FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

نبی کریم ﷺ کا طریقہ تلاوت

 

 

                مولف: موید عبد الفتاح حمدان- کویت

 

                ترجمہ و تلخیص : مبصر الرحمن قاسمی

 

 

 

مقدمہ

 

الحمد للہ حمدا طيبا مباركا فيہ وبعد….

 

قارئین کرام! نبی  کریمﷺ  کا طریقہ تلاوت  نامی یہ رسالہ  آپ کے ہاتھوں میں ہے، یہ رسالہ بے پناہ  اہمیت و افادیت کا حامل ہے ، یہ رسالہ؛کتاب اللہ کے پڑھنے والوں کو نبی  کریم ﷺ کے طریقہ تلاوت کی رہنمائی کرتا ہے، یقیناً تلاوت قرآن ایک عظیم عبادت ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے مالک و مولیٰ کا قُرب حاصل کرتا ہے، ہر عبادت  میں دو چیزیں اخلاص اور اتباع نبوی ﷺ  کا ہونا ضروری ہے، ارشاد باری تعالی ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا  (اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ )

امام نسفی: أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا کی تفسیر میں  أَحْسَنُ کے معنی اخلص واصوب بیان کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے ہر عمل خالص اللہ کی رضا اور سنت کے مطابق ہو۔ لہذا قاری قرآن کے لیے کسی رہبر و رہنما کی ضرورت ہے، جو کتاب اللہ کے پڑھنے والوں کو نبی ﷺ  کی تلاوت کے طریقے اور کیفیت کی رہنمائی کرے۔ تاکہ تلاوت جیسی عبادت صحیح ہو۔ اور اس عبادت کو بارگاہ الہی میں شرف قبولیت حاصل ہو۔ خصوصاً موجودہ دور میں جس میں قراء کی بدعات اور خرافات کا غلبہ ہے، یہ کتابچہ انشاء اللہ  جہاں شفاء بخش دوا کا کام کرے گا وہیں ہدایت کی روشنی بھی فراہم کرے گا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتابچے کو شافی و کافی بنائے اور تمام مسلمانوں کو اس کا فائدہ پہنچائے۔

وصل اللھم وسلم و بارک علی محمد و آلہ و اصحبہ اجمعین

 

 

 

عرض مترجم

 

بسم اللہ والصلاة والسلام على معلم القرآن صلوة اللہ وسلامہ عليہ وبعد:

یہ کتابچہ اپنی ضخامت اور طوالت کے اعتبار سے بہت ہی معمولی ہے، لیکن اپنی افادیت و منفعت کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، قرآن کریم کی تلاوت، اس کا تدبر،اسے سیکھنا اور اس پر عمل کرنا بھی حضور نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ ہمارا   تدبر قرآن اور تلاوت قابل قبول ہوسکے۔ارشاد باری تعالی ہے: ولكم في رسول اللہ أسوة حسنة (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے) یعنی آپ کی ہر ادا اور ہر عمل طریقہ نبوی کے مطابق ہو، زیر نظر کتاب دراصل عربی زبان میں لکھی گئی ہے، جسے راقم الحروف نے اجازت کے بعد اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، اللہ تعالی اس عمل کو قبول فرمائے اور ذریعہ آخرت بنائے۔

 

مبصر الرحمن قاسمی

 

 

 

 

 

1- نبی کریم ﷺ جب قرآن پڑھنے کا ارادہ کرتے تو  اللہ تعالی کے حکم ﴿ فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿النحل:٩٨﴾ پر عمل کرتے تھے۔

ترجمہ:”اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو ۔

 

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وسوسوں کو دفع کرنے کے لیے تلاوت سے پہلے تعوذ پڑھنا  جمہور کے نزدیک اولی و افضل ہے۔

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جمہور کے قول کے مطابق قرآن شروع کرنے سے پہلے {اعوذ بِاللَّہ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} پڑھنا مستحب ہے(تفسیر قرطبی (۱-۸۶))

 

2 –  بسااوقات نبی کریم ﷺ قرآن شروع کرنے سے پہلے { أَعُوذُ بِاللہ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِہ وَنَفْثِہ وہمْزِہ }پڑھا کرتے تھے۔

(صفۃ صلاۃ النبی  ﷺ للالبانی  (۱/۲۷۱)

 

3- اور بسا اوقات آپ ﷺ قرآن شروع کرنے سے پہلے : أَعُوذُ بِاللہ مِنَ الشّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِہ وَنَفْثِہ وہمْزِہ پڑھتے تھے

(رواہ احمد فی مسندہ(۲۵۳/۵) قال شعیب الارنووط حسن لغیرہ، وکذا حسنہ الالبانی)

 

“اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”  پر اکتفاء کا حکم:  ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ قرأتِ قرآن سے پہلے ان ہی کلمات کے ذریعے شیطان مردو سے اللہ کی پناہ طلب کرتے  تھے۔

شیخ محمد بن محمد المختار  الشنقیطی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: سورۃُ النحل میں یہی  الفاظ وارد ہیں: {فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} ، اور جمہور قُراء کا اسی پر اتفاق ہے، یہ الفاظ دیگر کلمات سے افضل ہیں، کیونکہ اللہ تعالی نے ان ہی کلمات کے ذریعے حکم دیا اور قرآن میں بیان فرمایا، لہذا متعین کلمات غیر متعین سے افضل ہیں ، اس لیے أَعُوذُ بِاللہ مِنَ الشّيْطَانِ الرَّجِيمِ کے ک کو قرآن میں اس کی تعیین کی وجہ سے افضل قرار دیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک نبی کریم ﷺ کا  {أَعُوذُ بِاللہ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِہ وَنَفْثِہ وہمْزِہ}کلمات سے قرآن شروع کرنا مذکور ہے تو یہ بطور جواز ہے، لیکن جو چیز جواز پر دلالت کرتی ہو ضروری نہیں ہے کہ وہ حکم کا درجہ رکھے، لہذا قرآن مجید میں مذکورہ تعوُذ کے کلمات اللہ تعالی کے منتخب کردہ ہے  لہذا یہی فضیلت کے حامل ہیں ۔  (مذکرۃ الشرح الزاد (1/1))۔

 

4-نبی ﷺ اگر کوئی سورہ شروع سے پڑھتے تو بسمِ اللہ سے شروع فرماتے :

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک دن حضور ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۂ کوثر پڑھی۔ (رواہ مسلم(۴۰۰))۔

 

5- نبی ﷺ جب قرآن پڑھنا شروع فرماتے تو  ترتیل سے یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے:

 

آپ صلی ﷺ اللہ تعالی کے ان ارشادات کو بخوبی بجا لاتے تھے:  “وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا” (مزمل)  ترجمہ: اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔

وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہ لِتَقْرَأَہ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاہ تَنزِيلًا (سورة الإسراء)

ترجمہ: اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے ۔

“لَا تُحَرِّكْ بِہ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِہ”  ( سورة  القیامہ)

ترجمہ: اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کر لو ۔

الغرض آپ ﷺ قرآن کو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، تاکہ  امت پر ظاہر ہو جائے کہ وہ قرآن کس طرح پڑھیں، اورکس طرح سمجھیں۔

 

6- نبی ﷺ کی قرأت واضح ہوتی تھی، آپ تلاوت فرماتے تو ہر حرف  کو جدا جدا  ادا فرماتے (اسنادہ صحیح قال الالبانی صفۃ صلاۃ ص: 124  )،  پڑھنے میں عجلت نہیں فرماتے اور آپ ﷺ ہر آیت پر وقف فرماتے تھے :

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے ہوئے ہر آیت پر وقف کرتے تھے یعنی اس طرح پڑھتے الحمدللہ رب العالمین پھر ٹھہرتے، پھر پڑھتے الرحمن الرحیم پھر رکتے اور پھر پڑھتے ملک یوم الدین (اور پھر ٹھہرتے) ۔ (رواہ الترمذی (2927) وصحیح الالبانی)

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگرچہ  آیت کا تعلق مابعد سے کیوں نہ ہو پھر بھی آیت کے آخر میں وقف کرنا افضل ہے، اور بعض قراء کا یہ خیال ہے کہ آیت کے آخر میں وقوف کے موقع پر اغراض و مقاصد آیات کا لحاظ رکھنا چاہیے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی اتباع اور آپ کی سنت پر عمل کرنا ہی اولی و افضل ہے۔ (زادالمعاد (1/327))

 

7- آپ ﷺ آواز کو کھینچ کر تلاوت فرماتے تھے:

 

حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کس طریقے سے تلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا:  آپ ﷺ آواز کو کھینچ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔( رواہ النسائی (۱۰۱۴)   و صحیح الالبانی۔)

اور ایک روایت میں ہے حضرت قتادہ بیان فرماتے ہیں: حضرت انس سے دریافت کیا گیا: کہ نبی کریم ﷺ کی تلاوت کا طریقہ کیا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: آپ کی تلاوت  کھینچ کر ہوتی تھی، پھر انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا، اور بسم اللہ  میں مد کو کھینچا، الرحمن کے مد کو کھینچا اسی طرح الرحیم کے مد کو کھینچ کر پڑھا ۔( رواہ البخاری)

علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  اس سے مراد حروف مد اور حروف لین کو معروف مقدار اور  معلوم شروط کے ساتھ کھینچ کر پڑھنا ہے، اور مد سے مراد یہاں مد اصلی  ہے جسے مد ذاتی  یا مد طبعی بھی کہا جاتا ہے۔( مرقاۃ المفاتیح (۴/۸۰))

 

8- نبی ﷺ کی ٹھہر ٹھہر کر پڑھی جانے والی  چھوٹی سورت  بھی غیر ترتیل سے پڑھی جانے والی طویل سورت سے طویل ہوتی تھی۔

 

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی ﷺ کوئی سورہ پڑھتے تھے پس آپ اسے اس قدر ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے کہ وہ   سورت اس کے مقابلے  (قرآن کی دیگر )طویل سورتوں سے طویل ہو جاتی تھی۔

مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی  اس سورت  کو پڑھنے کی مدت  اتنی لمبی ہو جاتی تھی کہ اگر اس سے طویل سورت کو غیر ترتیل سے پڑھا جائے تو  اس کا پڑھنا ختم ہو جائے۔( تحفۃ الاحوذی (۱۱/۳))

فائدہ: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ قلت قرأت مع ترتیل  افضل ہے یا  تیزی کے ساتھ  اور بغیر ترتیل کے کثرت قرأت ؟

ابن قیم رحمہ اللہ نے ان دونوں اقوال  کے درمیان کی راہ اختیار کی ہے اور ابن حجر نے  بھی اسے ہی ترجیح دی ہے؛ ان دونوں کے بقول،  حافظ ابن حجر کے الفاظ میں: ترتیل سے اور رفتار سےدونوں طرح سے پڑھنے میں افضل یہ ہے کہ پڑھنے والا حروف، حرکات اور سکون و واجبات کو نظر انداز نہ کرے، اس طرح دونوں طرح سے پڑھنا افضلیت میں یکساں ہوسکتا ہے، اگر کوئی شخص  ترتیل سے یعنی ٹھہر ٹھہر کر اور غور و تدبر کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس کی مثال ایک عدد قیمتی  موتی صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور جو رفتار سے تلاوت کرے اس کی مثال ایک عدد قیمتی موتی کی قیمت کے کئی موتی صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور کبھی صرف ایک عدد موتی کی قیمت کئی موتیوں کی قیمت سے زیادہ ہوسکتی ہے اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔( فتح الباری (۸۹/۹))

 

9 –  آپ ﷺ دوران تلاوت ہر ہر آیت پر غور فرماتے تھے:

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ انھوں نے حضور نبی کریم  ﷺ کی سب سے عجیب چیز کیا دیکھیں؛ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے چھوڑ دو کہ میں رات میں میرے رب کی عبادت کروں، انھوں نے کہا: بخدا !  مجھے آپ کی قربت محبوب ہے، اور مجھے ہر وہ چیز پسند ہے جس سے آپ خوش ہوتے ہیں، فرماتی ہیں: پس آپ ﷺ اٹھے، وضو فرمایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، فرماتی ہیں: دوران نماز آپ برابر روتے رہے حتی کہ آپ کا گود تر ہو گیا، فرماتی ہیں: پھر آپ ﷺ روتے رہے حتی کہ آپ کی داڑھی مبارک بھی تر ہو گئی، فرماتی ہیں: پھر آپ روتے رہے حتی کہ زمین تر ہو گئی، پھر حضرت بلال نماز کے لیے اذان دینے آئے، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں روتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کا اگلا پچھلا سب معاف کر دیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں، آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے، بربادی ہو اس کی جس نے یہ آیت پڑھا اور اس پر غور نہ کیا، وہ آیت یہ ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّہارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿آل عمران:١٩٠﴾ ۔ ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ (۶۲۰) قال شعیب الارنوط: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم)

 

10- کبھی آپ ﷺ پوری رات ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے تھے اور اس پر غور فرماتے تھے:

 

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے ہٹ کر نوافل پڑھنے لگے، نبیﷺ یہ دیکھ کر اپنے خیمے میں واپس چلے گئے، جب دیکھا کہ لوگ جا چکے ہیں تو  آپ نے اپنی جگہ پر واپس آ کر نوافل پڑھنا شروع فرمایا، میں پیچھے سے آیا اور نبی ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، نبی ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا اور میں ان کی دائیں جانب جا کر کھڑا ہو گیا، تھوڑی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود  بھی آ گئے، وہ ہمارے پیچھے کھڑے ہو گئے، نبی ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے ان کی طرف اشارہ کیا اور وہ بائیں جانب جا کر کھڑے ہو گئے۔اس طرح ہم تین آدمیوں نے قیام کیا اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا، اور اس میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا، قرآن کریم کی تلاوت کرتا تھا، اور نبی ﷺ اپنے قیام میں ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہو گیا، صبح ہوئی تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود  کی طرف اشارہ کیا کہ نبی ﷺ سے رات کے عمل کے متعلق سوال کریں لیکن انھوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سےجواب دیا کہ میں تو اس وقت تک نبی ﷺ سےکچھ نہیں پوچھوں گا جب تک وہ از خود بیان نہ فرمائیں۔ چنانچہ ہمت کر کے میں نے ہی خود ہی عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ساری رات قرآن کریم کی ایک ہی آیت پڑھتے رہے حالانکہ آپ کے پاس تو سارا قرآن ہے؟ اگر ہم میں سے کوئی شخص ایسا کرتا تو ہمیں اس پر غصہ آتا، نبی ﷺ نے فرمایا:  میں اپنی امت کے لیے دعاء کر رہا تھا، میں نے پوچھا کہ پھر آپ کو  کیا جواب ملا؟ نبی ﷺ نے فرمایا:  ایسا جواب کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو وہ نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیں، میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں، چنانچہ میں گردن موڑ کر جانے لگا، ابھی اتنی دور ہی گیا تھا کہ جہاں تک پتھر پہنچ سکے، کہ حضرت عمر کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں یہ پیغام دے کر لوگوں کے پاس بھیج دیا تو وہ عبادت سے بے پرواہ ہو جائیں گے، اس پر نبی ﷺ نے انھیں آواز دے کر واپس بلا لیا، اور وہ واپس آ گئے، اور وہ آیت یہ تھی:

ترجمہ: اے اللہ! اگر تو انھیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں معاف کرد ے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔

 

11-  آپ ﷺ بسااوقات نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھا کرتے تھے؛ جب کسی رحمت والی آیت سے گذرتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے، جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں عذاب کا ذکر ہے ٹھہر جاتے اور اللہ کی پناہ طلب کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں اللہ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے تو آپ اس پر اللہ کی پاکی بیان کرتے۔

 

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں: ایک دن میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی، میں نے دل میں کہا: سو آیات پر ایک رکعت فرمائیں گے، لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ ایک رکعت میں پوری سورت پڑھیں گے لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ سورہ مکمل کر کے رکوع فرمائیں گے لیکن آپ نے اس کے بعد سورہ نساء شروع کی، اور پھر سورہ آل عمران شروع کر دی اور اسے بھی مکمل کیا، آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے، آپ جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں تسبیح ہو تو اللہ کی پاکی بیان فرماتے، اور جب کسی سوال والی آیت سے گذرتے تو اللہ سے سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت سے گذرتے تو اللہ کی پناہ طلب کرتے۔( مسلم (772)  )

اور ایک روایت میں  ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے گذرتے تو سوال کرتے، اور جب کسی عذاب والی آیت سے گذرتے تو اللہ کی پناہ طلب کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں اللہ کی پاکی اور کبریائی کا ذکر ہو تو آپ سبحان اللہ کہہ کر اللہ کی پاکی بیان کرتے۔ (ابن ماجہ(1351) و صحیح الالبانی   )

حضرت مسلم بن مخراق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کو ان  چند لوگوں کے بارے میں بتایا گیا جو ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن ختم کرتے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا: ان لوگوں نے پڑھ کر بھی نہیں پڑھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات  رات بھر نماز پڑھی، آپ سورہ بقرہ ، آل عمران اور سورہ نساء پڑھتے تھے، پس آپ کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں ڈرایا گیا ہے تو اللہ سے دعا کرتے تھے اور پناہ طلب کرتے  اور جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں خوشخبری سنائی گئی ہے تو آپ اللہ سے دعاگو ہوتے تھے اور اس میں اپنی دلچسپی کا اظہار فرماتے تھے۔([رواہ احمد فی مسندہ: 92/6]۔قال شعبع الارنووط: صحیح لغررہ۔)

اور ایک صحابی رسول حضرت عوف بن مالک الاشجعی بابن کرتے ہیں: ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قیام الیل پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ پڑھی، پس جب آپ ﷺ کسی رحمت والی آیت سے گذرتے تھے تو اللہ سے سوال کرتے تھے اور جب عذاب سے متعلق کسی آیت سے گذرتے تو ٹھہر جاتے تھے اور اللہ کی پناہ چاہتے تھے۔( رواہ ابو داؤد(873)و صحیح الالبانی)

 

12-تلاوت کے دوران آپ ﷺ کی آنکھیں نم رہتی اور آپ کے سینے مبارک سے رونے کی وجہ سے ہانڈی کے پکنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔

 

عبداللہ بن  شخیر   رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے ہانڈی کے پکنے کی طرح آواز آ رہی تھی۔( رواہ ابن حبان (753) وقال شعبر الارنووط اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔)

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ بآواز بلند نہیں روتے تھے بلکہ صرف آپ کے آنسو بہتے تھے، اور سینے مبارک سے ایک قسم  کی آواز سنائی دیتی تھی، جب آپ قرآن سماعت فرماتے تو محبت و اشتیاق اور خشیت و خوف کے مارے رو پڑتے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب آپ کو سورہ نساء سنانے لگے اور اس آیت پر پہنچے “فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَہيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ ہٰؤُلَاءِ شَہيدًا ﴿ النساء:٤١﴾ ” تو آپ رو پڑے۔   ترجمہ آیت: بھلا اس دن کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ (ابو داؤد: (1194))

اسی طرح جب سورج گہن ہوا تو آپ ﷺ نے صلاۃ الکسوف پڑھی اور نماز کے دوران رو پڑے، آپ پھونکتے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: “رب الم تعدنی الا تعذبہم وانا فيہم وہم يستغفرون  ونحن نستغفرك”( ابو داؤد: (1194)  ) ترجمہ: اے میرے رب تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ تو انھیں عذاب نہیں دے گا اس حال میں کہ میں ان کے درمیان موجود رہوں، وہ مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم تجھ سے معافی چاہتے ہیں۔

اسی طرح آپ ﷺ بسا اوقات تہجد کی نماز میں بھی روتے تھے۔( زادالمعاد (1/177)   )

 

13- آپ ﷺ خوبصورت آواز میں تلاوت فرماتے تھے۔

 

“حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو عشاء (کی نماز) میں سورۃ التین )وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُونِ ( پڑھتے ہوئے سنا، اور میں نے کسی کو آپ ﷺ سے اچھی آواز اور قرات والا نہیں سنا۔” (رواہ الدارمی(۳۵۰۱)، صحیح البانی فی صحیح الجامع (۳۱۴۵))

حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں: میں نے مغرب کی نماز میں نبی ﷺ کو سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا، جب آپ ان آیات پر پہنچے تو قریب تھا کہ میرا دل اڑجاتا۔(وہ آیات یہ ہیں) أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ ہمُ الْخَالِقُونَ ﴿٣٥﴾ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ ﴿٣٦﴾ أَمْ عِندَہمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ ہمُ الْمُصَيْطِرُونَ ﴿٣٧﴾   ترجمہ: کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں ،یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے ،کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟

اس طرح کی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری تھا کیونکہ صحابی رسول ان آیات کو ایسی ہستی سے سن رہے تھے جس کی آواز سارے انسانوں میں حسین و جمیل ، قرأت قرآن میں جس کا خشوع سب سے بڑھ کر، تدبر قرآن میں جو سب سے آگے اور عمل کے اعتبار سے جو ذات سب سے اعلی و برتر ہے۔

 

14- آپ ﷺ خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔

 

ارشاد گرامی ہے: “اپنی آواز کے ذریعے قرآن کو حسن بخشو، کیونکہ اچھی آواز قرآن کے حسن کو دوبالا کرتی ہے”،(رواہ ابو داؤد (۱۴۶۸)، صحیح البانی)اور ایک روایت میں ہے: “اپنی آواز کے ذریعے قرآن کو زینت بخشو “۔(رواہ الطبرانی (۱۰۰۳۲)، حسنہ الالبانی فی السلسلہ الصحیحہ (۱۸۱۵))

اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے: اچھی آواز قرآن کی زینت ہے۔( فضائل القرآن ص ۱۲۵)

حضرت طاوس  فرماتے ہیں: لوگوں میں قرآن کو خوبصورت آواز میں پڑھنے والا لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شرعاً مطلوب وہ خوبصورت آواز ہے جو تدبر قرآن، تفہیم قرآن، خشوع و خضوع اور اطاعت و بندگی پر آمادہ کرے۔(روضۃ المحبین ص ۲۶۸)

 

15- آپ ﷺ ہمیشہ خوش الحانی سے قرآن پڑھتے تھے۔

 

“وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن مجید کو خوب خوش اِلحانی کے ساتھ نہیں پڑھتا”۔   (رواہ ابو داؤد   (۱۴۷۱)، صحیح البانی، والحدیث اصلہ فی الصحیحین) ابن ابی ملیکہ مذکورہ حدیث کے ایک راوی ہیں سے کہا گیا: “اے ابو محمد! تمہاری کیا رائے ہے، اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اس کے لئے جہاں تک ممکن ہو خوبصورت آواز میں پڑھنے کی کوشش کرے۔( رواہ ابو داؤد (۱۴۷۱)، حسنہ البانی)

آواز اور ادائیگی میں خوبصورتی پیدا کرنے او ر خوش الحانی سے پڑھنے کا حکم : شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مذکورہ حدیث کی تشریح میں اکثر فقہاء اور مفسرین بالخصوص امام شافعی ، احمد بن حنبل اور دیگر کی رائے ہے کہ اس کا مطلب آواز کو خوبصورت بنانا ہے۔لہذا اگر کوئی شخص قرآن کریم کو خوبصورت اور اچھی آواز میں پڑھے تو افضل ہے، لیکن قرآن کو نغموں کے انداز میں تکلف کے ساتھ پڑھنا جمہور علماء کے نزدیک منع ہے اور اسے بدعت کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں قرآن کو نغموں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور قاری نغموں کے وزن پر الفاظ قرآن کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے، کلمات قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی ہے جبکہ سامعین ایسے قاری کو صرف اس کی خوش الحانی کی وجہ سے سنتے ہیں نہ کہ قرآن کی سماعت، اس کے فہم و تدبر اور انتفاع کی غرض سے ، جیسا کہ عام طور پر نغموں کو سناجاتا ہے۔( رسالۃ الی السلطان الملک الناصری ص۵  )

 

16-  تلاوت قرآن کے  وقت آپ ﷺ قرآن کو  خوش الحانی سے پڑھنے کا حکم دیتے تھے:

 

“حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے بیٹھے  تھے، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، سلام فرمایا، ہم نے سلام کا جواب دیا پھر آپ  نے فرمایا : کتاب اﷲ سیکھو، اور اس کی دیکھ بھال کیا کرو۔ عقبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: “اور خوش اِلحانی کے ساتھ اس کی تلاوت کیا کرو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! بیشک یہ قرآن (سینوں سے) اونٹنیوں سے ان کی رسیوں (جس سے وہ باندھی گئی ہوں) سے چھوٹنے سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ( رواہ احمد فی مسندہ(150/4)، وقال شعبو الارنووط: حدیث صحح )

خوش الحانی سے قرآن پڑھنے  کے ساتھ علم اور تقوی کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ قرأت قرآن میں خشوع  اور تدبر کی کیفیت پیدا ہو، صرف حسن صوت اور خوش الحانی قابل تحسین نہیں ہے، بلکہ بسا اوقات  یہ چیز قابل مذمت  و عیب ہے، کیونکہ بغیر علم و تدبر کے خوش الحانی  انسان کو ریاء  و شہرت کے ذریعے ہلاک کرسکتی ہے۔

 

17 – آپ ﷺ اپنی امت کے افراد کی حسن قرأت کی تحسین فرماتے تھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے :

 

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ایک رات عشاء کے بعد مجھے(حاضر خدمت ہونے میں) دیر ہو گئی، پھر میں آئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: میں آپ کے ایک صحابی کی قرأت سن رہی تھی، میں نے کسی اور کی ایسی (عمدہ) قرأت اور آواز نہیں سنی، اُم المومنین نے بیان فرمایا: اللہ کے نبی اٹھ کھڑے ہوئے، میں بھی اٹھ کر آپ کے ساتھ گئی حتی کہ آپ ﷺ نے بھی اس کی قرأت سنی، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: یہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولی سالم ہیں، اللہ کی تعریف ہے (اور اس کا شکر ہے) جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا فرمائے۔(رواہ ابن ماجہ (1338) و صحیح الالبانی)

 

18- آپ ﷺ خوش آواز والوں کے قرآن کو سن کر خوشی کا اظہار فرماتے تھے:

 

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے رات میں میری تلاوت سنی، جب صبح میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا: ابوموسی! رات میں نے تمہاری قرأت سنی، یقیناً تمہیں تو آل داؤد کا ساز عطا کیا گیا ہے میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا علم ہوتا تو میں قرآن کو مزید مزین کر کے پڑھتا۔( رواہ ابن حبان فی صحیحہ (۷۱۹۷) قال شعیب الارنوط: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم)

 

19-نبی اکرمﷺ کبھی بآواز بلند قرآن  پڑھتے تھے اور کبھی دھیمی آواز سے:

 

حضرت عضیف بن حارث کہتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ قرآن کو  بآواز بلند پڑھتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ کہا: کبھی بآواز بلند پڑھتے اور کبھی دھیمی آواز سے، میں نے کہا اللہ اکبر الحمدللہ، اللہ نے اس کام میں وسعت رکھی۔( ابن ماجہ   (1354)،  وقال البانی حسن صحیح)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کبھی بلند آواز سے اور کبھی دھیمی آواز سے قرأت کرتے تھے۔( رواہ ابوداؤد (1328)، حسنہ البانی)

علامہ طیبی فرماتے ہیں: قرآن کو بآواز بلند پڑھنے کے جہاں فضائل آئے ہیں وہیں آہستہ پڑھنے کے بھی فضائل وارد ہیں، لہذا دونوں اقوال کے درمیان کی راہ یہ ہے کہ آہستہ پڑھنا اس شخص کے لیے افضل ہے جسے ریا اور دکھلاوے کا ڈر ہو، اور جسے ریا کا خدشہ نہ ہو تو اس کے لیے بآواز بلند پڑھنا افضل ہے، لیکن اس شرط پر کہ بلند آواز کی وجہ سے کسی نمازی یا کسی سونے والے یا کسی اور فرد کو تکلیف نہ ہو، بآواز بلند پڑھنا ایسے شخص کے لیے اس لیے افضل ہے کیونکہ نیک عمل کو علانیہ کرنا دوسروں کے لیے نفع کا باعث ہوتا ہے، یعنی بلند خوانی کی وجہ سے کوئی قرأت سنے گا، کوئی سیکھے گا یا کسی میں تلاوت کا شوق پیدا ہو گا، اسی طرح بلند آواز سے تلاوت کرنا دین کا ایک شعار بھی ہے، بلند خوانی پڑھنے والے کے دل کو جگاتی ہے، اس کے غم کو ہلکا کرتی ہے، نیند کو بھگاتی ہے، دوسرے لوگوں کو عبادت کے لیے تیار کرتی ہے، لہذا اگر کسی فرد میں ان میں سے کوئی نیت پائی جاتی ہے تو اس کے لیے بآواز بلند تلاوت کرنا افضل ہے۔( تحفۃ الاحوذی (8/191))

 

20- آپ ﷺ حالت جنابت کے علاوہ ہر حالت میں قرآن پڑھتے تھے:

 

حضرت عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں اور دو لوگ حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے، انھوں نے فرمایا: آنحضرت ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر تلاوت قرآن فرماتے  اور ہمارے ساتھ تشریف فرما ہو کر گوشت تناول فرماتے  اور تلاوت قرآن  فرماتے، اور حالت جنابت کے علاوہ  آپ کے لیے تلاوت قرآن میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔  ( یعنی جس وقت آپ ﷺ حالت جنابت میں ہوتے تو تلاوت قرآن نہیں فرماتے یہاں تک کہ غسل نہ فرماتے)- (رواہ النسائی (۲۶۵) وحسنہ غیر واحد من اھل العلم منھم الحافظ ابن حجر فی الفتح (۴۸۷/۱)، وابن عبدالبر فی الاستذکار(۴۶۰/۲) والبغوی فی شرح السنہ(۳۵۹/۱))

 

21-  نبی ﷺ بیٹھ کر، کھڑے رہ کر، چلتے ہوئے اور حالت سواری  تمام حالتوں میں قرآن پڑھتے تھے:

 

ارشاد باری تعالی ہے: الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّہ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِہمْ ﴿سورة آل عمران:١٩١﴾

ترجمہ: جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے۔

ابن جریج کہتے ہیں: آیت بالا میں ذکر سے نماز اور غیر نماز میں اللہ کا ذکر کرنا اور قرآن پڑھنا مراد ہے۔

لہذا مذکورہ تمام کیفیتوں میں معروف شرائط کے ساتھ نماز درست ہے اور قرأت قرآن نماز کا ایک حصہ ہے، متعدد احادیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ان تمام حالتوں میں نماز سے باہر قرآن پڑھا ہے۔

 

۔ حالت جلوس میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:

 

عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شب نبی ﷺ کی زوجہ میمونہ کے گھر میں رہے اور وہ ان کی خالہ ہیں، ابن عباس کہتے ہیں میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی زوجہ اس کے طول میں لیٹیں، رسول ﷲ ﷺ سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد، تو رسول ﷲ ﷺ بیدار ہوئے اور نیند میں اپنے چہرہ کو اپنے ہاتھ سے ملتے ہوئے بیٹھ گئے، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں آپ نے پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئے مشک کی طرف (متوجہ ہو کر) آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، اس کے بعد نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔

 

– حالت سواری میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:

 

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فتح پڑھ رہے تھے۔

 

– حالت قیام میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:

 

حضرت عمرہ بنت  عبدالرحمن اپنی بہن سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں  نے کہا: میں نے سورۃ ق  و القرآن المجید جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے سیکھی (یعنی حفظ کی) جسے آپ ہر جمعہ کو منبر پر پڑھتے تھے۔

 

22-  آپ ﷺ بسا اوقات ٹیک لگا کر بھی قرآن پڑھتے تھے:

 

حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ ہم (ازواج مطہرات)  میں سے  کسی  کے گود میں سر رکھتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے جبکہ وہ حیض  سے ہوتی تھیں۔

آپ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ میرے گود میں ٹیک لگاتے تھے اور میں حیض سے ہوتی تھی، پس آپ  (اس دوران )قرآن پڑھتے تھے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث سےیہ ثابت ہوتا ہے کہ حیض والی عورت یا کسی نجات کی جگہ سے قریب قرآن کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔

 

23-  نبی کریم ﷺ قرآن کا مستقل دور فرمایا کرتے تھے اور کبھی  بھی اپنے معمول کو ترک نہیں فرماتے تھے۔

 

حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے ہاں روزانہ تشریف لاتے اور بات چیت کرتے تھے، ابو سعید  کہتے ہیں: آپ اپنے پاوں پر کھڑے کھڑے باتیں کرتے اور زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاوں پر زور دے کر کھڑے ہوتے کبھی دوسرے پر، اور آپ ﷺ بالعموم اپنی قوم قریش کے ساتھ گزرے حالات بیان کرتے، فرماتے: ہم مکے میں برابر نہ تھے، بلکہ کمزور و ناتواں تھے، ، جب ہم مدینے آ گئے تو ہم میں اور ان میں لڑائی شروع ہو گئی، کبھی ہم ان پر غالب آتے کبھی وہ،  ایک رات آپ ﷺ نے اپنے مقررہ وقت پر آنے میں تاخیر کر دی تو ہم نے کہا آج آپ تاخیر سے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک جزء قرآن کا رہتا تھا ، میں نے اس کی تلاوت مکمل کیے بغیر آنا پسند نہ کیا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے اصحاب رسول ﷺ سے معلوم کیا کہ آپ لوگ قرآن کے حصے کس طرح کرتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ پہلا حصہ تین سورتوں کا، (بقرہ، آل عمران اور نساء)دوسرا حصہ سات سورتوں کا (مائدہ سے براءۃ تک) تیسرا حصہ  سات سورتوں کا (یونس سے نحل تک)چوتھا حصہ نو سورتوں کا (بنی اسرائیل سے فرقان تک) پانچواں حصہ گیارہ سورتوں کا(شعراء سے یس تک) چھٹا حصہ تیرہ سورتوں کا (صافات سے حجرات تک) اور ساتواں حصہ مفصل کا(یعنی ق سے  الناس تک)

ابن الہاد بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر بن مطعم (تابعی) نے مجھ سے پوچھا کہ تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا ہوں، تو نافع نے کہا کہ اس طرح مت کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:میں نے قرآن کا ایک جزء (حصہ) پڑھا۔

حزب (حصہ) کا مطلب ہے بطور ورد اور وظیفے کے کوئی حصہ مقرر کر لینا، ابن الہاد نے ایسا کرنے سے انکار کیا، جس پر نافع نے کہا: اس کے انکار کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ حصے حصے کر کے قرآن پڑھنا خود نبی ﷺ سے ثابت ہے۔لہذا قرآن کریم کے جو حصے [ربع، نصف، ثلث، رکوع اور جزء یعنی پارہ] بنے ہوئے ہیں ، یہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ نہیں ہیں لیکن یہ عوام کی آسانی کے لیے بنائے گئے ہیں۔

 

24-نبی ﷺ ہر سال اپنے معلم اول جبریل کو  قرآن سناتے تھے:

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر سال(رمضان) میں ایک مرتبہ حضرت جبریل کو قرآن سناتے تھے اور جس سال نبی ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ قرآن سنا یا۔

اور آپ ہی سے مروی ہے ، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور خاص طور پر رمضان میں جب جبرائیل آپ ﷺ سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور جبرائیل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے اور قرآن کا دور کرتے، نبی ﷺ بھلائی پہنچانے میں ٹھنڈی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس میں آپ ﷺ کی جود وسخاوت کی اعلی سطح کو بیان کیا گیا ہے، آپ کے اس معمول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان میں کثرت سے خیر و خیرات کرنا مستحب ہے، اس حدیث سے یہ  بھی معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور ان کی جدائی سے انسان میں خیرات اور عمل خیر کو کثرت سے کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور تیسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ سال میں ایک مرتبہ  قرآن کا دور کرنا  مستحب ہے۔

 

25-  کبھی نبی ﷺ اپنے بعض ماہر و مُتقن صحابہ کو قرآن سناتے تھے:

 

جیسا کہ  آپ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے (لم يكن الذين كفروا) پڑھوں، (اُبی نے کہا) کیا اللہ نے آپ کو میرا نام لے کر کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، (راوی) کہتے ہیں: اس  بات پر اُبی  رو پڑے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت اُبی کے سامنے قرآن پڑھنے کا آپ ﷺ کو حکم دینے کی مازری اور قاضی حکمت بیان کرتے ہیں: اس کی یہ وجہ تھی کہ آپ ﷺ کے الفاظ، اداء، مقامات وقوف اور قرآن کے اس ترنم کو  اُبی سیکھے جو شریعت نے مقرر کیا ہے اور اس ترنم سے گریز کرے جو قرآن کے علاوہ کے لیے مستعمل ہے، لہذا آپ ﷺ نے حضرت اُبی کو اس لیے قرآن سنایا تھا تاکہ وہ آپ سے پڑھنے کا انداز اور طریقہ سیکھے۔

 

26-  اور آپ ﷺ ماہر قراء سے قرآن سیکھنے کا حکم فرماتے تھے:

 

حضرت مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبداللہ کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: وہ ایک ایسے انسان ہے جن کے بارے میں نبی ﷺ کے فرمان کو سننے کے بعد سے ، ان سے میں برابر محبت کرتا ہوں، آپ ﷺ فرماتے تھے: چار لوگوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود سے، حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور اُبی بن کعب سے۔

اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے انھیں خوشخبری سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ قرآن ویسا پڑھے جیسا نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن اُم عبد کی قرأت کے مطابق پڑھے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے بقول: اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ  چار اصحاب رسول ﷺ قرآن کے الفاظ کی ادائیگی اور اس میں مہارت میں تمام صحابہ سے آگے تھے، گرچہ  دیگر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم  قرآن کے معانی و مفاہیم کو ان کے مقابلے اچھی طرح سمجھنے والے تھے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان چار صحابہ نے  اپنی ذات کو فارغ کر کے نبی ﷺ سے بالمشافہ قرآن پڑھا تھا، جبکہ ان کے علاوہ صحابہ نے ایک دوسرےسے قرآن سیکھا تھا، یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ چاروں صحابہ نے قرآن پڑھانے کے لیے اپنی ذات کو فارغ کر دیا تھا، یا پھر آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنا چاہا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد قرآن پڑھنے اور سیکھنے کے لیے ان چاروں صحابہ کو ترجیح دی جائے۔

 

27- نبی ﷺ اپنے علاوہ سے قرآن سننا پسند فرماتے تھے:

 

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھو!  عبداللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟  فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ سے سنوں، تو میں نے سورہ نساء پڑھی، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا : ” فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَہيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ ہٰؤُلَاءِ شَہيدًا ﴿النساء:٤١﴾ (پھر) میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔” ( ترجمہ: بھلا اس دن کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ )

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:  کُفَّ(بس کرو) یا فرمایا: اَمسِك (رک جاؤ)، پس آپ کے آنسو جاری تھے۔( رواہ البخاری (۴۷۶۲) و مسلم (۸۰۰))

 

28-  نبی ﷺ قرآن پڑھنے والے کو قرأت کے دوران روکنا ہو تو : اَحسَنتَ، حَسبُك،  یا   أَمسِك جیسے الفاظ کہتے تھے:

 

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں حُمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورة یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورة اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: اَحسَنتَ۔ (رواہ البخاری (۴۷۶۲) و مسلم (۸۰۰))

اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے  مجھ سے فرمایا:  میرے سامنے پڑھو ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟ فرمایا : ہاں، پس میں نے سورہ نساء پڑھی، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا : ” فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَہيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ ہٰؤُلَاءِ شَہيدًا ﴿النساء:٤١﴾ ” آپ ﷺ نے فرمایا: حَسبُكَ الآن، جب میں آپ کی جانب متوجہ ہوا تو آپ کےآنسو جاری تھے ۔ ( ترجمہ: بھلا اس دن کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ ) (رواہ البخاری (۴۷۶۳))

 

29- نبی ﷺ قرأت میں  خلل نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے:

 

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا، جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھایا تھا، اس نے اس کے خلاف پڑھا تھا، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ حضرت علی کے ساتھ سرگوشی فرما رہے تھے، لہذا میں نے انھیں یہ بات بتائی، تو حضرت علی ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ویسا پڑھو جیسا تمہیں سکھایا گیا ہے۔(رواہ ابن حبان (۷۴۶) وحسنہ شعیب الارنووط)

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ایک آدمی کو (حم) یعنی (سورۃ الاحقاف) پڑھتے ہوئے سنا، تو اس نے ایک حرف پڑھا، اور دوسرے ایک شخص نے اپنے ساتھی سے الگ دوسرا حرف پڑھا، اور میں نے کئی حروف پڑھے، جسے میرے دونوں ساتھیوں نے نہیں پڑھے، لہذا ہم نبی ﷺ کی جانب چل پڑے اور آپ کو خبر دی، پس آپ نے فرمایا:  اختلاف نہ کرو، تم سے پہلے والے ان کے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے، پھر آ پ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اس شخص کو تلاش کرو جو سب سے اچھا پڑھنے والا ہے اور پھر اس سے پڑھنا سیکھو۔( رواہ احمد فی مسندہ (۴۰۱/۱) وحسنہ شعیب الارنووط)

 

30- نبی ﷺ جب کسی سجدہ والی آیت تلاوت کرتے تو عام طور پر سجدہ کیا کرتے تھے:

 

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: نبی ﷺ آیت سجدہ پڑھتے تھے اور ہم آپ کےپاس ہوتے تھے، پس آپ سجدہ فرماتے  اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، جس کی وجہ سے خوب بھیڑ ہو جاتی ، حتی کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملتی۔ اور کبھی کبھی آپ ﷺ سجدہ چھوڑ دیتے تھے۔( رواہ البخاری (۱۰۲۶) ومسلم (۵۷۵))

زید بن ثابت سے مروی ہے فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو سورہ والنجم سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں فرمایا۔( رواہ البخاری (۱۰۷۳) ومسلم (۵۷۷) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔)

 

31-  نبی ﷺ تلاوت کے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: [سجدَ وجہيَ للذي خلقَہ؛ وشقَّ سمْعَہ وبصَرَہ بحولہ وقوتہ]۔

 

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سجدہ تلاوت  میں یہ دعا تکرار سے پڑھا کرتے تھے: [سجدَ وجہيَ للذي خلقَہ؛ وشقَّ سمْعَہ وبصَرَہ بحولہ وقوتہ]۔ میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے۔( رواہ ابوداؤد (۱۴۱۴) و صحیح الالبانی۔)

 

32-  اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: “اللَّہمَّ اغْفِرْ لِي بِہا ، اللَّہمَّ حُطَّ عَنِّي بِہا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِہا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْہا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَہ”

 

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ گویا میں ایک درخت کے نیچے ہوں، اور گویا درخت سورۃ ص پڑھ رہا ہے، جب وہ آیت سجدہ پر پہنچا تو  اس نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں یہ دعاء پڑھی: “اللَّہمَّ اغْفِرْ لِي بِہا ، اللَّہمَّ حُطَّ عَنِّي بِہا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِہا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْہا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَہ” (ترجمہ: اے اللہ ! اس کے ذریعے میری مغفرت فرما، اے اللہ ! اس کے ذریعے میرے گناہ مٹا دے، اور اس کے ذریعے مجھے شکر کی توفیق دے، اور اس سجدے کو مجھ سے ویسا قبول فرما جیسا تو نے اپنے بندے داؤد سے اس کے سجدے کو قبول فرمایا۔) صبح کو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوسعید! کیا تم نے سجدہ کیا؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم درخت کے مقابلے سجدے کے زیادہ مستحق تھے، پھر آپ نے سورۃ ص پڑھی، پھر آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ فرمایا اور سجدہ میں وہی کلمات دہرائے جو درخت نے پڑھے تھے۔( رواہ ابویعلی فی مسندہ (۱۰۶۹) وحسنہ الالبانی السلسۃ الصحیحہ(۲۷۱۰)۔)

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید