FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

پاک اور ناپاک چیزوں کا بیان

 

 

 

 

 

                نا معلوم

 

 

 

 

 

 

 

پاکی اور نا پاکی

 

                (۱)انسان کے بول براز(پاخانہ) یہ ناپاک ہے بالاتفاق

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں پیشاب کرنے والے دیہاتی کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہا دینے کا حکم دیا۔ خ، م

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کا پیشاب نجس ہے۔

مسئلۃ:اگر شیر کوار بچہ کپڑے پر پیشاب کر دے تو اس پر پانی چھڑک دینا کافی ہے اور اگر شیر خوار بچی پیشاب کر دے تو اس کا دھونا ضروری ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا شیر خوار بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے اور شیر خوار بچی کے پیشاب کو دھویا جائے۔ قتادۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک بچے غلہ نہ کھائیں۔ جب کھانے لگیں گے تو دونوں کے پیشاب دھوئے جائیں گے۔ ت۔ احمد

سیدہ ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت محصن سے روایت ہے کہ وہ اپنا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لے کر حاضر ہوئیں جب ابھی اناج نہیں کھاتا تھا۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ تو اس نے پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے اوپر پانی چھڑکنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ (یعنی اسے دھویا نہیں )۔ م

 

                (۲)مردار جانور ناپاک ہے

 

یعنی وہ جانور جو خود مر جائے یا غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا ہوا ہو۔ اسی طرح اس کے ساتھ وہ گوشت بھی شامل ہے جو زندہ جانور سے کاٹ دیا جائے، اس حدیث کی وجہ سے جسے ابو واقد اللیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

جو حصہ زندہ جانور سے کاٹ دیا جائے وہ مراد کے حکم میں ہے۔ (رواہ ابو داؤد، مسند ترمذی)

اسی طرح مردار جانور کی کھال بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے جسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر ایک بکری صدقہ کی گئی۔ وہ بکری بعد میں مر گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اس بکری پر سے گذر ہوا تو آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا، اس کی کھال کو کیوں نہیں لی جسے تم دباغت دے کر استعمال میں لا سکتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو مردار ہے آپ نے فرمایا: اس کا کھانا حرام ہر۔ (بحوالہ: بخاری و مسلم، سنن اربعہ، اور مسند احمد)

یہ روایت اس بات پر صریح دلالت کرتی ہے کہ مردار جانور کی کھال سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ دباغت سے پہلے نجس ہوتی ہے۔ (ان کے علاوہ جو مردار ہیں وہ پاک ہیں)

 

                (ب)مردا ر مچھلی اور ٹڈی

 

یہ پاک ہیں کیوں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال کئے گئے ہیں :دو مردار یہ ہیں :

مچھلی اور ٹڈی۔

اور دو خون وہ یہ ہیں :

جگر اور تلی۔ (رواہ احمد)

اور اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

ب) بے خون مردار، مثلاً مکھی، چیونٹی، شہد کی مکھی، مکڑی وغیرہ۔ یہ بھی پاک ہیں۔ اگر یہ کسی چیز میں گر کر مر جائے تو وہ چیز ناپاک نہیں ہوتی، اس لئے کہ اشیاء میں اصل ان کا پاک ہونا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ:

جب تم میں کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اس کو اچھی طرح مکمل ڈبو دے پھر اس کو نکال کر پھینک دے کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے پر میں شفاء ہے۔

ج) اسی طرح مردار کے سینگ اس کے ناخن اور اس کے بال اور پر یہ پاک ہیں کیوں کہ اس کے ناپاک ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔

 

                (۳)کتا اور اس کا لعاب نجس ہے

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن سات مرتبہ دھویا جائے۔ پہلی مرتبہ مٹی سے دھونا چاہیئے۔ م

 

                (۴)خنزیر کا گوشت اور اس کا لعاب یہ ناپاک ہے

 

اللہ رب العزت کا فرمان ہے (آپ کہہ دیجئے کہ جو احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو کوئی حرام نہیں یا نہ کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیوں کہ یہ بالکل ناپاک ہیں۔

(سورۃ الانعام:۱۴۵)

 

                (۵)حرام جانوروں کے پیشاب اور ان کے گوبر

 

یہ بھی ناپاک ہے کیوں کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کے لئے آئے تو مجھے کہا کہ تین پتھر لاؤ، میں نے دو پتھر تلاش کر لئے اور میں نے تیسرے کو تلاش کیا مگر نہیں ملا۔ میں نے گوبر کو لیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کو پھینک دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا( یہ ناپاک ہے ) اس لئے کہ یہ گدھے کا گوبر ہے۔ (ج، م)

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے لوگ آئے ان کو مدینہ کی آب و ہوا مناسب نہ لگی، (بیمار ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔ (خ، م)

 

                (۶)گدھا اور اس کا لعاب دہن نا پاک ہے

 

کیوں کہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہا کہ گدھوں کا گوشت کھایا گیا ہے۔ پھر دوبارہ آنے والا آیا اور کہا کہ گدھوں کا گوشت کھایا گیا ہے۔ پھر دوبارہ آنے والا آیا اور کہا کہ گدھے ختم کر دیئے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان کرنے والے کو حکم دیا اس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ( اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تم کو گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا ہے کیوں کہ یہ ناپاک ہے، تو ہانڈیوں (دیگچیوں ) کو الٹا کر دیا حالانکہ یہ گوشت سے ابل رہی تھی۔ (خ، م)

 

                (۷)درندے کا گوشت اور ان کا لعاب دہن

 

یہ ناپاک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس پانی کے بارے میں معلوم کیا گیا جس پر جانور اور درندے آتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو( یا اس سے زائد ہو) تو نجاست کو قبول نہیں کرتا۔ (د، جہ) یعنی یہ پانی ناپاک نہیں ہوتا ہاں اگر یہ پانی دو مٹکوں سے کم ہو تو نجس ہو جاتا ہے۔

 

                (۸)بلی کا لعاب پاک ہے (لیکن اس کا کھانا حرام ہے )

 

کبشتہ بنت کعب کہتی ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو میں نے ان کے لئے وضو کا پانی ڈالا تو اچانک ایک بلی آئی اور اس برتن سے پینے لگی، تو ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برتن کو بلی کے لئے ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ بلی نے اس سے پی لیا۔ کبشہ کہتی ہیں کہ میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ تو انہوں نے کہا اے بھتیجی ! کیا تو تعجب کرتی ہے ؟ تو میں نے کہا :ہاں۔ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ یہ نجس و پلید نہیں ہے یہ تو تم پر طواف پھرنی والی ہے۔ (د، ت، جہ، ن)

 

                (۹)انسان کا لعاب پاک ہے، مسلم ہو یا کافر)

 

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں پانی پیتی اور برتن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دے دیتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم برتن سے اسی جگہ منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں سے میں نے منہ رکھ کر پیا ہوتا اسی طرح ہڈی سے گوشت کھا کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسی جگہ سے کھاتے تھے جہاں سے میں نے کھایا ہوتا تھا۔ (م)

اور کافر کا لعاب پاک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ مسلمان صحابہ مشرکوں اور کافروں سے ملتے تھے۔ کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ اپنے بدنوں اور کپڑوں کو دھوتے تھے جب کوئی چیز ان سے لگ جاتی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق کوئی ارشاد ثابت نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں اہل کتاب کے ذبائح کی اباحت آئی ہے، اور ان کی عورتوں سے شادی کرنا بھی مباح ہے۔

 

                (۱۰)خون کی دو قسمیں

 

(۱)پاک خون

(۲)ناپاک خون

 

ناپاک خون

 

(۱)حیض کا خون:

ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا ہے جو کہ کپڑوں میں لگ جاتا ہے فرمایا: اسے کسی لکڑی کے ٹکڑے سے کھرچ دو اور پھر اسے پانی اور بیر کے پتے سے دھو ڈالو۔ (د، ن)

 

(۲)نفاس کا خون:

نفاس کا خون حیض کے خون کی طرح ہے حکم میں کیوں کہ دونوں ایک جگہ سے خارج ہوتے ہیں۔

 

(۳)حرام جانوروں کا خون:

ان کے خون کا حکم ان کے گوشت کی طرح ہے۔ جس طرح ان کا گوشت نا پاک ہے۔ اسی طرح ان کا خون بھی ناپاک ہے۔ جو ذکر کئے گئے ہیں ان کے علاوہ تمام خون پاک ہیں۔ جیسے

 

پاک خون

 

(۱)انسان کا خون:

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ غزوہ ذات الرقاع سے واپس آ رہے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک صحابی کو پہرہ دینے کے لئے متعین کیا ہے۔ پھر وہ صحابی نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئے اور ایک مشرک نے ان کو تین تیر مارے ہیں جس کی وجہ سے ان کے جسم سے کون بہنے لگا لیکن وہ اپنی نماز کو مکمل کرنے میں مصروف رہے اس حالت میں کہ خون بہہ رہا تھا۔ (ابو داؤد، صحیحہ۳۰۰)

اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس عظیم واقعہ پر اللہ کے نبی مطلع ہوئے پھر ان کو نماز لوٹانے کی یا نماز باطل ہونے کی کوئی خبر نہیں دی۔

 

                حلال جانوروں کا خون

 

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک اونٹ ذبح کیا اور ہم اس کے خون اور گوبر سے لت پت ہو گئے۔ پھر نماز کے لئے اقامت ہو گئی اور اسی طرح ہم نے بغیر وضوء کے نماز پڑھی ہے یعنی کہ کسی چیز کی صفائی یا دھونے کے بغیر۔ (مصنف عبدالرزاق:۱۲۵/۱تمام المنۃ ص۰۵)

وقد صح ان عمر صلی وجرحہ ینج وما(فتح الباری۲۸۷/۱)

وفی صحیح البخاری ان ابن عمر عصر بثرۃ(خراج صغیر) فخرج منہم الدم ولم یتوضأ(بخاری)

 

                مردہ انسان پاک ہے

 

حدیث میں ہے مسلمان نہ تو زندہ حالت میں نجس ہوتا ہے اور نہ ہی مردہ حالت میں۔ خ

 

                منی

 

اگر منی کپڑے پر لگ جائے تو اتنی جگہ پانی سے دھو کر نماز پڑھ لینی چاہیئے، خواہ نشان باقی رہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کپڑے سے جنابت دھو دیتی پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور پانی کی نمی کپڑوں پر باقی ہوتی۔ خقی پاک ہے اس کے نجس ہونے پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔

شراب اور مشرک کی نجاست معنوی ہے حسی نہیں۔

 

 

 

 

ناپاک چیزوں کی تطہیر

 

نجاست دور کرنا واجب ہے۔

مسئلۃ: جہاں گندگی و نجاست لگی ہو، اس جگہ کو اچھی طرح پانی سے دھویا جائے۔ کیوں کہ پانی کو اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کے لئے نازل فرمایا ہے۔ (انفال:۱۱)

لیکن جن اشیاء کو پاک کرنے کا کوئی خاص طریقہ و کیفیت شریعت نے مقرر کر دیا ہے انہیں اسی طریقے سے پاک کرنا ہے اور جس چیز کا نجس ہونا تو شارع سے منقول ہے لیکن اسے پاک کرنے کا طریقہ سے منقول نہیں تو اس نجس چیز کی ذات کو ختم کر دینا واجب ہے۔ تاکہ وہ پاک ہو جائے۔

 

                جوتا زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے

 

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی جوتی کو چلتے ہوئے گندگی لگا دے تو مٹی اسے پاک کر دیتی ہے۔ (ابو داؤد)

اسی طرح ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کوئی آدمی مسجد میں آئے تو جوتے پلٹ کر دیکھ لے، اگر جو توں پر غلاظت لگی ہو تو انہیں زمین پر رگڑ کر صاف کرے پھر انہیں جو توں میں نماز پڑھ لے ( ابو داؤد)

جس برتن میں کتاب منہ ڈال جائے اسے سات مرتبہ دھونا پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ دھویا جائے۔

 

                لڑکے (شیر خوار بچے )کے پیشاب پر چھینٹے مارنا

 

کپڑے پر حیض کا خون یا نفاس کا خون لگ جائے تو اسے پانی سے دھو کر پاک کرنا چاہیئے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا(کل اھاب دبع فقد طہر)وفی لفظ(ایما اھاب دبع فقد طہر) (ابن ماجہ ترمذی، ابو داؤد، نسائی، احمد، دارمی)

 

                زمین کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں

 

(۱) ایک اس پر پانی بہا دیا جائے۔

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر پانی کا ایک ڈول بہانے کا حکم دیا۔ (بخاری)

(۲)زمین اور سورج یا ہوا کی وجہ سے خوشک ہو جائے حتی کہ نجاست کا اثر بھی زائل ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے :

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں مسجد میں رات گزارتا تھا تو کتے مسجد میں پیشاب کرتے اور آتے جاتے تھے۔ لیکن وہ اس وجہ سے کچھ چینٹے نہیں مارتے تھے۔ یعنی پیشاب کی جگہ کو پاک کرنے کے لئے پانی نہیں بہاتے تھے۔ (ابو داؤد، بخاری)

زیادہ صحیح اس مسئلہ میں وہ طریقہ ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے اور وہ پانی بہانا ہے۔ لیکن اگر پانی نہ بہایا جا سکے اور زمین خوشک ہو جائے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ زمین ناپاک ہے۔ جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے۔

اگر کنوئیں میں نجاست گر جائے، یا مردار گر کر مر جائے، دیکھا جائے اگر اوصاف ثلاثہ (بو، رنگ، ذائقہ) میں سے کوئی تبدیل ہو جائے تو پانی نجس ہے ورنہ پاک ہے۔

اگر اوصاف ثلاثہ میں کوئی تبدیل ہو جائے تو اسے پاک کرنے کے لئے اس وقت تک پانی نکالا جائے گا جب تک کہ تغیر و تبدیل ختم نہ ہو جائے کیوں کہ پانی کے نجس ہونے کا سبب یہی ہے۔

یہاں یہ یاد رہے کہ اصل مقصود پانی میں واقع تغیر یا تبدیل کا ختم ہونا ہے وہ کم پانی نکالنے سے ہو یا زیادہ نکالنے سے ہو، اور کنوئیں کا پانی کم یا زیادہ ہونے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ لہٰذا جب تغیر زائل ہو جائے تو پانی پاک ہو جائے گا۔

اس ضمن میں کوئی حد متعین کرنا شریعت میں ثابت نہیں۔

 

 

 

قضاء حاجت کے مسائل

 

                قضاء حاجت کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ آبادی سے دور چلا جائے۔

 

جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب رفع حاجت کا ارادہ فرماتے تو بستی سے اتنے دور نکل جاتے کہ کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ نہ پاتا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

اسی طرح عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ قضائے حاجت کے وقت چھپنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو چیز سب سے زیادہ پسند تھی وہ زمین سے بلند جگہ اور کھجور کے درختوں کا جھنڈ تھا۔ (مسلم، ابن ماجہ، ابو داؤد)

اسی طرح انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رفع حاجت کے لئے بیٹھنے لگتے تو زمین کے قریب پہنچ کر کپڑا اٹھاتے۔ تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ (ترمذی، ابو داؤد)

 

                قضاء حاجت کے دوران بات نہیں کرنا

 

حدیث نبوی ہے کہ دوران قضائے حاجت دو شخص باہم گفتگو نہ کریں کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس فعل پر ناراض ہوتے ہیں۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

قضائے حاجت کی جگہ یا بیت الخلاء میں قابل احترام چیزیں، قرآن پاک یا اللہ تعالیٰ کے نال والی کوئی چیز ساتھ نہیں لے جانی چاہیئے۔

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بیت الخلاء یا قضائے حاجت کی جگہ میں جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی انگوٹھی (جس پر محمد رسول اللہ تحریر تھا) اتار دیا کرتے تھے۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

 

                راستے اور سائے کی جگہ میں قضائے حاجت کرنا منع ہے

 

اسی طرح جہاں عام لوگ قضائے حاجت کے لئے بیٹھنا برا سمجھتے ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا لوگو!دو لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے اجتناب کرو، ایک لوگوں کے راستے (گزرگاہ) دوسرا سایہ دار جگہ (لوگوں کے بیٹھنے آرام کرنے کی جگہ) پر قضائے حاجت کرنا۔ (مسلم، ابو داؤد)

 

                غسل خانے میں پیشاب نہیں کرنا چاہیئے

 

حدیث نبوی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے روزانہ کنگھی کرنے اور نہانے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داؤد، نسائی، مسند احمد)

 

                کھڑے پانی میں پیشاب کرنا جائز نہیں ہے

 

جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چارپائی کے نیچے ہوتا آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کو اس میں پیشاب کرتے تھے۔ (ابو داؤد، نسائی)

 

                کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا حکم

 

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے چھینٹوں سے بچاؤ ممکن ہو۔

ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کے گندگی کے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (بخاری، ابو داؤد)

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ (مسند احمد، ابن حبان، ابن خزیمۃ)

لیکن جو روایت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا(ترمذی، نسائی) یہ حدیث فی الحقیقت پہلی احادیث کے مخالف نہیں ہے کیوں کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جس قدر علم تھا انہوں نے اتنا ہی بیان کر دیا۔ لہٰذا انہیں گھر کے معاملات کا تو علم تھا لیکن گھر کے باہر کے معاملات کی انہیں اطلاع نہیں ہوئی۔ اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا واقعہ گھر سے باہر پیش آیا۔

تو ثابت ہوا کہ دونوں طرح پیشاب کرنا جائز ہے البتہ پیشاب کے قطروں سے اجتناب واجب ہے اور یہ مقصد پیشاب کے دونوں طریقوں میں جس کے ساتھ بھی حاصل ہو جائے درست ہے۔

 

                قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ یا پشت کرنا منع ہے

 

ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ مت بیٹھو، اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب پھر جاؤ، ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے تو ہم نے ایسے بیت الخلاء دیکھے جو کعبہ کی  جانب بنے ہوئے تھے تو ہم کعبہ سے انحراف کرتے اور اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

نوٹ: مشرق یا مغرب کی جانب رخ کرنے کا حکم اہل مدینہ کو ہے کیوں کہ ان کا قبلہ بجانب جنوب تھا۔ اس کے علاوہ مقصود صرف یہ ہے کہ قبلے کی طرف منہ یا پشت نہ ہو خواہ انہیں شمال یا جنوب کی طرف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

لیکن عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ ایک دن میں حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد)

اسی طرح مروان اصغر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا انہوں نے قبلہ کی جانب اپنی سواری بٹھائی پھر اس کی طرف پیشاب کرنے لگے تو میں نے کہا اے ابن عمر کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں اس عمل سے صرف فضاء میں منع کیا گیا ہے اور جب تمہارے اور قبلے کے درمیان کوئی اوٹ حائل ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (ابو داؤد)

اس لئے بعض علماء نے کہا قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہونا صحرا میں منع ہے آبادی یا عمارتوں میں منع نہیں ہے۔ اور بعض نے کہا :یہ عمل نہ تو صحرا میں جائز ہے اور نہ ہی عمارتوں میں۔

 

                بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کی مسنون دعا

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو فرماتے :

اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث۔ (بخاری، مسلم)

ایک صحیح روایت میں شروع میں بسم اللہ کا اضافہ کرنا ثابت ہے۔ (ابو داؤد)

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو “عفرانک” یا اللہ میں تیری بخشش چاہتا ہوں۔ (ابو داؤد، نسائی، ترمذی)

 

                پانی سے استنجا کرنا

 

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے خواتین سے کہا اپنے شوہروں کو پانی کے ساتھ استنجا کرنے کا حکم دو کیوں کہ میں حیا کرتی ہوں اور بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا کرتے تھے۔ (ترمذی، نسائی)

اسی طرح انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میرا ہم عمر ایک لڑکا پانی کا ایک برتن اور ایک چھوٹا سا نیزہ لے کر ہمراہ جاتے۔ پھر اس پانی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم استنجا فرماتے۔ (بخاری، نسائی)

 

                پتھروں یا ان کے قائم مقام کسی پاک چیز سے استنجا کرنا

 

سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تین پتھروں کے ساتھ استنجا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ)

نوٹ:استنجا کرنا واجب ہے تین پتھروں یا تین مرتبہ رگڑنے کے ساتھ خواہ ایک ہی پتھر سے ہو جس کے تین مختلف اطراف ہوں۔

نوٹ:حسب ضرورت تین سے زائد استعمال کرنا جائز ہے۔ لیکن طاق کرے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص پتھر استعمال کرے تو وتر (یعنی طاق) کرے۔ (نسائی، صحیحۃ، ۱۲۹۵، ۲۷۴۹، ابو داؤد)

نوٹ:پتھر کے قائم مقام ہر وہ چیز ہے جو نجست کی ذات کو زائل کر دینے والی ہو، حرمت و تقدیس والا چیز نہ ہو۔ اور نہ ہی ہڈی یا کسی حیوان کا گوبر ہو۔ (ابن ماجہ)کیوں کہ یہ ہمارے بھائیوں کی خوراک ہے ( جنوں کی)۔ (مسلم، ابو داؤد، ترمذی)

نوٹ:پتھر یا قائم مقام سے استنجا کرنے کے بعد پانی استعمال کرنا ضروری نہیں۔

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب رفع حاجت کے لئے جاؤ تو تین پتھر ساتھ لے جاؤ۔ پانی کی جگہ یہی کافی ہیں۔ (ابو داؤد، نسائی)

لیکن اگر کوئی پانی بھی ساتھ استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں۔ ویسے اس عمل سے بچنا چاہیئے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ ثابت نہیں ہے۔

 

                دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا حرام ہے

 

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اور کوئی شخص اپنے دائیں ہاتھ سےت استنجا نہ کرے۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ)

 

                قضاء حاجت کے وقت شرمگاہ کو دایاں ہاتھ لگانا منع ہے

 

ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا پیشاب کرتے وقت کوئی آدمی اپنے شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگائے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ہی کوئی چیز پیتے وقت برتن میں پھونک مارے۔ (مسلم)

 

                استنجا کرنے کے بعد ہاتھوں کو مٹی یا صابن وغیرہ سے اچھی طرح صاف کرنا چاہیئے

 

ام المومنین میمونۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غسل جنابت شروع کیا تو پہلے اپنے بائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو دھویا، پھر ہاتھ دیوار پر رگڑا پھر اسے پانی سے دھویا، پھر نماز کے وضوء کی طرح کا وضو کیا۔ (بخاری)

اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے استنجا کرنے کے بعد اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا یا۔ (ابو داؤد)

نوٹ:سورج اور چاند کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کی ممانعت کی کوئی صحیح دلیل نہیں۔

 

 

 

وضوء کے فرائض و مسائل

 

                وضوء نماز کے لئے شرط ہے

 

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز قبول نہیں کرتا۔ (مسلم)

وضو سے قبل”بسم اللہ “پڑھنا ضروری ہے (واجب ہے )

تقریباً۸(آٹھ) کے قریب صحابہ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے وضو سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وضو نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد)

نوٹ:اگر کوئی، بسم اللہ پڑھنا بھول جائے، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میری امت سے خطاء، بھول، اور جس کام پر مجبور کیا گیا ہو۔ کے گناہ کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا گیا ہے۔ (ابن ماجہ)

وضو کرتے ہوئے پانی کم استعمال کرنا چاہیئے۔

کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا واجب ہے۔

لقیط بن صبرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، الا یہ کہ تم روزے دار ہو۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

نوٹ:جس روایت میں ہے کہ کلی اور ناک میں پانی داخل کرنا سنت ہے۔ وہ ضعیف روایت ہے۔

 

                مسواک کرنا سنت ہے

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:مسواک منہ کی طہارت اور رب کی رضامندی کا باعث ہے۔ (نسائی)

 

                سارا چہرہ دھونا واجب ہے

 

چہرے سے مراد ایک کان سے دوسرے کان تک اور پیشانی کے اوپر بالوں کی ابتداء سے تھوڑی تک کا حصہ اس کے لئے لغت اور شرع میں لفظ وجہ استعمال ہوتا ہے۔

ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا واجب ہے۔

 

                داڑھی کا خلال کرنا وا جب ہے

 

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو بھر کے اپنے تھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس کے ساتھ اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے میرے رب نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔ (ابو داؤد)

اس طرح ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال واجب ہے۔

لقیط صبرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔ (ابو داؤد)

اسی طرح ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو۔ (ابن ماجہ)

 

                سر اور کانوں پر مسح کرنا واجب ہے

 

نوٹ: مکمل سر کے مسح واجب ہے۔ اس لئے

(۱)کہ قرآن میں لفظ رأس استعمال ہوا ہے اور راس مکمل سر کو کہتے ہیں۔

(۲)دوسری بات یہ ہے کہ قرآن لفظ کا تفسیر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمل سے کیا ہے جو یوں کیا ہے۔

عبداللہ بن زید بن عاصم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سر کا مسح اس طرح کیا کہ اپنے دونوں ہاتھ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے۔ یعنی پہلے سر کا اگلے حصہ شروع کیا، اور دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے گئے۔ پھر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں تک واپس لے آئے۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد)

نوٹ:کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صرف پگڑی پر مسح کرتے تھے۔

عمرو بن امیہ ضمری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ اپنی پگڑی اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے۔ (بخاری، نسائی، ابن ماجہ)

کبھی پیشانی کے بالوں اور پگڑی دونوں پر مسح کرتے تھے۔

مغیرۃ بن شعبۃ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کیا اور پیشانی اور پگڑی مسح کیا۔ (مسلم، ابوداؤد)

 

                سر کے مسح کے لئے ہاتھوں کے بچے پانی کے علاوہ نیا پانی لینا ضروری نہیں

 

کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے دونوں طرح ثابت ہے۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

(۱)آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ (مسلم، احمد)

(۲)آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سر کا مسح اسی زائد پانی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں موجود تھا۔ (ابو داؤد، ترمذی)

نوٹ: عبداللہ بن زید سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا دونوں کان سر سے ہیں۔ (صحیحہ۳۶)

جب دونوں کان سر میں شامل ہیں تو چونکہ سر کا مسح فرض ہے لہٰذا کانوں کا مسح بھی فرض ہے۔ اسی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کے ساتھ کانوں کا مسح بھی کر لیا کرتے تھے۔ (ابو داؤد)

نوٹ:کانوں کے مسح کا طریقہ:

عبداللہ بن عمرو بنان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کی دونوں انگشت ہائے شہادت کو کانوں میں داخل کیا اور انگوٹھوں سے کانوں کے باہر والے حصے کا مسح کیا۔ (ابو داؤد، نسائی)

نوٹ:(۱)سر کا اور کانوں کا مسح ایک مرتبہ ثابت ہے۔

(۲)گردن کا مسح بدعت ہے۔ جس حدیث میں گردن کا مسح وارد ہے وہ بہت ضعیف اور کمزور ہے۔

ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا واجب ہے۔

نوٹ:دائیں جانب سے وضوء کی ابتداء کرنا واجب ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:جب تم لباس پہنو اور جب تم وضوء کرو تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

نوٹ:وضوء میں موالاۃ(پے در پے اعضاء کو دھونا )واجب ہے۔

خالد بن معادن سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کے قدم پر ایک درہم کے برابر جگہ خشک رہ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو دوبارہ وضوء کرنے کا اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (ابو داؤد)

نوٹ: وضوء میں ترتیب واجب ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دیہاتی سے کہا:اسی طرح وضوء کرو جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے مرتب وضوء سکھایا۔ (بیہقی)

نوٹ:سر کے علاوہ سب اعضاء کا دھونا وضوء میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک ایک مرتبہ دو دو مرتبہ اور تین تین مرتبہ ثابت ہے اور وارد ہے۔ ایک ایک مرتبہ اعضاء وضوء دھونا فرض ہے۔ باقی مستحب (سنت ہے )لیکن تین مرتبہ سے تجاوز کرنا جائز نہیں۔

حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر سوال کرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے تین تین مرتبہ وضوء کر کے دکھایا اور فرمایا یہ وضوء ہے اور جس نے اس پر زیادتی کی تو بے شک اس نے برا کیا حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ (ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)

 

                وضوء سے فراغت کے بعد کی دعائیں

 

عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کوئی شخص وضوء کر کے یہ دعاء پڑھ لے۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد انن محمد عبداہ ورسولہ، اللھم اجعلنی من التوبین واجلعنی من المتطھرین۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیا جاتا ہے۔ (مسلم، ابو داؤد، ترمذی)

نوٹ:وضوء کے بعد آسمان کی طرف دیکھنا اور انگلی اٹھانا صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

نوٹ:وضوء کے دوران گفتگو جائز ہے ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔

 

                موزوں، جرابوں اور جوتیوں پر مسح کا حکم

 

مغیرۃ بن شعبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وضوء کی اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی)

ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی۔ انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کو گرم کرنے والی اشیاء پر مسح کریں۔ (ابو داؤد)

علی بن ابی طالب۔ ابن مسعود، انس بن مالک عمر بن الخطاب، ابن عباس، وغیرہ سب سے جرابوں پر مسح مروی ہے۔ (ابو داؤد)

اور صحابہ کے زمانہ میں ان مسح کرنے والے صحابہ کے کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا۔

نوٹ:موزوں اور جرابوں پر مسح جائز ہے اگر کہ ممزق ہے۔

احادیث میں جرابوں اور موزوں پر مسح کرنے کا ذکر مطلق وارد ہے۔ کوئی قید نہیں ہے۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے۔ اسح علیھا ما تعلقت بہ رجلک وھل کانت خفاف المھاجرین والانصار الامخقۃ مشققۃ(بیہقی۲۸۳/۱)

موزوں اور جرابوں پر مسح کے لئے انہیں پہنتے وقت باوضوء ہونا شرط ہے۔

مغیرۃ بن شعبہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو کیوں کہ میں نے جب یہ موزے پہنے تھے تو میں با وضو تھا۔ (بخاری، مسلم)

 

                موزے اور جرابوں کے کس حصے پر مسح کیا جائے ؟

 

راجح بات یہ ہے کہ مسح صرف اوپر والے حصے پر ہی کیا جائے گا۔

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو پھر موزوں کی نچلی سطح پر مسح اوپر کی بہ نسبت زیادہ قرین قیاس تھا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو موزے کے بالائی حصے پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (ابو داؤد)

 

                مقیم اور مسافر کے لئے مدت مسح

 

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مدت مسح کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مسافر کے لئے تین شب و روز اور مقیم کے لئے ایک دن ایک رات(مسح کی مدت ہے )۔ (مسلم، نسائی)

 

                کیا موزے (جرابیں )اتارنے سے وضوء ٹوٹ جائے گا؟

 

وضوء نہیں ٹوٹے گا۔

علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے وضوء کر کے جوتوں پر مسح کیا پھر انہیں اتار کر نماز ادا کی۔ (بیہقی، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ)

اسی طرح اگر سر پر مسح کر کے سر منڈوادیا تو اس پر دوبارہ مسح کرنا واجب نہیں ہو گا۔

نوٹ:اس کے علاوہ وضوء ٹوٹنے والے، یا پاؤں کو دھونے والے آثار ضعیف ہیں۔

 

                مسح کی مدت کب شروع ہو گی؟

 

مسح کی مدت وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کرنے سے شروع ہو گی۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے کہ آپ نے مقیم کے لئے مسح کی مدت ایک دن اور رات مقرر فرمائی، اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں مقرر فرمائی۔ (مسلم)

حدیث میں جو”مسح” کا لفظ ہے وہ اس مسئلہ کو بالکل واضح کرتا ہے کہ مسح کی ابتداء حدث کے بعد والے مسح سے شروع ہو گی۔

سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے موزوں پر مسح کے سلسلہ میں اپنا جھگڑا لے کر عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے تو عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: موزوں پر مسح ایک دن اور رات کے اس وقت سے ہو گا جب ان پر مسح کیا گیا۔ (مصنف عبدالرزاق)

 

                کیا مسح کی مدت ختم ہونے سے وضوء ٹوٹ جائے گا؟

 

اس کا وضوء نہیں ٹوٹے گا، جب تک حدث وغیرہ (وضوء ٹوٹنے والے چیزیں ) سے وضوء نہ ٹوٹ جائے۔ اس کا طہارت ختم ہونے پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔

 

                وضوء توڑنے والی اشیاء

 

وضوء بول و براز یا ہوا خارج ہونے سے ( ہر وہ چیز جو پیشاب و پاخانے کے راستہ سے خارج ہو) یا غسل کر دینے والے اسباب سے ٹوٹ جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہر گز کوئی شخص مسجد سے باہر مت جائے جب تک ہوا خارج ہونے کی آواز نہ سنے یا بدبو نہ پائے۔ (بخاری، مسلم)

 

                اونٹ کا گوشت کھانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے

 

جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ ہم بھیڑ بکریوں کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر چاہو تو وضوء کر لو اور اگر چاہو تو نہ کرو، پھر اس نے دریافت کیا کہ کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہاں، تم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرو۔ (مسلم، ابن ماجہ)

 

                نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

 

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنکھیں دبر کا تسمہ ہیں لہٰذا جو سوجائے وہ وضو کرے۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

اسی طرح صفوان بن عسال سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنابت کی وجہ سے موزے اتارے جائیں گے۔ لیکن بول و براز اور نیند کی وجہ سے اتارنے کی ضرورت نہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیند بھی جملہ احداث میں سے ہے۔ با الخصوص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسے بول و براز کے ساتھ ذکر کرنا، اس بات کی قطعی، ثبوت ہے کہ نیند سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔

نوٹ:یہ اختلافی مسئلہ:راجح بات یہ ہے کہ نیند مطلق طور پر ناقص وضوء ہے۔ جب روایات میں صرف لیٹ کر سونے والے کی نیند کو ناقص کہا گیا ہے۔ وہ سب ضعیف ہیں۔ لہٰذا احادیث مذکورہ مطلق ہے کوئی قید نہیں ہے۔ اور لیٹ کر سونے کے باوجود بھی وضوء کا قائم رہنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خصائص میں سے ہے۔ (مسلم)

لیکن ایک صحیح حدیث جو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ عہد رسالت میں صحابہ کرام نماز عشاء کا انتظار کرتے تاکہ غلبہ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھک جاتے۔ مگر وہ از سر نو وضوء کے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے۔ (ابو داؤد، ترمذی، مسلم)

اور بعض روایات میں ہے کہ صحابہ سوتے تھے پھر ان میں سے بعض وضوء کرتے تھے اور بعض بغیر وضوء کرنے کی نماز پڑھتے تھے۔ (ابو داؤد)

اس حدیث سمجھنے کے لئے نیند اور نعاس میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔

نیند ایسا ثقیل پردہ ہے جس کے دل پر اچانک آ جاتا ہے اسے ظاہری امور کی معرفت سے کاٹ دیتا ہے۔ شعور کو مکمل طور پر زائل کر دیتا ہے، جب کہ نعاس(اونگھ) ایسا ثقل ہے جو انسان کو باطنی احوال کی معرفت سے کاٹ دیتا ہے۔ شعور کو بالکل زائل نہیں کرتا  ہے۔ اس لئے جس حدیث میں صحابہ کا ہلکی نیند سے وضوء نہ کرنے کا ذکر ہے اسے حقیقی نیند شمار ہی نہیں کیا جائے گا، اور حقیقی نیند سے مراد وہ نیند ہے جس سے انسان کا شعور باقی نہ رہے، خواہ وہ کسی حالت میں بھی اس پر واقع ہو جائے۔

 

                شرمگاہ کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جانے میں اختلاف ہے

 

بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے شرمگاہ (آلہ تناسل )کو چھوا اسے چاہیئے کہ وضوء کرے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

لیکن اس حدیث کے ظاہر ایک اور حدیث سے مخالف ہے۔ وہ یہ ہے طلق بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے وضوء کرنے کے بعد اپنے آلہ تناسل کو چھو لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا وہ تو صرف اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی)

یعنی جسے جسم کے کوئی حصہ چھونے سے وضوء نہیں ٹوٹتا اسی طرح شرمگاہ کو چھونے سے وضوء نہیں ٹوٹتا ہے۔

نوٹ: اس حدیث سے بعض علماء جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص شہوت کی بنیاد پر شرمگاہ کو چھوئے تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر شہوت کے چھوئے تو وضوء نہیں ٹوٹتا۔ ان کی دلیل طلق بن علی کی حدیث ہے۔

بعض علماء نے کہا کہ اگر کپڑے یا پردے کے بغیر چھوا تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے اور اگر کپڑے یا پردے کے اوپر سے چھوا تو وضوء ٹوٹ نہیں جاتا ہے۔ ان کی دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص اپنے آلہ تناسل کو بغیر کسی پردے کے چھوئے تو اس پر وضوء واجب ہے۔ (مسند احمد، ابن حبان، مستدرک حاکم)

لیکن یہاں ایک اور مسئلہ ہے کہ غسل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت یہ تھی کہ پہلے وضوء کرتے تھے غسل کرنے کے بعد وضوء نہیں کرتے تھے۔ اور غسل کرنے کے دوران شرمگاہ کو ضرور ہاتھ لگ جاتا ہے۔

 

                احتیاط کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔

 

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کوئی مرد اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے چاہیئے کہ وضوء کرے اور جو کوئی عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی وضوء کرے۔ (مسند احمد، دارقطنی)

قے سے وضوء نہیں ٹوٹتا ہے، لیکن مستحب ہے وضوء کرنا واجب نہیں اس لئے کہ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قے کی اور وضوء کیا۔ (ترمذی، ابو داؤد)

تو یہ مجرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و  سلم کا فعل ہے اور مجرد فعل وجوب پر دلالت نہیں کرتا، اور جس روایت میں وجوب کی وضاحت ہے وہ ضعیف ہے۔

خون نکلنے سے بھی وضوء نہیں ٹوٹتا ہے، اسی طرح پیپ وگیرہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ۔

 

                عورت کا بوسہ لینے یا مجرد چھونے سے وضوء نہیں ٹوٹتا ہے

 

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی اہلیہ کا بوسہ لیا اور نماز کے لئے نکل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وضوء نہیں کیا۔ (ترمذی، ابو داؤد، نسائی)

 

 

 

 

غسل کا بیان

 

                غسل کو واجب دینے والی اشیاء

 

(۱)منی خارج ہونے کی صورت میں غسل واجب ہو جائے گا۔

جماع (ہمبستری) کی صورت میں ہو یا احتلام کی صورت میں ہو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو تری( پانی )کو تو دیکھتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گا، پھر ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جسے اتنا تو معلوم ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری(پانی) نہیں پاتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر کوئی غسل نہیں۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

یا اس کے علاوہ کسی بھی صورت میں ہو مرد ہو یا عورت۔

نوٹ:اگر منی خارج نہ ہو بلکہ صرف شرمگاہوں کے ملتے ہی غسل واجب ہو جائے گا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی عورت کی چار شاخوں (دو بازو اور دو ٹانگوں ) کے درمیان بیٹھے پھر اس سے (مباشرت کے لئے ) کوشش کرے تو اس پر غسل واجب ہو جائے گا(وان لم ینزل )خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو(تب بھی غسل واجب ہو جائے گا۔ )(مسلم )

نوٹ: شرمگاہوں کے ملنے سے مراد یہ ہے کہ مرد کے عضو تناسل کا وہ حصہ جہاں سے ختنہ کے وقت کاٹا جاتا ہے عورت کی شرمگاہ میں غائب ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا(یہ مفہوم بعینہ حدیث ابن ماجہ و احمد میں ہے )لفظ یہ ہے “اذا التقی الختانان وتوارت الحشفۃ فقد وجب الغسل” یعنی مطلق ملنے پر غسل واجب نہیں ہو گا۔

 

                حیض یا نفاس کے ختم ہونے پر غسل واجب ہو جائے گا

 

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ سل نے سیدہ فاطمۃ بنت ابی جیش سے کہا جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کرو اور نماز پڑھو۔ (بخاری، مسلم)

 

                موت یا اسلام لانے سے غسل واجب ہو جائے گا

 

یعنی زندوں پر واجب ہے کہ مردے کو غسل دیں اور اس پر اجماع ہے۔ اور غیر مسلم اگر اسلام قبول کرے تو اس پر غسل واجب ہے۔

قیس بن عاصم سے مروی ہے کہ جب وہ (خود) اسلام لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ (ابو داؤد، ترمذی)

اسی طرح جب ثماۃ مسلمان ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے فلاں کے باغ میں لے جا کر غسل کرنے کا حکم دو۔ (مسند احمد، بیہقی، ابن حبان)

 

                نماز جمعہ کے لئے غسل کرنا واجب ہے

 

ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”غسل یوم الجمعۃ واجب علی کل محتلم”ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔ (بخاری، مسلم)

ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم میں سے جب کوئی جمعہ کے لئے آئے تو غسل کرے۔ (بخاری، مسلم)

عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف وضوء کر کے کچھ تاخیر سے جمعہ میں حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوران خطبہ انہیں ڈانٹا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ (بخاری، مسلم)

نوٹ: جمعہ کے دن کے غسل سے مراد نماز جمعہ کے لئے غسل ہے۔

 

                مسنون غسلوں کا بیان

 

عیدین کے لئے غسل کرنا

میت کو غسل دینے والے

 

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص میت کو غسل دے وہ غسل کرے اور جو اسے اٹھائے وہ وضوء کرے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم اپنی میت کو غسل دو تو تم پر غسل ضروری نہیں ہے کیوں کہ تمہاری میت پاکیزگی کی حالت میں فوت ہوئی ہے لہٰذا تمہیں اتنا ہی کافر ہے کہ تم اپنے ہاتھ دھو لو۔ (مستدرک حاکم، دارقطنی، بیہقی)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ہم میت کو غسل دیتے تھے تو ہم میں سے کچھ غسل کر لیتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ (دار قطنی)

 

احرام باندھنے کے لئے اور مکہ میں داخل ہونے کے لئے

 

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے احرام باندھنے کے وقت اور مکہ میں داخل ہونے کے وقت غسل کرنا ہے۔ (دارقطنی، حاکم)

اسی طرح ابن عمر سے مروی ہے کہ ہمیشہ مکہ داخل ہوتے وقت غسل کرتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم)

 

                ہر جماع کے وقت غسل کرنا مستحب ہے

 

ابو رافع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک رات میں اپنی مختلف بیویوں سے ہم بستری کی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر بیوی کے قریب( جماع)جاتے ہوئے غسل کیا اور فرمایا کہ یہ زیادہ طہارت و پاکیزگی کا باعث ہے۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ)

لیکن ایک ہی غسل کے ساتھ زیادہ بیویوں سے مباشرت بھی جائز ہے۔

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی رات میں ایک غسل کے ساتھ سب عورتوں سے مباشرت (جماع) کرتے تھے۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی)

مسئلہ:کیا دو غسلوں جو واجب غسلیں ہیں سے ایک ہی غسل کفایت کر جاتا ہے ؟

یعنی جیسے حیف اور جنابت یا جنابت اور جمعہ۔ اگر دونوں کی نیت کر کے ایک ہی غسل کر لیا جائے تو کیا کافی ہو جائے گا؟راجح بات یہ ہے کہ یہ کفایت نہیں کرے گا۔ ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ غسل کرنا پڑے گا۔

 

                غسل کا طریقہ

 

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے پانی رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس سے اس طرح غسل فرماتے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر انہیں دو یا تین مرتبہ دھوتے پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ دھوتے، پڑھ اپنے ہاتھ کو زمین پر ملتے یعنی صاف کرتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو مرفقین تک دھوتے، پھر اپنے سر کو تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا دیتے، پھر اس جگہ سے علیحدہ ہوتے اور اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے۔ (بخاری، مسلم)

سب سے پہلے نیت کرنا (واجب غسل کے لئے )

واجب غسل جیسے جنابت حیض وغیرہ کی صورت میں مکمل صورت میں مکمل جسم دھونا ضروری ہے۔

غسل واجب سے پہلے وضوء کرنا سنت ہے۔ بلکہ غسل واجب کے ساتھ وضوء (پہلے ہو یا بعد) واجب نہیں ہے۔

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم غسل کے بعد وضوء نہیں کرتے تھے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

اسی طرح ابن عمر سے مروی ہے کہ جب ان سے غسل کے بعد وضوء کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اور کون سا وضوء غسل سے زیادہ عام ہے ( یعنی وضوء تو غسل میں ہے شامل ہے )۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)

 

                غسل کرتے ہوئے دائیں اطراف سے ابتداء کرنا مستحب ہے

 

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے جوتا پہننے میں کنگھی کرنے میں اور دیگر تمام کاموں میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔ (بخاری، مسلم)

مسئلہ: حالت جنابت میں کھانے پینے کے لئے ہاتھ دھونا کافی ہے :

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حالت جنابت میں کوئی چیز کھانا چاہتے تو پہلے ہاتھ دھو لیتے۔ (ابن ماجہ)

مسئلہ: حالت جنابت میں اللہ کا ذکر زبانی کرنا جائز ہے :

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہر حالت میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ (مسلم)

 

 

 

 

تیمم کا بیان

 

                وضوء یا غسل یا وضوء اور غسل دونوں کے لئے ایک ہی تیمم کافی ہے

 

پانی نہ ملنے کی صورت میں وضوء یا غسل کی بجائے پاک مٹی سے تیمم کرنا چاہیئے۔

عمران بن حصین سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ایک آدمی جماعت سے الگ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کہا تمہیں کسی چیز نے نماز سے روکے رکھا؟ اس نے کہا مجھے حالت جنابت لاحق ہے اور مزید یہ کہ پانی بھی میسر نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم مٹی سے تیمم کر لو یہ تمہارے لئے کافی ہے۔ (بخاری، مسلم)

یا اس سے پانی کے استعمال سے بیماری، یا نقصان کا خطرہ ہو تو تیمم کرنا چاہیئے۔

جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم سفر میں نکلے تو ہم ایک شخص کا سر زخمی ہو گیا اسی رات اسے احتلام ہو گیا انہوں نے اپنے ساتھیوں سے تیمم کرنے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے کہا تیرے لئے تیمم کرنے کی کوئی رخصت نہیں کیوں کہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو۔ لہٰذا اس نے غسل کیا اور وہ فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع ملی تو کہا: انہوں نے اسے قتل کر دیا اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے، انہوں نے علم نہ ہونے پرسوال کیوں نہ کیا جہالت کا علاج سوال ہی تو ہے۔ (ابو داؤد)

 

                شدید سردی کی وجہ سے تیمم کیا جا سکتا ہے

 

عمر و بن العاص کو جب غزوۃ ذات السلاسل میں بھیجا گیا تو کہتے ہیں کہ ایک سخت سرد رات کو مجھے احتلام ہو گیا غسل کرنے سے ہلاکت کا خوف تھا۔ چنانچہ میں نے تیمم کر کے صبح کی نماز پڑھا دی، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا گیا تو فرمایا اے عمرو! تم نے حالت جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی؟میں نے عرض کیا مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آ گئی( اے لوگو! اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اللہ تم پر بڑا ہی مہربان ہے )(نساء:۲۹) اور میں نے تیمم کر کے نماز پڑھا دی، یہ سب کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرا دیئے، اور کچھ نہیں فرمایا۔ (ابو داؤد)

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

“اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی ضروری حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرو اسے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مل لو۔ (مائدہ:۶)

نوٹ:اس آیت اور احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ تیمم وضوء اور غسل کا بدل ہے اور تیمم کے ساتھ ہر وہ کام جائز ہو جاتے ہیں جو وضوء اور غسل کے ساتھ جائز ہوتے ہیں۔

ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر ایک مرتبہ چہرے اور دونوں ہاتھوں (ہتھیلیوں) تک مسح کرنا

عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لئے زمین پر ایک مرتبہ ہاتھ مارنے کا حکم دیا۔ “فامرنی ضربۃ واحدۃ والیدین”(ابو داؤد)اور بخاری میں یہ لفظ ہیں “ثم ضرب بیدیہ الارض ضربۃ واحدۃ”

نوٹ:جس روایت میں چہرے کے لئے الگ اور ہاتھوں کے لئے الگ زمین پر ہاتھ مارنے کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے اس کی سند میں ( علی بن ظبیان) راوی ہے وہ ضعیف ہے۔

اسی طرح ہاتھوں کا مسح صرف ہتھیلیوں تک حدیث میں وارد ہے

احادیث کے الفاظ یہ ہے (ثم مسح بھما وجھہ وکفیہ) بخاری(انما یکفیک ان تضرب بیدیک الارض ثم تنفخ ثم تمسح بھما وجھک وکفیک)مسلم (تجھے صرف اتنا ہی کافی تھا کہ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مارتا پھر ان میں پھونکتا اس کے بعد ان کے ساتھ اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کرتا۔

یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمار سے کہا تھا۔

نوٹ:جن روایات میں (الی مرفقین) کہنیوں تک ہاتھ پھیرنے کا ذکر ہے وہ تمام روایات ضعیف ہیں۔ (نوٹ الذ قبلہ)

نوٹ: تیمم میں نیت اور بسم اللہ ضروری ہے اس لئے کہ یہ وضوء کا بدل ہے۔

مسئلہ: تیمم توڑنے والی اشیاء وہی ہیں جو وضو توڑ دیتی ہیں۔

مسئلہ: اگر دوران نماز پانی مل جائے تو کیا تیمم ٹوٹ جاتا ہے یا کہ نماز مکمل کر لی جائے گی؟ راجح بات یہ ہے کہ تیمم ٹوٹ جاتا ہے، تو نماز چھوڑ کر کے وضوء یا غسل کر کے دوبارہ نماز شروع کرے۔

اگر نماز سے فراغت کے بعد پانی مل جائے تو دوبارہ نماز ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔

ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی سفر میں نکلے اور جب نماز کا وقت ہوا تو ان کے پاس پانی نہیں تھا لہٰذا انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کر لی۔ پھر انہیں نماز کے وقت میں ہی پانی مل گیا ان میں سے ایک نے وضوء کر کے دوبارہ نماز ادا کی جب کہ دوسرے نے ایسا نہ کیا، پھر دونوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں دھرائی تھی، “اصبت السنۃ وجزأتک صلاتک” تم نے سنت کو حاصل کیا تمہاری نماز کافی ہو گئی، اور دوسرے شخص کے فرمایا تمہارے لئے دوگنا اجر ہے۔ (ابو داؤد، نسائی)

مسئلہ: اگر پانی میسر ہو لیکن نا کافی ہو تو اس سے یکسر ترک کر کے صرف تیمم ہی کر لیا جائے، وہ پانی استنجا اور نجاست دور کرنے کے لئے استعمال کرے۔

مسئلہ: پانی ملنے سے تیمم از خود ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا آنے والی عبادات کے لئے اگر حدث اصغر ہو وضوء اور اگر حدث اکبر ہو تو غسل کر کے نماز ادا کرنی چاہیئے۔

مسئلہ: کیا پانی تلاش کرنے کے لئے کوئی معین مسافت ہے ؟

اس میں قاعدہ اور ضابطہ یہ ہے کہ پانی اپنی استطاعت اور قدرت کے مطابق تلاش کرے اور نماز کا وقت نہ نکل جائے، اگر پانی خریدنا پڑے تو اس پر پانی خریدنا واجب ہے الا یہ کہ ان کے پاس قیمت نہ ہو۔

٭٭٭

تکر: مرثد ہاشمی، مکتبہ جبرئیل، جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا

تدوین اور  ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید