ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا اقتباس پڑھیں…..
اسلوب
سید عابد علی عابدؔ
پیشکش: وصی اللہ کھوکھر، اعجاز عبید
باب: اوّل
فنونِ لطیفہ
فن
ایک دانشور کا قول ہے کہ کائنات میں انسان تین چیزوں سے آشنا ہے: خدا، فطرت اور خود انسان کی اپنی ذات۔ بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی معلومات کے دائرے کو بہت محدود کر دیا گیا ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ کہنے والے نے جو کچھ کہا تھا، بہت سوچ کر کہا تھا۔ بعض اَخلاقی اور عرفانی مسالک سے قطع نظر خدا کا تصور (کسی حیثیت ہی سے سہی) انسانیت سے عام ہے۔ اثباتِ ذاتِ خداوندی پر جتنی دلیلیں آپ دے سکتے ہیں، ان کو باطل کر دیا جائے تو بھی انسان کا ذہن عموماً اس بات سے اجتناب کرتا ہے کہ وہ خدایا خالقِ کائنات پر اور اس کی ذات و صفات پر اعتقاد نہ رکھے۔
کانٹ نے انتقادِ عقل محض میں یہ دعویٰ کیا کہ عقل محض کا مطلب وہ علم نہیں جو حواس کے مسخ شدہ ذریعوں سے ہم تک پہنچتا ہے، عقلِ محض کا مطلب وہ علم ہے جس کے ماخذ حواس نہیں بلکہ جو تمام تجربات حسی سے ماورا اور مستغنی ہے۔ یہ وہ علم ہے جو ہمیں ذہن کی ساخت اور اس کی داخلی فطرت کی بنا پر حاصل ہوتا ہے (۱)۔
کانٹ کے خیال میں خدا کا تصور اس عقل محض کا مرہونِ منت ہے۔ گو یا خدا کا تصور ہمارے ذہن کی ساخت اور اس کی داخلی فطرت میں شامل ہے۔ اربابِ تصوف نے بھی حواسِ خمسہ ظاہری سے ماورا، حواسِ خمسہ باطنی کا ذکر کیا ہے۔ ان کو کبھی القاء کبھی شہود اور کبھی وجدان کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا کا تصور ہماری ذہنی ساخت میں شامل ہے:
وہ اپنی نظیر آپ ہے اور اپنی مثیل آپ
آنکھوں سے نہاں، دل میں عیاں، اپنی دلیل آپ
ایک جگہ وہ خود لکھتا ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ عملی عقل کے ذریعے خدا کے وجود کا اثبات کر دوں (۲)۔ خود علامہ اقبال نے اپنی مشہور تالیف "خطبات” میں دوسرا خط (مذہبی وجدان کی فلسفیانہ جانچ) اس انداز میں لکھا ہے کہ یہ بات کھل کر سامنے آ جائے کہ عام طور پر مغربی عیسوی علم الکلام اور کسی حد تک اسلامی علم الکلام نے ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت میں جو تین دلائل پیش کیے ہیں وہ منطقی خامیوں سے مبرا نہیں، عقل کو ان سے تشفی نہیں ہوتی(۳)۔ علامہ کے خیال میں دین کا اساس اور خدا کے وجود کا شعور ایمان پر ہے اور ایمان عقل کی رہنمائی سے مستغنی ہوتا ہے۔ بقول عارف رومی خرد، ایمان اور قلب کی رہزنی کرتی ہے اور ان کو باطن کے پوشیدہ خزائن تک پہنچنے میں مزاحم ہوتی ہے۔
یہ تو اثبات باری تعالیٰ کے متعلق کچھ باتیں ہوئیں، خدا اور انسان کے باہمی روابط تصوف کا موضوع بھی ہیں، اور اس سلسلے میں علامات اور اشارات کا ایک نہایت معنی خیز ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔ متصوفانہ شعر اور تصوف کے نظریات کی تحقیق کے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
اب فطرت کو لیجیے: فطرت سے انسان کے روابط، فطرت اور خدا کا باہمی تعلق، فطرت کے مظاہر و مناظر کا تنوع، حقائق و قوانین کی دریافت اور ان کا انضباط، مادے کی تعریف سے لے کر انسان کے سفر قمر تک سب کچھ فطرت اور انسان کے باہمی رابطہ میں شامل ہے۔
خود انسان کی ذات ابھی بے شک تہ در تہ نقابوں میں تھی لیکن بہ مرور زماں ارسطو سے لے کر بیکن اور کانٹ تک اور بو علی سینا سے لے کر ابن رشد تک اور ان کے بعد فرائڈ اور یونگ کے اکتشافات انسان کو بے نقاب کرتے چلے گئے۔
میری مراد یہ ہے کہ اس امر کی وضاحت کر دوں کہ شروع میں وہ جو میں نے ایک دانشور(۴) کا مقولہ نقل کیا تھا، اس سے مراد انسان کے علم کا محدود ہونا نہ تھا بلکہ اس کا متنوع ہوتا تھا۔ مجھے اس مقولے کی ضرورت یوں آن پڑی کہ آرٹ کی جو مختلف تعریفیں کی گئی ہیں، ان میں یہ کام آتا ہے۔ یہ محض فن کا ذکر ہے، فنون لطیفہ کا نہیں۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ فطرت، آرٹ کے خام مواد کی طرح ہے۔ انسان اس خام مواد کو اپنے تخیل سے خوبصورت پیکروں میں ڈھال کر فنون لطیفہ کے نمونے پیش کرتا ہے۔
فنون لطیفہ
مجسمہ سازی، نقاشی، موسیقی، مصوری اور فن تعمیر، فنون لطیفۂ اکبر کہلاتے ہیں (Major Fine Arts)۔ لیکن یہ تقسیم میرے خیال میں مزید غور کا تقاضا کرتی ہے، مثلاً رقص کو اس فہرست میں شامل ہونا چاہیے، اس طرح خطاطی کے نہایت اعلیٰ نمونے بھی فنونِ لطیفہ اکبر سے قریب ترین، بجائے فنونِ لطیفہ اصغر کے جن میں ظروف سازی، پچی کاری، غالیچہ بافی اور ہر قسم کے آرائشی کام شامل ہیں۔
لغت فلسفہ(۵) میں مورو (Morrow) نے ایک مختصر سے نوٹ میں لکھا ہے: "ارسطو کے نظام میں آرٹ اس اصل اُصول کا علم یا مطالعہ ہے جس پر حسین یا مفید اشیاء کی تخلیق بنی ہوتی ہے”۔ دون توری(۶) (Venturi) نے نسبتاً جو نوٹ مفصل تر لکھا ہے، اس میں وہ کہتا ہے کہ آرٹ اپنے معانیِ مخصوصہ میں فنون لطیفہ سے عبارت ہوتا ہے اور ادب سے بھی معلوم ہوا کہ دن تو ری کے خیال میں صرف شعر ہی کو یہ عزت حاصل نہیں کہ وہ فنونِ لطیفہ کی صف میں شامل ہو بلکہ تخلیقی نثر بھی فنونِ لطیفہ کی حد تک پہنچی ہوئی مل جاتی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان فنون میں وہ خام مواد کیا ہے جس پر انسان تصرف کرتا ہے؟ مصور تو رنگ اور خطوط سے کام لیتا ہے، سنگ تراش کسی دھات سے یا سنگ مرمر سے اور بعض اوقات مٹی سے، معمار سنگ و خشت سے مغنی یا نوا گر صوت معین سے (اس اجمال کی تفصیل آگے آتی ہے کہ صوت اور صوت معین میں کیا فرق ہے؟) یہاں تک تو مسئلہ صاف ہے مگر شعر اور تخلیقی نثر کے معاملے میں بات اُلجھنے لگتی ہے۔
ادب میں وہ خام مواد کیا ہے جس پر انسان اور اس کی تخیلی قوتیں تصرف کرتی ہیں؟ کیا الفاظ؟ اگر یہ جواب صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ الفاظ ہی ادب کا موادِ خام ہیں تو پھر ہم نے جو مؤقف اختیار کیا ہے اس کے مطابق منطقی طور پر الفاظ کا بامعنی ہونا ضروری نہیں۔ صرف یہ کافی ہے کہ وہ اپنی نشست کے اعتبار سے اور آہنگ و ترنم کے پیش نظر حسن کا شعور پیدا کرتے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔
اگر ہم ذرا کی ذرا اس بات پر غور کر لیں کہ عام فنون کی تخلیقات اور فنون لطیفہ کی تخلیقات میں کیا بیّن فرق ہے اور یہ کس طرح ایک ایک دوسرے سے متمیز کی جاتی ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ملے گا کہ فنونِ لطیفہ میں یہ ضروری ہے کہ وہ انسان کے شعورِ حسن کو اور حسِ جمال کو اُکسائیں۔ اس کے برخلاف دوسرے فنون افادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی…..جیسا کہ نطشے (۷) نے کہا ہے …… وہ (فنون لطیفہ) قرار و سکون کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں اور جذبات کی بھڑکتی ہوئی آنچ کا رنگ بھی ہمیں دکھاتے ہیں۔
فنون لطیفہ اور دوسرے فنون کا امتیاز
اگر ہم فنون لطیفہ اور دوسرے فنون کا یہ امتیاز ذہن میں رکھیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ محض الفاظ اپنی نشست اور ترنم کے اعتبار سے ہم میں حسن کا شعور نہیں پیدا کر سکتے، ان کا با معنی ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمرمین نے فنون لطیفہ کی جو صف بندی کی ہے، اس میں شعر کو (اور تخلیقی نثر کو بھی) ایک ایسا فن لطیف قرار دیا ہے جو فکر کا ترجمان ہوتا ہے۔ فکر کے لفظ سے پریشان نہ ہونا چاہیے کیونکہ فکر کا دائرہ ہمارے حواس ہی کا دائرہ ہے۔ فکر اپنے دامن میں کوئی ایسی چیز نہیں رکھتی جو حواس اور ادراکات پر مبنی نہ ہو، اس لیے فکر کے ڈانڈے آخر جذبات سے جا ملتے ہیں۔ بے شک بعض محققین اب بھی اس بات پر مصر ہیں کہ شعر و نثر تخلیقی کا خام مواد الفاظ ہیں اور اس نظریے کے لیے کچھ دلائل بھی موجود ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ موسیقی اور شاعری میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ موسیقی الفاظ کی محتاج نہیں، صرف صوت مجرد سے کام لیتی ہے۔ خاص طور پر ہندوستان کی کلاسیکی سنگیت تو اس حد تک تجریدی ہے کہ بے معنی الفاظ کے ذریعے بھی راگ اور راگنیوں کا روپ بہروپ دکھا سکتی ہے جیسے: تا نا نا نا۔ اس لیے اگر شعر اور نثر تخلیقی کا خام مواد تجریدی فکر ہو تو بھی اِضطراب اور تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔ محض الفاظ پر محض فکر کو شعر و نثر تخلیقی کے خام مواد کے اعتبار سے ترجیح دینا پڑے گی۔
آرٹ کی تعریف اور آرٹ کے اقدار پرکھنے کے لیے فلسفے کی ایک نئی شاخ قریب قریب معراج تک پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے جسے جمالیات کہتے ہیں۔ لغت فلسفہ(۸) میں مندرج ہے کہ اصلاً جمالیات فلسفے کی وہ شاخ تھی جو حسن یا اشیائے حسین سے متعلق تھی اور جس کا منصب یہ تھا کہ فنون لطیفہ کے پرکھنے میں ان اقدار کی نشان دہی کرے جنھیں کسوٹی بنایا جا سکتا ہے، مذاقِ سلیم سے بحث کرے۔ جمالیات کے موجودہ معانی کو سب سے پہلے ہیگل(۹) نے ۱۸۲۰ء میں متحجر کر دیا۔
کروچے اور فن
ہمارے زمانے میں کروچے نے اس سلسلے میں نہایت مفید اور معنی خیز کام کیا ہے۔ یہ مسلّم گردان کر کہ آرٹ یا فن سے اس کی مراد فنون لطیفہ ہیں، اس کے نظریے کا خلاصہ سن لیجیے کہ بعد کے ابو اب میں اس نظریے کے مختلف پہلوؤں کے حوالے دیے جائیں گے، کروچے کہتا ہے کہ حسن مکمل اظہار ذات کا نام ہے، بلکہ بعض جگہ صرف اسی پر اکتفا کرتا ہے کہ فن اظہار ہی کا دوسرا نام ہے۔ جب فن کار کسی مقصد کو سامنے رکھ کر ذہن سے تعمیری کام لیتا ہے تو اس کی تخلیقات صحیح معنوں میں حسین نہیں ہوتیں کیونکہ جو تجربات ان سے متعلق ہیں، وہ جمالیاتی نہیں بلکہ عملی اور افادی ہیں۔ کروچے کی یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ آیا ہوں، یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنی چاہیے کہ بعض فنون لطافت کی سرحد پر پائے جاتے ہیں یا جزواً لطیف اور جزواً افادی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر فنِ تعمیر اگرچہ فنونِ لطیفہ میں شامل ہے، لیکن معمار کسی عمارت کی طرح ڈالتے وقت افادیت کو بھی ملحوظ رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کتب خانہ تعمیر کرنا مقصود ہے یا ایک مسجد کی تعمیر محفوظ ہے تو ظاہر ہے کہ وہ ان دونوں عمارتوں کے لوازم کا دھیان رکھ کر عمارت کی طرح ڈالے گا تو افادیت کے باوجود ہمیں جمالیت کا پہلو بھی نظر آئے گا۔ کیا ہم تاج محل کو محض اس لیے فنون لطیفہ سے خارج کر دیں گے کہ معمار کا مقصد جزواً افادی بھی تھا؟ اسی طرح کیا مسجد قرطبہ ہمارے دائرہ بحث سے خارج ہو جائے گی کہ معمار نے اس کی ساخت میں ایک خاص وضع کی پابندی کی ہے جو تمام مسجدوں سے عام ہے؟ ظاہر ہے کہ اِن سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ اسی طرح ظروف سازی اور خطاطی میں فن کے ایسے دلکش نمونے نظر آتے ہیں جو با وصف افادیت کے فن کار کی جمالیاتی فعالیت کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ ایک بڑی پتے کی بات کروچے نے یہ کہی ہے کہ فن کار اگر جو ہر تخلیق رکھتا ہے تو اپنے اظہار کے لیے اسے انتظار تو کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے انتخاب میں وہ بے بس ہوتا ہے۔ کروچے تو اس سے فقط یہ مطلب نکالتا ہے کہ فن کی دنیا اَخلاقی تصورات سے آزاد ہوتی ہے۔ اقبال مختلف خطبات میں اور مکاتیب میں، خاص طور پر چغتائی کے مصور دیوان غالبؔ کے دیباچے میں یہ کہتے ہیں کہ فن کار کو جو اِلہام ہوتا ہے، وہ مجبور ہے کہ اسے کلیتاً قبول کرے۔ وہ یہ نہیں کر سکتا کہ جو کچھ اس پر مکشوف ہوا ہے، اس کے کچھ حصے تو مسترد کر دے اور کچھ حصوں کو جزو فن بنا لے۔ مثال کے طور پر اگر چنگیز خاں کو کشور کشائی کے طریقے یوں معلوم تھے جیسے اس پر مکشوف کیے گئے ہوں تو اس عمل میں اس کا ظالم ہونا اور سخت خوں ریز ہونا بھی شامل تھا، یعنی کشور کشائی پر عبور کے ساتھ ساتھ غارت گری بھی اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی۔ زوال پذیر شعراء کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ جو چیز ان کے فن کو در اصل نقصان پہنچاتی ہے، وہ فن کی سرشت میں شامل ہوتی ہے۔ اس لیے اقبالؔ وجدان، کشف، القاء شہود اور ایسی ہی کیفیات کے متعلق بہت محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
صاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش
پھر کروچے کہتا ہے کہ جمالیاتی تجربے میں معنی و صورت یا مواد و ہیئت اس طرح شیر و شکر ہوتے ہیں کہ ان کی تقسیم نا ممکن ہے۔ اقبال بھی لفظ و معنی میں یہ اشتراک دیکھتے ہیں:
اختلاطِ لفظ و معنی ارتباطِ جان و تن
جس طرح اخگر قبا پوش اپنی خاکستر سے ہے
اقبال کے شعر پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ ہیئت در اصل مواد یا معنی ہی کی ایک دوسری صورت کا نام ہے۔ کروچے کے نظریے کے مطابق تخلیق کے مخصوص عمل کو چار مدارج میں متشکل کیا جا سکتا ہے:
(۱) تاثرات۔
(۲) اظہار یعنی متخیلہ میں وجدانی امتزاج یا ترکیب۔
(۳) وہ لذت جو فن کار کو اس امتزاج سے حاصل ہوتی ہے۔
(۴)اس جمالیاتی حقیقت کی مادی صورت پذیری مثلاً آوازوں، حرکتوں، خطوط اور رنگوں وغیرہ کے امتزاج سے فن پارے کی تعمیر۔
لیکن ان مدارج سے جس کی نوعیت صحیح معنوں میں جمالیاتی ہے، وہ نمبر ۲ نمبر ۳ اور ۴ محض تتمہ ہیں۔
واضح رہے کہ کروچے کے خیال میں (اور جیسا کہ میں عرض کروں گا یہ خیال حقیقت کے بہت قریب ہے) فن کار اپنی تمام وجدانی کیفیات کو جب تخیل میں سمو کر ان کو ایک خارجی شکل دیتا ہے تو جو کیفیات فن کار کے ذہن میں پر افشاں تھیں، ان میں سے کچھ ایسی ضرور ہوتی ہیں جن کا اظہار نہیں ہو پاتا۔ اس کی توضیح تو آگے آتی ہے، پہلے یہ سن لیجیے کہ کروچے کے خیال میں جب ہم کوئی فن پارہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ تصویر یا مجسمہ یا شعر در اصل ایک قسم کا مادی ریکارڈ ہوتا ہے جس کو دیکھ کر ذوقِ سلیم رکھنے والا قاری اور اچھا ناقد اس تجربے اور کیفیت سے اچھی طرح آشنا ہو سکتا ہے جو فن کار کے تخیل میں سوئی ہوئی تھی۔ گویا فن پارے، فنکار کی کیفیات کی معروضی صورت ہیں۔ وجدانی کیفیت تاثرات کا اظہار ہوتی ہے، اظہار کا اظہار نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی وجدان کا مکرر اظہار نا ممکن ہے، ہاں تصور میں اس کا اعادہ ہمیشہ ہو سکتا ہے۔ فن پاروں میں در اصل علائم اشارات ہوتے ہیں جن کے ذریعے قاری، فن کار کی ذہنی کیفیت سے آشنا ہو سکتا ہے جس حد تک فنکار اس انتقالِ کیفیت میں کامیاب ہوتا ہے، اسی حد تک اس کی تخلیقات کے آثار کو لوگ حسین قرار دیتے ہیں۔ ابلاغ اس چیز کا نام ہے کہ فن کار کے علاوہ دوسرے لوگ بھی فن کار کے تجربات و واردات کو محسوس کر سکیں۔
اس مرحلے پر یہ کہنا لازم ہو گیا ہے کہ محض اظہار سے بات نہیں بنتی، یعنی اگر شاعر جو کچھ اس پر بیت رہی ہے اس کو دوسروں تک منتقل ہی نہ کر سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اظہار تو ہو گیا ہے، لیکن ابلاغ کا مرحلہ بالکل طے نہیں ہو سکا۔ جدید ترین شاعری میں جہاں صرف اپنی ذات کے حوالے سے بات کی جاتی ہے یا ایسے علائم و اشارات سے کام لیا جاتا ہے، جن کے معنی کی کلید خود نظم یا شعر کے اندر ہی موجود نہ ہو وہاں ابلاغ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اس لیے شعر و جو دہی میں نہیں آتا۔ اور اگر یہ کہا جائے سر فن کار کسی قاری کا محتاج نہیں تو ایسی نظمیں یا غزلیات چھپوانے کا مقصد کیا ہے جو کسی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ اشاعت خود اس بات کی دلیل ہے کہ فن کار چاہتا ہے کہ لوگ اس کی واردات کی نوعیت کو سمجھیں …. اور تعبیر میں لاکھ اختلاف ہو، نقاد یہ ضرور کہیں کہ فن پارہ نظم یا غزل اچھی ہے۔ ہاں اس کے لیے نقاد کا صاحبِ ذوقِ سلیم ہونا ضروری ہے تا کہ کروچے کے الفاظ میں وہ اپنے آپ کو مصنف سے ذہنی سطح پر ہم آہنگ پائے اور اس کے تجربے کا تخلیقی اعادہ کر سکے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ کروچے نے یہ کہا تھا کہ فن کار کو متخیلہ میں وجدان کے امتزاج یا ترکیب سے اور اس کے اظہار سے خود ایک لذت حاصل ہوتی ہے۔ کروچے کا یہ بیان تخلیقی عمل کے ایک خاص پہلو کا اظہار کرتا ہے۔ صورت اس کی یہ ہے کہ فن کار کی واردات، جذبات اور تجربات عام آدمیوں کی طرح پامال، فرسودہ اور پیش پا افتادہ نہیں ہوتے۔ یہ جن تاثرات کی آگ میں جلتے ہیں، ان کی نوعیت پیچ در پیچ ہوتی ہے اور جن جذبات سے وہ متکیّف ہوتے ہیں، وہ عام آدمیوں کے جذبات کی طرح سیدھے سادے اور بسیط نہیں ہوتے۔ ان میں پیچ و خم، تنوع، گہرائی اور گیرائی پائی جاتی ہے۔ تخلیقی عمل کی نفسیاتی صورت کالنگ وڈ(۱۰) کے قول کے مطابق یہ ہوتی ہے کہ پہلے فن کار پیچ دار جذبات سے متاثر ہوتا ہے، اور ایک سخت ذہنی اُلجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ مجھے کیا ہو گیا ہے، یعنی وہ اپنے جذبے کی صحیح نوعیت دریافت کرنا چاہتا ہے۔ اس کے اظہار سے آرٹ یا فن وجود میں آتا ہے۔ واضح رہے کہ جذبے کے اظہار کے دو طریقے ہیں، ذرا اس مثال پر غور کیجیے کہ آپ کو کسی پر غصہ آیا اور آپ نے اپنے غصے کے جذبے کے اظہار کے طور پر اسے ایک تھپڑ کھینچ مارا۔ ظاہر ہے کہ یہاں جذبے کی جسمانی صورتوں کا اظہار تو ہو گیا ہے، لیکن آپ نے شعر نہیں کہا، نہ اور کوئی فن پارہ عالم وجود میں آیا ہے۔ ایسی حالت میں جب آپ جذبے جسمانی کا اظہار کر دیتے ہیں تو جذبہ زمین دوز [earth] ہو جاتا ہے اور نہ صرف جذبے کی شدت میں کمی آ جاتی ہے بلکہ بیش تر جذبے کا وجود ہی باقی نہیں رہتا۔ عمل تخلیق میں اظہار کی یہ صورت نہیں، وہاں پہلی اُلجھن تو یہ ہے کہ فن کار دریافت کرے کہ مجھے ہوا کیا ہے؟ میں کن جذبات کی گرفت میں ہوں؟ جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے، اس کی نوعیت کیا ہے؟
جب وہ یہ بات اچھی طرح پہچان لیتا ہے کہ اس کے جذبات کی نوعیت کیا ہے تو اس کی پہلی اور ابتدائی اُلجھن دور ہو جاتی ہے۔ اب عملِ تخلیق کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے، یہ دوسری اُلجھن ہے، یعنی اپنے تجربات اور واردات کو تخیل میں سمو کر ان کا الفاظ میں اظہار کرنا۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالتوں میں متعلقہ جذبہ یا جذبات زمین دوز نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ فن کار جن جذبات سے متکیّف ہوا تھا اور جن واردات سے گزرا تھا، ان کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اقبال کہتے ہیں:
غزلے زدم کہ شاید زنوا قرارم آید
تپِ شعلہ کم نگردد زگستنِ شرارہ
راقم السطور کا شعر ہے:
میں کبھی غزل نہ کہتا، مجھے کیا خبر تھی ہمدم
کہ بیانِ غم سے ہو گا غم آرزو دو چنداں
کالنگ وڈ اور آرٹ
کالنگ وڈ نے اس سلسلے میں کروچے کی طرح یہ بات بہت پتے کی کہی ہے کہ جب فنکار کی دونوں اُلجھنیں رفع ہو جاتی ہیں تو اگرچہ جذبات کی شدت میں کمی نہیں ہوتی لیکن یہ ذہنی سکون ضرور نصیب ہوتا ہے کہ میں نے اپنی واردات کو الفاظ کا جامہ پہنا دیا ہے۔ اسی سلسلے میں کالنگ وڈ لکھتا ہے کہ اچھے شاعر اور نثار اپنے جذبات پر لیبل نہیں لگاتے، جیسے عشق یا رشک یا حسن یا حیا بلکہ ان واردات کا بیان کرتے ہیں جو ان چیزوں سے متعلق ہیں۔ وجہ اس کی وہی ہے کہ اچھے شعراء کے ہاں جذبہ بسیط نہیں ہوتا بلکہ پیچیدہ اور متنوع کیفیات کو محیط ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک لفظ کے استعمال سے اچھا شاعر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ میں اپنے جذبے کی یا جذبات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔ مثلاً حالیؔ کہتا ہے:
عشق کہتے تھے جسے ہم، وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
اور شیفتہ کا مشہور شعر ہے:
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
میرؔ نے شب فراق کا بیان کرتے ہوئے شعر میں کہیں یہ لیبل نہیں لگایا کہ یہ جدائی کی رات کا ذکر ہے لیکن شعر خود منہ سے اپنی کیفیات کی پیچیدگی کا اعلان کرتا ہے:
پکتا رہا جو پھوڑا سا یوں ساری رات دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اسی طرح عشق کی گوناگوں کیفیات کے اظہار کے سلسلے میں اس کے اِس شعر پر غور کیجیے:
اے میر اس کی یاد نہیں خوب، باز آ
نادان! پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
یہ شعر ملاحظہ ہو:
کسی کو آئی ہنسی جو ہمدم تو منہ پہ ڈالا حیا سے آنچل
عجب طرح کا یہ خواب دیکھا کہ میری نیندیں اُچٹ گئی ہیں
دونوں شعروں میں فرق یہ ہے کہ پہلے شعر میں شاعر نے ایک بسیط جذبے پر لیبل لگا دیا ہے۔ یعنی محبوب نے جو منہ پہ آنچل ڈالا، اس کا محرک حیا کو قرار دیا ہے۔ اس کے برخلاف غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ جس تہذیب اور معاشرت کی یہ شعر تر جمانی کرتا ہے، اس میں اُلٹ کر منہ پہ آنچل ڈالنا ایک ایسا عمل ہے جس کے مختلف محرک ہو سکتے ہیں۔ جنسی کشش کی پرچھائیں بھی اس شعر پر پڑتی ہیں۔ حیا کی بجائے شرم کا پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے کہ حیا میں پانی کبھی نہیں مرتا، اس کے برخلاف جہاں شرم ہو وہاں جنسی کشش کے شریک ہونے کا قومی احتمال ہے۔ پھر اُلٹ کر منہ پہ آنچل ڈالنے کا عمل بنفسہٖ اتنا حسین اور دل پذیر ہے کہ اسے محض حیا کہہ کر اور یہ لیبل لگا کر شعر کی متنوع کیفیات کو محدود نہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان دو اشعار پر غور کیجیے:
شب ہی کی وعدہ خلافی سے وہ محجوب نہیں
کئی دن کا ہے ہلالِ خم گردن ان کا
یہاں "ہلال خم گردن” سے حجاب کو مخصوص کر دیا گیا ہے لیکن مرزا مظہر جان جاناںؔ کے اس شعر میں جذبات کا تنوع دھنک کی طرح نظر آتا ہے:
سر ازیں شیخ بردن آساں نیست
ہائے مظہر خم سلام کے
تمثال خیال
اس مرحلے پر یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ حسن سے کیا مراد ہے؟ در حقیقت حسن کامل تناسب کو کہتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ عورتیں جب بھائی یا بیٹے کے لیے لڑکی دیکھنے جاتی ہیں تو ان کی نظر چند خاص چیزوں پر پڑتی ہے، مثلاً یہ کہ رنگ گورا ہے کہ سانولا یا نمکین، پیشانی چوڑی ہے کہ چھوٹی یا پست، آنکھیں بڑی بڑی اور روشن ہیں یا نہیں، بال کتنے لمبے ہیں، قد کی کیا صورت ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سب خوبیاں موجود ہوں لیکن حسن پھر بھی موجود نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خاص قسم کے چہروں پر اسی نسبت سے ناک، آنکھیں اور پیشانی ہو تو تناسب کا شعور ہوتا ہے، ورنہ محض گورے رنگ اور موٹی آنکھوں سے حسن نہیں پیدا ہوتا۔ یہ بات ہمارے شعراء سے مخفی نہیں، وہ شروع سے کہتے آئے ہیں:
نہ ہر کہ چہرہ بر افروخت، دلبری داند
نہ ہر کہ آئنہ سازد، سکندری داند
ہزار نکتہ باریک تر زمو این جا است
نہ ہر کہ سر بتراشد، قلندری داند
یہ تو حافظ ہے، اور سنیے:
خوبی ہمیں کرشمہ و ناز و خرام نیست
بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست
شاہد آں نیست کہ موئے و میانے دارد
بندۂ طلعت آں باش کہ آنے دارد
آن یا چھب حسن کی وہ خاص صفت ہے جو تنا سب کامل کا سراغ دیتی ہے۔ حافظ سے زیادہ تجربہ کار، ناظر اور پارکھ کون ہو گا؟ وہ کہتا ہے:
ایں کہ می گویند آں بہترز حسن
یار ما ایں دارد و آں نیز ہم
یہیں یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ ہر فن کار کے ذہن میں حسن کی نسبت سے ایک تمثالِ خیال شعور بلوغت کے ساتھ ساتھ روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس تمثالِ خیال میں جو ایک مرکب تصویر سے عبارت ہے، آنکھیں والدہ کی ہو سکتی ہیں، پیشانی خالہ کی یا بہن کی، قد چچا کی لڑکی کا اور بال کسی اور کے دیکھے ہوئے۔ یہ مرکب تمثالِ خیال خارجی دنیا میں کم متشکل ہوتی ہے اور فن کا راسی کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے۔ غالب کہتا ہے:
تمثالِ جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک
آئینہ خیال میں دیکھا کرے کوئی
اس تمثالِ خیال کا اپنی پوری شان جمال سے نظر آنا اتفاقات میں سے ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا ہے:
ہمہ عمر با تو قدح زدیم و نرفت رنج خمار ما
چہ قیامتی کہ نمی رسیز کنار ما بکنار ما
اب واضح ہو گیا ہو گا کہ کروچے جو کہتا ہے کہ فن کار کو اظہار سے ایک خاص لذت حاصل ہوتی ہے، اس کی کیفیت کیا ہے؟ حسن اور اس کے اظہار کے متعلق کچھ گزارشات پیش کر دی گئیں، کچھ باقی ہیں اور شنیدنی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جسمانی خد و خال کے اعتبار سے جو چیز حسن ہے، ذہنی سطح پر وہی صداقت ہے اور روحانی سطح پر خیر و خوبی۔ اسی لیے خدا کو حسن مطلق، خیر مطلق اور حق مطلق بھی کہتے ہیں۔ اُردو زبان نے فارسی کا دودھ پی کر پرورش پائی ہے اور فارسی وہ زبان ہے جو صداقت، خیر اور حسن کو ایک ہی کلمے میں پنہاں رکھتی ہے، کلمہ "نیک” پر غور کیجیے، اس کے معنی اچھا بھی ہیں سچا بھی ہیں اور عمدہ بھی، یعنی حق، خیر اور حسن تینوں چیزیں اس میں مل گئی ہیں۔ نیک کی جمع نیکواں آتی ہے اور "نیکواں” اربابِ حسن و جمال کو کہتے ہیں۔ شرف جہاں قزوینی کہتا ہے:
بہ ہر جا می روم، اول حدیثِ نیکواں پرسم
کہ حال آں مہ نا مہرباں را درمیاں پرسم
اسی طرح کلمۂ خوبی پر غور کیجیے۔ اس میں بھی حق، صداقت اور حسن کا عنصر شامل ہے۔ خوب کی جمع خوباں آتی ہے، اور خوباں عبارت ہے حسینوں سے۔ "خوب گفتی”، یعنی تم نے اچھی بات کہی یا ٹھیک بات کہی۔ اندازہ کر لیجیے کہ جس زبان میں تینوں سطحوں پر حسن ایک ہی کلمے کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، اس کی متعلقہ قوم کی تہذیب و شائستگی کی کیا کیفیت ہو گی!
کروچے نے تخلیقی عمل کے جو عناصر بتائے ہیں، ان کا ذکر تو ہو چکا، آئندہ باب میں اس کے نظریے کے باقی ماندہ نمایاں پہلو پیش کیے جائیں گے۔
حواشی
۱- داستان فلسفہ، ناشر مکتبہ اُردو لاہور۔
۲- داستان فلسفہ، جلد دوم، ص 77، مکتبہ اُردو لاہور۔
۳- خطبات اقبال، دوسرا خطبہ مجلس اقبال لاہور۔
۴- کراشا (Crashaw)۔
۵- فلاسفیکل لائبریری، نیو یارک، تالیف ریونز، ص ۲۴۔
۶- ایضاً
۷- The birth of Tragedy۔
۸- کتاب مذکور، ص ۶۔
۹- دیکھیے بیگل کی تصنیف: "”Aesthetik (جمالیات)، لغت فلسفہ، ص۶۔
۱۰ Principles of Art۔
٭٭٭
باب : دوم
کروچے کے نظریے کے کم نمایاں عناصر
جب کروچے یہ کہہ چکا کہ فن اظہار تام ہے تو منطقی طور پر اُسے یہ کہنا بھی لازم آیا کہ فنونِ لطیفہ میں سے کوئی فن ہی کیوں نہ ہو، سب کی تخلیقات یکساں طور پر حسین ہوں گی۔ حسن کامل تناسب کا نام ہے اور کامل تناسب یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اس کے خیال میں حسن مناسب، بھر پور اور کامل اِظہار کا نام ہے اس لیے اس کے مدارج نہیں ہوتے۔ ناقص اظہار یا کم و بیش ناقص اظہار کے مدارج ہوتے ہیں۔ پروفیسر محمد شریف نے اسے محل نظر قرار دیا ہے (۱)۔ اس اعتبار سے ونچی کا ایک مجسمہ، غالب کا ایک شعر، عبد الرحمٰن چغتائی کی ایک تصویر یا فردوسی کا شاہنامہ یکساں حسن کے حامل ہیں اور ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
اقبال کا نظریہ
یہاں اس مشہور نظریے کی طرف اشارہ کرنا شاید مناسب نہ ہو کہ بعض نقادوں کے خیال میں اور بعض اربابِ فن کی رائے میں حسن یا حسین فن پارہ تو فطرت کے خام مواد کے اندر موجود ہوتا ہے، فن کار صرف یہ کرتا ہے کہ اس کے نقابِ ظاہری کو اُٹھا دے۔ مثلاً بت پتھر میں اپنی پوری شان جمال جلوہ گر ہوتا ہے۔ فن کار کا کام فقط یہ ہے کہ پردہ سنگ کو رفع کر دے۔ ظاہر ہے کہ اقبال اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ فن پارہ فطرت کی تمام تر مزاحمت کے با وصف صورت پذیر ہوتا ہے۔ اقبال کے خیال میں عمل تخلیقی کی شکل یہ ہے کہ فنکار جس عالم باطنی کو خارج میں متشکل کرنا چاہتا ہے، وہ پہلے اس کے ذہن پر افشاں ہوتا ہے، پھر فن کار فطرت کی مزاحمتوں سے معرکہ آرا ہو کر اپنی دنیائے باطنی کو فطرت کے علی الرغم صورت پذیر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں فن کار کا خلوص، اس کی شخصیت کی دیانت و صیانت، اس کا ریاض، یہ تمام اجزاء ایسے ہیں جو مل کر فن پارے کو عالم وجود میں لاتے ہیں۔ مرقع چغتائی (غالب) کے دیباچے میں اقبال نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ فطرت صرف "ہے” اور فن کار اس چیز کا طالب ہے جسے "ہونا چاہیے” یعنی "is اور "ought کا فرق ہے۔ اس لیے جو فن کار فطرت سے ہم آہنگ ہو گا، وہ فطرت کے سانچے میں ڈھل جائے گا، فطرت کو اپنے سانچے میں نہیں ڈھال سکے گا۔ شخصیت کے خلوص اور اس کی دیانت و صیانت کا ذکر کرتے ہوئے اور فن کار کے ریاض کے سلسلے میں اقبال کہتا ہے:
نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
وحشت کلکتوی نے بھی کیا خوب کہا ہے:
فروغ طبع خدا داد گرچہ تھا وحشت
ریاض کم نہ کیا ہم نے کسبِ فن کے لیے
ایک اور جگہ علامہ اقبال فن اور متعلقہ کوائف کے متعلق کہتے ہیں:
آیا کہاں سے نالۂ نَے میں سرور مے
اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے
جس روز دل کی رمز خفی کو سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے
کیا بات ہے کہ صاحب دل کی نگاہ میں
جچتی نہیں ہے سلطنت مصر و شام و رے
‘بال جبریل’ میں کہتے ہیں:
غزل آں گو کہ فطرت ساز خود را پردہ گرداند
چہ آید زاں غزل خوانی کہ با فطرت ہم آہنگ است
ظاہر ہے کہ علامہ اقبال کا نظریہ قرین صواب ہے۔ فن پارے اتنے ارزاں نہیں کہ آپ ہاتھ کا اشارہ کریں تو نقابِ سنگ رفع ہو جائے اور بت اپنی پوری شان زیبائی میں جلوہ گر ہو۔ اکثر و بیشتر شعراء شکایت کرتے ہیں کہ جب معانی کا اظہار ہو چکتا ہے تو اظہار اور ابلاغ کے درمیان منزلیں ہیں، وہ فن کار پوری کامیابی سے طے نہیں کر پاتا۔ یہ احساسِ حرماں کہ میں اپنی کیفیات ذہنی کا پوری طرح ابلاغ نہیں کر پایا، اکثر بڑے شعراء کے ہاں ملتا ہے۔ حال کہتا ہے:
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں
راقم السطور کا ایک قطعہ بند ہے:
لفظ کے روپ میں ڈھلتے نہیں وہ ہنگامے
جو مری بزم تصور میں بپا ہوتے ہیں
لفظ کے محملِ زرتار میں خوبانِ خیال
کبھی مستور، کبھی چہرہ کشا ہوتے ہیں
اس مرحلے پر یہ بھی کہہ دینا چاہیے کہ رچرڈز بھی جو جدید تنقید کے مؤسسوں میں سے ہے، بہ تصریح کہتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہم برا شعر کہہ سکیں۔ شعر اگر ہو گا تو وہ حسین ہی ہو گا، اچھا ہی ہو گا۔ البتہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض صورتوں میں شعر کا مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آیا، یعنی ابلاغ کی منزل کاملاً طے نہیں ہوئی۔ اس صورت میں شعر کو ناقص کہیں گے، برا نہیں (۲)۔
فن کا دوام
کروچے کا یہ بھی خیال ہے کہ فن ہر عہد میں اپنی پوری ارتقاء یافتہ شکل میں موجود ملتا ہے۔ یونانیوں کے ہاں جو مجسمے ملتے ہیں، وہ بھی حسن اور جمال کی ایسی ہی کامل تصویریں ہیں جیسی وہ ابتدائی تصاویر جو غاروں سے دریافت ہوئی ہیں اور جن کے خطوط کی نفاست ایسی ہے کہ دید ہے نہ شنید۔ اس اعتبار سے کروچے کو یہ ماننا لازم آتا ہے کہ ارتقائے فن نا ممکن ہے کیونکہ پتھر کے زمانے کے کسی فنکار کی تخلیق میں جو اظہار کامل ہے، وہ آج کل کے فنکار کی ایک ایسی ہی تخلیق سے کسی طرح بھی کم حسین نہ ہو گی۔ اس موقف پر میاں محمد شریف نے صحیح اعتراض کیا ہے: "حسن اور دوسری اصناف اقدار(۳)” میں مصنف کہتا ہے: "کوئی بڑا ہی جرأت مند شخص ہو گا جو یہ دعویٰ کرے کہ یونانی مجسمہ سازی اس فن میں حرف آخر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زمانے کا کوئی مجسمہ ساز یونانی اُسلوب کا پابند نہیں رہا۔ یونانی مجسمے رنگین ہوتے تھے سونے اور ہاتھی دانت کے زیوروں سے مزین ہوتے تھے، وہ باتیں اب ہمارے مذاق میں کہاں رہ گئی ہیں۔ مجسمہ سازی کے علاوہ دیگر کلاسیکی فنون میں جو رکھ رکھاؤ اور سکون تھا، وہ بھی اب مفقود ہے۔ اس کے ساتھ ہی فکر کی وہ تجدید بھی جاتی رہی جسے ہیگل "یونانی ثقافت (جہاں تک اس کا تعلق فن اور مذہب سے ہے) کی خصوصیت کہتا ہے۔”
شریف صاحب کے اعتراضات
میاں محمد شریف خود لکھتے ہیں: (۴) کہ فنکار کی شخصیت عام لوگوں کی شخصیتوں کی طرح ایک خاص معاشرے میں نشو و نما پاتی ہے، جو ماضی کی تمام جمع شدہ میراث کا حامل ہوتا ہے۔ فنکار کی شخصیت پر اس معاشرے کی گویا مہر لگ جاتی ہے اور نتیجتاً اس شخصیت کا اظہار جن فن پاروں میں ہوتا ہے، ان پر بھی وہی مہر لگی ہوتی ہے۔ اگر امن اور خوش حالی کے کسی عہد میں معاشرہ اپنے دینی، اخلاقی اور عمرانی کارناموں پر مطمئن ہو، اس کے عقائد پختہ ہوں، مقاصد معین، ضوابط اخلاق اور مجلسی آداب و اطوار واضح ہوں تو معاشرے کے فنکار بالعموم اپنی شخصیت کے معنوی پہلو کو کسی قدر نظر انداز کرتے ہوئے صوری پہلو کو نسبتاً زیادہ سنواریں اور نکھاریں گے۔ اور چونکہ ان کے وجود کا صوری پہلو شخصیتوں پر غالب آ جائے گا، اس لیے ان کا فن کلاسیکی ہو گا۔ وہ مڑ مڑ کر ماضی کی طرف دیکھیں گے۔ فن میں توازن، پختگی، اعلیٰ معیار اور مسلمہ اقتدار پر اعتماد رکھیں گے اور ان کا احترام کریں گے اور یہ نقطہ نظر ان کی تخلیقات میں نمایاں ہو گا۔
کچھ عرصے کے بعد معاشرہ متحجر ہو جاتا ہے۔ عقائد، رسمیات اور تعصبات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس کے اُصول و آداب زنجیر پا بن جاتے ہیں۔ نازک حرکی معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے، مواد یا ما فیہ صورت میں اور صورت تجرید میں بدل جاتی ہے، زندگی پر جمود طاری ہو جاتا ہے اور فن بے جان، عامیانہ، تقلیدی اور رسمی بن جاتا ہے۔
تاہم یہ صورتِ حال دیر تک باقی نہیں رہتی۔ زندگی میں بھی بہار و خزاں کے دور ہوتے ہیں۔ جلد معاشرے کے بطن سے انقلاب کا چشمہ اُبل پڑتا ہے اور تاریخ ایک نئے موڑ پر آ جاتی ہے۔ قدامت کے بُت پاش پاش کر دیے جاتے ہیں، رسوم و روایات کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، نئے تصورات اور بنیادی جذبات اپنی پوری تازگی کے ساتھ نمو پانے لگتے ہیں، معاشرہ سانپ کی طرح اپنی کینچلی اُتار دیتا ہے اور ایک نئی روح جاگ اُٹھتی ہے۔ پرانے اُصول و اسالیب اور معیار بدل جاتے ہیں، زندگی ہنگاموں سے اور جد و جہد سے آشنا ہو جاتی ہے، معاشرتی توازن متزلزل ہونے لگتا ہے، فنی تجربات کا آغاز ہوتا ہے جن میں سے بعض تجربات کامیاب اور بعض ناکام رہتے ہیں۔
فن کار ایک عام آدمی سے زیادہ حساس ہوتا ہے، اس لیے وہ انقلاب اور ذہنی بیداری کے لیے اس نئے دور کا نقیب بن جاتا ہے اس کی فطرت کا صوری پہلو اب رسمیات اور معمولات کو ترک کر کے صرف فطرت و جبلت سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت کا معنوی پہلو (یعنی اس کے جذبات اور تشویقات کی دنیا) تمام قیود سے آزاد ہو کر شدید جذبات، فطری احساسات، رومانی تاثرات، نازک مگر مبہم خیالات، انوکھے خوابوں، نئی اُمنگوں اور آرزوؤں نئی تجلیات اور نئے نئے اسالیب و انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے، اور جو فن پارے وہ تخلیق کرتا ہے، رومانی کہلاتے ہیں۔
رومانی دور ایک محدود عرصے تک قائم رہتا ہے حتیٰ کہ معاشرہ پھر متوازن حالت میں آ جاتا ہے اور زندگی و فن دوبارہ کلاسیکی انداز اختیار کر لیتے ہیں۔
اس طرح معاشرے اور فن کی ترقی جدلیاتی رفتار سے جاری رہتی ہے۔ ہر دور اپنے متضاد دور پر منتج ہوتا ہے اور پھر دعویٰ اور جوابِ دعویٰ کے امتزاج و ترکیب سے اوّل الذکر ایک اعلیٰ تر صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ یونہی کلاسیکیت، رومانیت میں اور رومانیت کلاسیکیت میں دور بدور بدلتی رہتی ہے اور تغیر سے ترقی کے بلند سے بلند تر مدارج طے ہوتے جاتے ہیں۔
پروفیسر گریئرسن نے کلاسیکی اور رومانی تخلیقات پر جو مقالہ لکھا ہے، اس میں انھوں نے یورپی ادب کی تاریخ میں اس جدلیاتی رفتار کا سراغ نکالا ہے۔ گریئرسن کے قول کے مطابق پیری کلیز (Pericles) کے کلاسیکی عہد کے بعد افلاطون سے لے کر سینٹ پال تک کا رومانی عہد آیا۔ اب کلاسیکی عہد کی باری تھی۔ چنانچہ سسرو (Cicero) سے لے کر کر ورجل (Virgil) اور ہوریس (Horace) تک رومانی کلاسیکیت کا دور رہا۔ بعد ازاں بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں نفس کشی کے خلاف وہ بغاوت ہوئی جس کی بنیاد رومانیت اور انسان دوستی پر اُستوار تھی، اور جو پندرھویں صدی کے اطالوی نشاةِ ثانیہ کی صورت میں حد کمال تک پہنچی۔ اس رومانی دور کے بعد چہار دہم کے زمانے میں فرانسیسی کلاسیکیت کا دور آیا جس کا آغاز انگلستان میں ڈرائیڈن (Dryden) سے ہوا۔ اس کے بعد روسو، شیلنگ (Schelling)، فشٹے (Fichte)، بلیک، ورڈزورتھ، شیلے، کیٹس اور بائرن کا رومانی عہد شروع ہوا۔
کلاسیکی اور رومانی
کلاسیکی اور رومانی کا فرق کچھ ایسا دقیق نہیں لیکن لازماً موجود ہے اور اصلاً اس فطرت انسانی پر مبنی ہے جس کا اظہار فرد اور معاشرے کے مختلف ادوار میں برابر قائم رہا ہے۔ کروچے خود کہتا ہے کہ فن کا فرق صورت (یعنی اظہار) کے کسی فرق کی وجہ سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ معنی کے فرق پر مبنی ہے۔ یہاں پر بتایا جا چکا ہے کہ فن کی اقسام کا فرق بھی اسی طرح پیدا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ خود معنی کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک پہلو صورت سے مربوط ہے دوسرا ما فیہ سے۔ کلاسیکی اور رومانی تخلیقات میں جو اختلاف ہے وہ انھی دو پہلوؤں کی اضافی اہمیت اور حیثیت پر منحصر ہے۔
٭٭٭
حواشی
۱- کروچے کے متعلق میاں محمد شریف کی تصنیف "جمالیات کے تین نظریے” سے بیشتر استفادہ کیا گیا ہے۔ اس میں کروچے کے متعلق جو مضمون ہے، اس کا ترجمہ بھی راقم السطور ہی نے کیا ہے۔
- (a) The meaning of Meaning
(b) Principles of Literary criticism
اُصول انتقاد ادبیات (تالیف راقم السطور)
۳- تالیف الیگزنڈر
Beauty and other Forms of Value
۴- جمالیات کے تین نظریے، ص ۱۱۸-۱۲۰۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

