ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

مکمل کتاب پڑھیں…..

باسی پھول

علی عباس حسینی

ترتیب و تدوین: اعجاز عبید

ایک نوٹ

یہ علی عباس حسینی کی مکمل کتاب  ’باسی پھول‘ نہیں ہے جو ان کے کئی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ اور جس میں ’باسی پھول ۔‘۱اور  ’باسی پھول۔۲‘ دو الگ الگ افسانے شامل ہیں ۔ یہ دونوں افسانے اگرچہ الگ الگ زمانوں میں تحریر شدہ ہیں، پہلا حصہ ۱۹۱۸ء میں، دوسرا حصہ ۱۹۳۰ء میں۔ لیکن در اصل یہ ایک ہی کہانی کا تسلسل ہے، اس لئے یہاں اسے پہلی بار ایک ناولٹ کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔

مرتب

اعجاز عبید

(۱)

وہ اپنے چھتے پر کھڑی محو نظارہ تھی اور میں اپنی کھڑکی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہمارے درمیان صرف ایک دو گز چوڑی گلی تھی اور دونوں کوٹھوں کے نیچے دوکانداروں اور آنے جانے والوں کا مجمع، گو اس کے کوٹھے کے سامنے چلمن پڑی تھی۔ لیکن وہ اس کے بوٹے قد، چھریرے بدن اور آفتابی چہرے کو مجھ سے نہ چھپا سکی، اس نازک اندام کے جسم پر فالسئی ساری، چست ہلکا گلابی شلوکا اور پیروں میں سیاہ بوٹ تھا اور اس پیکر رعنائی میں ایک عجیب خدا داد جذب تھا، جو میرے جیسے خشک آدمی کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔

دفعتاً اس نے میری جانب مڑ کر دیکھا، اس کے پنکھڑیوں سے ہونٹ کھلے۔ ایک ہلکی سی آواز ’’اوئی‘‘ کی سنائی دی، اس نے جھجک کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور گھبرا کر وہیں بیٹھ گئی۔ اس کا جسم غصے، خوف اور شرم سے کانپنے لگا۔ میں نے غیرت سے منہ پھیر لیا اور جب پلٹ کر دیکھا تو وہ وہاں موجود نہ تھی۔

جذب متقاضی تھا کہ میں وہیں کھڑا رہوں۔ حمیت کا اصرار تھا کہ یہاں سے کھسک چلو۔ جنگ سخت تھی، لیکن غیرت و شرافت کی جیت رہی اور میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلتا رہا، بالآخر علم النفس کی کتاب کھولی، تخئیل و حسیات کا باب کھلا۔ دو چار سطریں پڑھی ہوں گی کہ جذبات کا بیان نکلا اور غور سے پڑھنے لگا۔

محبت کے وجوہ اور اس کے اسباب پر نظر ڈالی، فلسفیوں کی بحثیں دیکھیں، اس جملے کو بار بار پڑھ کر سوچنے لگا ’’ہر شخص اپنی معشوقہ کی ایک ذہنی تصویر اپنے دماغ میں رکھتا ہے اور جب اس سے ملتا جلتا چہرہ دکھائی دیتا ہے تو وہ فطرتاً پہلی ہی نظر میں اس کی طرف کھنچ جاتا ہے۔‘‘ میں نے دل سے پوچھا ’’کیا میری معشوقہ سنہرے چہرے کی، غزالی آنکھوں والی ہے؟‘‘ دل بولا ’’مجھے اس وقت فلسفہ یاد نہیں!‘‘

میں نے علم النفس کی کتاب پھینکی اور تاریخ روم اٹھائی، پہلے ہی ’’انٹنی‘‘ اور ’’کلوپیٹرا‘‘ کے قصے پر نظر پڑی اور میں نے دیکھا کہ جس نیلی ناگن نے جولیس سیزر سے فاتح کو ڈس کر مد ہوش بنا دیا تھا، وہ بعد میں انٹنی کے گلے کا ہار ہوئی۔ میرے جذبات سے مملو دل پر چوٹ سی لگی اور میں نے کتاب دور پھینک دی اور ملٹن کی ’’پیریڈائز لاسٹ‘‘ اٹھائی، اب جو دیکھتا ہوں تو ساری انسانی کمزوریوں کے ذمہ دار حضرت آدم و حوا، ایک دوسرے کی محبت میں سرشار، گلے میں باہیں ڈالے، گیہوں کے درخت کی طرف جا رہے ہیں۔ میں نے اسے بھی غصہ سے بند کر کے میز پر رکھ دیا۔

چونکہ میری الجھن بڑھتی جاتی تھی اس لیے اس کے رفع کرنے کے لیے میں نے قلم و دوات اور کاغذ اپنی طرف کھینچا اور اپنے دوست محمود صاحب کو خط لکھنے لگا، ابھی پانچ سطریں بھی نہ لکھی ہوں گی کہ بجائے اس کے کہ یہ لکھوں کہ علامہ اقبال کا ’’پیامِ مشرق‘‘ بھیج دینا۔ فالسئی ساری گلابی شلوکا لکھ گیا۔ میں نے گھبرا کر خط کو دیکھا پھر اپنے ہاتھوں کو اور پھر اس حصے کو جہاں میں تھوڑی دیر پہلے محوِ تماشا تھا اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر خط چاک کر کے پھینک دیا۔

پھر کرسی سے اٹھا اور ایک عجیب طرح کی گھبراہٹ سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ پانچ منٹ اس حالت میں نہ گزرے تھے کہ میرے پیروں نے مجھے اسی گوشے میں لا کر کھڑا کر دیا جہاں سے وہ چلمن نظر آتی تھی۔ میں کھڑا کھڑا چلمن کی تیلیاں گننے لگا۔ بارہا کوشش کی۔ لیکن دس بارہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جب میں تین چار گن لیتا، میری تخئیل چلمن کے پیچھے ایک بوٹا سا قد، فالسئی ساری اور گلابی شلوکا پہنے لا کر کھڑا کر دیتی اور میں تیلیوں کی تعداد بھول جاتا، پھر شروع کرتا اور پھر ایک سنہرے چہرے پر سامنے کے دو چار ہلکے پتلے سیاہ چمکدار بال ہوا میں اڑتے اور کانوں کے دونوں گوشوارے آہستہ آہستہ گالوں کی طرف بڑھتے اور جھکتے دکھائی دیتے اور مجھے دس کے بعد گیارہ نہ یاد آتا اور میں پھر انگلیوں پر گننا شروع کر دیتا۔

تھوڑی دیر اسی حماقت میں گزری تھی کہ دفعتاً غیرت و شرم کے ایک چھینٹے نے مجھے چونکا دیا۔ کمرے میں پلٹ کر میں نے لنگی باندھی اور کپڑے اتار کر نل کے نیچے بیٹھ گیا۔ سر پر پانی جیسے جیسے پڑتا جاتا تھا میرے حواس بجا ہوتے جاتے تھے۔ گویا پانی نے میرے احساسات، توہمات اور جذبات سب کو دھو دیا۔ تھوڑی دیر میں مجھے اتنا ہوش آیا کہ میں نے ملازم کو آواز دی اور اس سے تولیا اور دوسری لنگی مانگی اور کپڑے نکالنے کو کہا۔ کپڑے پہن کر میں نے نماز پڑھی اور امین آباد کی طرف تفریح کے لیے روانہ ہو گیا۔

امین آباد سے واپسی پر میں نے دوسرے دن کے سبق کی تیاری کے لیے پڑھنا شروع کیا۔ لیکن کتابوں میں کسی طرح جی نہ لگا۔ ہر دس منٹ کے بعد کھڑکی کا طواف کر آتا۔ لیکن جب امید بر نہ آئی تو ناکامی نے غیرت کو پھر ابھارا اور دل پر جبر کر کے پلنگ پر پڑ رہا۔ دوسرے دن سہ پہر تک میری یہی حالت رہی۔ لیکن پانچ بجتے ہی میری جھجک دفعتاً رفع ہو گئی اور پھر میں اپنی کھڑکی پر کھڑا تھا۔

سامنے کی چلمن قدرے دونوں جانب سے ہٹی ہوئی تھی، تین پری وشیں، اپنے چاند سے چہرے نکالے، نیچے کی طرف جھانک رہی تھیں۔ بیچ میں وہی فالسئی ساری والی، ہلکی ساری زیبِ بدن کئے کھڑی ہنس ہنس کر دونوں کو منع کر رہی تھی کہ ’’ارے کوئی دیکھ لے گا!‘‘ کہ اتنے میں نظر اوپر اٹھی اور میرے چہرے پر پڑی اور اس نے جلدی سے آنچل کو گھونگٹ نما چہرے پر ڈال لیا۔ میں آڑ میں چلا آیا۔ وہ دونوں سہیلیوں کو کھینچ کر بولی۔ ’’اے نوج کوئی ایسا محو ہو جائے! وہ ذرا سامنے تو دیکھو!‘‘

داہنی جانب والی سہیلی منہ بنا کر بولی ’’اے ہٹو بہن، کوئی موا ہو گا۔ وہ اپنی آنکھیں خود پھوڑتا ہے۔ ہمیں کیا؟‘‘ اور پھر نیچے سڑک کی جانب دیکھنے لگیں۔

میں یہ جملہ سن کر خواہ مخواہ مسکرایا اور میں نے ڈرتے ڈرتے پھر اس کی طرف دیکھا۔ وہ مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہی تھی۔ لیکن آنکھوں کا ملنا تھا کہ اس نے منہ پھیر لیا اور وہیں اپنی سہیلیوں کے پیچھے سمٹ کر بیٹھ گئی۔ چہرے کا جو حصہ دکھائی دیتا تھا اس کی سرخی غصہ کا پتہ دیتی تھی۔ آنکھوں میں شرم، خوف و استعجاب، سب کی تھوڑی تھوڑی جھلک موجود تھی۔ میں نے دیکھا کہ دفعتاً ایک چھوٹے سے خوبصورت رو مال سے چہرا پونچھا گیا۔ اس ادا نے میرے دل پر نشتر کا کام کیا۔ اللہ میرے دیکھنے سے عرق شرم آ گیا۔ میں نے اس لیے کھڑکی بند کر لی اور وہاں سے چلا آیا۔

کمرے کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر تک سوچتا رہا کہ کیا کروں پھر چاقو اٹھایا، اس سے میز پر کھٹکھٹایا کیا اور دل سے لڑا کیا۔ بالآخر ایک سگریٹ جلائی اور وہیں میز پر پیر لٹکائے بیٹھ گیا۔ جسم کی تشنجی کیفیت شاید پیروں میں سمٹ آئی تھی۔ اس لیے کہ وہ خود بخود ہلنے لگے۔ میں نے گھبرا کر سگریٹ کے پانچ سات کش پئے لیکن دم گھٹنے لگا۔ اس لیے سگریٹ تو میں نے جھلا کر پھینکی اور پھر سیدھا کھڑکی پر پہنچا۔ تھوڑی دیر یوں ہی چپکا کھڑا رہا۔ بالآخر نہ برداشت کر سکا اور چپکے سے کھڑکی کھولی۔ دیکھا کہ دونوں حور وشیں اسے بھی کھینچ رہی ہیں کہ ’’صابرہ! اک ذرا تم بھی جھانک کر دیکھ لو۔‘‘ لیکن وہ لجا لجا کر رہ جاتی ہے۔ آخر استعجاب نے جو زنانی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے اسے مجبور کر دیا کہ وہ بھی دونوں کے ساتھ جھک کر نیچے دیکھنے لگے۔

اب تینوں مہوشیں وہیں کمرے کے فرش پر بیٹھی ہوئی تھیں اور آنچل کا ایک حصہ ان کی پیٹھ پر پڑا تھا۔ صابرہ ان کے بیچ میں بالکل اس طرح تھی جیسے ستاروں کے جھرمٹ میں چاند۔ وہ اپنی دونوں کہنیاں چھتے کے فرش پر ٹیکے، دونوں ہتھیلیوں پر اپنا پیارا رخسارہ رکھے، نیچے دیکھ رہی تھی اس کی صراحی دار گردن کا وہ جھکاؤ اور اس کے سیاہ بالوں کی وہ چمک، جسے اس وقت ڈوبتے ہوئے آفتاب کی زرد زرد شعاعیں اور بھی چمکا رہی تھیں، ایک محشر خیز منظر تھا۔ میری حریص آنکھیں اس کے اعضا کے تناسب اور جسمانی خوبیوں کو دیکھنے لگیں کہ فطرتی کشش نے اسے میری موجودگی کی خبر دی اور اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور مجھے پھر سامنے پایا۔

میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں کا رنگ متغیر ہو گیا اور ان سے شعاعیں نکلنے لگیں۔ میں خوف سے کانپ کر پیچھے ہٹا تھا ہی کہ دفعتاً اس کے ہونٹوں کے کونے ہلنے لگے اور چہرے پر کچھ مسکراہٹ سی ظاہر ہوئی اور اس نے پھر میری جانب دیکھا۔ آنکھوں نے پوچھا ’’کیا تم نہ مانو گے؟ کیا میں تماشا نہ دیکھوں؟‘‘ میں نے آنکھوں سے لجاجت سے پوچھا ’’کیا میں چلا جاؤں؟‘‘ پھر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دکھائی دی اور سہیلیوں کا شانہ پکڑ کر ہلایا گیا۔ پھر دونوں بولیں ’’کیا ہے؟‘‘ انگلی سے میری جانب اشارہ کیا گیا۔ دونوں ایک اجنبی کو یوں سامنے دیکھ کر جھجکیں۔ چلمن چھوڑ لی گئی اور سب کی سب کھڑی ہو گئیں۔

بائیں جانب والی سہیلی دفعتاً پلٹ پڑی اور میری طرف رخ کر کے بولی ’’کیا نوجوان شریفوں کا اب یہی دستور ہے کہ پرائی بہو بیٹیوں کو گھوریں؟‘‘ میں شرم سے عرق عرق ہو گیا اور میرے ہاتھ کھڑکی کے پٹ کی طرف بڑھے اور میرے قدم پیچھے ہٹے، لیکن قبل اس کے کہ میں کھڑکی بند کر سکوں، داہنی جانب والی شوخ نے مجھے جھک کر سلام کیا اور مسکرا کر بولی ’’لیجیے ہم لوگ جاتے ہیں، اب تو آپ کے دل کی مراد پوری ہوئی!‘‘ میں نے جلدی سے کھڑکی بند کر لی اور سامنے والے کوٹھے سے سریلی اور پر ترنم آوازوں میں ایک ہلکے سے قہقہے کی آواز سنائی دی۔

کمرے میں واپسی پر میں بہت دیر تک اس مسئلہ پر غور کرتا رہا کہ قدرت نے ایک صورت میں، جو مجموعہ ہے تھوڑے سے بالوں، کچھ ہڈیوں، کچھ گوشت اور چند عدد ناخن کا اور جو مشرقی فلسفیوں کے نظرئیے کے مطابق مٹی پانی، ہوا اور آگ سے بنائی گئی ہے۔ اس بلا کی دلآویزی کیونکر ودیعت کر دی ہے، نہ تو دائرے درست ہیں۔ نہ سطح برابر ہے، نہ خطوط متوازی ہیں اور نہ مستقیم اور پھر اتنی دلفریبی! جتنا ہی میں انسانی اعضا۔ ان کی ساخت ان کی اقلیدسی شکلوں پر غور کرتا تھا۔ اتنی ہی میری حیرت بڑھتی جاتی تھی۔

میں نے تحقیق کے لیے علم التشریح کی ایک کتاب اٹھائی اور آنکھوں کا بیان پڑھنا شروع کر دیا۔ مصنف نے آنکھوں کے پردے، ان کی رگوں کی باریکیاں اور نزاکتیں سب کے متعلق بہت ہی تحقیق کی تھی لیکن اس نے کہیں یہ نہ لکھا تھا کہ غصے میں ان سے شعلے کیوں نکلتے ہیں۔ رنج میں ان کی آب و تاب کہاں چلی جاتی ہے اور محبت میں ان کی سیاہی اور گہرائی کیوں بڑھ جاتی ہے، ان کے اشارے دشنہ و خنجر اور ان کی غلط انداز نگاہیں تیر نیم کش، کیوں بن جاتی ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محقق فلسفہ جذبات سے بالکل نابلد تو تھا ہی، اس کے ساتھ ہی اس نے سوائے کتابوں اور سوکھے مردوں کے کبھی کسی جیتی جاگتی توبہ شکن عورت سے محبت بھی نہیں کی تھی۔

میں نے اس کی مدلل مگر بے نمک تحریک سے تھک کر کتاب رکھ دی اور پھر ایک نئی سوچ میں گرفتار ہو گیا۔ قابل غور یہ امر تھا کہ کیا مجھے اس صورت سے جو چلمن کی پشت سے جلوہ نمائی کرتی ہے۔ محبت ہے؟ مجھے اس خیال پر ہنسی آئی، میں نہ تو ایسا چھچھورا تھا اور نہ اتنا بیوقوف کہ حسن کی دیوی کو بھی دو بار دیکھنے کے بعد یہ خیال کرنے لگوں کہ اس سے محبت ہو گئی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ تھا تو پھر بے چینی کاہے کی تھی؟ مجھے کل سے نہ تو اپنے کھانے کا خیال تھا اور نہ اپنے پڑھنے کا۔ دن میں کالج تو گیا تھا، لیکن پروفیسروں کے لکچر کے درمیان اکثر یہ خیال ہوتا تھا جیسے کوئی فالسئی ساری پہنے منہ چھپائے بیٹھا ہے اور میرے ذہن سے کتاب کے معانی و مطالب سب معدوم ہو جاتے تھے، میرے ساتھی ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے اور درمیان گفتگو میں ایک سریلی پیاری آواز میں ’’اوئی‘‘ کا لفظ سنائی دیتا تھا اور میری آنکھوں سے مسرت غائب ہو جاتی تھی۔

کالج سے آ کر میں شیروانی اتارنے لگا تو مجھے شبہ گزرا کہ میری قمیص کا رنگ بھی فالسئی ہے، شک رفع کرنے کے لیے میں نے ملازم سے پوچھا، وہ گھبرا گیا اور جلدی سے شربت کا ایک گلاس برف دے کر لے آیا، میں نے پوچھا کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا ’’میاں آپ ابھی دھوپ سے چلے آتے ہیں اس وجہ سے ذرا اسے پی لیجیے، پھر آنکھوں کی چکاچوند جاتی رہے گی۔‘‘ میں نے ایک حسرت بھری مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور چپکا شربت پینے لگا۔ اگر کہیں میں اس سے یہ کہہ دیتا کہ شربت کا رنگ بھی فالسئی ہے تو وہ ڈاکٹر کو ضرور بلا لاتا اور میری اصلاح دماغ کی فکر کیے بغیر نہ رہتا، اس لیے میں نے سکوت کیا اور دل میں اس کی اور اپنی حماقت پر زہر خندہ کرتا رہا۔

اپنی حالت پر شب کو اردو کی ایک مثل یاد آئی ’’ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔‘‘ اور میں بہت دیر تک ہنسا کیا۔ میں نے اپنی قوت ارادی سے کام لے کر ان خیالات کو اپنے دل سے نکالا اور نیند بلانے کے لیے تارے گننے لگا۔ دفعتاً زہرہ پر نظر پڑی، نام یاد آتے ہی صابرہ کی آنکھیں یاد آ گئیں اور زہرہ کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ اس کی چمک دمک اس کی خنکی اور قوت خیر گی سب جاتی رہی۔ میں نے اپنی کمزوری پر لاحول بھیجی اور کروٹ لے لی۔ مجھے اپنے پر سخت غصہ تھا، بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے اس نئے رنگ سے نفرت سی ہو چلی تھی۔ میں اس خبط پر خفا ہی ہو رہا تھا کہ کھڑکی کی طرف سے ایک پر ترنم قہقہے کی آواز آئی۔ سارا فلسفہ ہوا ہو گیا۔ ساری خود داری جاتی رہی اور میں کھڑکی کے پاس پہنچ گیا۔

اس وقت چلمن اٹھی ہوئی تھی۔ کمرے میں قالین پر ایک سپید دسترخوان بچھا ہوا تھا اور اس پر طرح طرح کی نعمتیں چنی ہوئی تھیں، دسترخوان کے دونوں پہلوؤں پر دونوں سہیلیاں اور بیچ میں صابرہ بیٹھی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ قہقہہ میرے بلانے کے لیے تھا۔ اس لیے کہ میرے آتے ہی تینوں نگاہیں ایک ساتھ اٹھیں، دو بجلیوں نے مجھے دو جانب سے گھیر کر بے بس کر دیا اور تیسری بجلی دل برماتی ہوئی جگر کے پار ہو گئی۔

سہ پہر والی شوخ نے ایک نیم خندہ سے دسترخوان کی طرف اشارہ کیا اور بولی ’’کھانا حاضر ہے‘‘۔ میں بے تکان بول اٹھا ’’آپ کے پوچھنے کا شکریہ لیکن میں تو خون جگر کھاتا ہوں، وہ یہاں موجود نہیں!‘‘ دوسری بولی ’’اے نوج یہ بھی بھلا کوئی کھانے کی چیز ہے؟‘‘ صابرہ کے چہرے پر سرخی جھلک آئی، اس نے کنکھیوں سے مجھے دیکھا اور پھر نگاہیں نیچی کر لیں۔

چونکہ تینوں میرے جواب کی منتظر معلوم ہوتی تھیں اس لیے میں نے کہا ’’اجی اس کا مزہ کچھ کھانے والے ہی جانتے ہیں، نہایت ہی تلخ اور نہایت ہی شیریں!‘‘

پہلی شوخ نے چمک کر کہا ’’جی ہم لوگوں کو تو معاف رکھیے، خدا آپ ہی کو مبارک کرے!‘‘ میں نے عرض کیا ’’میری تو دعا یہی ہے کہ آپ لوگوں کو خدا اس نعمت سے محروم ہی رکھے!‘‘

دوسری صاحبہ بول اٹھیں ’’یہ آپ کی محبت ہے۔‘‘ جو اب میرے لبوں تک آ چکا تھا، کہ صابرہ نے میرے مخاطب کے اس زور سے چٹکی لی کہ وہ بے چینی سے اف کر کے پلٹ پڑی اور صابرہ نے نہ معلوم کیا چپکے سے کہا کہ تینوں نے ایک قہقہہ لگایا، وہ میری طرف دیکھی جاتی تھیں اور ہنسی بڑھتی جاتی تھی، میں اپنی جھینپ مٹانے کے لیے کچھ کہنے والا تھا ہی کہ ایک ماما کی جھلک دکھائی دی اور میں اپنی کھڑکی کے سامنے سے کھسک آیا۔ تھوڑی دیر میں وہ اندر واپس چلی گئیں اور میں کھڑکی پر پھر آ موجود ہوا۔

مجھے دیکھتے ہی ایک شوخ بول اٹھی۔ ’’اجی میاں ہمسائے آپ بڑے بھوکے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں طالب علم ہوں، اس پر گدائے حسن!‘‘

وہ بولی۔ ’’جی ہاں جب ہی تو آپ کسی کو نگاہوں نگاہوں میں کھائے جاتے ہیں۔‘‘ صابرہ نے پھر ایک چٹکی لی اور دونوں کھل کھلا کر ہنسنے لگیں۔

میں نے جواب دیا کہ ’’آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ پیٹ نہیں بھرتا، دل بھر آتا ہے!‘‘

صابرہ نے میری طرف شرماتے ہوئے دیکھا نگاہوں میں ندامت و غیرت بھری تھی اور مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ ’’للہ اب یہاں سے چلے جاؤ، کیوں میری رسوائی کراتے ہو؟‘‘

میں نے دل پر جبر کیا۔ متانت سے سر جھکایا، آنکھوں سے کہا ’’جیسا حکم!‘‘ اور کھڑکی بند کر کے چلا آیا۔

کئی ہفتہ اسی طرح کے نظارے اور مکالمے میں گزرے اور بے چینی و اضطراب میں روز بروز زیادتی ہی ہوتی گئی۔ بالآخر ایک دن صبح کو میں نے دو جوڑے کپڑے اور کچھ کتابیں ہینڈ بیگ میں رکھیں اور بارہ بنکی اپنے دوست رضا علی صاحب کے یہاں چلا آیا۔ لکھنؤ سے آنا محض ان سے ملنے کی غرض سے نہ تھا اور نہ بارہ بنکی میں کوئی ضروری کام تھا، یہ صرف تقاضائے شرافت تھا یا یوں کہیے کہ عقل لے بھاگی تھی۔ یا یوں سمجھیے کہ حضرتِ دل کی نذر کا معاوضہ لینا منظور نہ تھا۔

میں رضا علی صاحب کے یہاں تین روز تک مقیم رہا، جہاں تک ہو سکا میں نے دل بہلانے اور دنیا کے بہترین رنگ کے بھول جانے کی کوشش کی۔ چوتھے روز بارہ بنکی سے پھر پلٹا۔ جب اپنے محلے کی گلی میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ معمول سے زیادہ ہجوم ہے اور کچھ باجوں کے بجنے کی آواز آ رہی ہے۔ میں نے اس وقت جلدی میں اس پر دھیان نہیں دیا اور ملازم کو آواز دیتا ہوا سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ نہا دھوکر جب ذرا سفر کا تکان رفع ہوا اور میں آدمی بنا تو مجھے محسوس ہوا کہ مجھے کوئی خاص قوت کھڑکی کی جانب کھینچ رہی ہے اور میں اپنی حماقت پر افسوس کرتا، پیچ و تاب کھاتا، لیکن بے بس کھڑکی پر آیا۔

سامنے چلمن پر آج پھولوں کے ہار پڑے تھے اور کمرے میں ہر طرف پھول ہی پھول دکھائی دیتے تھے۔ گلدستے گلدانوں میں، بڑے بڑے ہار دیواروں پر، گلوں میں بدھیاں، جوڑوں میں گلاب کے پھول۔ غرض ہر طرف بہار ہی بہار تھی۔ میری نگاہیں صابرہ کو ڈھونڈ ھ رہی تھیں کہ دفعتاً ایک چمکتی سی چیز نظر پڑی۔ غور سے دیکھا تو صابرہ زرد چمکتے ہوئے کپڑے پہنے ہے، اس کے حنائی ہاتھوں میں نئی طرح کے گوٹے کے کنگنے ہیں اور وہ پھولوں سے لدی سمٹی سمٹائی بیٹھی ہے۔

اف! بلا کی دلربائی تھی۔ اس کے گورے رنگ پر وہ زرد زرد چمکتا ہوا جوڑا، اس پر اس کی شرمائی ہوئی بھولی صورت۔ میری آنکھیں خیرہ ہونے لگیں اور میں ایسا محو نظارہ ہوا کہ یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ اس طرح کی خوشی اور ایسے جوڑے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں، اتفاقاً مجھے میری مہربان شوخ نے دیکھ لیا۔ نہ معلوم اس غریب کو میری صورت دیکھ کر کیا یاد آیا کہ اس نے سب اجنبی چھوکریوں کو وہاں سے مختلف بہانوں سے نکال دیا۔ اب صرف وہ اور صابرہ رہ گئی۔ تنہائی ہوتے ہی اس نے نہایت دعوے سے پوچھا ’’کیوں ہمسائے صاحب، یہ آپ تین دن کہاں غائب رہے؟‘‘ مجھے اصلی سبب بتاتے کچھ شرم آئی لیکن میں نے جھینپتے جھینپتے کہہ ڈالا ’’اپنے خیالات سے بھاگ کر بارہ بنکی چلا گیا تھا!‘‘

صابرہ نے مجھے ایسی نگاہ سے دیکھا جس سے خجالت اور ہمدردی ظاہر ہوتی تھی، لیکن ایک نئی طرح کی جھلک بھی تھی، نہ معلوم وہ درد تھا یا غم۔۔۔ یا۔۔۔ یا محبت تھی۔۔۔ وہ چپکے سے بولی۔

’’بہن نور جہاں جانے بھی دو۔ کیوں بیچارے کو خواہ مخواہ ستاتی ہو؟‘‘

نور جہاں نے اسے ہنس کر دیکھا اور زور سے بولی۔

’’جی ہاں۔ ہیں بھی یہ قابل رحم! بہن ایسے مردوں کی یہی سزا ہے؟‘‘

میں نے لجاجت سے پوچھا ’’آخر میں نے کیا قصور کیا ہے؟‘‘

نور جہاں بولی۔ ’’آنکھ ہوتے اندھے بنے۔ دھکتے ہوئے انگاروں میں پھاندے۔ اب جلو!‘‘۔

میں نے کہا کہ ’’ہائے یہ تو ازل ہی سے مقدر تھا۔ اس معاملے میں تو میں اتنا ہی قصور وار ہوں جتنا پروانہ! لیکن آپ اطمینان رکھیں میں شکایت نہیں کروں گا۔‘‘

شمعم کہ جاں گدازم و دم بر نیادرم۔‘‘

یہ میں نے کچھ ایسے درد بھرے لہجے میں کہا کہ ان کافروں کا بھی دل پسیج گیا۔ صابرہ نے مجھے اس طرح دیکھا کہ جیسے وہ معذرت مانگ رہی ہو اور نور جہاں نے لب کھولے مگر کچھ کہا نہیں۔ بلکہ صابرہ کا شانہ پکڑ کر زبردستی اور باصرار کھڑکی پر لا کر کھڑا کر دیا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اچھی طرح دیکھا۔ اس طرح دیکھا کہ نور جہاں ہمارے چہرے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئی۔

تھوڑی دیر دونوں جانب عجیب طرح کا سکوت رہا۔ اس کے بعد میں نے بات ٹالنے کے لیے پوچھا ’’آج یہ ماشاء اللہ چہل پہل کاہے کی ہے اور کمرہ چمن کیوں بنایا گیا ہے؟‘‘ نور جہاں نے منھ پھیر لیا اور صابرہ کانپ کر بیٹھ گئی۔ میرا استعجاب اور زیادہ بڑھا اور میں نے پوچھا ’’کیا میں نے کوئی بے موقع بات پوچھ لی؟‘‘

نور جہاں کے ہونٹ ہلنے لگے اور چہرے پر رنج کے آثار صاف نمایاں ہو گئے۔ صابرہ نے دونوں ہاتھوں سے منھ چھپا لیا اور اس کے شانے ہلنے لگے۔ میں گھبرا گیا اور میں نے نور جہاں سے کہا ’’نور جہاں بہن! للہ کچھ تو بولیے آخر کیا معاملہ ہے؟‘‘

نور جہاں کے سینے پر پڑا ہوا آنچل کا پلو اور بھی متحرک ہوا اور اس نے اس کے ایک کونے سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ میں نے کانپ کر پوچھا۔ ’’کیا میرے صبر و تحمل کا امتحان منظور ہے؟ آخر آپ دونوں صاحبوں کی میرے سوال پر یہ حالت کیوں ہوئی؟‘‘

نور جہاں دفعتاً پلٹ پڑی اور رک رک کر خجالت بھری آواز میں بولی۔ ’’آپ کی۔۔۔ صابرہ۔۔۔ کی۔۔۔ شادی۔۔۔ ہے۔‘‘ میں نے یہ تو ضرور دیکھا کہ صابرہ کے شانے کو اور زیادہ حرکت ہونے لگی۔ لیکن جو کچھ نور جہاں نے کہا میں اسے مطلقاً نہ سمجھ سکا۔ اس لیے میں نے پھر پوچھا۔ ’’کیا؟‘‘

نور جہاں نے مجھے گھبرا کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے ہمدردی اور حسرت ٹپکی پڑتی تھی۔ پھر ہاتھ بڑھا کر صابرہ کا کاندھا آہستہ سے تھپک کر بولی۔ ’’ان کے سہرے کے پھول کھلے ہیں۔۔۔ اور یہ۔۔۔ پروان چڑھنے والی ہیں!‘‘

میری زبان سے نکلا۔ ’’ان کی۔۔۔ شادی۔۔۔ ہے؟‘‘ اور نور جہاں کے گردن ہلا دینے پر ایک تیر کلیجہ سے پار ہو گیا۔ کچھ چکر سا آیا اور میں دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا اور اندھوں کی طرح ادھر ادھر ٹٹولتا رہا۔ ہاتھ میں کھڑکی کی چوکھٹ آ گئی اور میں نے اسے اتنی زور سے پکڑا کہ لکڑی ہتھیلی میں چبھ گئی۔ ایک منٹ۔۔۔ یا ایک ہزار برس۔۔۔

بعد میں میں نے سر اٹھا کر دیکھا کہ صابرہ اور نور جہاں دونوں میری تکلیف پر حد درجہ مضطرب ہیں اور صابرہ کا چہرہ بالکل زرد ہو گیا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کے تار جاری ہیں۔ مجھے اس اضطراب نے مجھے با حواس بنا دیا۔ میں دیوار کے سہارے اٹھ کھڑا ہوا اور میں نے صابرہ سے پوچھا ’’عقد کب ہے؟‘‘

وہ بولی۔ ’’پرسوں شب کو!‘‘

میں بے ساختہ کہہ اٹھا۔ ’’ہائے اتنی جلدی!‘‘

پھر دونوں جانب تھوڑی دیر سکوت رہا۔ دفعتاً مجھے اپنی قسمت پر غصہ آیا اور میری کمزوریاں رفع ہونے لگیں۔ میں نے کوشش کر کے پوچھا ’’یہ خوش نصیب صاحب کون ہیں؟‘‘

صابرہ کے چہرے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے جھلکنے لگے اور وہ کچھ پیچھے ہٹی، مجھے اس کے انداز سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ وہاں سے چلی جانا چاہتی ہے۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا اور نور جہاں کی طرف پھر کر سوالیہ انداز سے دیکھا۔

وہ بولی ’’ایک نواب صاحب ہیں۔ ماشاء اللہ کئی سو کے وثیقہ دار ہیں۔‘‘

مجھ سے صبر نہ ہو سکا، بے ساختہ بول اٹھا ’’اور ماشاء اللہ خاندانی رنگ میں گرفتار ہوں گے! چانڈو، افیون، بٹیر اور مرغ!‘‘

نور جہاں نے مجھے روکنے کے لیے غصہ سے دیکھا۔ اس نظر نے تازیانہ کا کام دیا۔ میں نے زہرہ خندہ کر کے کہا ’’آپ کا غصہ بیکار ہے۔ میں سچ عرض کرتا ہوں۔ اگر نوجوان ہوں گے تو ان شوقوں کے علاوہ اور بھی اشغال ہوں گے۔ مثلاً چوک کا جانا۔ غزلیں گانا۔ ماماؤں کو گھور گھور کر ٹھنڈی سانسیں بھرنا! اور اگر عمر ڈھل چکی ہے تو پانچ چار بچے ہوں گے اور اس سے زائد محل!‘‘

نور جہاں سے صبر نہ ہو سکا بول اٹھی۔ ’’آخر ہم لوگوں کے رنج کا کچھ خیال ہے، یا بس دنیا میں آپ ہی کو تکلیف ہوئی؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی ہاں آپ کو بڑا رنج ہو گا! آپ ابھی ہمجولیوں میں پہنچتے ہی ڈھولک لے کر بیٹھ جائیں گی، گانے گائیں گی، پھبتیاں کسیں گی اور دھول دھپا کریں گی۔ آپ اور رنج۔ لاحول ولا۔۔۔!‘‘

نور جہاں نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’ارے میں اپنے کو نہیں کہتی۔ صابرہ پر تو رحم کرو!‘‘

میں نے جواب دیا۔ ’’جی۔۔۔ وہ قابل رحم ہیں! کل شادی ہو گی، پرسوں رنگ رلیاں منائیں گی۔ (صابرہ کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہو گئیں اور اس نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا لیے) ایک سو کے مولوی نما طالب علم کے رنج سے۔ اس کی آرزوؤں کے خون ہونے اور اس کی زندگی کے ملیامیٹ ہونے سے انھیں کیا مطلب! یہ ہوں گی اور پھولوں کی سیج۔ مخملی گدے اور نواب صاحب کا پہلو!‘‘ میرا غصہ بڑھتا ہی جاتا تھا، مجھے صابرہ کے ستے ہوئے چہرے پر بھی رحم نہیں آتا تھا، مجھے جا بے جا الفاظ کے استعمال میں تفریق کا بالکل خیال نہ تھا۔ میرے منہ میں جو کچھ آتا تھا بکے چلا جاتا تھا۔ نہ معلوم ابھی اور کیا کچھ کہتا کہ نور جہاں نے صابرہ سے کہا۔ ’’آؤ بہن چلو۔ یہ اس وقت اپنے حواس میں نہیں ہیں، نہ جانے کیا بک رہے ہیں۔‘‘ میں نے بھی کہا۔ ’’جی ہاں یہی بہتر ہے خدا حافظ!‘‘ اور کھڑکی بند کر کے اپنے پلنگ پر آ کر پڑ رہا۔

گو رات بھر بے چینی اور تکلیف سے نیند نہیں آئی لیکن صبح تک غصہ رفع ہو گیا اور مجھے اپنی بے جا جھلاہٹ پر بیحد ندامت تھی۔ عقل نے صابرہ کی بے بسی دکھلا کر ہندوستانی قدامت کے معنی اور ریت اور رسم کی پابندی بتلا کر بہت کچھ تسکین دی اور سچ پوچھو تو خود داری نے بڑا ساتھ دیا، ورنہ دل نے مجھے کہیں کا نہ رکھا ہوتا۔ جذبات کا طوفان حسرتوں اور نا امیدیوں کا سیلاب عزت و حمیت کے مستحکم قلعہ کو جنبش نہ دے سکا۔ اس لیے کہ اس کا قول تھا کہ عشق ناکام عشق کامل ہے۔ وصل عارضی ہے۔ لطف دم بھر کا ہے۔ عیش و عشرت فانی ہے۔ ہاں اگر کسی چیز کو بقا ہے تو وہ درد ہے۔ ٹیس ہو یا ہوک یہ بو الہوسی کی علامتیں ہیں اور چشم زدن کی باتیں لیکن درد۔ دل کا درد یہ، زندگی کے ساتھ ہے، بلکہ انسان کو ابدی البقا بنانے والا ہے۔ صبر و تحمل مرد کے جوہر ہیں اگر اس وادی میں پیر ڈگمگایا تو پھر اس میں مردانگی نہیں! غیرت نہیں! شرافت نہیں۔

میں نے ایک موقع پر نور جہاں سے کہا تھا کہ ’’شمعم کہ جاں گدازم و دم بر نیادرم!‘‘ زبان کا پاس یہی کہتا تھا کہ جو کچھ کہا ہے اسے نباہوں، جو کچھ منہ سے نکل گیا اسے کر کے دکھا دوں، اس اصرار نے میرے کمزور دل و دماغ میں جان ڈال دی اور میں صبح کی نماز سے فارغ ہو کر یہ طے کر کے کھڑکی کے پاس آیا کہ صابرہ سے اپنی رنجیدہ باتوں کی معافی مانگ لوں اور اسے ایک نظر جی بھر کر دیکھ لوں۔ کھڑکی کھولی تو تنہا نور جہاں جانماز پر دکھائی دی۔ میں نے اشارے سے اسے قریب بلایا اور کہا ’’نور جہاں بہن۔ میں نے جو کچھ رات غصہ میں کہا اسے بھلا دو۔ میں اپنے حواس میں نہ تھا۔‘‘

وہ شوخ مسکرا کر بولی۔ ’’یہ تو مشتے بعد از جنگ ہے!‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی ہاں۔ اسی لیے تو اپنے کو موت سے زیادہ سخت سزا دے رہا ہوں۔‘‘

وہ بولی۔ ’’ہائے رے بھولا پن! ارے نادان میں اپنے کو نہیں کہتی۔ تم نے میرا کیا بگاڑا میں تو اس کو کہہ رہی ہوں۔ جس کے دل پر رات چھریاں چلیں، جس کے ہر زخم پر نمک چھڑکے گئے!‘‘

میں نے لجاجت سے کہا۔ ’’اچھی بہن اتنی اور عنایت کرو کہ ان کو ایک مرتبہ اور یہاں لے آؤ! شاید میں زخموں کے بھرنے اور ان کے اندمال کی بھی صورت کر سکوں۔‘‘

وہ شوخ سر ہلاتی اندر چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد صابرہ شرماتی ہوئی آئی۔ لیکن تنہا! میں ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا اور وہ نظریں نیچی کیے سر جھکائے اس طرح کھڑی رہی جیسے کوئی کنیز اپنے آقا کے حکم کی منتظر ہو۔۔۔ اف!!!

میں نے بمشکل اچھلتے ہوئے دل پر قابو حاصل کیا اور حلق اور تالو کی خشکی، ہونٹ چاٹ کر رفع کی اور کہا ’’صابرہ! میں نے رات تم کو نہ معلوم کتنا دکھ دیا۔ میں اس وقت اس لیے آیا ہوں کہ تم مجھے جو سخت سے سخت سزا دے سکو میں اس کا اپنے کو مستحق ثابت کر دوں!‘‘

اس نے مجھے ایک غم آلود نگاہ سے دیکھا اور بولی۔ ’’ہم اور آپ دونوں مجبور ہیں۔ ہماری زندگیاں دوسرے کے ہاتھوں میں ہیں۔ لیکن جو کچھ رات آپ نے کہا آپ کو اس کا حق تھا اور میں اس کی مستحق تھی!‘‘

اس انکسار پر میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے منہ پھیر لیا اور یوں کہہ چلا ’’صابرہ! صابرہ!! ہائے کتنا پیارا نام ہے۔ ہاں تو خواہ تم نہ مانو، لیکن میں نے رات بہت کچھ نا روا باتیں کیں، میں تم سے نہایت عاجزی سے معافی مانگتا ہوں۔ ان باتوں کو بھول جاؤ وہ ایک سودائی کی بک جھک تھی۔ لیکن ہائے جب سے میں نے تم کو دیکھا ہے میرے دل میں نہ جانے کیسے کیسے خیال آئے میں نے لا تعداد حسین و خوشنما خیالی محل بنائے اور تم کو ان میں ملکہ کی طرح بٹھایا۔ دیکھو میں پھر بہک چلا۔ ہاں تو میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ یہ میری اور تمہاری آخری ملاقات ہے۔ کل سے تم کسی اور کی۔۔۔ ہو جاؤ گی اور میرے لیے صرف بہن! لیکن اس کا یقین رکھو کہ میں دکھ میں رہوں یا سکھ میں، تمہارے لیے ہر وقت یہی دعا کرتا رہوں گا کہ تم سے رنج اتنا ہی دور رہے جتنی کہ آفتاب سے سیاہی! خدا تمہیں طرح طرح کی خوشیاں دے اور تمہارے دن ہمیشہ عیش و آرام میں کٹیں!‘‘

صابرہ نے روتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔ ’’یہ سب تو میرے لیے ہے اور آپ؟‘‘

میں نے کہا کہ ’’میں! میری زندگی تمہاری خوشی! میرا چین تمہیں سکھ میں دیکھنا ہے! میری سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ خدا کرے تم مجھے بھول جاؤ! نہ کبھی تمہیں یہ میری منحوس صورت یاد آئے اور نہ کبھی آج اور کل کی باتیں۔‘‘ صابرہ نے مجھے ایک ایسی نگاہ سے دیکھا کہ میں لا جواب ہو کر ساکت ہو گیا۔ پھر میرے دل میں ایک آرزو پیدا ہوئی اور بے ساختہ میرے منہ سے نکل پڑی۔ ’’صابرہ میری تمنا ہے کہ میں تمہیں وہی فالسئی ساری پہنے ایک بار دیکھ لوں، گو یہ مقتضائے شرافت نہیں۔ لیکن شاید یہ میری آخری خواہش ہو گی!‘‘ صابرہ نے پوچھا۔ ’’آخری کیوں؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’اس لیے کہ پھر کل سے ایسی خواہش تم سے نہیں کی جا سکتی!‘‘

صابرہ چپکی تھوڑی دیر مجھے پیار سے دیکھا کی اور اس کے بعد اندر چلی گئی۔ پانچ سات منٹ بعد وہی فالسئی ساری اور گلابی شلوکہ پہنے پھر آ کر کھڑی ہو گئی۔ میں بڑی دیر تک اسے دیکھتا رہا اور اس تصویر کو دل پر نقش کر کے کانپتے ہاتھوں سے اسے سلام کر کے بولا۔ ’’صابرہ! جان و دل سے عزیز صابرہ رخصت! ہمیشہ کے لیے رخصت۔۔۔ جاؤ۔۔۔ دنیا جہان کی خوشیاں اور نعمات الٰہی تمہیں ہمیشہ گھیرے رہیں!‘‘

صابرہ مبہوت بنی، چشم پُر آپ سے ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھا کی۔ میں اس تصویر کا خزانہ دل میں لیے کمرے کی طرف پلٹا لیکن تھوڑی ہی دور چلا ہوں گا کہ پلٹ پڑا اور صابرہ سے بولا: ’’مجھے اپنی بدّھی کا ایک پھول دے دو۔ میں اسے حرز جان بناؤں گا۔‘‘

صابرہ میری آواز سن کر چونکی اور ایک ٹھنڈی سانس لے کر اس نے بدّھی اتارنی چاہی میں نے کہا۔ ’’نہیں صرف ایک مرجھایا ہوا پھول!‘‘

اس نے ایک مرجھایا ہوا پھول بدھی سے نکالا لیکن میری طرف کچھ عجیب طرح سے دیکھتی گئی اور اس کی ایک ایک پتی نوچ نوچ کر پھینکتی گئی اور پھر اس نے ایک مرجھائی کلی نکالی اور ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر اور کلی اس میں لپیٹ کر میری جانب پھینک دی۔ میں نے کاغذ کھولا تو اس میں لکھا تھا ’’صابرہ کا بن کھلا غنچۂ دل!‘‘ میں نے کاغذ اور کلی دونوں کو سمیٹ کر ہاتھ میں دبا لیا اور اسی ہاتھ سے اپنا زخمی دل تھام لیا اور اس سے کہا ’’خیر! زندہ رہو! لیکن خدا نہ کرے تمہارا غنچۂ دل یوں مرجھائے!۔۔۔ اچھا صابرہ خدا حافظ۔ جاؤ میرے سامنے یہاں سے چلی جاؤ!‘‘

صابرہ نے مجھے ایک منٹ تک بغور دیکھا۔ اس ایک نظر میں ماضی و حال و مستقبل کے احساسات و واقعات سب کی ایک جھلک موجود تھی! دفعتاً اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی مڑ مڑ کے مجھے دیکھتی ہوئی اندر چلی گئی!

میں نے صابرہ کی مرجھائی، بن کھلی کلی آنکھوں سے لگائی۔ اسے ڈرتے ڈرتے پیار کیا پھر دیر تک اس کی خوشبو سونگھتا رہا۔ اسی حالت میں کھڑکی بند کی۔ چکر سا آ گیا۔ اور وہیں فرش پر بیہوش ہو کر گر پڑا۔

صابرہ کے عقد کو آج پانچ برس ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں ریت اور رسم کی پابندیاں ابھی اسی طرح قائم ہیں، ہندوستانی معیار شرافت اب تک زنجیر پا ہے۔ اس لیے اس دن کے بعد سے پھر میں نے اسے نہیں دیکھا لیکن دلوں کے ناسور اور زخم کی گہرائی کی کیفیت کا اسی سے اندازہ کیجیے کہ ہر سال عقد کی تاریخ کو میرے پاس کھڑکی کی طرف سے کاغذ میں لپٹی ہوئی ایک مرجھائی بن کھلی کلی پھینک دی جاتی ہے اور میں اسے اس کی ہم جنسوں کے ساتھ صندوق میں بند کرتا جاتا ہوں۔ دوست احباب نے اگر کبھی دیکھ لیا اور پوچھا کہ ’’بھئی یہ کلیاں کیسی ہیں؟‘‘ تو میں ان سے یہ کہہ دیتا ہوں کہ تابوت کے پھول ہیں!‘‘ لیکن ان میں سے کسی کو یہ نہیں معلوم کہ یہ تابوت میری زندگی بھر کی تمناؤں اور امیدوں کا ہے اور یہ پھول وہی چڑھاتا ہے۔ جس نے ہماری معاشرت کا آلہ کار بن کر ان کا خون کیا! عجب نہیں کہ غنچوں کا یہ ڈھیر قبر میں میرے ساتھ ہو اور محشر کے دن جب یہ کلیاں پھولیں اور ان میں بہار کی تازگی پھر آ جائے تو میں ان کا ہار گلے میں ڈالے مستوں کی طرح جھومتا کسی کو تلاش کرتا پھروں۔۔۔ لیکن

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے۔

٭٭٭

(۲)

صابرہ کو رخصت کیے ہوئے سات برس کا زمانہ گزر چکا تھا۔ میں بھی نوجوانی کی حدوں کو پار کر کے اور طالب علمی کی بے فکری کو خیرباد کہہ کے، اب ایک ذمہ دار انسان کی طرح اور ایک باقاعدہ وکیل کی حیثیت سے دن بھر کچہریوں کی خاک چھانتا اور بارہ بارہ بجے رات تک، صابرہ کی یاد میں نہیں، بلکہ محض قانون حفظ کرنے اور نظیریں ڈھونڈھنے کے لیے لیمپ جلائے، اپنے دفتر میں بیٹھا کام کیا کرتا تھا۔ میں یہ ہرگز دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ صابرہ کی یاد مجھے اب بھی ستاتی تھی۔ اس لیے کہ امتداد زمانہ نے دل کو اس تکلیف سے اس قدر مانوس بنا دیا تھا کہ اب الم کی جگہ لذت محسوس ہوتی تھی۔ سن کے بڑھنے کی وجہ سے اعصابی ہیجان مفقود اور جذبات کا وفور معدوم ہو گیا تھا۔ گویا چشمہ محبت میں برساتی مد و جزر کی جگہ اب موسم گرما کی سبک و نرم روانی تھی، ہیجان و ہوسناکی کے خس و خاشاک تہ نشین ہو چکے تھے اور طغیان و طوفان کی جگہ صفائے قلب و استواری وفا نے لے لی تھی۔ اگر دل میں درد تھا تو وہ بالکل ویسا جیسا کہ محنتِ شاقہ سے اعضا میں پیدا ہو جاتا ہے اور جس کی وجہ سے جسم کے دبانے میں ایک خاص قسم کا لطف حاصل ہوتا ہے، اس درد کو جوڑوں کی اس چوٹ سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں جو پُروائی میں چمک اٹھتی ہے، صابرہ کی یاد کے لیے پروائی کا کام وہ مرجھائی ہوئی کلی کرتی تھی، جو اب بھی، ہر سال عقد کی تاریخ کو، میرے پاس پرزے میں لپٹی ہوئی بھیج دی جاتی تھی، ان دنوں اس پرزے کی جگہ دو خطوں نے لے لی تھی۔ ان دو خطوں میں اظہار خلوص کے ساتھ ساتھ اس امر کی نصیحت کی گئی تھی کہ مجھے اب جلد سے جلد شادی کر لینا چاہیے اور آخری خط میں مشاطگی کے فرائض کی انجام دہی کی آمادگی بھی ظاہر کی گئی تھی!

میں جھوٹ نہ بولوں گا۔ مجھے شادی کے نام سے نفرت نہ تھی اور نہ اب مجھ میں صابرہ کے متعلق وہ والہانہ کیفیت باقی تھی کہ میں سوائے اس کے کسی دوسرے کے ساتھ اس ذکر ہی کو ناپسند کرتا، لیکن پھر بھی صابرہ کی طرف سے اس امر کی سلسلہ جنبانی، بجھتی ہوئی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف تھی۔ غور کرنے والی بات یہ تھی کہ وہ عورت جو شوہر، اولاد اور خانہ داری کے علائق میں گرفتار ہونے کے باوجود، ہر سال میری محبت کی یادگار مناتی رہے، جب میرے لیے رفیق تنہائی کی تلاش کا کام بھی اپنے ذمہ لے اور خود کوشش کرے تو اس کی اس نئی عنایت سے دل میں جذبۂ امتنان بڑھے گا، یا نہیں اور اس کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو گا یا نہیں؟ صابرہ کی محبت کو اگر کوئی شے پھر اس کی پچھلی صورت میں لا سکتی تھی، تو اس کی یہ تحریک تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس آخری خط کے پانے کے بعد، میں اپنے میں وہی والہانہ کیفیت پانے لگا، جو آٹھ برس پہلے مجھ میں موجود تھی۔ گویا آتشِ محبت کی بجھتی ہوئی چنگاری کو، جو علائق کے خاکستر میں دبی پڑی تھی، صابرہ نے پھر اپنے ہاتھوں ایک شعلۂ جوالہ بنا دیا۔ میں سات دن متواتر شب و روز اس آگ میں جلتا رہا۔ بالآخر آٹھویں دن میں نے صابرہ کے خط کا جواب بھیجا، اس خط میں میں نے خدا جانے کتنی قسموں کے ساتھ اپنے اس عہد کو دہرایا تھا کہ میں اب تمام عمر یوں ہی بن بیاہا رہوں گا اور خط ختم اس فقرے پر کیا تھا کہ ’’مجھے تاہل کی زندگی سے اپنی یہی زندگی پسند ہے جب اتنی فرصت ہے کہ:

بیٹھا رہوں تصور جاناں کیے ہوئے!‘‘

صابرہ نے اس کا جواب لکھا تھا وہ میرے پاس محفوظ ہے، اس لیے اس کی نقل بآسانی ممکن ہے۔ ملاحظہ ہو:

’’میرے دیوانے! آپ کا خط ملا۔ اسے پڑھ کر مجھے جتنی خوشی ہوئی اس سے زیادہ رنج ہوا۔ دنیا میں بھلا کون سی عورت ہے جسے اس یقین سے خوشی نہیں ہوتی کہ اس سے ایک شریف، تعلیم یافتہ مرد محبت کرتا ہے اور وہ بھی شریفوں کی طرح محبت کرتا ہے! آپ نے، جس شرافت سے میری اور اپنی محبت کو نباہا ہے، اس کی قدر نہ کرنا، عشق و وفا کا نام رسوا کرنا ہے۔ لیکن واقعات، خواہشات کے پابند نہیں ہوتے اور جو کچھ میرا اور آپ کا جی چاہتا تھا اور جو کچھ میرے اور آپ کے معاملے میں واقعات پیش آئے، ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں بیاہی جا چکی، خیر سے بچے والی بھی ہوں، اللہ اسے زندہ رکھے، میرا پُتّن چار برس کا ہو چکا ہے۔ بے حیائی ضرور ہے، مگر اظہار واقعہ اس موقع پر غالباً واجب و لازم ہے، اس لیے عرض کرتی ہوں کہ میرے بہار کے دن ختم ہو چکے۔ میری آنکھوں کا رس، میرے ہاتھ پاؤں کا کس بل زائل ہو چکا ہے۔ میں نہ اب نوجوان ہوں، نہ بن بیاہی اور آپ ابھی تک گزشتہ ایام کی تصویریں کلیجے سے لگائے بیٹھے ہیں! آپ کی صابرہ، سات آٹھ برس قبل والی صابرہ، اس دنیا میں نہیں ہے۔ پھر اس کی یاد کیسی؟ اور اس یاد پر دنیا کا تج دینا کیسا؟ کیا آپ کی اس محبت، آپ کی اس وفا کے بعد بھی میرا جی نہیں چاہتا کہ میں آپ کو آرام سے دیکھوں؟ آپ کہیں گے ’’میرے لیے گزرے ہوئے دنوں کی تصویریں بہت ہیں!‘‘ میں عرض کروں گی تصویروں میں وہ گرمی نہیں جو عورت کے دل میں ہے، وہ خدمت کی صلاحیت نہیں جو عورت کے نازک ہاتھوں میں ہے اور وہ تسکین دہی کی طاقت نہیں جو زندہ عورت کے سینے میں ہے! میں آپ کو کیسے سمجھاؤں۔

ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں!

میں اس لیے آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، آپ کو خدا اور رسول کا واسطہ دلاتی ہوں اور آپ کو اپنے ہی سر کی قسم دیتی ہوں کہ اب بن بیاہے رہنے کے خیال کو دل سے نکال ڈالیے اور اپنا گھر بسائیے! زندگی کی گاڑی بغیر دونوں پہیوں کے نہیں چلتی۔ آپ دنیا میں رہ کے سنیاس لیے بیٹھے ہیں اور وہ بھی مجھ نصیب جلی کے لیے! وفا ہو چکی، محبت کے امتحان کی حدیں کب کی گزر گئیں، اب تو صریحی خود کشی اور قطع نسل ہے! اگر مجھے آپ کی قدر نہ ہوتی، اگر میں آپ کے استقلال اور آپ کی پامردی کی قائل نہ ہوتی، یا میں آپ ہی کی صابرہ نہ ہوتی تو میں اپنی جگہ پر اس سے خوش ہوتی کہ آپ نے اپنی زندگی میرے پیچھے تباہ کر دی۔ لیکن میں سچ کہتی ہوں کہ مجھے آپ کی اس موجودہ زندگی کا جب خیال آتا ہے تو میں کانپ اٹھتی ہوں میری سی حقیر و ذلیل عورت کے لیے آپ سا مرد اور جوگ لے! یہ میرے اوپر اتنا بار ہے جو میرے کمزور کاندھوں سے اٹھایا نہیں جا سکتا! للہ اپنے پر اور مجھ پر رحم کیجیے اور اپنا گھر بسائیے۔

آپ اگر یوں نہ مانیں گے تو میں خود کوئی لڑکی تلاش کر کے آپ کے متعلق سلسلہ جنبانی شروع کر دوں گی، پھر تو آپ اپنی صابرہ کو جھوٹی نہیں بنا سکتے! میں آپ کے جواب کا بے چینی سے انتظار کرتی رہوں گی!‘‘

اس خط کے پڑھنے کے بعد جو میری حالت ہوئی اس کا اندازہ انہیں لوگوں کو ہو سکتا ہے جو صاحبانِ دل ہیں۔ ایک طرف تو میرے دل میں صابرہ کے اس نئے ایثار اور اپنی یاد کی قربانی کی ترغیب پر مر مٹنے والا پیار آتا۔ دوسری جانب عقل سلیم یہ کہتی کہ صابرہ کی رائے درست و صحیح ہے! پھر عقل کی خشک ہیزمی رائے میں اعصابی ہیجان ہاں میں ہاں ملا کر نرمی اور گرمی شامل کر دیتا۔ مرد، ایسا مرد، جس کے قوائے عقلی و ذہنی درست ہوں، جس کی تندرستی ٹھیک ہو اور جس کو کوئی جسمانی بیماری نہ ہو، تاہل کی زندگی کے لیے فطرتاً مجبور ہے۔ یہی فطرت میری عقل کے ساتھ تھی۔ دل کہتا صابرہ کی سی شریف، غیور اور با حیا خاتون کی یاد مجھ میں اب تک بسی رہی ہیں اس میں کسی دوسرے کی شرکت نہیں چاہتا، اس گھر میں کسی دوسرے کو جگہ نہیں مل سکتی۔ جسم کہتا میں ایک خیال اور ایک تصویر کے لیے اپنے کو کب تک مارتا ہوں؟ پھر یہ امر تو عقل کے بھی خلاف ہے اور فطرت کے بھی۔ اس بحث میں بو الہوسی بھی آ کر شریک ہو جاتی اور اپنے مقصد خاص کے حصول کے لیے اور ’’شیوۂ اہل نظر‘‘ کی شکست کی غرض سے یہ بہانہ پیش کرتی کہ صابرہ تو خود ہی اس پر مصر ہے کہ برہمچاریہ کا بھرم ٹوٹے اور وہ بھی کن الفاظ میں! خدا و رسول کا واسطہ! اپنے سر عزیز کی قسم۔

غرض رات دن میرا سینہ دیوانی کچہری تھا، جہاں دو مختلف الخیال وکیلوں کی جرح اور بحث بڑی گہما گہمی سے جاری رہی اور میں ایک جج کی طرح سب کچھ سننے کے لیے مجبور تھا! میں نے چوتھے دن اس خانگی جنگ سے عاجز آ کر صابرہ کے خط کے جواب میں لکھ بھیجا:

’’نہ فراموش ہونے والی صابرہ! تمہارا خط ملا۔ میں تمہیں اس کے جواب میں کیا لکھوں؟ زہر دے اس پر یہ تاکید کہ پینا ہو گا! میں تمہارا صید، تمہارا گرفتار، تمہارا غلام، تم مجھے اپنا بنا کے رکھو، کسی دوسرے کو تحفۃً دے دو، یا ہمیشہ کے لیے گلا گھونٹ دو! تم مالک و مختار ہو۔ نہ اپنے قبضۂ قدرت میں ہوں، نہ مجھ میں فیصلہ کرنے کی اور نہ عزم و ارادہ کی صلاحیت ہے! بس اتنا جانتا ہوں کہ قفس یا قید خانے کے بدلنے سے میں نہیں بدل سکتا! میں تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا!‘‘

دوسرے ہی دن جواب آیا۔

’’بہت خوب، میں اپنے ہی اختیار تمیزی سے کام لوں گی اور آپ کا گھر بسا کے دم لوں گی۔ اب آپ کو اپیل کا اختیار نہیں۔‘‘

اس کے بعد ایک ہفتہ تک کوئی خط نہیں آیا۔ پھر ایک پرزہ ملا۔

’’نواب۔۔۔ کی صاحبزادی میری دیکھی بھالی ہیں، حسین، سلیقہ شعار، پڑھی لکھی اور نیک چلن۔ میں نے اس سے بات طے کر دی ہے۔ شاید ادھر کے لوگ آپ سے کسی دن ملنے آئیں۔ خدا کے لیے کوئی ایسی بات نہ کہہ دیجیے گا کہ ان لوگوں کو ناگوار ہو اور میری سبکی ہو!‘‘

بہرحال وہ حضرات آئے، گفتگو ہوئی اور پسند کا اظہار ڈھکے پردوں فرما کر میرا فوٹو لے گئے۔ میں نے ایک دوست جاوید صاحب کو تاریخ و ساعت کا دن اور وقت کا تقرر اور تمام انتظامات کا اہتمام سپرد کیا اور خود ایک کمیشن کے سلسلے میں دو ہفتے کے لیے کلکتہ چلا گیا۔

کلکتہ کی سیر و تفریح میں بہت کچھ دل بہل گیا تھا اور ہونے والی شادی کا خیال وہاں کے مختلف اسٹوڈیو کے دیکھنے کے سلسلے میں ذہن میں دھندلا سا رہ گیا تھا کہ دفعتاً میاں جاوید کا خط ملا۔ لکھا تھا کہ ’’عقد کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے اور اب سے صرف بیس دن باقی رہ گئے ہیں، اس لیے تمہیں جلد سے جلد واپس آنا چاہیے۔ نیز اپنے ہمراہ وہ تمام چیزیں لیتے آنا جو فہرست منسلکہ میں درج ہیں۔‘‘

جی تو چاہتا تھا کہ میں اس مہمل خط کو ’’ورق بے معنی‘‘ کہہ کر دریائے کنگ میں غرق کر دوں، لیکن صابرہ سے زبان ہار چکا تھا اور بو الہوسی اور جسمانی لذات کی خواہش مار آستین بنی موجود تھی۔ اس نے پھر سبز باغ دکھانا شروع کیا اور میں جاوید کے احکام کی تعمیل پر مجبور ہو گیا۔

تین چار دن بعد جب میں ایک اچھی خاصی دوکان کھولنے کا سامان ساتھ لے کر لکھنؤ واپس آیا، تو جاوید اسٹیشن پر موجود ملے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ شادی کی تاریخ محض اس لیے بڑھا دینا پڑی کہ لڑکی والوں میں سے کسی عزیز قریب کا دفعتاً انتقال ہو گیا اور اب جب تک کہ ان کی برسی نہ ہو جائے شادی نہیں ہو سکتی۔ میں نے ذرا اطمینان کی سانس لی اور گھر پہنچ کر میاں جاوید تو اپنی فرمائشات کی فہرست سے خرید شدہ تحائف ملاتے رہے اور میں، اس تھکے ہوئے مزدور کی طرح جو بار گراں منزل مقصود تک پہچانے کے بعد سبکدوش ہو جاتا ہے، پڑ کے سو رہا۔ قریب شام جب جب میں سو کے اٹھا تو جاوید گھر جا چکے تھے۔ منشی جی بھی نہیں آئے تھے، اس لیے میں دیر تک حمام میں بیٹھا نہایا کیا۔

اس دیر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے نہانے میں خاص لطف آ رہا تھا، بلکہ حمام میں پہنچتے ہی مجھے اپنا وہ نہانا یاد آ گیا جو مجھے عشق کی ابتدائی منزلوں میں بارہ بنکی کے سفر کے بعد پیش آیا تھا اور پھر آٹھ برس پہلے والی صورت دماغ نے نظروں کے سامنے پیش کر دی اور پھروہی ربودگی، وہی بد حواسی پیدا ہو چکی تھی کہ یہ خیال آیا کہ ہونے والی سسرال میں موت، صابرہ کو خط لکھنے کی نوید لے کر آئی ہے۔ میں نے اس آٹھ برس کے عرصے میں نہ تو صابرہ کے میاں سے ملنے کی کوشش کی تھی اور نہ خود کبھی خط لکھنے میں سبقت کی تھی، لیکن آج بہانہ ہاتھ آ گیا تھا، اس حادثے کے متعلق مزید تفصیلات جاننے کی کوشش نہ کرنا خلاف انسانیت و مروت ہوتا۔ اس لیے میں نے جلدی جلدی جسم خشک کر کے کپڑے پہنے اور صابرہ کو خط لکھنے بیٹھ گیا۔ پورا خط مجھے یاد نہیں، لیکن بعض حصے اب بھی حافظے میں محفوظ ہیں۔ میں نے کلکتہ سے واپسی کی خبر دینے اور اس کی خوشی کے لیے اپنے کو شادی کی دیوی پر بھینٹ چڑھا دینے کا تازہ وعدہ کرنے کے بعد، اس حادثے کی نوعیت کے متعلق اطلاع چاہی تھی اور پھر ایک بار لجاجت سے لکھا تھا:

’’صبر آزما صابرہ! یہ یاد رکھو کہ یہ رشتہ میں نے تمہارے حکم سے منظور کیا ہے۔ لیکن یہ میری محبت کا تم سخت تریں امتحان لے رہی ہو۔ تم کہہ سکتی ہو کہ

’بت سامنے رکھ لینا اور یاد خدا کرنا!‘

مگر دیوی یہ مجسمے اس کے لیے بنائے جاتے ہیں جو جسم و جسمانیات سے منزہ ہے۔ نہ کہ اس کی عوض جو حسن مجسم ہو! تمہارے پرستار کے لیے پتھر کی دیوی میں دل پھونکنے والی گرمی کہاں؟ تم کہو گی وہ پتھر کی نہیں، انسان ہے، جوان ہے، مجھے یہ تسلیم ہے، پہلو ضرور گرم ہو گا، میں کوئی راہب نہیں! لیکن۔۔۔ لیکن میری صابرہ، سمجھنے کی کوشش کرو، کیا تم تاہل کی زندگی میں مجھے بھول سکیں؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے جواب دو۔ کیا کسی خیالی تصویر کو دل سے لگائے بیٹھے رہنا اس حالت میں بھی اتنا ہی آسان ہے؟ تم کہو گی میں عورت ذات ہو کر یہ مراحل جھیل رہی ہوں، تم مرد ہو کر اس مصیبت سے کیوں ڈرتے ہو؟ میں کہوں گا کہ یہ تو مقتضائے دوستی نہیں کہ کہا جائے کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں مگر یار کو لے ڈوبیں گے!‘‘ تم ایک شریف، بے بس خاتون تھیں اور میں ایک آزاد خود مختار مرد ہوں۔ تمہیں زبردستی بیڑیاں پہنائی گئیں۔ تم چاہتی ہو میں خوشی خوشی خود سے پہن لوں۔ للہ اب سے اپنے بندہ پر رحم کرو! جب سے میں نے اس حادثے کی خبر سنی ہے، ’’فرصت کے رات دن‘‘ کے شیریں خواب پھر دیکھنے لگا ہوں۔ کاش یہ خواب تمہارے ہاتھوں شرمندۂ تعبیر نہ بنتا۔۔۔‘‘

غرض مختلف پیرایوں میں بہت سی خوشامد اور لجاجت لکھ کر لفافہ بند کیا، مہر لگائی اور اپنے سب سے معتمد آدمی کو بلا کر حوالہ کیا، نواب صاحب کی حویلی کا پتہ بتایا اور تاکید کی کہ سوائے رسولن ماما کے جو میرے اور صابرہ کے خطوط لایا اور لے جایا کرتی تھی کسی دوسرے کو خط نہ دے۔

کوئی دو گھنٹہ بعد صابرہ کا جواب آیا۔ میرے ہی خط پر لکھا تھا۔

’’رشید صاحب۔ آپ کی شادی مجھ ہی مانگ اجڑی کی وجہ سے رک گئی، آج پانچواں دن ہے کہ میرا بچہ یتیم ہو گیا۔‘‘

اس خبر کا مجھ پر جو اثر ہوا اس کا تجزیہ مشکل ہے۔ میں کبھی روتا تھا اور کبھی ہنستا تھا۔ روتا اس لیے تھا کہ صابرہ نے میرا گھر بسانے کی کوشش کی اور اس کا گھر خود اجڑ گیا۔ ایک رنجور و مہجور انسان میں اپنے کو خاص طور سے قسمت کا ستایا سمجھ لینے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ بہت آسانی سے یقین کر لیتا ہے کہ اس کے دوست احباب پر بھی جو مصائب آتے ہیں، ان سب کا باعث وہی ہے۔ میں نے اپنے کو بہت دنوں سے قسمت کا ستایا سمجھ رکھا تھا، اس لیے صابرہ کے اس نئے غم کا سبب بھی اپنے ہی کو مان لینا بہت ہی معمولی سی بات تھی، میں ان مصائب و تکالیف سے اچھی طرح واقف تھا جو ایک ہندوستانی بیوہ کو آئے دن برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ میں اس کو خوب جانتا تھا کہ ہمارے اس ملک میں بیوہ کے معنی بعض موقعوں پر بالکل اچھوت کے ہیں۔ یہی نہیں کہ اس کا سہاگ چھن جاتا ہے اور وہ دنیاوی جنگ کے لیے بالکل یکہ و تنہا رہ جاتی ہے، بلکہ اس کے لیے اس طرح کے آلام و مصائب فراہم کر دیے جاتے ہیں جو دیگر ممالک کے باشندوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتے، دولہا کا ہر عزیز اسے بھن پیری، منحوس اور قاتلہ سمجھنے لگتا ہے اور اپنی اپنی ذہنیت اور صلاحیت کے مطابق اس کے لیے سزائیں تجویز کرتا ہے۔ صابرہ واقعی اسم با مسمیٰ تھی۔ اس کا تحمل، اس کی بردباری، اس کا استقلال بے عدیل و نظیر تھا۔ لیکن پھر بھی میاں کا سہارا اٹھ جانے اور ایک با عصمت پردہ دار خاتون ہونے کی وجہ سے اس پر کوہ الم ٹوٹ پڑا تھا۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ میں کس طرح اس کے پاس پہنچ کے اسے تسکین دوں، اس لیے اپنی اور اس کی بے بسی پر دل کڑھتا اور آنسو امڈے آتے تھے۔

ساتھ ہنسی بھی آتی تھی اور وہ اس بات پر کہ بی صابرہ خوشیاں منانے اور مجھے دولہا بنانے چلی تھیں۔ گویا اس صنفی لطافت و نزاکت کے باوجود آپ نے میرے لیے قسام ازل اور کاتب تقدیر سے مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا تھا! ایک پری چہرہ کے دستِ سیمیں اور مقدر کا فولادی پنجہ! پھر اس خیال پر بھی ہنسی آتی تھی کہ جہاں تک اس ہونے والے رشتہ کا تعلق تھا مجھے اس کے ٹل جانے سے خوشی تھی مگر ادھر دوسری جانب، خدا جانے کیا کیا چہ میگوئیاں ہوں گی اور بہت ممکن ہے کہ وہ نا کردہ کار، جو میرے سر منڈھی جانے والی تھی، اپنے دل میں گھٹتی اور کڑھتی ہو۔ ادھر اس مخمصے سے چھوٹنے پر اطمینان و امتنان کے جذبات، ادھر اس نئی رکاوٹ کے باعث ایک مستِ شباب حسینہ کے چہرے پر غم کے آثار!

میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میرے دل میں سوائے ان جذبات کے اس وقت تک کوئی اور خیال نہ آیا تھا۔ لیکن شام کو جب جاوید آئے اور ان سے گفتگو ہونے لگی تو انہوں نے ایک ایسا فقرہ کہہ دیا کہ جس سے میرے خیالات میں ایک انقلابِ عظیم پیدا ہو گیا۔ جاوید میری اور صابرہ کی حالت پر افسوس کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ دیر چپ رہے، پھر یکبارگی مسکرا کر بول اٹھے ’’ارے یار رشید، تم بھی عجیب سودائی ہو۔ اب تو میدان صاف ہے، صابرہ بیگم تو اب تمہاری ہیں!‘‘

مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے جاوید نے میرے قلب پر اچانک خنجر کا وار کر دیا ہو۔ میری اور صابرہ کی محبت ایسی نہ تھی کہ میں اس کی مصیبت کے وقت ان لغویات پر غور کر سکتا۔ میں نے اسی لیے جاوید کو بہت ہی تیکھے تیوروں سے دیکھ کر کہا ’’جب تمہیں شریفوں کے احساسات و جذبات کا علم نہیں ہے، تو تم خاموش ہی رہنے کی کوشش کیوں نہیں کیا کرتے؟ جو مہمل بات منھ میں آئی کہہ گزرے!‘‘

وہ کچھ شرمندہ و منفعل ہو کر اپنی صفائی میں بحث کرنے کے لیے تیار ہوئے۔ میں نے ذرا ڈانٹ کر کہا ’’بہتر ہے کہ آپ اس وقت خاموش ہی رہیں، ورنہ ممکن ہے کہ آپ پھر کوئی ایسی بے تکی بات کہہ دیں کہ میرے لیے اور بھی باعث آزار و تکلیف ہو۔‘‘

انہوں نے آزردہ ہو کر مجھے دیکھا اور اٹھ کر گھر چلے گئے۔ تھوڑی دیر تو میں ان کو چپکے چپکے خوب بُرا بھلا کہا کیا۔ پھر بد طینتی اور خود غرضی نے آہستہ آہستہ ان کی وکالت شروع کی۔ میں نے گھبرا کر ٹہلنا شروع کر دیا۔ اب میں لاکھ لاکھ لمبے لمبے ڈگ لگاتا اور سگریٹ پر سگریٹ پیتا ہوں مگر دماغ میں وہی ایک فقرہ گونج رہا ہے ’’اب میدان صاف ہے، صابرہ بیگم اب تو تمہاری ہیں!‘‘

شریف جذبات کہتے کہ اس طرح کا خیال بھی اس وقت دل میں لانا کمینہ پن ہے، وہ تو میاں کے سوگ میں بیٹھی ہے، اسے تو اپنی خوشیوں کے پامال ہونے کا رنج ہے اور اپنے بچے کی یتیمی کی اذیت اور تمہیں اپنی خود غرضی سے، ظاہر بظاہر نہ سہی، مگر خفیہ طور پر مسرت ہے نہ تو اس کی تکلیف کا خیال اور نہ اس کا دھیان کہ تم اسے کس طرح تسکین دے سکتے ہو، بس اپنے صوے مانڈے کی فکر!

رذیل جذبات کہتے آٹھ برس تک بیٹھے رہے، زندگی برباد کی، اب جب امید کی جھلک دکھائی دی تو خوش نہ ہونا اپنے کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اب اس ستارۂ امید کو بھی زبردستی اگنی بیتال سمجھ کر اس سے گریز کرنا شرافت و غیرت نہیں، بلکہ خودکشی ہے اور نفس کا صریحی خون ہے۔ یہی کرنا تھا تو دنیاوی زندگی اور جہد للبقا میں حصہ ہی کیوں لیا۔ راہب بن گئے ہوتے اپنی شخصیت ہی مٹا ڈالی ہوتی، اپنے کو کس طرح فنا کر دیا ہوتا کہ بجائے رشید کے ’’صابرہ‘‘ ہو گئے ہوتے!‘‘

یہ طعن و تشنیع، وار اور رد، حملہ اور دفاع، میرے سینے کے اندر برابر جاری رہے میں نے بڑی مشکلوں سے اس جنگِ زرگری کو بند کیا اور صابرہ کو حسب ذیل تعزیت کا خط لکھا:

’’میں تمہیں کس منہ سے تسکین دوں۔ نہ میں تمہارے گرد و پیش کے لوگوں سے واقف اور نہ ان واقعات کا مجھے علم جو تمہیں اس وقت پیش آ رہے ہوں گے۔ بے بس ہوں ورنہ تم تک کسی طرح پہنچتا اور اپنا خون بہاتا، مگر تمہاری نرگسی آنکھوں سے آنسو نہ نکلنے دیتا، لیکن اگر کسی قسم کا کام ہو تو خدارا اپنے غلام کو نہ بھولنا۔ اس وقت یہ نہ سوچو کہ میں کیا ہوں، کون ہوں بس اتنی سی بات یاد رکھو کہ خداوند عالم نے تمہاری خدمت کے لیے ایک مشین نما انسان بنا دیا ہے جو تمہاری خوشی کے سامنے دنیا میں کسی امر کی پروا نہیں کرتا۔

خدا ہی تمہیں صبر دے، یہ غم عورت کے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ خدا تمہارے بچے کو اپنی حفاظت و امانت میں رکھے، وہ ابھی اس نعمت کی قدر کیا جانے جو اس سے چھین لی گئی ہے۔ تمہیں کو اب باپ اور ماں دونوں کے فرائض ادا کرنے ہیں۔ میں تمہارے احکام کا ہر وقت منتظر رہوں گا۔‘‘

صابرہ نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن بیسواں چہلم وغیرہ جو نواب صاحب مرحوم کے لیے کیا گیا ان سب کی مجھے باقاعدہ اطلاع دی گئی اور میں ہر ایک رسم میں برابر شریک ہوا۔ اس آمد و رفت میں وہاں کے آدمیوں اور داروغہ وغیرہ سے ملاقات ہو گئی اور مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ نواب صاحب کا پانچ سو کا وثیقہ تھا اور شہر میں چند مکانات بھی تھے، جن سے خاصا کرایہ آتا تھا۔ جس مکان میں صابرہ مقیم تھی، وہ پرانے محلوں کی شان کا تھا، مردانہ اور زنانہ حصہ علیحدہ علیحدہ، کافی وسیع اور کشادہ تھا۔ لیکن چونکہ نواب صاحب کے بڑے بھائی اب تک حیات تھے، اس لیے یہ مکان دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک میں ان کے عیال رہتے تھے اور دوسرے میں صابرہ بیگم اور ان کا بچہ۔

چہلم کے بعد عدہ کی مدت تک صابرہ کی والدہ بیٹی کے ساتھ مقیم رہیں، لیکن جیسے ہی یہ مدت ختم ہوئی اسے اپنے ہمراہ لے کر اپنے گھر چلی آئیں۔ یہاں آنے پر صابرہ نے رسولن کے ذریعہ میرے پاس کہلایا کہ مجھے اس کے چچا سے مل کر تمام واقعات معلوم کر لینا چاہیے اور وثیقہ و مکان کا داخل خارج بچے کے نام کرا دینا چاہیے۔ نیز اس کی ولایت کے متعلق ساری قانونی کار روائی کر ڈالنا چاہیے۔ میں نے صابرہ کے میکے میں آنا جانا شروع کیا۔ دو ایک بار تو صابرہ کے چچا ’’بڑے صاحب‘‘ کا درمیان رہا پھر براہ راست صابرہ کے ہاں تمام قضیہ میں نے کہلانا شروع کیا۔ ادھر صابرہ کی سسرال والوں نے طرح طرح کے الجھاوے ڈالنا شروع کیے، بالآخر مقدمہ بازی تک نوبت آئی۔ میں بحمدہ اس امر میں کامیاب رہا، میں نے نواب صاحب کا وثیقہ اور تمام املاک صابرہ کے بچے کے لیے بچا لی اور صابرہ کو با قاعدہ اس کی ولیہ عدالت سے تسلیم کرا لیا۔

ان تمام معاملات کے سلجھانے میں تقریباً ایک سال کا عرصہ لگا۔ میری ہونے والی سسرال والے چونکہ صابرہ کے فریق مخالف کے ہمدردوں میں تھے، اس لیے مجھے ان کے ہاں رشتہ سے انکار کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئی۔ اس کی اپیل اگر ہو سکتی تھی تو صابرہ ہی کے ہاں، لیکن اب وہاں تک ان لوگوں کی رسائی نہ تھی۔

ہمارے نجی معاملات اتنے ترقی پذیر ہو گئے تھے کہ زنانے اور مردانے حصے میں جو ٹیلیفون تھا، مجھے اس پر حاضر ہو کر ہر ہفتے مقدمات کے سلسلے میں صابرہ سے گفتگو کرنا پڑتی تھی۔ جس دن تک صاحب جج کی عدالت سے مقدمات کا آخری اور قطعی فیصلہ نہیں ہو گیا، میں نے کوئی بات سوائے قانون، گواہ اور مقدمے کے نہیں کی۔ میں ایک وکیل تھا اور صابرہ موکلہ۔ لیکن۔۔۔ جب میں نے صاحب جج کی زبان سے فیصلہ اپنے موافق سنا، تو میں کچہری کے سارے کام چھوڑ کر سیدھا صابرہ کے مکان پر پہنچا، ٹیلیفون کی گھنٹی بجائی اور صابرہ کے ’’ہلو‘‘ کہنے پر مبارکباد دی۔ وہ اپنے بچے کے حقوق کے محفوظ ہو جانے سے اس قدر خوش ہوئی کہ رونے لگی اور بھرائی ہوئی آواز میں رک رک کے بولی۔

’’رشید صاحب آپ نے مجھ پر اور میرے بچے پر وہ احسانات کیے ہیں کہ ان کا شکریہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتا۔‘‘

میں نے کہا ’’صابرہ غلاموں کا شکریہ ادا نہیں کیا کرتے۔‘‘

وہ بے ساختہ بول اٹھی۔ ’’وکیل صاحب میں تو خود کو آپ کی کنیز سمجھتی ہوں، آپ میرے محسن ہیں، میرے بچے کے محسن ہیں! للہ اب غلام کا لفظ کبھی اپنے نام کے ساتھ نہ استعمال کیجیے گا۔ مجھے حد درجہ تکلیف ہوتی ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’بہت خوب، لیکن پھر تم بھی کبھی شکریہ کا لفظ میرے بارے میں نہ نکالنا، اس سے بوئے غیریت آتی ہے۔ میں نے جو کچھ کیا وہ میرا فرض تھا۔ میرا قانون پڑھنا اب جا کے سوارت ہوا۔‘‘

صابرہ نے کہا۔ ’’یہ آپ کی نیکی و شرافت ہے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی نہیں یہ میری خود غرضی و نفسانیت ہے۔‘‘

صابرہ کے لب و لہجہ سے استعجاب کا پتہ چلتا تھا۔ اس نے پوچھا ’’یہ کیونکر؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’خود غرضی کا یہی تو تقاضا ہوتا ہے کہ جو کام کیا جائے وہ اس غرض سے کہ اس سے اپنی مصیبتیں گھٹیں، اپنی فکریں کم ہوں، اپنا درد دل زائل ہو، اپنے کو خوشی حاصل ہو اور اپنے قلب کو اطمینان و سکون حاصل ہو! میں نے بھی یہی کیا ہے اور صرف یہی! جس کام سے تمہاری تکلیفوں میں کمی ہو سکے، جس سے تمہارے آلام دور ہوں، جس سے تمہاری راحت میں اضافہ ہو، وہ میرے لیے سب سے زیادہ موجب انبساط و مسرت ہے، اس لیے میں نے جو کچھ اس معاملے میں کیا وہ محض اپنی ہی تکلیفوں کے کم کرنے کے لیے اور اپنی ہی مسرتوں میں اضافہ کی غرض سے۔ یہ اگر خود غرضی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس میں کسی پر احسان کیسا اور مفت مفت کے شکریہ کی کہاں گنجائش؟‘‘

صابرہ دیر تک خاموش رہی، پھر رُک رک کے بولی۔ ’’تو پھر۔۔۔ اتنی محبت۔۔۔ اتنے ایثار کا۔۔۔ کچھ تو عوض میری طرف سے بھی ہونا چاہیے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’اگر معاوضہ ہی لینا ہے تو پھر منہ مانگا ہی لوں گا۔‘‘

صابرہ نے کچھ گھبرا کے کچھ ڈر کے پوچھا۔ ’’وہ کیا ہے؟‘‘

میں نے بہت ہی بیتابی سے کہا۔ ’’کیا آج آٹھ برس کی پرستش کے بعد بھی پوچھنے کی ضرورت ہے؟ تم اور صرف تم!‘‘

تھوڑی دیر سکوت رہا، پھر صابرہ آہستہ آہستہ بولی۔ ’’اگر آپ کی جگہ کسی دوسرے نے یہ بات کہی ہوتی تو شاید میں اس سے زندگی بھر کے لیے خفا ہو جاتی۔‘‘

میں نے عرض کیا۔ ’’آخر اس خفگی کا نتیجہ کیا ہوتا؟ زائد سے زائد یہی کہ اس سے زندگی بھر نہ ملتیں، اپنے حضور میں آنے کی اجازت نہ دیتیں۔ تو غلام با ادب عرض کرے گا خوشنودی کی حالت میں بھی تو اس پر یہ عتاب ہے، آخر خفگی و خوشی میں کیا فرق ہے؟‘‘

پھر تھوڑی دیر سکوت رہا۔ اس کے بعد جواب ملا۔ ’’اور یہ جو آپ سے باتیں کر رہی ہوں اور۔۔۔‘‘

جب وہ کہتے کہتے رک گئی تو میں نے جواب دیا۔ ’’میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن شاید اتنا تو ہر موکلہ کو اپنے وکیل سے کرنا ہی پڑتا۔‘‘

صابرہ نے پوچھا۔ ’’اسی خلوص سے؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی ہاں، ورنہ خلوص سے کام بھی نہ ہوتا۔‘‘

صابرہ خاموش ہو گئی۔ میں نے کہا ’’صابرہ مجھ سے اس طرح کی باتیں کرنے کا نتیجہ تم جانتی ہو کہ مجھے دنیا میں صرف ایک چیز کی خواہش ہے اور وہ تمہاری ذات ہے۔ مجھے نہ دولت کی ضرورت ہے، نہ عزت کی، نہ وجاہت کی، میرے لیے ساری کائنات سمٹ کر صرف ایک ذات میں محدود ہو گئی ہے۔ مجھے اگر وہ ذات نہ ملی تو میرے لیے زندگی ایک مستقل عذاب ہے اور اس کے بعد کی زندگی کے لیے نہ مجھے جہنم کا ڈر اور نہ جنت کی پروا!‘‘

صابرہ نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’رشید صاحب میں نے مانا آپ کو میری وجہ سے بڑی اذیتیں ہوئیں مگر اس کے معنی یہ تو نہیں ہیں کہ آپ دین و ایمان سب بھول کر جہنم و جنت سب سے انکار کر کے کفر بکنے لگیں!‘‘

میں نے غصہ میں کہا۔ ’’بیگم صاحبہ میں نے خدا اور رسول والی ہی بات کہی تھی جو آپ اس قدر برہم ہو گئیں کہ زندگی بھر کے لیے ناخوش ہونے کو تیار تھیں۔ کیا خدا نے بیوہ سے عقد کا حکم نہیں دیا؟ کیا رسول اللہ نے خود اس پر عمل کر کے نہیں دکھا دیا ہے؟ لیکن آپ نے اسے گالی کے مترادف سمجھا۔ سوائے ہندوستان کے کسی ملک میں اسے نہ معیوب سمجھتے ہیں اور نہ خلاف عقل و شرع۔۔۔‘‘

صابرہ نے پھر بات کاٹ کے پوچھا۔ ’’اور ہم لوگ اس وقت کہاں ہیں؟ ہندوستان میں یا کسی اور ملک میں؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’جی ہاں ہندوستان ہی میں ہیں۔ لیکن اب ہندوستان کے باشندے بھی نہ اسے معیوب سمجھتے ہیں اور نہ قابل مضحکہ۔ ہندوؤں نے یہ مذموم خیال اپنے دل سے نکال ڈالا۔ اب ان کے ہاں قابل شادی بیوائیں بٹھائی نہیں جاتیں اور نہ ان کے سر مونڈے جاتے ہیں۔‘‘

صابرہ نے کہا۔ ’’لیکن قابل شادی نا؟ یہاں قابل شادی کون ہے؟ جس کا کافی سن آ چکا ہو، ایک بچہ کی ماں ہو چکی ہو اور اپنے بڑھاپے کے تمام آثار پاتی ہو، وہ قابل شادی کیونکر ہو سکتی ہے؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’صابرہ خدا کے لیے ہارے ہوئے حریف کی طرح جھوٹ بولنے پر نہ اتر آؤ۔ تم اپنے سن و سال کے متعلق اس شخص سے گفتگو کر رہی ہو جو ایک سال سے تمہارا وکیل ہے اور آٹھ برس سے تمہارا عاشق ہے۔ کیا مجھے اتنا بھی حساب نہیں آتا کہ میں پندرہ میں آٹھ جوڑ لوں اور اپنی عمر میں بھی اتنے ہی برسوں کا اضافہ کر لوں؟ اگر تم تئیس برس کی ہوئیں تو میں بھی تیس برس کا، پھر شادی سے اور سن سے کیا تعلق؟ میری اور تمہاری محبت بھی بو الہوسی اور حیوانیت پر مبنی ہے کہ ہمارے عقد میں بھی جسمانی حیثیت و کیفیات کا لحاظ کیا جائے؟ صابرہ بیگم یہ جسم کی نہیں روح کی پیاس ہے! اسے سوائے تمہارے سارے عالم کے دریاؤں کا پانی، یہاں تک کہ کوثر و تسنیم کا آب شیریں بھی نہیں بجھا سکتا۔‘‘

صابرہ نے کہا۔ ’’لیکن وہ چشمہ جس سے آپ سیراب ہونا چاہتے ہیں اب خشک ہو گیا!‘‘

میں نے خوفزدہ آواز میں دریافت کیا۔ ’’کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں رہی؟‘‘

صابرہ نے کہا۔ ’’میں نے شاید مثال دینے میں غلطی کی۔ چشمہ خشک نہیں ہوا، بلکہ وہ اس قدر گندہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اب آپ کی پیاس بجھانے کے قابل نہیں رہا۔‘‘

میں نے پوچھا ’’یعنی؟‘‘

وہ بولی۔ ’’یعنی یہ کہ میری محبت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ میں کسی اور کی بیوی بننے کے بعد آپ کی بنوں۔‘‘

میں نے پوچھا۔ ’’یہ محبت کس کی، جس کی بیوی تھیں یا میری؟‘‘

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’آپ کی!‘‘

میں نے کہا۔ ’’یہ اظہار محبت کا بالکل ہی انوکھا طریقہ ہے کہ چونکہ تمہیں مجھ سے محبت ہے، اس لئے میں ہمیشہ کے لیے محروم بنا دیا جاؤں۔‘‘

صابرہ نے کہا۔ ’’جی نہیں یہ آپ کو ایک طرح کی خود کشی سے بچانا ہے!‘‘

صابرہ یہیں تک کہنے پائی تھی کہ ایک معظمہ کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ وہ غالباً ادھر متوجہ ہوئی اس لیے کہ کسی نے پوچھا۔ ’’کون ہے بیٹا، وکیل صاحب؟‘‘

صابرہ نے کہا ’’جی ہاں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’میری طرف سے ان کو دعا کہو۔‘‘

میں ٹیلیفون سے سن رہا تھا۔ میں نے صابرہ کو پیغام کی زحمت سے بچایا اور خود اس سے تسلیم کرنے کو کہا اور مقدمہ جیتنے کی مبارکباد دی۔ وہ خود ٹیلیفون لے کر دعائیں دے کے بولیں۔ خدا آپ کو بھی مبارک کرے یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے۔ آپ نے میرے یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے محتاجی اور غریبی سے بچا لیا، خدا آپ کو اجر دے گا۔ ہم غریب دکھیاریوں کے پاس کیا ہے جو ہم اس کا بدلہ کر سکیں۔ مگر میں اتنا ضرور کہوں گی کہ اگر صابرہ اور اس کا لڑکا شریف ہیں، تو دونوں یہ احسان کسی وقت نہ بھولیں گے اور جان و مال، عزت و آبرو کسی چیز سے آپ کے معاملے میں دریغ نہ کریں گے۔‘‘

میں نے عرض کیا۔ ’’یہ آپ کیا فرماتی ہیں، یہ تو میرا فرض تھا۔‘‘

وہ بولیں ’’میاں یہ تمہاری شرافت ہے کہ تم ایسا کہتے ہو، مجھے تو جہاں تک معلوم ہے تمہیں شاید اب تک کوئی فیس بھی نہیں دی گئی ہے۔‘‘

بظاہر معظمہ نے صابرہ سے اس کی تصدیق چاہی اس لیے کہ وہ کہتی ہوئی سنائی دی کہ ’’امی میں تو کہتے کہتے تھک گئی۔ اب آپ بھی ارشاد فرما کے دیکھ لیجیے۔‘‘

معظمہ مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ ’’کیوں میاں یہ کیا سنتی ہوں کہ تم فیس نہیں لینا چاہتے؟‘‘

میں نے حجاب و شرم کو بالائے طاق رکھ کر موقع سے فائدہ اٹھایا اور عرض کیا۔ ’’بیگم صاحبہ یہ کس نے کہا کہ میں فیس نہیں لینا چاہتا۔ میں تو حضور خود مانگ رہا ہوں۔‘‘

وہ بولیں۔ ’’صابرہ کہتی ہے میں فیس دینا چاہتی ہوں وہ نہیں لیتے۔‘‘

میں نے عرض کیا۔ ’’جی ان کا بھی فرمانا ایک حد تک صحیح ہے اور جو کچھ میں نے عرض کیا وہ بھی صحیح ہے۔‘‘

وہ بولیں۔ ’’بھئی میں یہ پہیلی نہیں بوجھی۔ وہ بھی سچی آپ بھی سچے۔ وہ کہتی ہے آپ فیس نہیں لیتے، آپ کہتے ہیں میں مانگ رہا ہوں وہ نہیں دیتیں۔ آخر معمہ کیا ہے؟‘‘

میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔ ’’بیگم صاحبہ آپ نے ابھی اپنی عزت افزائی اور بندہ نوازی سے یہ فرمایا تھا کہ تو نے وہ کام کیا ہے کہ صابرہ بیگم اور ان کے صاحبزادے کو چاہیے کہ وہ تیرے لیے جان و مال عزت آبرو تک دریغ نہ کریں۔‘‘

وہ فرمانے لگیں۔ ’’میں تو اب بھی کہتی ہوں کہ اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں تو شریف نہیں۔ جس شخص نے ایک سال سے اپنا خون پانی ایک کر دیا ہو۔ اپنے پیشہ کا کام ان کے پیچھے خراب کر دیا ہو، دنیا بھر سے ان کے کارن دشمنی مول لی ہو، جس نے ویسی ہمدردی کی ہو جیسی سگا باپ اور حقیقی بھائی مشکل سے کرتا ہو، اس کا احسان بھول جانا کمینوں کا کام ہے، شریفوں کا نہیں۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’تو معظمہ اس طرح کے کام کی فیس تو صابرہ بیگم نہیں ادا کر سکتی ہیں، حضور ہی عطا فرما سکتی ہیں۔‘‘

وہ بہت ہی سادگی سے بولیں۔ ’’تو میاں تم بتاؤ تو سہی۔ آخر کیا فیس ہوئی، میں ہی ادا کروں گی، تم میرے ہاتھ سے لے لینا۔‘‘

میں نے رکتے رکتے عرض کیا۔ ’’تو حضور میں تو اپنی محنت کی فیس یہی سمجھتا ہوں کہ حضور مجھے اس کا حق عطا فرما دیں کہ میں تمام عمر اسی طرح آپ کی صاحبزادی اور آپ کے نواسے کی خدمتیں کرتا رہوں۔‘‘

وہ بے چاری اس گھماؤ کی بات کو نہ سمجھیں۔ گھبرا کے بیٹی سے پوچھنے لگیں کہ ’’وکیل صاحب کیا فیس مانگتے ہیں۔ ان کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘

وہ بولیں۔ ’’ امی ٹیلیفون پر آپ سے انھوں نے کیا کہا میں اسے کیا جانوں، آپ انھیں سے پوچھئے وہ خود ہی اپنا مطلب بتائیں گے۔‘‘

جتنی دیر ماں بیٹی میں گفتگو ہوئی اتنی دیر میں میں نے جملہ ذہن میں ترتیب دے لیا تھا۔ اس لیے قبل اس کے کہ بیگم صاحبہ مجھ سے کچھ پوچھیں میں نے عرض کیا: ’’جناب معظمہ نے میرا مطلب نہیں سمجھا، میں یہ چاہتا ہوں کہ حضور اپنے اس غلام کو اپنی فرزندی میں لے لیں۔‘‘

بیگم صاحبہ میرا یہ فقرہ سنتے ہی ساکت ہو گئیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سکوت کا باعث استعجاب تھا یا غصہ۔ البتہ میری حالت یہ تھی کہ پنکھے لگے تھے، دل بیلوں اچھل رہا تھا دیکھیے اتنے دنوں کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے، یا سوکھے دھانوں پانی پڑتا ہے۔ ساری عمر کا اضطراب چند لمحوں میں آکے جمع ہو گیا تھا۔ تین بار پیشانی سے پسینہ پونچھا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھرائی۔ شاید محشر کے دن قبل فیصلہ یہی کیفیت ہو گی! بارے مہر سکوت ٹوٹی۔ بیگم صاحبہ آہستہ آہستہ بولیں:

’’میاں تم نے اس وقت اچانک ایسی خواہش پیش کر دی جو خواب و خیال میں بھی نہیں آئی تھی، میں بڑے سوچ میں پڑ گئی کہ تمہیں کیا جواب دوں۔‘‘

میں نے جلدی سے عرض کیا ’’حضور میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھے اسی وقت جواب مل جائے، حضور میری ذات، میرے خاندان کے متعلق دریافت فرما لیں۔ میرے چال چلن کی تحقیق کر لیں۔‘‘

وہ بولیں۔ ’’نہیں میاں، تمہارے چال چلن، تمہاری شرافت اور نیکی سے کون واقف نہیں ہے۔ پھر پڑھے لکھے، دال روٹی سے خوش، اللہ رکھے تم ہی ہو، مجھے ان باتوں کی فکر نہیں۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اب صابرہ کنواری، بن بیاہی نہیں ہے، بیوہ، بچے والی ہے، اب اس کی خواہش و رضا مندی ضروری ہے۔ ذرا اس کا عندیہ لے لوں اور دوسرے اعزا سے پوچھ گچھ لوں۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’تو مجھے اس وقت اجازت دیجیے۔ پھر انشاء اللہ ضرورت ہو گی تو حاضر ہوں گا۔‘‘

انھوں نے فرمایا۔ ’’اچھا خدا کو سونپا۔ سدھارو۔‘‘ میں نے تسلیم کی اور وہاں سے چلا آیا۔ رات کو رسولن ایک خط لے کر آئی۔ صابرہ نے لکھا تھا:

’’یہ آخر آپ کی عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ دوستی اور دشمنی کی باتوں میں فرق نہیں سمجھا جاتا اور اپنی دھن میں چھوٹے بڑے کی تمیز بھی کھو بیٹھے۔ امی سے بھلا اس طرح کی خواہش کا کیا موقع تھا؟ وہ میرا بھلا دیکھیں گی یا آپ کا؟ میں آپ سے منت کرتی ہوں کہ اب سے اپنے خیال سے باز آئیے۔ میں ڈھلتی ہوئی دھوپ ہوں جس میں نہ آپ کو کوئی چمک دمک نظر آئے گی اور نہ کسی قسم کی گرمی محسوس ہو گی۔ میرے ہاں اچھی طرح خزاں آ چکی ہے۔ آپ کے ابھی بہار کے دن ہیں۔ اپنی جوانی پر رحم کیجیے اور اس خیال بد کو دل سے نکال ڈالیے۔‘‘

میں نے جواب میں لکھا:

’’مجھے ڈھلتی ہوئی دھوپ اور خزاں یافتہ بہار پسند ہے، خود میری محبت میں اتنی جدت ہے کہ وہ برودت کا سارا مخزن جلا سکتی ہے۔ میرے دل کی آگ، تم کیا ہو، برف کی قاش میں بھی حرارت پیدا کر سکتی ہے! صابرہ بیگم صاحبہ! آپ میری ناصح و مشفق نہ بنیں بلکہ اس محبت کا مظاہرہ فرمائیں جس میں علیحدگی و جدائی کی جگہ اتحاد و اتصال کی خواہش کی جاتی ہے۔ میں صاف صاف عرض کیے دیتا ہوں کہ اگر اب بھی انکار کیا گیا تو مجھے اس امر کا یقین آ جائے گا کہ میں آج ہی نہیں بلکہ پورے آٹھ سال سے بیوقوف بنایا جا رہا ہوں اور پژ مردہ کلیوں کے تحفے نے جس امید کو ہر سال تازہ کیا تھا وہ محض موہوم تھی۔ اس یقین کے بعد میرا کیا حال ہو گا اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ ابھی تک تو خیال تھا کہ ’’بریں زیستم و بریں بگزرم‘‘ لیکن جب یہ امید بھی جاتی رہے تو میری حالت اس عمارت کی ہو گی جس کا ستون اچانک گرا دیا جائے اور جس کی بنیاد کھود کر پھینک دی جائے۔ للہ اب زیادہ دل نہ دکھائیے!

رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے۔‘‘

اس خط کا کوئی جواب نہ ملا۔ لیکن تیسرے دن بیگم صاحبہ کی مہری ان کا خط لے کر آئی، لکھا تھا:

’’جس رشتے کی خواہش کی گئی تھی وہ مجھے اور تمام اعزا کو دل و جان سے پسند ہے، مگر صابرہ نہ سر سے کھیلتی ہے اور نہ منھ سے بولتی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘‘

میں نے مہری سے کہا کہ ’’اچھا تم جاؤ میں جواب بھیج دوں گا اور صابرہ کو خط لکھا:

’’بیگم صاحبہ کی رضا مندی کا صحیفہ آ گیا، لیکن آپ کے ہاں ابھی وہی ضد جاری ہے۔ خیر میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ آج آپ کے سارے پچھلے خطوط اور ہر سال کی پژمردہ کلیاں اسی لفافہ میں ارسال ہیں، یا تو آپ ان کے عوض ایک تازہ پھول بھیج کر میری استدعا قبول فرمائیں گی یا پھر اپنے سکوت سے اس امر کو واضح فرما دیں گی کہ میری زندگی کا سب سے بہتر و شیریں خواب منت کش تعبیر نہ ہو گا! میں ۲۴ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد اس طرح رو پوش ہو جاؤں گا کہ انشاء اللہ تمام عمر آپ کو پتہ بھی نہ مل سکے گا۔‘‘

کچھ ہی دیر بعد جواب آیا۔ ’’آپ خفا نہ ہوں، پھول جاتا ہے، مگر باسی ہے!‘‘

میں نے بڑی سرمستی و خوشی سے لکھا۔ ’’کچھ پروا نہیں۔ میں اسی پھول کو خون دل سے سینچ کر پھر تر و تازہ کر لوں گا۔‘‘

اسی دن بیگم صاحبہ کو بھی اطلاع ہو گئی اور۔۔۔ اور۔۔۔ آج تک وہ پھول میری دستار کا زیب ہے اور بحمدہ اب تک تر و تازہ ہے۔

ان کے گلے کے باسی ہار، دیتے ہیں بوئے جانفزا

جن پر خزاں سی آ چلی، ہیں وہی گل بہار پر

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل