آدمی اپنے بستر سے لمبا ہو سکتا ہے: C

 

اب آدمی اپنے جوتوں میں سو چکا ہے ؛صبح جاگتے ہی اسے کام پر نکلنا ہو گا

اب وہ قطار میں کھڑا ہو گا

بالکل ایک چیونٹی کی طرح

اور یہی آدمی کی لمبائی ہے۔

٭٭٭

 

بچا ہوا دل

 

میں نے جب بھی اس کی طرف دیکھا

میں اس کی کھڑکی کے باہر مُسکراتا چاند نہیں تھا

میں تو اس کے دروازے کے آگے ہاتھ پھیلاتا فقیر تھا

 

میں نہیں جانتا

میں اپنی اداسی ظاہر کرنے کے لیے

کتنی منزلہ عمارت سے چھلانگ لگاؤں ؟

میں نہیں جانتا

میں اپنی اداسی ظاہر کرنے کے لیے

کتنی دفعہ خدا کے آگے گِڑ گِڑاؤں ؟

 

میں نے خود کو اس کے قابل بنانے کی بہت کوشش کی

مجھے یقین ہے

اب اس کی آنکھیں میرے زخموں سے گہری نہیں ہوں گی

میں نہیں جانتا

انسان کو کتنی سو گولیاں لگنی چاہییں

کہ اس کے زخموں پر ہونٹ رکھے جا سکے

میں نہیں جانتا

انسان کو کتنے گیلن آنسو بہانے چاہییں

کہ اس کو گلے سے لگایا جا سکا

میں نہیں جانتا

انسان کو کتنے ہزار گنا دکھی ہونا چاہیے

کہ اس کا سر گود میں رکھا جا سکے

 

میں نے اس کا انتظار کیا

جتنے عرصے میں ایک مڈل کلاس ایک خوشحال زندگی گزار سکتا تھا

 

میرے پاس جتنا دل بچا ہے

اس سے فقط چند نظمیں لکھی اور

چند سگرٹیں پھونکی جا سکتی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ثبوت

 

دل میں زیادہ درد ہوتا ہے

تو میں خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہوں

کہ میرا دل تو سینے کے دائیں طرف ہے

جو بالکل ٹھیک ہے

یہ تو سینہ معمولی سا درد کر رہا ہے

 

میں رونے لگتا ہوں

تو خود کو بتاتا ہوں

میں اداس نہیں ہوں

بلکہ میرے جسم میں شروع دن سے ہی زیادہ آنسو ہیں

جو میری آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں

مجھے ڈر ہے

میں کسی دن خود کو

اپنی ڈائری سے پھاڑی ہوئی نظموں کے ساتھ کوڑے دان میں پھینک دوں گا

یا ہینگر پر اپنے کپڑوں کے ساتھ لٹکا کر

الماری بند کر دوں گا

مجھے ڈر ہے

کسی دن پکڑے جانے کے ڈر سے

میں اپنی لاش کو بوری میں ڈال کر دریا میں پھینک دوں گا۔

٭٭٭

 

 

 

تابوت

 

دنیا کے ایک کونے میں جنگ ہو رہی ہے

اور اس کے دوسرے کونے میں

میری نظمیں لاشوں سے بھر رہی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

تابوت 2

 

یادیں اسی لیے بھاری ہوتی ہیں کہ ان میں

چھوڑ کر جانے والے لیٹ جاتے ہیں

ہر یاد ایک تابوت ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کہانی کے بعد کی کہانی

 

کہانیوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ

وہ ختم ہو جاتی ہیں

مگر زندگی چلتی رہتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اعتراف

 

ڈرپوک ہوں

پر اتنا بھی نہیں

کہ تم مجھے اپنے ہونٹ پیش کرو

اور میں انھیں چوم بھی نہ سکوں۔

٭٭٭

 

 

 

اعتراف 2

 

کسی کو یاد کرنے کا مطلب ہے کہ آپ انہیں پا نہیں سکتے

میں تمھیں یاد کرتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

ضرورت

 

اسے میری ضرورت ہے

ورنہ وہ کیوں مجھے خود کے اتنے قریب رہنے دیتا؟‘‘

 

’’ہاں بالکل! پھولوں کو اپنی حفاظت کے لیے کانٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

بیانیہ

 

ایک چڑیا اور ایک جنگی طیارے میں

زندگی اور موت کا فرق ہے

 

کوئی نہیں بتا سکتا

انسانوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں یا

ہتھیاروں نے انسان

 

جنگ صرف شروع ہوتی ہے

جنگ کا کوئی اختتام نہیں ہوتا:

صدیوں پہلے چلائی گئی ایک گولی

ماضی سے نکل کر مستقبل میں کسی بچے کو لگ جاتی ہے

 

جنگ ایک بیانیہ ہے کہ موت زندگی سے افضل ہے۔

٭٭٭

 

 

 

یاد رکھو

 

یاد رکھو

تمھارا دل کوئی پارک نہیں ہے

جہاں کوئی بھی جب چاہے آ جا سکتا ہے

 

کسی کو دوبارہ موقع مت دو کہ وہ آ کر تمھارے دل کے دو ٹکڑوں کے چار ٹکڑے کر دے

 

تمھاری گود انتظار گاہ نہیں ہے جہاں کوئی صرف کسی دوسرے کے آنے تک رہے

 

پیارے ! خود کے جذبات کی بچوں کی طرح پرورش کرو

ان کے لاڈ اٹھاؤ

مگر انہیں یہ بھی سکھاؤ

کہ کبھی بھی کسی اجنبی کی انگلی پکڑ کر اس کے پیچھے مت چلیں۔

٭٭٭

 

 

 

ملبہ

 

میرے پاس اتنا درد ہے

جس سے کس بھی آدمی کا دل کام کرنا بند کر سکتا ہے

مگر ستارہ مچھلی کی طرح میرے زخم خود بخود بھر جاتے ہیں

 

میں نہیں جانتا

میں نے زندگی کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی

وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی

مگر مجھے اس کے باوجود بھی اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا ہے

 

درد روز میرے دروازے پر ہاتھ پھیلائے آ کھڑا ہو جاتا ہے

اور میں اس کی ہتھیلی پہ اپنے جسم کا ایک ٹکڑا رکھ دیتا ہوں

 

میں ایک دیوار ہوں جو

کسی انسان کے اوپر تعمیر کی گئی ہے

میں

ملبے کے نیچے سے بلند ہوتی چیخیں ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

دوبارہ

 

ایک ناکام محبت کے بعد

ایک دوسری محبت کے لیے

خود کو منانا

کانٹوں پہ پھول اُگانے جیسا ہے

 

دوسری بار

محبت کرنا

معجزاتی طور پر

اپنے ملبے سے

اٹھ کھڑے ہونے جیسا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

آنسو

 

آنسو علاج نہیں

میں روتا جاتا ہوں

مگر میں ٹھیک نہیں ہوتا

 

کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے

آنسو بھی خون ہیں

جن کے بہنے سے میں ہر لمحہ موت کے منہ میں جا رہا ہوں

مجھے اپنے زخموں پر پٹی باندھنی چاہیے !

مگر کہاں ؟

 

میں تھک گیا ہوں

محبت ہمیں نہیں تھکاتی

پچھتاوے ہمیں تھکا دیتے ہیں

 

میں تھک گیا ہوں

وہ ہمیں تھکا دیتے ہیں

اس لیے نہیں کہ ہم آرام کر سکیں

بلکہ، اس لیے کہ ہم سب بھول جائیں

ان کا شروع سے ہی یہی منصوبہ ہوتا ہے

وہ بھولنے کے لیے ہم سے پیار کرتے ہیں

مگر پیار یاد رکھنے کا نام ہے

 

وہ پیار کے نام پر ہماری شخصیت نگل لیتے ہیں

جیسے بھیڑیا کسی بھیڑ کو صرف اس لیے کھا جائے تا کہ وہ اس کے پیٹ میں اس کے دل کے قریب رہے

کیونکہ اسے، اس سے پیار ہے

 

رونے سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتا

آنسو کشتیاں نہیں جو ہمیں پار لے جائیں

آنسو تو بلبلے ہیں جو ایک ہی آن میں غائب ہو جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

والیوم

 

تمہارے وعدوں کے شور میں

مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا

اپنی محبت کی آواز ذرا بڑھا دو۔

٭٭٭

 

 

 

یقین دہانی

 

میں محبت کرنے کے لیے اب بھی مان سکتا ہوں

بشرطیکہ کوئی مجھے ذرا سا یقین دلا سکے کہ کچھ عرصہ بعد

وہ میرے اندر ایک کنواں کھود کر مجھے اس میں نہیں دھکیلے گا۔

٭٭٭

 

 

 

سمائل پلیز!

 

ہمارے گھر کیمروں کی طرح ہیں

جن کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرانا پڑتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

پھڑپھڑاتے ہوئے

 

بات ’تم ٹھیک ہو ‘سے بہت آگے بڑھ چکی ہے

اب لوگ مجھ سے خیریت بھی نہیں پوچھتے

شاید وہ سمجھ گئے ہیں:

پرندہ حوصلے سے نہیں پروں سے اُڑتا ہے

 

لوگ مجھ سے دور بھاگتے ہیں

شاید وہ میری روح میں پڑی ان یادوں کو سونگھ لیتے ہیں جن کی تدفین ابھی تک نہیں ہوئی

 

میں سڑکوں پر خود سے ایسے بھاگتا ہوں جیسے میں خود کو پکڑ کر مار دوں گا

 

میں سارا دن اپنی ناکام محبت کی کہانی بھلانے کے لیے مختلف کہانیاں بُنتا رہتا ہوں

مگر میں جانتا ہوں

زندگی وہ بری کہانی ہے

جس میں، میں تم سے مل نہیں پایا۔

٭٭٭

 

 

 

کاش! ! ! !

 

کاش! میں اس لڑکی سے پنکھے کی طرح لٹک جانے کے بعد نہ بچ پاتا۔

٭٭٭

 

 

 

جسٹفائی می

 

نشے میں کی گئی محبت

اور ہوش میں لی گئی سیلفی میں

صرف ہم ہوتے ہیں

ہمیں صرف ہماری ضرورت نہیں ہوتی؛

زندگی کا بیک کیمرہ بھی ہوتا ہے

 

اگر تمھارے پاس

مجھے دینے کے لیے

پیار نہیں ہے

تو میرے ہونے کا کوئی اور جواز

ہرگز پیش مت کرو

مجھے ہمیشہ عاشق کا پوز

نہیں دینا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

احساس

 

یہ وہ دور ہے

جب دل سینوں سے پرندوں کی طرح اڑ رہے ہیں

مگر تم نے سینے سے تنہائی کا تکیہ لگا رکھا ہے

 

خود پہ

تنہائی کا مصنوعی پرفیوم مت چھڑکو

بوسوں کی خوشبو میں نہاؤ

تم مردہ نہیں ہو۔

٭٭٭

 

 

 

پروا

 

بہت بار میرے ذہن میں چپکے سے جا کر سوئے ہوئے خود کے منہ پر تکیہ رکھنے کا خیال آتا ہے

مجھ سے اپنی تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔

٭٭٭

 

 

 

زندگی کے سرہانے بیٹھے ہوئے

 

میرا دل میرے اندر تھکن سے چور اس غلام کی طرح دھڑک رہا ہے کہ جسے ہر حال میں مشقت کرنی ہے

ہم نے اپنے آئینوں کو مایوس کر دیا ہے۔

ہم بس مسلسل جیے جا رہے ہیں جیسے یہ زندگی کوئی بہت ہی اچھی چیز ہو۔ میں نہیں جانتا، کوئی ایسی عدالت کیوں نہیں ہے جو ابھی تک زندہ رہنے والوں کو سزائے موت سنا دے ؟

زندگی کوئی وعدہ تو نہیں

جسے آخری دم تک نبھانا چاہیے !

 

میں ہر وقت موت کا انتظار کرتا ہوں

جس دن موت آئے گی

میں اس سے لپٹ جاؤں گا

اور اس سے کہوں گا

شکر ہے آخر کار تم آ ہی گئی!

۔۔ ۔

کوئی کہاں مرا؟

کیسے مرا؟

اور کیوں مرا؟

اب اہم نہیں

جو مر گیا وہ خوش نصیب ہے

 

یہ سکون کی عدم دستیابی کا دور ہے

جسے نیند آ گئی

وہ خوش نصیب ہے

۔۔ ۔

میں اپنے خواب اور گولیاں ایک ساتھ چباتا ہوں

میں اپنا سر تکیہ پر رکھتے ہوئے ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے میرا سر خود ایک تکیہ ہو جس پر کسی پہاڑ نے سر رکھ دیا ہو

مجھے نیند آتی ہے تو میں اتنا خوش ہوتا ہوں کہ جیسے میں مر گیا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

محبت کے لیے

 

کیا انھیں محبت کبھی ملی بھی ہو گی؟

جو محبت کا نام سننا تک گوارا نہیں کرتے

مجھے نہیں لگتا!

 

جب رات ہوتی ہے

تو محبت سے محروم لوگ

خود کو رات کی سیاہی میں نچوڑ دیتے ہیں

تاکہ کسی کو ان کی دھڑکنیں نہ سنائی دیں

شاید وہ جانتے ہیں

ان کے دل اب دھڑکتے نہیں

بھونکتے ہیں

 

(میرا دل تمھیں مانگتا رہتا ہے

جیسے کسی دروازے کے باہر پڑا کتا

جو تب تک پڑا رہتا ہے

جب تک اسے کچھ ڈال نہیں دیتے ! )

 

جب بھی کوئی محبت کی بات چھیڑتا ہے

سینے میں ایک ہلچل مچ جاتی ہے

دل رسیاں تڑوا کر

کسی پاگل بیل کی طرح سامنے آنے والی ہر چیز کو

تہس نہس کرتا چلا جاتا ہے

 

جب بھی محبت کا نام سنتا ہوں

رو دیتا ہوں

اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہوں ؟

٭٭٭

 

 

 

چھلانگ

 

میں دریا میں کودنے کے لیے بھاگ رہا ہوں

میں نے اک آگ کی طرح

خود کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

آنسوؤں کا قصہ

 

سر درد کی شدت میں کئی بار مجھے لگتا ہے

میرے کندھوں پہ سر کی جگہ صرف درد ہے

 

درد میرے گرد دائرہ کھینچ دیتا ہے

جس کے اندر میں ایک چیونٹی کی طرح

مسلسل گھومتا رہتا ہوں

 

میں اپنے اندر لکھی ہوئی اداس نظموں کو پڑھتے ہوئے سِسکتا ہوں

میں اس بے نام ڈائری لکھنے والے کے لیے روتا چلا جاتا ہوں

میں بولتا ہوں تو کراہتی ہوئی کونج ہوں

چپ ہوتا ہوں تو گری ہوئی دیوار کی خاموشی ہوں

میں نے رونے کے لیے کسی دن کو مخصوص نہیں کیا ہے

سارے ہی دن میرے رونے کے ہیں

میں نے رونے کا کوئی کورس نہیں کیا مگر میں اس میں بہت ماہر ہوں

زندگی جتنا رلاتی ہے

اس حساب سے انسان کو رونے کے کم از کم سو طریقے تو آنے چاہییں

میں خود سے کہتا ہوں

مجھے جھوٹ موٹ کا رونا چاہیے

میں روتا رہتا رہتا ہوں جب تک کہ مجھے جھوٹ موٹ کا رونا نہیں آتا

میں رونے میں خود کفیل ہو چکا ہوں

مجھے رونے کے لیے کسی بھی وجہ کی ضرورت نہیں پڑتی

میری آنکھیں جانتی ہیں کہ اب ان کے رونے کا وقت ہے

 

زندگی بسترِ مرگ پر پڑے مریض کی طرح

میرے اندر آخری سانسیں لے رہی ہے

اور میرے آنسو میرے گالوں کو تھپکیاں دے رہے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

تبدیلی

 

وقت کے ساتھ چیزوں کی شکلیں بدل جاتی ہیں

بوسے زخم بن جاتے ہیں

اور دل مُٹھی بن جاتا ہے

جس سے ایک پورا انسان ریت کی طرح پھسل جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

فکر مت کرو! ! !

 

فکر مت کرو

یہ زندگی بس ایک بُرا وقت ہے

گزر جائے گا۔

٭٭٭

 

 

 

مہارت

 

کون میرے پاس ہے

کون نہیں

یہ اہم ہے

مگر مجھے تمھیں صرف یہ بتانا تھا کہ

زندگی اب دم ہلا کر مجھے گلیوں سے گزرنے نہیں دیتی

بلکہ پاگل کتا بن کر میرے پیچھے پڑ جاتی ہے

 

میں آہستہ آہستہ

اپنے اندر ڈوب رہا ہوں

جلد ہی میں سب کی نظروں سے اوجھل ہو جاؤں گا

 

کسی دن بیٹھے بیٹھے

میرا سر ڈھ جائے گا

 

میرے بازو دو زخمی پرندے ہیں

جو کبھی نہیں اڑ پائیں گے

 

میری آنکھیں دو زخم ہیں

جن سے خون رس رہا ہے

 

میں رونے میں کافی ماہر ہوں

میں رونے میں خود کفیل ہو چکا ہوں

مجھے رونے کے لیے کسی بھی وجہ کی ضرورت نہیں پڑتی

میری آنکھیں جانتی ہیں کہ اب ان کے رونے کا وقت ہے

 

میں نے اور کچھ کیا ہو یا نہیں مگر میں نے بہت آنسو بہائے ہیں

میں اتنا رویا ہوں

کہ آنکھوں کا حق ادا کر دیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

مشورہ

 

میری جان

خود پر

پانی ڈالو

تمھارے خیالات

تمھیں

جلا کر راکھ نہ کر دیں۔

٭٭٭

 

 

 

نیند

 

کہا جاتا ہے

فرعون نے ستر ہزار بچے مارے

کیونکہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے کوئی جوان ہو کر اسے قتل کر ڈالے گا

مگر مجھے لگتا ہے

وہ صرف انہیں بڑا ہونے کی اذیت سے بچانا چاہتا تھا

 

خدا کو نیند آتی ہے نہ اونگھ

مگر ہم تو انسان ہیں

ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم سو نہیں پاتے ؟

 

کاش! کوئی ایسی آیت ہوتی

جس میں نیند کو ہر عبادت سے بہتر بتایا گیا ہوتا

 

کاش! نیند کو پانی کی طرح پیا جا سکتا

کاش! نیند کو اپنے سرہانے رکھا جا سکتا

یا اوڑھا جا سکتا

کاش! نیند کو اپنے محبوب کے نام کی طرح یاد رکھا جا سکتا

کاش! نیند دبے پاوں آ کر ہمارے منہ پر تکیہ رکھ کر ہمیں ہر تکلیف سے نجات دلا سکتی۔

٭٭٭

 

 

 

وہ

 

وہ بولتی ہے

تو مجھے اس کی آنکھوں میں

رنگ برنگی مچھلیاں تیرتی نظر آتی ہیں

 

وہ کسی بھی انسان کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے پھول میں بدل سکتی ہے

 

وہ آنکھ مارتے وقت آسمان سے تارے چرانے والی

کوئی شیطان بچی لگتی ہے

 

وہ اتنی خوبصورت ہے کہ جیسے دل دھڑکتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک منظر

 

شکاری معاشرے میں انسانوں کے خوابوں کے پرندے صبح گھونسلوں سے نکلتے تو ہیں

مگر اکثر شام کو واپس نہیں پہنچ پاتے۔

٭٭٭

 

 

 

تیزی

 

زندگی

اتنی تیز ہو گئی ہے

کہ اب

پیڑوں کی بجائے سیدھا

میز،

کرسیاں

اور دروازے

اُگتے ہیں

اور لوگ

پیدا ہوتے ہی جوتے اور ٹائی پہن کر

گاڑیوں کی طرح

دفتروں کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

پلان

 

یہ کبھی نہ سوچو کہ تمھیں کھو کر وہ کسی دن ضرور پچھتائیں گے

وہ پچھتانے کے لیے تمھیں نہیں چھوڑتے

ان کا پلان پرفیکٹ ہوتا ہے

 

وہ تمھیں ایسے چھوڑ جاتے ہیں جیسے وہ محض تمھارے پاس سے گزر رہے تھے

وہ تمھیں چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تم ساری زندگی سمجھتے رہو

کمی تجھ میں ہی تھی

وہ تمھیں اتنے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ دیتے ہیں کہ چیونٹیاں بھی تمھیں اپنی غار میں لے جا سکیں

وہ تمھیں چھوڑ دیتے ہیں

تو تمھیں اپنی بے وقعتی کا احساس اتنی شدت سے گھیر لیتا ہے

کہ تمھارا اپنے ساتھ رہنے کا دل نہیں کرتا

تم چاہتے ہو کسی رات خود کو بستر پر سوتا چھوڑ کر وہاں سے بھاگ جاؤ

مگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے

کیونکہ

الوداع کے بعد

تم چل نہیں پاتے

تمھارا دل تمھارے سینے میں کانٹے کی طرح چبھنے لگتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

پلان 2

 

وہ تم سے گلے ملتے ہیں

جیسے دیواریں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک کمرہ مکمل کرتی ہیں

مگر جب تم گہری نیند سو جاتے ہو

وہ اچانک اپنی دیواریں نکال کر کہیں بھاگ کھڑے ہوتے ہیں

اور آسمان دھڑام سے تمھارے سر پر آ گرتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

پلان 3

 

وہ ہم سے ہر رابطہ منقطع کر دیتے ہیں

مگر ان کی یادوں کے پاس ہمارے دل کا پتہ ہوتا ہے

جو سیدھا اسی پتے پہ غم پوسٹ کر دیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

پلان 4

 

جب ہم اڑنے کے لیے پر پھیلاتے ہیں

یادیں بالکل اسی وقت کسی شکاری کی طرح

ہمارا نشانہ لیتی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

آہوں سے سینہ سیتے ہوئے

 

اداسی میں

میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا

کہ کہیں بولتے وقت وہ میرے لفظوں میں میری سسکیاں نہ سن لیں

 

گہری اداسی میں

میں خود سے بولنا بند کر دیتا ہوں

مجھے تب لگتا ہے

مجھے خود سے بہت سی ایسی باتیں چھپا لینی چاہئیں

جن کے جاننے سے میری زندگی کو کسی قسم کا خطرہ پیش آ سکتا ہے

___

میرے دوست مجھے فون کرتے ہیں تو میں ان سے بات نہیں کر پاتا

میں چاہتا ہوں ساری دنیا مجھے اُس کی طرح چھوڑ جائے

میں چاہتا ہوں سب مجھے اذیت دیں کیونکہ میں اسی لائق ہوں

میں چاہتا ہوں میں بس خاموش رہوں

اور مجھے دنیا میں کوئی بھی آواز نہ سنائی دے

جب تک کہ میں مر نہیں جاتا

 

کوئی مجھ سے بات کرتا ہے

تو مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے پوچھ رہا ہے

’’وہ تمھیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی‘‘

اور وہ یہ سوال پوچھتے وقت ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دہرا رہا ہے

’’تم اسی لائق تھے ‘‘

 

مجھے ایک مجسمہ بننا ہے

جس سے کوئی نہ پوچھے کہ وہ کیسا ہے

اور اس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے

___

 

میں ہر رات یہ خواب دیکھتا ہوں کہ میں کہیں جانے کی کوشش میں ہوتا ہوں اور

زندگی پھٹے پرانے کپڑے پہنے

میرے پیر پکڑے مجھے رک جانے کا کہتی ہے

مگر میں نہیں رکتا

ایک دوسرے خواب میں

میں خود کو کسی کاغذی جہاز میں بٹھا کر کسی بلند عمارت سے پھینک دیتا ہوں

 

اور ادھر

زندگی ہر بار

کسی بڑے ربڑ بینڈ کی طرح میرے ہاتھ سے چھوٹ کر بہت زور سے میرے منہ پر لگ جاتی ہے

مگر میں اسے کھینچنا نہیں چھوڑتا۔

٭٭٭

 

 

 

خواب

 

ایک خوب صورت خواب ایک درخت کی طرح ہوتا ہے

جس کے سائے میں بیٹھ کر آپ تھوڑی دیر کے لیے سستاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

دور کے ڈھول

 

پیار ایک سفید خرگوش کی طرح

قلانچیں بھرتا ہوا

ہماری طرف بڑھتا ہے

اور یکدم سے

ایک بھیڑیے میں بدل کر ہم پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

الوداع کے بعد

 

الوداع کے لیے ہاتھ ہلانا

صرف ایک طرف کی ٹکٹ ہاتھ میں تھما دینا ہے

 

تم اترنے تک نہیں جان پاتے

کہ تم ٹرین کے اندر ہو

یا ٹرین کے نیچے

 

تمھارا گھر تمھیں اجنبی سمجھ کر تم پر بھونکنے لگتا ہے جب تک کہ اسے کوئی بتا نہیں دیتا کہ تم اجنبی نہیں ہو

 

تم اپنے کمرے میں بے جان پڑے رہتے ہو

تم وہ گڑیا بن جاتے ہو

جس کے ساتھ کھیلنے والے بچے بڑے ہو چکے ہوں

 

تمھارے دوست تمھارے ساتھ بیٹھ کر

تمھاری خالی جیب کی بو سونگھ کر منہ پھیر لیتے ہیں

اور تم سمجھتے ہو

یہ سب محبت کی وجہ سے ہو رہا ہے

تم محبت کو ماں بہن کی گالیاں بکتے ہو

مگر اس سے کچھ نہیں بدلتا

 

تم اپنے کمرے کے اندر ایک اور کمرہ بناتے ہو

سو اب تمھارے گھر والے بھی تمھیں وہاں نہیں ڈھونڈ پاتے

تم سالوں تک اپنے بستر پر پڑے رہتے ہو

 

تمھیں مسلسل اپنے سینے سے ایک سڑے ہوئے

دل کی بو آتی ہے

مگر تم کم از کم اتنا تو جانتے ہو

کہ اسے نکال کر پھینکا نہیں جا سکتا

سو تم انتظار کرتے ہو کہ یا تو اس کے عادی ہو جاؤ یا کسی دن تعفن سے مر جاؤ۔

٭٭٭

 

 

 

پُل

 

ٹوٹا ہوا دل

ٹوٹے ہوئے پل کی طرح ہوتا ہے

جس پر سے

کوئی آ جا نہیں سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

الوداع

 

الوداع کے بعد

میں خود کو ویسے ہی

اٹھا کے گھر لایا تھا

جیسے کسی حادثے میں زخمی ہونے والے کو

گود میں اٹھا کر

اسپتال لے جاتے ہیں

۔۔ ۔۔

الوداع کہنا یہ بتانا ہے

کہ ہم ایک دوسرے کے لیے

کافی نہیں ہیں

کوئی کسی کے لیے کافی نہیں ہوتا

کوئی بھی

اور کچھ بھی!

۔۔ ۔۔

الوداع کسی پتھر کی طرح

دل کے پرندے کو زمین پر گرا دیتا ہے

الوداع کے موقع پر گلے ملنا

لاش کو گلے لگانا ہے

۔۔ ۔۔ ۔

مجھے ایک کہانی یاد آ رہی ہے

جس میں

ایک لڑکی کو ایک مچھوارے سے پیار ہو جاتا ہے

وہ اسے حاصل کرنے کے لیے

آخر کار ایک مچھلی بن کر سمندر میں غوطہ لگا دیتی ہے

اسے یقین ہوتا ہے کہ منگل کے دن لڑکا اسے جال میں گھیر لے گا

مگر

دو دن بعد مچھوارا اس لڑکی کے یوں اچانک گم ہو جانے پر سمندر میں چھلانگ لگا دیتا ہے

اور وہ مچھلی باقی مچھلیوں کے ساتھ مل کر اس کی لاش کھانے لگتی ہے

۔۔ ۔۔ ۔

الوداع کہنا

کسی کو گھٹ گھٹ کے مرنے کا حکم دینا ہے

 

الوداع کہنا

کسی کو مکمل نگل لینے کے بعد اس کی روح کو اُگلنا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حادثہ؟

 

پیار میں ہو کر

زندگی جینا

ڈرنک ہو کے ڈرائیو کرنے جیسا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کچھ نہ کچھ بن جانے کا خواب

 

مجھے ایک یا دو مہینے کے لیے بارش بننے دو۔ میں آسماں بھی بننا چاہتا ہوں، پتہ نہیں کیوں ؟

درد

ریل گاڑی کی طرح

میرے جسم میں سے گزرتا ہے

میرا سر اسٹیشن ہے

میں ایک شیملائنی برڈیلاس ہوں جس کا مطلب ہے ’’کوئی میرا ما تھا نہیں چومتا۔‘‘

میں ایک مردہ گلاب کی طرح درد سے بلبلاتا ہوں۔ میں اپنی حالت کو سٹیبلانڈیو سیمار کہوں گا جس کا مطلب ہے ’’خوشی محسوس نہ کر سکنے والا‘‘

کاش! موت رونے کی طرح آسان ہوتی

زندگی قہقہے کی طرح نایاب ہو چکی ہے

 

میں کبھی کبھار سو بھی جاتا ہوں

لیکن میرے دل پر میری آنکھوں سے زیادہ سیاہ حلقے بنے ہوئے ہیں

مختصر یہ کہ،

محبت نے مجھے ایک کہانی کی طرح نا مکمل چھوڑ دیا

ادھ جنمے

یا ادھ مرے انسان کی طرح

 

میں اپنے خوابوں پر روتا ہوں

جیسے ایک بچہ بارش میں مرے اپنے کبوتروں پر روتا ہے

مجھے کوئی مرا ہوا کبوتر بننے دو!

٭٭٭

 

 

 

رہائی

 

کبھی کبھی

ایک گود بھی

پنجرہ ہو سکتی ہے

 

کبھی کبھی

جدائی

بہترین رہائی ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

غبارے

 

مجھے ایسا لگ رہا ہے میرا سارا جسم بھرے ہوئے غباروں سے بھر چکا ہے

اور میرے اندر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بیسیوں بے رنگ غبارے پھول رہے ہیں

جیسے کسی درخت کے تنے پر ہر جگہ بہت بڑے آبلے پڑ رہے ہوں

یا کسی خرگوش کو حاملہ چوہیوں جتنے پھوڑے نکل رہے ہوں

 

میں ایک کمرے کی طرح آہستہ آہستہ اوپر ہوا میں اٹھ رہا ہوں

 

اگر میرا جسم ایک خواب میں بدل گیا ہے

تو اس کی تعبیر کیا ہے ؟

یا یہ سب صرف مجھے ڈرانے کے لیے ہو رہا ہے ؟

 

مجھے سوئیوں کو تلاشنا چاہیے !

ہاں !

مگر رر

ان غباروں کو پھوڑنے کے بعد

ان کی پیپ تو میرے اندر ہی رہ جائے گی

نہیں، غباروں میں ہوا ہوتی ہے

 

میں اوپر کی طرف اڑنے لگا ہوں

مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ

میں آسمان کی طرف گر رہا ہوں

کیا میرے ساتھ یہ سب ہونا اچھی بات ہے ؟

 

میرا دم گھٹ رہا ہے

یہ غبارے حد سے زیادہ پھولے

اور میں بھی ان کے ساتھ پھٹ گیا تو؟

کوئی غبارہ میرے حلق میں بھی پھول گیا تو؟

 

ایک آدھ بار تو مجھے ان غباروں میں

تلواروں کے اوپر معلق ہوتے کٹے ہوئے سروں کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے

 

مجھ لگتا ہے

جب میں سو رہا ہوں گا

تب کسی نے مجھے یہ غبارے کھلا دئیے ہوں گے

ہاں بالکل!

میں نے سنا تھا

ایک آدمی کی محبوبہ نے اس کے منہ میں

بوسے ٹھونس ٹھونس کے اسے مار دیا تھا

 

اف! مجھے تو قے بھی نہیں آ رہی

مجھے شاید کچھ اور سوچنا چاہیے

جیسے کہ فی الحال مجھے سب بھول کر یہ سوچنا چاہیے کہ

کمرے کی دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز ہونی چاہئیں

تا کہ ان کے نیچے دیواروں پر نظر نہ آنے والی خوفناک مناظر چھپ جائیں !

یا یہ کہ

ہمیں چاہیے کہ کم از کم ان مکڑیوں کے لیے

ایک الگ کمرہ تعمیرہ کریں

جو اب ہمارے گھر کے افراد کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں

 

اور سب سے لازمی بات:

کبھی بھی اپنے اندر ہوا نہیں پھونکنی چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

وجود اور عدم

 

وہ اتنی خوب صورت تھی

کہ میں بھول گیا

میرا بھی کوئی وجود ہے۔

٭٭٭

 

 

 

شاعر

 

کاش! ستارے بارش کے قطرے بن کر میری پیشانی پر گرتے اور میرے خیالات کی تپش کو کچھ کم کرتے: خود کے بارے میں سوچتے ہوئے میں خود کو ہتھکڑیوں میں پاتا ہوں،

اقرارِ جرم کرتے ہوئے

 

تم ہمیشہ مجھے ایک خواب کی یاد دلاتی ہو جہاں میں ایک دریا میں ڈوب جاتا ہوں

تم مجھے اس پُل کی یاد دلاتی ہو جو خودکشی کے لیے مشہور ہے

تم مجھے کمرے کے اس کونے کی یاد دلاتی ہو جہاں میں روتا ہوں: میں تب تک روتا ہوں جب تک کہ کوئی آہ نہیں بن جاتا

میں تمھیں پانے کے خواب سے شروع ہو کر تمہیں کھونے کی حقیت پر ختم ہوتا ہوں۔ میری قسمت کے بعد کوئی کاما نہیں ہے، صرف ایک فل اسٹاپ ہے

 

کئی بار، میں ایک بچہ بن جاتا ہوں جس کے پاس کوئی کھلونا نہیں ہوتا

میں اپنی نظموں کے ساتھ کھیلتا ہوں

میں انھیں چیونٹیاں سمجھ کر ان کے گرد دائرے کھینچتا ہوں تا کہ وہ کہیں نہ جا سکیں

 

کاش مقدر کوئی موٹر سائیکل ہوتا

جس پر میں تمھیں اپنے پیچھے بٹھا کر ان یادوں کے سفر پر لے جاتا

جو ہم کبھی ساتھ میں بنانا چاہتے تھے

 

میں صرف خواہش کر سکتا ہوں

کچھ کر نہیں سکتا

اور یہی بات مجھے ایک شاعر بناتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کوڑے دان

 

ضائع ہونے والے دن

شاعری بن جاتے ہیں

ضائع ہو چکی محبت

شاعری میں ڈھل جاتی ہے

 

 

ضائع ہونے والی اشیاء کو ہم شاعری میں پھینک دیتے ہیں

ایسی چیزوں میں

انکار سے کچلی ہوئی محبت

مسلا ہوا سرخ گلاب

اور وہ آنسو ہیں

جنہیں خوشی کے موقع پر بہانے کا ارادہ تھا

 

ضائع شدہ چیزوں کو کوڑے دان میں پھینکنا چاہیے

بھوکے لوگوں کو کچرے سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

آئینہ

 

اس نے کتاب کھولی

اس میں اپنا چہرہ دیکھا

اور انگلیوں سے اپنے بال درست کر کے

شہر میں نکل گیا۔

٭٭٭

 

 

 

آنسو خاموش چیخیں ہیں

 

آنسو

سوال ہے:

’’میری غلطی کیا تھی؟‘‘

 

آنسو

ذلت ہے

جو

ہمارے منہ پر تھوکی گئی

 

آنسو

وہ جوانی ہے

جو ضائع کر دی گئی

 

آنسو غیر ارادی بد دعائیں ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک سوال

 

تم چیونٹی کا کان نہیں مروڑ سکتے

وہ کوئی نالائق بچہ نہیں ہے جو ہر رات اپنے بستے میں

جوتوں سمیت لیٹ جاتا ہے

 

تمچیونٹی کو وہ سب باتیں نہیں سنا سکتے

جو تم اپنی بیوی کو کھانا جلانے پر سناتے ہو

وہ ہینڈز فری لگا کر جتنے چاہے گانے سن سکتی ہے

 

چیونٹی کا سانس کبھی نہیں پھولتا

کیونکہ اس کی محبوبہ اس کا کریڈیٹ کارڈ مانگتی ہے

نہ روز زنگر برگر کھانے کی فرمائش کرتی ہے

________

تم نے سوچا ہے

چیونٹیاں

اگر انسانوں میں بدل گئیں تو کیا ہو گا؟

 

شاید وہ انسانوں سے اچھا کر پائیں

یا

شاید وہ

انسانوں سے زیادہ کھانا شروع کر دیں

اور چیونٹیاں جو کہ

اب نہیں رہیں

ان کا حصہ بھی ہڑپ کر جائیں

 

میں سوچتا ہوں

ایک کتا جب ایک انسان کو دیکھتا ہے تو وہ اسے کیسے دکھے گا؟

مطلب جیسے کہ ہمیں کتے عجیب الخلقت نظر آتے ہیں

ان کے لیے بھی تو ہم عجیب ہوں گے ؟

ڈراونے ؟

 

میں سوچتا ہوں

ایک کتے کے ذہن میں ایک گاڑی کی تصویر کس چیز کے مشابہ ہو گی؟

کیا وہ اسے ایک ہاتھی۔۔ ۔۔ ۔۔ نہیں

شاید دنیا کا پہلا کتا گاڑی دیکھ کر بے ہوش ہو گیا ہو گا

 

اور میں سوچتا ہوں

شیطانوں کے لیے شیطان کا تصور ایک انسان کا ہو گا

کیا انھیں انسان واقعی ایسے لگیں گے

جیسے ہم شیطان کو تصور کرتے ہیں ؟

 

کیا تصور

حقیقت کے بارے میں سوچ سکتا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

کشکول

 

تم روتے ہو

اور پھر اس پر اندر ہی اندر روتے ہو

یہ جانے بغیر ہی کہ رونا شرمناک نہیں ہے

اور خود کو بے بس پانا کوئی بری بات نہیں ہے

 

تم روتے ہو

اور خود کو رونے سے منع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہو

جیسے کوئی بڑا کسی بچے کو چپ کراتا ہے

 

تم بڑی چالاکی سے ٹھیک ہونے کا دکھاوا کرتے ہو

جسے لوگ حقیقت مان لیتے ہیں

اور ایک دن جب تم سچ میں ٹھیک ہوتے ہو

تو لوگ اسے دکھاوا سمجھنے لگتے ہیں

مجبوراً

تم پھر سے دکھاوا کرنے لگتے ہو

اور وہ تمھاری طرف اپنی مسکراہٹ کے سکے اچھال دیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

وقت

 

وقت زخم نہیں بھرتا

بلکہ ہماری آنکھیں دھندلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے زخم دکھائی نہیں دیتے۔

٭٭٭

 

 

 

اداسی

 

زندگی اتنی بھی مختصر نہیں ہے کہ اسے سو کر گزارا جا سکے:

گہری نیند سو جانے کے بعد کیا انسان یہ نہیں بھلا سکتا کہ وہ سو گیا ہے اور اسے اٹھنا ہے ؟

 

کوئی مجھے دو سروں میں کاٹ سکتا ہے ؟

میرا ایک سر ساری زندگی سونا چاہے گا

کوئی مجھے چار ہاتھوں میں کاٹ سکتا ہے ؟

میرے دو ہاتھ میرے سینے پر پڑے رہنا چاہتے ہیں

کوئی مجھے دو دلوں میں چیر سکتا ہے ؟

ایک دل میرے پاس رہنا چاہتا ہے:

میں نہیں جانتا دنیا میں کوئی ایسی مخلوق ہے کہ جس کے ایک سے زیادہ دل ہوں

مگر

میں دو دلوں پر مشتمل ہوں

دوسرا دل مجھے بتاتا ہے کہ مجھے کبھی محبت نہیں کرنی ہے

اور مں اتنا اداس ہوں

جیسے کہ میں سارے کا سارا ایک دل ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک منظر

 

زندگی مدتوں سے بند کمرہ ہے

جہاں

میں اپنے وجود کے پنکھے سے لٹک رہا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

تمسخر

 

کوئی پرندہ

جب پرواز چھوڑ کر زمین پر چلتا ہے

تو مجھے لگتا ہے

وہ انسانوں کی نقل اتار رہا ہے

جیسے کوئی تندرست انسان

کسی لنگڑے کے سامنے

لنگڑا کر چلنا شروع کر دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

خطرے کی گھنٹی

 

میں لوگوں کے ساتھ زیادہ باتیں نہیں کرتا

کیونکہ پھر میں ان پر بھروسہ کرنے لگ جاتا ہوں

 

کوئی مجھ سے پیار سے پیش آتا ہے

تو میں اپنا سر اس کے کندھے پہ رکھنے کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہوں

چاہتا ہوں وہ مجھے اپنی گود میں لِٹا کر میرا ما تھا چومے

مگر یہ اتنا آسان نہیں

بھیڑیے کی گود میں سر رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے

لہذا

میں جب بھی کسی بظاہر اچھے انسان سے ملتا ہوں

تو وہاں سے جتنا جلدی ہو سکے

نکلنے کی کوشش کرتا ہوں

کیونکہ بھروسہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ایں دل برائے فروخت نیست

 

مجھ میں اتنی تلخی ہے کہ پورے سمندر میں کڑواہٹ گھول سکتا ہوں

سو میں اکثر خاموش رہتا ہوں

اتنا خاموش کہ مجھے خود پر بے زبان ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے

 

میں اپنے حواس کے دروازے کھڑکیاں بند کر کے اپنے دل پر لکھ لیتا ہوں:

’’ یہ گھر کرائے کے لیے خالی نہیں ہے۔‘‘

’’ یہ مکان برائے فروخت نہیں ہے۔‘‘

 

جب سب سو جاتے ہیں میں جاگتا رہتا ہوں تا کہ خود کو کچھ باتوں کا مفہوم سمجھاتا رہوں:

1: محبت عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں

سب کچھ ’کھو دینا‘

2: خواب کشتی نہیں ہے جس میں آدمی سوار ہو سکے

3: دنیا میں شاید ہی کوئی کندھا بے تاج سر کے لیے ہو

4: بھوک ایک بھدا نام ہے لہذا اسے ’یاد‘  کہنا چاہیے

مثلاً: بچے کو ماں کی مامتا یاد آ رہی ہے ؛وہ اس کے سینے سے لپٹنا چاہتا ہے

5: میرے جسم پر جگہ جگہ نظمیں اگتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے خود کو قابلِ کاشت بنا لیا ہے

6: ہم زندگی ازبر کر کے جی رہے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

میں اور تم

 

میں نے آنکھوں سے دریا بہا دیا

اور تم اس میں بھی

پتھر پھینک پھینک کر

لہریں بنا کر لطف اندوز ہوتے رہے

٭٭٭

 

 

 

محبت اور جنگ انورسلی پروپورشنل ہیں

 

جب ہم گہری نیند سو جاتے ہیں

تو جنگ چپکے سے آ کر اپنا کوڑا کرکٹ ہمارے صحن میں پھینک دیتی ہے

 

ہمارے دن کا آغاز کچرہ اٹھانے سے ہوتا ہے

ہم کچھ آہوں کو بریڈ پر مل کر ٹھونس لیتے ہیں

اور شہر میں نکل پڑتے ہیں

( شہر جدید جنگل ہے جس کے جانور انسان ہیں۔ )

 

ہمارے دن کا آغاز ایک رات سے ہوتا ہے

دن صرف روشنی کا نام نہیں ہے اور رات صرف اندھیرا نہیں ہوتا

کچھ دن رات سے زیادہ تاریک ہوتے ہیں کیونکہ ان میں دلوں کی سیاہی گھل چکی ہوتی ہے

 

ایک رات کا آغاز ضرور ایک جنگ سے ہوا ہو گا

جب بچوں کو کسی پہاڑی کے پیچھے یا کسی جنگل میں چھپنے کی جگہ نہیں ملی ہو گی

 

جنگ اور ہجرت کے دنوں میں دن کے نام پر صرف روشنی ہوتی ہے

تاکہ لوگ اپنی تباہی کا جائزہ لے سکیں:

(ملبے سے ملنے والی لاشیں ایسے نظر آتی ہیں

جیسے مکانوں کو مردہ بچے ہوئے ہوں۔ )

 

میں اور تو کچھ نہیں کر سکتا

مگر جن کے ہاتھ جنگ نے چھین لیے ہیں

ان سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر

اس نظم کو نا مکمل چھوڑتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

معیار

 

تمھارے پیروں میں پڑا ہوں

کیا اب تمھارے معیار پر پورا اتر چکا ہوں ؟

٭٭٭

 

 

 

مزاحمت

 

سنو

اگر وہ یہاں ہماری زمین پر قابض ہیں

تو وہاں ہماری جنت پر قبضہ کرنے سے بھی نہیں کترائیں گے

 

پنڈال سج چکا ہے

ان کے ہاتھوں میں ان کی لاٹھیاں ہیں

اور ہماری ہتھیلیوں پہ ہمارے سر ہیں

آنسو گیس رونے میں زندگی گزارنے والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی

ہم لاشیں ہیں

ہمیں دوبارہ نہیں مارا جا سکتا

 

وہ ہماری تاریخ کو یرغمال بنا کر ہمارے مستقبل کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں

مگر ہمیں ان کا سامنا کرنا ہے

ہمیں ان کی بندوقوں اور توپوں کے آگے ڈٹ جانا ہے

بندوقوں سے سوچ اور توپوں سے کسی کی روح کو نہیں مارا جا سکتا

 

وہ ہمارے پہاڑوں اور جنگلوں کو زنجیروں میں نہیں جکڑ سکتے

وہ ہمارے دریاوں کو اپنے تالابوں میں قید نہیں کر سکتے

 

لہذا بہادر مرد اور عورتو

مزاحمت اور احتجاج کے لیے آگے بڑھو

اپنی آئندہ نسلوں کی نسل کشی کے لیے ابھی سے آواز اٹھاؤ

جاگے رہو جب تک کہ

تمھیں سکون کی نیند کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

٭٭٭

 

 

 

کھنڈر

 

ٹوٹے ہوئے دلوں میں کوئی نہیں رہنا چاہتا

کھنڈر رہنے کے لیے نہیں ہوتے

ان کا صرف تماشا کیا جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ملکیت

 

آدمی نے عورت کے بدن کے

ہر ہر حصے پر

بوسوں کی مہریں لگا دیں

تا کہ وہ اس کو اپنی ملکیت میں لے سکے

اور ایسا ہوا بھی

اس کا جسم اس کی ملکیت میں آ گیا

مگر

وہ اس کی روح کو چوم نہ پایا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

دھواں

 

میں اپنا سینہ سگرٹوں کے دھوئیں سے بھر رہا ہوں

تاکہ وہاں تم نظر نہ آ سکو۔

٭٭٭

 

 

 

راستہ

 

سونے کے لیے

انسان کو پہلے اپنے اندر روتے ضدی بچے کو

ایک ماں کی طرح سلانا ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

محتاط رہو

 

جیسے بھیڑیے ڈر سونگھ کر حملہ آور ہوتے ہیں

لوگ تم میں محبت سونگھ لیتے ہیں

اور سینہ چیر کر تمہارا دل نکال لیتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

مجھے گلے لگنا سکھاؤ

 

میں نے گلے لگنا ہے

کسی بھی انسان کے

اگر کوئی مجھے اجازت دے

یا بڑھ کر مجھے خود ہی گلے لگائے

گلے لگنا ایک دوسرے کی روح

کو خوش آمدید کے ہار پہنانا ہے

 

مجھے گلے لگاؤ

تاکہ ثابت ہو جائے کہ رات کی تاریکی میں اب بھی کسی دوسرے انسان پہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے

 

میرے پاس آ کر بیٹھو

میں بہت تنہا ہوں

میں نہیں چاہتا

کہ لوگ مجھے خدا سمجھیں

اور صرف ضرورت کے وقت مجھے یاد کریں

 

مجھ سے باتیں کرو

خاموشی پیتے پیتے

میں لفظوں کا ذائقہ بھول چکا ہوں

 

میں بہت زیادہ اداس ہوں

سنا ہے لوگ اتنی اداسی میں خود کی جان لے لیتے ہیں

 

مجھے پیار سے سمجھاؤ

کہ اگرچہ زندگی مشکل ہے

مگر ہم بھی تو جی رہے ہیں

 

مجھے پیار سے سمجھاؤ

اور میں نہ سمجھوں تو

مجھے گلے سے لگا لو

ہو سکتا ہے

گلے لگانے سے کوئی ٹھیک نہ ہوتا ہو

مگر اس سے اُسے یہ احساس تو ہوتا ہے

کہ آپ اُسے اِس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

٭٭٭

 

 

 

جنگ

 

الجھے بالوں والے لوگوں کے خیالات ان کے بالوں سے زیادہ الجھے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ہچکی

 

ایک کو چومتے وقت

دوسرے کو نہ سوچو!

 

بوسے تمہارے گلے میں اٹک جائیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

غزل

 

ایک بھی ڈھنگ کا ہم کام نہیں کر سکتے

ہم محبت بھی سرِ عام نہیں کر سکتے

 

’’غم نہ کر، سب اچھا ہو جائے گا‘‘ کہنے والے

میری اک صبح کو بھی شام نہیں کر سکتے

 

گولیوں کا تو فقط اتنا ہی بس چلتا ہے

نیند آ جاتی ہے آرام نہیں کر سکتے

 

کون پاگل ہے جسے نیند نہیں چاہیے ہے ؟

کون وحشی ہے جسے رام نہیں کر سکتے ؟

 

یا ٹھہر سکتے ہو یا چھوڑ کے جا سکتے ہو

اک کہانی کے دو انجام نہیں کر سکتے

٭٭٭

 

 

 

چند مطلعے

 

وہ کہیں بھی ہو مگر یاد پہنچ جاتی ہے

پھول گھر میں بھی ہو خوشبو گلی میں آتی ہے

 

کہا کہ نیند سے پہلے کا حادثہ مت رو

میں رو پڑا تو مجھے خواب نے کہا مت رو

 

اُس نے اک اور سے محبت کی

میں نے دیوار سے شکایت کی

 

تم ہو اور پیہم تمہاری یاد ہے

زندگی مجھ کو زبانی یاد ہے

٭٭٭

 

ماہیے

 

سینے میں سمندر ہے

ڈوبا تو ہوں میں لیکن

پانی مِرے اندر ہے

 

الجھن ہے بڑی کوئی

اب خواب تو آتے ہیں

پر نیند نہیں آتی

 

ٹپکا ہی نہیں آنسو

اک شہر مگر بھیگا

روئی ہے کوئی خوشبو

 

نکلی ہے تِرے پیچھے

پاگل سی سڑک کوئی

چلتی ہی چلی جائے

 

رستے سے ملے سکے

گالوں پہ پڑے بوسے

جو لے لے ہوئے اس کے

 

کھونا بھی ضروری ہے

کچھ خواب کرو پورے

تو نیند ادھوری ہے

 

سب حرف مٹا دوں گا

دل خط تو نہیں کوئی

جس کو میں جلا دوں گا

٭٭٭

 

 

 

پینتیس اشعار

 

میں سمجھتا تھا پیار کاجل ہے

تم نے آنکھوں میں دھُول جھونکی ہے

 

مختصر زندگی میں بھی میں نے

تم سے تفصیل سے محبت کی

 

کچھ تو ہو گا کہ زرد ہو گیا ہوں

ایک گلشن نُما کی بانہوں میں

 

 

 

میری پیشانی پر رکھ اپنے ہونٹ

تپتے ماتھے پہ برف رکھتے ہیں

 

تم پہ فوراً کی زندگی ضائع

وقت ضائع نہیں کیا میں نے

 

کچھ تو ان آنسوؤں سے آگے بڑھو

دل سے پہلے کی کوئی بات کرو

 

بچھڑتے وقت کوئی کس طرح کہے گا تمہیں

مجھے گلے سے لگاؤ مجھے بچھڑنا ہے !

 

یہاں زمین میں بارود ہم نے بویا ہے

یہاں درخت نہیں اُگتے آگ اُگتی ہے

 

میں خواب اب بھی تمھارے ہی دیکھتا ہوں مگر

وہ بات الگ ہے مجھے نیند اب نہیں آتی

 

ہو گئی پیچیدہ تیری زُلف سے

زندگی سادہ سی کوئی بات تھی

 

ہو بھی سکتا ہے کہانی ہو فقط یہ دنیا

ہو بھی سکتا ہے کہانی ترے بارے میں نہ ہو

 

یادیں تصویروں کے وہ البم ہیں جو

پھینکے یا جلائے نہیں جا سکتے

 

میری بنتی بھی تھی ناقدری مِرے دوست کہ میں

کچھ ضرورت سے زیادہ ہی تمھیں مل گیا تھا

 

میں ضرورت سے زیادہ ہی تمھیں چاہتا ہوں

اور اس کی مجھے تنخواہ نہیں ملتی ہے

 

کوئی سخی کہیں موجود ہے بتا دو مجھے

مجھے ذرا سی محبت ادھار لینی ہے

 

کیا عجب جنگ ہے محبت بھی

اس میں فاتح کو پھول ملتا ہے

 

میں چپکے سے خواب کی کنڈی کھولتا ہوں

وہ اکثر ہی رات گئے گھر آتا ہے

 

ورنہ وہ بھی تِرا پاگل ہوتا

شکر ہے کیمرے کا دل نہیں ہے

 

زبانی یاد ہیں ساری کتابیں

تمہارا دل مجھے آتا نہیں ہے

 

پار سینے کے ہو گیا ہے وہ

دل ملا تھا جو ہم کو تیر ہوا

 

آسماں سے اترنا پڑتا ہے

دل کو کوئی سڑک نہیں جاتی

 

اس کا دل مجھ میں بھی دھڑکتا ہے

ایک لڑکی ہے پر مکر رہے

 

میری آنکھوں کے میٹھے پانی سے

وہ بدن کو گلاب کرتا ہے

 

وہ سنوری اور ایسے خوب سنوری

کہ جیسے میر کی تازہ غزل ہو

 

کس طرح میں لاؤں لہجے میں مٹھاس؟

زندگی مجھ سے زیادہ تلخ ہے !

 

میں سر زمینِ محبت کا ایک باشندہ

یہاں پہ آپ سے آنکھیں لڑانے آیا ہوں

 

تمہاری یاد میں مشغول ہو گیا تھا میں

خدا سے گفتگو کرنی تھی یاد ہی نہ رہا

 

اب نام بھی لیتا نہیں ہرگز میں تمھارا

لیکن کسی بھی طور یہ لکنت نہیں جاتی

 

وہ مل نہیں سکا ڈھونڈا اگرچہ چاروں طرف

اتر رہا ہوں زمیں میں وہیں کہیں ہو گا

 

سڑک پر کسی نے مجھے کیوں نہ روکا! ؟

’’دکھاؤ! اداسی کا پرمٹ کہاں ہے ؟‘‘

 

کسی کے چار جانب دائرے ہیں

کسی پر آ گیا پرکار کا دل

 

گھڑی گھڑی مجھے یکدم سے یاد آتے رہو

مجھے بتاتے رہو زخم اور گہرا کروں !

 

وہ جو خوابوں میں گھر بنایا تھا

قید اس کے در و دیوار میں ہوں

 

ہمارے واسطے دنیا بنی ہے

ہماری سوچ کا محور غلط تھا

 

مجھے بھی پیار کر سکتا ہے کوئی

میں اپنے بارے میں یکسر غلط تھا

٭٭٭

تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائلیں فراہم کیں

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل