ڈاؤن لوڈ کریں
جلد اول
جلد دوم
جلد سوم
کتاب کا اقتباس پڑھیں…..
تفسیر ابن عباس
(مع اردو ترجمہ قرآن: فتح محمد جالندھری
اور ’باب النقول فی اسباب النزول‘ از علامہ جلال الدین سیوطیؒ)
مؤلف ابو طاہر محمد یعقوب، مترجم: حافظ سعید احمد عاطف
جلد اول
پارہ ۱ تا پارہ ۱۰
جمع و ترتیب: محمد عظیم الدین، اعجاز عبید
تعارف تفسیر ابن عباسؓ
عربی تفسیر ابن عباس کا پورا نام "تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس” ہے اصل عربی تفسیر کے مصنف ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم نجد الدین الشیرازی الشافعی ہیں۔ اور یہ تفسیر تفسیر قرآن سے متعلق عبد اللہ ابن عباسؓ کی روایات کا مجموعہ ہے جس کو اردو میں مجد الدين أبو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: ۸۱۷ ھ) نے تفسیر ابن عباس کے نام سے اکٹھا کیا بعض لوگ اسے فیروز آبادی کے نام سے منسوب کرتے ہیں اس کے حوالے سے اسلاف کی آراء مختلف فیہ ہیں۔ اس کی اسناد کے متعلق بھی گفتگو کی خاصی گنجائش ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ و دیگر کتب حدیث مثلاً: مسند احمد بن حنبل، مسند ابی داود الطیالسی، مسند الشافعی، مسند الحمیدی، معجم طبرانی، المنتقی لابن جارود، سنن دارمی، سنن الدارقطنی میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کے اقوال و آثار بھی ہیں۔ لغتِ عرب، تاریخ عرب، ایام العرب سے استشہاد و استناد بھی ہے۔ ابن عباسؓ کی روایات سے مزین ہیں۔ ان تمام شواہد اور قرائن کی موجودگی میں اس مجموعہ روایات ابن عباس سے بے اعتنائی، قرینِ انصاف نہیں۔ پھر یہ تفسیر ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں میں زیور طبع سے آراستہ ہو رہی ہے اور اہل علم اس سے استفادہ بھی کرتے رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس ابن عباس جیسے مفسر اعظم کی تفسیری آراء کا اس کے علاوہ کوئی اور مجموعہ نہیں ہے۔
تنویر المقباس کی سند
تنویر المقباس کی سند یوں ہے "از کلبی از ابی صالح از ابن عباس”۔ اس کتاب میں ہر قسم کی روایات موجود ہیں۔ حضرت ابن عباس کی صحیح تفسیری روایات وہ ہیں جو مستند کتب احادیث میں اسانید صحیحہ سے منقول ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ کی جس روایت میں محمد بن سائب کلبی اور محمد بن مروان السدی دونوں موجود ہوں وہ غایت درجہ کی ضعیف روایت ہے۔
(اردو دائرۃ المعارف)
۱۔ سورۃ الفاتحہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
سورة فاتحہ میں اختلاف ہے کہ یہ مدنی ہے یا مکی۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۱ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ۳ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ۴ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ۵ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ۶ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ۙ۬غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠۷
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے (۲) بڑا مہربان نہایت رحم والا (۳) انصاف کے دن کا حاکم (۴) (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مد د مانگتے ہیں (۵) ہم کو سیدھے رستے چلا (۶) ان لوگوں کے رستے جن پرتو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے (۷)
(۱) حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ تمام شکر اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات پر انعام کرتا ہے اور مخلوق اس کی حمد و ثنا کرتی ہے۔ ایک یہ تفسیر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں پر شکر ہے جو اس نے اپنے مومن بندوں پر کیں اور ان کو ایمان کی ہدایت عطا فرما کر سب سے بڑا انعام دیا، یہ تفسیر بھی ہے کہ شکر وحدانیت اور الوہیت اس اکیلے اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی معاون اور وزیر نہیں ہے اور وہ ہر ہر جاندار کا پالنے والا ہے جو زمین اور آسمان پر ہے اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ وہ جنوں اور انسانوں کا مالک اور سردار ہے، یہ بھی تفسیر ہے کہ وہ مخلوق کو پیدا کرنے والا ان کو رزق دینے والا اور ایک حالت کو دوسری حالت سے بدلنے والا ہے۔
(۲) لفظ رحمن میں رحیم سے زیادہ رقت و رحمت ہے اور رحیم بمعنی رقیق ہے۔
(۳) یوم الدین بدلہ کا وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے جس میں مخلوق کے درمیان فیصلہ ہو گا ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا، اس دن اللہ کے علاوہ کسی کا فیصلہ نہیں ہو گا۔
(۴۔ ۵) ہم تیری ہی توحید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تجھ ہی سے تیری عبادت پر اور تیرے ان انعامات پر کہ جن کی وجہ سے ہم تیری فرمانبرداری پر قائم رہیں مدد مانگتے ہیں۔ قائم رہنے والے دین اسلام کی طرف ہماری رہنمائی فرما ایسی رہنمائی جس سے تو خوش ہے اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ہمیں ان دن پر ثابت قدم رکھ اور کتاب اللہ کے ساتھ بھی اس کی تفسیر کی گئی ہے یعنی اس قرآن کے حلال و حرام اور اس کے مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔
(۶۔ ۷) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کر کے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰؑ کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من و سلویٰ آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاریٰ کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاریٰ کے دین کے طلب گار ہیں، جو اسلام سے بے راہ ہو گئے، اس طرح ہماری یہ امیدیں بڑھتی رہیں اور اسی طرح ہوتا رہے یا یہ کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے جو تجھ سے دلی درخواست کی ہے، وہ وہی ہمیں عطا فرما، (اور ہماری ان جملہ دعاؤں کو قبول فرما)
٭٭٭
۲۔ سورۃ البقرۃ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
شان نزول
ابن جریرؒ نے مجاہدؒ سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی پہلی چار آیات مومنوں سے بارے میں اتری ہیں، اور اس کے بعد کی دو آیتیں کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور تیرہ آیات منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
الٓمّٓۚ۱ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ۛۖۚ فِیْهِ ۛۚ هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَۙ۲ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ۳ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ۴ اُولٰٓىِٕكَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ۗ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۵
الم (۱) یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے (۲) جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (۳) اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں (۴) یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں (۵) جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے (۶)
(۱) الم (ال م) کے بارے میں عبد اللہ بن مبارک، علی بن اسحاق سمرقندی، محمد بن مروان، کلبی، ابو صالح کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ الف سے اللہ، لام سے جبریل اور میم سے محمدﷺ مراد ہیں، دوم: الف سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، لام سے اس کا لطف، میم سے اس کا ملک و بادشاہت مراد ہے، سوم: الف سے اللہ تعالیٰ کے نام کی ابتدا اللہ، لام سے لطیف، میم سے مجید مراد ہے، چہارم: اللہ اعلم سے بھی اس کی تفسیر کی گئی ہے، پنجم: یہ قسم کے الفاظ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ یہ کتاب قرآن جس کو محمدﷺ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اس میں کسی قسم کے کوئی شبہ کی گنجایش نہیں ہے، کیوں کہ یہ میری کتاب ہے، اگر تم اس کتاب پر ایمان لاؤ گے تو تمہیں ہدایت دوں گا اور اگر اس پر ایمان نہیں لاؤ گے تو میں تمہیں عذاب دوں گا۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ بھی ہے کتاب کی تفسیر اس وعدہ کے ساتھ بھی ہے جو کہ عہد میثاق میں رسول اللہﷺ سے کیا گیا تھا کہ میں آپ پر وحی بھیجوں گا، کتاب سے تورات و انجیل بھی مراد ہے، اس میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجایش نہیں ہے، ان دونوں کتابوں میں رسول اللہﷺ کی تعریف و توصیف مذکور ہے۔
(۲) پرہیزگاروں کے لیے یہ قرآن کریم (ہدایت کے ساتھ) کفر و شرک اور فواحش کو بھی واضح طور پر بیان کرنے والا ہے، یہ قرآن کریم مومنوں کے لیے معجزہ ہے رسول اللہﷺ کی امت میں سے وہ لوگ جو متقی و پرہیزگار ہیں، ان کے لیے باعث رحمت ہے۔
(۳) وہ لوگ جو کہ ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہیں، جیسا کہ جنت و دوزخ، پل صراط، میزان اعمال، بعث بعد الموت، حساب کتاب وغیرہ۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی ان امور میں سے جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں یا وہ جو قرآن کریم میں نازل نہیں ہوئے، ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور نماز کو اس کے وضو، رکوع و سجود اور جو امور اس میں واجب ہیں اس کے وقت پر ادا کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ حضرات جناب ابو بکر صدیقؓ اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ ہیں۔
(۴۔ ۵) اور جو قرآن کریم اور تمام انبیائے کرام پر جو کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اور جنت کے جملہ انعامات کی تصدیق کرتے ہیں، یہ حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ہیں۔ ایسی اچھائیوں کے مالک اپنے پروردگار کی جانب سے رحمت و کرامت اور بزرگی کے مالک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے رہائی پانے والے ہیں۔
یہ تفسیر بھی ہے کہ جن حضرات نے حضورﷺ کے زمانہ مبارک کو پایا اور جن چیزوں کا ان حضرات نے مطالبہ کیا تھا اس کو حاصل کر لیا اور جن برائیوں سے بھاگ کر آئے تھے، اس سے نجات حاصل کر لی (یعنی محبت نبوی کی برکت سے تزکیہ نفوس کے مرحلے سے بخوبی گزر گئے) یہ حضرات رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَاُ يؤْمِنُوْنَ۶ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ ؕ وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ؗ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠۷ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ۸ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ۹ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ۱۰ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۱۱ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۱۲
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے (۶) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے (۷) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے (۸) یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں(۹) ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا (۱۰) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں (۱۱) دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں ، لیکن خبر نہیں رکھتے (۱۲)
شان نزول
(آیت) "ان الذین کفروا”۔ (الخ)
ابن جریرؒ نے ابن اسحاقؒ، محمد بن ابیؒ، عکرمہؒ، سعید بن جبیرؒ، حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت) "ان الذین کفروا"۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دو آیات مدینہ منورہ کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اور ابن جریر ہی نے ربیع بن انسؓ کے ذریعے سے روایت کیا ہے کہ (آیت) "ان الذین کفرو"۔ سے (آیت) "ولھم عذاب عظیم"۔ تک یہ دو آیات غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
(۶) جو لوگ کفر پر پکے ہو چکے ان کو بھلائی کی بات کرتا اور ان کو قرآن پاک کے ذریعے ڈرانا نہ ڈرانا ایک جیسا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، لیکن اللہ نے انہیں ارادے کی آزادی دے کر تمام حجت کر دی ہے۔
(۷) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں اور آنکھوں پر پردہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
(۸) یہ لوگ یہود میں سے کعب بن اشرف، حیی بن اخطب اور جدی بن اخطب ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مکہ مکرمہ کے مشرکین عتبہ، شیبہ، اور ولید مراد ہیں، یہ لوگ علانیہ اور ظاہری طور پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارے ایمان باللہ اور بعث بعد الموت (مرنے کے بعد اٹھائے جانے) جس میں اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تصدیق کرتے ہیں، مگر قلبی طور پر وہ مومن نہیں اور اپنے ایمان لانے کے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔
(۹) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں اور دلی طور پر اس کے احکام کو جھٹلاتے ہیں، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں اس قدر دلیر اور بہادر واقع ہوئے ہیں کہ وہ خود اس جھوٹے خیال میں مبتلا ہیں کہ العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ اور رسول اکرمﷺ کے تمام صحابہ کرامؓ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو ہی جھٹلا رہے ہیں کیوں کہ ان کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اللہﷺ کو ان کے دلوں کے راز بتا دیتا ہے۔
(۱۰) ان کے دلوں میں شک، نفاق، نافرمانی اور اندھیرا ہے رب تعالیٰ ان کے شک نفاق نافرمانی اور اندھیرے میں اضافہ فرماتا ہے اور ان لوگوں کو آخرت میں ایسا تکلیف دہ عذاب ہو گا جس کی تکلیف ان کے دلوں میں ہو گی کیوں کہ وہ پوشیدہ اور خفیہ طریقہ پر اللہ کو جھٹلاتے تھے اور یہ منافقین یعنی عبد اللہ بن ابی، جدی بن قیس اور معتب بن قشیر ہیں۔
(۱۱) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو رسول اکرمﷺ کے دین سے نہ روکو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اطاعت پر لگانے والے ہیں۔
(۱۲) جان لو یہی رکاوٹ ڈالنے والے ہیں، لیکن ان کے ضعیف لوگ نہیں سمجھتے کہ ان کے سردار ہی ان کو گمراہ کر رہے ہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۱۳ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ۱۴ اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۱۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۱۶ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ۱۷ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ۱۸
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے ، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں ، بھلا جس طرح بے وقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے (۱۳) اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں (۱۴) ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں (۱۵) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے (۱۶) ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے (۱۷) (یہ) بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے (۱۸)
شان نزول
(آیت) "و اذا لقو الذین امنوا”۔ الخ)
واحدیؒ اور ثعلبیؒ نے بواسطہ محمد بن مروان، سدی صیغر، کلبی، ابو صالح، ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آیت کریمہ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک دن منافقین کی جماعت نکلی، راستہ میں ان لوگوں کو رسول اکرمﷺ کے کچھ صحابہ کرامؓ نظر آئے، عبد اللہ بن ابی نے اپنے دوستوں سے کہا کہ دیکھو کس طرح میں تم سے (العیاذ باللہ) ان بیوقوفوں کو ہٹاتا ہوں، چنانچہ عبد اللہ بن ابی نے آ کر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا "صدیق اکبرؓ بنی تمیم کے سردار، مسلمانوں کے بزرگ، رسول اللہﷺ کے رفیق غار، رسول اللہﷺ کے لیے اپنی جان اور مال کو خرچ کرنے والے آپ کو خوش آمدید ہو۔”
پھر اس نامراد نے حضرت عمر فاروقؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا "عدی بن کعب کے سردار فاروق اعظمؓ اللہ تعالیٰ کے دین میں بہت جری اور بہادر، اپنی جان و مال رسول اکرمﷺ کے لیے خرچ کرنے والے آپ کو خوش آمدید ہو”، پھر اس نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا "رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپﷺ کے داماد حضورﷺ کے علاوہ بنی ہاشم کے سردار، مرحبا۔” اس کے بعد عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم نے دیکھا میں نے کیا کیا جب تم ان لوگوں کو دیکھو تو تم بھی میری طرح ان سے پیش آؤ، یہ سن کر اس کے منافق ساتھیوں نے اس کی تعریف کی۔
یہ جماعت صحابہ کریمؓ رسول اللہﷺ کے ہاں آئی، اور آپ کو سارے واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا اس وقت یہ آیت اتری، اس روایت کی یہ سند بہت ہی کمزور ہے کیوں کہ سدی صغیر اور اسی طرح کلبی دونوں کذاب ہیں اور ابو صالح ضعیف ہے، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
(۱۳) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ محمدﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لاؤ جیسا حضرت عبد اللہؓ بن سلام اور ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم محمدﷺ اور قرآن پاک پر اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ بیوقوف اور ذلیل لوگ ایمان لائے ہیں، آگاہ رہو بالیقین یہی لوگ بیوقوف اور ذلیل ہیں لیکن اس بات کو سمجھتے نہیں۔
(۱۴) منافقین جب حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے صحابہ کرامؓ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی صدق دل سے اسی طرح ایمان لائے ہیں جس طرح کہ تم لوگ ایمان لائے ہو اور تم لوگوں نے تصدیق کی ہے اور جب اپنے بڑوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں اور وہ پانچ آدمی ہیں، مدینہ منورہ میں کعب بن اشرف، بنی اسلم میں ابو بردہ اسلمی، ابن السودا شام میں، جہینہ میں عبد الدار اور بنی عامر میں عوف بن عامر تو ان سے آ کر کہتے ہیں کہ اصل میں ہم تم لوگوں کے ہی دین پر ہیں ہم تو کلمہ لا الہ الا اللہ۔ زبان سے کہہ کر (معاذ اللہ) رسول اللہﷺ اور آپ کی جماعت سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔
(۱۵) اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر قیامت کے دن ان کا مذاق اڑائے گا، اس طرح کہ ان کے سامنے پہلے جنت کا ایک دروازہ کھولے گا اور پھر انھیں وہ دروازہ دکھا کر ان پر بند کر دے گا اس بات پر مومنین ان منافقین کا مذاق اڑائیں گے۔
(۱۶) اللہ تعالیٰ دنیاوی زندگی میں بھی ان کے کفر اور گمراہی میں اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ جس پر ان کی بصیرت کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور سچائی کا امتیاز باقی نہیں رہتا، یہ اس طرح کے لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کر لیا ہے اور ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، لیکن ان کو اپنی اس تجارت میں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی میں مبتلا ہوئے اور اب یہ گمراہی سے سیدھی راہ پر نہیں آئیں گے۔
(۱۷) منافقین کی رسول اللہﷺ کے مقابلے میں یہ مثال ہے، جیسا کسی شخص نے اندھیرے میں آگ جلائی، تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے مال اور اہل و عیال کی حفاظت کرے، جب وہ آگ روشن ہو گئی اور ارد گرد اور چیزیں بھی نظر آنے لگیں اور اپنے مال اور اہل و اعیال کے بارے میں اطمینان ہو گیا تو اچانک وہ آگ بجھ گئی، اسی طرح منافقین رسول اللہﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لائے اور حقیقت میں ان کا ایمان صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی جانوں، اموال و عیال کی قتل اور قید سے حفاظت کریں، چنانچہ جب وہ مر جائیں گے تو ان کے ایمان کا نفع ختم ہو جائے گا اور ان کو حق تعالیٰ قبر کی ایسی سختیوں میں ڈال دے گا کہ اس کے بعد ان کو راحت و آرام نظر ہی آئے گا۔
(۱۸) رسول اللہﷺ کے ساتھ ان یہودیوں کی یہ بھی مثال بیان کی گئی ہے، جیسا کہ کسی شکست کھائے ہوئے انسان نے کوئی علم حاصل کیا اور اس کے پاس اور شکست خوردہ لوگ جمع ہو گئے پھر انہوں نے اپنے علم کو تبدیل کر دیا، جس کی وجہ سے ان کا فائدہ اور امن و سلامتی سب ہی برباد ہو گئے، اسی طرح سے یہود رسول اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے اور قرآن مجید کے ذریعے سے مدد مانگا کرتے تھے جب آپﷺ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کفر و انکار کے سبب ان کے ایمان لانے کی خواہش اور ان کے ایمان کے نفع کو ختم کر دیا اور انھیں یہودیت کی گمراہیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا کہ انھیں اب ہدایت کا راستہ ہی نظر نہیں آتا، یہ سب بہرے، گونگے اور اندھے بنے ہوئے ہیں، کہ اپنے کفر اور گمراہی سے ہرگز نہیں لوٹ سکتے۔
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ۱۹ یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠۲۰ ٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۲۱ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۲۲
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈ ر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اللہ کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے (۱۹) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (۲۰) لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو (۲۱) جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو (۲۲)
شان نزول
(آیت) "او کصیب من السمآء فیہ ظلمت”۔ (الخ)
ابن جریرؒ، سدی کبیرؒ، ابی مالکؒ، ابن عباسؓ، مرہؓ، ابن مسعودؓ نیز صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقین میں سے دو آدمی رسول اللہﷺ کے پاس سے بھاگ کر مشرکین کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں ان دونوں کو اسی طرح بارش کا سامنا ہوا، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے کہ اس میں بہت سخت گرج، اندھیرا اور چمک ہے، لہٰذا جب خوب زور سے بادل گرجتا یہ دونوں اس ڈر سے کہ کہیں گرج کی آواز سے ان کے کان نہ پھٹ جائیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے تھے اور جب بجلی چمکتی تو اس کی روشنی میں چلنا شروع کر دیتے تھے اور جب بجلی نہ چمکتی تو نظر تو کچھ نہ آتا لیکن چلتے چلتے پھر اپنی جگہوں پر پہنچ جاتے اور دل میں سوچتے کاش کہ صبح ہو جائے تو ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کر اپنے ہاتھ آپﷺ کے ہاتھ پر میں دے دیں، چنانچہ صبح ہوئی اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہو گئے اور اپنے ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیے اور ان کا اسلام بھی ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے مدینہ مورہ کے ان دونوں منافقوں کی حالت بیان فرمائی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کر گئے تھے اور ویسے منافقین کا وطیرہ یہ تھا کہ جب وہ رسول اکرمﷺ کی مجلس مبارک میں آتے تھے تو وہ اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں ان کے بارے میں قرآن حکیم کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے، داخل کر لیا کرتے تھے یا ان کی کسی بات کا اظہار کرایا جائے جس کی بنا پر وہ قتل کر دیے جائیں، جیسا کہ مدینہ منورہ سے نکلنے والے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جب روشنی ہوتی تو چلنا شروع کر دیتے تھے چنانچہ جب ان منافقین کے اموال و اولاد میں اضافہ اور زیادتی ہو گئی اور فتوحات کے سبب مال غنیمت بکثرت ہو گیا تو دین کی حمایت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اب محمدﷺ کا دین سچا ہے اور اس پر قائم ہو گئے جیسا کہ دونوں منافقین جب بھی چمکتی تھی تو اس کی روشنی میں چلتے تھے اور جب اندھیرا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، اسی طرح دوسرے منافقین جب ان کے اموال و اولاد ہلاک و برباد ہو گئے اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا تو کہنے لگے کہ یہ سب مصیبتیں رسولﷺ کے دین کی وجہ سے ہیں۔ (العیاذ باللہ) اور مرتد ہو گئے اور پھر اسی طرح اپنے کفر پر جم گئے جیسا کہ یہ دونوں منافقین کہ جب تاریکی ہوتی تو کھڑے ہو جاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
(۱۹) منافقین اور یہودیوں کی قرآن پاک کے ساتھ یہ دوسری مثال ہے جیسا کہ جنگل میں رات کے وقت آسمان سے بارش برسے اسی طرح قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ اس میں فتنوں کی تاریکیوں بیان کی گئی ہیں اور گرج، چمک، ڈر اور ڈانٹ اور بیان و تبصرہ اور وعید ہے، یہ لوگ موت اور تباہی کے خوف سے، کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، اسی طرح یہ منافقین قرآن مجید کے بیان اور وعید کے وقت موت سے بچنے کے لیے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیتے ہیں کہ کہیں دل ان کی طرف مائل نہ ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ منافقین کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے، قریب ہے کہ یہ آگ اور چمک کافروں کی نگاہوں کو ختم کر دے اسی طرح سے قرآن کریم بھی ان گمراہوں کی آنکھوں کو ختم کر دینے والا ہے۔
(۲۰) جب بجلی کی روشنی ہوتی ہے تو چلنا شروع کر دیتے ہیں، اسی طرح جب منافقین ایمان کا اظہار کرتے ہیں تو مومنوں کے درمیان چلنا شروع کر دیتے ہیں کیوں کہ ان کا اظہار ایمان بظاہر قبول کر لیا جاتا ہے لیکن جب مر جاتے ہیں تو قبر کے اندھیرے میں پڑے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو گرج و چمک سے ان کے کانوں اور نگاہوں کو ختم کر دے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو قرآن کریم کی وعید اور عذاب سے منافقوں اور یہودیوں کی سننے کی قوت اور قرآن حکیم کی وضاحت سے ان کی دیکھنے کی قوت ختم کر دے۔
(۲۱) اس سے اہل مکہ اور یہودی بھی مراد ہیں، اپنے اس رب کی توحید بیان کرو جس نے تمہیں نطفہ سے پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے بچ جاؤ۔
(۲۲) اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے تمہارے لیے زمین کو بستر اور بچھونا اور آسمان کو بلند چھت والا بنایا اور آسمان سے بارش اتاری جس سے طرح طرح کے پھل تمہارے لیے اور تمام مخلوقات کے لیے پیدا کیے، لہذا اللہ تعالیٰ کے برابر و مشابہ کسی کو نہ بناؤ کیونکہ تم خوب جانتے ہو کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۲۳ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ۲۴ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۲۵ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ۲۶
اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو (۲۳) لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے (۲۴) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے (۲۵) اللہ اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نا فرمانوں ہی کو (۲۶)
شان نزول
(آیت) "ان اللہ لا یستحی”۔ (الخ)
ابن جریر نے سدی سے اپنی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ منافقوں کی یہ دو مثالوں بیان فرمائیں (آیت) "کمثل الذی استوا قد نارا"۔ اور (آیت) اور "کصیب من السمآء"۔ تو منافق کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو اس سے بہت اونچی اور بلند ہے کہ اس قسم کی مثالیں بیان کرے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ ہاں واقعی اللہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کر دیں اور واحدی نے عبد الغنی بن سعید ثقفی، موسیٰ بن عبد الرحمانؒ ابن جریج، عطاءؒ حضرت ابن عباسؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جب مشرکین کے معبودوں کا تذکرہ فرمایا کہ اگر مکھی بھی ان سے کسی چیز کو چھین لے تو وہ اسے دور نہیں کر سکتے اور ان کے معبودوں کی حقیقت واضح فرمائی اور مکڑی کا ذکر کیا ہے، ان چیزوں کے ذکر سے کیا ہو گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی عبد الغنی غیر معتبر راوی ہیں، عبد الرزاق نے اپنی تفسیر میں بواسطہ معمر قتادہؒ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکھی اور مکڑی کا ذکر کیا تو مشرکین کہنے لگے کہ مکھی اور مکڑی کے ذکر سے کیا فائدہ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور ابن ابی حاتمؓ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے (آیت) "یایھا الناس ضرب مثل"۔ آیت نازل فرمائی تو مشرکین کہنے کہ ان مثالوں اور اس قسم کی مثالوں سے کیا حاصل ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ واقعی اللہ تعالیٰ نہیں شرماتے اس بات سے کہ کوئی یہاں بیان کر دیں پہلا قول سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے سورت کے شروع میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کے زیادہ مناسب اور روایت میں مشرکین کا جو ذکر آ رہا ہے وہ اس آیت کریمہ کے مدنی ہونے کے مخالف نہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
(۲۳) تم اپنی کتابوں میں یہ بات پاتے ہو کہ اس وحدہ لاشریک کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ اور شریک ہے اور اگر تمہیں اس کلام میں جو کہ ہم نے بذریعہ جبریل امین اپنے خاص بندے محمدﷺ پر اتارا ہے، شک ہے کہ یہ کلام انہوں نے خود بنا لیا ہے تو اس کلام جیسی ایک سورت لے آؤ اور اپنے ان معبودوں کو بھی ساتھ ملا لو جن کی تم عبادت کرتے ہو یا اپنے سرداروں کو بلا لو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور حقیقت یہ ہے کہ ایک سو رہ بھی تم ہرگز اس جیسی لانے پر قادر نہیں ہو سکتے۔
(۲۴) سو اگر تم اس جیسی سورت نہ لا سکو مفہوم کے لحاظ سے یہاں (آیت) "لن تفعلوا"۔ پہلے ہے (آیت) "لم تفعلو"۔ بعد میں ہے اگر پھر بھی تم ایمان نہیں لئے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں ہی کے لیے پیدا اور تیار کی گئی ہے۔
(۲۵) اس کے بعد مومنین کی جنت میں عزت و عظمت کا بیان ہے، ان لوگوں کو جو کہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کے جو کہ ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں بجا آوری کرتے ہیں اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ اعمال صالحہ کرتے ہیں یعنی اہل ایمان کو اعمال صالحہ کے سبب حضرت محمدﷺ اور قرآن حکیم کے ذریعے بشارت و خوشخبری حاصل کر لینی چاہئے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں ایسے باغات ہیں کہ وہاں درختوں اور ان کے مکانات کے کے نیچے سے شراب، دودھ، شہد، اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، جب ان کو جنت میں مختلف قسم کے پھل اور میوے کھانے کو ملیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس جیسے ہمیں اس سے پہلے بھی کھانے کے لیے دیے گئے، کیوں کہ انہوں نے پھل رنگ میں ایک جیسے اور مزے و لذت میں مختلف قسم کے دیے جائیں گے اور ان کے لئے جنت میں ایسی بیویاں ہوں گی جو حیض اور ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، انھیں موت نہیں آئے گی اور نہ اس سے یہ لوگ کبھی بے دخل کیے جائیں گے۔
(۲۶) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہودیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو انہوں قرآن کریم کی مثالوں پر تھا کہ اللہ تعالیٰ تو کیس مثال کے بیان کرنے کو نہیں چھوڑتا اور وہ کسی چیز کے تذکرہ سے شرمائے بھی کیوں۔ اس لیے کہ اگر تمام مخلوق بھی مل کر کسی کو پیدا کرنے چاہئے تو وہ سب ذرا سی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور مخلوق کے لئے کوئی مثال بیان کرنے میں اسے حیا رکاوٹ نہیں کہ وہ مچھر یا اس سے بڑی چیز مثلاً مکھی اور مکڑی وغیرہ یا اس سے چھوٹی چیز کی مثال بیان کرے، جو لوگ رسول اللہﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مثال درست ہے اور جو رسول اللہﷺ اور قرآن کریم کو نہیں مانتے وہ کہتے پھرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی مثالوں سے کیا ارادہ کیا ہے، اے نبی کریمﷺ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے سے بہت سے یہودیوں کو گمراہ اور بہت سے مومنوں کو ہدایت عطا فرمائے۔
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ ۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۲۷ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۲۸ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠۲۹ وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۳۰
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتۂ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (۲۷) (کافرو!) تم خدا سے کیوں کر من کر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بے جان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (۲۸) وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے (۲۹) اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (۳۰)
(۲۷) اس قسم کی مثال سے یہودی گمراہ ہوتے ہیں جو رسول اللہﷺ سے بہت تاکید و زور کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اور پھر بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں اہل ایمان اور رسول اکرمﷺ کے ساتھ صلہ رحمی کو ختم کرتے ہیں اور لوگوں کو رسول اللہﷺ اور قرآن حکیم سے بد ظن کرتے ہیں یہی لوگ دنیا و آخرت کے تباہ ہونے کی وجہ سے گھاٹے اور خسارے میں ہیں۔
(۲۸) اب اللہ تعالیٰ حیرانی سے ان کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں کہ تم نطفہ کی صورت میں اپنے باپوں کی پشتوں میں موجود تھے، اس کے بعد اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے رحم میں زندہ کیا، پھر تمہاری عمر کے پورا ہونے پر تمہیں موت دی، اس کے بعد قیامت میں تمہیں زندہ کرے گا اور آخرت میں پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا، جہاں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
(۲۹) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا (جو اس کے انسانوں پر ہیں) تذکرہ فرماتے ہیں کہ اس اللہ نے تمہارے لیے مختلف قسم کے جانوروں اور باغوں وغیرہ کو بنایا اور تمہارے تابع کیا پھر آسمان کو پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان برابر زمین کے اوپر بنائے اور وہ ذات الٰہی آسمانوں اور زمینوں میں سے ہر ایک چیز پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
(۳۰) اب اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جنہیں آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے جو کہ زمین میں رہنے والے تھے، فرمایا میں تمہارے بدلے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا آپ ایسے لوگوں کو پیدا کرنے والے ہیں جو گناہ اور ظلم کا ارتکاب کریں گے اور ہم آپ کے حکم کے مطابق عبادت کرتے ہیں اور پاکی کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے ہیں، ارشاد ہوا کہ میں اس خلیفہ (آدمؑ) کی حکمتوں کو زیادہ جانتا ہوں۔
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰٓىِٕكَةِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۳۱ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ۳۲ قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۳۳ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ اَبٰی وَ اسْتَكْبَرَ ؗۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ۳۴ وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا ۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۳۵
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ (۳۱) انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے (۳۲) (تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے (۳۳) اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا (۳۴) اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چا ہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے (۳۵)
(۳۱) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو تمام اولاد کے نام سکھا دیے اور ایک قول یہ ہے کہ جانوروں وغیرہ کے نام حتی کہ پیالہ اور چینی تک کے نام بتلا دیے، پھر ان چیزوں کے نام ان فرشتوں پر (جن کو سجدہ کا حکم ملا تھا) پیش کیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے مخلوق اور ان کی اولاد کے متعلق اطلاع دو، اگر تم اپنی پہلی بات میں سچے ہو۔
(۳۲) فرشتوں نے جواباً عرض کیا کہ ہم اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں ہمیں جو تو نے بتایا اتنا ہی علم ہے تو ہم سے اور ان سے اور ہماری باتوں اور ان کی باتوں سے زیادہ باخبر ہے
(۳۳) اب حضرت آدمؑ کو ان اسماء کے بتلانے کا حکم ہوا جو انہوں نے بتا دیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ باتوں کو اور ان چیزوں کو جو تم فرشتے حضرت آدمؑ کے بارے میں اپنے پروردگار کی اطاعت کا اظہار کرتے ہو اور جو پوشیدہ رکھتے ہو اور جو چیز شیطان ملعون نے ان کے سامنے ظاہر کی اور جو پوشیدہ رکھی سب کو تمہارا رب بخوبی جانتا ہے۔
(۳۴) یقیناً ہم نے فرشتوں کو آدمؑ کے لئے تعظیمی سجدہ کرنے کا حکم دیا مگر شیطان ابلیس نے حکم الٰہی کو نہ مانا اور حضرت آدمؑ کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور شیطان اس کے بعد حکم الٰہی کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے کافروں میں شمار ہونے لگا اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہی یہ بات تھی کہ وہ کافروں میں سے ہے۔ یا یہ کہ سب سے پہلا کافر شیطان بنا۔
(۳۵) اس کے بعد اللہ تعالیٰ آدمؑ اور حواؑ کا قصہ خاص بیان کرتے ہیں کہ تم آدمؑ اور حواؑ جنت میں جاؤ تمہارے لیے وہاں بہت فراخی ہے اور جہاں تمہارا دل چاہے پھرو، باقی اس درخت میں سے مت کھانا ورنہ تم اپنے نفسوں کو نقصان پہچانے ہو جاؤ گے۔
فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ ۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ۳۶ فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۳۷ قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًی فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۳۸ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠۳۹ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ۴۰ وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ ۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؗ وَ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ۴۱
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے (۳۶) پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے (۳۷) ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (۳۸) اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (۳۹) اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو (۴۰) اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو (۴۱)
(۳۶) چنانچہ ان دونوں (آدم و حواؑ) کو شیطان نے جنت سے پھسلانے کی کوشش کی اور اس وسعت و کشادگی کی جگہ سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے حضرت آدمؑ، حوا، شیطان اور سانپ سے کہا، کہ زمین پر اترو جہاں تمہارے لیے موت تک ٹھکانا، فائدہ اور معیشت ہے۔
(۳۷) حضرت آدمؑ کو وہ کلمات سکھائے گئے اور انہوں نے سیکھ لیے یا ان کو بطور الہام بتائے گئے تاکہ یہ کلمات حضرت آدمؑ اور ان کی اولاد کے لئے تو بہ کا ذریعہ ہوں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی کو معاف کر دیا اور جو شخص بھی توبہ کی حالت میں مر جائے اللہ تعالیٰ اس کی غلطی کو معاف کرنے والے ہیں۔
(۳۸) پھر ہم نے حضرت آدمؑ حوا علیہا السلام، ابلیس اور سانپ سے کہا کہ آسمان سے اترو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدمؑ کی اولاد کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ جب وقت اور جب بھی تمہارے پاس میری طرف سے کتاب اور رسول آئے تو جو شخص کتاب رسول کی اتباع کرے گا تو اسے پیش آنے والے عذاب کا خوف اور جو انھوں نے کام کیے ہیں ان پر غم نہیں ہو گا اور یہ بھی تفسیر ہے کہ انھیں ہمیشہ خوف اور غم نہیں ہو گا، یہ بھی کہا گیا جس وقت موت کو ذبح کیا جائے گا اس وقت انہیں خوف اور جب دوزخ کو بھرا جائے گا تب انھیں غم نہ ہو گا اور جن لوگوں نے کتاب اور رسول کو جھٹلایا وہ دوزخ والے ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ ہی وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے۔
(۳۹۔ ۴۰) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو انعامات کیے، اب ان کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ اے اولاد یعقوب! میرے انعامات پر اللہ کا شکر کرو اور میرے احسانات کو محفوظ رکھو جو میں نے تم پر کتاب نازل کر کے اور رسول بھیج کر اور ایسے ہی فرعون اور اس کی آل کو غرق کر کے اور تمہیں اس سے نجات دے کر اور بطور انعام "من و سلویٰ”۔ وغیرہ نازل کر کے کیے اور نبی کریمﷺ کے بارے میں میرے عہد و میثاق کو پورا کرو اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا اور بدعہدی کرنے سے مجھ سے ڈرو میرے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرو اور میں نے جبریل امینؑ کے ذریعے سے جو کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب کے جو کہ تمہارے پاس ہے توحید، رسول اللہﷺ کے سب سے پہلے منکر نہ بنو اور رسول اکرمﷺ کی صفات اور آپﷺ کے اوصاف (جن کا تورات میں ذکر ہے) ان کو چھپا کر معمولی معاوضہ مت لو اور حضرت محمدﷺ کے بارے میں مجھ ہی سے ڈرو۔
(۴۱) باطل کو حق کے ساتھ نہ ملاؤ کہ دجال کی صفت کو العیاذ باللہ رسول اکرمﷺ کی صفت کے ساتھ مخلوط کرنے لگو اور تم اپنے پوشیدہ کرنے کو جانتے ہوئے حق بات کو مت چھپاؤ۔ (اور حضورﷺ پر ایمان لے آؤ)
وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۴۲ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ۴۳ اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۴۴ وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَۙ۴۵ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠۴۶ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۴۷ وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۴۸
اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ (۴۲) اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو (۴۳) (یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ (۴۴) اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مد د لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں (۴۵) اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (۴۶) اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی (۴۷) اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مد د حاصل کر سکیں (۴۸)
(۴۳) ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ اب ان پر بعض احکام شریعت کی فرضیت کو بیان کرتے ہیں کہ پانچ نمازوں کو پورا کرو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دو اور رسول اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں با جماعت پڑھو۔
شان نزول
(آیت) "اتامرون الناس بالبر”۔ (الخ)
واحدیؒ اور ثعلبیؒ نے کلبیؒ، ابو صالحؒ کے ذریعہ سے حضرت عبد اللہؓ ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت کریمہ مدینہ منورہ کے یہود کے متعلق نازل ہوئی کیوں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی ننھیال، اپنے رشتہ داروں اور ان مسلمانوں سے جن کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا کہتے تھے کہ جس دین پر تم ہو اسی پر ثابت رہو اور یہ شخص یعنی رسول اللہﷺ جس بات کا تمہیں حکم دے وہ حق اور درست ہے اور لوگوں کو ایمان لانے کا کہتے تھے اور خود نہیں لاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطیؒ)
(۴۴) اب اللہ تعالیٰ جل شانہ سرداروں کی حالت کو بیان کرتے ہیں کہ تم کمتر اور ذلیل لوگوں کو تو، توحید اور محمدﷺ کی اتباع کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھلائے بیٹھے ہو، خود اتباع نہیں کرتے اور ان کو خود کتاب پڑھ کر سناتے ہو، کیا تمہارے پاس سمجھ اور عقل نہیں
(۴۵) اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی اور گناہوں کے ترک پر صبر سے اور گناہوں کا خاتمہ کرنے کے لیے زیادہ نمازوں سے مدد لو، اور نماز بہت بھاری ہے مگر تواضع کرنے والوں پر، جو اس بات کو جانتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
(۴۶۔ ۴۷) اے یعقوبؑ کی اولاد! میرے ان انعامات کو یاد رکھو جو میں نے تم پر کیے ہیں اور میں نے تمہیں کتاب، رسول اور اسلام کے ذریعے تمہارے زمانے کے جہان پر تمہیں فضیلت دی ہے۔
(۴۸) اور اگر تم ایمان نہ لاؤ اور یہودیت سے توبہ کرو تو اس دن کے عذاب سے ڈرو جس دن کوئی کافر فرد کسی کافر فرد کی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی حفاظت نہیں کر سکے گا نہ اس دن کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت مانی جائے گی اور نہ کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان کو عذاب الٰہی سے بچایا جا سکے گا۔
وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۴۹ وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۵۰ وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۵۱ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۵۲
اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی (۴۹) اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے (۵۰) اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے (۵۱) پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو (۵۲)
(۴۹) اور جس وقت ہم نے تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی، جو تمہیں سخت قسم کا عذاب دیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے عذاب کی کیفیت کو بیان فرماتے ہیں کہ تمہاری چھوٹی اولاد کو وہ ذبح کر ڈالتے تھے اور بڑی عورتوں کو خادم بنا لیتے تھے اور یہ تمہارے اللہ کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی، یہ بھی تفسیر ہے کہ پھر فرعون سے نجات دلانے میں یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی نعمت تھی، اب نجات دے کر جو ان لوگوں پر احسان کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہیں۔
(۵۰) اور جس وقت ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمہیں غرق ہونے سے بچایا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا اور اس منظر کو تم تین دن بعد تک دیکھتے رہے۔
(۵۱) اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا، پھر تم لوگوں نے حضرت موسیٰؑ کے پہاڑ پر جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی مگر حقیقت میں تم نقصان اٹھانے والے تھے۔
(۵۲) اس بچھڑے کی پوجا کے بعد ہم نے تمہیں چھوڑ دیا اور تمہارا خاتمہ نہیں کیا، تاکہ تم میرے معاف و درگزر کرنے پر شکر بجا لاؤ۔
۔۔۔۔۔۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

