ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

اللہ میاں کے مہمان

 

 

حج ۱۹۹۷ء کا سفر نامہ ہلکے پھلکے رنگ میں

 

اعجاز عبید

 

 

پہلی بات

 

مشتاق یوسفی کا کون مدّاح نہیں۔ ہم بھی ان کے خوشہ چینوں میں سے رہے ہیں۔ لیکن کچھ اس خوش فہمی کے ساتھ کہ در اصل ہماری ذہنی بُناوٹ (مائنڈ سیٹ) ان کا سا ہے۔ اگرچہ ہم نے شعوری کوشش کبھی نہیں کی کہ ان کی نقل کی جائے۔ اگر ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہوں تو ہم نے اپنے پیسوں سے جو پہلی کتاب خریدی وہ ’چراغ تلے‘ تھی۔ اس کے بعد ’خاکم بدہن‘ بھی ہم نے اپنی ہی رقم سے خریدی، نہ کسی سے عاریتاً لی اور نہ چُرائی۔ تیسری کتاب جب سامنے آئی تو ہمارے گھر میں ہمارے، بلکہ ہماری نصف بہتر کے بھانجے افتخار بھی تھے۔ وہ خود بھی یہ کتاب خریدنا چاہتے تھے اور سوچا کہ ٹھیک ہے، گھر میں ایک کتاب تو رہے گی ہی۔ چنانچہ اس طرح ہم یہ کتاب ’آبِ گُم‘ پڑھ کر بھول گئے۔ افتخار بھی دوسرے گھر میں شفٹ ہو گئے اور ہمیں بھی غمِ روزگار میں یہ یاد نہیں رہا کہ ایک کتاب اور بھی ہماری ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم جب ۱۹۹۷ میں حج کے لئے گئے تو یہ حج کا دلچسپ (بزعمِ خود) سفر نامہ تخلیق کیا۔ اور اس کے پیشِ لفظ کو وہی نام دے دیا ’پس و پیشِ لفظ‘۔ اور عرصے تک خیال بھی نہیں رہا۔ جب اپنی ہی کتاب پڑھتے تو اس لفظ سے لطف اندوز ہوتے۔

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ ۲۰۰۵ کے آخر میں ایک دوسرا سفر در پیش ہوا، امریکہ کا۔ ہیوسٹن میں تو ہمارا بیٹا کامران ہی رہائش پذیر ہے، قریب ہی ڈیلاس میں افتخار کے پاس بھی جانا ہوا بلکہ دو دن وہاں رہائش کے دوران افتخار میاں نے وہی کتاب ہم کو پیش کی کہ دو پہر میں جب تک باقی عوام محوِ خواب ہوں تو ہم اس سے لطف اٹھا لیں کہ ہم دن میں سوتے نہیں۔ عرصے بعد جب یہ کتاب دوبارہ پڑھی تو شروع کے صفحات نے ہی چونکا دیا۔ اور تب احساس ہوا کہ کہیں لا شعور میں اس کتاب کا ’پس و پیشِ لفظ‘ محفوظ رہ گیا تھا جو ’’اللہ میاں کے مہمان‘‘ لکھتے وقت اس طرح سامنے آیا کہ ہم خود اب تک اسے اپنی ترکیب سمجھ کر خوش ہوتے رہے۔ یہ چند سطریں محض اس پس و پیشِ لفظ کا پیشِ لفظ ہے کہ اگرچہ ہمیں اب اس دیباچے کو استعمال کرنے میں پس و پیش ہے، لیکن اس عرصے میں ہم نے اس قدر اسے اپنا سمجھ لیا ہے کہ اب خود سے جُدا کرنے کو جی نہیں چاہتا۔

اب اس ایڈیشن میں مندرجہ بالا حلف نامے کے ساتھ مکمل کتاب پھر حاضر ہے۔ یہ کتاب اب تک اردوستان ڈاٹ کام سے قسط وار شائع ہوتی رہی ہے۔ لیکن تصویروں کی صورت میں۔ اب تحریری شکل کے لئے ہم اپنے ہی شکر گزار ہیں۔

اعجاز عبید

۸ اپریل ۲۰۰۶

٭٭٭

 

 

 

 

پس و پیش (لفظ)

 

ہم عرصے سے اس پس و پیش میں تھے کہ اس سفر نامے یا روزنامچے میں، اگر کبھی شائع کرانے کی نوبت آئے تو، پیشِ لفظ لکھ کر پہلے ہی قارئین کو خبردار کر دیں یا پس لفظ لکھ کر ان سے معذرت کر لیں کہ انھوں نے نہ جانے کیا کیا توقعات رکھی ہوں گی ہم سے۔ پس و پیش یہ بھی تھا کہ اسے شائع بھی کروائیں یا نہیں بلکہ لکھیں بھی یا نہیں۔ بہرحال جب پس و پیش جاری رہا تو ہم نے عارضی طور پر اوپر والا عنوان دے کر انگریزی محاورے کے مطابق گیند کاتب صاحب کے پالے میں ڈال دی ہے کہ وہ کتاب کے شروع میں اس تحریر کو رکھیں یا آخر میں۔ یہ تو امید رکھتے ہیں کہ کاتب صاحب کو اس میں تو پس و پیش نہ ہوگا کہ اس تحریر کا عنوان ـ ’’پیش لفظ‘‘ کب کتابت کریں اور ’’پس لفظ‘‘ کہاں۔ یہ جملہ لکھتے وقت ابھی خیال آیا کہ آج کل تو ہم اردو والے بھی خدا کے فضل اور امریکہ کے کرم سے کمپیوٹر کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور کاتب دور ماضی کی یادگار ہوتے جا رہے ہیں۔ـــ ’’کلیدی تختے‘‘ (Keyboard) پر انگریزی حروف پر انگلیاں رکھ کر اردو حروف پیدا کرنے والے جادوگر کو کیا کہنا چاہیے قارئین اس پر ضرور غور کریں۔

گذارش احوال واقعی کے طور پر کچھ باتیں گوش گذار کرنی تھیں، اب آپ اس کو جو بھی نام دیں۔ اصل میں تو یہ ہمارا حلفیہ بیان ہے۔

شروع وہاں سے ہی کریں جہاں سے بات شروع ہونی چاہئے۔

جانے ہماری کون سی نیکی کام آ گئی کہ ۱۹۹۷ کا حج نصیب ہو گیا۔ واقعہ سنا تھا کہ کو ئی بزرگ تھے جو تلبیہ پکارتے تھے ’’لَبَّیک اَلّٰہُمَّ لَبَّیک‘‘۔ ’’میں حاضر ہوں میرے اللہ، میں حاضر ہوں‘‘، تو ان کو غیب سے صدا آتی تھی ’’لَاَ لَبَّیک‘‘۔ ان کی حاضری ہی قبول نہ تھی۔ مرحبا کہ نہ صرف ہمارا سفر ممکن ہو سکا بلکہ اس الرّحمٰن و رحیم کا رحم ہے کہ ہمارا لبّیک بھی قبول کیا گیا، حج کے ارکان بھی اللہ نے بخوبی ادا کروائے اور ہم کو ہر ہر بلا سے محفوظ بھی رکھا۔ جب اللہ میاں نے ہم کو مہمان بنانا قبول کر ہی لیا تو پھر خاطر تواضع بھی خاطر خواہ کرنی ہی تھی۔ لوگ کیا کہتے کہ پہلی بار کے مہمان کے ساتھ بھی کیسا سلوک کیا۔ اب یہ ہم خود ہی گواہی دیتے ہیں کہ ہم محض سوکھے ہی نہیں ٹرخائے گئے ہیں، رحمتوں کی بارش سے شرابور بھیگے ہوئے آئے ہیں۔

یہ بھی بتا دیں کہ ہم مان نہ مان میں تیرا مہمان قسم کے خود ساختہ مہمان نہیں تھے۔ ہمارا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ عازمینِ حج اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ ’ضیوف الرّحمٰن‘۔ مکّے میں ہماری عمارت نمبر ۴۶۸ کے قریب شعبِ عامر میں ہی غذائی سامان کی ایک دوکان تھی، اس کا نام ہی تھا ــ۔۔ ’’بقالہ ضیوف الرحمٰن‘‘)۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، ہم تو خود کو اللہ میاں کے مہمان ہی سمجھتے رہے بلکہ بہت بے تکلّف قسم کے۔ کہ تکلّف میں ذوقؔ صاحب کو ہی نہیں ہم کو بھی سراسر تکلیف ہی ہوتی۔ اس پروردگار کی طرف سے ہم نوازشوں کے امیدوار بھی رہے اور قطعی ناکام نہیں لوٹے۔ مراد یہ نہیں ہے کہ ہماری ساری مرادیں بر آئیں، ساری تکلیفات دور ہو گئیں یا ہماری کھانسی دمے کی تکلیف میں افاقہ ہو گیا۔ یہ بھی ہو جاتا تو مزید رحم و کرم ہی ہوتا، مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم کو نہ جانے کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم خالی ہاتھ نہیں لوٹے ہیں۔ کیا خدا کا یہ کرم بھی کم ہے کہ اس نے یہ سعادت ہمارے لئے لکھ دی۔

دوسری ایک اہم بات یہ عرض کرنی ہے کہ اللہ میاں کی مہمانی قبول کرنے والے کو، بلکہ یوں کہیے کہ جسے اللہ میاں مہمان بنانا قبول کریں، اسے تو بہت منکسر المزاج ہونا چاہیے تھا۔ اور یہاں ہم ہیں کہ ’ما بدولتوں‘ کی طرح خود کو صیغۂ جمع میں لکھ رہے ہیں۔ حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ ہم ما بدولت قطعی نہیں ہیں، بس ایک روایت کا احترام کر رہے ہیں جو غالباً پطرس مرحوم سے شروع ہوئی تھی۔ پطرس نے واحد مُتکلّم کے لئے جمع کا صیغہ کیا استعمال کیا کہ یہ اب ہر طنز و مزاح نگار کی پہچان بن گیا ہے۔ شوکت تھانوی ہوں یا وجاہت سندیلوی، مشتاق احمد یوسفی ہوں کہ یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین، سبھی یہ صیغہ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ نثر کے طنز و مزاح میں ہم کو خود یہ ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ نہ لکھیں تو کچھ کمی سی محسوس ہو گی، چنانچہ عام بو ل چال میں چاہے ہم اپنے کو ’ہم‘ نہ کہیں مگر جب قلم اٹھا کر اس کشتِ زعفران میں (جو میدانِ خاردار زیادہ ہے) قدم رکھتے ہیں تو بے ساختہ (بحر عروض کے ماہرین معاف فرمائیں) ؎ ڈبویا ہم کو (’ہم‘) لکھنے نے، جو لکھتے ہم تو ’ہم‘ لکھتے۔ قارئین کرام سے بھی معذرت۔

تیسری بات یہ کہ ہم نے اس سفرنامے /روزنامچے کے پہلے دِن ہی جو کچھ تحریر کیا ہے اس میں بھی کچھ ’’پیش لفظیت‘‘ آ گئی ہے۔ مگر کیوں کہ اصل پیش لفظ یہی ہے اس لئے یہاں ’پہلا‘ دیں (یہ تحریر بعد کی ہے . اس لئے ’دہرانا‘ کہنا چاہئے۔ مگر قارئین کرام تو پہلی بار یہ بات جان رہے ہیں؛ ’ہم پائے کے ادیب ہیں‘ اور ‘کیا ہم سنجیدہ ہو سکیں گے‘ میں انہیں یہ محسوس ہوگا کہ ہم یہ بات دہرا رہے ہیں) کہ ہمارا ارادہ ’حج گائڈ‘ قسم کی کتاب لکھنے کا تو نہیں تھا۔ اگر کسی قاری نے اسے ’حج گائڈ‘ سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی تو بقول ابنِ انشا نتائج کا خود ذمّہ دار ہوگا۔ اگر توفیق ہوئی تو ’پس پس لفظ‘ کے طور پر ضمیمہ ضرور شامل کیا جا سکتا ہے جس میں وہ باتیں شامل ہو سکیں جو حج گائڈ میں ہونی چاہئیں۔ ہماری کوشش تو یہی تھی کہ جو ہم پر گزرے گی، رقم کرتے رہیں گے (لوح و قلم کی پرورش ہو نہ ہو) اور ہماری دعا ہے کہ جو ہم پر گزری ہے وہ سب پر گزرے، یعنی سب کو حج نصیب ہو، مگر جو ہم نے نظارۂ بد دیکھا وہ خدا کسی کو نہ دکھائے۔ یعنی منیٰ کی آگ کا حادثہ۔

اس سلسلے میں بھی کچھ عرض کرنی ہے۔ گرما گرم خبروں کے شوقین حضرات فوراً تلاش کریں گے کہ منیٰ کی آگ کا چشم دید حال ہم نے لکھا ہوگا، رننگ کمنٹری (Running Commentary) بلکہ ’بَرننگ کمنٹری‘ (Burning Commentary) دی ہو گی، مگر ان کو مایوسی ہی ہوگی؛ ہم کو تو خوشی ہے کہ ہم اس عذاب کو واقعی چشم دید نہیں کر سکے۔ لوگوں کی بھاگ دوڑ اور دھوئیں کے مرغولوں کے مناظر ہی ہماری آنکھوں میں محفوظ ہیں۔ اسی بھیگی بلّی سے معلوم ہوا تھا کہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ لیجئے، ہم اس موقعے پر بھی مزاح کا شکار ہو گئے۔

مختصر یہ کہ ہم نے جو کچھ دیکھا ہے، وہ سفر نامہ ہی کچھ زیادہ ہے۔ نہ حج گائڈ نما کتاب ہے اور نہ اس میں صحافیوں والی ’کہانیاں‘ (جِن کو ’اسکوپ‘ کہا جاتا ہے)۔ شروع تو ہم نے کیا تھا کہ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی غیر سنجیدگی سے لکھیں گے، مگر بعد میں اکثر جگہ یہ سفرنامہ محض ہو کر رہ گیا ہے۔ وجہ محض یہی رہی کہ ہم کو روزانہ لکھنے کا نہ وقت ملا اور وقت ملا تو طبیعت راغب نہیں ہوئی۔ اور کافی بعد میں جو پچھلی باتیں لکھتے رہے تو پھر قلم کو اس تیزی سے وقت کے ساتھ دوڑانا پڑا کہ نہ ہنسنے کی مہلت ملی نہ ہنسانے کی۔ حسِ مزاح کو بھی اسی طرح پیچھے چھوڑ دیا جس طرح ملکھا سنگھ کے بارے میں لطیفہ مشہور ہے کہ موصوف چور کو رنگے ہاتھوں پکڑنے گئے، اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس سے دوڑ کا مقابلہ جیتنے کی کوشش کرنے لگے اور جیت کر بہت خوش ہوئے۔ ہمارا یہی حال کبھی سنجیدگی کے ساتھ ہوتا ہے، کبھی حس مزاح کے ساتھ۔ یہاں تو خیر یہ شرط بھی تھی کہ واقعات بھی سارے لکھے جائیں ؛ اگرچہ کہیں سرسری ہی رہ جائیں۔ بہر حال جو چیز آپ کے سامنے ہے اس میں کہیں جذبۂ شوق کی کارفرمائی بھی ہے جو ممکن ہے کہ آپ کو بھی ہماری طرح رلا دے (ہم خود بھی کہیں کہیں لکھتے لکھتے چشمِ پر نم ہو گئے ہیں) تو کبھی کچھ اور بات آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دے؛ کبھی محض کچھ معلومات ہی حاصل ہوں۔ کچھ ایسی ہی چیز ہے کہ ’ہر مال دو ریال‘، جیسے مدینے اور جدہ ایر پورٹ کے اکثر دوکان دار آوازیں لگاتے ہیں۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی دوکان بن گئی ہے۔ (جو) قبول افتد زہے عز و شرف۔ اور یہ کہ ؎ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔

اعجاز عبید

۲ جون ۱۹۹۷ء

٭

 

 

 

 

ہم پائے کے ادیب ہیں

بنگلور۔ ۲۷ مارچ ۹۷ء

۴۰۔ ۱ بجے دو پہر

 

بہت سے قارئین کرام نے شاید ہمارا نام بھی پڑھا یا سنا نہ ہوگا اور اگر یہ کتاب بھی شائع نہ ہوئی تو آئندہ بھی نہ سنیں گے۔ مگر یقین مانئے کہ ہم پائے کے ادیب ہیں۔ ’پائے کے ادیب‘ کا ارتقاء، ہمارا مطلب ہے اس محاورے کا ارتقاء کس طرح ہوا، ہمارا ناقص علم اس سلسلے میں معذور ہے۔ واللہ اعلم یہاں ’پائے‘ سے کیا مراد ہے؟ ویسے پائے بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ عالمِ حیوانات کے دو پایوں اور چار پایوں کے علاوہ، جن میں ہمارا بھی شمار ہونا چاہئے (مطلب اوّل الذکر میں)۔ بقول مشتاق یوسفی، ایسے بھی پائے ہوتے ہیں جن کو چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہے۔ ہمارا، بلکہ مشتاق یوسفی کا اشارہ چارپائی کے پایوں کی طرف ہے اور ان ہی کے بقول وہ پائے بھی ہوتے ہیں جن کو انھوں نے سریش سے تشبیہ دی ہے اور جسے ان کے یار غار اور ہمزاد مرزا عبدالودود بیگ دہلی کی تہذیب کی نشانی گردانتے ہوئے نوشِ جان کرتے ہیں۔ یہ نہاری پائے تو ہم کو بھی عزیز ہیں بشرطیکہ اس میں کام و دہن کی آزمائش نہ ہو۔ بہرحال اب ہم نے جب یہ فقرہ لکھ ہی دیا ہے تو امید ہے کہ آپ بھی اس کے معنی وہی سمجھیں گے جو ہم نے مراد لئے ہیں۔ اور اگر نہ سمجھیں تو ہمارے لئے وہی مثال ہو گی کہ نہ پائے ماندن۔۔۔۔۔۔۔

معاف کیجئے، جملہ معترضہ کچھ ’پیرا معترضہ‘ ہو گیا۔ خدا نہ کرے کہ یہ کتاب ہی معترضہ ہو جائے۔

ہمارا مطلب دراصل یہ ہے کہ نظم و نثر میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے اس حقیر فقیر بندہ پر تقصیر کو کم و بیش ۳۰ سال گزر چکے ہیں۔ جو لکھا اس میں مشتے از چھپا بھی ہے چنیدہ چنیدہ رسائل (یعنی جن رسائل نے ہم کو چنا) میں۔ احباب کو بہر حال علم ہے کہ ہماری تخلیقات چھپیں یا نہ چھپیں، ہمارے ادبی قد و قامت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بطور شاعر ہم ضرور زیادہ جانے پہچانے گئے ہیں مگر نثر …..اللہ اکبر۔ افسانہ ناول کے علاوہ ہم چاہے تنقید لکھیں، خاکے لکھیں (یا اڑائیں)، تاریخ یا سائنس کے موضوع پر قلم اٹھائیں، ہماری حسِ مزاح بری طرح پھڑک جاتی ہے۔ بلکہ در اصل یہ رگِ جان سے قریب ہی کوئی رگ واقع ہوئی ہے جو دھڑکن کے ساتھ دھڑکتی ہے۔

چار پانچ دن پہلے ہی یہ خیال آ یا کہ سفر بیت اللہ کے تاثرات پر مبنی کچھ لکھا جائے۔ رپورتاژ، سفر نامہ، ڈائری۔ جو بھی کہہ لیجیے۔ جب حرمین میں داخل ہوں گے اس وقت کے تاثرات ممکن ہے کہ سنجیدہ ہوں، لیکن عام حالات میں (ابھی تو احرام سے بھی باہر ہیں۔ ویسے مزاح تو احرام کی حالت میں بھی حرام تو نہیں ہو گا) سنجیدگی کا دامن ـــ….. مگر یہ سنجیدگی کون ہے……؟

 

 

 

 

کیا ہم سنجیدہ ہو سکیں گے؟

 

جب قلم ہاتھ میں آتا ہے تو جیسا موڈ ہوگا، وہی زبانِ قلم سے ادا ہونا چاہئے۔ یہی سچّے ادیب کی پہچان ہے (کیا ہم یہ دعویٰ بھی کرنے لگے؟)۔ ہم عام حالات میں بھی طنز و مزاح کے شکار اسی طرح رہتے ہیں جیسا کھانسی اور دمے کے۔ کیسی بھی پریشانی اور تکلیف ہو، اس کی شدّت کا اثر زائل ہو کر جیسے ہی نارمل ہوتے ہیں، سنجیدگی دامن چھڑا کر بھاگ جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اس ماڈرن لڑکی کا نام ہے جس کے پیچھے پیچھے یا ساتھ ساتھ بھاگتے بھاگتے ہم اس کا دامن پکڑنے (اور اگر ہاتھ آ جائے تو تھامے رہنے) کی کوشش کرتے ہیں کہ بس اسٹاپ آ جاتا ہے اور متعلقہ نمبر کی بس آ کر رکتے ہی چل دیتی ہے اور ہم انگریزی محاورے کے مطابق بَس بھی مِس کر دیتے ہیں اور اِس مِس پر بھی بَس نہیں چلتا۔

جب ہم حج کے اجتماع کا حصہ بن جائیں گے تو اُس وقت کے تاثرات میں شاید مزاح دامن چھڑا کر بھاگ جائے (ویسے اس کی امید کم ہی ہے)۔ اپنی طرف سے یہ کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کہ جو کچھ اس سفر میں لکھتے جا رہے ہیں، بعد میں فرصت نکال کر کانٹ چھانٹ کریں۔ معلومات والے حصّے حج گائڈ پڑھنے والوں کے لیے علیٰحدہ، بصیرت افروز (اور بصیرت انگیز) حصّوں کا الگ انتخاب کریں اور رطب و یابس کو الگ چھان پھٹک کر نکال دیں (کنول مگر کیچڑ میں ہی کھلتا ہے)۔ لیکن اگر کوشش نہ کی جا سکے تو بھی قارئین خود سمجھ دار ہیں، یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں کہ جس موقعے پر جو چاہیں پڑھیں۔ یہ بات تو بہر حال طے ہو گئی کہ ہم پائے کے ادیب ہیں، جو بھی لکھیں گے، اس کے معیاری ہونے میں چہ شک!!

 

 

 

ہم ہندوستان میں رہتے رہتے حاجی ہو گئے

 

تقریباً دو ماہ سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پیارے اردو اخبار والے ـ ’زائرینِ حج‘ اور ’عازمینِ حج‘ (جو بلا شک و شبہ ہم ہیں) کے علاوہ ہم جیسے مسافروں کو ’حجاجِ کرام‘ بلکہ بنگلور کے حج کیمپ میں ہی جا بجا لگے پوسٹروں پر ’حاجیاں‘ کے نام سے یاد کئے جانے لگے ہیں جو کہ ہمارا مستقبل ہے دراصل، بلکہ انشاء اللہ۔ مگر حج سے پہلے ہم کو حاجی بنا دیا گیا ہے۔ یہ کچھ غور و فکر کا مقام ہے۔ یہی حال یہاں نظر آنے والی کاروں کا ہے جس پر اردو میں ’حجاجِ کرام‘ لکھا ہے (انگریزی میں Haj Pilgrims اور ہندی میں محض ’حج یاتری‘)۔ خدا ان کی نیک دعائیں ہمارے حق میں قبول کرے اور ہم واقعی ’حجاجِ کرام‘ بن کر لوٹیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ باقیست کہ کیا عازمینِ حج کو حجاجِ کرام کہا جا سکتا ہے؟

 

 

 

بنگلور حج کیمپ

 

آج صبح ہم شمیم ٹریولس کی ہائی ٹیک (High Tech یاHi tech) ڈی لکس بس جس کی عرفیت ’پن ڈْبّی‘ (Submarine) تھی، سے حیدرآباد سے بنگلور سیدھے ڈکنسن روڈ پر واقع مسلم یتیم خانے اور الحصنات کالج کیمپس میں سجائے گئے حج کیمپ پہنچ گئے ہیں۔ حیدر آباد سے بنگلور سفر کے لئے بنگلور کے شمیم ٹریولس والوں نے مفت انتظام کیا ہے جو کرناٹک حج کمیٹی کے لئے قابلِ فخر اقدام ہے۔ یہاں ہم اپنے انٹر نیشنل قاریوں کو اطلاع دے دیں کہ شہر بنگلور ہندوستان کی ریاست کرناٹک کی راج دھانی ہے۔ حج کمپ اور بسوں کے انتظام کا سہرا کرناٹک کی حکومت کے وزیر امورِ داخلہ و اوقاف جناب آر. روشن بیگ کے سر ہی ہے۔ یہ جواں سال اور فعّال جنتا دل (سیاسی پارٹی جو یہاں زیر اقتدار ہے) کے لیڈر کرناٹک حج کمیٹی کے چیر مین بھی ہیں۔ ان کی کوششوں سے ہی سال گزشتہ ۱۹۹۶ سے حج کے لئے جدّہ تک بنگلور سے راست پرواز کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جس نے بھی روشن بیگ صاحب کو ’خادم الحجاج‘ کا خطاب دیا ہے، بجا دیا ہے کہ یہ خطاب دراصل انھوں نے پہلے ہی اپنے لئے پسند کر لیا تھا، کوئی دے یا نہ دے۔ یہاں حج کیمپ کے انتظامات بھی تسلّی بخش ہوں، اس امر کا بھی انہوں نے کافی خیال رکھا ہے۔ آج شام کو روشن بیگ صاحب کے دیدار بھی ممکن ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے پنڈال میں اعلان کیا گیا ہے کہ حیدرآباد کے کسی صاحب حاجی محمد عمر صاحب کی کتاب، جو سورۂ عصر کی تفسیر ہے، کے اجراء کے لیے روشن صاحب ہی تشریف لا رہے ہیں۔

یہاں کا انتظام واقعی عمدہ ہے۔ اگر کسی کو شکایت ہو تو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہزاروں کے انتظام میں بد نظمی بلکہ بد امنی تک کا خطرہ ہو سکتا ہے، اور اس حد تک بد انتظامی یہاں قطعی نہیں ہے۔ یہ محض امکان کی بات کر رہے ہیں ہم۔ ویسے اب تک کسی کو شکایت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ مختلف کاؤنٹرس ہیں، پہلے استقبال، ایک طرف کلوک روم۔ رہائش اور طعام کے کوپنوں کے کاؤنٹرس، یہ سب باہر کی سمت، اندر پنڈال میں نماز اور اجتماعات کا انتظام، اسی کا ایک حصّہ خواتین کے لئے بھی مخصوص۔ اگرچہ مسجد بھی اسی کیمپس میں ہے، مگر اس ’منی حج‘ کی سمائی اس مسجد میں کہاں ممکن؟ چنانچہ ابھی جمعے کی دو جماعتیں ہوئی ہیں، بلکہ اس وقت، دمِ تحریر، پنڈال میں جمعے کا خطبہ شروع ہو رہا ہے، جب کہ ہم اصل مسجد میں نمازِ جمعہ سے فارغ ہو کر ۲ بجے سے کافی قبل آ کر یہ موقع غنیمت جان کر قلم لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ صابرہ، ہماری نصف بہتر، پنڈال کی جماعت میں ہیں۔ لنچ کے کوپن محترمہ کے پرس میں ہیں۔ پہلے سوچا تھا کہ نماز کے بعد اپنے کمرے آ کر کوپن لے جا کر لنچ سے فارغ ہو جائیں، صابرہ کے آنے تک، پھر اطمینان سے یہ ڈائری لکھیں گے۔ مگر اب یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ ۳ بجے سے پہلے وہاں نماز کی تکمیل مشکل ہی ہے۔ اس لئے ابھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔

پنڈال کے ہی ایک طرف وضو کا انتظام ہے۔ باہر کی طرف ’قیمتی‘ یعنی قیمت ادا کر کے خریدی جانے والی طعامی اشیاء کی دوکانیں ہیں۔ ۲ روپئے پیالی چائے مل رہی ہے، وہی ہم صبح سے دو بار پی چکے ہیں۔ ’Thums Up‘ کے اسٹال پر ہی مشروب محض ۳ روپئے میں دستیاب، بلکہ ’دہن یاب‘ ہے۔ آئس کریم کے علاوہ با قاعدہ کھانے کی بھی ہوٹلیں ہیں، غالباً عازمینِ حج کے رشتے داروں اور احباب کے لئے، جن کو کیمپ میں جگہ نہ دی جا سکی ہو۔ ویسے کیمپ کے قوانین میں لکھا تو تھا کہ ہر پارٹی میں دو عدد غیر عازمین بھی حج کیمپ میں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ مگر ان کے کھانے کا انتظام نہیں رکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے طعام کے لئے ہوٹلوں کی ضرورت ہوگی ہی۔

رہائشی حصّے کا الگ احاطہ ہے، اسی میں اسپتال، کچن، ڈائننگ ہال، مردوں اور عورتوں کے لئے علیٰحدہ غسل خانے اور بیوت الخلاء (عورتوں کے لئے تین جگہوں پر)، ان کے علاوہ مختلف رہائشی ہال ہیں۔ ذرا ان کے نام بھی سن لیجئے….. منیٰ ہال، صفا ہال، مروہ ہال، عرفات ہال، فردوس ہال، اور ہم جس ہال میں خوش حال ہیں، اس کا نام ہے نِمرہ ہال۔ ویسے ہم ہر حال میں خوش حال ہیں۔

 

 

 

حاجی بنگا

 

یادش بخیر، ۳۰۔ ۳۵ سال قبل جب حضرتِ آتش کو تو قبر رسیدہ ہوئے بھی صدیاں گزر چکی تھیں، مگر ہم جوان نہیں، جوان ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے، بچّوں کے لئے ایک کتاب چھپی تھی ــ’’حاجی بمبا کی ڈائری‘‘ جو دہلی کے ماہنامہ ’پیامِ تعلیم‘ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد مکتبہ جامعہ یا شاید مکتبہ پیامِ تعلیم سے ہی کتابی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ اب مصنّف کا نام بھی ذہن میں نہیں (غالباً یوسف ناظم، مگر صحیح معلومات کے لئے ’کتاب نما‘ دیکھنا پڑے گا، اگر اب بھی یہ کتاب دستیاب ہے تو)۔ موصوف، مطلب مصنّف نہیں، اس کتاب کے واحد متکلّم، اس لئے حاجی بمبا کہے جاتے تھے کہ حج کے ارادے سے حضرت بمبئی تک تو پہنچ گئے، مگر اس کے آگے سفر کی زحمتوں سے گھبرا گئے شاید۔ یوں بھی وہ زمانہ ہوائی سفرِ حج کا نہیں تھا۔ موصوف بمبئی میں ہی رک گئے اور اس طرح کئی زحمتوں سے محفوظ اور بے شمار رحمتوں سے محروم رہے، وہ الگ، مگر حاجی کے لقب سے محروم نہ رہے۔ وہ حاجی بمبا کہلائے جانے لگے، مصنّف شاید آج کے زمانے میں یہ داستان لکھتے تو ان کا نام ’حاجی مُمبا‘ ہوتا کہ عروس البلاد بمبئی کا پچھلے ۴۔ ۳ سال سے مُمبئی نام ہے۔ اب ہمارا رخشِ تصور دوڑنے لگا ہے۔ اس سال ہماری حج کمیٹی نے پانچ جگہوں سے حجاجِ کرام کو روانہ کرنے کا انتظام کیا ہے۔ دہلی، ممبئ، چینئی (سابق مدراس)، کلکتہ اور بنگلور، جہاں سے جدّہ کے لئے راست پروازیں ہیں۔ چنانچہ ان مقامات سے ہی لوٹنے والوں کو بالترتیب حاجی ممْبا، حاجی چنّا (جو آندھرا پردیش کی تیلگو زبان میں ’چھوٹے میاں‘ کا ترجمہ ہو جائے گا)، حاجی کلکا (کل کا، آج کا نہیں؟؟) اور یہاں بنگلور کے لئے حاجی بنگا کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ہم لمحۂ موجود تک حاجی بنگا تو ہو ہی چکے ہیں (اور آپ ’حاجی بنگا کی ڈائری‘ پڑھ رہے ہیں) اگرچہ بنگلور سے لوٹنے کی نوبت تو نہیں آئی ہے اور خدا نہ کرے کہ آئے۔ حاجی تو ہم دو ماہ قبل سے ہی پکارے جا رہے ہیں، جیسا کہ لکھ چکے ہیں۔ اور آج صبح ۷ بجے سے، یعنی جب سے ہماری ’پن ڈبّی‘ یہاں اتری ہے، ہم منیٰ اور عرفات میں گھومتے بھی رہے ہیں اور صفا (ہال) اور مروہ (ہال) کے درمیان سعی بھی کرتے رہے ہیں۔

آج صبح رجسٹریشن وغیرہ اور قیام و طعام کے انتظامات اور ضروریات کے بعد پہلا جو ناشتہ کیا ہے وہ نمکین سویاں تھیں جن کے ساتھ آلو کا شوربہ تھا۔ اب رات یا کل جب لکھنے کا موقع ملے گا تو دو پہر اور رات کے کھانے کا احوال بھی لکھ دیں گے۔ مرحوم ابنِ انشاء سے لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ موصوف چاہے ’ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں‘ نکلیں یا ’دنیا گول ہے‘ کو ثابت کرنے، ہر غیر ملک میں ہوٹلوں کے غسل خانے ہی ناپتے رہتے تھے، ہمارے اس سفر نامے میں شاید طعام کا ذکر غسل خانوں سے زیادہ ہی ہو گا کہ ہمارے نزدیک پیٹ کی اہمیت بدن کی ظاہری صفائی کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ بازار میں تقویٰ کا لباس کہیں مل نہ سکا ورنہ اسی کو زیبِ تن کئے رہتے۔ در اصل ہم روح اور ضمیر کی صفائی کے قائل ہیں اور اس صفائی کا خیال جب ہی آتا ہے جب آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ اچھّے کھانے کے بعد جو فرحت حاصل ہوتی ہے، اسی حالت میں روح کی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اب کیوں کہ دوپہر کے تین بجنے والے ہیں، اس لئے ممکن ہے کہ یہ سطریں ہم سے بھوک لکھوا رہی ہو۔ اب پیٹ بھرنے کے بعد ہی لکھیں گے کہ قلم سے ندیدہ پن تو نہ ٹپکے!!

 

رہ شوق کے مسافر، تری آ گئی ہے منزل۔۔۔

 

مکّہ، یکم اپریل۔ ۵۰۔ ۱۰ بجے صبح

تین دن سے ہم کچھ نہیں لکھ سکے۔ یہاں مکّہ مکرّمہ پہنچ کر زیادہ تر وقت حرم شریف میں گزر رہا ہے۔ اب تک قلم کاغذ لانا بھول جا رہے تھے، آج لے کر آئے ہیں اور اس وقت باب السلام سے اندر داخل ہو کر مسعیٰ اور مطاف کے درمیان کے دالان میں بیٹھے ہیں۔ مسعیٰ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا راستہ ہے اور مطاف وہ دائرہ جس میں طواف کیا جاتا ہے اور جو اندرونی صحنِ حرم سے لے کر باہری پہلے دالان تک ہے۔ کعبۃ اللہ سامنے ہے۔ جی نہیں چاہتا کہ اس کے سامنے سے نظریں ہٹائی جائیں۔ حج کے سلسلے میں جو کتابیں ہماری نظر سے گزریں، سبھی میں احادیث درج ہیں کہ محض کعبۃ اللہ کو دیکھتے رہنے سے بھی ۲۰ رحمتیں نازل ہوتی ہیں، یہاں نماز پڑھنے والوں پر ۴۰ اور طواف کرنے والوں پر ساٹھ، یعنی کل ایک سو بیس (۱۲۰) رحمتیں۔ یہ گنتی اللہ میاں ہی جانیں کہ ان رحمتوں کے نزول کا مطلب کیا ہے۔ مگر ہم جو سامنے کعبۃ اللہ کو دیکھے جا رہے ہیں تو اسی گھر کے مالک کی قسم! ہم ان رحمتوں کے طلب گار نہیں ہیں۔ ہماری رو سیاہی کے باوجود خدائے رحیم ہم پر اتنی ہی، یا کچھ کم زیادہ، رحمتیں نازل کرے تو بات دوسری ہے۔ ہم کو اس سے غرض نہیں۔ یک گونہ بے خودی ہمیں دن رات چاہئے۔ یہ تو نگاہِ شوق کا معاملہ ہے۔ آخر اس سیاہ غلاف پوش عمارت میں کیا کشش ہے؟ غلاف کے نیچے جو پتھّر نظر آتے ہیں، وہ ایسے ہی ہیں جن سے ہر جگہ نہیں تو کم از کم حیدر آباد میں، مکان کی بنیاد میں گرینائٹ کے بلاکس کی چار دیواری بنائی جاتی ہے۔ سیاہ غلاف اور اس پر سنہری کام، اور جو آیات کشیدہ کی گئی ہیں، وہ خوب صورت ضرور ہیں، مگر پھر بھی ایسی مثالیں نایاب تو نہیں۔ تقریباً دو ٹن وزنی خالص سونے کا دروازہ ہے۔ مگر اس میں تموّل کی نشانی کے علاوہ کون سی ایسی خاصیت ہے، اکثر محلوں کے دروازے سونے کے ہوا کرتے تھے۔ ایک کونے میں ایک چاندی کا حلقہ ہے جس میں کسی سیمنٹ میں ایک پتھّر کے ۲۲ ٹکڑے جڑے ہیں۔ یہ سنگِ اسود ہے۔ ہاں، یہ ضرور کہیں نہیں ملے گا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ پتھّر جنّت الفردوس سے لایا گیا تھا۔ ہمارے صدرِ شعبہ، ہماری مراد مادر درس گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ ارضیات کے صدر مرحوم پروفیسر فخر الدین احمد سے ہے جو ہماری طالب علمی کے زمانے میں ۱۹۷۵ تک صدر رہے، ان کا خیال تھا کہ یہ ضرور کسی شہابِ ثاقب کا ٹکڑا ہوگا۔ کسی طرح اس کا کوئی ٹکڑا مل جائے تو خورد بین سے پرکھا جائے۔ ہمارے فخر الدین احمد تو اسی خواہش کو لئے سال گزشتہ ہی جنّت مکانی ہو گئے۔ مطلب یہ کہ اگر یہ پتھّر واقعی شہابِ ثاقب ہے بھی، تو ایسے لاکھوں ٹکڑے اس کرّہ ارض پر ابھی بھی موجود ہیں، کم از کم ہر ارضیاتی میوزیم میں۔

اچھّا۔ اب دین کی طرف بھی آئیے۔ مان لیا کہ حج فرض ہے، اور حج میں طوافِ کعبہ بھی فرض ہے۔ حضرت ابراہیم کے زمانے سے جب اس کی تعمیر ہوئی تھی، تب سے لوگ حج کرتے آئے ہیں۔ لیکن حج تو مخصوص دنوں میں ہے، صرف ان دنوں میں حج کی وجہ سے اس کی اہمیت ہونی چاہئے تھی۔ ہاں، نماز کے لئے اس کا استقبال ضروری ہے یعنی اس کی طرف رخ کرنا۔ حالاں کہ ہم میں سے بیش تر لوگ نماز کی نیّت کرتے وقت محض عادتاً کہتے جاتے ہیں ’منہ میرا کعبے شریف کی طرف‘ مگر اس سے تو صرف یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ؎ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ یعنی ساری دنیا کے مسلمانوں میں یکسانیت بلکہ یک جہتی کے احساس کے لئے کہ آپ کسی بھی نقطۂ ارض پر ہوں، نماز پڑھیں گے تو اسی پتھّر کی عمارت کی طرف۔

ان ساری حقیقتوں کو ایک ساتھ بھی ملا لیجئے اور محض دماغ سے سوچئے، دل کے دروازے کو مقفّل کر دیجئے اور سوچئے کہ کیا اس کا جواز ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ بات پاسبانِ عقل کو کبھی کبھی ہی نہیں، ہمیشہ تنہا چھوڑ دینے کی ہے۔ اس سیاہ غلاف پوش عمارت میں کیا کشش ہے کہ ہر ملک کے مسلمان… طرح طرح کے لباس… قسم قسم کے چہرے… سینکڑوں زبانیں… اب سامنے ہی دیکھئے، کئے جا رہے ہیں طواف کے بعد طواف۔ بس اسی کے لئے لوگ چلے آتے ہیں؎ شوق کھینچے لئے آتا ہے، چلا آتا ہوں۔

 

 

 

لوٹ پیچھے کی طرف….

 

قارئینِ کرام بے صبر نہ ہوں کہ ہم اچانک بنگلور حج کیمپ پہنچ کر ۲۸ مارچ کی دو پہر کے بعد سے اب تک کچھ نہ لکھ سکے اور اب تک خاموش رہے ہیں اور درمیان کا کچھ حال نہیں لکھا ہے۔ دراصل ابھی جب قلم اٹھایا ہے تو بے اختیار سامنے کے نظارے نے ہوش گم کر دئے اور ہم ’حال‘ میں آ کر حال کی باتیں کرنے لگے۔ لوٹ پیچھے کی طرف…

چنانچہ اب شروع سے شروع کرتے ہیں، یعنی جہاں سے بات ختم کی تھی۔ پہلے ایک ممکنہ غلطی یا غلط فہمی کا ذکر کر دیں۔ ریاست کرناٹک کے وزیرِ امورِ داخلہ اور اوقاف جناب روشن بیگ صاحب کے بارے میں۔ ہم نے ان کے لئے خادم الحجاج کا خطاب بنگلور کے ایک روزنامے میں پڑھا تھا۔ مگر حج کیمپ میں ہی ایک جگہ Bannerلگا دیکھا ’’جناب آر. روشن بیگ کو محسن الحجاج کا خطاب مبارک ہو‘‘ پنڈال میں بھی ایک صاحب نے تقریر میں یہی خطاب دیا گیا تھا جو واقعی صحیح بھی ہے۔ ظاہر ہے روشن صاحب خود کو چاہے خادم کہہ لیں مگر ان کی تکریم کے لئے تو یہ خطاب غلط ہے۔ اخبار میں چھپی بات کو ہم مستند سمجھے۔ اسی لئے اس اخبار کا نام بھی نہیں لکھ رہے ہیں جو کہ حج کیمپ میں مفت تقسیم ہوا تھا۔ اگر روشن بیگ صاحب ہی کبھی یہ تحریر پڑھ سکیں تو ہم بھی اس خطاب پر ان کو مبارک باد دیتے ہیں اور تہہِ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ واقعی عازمین حج کے لئے جو بنگلور حج کیمپ میں انتظامات کئے گئے تھے، ان میں ان کا بہت ہاتھ تھا اور اس کے لئے یقیناً شکرئیے کے مستحق ہیں۔

 

 

 

بنگلور حج کیمپ۔ پہلے دو دن

 

رسالہ ’شمع‘ دہلی میں، کم از کم جن دنوں میں ہماری نظروں سے یہ پرچہ گزرتا تھا، اس میں ایک دو افسانے ایسے ہوتے تھے جن کے سر نامے پر لکھا ہوتا تھا ’’مختصر مختصر کہانی، ایک ہی صفحے میں مکمل‘‘۔ پہلے تو ہم نے بھی یہی سوچا کہ ہم بھی بنگلور کیمپ کا احوال اسی طرح ختم کر دیں۔ اب دیکھئے کتنا طویل ہوتا ہے۔

اس دن دو پہر کو ہمارے تحریر کرنے کے بعد صابرہ رہائشی ہال میں آئیں تو ہم نے کھانے کے کوپن لئے اور کھانے کے لئے گئے۔ اب ڈائننگ ہال دیکھئے۔ اس میں چھ طویل میزیں تھیں، سامنے مردوں کے لئے اور اندرونی حصے میں عورتوں کے لئے۔ ہم نے گنیں تو نہیں، مگر ہر میز پر تقریباً ۲۵ کرسیاں ضرور ہوں گی یعنی تقریباً ۳۰۰ لوگوں کے لئے بیک وقت بیٹھنے کا انتظام۔ بنگلور سے روانہ ہونے والے ۲ ہزار عازمین کے لحاظ سے چھ نشستوں میں ہی کھانا ممکن تھا۔ یہی وجہ تھی قطار لگنے کی۔ ایک طرف ڈرم میں پینے کے پانی کے پاؤچ یا سیشٹ (Sachet) رکھے تھے۔ صاف شدہ پانی (منرل واٹر) کے مہر بند پیکٹ۔ میزوں پر بھی ہر پلیٹ کے پاس پانی کے پیکٹ۔ پہلے دن دوپہر کے کھانے میں پلیٹ میں گوشت کی بوٹیاں پہلے سے ہی رکھی تھیں، محدود مقدار میں اس لئے کہ سب کو مل سکیں، اگرچہ یہ مقدار محدود یعنی کم نہیں تھی۔ اس کے ساتھ سبزی کی بریانی اور رائتہ، جسے دکن میں دہی کی چٹنی کہا جاتا ہے، ذائقہ بھی اچھّا تھا۔ والنٹئرس بھی اچھی مدد کر رہے تھے۔ صابرہ تو کھا چکی تھیں، ہم اکیلے تھے۔ یوں بھی خواتین کا انتظام الگ تھا اس لئے ایک ہی میز پر ساتھ ساتھ تو نہ ہوتے۔ بہر حال ہمارے پاس حیدر آباد سے لایا ہوا کھانے کا ٹفن ساتھ تھا جس میں کچھ کباب اور ٹماٹر کا سالن باقی تھا، چنانچہ اس کو بھی ختم کیا گیا۔ ڈبّہ کھلنے میں مشکل ہو رہی تھی تو اس کے لئے بھی ایک والنٹیر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ آس پاس کے سات آٹھ حاجیوں (ہم بھی اب سب کو حاجی ہی لکھیں گے کہ یہاں سب کو ’حاجی‘ ہی کہا جا رہا ہے) کو بھی کباب اور سالن تقسیم کیا۔

کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کر کے ہم دونوں باہر نکلے۔ شام کی چائے پی۔ حج کیمپ کے باہر سڑک پر بھی بازار لگا تھا۔ ’حاجیوں‘ کی ضرورت کی اشیاء کا ہی۔ ہم کو بھی ایک بیلٹ لینا تھا جسے احرام کی کمر والی چادر پر لپیٹ سکیں تاکہ اسے بار بار سنبھالنا بھی نہ پڑے اور رقم یا ضروری کاغذات بھی بیلٹ کے خانوں میں محفوظ رہیں۔ چنانچہ ایسا ہی پاؤچ والا بیلٹ ہم نے خریدا۔ پھر اگرچہ ہم نے کچھ سامان پر نام لکھ رکھا تھا مگر مزید محفوظ بنانے کے لئے بھی اور آئندہ جو سامان لیا جائے، اس پر بھی نشانی رکھنے کے لئے کاغذی ٹیپ اور مارکر قلم خرید لیا۔ ہم نے پہلے سوٹ کیسوں پر صرف نام لکھا تھا اب دوسروں کا لکھا دیکھا تو حج کمیٹی کا ’کور نمبر‘ بھی ہر عدد پر لکھ دیا۔ اے پی۔ ۲/۳۳۱۔

عصر کی نماز پنڈال میں پڑھی جماعت سے ہی۔ وہاں ہی مغرب تک تقریر ہوتی رہی مناسکِ حج کے بارے میں۔ مغرب کے بعد ہم دونوں کچھ دیر باہر احاطے میں ہی رہے، کولڈ ڈرنکس پئے۔ وہاں چائے تو ضرور ’’بازار کے بھاؤ‘‘ یعنی ۲ روپئے کی مل رہی تھی، مگر کولڈ ڈرنکس نصف قیمت پر۔ فاؤنٹین ڈرنکس، یعنی مشین میں لگے نلوں سے جو گلاس بھر کر دئے جاتے ہیں، وہ محض ۳ روپئے، اور بوتلیں محض چار روپئے، کوئی سی بھی لیجئے۔ یہاں تک کہ ’بِسلیری منرل واٹر‘ یعنی معدنی پانی کی بوتلیں بھی ۱۰۔ ۱۲ روپئے کی جگہ صرف ۵ روپئے میں۔ عشاء بلکہ اگلے دن کی بھی ساری نمازیں ہم نے جماعت سے پنڈال میں ہی پڑھیں۔ پہلے دن ہی ایک کارروائی اور ہوئی تھی، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی بکنگ کی۔ اس کے لئے حج کمیٹی کا ’کنفرمیشن کارڈ‘ (Confirmation Card) اگرچہ جمعے کی نماز سے پہلے ہی دے دیا گیا تھا مگر کہا گیا تھا کہ ۳ بجے لے لیں ’بورڈنگ پاس‘۔ ۳ بجے معلوم ہوا کہ کارروائی مکمل نہیں ہوئی۔ ۴ بجے، پھر ۵ بجے، آخر سات بجے یہ حاصل ہو سکا۔ یعنی کنفرمیشن کارڈ پر ہی ہم دونوں کے لئے دو اعداد تحریر کر دئے گئے۔ ۲۰۷ اور ۲۰۸۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ جہاز کے سیٹ نمبرس ہیں۔ مگر ہمارے علم کے مطابق جہاز کے سیٹ نمبر بغیر حرفِ تہجّی کے نہیں ہوتے۔ یہ صرف نمبر شمار ہی ہوں گے۔

رات کو کھانے کے لئے قطار میں لگے تو آدھے گھنٹے بعد نمبر لگا۔ کھانے میں پلاؤ (یا بگھارے چاول) اور محض شوربے کے ساتھ کچھ مرغ کی بوٹیاں جو پلیٹ پر ’محدود‘ مقدار میں پہلے ہی رکھی تھیں (’محدود‘ کے اُلٹے کاما پر غور کریں، کم کے معنے نہ لئے جائیں)۔

٢٩  مارچ کی صبح فجر کی اذان سے پہلے آنکھ کھل گئی۔ ضروریات اور فجر کے بعد کچھ کتابوں کا سرسری مطالعہ کیا۔ جو مناسکِ حج کے بارے میں ہمارے ساتھ تھیں، پھر ناشتہ کیا۔ ناشتے میں جو ڈش تھی، اسے یہاں انگریزی میں ’لیمن رائس‘ (Lemon Rice) کہتے ہیں، اگرچہ تیلگو اور کنّڑ میں الگ الگ نام ہیں۔ ’پھلی ہارا‘ اور ’چتراننا‘ بالترتیب۔ اس کے ساتھ ناریل اور مونگ پھلی کی سفید چٹنی۔ اس جنوبی ہندی ناشتے کے بعد ہم نے باہر آ کر چائے خرید کر پی۔ اس کے بعد کچھ باتیں، کچھ آرام، کچھ مطالعہ، کچھ کیمپ کی سیر۔ کسی ایم ایل اے یا ایم پی نے بھی اس دن کیمپ کا معاینہ کیا۔ روشن بیگ بھی ایک چکّر لگا کر گئے۔ (اب انشاء اللہ بعد میں لکھیں گے۔)

 

 

 

کمزور ہے میری صحّت بھی…

۲  اپریل، ۳ بجے سہ پہر۔

 

… (ابھی کچھ وقت ملا ہے تو سوچا کہ رخشِ قلم کو کچھ کسرت کرائی جائے۔ باتیں پرانی ہوتی جا رہی ہیں۔ یادداشت متاثّر ہوتی جا رہی ہے۔ واقعات کی ترتیب صحیح ہے یا نہیں، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔)

۲۹ مارچ کی صبح ۱۱ بجے ہی حج کمیٹی کے دفتر کھلنے کا وقت تھا جب پاسپورٹ وغیرہ مل سکتے تھے۔ حسبِ معمول صبح ۸۔ ۷ بجے سے قطار میں لوگ لگنا شروع ہو گئے۔ ہم نے دیکھا کہ عورتوں کی قطار بڑی نہیں ہے۔ ہماری طبیعت ویسے بھی خراب ہی رہتی ہے، صبح کے وقت تو ہمیشہ۔ اس وقت بھی کھانسی اٹھ رہی تھی۔ اب درمیان میں اس موضوع پر بھی آپ کو کچھ بتا دیں۔ ہم دو تین سال سے دمے کے مریض ہیں اور دن میں دو تین بار سے لے کر کبھی کبھی ۶۔ ۵ بار تک کھانسی اور کبھی کبھی ’سانسی‘ کے دورے پڑتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو کسی دورے میں محض گلا خراب ہو جاتا ہے۔ اور پچھلے سال سے ہمارا مشاہدہ رہا ہے کہ ہماری پاؤچ کی سگریٹ رول کر کے پینے سے تقریباً آدھے گھنٹے میں طبیعت معمول پر آ جاتی ہے۔ ورنہ پھر پہلا دورہ ہی دن بھر جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ اُن پانچ چھ ماہ تک چلتا رہا تھا جب ہم نے سگریٹ مکمل طور پر چھوڑ دی تھی۔ اب بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسموکنگ سے حتی الامکان گریز بلکہ پرہیز کریں۔ قارئین گھبرائیں نہیں، ہم روزانہ لکھیں گے بھی تو اس کا ذکر زیادہ نہیں کریں گے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک ہماری طبیعت خراب رہی اور پھر فلاں وقت تک نارمل رہی۔ بہر حال طبیعت کی وجہ سے ہم نے پاسپورٹ وغیرہ کے حصول وغیرہ کی ذمّہ داری ہماری اہلیہ محترمہ، خدا ان کو نیک توفیق دے اور ان کی جائز خواہشات پوری کرے اور ان کی دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنوار دے، صابرہ کے سپرد کر دی۔ ۱۱ بجے اعلان کیا گیا کہ ائر لائنس نے ٹکٹ بنا کر نہیں بھیجے ہیں۔ پچھلے دِن گُڈ فرائی ڈے کی چھٹی کی وجہ سے دفتر میں کام نہیں ہوا تھا۔ آخر ڈھائی تین بجے پاسپورٹ اور جہاز کے ٹکٹ مل سکے۔ محترمہ بغیر تاخیر کے (اور بغیر کسی قطار کے) لے آئیں اگرچہ اس وقت ہماری طبیعت معمول پر تھی۔ ساتھ ہی ایر انڈیا کی طرف سے تحفتاً ایک ایک چھاتا (خود کار، Automatic) اور ایک ایک مختصر بیگ۔ حج کمیٹی کی طرف سے ایک کتاب ــ ’’حج گائڈ‘ اور ایک کتابچہ ’تلبیہ‘۔ ایک اور کتابچہ بنگلور کے ایک دینی ادارے کی طرف سے ہدیہ ’’مسائلِ حج و عمرہ‘‘ کے نام سے۔ ٹکٹ ملنے پر پتہ چلا ہماری واپسی کا ٹکٹ جدّہ سے بنگلور ۱۰  مئی کو ۵۰۔ ۱۵ یعنی شام ۳ بج کر ۵۰ منٹ کی اڑان سے ہے، یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ وقت کون سا ہے، جدّے یعنی سعودی عرب کا یا ہندوستان کا معیاری وقت۔ پاسپورٹ بھی مل گئے اور فی کس ۲۳۱۶ ریال کے ڈرافٹ بھی۔

اب یہاں یہ بات بے محل نہ ہوگی کہ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہم نے حج کمیٹی کی درخواست کے ساتھ پانچ ہزار روپئے تو بطور پیشگی (سعودی عرب میں رہائش کے انتظامات کے لئے) ہی ادا کئے تھے۔ (اس کے علاوہ ان کے سروِس چارجیز اور مکّہ میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لئے چندہ وغیرہ بھی شامل تھا)، اس کے بعد ۱۲ ہزار روپئے فی کس حج کمیٹی کے مرکزی دفتر، ممبئی ڈرافٹ کے ذریعے بھیجے تھے جو ہوائی ٹکٹ کے لئے تھے۔ اس کے بعد تیسری قسط میں ۴۶۰۰ ریال کی متبادل رقم تقریباً ۴۵ ہزار روپئے ممبئی بھیجی تھی۔ اسی ۴۶۰۰ ریال میں سے ہمارے سعودی عرب میں قیام کے دوران ہماری ضروری آمد و رفت کیے لئے بسوں کے کرائے، معلّم کی فیس اور مکّہ مدینہ عرفات اور منیٰ وغیرہ کے قیام کے اخراجات کے ۲۲۸۴ ریال منہٰی کر کے باقی ۲۳۱۶ ریال ہم کو دے دئے گئے تھے کہ حاجی صاحب! آپ کو اختیار ہے کہ آپ یہ رقم چار دن میں کھا پی کر ختم کر دیں یا ساری رقم کا سونا وغیرہ خرید لائیں، یا کچھ بھی نہ خرچ کریں، ساری رقم واپس ہی بچا لائیں۔ حج کیمپ، بنگلور میں ہی ایک بنک کاؤنٹر اور بھی تھا جہاں آپ ۳ ہزار تک کی رقم دے کر متبادل سعودی ریال یا امریکی ڈالر خرید سکتے تھے۔ قانونی طور پر زرِ مبادلہ، خیر، ہم کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔

صبح سے پاسپورٹ کے حصول کا چکّر ہی چل رہا تھا۔ اسی لئے ہم اس ذکر میں ان کے حصول کے وقت یعنی ٣ بجے تک کی چھلانگ لگا گئے۔ کھانے کا ذکر ہم نہیں چھوڑنے والے۔ دوپہر کو کھانے میں مرغ کی بوٹیاں تھیں اور سبزی کے پلاؤ کے ساتھ شوربہ۔ اور رات کو پھر آلو قیمہ اور پلاؤ یا بگھارے چاولوں کے ساتھ ’دالچہ‘ یعنی لوکی وغیرہ اور شاید گوشت اور ہڈّیوں کے ساتھ کھٹّی دال یا دال کا شوربہ (حیدرآبادی قارئین تو ’بگھارے چاول‘ اور ’دالچہ‘ کی اصطلاح سمجھ جائیں گے، شمالی ہند کے قارئین کے لئے ’اردو‘ میں ترجمہ کرنا پڑ رہا ہے)۔ خیر، یہ تو دو پہر کا ذکر کیا تو شام کے کھانے کا بھی کر دیا ورنہ ابھی ڈنر کھانے کی نوبت کہاں آئی ہے جس کے لئے ہم کو حکّام کے ساتھ کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ (ویسے اکبرؔ کی طرح قوم کا غم ہم کو بھی کم نہیں ہے۔)

 

 

 

داستان چپّل کی، لکھانی سے باٹا تک

 

ہم اتنے دن سے باٹا کی وہی پرانی چپّل پہنے جا رہے تھے جس کے انگوٹھے کی دو تین بار سلائی کروا چکے تھے۔ سوچا تھا سفر میں اسی کو چلنے دیں گے، مکّہ پہنچ کر اسے رخصت کر دیں گے۔ مگر ۲۹  کی صبح ہی یہ چپّل پھر ٹوٹ گئی، ہم کسی طرح شام تک گھسیٹتے رہے۔ حرم کے نیک ارادے سے ہم نے ’لکھانی‘ کی سب سے مہنگی والی ۵۸ روپئے کی کم وزن ہوائی چپّل خریدی تھی۔ سوچ رہے تھے کہ اسے ابھی نہ نکالیں، آس پاس گھوم کر دیکھتے رہے کہ کوئی موچی ہو تو وہی چپّل پھر سلوا لیں۔ مگر بنگلور کے ڈکنسن روڈ پر یا تو کوئی موچی بیٹھتا نہیں تھا، یا بیٹھتا بھی تھا تو ہمارا (یا پھر، خدا کرے، کسی اور کا) نام سن کر بھاگ لیا تھا۔ آخر یہ چپّل ہم نے حج کیمپ کے ہمارے نِمرہ ہال کی نذر کر دی۔ پاسپورٹ وغیرہ کے مطالعے کے بعد نہا دھو کر باہر نکلے تو یہی نئی چپّل پہن لی۔ اب کیوں کہ چپّل کی داستان لکھ رہے ہیں (اور کافی مدّت کے بعد جب بہت کچھ مزید واقع ہو چکا ہے) اس لئے یہ لکھ دیں کہ اس چپّل نے بھی ہمارا ساتھ محض ۲۵۔ ۲۶ گھنٹے ہی دیا کہ مکۃ المکرّمہ آنے کے بعد حرم کے پہلے ہی دورے میں داغِ مفارقت دے گئی۔

ہم نے مولانا عبدالکریم پاریکھ کی کتاب ’حج کا ساتھی‘ میں پڑھا تھا کہ ایسے موقعوں پر مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے اور نہ ضرورت ہے کہ آپ رقم خرچ کر کے بار بار چپّل خریدتے رہیں۔ حرم میں جب چپّلیں زیادہ جمع ہو جاتی ہیں یا ان کا ڈھیر راستے میں حائل ہو جاتا ہے تو حرم کے صفائی کرنے والے ملازمین دروازوں کے باہر یا کوڑے دانوں میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ کو بھی چپّل نہ ملے تو جہاں لا وارث چپّلوں کے ڈھیر نظر آئیں، آپ کوئی بھی چپّل نکال کر پہن لیجئے۔ ہمارے ساتھ جو مظہر صاحب تھے، انھوں نے بھی یہی مشورہ دیا بلکہ ایک ڈھیر کی طرف اشارہ بھی کیا۔ ہم خوش ہوئے کہ چلو اس بہانے ہندوستانی چپّل کے بدلے میں کوئی عمدہ، باہر کی، مطلب ’اِمپورٹیڈ‘ چپّل مل جائے گی چین، جاپان یا سنگاپور وغیرہ کی۔ مگر اس ڈھیر میں دیکھا تو کوئی جوڑا مکمل نہ تھا جو ہمارے پیروں میں آتا۔ لے دے کر ایک جوڑ چپّل ایسی تھی جسے ’زوجین‘ کہا جا سکتا تھا۔ بلکہ زوجین ہی تھیں یہ چپّلیں۔ اس وقت تو ہم نے اندھیرے میں بغیر دیکھے ہی پہن لیں، بعد میں قیام گاہ میں آ کر دیکھا تو یہ چپلیں باٹا کی تھیں۔

(پس تحریر: لکھتے وقت ہم کو غلط فہمی تھی کہ باٹا کی چپّلیں صرف ہندوستانی ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں پاکستانیوں کو بھی باٹا کی چپّلیں پہنے دیکھا اور جدّہ میں باٹا کی کچھ چپّلوں کے ڈبّوں پر ’میڈ ان سایپرس‘ (Made in Cyprus) بھی لکھا دیکھا۔ چنانچہ پتہ چلا کہ باٹا کی چپّلوں پر ہندوستان کا ہی ٹھیکہ (حیدرآبادی زبان میں ’گتّہ‘) نہیں ہے۔ اس وقت چپّل پاکر ہم کو مایوسی ہوئی تھی۔ بعد میں خوش بھی ہو لئے کہ ممکن ہے کہ یہ چپّل قبرص یا کہیں اور کی ہو۔ بہر حال یہ چپّل بھی، اگرچہ سلامت تھی اور پورے قیام کے دوران ہمارا ساتھ نبھاتی رہی، مگر ہم وطن واپس آتے وقت مکّے کی عمارت میں چھوڑ آئے، جان بوجھ کر۔)

 

 

ہم محرم ہو گئے

 

ہاں، یہ لکھنا بھول گئے کہ پاسپورٹ وغیرہ کے حصول اور ساڑھے چار پانچ بجے نہانے کے دوران ہی کلوک روم سے ہمارے سوٹ کیس وغیرہ بھی نکال کر کسٹم اور امیگریشن اور سامان کے ناپ تول وغیرہ کے جھگڑوں سے بھی فارغ ہو چکے تھے۔ غسل بھی عصر سے قبل ہی کر لیا تھا مگر احرام نہیں باندھا تھا۔ یوں ہی وقت ضائع کرتے رہے۔ مغرب سے پہلے ہی پنڈال میں میں اعلان ہوا کہ رات کی فلائٹ سے جانے والے عشاء سے قبل ہی کھانے سے فارغ ہو لیں کہ عشاء کے فوراً بعد ایر پورٹ کے لئے روانگی ممکن ہو سکے۔ یوں ٹکٹ کے حساب سے ہماری فلائٹ کی تاریخ ۳۰ مارچ مگر وقت ۰۵۔ ۰۰ تھا یعنی ۳۰ مارچ شروع ہوتے ہی۔ اس لئے اسے ۲۹ مارچ کی رات کہا جا رہا تھا۔ ہم نے بھی یہی کیا کہ عشاء سے قبل ہی کھانا کھا لیا۔ اس کا ذکر پہلے ہی کر چکے ہیں۔ پھر عشاء پڑھ کر آئے اور ضروریات سے فارغ ہو کر وضو کر کے احرام باندھا۔ حیدرآباد سے ہی خریدی ہوئی ’ہرک‘ اور بنگلور سے خریدے بیلٹ کے ساتھ۔ احرام میں ڈھائی میٹر اوپر اوڑھنے اور پونے تین میٹر نیچے لپیٹنے کی بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں جس میں گرہ لگانا یا پن ٹانکنا نا جائز ہے۔ البتّہ بیلٹ لگایا جا سکتا ہے۔ احرام کا یہ کپڑا حیدر آباد میں دھو کر بھی چلے تھے کہ کسی کتاب میں لکھا تھا کہ بغیر دھلا اور کلف لگا احرام بار بار پھسلتا ہے۔ ہمارا تجربہ تو یہ ہوا کہ ہمارا دھلا ہوا احرام بھی رکوع اور سجود میں ضرور ڈھلک جاتا تھا۔ احرام باندھ کر دو رکعتیں واجب الاحرام نماز بھی پڑھیں۔ ادھر ہماری محترمہ نماز سے فارغ ہو کر ہال بھر کی عورتوں کے سروں پر ’احرام‘ باندھ رہی تھیں۔ ویسے عورت کا احرام صرف یہ ہے کہ چہرے پر کپڑا نہ لگے جو کہ مردوں کے احرام میں بھی شرط ہے۔ عام طور پر ایک تکونا کپڑا عورتوں کے ’احرام‘ کے غلط نام (Misnomer) سے مشہور ہے جو سر کو باندھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عورت کا سر اور بال تو در اصل اس کے ستر میں شامل ہیں چنانچہ یہ کپڑا احرام نہیں بلکہ لباس اور حجاب یعنی پردے کی پابندی ہے۔ عام طور پر برِّ صغیر کی عورتیں سر کے ڈھکنے کا خیال نہیں رکھتیں، اس کا خیال رکھنے کے لئے لوگوں نے اسے احرام کا نام دے دیا ہے کہ کم از کم حج کے دوران اس کی پابندی ہو سکے۔ احرام کی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ احرام کی حالت میں کنگھا کرنا جائز نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ بال (سر کے اور مردوں کے چہرے کے بھی) نہ ٹوٹیں۔ تو اس ’احرام‘ سے عورتوں کے بالوں کی حفاظت ضرور ہو جاتی ہے۔ احتیاط یہ ضروری ہے کہ سر پر یہ کپڑا اس طرح باندھیں کہ نہ بال ہی نظر آئیں، نہ چہرے یا پیشانی کے کسی حصے کو کپڑا لگے کہ اس کی بھی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ممانعت ہے۔ یہ کپڑا بالکل بالوں کی لکیر (Hair Line) کے ساتھ ساتھ باندھا جائے۔ دوسروں کے ’احرام‘ تو ہماری محترمہ باندھتی رہیں مگر خود ان کے احرام میں چہرے پر کپڑا لگنے پر ہم ہی ان کے سر کا کپڑا پیچھے سرکاتے رہے اور یہ جھنجھلاتی رہیں۔ خیر، خدا ان کا احرام قبول کرے مگر ہم سے بھی بھولے سے دو چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہو گئیں احرام کی حالت میں۔ بے خیالی میں ہوائی جہاز میں سامنے کی سیٹ کی پشت پر پیشانی ٹیک دی جس پر کپڑے کا غلاف لگا تھا۔ اگرچہ جلد ہی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اسی طرح صبح ہوتے ہوتے یعنی جدّے کے قریب ہم نے گردن کے پاس کھجانے کی کوشش کی تو میل نکلنے لگا۔ یہ بھی کارِ غلط یعنی احرام کے منافی تھا۔ یوں بے خیالی میں یہ غلطیاں ہوئیں پھر بھی احتیاط کے طور پر ’دم‘ دے دیں گے یعنی ایک ایک مٹھّی اناج کا صدقہ، جو اب تک تو نہیں دے سکے ہیں۔

بہر حال احرام باندھ کر اور اپنا سامان لے کر ہم لوگ چلے۔ کلوک روم میں رکھے سوٹ کیس اور ایک بڑا بیگ تو سہ پہر کو ہی ایر انڈیا کے لگیج کاؤنٹر پر دے دئے تھے اور یہ شاید پانچ بجے تک ایر پورٹ پر چلے بھی گئے تھے۔ یہ ایسے پتہ چلا کہ ساری شام پنڈال کے مائک پر اس قسم کے اعلانات ہوتے رہے کہ فلاں صاحب کے سامان میں کچھ قابلِ اعتراض اشیاء کا پتہ چلا ہے اور وہ لوگ پہلے ہی ایرپورٹ پہنچ کر اس کا تدارک کریں۔ یعنی سب کے سامان کی جانچ بھی ہو چکی تھی۔ ہم اس پکار سے بچے رہے کہ خود ہمارے علاوہ قابلِ اعتراض کوئی شے ہمارے پاس تھی ہی نہیں۔

احرام باندھ کر پنڈال کی طرف آئے تو ہم کو کلوک روم کے سامنے دو رویہ کرسیوں پر بٹھایا گیا۔ اس راستے کے دونوں طرف ہم کو رخصت کرنے والے والنٹیرس اور بنگلور کے مقامی لوگ تھے جن میں سے بیشتر تو اپنے کسی رشتے دار کو رخصت کرنے ہی آئے ہوں گے، دوسرے عازمین کو بھی رخصت کرنے کھڑے ہو گئے تھے۔ ایک صاحب نے سب کو ایک ایک پیکٹ بھی تحفتاً دیا۔ بعد میں کھول کر دیکھا تو اس میں پھل تھے۔۔۔ کیلے، سنترے اور سیب۔ اتفاق سے اُس وقت کوئی اہم شخصیت ہم کو رخصت کرنے کے لئے موجود نہیں تھی۔ روشن بیگ صاحب پہلے ہی جا چکے تھے شاید ابتدا میں ہی کچھ لوگوں کو رخصت کر کے۔ تین بسوں کے روانہ ہونے کے بعد ہمارا نمبر لگا۔ ایک مقامی مولانا (ان کا نام پوچھنا چاہئے تھا کہ آپ کو بتا سکتے) تلبیہ پڑھاتے رہے اور سفر کی دعائیں بھی۔ تلبیہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا۔ چلئے یہ بھی آپ کو بتا دیں۔

’’لَبّیک اَلَلٰھُمَّ لَبَّیک۔ لَبَّیک لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک۔ اِنَّ اْلحَمْدَ وَ الْنِعمَتَہْ لَکَ وَالْمُلْکْ۔ لاَ شَرِیکَ لَک۔‘‘

بس کے باہر بھی مقامی مسلمانوں کا جمِّ غفیر رخصت کرنے کے لئے موجود تھا۔ نہ جانے کتنے لوگوں نے دکنی آداب کے مطابق کہا کہ دعاؤں میں انھیں یاد رکھیں۔ ہم نے انشاء اللہ کہا اور واقعی یہاں آ کر ہم کسی کو بھولے نہیں ہیں۔ حج کمیٹی، حج کیمپ بنگلور کے کارکنان، روشن بیگ اور جن جن لوگوں نے بنگلور میں دعائیں مانگنے کا کہا، ان سب کی جائز دعائیں قبول کرنے کے لئے ہم نے ضرور دعائیں کی ہیں، حطیم میں بھی۔

 

 

 

بنگلور۔ جدّہ پرواز نمبر ۷۱۱۱

 

آخر سوا گیارہ بجے ایر پورٹ پہنچے۔ ۵۔ ۱۲ پر فلائٹ تھی مگر ۳۵۔ ۱۱ پر ہی جہاز کے اندر لے جایا گیا۔ حالاں کہ اعلان کیا گیا تھا کہ اب فلائٹ کا وقت ۳۵۔ ۱۲ کر دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے بنگلور ایرپورٹ کے قوی ہیکل مچھّروں سے محفوظ رہے کہ تاخیر سے ایر پورٹ پہنچے اور جلد ہی جہاز کے اندر۔ مگر یہ مچھّر یہاں بھی داخل ہو چکے تھے۔ فلائٹ کی روانگی سے کچھ قبل جہاز میں مچھّر مار دوا چھڑکی گئی۔ اگرچہ بعد میں بھی کچھ مچھّر نظر آتے رہے مگر ان کی تکلیف زیادہ محسوس نہیں ہوئی، شاید اس دوران ان کے ڈنک کی تیزی غائب ہو چکی تھی۔ ایسی کوئی دوا انسانوں کے لئے بھی ہوتی تو کتنا اچھّا ہوتا۔

جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا اور اس کا نام ’’سمُدر سمراٹ‘‘ تھا۔ معلوم نہیں ہوائی جہاز کا نام سمندر سے موسوم کیوں؟ دونوں طرف ۳۔ ۳ سیٹیں تھیں اور درمیان میں ۴۔ ۴، یعنی ایک قطار میں ۱۰ نشستیں اور شاید پورے جہاز میں ایسی ۴۶ قطاریں۔ خود ہماری قطار کا نمبر ۳۷ تھا۔

اس احوال کے مطابق اب ۲۹  مارچ ختم ہو رہی ہے اور جہاز میں داخلے اور روانگی کے بعد ۳۰  مارچ شروع ہو چکی ہے مگر حال کی بات یہ ہے کہ مدینے کے لئے چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ اِس لئے اب ساڑھے چھ بجے شام لکھنا ختم کرتے ہیں، بعد میں ہی لکھیں گے۔

 

 

 

 

تحذیر۔ توقّف متکرّر

 

مکّہ۔ ۳ اپریل، صبح ۲۰۔ ۶ بجے

 

یہاں مکّے کی بسوں کی پشت پر لکھا ہوتا ہے ’تحذیر۔ توقّف متکرّر‘ (عربی میں) اور اس کا ترجمہ انگریزی میں لکھتے ہیں (Warning, Frequent stoppages) یہی حال ہمارا بلکہ ہمارے رخشِ قلم کا ہے۔ حال کی اتنی بات لکھ دیں کہ ہنوز مکّے میں ہیں۔ ایک بات ابھی اس لفظ پر یاد آئی ہے تو لکھ ہی دیں کہ تحریراً محفوظ ہو جائے۔ ہمارے وطنِ مالوف (اندور، مدھیہ پردیش، ویسے ہماری پیدایش اور خاص وطن ریاست جاؤرہ، ضلع رتلام، مدھیہ پردیش ہے) میں، جہاں ہم نے ہائر سیکنڈری کا امتحان ۱۹۶۶.ء میں پاس کیا تھا، وہاں اسلامیہ کریمیہ اسکول میں (جو بعد میں ڈگری کالج ہو گیا تھا جب ہم دوبارہ اس ادارے میں آٹھویں جماعت میں داخل ہوئے تھے)، جب ہم چوتھی پانچویں کلاس کے طالبِ علم تھے تو ہمارے اردو کے استاد کامِل صاحب تھے۔ بعد میں یہ بزرگ مرحوم ہو گئے، والدِ مرحوم کے دوست بھی تھے، اگلے وقتوں کے سخن فہم حضرات میں سے تھے، بہر حال چوتھی کلاس میں ہنوز ہم اس لفظ ’ہنوز‘ سے واقف نہیں تھے جب تک کہ خدا بخشے کامِل صاحب نے کسی سبق کے معانی میں ’اب تک‘ کے معنی نہ لکھا دئے۔ مزدوری کے معنی ’اجرت‘ اور نوکر کے معنی ’خادِم‘ بھی ان سے ہی سیکھے۔ اس پر ہم کو فخر ہونے لگا تھا کہ ہم ’اب تک‘ اور ’مزدوری‘ جیسے ’مشکل‘ الفاظ عام بات چیت میں استعمال کرنے کی حد تک عالِم فاضل بن گئے تھے۔ بہر حال اب تک بھی ہم جب ’اب تک‘ یا ’ہنوز‘ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، مرحوم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

ہم ابھی حرم میں فجر پڑھ کر لوٹے ہیں اور حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہو کر بیٹھے ہیں، مگر اب پھر ماضی کی طرف لوٹتے ہیں کہ ابھی تو ہم جہاز سے اترے ہی نہیں ہیں، قارئین کو یہی تو معلوم ہے!۔ بار بار توقُّف ہوتا جا رہا ہے اسی لئے قارئین کو تحذیر دیتے جا رہے ہیں۔

 

 

پرواز جاری

 

جہاز ہندوستانی وقت کے مطابق سوا بارہ بجے (اور نہ جانے کہاں کے وقت کے مطابق ۲۰ منٹ قبل ہی۔ کہ وقت ۳۰ مارچ کے ابتدائی اوقات میں ۳۵۔ ۱۲ بجے مقرّر کر دیا گیا تھا، اور ہندوستانی معیاری وقت تو ہمیشہ وقت کے بعد ہوتا ہے) اڑا۔ سامنے ہی اسکرین پر پہلے ایمرجینسی کی ہدایات دکھائی گئیں، انگریزی اور ہندی میں۔ جہاز اٹھتے وقت یعنی Take offکے وقت اور اترتے وقت، یعنی landing کے وقت کیا کچھ کیا جائے، سیٹ بیلٹ باندھنے کی ترکیب، استفراق کا خدشہ ہو تو اس کے لئے تھیلیاں سامنے رکھی ہیں، آکسیجن کی کمی ہونے پر آکسیجن ماسک (Oxygen Mask) کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ خدا نخواستہ اگر جہاز سمندر میں گِر جائے تو سیٹ کے نیچے کہاں ’لائف جیکٹ‘ رکھی ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جائے، سیٹ پر لگے بٹنوں کی تفصیل تو چھوڑئیے، ٹائلیٹ کی ترکیبِ استعمال بھی دکھائی گئی۔ ٹافیاں دی گئیں، ٹھنڈا پانی اور مشروب دئے گئے۔ بنگلور کو پہلی بار آسمان سے دیکھا۔ بلکہ کسی بھی شہر کو رات کے وقت (فیضؔ کی یاد آ گئی؎ یہاں سے شہر کو دیکھو…) اس سے پہلے جب پروازوں کا موقعہ ملا تھا تو دن میں ہی سفر کیا تھا۔ راتوں کو ہر شہر عجیب منظر پیش کرتا ہے، سڑکوں پر قطار اندر قطار ایک سیدھ میں لگی ہوئی سٹریٹ لائٹیں۔ نیان لائٹیں۔ سارا شہر جگ مگ جگ مگ۔

ایر ہوسٹس نے ناشتہ ’سرو‘ (serve) کیا، نہ جانے اسے کس وقت کا کھانا کہا جائے۔ ناشتہ کیا، باقاعدہ کھانا ہی تھا۔ اعلان بھی کیا گیا کہ یہ کھانا حج کمیٹی کا منظور شدہ ہے اس لئے حجاجِ کرام ہچکچائیں نہیں کہ اس میں بریانی بھی تھی۔ پوریاں تھیں، اچار تھا، دہی بھی تھی۔ رات کا کھانا، ڈنر، تو ہم کھا ہی چکے تھے اور پیٹ بھرا تھا، پھر بھی بریانی کی کچھ بوٹیاں چن کر چُگ ہی لیں۔ دہی میں شکر ڈال کر کھا لی۔ باقی یوں ہی بعد کے لئے بچا کر رکھ لیا۔

ٹیک آف کے تھوڑی دیر بعد ہی مائک سے آواز آئی ’’میں روشن بیگ آپ سے مخاطب ہوں…‘‘ یہ ریکارڈ کیا ہوا پیغام تھا۔ تمام حجاجِ کرام کو مبارک باد کے ساتھ اور کرناٹک حج کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے بنگلور حج کیمپ میں اگر کچھ کوتاہی ہو گئی ہو تو اس کی معذرت کے لئے۔ اور یہ کہ ان کو اور حج کمیٹی کے دوسرے ممبران کو دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔ خدا روشن بیگ کو اجر عطا کرے، انھوں نے جہاز کی روانگی کے بعد بھی حاجیوں کو یاد رکھا۔

ہم کو بسوں کی یا جہاز کی سیٹوں پر مشکل ہی سے نیند آتی ہے، پھر بھی کوئی آدھے گھنٹے کے لئے آنکھ لگ ہی گئی جس میں وہ ممکنہ مانعِ احرام حرکت ہو گئی جس کا ذکر کر ہی چکے ہیں۔

رات کے اندھیرے میں جہاز کی کھڑکیوں سے سمندر تو نظر نہیں آیا البتّہ تھوڑی تھوڑی دور تاریکی میں روشنیوں کے جزیرے ضرور دکھائی دئے جو بحرِ عرب کے جزیرے ہی ہوں گے۔ رات ساڑھے تین بجے (ہندوستانی وقت) ہم طوفان سے بھی گزرے۔ ہر طرف بجلیاں چمک رہی تھیں۔ اعلان کیا گیا کہ سیٹ بیلٹس باندھ لیں خطرے کے پیش نظر۔ عام طور پر ہم اس ہدایت پر ہر وقت ہی عمل کئے رہتے ہیں کہ سیٹ بیلٹ ٹیک آف کے بعد بھی کھولتے ہی نہیں۔ ضروریات کے لئے اٹھتے بھی ہیں تو واپس آ کر احتیاطاً فوراً پھر باندھ لیتے ہیں کہ بوقتِ ضرورت کام آئے۔

صبح ۶ بجے، مگر باہر تاریکی ہی تھی، ہماری گھڑیوں میں چھ بجے تھے ہندوستانی وقت کے مطابق، باہر ایک بڑے شہر کی روشنیاں نظر آئیں۔ یہی جدّہ تھا۔ وہی جگمگاتا ہوا منظر جو کبھی دائیں طرف ہو جاتا کبھی بائیں طرف۔ اسی وقت ائر لائنس کی طرف سے ایک اور پالی تھین بیگ دیا گیا جس پر اردو میں بھی لکھا تھا ’جدّہ ایر پورٹ پر استعمال کے لئے‘۔ اس میں منرل واٹر (Mineral Water) کی بوتل کے علاوہ دو کھانے کے پیکٹ تھے۔ دونوں میں کھیرے اور ٹماٹر کے سینڈوچ، کباب، نمکین کاجو کے پیکٹ، مٹھائی کے دو ٹکڑے اور ایک پنیر سینڈوچ بھی۔ کھانا اتنا تھا (اس وقت دئے گئے ناشتے کے علاوہ رات کا بھی کھانا ساتھ تھا) کہ جدّہ ایرپورٹ پر دو بار تھوڑا تھوڑا ناشتہ کرنے کے بعد دو پہر تک کام آیا۔ پھر وہ بنگلور میں کسی صاحبِ خیر کے دئے پھل بھی تھے۔ بہر حال۔

۳۵۔ ۶ پر اعلان کیا گیا کہ ہم جدّہ ایر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق صبح کے چار بج کر پانچ منٹ ہوئے ہیں اور باہر کا درجۂ حرارت ۲۰ ڈگری سیلسیس ہے۔

حج ٹرمنل پر جہاز رکا۔ یہاں دوسرے جہازوں کے اترنے کی اجازت نہیں ہے۔ صرف حج کے موقعہ پر ہی ٹرمنل تین ماہ کے لئے کام کرتا ہے۔ جہاز کی کھڑکیوں سے ہی کئی دوسرے جہاز نظر آئے۔ پی۔ آئی۔ اے۔ اور سیرین ایر لائنس کے نام تو ہم نے سن رکھے تھے، مگر دوسرے کئی جہازوں پر لکھے نام ہمارے لئے انجانے ہی تھے۔

جہاز پر سیڑھیاں لگانے کی بجائے کچھ ایسا انتظام کیا گیا تھا کہ ہم سیدھے ہوائی جہاز کے دروازے سے نکل کر ایر پورٹ کی عمارت میں اس طرح داخل ہو گئے کہ جہاز نا شناس کو یہ بھی نہ معلوم ہوتا کہ جہاز کب ختم ہو گیا اور عمارت کہاں شروع۔ عمارت سے ملانے والا یہ ائر کنڈیشنڈ کاریڈور غالباً خود کار تھا جسے کسی سوئچ سے سرکا کر جہاز کے دروازے سے بالکل ملا دیا گیا تھا۔

صبح ۵ بجے کے قریب (اور یہ سعودی وقت ہے، اب ظاہر ہے ہم نے گھڑیاں اترتے وقت ہی ڈھائی گھنٹے پیچھے کر لی تھیں جب جہاز میں اعلان کیا گیا تھا کہ جدّہ میں یہ وقت ہے۔ اب آئندہ سعودی وقت ہی لکھیں گے)۔ ایر پورٹ میں داخل ہوئے۔ پہلے ہال میں پاسپورٹ چیک کئے گئے۔ اسی ہال میں ضروریات کے کمرے بھی تھے۔ یہاں ہی کافی دیر ہو گئی۔ اس ہال میں ۱۱ زبانوں میں حاجیوں کو خوش آمدید کہا گیا تھا۔ عربی میں اہلاً و سہلاً کے علاوہ بنگلہ میں بھی کہ یہ ہندوستان کے علاوہ بنگلا دیش کی بھی زبان ہے۔ ’خوش آمدید‘ تو اردو اور فارسی دونوں میں مشترک ہو گیا۔ ہندی میں البتّہ نہیں تھا۔ انگریزی کے علاوہ اور بھی کئی زبانوں مگر رومن رسم الخط میں، غالباً انڈونیشی اور ملیشین۔

پھر درمیانے ہال میں لے جائے گئے۔ وہاں کسٹم کی ابتدائی چیکنگ ہوئی۔ پاسپورٹ پر کچھ مہریں ثبت کی گئیں، اس کے بعد اس سے ملحق تیسرے ہال میں آئے۔ یہاں جہاز سے اتارا گیا ہمارا سارا سامان موجود تھا۔ یہی در اصل کسٹم کی چیکنگ تھی کہ ہم ساتھ میں۔ سیاسی کتابچے، غیر اسلامی یا فحش لٹریچر اور تصاویر، خشخاش یا اچار قسم کی اشیاء تو نہیں لائے ہیں۔ کسٹم کے ملازمین ہر سامان کھول کھول کر دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سوٹ کیس وغیرہ اوپر کے کپڑے وغیرہ ہٹا کر نیچے بھی اور ادھر ادھر کی چھوٹی موٹی اشیاء بھی چھو کر یا اٹھا کر دیکھی گئیں۔

(توقّف متکرّر۔ ساڑھے نو بجے صبح) ایک چھُری خاص طور پر دیکھی گئی کہ قانونی سائز سے زیادہ بڑی تو نہیں، پھر منظوری دے دی گئی۔ اس سارے کام میں نو بج گئے۔ ہم سامان لے کر باہر آئے تو فوراً سامان ٹرالیوں میں رکھ کر جانے کہاں لے جایا گیا، یہ ہم کو فوراً معلوم نہ ہو سکا۔ باہر کی مزید قطاروں میں ہم کو لگنا پڑا۔ پاسپورٹ پر مختلف مہریں لگیں، اسٹکرس لگائے گئے، بس کے ٹکٹوں کی ایک کتاب پِن کی گئی.. یہ ۴۰۵ ریال کی قیمت کے ٹکٹ تھے.. جدّہ سے مکّہ، مکّہ سے مدینہ، واپس مکّہ اور مکّے سے جدّہ واپسی کے۔ اور حج کے دوران مکّے سے، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ کی آمد و رفت کے بھی۔ اُس کے بعد ہم کو باہر ہندوستان کے حصّے میں لایا گیا جہاں قونصل کا کاؤنٹر تھا اور جگہ جگہ ترنگے لگے تھے۔ یہاں ہی ہمارا سامان موجود تھا۔

اب جا کر مہلت ملی کہ ایرپورٹ کی عمارت دیکھی جائے۔ بے شمار خیموں کے نمونے کی چھت ہے جو محض ستونوں پر قایم ہے۔ دیواریں نہیں ہیں، سِوائے اُس حِصّے کے جہاں باقاعدہ عمارت کی ضرورت تھی، یعنی ایرپورٹ، کسٹم یا ایر لائنس کے آفس، بنک وغیرہ، وہاں ایک منزلہ عمارتیں اس اونچی چھت کے تلے تعمیر کی گئی تھیں یا اس سے باہر۔

ہم باہر کی طرف آئے تو مظہر بھائی مل گئے۔ ان سے بنگلور میں ہمارا تعارف ہوا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ محبوب نگر (آندھراپردیش، حیدرآباد سے ۱۰۰ کلو میٹر دور ایک ضلع اور شہر) کے ہی ہیں اور ہمارے سسر مرحوم مولوی سیّد شمس الدّین کے شاگرد تھے اور صابرہ سے اچھّی طرح واقف تھے کہ اُن کے پڑوسی رہ چکے تھے (یہاں یہ بات بے محل نہ ہوگی کہ ہماری محترمہ کا کچھ پس منظر بھی دے دیا جائے۔ ان کا خاندان ویسے یو۔پی۔ کا ہے اور ان کے والد ہی نظام کے زمانے میں الہ آباد ضلعے سے ہجرت کر کے دکن آئے تھے اور محبوب نگر کے ملٹی پرپز ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر رِٹائر ہوئے، یا جیسے حیدرآباد میں کہتے ہیں کہ وظیفہ یاب ہوئے)۔ چنانچہ وہاں صابرہ کی ان سے اور بھابھی سے ملاقات ہوئی اور تب سے ہم لوگ ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

ہندوستانی قونصل کے حصّے میں پاسپورٹس پر مزید اسٹکرس لگائے گئے تو معلوم ہوا کہ ہمارے معلّم کا نمبر ۵۳ ہے جسے مکتب نمبر کہتے ہیں اور مکّہ میں ہماری رہائشی عمارت کا نمبر ۴۶۸ (عربی کے حساب سے عمارت رقم ۴۶۸) یہ تو ہم کو معلوم تھا کہ عربی میں ’۴‘ کو ’٤‘ اور ’۷‘ کو ’٧‘ لکھا جاتا ہے مگر ’۲‘ اور ’۶‘ کو بالترتیب ’٢‘ اور ’٦‘ پہلی بار دیکھا۔ کمرہ نمبر بھی لکھا تھا۔ ۲۰۱ (عرفہ رقم۲۰۱)۔

پہلے بنک جا کر ڈرافٹ ان کیش (Encash) کرایا اور سعودی ریال حاصل کئے۔ پھر وہاں ہی فرش بلکہ قالین پر بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ پھر ہم چائے خرید کر لائے، پہلی بار سعودی رقم کا استعمال کر کے، اور چاروں نے پی، پھر بس کے لئے قطار میں بٹھا دئے گئے۔ معلّم کے آدمیوں نے وہاں سے حرکت کرنے نہ دی حالاں کہ اب دم لینے کے بعد صابرہ کا ارادہ تھا کہ جدّہ میں ہی ان کے بہنوئی کے چھوٹے بھائی باقر رہتے ہیں، اُن کو فون کیا جائے۔ سامنے ہی فون بوتھ نظر آ رہے تھے مگر ان لوگوں نے اجازت نہ دی کہ ابھی بس آنے والی ہے۔ حالانکہ اس کے لئے تقریباً ۱۰ بجے تک انتظار کرنا پڑا۔ اور مسافروں کے بیٹھنے اور بس کی چھت پر سامان رکھنے تک پونے گیارہ بج گئے تب ہی مکّے کے لئے روانگی ممکن ہو سکی۔

 

 

 

ہم ’نقل‘ کئے گئے

 

یہ بس نمبر ۷۶۸ تھی جس پر لکھا تھا ’’شرکۃ امّ القریٰ بنقل الحجاج‘‘۔ امّ القریٰ.. شہروں کی ماں .. یہ تو مکّے کی عرفیت ہے۔ شرکۃ (جسے بول چال میں شِرکہ کہتے ہیں، یہ بعد میں معلوم ہوا) کا مطلب کارپوریشن یا کمپنی ہوگا اور حجاج کی نقل مطلب حمل و نقل۔ چنانچہ ان بسوں میں جدّہ ایرپورٹ سے ہمارا نقل (مکانی) ہوا۔ اب ہم بھی فخر سے کہ سکتے ہیں کہ ہم نقل کئے گئے۔ ورنہ کس مصنف نے ہماری تحریر کو نقل (Quote) کرنے کا خطرہ مول لیا ہے۔ ویسے ہم کو یاد ہے کہ دو چار نقّاد حضرات نے، جن سے ہمارے تعلّقات بھی تھے۔۔۔ جیسے برادرم عمیق حنفی مرحوم، ہمارے اشعار کی ضرور مثالیں دی ہیں۔ بشیر بدر نے بھی جدید غزل پر اپنی تھیسس میں ہمیں یاد رکھا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عنوان چشتی نے ہماری دوہے والی غزل کے اشعار ضرور اپنے مضمون (اور اپنی ڈاکٹریٹ کی تھیسس) میں نقل کئے تھے، وہی غزل جو آپ نے تو نہ سنی ہوگی ؎

ڈھونڈھیں گے پھر ہم کہاں، ساگر ساگر پھول
اگلے برس جانے کہاں جائے گا بہہ کر پھول
اور ؎

پھینکے بھی تو اٹھائے کون۔ بانٹے بھی تو کسے
دھن شاعر کے پاس کیا، ہوا، سمندر، پھول

آپ بھی سوچیں گے کہ شاعر اپنے شعر سنانے سے باز نہیں آیا۔ مگر سچ مانئے، ہم اپنے اشعار بہت کم سناتے ہیں، یاد بھی نہیں رہتے۔ تحریر کی بات البتّہ اور ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ در اصل لفظ ’نقل‘ ہمارے ذہن میں دو ہی مطلب پیدا کرتا ہے۔ امتحان کے پرچے میں کی جانے والی نقل۔ جس سے خدا کا شکر کہ ہم ہمیشہ محفوظ رہے، یا پھر جیسے ہمارے یہاں کے اکثر تنقیدی مضامین ہوتے ہیں.. انگریزی ادیبوں اور اردو کے مُستند نقّادوں کے مقولے (اور شاعری پر مضمون ہو تو شاعر مذکور کے اشعار کی مثالیں) جنہیں اگر خارج کر دیا جائے تو مضمون میں کچھ باقی ہی نہیں بچتا۔ یہ دوسری نقل ہوئی، جسے اقتباس کرنا اور انگریزی میں Quote کرنا کہتے ہیں۔ حالاں کہ حمل و نقل بھی سامنے کے الفاظ ہیں مگر ان کا یہ استعمال…! روزانہ ہم حیدرآباد میں گھر سے ۲۶ کلو میٹر دور ۴۔ ۳ بسیں تبدیل کرتے ہوئے دفتر آتے جاتے ہیں مگر ہم کو کبھی احساس ہی نہ ہوا کہ ہم نقل ہو رہے ہیں..!!

خدا خدا کر کے ہماری نقل شروع ہوئی مگر تھوڑی تھوڑی دور پر اتنے چِک پائنٹس (عربی میں ہر جگہ لکھا تھا ’نقطۂ تفتیش‘) تھے کہ ایک گھنٹے بعد بھی ہماری بس جہاں کھڑی تھی وہاں سے ایر پورٹ کے ’خیمے‘ نظر آ رہے تھے۔ بس کے بارے میں لکھتے چلیں کہ ائر کنڈیشنڈ تھی۔

اب ہم نے سعودی عرب کی اس شاہراہ کے مشاہدات شروع کئے۔ تلبیہ بھی جاری ہی رہا ساتھ ساتھ۔ بلکہ ہم نے ہی دوسرے مسافروں کو پڑھوایا بھی کہ پہلے دو حضرات نے بآوازِ بلند خود پڑھ کر دوسروں کو دہرانے کی دعوت دی تو وہ خود غلط پڑھ رہے تھے۔ لوگوں کو اب تک بھی یاد نہ تھا۔ ہم کو اتّفاق سے یہ بچپن سے ہی یاد تھا کہ ہماری والدہ حج کے ایام میں سعودی عرب ریڈیو لگا دیتی تھیں جہاں مستقل تلبیہ چلتا رہتا تھا۔ بہر حال۔

سڑک کے دونوں طرف ۳۔ ۳ گلیاں (lanes) تھیں۔ تین آنے کے لئے، تین جانے کے لئے۔ اسے ایکسپریس ہائی وے (Express High way) کہا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف اکثر پہاڑ تھے، شروع میں لاوے کے پہاڑ نظر آئے، اس کے بعد محض گرینائٹ اور نائس چٹانوں کے۔ یہ ہم بطور ارضیات داں لکھ رہے ہیں، بلکہ لاوے کی بجائے بھی بیسالٹ کے بہاؤ (Basalt Flows) اور نائس (Gneiss) کو بھی در اصل مِگمیٹائٹ (Migmatite) لکھنا چاہئے تھا۔ راستے میں جگہ جگہ ’سُبْحٰنَ الْلّہ‘، ’اَلْحَمْدُ لِللّٰہ‘،’اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ‘ اور ’صَلّوُ عَلیَ النَّبِی‘ لکھا تھا اور ہم بھی اس پر عمل کرتے جا رہے تھے۔ کہیں کہیں عربی، انگریزی اور اردو میں بھی بالترتیب لکھا تھا۔ ’خدمۃ الحُجّاج شَرَفٌ لَنا‘Service to Haj pilgrims is our privilege۔ اور ’’حاجیوں کی خدمت ہمارا شرف ہے‘‘۔

پھر حرم کی حدود شروع ہوئیں جہاں کے نقطۂ تفتیش کے آگے غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بلکہ ان کے لئے راستہ دوسری طرف ہے جو دوسرے شہروں کی طرف جاتا ہے۔ جدّہ ایرپورٹ سے مکّہ کا فاصلہ ۹۲۔ ۹۱کلو میٹر ہے (اگرچہ جدّہ شہر سے ۷۷ کلو میٹر) جدہ شہر کا وہ علاقہ اس شاہراہ پر ضرور واقع ہے جو نسبتاً کم آباد ہے اور جسے انگریزی میں Suburban کہہ سکتے ہیں۔ غالباً یہ بائی پاس ہو گا۔

راستے میں تھوڑی تھوڑی دور پر خوب صورت مسجدیں نظر آئیں۔ اکثر ایک مینار کی۔ اور یہ واحد مینار مسجد کے اندر ہی واقع۔ دراصل تھوڑی تھوڑی دور پر ایسے کامپلیکس تھے جہاں پٹرول پمپ، غذائی اشیاء کی دوکانیں، ہوٹل یا کم از کم چائے اور کولڈ ڈرنکس کے اسٹال، اور ہر کامپلیکس میں مسجد بھی۔ تاکہ راہ گیروں کو ہر سہولت مل سکے۔

راستوں میں اشتہاری بورڈ بھی تھے اور اسی وقت یہ مشاہدہ ہو گیا کہ کسی اشتہار میں صنفِ نازک کا چہرہ نظر نہیں آیا، بلکہ مزید غور کرنے پر معلوم ہوا کہ کسی جان دار کی تصویر بھی نہیں ہے۔

ایک بجے کے قریب ہم لوگ ’’مرکز استقبالیہ حُجّاج‘‘ میں پہنچے جو در اصل ’’زم زم کولنگ کامپلیکس‘‘تھا۔ اس سرکاری (غالباً) کمپنی یا شرکۃ کا نام ’’زم زم یونائٹیڈ آفِس‘‘ یا عربی میں مکتب زمازمۃ الموحد تھا۔ یہاں ہی نماز کے لئے احاطہ تھا اگرچہ باقاعدہ مسجد نہیں تھی۔ صاف ستھرے غسل خانے اور پاخانے تھے۔ ہر حاجی کو ڈیڑھ لِٹر کی زم زم کی مہر بند بوتل تحفتاً دی گئی، ویسے وہاں ہی ٹھنڈے زمزم کے بے شمار نل لگے تھے۔ جتنا چاہیں پئیں اور رکھنا چاہیں تو ساتھ رکھ لیں۔ یہاں بس پون گھنٹہ کھڑی رہی، ظہر کی نماز بھی پڑھی گئی۔ اس کے بعد روانہ ہوئے تو مکّے پہنچے۔

ہماری بس میں ہماری عمارت کے علاوہ بھی دوسری عمارت کے مسافر تھے جو ہمارے ہی معلّم (مکتب) کے علاوہ ایک اور مکتب نمبر ۵۴ سے بھی متعلق تھے۔ دونوں مکتبوں کے دفتروں پر بھی بس رکتی رہی اور دوسری عمارتوں میں دوسرے حاجیوں کو اتارتی ہوئی آخر میں ہماری عمارت پر پہنچی۔ اور جب ہم منزل پر پہنچے تو ساڑھے تین بج گئے تھے۔ ان مکتبوں پر ہم کو ہمارے شناختی کارڈ بھی دئے گئے۔ اور شناختی پٹّے بھی جو عام طور پر لوگوں نے کنگن کی طرح پہن لئے۔ جیسا ان سے کہا گیا تھا، مگر ہماری نازک کلائی کی وجہ سے ہم نے اسے بازو بند بنا لیا۔

ہماری عمارت رقم ۴۶۸، ’شعبِ عامر۔ شمال۔ ۱شمال۔ ۲۔ ۴۸‘ پر واقع ہے۔ شعبِ عامر تو پورے علاقے کا نام ہو گا، ان سمتوں اور اعداد کا کیا مطلب ہے، یہ اہلیانِ مکّہ جانیں۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ یہ عمارت سڑک سے اندر کی طرف ہے۔ تیسری منزل پر ہمارا کمرہ ہے، یعنی سیکنڈ فلور پر۔ اس میں لگی فہرست کے حساب سے یہاں ۱۴ حاجیوں کا انتظام ہے مگر ہم ہیں یہاں نو ہی۔ ۵ افراد کا ایک گروپ ہے، ایک بزرگ میاں بیوی ہیں اور ایک ہم بزرگ میاں بیوی۔

سامان ٹھیک ٹھاک کر کے ضروریات سے فراغت کے بعد کچھ کھانا کھایا، جو ساتھ تھا اسے ختم کیا۔ اگرچہ معلوم ہوا کہ اس وقت معلِّم کی طرف سے کھانا آنے والا ہے۔ یہ کھانا ۵ بجے آیا جب ہم حرم کے لئے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ اسے یوں ہی رات کے لئے رکھ لیا۔

 

 

 

تابِ نظر چاہئے

 

حرم کی طرف چلے تو مظہر بھائی اور ان کی اہلیہ ساتھ تھیں۔ محبوب نگر کے ہی دو جوڑے اور بھی تھے۔ جبّار صاحب اور ستّار صاحب اور دونوں کی بیویاں۔ مظہر بھائی پہلے بھی نہ صرف حج کر چکے تھے بلکہ یہاں یہ سات آٹھ سال رہ چکے تھے، اس لئے ہم نے ان کو اپنا قائد یا گائڈ بنا لیا (یہ گائڈ کہیں قائد لفظ سے ہی برامدہ تو نہیں ہے؟۔ ’ق‘ کو یہاں بول چال میں اکثر ’گ‘ سے بدل دیتے ہیں جیسے حیدرآبادی اسے ’خ‘ سے)۔

جِس طرف سے ہم گئے، اُس طرف حرم کے احاطے کے باہر ہی غسل خانوں کا کامپلیکس ہے۔ سینکڑوں غسل خانے اور پاخانے (مشترکہ) اور وضو خانے بھی۔ مردوں کے الگ، عورتوں کے الگ۔ مردوں کے غسل خانوں پر عربی میں لکھا تھا ’’دورات میاہ للرجال‘‘۔ انگریزی میں بھی۔ مگر ہمارے عبدالکریم پاریکھ صاحب نے ’حج کا ساتھی‘ میں لکھا ہے کہ انگریزی میں "LAKI-LAK” لکھا گیا ہے، یہ تو وہاں نظر نہیں آیا، ممکن ہے کہیں اور کے غسل خانوں میں یہ لکھا ہو، مگر یہ انگریزی نہیں، رومن رسم الخط میں کسی اور زبان میں لکھا ہوگا (شاید انڈونیشی میں، یہ ہم کو بعد میں معلوم ہوا)۔ ہمارا داخلہ تو ایک طرف سے ہی ہوا تھا۔ حرم کے چاروں طرف ہی ایسے ہی غسل خانے ضرور ہوں گے۔ ہماری طرف کا احاطہ بہت وسیع تھا۔ سڑک کی طرف پہلے سلاخوں کی دیوار جس میں کئی دروازے، ان دروازوں سے اندر باہر صحن ہے، سفید سنگِ مرمر کا۔ یہاں اگرچہ جوتوں چپّلوں کی اجازت ہے لیکن صفوں اور قبلے کی نشان دہی کے لئے پتھّر کی دائرے وار لکیریں نصب ہیں۔ یوں کہئے کہ پتھّر کی جا نمازیں بچھا دی گئی ہیں۔ یہ حصّہ در اصل صفا اور مروہ کے درمیان کا ہے، اس لئے حرم کی دیوار ایک سیدھ میں چلی گئی ہے۔ اس میں کئی دروازے ہیں۔ آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ صفا اور مروہ وہ پہاڑیاں تھیں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ حضرت اسمٰعیل کو چھوڑ کر پانی کی تلاش میں نکلی تھیں بلکہ شیر خوار بچّے کو اکیلا چھوڑ کر گئی تھیں اس لئے دوڑی تھیں۔ اس وقوعے کے بعد ہی حضرت اسمٰعیل کے پیر مارنے سے زم زم کا چشمہ خدا کے کرنے سے پھوٹ نکلا تھا۔ ان پہاڑیوں کے درمیان ہی سعی کی جاتی ہے۔ اب یہ پہاڑیاں تو مٹا دی گئی ہیں کہ حاجیوں کے لئے حرم کا رقبہ بڑھایا جا سکے، جو کئی بار بڑھ چکا۔ آخری تعمیر ابھی حال ہی میں شاہ فہد نے کروائی ہے۔ اور اب سعی کا یہ علاقہ حرم کے احاطے کے اندر ہی شامل ہو گیا ہے۔ خیر۔

پہنچنے کو تو ہم لوگ اس صحن میں ساڑھے پانچ بجے پہنچ گئے تھے۔ عصر کی نماز بھی عمارت سے پڑھ کر نکلے تھے اور مغرب میں سوا گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا، مگر یہ وقت عمرے کے طواف اور سعی کے لئے کافی نہیں تھا۔ اس لئے مظہر بھائی نے مشورہ دیا کہ آرام سے مغرِب باہر ہی پڑھ کر اندر چلیں گے، اس وقت اندر جگہ ملنی مشکل ہوگی کہ بیشتر لوگ عصر کی نماز پڑھ کر مغرب تک جگہ پر قبضہ کئے رہتے ہیں۔ دوسری نمازوں کے لئے بھی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے سے صفیں بن جاتی ہیں۔ ہم کو بھی باہر ہی کچھ دیر رکنا نہ صرف گوارا بلکہ قبول ہوا۔ یہ احساس کہ پہلے اس احاطے کے پر نور نظارے سے تو مسحور ہو لیں۔ کچھ دیر ہمّت ٹھکانے کر لیں، ابھی بیت اللہ دیکھنے کے لئے تابِ نظر کہاں!

۳۶۔ ۶ پر مغرب کی اذان ہوئی اور لگا کہ سارا مکّہ گونجنے لگا۔ اللہ اکبر کی پہلی صدا نے ہی بدن کو جھنجھوڑ دیا۔ بیت اللہ کی پہلی اذان جو ہمارے کانوں میں پڑی ہے (ویسے عصر کی اذان کے وقت بھی ہم ہماری عمارت میں ہی تھے اور وہاں بھی اذان کی آواز پہنچی ضرور ہو گی، مگر اُس وقت ہم نے دھیان نہیں دیا تھا کہ سیٹل (settle) ہونے میں لگے تھے یا شاید یہ سمجھے ہوں کہ کہیں اذان ہو رہی ہے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ ہماری عمارت میں بھی، جو اگرچہ ایک کلو میٹر سے زیادہ ہی دور ہوگی حرم سے، اذانوں کی آواز صاف آتی ہے۔ مسجدِ جِن کی بھی اور حرمِ مکہ کی بھی)۔

اذان ختم ہوتے ہی ہم نے دیکھا کہ لوگ فوراً نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ ہم کو عجیب شک ہوا کہ شاید یہاں حرم کے باہری احاطے تک جماعت نہیں ہوتی اور ہم کیسے بد قسمت ہیں کہ حرم میں موجود ہیں اور وہاں کی با جماعت نماز سے محروم۔ کچھ لحظہ رُک کر آخر ہم بھی انفرادی طور پر مغرِب کی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، ابھی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ مائک پر اقامت کی آواز آئی۔ یہ بھید اب تک تو نہیں کھلا ہے کہ عموماً اذان ہوتے ہی لوگ مغرِب کی جماعت سے پہلے کون سی نماز پڑھتے ہیں، ہم نے تو یہی سنا تھا کہ عصر اور مغرب کے درمیان سوائے قضا نمازوں کے اور کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔ بہر حال ہم نے بھی جلدی جلدی اپنی نماز ختم کر کے جماعت کا ساتھ دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر اندر چلنے کی ہمّت کی۔

اِس رُخ پر باب السلام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اکثر جنازوں کو بھی ادھر سے لے جایا جاتا ہے۔ پہلی بار آنے والوں کے لئے بھی یہی افضل ہے کہ باب السّلام سے داخل ہوں، چنانچہ اسی دروازے سے ہم بھی داخل ہوئے۔ یہاں یہ باہر ’کبوتر خانوں‘ (Pigeon holes) کے ایک خانے میں ہم نے اپنی چپّلیں رکھ دیں اور اندر داخل ہوئے۔ جیسا کہ لکھ چکے ہیں کہ اسی رُخ پر مسعٰی ہے، یعنی سعی کرنے کا راستہ یا انگریزی میں (Corridor) کہہ لیجئے۔ دائیں طرف مروہ ہے اور بائیں جانب صفا۔ یہاں بھی سعی کرنے والوں کی بھیڑ تھی جو ہماری طرح عمرہ کرنے والے ہوں گے۔ ان کے درمیان سے جگہ بناتے ہوئے پہلے اندرونی دالان میں آئے۔ اور اس کے بعد ایک اور دالان میں۔ اور تب کعبۃ اللہ پر ہماری پہلی نظر پڑی…

اب تک تصویریں دیکھتے آئے تھے، مگر حرمِ کعبہ کی شان و شوکت، جاہ و جلال جو دیکھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے وہ تصویروں میں کہاں ممکن؟ احادیث میں ہے کہ کعبے پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے، قبول ہوتی ہے۔ اور سب سے کارآمد دعا تو یہی ہے کہ یا اللہ۔ آئندہ ہم جو بھی دعا مانگیں۔ جائز ہو تو اسے قبولیت کا درجہ بخش۔ یہ دعا قبول ہو گئی تو سمجھئے کہ پارس ہاتھ آ گیا۔ ویسے اب تک تو اس کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ ہماری بیماری ابھی بھی جاری ہے۔ وہی معمول کے مطابق دن بھر میں کھانسی کے تین چار دورے، جس کا علاج سگریٹ سے ہی ممکن ہے۔ بعد میں ہم نے زمزم سے بڑے شوق اور عقیدت سے اپنے چہرے اور ہاتھ کے علاوہ سینے بلکہ پھیپھڑوں پر بھی ملا ہے۔ ممکن ہے کہ ؎ دوا یہ کرے گی اثر دھیرے دھیرے، یا، دعا یہ کرے گی اثر دھیرے دھیرے۔

 

 

 

عمرے کا طواف اور سعی

 

اندر کی طرف دوسرے دالان کی سیڑھیاں اتر کر پھر اندرونی صحنِ کعبہ میں داخل ہوئے۔ یہاں بھی وہی سفید سنگِ مرمر کا فرش ہے، عمرے کے طواف کے لئے چلے کعبے کی طرف۔ مظہر بھائی کے علاوہ جبّار بھائی اور ستّار بھائی بھی ساتھ تھے اور ان تینوں کی بیویاں بھی۔ مظہر بھائی کی بیوی بے حد کمزور اور کم ہمّت خاتون ہیں اس لئے ہماری محترمہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور سب لوگ ساتھ ہی چلے۔ حجرِ اسود کی لکیر کی طرف آئے۔ یہ ایک بھورے پتھّر سے بنائی گئی لکیر ہے جو حجر اسود کی سیدھ میں ہے۔ کیوں کہ طواف حجر اسود سے شروع کیا جاتا ہے اور مطاف (یعنی طواف کے دائرے) میں اس کی سیدھ میں کہیں سے بھی طواف شروع کیا جا سکتا ہے اور یہاں سے ہی طواف ’استلام‘ کے ساتھ شروع اور ختم کیا جاتا ہے، اس کی پہچان کے لئے یہ لکیر بنا دی گئی ہے۔ یہاں سے ہی طواف کے سات (۷) چکّر (شوط) گِنے جاتے ہیں۔ استلام حجر اسود کا ’سلام‘ ہوتا ہے۔ اگر بوسہ نصیب ہو تو کیا کہنے! ورنہ دور سے ہی اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چوم لیا جاتا ہے۔ حجر اسود سینے کی اونچائی تک ہی ہے اور اسی لحاظ سے ہاتھ پھیلانا چاہئے اس کی طرف دیکھ کر۔ اس کا حلقہ تو دور سے بھی نظر آتا ہے، آپ نے بھی تصویروں میں دیکھا ہی ہوگا۔ چمک دار چاندی کا پان یا دل کی شکل کا حلقہ ہے جس میں سیاہ سیمنٹ میں حجر اسود کے شاید ۲۲ ٹکڑے نصب کر دئے گئے ہیں۔ خیر۔

حج کمیٹی والوں نے سات دانوں کی تسبیح دے رکھی تھی، اس پر اپنے شوط گنتے رہے۔ ۴۔ ۳ اشواط تک تو ہم سب ساتھ ہی رہے۔ صابرہ کا سبز دوپٹّہ اس وقت طواف کرنے والوں میں نمایاں نظر آ رہا تھا کہ ہم الگ الگ رہتے ہوئے بھی ان کو پہچان سکتے تھے۔ مگر آخر آخر وہ نہ جانے کہاں بچھڑ گئیں۔ بلکہ کہنا چاہیئے کہ ہم کہاں گْم ہو گئے کہ باقی لوگ تو ساتھ ہی رہے جو ہمیں بعد میں معلوم ہوا۔ یہ البتہ پہلے سے ہی طے تھا کہ کبھی کبھی بچھڑ جانے کی صورت میں باب السلام کے باہر انتظار کیا جائے۔ اس لئے فکر تو نہیں تھی۔ البتہ یہ خیال ضرور تھا کہ یہ لوگ شاید ہمارے لئے فکرمند ہوں۔ ابھی ارکان بھی ادا کرنے تھے۔

آخری چکر پر حجرِ اسود کا استلام کر کے طواف مکمل کیا۔ بابِ کعبہ کی ہی طرف مقامِ ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے کھڑے ہونے کی جگہ۔ کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے وہیں کھڑے ہو کر کعبے کی تعمیر کی تھی اور ان کے دونوں پیروں کے نشان محفوظ ہیں۔ آج کل یہ پتھّر ایک شیشے اور سنہری دھات (ممکن ہے سونا ہو، ہمیں ٹھیک سے معلوم نہیں، کیوں آپ کو بہکائیں) کی گنبد نما عمارت (یا انگریزی میں Structure کہئے) میں رکھا ہے۔ یہ قرآن کا حکم ہے کہ وَ التَّخِذُوْ مِنْ مُقَامِ اِبْراٰہیِمَ مُصَلّْیٰ۔ تو وہاں نماز ادا کرنی تھی۔ دو رکعت واجبُ الطواف۔ وہ ہم نے پڑھی۔ نظریں مگر سامنے سے ہٹتی نہیں تھیں۔ الفاظ زبان نے ادا کر دئے مگر ذہن میں نہ جانے کیا کیا آ رہا تھا۔ کبھی اقبالؔ ؎ دنیا کے بت کدے میں پہلا یہ گھر خدا کا۔ وغیرہ وغیرہ۔

(۳  اپریل، ۱۰۔ ۳ بجے دو پہر۔ توقّف جاری ہے، مگر تحریر میں توقّف کئے بغیر چلئے آگے بڑھیں۔ حالات ابھی ۳۰ مارچ کے ہی جاری ہیں)

پہلے تین چکروں میں اصطباغ اور رمل کیا جاتا ہے۔ اصطباغ یعنی احرام کی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں شانے پر ڈالنا اس طرح کہ دایاں کندھا عریاں ہو جائے۔ رمل سے مراد ہے کہ پہلوانوں کی طرح مونڈھے ہلا ہلا کر اکڑ کر اور تیز تیز اور بھاری قدموں سے چلیں۔ یہ دونوں مردوں کے لئے افضل ہیں مگر صرف پہلے تین شوطوں میں۔ عورتوں کا تو احرام بھی نہیں ہے یعنی چادروں والا لباس کہ اصطباغ کریں، اور نہ رمل ہے ان کے لئے، بہت سے لوگوں کو وہاں دیکھا کہ مستقل اصطباغ کئے رہتے ہیں یہاں تک کہ احرام کی حالت میں نماز بھی پڑھتے ہیں تو دایاں کندھا کھلا رہتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ہم نے بھی مغرب کی نماز کی جماعت کے فوراً بعد باب السلام سے داخل ہوتے ہی اصطباغ شروع کر دیا تھا اور طواف کے فوراً بعد کاندھا ڈھک لیا کہ بھول نہ جائیں۔ بھیڑ میں البتّہ رمل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

یوں کتابوں میں طواف کے ہر چکر کی الگ دعا دی گئی ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ یہی دعائیں پڑھی جائیں۔ استلام کے بعد پہلے یہ کلمہ پڑھنا ہی کافی ہے..سُبحٰنَ اْللّٰہِ وَاْلحَمْدُ لِللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ اِلْلّٰہُ وَالْلّٰہُ اَکْبَرْ، وَ لاَحَوْلَ وَ لاَ قُوّۃَ اِلاَّ بِالْلّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمَ۔ اس کے بعد اَلْصّلاَۃُ وَالْسَلاَمُ عَلیٰ نَبِیِّ الْکَرِیْم اور پھر درود پڑھ لیں۔ وہ تسبیح بھی پڑھی جا سکتی ہے جو عیدین میں پڑھتے ہیں یعنی اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ . لاَ اِلٰہَ اِلْلَّہُ وَالْلّٰہُ اَکْبَرْ اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ وَ لِللّٰہِ الْحَمْد ـ ـ ورنہ جو دعا آپ کرنا چاہیں، جو بھی پڑھنا چاہیں، سب صحیح ہے۔ اگر اذان ہو رہی ہو تو اس کا جواب دینا افضل ہے۔ بہر حال یہ دونوں کلمات بیت اللہ کے دو کونوں تک، اس کے بعد جب آپ تیسرے کونے پر آئیں جسے ’’رکنِ یمانی‘‘ کہتے ہیں (چوتھا کونا حجر اسود کا ہی ہے) تو اس کونے پر ایک بار اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ کہہ کر اس کے بعد حجر اسود تک رَبَّنَا اٰتِنَا پڑھتے ہیں۔ یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگی، البتّہ اس کے بعد اس کا اضافہ ہے کہ ’’وَادْخِلْنَا الْجَنَّۃَ مَعَ اْلاَبْرَاْرـ یَاْ عَزِیْزُ یَاْ غَفَّارُ۔ یَاْ رَبُّ الْعَاْلَمِیْن۔‘‘

واجب الطواف نماز کے بعد صابرہ کی طرف نظر دوڑائی کہ ساتھ ساتھ ہی طواف شروع کیا تھا تو تقریباً ساتھ ساتھ ہی اس سے عہدہ برآ ہوئے ہوں گے اور اس وقت مقامِ ابراہیم کے آس پاس ہی کہیں یہ لوگ بھی نماز پڑھ رہے ہوں گے، مگر مایوسی ہوئی۔ خیر۔ اس کے بعد زم زم کی طرف آنا تھا جو سامنے ہی نظر آ گیا تھا۔ ایک گول دائرے نما دیوار کے اوپر بورڈ لگا تھا ’بئر زمزم‘ اردو میں بھی ’زم زم کا کنواں‘۔ بس یہی دو زبانیں وہاں تھیں۔ یہ تو پڑھ رکھا تھا کہ اصل کنواں نیچے ہے۔ اس لئے سوچا کہ یہ پانی کی ٹنکی ہے اور اس کی گول دیوار کے ساتھ جو قطار سے کئی بڑے بڑے تھرمِک جگ (Thermic jugs) رکھے ہیں جن پر ’سقیاء زم زم‘ لکھا ہے، وہاں سے ہی زم زم پیا جاتا ہو گا۔ ہم اسی طرح مشرّف بہ زم زم ہوئے (حالاں کہ بعد میں معلوم ہوا کہ زم زم کے لیے دوسری طرف سیڑھیوں سے نیچے اتر کر جاتے ہیں اور زم زم پیا جاتا ہے۔) مگر صابرہ کی پریشانی میں، مطلب ہمارے بچھڑ جانے کی فکر میں زم زم پینے کی دعا بھول گئے۔ اب یاد آ گئی ہے تو آپ کو بھی بتاتے چلیں۔ اَلْلّٰھُمّ َاِنّیِ اَسْئَلُکَ عِلْمُ الْنَاْفِعَۃْ وَ رِزْقٌ وَاْسِعَہ وَ شِفَاءِ مِن کُلِّ دَاْء۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، نفع دینے والے علم، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا۔

زم زم کے لئے بھی بمشکل جگہ بنا کر گئے تھے اور اسی اثناء میں عشاء کی اذان ہو گئی اور ہم صف بندی میں حصہ ہی نہ لے سکے۔ زمزم والے حصّے میں ہی قید ہو گئے تھے۔ اس طرف عورتوں کی صفیں تھیں، مردوں کی آگے تھیں اور سب پُر ہو چکی تھیں۔ نماز شروع ہو گئی اور ہم کو کہیں صف میں جگہ نہیں مل سکی، بلکہ عورتوں کے حصّے میں ہی کھڑے رہ گئے اور نماز ہی ادا نہ کر سکے۔ سجدہ ہوتا تو ہم دو عورتوں کے درمیان کی جگہ میں کھڑے ہو جاتے اور جب وہ کھڑی ہو جاتیں تو زم زم کی دیوار سے لگ کر کھڑے ہو جاتے۔ آس پاس نظریں بھی دوڑاتے رہے۔ ہم جہاں کھڑے تھے وہاں سے کچھ ہی دور پر ’باب الفتح‘ لکھا تھا۔ صحنِ حرم کی سیڑھیوں کے پیچھے اس دالان کی صف میں صابرہ کا ہرا دوپٹّہ نظر بھی آ گیا اور یقین ہو گیا کہ محترمہ وہاں ہیں مگر جیسے ہی عشاء کی نماز ختم ہوئی اور پھر نمازِ جنازہ بھی، ہم اس طرف جگہ بناتے ہوئے دوڑ کر پہنچے، مگر وہ پھر غائب تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مقامِ ابراہیم پر نماز کے فوراً بعد وہ لوگ عشاء کی جماعت کے لئے صف میں آ گئے تھے کہ بعد میں جگہ نہیں ملتی ہے اور نماز تک انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ زم زم کے لئے بھی نماز کے بعد گئے۔ وہ لوگ زم زم کے کنوئیں کے اندر بھی گئے اور وہاں نفل نماز بھی پڑھی اور خوب سیر ہو کر زم زم پیا بھی، اور جسم پر ملا بھی۔ مظہر بھائی کا حج کا پچھلا تجربہ جو ان کے ساتھ تھا۔ وہاں انھوں نے کافی وقت گزارا تھا۔ اتنا کہ ہم ان کی تلاش کے بعد اور عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سعی میں صفا مروہ کے چھ چکر لگا چکے تھے، تب ان سے ملاقات ہوئی۔ بہر حال ہم جماعت کی نمازوں کے بعد بمشکل باہر آئے۔ باہر کی طرف نماز کے لئے جگہ مل گئی تو ہم نے بے جماعت عشاء کی نماز پڑھی اور صفا کی طرف آئے، نہ جانے کس طرف سے۔ بچھڑ جانے کی فکر میں ساری کتابی معلومات ذہن سے نکل گئیں کہ باب الصفا سے داخل ہونا افضل ہے سعی کے لئے۔ ہم پہنچ تو گئے صفا پر مگر سوچا کہ سعی کرنے سے قبل ذرا ان لوگوں کو پھر ایک بار دیکھ لیا جائے کہ یہ لوگ بھی سعی کر رہے ہوں گے (حالاں کہ یہ لوگ کافی بعد میں پہنچے تھے)۔ جس طرح بی بی ہاجرہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑی تھیں، ہم ہماری بی بی ہاجرہ، مطلب بی بی صابرہ کی تلاش میں ہی دوڑتے رہے۔ یہ راستہ ’ون وے‘ (One way) ہے، صفا سے مروہ آنے والوں کا ایک طرف اور مروہ سے صفا آنے والوں کا دوسری طرف۔ ہم نے یہ ترکیب کی کہ اُلٹے چکّر لگائے کہ یہ لوگ آسانی سے نظر آ جائیں۔ ڈرتے ڈرتے کہ کہیں پولس چالان نہ کر دے۔ ہمارے ملک میں تو لوگ پھر بھی رشوت دے کر چھوٹ جاتے ہیں۔ یوں بھی ہم کبھی رشوت نہیں دیتے ہیں اور پھر اللہ کے گھر میں!! ان دونوں راستوں کے درمیان دو پتلے گلیارے اور بھی ہیں، وھیل چئرس کے لئے۔ ہم نے ٹریفک کے قانون کو محض اس لئے توڑا کہ اس طرح شاید صابرہ کے دیدار ہو جائیں۔ دو چکر کر بھی لئے اور بی بی صابرہ نہیں ملیں تو ہم نے پھر باقاعدہ سعی کر نے کا ارادہ کیا اور پھر صفا پر پہنچے کہ اب سیدھے راستے سے سعی ہی کر لیں۔ ہاں، اس درمیان باب السلام کے دو چکر بھی لگا چکے تھے کہ شاید ہماری بی بی صابرہ ہمارے فراق میں اپنی سعی بھول کر اس سعی میں وہاں چلی آئی ہوں کہ ہم وہاں مل جائیں تو ہم پھر ساتھ ہی سعی کر کے عمرہ مکمل کر لیں۔ مگر لگتا ہے کہ محترمہ ہمیں بھولی ہی رہیں۔

اس پریشانی میں یہ بھی بھول گئے کہ سعی میں کیا پڑھا جاتا ہے، اور کوئی مخصوص دعا ہے یا نہیں۔ بس یہ آیت یاد تھی، اسی کو دہراتے ہوئے چلے۔ اِنَّ اْلصِّفَاْ وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَاْئِرِاْللّٰہ۔ مسعیٰ میں دو سبز ستون ہیں اور دونوں جگہ چھت پر بھی نشانی کے لئے سبز پٹی بنا دی گئی ہے اور اس پر سبز ہی ٹیوب لائٹیں روشن ہیں۔ یہ ’میلین اخضرین‘ کہلاتے ہیں اور ان کے درمیان مردوں کو تیز دوڑنا چاہئے۔ در اصل یہ حصہ نشیب میں تھا اور جہاں بی بی ہاجرہ صفا پر حضرت اسمٰعیلؑ کو چھوڑ کر آئی تھیں، نشیب کی وجہ سے وہ نظر نہیں آتے تھے تو دوڑ کر مروہ پر چڑھتی تھیں، یہی نشیب وہ جگہ ہے جسے میلین اخضرین کہتے ہیں۔ ہم حضرت ہاجرہ کی یہ سنّت پوری کرتے رہے اور جب ہمارے چار چکر ہو گئے تو صابرہ مع دوسرے ساتھیوں کے مل گئیں۔ یہ لوگ اسی وقت سعی کے لئے پہنچے تھے اور جیسا کہ پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ زم زم پر انھوں نے کافی وقت صرف کیا تھا۔ ہم نے پھر ساتھ ہی سعی شروع کی۔ تب معلوم ہوا کہ اگرچہ اب ان دونوں پہاڑوں، صفا اور مروہ کو ہموار کر دیا گیا ہے اور یہ اب ایر کنڈیشنڈ سڑک بن گئی ہے، مگر چوٹیوں کی نشانیوں کے طور پر صفا اور مروہ دونوں پر کچھ پتھّر ننگے (یہ شاید ہماری Geology بول رہی ہے) چھوڑ دئے گئے ہیں، وہاں چڑھا جائے تو بہتر ہے۔ اور صفا پر کعبۃ اللہ کی طرف دیکھ کر، بلکہ جہاں سے قبلہ نظر آئے، وہاں دعا مانگنا چاہئے۔ مروہ پر محض قبلہ رو ہو کر۔ ہم نے صحیح قاعدے سے سعی نہیں کی تھی، اس لئے ان چار چکروں کو بھی گنتی میں شامل نہیں کیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ شروع سے سات چکر مکمل کئے (اس طرح ہمارے ۱۳ چکر ہو گئے، دو چکروں میں اُلٹی گنگا بہائی تھی، چار چکروں میں سعی کے صحیح نہ ہونے کا شک تھا، اور سات صحیح طریقے سے کئے)۔

ویسے مروہ پر ہی (کیوں کہ سعی کے سات چکر وہاں ہی پورے ہوتے ہیں، صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دو، یعنی ایک طرفہ فاصلہ طے کرنے کو ہی ایک چکر مانا جاتا ہے) بہت سے حجّام مستعدی سے کھڑے تھے کہ آپ کے بالوں کی ایک لٹ کاٹ لیں (جو کچھ مسلکوں کے لحاظ سے درست ہے)۔ بہت سے لوگ اسی طرح کترواتے بھی ہیں، مگر ہم سعی کے بعد ’صالون‘ یعنی ہیئر کٹنگ سیلون پہنچے۔ کم از کم چوتھائی سر کے بال اتروانا افضل ہے۔ ہم نے سوچا کہ پہلی بار محض بال چھوٹے کروا لیں گے، پھر ایک آدھ عمرہ اور کریں گے تو سر پر مشین پھروا لیں گے، اور پھر حج کے موقعے پر اُسترا پھروا لیں گے۔ صالون میں ہم نے حجام کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بھائی چوتھائی بال کاٹ دو مگر وہ اللہ کا بندہ سمجھا نہیں۔ اس نے مشکل سے ڈیڑھ منٹ میں بجلی کی مشین سر پر پھیر دی اور کہا ’لائیے تین ریال‘۔ چنانچہ سر سے پاؤں تک اس عمرے کی یادگار ہو گئے۔ پاؤں سے اس طرح کہ جب ہم حرم سے باہر آئے تو چپّلیں غائب پائیں، اس کا قصّہ ہم لکھ ہی چکے ہیں۔ غرض احرام سے فراغت ہو گئی، بال کٹوائے تھے اس لئے سر تو ہم نے وہاں غسل خانے میں ہی دھو لیا (عمارت میں آ کر نہائے)۔ ان سب کاموں میں رات کے ساڑھے دس بج گئے تھے۔ باہر آ کر ہوٹلوں کی طرف گئے۔ مظہر بھائی اور جبّار و ستّار صاحبان نے چاول، مرغی کا سالن اور سالم مرغی خریدی۔ ہمارا ارادہ تو معلّم کی طرف کا لایا ہوا کھانا کھا کر سو جانے کا تھا۔

رہائش گاہ پر پہنچے تو ساڑھے گیارہ بج گئے تھے، نہا دھو کر کھانے کا ارادہ کیا تو ساتھیوں نے مدعو کر ہی لیا، چنانچہ ہمارے ساتھ کا کھانا، بنگلور حج کیمپ میں تحفتاً ملے پھل اور ان لوگوں کا لایا کھانا سب مل جل کر کھا کر فارغ ہوئے تو اپنے بستر تک پہنچنے میں ساڑھے بارہ بج گئے تھے۔ تین بجے پھر تہجّد کے لئے اُٹھنا تھا، ہم کو لیٹنے تک مگر دو بج گئے، اس کا قصّہ مگر دوسرا ہے۔

 

 

 

داستان ہما ری کھانسی کی

 

یہ تو ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ ہماری تکلیف کا اب تک ایک ہی علاج ہم کو راس آیا ہے کہ اپنے ہاتھ سے وِلس یا کیپسٹن کے تمباکو کا پاؤچ لیں، تمباکو نکالیں، کیپسٹن سگریٹ پیپر کے لیفلیٹ (leaflet) سے ایک لیف (leaf) نکالیں یعنی کاغذ اور تمباکو رول کر کے چپکا کر اپنی سگریٹ بنا لیں اور نوش فرمائیں (پھر بھی فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر سے صلاح لینے کی چنداں ضرورت نہیں)۔ سگریٹ ختم ہونے کے آدھے پون گھنٹے میں ہم نارمل ہو جاتے ہیں۔ یہ جادو کسی ریڈی میڈ سگریٹ میں نہیں ملتا۔

۲۹ مارچ کی شام ساڑھے سات آٹھ بجے سے کھانسی اٹھنا شروع ہوئی تھی جب احرام باندھا تھا۔ علاج کے لئے سوچا کہ سگریٹ بنا کر پی جائے۔ بلکہ پینا شروع بھی کر دی تھی مگر آندھرا پردیش اور کرناٹک کے حجاج نے اعتراض شروع کیا کہ احرام کی حالت میں سگریٹ پینا حرام ہے۔ یہ ہمارے حساب سے غلط بات تھی۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ احرام کے آداب کے خلاف ضرور کہی جا سکتی ہے مگر اسے حرام کہنا غلط ہوگا۔ حرام شے ہر حالت میں حرام رہتی ہے اور کسی کو احرام کی حالت کے لئے مخصوص سمجھنا ہمارے نزدیک صحیح نہیں۔ یوں گناہ سے پرہیز ضروری سہی مگر سگریٹ نوشی گناہ!! ہمارا خیال ہے کہ یہ حضرات خود بھی سگریٹ پیتے ہوں گے تو سگریٹ کی لذّت نہیں بلکہ لذتِ گناہ کے باعث۔ اس لئے کہ ایک منع کرنے والے صاحب کو خود ہم نے سگریٹ پیتے دیکھا تھا۔ ہم نے یہ ضرور سوچا کہ بزرگوں اور وہ بھی دینی بھائیوں کو جو حج کے پاکیزہ مقصد سے آئے ہوں، تکلیف دینا ضرور اس سے کہیں بڑا گناہ ہے، محض اس وجہ سے ان کی بات مان کر سگریٹ بجھا دی۔ ایر پورٹ تک بھی اسی طرح آئے۔ جہاز میں اگرچہ سگریٹ نوشی صرف جہاز کے چڑھتے اور اترتے ہوئے ممنوع ہوتی ہے، مگر ہمارے بائیں طرف صابرہ تھیں جن کے قریب ہم یوں بھی سگریٹ نہیں پیتے، اور بائیں طرف وہی معترض حاجی صاحبان۔ جہاز میں اگرچہ کھانسی کی شدّت میں کمی ہو گئی مگر گلا ویسے ہی خراب رہا۔ یہ تکلیف جدّہ ایر پورٹ پر پھر کھانسی میں تبدیل ہو گئی۔ آخر جدّہ ایر پورٹ پر جب سب لوگ بس کی لائن میں لگے تو ہم موقعہ نکال کر بازار کا جائزہ لینے کے بہانے نکلے اور صبح کے ساڑھے نو بجے جا کر سگریٹ پی سکے جس سے ۱۰ بجے کے بعد، یعنی پورے چودہ گھنٹے بعد ہماری حالت نارمل ہو سکی۔ لیکن جب ہم حرم میں آئے ہیں تو تب سے ہی دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں نسبتاً کم مگر دوسرے ممالک کے لوگ احرام کی حالت میں بھی بے جھجھک سگریٹ نوشی کر رہے ہیں۔

 

 

 

مریض اللّہ

 

یہاں آ کر ایک نئی بیماری ہو گئی ہے۔ یہ تو خیر ایک پرانی بیماری ہی ہے کہ جب کسی بھی باعث چھینکیں آ جائیں یا ناک بہنا شروع ہو جائے تو بلغم کی ایسی پیدائش شروع ہو جاتی ہے کہ کھانسی یا ’سانسی‘ شروع ہو جاتی ہے۔ خانۂ کعبہ میں طواف ہی کیا، نماز بھی پڑھتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ قبلے سے نظریں نہ ہٹیں۔ رِقّت کا عالم اس طرح طاری ہوتا ہے کہ آنسو بہنے لگتے ہیں، پھر ناک بہنے لگتی ہے اور کھانسی شروع! صراحی آئے گی، خم آئے گا، تب جام آئے گا۔ یعنی ؎ بہے آنسو، بہے گی ناک، پھر کھانسی شروع ہوگی۔ اب اس مصرعے پر گرہ لگائیے۔

اگرچہ پڑھا تھا کہ طواف میں زور زور سے کچھ نہ پڑھا جائے، مگر لوگوں کو دیکھا کہ سبھی زور زور سے بلکہ چِلّا چِلّا کر پڑھ رہے ہیں، گروپ میں ایک آواز اُٹھاتا ہے اور سب دہراتے ہیں۔ پہلی شام اور اگلے دو ایک دن ہم کو بھی خیال نہیں آیا، سب کی نقل ہی کرنے لگے۔ کچھ زور سے پڑھنے میں جذبے کی شدت کا بھی احساس ہوتا تھا، کچھ ریلے میں بہنے کی وجہ سے بھی۔ ادھر آنسو بھی بہتے، اُدھر بآوازِ بلند ’سُبحٰنَ اْللّٰہِ وَ اْلحَمْدُ لِللّٰہ‘ اور ’رَبَّنَا اٰتِنَا‘ کی گردان ہوتی اور کھانستے بھی رہتے۔ کل ہی پھر کتابوں میں دوبارہ پڑھا کہ زیر لب پڑھنا افضل ہے تو کل مغرب کے بعد ہم دونوں نے طواف کیا (ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر جیسا کہ ساتھ رہنے پر اگلے دن سے کرتے آ رہے ہیں) تو محسوس کیا کہ دھیرے پڑھنے سے رقّت کم ہوتی ہے اور کھانسی کی شدّت بھی کچھ کم ہوتی ہے۔ اس لئے کہنا چاہئے کہ یہاں آ کر ہم مریضُ اللہ ہو گئے ہیں۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل