ت لاش
(ہجر و کرب سے ماخوذ نظمیں)
محسن خالد محسنؔ
ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں
ت لاش
(ہجر و کرب سے ماخوذ نظمیں)
محسن خالد محسنؔ
انتساب
پیاری بیٹی ایمن زہرا
یہ کتاب نہیں
یہ میرا دل ہے
جو تمہارے ہاتھوں میں ہے
ہر حرف تمہاری مُسکان کی بازگشت
ہر صفحہ تمہاری یاد کی خوشبو لیے ہوئے
دوری لمبی ہے
مگر میری دُعائیں تمہارے ساتھ چلتی ہیں
تم وہ لفظ ہو
جو میری روح میں زندہ ہے
ہر ورق تمہیں چھُو کر گزرے
اور میری محبت کی روشنی چھوڑ جائے
یہ تحفہ نہیں، میری محبت کی پہچان ہے
ہر نظم، ہر مصرعہ تمہارے لیے زندہ ہے
چند باتیں
محسن خالد محسنؔ
"ت لاش” میری شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے جس میں صرف نظمیں شامل ہیں۔ اس سے پہلے 2014 میں پہلا شعری مجموعہ "کچھ کہنا ہے” منظر عام پر آیا تھا۔ 2016 میں دوسرا شعری مجموعہ "دھُند میں لپٹی شام” شائع ہوا۔ پہلے مجموعے میں صرف غزلیات شامل تھی جبکہ دوسرے مجموعے میں غزلیات کے علاوہ نظمیات بھی شامل تھیں۔ اس مجموعے میں صرف نظمیات شامل ہیں۔ یہ نظمیں یوں سمجھ لیجیے کہ میرے خونِ جگر سے کشید ہیں۔
یہ نظمیں در اصل میری ہڈ بیتی ہیں، ان نظموں میں میرا کرب اور درد شامل ہے جو میں نے گزشتہ برسوں میں جھیلا ہے۔ ایسا درد جسے برداشت کرنا میرے لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔ شاعر ہونا اور شاعر نہ ہونا واقعی عظیم نعمت ہے لیکن نہ ہونا بہتر ہے کہ شاعر ہونے کی اذیت صرف ایک شاعر ہی محسوس کر سکتا ہے۔
شاعر معاشرے کے اُصول و ضوابط کو اُسی طرح اپنے روزمرہ معاملات کی عادات پر اپنانے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ وہ اپنی اصل میں ہوتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ معاشرے کے جملہ دستور کو اپنی ذات پر نافذ تو کر لیتا ہے لیکن معاشرہ اسے نارمل انسان ہی نہیں سمجھتا۔
معاشرہ اپنے ٹرینڈ خود بناتا ہے اور خود ہی اس سے انحراف کے جواز بھی تراش لیتا ہے۔ شاعر حسّاس ہوتا ہے اور ذِمہ دار شہری بھی ؛وہ چاہتا ہے کہ جو بات کہہ دی گئی ہے، جو وعدہ کر لیا گیا ہے، جو قسم اُٹھا لی گئی ہے اُس پر ہر صورت عمل کیا جائے۔ اسی حساس اور ذمہ دار شاعر اور شخص کو معاشرہ اپنی مذموم حرکات اور اوچھے ہتھکنڈوں سے رُسوا کر کے عبرت کا نمونہ بنا دیتا ہے۔
عبرت بنے اِس شاعر کو چین کیسے پڑتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا ؛اس پر نالائقی، کم عقلی، بد مستی، شراب خوری، کینہ پروری، شکم پروری اور جانے کیسے کیسے الزامات لگائے جاتے ہیں اور با شعور شہریوں کی فہرست سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ اس پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے اور بنیادی انسانی ضرورتوں سے جان بوجھ کر محروم کیا جاتا ہے تاکہ اس کی جہنم نما زندگی پر تمسخر اُڑایا جاتا ہے اور ہمدردی کے جملے کستے ہوئے اس کی پوتر روح کو زخمایا جاتا ہے کہ "شاعر ہے سہولتوں سے محروم ہو گا تو درد جاگے گا اور درد جاگے کا تو شاعری میں پختگی آئے گی جس سے شعر میں جان اور وزن پیدا ہو گا اور ناقابلِ فراموش شاعری تخلیق کرے گا۔ "خاک ایسی زندگی پر کہ پتھر نہیں ہوں میں” کہنے والا مرزا غالبؔ بھی ساری عمر اسی بات کا رونا روتا رہا کہ میں نے شاعر بن کر کیا کما لیا کہ مجھے انسان سمجھنا اس معاشرے نے گوارا نہیں کیا۔
یہ بد قسمتی ہے یا خوش نصیبی کہ مرزا غالبؔ بیسویں اور اکیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر تسلیم کیا گیا اور اس کے کلام کو بیسیوں زبانوں یں ترجمہ بھی کیا گیا۔ اس کے کلام پر متعدد کتب لکھی گئیں اور یونیورسٹیوں میں مقالات لکھ کر ڈگریاں بانٹیں گئیں۔
سوال یہ ہے کہ مرزا غالبؔ اور اس جیسے شاعر اپنے زمانے کے معتوب شخص ٹھہرائے گئے، آج ان کے کلام میں ایسی کیا گیڈر سنگھی ہے کہ ہر کوئی پڑھے جا رہا ہے، مسجد کے منبر سے لے کر ایوانِ سیاست کے معرکوں تک ان باغی شعرا کے اشعار سے تقاریر شروع ہوتی ہیں اور ختم بھی۔
شاعر کو معتوب ٹھہرانے والے، اس کی زندگی کو جہنم بنانے والے، اسے بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم کرنے والے، اس کے خیالات و افکار کا مذاق اُڑانے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ شاعر زمانے کا نبض شناس ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اُس نے اپنے عہد کے ظالم کا گریبان پکڑنا ہے۔ اُس نے انصاف کے لیے لکھنا ہے، اُس نے انصاف کے لیے آواز اُٹھانی ہے، اُس نے محبت اور مروت کی روایت کو زندہ رکھنا ہے، اُس نے دل پھینک عاشق پر بن تحسین سے محروم دلوں کو بہلانا ہے، اُس نے دسیوں کردار نبھانے ہیں۔
کیا معاشرے کا ایک با شعور پڑھا لکھا نوجوان یہ کر سکتا ہے، اتنا درد، اتنا کرب، اتنی بے عزتی اور رُسوائی سہہ سکتا ہے۔ عمر بھر خود کو کوسنے اور لوگوں کی باتیں سننے کا حوصلہ شاعر کے سِوا کسی اور میں نہیں ہوتا۔
منہ بسور کر شاعر کو برا کہنے والا یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ شاعر نے اپنی زندگی کو پُل صراط اس لیے بنا رکھا ہے کہ وہ تم سے زیادہ حَسّاس، ذمہ دار اور با شعور شہری ہے، وہ اپنے حقوق کے حصول کے ساتھ پسے ہوئے افراد کے لیے بھی فکری جہاد کرتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر وقت محبتوں کے چکر میں رہتا ہے، نہیں جناب! وہ محبت میں دھوکا کھائے دلوں پر شفقت و مَودّت کے پھاہے رکھتا ہے۔
آپ سمجھتے ہیں کہ وہ دل لگی کرتا ہے اور کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا۔ وہ آپ ہی کے ہاتھوں بدنام ہونے والے رنجیدہ دلوں سے ہنسی مذاق کی باتیں کرتا ہے کہ ٹھکرائے ہوئے دیوانوں کو اپنا دُکھ بھول جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کتنی محبتیں کر لے گا ایک شاعر، ایک شاعر ایک محبت بھی پوری طرح سے نہیں کر پاتا، وہ تو محبت کے لفظ سے شناسا ہوتے صدیاں بِتا دیتا ہے، وہ جسم کی ہوس سے پرے بدن کے اُجلے خد و خال بنانے والے خالق کے تصور میں برسوں غرق رہتا ہے۔
شاعر بتاتا ہے کہ دل کی زبان کون سی ہے، جذبات کی بولی کون سی ہے اور احساس کو بیان کرنے کا انداز کون سا ہے۔ آپ کسی کو پھانسنے کے لیے انھیں شاعروں کے اشعار ڈھونڈتے ہیں، انھیں کی مثالیں اپنی محبوباؤں کو بہلانے کے لیے دیتے ہیں۔
شاعری ایک فن ہے اور یہ فن ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ اگر یہ ذِلت ہے تو یہ ذِلت بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ شاعر اپنا درد لکھتا ہے تو اس میں شاعر کی ذات کم اور معاشرے کی مجموعی صورتحال زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
شاعر اپنے آپ کو لکھتے ہوئے اپنے زمانے کو لکھتا ہے اور زمانہ خود شاعر کے کلام میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے۔ آپ نے ہزاروں برس پہلے کے لوگوں کے دلوں میں جھانکنا ہے، ان کے محبت کے فلسفے کو کریدنا ہے، ان کی مذموم حرکات کو پرکھنا ہے تو آپ کو اس دور کے شعرا کا کلام پڑھنا ہو گا۔
شاعر کو معمولی سمجھنے والے در اصل خود بہت معمولی ہیں۔ شاعری بے کار چیز نہیں ہے جس کے لیے شاعر اپنی ذات کے جملہ وصائف کو راکھ کر ڈالتا ہے۔ یہ میری جذباتی تحریر نہیں ہے بلکہ میرا مقدمہ ہے کہ شاعر کی نظموں میں شاعر کے درد کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس پر ہونے والے ناروا ظلم اور بے جا زیادتی کو بھی محسوس کیجیے۔
شاعر اگر کسی کو چاہتا ہے، وفا کا دم بھرتا ہے اور عمر بھر ساتھ نباہنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو اس کا ٹھٹھا نہیں اُڑانا چاہیے۔ شاعر کی نظمیں اور غزلیں اسے دی گئیں اذیتوں کا اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی مجموعی صورتحال کا ردِ عمل بھی ہوتی ہیں جس سے آپ معاشرے کے جملہ نظام حیات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یہ میری نظمیں ضرور ہیں لیکن یہ ردِ عمل ہے اُن زیادتیوں کا اور ناحق سزاؤں کا ؛ جو مجھے دانستاً دی گئیں اور میں نے از خود کسی کی خوشنودی کے لیے انھیں بھی گوارا بھی کیا۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ نظمیں متاثر نہ کر سکیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نظمیں آپ کے درد کا پھاہا بن جائیں۔ یہ معاملہ ہڈ بیتی اور جگ بیتی کا ہے۔ یہ اپنے اپنے نصیب اور ذوق کی بات ہے۔
"ت لاش” میرے درد کا مخزن ہے جو فقط ستائش کا منتظر ہے۔ مجھے اُمید نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ نظمیں آپ کو سوچنے پر مجبور کریں گی۔ یہ نظمیں آپ کو وہاں لے جائیں گی جہاں آپ جانے سے کتراتے ہیں۔ یہ نظمیں آپ کو رُلا سکتی ہیں اور ہنسا بھی۔ یہ نظمیں آپ کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیں گی اور منع بھی کریں گی۔ یہ نظمیں آپ کے لیے بہت کچھ ہیں۔ انھیں پڑھیے اور اپنی آرا کا اظہار کیجیے۔
"ت لاش” کا پہلا ایڈیشن 2025 میں شائع ہوا تھا جو دوستوں شاگردوں میں بٹ گیا۔ یہ دوسرا ایڈیشن ہے جس میں کچھ نظمیں حذف کر دی ہیں اور کچھ نظموں کے مصرعے حذف و تبدیل کیے گئے ہیں نیز املا وغیرہ کی اغلاط کو درست کیا گیا ہے۔
قوی اُمید ہے یہ ایڈیشن قارئین کو پسند آئے گا۔ بہت نوازش
محسن خالد محسنؔ
مئی 2026
راہِ عشق میں
کارواں نے ایک بار بھی رُک کر نہ دیکھا
کہ جو ہمسفر تھے
وہ راہ میں تھک کر کہیں بکھر نہ گئے
منزل کی دھُن نے اُن کے دلوں کو
شمع کی لَو سے محروم کر دیا
وہ پروانوں کی طرح جلنے کی بجائے
خواہش کے دھوئیں میں اُلجھ گئے
انہوں نے سمجھا
کہ منزل چلنے سے ملتی ہے
مگر راہِ عشق میں
قدم نہیں چلتے، دل جلتے ہیں
قطرہ تبھی دریا سے ملتا ہے
جب اپنی شکل کو کھو دیتا ہے
اسی لیے کوئی بھی منزل پر نہ پہنچ سکا
کہاں تک خواہش کے بوجھ اُٹھائے جاتے؟
یہ راہ اُن کے لیے ہے
جو اپنی اَنا کو دریچے میں رکھ کر
خود کو خاک بنا لیں
منزل تو خواہش کی تکمیل نہیں
منزل تو پروانے کا انجام ہے
جہاں "میں” کی راکھ
محبت کی روشنی میں ڈھل جائے
وہی اصل وصال ہے
جہاں قطرہ دریا ہو جائے
اور باقی سب مٹ کر
صرف "وہ”
باقی رہ جائے
٭٭
راہِ خودی
جب سب دروازے بند ہو جائیں
تو وہی در کھُلتا ہے
جو اِنسان کو
اپنے آپ سے آشنا کرتا ہے
یہ راستہ بظاہر آسان ہے
مگر اصل میں
پہاڑ سے بلند
دریا سے گہرا ہے
میں نے قدم رکھا
سامنے چورا ہے تھے
ہر سَمت ایک صدا
ہر موڑ ایک دعوت
یوں لگتا تھا
کہ ہر راستہ منزل تک پہنچا دے گا
مگر حقیقت یہ ہے
کہ منزل راستوں سے نہیں ملتی
منزل تو اپنے باطن کی آگاہی سے جنم لیتی ہے
میں اُس سفر کا راہی ہوں
جہاں منزل کا مطلب
صرف فاصلہ طے کرنا نہیں
بلکہ خود کو پہچاننا ہے
یہی بھٹکنا
انسان کو اپنی حقیقت تک لے جاتا ہے
اور یہی سفر
وصالِ حق کا پہلا زینہ ہے
٭٭
جنوں
میں نے ہوش کی زنجیریں
آگ میں پگھلا دیں
اب میں برہنہ پاؤں
وقت کے چہروں پر چلتا ہوں
جنوں
میرے اندر کا طوفان ہے
جو عقل کے بُرج گراتا ہے
جو رسموں کی گردنیں
اپنے ہی ناخنوں سے کاٹ دیتا ہے
لوگ کہتے ہیں:
"یہ پاگل ہے، یہ سرکش ہے”
میں کہتا ہوں:
ہاں، میں پاگل ہوں!
پاگل وہی جو خنجر کی دھار پر
اپنی مُسکراہٹ رکھ دے
جو خون میں اپنا عکس دیکھ کر
روشنی تلاش کرے
میرے جنوں نے مجھے سکھایا:
چراغ کو بجھا دو
اندھیرے کو جلا کر دیکھو
خواب کو مار دو
حقیقت کی لاش پر رقص کرو
جنوں
میرے بازوؤں کی وہ کربلا ہے
جہاں ہر خواہش
اپنے ہی خون میں ڈوب کر
عَلم اُٹھاتی ہے
میں چل رہا ہوں
دُنیا کی ہنسی میرے پیچھے ہے
مگر میرے قدموں کے آگے
وہ دوزخ ہے
جو مجھے جنت لگتی ہے
٭٭
بے مروت تنہائی
پہلی بار جب تم نظر آئے
یوں لگا
جیسے خواب نے
حقیقت کا لباس پہن لیا ہو
گویا کوہِ قاف کی پری
میرے مقدر میں اُتر آئی
وقت
ایک جادوگر
جس نے ہمیں لمحے کی مٹھی میں قید کیا
اور دُنیا
بے رحم مُنصِف
جس نے ہمیں الگ الگ پنجرے بانٹ دیے
اب ہم
دو ستارے ہیں
جو ایک ہی آسمان پر چمکتے ہیں
مگر کبھی ایک دوسرے کو
چھو نہیں پاتے
اور تنہائی؟
ایک بے مروت غم خوار
جو ہمیں ملنے دیتی ہے
نہ جُدائی کا زخم
بھرنے دیتی ہے
٭٭
اپنی دُنیا آپ بناؤ
میں
طِلسمِ شب کو توڑنے والا چراغ ہوں
اندھیروں کے سینے میں
روشنی کی لکیر کھینچنے والا معمار
میں نے
خواہشوں کا خون کر کے
خوابوں کو تقدیر کے دریا میں بہایا
ضرورتوں کے پہاڑ
اپنے لہو کی ضرب سے کاٹے
ویران کدوں کو
جہانِ نو کا پیام دیا
میں نے
خوشیوں کو اپنی تپش سے جنم دیا
آسائشیں فلک سے چھین لیں
زمین پر سہولتوں کے دیے جلائے
کہ ہر دل مُسکرا سکے
ہر آنکھ میں اُمید جاگے
مگر لوگ؟
وہ بے چہرہ ہجوم
غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے
میری صدا کو یہ کہہ کر رَد کرنے لگے:
یہ تمہاری قربانی ہے
ہم نے کب کہا تھا
کہ تم اپنی ہستی جلا کر
ہمارے اندھیروں کو منور کرو
ہم اپنی نیند میں خوش ہیں
ہمیں جگانے کی ضرورت نہیں
تم اپنی حد میں رہو
ہم تمہارے مقروض ہیں
نہ تمہارے خوابوں کے شریک
اگر تمہیں ہے اپنی طاقت پر یقین
تو اپنی دُنیا آپ بناؤ!
نیا جہان بساؤ
جہاں انسان اپنے مرتبے کو پہچانے
جہاں غلامی کے اندھیرے چھٹ جائیں
جہاں خودی کا آفتاب طلوع ہو
جہاں ہر دل میں
زندگی کا نغمہ گونج اُٹھے
٭٭
مداوا
اب
یہ صرف ایک دُکھ نہیں رہا
کتنے اور دُکھ
چُپ چاپ
اِسی ایک دُکھ میں آ بسے ہیں
اگر
بات فقط ایک درد کی ہوتی
تو شاید
ہم اِسے اوڑھ کر
چُپ رہتے
سہہ لیتے
زندگی جیسے تیسے گزر ہی جاتی
مگر بات
اُن زخموں کی ہے
جو لفظوں کی صورت
راہ میں اُچھالے گئے
اُن الزامات کی
جو بِنا کسی وجہ
میرے کندھوں پر رکھ دیے گئے
یہ
صرف ایک صدمہ نہیں
یہ تو وہ بوجھ ہے
جس کی تہہ میں
کئی ناحق سزائیں
کئی اَن کہے طعنے
ابھی بھی جلتے ہیں
تم
اک دُکھ کی بات کرتے ہو
مگر
یہ ایک دُکھ نہیں
یہ تو اُن تمام زیادتیوں کا مجموعہ ہے
جو میرے حصے میں آئیں
اے علاج کرنے والو
ذرا بتاؤ!
اُن ناروا عتابوں کا
اُن چُپ چاپ سہہ لیے گئے عذابوں کا
مداوا کس کے پاس ہے؟
کون ہے
جو میرے بکھرے وجود کو
پھر سے جوڑ دے؟
کون ہے
جو مجھ سے چھین لی گئی
خاموشی کو آواز دے؟
یہ
اِک دُکھ کی بات نہیں
یہاں
اور بھی دُکھ ہیں
جو دن رات
میرے اندر سانس لیتے ہیں
٭٭
اِک تارا
اِک تارا
فلک کی بے کِراں تنہائی میں
خاموشی سے چمکتا ہے
دور
بے حد، دور
میں
چارپائی پہ
اِک گم سم وجود
تجھے تکتا ہوں
جیسے آنکھ
کسی خواب سے بات کرے
میرے اور تیرے بیچ
صدیوں کا فاصلہ ہے
روشنی کی رفتار بھی
اس کو پاٹ نہیں سکتی
تو وہاں ہے
اِک نقطہ
میرے آسمان کا
اور میں یہاں
اِک سوال
اپنے بستر کا
کبھی
معمول سے ہٹ کر
اُتر آ
میرے گھر کی چھت پر
اِک بار
صرف اِک بار
تاکہ
میں تجھے
دیکھ سکوں
جی بھر کے
چھو سکوں
یا شاید
بس یہ جان سکوں
کیا تو بھی
مجھے ایسے ہی تکتا ہے؟
جیسے میں
تجھے ہر شب دیکھتا ہوں؟
اے ننھے
ٹمٹماتے تارے
کیا
تو میرے سوالوں کا جواب لائے گا؟
یا
ہم یوں ہی
اِک دوسرے کو
تکتے رہیں گے
٭٭
تقسیم
صحن کھچا کھچ بھرا ہوا تھا
ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا
سب کو حسبِ خواہش کچھ نہ کچھ ملنے کی توقع تھی
صاحبِ خانہ تشریف فرما ہوئے
اور مقام کے اعتبار سے نعمتیں بانٹنا شروع کیں
کسی کے حصے میں دولت آئی
کسی کے حصے میں شہرت
اور کوئی عزت کا عَلم لے کر چلا
بٹتے بٹتے سب کچھ بٹ گیا
میں صف کا آخری شخص تھا
خاموش، انتظار میں
صاحبِ خانہ نے کہا:
اب تو کوئی کام کی چیز نہیں رہی
اگر تمہیں بُرا نہ لگے تو
جو لینا چاہتے ہو، لے لو
میں نے رُسوائی کو اُٹھا لیا
بدنامی نے اِلتجائی نگاہوں سے دیکھا
میں نے اِسے بھی اُٹھا لیا
ذِلت اکیلی رہ گئی
میں نے اِسے بھی اُٹھا لیا
صاحبِ خانہ بہت خوش ہوئے
اُنھوں نے دُعا دی اور کہا:
تم بہت اچھے بچے ہو
خدا تمہیں بہت نوازے گا
٭٭
بدلاؤ
وقت بدل گیا ہے
یا شاید
ہم بدل گئے ہیں
وہ دَور
جو کبھی دُور تھا
اب آس پاس ہے
لیکن پہچانا نہیں جاتا
چھُریاں
اب جیبوں میں نہیں
زُبانوں کے نیچے چھپی ہیں
نگاہیں
چاقو کی طرح
چھلنی کرتی ہیں
بازار ہو، گلی ہو
دروازہ ہو یا دہلیز
ہر جگہ
اِک انجانی دہشت
سایہ بن کر ساتھ چلتی ہے
بدن کا چھو جانا
اب محض حادثہ نہیں
اِلزام ہے
کون سا چہرہ ہے
جو دھمکی نہیں دیتا؟
کون سا نام ہے
جس میں نفرت نہیں چھپی؟
گھر سے نکلنا
اِک مہم بن چکا
ہر قدم
اِک چالاکی
ہر سانس
اِک دفاع
بے فکری مر چکی
اعتماد
اب صرف "لغت” میں بچا ہے
مُروت نے
دوسرا راستہ چُن لیا
اور حیا
شاید دفن ہو چکی
نہ وقت بدلا
نہ دن
نہ رات
نہ اِنسان
بس چہرے
اب نقاب میں ہیں
نتھنے پھُولے
سینے تنے
مُٹھیوں میں
اِک خوف بند ہے
اور آنکھوں میں
شک کا پانی
وہی لوگ ہیں
وہی نام
وہی کام
پھر کیوں
یہ شہر
اجنبی لگنے لگا ہے؟
٭٭
درد آشنا
تم جس درد میں مبتلا ہو
یہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا
نہیں ہوتا
یہ درد رِستے رِستے
روح کے اندر زخم بناتا ہے
روشنی جو اندھیروں میں پھوٹتی ہے
اور خاموش ہوا کے ساتھ سرگوشی کرتی ہے
درد کے اندر
درد کی شِفا چھپی ہے
چھپی ہے
وہ شفا جو صرف درد آشنا کو دکھائی دیتی ہے
دکھائی دیتی ہے
پھولوں کے رنگوں میں، پرندوں کے پروں میں
ہر قید، ہر زنجیر کے پار
آزادی کی خوشبو چھوڑ جاتی ہے
چھوڑ جاتی ہے
ہوا کے سنگ، پانی کی سرسراہٹ کے ساتھ
درد اپنی کہانی بکھیرتا ہے
بکھیرتا ہے
ہر زخم، ہر ناسور
ایک چراغ ہے، روشنی کی کرن ہے
جو روح کی گہرائیوں میں سفر کرتی ہے
اور وجود کو شفاف کر دیتی ہے
کر دیتی ہے
جو اس درد میں اُتر جائے
اُتر جائے
وہ جان لیتا ہے:
درد ہی محبت کا سب سے خالص سبق ہے
سبق ہے
٭٭
ادلے کا بدلہ
کتنے لوگ ہیں
جو
اپنے حصے کا رزق نہیں پا سکے؟
زمین
جو اِن کے قدموں کے نیچے ہونی چاہیے تھی
کبھی اِن کی مُٹھی میں نہ آئی
کتنے چہرے ہیں
جن کی ہنسی
کبھی اِن کی آنکھوں تک نہیں پہنچی؟
اور
کتنے دل
خالی رہ گئے
اپنے حصے کی خوشی کے بغیر؟
کیا کسی نے
اِن سے یہ پوچھا
کہ تمہارے حصے کی
روٹی
مٹی
اورمسکراہٹ
کہاں گئی؟
کس نے لوٹی؟
کس نے چھینی؟
اور
اگر وہ چھینی گئی
تو وہ کسی اور کو ضرور ملی ہو گی؟
لیکن
کس کو؟
کیوں؟
کس حق سے؟
اور وہ
جو چھیننے والے تھے
کیا وہ
اپنے حصے سے زیادہ جینے لگے؟
کیا اِن کے دن
لمبے ہو گئے؟
کیا اِن کے لمحے
زیادہ قیمتی ہو گئے؟
مجھے کوئی یہ بتائے
کہ جن کے رزق چھینے گئے
اِن کی عمریں
کم ہو گئیں؟
سال کے دن
گھٹ گئے؟
وقت نے
ان پر مہربانی بند کر دی؟
اگر
عمر رُکی
نہ دن گھٹے
نہ رات چھوٹی ہوئی
تو سنو!
کچھ بھی نہیں بدلا
نہ کچھ کھویا
نہ کچھ پایا
یہ
صرف
ادلے کا بدلہ ہے
٭٭
میں کہ مَردُود ٹھہرا
یہ ہاتھ، جو اِینٹ پتھر سے دیواریں بناتے ہیں
گھونٹ گھونٹ پانی بچا کر ستونوں کو سیراب کرتے ہیں
ریزہ ریزہ بدن کاٹ کر آنگن کو مہکاتے ہیں
اِن ہاتھوں کی کوئی قدر نہیں
یہ خون و پسینہ، یہ خاموش تنہائی
کسی سالک کے سفرِ فنا کی مانند
قدم قدم پر ڈگمگاتی ہے
جہاں دُنیا کی عزت اور تمغے
صرف دھوکہ اور سراب ہیں
کوئی مجھ سے پوچھے
میں کہ مَردُود ٹھہرا
تاریخ کے صحیفے یاد آتے ہیں:
بابا بلھے شاہ، شاہ عبد اللطیف، مجدد الف ثانی، جلال الدین رومی
سب نے انسانیت کے لیے
اپنا سب کچھ قربان کیا
محبت، علم، جان اور مال
مگر دُنیا نے مردود جانا
مردودِ بارگاہ خلائق میں
میں درگاندۂ مقام ہوں
میں ایک کنارے
اور وہ دوسرے کنارے
بیچ میں کچھ بھی نہیں
صرف صبر کی روشنی
اور قربانی کی خاموش گونج
محنت کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں
ازل سے یہی ہوتا آیا ہے
کہ قربانی کی قدر کم اور ملامت زیادہ ہوتی ہے
مگر جو دل سچائی سے جلتا ہے
وہی آخر روشنی میں کھِلتا ہے
٭٭
رات
رات
کلوٹی، سیاہ رات
اُجالے کی دُشمن
روشنی کی قاتل
تو نے
میرے ساتھ ظلم کیا ہے
میرے اپنے سائے کو
مجھ سے چھین لیا ہے
جیسے کوئی بچے سے ماں چھین لے
اور وہ چیختے رہ جائیں
خالی ہاتھ
ہم بارہا
ایک دوسرے کی زَد میں
قریب آتے ہیں
مگر ہاتھ نہیں آتے
کہکشاؤں کے بیچ
کبھی تم کھو جاتی ہو
کبھی میں
٭٭
ہم بازار کی حسینائیں ہیں
حُسن ہماری میراث نہیں
ہمیں یہاں بٹھا دیا گیا
صدیوں پرانی روایت کے تحت
یہی وہ جگہ ہے جہاں جمال
عُشاق کی امانت بن کر ٹھہرتا ہے
جہاں رِیا کی کوئی گنجائش نہیں
ہمارے جسموں کی تھراہٹ سے قلب دھڑکتے ہیں
ہمارے بدن کی تمازت سے محبت کھنکتی ہے
ہمارے ہونٹوں سے شراب چھلکتی ہے
ہمارے پہناوے سے جوانی ٹپکتی ہے
ہم پیدا ہوتی ہیں چاہے جانے کے لیے
چاہنے والوں سے ہمیں کیا غرض
عُشاق آتے ہیں، غول در غول
آنکھیں سینکتے ہیں، دل بہلاتے ہیں
تِشنہ آرزوئیں لے کر چلے جاتے ہیں
مگر ہم خاموشی سے اپنی حُرمت پر قائم رہتی ہیں
ہمارے پُرکھوں نے سکھایا ہے
عُشاق کے سامنے سَرنِگوں نہ ہونا
محبت کی بھیک خیرات میں نہ دینا
وفا کو کھوٹے سکوں میں نہ بیچ دینا
گر کوئی صاحبِ ثروت گزرے تو تکریم لازم
اور کوئی فقیر آوازہ لگائے تو تحسین واجب
پسِ پردہ، بازار کی یہ روایت
بظاہر حُسن گری کی جھلک لیے ہوئے ہے
لیکن ہمیں اپنے وقار کی پروا ہے
ہم وہ بُلبلیں ہیں
جن کی عِصمت کو کوئی چھو نہیں سکتا
یہاں کسی کو پر مارنے کی جُرات نہیں
یہ ہمارا بازار ہے
اسے بازارِ حُسن کہو
یا تعفن کا مرکز سمجھو
ہماری بقا
ہماری انَا سے مشروط ہے
ہم ممتازو منفرد ہیں
کیوں کہ ہم
عشق کو جنم دیتی ہیں
محبت کی پرورش کرتی ہیں
ہم بازار کی حسینائیں ہیں
٭٭
قہوہ خانے
مدتوں بعد
اِس خستہ میز پر بیٹھا ہوں
میلے کپ میں
چائے کے گھونٹ
روح کے اندر کہیں
گرم لہریں چھوڑ رہے ہیں
قہوہ خانے کی یہ پرانی فضا
اب بھی ویسی ہی ہے
سستے ڈھابے، ارزاں ہوٹل
جنھیں وقت ہولے ہولے نگلتا رہا
صدیوں سے
ہم جیسے آوارہ
لفظوں کے جو گی
چائے کی چُسکیاں لے کر
خیالوں کی دُکانیں سجاتے رہے
خاک آلود پیشانیاں
بے زار چہرے
مگر، اِن میں بھی
اِک اُنسیت چھپی رہتی ہے
جیسے یہ تھکن خود
ایک سچائی ہو
جسے ہم برسوں سے پہچانتے آئے ہوں
یہاں
دھُواں اڑاتے
قہقہے مارتے لوگ
کبھی سقراط کے ہم دم بن جاتے ہیں
تو کبھی کسی گمنام شاعر کے
مصرعوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں
یہاں
نہ سجاوٹ ہے
نہ سلیقہ
لیکن
انھیں گدلے میزوں پر
پھیکی چائے کے گھونٹوں سے
خیال حاملہ ہوتے ہیں
تو شاعری جنم لیتی ہے
یہی میلے برتن
نظریوں کی کوکھ بنتے ہیں
تم سمجھو نہ سمجھو
یہ ڈھابے، یہ چائے خانے
تمہارے روز ویلٹ
پی سی
اور فائیو اسٹار ہوٹلوں سے بڑے
ادب کدے ہیں
جہاں
خیالات آزادی سے سانس لیتے ہیں
تخیل پروان چڑھتا ہے
یہاں
آج بھی شام ڈھلے
یاروں کی محفل سجتی ہے
اور
خود آگاہی کے دور چلتے ہیں
میرے لیے
یہ چائے خانے
کسی خانقاہ سے کم نہیں
جہاں
ہر گھونٹ کے ساتھ
اک نئی روشنی
دل میں اُترتی ہے
٭٭
دُنیا
کتنی پرانی
کتنی خستہ
کتنی تھکی ہوئی ہے یہ دُنیا
صدیوں کی جھُریاں
اِس کے چہرے پر ثَبت ہیں
اور ہمیں
چند برس
عاریتاً
اِس کے سائے میں جی لینے کی
اِجازت ملی ہے
دل چاہتا ہے
سب کچھ
بدل ڈالوں
نقشے ازسرِنو کھینچوں
ایسی دُنیا بنا ؤں
جسے میرے بعد آنے والے
بدصورت نہ کہیں
آوٹ ڈیٹڈ نہ جانیں
کیا یہ ممکن ہے؟
کتنے معمار
اِسی خواب کے اسیر ہوئے
اور
میرے بعد
کتنے اور
اِسی کرب سے گزریں گے
٭٭
دھوکے کا بڑا پن
کتنا وسیع ہے یہ آسمان
جیسے
کسی خواب کا پھیلاؤ
تاحدِ نظر
کتنی بے کِراں ہے یہ کائنات
کہ ہر سَمت
خاموشی کا راج جاگتا ہے
پہاڑ
بے اَنت بلندی کے گمان
سمندر
اذیتوں سے معمور
ندی، نالے، آبشاریں، جھیلیں
سب کچھ
وسیع، بلند، گمبھیر اور مکمل
میں
ہر شے کو
"بڑے پن” میں دیکھتا ہوں
مگر
کیا یہ واقعی بڑا پن ہے؟
یا میری آنکھ نے
دھوکے کو
عظمت سمجھ لیا ہے؟
یہ جو نظر آتا ہے
یہ دھوکا ہے
اور یہ دھوکا
اتنا بڑا ہے
کہ میری پلکیں
اسے
صرف اپنے سائے میں دیکھتی ہیں
ایک چھوٹے زاویے سے
بہت ہی چھوٹے فریم میں
میرے پپوٹے
اس دھوکے کی پوری قامت
ماپ سکتے ہیں
نہ سمجھ سکتے ہیں
یہی اس کا
بڑا پن ہے
٭٭
بے شک رات تاریک ہے
بے شک رات تاریک ہے
مگر میرے اندر وہ چراغ ہے
جو رات کو دن میں بدل سکتا ہے
وہ شمع ہے جو اندھیروں کو منور کر سکتی ہے
وہ صدا ہے جو خاموشی کو گیت میں ڈھال سکتی ہے
میری روح اذانِ بلالی کی گونج ہے
میری نظر اقبال کے شاہین کی پرواز ہے
بے شک رات تاریک ہے
لیکن یہ رات میرے قدموں کو روک نہیں سکتی
میں اپنی خودی کی تلوار سے تاریکی کو چیر دوں گا
میں اپنے زورِ بازو سے کائنات کو نئے جہان عطا کروں گا
بے شک رات تاریک ہے
مگر یہ رات بھی اِسی تِیرگی کا ایک پرتوہے
جب یہ ہٹے گا تو صبحِ عرفان طلوع ہو گی
دیدار کا عرقِ ناب میری آنکھوں کو بینا کر دے گا
بے شک رات تاریک ہے
مگر رات ہی تو ہے، کٹ جائے گی
٭٭
رہروِ منزل
وہی راہ
وہی چہرے
وہی قدم
جو ہر شام
خاموشی سے
واپسی کی راہ لیے
ہاتھ میں ٹفن تھامے
دل میں ادھوری یادوں کا بوجھ
کاندھوں پر لادے
شام ڈھلے
بدیسی قافلوں کی مانند
جانب منزل ہیں
کوئی مسکراہٹ نہیں
نہ کوئی سوال
بس واپسی ہے
اک اور دن سے بچ کر
نئے دن کی تھکن
سمیٹنے کی
٭٭
آزادی کا وہم
پہلو میں لیٹے جسم کی حرارت میری ہے
تو جسم کی ملکیت بھی میری ہوئی نا!
یہ کیسا تعلق ہے جس میں
اندیشوں کی رخنہ اندازی کو
زہر گھولنے کا اختیار دیا جائے؟
محبت تو صوفیوں کے ہاں
سرشاریِ فنا کا دوسرا نام ہے
جہاں جسم کی ملکیت باقی رہتی ہے
نہ قید و بند کی شرط
یہاں نسبت کا مفہوم
ملکیت کے کاغذ پر درج ہے
یہاں محبت کے پرندے کو
پنجروں میں باندھ دیا جاتا ہے
اور ہر وہ دروازہ بند کیا جاتا ہے
جدید دُنیا کہتی ہے:
ہر فرد کو اپنی سانسوں پر اختیار ہے
ہر بدن اپنی آزادی کا قلعہ ہے
لیکن جب آزادی کو وہم بنا دیا جائے
تو عورت کا وجود بھی قید خانے میں بدل جاتا ہے
تب نسوانی شعور چیختا ہے:
"محبت ملکیت نہیں
شراکت ہے
میرا جسم میری مرضی ہے
میں اپنی آنکھوں کے خواب
اپنی مرضی سے دیکھتی ہوں
میرے اختیار کے بغیر
محبت کا ہر دعویٰ
جبر کی ایک صورت ہے”
یہ کون بتلائے کہ
آزادی ایک وہم ہے
جہاں محبت اختیار کے ہاتھوں
قتل ہو جاتی ہے
٭٭
کل
کل
بس آج جیسا ہی ہے
کیا خبر
کل میں نہ رہوں
یاوہ کل
کل نہ رہے!
یعنی
وقت کے ساتھ
ایک اور وقت
گردش میں ہے
اَن دیکھا، بے نام
مداروں میں بند
خاموشی سے
اپنے دائرے میں
محصور
بے آواز
اپنی چال میں گُم
بہک گیا ہے
٭٭
بیگانگی کا فریب
میں نے گمان کیا
کہ میں ایسی دُنیا میں داخل ہو رہا ہوں
جہاں میرے پُرکھوں کا کوئی نشاں باقی نہیں
مگر اصل میں
یہی دُنیا اُن کے نفس کا عکس تھی
یہی فنا اُن کی بقا کی گواہی تھی
میں نے سمجھا
کہ وصال کے دودھ سے پلنے والا
ہجر کے سائے میں بہک گیا؟
لیکن ہجر بھی تو وصال کی ہی صورت ہے
اندھیرا بھی روشنی کا متبادل ہے
کرب بھی اُس کے لطف کی ہی آہٹ ہے
میں بیگانگی کا فریب کھا گیا
اور یہ میرا تفاخر نہ تھا
یہ اُس کی چال تھی
کہ مجھے خود سے کاٹ کر
خود تک لے آئے
کیسے ممکن ہے!
روشنی اندھیرے سے جدا ہو؟
کیسے دن رات کے بغیر ہو؟
میں اور وہ
جُدا دکھائی دیتے ہیں
مگر اصل میں
ہم ایک ہی ہیں
جہاں میں اور تو کا
فرق مٹ جاتا ہے
٭٭
تقسیم
آؤ
آج ایک نیا کھیل کھیلتے ہیں
میں … بندر بن جاتا ہوں
اور تم… بلی
لیکن شرط یہ ہے
اِس بار
روٹی کے ٹکڑے
تم بانٹو گی
میں جانتا ہوں
میری ذات پر
صدیوں سے اِلزام ہے
چالاکی کا، مکاری کا
ہر بار میں ہی ناپ تول گھٹاتا رہا ہوں
تو چلو
اب
تم بانٹو
برابر!
تاکہ خلا
باقی نہ رہے
٭٭
مذاق
ابھی مہندی کی خوشبو
ہوا میں باقی ہے
ابھی بستر کی چادر
تمہارے لمس سے آشنا بھی نہیں
ابھی آنکھوں میں
وصل کی پہلی نیند کا
خمار باقی ہے
اور تم!
جانے کی ضد لے بیٹھی؟
یہ کیسا وصل ہے، جاناں
جس میں جدائی پہلے سے لکھی گئی ہو؟
ابھی تو تمہیں
دیکھا بھی نہیں جی بھر کے
ابھی نظریں
حیا کے پردے سے جھانک رہی ہیں
ابھی بدن کی مہک
آنچل میں اونگھ رہی ہے
اور تم
جانے کی ضد لے بیٹھی
یہ کیسا سفر ہے
جو شروع ہوتے ہی ختم مانا جائے؟
یہ کیسا عشق ہے
جس میں نباہ کا وعدہ موقوف ہو؟
٭٭
میں نہیں دیکھ سکتا
کہاں چھُپے ہوتے ہیں
یہ حادثے؟
جنہیں اچانک ہونا تھا
اِنھوں نے تو جیسے
مجھے توڑ کر رکھ دیا ہے
میں
سوچ بھی نہیں سکتا تھا
یوں ہو گا
لیکن سہ رہا ہوں
ہر اُس سے زیادہ
جتنا شاید سہ سکتا تھا
جی رہا ہوں
کیونکہ
واپسی کے سب در
بند ہو چکے ہیں
اِمکان
اب صرف
ایک نا ممکن خیال ہے
تم جاؤ
میری اُمیدیں
راکھ ہو چکی ہیں
جہاں پہلے قہقہے تھے
اب خاموشی رہتی ہے
جہاں تمہاری آواز تھی
اب مہک ہے
کچھ چیزیں اور
ضرورت کا سامان
پڑا ہے
جو ایک دن
چلا جائے گا
٭٭
سخن گوئی
ذہن خالی
جام خالی
لفظ خاموش
قلم رنجور
کچھ بھی
کہنے کو نہیں
پھر بھی
دل چاہتا ہے
کچھ کہوں
کچھ لکھوں
کچھ نہ کچھ ہو جائے
مگر کچھ
ہوتا ہی نہیں
بس ایک سناٹا ہے
خیالوں کے بیچ
جسے سُننے کی کوشش
کر رہا ہوں
٭٭
نام
جب میں
چھوٹا تھا
ننھا سا
دادی اماں کی گود میں
لپٹا رہتا تھا
راتیں
کہانیوں میں گم ہوتی تھیں
اور نیند میں
اکثرکہانی
ادھوری رہ جاتی
میں اگلی رات
پھر ضدکرتا
دادی اماں!
کل والی کہانی
پھر سے سناؤ
وہ مسکراتی تھیں
کچھ اور تھپکیاں دیتی تھیں
پھر وہی موڑ
جہاں
کہانی رُک جاتی
جہاں
کسی کا "نام” آ جاتا
اور وہ
کہانی کو وہیں
چھوڑ دیتی تھیں
میں سو جاتا
خواب میں
وہی نامکمل کہانی
گھومتی رہتی
مہینوں گزرے
سال بیتے
کہانی
اَدھوری رہی
تھمی رہی
اُس "نام” پر
اور اب
دادی اماں نہیں ہیں
مگر اُن کے آنسو
میرے سینے میں
ابھی بھی نم ہیں
کہانی
اب بھی مکمل نہیں
مگر
اُس "نام” کا دُکھ
کہانی کو
رفتہ رفتہ
انجام کی دہلیز تک
لے آیا ہے
٭٭
گریہ کی خواہش
میں رونا چاہتی ہوں
اِتنا رونا چاہتی ہوں
کہ میرے آنسوؤں کی باڑھ
پورے شہر کو ڈبو دے
ہر دروازے، ہر کھڑکی کے پیچھے
میرے سسکنے کی بازگشت سُنائی دے
تاکہ سب جان لیں
وفا کرنے والی عورت
کس طرح جلتے ہوئے دل کے ساتھ جیتی ہے
میں رونا چاہتی ہوں
کیونکہ میں نے اپنی ہتھیلیوں پر
چراغ جلائے تھے
اور ان چراغوں کی لو سے
تمہارے راستے روشن کیے
مگر تم نے ان روشنیوں کو
میری آنکھوں میں اندھیرا بنا دیا
میں وہ عورت ہوں
جس نے صدیوں کے صبر کو
اپنے لہو میں گھولا ہے
اور ہر دھڑکن کے ساتھ
محبت کو قربان گاہ پر رکھ کر
وفا کے خنجر سے ذبح کیا ہے
میری چھاتی پر
بچوں کی بھوک کے داغ ہیں
میری کلائیوں پر
زنجیروں کی رگڑ کے نشان
میری آنکھوں میں
ایسی بارش ہے
جو برسنے کے باوجود
پیاس بڑھاتی ہے
میں رونا چاہتی ہوں
کیونکہ میرے پاس ہنسی کی کوئی وراثت نہیں
میرے حصے میں صرف
غم کے کٹورے ہیں
اور درد کے پیالے
میں ان سب کو بہا دینا چاہتی ہوں
تاکہ زمین پر اُگنے والے ہر پھول کو
میری رگوں کا پانی نصیب ہو
اور لوگ جب ان خوشبوؤں کو محسوس کریں
تو یاد کریں
کہ عورت کا دل
اپنے زخموں سے بھی
جہان کو سیراب کرتا ہے
میں عورت ہوں
میری وفا میرا گناہ ٹھہری
میری سچائی میری سزا بنی
اور میرا رونا
میری نجات کا آخری در ہے
٭٭
حسینی راستہ
سچ
ہمیشہ پیاسا رہا ہے
کربلا کے ریگزار سے لے کر
ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں تک
کہیں حسینؑ کے لبوں پر
کہیں مہاتما بدھ کی خاموشی میں
کہیں کرشن کی بانسری میں
کہیں منصور حلاج کے تختۂ دار پر
سچ
بابل کی جیلوں میں بھی قید ہوا
اور نیلسن منڈیلا کی مسکراہٹ میں آزاد بھی
سچ
سقراط کے پیالے میں بھی جھلکا
اور چی گویرا کی مسلح سانسوں میں بھی گونجا
ہند کے راون کے مقابل رام کھڑا تھا
عرب کے یزید کے مقابل حسینؑ
یہی دو صفیں صدیوں سے قائم ہیں
ایک جانب تخت
دوسری جانب سچ کا پرچم
بے باکی وہی ہے
جو قلم کو، زر کے آگے جھکنے نہ دے
جو بھگت سنگھ کے گیت گائے
جو جالبؔ کی نظم میں زندہ رہے
جو فیضؔ کے لہجے میں
قفس کو چراغ بنا دے
یہی بے باکی
سیاہ فام غلاموں کے ہونٹوں پر گیت بنی
ابراہیم لنکن کے حلف میں قسم بنی
اِسی نے اسپارٹیکس کو معرکہ آرائی دی
اِسی نے سکندر کی تلوار توڑ دی
دُنیا کا ہر سچا آدمی
اپنی نسل کو بھوکا سُلا کر بھی
سچ بیچنے سے انکار کرتا ہے
یہی وہ راستہ ہے
حسینی راستہ
جہاں رُتیں بدل جاتی ہیں
سلطنتیں ڈوب جاتی ہیں
لیکن سچ
دریاؤں کی طرح بہتا رہتا ہے
٭٭
برزخی خاوند سے مکالمہ
تم
چُپ چاپ
خاموشی سے
بغیر کچھ کہے
یہاں آ کر لیٹ گئے ہو؟
پیچھے دیکھو
کتنی سسکیاں
کتنے آنسو
غم کے ساحلوں سے
باہر نکل آئے ہیں
ہر آنکھ
تمہارے نام پر بھیگ گئی ہے
بدن زخمی ہے
روح ہولے ہولے ٹوٹ رہی ہے
ہر طرف تمہاری باتیں ہیں
تمہاری سچائیاں
تمہاری خاموش وفائیں
لوگ حیران ہیں
کہ تم جیسا
چلا کیسے گیا؟
کسی نے خوشی نہیں منائی
تمہارے جانے پر
صرف ایک آہ اُٹھی ہے
اور فلک سے بس یہی صدا آئی ہے:
"قیامت تھی یہ!”
تمہیں اب شاید
سکون نصیب ہو
نہ کوئی فکر
نہ بچوں کی بے قراری
نہ کمر توڑتا بوجھ
اب تم صرف
آرام میں ہو
اور میں
جیتے جی مر گئی ہوں
میرے سر پر
اب کوئی ہاتھ نہیں
کوئی نہیں
جو دو لفظ تسلی کے بول دے
تم یوں گئے
جیسے ہم کبھی تھے ہی نہیں
جیسے تم اپنے تھے ہی نہیں؟
ہم نے
زندگی کے ہر موڑ پر
ساتھ نبھایا تھا
اور آج
تم نے بھی
چُپ چاپ
سب کچھ توڑ دیا
میری طرف دیکھو
میری بات سُنو
میں
تب تک سو نہیں پاؤں گی
جب تک تم سے نہ آ ملوں
یہ غم وقتی ہے
مگر میرا دُکھ
اِتنا ازاں نہیں
کہ اِسے
چند رسموں میں بہا دوں
تم نے
پہل کی ہے
مرنے میں
ٹھیک کیا
مگر اب
تنگ قبر میں
میری یاد کو سینے سے لگائے
تڑپتے رہو
٭٭
لڑکی
(ایک غم خوار دوست کے نام)
جانتا ہوں
کئی برسوں سے
اِک تعلق سا ہے
چند ملاقاتیں، کچھ باتیں
کبھی قہقہوں میں ڈھلی ہوئی
کبھی چائے کے نمکین گھونٹوں میں
وہ بولتی جاتی ہے
میں بس سُنتا رہتا ہوں
کبھی سوال کی گنجائش ملے
تو بھی
مروتاً خاموش رہتا ہوں
دن، مہینے، سال بیتے
مقالہ مکمل ہوا
ڈگری ملی
اور شاید
یہیں اِختتام ہونا چاہیے تھا
ایسا ہی ہوتا ہے اکثر
ایسے واجبی، بے سبب
بے نام تعلق
خامشی کے موڑ پر رُک جاتے ہیں
اور پھر
طویل کانٹیکٹ لسٹ میں
کھو جاتے ہیں
مگر یہ تعلق واجبی نہ رہا
وقت کے ساتھ
کسی پرانی بیل کی طرح
دل کی دیواروں پر چڑھتا رہا
اب
ہر مسئلے میں اور اُلجھن میں
بس ایک آواز یاد آتی ہے
ایک میسج اور دوسری جانب وہ
وہ جو موسم کی طرح
بدل دیتی ہے دل کا حال
کبھی کچھ مانگا
نہ کسی چیز کا تقاضا کیا
غم سینے میں چھپائے
بس مسکراتی ہے
لہجہ تلخ، پر سچا
لفظوں میں نمک سا ذائقہ
اور لہجے میں
خود داری کی خوشبو
سوچتا ہوں
کتنے قرض ہیں
جو بیان نہیں ہو سکتے
اُس نے جینا سکھایا
خاموشی میں وفا
اور اِختلاف میں تہذیب
سب کچھ
چپکے سے سکھایا
جانتی ہے وہ
دین، دُنیا
فتنے، فیصلے
دُکھ، درد، سچائیاں
پھر بھی
مطالبہ کوئی نہیں
شکوہ کوئی نہیں
اِک بھولی بھالی
معصوم سی لڑکی
کتنی پیاری
کتنی نرمل
میری یہی دُعا ہے
خدا تمہیں
اپنی پناہ میں رکھے
اور تمہاری ہنسی
یونہی
دِل کو
چھوتی رہے
٭٭
جیت کا جشن
آج
میں پُر سکون ہوں
ایسا سکون
جس کی طلب میں
صدیاں جلائی تھیں
خود کو کھپایا تھا
رِشتوں کی رَاکھ چُنی تھی
اب
نہ کوئی دستک
نہ کوئی جھانکے گا اِس طرف
نہ پوچھے گا
کیسی ہو؟
کیوں چُپ ہو؟
کیا چاہیے؟
یاد ہے تمہیں؟
کہا تھا، نا
ایک دن
سب کو زیر کر لوں گی
اپنے ہونے کا یقین
سب پر تھوپ دوں گی
اور تم
جو مجھے
ہارے ہوئے لمحوں میں دیکھنا چاہتے تھے
آج دیکھ لو
میں جیت گئی ہوں
٭٭
ہار اور جیت
کبھی کبھی
ایسا لگتا ہے
جیسے میں
ہار کر بھی
پُر سکون ہوں
اور تم
جیت کر بھی
ادھورے ہو
بے چین
خالی
یہ کیسا کھیل ہے؟
جہاں
جیتنے والا
مسکراتا نہیں
اور
ہارنے والا
روتا بھی نہیں
کیا میری ہار نے
تمہاری جیت کے سامنے
خود کو
واقعی ہرا دیا؟
یا شاید
ہم دونوں
کسی ایسی بازی میں تھے
جس میں
جیتنا بھی
اِک شکست ہی نکلی
٭٭
رجوع کی دسترس
اب کوئی نہیں
نہ سننے والا
نہ سننے کا بہانہ کرنے والا
سب کو پکارا
سب کو آزمایا
ہر در پر
دستک دی
ہر سَمت آواز لگائی
ہر طرف
خامشی
دل کا کاسہ
دھیرے دھیرے
غم سے بھر گیا
آنسو، فریاد، چیخ
سب کچھ
بے اثر
بے معنی
اور اب
جب سارے در بند ہو چکے ہیں
اِک در
یاد آتا ہے
جس پر
کبھی
دستک نہ دی
شاید اس لیے
کہ وہ دَر
میری دسترس میں
کبھی تھا ہی نہیں
٭٭
ریلیشن شپ
بہت مشکل ہوتا ہے
جب
کوئی راہ باقی نہ رہے
جب
راستے سب بند ہو جائیں
اور
لوگ
جنہیں "اپنا” سمجھا
خاموشی سے منہ موڑ لیں
تب
خُود کُشی
بس ایک لطیفہ لگتی ہے
اور
خود کو اذیت دینا
کسی پرانی عادت جیسا
لگتا ہے
جب
بدنامی
راحت بن جائے
تو سمجھ لو
دل میں کچھ ٹوٹ چکا ہے
ایسے میں
کسی کے دل سے نکل جانا
بس ایک عام سا جملہ لگتا ہے
جیسے کچھ خاص تھا ہی نہیں
جب
کہیں جانے کو کچھ نہ ہو
کوئی تھامنے والا نہ ہو
پھر بھی
زندہ رہنا پڑتا ہے
جب
رشتہ ٹوٹتا نہیں
بس کھنچتا رہتا ہے
خاموشی سے
اندر ہی اندر
اور ہم
دھیرے دھیرے
بکھر جاتے ہیں
٭٭
ندامت کا غرور
مدت بعد ملی ہو
جیسے کسی خانقاہ کے ویران حجرے میں
پُرانا چراغ
اچانک پھر سے جل اُٹھے
وہ چُپ رہی اور میں گویا رہا
میری دعائیں قبول ہو چکی ہیں
اب میرے ہاتھوں میں کشکول نہیں
بس خالی پن کی چمکتی ہوئی تسبیح ہے
جس کے دانے
میرے غرور کی چمک سے روشن رہتے ہیں
تم نے پلکیں جھکائیں
وہ جھکاؤ ایسا تھا
جیسے حاتم کی سخاوت پر بھی
کسی بھکاری کو شرمندگی ہو
جیسے ندی اپنی مٹی کو
مطمئن نہ کر سکے
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی
مگر دل کے صحن میں
حسینؑ کا خیمہ جل رہا تھا
آگ بھی میری تھی
راکھ بھی میرا مقدر
لفظ حلق میں آئے تو
یونسؑ کی مچھلی کی طرح
گہرائیوں میں قید ہو گئے
میں بس نگاہ سے کہنا چاہتا تھا
کہ جدائی وہ زہر ہے
جسے پیتے پیتے
اب لذت محسوس ہونے لگی ہے
تم نے کچھ نہ کہا
اور ہماری خاموشی
ایسی تھی
جیسے منصور کی "انا الحق”
ابدی ہجوم میں
پسِ پردہ دب جائے
یوں لگا جیسے
ہم دونوں کے درمیان
آئینے کی دیوار نہیں
بلکہ کعبے اور بُت خانے کے بیچ
ایک ہی دروازہ کھڑا ہے
جس سے گزرنے کی ہمت
کسی کے پاس نہیں
٭٭
عادت کا درد
درد کو
عادت بنا لو
مگر
درد
عادت بننے سے
کم نہیں ہوتا
وہ بس
خاموش ہو جاتا ہے
اندر ہی اندر
دھڑکنے لگتا ہے
کسی پسِ دیوار چیخ کی طرح
پھر ایک دن
تم جان ہی نہیں پاتے
کہ تکلیف کہاں ہے؟
کیوں ہے؟
بس ہے
عادتیں اچھی ہوتی ہیں
یہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتیں
یہ داغ نہیں
نشان چھوڑتی ہیں
نشان
بُرے نہیں ہوتے
وہ
یاد دلاتے ہیں
کہ ہم کہاں سے گزرے
اور
کہاں تک پہنچے
منزل آسان تب ہوتی ہے
جب دُکھ کی عادت
راستہ بن جائے
٭٭
ہاتھ
یہ ہاتھ
جو
ہر روز
مجھ پر اُٹھتے ہیں
میں اِنھیں
روک نہیں سکتی
میں نے اپنے ہاتھ
اُس کے ہاتھوں میں رکھ دیے تھے
یقین سے
خاموشی سے
اور اب جو ہاتھ
مجھ پر اُٹھتے ہیں
وہ در اصل
میرے ہی ہاتھ ہیں
جو میں نے
کسی اور کو
سونپ دئیے تھے
٭٭
اَنا الحق کی بازگشت
آندھی اور طوفان کے بیچ
جہاں زمین تسبیح کے دانوں کی طرح لرز رہی تھی
آسمان قہر کے نقارے بجا رہا تھا
میں سب سے پیچھے کھڑا تھا
لوگ چیخ رہے تھے
جیسے قیامت اپنا چہرہ بے نقاب کر دے
اور موت اپنے نیزے زہر میں بجھا لے
کسی نے کہا:
"ایک شخص ہے جس کی دُعا
منصور کی ‘انا الحق’ کی طرح
عرش کے قفل توڑ سکتی ہے
جو رومی کے چراغ کی مانند
اندھیروں کو روشنی سے منور کر سکتی ہے”
قافلے کا نگران چیخا:
"اُسے سامنے لاؤ!”
سب کی نظریں ایک دوسرے پر جم گئیں
آنکھوں میں لرزتے چراغوں کی روشنی جاگی
میں خاموش کھڑا تھا
میرے دل میں ذِکر کی آگ دہک رہی تھی
میرے لبوں پر فنا کی لَو جل رہی تھی
میں جان گیا
وہ شخص میں ہی تھا
میں نے ہاتھ اُٹھائے:
ہر اُنگلی تسبیح کا دانہ بن گئی
ہر سانس درود کی صدا میں ڈھل گئی
دُعا اُٹھی
جیسے سجدے کی میزان پر کوئی صوفی
اپنی روح کو چراغ بنا لے
طوفان کے جبڑے ڈھیلے پڑے
ہوا کی تیز تلوار پگھل گئی
پانی سجدے میں گر پڑا
اِس لمحے میں نے جانا:
دُعا میری نہیں تھی
یہ تو قافلے کے رہروؤں کی
بے بسی سے لبریز خاموش اِلتجا تھی
جو میرے سینے میں زبان پا گئی
٭٭
قدم
نہیں اُٹھا سکتی
وہ ایک قدم
جو
بارہا اُٹھا
مگر
کبھی اُٹھ نہ سکا
ہر بار
مگر
میں رُک گئی
خود کو سمجھایا
یہ صرف ایک قدم نہیں ہے
یہ
ایک فیصلہ ہے
اور فیصلے
یونہی نہیں ہوتے
فیصلے
دل کے اندر ہوتے ہیں
خاموش
دھیرے سے
٭٭
اُس کے پاس
اذیتیں
میری ہیں
دھڑکنوں میں گُندھی ہوئیں
سانسوں میں رچی ہوئیں
غم؟
بس میرا ہے
جیسے سایہ جو دن میں بھی
اندھیرا بن جائے
دُکھ
ایک ایک کر کے
سب میرے ہو گئے ہیں
اور درد؟
وہ تو کب کا
میرے جسم میں بستیاں بسا چکا ہے
اُس کے پاس
کچھ بھی نہیں
نہ لفظ
نہ آنسو
وہ اکیلی
مگر آزاد ہے
٭٭
صور
جب صور پھونکا جائے گا
اور
ساری مخلوق
خاموش ہو جائے گی
میں بھی
خامشی کی گود میں سو جاؤں گا
پھر
صور کی دوسری صدا سے پہلے
آدھی نیند سے جاگ کر
میں
کسی اَن دیکھی عدالت میں
پیشگی معافی کا پرچہ تھما دوں گا
جب
پھر سے زندگی لوٹے گی
اور آنکھیں ملتی خلقت
اُٹھ کھڑی ہو گی
تو
میں بھی
خاموشی سے
اسی ہجومِ گریہ کے ساتھ
چلتا چلتا
کسی کونے میں
منصفِ محشر کے چہرے کو
دیکھتا رہوں گا
مجھے یقین ہے
وہ دن
میرے لیے
ویسا نہ ہو گا
جیسا دوسروں کے لیے ہو گا
٭٭
خواہشِ مرگِ مکرر
یہ تصویر ابھی نوزائیدہ ہے
شکل واضح نہیں
کہ شعور کی سطح پر
کوئی عکس اُبھرے
ابھی اِس کی آنکھ کھلی ہے
نہ ہم نے دیکھا ہے
اِس کا چہرہ
منتظر رہو
جب تک یہ زندگی
بوڑھی نہ ہو جائے
اور
موت بلائیں نہ لگنے لگے
تب
شاید وہ خواہش
بول پڑے
اپنا چہرہ دکھائے
اور ہم
پکار سکیں اِسے
مرگِ مکرر
٭٭
دید کے گمنام سلاسل
وہ لمحے
اب بھی
پلکوں کے نیچے سانس لیتے ہیں
جنھیں ہم نے تراشا تھا
جب بھی
کوئی پرانا عکس
اُبھرتا ہے شعور کے اُفق پر
میں
اِس کے پیچھے دوڑتا ہوں
گرفت میں آنے سے پہلے
وہ
پلکوں کے دائرے میں
سمٹ کر
کہیں اور گم ہو جاتا ہے
یہ عکس در عکس
گمنام سلاسل
کسی روشنی کے
منتظر ہیں
٭٭
عکسِ موہوم
اِک عکس ہے
دن رات
میرے تعاقب میں رہتا ہے
کبھی دھُند کی صورت
کبھی سایہ بن کر
میرے خوابوں میں سرسراتا ہے
بارہا ہم ٹکرائے ہیں
میں کبھی غالب، کبھی مغلوب
مگر ہر بار
وہی پرانا کھیل
یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے اِسے حیات و ممات پر
کامل اختیار ہے
گویا اسمِ اعظم کی گونج
اس کے لہجے میں گم ہے
مگر جب بھی
میں اِس کے سامنے جھکتا ہوں
وہ ٹھٹک جاتا ہے
میری پیشانی دیکھ کر
کچھ بڑبڑاتا ہے
خوف زدہ ہوتا ہے
پھر
مجھے تنہا چھوڑ کر
کہیں ان جانے خلا میں غائب ہو جاتا ہے
میں سوچتا ہوں
وہ مجھے فنا کر سکتا ہے
اور شاید کرنا چاہتا ہے
مگر پھر بھی
مجھے زندہ چھوڑ دیتا ہے
کیا یہ بود و نبود کا
کوئی گہرا کھیل ہے؟
یا شاید
اِس کا ہونا
میرے ہونے سے بندھا ہے
٭٭
گویائی کی جرات
آج
جی بھر کے کہہ دیا میں نے
ہر وہ لفظ
جو دل کے اندر
زہر بن کر بیٹھا تھا
سب کچھ کہا
بے لحاظ
بے مروت
بد تمیز ہو کر
کوئی پردہ رکھا
نہ پردہ داری کی
اور محبت؟
آج اُس کا گلا گھونٹا ہے میں نے
اپنے ہی ہاتھوں سے
میں نے قانون سے بھی آنکھیں چرائیں
مذہب کی حدود بھی پار کیں
اور
پاؤں گاڑ کر اپنی جگہ پر
صاف صاف
سب چکتا کر آئی ہوں
اور اب
بیٹھی ہوں سوچتی:
کیا میں نے ٹھیک کیا؟
پر یہ سب تو کرنا ہی تھا
کوئی اور ہوتا
تو شاید یوں نہ کہتا
مگر کہتا ضرور
ایک بار
بولنے کا موقع ملا تھا
میں بولی
وہ چُپ رہا
سنا اُس نے سب کچھ
اب کیا کرے گا؟
چھوڑ دے گا؟
تو چھوڑ دے!
ویسے بھی
چھوڑ تو رکھا ہے اُس نے
باتوں میں
رشتوں میں
خامشی میں
اب ہم
دو کنارے ہیں
ایک دریا کے
درمیان جس کے
کچھ بھی باقی نہیں
اور اب
پھر سے سوچتی ہوں:
کیا یہ ٹھیک تھا؟
ہاں!
یہی تو ٹھیک تھا
جو ہوا
وہی ہونا تھا
جو ہو گا
دیکھ لوں گی
اب کچھ بھی نہیں بچا
نہ اُمید
نہ وہم
نہ کوئی خفی خواہش
سب کچھ
صاف ہو چکا ہے
صاف شفاف
کسی بے مَیل
نو زائدہ صبح کی طرح
جس کا کوئی ماضی نہیں
٭٭
ورجن
خون آلود ہونٹوں پر
صدیوں کی پیاس لادے
قحبہ خانوں کی
آہنی دیواروں میں
چُنی ہوئیں
ورجن
جس کی ایک آہٹ
صدیوں کو پیچھے دھکیل دے
اور کوئی نشان باقی نہ رہے
جب شرمندگی کی نمی
اِس پر اُترتی ہے
تو آنکھیں
دیواریں
سانسیں
سب بھیگ جاتے ہیں
جیسے
کوئی یاد
بے صدا
لوٹ آئی ہو
٭٭
معافی
کیا تم یہ چاہتے ہو
جن لوگوں نے زیادتیاں کیں
ظلم ڈھائے
ستم آزمائے
وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوں
ندامت سے چہرے تر کیے
تمہاری بے انصافی کی عدالت میں
سرنگوں پیش ہوں
اور شرمسار لہجوں میں
اپنے کیے کا اعتراف کریں
کہ ہم اپنے کرتوت پر نادم ہیں
ہم نے اچھا نہیں کیا
ہم بہک گئے تھے
ہم سے یہ خطائیں سرزد ہوئیں
تم بہت اچھے ہو
تم نے صبر کیا
حوصلہ نہ ہارا
زبان کو گنگ رکھا
خدا کے لیے ہمیں معاف کر دو
ایک موقع دے دو
ایسا وہ ہرگز نہیں کریں گے
یہ انسانی سِرشت ہے
انسان غلطی کرتا ہے
بھول جاتا ہے
بھولی ہوئی عادتیں
ہوا کے دوش پر جلتے چراغوں کی مانند ہیں
جن میں روشنی کو مقید نہیں کیا جا سکتا
میں جانتا ہوں
وہ معافی نہیں مانگیں گے
تم اگر معاف کر سکتے ہو تو
معاف کر دو
کہ معاف کرنے والا
خطا کرنے والوں پر
مقدم ٹھہرایا جاتا ہے
٭٭
جواز
یہ سچ ہے
اب تمہیں میری ضرورت نہیں رہی
یہ بھی سچ ہے
اب تم مجھ پر منحصر نہیں
اور
یہ بھی مان لیتا ہوں کہ
تمہیں دُنیا داری آ گئی ہے
لیکن
جب تم تنہا رہو گی
لمحوں کو خریدنا اور بیچنا
زندگی کو زِیر کر لینا
بس ایک اشارے پر
تمہارا منصب ہو گا
کیا اُس لمحے
کوئی چُپ، کوئی خلا
تمہارے اندر
ہلچل نہیں مچائے گا؟
تب کیا تم خود سے
مطمئن ہو سکو گی؟
میں نے ایسی بہت عورتیں دیکھی ہیں
جو تمہاری طرح
اُٹھیں
اپنا راستہ چُنا
اُصول بنائے
نظام کو چیلنج کیا
اور ثابت کیا:
کہ انھیں
کسی مرد کے
سہارے کی
ضرورت نہیں
آسانیاں
فراوانیاں
آسائشیں
اور
سہولتیں
ان کے قدموں سے لپٹی رہیں
لیکن
سکون
چین
اور قرار
انھیں نہ مِل سکا
اِک انجانا دُکھ
اک آزمودہ پچھتاوا
انھیں ڈستا رہا
یعنی ایک بھید
جو سمجھ نہ آیا
ایک سوال
جو ٹالا گیا
اب وہ
سائے کی طرح
چپک گیا ہے
چہرے بدل گئے
دل تھک گئے
روح نڈھال ہو گئی
لیکن سفر جاری ہے
ملامتوں کا
تہمتوں کا
بدنامیوں کا
٭٭
گمان کا یقین
میں ہی گیا تھا
ہمیشہ
خاموشی میں
اُس کی آواز ڈھونڈنے
وہ ہر بار
نرمی سے
ناراضی اوڑھ کر
چلی جاتی
جیسے جانتی ہو
کوئی ضرور
پیچھے سے پکارے گا
یہ رُوٹھنا
اب عادت بن چکا ہے
دو لوگ جب ہمسفر ہوں
تو بیچ میں
کچھ تلخیاں
آنا لازم ہے
رُوٹھنا ہر بار
ٹھیک کیسے ہو سکتا ہے؟
اُسے یقین تھا
میں آؤں گا
بِنا کچھ کہے
ساری شرطیں مان لوں گا
آج وہ روٹھی نہیں
مایوس ہوئی ہے
چُپ چاپ
چلی گئی
جیسے
واپسی کا دروازہ
بند کر چکی ہو
ہمیشہ کے لیے
٭٭
دولت اور کتاب
میرے اور اُس کے درمیان
اب دولت کھڑی ہے
خاموش
لیکن
ہر بات میں شامل
بے چین
جیسے دیواروں کے کان
بات اب
لفظوں سے نہیں
تعداد سے ہوتی ہے
سوال یہ نہیں
کہ کون کتنا کماتا ہے
سوال یہ ہے
کہ
کس کا خرچ
کس کے سر جاتا ہے؟
اور کتاب؟
وہ تو
کہیں پیچھے رہ گئی
دھُول میں اَٹی
شرمندہ سی
اپنے حرف
سمیٹتی
کتاب کی جگہ
اب ایک کھڑکی ہے
جس سے بس رسیدیں جھانکتی ہیں
اور لفظ؟
وہ خالی پڑے ہیں
جیسے نوٹوں کی گنتی میں
بھٹک گئے ہوں
میں حیران ہوں
کہ
پڑھے لکھے ذہن
حسابوں میں
کیسے اُلجھ سکتے ہیں؟
کب کتابوں سے
حساب نکلے؟
کب مطالعہ
تجارت بن گیا؟
وہ لڑکی
جو کبھی
میرے ذہن کی تازگی میں
کھِلتی تھی
اب میرے علم پر
طنز بن کر
چھا گئی ہے
اب کے بار
میں نے فیصلہ کر لیا ہے
میں نہیں رہوں گا
اُس کمرے میں
جہاں ہر شے کی قیمت ہے
مگر محبت بے قیمت
میں نے دولت کی باتیں
چُپ چاپ
خود سے الگ کر دی ہیں
اور
کتابوں کو
پھر سے تھام لیا ہے
وہ جائے
اپنا حساب لے کر
میں جاؤں گا
ایک ایسی دُنیا میں
جہاں لفظ
قرض نہیں ہوتے
اور
علم
خوشبو کی طرح
بانٹا جاتا ہے
٭٭
کھیت، موسم اور شجر
یہ کھیت
یہ موسم
یہ سایہ دار شجر
اب بھی کسی جانے والے کا نام دُہراتے ہیں
دُور تک پکار بھیجتے ہیں
ہریالی میں زرد رنگ نہیں اُترا
بارش کا پانی اب بھی نرم جڑوں کو چھوتا ہے
ہوا اب بھی جھومتی ہے، ہنستی ہے
وہ نہیں آئی
پر خوشبو اب بھی
ہر صبح میرے آنگن میں اُترتی ہے
بارش کا یہ موسم
یاد کا پرانا دوست ہے
چھن چھن گرتی بوندوں کے بیچ
چائے کا پہلا گھونٹ
اور اس کی آواز
"ناشتے میں آج آملیٹ ہی ملے گا”
یہ کھیت
یہ موسم
یہ سایہ دار شجر
اب بھی اُس کا پتہ پوچھتے ہیں
کاش کوئی خبر لائے
کہ وہ بھی شرمسار ہے
لوٹ آنے کو بے قرار ہے
پھر دیکھنا
میں اُسے واپس انہی کھیتوں کے حوالے کر دوں گا
انہی موسموں کی ہری آغوش میں رکھ دوں گا
٭٭
ایک لڑکا
ایک لڑکا
گاؤں کی مٹی سے اُٹھا
شہر کی سڑکوں پر چلتے چلتے
کتابوں کی روشنی میں اپنا نام لکھ آیا
کچھ برس کی محنت کے بعد
ایک بڑے دفتر کے کاغذوں میں
اس کا دستخط چل نکلا
گھر والوں نے
اس خوشی میں
اُس کا ہاتھ ایک پڑھی لکھی لڑکی کے ہاتھ میں رکھ دیا
پہلے دن خوشبو جیسے تھے
گفتگو میں موسم اُترتے تھے
ہنسی کے دائرے میں
دن گزر جاتے تھے
پھر ایک دن
باتوں نے راستہ بدلا
ہنسی کا شور
خاموش سوالوں میں بدل گیا
دونوں نے
ایک دوسرے کی آنکھوں میں
ماضی کے زنگ آلود دروازے دیکھے
پرانے کمرے کھولے
اندھیروں میں جھانکا
شک کے بیج اُگے
پھول کی طرح نہیں
کانٹے کی طرح
محبت کی نرم مٹی میں
دھُوپ سخت ہو گئی
اور راتیں دن کے سامنے
اپنی روشنی کھو بیٹھیں
آہستہ آہستہ
وہ دونوں
ایک دوسرے کے لیے
ناکافی ہو گئے
جیسے برتن آدھا بھر کر چھوڑ دیا جائے
جیسے بات ادھوری رہ جائے
اب وہ دونوں
کسی نئے
"کافی” کی تلاش میں ہیں
٭٭
کیا فرق پڑتا ہے!
کیا فرق پڑتا ہے
کسی کو خوش کرنے کے لیے
خود کو اُداس رکھا جائے
کیا فرق پڑتا ہے
کسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے
خود کو اندھے کنویں میں پھینک دیا جائے
کیا فرق پڑتا ہے
کسی کی راہ کے کانٹے چُن کر
اپنے پاؤں لہو لہان کیے جائیں
میں اپنے آپ کو اِتنا عزیز
کیوں سمجھنے لگا ہوں؟
کیوں اِترانے لگا ہوں؟
میں حقیقت سے بھاگتا ہوں
اور میرے اندر کا مُنصف
اب ایک لمحے کا موقع بھی نہیں دے گا
میں نے اِسے اِتنے چکر دیے ہیں
کہ مجھ پر اِس کا بھروسہ
ٹوٹ گیا ہے
خواہی نہ خواہی
مجھے اب اس کا فیصلہ
ماننا ہے
٭٭
ت لاش
لیلیٰ مجنوں کی صدا
ہیر رانجھے کی چاپ
سسی پنوں کی راکھ
اور سوہنی مہینوال کی خاک
سے آباد بستی میں
کیا مجھ سا بھی داخل ہو سکتا ہے؟
شہرت پا سکتا ہے؟
اِن کہانیوں میں جانے کیوں
آج بھی ایک مہک ہے
ایک خوشبو ہے
ایک کشش ہے جو کھینچتی ہے
عشق پر اُکساتی ہے
میں نے بھی
بہت عشق کیے
کئی لیلائیں، ہیریں، سسیاں، اور سوہنیاں
دل میں بسائیں
سب ایک سی لگیں
باتیں، راتیں، ملاقاتیں
سب ایک جیسی
کہتے ہیں عشق کیا نہیں جاتا
ہو جاتا ہے
مگر مجھے لگتا ہے
یہ ہو جانا بھی کم ہے
یہ تو پہاڑوں کی چوٹیوں
اَفلاک کی بلندیوں
سے آگے کی شے ہے
یہ ہر کسی کی دسترس میں نہیں
یہ اِختیار کا بھیس بدل کر
بے اختیاری میں سفر کرتا ہے
آس و یاس کے لامتناہی بھنور سے گزر کر
جب میں اپنی لیلاؤں کا کھوج لگاتا ہوں
آگے، بہت آگے
پہاڑوں سے اُوپر
اَفلاک کی سمت
چلتا چلا جاتا ہوں
کھوج کے اس سفر میں
جنم جنم کی آوارگی
مجھے تھکا دیتی ہے
تب میں
نابودی کے موڑ پر
القائی ہجر اوڑھے
ڈوب جاتا ہوں
افلاک کے سمندر میں
بچھڑے ہوؤں کو ڈھونڈنے
جو انتظار کی میزان پر
پڑے پڑے
لوحِ محفوظ ہو گئے ہیں
٭٭
صدائے ابدی
میری آنکھوں نے کتنے خواب دیکھے
میرے دل نے کتنے سپنے تراشے
میرے قدموں میں منزلیں رینگتی رہیں
میرے بازوؤں میں مسندیں جھولتی رہیں
میرے آگے دُنیا سرنگوں رہی
مگر سوال یہ ہے؟
کیا خواب محض دھوکا ہیں؟
کیا سپنے فقط آئینے کی دھند ہیں؟
کیا منزلیں تقدیر کے کتبے ہیں؟
یا یہ سب انسان کی آرزو کے گورکھ دھندے ہیں؟
سقراط نے کہا: "خود کو پہچان!”
افلاطون نے سرگوشی کی: "یہ جہاں سایوں کی غار ہے”
ارسطو نے کہا: "انسان کا مقصد خیرِ اعلیٰ ہے”
بدھا نے کہا: "خواہش دُکھ ہے”
کرشن نے کہا: "کر، پر پھل کی طلب چھوڑ دے”
موسیٰؑ نے کہا: "حق ہی طاقت ہے”
عیسیٰؑ نے کہا: "محبت سب سے بڑی حقیقت ہے”
حسینؑ نے کہا: "سچائی پیاس سے بھی بڑی ہے”
صوفی بولا: "دل کعبہ ہے، اِسے مت توڑو”
اقبال نے کہا: "خودی کو کر بلند اتنا کہ تقدیر بھی تجھ سے اجازت مانگے”
رومی نے کہا: "محبت ہی وہ سود ہے جو کائنات کو باندھے رکھتی ہے”
منڈیلا نے کہا: "آزادی ہی زندگی ہے”
مارٹن لوتھر نے کہا: "ایک دن سب انسان برابر ہوں گے”
چی گویرا نے کہا: "جہاں ظلم ہے، وہاں خاموش رہنا بھی جرم ہے”
جناح نے کہا: "ایک آزاد مٹی پر آزادی کی سانس ضروری ہے ”
شیکسپیئر نے کہا: "ہونا یا نہ ہونا، یہی سوال ہے”
ٹیگور نے گنگنایا: "انسان خدا کا گیت ہے”
سعدی نے کہا: "بنی آدم ایک جسم ہیں”
محمدؐ نے اعلان کیا: "قولوا الحق و لو کان مُرّاً۔”
پھر میں نے دیکھا:
پرومی تھیئس کی چرائی ہوئی آگ آج بھی جل رہی ہے
مگر انسان اسے اپنے سائے میں دفن کرتا رہا
گلیلیو نے ستاروں کو چھوا اور کہا: "زمین نہیں، سورج مرکز ہے!”
پھر اس کی زبان جلا دی گئی
لیکن قافلہ چلتا رہا
سچ کا پرچم کبھی نہ گِرا
یہ خواب اور سچائی کا قافلہ ہے
جو مصر، کربلا، اسپارٹا سے
افریقہ، امریکا، روس اور برصغیر تک
ایک ہی صدا دیتا ہے:
انسان زندہ تب ہے
جب وہ خواب دیکھتا ہے
ایسے خواب جو تقدیر بدل دیں
ایسے خواب جو مرنے کے بعد بھی
صدیوں تک زندہ رہیں
٭٭
دیوانگی
وہ رات
ہر رات کی طرح
اپنے دامن میں چُن لیتی ہے
چمکتے، ٹِمٹِماتے ستاروں کے پتھر
اور انھیں
دور خلا کی طرف پھینکتی رہتی ہے
جب اِس کے دامن کے سارے پتھر
ختم ہو جاتے ہیں
صبح
خاموشی سے
جنم لیتی ہے
٭٭
گمان کا ممکن
تم آ جاؤ
سب رنجشیں
وقت کی گَرد میں دفن کر کے
میں تمہیں
ایک نئے سفر پر لے چلوں گا
جہاں ہوا نرم ہو گی
اور راستے
کسی پرانے زخم کی ٹِیس سے بے نیاز ہوں گے
کیا تم
اِس سفر پر قدم رکھو گی؟
کیا تم
پھر سے
میرے آسمان کی
لوحِ محفوظ پر
اپنا نام لکھو گی؟
٭٭
راہ نجات
اُنھوں نے کہا:
ہمارے پاس تمہیں دینے کو کچھ نہیں ہے
اگر چاہو تو
نفرتوں کی بدبو سونگھ لو
ذِلتوں کی راکھ اپنے دامن میں بھر لو
بدنامیوں کے کچرے کو مسکن بنا لو
رُسوائیوں کے بستر اوڑھ لو
شرمساری کے مکھوٹے پہن لو
گالیوں کے زخم سینے پر سجا لو
حقارت کی مٹی اپنے ماتھے پر مَل لو
یہی ہے ہماری دُنیا کی خیرات
یہی ہے ہماری وراثت
جو ہم کسی کسی کو دیتے ہیں
میں ہنسا
کہ سالک کے لیے یہی دولت ہے
یہی راستہ وہ ہے جہاں
منصور دار پر مسکرایا
رومی نے زخم کو چراغ کہا
بلھے شاہ نے ٹھٹھوں اور تمسخر میں
اپنے وصال کی راگنی چھیڑی
شاہ حسین نے رُسوائی کی آگ کو
عشق کی بھٹی بنا یا
سچل سرمست نے بے توقیری کو
حق کی معراج جانا
اور خواجہ نے دھُتکار کو
فقیری کو تاج کہا
جو کچھ اُٹھا سکتا تھا
میں نے اُٹھا لیا
نفرتوں کے ڈھیر
ذِلتوں کے پھیر
رُسوائیوں کے غلے
شرمساری کے بوجھ
سب کو سینے سے لگایا
خوشی خوشی
ہنستے ہنستے
کہ جان گیا
اِسی میں راہِ نجات ہے
٭٭
محبت جتانے والوں سے
ایک دن اُس نے کہا:
یہ گھر چھوٹا ہے
ہم اِسے بڑا کریں گے
گاڑی لے کر ہم جلائیں گے
وہ سب چہرے
جنہوں نے زہر گھولا
میں نے اُس کے لفظوں پر
خواب ٹانک دیے
رشتے کاٹ دیے
سوچا
وہ ہے تو خوف نہیں
غم نہیں
مگر انجام
وہی پرانا قصہ
ساتھ چھوٹ گیا
اور دھوکا رہ گیا
اب بھی
اُس کی آواز
میرے گرد منڈلاتی ہے
جیسے بھاگتی ہوئی آئے گی
اور سب دُکھ دھو دے گی
لیکن یہ صرف گُزرے دنوں کا فریب ہے
ضروری نہیں
ہر وعدہ وفا ہو
ہر رشتے سے
نِباہ ہو
خواب دکھانے والوں پر
بھروسہ نہ کر
محبت جتانے والوں سے
رستہ جُدا کر
٭٭
شِکاری
چڑیوں کے پَر
اب ہوا میں نہیں
مٹی میں اُڑتے ہیں
شکاری کو بُلاؤ
اور کہو
اِس بار معاوضہ
دو گنا ہو گا
ہمیں پرندے نہیں
خاموشی پکڑنی ہے
٭٭
چالاکی
دُشوار…؟
کچھ بھی نہیں
بس حاصل کو
لاحاصل میں بدل دو
خواب دیکھو
تعبیر کے آئینے سے
اور تخریب کے ملبے سے
تعمیر کے رستے نکال لو
کچھ بھی مشکل نہیں
بس ذرا سا
اپنے ہونے سے انکار کر دو
دیکھنا
دُنیا لوٹ آئے گی
٭٭
ماں: پہلی کتابِ کائنات
ماں
ایک لفظ نہیں، ایک دریافت ہے
وہ پہلی صبح جو ہمارے اندر طلوع ہوئی
پہلا آسمان جو ہمارے سینے میں بنا
پہلی ناؤ جو ہمیں سمندرِ وجود میں بہا لے گئی
ادب نے اسے دفاترِ عشق میں لکھا
ہومر، نے جب اپنا گھر یاد کیا تو اُسی آنچل کا ذکر تھا
سافو کے گیتوں میں ماں کی محبت کا درد چھلکتا تھا
شیکسپیئر کے ڈراموں میں ماں کی خاموشی نے کرداروں کو زندہ رکھا
تاریخ نے ماں کو دیوہیکل چہرہ دیا
وہ ماؤں کی صفیں جو فوجوں کے پیچھے کھڑی رہیں
وہ ماں جس نے دَستۂ جدائی میں بیٹے چھوڑے
اور صدا بن کر ملّت کے سینے میں گونجتی رہیں
مذہب نے ماں کو آسمانی مقام بخشا
یہ وہی مریم ہے جس کے ہاتھوں نے نجات کا گیت تھاما
وہی مایا جس نے بدھ کو شکل دی اور دُنیا کی حقیقت سِکھائی
وہی دیوی ماٹی کی، جو دِیوی شان سے کائنات کو پالتی ہے
دھرتی کی ماں، دورگا، کا عزم، کالی کی قوت
یہ وہ ماں ہے جسے عیسائیت نے مریم کی پاکیزگی میں دیکھا
اِسلام نے رحمت و شفقت میں پکارا
ہندومت نے ماتا کے سنگھی روپ میں بھگتی دی
یہودی روایت میں حوا کی مہر
ہر زبان نے ماں کو مختلف نام دئیے، مگر مانگ ایک رہی:
محبت، قربانی، اور زندگی کا پہلا چراغ
کہتے ہیں کہ گایا نے زمین کی پہلی سانس میں ماں کو جنم دیا
دیومالائی قصوں میں ماں نے بچوں کو ستاروں کے کپڑے پہنا دئیے
مصر کی آئسس نے اپنے بازوؤں سے بادشاہوں کو قدو کیا
اور ہندوستان کی کہانیوں میں سیتا، کُنتی، گنگا جیسی ماؤں نے گھر کو دیوتا بنایا
دُنیا بھر کے ہیروز نے جب سچ اور آزادی کی راہ اپنائی
اِن کی پُشت پر اکثر ماں کی دعائیں تھیں
خاموش، مگر سمندروں جیسی گہری
نیلسن منڈیلا کے اندر وہ ماں کا سحر
مدر ٹریسا کی ہر مُسکان کے پیچھے ممتا کی پرچھائی
ماں کا مقام
کوئی رسمی تعریف اِسے پورا نہیں کر سکتی
یہ وہ نماز ہے جو زبان سے نہیں، وجود سے ادا ہوتی ہے
یہ وہ کتاب ہے جس کے صفحات ہماری ہڈیاں، ہماری رگیں، ہماری سانسیں ہیں
اور جب ماں دور ہو جاتی ہے
دُنیا ایک بڑی خاموشی میں ڈوب جاتی ہے
صبح کمزور، روشنی ادھوری، چھاؤں بے معنی
سوکھی روٹی کا ذائقہ اِسی لیے کڑوا
سونے کی راحت بے رنگ، اور طربِ دُنیا ایک دھُواں
یادوں کے زخم راز سنبھالتے ہیں
اُس کے ہاتھ کی گرمی ہنوز ہمارے ہاتھوں میں دھُندلی روشنی کی طرح جمی ہے
اُس کی آواز، وہ چھوٹی سی دُعا، کانوں میں جب گونجتی ہے
میں اچانک بچّہ بن جاتا ہوں، پھر اُسی آغوش کی تلاش میں نکل پڑتا ہوں
ماں کے بغیر انسان وہ نہیں جو حساب میں گزرتا ہے
وہ تو ایک کاغذ کی تختی ہے جس پر زندگی کے حروف مٹنے لگیں
دُنیا کے سب مذہبی مبلغ اکٹھے ہو کر اگر فریاد بھی کریں
وہ خالی ہیں جب تک ماں کی آنکھِ مہر نہ جھلکے
آئیے ہم ایک لمحہ کے لیے سر جھکا کر سوچیں:
کتنے قصّے، کتنی قومیں، کتنے لوگ ماں کی مہر کے سہارے اُٹھے؟
کتنے شاعروں نے ماں کو اپنے شعروں میں چھپا رکھا؟
جب ہم سچ کی بات کریں، جب ہم بے باکی کا ذکر کریں
یاد رکھیں: ماں نے ہمیشہ وہ پل دیا جس نے ہمیں سچ کے لیے کھڑا کیا
ماں کی جدائی کے وہ ہلکے، مگر گہرے اور مٹنے والے درد
جب اُس کا ہاتھ ہلکا ہو جاتا ہے، زمانہ ایک لمبے سِرے کا انتظار بن جاتا ہے
جب اُس کی آواز چُپ ہو جاتی ہے، کائنات میں ایک ستارہ بُجھ جاتا ہے
ہم جو کچھ بھی بنیں، آخرکار ہم اُس کے لیے بچے ہی ہیں
اور اُس کے نہ ہونے کی خبر ہمیں ہر خوشی سے محروم کر دیتی ہے
ماں، وہ پہلی کتابِ کائنات، وہ پہلی عبادت، وہ آخری صدا
اگر آپ کے اندر بھی اُس کی یاد زندہ ہے تو آنکھیں نم ہوں گی
کیونکہ ماں کی محبت ایسی ہے کہ موت بھی اس کے نام کے آگے جھکتی ہے
اور صدا میں وہی قدرت ہے جو ربّ کے روپ میں گونجتی ہے:
ماں خدا کا روپ ہے
٭٭
مثلثی نظمیں
چاند بادلوں میں گُم
اور رات گہری
اب وہ مجھ تک کیسے پہنچے گا؟
۔۔
"آپ کون ہیں؟”
پہلے کبھی نہیں دیکھا
"اِسی گلی کا پرانا مکین ہوں”
۔۔
مجھے جانا ہو گا
رُکنے کی گنجائش نہیں
وقت بھٹک جائے گا
٭٭
موقع
چلو
ایک بار پھر سے
رنجشوں اور شکووں کی پوٹلیاں
ہوا کے کاسے میں ڈال دیں
اور ہاتھ
ایک دوسرے کی گرفت میں دے کر
ضدیں
کمرے کے سائے میں چھوڑ آئیں
اِک نئے جنم میں
یوں داخل ہوں
جیسے سہاگ رات میں
روحیں بغل گیر ہوتی ہیں
مجھے یقین ہے
اِس بار
ہمارے بیچ
کوئی سایہ
کوئی دیوار
انگڑائی نہیں لے گی
٭٭
یکسانیت
دُنیا
حُسن کے لبادے میں لپٹی
اُفتاد کے دبیز پردوں میں
سلائی مشین کی طرح
ہر سَمت سِلتی جا رہی ہے
آوازیں
ایک ہی سانچے میں ڈھلیں
جملے
ایک دوسرے کے مُسَوّدے کی نقل
موضوعات
مدھم آئینوں میں بسی دھُند کی مانند
وقت کے دھاگے سے کٹ کر
بوجھ بن گئے ہیں
سُود و زِیاں میں اُلجھے لفظ
جیسے کسی کے گلے پر تیز دھار رکھ کر
خون کی ندیاں بہا دیں
٭٭
آج سے تم آزاد ہو
اچھا، ٹھیک ہے
جیسا تم چاہو
کھول دیتے ہیں
گِرہ اِس لایعنی بندھن کی
توڑ دیتے ہیں
ہر وہ تعلق
جو تم سے جُڑا ہے
سارے خواب، سارے سراب
ایک گٹھڑی میں باندھ کر
پھینک دیتے ہیں
کسی اندھی کھائی میں
خواہشوں سے بے نیاز ہو کر
چلو، اک نئی روش کی
نِیو ڈالتے ہیں
اب تم
جس طرح چاہو
کھُل کے جیو
خواب دیکھو
سوانگ رچاؤ
دُکھ کو
سُکھ میں بدل ڈالو
اپنے نام کی پہچان بنا لو
رشتوں، ناتوں، رسموں سے جان چھڑا لو
تم یہ سب کر و
تاکہ من میں
کوئی کسک
باقی نہ رہے
آج سے تم آزاد ہو
مکمل، سر تا پا
٭٭
نارسائی کا بھید
رات بھیگ چکی ہے
اور میں
آنکھوں میں خمار لیے
اب تک تلاش میں ہوں
کیا ہے وہ؟
اک دھُندلا سا ہیولا
کسی اَدھوری تمثیل کی مانند
ستاروں کی اَوٹ میں لہراتا
مگر میرے درِ ادراک میں
آنے سے انکاری
تصور کے نہاں خانوں میں
کچھ کھو گیا ہے
جیسے تلاش کے اِس سفر میں
نارسائی کا ایک پوشیدہ راز
میرے سامنے وا ہونے سے
ہچکچا رہا ہو
ستاروں کے چمکتے بھنور میں
دودھیا کہرے کی ہلکی سی رنگت اوڑھے
وہ جھلملا رہا ہے
مگر ہاتھ نہیں آتا
٭٭
روانی
وقت بیت رہا ہے
سانس روک لو
شاید
وقت ٹھہر جائے
مجرد تنہائی
٭٭
ایک میز
اور چند کتابیں
ان کے درمیان
کوئی نہیں
کچھ بھی نہیں
٭٭
شغل
عکس لِپٹے ہیں
کاغذ کی نوک پر
حُلیہ بگاڑ رہے ہیں
٭٭
یہ وہی کمرا ہے
یہ وہی کمرا ہے
جہاں
مارچ کے خُنک موسم میں
ہم نے
پہلی رات گزاری تھی
ایک نئی زندگی کی
کی پہلی لکیر کھینچی تھی
آج مدت بعد
اِس کمرے میں
جھانک کر دیکھا
اور دل
اِک دم بجھ گیا
دیوار پر
اب بھی وہی تین تصویری تختیاں
آویزاں ہیں
وقت کی دھُول میں
اپنے رنگ سنبھالے ہوئے
مگر باقی سب
بدل چکا ہے
کسی نے
اِنھیں اُتارا نہیں
پر یہ بھی سچ ہے
کہ اِس کمرے سے
کچھ نہ کچھ
ضرور اُتر گیا ہے
شاید خواب
شاید لمس
یا وہ ہنسی
جو کبھی یہاں گونجی تھی
یاد ہے؟
یہ تختیاں
شادی میں کسی عزیز کا تحفہ تھیں
کاش
اِن کی طرح
ہم بھی
محبت کی دیوار پر
ٹنگے رہتے
زندگی
مسکراتی رہتی
اور دل
یوں خالی نہ ہوتا
٭٭
کتنے برس بیت گئے
کتنے برس بیت گئے
اور کتنے ہیں
جو بیتنے کو ہیں
کیا یہ ممکن ہے؟
کہ جو گزر گئے
اُنھیں مٹا دیں
اور جو باقی ہیں
اُنھیں تھام لیں
آج
ایک سال اور گزر گیا
پورا ایک سال
تم لوٹ سکے
نہ لوٹ سکو گے
سالہا سال سے
ہر سال کی طرح
یہ سال بھی
گزر جائے گا
٭٭
میں اُسے یاد نہیں کرتا
میں اُسے یاد نہیں کرتا
یاد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے
جو دل سے اُتر جائے
بیچ رستے چھوڑ دے
اُسے کیوں یاد کروں؟
میں اُسے یاد نہیں کرتا
لیکن
کبھی کبھی
رات کے سناٹے میں
یاد
چُپکے سے دروازہ کھولتی ہے
اندر آ کر
میری سانسیں باندھ دیتی ہے
میں ہڑبڑا جاتا ہوں
خوفزدہ ہو کر
تمہیں پُکارنے لگتا ہوں
٭٭
تم نے خط میں لکھا ہے
تم نے خط میں لکھا ہے
یہ میرا آخری خط ہے
اس کا جواب نہ دینا
بس اِسے سنبھال کر رکھنا
میں لوٹ کر آؤں گی
تو کہانی
وہیں سے شروع ہو گی
میری غیر موجودگی میں
کسی اور کو
کہانی کا حصہ نہ بنانا
لوگ چاہیں گے
کہانی آگے بڑھے
اور کردار بدل جائے
مگر تم ایسا نہ کرنا
میر انتظار کرنا
٭٭
شاعر جی!
شاعر جی!
میری کہانی بھی لکھ دو
میں ایک لڑکی ہوں
ایک لڑکے کو چاہتی ہوں
گھر والے کہتے ہیں
دل توڑ دو
بیچ راستے چھوڑ آؤ
کہتے ہیں
یہ محبت، یہ پیار
صرف دھوکا ہے
وہی قبول کرو
جو ہم چاہیں
شاعر جی!
تم ہی بتاؤ
کسے اپنانا ہے
کسے ٹھکرانا ہے؟
٭٭
میں شرمگاہ ہوں
کپکپاتے ہاتھوں نے
شرمگاہ کو چھوا تو
یکایک اُس کے چہرے کی
ساری مردنی غائب ہو گئی
ایک عجیب سی چمک
اُس کی نگاہوں میں پھوٹی
یہ چمک روایتی نہیں تھی
نومولود تھی
ایسا لگا
میرے ہاتھوں نے
شرمگاہ کو نہیں چھوا
بلکہ اُس کی روح کو چھو لیا
یہ کیفیت دیکھ کر
مجھ سے رہا نہ گیا
مُردنی چہرے کے کھِل اٹھنے کا
سبب پوچھ لیا
کہنے لگی:
برسوں سے اس شرمگاہ پر
نفرت کے زخم گہرے ہوتے گئے
ہوس کے تیروں نے چمڑی نوچی
دھوکا دیا، اندر سے توڑا
برسہا برس گزر گئے
عصمت دری کی روایت
ختم نہ ہوئی
مجھے لگنے لگا ہے
میں متنفس نعش ہوں
جسے نوچنے کو
کتوں، بلوں، گدھوں کی بھیڑ
گردا گِرد منڈلاتی ہے
ان کی ہوس بھری نظریں
شرمگاہ کو یوں تکتی ہیں
جیسے یہ مدفن خزانہ ہو
کسی رئیس کی عطیہ دولت کا
جس پر سب کا حق ہے
اپنے بارے میں سوچتی ہوں تو
لگتا ہے
میں عورت نہیں ہوں
میں شرمگاہ ہوں
وہ بھی ایسی
جس کی ملکیت پر کبھی غرور نہ کیا
پیشاب گاہ کے لاغر لبوں پر
میں غرور کیوں کروں؟
یہ شناخت کا حوالہ نہیں
سینکڑوں آئے، پیاس بجھا کر گئے
برسہا برس ایسے ہی گزرے
پھر تم آئے تو لگا
تمہارے ہاتھوں نے
میرے مردہ جسم کو زندہ کیا ہے
جسے برسوں پہلے مار دیا گیا تھا
آج مجھے یقین ہوا
مرد پیار سے چھو لے تو
عورت شرمگاہ کی محتاج نہیں رہتی
٭٭
فرار
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جسے دل سے چاہا جائے
وہ دل سے اُترنے کے بہانے تراشتا ہے
اگر دل میں رہنا نہیں تھا
تو دل میں رہنے کی خواہش کیوں رچی تھی؟
چار دن کی محبت کا دکھاوا کر لیتے
کھٹی میٹھی باتوں سے جی بہلا لیتے
ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے
اور اگلی ملاقات کے وعدے پر
کہانی کو خوبصورت موڑ دے دیتے
کیا یہ ضروری ہے؟
بے قدری کے نام پر
ایک دوسرے کو
رُسوا کیا جائے؟
اٹوٹ وعدوں کا
بھرم توڑا جائے؟
٭٭
بے نام ملاقاتوں کے سراب
وہ میرے سامنے
نیم برہنہ لیٹی ہے
اور میں
اُس کے پستانوں کی حدت سے
اپنی رگوں میں آگ محسوس کر رہا ہوں
وہ چاہتی ہے
میں اُس کے مرمریں بدن سے
ہوس بجھا لوں
پر کیا وہ جانتی ہے؟
میرے دل کی گہرائیوں میں
کیسا طوفاں اُٹھ رہا ہے؟
میں سوچتا ہوں
یہ لڑکی کتنی بے فکری سے
میرے بستر پر برہنہ ہے
فقط ایک اشارے کی منتظر ہے
میں چاہوں تو
اُس کی بے داغ جوانی
داغ دار کر دوں
اپنی ہوس بجھا کر
اُسے چلتا کروں
پھر سوچتا ہوں
یہ لڑکی کب تک
یونہی برہنہ بدن
میرے سامنے لیٹی رہے گی؟
زیادہ دیر تک
اس میں حیا باقی نہ رہے گی
میں جانتا ہوں
کسی شریف خاندان کی آبرو ہے
جس کی رگوں میں
کئی نسلوں سے
عصمت کے تحفظ کے لیے
تلواریں خون سے نہلائی گئیں
پر کیا وہ جانتی ہے؟
اس کے پُرکھوں نے
مصنوعی غیرت کے نام پر
کتنے بے گناہوں کو
موت کے گھاٹ اُتارا ہے؟
کتنی معصوم عورتوں کو
بے آبرو کیا ہے
اس لڑکی کو
اپنے خوبصورت ہونے پر
ناز ہے
اور وہ سمجھتی ہے
چاہے دُنیا اُتھل پُتھل ہو جائے
مغرب سے سورج نکل آئے
زمین پھٹ جائے
یا آسمان گر پڑے
میں اس سے وفا کروں گا
جان سے گزر جاؤں گا
٭٭
رپورٹ
بوجھل قدموں سے
گھر لوٹی وہ
میں نے پوچھا
کیا ہوا؟
"کچھ نہیں”
پھر بھی
کچھ تو ہوا ہے
"رپورٹ آ گئی ہے ”
وہ بولی
پھر؟
"بیٹی ہے”
اللہ کی دین ہے
کوئی بات نہیں
"بات تو ہے نا؟”
کیا؟
"تم نہیں سمجھو گے”
یہ کہہ کرکمرے میں چلی گئی
وقت گزرتا رہا
جس دن ایمن نے جنم لیا
گھر میں صفِ ماتم بچھا تھا
سب کو بیٹے کی اُمید تھی
یہ میرے اختیار میں نہیں تھا
اللہ کی مرضی کے آگے
بس چلے!
تو کسی گھر میں
بیٹی نہ جنمے
دیکھتے، دیکھتے
کبھی نہ ٹوٹنے والا
انمٹ رشتہ
بدگمانی کی نذر ہو کر
ریزہ ریزہ بکھر گیا
وہ ننھی جان
اب چھے برس کی ہے
اُسی کے ساتھ رہتی ہے
جس کو
اس کی پیدائش پر رنج تھا
جب دل چاہے
ایک آدھ تصویر
وٹس ایپ کر دیتی ہے
لوگوں کو دکھانے کے لیے
جیب خرچ منگوانے کے لیے
٭٭
صورتحال
جانے
اب وہ کہاں ہو گی
کس حال میں
کون بتا سکتا ہے؟
خاموشی کے صحرا میں
صدا کا سراغ
کبھی نہیں ملتا
٭٭
انتظار کی دھُوپ
تم کہاں ہو؟
جہاں بھی ہو
بس… چلے آؤ
راستے
انتظار کی دھُوپ میں
سوکھ رہے ہیں
اور سائے
تمہارا پتہ پوچھتے ہیں
٭٭
زخم
چھِیلتے رہو
افسردہ زخم
آنسو تھوڑی ہیں
جو سوکھ جائیں گے
٭٭
خوش فہمی
جھوٹ کے پروں پر
سچ کو اُڑنا سکھاؤ
شاید اُڑان بھر لیں
مگر گواہوں کی گنتی
کہانی کا رُخ نہیں موڑ سکتی
٭٭
نادانی
روشنی کو یہ شعور کہاں
کہ کب نرم پڑنا ہے
کب تیز ہو جانا ہے
وہ تو بس جلتی رہتی ہے
بے خبر اس بات سے
کہ کبھی اس کی شدت
آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے
اور کبھی
اندھیروں کے دل تک
پہنچ کر
انھیں بھی راکھ میں بدل دیتی ہے
٭٭
ندامت
میں نے آواز دی
یقین ہو گیا
وہ نہیں آئی گی
سورج
نادم ہو کر
پہاڑوں کی اوٹ میں
سِسکنے لگا
٭٭
غصہ
بادل کو کس نے کہا تھا
سمندر سے پانی مانگنے؟
ہوا
اِس کا چہرہ نوچے گی
٭٭
ہنر
میرے لیے
ہمیشہ آسان رہا ہے
کسی کو بھی
بیچ رستے چھوڑ دینا
میں جانتا ہوں
ادھورے سفر کا درد
خاموشیوں کو
کیسے حاملہ کرتا ہے
٭٭
تنبیہ
دیکھ لو
میں بدل گیا
تم بھی بدل جاؤ
ورنہ
یادوں کا زہر
آہستہ آہستہ
ہڈیوں میں اُتر کر
خون کو سیاہ کر دیتا ہے
٭٭
آخری خواہش
ابھی تم جوان ہو
صحت مند ہو، خوبصورت ہو
بات سُنو
میرے جانے کے بعد
یونہی آنسو نہ بہاتے رہنا
گھر بسا لینا
بچوں کو ماں مل جائے گی
گھر ویران ہونے سے بچ جائے گا
دُنیا کے طعنوں سے
بچے رہو گے
اچھے رہو گے
میں جانتی ہوں
تم نے میری بہت خدمت کی ہے
اپنا سب کچھ خرچ کر ڈالا
میں غیر تھی، تہمت زدہ تھی
مجھے شرمندہ کیا، نہ کوئی نقص ٹٹولا
جیسا پکا یا، کھا لیا، جو دیا، پہن لیا
اچھا وقت تمہارے ساتھ گزرا
اب فقط چند سانسیں ہیں
جو حلق میں کہیں اٹک گئی ہیں
مجھ سے وعدہ کرو
میری آخری خواہش پوری کرو گے
بچوں کو ممتا سے محروم نہ رکھنا
اِنھیں دُنیا کے سہارے مت چھوڑنا
خواہ کتنا ہی مشکل ہو
میں جانتی ہوں
تم مجھ سے بہت محبت کرتے ہو
مجھے نہیں پتہ کہ تم
یہ سب کیسے کرو گے؟
لیکن میں جانتی ہوں
تم بہت اچھے ہو
صابر و شاکر
راضی و بر رضا
ہم پھر ملیں گے
اک نئے جہان میں
جہاں ہمیں کوئی جُدا نہ کر سکے گا
تم جب جب مجھے یاد کرو گے
میری کمی کو محسوس کرو گے
میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر آؤں گی
تمہارے جلتے دل کو ٹھنڈا کروں گی
کیا تم نہیں جانتے
جو آیا ہے
اُسے جانا ہے
کب کوئی کسی کو
روک سکا ہے
٭٭
عشق کبھی نہیں مرتا
عشق
خواب ہے، نہ کہانی
یہ تو منصور کی انا الحق ہے
جو وقت کے کانوں میں
زہر کی طرح اُترتی ہے
وہ صدا
جو جلتے شہروں کی دیواروں سے ٹکرا کر
تاریخ کے رکھوالوں کے
سیاہ کاغذ پھاڑ دیتی ہے
عشق
جونؔ ایلیا کی تلخی ہے
جو ہر لفظ کے شعلے میں
اپنی لاچاری بھی جلا دیتا ہے
یہ ن۔ م۔ راشدؔ کی
سرکشی کا استعارہ ہے
جو کہتا ہے:
"یہ زنجیریں میرے بدن کی نہیں،
میرے خوابوں کی دشمن ہیں”
عشق
میرؔ کا کرب ہے
جو ویران گلیوں میں
خاموش مرثیہ پڑھتا ہے
یہ مجید امجدؔ کی چُپ میں
صدیوں کی پکار ہے
یہ میرؔاجی کی بے چین روح ہے
جو دھرتی کے ہر ذرے کو
چومنا چاہتی ہے
عشق
دھڑکن ہے، سانس ہے
خواب ہے، گواہی ہے
یہ وہ روشنی ہے
جسے قید کرنے والے
خود اندھیروں میں بھٹک جاتے ہیں
عشق
نہ بکتا ہے، نہ جھکتا ہے
اور جب ہر سچائی
مصلحت میں دفن ہو جائے
تو یہی عشق
تنہا، مگر سر اُٹھائے
کھڑا رہتا ہے
عشق
کبھی نہیں مرتا
٭٭
روشنی کا جنم
(ایمن زھرا کے لیے)
کیسے بھول سکتا ہوں
تمہارا وہ معصوم، نوزائیدہ چہرہ
پہلی بار جب مری
آنکھوں میں اُتریں
ہتھیلیوں پر ٹھہریں
اور روح تک رس گئیں
نرم، نرم ہاتھ
مہین کلائیاں
کمزور سا بدن
ہلکا، اِتنا ہلکا
جیسے انگریزی گڑیا
پہلی بار جب
تمہیں گود میں لیا
تو یوں لگا
جیسے کسی فرشتے کی روح چھو لی ہو
ایسی روح
جسے محبت کے خمیر سے گوندھا گیا ہو
ماں کا دُودھ
جس میں روشنی گھلتی ہے
جس سے بدن میں چمک اُترتی ہے
اور ماں کا رشتہ؟
عجیب رشتہ ہے
دُنیا کے سب رشتے
ایک پلڑے میں رکھ دو
یہ اکیلا
سب پہ بھاری رہتا ہے
٭٭
موسم
ساون بھادوں کے دن
نَم کے ہار پہنے
زمین کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہیں
بادل
ہنستے ہوئے آسمان سے اُترتے ہیں
بارش کی باریک سلائیاں
ہونٹوں پر لمس کی کہانی لکھتی ہیں
چائے کے کپ میں
بھاپ کے ساتھ
محبت کی خوشبو گھلتی ہے
ہر چُسکی میں دل دھڑکنے لگتا ہے
صبا آتی ہے
گیسوؤں میں بارش کا جادو سمیٹے
اور درختوں کے سائے میں
پرانے عشق کے فسانے دُہراتی ہے
رنجیدہ دلوں کو
چُپکے سے سمجھاتی ہے:
ساون بھادوں کے موسم
حسین ہوتے ہیں
رنگین ہوتے ہیں
٭٭
دُنیا تو کوئی بھی خرید سکتا ہے
چند دنوں کی بات ہے
ورلڈ بینک کی مہر لگ چکی
آئی ایم ایف کی میز پر
معاہدے کا مسودہ پڑا ہوا ہے
اسٹیٹ بینک نے وعدہ کیا ہے
اور ایشیائی بینک سے بھی
معاملات طے پا چکے ہیں
چند دنوں کی بات ہے
اگر میرا بس چلا
تو فرشتوں سے ساز باز کر کے
تمہارے نام کا
ایک جنتی سرٹیفیکیٹ بھی بنوا لوں گا
بھروسہ رکھو مجھ پر
جو تم نے مانگا
یا اب تک بس سوچا
میں قدموں میں بچھا دوں گا
اگر ذرا سی تاخیر ہو جائے
تو پریشان نہ ہونا
تم نہیں جانتی
تمہاری بے قراری میں گزرے
ایک ایک لمحے کی قیمت
تختِ شاہی سے زیادہ قیمتی ہے
کیا تم نے کبھی سوچا؟
رانجھے نے ہیر کے لیے بھینسیں کیوں چرائیں؟
پُنوں نے سسی کے لیے گھر کیوں چھوڑا؟
مرزا کو صاحباں کے لیے
ہنستے ہنستے کیوں مرنا پڑا؟
کیا تم جانتی ہو؟
مہینوال چناب کنارے تنہا کیوں پڑا رہا؟
رومیو جیولٹ کے لیے در بدر کیوں پھرتا رہا؟
اِس لیے کہ محبت میں
عُشاق سب کچھ قربان کرتے ہیں
تم نے تو
صرف دُنیا مانگی ہے
اور دُنیا
دُنیا تو کوئی بھی خرید سکتا ہے
٭٭
وقت کی گَرد
کبھی کبھی
وقت کی گَرد ہٹا کر
یاد
اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے
ایک پل کے لیے
روشنی نما کچھ بھڑکتا ہے
پھر بُجھ کر
دھُند میں گم ہو جاتا ہے
تمہارا وجود
شاید
میرے اندر کہیں بھٹک گیا ہے
اور باہر نکلنے کا رستہ
بھول گیا ہے
٭٭
دستک
کوئی نہیں
کوئی بھی نہیں
فریاد سننے والا
نہ کان دھرنے والا
سب کو پکار چکا ہوں
آہوں سے گلا زخمی کر لیا
کاسۂ دل غم سے بھر لیا
جو بویا
کاٹ نہیں سکتا
قسمت کا لکھا
بانٹ نہیں سکتا
دور سب سے ہو چکا ہوں
نادیدہ بھنور میں ڈوب چکا ہوں
ممکنہ سب در کھٹکھٹا لیے
ظرفِ دوستاں آزما لیے
کوئی نہیں
کوئی بھی نہیں
شاید میں بھول رہا ہوں
ایک در
ابھی باقی ہے
٭٭
بڑی مشکل ہوتی ہے
بڑی مشکل ہوتی ہے
جب راستے دھُول ہو جائیں
سہارے
اُنگلیوں سے پھسل جائیں
جب اپنے اور پرائے
ایک ہی رنگ میں ڈھل جائیں
جب ڈوبتا سورج
اپنی سُرخی کھو دے
جب خودکشی کی بات
ہنسی میں گھُل جائے
بڑی مشکل ہوتی ہے
جب زندہ رہنا
اک بوجھ بن جائے
موت جی بہلانے لگے
زندگی خود کو ڈرانے لگے
جب کوئی تمہیں
دل سے نکال دے
خنجری نگاہیں
سینے میں اُتار دے
بڑی مشکل ہوتی ہے
جب راہیں ڈھونڈتے ہوئے
جب سہارے تراشتے ہوئے
ہر لمحہ
سانس اور موت کے درمیان
لٹکنا پڑے
پل پل جینا اور مرنا
ایک سا ہو جائے
بڑی مشکل ہوتی ہے
بڑی مشکل ہوتی ہے
٭٭
اَن بن
سانجھ کے سفر میں
جانے انجانے
اَن بن ہو جاتی ہے
چُپ رہنا
منہ بسورنا
اہمیت جتانا
انسان کو بڑا نہیں کرتا
چھوٹی چھوٹی باتوں پر
منہ نہ بسورا کرو
دل مت چھوٹا کرو
پریشانی آئے
اندیشہ ستائے
یا اُداسی
نڈھال کر دے
تو جو جی میں آئے
کہہ دیا کرو
من کا غبار نکال لیا کرو
دل میں کچھ بھی نہ رکھو
چھوٹی چھوٹی خفگیاں
ہلکی پھلکی ناراضیاں
بڑھتے بڑھتے
پہاڑ بن جاتی ہیں
جس کے نیچے محبت
دب کر
مر جاتی ہے
٭٭
گونجتی تنہائی
دل میں خواہشوں کے بادل
ہر روز پھوٹتے ہیں
پل بھر میں سوکھ جاتے ہیں
کیوں سکون کی لَے
میری ندی میں نہیں بہتی؟
وہ دریا جو دل کے نگر میں رواں ہے
رات بھر بے قرار چڑھتا رہتا ہے
کبھی تھمتا نہیں
خاموشی کی گونج میں
بس ایک تڑپ باقی رہ جاتی ہے
جو چھپے ہوئے درد کی صدا بن کر
میرے وجود کو چُبھتی ہے
اور تنہائی کی گہری گونج میں کھو جاتی ہے
٭٭
خود گمانی
اب وہ لوٹ بھی آئے
تو میرے دل کا ویران منظر
کبھی آباد نہیں ہو پائے گا
وہ خزاں جو دل کے باغ میں
ایک بار اُتر گئی ہے
وہ کبھی بہار نہیں بن سکتی
میں نے خود کو
آپ اپنی گود میں لیا ہے
٭٭
آزادی
آزادی ایک علامت ہے
جہاں درد بھی سکون بن جاتا ہے
اور تنہائی بھی
اپنے اندر، روشنی چھپائے رکھتی ہے
میں نے اپنا وجود
اپنی ذات کا سہارا بنا لیا ہے
میں کوئی اور سہارا نہیں چاہتا
یہ خودی کی فتح ہے
یہ اپنے آپ کی تلاش ہے
٭٭
گمشدگی
نا ممکن ہے
کہ سخت پتھروں کو
اِنسانی شکل دی جائے
یا نرم دلوں کو
لوہے کی گرفت میں مقید کیا جائے
یہ زمانہ
عہدِ حاضر کے سہل پسند بچوں کا ہے
وہ جنہیں منزلوں کا پتہ دیا جاتا تھا
آج کہیں کھو چکے ہیں
٭٭
سورج
میں
دھرتی کی گود میں لِپٹا ہوا
تیرے سہارے کا محتاج ہوں
تیرے لمس کی پھوار سے
بلندیوں کو چھونے کا خواب دیکھتا ہوں
میری زندگی کی روشنی
تیری کروٹوں میں پوشیدہ ہے
تو اگر مجھے تھام لے
تو میں بھی بن جاؤں گا
اک دمکتا ستارہ
٭٭
یادِ رفتگاں
(مرحوم دوست کی یاد میں)
وہ شخص
جس کی ہر ادا میں شرافت جھلکتی تھی
جس کے ہر قدم میں لیاقت چھلکتی تھی
دیانت کا پرچم لیے
قابلیت کی روشنی میں جیتا تھا
تواضع اُس کی شخصیت کا خاصا تھا
شفقت اُس کے دل کی گہرائی
رحم دلی اُس کی روشنی تھی
سخی وہ
جو دلوں کو اپنی سخاوت سے بہلاتا
دوست نواز
جو ہر رشتے کو عزت دیتا
ایثار گزار
جو خود کو سب کے لیے وقف کر دیتا
اُس کی زندگی ایک آئینہ تھی
جس میں سچائی کی جھلک نمایاں تھی
ہر فعل میں حُسنِ خلق کا عکس
کتنا سچا اور نیک تھا وہ شخص
آج وہ ہمارے درمیان نہیں
لیکن یادوں کے دیے روشن ہیں
جو اُس کی مہربانی اور عظمت کا پیغام لاتے ہیں
اور ہمیں سکھاتے ہیں کہ
زندگی کیسے جینی چاہیے
شرافت، دیانت اور قربانی کے ساتھ
آج
اس کو گزرے
ایک سال ہوا ہے
لیکن
وہ ہمارے درمیان یوں موجود ہے
کہ اس کے جانے کی کمی
محسوس نہیں ہوتی
ایک سال
اُس کے بغیر گزر گیا
اور جانے کتنے سال
یونہی گزر جائیں گے
وقت
کسی کے لیے نہیں رُکتا
لیکن
کچھ لوگ
وقت کو روک لیتے ہیں
یاد رکھیں گے ہم اُسے
وہ چراغ جو ہمیشہ جلتا رہے گا
روشنی بانٹتا رہے گا
اور دلوں میں محبت کے بیج
بوتا رہے گا
٭٭
اطمینان
اب میں وقت کو
ٹکڑوں میں بانٹتا ہوں
کوئی خواہش
دل میں نہیں رہتی
کوئی درد، نہ کوئی غم
بس ایک خاموش سکون بستا ہے
زندگی
توکل کی چادر اوڑھے
سو رہی ہے
اور دل
اب بھی مسکراتا ہے
٭٭
ہم ساتھ چلیں گے
کوئی بھاری وعدہ مت لو
زندگی کی میخوں پر بوجھ نہ بڑھاؤ
جہاں تک ممکن ہے
میں تمہارے ساتھ چلوں گا
رشتہ وہ نازک دھاگا ہے
جو ہوا کے دوش پر پنپتا ہے
اور کسی لمحے ٹوٹ بھی سکتا ہے
بس تم بدگمان نہ ہونا
ہم ساتھ چلیں گے
جیسے پرند فضاؤں میں
تعاقب کرتے
منزل تک جا پہنچتے ہیں
٭٭
تم صرف میرے ہو
جیون کے سادہ کاغذ پر
تمہارا نام ایسے لکھا ہے
جیسے بارش
اپنی پہلی بوند
زمین پر لکھتی ہے
یہ تحریر
وقت کی گرفت سے
آزاد ہے
یہ دل کے گِرد
ایک روشن دائرہ ہے
جس کے اندر صرف تم ہو
اور باہر
پوری دُنیا
کہو
تم صرف میرے ہو
ازل سے
اب تک
اور
وقت کے
آخری موڑ تک
٭٭
حنوط شدہ خواب
یہ خواب
کب تک
پلکوں کے قلعے میں
محفوظ رکھوں؟
یہ خواب
جو برف کی مانند
وقت کی دھُوپ میں
پگھل رہے ہیں
جو سِیپ کی کوکھ میں
پنپ رہے ہیں
جو میرے دل کے جنگل میں
ستاروں کی روشنی پی کر
اونگ رہے ہیں
کسی روز آؤ
انھیں لے جاؤ
یہ سب تمہارے ہیں
مجھ سے یہ امانت
سنبھالی نہیں جاتی
٭٭
آنکھیں
(شریکِ حیات کے لیے)
کیا تم نے کبھی
اپنی آنکھیں دیکھی ہیں؟
شاید نہیں
آئینے میں جھانکو
اور سوچو
کیا آئینہ آنکھوں کو دیکھتا ہے
یا صرف تمہاری صورت کو؟
آئینہ تو
تمہارے اندر چھپی ہوئیں
وہ آنکھیں دیکھتا ہے
جو دُنیا کو نہیں
خود تمہیں دیکھتی ہیں
وہ آنکھیں
جو وقت کے حصار میں لپٹے
خواب اور حقیقت کا فرق
مٹا دیتی ہیں
اور دیکھنے والے کو
اپنے اندر
یوں حنوط کرتی ہیں
جیسے کوئی راز
کُہنہ صحیفوں میں
چھُپا دیا گیا ہو
٭٭
اپنا راستہ
دوسروں کے بنائے ہوئے راستے
میرے قدموں کے لیے تنگ ہیں
پھر ان پرکیوں چلوں میں؟
اپنی منزل کا ہر رستہ
میں خود
اپنے ہاتھوں سے تراشوں گا
جانتا ہوں
اپنے راستے پر چلنا
کتنا مشکل ہوتا ہے
جہاں ہر موڑ پر
ٹھوکریں ہیں
زخم ہیں
بے وفائی کے
تنہائی کے
پھر بھی
مجھے خود پر یقین ہے
میری منزل کھوٹی نہیں
میرا رستہ جھوٹا نہیں
مجھے بس چلنا ہے
اور چلتے جانا ہے
٭٭
ساحل سے مکالمہ
ساحل سے
میں نے پوچھا
کیوں لہریں
دوڑ کر آتی ہیں
تمہیں گلے لگاتی ہیں
اپنا دُکھ سنا کر
اُلٹے قدموں
لوٹ جاتی ہیں؟
تم ان کے
سوالوں کا جواب
کیوں نہیں دیتے؟
تم ان کے وسواس کو
دور کیوں نہیں کرتے؟
٭٭
روشنی خود کُشی کر لے گی
بال بکھرائے
اِک دوشیزہ
ٹوٹی کھڑکی کے عقب سے
آنگن میں رینگتے
نو مولود سایوں کو
آنکھوں میں اُترنے سے
روک رہی ہے
وہ سوچتی ہے
خواب
حقیقت بن گئے تو
روشنی
خود کشی کر لے گی
٭٭
اگر تم چاہو
اگر تم چاہو تو
تمہاری محبت کی برکھا
میرے بنجر دل پر
بوند بوند جل برسائے
بھیگتے بھیگتے
انگ انگ
پوتر ہو جائے
اگر تم چاہو
یوں ہو سکتا ہے
٭٭
خاموشی
رات
خامشی کو ساتھ لیے
ہر کسی سے پوچھتی ہے
پھول کب کھلیں گے؟
یہ سوال
ہر سَمت گونجتا ہے
جواب کوئی
نہیں دیتا
٭٭
میں وہی ہوں
شرارتوں کی وہ نرم چمک
خامشی میں گھل گئی
بچپن کی بے فکری
دھُندلکے میں کھو گئی
اب میں نے اُوڑھ لی ہے
اِک سنجیدگی کی چادر
جیسا تم نے چاہا تھا
میں وہی ہوں
جس کا عکس تم نے
کبھی بنایا تھا
٭٭
بے اعتنائی کا جبر
بے اعتنائی کا موسم
تمنا کے پرندوں کو
بہار کی حسین رُت میں
خوشی کے گیت گنگنانے نہیں دیتا
چہچہانے نہیں دیتا
کتنا ظالم ہے یہ موسم
کتنی بے دردی سے
سمجھوتے کی زنجیر باندھ دیتا ہے
یہ کیسی بے بسی ہے
جہاں دل کی آواز کو
جبر کے سائے میں
گم ہو نا پڑتا ہے
٭٭
خواہشِ ناتمام
سُلگتی یادوں کی بے قراری میں
بیتی راتوں کے
حسیں لمحے
سانپ بن کر ڈسنے لگتے ہیں
میں اور میری تنہائی
تیرے لمس کی پیاس کو
ترسنے لگتے ہیں
سِسَکنے لگتے ہیں
کیا تم یہ پیاس
بجھا سکتی ہو؟
میں بلاؤں تو
آ سکتی ہو؟
٭٭
عشق فرض کفایہ ہے
صدیوں کی مُسافت کے بعد بھی
وقت کی ریت میں دفن نہیں ہوا وہ لمحہ
جب تیری جدائی
میرے وجود میں پہلی بار اُتری تھی
یہ زخم
کسی شجرِ ممنوعہ کی جڑوں کی طرح
ابھی تک لہو چوستا ہے
اور میں حیران ہوں
کہ کچھ دُکھ مانگے بھی نہیں جاتے
پھر بھی قسمت کی دستاویز پر
ہمارا نام لکھ دیتے ہیں
اذیتیں
یونہی بے سبب
روح کے تعاقب میں آ نکلتی ہیں
صدمے
کسی اندھے دریا کی طرح
ہر دہلیز ڈبو دیتے ہیں
لعنتیں
کسی بے چہرہ ہجوم کی مانند
میرے ساتھ چلتی ہیں
اگر کچھ باقی ہے
تو بس تیری یاد
اِک ابدی ستارہ
جو ہر رات
میرے سینے کے مدار میں
جلتا ہے
میں اِسے چھوتا ہوں
تو زخم کھُلتے ہیں
میں اسے سینکتا ہوں
تو درد کا گلاب کھِل اُٹھتا ہے
کبھی کبھی
یاد کا بوجھ اِتنا بڑھ جاتا ہے
کہ چیخ
میری رگوں میں بھڑکتی ہوئی آگ بن جاتی ہے
اور میں بے بسی کے آئینے میں
اِک اجنبی کو دیکھتا ہوں
وہ اجنبی، جو میں ہی ہوں
لیکن پھر
وقت کا سرد ہاتھ سرگوشی کرتا ہے:
"ابھی وہ جوان ہے
خوبصورت ہے
ابھی تمہیں سہنا ہے
کچھ دیر اور”
کیوں کہ درد
اک مقدس رقص ہے
وقت کے بے کِنار فرش پر
اور عشق
فرضِ کفایہ ہے
جسے ہر عاشق
ازل سے تا ابد
ادا کرتے آیا ہے
٭٭
تجھے کیا لگتا ہے؟
تجھے کیا لگتا ہے؟
کہ میں تیرے بغیر
ادھورا رہ جاؤں گا؟
یہ صرف
تخیل کی کارفرمائی ہے
روشنی کی شوخ کرنیں
میرے گرد ناچتی ہیں
میں سورج کے سائے میں
اپنے لمحے تراشتا ہوں
مگر رات
رات ایک زخمی پرندہ ہے
جو میرے کمرے کی چھت پر
کروٹیں بدلتا ہے
اور تیرے نام کا سایہ
میرے دل کی دیواروں پر
لرزش بن جاتا ہے
اُس لمحے
بے قراری کی آنکھ
میری آنکھوں میں اُتر آتی ہے
اور میں
اپنے ہی ہاتھوں میں
اپنا سر رکھ کر
خود کو سمجھاتا ہوں:
محسن!
وہ جا چکی ہے
اب اُس کے خیال کا جنگل
جلنے کے قابل ہے
اُس کے ہونے سے
کچھ نہ کھِلا
تو اُس کے جانے سے
کیا مُرجھائے گا؟
جب ہونا اور نہ ہونا
برابر ہو جائیں
پھر کیوں کسی کو
یاد رکھا جائے؟
٭٭
وعدے کی بھینٹ
لوٹ آنے کا وعدہ
ہر کوئی کرتا ہے
مگر کوئی پلٹ کر نہیں آتا
تم نے بھی تو یہی کہا تھا:
خواہ کچھ بھی ہو جائے
میں ہر حال میں
لوٹ کر آؤں گی
میں روزانہ گزرتا ہوں
اُسی موڑ سے
جہاں یہ پیمان ہوا تھا
وہ موڑ
میری آنکھوں کے آگے
خالی دستاویز کی طرح
بے بسی کی تصویر بنے
ساکت کھڑا رہتا ہے
یہ کیسی محبت ہے، جاناں؟
یہ کیسا تعلق ہے، جاناں؟
کسی کو وعدے کی بھینٹ چڑھا دینا
اور خود
فراموش ہو جانا
یہ کیسی رسم ہے؟
وعدے جو کبھی لبوں سے نکلے تھے
اب بے جان پتھروں کی طرح
میرے دل کے صحن میں پڑے ہیں
اور میں
اب بھی اُن پتھروں کو
اُلٹتا ہوں
شاید کسی میں
تیرے لوٹ آنے کا سایہ
چھُپا ہو
مگر وقت نے سکھا دیا ہے
کہ وعدے در اصل
موت کے سکے ہیں
جو زندگی کے بازار میں
کبھی نہیں چلتے
٭٭
بے کلی
عجیب سی بے کلی ہے
جیسے وقت
اپنے ہی قدموں سے اُلجھ گیا ہو
دن ہو یا رات
روشنی ہو، یا اندھیرا
اب صرف ناموں کا فرق لگتے ہیں
جی چاہتا ہے
بس ختم ہو جائے یہ سانسوں کا سفر
کہ جو پایا
وہ ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل گیا
اور جو نہ پایا
وہ ہوا کی طرح بے چہرہ تھا
خوشی اور غم
دونوں ایک ہی سائے کے رنگ ہیں
دُکھ اور سُکھ
ایک ہی خاموشی کی بازگشت
انسان بھی عجیب ہے
اپنی ہی پیاس کا قیدی
سب کچھ پا کر بھی
خالی برتن سا بجتا ہے
اور کچھ نہ ہونے پر
چیختا رہتا ہے
٭٭
خواب بس میرے ہیں
اُس کی نگاہوں میں
توجہ کی خواہش
ریت کی مانند سوکھ چکی ہے
جیسے برسوں کی بارش
بنجر زمین پر گر تے گرتے
بے آواز مر جائے
انتظار کا ممولا
جو میں نے برس ہا برس پالا
آج دم توڑ گیا
وہ اب
کسی اور کو چاہنے کی
خوش فہمی میں مبتلا ہے
اور میں
خود کو کوستی ہوں
وقت کے زخم گنتی ہوں
کہ آخر کیوں
میں نے اپنا وقت برباد کیا؟
اگر میں خود کو قصور وار کہوں
تو زمانہ کیا کہے گا؟
اگر اُسے بے گناہ مان لوں
تو دل کڑھتا ہے
میرے پاس کیا ہے
کچھ ٹوٹے ہوئے سپنے
چند بے مول یادیں
یعنی اب مجھے
ڈوبنا ہے
تنکے کا سہارا لیے بغیر
٭٭
سوچ
سوچتا ہوں
کہ لوگ
میرے بارے میں
کیا سوچتے ہیں؟
سوچ محض آئینہ ہے
دیکھنے والے کو
اپنی ہی صورت دکھاتا ہے
مجھ میں جھانکنے والے
اصل میں
اپنے عکس کو دیکھتے ہیں
اور جو میں دیکھتا ہوں
وہ میرے باطن کی بازگشت ہے
کہتے ہیں
سوچ کے دائرے
کبھی ایک نہیں ہوتے
ہر روح
اپنی راہ کی مسافر ہے
ہر دل
اپنی آگ کا الاؤ
فاصلہ بھی تو ایک دروازہ ہے
جہاں سے
نومولود حقیقت جھانکتی ہے
سوچ
ایک دُعا ہے
جو ہر لمحہ
جنم لیتی ہے
اور ہر جنم
زندگی کو
دوبارہ موقع دیتا ہے
تاکہ وہ
جی بھر کر جی سکے
زندہ رہنے کا راز یہی ہے:
کہ سوچ کے اندر
سوچ کا سفر
جاری رہے
٭٭
رات
رات سے ڈر لگتا ہے
یہ محض اندھیرا نہیں
فنا کی گہری غار ہے
جہاں ہر صدا
خاموشی میں
تحلیل ہو جاتی ہے
رات وقت کا نہیں
ابد کا استعارہ ہے
جہاں ہر شے
عُریاں ہو کر بھی
اوجھل رہتی ہے
کیا میں نہیں جانتا!
ہر فنا کے پیچھے
ایک بقا چھپی ہے
اور ہر اندھیرے کے پیچھے
نور کا الاؤ
ہویدا ہے
زندگی شاید
اسی تاریکی اور روشنی کے بیچ
ہچکیاں لے رہی ہے
٭٭
ہوا
ہوا سے
گِلہ نہیں
وہ تو ازل سے
منزل کی اَور
محوِ سفر ہے
جب چلتی ہے
تو خس و خاشاک
اپنے ساتھ
بہا لے جاتی ہے
میں ہی وہ نادان ہوں
جو اِس کی راہ میں
حائل ہو جاتا ہوں
اُس کے پاؤں تلے
کوئی دب کر مر جائے
یا راستے سے ہٹ جائے
وہ
ہر ذرے کے ساتھ
اپنا حساب کاٹتی ہے
ہر چہرے کو چھو کر
اپنی تنہائی
ہلکی کرتی ہے
ہوا سے گلہ نہیں
اُسے تو سفر
جاری رکھنا ہے
٭٭
بے نیازی
(سیلاب 2025ء سے متاثرین بے سہارا لوگوں کے لیے جذبات کا اظہار)
آنسو بہتے ہیں
یہ بھی خبر نہیں
یہ بہاؤ
کس درد کا ہے
سینہ چاک ہے
مگر زخم کا سبب
کسی کو معلوم نہیں
قدم رُکے جاتے ہیں
جیسے کسی نے
رگِ جاں کاٹ دی ہو
بے بسی کے اِس عالم میں
ہر زبان پر بوجھ سا طاری
ہر دل نا اُمیدی کا اسیر
ایسے لمحوں میں
خدا یاد آتا ہے
جو خاموش
تماشائی بن کر
ہنستا ہے
اور زخموں پر
اپنی بے نیازی کا نمک چھڑکتا ہے
پھر بھی
چاروں شانے چِت انسان
اُسی کے حضور جھکتا ہے
اُسی سے فریاد کرتا ہے
(28۔ اگست2025)
٭٭
تم جھوٹی ہو
دیکھ لو، جاناں
تمہارے سارے وعدے
کھوکھلی صدا نکلے
قسمیں
محض بہلاوے
خواب
کچے آئینے
تسلیاں
ریت کے گھروندے
اور وہ جنت
جو تم نے میرے لیے بنائی تھی
اِک سراب نکلی
تم خود بھی
سچ کی طرح نہیں
محض ایک فریب ہو
ایک سایہ
جو چھو کر بھی ہاتھ میں نہیں آتا
سچ صرف یہ ہے:
تمہیں مجھ سے محبت نہیں
یہ رِشتہ
بس دھوکے کا شُعلہ ہے
جو میرے وجود سے لِپٹا ہے
اور دھوکا
عجب شے ہے
دیتے دیتے
آخر کار
اپنے حصے میں آتا ہے
٭٭
مدِ مُقابل
جو چاہا جائے
وہ ہاتھ آتا نہیں
جو مانگا جائے
وہ چھین لیا جاتا ہے
جو قریب آتا ہے
وہی لمحہ
اِک دم دور ہو جاتا ہے
یوں لگتا ہے
مرضی کی
اپنی مرضی بھی
کسی اور کے تصرف میں ہے
اختیار کو بھی
اپنے ہونے کا اختیار نہیں
آزادی
اپنی زنجیروں سے آزاد نہیں
یہ کیسا کھیل ہے؟
جہاں دینے والا
اور لینے والا
دونوں
ایک دوسرے کے
مدِ مقابل ہیں
٭٭
احساسِ تفاخر
درد
اِک مشترکہ وراثت تھی
میں نے بھی اوڑھا
تم نے بھی
تکلیف
اِک دریا تھی
ہم دونوں اِس میں
ڈوبتے اُبھرتے رہے
رُسوائی
تمہارے حصے کا اندھیرا
بدنامی
میری پیشانی کا چراغ
یہ کھیل
محض جیتنے کا نہیں تھا
مگر ہم
ہارنے سے بچنے کی ضد میں
اِتنے آگے نکل آئے
کہ راستے پیچھے رہ گئے
منزل
نہ تمہیں ملی
نہ مجھے
اب جو کچھ
تمہارے پاس ہے
وہ میرے ہونٹوں سے چھوٹا ہوا لفظ ہے
اور جو کچھ
میرے پاس ہے
وہ میری اپنی راکھ ہے
٭٭
اے میرے خدا!
اے میرے خدا
تو عجیب ہے
کبھی بِن مانگے
قطرے میں سمندر اُنڈیل دیتا ہے
کبھی مانگتے مانگتے
ہونٹ سُوکھ جائیں
پانی کا سایہ تک نصیب نہیں ہوتا
جو میرے ہاتھ میں ہے
وہ تیرا دیا ہوا ہے
اور جو خالی ہے
وہ بھی تیری عطا ہے
میں جانتا ہوں
میری دُعا
میرے فہم کی حد تک ہے
اور تیری عطا
بے حدو بے حساب
اے مولا!
کیا ہی بہتر ہو
کہ مجھے طلب زنجیر سے رہائی مل جائے
اور میرا دل
تیری رضا میں فنا ہو کر
بقا پا لے
کہ میں نہ بھی مانگوں
پھر بھی
تیرا دیا ہوا
مجھے کافی ہو
٭٭
پیاس
(سیلاب زدگان 2025کے لیے جذبات کا اظہار)
برسوں کی پیاسی زمین کی دُعا
آخرکار قبول ہو گئی
خدا نے اپنی بے نیازی
یوں دِکھائی کہ
دریاؤں کا رُخ
میرے گھر کی طرف موڑ دیا
میں اپنے گھر کو ڈوبنے سے پہلے
کیسے خالی کر دوں؟
ابھی تو یہ دیواریں
میرے ہاتھوں کی تھکن سہلا رہی تھیں
ابھی تو بچوں کی ہنسی
اس آنگن میں گونجنا تھی
ابھی تو اِن دیواروں نے
میرے خوابوں سے دوستی کرناتھی
افلاک نے یہ کیسا
ظلم کیا ہے مجھ پر
دھرتی اِتنی پیاسی تھی
تو مجھ سے کہہ دیتی
میں اپنے ٹھنڈے خون سے
اِس کی پیاس بجھا دیتا
گھر کو ڈوبنے سے بچا لیتا
یوں لگتا ہے
خدا جیسے بہرا ہو گیا ہے
کتنی فریادیں کیں
مگر وہ سُنتا ہی نہیں
شاید وہ یہی چاہتا ہے
زمین جی بھر کر
اپنی پیاس بُجھا لے
(28۔ ستمبر 2025)
٭٭
وقت کا مقدمہ
ہم نے ایک دوسرے کو
ریزہ ریزہ کرنے کی
پوری کوشش کی
لیکن
ٹوٹنے کے بعد
اور زیادہ سخت ہو گئے
وقت کی عدالت میں
ہم دونوں
گواہ بھی تھے
اور مجرم بھی
سچائی
ہمارے ہونٹوں پر
ضِد کی طرح چِپکی رہی
اور وقت
ہمارے خلاف
فیصلہ لکھتا رہا
طاقت کے سارے ہتھیار
وقت کے آگے
بے اثر ٹھہرے
کاش!
ہم اپنی دلیلیں
ایک دوسرے کے خلاف
اُچھالنے کی بجائے
وقت کے پلڑے میں
ڈال دیتے
٭٭
دُکھ میرے ہمراہ ہیں
دُکھ میرے ہمراہ ہیں
یہ حقیقت کے
خاموش قاصد ہیں
میں نے اِنھیں
اپنے لہو سے سینچا ہے
یہ میرے اندر
زخم نہیں اُگاتے
ذِکر کے کنکر بوتے ہیں
ہر صبح
میں صدیوں کی خاک اُڑاتا ہوں
راہِ طلب کے قریے قریے بھٹکتا ہوں
اَدھوری صدائیں
میری گمنامی کا ماتم کرتی ہیں
یوں جیسے کائنات کا اِضطراب
یتیم لفظوں کے چہروں پر
اُبھر آئے
میرے دُکھ
سالک کے مسافر ہیں
جنہیں وقت کی کوئی سرحد
قید نہیں کر سکتی
٭٭
بے گھری
تنہا کمرے میں بیٹھا ہوں
اور سوچتا ہوں
کیا یہ دیواریں واقعی گھر ہیں؟
میرے اِردگرد کی بستیاں
پانی کے بے رحم ریلوں میں
یوں ڈوب رہی ہیں
جیسے صدیوں کے خواب
اِک لمحے میں ٹوٹ کر
کرچیاں بن جائیں
میں چاہتا ہوں
بے گھری کے ماروں کو پناہ دوں
مگر میری پناہ
محض ایک سایہ ہے
دیواروں کا فریب
جس کے اندر
بے کلی
اسیروں کی طرح چیختی ہے
بے گھری
وہ کرب ہے
جو مکان سے زیادہ
مکین کو اُجاڑتا ہے
یہ وہ دُکھ ہے
جس کے دہکتے انگارے
سینے میں بجھتے نہیں
یہ وہ بے بسی ہے
جس کے آگے
زبان پتھر ہو جاتی ہے
یہ صرف وہی جانتا ہے
جس کی آنکھوں کے سامنے
اُس کی کل کائنات
نذرِ آب ہو جائے
اور فریاد کرنے والی زبان
اپنے ہی آنسوؤں کے ریلے میں
ڈوب کر
خاموش ہو جائے
٭٭
گھر
تم نے کہا تھا
ہم گھر بنائیں گے
ایسا گھر
جس کی کھڑکیوں سے خواب جھانکیں گے
اور دروازے پر اُمید دستک دے گی
سُنو!
میں نے وہ گھر بنا لیا ہے
دیواروں پر وقت کے رنگ چڑھائے ہیں
اور صحن میں یادوں کا پیڑ اُگایا ہے
اب یہ صرف مکان نہیں
تمہارے انتظار کا دوسرا نام ہے
٭٭
مر جاؤ
میں اور تم
ایک ہی سوال کی گونج ہیں
تمہاری باتوں میں طنز نہیں
صدیوں کی تھکن ہے
تمہارے لہجے کا کھردرا، پن
کائنات کی بے اعتنائی ہے
تمہارے رویّے کی سختی
وقت کی سرد، دیوار ہے
تمہاری زُبان
اِک پتھر ہے
تمہارا دل
اِک بند دریچہ ہے
تمہاری روح
اِک راکھ کا ڈھیر
تم وجود ہو
لیکن بے مَصرف
اِک خالی قفس
اِک لاش
جس میں سانس باقی ہے
تو پھر کیوں زندہ ہو؟
مر جاؤ
کہ موت
اک نئی صورتِ حیات ہے
مر جاؤ
کہ تمہاری موت سے
زندگی جاگ اُٹھے
مر جاؤ
مری جان
مر جاؤ
٭٭
بھینٹ
تم
ہمارے لیے
کسی دیوتا سے کم نہیں
ہم چاہتے ہیں
کہ تم یہ قربانی دو
دریا کو
ہمیشہ ایک جسم چاہیے
ایک دھڑکتا لہو
ایک زندہ حرارت
جسے پانے کے لیے
نیل چھینتا رہا
فرات مانگتا رہا
گنگا نگلتا رہا
ہم میں سے کوئی نہیں
جس کے خون میں وہ تپش ہو
جس کی دریا کو طلب ہے
ہم تمہیں مرنے نہیں دیں گے
تمہارے لیے ایک مزار ہو گا
جس پر رنگین چادریں ہوں گی
میلا لگے گا
منتیں مانگی جائیں گے
مُرادیں پوری ہوں گی
یہ رسم پرانی ہے
کبھی دیوتاؤں کے لیے
کبھی بادشاہوں کے لیے
اور اب
ہماری بقا کے لیے
تمہاری قربانی کا
تمہیں
بہت اچھا انعام ملے گا
بس
تم راضی ہو جاؤ
خوشی خوشی
خود کو
دریا کے سَپُرد کر دو
٭٭
خاموشی زخم ہے
میں جانتا ہوں
تمہاری زبان سے لِپٹے لفظ
میرے گِرد گھومتے سائے ہیں
نم آلود ہونٹوں سے ٹپکتا ہوا، زہر
جو رگوں میں سرایت کر جائے
تو خوابوں کی جڑیں سوکھا ڈالے
یہ عجیب سی بات ہے کہ
میں کسی سے بات کرتا ہوں
تو وہ میری آواز میں
اِک اَن دیکھا
زخم ڈھونڈنے لگتا ہے
جیسے ہر جملہ
تریاق کی پکار ہو
لفظ تو معصوم ہیں
کاغذ پر اُترتے ہیں
تو خوشبو بن کر
آنکھوں میں مہکنے لگتے ہیں
روشنی
محبت کا لمس ہے
اور خوشبو
خنجر کی زُبان
٭٭
ورثہ
نیند ایک ایسی وادی ہے
جہاں یادیں چہرے چھُپا تی ہیں
نہ رسوائیوں کی ہنسی سنائی دیتی ہے
نہ ذِلتوں کی چاپ محسوس ہوتی ہے
مگر صبح کی پہلی کِرن کے ہمراہ
رُسوائیاں
میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر
یوں مُسکراتی ہیں
جیسے پرانی دوست ہوں
ذِلتیں
میرے قدموں سے لپٹ جاتی ہیں
جتنا بھی کاٹوں
دیوارِ قہقہہ کی صورت
اِیستادہ رہتی ہیں
یہی ہے میرا خاندانی تشخص
نسل در نسل منتقل ہونے والی
زمین کی طرح
٭٭
خواہش کا تقدس
زبان سے نکلنے والا ہر لفظ
ازل کی صدا ہے
"کُن” کی بازگشت ہے
جو کائنات میں ایک نیا عالم روشن کر دیتا ہے
خالی ہاتھوں میں
روشنی کے دانے رکھے جا سکتے ہیں
برہنہ بدن پر
وصال کی کرن ڈالی جا سکتی ہے
پیاسے ہونٹوں کو
ذِکر کی نمی دی جا سکتی ہے
اور بھی جو کچھ تم چاہو
ممکن بنایا جا سکتا ہے
لیکن
جو تم مانگ رہی ہو
وہ میں نہیں دے سکتا
وہ امانت
مجھے اس لمحے عطا ہوئی تھی
جب "الست بربکم” کی صدا
روحوں کو جگا رہی تھی
یہ سرِّ ازل ہے
میرے باطن کا وہ چراغ
جو نورِ حق سے روشن ہے
میرے وجود کا وہ خفیہ زخم
جسے صرف میرا رب جانتا ہے
یہ امانت
میرے اندر جلتی ہوئی تجلی ہے
جو بجھی
تو میں وصال سے کٹ جاؤں گا
اور فنا بھی
مجھے قبول نہ کرے گی
٭٭
پردیس
کبھی کبھی لگتا ہے
میں کسی اور دیس کا باسی ہوں
جسے جبراً یہاں لایا گیا ہے
یہاں کی بو باس
میرے اندر نہیں رچی
یہاں کی ہوائیں
میری بے چینی دور نہ کر سکیں
یہاں کی مٹی
میرے وجود کو قبول نہ کر سکی
یہاں کے لوگ
مجھے اپنے درمیان
جگہ نہ دے سکے
یہاں ہر شے کا تقاضا ہے:
خود کو بھول جاؤ
اپنے ہونے سے انکار کر دو
دوسروں کے لیے جیو
دوسروں کے لیے مر جاؤ
اس طرح تم
معتبر ٹھہرائے جاؤ گے
معزز گردانے جاؤ گے
٭٭
اِنتظار کا بھگوان
کوا منڈیر پر بیٹھا ہے
اُڑتا نہیں
جیسے وقت اپنی جمی ہوئی راکھ کو
چھوڑنے سے اِنکاری ہو
میں اُسے دیکھتی ہوں
تو لگتا ہے یہ پرندہ
میری اُمید کے گرد
کوئی جادوئی دائرہ کھینچ رہا ہے
ایسا دائرہ
جس میں شبھ بھوت قید ہیں
اور جنّت کے فرشتے بھی
یہ جانتا ہے
وہ کبھی نہیں آئے گا
مگر ہر روز
اِسی منڈیر پر بیٹھتا ہے
جیسے یہ شگون ہو
سیتا کے بن باس کا
کبھی ختم نہ ہوا ہو
جیسے یوسف کی قید ابھی باقی ہو
جیسے کربلا کی پیاس
ریت میں سِسک رہی ہو
یہ کوا
میری آنکھوں کے چراغ میں
بے وفائی کی آندھی بھرتا ہے
اس کی کائیں کائیں میں
"کیوں کیوں” کی صدا
سُنائی دیتی ہے
کبھی لگتا ہے
یہ پرندہ خود وقت کا بھیس ہے
جو مجھے بہلا رہا ہے:
"انتظار کرو، شاید وہ آئے!”
مگر میں جانتی ہوں
کوا جھوٹا ہے
وقت بھی، وعدے بھی
سوچتی ہوں
یہ کوا
کوئی پرندہ نہیں
یہ تو بے وفائی کا دیوتا ہے
اور اِنتظار کا بھگوان ہے
جو ہر روز منڈیر پر اُتر کر
میرے یقین کو قربان گاہ پر رکھ دیتا ہے
یہی وہ سیاہ سایہ ہے
جو عُشاق کی آنکھوں میں
خواب کا زہر گھولتا ہے
جو ہر دروازے پر
یعقوب کی بینائی چھین لیتا ہے
اور ہر دل میں
رادھا کے انتظار کا شُعلہ بھڑکاتا ہے
کوا
میری کہانی کا ہد ہد ہے
جسے مُلکِ سبا کی ساری خبر ہے
٭٭
جیت کا ماتم
میرے بزرگوں نے فتح کے جشن منائے
میں نے بھی منایا
دُشمن کو زیر کرنا خوشی کی بات ہے
ہم نے اِسے زیر کر لیا
لیکن دُشمن چالاک تھا
اس نے دریاؤں کے ساتھ مل کر
خاموشی سے ہم پر وار کیا
میرے بچے بے فکری میں سوئے
انھیں پانی نے آ لیا
میرے جانور، نذرِ آب ہوئے
میرا گھر، سیلاب میں ڈوب گیا
میرے بزرگوں کی قبریں مِٹ گئیں
میرا گاؤں، اپنی شناخت کھو بیٹھا
اے میرے غازی سپہ سالار!
کیا تم ہاتھ پر ہاتھ دھرے
یوں ہی بیٹھے رہو گے؟
ہمارے لیے کچھ نہ کرو گے
اپنے آقا سے اِلتجا کرو
اُن سے ایسے جہاز مانگو
جن میں پانی بھر کر
دُشمن کے گھروں پر پھینکیں
تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو جائیں
سُنا ہے تمہارا آقا بہت طاقتور ہے
وہ کچھ بھی کر سکتا ہے
دریاؤں کا رُخ موڑنا
سمندروں کو اُچھالنا
زمیں آسماں ایک کر دینا
اُس کے لیے چٹکی کا کام ہے
اے میرے غازی سپہ سالار!
تو اُن کی خدمت میں حاضری دے
اُن سے دست بستہ فریاد کر
اے میرے آقا و مولا!
میری رعایا ڈوب رہی ہے
میں فتح کے جشن میں غرق تھا
مجھے دُشمن کے عزائم کا پتہ نہ چلا
میں اپنی رعایا سے شرمندہ ہوں
خدا کے لیے میری مدد کریں
مجھے ایسے جہاز دیں
جن کے پیٹوں میں سمندر قید ہوں
تاکہ میری رعایا کو یقین ہو جائے
اِن کے لیے میں
کچھ بھی کر سکتا ہوں
٭٭
مجھے اِجازت دو
میں جانتی ہوں
محبت کا چراغ
تمہارے دل میں روشن نہیں
تمہاری محفل میں
میرے لیے کوئی نشست نہیں
تمہاری نگاہ میں
میرا کوئی مقام نہیں
مجھے اجازت دو
کہ میں تمہیں اپنا قبلہ بنا لوں
اپنی دُعاؤں کا رُخ
تمہاری طرف موڑ دوں
میں چاہتی ہوں
اپنے وجود کا جام
تمہارے قدموں میں اُنڈیل دوں
اپنی ذات کی راکھ
تمہارے آستانے پر بکھیر دوں
میری روح کو یہ دھوکا چاہیے
کہ اُس نے وصال چکھ لیا ہے
میری ہستی کو یہ سراب چاہیے
کہ اُس نے فنا میں پناہ پا لی ہے
مجھے اجازت دو
کہ میں تمہیں اپنا کہہ سکوں
اور اپنے نفس کو
تمہارے حضور قربان کر سکوں
اور سمجھ لوں
کہ میں نے
ازل کا وعدہ پورا کر دیا ہے
٭٭
موقع
اِس سے پہلے
کہ بدگمانیاں
ہمارے درمیان دیوار چُن دیں
آؤ!
آنکھوں کی روشنی کو
ایک دوسرے کے آنگن میں اُتاریں
خاموشی کو
محبت کی زبان بولنے دیں
دھڑکنوں کو
ایک ہی تال میں دھڑکنے دیں
یوں شاید
بدگمانی کا آسیب
چھٹ جائے
اور رِشتے کی ڈور
جگمگا اُٹھے
٭٭
آسانی
وہ لوگ
جن کی رگوں میں میرا خون دوڑتا ہے
جن کے بدن پر میری کھال جمی ہے
جن کی روح میں
میری تمازت جلتی ہے
وہ چاہتے ہیں
میں زمین پر لیٹ جاؤں
تاکہ وہ آسانی سے
گُزر جائیں
اپنے ہاتھوں سے تراشے
پُل صراط سے
٭٭
میں تمہیں یاد کرتا ہوں
میں
تمہیں یاد کرتا ہوں
حالاں کہ اب تم سے
کوئی رشتہ نہیں
پھر بھی
میں تمہیں یاد کرتا ہوں
اپنی تنہائی میں
اپنی دُعاؤں میں
٭٭
پانی میں تیرتے خواب
میں اُنھیں جانتا ہوں
جنہوں نے اپنے خواب بیچ کر
دیواروں کو زندہ رکھا تھا
وہ دیواریں جو
محض اِینٹ اور پتھر نہ تھیں
بلکہ اُمید کا چراغ تھیں
وقت کے طوفان کے سامنے
اِنسانی ضد کا استعارہ تھیں
اُنھوں نے
اپنے اندر کے دریا کو خشک رکھا
تاکہ بیرون دریا کی روانی
بستیوں کو نِگل نہ لے
وہ جانتے تھے
پانی صرف پانی نہیں ہوتا
یہ وقت کا پرانا سوداگر ہے
جو ہر شے کے عوض
خواب خرید لیتا ہے
آج ہر طرف پانی ہی پانی ہے
جس میں زندگی کے خواب تیر رہے ہیں
کچھ چمکتے ستاروں کی مانند
کچھ بوجھل پتھروں کی طرح
اور میں سوچتا ہوں:
کیا خواب ہمیشہ پانی کے ہاتھ گروی رکھے جاتے ہیں؟
کیا انسان کی تقدیر
پانی کی ایک لہر سے زیادہ پائیدار نہیں؟
یا شاید
پانی ہی اصل خواب ہے
جو ہمیں بار بار ڈبوتا بھی ہے
اور بچاتا بھی
٭٭
بیٹی کو فخر سے دیکھو
دروازے پر دستک تو روز سُنتا ہوں
مگر آج کی دستک اجنبی نہیں
ایک خوشبو تھی
لہجے میں اِتنا اعتماد
کہ لمحہ بھر کو لگا
وقت تھم گیا ہے
سرکاری وردی پہنے ایک لڑکی
جس سے میرا
صرف احترام کا رشتہ ہے
میرے دل کے یوں قریب آ گئی
جیسے یہ میری اپنی بیٹی ہو
جو لمحوں میں جواں ہو کر
میرے سامنے آ کھڑی ہے
اُس کے والد کی آنکھوں میں
وہ روشنی تھی
جو میں نے کسی فاتحِ عالم کی آنکھوں میں
نہ دیکھی
خون کے لوتھڑے سے جنم لینے والی سانس
جب بوجھ کے تصور سے نکل کر
ذِمہ داری کا چراغ بن جائے
تو باپ اپنے دُکھوں سے کیا
پوری دُنیا سے ٹکرا سکتا ہے
بیٹی کو فخر سے دیکھو
وہ باپ کا آئینہ ہے
شناخت کا معتبر حوالہ
ایک ایسا چراغ
جو گھر کے ساتھ
روح کو بھی روشن کرتا ہے
ایسی بیٹیاں خدا ہر کسی کو دے
٭٭
راہِ خودی
جب سب دروازے بند ہو جائیں
تو وہی دَر کھُلتا ہے
جو اِنسان کو
اپنے آپ سے آشنا کرتا ہے
یہ راستہ بظاہر آسان ہے
لیکن یہ
پہاڑ سے بلند
اوردریا سے گہرا ہے
میں نے قدم رکھا
سامنے چورا ہے تھے
ہر سَمت ایک صدا
ہر موڑ ایک دعوت
یوں لگتا تھا
کہ ہر راستہ منزل تک پہنچا دے گا
مگر حقیقت یہ ہے
کہ منزل راستوں سے نہیں ملتی
منزل تو اپنے باطن کی آگاہی سے جنم لیتی ہے
میں اُس سفر کا مسافر ہوں
جہاں منزل کا مطلب
صرف فاصلہ طے کرنا نہیں
بلکہ خود کو پہچاننا ہے
یہی بھٹکنا
انسان کو حقیقت تک لے جاتا ہے
اور یہی سفر
وصالِ حق کا پہلا زینہ ہے
٭٭
راہ خودی (2)
میری آنکھوں میں خوابوں کی برکھا نہیں
یہ تو ازل کی تجلی ہے
جو ہر لمحہ نئے رنگ میں برستی ہے
میرے باطن کی زمین خشک تھی
مگر اُس نے مجھے بتایا:
"خشکی بھی اُس کے سمندر کی پیاس ہے
اور ہر بوند میں
کائنات کا راز چھپا ہے”
قطرہ جب اپنے آپ کو سمندر جانے
تو فنا کا ڈوبنا
بقا کا ظہور بن جاتا ہے
سیلاب کی خبر
دُنیا والوں کے لیے ہلاکت ہے
مگر عارف کے لیے
یہ وحدت کے دریا میں غوطہ ہے
راہِ خودی وہی ہے
جہاں
منزل اور مسافر میں
فرق مٹ جائے
٭٭
شناخت کا کرب
درد
تم نے صرف سُنا
میں نے اِس کی راکھ سے
اپنا بدن تراشا ہے
رُسوائی
تمہارے ہونٹوں پر اِک لفظ
میرے لیے
وجود کی کتاب کا پہلا ورق ہے
ذِلت
تمہارے لیے اندیشہ
میرے لیے شناسائی کا چراغ
جو ہر رات جلتا ہے
اور صبح کو بجھنے نہیں دیتا
ہمارے درمیان ایک دیوار ہے
ایسی دیوار
جسے ہاتھ گرا سکتے ہیں
نہ دُعائیں چھو سکتی ہیں
یہ دیوار ہم نے خود چُنی ہے
اور شاید یہی دیوار
ہماری بقا کی آخری صورت ہے
کہ فنا کے ریگستان میں
ہم اپنی روشنی
اِسی اندھیرے سے کشید کرتے ہیں
٭٭
آزادی
اُس رات میں نے
اپنی سانسوں کا چَراغ بُجھا کر
تمہارے غموں کی رَوشنی اُٹھا لی تھی
تم نے آزادی مانگی
تو میں نے اپنے وجود کی دِیوار پر
زِنداں کا سایہ نافذ کر دیا
اب تم آزاد ہو
جہاں چاہو بہو
میں ریگستان کی خامشی بن کر
گہری نیند اوڑھ لوں گا
تاکہ کسی اور ستارے کو
تمہیں میرے نام سے
شناخت کرنے میں
تکلیف نہ ہو
٭٭
امریتم کی صدا
اِک وارث شاہ تھا
جس نے ہیر کے لیے
اپنا قلم وقف کیا
جیسے منصور نے دار پر
اپنی صدائے "انا الحق”
ہوا کے حوالے کی تھی
اِک امریتا پریتم تھی
جس نے وارث سے کہا:
"پنجاب کی ایک ہیر کے لیے تم نے
اپنا قلم لہو کر ڈالا
کیا تمہیں باقی ہیروں کے دُکھ
دکھائی نہ دئیے؟
وہ ہیریں جو صحراؤں کی ریت پر
پیاس کی صلیب اُٹھائے
اپنی سانسیں قربان کر گئیں
جو تپتے بیابانوں میں
کرشن کی بانسری سننے کو ترستی رہیں؟”
وارث شاہ تو صدیوں پہلے
مٹی کی گود میں
خاموشی کا اِستعارہ بن گیا
امریتا بھی اپنی کُٹیا میں
اِک جلتا ہوا شُعلہ بن کر
بھڑک گئیں
مگر اِن کے گِلے آج بھی
فضا میں معلق ہیں
اِن کے شکوے آج بھی
ہوا کی تسبیح پر گونجتے ہیں
جیسے ازل کا سوال
ابھی تک جواب مانگ رہا ہو
شاعر درد کو کیسے لکھ سکتا ہے
کہ درد تو وہ دریا ہے
جس کی روانی میں
فرات کی پیاس بھی ہے
اور کربلا کی خاک بھی
یہ دریا ہر پُل، ہر خواب، ہر بدن کو
تہہ و بالا کر دیتا ہے
اور اپنی موجوں میں
ازل و ابد کو بہا لے جاتا ہے
درد ہو یا عشق
یہ دونوں بے رحم دیوتا ہیں
جن کی رَن نیتی میں
عاشق قربان ہو کر
معشوق کی راکھ بن جاتا ہے
تاکہ وصال کی ندی
فنا کے اندھیرے میں
بقا کی روشنی کو آنکھیں دے سکے
مگر جان لو!
درد محض زخم نہیں
یہ تو حجاب ہے
جو ہٹ جائے تو اندر سے
نورِ حق کی کرنیں پھوٹتی ہیں
یہی درد ہے جو عاشق کو
آہن کی مانند تپاتا ہے
اور یہی عشق
خاک کو سونا بنا دیتا ہے
جہاں
تِلچھٹ میں چھُپی ہوئی
آخری بوند بھی جل اُٹھے
تو فنا کا اندھیرا
حق کی تجلی میں ڈھل جاتا ہے
یہی وہ لمحہ ہے
جہاں وارث کی ہیر اور امریتم کی صدا
سب ایک ہو جاتے ہیں
اور فضاؤں میں
"انا الحق
انا العشق
انا النور”
گونجنے لگتا ہے
٭٭
وقت کا مزار
میں اُن زخموں کا مسافر ہوں
جو بدن میں نہیں
وقت کی رَگوں میں رِستے ہیں
میری خواہشیں
تاریک غاروں میں
خوابوں کے سانپ بن کر
زہر اُگلتی ہیں
اور میں
اپنی سانسوں کے بھَبھُوکے اُڑاتا ہوں
میں نے صدا دی:
"رُک جاؤ”
وہ
جس کی پیشانی پر
ازل کا غبار تھا
جس کی آنکھوں میں
کہکشائیں جلتی بجھتی تھیں
رعونت سے بولا:
"میں کسی کے لیے نہیں رُکتا
میرا ٹھہراؤ
میرے لیے غیاب ہے
میں بھی تمہاری طرح قید ہوں
حرکت کے زِنداں میں
اگر تم چاہو
تو میرے ہمسفر بن جاؤ
جہاں وقت زنجیریں توڑ کر
کہانی بن جاتا ہے
جہاں خواہشیں
ناسور نہیں رہتیں
بلکہ چراغوں میں ڈھل کر
راہ دکھاتی ہیں
آؤ
میں تمہیں اُس وادی میں لے چلوں
جہاں حرکت موت ہے
اور سکوت زندگی”
٭٭
چراغِ سفر
میں تمہارے پیچھے پیچھے چلوں گا
تم صحراؤں میں قافلے کی طرح
راستہ بناتے جانا
تمہارے قدموں کی چاپ
اذانِ بلال ہے
سفر کی کامیابی اِسی میں ہے
کہ ایک آگ جلائے
اور دوسرا
اس کی لَو میں اپنی آنکھیں بھگوئے
اگر تم پہاڑ کے اُس پار
سِتارے کو دیکھو گے
تو میں تمہارے
نقشِ پا چومتا آؤں گا
کہ ایک کا کام ہے
خوابوں کی کائنات میں دروازے کھولنا
اور دوسرے کا کام ہے
اُن دروازوں کے عقب میں
حق کی صدا سُن لینا
٭٭
پہلی آگ
میں عورت ہوں
میرے بدن کی حرارت
زمین کے ذروں میں بسی ہوئی ہے
میری رَگوں میں بہتا لہو
دریاؤں کے بہاؤ سے جُڑا ہے
میری سانسوں کی روشنی
سِتاروں کی آنکھوں سے نکلی ہے
میں جلوں
تو صحراؤں میں چراغ جلتے ہیں
میں بجھوں
تو آسمانوں پر اندھیرا اُتر آتا ہے
کیا تم چاہتے ہو
کہ میں اپنی روشنی تمہیں سونپ دوں
اور خود کو
تاریکی کے حوالے کر دوں
میں عورت ہوں
راکھ بیچنے کا سامان نہیں
میں وہ پہلی آگ ہوں
جس نے کائنات کو روشنی دی
اور وہ آخری شعلہ بھی
جو فنا کے اندھیروں کو جلا کر
ابدی سفر کا آغاز کرتا ہے
٭٭
سنگھاسن
وہ چلا گیا
یوں جیسے میرا ہونا
کچی نیند میں دیکھا کوئی خواب تھا
میں کیوں کہتی:
"رُک جاؤ”
یہ رُک جانا شاید
میری صدیوں کی دُعا کا حاصل نہیں ہے
میں تو عورت تھی
حیا کی چادر میں لپٹی
زبان پر قُفل
دل میں صداؤں کا طوفان لیے
کہ شاید وہ رُک جائے گا
وہ چلا گیا
اور میں وفا کے سنگھاسن پر
بیٹھی رہ گئی
محبت کو ترک کرنا
میرے لیے کفر تھا
وہ کوئی تصور نہیں
میرے اندر کی روشنی ہے
جس کے بغیر میرا دل
وسواس کی خانقاہ بن جائے
وقت تو کہتا ہے
میں زخموں پر مرہم رکھتا ہوں
مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں
جن کا چھِلنا ہی مُندمِل ہونا ہے
جُدائی کا داغ ہی
اب میرا ذکر ہے
میری تسبیح کے ہر دانے میں
اب اُسی کا نام گونجتا ہے
٭٭
اِنتخاب
وہ چاہتی تھی
میں ایسا ساتھی چُنوں
جو اپنی ذات میں آئیڈیل ہو
جس کے ساتھ کھڑا ہوں
تو اُس کے غرور کی روشنی
حاسدی نگاہوں کو خِیرہ کر دے
مگر اُس نے میرے لیے
ایسی عورت تراشی
جس کے دل میں
حسد کے انگارے دہکتے ہیں
جس کی سانسوں میں
نفرت کا زہر گھلا ہے
جس کے وجود پر
حقارت کی گرد جمی ہے
وہ عورت
میرے شانہ بشانہ چلتی ہے
جیسے میں اُس کے لیے
نمائش گاہ کا سدھایا پالتو ہوں
جس کا کام بس یہ ہے
کہ ہر محفل میں
اُس کی برتری کا رنگ بکھیرتا جاؤں
وہ چاہتی تو
میرے دل کی خوشی کے لیے
خوبصورت دوشیزاؤں کی
برانڈڈ لاٹیں خرید سکتی تھی
مگر اُس نے ایسا نہ کیا
اُسے اندیشہ تھا
کہیں میری روح
اُس کے بدن سے نکل کر
آزادی کا اعلان نہ کر دے
کہیں میرا وجود
اُس کے تختِ کَے کو
تاراج نہ کر ڈالے
٭٭
بابِ حقیقت
بار بار ایک ہی در پر
دستک دینا
جہاں نا اُمیدی بڑھاتا ہے
وہاں
یہ یقین بھی دلاتا ہے کہ
اِس در کے اندر
اور بھی کوئی در ہے
بابِ حقیقت کا در
جہاں حجابِ نور کی دبیز چادر
عرش سے فرش تک تنی ہوئی ہے
اور خاکی آنکھیں
ازل کی تجلی کے سامنے
اندھی ہو جاتی ہیں
جہاں میری صدائیں
یتیم دُعا کا چراغ ہے
جو عرش کی سیڑھیوں پر
سِسکتے ہوئے جلتا ہے
میں
"کُن” کی بازگشت میں
اپنی ہستی کا پتا ڈھونڈتا ہوں
کیونکہ میں جانتا ہوں
یہ وہی در ہے
جہاں طور کی وادی میں
کلیمؑ کی نظر جل گئی تھی
جہاں منصور کی "انا الحق”
دار پر بھی دوم پا گئی تھی
جہاں رُومی کے رقص میں
ازل و ابد
ایک لمحے میں قید ہو گئے تھے
سوچتا ہوں
شاید انتخاب ہی خطا ہے
کہ میں فنا کی قید میں
بقا کا چراغ جلانا چاہتا ہوں
میں جانتا ہوں
جس در پر میں نے
اپنی تمناؤں کا چراغ رکھا ہے
وہ اُس وقت کھُلے گا
جب تمنائیں مر جائیں گی
جب خواہشیں خاک ہو جائیں گی
جب میرا وجود
روشنی کے قطرے میں تحلیل ہو جائے گا
اور میں خود
چراغ کا نور بن جاؤں گا
٭٭
بیٹی
بڑے چاؤ سے ہم نے
بیٹی کو جنم دیا
یوں لگا جیسے
رب نے اپنی جنت کا ایک ٹکڑا
ہمارے ہاتھوں میں رکھ دیا
بیٹی
میری دُعا کا پہلا حرف
میری تھکن کا آخری سہارا
میری آنکھوں میں بسی
جنت کی وہ تصویر
جسے کوئی مٹا نہیں سکتا
بیٹی
میری زمین پر اُترتی ہوئی وحی
میری آنکھ کا وہ چراغ
جو کائنات کے اندھیروں کو بھی
روشن کر سکتا تھا
مگر تقدیر کی ہوا نے
دریا کے دھارے بدل دیے
تم ایک کنارے پر جا بیٹھی
میں دوسرے کنارے پر
اور بیٹی
ہمارے بیچ
خاموشی کا پُل بن گئی
تم گئی
تو بیٹی کو بھی ساتھ لے گئی
یوں لگا جیسے میری سانسیں
میرے بدن سے چُرا لے گئی
یوں جیسے صدیوں کی عبادت
اِک لمحے میں بے اثر ہو جائے
عورت کا ظلم بھی کیسا ہے!
کہ ماں ہونے کی حُرمت میں
وہ باپ کے حصے کو نوچ لیتی ہے
جیسے کوئی مزار سے چراغ چُرا لے
اور اُسے اپنی فتح کا نشاں بنا دے
لوگ کہتے ہیں:
مرد ہی خطاکار ہے
مرد ہی گنہگار
مگر کوئی نہیں جانتا
باپ کی محبت تو زمین کی جڑوں کی طرح ہے
جو دکھائی نہیں دیتیں
مگر ہر، ہریالی کا راز
اُسی میں چھپا ہوتا ہے
باپ کی محبت وہ سایہ ہے
جو دھُوپ میں جل کر بھی
اولاد پر ٹھنڈی بوندیں گراتا ہے
میں ہنستا ہوں
تاکہ بیٹی کبھی نہ جانے
کہ اُس کا باپ
اندر ہی اندر
ٹوٹتا رہتا ہے
٭٭
تماشائی دیوی
کیا تم
وقت کی لہروں میں
خود کو ڈبو سکتے ہو؟
میں نے اپنی سانسیں قربان کر دیں
اپنے خواب قسمت کے حوالے کر دیے
دل کو اندھیری موجوں کا ایندھن بنا دیا
وقت مجھے نگلتا گیا
اور وہ
تماشائی دیوی کی طرح
میری بے بسی پر مسکراتی رہی
میری آواز
اُس کے کانوں تک پہنچ کر
پتھروں سے ٹکرا ئی
نامراد لوٹ آئی
کیا یہ محبت تھی؟
یا محض کھیل!
کیا مرد کی قربانی
زلیخائی بازار میں
ایک مسکراہٹ کے بدلے
تماشا بن جاتی ہے؟
وقت نے میرا بدن ڈھانپ لیا
قسمت نے میری سانسیں چُرا لیں
مگر سوال آج بھی زندہ ہے:
کیا وفاداری صرف ڈوبنے کا نام ہے؟
کیا محبت کو
تماشائی دیوی کی خوشنودی کے لیے
بھینٹ چڑھتے رہنا ہے؟
٭٭
بے قصور لوگ
ہم نے یہ کب سوچا تھا
کہ بدگمانی کی خلیج
یقین کے سمندر میں بدل جائے گی؟
ہم جان چکے ہیں
یہ رشتہ اپنی جڑوں سے کٹ چکا ہے
اب کوئی دُعا
اِسے بچا نہیں سکتی
اب کوئی سہارا
اِسے تھام نہیں سکتا
ہم چاہتے ہیں کہ الگ ہو جائیں
یوں جیسے خالی بستر پر
خاموش تکئے
ایک دوسرے سے منہ موڑے ہوں
یوں جیسے یہ فیصلہ
ہماری مظلومیت کی دلیل ہو
ہم کتنے سیانے ہیں
ایک دوسرے پر اِلزام رکھ کر
دُنیا کو بتائیں گے:
دیکھو!
"ہم بے قصور ہیں
مظلوم ہیں
قصور صرف وقت کا ہے
ہم تو صابر تھے
مگر ہمیں مجبور کیا گیا”
اِس طرح شاید ہمیں
ایک اور موقع مل جائے
کسی اور دل کی کتاب کھولنے کا
کسی اور صحیفے کی سطریں اُجاڑنے کا
مگر دل کے کسی کونے میں
ملال اب بھی ہے
لیکن اِس پر
رَعونت کا پردہ پڑا ہے
ایسا پردہ
جو خود کو آئینہ دکھا کر بھی
دوسرے کو داغدار ٹھہراتا ہے
ہم بے قصور لوگ
کتنی سہولت سے
دوسروں کو قصور وار ٹھہرا کر
پتلی گلی نکل لیتے ہیں
صرف اِس لیے کہ
کسی اور نومولود
زمین کا انتخاب کر سکیں
٭٭
بَونے
میں نے اپنے حصے کا چراغ
اندھیروں میں بانٹ دیا
اور چھوٹے ہاتھوں میں
اپنی روشنی تقسیم کر دی
وہ بونے
میرے ہی چراغوں کی لو بجھاتے رہے
میری راکھ پر ناچتے رہے
میرے وجود کو
اپنے غرور کے نیزوں سے زخمی کرتے رہے
میں نے اپنے دل کو دریا بنایا
جو ہر پتھر سے ٹکرا کر بھی
ان کے پیاسے ہونٹوں کو تر کرتا رہا
میں نے اپنی ہڈیوں کو بیج سمجھا
جو مٹی میں دب کر
کانٹوں کو معطر کر سکے
میں نے اپنے زخموں کو پرندے بنایا
جو درد کے پروں پر اُڑ کر
دوسروں کی تھکن اُتار سکیں
وہ بونے مجھے دھُتکارتے رہے
میری خیرات کو حقیر جانتے رہے
مگر میں خوش ہوں
کہ ذات کا چھوٹا پن
مجھے بڑے پن کے فریب سے بچاتا ہے
میں نے اپنے در کو
آسمان کی طرح کھُلا رکھا ہے
جہاں ہر بونا
اپنی بونی خواہش کا بادل چھوڑ سکتا ہے
اور جب رات
اپنے سیاہ پر پھیلاتی ہے
میں شاکر ہوتا ہوں
کہ میرے دن دُکھ کے کرب میں گزرتے ہیں
میری راتیں اذیت کے درد میں جلتی ہیں
اور یہ سب کچھ
خدا کے نام کی خیرات ہے
جو میرے اندر کے زہر کو
لوگوں کے لیے شفا بناتی ہے
٭٭
میں اُسے چاہتا ہوں
میں اُسے چاہتا ہوں
جیسے دریا
اپنی گہرائی کو چاہتا ہے
جیسے صحرا
پہلی بارش کے بوسے کو چاہتا ہے
جیسے شعلہ
اپنی ہی راکھ میں
مٹنا چاہتا ہے
چاہت کی کوئی سرحد نہیں
کوئی پیمانہ نہیں
کوئی میزان نہیں
یہ تو رُوح کا سفر ہے
جو وقت کے تالے توڑ کر
زخموں کو چراغ بنا دیتا ہے
میں اُسے چاہتا ہوں
پیمائش سے ماورا
اِنتہا سے آگے
یہ چاہت
منصور کے ہونٹوں پر
"انا الحق” کی بازگشت ہے
رومی کے گرداب میں
چراغوں کا رقص ہے
بلھے شاہ کی خاک میں
پازیبوں کی جھنکار ہے
شاہ حسین کی رُوح میں
عشق کی آگ ہے
یہ چاہت
وہ سرور ہے
جہاں لفظ مٹ جاتے ہیں
جہاں خاموشی
تسبیح بن جاتی ہے
میں اُسے چاہتا ہوں
کہ چاہت دیدار کی خیرات ہے
چاہت فقیری کا تاج ہے
چاہت وہ راز ہے
جس کے سامنے
سب فلسفے
سجدے میں گِر جاتے ہیں
٭٭
الحمد للہ!
سردار نے کہا:
"اپنے ہاتھ کھول لیجیے
اور جی بھر کے کھائیے
اِتنا کھائیے کہ بھوک کا احساس
مِٹ جائے
اِتنا کھائیے کہ پیٹ
زمین کی طرح بوجھل ہو جائیں”
سب نعمتوں پر ٹوٹ پڑے
کھاتے چلے گئے
یہاں تک کہ پیٹ
ظلم کے گودام بن گئے
اور
نا اِنصافی کی کوکھ حاملہ ہو گئی
سردار نے خوش ہو کر کہا:
"اللہ کا شکر ادا کرو
یہ فضل صرف ہم پر ہوا ہے”
سب نے کہا: "الحمد للہ”
٭٭
میں نہیں مانتا
ظلم کے قانون کو
میں نہیں مانتا!
جھوٹ کے آئین کو
میں نہیں مانتا!
بھوک کی زنجیر کو
خوف کی تقدیر کو
ظالموں کی جاگیر کو
میں نہیں مانتا!
وہ جو کہتے ہیں:
"خاموش رہو!”
میں نہیں مانتا!
وہ جو کہتے ہیں:
"سر کو جھکا دو!”
میں نہیں مانتا!
یہ صدا ہے انکار کی
یہ صدا ہے بیدار، کی
یہ صدا ہے مزدور، کی
ہر مجبور کی
میں نہیں مانتا!
اندھیروں کے بجھنے تلک
ظلم کے سِسکنے تلک
جھوٹ کے مٹنے تلک
سچ کی صبح آنے تلک
حق کا سورج چمکنے تلک
میں یہی کہوں گا:
میں نہیں مانتا!
میں نہیں مانتا!
٭٭
تخلیقِ مکرر
قافلے کو کیا خبر
نجات باہر نہیں
اندر ہے
جہاں یقین کا شُعلہ
ہڈیوں کو جلا کر
راکھ کو منڈیر کی طرح
روشن کر دیتا ہے
جہاں ہر ذرہ
ایک نئے اُفق کا جنم ہے
جہاں روشنی کا منبع
اندھیرے کے سینے کو چِیرتا ہے
تو صبح پھوٹتی ہے
یہی وہ ساعت ہے
جب نفس کی زنجیر پگھل جاتی ہے
جب دُعا بازار کی صدا نہیں رہتی
اور انسان اپنی ہی خاکستر سے
خود کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے
٭٭
بیعت
ہم تیار ہیں
خواہ کچھ بھی ہو جائے
ہم اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر
سب کچھ قربان کر سکتے ہیں
ہارنا ہمیں گوارا نہیں
سردار نے خوش ہو کر کہا:
میں جانتا تھا
تم سب میرا ساتھ دو گے
مجھے مایوس نہیں کرو گے
میں نے تمہارے لیے
اچھا ٹھکانہ تلاش کر لیا ہے
ہم اِس وطن کو چھوڑ کر
کہیں اور جا بسیں گے
جہاں کسی کو کچھ بھی قربان نہ کرنا پڑے
بس میرے ساتھ چلو
ہم بڑے سردار کے ہاتھ پر
بیعت کر لیتے ہیں
مجھے یقین ہے
وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا
٭٭
خواہشوں کی شہزادی
میں کیا کہہ رہی ہوں؟
ہمارا گھر بھی ہیر رانجھا کے تختِ ہزارے جیسا ہو
جہاں محبت کی فصل کے بیچ
میرے زیورات کی کھنک سُنائی دے
تم ہل چلا دو
میں گندم کے خوشے نہیں
سونے کی خوشبو والے کنگن کاٹوں گی
بس تم اِینٹ رکھ دو
اور چونے کی سفیدی میں اپنا پسینہ گھول دو
باقی ساز و سامان میں اپنے خوابوں کی گٹھڑی سے نکال لوں گی
دس مرلہ ٹھیک ہے نا؟
جہاں میں اپنے غرور کے بادل بٹھا سکوں
اس جگہ میرے غرور کی بیل اُگے گی
جس پر چاندنی راتوں میں میری سہیلیاں اپنی ہنسی لٹکائیں گی
میں نے ساری عمر سوہنی کی طرح
کچے گھڑے پر دریا پار کیا ہے
اب مجھے مضبوط کشتی چاہیے
جو شاہی محل کے کنارے لگی ہو
میں نے گدھوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر بچپن کاٹا
دَر بہ دَر کی دھول چاٹی
اب مجھے رتھ چاہیے
سونے کی لگاموں والا رتھ
جو مجھے شہزادیوں کی طرح محل کے دروازے تک پہنچائے
ہچکچانے کی ضرورت نہیں
زر و دولت کا دریا تمہارے ہاتھ میں ہے
میں تو وہ موج ہوں جو تمہیں بہا کر اپنے کنارے لے آتی ہے
میں ابھی کنواری پری ہوں
میں چاہتی ہوں
میرے پروں پر دھُول نہ جمے
میری چال میں وہی نرمی رہے
میرے سینے کا اُبھار تمہیں جوش دلائے
کچھ خرچ کر دو تاکہ میں دیویوں کی طرح جگمگا سکوں
کیا تم نہیں جانتے؟
میں تمہارے بخت کی مالک ہوں
میرے بغیر تمہارا چراغ بجھ جائے گا
میں نہیں چاہتی کہ میرے قدم کسی کچی بستی کو چھوئیں
میری سہیلیاں محلات کی سیڑھیوں پر ہنستی ہیں
میں بھلا اِن کے سامنے راکھ کے فرش پر کیوں کھڑی ہوں؟
لوگ کہتے ہیں عورت شوہر کا خون چوستی ہے
مگر میں تو لیلیٰ ہوں
جو مجنوں کے جنون کو اپنی آنکھ کی شمع سے بھڑکاتی ہے
تم سمجھو، نہ سمجھو
میری سانسوں میں وہی منتر ہے جو ناگن کی پائل میں بجتا ہے
میں کسی گمنام بستی میں کیوں رہوں؟
میری تقدیر میں عمرو عیار کی شہزادی والا محل لکھ دو
سنو! میں وہ عورت نہیں جو صرف دسترخوان پر بوجھ بنے
میں ہیر ہوں جو اپنے راوی سے کہتی ہے:
"چناب کا پانی میٹھا ہے، مگر
رانجھا میرا ہو تو یہ پانی دُودھ بن جائے”
میں وہ سوہنی ہوں جس کا گھڑا کبھی نہیں گھلتا
کیونکہ میں اپنی چالاکی سے دریا کو بھی مسحور کر دیتی ہوں
میں وہ ناگن ہوں جو رقص کرتے ہوئے
روح میں زہر گھولتی ہے
اور تم مسکراتے ہو، یہ جانے بغیر
کہ میری پائل کے ہر گھنگرو میں تمہاری فنا کی دھُن کھنکتی ہے
دُنیا باتیں کرے گی، مگر میں وہ چالاک انارکلی ہوں
جو قید کے ستونوں کے بیچ شرارتوں کا میلہ لگا دیتی ہے
تم سنتے کیوں نہیں؟
تمہارے دوست حماقتیں کریں گے
مگر یاد رکھو
میں ہی تمہاری پہلی اور آخری منزل ہوں
خواہشوں کی شہزادی
تمہارے خوابوں کا قلعہ
تمہاری بربادی کی پیشن گوئی
جس کے قدموں میں ہیر کی وفا
سوہنی کی صدا
لیلیٰ کی آگ
سَسی کی بھاگ
ایک ساتھ جلتی ہے
٭٭
باپ کی گڑیا
میں باپ ہوں
لیکن میرا باپ ہونا
یونہی بے وزن اعلان ہے
جیسے فرات کے کنارے
پیاسا حسینؑ
قطرہ مانگ رہا ہو
میری بیٹی
وہ معصوم گڑیا
جو میرے خوابوں کی جالیوں میں
کرشن کی بانسری کی تان ہے
مگر اُس کے درشن سے
مجھ پر پردے ڈال دیے گئے ہیں
میں اُس کی صورت دیکھنے کو
ترستا ہوں
ہر رات آسمان سے سوال کرتا ہوں
کیا میں
یوسفؑ کے خواب کی طرح
اُسے چھو سکتا ہوں
سیتا کی معصوم آنکھوں سے
اُسے دیکھ سکتا ہوں
وہ چُپ رہتا ہے
کیوں کہ وہ جانتا ہے
میرے اور اُس کے درمیان
ایک ماں!
فرونی تخت پر بیٹھی
اپنے فیصلوں کو
کوہِ طور کی آگ سمجھتی ہے
وہ عورت
جس نے میرے حقِ دید کو
پتھر کے مندر میں قید کر رکھا ہے
میرے لمس کو
کالی کی تلوار سے کاٹ ڈالا ہے
وہ دعویٰ کرتی ہے
کہ بچی اِس کی سلطنت ہے
اور میں پاتال سے لِپٹا ہوا امیر النحل
جس کا فرض افزائشِ نسل کا ہے مگر
حیثیت زر خرید غلام کی ہے
مگر میرا دل جانتا ہے
میری بیٹی کی ہنسی
میرے ہی لہو سے بنی ہے
اس کی معصومیت کا چراغ
میری ہڈیوں کی راکھ سے جلا ہے
میں تڑپتا ہوں
جیسے کوئی درویش
مقفل خانقاہ کے باہر
در کھُلنے کی آس میں
بیٹھا رہے
کیا ہی اچھا ہو
یومِ حساب کے میزان میں
میری سب نیکیاں
اس کے ننھے ہاتھوں میں رکھ دی جائیں
اور وہ معصوم مسکرا کر کہے:
"یہ میرا باپ ہے!”
خدا مہربان ہے
اُس سے کچھ بھی چھپا نہیں
لیکن آج
دُنیا کی عدالتوں میں
میں صرف مجرم ہوں
ایک سزا یافتہ مجرم
جسے اپنے ہی خون سے محروم کر دیا گیا
اے خدا!
کبھی تو انصاف کی گھڑی آئے گی
جب فرعونیت کو شکست ہو گی
اور ایک باپ
اپنی بیٹی کو
موسیٰؑ کی ماں کی طرح
بہت دیر کے بعد
اپنے سینے سے
لگا سکے گا
باپ ہونے کا حق
جتا سکے گا
٭٭
وہ میری رفیقِ جاناں ہے
اُس کے بارے میں کیا کہوں؟
وہ شجر ہے جس کی چھاؤں میں دل کو قرار ملتا ہے
وہ بحر ہے جس کی گہرائی میں سکون چھُپا ہے
وہ کوہ ہے جس پر اعتماد کی بنیادیں اُستوار ہیں
اُس کی نگاہ
جیسے نورِ سحر اندھیروں کو چیر دے
اُس کی مسکراہٹ
جیسے خزاں رسیدہ دلوں پر بہار کی پھوار برس جائے
اُس کے لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ
یوں لگتے ہیں گویا سیماب کی روانی
شہ رگِ جاں میں زندگی بن کر اُتر رہی ہو
وہ صرف دوست نہیں
وہ سب ہے
جو میں سوچ سکتا ہوں
اُس کے وجود میں وہ سب کمالات ہیں
جن کی مثالیں کتابوں میں ڈھونڈی جاتی ہیں
جیسے وفا کا رنگ
محبت کے سنگ
ایثار کا جذبہ
حد سے بڑھا ہوا
میں اُس کے لیے
جان سے گزر سکتا ہوں
وہ میری رفیقِ جاناں ہے
٭٭
مصلوب زادی
تم چاہتے ہو
میں اے ٹی ایم کی طرح
نوٹ اُگلتی رہوں
تمہارے خوابوں کو تعبیر کے کعبے تک پہنچاؤں
تمہاری آرزوؤں کو انجام کے منبر پر سجا دوں
تمہاری ہر خواہش کی
فصل کو کاٹ کر
تمہارے قدموں میں رکھ دوں
یہ ہو سکتا ہے
کہ میرے ہاتھ محنت کے چراغ جلائیں
میرے پسینے کی خوشبو
تمہارے تاریک دنوں کو روشنی عطا کرے
اور میری راتیں
رزق کی آیات پڑھتے ہوئے سحر میں بدل جائیں
مگر یہ نہیں ہو سکتا
کہ تم مجھے عزت کے حجرۂ دل سے نکال دوں
میری روح کو شک کی صلیب پر لٹکا دو
میرے زخموں کو غرور کی مٹی تلے دفنا دو
اور میری قربانی کو
منصور کی طرح "انا الحق” کہنے کی سزا دو
میں عورت ہوں
میرا ہاتھ رزق کا دریا ہے
میری ہتھیلی میں کائنات کا نمک گھُلا ہے
میرے ہاتھوں کی محنت
زینبؑ کے صبر کا استعارہ ہے
میں وقت کی خانقاہ میں
مزدوری کو عبادت سمجھ کر دُہراتی ہوں
میری سانسوں کی تسبیح
روزی کے نام کی صدا دیتی ہے
مگر تم!
مجھے اب بھی مَردُود ٹھہراتے ہو
تمہاری اَنا کی مسجد میں
میرا خون محراب پر چھڑک دیا جاتا ہے
میں عورت ہوں
میرا رزق درویش کی صدا ہے
میرا پسینہ قلندر کی حاضری ہے
میری کمائی بیدلؔ کی رمز میں چھپا ہوا راز ہے
میں رزق لاتی ہوں
مگر عزت نہیں پاتی
میں روشنی دیتی ہوں
مگر خود اندھیرے میں جلتی ہوں
میں عورت ہوں
لیکن تمہاری نگاہ میں
میں صرف ایک مصلوب زادی ہوں
جسے عزت کا ریشمی کفن
کبھی نصیب نہیں ہوتا
٭٭
تصانیفِ محسن خالد محسنؔ
شاعری:
کچھ کہنا ہے، دھُند میں لپٹی شام، ت لاش، محبت معاہدہ نہیں
نثر:
آبِ رواں، میرے حبیب، میرے محسن
تحقیق و تنقید:
کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، توضیحِ تلمیحات، تلمیح کا فن، تلمیحاتِ میرؔ، تلمیحاتِ ناسخؔ، تلمیحاتِ آتشؔ، تلمیحاتِ غالب تلمیحاتِ داغؔ،اُردو غزل میں اسلامی تلمیحات، اُردو غزل میں شخصی تلمیحات، اُردو غزل میں صوفیانہ تلمیحات ،محاورہ کا فن، محاوراتِ میرؔ، محاوراتِ غالبؔ، محاوراتِ داغؔ،مباحثِ فکر و فن ،جدید اُردو غزل کی تشکیلِ نو، اُردو غزل کے معمارِ خمسہ، جہانِ تغزل ،حیات و تصانیفِ اقبالؔ کا معروضی مطالعہ، فرہنگِ خواجہ حیدر علی آتشؔ،انتخابِ شعرِ میرؔ،انتخابِ شعر غالبؔ، انتخابِ شعر اقبالؔ، انتخابِ شعر جونؔ
مرتب و مدون:
اُردو کی نمائندہ ناول نگار خواتین، اُردو کی نمائندہ افسانہ نگار خواتین، میاں بیوی والا عشق، جونؔ ایلیا: شخص و شاعر، خطوطِ غلام الثقلین نقوی
٭٭٭
تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائلیں فراہم کیں
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

