FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

نظم کے نئے معمار۔میرا جی

               محرک: زیف سید (ظفر سید)

فیس بک کے حاشیہ ادبی گروہ کے آن لائن مباحثے کا سکرپٹ

 

یگانگت

               میرا جی

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوں

میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں

تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے

اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

برائی، بھلائی، زمانہ تسلسل …۔ یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں

مجھے تو کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے

میں ہوں ایک، اور میں اکیلا ہوں ، اک اجنبی ہوں

یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا

یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور

یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر

ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

یہ کیا ہیں ؟

یہی تو زمانہ ہے، یہ اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوں

یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے

مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

یہ کیسے کہوں میں کہ

مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

٭٭٭

 

 اشعر نجمی: خواتین و حضرات! جیسا کہ آ پ کے علم میں ہے کہ امسال ہم میرا جی صدی منا رہے ہیں۔ اگرچہ خود میراجی نے کبھی کہا تھا کہ "مستقبل سے میرا تعلق بے نام سا ہے۔ میں صرف دو زمانوں کا انسان ہوں ، ماضی اور حال۔ یہی دو دائرے مجھے ہر وقت گھیرے رہتے ہیں۔ ” لیکن چونکہ شاعری زماں کی میکانکی تقسیم کے تصور کو قبول نہیں کرتی، اس لیے یہ لمحاتی صداقتوں کو بھی دائمی اور آفاقی معنویت سے ہمکنار کرتی ہے اور یوں میراجی کا "حال” ایک ایسے "ابدی حال” میں تبدیل ہو جاتا ہے جو پوری ایک صدی کی روح عصر کا استعارہ بن کر بنیادی سچائیوں کو نئے ابعاد سے روشناس کراتا ہے۔ آئیے، اس صدی شاعر کی ایک نظم "یگانگت” کو ہم اسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ میں آپ تمام احباب کا اس اجلاس میں خیر مقدم کرتا ہوں اور جناب ظفر سید سے درخواست گذار ہوں کہ وہ ابتدائیہ پیش کریں۔

ظفر سیّد: بہت شکریہ جنابِ صدر۔ آپ کی اجازت سے ابتدائیہ پیشِ خدمت ہے۔

 میراجی کی اس نظم میں "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے ” کو پڑھتے ہوئے دھیان فوراً ن م راشد کی نظم "زمانہ خدا ہے ” کی طرف جاتا ہے۔ راشد کی نظم مشہور حدیثِ قدسی "زمانے کو برا مت کہو میں خود زمانہ ہوں ، ” سے بحث کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نظم کو پڑھتے ہوئے مجید امجد کی چند نظمیں بھی ذہن میں آتی ہے۔ میں اس مختصر تحریر میں میرا جی کے تصورِ وقت اور تصورِ کائنات کا دوسرے دو بڑے شعرا سے موازنہ کرنے کی کوشش کروں گا۔

 میرا جی نے اپنی نظم میں ذات کو تمام کائنات کا جزو دکھایا ہے۔ دنیا اور اس کی تمام صفات، حتیٰ کہ فنا (جسے اجڑے ہوئے مقبرے، مجاور، گاڑی کی ٹکر سے مرتے ہوے اندھے مسافر کی صورت میں مجسم کیا گیا ہے ) اور بقا (جس کی نمائندگی ہنستے ہوئے ننھے بچے کر رہے ہیں ) تک انسان کی ذات میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ میرا جی نے اپنی نظم کی کٹھالی میں مکان و زمان، ماضی و حال، اور نیک و بد کو ایک دوسرے میں یوں گھول دیا ہے کہ ان کے دھاروں کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

 اس کے مقابلے پر راشد "زمانہ خدا ہے ” میں وقت کو محض "ریسمانِ خیال” گردانتے، جو طویل تو ضرور ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ہی بے وقعت بھی ہے، جس کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان فرقت پیدا کرے۔ راشد کے نزدیک وقت ایک طویل رسی کی مانند ہے، اس رسی کے مختلف حصے (ماضی، حال، اور مستقبل) اگرچہ آگے پیچھے موجود ہیں ، لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے الگ الگ اور ممتاز بھی ہیں (جیسے رسی کے دو سرے ایک جسم کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں )۔ اس کے مقابلے پر میرا جی کے ہاں وقت جھولا ہے جو پنڈولم کی طرح مسلسل آگے پیچھے آتا جاتا رہتا ہے، چناں چہ یہاں پہلے اور بعد، ابتدا اور انتہا، ماضی اور مستقبل کا کوئی وجود نہیں ہے۔

 اب آتے ہیں تیسرے بڑے جدید شاعر مجید امجد کی طرف۔ مجید امجد کے ہاں وقت کا غایتی (teleological) تصور موجود ہے، جو انہوں نے غالباً انیسویں صدی کے یورپی مفکرین، خاص طور پر ہیگل سے مستعار لیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تاریخ کے پیچھے ایک مقصدی رو موجود ہوتی ہے، جو اس کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے حال تک لے کر آتی ہے، قریب قریب ایسے ہی جیسے چرواہا بھیڑوں کو ہانک کر ان کی منزل تک لے جاتا ہے (یہ خیال ابنِ خلدون نے بھی اپنے انداز میں پیش کیا تھا اور اس پر اقبال نے اسلامی مذہبی نقطۂ نظر سے اظہارِ خیال کیا ہے، لیکن ہم اختصار کی خاطر اس بحث کو الگ رکھتے ہیں )۔

 مجید امجد کی نظموں میں غایتی تصور کی دو مثالیں دیکھئیے :

 اور آج کسے معلوم، ضمیر ہستی کا آہنگِ تپاں

 کس دور دیس کے کہروں میں لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں

 اس سانس کی رو تک پہنچا ہے

 اس میرے میز پر جلتی ہوئی قندیل کی لو تک پہنچا ہے

 (راتوں کو۔۔۔ )

 دیکھ لے، ان راہوں پر تیری دنیا کے لوگ اپنے قیمتی فرغلوں ، میلے کمبلوں میں ڈوبے ہوئے کتنے

 بے نسبت پھرتے ہیں ، ان مست ہواؤں سے جو تیرے لاکھوں جہانوں کی گردش کا ثمر ہیں

 (کیسے دن ہیں )

 میرا جی کے ہاں "دھرتی پوجا” کے تصور پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ہندو ثقافت اور فلسفے سے متاثر تھے۔ مغربی اور اسلامی تہذیبوں میں وقت کا لکیری تصور ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے پر ہندو فلسفہ وقت کو دائری متصور کرتا ہے جہاں ابتدا، درمیان، اور انتہا میں فرق نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ جھولے کی حرکت بھی دائروی ہوتی ہے کیوں کہ ہر چکر کے بعد وہ اسی مقام پر واپس پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ چناں چہ اس نظم کو بھی میرا جی کے ہاں "ہندوستانی عنصر” کی موجودگی کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

 اس بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ تینوں بڑے جدید اردو شاعر وقت کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ میرا جی کے ہاں ماضی، حال، و مستقبل میں کوئی فرق نہیں۔ راشد کے ہاں وقت ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے جن کو اکٹھا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مجید امجد کے نزدیک ماضی ایک پروگرام کے تحت پیش قدمی کر کے حال پر منتج ہوتا ہے۔

 میں نے نظم کے صرف ایک پہلو کو موضوع بنایا ہے۔ اس میں ابھی اور کئی چیزیں موجود ہیں جن پر بعد میں بات ہو گی۔

اشعر نجمی: جناب ظفر سید نے اپنا ابتدائیہ پیش کر دیا ہے، اور خوب پیش کیا ہے۔ میر اجی کی متعدد نظموں میں بیک وقت ایک زمانی اور لازمانی تناظر کی گونج سنائی دیتی ہے۔ "سمندر کا بلاوا” فنا کی آفاق گیر حقیقت اور دوام کی لاحاصل آرزوؤں کے تصادم کا ترجمان ہے۔ دراصل میرا جی نے ذات اور کائنات کو صوفی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اسی لیے انھوں نے حال کی طرح ماضی کو بھی زندہ اور موجودہ حقیقت کے طور پر محسوس کیا۔ برگساں کی فکر بھی متصوفانہ ہے، اس نے بھی انسان کو مادی ارتقا کے بجائے اس کے تخلیقی ارتقا کے آئینے میں دیکھا۔ "برگساں بھی وقت کو دوران اور دوران ہی کو زمان حقیقی سمجھتا ہے اور اقبال بھی صدائے کن فیکون کو دائم مرتعش محسوس کرتے ہیں "۔ لیکن جیسا کہ ظفر سید نے کہا کہ یہ میراجی کی زیر بحث نظم کا صرف ایک پہلو ہے، چنانچہ میں اہل الرائے حضرات سے التماس کر رہا ہوں کہ وہ اس میں اپنا حصہ مخصوص کریں۔

اشعر نجمی: راشد نے کہا تھا کہ میرا جی کی شاعری مجموعی طور پر "انسان کی ابدی تلاش کی تمثیل ہے۔ ” اور مجھے تلاش ہے اپنے ان احباب کی، جو اس صدی شاعر کی پیش کردہ نظم پر گفتگو کا آغاز کریں۔ "پہلے آپ، پہلے آپ” کی تکرار چھوڑیں اور "نئی نظم” کے اس محسن کو خراج تحسین پیش کریں کہ ہم نے یوں بھی راشد کے مقابلے میں اس شاعر کے ساتھ بڑی نا انصافیاں کی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر راشد حلقۂ ارباب ذوق کے شعور کی حیثیت رکھتے تھے تو میرا جی اس کے قلب کی۔ چنانچہ یہ اجلاس "حاشیہ” کے سابقہ اجلاس کے مقابلے زیادہ اہمیت کا حامل اس لیے بھی ہو جاتا ہے کہ ہم سب پر "کفارہ” واجب ہے۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، آپ نے اور ظفر سید نے میرا جی کی نظم ” یگانگت” پر گفتگو کو آغاز دیا اور ایک سمت متعین کر دی ہے۔ ابتداء ہی میں جب میرا جی نے کہا

 "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے /فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے /یہ میں کہہ رہا ہوں "

 تو ایسے میں راشد کی طرف دھیان چلا ہی جاتا ہے۔ بہ طور خاص اس کی نظم "میں کیا کہہ رہا تھا؟” کی طرف۔ راشد نے کہا تھا :

 میں یہ کہہ رہا تھا / درختو، ہواؤں کو تم کھیل جانو /تو جانو /مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزے /کی دعوت کو جاتے ہوئے /ذہن کی رہگزاروں میں کیسے /نئے دن کی دزدیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے /نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی نا تشنگی پر / درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری / تمہارے برہنہ بدن سے / کہ اس میں روایات /سرگوشیاں کر رہی تھیں / درختو، بھلا کس لیے نام اپنا /کئی بار دہرا رہے ہو / یہ شیشم، یہ شم شی، یہ شی شی ی ی ی۔۔۔ /مگر تم کبھی شی ی ی ر۔۔۔ / بھی کہہ سکو گے /میں یہ کہہ رہا تھا

 میں نے راشد کی نظم کا ذرا بڑا ٹکڑا اس لیے یہاں مقتبس کر دیا کہ ہم راشد کے وقت کے بارے میں تصور کو ذہن میں رکھیں اور متن کے اس آہنگ کو بھی جو دونوں ہم عصر نظم گو شعرا میں ایک فاصلہ پیدا کرتا ہے۔ اب ذرا میرا جی کی نظم کا یہ ٹکڑا دیکھیں :

 یہ میں کہہ رہا ہوں /یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل /یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے /زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے /مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے / یہ کیسے کہوں میں کہ /مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

محمد حمید شاہد: یوں لگتا ہے کہ وہ مناظر اور مظاہر جو دونوں ہم عصر شعرا کو وقت پر مکالمہ کرنے پر اکسا رہے ہیں وہ لگ بھگ ایک سے ہیں دونوں کی ایک نظر مظاہر فطرت پر ہے اور ایک نظر اپنے وجود پر جب کہ ایک کے ہاں سے وقت سنسناتے ہوئے گزرتا ہے اور دوسرے کے ہاں ایک گونج اور تکرار پیدا کرتے ہوئے۔ اس نظم میں وقت کو جن "تین رنگوں ” کی مدد سے میرا جی نے سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی ہے وہ یوں ہیں ،

 ایک :تسلسل "برائی بھلائی زمانہ تسلسل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( نظم کی ساتویں لائن، پہلا ٹکڑا)

 دو :فنا ” کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( نظم کی چھٹی لائن)

 تین : بقا "یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( نظم کی ساتویں لائین، دوسرا ٹکڑا)

 اچھا، میرا جی کے وقت کے ان ہی تین رنگوں کو دیکھنے کے لیے اس کی نظم "سلسلہ روز و شب” پر ایک نگاہ ڈال لیجئے، نظم کے عین آغاز میں آپ کو خدا ایک الاؤ کے پاس براجمان ملے گا ( وہی خدا جس کی بابت اس نے اپنی نظم "خدا” میں کہہ رکھا ہے، میں تجھے جان گیا روح ابد/ تو تصور کی تمازت کے سواکچھ بھی نہیں /(۔۔۔۔ )/اور مرے دل کی حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں /اور مرے دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ) یہ الاؤ خدا کا اپنا جلایا ہوا ہے، ایک الاؤ ہے اور اس کے اردگرد خلا ہی خلا۔ ایسے میں نور ازل کہیں بھی نہیں ہے، میرا جی کے ہاں یہی ازل ہے۔ اس ازل سے بہت فاصلے پر وقت ہی نے انسان کو لا کر پھینک دیا ہے۔ انسان اتنے بعد کے باوجود اس خدائی الاؤ کو دیکھ سکتا ہے، تاہم ٹھٹھکے ہوئے انسان کی ہر سمت بھی خلا ہی خلا ہے۔ یہی خلا، انسانی تصور میں ایک دھوکے کی صورت نمودار ہوتا ہے جو ازل اور ابد کو ایک پل بنا دیتا ہے۔ نظم کا اختتام یوں ہوتا ہے،

 عدم اس تصور پہ جھنجھلا رہا ہے / نفس دو نفس کا بہانہ بنا ہے / حقیقت کا آئینہ ٹوٹا ہوا ہے / تو پھر کوئی کہہ دے، یہ کیا ہے، وہ کیا ہے / خلا ہی خلا ہے، خلا ہی خلا ہے

 اب تک ہم میرا جی کے وقت کو فنا بقا اور ازل ابد کے بیچ ہلارے لیتے دیکھ رہے ہیں ، جی اس وقت کو جس کی بہر حال گزر گاہ انسانی وجود اور اس کا تصور ہے اور انسان کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک وقت اس کے وجود پر بیت رہا ہوتا ہے اس کے تصور کو فنا، بقا اور ازل ابد سے جوڑتا رہتا ہے۔ جہاں جہاں وقت انسان کی گرفت میں نہیں آتا، میرا جی وہاں وہاں انسان کو اکیلا ہوتے دیکھتے ہیں۔ یہ بھی میرا جی نے کہہ رکھا ہے ” کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے "

 اپنی نظم "بہاؤ” میں میرا جی نے انسان کی اسی نارسائی میں ایک اور رنگ بھرنے کے جتن کیے ہیں۔ "بہاؤ” میں آدمی سسک سسک کر جی رہا ہے اور گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ نظم میں امیدوں کے جاگنے اور مٹنے کا عمل تک گھسٹتے ہوئے اور رینگتے ہوئے دکھایا گیا۔ زندگی کے جن اصولوں کو انسان نے زندگی بتانے کے لیے چن رکھا ہے، نظم یہ بتاتی ہے کہ اس میں گھسٹنا اور رینگ رینگ کر آگے بڑھنا ایک ضابطہ ہو گیا ہے یہاں حسن کا نور اگر ضو فگن ہے تو گھسٹتے ہوئے اور رینگتے ہوئے، اور دکھ درد یا خوشی میسر ہے تو بھی گھسٹتے ہوئے اور رینگتے ہوئے۔ وقت کے سنگلاخ زمین پر اسی گھسٹتی رینگتی زندگی کے مقابل موت اور فنا کا جو رنگ میرا جی نے دیکھنا چاہا ہے، وہ ان کے وقت کے تصور کو بھی اجال رہا ہے :

 میں اک پل میں اس کا گلا گھونٹ کر / گھسٹتے ہوئے رینگتے رینگتے / بڑھوں کا اسے چھوڑ پر پشت پر / گھسٹتے ہوئے رینگتے رینگتے

محمد حمید شاہد: یہی سبب ہے کہ "سمندر کا بلاوا” میں میرا جی نے جو سرگوشی ہمیں سنائی ہے (یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے )اس میں حیات دور زہ ابد سے مل کر (انہی سے حیات دو روزہ ابد سے ملی ہے ) ان سرگوشیوں سے مختلف ہو جاتی ہے جو راشد کے ہاں (درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری/تمہارے برہنہ بدن سے /کہ اس میں روایات/سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ ) سنائی دیتی ہیں۔

 اچھا، میرا جی کی اس نظم کو پڑھتے ہوئے جولین ہکسلے کی اس نظم کی طرف بھی دھیان جاتا ہے جو میرا جی نے "اہنکار کی پکار” کے عنوان سے ترجمہ کر رکھی ہے۔ میرا جی نے اگر گھسٹ گھسٹ کر اور رینگ رینگ کر اپنی جانب بڑھتی موت کا گلا گھونٹ ڈالا تھا تو جولین ہکسلے کی نظم میں آغاز ہی میں اعلان ہو جاتا ہے :

 مجھ کو نہیں فنا / مجھ کو ہے بس اتنی تسلی، مجھ کو نہیں فنا

 تو یوں ہے کہ نظم ” یگانگت” میں ازل اور ابد ہوں یا بقا اور فنا اسی انسانی وجود کے حوالے سے معتبر ہوتے ہیں جو فنا کو پچھاڑ ڈالنے کی سکت رکھتا ہے اور اس کا قرینہ جانتا ہے۔ اپنی تہذیبی روایت کے ایک حوالے سے نظم آغاز ہوتی ہے جس میں زمانے کو برا کہنے کو برا مانا گیا ہے۔ زمانہ خدا ہے، یہ ہمیں بتایا گیا ہے اور نظم کہہ رہی ہے :

 زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے / فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے / یہ میں کہہ رہا ہوں /میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں / تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

 نظم کے اس حصہ میں متن اس روایت سے الگ ہو جاتا ہے جس میں بس خدا ہی زمانہ ہے، وہ خدا جو دور خلا کے اس طرف آگ دہکائے موجود ہے، یہاں زمانہ تو وجود کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ وجود کسی اور کا نہیں خود انسان کا ہے،

 مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے / اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا / کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 یہی سبب ہے کہ برائی کے تصور کو بھی اسی طرح رد کیا گیا ہے جس طرح زمانے کے تہذیبی تصور کو۔ نظم نگار کا کہنا ہے کہ "برائی، بھلائی، زمانہ تسلسل …۔ یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں ” جبکہ انسان کا تعلق اس طرح کے کسی گھرانے سے نہیں ہے۔ یہیں سے میراجی کی نظم کا وہ غالب حصہ شروع ہوتا ہے جو مناظر کے پھیلاؤ کی صورت سامنے آیا ہے، یہاں آدمی کے اکیلے ہو جانے کی بات کی جاتی ہے، اسے اجنبی بتایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ مناظر دکھا کر، جنہیں بعد میں تکرار کی صورت رکھا جانا ہے ( کہ تکرار کا یہی چلن انہیں محبوب ہے )،

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا / یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

 یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور / یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہو ایک اندھا مسافر/ ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل /یہ کیا ہیں ؟

 یہی تو زمانہ ہے، یہ اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

محمد حمید شاہد: اب ذرا اس تکرار سے نظم کے اندر جوحسن پیدا کرنے کی کو شش کی گئی ہے اور اصرار کی ایک صورت رکھ کر اپنی بات کو واضح کیا گیا ہے اس سے لطف لیجئے،

 یہ میں کہہ رہا ہوں /یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل/یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے /زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے /مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے /یہ کیسے کہوں میں کہ

 مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

 اگرچہ نظم میں یوں لگتا ہے کہ خدا بس دور خلا کی اس اور آگ دہکائے ہوئے بیٹھا ہے اور میرا جی جس وقت کے تصور کو انسانی وجود سے جوڑ کر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے اسے کچھ لینا دینا نہیں ہے مگر، عین آغاز میں اپنی تہذیبی اور مذہبی روایت سے ایک بات لے کر اس کا ایک اور رخ دکھانے کا ارادہ ہی بتا رہا ہے کہ میرا جی کے ہاں پہلے سے موجود تصور کی ایک اور جہت یا رخ ہے۔ میرا جی کے ہاں جس طرح مرئی دنیا اہم ہے اسی طرح غیر مرئی بھی، اس باب میں اس کے اپنے کہے کو” مشرق و مغرب کے نغمے ” سے مقتبس کر دیتا ہوں :

 جس طرح انسان کی مرئی دنیا میں اندھیرے اور اجالے کا ساتھ ہے، اسی طرح غیر مرئی دنیا میں بھی اندھیرے اور اجالے کا ساتھ ہے، اسی طرح غیر مرئی دنیا میں اندھیرے اور اجالے کا ساتھ ہے۔ اندھیرا اور اجالا دو لازم و ملزوم خصوصیتیں ہیں۔ دو کیفیتیں ، ہم خواہ ان کے کوئی نام رکھ لیں "

 میرا جی نے اس اقتباس کے فوراً بعد جو ممکنہ نام گنوائے ہیں ان میں پہلے دو نام "نیکی اور بدی” ہیں۔ لیجئے وہی بدی جسے میرا جی نے ” یگانگت” میں نہیں مانا تھا وہ مرئی اور غیر مرئی دونوں دنیاؤں میں موجود ہے، مرئی اور غیر مرئی کے اس نکتے کو سامنے رکھیں اور میرا جی کی باقی نظموں کو بھی تو وقت اس جھولے ()کی مانند ہو گیا ہے جس غیر مرئی شجر سے بندھا ہلارے نہیں لے رہا بلکہ جس کی رسیوں کے ازل اور ابد کناروں کو خلا کے اس طرف، الاؤ کے پاس بیٹھے خدا نے تھام رکھا ہے۔ وہ جو میرا جی کے حوالے سے وزیر آغا نے کچھ اس طرح کہا تھا کہ میرا جی کی فکریات کی لائنیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہو گزرتی ہیں۔ امید ہے بات آگے بڑھے کی تو میں کچھ اور کہہ پاؤں گا فی الحال اتنا ہی۔

محمد حمید شاہد: معذرت کہ آخر میں ایک جملہ ادھورا رہ گیا، اسے یوں پڑھئیے،

 ،وہ جو میرا جی کے حوالے سے وزیر آغا نے کچھ اس طرح کہا تھا کہ میرا جی کی فکریات کی لائنیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہو گزرتی ہیں ، یوں لگتا ہے درست ہی کہا تھا ،

محمد حمید شاہد: صدر محترم، احباب کو متوجہ کیجئے، خاموشی چھا گئی ہے۔ جو پچھلے اجلاس میں تازہ دم تھے اب تو وہ بھی چپ ہیں۔

اشعر نجمی: حمید شاہد صاحب! میرا جی کی خوب صورت نظم، ظفر سید صاحب کا اہم ابتدائیہ اور خود آپ کی جانب سے اتنا اچھا آغاز، اس کے باوجود اگر محفل میں خاموشی چھائی ہوئی ہے تو اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ شاید نئی نظم کے اس محسن کا relevance باقی نہیں رہا اور ہمارے احباب اس نظم کے ساتھ خود کو جوڑ نہیں پا رہے ہیں۔ چنانچہ میں اس خاموشی کو بے حسی سے تعبیر کرتا ہوں۔

ظفر سیّد: جنابِ صدر، میرا جی جیسے رہبر شاعر کے لیے یہ خاموشی بہت مایوس کن ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ سال میرا جی کی صدسالہ سالگرہ کا سال ہے۔ گذشتہ دو تین برسوں میں فیض اور راشد صدیاں بہت دھوم دھام سے منائی گئیں ، درجنوں کتابیں شائع کی گئیں ، تقریبات منعقد ہوئیں ، لیکن میرا جی بیچارے اکیلے تھے اور اکیلے ہی رہے۔ بہرحال، میں نے کئی احباب کو ذاتی پیغامات بھیج کر درخواست کی ہے کہ وہ چپ کا روزہ کھولیں۔ چند کی طرف سے وعدہ بھی آیا ہے کہ وہ لکھیں گے۔ سو ہم بھی نگاہیں جمائے ہوئے ہیں۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، مجھے یہ ماننے میں تامل ہے کہ ہمارے پاس اس نظم کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں ہے اور اگر کچھ کہا جائے گا تو پلیتھن پکانے کے مترادف ہو گا۔ اچھا، یہ مان لیتے ہیں کہ نظم ” یگانگت” اس پربت کی سی نہیں ہے جس کے نیلے بھید پانے میں ہمیں لطف آسکتا تھا تاہم یہ اس پھیلے ہوئے میدان کی طرح بھی تو نہیں ہے جس پر سبزہ، درخت، جھاڑیاں سب سامنے بکھرا ہو اور شاعر نے کسی سہل پسند فطرت پرست کی طرح انہیں گنوا دیا ہو۔ ماننا پڑے گا کہ میرا جی نے اس نظم میں بیچ والا راستہ اپنایا ہے۔

 میں نے اوپر مانا کہ نظم نیلے بھید والے پربت کی سی نہیں ہے، تو یہاں ایک وضاحت لازم ہو گئی ہے، یہی کہ اس ساری نظم کا بیانیہ نیلا بھید نہیں ہوا ہے، کہ زمانہ/ وقت اس نظم میں نیلے پہاڑ جیسا ہی ہے۔ اور ہاں جہاں تک” تسلسل” کا تعلق ہے تو تسلیم کہ اس میں بستی، جنگل، راستے، دریا، پربت، عمارتیں ، مقبرے، ہوائیں ، نباتات، آسمان، بادل، بچے، گاڑی اور اس سے ٹکراتا اندھا مسافرسب گنے جا سکتے ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انہیں گن کر کچھ اور حاصل کیے بغیر، آگے بڑھا جا سکتا ہے ؟۔ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔

 میرا جی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زمانہ طفلی میں جب چمپا رمز کے نواح میں رہتے تھے ( وہی علاقہ جہاں ان سے پہلے کچھ عرصہ کے لیے مہارانی میرا بائی اپنے گیتوں کا جادو جگانے آتی تھیں )۔ میرا جی جہاں رہا کرتے، وہاں سے کچھ میل پرے اپاوا گڑھ کا پہاڑ تھاجس کی ایک چوٹی پر کالی کا مندر تھا۔ جس نیلے بھید کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا وہ میرا جی کے ہاں اسی اپاوا گڑھ کے پہاڑ سے آیا تھا اور اسے یاد کرتے ہوئے وہ اپنا ایک مصرع سنا دیا کرتے تھے : "پربت کو اک نیلا بھید بنایا کس نے، دوری نے ” میرا جی کے ہاں جو بھی ذرا فاصلے پر ہوتا ہے، نیلے بھید جیسا ہو جاتا اور جو برتنے میں آ جاتا ہے، کھلے مناظر جیسا۔ یہ کھلے مناظر والی بات بھی میں نے اپنے پاس سے نہیں کہی میرا جی سے لی ہے۔ بچپن میں میرا جی کراچی سے کچھ دور دابے کے کھلے میدانی علاقے میں بھی رہے تھے، وہاں کھیت کھلیان، شجر آسمان سب اس طرح دھرا تھا جیسے کہ بہ قول ممتاز مفتی، حلوائی کی دکان کے باہر تھالوں میں مٹھائیاں دھری ہوتی ہیں۔ میرا جی کو یہ کھلا پن پسند نہ تھا، سو یہاں رہتے ہوئے اداس اور بے زار ہو جاتے۔ یہ اداسی اور بے زاری اس نظم کے ان حصوں سے بھی چھلکنے لگی ہے جہاں منظر اور حوادث کھلے پڑے ہیں۔ جی یہ نظم کا وہی ٹکڑا ہے جو اگرچہ بہت گہرا نہیں ہے کہ اس میں سے نیلے بھید کا آسمان سما جائے مگر اپنے پہلے حصہ سے آئے ہوئے بھید کی کچھ سیپیاں اور موتی سنبھالے ہوئے ہے، ایک تسلسل کا شاخسانہ۔ یا پھر ایک بھید بھرے شاخسانے کا تسلسل۔ "فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے ” میرا جی کے ہاں اس نظم کی وساطت سے جس تسلسل کو ہم شناخت کرتے ہیں اس میں زمانہ خدا نہیں رہتا ایک کڑی سے جڑی دوسری کڑی کا سا ہو جاتا ہے جسے اور کڑیوں سے جڑے چلے جانا ہے۔ وقت یہاں ایک لکیر میں چل ہی نہیں پاتا، کہ ان کڑیوں سے وقت کی جو زنجیر بنتی ہے وہ جھولا بناتی جھول رہی ہے۔ یہ جھولا ہمیشہ دو انتہاؤں کی طرف رواں رہتا ہے آغاز اور انجام یا بقا اور فنا اور آدمی اپنے تئیں جن انتہاؤں میں الجھا ہوا ہے نیکی اور بدی والی، تو یوں ہے کہ یہ حال کی طرح بس ایک الجھاوا ہی ہے ورنہ آدمی میں کوئی برائی نہیں ہے، آدمی تو اپنے وجود میں فنا اور بقا کی دو انتہاؤں کا مقام وصل ہے اور میرا جی کے مطابق:

 "مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں "

 جناب صدر میں نے کوشش کی ہے کہ احباب کو ایک بار پھر نظم کی طرف متوجہ کروں۔

ظفر سیّد: بہت شکریہ حمید شاہد صاحب، کہ آپ نے ایک بار پھر اس اجلاس کے تنِ مردہ میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اجلاس کا وقت تو ختم ہو چکا ہے، لیکن میں جنابِ صدر سے گزارش کرتا ہوں کہ اس میں ایک ہفتے کی توسیع فرما کر 28 جولائی تک بڑھا لیں۔ شاید کوئی بندۂ خدا آ جائے۔۔۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر، معید نے "لائک” کلک کر کے اشارہ دے دیا کہ وہ اس گفتگو سے جڑے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی یہ ایک اعتبار سے اس بات کا عندیہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ نظم پر بات کریں گے۔ یقیناً اجلاس کے لیے وقت بڑھانا تب ہی مفید ہو سکتا ہے کہ میرا جی کی نظم پر بات ہو۔ یہ وقت بھی بانجھ چلا گیا تو کیا حاصل۔

اشعر نجمی: حمید شاہد صاحب! میں آپ کی اس بات سے صد فی صد متفق ہوں کہ اگر میرا جی کی نظم پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے احباب راضی ہوں تو اجلاس کے لیے وقت بڑھانے کا جواز مہیا ہو سکتا ہے بصورت دیگر ہم کب تک دروازے پر دستک کا انتظار کر تے رہیں۔ یوں بھی مجھے میرا جی جیسے شاعر کے لیے "دست فروشی” کے اس عمل سے سبکی محسوس ہو رہی ہے۔

نسیم سید: جنا ب صدر۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جو کہ حاشیہ کی عبا دت گزار ہوں اور سو نے سے قبل اس کی تلاوت کر کے سو تی ہوں چپ چاپ اپنے بہت عزیز بہت محترم حمید شا ہد۔ آ پ اور ظفر سید کے تمام دلائل پڑھ رہی ہوں اور پڑھ کے بھی چپ ہوں کہ دل ہے کہ مانتا نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ امر بھی قا بل غور ہے کہ سب خاموش کیوں ہیں ؟ کیا دلائل ختم ہو گئے ہیں موافقت مین یا  مخالفت میں ؟ تعریف میں یا تنقید ؟ ایسا یقیناً نہیں ہے شا ید ایسا ہی ہے کہ حد ادب ہے۔ کم از کم میرے سا تھ تو ا یسا ہی ہے۔ مگر حکم ہے کہ بو لوں تو مجال نہیں کہ رو گردا نی کروں۔۔۔ میرا جی۔۔۔۔۔۔ میرا جی ہیں اس سے کو ئی اختلاف کیا ہی نہیں جا سکتا لیکن اس نظم پر سے میرا جی کا نام ہٹا کے گمنام نسیم سید کا لکھ دیجئے۔۔ پھر دیکھئے سوا لات کا ڈھیر لگ جائے گا اور وہ سنا ٹا نہیں رہے گا جو ہے۔۔ میں نے اس نظم پر سے میرا جی کے نام کو مٹا کے پڑھا۔۔

 زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

 فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں

 میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں

 تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

 مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے

 اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

 کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے۔۔۔۔ پہلی لائن ایک فیصلہ سنا تی ہے / زمانے میں کو ئی برا ئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مان لیا صاحب کہ زمانے میں کو ئی بر ا ئی نہیں ہے ا سبا ب بتائے تجربہ گنائیے کہ ایسا کیوں فر ما یا۔۔۔۔۔ مگر ا گلی لائن میں کہتے ہیں ” فقط اک تسلسل کا چھو لا رواں ہے۔۔۔۔ میرا جی کہتے ہیں ارے کو دن نسیم سید سمجھو زمانے میں برا ئی نہیں بلکہ سب قدرت کے قا نون کے مطابق ہو رہا ہے ٹو ٹ رہا ہے بن رہا بگڑ رہا ہے سنور رہا ہے۔۔ یہاں تک مان لیا مگر جب میرا جی ” جھو لا ” کہتے ہیں تب را شد کا وقت کو "ایک طویل رسی ” قرار دینا یا د آ تا ہے اور ذہن جھو لے کی مثال کو رد کر دیتا ہے۔۔ وقت چھو لے طر ح آ گے پیچھے نہیں جا تا وقت آ گے بڑھتا جا تا ہے یہ انسان کا ذہن ہے انسان ہے جو وقت مین جھو لے کی طرح مسلسل ہے وہ پینگ لے کے کبھی آ گے ہمکتا ہے کبھی پھر پیچھے کی طر ف لو ٹ جا تا ہے اور کبھی ک خود کو درمیان یا حا ل میں پا تا ہے۔۔۔۔۔ میں ابھی تک پہلی لائن کے فیصلے سے جڑی ہوں کہ زمانے میں کو ئی برائی نہیں ہے۔۔ اور سا تھ ہی جب وہ یہ کہیں کہ / یہ میں کہہ رہا ہوں / تو اس بات پر ایمان لا نا ضر وری ہوا مگر ” میں ” نے ایک فیصلہ سنا تے ہی کہا / مجھے کیا خبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا برا ئی میں ہے /کیا زمانے میں ہے۔۔ لیجئے ابھی تو ” خبر ” کی خبر د ی اب بے خبری کی / مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے

،۔۔۔۔۔۔ ہر خیا ل دو سرے خیال کی یا یہ کہئے کہ ہر بیاں دو سرے بیان کی تر دید کر تا ہے ” ہر لائن دوسرے لائن کو کا ٹتی ہے ” عجب الجھا وے ہیں دیکھئے۔

 اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

 کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 منزل تو ہر شے کیا فنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ” جو شے اکیلی رہے ” سے کیا مرا د ہے کیوں وضاحت ہے (اکیلا تو خدا بھی ہے :)) )مگر یہاں شے کہا گیا انسان شے نہیں ہے۔۔ اس لئے اس کو بخش دیتے ہیں شے کی تلاش کر تے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمبی اور غیر ضروری فہرست مو جو د ہے۔۔۔

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا

 یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

 یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور

 یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہو ایک اندھا مسافر

 ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

 یہ کیا ہیں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اب ایک دو سرے سے جڑے ہوئے ہیں ” اکیلے ” نہیں ہیں درخت زمیں سے جڑے ہیں۔۔ را ستے را ستوں سے ” تو ” اکیلی ” کی شر ط کس پر لا گو ہو تی ہے کیوں ہو تی ہے اور اکیلی شے کو ہی فنا کیوں ہے۔۔ جنا ب صدر آ پ سے جنا ب حمید شا ہد سے اور ظفر سید سے بہت احترام سے عرض کروں گی کہ میرے جیسا عام قا ری سوالات کے گرداب سے نہیں نکل پا یا ا سے میں اپنی کم فہمی قرار دیتی ہوں اور مسلسل افادہ کر تی رہوں گی آ پ حضرات کی مزید گفتگو سے

ظفر سیّد: جنابِ صدر اور جناب حمید شاہد: اجلاس کا وقت بڑھانے کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہوا کہ نسیم سید صاحبہ کا تبصرہ بھی آ گیا جس میں نظم کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مجھ سے معید رشیدی صاحب اور یامین صاحب دونوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس نظم پر اظہارِ خیال کریں گے۔ امید ہے کہ وہ اپنے وعدے کو وفا کریں گے۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر، میں ذاتی طور پر نسیم سید کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ نسیم سید نے نظم سے میرا جی کا نام ہٹا کر جو سوالات قائم کیے وہ بہت اہم ہیں اور شاید ان سوالات کے مقابل ہوئے بغیر ہم نظم کی جمالیات کی جانب بھی متوجہ نہ ہو پائیں گے۔

علی محمد فرشی: جناب صدر! پہلے تو میں "حاشیہ” سے اپنی طویل تر اور ناروا ترین غیر حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ ہر چند اِس کوتاہی کی تلافی کی نیت اور استطاعت بھی، سرِدست، نہیں رکھتا اسی لیے میں نے جنابِ یامین اور معید رشیدی صاحب کی طرح جنابِ ظفرسید سے، اس نظم پر بات کرنے کا، کوئی پیمان نہیں باندھا، وجہ ظفر صاحب بھی جانتے ہیں اور حمید شاہد بھی کہ یہی میرے خاص واقفانِ حال ہیں۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی بد گمانی فروغ پائے، واضح کر دوں کہ اس جرم کی وجوہات سراسر ذاتی نوعیت کی ہیں ، دونوں گواہ حقیقتِ حال سے خوب آگاہ ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اسے سرعام بیان بھی کریں۔ محض تائید سے میری عذرخواہی پر مہرِ تصدیق ثبت ہو جائے گی۔

 میرا جی کی نظم کا مجھ پر اتنا قرض ہے کہ شاید ہی اس مختصر زندگی میں کبھی چکا پاؤں ، مجھی پر کیا موقوف اردو نظم نگاروں کی بڑی تعداد ان کی مقروض ہے۔ ہمیں چاہتے نہ چاہتے، آج نہیں تو کل، یہ قرض مع سود بیاج کے چکانا ہی ہو گا۔ اس لیے کہ ولی کا مال سب پر حلال ہوتا ہو گا، فن کار کا مال تو مقروض کی قبر کا کتبہ بن کر بیٹھ جاتا ہے، اب لواحقین ادائی میں جتنی جلدی کریں گے ان کے حق میں اتنا ہی بہتر ہو گا۔

 صاحب صدر! اجلاس جاری رکھیے۔ میں کوشش کروں گا کہ اتوار کو پیش ہو جاؤں۔ مجھے امید ہے کہ اجلاس ایک ہفتہ مزید جاری رہے گا۔ مجھے ظفر سید کی اس بات سے اتفاق ہے کہ "اس نظم میں "ابھی اور کئی چیزیں موجود ہیں جن پر بعد میں بات ہو گی۔ ” اب ضروری نہیں کہ ابتدائیہ نگار ہی یہ ذمے داری ادا کرے۔۔۔۔۔

اشعر نجمی: نسیم سید صاحبہ کی آمد اتنی خوشگوار نکلی کہ طویل غیر حاضری کے بعد فرشی صاحب کی پکار بھی فرحت جاں بن گئی۔ گذشتہ کئی اجلاس سے فرشی صاحب کی غیر حاضری کو میں بھی کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا لیکن اب انھوں نے خود اس کی توجیہ پیش کر کے اور اس اجلاس میں اپنی شرکت کی نوید سنا کر کم از کم مجھے اور میرا جی دونوں کو "بچا لیا”۔ دوسری جانب نسیم سید صاحبہ نے جس طرح اس اجلاس میں نظم کی "نمک چشی” کی ہے، اس کے لیے میں ان کا شکر گذار ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہمارے بقیہ احباب بطور خاص فیاض احمد وجیہ، معید رشیدی، تصنیف حیدر، محمد یامین صاحبان وغیرہ اس فضا کو مزید بامعنی بنانے کے لیے آگے بڑھیں گے اور ہاں ، مجھے عارفہ شہزاد صاحبہ کی کمی بھی گذشتہ کئی اجلاس سے کھٹک رہی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ بھی فرشی صاحب کی طرح اس اجلاس میں شریک ہو کر اسے تاریخی بنانے میں ہم سے تعاون کرتیں۔

فرخ منظور: جنابِ صدر بہت معذرت کے ساتھ لیکن میرا جی کی اس نظم میں مجھے بہت سے فکری تضادات نظر آ رہے ہیں۔ اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں ؟

محمد حمید شاہد: صدر محترم اب اجلاس اپنا رنگ جمانے لگا ہے، فرشی کی مجبوری سے ہم آگاہ ہیں ، مگر وقت نکال کر ادھر آنا اچھا لگا/اچھا لگے گا، فرخ منظور کو اپنی بات بے دھڑک کہہ دینی چاہئیے اور جناب صدر میں تائید کروں گا کہ اجلاس کا وقت بڑھا لیا جائے۔

اشعر نجمی: فرخ منظور صاحب! اس میں میری اجازت کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی بات خم ٹھونک کر کہیے کہ تنقید کا منصب ہی یہی ہے کہ وہ جسے پسند کرتی ہے، اسی پروار کرتی ہے۔ اور ہاں ، میں حمید شاہد صاحب سے سو فی صد متفق ہوں کہ اجلاس کا وقفہ بڑھا دیا جائے کہ اب مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے کہ محفل کا رنگ بدلنے لگا ہے۔ یوں بھی ہمارے یہاں مشہور ہے کہ "اچھا قوال بھور میں ہی گاتا ہے۔ "

محمد یامین: جناب صدر! مجھے بھی معذرت کے الفاظ درکار تھے لیکن ملے نہیں اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاموشی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔ کئ دنوں سے شور شرابے سے دور کشمیر کی وادی نیلم میں سرکاری کام پر مامور رہا ہوں۔۔۔ وہاں قدرت کے مظاہر کے قریب رہ کر محسوس کیا کہ یہ سارے الگ الگ ہو کر بھی یگانگت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے اور اس کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد میرا جی کی نظم "یگانگت ” جیسی تحریریں سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔۔۔۔ شروع میں جناب ظفر سید اور جناب حمید شاہد نے اس نظم کے حوالے سے نظم کے تینوں بڑے شاعروں راشد، میرا جی اور مجید امجد کے تصور وقت پر گفت گو کی ہے اور میرا جی کے مصرعے "فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے ” کو وقت کی تفسیر بنا کر دکھایا ہے۔ اس جھولے کو جھولتے ہوئے ہم جو مناظر الگ الگ دیکھتے ہیں انھیں جوڑ کر ایک تصویر بنا دینے سے ہی "یگانگت” جیسی نظم وجود میں آتی ہے۔۔۔ یعنی الگ الگ رہ کر فنا اور باہم مل کر بقا کے تصور کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے نسیم سید کے ایک سوال کا جواب حمید شاہد کے ایک فقرے سے مل جاتا ہے۔ ” ہم میرا جی کے وقت کو فنا بقا اور ازل ابد کے بیچ ہلارے لیتے دیکھ رہے ہیں ، جی اس وقت کو جس کی بہر حال گزر گاہ انسانی وجود اور اس کا تصور ہے اور انسان کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک وقت اس کے وجود پر بیت رہا ہوتا ہے اس کے تصور کو فنا، بقا اور ازل ابد سے جوڑتا رہتا ہے۔ جہاں جہاں وقت انسان کی گرفت میں نہیں آتا، میرا جی وہاں وہاں انسان کو اکیلا ہوتے دیکھتے ہیں۔ یہ بھی میرا جی نے کہہ رکھا ہے ” کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے "۔ پھر جس فہرست کو نسیم سید نے غیر ضروری کہا ہے اس کے بارے میں بھی حمید شاہد بتا چکے ہیں کہ اس تکرار سے نظم کے اندر جوحسن پیدا کرنے کی کو شش کی گئی ہے اور اصرار کی ایک صورت رکھ کر اپنی بات کو واضح کیا گیا ہے اس سے لطف لیجئے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 میرا خیال ہے فرخ منظور کا نوٹ آ جائے تو پھر بات ہو گی۔۔۔۔ فی الحال اتنا بتا دوں کہ میرے خیال میں میرا جی کی یہ نظم ایسی ہے کہ دنیا کے ہر شاعر کو ایسی نظم لکھنے کی آرزو دل میں رکھنی چاہیے۔

فرخ منظور: جنابِ صدر بہت شکریہ! میرا جی اس نظم میں فرماتے ہیں۔

 "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

 فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں

 میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں

 تسلسل کا جھولا نہیں ہوں "

 نظم کے اس حصے میں وہ ایک فیصلہ صادر فرما رہے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنی کم مائیگی اور لاعلمی کا بھی اظہار فرما رہے ہیں۔

 "مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے "

 میری ناقص رائے میں یہ ایک فکری تضاد ہے۔ یعنی شاعر زمانے کے بارے میں پہلے بند میں ایک حتمی رائے کا اظہار کر رہا ہے جبکہ اگلے ہی لمحے وہ یہ بھی تسلیم کر رہا ہے کہ مجھے کچھ خبر نہیں کہ کہ زمانے اور برائی میں کیا ہے۔ اس لا علمی کو تسلیم کرنے کے بعد وہ پھر پینترا بدلتے ہیں اور زمانے کے بارے میں مزید حتمی رائے دیتے ہیں۔

 اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

 کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 برائی، بھلائی، زمانہ تسلسل …۔ یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں

 پھر اس کے بعد فرماتے ہیں۔

 "مجھے تو کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے "

 اس مصرع میں وہ لاتعلقی اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن پھر آگے جا کر ایک اور پینترا بدلتے ہیں اور کہتے ہیں۔

 "یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے "

 میرے خیال میں شاعر کو خود نہیں معلوم کہ وہ نظم میں کیا کہنا چاہ رہا ہے اور کچھ غیر مربوط خیالات کو اس نے نظم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اشعر نجمی: یاران نکتہ داں کیا کہتے ہیں بیچ اس مسئلے کے ؟کیا واقعی بقول فرخ منظور یہ نظم متضاد اور غیر مربوط خیالات کا مجموعہ محض ہے۔ یا پھر بظاہر ان تضادات اور غیر مربوط خیالات کے درمیان کوئی نادیدہ پل موجود ہے جسے عبور کر کے ہم میرا جی کے جہان معانی کی سیر کرسکتے ہیں ؟گفتگو بہت اچھے موڑ پر پہنچ گئی ہے، صلائے عام ہے۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! میں اس نظم پر راست اظہار کرنے سے قبل تمہیداً کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں تاکہ بحث پر طاری جمود کی تہ ٹوٹے اور شاید نئے امکانات کا چشمہ بھی پھوٹے۔

 ہر ایجاد کار اور نابغۂ روزگار شاعر اپنے فنی اثاثوں تک رسائی کے راستے خود مسدود کرنے میں مصروف رہتا ہے، یعنی وہ ایسا پیرایۂ اظہار اختیار کرتا ہے جو کم از کم اس کے عہد میں نامانوس اور اجنبی ہی نہیں عجیب بھی معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اسے شعوری یا لاشعوری طور پر قبولیت یا مقبولیت سے کوئی سروکار نہیں رہتا بل کہ اپنی کام یابی سے غرض ہوتی ہے۔ اسی میں شاعر کی عافیت پنہاں ہوتی ہے اور اسی میں اس کی بقا۔ یہی اس کی انفرادیت ہوتی ہے اور یہی اس کی اجتہادیت۔ اور یہیں سے وہ آنے والے زمانے میں سرنگ لگاتا ہے اور ایسے غیر محسوس طریقے سے کہ سطح پر نہ کوئی نشان دکھائی دیتا ہے اور نہ فضا میں کوئی آواز سنائی پڑتی ہے۔ اور جب شاعر اپنا کام مکمل کر کے گزر جاتا ہے تب اس کے کارنامے سے پردہ اٹھتا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ میرا جی کو گزرے تو راشد اور فیض سے بھی زیادہ عرصہ بیت گیا، پھر ان معاصرین کے مقابلے میں میراجی کو ابھی تک وہ مقام کیوں نہ مل سکا جس کا صرف وہی حق دار ہے۔ میں نے یہاں مجید امجد کا نام قصداً نہیں لیا، اس لیے کہ وہ اپنے عہد میں ان ارکان ثلاثہ سے بہت فاصلے پر، بل کہ، گم نامی کے غار میں بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا جب کہ دیگر تینوں ادب کے مرکزی دھارے میں نمایاں تر تھے۔ منٹو، بیدی اور کرشن کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ جواب وہی ہے کہ میرا جی کا پیرایہ اپنے معاصرین کے مقابلے میں کہیں زیادہ نیا اور نامانوس تھا اسی بنا پر مشکل بھی۔ فیض کا ذکر ہی کیا وہ تو "ابلاغ” کے ہاتھ پر بیعت کیے بیٹھا تھا، سو اس نے عام فہم اور مانوس اسلوب اختیار کیا تو اپنے فنی عقیدے کے مطابق عین صحیح کیا، پھر غزل سے مستعار اور ڈھلی ڈھلائی زبان کو اپنا کر اس نے جائز طور پر اپنے عہد سے خراج(تحسین) وصول کیا۔ رہا راشد تو اس نے بھی پرانی زبان(فارسی آمیز) میں اپنے لہجے کا طنطنہ اور بڑے موضوعات کا دبدبہ ڈال کر اپنا لوہا منوا لیا۔ غور سے دیکھا جائے تو راشد بھی، فیض ہی کی طرح، البتہ قدرے دوری پر ایک مختلف اور مشکل تاہم ایک طرح سے بنے بنائے راستے پر ہی چل رہا تھا۔ صحیح معنوں میں جدید شاعری کا پیش رو اگر کوئی ہے تو وہ صرف میرا جی ہے۔ تفصیل میں جانے کا محل نہیں ، سبھی جانتے اور کسی نہ کسی حد تک مانتے ہیں کہ راشد کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اقبال تھا۔ اور یہ بھی کہ اقبال کے سوالات خاصے شفاف اسلوب کا تقاضا کرتے تھے کہ ان کی شاعری نے تہذیبی ذمہ داری قبول کر رکھی تھی۔ راشد بھی اپنے "پیغام” کی ترسیل کا قائل تھا لہٰذا خارج کی اہمیت اس کے ہاں بھی سطح پر نمایاں رہی۔

علی محمد فرشی: اس تناظر میں دیکھیں تو ایک طرف اقبال، اس کا سمت نما ہے تو دوسری جانب ترقی پسند تحریک کا سیلاب اسے ابلاغ کی رو میں بہائے لیے جاتا ہے۔ نتیجے میں راشد کی جو شاعری وجود میں آئی وہ بھی اپنے عصر کے لیے نامانوس نہیں تھی، نہ کچھ ایسی اجنبی اور نئی کہ پڑھنے والوں کے لیے چیلنج بن جائے۔ جیسا کہ میرا جی کی زبان جو نہایت عام فہم ہونے کے باوجود ایسے پیچیدہ اسلوب کو خلق کرتی ہے جس میں آئندہ کی نظم کے فنی نقوش واضح جھلک دیتے ہیں۔ راشد کی تفہیم میں اگر کوئی مشکل پیش آئی بھی تو اس کا انحرافی رویہ جو پینترا بدل کر ایک تہذیبی سانحے کی شکل اختیار کر گیا (ہر چند کہ اس کی وصیت کا کو ئی تحریری ثبوت موجود نہیں لیکن ایسی خواہش بہ جائے خود ایک انحرافی رویے کی تصدیق کرتی ہے ) خود پسندی اور اپنی عظمت کے کہیں بڑھے ہوئے احساس نے اسے حد درجہ حساس بنا رکھا تھا۔ راشد شکایات سے بھرا پڑا تھا تو فیض عنایاتِ زمانہ کے بوجھ سے دوہرا ہوا جا رہا تھا، دونوں کا ردِ عمل ان کے سماجی وجود کو ان کے تخلیقی وجود پر فائق رکھتا ہے۔ اب میرا جی کی طرف دیکھیے، جس نے شعوری یا لاشعوری کوشش سے اپنے تخلیقی وجود پر پردے ڈال لیے تھے۔ اس کی ظاہری ہئیت کذائی اور داخلی الجھاووں کا اظہار کچھ اس طور سے نمایاں ہوا کہ میرا جی ایک افسانوی کردار بنتا چلا گیا۔ اس کے نادان مداحوں اور پرجوش خیر خواہوں نے اس کی جسمانی غلاظت اور جنسی نجاست کی داستان طرازی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی خواہش میں اس کے فن کو بہ غور دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ میراجی کے تین گولے ان کی حاجت روائی کے لیے کافی تھے۔ بہت ہوا تو کھوج کھاج کے اس کی سوانح سے ایسے واقعات تلاش کر لیے جو زیبِ داستان کے لیے موزوں تر تھے، اس میں بھی خاصے غلو سے کام لیا گیا حتیٰ کہ میرا جی ایک خیالی دنیا کی مافوق الفطرت ہستی بن کر رہ گیا۔ مثلاً والد کی وفات پر انتقاماً یا احتجاجاً مسجد میں محراب کے پاس پیشاب کرنے کا من گھڑت واقعہ۔۔۔۔۔ خیال رہے کہ یہ واقعہ شاہد احمد دہلوی جیسے ذمہ دار ادیب نے بیان کیا ہے اوروں کی روایات کس حد تک قابلِ اعتبار ہوسکتی ہیں ، آپ خود اندازہ لگا لیجیے۔

 میرا جی کے فن کو سمجھنے کی اگر کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی بھی تو اس کا نفع نقاد ہی کی جیب میں گیا۔ اس بارے میں "دھرتی پوجا” کی تھیوری بہ طور مثال پیش کی جا سکتی ہے، جس نے آنے والے ناقدین کا قبلہ متعین کر دیا تھا، دھرتی کے مظاہر میرا جی کے فن کے نوع بہ رنگ ضرور واضح کرتے ہیں لیکن شاعر کی زخمی روح کا سراغ نہیں دیتے۔ صرف زمینی (ثقافتی)زاویے سے اس قد آور شاعر کا پورا جثہ دکھائی نہیں دیتا، نتیجتاً ایک ادھورا میرا جی ہمارے سامنے آتا ہے۔ گویا میرا جی کی شاعری کو جو ہونہار سمجھے وہ بھی غلط ہی سمجھے۔۔۔۔ اور اس تنقیدی اصول سے صرف نظر کر گئے کہ”کسی تخلیق کار کی شناخت کو متعین کرتے ہوئے اس کی بہترین تخلیقات کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ” جب کہ میرا جی پر اچھی سے اچھی تنقید بھی”کٹھور "، "برہا”، "ترقی پسند ادب”، "ایک منظر”، "سنجوگ”، ” ایک ہی کہانی”، ” دور و نزدیک” "اجنتا کے غار”، "ہندی نوجوان”، "آدرش”، "برقع”، "جنگل میں ویران مندر”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسی نظموں پر مقدمہ قائم کرتی رہی ہے۔

 ظفر سید کو داد دینا چاہیے کہ ان کے طفیل ہم میرا جی کی ان نظموں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جن کی مدد سے اس نرالے شاعر کا پورا وجود دکھائی دے گا۔ اور "حاشیہ” پر آنے والی نظم "یگانگت” کی وساطت سے اس قبیل کی دوسری اہم نظموں مثلاً "سمندر کا بلاوا”، "جاتری”، "جز و کُل”، "میں ڈرتا ہوں مسرت سے، "محبت”، "شام کو راستے پر”، "کلرک کا نغمۂ محبت”، "تن آسانی”، "چل چلاؤ”، ” کیفِ حیات”، "آبگینے کے اس پار”، "تفاوتِ راہ”و غیرہم کی تفہیم کا در کھلے گا۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! میرا جی کی شاعری پر ایک الزام بڑی شد و مد سے لگا کہ اس میں ابہام بہت ہے۔ لیکن اس ابہام کا تجزیہ کرنے اور اسلوب کے اجزائے ترکیبی معلوم کرنے کی بہ جائے میرا جی کی الجھی ہوئی شخصیت کو ڈھال بنایا جاتا رہا۔ پہلی نظر میں بات معقول لگتی ہے لیکن اگر درست ہوتی تو ناقدینِ شعر کو زحمت دینے کی کیا ضرورت تھی۔ نفسیات میں ایم اے کی ڈگری رکھنے والا کوئی بھی بھائی بند یہ کام بہت کم وقت میں نہایت آسانی سے کر سکتا تھا لیکن کیا، کیا جائے کہ تخلیق کی پراسرار وادی "حمام باد گرد” کے مثل ہے بل کہ اس سے بھی کٹھن۔۔۔ ذہنی سیر سپاٹے کی غرض سے اس میں قدم رکھنے والوں کو یہاں سے واپسی کا راستہ بھی نہیں ملتا۔ یہاں تو "ایمان” کی شکتی سے دست کش ہو کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ یعنی پہلے سے بنے بنائے تنقیدی سانچوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور تخلیق کے اندرسے اس کی دریافت کے اصول قائم کیے جائیں۔ میرا جی کی تفہیم کے حوالے سے اس بات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہو جاتی ہے کہ اس کی ’تخلیق،مروجہ راستوں پر چلنے سے انکاری ہے، اپنا راستہ خود بناتی ہے، لہٰذا تنقید کو بھی پرانے پہیے بدلنا ہوں گے۔ یونگ نے کہا تھا کہ تخلیقی ذہن تخلیقِ فن میں اپنی شخصیت کے اظہار کی بہ جائے اس سے فرار کا راستہ تلاش کرتا ہے، میرا جی کے بارے میں یہ بات صد فی صد نہ سہی بڑی حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔ (جاری)

علی محمد فرشی: ملارمے نے کہا تھا کہ شاعری الفاظ سے بنتی ہے، خیالات سے نہیں۔ یہاں "شاعری” کو کسی بھی ادبی فن پارے کا استعارہ جانیے۔ یعنی کسی بھی تحریر کو اگر کوئی شے ادب کی سطح پر اٹھا لے جاتی ہے تو وہ زبان ہے۔ حاشا میں موضوع کی نفی نہیں کر رہا نہ اسے دوسرے درجے کی شے قرار دے رہا ہوں لیکن ہم جانتے ہیں کہ صرف بڑے موضوع سے کبھی بڑا ادب تخلیق نہیں ہوا۔ اچھا ادب ہمیشہ فکر اور جمال کی یگانگت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اگر میں نے میرا جی کی زیرِ بحث نظم نہ پڑھی ہوتی تو شاید میں یہاں "یگانگت” کی بہ جائے "امتزاج” یا "توازن” وغیرہ جیسے الفاظ کام چلالیتا۔

 "یگانگت” پر بات کرتے ہوئے مجھے نسیم سید کا طریقۂ کاراس لیے پسندآیا کہ میراجی کی تفہیم اسی طریقے پر عمل کرنے سے ہو گی۔ خود میرا جی کی ادبی طریقت بھی یہی ہے۔ جب ہم تخلیق کو اول قرار دیتے ہیں تو اس کے خالق کی برتری سے انکار نہیں کر رہے ہوتے بل کہ اس کی مرعوبیت سے آزادی حاصل کر کے پہلے سے طے شدہ یا معلوم حقائق کی نفی کرتے ہیں اور نئے جہان کی دریافت کی سعی کرتے ہیں۔ شاید ادب کو پڑھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔ اچھا یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم اس طریقہ کار کی بہ دولت پہلی ہی کوشش میں صحیح نتائج تک جا پہنچیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ اچھا فن پارہ جہانِ نو کا امین ہوتا ہے۔ اگر نہیں تو وہ ایک ناکام یا کم کامیاب تحریر کے سوا کچھ نہیں رہے گا۔ پھر ادب کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے کوئی نسخہ بھی نہیں ، یہ تو مسلسل دریافت اور نوع بہ نوع نمو کا لامتناہی سلسلہ ہے جہاں نہ کوئی فن پارہ کلی طور پر اپنے خالق سے غیر متعلق ہوتا ہے نہ اپنے قاری سے منقطع نہ اپنے تناظر سے لاتعلق بل کہ تخلیقی متن دیگر متون سے منسلک اور پیوست ہونے کے باعث ایک دوسرے کی تفہیم میں معاون اور مددگار بھی ثابت ہوتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ یہ تو متضاد بات ہوئی کہ ایک طرف متن کو شاعر سے بھی جدا کر کے پڑھنے پر اصرار ہے تو دوسری جانب کل عالم کے متون سے رشتہ جوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ کوئی الجھاوا نہیں ، متن کی ساخت کی پیچ دار راہ داری ہے، جس کے ایک سرے پر تخلیق کار کا انفراد (جز)ظاہر ہوتا ہے تو دوسرے سرے پر انسانی تہذیب کا اجتماعی وجود(کُل)۔۔۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تخلیق کسی ایسے جھولے کی صورت میں نمودار ہوتی ہے جس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہونے کے باعث ہم اسے دونوں سروں پر موجود بھی پاتے ہیں اور غائب بھی۔ (جاری)

علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! آپ نے ابتدا میں بہت اہم بات کہی تھی کہ: "شاعری زماں کی میکانکی تقسیم کے تصور کو قبول نہیں کرتی، اس لیے یہ لمحاتی صداقتوں کو بھی دائمی اور آفاقی معنویت سے ہمکنار کرتی ہے اور یوں میراجی کا "حال” ایک (ایسے ) "ابدی حال” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ” اس زاویے سے نظم کا پورا وجود دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو زمانوں کی مانوس تقسیم کی غیر موجودگی کے باعث پیش آتی ہے۔ ظفر سید نے بہ طریقِ احسن نظم میں درپیش تصور وقت کو نشان زد کر کے اس کی تفہیم کو درست راستے پر گام زن کر دیا تھا۔ پھر راشد اور مجید امجد کی نظموں میں اس نظم سے مختلف تصورات زماں سے اس کا موازنہ کر کے مزید گرہ کشائی بھی کر دی تھی۔ اس کے باوجود اگر ابہام کے پردے پوری طرح نہیں سرکائے جا سکے تو اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے نظم کی تخلیق میں اختیار کردہ تکنیک۔۔۔۔ بہ ظاہر یہ خود کلامی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن دیکھنا چاہیے کہ کیا نظم میں آواز ایک ہی ہے، یعنی واحد متکلم کی آواز یا پھر زماں کی آواز بھی نظم میں موجود ہے اور ماورائے زمان و مکاں کی آواز بھی؟ میں سمجھتا ہوں کہ کہ نظم میں تینوں آوازیں سرایت کیے ہوئے ہیں اور اسی کے باعث نظم پیچیدہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر ہم ان آوازوں کو الگ الگ شناخت کر لیں تو یہ الجھن نہ صرف دور ہو جائے گی بل کہ نظم کی انفرادی ہئیت بھی سامنے آ جائے گی۔ تمہید میں ضمناً یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ میرا جی نے اسلوب کے مروجہ قوانین کو رد کر کے ایک نیا اسلوب خلق کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ جب تک ہم پیش نظر نظم کو پیش پا افتادہ اسلوبیاتی ضابطوں میں جکڑ کر پڑھتے رہیں گے اس سے کما حقہ انصاف نہیں کر پائیں گے۔ (جاری)

علی محمد فرشی: جنابِ صدر!میرا جی کے ہاں ہمیں دو طرح کے اسالیب ملتے ہیں ایک وہ جو خط مستقیم پر چلنا پسند کرتا ہے۔ یہاں خیالات ابہام کی دھند میں ہوں تو ہوں ، موضوعات واضح ہیں ، ہر چند قطعیت کی حد کو چھونے سے گریزاں کہ یہ وتیرہ تو عام شاعری کا بھی ہے۔ دوسرا اسلوب وہ ہے جس میں زبان شاعر کی تخلیقیت، انفرادی تجربے اور اجتہادی رویے کو سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ میرا جی کی نمائندہ نظمیں اسی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ "یگانگت” بھی میرا جی کے اسی اختراعی اسلوب کی نمائندگی کرتی ہے۔ (جاری)

علی محمد فرشی: جناب صدر!حمید شاہد نے اپنی گفت گو کے آغاز میں "یگانگت” اور راشد کی نظم ” میں کیا کہہ رہا تھا” میں اشتراک کی ایک صورت دریافت کی تھی۔ میں اسی مقام سے اختلاف کی ایک شکل پیش کرنا چاہتا ہوں ، محض غرض سے کہ اسلوب کا طلسم ایک سے الفاظ کو کتنا مختلف بنا دیتا ہے :

 "ابتداء ہی میں جب میرا جی نے کہا

 زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

 فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں

 تو ایسے میں راشد کی طرف دھیان چلا ہی جاتا ہے۔ بہ طور خاص اس کی نظم "میں کیا کہہ رہا تھا؟” کی طرف۔ راشد نے کہا تھا :

 میں یہ کہہ رہا تھا

 درختو، ہواؤں کو تم کھیل جانو، تو جانو

 مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزے کی دعوت کو جاتے ہوئے

 ذہن کی رہگزاروں میں کیسے

 نئے دن کی دزدیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے

 نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی ناتشنگی پر

 درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری

 تمہارے برہنہ بدن سے

 کہ اس میں روایات

 سرگوشیاں کر رہی تھیں

 درختو، بھلا کس لیے نام اپنا

 کئی بار دہرا رہے ہو

 یہ شیشم، یہ شم شی، یہ شی شی ی ی ی۔۔۔

 مگر تم کبھی شی ی ی ر۔۔۔ بھی کہہ سکو گے

 میں یہ کہہ رہا تھا”

 مجھے بھی حمید شاہد کی طرح طویل اقتباس درج کرنا پڑا ہے اور وہ بھی ایک آدھ لفظ کے مختلف استعمال کو ظاہر کرنے کے لیے !دونوں نظموں میں اسم اشارہ "یہ” استعمال ہوا ہے اور اسمِ ضمیر "میں ” بھی۔۔۔۔ توجہ کیجیے کہ دونوں نظموں میں ان الفاظ کے معانی کس قدر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔

 صاحب صدارت! فی الحال میں یہی کچھ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے بحث آگے بڑھے گی اور شاید مجھے بھی حسبِ حال کچھ کہنے کا موقع ملے گا۔۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! ایک بات رہ گئی کہ زیرِ بحث نظم میں اسم ضمیر متکلم ” میں ” نے نظم کے موضوع کو جس وحدت میں منقلب کیا ہے وہ نظم کے عنوان میں نہایت سلیقے سے مجسم ہو گئی ہے۔

محمد یامین: جناب صدر! احباب نے اپنے اپنے تبصروں میں بڑی جامعیت کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔ میرا جی کے تصور وقت کے بارے میں بات ہوئی۔۔۔ جس سے کسی نے اختلاف بھی کیا۔۔۔ موضوع اور اسلوب پر بھی باتیں ہوئی ہیں۔ نظم کی تفہیم کے لیے بھی فاضل احباب نے کچھ اشارے کر دیے ہیں۔۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذہن جو اسلوب کے روایتی پالنے کا عادی ہے اسے اس جھولے میں کیسے آرام ملے۔ جو ذہن زبان کی صرف ایک سطح سے واقف ہے اسے مزید کھودنے کی مشقت کب منظور ہو گی۔۔۔ اجنبی اسلوب کی اجنبیت کیسے دور ہو سکتی ہے ؟ جواب وہی ہے۔۔۔ نئے جہانوں کی تلاش میں کوشش اور محنت۔۔۔۔۔۔ ہم جان چکے ہیں کہ میرا جی کی اس نظم کی سب سے اہم بات تکنیک ہے، جس میں انسان (واحد متکلم) وقت اور لامکاں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ آوازیں ایسا طلسم بناتی ہیں کہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں اور کبھی لگتا ہے کہ جدا جدا ہیں۔۔۔ جیسے یہ کوئی خواب کا منظر ہو۔ اسلوب کی ایک پرت جس کی نشان دہی فرشی صاحب نے کی ہے اس نظم کا ایک مصرع ہے۔ "یہ میں کہہ رہا ہوں "۔۔۔ یہ لائن تین مقامات پر آئی ہے۔۔۔۔ ایک جیسے الفاظ ہیں لیکن ہر مقام پر یہ الفاظ جدا/مختلف آوازوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔ مجھے امید ہے کہ ابھی بات جاری رہے گی۔

نسیم سید: صدر محترم۔۔۔۔۔۔۔۔ فاضل تجزیہ نگار نے محمد یا میں صاحب نے روایتی انداز میں سوا ل کر نے والوں کو ا حمق، کند ذہن اور یک سطحی ذہن رکھنے والے قرار دے کر خاموش رہنے کا حکم صادر کر دیا ہے "۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذہن جو اسلوب کے روایتی پالنے کا عادی ہے اسے اس جھولے میں کیسے آرام ملے۔ جو ذہن زبان کی صرف ایک سطح سے واقف ہے اسے مزید کھودنے کی مشقت کب منظور ہو گی” یہی وہ تنبیہ ہے جو خاموش رہنے پر مجبور کر تی ہے

محمد حمید شاہد: صدر محترم، کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، مثلاً سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ میرا جی زبان تو روایت سے لے کر برت رہے ہیں ، سطریں بھی صاف ہیں ، اتنی صاف کہ اپنے اندر کچھ چھپا کر نہیں رکھتیں ، پھر معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں ، اس کے اندر سے کیا رمز نکلتی ہے، یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم ہے اور اسے محض ان اذہان کا مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو اسلوب کے روایتی جھولے کو جھولتے ہیں۔ خیر نسیم سید جی کو برہم نہیں ہونا چاہئیے، گفتگو میں ایسے مقامات نہیں آئیں گے تو بات کیسے آگے بڑھے گی۔ آپ نے عین ایسے مرحلہ پر ہماری مدد کی جب سب چپ تھے، اب آپ بولی ہیں تو سب بول رہے ہیں ، یوں کہ میلہ سا لگ گیا ہے، تو انہیں بھی اپنی آواز کی توسیع سمجھئیے، یوں بھی آپ کو ہم ناراض نہیں ہونے دیں گے۔ فرخ منظور نے جو سوال اٹھایا تھا، اس کا علی محمد فرشی نے، نظم کے اسم ضمیر متکلم "میں ” پر اور مختلف آوازوں پر بات کر کے جواب دے دیا تاہم نظم کی کل میں ان آوازوں کی شناخت ابھی باقی ہے، اور پھر جو سوالات فرشی کے نوٹ کے کئی گوشوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، مجھے ان پر بھی بہت کچھ کہنا ہے، مگر، ابھی نہیں ، کہ پہلے میں کچھ اور احباب کی گفتگو کا انتظار کروں گا۔

نسیم سید: جنا ب صدر حمید شاہد صاحب سے مکمل اتفاق ہے۔۔۔ بر ہم ؟ ہر گز نہیں بس لہجہ منا سب ہو تو بات زیادہ خو ش ا سلو بی سے آگے بڑھتی ہے حمید شاہد  صاحب نے وہ سوال جو اس نظم سے جڑا ہے "سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ میرا جی زبان تو روایت سے لے کر برت رہے ہیں ، سطریں بھی صاف ہیں ، اتنی صاف کہ اپنے اندر کچھ چھپا کر نہیں رکھتیں ، پھر معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں ، اس کے اندر سے کیا رمز نکلتی ہے، ” اس کو سمجھنے کی منتظر ہوں اور جنا ب علی محمد فر شی جنا ب اشعر نجمی جنا ب ظفر سید اور جنا ب حمید شاہد اور جنا ب محمد یا مین ادا رے ہیں صر ف نام نہیں ہیں اور ان سے سیکھنا اور ان کو سنا خو د کو سیچنے کے مترادف ہے لیکن سوا ل کرنا بھی انہی علمی اداروں کا بخشا ہوا حوصلہ ہے جس سے دست بردا ر ہونا اب ممکن نہیں

جلیل عالی: جنابِ صدر آپ کی وساطت سے شرکائے بحث سے گزارش ہے کہ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ اختلافِ رائے کریں۔ کسی پر چارج نہ لگائیں۔ مزید یہ کہ براہِ کرم جو نکتہ پیدا کریں اس کے لئے متن کی کمک بھی لائیں۔ مثلاً ابھی تک واحد متکلم کے علاوہ مخاطب کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر ! نظم کی تفہیم کے حوالے سے سب بڑا سوال یہ اٹھا ہے  کہ میرا جی کے بیانات متضاد کیوں ہیں ؟میرا دعوی ہے  کہ نظم نگار کا کوئی بیان باہم متناقض نہیں بس متن کی روشنی میں طے کر لیجئے اس نظم کا بنیادی یا مرکزی کردار کون ہے ؟اس کے مکالمے کس تکنیک کے حامل ہیں اور ا س کا مخاطب کون ہے ؟

 گویا تین بنیادی باتیں سمجھ لیں تو نظم کے متن کی تمام گرہیں سلجھتی چلی جائیں گی(جاری)

عارفہ شہزاد: نظم کا مرکزی کردار ایک ایسا شخص ہے جو انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کی تفہیم کے پیچ و خم میں الجھا ہوا ہے یوں کہہ لیجئے یہ ایک فلسفی ہے جو حیات و کائنات کے مسائل پر غور کر رہا ہے -با الفاظ دیگر یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ میرا جی اس نظم میں فلسفی شاعر کے روپ میں سامنے آئے ہیں جو فلسفیانہ نقطۂ نگاہ سے مشاہدۂ ذات و کائنات میں منہمک ہیں – ان کا انداز ارسطالیسی منطق سے کلام کرتا ہے جو خدا کی بجاۓ کائنات کی قوت محرکہ "توانائی” کو قرار دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس نظم میں راشد کی طرح میرا جی نے زمانے کو خدا نہیں قرار دیا کہ راشد کا تصور اسلام سے مستعار ہے جبکہ میرا جی کے کلام کے پس منظر میں ارسطالیسی منطقی فلسفہ کار فرما ہے بنا بریں وہ آغاز ہی میں اعلان کر دیتے ہیں زمانے کے حوالے سے کہ

 فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 جھولا استعارہ ہے کائناتی توانائی کے ہمیشہ جاری وساری رہنے کا(جاری)

عارفہ شہزاد: ج ہاں تک پہ لی سطر کا تعلق ہے

 زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

 اس سے ذہن یقیناً محولہ بالا حدیث قدسی کی طرف منتقل ہوتا ہے لیکن واضح رہے ارسطالیسی منطق میں بھی خیر و شر کی توفیق کا تصور کائنات یا زمانے سے وابستہ نہیں ہے (جاری)

عارفہ شہزاد: یہاں نظم کے مرکزی کردار کے حوالے سے ایک ضمنی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ یہ بار بار اس بات کی تکرار کیوں کرتا ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں

 اس تکرار کی دو توجیہات ہیں ایک تو یہ کہ مرکزی کردار کہ لیے "میں ” یعنی اپنا وجود سب سے متقدم ہے گویا اپنی نہاد میں یہ کردار وجودیت پرست ہے چنانچہ اس کے مکالمے کا اگلا حصہ میرے بیان کی توثیق کرتا ہے یہ وجودی سوچ کا حامل فرد اعلان کر رہا ہے میں ، میں ہوں "زمانہ نہیں ہوں "متن دیکھیے

 میں کوئی برائی نہیں ہوں

 زمانہ نہیں ہوں

 تسلسل کا جھولا نہیں

 (جاری)

عارفہ شہزاد: تفہیمی تسلسل قائم رکھنے کے لیے اگلے دو مصرعوں سے فی الحال صرف نظر کیجیے ان پر آگے چل کر بات ہو گی

 نظم کی تعبیر کے لیے نظم کے مصرعے آگے پیچھے کر کے دیکھنا ضروری ہے سو میں اسی متن کی توڑ پھوڑ کی تکنیک کے تحت اس مرکزی کردار کی خصوصیات کی مزید وضاحت کروں گی

 یہ کردار”ایک اور اکیلا ہے "۔

 "اک اجنبی "ہے نیز اس کا "کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے ” بالخصوص "بقا کے گھر "سے !

 چناں چہ "اکیلی شے ” ہونے کے نتیجے میں ” اس کی منزل فنا ہی فنا ہے "

 گویا سر تا پا ایک وجودیت پرست جو اپنے وجود کی فنا اور لاحاصلی کا کامل یقین رکھتا ہے (جاری)

عارفہ شہزاد: اس کردار پر اپنی وجودی سوچ کے بموجب یہ بات واضح ہے کہ وہ زمانہ نہیں ہے کیوں کہ زمانے کو بقا ہے

 لیکن یہی وجودیت پرست کردار عجیب الجھن سے دوچار ہو جاتا ہے جب وہ "یہ میں کہہ رہا ہوں "

 اور

 "اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا”

 کے ہٹ دھرمی پر مبنی رویے سے ہٹ کر مظاہر کائنات پر تفکر کرتا ہے اور تعقلانہ انتحاج تک رسائی کے لیے ارسطالیسی منطق سے رجوع کرتا ہے (جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!نظم کی تفہیم کی مزید منازل طے کرنے سے قبل ارسطالیسی منطق کی اصطلاحات سے رجوع ناگزیر ہے

 ارسطالیسی منطق کے مطابق جو حکم ایک جماعت یا گروہ پر لگاتے ہیں وہی حکم اس کی جزئیات پر بھی لاگو ہو گا مثلا

 1- انسان(گروہ) فانی ہے

 2-فلسفی(جزو) انسان ہے

 لہذا

 3-فلسفی فانی ہے

 ارسطو کی یہ منطق استخراجی (deductive) ہے

 آسان زبان میں سمجھنے کے لیے میتھمیٹکس کا اصول یاد رہے جس کے پیچھے ارسطالیسی منطق کام کر تی ہے

 if

 A=C and B=C

 then

 A=B

 (جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!اب ارسطالیسی منطق کے اس مبینہ سادہ حسابی فارمولے کے تحت نظم کے واحد متکلم کے بیانات کی گروہ بندی کر لیجیے

 میں یعنی نظم کا مرکزی کردار(فنا)=A

 زمانہ )بقا)B=(

 C=

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوۓ راستے، اور دریا، یہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

 یہ اجڑے ہوۓ مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور(بقا)

 یہ ہنستے ہوۓ ننھے بچے (بقا)یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر(فنا)

 ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوۓ

 چند بادل”(بقا)

عارفہ شہزاد: نظم کا مرکزی کردار پہلے Cسے متعلق سوال اٹھاتا ہے

 یہ کیا ہیں

 پھر واضح طور پر یہ اعتراف کر رہا ہے مشاہدے کے بعد کہ

 یہی تو زمانہ ہے، یہ جو اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہ رہا ہوں

 گویا اس نے دیکھا اور مانا کہ

 B=C

 پھر اس کے مشاہدے نے اس پر آشکار کیا کہ یہیC

 یعنی متن کے الفاظ میں

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا۔یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوۓ چند بادل

 "اے "A کے مساوی ہیں

 گویا ارسطالیسی منطق کے مطابق

 A=C

 متن کے الفاظ میں

 "یہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے "

 چنانچہ ان مشاہدات اور منطقی قضایا کی روشنی میں وہ اس قیاس بالواسطہ یا استنتاج نظری (SYLLOGISM) کے استخراج پر مجبور ہے کہ

 A=B

 متن کے الفاظ میں یہ یہ استخراجی نتیجہ دیکھیے

 "زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے "(جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر !اب آئیے نظم کے متن کی اختتامی لائنوں کی طرف

 "مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

 یہ کیسے کہوں میں

 مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں "

 منطقی تفکر کا استخراجی نتیجہ نظم کے واحد متکلم کو یہ ماننے پر مجبور کر رہا ہے کہ جو خصوصیات یعنی فنا اور بقا کی صفات "C ” میں ہیں وہی ” A” میں بھی ہیں

 سوال یہ ہے کہ منطقی ثبوت کے بعد بھی نظم کا مرکزی کردار کیوں ہچکچاہٹ اور تذبذب کا شکار ہے اور کہتا ہے

 یہ کیسے کہوں میں۔۔۔

 اس کی دو وجوہات ہیں

 نمبر ایک اس کا قبل ازیں وجودیت پرست ہونا

 نمبر دو اس میں برائی کا نہ ہونا-کہ نظم کے اختتام میں وہ کہتا ہے "مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے "

 دوسرے لفظوں میں مرکزی کردار کے نزدیک یہ بری بات ہے کہ فنا اور بقا جیسی باہم متناقض صفات کو ایک مان لیا جاۓ

 لیکن جناب صدر!واضح رہے کہ واحد متکلم نظم کے آغاز میں یہ اعتراف کر چکا ہے کہ وہ خیر و شر یا بھلائی برائی کے تصورات سے کماحقہ واقف نہیں ہے

 جناب صدر! رجوع کرنا پڑے گا ان سطور کی طرف جن سے ہم نے آغاز میں تفہیمی تسلسل قائم رکھنے کی غرض سے صرف نظر کیا تھا

 "مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے

 کیا زمانے میں ہے "

 (جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر! نظم کے واحد متکلم کے تذبذب کی ایک وجہ منطقی فکر کے قوانین بھی ہیں جو چار ہیں

 1-اصول عینیت(LAW OF IDENTITY)

 2-اصول تباین یا اصول مانع اجتماع نقیص(LAW OF NON CONTRADICTION)

 3-اصول خارج ا الاوسط(LAW OF EXCLUDED MIDDLE)

 4-اصول وجہ کافی(LAW OF SUFFICIENT REASON)

 ایسے اہل علم احباب کی محفل میں ان قوانین کی تعریف بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔  حاصل کلام یہ ہے کہ مرکزی کردار ان منطقی فکری قوانین کی روشنی میں یہ سوچنے پر بھی مجبور ہے کہ

 جب ہر شے وہی ہے جو کہ وہ ہے

 جب بیک وقت دو متناقض قضیے سچ نہیں ہو سکتے

 جب ایک ہی شے بیک وقت ہست اور بود نہیں ہو سکتی

 جب ایک ہی بیان بیک وقت جھوٹ اور سچ نہیں ہو سکتاگویا متناقض قضیوں میں درمیانی راستہ نہیں ہوتا

 تو وہ کیسے مان لے کہ وہ فانی بھی ہے اور باقی بھی

 مرکزی کردار اس سوچ میں پھنس کر رہ گیا ہے کہ وہ غلط قضایا قائم کرنے کے سبب منطقی مغالطے logical fallacy کا شکار تو نہیں ہو گیا؟)جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر! منطقی طریق فکر میں اگر کوئی شے یا قانون اس کی دستگیرئ کرتا ہے تو وہ ہے موخر الذکر یعنی

 اصول وجہ کافی جو کہتا ہے جو کچھ کہ ہے کسی وجہ سے ہے اور جب وہ ہے تو اس کی یہی وجہ کافی ہے !

 باقی سب سوالات کا جواب منطق کے پاس الجھاووں کے سوا کچھ نہیں ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے مابعدالطبیعات کی حدود شروع ہوتی ہیں اور منطق عاجز قرار پاتی ہے

 یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ نہیں مذہب یا ایمان بالغیب سکون بخشتا ہے

 (جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر! نظم نگار کی بنیادی کامیابی یہ ہے کہ وہ نظم کسی منطقی نتیجے پر لا کر ختم نہیں کرتا بلکہ قارئین کے اذہان میں سوالات کا طوفان جگا دیتا ہے

 یوں کہ لیجیے تجاہل عارفانہ کی تکنیک سے کام لیتے ہوۓ تعقل پسندوں اور وجودیت پرستوں کے نظریات پر ضرب لگاتا ہے

 موضوعاتی سطح پر اس نظم کو وحدت الوجودی فکر کی نمائندہ اور تکنیکی اعتبار سے کرداری نظم کے دائرے میں رکھنا چاہیے (جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!ہم متن سے فراہم کردہ دلائل کی روشنی میں یہ طے کر چکے مرکزی کردار فلسفی شاعر ہے جو ارسطالیسی فکر کی روشنی میں اپنے سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی سعی کر رہا ہے رہی بات اس کا مخاطب کون ہے تو اس نظم کو ترجیحاً خود کلامیہ سمجھنا چاہیے یعنی یہ کردار اپنے باطن میں اٹھنے والے سوالوں سے دوچار ہے اپنے آب کو تذبذب سے باہر نکالنے کی سعی میں یہ ہذیانی کیفیت کا شکار ہو کر بار بار دوہراتا ہے "یہ میں کہ رہا ہوں ” گویا خود کو یقین دلانا چاہتا ہے مگر خارجی مشاہدات اس کے یقین کو مسمار کرنے پر تلے ہیں ، وہ اس بھنور سے نکلنے کے لیے منطقی استدلال کا سہارا لیتا ہے مگر تذبذب اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں !

 جناب صدر!میں تو نظم کو اسی طور ہی سمجھ پائی ہوں اور میرا اصرار ہے کہ میراجی کی اس نظم کے نشان زد کیے گیے بظاہر متناقض بیانات کا سبب مرکزی کردار کا فسفیانہ انداز نظر ہے اور بس!نظم کہیں بھی کسی طور بھی الجھاووں کا شکار نہیں

علی محمد فرشی: جناب صدر! کل سہ پہرجیسے ہی میں نے درج ذیل نوٹ چڑھایا عارفہ شہزاد کی کال آ گئی کہ وہ بحث میں مصروف ہیں اور موبائل سے کام لے رہی ہیں اس لیے کاپی بھی محفوظ نہیں کر سکتی۔ ماجرا یہ تھا کہ جب میں نے اپنا نوٹ چڑھایا اس وقت بجلی گئی ہوئی تھی اس لیے میں ان کے نوٹس نہیں دیکھا پایا اور جیسے ہی میں نے اپنا نوٹ اپ لوڈ کیا اور پیج ری فریش کیا تو دیکھا کہ میرا نوٹ ان کے دو نوٹوں کے درمیان آ گیا ہے۔ چناں چہ مجھے ان کی بات معقول لگی اور میں نے اس نوٹ کو حذف کر دیا۔ رات کو وہ بہت دیر سے فارغ ہوئیں اس لیے میں ان کے فوراً بعد نہ آسکا۔ گزارش ہے کہ میری درج ذیل گفت گو کو عارفہ کی گفت گو سے زمانی طور پر پہلے سمجھیے گا کہ اگر انھوں نے کوئی نکتہ اٹھایا ہے تو وہ میری نظر سے نہیں گزرا تھا۔

 جنابِ صدر!میں نے نسیم سید کا نوٹ پڑھتے ہی انھیں دعا دی۔ دل خوش ہوا کہ کسی طرف سے تو پتھر آیا، (اگر سیاق پڑھے بغیر احباب کوئی رائے قائم کریں گے تو یقیناً یہ "دعا” منفی تاثر قائم کرے گی اور "پتھر” سے زخم کا تصور بھی پیدا ہو گا، اب آگے بڑھیے اور جملہ مکمل کیجیے )اور بحث کی جھیل پر جمے جمود کی تہ ٹوٹی۔ اب بتائیے !خیر، میرے خیال میں یامین کے جس اشارے کا انھوں نے برا مانا ہے وہ شاید ان کے بارے میں تھا ہی نہیں ، مجھے تو اس میں میرا جی کے بارے میں (مدتِ مدید سے )روا رکھے گئے عمومی رویے پر طنز سے زیادہ کچھ نہیں ملا۔ اس کے باوجود مجھے عالی صاحب کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ ہمیں اختلاف رائے کرتے ہوئے بھی شائستگی اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

 بہ ہر حال ان کے احتجاج کا احترام کرنا چاہیے، انھوں نے درست مطالبہ کیا ہے کہ حمید شاہد نے جو سوال اٹھایا ہے اس پر بات ہونا چاہیے۔ اور ہو گی بھی کیوں کہ میرا جی کے اسلوب کو سمجھے بغیر اس کی نظم کو سمجھنا ممکن نہیں۔ میں جلد اس موضوع پر بات کروں گا۔ لیکن ابھی تو جلیل عالی صاحب نے جو مطالبہ کیا ہے وہ زیادہ اہم ہے۔

 میں نے اپنی گفت گو کے حصہ اول میں اس نظم کو "خود کلامی”کہا تھا۔ شاید عالی صاحب کی نظر اس حصے پر نہیں پڑی۔ یہ تکنیک کوئی نئی شے بھی بھی نہیں۔ تاہم ان کا حکم سر آنکھوں پر۔ ضروری نہیں ہوتا کہ خود کلامی میں کوئی مخاطب موجود بھی ہو، وہ غائب بھی ہو سکتا اور سرے سے نا موجود بھی! پھر یہ نظم تو ذرا اور آگے بڑھ کر "داخلی خودکلامیہ” بن گئی ہے۔ شاعر کے خیالات اور محسوسات خود زبان اختیار کر گئے ہیں ، لہٰذا مخاطب اگر کوئی ہے تو وہ شاعر خود ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے ؟ نظم نے اول تا آخر اس تکنیک کو کام یابی سے نبھایا ہے۔ اعلیٰ شاعری جہاں زمانوں کی معروف تقسیم پر ضرب لگاتی ہے وہیں معلوم ضمائر کی تقسیم کو بھی حذف کر دیتی ہے۔ یہاں تینوں ضمائر کو نشان زد کیا بھی جا سکتا ہے لیکن تکنیک اپنی جگہ قائم رہے گی۔ اور نظم "خود کلامیہ” ہی رہے گی۔ میں پہلے بھی تفصیل میں نہیں گیا تھا اور اب بھی اس گریز کر رہا ہوں کہ اہلِ دانش سے مخاطبہ ہے البتہ صاحبِ صدارت اگر ضروری سمجھیں گے تو مجھے وضاحت کا حکم دے سکتے ہیں۔ میں نے اب تک جو کچھ بھی کہا ہے ذمہ داری سے کہا ہے لیکن ضروری نہیں کہ سبھی اس سے متفق ہوں۔ یہ کوئی مشاعرہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائیں۔ مباحث اختلاف سے زندہ رہتے ہیں اور ادب مباحث سے زندہ رہتا ہے اور جو ادب زندہ رہتا ہے وہ ادیب کو کبھی مرنے نہیں دیتا۔

اشعر نجمی: بھئی، یہاں تو خلاف توقع سیلاب پھوٹ پڑا۔ کیا غضب کا مکالمہ چل رہا ہے۔ نسیم سید صاحبہ! ادب میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا، لہٰذا کسی احساس کمتری کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ہی نے اس ساکت جھیل میں پہلی کنکری پھینکی تھی، بعد میں دائرے بننے شروع ہوئے۔ چنانچہ میں آپ کا بطور خاص شکر گذار ہوں۔ فرشی صاحب کا بھی شکر گذار ہوں کہ انھوں نے اس مکالمے میں بھرپور حصہ لیا۔ خود کلامی والے نکتے پر مجھے بھی کچھ عرض کرنا ہے لیکن ابھی نہیں۔ دوسری جانب عارفہ شہزاد صاحبہ نے جس طرح اپنی بات رکھی، اس سے اس نظم کے تعلق سے بہت ساری غلط فہمیوں کے پردے چاک ہوئے ہیں۔ خصوصاً فرخ منظور صاحب کی جانب سے اٹھائے گئے سوالوں کا مدلل جواب متاثر کر گیا۔ ان کے دلائل مجھے بھی کچھ کہنے کے لیے مہمیز کر رہے ہیں لیکن ایک بار پھر وہی کہ ابھی نہیں ، فی الحال میں منتظر ہوں اپنے دوسرے دوستوں کا جنھوں نے ابھی تک خود کو صرف "لائک” تک محدود کر رکھا ہے، میں انھیں اس "رزم گاہ” میں مدعو کر رہا ہوں۔

محمد یامین: جناب صدر! مجھے نسیم سید سے معذرت کرنا تھی لیکن موقع نہیں ملا۔ میں وضاحت کیا کروں کہ فرشی صاحب نے میرے دل کی بات کہہ دی ہے۔ میں نسیم سید کے ذہن کو کیسے کند کہہ سکتا ہوں جس کے طفیل محفل میں جان پڑ گئی ہے۔ احباب حاشیہ سے بھی معذرت چاہتا ہوں۔ اور آپ سے بھی۔

محمد یامین: جناب صدر! میرے تفہیمی سانچے میں یہ نظم جس طرح ڈھل کر سامنے آ رہی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مراتبِ وجود کا ایک تجربہ ہے اور اس میں انسانی سطح اور مقام وجوب کی طرف اشارے ملتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ تاویلات کو رمزیہ انداز میں بیان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ فرشی صاحب نے اسے خود کلامیہ کہا ہے کہ اس مکاشفے میں خود کلامی ہی ہو سکتی ہے۔ نظم کا عنوان اکثر کلید کا کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ وہ چابی ہوتی ہے جو مالک مکان دروازے کے آس پاس کہیں چھپا دیتا ہے اور اگر وہ خود نہ آئے تو گھر کے دوسرے افراد اسے تلاش کر لیتے ہیں۔ اس نظم کا عنوان وہ چابی ہے جو سامنے پڑی ہے لیکن اسے اٹھا کر تالا کھولنے کی ہمت نہیں۔۔۔۔۔ عارفہ شہزاد نے ایک نیا دروازہ کھولا ہے شاید۔۔۔ نظم کا اصلی دروازہ( شاید ) ابھی کھلنے کا انتظار کرنا چاہیے۔۔۔۔

اشعر نجمی: گویا ابھی اصلی دروازہ کھلنا باقی ہے ؟ پتہ نہیں مجھے اس مقام پر پکاسو کی وہ گفتگو کیوں یاد آ رہی ہے جس کے تحت اس نے کہا تھا کہ” جب میں کوئی تصویر بناتا ہوں تو میں بھول جاتا ہوں کہ اس میں دو اشخاص کبھی میرے لیے موجود تھے، پھر وہ موجود نہیں رہتے۔ ان اشخاص کا ادراک مجھے ابتدائی تحرک عطا کرتا ہے لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کی شکلیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ وہ میرے لیے افسانہ بن جاتے ہیں اور بالآخر یکسر غائب ہو جاتے ہیں۔ ” مجھے نہیں معلوم کہ پکاسو کی اس بات سے میرا جی کی اس نظم کا کیا تعلق ہے، ہے بھی یا نہیں۔

معید رشیدی: جناب صدر !

 کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی سطح پر، بہ یک وقت ہونے اور نہ ہونے کا احساس تو ان ذہنوں کو ضرور ہوتا ہے جو زندگی اور کائنات کے رشتے پر غور کرتے ہیں۔ تشکیک اور تضادات سے الجھنا، زندہ ذہنوں کا مقدر ہے۔ تشکیک سے یقین اور نفی سے اثبات کی طرف مائل ہونا، ذہنی وقوعے اور تجربے کی وہ سطح ہے جہاں سادہ ذہنی جواب دے جاتی ہے۔ اس نظم کی بنت میں تضادات سے کام لیا گیا ہے۔ شاعر کا ذہنی رویہ بیانیہ میں کئی رنگ بدلتا ہے اورکیفیات بدل جاتی ہیں۔ بنیادی مسئلہ اس نظم کا دو متضاد تجربے اور احساس کا امتزاج ہے۔ جب فنا اور بقا کے وجودی مسئلوں پر آدمی غور کرتا ہے تو بھٹکتا بھی ہے، الجھتا بھی ہے، پھسلتا بھی ہے اور ڈوبتا ابھرتا بھی ہے۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ فنا اور بقا، دونوں انسان کے وجود کا حصہ ہیں۔ اس دنیا میں کوئی شے نہ آسانی سے پیدا ہوتی ہے، نہ مرتی ہے۔ اس لیے مسائل کے افہام و تفہیم میں ایک نگاہ غلط انداز سے کام نہیں چلتا۔ پوری نظم آخری مصرعے ’’مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں ‘‘کو قائم کرنے کے لیے بنی گئی ہے۔ چونکہ فنا اور بقا دو الگ حقائق ہیں۔ اس لیے دو متضاد حقائق کو ایک نقطے پر یکجا کرنا اور اس کے احساس کو زندہ کرنا مشکل مرحلہ ہے۔ نظم کا یہ ٹکڑا ملاحظہ ہو:

 میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں

 تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

 مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے

 اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

 کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 برائی، بھلائی، زمانہ، تسلسل ……یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں۔

 مجھے تو کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے میں ہوں ایک، اور میں اکیلا ہوں ، اک اجنبی ہوں

 یہ نفی کی سطح ہے۔ احساسِ تنہائی تو ازلی ہے۔ آج جس قدر آبادی بڑھی ہے، سناٹا بھی اسی قدر گہرا ہوا ہے۔ خود کو زمانے سے الگ کرنے کا احساس بھی یہیں سے پھوٹا ہے۔ اکیلے پن اور تنہائی کے احساس کے بعد بھی جس طرح فرد بھیڑ اور سماج کا حصہ ہے، اسی طرح لمحہ بھی زمانے کی اکائی ہے۔ اس کائنات میں کوئی شے الگ نہیں ہے۔ ہر شے ایک دوسرے کی تکمیل کی محتاج ہے۔ تضاد تو ہمارے ذہن کی پیداوار ہے۔ اشیا میں ان کی خاصیت کے تحت ہم مماثلت اور تضاد ڈھونڈ تے ہیں۔ قطرہ، دریا کے بغیر، لمحہ، زمانے کے بغیر اور فرد، سماج کے بغیر ادھورا ہے۔ اس حقیقت تک رسائی آسان نہیں۔ اس لیے پہلے مرحلے میں انا کا جذبہ خود کو الگ رکھنے اور اکائی تسلیم کرنے کی للک میں گرفتار ہے۔ ذہن جب مادے سے روح کا سفر کرتا ہے تو اسے وسعت کا ادراک ہوتا ہے۔ پھر اسے کائنات کی اشیا میں ہم رشتگی کا احساس ہوتا ہے۔ اب نظم کا یہ ٹکڑا بھی ملاحظہ کیجیے :

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

 یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

 زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے

 مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

 یہ کیسے کہوں میں کہ

 مجھ میں فنا اور بقا دونوں آکر ملے ہیں

 یہ اثبات کی منزل ہے۔ مسئلہ ’کیسے کہنے ،یعنی اظہار کا ہے اور اس منزل کے احساس کا بھی جہاں فنا اور بقا دونوں مل جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ضد کے بجائے، تکمیل معلوم ہوتے ہیں۔

نسیم سید: صدر محترم۔ میں نے صرف ایک روئے کی نشاندہی کی تھی جس کی بے شما ر مثالیں مو جو د ہیں اتفاق سے یہ ا حسا س اپنے محترم محمد یا مین کی تحریر سے جڑ گیا جس کے لئے شر مسار ہوں اور انتہا ئی معذرت خواہ ہوں۔۔ ہر  تحریر اور ہر تجزیہ بہت کچھ پڑھا اور سکھا رہا ہے اور میری تو تجویز ہے کہ ہر اجلا س کی گفتگو کو شا مل اشاعت کیجئے ا ثبات میں۔ کہ اس سے زیادہ بھر پو ر تجزیہ شا ید ہی میرا جی اس نظم کا کبھی ہو سکے میرا جی کا جو قرض ہے ہم سب پر وہ دیکھئے کس شان سے ادا ہو رہا ہے کچھ اور در ہیں جو شا ید کھلتے چلے جائیں گے ابھی

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! نسیم سید اس فورم کی نہایت محترم رکن ہیں۔ ہمیں ان کے مثبت رویے کی داد دینا چاہیے۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! میں اپنی کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں اور احباب سے ملتمس ہوں کہ جب تک میں بات مکمل نہ کر لوں یا وقفے کی اجازت نہ لے لوں مجھے اپنا بیان جاری رکھنے کا موقع دیا جائے۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! میرا جی کی نظم کے بارے میں جو اعتراضات ہماری تنقید کا حافظہ بن گئے ہیں جب تک ان پر نظر ثانی نہیں کی جائے گی، میرا جی کی اعلیٰ (نمائندہ) نظموں کی تفہیم میں مشکل پیش آتی رہے گی۔ میری خواہش ہے کہ موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں یہ گرد صاف کرنی چاہیے۔

 میرا جی کی نظموں پر بڑا اعتراض یہ رہا ہے کہ ان میں ابہام بہت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ابہام کوئی برائی نہیں ، یہ تو خوبی ہے، ہر اچھے فن پارے کی۔ بڑے بڑے نام اپنے عہد میں اس الزام کی زد میں آئے ہیں لیکن بعد میں وہی احترام کے لائق قرار پائے۔ میرا جی کے گیتوں میں تو کسی کو ابہام نظر نہیں آیا، نہ اس کی غزلیات میں ، نہ ہزلیات میں حتیٰ کہ زمینی حوالوں سے لکھی نظمیں بھی اس الزام سے صاف بچ گئیں اور موضوعاتی شاعری بھی۔ پھر وہ کون سی نظمیں ہیں جن پر مقدمہ قائم ہونا چاہیے ؟ نہ ہمیں ان نظموں کی کوئی فہرست ملتی ہے نہ ابہام کی نوعیت معلوم ہوتی ہے۔ ایک افواہ ہے، سینہ بہ سینہ چلی آتی ہے، جس کا نہ کوئی ثبوت ملتا ہے نہ گواہ!

 سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی نظم "فن پارہ” بھی بنی ہے کہ نہیں ؟ اور فن پارہ بننے کی پہلی شرط اسلوب ہے اور اسلوب کی پہلی شرط ہے شاعری اور شاعری کی پہلی شرط ہوتی ہے جمالیات۔ کوئی نظم اس شرط کو پورا کر لیتی ہے تو نقاد پر فرض ہو جاتا کہ اس سے سرسری نہ گزرے اور عجلت میں کوئی فیصلہ نہ دے کیوں کہ شاعر کا مقدمہ تو برسوں چلتا ہے اور آخر آخر وقت اسے بری کر ہی دیتا ہے لیکن نقاد کو لگی ٹھوکر کا خمیازہ اسے خود ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

 ابہام بھی دوقسم کا ہوتا ہے منفی ابہام شاعر کے پھوہڑ پن کے باعث اندھے ہاتھی کی طرح تحریر میں گھس آتا ہے۔ یعنی شاعر کو نہ موضوع پر گرفت ہوتی ہے نہ اس کے بیان کے لیے موزوں زبان میسر ہوتی ہے، کبھی تجربہ نا پختہ رہ جاتا ہے تو کہیں احساس کے رسیلا ہونے میں ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے۔ کہیں تکنیک کا نبھانا مشکل ہو تا ہے اور کہیں علامتوں کا سنبھالنا دشوار۔ یوں ایک خام تحریر کاغذ کو سیاہ اور شاعر کو روسیاہ کرنے کے علاوہ کسی کام کی نہیں ہوتی۔۔۔۔ جب کہ ابہامِ مثبت شاعر کی اعلیٰ فنی چابک دستی کے باعث دیدہ بینا کو بھی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ اس ابہام کی تشکیل میں شعری اسلوب کی ندرت، فکر کی پیچیدگی۔ نامانوس شعری واردات یا نظم بنانے اچھوتی تکنیک کا برتاؤ وغیرہم خاص کردار ادا کرتے ہیں۔ عمومی ذہن تصورات کے معلوم اور مانوس سلاسل کا اسیر ہوتا ہے جب کہ تخلیقی ذہن نامعلوم کی دریافت اور نامانوس کی تشکیل میں مگن رہتا ہے جس کے باعث تخلیق میں ابہامِ مثبت کا در آنا خلافِ قیاس نہیں ہونا چاہیے۔ (جاری ہے، توقف فرمائیے )

علی محمد فرشی: زیرِ بحث نظم کو بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے۔ نظم کا آغاز ایک معلوم حقیقت سے ہوتا ہے۔ یعنی: "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ” حدیث قدسی سے ماخوذ اس قطعی قول سے ابتدا کر کے نظم نے شروع ہی میں موضوع کے غیر معمولی ہونے کا اشارہ دے دیا ہے، پھر "زماں ” کو برائی سے پاک یا مبرا قرار دینے کا سوال اٹھا کر ہوشیار بھی کر دیا کہ ہمیں آنے والی سطور میں "زماں "، "مکاں ” اور "انساں ” کی مثلثِ عظیم سے واسطہ پڑنے والا ہے۔ ادب میں جہاں کہیں بھی مثلثِ عظیم ظہور کرتی ہے کسی نہ کسی بڑے تجربے کی خبر دیتی ہے کیوں کہ موجود و نا موجود کے سارے قضایا اسی میں سمائے ہوئے ہیں۔

 "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

 فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں "

 اگر ہم نظم کی ان تین ابتدائی سطور پر ذہن جما کر آگے بڑھیں تو تفہیم کا مرحلہ بہ آسانی طے کر سکتے ہیں۔ پہلی سطر تو کسی ابہام کا شکار نہیں کرتی کیوں کہ حدیثِ قدسی کا حوالہ راہ نمائی کے لیے موجود ہے۔ یہ آواز ماورائے زماں و مکاں کی ہے۔ دوسری سطر البتہ تھوڑی مشکل ہے اور غیر قطعی بھی کہ یہ انسانی تصور یا تدبر کا نتیجہ ہے اور معلوم حقیقت ہونے کے باوجود متنازع فیہ، اور ہونی بھی چاہیے کہ، فلسفیانہ نتائج حتمی اور قطعی نہیں ہوتے۔ یہاں وقت کے دائروی تصور کو نشان زد کیا گیا ہے جس سے اختلاف کی مختلف صورتیں موجود رہی ہیں۔ یہ قول اجتماعی انسانی دانش کی آواز ہے جسے شاعر نے "زماں ” کی شکل میں مجسم کیا ہے۔ تیسری سطر، پہلے قول کے لیے بھی ہے، دوسرے بیان کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔ یہاں تک تو کوئی الجھاؤ نہیں ہے، لیکن جب یہی (تیسری سطر) ما بعد بیان (جو شاعر کی آواز ہے )کے ساتھ بھی جڑ جاتی ہے تو واقعی ابہام کا در کھل جاتا ہے، لیکن یہ محض تکنیک کا پیدا کردہ حسن ہے یا حسنِ التباس۔ میں نے اولیں گفت گو میں جن تین آوازوں کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا اس کی تائید یا تردید ابھی تک نہیں آئی اس لیے وضاحت ضروری ہو گئی تھی۔ مجھے امید ہے کہ احباب گرہ کشائی میں میری مدد فرمائیں گے۔ (جاری ہے، توقف فرمائیے )۔

علی محمد فرشی: پہلی تین سطروں کے بعد شاعر کا بیان شروع ہوتا ہے، یعنی ما قبل دو معلوم حقیقتوں کے بعد نئی حقیقت کا اعلامیہ جو شاعر کا ذاتی تجربہ ہے اور اسی کے اظہار کی خاطر نظم وجود میں آئی ہے۔

 "میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں

 تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

 مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے

 اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا

 کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 برائی، بھلائی، زمانہ تسلسل …۔ یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں

 مجھے تو کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے

 میں ہوں ایک، اور میں اکیلا ہوں ، اک اجنبی ہوں

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا

 یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

 یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور

 یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہو ایک اندھا مسافر

 ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

 یہ کیا ہیں ؟”

 ان سطور میں شاعر کا سماجی وجود نمایاں ہے۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں آغازِ کلام(خود کلامی)کرتا ہے۔ میرا جی کی سماجی تنہائی کی کاٹ اس وقت مزید تیز ہو جاتی ہے جب ہم” کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے ” تک پہنچتے ہیں۔ یہاں تک نظم کے لہجے میں شاعر کی اکتاہٹ اور بیزاری کی واضح ہے۔ یہ اسی طرح کا لہجہ ہے جو غالب کے اس مصرع کا حسن بنا ہے : "ابنِ مریم ہوا کرے کوئی”، جب انسان کو اپنے مصائب کا کوئی حل سجھائی نہیں دیتا تو وہ اسی انداز میں سوچتا اور بولتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں شاعر بہ طور فرد کائنات، خالقِ کائنات، زماں اور تسلسلِ انساں کے مقابل آتا ہے تو اس پر اپنے وجود کی بے مائگی کا عقدہ کھل جاتا ہے۔ "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ” کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ انسان اپنی بے ثباتی کے حوالے سے وجودِ حقیقی کے دائمی اور باقی ہونے یقین حاصل کرتا ہے۔ (جاری ہے، توقف فرمائیے )۔۔

علی محمد فرشی: اسی جگہ سے نظم نئی اڑان بھرتی ہے اور شاعر اپنی ذات کے حصار سے نکل کر انسان کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ یہیں ہمیں اس کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی کا سراغ ملتا ہے :

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا

 یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

 یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور

 یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہو ایک اندھا مسافر

 ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

 یہ کیا ہیں ؟”

 دیکھیے کہ نظم نے کس حسنِ ادا کے ساتھ رخ بدلا ہے۔ اس کی رفتار میں کیسی تیزی آ گئی ہے۔ گویا زاویہ تبدیل ہوتے ہی خیالات بھی(امیجز کی صورت میں ) تیزی سے حرکت کرنے لگے ہیں۔ "بستی” انسانی تہذیب کے علامت ہے تو ساتھ ہی صنعتِ تضاد کا استعمال کرتے ہوئے شاعر نے جنگل کی علامت کو مقابل رکھ دیا ہے اور پھر ان دو علامتوں کو "دریا” اور "راستے ” کی علامتوں سے ملا کر "وقت” کی حرکت اور انسانی "ارتقا” کے سفر کی تمام داستان ایک ہی مصرع میں سمندر کر دی ہے۔ اس کے فوراً بعد خدا کی تخلیق کردہ عظمت کے نشان "پہاڑ” کے مقابل "اونچی عمارت” کو انسانی تہذیب کے ارتقا اور ارتفاع کا استعارہ بنا دیا ہے۔ شاعر نے ان دو مصرعوں میں زماں اور ماورائے زماں کو انسان کے مقابل یوں اثبات دیا ہے کہ ایک عظیم شعری پیراڈکس لو دینے لگا ہے۔ اور "تو شب آفریدی چراغ آفریدم” کی روایت روشن ہو گئی ہے۔ کائناتِ اکبر کا کائناتِ اصغر میں مشاہدہ بہ جائے خود پیراڈکس ہے ! اگر انسان کائناتِ اصغر ہے اور کائناتِ اکبر کی تفہیم و تجزیہ کر کے اس کا محاکمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو "کائناتِ اصغر” کیسے ہوا؟

 اس کے بعد کی سطر برباد تہذیب اور جامد معاشرت کی جانب اشارہ کرتی ہے اور درپیش زوال کا درست تاریخی تجزیہ بھی۔ "مقبرہ” کی علامت اپنے اندر ظالمانہ سیاسی نظام اور "مجاور” کی علامت فرد کے تخلیقی کردار سے تہی ہو کر طفیلیہ بن جانے کی طرف بلیغ کنائیہ ہے۔ اس کے باوجود شاعر کسی مایوسی کا شکار نہیں کہ اگر پرانا اور فرسودہ نظام(اندھا مسافر) نئے زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کے ساتھ ٹکرا کر کچلے جانا ہی اس کا مقدر ہے۔ اس کے مٹ جانے کا کیا افسوس! دیکھیے کہ شاعر کا تصورِ تقدیر کس قدر سائنسی اور مبنی بر حقیقت ہے ! شاعر کی نظر تو ہنستے کھیلتے بچوں پر ہے جو مستقبل کی علامت ہیں۔ اس کے بعد والی لائین تو اس حصے کو معراج پر پہنچا دیتی ہے۔ ہوا اور بادل(پانی) زندگی کی حرکت، حریت، نمو، ارتقا، سرمستی اور سرشاری کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں اور نباتات زندگی کے تسلسل کی علامت۔ اس تناظر میں نظم کا مطالعہ کرتے ہوئے جب ہم یہاں پہنچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "یہ کیا ہیں ؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو شاعر کے مکاشفے سے پھوٹنے والی روشنی ہماری آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ کیوں کہ شاعر ایک مثبت نتیجہ اخذ کر چکا ہے۔ (جاری ہے، توقف فرمائیے )۔

علی محمد فرشی: نظم اب انتہائی اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ شاعر بہ طور انسان انکشاف کی منزل پر پہنچنے کے بعد اپنے اصل مرتبے یعنی شاعر کی حیثیت سے اس قضیے کو دیکھتا ہے تو اسے یکسر مختلف منظر سے واسطہ پڑتا ہے۔ اب میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیوں کہ نظم اپنے پورے وجود کے ساتھ سامنے آ چکی ہے البتہ ایک جانب ضرور توجہ دلاؤں گا کہ ذیل کی سطروں میں تکرار ہی تکرار ہے لیکن کس سلیقے شاعر نے اس تکرار کا جواز بنایا ہے، یہاں امیجز اس سرعت سے تبدیل ہوتے ہیں جیسے ہمیں اپنے ساتھ اڑائے لیے جا رہے ہوں۔ گویا ہمارے لیے کوئی مشکل ہی نہ رہی ہو۔ میرا جی ہی ایسی عمدہ تخلیقی تدبیرکرسکتے ہیں۔ ایک ایک لفظ پر غور کرتے جائیے۔ یوں لگے گا جیسے وہ آپ کے ذہن سے معانقہ کر رہا ہو :

 یہی تو زمانہ ہے، یہ اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

 یہ میں کہہ رہا ہوں

 یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

 یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

 زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے

 مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

 یہ کیسے کہوں میں کہ

 مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

 نظم کی آخری سطر میں نظم کی تھیم بھی پوشیدہ ہے اور عنوان کی کلید بھی، ہر چند یامین کے بہ قول عنوان خود بھی کلید کا درجہ رکھتا ہے۔ زماں کو فنا درپیش ہو گی یا نہیں ؟ یہ ہم نہیں جانتے لیکن ماورائے زماں کے لیے فنا نہیں ہے، یہ ہم جانتے ہیں۔ اب زماں تو بحث سے خارج ہی ہو گیا کہ اس کے بارے میں ہمارے پاس جامع علم موجود نہیں۔ پیچھے رہ گئے خدا اور انسان۔۔۔۔۔۔ خدا کو فنا کا تجربہ نہیں جب کہ انسان فنا اور بقا ہر دو طرح کے تجربے سے آشنا ہے۔ یہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن!۔۔۔۔۔۔۔۔ جی نہیں ! "انسان عظیم ہے خدایا” کا نعرہ لگائیں ؟ جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے ” کو مابعد مصرع کے ساتھ ملاکر پڑھیں :

 "یہ کیسے کہوں میں کہ

 اب آخری مصرع پڑھنے وقت ہے۔۔۔

علی محمد فرشی: صاحب صدر! میری معروضات اختتام کو پہنچیں۔ آپ کا، اربابِ حاشیہ کا اور ظفر سید کا شکریہ جن کی بہ دولت مجھے اس شہ کار نظم پر بات کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

اشعر نجمی: فرشی صاحب نے اپنی گفتگو مکمل کر لی ہے۔ اگر کسی کو اس متعلق کچھ کہنا ہے تو بلا جھجک کہے، کیوں کہ بقول فرشی صاحب، یہاں مشاعرہ نہیں ہو رہا ہے کہ ہم صرف داد کی توقع رکھیں۔ ظفر سید صاحب نے اپنے ابتدائیہ میں کہا تھا کہ انھوں نے نظم کے صرف ایک پہلو کو موضوع بنایا ہے، اس میں اور بھی کئی چیزیں ہیں۔ تو اب انتظار کس بات کا ہے، گفتگو اس مرحلے میں ہے جہاں اس نظم کے دیگر پہلوؤں کو بھی موضوع بحث بننا چاہیے۔ اس کے بعد میں محمد حمید شاہد صاحب سے ایک بار پھر درخواست کروں گا کہ وہ حسب وعدہ اپنا موقف پیش کریں۔

محمد حمید شاہد: صاحب صدارت، میں اپنے کہے پر قائم ہوں ، حکم کی تعمیل ہو گی اور پہلی فرصت میں حاضر ہو جاؤں گا۔ میں بہت توجہ سے ایک ایک لفظ پڑھ رہا ہوں اور خوش ہوں کہ حاشیہ کے ذریعہ نئی نظم کی تفہیم کی ایک مثبت روایت قائم ہو رہی ہے اور سنجیدگی سے میرا جی کی نظم پر مکالمہ آگے بڑھ رہا ہے۔

اشعر نجمی: فرخ منظور صاحب! آپ کیوں خاموش ہو گئے ؟ آ پ کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اہم تھے، لیکن کیا آپ ان توجیہات سے مطمئن ہیں جو احباب نے یہاں پیش کیں۔ میں آپ کے تاثرات جاننے کا خواہش مند ہوں۔

ظفر سیّد: جناب صدر: میں اس وقت مسافر ہوں۔ تین دن سے نیٹ دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا، آج فیس بک کھولا تو حاشیہ کی بھرپور گہماگہمی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اب بھی تمام تحریریں توجہ سے پڑھنے کا وقت نہیں ملا لیکن کوشش کروں گا کہ جلد ہی میں بھی کچھ کہہ سکوں۔ اجلاس کا توسیع شدہ وقت بھی تمام ہو گیا، آپ سے درخواست ہے وقت میں دس دن کی مزید توسیع فرما دیں تاکہ بحث آگے چلتی رہے۔

علی محمد فرشی: جناب صدر! ظفر صاحب کی تجویز نہایت صائب ہے۔

اشعر نجمی: نیکی اور پوچھ پوچھ۔ واقعی یہ کفران نعمت ہو گا جو اتنی اچھی بحث کا درمیان میں ہی گلا گھونٹ دیا جائے۔ سو چلتے رہیے، چلتے رہیے۔ وقت کے چوکھٹے سے باہر آ کر اطمینان سے گفتگو کیجیے۔ اور ہاں ، یہ پروین طاہر صاحبہ نظر نہیں آ رہی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ اجلاس میں رنگ بھرا تھا، میری خواہش ہے کہ وہ اس خوب صورت کینوس پر بھی اپنے موقلم سے کچھ "اسٹروکس” لگائیں۔

محمد حمید شاہد: صاحبِ صدارت!

 یہ غالباً  آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ ہر طرح کا اسلوب تو بس نیلام والے کو پسند آتا ہے۔ "اسلوب "کا لفظ جوں کا توں رہنے دیں یا اسے ” دلیل”، ” منطق”، ” موضوع ” حتی کہ ” شاعری” اور”شاعر” سے بدل لیں ، یہ قول برحق نظر آئے گا۔ سو یوں ہے کہ ہم اپنی اپنی منطق، دلیل اور تفہیم کے ساتھ میراجی کی نظم کے اسلوب، موضوع اور اس کی جمالیات کو دیکھ رہے ہیں ایسے میں ایک صحت مند اختلاف کا سامنے آنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ بہ ہر حال بات کہنے والے اور اس پر سوالات قائم کرنے والے "نیلام والے ” نہیں ہیں۔

 صاحب، مجھے اپنی انتہائی مسرت کا اظہار کر لینے دیجئے کہ علی محمد فرشی اعلی پائے کے نظم نگار ہیں اور اسی مقام اور مرتبے پر رہ کرنظم کی تفہیم کے جتن کرتے نظر بھی آئے ہیں۔ میں ان کی بہت سی باتوں سے اتفاق کر سکتا ہوں تاہم کچھ جگہوں پر ان کا اصرار مجھے کھلتا رہا لہذا انہوں نے جو کہا اس پر میں نے وعدہ کیا تھا کہ بات کروں گا، سو حاضر ہوں۔

 میں اس سے اتفاق کر سکتا ہوں کہ”ہر ایجاد کار اور نابغۂ روزگار شاعر اپنے فنی اثاثوں تک رسائی کے راستے خود مسدود کرنے میں مصروف رہتا ہے، یعنی وہ ایسا پیرایۂ اظہار اختیار کرتا ہے جو کم از کم اس کے عہد میں نامانوس اور اجنبی ہی نہیں عجیب بھی معلوم ہوتا ہے "اگر بیان میں ” ایجاد کار” اور” نابغۂ روزگار” جیسے الفاظ نہ ہوتے تو میرا دھیان ایسے ایسے شاعروں کی طرف چلا جاتا جو اپنے عہد میں ناموس اور اجنبی نہ تھے کیوں کہ ان کا پیرایہ اظہار ایسا رہا کہ اس کی فوری ترسیل ہو جاتی تھی اور اسی نے انہیں مختلف نہ سہی مقبول شاعر ضرور بنا دیا تھا۔ تاہم مجھے اس سے اتفاق کرنے میں تامل ہے کہ فیض صاحب کلی طور پر "ابلاغ” کے ہاتھ پر بیعت کیے بیٹھے تھے۔ کلی ابلاغ میں زبان سے بوسیدگی کے ہلے اٹھنے لگتے ہیں یا پھر وہ مر جایا کرتی ہے۔ شاعر فیض کے ہاں بہ ہر حال زبان کی موت واقع ہوئی تھی نہ اس سے بوسیدگی کے دھول اڑتی تھی کہ انہوں نے اپنے دھیمے مزاج اور خود ضبطی کو چلن بنا کر اپنے آپ کو اپنے ترقی پسند دوستوں سے بہت مختلف کر لیا تھا۔ ان کا رویہ بے شک رومانی رہا مگر اس میں ایک اور نوع کی للک کو رکھ کر اپنانیا اسلوب وضح کر لیا تھا۔ اس اسلوب میں ڈھل کر اپنی تہذیبی روایت سے ملنے والی زبان اور تمثالوں کو نئی معنویت مل گئی۔ فیض پر بات کرتے ہوئے میں یہ بات پہلے بھی کہہ آیا ہوں اور یہاں دہرا دیتا ہوں ،”انہوں نے اپنے جمالیاتی وسیلوں سے دہرائے ہوئے مضامین کو الفاظ کے تخلیقی استعمال اور لہجے کو گداز رکھ کر اتنا مختلف بنا لیا تھا کہ پڑھنے والے کے سیدھا دل پر ہاتھ پڑتا ہے۔ فیض کے اسی ہنر کا قرینہ ہے کہ روایت کے خزینے سے وہ اپنی محبوبہ کے لیے رسوا ہوتے عاشق کو نکالتے ہیں اور اسے انقلابی بنا دیتے ہیں۔ یہاں گوشت پوست محبوبہ بھی اپنا منصب بدل کر انقلاب کی ساعت سعیدہو جاتی ہے۔ ایک طرف فیض کے ہاں رقیب روسیاہ، سامراجیت کی علامت بنا، محتسب اور شیخ جی جیسے سامراج کے ہرکارے ٹھہرے، جنوں سماجی انصاف کی للک ہوا، عقل عیار عسکری نظام سے سمجھوتے کا نشان بن گئی اور وصل کے معنی انقلاب ہو گئے تو دوسری طرف فیض کے ہاں یہ قرینہ بھی ملتا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے ان معنوں اور کیفیات کو سرے سے تلف نہیں ہونے دیتے جو ہماری تہذیبی اور شعری روایت کے اندر ان الفاظ اور تراکیب سے وابستہ چلے آتے ہیں۔ "

 محمد حمید شاہد: فرشی صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ ” میرا جی کو گزرے تو راشد اور فیض سے بھی زیادہ عرصہ بیت گیا، پھر ان معاصرین کے مقابلے میں میراجی کو ابھی تک وہ مقام کیوں نہ مل سکا جس کا صرف وہی حق دار ہے ” اور اس کے جواب بھی خود ہی کہہ دیا کہ” میرا جی کا پیرایہ اپنے معاصرین کے مقابلے میں کہیں زیادہ نیا اور نامانوس تھا اسی بنا پر مشکل بھی۔ ” اور اس پر اضافہ کیا کہ ‘راشد نے پرانی زبان(فارسی آمیز) میں اپنے لہجے کا طنطنہ اور بڑے موضوعات کا دبدبہ ڈال کر اپنا لوہا منوا لیا۔ ” اسی مرحلے پر فرشی صاحب کا یہ فیصلہ بھی ہے کہ” غور سے دیکھا جائے تو راشد بھی ایک مختلف اور مشکل تاہم ایک طرح سے بنے بنائے راستے پر ہی چل رہے تھے۔ صحیح معنوں میں جدید شاعری کا پیش رو اگر کوئی ہے تو وہ صرف میرا جی ہے۔ "

 صاحب، میرا جی پر بات کرتے ہوئے، میرا جی سے جڑ کر بات کرنا مجھے اچھا لگا، تاہم درست درست تفہیم کے لیے ایک خاص فاصلے کی اہمیت کو بھی تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آنکھ کے بہت قریب رکھ کر اگر اپنی ہتھیلی کی لکیروں کو بھی دیکھا جائے گا تو وہ دھندلا جائیں گی۔ ہمیں یاد ہے جب ہم راشد پر بات کر رہے تھے تو اسی طرح، راشد کو قریب پا کر جذباتی ہو رہے تھے اور ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ اقبال کے بعد نئی نظم کے باب میں راشد کا نام اوپر اور میرا جی کا قدرے نیچے لکھا جانا چاہئیے۔ ایسا ہو جاتا ہے تاہم وقت بڑا ظالم ہے وہ ہمارے فیصلوں کو نہیں مانتا۔ آنے وقت کیا فیصلہ کرے گا، میں نہیں جانتا تاہم فرشی صاحب کا اصرار ہے کہ "صحیح معنوں میں جدید شاعری کا پیش رو اگر کوئی ہے تو وہ صرف میرا جی ہے ” اور مجھے یہ بہ اصرار کہنا ہے کہ نئی نظم کا اصل بنیاد گزار راشد ہے۔ اور ہاں جنہیں فرشی صاحب نے راشد کے زیادہ محبوب ہونے کی وجوہات میں ڈالا ہے، یہی کہ "فارسی آمیز/ پرانی زبان، لہجے کا طنطنہ اور بڑے موضوعات کا دبدبہ” تو میں سمجھتا ہوں کہ جہاں جہاں محض زبان کا رخنہ آیا ہے، لہجہ میں لفظ اور معنی سے کٹی ہوئی تانت آئی یا دبدبے کے لیے بڑے موضوع پر ہاتھ ڈالا گیا اور اسے نبھایا نہیں گیا، وہاں وہاں قاری نے سہولت سے راشد کو قبول نہیں کیا ہے۔ گویا جنہیں میرٹس بتا یا جا رہا ہے وہی تو، اگر کوئی ہیں تو راشد کے ڈی میرٹس کے زمرہ میں ڈالنے کے لائق ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس بے ایمان کا "نئی نظم” پر ایمان زیادہ قوی تھا اور اس نے ایک سچاتخلیق کار، نئی نظم کا”مبلغ” اور” مجاہد” بن کر اسے ہم سب کی محبوب صنف بنا دیا ہے۔

محمد حمید شاہد: کہا گیا کہ” میرا جی ایک افسانوی کردار بن گئے تھے اور یہ کہ ان کے نادان مداحوں اور پر جوش خیر خواہوں نے میراجی کی جسمانی غلاظت اور جنسی نجاست کی داستان طرازی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کو اہم جانا، فن کو بہ غور دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ "بہ ظاہر یہ بات درست لگتی ہے۔ غلیظ حلیے والا، اپنے تین گولوں پر سگریٹ کی چمک دار پنیاں نکال نکال کر چپکانے والا، ڈرامے باز، شرابی، میراسین کے افلاطونی عشق میں مبتلا ایسا جنسی مریض کہ جو خود لذتی کے لیے پتلون کی جیبیں تک نہ رہنے دیں ، یہی لکھا گیا ہے ناں ، میراجی کی رسوائی کے باب میں ، مگر صاحب، میرا جی نے خود بھی تو اس باب میں صاف صاف لکھ رکھا ہے۔

 "جو دھن تھاپاس وہ دور ہوا/مٹی میں ملا، کچھ بھی نہ رہا”

 کہتے جس مٹی کی مورت کو اپنا دھن میرا جی دے آئے تھے، پہلی بار (اور یہی آخری بار بھی تھی ) وہ لاہور کی ہیرا منڈی کی ایک طوائف تھی، جس نے انہیں آتشک کا تحفہ دیا۔ یوں تو میرا جی نے بقلم خود لکھا تھا کہ پیڑ پر چڑھ کر جمنا کے رفع حاجت کرنے کے واقعہ نے بچپن میں ایک ان کے ذہن پر ایک جنسی نقش بنا دیا تھا اور یہ کہ سٹیشن ماسٹر کی دس بارہ سال کی بیٹی، جس نے سفید دھوتی پہن رکھی تھی، ان کے گھر میں داخل ہوئی تھی، تو دھوتی کے آر پار ہوتی روشنی میں یہ بھی جان لیا تھا کہ اس نے زیر جامہ نہ پہن رکھا تھا اور زیر جسم کے خطوط سے ان کے اندر نیم جنسی ابال پیدا ہو گیا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ خود لذتی نے انہیں جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا تھا اتنا کہ صفیہ معینی کئی بار ان کے منہ پر کہہ دیتی تھیں "میرا جی جانے دیجئے آپ ہیں کس لائق”۔ اچھا یہ سب غیر متعلق ہو جاتا اگر میرا جی کی شاعری کا یہ ترجیحی موضوع نہ ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ نظم "چل چلاؤ” میں عورت کا جادو میٹھا اور ہوس بس ایک لمحے کی داد ہو گئی ہے۔ "دیوداسی اور پجاری” میں ناچتی دیوداسی کو نظریں پچکارتی ہیں اور دھیان بانہوں میں پھنس پھنس کر آئی ہوئی انگیا کی سلوٹوں میں پھنسا ہوتا ہے۔ "دکھ، دل کا دارو”میں زبان، سفید بازوؤں کے گداز کا حظ اٹھاتی ہے ایک خنجر کو بے بس عورت کے مرمر سے مخملیں جسم کی رگوں میں اتارنے کی حسرت بیان ہوتی ہے۔ یہ جنس کی لذت میں لتھڑی حسرت تو لگ بھگ راشد والی اس سفاکی جیسی نکلی جس میں رات بھر دشمن عورت کے جسم سے انتقام لیا جاتا رہا اور اس کا چہرہ بھی بھلا دیا جاتا ہے۔ اچھا”اونچا مکان” سے آپ جنس منہا کر دیں گے تو ان سطروں کو کیا معنی دیں گے، "پیرہن ایک ڈھلکتا ہوا بادل بن جائے /اور در آئے اک ان دیکھی، انوکھی صورت/کچھ غرض اس کو نہیں ہے اس سے /دل کو بھاتی ہے، نہیں بھاتی ہے /آنے والے کی ادا /اس کا ہے ایک ہی مقصود، وہ استادہ کرے /بحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیب/جس کی صورت سے کراہت آئے /۔۔۔۔ /اور وہ نازنین بے ساختہ، بے لاگ، ارادے کے بغیر/ایک گرتی ہوئی دیوار نظر آئے /—-” اور آخر میں "ہاتھ سے اپنے اب اس آنکھ کو میں بند کیا چاہتا ہوں "۔ سو یوں ہے کہ میرا جی کی یہ "دست کاری” محض داستان طرازی نہیں تھی ان کی تخلیقی زندگی کا وظیفہ بھی تو تھی۔ نظم "لب جوئبارے ” میں میرا جی نے بتا رکھا ہے کہ جل پریاں ان کے خواب میں آتی تھیں اور وہ بنسری ہاتھ میں لے کر گوالا بن جاتے تھے، مگر یہ تو خواب ہی تھا کہ کوئی جل پری ان کی دسترس میں ہو۔ سو وہ جہاں ہوتے، تنہا ہو جاتے اور”دست کاری” شروع ہو جاتی،”ہاتھ آلودہ ہے، نم دار ہے، دھندلی ہے نظر/ ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے جاتے "

 تو یوں ہے کہ جب ہم راشد کو اس کی عورت کے بارے میں منفی رویوں کے ساتھ قبول کر رہے ہوتے ہیں تو دھیان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ راشد کی نظم کا یہ غالب رویہ نہیں ہے مگر جب ایسا میرا جی کی بابت سوچتے ہیں تو ناکامی ہوتی ہے کہ وہ کم کم ہی ہاتھ سے آنکھ کے آنسو پوچھتا نظر آتا ہے۔ "دور کرو پیراہن کے بندھن کو”، "بے تکلف عریانی”اور”بے حجاب جنسیت” والے میرا جی کی شاعری کا غالب مزاج ہی اس کے سوا نہیں ہے تو فرشی صاحب کی نیک خواہشات کے باوجود آخراس کا قاری کہاں تک میرا جی کے آلودہ ہاتھ اس کی پتلون کی ان سلی جیبوں سے نکال کر دھوتا رہے گا۔ دھیان کی دلہن میں ڈوب جانے والے میرا جی کی نظم کے دوسرے موضوعات کو سمجھنے کی سنجیدہ کوششوں میں اگر کچھ رکاوٹ بنا تو وہ میرا جی کا ا پنا یہی روپ بہروپ اور جنسی غلاظت ہے۔

محمد حمید شاہد: میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ دھرتی پوجا کے حوالے سے میرا جی کے فن کو سمجھنے کی کوشش، میرا جی پر تنقید کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے بلکہ اس نے تو تفہیم کی راہ میں رخنے ڈالے ہیں۔ بجا کہ” صرف زمینی (ثقافتی)زاویے سے اس قد آور شاعر کا پورا جثہ دکھائی نہیں دیتا، نتیجتاً ایک ادھورا میرا جی ہمارے سامنے آتا ہے۔ اور یہ بھی مانتا ہوں کے مریضانہ جنسی غلاظت کے اِس دریا کے اُس پار میرا جی کے پاس ایسی نظمیں ہیں ، جو ان کی طرف بہت توجہ سے دیکھنے کی طرف مائل کرتی ہیں انہی میں زیر بحث نظم "یگانگت” بھی شامل ہے۔ تاہم وہ سوال جو میں نے اوپر اٹھایا تھا کہ "میرا جی زبان تو روایت سے لے کر برت رہے ہیں ، سطریں بھی صاف ہیں ، اتنی صاف کہ اپنے اندر کچھ چھپا کر نہیں رکھتیں ، پھر معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں ، اس کے اندر سے کیا رمز نکلتی ہے ” یہ سوال ایسی نظموں کے بارے میں نہیں تھا جو میرا جی کہ شاعری پر غالب ہیں ، یعنی گیلے ہاتھوں اور جنسی عکس خیالوں والی نظمیں تو فوراً گرفت میں آ جاتی ہیں ، بلکہ لذت میں تو دور تک لے جاتی ہیں مگر وہ نظمیں جن میں سے ہم دانش ور میراجی کو نکال کراس کا راشد کی دانش سے موازنہ کر رہے ہیں ، ان میں یہ رخنے ہیں۔ اس کی واضح مثال زیر بحث نظم” یگانگت” بھی ہے۔

 صاحب بسا اوقات نظم کا مبہم ہونا اس کے حق میں جاتا ہے۔ ویسے بھی وہ جو کسی نے کہا تھا کہ ننگی حسین نہیں ہوتی، کھٹکتی ہے، درست ہی کہا تھا کہ محض ایک مہین پردہ حسن کی عمر اور توقیر بڑھا دیا کرتا ہے۔ ایسے ابہام کو جو نظم میں جمالیاتی توقیر کا باعث ہو رہا ہو، اسے نہ صرف قبول کرنا بالکل اسے نظم کی کل سے جوڑ کر دیکھا اور ممکنہ معانی تک پہنچنا ناقد کے منصب میں شامل ہے۔ یہ "معنی کھودنے ” والا عمل نہیں ہے، نہ کھودی گئی خالی قبر میں اپنی مرضی کا معنیاتی مردہ دفنانے والا معاملہ ہے۔ کہ ایسے تخلیقی ابہام سے معنی، ممتاز مفتی کی زبان میں ، رنگ پچکاری کی طرح چھوٹ نکلتے ہیں۔ تو یوں ہے صاحب کہ شاعر کے فکری الجھاوے اور تخلیقی ابہام کے درمیان ایک مہین لکیر ہوتی ہے، اسے شناخت کرنا بھی ناقد ہی کا کام ہوتا ہے۔ اچھا مجھے اصرار نہیں ہے کہ ہر بار شاعر کو اپنے الجھاووں سے باہر نکل کر ہی تخلیقی عمل کے مقابل ہونا چاہئیے۔ کئی مرتبہ تو یہی فکری الجھنیں اور سوالات تخلیقی عمل کا محرک ہو کر ایک شاہ کار تخلیق کو راہ دیتے ہیں۔ ایسی نظموں میں ، بجائے ان فکری الجھنوں کو شاعر کے مسئلہ کے طور پر دیکھنے سے انکار کرنے کی بہ جائے یہ دیکھا جانا چاہئیے کہ نظم کی نامیاتی وحدت میں ان سے کیا تخلیقی منطق بنتی ہے۔ تو اس باب میں جو منطق فرشی صاحب سجھا رہے ہیں یا عارفہ شہزاد نے ( اپنے نتیجہ کر اعتبار سے ) سجھائی اسے توجہ سے دیکھنے کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔

 نظم "یگانگت ” کی تخلیقی منطق کو سمجھانے کے لیے عارفہ شہزاد صاحبہ نے جس طریقہ کار کو چنا اس نے مجھے لطف دیا، اور اپنے تئیں سوچا کہ اچھا یوں بھی تخلیقی فن پارے کو آنکا جا سکتا ہے۔ خیر، یہ مزے کا تجزیہ پڑھ کر بھی میرا تخلیق کی اپنی منطق پرا یمان متزلزل نہیں ہوا، اس باب میں بھی مجھے کچھ کہنا ہے مگر ذرا توقف سے۔

اشعر نجمی: میں اگر اس کا اعتراف کر لوں تو شاید بے جا نہ ہو گا کہ ایک صدی بعد بھی میرا جی کے شاعرانہ قد و قامت پر اصل بحث یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ محمد حمید شاہد صاحب نے زیر بحث نظم کے حوالے سے کچھ ایسے نزاعی لیکن فکر انگیز سوالات اٹھائے ہیں جو میرے خیال میں اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو شاعری کو شاعر کی شخصیت کا اظہار یا سوانح سمجھتا ہے۔ بطور خاص بیچارے میرا جی کے ساتھ یہی ہوا، اور ان سے متعلق دلچسپ جنسی افسانوں اور خود ان کے بیانوں نے جگہ جگہ انھیں ڈھیر کر دیا۔ جب کہ ایک جگہ خود راشد نے اعتراف کیا ہے کہ "میراجی کی شاعری اور میری شاعری میں تفاوت کی کئی راہیں نکلتی ہیں لیکن ہم دونوں نے اردو شاعری میں غالباً پہلی دفعہ اس شعور کا اظہار کیا ہے کہ جسم اور روح گویا ایک ہی شخص کے دو رخ ہیں اور دونوں میں کامل ہم آہنگی کے بغیر انسانی شخصیت اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔ ” اس وقت میرے ذہن میں آندھیاں چل رہی ہیں ، مجھے حیرت ہو گی اگر کوئی اس بابت مہر بلب رہے کیوں کہ حمید شاہد صاحب کا تجزیہ تحرک بخشنے والا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہی موقع ہے جب ہم اس تجزیے کی روشنی میں میرا جی کے تعین قدر پر اچھی خاصی گفتگو کر سکتے ہیں جو ممکن ہے کہ تاریخی ثابت ہو۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، مجھے افسوس ہے اگر میری گزارشات سے یہ معنی اخذ کیے جائیں کہ یہاں ان کی نمائندگی کی جا رہی ہے جو شاعری کو شاعر کی شخصیت کا اظہار یا سوانح سمجھتے ہیں۔، تاہم جو امور شاعر کی تخلیقی زندگی کا حصہ ہو جاتے ہیں اور شاعری کا مزاج بنا رہے ہوتے ہیں ان سے صرف نظر ممکن نہیں رہتا۔ ایسے تخلیق کار بھی ہیں جو اپنی زندگی کے عمومی رویوں کو اپنے تخلیقی وجود کا حصہ نہیں بننے دیتے، وہاں شخصی رویہ غیر اہم ہو جاتا ہے۔ اب ایک بار پھر میں اپنا کہا دہرا رہا ہوں۔

 "تو یوں ہے کہ جب ہم راشد کو اس کی عورت کے بارے میں منفی رویوں کے ساتھ قبول کر رہے ہوتے ہیں تو دھیان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ راشد کی نظم کا یہ غالب رویہ نہیں ہے مگر جب ایسا میرا جی کی بابت سوچتے ہیں تو ناکامی ہوتی ہے کہ وہ کم کم ہی ہاتھ سے آنکھ کے آنسو پوچھتا نظر آتا ہے۔ "دور کرو پیراہن کے بندھن کو”، "بے تکلف عریانی”اور”بے حجاب جنسیت” والے میرا جی کی شاعری کا غالب مزاج ہی اس کے سوا نہیں ہے تو فرشی صاحب کی نیک خواہشات کے باوجود آخراس کا قاری کہاں تک میرا جی کے آلودہ ہاتھ اس کی پتلون کی ان سلی جیبوں سے نکال کر دھوتا رہے گا۔ دھیان کی دلہن میں ڈوب جانے والے میرا جی کی نظم کے دوسرے موضوعات کو سمجھنے کی سنجیدہ کوششوں میں اگر کچھ رکاوٹ بنا تو وہ میرا جی کا ا پنا یہی روپ بہروپ اور جنسی غلاظت ہے۔ "( اس پر اتنا اضافہ کر لیجئے کہ )جو اس کی شاعری کا حصہ بھی بن گیا۔

 میرا خیال ہے گفتگو کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئیے

اشعر نجمی: جناب والا! میں نے بھی اسی "جنسی غلاظت کی رکاوٹ” کی جانب اشارہ کیا ہے جو میراجی کی اصل شاعرانہ امیج کو متشکل کرنے میں آج تک مانع ہے۔ لیکن میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ شاعری "شریفوں ” کا پیشہ کبھی رہا ہی نہیں۔ چنانچہ ہم اب تک بحیثیت قاری اپنے عظیم فن کاروں کے "آلودہ ہاتھ” ہی دھوتے چلے آ رہے ہیں اور انھیں بیک وقت چومتے بھی رہے ہیں۔ اب دیکھیے نا، ہمارا سابقہ کیسے کیسے "غلیظ فن کاروں ” سے پڑتا رہا ہے لیکن حیرت ہے کہ شیخ سعدی، ابونواس، سیفو، ژین ژینے، والٹ وٹمین، دی ساد، ونکل مان، آسکر وائلڈ وغیرہ وغیرہ جیسے امردپرستوں کے آگے ان کی جنسی غلاظت کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔ حالاں کہ میرا جی تو بے چارے صرف "پتلون کی ان سلی جیبوں ” سے کام چلا لیا کرتے تھے لیکن شیخ شیراز کو تو خوب صورت حمامی لونڈوں کو گھورنے کے لیے کئی کئی میل پیدل سفر کر نے کی مشقت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ خود ہمارے ہاں رنگین، انشا اللہ خاں ، جان صاحب، صاحبقراں ، نازنین اور عصمت لکھنوی جیسے ریختی گو شعرا نے گلشن ادب میں جو "غلاظت” کے ڈھیر لگائے ہیں ، انھیں ہم قارئین ادب کا بیش قیمت اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ پھر میر تقی میر کو ہم کیوں بھولتے ہیں جن کے دواوین دلّی کے لونڈوں سے بھرے پڑے ہیں اور یہ تمام امور نہ صرف ذاتی رہے بلکہ اکثر ان شعرا کی شاعری کے مزاج کا غالب حصہ بھی رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ خود شیکسپئیر نے اپنے محبوب لڑکوں سے ایک سو سے زائد سانیٹ میں اظہار عشق کیا ہے۔ بائرن کو ابلیسانہ شاعری کا بانی سمجھا جاتا تھا، اس نے بھی اپنی جنسی کجرویوں کی سرگذشت لکھی تھی۔ اس کا پہلا معاشقہ اپنی ہی بڑی سوتیلی بہن سے قائم ہوا۔ فرانسیسی شعرا ورلین اور راں بو کا آپس میں ہم جنسی معاشقہ تھا۔ معروف مصور وین گوغ بھی گھٹیا درجے کی ٹکھیایوں کے پاس جاتا تھا، حتیٰ کہ ایک دن جب وہ ایک کسبی کے ساتھ خلوت میں گیا تو اس نے کام پورا ہونے کے بعد پیسے مانگے۔ گوغ نے کہا کہ اس وقت اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ کسبی کو غصہ آ گیا اور اس نے اس کا کان مانگ لیا۔ گوغ نے چشم زدن میں استرے سے اپنا ایک کان کاٹ کر اسے دے دیا۔ ۳۷ سال کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی۔ میرا جی کا”جنسی ہیجان” اس کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے اور نہ ہی وہ پہلے ادیب ہیں جو "آتشک” کا شکار ہوئے۔ آلڈس ہکسلے یہودی کسبیوں کی صحبت میں خوش رہتا تھا اور آتشک کی بیماری سے ہی مرا۔ موپاساں کی موت کا سبب بھی آتشک ہی تھا جو ایک ساتھ کئی کئی کسبیوں کے ساتھ داد عیش دینے کا نتیجہ تھا۔ ہم اب تک اس بات پر بہت تالیاں پیٹ چکے ہیں کہ دیکھیے خود میراجی نے بھی اپنی جنسی کجریوں کا اعتراف کر لیا ہے لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ ٹالسٹائی جیسے ادیب نے بھی کافی پہلے اعتراف کر لیا تھا کہ "میں ایک غلیظ شہوت پرست بڈھا ہوں۔ ” تو میرا سوال صرف اتنا ہے کہ پھر کیوں ان سارے ادیبوں کی "سنجیدہ کوششوں ” کو سمجھنے میں یہ چیزیں رکاوٹ ثابت نہیں ہوئیں اور ہم صرف میراجی ہی کے "آلودہ ہاتھ” کو کاٹنے پر کیوں مصر ہیں ؟

محمد حمید شاہد: صدر محترم یہی تو میرا کہنا ہے کہ اگر ہم میرا جی کی جنس سے منہ پھیر کر اسے سمجھنے کے جتن کریں گے تو اس جنسی ملبے کو کہاں رکھیں گے جسے اب تک ناقدین "غلاظت” کہتے آئے ہیں۔ میرا اصرار ہے کہ میرا جی کی شاعری کے غالب رجحان کو ایک طرف رکھ کر اس کی نظم کو قرینے سے سمجھا ہی نہیں جا سکتا لہذا ناقدین سے یہ خواہش نہ کی جائے کہ اس باب میں گرم مال الگ باندھ کر رکھ دیں۔ اور "صاف ستھری” نظمیں چن کر کہیں کہ یہ میرا جی ہے۔

اشعر نجمی: بالکل درست جناب عالی، میراجی کے تعلق سے ناقدین کا یہی وہ "تعصب” ہے جو ان کے مقام کے تعین کے سلسلے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوا ہے۔ میں بھی ذاتی طور پر میراجی کی مکمل شاعری کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے حق میں نہیں ہوں ، میرے خیال میں یہ ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی۔ کیوں کہ بقول آپ کے، اگر یہ میراجی کا غالب رجحان تھا تو پھر ہم صرف اپنے تنقیدی چوکھٹے میں کسنے اور اپنے ذاتی تحفظات کی تصدیق کے لیے میراجی کی ان چند نظموں کو کیوں ہدف بنائیں جن میں یہ نام نہاد "غلاظت” موجود نہیں ہے۔ یہیں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ہم راشد یا فیض سے میراجی کا کن بنیادوں پر تقابلی جائزہ لیں گے ؟ اور پھر میراجی ہی کیا، ہم اس عمل میں کون سارویہ مقدم رکھتے ہیں ، ہم کن بنیادوں پر ایک شاعر کا دوسرے شاعر سے موازنہ کرتے ہیں ؟ اگر ہم موضوعات کے تنوع کی بنیاد پر یہ معاملہ کریں گے تو معاف کیجیے، ہمارے میر تقی میر نہ تو خدائے سخن رہیں گے اور نہ ہی سراج اور آبرو ہمارے بیش قیمت ادبی اثاثے میں لعل و گہر بن کر ہماری آنکھیں خیرہ کریں گے۔ اس مقام پر فرشی صاحب کا میں ہم خیال ہوں کہ صرف "بڑے موضوعات کا دبدبہ” سے شاعری خلق نہیں ہوتی اور جیسا کہ انھوں نے ملارمے کے حوالے سے کہا کہ شاعری الفاظ سے بنتی ہے، خیال سے نہیں۔ اگرچہ انھوں نے آگے چل کر فکر اور جمال کی یگانگت پر بھی زور دیا، جس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا لیکن اس کے باوجود میں کم از کم شاعری میں جمال اور فکر کو ہم درجہ قرار نہیں دوں گا اور اسی نقطۂ نظر سے میرے نزدیک اقبال سے بڑے شاعر انیس ہیں اور راشد کے بجائے میراجی کو میں نئی نظم کا بنیاد گزار تسلیم کرتا ہوں۔

محمد یامین: جناب صدر! فرشی صاحب کی تحریر مجموعی طور پر جامع، بامعنی اور سادگی جیسے اوصاف سے ثروت مند ہے۔ انھوں نے میراجی اور ان کی نظم پر ایک بھرپور اظہاریہ پیش کر دیا ہے جس کے بطن سے کئی سوالات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ کچھ اختلافات حمید شاہد صاحب نے کیے ہیں جن کا جواب یقیناً فرشی صاحب نے دینا ہے۔ ان کی تحریر پڑھ کر میرے ذہن میں بھی کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں جن کو سامنے لانا چاہتا ہوں :

 • فرشی صاحب کے مطابق نظم کی پہلی سطر ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے اور دوسری انسانی فکر کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ پھر تیسری سطر "یہ میں کہَ رہا ہوں "(جو کہ ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے ) پہلے قول کے لیے تو درست ہے لیکن دوسرے بیان کے لیے کیسے درست ہے جب کہ دوسرا بیان انسانی ہے اور پہلا قول حدیث قدسی۔۔

 • انھوں نے لکھا ہے کہ "اسی جگہ سے نظم نئی اڑان بھرتی ہے اور شاعر اپنی ذات کے حصار سے نکل کر انسان کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ یہیں ہمیں اس کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی کا سراغ ملتا ہے ” سوال یہ ہے کہ یہاں شاعر کی ذات اور انسان کا مقام کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں ؟

 مزید یہ کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ "۔ شاعر بہ طور انسان انکشاف کی منزل پر پہنچنے کے بعد اپنے اصل مرتبے یعنی شاعر کی حیثیت سے اس قضیے کو دیکھتا ہے تو اسے یکسر مختلف منظر سے واسطہ پڑتا ہے۔ ” تو کیا یہ انکشاف شاعر کے مرتبے میں ہونا زیادہ قرین قیاس نہیں ہے کہ شاعر سوچنے والا ہوتا ہے جب کہ انسان اپنے مرتبے میں ضروری نہیں کہ سوچنے والا بھی ہو)۔

 • آخری سطروں کے بارے میں فرشی صاحب نے جو رمزیہ الفاظ لکھے ہیں ان کی داد دیتا ہوں۔ سبحان اللہ

محمد حمید شاہد: جناب صدر، جن بنیادوں پر آپ نے انیس اور میرا جی کو بالترتیب اقبال اور راشد سے بڑا دکھا یا، اگرچہ یہ ذوقی معاملہ ہے (اور اس بارے میں آپ کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہئیے ) مگر اس نے میرا روئے سخن نئی نظم والوں کی جانب موڑ دیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو نئی نظم کا جواز کیا تھا ؟آخر کیوں نئی نظم کی جمالیات میں فکر، خیال اور احساس، زبان کے استعمال کے قرینوں کی طرح لازمی جزو ہو گئے تھے ؟راشد نظم کو دانش کی سطح پر کیوں برت رہا تھا اور میرا جی کسی نظم کو دیکھتے ہی اس کی کہانی کی تلاش میں جت جایا کرتے تھے ؟ ظاہر ہے کہانی محض واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ کہانی کی بہ جائے ان کا پسندیدہ لفظ قصہ کہہ لیں جسے سیاسی، عمرانی، نفسیاتی اور جنسی، سب حوالے مل کر مکمل کر رہے ہوتے۔ خیر یہ ایسا موضوع ہے جو یہاں سے ہمیں بہت دور لے جا سکتا ہے مگر یہ سوال نئی نظم والوں کے سامنے ہے کہ اچھی بھلی روایت کی عطا کی ہوئی شعری اصناف کی موجودگی کے باوجود کہ جن میں آزاد جمالیات اور لفظ پر تکیہ کرنے والی شاعری کے تقاضے نبھائے جا رہے /سکتے تھے نئی نظم کا جواز ہے کیا؟۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اس پر الگ سے مکالمہ کے لیے ایک اجلاس رکھ لیں اور اس طرح کے بنیادی اور اہم نوعیت کے سوالوں کو وہاں نپٹا لیں۔

 مجھے ایک کانفرنس کے لیے لاہور جانا ہے (اس خیال کے تحت کہ کہیں میری واپسی سے قبل اجلاس مکمل نہ ہو جائے ) حسب وعدہ ایک دو باتیں میں عارفہ شہزاد کے نوٹ کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ جناب صدر یاد دلا دوں کہ نظم کی جس تفہیم اور نتیجہ کو عارفہ صاحبہ نے اخذ کیا، اس کی بابت کچھ نہیں کہہ رہا بلکہ اس طریقہ کار کی بابت بات کرنا چاہتا ہوں ، جو انہوں نے اختیار کیا یعنی شاعری کی منطق کو سمجھنے کے لیے ارسطالیسی منطق کا کھانچہ بنانا اور اس میں نظم کو اس کی سطریں کچھ آگے پیچھے کر کے یوں جما لینا کہ ایک کی منطق دوسرے پر منطبق ہو جائے۔ میں اسے دلچسپ کہہ سکتا ہوں۔ مگر ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ شاعری کی ایک اپنی منطق ہوتی ہے اس تخلیقی منطق کے اپنے  "Axioms”  ہوتے ہیں ، اپنی منطق کو آغاز دینے والے۔ شاعری کی اپنی تہذیب، روایت اور امکانات کی عطا ان  "Axioms” کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے سامنے

،، Law of identity, Law of non contradiction, law of excluded middle and Law of sufficient reason’

 سب کو ہم نے پانی بھرتے پایا ہے۔ اب جب کہ نظم کے دھندلے علاقوں سے اصول تباین یا اصول خارج الاوسط کی بجائے سٹیفن لوپاسکو کی

 Logic of the included middle

 والے قرینے کی طرح تیسری قدر کو دریافت کیا جانے لگا ہے، جو سچ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی تو شاعری کی اپنی منطق پر ہمارا ایمان اور پختہ ہو گیا ہے۔ اسے لسانی یا منطقی پھٹے پر چڑھا کر ہم ممکن ہے اسی نتیجے پر پہنچیں جس پر ادب کے اپنے تنقیدی اصول پہنچا سکتے ہیں ، تاہم اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمارا زیادہ وقت اس طرح کے کھانچے یا طریقہ کار کی وضاحتوں ، تشریحات اور ان کے اصولوں کو بیان کرنے میں صرف ہوتا ہے اورفن پارہ جہاں جہاں ان کھانچوں میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتا، تجزیہ نگار کی نظر میں اہم ہی نہیں رہتا۔ میں ذاتی طور پر محترمہ عارفہ کا ممنون ہوں کہ انہوں نے حسب سابق بھرپور گفتگو کی، ہم نے ان سے سیکھا، وہ چاہیں تو میری باتوں کو یکسر مسترد کر سکتی ہیں۔ یہ بھی ان کا حق ہے۔

اشعر نجمی: حمید شاہد صاحب! جب آپ میرا جی کا موازنہ راشد اور فیض سے کریں گے اور اپنے ذوقی ترجیحات کے اعتبار سے راشد کو ہی نئی نظم کا بنیاد گذار قرار دینے پر مصر ہوں گے تو بات تو آگے بڑھے گی ہی اور اس طرح کے بنیادی سوالات کا اٹھنا بھی ناگزیر ہے۔ نئی نظم کا جواز میرے نزدیک بقول خلیل الرحمن اعظمی، شخصی طرز اور انفرادی زاویۂ نظر پر اصرار سے عبارت ہے۔ یہ دور وجدان اور جمالیات کے نئے تصور کے علاوہ ہئیت کی تلاش کا بھی دور بھی کہلائے گا۔ اس نے نظم کی مقررہ داخلی ہئیت اور اس کے مزاج کے وہ تمام کلیے مسترد کر دیے جو اس وقت تک ہماری تنقید نے وضع کر رکھے تھے۔ یہی سبب تھا کہ نئی نظم تنقید کے لیے بھی چیلنج بن گئی، کیوں کہ ہر نظم اپنی جگہ ایک منفرد اکائی کی طرح تھی۔ تمام نظموں کے اسالیب کو ایک تنقید ی ضابطے سے ناپنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی جو فرشی صاحب نے میرا جی کی زیر بحث قفل بند نظم کے اسرار کوان کے اچھوتے اسلوب کی کلید سے کھولنے کی کوشش کی کہ یہ وہ اسلوب ہے جہاں اچھے اچھوں کے پَر جلتے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ فیض اور راشد کے اسلوب کی پیروی اور تقلید کرنے والے کئی مل جاتے ہیں لیکن میراجی کی جھلک کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی۔ لیکن آپ نے درست کہا کہ اس طرح کے بنیادی مباحث کو نپٹانے کے لیے ایک علاحدہ سیشن چاہیے جو یہاں ممکن نہیں ہے۔

 اگر عارفہ شہزاد صاحبہ مزید کچھ عرض کرنا چاہیں تو تشریف لائیں۔ فرشی صاحب سے بھی میں درخواست کروں گا کہ وہ یامین صاحب کے ذریعہ اٹھائے دو تین سوالات کے لیے ضرور تشریف لائیں کہ ان میں سے کم از کم دو سوالات نے مجھے بھی ذرا شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔

نسیم سید: جنا ب صدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی نظم کے بنیا د گراز کی بات چلے گی تو فیض، را شد اور میرا جی کا موازنہ کر نا ہی پڑے گا یہاں آ پ کا سوا ل "کیا وجہ ہے کہ فیض اور راشد کے اسلوب کی پیروی اور تقلید کرنے والے کئی مل جاتے ہیں لیکن میراجی کی جھلک کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی” اسی سوال میں جوا ب بھی پوشیدہ ہے۔۔۔ را شد اور فیض کی شاعری نئی زبان نیا لہجہ نئی ہئیت اپنے سا تھ لا ئی راشد کے اور فیض کے اسلو ب کا نشہ با لکل وہی تھا جو غا لب کے خطو ط کی بے سا تی اور سا دگی میں پر کا ر ی کا تھا۔۔۔۔۔۔ اس لہجے نے دل و دماغ کو اپنے حسن بیان سے جکڑ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسا مقبول ہوا کہ عوام کے دل و دماغ کو ایک طویل عرصہ کی لہجے اور القا ب وا ادا ب کی مصنو عیت سے نکال لے گیا میر نے کہا تھا شعر میرے ہیں گو خواص پسند / پر مجھے گفتگو عوام سے ہے۔۔ فیض اور را شد کے سا تھ بھی یہی معاملہ ہے شعر انکے ہیں گو خواص پسند / پر انہیں گفتگو عوام سے ہے اس لئے انکے مقلدین کی بھی بھیڑ لگ گئی لیکن میرا جی کا معاملہ الگ ہے ان کی نظموں کو کھولنے کے لئے اس کنجی کی ضرورت ہے جو عام قا ری کے پا س نہیں ہے۔ ابہام شاعری کا حسن ضرو ر ہے مگر جب تک وہ چاندنی کی مہین چا در جیسا ہو، اگر ابہام وہ پلا ستر ہے جس کو گھنٹوں تو ڑ تو ڑ کے معنے کی دریافت کرنی پڑے تو اس شاعری کو قبو ل عام کی سند عطا نہیں ہو گی۔ میرا جی کی تقلید ایسا نہیں کہ نہیں ہو ئی بقول فر مان فتح پو ری میرا جی کی تقلید میں نظم کے نام پہ عجب عجب معمے اور عجب گو رکھ دھندے ہیں کہ کچھ سمجھ میں ہی نہیں ا تا اکثر شعرا کا کلام پڑ ھ کے کہ کدھر اس کا سر ہے کدھر اس کی دم۔۔۔ کچھ دن پہلے ظفر اقبال نے اپنے ایک کا لم میں لکھا تھا کہ ا ن کے کسی جونئیر نے ان سے سوال کیا کہ سرتین الفا ظ ہیں میرے پا س جو میں اپنے مصرعے میں استعما ل کر نا چا ہ رہا ہوں مگر سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کو ن سا استعما ل کروں تو ظفر اقبال کے بقول انہوں نے پو چھا کہ اس میں سب سے زیادہ کمزور تم کو  کون سا لگ رہا ہے جب اس جونئیر نے بتا یا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ بس اس کو استعما ل کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ وہ لفظ مبہم بنا رہا تھا مصرعے کو، یہی اندھی تقلید ابہام کی جو روا ج پا گئی ہے اس نے شاعری میں ابہام کے حسن کو غارت کر دیا ہے۔۔ ایسے مین کیا میرا جی کی شاعری نئے دور، نئے شعور اور نئی نسل کے لئے مشعل را ہ ہے ؟ وہ نظم جہاں اچھے اچھوں کے پر جلیں جد ید نظم کا علم ہا تھ میں لے کے عوام کے سا تھ چل سکتی ہے اور علم بردار ی کے فرائض نبھا سکتی ہے وہ بھی را شد اور فیض کے ہو تے ہوئے ؟ یہ بنیا دی سوا لات ہیں جس کے لئے یقیناً ایک الگ اجلا س کی ضرورت ہے مگر اس نظم سے بھی یہ سوالات جڑے ہوئے ہیں ا یک طر ح سے۔۔ حمید شاہد صاحب کا تجزیہ بہت سے سوالات کا ا حا طہ کر تے ہوئے ایسے ہی کچھ اور سوال ہما رے محترم شر کا ء کی سا منے دھر گیا ہے۔ اس نظم کے حوا لے سے میرا جی کی دریافت میں شا ید پہلی بار اتنی بھر پو ر گفتگو ہو ئی ہے اور جا ری ہے لہذا میں درخواست کروں گی جنا ب صدر کہ جتنا وقت بھی درکا ر ہو اجلا س کو جا ری رکھا جائے تا کہ ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں

اشعر نجمی: محترمہ نسیم سید ! آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے رد عمل کا اظہار کیا۔ لیکن اپنے رد عمل میں آپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ "عام قاری” اور "عوام” سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ اگر عام قاری اور عوام سے آپ کی مراد مثلاً مشاعرے کے سامعین سے ہے تو پھر مجھے معاف کیجیے گا کہ اس معیار میں میراجی تو کیا نصیر، غالب، آتش، ناسخ وغیرہ کوئی بھی پورا نہیں اترتا۔ اسی لیے میں بار بار اس پر اصرار کرتا ہوں کہ عام آدمی ادب کا مسئلہ ہو تو ہو، لیکن ادب عام آدمی کا مسئلہ ہرگز نہیں ہے اور کسی بھی زبان یا کسی بھی دور میں کبھی نہیں رہا۔ آج سے تقریباً ۵۰ سال قبل ابلاغ اور ترسیل کے مسئلے پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ میں نے گذشتہ اجلاس میں بھی اس ضمن میں کچھ باتیں عرض کی تھیں۔ یہاں مجھے صرف اتنا اور کہنا ہے کہ ہمارے یہاں (بطور خاص نئی نظم کے تعلق سے ) یہ معترضانہ رویہ عام ہو چکا ہے کہ جہاں کسی فن پارے میں معنی کے نقش دھندلے دکھائی دیے، فوراً اسے مہمل، مبہم حتیٰ کہ لایعنی قرار دے دیا گیا۔ میں نے پہلے ہی "عام قاری” اور "عوام” کے تصور کو مسترد کر دیا ہے، لیکن خواص کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ یہ طبقہ بھی بحیثیت قاری اپنی اہمیت اور اپنے فرائض سے ناواقف ہے۔ اسے ہر چیز پکی پکائی چاہیے بلکہ دسترخوان میں پروسی ہوئی بھی چاہیے۔ اس کا بس چلے تو وہ میزبان سے لقمہ بنا کر اس کے منھ میں ڈالنے کا مطالبہ بھی پیش کر دے۔ نہیں صاحب، یہ نہ تو ایک با ذوق قاری کا مرتبہ ہے اور نہ ہی فن کار کا منصب۔ (جاری ہے )

اشعر نجمی: آپ ان اشعار کی باتیں کر رہی ہیں جن کا قاری پر رد عمل فوراً ہوتا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمیشہ ایسا شعر اچھا نہیں ہوتا، بالکل ہوتا ہے لیکن دوسری طرف ایسے اشعار بھی ہوتے ہیں جو قاری کے ذہن میں بجلی کے ایک کوندے کی طرح اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ قاری کو اس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ، اسے زینہ زینہ منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسے مانوس تجربات کے حصار سے نکال کر نئے تلازمات سے روشناس کراتے ہیں۔ ایسے اشعار قاری کے لیے آزمائش کا حکم رکھتے ہیں۔ آپ جسے عام قاری کہہ رہی ہیں ، اس کی نفسیات کے لیے براہ راست متاثر کرنے والی شاعری چونکہ غیر متوقع اور غیر مانوس نہیں ہوتی، اس لیے اس کے شعور کے سانچے میں آرام سے سما جاتی ہے۔ برسوں کے دہرائے ہوئے استعارات، علامات، اصطلاحات، تشبیہات اور محاورے دراصل ذہنی تلمیحات کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا تاثر اور مفہوم دونوں سے پہلے ہی متعین ہیں ، چنانچہ اس طرح کی شاعری قاری کے لیے آزمائش نہیں بنتی اور اسے افہام و تفہیم کی مثلث (متن، فن کار اور قاری) سے بے دخل کر دیتی ہے۔ جب کہ کالرج کا تو یہ خیال تھا کہ شاعری کا تاثر اسی صورت میں زیادہ ابھرتا ہے جب اسے پوری طرح نہ سمجھا گیا ہو۔ فراسٹ نے بھی قاری سے مطالبہ کیا تھا کہ شاعری پیچیدگی ہے اور پیچیدگی کو پیچیدگی ہی رہنے دیا جائے، اسے مسخر نہ کیا جائے۔ چلیے آپ ان دونوں کی باتوں کو تسلیم نہ کریں لیکن ایک بات تو طے سمجھیے کہ شاعری سے کبھی کوئی دو ٹوک نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ بس ہوتا یہ ہے کہ قاری ایک دانستہ ذہنی سازش کے طور پر اصل حقیقت کو اپنے جذباتی رد عمل سے خلط ملط کر دیتا ہے جو بعض اوقات ابہام اور اہمال کا الزام بن کر رونما ہوتا ہے۔ آپ میراجی پر ابہام کا الزام لگاتی ہیں ، خود راشد بھی اس سے کہاں بچے رہے ہیں۔ راشد نے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے جو شاید آپ کو یاد ہو۔ اب رہے فیض صاحب، میں انھیں اچھا شاعر تسلیم کرتا ہوں لیکن میں انھیں عظیم یا بنیاد گذار شاعر ہرگز نہیں مانتا۔ فیض کی شاعری اپنے ابلا غ کے لیے قاری سے ذہنی یا تخیلی قوت کے کسی استعمال کا مطالبہ نہیں کرتی لیکن اس کے برخلاف میرا جی آپ سے سماعت، بصارت، احساس اور فکر جیسی مختلف قوتوں کے اجتماع کا مطالبہ کرتے ہیں کیوں کہ یہاں صرف مظہر کی حقیقت کا ہے بلکہ اس کی عکاسی بھی کی گئی ہے اور یہ کام جوکھم کا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ سب سے زیادہ فیض اور اس کے بعد راشد کا” حلقۂ ارادت "تو روز افزوں ترقی پاتا رہا، لیکن بیچارے میراجی اپنے ہی "دھیان کی موج” میں تنہا کھڑے رہ گئے۔

اشعر نجمی: اور ہاں ایک گذارش اور، میر کے جس شعر کا حوالہ آپ نے دیا ہے، وہ کثیر المعانی ہے۔ "عوام ” اور "خواص” کی سادہ لوح اور سیاسی تعبیر صرف ان لوگوں تک محدود رہنے دیجیے جو نہ تو میر کے دور سے واقف تھے /ہیں اور نہ ان کے شعری مزاج سے۔ شکریہ۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر!میں نے ارسطالیسی منطقی اصولوں کے جس کھانچے پر میرا جی کی نظم کے متن کو منطبق کیا ان کا مقصود شعری منطق سے انکار قطعاً نہیں اور نہ ہی میرے بیان کے کہیں یہ تاثر ملتا ہے خدا جانے احباب نے یہ تاثر کیوں اخذ کیا؟اور اس کا سبب کونسا جملہ بنا؟ اس کی نشاندہی کر دی جاۓ تو دفاع کو حاضر ہوں !میں نے سیدھے سادے انداز میں محض ان سوالات کا جواب دینے کی سعی کی ہے کہ نظم کے واحد متکلم کردار کا کوئی بیان باہم متناقض نہیں ہے وہ جو کہ رہا ہے اس کے پیچھے منطقی جواز ہے !محترم یامین صاحب نے law of included middleکا حوالہ دیا تو کیا اس منطقی اصول کا نظم سے علاقہ نہیں ؟grey areas کو پہلے بھی فلسفہ دیکھتا تھا اور تحیر کا شکار ہو جاتا تھا پہلے اور آج میں فرق یہی ہے اب مانتا ہے !فہم و فکر اور استدراک کا سفر یونہی چلتا رہتا ہے

 مگر میرا آپ کے توسط سے ارباب حاشیہ سے یہ سوال ہے کہ اگر شاعری کی اپنی منطق ہوا کرتی ہے تو تنقید اسے اپنے حال میں مست و بے خود کیوں نہیں رہنے دیتی؟کیوں مختلف علوم سے اسے آنکنے کی بے سود کوشش میں طویل مباحث چھیڑتی ہے ؟(جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!اگر نظم کا واحد متکلم کردارفلسفیانہ انداز کے قضایا قائم کر کے غور و خوض میں منہمک نظر آتا ہے تو اس کی ذہنی ساخت کی تفہیم کا مسئلہ محض اس بنیاد پر لاینحل چھوڑ دیا جا‌ۓ کہ منطق شاعری کے لیے شجر ممنوعہ ہے ؟نیز شاعری کی نہاد میں کار فرما اس کی اپنی منطق کو سمجھنے کی تنقیدی مساعی کو کس کھاتے شمار کیا جاۓ؟جب معاملہ شاعر اور فن پارے کی تعیین قدر کا ہو تو مختلف علوم سے معاونت کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ تنقید بے پر کی منطق پر یقین نہیں رکھتی!

نسیم سید: جنا ب صدر۔۔۔۔۔۔۔۔ عوام سے میری مراد ہر گز مشاعرے کا جم غفیر نہیں ہے میں عوام اور خوا ص کے فر ق کو واضح کر نے کے لئے ایک مثال دینی پڑے گی۔ کراچی یو نیورسٹی میں فیض کے حوالے سے ایک کانفرنس تھی جس کے ایک سیشن میں محمد علی صدیقی نے اپنی تقریر کے دوران فر ما تا” بر صغیر میں لکھنے والی خواتین نے تو ابھی تک اپنا لہجہ بھی دریافت نہیں کیا ہے اس لئے میں ان کی تحریری کو کو ئی اہمیت نہیں دینا ” محمد علی صدیقی معروف تنقید نگار اًنطق سے انکار قطعااًے۔ اس نظم کے حو ہیں اور بیشک گہری بصیرت رکھتے ہیں اور بحیثیت تنقید نگار کے فیصلہ سنا نے کا حق رکھتے ہیں لیکن شاہدہ حسن فاطمہ حسن فہمیدہ ریاض عاصف فرخی اور ایک بہت بڑی تعداد جو ادیبوں شاعروں کی مو جو د تھی اس محفل میں وہ اس بیاں کو ادھیڑ کے رکھ دینے کی پو ری صلاحیت رکھنے کے باوجود ان خواص میں نہیں ہیں جو محمد علی صدیقی جیسے منصب پر فائز ہو ں۔ اس محفل مین اس بیاں پر بھی خاموشی تھی مگر میں جو کہ عام کی فہرست میں رکھتی ہوں خو د اس وقت بھی ا س فیصلے کا ماننے سے انکا ری تھی۔۔۔ میں ان اشعار کی بھی بات نہیں کر رہی ہون جن گا رد عمل فورا ًا تا ہے نہ ہی ابہام کے حسن کی انکا ری ہوں نہ ہی اس سے انکا ری ہوں کہ میرا جی کا قرض ابھی ادا نہیں ہوا میں میں تو اس ابہام کی بات کر رہی ہوں جو اس معمہ کو حل کر نے پر اصرار کر ے کہ ” مگس کو با غ میں جا نے نہ دینا / کہ نا حق خون پر وا نے کا ہو گا۔۔۔۔ اگر شعر کو بو جھنا پڑے اور کسی پزل کی طر ح گھنٹوں اس سے سر کھپا نا پرے تو وہی مشکل پیش آ تی ہے جو میرا جی کی کچھ نظموں کو سمجھتے وقت پیش آ تی ہے

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! بحث کے آغاز میں تو لگتا تھا کہ اس نظم پر کوئی بولے گا نہیں اور اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بولنے سے رکے گا نہیں۔ یہی اس نظم کی خوبی ہے کہ جب اس کی تفہیم کا سرا ہاتھ لگ گیا تو اسے کھولنا بہ جائے خود تخلیقِ نو کا لطف دینے لگا۔ یہی میرا جی کا اعجاز ہے کہ اگر کوئی ایک بار اس کے فن کدے میں داخل ہونے کا دروازہ تلاش کر لے تو پھر اس طسلم گاہ سے باہر جانے خیال ہی اس کے حافظے سے معدوم ہو جاتا ہے۔۔۔ میرا جی کی اعلیٰ اور حقیقی نمائندہ نظمیں ” طعمۂ ہر مرغک انجیر نیست” کے مصداق عام قاری کے لیے ہیں ہی نہیں۔ مجھے بہ صد افسوس آپ سے اتفاق کرنا پڑ رہا ہے کہ ” خواص کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ یہ طبقہ بھی بحیثیت قاری اپنی اہمیت اور اپنے فرائض سے ناواقف ہے۔ اسے ہر چیز پکی پکائی چاہیے "۔ البتہ ماننا پڑے گا کہ حاشیہ پر فضا قدرے مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں تلاش و جستجو اور چھان پھٹک کا رویہ فروغ پذیر دکھائی دیتا ہے اور اس کا سہرا حاشیہ کے اُن تمام اراکین کے سر ہے جو اختلاف کرنا جانتے ہیں اور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہو رہی کہ حمید شاہد اور یامین نے مجھ سے کھُل کر اختلاف کیا۔ آپ مجھ سے بھی "الاحسانُ الا الاحسان” کی توقع رکھیے۔ جلد اپنے بیان کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔

 جاتے جاتے ایک بات، ہر چند عشاقِ فیض تلملائیں گے لیکن سچ یہی ہے فیض عوام کے شاعر ہیں اور میرا جی خواص کے۔ اور اگر یہ دونوں اپنے اپنے حلقۂ قارئین میں مطمئن ہیں تو ہمیں جزبز ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! مجھے یامین صاحب کا دو ٹوک اندازِ اختلاف پسندآیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ بہ قول میرے "نظم کی پہلی سطر ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے اور دوسری انسانی فکر کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ پھر تیسری سطر "یہ میں کہَ رہا ہوں "(جو کہ ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے ) پہلے قول کے لیے تو درست ہے لیکن دوسرے بیان کے لیے کیسے درست ہے جب کہ دوسرا بیان انسانی ہے اور پہلا قول حدیث قدسی۔ "

 جی ہاں ، پہلی سطر قولِ خالق ہے اور دوسری آوازِ خلق(جو نقارۂ خدا بھی ہے )، خیالِ جہاں یا تصورِ زمانہ۔ یہاں زمانہ  ’دنیا‘ کے معنوں میں دیکھیے گا۔ جیسا کہ بہ قولِ میر:

 میر صاحب زمانہ نازک ہے

 دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

 شاید، یامین صاحب کی الجھن یہ ہے کہ "یہ میں کہ رہا ہوں ” واحد متکلم کے راست قول کے لیے ہے، لہٰذا پہلی سطر کے لیے تو درست ہے جب کہ دوسری سطر کو میں انسانی اجتماع کی آواز قرار دے رہا ہوں ، لہٰذا واحد متکلم کا صیغہ اس کے لیے کیوں کر مناسب ہے ؟ ہوا یہ ہے کہ میرا جی نے نظم میں "زمانہ” (بہ یک وقت زماں اور دنیا)کو پرسونی فائی کر کے واحد بنا دیا ہے اور شروع تا آخر یہ التزام برقرار بھی رکھا ہے، لہٰذا اس کا جواز  نظم کے اندر موجود ہے۔

 انھوں نے دوسرا سوال یہ اٹھایا ہے کہ بہ قول میرے "اسی جگہ سے نظم نئی اڑان بھرتی ہے اور شاعر اپنی ذات کے حصار سے نکل کر انسان کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ یہیں ہمیں اس کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی کا سراغ ملتا ہے ” سوال یہ ہے کہ یہاں شاعر کی ذات اور انسان کا مقام کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں ؟

 بات یہ ہے کہ شاعر بہ ہر حال گوشت پوست کا آدمی اور معاشرے کی اکائی ہے۔ یعنی اس کا اندازِ فکر اس کی جبلت کا شاخسانہ بھی ہے اور معاشرے کا عطا کردہ بھی۔ یہاں شاعر نے درپیش فنا کو جبلی زاویے سے دیکھا ہے، میرا جی کی مجرد زندگی کو ذہن میں رکھ کر اس سطر کو پڑھیے :” جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے "۔ یہ صاف صاف شاعر کے وجودی کرب کا اظہاریہ ہے، اسی کو میں شاعر کی ذات کا حصار کہا تھا۔ حیوانات محض تناسل کے ذریعے اپنی بقا کی سبیل کرتے ہیں ، بہ عینہٖ انسان بھی۔ لیکن انسان اس پر قانع نہیں رہتا بل کہ اپنی ذہنی تخلیق کے ذریعے بھی فنا کو شکست دے کر جسمانی اور زمانی حدود سے آگے نکل جاتا ہے۔ یہی انسان کا اصل مقام ہے جہاں وہ اپنی نوع کے حوالے سے زیادہ تسکین حاصل کرتا ہے۔ میرا جی کہ نظر جب انسان کے اجتماعی تخلیقی کردار پر پڑتی ہے تو اس کا وجودی کرب اپنے معانی کھو دیتا ہے اور وہ مثبت زاویے سے اس مسئلے کو دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کو میں نے "انسان کا مقام” قرار دیا تھا۔

اشعر نجمی: میں اب ظفر سید صاحب کا منتظر ہوں۔ اگرچہ وہ شاید سفر میں ہیں لیکن میں چاہوں گا کہ وہ اس نظم کے دوسرے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالیں جیسا کہ انھوں نے اشارہ کیا تھا۔ ایک بھرپور اجلاس کے لیے ضروری ہے کہ گفتگو تشنہ نہ رہے۔ ممکن ہے کہ ظفر سید صاحب کی جانب سے آنے والے نکات اس اجلاس کو ایک اور نئی کروٹ بخش دیں۔

محمد یامین: صدر گرامی! فرشی صاحب کا شکریہ کہ انھوں نے احسن طریقے سے گرہ کشائی کی ہے۔ ظاہر ہے نظم کی دوسری سطروں کی طرح اس سطر ” یہ میں کہَ رہا ہوں ” میں بھی معنوں کی تعداد لفظوں سے کہیں زیادہ ہے اس لیے حتمی معنی تو طے نہیں کیے جا سکتے۔۔

علی محمد فرشی: صدرِ جلسہ! میں یامین صاحب کے اختلاف سے اتفاق کرتا ہوں۔ بڑا ادب تو حتمیت کے خلاف سفر کرتا ہے۔ میں تو اس بحث کے آغاز میں یہ اصول سامنے رکھ کر چلا تھا۔ البتہ "یہ میں کہ رہا ہوں ” کو خطابیہ کلمہ( Reporting speech) مان کر پڑھیں تو تمام الجھن جاتی رہے گی۔ ہوا یہ ہے کہ ایک Reporting speech تین مختلف خطابوں (Reported speeches)کے لیے کام کر رہی ہے۔ بہ ہر حال اختلاف زندہ باد۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! سب سے پہلے تو مجھے حمید شاہد صاحب کا ممنون ہونا چاہیے کہ انھوں نے میری کچھ باتوں سے اتفاق کیا، کچھ سے جزوی اور کچھ سے قطعی اختلاف۔ میں ان سے ممنونیت کا اظہار اس لیے نہیں کر رہا کہ انھوں نے، اس معاملے میں ، (زبردست)توازن برقرار رکھا ہے بل کہ اس لیے کہ نظم فہمی کی اس کاوش میں ، جو حاشیہ پر کوئی سال بھر پہلے شروع ہوئی، وہ آغاز ہی سے اپنا حصہ چوکھا کر کے ڈال رہے ہیں ، ہر چند میری طرح ان کی پہلی ترجیح بھی ’تخلیق، ہی ہے لیکن ’تنقید، میں وہ بلا مقابلہ کام یاب ہو جاتے ہیں ، یہ نہیں کہ میں ان کے حق میں دست بردار ہو جاتا ہوں ، بل کہ اس لیے کہ میں اس میدان کا کھلاڑی ہوں ہی نہیں۔ یہ جو آپ نظم کے حوالے سے میری ٹوٹی پھوٹی گفتگو کو کچھ وقعت بخشتے ہیں یہ محض اس لیے ہے کہ نظم کی تنقید کا میدان لگ بھگ پون صدی سے خالی پڑا ہے، چناں چہ میری ٹامک ٹوئیاں بھی کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مجھے فنِ تنقید پر بس اتنا ہی عبور حاصل ہے جتنا کہ کسی نظم نگار کو نظم لکھنے لیے ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس قسم کی باتیں تو میں خواب میں بھی آسانی سے کر سکتا ہوں۔ حمید کو البتہ اس کی داد دینا چاہیے کہ اس نے نظم کی تفہیم کی خاطر اپنا قیمتی وقت اس صنف کو دیا۔ گویا اس نے وہ قرض اتارا ہے جو اس پر واجب بھی نہیں تھا۔ ایسے ہی آشفتہ سروں کے خون سے ادب نئی زندگی ملتی ہے۔ اور وہ جن پر قرض نہ سہی فرض تھا وہ جانے کس مصلحت کا شکار ہیں حال آں کہ انھیں ، میرے برعکس، نقاد ہونے پر فخر بھی ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ یہ کوئی کمتر درجے کا فن نہیں۔۔۔

 اچھا جناب! حمید شاہد نے لکھا ہے : "جب ہم راشد پر بات کر رہے تھے تو اسی طرح، راشد کو قریب پا کر جذ باتی ہو رہے تھے اور ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ اقبال کے بعد نئی نظم کے باب میں راشد کا نام اوپر اور میرا جی کا قدرے نیچے لکھا جانا چاہئیے۔ ” اس بارے میں میری صرف اتنی گزارش ہے کہ اس "ہم” میں اس ناچیز کو، خواہ مخواہ، شامل نہ کیجیے۔ راشد، میراجی اور مجید امجد پر بات کرتے ہوئے میں نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ ان تینوں میں سے کسی کو تا حال نمبر ایک قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کے درمیان ابھی مقابلہ جاری ہے مزید یہ کہ ابھی تک ایسا کوئی نقاد سامنے نہیں آیا جو ان تینوں کے درست مقام کا تعین کر سکے۔ جیسا کہ منٹو، بیدی اور غلام عباس کے مقام کا تعین ہو چکا ہے۔ یقین مانیے یہ کام کسی افسانہ نگار نے نہیں ناقدینِ فن نے کیا ہے۔ کیا ان تینوں کی زندگی میں ان کے مراتب کی فہرست یہی تھی؟ اس زمانے میں تو کرشن چندر مقبولیت کے ریکارڈ بنا رہا تھا۔ منٹو پر تو ترقی پسندوں نے فحش نگار کا الزام لگا کر، اپنے رسائل میں ، اس کے افسانوں کی اشاعت تک پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ رواں صدی کے آغاز میں کم از کم یہ تو ہوا کہ یہ فحش نگار اپنا جائز حق حاصل کر کے اردو کا، تا حال، سب سے بڑا افسانہ نگار تو تسلیم کر لیا گیا۔ کرشن چندر تو خیر مقابلے ہی سے باہر ہو گیا ہے۔ بیدی نے اپنا مقام ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ البتہ غلام عباس، جس نے نسبتاً ان سب سے کم لکھا لیکن اس "کم مقدار” میں "اعلیٰ معیار” کا وزن زیادہ نکلا لہٰذا وہ اردو افسانے کے عہدِ زریں کے تین بڑے ناموں میں شامل ہو گیا۔ جب کہ نظم کے میدان میں ابھی رن پڑا ہوا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ فیض صاحب تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر مقابلے سے باہر ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ مجید امجد نے لے لی ہے۔ فیض صاحب کو جو ملنا تھا مل گیا، یعنی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑا شاعر ہونے کا اعزاز، سچ پوچھیں تو یہ بھی کوئی کم درجے کا مقام نہیں۔ (جاری ہے، لیکن اگر کوئی صاحب اپنا نوٹ شامل کرنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ میں نکتہ بہ نکتہ بات کر رہا ہوں اس لیے کوئی رخنہ نہیں آئے گا)

علی محمد فرشی: جناب صدر! حمید شاہد صاحب نے کہا ہے :”میرا جی زبان تو روایت سے لے کر برت رہے ہیں ، سطریں بھی صاف ہیں ، اتنی صاف کہ اپنے اندر کچھ چھپا کر نہیں رکھتیں ، پھر معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں ، اس کے اندر سے کیا رمز نکلتی ہے "

 حمید شاہد صاحب کے اس بیان کے دو حصے ہیں ، پہلے حصے میں انھوں نے میراجی کی زبان کو روایتی قرار دیا ہے۔ جب کہ میرے خیال میں ، جس کا میں اسی بحث کی ابتدا میں بھی اظہار کر چکا ہوں کہ فیض اور راشد کے مقابلے میں میراجی کا اسلوب جدید ہے، بل کہ میرا جی ہی کا تو اسلوب جدید ہے۔ چوں کہ میں اس حوالے سے واضح موقف کا اظہار کر چکا ہوں اس لیے اضافہ کروں گا بھی تو تضیعِ اوقات کی خاطر۔۔۔

 جنابِ والا! اگر میرا جی کی سطریں صاف ہیں تو یہ خامی کیسے بن گئی؟ یہ تو جدید شاعری کی خوبی سمجھی گئی ہے کہ یہ مرصع زبان اختیار نہیں کرتی، بھاری بھرکم تراکیب سے اجتناب کرتی ہے، لفظ کے انفراد کو مستحکم کرتی ہے اور کتابی زبان کی بہ جائے موضوع سے مناسبت رکھنے والی، آس پاس کی زبان کو اپناتی ہے۔ میرا جی کا تمام زور سادہ اور آسان زبان کے استعمال پر رہا، خاص طور پر ان نظموں میں جو اس کی اعلیٰ اور نمائندہ نظمیں ہیں۔ جہاں تک وزیر آغا کے مقتبس بیان کا تعلق ہے تو یہ میرا جی پر "دھرتی پوجا” والے الزام سے بھی بڑا ہے۔ "دھرتی پوجا” کی تھیوری سے میرا جی کی مکمل تخلیقی شخصیت سامنے نہیں آتی، ایک جزوی اور ادھورا خاکہ بنتا ہے، اس لیے یہ کوئی اتنی بڑی غلطی نہیں کہ تجربے میں نہ آئی ہوئی شے کی شناخت کے بارے میں غلطی ہو سکتی ہے، البتہ لائینوں کے ایک دوسرے کو کاٹنے والی بات سراسر بہتان اور درست راستے سے بھٹکا دینے کے مترادف ہے۔ میراجی کی نظم تو اپنی نامیاتی وحدت کو برقرار رکھنے میں حیران کن حد تک کام یاب رہی ہے۔ جسے تضاد سمجھا گیا ہے وہ پیراڈاکس کا شہ کار ہیں یا سرئیلسٹ تکنیک کا نمونہ۔ میں نے اپنا موقف دو ٹوک الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ میری خواہش کہ اس موضوع پر حمید شاہد صاحب کے علاوہ دیگر احباب بھی اظہار خیال کریں۔ تاکہ یہ مغالطہ رفع ہو سکے، خواہ یہ مغالطہ مجھے ہی لاحق ہو!!!! (ختم شد)

محمد یامین: جناب صدر فرشی صاحب سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ میرا جی کا اسلوب جدید ہے اور زبان سادہ اور پرکار۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ” جسے تضاد سمجھا گیا ہے وہ پیراڈاکس کا شہ کار ہیں یا سرئیلسٹ تکنیک کا نمونہ۔ "۔ میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر حمید شاہد صاحب کا اظہار خیال آنے کے بعد ہی دیگر احباب کے خیالات سامنے آئیں گے۔ میں فی الحال صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ۔ اس نظم کی زبان وہی ہے جس سے ہم آشنا ہیں لیکن زبان کا استعمال نیا ہے۔ میرا خیال ہے نیا شاعر پرانی زبان کو ہی استعمال میں لاتا ہے لیکن نئے طریقے سے اور فن پارے کی ” شریعت” کے طابع۔ پھر زبان کو اولیت بھی اسی لیے ہے کہ سارا کھیل اسی ساحرہ کا ہے۔ زبان کو امیج، سمبل استعارہ اور تشبیہ وغیرہ سے ثروت مند بنا کر شاعر لفظوں میں اڑان بھر دیتا ہے۔ یہ کام لفظوں اور خیالوں کے بالواسطہ نہیں بل کہ بلا واسطہ استعمال کا تقاضا کرتا ہے۔

 A poet writes always of his personal life, in his finest work out of its tragedy, whatever it be, remorse, lost love, or mere loneliness; he never speaks directly as to someone at the breakfast table, there is always a phantasmagoria.. . .  he is never the bundle of accident and incoherence that sits down to breakfast; he has been reborn as an idea, something intended, complete. Indirect (Yeats)

محمد حمید شاہد: صدر محترم ! ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور جانے سے پہلے میں حاضری لگوا گیا تھا۔ اب لوٹا ہوں تو یوں کہ واپسی موٹروے سے ہوئی اور گاڑی کے پچھلے ٹائر کے پڑخچے اڑ گئے۔ اللہ کا شکر کہ گاڑی الٹنے یا کسی اور گاڑی سے ٹکرانے سے بچ گئی تاہم میرے ماتھے لگنے والے کٹ نے پڑھنے لکھنے سے روک رکھا ہے۔ اس کے باوجود مجھے حاشیہ پر اپنا چپ رہنا کھل رہا ہے، لہذا حاضر ہو گیا ہوں اور خوش ہوں کہ میرا جی پر مکالمہ جاری ہے۔

 جناب صدر! نئی نظم کے حوالے سے آپ نے عمدہ بات کی۔ اس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ جب ہم کسی دور میں ” وجدان اور جمالیات کے نئے تصور کے علاوہ ہئیت کی تلاش” کی تاہنگ دیکھتے ہیں تو اس کے اسباب کی طرف دھیان کا چلا جانا یقینی ہو جاتا ہے۔ آپ کی بات بجا کہ” نئی نظم تنقید کے لیے بھی چیلنج بن گئی، کیوں کہ ہر نظم اپنی جگہ ایک منفرد اکائی کی طرح تھی۔ ” میراجی نے اس چیلنج کے بھید کو یوں کھولنا چاہا” نظم میں داخلی ہوتے ہوئے بھی شاعر زیادہ تر خارجی ہی رہتے ہیں اور غزل میں خارجی خیال کا اظہار بھی داخلی انداز میں کیا جاتا ہے۔ ” میں میرا جی کے اس نتیجہ سے پوری طرح متفق نہیں ہوں لیکن انہوں نے اپنے بیان میں "زیادہ تر”کے استعمال سے اسے قابل قبول بنا لیا ہے۔ اپنی ان نظموں میں جن میں جنس موٹیف ہو گئی میرا جی کو "زیادہ تر” شاعروں کے پاس پاس دیکھا جا سکتا ہے اور جہاں وہ اپنے اندر ہی اندر الجھتے ہیں اور اپنی ذات کے گنجھل کائنات اور زمانے کے تناظر میں اپنے ہی ناخنوں سے کھولنا چاہتے ہیں ، "ایک ہی کہانی”، "سحرحیات”، "انجام کا آغاز "، "کیف حیات”، "دھوکا”، "جز و کل”، "سمندر کا بلاوا”، "آبگینے کے اس پار” اور "یگانگت” جسی نظموں میں ، تو وہ "زیادہ تر” شاعروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ انہی دو رنگوں سے میرا جی کی شاعری کا مجموعی مزاج بنتا ہے۔ اگر فیض کی "دو آوازیں ” ہمیں بالآخر قبول ہو گئی ہیں تو میرا جی کو بھی انہی دو رنگوں کے ساتھ قبولنا ہو گا۔

 جنابِ صدر! بالعموم میرا یہ طریق نہیں ہے کہ میں ایک دو نمبر لگا کر تخلیق کاروں کی فہرست بناتا رہوں۔ راشد کے بارے میں بھی میرا بیان، محض فرشی صاحب کے بیان کا رد عمل تھا، اب جو دیکھتا ہوں تو یہ بھی مناسب معلوم نہیں لگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے اس باب میں فرشی صاحب کے بنائے ہوئے فضیلت کے درجوں کو مان لیا ہے بلکہ یوں ہے کہ یہ عمل ہی مجھے سرے سے نادرست معلوم ہوتا ہے۔ میں تو یہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہوں کہ راشد اور میرا جی کی طرح منٹو، بیدی اور غلام عباس کا مقام اسی طرح متعین رہے گا۔ بیدی اور غلام عباس نے جس طرح کہانی کی جزئیات سے ایک تہذیبی زندگی کو ابھارا، کیا وہ آنے والے زمانہ میں (کہ جب جنس کا موٹیف اپنی لشک کھو بیٹھے گا) اس ترتیب کو برقرار رہنے دے گا؟ ایسے میں اوپر کے گنتی کے دو چار ناموں میں کسی کا اپنی شناخت مستحکم کر لینا بہت اہم ہو جاتا ہے اور یہی کافی ہے۔ جس طرح فرشی صاحب آپ نے کہا فیض ترقی پسندوں کا محبوب ہے، کچھ کا محبوب راشد ہے، کچھ کا میرا جی اور بعضوں کا مجید امجد۔ یوں بھی اقبال کے بعد کوئی ایک شاعر شاید ہی اپنے زمانے کی مکمل نمائندگی کا حق ادا کر پائے۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر! میں نے جب یہ کہا تھا کہ میرا جی نے زبان روایت سے لی، سطروں کو شفاف رکھا مگر ان کے ہاں سطروں میں موجود مفہوم ایک دوسرے کو قطع کر تا ہے، تو اسے درست تناظر میں نہ دیکھا گیا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فیض نے زبان اور شعری علائم اپنی روایت سے لیے، یا راشد نے اپنی زبان ہند اسلامی تہزیب سے لی یا میرا جی کی زبان روایت سے جڑی ہوئی ہے تو تینوں کو ان کے اپنے اپنے تناظر میں رکھ کر دیکھنا ہو گا۔

 فیض کا غزل کے رموز و علائم کو اپنی نظم میں برتنا اور ایک نئی طرز فغاں ایجاد کر لینا، رختِ دِل باندھنا، دل فگارو کا چلنا، چاندی کے بھنور کا بننا، تاروں کے کنول کا کھلنا اور روایت سے لی ہوئی اپنی محبوبہ کے لیے رسوا ہوتے عاشق کا انقلابی ہو جانا، یہ وہ رخ ہے جو فیض کو اپنی غزل کی روایت سے جوڑتا ہے۔

 راشد کا اپنی تہذیبی روایت سے اکتساب اور طرح کا ہے۔ وہ غزل سے خفا تھے اور اپنی تہذیب سے بھی ناخوش رہے مگر یہ ان کے کلام میں ظاہر ہوتی رہی کبھی ماورا” میں اور کبھی "دریچے کے قریب” جیسی نظموں میں ” سباویران”، "لا=انسان”، "بوئے آدم”، "اسرافیل کی موت” یا”حسن کوزہ گر” وغیرہ میں بھی اپنی تہذیب سے اکتساب کو نشان زد کیا جا سکتا ہے۔ وہ خدا کا جنازہ اٹھاتے یا ایک گوری چمڑی والی کے جاگتے جسم سے انتقام کو یاد کرتے اور اس کا چہرہ بھول جاتے تو ان کی شدت پسندی اور تعصب کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا ہو گا۔

 میرا جی کی زبان کا روایت سے اکتساب ان دونوں سے مختلف ہو جاتا ہے۔ جی، یہ میں اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ میرا جی کی نظم میں بہ سہولت "حیات گرم رو”، "شراب آتشیں "، "پرانی مینا”، "خواب وحشت”، "تیغ زہری”، "غم آثار حیات خفتہ”، "جلوت گہ خلوت شب”، "ہمدمی و عشرت رفتہ”، "صبح شب عیش کے گیسو”، "مخمور مسرت” جیسے الفاظ اور روایتی تراکیب بھی بہ سہولت مل جاتی ہیں لیکن مجموعی مزاج میں آرائشی زبان سے اجتناب برتا گیا ہے۔ میں نے کہا نا ان نظموں میں جن کا مسئلہ دانش نہیں جذبہ اور جبلت ہے وہاں سطریں معنی بھی پوری طرح اجالتی چلی جاتی ہیں۔ جن نظموں میں ایک خاص نوع کی الجھن آتی ہے وہاں کوئی مفرد سطر مبہم نہیں ہوتی، بل اس میں موجود معنی کا پانی اگلے سطر پیالے میں اس طرح نہیں گرتا جیسے کنویں کی ماہل کے توسل سے بھرے ہوئے ٹینڈے اپنا آپ پڑچھے میں خالی کر دیتے ہیں۔ سطر سطر آگے بڑھتی نظم کی عمدہ مثال "یگانگت” ہے اور اسی تناظر میں دیکھا جانا

 چاہئیے

محمد حمید شاہد: میرا جی کی نظم "یگانگت” میں جس طرح سطریں ایک مربوط معنیاتی نظام قائم کرنے کی بہ جائے، معنی بھی سطر سطر آگے بڑھاتی اور ایک دوسرے کو کاٹ کر چلتی ہیں اسے پہلے تو فرشی صاحب نے "سراسر بہتان ” کہا پھر خود ہی اس حد تک مان لیاکہ "جسے تضاد سمجھا گیا ہے وہ پیراڈاکس کا شہ کار ہیں یا سرئیلسٹ تکنیک کا نمونہ۔ ” اچھا، آغا جی کے تتبع میں ، میں نے جسے سطروں کا کاٹ کر چلنا کہا اسے پیراڈاکس مانیں تو بھی یہ ماننا ہو گا کہ یا تو یہ سطریں ایبزرڈ ہیں جن کی بابت بات ہو رہی ہے یا ان میں معنی متضاد سمتوں میں زور کر رہا ہے۔ ( میں انہیں ایبزرڈ نہیں کہہ سکتا کہ مفرد ہو کر وہ ایک معنی دے رہی ہوتی ہیں ) خیر، آپ ہی کہیں کہ سیلف کنٹراڈکٹری اور اسینشلی ایبزرڈ بیانات کو پیراڈاکس میں سے کیسے منہا کیا جا سکتا ہے۔ اب رہا ان سطروں کا سرئیلسٹک تکنیک میں ہونا، تو صاحب سریل ازم میں سب کانشئس متحرک ہوتا ہے اور مسلمہ یا عام طور پر مانی جانے والی اور پرکھی جا چکی یا برتی ہوئی صداقتوں سے اُدھر(یعنی دیوار کے اس طرف) تسلیم کے راستے کھولتا ہے۔ بالعموم جس بھی فن پارے میں ان دونوں تیکنیکس کو برتا جاتا ہے وہاں یا تو متضاد صداقتوں سے نئی صداقت برآمد ہو کراپنا وجود تسلیم کراتی ہے یا ایک دوسرے کو کاٹنے والے بیانات ایک تیسرے بیان کی سمت مووو کرتے ہیں۔ تخلیقی عمل میں پیراڈاکس اور سریل ازم کی زائیدہ سمبل ازم سے خوب خوب کام لیا گیا، مگر نظم کا اپنی کل میں ، تکمیل کے بعد بھی اس طرح کے تضادات چھوڑ کر الگ نہیں ہو جانا، جن کی یہاں نشان دہی کی گئی ہے، کچھ الگ معاملہ ہے۔

 کہا گیا”نظم کی پہلی سطر ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے اور دوسری انسانی فکر کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ پھر تیسری سطر "یہ میں کہَ رہا ہوں "ماورائے زمان و مکاں کی آواز ہے ” وغیرہ وغیرہ مجھے الجھن ہو رہی ہے کہ شاعر نے تو آوازوں کو یوں الگ الگ دکھانے کا کوئی قرینہ نہیں رکھا، نہ اس نے سطریں توڑ کر یا ایک آدھ رکن کم کر کے دوسری آواز کو جدا کیا، نہ لہجہ بدلا، نہ ان آوازوں کے لیے سطروں کے بیچ وقفے رکھے، ایک آدھ لفظ جو سطر کا مزاج بدل رہا ہو، مکالمے کا قرینہ جو آخر تک چلا ہو، کیا اس جیسا کوئی حیلہ آیا یا ایسا اشارہ جو زبان، مصرع کی بنت، صوتی آہنگ کسی بھی طرح قاری کو کوئی قلید فراہم کر رہا ہو، نہیں صاحب یہ سب نہیں ہے تو ہم اپنی اپنی صواب دید یا خواہش کے مطابق اس میں سے یہ سب کچھ کیسے برآمد کر سکتے ہیں۔ اس منطق سے کہیں زیادہ تو عارفہ شہزاد صاحبہ کا اس نظم کو کرداری نظم کہنا اور اس کے واحد متکلم کو فلسفیانہ انداز کے قضایا قائم کرتے دکھانا زیادہ اپیل کرتا ہے۔ خود کلامی کی صورت میں بھی اگر کچھ قضایا لاینحل اور کچھ الجھنیں باقی رہ جاتی ہیں تو کسی بھی شاعر کے ہاں ایسا ہو جانانہ تو ناممکنات میں سے ہے اور نہ ہی عجوبہ۔

محمد حمید شاہد: یہ کنٹراڈکشنز کہاں کہاں ہیں ، اس کا جائزہ لے لیتے ہیں ،

 پہلا بیان:”زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے /فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے /یہ میں کہہ رہا ہوں "

 دوسرا بیان: میں کوئی برائی نہیں ہوں ، زمانہ نہیں ہوں /تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

 تیسرا بیان:مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے، کیا زمانے میں ہے /اور پھر، میں تو یہ بھی کہوں گا/کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

 چوتھا بیان: برائی، بھلائی، زمانہ تسلسل …۔ یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں

 پانچواں بیان: مجھے تو کسی کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے /میں ہوں ایک، اور میں اکیلا ہوں ، اک اجنبی ہوں

 چھٹا بیان :یہ بستی، یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا/یہ پربت، اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت/یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگِ مسلسل کی صورت مجاور/یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے، یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہو ایک اندھا مسافر/ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے ہوئے چند بادل/یہ کیا ہیں ؟

 ساتواں بیان:یہی تو زمانہ ہے، یہ اک تسلسل کا جھولا رواں ہے /یہ میں کہہ رہا ہوں /یہ بستی، یہ جنگل، یہ رستے، یہ دریا، یہ پربت، عمارت، مجاور، مسافر، ہوائیں ، نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل/یہ سب کچھ، یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

 آٹھواں بیان:زمانہ ہوں میں ، میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے /مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے /یہ کیسے کہوں میں کہ/مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

 میری استدعا ہے کہ اس نظم کے آٹھ بیانات الگ الگ رکھ کر دہراتے جائیں پھر ان بیانات کو بدل بدل کر ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھیں یا ایک کے مقابلے میں دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں رکھ کر آنکیں ، اس نتیجے پر نہ پہنچ پائیں گے جس پر میرے فاضل دوست آوازوں کی تقسیم کے ذریعہ پہنچانا چاہتے ہیں۔

 ہاں ، میں شاعر کے اندر ان کنٹراڈکشنز کے بعد ایسی صورت حال کے بننے کو تسلیم کرتا ہوں جس کے آخر میں خود شاعر ایک صاف ستھرا الجھن سے پاک بیان دے کر الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے اس نے فضا اپنے ساتویں بیان سے بنانی شروع کر دی تھی۔ یہ ساتواں بیان دراصل چھٹے بیان کی توسیع ہے جو لگ بھگ اصرار کی صورت میں آئی ہے۔ میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ چھٹے بیان میں نظم کا پھیلاؤ لطف نہیں دیتا مگر ساتویں بیان میں اس کا دہرایا جانا حسن ہو گیا ہے۔ اب اگر ہم اس ساری صورت حال سے یہ نتیجہ نکالیں کہ بعض اوقات شاعر اپنے اندر موجود ایسے سوالات سے الجھتا رہتا ہے، جو لاجیکل بھی ہوتے ہیں اور ال لاجیکل بھی، وہ کوئی فیصلے پر نہیں پہچ پاتا مگر یکایک فطرت اور حوادث کا نظارہ اس پر نئی منزل منکشف کر دیتا ہے تو بات بن جاتی ہے۔ ایسے میں ان کے درمیان کسی منطق کی تلاش واجب رہے گی اور نہ ان آوازوں میں تفریق کرنا۔

 یوں میرا جی کی نظم بھی ایک اور سطح پر لطف دینے لگے گی۔

عارفہ شہزاد: جناب  صدر!حمید شاہد صاحب نے نظم کا محاکمہ بڑی عمدگی سے کیا -خاص ان کی اس بات سے مجھے کاملاً اتفاق ہے کہ اس نظم کی تکنیک اور بنت سے کہیں یہ سراغ نہیں  ملتا کہ اس میں آوازوں کی تفریق ہے اس میں ایک ہی آواز مخاطب ہے -اسے شاعر کی آواز کہ لیجیے یا واحد متکلم کے صیغے میں بولتا ہوا کردار -ہر دو صورت میں یہ طے ہے کہ آواز ایک ہی ہے !اس آواز کا مخاطب کون ہے ؟تو یہ جناب حمید شاہد صاحب نے بھی تسلیم کیا کہ شاعر کی خود کلامی ہے اور وہ اپنے اندر موجود کبھی لاجیکل اور کبھی ال لاجیکل سوالات سے الجھتا ہے !اردو میں یوں کہ لیجیے منطقی اور غیر منطقی سوالات سے الجھتا ہے :)تو جناب صدر کیا یہ بیان ان کے اگلے ہی بیان کی تکذیب نہیں کہ”ایسے میں ان کے درمیان نہ کسی منطق کی تلاش واجب رہے گی۔۔۔۔”سوال یہ ہے کہ ہم منطق کے نام سے اتنے الرجک کیوں ہو رہے ہیں ؟

 جناب صدر!اگر محترم حمید شاہد صاحب کا بیان مان بھی لیا جاۓ تو اس کا نتیجہ کیا بر آمد ہو گا؟وہی ڈھاک کے تین پات !جہاں بحث کے آغاز میں یہ نظم ہمیں  الجھا رہی تھی کہ شاعر کے بیانات بے ربط اور باہم متناقض کیوں ہیں ؟اگر اس کا جواز یہ تسلیم کر لیا جاۓ کہ "شاعر بعض اوقات اپنے اندر اٹھنے والے  لاجیکل اور ال لاجیکل سوالات سے الجھتا رہتا ہے اورکسی فیصلے پر نہیں پہنچ پاتا۔۔۔” تو جناب صدر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ لاجیکل(منطقی) سوال سے تو کسی نتیجے یا فیصلے تک پہنچنا ممکن ہے کیا ال لاجیکل سوال سے کوئی نتیجہ سواۓ ہذیان اور بے ربط گفتگو کے، کچھ اور برآمد ہو سکتا ہے ؟جواب واضح ہے  بالکل نہیں ! تو پھر یہ ال لاجیکل(غیر منطقی) سوال شاعر سے ‌قاری کے سامنے  کیوں رکھے ان کا جواز کیا ہے ؟اس سے نظم کو تکنیکی یا فکری سطح پر کیا فائدہ پہنچا ہے !(جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!بات یہ ہے کہ شاعر کے سوالات، سوالات کو قاری کے سامنے رکھنے کا انداز یا تکنیک ہے ہی لاجیکل(یا منطقی!)البتہ محترم حمید شاہد صاحب کے محاکمے کے اس حصے سے مجھے اتفاق ہے کہ "وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پاتا مگر حوادث کا نظارہ اس پر نئی منزل منکشف کر دیتا ہے تو بات بن جاتی ہے !”مگر جناب !ٹھہریے۔۔۔ذرا شاعر کا پنچ لائنوں میں انداز مخاطبت دیکھیے :

 "یہ کیسے کہوں میں کہ

 مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں "

 شاعر تو ابھی بھی متذبذب ہے !پھر بات کیسے بن جاتی ہے ؟

 جناب صدر!میں محترم حمید شاہد صاحب کے بیان کو چیلنج نہیں کر رہی !بات واقعی بن جاتی ہے مگر ساتھ ہی اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے -یہ تذبذب کا اظہار شاعر کے نزدیک ضروری کیوں ٹھہرا؟کیا واقعی وہ آخر تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچا!یا یہ تذبذب محض تجاہل عارفانہ ہے ؟جیسا کہ یامین صاحب نے اشارہ کیا تھا نظم کا عنوان وہ کلید یا حرف ابجد ہے جس سے اس الجھن کا قفل کھلتا ہے کہ انسان اور کائنات میں کہیں نہ کہیں یگانگت ہے ضرور !کہ دونوں جب موجود ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے دم سے فنا اور بقا حاصل ہے کہ ان میں شاہد و مشہود کا رشتہ ہے !(جاری)

ظفر سیّد: جنابِ صدر: میں معذرت خواہ ہوں کہ گذشتہ ہفتے اچانک پاکستان آنا پڑا، اور یہاں آ کر اس قدر درہم برہم رہا کہ کئی دوستوں کو اس پوسٹ کی وساطت ہی سے علم ہو گا کہ میں یہاں آیا ہوا ہوں۔ آج حاشیہ دیکھا تو ایک بار پھر بے حد مسرت ہوئی کہ میرا جی پر ہونے والے جس اجلاس سے میں اور آپ مایوس ہو چلے تھے، اس پر ایسی مالامال گفتگو ہوئی ہے جو گذشتہ اجلاسوں کو مات دے گئی ہے۔

 میں نے نظم کے ابتدائیے میں جس مزید بحث کا اشارہ دیا تھا وہ نظم کے زبان و بیان اور لب و لہجے پر گفتگو کرنے کا تھا۔ لیکن اس دوران دیکھتا ہوں کہ اس موضوع پر بے حد گراں قدر مقالہ جات تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اس پر میں کیا اضافہ کر پاؤں گا۔ صرف ایک دو باتیں اتمامِ حجت کے لیے پیشِ خدمت ہیں۔

 میرا خیال ہے کہ نظم کے طرزِ بیان کو شعور کی رو کی تکنیک سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جنابِ حمید شاہد نے وزیر آغا کے توسط سے لکھا ہے :

 معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں۔

 یہی شعور کی رو کی تکنیک کی تعریف بھی ہے، جس میں مصنف قاری کو اپنے ذہن تک براہِ راست رسائی کا موقع دے کر تخلیقی عمل میں شریک کر لیتا ہے جہاں خیالات کی گاڑی کبھی بھی انجن کے پیچھے پیچھے افق میں گم ہوتی ہوئی سیدھی پٹری پر نہیں چلتی بلکہ ڈبے ایک دوسرے کو ٹکر مارتے، الٹتے، گرتے، اور ٹیڑھی میڑھی پٹریاں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ایک دوسری کو کاٹتی، اوورٹیک کرتی ہوئی، یا گراموفون کی اٹکی سوئی کی طرح اپنے آپ کو دہرائے چلی جاتی ہیں۔

 میرا جی مغربی ادب کے مشتاق قاری تھے، جس کی شہادت ان کے کیے ہوئے تراجم دیتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے یقیناً ٹی ایس ایلیٹ اور جیمز جوئس وغیرہ کے ہاں شعور کی رو کے تجربات دیکھے ہوں گے۔ بلکہ انہوں نے اسی تکنیک میں لکھی گئی "لَو سانگ آف جے الفرڈ پروفراک” سے کسی حد تک متاثر ہو کر "کلرک کا نغمہ محبت” بھی لکھی تھی۔

 اس لیے بادی النظر میں "یگانگت” بھی شعور کی رو کی تکنیک میں لکھی ہوئی نظم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک دوست کو التباس ہوا کہ شاید اس نظم میں منطقی ربط کی کمی ہے۔ ہوائیں ، نباتات، بچے، مسافر، پہاڑ، بستی، جنگل، راستے، دریا، وغیرہ جیسی چیزیں بظاہر بغیر کسی ترتیب کے نظم کی لڑی میں پرو دی گئی ہیں۔ اور پھر بار بار بیانات بدلنا، کبھی کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیا خبر کیا زمانہ ہے کیا برائی ہے، اور پھر اگلی سانس میں دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سب چیزیں میرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہیں۔

 تو بظاہر نظم شعور کی رو کی تکنیک میں ہے، جس میں ادیب قاری کو اپنے ذہن تک رسائی دیتا ہے۔ لیکن کیسا ذہن؟ میرا جی کا ذہن؟ اسی میرا جی کا ذہن جو کج روی، کج مزاجی، انتشار، اور پراگندگی کا منھ بولتا اشتہار ہے ؟

 لیکن کیا میراجی کا ذہن الجھی ہوئی ڈروں کا ڈھیر تھا؟ یا حقیقت کچھ اور ہے ؟ ہم جب ان کی نثری تحریروں ، خاص طور پر نظموں کے تجزیے، اور تراجم دیکھتے ہیں تو کچھ اور ہی کہانی نظر آتی ہے۔ بلکہ ان تحریروں پر صرف ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی ان کی ذہنی یک سوئی اور ٹھہراؤ کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مزید برآں ، انہوں نے حلقہ اربابِ ذوق کی جس تندہی سے آبیاری کی، وہ بھی کسی منتشر الدماغ شخص کے بس کا روگ نہیں تھا۔

 اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ میراجی نے کسی وجہ سے (جس کی تفصیل میں جانے کا محل نہیں ) اپنی ظاہری شخصیت پر ملمع چڑھایا ہوا تھا۔ صرف ان کے بہت قریبی گنے چنے دوست ہی ان تہوں کو کاٹ کر ان کی شخصیت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ یہی ملمع ان کی نظم میں بھی ملتا ہے، جو بظاہر بے ربط، منتشر، اور پراگندہ نظر آتی ہیں ، لیکن اگر کوئی تہوں کو چیر کو اندر جھانکے تو اسے اصل نظم نظر آئے گی۔

 کہا گیا ہے کہ ادیب کا اسلوب اس کی زندگی کی تفسیر ہوتا ہے۔ میری ناقص رائے میں میراجی کی نظم کا اسلوب بھی ان کی زندگی سے عبارت ہے۔ جیسا کہ فرشی صاحب نے ہنر مندی سے دکھایا ہے کہ نظم کے اندر اوپر بیان کردہ سب بکھری ہوئی چیزیں نظم کی عمارت کو خشت خشت تقویت بخشتی ہیں۔ گویا نظم میں دانستہ ایسا تاثر دیا گیا ہے جیسے اس میں ربط کی کمی ہے، لیکن درپردہ نظم تنظیم کا شاہ کار ہے۔

 جیسے میراجی اپنی ہئیت کذائی کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے تھے، ویسے ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نظم بھی توجہ، محبت، اور احتیاط کے بغیر کسی کو اپنا دامن پکڑنے نہیں دیتی۔

 اپنی موت کے 65 سال بعد بھی میرا جی کی شاعری کو اس نقاد کی تلاش ہے جو آہنی گولوں ، بھاری فوجی کوٹوں ، اور رنگ برنگی مالاؤں کو ہٹا کر اصل میراجی کو سامنے لا سکے۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر!محترم ظفر سید نے زیر بحث نظم میں شعور کی رو کی تکنیک کے استعمال کی طرف توجہ دلا کر یقیناً اس بحث کو صحیح نہج پر ڈالا ہے اور منطق کی جن اصطلاحات و تصریحات سے ارباب کو گلہ تھا ان سے بچنے کا محفوظ تنقیدی راستہ سجھایا ہے !کہ جدید اصطلاحات زیادہ متاثر کن لگتی ہیں !مجھے ان کی آرا سے کلی اتفاق ہے اس نظم کا شعور کی رو کی تکنیک سے تجزیہ کیجیے یا لاجیک(علم منطق) سے جائزہ لیں ، ہر دو صورت میں اسی نتیجے کا استخراج ہوتا ہے کہ بہ ظاہر الجھے اسلوب میں معنوی و منطقی ربط ہے اور میرا جی نے یہ تکنیک شعوری طور پر اپنائی ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک سوفسٹ، (sophist)منطقی مغالطوں کی مدد سے مخاطبین کے اذہان کو سوچنے کی تحریک دیتا ہے اور یہی نظم میں ان بہ ظاہر متضاد بیانات کی بنت کا جواز ہے

 جناب صدر میرا موقف اب بھی یہی ہے کہ بیانات حقیقتاً متضاد ہیں ہی نہیں !ایک بیان کا ربط کسی نہ کسی دوسرے سے بیان سے ملتا ہے اور جب ہم متن کو توڑ کر یہ کڑیاں نئے سرے سے جوڑتے ہیں تو بیانات کی مربوط زنجیر میراجی کے مربوط اور باشعور  الجھاووں سے پاک ذہن کا آئینہ بن جاتی ہے !

عارفہ شہزاد: جناب صدر!یہ متن کو توڑ کر، مصرعوں کو آگے پیچھے کرنا اور ان کا انطباق لاجیکل فارمولے (منطقی کلیے ) پر کرنے کا طریق کار جس پر کچھ احباب معترض ہیں ، فی الاصل وہی تنقیدی طریق کار ہے جس کی یہ نظم متقاضی ہے اور جس کی ضرورت کی طرف محترم ظفر سید صاحب نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے "اگر کوئی تہوں کو چیر کر اندر جھانکے تو اسے اصل نظم نظر آۓ گی”

 مگر اس سے یہ مراد ہرگز نہ لی جاۓ کہ نظم کو سمجھنے کا واحد فارمولہ ہی وہی ہے جو منطق پیش کرتی ہے یقیناً ہر بڑی نظم کی طرح اس نظم کابھی متنوع تناظر میں تجزیہ ممکن ہے ضرورت ان تک رسائی اور دوسروں کو اس تجزیاتی کلید ملنے کی مسرت میں شریک کرنے کی ہے اور یقیناً تمام احباب نے اس میں بھر پور حصہ ڈالا ہے

علی محمد فرشی: جناب صدر! اللہ کا شکر ہے کہ حمید شاہد صاحب کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔ ہم ایسے حساس اذہان کے لیے تو تیز رفتار گاڑی سے کسی پتنگے کا ٹکرا کے مر جانا بھی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے کجا کہ ایسے بڑے حادثے کو سہ جانا جس سے وہ دو چار ہوئے۔ چوں کہ وہ موٹر وے پر محوِ سفر تھے اس لیے ہمیں یقین ہے کہ کوئی "اندھا مسافر” ان کی گاڑی سے نہیں ٹکرایا ہو گا۔ البتہ انھیں اس بات پر غور ضرور کرنا چاہیے کہ کہیں میرا جی کی روح تو ان کا پیچھا نہیں کر رہی تھی، اس انتباہ کے لیے کہ” 65 برس بعد آنے والے نقاد! تم کیوں ماضی کے مجاوروں میں شامل ہونے جا رہے ہو جنھوں نے میرے ظاہری حلیے سے مجھے شناخت کرنے کی کوشش کی؟ جب کہ تمھیں تو میری نظموں کی اجلی روح سے واسطہ پڑا تھا!”خیر یہ جملۂ معترضہ تو محض اس حادثے کے اثرات سے نکلنے / نکالنے اور بحث کو راہ پر لانے کے لیے تھا۔ حمید شاہد خود تو راہ پر آ ہی گئے ہیں ، یعنی بحث میں پھر شریک ہو گئے ہیں۔ ہر چند انھوں نے، زیادہ تر، میرے اٹھائے ہوئے نکات کی وضاحت کی ہے، جو ان کا جائز حق ہے، البتہ ایک ادبی سوال وہ بیچ میں ایسا لے آئے ہیں جس سے خلط مبحث کا امکان ہے۔ انھوں نے لکھا ہے :” میں تو یہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہوں کہ راشد اور میرا جی کی طرح منٹو، بیدی اور غلام عباس کا مقام اسی طرح متعین رہے گا۔ بیدی اور غلام عباس نے جس طرح کہانی کی جزئیات سے ایک تہذیبی زندگی کو ابھارا، کیا وہ آنے والے زمانہ میں (کہ جب جنس کا موٹیف اپنی لشک کھو بیٹھے گا) اس ترتیب کو برقرار رہنے دے گا؟” مجھے یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ اس نوع کی درجہ بندی، واقعی، ادب کی تاریخ میں دائمی نہیں ہوتی، وقت کا پہیا بہت سوں کو کچل جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ سب کچھ اتفاقاً اور حادثتاً ہوتا ہے، یعنی جو اس کے نیچے آ گیا وہ مٹ گیا اور جو اس کی زد سے ذرا سا اِدھر اُدھر تھا بچ گیا۔ وقت کی یلغار سے محفوظ بھی وہی ادیب رہتا ہے جو بڑی انسانی اقدار اور بڑے سوالات کا امین ہوتا ہے۔ (فی الحال یا تا حال ہی سہی) اگر منٹو کو بیدی اور غلام عباس پر فوق ہے تو بلند انسانی اقدار و افکار کے باعث، نہ کہ جنس کے موٹیف کے طفیل۔۔۔ مستقبل کی کسے خبر لیکن نصف دہائی کو پاٹ آنے اور اپنے معاصرین کو چت کر کے آگے نکل آنے والا منٹو شاید اردو ادب میں ہمیشہ اول رہے گا۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدر! میں شروع سے ظفر سید صاحب کی متن شناسی خاص کر نظم فہمی کا معترف ہوں ، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ اس زمانے میں بھی کوئی میرا جی کی طرح ادب کو مسرتِ حیات کا مرکز مان کر جی رہا ہے۔ انھوں نے زیر بحث نظم کا ابتدائیہ جس تنقیدی بصیرت کے ساتھ لکھا تھا، نظم پر ہونے والی بحث کا حاصل اس کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکا اور اب آخر میں انھوں اپنا نوٹ دیا ہے تو مجھے یہ دیکھ کر مزید مسرت ہو رہی ہے کہ نہ صرف اس نظم کا پورا زائچہ ان کے ذہن میں موجود تھا بل کہ ان کی آنکھ میراجی کی ظاہری شخصیت کے عقب میں اصل میراجی کو دیکھنے پر بھی قادر تھی۔ انھوں نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ : "کیا میراجی کا ذہن الجھی ہوئی ڈوروں کا ڈھیر تھا؟ یا حقیقت کچھ اور ہے ؟ ہم جب ان کی نثری تحریروں ، خاص طور پر نظموں کے تجزیے، اور تراجم دیکھتے ہیں تو کچھ اور ہی کہانی نظر آتی ہے۔ بلکہ ان تحریروں پر صرف ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی ان کی ذہنی یک سوئی اور ٹھہراؤ کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مزید برآں ، انہوں نے حلقہ اربابِ ذوق کی جس تندہی سے آب یاری کی، وہ بھی کسی منتشر الدماغ شخص کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ میراجی نے کسی وجہ سے (جس کی تفصیل میں جانے کا محل نہیں ) اپنی ظاہری شخصیت پر ملمع چڑھایا ہوا تھا۔ صرف ان کے بہت قریبی گنے چنے دوست ہی ان تہوں کو کاٹ کر ان کی شخصیت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ "

 جناب صدر!میں ظفر صاحب سے متفق ہوں اور بہ الفاظ دیگر، ہی سہی، میں نے اپنی گفت گو کا آغاز بھی اسی نقطے / نکتے سے کیا تھا۔ میرا جی کا ظاہری روپ ایک بہروپ تھا۔ ان کی ادبی زندگی کے دیگر پہلوؤں سے بھی اس بات کی نفی ہو جاتی ہے تاہم میں ان کی سماجی زندگی سے بھی ایک جھلک دکھانا چاہوں گا۔ قیوم نظر کو خط میں ، ان کے، کسی ذاتی مسئلے میں راہ نمائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں "حقیقت پرست بننے کی کوشش کرنا چاہیے، پھر نہ کوئی مصیبتیں ہیں نہ راحت” بتائیے کہ سماجی زندگی کے سب سے بڑے جال سے وہ کیسی دانش مندانہ چال سے نکل جانے پر قدرت رکھتے تھے۔ یہ اور بات کہ یہی جال میرا جی کی تخلیقی ذات کی پناہ گاہ کا کام کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ ان کے دوستوں اور معاصرین میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو اصل میرا جی کو دریافت کر لیتا۔

ظفر سیّد: جنابِ صدر: نظم پر خاصی بھرپور گفتگو ہو چکی ہے اور سبھی شرکت کنندگان نے دل کھول کر حصہ لیا ہے۔ البتہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر حاشیہ کے چند نسبتاً مستقل مگر اس بحث میں خاموش احباب بھی نظم کی تفہیم میں ہمارا ہاتھ بٹا لیتے۔ ان میں جناب جلیل عالی، تصنیف حیدر، فیاض احمد وجیہہ، اور انوار فطرت شامل ہیں۔ پروین طاہر صاحبہ تو اپنی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پا رہیں ، جب کہ رفیق سندیلوی صاحب گذشتہ اجلاس میں اپنی نظم پر بحث مکمل ہوتے ہی حاشیہ کو داغِ مفارقت دے گئے تھے۔ مندرجہ بالا تمام حضرات سے التماس ہے کہ وہ چند گھڑیاں میراجی کی نذر کر کے کچھ لکھیں ، یا کم از کم اب تک ہونے والی گفتگو ہی پر تبصرہ کر دیں ، تاکہ اس بحث کو سمیٹا جا سکے۔

اشعر نجمی: ظفر صاحب! آپ کی تجویز صائب ہے۔ رفیق سندیلوی صاحب کے بارے میں جان کر حیرت ہوئی۔ داغ مفارقت دینے والوں میں اور کون کون لوگ ہیں ، وہ بھی بتا دیں۔ کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ "حاشیہ” کے ۴۲ اراکین میں کئی ایسے ہیں جنھوں نے کبھی کسی اجلاس میں عملی طور پر شرکت نہیں کی۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے خود کو صرف اپنی نظم تک محدود رکھا۔ میرے خیال میں اس کی تلافی کا یہ بہت اچھا موقع ہے۔ امید ہے میری آواز صدا بصحرا ثابت نہیں ہو گی۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! مجھے تو رفیق سندیلوی صاحب کے یوں بچھڑ جانے کا سن کر بہت ملال ہوا۔ عین اس وقت پر، جب وہ اپنی نظم پر خوب داد وصول کر رہے تھے ان کا جانا میری سمجھ سے باہر ہے۔ ظفر صاحب کو وجوہات کا کچھ تو علم ہو گا۔ مجھے تو اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی کوئی شکایت تھی تو اس کی تلافی کی جانی چاہیے۔ میں مجلس عاملہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ صدرِ جلسہ کی حیثیت سے اس معاملے کی چھان بیں کریں اور پسِ پردہ حقائق کو سامنے لائیں۔

اشعر نجمی: فرشی صاحب! اگر رفیق سندیلوی صاحب کو سابق صدر اجلاس کے خطبے سے قبل کوئی شکایت ہوتی تو وہ اپنی نظم پر اپنا موقف پیش کرتے وقت اس کا ضرور اظہار کرتے یا انھیں کرنا چاہیے تھا۔ اور اگر خدانخواستہ انھیں صدارتی خطبے سے کوئی تکلیف پہنچی تھی تو بھی بعد میں اسی فورم پر اس کا اظہار کیا جا سکتا تھا۔ معاصر فن کاروں پر اظہار خیال کرنے کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ بقول سابق صدر اجلاس، عموماً تخلیق کاروں کی نقادوں یا تجزیہ نگاروں سے "وکیل دفاع” کی امید ہوتی ہے۔ اچھا! اس سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے "حادثوں ” کے اثرات آئندہ اجلاس پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور ہم قدرے محتاط ہو جاتے ہیں یا پھر معذرت خواہانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ "سوغات” کے نظم نمبر کے لیے جب محمود ایاز مرحوم نے معاصر نظموں کا تجزیہ کرایا تھا تو شاید اسی خطرے کے پیش نظر انھوں نے شاعروں کا نام تجزیہ نگاروں سے پوشیدہ رکھا تاکہ غیر جانب داری پر کوئی حرف نہ آئے اور تجزیہ نگار مروت نہ کر بیٹھیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تخلیق کار کو اپنی تخلیق سے عشق ہو تو خیر یہ اتنی بری بات نہیں لیکن کم از کم اسے اپنی تخلیق سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! یہ از حد حساس معاملہ ہے۔ حاشیہ ابھی کچھ دن اوپر ایک برس کا ہوا ہے۔ کسی ادارے کی یہ عمر پالنے میں پڑے رہنے کی ہوتی ہے۔ بے شک پالنے میں پوت کے پاؤں پہچانے جاتے ہیں لیکن اسے ان پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک برس کی عمر میں اس ہونہار نے وہ کچھ کر دکھایا جس کے لیے دہائیاں چاہییں۔ ہمیں ایک بات ضرور ذہن میں رکھنا ہو گی کہ ہمارا واسطہ آبگینوں سے ہے۔ خود پسندی ہی شاید وہ قوت ہے جو کسی تخلیق کار کو جہانِ نو خلق کرنے پر اکساتی ہے۔ تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ رفیق سندیلوی صاحب کو انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کے تربیت یافتہ سپوت ہیں اور حاشیہ اسی ادارے کی توسیع ہے۔ اگر حاشیہ نے اتنی کم مدت میں اپنا مقام بنا لیا ہے تو یہ بھی حلقے ہی کا فیضان ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حلقے میں کیسے کیسے روح فرسا واقعات رو نما ہوئے لیکن کچھ ہی دنوں بعد صورتِ حال پھر معمول پر آ گئی۔ ماضی میں حاشیہ کے جلسوں میں بھی ایسی ہی بل کہ اس سے کچھ زیادہ کشیدگی دیکھنے میں آئی لیکن ایسا نہیں ہوا جو اب کی بار ہوا ہے۔ حاشیہ کے تمام خیرخواہوں سے میری گزارش ہے کہ اس کشیدگی کو رفع کرائیں۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم! ایک بار پھر خاموشی، اور فروعی معاملات کی طرف توجہ کا چلا جانا بتا رہا ہے کہ میرا جی پر یہ اجلاس لگ بھگ اپنے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ احباب کی تشویش ان نظم نگاروں کی بابت بجا ہے جو اپنی اور اپنے دوستوں کی نظموں پر مکالمہ تک ہی اپنی دلچسپولں کو جواں رکھ پائے۔۔ صاحبِ نہج البلاغہ کو یاد کرنے کے دن ہیں اور ان کا فرمایا ہوا یاد آتا ہے :”تکلمواتعرفوا، فان المرء مخبؤً تحت لسانہ۔ (بولو کہ پہچانے جاؤ۔ کیوں کہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہوتا ہے )۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا : "لاخیرفی الصمت عن الحکم (حکمت کی بات پر خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں ہے )۔ جب ہم اس اخلاص اور ادبی لگن کو جو ہمارے اندر کو بھی ایک اضطراب عطا کرتی ہے اپنی انا اور خود پسندی کے مقابل حقیر جان کر دھتکار دیتے ہیں یا ایک حیلے کے طور پر تھپک تھپک کر سلا دیتے ہیں تو یہ عمل کفران نعمت کے مصداق ہوتا ہے۔ اور دیکھا گیا ہے کہ اس سے خوداس فرد کے تخلیق وجود سے وفور کی برکت اٹھ جایا کرتی ہے۔ اسی طرح اختلاف برائے اختلاف بھی ایسا قبیح عمل ہے، جو آدمی کی جھوٹی انا کو تو خوب خوب سیر کرتا ہے مگر اس کے کہے سے تاثیر کی برکت اٹھا دیتا ہے۔ اس عہد میں کہ جب ادبی مکالمہ کے نام پر دوسروں کی تحقیر کا چلن مقبول ہو رہا ہے اس کی شدید ضرورت ہے کہ ہم ادبی لگن سے ادبی مکالمہ میں شرکت کریں اور نہ صرف اپنے خیالات دوسروں تک پہنچائیں ، دوسروں کی بات سننے، غور کرنے اور سمجھنے کو اپنا طریق کریں۔

 صاحب صدر، جس چوٹ کا اوپر فرشی صاحب نے ذکر کیا، اس کی سوجن آنکھوں تک آ گئی اور سرخی آنکھوں کے اندر سے رسنے لگی تھی۔ اب میں سنبھل گیا ہوں اور اپنے دوست کے جملے پھر پڑھے ہیں ، ان کے انتباہی نوٹ کی بابت اتنا ہی کہوں گا "شکریہ میرے دوست”۔ اور اب اگر یہ تنقیدی بیان ہے تو ” مجاور” کی بابت بتاتا چلوں کہ وہ جو65 برس پہلے والے تنقیدی فیصلوں کو بھی دیکھتا ہے اور انہیں پرکھنا جائز سمجھتا ہے، گویا وہ تو گڑے مردے اکھاڑ کر ان کے اصل روپ کو دیکھنا چاہتا ہے، جوان کے سیاہ وسفید کو وقت کی قبر میں دبا کر اس پر چوناگچ مقبرہ نہیں بناتا، "مجاور ” کیسے ہو سکتا ہے۔ مجاور کوتو ہمیشہ مرنے والی کی روح کو” پاکیزہ "بتانا، اور "سب اچھا” کی خبر دینی ہوتی ہے۔ مجاور کا چلن تنقید کا چلن نہیں ہوتا کہ ناقد کو تو بہ ہر حال ایک میزان قائم کرنا ہوتی ہے اور سفاکی سے سب کچھ صاف صاف کہہ دینا پڑتا ہے۔ اچھا، خود میرا جی کو ایسے کسی مجاور کی ضرورت نہ تھی جو ان کے ” ظاہری حلیے ” کو چیر چھاڑ کر اس کی نظموں کی ٹوپی سے کوئی کسی مداری کی طرح نام نہاد” اجلی روح” کا کبوتر برآمد کر لے کہ میرا جی کی تخلیقی شخصیت اور عام زندگی ایک دوسرے کی گواہی ہو گئے تھے۔ میرا جی کا مکالمہ اگر انسانی تنزل اور ہبوط سے تھا، تو اس کے جسم اور روح دونوں سے تھا۔ یہ جو منٹو نے میرا جی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا :” ایک مرتبہ معلوم نہیں کیوں ، کس سلسلے میں ، اس کی جنسی اجابت کے خاص ذریعے کا ذکر آ گیا۔ اس نے مجھے بتایا، اس کے لیے اب خارجی چیزوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسی ٹانگیں جن پر سے میل اتارا جا رہا ہو۔ خون میں لتھڑی ہوئی خموشیاں ” کسی کی نیک خواہشات پر منٹو کا کہا، ایک طرف کیسے رکھ پائیں گے ؟۔ اور منٹو پر "مجاور” کی پھبتی کیسے کسی جا سکتی ہے ؟۔ ہمارے رشید امجد نے اس سے جو نتیجہ اخذ کیا اس سے پورے میرا جی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یاد رہے رشید امجد بھی "مجاور” کی پھبتی والے دائرے سے باہر کھڑا ہوا شخص ہے۔ رشید امجد کے اپنے لفظوں میں : ” اس خارجی مدد میں کراہیت کا جو پہلو ہے، اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ آہستہ آہستہ میرا جی کے تصور نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور آخری دور میں تصورات کی خوشگوار حدت اور نرم روئی کی جگہ اس طرح کی "خارجی مدد” کی ضرورت پیش آ گئی تھی۔ ان خارجی سہاروں کی نفسیاتی گرہ کشائی بھی معنی خیز ہے "خون میں لتھڑی ہوئی خموشیاں ” نسوانی جائے مخصوصہ کے ساتھ خون کے جس تصور کو پیش کرتی ہیں ، اس میں کسی کنواری عورت سے معاملہ کرنے کی شدید خواہش بھی موجود ہے۔ میرا جی شاید ساری زندگی کسی بھی عورت سے معاملہ نہ کر سکے۔ یہ خواہش تمام عمر ان کے اندر موجود رہی اور اس کی طلب نے انہیں عجیب و غریب نفسیاتی الجھنوں کا شکار بنائے رکھا۔ ان الجھنوں نے ان کے لیے جس اخلاقی ضابطے کو وضع کیا وہ بھی اپنی جگہ دلچسپ ہے کہ ایک طرف تو وہ ہر عورت کو اپنے ویژن کی آنکھ سے برہنہ دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کے اندر ایک”روحانی باپ” کا سا پیار اور شفقت پیدا ہو جاتی ہے۔ "

محمد حمید شاہد: صدر محترم! یہ میں نے نہیں کہا مجھ سے پہلے منٹو نے اور رشید امجد نے کہہ رکھا ہے۔ تو یوں ہے کہ میرا جی کی زندگی ان کی شاعری کی ایک کلید بھی ہے۔ اگر ہم اسے ایک طرف رکھ دیں گے اور "نیک روح” سے مکالمہ کی خواہش میں ، اپنی ہی کہے جائیں گے، دوسروں پر "مجاور”کی پھبتی کس کر خاموش ہونے پر مجبور کریں گے تو اوروں کے دلوں پر دھاک تو بیٹھ جائے گی اصلی والا میرا جی تو ہاتھ نہیں آئے گا۔ وہ والا میرا جی، جس کی شکایت اختر الایمان نے ہم تک خود اس کے اپنے لفظوں میں یوں پہنچا رکھی ہے :”لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ نکل گئے تو میں کیسے لکھوں گا؟ یہ کمپلیکس ہی تو میری تحریریں ہیں "

 صاحب صدر، ظفر سید صاحب نے درست کہا کہ "میراجی مغربی ادب کے مشتاق قاری تھے "۔ میں تو یہاں اضافہ کروں گا کہ میرا جی نے جس ادبی لگن سے عمر خیام کی رباعیات کا ترجمہ کیا، بنگالی چینی، لاطینی، روسی، اور جرمن نظموں کو (یقیناً انگریزی سے ) اردو میں ڈھالا وہ کسی اور طرح کے ذہنی انتشار کی خبر نہیں دیتا۔ سیفو، پشکن، فریڈرک ہولڈرلن، ایڈگرایلن پو، طامس مور، ایمیلی برونٹے، چارلس بادلئیر، میلارمے، جان میسفیلڈ اور ڈی ایچ لارنس کو کامیابی سے اردو میں ڈھالنے والا شاعر بالکل اس طرح کے کسی کمپلیکس سے دور نظر آتا ہے جس کی طرف ظفر صاحب کا ا شارہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم میں سے بھی کسی نے میرا جی کو اتنا دیوانہ نہیں بتایا جتنا میرے دوست نے میری تحریر سے اخذ کرنا چاہا ہے بلکہ میں نے تو یہاں تک لکھا تھا :

 "میرا جی کے پاس ایسی نظمیں ہیں جو ان کی طرف بہت توجہ سے دیکھنے کی طرف مائل کرتی ہیں انہی میں زیر بحث نظم "یگانگت” بھی شامل ہے۔ تاہم وہ سوال جو میں نے اوپر اٹھایا تھا کہ "میرا جی زبان تو روایت سے لے کر برت رہے ہیں ، سطریں بھی صاف ہیں ، اتنی صاف کہ اپنے اندر کچھ چھپا کر نہیں رکھتیں ، پھر معنی کا ایک دوسرے کو یوں کاٹ کر گزرنا، جیسے بہ قول وزیر آغا کسی جنکشن پر ریل کی پٹڑیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں ، اس کے اندر سے کیا رمز نکلتی ہے ” یہ سوال ایسی نظموں کے بارے میں نہیں تھا جو میرا جی کہ شاعری پر غالب ہیں ، یعنی "گیلے ہاتھوں ” اور” جنسی عکس خیالوں ” والی نظمیں تو فوراً گرفت میں آ جاتی ہیں ، بلکہ لذت میں تو دور تک لے جاتی ہیں مگر وہ نظمیں جن میں سے ہم دانش ور میراجی کو نکال کراس کا راشد کی دانش سے موازنہ کر رہے ہیں ، ان میں یہ رخنے ہیں۔ اس کی واضح مثال زیر بحث نظم” یگانگت” بھی ہے۔ "

 گویا آپ میراجی کو اس کی نثری تحریروں اور تراجم میں مربوط بتاتے ہیں جب میں تو ایک نوع کی نظموں کے علاوہ، باقی نظموں میں بھی انہیں مربوط دیکھ رہا ہوں۔ یہیں سے میرے سامنے ایک دوسرے کو بہت عزیز رکھنے والے راشد اور میرا جی کے فکری رویوں کو دیکھنے، پرکھنے اور ان کے بیچ موازنہ کرنے کی جستجو نکلتی ہے، اس باب میں ، میں نے اوپر جو کچھ عرض کیا تھا، ضروری نہیں کہ آپ اس سے اتفاق کریں ، تاہم وہ بے بنیاد نہیں تھا۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم ! میرے دل میں محترمہ عارفہ شہزاد کے لیے بہت قدر ہے جس طرح وہ گفتگو میں پوری توانائی سے شریک ہوتی ہیں ، وہ ان کے جذبوں کے صادق ہونے پر دال ہے۔ اس ناچیز کا ان سے اختلاف، نظم فہمی پر نہ تھا، بلکہ طریق کار پر تھا۔ میرا یہ اختلاف ان کے مزاج کی برہمی کا باعث ہوا، جس کا مجھے افسوس ہے۔ تاہم ان کے جو نکتے مجھے اچھے لگے انہیں میں نے جی بھر کر سراہا ہے۔ آغاز میں فرشی صاحب نے "خود کلامی ” کی طرف جو اشارہ کیا اور عارفہ جی آپ کی بدولت ہم نظم کو کرداری نظم سمجھنے اور اس کے ایک ہی آواز کے تخاطب تک پہنچے ہیں۔ یقین رکھیں کوئی کسی منطق سے الرجک نہیں ہے۔ مگر کسی اور ڈسپلن کی منطق یا اس کے امثالی استدلال پر نظم کی اپنی منطق کو تو قربان نہیں کیا جا سکتا نا، سو، آپ کے مطالعے، نظم فہمی اور لگن کے اعتراف کے ساتھ، میں نے اس لیے اس باب میں تھوڑا سا اختلاف کرنے کی جسارت کی تھی اور یاد رہے نظم حساب کا سوال نہیں ہوتی کہ اس میں سے ہر بار ضرور ایک جواب، اور ہر بار ایک سا جواب نکلنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میرا جی کی الجھن کو تسلیم کر لیں گے تو "اس کا نتیجہ کیا بر آمد ہو گا؟وہی ڈھاک کے تین پات !” اور اس پر یہ اضافہ فرمایا کہ "جہاں بحث کے آغاز میں یہ نظم ہمیں الجھا رہی تھی کہ شاعر کے بیانات بے ربط اور باہم متناقض کیوں ہیں ؟اگر اس کا جواز یہ تسلیم کر لیا جائے کہ’شاعر بعض اوقات اپنے اندر اٹھنے والے لاجیکل اور ال لاجیکل سوالات سے الجھتا رہتا ہے اورکسی فیصلے پر نہیں پہنچ پاتا۔۔۔” تو۔۔۔ اعتراض تو یہ ہے کہ لاجیکل(منطقی) سوال سے تو کسی نتیجے یا فیصلے تک پچنا ممکن ہے کیا ال لاجیکل سوال سے کوئی نتیجہ سوائے ہذیان اور بے ربط گفتگو کے، کچھ اور برآمد ہو سکتا ہے۔ ” اس باب میں مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ جی، ایسا ممکن ہے۔ سارا مشرقی ادب یہ بتاتا ہے کہ محض لاجک ہمیں کسی ایسے نتیجہ پر نہیں پہنچا سکتی جسے تخلیقی سرشاری سے تعبیر دی جاتی ہے (بلکہ بعض اوقات تو مشرقی والا لفظ بھی اضافی ہو جاتا ہے )اور یقین کیجئے ایک باکمال شاعر اپنے ہذیان اور وقتی الجھاووں کو بھی شاعری بنا سکتا ہے مگر بہت زیادہ منطقی ہو کر شاعری نہیں کی جا سکتی، خیر اس طرح پہاڑے ضرور لکھے جاستے ی ہیں۔ دو دونی چار۔ جنہیں جھوم جھوم کر گایا جا سکتا ہے۔ بلکہ یوں تو انبار بھی لگائے جا سکتے ہیں اور لگائے جا رہے ہیں۔

 جناب صدر ! میں اپنی تئیں یہ گماں کیے بیٹھا ہوں کہ ہم لگ بھگ میرا جی کے پورے تخلیقی وجود کو دیکھنے کے قابل ہو گئے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ میرا جی کی "یگانگت” میں ایک الجھاوا ہے جسے منطق سے کھولنے کے جتن ہوئے، پیرا ڈاکس کے کھاتے میں ڈالا گیا، نظم کے متکلم کو دو حصوں میں بانٹ کر اس میں سے ایک حصے کو ماورا سے جوڑا گیا، اور نظم سرئیلسٹ تکنیک کا نمونہ بھی بنی مگر ظفر صاحب لگ بھگ سب کو ایک نقطہ پر لے آئے ” شعور کی رو کی تکنیک” والے نقطہ پر۔ نقطہ نہیں نکتہ۔۔ اور یہ ایسا نکتہ ہے کہ اس پر پہنچانے سے پہلے انہوں نے اس تیکنیک کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ اس میں "خیالات کی گاڑی کبھی بھی انجن کے پیچھے پیچھے افق میں گم ہوتی ہوئی سیدھی پٹری پر نہیں چلتی بلکہ ڈبے ایک دوسرے کو ٹکر مارتے، الٹتے، گرتے، اور ٹیڑھی میڑھی پٹریاں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ایک دوسری کو کاٹتی، اوورٹیک کرتی ہوئی، یا گراموفون کی اٹکی سوئی کی طرح اپنے آپ کو دہرائے چلی جاتی ہیں۔ "

 تو صاحب یہ بات خوش آئند ہے کہ اب ہم ان الجھنوں کی رمزوں کو جاننے میں جت گئے ہیں جنہیں ہم وہاں موجود ہونے کو تسلیم ہی نہیں کر رہے تھے۔ میرا جی ” یگانگت” جیسی نظموں میں ، انہیں ان کے پورے تخلیقی تناظر میں رکھ کر، کیا کوئی مربوط فکری نظام بنا پائے ہیں ، اور اگر راشد کی طرح ان کے ہاں بھی کچھ الجھنیں ہیں تو نئی نظم کے ان بنیاد گزاروں کے راستے میں وہ کہاں کہاں مزاحم ہوئیں اور یہ الجھنیں ان کے تخلیقی وجود کی قوت کیسے ہو گئیں یہ سوالات اور ان جسے کئی اور سوالات فی الحال ادب کے طالب علموں کے سامنے رہیں گے کہ ان پر ڈھنگ سے بات ہونا ابھی باقی ہے۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر! حمید شاہد صاحب میرے محترم ہیں سوال اور نقطہ اعتراض اٹھانے کا حق بحث میں تسلیم کیا جانا چاہیے اسے برہمی پر کیوں محمول کیا جاتا ہے ! میرے محترم !جناب حمید شاہد صاحب!آپ کی حوصلہ افزائی کی تو میں ممنون احسان ہوں کہ آپ جیسے سینئرز کی برداشت کی بدولت ہی ہم نو آموزوں کو جرات اظہار ملتی ہے اور سیکھنے کا موقع بھی! مجھے بخوبی احساس ہے اور تھا کہ آپ کو نظم کی تفہیم کے میرے منطقی طریق کار ہی پر اعتراض ہے !سومیں نے اس کے حق میں  چند سوالات اٹھاۓ تھے آپ کے بیان پر !کہ مباحث کو مہمیز اسی انداز میں لگتی ہے بصورت دیگر آمنا صدقنا کا رویہ آپ بھی جانتے ہیں مباحث کے حق میں زہر قاتل ہوتا ہے !جس کا نتیجہ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے سوا کچھ نہیں نکلتا اور ظاہر ہے اس وتیرے سے نظم کی تنقیدو تفہیم کے مرحلے کس حد تک طے ہوتے ہیں یہ سب جانتے ہیں ! جناب صدر!محترم حمید شاہد صاحب شکوہ کناں ہیں کہ فرشی صاحب نے ان کے بیان سے  غلط نتیجے کا استخراج کیا ہے یہی گلہ مجھے ان سے لاحق ہو گیا ہے :)کہ سعادت مند جونئیرز ہمیشہ اپنے سینئیرز کے نقش قدم پر چلا کرتے ہیں !:)(محترم حمید

 شاہد صاحب !اب خدارا میری اس بات کو برہمی نہ جانیے گا کہ یہ میں نے اپنے  تئیں شگفتگی کی کوشش فرمائی ہے میں اس میں ناکام ہوئی ہوں تو ہر اچھے  مسلمان کی طرح اس کا ذمہ دار روزہ لگنے کو ٹھہراؤں گی!)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!جب ہم کہتے ہیں کہ نظم کی اپنی منطق ہوتی ہے تو یقیناً اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہر نظم اپنے اسلوب اور پیش کش کی تکنیک کی تفہیم کے لیے الگ تناظر کی متقاضی ہوتی ہے جو اس نظم کی بنت ہی سے مخصوص ہوتا ہے !اب اس نظم کی اپنی منطق کیا ہے ؟اس کی تفہیم ہی تنقید کا فرض منصبی ہے جس کی ادائیگی کے لیے وہ علوم سے اعانت حاصل کرتی ہے سو جناب نظم کی اپنی منطق سے کسے انکار ہے ؟مگر اس منطق تک رسائی ہی تو تنقیدی مباحث کے پس پشت کارفرما محرک ہے !(جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر !جب ہم اس نظم کی تنقیدی تفہیم کے لیے علم منطق سے معاو نت لیتے ہیں تو مراد یہ ہرگز نہیں کہ پوری نظم منطق کے حسابی فارمولے کے تحت لکھی گئ ہے !موقف محض اتنا ہے کہ نظم کا واحد متکلم جسے غیر معروضی کردار فرض کر لیجیے یا خود شاعر سے تعبیر کیجیے، ہر دو صورت میں ، اس کی خود کلامی پر مشتمل بیان میں جتنے سوالات اٹھاۓ گئے ہیں وہ سب منطقی ہیں یا یوں کہ لیجیے واحد متکلم منطقی نقطۂ نظر سے زمانے، انسان اور حوادث کائنات پر سوال اٹھا کر جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے سو اس کے ذہن تک رسائی کے لیے اور یہ جانچنے کے لیے کہ اس کے سوال متناقض ہیں یا منطقی ربط سے بغیر الجھاوے کے آگے بڑھ رہے ہیں ؟ لامحالہ علم منطق کے تعقلاتی حسابی فارمولے کو بروۓ کار لانا پڑتا ہے !اس سے یہ مراد نہیں لی جانی چاہیے کہ پوری نظم کو منطق کے کھانچے پر چڑھا دیا گیا ہے !

 میری عرضداشت تو محض اتنی ہے کہ نظم کی تنقیدی تفہیم کے لیے کوئی بھی ڈسپلن بروۓ کار لایا جا سکتا ہے تو پھر لاجیک (منطق) کا ڈسپلن کیوں نہیں جب کہ ہم نظم کے واحد متکلم کی منطقی ذہنی ساخت کی تفہیم سے نبرد آزما ہوں !(جاری)

عارفہ شہزاد: جناب صدر!تنقید جب کسی بھی ڈسپلن کو بروۓ کار لاتی ہے تو یہ دراصل نظم کی اس اپنی منطق تک ہی رسائی کے لیے کوشاں ہوتی ہے چناں جہ نظم کی اپنی منطق کی قربانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!

 جناب حمید شاہد صاحب! آپ کی یہ دلیل دل کو لگتی ہے کہ شاعر بعض اوقات ال لاجیکل سوالوں کو بھی شاعری میں ڈھال لیتا ہے تسلیم جناب!میں اپنی راۓ واپس لی! مگر جہاں تک سوال اس نظم کا ہے اس نظم کا واحد متکلم آغاز میں حیات و کائنات کے مسائل پر منطقی سوالات اٹھا کر(غیر منطقی ہرگز نہیں ) جواب تلاشنے کے عمل سے گزر رہا ہے مگر اس منطقی ذہن کا نتیجہ الجھے بیان کی صورت نکلتا ہے کہ

 یہ کیسے کہوں میں

 کہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں  آ کر ملے ہیں

 مگر یہ بیان بھی اپنی نہاد میں "تجاہل عارفانہ ” کی تکنیک سمیٹے ہوۓ ہے !بصورت دیگر میرا جی کا ذہن بالکل واضح ہے کہ مشاہدہ منطق کے برعکس ہے اور جدید منطقی نظریے law of included middle کی روشنی میں تو پھر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس نظم کو منطق سے کہیں جاۓ پناہ نہیں !مگر یہ محض ایک زاویہ نگاہ ہے !

 جناب ظفر سید صاحب نے شعور کی رو کی تکنیک کی طرف توجہ دلا کر یقیناً اہم ترین زاویہ پیش کیا ہے ! جس پر مزید بات ہونی چاہیے

محمد حمید شاہد: جناب صدر!

 "شاعر سے بات چیت” کے عنوان سے ترجمہ ہو کر "محراب آسماں ” کا حصہ بننے والی نظم یاد آ گئی ہے جس کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ جدید سربرآوردہ چیک شاعرمیروسلادہولب سے، انہوں نے یہ نظم جنوری 1989میں بھوپال میں منعقد ہونے والے عالمی شاعری کے میلے میں سنی تھی۔ شاعر انگریزی جانتا تھا لہذا اس نے خود ہی اس کا انگریزی ترجمہ کیا جسے بعد میں فاروقی صاحب نے اردو میں منتقل کر دیا۔ نظم میں شاعر سے مکالمہ کے ذریعہ تخلیقی عمل کے بھید کھولے گئے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اس کی آخری سطر ہمیں ناقد کے منصب کی بابت سوچنے پر اکساتی ہے۔

 "تم شاعر ہو؟

 ہاں بالکل۔

 تمہیں کیسے معلوم کہ تم شاعر ہو؟

 میں نے شعر لکھے ہیں۔

 اگر تم نے شعر لکھے ہیں تو اس کا مطلب

 یہ ہے کہ تم شاعر تھے۔ مگر اب؟

 میں پھر کسی دن شعر لکھوں گا۔

 اس کے معنی یہ ہوئے کہ تم پھر کسی دن

 شاعر ہو گے۔ لیکن تمہیں

 یہ کیسے پتہ چلے گا کہ جو تم نے لکھا، وہ شعر ہے ؟

 میرا یہ شعر بالکل میرے پچھلے اشعار کی طرح

 ہو گا۔

 تب تو یقیناً وہ شعر نہ ہو گا۔ شعر تو

 بس ایک بار ہوتا ہے، دوسری بار پھر

 وہ چیز نہیں ہوسکتی۔

 مجھے یقین ہے کہ میرا اگلا شعر بھی پچھلے ہی شعر جتنا اچھا ہو گا۔

 تمہیں کیسے معلوم ؟ کسی شعر کی خوبی بھی بس ایک

 بار ہوتی ہے، اور اس کا بھی انحصار

 تم پر نہیں بل کہ حالات پر ہوتا ہے۔

 مجھے یقین ہے کہ حالات بھی پہلے ہی جیسے

 ہوں گے۔

 اگر یہ تمہارا یقین ہے، تو تم شاعر نہ بن سکو گے اور نہ پہلے

 ہی کبھی تم شاعر تھے۔ پھر تمہیں کیوں یہ خیال ہے

 کہ تم شاعر ہو؟

 خیر، مجھے ٹھیک ٹھیک نہیں معلوم،

 اور تم کون ہو؟”

 (آسماں محراب/شمس الرحمن فاروقی)

،۔۔۔ اور تم کون ہو؟ یہ آخری والا سوال ہم سے ہے، ہم جو اس مکالمہ کے ذریعہ دراصل شاعر سے مکالمہ کر رہے۔

 چوں کہ مجھے اب کچھ نہیں کہنا۔ عارفہ صاحبہ کو حق ہے کہ اپنا ایک نقطہ نظر رکھیں۔ ایسے میں ، میں اگر کچھ کہوں گا تو خود کو دہراتا چلا جاؤں گا مثلاً”لا آف انکلوڈڈ مڈل” والی بات کی ضمن میں سٹیفن لوپاسکو والی ” لاجک آف انکلوڈڈ مڈل ” والا نوٹ۔ ہم اپنے اپنے وسیلے سے نظم کی طرف بڑھے ہیں۔ مجھے یہیں میرا جی کا فرمایا ہوا بھی یاد آ رہا ہے، تلاش کر کے اصل الفاظ لکھنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔۔

 لیجئے یہ رہے :

 ” 0 نظم بامعنی ہوتی ہے کہ نہیں ؟

 0 نظم کے معنی اس کے اندر ہوتے ہیں یا باہر؟

 0 نظم کے موضوع کو اس کے معنی کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ؟

 0 نظم کے ذریعے ہمیں علم حاصل ہوتا یا تجربہ؟

 0 اگر تجربہ، تو اس تجربے کو کسی طرح کا علم(یعنی معلومات جس کی روشنی میں عام احکامات لگائے جا سکیں) کیوں نہیں کہہ سکتے ؟

 0 اگر نہیں تو کیا نظم میں جو کچھ بیان ہوتا ہے اس کا سچ ہونا بھی ضروری نہیں ؟

 0 اور اگر نہیں تو پھر نظم کے صحیح پن (ویلڈیٹی) کے لیے ہمارے پاس کیا دلائل ہیں ؟

 0 پھر جو بات بیان ہوتی ہے کیا وہ بات اور نظم کا لفظی بیان ایک ہی حکم رکھتے ہیں ؟ وغیرہ۔ "

 جناب صدر!

 اب میرا جی کے ان سوالات کو (ہم جو اس کی نظم کی تفہیم کے کھیکھن کر رہے ہیں ) اپنے لیے تبدیل کر کے دیکھ لیتے ہیں :

 0 ” نظم کو ہر صورت میں بامعنی دیکھا جانا چاہئیے کہ نہیں ؟

 0 نظم کے معنی کو اس کی لفظیات میں تلاش کیا جائے، اس کی بنت میں یا پھر مکمل ہونے کے بعد جو معنی باہر چھلک پڑتے ہیں ؟

 0 نظم کے موضوع ہی میں کیا اس کے معنی ہیں ، یا جو کیفیت نظم سے برآمد ہوتی ہے وہ معنی متشکل کرے گی؟

 0 نظم کے ذریعے ہمیں جو علم حاصل ہوا کیا وہ نظم فہمی کی بنیاد بنے گا یا وہ علم کے ڈسپلنز جو ہمارے پاس ہے ؟

 0 نظم نگار کا تجربہ ہماری نظم فہمی میں کو ئی وقعت رکھتا ہے یا ہمارا اپنا تجربہ اس کے معنی متعین کرے گا؟

 0 اگر نظم نگار کا تجربہ کی کچھ قیمت اور وقعت ہے تو اس تجربے کو ہم اپنے علم کے مقابل لاتے ہوئے کون سا قرینہ اپنائیں ؟

 0 ہم اپنے علم، معلومات، فارمولوں ، تھیوریوں (لسانی، سائنسی، فلسفیانہ) کو نظم پر منطبق کریں گے یا نظم کو اپنے علم اور تھیوریز پر ؟

 0 اپنے علم کے اس اطلاق کی مہم میں نظم کے کچھ حصے ان چھوئے رہ جاتے ہیں یا پھر مربوط نہیں ہوتے تو کیا کیا جانا چاہئیے ؟

 0 یہ بھی ممکن ہے کہ نظم مربوط ہو جائے مگر علم اور تھیوریز کا ایک حصہ ان چھوا رہ جائے جو معنی کو ایک اور جانب دھکیل سکتا ہو، تو ایسے میں کیا ہو گا؟

 0 نظم کا سچ کیا عام زندگی کے سچ کے ترازو میں تول کر دیکھنا ہو گا یا اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے ؟

 0 اور اگر نظم کے سچ میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، تو اسے کس معیار پر آنکا جائے گا ؟ یہ معیار نظم کے متن میں ہو گا کہ باہر؟

 0 اور آخر میں میرا جی ہی کے لفظوں میں کہ” جو بات بیان ہوتی ہے کیا وہ بات اور نظم کا لفظی بیان ایک ہی حکم رکھتے ہیں ؟”

 جناب صدر !

 میرا خیال ہے اگر ہم ان سوالات کے مقابل ہوتے رہیں گے تو شاید ہم نظم فہمی کے باب میں کچھ قدم اور اٹھا پائیں گے۔

اشعر نجمی: یقین جانیے، میں خود کو نہایت ہی خوش نصیب تصور کر رہا ہوں کہ مجھے "حاشیہ” کے ایک ایسے اجلاس کی صدارت کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے جس میں میراجی اور ان کے حوالے سے نظم فہمی پر اس قدر جامع اور متنوع گفتگو ہو رہی ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں میں ممکن نہ ہو پائی تھی۔ میرے خیال میں میراجی کی قدر و قیمت کا تعین جب بھی کیا جائے گا، "حاشیہ” کے اس اجلاس سے صرف نظر کرنا مشکل ہو گا۔ اس لیے میری رائے میں یہ گفتگو چلتی رہنی چاہیے۔ اس بار ہم عید کی نماز میراجی کے ساتھ ہی پڑھیں گے اور سوئیاں بھی ان ہی کے ساتھ کھائیں گے۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر، اس کی ایک ہی صورت ہے کہ، وہ لوگ جو چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں وہ یہ روزہ توڑ دیں۔ بہ صورت دیگر آپ کو صدارتی خطبہ عطا کرنا چاہئیے۔ میراجی پر کسی اور عنوان سے بھی مکالمہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے مگر کسی اور نشست میں۔ اس طرح اس بھر پور نشست کا لطف بحال رہے گا۔

اشعر نجمی: کیا خیال ہے ارباب حاشیہ کا اس بارے میں ؟ اس مکالمے کو جاری رکھا جائے یا یہیں ختم کر دیا جائے؟  آپ لوگوں کا جو متفقہ فیصلہ ہو، میں اس پر عمل کرنے کو تیار ہوں۔ ظفر سید صاحب! آپ کیا کہتے ہیں؟

ظفر سیّد: اب جب کہ میرا جی کی نظم پر کم اور عمومی شعریات پر زیادہ گفتگو ہو رہی ہے، اس لیے میری رائے میں بحث کو اسی "خوب صورت موڑ” پر سمیٹ لیا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا۔ عید کے بعد احباب جب تازہ دم ہو جائیں تو پھر کسی نئی نشست کا آغاز کر دیا جائے گا۔

اشعر نجمی: بہتر ظفر صاحب! لیکن مجھے اس متنوع اجلاس کو سمیٹنے کے لیے کچھ وقت لگے گا۔ اگرچہ اب میرے پاس کہنے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے لیکن رسم تو پوری کرنی ہی ہو گی۔ شکریہ۔

اشعر نجمی: خواتین و حضرات! میں اپنی اس خوش نصیبی کا پہلے ہی اعتراف کر چکا ہوں کہ مجھے "حاشیہ” کے ایک ایسے اہم اجلاس کی صدارت کا شرف حاصل ہوا جس میں میراجی کی صرف ایک نظم کے حوالے سے ان کی ادبی شخصیت کے اتنے گوشے سامنے آئے جو اب تک جھوٹی سچی کہانیوں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ اجلاس میراجی کی نظموں کے تعین قدر میں حوالے کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں جب بھی میراجی پر کوئی سنجیدہ گفتگو ہو گی تو اس سے صرف نظر کرنا مشکل ہو گا۔

 اس بے نظیر اجلاس کی کامیابی کے لیے میں ان تمام ارباب حاشیہ کو مبارک باد اور شکریے کا مستحق سمجھتا ہوں ، جنھوں نے بغیر کسی تعصب اور جانب داری کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ان کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہوں گا جو کسی سبب اس اجلاس میں شرکت نہ کر پائے لیکن "لائک” کا بٹن دبا کر اپنی موجودگی اور قرب کا احساس دلاتے رہے۔ میں یہاں اس خوشگوار حیرت کا اظہار بھی کرنا چاہوں گا کہ باوجود اختلاف رائے کے، ان مختلف رایوں میں مشابہت اور مناسبت بھی پائی گئی۔ تنقید بذات خود ایک اضافی شے ہے، اگر یہ مطلق شے ہوتی تو اس میں اس طرح کے اختلافات کی گنجائش نہیں ہوتی۔

یہ اجلاس ایک” صفر "سے شروع ہوا تھا۔ جناب ظفر سید اور جناب محمد حمید شاہد کی کوششوں کے باوجود تقریباً ۱۸ دنوں کے جمود نے ہمارے اندر سانپ کی طرح پھن کاڑھنا شروع کر دیا کہ ہو نہ ہو، میراجی اپنی relevance کھو چکے ہیں۔ لیکن ٹھیک اسی وقت محترمہ نسیم سید نے اس ساکت جھیل میں پہلا پتھر پھینکا اور کچھ ایسا تاک کر پھینکا کہ صرف دائرے ہی نہیں بنے بلکہ وہ ہر آن وسیع تر ہوتے چلے گئے۔ پھر فرخ منظور صاحب نے میراجی کی زیر بحث نظم میں فکری تضادات کو نشان زد کر کے مزید سنسنی پھیلا دی۔ اب کیا تھا، چاروں طرف سے "ہل من مبارز” کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔ بطور خاص فرشی صاحب اور محترمہ عارفہ شہزاد کے میدان میں اترتے ہی جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا۔ میں نے بھی اس روایتی اصول (جس کے تحت صدر صرف خطبۂ صدارت دے سکتا ہے ) کو توڑتے ہوئے بقدر حوصلہ و استطاعت "داد شجاعت” دی اور شہادت پائی۔ یامین صاحب نے زخمیوں کی مزاج پرسی کی اور کبھی کبھی زخموں پر نشتر بھی لگاتے رہے تاکہ فاسد خون کا اخراج ہوسکے۔ خیر صاحب، اس لشکر کشی کا نتیجہ کچھ بھی نکالا جائے لیکن اتنی سی بات تو بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ میراجی اس جنگ میں منصور و مظفر رہے (اب میری سمجھ میں آیا کہ ریاضی میں "صفر” کو اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے )۔

 مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں ہے کہ اس مباحثے میں جناب محمد حمید شاہد، جناب علی محمد فرشی اور محترمہ عارفہ شہزاد کی تثلیث نے نہ صرف زیر بحث نظم کی متن کشائی اور اس کے اسرار و رموز پر سیر حاصل بحث کی بلکہ میراجی کے مجموعی شعری مزاج پر بھی کھل کر گفتگو کی، حتیٰ کہ یہ سلسلہ دراز ہوتا ہوا نظم فہمی سے جا ملا۔ میرے خیال میں یہ میراجی کے فن کا ہی اعجاز ہے کہ ہم بیک وقت اتنے متنوع موضوعات پر کلام کر پانے میں کامیاب رہے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ، مجھے اتنی طویل مبحث کا حاصل اب بھی جناب ظفر سید کا ابتدائیہ ہی نظر آتا ہے۔ آخر میں بھی انھوں نے "شعور کی رو” والا نکتہ اٹھا کر گویا اس پوری بحث کو فیصل کر دیا۔ میں ان کی نظم فہمی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے بعد میرے پاس بھی کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں رہتا لیکن مکمل بحث کو سمیٹنے کی غرض سے میں یہاں کچھ عمومی باتیں کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

شاعری میں پلاٹ کا پتہ لگانا اور اس پر عنوان کی تختی نصب کر دینا، اسے کسی قصے کی شکل میں دیکھنے کے مترادف ہے جو اس کے تمام ابعاد کو ایک دائرے میں محصور کر دینے کے لیے کافی ہے۔ میراجی کی اس نظم میں بھی یہی کوشش ہوئی اور جس کے نتیجے میں فکری تضادات کے قضیے اور اس کی تائید و تردید میں پوری قوت صرف ہو گئی۔ حالاں کہ شاید آپ کو یاد ہو کہ میراجی نے خود اپنی نظموں کو "اکثریت کی نظموں ” سے الگ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ "دنیا میں ہر بات ہر شخص کے لیے نہیں ہوتی، اس لیے یوں سمجھیے کہ میری نظمیں بھی صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو انھیں سمجھنے کے اہل ہوں یا سمجھنا چاہتے ہوں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہوں۔ ” اگرچہ یہاں سب اہل بھی ہیں ، سمجھنا بھی چاہتے ہیں اور اس کے لیے کوششیں بھی کیں لیکن شاید اسے محسوس کرنے میں کہیں نہ کہیں ناکام رہے۔ سمجھنے اور محسوس کرنے میں فرق ہے جس کا ادراک میراجی کو خوب تھا ورنہ وہ یہ کیوں کہتے کہ ” شاعر کسی جگہ مبہم بھی ہو جائے تو ہم اس کے تجربات اور احساسات کو سمجھے بغیر محسوس کرسکتے ہیں۔ ” ’سمجھنا ،دانشوری ہے جبکہ محسوس کرنا جذبات اور رویے کی امتزاجی لرزش پر منحصر کرتا ہے۔ لیکن اس کا یہاں یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ محض پھڑکا دینے والی اور بیک نظر متاثر کرنے والی شاعری کو اعلیٰ شاعری کا لقب عطا کیا جا سکتا ہے۔ جی نہیں ، میں نے اس ضمن میں محترمہ نسیم سید کے ایک نکتے کی وضاحت میں اپنا موقف پیش کر دیا تھا۔ عرض مدعا صرف اتنا ہے کہ شاعری میں کسی طرح کے مطلق مقداری تجزیے کی تلاش بے سود ہے۔

اگرچہ میراجی کو سمجھنے کے رہنما اصول ڈاکٹر جمیل جالبی نے بہت ہی واضح انداز میں ہمیں سمجھا دیا تھا، "سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ نظم پڑھتے وقت میراجی کی شاعری کے بنیادی تصورات و عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے مصرعوں اور لفظوں پر پنسل سے نشان لگاتے چلیے۔ نظم اور اس کے مفہوم کی دلکشی اور حسن آئینہ ہوتا چلا جائے گا۔ میں نے میراجی کو یوں ہی پڑھا ہے۔ نظم پڑھتے وقت ایک ایک مصرع پر نظر رکھنی ہوتی ہے لیکن ایک مصرعے کا دوسرے مصرعے سے ظاہری ربط تلاش کرنا غلطی ہے۔ ایک خیال یا احساس جس سے نظم شروع ہوئی، ایک دم ایک لکیر سی بنا کر غائب ہو جاتا ہے اور پھر خیال یا احساس اس لکیر کے ساتھ جُڑ کر اسے آگے بڑھاتا ہے۔ بعض اوقات نظم کی ذرا سی ترتیب بدلنے سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ ” میں اس طرح کی کوششوں کو لاحاصل نہیں گردانتا۔ اگر اس طرح کی کوششوں سے کسی فن پارے کے افہام و تفہیم میں راہیں کشادہ ہوتی ہوں اور وہ ہمیں مزید فرحت اور مسرت بخشتا ہو تو کون کمبخت ان ذرائع کی اہمیت اور افادیت سے انکار کرے گا۔ عارفہ شہزاد نے بھی ارسطالیسی منطق کے فارمولوں کے ذریعہ یہی کوشش کی اور مجھ جیسے کوڑھ مغز تک بھی اپنی بات پہنچانے میں کامیاب رہیں۔ کل تک لوگوں کو لگتا تھا کہ ادب اور ریاضی کے درمیان کافی فاصلہ ہے لیکن انسان کی مہم جو طبیعت نے آج اس کا بھی ابطال کر دیا۔ اب تو باقاعدہ علم ریاضی اور ادب کے سرچشمے کو بھی ایک قرار دے دیا گیا ہے، حتیٰ کہ ریاضی کے فارمولوں کے ذریعے ادب کو سمجھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بڑے دلچسپ نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ خود ہمارے یہاں کرامت علی کرامت جیسے نقاد ہیں جنھوں نے ان دو نوں ڈسپلن کو ایک کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ چنانچہ میں ایسی کوششوں کو خارج نہیں کرتا بلکہ انھیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ لیکن یہ ساری کوششیں فن پارے کو "سمجھنے ” کے لیے ہیں ، نہ کہ ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے۔ یہاں میں اس بات پر زور دوں گا کہ کوئی ضروری نہیں کہ چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے انھیں ” سمجھنا "بھی ضروری ہے۔ "سمجھنا” بذات خود اضافی شے ہے جسے میں ثانوی درجہ دیتا ہوں۔ علم ریاضی میں ہی کلاسیکل جیومیٹری Play Fair’s Axiom پر قائم ہے لیکن اس موضوعے کو غلط تصور کرنے پر کلاسیکل جیومیٹری کے تمام اصول بدل جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئی قسم کی جیومیٹری وجود میں آتی ہے۔ نیوٹن کے "خط مستقیم ” کو آئنسٹائن کے "نظریۂ اضافیت” نے غائب کر دیا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ نظریۂ اضافیت حرف آخر ہے، ممکن ہے کہ کل کوئی اسے بھی ناقص اور نامکمل قرار دے دے۔ شاید اسی دور اندیشی کے سبب محمد حمید شاہد صاحب نے شعر کی "اپنی تخلیقی منطق” پر زور دیا کہ اسی اسم اعظم سے یہ قفل ابجد کھولا جا سکتا ہے۔

ایک اور بات کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یہاں وزیر آغا کی کہی اس بات کو بار بار دہرایا گیا جس کے تحت انھوں نے میراجی کو اس ’ ’ریلوے جنکشن” سے تعبیر کیا تھا جہاں لائنیں ایک دوسرے کو کاٹتی، ایک دوسرے سے ملتی اور پھر جدا ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ لیکن میں یہاں نہایت ہی معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس اقتباس کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہے۔ دراصل وزیر آغا نے اپنے ایک مضمون میں اختر شیرانی، اقبال اور فیض کو ریلوے ٹرمینس کی طرح بتاتے ہوئے اس کے امتیازی وصف کی جانب اشارہ کیا تھا کہ یہ مسافر کو کسی اور منزل کی طرف جانے کے لیے راغب نہیں کرتا بلکہ راستوں کو مسدود اور بند گلی کا سا منظر لا کھڑا کرتا ہے۔ اس کے برخلاف میراجی کو انھوں نے ریلوے جنکشن کی طرح قرار دیا۔ اور اب اس پس منظر میں ان کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں تو وزیر آغا کا پورا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔

 "ان تینوں کے برعکس میراجی ایک ریلوے ٹرمینس کی طرح نہیں بلکہ ایک بہت بڑے ریلوں کے جنکشن کی مانند تھا اور یہاں سے متعدد لائنیں مختلف اطراف سے نکل گئی تھیں ، ریلوے ٹرمینس صرف ماضی سے وابستہ اور بیک وقت کئی سطحوں پر موجود ہوتا تھا اور ایک جہتی سوچ (One Track Mind) کا غماز ہے۔ جب کہ جنکشن کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ یہ مستقبل سے وابستہ اور بیک وقت کئی سطحوں پر موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میراجی کے کلام کو آسانی سے گرفت میں لینا مشکل ہے کہ یہاں لائنیں ایک دوسرے کو کاٹتی، ایک دوسرے سے ملتی اور پھر جدا ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ گویا ایک کھٹالی میں ہیں۔ کوئی بات بھی تکمیل کی حامل نہیں۔ اس کی شعری زبان کو لیجیے تو نظم و ضبط سے عاری ہے، تصورات کو دیکھیے تو نئے نئے ماخذ کا پتہ دیتے ہیں ، افکار کو جانچیے تو ایک عجیب سی آویزش کا احساس ہوتا ہے۔ زبان کی شکست و ریخت، تصورات کی فراوانی اور افکار کی مبہم پرچھائیں۔۔۔یہ ہیں میراجی۔ "

میں فرشی صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ میرا جی کے پیش کردہ ہر تجربے کو انھی کی ذات کا عکس سمجھ لیا گیا۔ اگرچہ فرشی صاحب نے یہ بات مختلف انداز میں کہی لیکن یہ حقیقت ہے کہ میراجی کا انوکھا اسلوب جس سے اردو کی رسمی شاعری نامانوس تھی، ان کے بارے میں قاری کو ان کے وسیع ثقافتی اور جذباتی پس منظر سے الگ کر کے قطعی نتائج تک لے جانے کی ذمہ دار ثابت ہوئی ہے۔ اگر جسم یا جنس، میراجی کے ترجیحی موضوعات تھے بھی تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ میراجی نے جسم اور روح کے سنجوگ یا جسم کو روح بنا کر اس کی عبادت کرنے کا ذکر بار بار کیا ہے۔ یہ دراصل جسمیت کو زیادہ با معنی اور عمیق بنانے کا عمل ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ مہذب انسان کو فطری انسان بنا کر دیکھنے کی کوشش ہے۔ چنانچہ میراجی اپنے پیچیدہ اور پراسرار تجربوں کو نئے لسانی ڈھانچوں کے بغیر منکشف ہی نہیں کرسکتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں خود سے باتیں کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ لیکن یہ خود کلامی بھی یک رخی نہیں بلکہ انھوں نے زندگی کے تماشے میں شریک دوسرے کرداروں کی حقیقت کا بیان بھی اسی لہجے میں کیا ہے، جہاں شاہد کی نظر مشہود کی داخلی اور خارجی ہئیت کے تعین پر اثر ا نداز ہوتی ہے اور مشہود کا تاثر شاہد کی نفسی اور حسی صورت حال میں تبدیلیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا میراجی کی خود کلامی کی تکنیک سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ہر تجربہ ان کی سوانح کا حصہ تھا، کوئی جواز نہیں رکھتا۔

 آخر میں ایک بار پھر اجلاس کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس کی کامیابی کا سہرا انھی کے سر بندھتا ہے اور میرے ساتھ شاید میراجی کی روح بھی انھیں عید الفطر کی مبارک باد پیش کر رہی ہے۔ شکریہ۔

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید