FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

نسیم کربلا

 

 

 

مرتبہ نسیم عباس نسیمی

 

 

 

 

واقعہ کربلا، پیغام اور سبق

 

کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں ان میں بہت سے پیغامات اور پہلو نظر آتے ہیں۔ واقعہ کربلا کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے تپتے میدان میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پیغمبر اسلام کی سنت کو زندہ کیا۔ بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانۂ جاہلیت کے نظام کو رائج کیا جائے۔ یہ بات امام علیہ السلام کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ “میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔ بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) اور اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔ ”

بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی ہوئی اسلامی نقاب کو الٹ دیا، تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں اور مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے فریب کار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا۔ آپ نے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ : اے اللہ! میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہوں اور یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اچھی باتوں عمل نہیں کیا جا رہا ہے اور برائیوں سے روکا نہیں جا رہا ہے اور اسی چیز کو روکنے کے لیے امام علیہ السلام اٹھ کھڑے ہوئے۔ آج بھی یزیدی فکر دنیا میں رائج ہے اور پروان چڑھ رہی ہے اور یہ حسینیت کا تقاضا ہے کہ حسینی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اچھائیوں کو رائج اور برائیوں کو ختم کر کے معاشرے کو ایک حقیقی اصلاحی معاشرہ بنا دیں کہ جہاں کوئی طاقتور کسی کمزور پر ظلم نہ کر سکے جہاں برائی کو اچھائی پر ترجیح نہ دی جائے۔

امام حسین علیہ السلام نے اپنی عظیم قربانی سے دنیا والوں کے سامنے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ حقیقی مسلمان کون ہے اور تھوڑے سے دنیوی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے کس نے اسلام اور دینداری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروں اور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی معاشرہ اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگاسکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کو پرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دنیا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تو دیندار کم نکلتے ہیں۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جو آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدم رہے اور دنیوی مفادات کے لیے اپنی آخرت کو خراب نہ کر دے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت و آزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کر لیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ : ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میں ذلت کو قبول کرنے والا نہیں ہوں۔

امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبر اکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر رہا ہو، تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی قربانی بھی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں، بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کر دینا چاہئے۔

جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے، کربلا کے میدان میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، تاکہ لوگوں میں جذبۂ شہادت زندہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ : میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔

جو چیز عقیدے کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میں یہ ہی کیا، کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہئے۔

 

جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو:

 

کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔

کربلا، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ “حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے۔ ” جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق کا دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے دشمن ہیں لیکن آفرین ہے آپ کے ساتھیوں پر کہ جنہوں نے امام کا یہ بات سننے کے بعد تلواریں اپنی گردنوں پر رکھ لیں اور کہا کہ اے آقا ہمیں مر جانا منظور ہے لیکن آپ کو تنہا دشمنوں کے نرغے میں چھوڑ جانا کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے۔

کربلا، تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و وعظ و نصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام پوشیدہ ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا، تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک، اپنے نتیجہ کو حاصل کر کے نجات بخش بن سکے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ صرف مسلمان ہی نہیں غیرمسلم بھی امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

 

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین

چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسین

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کربلا باطل کے خلاف جہد مسلسل

 

آج بھی اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ کربلا کے تاریخی واقعہ کو کیوں اس قدر اہمیت دی جاتی ہے جبکہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے اس کے مشابہ اور واقعات بھی موجود ہیں ؟کیا وجہ ہے کہ ہر سال اس واقعہ کے اجتماعات گزشتہ سال سے بھی زیادہ پر شکوہ انداز میں منائے جاتے ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ بنی امیہ جن کو ظاہری فتح ہوئی ان کا نام و نشان تک باقی نہیں لیکن واقعہ کربلا نے ایسا ابدی رنگ اختیار کر لیا ہے کہ لوگوں سے فراموش نہیں ہوتا ؟یہ سوالات اور ان سے ملتے جلتے سوالات کا واقعۂ کربلا اور اس کے اہداف و مقاصد میں غور و فکر کرنے سے جواب مل جاتا ہے اور اس مسئلہ کا تجزیہ و تحلیل خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو تاریخِ اسلام سے واقف ہیں اتنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل نہیں۔

واقعہ کربلا دو سیاسی پارٹیوں کی اقتدار یا مال و دولت اور زمین وغیرہ حاصل کرنے کے مسئلے پر جنگ نہیں تھی۔ یہ واقعہ دو گروہوں اور دو قبیلوں کی ذاتی دشمنی کے باعث رونما نہیں ہوا۔ یہ واقعہ دو فکری و عقیدتی مکاتب کا مقابلہ تھا یا در حقیقت حق و باطل کی جنگ تھی جو ابتدائے تاریخ بشریت سے جاری تھی اور ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ یہ مقابلہ اور جنگ تمام پیغمبروں اور تمام اصلاح پسند افراد کی جد و جہد کی ایک کڑی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ واقعہ جنگِ بدر و احزاب ہی کے مقاصد کی تکمیل کا ایک حصہ تھا۔ یہ بات واضح و روشن ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلوآلہ و سلم نے بشریت کو بت پرستی یا خرافات اور جہالت و گمراہی سے نجات دلانے کے واسطے فکری و اجتماعی انقلاب کی رہبری کے لئے قدم اٹھایا اور حق پسند افراد کو اپنے ارد گرد جمع کیا تو اس وقت اس اصلاحی تحریک و قیام کے مخالفین نے متحد و منظم ہو کر اس آواز کو خاموش کرنے کی خاطر اپنی تمام تر کوششیں شروع کر دیں۔ ان اسلام و انقلاب دشمن عناصر کی باگ ڈور بنی امیہ کے ہاتھ میں تھی مگر ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود عظمتِ اسلام کے سامنے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا اور ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ان کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ پوری طرح ختم ہو گئے تھے بلکہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ ظاہری طور پر اس انقلاب کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تو انہوں نے ہر ناکام اور ضعیف دشمن کی طرح اپنی ظاہری و آشکارا کوششوں کو پسِ پردہ اور خفیہ صورت میں شروع کر دیا اور مناسب وقت و فرصت کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد بنی امیہ نے لوگوں کو زمانۂ جاہلیت کی طرف لے جانے کے لیے حکومت اور حکومتی عہدوں میں نفوذ پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی اور مسلمان زمانۂ پیغمبر صلہ و آلہ و سلم سے جس قدر دور ہوتے گئے بنی امیہ کے لیے مناسب موقع فراہم ہوتا گیا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد تقوی اور علمی، اخلاقی اور معنوی لیاقت کے بجائے رشتہ داری اور قوم و قبیلہ، حکومتی عہدوں کے لیے معیار بن گیا اور بعض خلفاء کے زمانے میں حکومتی عہدوں کو خلفاء کے رشتہ داروں اور قوم و قبیلے میں تقسیم کیا جاتا تھا، اسی اثناء میں بہت سے ایسے لوگ عہدوں پر فائز ہو گئے جو اپنے دل میں اسلام کے لیے بغض و عناد رکھتے تھے اور انہوں نے لوگوں کو زمانۂ جاہلیت کی طرف واپس لے جانے کی کوششیں شروع کر دیں یہ کوششیں اس قدر شدید تھی کہ حضرت علی علیہ اسلام جیسی پاک ترین شخصیت کو بھی اپنی خلافت کے دوران انہی منافقین اور اسلام دشمن عناصر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اسلام دشمن سازش اس قدر آشکارا تھی کہ خود اس کے رہبر بھی اس کے غیر اسلامی اور اسلام دشمن ہونے پر پردہ نہ ڈال سکے۔ بلکہ ان کے اپنے بیانات سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے اہداف و مقاصد کیا تھے۔ اور وہ اسلام سے کس قدر محبت رکھتے تھے۔ جیسے بنی امیہ کے سب سے معتبر شخص کا بنی امیہ اور بنی مروان کے پاس خلافت منتقل ہونے کے بعد پوری بے شرمی اور ڈھٹائی سے یہ عجیب و غریب جملہ کہنا۔ ”اے بنی امیہ، کوشش کرو کہ حکومت کو ایک ہاتھ میں لے لو۔ اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بہشت و دوزخ کا وجود نہیں اور محمد (صلو آلہ و سلم ) کا قیام ایک سیاسی چال تھی۔ ‘‘یا شام کے گورنر کا عراق پر قبضہ کرتے وقت یوں اپنے خیالات کا اظہار کرنا”اے لوگو! میں اس لئے نہیں آیا کہ تم لوگ نماز پڑھو اور روزہ رکھو، میں تم پر حکومت کرنے آیا ہوں جو شخص میری مخالفت کرے گا اس کو ختم کر دوں گا‘‘ اور یزید لعین کا شہداء کے سروں کو دیکھ کر یہ کہنا” اے کاش آج میرے بزرگان زندہ ہوتے، جو جنگِ بدر میں مارے گئے اور دیکھتے کہ میں نے کس طرح بنی ہاشم سے بدلہ لیا ہے ‘‘یہ بیانات ان کے غیر اسلامی اور اسلام دشمن اہداف و مقاصد پر بہترین دلیل ہیں اور ان کے ان بیانات سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کے دلدادہ تھے اور لوگوں کو کس طرف لے جانا چاہتے تھے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام حسین علیہ اسلام اس خطرے کے مقابلے میں خاموش بیٹھ سکتے تھے جو اسلام کو لاحق تھا اور یزید کے دور میں اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا؟ کیا خدا، پیغمبر صلو آلہ و سلم اور وہ ہستیاں جنہوں نے اپنے پاک دامن میں انہیں تربیت دی تھی، اس پر راضی ہوتیں ؟ کیا ان پر لازم نہیں تھا کہ وہ اس ظالم حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو اسلام اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑا رہی تھی۔ بنی امیہ کے مذموم اور اسلام دشمن مقاصد کو آشکارا کریں اور اپنے پاک خون سے شجر اسلام کی آبیاری کریں اور دنیا کے سانے حقیقی اسلام کا چہرہ پیش کریں۔ امام حسین علیہ اسلام نے اپنا یہ فریضہ انجام دے کر تاریخ کا رخ موڑ دیا اور بنی امیہ اور ان کے پیروکاروں کی ظالمانہ کوششوں کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا۔ یہ ہے قیامِ حسین علیہ اسلام کی حقیقی صورتِ حال اور یہیں سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ نام اور تاریخِ حسین علیہ اسلام کیوں فراموش نہیں ہوتی؟ کیونکہ امام حسین علیہ اسلام اور ان کا مقصد ایک خاص زمانے اور ایک خاص عصر سے مختص نہ تھے۔ امام حسین علیہ اسلام اور ان کا ہدف و مقصد جاوداں حیثیت کا حامل تھا۔

امام حسین علیہ اسلام نے راہِ خدا و اسلام، راہِ حق و عدالت میں اور جہالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو آزاد کرانے کے لئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ کیا یہ چیزیں کبھی پرانی اور فراموش ہونے والی ہیں ؟ ہر گز نہیں۔ تو جب تک حضرت امام حسین علیہ اسلام کا ہدف و مقصد یعنی خدا، اسلام اور حق طلب انسان باقی ہیں تو اس وقت تک امام حسین علیہ کا نام اور ان کی تحریک بھی باقی ہے۔

کربلا، آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ اسلام میں جنگ کو اولیت نہیں ہے بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوں کی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہو جائے۔ اسی لئے آپ نے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں ابتداء نہیں کریں گے لیکن اگر اسلام کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو اس سے دریغ نہیں کریں گے۔

کربلا جنگ کا میدان تھا، مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کو یہاں انسانیت کا درس دیا آخری وقت تک اسلام کی زریں تعلیمات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ گمراہی کے راستے کو چھوڑ کر حق کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ خود اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ رکھا اور اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی اللہ سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں اور پھر آپ یا ایتھا النفس المطمئنۃ کا مصداق بن کر خدا کی بارگاہ میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ خدا نے آپ کے ذکر کو پوری دنیا میں عام کر دیا اور آج پوری دنیا میں ہر طرف امام حسین علیہ السلام اور ان کی تحریک کا ہی ذکر ہو رہا ہے اور جب تک اس فانی دنیا میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے کربلا کا نام اور ذکر باقی رہے گا اور دنیا کے تمام حریت پسند اسی تحریک سے جذبہ حاصل کر کے اپنے مشن کو انجام دیتے رہیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کی جنگ اور قربانی

 

امام حسین علیہ السلام 2 محرم الحرام کو حر ابن یزید ریاحی کے لشکر کے گھیرے میں سرزمین کربلا پر وارد ہوئے مورخین نے لکھا ہے دشت نینوا میں آپ کا گھوڑا چلتے چلتے خود رگ گیا آپ نے سواریاں بدلیں مگر کسی سواری نے قدم آگے نہیں بڑھایا گھوڑے سے اترے خاک سونگھی اور سمجھ گئے خاندان رسول (ص) کی یہی قربان گاہ ہے۔

بقول شاعر:

 

چلتے چلتے جور کا اسپ تو بولے حضرت نہیں معلوم کہ اس دشت کو کیا کہتے ہیں

آئی ہاتف کی ندا گھوڑے سے اترو شبیر ہے یہی دشت جسے کرب و بلا کہتے ہیں

 

امام (ع) کے سوال پر لوگوں نے اس سرزمین کے مختلف نام لئے کسی نے نینوا کسی نے ماریہ، کسی نے سقیہ کسی نے غاضریہ اور بالآخر کربلا کا نام لیا تو امام (ع) نے حضرت عباس (ع) کو حکم دیا کہ یہیں فرات کے ساحل پر خیمے لگائے جائیں، ایک طرف امام اور ان کے اعزہ و اصحاب کے خیمے اور دوسری طرف حر اور اس کی سپاہ کے خیمے لگ گئے۔ 4 محرم کو عمر ابن سعد چار ہزار یا ایک اور روایت کے مطابق چھ ہزار کا لشکر لے کر کربلا پہنچا اور سب سے پہلا حکم، نہر علقمہ سے خیام حسینی کے ہٹائے جانے کا صادر کیا، امام (ع) کے علمدار حضرت عباس (ع) نے مخالفت کرنی چاہی مگر امام (ع) نے فرمایا ہم پانی کے لئے جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہتے اور پھر نہر علقمہ سے تین میل کے فاصلے پر بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں خیام حسینی نصب ہوئے، ظاہر ہے خیموں کا نہر سے ہٹایا جانا ہی ” بندش آب ” کے مقصد سے تھا مگر جو پانی ذخیرہ کیا جا سکا وہ ساتویں محرم تک کام آیا اسی لئے روایات میں ہے کہ حسینی لشکر نے عاشور کے دن تین دنوں کی بھوک اور پیاس میں دشمنان اسلام و قرآن سے امام وقت کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کا جام نوش کیا ہے۔ 4 محرم الحرام سے 9 محرم الحرام تک کربلا میں کوفہ، بصرے، دمشق اور مصر و ایران و غیرہ سے مسلسل طور پر فوجیں اکٹھا ہوتی رہیں شیث ابن ربیع کے ساتھ تقریبا” دس ہزار تک عروہ ابن قیس کے ساتھ چار ہزار، سنان ابن انس کے ساتھ چار ہزار حصین ابن نمیر کے ساتھ چار ہزار، شمر ذی الجوشن کے ساتھ چار ہزار اور اشعث وخولی کی مانند بیسیوں سرداروں کے ساتھ ہزار ہزار کا لشکر پسر سعد کی رکاب میں موجود تھا۔ دوسری طرف سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام میں قدرت نے امامت و سپہ سالاری کے وہ اعلیٰ ترین جوہر ودیعت کئے تھے جوکہیں اور نہیں مل سکتے اللہ کے سچے نمائندوں، نبیوں اور اماموں کی خصوصیات سے آراستہ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ قیادت و سپہ سالاری کے دنیوی معیارات پر بھی آپ کی گہری نظر تھی، کوئی بھی قائد ولیڈر جماعت کی تشکیل کے لئے جب اٹھتا ہے اپنے اہداف و مقاصد اور افکار و نظریات سے قوم کو آگاہ کر دیتا ہے تا کہ ایک ہموار زمین پر جماعت تشکیل دے ورنہ جماعت، ایک بے جان بھیٹر اور بے روح اجتماع کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اچھے رہنما، دنیا میں جہاں بھی اپنے ہمفکر و ہم مقصد قابل اعتماد و وفادار افراد نظر آتے ہیں نظر میں رکھتے ہیں تا کہ ضرورت پر ان کو اپنی مہم میں شریک کر سکیں کسی ہدف کے ساتھ میدان میں آنے والے حامیوں کی تعداد پر توجہ نہیں دیتے ساتھیوں کے عزم و استعداد پر دھیان دیتے ہیں۔ تحریک جس قدر عظیم، اصول پسند اور انقلابی عزائم کی حامل ہو گی اس کے بنیادی اراکین اتنے ہی مختصر اور آہنی ارادوں کے مالک ہوں گے۔ الٰہی انقلاب ہمیشہ خطروں سے ہو کر گزرا ہے اور خطرات میں ثبات و استقامت ہرکس و ناکس کا کام نہیں ہے حریت و آزادی کی راہ میں ایک مجاہد جان و مال و آبرو اور حیثیت کی پروا نہیں کرتا راہبر اور راہ رو دونوں ضرورت پر اپنی اور اپنی اولاد تک کی قربانی پیش کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی الٰہی قائد کے عنوان سے اپنے عظیم انقلاب کے مقدمات خود فراہم کئے اپنے علم و فضل اور عمل و کردار کے ذریعہ اپنی امامت و قیادت دلوں میں مستحکم کی کہ الٰہی رہبری کے مستحق ہم ہیں۔ چنانچہ زبانی اور تحریری طور پر حمایت کا اظہار کرنے والوں کی کثرت کے باوجود امام حسین (ع) نے اپنے انقلابی ارکان کی فہرست تیار کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا۔ انقلاب کے اہم ترین رکن حضرت علی اصغر(ع) کی ولادت کے چند دنوں بعد ہی مدینہ سے نکل پڑے اور مکہ ہوتے ہوئے کربلا پہنچے اور اپنے منتخب شدہ افراد اکٹھا کئے جناب زہیرقین اور حبیب ابن مظاہر کو نصرت کی دعوت دی، مسلم ابن عوسجہ اور وہب کلبی کو راستے سے ساتھ کر لیا حر اور اس کے بھائی بیٹے اور غلام کا صبح عاشورا تک انتظار کیا اور جب سب جمع ہو گئے تو نماز صبح کے بعد جنگ کے لئے میدان میں اترے اور ایسی مہتم بالشان قربانیاں پیش کیں جن کی مثال تاریخ بشریت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ نواسۂ رسول (ص) نے سو افراد بھی ساتھ نہیں رکھے دس سال تک انتخاب در انتخاب کرتے رہے اور جن کو چن لیا ایسا بنا دیا کہ سب حسین نظر آنے لگے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد کوفہ و شام کے حالات میں تبدیلی کیوں اور کس طرح؟

 

 

تاریخ اسلام پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حسینی انقلاب کے اتمام و اکمال کی ذمہ داری سید سجاد (ع) اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے مخدرات کربلا کی معیت میں انجام دی ہے اگر اسیروں نے اپنی ہدایت و آگہی کا فریضہ بخوبی انجام نہ دیا ہوتا تو شہدائے کربلا کی محنتیں اس قدر جلدی بار آور ہونا بہت مشکل تھا واقعۂ کربلا کے دوران مصلحت پروردگار کے تحت مریض و لاغر سید سجاد نے شہادت حسینی کے بعد تقریباً 34، 35 سال تک دین اسلام اور حسینی تحریک کی جس طرح حفاظت و قیادت کی ہے اور دنیا کے تمام حریت نوازوں کو خون شہداء کی پیغام رسانی کے راز و رموز تعلیم دئے ہیں وہ کسی بھی انقلاب کی کامیابی و کامرانی کے بنیادی رکن کہے جا سکتے ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کی پھوپھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی انقلابی حکمت عملی ثبات و استقامت کے ساتھ حقائق کی افشا گری پر استوار کی اور اپنے انقلابی۔ عرفانی افکار کے ذریعہ خوابیدہ ذہنوں کو بیدار و ہوشیار کیا اور ظلم و استبداد کے ہجوم میں حقیقی اسلامی نظریات اشک و دعا کے انداز میں پیش کر کے اموی منافقین کے چہروں پر پڑے نقاب الٹ دئے اور کوفہ و شام جیسی مردہ زمینوں میں شہادت اور ایثار و قربانی کے بیج چھڑک کر اسلام و قرآن کے بلند و بالا سرسبز و شاداب تناور درخت کھڑے کر دئے۔ اسیری کے عالم میں کوفہ و شام کے در و دیوار پر اور قید سے چھوٹ کر مدینہ اور مکہ کی فضاؤں میں حسینی شہادت کے ایک ایک واقعے نقش کر دئے اور یزیدی ظلم و استبداد کے تمام غیر انسانی المیے برملا کر دئے امام حسین (ع) کی شہادت اور اہل حرم کی اسیری کے جواز میں اموی ٹکسال سے ڈھلنے والے تمام دعووں اور فتووں کے منہ توڑ جواب دے کر مظلومیت کے محاذ سے جابرانہ ملوکیت کے پڑخچے اڑا دئے اور یزیدی مجرموں کو اپنی کامرانی پر فخر و انبساط کے ماحول میں، ذلت و پشیمانی کا احساس کرتے ہوئے اپنے جرائم ماتحتوں کے سر منڈھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ معتبر روایات کے مطابق اہل حرم کو قید کر کے جس وقت کوفہ لے گئے شہر میں داخلے سے قبل ایک رات اسیروں کو بیرون شہر روک دیا گیا پسر سعد مرصع خیمے میں بیٹھ کر ساتھیوں کے ساتھ عیش و نوش میں مشغول تھا اور اہل حرم زیر آسمان بھوکے اور پیاسے بچوں کے ساتھ یہ اذیت بھری شب تمام ہونے کے منتظر تھے، صبح ہوئی تو نیزوں پر آگے آگے شہدا کے سر اور پیچھے پیچھے رسن بستہ رسول زادیوں کے ساتھ سید سجاد، سرور شادمانی کے طبل بجاتا لشکر اسیروں کے ساتھ شہر کوفہ میں داخل ہوا تو یکے بعد دیگرے حسین (ع) کی بیٹی فاطمہ (ع)، علی (ع) کی بیٹی ام کلثوم (ع) اور سید سجاد (ع) کے خطبوں نے کوفیوں کے دلوں میں ہلچل پیدا کر دی وہ عالم ہوا کہ تماشے کے لئے جمع کئے گئے وفا کے دشمن دغا بازوں میں بھی گریہ و زاری سے کہرام پڑ گیا۔ ایسے میں علی (ع) کی بیٹی زینب کبریٰ (ع) نے آواز دی ! ” اے کوفہ والو! اے مکر و دغا کے بندو ! تم رو رہے ہو خدا کرے تمہارے یہ آنسو کبھی نہ تھمیں تم یونہی نالے کرتے رہو تمہاری مثال اس بوڑھی عورت کی ہے جو مضبوط دھاگا بٹ کر کھول دے اور فریاد کرے، تم کوڑے میں اگے ہوئے خس و خاشاک کی مانند ہو، سید سجاد (ع) نے فرمایا : کوفہ والو ! تم ہمارے مصائب پر روہے ہو آخر ہم پر یہ ظلم کس نے کئے ہیں ؟ ہمارے عزیزوں کو کس نے قتل کیا ہے ؟ ہم کو اسیر کر کے یہاں کون لایا ہے ؟ بچوں کو بھوک سے بیتاب دیکھ کر کچھ عورتوں نے صدقے کے کھجور بچوں کی طرف پھینکے تو ام کلثوم نے ٹوکا : ” خبردار صدقہ ہم آل محمد (ص) پر حرام ہے۔ ” یہ سن کر مجمع سے گریہ و بکا کی آواز بلند ہو گئی اور پسر سعد نے حکم دیا کہ اسیروں کو مجمع سے دور کر دیا جائے اور جب اہل حرم کو دربار میں لے گئے تو امام سجاد (ع) پر نظر پڑتے ہی ابن زیاد نے سوال کیا قیدیوں میں یہ جوان کون ہے ؟ اس کو زندہ کیوں چھوڑ دیا ؟ جواب ملا : یہ حسین (ع) کے بیٹے علی ہیں، بیماری کے سبب چھوڑ دئے گئے ہیں ابن زیاد نے کہا : کیا حسین (ع) کے بیٹے علی کو خدا نے کربلا میں قتل نہیں کیا ؟ اب سید سجاد خاموش کیسے رہ سکتے تھے : زنجیر سنبھال کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا : ہاں میرا ایک اور بھائی علی تھا جس کو تیرے فوجیوں نے شہید کر دیا۔ ابن زیاد یہ دنداں شکن جواب سن کر تلملا اٹھا اور کہا : ” نہیں اسے خدا نے قتل کیا ہے ” امام (ع) نے فرمایا: خدا نے سورۂ زمر( کی 42 ویں آیت ) میں فرمایا ہے کہ اللہ موت کے وقت مرنے والے کی روح قبض کر لیتا ہے اس لحاظ سے شہیدوں کی موت بھی الٰہی ارادۂ تکوینی کے تحت ہے۔ لیکن ارادۂ تشریعی کے تحت نہیں ہے قاتلوں کی پیٹھ قتل کے جرم سے خالی نہیں ہو سکتی۔ ” اب ابن زیاد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس نے چلا کر کہا : ” یہ مجھ سے زبان لڑا رہا ہے لے جاؤ اس کی گردن اڑا دو ” ( اذہبوا بہ فاضربوا عنقہ ) اب جناب زینب اٹھیں اور جناب سید سجاد کی سپر بن گئیں : اگر اس کی گردن کاٹنی ہے تو پہلے مجھے قتل کر دو ” امام (ع) نے پھوپھی کے جذبۂ ایثار کو دیکھتے ہوئے فرمایا پھوپھی ٹھہرے میں اس کو جواب دیتا ہوں اور آگے بڑھ کر کہا : تو مجھے قتل کی دھمکی دیتا ہے کیا تجھے نہیں معلوم ” ان القتل لنا عادۃ و کرامتنا الشہادۃ ” راہ حق میں قتل ہونا ہماری عادت اور شہید ہونا ہماری عزت و سربلندی ہے۔ اس طرح اہل حرم نے کوفہ میں اپنے مختصر قیام کے دوران کوفیوں کے دلوں میں آگ کے وہ شعلے روشن کر دئے کہ چند ہی برسوں میں ابوعبیدہ ثقفی اور جناب مختار کی قیادت میں وہ انقلاب برپا ہوئے کہ قاتلان حسین (ع) کے نام و نشان ہی مٹ کر رہ گئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

خاندان نبوت و رسالت (ص) کی اسیری اور امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد جناب زینب (ع) کا کردار

 

راہ حق و حقیقت میں کربلا کی فرض شناس خواتین نے امام عالی مقام (ع) کی بہن حضرت زینب کبری (ع) کی قیادت میں ایمان و اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و تحمل اور شجاعت و استقامت کے وہ جوہر پیش کئے ہیں جس کی مثال تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت میں بھی ملنا نا ممکن ہے۔ کربلا کی شہادت و اسیری کے دوران خواتین نے اپنی وفاداری اور ایثار و قربانی کے ذریعہ اسلامی تحریک میں وہ رنگ بھرے ہیں کہ جن کی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے۔ باپ، بھائی، شوہر اور کلیجے کے ٹکروں کو اسلام و قرآن کی بقا کے لئے راہ خدا میں مرنے کی اجازت دے دینا اور زخم و خون سے رنگین جنازوں پر سجدۂ شکر ادا کرنا آسان بات نہیں ہے اسی چیز نے ضمیر فروش قاتلوں کو انسانیت کی نظروں میں ذلیل و خوار کر دیا ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ضبط اشک نے مردہ دلوں کو بھی جھنجوڑ کے رکھ دیا مگر وہ خود پورے وقار و جلال کے ساتھ قتل و اسیری کی تمام منزلوں سے گزر گئیں اور شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ آیا نصرت اسلام کی راہ میں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہیں اور اپنے عزم و ہمت کے تحت کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں حسینیت کی فتح کے پرچم لہرا دئے حضرت زینب (س) اور ان کی ہم قدم و ہم آواز ام کلثوم (ع)، رقیہ ( ع)، رباب (ع)، لیلا (ع)، ام فروہ (ع) سکینہ (ع)، فاطمہ (ع) اور عاتکہ (ع) نیز امام (ع) کے اصحاب و انصار کی صاحب ایثار خواتین نے شجاعت اور ایثار و قربانی کے وہ لازوال نقوش ثبت کئے ہیں جن کو کسی بھی صورت مٹایا نہیں جا سکتا چنانچہ عصر عاشورا کو امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد، جب اہل حرم کے خیموں میں آگ لگا دی گئی بیبیوں کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں تو جلتے خیموں سے نکل کر مصیبت زدہ عورتیں اور بچے کربلا کی جلتی ریت پر بیٹھ گئے۔ امام وقت سید سجاد غش کے عالم میں پڑے تھے جناب زینب (ع) نے اپنی بہن ام کلثوم (ع) کے ساتھ آگ کے شعلوں سے خود کو بچاتے اور بھاگتے بچوں کو ایک جگہ پر جمع کیا کسی بچے کے دامن میں آگ لگی تھی تو کسی کے رخسار پر طمانچوں کے نشان تھے کوئی ظالموں کی یلغار کے دوران پاؤں تلے دب کرجان دے چکا تھا تو کوئی پیاس کی شدت سے جاں بلب تھا۔ اضطراب و بے چینی کی قیامت خیز رات حسین (ع) کی بہنوں نے عباس (ع) کی طرح پہرہ دیتے ہوئے ٹہل ٹہل کر گزار دی گیارہ محرم کی صبح اسیری کے پیغام کے ساتھ نمودار ہوئی لشکر یزید شمر اور خولی کی سرپرستی میں رسیاں اور زنجیریں لے کر آ گیا۔ عورتیں رسیوں میں جکڑ دی گئیں اور سید سجاد (ع) کے گلے میں طوق اور ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں ڈال دی گئیں بے کجاوہ اونٹوں پر سوار، عورتوں اور بچوں کو قتل گاہ سے لے کر گزرے اور بیبیاں کربلا کی جلتی ریت پر اپنے وارثوں اور بچوں کے بے سر لاشے چھوڑ کر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئیں لیکن اس ہولناک اسیری کی دھوپ میں بھی اہل حرم کے چہروں پر عزم و استقامت کی کرنیں بکھری ہوئی تھیں نہ گھبراہٹ، نہ بے چینی، نہ پچھتاوا نہ شکوہ۔ اعتماد و اطمینان سے سرشار نگاہیں اور نور یقین سے گلنار چہرے۔ مظلومیت کا یہی وہ رخ ہے جو بتاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنی اس انقلابی مہم میں اہل حرم کو ساتھ لے کر کیوں نکلے تھے ؟ اور جناب زینب (ع) کو کیوں بھائی کی ہمراہی پر اس قدر اصرار تھا ؟ اور ابن عباس کے منع کرنے پر کیوں امام حسین (ع) نے کہا تھا کہ ” خدا ان کو اسیر دیکھنا چاہتا ہے۔ ” صرف ماؤں کی گودیوں سے شیرخوار بچوں کی قربانیاں، اصل مقصود نہیں ہو سکتیں۔ جوان بیٹوں اور بھائیوں اور نوخیزوں اور نونہالوں کے لاشوں پر صبر و شکر کے سجدے بھی خواتین کی ہمراہی کا اصل سبب نہیں کہے جا سکتے۔ بلکہ اہل حرم کی اسیری، کتاب کربلا کا ایک مستقل باب ہے اگر حسین (ع) عورتوں کو ساتھ نہ لاتے اور انہیں اسیروں کی طرح کوفہ و شام نہ لے جایا جاتا تو بنی امیہ کے شاطر نمک خوار صحرائے کربلا میں پیش کی گئی خاندان رسول (ص) کی عظیم قربانیوں کو رایگاں کر دیتے یزیدی ظلم و استبداد کے دور میں جان و مال کے خوف اور گھٹن کے ساتھ حصول دنیا کی حرص و ہوس کا جو بازار گرم تھا اور کوفہ و شام میں بسے مال و زر کے بندوں کے لئے بیت المال کا دہانہ جس طرح کھول دیا گیا تھا اگر حسین (ع) کے اہل حرم نہ ہوتے اور حضرت زینب (ع) اور امام سجاد (ع) کی قیادت میں اسرائے کربلا نے خطبوں اور تقریروں سے جہاد نہ کیا ہوتا تو سرزمین کربلا پر بہنے والا شہدائے راہ حق کا خون رائگاں چلا جاتا اور رسل و رسائل سے محروم دنیا کو برسوں خبر نہ ہوتی کہ آبادیوں سے میلوں دور کربلا کی گرم ریت پر کیا واقعہ پیش آیا اور اسلام و قرآن کو کس طرح تہہ تیغ کر دیا گیا۔ در اصل یزیدی لشکر اہل حرم کو بازاروں اور درباروں میں (معاذاللہ ) ذلیل و رسوا کر دینے کے لئے لے گیا تھا مگر عزت و سرافرازی کے مرکز و محور خاندان رسول (ص) نے اپنی حق گوئی و حق نمائی کے ذریعے خود یزید اور یزیدیوں کو قیامت تک کے لئے ذلیل و ناکام کر دیا۔ جناب زینب کبریٰ کی اس عظیم خدمت کے تحت شاعر نے بالکل صحیح کہا ہے :

 

زینب کا معجزہ ہے کہ کرب و بلا کے بعد

تبدیل کر سکا نہ کوئی واقعات کو

ظالم کو منہ چھپانے کی مہلت نہ مل سکی

اس طرح سے پلٹ دیا کل حادثات کو

٭٭٭

 

 

 

 

 

اصلاح و بیداری کے لئے ایک انقلابی اقدام

 

یزید پلید کی بیعت سے انکار اور ملت اسلامیہ کی اصلاح و بیداری کے لئے ایک انقلابی اقدام کی اس سے بڑھ کر بھلاکسی اور دلیل کی کیا ضرورت ہے کہ سلطنت اسلامیہ پر قابض حکمراں رسول اسلام (ص) کی نبوت و رسالت اور وحی و قرآن کے نزول کا علی الاعلان مذاق اڑائے اور اسلامی معاشرہ سنت نبوی کی تمام حقیقت و ماہیت سے خالی ہو جائے چنانچہ مدینۂ منورہ نکلتے وقت اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام اپنے تحریری وصیت نامہ میں امام حسین (ع) نے اعلان کر دیا : انمّا خرجت لطلب الاصلاح۔ .. بلاشبہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی اچھائی کی نصیحت اور برائی کی ممانعت میرا مقصد ہے اور میرے نانا محمد مصطفیٰ (ص) اور بابا علی مرتضیٰ (ع) کی راہ ہی میری راہ ہے۔ چنانچہ صحرائے کربلا میں پہنچکر اپنے انقلابی اقدام کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایک خطبہ میں خود امام حسین علیہ السلام صورت حال کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” زمانہ کے حالات پوری طرح دگرگوں کر دئے گئے ہیں برائیاں آشکار ہیں نیکیاں اور اچھائیاں زندگی کے ماحول سے دور ہو چکی ہیں انسانی فضائل و کمالات سے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے صرف تہوں میں بیٹھے ہوئے پانی کے چند قطرے رہ گئے ہیں لوگوں نے ذلت و رسوائی کی زندگی اپنا شعار بنا لیا ہے ” الا ترون الی الحق لایعمل بہ والی الباطل لایتناہی عنہ ” نہیں دیکھتے حق پر عمل کرنے والا اور باطل سے روگردانی کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ امام علیہ السلام نے ان الفاظ میں یزیدی ماحول اور معاشرے کی فکری اور عملی تصویر منعکس کر دی ہے۔ لوگوں کے عقائد کا یہ عالم ہے کہ ” النّاس عبیدالدّنیا والدین لعق علی السنتہم ” لوگ دنیا کے غلام بن گئے ہیں اور دین لقلقۂ زبان کے سوا کچھ نہیں ہے، صرف رفاہ و آسائش کی زندگی میں یہ دین کے ساتھی اور ہمراہ ہیں ورنہ مقام امتحان میں صرف تھوڑے سے لوگ دین کے پشت پناہ رہ جاتے ہیں یزید اور یزیدی معاشرے کی مخالفت سے قطع امام حسین علیہ السلام کے انقلابی اقدام کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ امام علیہ السلام خود کو رسول اسلام (ص) کا حقیقی جانشین اور حضرت علی (ع) و امام حسن (ع) کا سچا وارث سمجھتے تھے چنانچہ ولید ابن عتبہ سے مدینۂ منورہ میں ہی کہہ دیا تھا : انا احقّ بالخلافہ ” میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں اور اس کے بعد بھی مختلف مقامات پر اس بات کا اعلان کیا ہے منزل شراف میں ایک تقریر کے دوران فرماتے ہیں : ” و نحن اہل البیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اولی بولایۃ ہذا لامر من ہولاء ” اور ہم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اہلبیت ان ( بنی امیہ کے مقابلہ میں ) لوگوں کی ولایت و رہبری کے زیادہ سزاوار ہیں۔ اہل کوفہ کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں : ” یخبرنی باجتماعکم علی نصرنا و المطلب بحقنا” ہماری نصرت و مدد اور ہمارے مطالبۂ حق کے لئے تمہارے اجتماع کی خبر ہم تک پہنچی ہے اور ان کے خطوط کے جواب میں لکھتے ہیں : ہماری جان کی قسم ! امام و رہبر وہ ہوتا ہے جو خدا کی کتاب پر عمل کرے، عدل و انصاف قائم کرے حق کی پیروی کرے اور خود کو الٰہی احکام و فرامین پر عمل درآمد کے لئے وقف کر دے۔ اسی طرح اہل بصرہ کے نام خط میں لکھتے ہیں : ہم نے ( اب تک ) ان افراد کی نسبت اپنی لیاقت اور استحقاق کا پورا علم اور آگہی کے باوجود، فتنہ اور اختلاف سے بچنے کے لئے سب کچھ قبول کر رکھا تھا۔ ” کنا اہلہ و اولیاۂ و اوصیاۂ ووی ثتہ و احق الناس بمقامہ فی الناس فاستاثر علینا قومنا بذالک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “اور ہم پیغمبر اسلام (ص) کے خاندان والے ان کے ولیوں، وصیوں اور وارثوں میں سے ہیں اور ان کے مقام کی نسبت تمام لوگوں سے زیادہ مقام رہبری کے سزاوار تھے لیکن ایک گروہ نے ہم سے ہمارا یہ حق لے لیا اور امام حسین علیہ السلام کے ان تمام بیانات میں یزید کی بیعت سے انکار کی دلیل موجود ہے اور امام (ع) نے اپنے انقلابی اقدام سے واضح کیا ہے کہ امامت و رہبری خاندان عصمت و طہارت کا حق تھا جب حق کو باطل کی اطاعت پر مجبور کیا گیا تو حق نے باطل کی بیعت کے بجائے خدا و رسول (ص) کی تعلیمات کو باقی رکھنے کے لئے سرکٹاناگوارا کر لیا مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

سرداد نہ داد دست در دست یزید

حقا کہ بنائے لا الہ است حسین(ع)

٭٭٭

 

 

 

 

ہدایت و آگہی کے علمبردار

 

پیغمبر اسلام (ص) کے بعد ان کے اہلبیت (علیہم السلام) ہمیشہ ہدایت و آگہی کے علمبردار رہے ہیں اور کفر و نفاق کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی مرسل اعظم (ص) کے اہلبیت (ع) نے اسلام و ایمان کی مشعلیں روشن و منور رکھی ہیں دیں خواہی اور دنیا طلبی کے طوفانی دھاروں میں انہوں نے ہمیشہ دین و معنویت کی بنیادوں پر استوار دنیا کی طرف قافلۂ انسانیت کی رہنمائی کی ہے اور افراط و تفریط کے درمیان عقل و فہم کی روشنی میں علم و معرفت کے گہرے اور کشادہ چشمے جاری کر کے زندگی کو توازن، تلاطم اور دوام عطا کیا ہے۔ اسلام دین حق و اعتدال ہے اور اس کے تمام اصول و قوانین انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں اور جب بھی کفر  و جہالت کے دیوتاؤں نے اپنے غیر انسانی اہداف و مقاصد کے تحت قافلۂ بشریت کو راہ اعتدال سے منحرف کرنے کی کوشش کی ہے حق و انصاف کے علمبردار، اہلبیت اطہار علیہم السلام نے جان و مال اور اولاد و اصحاب کی قربانیاں دے کر توحید و عدالت کے پرچم کو بلندی و سرافرازی عطا کی ہے اسی لئے خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم میں بھی مختلف انداز سے اہلبیت (ع) کا تعارف کرایا اور رسول اعظم (ص) نے بھی جگہ جگہ اپنے اہلبیت (ع) کی عظمت و جلالت کا قصیدہ پڑھا آیۂ تطہیر نازل ہوئی تو علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسین (ع) کو چادر میں لے کر فرمایا ” اللّہمّ ہؤلاء اہل بیتی فاذہب عنہم الرّجس و طہّرہم تطہیرا” ” خدایا یہی میرے اہلبیت (ع) ہیں ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قرار دے آیۂ مباہلہ آئی تو نصارا کے خلاف ” انفسنا” کی جگء علی (ع) کو “نساءنا” کی جگہ فاطمہ (ع) کو اور ” ابنائنا ” کی جگہ امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کو ساتھ لے گئے اور عیسائیوں کے مقابل فتحیاب ہوئے۔ آیۂ مودت نازل ہوئی اور اصحاب نے پوچھا آپ کے قربی ” اور اہلبیت (ع) کہ جن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے کون ہیں ؟ تو رسول اسلام (ص) نے فرمایا : علی (ع) و فاطمہ (ع) اور ان دونوں کے دونوں فرزند حسن (ع) و حسین (ع) بزم اصحاب میں بار بار اہلبیت (ع) کی پہچنوایا خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کا لوگوں سے تعارف کرایا کہ ہذا حسین فاعرفوہ یہ حسین (ع) ہے اس کو پہچان لو۔ ” حسین منی و انا من الحسین ” حسین (ع) مجھ سے ہے اور میں حسین (ع) سے ہوں۔ احبّ اللہ من احبّ حسینا جو حسین (ع) سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے چنانچہ امام حسین (ع) کی شخصیت سے رفتار و کردار کی جو شعاعیں پھوٹی ہیں آج بھی اسلام و ایمان کی فکری، اعتقادی اور تہذیبی حیات کی اساس ہیں اور حسینیت کی مشعل سے پورا عالم بشریت فروزاں ہے۔

بندگی اور بندہ پروری کا عالم یہ تھا کہ سجدۂ معبود میں سرکٹانے والے حسین (ع) کے بارے میں ایک معتبر راوی شعیب ابن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ روز عاشورا لوگوں نے امام (ع) کی پشت پر گٹھے دیکھے تو امام زین العابدین سے اس کی وجہ پوچھی اور امام سجاد (ع) نے فرمایا : ” یہ نشان بیواؤں یتیموں اور مسکینوں کے گھروں تک نان و خرمہ پیٹھ پر لاد کر لے جانے کے سبب ہے ” شافعی مسلک کے عالم ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ” پیغمبر اسلام (ص) کے بعد خلفائے ثلاثہ بھی ان کا احترام کرتے تھے وہ اپنے والد کے صحابیوں میں شامل تھے اور ان سے حدیثیں روایت کرتے تھے، سب ان سے عشق و محبت کرتے کیونکہ وہ پیغمبر (ص) کے فرزند تھے اور روئے زمین پر کوئی حسین (ع) کے جیسا نہ تھا ” چنانچہ امام حسین (ع) نے بھی اپنے نانا کے دین کے لئے اپنا جو کچھ بھی تھا نثار کر دیا اور فدیناء بذبح عظیم کا مصداق بن گئے۔ علامہ اقبال نے اسی لئے کہا ہے :

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری

بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

٭٭٭

 

 

 

 

 

الٰہی تحریک کے حقیقی وارث

 

 

پیغمبر اسلام (ص) کی الٰہی تحریک کے حقیقی وارث کے عنوان سے حضرت علی ابن ابی طالب اور امام حسن علیہما السلام نے جس تحریک کو آگے بڑھایا تھا نواسۂ رسول اسلام (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے خون میں ڈوب کراسی تحریک کی حفاظت و پاسبانی کی ہے مرسل اعظم (ص) کی رحلت کے بعد ابھی نصف صدی بھی نہیں گزری تھی کہ بنی امیہ تمام دینی معاشرتی اور سیاسی اور فوجی چھاؤنیوں پر قابض و مسلط ہو گئے اور الٰہی نبوت و رسالت کے تمام آثار و اقدار کو پامال کر کے “نئی جاہلیت ” کی ترویج و اشاعت شروع کر دی۔ نواسۂ رسول امام حسین (ع) کو ایک ایسے تیرہ و تاریک دور کا سامنا تھا کہ جس میں فرزندان اسلام یعنی نبی اکرم (ص) کا کلمہ پڑھنے والے واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ کچھ وہ تھے جو اس صورت حال کو برداشت نہ کر سکے آواز اٹھائی اور قتل کر دئے گئے، کچھ وہ تھے جنہوں نے حالات سے سمجھوتا کر کے گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت میں اپنا وقت گزارنا اور حق و باطل کی معرکہ آرائی سے بے پروا ہو کر تقدس کی چہار دیواری کھڑی کر کے امن و امان کی زندگی پسند کر لی اور ایک بڑا گروہ وہ تھا جس نے اپنی صحابیت کو دنیا آباد کرنے کا وسیلہ بنایا اور جو افتخارات جمع کئے تھے امیر شام کے سبز محل میں جا کران کا سودا کر لیا اور درہم و دینار کی تھیلیوں کے بدلے جعلی حدیثوں کے انبار لگانا شروع کر دئے ایسے میں، امام حسین (ع) کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی تھیں، اسلام اور اسلامی اقدار و معیارات کا تحفظ سب سے اہم مسئلہ تھا، جلد بازی کا کوئی بھی اقدام، ملت اسلامیہ کی یکجہتی کے بقاؤ تحفظ کی راہ میں مرسل اعظم کے وارث کے طور پر حضرت علی (ع) اور امام حسن (ع) کی تمام کوششوں کو خاک میں ملاسکتا تھا تاریخ اسلام کا کوئی ادنی طالبعلم بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ امیر شام کے ساتھ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد تقریباً دس سال تک سیاسی گھٹن کے باوجود لوگ جنگ و خوں ریزی سے محفوظ امن و سکون کی زندگی گزار رہے تھے امام حسن (ع) کی زندگی میں ان سے یا ان کے دوستوں سے شام کی حکومت کھلے عام کسی بھی قسم کے تعارض اور مقابلہ آرائی کی جرات نہیں کر سکی، حتی جس وقت ملوکیت کے بانی امیر شام نے خوارج کے خلاف جنگ کے سلسلے میں امام حسن (ع) کو اپنا ہم نوا بنانا چاہا تو امام (ع) نے جواب میں لکھا تھا : ” اگر مجھ کو کسی بھی اہل قبلہ مسلمان سے جنگ کرنی ہوتی تو سب سے پہلے تم سے جنگ کرتا مگر لوگوں کی بھلائی اور خوں ریزی سے بچنے کے لئے میں نے تمہارے ساتھ جنگ سے پرہیز کیا ہے چنانچہ امام حسین علیہ السلام نے بھی امام حسن (ع) کی حیات میں اور ان کی شہادت کے بعد بھی جب تک امیر شام زندہ رہے امن و صلح کی پالیسی پر عمل کیا اور مسلحانہ جنگ کے سلسلے میں کسی بھی مشورہ دینے والے کی بات قبول نہیں کی اور اس دوران حجر ابن عدی کی مانند کئی بڑی شخصیتوں کے قتل کے باوجود امیر شام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی۔ البتہ اپنے آئندہ انقلاب کے لئے زمین فراہم کرتے رہے چنانچہ سنہ 57 یا اٹھاون ہجری میں امام حسین (ع) نے مکہ کا سفر کیا، عبداللہ ابن جعفر اور عبداللہ ابن عباس بھی بنی ہاشم کی عورتوں اور مردوں کے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے منا میں تقریباً دوسو سے لے کر سات سو تک اصحاب کے مجمع میں آپ نے خطبہ دیا اور مسلمانوں کے درمیان انحرافات کی ترویج و اشاعت سے خبردار کرتے ہوئے بہت سے حقائق بیان کئے اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان کا پیغام اپنے اپنے علاقوں اور شہروں میں بھی پہنچا دیں آ نے فرمایا کہ ” آج منبروں سے اور نمازوں اور دعاؤں میں جس شخص پر لعنت کی جا رہی ہے وہ خدا کے رسول کا بھائی اور دنیائے اسلام کی دوسری بڑی شخصیت ہے جس کے فضائل و کمالات بہت سی آیات و روایات میں موجود ہیں۔ “اور جب امیر شام کی موت کی خبر کے ساتھ یزید پلید کی بیعت کا مطالبہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے سردربار، مدینہ کے دار الامارہ میں اعلان کر دیا : ہم خاندان نبوت اور وحی و رسالت کا مرکز ہیں ہمارے گھر میں خدا کے فرشتے آتے جاتے ہیں الٰہی ہدایت کا ہم ہی آغاز و انجام ہیں یزید ایک فاسق و فاجر شخص ہے جو شراب پیتا ہے اور بے گناہوں کا قتل کرتا ہے کھلے ہوئے فسق و فجور میں مبتلا ہے۔ میرا جیسا شخص یزید پلید کی مانند ظلمت و تاریکی کی ہرگز بیعت نہیں کر سکتا۔ اس اعلان کے ساتھ آپ نے مدینہ چھوڑ دیا اور مکہ ہوتے ہوئے اپنی شہادت گاہ کربلا پہنچ کر ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا۔

٭٭٭

 

 

 

عشق حسین علیہ السلام

 

کیا امام حسین (ع) ان کی عزاداری اور محرم کی مقدس یادگاریں مسلمانوں میں اختلاف اور تنازعہ کا موضوع بن سکتی ہیں ؟ وہ کون سا مسلمان ہے حسین (ع) جس کے ایمان کا حصہ نہ ہوں ؟ رسول اسلام (ص) کا وہ کونسا کلمہ گو ہے جس کی رگوں میں عشق حسین (ع) خون کی طرح رواں دواں نہ ہو، وہ کون سی مسلمان آنکھ ہے جو خاندان رسول (ص) کی پیاس اور شہادت کی یاد میں بھیگ کر فرات بن جانا نہ چاہتی ہو، حسین (ع) کی یاد اور عزاداری، عشق و محبت کے جذبے فروغ دینے اور برادری اور بھائی چارگی کے اجتماعات قائم کرنے کا سبب بنتی ہے اور اہل درد و عشق آپس میں جھگڑے نہیں اخوت و مساوات کی بنیادوں پر اتحاد و اتفاق کی زندگی استوار کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو حسینی معاشرے میں رہتے ہوں اور جن کا دین اسلام ہو، جو حسین (ع) اور حسین (ع) کے بچوں کے خون کا مرہون منت ہے، جس ملک عشق کے باشندے رسول اسلام (ص) اور ان کے پیارے نواسے حسین (ع) کی رعایا ہوں حسین (ع) کی یاد و عزا میں منعقد مجلس و ماتم اور ماہ محرم کے جلسۂ و جلوس کے مخالف کیسے ہو سکتے ہیں ؟مخالفت وہ کرے گا جسے مسلمان ہونے سے انکار ہو، حسین (ع) کی محبت اور حسین (ع) کی عظمت سے انکار ہو، حسین (ع) کی قربانی اور شہادت سے انکار ہو۔ جب سبھی مسلمان حسین (ع) کے سپاہی، حسین (ع) کے غمخوار حسین (ع) کے عزا دار اور یزید و یزیدیت سے بیزار ہیں تو امام حسین (ع) سے بڑھ کر اسلامی اتحاد و اتفاق کا داعی اور کون ہو سکتا ہے ؟ کہیں حسین (ع) کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے والے وہی تو نہیں ہیں جو اسلام و قرآن اور حسین (ع) کے مخالف تھے ؟ جنہوں نے اسلام اور حسین (ع) کے خلاف لشکر کشی کی تھی ؟ جنہوں نے اسلام اور قرآن کا خون بہایا تھا؟

مگر حسین (ع) کے عزا دارو! چند فی صدی سہی یہ بھی تو ممکن ہے کہ کچھ لوگ حسین (ع) اور عزاداری کی صحیح شناخت نہ رکھتے ہوں، لہذا اہل معرفت کا فریضہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حسین (ع) اور حسینیت کا صحیح تعارف کرائیں کیونکہ جوش کے بقول:

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع)

٭٭٭

 

 

 

 

 

واقعہ عاشورہ، انسانیت کے لئے ایک عظیم سرمایہ

 

ایک بار پھر ماہ محرم آ گیا اور شور ماتم و گریہ بلند ہو گیا، محرم آتا ہے تو مردہ انسانوں کی رگوں میں خون دوڑ جاتا ہے، خشک آنکھوں سے آنسو کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے اور عشق حسینی کی حیات آفریں بارشوں کے قطرے انسانوں کے تاریک دلوں پر گرتے اور انہیں زندہ کرتے ہیں۔

محرم آتا ہے تو دنیا کی مختلف سرزمینوں، شہروں اور  دیہاتوں میں سکون اور سکوت ٹوٹ جاتا ہے اور ان میں دوبارہ ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔ محرم کے آتے ہی عقلیں حیرت سے انگشت بدنداں ہو جاتی ہیں اور اس فکر میں ڈوب جاتی ہیں کہ آخر یہ کیسا واقعہ ہے جو صدیاں گذر جانے کے بعد، آج بھی زندہ و پایندہ ہے۔ جب محرم آتا ہے اور شہر کا شہر سیاہ پوش ہو جاتا ہے تو بہت سے یہ سوچتے ہیں کہ اتنی صدیاں گذر جانے کے بعد بھی یہ عزاداری، لوگوں پر کیا تاثیر رکھتی ہے اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کا فلسفہ کیا ہے ؟

ہر سماج اور معاشرے کے ماضی کے واقعات، اس معاشرے کی سرنوشت، اور حتی دوسرے معاشروں کے لئے بھی مختلف اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ مفید اور موثر ہو، تو اس پر نظر ثانی اور اسے زندہ رکھنے سے بھی، ان آثار کو دوام عطا کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ان اہم واقعات کو فراموش کر دینے سے بھی، انسانی معاشرے کو عظیم نقصانات کا متحمل ہونا پڑسکتا ہے اس لئے کہ اس قسم کے واقعات، چاہے وہ معنوی لحاظ سے ہوں یا مادی لحاظ سے، قوموں کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس بناء پر ایسے عظیم واقعات کہ جو انسانوں کے لئے عبرت ناک اور درس حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، ہر قوم و ملت بلکہ تمام انسانیت کا عظیم سرمایہ شمار ہوتے ہیں۔ اور عقل بھی حکم کرتی ہے کہ ایسے عظیم سرمایوں کا تحفظ کیا جائے انہیں زندہ رکھا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔

بلاشبہ متعدد پہلوؤں کا حامل عاشورا کا عظیم سانحہ، انسانیت کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے۔ کیوں کہ یہ سرمایہ فرزند رسول خدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب با وفا اور اطفال حسینی کی بے مثال شہادتوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ دوسری طرف واقعۂ کربلا کسی فرد یا گروہ کے ذاتی مفادات اور حتیٰ  کہ قومی مفادات کے لئے بھی وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ یہ واقعہ اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے دلیر ساتھیوں کی شہادت ایک مکتب ہے کہ جس میں تمام انسانیت کے لئے، توحید، امامت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، حقیقت طلبی، ظلم کے خلاف جنگ، انسانی کرامت و عزت اور اس جیسے دیگر دروس اور اہداف ہیں کہ جنہیں حاصل کرنا چاہئے۔ اگر یہ انسان ساز مکتب، نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا رہے تو پوری انسانیت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔

ائمہ اطہار علیھم السلام نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری منانے پر تاکید کرتے ہوئے ان مراسم کو عوام میں اتحاد و وحدت اور اسلام کی اعلی اقدار کی ترویج کا محور قرار دیا ہے۔ اس طرح سے کہ آج ایام محرم میں لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان، نسلی امتیاز اور طبقہ بندی اور مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سید الشھداء مظلوم کربلا کی عزاداری مناتے ہیں اور حسینی پرچم تلے جمع ہوتے ہیں۔ ایران کے لاکھوں ولولہ انگیز اور پر جوش عوام نے اسلامی انقلاب کی عظیم الشان تحریک کے دوران محرم و صفر میں خاص طور پر نو اور دس محرم کو ایک عظیم طاقت کا مظاہرہ کیا جس نے طاغوتوں کو لرزہ بر اندام کر دیا اور جس نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو محور قرار د دینے کی ائمہ اطہار علیھم السلام کی تاکید کو واضح اور روشن کر دیا۔

جرمنی کے ماہر مشرقیات “ماربین” اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ “ہمارے بعض مورخین کی بے خبری اس بات کا باعث بنی ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی عزاداری کو، جنون اور دیوانگی کی نسبت دی جائے۔ لیکن یہ باتیں بیہودہ اور خرافات ہیں اور شیعوں پر تہمت ہے۔ وہ لکھتے ہیں ہم نے قوموں کے درمیان شیعہ جیسی ولولہ انگیز اور زندہ دل قوم نہیں دیکھی، کیوں کہ شیعوں نے عزاداری امام حسین (ع) برپا کرنے کے لئے عاقلانہ پالیسیاں انجام دی ہیں اور وہ نتیجہ بخش مذہبی تحریکیں وجود میں لائے ہیں “۔

عزاداری، ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والے مظلوم کے ساتھ جذبات کے بندھن کو مضبوط کرنا اور ستمگرو ظالم کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ اور استاد شہید مرتضی مطہری کے بقول ” شیہد پر گریہ اس کے ساتھ رزم میں شرکت کے مترادف ہے ” اس بناء پر عزاداری کے جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرنے والوں میں جو معنوی تبدیلی رونما ہوتی ہے اس سے سماجی تبدیلیوں کے لئے حالات سازگار ہوتے ہیں اور در حقیقت امام حسین علیہ السلام کے اہداف و مقاصد کے تحفظ کے لئے حالات فراہم ہوتے ہیں۔ شہیدوں کا غم اور خاص طور پر سید الشہدا حضرت امام حسین کا غم، کربلا کے عظیم واقعے کو زندہ جاوید بنانے کا ذریعہ ہے اس غم سے عزا داروں اور حق کے پیشواؤں کے درمیان باطنی بندھن قائم ہوتا ہے اور ساتھ ہی عوام میں ظلم و ستم سے مقابلے کی روح زندہ ہوتی ہے۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) فرماتے ہیں :اس گریہ و زاری اور نوحہ و ماتم کے ذریعے ہم حسینی مکتب کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ اب تک کرتے آئے ہیں۔

مکتب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کا تحفظ، اہل بیت کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے ذریعے کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے کہ ظالم حکمرانوں نے پیہم اس ثقافت کو محو اور نیست و نابود کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے مظلوم کربلا کی عزاداری نے خود بہ خود سیاسی اور جہادی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ عزاداری اور گریہ میں سیاسی پہلو، ظلم و ستم مخالف جذبے کو زندہ رکھنا ہے۔

مکتب عاشورا میں عبادت کو اسلامی معاشرے کے معنوی و اخلاقی فضائل اور دینی تعلیمات میں سر فہرست قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی عزت و سربلندی ان کے ایمان اور معنویت کی مرہون منت ہے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا قیام، اسلامی معاشرے کو درپیش خطرے یعنی اسلامی اصول و اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔ شیعوں کی ثقافت میں مذہبی پیشواؤں اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار کی مجالس اور عزاداری کا انعقاد، عبادت ہے۔ کیوں کہ عزاداری، معنویت میں فروغ کا باعث ہوتی ہے اور انسان کو انسانیت کے اعلی ترین مدارج تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری اور حزن و اندوہ، باطنی تغیر وجود میں آنے اور اس کے ساتھ ہی انسان کے روحانی کمال کا باعث ہوتا ہے۔ اور اس سے انسان میں تقوی اور انسان کو خدا سے نزدیک کرنے کے مقدمات فراہم ہوتے ہیں۔ اسی طرح، عوام بھی اس مظلوم کے ساتھ، جو عقیدے کی راہ میں موت کو سعادت اور ستمگر کے ساتھ سازش کو باعث ننگ و عار قرار دیتا ہے، اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہیں اور ظلم کے خلاف جد و جہد کرنے اور ظالموں سے کوئی ساز باز نہ کرنے کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اور یہی وفاداریاں ہی ہیں جو قوموں کو، استعمار گروں کے حرص و طمع کے مقابلے میں بیمہ کرتی ہیں اور سامراج کے اثرو رسوخ کی راہیں مسددو کر دیتی ہیں۔

تاریخ، عبرت آموز نکات سے بھری پڑی ہے اور اگر ان نصیحتوں پر توجہ نہ کی جائے تو تاریخ کے ان ہی تلخ واقعات کا ایک بار پھر اعادہ ہو گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی بیان کرنے کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ” ان کی سرنوشت میں صاحبان فکر کے لئے درس عبرت ہے۔ اور حضرت علی علیہ السلام عبرت حاصل کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں “دنیا کے ماضی سے، مستقبل کے لئے عبرت حاصل کرو”۔ اس بناء پر تاریخ کے جملہ واقعات و حوادث میں سے ایک، کہ جو بہت سی عبرتوں کا سرچشمہ ہے، عاشورا کا جاں گداز واقعہ ہے۔ عزا داریوں کا انعقاد، واقعات عاشورا کو دوبارہ بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے تاکہ حاضرین اور آئندہ نسلوں کے لئے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پائے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے نقطۂ نگاہ سے عزاداری اور مصائب اہل بیت اطہار علیھم السلام ایک خداداد نعمت ہے کہ جو بارگاہ خداوندی میں شکریے کے شایان شان ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے تحریک عاشورا کا پیغام، اسلامی تحریکوں کا فروغ ہے اور اس نعمت کے حساس ہونے کو ہم اس وقت درک کرتے ہیں جب ہم جان لیں کہ خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں بندگان خدا کی ذمہ داری شکر و سپاس اور اس کی بقا کی کوشش کرنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایک مرتبہ اگر کسی کے پاس نعمت نہ ہو تو اس سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا لیکن جس کے پاس نعمت ہے اس وقت اس سے سوال کیا جائے گا۔ شیعوں کے لئے ایک عظیم نعمت، محرم، عاشورا اور مجالس عزا ہے۔ یہ عظیم نعمت، دلوں کو اسلام و ایمان کے ابلتے ہوئے چشمے سے متصل کرتی ہے۔ اس نعمت نے وہ کام کیا ہے کہ تاریخ کے دوران ظالم حکمرانوں، کو عاشورا اور قبر امام حسین علیہ السلام سے خوف لاحق رہا ہے۔ اس نعمت سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ خواہ وہ عوام یا علماء، اس نعمت سے ضرور بہرہ مند ہوں۔ عوام اس طرح سے بہرہ مند ہوں کہ ان مجالس سے دل وابستہ کر لیں اور مجالس امام حسین علیہ السلام کا انعقاد کریں۔ لوگ عزاداری کا اہتمام مختلف سطح پر زیادہ سے زیادہ کریں۔ کربلا کا واقعہ تاریخ بشریت کے لئے ایک درس ہے اور اس سے وابستگی بھی مسلمانوں حتی حریت پسند غیر مسلموں کے لئے بھی ہر دور میں سعادت رہی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کربلا میں حجت حق کی جانب سے اتمام حجت

 

 

فرزندرسولخدا (ص) سیدالشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے لشکر حر اور اسی طرح روز عاشورا اپنے اعوان وانصار اور دشمن کی فوج کے سامنے جو خطبے دیئے اس کے بعض اقتباسات کا ذکر کریں گے۔

لوگوں میں علم و آگہی پیدا کرنا اور غافل انسانوں پر حجت تمام کرنا، امام حسین (ع) کا وہ شیوہ تھا جس پر آپ نے ہر جگہ اور ہر مناسب موقع پر استفادہ کیا۔ چنانچہ امام (ع) جب حر کے لشکر میں شامل ہزاروں سپاہیوں کے محاصرے میں تھے اور جب خطرے کا نزدیک سے مشاہدہ کیا تو آپ نے ان کو موعظہ اور نصیحت کرنے کے لئے مناسب موقع جانا۔ امام حسین (ع) کے فصیح و بلیغ خطبات، شکوک و شبہات رفع کرنے کا ایک موقع ہیں اور اگر دل اسے قبول کرنے پر آمادہ ہے تو اس سے ضرور اثر قبول کرے گا۔ حضرت امام حسین (ع) اپنے خطبے کا آغاز، اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا (ص) کی ایک حدیث سے فرماتے ہیں۔

اے لوگو پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا ہے، ہر وہ مسلمان جو ایسے منھ زور سلطان یا بادشاہ کے بالمقابل قرار پا جائے جو حرام خدا کو حلال کرے اور عہد الٰہی کو توڑے اور قانون و سنت پیغمبر کی مخالفت کرے اور بندگان خدا کے درمیان معصیت کو رواج دے، لیکن اس کے رویے اور طرز عمل کا مقابلہ نہ کرے تو خداوند عالم پر واجب ہے کہ اسے بھی اس طاغوتی بادشاہ کے ساتھ جہنم کے شعلوں میں ڈھکیل دے۔ اے لوگو آگاہ ہو جاؤ کہ بنی امیہ نے اطاعت پروردگار چھوڑ کر اپنے اوپر شیطان کی پیروی واجب کر لی ہے انہوں نے فساد اور تباہی کو رواج دیا ہے اور حدود و قوانین الٰہی کو دگرگوں کیا ہے اور میں ان بد خواہوں اور دین کو نابود کرنے والوں کے مقابلے میں مسلمان معاشرے کی قیادت کا زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے علاوہ تمہارے جو خطوط ہمیں موصول ہوئے وہ اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ تم نے میری بیعت کی ہے اور مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ مجھے دشمن کے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑو گے۔ اب اگر تم اپنے اس عہد پر قائم اور وفادار ہو تو تم رستگار و کامیاب ہو۔ میں حسین بن علی (ع) تمہارے رسول کی بیٹی فاطمہ زہرا کادلبند ہوں۔ میرا وجود مسلمانوں کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور تمہارے بچے اور اہل خانہ، ہمارے بچوں اور گھر کے افراد کی مانند ہیں۔ میں تمہارا ہادی و پیشوا ہوں لیکن اگر تم ایسا نہ کرو اور اپنا عہدو پیمان توڑ دو اور اپنی بیعت پر قائم نہ رہو جیسا کہ تم ماضی میں بھی کر چکے ہو اور اس سے قبل تم نے ہمارے بابا، بھائی اور چچازاد بھائی مسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ تم وہ لوگ ہو جو نصیب کے مارے ہو اور خود کو تباہ کر لیا ہے اور تم میں سے جو کوئی بھی عہد شکنی کرے اس نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے اور امید ہے کہ خداوند عالم مجھے تم لوگوں سے بے نیاز کر دے گا۔

امام حسین بن علی (ع) کا یہی وہ خطبہ تھا، جسے امام (ع) نے، حر اور اس کے لشکر کے سپاہیوں کے سامنے، کہ جس نے امام کا راستہ روک دیا تھا، اتمام حجت کے لئے اور ان کو حق کی جانب بلانے کے لئے ارشاد فرمایا تھا۔ اس خطبے کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں۔ اموی نظام حکومت کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے پیغمبر خدا (ص) کے اقوال کا ذکر، امام کی عظمت و منزلت کا بیان، اپنے قیام اور تحریک کے علل واسباب کا ذکر اور معاشرے کے افراد کے ساتھ امام کے رابطے کی نوعیت اور اس تحریک کے روشن افق کو بیان کرنا اس خطبے میں پیش کئے جانے والے موضوعات ہیں۔

امام حسین (ع) کا قافلہ، ماہ محرم کی دوسری تاریخ کو کربلا میں وارد ہوتا ہے۔ اس سرزمین پر امام (ع) اور ان کے خاندان اور اصحاب با وفا کے لئے حالات مزید سخت و دشوار ہو جاتے ہیں دشمن امام (ع) اور ان کے بچوں پر پانی بند کر دیتے ہیں تاکہ شاید امام اور ان کے ہمراہ اصحاب، اپنی استقامت کھو بیٹھیں اور ان کے سامنے تسلیم ہو جائیں لیکن ایسے حالات میں کربلا والوں نے ایثار و فدا کاری کا ایسا اعلی ترین نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے لئے نمونۂ عمل بن گیا۔

امام (ع) اچھی طرح جانتے تھے کہ میدان جنگ میں بڑے اور عظیم حادثوں کا متحمل ہونے کے لئے عظیم قوت برداشت کی ضرورت ہے۔ اسی بناء پر ہر مقام پر اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کو ایمان اور یقین کی بنیادیں مستحکم ہونے کی تلقین فرماتے تھے اور شب عاشور، اصحاب و انصار نے خود کو امام پر قربان کرنے کے لئے آمادہ کر لیا تھا۔ شب عاشور ایسے اضطراب کی شب تھی جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس شب امام حسین (ع) نے اپنے اصحاب کو بلایا اور واضح طور پران سے کہا کہ ہماری شہادت کا وقت نزدیک ہے اور میں تم پر سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں لہذا تم رات کی تاریکی سے استفادہ کرو اور تم میں سے جو بھی کل عاشور کے دن جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتا اس کے لئے اپنے گھر اور وطن لوٹ جانے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ یہ تجویز در حقیقت امام حسین (ع) کی جانب سے آخری آزمائش تھی۔ اور اس آزمائش کا نتیجہ، امام کے ساتھیوں میں جنگ میں شرکت کے لئے جوش و جذبے میں شدت اور حدت کا سبب بنا اور سب نے امام (ع) سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور کہا کہ خون کے آخری قطرے تک وہ استقامت کریں گے اور آپ کے ساتھ رہیں گے، اوراس طرح سے اس آزمائش میں سرافراز و کامیاب ہوں گے۔

عاشور کی صبح آئی تو امام (ع) نے نماز صبح کے بعد اپنے اصحاب کے سامنے عظیم خطبہ دیا ایسا خطبہ جو ان کی استقامت اور صبر کا آئینہ دار تھا امام (ع) نے فرمایا اے بزرگ زادوں، صابر اور پر عزم بنو۔ موت انسان کے لئے ایک پل اور گذر گاہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ جو رنج و مصیبت سے انسان کو رہائی دلا کر جنت کی جاوداں اور دائمی نعمتوں کی جانب لے جاتی ہے۔ تم میں سے کون یہ نہیں پسند کرے گا کہ جیل سے رہائی پاکر محل اور قصر میں پہنچ جائے جب کہ یہی موت تمہارے دشمن کے لئے قصر اور محل سے جہنم میں جانے کا باعث بنے گی۔ اس عقیدے کی جڑ خدا پر اعتماد اور یقین ہے اور یہ چیز صبر اور استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ پھر امام (ع) نے اپنے لشکر کو ترتیب دیا اور پھر تیکھی نظروں سے دشمن کے بھاری لشکر کو دیکھا اور اپنا سر خدا سے راز و نیاز کے لئے اٹھایا اور فرمایا ” خدایا مصائب و آلام اور سختیوں میں میرا ملجا اور پناہگاہ تو ہی ہے میں تجھ پر ہی اعتماد کرتا ہوں اور برے اور بدترین و سخت ترین حالات میں میری امید کا مرکز تو ہی ہے۔ ان سخت و دشوار حالات میں صرف تجھ ہی سے شکوہ کر سکتا ہوں تو ہی میری مدد کر اور میرے غم کو زائل کر دے اور آرام و سکون عطا کر۔ صبح عاشور کی جانے امام (ع) کی اس دعا میں، تمام تر صبر و استقامت کا محور خدا پر یقین و  اعتماد ہے بیشک خدا پر یقین اور اعتماد، سختیوں کو آسان اور مصائب و آلام میں صبر و تحمل کی قوت عطا کرتا ہے۔

حضرت امام حسین بن علی (ع) یہ دیکھ رہے تھے کہ دشمن پوری قوت سے جنگ کے لئے آمادہ ہے یہاں تک کہ بچوں تک پانی پہنچنے پر بھی روک لگا رہا ہے اور اس بات کا منتظر ہے کہ ایک ادنی سا اشارہ ملے تو حملے کا آغاز کر دے۔ ایسے حالات میں امام (ع) نہ صرف جنگ کا آغاز کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے دشمن کی سپاہ کو وعظ و نصیحت کریں تاکہ ایک طرف وہ حق و فضیلت کی راہ کو باطل سے تشخیص دے سکیں تو دوسری طرف کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان کوئی نادانستہ طور پر امام کا خون بہانے میں شریک ہو جائے اور حقیقت سے آگاہی اور توجہ کے بغیر تباہی اور بدبختی کا شکار ہو جائے۔ اسی بناء پر امام حسین (ع) اپنے لشکر کو منظم کرنے کے بعد گھوڑے پر سوار ہوئے اور خیموں سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور انتہائی واضح الفاظ میں عمر سعد کے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگوں میری باتیں سنو اور جنگ و خون ریزی میں عجلت سے کام نہ لو تاکہ میں اپنی ذمہ داری کو یعنی تم کو وعظ و نصیحت کر سکوں اور اپنے کربلا آنے کا تمہیں سبب بتا دوں اگر تم نے میری بات قبول نہیں کی اور میرے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تم سب ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنی باطل فکر اور فیصلے پر عمل کرو اور پھر مجھے کوئی مہلت نہ دو لیکن بہرحال تم پر حق مخفی نہ رہ جائے۔ میرا حامی و محافظ وہی خدا ہے کہ جس نے قرآن کو نازل کیا اور وہی بہترین مددگار ہے۔

یہ ہے ایک امام اور خدا کے نمائندے کی محبت و مہربانی کہ جو اپنے خونخوار دشمن کے مقابلے میں، حساس ترین حالات میں بھی انہیں دعوت حق دینے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ امام (ع) نے روز عاشورا باوجودیکہ موقع نہیں تھا تاہم لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور اپنے راہنما ارشادات سے لوگوں کو حق سے آگاہ فرماتے رہے اور یہ کام آپ پیہم انجام دے رہے تاکہ شاید دشمن راہ راست پر آ جائیں۔ امام (ع) اپنے خطبے میں لشکر عمر سعدکو یہ بتاتے ہیں کہ کوفے اور عمر سعد کے لشکر کے افراد یہ نہ سوچ لیں کہ میں ان خطبوں اور وعظ و نصیحت کے ذریعے کسی ساز باز یا سمجھوتے کی بات کر رہا ہوں۔ نہیں۔ میرا ہدف و مقصد ان خطبوں اور بیانات سے یہ ہے کہ میں تم پر حجت تمام کر دوں اور کچھ ایسے حقائق اور مسائل ہیں کہ جنہیں امام کے لئے منصب امامت اور ہدایت و رہبری کے فرائض کے سبب لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں ان سے باخبر کر دینا ضروری تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کربلا ہمیں کیا درس دیتی ہے ؟

 

«اِنّى ما خَرَجتُ اَشراً و لا بَطراً و لا مُفسداً و لا ظالماً، اِنّما خرجتُ لِطلَبِ الاِصلاح فى اُمَّہِ جدّى، اُریدُ اَن آمُرَ بالمعروفِ و اَنہى عن المنکر و اُسیر بسیرہِ جدّى و اَبى علىّ بن اَبیطالب‏»؛میں سرکشی اور مقام طلبی کی خاطر یا ظلم و فساد پھیلانے کی خاطر نہیں چلا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف نانا کی امت کی اصلاح کرنا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور بابا کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہے۔

کربلا ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشہ میں درس انسانیت دیا ہے اور ہر صاحب فکر کو اپنی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ روز عاشور کی تعلیمات ہر انسان کے لیے ابدی زندگی کا سرمایا ہیں کہ جن میں سے چند ایک کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے :

 

۱: حریت اور آزادی

 

تحریک کربلا کا سب سے اہم درس آزادی، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: موت فی عز خیر من حیاۃ فی ذل۔ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ اور ظالم کی بیعت قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا: لا و اللہ، لا اعطیھم یدی اعطاہ الذلیل و لا اقر اقرار العبید۔ خدا کی قسم، اپنا ہاتھ ذلت کے ہاتھوں میں نہیں دوں گا اور غلاموں کی طرح تمہارے آگے نہیں جھکوں گا۔

اسی طرح کربلا میں جب آپ(ع) کو جنگ اور بیعت کے درمیان محصورکر دیا تو آپ نے فرمایا: الا و انّ الدعی بن الدعی قد رکزنی بین اثنین، بین السلۃ و الذ لۃ، ھیھات منا الذلۃ۔ ۔ ۔ ناپاک کے بیٹے ناپاک نے مجھے دو چیزوں کے درمیان، شمشیر اور ذلت کے درمیان مجبور کر دیا ہے تو یاد رکھنا ذلت ہم سے کوسوں دور ہے۔

نہضت عاشورا نے تمام مظلومان عالم کو مقاومت اور ظالموں کا مقابلہ کرنے والوں کو ثابت قدمی کا درس دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مصلح اعظم جناب گاندھی جی یہ تاریخی جملہ کہنے پر مجبور ہو گئے : میں ہندوستان کے لوگوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں لے کر آیا۔ میں صرف اس نتیجہ کو جو میں نے کربلا کے بہادروں کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اخذ کیا ہے تمہارے لیے تحفہ کے طور پر لایا ہوں۔ اگر تم لوگ ہندوستان کو ظلم سے نجات دلاتا چاہتے ہو تو حسین بن علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرو۔

 

۲: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

 

تاریخ عاشورا میں یزید کی حکومت سب سے بڑا منکر اور برائی ہے اور حق و صداقت کو حاکم بنانے کے لیے اور ظلم کی بیخ کنی کرنے کے لیے جنگ کرنا سب سے بڑا معروف اور نیکی ہے۔ لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واقعہ کربلا کا سب سے اہم فلسفہ ہے۔ حضرت سید الشہداء (ع) اپنے وصیت نامہ میں جو اپنے بھائی محمد حنفیہ کو لکھتے ہیں یہ بیان کرتے ہیں : «اِنّى ما خَرَجتُ اَشراً و لا بَطراً و لا مُفسداً و لا ظالماً، اِنّما خرجتُ لِطلَبِ الاِصلاح فى اُمَّہِ جدّى، اُریدُ اَن آمُرَ بالمعروفِ و اَنہى عن المنکر و اُسیر بسیرہِ جدّى و اَبى علىّ بن اَبیطالب‏»؛میں سرکشی اور مقام طلبی کی خاطر یا ظلم و فساد پھیلانے کی خاطر نہیں چلا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف نانا کی امت کی اصلاح کرنا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور بابا کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہے۔

امام(ع) کے یہ کلمات امام(ع) کی تحریک میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ضروری ہونے کو روز روشن کی طرح واضح کرتے ہیں۔ امام کے زیارت نامہ میں بھی یہ موضوع بیان ہوا ہے : اشھد انک قد اقمت الصلاۃ و آتیت الزکاۃ و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر و جاھدت فی سبیل اللہ حتی اتاک الیقین۔

زیارت کے یہ کلمات اس فریضہ الٰہی کی گہرائی کو میدان جہاد میں جلوہ نما کرتے ہیں۔ امام حسین (ع) نے عصر عاشور اس فریضہ الٰہی پر عمل کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ انسانی سماج قائم کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا، واجبات کی تلقین اور محرمات سے روکنا، حتی عدل و انصاف کی خاطر قیام کرنا اور ظلم و استبداد کو سرنگوں کرنا کرہ ارض کے ہر خطہ میں بسنے والے ہر انسان پر ضروری ہے۔ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت کا انکار کر کے ولید اور مروان کو منہ توڑ جواب دے دیا اور اس کے بعد نانا رسول خدا(ص) کی قبر پر تشریف لے گئے۔ نانا سے مناجات کرنا شروع کیا۔ اور اپنی مناجات میں معروف اور نیکی سے محبت کا اظہار کیا۔ اور خدا سے اس سلسلے میں طلب خیر کرتے ہوئے فرمایا: خدایا میں نیکیوں کو دوست رکھتا ہوں اور منکرات سے متنفر ہوں اے خدائے عز و جل میں تجھے اس قبر اور صاحب قبر کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے لیے اس راستہ کا انتخاب کر جس میں تیری رضا ہو۔

 

۳: وفاداری

 

وفائے عہد، ایمان کی نشانی ہے۔ روایت میں ہے : من دلائل الایمان، الوفاء بالعھد۔ ایمان کی ایک نشانی وعدہ کا وفا کرنا ہے۔

جب ہم واقعہ عاشورا کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک طرف وفاداری کے مجسم پیکر نظر آتے ہیں اوردوسری طرف بے وفائی اور عہد شکنی کے بت۔

کوفیوں کا ایک اہم نکتہ ضعف یہی بے وفائی تھی۔ چاہے وہ مسلم بن عقیل کے ساتھ بیعت میں بے وفائی ہو چاہے وہ امام حسین (ع) کی طرف خط لکھنے اور وعدہ نصرت کرنے کے بعد بے وفائی ہو۔ اور انہوں نے نہ صرف بے وفائی کا ثبوت دیتے ہوئے امام کی مدد نہیں کی بلکہ برعکس دشمنوں کی صفوں میں آ کر امام کے ساتھ معرکہ آرا ہو گئے۔ امام نے جو جناب حر کے ساتھ گفتگو کی اس میں بیان کیا: اگر تم نے میرے ساتھ وعدہ کو وفا نہیں کیا اور عہد شکنی کی، یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اس لیے کہ تم لوگوں نے میرے باپ علی (ع)، میرے بھائی حسن(ع) اور میرے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کے ساتھ بھی یہی کیا ہے۔

ایک طرف بے وفائی کی انتہاء تھی اور دوسری طرف امام حسین (ع) وفاداری کا مکمل نمونہ ہیں اور نہ صرف امام حسین (ع) بلکہ ان کے بہتر(۷۲) جانثار بھی وفاداری کی آخری منزل پر فائز ہیں۔ جب شب عاشور امام حسین (ع) انہیں ان کے قتل ہو جانے کی خبر دے رہے ہیں تو نہ صرف انہوں نے سر نہیں جھکائے اور ان پر خوف نہیں طاری ہوا بلکہ حیرت کن الفاظ میں امام کے قدموں میں اپنی جانیں قربان کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا حالا نکہ امام (ع) نے اپنی بیعت کو ان کے کاندھوں سے اٹھا لیا تھا۔ آخر کار امام کو یہ کہنا پڑا: میں اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اصحاب کو نہیں جانتا۔

حضرت ابوالفضل العباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو دشمن نے امان دی لیکن انہوں نے اس کی امان کو قبول نہیں کیا اور ایسا کردار پیش کیا کہ وفاداری کی مثال بن گئے۔ تاریخ بشریت میں عباس جیسا با وفا انسان نظر نہیں آ سکتا۔ وہ عباس(ع) جس کا دوسرا نام ہی وفا ہو گیا۔ جناب عباس(ع) کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے : «أشہدُ لکَ بِالتسلیمِ و التّصدیقِ و الوفاءِ و النَّصیحہِ لِخَلَفِ النّبیِّ»؛ یہ گواہی ہے عباس کی بھائی کے سامنے اطاعت، تسلیم، تصدیق اور وفاداری پر۔

عاشورا کے پیغامات میں سے ایک پیغام، پیغام وفا ہے جو کبھی بھی دنیا کے وفا دار اور وفا دوست افراد کے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکتا۔

 

۴: رضا اور تسلیم

 

عرفان کے بلند ترین مراتب میں سے ایک مرتبہ رضا کا ہے۔ رضا، خدا کی نسبت انتہائی محبت اور عشق کی علامت بھی ہے اور کمال اخلاص اور استحکام ارادہ و عمل کی دلیل بھی ہے۔

اہلبیت علیھم السلام نے بر بنائے رضا ہر بلا اور مصیبت کو خندہ پیشانی سے تحمل کر لیا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر گز شجرۂ دین استوار اور پر ثمر نہ ہو پاتا۔

واقعہ کربلا رضا اور تسلیم کا کامل نمونہ ہے۔ امام حسین (ع) کوفہ کے راستے میں فرزدق سے ملاقات کرنے کے بعد فرماتے ہیں : میں قضائے الٰہی کو دوست رکھتا ہوں خدا کا اس کی نعمات پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور اگر قضائے الٰہی نے ہمارے درمیان اور ہماری امید کے درمیان فاصلہ ڈال دیا تب بھی ہم رضائے الٰہی کو مقدم رکھیں گے۔

اسی طریقے سے امام اپنے ان اشعار میں جو اس سفر کے دوران رنج و مصائب کی بنا پر ان کی زبان پر جاری ہوئے فرماتے ہیں : رضا اللہ رضا اھل البیت۔ یعنی جو اللہ کی رضا ہے وہی اہم اہلبیت کی رضا ہے۔

آپ نے زندگی کے آخری لمحوں میں پیشانی کو تپتی ہوئی ریت پر رکھ کر قضائے الٰہی پر رضا اور تسلیم کا ثبوت دیتے ہوئے فرمایا: «إلہی رضاً بِقضائکَ تَسلیماً لِأمرِکَ لا معبودَ سِواک یا غیاثَ المُستغیثینَ۔

البتہ یہ یاد رہے کہ صبر و رضا کا دعویٰ کر لینا تو بہت آسان ہے اپنے آپ کو صابر اور تسلیم حق کہہ دینا تو بہت آسان ہے لیکن حسین بن علی (ع) کی طرح ثبوت پیش کرنا اور تسلیم و رضا کے درجۂ کمال کو پا لینا صرف حسین (ع) کا کام ہے۔

 

۵: اخلاص

 

اخلاص مکتب عاشورا کا ایک آشکار جلوہ اور گراں قیمت گوہر ہے۔

تحریک عاشورا کی بقا کا ایک اہم ترین راز یہ گوہر اخلاص ہے اور خدا نے وعدہ کیا ہے کہ مخلصین کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور انہیں دنیا اور آخرت میں اجر کامل عطا کرے گا۔

تاریخ بشری اور تاریخ اسلام میں جنگ اور جہاد کے بہت سے واقعات پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض واقعات تاریخ کے صفحوں میں جاودانی زندگی اختیار کر لیتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی یہ وہ واقعات ہیں جو اخلاص اور للٰہیت کے سمندر میں غوطہ ور ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن کریم صبغۃ اللہ یعنی رنگ خدائی سے یاد کرتا ہے۔ واقعہ عاشورا اس لازوال رنگ الٰہی میں رنگین ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے اپنی ان تقاریر میں جو انہوں نے مدینہ سے نکلنے سے پہلے فرمائیں، ہر طرح کی دنیا طلبی اور حکومت خواہی کو محکوم کیا اور اپنے سفر کے خالص ارادہ کو کہ جو وہی دین اور سماج کی اصلاح ہے بیان کیا: خدایا تو جانتا ہے کہ جو کچھ میں انجام دے رہا ہوں ہر گز دنیوی حکومت اور دنیوی مال و منال کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ دین اسلام کی تعلیمات سے باخبر کروں اور خدا کی نشانیوں کو دکھلاؤں اورسماج کی اصلاح کروں تاکہ مظلوم امن و آمان سے رہیں اور تیرا حکم اور تیری سنت اجرا ہو۔

یہی الٰہی تصمیم تھا جس کی وجہ سے کوئی چیز امام اور ان کے اصحاب کو اس مقصد سے روک نہ سکا۔ اس خالصانہ نہضت اور تحریک میں جو نا خالص افراد تھے دھیرے دھیرے راہ کربلا میں امام سے جدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ عاشورا میں وہی افراد باقی تھے جو مجسمہ اخلاص تھے۔ خلوص ایسی چیز ہے جسے صرف خدا ہی پرکھ سکتا ہے۔ اور خدا کا خالص بندہ صرف خدا کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنی جان کو اس کی راہ میں نچھاور کرنے کو آسان اور معمولی بات سمجھتا ہے۔

درس عاشورا یہ ہے کہ ہم اپنے ہر کام میں مقصد اور ہدف کو خالص کریں۔ اور یہ جان لیں کہ خدا کی بارگاہ میں وہی عملی جاودانہ ہے جو رنگ خدائی رکھتا ہو اور یہی راز ہے تاریخ بشریت میں کربلا کی بقا کا۔ اس طریقے سے کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں نہ صرف کوئی کمی واقع نہیں ہو پا رہی ہے بلکہ دن بدن اس نہضت اور تحریک کے دامن وسعت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

 

۶: ادب، نجات کا عامل

 

انسان کی نجات اور عاقبت کے بخیر ہونے کا ایک سبب، ادب ہے روایات میں ہے کہ سب سے بہترین چیز جسے اولاد کو اپنے والدین سے ارث میں لینا چاہیے، ادب ہے۔

تحریک عاشورا میں ادب کے بے نظیر نمونہ پائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب حر کے لشکر کو حکم ملا کہ امام حسین (ع) پر راستہ بند کر دیا جائے امام نے حر کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ثکلتک امک ما ترید؟یعنی تمہاری ماں تمہارے غم میں بیٹھے، تو مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟۔ حر نے جواب میں کہا : اگر آپ کی ماں دختر پیغمبر (ع)کے علاوہ کوئی اور ہوتی تو میں بھی ایسا ہی جواب دیتا۔ لیکن کیا کروں کہ آپ کی ماں فاطمہ زہراء (ع) ہیں۔

یہ ادب و احترام کہ جو جناب حر نے حضرت زہرا (س) کے مقابلے میں کیا ان کی نجات کا ایک سبب بن گیا۔

اسی طریقے سے حضرت ابوالفضل العباس کا بے مثال ادب و احترام امام حسین (ع) کے سلسلے میں اپنی مثال آپ ہے۔ روز عاشور آپ کی شہادت تک نہیں ملتا ہے کہ حضرت عباس نے امام حسین (ع) کو بھائی کہہ کے آواز دی ہو۔ ہمیشہ امام کو مولا کہہ کے مخاطب کرتے تھے۔ صرف اس وقت امام کو بھائی کہہ کے بلایا جب اپنے دونوں ہاتھوں کو کھو چکے تھے۔ آنکھ میں تیر پیوست تھا اور سر گرز کے وجہ سے شگافتہ ہو چکا تھا۔ جب زین فرس سے زمین پر آ رہے تھے فرمایا:یا اخاک ادرک اخاک۔ اے بھیا، اپنے بھائی کی خبر لیجئے۔

ایک سبب جو تاریخ شہداء میں حضرت عباس کے مقام کو بلند کرتا ہے یہی بے مثال ادب و احترام ہے جو انہوں اپنے زمانے کے امام کے سامنے دکھلایا ہے۔

 

۷: حجاب اور عفت

 

عورت کی کرامت اور بزرگی اس کی عفت اور پاکدامنی میں نہفتہ ہے۔ اور حجاب، عورت کی عفت اور پاکدامنی کو محفوظ رکھنے اور سماج کو اخلاقی برائیوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ امام حسین (ع)، حضرت زینب (س) اور آپ کے خاندان پاک نے کربلا کی تحریک میں اپنے عمل اور اپنی زبان سے حجاب کی رعایت پر بے انتہا تاکید کی۔

شب عاشور کو امام (ع) نے اپنے اہلبیت کے ساتھ گفتگو میں انہیں حجاب اور عفت کی وصیت کی۔

روز عاشور جب امام حسین (ع) نے بچیوں کے رونے کی بلند آواز سنی جناب عباس اور جناب علی اکبر کو بھیجا تاکہ انہیں صبر و تحمل کی تاکید کریں۔

بعض لوگوں کے گمان کے برخلاف، حضرت زینب(س) روز عاشور کو بہت کم خیمہ سے باہر نکلیں تاکہ نامحرموں کی نگاہ ان کے بدن کے حجم پر نہ پڑے۔

منجملہ، جب امام حسین (ع) جناب علی اکبر کے سرہانے پہنچے تو جناب زینب کو یہ لگا کہ کبھی امام اس مصیبت کو تحمل نہ کر پائیں اور اپنی جان دے دیں، لہٰذا خیمہ سے نکل کر بھائی کو سہارا دینے پہنچیں۔

امام سجاد (ع) کربلا کے اسیروں کے قافلہ میں مخدرات عصمت و طہارت کے عفت و حجاب کے محافظ تھے اور کوفہ میں ابن زیاد سے کہا: اگر تمہارے اندر کوئی خوف خدا باقی رہ گیا ہے تو کسی نیک پاکدامن مسلمان کو ان خواتین کے ساتھ مدینہ بھیجو۔

اسی طریقہ سے جب عمر سعد کا اس کاروان کے پاس سے گذر ہوتا تھا تو اہل حرم فریاد بلند کرتے تھے اور اپنی لٹی ہوئی چادریں اس سے طلب کرتے تھے تاکہ ان کے ذریعے اپنے حجاب کے حفاظت کر سکیں۔

یہ تاریخ عاشورا میں عفت اور پاکدامنی کے چند نمونہ تھے لیکن افسوس سے جب ہم اپنے سماج کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو جو حجاب اور پردہ ہمیں اپنی خواتین میں نظر آتا ہے وہ کربلا کی خواتین سے کوسوں دور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درس ہمیں کربلا کی انسانیت ساز تاریخ سے لینا چاہیے اور ان کے ذریعے اپنی زندگی کو سعادتمند بنانا چاہیے نہیں لے پا رہے ہیں۔

امام حسین(ع) کے قیام کا مقصد صحیح زندگی کی راہ دکھلانا ہے اور اگر یہ راہ و روش میدان عمل میں

نظر نہ آئے تو کل قیامت کے دن امام حسین (ع) کو کیا جواب دیں گے۔ ذرا غور کیجئے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://urduold.ws.irib.ir/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید