FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

اختلاف العلماء

 

                محمد بن صالح ابن عثیمین

 

ترجمہ :شفیق الرحمن شاہ الدراوی

 

 

 

 

 

 

 

 

((اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ، نَحْمَدُہ وَ نَسْتَعِیْنُہ وَ نَسْتَغْفِرُہ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِِنَا وَسَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ یّھَْدِِہ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلا ھَادَِ لَہ، وَأَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ، وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ وَرَسُولُہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحبہ من تبعہم بحسان لی یوم الدین و سلم تسلیماً۔ ))

(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ لآَ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ)۔ (آل عمران102 )

(یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ نَّ اللّہَ کَانَ عَلَیْْکُمْ رَقِیْباً)۔ نساء1۔

(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِیْداً٭ یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَن یُطِعْ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً)۔ احزاب70۔ 71۔

أَمَّا  بَعْدُ :

[مومنو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا [اور فرمایا: ]اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اس سے اس کا جوڑا بنایا پھر اُن دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دئیے اور اللہ سے، جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور ناطہ توڑنے سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے [ اور فرمایا:] مومنو! اللہ سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔ وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اُس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا]۔

اس موضوع نے لوگوں کے ہاں بہت سارے سوالات پیدا کیے ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی سوال کر سکتے ہیں کہ یہ موضوع اور یہ عنوان کیونکر اختیار کیا گیا،  جب کہ اس سے بڑھ کر اہم مسائل اور بھی ہیں۔

مگر اس عنوان نے خاص کر ہمارے زمانے میں بہت سارے لوگوں کے ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ ایسے لوگ صرف عوام الناس میں سے ہیں،  بلکہ خاص کر دینی علوم کے طلب گار بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذرائع نشریات میں احکام کو پیش کیا جاتا ہے،  اور لوگوں میں ان مسائل کو پھیلایا جاتا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ مختلف لوگوں[فلاں اور فلاں ] کے اقوال ذہنی پراگندگی کا مصدر بن گئے ہیں۔ بلکہ بہت سارے لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ خاص کر عوام الناس کا وہ طبقہ جو اختلاف کے مصدر سے لا علم ہے۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ  اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے  اس موضوع میں کچھ گفتگو کروں،  جس کی میری نظر میں لوگوں کے درمیان بڑی شان و منزلت ہے۔

بیشک اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و نعمت ہے کہ ان میں اختلاف اصول دین،  اور اس کے اصلی مصادر میں نہیں۔ بلکہ ان میں اختلاف ایسے امور میں ہے جس کی وحدت اسلامیہ کو زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے، یعنی کوئی ایسا معاملہ ہو جس کا ہر حال میں ہونا ضروری ہو۔ میں نے اجمالی طور پر ان عناصر کو جمع کیا ہے جن کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ وہ عناصر یہ ہیں :

اول : یہ بات تمام مسلمانوں کے ہاں معلوم شدہ ہے جو وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ سے سمجھے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو دین حق اور ہدایت دے کر مبعوث فرمایا تھا۔ یہ اس بات کو متضمن ہے کہ آپؐ نے ہمارے دین کو ہمارے لیے کافی و شافی طور پر بیان کر دیا ہو، جس کے بعد کسی بیان کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ ہدایت اپنے معانی میں گمراہی کے معانی کے بالکل منافی ہے۔ اور دین حق اپنے معانی میں ہر باطل دین کے بالکل منافی ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا۔ رسول اللہؐ دین حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے۔ اور آپؐ کے زمانے میں لوگ تنازع کے وقت آپؐ سے رجوع کرتے۔ تو آپؐ ان کے درمیان فیصلہ کرتے،  اور ان کے لیے حق بیان کرتے۔ خواہ ان کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہو، یا ان کا آپس میں اختلاف ایسے مسائل میں ہو جن کے بارے میں ابھی تک اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ پھر اس کے بعد قرآن اس مسئلہ کے بیان و وضاحت میں نازل ہوتا۔ اور کتنی ہی جگہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں : (یسئلونک )‘‘ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریمؐ کواس کا شافی جواب دیتے۔ اور آپ کو حکم دیا جاتا کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے، اور ان تک پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(یَسْأَلُونَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُونَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّہُ فَکُلُواْ مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْْکُمْ وَاذْکُرُواْ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہِ وَاتَّقُواْ اللّہَ نَّ اللّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ)۔ مائدہ4۔

’’آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے ) کہہ دیجیے کہ سب پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جنہیں تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے اللہ نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے ) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اُس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے‘‘۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(وَیَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذَلِکَ یُبیِّنُ اللّہُ لَکُمُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ)۔ بقرہ 219۔

’’اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کونسا مال خرچ کریں تو کہہ دیجیے کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو‘‘۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنفَالِ قُلِ الأَنفَالُ لِلّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُواْ اللّہَ وَأَصْلِحُواْ ذَاتَ بِیْْنِکُمْ وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَرَسُولَہُن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ)۔ انفال1۔

’’(اے محمدؐ! مجاہد لوگ) آپ سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے ) کہہ دیجیے کہ غنیمت اللہ اور اُس کے رسول کا مال ہے تو اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اُس کے رسول کے حکم پر چلو‘‘۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأہِلَّۃ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَیْْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوْاْ الْبُیُوتَ مِن ظُہُورِہَا وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَی وَأْتُواْ الْبُیُوتَ مِنْ أَبْوَابِہَا وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)۔ بقرہ 189۔

’’(اے محمدؐ!) لوگ آپ سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے ) کہہ دیجیے کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں ) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں ) گھروں میں اُن کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو۔ اور گھر میں اُن کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ‘‘۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَال فِیْہِ کَبِیْر وَصَدّ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَکُفْر بِہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَِخْرَاجُ أَہْلِہِ مِنْہُ أَکْبَرُ عِندَ اللّہِ وَالْفِتْنَۃ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ یَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُمْ حَتَّیَ یَرُدُّوکُمْ عَن دِیْنِکُمْ نِ اسْتَطَاعُواْ وَمَن یَرْتَدِدْ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِر فَأُوْلَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃ وَأُوْلَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ )۔ بقرہ 217۔

’’(اے محمدؐ!) لوگ آپ سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجیے کہ اُن میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اُس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے ) سے (بند کرنا) اور اہلِ مسجد کو اُس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں ) اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہو جائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے ) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔

ان کے علاوہ دیگر بھی بہت سی آیات ہیں۔

مگر نبی کریمؐ کی وفات کے بعد ایسے مسائل شریعت میں امت کا اختلاف ہو گیا جو اصول شریعت یا اصول مصادر شریعت کا تقاضا نہیں کرتے تھے۔ مگر پھر بھی یہ اختلاف ہے، جس کے بعض اسباب ہم ان شاء اللہ بیان کریں گے۔

ہم سب علم الیقین کے طور پر جانتے ہیں کہ اہل علم میں کوئی ایک بھی ایسا عالم نہیں پایا جاتا،  جو اپنے علم میں ثقہ ہو، اور اپنے علم اور امانت کی وجہ سے مشہور ہو، اور وہ ایسے مسئلہ میں جان بوجھ کر قصداً اختلاف کرے جس پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ دلالت کرتے ہوں۔ اس لیے کہ جس میں علم اور امانت کی صفات پائی جائیں اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا رہبر و رہنما حق ہو۔ اور جس کا رہبر و رہنما حق ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے [حق پر چلنا]  آسان کر دیتے ہیں۔ سنیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ )قمر 17۔

’’اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟‘‘۔

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(فَأَمَّا مَن أَعْطَی وَاتَّقَی ٭وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی ٭ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرَی )۔ لیل 5  7۔

’’تو جس نے (اللہ کے رستے میں مال) دیا اور پرہیزگاری کی۔ اور نیک بات کو سچ جانا۔ اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے‘‘۔

لیکن ان جیسے ائمہ سے یہ بات تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں کسی خطاء کا ارتکاب ہو جائے۔ ان اصولوں میں نہیں، جن کی طرف ہم نے تھوڑی دیر پہلے اشارہ کیا ہے۔ یہ خطاء ایک لازمی معاملہ ہے،  اس کا صادر ہونا ضروری ہے۔ اس لیے کہ انسان [کمزور ہے ] جیساکہ رب نے بیان کیا ہے :

(وَخُلِقَ الِنسَانُ ضَعِیْفاً)۔ نساء28۔

’’اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے‘‘۔

انسان اپنے علم و ادراک میں ضعیف ہے۔ وہ اپنے احاطہ و شمول میں ضعیف ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ بعض امور میں اس سے خطاء واقع ہو جائے۔ اور ہم اجمالی طور پر اپنے موضوع کے متعلق بیان کرتے ہوئے اہل علم سے خطاء کے اسباب ان آنے والے سات اسباب میں بیان کریں گے۔ باوجود اس کے کہ حقیقت میں اور بھی بہت سارے اسباب ہیں، اور ]اختلافات کا [ ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں ہے۔ اور اہل علم کے اقوال سے بصیرت رکھنے والا انسان منتشر اختلافات کے اسباب بھی جان سکتا ہے۔ جس کو ہم اجمالی طور پر ذیل میں بیان کرتے ہیں :

پہلا سبب : یہ کہ حکم میں خطاء کرنے والے اس عالم تک مخالف دلیل نہ پہنچی ہو۔

یہ سبب صرف ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے جو صحابہ کرام کے بعد آئے۔ بلکہ ایسا اختلاف صحابہ میں بھی ہوا ہے، اور ان کے بعد آنے والوں میں بھی۔ ہم صحابہ میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات میں سے صرف دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔

پہلی مثال : ہم جانتے ہیں کہ صحیح بخاری اور دوسری کتب میں یہ بات ثابت شدہ ہے، جب امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام کا سفر کیا تو آپ کو بتایا گیا کہ وہاں پر طاعون پھیلا ہوا ہے، تو آپ رک گئے اور صحابہ کرام سے مشورہ کرنے لگے۔ آپ نے مہاجرین اور انصار سے مشورہ لیا۔ ان کا آپس میں دو رائے پر اختلاف ہو گیا۔ ان میں راجح قول واپس پلٹ جانے کا تھا۔ اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف تشریف لے آئے،  جو کہ مشورہ کے وقت غائب تھے،  اپنی کسی ضرورت سے گئے ہوئے تھے۔ تو فرمانے لگے میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے :

’’جب تم کسی سر زمین میں اس بیماری کے متعلق سنو،  تو وہاں نہ جاؤ۔ اور اگر آپ وہاں پر موجود ہوں،  تو اس بیماری سے بھاگنے کے لیے اس علاقہ نہ نکلو‘‘[1]۔

یہ حکم بڑے بڑے صحابہ پر مخفی تھا یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اس کے بارے میں خبر دی۔

دوسری مثال: جناب سیدنا حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور جناب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ جب حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو وہ لمبی عدت گزارے گی۔ یعنی چار مہینے دس دن … یا پھر وضع حمل۔ اگر اس نے بچہ چار مہینے دس دن سے پہلے جَنم دے دیا تو ان دونوں کے نزدیک اس کی عدت پوری نہیں ہو گی یہاں تک کہ چار مہینے دس دن پورے کر لے۔ اور اگراس نے چار ماہ دس دن بچہ جنم دینے سے پہلے پورے کر لیے تو وہ پھر بھی عدت میں رہے گی یہاں تک کہ وہ جنم دیدے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَن یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ )۔ طلاق ۴۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃ أَشْہُرٍ وَعَشْراً )۔ بقرہ ۲۳۴۔

’’اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے‘‘۔

ان دونوں آیتوں میں وجہ کے لحاظ سے عموم اور خصوص ہے۔ اور اس عموم اور خصوص میں جمع کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں اس صورت میں لیا جائے جس سے آپس میں تطبیق ممکن ہو۔ اور[ظاہر میں]  اس تک پہنچنے کا صرف وہی ایک راستہ ہے جس پر حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما چلے ہیں۔ مگر سنت اس سے اوپر ہے۔ جناب رسول اللہؐ سے سبیعہ اسلمیہ والی حدیث میں ثابت ہے کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد نفاس کا خون آیا [یعنی وضع حمل ہو گیا]  تو رسول اللہؐ نے اسے اجازت مرحمت فرمائی کہ وہ شادی کر لے‘‘[2]۔

اس کا معنی یہ ہوا کہ ہم سورۃ کے معانی کو لے رہے ہیں،  جسے’’سورۃ النساء الصغری‘‘ یعنی’’ چھوٹی سورت النساء‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا عام فرمان ہے :

وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَن یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ )۔ طلاق ۴۔

’’اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے ) تک ہے‘‘۔

اور میں یہ بات یقینی طور پر جانتا ہوں کہ اگر یہ حدیث حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی ہوتی، تووہ اس کو قبول کر لیتے، اور اپنے رائے سے رک جاتے۔

دوسرا سبب : ایسا ہو سکتا ہے کہ حدیث اس انسان تک پہنچی ہو،مگراس کے ہاں حدیث نقل کرنے والا  راوی ثقہ نہ ہو۔ اور وہ یہ سمجھے کہ یہ حدیث اپنے سے زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں،  جو صحابہ کے بعد آنے والوں کی نہیں، بلکہ خود صحابہ کرام fکی مثال ہے۔

حضرت فاطمۃ بنت قیسؓ کو ان کے شوہر نے تین طلاق دے دیں۔ اور ان کے پاس ان کے وکیل [ولی] کو عدت کے دورانیہ کا خرچہ ’’جو‘‘ [غلہ] دے کر بھیجا۔ مگر وہ اس پر ]خرچہ کم سمجھ کر [ناراض ہوئیں اور لینے سے ان کار کر دیا۔ دونوں کا معاملہ نبی کریمؐ کے پاس پیش ہوا۔ تو نبیؐ نے اسے بتایا کہ اس کے لیے نہ ہی رہائش ہے،  اور نہ ہی خرچہ۔[3]

اس لیے کہ وہ اس سے جدا ہو گئی ہے۔ اور جو عورت مرد سے جدا ہو جائے تو اس کے شوہر پر نہ ہی رہائش کی ذمہ داری ہے،  اور نہ ہی نان و نفقہ کی، سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(وَِن کُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَیْْہِنَّ حَتَّی یَضَعْنَ حَمْلَہُن)۔ طلاق۶۔

’’اور اگر وہ عورتیں حمل سے ہوں تو ان کا خرچ دیتے رہو یہاں تک وہ بچہ جنم دے دیں‘‘۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ علم و فضل میں جن کا نام ہی کافی ہے، ان پر یہ سنت مخفی تھی۔ آپ کی رائے یہ تھی کہ ایسی عورت کو رہائش بھی دی جائے گی اور خرچہ بھی دیا جائے گا۔ اور انہوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا والی حدیث کو اس احتمال کی وجہ سے رد کر دیا۔،، وہ بھول گئی ہیں۔ اور آپ نے فرمایا:

’’ہم اپنے رب کے فرمان کو ایک عورت کی بات پر چھوڑ دیں،  جس کے بارے میں ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس نے یاد رکھا یا بھول گئی‘‘۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جناب حضرت امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ اس دلیل سے مطمئن نہیں تھے۔ یہ جیسا کہ حضرت عمرؓ کے ساتھ پیش آیا، اور ان کے علاوہ باقی صحابہ کے ساتھ بھی پیش آیا،  اور ان کے بعد تابعین کے ساتھ بھی۔ اور ایسے واقعات ان کے بعد اتباع تابعین کیساتھ بھی پیش آئے۔ اور ایسے آج تک ہوتا رہا ہے،  اور قیامت تک ہوتا رہے گا، کہ انسان کو کسی دلیل کے صحیح ہونے پر پختہ اعتماد نہ ہو۔   اور کتنے ہی اہل علم کے اقوال سامنے آتے ہیں جن میں احادیث موجود ہوتی ہیں،  مگر بعض اہل علم کے نزدیک [یہ احادیث] صحیح ہوتی ہیں، وہ انہیں قبول کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ مگر دوسرے کچھ اہل علم سمجھتے ہیں کہ یہ احادیث ضعیف ہیں،  اس سے وہ انہیں قبول نہیں کرتے، اس لیے کہ ان کے نزدیک ان [احادیث] کی رسول اللہؐ سے روایت ثقہ / قوی نہیں ہے۔

تیسرا سبب : یہ کہ حدیث اس [عالم] تک پہنچی ہو، مگر وہ بھول گیا ہو۔ اور کون ہے جو بھولتا نہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو حدیث بھول جاتے ہیں،  بلکہ آیت بھول جاتے ہیں۔ نبی کریمؐ نے ایک دن نماز پڑھائی،  تو بھول کر ایک آیت چھوڑ گئے۔ آپؐ کے ساتھ نماز حضرت ابی بن کعبؓ بھی شریک جماعت تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا:‘‘ تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا‘‘ [4]

حالانکہ آپؐ صاحب وحی ہیں، اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے فرمایا تھا :

(سَنُقْرِؤُکَ فَلَا تَنْسَی٭ِلَّا مَا شَاءَ اللَّہُ نَّہُ یَعْلَمُ الْجَہْرَ وَمَا یَخْفَی)۔ (اعلی 67)۔

‘‘ہم آپ کو پڑھائیں گے کہ آپ فراموش نہیں کر پائیں گے۔ مگر جو اللہ چاہے وہ کھلی بات کو بھی جانتا ہے اور چھپی کو بھی‘‘۔

اس طرح یعنی اگر کسی انسان تک حدیث پہنچی ہو،  مگر وہ اسے بھول جائے  ایک قصہ حضرت عمر بن خطابؓ اور جناب حضرت عمار  کا بھی ہے۔ جب ان دونوں کو رسول اللہؐ نے کسی کام سے روانہ کیا۔ تو حضرت عمرؓ اور حضرت عمارؓ دونوں کو جنابت لاحق ہو گئی۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کیا کہ مٹی سے طہارت ایسے ہی ہے جیسے پانی سے۔ وہ مٹی میں ایسے لوٹ پوٹ ہوئے جیسے جانور، تاکہ ان کے تمام بدن کو مٹی ایسے لگ جائے جیسے پانی پہنچتا ہے۔ اور پھر نماز پڑھ لی۔ جب کہ حضرت عمرؓ نے نماز نہ پڑھی۔ پھر دونوں رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

تو آپؐ نے ان کی حق بات کی طرف رہنمائی فرمائی، حضرت عمارؓ سے فرمایا:’’ آپ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں سے یوں کرتے۔‘‘ پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا،  اور پھر اپنی ہتھیلیوں سے منہ کا مسح کیا۔ حضرت عمارؓ یہ حدیث حضرت عمرؓ کے دور میں بیان کیا کرتے تھے، اور اس سے پہلے بھی۔ لیکن حضرت عمرؓ نے ایک دن آپ کو بلا بھیجا،  اور فرمایا یہ کیا حدیث ہے جو تم لوگوں سے بیان کرتے ہو؟۔ تو جناب عمارؓ نے آپ کو خبر دی،  اور فرمایا:‘‘ کیا آپ کو یاد نہیں ہے جب رسول اللہؐ نے ایک کام سے بھیجا تھا، اور ہم دونوں کو جنابت لا حق ہو گئی۔ رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ اور میں زمین میں لوٹ پوٹ ہوا۔ تو رسول اللہؐ نے فرمایا :’’بیشک آپ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں سے یوں کرتے۔‘‘

تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر بھی یاد نہیں آیا، اور فرمانے لگے :‘‘اے عمار ! اللہ سے ڈرو۔ تو حضرت عمارؓ نے کہا :‘‘ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے بیان نہ کروں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی جو اطاعت فرض کی ہے،  میں اسے بیان نہیں کروں گا‘‘۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:‘‘ ہم تجھے اسی طرف پھیرتے ہیں،  جدھر کو چلا ہے‘‘[5]۔ مراد یہ ہے کہ پھر لوگوں میں اس کو بیان کرتے رہو۔

سو حضرت عمرؓ بھول گئے کہ نبی کریمؐ نے جنابت کی حالت میں تیمم کو بھی ایسے ہی قرار دیا ہے جیسے حدث اصغر (بے وضو ہونے کی حالت )میں ہوتا ہے۔ اور اس مسئلہ میں حضرت عمرؓ کی راہ پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی چلے ہیں۔ ان کے اور حضرت ابو موسی اشعریؓ کے مابین اس مسئلہ پر مناظرہ بھی ہوا ہے۔ انہوں نے بھی حضرت عمارؓ کا حضرت عمرؓ کو دیا ہوا جواب پیش کیا۔ تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمانے لگے : کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ حضرت عمرؓ حضرت عمار ؓ کی بات پر قانع نہیں ہوئے تھے۔ تو حضرت ابو موسیؓ نے فرمایا: عمارؓ کی بات چھوڑیے،  آپ کا اس آیت سورت مائدہ میں آیت تیمم  کے بارے میں کیا خیال ہے ؟۔ تو ابن مسعودؓ خاموش ہو گئے۔

لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حق اس جماعت کے ساتھ ہے جو کہتے ہیں کہ جنبی انسان ایسے ہی تیمم کرے گا جیسے بے وضو انسان تیمم کرتا ہے۔

اس سارے بیان سے مقصود یہ ہے کہ کبھی انسان بھول جاتا ہے،  اور اس پر کوئی شرعی حکم مخفی ہو جاتا ہے۔ تو وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کے کہنے میں اسے معذور سمجھا جاتا ہے۔ مگر جس کو دلیل کا علم ہو جائے وہ معذور نہیں ہے۔ یہ دو سبب ہیں۔

چوتھا سبب : فہم کا اختلاف : یہ کہ مسئلہ کی دلیل عالم تک پہنچی ہو، مگر وہ اس سے معنی مراد کے خلاف سمجھا ہو۔ اس کے لیے ہم دو مثالیں بیان کرتے ہیں : ایک کتاب اللہ سے، اور دوسری سنت رسول اللہؐ سے۔

۱: قرآن سے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَِن کُنتُم مَّرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ أَوْ جَائَ أَحَد مِّنکُم مِّن الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَائً فَتَیَمَّمُواْ صَعِیْداً طَیِّبا )۔ نساء43۔

’’اگر تم بیمار ہو،یا بحالت سفر ہو، یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں کا مسح (کر کے تیمم) کر لو بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے‘‘۔

علماء کرام رحمہم اللہ کا (لاَمَسْتُمُ النِّسَاء) کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ اس سے بعض نے یہ سمجھا ہے کہ’’ لمس‘‘ سے مراد مطلق چھونا ہے۔ اور دوسرے لوگوں نے سمجھا ہے کہ ایسا لمس جس سے شہوت بر انگیختہ ہوتی ہو۔ اور دوسرے لوگوں نے سمجھا ہے کہ اس سے مراد جماع ہے۔ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہیں۔

اگر آپ آیت میں غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ حق‘‘ جماع‘‘ کا کہنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی سے طہارت کی دو قسمیں ذکر کی ہیں : طہارت حدث اصغر اور طہارت حدث اکبر۔

طہارت اصغر کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

( فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْْدِیَکُمْ لَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ لَی الْکَعْبَیْنِ )۔ مائدہ ۶۔

’’تو اپنے مونہوں کو اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو)‘‘

جب کہ حدیث اکبر کے بارے میں ہے : (وَِن کُنتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُواْ)۔ مائدہ۔

‘‘اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو‘‘

بلاغت اور بیان کا تقاضا تھا کہ طہارت تیمم میں ان دونوں طہارتوں کے موجب کا بھی ذکر کیا جائے۔ سو اللہ تعالیٰ کا فرمان :

( جَاءَ أَحَد مَّنکُم مِّنَ الْغَائِطِ )مائد ہ۔

‘‘کوئی تم میں سے بیت الخلاء میں سے ہو کر آیا ہو‘‘۔

یہ طہارت اصغر کے موجب کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ فرمان الٰہی :

(أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ)۔

’’تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو‘‘۔ یہ حدث اکبر سے طہارت کے موجب کی طرف اشارہ ہے۔

اگر ہم یہاں پر ملامسہ کو لمس کے معنی میں کریں گے، تو آیت میں طہارت اصغر کے موجبات میں سے دو موجبات کا ذکر ہو گا۔ پھر اس میں حدیث اکبر سے طہارت کے موجبات میں سے کچھ بھی بیان نہیں ہے۔ یہ قرآنی بلاغت کے مقتضی کے خلاف ہے۔ جو لوگ اس آیت سے مطلق لمس سمجھے ہیں،  وہ کہتے ہیں کہ :‘‘ جب مذکرانسان کسی مونث کی چمڑی کو فقط چھولے، تو اس سے وضو کرنا واجب ہو جائے گا۔ یا پھر جباس کا لمس شہوت کے ساتھ ہو گا تو وضو ٹوٹے گا ورنہ نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ دونوں حالتوں میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔ یہ بات حدیث میں روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہؐنے اپنی کسی ایک بیوی کا بوسہ لیا،  اور پھر وضو کے لیے چلے گئے، مگر آپ نے وضو نہیں کیا‘‘۔[6] یہ اتنی سندوں سے روایت ہے جو آپس میں ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں۔

سنت سے : جب رسول اللہؐ غزوۂ احزاب سے واپس تشریف لائے، اور آلات جنگ رکھ دیے، تو آپؐ کے پاس جبریل امین حاضر خدمت ہوئے، اور گزارش کی:

’’ابھی تک ہم فرشتوں  نے ہتھیار نہیں رکھے۔ بنی قریظہ کی طرف چلیں۔ نبی کریمؐ نے اپنے صحابہ کو بنی قریظہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا، اور فرمایا:

’’تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ پہنچ کر‘‘۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس کلام کے فہم میں اختلاف ہو گیا۔ ان میں سے بعض نے یہ سمجھا کہ اس حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ نکلنے میں جلدی کی جائے۔ یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت آنے تک بنی قریظہ پہنچ جائیں۔ مگر جب راستہ میں نماز کا وقت ہو گیا،  تو انہوں نے نماز پڑھ لی،  اس کا وقت نکل جانے تک کے لیے تاخیر نہیں کی۔

اور ان میں سے بعض یہ سمجھے کہ رسول اللہؐ کی مراد یہ ہے کہ بنی قریظہ پہنچنے تک نماز عصر نہ پڑھی جائے۔ انہوں نے نماز میں تاخیر کی، یہاں تک کہ انہوں نے بنی قریظہ پہنچ کر نماز پڑھی تو اس کا وقت نکل چکا تھا‘‘۔[7]

اس میں کوئی شک نہیں وہ لوگ راست پر تھے جنہوں نے نماز کو اس کے وقت میں پڑھ لیا۔ اس لیے کے نماز کو اس کے وقت میں پڑھنے کے بارے میں نصوص محکم ہیں۔ اور یہ نص مشتبہ ہے۔ اور علمی طریقہ یہ ہے کہ متشابہ کو محکم پر محمول کیا جائے گا۔

اس سے ثابت ہوا کہ اختلاف کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ دلیل کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی مراد کے خلاف سمجھا جائے۔ یہ چوتھا سبب ہے۔

پانچواں سبب : جہالت نسخ : یہ کہ کسی عالم تک حدیث پہنچی ہو، مگر وہ منسوخ ہو، اور اسے ناسخ کا علم نہ ہو۔ سو حدیث بھی صحیح ہو گی،اور اس سے مفہوم بھی درست سمجھا گیا ہو گا، مگر وہ منسوخ ہو گی۔ اور عالم کو اس کے نسخ کا علم نہ ہو گا۔ اس وقت اس عالم کا عذر مقبول ہو گا۔ اس لیے کہ اصل عدم نسخ ہے یہاں تک کہ اس کا ناسخ معلوم ہو جائے۔

اس نوع کی مثال حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی رائے ہے۔

جب انسان رکوع میں جاتا ہے تو اپنے ہاتھوں کو کیسے رکھتا ہے ؟۔

شروع اسلام میں نمازی کے لیے یہ مشروع تھا کہ جب وہ حالت رکوع میں  اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ دے۔ یہ شروع اسلام میں تھا۔ پھر منسوخ ہو گیا۔ اور اب یہ مشروع ہوا کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے اوپر رکھا جائے۔ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں میں اس کا منسوخ ہونا ثابت ہے۔ مگر جناب حضرت ابن مسعودؓ کواس کے منسوخ ہونے کا علم نہیں تھا،  اس لیے وہ اپنے ہاتھوں کو ملاتے اور دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھتے۔ آپ کے پہلو میں حضرت سیدنا علقمہؓ اور حضرت اسودؓ نے نماز پڑھی، تو ان دونوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ مگر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا اور ہاتھوں کو ملانے کا حکم دیا۔ آخر کیوں ؟

اس لیے کہ آپؓ کو اس حدیث کے منسوخ ہونے کا علم نہیں ہو سکا تھا۔ اور انسان کواس کی وسعت سے بڑھ کر کا مکلف نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(لاَ یُکَلِّفُ اللّہُ نَفْساً لآَ وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَان نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْْنَا صْراً کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ )بقرۃ286۔

’’اللہ کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اُس کو اُن کا فائدہ ملے گا اور بُرے کرے گا تو اُسے اُن کا نقصان پہنچے گا۔ اے رب اگر ہم سے بھول چوک ہو گئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا۔ اے اللہ ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے اللہ جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھنا اور (اے اللہ) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہمیں کافروں پر غالب فرما‘‘۔

چھٹا سبب: کہ عالم اس بات کا اعتقاد رکھتا ہو کہ یہ حدیث / دلیل اپنے سے زیادہ قوی نص یا اجماع سے معارض / ٹکراؤ رکھتی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ دلیل استدلال کرنے والے تک تو پہنچی ہے، مگر وہ اس سے قوی نص یا اجماع سے اس کے معارض ہونے کا نظریہ رکھتا ہے،[اس وجہ سے اس کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے ]، یہ بات اختلاف آئمہ میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ کتنا ہی زیادہ ہم سنتے ہیں کہ [کسی مسئلہ پر ] اجماع نقل کیا جاتا ہے، مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اجماع نہیں ہے۔

اور بہت ہی غریب بات جو اجماع کے بارے میں سننے میں آتی ہے،  وہ بعض کا کہنا ہے :

’’غلام کی گواہی قبول کرنے پر اجماع ہے‘‘۔

اور فریق ثانی کا کہنا ہے :’’غلام کی گواہی قبول نہ کرنے پر اجماع ہے‘‘۔

یہ منقولات کے غرائب میں سے ہے۔ اس لیے کہ بعض لوگ جب ان کے ارد گرد ایک رائے پر اتفاق رکھنے والے پائے جائیں،  تووہ گمان کرتے ہیں کہ اس کا مخالف کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ اعتقاد رکھتا ہے کہ نصوص کا مقتضیٰ یہی ہے۔ تو اس کے ذہن میں دو دلیلیں جمع ہو جاتی ہیں : نص اور اجماع۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی رائے قیاس صحیح کے مقتضی کے مطابق ہو۔ اور صحیح نظر کے مطابق ہو، تو وہ اس بات کا حکم لگا دے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اوراس کے پاس موجود اس صحیح نص کا کوئی مخالف نہیں ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔

اس کے لیے ممکن ہے کہ ’’ربا الفضل‘‘ (زیادہ سود ) کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے کی مثال دیں۔

رسول اللہؐ سے یہ ثابت ہے کہ :’’بیشک سود( زیادہ) لینے میں ہے‘‘۔ [8]

اور حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے،  رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’بیشک سود ادھار میں اور زیادہ لینے میں ہے‘‘[9]۔

حضرت ابن عباسؓ کے بعد علماء کا اجماع ہے کہ :‘‘ سود کی دو قسمیں ہے :’’الفضل‘‘ زیادہ لینے میں بھی ہے‘‘،النسیئۃ‘‘ادھار میں بھی’’[10]۔

جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کار کرتے ہیں کہ :‘‘النسیئۃ‘‘ادھار میں ہی سود ہو، بس۔

اس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ نے دو صاع گندم ہاتھوں ہاتھ ایک صاع گندم کے بدلے میں بیچ ڈالی توربا النسیئۃ کا مطلب یہ ہے کہ : کسی کو چھ ماہ کے لیے سوروپیہ ادھار دیے کہ چھ ماہ کے بعد ایک سو پچیس روپیہ ادا کرے گا۔ چھ ماہ کے بعد عدم ادائیگی کی صورت میں اس میں مزید مہلت تو دیدی، مگر اس کے ساتھ پچیس اور بڑھا دیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :‘‘کل قرض یجر منفعۃ فہو ربا‘‘۔ ہر وہ قرض جو اپنے ساتھ نفع کو کھینچ لائے وہ سود ہے‘‘۔ فیض القدیر شرح جامع الصغیر ۵/ ۲۸۔

ابن عباس ؓ کے ہاں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کا خیال ہے کہ سود صرف :‘‘النسیئۃ‘‘ادھار میں ہی ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ نے ایک مثقال سونا دو مثقال سونے کے بدلے نقد / ہاتھوں ہاتھ بیچ دیا۔ تو ابن عباس ؓ کے نزدیک یہ سود نہیں ہے۔ لیکن جب اس کو قبضہ میں لینے میں دیر کی۔ آپ نے مجھے ایک مثقال (سونا ) دے دیا،  مگر میں نے آپ کو اس کا بدل جدا ہونے کے بعد دیا (اسی مجلس میں نہیں دے سکا )، تو یہ سود شمار ہو گا۔ اس لیے کہ حضرت ابن عباس ؓ کا خیال ہے کہ یہ حصر سود واقع ہونے سے مانع ہے۔ اور یہ بھی معلوم شدہ ہے کہ (عربی میں لفظ )‘‘نَّما‘‘ حصر کے لیے آتا ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا سود نہیں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت دلیل ہے کہ‘‘ زیادہ لینا بھی سود ہے‘‘۔ اس لیے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ہے :

’’جس نے زیادہ لیا،  یا زیادہ دیا حقیقت میں اس نے سودی معاملہ کیا‘‘[11]۔

توپھر اس حدیث کے متعلق ہماری کیا رائے ہے جس سے حضرت ابن عباس ؓ نے استدلال کیا ہے ؟

اس حدیث کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ ہم اس حدیث کواس معنی پر محمول کریں گے جو دوسری اس حدیث کیساتھ موافق ہو جس کے مطابق ’’الفضل‘‘ زیادہ لینا بھی سود میں شمار ہوتا ہے۔ اس طرح کہ ہم کہیں کہ وہ سخت سود جس کا برتاؤ اہل جاہلیت آپس میں کرتے تھے،  اور جے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان وارد ہوا ہے :

(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃ وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)

آل عمران130۔

’’اے ایمان والو! دُگنا چوکنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو‘‘۔

بیشک یہ‘‘ ربا النسیئۃ‘‘ (ادھار کا سود) ہے۔ رہا ‘‘ربا الفضل‘‘ تو یہ وہ سخت اور بڑا سود نہیں ہے۔ اسی لیے ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’ اعلام الموقعین‘‘ میں فرمایا ہے :

’’بیشک ربا الفضل کی حرمت بطور وسیلہ کی حرمت کے ہے، نہ کہ تحریم المقاصد کے باب سے ہے‘‘۔

ساتواں سبب : یہ کہ عالم کسی ضعیف حدیث سے استدلال کرے،  یا اس کا استدلال کرنا بذات خود ضعیف ہو۔ یہ بہت زیادہ ہے۔ ضعیف حدیث سے استدلال کرنے کی مثال :

بعض علماء کا صلاۃ تسبیح کی مشروعیت کے بارے میں قول ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دو رکعت نماز پڑھے،  جن میں سورت فاتحہ کے بعد پندرہ بار تسبیح کہے۔ اور ایسے ہی رکوع اور سجدہ میں کرے، الخ

جب کہ بعض دوسرے یہ کہتے ہیں کہ : صلاۃ تسبیح بدعت و مکروہ ہے۔ اور اس کی حدیث صحیح ثابت نہیں ہے۔ اور یہ نظریہ رکھنے والوں میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :‘‘ یہ حدیث نبی کریمؐ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

‘‘یہ حدیث رسول اللہؐ پر جھوٹ گھڑا گیا ہے۔ حقیقت میں اس نماز پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شرعی لحاظ سے بھی شذوذ ہے۔ اس لیے کہ عبادت یا تو دل کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ اور یہ بہت ضروری ہے کہ اس میں اصلاح قلب ہو۔ تو اس صورت میں وہ ہر وقت اور ہر جگہ پر مشروع ہوتی ہے۔ اگر وہ فائدہ مند نہ ہو تو مشروع نہیں ہوتی۔ اور یہ حدیث جس میں آیا ہے کہ انسان اسے ہر دن پڑھے،  یا پھر ہر ہفتہ پڑھے، یا ہر مہینہ پڑھے،  یا زندگی میں ایک بار پڑھے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی مثال اور نظیر نہیں ہے۔ یہ خود اس کی سند اور متن کے شاذ ( صحیح اور ثقہ کے مخالف ) ہونے پر دلیل ہے۔ اور جس نے یہ کہا کہ یہ حدیث ’’جھوٹ‘‘ ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام نے فرمایا ہے، وہ انسان حق پر ہے۔ اسی لیے شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ :’’آئمہ حدیث میں سے کسی ایک نے اسے روایت نہیں کیا‘‘۔

میں نے اس کی مثال اس لیے بیان کی ہے کہ اس کے بارے میں بہت سارے مردوں اور عورتوں نے سوال کیا تھا، مجھے اس بات کا ڈر محسوس ہوتا ہے کہ یہ بدعت مشروع کام ہو۔ بیشک میں کہتا ہوں یہ بدعت ہے۔ میں یہی کہوں گا اگرچہ بعض لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی ہو۔ اس لیے کہ ہم اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو کو اللہ کے لیے دین سمجھ کر کیا جائے،  اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ میں نہ ہو، تووہ بدعت ہے۔

اور ایسے وہ لوگ جو ایسی دلیل کو اختیار کرتے ہیں جو استدلال کرنے میں ضعیف ہے، یعنی دلیل تو قوی ہے،  مگر اس سے استدلال ضعیف ہے۔ مثال کے طور پر جن علماء نے اس حدیث کو اختیار کیا ہے :

’’ جنین کا ذبح کرنا اس کی ماں کے ذبح کرنے میں ہے‘‘۔[12]

اہل علم میں اس حدیث کے معانی میں یہ بات معروف ہے کہ جب جنین کی ماں کو ذبح کر دیا جائے،  تو اس کا ذبح کیا جانا،  جنین کا ذبح کرنا ہے۔ یعنی جب ذبح کرنے کے بعد بچہ کو پیٹ سے نکالا جائے تو اسے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ مرگیا ہے،  اور مرنے کے بعد ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ علماء میں سے بعض نے یہ سمجھا ہے کہ ماں کا ذبح کر دینا جنین کا ذبح کرنا ہے۔ یہ شہ رگ کاٹ کر خون بہا دیا جائے۔ لیکن یہ بہت ہی بعید ہے۔ اور جو چیز اسے دور کرتی وہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد ذبح کرنے سے خون کا بہنا حاصل نہیں ہوتا۔ جب کہ رسول اللہؐ کا فرمان ہے :

’’جس کا خون بہہ جائے، اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لیجیے‘[13]‘۔

اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ مرنے کے بعد ذبح کرنے سے خون کا بہنا ممکن نہیں ہے۔

یہ چند ایک اسباب ہیں جن پر توجہ دلانا میں نے مناسب سمجھا۔ ورنہ یہ ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے بعد ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے ؟۔

جیساکہ میں نے اپنے موضوع کے شروع میں کہا ہے :‘‘ دیکھے جانے والے،  سنے جانے والے اور پڑھے جانے والے ذرائع نشریات پر علماء یا متکلمین کے اختلاف کی وجہ سے لوگ شک کرنے لگے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کس کی اتباع کریں ؟۔

اس اختلاف میں، یعنی ان علماء کا اختلاف جو علم و امانت میں ثقہ ہیں، نہ کہ وہ لوگ جو اہل علم گمان کیے جاتے ہیں مگر وہ ایسے نہیں ہیں، ہم انہیں علماء نہیں شمار کرتے، اور نہ ہی ان کی کسی بات پر اعتماد کرتے ہیں، بلکہ ہماری مراد وہ علماء کرام ہیں جو امت اسلامیہ، اسلام اور علم کی خیر خواہی میں معروف ہیں، ہمارا موقف دو وجوہات پر مبنی ہے :

۱: ان آئمہ نے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی نصوص سے اختلاف کیسے کیا ؟۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنا ہمارے ذکر کردہ اسباب اختلاف کی روشنی میں ممکن ہے۔ یا ان اسباب کی بنا پر جن کا ہم ذکر نہیں کر سکے، مگر دینی علم کا طلبگار اس کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ متبحر عالم نہ ہی ہو۔

۲: ان کی اتباع کے متعلق ہماری کیا رائے ہے ؟۔ اور ان علماء کی اتباع کون کرے گا ؟۔ کیا انسان امام کی اتباع ایسے کرے گا کہ اس کے قول سے باہر نہ نکل سکے، اگر چہ حق دوسروں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو؟۔ جیسا کہ اپنے مذہب کے لیے متعصب لوگوں کی عادت ہے۔ یا اس دلیل کی پیروی کرے گا جو اس کے ہاں راجح ثابت ہو جائے، اگرچہ وہ اس امام کے مخالف ہی کیوں نہ ہو جس کی طرف وہ خود کو منسوب کرتا ہے۔

جواب : ہماری رائے دوسری ہے۔ سو جس آدمی کو دلیل کا علم ہو جائے اس پر واجب ہوتا ہے کہ وہ دلیل کی اتباع کرے۔ بھلے اس میں کسی امام کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ جب کہ اس میں اجماع امت کی مخالفت نہ ہو۔ اور جس نے اس بات کا اعتقاد رکھا کہ رسول اللہ کے علاوہ کسی کی بات کو ہر حال اور ہر زمانے میں لیا اور رد کیا جا سکتا ہے، تو گویا کہ اس نے رسول اللہ کے علاوہ دوسرے کسی کے لیے خصائص رسالت کی گواہی دی۔ اس لیے کہ کسی بھی کے قول کے لیے یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا سوائے رسول اللہ کے۔ اور رسول اللہ کے علاوہ ہر ایک کا قول قبول بھی کیا جا سکتا ہے اور رد بھی۔

لیکن ایک ایسا معاملہ باقی رہتا ہے جو محل نظر ہے۔ اس لیے کہ ہم ابھی تک اس مسئلہ کا شکار ہیں کہ کون ہے جو دلائل سے احکام کا استنباط کر سکتا ہے ؟۔ یہ ایک مشکل ہے۔ اس لیے کہ اب ہر ایک دعوی کرنے لگا ہے کہ میں ہی وہ آدمی ہوں۔ حقیقت میں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہدف کے لحاظ سے یہ اچھی بات ہے کہ انسان کے لیے رہبر و رہنما کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کو ہونا چاہیے۔ لیکن یہ دروازہ کھول دینا کہ ہر وہ انسان جو دلیل جانتا ہو، یا نہ جانتا ہو، وہ باتیں کرنے لگے، اور ہم اس سے یہ کہہ دیں کہ آپ مجتہد ہیں جو چاہیں کہیں۔ اس سے شریعت میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ اور لوگوں اور معاشرہ کے اخلاق میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ لوگ اس باب میں تین اقسام میں منقسم ہیں :

۱: ایسا عالم جس کو اللہ تعالیٰ نے علم و فہم سے نوازا ہو۔

۲: وہ طالب علم جس کے پاس علم ہو۔ وہ تبحر کے درجہ تک نہ پہنچا ہو۔

۳: وہ عام انسان جو کچھ بھی نہ جانتا ہو۔

پہلی قسم: ایسے انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اجتہاد کرے اور رائے دے۔ بلکہ اس پر واجب ہے کہ جو اس کے پاس دلیل موجود ہے، اس کے مقتضی کے مطابق کہے۔ اس لیے کہ وہ اس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

( لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ)۔ نساء ۸۳۔

’’ تاکہ وہ لوگ اسے جان لیتے، جواس سے استنباط کرتے‘‘ ۔

یہ بھی ان اہل استنباط میں سے ہے جو اس مدلول کو جانتے ہیں جس پر اللہ کی کتاب اور اس کے رسول اللہ کی سنت دلالت کرتے ہیں۔

دوسری قسم : جسے اللہ تعالیٰ نے علم سے نوازا ہو، مگر وہ پہلے درجہ تک نہ پہنچتا ہو۔ تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے جب وہ عمومی مسائل اور اطلاقات کو اور ان ادلہ کولے لے جو اس تک پہنچی ہیں۔ لیکن اس پر واجب ہوتا ہے کہ وہ ان تمام میں احتیاط سے چلے۔ اور یہ کہ علم میں اپنے سے مقدم شخص سے سوال کرنے میں کوئی تنگی نہ محسوس کرے۔ اس لیے کہ احتمال ہے کہ وہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اور کبھی اسیاس چیز کا علم نہیں ہوتا کہ کسی عام دلیل کو خاص کیا گیا ہو۔ یا مطلق کو مقید کیا گیا ہو، یا جس چیز کو وہ محکم سمجھتا ہے وہ منسوخ ہو، مگر اس تک روایت نہ پہنچی ہو۔

جب کہ تیسری قسم: وہ لوگ ہیں جن کے پاس علم نہیں ہے۔ ایسے لوگوں پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اہل علم سے سوال کریں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ نْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ)۔ انبیاء 7۔

’’اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو‘‘ ۔

اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے :

(فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ٭ بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ )۔ نحل 4344۔

’’اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو۔ دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ‘‘ ۔

سو ایسے انسان کی ذمہ داری ہے کہ پوچھے اور سوال کرے۔ لیکن یہ سوال کس سے کرے گا؟۔ علاقے میں علماء تو بہت سارے ہیں۔ اور ہر ایک دعوی کرتا ہے کہ وہ عالم ہے۔ یا ہر ایک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عالم ہے۔ سو پھر سوال کس سے کریں ؟۔

کیا ہم یہ کہہ دیں آپ پر واجب ہے کہ دیکھیں اور تلاش کریں کہ حق سے زیادہ قریب کون ہے ؟۔ پھر آپ اس سے سوال کریں اور اس کی رائے کو قبول کریں۔ یا ہم اس سے یہ کہیں کہ جس کو بھی آپ عالم سمجھتے ہوں، اس سے چاہو تو پوچھ لو۔ اور ایسا ہو سکتا ہے کہ کبھی وہ کسی ایک خاص مسئلہ میں موافق ہو، اور اس کے موافق نہ ہو جو اس سے افضل ہو اور زیادہ جاننے والا ہو۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے۔

ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ عامی پر واجب ہے کہ وہ اپنے شہر کے علماء میں سے جس کو ثقہ سمجھتا ہو اس سے پوچھ لے۔ اس لیے کہ جیسے وہ انسان جس کو جسم میں کوئی مرض لاحق ہو گیا ہو، وہ اس مرض کی دوا اس سے طلب کرتا ہے جسے وہ طبی امور میں قوی(ماہر ) سمجھتا ہے، ایسے ہی دینی امور میں بھی ہے۔

اس لیے کہ علم دلوں کی دوا ہے۔ جیسا کہ آپ اپنے مرض کے لیے ایسے طبیب کا انتخاب کرتے ہیں جسے آپ ماہر سمجھتے ہیں، ایسے ہی واجب ہے کہ ماہر عالم کو دیکھا جائے، چونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اور بعض کا خیال ہے : ایسا کرنا اس پر واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ علم میں قوی / ماہر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہر مسئلہ میں بعینہ ماہر نہ ہو۔ اس قول کا سبب یہ ہے کہ صحابہ کرام کے دور میں لوگ فاضل کی موجودگی میں مفضول سے پوچھا کرتے تھے۔

اس مسئلہ میں میری رائے یہ ہے کہ ایسے انسان سے سوال کیا جائے جسے وہ دین اور علم میں افضل سمجھتا ہو، اور ایسا کرنا بطور وجوب کے نہیں ہے۔ اس لیے کہ بہت ممکن ہے کہ افضل بھی کبھی اس متعین مسئلہ میں خطا کر جائے، اور مفضول اس مسئلہ میں درست بات کہہ دے۔ پس یہ صرف اولیت کی بنا پر ہے۔ اور راجح یہ ہے کہ سوال اس سے کیا جائے جسے اس کے علم ورع اور دین میں حق کے قریب تصور کیا جاتا ہو۔

اور آخر میں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں، خاص کر طالب علموں کو، جب انسان کے ساتھ کوئی علمی مسئلہ پیش آ جائے تو جلدی نہ کرے، یہاں تک کہ اس میں ثبات آ جائے، اور اس کا اچھی طرح علم ہو جائے۔ تاکہ بعد میں وہ افسوس نہ کرے کہ اس نے اللہ پر بغیر علم کے بات کیوں کہی۔ اس لیے کہ فتوی دینے والا انسان اللہ کے اور لوگوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ سے ثابت ہے آپ نے فرمایا:

’’العلماء ورثۃ الأنبیاء‘‘[14] ۔

’’علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں‘‘ ۔

اور نبی کریمؐ نے یہ بھی خبر دی ہے :

’’ أَنَّ الْقُضَاۃ ثَلَاثَۃ، قَاضٍ وَاحِدٍ فِ الْجَنَّۃ وَہُوَ مَنْ عَلِمَ الْحَقَّ فَحَکَمَ بِہ‘‘[15]۔

’’بیشک قاضی (جج ) تین قسم کے ہیں، ان میں سے صرف ایک جنت میں ہو گا، جس نے حق کو جانا، اور اس کے مطابق فیصلہ کیا‘‘ ۔

اور ایسے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ جب آپ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آ جائے تو اپنے دل کو اللہ کے ساتھ لگائیں، اور اس کی بارگاہ عاجزی سے گڑگڑائیں، کہ وہ آپ کو علم اور سمجھ سے نواز دے، خصوصاً وہ بڑے امور جو بہت سارے لوگوں پر مخفی رہتے ہیں۔

مجھ سے ہمارے بعض مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ضروری ہے کہ جس انسان سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا جائے، وہ کثرت سے استغفار کرے،یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مستنبط ہے :

)ِنَّا أَنزَلْنَا لَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاکَ اللّہُ وَلاَ تَکُن لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْماً٭ وَاسْتَغْفِرِ اللّہَ نَّ اللّہَ کَانَ غَفُوراً رَّحِیْماً)۔ نساء105 106۔

’’ یقیناً ہم نے آپ پر حق کے ساتھ سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جس کا اللہ نے آپ کو شناسا کیا ہے۔ اور (دیکھو) خیانت کرنے والوں کی حمایت کبھی نہ کرنا‘‘ ۔

اس لیے کہ کثرت استغفار گناہوں کے اثرات زائل ہونے کا موجب ہے، جو نسیان علم اور جہالت کا سبب ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃ یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ)۔ مائدہ ۱۳۔

’’تو اُن لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے اُن پر لعنت کی اور اُن کے دلوں کو سخت کر  دیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اُن کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے‘‘ ۔

اور امام شافعی رحمہ اللہ نقل کیا جاتا ہے کہ آپ فرمایا ہے :

شکوت لی وکیع سوء حفظ فأرشدن لی ترک المعاصی وقال اعلم بأن العلم نور ونور اللہ لا یؤتاہ عاصی۔

’’ میں نے وکیع (بن جراح امام شافعی کے استاد ) کے پاس حافظہ خراب ہونے کی شکایت کی۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ معاصی ترک کر دی جائیں۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ علم ایک نور ہے۔ اور اللہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاتا‘‘ ۔

تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ استغفار انسان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ( علم ) کے دروازے کھلنے کا سبب بن جائے۔

آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں اپنے لیے اور آپ کے لیے، ہدایت کی توفیق اور راہِ راست کا۔ اور وہ ہمیں ثابت کلام کے ساتھ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھے۔ اور جب اس نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو اس کے بعد ہمارے دل گمراہ نہ ہوں۔ اور وہ ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز دے، بیشک وہ بڑا ہی نوازنے والا ہے۔

والحمد للہ رب العالمین أولاً و أخیراً …… وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا محمد و علی آلہ و  اصحبہ و سلم۔

٭٭٭

فائل کے لئے تشکر: مرثد ہاشمی ، مکتبۂ جبرئیل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

حواشی

 

[1] بخاری کتاب الطب ۵۷۲۹، مسلم، کتاب السلام ۲۲۱۹۔

’’اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے ) تک ہے،‘‘۔

[2] بخاری کتاب الطلاق (۵۳۲۰، ۵۳۱۸)، مسلم، کتاب الطلاق (۱۴۸۴)۔

[3] مسلم، کتاب الطلاق (۱۴۸۰)۔

[4] أخرجہ ابو داؤد،  کتاب الصلاۃ،ح : ۹۰۷۔

[5] أخرجہ البخاری کتاب التیمم ح: ۳۴۶، ۳۴۵، ۳۳۸، و مسلم،  کتاب الحیض :ح : ۳۶۸۔

[6] أخرجہ أبو داؤد، کتاب الطہارۃ (۱۷۸)، والترمذ کتاب الطہارۃ (۸۶)، و ابن ماجۃ کتاب الطہارۃ (۵۰۲، ۵۰۳)

[7] أخرجہ البخار کتاب الخسوف ۹۴۶: ومسلم کتاب الجہاد والسیر (۱۷۷۰)۔

[8] أخرجہ البخار بلفظ:’’لا ربا لاف النسیئۃ‘‘۔ کتاب البیوع (۲۱۷۸۲۱۷۹)، ومسلم کتاب المساقاۃ (۱۵۹۶)، و ابن ماجۃ کتاب التجارات (۲۲۵۷)۔

[9] صحیح مسلم کتاب المساقاۃ (۱۵۸۷)۔

[10] ربا الفضل اور ربا النسیئۃ سود کی دو قسمیں ہیں۔ ربا الفضل چھ اشیاء گندم،  جو،  وغیرہ (اجناس ) میں نقد و ادھار یا کمی و بیشی سے ہوتا ہے۔ جب ان چیزوں کا آپس میں لین دین کرنا مثلاً گندم لے کر گندم ہی دینی ہو تو پھر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہونی چاہیے۔ اگر ان میں کمی بیشی ہو گی۔ یا ایک نقد اور دوسری ادھار یا دونوں ادھار ہوں گی تو یہ سود ہو گا۔

[11] صحیح مسلم کتاب المساقاۃ (۱۵۸۸)۔

[12] اخرجہ أبو داؤد کتاب الضاح (۲۸۲۸)، والترمذی کتاب الصید( ۱۴۷۶)، وصححہ، و ابن ماجۃ کتاب الذبائح(۱۳۹۹)۔

[13] أخرجہ البخار کتاب الذبائح (۴۹۸۴)، مسلم کتاب الأضاح (۲۸۲۷)، والنسائی کتاب الضحایا( ۴۴۰۳ ۴۴۰۴)، و ابن ماجۃ کتاب الذبائح(۳۱۷۸)۔

[14] ذکرہ البخارف ترجمۃ باب: (۱۰) من کتاب العلم، و أخرجہ أبو داؤد کتاب العلم (۳۶۴۱)، وابن ماجۃ المقدمۃ(۲۲۳)۔

[15]أخرجہ أبو داؤد کتاب القضیۃ (۳۵۷۳)۔ وابن ماجۃ کتاب الحکام (۲۳۱۵)۔