FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

نئی نظم کے معمار: ستیہ پال آنند

               محرک: زیف سید (ظفر سید)

فیس بک کے حاشیہ ادبی گروہ کے آن لائن مباحثے کا سکرپٹ

 

نظم کے نئے معمار سلسلے کا پانچواں اجلاس پیشِ خدمت ہے۔ اس اجلاس کے لیے جناب ستیہ پال آنند کی طویل نظم "اے،حسن کوزہ گر” منتخب کی گئی ہے، صدارت جناب حمید شاہد فرمائیں گے جب کہ ابتدائیہ علی

محمد فرشی تحریر کریں گے۔

یہ اجلاس حاشیہ کے مرحوم کرم فرما جناب جاوید انور کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

زیف سد

٭٭٭


اے حسن کوزہ گر

((Reductio ad absurdum کے طریق کار سےن م راشد کی چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی ایک شعری کوشش۔ راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ )۔

"اے حَسن کوزہ گر”

کون ہے تو؟ بتا

اور’’ تُو‘‘ میں بھی شامل ہے، ’’ہاں‘‘ اور ’’نہیں”

تُو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے

 اور شہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے

آب و گل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے

جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر

خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے

 اپنی صورت گری کی توقع بھی از یادِ رفتہ کیے

چاہ نیساں کی گہرائی میں

خواب آلودہ ہے

اے حسن کوزہ گر

(کیا جہاں زاد بھی (جو کہ ’’نادان‘‘ تھی

باکرہ تھی جسے تو نے نو سال پہلے

’’گل و رنگ و روغن کی مخلوق ‘‘ سمجھا؟

 چڑھایا نہیں چاک پر ( جس کمی کا تجھے آج بھی ہے قلق!)

تیری لگتی تھی کچھ؟

کیا جہاں زاد عطّار یوسف کا مالِ تجارت تھی، اسباب تھی؟

یا کہ بیٹی تھی، بیوی تھی؟ یا داشتہ

یا طوائف کی اولاد تھی، جو ابھی

سیکھ پائی نہ تھی سودا بازی کا فن؟

پیش کرتی تھی ہر آتے جاتے کو اپنی ہنسی

 سودے بازی کا فن سیکھتی تھی ابھی

آج نو سال کے بعد وہ نا شگفتہ کلی

 پھول ہے، کیف و مستی میں ڈوبا ہوا

آج نو سال کے بعد وہ باکرہ

انشراحی بشاشت کے اطوار سب سیکھ کر

 مال و اسباب، سودا گری کا ہنر جانتی ہے کسی بیسوا کی طرح

اے حسن، علم ہے تجھ کو کیا؟

ایک عطّار یوسف کی دکّاں نہیں

غالباً ہر گلی اس کے قدموں کی آہٹ سے واقف تھی، جو

خود ’’جہاں زاد‘‘ تھی یا کہ ’’زادی‘‘ تھی

کس اجنبی کی؟ اسے خود بھی کیا علم ہے

پوچھتے تو ذرا

سب پڑوسی تمھیں یک زباں یہ بتاتے، ’’ جہاں زاد‘‘ اور

’’دختِ زر‘‘ ایک ہی نام ہوتا ہے کسبی کی اولاد کا

اب مری بات سن

میں کہ اک جسم میں تین روحیں لیے لکھ رہا ہوں یہ قصّہ جہاں زاد کا

میں جہاں زاد بھی ہوں، حسن کوزہ گر بھی مرا نام ہے

اور قصہ بھی میرا قلم لکھتا جاتا ہے جیسے کوئی

 عالمِ غیب سے اس کے نوک قلم پر ہے بیٹھا ہوا

اے حسن یہ بتا

تو نے پہلی کنواری بلوغت کے سالوں سے بھی پیش تر

میرے ’’نوخاستہ ‘‘ کورے، کچّے، کنوارے بدن کو

’’ خزاں اور کہولت ‘‘سے کیوں آشنا کر دیا؟

جسم میرا تو شیشہ نہیں تھا جو پھونکوں سے بھرتی ہوا

کے سہارے کسی کوزہ گر کے تخیل کے شیشے کے کوزے میں تبدیل ہو کر

جہاں زاد بنتا

اے حسن کوزہ گر

شہر کوزہ گروں کا، حلب کی سرائے، سفر کی امیں

جس میں سب کوزہ گر، شیشہ گر شب بسر ہیں تمھاری طرح

یہ بھٹکتے ہوئے کاروانوں کی مٹی میں ڈوبی ہوئی

 اک سرائے کہ جس میں نہانے کا اک حوض ہے تو سہی

پر نہانے کا یہ ’’حوض‘‘ اک ’’بستر وصل ‘‘ ہے

اور بستر سرائے کے اس بند کمرے میں ہے

"جس میں ہم ’’ دائرے میں بندھے حلقہ زن

رات بھر

(یعنی اک رات بھر، صرف اک رات بھر)

گرم، مرطوب، ’’آبی ‘‘، ’’عرق ریز جسموں‘‘ میں داخل رہے

اور پھر ’’ہم کنار و نفس‘‘، تیرتے تیرتے جیسے گُم ہو گئے

ہاں، حلب کی سرائے کے اس حوض میں

اپنے نو عمر، کچے، کنوارے بدن کو ڈبوتے ہوئے

’’خشک و تر مرحلوں ‘‘سے تجرد کی چادر بھگوتے ہوئے

خوف یہ تھا مجھے اس تر و تازہ غوطہ زنی میں

کہ نکلوں گا باہر تو اپنی یہ مریل سی ’’انگشت جاں‘‘

اپنی مٹھی میں پکڑے ہوئے جاؤں گا میں کہاں؟

اے حَسن کوزہ گر

بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے

اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی

 کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے

تشنگی جاں ‘‘کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی”

ادھ مری خشک جاں

العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک

کیوں کہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا

جس میں جہاں زاد کے جسم کی

 گرم، مرطوب دل داریوں کی تمازت

ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی

 اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں

 لپٹی ہوئی

ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے

ہنر کی نمائش کی یا امتحاں کی، مگر

تیری پس پائی تیرا مقدر بنی

اور کرتا بھی کیا؟

سب بنے، ادھ بنے

سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گل دان‘‘ تُو”

 بس وہیں چاک پر ’’ان جنی ‘‘ اپنی مخلوق کو ترک کر کے

حلب چھوڑ کر

سوئے بغداد کیوں گام زن ہو گیا؟

 پیچھے مُڑ کر اگر دیکھتا تُو حسن

 تجھ کو احساس ہوتا کہ یہ آل تو کوکھ میں ہے تری

تیرے کوزے، سبو، جام و ساغرسبھی

 ادھ جنے ‘‘ تھے ابھی”

اور تو اس’’ ولادت‘‘ کے فرض کفالت سے آزاد بھی کیا ہوا

جیسے ہر فرض سے دست کش ہو گیا

ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا

(بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے

(ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد)

اے حَسن کوزہ گر

تو بھی ’’الجھن‘‘ ہے ان عورتوں کی طرح

جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انھیں پا لیا

واہمہ ہے فقط

(کیوں کہ میرا بدن جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی)

 تو وہیں حوض میں ڈوب کر رہ گیا تھا اسی رات

جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے

تجھ کو اتنا تو شاید پتا ہے کہ شب جوترے ذہن میں

ڈائنوں سی کھڑی ایک عشرے سے اک سال کم

تجھ کو کیوں، اے حسن، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر

بلاتی رہی ہے حلب کی طرف

وہ تو اب ایک ’’لب خند‘‘ عورت ہے، لڑکی نہیں

 تم نے تو، اے حسن اپنے نا تجربہ کار، کم زور ادراک میں

جس کو ’’نادان‘‘ سمجھا تھا تب

اب وہ دریا کا ساحل ہے بھیگا ہوا

 وہ کنارہ جسے بوسہ دینے کو آ کر

پلٹتی ہوئی ساری موجیں ہمیشہ وہیں لوٹتی ہیں

جہاں اک برس، دو برس، نو برس قبل ٹھہری تھیں بس ایک پل

عین ممکن ہے تم نے یہ سوچا بھی ہو

(’’تم‘‘ بھی تو اے حسن، ’’میں‘‘ کا ہی روپ ہو)

اب ذرا ’’میں‘‘ کو بھی بولنے دو، حسن

ہر طرف نا صبوری کے کانٹے اُگے تھے مرے حلق میں

میں یہ کَہ بھی نہ پایا تھا تجھ کو ’’جہاں کی جنی‘‘

ہاں، یہی نام اب زیب دیتا ہے سب کسبیوں کے لیے

بھولتا ہوں کہ شاید پکارا بھی ہو

میں نے پہلے کبھی تجھ کو اس نام سے

میرے کوزے جو نو سال پہلے تلک

تھے ہر اک ’’شہر و قریہ‘‘، ہر اک ’’کاخ و کو‘‘ کا تکبر یہاں

آج آواز دے کر بُلاتے ہیں، ’’آ، اے حسن

اور ہم بد نما پیکروں کو کوئی شکل دے "

اور میں، اے ’’جہاں کی جنی‘‘، لوٹ آیا تو ہوں

صرف تیری ’’تمنا کی وسعت‘‘ کو پھر ماپنا چاہتا ہوں

پھر اک بار ’’آنکھوں کی تابندہ شوخی‘‘ کے پیغام کو

جاننا چاہتا ہوں اگر

میری خفت، خجالت کا رد عمل

تیرا فدیہ ہے، تو میں یقیناً رکوں گا یہاں

تا کہ پھر ’’رنگ و روغن سے ایسے شرارے نکالوں‘‘

جنھیں دیکھ کر ’’تیری آنکھوں کی تابندہ شوخی‘‘

(مرے واسطے )ہاں، فقط میرے ہی واسطے

چاندنی سی چمکتی رہے عمر بھر

(اور، تو اے حسن، یہ سمجھ (بولتا ہے ترا قصہ گو

اپنی تنہائی میں

جھونپڑے کی تعفن سے بوجھل فضا کی

عفونت، جسے تم’’ بغل گندھ‘‘ کا عطر سمجھے ہوئے ہو

فقط ایک حیلہ ہے

یادوں کے جوہڑ میں

ڈبکی لگا نے کی خو ہے حسن

عشق بالکل نہیں

عشق بالکل نہیں

اے حسن کوزہ گر

یہ مثلث ہے کیا؟

ایک تم

ایک وہ جو جہاں زاد ہے

اور وہ تیسرا؟

(کون ہے وہ لبیب، اس کا عاشق کہ گاہک؟)

ہوس کار جو اس کے ’’ لب نوچ کر‘‘

زلف کو اپنی انگشت سے باندھ کر

اس کے نازک بدن سے فقط ایک شب کھیل کر چل دیا

اور وہ نائکہ

جس کی ریشم سی، مخمل سی، صیقل شدہ جلد پر

اس کے ہاتھوں کی، ہونٹوں کی ایذا دہی کے نشاں

اب بھی باقی ہیں، وہ یہ کہانی تمھیں

یوں سناتی رہی

مسکراتی رہی

جیسے شہوانیت بے حیائی نہ ہو

بل کہ لذت، حلاوت سے بھرپور

خوش ذائقہ ہو کوئی دعوت ما حضر

اور تم، اے حسن

صرف اس ’’عشق‘‘ کی بات کرتے رہے

جو فقط ایک ہی بار صدق و وفا سے کسی کوزہ گر کے

تصنع سے عاری، کھرے دل میں ڈھلتا ہے تو

 چاک پر اس کے جام وسبو، ساغر و طشت میں

ایک ہی گل بدن کی نزاکت، لطافت، نفاست کے ہی رنگ کھلتے ہیں

تخلیق کی ساحری سے

آ، حسن کوزہ گر

آ، کہیں پھر حکایت اسی رات کی

پی رہے تھے مے ارغواں شام سے

اور میرا نشہ اس قدر بڑھ گیا

ریزہ ریزہ ہوا جام گر کر مرے کانپتے ہاتھ سے

کچھ اچنبھا نہ تھا یہ ترے واسطے

پر سکوں سی کھڑی دیکھتی ہی رہی

کیوں کہ عادی تھی تُو

(ایسے بے کار سے حادثے محفلوں کی بلا نوشیوں کا ہی معمول ہیں)

گھر کے شیشوں کی درزیں سناتی رہیں

گنگ آواز میں

داستانیں کئی حادثوں کی یہاں

رنگ رلیوں کے قصے، خرابات کے تذکرے

قصہ گو کی زباں کو کوئی کیا کہے

(اور اس کو یہ حق ہے کہ کچھ بھی کہے )

’’مال زادی‘‘ کہے یا ’’جہاں زاد‘‘ کو ہی مونث کرے

قصّہ گو رال ٹپکاتی اپنی زباں سے بہت کچھ سنانے کو تیار ہے

داستانوں کی سچائی کے اس مورخ کا اعلان ہے

میں، کہ اک قصّہ گو

 ایک ثالث بھی ہوں اور منصف بھی ہوں

فیصلہ میری نوک قلم پر سیاہی کے قطرے سا ٹھہرا ہوا

منتظر ہے کہ کب اس کو لکھ کر سناؤں حسن کو، جہاں زاد کو

یا کسی تیسرے کو جو سچائی کے کھوج میں غرق ہو

اے حسن کوزہ گر

نو برس بعد بغداد سے لوٹ کر

گر تجھے دل کے عدسے میں اپنی ہی صورت

نظر آتی ہو

اور دہشت زدہ خود سے، تنہائی میں

لکھ رہے ہو اگر آنسوؤں سے وہ خط

جس میں اشکوں کے قطروں کے الفاظ یوں جُڑ گئے ہیں

کہ گریہ کناں چشم بس ایک صورت کو ہی دیکھتی ہے

تو تقصیر کس کی ہے، مجرم کا کیا نام ہے ؟

آؤ، راشد سے پوچھیں، حقیقت ہے کیا

’’عشق ہو، کام ہو، وقت ہو، رنگ ہو‘‘ ہے تو مجرم کوئی

اب خطا کار کس کو کہیں اے حسن؟

معصیت کار، مجھ کو یہ کہنا ہے، تم خود نہیں ہو حسن

بد چلن تم نہیں، اے حسن کوزہ گر

ہاں، تمھیں ایک عورت کے ’’ عشق ہوس ناک‘‘ نے

(صرف اک رات کی لغزش بے ریا کے لیے

باندھ کر رکھ دیا ہے سدا کے لیے )

اور عورت بھی کیا؟

بد چلن، فاحشہ، کنچنی، رال ٹپکاتی چھنّال، اک بے سوا

دیکھ گالی نہ بک، اے مورخ، یہ قصہ سناتے ہوئے

(زیب دیتی نہیں تجھ کو ایسی زباں)

خیر، چھوڑو نصیحت کی یہ گفت گو

آؤ، لوٹیں حلب کی طرف

اس سرائے کو دیکھیں جہاں حوض تھا

 بند کمرے تھے اور ان میں آرام کے واسطے

ایسے بستر لگے تھے کہ ان پر بچھی چادریں بھی

!پسینے کی بُو سے شرابور تھیں

آؤ ڈھونڈیں، کہاں تھا یہ شہر حلب؟

اور حسن نام کا کوزہ گر تھا کوئی

 اور جہاں زاد تھی کیف و رنگ و دل آرائی کی مورتی

جس کی رعنائی کی سحر کاری کا نقش ہنر

اس کے کو زوں سے ایسے چھلکتا تھا جیسے مے ارغواں

اے مورخ، بتا کب کی ہے داستاں

آج سے سینکڑوں یا ہزاروں برس پیش ترکی کہانی کہیں اور سنیں

 آؤ ڈھونڈیں انھیں

سال ہا سال کی چکنی مٹی کے نیچے جو دب تو گئے

 ’’پا شکستہ‘‘ بھی تھے ’’سر بریدہ‘‘ بھی تھے

 "لوک قصّوں میں لیکن وہ ’’با دست و سر

 قصّہ گویوں کے مرغوب کردار ہیں

آؤ دیکھیں کہیں خاک نائے بر آورد میں ایک تھل

 جس میں ٹیلے بھی ہوں اور مٹّی کے انبار بھی

اور کوزہ گروں کی بنائی ہوئی

 بھٹّیوں کے کچھ آثار شاید نظر آ رہے ہوں کہیں

’’یہ تاریخ ہے ازدحام رواں‘‘

در گزر اس کو کرنا ہمیں زیب دیتا نہیں

’’یہ دبے ہیں‘‘ اگر، تو انھیں کھود کر

رہزن وقت‘‘ سے ہے بچانا ہمیں”

کوئی کوزہ، کوئی جام ہو سالم و معتبر

 تو اسے کاوش و اعتنا سے نکالیں کہ شاید

"کسی’’رنگ کی کوئی جھنکار‘‘، ’’خوابوں کی خوش بو

’’لب کاسۂ جاں‘‘ میں خوابیدہ ہو

عین ممکن ہے یہ چاک، بھٹّی، طباخ اور تسلہ

 یہ ساغر، سبو، آبگینہ، صراحی، یہ کوزہ، یہ بط

 سب اسی ہاتھ کے ہی کرشمے تھے تب

جس کے فن کے لیے بس جہاں زاد کا حسن موجود تھا

اس لیے کہنہ تاریخ کی جستجو میں لگے دوستو

غور و پرداخت سے کام لو

 اور سوچو کہ ان ٹھیکروں میں نہاں ہے وہ فن

جس میں مخفی ہے قصّہ حسن اور جہاں زاد کا

اور میں کیا کہوں

میں تو شاعر ہوں، اک قصّہ خواں ہوں جسے

تتلیوں کے پروں ‘‘ اور جہاں زاد کے اس ’’ دھنک رنگ‘‘ چہرے "

کے سب خال و خد کا (بغیر اس کو دیکھے ہوئے ہی) پتا ہے

"کوزہ گر نے ’’جو کوزوں کے چہرے اتارے

 انھیں بھی یہی قصّہ خواں جانتا ہے

کہ خود بھی وہ شاید اسی قافلے کا جہاں گرد ہے

فن تو وہ آنکھ ہے جو کھلی ہے زماں کے تواتر میں اے راشد کوزہ گر

"تو’’ ہمہ عشق ہے، تو ہمہ کوزہ گر، تو ہمہ تن خبر

لیکن اک بات کہنے کو جی چاہتا ہے کہ میں

خود تمھاری طرح ہوں حسن کوزہ گر

آب و گل بھی نہیں، رنگ و روغن نہیں

کوئی بھٹّی نہیں

لفظ ہی لفظ ہیں

اور انھی سے میں کوزے بنانے کے فن میں ہنر مند ہوں

ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے

 اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ’’نادان‘‘ نے

اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن

جب وہ ’’نادان‘‘ تھی

میں بھی نادان تھا

نا رسا آس تھی

بے طلب پیاس تھی

چار سو یاس تھی

اس زمانے میں تو

بس ’’گماں‘‘ ہی ’’گماں‘‘ تھی مری زندگی

کچھ بھی ’’ممکن‘‘ نہ تھا

ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے

صبح آئی تو پھر یوں لگا

جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا

اورسارے ’’طلوعوں‘‘ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر

پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا

 ہاں اگر نون میم آج یک جا کریں

اور راشد کو اس میں ملائیں، تو پھر

ہم اکیلے نہیں

 راکھ میں اب بھی کچھ کچھ سلگتی، دھواں دیتی چنگاریاں

اک صراحی کی گردن کے ریزے، تراشے لبِ جام کے

خول بط کا، کسی آبگینے کا ٹوٹا ہوا

ایک خردہ، ’’گل و خاک کے رنگ روغن‘‘ ہیں سوکھے ہوئے

"سارا پس ماندہ کچرا کہ جو’’ اک جواں کوزہ گر

 ’’اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا‘‘

’’اپنے ماضی کے تاروں میں ‘‘ راشد سے بھی اور مورخ سے بھی

عشق اور فن کے بندھن میں باندھا گیا

الٹو پلٹو، کہ یہ ’’رنگ و روغن کی مخلوق‘‘ شاید تمھارے لیے

کوزہ گر اور جہاں زاد کے عشق کی

 ما بقیٰ داستاں میں اضافہ کرے

اور تاریخ داں، تو اگر داستاں یہ سمجھ جائے، تو

 کوزہ گر کے خیالوں کی، خوابوں کی مورت بنا

 ’’عشق کے معبدوں پر ‘‘ عقیدت سے جا کر چڑھا

"وہ’’پسینے کے قطرے ‘‘، وہ ’’ فن کی تجلّی

رسالت کا وہ درد، جو کاروانوں کی مٹّی سا جیسے

’’ رواں ہے زماں سے زماں تک‘‘

جسے ہفت خواں شاعروں نے

محبت کے قصوں میں گھڑ کر امر کر دیا

کیا یہی ایک مقصد تھا راشد تمھارا

کہ کوزے پکانے کی

یخ بستہ سوئی ہوئی راکھ میں کچھ سلگتے ہوئے کوئلے

گر ملیں

 تو کہانی گھڑیں

اور ثابت کریں، عشق’’ سریاب‘‘ بھی ہے تو’’ پایاب ‘‘بھی

اور حسن کوزہ گر، قیس و فرہاد سب

اپنی اپنی جگہ

کامراں بھی ہوئے اور ناکام بھی

 اور ہم داستانیں جو لکھتے رہے

اپنے اپنے دلوں میں کہیں

برگ گُل کی طرح

ایک چہرہ سجاکر اسی کی پرستش میں غلطاں رہے!

اپنے اپنے دلوں میں سجائے ہوئے

ایک چہرے میں لیلیٰ بھی مستور ہے

اور شیریں بھی ہے

ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو

 وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی

اور راشد کا فن

لوک قصّوں، اساطیر یا عشق کی

داستانوں کے فن سے بہت دور تھا

یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں

!پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں

٭٭٭

 

ظفر سیّد: : ناقدین کی سہولت کے لیے ن م  راشد کی نظم "حسن کوزہ گر” کے تین حصے اس صفحے پر پیشِ خدمت ہیں: http://bit.ly/hasan-kooza-gar

جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں! تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف کی دکّان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں! یہ وہ دور تھا جس میں میں نے کبھی اپنے رنجور کوزوں۔۔۔

محمد حمید شاہد: احباب حاشیہ، جاوید انور کی یادوں کی ہمرہی میں، نظم کے نئے معمار سلسہ کے پانچویں تنقیدی اجلاس کا آغاز ہو چکا، جناب ظفر سید نے ستیہ پال آنند کی نظم "اے حسن کوزہ گر” پیش کر دی ہے۔ اور چوں کہ اس نظم میں جناب آنند، راشد کی نظم سے مخاطب ہوئے ہیں، لہذا اس محرک نظم کا متن بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔ یوں ہمیں آنند کی اس نظم کے وسیلے سے راشد کی حسن کوزہ گر پر بات کرنے کے مواقع بھی میسر رہیں گے۔ اب میں جناب علی محمد فرشی سے گزارش کروں گا کہ وہ اس ستیہ پال آنند کی نظم پر اپنا ابتدائیہ پیش کریں۔

علی محمد فرشی: جز (۱)

 صاحبِ صدارت!

 راشد کی نظم ” حسن کوزہ گر” نے طویل مدت تک راشد شناسوں پر معنی خیز سکتہ طاری کیے رکھا، گاہے یہ نظم سامنے آ بھی گئی تو تنقید کے پوپلے منھ سے سوائے "واہ واہ” کے کچھ برآمد نہ ہوا۔ اس کے جمالیاتی وفور کی تلاطم خیز موجوں کے مقابل کھڑے ہو کر اس سے مکالمہ کرنے اور ڈھنگ کا مقدمہ قائم کرنے کی کوئی اچھی مثال، تا حال، میرے سامنے نہیں سوائے اُس مذاکرے کے جو حلقہ اربابِ ذوق راول پنڈی نے رواں صدی کے عین آغاز میں منعقد کیا تھا۔ اگرچہ مجلسی تنقید کی تحدید، حسبِ توقع، اصل ہدف کی راہ میں حائل رہی، اس کے باوجود مذکورہ اجلاس میں اٹھائے گئے نکات قبل ازیں راشد شناسی کے باب میں کہیں درج نہیں ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ایک عشرے بعد ستیہ پال آنند کے تخلیقی وجود نے اس آئینۂ تمثال دار کے سامنے ایک اور آئینہ کھڑا کیا، جس میں اس طرح دار کے کئی خطوط واضح نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن آنند کی نظم”اے حسن کوزہ گر” محض تشریحی نوٹ نہیں۔ اسے "حسن کوزہ گر” کی تفہیم کی تخلیقی/تنقیدی کوشش قرار دینا مناسب ہو گا جو اپنے انفراد کو منوا رہی ہے، کیوں کہ”اے حسن کوزہ گر” کے شاعر نے راشد، حسن کوزہ گر، جہاں زاد، ستیہ پال آنند اور”وہ”جو جہاں زاد نہیں ہے، کے اجزا سے ایک نئی کلیت قائم کر لی ہے :

 "میں کہ اک جسم میں تین روحیں لیے لکھ رہا ہوں یہ قصّہ جہاں زاد کا

 میں جہاں زاد بھی ہوں، حسن کوزہ گر بھی مرا نام ہے

 اور قصہ بھی میرا قلم لکھتا جاتا ہے جیسے کوئی

 ” عالمِ غیب سے اس کے نوک قلم پر ہے بیٹھا ہوا

 راشد نے حسن کوزہ گر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا، لیکن آنند نے اپنے اس وجود کو ظاہر کر دیا ہے جو عالمِ غیب میں موجود فن کی حقیقی روح سے راہ نمائی لیتا ہے۔ کسی فن پارے میں روحِ عصر کی موجودگی اگر حقیقی تاریخ کا درجہ رکھتی ہے تو حقیقی روح کی موجودگی اسے ابدیت سے ہم کنار کر دیتی ہے۔ عقلِ معاش کی رو سے تو سچائی دائمی قدر نہیں لیکن عقلِ معاد اس کی ابدیت یا کم از کم استقرار پر اصرار کرتی ہے۔ ہم اکبر بادشاہ کو اس بنیاد پر مطعون قرار نہیں دے سکتے کہ اس نے اپنے دور میں جمہوریت نافذ نہیں کی، کیوں کہ جمہوریت اس عہد کی سچائی نہیں تھی۔ اسی طرح ہم تاج محل کی مذمت اس لیے نہیں کر سکتے کہ، اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر غریبوں کی محبت کا مذاق اڑایا ہے، بلکہ صحت مند آنکھ اسے فنِ تعمیر کے شاہ کار اور محبت کی یادگار کے طور پر دیکھنا پسند کرے گی۔ البتہ اعلیٰ ادب تاریخی تناظر کی رعایت کا محتاج نہیں ہوتا۔ ہمیں قدیم ترین ادب پاروں میں بھی ارفع اقدار کے نمونے مل سکتے ہیں۔ محبت، مساوات، انصاف، انسان دوستی، صلہ رحمی، وفاداری۔۔۔ جیسے اصولوں کی نفی کرنے والی تحریر جب ادب کی اقلیم میں داخل ہوتی ہے تو اس کی عظمت کے خانے میں سوالیہ نشان ضرور لگتا ہے :

علی محمد فرشی: (جز ۲)

 "اے حسن کوزہ گر

 کیا جہاں زاد بھی (جو کہ ’’نادان‘‘ تھی)

 باکرہ تھی جسے تو نے نو سال پہلے

 ’’گل و رنگ و روغن کی مخلوق ‘‘سمجھا؟

 چڑھایا نہیں چاک پر ( جس کمی کا تجھے آج بھی ہے قلق!)

 تیری لگتی تھی کچھ؟

 کیا جہاں زاد عطّار یوسف کا مالِ تجارت تھی، اسباب تھی؟

 یا کہ بیٹی تھی، بیوی تھی؟یا داشتہ

 یا طوائف کی اولاد تھی، جو ابھی

 سیکھ پائی نہ تھی سودا بازی کا فن؟

 پیش کرتی تھی ہر آتے جاتے کو اپنی ہنسی

 سودے بازی کا فن سیکھتی تھی ابھی

 آج نو سال کے بعد وہ نا شگفتہ کلی

 پھول ہے، کیف و مستی میں ڈوبا ہوا

 آج نو سال کے بعد وہ باکرہ

 انشراحی بشاشت کے اطوار سب سیکھ کر

 مال و اسباب، سودا گری کا ہنر جانتی ہے کسی بیسوا کی طرح

 اے حسن، علم ہے تجھ کو کیا؟

 ایک عطّار یوسف کی دکّاں نہیں

 غالباً ہر گلی اس کے قدموں کی آہٹ سے واقف تھی، جو

 خود ’’جہاں زاد‘‘ تھی یا کہ ’’زادی‘‘ تھی

 کس اجنبی کی؟ اسے خود بھی کیا علم ہے

 پوچھتے تو ذرا

 سب پڑوسی تمھیں یک زباں یہ بتاتے، ’’ جہاں زاد‘‘ اور

 ’’دختِ زر‘‘ ایک ہی نام ہوتا ہے کسبی کی اولاد کا”

(جز ۳)

 ڈرامے اور فکشن کی دیگر اصناف کی طرح کرداری نظموں کو پڑھتے وقت یہ نکتہ دھیان میں رکھنا پڑتا ہے کہ کرداروں کی زبان سے ادا ہونے والے مکالمے درپیش صورتِ حال کا تقاضا ہیں یا شاعر کے خیالات اور فلسفۂ حیات؟ نثر میں تو اس امر کی گنجائش نکل آتی ہے کہ کرداروں کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو واضح کیا جا سکتا ہے لیکن نظم میں یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں رہتا۔ اسی بنا پر راشد کی نظموں کے قارئین کو اوّل اوّل اس معاملے میں خاصے الجھاؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا جب راشد کے مداح مدھ مکھیوں کی طرح ” رقص”، "شرابی”، "انتقام”، "خودکشی” اور” داشتہ” کی ہم قبیل نظموں کے گرد منڈلاتے رہتے تھے، لہٰذا اس نوع کے مغالطوں کا فروغ پانا عجیب نہیں لگتا۔ منٹو جیسے عبقری افسانہ نگار کی آنکھ "رقص” کو راشد کی سوانحی واردات سمجھ کر پڑھتی رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ راشد سے رقص کے عملی تجربے کا تقاضا کرنے والے نے کیا خود کسی مردہ عورت سے جنسی فعل کا ارتکاب کرنے کے بعد "ٹھنڈا گوشت” رقم کیا تھا؟ راشد شناسی اور نظم فہمی کے باب میں کج فہمی کے اس رویے نے بھی کچھ کم رکاوٹ نہیں ڈالی۔ حتیٰ کہ راشد کو خود اپنے دفاع میں بیانات جاری کرنا پڑے :

 "انتقام” جو میری نظموں میں سب سے زیادہ "بدنام” قرار پائی ہے، اس کا میرِ افسانہ وہ کردار ہے جو اس خود فریبی میں مبتلا ہے کہ جنسی تسکین سیاسی انتقام کا صحیح راستہ ہے۔ لیکن اپنی اس دو روئی کی وجہ سے وہ ایک طرف پوری جنسی تسکین کا اہل ثابت نہیں ہوتا(اس کا چہرہ اس کے خدّوخال یاد آتے نہیں!) دوسری طرف وہ صحیح سیاسی انتقام لینے کے قابل بھی نہیں۔ اس کے فعل کے یہ دو پہلو ایک دوسرے کی نفی کر دیتے ہیں۔ اور وہ جس دوگانہ لذّت اور کام رانی کا جویا ہے، اسے حاصل نہیں ہوتی۔ ہر "بیمار” سوسائٹی میں ایسے سیکڑوں آدمی ملیں گے جو جنسی تسکین کو انتقام کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ہمارے برصغیر کے 1947 کے کئی واقعات اس امر کے شاہد ہیں۔ ان کے نزدیک جنسی تسکین، جس سے بڑی دولت انسان کو کم ملی ہے اور سیاسی انتقام، جس سے بڑا حربہ انسان کے پاس کوئی نہیں، محض گالی کے برابر ہیں۔ حالاں کہ اگر ان دونوں کے پیچھے دیانت داری اور اخلاص ہو تو دونوں بڑی نعمت ہیں۔ "انتقام” کا کرداراسی دیانت داری اور اخلاص سے محروم ہے "

(جز ۴)

 "اسی طرح "خودکشی”، خودکشی کرنے والے کا نوحہ خود اس کی زبان سے ہے۔ خودکشی کرنے والے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں (یا سمجھتے ہوں گے ) کہ ان کے مر جانے کے بعد نہ صرف ان کے سب مسائل حل ہو جائیں گے بل کہ خود زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن زندگی ایک ایسی "دیوار” ہے جو ہزار چاٹیے پھر سے اپنی جگہ پر بلند ہو جاتی ہے۔ اور خودکشی کرنے والے کی خود فریبی کہ یہ "آج تو آخر آغوشِ زمیں ہو جائے گی”اس کے کام نہیں آتی۔ اگر اور کچھ نہیں تو یہ نظم اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ زندگی ہمیشہ سے رواں دواں ہے اور ہمیشہ رواں دواں رہے گی۔ اور ایک فرد کے اس سے فرار پانے سے زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔ "

 نکتے کی بات یہ ہے کہ ستیہ پال آنند نے اپنی نظم کی درجِ بالا سطور میں حسن کوزہ گر کو مخاطب کیا ہے نہ کہ راشد کو! مزید یہ کہ اُس کوزہ گر کو جو راشد کی نظم کے پہلے حصے میں نمودار ہوتا ہے۔ اس جزوِ اوّل کو الف لیلوی ماحول میں رکھ کر اور داستان کے اسلوب میں لکھی ہوئی نظم مان کر مطالعہ کیا جائے تو شاید تفہیم کی بہتر صورت نکل آئے۔ "ایران میں اجنبی” میں شامل ایک نظم "وزیرِ چنیں” کچھ ایسے اشارے فراہم کرتی ہے کہ "حسن کوزہ گر” کی تکنیک، ماحول اور اسلوب کے انتخاب کے عقب میں اس نظم کا تجربہ راشد کے تخلیقی لاشعور میں جا گزیں رہا ہو گا۔ یہ اور بات کہ ” ایران میں اجنبی” کی اشاعت کے بعد راشد نے ارتقا کے کئی مراحل ایسی تیز رفتاری سے طے کیے کہ پہلی دونوں کتابیں پس منظر میں چلی گئیں۔ چناں چہ "حسن کوزہ گر” میں شاعری کی ارفع سطح دیکھ کر "وزیرِ چنیں” جیسی کم زور نظم کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔

(جز ۵)

 معاشرے کے زیریں طبقے سے تعلق رکھنے والاحسن نام کا یہ کوزہ گر، جہاں زاد نام کی ایک نوخیز لڑکی پر جس طور فریفتہ ہو کر اپنے گھر کے ٹھنڈے چولھے سے (طویل عرصے تک) چشم پوشی اختیار کیے رکھتا ہے وہ راشد کی نظم کا "آدمی” کسی طور بھی قرار نہیں پاتا۔ ہوا یہ کہ نظم کا ذہنی خاکہ تو”وزیرِ چنیں” کی طرز پر تیار ہوا لیکن تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔ اس کی خبر ہمیں اس وقت ہوتی ہے جب اپنے عشق کا قصہ سنانے والے کوزہ گر کو پیچھے ہٹا کر شاعر کا فلسفیانہ شعور خود سامنے آ جاتا ہے :

 "زمانہ جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام سبو

 اور فانوس و گل داں

 کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں

 میں انساں ہوں لیکن

 یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے !”

 نظم میں جو خوبی یا خامی ہے وہ اسی کے باعث وجود میں آئی ہے کہ نظم کے کردار میں شاعر خود حلول کر گیا! اسی زاویے سے دیکھنے پر ہی ستیہ پال آنند نے "راشدِ کوزہ گر” کو شناخت کیا ہے۔

 کیا ہم راشد کو یہ رعایت دے سکتے ہیں کہ صنف "عورت” کے بارے میں یہ خیالات شاعر کے نہیں بل کہ اس کے کردار حسن کوزہ گر کے ہیں۔ جب کہ نظم میں شاعر اور اس کا یہ کردار یوں شیر و شکر ہیں کہ دونوں کو الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جہاں زاد جب تخلیقی تحریک کا استعارہ بنتی ہے تو اس آئینے میں راشد کا اپنا چہرہ واضح نظر آنے لگتا ہے، خاص طور پر چوتھے حصے میں:

 "جہاں زاد!

 یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ

 کوزوں کی لاشوں میں اترا ہے

 دیکھو!

 یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں

 کبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیں

 یہی آج رنگ و روغن کی مخلوقِ نے جاں

 کو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیں”

(جز ۶)

 اپنے عہدِ نارسا سے شکایت، دبے لفظوں میں ہی سہی، حسن کوزہ گر کا معاملہ نہیں لگتی۔ اس کردار کا مسئلہ تو عشق ہے جو راشد کی فکریات کا سوال کبھی نہیں بنا۔ اس کی ایک وجہ تو بالکل سامنے کی ہے کہ راشد سے آگے کھڑے اقبال کا تصورِ عشق مثلِ برگد ہے جس کے سائے میں الف لیلوی طرز کے داستانوی عشق کا پودا پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اس حقیقت سے راشد بھی خوب آگاہ تھے کہ اقبال کے سائے دور رہ کر راہ بنانا ہو گی، اور انھوں کسی حد تک اس میں کام یابی بھی حاصل کی۔ بہ قول محمد حمید شاہد، راشد کئی فکری مخمصوں کا شکار تھا۔ اگر ان مخمصوں کی تہ میں جھانکا جائے تو اقبال کے سائے سے بچنے کی خواہش (جو کہ راشد کا حق تھا اور اس کی تحسین واجب ہے ) کروٹیں لیتی ملے گی۔ لیکن ہوا یہ کہ وہ فکرِ اقبال سے بچنے کی کوشش میں اپنی شعری روایت سے بھی دامن بچانے لگے۔ جن ناقدین نے "حسن کوزہ گر” کو "عشق” کا استعارہ قرار دیا ہے یا تو وہ شعری روایت سے لاعلم ہیں یا پھر راشد کی شعری متھ کو سمجھنے سے قاصر!

 اس نظم کا مرکزی مخمصہ یہ ہے کہ ہم راشد اور حسن کو الگ نہیں کر سکتے۔ کردار کی معراج یہ ہوتی ہے کہ اس کا خالق، متن کے چوکھٹے میں، اسے خود سے افضل سطح پر رکھے۔ "لَقَد خَلَقنَا الانَسانَ فِی احسَنِ تَقوِیم” کے معانی کی پرتیں کھولتے جائیے، بہت کچھ ہاتھ آئے گا لیکن خالق کا مخلوق کو ارفع رکھنے کا رویہ کہیں ہاتھ سے جائے گا نہیں۔ منٹوجیسے خود نگر و خود پرست تک نے "بابو گوپی ناتھ” کوافسانے کے راوی (میں) پر فائق کر دیا تھا۔ جب کہ اس نظم میں معاملہ دگر ہے۔ نظم میں میرِ افسانہ اوجھل ہو جاتا ہے اور شاعر ذاتی حکایت کے بیان میں الجھ جاتا ہے۔

 آنند کی نظم میں شاعر کے وجود پر کہیں بھی مغالطے کی دھند نہیں پڑتی اس کے باوجود کہ اس کے جسم میں تین روحیں مستور ہیں۔ حتیٰ کہ اس مقام پر جب "وہ” جو جہاں زاد نہیں ہے، سامنے آتی ہے تو”اس” کی نادان معصومیت اور متکلم کی کم عمری و کم فہمی متوازی ہو کر نظم کو اس مشکل مرحلے سے نکال لے جاتے ہیں۔ "جہاں زاد” اور آنند کی یہ نوخیز”مہ رو”کم عمری کے باعث ہی مماثل نہیں بلکہ دونوں "منبعِ حسن برائے تخلیق فن” بھی قرار پاتے ہیں۔ البتہ یہ”مہ رو” آنند کی شاعری میں راست اظہار نہ کر نے باوجود اس کی فنی زندگی کی آبیاری کرتی رہی ہے۔

 ” ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے

 اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ’’نادان‘‘ نے

 اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن

 جب وہ ’’نادان‘‘ تھی

 میں بھی نادان تھا

 نا رسا آس تھی

 بے طلب پیاس تھی

 چار سو یاس تھی

 اس زمانے میں تو

 بس ’’گماں‘‘ ہی ’’گماں‘‘ تھی مری زندگی

 کچھ بھی ’’ممکن‘‘ نہ تھا

 ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے

 صبح آئی تو پھر یوں لگا

 جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا

 اورسارے ’’طلوعوں‘‘ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر

 پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا

 ہاں اگر نون میم آج یک جا کریں

 اور راشد کو اس میں ملائیں، تو پھر

 ہم اکیلے نہیں

 راکھ میں اب بھی کچھ کچھ سلگتی، دھواں دیتی چنگاریاں

 اک صراحی کی گردن کے ریزے، تراشے لبِ جام کے

 خول بط کا، کسی آبگینے کا ٹوٹا ہوا

 ایک خردہ، ’’گل و خاک کے رنگ روغن‘‘ ہیں سوکھے ہوئے

 سارا پس ماندہ کچرا کہ جو’’ اک جواں کوزہ گر‘‘

 ’’اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا‘‘

 ’’اپنے ماضی کے تاروں میں ‘‘راشد سے بھی اور مورخ سے بھی

 عشق اور فن کے بندھن میں باندھا گیا”

(جز ۷)

 ہم نے دیکھا کہ آنند کی نظم نے کیسی مہارت سے کتنے زمان و مکاں اور انسان ریسمانِ فن میں گرہ کر دیے ہیں۔

 اب "حسن کوزہ گر” کی جانب دیکھیں تو یہاں جمالیاتی بہاؤ تو تیز ملتا ہے لیکن موضوعات کی زرخیزی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ یہ نظم ابتدا ہی سے راشد کے شعور کی گرفت سے آزاد ہو کر اس کے تخلیقی لاشعور کے تابع ہو گئی تھی۔ یہ طریقہ چوں کہ راشد کی سرشت کا حصہ نہیں تھا لہٰذا نظم میں تضادات ابھر آئے۔ نظم کا متکلم "حسن کوزہ گر” جو عشق پیشہ ہے راشد کی شخصیت اور شاعری کے ساتھ کوئی مطابقت و مماثلت قائم نہیں کر پاتا۔ اسی لیے میں راشد کی اس نظم کو”انحراف” کی مثال قرار دیتا ہوں۔ یہ اردو کی دس بیس نمائندہ نظموں میں شامل ہونے کے باوجود راشد کی نمائندگی نہیں کرتی۔ راشد کی نظم کے پھیلاؤ، جلال و طنطنہ اور دلکش آہنگ کے علاوہ کوئی مثبت مماثلت ہمیں اس نظم میں نہیں ملتی۔ یہ پہلو شاعر کی فنی مہارت کا حصہ ہوتے ہیں نہ کہ فکری شخصیت کا، لہٰذا ان بنیادوں پر یہ راشد کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ راشد کا”مردانہ تعصب” اس میں کھل کر سامنے آیا ہے لیکن یہ "منفی” شناخت خود اعلیٰ فن پارے پر ایک خراش ہے لہٰذا اس کی بنیاد پر اسے راشد کی نمائندہ نظم کہنا راشد کے حق میں نہیں جائے گا۔ ستیہ پال آنند کا بڑا اعتراض بھی یہی ہے :

 ” حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو

 وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی

 اور راشد کا فن

 لوک قصّوں، اساطیر یا عشق کی

 داستانوں کے فن سے بہت دور تھا”

 یہ مضمون چوں کہ بحث کشائی کے مقاصد سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے اس لیے مرکزی سوالات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے، تاکہ ابتدا میں بحث نظم کے مرکزے سے زیادہ دور نہ جا پائے۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! میرا ابتدائی بیان مکمل ہوا۔ بحث کے دوران میں، جہاں مناسب معلوم ہوا، شریک رہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اربابِ حاشیہ کی تنقیدی بصیرت اور مہارت سے ہمیں اس موضوع پر خوب استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

محمد حمید شاہد: احباب حاشیہ!جناب علی محمد فرشی نے اپنا ابتدائیہ پیش کر دیا اور انتہائی اہم اور لائق توجہ نقاط نشان زد کر دیے ہیں۔ علی محمد فرشی نے بجا طور پر کہا ہے کہ حسن کوزہ گر پر قبل ازیں ڈھنگ سے بات نہ ہو سکی اور ” تنقید کے پوپلے منھ سے سوائے "واہ واہ” کے کچھ برآمد نہ ہوا” تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ادب کا سنجیدہ قاری ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہا ہے اس کی تازہ ترین مثالوں میں سے ایک تو جناب آنند کی زیر نظر نظم ہے جو راشد کی نظم سے مکالمہ قائم کرنے کے جتن کر رہی ہے اور دوسری بالکل الگ ادبی علاقے کے مکین جناب تحسین فراقی کی راشد پر نئی کتاب، جس کا نام ہی "حسن کوزہ گر” رکھ دیا گیا ہے اور تیسری ذرا بزرگ ہو جانے والے ان احباب سے نہیں بلکہ خلیق الرحمن جیسے نئے نظم نگار کی مثال ہے، ان سب نے "حسن کوزہ گر” کی طرف توجہ سے دیکھا اور مقدور بھر اس سے اخذ ضرور کیا ہے۔ پہلے اور تیسرے نے رد عمل میں ایک ایک نظم لکھ ڈالی جب کہ دوسرے نے اپنی کتاب کا نام حسن کوزہ گر رکھ کر راشد کو اس سے تعبیر دے ڈالی۔ احباب گرامی رد عمل چاہے جو رہا اور جیسا بھی رہا اس پر سوالات قائم ہو سکتے ہیں مگراس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ راشد کی یہ نظم ہمارے تخلیقی وجود کے اندر ایک مسلسل گونج پیدا کر رہی ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ فرشی نے آنند کی نظم پر بات کرتے ہوئے راشد کی نظم” حسن کوزہ گر” کے حوالے سے بھی کچھ سوالات قائم کیے ہیں۔ فرشی کا کہنا ہے کہ ” ستیہ پال آنند کے تخلیقی وجود نے اس آئینۂ تمثال دار کے سامنے ایک اور آئینہ کھڑا کیا "، یہ آئینہ کیسا ہے، کیا راشد کی نظم بجا طور پر اس میں جھلک دے گئی ہے یا اس کا رخ خود نظم نگار کے اپنے وجود کو زیادہ اجالتا رہا ہے، راشد کی نظم اور اس پر سوالات قائم کرتی آنند کی نظم پر فرشی نے جو مزید سوالات قائم کیے ہیں ان میں سے کچھ یوں ہیں۔

 1۔ آنند کی نظم”اے حسن کوزہ گر” محض تشریحی نوٹ نہیں۔ اسے "حسن کوزہ گر” کی تفہیم کی تخلیقی اور تنقیدی کوشش قرار دینا مناسب ہو گا جو اپنے انفراد کو منوا رہی ہے،

 2″اے حسن کوزہ گر” کے شاعر نے راشد، حسن کوزہ گر، جہاں زاد، ستیہ پال آنند اور”وہ”جو جہاں زاد نہیں ہے، کے اجزا سے ایک نئی کلیت قائم کر لی ہے

 3۔ راشد نے حسن کوزہ گر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا، لیکن آنند نے اپنے اس وجود کو ظاہر کر دیا ہے جو عالمِ غیب میں موجود فن کی حقیقی روح سے راہ نمائی لیتا ہے۔

 4۔ ستیہ پال آنند نے اپنی نظم کی میں حسن کوزہ گر کو مخاطب کیا ہے نہ کہ راشد کو۔ اُس کوزہ گر کو جو راشد کی نظم کے پہلے حصے میں نمودار ہوتا ہے۔

 5۔ تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم "حسن کوزہ گر” شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔

 6۔ راشد کی نظم میں جو خوبی یا خامی ہے وہ اس باعث وجود میں آئی ہے کہ نظم کے کردار میں شاعر خود حلول کر گیا! اسی زاویے سے دیکھنے پر ہی ستیہ پال آنند نے "راشدِ کوزہ گر” کو شناخت کیا ہے۔

 7۔ کیا ہم راشد کو یہ رعایت دے سکتے ہیں کہ صنف "عورت” کے بارے میں یہ خیالات شاعر کے نہیں بل کہ اس کے کردار حسن کوزہ گر کے ہیں۔ جب کہ نظم میں شاعر اور اس کا یہ کردار یوں شیر و شکر ہیں کہ دونوں کو الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

 8۔ اپنے عہدِ نارسا سے شکایت حسن کوزہ گر کا معاملہ نہیں لگتی۔ اس کردار کا مسئلہ تو عشق ہے جو راشد کی فکریات کا سوال کبھی نہیں بنا۔

 9۔ آنند کی نظم میں شاعر کے وجود پر کہیں بھی مغالطے کی دھند نہیں پڑتی اس کے باوجود کہ اس کے جسم میں تین روحیں مستور ہیں۔

 10۔ "حسن کوزہ گر” کی جانب دیکھیں تو یہاں جمالیاتی بہاؤ تو تیز ملتا ہے لیکن موضوعات کی زرخیزی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ یہ نظم ابتدا ہی سے راشد کے شعور کی گرفت سے آزاد ہو کر اس کے تخلیقی لاشعور کے تابع ہو گئی تھی۔

 11۔ راشد کی نظم میں تضادات ابھر آئے۔ نظم کا متکلم "حسن کوزہ گر” جو عشق پیشہ ہے راشد کی شخصیت اور شاعری کے ساتھ کوئی مطابقت و مماثلت قائم نہیں کر پاتا۔ جس کی بنیاد پر راشد کی اس نظم کو”انحراف” کی مثال قرار دیا گیا ہے۔

 احباب گرامی اب دیکھتے ہیں کہ آپ اس مکالمہ کو اس رخ سے آگے بڑھانا چاہیں گے۔

محمد یامین: جناب صدر! جناب ستیہ پال آنند کی اس نظم کی ایک نمایاں خوبی تو یہ ہے کہ یہ نظم اپنے آپ کو پڑھواتی ہے، حالاں کہ اس کی طوالت پر سوالیہ نشان بھی لگ سکتا ہے۔ نظم کا اسلوب شاعری کے سب سے بڑے ہتھیار یعنی زبان کی جمالیات سے لیس ہو کر اس لیے میدان میں آیا ہے کہ اس کے مقابل جس نظم کو دیکھا جا رہا ہے اس کی فنی جمالیاتی سطح انتہائی بلند ہے۔ فرشی صاحب نے ابتدائیے میں راشد کی نظم کو آئینہ تمثال دار قرار دیا ہے تو صرف اس بنیاد پر کی اس میں جمالیاتی اظہار کا وفور ہے۔ اس مقام پر ستیہ پال آنند صاحب کی نظم کیا اس جمالیاتی سطح کو چھو پائی ہے جو راشد کی نظم میں ہے۔ کیا یہ نظم تخلیق بہ مقابلہ تخلیق ہے یا خالق بہ مقابلہ خالق۔ ایسے سوالات (جو ابھی میرے ذہن میں ابھرے ہیں) کچھ اہمیت رکھتے ہیں یا ان کو کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ میرے خیال میں اس نظم کا تجزیہ کرتے وقت راشد کی نظم سے مقابلہ کرنا درست نہ ہو گا ایسی صورت میں بحث کا مرکزہ راشد کی نظم ہی بنی رہے گی۔ ہمیں یہاں بھی راشد سے بچنا ہو گا اور نظم کی اپنی انفرادیت کو دریافت کرنا ہو گا۔ یہ درست کہ راشد کی نظم کا ذکر بار بار آئے گا لیکن ہماری توجہ ستیہ پال آنند کی نظم سے دور نہیں جانی چاہیے۔ اس لیے ہمیں "اے حسن کوزہ گر” کے اپنے وجود یعنی اس آواز پر کان دھرنے چاہییں جو حسن کوزہ گر سے مخاطب ہے۔ یہ آواز کیوں پیدا ہوئی۔ اس آواز کے پیچھے کون سے محرکات ہیں۔ کیا یہ آواز راشد کی تفہیم کا بند دروازہ کھولنے کی ایک کوشش ہے یا خود اپنی شناخت قائم کرنا چاہتی ہے۔

 "اے حسن کوزہ گر” کی ایک خوبی کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے جو فنی خاصیت سے متعلق ہے۔ ایک دوسری خصوصیت اس نظم کی یہ ہے کہ اس میں مختلف آوازیں اپنی اپنی انفرادیت کے باوجود یک جا ہو رہی ہیں۔ اسی بات کو فرشی صاحب نے ریسمانِ فن میں گرہ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ شاعرانہ کمال ہے کہ دنیا کی چیزوں کے نقش باہم ہو کر ایک نیا نقش بناتے ہوں جو دلوں میں تجلی ریز ہو کر کلام کو مجازی معنی عطا کر دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر یہ نظم راشد کی نظم کا ریفرنس لیے بغیر وجود میں آتی تو اس کی شان کچھ اور ہوتی۔ راشد کی نظم کا حوالہ اس کو محض ایک "کیس سٹڈی” تک محدود کر دے گا جو طالب علموں اور وکیلوں کے کام کی چیز ہے۔

محمد حمید شاہد: جناب یامین شکریہ، آپ کی خواہش بجا کہ” اگر یہ نظم راشد کی نظم کا ریفرنس لیے بغیر وجود میں آتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔ "مگر یوں بھی تو ہے کہ یہ آنند جی کا قرینہ رہا ہے کہ وہ اساطیر، سے، قصوں، کہانیوں اور روایات سے، لکھنے والوں اور ان کی تخلیقات سے ایک مکالمہ قائم کرتے ہوئے نظمیں کہہ لیا کرتے ہیں۔ ایسی نظموں سے یہ حوالے منہا کرنا ممکن نہیں رہتا کہ انہیں سے ان کی معنویت بنتی ہے، یہاں بھی ممکن نہیں ہو گا۔ آپ نے کہا اس نظم کی یہ خوبی ہے کہ اس میں مختلف آوازیں اپنی اپنی انفرادیت کے باوجود یک جا ہو گئی ہیں اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ "راشد کی نظم کا حوالہ اس کو محض ایک "کیس سٹڈی” تک محدود کر دے گا” کیا یہ دو الگ باتیں نہیں ہیں۔ ؟

رفیق سندیلوی: راشد کی نظم "حسن کوزہ گر” پر تنقیدی شذرات تو بہت لکھے گئے ہیں، دو ایک تحریریں اور گفتگوئیں ایسی بھی مل جاتی ہیں جن میں اس نظم کے بنیادی مسئلے کو ذرا بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ابھی تک اس کے متن میں پوشیدہ نکتوں کو اجزا میں تقسیم کر کے اور پھر ان کو کلیت میں رکھ کر نہیں کھولا گیا۔ ستیہ پال آنند تنقیدی سطح پر نظم کو تجزیے کے عمل سے گزارنے کا ہنر جانتے ہیں مگر انھوں نے اس ہنر کو آزمانے کے بجائے تخلیقی سطح پر راشد کی نظم کو موضوع بنایا ہے اور تفہیم و تعبیر کے مائیکرو اور میکرو دونوں طریقے اختیار کئے ہیں۔ اس لئے ان کی نظم کی طوالت گراں نہیں گزرتی اور نہ ہی نظم کی جمالیات مجروح ہوتی ہے۔ نظم نظم ہی رہتی ہے اور نظم ہی کی سطح پر متاثر کرتی ہے۔ یہ راشد کے وژن اور رویا سے بھی تفاعل کرتی ہے اور اپنے وژن اور رویا کا بھرپور احساس بھی دلاتی ہے۔ تخلیق کی ریر آب سطحوں میں تنقید کا عکس ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر یہ عکس بعض جگہوں پر کچھ زیادہ منور ہو گیا ہے تو اس کی وجہ آنند کی نظم کا بین المتونی فارمیٹ ہے جس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ شاعر نے اپنا کام کس قدر احتیاط کے ساتھ کیا ہے۔ اپنی ایک اور نظم "مجھے نہ کر وداع” میں بھی انھوں نے راشد کی نظم "مجھے وداع کر” کو ایک آئینے کے طور پر اپنے روبرو رکھا ہے بلکہ اس نظم میں تو راشد کی دیگر نظموں کے حوالے بھی در آئے ہیں۔ خوبی کی بات ہی ہے کہ اس نظم میں ستیہ پال آنند کی ذات راشد کی ذات سے کلام کرتی ہے، کبھی مقابل آ جاتی ہے تو کبھی متوازی اور کبھی عقب میں چلنے لگتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ستیہ پال آنند کی زیر تجزیہ نظم بھی بیک وقت تخلیق بہ مقابلہ تخلیق اور تخلیق بہ متوازی تخلیق کا ایک دلچسپ اور مدور انداز لئے ہوئے ہے اور "حسن کوزہ گر” کے قالب میں جدلیاتی راستے سے داخل ہو کر اس کے کرداروں پر سوالات قائم کرتی ہے۔ یہ سوالات راشد کے ذہنی احوال کو شاعر کے طور پر بھی اور نظم کے ہمہ داں کردار کے طور پر بھی سامنے لاتے ہیں۔ ان سوالات کے گھیرے میں راشد کی جمالیات، فکریات اور ما بعد الطبیعات بھی آ جاتی ہے۔ یہ نظم اٹھائے گئے سوالات کا جواب مہیا کر کے کبھی مطابقت کبھی نیم مطابقت اور کبھی عدم مطابقت کا جواز پیدا کرتی ہے اور اس طریقہ کار کی مدد سے راشد کی نظم کے متن کو الٹا پلٹا کر دیکھتی ہے اور اپنے متن کی تشکیل کرتی چلی جاتی ہے۔ ستیہ پال آنند نے اپنی نظم کی آخری سطور میں بتایا ہے کہ راشد کا فن لوک قصوں، اساطیر یا عشق کی داستانوں کے فن سے بہت دور تھا مگر یہ تسلیم کیا ہے کہ حسن کوزہ گر سلسلے کی چاروں نظمیں بہت خوب ہیں۔ انھوں نے یہ بھی مانا ہے کہ مقبول قصوں کی طرح عشق میں ناکامی و کامیابی کی دونوں صورتیں حسن کے کردار میں بھی نظر آتی ہیں مگر اس اشتراک کے باوجود حسن کو قیس و فرہاد اور جہاں زاد کو لیلیٰ و شیریں جیسی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ راشد کی یہ نظمیں مورخ یا قصہ گو کی نہیں ہیں جو اپنی داستان کو عوامی سطح پر لا کر امر کر دیتا ہے اور اسے کبیری بنا دیتا ہے۔ راشد کی داستان میں کمی کس بات کی ہے ؟ درد رسالت کیوں کر عوامی سطح پر منتقل نہ ہو سکا اور کبیری درجہ نہ پا سکا؟راشد کی نظم کبیری درجے پر رکھی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ کیاستیہ پال آنند کی نظم شاعرانہ سطح پر ان معاملات کے اندر جاتی ہے ؟جاتی ہے تو کس طرح اور کس حد تک جا تی ہے ؟ان سب معاملات کا تجزیہ ضروری ہے۔ ہمارے ہاں قصہ گوئی میں وارث شاہ کی ہیر اپنی نہاد میں کبیری ہونے کی وجہ سے عوام تک گئی اور پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ حسن کوزہ گر کے بارے میں اتنا تو کہاجا سکتا ہے کہ اس فن پارے نے اردو نظم کی تاریخ میں اپنا اثرو رسوخ قائم کر لیا ہے، معاصر نظم کو بہت متاثر کیا ہے اور اپنی فضا، اپنے ببان، اپنے کرداروں اور اپنے فکری تار و پود سے تخلیقی تحریک مہیا کی ہے۔ یہاں تک کہ ستیہ پال آنند نے اس کی لو سے ایک چراغ جلایا اور ہمیں راشد کی نظم کو نظم کی معرفت سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ انشاء اللہ اگلی شرکت میں ان نکات کی تفصیل میں جا نے کوشش کروں گا۔ رفیق سند یلو ی

محمد حمید شاہد: شکریہ رفیق سندیلوی، آپ نے بہ جا فرمایا کہ” حسن کوزہ گر نے اردو نظم کی تاریخ میں اپنا اثرو رسوخ قائم کر لیا ہے، اور اپنی فضا، اپنے بیان، اپنے کرداروں اور اپنے فکری تا ر وپود سے تخلیقی تحریک مہیا کی ہے۔ یہاں تک کہ ستیہ پال آنند نے اس کی لو سے ایک چراغ جلایا اور راشد کی نظم کو نظم کی معرفت سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا” اور پھر کچھ سوالات بھی قائم کر دیے، اس وعدے کے ساتھ کہ جلد ہی ان کے حوالے سے اپنی بات آگے بڑھائیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ نصیر احمد ناصر، ابرار احمد، فیاض احمد وجیہہ، یا کوئی اور دوست یہیں سے بات کو آگے بڑھائیں۔ احباب ! میں اس بار ایک بہت عمدہ مکالمہ کا آغاز دیکھ رہا ہوں۔

ظفر سیّد: : "اے حسن کوزہ گر” کے آغاز میں قوسین کے اندر ایک وضاحت کی گئی ہے :

 (Reductio ad absurdum کے طریق کار سےن م راشد کی چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی ایک شعری کوشش۔ راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ )۔

 اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو آنند صاحب نے اپنی کچھ اور نظموں میں بھی یہی طریقہ کار آزمایا ہے، جس میں مرزا غالب کے اشعار پر لکھی گئی کئی نظمیں بھی شامل ہیں (وہاں بھی اسی قسم کا وضاحتی نوٹ موجود ہے )۔ ریڈیکٹیو ایڈ ایبسرڈم منطق کی اصطلاح ہے، جس کے تحت کسی اصول کو پھیلا کر لایعنیت کی حد تک پہنچا کر ثابت کیا جاتا ہے کہ وہ غلط تھا۔ "اے حسن کوزہ گر” میں بھی راشد کی نظموں کے کئی نکات کو بے تکے پن کی حد تک پھیلایا گیا ہے، مثال کے طور پر راشد نے جہاں زاد کو "نادان” کہا تھا، آنند صاحب اسے انتہا تک لے گئے ہیں:

 کیا جہاں زاد بھی (جو کہ ’’نادان‘‘ تھی)

 باکرہ تھی جسے تو نے نو سال پہلے

 ’’گل و رنگ و روغن کی مخلوق ‘‘ سمجھا؟

 چڑھایا نہیں چاک پر ( جس کمی کا تجھے آج بھی ہے قلق!)

 تیری لگتی تھی کچھ؟

 کیا جہاں زاد عطّار یوسف کا مالِ تجارت تھی، اسباب تھی؟

 یا کہ بیٹی تھی، بیوی تھی؟ یا داشتہ

 یا طوائف کی اولاد تھی، جو ابھی

 سیکھ پائی نہ تھی سودا بازی کا فن؟

 (یہاں کوزہ گر کی مناسبت سے جہاں زاد کو "چاک پر چڑھانے ” کا نکتہ بہت پرلطف ہے )۔

 ریڈکٹیو ایڈ ایبسرڈم سے ملتی جلتی تکنیک "آئرنی” (irony) ادب میں زیادہ مقبول ہے، جسے خود راشد نے کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ اس کی ایک مثال تو خود "وزیرے چنیں” ہے، جس کا فرشی صاحب نے اپنے ابتدائیے میں بھی ذکر کیا ہے۔ اس نظم میں راشد نے الف لیلوی انداز میں ایک قصہ لے کر اسے مہملیت (absurdity) کی انتہا تک پہنچا کر معاشرے میں موجود سیاسی کرداروں پر گہرا طنز کیا ہے۔ یہی تکنیک آنند صاحب نے راشد کی نظم پر آزمائی ہے۔ تاہم کئی جگہوں پر راشد کے خیالات و نظریات کو مہمل بناتے بناتے ان کا لہجہ خاصا تلخ ہو گیا ہے، جیسے :

 جہاں زاد‘‘ اور ’’دختِ زر‘‘ ایک ہی نام ہوتا ہے کسبی کی اولاد کا

 بدچلن، فاحشہ، کنچنی، رال ٹپکاتی چھنّال، اک بیسوا

 تاہم وہ ان الفاظ کو مورخ سے منسوب کرتے ہوئے اسے ہدایت بھی کرتے ہیں:

 دیکھ گالی نہ بک، اے مورخ، یہ قصہ سناتے ہوئے

 (زیب دیتی نہیں تجھ کو ایسی زباں)

 (شاید یہی وجہ ہے کہ آنند صاحب نے وضاحتی نوٹ میں راشد کی (نیک) روح سے معذرت بھی کی ہے )

 اسی طرح حلب کے حوض کے منظر کو بھی مہملیت پر پہنچایا گیا ہے۔ جہاں راشد صرف یہ کہہ کر الگ ہو گئے تھے

 جہاں زاد،

 وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت

 جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے

 وہیں "اے حسن کوزہ گر” میں اس منظر کو کیری کیچر بنا دیا گیا ہے :

 ہاں، حلب کی سرائے کے اس حوض میں

 اپنے نو عمر، کچے، کنوارے بدن کو ڈبوتے ہوئے

 ’’خشک و تر مرحلوں ‘‘سے تجرد کی چادر بھگوتے ہوئے

 خوف یہ تھا مجھے اس تر و تازہ غوطہ زنی میں

 کہ نکلوں گا باہر تو اپنی یہ مریل سی ’’انگشت جاں‘‘

 اپنی مٹھی میں پکڑے ہوئے جاؤں گا میں کہاں؟

 علی محمد فرشی صاحب نے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ ستیہ پال آنند کے تخلیقی وجود نے راشد کے "آئینۂ تمثال دار کے سامنے ایک اور آئینہ کھڑا کیا، جس میں اس طرح دار کے کئی خطوط واضح نظر آنے لگے ہیں۔ ” تاہم میرے خیال سے آنند صاحب کا آئینہ عام آئینہ نہیں بلکہ میلوں ٹھیلوں اور تماشہ گھروں میں لگائے جانے والے carnival mirror کی مانند ہے جس میں دیکھنے والے کو اپنا چہرہ distort ہو کر انتہائی بے ڈھنگا نظر آتا ہے۔ آنند صاحب نے منطق کی تکنیک استعمال کر کے راشد کی نظم کے بعض پہلوؤں کو بہت کامیابی سے اجاگر کیا ہے، جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔

محمد حمید شاہد: ظفر سید نے ریڈیکٹیو ایڈ ایبسرڈم سے بات شروع کی اور تماشہ گھروں میں لگائے جانے والے carnival mirror سے جھانکتے بے ڈھنگے چہرے تک پہنچائی اور آخر میں داد بھی دی کہ آنند جی نے منطق کی تیکنیک استعمال کر کے راشد کے بعض پہلوؤں کو بہت کامیابی سے اجاگر کیا۔ دلچسپ نوٹ کے لیے بہت شکریہ ظفر سید۔

ابرار احمد: جناب صدر۔ ۔۔اس نظم کا مسلہ ہی یہ ہے کہ ہم اسے آنند کے اپنے تخلیقی سفر کے حوالے سے سمجھ نہیں پا رہے۔ یہاں انہوں نے راشد کی اس نظم سے معاملہ کیا ہے جو مرے نزدیک  اردو کی اہم ترین نظموں میں سے ایک ہے۔ آنند صاحب کی نظم پر گفتگو کے حوالے سے کیا یہ ممکن ہے کہ ہم زیر نظر نظم اور اس کے خالق کے فن اور فن پارے پر کوئی واضح رائے قایم کر سکیں ؟

 حسن کوزہ گر ایک ایسی نظم ہے جس پر اور جس کے زیر اثر بہت کچھ لکھا گیا لیکن جہاں آوروں نے اس نظم کو پیار اور رشک سے دیکھا وہیں آنند جی نے اسے حریفانہ اور جارحانہ انداز سے دیکھا ہے۔ اس نظم میں اخلاقی محاکمہ بھی ہے اور مرکزی کردار کے انہدام کی مربوط کوشش بھی۔ ایسی بڑی نظم قاری کا رومان بھی ہوا کرتی ہے جسے اس نظم میں خاصا مجروح کیا گیا ہے۔ میں اسے راشد کی نظم پر منظوم تنقید بھی نہیں سمجھتا کہ مواد جو بھی ہے اس نظم کو راشد ہی کے رنگ میں خلق کیا گیا ہے۔ ۔باقی بات آگے چلے گی تو اپنی معروضات پیش کروں گا۔ مزید۔ ۔۔۔لیکن اتنا کہتا چلوں کہ اس نظم کے اپنے محاسن پر بات اسی صورت ممکن ہے اگر ہم اسے راشد سے الگ کرنے میں کامیاب ہو سکیں

ابرار احمد: اس نظم کی تخلیق کے لیے ہمارا شاعر تحقیق یا سوانح کی جانب گیا جس کو تخلیقی تجربہ اگر مانا بھی جائے تو ہمیں اس نظم میں اس ذات کی کھوج لگانا ہو گی جو راشد کی اس نظم سے  شدّت کے ساتھ وابستہ ہے لیکن اسے رد کرنے کے ارادے سے۔ یہ آنند کا اپنا انداز بھی ہے کہ وہ اساطیر یا داستان سے اپنا خام مواد لیتے ہیں اور اوپر اس کی نشان دہی بھی کی گئی تو جناب صدر !حسن کوزہ گر کا کردار تیسری نسل تک تو آ چکا اور زیر بحث نظم خود اس حقیقت کی تائید کر رہی ہے کہ کم یا زیادہ یہ کردار اسی حیثیت کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی اس نظم میں نفی کی گئی ہے۔ ۔۔ایک سوال اور بھی ہے کہ آخر راشد ہی کیوں ؟ان کی "حسن کوزہ گر ” ہی کیوں ؟ہم بہ طور شاعر جانتے ہیں باطنی واردات کیا ہوتی ہے۔ اس نظم کی ایک خصوصیت کیا یہ بھی نہیں کہ اس کے مواد اور لحن میں راشد سے استفادے کا واضح عمل دخل رہا ہے ؟؟

ابرار احمد: فرشی نے عمدہ ابتدائیہ لکھا لیکن وہ بھی راشد کی نظم سے زیادہ معاملہ کرتا ہے۔ ان کے نزدیک شاعر نے راشد نہیں حسن سے کلام کیا ہے۔ گویا یہ کوئی الگ الگ کردار ہیں۔پھر یہ بھی کہ تخلیق کے دوران شاعر لا شعور کی گرفت میں چلا گیا۔ تو کیا وہ کسی اور کی واردات بن گئی ؟ مرے خیال میں یہ راشد کی غالباً واحد نظم ہے جو ہمیں اس کی ذات تک رسائی دیتی ہے۔ ورنہ تو وہ پکڑائی نہیں دیتا۔ اس لیے یہاں حسن کوزہ گر کا محاسبہ دار اصل شاعر ہی کا محاسبہ قرار پاے گا۔ فرشی نے مزید لکھا کہ "حسن "کو عشق کا استعارہ سمجھنا لا علمی ہے۔ ہو گی۔۔۔لیکن ٩ برس کی دیوانگی، گھر کی یاد وغیرہ ہوس میں تو ممکن نہیں۔ ہوس تو پریشاں نظری کا دوسرا نام ہے۔ ارتکاز کا نہیں۔ ہاں آنند کی نظم ہمیں یہی بتاتی ہے۔  کہ جہاں زاد کوئی تصور یا خواب کیا عام عورت بھی نہیں بل کہ بازاری جنس تھی جسے اس راہ پر پہلے پہل "حسن ” ہی نے چلایا۔ ۔۔اب ایسا کیوں ہوا اس حوالے سے بھی دوست بات کو آگے چلائیں۔ ۔۔

محمد حمید شاہد: بہت شکریہ ابرار احمد، آپ نے درست رخ پر بات آگے بڑھائی ہے، آپ کی یہ بات بھی خوب ہے کہ ” یہ راشد کی غالباً واحد نظم ہے جو ہمیں اس کی ذات تک رسائی دیتی ہے۔ ورنہ تو وہ پکڑائی نہیں دیتا” اور یہ بھی کہ "۔۔۔۔۔ آنند جی نے اسے (یعنی حسن کوزہ گر کو) حریفانہ اور جارحانہ انداز سے دیکھا ہے۔ اس نظم میں اخلاقی محاکمہ بھی ہے اور مرکزی کردار کے انہدام کی مربوط کوشش بھی۔ ایسی بڑی نظم قاری کا رومان بھی ہوا کرتی ہے جسے اس نظم میں خاصا مجروح کیا گیا ہے۔ میں اسے راشد کی نظم پر منظوم تنقید بھی نہیں سمجھتا "

 لیجئے صاحب، فرشی نے کہ تھا آنند جی کی نظم کو "حسن کوزہ گر” کی تفہیم کی تخلیقی اور تنقیدی کوشش قرار دینا مناسب ہو گا، ظفر سید نے میلوں ٹھیلوں اور تماشہ گھروں میں لگائے جانے والے carnival mirror کی مانند قرار دیا تھا جس میں دیکھنے والے کو اپنا چہرہ distort ہو کر انتہائی بے ڈھنگا نظر آتا ہے۔ اب ڈیکھتے ہیں اس باب میں بات اور آگے کیسے بڑھتی ہے۔ ہمارے نئے ممبران بھی گفتگو کو آگے بڑھا سکتے ہیں، آنند جی پر صدف مرزا کا ایک مضمون حال ہی میں میں نے نقاط میں دیکھا ہے وہ اس نظم پر کچھ کہیں، قاسم یعقوب نے بہت عمدہ اور لائق اعتنا نظم نمبر چھاپا ہے وہ بھی، حمیدہ شاہین، عابدہ تقی، نسیم سید، عارفہ شہزاد۔۔۔۔ تو جی کہئیے، رفیق سندیلوی نے ابھی اپنی بات مکمل کرنی ہے۔ بات آگے بڑھائیے صاحب، کہ کئی اختلافی نقاط نمایاں ہو گئے ہیں۔

علی ارمان: یہ نظم کافی عرصہ قبل نظر سے گزری تھی۔ اب پھر دیکھی۔ وُہ خیال پختہ ہوا جو اس کی پہلی خواندگی میں آیا تھا کہ یہ نظم حسن کوزہ گر ن م راشد والی کی تفسیر و تشریح و تنقید کے علاوہ کیا ہے اور وِہ بھی بہت عجز بیان کے ساتھ اور بھونڈی۔۔۔ حسن کوزہ گر اردو کی دوسری بڑی نظم ہے مجھ ناچیز کی رائے میں اور اس کی وجہ اس کے موضوع کی وسعت اور اسلوب کی مٹھاس کو سمجھتا ہوں۔ دل اور دماغ پر نقش ہو جانے والا اور روح میں سرایت کر جانے والا کلام۔۔۔ آنند صاحب کی یہ کاوش بذات خود ایک فن پارے میں نہیں ڈھل سکی۔۔ میرے نزدیک ایک کامیاب نظم قائم بالذات اکائی ہوتی ہے۔۔ جو یہ نظم ہر گز نہیں۔۔ میں اس کو جی کڑا کر کے بڑی کوشش سے پڑھ پایا۔۔ شاعر اور احباب سے معذرت کے ساتھ۔ شکریہ

محمد حمید شاہد: شکریہ علی ارمان، یہ سوال بہت اہم ہے کہ "یہ نظم حسن کوزہ گرن م راشد والی کی تفسیر و تشریح و تنقید کے علاوہ کیا ہے ؟”( (مگر کیا اس سے متصل جملہ کچھ شدید نہیں ہو گیا ؟)اور ہاں گویا آپ نے تسلیم کیا کہ آنند جی کی نظم "حسن کوزہ گرکی”تفسیر و تشریح و تنقید” کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ یہ نظم اس کے علاوہ کیا ہے ؟۔

 راشد کی نظم حسن کوزہ گر کو آپ نے اردو کی دوسری بڑی نظم کہا، اور اس کی وجہ اس کے موضوع کی وسعت اور اسلوب کی مٹھاس کو قرار دیا۔ بہ قول آپ کے ایسا کلام جو "دل اور دماغ پر نقش ہو جانے والا اور روح میں سرایت کر جانے والا” ہے۔

 آپ کے نوٹ میں تیسری اہم بات یہ ہے کہ "ایک کامیاب نظم قائم بالذات اکائی ہوتی ہے۔۔ ” اور اسی بنیاد پر آپ نے آنند جی کی نظم کے آگے سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔

 احباب علی ارمان کے اس نوٹ کے ساتھ ہی گفتگو کا دائرہ اور پھیل گیا ہے۔ بحث آگے چل نکلی ہے اور شاید انہیں سوالات کے ساتھ نظم کی جمالیات کا سوال بھی جڑا ہوا ہے ؟

علی محمد فرشی: جنابِ صدر!

 علی ارمان صاحب نے راشد کی نظم ” حسن کوزہ گر” کو اردو کی اردو کی دوسری بڑی نظم قرار دیا ہے۔ اگر وہ پہلی بڑی نظم کا نام بھی بتا دیتے تو بات آگے بڑھانے میں آسانی ہوتی۔ ویسے میرے خیال میں اردو کی کم از کم پہلی پانچ عظیم نظمیں تو اقبال ہی کے قلم پر اتریں، یعنی (۱) مسجد قرطبہ (۲) خضرِ راہ (۳) ذوق شوق (۴)ابلیس کی مجلسِ شوریٰ (۵)والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ ممکن ہے کہ آزاد نظم کی ہئیت کے رسوخ کے باعث ان کا خیال اقبال کی جانب نہ گیا ہو۔

 میں نے ابتدائی گفت گو میں بہت محتاط رہتے ہوئے ” حسن کوزہ گر” کو اردو کی دس بیس نمائندہ نظموں میں رکھا تھا۔ البتہ جب میں اسے راشد کے ہاں "انحراف” کی مثال قرار دیتا ہوں تو بات اس شاعر کی حد تک معنی بدل لیتی ہے۔ راشد کی نمائندہ شاہ کار نظمیں تو "گماں کا ممکن”، "چلا  آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے "، "میں کیا کہہ رہا تھا”، "مجھے وداع کر” وغیرہم ہیں، جو راشد کے فکر و فن کی نمائندگی بھی کرتی ہیں اور اردو نظم کے تسلسل میں اقبال کے بعد اپنا مقام بھی بناتی ہیں۔

پروین طاہر: جناب صدر آنند صاحب کی نظم پر بہت اچھی گفتگو چل رہی ہے۔ سواۓ چند ایک نازیبا اور شدید کمنٹ کے باقی ساری گفتگو تنقیدی زبان میں ہوئی ہے جو کہ ایک خوش کن روایت قائم کر رہی ہے۔ تا ہم میں اپنی گفتگو کا آغاز کرنے کے لۓ آنند صاحب کے طریق تفہیم کی طرف رجوع کروں گی۔ reductio and absurdum دلیل کا وہ طریق کار ہوتا ہے جس میں کسی تجویز، تحریر یا حسابی کلیے کو اسی کے اندر موجود تضاد سے رد یا قبول کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر” الف” درست ہے تو پھر”ب” بھی درست ہے اور اگر”ب” غلط ہے تو یقیناً "الف” بھی غلط ہو گا۔ ادب میں اس تضادی طریق کار کو تفہیم، تنقید اور تجزیئے کے لۓ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آنند صاحب نے اس طریق کار سے راشد کی نظم میں موجود مضامین، فلاسفہ، کرداروں کی سائیکی، تاریخ اور وقت کو نا صرف خود سمجھنے کی کوشش کی ہے بلکہ دوسروں کی راہ نمائی بھی کی ہے یہ ایک علمی کوشش ہے اور آنند صاحب کی نظم بحیثیت خود ایک تھاٹ پرووکنگ نظم ہے۔ (جاری ہے )

پروین طاہر: میرے خیال میں ڈاکٹر آنند اس نظم کو پڑھتے ہوۓ اور اس کی تفہیم کرتے ہوئے REDUCTIO AND ABSURDUM کی حدود کو پھلانگتے ہوئے ایک لمحے کے لۓسر ریلزم کے لطیف و غیر محسوس دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جہاں لا شعور کا راج ہے۔ شعور، کلچر اور بیان و احساس کی بندشیں نہیں۔ اور ان کا اس سٹیٹ آف مائینڈ میں چلے جانا فطری بھی ہے کہ وہ بذات خود ایک تخلیق کار ہیں۔ جمال اور نور کو RESIST کرنا کسی جینوئن کے بس کی بات نہیں۔ وہ یہاں شعوری رکاوٹوں کے بغیر راشد، حسن کوزہ گر، اور جہاں زاد کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے حلب کے گلی کوچوں، سراؤں اور دفینوں میں جا نکلتا ہے حقیقت کی تلاش میں۔ مگر حقیقت نے کسی کو اپنا دامن کبھی پکڑایا ہے جو آنند کو پکڑاتی!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اپنی جگہ اس نظم نے بڑے سوالوں کا احاطہ کیا ہے (جاری ہے )

پروین طاہر: پہلے بند میں راشدسے سوال کرتے ہوئے من و تو اور نفی اثبات کے فلسفے سے بحث کی ہے اور بہت خوبصورتی سے دوئی یا پھر OTHER کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان سطور کی تخلیق کے پیچھے فلسفہ وحدت الوجود، میٹر اینٹی میٹر کی تھیوری، تخلیق اور تخلیقی محرک جیسے سنجیدہ موضوعات کو راشد کی نظم کے حوالے سے اور وراۓ نظم ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کوشش بہت تخلیقی اور مکمل شعریت کے ساتھ کی گئی ہے۔۔

پروین طاہر: علاوہ ازیں آنند کی نظم میں بہت سے سوالات کو انسانی سطح پر محسوس کیا گیا اور ابھارا گیا ہے۔ ان سوالات کا تعلق انسانی نفسیات، سماجیات، اور مقدرات سے ہے مثلاً ملاحظہ کیجیۓ مندرجہ ذیل سطور

 شہر کوزہ گروں کا، حلب کی سرائے، سفر کی امیں

 جس میں سب کوزہ گر، شیشہ گر شب بسر ہیں تمھاری طرح

 یہ بھٹکتے ہوئے کاروانوں کی مٹی میں ڈوبی ہوئی

 اک سرائے کہ جس میں نہانے کا اک حوض ہے تو سہی

 پر نہانے کا یہ ’’حوض‘‘ اک ’’بستر وصل ‘‘ ہے

 اور بستر سرائے کے اس بند کمرے میں ہے

 "جس میں ہم ’’ دائرے میں بندھے حلقہ زن

 رات بھر

 (یعنی اک رات بھر، صرف اک رات بھر)

 گرم، مرطوب، ’’آبی ‘‘، ’’عرق ریز جسموں‘‘ میں داخل رہے

 اور پھر ’’ہم کنار و نفس‘‘، تیرتے تیرتے جیسے گُم ہو گئے

 ہاں، حلب کی سرائے کے اس حوض میں

 اپنے نو عمر، کچے، کنوارے بدن کو ڈبوتے ہوئے

 ’’خشک و تر مرحلوں ‘‘سے تجرد کی چادر بھگوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیس قدر جاں گداز احساس ہے عورت(انسان)کی بے توقیری کا، اس کے کموڈٹی یا اشیاۓ صرف ہونے کا اور پھر اس معاشرتی بے حسی کو قبول کرتے ہوۓ بذات خود ویسا بن جانا اپنی عفت کا شعور کھو کر اسے انسانی مقدر مان کر خود کو بکاؤ بنا لینا !۔۔۔ ان سب معاملات کو ڈاکٹر آنند نے خفتہ سماجیات سے نکال کر نظم کیا ہے۔ یہ سب سوالات پرانے سہی مگر انسانی سطح پر ان کا اعادہ کیا جانا از حد ضروری ہے۔ میرے لئے ان کی یہ دردمندی قابل قدر ہے۔ (جاری ہے )

پروین طاہر: اسی درد مندی کا دوسرا پہلو انسانی نفسیات سے متعلق ہے۔ عنفوان شباب کی محبت جسم اور روح کے توازن پر قائم ہوتی ہے دونوں جہتوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنے سے یا فریق ثانی کی بے توجہی سے انسانی سخصیت میں وہ خلا پیدا ہو جاتا ہے جو کسی "جہاں گیر” کو "جہاں زاد” بنا سکتا ہے جو کسی پیکر رنگ و نور کو محرک تخلیق کی بجاۓ بیسوا کے مقام پر بٹھا سکتا نظم میں آنند کی توجہ جسم کی پکار اس کی اہمیت کی طرف دلاتا ہے بلکہ وہ ان مراحل کی طرف بھی توجہ دلاتا جن سے ایک جسم گزر کر طوفانوں کی تندی تیزی سہہ کر سبلائم ہوتا ہے۔ اور محرک تخلیق کے مقدس مقام پر قائم و دائم رہ سکتا ہے۔ سوال و جواب کے اس مہین پردے کے پیچھے سے آنند اپنے خیالات کی چھب دکھلاتا ہے اور ایک ان ڈائرکٹ طریقے سے عورت ذات اور اس کی توقیر سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار شعری اور تخلیقی انداز سے کرتا ہے میں اس کو پھر سے راشد کی تفہیم کے علاوہ آنند کی نظم کی اپنی خوبی شمار کروں گی

پروین طاہر: ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو

 وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی

 اور راشد کا فن

 لوک قصّوں، اساطیر یا عشق کی

 داستانوں کے فن سے بہت دور تھا

 یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں

 !پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں نظم کا آخری حصہ بھی ایک طرح کی حساسیت اور ہمدردی پر مشتمل ہے جہاں ڈاکٹر آنند کو راشد کی نظم کے کرداروں کو لوک داستانوں کے کرداروں جیسی شہرت نا مل سکنے کا قلق ہے کہ وہ ایک بڑا شاعر ہے مگر فن داستاں گوئی اور تاریخ گوئی سے نا واقف ہے۔ یہ سچ ہے کہ راشد افلاطونی عشق اور اس کی مبالغہ آرائیوں سے متنفر و بیزار تھا۔ آنند کی نظم کی خوبی یہ ہے کہ اس نے راشد کی نظم کو اس کی تخلیقی ترجیحات اور ذاتی رجحانات کی روشنی میں پرکھا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے نقطہ ہاۓ نظر کو بھی بیان کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظم اپنے ما فی الضمیر کہ بیان کرنے اور اسے ترسیل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔۔ دوستو امید ہے آپ کی طرف سے اس نظم کے مزید پہلوؤں پر گفتگو جاری رہے گی

محمد حمید شاہد: بہت خوب پروین، آپ نے نظم کو reductio and absurdum کی تیکنیک کے حوالے سے دیکھا اور اسے بطور تخلیق بھی آنکا، جی چاہنے لگا ہے کہ یہاں ہمارے ہندوستانی دوست بحث کو اپنے انداز سے آگے بڑھائیں اور ہاں اوپر فرشی نے بھی اہم نقاط اٹھا دئیے ہیں، یہی کہ حسن کوزہ گر راشد کی نمائندہ نظم نہیں بلکہ انحرافی نظم ہے وغیرہ وغیرہ، بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے مگر ابھی رفیق سندیلوی نے بھی اپنی بات مکمل کرنی ہے اور دیگر احباب نے ابھی پہلی بار بھی اظہار خیال نہیں کیا، بات اب ردھم پکڑنے لگی ہے امید کی جانی چاہئیے کہ وہ کچھ نہ کچھ کہیں گے، اگرچہ بحث کے لیے دن کم رہ گئے ہیں مگر میں چاہوں گا کہ آپ کے مشورہ سے کچھ دن اور اس نظم کے لیے وقف ہو جائیں تاکہ بھرپور بات ہو سکے۔

محمد یامین: جناب صدر! ابتدائیے میں کچھ نکات واضح کر دیے گئے ہیں جن کو سامنے رکھ کر ہی بحث نتیجہ خیز بن سکتی ہے۔ علی ارمان، رفیق سندیلوی اور جناب ابرار احمد نے نظم "حسن کوزہ گر” کو بالترتیب ‘اردو کی دوسری بڑی نظم’، ‘اردو کی اہم ترین نظم’ اور’ اردو نظم کی تاریخ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے والی نظم’ قرار دیا ہے۔ ابتدائیے میں علی محمد فرشی نے اس نظم کو انحراف کی نظم قرار دیا ہے اور اس کے واضح دلائل بھی مہیا کیے ہیں۔ جب کہ مذکورہ بالا دعووں کے ساتھ کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی گئی۔ علی ارمان نے تودوسری بڑی نظم کہہ کر پہلی بڑی نظم کا سوال بھی پیدا کر دیا ہے۔ رفیق سندیلوی نے اس فکری تار و پود کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے راشد کی نظم تخلیقی تحریک مہیا کرتی ہے مگر وہ فکری تار و پود کیا ہے اس کی کوئی نشان دہی نہیں کی۔ ابرار احمد نے ابتدائیے کے حوالے سے لکھا ہے کہ ” فرشی نے عمدہ ابتدائیہ لکھا ہے لیکن وہ بھی راشد کی نظم سے زیادہ معاملہ کرتا ہے۔ ان کے نزدیک شاعر نے راشد نہیں حسن سے کلام کیا ہے۔ گویا یہ کوئی الگ الگ کردار ہیں۔پھر یہ بھی کہ تخلیق کے دوران شاعر لا شعور کی گرفت میں چلا گیا۔ تو کیا وہ کسی اور کی واردات بن گئی ؟”

 ابرار صاحب سے گزارش ہے کہ تنقید کی واردات کو بھی مد نظر رکھ لیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس نظم میں حسن کوزہ گر کا کردار اپنی شناخت تا دیر قائم نہیں رکھ سکا اور شاعر خود اس کردار میں حلول کر کے بولنے لگا۔ یہ عمل بالکل ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگوں پر جن آتے ہیں۔ بہ طور جدید نظم نگار ہمیں معلوم ہے کہ جدید نظم میں جنات کا یوں دخل اندازی کرنا خلافِ اصول ہے۔ نظم میں اگر کردار آ گیا ہے تو اسے اپنا وجود آخر تک ثابت کرنا چاہیے۔ فرشی صاحب نے اس مقام کی نشان دہی کی ہے جہاں سے یہ دخل اندازی ہوئی۔ اگر ابرار صاحب بھی بتا دیں کہ حسن کوزہ گر اور شاعر اس نظم میں کیسے الگ الگ نہیں ہیں تو بہتر ہو۔ ابتدائیے میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ نظم راشد کے تخلیقی لاشعور کے تابع ہو گئی تھی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ نظم کا جن ان کے قابو میں نہیں رہا۔

 جناب آنند کی نظم میں قائم کردہ propositionکی بنیاد یہ باتیں بھی ہیں۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر

 میری یہ رائے اربابِ حاشیہ سے پوشیدہ نہیں کہ اردو نظم کو ابھی تک کوئی بڑا نقاد میسر نہیں آیا، بل کہ آج کل تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اس بے چاری کو اچھا قاری بھی دست یاب ہے ؟ تنقید کا ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مغالطوں کی گرد صاف کرے اور تخلیق کا اصل چہرہ واضح کرے۔ جب کہ یہاں تو گرد اڑائی جا رہی ہے تاکہ نارسائی کا غم زدہ چہرہ کسی کو نظر نہ آئے۔۔۔ میں نے ابتدائیہ میں تفصیلات سے اس لیے گریز کیا تھا کہ اہل علم سے مخاطب ہوتے ہوئے اختصار آدابِ مجلس کا لازمہ ہے، لیکن میں نے جن نکات پر بحث کی بنیاد کھڑی کی تھی وہ کسی طور مہمل یا تشنہ بھی نہ تھے۔ اس کے فوراً بعد جنابِ صدر، آپ نے میرے نوٹ میں سے نمبر وار گیارہ نکات کو فہرس کیا تو ابہام کی رہی سہی گنجائش بھی ختم ہو گئی۔ لیکن جب "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی” کا ورد کر کے ہم مطالعہ شروع کرتے ہیں تو پھر ایسی صورتِ حال کا رونما ہو نا بعید از قیاس نہیں ہوتا جس سے ابرار احمد دوچارہوئے ہیں۔ میرے جس نکتے پر وہ قدرے زیادہ جز بز ہوئے ہیں وہ یہ ہے :

 ” (فرشی) کے نزدیک شاعر نے راشد نہیں حسن سے کلام کیا ہے۔ گویا یہ کوئی الگ الگ کردار ہیں”

 جی ہاں، بالکل الگ الگ ہیں اور ہونے بھی چاہیں۔ میں ابتدائیے میں اشارہ دے چکا ہوں کہ خرابی پیدا ہی اس وقت ہوئی جب راشد کا یہ کردار دو لخت ہوا، عین اس وقت جب حسن کوزہ گر کی آواز پر راشد کی اپنی آواز غلبہ پا گئی۔ نظم پڑھتے ہوئے قاری کو دھیان رکھنا ہوتا ہے کہ مصرع کس کی آواز میں ہے ایلیٹ نے ۱۹۵۳ میں اپنے لیکچر‘‘The Three Voices of Poetry’’  میں نظم میں جن تین آوازوں کا ذکر کیا تھا ان سے قاری کا آگاہ ہونا ضروری ہے ورنہ قدم قدم پر ٹھوکر لگے گی۔

 ۱ شاعر کی اپنی آواز، جب وہ خود سے کلام کرتا ہے یا دوسرے لفظوں جب وہ کسی اور سے مخاطب نہیں ہوتا۔ ایلیٹ کے الفاظ یوں ہیں:

 ‘‘of the poet talking to himself―or to nobody’’

 ۲ شاعر کی اپنی آواز جب وہ کسی اور سے مخاطب ہوتا ہے۔

 (یہاں یہ خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ واحد متکلم خود شاعر ہی ہو بل کہ وہ پرسونا بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ راشد کی معروف نظمیں خودکشی، انتقام، رقص وغیرہم۔ اس نوع کی کرداری نظم کو پڑھتے ہوئے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ کردار کے خیالات شاعر کے خیالات ہیں، )

 ۳ شاعر کے تخلیق کردہ کسی کردار کی آواز۔ جیسا کہ کرداری نظموں کا عام وتیرہ ہے۔ مثلاً اقبال کی "مجلسِ شوریٰ”، "خضرِ راہ”، "ابلیس و جبریل” وغیرہم۔ یہاں واحد متکلم کے صیغے کی تبدیلی سے شاعر پر قیاس کا امکان تو کم ہو جاتا ہے لیکن ایک نئی ادبی بحث سر اٹھا لیتی ہے کہ کیا اس کردار کے خیالات، شاعر کے فلسفہ حیات کے عکاس ہیں یا اس کے برعکس کردار کے اپنے آزادانہ وجود کا اظہار۔ مثلاً "میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح ” کیا یہ اقبال کی آواز ہے ؟ نظم کا عنوان "حسن کوزہ گر” بھی اس ضمن میں دلیلِ مبین ہے۔ راشد کے ہاں نظم لکھنے کا یہ طریقہ عام ہے۔ "انتقام”، "شرابی”، "رقص”، "خود کشی”، "داشتہ”اور "وزیرے چنیں” وغیرہم اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔۔۔۔ اب یوں ہے کہ اگر قولاً ابرار پر ایمان لے آئیں پھر آخر الذکر نظم میں نائی، وزیر، بادشاہ، بیل اور راشد الگ الگ تو نہ ہوئے نا!

علی محمد فرشی: میں دلیل سے قائل کرتا ہوں اور دلیل ہی سے گھایل ہوتا ہوں۔ ہمیں ’حسن کوزہ گر‘ کے دولخت ہو جانے پر اس قدر چیں بہ جبیں نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ دو لخت تو جہاں زاد بھی ہوئی ہے، اگر اس نظم کے پہلے اور دوسرے حصے میں اس کردار کی سماجی ساخت کا مشاہدہ کریں تو میری جانب سے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور ستیہ پال آنند کا جو بڑا اعتراض ہے وہ اسے حصے کے حوالے سے ہے۔

 ہمیں یہ اصول ذہن نشیں رکھنا چاہیے کہ ایک عظیم شاعر کے ہاں کم زور نظموں کے کئی نمونے موجود ہوسکتے ہیں لیکن ان سب کا مجموعہ بھی اس شاعر کی عظمت میں بال برابر بھی کمی نہیں کر سکتا کیوں کہ اس کا قد اعلیٰ نظموں سے قائم ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی نظم میں صنفی تعصب جیسی منفی صورت موجود ہو تو اس نظم کی عظمت پر ضرور نشان لگ جاتا ہے۔۔ ستیہ پال آنند نے ایک مقبول تر نظم میں ایک خرابی کو دریافت کیا ہے، اگر ہم اسے خرابی مانتے ہیں تو اس کا دفاع کرنے کی بہ جائے سیدھے سبھاؤ اسے مان لینا چاہیے۔۔ راشد کا یہ پہلو کوئی ایسا ڈھکا چھپا بھی نہیں کہ اگر آنند اس نظم پر سوالیہ نشان نہ لگاتے تو راشد کا یہ پہلو زمانے کی نظروں سے اوجھل رہ جاتا۔۔۔۔ اصل میں ہوا یہ ہے کہ ہمارے رومان پر زد پڑی ہے۔۔۔۔۔ راشد کے قد میں اس سے کیا کمی آسکتی ہے کہ وہ جس مقام پر کھڑا ہے وہاں اس سے اوپر جانے کی سیڑھیاں تو ہوتی ہیں نیچے لے جانے والا سانپ نہیں ہوتا۔ راشد کی عظمت اس نظم کی محتاج نہیں۔۔ کئی بڑی اور بے عیب نظمیں اس کے تاج میں جگمگا رہی ہیں۔ اور نہ اس ایک (صنفی تعصب والی) خرابی کی دریافت سے اس نظم کی مقبولیت میں کوئی بڑا فرق آئے گا۔ البتہ اگر کوئی اس کی عظمت پر اصرار کرتا ہے تو اسے اپنے دعوے کے حق میں دلائل لانا چاہییں، ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔۔۔۔۔۔ اور غلطی پر اڑے رہنا طالب علم کا شیوہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میری اصلاح کرنے والے بڑا ہی محسن ہے۔

 صاحبِ صدر! اس نظم میں "عشق” کے حوالے ابرار احمد کے نقطۂ نظر پر اپنی معروضات لے کر جلد حاضر ہوتا ہوں۔

محمد حمید شاہد: اب گفتگو اپنا رنگ جمانے لگی ہے، کاش میں صدر نہ ہوتا تو جو کچھ مجھے سوجھ رہا ہے یہیں کہہ دیتا، خیر مجھے آپ احباب کی گفتگو مکمل ہونے تک انتظار کرنا ہے۔ یامین نے اگر یہ کہا ہے کہ’ نظم کا جن راشد کے قابو میں نہیں رہا’ تو فرشی نے اس نظم کو بڑا ماننے سے انکار کیا ہے کہ ‘اس میں صنفی تعصب جیسی منفی صورت موجود ہے ‘ تاہم ساتھ ہی اس کی مقبولیت کو مانا بھی ہے فرشی کا جملہ یوں ہے "ستیہ پال آنند نے ایک مقبول تر نظم میں ایک خرابی کو دریافت کیا ہے، اگر ہم اسے خرابی مانتے ہیں تو اس کا دفاع کرنے کی بہ جائے سیدھے سبھاؤ اسے مان لینا چاہیے۔۔ ” جی احباب اب آپ کیا کہتے ہیں اس باب میں؟

ابرار احمد: جناب صدر !

 اپنی عزت سب کو عزیز ہوا کرتی ہے اور مجھے بھی عزیز ہے۔ اور کوشش میں رہتا ہوں کہ دوسروں کی عزت بھی کرتا رہوں۔ضبط کا دامن چوں کہ ابھی ہاتھ سے پوری طرح چھوٹا نہیں لیکن اس کا قوی امکان موجود ہے تو آپ کی وساطت سے سیدھے سبھاؤ ایک سوال آپ سب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ حاشیہ پر میں فرشی کے کہنے پر آیا اور آپ بھی اس کے گواہ ہیں۔

 اردو ٹایپنگ بھی خوش دلی اور اہتمام سے سیکھی۔اس فورم کی وساطت سے آپ جیسے چند خوشگوار دوستوں کی قربت نصیب ہوئی جو اس سے پہلے سرسری تعلّق تک محدود تھی۔ ۔

 خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ موجودہ نشست میں ناقدین نے نظم پر رائے دی۔ ظفر سید نے لکھا کہ اس نظم میں راشد کی نظموں کے کئی نکات کو بے تکے پن کی حد تک پھیلایا گیا

 اور یہ کہ ان کے نظریات کو مہمل بناتے بناتے آنند کا لہجہ خاصا تلخ ہو گیا اور یہ ایک ایسا آئنہ بن گئی جس میں دیکھنے والے کو اپنی صورت بگڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ علی ارمان نے حقارت سے اسے رد کر دیا جب کہ یامین نے بھی دبے لفظوں میں نظم پر تنقید کی۔ ان سوالات سے بحث کو آگے چلایا جا سکتا تھا۔

ابرار احمد: میں نظم پر بات کرنے کے حوالے سے زیادہ پر جوش نہ تھا کہ اسی دوران آنند صاحب کی تحریر دیکھی جس میں انہوں نے نظم پر بات کرنے کی دعوت دی تھی۔ اسی کی وجہ سے ایک شام اپنے خیالات کا اظہار کر دیا۔ بالکل اس طرح جیسے دوستوں کی محفل میں قدرے بے تکلفی سے کی جاتی ہے بات۔ غلطی مجھ سے یہ ہوئی کہ ایک آدھ جملہ ابتدائے کی بابت بھی لکھ دیا اب یہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ میں نے کسی حوالے سے اسے رد نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بات طنز کے ارادے سے لکھی تھی۔ ۔لیکن یہیں سے وہ سب کچھ آغاز ہوا جو تکلف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ خاصا عبرت ناک بھی ثابت ہوا۔ ۔۔یامین جو گزشتہ اجلاس میں محض اس لیے دبک کر بیٹھے رہے کہ کہیں ماحول کی تپش سے جھلس نہ جائیں، اچانک دوستی نبھانے کو سہی، میدان میں کود پڑے اور سیدھا مجھے مخاطب کر کے سوالات داغنے کا آغاز کر دیا۔ اس وار سے ابھی سنبھلا نہ تھا کہ فرشی نے تابڑ توڑ حملوں کا آغاز کر دیا جو تا حال جاری ہیں۔ ہر دو حضرات نے نہ تو ظفر کی رائے پر کچھ کہا اور علی ارمان کو بھی نظموں کی فہرست تھمانے پر اکتفا کیا۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری دھیمی تحریر پر اس قدر سیخ پا ہونے کا کیا جواز  تھا ؟مجھے اس سلوک کی وجوہات سمجھنے میں خاصی دشواری پیش آ رہی ہے۔ ۔میں اسے اپنی ہتک کیوں نہ سمجھوں ؟؟؟میں ایسے فورم کا حصّہ کیوں بنا رہوں جہاں میں پسندیدہ یا درکار نہیں ہوں ؟؟؟

ابرار احمد: میں نے جو کچھ بھی یہاں نظم یا ابتدائے کے حوالے سے لکھا اس کے ایک ایک لفظ کا دفاع کرنے کی اہلیت رکھتا ہوں کہ آوروں کی طرح نہ سہی تھوڑا بہت الجھنا مجھے بھی آتا ہے کہ

 عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں !

 اس لیے فرشی یا کوئی اور اس گمان میں نہ رہے کہ اس کی لڑکھڑاتی کاٹ دار زبان اور نفرت میں سلگتے بے مروت جملوں کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ ضروری نہیں کہ ہر مقام پر حساب برابر ہی کیا جائے۔ مغرب کا ایک آدھ حوالہ اس کے ہاتھ لگ چکا ہے اس لیے میں دیکھ سکتا ہوں کہ نظم کے بعد اب فرشی تنقید میں بھی کشتوں کے پشتے لگانے کی پوری تیاری میں ہے  اردو ہی نہیں انگریزی میں بھی !! مجھے صرف اتنا کہنا ہے۔ ۔۔۔اے چارہ گر عدم پہ نہ کر مشق تجربات۔  پروردگار تجھ کو مریضوں کے ڈھیر دے !!

 اب اجازت چاہتا ہوں اور اس نام نہاد محفل دوستاں سے رخصت ہوتا ہوں۔

 اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا۔  جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں۔ ۔۔۔خوش رہیے

محمد حمید شاہد: نہیں صاحب نہیں، یوں الجھنا مناسب نہیں ہو گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس طرح کے مکالمہ میں تیز جملے آ جاتے ہیں مگر کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ ہم نظم پر بات کریں۔ پیارے ابرار احمد اگر فرشی کی کوئی بات آپ کو نامناسب لگی تو میں اس پر معذرت چاہوں گا اور پیارے علی محمد فرشی، میری درخواست ہو گی کہ جواب الجواب کا سلسلہ شروع نہیں ہونا چاہئیے۔ راشد کی نظم پر اور پھر اس پر سوال قائم کرتی آنند جی کی نظم پر بہت سے نکات سامنے آ چکے، میں چاہتا ہوں زبان تنقیدی رہے، اوراس حوالے سے مکالمہ آگے بڑھے۔ امید ہے آپ میری درخواست کو لائق اعتنا جانیں گے۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدر! میری جگہ آپ کیوں معذرت کریں؟ اگر معذرت ہی اس مسئلے کا حل ہے، جسے ابرار نے مسئلہ بنا لیا ہے، تو انھیں منانے کے لیے میں لاہور تک جانے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ بتائیے کہ تلوار میان سے پہلے کس نے نکالی تھی؟ اور کون سی بات میں نے تنقیدی اصول کے خلاف لکھی ہے ؟ ہر چند میں نقاد ہونے کا دعوے دار نہیں، نہ یہ میری شناخت ہے اور نہ میں اسے تنقید کہتا ہوں۔ یہ تو تفہیم کا عمل ہے جس میں ہم، تقریباً تمام تخلیق کار ہی حصہ لے رہے ہیں اور ہر تخلیق کار کو یہ باتیں ازبر ہوتی ہیں۔ اور میں یہ بات بھی ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں تنقید میری شناخت نہیں ہے، نہ کبھی ہو گی۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ میں شاعری میں ناکام ہو جاؤں تب بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ میں اسے کم تر عمل سمجھتا ہوں، میں تو حسن عسکری کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے اپنی تخلیقی زندگی کو تنقید پر قربان کر دیا اور ٹھیک کیا کہ ان کا دل بڑا تھا، ورنہ ان کا ایک افسانہ "حرامجادی” کئی کئی مجموعوں پر بھاری ہے، تو مزید کیا کیا وہ فکشن کو نہ دیتے، لیکن انھیں زندانِ ذات سے رہائی کا اسم معلوم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بڑے تھے، بہت بڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں اتنا بڑا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ البتہ ذاتی حوالے سے میرا کوئی جملہ ابرار کے دل پر بوجھ ہے تو میں اسے حذف کیے دیتا ہوں، (ظفر صاحب! جس لفظ پر ابرار صاحب انگلی رکھیں آپ اسے حذف کر دیں) لیکن بہ خدا میں نے ان کا دل دکھانے کے ارادے اسے لکھا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ وضاحت بھی کدروں کہ میں نہ مغرب سے مرعوب ہوں نہ مغربیوں اردو سے۔ میری تخلیقی، ذاتی اور سماجی زندگی آپ تمام دوستوں کے سامنے ہے۔ میں کوئی ادبی یتیم نہیں ہوں کہ دوسروں کے در کی طرف دیکھوں۔۔۔۔۔ رومی، غالب، اقبال، بلھے شاہ، وارث شاہ، شاہ لطیف اور میاں محمد میرے لیے اتنا بڑا خزانہ چھوڑ گئے ہیں کہ مجھے اس پر فخر بھی ہے اور اطمینان بھی۔۔۔ لیکن میں علم کو مومن کی میراث سمجھتا ہوں، درست بات کہیں سے بھی ملے اسے اخذ کرنے میں عار نہیں سمجھتا۔۔ تمام تہذیبوں میں لین دین کا عمل ہمیشہ سے جاری ہے اور رہے گا۔۔۔ ابرار سے میں ایسے طعنے کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔ ابرار صاحب ! اسے میری لا علمی سمجھیے۔ واقعی آواز کے معاملے میں مشرقی تنقید سے مجھے کوئی ایسی مثال نہیں ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ایلیٹ کی مثال نہ دیتا۔۔۔ ہر چند ہماری شاعری تو ایسی آوازوں سے مالا مال ہے۔۔۔۔۔۔۔ ابرار میں تو دوستوں میں تمھیں بڑے دل گردے والا کہتا رہا ہوں، ایک حالیہ واقعے کے حوالے سے بھی۔۔۔ صاحبِ صدر اس بات کے گواہ ہیں۔۔۔ بہ ہر حال اب اس قصے کو ختم کرو اور بات آگے بڑھاؤ۔۔۔۔ راست سمت میں، بے شک بدلہ لے لو لیکن اپنی دوستی سے تو محروم نہ کرو نہ یار، ابرار!

اشعر نجمی: جناب صدر، میری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کہ یہ ابرار احمد صاحب اتنی جلد "سیخ پا” کیوں ہو جاتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ حد درجہ short tempered ہیں۔ پہلے بھی ان کا یہ رویہ دیکھ چکا ہوں لیکن خاموش رہا۔ فرشی صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس پر وہ پوری محفل کی فضا مکدر کر رہے ہیں۔ اگر تنقید ان کا مسئلہ ہے تو بہتر ہے کہ اس بھاری پتھر کو وہ چوم کر علاحدہ ہو جائیں لیکن خدارا، خوش گوار ماحول اور صحت مند تنقیدی فضا کو یوں برباد نہ کریں۔

محمد حمید شاہد: ایک بات بہ ہر حال ہمیں مد نظر رکھنا ہو گی کہ تخلیق کار ناقدین کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں، اچھے تخلیق کاروں کو مکالمے کا حصہ بنانے کے لیے، میں اپنے تخلیق کار دوستوں سے مسلسل رابطہ کرتا رہوں گا۔ روٹھنا ان کا حق اور منانا اور مکالمے کو آگے بڑھانا ہمارا فرض ہے، لیجئے ابرار احمد اب غصہ تھوک دیجئے، راشد کی نظم سے ہوتی ہوئی بات اب آنند جی تک آ گئی ہے اگرچہ جس طرح میں چاہتا ہوں اس طرح کر دو بڑھائیں

محمد یامین: جناب صدر! مجھے ابرار احمد سے کوئی شکایت نہیں۔ اگر میرے سوالات سے انھیں تکلیف ہوئی تو معذرت چاہتا ہوں۔

ظفر سیّد: : جنابِ صدر، آپ نے اوپر تجویز دی تھی کہ نظم پر گفتگو کا دورانیہ بڑھا دیا جائے۔ یہ تجویز نہایت صائب ہے، کیوں کہ ایک تو خود آنند صاحب کی نظم بہت طویل ہے، پھر یہ نظم راشد کی جس نظم سے کلام کرتی ہے وہ بھی دسیوں صفحات پر محیط ہے۔ اس لیے اگر اس نشست کا دورانیہ ایک ہفتہ بڑھا دیا جائے تو مناسب ہو گا۔

علی محمد فرشی: تائید

ظفر سیّد: : جنابِ صدر: نظم پر خاصی گفتگو ہو چکی ہے، لیکن اب بھی لگتا ہے کہ بات تشنہ سی ہے۔ اصل میں اتنی طویل اور پیچیدہ نظم پر بات کرنا آسان کام نہیں ہے۔ میں نے بھی اس دوران کئی بار لکھنا چاہا، لیکن ایک کم ہر بار یہ بھاری پتھر چوم کر چھوڑنا پڑا۔ تاہم آپ نے فرمائش کی ہے، تو چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

 میرے خیال سے راشد کی نظم غیر متنازعہ طور پر اردو کی چند بڑی نظموں میں شمار کیا جاتی ہے۔ فرشی صاحب اسے عظیم نہ سمجھتے ہوئے بھی اردو کی دس سے بیس اعلیٰ نظموں میں سے ایک سمجھتے ہیں، علی ارمان صاحب نے اسے اردو کی دوسری بڑی نظم قرار دیا ہے، جب کہ راولپنڈی میں ہونے والے مباحثے میں اسے اردو کی پانچ بڑی نظموں میں سے ایک گردانا گیا تھا۔ یہی تاثرات دوسرے ناقدین کے بھی ہیں۔ پھر اس نظم پر جتنی نظمیں لکھی گئی ہیں، وہ بھی شاید اردو کی کسی اور نظم پر نہیں لکھی گئیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی تحریر میں ایسی چند نظموں اور کتابوں اور مضامین کے عنوانات کا حوالہ بھی دیا تھا۔ امریکہ میں مقیم شاعرہ عشرت آفرین نے اس کے جواب میں جہاں زاد کی زبانی نظم لکھی تھی جو غالباً شب خون میں شائع ہوئی تھی۔ چناں چہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ یہ نظم عظیم ہو نہ ہو، بے حد اہم ضرور ہے۔

 ستیہ پال آنند صاحب کی نظم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ تاہم "اے حسن کوزہ گر” پر بات کرتے ہوئے یہ بات مدِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ راشد کی "حسن کوزہ گر” کا تصور ذہن میں آتے ہوئے عام طور پر اس کے صرف پہلے حصے ہی کا خیال آتا ہے، اس کے باقی تین حصوں کا نہیں۔ جب کہ میرے خیال سے "حسن کوزہ گر” سلسلے کا سب سے عمدہ حصہ پہلا ہی ہے اور بڑی حد تک اس نظم کی شہرت کا باعث بھی یہی حصہ ہے۔ مزید یہ بات بھی یاد رہے کہ "حسن کوزہ گر” کے چاروں حصے کسی منصوبہ بندی کے تحت ایک ساتھ نہیں بلکہ الگ الگ لکھے گئے اور یہ حصے راشد کے دو مجموعوں "گمان کا ممکن” اور "لا مساوی انسان” میں بکھرے ہوئے ہیں۔ گمان کا ممکن 1958 میں شائع ہوئی تھی، اور حسن کوزہ گر 1 اس کی پہلی نظم ہے، جب کہ راشد کا آخری مجموعہ اس کے 17 برس بعد یعنی 1975 میں مرتب ہوا تھا، اور حسن کوزہ گر 4 اس مجموعے کی آخری نظم ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پہلی اور آخری نظم کے درمیان برسوں کا نہیں بلکہ عشروں کا وقفہ حائل ہے۔

 اب مسئلہ یہ ہے کہ پہلی نظم اپنی جگہ مکمل اور بھرپور ہے، اور میری رائے میں اس کے بعد دوسرے حصوں کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جیسے کوئی فلم ہٹ ہو جائے تو پروڈیوسر اس کی شہرت کو کیش کرنے کے لیے اس کا سیکوئل بناتے ہیں، ایسے ہی اس نظم کے پہلے حصے کو اتنی پذیرائی ملی اور خود راشد نے بھی اس کے اندر مزید تخلیقی امکانات محسوس کیے کہ انہیں برسوں بعد اس سلسلے آگے بڑھانے کا خیال آیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ چاروں حصوں کو بیک وقت پڑھتے وقت قاری کو ان میں وہ نامیاتی وحدت نہیں ملتی، جس کی یہ نظم متقاضی تھی۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ بیچ میں حائل طویل وقفے کی بنا پر خود راشد بھی ذہنی ارتقا یا تبدیلی کے مراحل سے گزرے ہوں گے، چناں نظمیں ناہموار رہ گئیں

ظفر سیّد: : فرشی صاحب نے اس نظم کو انحراف کی مثال قرار دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات پہلی نظم پر زیادہ صادق آتی ہے۔ مثال کے طور پر اس میں ہمیں روایتی عشق کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں، جس کا تصور راشد کی بقیہ کلیات میں مفقود ہے۔ نو سال کی وارفتگی، بال بچوں سے بیگانگی، روزگار سے بے توجہی، وغیرہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو اردو فارسی شاعری کی روایت کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے بے حد مانوس ہیں۔ لیکن دوسرے حصے میں راشد دوبارہ اپنی جون میں آ جاتے ہیں اور خود ہی اس عشق کی دیوار کو منہدم کر دیتے ہیں:

 تجھے جس عشق کی خو ہے

 مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں!

 عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟

 اے جہاں زاد،

 ہے ہر عشق سوال ایسا کہ عاشق کے سوا

 اس کا نہیں کوئی جواب

 اسی طرح وہ جہاں زاد جو پہلے حصے میں روایتی محبوب کی طرح بازار میں یا کسی دریچے سے چھب دکھلا کر غائب ہو جاتی تھی، دوسرے حصے میں متکلم کے ساتھ "شبِ بے راہ روی” اور حلب کے حوض کی شراکت دار ہے، لیکن جو بات اس حصے کو روایت کے دائرے سے مکمل طور پر باہر نکال پھینکتی ہے، وہ یہ ہے کہ متکلم کو وصال کے بعد بھی بجائے طمانیت اور فتح مندی کے رائیگانی اور شکست خوردگی کا احساس ہی ہاتھ آتا ہے حتیٰ کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ

 تو مرے سامنے آئینہ رہی،

 جس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھے

 اپنی ہی صورت کے سوا

 یہ وہ مقام ہے جہاں حسن کے پردے میں راشد خود بول رہا ہے، کیوں کہ اس لہجے کے سُر بڑی حد تک باقی شاعری کے سروں کے ساتھ ہم آہنگ سنائی دیتے ہیں۔

 آنند صاحب کی نظم بڑی حد تک پہلے حصے سے پہلو تہی کرتے ہوئے دوسرے اور تیسرے حصے سے مکالمہ کرتی ہے۔ راشد کے تصورِ عشق اور عورت کے بارے میں ان کے تاثرات کو آنند صاحب نے ریڈکٹیو ایڈ ایبسرڈم کے شکنجے سے گزار کر انہیں مبالغے کی حد پھیلا کر دکھایا ہے۔ ان کے ” کارنیوال مِرر” میں نظم کے چہرے کے کیل مہاسے بے حد نمایاں ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ وہ کوزہ گر کے جہاں زاد کے ساتھ تعلق کو نشان زد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

 اپنی تنہائی میں

 جھونپڑے کی تعفن سے بوجھل فضا کی

 عفونت، جسے تم’’ بغل گندھ‘‘ کا عطر سمجھے ہوئے ہو

 فقط ایک حیلہ ہے

 یادوں کے جوہڑ میں

 ڈبکی لگا نے کی خو ہے حسن

 عشق بالکل نہیں

 عشق بالکل نہیں

 یہی نہیں بلکہ "اے حسن کوزہ گر” کا "مورخ” ایک قدم آگے بڑھ کر اس "عشقِ ہوس ناک” کا سارا الزام جہاں زاد پر دھر دیتا ہے :

 بد چلن تم نہیں، اے حسن کوزہ گر

 ہاں، تمھیں ایک عورت کے ’’ عشق ہوس ناک‘‘ نے

 (صرف اک رات کی لغزش بے ریا کے لیے

 باندھ کر رکھ دیا ہے سدا کے لیے )

 اور عورت بھی کیا؟

 بد چلن، فاحشہ، کنچنی، رال ٹپکاتی چھنّال، اک بے سوا

ظفر سیّد: : علی محمد فرشی صاحب نے ابتدائیے میں فرمایا تھا کہ "حسن کوزہ گر” کی جانب دیکھیں تو یہاں جمالیاتی بہاؤ تو تیز ملتا ہے لیکن موضوعات کی زرخیزی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ ” میں فرشی صاحب کی اس بات پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔

 میرے خیال میں حسن کوزہ گر (خاص طور پر حصہ اول) میں موضوعات کی زرخیزی کے فقدان کو سمجھنے کے لیے ہمیں کلاسیکی شاعری کی اصطلاحات کام دے سکتی ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے میر کی شاعری کے مطالعے کے دوران ایک اصطلاح بازیافت کی تھی، "کیفیت۔ ” تعریف خود انہی کی زبانی سنئیے : "کیفیت کے شعر سے مراد کم و بیش وہی ہے جس کے بارے میں بیدل نے کہا تھا کہ شعر خوب معنی ندارد۔ یعنی ایسے شعر میں کوئی مضمون نہیں ہوتا، کوئی اہم معنوی نکتہ نہیں ہوتا، لیکن شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ "

 میر کی اکثر عمدہ غزلیں کیفیت کی اسی خصوصیت سے مملو ہیں اور ان کی یہ خصوصیت انہیں دوسرے شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ مختلف ادوار سے کیفیت والے اشعار کی چند مثالیں دیکھئیے :

 دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

 یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے (میر)

 چلی بھی جا جرسِ غنچہ کی صدا پہ نسیم

 کہیں تو قافلہ نو بہار ٹھہرے گا (مصحفی)

 نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

 جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹا دیا (فیض)

 یہ اشعار غزل کے عمدہ اشعار ہیں، لیکن اس کے باوجود ان میں کوئی اعلیٰ اور ارفع معنی پنہاں نہیں ہیں، لیکن شعر پڑھتے ہوئے ان کے معانی کی طرف ذہن نہیں جاتا، بلکہ شعر اپنے تخلیقی وفور میں قاری کو بہا لے جاتا ہے۔ یہی نہیں، اگر قاری رک کر شعر کے مطالب پر غور کرے تو الٹا شعر کا مزا کرکرا ہو جاتا ہے۔

 میرے خیال میں”حسن کوزہ گر” (خاص طور پر حصہ اول) کیفیت کی اسی خصوصیت سے مالامال نظم ہے، جو قاری کو اس کے "مضمون” کی طرف مائل نہیں ہونے دیتی بلکہ قاری نظم کی مسحور کن غنائیت، دل فریب آہنگ اور جذبات کی فراوانی میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ یہ نظم اس لیے بھی انحراف کی مثال بنتی ہے کہ "کیفیت” راشد کا نمایاں رنگ ہے ہی نہیں۔ اگر ہم کلاسیکی شاعری کی ایک اور اصطلاح کا سہارا لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ راشد "خیال بند” شاعر ہیں۔ خیال بند شاعری میں "خونِ جگر” کی بجائے "عرقِ دماغ” کی کارفرمائی زیادہ دکھائی جاتی ہے۔ شعر میں ڈھونڈ ڈھانڈ کر دور از کار مضمون لایا جاتا ہے، اور اس کو ایسے ڈھنگ سے باندھا جاتا ہے جس میں تجریدی رنگ نمایاں ہو۔ ناسخ اور شاہ نصیر خیال بندی کے موجد ہیں، لیکن اس فن کو غالب تا با ثریا لے گئے۔ راشد نے غالب پر کم از کم تین مضامین تحریر کیے ہیں اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غالب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ روزمرہ زندگی اور اس کے مسائل سے پہلو تہی، جذباتیت سے گریز، معانی کی کثرت، خیال کی رفعت اور تجریدیت کی فراوانی دونوں شعرا کی شناخت ہیں۔

 اگر میں اوپر کی گئی باتوں کا خلاصہ ایک فقرے میں کروں تو وہ یہ ہو گا کہ راشد تو غالب کے قبیلے کے شاعر تھے، لیکن ایک نظم میر کے انداز میں لکھ گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ نہ صرف اس نظم کو سب سے زیادہ قبولیت کا درجہ نصیب ہوا بلکہ یہ راشد کی پہچان ہی بن کر رہ گئی۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !راشد کی نظم پر طول طویل بیانات دینے کی بجاۓ میں براہ راست ستیہ پال آ نند کی "اے حسن کوزہ گر "کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنا چاہوں گی -فکری حوالے سے یہ نظم راشد کی نظم "حسن کوزہ گر "پر سوالات قائم کرتی ہے اور فنی حوالے سے اس نظم کا تار و پود کردار نگاری کی تکنیک سے بنا گیا ہے -نظم کے چوتھے ٹکڑے میں ان کرداروں سے آنند صاحب نے یوں متعارف کروایا ہے :

 میں کہ اک جسم میں تین روحیں لئے لکھ رہا ہوں یہ قصّہ جہاں زد کا

 میں جہاں زاد بھی ہوں حسن کوزہ گر بھی میرا نام ہے

 اور قصہ بھی میرا قلم لکھتا جاتا ہے جیسے کوئی

 عالم غیب سے اس کی نوک قلم پر ہے بیٹھا ہوا

 سوال یہ ہے کہ یہ واحد متکلم کردار کون ہے ؟ایک شاعر یا نقاد ؟نظم کے آغاز میں آنند صاحب نے واضح طور پر قوسین میں لکھا ہے : Reductio ad absurdum) کے طر یق کار سےن م راشد کے چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی شعری کوشش )

 چناں چہ واضح رہے کہ واحد متکلم کردار، "شاعر نقاد "ہے، "نقاد شاعر”نہیں -دونوں اصطلاحات کے مابین جو باریک فرق ہے اسے سمجھنا اہل علم حضرات کے لئے چنداں دشوار نہیں -مقصود یہ ہے کہ آنند صاحب نے تنقید کی غرض سے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا ہے -نظم کے قالب میں تنقید کی اس سعی کو جدید اردو نظم میں تجربات کی ذیل میں رکھا جانا چاہئے ۔یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوا، اس پر تو بات ہو گی ہی۔ فی الحال پہ امر پیش نظر رہے کہ شاعر کو اب دوہری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے -ایک طرف تو نظم کی شعری جمالیات کو برقرار رکھنا یا بہ الفاظ دیگر کردار نگاری کے معیارات اور تقاضوں کو نبھانا اور دوسری طرف تنقیدی محاکمے کا حق ادا کر نا-

 جہاں تک کردار نگاری کا تعلق ہے اس میں خود کلامی کا فنی حربہ مستعمل ہے -اس تکنیک کا بنیادی تقاضا یہ تھا کہ شاعر اپنی موجودگی کو منہا کر کے نقاد کے اس کردار کو غیر مشخص انداز میں پیش کرتا مگر معاملہ برعکس ہے -آغاز میں نقاد حاوی ہے جس کے مطابق نہ جہاں زاد اس قابل تھی کہ اس سے عشق کیا جاتا اور نہ حسن کوزہ گر کا عشق، عشق کی تعریف پر پورا اترتا ہے -مزید برآں راشد کی اس نظم کا ماحصل محض ایک قصہ ہے اور راشد کا مقصود بھی "کہانی گھڑنا "ہی تھا!

 مگر نظم کے آخر میں شاعر سامنے آ جاتا ہے جو اس نظم کے کردار، جہاں زاد کا دفاع کرتے ہوۓ کہتا ہے :

 میں تو شاعر ہوں اک قصہ خواں ہؤ جسے

 تتلیوں کے پروں اور جہاں زاد کے اس”دھنک رنگ”چہرے

 کے سب خال و خد کا (بغیر اس کے دیکھے ہوۓ ہی) پتا ہے

 اور یہ شاعر، راشد کی نظموں کا معترف بھی نظر آتا ہے :

 یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں

 پر مورخ کی یا قصہ گو کی نہیں

 یوں لگتا ہے نظم نگار یعنی آنند صاحب بہ طور نقاد اس نظم کے رومان کا طلسم توڑ کر قاری کی توجہ بھی حاصل کر نا چاہتے ہیں مگر فساد خلق کے خدشے سے، شاعر کے کردار کی گود میں پناہ گزیں ہو جاتے ہیں! تنقیدی محاکمے کا بار گراں پھر قاری پر آ پڑتا ہے کہ راشد کی ان نظموں کی درجہ بندی اور معیار کا تعین، نقاد اور شاعر کے کردار کے بیچ معلق ہو کر رہ گیا ہے -تنقیدی محاکمہ دو ٹوک انداز کا متقاضی ہے مگر نظم کا قالب اپنانے اور کرداری تکنیک کو نبھانے کی دشواریوں کے سبب، راشد کی تفہیم کی یہ شعری کاوش شتر گربگی کا شکار ہو گئی ہے -(جاری)

عارفہ شہزاد: راشد کے کرداروں کا تجزیہ بھی جس تکنیک کے تحت کیا گیا ہے اس کا نتیجہ "کوہ کندن و کاہ بر آوردن”کے مصداق ہے !مانا جہاں زاد "جہاں زادی ” تھی مگر کیا عشق میں محبوب کا اخلاقیات کی جملہ صفات سے متصف ہونا ضروری ہے ؟؟؟ ہماری کلاسیکی روایت تو کہتی ہے "عشق نہ پچھے ذات "-نظم میں محبوب کا کردار اہم نہیں اس سے وابستہ وہ جذبہ عشق اہم ہے جو تخلیق کا محرک بن گیا ہے – آنند صاحب کی زیر بحث نظم میں حسن کوزہ گر کے اس عشق کو بھی نشانہ اتہام بنایا گیا ہے کہ یہ "عشق ہرگز نہیں "فرشی صاحب نے بھی اس کی پر زور حمایت کی اور عشق کے اس قضیے کو نمٹاتے ہوۓ بحث نے وہ رنگ اختیار کیا کہ بات تلواروں تک آ پہنچی !عشق ایک اضافی حقیقت ہے اور ہر فرد کے، یا ہر عاشق کے پیمانہ عشق میں یک رنگی ناممکنات میں ہے !حسن کوزہ گر کی زبانی عشق کی تعریف کا تعین دیکھیے :

 اے جہاں زاد !

 ہے ہر عشق سوال ایسا کہ عاشق کے سوا

 اس کا نہیں کوئی جواب

 یہی کافی ہے کہ باطن کی صدا گونج اٹھے !

 اس کی تصریح میں میں محض اتنا اشارہ کروں گی "جا تن لاگے سوہی تن جانے "کوئی دوسرا اسے اس گہرائی سے نہ سمجھ سکتا ہے نہ ناپ سکتا ہے -یہ عشق وہ ہے جس سے عاشق عرفان ذات حاصل کرتا ہے :

 عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا

 دنیا داروں کے نزدیک، معیشت سے بیگانگی عشق کی تہمت بن جاتی ہے۔ صاحب عشق کو اتنی فرصت کہاں؟رہی بات کہ یہ عشق کا روایتی تصور ہے جو راشد کے تصور عشق سے لگا نہیں کھاتا تو جہاں زاد اور حسن کوزہ گر کے عشق میں "جسم اور روح کا آہنگ "کیا راشد کے تصور عشق کا نمائندہ نہیں ؟

 ایک اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ راشد کا تصورانسان جو اس کی شاعری کا ما حصل ہے اس مرکزی کردار سے متصادم ہے اس لئے یہ راشد کی نمائندہ نظم نہیں -میرا سوال یہ ہے کے آنند صاحب کی نظم میں جب اس حوالے سے بات ہی نہیں کی گئی تو اس بے محل بحث کا مقصد ؟

عارفہ شہزاد: جناب صدر !بات راشد کے تصور انسان ہی کے حوالے سے کی جائے تو اس کا ایک پہلو وہ آدرشی انسان ہے جو ایشیائی برتری کا خواہاں ہے اور استماری قوتوں کے خلاف ہے اور ایک پہلو اس زمینی انسان کا تصور عشق ہے جو روح اور جسم کے ربط و آہنگ کا قائل ہے، تصور یزداں کا مذاق اڑاتا ہے !کیا حسن کوزہ گر راشد کے اس تصور کا نمائندہ نہیں ؟ بالفرض یہ اعتراض تسلیم بھی کر لیا جاۓ کہ یہ نظم راشد کے فن کی ترجمان نہیں مگر ہے تو راشد کی !میری دانست میں اپنے مجموعی رنگ سخن سے ہٹ کر رنگ جمانا ہر کس و ناکس شاعر کے بس کی بات نہیں !اور راشد کے حسن کوزہ گر کی اسیری سے اردو ادب رہائی نہیں پا سکا !یہ نظم بنیادی طور پر تخلیق اور تخلیق کار کے جذب عشق کا استعارہ ہے اور حسن کوزہ گر جہاں ہر تخلیق کار کا نمائندہ ہے وہاں خود راشد بہ طور تخلیق کار اسی نظم میں ہمیں اپنی باطنی واردات سے حسن کوزہ گر کے کردار کے ذریعے آگاہی بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ یہ وہ واحد نظم ہے جہاں راشد ہمیں پکڑائی دیتا ہے غلط نہیں !یا چلیے جن الفاظ میں اعتراض اٹھایا گیا وہ بھی تسلیم کہ واقعی اس نظم میں راشد حسن کوزہ گر کے کردار میں "جن ” بن کر حلول کر گیا ہے !

 جناب صدر !نظم میں کردار نگاری کی تکنیک میں نظم نگار کا کردار کے قالب میں "جن ” بن کر سمانا عین ممکن ہے !یہی مباحث قبل ازیں "سیر بین ” کے باب میں تفصیل سے عرض کر چکی ہوں کہ اسے ارسطو "الہامی جنون "کہتا ہے اور جدید تنقید اس کے لئے "ہم احساسی ” کی اصطلاح استعمال کرتی ہے، نیز علم نفسیات اس کی توثیق کرتا ہے ِ شاعر اس تکنیک کو اپناتا ہی اس لئے ہے کہ اپنے خیالات و نظریات اس طرح سے بیان کرے کہ "صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں "کی تفسیر بن جایے – کردار کے قالب میں شاعر کا اپنے خیالات کو رکھ دینا اگر باعث تہمت ٹھہرا ہے تو پھر اقبال کی "خضر راہ "اور "ابلیس کی مجلس شوری” پربھی یہی تنقیدی حکم لاگو ہو گا، راشد کی "اسرا فیل کی موت” کے لیے بھی جاۓ پناہ نہیں اور علی الہذالقیا س بہت سی نظمیں، اردو ادب کی اعلی نظموں کی صف سے خارج کرنا پڑیں گی!

عارفہ شہزاد: جناب صدر !خود کلامیہ کی تکنیک میں شاعر اپنے نظریات کردار کی زبانی کہلواتا ہی اس لئے ہے کہ براہ راست خطاب کی صورت میں نظم میں وعظ و نصیحت کا خطیبانہ رنگ در آنے کا خدشہ درپیش رہتا ہے جو نظم کی تاثیر زائل کرنے کا سبب بن جاتا ہے -اگر راشد نے اپنا زمانے کی بے قدری سے گلہ حسن کوزہ گر کی زبانی کیا ہے تو کیوں قبل اعتراض ٹھہرا ؟جب کہ یہ حسن کوزہ گر کے کردار کی موزونیت سے بھی متصادم نہیں ہوتا -کیا ہر تخلیق کار زمانے کی نا قدر شناسی سے گلہ نہیں کرتا ؟اور یہ انسانی نفسیات بھی تو ہے کہ اپنے مقسوم پر انسان کبھی خوش نہیں ہوتا -قران کی گواہی ہے اس سرشت انسانی پر "بے شک انسان بڑا ناشکرا ہے ” اگر حسن کوزہ گر زمانے سے شاکی ہے تو اس میں عجب کیا ہے ؟یہ مکالمہ اس کردار کے منہ سے ادا ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے !مانا کے راشد نے اپنے نظریات کی ترسیل کے لئے حسن کوزہ گر کو وسیلہ بنایا ہے مگر یہ کردار نگاری کی خوبی ہے خامی نہیں -خود آنند صاحب نے بھی تو اپنی نظم میں یہی تکنیک اپنائی ہے -بلکہ حسن کوزہ گر، جہاں زاد، اور قصہ گو مورخ کے منہ میں اپنی زبان رکھ دی ہے اور واضح طور پر اس کا اعلان بھی کر دیا ہے جسے میں کردار نگاری کی خامی سمجھتی ہوں -ہاں !اگر ان کرداروں کے مکالمے واوین میں اور خود کلامی کی تکنیک کے ذریعے سامنے رکھے جاتے تو صورت حال مختلف ہوتی !آنند صاحب کا اس اعلان کی، کہ میں ان کرداروں کے قالب میں ڈھل کر سب لکھ رہا ہوں، اگر کوئی توجیہ دی جا سکتی ہے تو محض اتنی کہ بہ طور نقاد وہ الٹے پاؤں لوٹ کر کرداروں کے باطن میں جھانک کر ان کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرنا چاہتے ہیں -مگر تخلیق کار یعنی راشد سے براہ راست مکالمے سے گریز کیوں ؟

 جناب صدر ! آنند صاحب کی اس نظم کے اس مصرعے کو دیکھیے "تو جو خود کوزہ گر بھی ہے کوزہ بھی ہے ” پھر آگے چل کر نظم میں "راشد کوزہ گر ” کی اصطلاح پر بھی غور کیجیے کیا یہ اعتراف نہیں کہ حسن کوزہ گر میں راشد خود جھلکتا ہے !جب آنند صاحب کی نظم یہ کہ رہی ہے کہ حسن کوزہ گر کا کردار راشد کا قائم مقام ہے تو نظم کی روشنی میں دیگر ناقدین کا یہ مباحثہ کہ اس نظم میں راشد کے نمائندہ تصورات کی عکاسی نہیں، چہ معنی دارد ؟ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آنند صاحب نے راشد کے فکر و فن کے حوالے سے زیر بحث نظم میں کیا معروضات پیش کیے ہیں، راشد کے جملہ فن کا احاطہ اس اجلاس کا مقصود نہیں ہے اور ان بھول بھلیوں میں بھٹک کر اصل نظم کو پس پشت ڈالنا تنقیدی غیر ذمہ داری کا ثبوت بھی ہے جس سے اجتناب لازم ہے ! (جاری ہے )

عارفہ شہزاد: جناب صدر !زیر بحث نظم کا دفاع کرتے ہوۓ بڑا دلچسپ بیان سامنے آیا کہ ” آنند کی نظم میں بہت سے سوالات کو انسانی سطح پر محسوس کیا گیا اور ابھارا گیا ہے۔ ان سوالات کا تعلق انسانی نفسیات، سماجیات، اور مقدرات سے ہے -کس قدر جاں گداز احساس ہے عورت(انسان)کی بے توقیری کا، اس کے کموڈٹی یا اشیاۓ صرف ہونے کا اور پھر اس معاشرتی بے حسی کو قبول کرتے ہوۓ بذات خود ویسا بن جانا اپنی عفت کا شعور کھو کر اسے انسانی مقدر مان کر خود کو بکاؤ بنا لینا !۔۔۔ ان سب معاملات کو ڈاکٹر آنند نے خفتہ سماجیات سے نکال کر نظم کیا ہے۔ یہ سب سوالات پرانے سہی مگر انسانی سطح پر ان کا اعادہ کیا جانا از حد ضروری ہے۔ میرے لئے ان کی یہ دردمندی قابل قدر ہے – ” آئیے نظم کے متن کی روشنی میں اس بیان کا تجزیہ کرتے ہیں :

 "اے حسن کوزہ گر

 کیا جہاں زاد بھی (جو کہ ’’نادان‘‘ تھی)

 باکرہ تھی جسے تو نے نو سال پہلے

 ’’گل و رنگ و روغن کی مخلوق ‘‘سمجھا؟

 چڑھایا نہیں چاک پر ( جس کمی کا تجھے آج بھی ہے قلق!)

 تیری لگتی تھی کچھ؟

 کیا جہاں زاد عطّار یوسف کا مالِ تجارت تھی، اسباب تھی؟

 یا کہ بیٹی تھی، بیوی تھی؟یا داشتہ

 یا طوائف کی اولاد تھی، جو ابھی

 سیکھ پائی نہ تھی سودا بازی کا فن؟

 پیش کرتی تھی ہر آتے جاتے کو اپنی ہنسی

 سودے بازی کا فن سیکھتی تھی ابھی

 آج نو سال کے بعد وہ نا شگفتہ کلی

 پھول ہے، کیف و مستی میں ڈوبا ہوا

 آج نو سال کے بعد وہ باکرہ

 انشراحی بشاشت کے اطوار سب سیکھ کر

 مال و اسباب، سودا گری کا ہنر جانتی ہے کسی بیسوا کی طرح

 اے حسن، علم ہے تجھ کو کیا؟

 ایک عطّار یوسف کی دکّاں نہیں

 غالباً ہر گلی اس کے قدموں کی آہٹ سے واقف تھی، جو

 خود ’’جہاں زاد‘‘ تھی یا کہ ’’زادی‘‘ تھی

 کس اجنبی کی؟ اسے خود بھی کیا علم ہے

 پوچھتے تو ذرا

 سب پڑوسی تمھیں یک زباں یہ بتاتے، ’’ جہاں زاد‘‘ اور

 ’’دختِ زر‘‘ ایک ہی نام ہوتا ہے کسبی کی اولاد کا”

 اس پورے اقتباس میں جہاں زاد کے کردار سے ہمدردی اور درد مندی بول رہی ہے یا حقارت ؟؟؟

 جناب صدر !متن کا ایک حرف گواہ ہے کہ نظم نگار، جو قصہ گو مورخ کے قالب میں ہم سے مخاطب ہے، جہاں زاد کو قابل عشق مخلوق ہی نہیں گردانتا اور حسن کوزہ گر کو اس کی غلطی کا احساس دلانے پر تلا بیٹھا ہے !پھر نظم کے پانچویں حصے میں جس جگہ جہاں زاد کی خود کلامی مذکور ہے، وہاں حسن کوزہ گر کو جہاں زاد کے کچے کنوارے نو خواستہ بدن کو کہولت ے آشنا کرنے کا سبب قرار دیا گیا ہے – مگر راشد کی نظم تو کہتی ہے کہ اس سے پہلے بھی جہاں کے گھر کی دیواروں میں درزیں تھیں ! سوال یہ ہے کہ کیا تنقید کی یہ تکنیک نظم کی تفہیم میں کارگر ثابت ہوئی ہے یا مزید الجھنیں پیدا کرنے کا سبب بنی ہے ؟واضح ہے کہ نظم نگار نے لا یعنی مبالغے سے کام لے کر راشد کی نظم کی تفہیم کو ایک چیستان بنا کر رکھ دیا ہے !

عارفہ شہزاد: جناب صدر ! نظم کی تکنیک اور فکر کے حوالے سے میں نے اپنے معروضات پیش کیے  ہیں -آغاز میں میں نے کہا تھا کہ اس نظم کو جدید اردو نظم میں تجرباتی نظموں کی ذیل میں رکھا جانا چاہیے کیوں کہ اس میں تنقید کو نظم کے قالب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے ِ نظم روایت کی تقلید میں ہو یا تازگی کا احساس لئے ہو، اس کے قبول عام کا انحصار اس کی قرات سے پیدا ہونے والی تاثیر پر ہے -یہ اثر یا تاثیر بنیادی انسانی جذبات کو متحرک کرے تو ہی نظم کا نقش دیر پا ہوتا ہے -آنند صاحب کی زیر نظر نظم "اے حسن کوزہ گر "سے نہ تو المیہ کا تاثر اجاگر ہوتا ہے نہ طربیہ کا نہ استعجابیہ انداز ہی ابھرا ہے -گویا یہ نظم رنج، خوشی یا حیرت میں سے کسی ایک بنیادی انسانی جذبے کو تحریک نہیں دے پائی-لے دے کر چند تنقیدی سوالات اٹھانے کے سبب اس نظم کو تفکر انگیز کہا جا سکتا ہے مگر ان سوالات کے جوابات نظم کے کرداروں نے اس انداز سے دیے ہیں کہ قاری نظم گو کے مبالغے سے سوچنے پر تو کیا مجبور ہو گا،، الٹااس کی طبیعت ان سوالات اور جوابات سے منغض ہو جاتی ہے !

 اگر کوئی شے نظم پڑھنے پر مائل کرتی ہے تو وہ اس کا ردھم ہے -فاعلن فاعلن کی بحر کی روانی میں ہم یہ نظم پڑھتے چلے جاتے ہیں یا پھر آنند صاحب نے جو مبالغے پر مبنی کہانی گھڑی ہے، قصہ گوئی سے رغبت کی بنیادی سرشت کی بنا پر قارئین یہ نظم پڑھ پاتے ہیں -جہاں تک تنقیدی محاکمے کا فرض نبھانے کا سوال ہے یہ نظم اس میں بھی ناکام ہوئی ہے –

 اس طویل نظم کی تین تہائی لفظیات راشد کی نظم حسن کوزہ گر سے مستعار لی گئی ہیں اور جا بجا واوین میں مذکور ہیں -آنند صاحب کی نظم گوئی کی لفظیات ہندی سے قریب رہی ہیں جب کے زیر نظر نظم لفظیات کے استعمال کے ضمن میں راشد کے مفرس اسلوب کی مقلد محض بن کر رہ گئی ہے – جناب صدر ان سب دلائل و براہین کی روشنی میں میں تو اس نظم کو ناکام کہنے پر مجبور ہوں جو با لذاتہ قاری پر کوئی اثر مرتب نہیں کر پائی-

محمد حمید شاہد: عارفہ شہزاد نے حسب توقع بحث میں بھرپور حصہ لیا اور بہت اہم نکات اٹھائے ہیں، مجموعی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنا نقطہ نظر کامیابی سے اور دلیل کے ساتھ سامنے لائی ہیں، قبل ازیں ظفر سید نے بھی بحث کو ایک رخ پر ڈالا، اب کیا ہی اچھا ہو کہ رفیق سندیلوی اپنی ادھوری بات مکمل کریں، ہندوستانی دوست بحث میں شریک ہوں، نصیر احمد ناصر چپ توڑ دیں، نئے دوست اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔ ابرار احمد واپس آ جائیں۔ فرشی، پروین اور یامین اپنے اپنے موقف کے دفاع میں کچھ اور کہیں کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا اس بابت اب تک تو بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔

Sadaf Mirza:  Hameed shahid saaheb, bilaa shuba aap ne ab tak apne faraaiz bakhubi nibhaaye hain, meri ab tak shammuliyat ki wajoohaat kuch toa qataii toar par zaati rahein, mazeed ye k filwaqt mere paas is notebook mein urdu likhne ki sahoolat nahein hai, aour itne aham mozoo par roman mein likhnaa shaayad ishaaron ki zabaan mein guftaguu karnaa hi tahre………………. mazeed ye k, jesaa k aksar hotaa aaiyaa hai, hamaare haan achi se achi ilmi o adbi o tanqeedi bahc k doraan adab w waqaar se manaafi alfaaz istemaal hote hain, . … baat seekhne sikhaane aour adbi maqaasad se door hone lagti hai. bilaa shuba noon meem rashid ki nazm ne urdu adab ko aik nai jehat ataa ki hai, lakin kisi bhi samt k paishroa k asloob ki khosoosiyaat par bahac us k andaaz, fikr ki gahraai ko samjhne ki aik munazzam koshish hoti hai…….. jesa k Hameed Shahid sb ne farmaayaa, yahaan bohat se senior log khaamosh hain, un ko ham jese noa aamoz logon ki rahnumaai ko zoroor saamne aanaa chaahye. shukriyah

واجد علی سید: صدف مرزا صاحبہ، آپ اردو فانٹس کے لئے یہ لنک استعمال کر سکتی ہیں۔ اسے بک مارک کر لیجئے اور صرف ایک کلک کے ساتھ اردو ٹائپ دستیاب ہو جائے گا۔ شکریہ۔۔

 http://usoft.co.cc

محمد حمید شاہد: شکریہ صدف جی، آپ کا چوں کہ ایک طویل مضمون آنند جی پر پڑھ چکا ہوں، جو لگ بھگ ان کی ساری تخلیقی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے لہذا آپ کی طرح دھیان گیا کہ آپ کے ذہن میں آنند جی کا مجموعی تخلیقی مزاج تازہ ہو گا۔ خیر بات راشد اور آنند کی نظموں پر کی جائے، اسے آگے بڑھایا جائے، اور یہ اردو فانٹس میں ہو تو مناسب ہو گا، ہمیں مکالمے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہے اسی طرح بہتر تفہیم اور تعبیر کے راستے نکلیں گے۔

محمد حمید شاہد: "طرح” نہیں "طرف”

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! محترمہ عارفہ شہزاد کی صلاحیتوں کا تومیں اسی روز معترف ہو گیا تھا جب گزشتہ اجلاس میں وہ پہلی بار اس فورم پر تشریف لائی تھیں۔ اُس اجلاس میں ان کی بحث پڑھ کر میری یہ توقع غلط نہیں تھی کہ وہ "حاشیہ” کی فعال رکن بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے تازہ تنقیدی نوٹس، ہرچند، گزشتہ کی نسبت سنبھلے ہوئے ہیں(اس کی داد ان کا حق ہے )لیکن پھر بھی میں ان سے گزارش کروں گا کہ اعلیٰ ادبی اور انسانی اقدار دائمی ہوتیں ہیں اور تنقیدی اصول بھی ذاتی پسند و ناپسند کے تابع نہیں آسکتے، جن پر ان کے جذبات حاوی آ جاتے ہیں۔ یہاں بھی وہ جوشِ خطابت میں اس قدر آگے نکل گئی ہیں کہ ابتدائیہ ان کے ذہن ہی سے نکل گیا، حتیٰ کہ انھوں نے بولنے سے پہلے اپنے ماقبل نقاد ظفر سید کے انتہائی واضح انداز اور مدلل نکات تو بھی در خورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ ظفر صاحب نے بھی "حسن کوزہ گر” کو راشد کے ہاں”انحراف” کی مثال مانا ہے اور اپنے زاویے سے میرے مؤقف کی تائید کی ہے۔ میری ان سے گزارش ہے وہ ابتدائیہ اور ظفر سید کا مذکورہ نوٹ ایک بار پھر پڑھ لیں۔ اگرچہ ظفر صاحب نے "حسن کوزہ گر” کے صرف پہلے حصے کو اصل نظم مانا ہے، اس حوالے سے ان کے دلائل دل کو لگتے ہیں لیکن ستیہ پال آنند کی نظم، جو یہاں زیرِ بحث ہے، چوں کہ چاروں اجزا کو موضوع بنا تی ہے لہذا ہم باقی کے تین اجزا سے، کم از کم یہاں، غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ "انحراف” کی اصطلاح شاید نئی ہونے کے باعث احباب کے ذہن میں منفی تاثر ابھارتی ہے حالاں کہ حاشا ایسا نہیں ہے، محض اس کے باعث کسی نظم کی قدر میں کمی نہیں آ جاتی۔ (یہ اور بات کہ اس نظم سے بڑے قد کاٹھ کی نظمیں راشد کے ہاں موجود ہیں اور میں اپنے مؤقف کے حق میں راشد کی اس سے بڑی نظموں کی فہرست پہلے ہی پیش کر چکا ہوں، اگر مجھے غلط قرار دینا ہے تو ان نظموں کا اس سے موازنہ کر کے اِسے ان سے بڑی نظم ثابت کیجیے ) اگر ہم ظفر صاحب کا نقطۂ نظر تسلیم کر لیں اور اس نظم کے مابعد کے تین اجزا کو نظم سے منقطع کرنے پر قادر ہوں (جوکہ ہم میں سے کسی کے اختیار میں نہیں) تو نظم پر سے صنفی تعصب کا الزام بھی دھل جاتا ہے۔ یہ بات بھی میرے اس مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ پہلے حصے میں راشد اپنے شعور کی گرفت سے آزاد ہو گیا تھا جب کہ بعد کے تینوں اجزا، ظفر صاحب کے بہ قول منصوبہ بندی کے تحت لکھے گئے ہیں لہٰذا دوسرے اور تیسرے جز میں راشد کے ہاں پایا جانے والا صنفی تعصب در آیا۔ مجھے ظفر صاحب سے اتفاق ہے کہ چوتھا حصہ پہلے حصے کے پائے کا نہیں لیکن یہاں میں ان سے ذرا سا اختلاف کرتے ہوئے کہوں گا کہ اس کا پہلے حصے سے نامیاتی ربط ضرور موجود ہے۔ یہ دونوں اجزا حسن کوزہ گر کی وارداتِ قلبی، جہاں زاد کی صلابت بہ طور ’منبعِ حسن‘ اور ’محرکِ تخلیق‘ کے باعث بہ ہم پیوست ہیں، ابتدائی جز اگر حسن کوزہ گر کی واردات عشق کا بیان ہے تو آخری حصہ اس واردات کے منطقی نتیجے میں اعلیٰ فن کی نمود کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

محمد حمید شاہد: شکریہ فرشی صاحب، تاہم مجھے اجازت دیجئے کہ آپ کے نوٹ سے "جوشِ خطابت” کو حذف سمجھوں۔

 احباب حاشیہ، میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ اپنی بات جمعہ کے روز تک مکمل کر لیں، جناب آنند سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنا نوٹ اسی روز یعنی جمعہ کی شام تک اپ لوڈ کر دیں۔ کوشش ہو گی کہ اتوار کو اپنی گزارشات آپ تک پہنچاؤں، اجلاس مکمل ہو اور صدارت سے الگ ہو جاؤں۔ احباب ہمارے پاس وقت کم ہے اور کہنے کو بہت کچھ لہذا اب زیادہ توقف مناسب نہ ہو گا۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! اجازت ہے۔

محمد حمید شاہد: پیارے بھائی آپ کا بہت شکریہ،

عارفہ شہزاد: جناب صدر !میرے محترم فرشی صاحب کو گلہ ہے کہ میں نے ابتدائیہ اور ظفر سیّد صاحب کا تنقیدی نوٹ غور سے نہیں پڑھا -آپ کی اجازت سے میں آپ کے فہرس کیے ہوۓ فرشی صاحب کے ابتدایئے کے نکات اور ان کے جواب میں اپنے معروضات سوال جواب کی تکنیک کے ذریعے دہرانے کی اجازت چاہوں گی تاکہ میرے محترم کو اندازہ ہو کہ میں نے اپنے بیان میں ان کے معروضات ہی کو پیش نظر رکھا ہے اور اپنا نقطہ نظر وضاحت اور دلائل کے ساتھ سامنے رکھا ہے -اگر میرے محترم اسے بغور پڑھ لیتے تو نہ تو جوش خطابت کا اتہام باندھنے کی نوبت آتی اور نہ اس سے با دل نہ خواستہ دستبرداری کی اجازت دینا پڑتی !میری غلطی محض اتنی ہے کہ میں نے ان کے گزشتہ سے پیوستہ بیان کی طرح نام لے لے کر مخاطب نہیں کیا !جس کا نتیجہ اصحاب حاشیہ کو میرے اور ان کے بیانات کی تکرار کی” بصر خراشی "کی صورت بھگتنا پڑ رہا ہے -اس کے لئے میں پیشگی معذرت خواہ ہوں ۔

علی محمد فرشی:

 1۔ آنند کی نظم”اے حسن کوزہ گر” محض تشریحی نوٹ نہیں۔ اسے "حسن کوزہ گر” کی تفہیم کی تخلیقی اورتنقیدی کوشش قرار دینا مناسب ہو گا جو اپنے انفراد کو منوا رہی ہے،

 2″اے حسن کوزہ گر” کے شاعر نے راشد، حسن کوزہ گر، جہاں زاد، ستیہ پال آنند اور”وہ”جو جہاں زاد نہیں ہے، کے اجزا سے ایک نئی کلیت قائم کر لی ہے۔  آنند کی نظم میں شاعر کے وجود پر کہیں بھی مغالطے کی دھند نہیں پڑتی اس کے باوجود کہ اس کے جسم میں تین روحیں مستور ہیں۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !اب چند اور نکات اور ان کے جوابات دیکھیے

علی محمد فرشی:

 3۔ راشد نے حسن کوزہ گر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا، لیکن آنند نے اپنے اس وجود کو ظاہر کر دیا ہے جو عالمِ غیب میں موجود فن کی حقیقی روح سے راہ نمائی لیتا ہے۔

 4۔ ستیہ پال آنند نے اپنی نظم کی میں حسن کوزہ گر کو مخاطب کیا ہے نہ کہ راشد کو۔ اُس کوزہ گر کو جو راشد کی نظم کے پہلے حصے میں نمودار ہوتا ہے۔

عارفہ شہزاد: "جناب صدر ! آنند صاحب کی اس نظم کے اس مصرعے کو دیکھیے "تو جو خود کوزہ گر بھی ہے کوزہ بھی ہے ” پھر آگے چل کر نظم میں "راشد کوزہ گر ” کی اصطلاح پر بھی غور کیجیے کیا یہ اعتراف نہیں کہ حسن کوزہ گر میں راشد خود جھلکتا ہے !جب آنند صاحب کی نظم یہ کہ رہی ہے کہ حسن کوزہ گر کا کردار راشد کا قائم مقام ہے تو نظم کی روشنی میں دیگر ناقدین کا یہ مباحثہ کہ اس نظم میں راشد کے نمائندہ تصورات کی عکاسی نہیں، چہ معنی دارد ؟ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آنند صاحب نے راشد کے فکر و فن کے حوالے سے زیر بحث نظم میں کیا معروضات پیش کیے ہیں، راشد کے جملہ فن کا احاطہ اس اجلاس کا مقصود نہیں ہے اور ان بھول بھلیوں میں بھٹک کر اصل نظم کو پس پشت ڈالنا تنقیدی غیر ذمہ داری کا ثبوت بھی ہے جس سے اجتناب لازم ہے ! "

 جناب صدر!آگے چل کر فرشی صاحب کا ذیل کا نقطہ خود ان کے بیان کی تکذیب نہیں

 6۔ راشد کی نظم میں جو خوبی یا خامی ہے وہ اس باعث وجود میں آئی ہے کہ نظم کے کردار میں شاعر خود حلول کر گیا! اسی زاویے سے دیکھنے پر ہی ستیہ پال آنند نے "راشدِ کوزہ گر” کو شناخت کیا ہے –

عارفہ شہزاد: فرشی صاحب نے مزید یہ نکات اٹھاۓ

علی محمد فرشی:

 5۔ تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم "حسن کوزہ گر” شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔

 7۔ کیا ہم راشد کو یہ رعایت دے سکتے ہیں کہ صنف "عورت” کے بارے میں یہ خیالات شاعر کے نہیں بل کہ اس کے کردار حسن کوزہ گر کے ہیں۔ جب کہ نظم میں شاعر اور اس کا یہ کردار یوں شیر و شکر ہیں کہ دونوں کو الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

 8۔ اپنے عہدِ نارسا سے شکایت حسن کوزہ گر کا معاملہ نہیں لگتی۔ اس کردار کا مسئلہ تو عشق ہے جو راشد کی فکریات کا سوال کبھی نہیں بنا۔

 ذیل میں شافی جواب موجود ہے

 عارفہ شہزاد: جناب صدر !خود کلامیہ کی تکنیک میں شاعر اپنے نظریات کردار کی زبانی کہلواتا ہی اس لئے ہے کہ براہ راست خطاب کی صورت میں نظم میں وعظ و نصیحت کا خطیبانہ رنگ در آنے کا خدشہ درپیش رہتا ہے جو نظم کی تاثیر زایل کرنے کا سبب بن جاتا ہے -اگر راشد نے اپنا زمانے کی بے قدری سے گلہ حسن کوزہ گر کی زبانی کیا ہے تو کیوں قبل اعتراض ٹھہرا ؟جب کہ یہ حسن کوزہ گر کے کردار کی موزونیت سے بھی متصادم نہیں ہوتا -کیا ہر تخلیق کار زمانے کی نا قدر شناسی سے گلہ نہیں کرتا ؟اور یہ انسانی نفسیات بھی تو ہے کہ اپنے مقسوم پر انسان کبھی خوش نہیں ہوتا -قران کی گواہی ہے اس سرشت انسانی پر "بے شک انسان بڑا ناشکرا ہے ” اگر حسن کوزہ گر زمانے سے شاکی ہے تو اس میں عجب کیا ہے ؟یہ مکالمہ اس کردار کے منہ سے ادا ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے !مانا کے راشد نے اپنے نظریات کی ترسیل کے لئے حسن کوزہ گر کو وسیلہ بنایا ہے مگر یہ کردار نگاری کی خوبی ہے خامی نہیں -خود آنند صاحب نے بھی تو اپنی نظم میں یہی تکنیک اپنائی ہے -بلکہ حسن کوزہ گر، جہاں زاد، اور قصہ گو مورخ کے منہ میں اپنی زبان رکھ دی ہے اور واضح طور پر اس کا اعلان بھی کر دیا ہے جسے میں کردار نگاری کی خامی سمجھتی ہوں -ہاں !اگر ان کرداروں کے مکالمے واوین میں اور خود کلامی کی تکنیک کے ذریعے سامنے رکھے جاتے تو صورت حال مختلف ہوتی !آنند صاحب کا اس اعلان کی، کہ میں ان کرداروں کے قالب میں ڈھل کر سب لکھ رہا ہوں، اگر کوئی توجیہ دی جا سکتی ہے تو محض اتنی کہ بہ طور نقاد وہ الٹے پاؤں لوٹ کر کرداروں کے باطن میں جھانک کر ان کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرنا چاہتے ہیں

!عارفہ شہزاد: "رہی بات کہ یہ عشق کا روایتی تصور ہے جو راشد کے تصور عشق سے لگا نہیں کھاتا تو جہاں زاد اور حسن کوزہ گر کے عشق میں "جسم اور روح کا آہنگ "کیا راشد کے تصور عشق کا نمائندہ نہیں ؟

 ایک اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ راشد کا تصورانسان جو اس کی شاعری کا ما حصل ہے اس مرکزی کردار سے متصادم ہے اس لئے یہ راشد کی نمائندہ نظم نہیں -میرا سوال یہ ہے کے آنند صاحب کی نظم میں جب اس حوالے سے بات ہی نہیں کی گئی تو اس بے محل بحث کا مقصد ؟”

 عارفہ شہزاد: "جناب صدر !بات راشد کے تصور انسان ہی کے حوالے سے کی جائے تو اس کا ایک پہلو وہ آدرشی انسان ہے جو ایشیائی برتری کا خواہاں ہے اور استماری قوتوں کے خلاف ہے اور ایک پہلو اس زمینی انسان کا تصور عشق ہے جو روح اور جسم کے ربط و آہنگ کا قائل ہے، تصور یزداں کا مذاق اڑاتا ہے !کیا حسن کوزہ گر راشد کے اس تصور کا نمائندہ نہیں ؟ بالفرض یہ اعتراض تسلیم بھی کر لیا جاۓ کہ یہ نظم راشد کے فن کی ترجمان نہیں مگر ہے تو راشد کی !میری دانست میں اپنے مجموعی رنگ سخن سے ہٹ کر رنگ جمانا ہر کس و ناکس شاعر کے بس کی بات نہیں !اور راشد کے حسن کوزہ گر کی اسیری سے اردو ادب رہائی نہیں پا سکا

عارفہ شہزاد: جناب صدر!اب فرشی صاحب کے بقایا نکات کا قضیہ بھی ملاحظہ ہو

 محترم ظفر سید صاحب کا تنقیدی نوٹ فرشی صاحب کے ا بتد ائیے سے کلام کر رہا ہے اس میں کوئی ایسا سوال نہیں اٹھایا گیا جس کا جواب آنند صاحب کی نظم کے دفاع، یا رد میں جواب مطلوب تھا!بنابریں میں نے اس کی بنیاد پر مکالمہ قائم نہیں کیا-ثبوت میں ذیل کے نکات دیکھیے :

علی محمد فرشی:

 10۔ "حسن کوزہ گر” کی جانب دیکھیں تو یہاں جمالیاتی بہاؤ تو تیز ملتا ہے لیکن موضوعات کی زرخیزی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ یہ نظم ابتدا ہی سے راشد کے شعور کی گرفت سے آزاد ہو کر اس کے تخلیقی لاشعور کے تابع ہو گئی تھی۔

 11۔ راشد کی نظم میں تضادات ابھر آئے۔ نظم کا متکلم "حسن کوزہ گر” جو عشق پیشہ ہے راشد کی شخصیت اور شاعری کے ساتھ کوئی مطابقت و مماثلت قائم نہیں کر پاتا۔ جس کی بنیاد پر راشد کی اس نظم کو”انحراف” کی مثال قرار دیا گیا ہے۔۔

ظفر سیّد: : علی محمد فرشی صاحب نے ابتدائیے میں فرمایا تھا کہ "حسن کوزہ گر” کی جانب دیکھیں تو یہاں جمالیاتی بہاؤ تو تیز ملتا ہے لیکن موضوعات کی زرخیزی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ ” میں فرشی صاحب کی اس بات پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔

 "اگر میں اوپر کی گئی باتوں کا خلاصہ ایک فقرے میں کروں تو وہ یہ ہو گا کہ راشد تو غالب کے قبیلے کے شاعر تھے، لیکن ایک نظم میر کے انداز میں لکھ گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ نہ صرف اس نظم کو سب سے زیادہ قبولیت کا درجہ نصیب ہوا بلکہ یہ راشد کی پہچان ہی بن کر رہ گئی”

 جناب صدر !فرشی صاحب کا دعوی ہے کہ وہ دلیل ہی سے قائل ہوتے ہیں اور گھائل بھی! دلائل حاضر ہیں اب یہ ان کی صوابدید پر ہے کہ قائل ہوں یا حسب سابق گھائل—–

محمد حمید شاہد: میر ا خیال ہے ہمیں تکرار محض سے بچ کر مکالمہ آگے بڑھانا ہو گا۔ فرشی اور عارفہ آپ دونوں کا نقطہ نظر بہت واضح ہے۔ ضروری نہیں ہے لازما اپنی بات دوسرے سے منوا لی جائے، کبھی کبھی اختلاف پر اتفاق کر کے آگے بڑھا جائے تو تفہیم کے نئے دریچے وا ہو جایا کرتے ہیں۔ نظم کے جمالیاتی پہلوؤں کو نشان زد کرنا باقی ہے تو احباب اس جانب کون بڑھے گا؟

صدف مرزا: جناب صدر: آپ نے مجھ پر کرم فرمایا کہ مجھے اس حوالے سے بھی لکھنے کی دعوت دی کہ میں نے ڈاکٹر آنند پر ایک تفصیلی مضمون تحریر کیا ہے۔ ( یہ مضمون شاید "نقاط” میں چھپ چکا ہے۔ لیکن اب وہاں سے رسالہ منگوانا کارے دارد والا معاملہ ہے )۔ یہ مضمون اس باقاعدہ مطالعے کی ایک کڑی تھا جو ڈینش شعر و ادب میں اردو کے جدید ادب کو روشناس کروانے کی ایک کوشش تھی۔ مجھے اس کے لیے چند شعرا کا انتخاب کر کے ان پر سیر حاصل کام کرنا تھا۔ نون میم راشد، میرا جی اور مجید امجد کا مطالعہ بھی اس میں شامل تھا۔ ڈاکٹر آنند کی نظموں کا انتخاب میں نے اس لیے بھی کیا کہ اردو کے دیگر شعرا کی نسبت یہ نظمیں موضوعات، فنِ،اظہار کے پیرائے اور تنوع کے اعتبار سے مغربی شعرو ادب کے بہت قریب ہیں۔ ان کا ترجمہ میرے لیے نسبتاً آسان تھا۔ شاعر کے ساتھ براہ راست رابطے نے میرے تجسس اور استفہام کی تشنگی کو بھی سیر حاصلی میں بدلا۔ یہاں ایک بات کی وضاحت بھی کرتی چلوں کہ بہت سے موضوعات پر جہاں مجھے ان سے اختلاف ہوا، میں نے ان سے کھل کر بات کی۔ مثلاً ان کی نظموں میں عورت ایک منفی استعارے کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یا یہ کہ غزل کی رعنائی اور اثر آفرینی کو اس کی مخالفت ختم نہیں کر سکتی، یا یہ کہ کہ محض عروض کا علم (جیسے کہ خود ساختہ غزل گو استاد شاعروں کا پیشہ ہے ) کسی کی شاعری کو طلسماتی کیفیت نہیں دے سکتا۔ وغیرہ وغیرہ۔ وہ یورپ کے اپنے دورے پر کوپن ھیگن آئے تو ان کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا گیا، جس میں بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اس پس منظر کے بعد میں سعی کروں گی کہ ان کی نظم کا منظم اور مفصل جائزہ لوں۔

صدف مرزا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی نظم اور ن۔ م۔ راشد کی نظم، دونوں کو کسی آرٹ گیلری میں ایک دیوار پر ساتھ ساتھ آویزاں کر دیا گیا ہے اور "حاشیہ” کے ارباب اختیار صرف یہ نہیں چاہتے کہ موضوع بحث صرف ستیہ پال آنند کی نظم کو رکھا جائے اور جہاں جہاں اس کے ڈانڈے راشد کی نظم سے براہ راست ملتے ہیں، ایک "پس منظر یہ” (اگر یہ "بیک گراونڈ ر” کا غلط ترجمہ ہو تو مجھے معاف کیا جائے ) یعنی پردے کے پیچھے سے جھانکنے والی شبیہ کے طور پر راشد کی نظم کو بھی زیر بحث لایا جائے لیکن صرف اس حد تک جس حد تک زیر بحث ستیہ پال آنند کی نظم تقاضا کرتی ہے۔ بلکہ یہ قابل احترام اہل قلم، اس کا اعلان نہ کرنے کے باوجود، یہ چاہتے ہیں کہ آنند اور راشد کی نظموں کا تقابلی موازنہ بھی کیا جائے (جس میں دو اہم شاعروں کا تقابلی موازنہ بھی خارج اس امکان قرار نہیں دیا جا سکتا)۔

صدف مرزا: ظفر سید صاحب  کہ آنند صاحب کی نظم کے اوپر دیے گئے وضاحتی نوٹ پر تو کسی نے غور ہی نہیں کیا کہ یہ نظم ” رید کتیو اید ابسرد م” کی تکنیک پر استوار ہے۔ اور یہ کہ آنند صاحب نے غالب کے دس فارسی اشعار کو لے کر دس نظمیں اسی تکنیک پر خلق کی ہیں۔ میں یہ عرض کروں کہ کہ نظمیں ان کے آٹھویں شعری مجموعے "میرے اندر ایک سمندر” میں شامل ہیں اور اس کے علاوہ ان کی ضخیم کتاب "میری منتخب نظمیں” میں بھی موجود ہیں۔ اس سے پہلے یہ نظمیں "سمبل” میں بھی چھپ چکی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک وضاحتی نوٹ ہے جو میں یہاں لفظ بلفظ لکھ رہی ہوں۔

 "یہ نظمیں غالب کے فارسی اشعار کو اردو نظم کا جامہ پہناتی ہیں۔ میں انہیں علم منطق کی اصطلاح Reductio ad Absurdum  کے طریق کار سے آزاد نظم کے روپ میں ڈھالا ہے۔ یونانی فلسفی اور نقادDionysius of Halicarnassus  (پہلی صدی عیسوی) نے اس کا اطلاق یونانی ٹریجڈیوں کے متون کے اہم حصص پر کر کے متنی اور اسلوبیاتی تنقید کا ایک اہم تجربہ کیا۔ اس سے پہلے بھی یونانی کامیڈی نویس  Aristophanes (448 B.C۔؟ ۔ 380 B.C۔)  نے اس طریق کار کا استعمال اپنے کرداروں کے مکالمات میں کیا اور اپنے ہم عصر ٹریجڈی نویس ڈراما نگاروں کے متون کو نشانۂ مشق بنایا۔ اس اصطلاح کے لفظی معانی تو "اصل” کو "نقل” کی سطح پر مختصر ترین روپ دے کر یا اسے حد درجہ تک پھیلا کر "ابسرڈ” یعنی "لا یعنی” بنانا ہے، لیکن لاجک یا منطق کی رو سے اس کا اطلاق کسی بھی شعری یا ڈرامائی متن پر دو طریقِ،کار سے کیا جاتا ہے۔ (۱) "کل” کو اس کے اجزائے ترکیبی میں بانٹ کر ایک ایک جزو کو "کل” کے تناظر میں دیکھا جائے اور اس کے لیے بجائے مختصر کرنے کے اس کو ایسے ہی پھیلایا جائے، جیسے لاش کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے مردہ جسم کے اعضا کاٹ کر، میز پر الگ الگ رکھ کر، انہیں پھر جوڑا جاتا ہے۔ اور (۲) کسی بھی مفروضے یا تھیوری کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس کے منافق مفروضے کی چیر پھاڑ کی جائے۔ اس طرح منافق نظریہ غلط ثابت کرنے کے لیے اس کو اس کی منطقی جہتوں میں بانٹ دیا جائے۔ اب اگر منافق نظریہ غلط ثابت ہو گیا تو اصل نظریہ درست سمجھا جائے گا۔ یہ ایک "منطقی الٹ پھیر” ہے اور اس سے بسا اوقات غلط نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ بہر حال دونوں حالتوں میں تمسخر، تضحیک یا مضحکہ انگیزی کا تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے۔ (ستیہ پال آنند کی منتخب نظمیں۔ صفحہ چار سو اکاون)

 راقمہ الحروف نے ستیہ پال آنند کی یہ تحریر ہو بہو اس لیے پیش کی ہے کہ ان کی نظم پر ایک ایسا ڈائلاگ قائم کیا جا سکے جس میں حشو و زوائد سے بھی پرہیز ہو اور نا مناسب زبان سے بھی بچا جا سکے۔

صدف مرزا: ممتاز نقاد ڈاکٹر شکیل الرحمن نے لکھا ہے، ” ستیہ پال آنند اردو شاعری میں جمالیاتی حسّیت کے ایک ممتاز شاعر ہیں۔۔۔۔ انہوں نے اس کے مفہوم میں بڑی وسعت اور گہرائی پیدا کی ہے جو جمالیات کی سب سے تابناک جہت ہے۔۔۔۔ یہ تجربوں کی وسعت اور تہہ داری کا جمالیاتی احساس بخشتے ہوئے جمالیاتی انبساط عطا کرتی ہے۔ یہ رومانیت اکثر جمالیاتی انکشافات کرتی ہے اور ماضی اور حال کے تجربوں کو عموماً اس طرح چھوتی ہے کہ جمالیاتی ارتعاشات۰۰ پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح ستیہ پال آنند ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں”۔ ( ستیہ پال آنند کی جمالیاتی رومانی حسّیت۔ مضمون مشمولہ "ستیہ پال آنند کی نظم نگاری۔ ” ایڈیٹر، ڈاکٹر اے عبداللہ۔ دہلی۔ صفحہ ۲۶

 ۰۰ Aesthetic vibrations

 "اے حسن کوزہ گر” میں قصہ گوئی کے پیرائے میں ایک خاص قسم کا تحرک ہے، جو ان کی دیگر نظموں کا بھی خاصہ ہے۔ وہ بصری مناظر کو تشکیل دیتے ہوئے ایک نقاش کی طرح اسے جمالیاتی انبساط سے مملو کر دیتے ہیں۔ میں ایک دو مثالیں دے رہی ہوں۔

 "عین ممکن ہے یہ چاک، بھٹّی، طباخ اور تسلہ / یہ بوتل، یہ لوٹا، یہ ساغر، سبو، / آبگینہ صراحی، یہ بط، سب اسی ہاتھ کے ہی کرشمے تھے۔۔۔ ” اس سے پہلے کی سطریں یہ ہیں۔ "اور تم اے حسن / صرف اس عشق کی بات کرتے رہے / جو فقط ایک ہی بار صدق و وفا سے کسی کوزہ گر کے / تصنع سے عاری، کھرے دل میں ڈھلتا ہے تو /چاک پر اس کے جام و سبو، ساغر و طشت میں / ایک ہی گلبدن کی نزاکت، لطافت، نفاست کے ہی رنگ کھلتے ہیں / تخلیق کی ساحری سے۔ "

 یہ نظم، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے، اردو کی عظیم نظموں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ کوزہ گر کا فن (یعنی تخلیقی قوت کا اعمال نامہ)، قصہ گوئی یا قصہ خوانی کی روایت، دونوں کو ساتھ لیے ہوئے چلتی ہے۔ شاید یہی ایک نظم ہے جو ڈاکٹر آنند کی نظم نویسی کے فن کو سمجھنے میں زیادہ کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ بقول فہیم اعظمی (مرحوم) "اساطیر کی پیوسطگی”، بقول بلراج کومل "عالمی ادب اور قصص کتھاؤں سے کرداروں کی باز یافت اور انہیں عصری سیاق و سباق میں نئے معانی فراہم کرنے کا عمل”، بقول ڈاکٹر وزیر آغا "تمثیل سے باہر کھڑے ہو کر تمثیل کے کرداروں کو دیکھنے، خود سے باہر نکل کر خود کا نظارہ کرنے کی روش”، یا بقول اختر الایمان "ایک چلتی پھرتی ہوئی بلکہ بعض اوقات بولتی ہوئی حیات ذہنی کا نقشہ۔۔۔ یا بقول ڈاکٹر گیان چند جین "یہ لفظوں میں تصویر سازی ہے جو ایسے ہی جمالیاتی حظ فراہم کرتی ہے جیسے ہم کوئی خوبصورت پینٹنگ دیکھ رہے ہوں یا کسی مغنیہ کی آواز میں ٹھمری سن رہے ہوں۔ یہ سب رچاؤ، نغمگی اور آہنگ کے کرشمے تو ہیں ہی، معنی آفرینی کی سطح پر ان کی ایک اور جہت بھی نظر آتی ہے۔ "

محمد حمید شاہد: شکریہ صدف مرزا، آپ نے آنند جی کے تخلیقی مزاج پر بات کی، اس نظم کی تیکنیک کو خود شاعر اوردوسرے ناقدین کے حوالہ جات کے ساتھ دیکھا اور اپنا فیصلہ بھی دیا کہ "شاید یہی ایک نظم ہے جو ڈاکٹر آنند کی نظم نویسی کے فن کو سمجھنے میں زیادہ کار آمد ثابت ہو سکتی ہے "۔ احباب بات یہاں رک نہیں جانی چاہئیے، ناصر عباس نیر نے تو آنند جی پر پہلے بھی بات کر رکھی ہے، معید رشیدی اور تصنیف حیدر آپ تو خوب متحرک رہے اب چپ کیسی؟

صدف مرزا: جس قاری نے اردو نظم کے مشاہیر کو پڑھ رکھا ہو اسے اس نظم کی قرأت میں پہلی بات یہ نظر آئے گی کہ یہ نظم اپنے استفہامیہ انداز اور بلند آہنگی میں ان کی بہت سی دیگر نظموں سے مختلف ہے۔ عموماً ستیہ پال آنند کے ہاں راشد کی بلند آہنگی نہیں بلکہ اختر الایمان کا دھیما پن ہے۔ حقانی القاسمی نے آنند کی شاعری میں” شمع کی سی خاموشی اور سوزش” کی طرف ہما ری توجہ مبذول کی تھی اور کہا تھا کہ یہ شاعری” شعلوں کی طرح بھڑکتی نہیں، بلکہ تندور کی طرح اندر ہی اندر سلگتی ہے "۔ تو کیا وجہ ہے کہ اس نظم میں یہ وطیرہ بدل کر بلند آہنگ ہو گیا ہے جس میں رعب، طنطنہ کے انداز میں سوال پوچھے جاتے ہیں، جوابات فرض کر لیے جاتے ہیں (خود کلامی کا یہی طریقہ شیکسپئیر کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے )۔ کبھی حسن کوزہ گر گواہوں کے کٹہرے میں ہے تو کبھی وہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا نظر آتا ہے اور سوال پوچھنے والا جو مدعی بھی ہے، مدعا الیہ بھی ہے اور وکیل اور شاید جج بھی، اپنے جلال سے با خبر رعب دار آواز میں سوال پوچھتا ہے۔۔۔۔ میری رائے میں وجہ یہ ہے کہ آنند صاحب کو راشد کے ساتھ، اسی کی سطح پر

 Conformity to tone and tenor – a matching dialogic emphasis

 کی ضرورت تھی، جس میں راشد کی نظم ہے ورنہ دو الگ الگ شاعر اپنے اپنے انداز میں بات کرتے ہوئے نظر آتے۔ اس لیے کہ حسن کے ساتھ یا راشد کے ساتھ صرف آنند ہی نہیں اس کا اپنا ما فی الضمیر بھی بات کر رہا ہے۔ (جاری ہے )

صدف مرزا: اس نظم میں نظام افکار اور نظام اظہار(بہ ضرورت این و آں) میں تجدد اور تطور ہے۔ کہیں کہیں یہ لسانی حد بندی سے ماورا بھی ہے۔ یہ اسی ضرورت کا پیدا کردہ امر ہے، جسے میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ لیکن اس "میچنگ گیم” میں موضوع کہیں بھی نہیں چھوٹتا۔ آنند صاحب کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔ (جیسے کہ راشد کی تھی) مجھے بسیار کوشش کے باوجود چند سطریں تو کیا ایک سطر بھی ایسی نظر نہیں آئی جو نظم کی نامیاتی وحدت کو مجروح کرے۔ "تو” سے "میں” یا "اس” (ہر جگہ صیغہ واحد ہی استعمال کیا گیا ہے )کی طرف مراجعت بھی کریں تو ایک لمحے کا توقف کیے بغیر شعر کا واحد متکلم یہ واضح کر دیتا ہے کہ کون کس سے ہمکلام ہے۔ اس قسم کی سطریں اکثر آتی ہیں۔ "اے حسن کوزہ گر / بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہمزاد سے "۔۔ "عین ممکن ہے تم نے یہ سوچا بھی ہو /(” تم ” بھی تو اے حسن، "میں” کا ہی روپ ہو!) / اب ذرا "میں” کو بھی بولنے دو، حسن!”۔۔۔۔ ” اے حسن، علم ہے تجھ کو کیا؟”۔۔۔ "اے مورخ بتا، کب کی ہے داستاں؟”۔۔۔ یہ تو ایک رخ تھا۔ زمان و مکان کی اصلیت بھی ایک سطر سے واضح کر دی جاتی ہے تا کہ قاری کو آسانی ہو۔

 "آؤ، لوٹیں حلب کی طرف، اس سرائے کو دیکھیں

 جہاں حوض تھا۔ "

 "آؤ دیکھیں کہیں خاکنائے بر آورد میں ایک تھل!”۔۔۔ "اے حسن کوزہ گر / شہر کوزہ گروں کا، حلب کی سرائے، سفر کی امیں!”۔ مختصراً یہ کہ ذات اور باطن کی اس مکالمے میں (کس کی ذات؟ کس کا باطن؟) نہ تو شاعر ستیہ پال آنند اپنا راستہ بھولتا ہے اور نہ ہی اپنے قاری کو بھولنے دیتا ہے۔ یہی نامیاتی وحدت ہے، جو اس نظم کے لیے ایک بڑا چیلینج تھا۔ (جاری ہے )

صدف مرزا: اب میں ایک ایسی بات کی طرف مراجعت کر رہی ہوں، جس پر شاید کچھ دوستوں کو(بشمولیت ڈاکٹر آنند) اعتراض ہو، یہ نظم نون میم راشد کی چار حصص پر مشتمل نظم (اور شاید اس کی اپنی شاعرانہ ایمانداری) کے باطل شعور اور آئیڈیالوجی کے خلاف ستیہ پال آنند کا احتجاج ہے، جس میں ایک مہذب طریقے سے اسے یہ باور کروایا گیا ہے کہ خدا را، اے حسن، خدا را، اے راشد، اپنی ذات، اپنی شناخت سے بیزار مت ہو۔ بیزاری اور نفور ایک فراری رویہ ہے۔ اس سے گریز کر۔ ہم سب سمجھتے ہیں کہ شاعر کے وجود کے ساتھ انحطاط بھی ایک تدویری عمل ہے اور اس کی تقلیب سے مفر نہیں۔ یہ تمہارے ہی قبیلے کا ایک جونیر شاعر تمہیں تمہارے وجود کے مثبت محرکات اور منفیات دونوں کی تصویر دکھا رہا ہے۔ پہچان خود کو اپنی نظم کے پہلے حصے اور باقی کے تین حصص کی روشنی میں اور دیکھ، کہ تو خود بھی کتنا بدل گیا ہے۔ لگتا ہے جیسے متضاد قطبیں اکٹھے ہو گیے ہوں۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !

 آنند صاحب کی نظم ” اے حسن کوزہ گر "کی شعری جمالیات کی دریافت میں جو نکات اٹھائے گئے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آنند صاحب کی شاعری، اپنے تجربات کی وسعت اور موضوعات کے تنوع میں مغربی شعر و ادب کی عظمت کے مقابل رکھے جانے کی مستحق ہے -مذکورہ تنوعات کی مثال ان کی زیر بحث نظم بھی ہے جس میں منطقی تکنیک "ریدکتو ایڈ ابسردم ” کو شعری جامہ پہنایا گیا ہے -اردو ادب میں یہ اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے -ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ تکنیک یونانی فلاسفہ کے ہاں بھی مستعمل رہی ہے –

 جناب صدر !میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی تکنیک کا قرنوں سے مستعمل ہونا اس کی کامیابی کی دلیل ہے ؟جب کہ اس کا نتیجہ "زیر مشق ” نظم کی تضحیک کی صورت برآمد ہو !واضح رہے کہ "ریدکتو اید ابسرڈم ” کے طریقہ کار کی وضاحت میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ اس منطقی اصطلاح کے نظم پر اطلاق کا نتیجہ بسا اوقات "تضحیک کی صورت برآمد ہوتا ہے ۔قبل ازیں میں واضح طور اس امر کی طرف اشارہ کر چکی ہوں کہ ” اے حسن کوزہ گر ” کی صورت میں لا طائل نویسی اور کلپترہ گوئی کا ماحصل اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوا کہ نظم نگار یہ ثابت کرے کہ راشد کا مقصود محض کہانی گھڑنا یا قصہ کہنا تھا اور قصہ بھی ایسا جو لوک داستانوں کی طرح قبولیت عامہ اور شہرت نہ پا سکا! اوراس کی وجہ یہ تھی کہ اس قصے کے کردار مسلمہ اخلاقی اقدار پر پورے نہیں اترے -حسن کوزہ گر کا عشق "عشق ہرگز نہیں” اور جہاں زاد تو قابل عشق ہی نہیں کہ وہ دراصل "جہاں زادی "تھی!

 ایک پہلو یہ آشکار کیا گیا کہ یہ نظم دراصل ایک جونئیر شاعر کا سینئر شاعر یعنی راشد کی نظم کے چاروں حصوں میں نامیاتی وحدت کی عدم موجودگی کے خلاف احتجاج ہے !جناب صدر !پوری نظم کے متن سے سواے کرداروں کی اخلاقیات اور معیارات عشق کو چیلنج کرنے یا راشد کی قصہ گوئی یا کہانی گھڑنے کی روش پر احتجاج کے سوا کسی اور فرد جرم کا پتا نہیں ملتا ! جنہیں اپنی نہاد میں قابل اعتراض امور ماننے ہی کو تیار نہیں اور انھیں اضافی حقیقت قرار دے چکی ہوں جن کی کوئی جامد و متعین تعریف بیان نہیں کی جا سکتی – سوال یہ ہے کہ اگر نظم کی نامیاتی وحدت پر سوال اٹھایا گیا ہے تو نظم کے متن کے کس حصے میں یہ مذکور ہے ؟؟؟

 جناب صدر ! میرا اسی حوالے سے یہ سوال ہے کہ جب راشد کی نظم "حسن کوزہ گر” میں قصہ گوئی کو شعری جمالیات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوۓ آنند صاحب نے کار عبث قرار دیا ہے تو خود ان کی نظم "اے حسن کوزہ گر ” کی شعری جمالیات کی بنیاد میں” قصہ گوئی سے حظ اندوزی ” کی سرشت کو کارفرما قرار دینا درست ہے ؟اور قصہ بھی وہ جو طبع زاد نہیں راشد سے مستعار لیا گیا ہے ! ” حسن کوزہ گر ” میں اور کوئی خوبی نہ سہی قصہ تو اوریجنل ہے !

عارفہ شہزاد: جناب صدر! با لفرض آنند صاحب کی نظم”اے حسن کوزہ گر "کو راشد کی نظم کی بنا پر "اسطور سازی” کی سعی بھی مان لیں تو با لذاتہ اس نظم کی تا ثیر پر پھر بھی سوالیہ نشان ہی لگا رہتا ہے !ایسی تاثیر جو راشد کی اسطور سازی کی تکنیک پر مبنی نظموں "اسرافیل کی موت ” اور "سبا ویران ” کا خاصہ ہے !قبل ازیں بھی میں زیر بحث نظم کی تاثیر کے حوالے سے سوال اٹھا چکی ہوں ۔یہاں میں ان مباحث کی تکرار سے اجتناب کرتے ہوۓ نظم کی شعری جمالیات کے حوالے سے چند اور سوالات گوش گزار کرنا چاہوں گی- جناب صدر!میرا سوال یہ ہے کہ اگر اس نظم کی جمالیات قصہ گوئی پر استوار ہے تو اسے قصہ گوئی کے تقاضوں کو نبھانا بھی تو چاہئیے تھا!گیان چند جین داستان یا قصہ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں”داستان یا قصہ چند کرداروں کی کہانی کو بغیر انقطاع کے بیان کر تا ہے "مگر اس نظم "اے حسن کوزہ گر” کے قصے میں، کرداروں کی کہانی کے بیان میں سوالات کا انقطاع حائل ہے جس کی نہاد میں نظم کی تفہیم کی کوشش کار فرما ہے جس کا آنند صاحب نے آغاز میں واضح اعلان کیا ہے -چناں چہ اس انقطاع یعنی تنقید کے بنیادی تقاضوں کو نبھایا جانا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا !کرداروں کو منطق کے اصولوں کے تحت لا یعنیت کی حد تک لے جانے سے سواۓ لایعنیت کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا!

 جناب صدر !جب اس قصے میں کردار آگۓ تو اب نظم نگار کے لیے یہ بھی لازم تھا کہ کردار نگاری کے تقاضے ملحوظ رکھتا، بنیادی طور پر ڈرامائی خود کلامیہ کی تکنیک اپنائی گئی تھی اور میں قبل ازیں واضح کر چکی ہوں کہ اس تکنیک کے استعمال میں بھی فنی پختگی سے زیادہ اسقام نمایاں ہیں ۔

 رہی بات خود کلامیے کی تکنیک کے تقاضے نبھانے کی تو اس میں واحد متکلم اول تا آخر اپنا وجود برقرار رکھتا ہے دیگر کرداروں کے قالب میں اعلانیہ طور پر ڈھل کر اپنے نظریات یا اپنی زبان ان کے منہ میں نہیں رکھتا جیسا کے آنند صاحب کی نظم میں کیا گیا ہے !

 تسلیم کہ یہ نظم، منطق کی اصطلاح "رید کتو ایڈ ابسرڈ م” کی شعری قالب میں اطلاقی کوشش ہونے کی بنا پر اردو ادب میں انفراد رکھتی ہے مگر اس منفرد سعی کا نتیجہ بھی منفر د ہے کہ نظم میں تاثیر عنقا ہے !محض راشد کی نظم کی تضحیک کا پہلو برآمد ہوا ہے تو کیوں نہ اس نظم کو "ہجویات” میں شمار کیا جاۓ کہ اس میں بھی تو ہجویات کی طرح لا یعنیت کی حد تک راشد کی نظم اور اس کے کر داروں کا خاکہ اڑایا گیا ہے !تو پھر جناب صدر !اس نظم کی اردو ادب میں انفرادیت اور مغرب کے عظیم شعر ی سرچشمے سے قربت کا دعوی بھی مشکوک قرار پاتا ہے کہ اردو ادب کی کلاسیک کا دامن ایسی ہجویات سے مالا مال ہے مگر ان ہجویات کو بھی زیر بحث نظم پر اس بنیاد پر تفوق حاصل ہے کہ ان کا موضوع اور لفظیات طبع زاد ہیں!

جناب صدر !نظم کی جمالیاتی تحسین کرتے ہوۓ اس کی جن بصری تمثالوں کو سراہا گیا ان کے ضمن میں بھی چند امور کا پیش نظر رہنا ضروری ہے -تمثالوں یا امیجز کی تشکیل کا انحصار شاعر کی ان لفظیات پر ہوتا ہے جو اس ہی سے خاص ہوں !اسی صورت میں ان تمثالوں کی تشکیل کا کریڈٹ اسے دیا جانا چاہیے – اے حسن کوزہ گر "کے جس اقتباس کی مثال دے کر اس کی بصری تمثالوں کی خوبی کی نشاندہی کی گئی ہے اس کا اسلوبیاتی تجزیہ کریں کہ کن کن تمثالوں کی اساس میں راشد کی مفرس لفظیات کارفرما ہیں اور آنند صاحب سے مخصوص ہندی لفظیات

 کہاں ملتی ہیں ! کوئی ایک ترکیب یا مرکب ایسا نشان زد کر دیجیے جسے آنند صاحب کی مخصوص ہندی لفظیات سے قربت ہو !ایسے مفرس الفاظ و تراکیب کو تو آنند صاحب "کلیشے ” قرار دیتے ہیں !

 جناب صدر !نظم کی جمالیات کے تذکرے میں یہ پہلو بھی بیان کیا گیا کہ آنند صاحب اس نظریے کے علم بردار ہیں کہ عروضی علم کسی شاعری کو طلسماتی کیفیت نہیں دے سکتا میرا سوال یہ ہے کہ مبینہ مغربی تکنیک کی حامل اس نظم میں آنند صاحب نے اپنے اس نظریے کے برعکس مشرقی عروضی علم کیوں اپنایا کیا اپنی نظم کو مسند قبولیت پر بٹھانے کے لئے وہ اس تقلیدی روش پر مائل ہوۓ کہ نظم کی یہ عروضی روانی ہی نظم کی طوالت کے باوجود قاری کو پڑھنے پر آمادہ کرتی ہے ۔

 جناب صدر !یہ واضح طور پر تسلیم کیا کیا گیا ہے کہ یہ نظم آنند صاحب کے  مخصوص لب و لہجے تک کی حامل نہیں بلکہ راشد کا بلند آہنگ لب و لہجہ اختیار کرنا پڑا!ظاہر ہے راشد کی عظمت فن کا تقاضہ ہی یہی تھا کہ اس کے مقابل آنے  والے میں اتنا ہی دم خم ہو -مگر سوال ایک بار پھر وہی ہے کہ جب لہجہ تک آنند صاحب کا اپنا نہیں ہے اور ان پر راشد کی تقلید کی مجبوری آن پڑی ہے تو اس نظم کو کیوں کر آنند کے فن کا نمائندہ قرار دیا جائے ؟

 "اے حسن کوزہ گر ” کو خوبصورت پینٹنگ اور مغنیہ کی دلکش ٹھمری قرار دیا گیا مگر سوال یہ ہے کہ اس پینٹنگ کا کوئی رنگ اوریجنل بھی ہے ؟مغنیہ کی اس ٹھمری کی کوئی دھن اپنی بھی ہے ؟سچ تو یہ ہے آنند صاحب کی نظم گوئی میں اس نظم کو تجرباتی حیثیت تو دی جا سکتی ہے اسے ان کے فکر وفن کا نمائندہ یا اردو ادب کی بڑی نظم قرار دینا غلط ہے -آنند صاحب کے شعری سمندر میں اس کے  علاوہ کئی سچے موتی موجود ہیں جو ان کے اپنے رنگ کے ترجمان ہیں !

محمد حمید شاہد: احباب گرامی، گفتگو دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی، مجھے اپنی حد تک افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے صدف مرزا کو گفتگو کے اس آخری مرحلے میں کیوں پکارا، پہلے ہی بلا لینا چاہیے تھا شاید اس کا سبب یہ رہا ہو کہ آنند جی پر ان کا ایک ہی مضمون دیکھا تھا نقاط میں، پھر قاسم یعقوب کی فیس بک وال پر آنند جی کا نوٹ پڑھا کہ ” میری پی ایچ ڈی کی طالبہ صدف مرزا ڈنمارک سے اسلام آباد کچھ دنوں کے لیے آئی ہوئی ہیں۔ ” تو اندازہ ہوا کہ ادب ان کی پی ایچ ڈی کا مسئلہ ہو گا، مگر اب جب انہیں استاد ہی کے آہنگ میں بولتے ہوئے پایا تو لطف آیا۔ صدف آپ نے نظم پر خوب بات کی۔ عارفہ آپ نے بھی اختلاف کی جو بنیادیں فراہم کی ہیں لائق اعتنا ہیں آپ کا لہجہ آپ کے اخلاص کی گواہی دے رہا ہے، آپ دونوں میری مدد کو آئے اور لکنت کو مات ہوئی۔ شکریہ۔

محمد حمید شاہد: احباب حاشیہ، ستیہ پال آنند کی نظم پر اہم مکالمہ قائم ہوا جس کے لیے ابتدائیہ نگار علی محمد فرشی نے بنیادیں فراہم کر دی تھی۔ محمد یامین، رفیق سندیلوی، ظفرسید، ابرار احمد، علی ارمان، پروین طاہر، عارفہ شہزاد، صدف مرزا نے گفتگو میں بھرپور حصہ لیا اور اپنے اپنے انداز سے نظم کی تفہیم کی،۔ شاعر کے نوٹ کا انتظار ہے۔ میں درخواست کروں گا کہ آنند جی اب اپنا نوٹ اپ لوڈ فرمائیں۔

ستیہ پال آنند: صاحب صد، اس وقت یہاں امریکا میں رات کے دس بجے ہیں۔ میں صبح اٹھتے ہی پہلا کام یہ کروں گا۔ انشا اللہ

ستیہ پال آنند: (جز ایک)۔۔۔ فرشی صاحب کا ابتدائیہ ایک خاصے کی چیز تھی۔ جوں جوں میں اسے پڑھتا گیا، مجھ پر یہ اسرار (جس سے پہلے میں زیادہ واقف نہیں تھا) کھلتا گیا کہ فرشی صاحب ایک صاحب طرز شاعر ہونے کے علاوہ صاحب طرز نقاد بھی ہیں۔ نقاد ہونا بھی آجکل کچھ تھیوریوں پر عبور حاصل کر لینے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن عملی تنقید میں ہی کسی نقاد کے جوہر کھلتے ہیں۔ فرشی صاحب نے نہایت خوبصورتی اور مہارت سے تنقید کی تکنیکی زبان میں یہ حاشیے لکھے۔ دل خوش ہو گیا ان کی عملی تنقید کی مہارت دیکھ کر اور راشد کے بارے میں پڑھ کر۔۔۔۔۔ لیکن آخر جو چیز ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ فرشی صاحب کے ابتدائیہ کے جزو ایک کے بعد ان ہی کے متن سے جزو ۲، ۳ اور ۴ کو احباب نے زیادہ اہمیت دی۔ یعنی راشد کی نظم اور اس کے پس منظر، اور اس کی دوسری نظموں پرہی اپنی توجہ مرکوز رکھنے سے شرکاء کو یہ باور کرنے میں تردد نہیں کرنا پڑا کہ راشد کی نظم کو نسبتاً زیادہ کھنگالا جائے اور اگر آنند کی نظم کو دیکھنا ہی ہے تو دونوں کی نظموں کے تقابلی موازنے کے حوالے سے ہی دیکھا جائے جیسا کہ صدف مرزا صاحبہ نے فرمایا ہے۔ (جس میں ان دو نظموں کے علاوہ، ایک اہم شاعر ن۔۔ م۔ راشد اور اس حقیر اور فقیر شاعر کا تقابلی موازنہ بھی آ گیا )محمد حمید شاہد صاحب نے "صدر، ماڈریٹر، کامینٹیٹر اور ناظم” کی حیثیت سے اپنا فرض بخوبی نبھایا اور ہر مرحلے پر بحث کو صحیح رخ دینے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ غیر پسندیدہ ریمارکس کو بھی اپنی شیریں زبانی سے "شوگر کوٹ” کر دیا۔ کاش یہ ہنر ہم سب ان سے سیکھ سکتے۔ !

(جز دو) صاحب صدر، مجھے یہ کہنے میں کوئی عذر نہیں کہ بنیادی مقصد میری نظم پر گفتگو کرنا تھا، دو نظموں کا تقابلی موازنہ نہیں، اور یہ کہ اس کے بعد بحث ایک دوسری راہ پر گامزن ہو گئی۔ میری نظم اور راشد کی نظم کے عنوانات بالکل مختلف تھے۔ میری نظم کا عنوان "اے حسن کوزہ گر” ہے، یعنی ایک کردار سے براہ راست بات چیت۔ لیکن اس عنوان کو بھلا دیا گیا اور یہی مناسب سمجھا گیا کہ شرکاء "حسن کوزہ گر” (یعنی راشد کی نظم) پر بات کریں یا دو منظومات کا تقابلی مطالعہ پیش کریں۔۔۔

 (جز تین ) صاحبِ،صدر: کچھ مندرجات میں صرف، اور صرف راشد کی نظم کا ہی تذکرہ ہے۔ یعنی ان کی عبارت میں "اے حسن کوزہ گر” کا صاف ذکر تو کیا، کٹا پھٹا ہوا مُند رس شکل میں بھی نظر نہیں آیا گویا ساری بحث کا مقصد راشد کی نظم کے حوالے سے اپنی نظم فہمی کا ثبوت دینا ہی ہو۔ یا پھر (اور یہ بات از حد ضروری ہے ) راشد کی نظم کو میری نظم کے حوالے سے دیکھنا ہو، جب کہ بحث تو اس بات کی متقاضی تھی کہ میری نظم کو راشد کی نظم کے حوالے سے دیکھا جائے۔ اس الٹ پھیر میں بہت وقت گذر گیا۔۔۔۔

 (جز چار)۔ صاحبِ،صدر: اب تک میں نے تین نقاط پیش کیے ہیں۔ (ایک) حاشیہ کے کالموں می، میری نظم پر بحث مقصود تھی، دو نظموں کا تقابلی مطالعہ مقصود نہیں تھا۔ اگر صرف تقابلی مطالعہ ہوتا تو بھی کوئی بات نہیں تھی لیکن بات آگے بڑھ کر مطالعہ کے بجائے "موازنہ” تک پہنچ گئی اور اس قسم کی "ویلیو ججمینٹس” دی جانے لگیں کہ نظم بھونڈی ہے۔ (دو) بسا اوقات یہ فراموش کر دیا گیا کہ نظم کی بیخ بن میں ہی نہیں، اس کے تار و پود میں بھی اس تکنیک کو جسے ریدکتیو اید ابسردم کہا جاتا ہے۔ ظفر سید صاحب کی نشاندہی کے باوجود کسی بھی دوست نے یہ تکلیف گوارا نہیں کی کہ اس وضاحتی نوٹ کو ہی پڑھ کر "کوٹ” کرے جو میں نے غالب کے دس فارسی اشعار پر نظمیں خلق کرتے ہوئے لکھا تھا۔ اگر میری کتب موجود نہیں تھیں تو "سمبل” کا شمارہ تو موجود تھا۔ اس سے یہ نقصان ہوا کہ منطق کی اصطلاح کے طور پر تو کچھ بحث ہو گئی لیکن توڑ کر پرزہ پرزہ کرنے اور پھر ان پرزوں کے جوڑ نے کی تکنیک کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ اور (تین) میری نظم کے عنوان کی طرف توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ "اے حسن کوزہ گر” میں "اے ” حرفِ،ندا ہے۔ (مثال) ؂ بت بھی عاشق ہیں اپنی صورت کے / اے میں قربان تیری قدرت کے (میر) (مثال ۲) اے بادِ،صبا، ایں ہمہ آوردۂ تست۔ (مثال ۳) اے روشنی ٗ طبع، تو بر من بلا شدی۔۔۔۔۔ یہ حرف ندا حسن کوزہ گر کے لیے تھا، گویا شاعر (ستیہ پال آنند) کہہ رہا ہو) اے حسن کوزہ گر، سن تو سہی، جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا۔

 (جز پانچ) صاحبِ،صدر:”تیرا فسانہ” کیا حسن کوزہ گر کا ہے یا راشد کا، اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ابتدائی دور میں یہ دیکھنا ضروری تھا کہ کیا راشد کی نظم میں جس کے چار حصے مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر لکھے گئے اور اس دورانیے میں راشد سترہ برس اور جی چکا تھا۔ شاید سترہ ہی دیگر عورتوں کو "بھوگ” چکا تھا، کیا اس کے نقطہ ٗ نظر میں کوئی فرق روا ہوا؟ اور اگر ہوا بھی تو کیا ہوا۔ اس کی بھی شاید اتنی ضرورت نہیں تھی، جتنی اس بات کی تھی کہ نظم اور "جواب آں نظم” کو "وحدانی معنی آفرینی” کی نظر سے نہ دیکھا جائے کیونکہ راشد کی نظم کے حصہ اولیٰ اور آخری تین حصوں میں نہ صرف ایک پوری پود جوان ہو چکی تھی، بلکہ شاعر بھی ادھیڑ عمر کی دہلیز الانگھ چکا تھا۔ اگر استخراج معنی (خاص کر طویل نظموں کے لیے ) مقصود بھی ہے تو احباب کا زیف سید صاحب کی اس بات کو مد نظر رکھنا ضروری تھا کہ راقم الحروف کی نظم ان آخری تین حصص سے مکالمہ استوار کرتے ہوئے اس حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں دو نظموں میں”تو تو میں میں” کی کیفیت سی دکھائی دینے لگتی ہے۔

 (جز چھ)۔ صاحبِ،صدر: میں کلیتاً وحدانی معنی کا استرواد نہیں کرتا لیکن بطور ایک قلمکار میری "کم زوری” یا میری "طاقت” اس بات میں بھی مضمر ہے کہ میں نے تین براعظموں کے پانچ مختلف ملکوں میں چالیس برسوں تک ادب عالیہ جامعات کی سطح پر پڑھایا ہے اور میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہون کہ پس ساختیاتی تنقید اور قاری اساس تنقید نے اگر کسی نثر پارے یا نظم پر اوپر سے لادے گئے وحدانی معانی کو رد کرتے ہوئے کثیر المعنویت کی وکالت کی ہے تو کچھ برا نہیں کیا۔ میر اور غالب نے بھی اپنے اپنے انداز میں وحدانی معانی کو رد کیا ہے۔ کیا راشد کی اس نظم میں صرف ایک وحدانی معنی کو دیکھا جائے جو حسن کوزہ گر نمبر ایک لکھتے ہوئے، یعنی سترہ برس پہلے تھا یا اس شاعر کو جو سترہ برس کے بعد معرض وجود میں آیا؟ یہ لایعنی سوال نہیں ہے۔۔۔ کیا اس میں مصنف کے معنی کو دیکھا جائے ؟ اور اگر دیکھا جائے تو وہ کیا ہے ؟ کیا یہ عورت کے بارے میں وہ مفروضہ ہے جو پدری سماج کا یعنی "پرش پردھان” سماج کی دین ہے اور حسن کوزہ گر کے زمانے سے لے کر راشد کے زمانے تک چلتا آیا ہے ؟ اگر ساختیاتی تنقید کسی بھی نظم یا نثر پارے کے لکھت روپ کو منہدم کر نے کے بعد معنی یا اس سے ملتے جلتے کسی بھی ‘فینامان’ کو لامرکزیت کے حوالے کر دیتی ہے تو اس میں کیا برائی ہے ؟ زیادہ برائی تو اس میں ہے کہ ہم یکبارگی ایک نپا تلا معنی اس پر تھوپ دیں۔۔۔ راشد کی چار نظمیں اور میری ایک نظم دونوں کی شئیت اور تمثیل آگاہ واردات ایک سی ہیں۔ کردار وہی ہیں، واقعات وہی ہیں۔ منظر و پس منظر وہی ہیں۔ مکالمات میں یہ فرق ضرور ہے کہ میری نظم مکالماتی ہے اور کبھی ڈرامائی انداز میں دوسرے کردار کا جواب فرض کرتے ہوئے، کبھی خود کلامی کے سے انداز میں ایک سے زیادہ کرداروں سے ہم کلام ہوتی ہے۔ کبھی” ان کہی” میں اور کبھی خاموش لا تکلم میں ڈوبتے ڈوبتے پھر ابھر آتی ہے۔ (میں نے یہ انداز براوننگ اور ایلیٹ دونوں سے سیکھا ہے ) جبکہ راشد کی نظم میں ایک اکہرا مونولاگ ہے۔۔ تو دوستو، اگر ہم لوگ معنی کی غیر قطعیت پر متفق ہو جاتے تو نتیجہ یہ نکلتا کہ ہمیں اپنے تنقیدی نظریات کو یک طرفہ یا ادعائی بنانے سے نجات مل جاتی، اور ہم، میری نظم” اے حسن کوزہ گر” کا (راشد کی نظم کے حوالے سے، اسی کے سیاق و سباق میں) صحیح تجزیہ کر سکتے، جو نہیں ہوا۔

ستیہ پال آنند: (جزسات)…صاحبِ،صدر: ایک اور پہلو کا ذکر بھی یہاں لازمی ہے۔ حاشیہ کے سبھی دوست پڑھے لکھے ہیں اور تنقید کی مغربی تھیوریوں سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں۔ میں نے اوپر معنی کی غیر قطعیت کے بارے میں بات کی ہے۔ اب ذرا ایک قدم پیچھے جا کر دریدا کو دیکھ لیں جو "معنی کا التوا "کو زیر بحث لایا۔ (اگر میری طرح آپ کو بھی لفظ "التوا” پسند نہ ہو تو آپ” معنی کی تعویق” لکھ سکتے ہیں )۔ دریدا کے مطابق متن کے اندر موجود معنی اوپر والی سطح سے کھسکلتا ہوا سطح در سطح کھسکتا ہی چلا جاتا ہے۔ بارت نے تو پیاز کے چھلکوں کے سمبل کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ نتیجتاً آخر میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا لیکن دریدا کے مطابق کھسکنے کا یہ عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ دریدا پر ایکو کا اعتراض یہ تھا کہ( انگریزی میں لکھوں تو)

 Continuous Symbiosis

 ایک نا ممکن مفروضہ ہے۔ متن کو پرت در پرت چھیلتے ہوئے ہم کچھ ایک گنتی کی پرتوں تک تو نیچے جا سکتے ہیں۔ لیکن پھر معنی” آفرینی” کا یہ پروسس اپنے پایہ اختتام تک پہنچ جاتا ہے۔ آگے جا کر میں یہ دیکھنے کی کاوش کروں گا کہ راشد کی نظم میری نظم کے حوالے سے (یعنی میری نظم راشد کی نظم کے حوالے سے نہیں) کس حد تک پرتوں کو چھیلتے ہوئے ان معانی کی حامل ہوتی ہے جسے میں” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے عریاں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے "عریاں” لکھ کر لفظ "برہنہ” سے گریز کیا ہے۔ کہ شاعر کا ذہنی تجربہ ذہن میں عیاں ہوئے منظر سے چلتے ہوئے اور کانسیپٹ کا احاطہ کرتے ہوئے ” عریانی” سے الفاظ کے "ملبوس” کی طرف چلتا ہے، جبکہ "برہنہ” اشارۃً ملبوس سے فراغت پانے کا عمل ہے۔

ستیہ پال آنند: (جز آٹھ)۔ اب، صاحبِ،صدر، میں کوشش کروں گا کہ فرداً فرداً احباب کے مندرجات پر کچھ کامینٹ  لکھوں۔ اگر کہیں مجھ سے کچھ سہو ہو جائے۔ کسی کی شان میں گستاخی ہو جائے، تو پیشگی معافی کا خواستگار ہوں۔ (ایک) فرشی صاحب نے اپنے اوہپننگ کامینٹس کی کلیت اور تمامیت میں اپنا فرض پوری طرح نبھایا یعنی میری نظم کے سیاق و سباق میں ہی بات کی لیکن پھر لا شعوری طور پر اجز۱ تین، چار اور پانچ تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے راشد کی نظم پر گفتگو کرتے کرتے راشد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر لی۔ یہ ضروری تو تھاہی کہ راشد کوزیر بحث لایا جائے لیکن صرف اس حد تک جس تک اس کی نظم نہیں، بلکہ میری زیر بحث نظم ہی متقاضی تھی۔ دیگر نظموں پر بات کرنے کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ بحث کا رخ ایک طرف کو ہی مُڑ گیا۔

 اگر میں یہ کہنے کی جرأت کروں کہ بیشتر دوست اس راہ نمائی کے بعد ان دو نظموں کے "باہمی تعلق” کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے ” تقابلی موازنے ” کی طرف متوجہ ہو گئے تو مجھے قابل گردن زدنی نہ قرار دیا جائے۔ (جاری ہے )

 (جز نو)۔ صاحبِ،صدر: فرشی صاحب کے ابتدائیے کے بعد پہلا کامینٹ محمد یامین صاحب کا ہے جو نپا تلا اور منجھا ہوا ہے۔ موصوف نے یہ صحیح نشاندہی کی ہے (اقتباس) "اے حسن کوزہ گر” کی ایک خوبی کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے جو فنی خاصیت سے متعلق ہے۔ ایک دوسری خصوصیت اس نظم کی یہ ہے کہ اس میں مختلف آوازیں اپنی اپنی انفرادیت کے باوجود یک جا ہو رہی ہیں۔ اسی بات کو فرشی صاحب نے ریسمانِ فن میں گرہ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ شاعرانہ کمال ہے کہ دنیا کی چیزوں کے نقش باہم ہو کر ایک نیا نقش بناتے ہوں جو دلوں میں تجلی ریز ہو کر کلام کو مجازی معنی عطا کر دیتا ہے۔ "(اقتباس القط) اس کے بعد ان کی رائے ہے کہ یہ نظم اگر اپنا آزادانہ تشخص رکھتی تو اس کی پذیرائی زیادہ ہوتی۔ قطع نظر اس کے ان کی یہ رائے صائب ہے کہ مختلف آوازیں مل جل کر ایک بے ڈھنگے شور میں تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ اپنی اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہیں۔ کاش اس صحیح نشاندہی کے بعد ان آوازوں کا "شناخت نامہ” اگر کوئی ایک مندوب تیار کرتا، لیکن کون دوسروں کے لیے خواہ مخواہ سر درد مول لیتا ہے۔

(جزو دس) صاحبِ،صدر: میں ایک بات اور واضح کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں خود بحث میں شامل نہیں ہو سکا۔ بہت سے دوستوں نے مری نظم کے متن کے کچھ حصص سے معانی کے استخراج کے عمل کو ترجیح دیتے ہوئے اس سیاق و سباق کو نہیں دیکھا جس میں متن کا وہ مخصوص حصہ جڑا ہوا تھا۔ اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ شعری تصنیف میں شاعر کے اپنے نظریات و مقاصد کی ترسیل کی گواہی تلاش کرنا ضروری نہیں ہے، تو بات آسان ہو جائے گی۔ سماجی اور ثقافتی معنویت، تاریخی شعور، شاعر کے اپنے یا اس کے کرداروں کے حقیقی، تاریخی، یا فرضی مسائل اور خصائل کو متن میں گمشدہ کی تلاش کی منادی دے کر میلے میں کھوئے ہوئے بچے کی طرح ڈھونڈھ نکالنا تنقید نگار کا فرض نہیں ہے۔ ہم لوگ جامعات میں بھی آج سے چالیس برس پیشتر انڈیا میں لسانی تجربے کی شناخت کے لیے جو لائحہ عمل تیار کرواتے تھے وہ استخراج معنی کے ذیل آتا ہے۔ ہر لفظ کے لغوی معنی، مروجہ معنی اور پھر مجموعی طور پر معنی و مطلب میں ان کا نچوڑ پیش کرنے کے لیے طلبہ کو

 Empson’s ‘‘Seven Types of Ambiguity’’

 پڑھنے کا مشورہ دیتے تھے، لیکن جوں جوں زمانہ بدلتا گیا، ہم پروفیسر لوگ بھی بدلتے گئے۔ جب میں ستر کی دہائی میں انگلینڈ میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر گیا تو روسی فارملزم، مظہریاتی تنقید، ساختیاتی تنقید، پس ساختیاتی تنقید، قاری اساس تنقید،  Hermeneutics  کی تھیوریاں باری باری سے آ کر، اپنے اپنے شہر آشوب سیلابوں کو سمیٹتے ہوئے گذر چکی تھیں اور پیچھے خس و خاشاک چھوڑ گئی تھیں۔ جب بارتھ نے کہا کہ فن پارہ اپس میں گندھے ہوئے رشتوں کا ایک نظام ہے، اور کہ ہر فن پارہ اپنی جزئیات اور مضمرات کے ساتھ تشکیل پا کر کوڈز اور کنوینشنز کی وساطت سے منکشف ہوتا ہے تو بات سرے سے ہی بدل گئی۔۔ میں معافی چاہتا ہوں نہ تو یہ موقع ہے اور نہ ہی محل کہ میں اس پر تفصیلی گفتگو کروں لیکن یہ باتیں اس لیے ضروری ہو گئیں کہ کچھ مندرجات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان نظموں کو سماجی یا تاریخی یا ثقافتی دستاویز کی حیثیت کے طور پر دیکھا جائے۔

 (جزو گیارہ)۔ صاحب صدر، شاید آپ کے نوٹس میں یہ بات آئی ہو کہ ایک پہلو جس کی طرف توجہ دینے کی زحمت کسی نے بھی گوارا نہیں کی اور جس میں حسن کوزہ گر کومیری نظم میں براہ راست مخاطب کیا گیا ہے، وہ ان سطور کے بارے میں ہے جو اس کے "مردانہ پن” پر دلالت کرتی تھیں۔ یعنی "ریڈکتیو اید ابسردم” کے طریق کار کے الٹ طریق کار "ایکزیجریشن اید ابسردم” کو بروئے کار لاتے ہوئے "مردانہ پن کے نہ ہونے ” پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ سطریں دیکھیں۔

 اے حَسن کوزہ گر/ بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے / اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی /

 کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے /تشنگی جاں ‘‘کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی / ادھ مری خشک جاں / العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک /کیوں کہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا / جس میں جہاں زاد کے جسم کی/

 گرم، مرطوب دل داریوں کی تمازت

 ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی /

 /اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں

،۔۔۔ لپٹی ہوئی

 اس سے آگے کی سطریں تو حقیقت کو بیان کرنے کے فرض کی ادائی کچھ زیادہ ہی صراحت سے کرتی ہیں

 ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے / ہنر کی نمائش کی یا امتحان کی، مگر / تیری پسپائی تیرا مقدر بنی / اور کرتا بھی کیا ؟ / سب بنے، ادھ بنے / "سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان” تو / بس وہیں چاک پر "ان جنی اپنی مخلوق کو ترک کر کے / حلب چھوڑ کر / سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟

 اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا حسن کوزہ گرکا یہ روپ نون میم راشد کا وہ مخفی روپ ہے جسے وہ چھپائے ہوئے پہلے ایران اور پھر لنڈن، نیو یارک، میں پھرتا رہا۔ لیکن اس نے اسے چین نہیں لینے دیا، اور تخلیق کے دھارے میں بہتے ہوئے اس نظم میں سطح پر ابھر آیا۔ میں اس پر مزید بات کرنے کا اپنا حق ابھی محفوظ رکھتا ہوں۔

 (جز بارہ)۔ صاحب صدر، پہلی سطر میں ہی میری نظم کا واحد متکلم حسن کوزہ گر کے تشخص کی گہرائی میں جا کر اس سے بات کرنے کا متمنی ہے۔۔۔ "بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے "۔۔۔ اس بات پر دال ہے کہ میری نظم کا واحد متکلم پولیس کا تھانے دار نہیں ہے جو ایک بدمعاش بستہ "ب” سے اس کا اقبال جرم چاہتا ہے، بلکہ اس "ملزم” کے تشخص کی ہی ایک مثبت جہت ہے۔۔۔۔۔ میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ "بدن کی حقیقت” کو سمجھنے کے لیے اس قسم کے کئی کلیوز (سراغ) نظم میں موجود ہیں جن سے اس کی مردانگی کے جوہر کا بھانڈا پھوٹنے کی طرف انگشت نمائی کی گئی ہے۔ (راشد پر اس کا اطلاق ضروری ہے بھی اور نہیں بھی۔ اس کا تذکرہ میں بعد میں کروں گا کیونکہ راشد خود جنسی بے راہ روی کا شکار رہا تھا) حسن کوزہ گر جو "اپنے بدن کی حقیقت سے نو برسوں تک ڈرتا رہا ہے "، کیونکہ وہ "کچی کنواری جہاں زاد” کے ساتھ ہمبستری کے بعد "آخری سانس تک ” "تشنگی جاں کی”(جو راشد کے الفاظ ہیں) لیے ہوئے تشنہ کام پھرتا رہے گا۔ میں نے انہیں باصری پیکر میں بدل دیا جو جدید یورپی شاعری کا قاعدہ ہے، یعنی مرد کے عضوِ خاص کو "اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی ادھ مری خشک جاں” جو میدان جنگ (حوض بستر) میں اس قدر پامال ہوئی کہ اب اس میں "العطش العطش” تک پکارنے کی بھی ہمت نہیں ہے، میں کنایتاً تبدیل کر دیا۔ اس کو جنت کے موذی سانپ سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح تھا۔ اس کے بعد جہاں زاد تو وہ سب کچھ بن گئی جس کے بارے میں شاعر اپنے مورخ” پرسونا” سے کہتا ہے، "دیکھ گالی نہ بک اے مورخ یہ قصہ سناتے ہوئے ” لیکن نو برس "خشک و پامال” رہنے کے بعد لوٹنے پر بھی حسن اس جہاں زاد کی، ( جو کل تک ایک لڑکی تھی اور اب ایک گھاگ "رال ٹپکاتی چھنّال” ہے قربت سے بھی اپنے مردانہ پن کو جلا نہ دے سکا۔ (

 اس سے پہلے کہ ایک اور اہم نکتے کی طرف آئیں، میں” ریدکتیو اید ابسردم” کی تھیوری کے بارے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اس کا الٹ پھیر یعنی "ایکزیجریشن اید ابسردم” (لایعنیت کی حد تک جمع الجمع ) بھی کئی بار بروئے کار لایا گیا ہے۔ زیف سید صاحب نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں یہ کہا گیا ہے کہ آنند اپنے تمثال دار آئینے کو اس طرح منعکس کرتے ہیں کہ چہرے کے دھبے اور چھائیاں صاف نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ وہی طریق کار ہے جس میں ایک مردہ جسم کے اعضا کاٹ کر انہیں پھر جوڑا جاتا ہے، لیکن جوڑنے سے پہلے ہر عضو کو محدب شیشے کی آنکھ سے اس کے نقائص دیکھنے کے لیے جانچا جاتا ہے۔۔۔۔

 (جز تیرہ ) صاحب صدر، مجھے اجازت دیں کہ میں اب ایک اور نکتے کی طرف آؤں، جس کے بارے میں فرشی صاحب نے یہ رقم کیا تھا

 (اقتباس ۱)”۔۔۔۔۔۔ منٹو جیسے عبقری افسانہ نگار کی آنکھ "رقص” کو راشد کی سوانحی واردات سمجھ کر پڑھتی رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ راشد سے رقص کے عملی تجربے کا تقاضا کرنے والے نے کیا خود کسی مردہ عورت سے جنسی فعل کا ارتکاب کرنے کے بعد "ٹھنڈا گوشت” رقم کیا تھا؟ راشد شناسی اور نظم فہمی کے باب میں کج فہمی کے اس رویے نے بھی کچھ کم رکاوٹ نہیں ڈالی۔ حتیٰ کہ راشد کو خود اپنے دفاع میں بیانات جاری کرنا پڑے ” (اقتباس القط):۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اقتباس ۲ )

 "انتقام” جو میری نظروں میں سب سے زیادہ "بدنام” قرار پائی ہے، اس کا میرِ افسانہ وہ کردار ہے جو اس خود فریبی میں مبتلا ہے کہ جنسی تسکین سیاسی انتقام کا صحیح راستہ ہے۔ لیکن اپنی اس دو روئی کی وجہ سے وہ ایک طرف پوری جنسی تسکین کا اہل ثابت نہیں ہوتا(اس کا چہرہ اس کے خدّوخال یاد آتے نہیں!) دوسری طرف وہ صحیح سیاسی انتقام لینے کے قابل بھی نہیں۔ اس کے فعل کے یہ دو پہلو ایک دوسرے کی نفی کر دیتے ہیں۔ اور وہ جس دوگانہ لذّت اور کام رانی کا جویا ہے، اسے حاصل نہیں ہوتی۔ ہر "بیمار” سوسائٹی میں ایسے سیکڑوں آدمی ملیں گے جو جنسی تسکین کو انتقام کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ہمارے برصغیر کے 1947 کے کئی واقعات اس امر کے شاہد ہیں۔ ان کے نزدیک جنسی تسکین، جس سے بڑی دولت انسان کو کم ملی ہے اور سیاسی انتقام، جس سے بڑا حربہ انسان کے پاس کوئی نہیں، محض گالی کے برابر ہیں۔ حالاں کہ اگر ان دونوں کے پیچھے دیانت داری اور اخلاص ہو تو دونوں بڑی نعمت ہیں۔ "انتقام” کا کرداراسی دیانت داری اور اخلاص سے محروم ہے ‘(اقتباس ۲ القط۔۔ تحریر:علی محمد فرشی)مجھے یہ طویل اقتباس (حالانکہ منٹو کے ٹھنڈا گوشت کے حوالے سے کچھ بکھر گیا ہے ) اس لیے دینا پڑا کہ میں نے بھی چالیس برس پیشتر انتقام سے "انتقام” لینے کی خاطر اور راشد کی کچ فہمی پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرنے کے لیے انگلینڈ کی برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینیز کے ہاسٹل کے اپنے کمرے میں بیٹھ کر ایک نظم لکھی، جس کو میں یہاں نقل کر رہا ہوں۔ اس سے دو گرہیں کھل سکیں گی۔ ایک تو یہ کہ راشد سے میرا "لَو ہیٹ” (محبت۔ نفرت) کا رشتہ پرانا ہے۔ کہ جہاں میں نے "مجھے نہ کر وداع” اور "اے حسن کوزہ گر” جیسی طویل اور طویل تر نظمیں لکھی ہیں وہاں بہت پہلے "انتقام” بھی لکھی جو اس سلسلے کی شروعات تھی۔ اور دوسری یہ کہ میرے لیے راشد کی "کم ظرفیوں” کو بھی محل نظر رکھ ضروری جن تھا جن کا ساقی فاروقی اور مجھے ذاتی طور ہر پتہ تھا آپ کی اجازت سے اب نظم پیش کر رہا ہوں۔

جز چودہ۔ نظم حاضر ہے۔ عنوان وہی تھا، یعنی انتقام۔ ملاحظہ فرمائیں:۔ انتقام (ن م راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ) "اس کا چہرہ، اس کے خد و خال” اب تک یاد ہیں / "اک برہنہ جسم” بھی بھولا نہیں / جامعہ کے  ہا سٹل میں شام وہ لنڈن کی / جب سرخ و سپید، نرم دو پھل طشتری میں / وہ سجا لائی تھی چھاتی سے ٹِکائے / اور تب اس نے کہا تھا /” تم یقیناً ان پھلوں کے لمس سے واقف نہیں ہو / ذائقہ ان کا جداگانہ ہے ان کالے پھلوں سے / جن کو پاک و ہند میں تم آج تک چکھتے رہے ہو۔ ” اس کا لہجہ حکمراں طبقے کی اس خاتون کا تھا / جس کے آباء و اقارب مدتوں تک / میرے "بے بس” ملک پر قابض رہے تھے / اور میں جو اس ارادے سے گیا تھا / جامعہ کے ہاسٹل میں اس کے کمرے میں / کہ شاید "رات بھر” مَیں / "اپنے ہونٹوں سے ” برابر صبح تک لیتا رہوں گا / "اس سے اربابِ،وطن کی بے بسی کا انتقام” / وہ "برہنہ جسم”، وہ "چہرہ” وہ "خد و خال ” سب کچھ / بِن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا! (ستیہ پال آنند۔ "مجھے نہ کر وداع "۔ صفحہ ۱۰۸۔ ۹)

 (جز پندرہ)۔ صاحب صدر: آپ تو میری عمر جانتے ہیں۔ حالانکہ میں راشد سے بیس برس چھوٹا تھا لیکن میں بھی انگلینڈ میں ہی تھا اور اسی علاقے میں رہتا تھا جہاں آجکل جتیندر بلو رہتا ہے۔ یعنی ساقی کے گھر سے کچھ ہی دور۔ بہر حال میں خود تو یہ کلیم نہیں کرتا کہ میں نے اپنے کانوں سے گوری عورت کے لیے یہ طرز تخاطب راشد کی زبانی سنا ہے لیکن ساقی فاروقی (جو مجھے سے چار برس چھوٹا ہے ) اور انگلینڈ کے دیگر ہمارے مشترکہ دوست اس بات کے عینی اور سمعی گواہ ہیں کہ راشد ایک پنجابی جاٹ کی طرح گوری کو "چٹّی” کہا کرتا تھا)۔۔۔۔ راشد کے لیے گوری عورت کی ہوس، روسی شراب واڈکا کی طرح تھی یا عورت کے ساتھ بھی الٹ پھیر ہمبستری سے تھی۔ (یہ کریہہ المنظر فعل نا قابل تردید حقیقت ہے اور راشد کے حوالے سے اس کا ذکر کئی بار ادبی میڈیا میں کیا جا چکا ہے ) میں تسلیم کرتا ہوں کہ "انتقام” کا واحد متکلم راشد کا اپنا حقیقی "پرسونا” شاید نہیں ہے، اُن دیگر تین چار شخصیتوں میں سے ایک ہے جو اس کے ذہن میں جونکوں کی طرح چمٹی رہتی تھیں، لیکن اگر یہ واقعہ نہیں بھی ہوا تو راشد کے لیے اس کی ذہنی طلب اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ فاتح فوجیوں کی طرح "دشمن” کی عورتوں کو ہوس کا نشانہ بنانا گویا ایک فرض واجبی ہو۔۔ دوسری جنگ عظیم میں جو سلوک جاپانیوں نے کوریائی عورتوں کے ساتھ انہیں جوق در جوق اپنے سپاہیوں کے لیے "کمفرٹ و من” کے طور پر کیا، اس کی یاد ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں ابھی تازہ تھی، تب میں بھی لنڈن میں تھا۔ ساقی تو خیر مجھ سے عمر میں چھوٹا تھا لیکن یہ سینئر لوگ بھی، بشمولیت فیض(جب کبھی آتے تھے ) تو مجھ سے شفقت سے ملتے تھے۔ چچا ملک (ملک راج آنند) اور فیض کے ساتھ ملاقاتوں کا کچا چٹھا میں نے اپنے چار انگریزی کالموں میں پیش کیا ہے۔ راشد کا ذکر بھی موجود ہے ) راشد کی اس نظم سے مجھے فسطایت کی بو آئی اور میری نظم اس کا جواب تھی۔ اسی طرح سے میری نظم” مجھے نہ کر وداع” ہے جس کے بارے میں وزیر آغا صاحب نے مجھے لکھا تھا "آپ کیسے راشد پر اس فرض کی ادائی مسلط کر سکتے ہیں کہ وہ بھی دیگر استحصال زدہ عوام کی طرح باہر نکل کر جلوسوں میں شامل ہوتے۔ فیض کبھی کسی جلوس میں نعرے لگاتے ہوئے گرفتار نہیں ہوئے۔ فیض نے کبھی لاٹھیوں کے وار نہیں سہے۔ ” خیر، میری یہ طویل نظم (ایک سو نوے سطریں) بھی شاید پڑھنے والوں پر راشد کے ساتھ میرا محبت/نفرت کا ملا جلا جذبہ ظاہر کرے

 (جز سولہ )۔ صاحب صدر، مجھے اجازت دیں کہ ایک بار پھر لوٹ چلوں، اس نظم کی طرف جو زیر بحث ہے۔ اس کا ایک بند قصہ سنانے والے اور قصہ سننے والوں کو نشان زد کرتا ہے۔ (لفظ "قصّہ” غور طلب ہے ) دیکھیے

 داستانوں کی سچائی کے اس مورخ کا اعلان ہے / میں، کہ اک قصّہ گو

 ایک ثالث بھی ہوں اور منصف بھی ہوں

 فیصلہ میری نوک قلم پر سیاہی کے قطرے سا ٹھہرا ہوا

 منتظر ہے کہ کب اس کو لکھ کر سناؤں حسن کو، جہاں زاد کو

 یا کسی تیسرے کو جو سچائی کی کھوج میں غرق ہو

 یہ تو طے ہو گیا کہ قصہ خواں خود مورخ بھی ہے (جسے تاریخ از بر ہے ) اور یہ کہ وہ "داستانوں کی سچائی” کا مورخ ہے۔ یہ بھی طے ہو گیا کہ ان دو حیثیتوں کے علاوہ اس نے منصف یا جج کا عمامہ بھی باندھا ہوا ہے گویا وہ سزا و جزا کا اختیار رکھتا ہے، اور یہ کہ وہ ثالث بھی ہے (یعنی اگر ضرورت پڑے تو)۔ اس نے حسن کوزہ گر کے مقدمے میں اپنا فیصلہ اپنی نوک قلم پر سیاہی کے قطرے کی طرح رکھا ہوا ہے۔ یہ فیصلہ اسے کس کو سنانا ہے، یہ بات بہت اہم ہے۔ یقیناً حسن کو کیونکہ وہ ملزم ہے، اور جہاں زاد کو کہ وہ خاموش گواہ ہے، لیکن اس کے علاوہ، شاعر کہتا ہے۔ "یا کسی تیسرے کو جو سچائی کی کھوج میں غرق ہو۔ ” میں اس نکتے پر ایک بار پھر آخر میں آؤں گا کیوں کہ اس کا تعلق نظم کی آخری سطور سے ہے۔

 (جز سترہ)۔ صاحب صدر اب پھر مجھے اجازت دیجیے کہ میں اب کچھ اور مندرجات کی طرف آؤں۔ ابرار احمد صاحب پہلے دوست تھے جنہیں اس بات کا احساس ہوا کہ بحث ستیہ پال آنند کی نظم کے دائرے سے نکل کر نہ صرف راشد کی نظم بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے حصار میں قید ہوتی جا رہی ہے۔ میں ان کا ممنون ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ۔۔ (اقتباس)۔۔۔ اس نظم کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم اسے آنند کے اپنے تخلیقی سفر کے حوالے سے سمجھ نہیں پا رہے۔ یہاں انہوں نے راشد کی اس نظم سے معاملہ کیا ہے جو مرے نزدیک اردو کی اہم ترین نظموں میں سے ایک ہے۔ آنند صاحب کی نظم پر گفتگو کے حوالے سے کیا یہ ممکن ہے کہ ہم زیر نظر نظم اور اس کے خالق کے فن اور فن پارے پر کوئی واضح رائے قایم کر سکیں ؟ (اقتباس القط) جب وہ یہ لکھتے ہیں تو وہ خود کو بھی اس مخمصے کا شکار ہوتا ہوا پاتے ہیں۔ کہ کیا کیا جائے ؟۔ آمد و رفت یا رفت و باز آمد! بہر حال ان کی تیز بینی کمال کی ہے کہ فوراً بعد وہ اپنی تمام تر توجہ "باز آمد” پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ لکھا کہ (اقتباس) فرشی نے عمدہ ابتدائیہ لکھا لیکن وہ بھی راشد کی نظم سے زیادہ معاملہ کرتا ہے (اقتباس القط)، تو میرا گمان یقین میں بدلا ضرور لیکن مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ ان دوستوں کے مابین روٹھنے اور منانے کا مرحلہ بھی آ سکتا ہے۔ بہر حال ابرار صاحب کی آراء ایک بار پھر بحث کو صحیح راستے کی طرف لے جاتے ہوئے ایک دیگر(ابرار۔ فرشی حجتی بحث) معاملے میں پھنس گئیں اور منطق پر جذبات غالب آ گئے۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

 (جز اٹھارہ)۔ رفیق سندیلوی صاحب ایک بار ہی آئے اور پھر اسٹیج کے عقب میں چلے گئے، لیکن ان کی ایک بار کی حاضری بھی با معنی رہی۔ (یہ الگ بات ہے کہ بعد میں لکھنے والوں، پروین طاہر اور عارفہ شہزاد نے ان کے مندرجات کا نوٹس اپنی لکھتوں میں نہیں لیا۔ نہ جانے کیوں؟) رفیق صاحب نے بنیادی باتیں کہیں جن پر بحث استوار کی جا سکتی تھی۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ ان کے بعد جن دوستوں نے اپنی آراء پیش کیں وہ "عمارت نو ساخت” کرتے رہے۔ رفیق صاحب نے لکھا (اقتباس) ستیہ پال آنند کی زیر تجزیہ نظم بھی بیک وقت تخلیق بہ مقابلہ تخلیق اور تخلیق بہ متوازی تخلیق کا ایک دلچسپ اور مدور انداز لئے ہوئے ہے اور "حسن کوزہ گر” کے قالب میں جدلیاتی راستے سے داخل ہو کر اس کے کرداروں پر سوالات قائم کرتی ہے۔ یہ سوالات راشد کے ذہنی احوال کو شاعر کے طور پر بھی اور نظم کے ہمہ داں کردار کے طور پر بھی سامنے لاتے ہیں۔ ان سوالات کے گھیرے میں راشد کی جمالیات، فکریات اور ما بعدالطبیعات بھی آ جاتی ہے۔ یہ نظم اٹھائے گئے سوالات کا جواب مہیا کر کے کبھی مطابقت کبھی نیم مطابقت اور کبھی عدم مطابقت کا جواز پیدا کرتی ہے اور اس طریق کار کی مدد سے راشد کی نظم کے متن کو الٹا پلٹا کر دیکھتی ہے اور اپنے متن کی تشکیل کرتی چلی جاتی ہے۔ (اقتباس القط) میں اس پر کوئی تبصرہ کیسے کروں گا کہ یہی تو میرا منتہائے مقصود تھا۔ کاش رفیق تھوڑا سا تردد اور کرتے اور ایک بار پھر اسٹیج پر آتے۔ کم از کم اس بات کی وضاحت تو ضروری تھی کہ یہ "کبھی” "کبھی” آخر ہے "کہاں” "کہاں؟۔ "

 (جز انیس) صاحب صدر، پروین طاہر صاحبہ کا میں ممنون ہوں کہ انہوں نے ایک ماہر شاعر اور ماہر ناقد ہونے کا فرض ادا کیا۔ ان کو یہ ضرور لگا (جیسے میں اب محسوس کر رہا ہوں) کہ بحث نے بے راہ روی کا موڑ لے لیا ہے۔ اس لیے اپنے پہلے ریمارک میں انہوں نے لکھا۔ (اقتباس)

 reductio ad absurdum

 دلیل کا وہ طریق کار ہوتا ہے جس میں کسی تجویز، تحریر یا حسابی کلیے کو اسی کے اندر موجود تضاد سے رد یا قبول کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر” الف” درست ہے تو پھر”ب” بھی درست ہے اور اگر”ب” غلط ہے تو یقیننٌا "الف” بھی غلط ہو گا۔ ادب میں اس تضادی طریق کار کو تفہیم، تنقید اور تجزیۓ کے لۓ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آنند صاحب نے اس طریق کار سے راشد کی نظم میں موجود مضامین، فلسفہ، کرداروں کی سائیکی، تاریخ اور وقت کو نا صرف خود سمجھنے کی کوشش کی ہے بلکہ دوسروں کی راہ نمائی بھی کی ہے یہ ایک علمی کوشش ہے اور آنند صاحب کی نظم بحیثیت خود ایک تھاٹ پرووکنگ نظم ہے (القط اقتباس) طریق کار کی وضاحت کرنے کے بعد پروین صاحبہ نے ایک ایک کر کے کئی نقاط کو شمار کیا اور جب وہ اس موضوع پر پہنچیں تو، مجھے لگتا ہے، ان کی آنکھیں بھیگ گئی ہوں گی۔ (اقتباس) عورت(انسان)کی بے توقیری کا، اس کے کموڈٹی یا اشیاۓ صرف ہونے کا اور پھر اس معاشرتی بے حسی کو قبول کرتے ہوۓ بذات خود ویسا بن جانا اپنی عفت کا شعور کھو کر اسے انسانی مقدر مان کر خود کو بکاؤ بنا لینا !۔۔۔ ان سب معاملات کو ڈاکٹر آنند نے خفتہ سماجیات سے نکال کر نظم کیا ہے۔ یہ سب سوالات پرانے سہی مگر انسانی سطح پر ان کا اعادہ کیا جانا از حد ضروری ہے۔ میرے لئے ان کی یہ دردمندی قابل قدر ہے (القط اقتباس) پروین بی بی کے دو اقتباسات کے بعد میں تو یہی کہنے پر اکتفا کروں گا کہ اس کلوزڈ بحث کے بند کمرے میں یہ ایک کھڑکی کھول دینے کے مترادف تھا، لیکن ہوا یہ کہ۔۔۔۔۔۔

 (جز بیس)۔ صاحب صدر، آپ نے لفظ "کاش” کئی بار استعمال کیا ہو گا۔۔۔ ” کاش” فارسی میں مستعمل "اے کاش” کا مخفف ہے۔ اور اس ذہنی ساختیے کا اظہاریہ ہے جو” واویلا پس از مرگ” کے ضمن میں آتا ہے۔ یعنی تمنا اور افسوس کا وہ زبانی دو ہتڑ ہے جو اپنے ہی ماتھے پر مارا جاتا ہے۔۔۔ اب میں یہ لفظ استعمال کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ کاش”حاشیہ” کی یہ تنگ کالم۔ بائی۔ کالم” گلی نہ ہوتی اور میرے پاس جامعہ میں ایک کمرہ ء جماعت ہوتا اور میں دو عدد "فلو چارٹ” بنا کر، راشد کی نظم کو ایک طرف اور اپنی نظم کو دوسری طرف، سامنے دیوار پر ” اوور ہیڈ پروجیکٹر” کی مد د سے یا "سلائڈ چینجر” کے ذریعے باری باری سے منعکس کر سکتا۔ (یعنی صرف دو نظمیں نہیں، بلکہ ان کا "فلو چارٹ) اور طالبعلموں کو بتا سکتا کہ اس فلو چارٹ میں جو میری نظم لکھی ہوئی ہے، اس میں کہاں کہاں نیلے پیلے سرخ اور سبز” پِن فلَیگ” دکھائی دیتے ہیں اور رنگوں کی مناسبت سے ان سطور میں مورخ، قصہ گو یا شاعر یعنی ان تینوں میں سے ایک واحد متکلم (ایک۔ نیلے فلیگ) بمعنی راشد سے یا (دو۔ زرد فلیگ) بمعنی راشد کی نظم والے حسن کوزہ گر سے، یا (تین۔ سرخ فلیگ) بمعنی راشد کی نظم والی جہاں زاد سے، یا (چار۔ فلیگ) بمعنی خود کلامی کے انداز میں خود سے ہی مخاطب ہے اور کس کے جواب کو صدائے باز گشت کے طور پر سن کر وہ اس پر رائے زنی کر رہا ہے۔۔۔۔ دوسرے فلو چارٹ میں راشد کی نظم لکھی ہوتی۔ اسی طرح مختلف رنگوں کے فلیگ پِن کیے ہوئے ہوتے۔ پھر میرے لیے یہ مشکل نہ ہوتا کہ کہ میں رفیق صاحب کے الفاظ میں” مطابقت، نیم مطابقت یا عدم مطابقت”، (یا میرے اپنے الفاظ میں) مساوی الزاویہ متوازیت، مساوی الاضلاع تسویہ / تعدیل یا مختلف الاضلاع تزایُد، ایک طرف۔۔۔۔۔۔ اور تفاوت، کمی و افزوئی دوسری طرف رکھ کر، ” سٹینزا بائی سٹینزا”، اور سطر بہ سطرتشریح کر سکتا۔ اس کے علاوہ ریڈکشن اور ایکزیجیریشن کے عوامل کو بھی نشان زد کر کے یہ ظاہر کر سکتا کہ میری نظم نے مکڑی کے جال کی طرح کیسے راشد کی نظم کو جکڑ کر محبوس کر لیا ہے۔۔۔۔ اس کا مطلب دو نظموں کا تقابلی مطالعہ نہ ہوتا بلکہ یہ ہوتا کہ ایک نظم کے، یعنی راقم الحروف کی نظم کے متن کا دوسری نظم یعنی راشد کی نظم کے متن پر اطلاق اور انضباط کہاں کہاں اور کیسے کیسے کیا جا سکتا ہے۔

 (جز ااکیس )۔۔ ہاں یاد آیا۔ کسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ دونوں نظمیں، یعنی راشد کی نظم اور میری نظم ایک ہی بحر میں ہیں۔ شریک بحث اس خاتون نے اس بحر کی شناخت بھی کی ہے کہ یہ "فاعلن فاعلن” کی تکرار ہے۔ یہ بات ان صاحبہ نے اپنی ایک اور اینٹری میں دہرائی بھی ہے۔۔۔۔۔ بے شک میری نظم بحر متدارک میں ہے اور اس کی یہی تقطیع ہے یعنی فاعلن فاعلن کی تکرار،, لیکن راشد کی حسن کوزہ گر، چاروں حصص مختلف بحور میں ہیں۔ یعنی چاروں نظمیں بحر متدارک میں نہیں ہیں۔ یہ آسان سی بات بھی اس مندوبہ کو سمجھ میں نہیں آئی اور اس طرح ایک تھیس کھڑا کر دیا گیا کہ ستیہ پال آنند کی نظم کا آہنگ راشد کی نظم کے آہنگ کا زائدہ ہے۔ افسوس صد افسوس۔ اب دیکھیں راشد کی نظم نمبر (۱) کی تقطیع” فعولن فعولن” کی تکرار سے۔ یعنی بحر مقبوض اثلم میں یہ نظم خلق کی گئی ہے۔۔۔۔۔ راشد کی حسن کوزہ گر (۲) ایک مختلف بحر میں ہے، یہ فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ میں تقطیع کی جا سکتی ہے۔ حسن کوزہ گر (۳) ایک اور مختلف بحر میں ہے جو مفاعلن مفاعلن کی تکرار سے تقطیع کی جا سکتی ہے اور حسن کوزہ گر (۴) ایک بار پھر فعولن فعولن کی تکرار میں لوٹ آئی ہے۔ یعنی چاروں نظموں کی بحریں میری نظم کی بحر سے مختلف ہیں۔۔۔۔ اس فاش غلطی کی تصحیح کر لیں اور عروض پر بات کرتے ہوئے اپنا قبلہ سیدھا رکھیں۔

 (جزبائیس) مجھے کچھ ہنسی بھی آئی اور میں محظوظ بھی ہوا جب انہوں نے یہ لکھا کہ(اقتباس) اس طویل نظم کی تین تہائی لفظیات راشد کی نظم حسن کوزہ گر سے مستعار لی گئی ہیں ا (اقتباس القط)۔ اعداد و شمار میں مبالغہ آمیزی کا شعار تقریر میں تو کھپ جاتا ہے لیکن تحریری طور کرنا نا دانی ہے کیونکہ آجکل کمپیوٹر الفاظ کا شمار بتاتا ہے اور نہ صرف الفاظ بلکہ حروف کا شمار بہ شمولیت خالی” سپیسز” کی بیشی یا منہائی کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔ میں نے جو "اقتباس” راشد کی نظم سے لیے ہین ان کی تعداد انہیں کمپیوٹو بتا سکتا ہے۔ خدا کے لیے ادب میں لاف زنی سے کام نہ لیں۔ نقاد کو مبالغہ زیب نہیں دیتا اور اسے بر خود غلط بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید بر آن میری نظم میں راشد کے الفاظ کے واوین میں استعمال ہونے پر اعتراض بھی بچکانہ ہے کیونکہ انٹر ٹیکسچویل ہونا یعنی بین المتونیت کوئی برائی نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو بین المتونیت کی تھیوری کو کب کا رد کیا جا چکا ہوتا۔ اور میں تو یقیناً اپنے فرض میں کوتاہی کرتا اگر را شد کے گرفت میں آنے والے الفاظ کو "کوٹ” نہ کرتا۔ لیکن یہ کوٹس ایک تہائی تو کیا نظم کے متن کا چھ سات فی صد بھی نہیں ہیں۔ یعنی ایک "خوبی” کو "خامی” میں بدل دیا گیا۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے !

(جز بائیس) صدف مرزا صاحبہ محفل میں دیر سے آئیں لیکن درست آئیں۔ ان کے مندرجات میں جو معاملات زیر بحث آئے۔ ان میں قابل ذکر یہ ہیں۔ (۱) شروعات تو فرشی صاحب کے ابتدائے سے عین درست ہوئی تھی لیکن بعد میں اس نے کچھ دیر کے لیے ایک مختلف راستہ اختیار کر لیا اور دو نظموں کو دو پینٹنگز کی طرح آمنے سامنے رکھ کر ان پر برابری، نا برابری، بہتری یا کمتری کے "کجا آمد و کجا رفت” کے قماش کے متوازی راستوں پر چل پڑا۔ (۲) بحث کے دوران یہ فراموش کر دیا گیا کہ اس نظم کے اوپر ایک نوٹ ہے جو ریدکتیو اید ابسردم کی تھیوری کے استعمال کے بارے میں شاعر کا طریق کار ظاہر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ظفر سید صاحب کی نشاندہی کے باوجود اکثر شرکاء اس سے لا شعوری یر شعوری طور پر غفلت برتتے رہے۔ صدٖف صاحبہ نے اس تھیوری پر میر مفصل نوٹ حرف بحرف نقل کر دیا (۴) آنند کی نظم میں نامیاتی وحدت بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہاں تک کہ ایک کردار سے دوسرے کردار، ایک زمان سے دوسرے زمان، ایک جگہ (شہر) سے دوسرے شہر کی طرف یکلخت مڑتے ہوئے بھی شاعر قاری کو ساتھ ساتھ رکھنے کے لیے ان کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ (۴) آنند کا "ٹون اور ٹینر ” (یہ انہی کے الفاظ ہیں) جو عموماً دھیما اور نپا تلا ہوتا ہے، اس نظم میں بلند ہے اور یہ اس لیے ہے کہ راشد کی نظم کے آہنگ سے مطابقت رکھی جائے۔ اور (۵) یہ نظم آنند کی بڑی نظموں میں سے ایک ہے۔۔۔۔ ان کے الفاظ میں جمالیات کی سطح پر اور قصہ گوئی کی سطح پر یہ ایک کامیاب تخلیق ہے۔ (اقتباس) "اے حسن کوزہ گر” میں قصہ گوئی کے پیرائے میں ایک خاص قسم کا تحرک ہے، جو ان کی دیگر نظموں کا بھی خاصہ ہے۔ وہ بصری مناظر کو تشکیل دیتے ہوئے ایک نقاش کی طرح اسے جمالیاتی انبساط سے مملو کر دیتے ہیں (اقتباس القط)۔۔۔۔

ستیہ پال آنند: (جز تئیس)۔۔ صدر محترم نے اس بات کا ذکر کیا کہ "پھر قاسم یعقوب کی فیس بک وال پر آنند جی کا نوٹ پڑھا کہ ” میری پی ایچ ڈی کی طالبہ صدف مرزا ڈنمارک سے اسلام آباد کچھ دنوں کے لیے آئی ہوئی ہیں۔ ” میں نے "نقاط” کا نیا شمارہ انہیں دینے کے لیے قاسم صاحب کو یہ لکھا تھا۔۔ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ صدف مرزا اردو میں میری شاگردہ ہیں اور جیسا کہ انہوں نے اپنے کامینٹ میں تحریر کیا ہے، وہ ڈینش پوئٹری اور اردو نظم نگاروں پر ایک ذ و موضوعی کتاب میں میری مدد لے رہی ہیں۔ بعد میں یہ سوچا جا سکتا تھا کہ کیا یہ پی ایچ ڈی کے مقالے کی صورت میں استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔ مجھ سے سہو یہ ہوا کہ میں نے صریحاً یہ تحریر کر دیا کہ وہ پی ایچ ڈی میں میری طالبہ ہیں، جو کہ غلط ہے۔ وہ ڈاکٹریٹ کے لیے میری رہنمائی میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ تصحیح اس لیے بھی ضروری ہے کہ مبادا کسی بھی آفیشل یا ذاتی سطح پر اس کا مطلب غلط لیا جائے۔

 (جز چوبیس)۔ محمد حمید شاہد زہر خند تو نہیں کرتے کیونکہ وہ نہایت نیک انسان ہیں، ریش خند ان سے نہیں ہوتا کہ وہ مو لانا نہیں بن سکے اور ایک عدد ریش با مبارک چہرے پر نہیں سجا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ "لب خند” اور "بُروُت خند ” دونوں کے ماہر ہیں۔ لیکن "مردِ،با مُروّت” کو "مردِ،با مروَت” بھی ہونا چاہئیے اور یہ وصف ان میں ہے، لیکن میرے لیے نہیں ہے۔ مجھ پر طنز کرنے میں انہیں مزہ آتا ہے۔ آگا پیچھا یا کسی دوسرے شخص کے زد میں آ جانے کے خطرے کو دیکھے بغیر گولی داغ دیتے ہیں۔ میں البتہ ان کی اس عادتِ،ثانیہ سے واقف ہوں اور اسے استہزائی جملہ نہ سمجھ کر ہدیہ تحسین سمجھتا ہوں۔ وہ استاد ہی کیا جس کا رنگ اس کے شاگردوں پر نہ چڑھ سکے۔ میرے سینکڑوں طلبہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے ادب فہمی کا ہنر بشمولیت اپنے طرز تحریر، اپنے استاد ستیہ پال آنند سے سیکھا ہے۔ معروف نقاد ڈاکٹر احمد سہیل اس کے سب سے بڑے گواہ ہیں۔ جن کی پی ایچ ڈی میری رہنمائی میں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کے بارے میں فخر سے لکھا بھی ہے۔ کہ تنقید کی زبان مجھ سے سیکھی ہے۔۔۔۔۔ آپ سب دوست ان کے نام نامی سے واقف ہیں۔۔۔۔ شکریہ، صاحب صدر۔ (ختم شد)

محمد حمید شاہد: خطبہ صدارت: بہ سلسلہ "اے حسن کوزہ گر”

 احباب حاشیہ !

 جاوید انور کی یاد کے نام منعقد ہونے والا یہ اہم اجلاس اختتامی مرحلے میں ہے اور مجھے اپنے صدارتی کلمات آپ تک پہنچانے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اس سارے عرصہ میں، مجھے جاوید انور کی یاد نے واقعی بہت ستایا ہے۔ گزشتہ ایک اجلاس کے دوران، جب کہ میں نے شاید ناحق دل برداشتہ ہو کر بحث سے الگ ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو جاوید انور نے مجھے میسیج بھیجا” او بھائی کیا کرنے لگے ہو، یہ ظلم نہ کرنا، میں پاکستان میں ہوتا تو تمہارے ہاں آتا، ناشتے پر، ناشتہ اڑاتا اور تمہیں مناتا۔۔۔ ” تو یوں ہے کہ وہ پاکستان آیا، اسلام آباد پہنچا، میں نے اس کے اعزاز میں ناشتے پر نظم نشست کا اہتمام کیا، شہر بھر کے نظم نگار/شاعر جمع کیے، افتخار عارف، جلیل عالی، یاسمین حمید، علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر، پروین طاہر، ظفر سید، سعید احمد، خلیق الرحمن، سب نے نظمیں سنائیں، جاوید انور سے نظمیں سنی گئیں۔ وہ اتوار تھا۔ کئی گھنٹے ہم ساتھ رہے۔ پھر وہ لاہور چلا گیا اور جمعہ کے روز اس کے مر جانے کی خبر آ گئی۔ سوموار ہم اس کی میت کو کندھا دینے لاہور پہنچے تھے۔ تو یوں ہے کہ میری اتنی ہی اس سے ملاقات تھی مگر ہم اتنا قریب آ گئے تھے کہ یہ بچھڑنا مجھے سنبھلنے نہیں دے رہا۔ منشا یاد میرے بہت قریب تھا وہ چل بسا، جاوید انور قریب آ کر بچھڑ گیا ایسی کیفیت میں یہ اجلاس شروع ہوا اور شاید ایک اداسی سی ہم سب محسوس کر رہے تھے یا پھر شاید میں ہی اتنا بجھا ہوا تھا کہ جو گرم جوشی اس طرح کے مباحث کے لیے درکار تھی اس کے لیے فضا بنانے میں ناکام ہو گیا تھا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر اس اجلاس میں ستیہ پال آنند کی نظم پر اہم مکالمہ قائم ہوا ہے جس کے لیے ابتدائیہ نگار علی محمد فرشی نے بنیادیں فراہم کر دی تھیں۔ محمد یامین، رفیق سندیلوی، ظفرسید، ابرار احمد، علی ارمان، پروین طاہر، عارفہ شہزاد، صدف مرزا نے گفتگو میں بھرپور حصہ لیا، خود شاعر کا نوٹ بھی اس باب میں بہت اہم ہے یوں یہ اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا جس کے لیے میں آپ احباب کا یہیں شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

خواتین و حضرات!

 ستیہ پال آنند نے میری مشکل یہ کہہ کر آسان کر دی ہے کہ ‘ کاش”حاشیہ” کی یہ تنگ کالم۔ بائی۔ کالم” گلی نہ ہوتی اور ان پاس جامعہ میں ایک کمرہ ء جماعت ہوتا اور وہ دو عدد "فلو چارٹ” بنا کر، راشد کی نظم کو ایک طرف اور اپنی نظم کو دوسری طرف، سامنے دیوار پر ” اوور ہیڈ پروجیکٹر” کی مد د سے یا "سلائڈ چینجر” کے ذریعے باری باری سے منعکس کر سکتے۔ (یعنی صرف دو نظمیں نہیں، بلکہ ان کا "فلو چارٹ)’۔۔۔۔ یہی "کاش” میرے پاس بھی ہے۔ میں بھی دو نظموں کا فلو چارٹ اس طرح تو نہیں دکھا سکتا، ان دونوں نظموں پر باری باری گفتگو تو کر سکتا ہوں۔ تو یوں ہے کہ ستیہ پال آنند کی نظم پر بات کرنے سے پہلے / اور ساتھ ساتھ ہم راشد کو بھی یاد کر رہے ہیں اور کریں گے، اس لیے کہ خود نظم نگار نے پوری نظم کی تخلیقی فضا ہی راشد کی "حسن کوزہ گر” کو سامنے رکھ کر بنائی ہے۔ اچھا، سہی پال آنند کے ہاں یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے، یہ تو ان کے محبوب قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوک روایات، دیو مالاؤں، قصوں کہانیوں، حکایتوں اور ماقبل دانش وروں کے اقوال اور شاعروں کے کلام سے کچھ نہ کچھ اخذ کرتے ہیں، ایک مکالمے قائم کرنے کے لیے، اور اپنے نظم کی تخلیقی فضا ڈھال لیا کرتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے ان کی نظم "کل کا نستعلیق بچہ” کے نیچے نوٹ درج ہے "ہانس اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی کے تناظر میں لکھی گئی” اور نظم "آدھا بھائی جاگ رہا ہے ” کا پاورقی نوٹ ہے ” مرکزی خیال پنجاب کی ایک لوک کہانی سے ماخوذ” اسی طرح "عالم ارواح کی باتیں۔ نشے ہ، برگساں اور اقبال” کو پڑھتے ہوئے اقبال ان کے سامنے رہا جب کہ "مجھے نہ کر وداع”، "انتقام ” اور زیر نظر نظم "اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے ن م راشد۔

 احباب حاشیہ!”اے حسن کوزہ گر” کے تخلیقی لمحوں میں جب ستیہ پال آنند،ن م راشد کی نظم”حسن کوزہ” کے مرکزی کردار حسن کوزہ گر، جہان زاد، لبیب، شہر حلب حتی کہ عطار یوسف اور خود ن م راشد کو خود سے جدا کرنے پر ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہیں ہو رہا ہے تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اس پر بات نظم پر بات کرتے ہوئے اتنی ہی شدت سے راشد یاد نہ آئے جتنی شدت سے وہ آنند جی کی نظم سے ابل رہا ہے۔ میں نے کہا نا کہ راشد سے آنند جی کا یہ پہلا مکالمہ نہیں ہے مثلاً ان کی ایک کتاب ” مجھے نہ کر وداع ” ہی لے لیں، اس کا نام پڑھتے ہی آپ کو راشد یاد آئے گا۔ شاعر خود اعلان کر کر کے آپ کو یاد دلاتا ہے کہ مکالمہ راشد سے ہو رہا ہے اور معاملہ لو اور ہیٹ کا ہے۔

 راشد نے "مجھے وداع کر” میں کہا تھا :

 "مجھے وداع کر/بہت ہی دیر، دیر جیسی ہو گئی/کہ اب گھڑی میں بیسویں صدی کی رات بج چکی/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر/مکالمے میں جمع ہیں/ وہ کیا کہیں گے۔۔۔ میں خداؤں کی طرح / ازل کے بے وفاؤں کی طرح۔۔۔ / پھر اپنے عہد منصبی سے پھر گیا / مجھے وداع کر، اے میری ذات۔۔۔ /”

 جب آنند نے "مجھے وداع کر” کو اوندھا کر ” مجھے نہ کر وداع ” کر لیا اور”ن م راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ” فکری اختلاف کے لیے گنجائشیں بنانے کے جتن کیے :

 "مجھے نہ کر وداع/ مجھے نہ کر وداع پھر/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ جو میرے حلفیہ بیان کے لیے / کھڑے ہیں نیچے ‘ہال’ میں / میں کیا مکالمہ کروں گا ان سے ‘میری ذات’ بول /۔۔۔ / سماع ہوں، نہ صوت ہوں/ تواتر حیات میں ہوں منجمد/ نہ زندگی، نہ موت ہوں!/ مجھے نہ کر وداع/۔۔۔ "

 راشد کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ خدا سے، تصوف سے، مذہبی علامتوں سے، ماضی سے اور روایت سے شعوری طور پر بچ نکلنے کے کھیکھن کرتا رہا اور اپنی نثری تحریروں میں اس کا اعلان بھی کرتا رہا مگر جب ہم اس کی نظموں کا جم کر مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا تخلیقی باطن، اس کی خواہش اور کوشش کے باوجود ان سب سے کچھ نہ کچھ کشید کرتا رہا ہے۔ مثلاً اسی نظم کو دیکھئے جس کے معنی کو ایک "نہ” لگا کر آنند جی نے اوندھانا چاہا ہے اس میں تخلیقی وفور نے پہلے سے راشد کی شعوری فکریات سے کٹ کر اس کے تخلیقی وفور سے معاملہ کر رکھا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آنند جی نے راشد کی اس نظم سے مکالمہ کرتے ہوئے "ذات” جیسی صوفیانہ اصطلاح سے معنی کیوں نہ اخذ کیے، اس کی مابعد الطبعیاتی فضا کو کیوں نہیں پرکھا اور اس بابت کیوں نہیں سوچا کہ "ذات” سے جدائی کا یہ مطالبہ پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔ یہ واقعہ پہلے بھی ہو چکا، اور انسان جب اپنے وجود میں قائم ہونے میں ناکام ہو گیا ہے اور اسی”ذات” میں پھر پناہ گزیں ہو گیا ہے تو ایک بار پھر اس "ذات” سے "وداع” ہونے کے معنی "شہود” کے بھی ہیں تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل اور آدمی کی "انا” کا قیام بھی۔ صاحب، یوں دیکھیں تو کیا "ذات” سے "مجھے نہ کر وداع” والا آنندجی کا مطالبہ، کیا راشد کی نظم کی سطح پر چند خراشوں کا سا نہیں ہو گیا؟۔

ن م راشد کی نظم ” انتقام ” پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

 "۔ /۔۔۔ /کہ شاید "رات بھر” میں/ "اپنے ہونٹوں سے ” برابر صبح تک لیتا رہوں گا/”اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام”/وہ "برہنہ جسم” وہ "چہرہ” وہ "خدوخال” سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!”

 جی صاحب، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض "بودا” ہے نہ”بچکانہ” اور پھر "خدوخال” کے ساتھ "بن چھوئے ” کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم "اے حسن کوزہ گر” کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے۔

 پہلے کچھ م راشد کی نظم” حسن کوزہ گر ” کے حوالے سے :

 "حسن کوزہ گر” کے حوالے سے یہ جو کہا گیا ہے کہ اس "نظم کا ذہنی خاکہ”وزیرِ چنیں” کی طرز پر تیار ہوا تھا”("۔۔۔ / تو جب سات سو آٹھویں رات آئی / تو کہنے لگی شہر زاد/۔۔۔۔ ")، مجھے بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے۔ اور اس بات پر بھی دل ٹھکتا ہے کہ” تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔ ” تاہم مجھے یہ مان لینے میں تامل ہے کہ ان نظموں میں کوئی معنوی بعد پیدا ہو گیا ہے یا یہ کہ اس کے تخلیقی خاکے میں راوی کے اعتبار سے اتھل پتھل ہو گئی ہے۔ مجھے اپنی بات دلیل سے اور متن کے اندر سے ثابت کرنا ہو گی لہذا تھوڑا سا توقف کیجئے کہ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے مجھے ابھی اس نظم کے مجموعی مزاج پر ایک دو باتیں عرض کرنا ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک وضاحت : ایک عزیز رکن نے لکھ دیا تھا کہ یعنی راشد اور آنند جی کی نظمیں ایک ہی بحر میں ہیں۔ تاہم اب ان کی طرف سے معذرت آ گئی ہے کہ ایسا درست نہ تھا۔ آنند جی نے ہی درست کام ہے کہ ان نظم بحر متدارک میں ہے یعنی” فاعلن فاعلن” کی تکرار میں، جب کہ راشد کی حسن کوزہ گرکی پہلی اور چوتھی نظم ” فعولن فعولن” کی تکرار میں، دوسری "فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ اور تیسری ” مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں ہے۔۔۔۔ معذرت ہو چکی، مگر مجھے اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا ہے کہ باب کہ راشد کی چاروں نظموں کے مزاج، آہنگ اور ماہیت میں فرق سہی، بعد کی نظمیں اثر انگیزی میں کم سہی مگر واقعہ یہ ہے زمانی وقوعوں سے تخلیق ہونے والی یہ سب نظمیں معنیاتی سطح پر ایک د وسرے سے مربوط ہیں۔

خواتین و حضرات !

ن م راشد نے اپنی نظم "حسن کوزہ گر” کے چار حصوں میں بہ ظاہر ایک کہانی کہی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار، جو بہ ظاہر راوی ہونے کا سوانگ بھر رہا ہے وہ بغداد کا حسن نامی ایک کوزہ گر ہے۔ جب وہ ایک روز بازار سے گزر رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر عطار یوسف کی دکان کے سامنے سے موجود "جہاں زاد” پر پڑتی ہے :۔۔۔۔ /تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف/کی دکّان پر میں نے دیکھا/تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی/تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/۔۔۔ "یہ بات نوٹ کرنے کی ہے احباب حاشیہ کہ نظم عین آغاز میں ہی واقعاتی ترتیب میں اکھاڑ پچھاڑ لاتی ہے، دیکھئے نظم وہاں سے شروع نہیں ہو رہی جہاں سے حسن کوزہ گر کی نظر جہاں زاد پر پڑی تھی بلکہ اس کے بیچ بہت سا زمانی عرصہ گزر چکا ہے جس میں نو سال کی دیوانگی کا زمانہ بھی شامل ہے۔ راوی کا بہروپ بھرنے والا (میں یہ وضاحت آگے چل کر کروں گا کہ میں حسن کوزہ گر کو راوی کیوں نہیں کہہ رہا راوی کا سوانگ بھرنے والا کیوں کہہ رہا ہوں )حسن کوزہ گر سوختہ سر ہے اور نیچے گلی میں کھڑا جہاں زاد سے مخاطب ہے اور اسے بتانا پڑ رہا ہے کہ وہ حسن کوزہ گر ہے : "جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے /یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!”۔ یہاں بظاہر راشد کا تراشا ہوا یہ کردار ہماری اپنی عشقیہ روایت سے مستعار لیا ہوا کردار لگتا ہے۔ ایک ایسا شخص، دل جس کے قابو میں نہ رہا، جو عشق میں مبتلا ہوا اور اپنا آپ بھول بیٹھا : "۔۔۔۔ /یہ وہ دور تھا جس میں میں نے /کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب/پلٹ کر نہ دیکھا۔۔۔ /وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے /گل و رنگ و روغن کی/مخلوق بے جاں/وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے /حسن کوزہ گر اب کہاں ہے /وہ ہم سے خود اپنے عمل سے /خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں” یہیں اس نظم کا وہ ٹکڑا بھی دھیان میں رہے جس میں اپنی وفا شعار بیوی کوحسن نے سوختہ بخت کہا تھا، جو اسے چاک پر پا بہ گِل سر بزانو دیکھتی تو اسے اس کیفیت سے نکل آنے کو کہتی اور سمجھاتی کہ اسے اپنی خستہ معیشت اور جینے کے سہارے چاک سے دل لگانا چاہئیے۔ "۔۔۔ /تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی۔۔۔ /وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا/وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی/حسن کوزہ گر ہوش میں آ/حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر/یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے /حسن، اے محبّت کے مارے /محبّت امیروں کی بازی/حسن اپنے دیوار و در پر نظر کر”

 حسن اس ساری صورت حال سے آگاہ تھا اور اپنی وفا شعار بیوی کی پکار کو ایسی نوائے حزیں گردانتا جیسے کسی ڈوبتے شخص کو زیر گرداب پکارا جا رہا ہو۔ تو یوں ہے صاحب کہ اپنے آپ سے، اپنے بال بچوں اور کام کاج سے بے نیاز کر دینے والے عشق کی روایتی کہانی، نظم کے پہلے حصے کی حد تک یہاں تمام ہو جاتی ہے۔ مگر جناب نظم محض اتنی تو نہیں ہے اس میں بغداد کی ایک خواب گوں رات کا بھی تو ذکر ہے :۔۔۔ /جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات/وہ رود دجلہ کا ساحل/وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں/کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے /ایک ہی رات وہ کہربا تھی/کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود/اس کی جاں اس کا پیکر/مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا/حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے /۔۔۔۔ ” تو گویا صاحب، یہ محض جہاں زاد کی قاف کی سی افق تاب آنکھوں کی تابناکی نہ تھی کہ جس سے حسن کوزہ گرکے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا رہگزر بن گئے تھے، بیچ میں لذت بھرا جسم بھی آ گیا تھا۔ لیجئے یہیں کہیں شاعر نے حسن کوزہ گر کی زبان سے اس کردار کے لیے "شہر اوہام کے خرابوں کا مجذوب "کی شناخت بھی قائم کی ہے اور نظم کا یہ حصہ یوں مکمل کیا ہے : "تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر/وہی کوزہ گر جس کے کوزے /تھے ہر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش/تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں/تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب/گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب/معیشت کے اظہارِ،فن کے سہاروں کی جانب/کہ میں اس گل و لا سے، اس رنگ و روغن/سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے /دلوں کے خرابے ہوں روشن۔ ” تو ایساے صاحب کہ یہ شہر اوہام وہی ہے جو ہمارے تجربے کی روایت میں ہے، اگر میں آنند جی کی زبان میں بات کروں تو جہاں زاد اس فاحشہ کی سی ہے جو ہمیں اپنے جلوے دکھاتی لبھاتی اور پہلی نظر میں نادان نظر آنے والی، مگر آخر کار اپنی لذتوں کا اسیر کر کے خاندان، معیشت اور تخلیقی مزاج اور امکانات کو تباہ کر دینے والی ہے۔ یہ جو دنیا کو فاحشہ سے تعبیر دی جاتی ہے لبھانے والی، لذت دینے والی اور گم راہ کر ڈالنے والی، تو کیا یوں نہیں ہے کہ راشد نے بھی جہاں زاد کو اسی دنیا کا نمائندہ بنایا۔ اس طرح دیکھیں گے تو یہ کردار اور خود حسن کوزہ گر کا کردار محض کہانی کے کردار نہیں رہیں گے ان کی علامتی جہت بھی نمایاں ہو کر سامنے آ جائے گی اور آپ جانتے ہی ہیں کہ علامتی کہانی کا ایک وتیرہ یہ بھی ہے کہ اس کا خارجی اسٹریکچر اتنا مربوط نہیں ہوتا جتنا کہ اس کے داخل میں موجود معنیاتی نظام۔

"حسن کوزہ گر ” کے دوسرے حصے کو بھی میں پہلے حصے سے مربوط پاتا ہوں کہ اس میں بات اسی شب بے راہ روی کے نشاط کو یاد کر کے شروع کی جاتی ہے اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں زادی کی بے باکی کی وجہ سے اس کی بے راہ روی کی حقیقت جن پر اس روز ہی کھل گئی تھی :”اے جہاں زاد، /نشاط اس شبِ بے راہ روی کی/میں کہاں تک بھولوں؟/زورِ،مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی/کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا۔۔۔ /تجھے حیرت نہ ہوئی/کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پر/اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت۔۔۔ /” یہ جو راشد نے یہاں شیشوں میں درزیں بنا ڈالیں تو یوں لگتا ہے، جام ٹوٹے، دریچوں کے شیشوں پر، اور انہیں بھی توڑ کر یوں دولخت کرتے رہے کہ محض خراشیں نہ رہیں وہ درزیں بن گئیں۔ خیر اس کے فاحشہ ہونے کی، اسے اس رات ہی خبر تھی جس کا چرچا ہم نے آنند جی کی نظم میں دیکھا ہے۔ اس حصے میں اس رات کے علاوہ اس اپنا جھونپڑا ہے محرومیوں کی مکڑی کے جالوں والا، افلاس کے مارے ہوئے اجداد کی نشانی معیشت کا نشان چاک ہے، اور وہ وفا شعار بیوی ہے جسے اب بھی حسن سوختہ بخت کہتا ہے، سادہ محبت، جس میں شب و روز کا بڑھتا ہوا کھوکھلا پن ہے اور ایسی تنہائی جس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہیں حسن ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے :۔۔۔ / تجھے جس عشق کی خو ہے /مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں/تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات/کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں/اور اشیا کا پرستار بھی مَیں/اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!/تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے /میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے !/عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟” اس ٹکڑے کو تعبیر دیے بغیر ہم محض اس نظم کی خارجی سطح پر تیرتے رہیں گے۔ تاہم اگر میری ابتدائی معروضات آپ کے ذہن میں تازہ ہیں تو مجھے کچھ دہرانے کی حاجت نہیں رہے گی اور یہ ٹکڑا اپنی تفسیر آپ ہو جائے گا۔ نظم کا یہ حصہ بھی یہ سجھانے پر تمام ہوتا ہے کہ ہر عشق ایسا سوال ہوتا ہے جس کا جواب عشق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ بات تو پہلے ہی کہی جا چکی کہ حسن جس عشق کی بات کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے۔ اسی سے ذات کا سمندر آئینہ ہوتا ہے، اور یہی کسی بھی فن کی انتہا ہوسکتا ہے۔

 خیر مجھے تو اس نظم کے خارجی اسٹریکچر میں بھی کوئی رخنہ نظر نہیں آتا، اب تمنا کی وسعت کے معنی بھی طے ہو جاتے ہیں۔ اور اس بات کے بھی کہ اگر اپنے ایسے عشق کی فرمائش پر ایک تخلیق کار اپنے فن کی طرف لوٹ بھی جائے گا تو ممکن ہے وہ ایک خاص حد تک آگے بڑھے، اپنے فن سے ایسے شرارے نکالے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوں مگر یہ امکان شاعر نے "لیکن” لکھ کر شروع کیا ہے کہ وہ جانتا ہے تمنا کی وسعت یہاں پہنچ کر تمام نہیں ہوتی ہے۔ خواتین و حضرات ! میں نے اس ابتدائی حصہ پر ذرا تفصیل سے اس لیے بات کی کہ جسے محض ماضی کا قصہ سمجھا جا رہا ہے اس کی علامتی اور متصوفانہ جہت بھی نمایاں ہو جائے۔ اب آپ بہ سہولت فیصلہ دے پائیں گے کہ:

٭ زندگی محض ایک خاندان کو پالنا اور اپنے معیشت کے چاک کو چلانے کا نام نہیں ہے

٭ عشق محض کسی کی نگاہ کا اسیر ہونے اور اس کے جسم کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے

٭ فن محض ذریعہ معاش نہیں ہوتا، سچی لگن اور تمنا کی بے پناہ وسعت ہی اس میں ایسے شرارے بھرسکتی ہے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوتے ہیں

٭ عشق وہی سچا ہے عاشق کو ذات کی معرفت دے، تمنا کی اس وسعت کے ساتھ جس کا کوئی کنارا نہیں ہوتا

ن م راشد کی نظم ” انتقام ” پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

 "۔ /۔۔۔ /کہ شاید "رات بھر” میں/ "اپنے ہونٹوں سے ” برابر صبح تک لیتا رہوں گا/”اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام”/وہ "برہنہ جسم” وہ "چہرہ” وہ "خدوخال” سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!”

 جی صاحب، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض "بودا” ہے نہ”بچکانہ” اور پھر "خدوخال” کے ساتھ "بن چھوئے ” کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم "اے حسن کوزہ گر” کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے۔

احباب حاشیہ : نظم کے تیسرے حصے اور پہلے دو حصوں کے بیچ بھی مجھے کوئی رخنہ نظر نہیں آیا۔ یہاں بھی حسن کوزہ گر ہی راوی کا سوانگ بھرے ہوئے ہے۔ اس حصے میں بھی حلب کی کارواں سرا کا حوض ہے اور رات وہ سکوت، جس میں حسن اور جہاں زاد تمام رات ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے۔ حتی کہ وہ وہاں سے لوٹا تو یہ وہم بھی اس کے دل میں تَیرنے لگا تھا کہ ہو نہ ہو اس کا بدن وہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیا تھا۔ خیر یہ حسن کو جلد ہی خبر ہو گئی کہ،۔۔۔ /”مَیں سب سے پہلے ‘‘آپ‘‘ ہُوں/اگر ہمیں ہوں۔۔۔ تُو ہو او مَیں ہوں۔۔۔۔ پھر بھی مَیں/ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں/اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے ‘‘آپ‘‘ سے دغا کروں/کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد/ایسی الجھنیں ہیں/جن کو آج تک کوئی نہیں ‘‘سلجھ‘‘ سکا/جو مَیں کہوں کہ مَیں ‘‘سلجھ‘‘ سکا تو سر بسر/فریب اپنے آپ سے ” اب وہی زمانہ کے فاحشہ ہونے والی بات دھیان میں رہے تو جس گوں کا علامتی کردار ن م راشد نے حس کوزہ گر کی صورت میں تراشا ہے وہ، جہاں زاد(زمانے کی جنی ہوئی) کی قربت کے لطف اور لذتوں سے کیسے اپنے آپ کی نفی کر سکتا ہے۔ معنیاتی سطح پر دیکھیں تو یہاں شاعر کسی صنفی تعصب کا مرتکب بھی نہیں ہوا کہ اس نے دنیا کو فاحشہ کے روپ میں دیکھا ہے، عورت کو نہیں۔ اچھا نظم میں دنیا کے ایک بیٹے کا کردار بھی آتا ہے لبیب، یوں تعصب کا شائبہ سا بھی، جو پڑھتے ہوئے قاری کو بد مزا کرتا ہے لبیب کے آنے سے کافور ہو جاتا ہے۔ اس لبیب کا ذکر تمام رات جہاں زاد کے لب پر رہا تھا، اس کے گیسوؤں کو کھینچنے اور لبوں کو نوچنے والے لبیب کا ذکر اپنی معشوق کے لبوں سے سن کر بھی اس کی طرف متوجہ رہنا، زن فاحشہ ہو جانے والی اس دنیا کی طرف ہمارے اس قدر متوجہ رہنے سے عبارت ہے جس میں تخلیقی سطح پر وجود فنا ہو جایا کرتا ہے۔ اس تعلق کی بنیاد پر جو مثلث بنتی ہے اس کا قصہ نظم یوں کہتی ہے۔ "جہاں زاد/ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں/یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے /ہمیشہ گھومتے رہے /کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا/مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے۔۔۔ /مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں/جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا”۔ اسی حصے میں کوزے بنتے بنتے "تو” بھی بنتے ہیں اِس وصالِ رہ گزر کی نشاط حسن کوزہ گر کو ناگہاں نگل بھی جاتی ہے۔ راشد نے حسن کوزہ گر کے علامتی کردار کی زبان سے عشق کو انتہائے معرفت کا نام دیا۔۔۔۔ "/مَیں ایک غریب کوزہ گر/یہ انتہائے معرفت/یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت۔ ” اس معرفت کے باوجود آدمی کا پھسلے چلے جانا ایک واقعہ ہے اور حسن کوزہ گر اس کی علامت۔ تاہم نظم کے اس حصہ کے آخر میں حسن کا باطن یوں جاگ اٹھتا ہے جیسے خدا کے لاشعور میں بہشت جاگ اٹھتی ہے، یہیں اس نے اپنے تخلیقی باطن کو ریت پر پڑے غنودہ کوزوں کے جاگنے سے تعبیر دی ہے۔۔۔۔ "/مِرے دروں میں جاگ اُٹھے /مرے دروں میں اِک جہانِ باز یافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی/بہشت جیسے جاگ اُٹھے خدا کے لا شعور میں/مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا/غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو/۔۔۔ مرے وجود سے بروں۔۔۔ /تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے /میرے اپنے آپ سے فراق میں، /وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)/وہ پھر سے ایک رقصِ،بے زماں بنے /وہ رویتِ ازل بنے !

اب آئیے خواتین و حضرات، نظم کے چوتھے اور آخری حصہ کی جانب، جس کے بارے میں میرا ماننا ہے کہ یہاں راوی دو ہو گئے ہیں۔ تاہم یہیں میں اسے نظم کی خامی نہیں مانوں گا کہ نظم میں باقاعدہ اس کا جواز موجود ہے۔ میں اوپر حسن کوزہ گر کو راوی نہیں بلکہ ایسا کردار کہتا آیا ہوں جس نے روای کا سوانگ بھرا ہوا ہے، ایسا کہنے کا جواز اب میں آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔ نظم کے چوتھے حصہ میں اعلان ہو رہا ہے کہ فی الاصل اس نظم کہانی کا راوی خود شاعر ہے، جو پہلے حسن کوزہ گر کے وجود میں بیٹھا ہوا تھا۔ : "جہاں زاد، کیسے ہزاروں برس بعد/اِک شہرِ مدفون کی ہر گلی میں/مرے جام و مینا و گُلداں کے ریزے ملے ہیں/کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں/حَسَن نام کا اِک جواں کوزہ گر۔۔۔ اِک نئے شہر میں۔۔۔ /اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا/اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے /ہمیں میں (کہ جیسے ہمیں ہوں) سمویا گیا ہے /کہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سے /(ہزاروں برس رینگتی رات بھر)/اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریں/بناتے رہے ہیں/اور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلے /یہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گر/ایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیں۔‘‘

 احباب حاشیہ ! اس چوتھے حصہ میں اور درج بالا ٹکڑے میں راشد ماضی کے اپنے تراشے ہوئے کردار حسن کوزہ گر کا کہانی کے راوی سے معزول کرتا ہے تاہم اس کا قرینہ موجود ہے اور اس کا جواز بھی۔ اب وہ اپنے زمانے کے ساتھ جڑتا ہے، ہزاروں سالوں بعد، کہنہ پرستوں کے انبوہ کو دیکھتا ہے یہ ماضی پرست تہذیبی اقدار اور اس کی علامتوں کی روح سے آگاہ نہیں ہیں۔ صاحب یہی وہ مقام ہے جہاں راشد کو ماضی بامعنی نظر آتا ہے۔ یہیں راشد نے اس درد رسالت کے روز بشارت کو یاد دلایا، جسے بہ ہر حال جام و مینا کے تشنہ لب تک پہنچنا ہے۔ ایک سچے تخلیقی آدمی کے مقدر میں ہے کہ وہ اس درد رسالت کو سہے جو راشد نے سہا ہے اور اس سے ایک نتیجہ اخذ کر کے اس نظم کو اردو ادب کی بڑی نظموں میں رکھ دینے کے قابل بنا دیا ہے۔ ” یہ کوزوں کے لاشے، جو اِن کے لئے ہیں/کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ/ہماری اذاں ہیں، ہماری طلب کا نشاں ہیں/یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہہ رہے ہیں/وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھُلی ہیں/تمہیں دیکھتی ہیں، ہر ایک درد کو بھانپتی ہیں/ہر اِک حُسن کے راز کو جانتی ہیں/کہ ہم ایک سنسان حجرے کی اُس رات کی آرزو ہیں/جہاں ایک چہرہ، درختوں کی شاخوں کی مانند/اِک اور چہرے پہ جھُک کر، ہر انسان کے سینے میں/اِک برگِ گُل رکھ گیا تھا/اُسی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں” لیجئے صاحب نظم یہاں تمام ہوئی معنوی لحاظ سے پوری طرح مربوط اور مکمل، میں مانتا ہوں کہ عورت کے بارے میں راشد کے خیالات میں ایک طرح کی کجی پائی جاتی ہے مگر اس نظم میں وہ اس تہمت سے بھی بچ گیا۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ نظم جو معنیاتی نظام بناتی ہے وہ راشد کی اس فکر سے انحراف سے عبارت ہے جس کا شعوری سطح پر وہ پرچار کرتے رہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر راشد کے باطن سے منحرف نہیں ہوئی ہے۔ راشد نے اس نظم میں ماضی، روایت اور تہذیب سے ایک بامعنی تعلق قائم کیا ہے۔ ایسا تعلق کہ جو مستقبل گیر ہو سکتا ہے۔

ستیہ پال آنند کی نظم "اے حسن کوزہ گر” کے باب میں:

 احباب حاشیہ، یہ میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ اس نظم کی تیکنیک بھی لگ بھگ وہی بنتی ہے جو، آنند جی نے "مجھے نہ کر وداع” میں برتی ہے۔ وہاں اس کا اعلان نہ کیا گیا تھا کہ ان کی نظم میں” رید کتیو اید ابسرد م” والی تکنیک استعمال ہوئی تھی۔ تاہم یہ اطلاع اس نظم کے پڑھنے والوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ نظم کے علاوہ اگر کوئی متن نظم کے ساتھ نتھی کر دیا جائے تو یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہاں اس نوٹ کا مطلب اس نظم کو ایک خاص تناظر دینے کا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ "اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے نظم سے وہ معنی اخذ کیے گئے ہیں جو راشد کے ہاں ہوں گے، یا جو اس فن پارے سے پھوٹے پڑ رہے ہیں اور شاید اس تیکنیک کے تحت آنند جی اس کے مکلف بھی نہیں رہے، لہذا ہم آنند جی کی نظم پر بات کرتے ہوئے راشد کی نظم کے صرف ان علاقوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آنند جی کی نظم کے تصرف میں رہے ہیں۔ "اے حسن کوزہ گر” میں عین آغاز میں ہی راشد کی نظم کے اس راوی کی شناخت کا سوال اٹھایا گیا ہے :”اے حَسن کوزہ گر/کون ہے تو؟ بتا/اور’’ تُو‘‘ میں بھی شامل ہے، ’’ہاں‘‘ اور ’’نہیں/تُو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے /اور شہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے /آب و گل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے /جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر/خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے /اپنی صورت گری کی توقع بھی از یادِ رفتہ کیے /چاہ نیساں کی گہرائی میں/خواب آلودہ ہے ” یہ نظم کا آغاز ہے، اور عین آغاز سے یوں لگتا ہے کہ اس تیکنیک کے حوالے سے وہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر نے راشد کی نظم کے سامنے آئینہ رکھا، عام آئینہ نہیں بلکہ میلوں ٹھیلوں والا چہرے کے چوکھٹے کو گڈمڈ کر دینے والا آئینہ، تو ایک لحاظ سے درست ہی کہا گیا تھا۔ وہ یوں کہ ایک تو آنند جی نے اس کردار کو راشد کی نظم کے مجموعی تناظر میں نہیں دیکھا، بس اتنا دیکھا ہے جتنا کہ اس آئینے کے فریم کے اندر سما گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے باطن میں موجود معنیاتی نظام کو مد نظر رکھنے کی بہ جائے صرف اس کے خارج میں موجود واقعاتی سطح سے معاملہ رکھا ہے۔ آئینہ بھی باطن سے سروکار نہیں رکھتا وہ دکھاتا جو سطح سے اخذ کرتا ہے۔ اور اب چوں کہ یہ آئینہ ” رید کتیو اید ابسرد م” کی تیکنیکی زنگار والا ہے لہذا مبالغہ کی حد تک تضادات کو اخذ کیا گیا ہے۔ جس طرح پکاسو کو حق تھا کہ وہ تصویر بناتے ہوئے چہرہ گڈمڈ کر دیے، اتنا کہ اصل کہیں پس منظر میں چلا جائے اورتھامس ناسٹ کو حق تھا کہ وہ کیری کیچر بناتے ہوئے نقل بہ مطابق اصل نہ بنانے، اسے مضحک بنا دے، آنند جی کو بھی حق ہے کہ ” رید کتیو اید ابسرد م”کے وسیلے وہ تضادات جو وہ متن کے اوپر سے اپنی صواب دید کے مطابق اٹھائیں اور معنی اوندھا دیں۔ تو یوں ہے کہ انہوں نے نظم کے خارج میں موجود شواہد کو لے کر باطنی معنوں کو اوندھا کر رکھ دیا ہے۔

احباب گرامی، کیا اس پوری نظم میں جنس کو اس سطح پر برتا گیا ہے جس سطح پر آنند جی کی نظم اسے زیر بحث لاتی ہے، شاید نہیں بلکہ یقیناً اس کا جواب ہو گا نہیں، بالکل نہیں۔ میں نہیں کہتا کہ راشد کا مسئلہ کبھی جنس نہیں رہا، ضرور رہا ہے اور شاید مریضانہ حد تک یہ رویہ اس کی نظموں میں بھی ظاہر ہوا ہے مگر بات اس نظم کی ہو رہی ہے ایک ایسی نظم جس کے تخلیقی وفور نے اس کے صنفی تعصب کو بھی پچھاڑ دیا ہے، وہاں ایک رات، صرف ایک رات والی جنس جو آخر تک عورت کے وجود سے محض ایک الجھن سے زیادہ شاعر کو کچھ نہیں دے پاتی، کیسے اس سارے مکالمے کا جواز ہو سکتی ہے جو "اے حسن کوزہ گر” میں انتہائی مشاقی سے آنند جی نے قائم کر دیا ہے کہ پڑھتے ہوئے مفہوم کا یوں اوندھایا جانا ہی اس تخلیق پارے کو الگ دھج کا فن پارہ بنا دیتا ہے۔ خود آنند جی ہی کے مطابق:

 "جس میں حسن کوزہ گر کو میری نظم میں براہ راست مخاطب کیا گیا ہے، وہ ان سطور کے بارے میں ہے جو اس کے "مردانہ پن” پر دلالت کرتی تھیں۔ یعنی "ریڈکتیو اید ابسردم” کے طریق کار کے الٹ طریق کار "ایکزیجریشن اید ابسردم” کو بروئے کار لاتے ہوئے "مردانہ پن کے نہ ہونے ” پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ سطریں دیکھیں۔ اے حَسن کوزہ گر/ بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے / اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی /کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے /تشنگی جاں ‘‘کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی / ادھ مری خشک جاں / العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک /کیوں کہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا / جس میں جہاں زاد کے جسم کی/گرم، مرطوب دل داریوں کی تمازت/ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی //اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں/۔۔۔ لپٹی ہوئی

 اس سے آگے کی سطریں تو حقیقت کو بیان کرنے کے فرض کی ادائی کچھ زیادہ ہی صراحت سے کرتی ہیں۔ ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے / ہنر کی نمائش کی یا امتحان کی، مگر / تیری پسپائی تیرا مقدر بنی / اور کرتا بھی کیا ؟ / سب بنے، ادھ بنے / "سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان” تو / بس وہیں چاک پر "ان جنی اپنی مخلوق کو ترک کر کے / حلب چھوڑ کر / سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟۔۔۔۔۔ اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا حسن کوزہ گرکا یہ روپ نون میم راشد کا وہ مخفی روپ ہے جسے وہ چھپائے ہوئے پہلے ایران اور پھر لنڈن، نیو یارک، میں پھرتا رہا۔ لیکن اس نے اسے چین نہیں لینے دیا، اور تخلیق کے دھارے میں بہتے ہوئے اس نظم میں سطح پر ابھر آیا۔ "

 اس طویل اقتباس سے آپ احباب نے اندازہ لگا لیا ہو گا کہ آنند جی راشد کے حسن کوزہ گر سے مکالمہ کرتے کرتے، اپنی تخلیق سے پھوٹنے والے اور اپنی نظر سے دیکھے ہوئے راشد کو کم کم جب کہ ساقی فاروقی اور دوسروں کی زبان سے سنے ہوئے راشد کو یہاں زیادہ برتا ہے۔ن م راشد کا حسن کوزہ گر اپنے "آپ” کی طرف پلٹتا ہے اس کے یوں پلٹنے کو بہ سہولت مثبت معنی بھی دے جا سکتے تھے مگر جس راشد سے آنند جی کا اس تیکنیک کے توسل سے معاملہ ہو رہا ہے، اس کے سطح پر سے اخذ کیے گئے معانی کو ہی متحرک کیا جا سکتا تھا۔

اچھا، ماقبل شاعر کو، اس کی فکر اور کردار کو اس طرح دیکھنا کہ اچھا بھلا چہرہ کچھ کا کچھ ہو جائے خود راشد کو بھی عزیز رہا ہے، اس نے اقبال سے لگ بھگ ایسا ہی معاملہ کر رکھا ہے۔ اقبال نے یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کو جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیر قرار دیا تو راشد نے کہا تھا :

 اے فلسفہ گو/ کہاں وہ رویائے آسمانی /کہاں یہ نمرود کی خدائی/ تو جال بنتا رہا، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے /ہم اس یقیں سے، ہم اس عمل سے، ہم اس محبت سے /آج مایوس ہو چکے ہیں”۔

 یا پھر "نیا دور”میں چھپنے والی نظم "پریڈ” سے برآمد ہونے والا اقبال وہ نہیں ہے، جو اپنی تحریروں میں نظر آتا ہے بلکہ وہ ہے جسے راشد نے اپنے تئیں اخذ کیا ہے :

 "کرسمس کے دن/اقبال/اپنے گھر کے چبوترے پر کھڑا/روحوں کی پریڈ سے / سلامی لے رہا تھا/ سب کے پاؤں اکھڑے ہوئے تھے / سوائے رومی کے /سوائے نیٹشے اور برگساں کے / سوائے چند نیک دل بادشاہوں کے / اقبال غصے میں بھرا ہوا /گھر کے اندر چلا گیا/اور دوبارہ/اپنی مومن بتیاں بنانے لگا/میری مومن بتی کیوں بجھ گئی ؟/ اسے پھر سے کیسے روشن کروں؟۔ "

 جس طرح راشد نے اقبال کے ہاں سے "مومن بتیاں” برآمد کر لی تھیں اسی طرح آنند جی نے راشد کے جہاں زاد جیسی عورتوں کو نہ” سلجھ” سکنے پر جھن جھنانے کو اور اپنے آپ کی طرف پلٹنے سے "مردانہ پن کے نہ ہونے ” کو برآمد کر لیا ہے۔ آنند جی نے ” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے راشد کو جس نہج سے عریاں کرنا چاہا تھا کر دیا اور میں اسے بھی مانتا ہوں کہ شاعر نے اپنے ذہنی تجربہ سے اپنے ذہن میں عیاں ہو نے والے منظر سے چلتے ہوئے اور اپنے مفروضات کو تخیل کے خاکے میں ڈھالتے ہوئے اس عریانی سے الفاظ کے ملبوس کی طرف سفر کیا تو لائق توجہ فن پارے میں ڈھال لیا ہے۔

 احباب نظم میں راشد کی "تشنگی جاں ہو”یا "نو برس "بھٹکنے کا حوالہ، عشق کے استعارے نہیں بنتے ایسا عکس بنتے ہیں جس میں جنسی تشنگی کا شاخسانہ ہو جاتے ہیں :”ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا/بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے )/ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد/اے حَسن کوزہ گر/تو بھی ’’الجھن‘‘ ہے ان عورتوں کی طرح/جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انھیں پا لیا/واہمہ ہے فقط/کیوں کہ میرا بدن جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی/تو وہیں حوض میں ڈوب کر رہ گیا تھا اسی رات/جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے /تجھ کو اتنا تو شاید پتا ہے کہ شب جوترے ذہن میں/ڈائنوں سی کھڑی ایک عشرے سے اک سال کم/تجھ کو کیوں، اے حسن، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر/بلاتی رہی ہے حلب کی طرف/وہ تو اب ایک ’’لب خند‘‘ عورت ہے، لڑکی نہیں/۔۔۔ "

یہ جو کہا جا رہا ہے کہ آنند جی نے اس نظم کے ذریعہ راشد کی نظم کے حوالے سے تنقیدی سوالات قائم کیے ہیں۔ اچھا آنند جی نے اپنی نظم پر بات کرتے ہوئے بہت سے تنقیدی مباحث کو چھیڑا ایک ایک کر کے کئی تھیوریوں کو گنوا دیا مگر نظم کے اوپر قائم کیے گئے نوٹ، اور نظم کے قرینے کو دھیان میں رکھا جائے تو ہم اپنے آپ کو اپنے آپ کو راشد کی نظم سے برآمد ہونے والے کسی اور معنیاتی نظام کی بہ جائے ان ہی معنوں سے معاملہ کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں، جو اس تیکنیک کے خاص وسیلے سے آنند جی کی نظم کے متن سے برآمد ہو رہے ہیں۔ تو یوں ہے آنند جی نے اسے خوب رواں دواں بنا ہے، قصے کی طرح دلچسپ بنایا ہے اور اس میں راشد کی جنس کی متھ سے نہ صرف خوب خوب لذت برآمد کی ہے، انسانی رشتوں کے حوالوں سے اور عورت مرد کے حوالوں سے ایک نقطہ نظر بھی قاری تک منتقل کیا ہے جو راشد کے حوالے سے بنائی ہوئی متھ کو رد کرتا ہے ایک مقدمہ قائم کرتا ہے اور راشد کو مجرم بنا ڈالتا ہے۔ اسی جہاں زاد سے شاعر اپنی رسم و راہ کی صورت دکھاتا ہے تو راشد کی نظم کی فضا واقعی پس منظر میں چلی جاتی ہے :۔۔۔ /ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے /اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ’’نادان‘‘ نے /اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن/جب وہ ’’نادان‘‘ تھی/میں بھی نادان تھا/نا رسا آس تھی/بے طلب پیاس تھی/چار سو یاس تھی/اس زمانے میں تو/بس ’’گماں‘‘ ہی ’’گماں‘‘ تھی مری زندگی/کچھ بھی ’’ممکن‘‘ نہ تھا/ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے /صبح آئی تو پھر یوں لگا/جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا/اورسارے ’’طلوعوں‘‘ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر/پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا/۔۔۔ "

 جی، زبان کا مواد اور فضا بے شک راشد کی سہی مگر جس طرح آنند نے اسے اپنے وجود اور اپنی ذات سے جوڑ ا ہے، سب کچھ مختلف اور نیا نیا ہو گیا ہے۔ آخر میں آنند جی کا یہ سوال، ایک فیصلہ کی صورت سامنے آتا ہے کہ غالباً راشد کا "حسن کوزہ گر” کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ کوزے پکانے والی بھٹی کی سوئی ہوئی راکھ سے چند سلگتے ہوئے انگار ے تلاش کیے جائیں اور ایک کہانی گھڑ لی جائے۔ راشد نے کہانی تو گھڑ لی مگر اسے وہ پذیرائی نہ ملی پائی جو اس طرح کے قصوں کا مقدر ہو جایا کرتی ہے۔۔۔ /ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو/وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی/اور راشد کا فن/لوک قصّوں، اساطیر یا عشق کی/داستانوں کے فن سے بہت دور تھا/یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں/پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں”

 تو یوں ہے کہ وہ تفہیم جو میں نے راشد کی "حسن کوزہ گر” کے باب میں کی، اسے بھول جائیں اور آنند جی کی” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے تخلیق ہونے والی "اے حسن کوزہ گر” کی روشنی میں اسے دیکھیں تو یہ نظم وہ رسائی پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ وہ تو ہم سب کا اس کی طرف توجہ سے دیکھنا کو ئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔

 احباب حاشیہ! ضروری نہیں ہوتا کہ ہم اس فکری نظام کو کہ جو کسی فن پارے میں سے چھلک رہا ہوتا ہے اسے مان لیا جائے، اس منطق کو بھی تسلیم کر لیں جو اس فن پارے کو تخلیق کرنے والے کو عزیز ہو گئی تھی مگر جس قرینے کا وہ فن پارہ بنا ہے اپنے فضا کے اعتبار سے اور اپنی جمالیات کے اعتبار سے، اسی سے اسے آنکنا چاہئیے۔ "اے حسن کوزہ گر” اس اعتبار سے ایک کامیاب اور نمایاں نظم ہے کہ وہ اردو کی ایک نمایاں اور کامیاب اور بڑی نظم سے مکالمہ کرتی ہے، اس کی تخلیقی فضا سے جڑتی بھی ہے اور اس کے آفاق وسیع بھی کرتی ہے، اس کے معانی کی ایک جہت میں” اضافہ” کر کے نئے معنی ڈھالتی ہے اور اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ جب بھی "حسن کوزہ گر” کا حوالہ آئے گا، اس ” اے حسن کوزہ گر” کو بھی یاد کیا جائے گا۔

محمد حمید شاہد: احباب گرامی اس کے ساتھ ہی آپ کا شکریہ، آئندہ، اجلاس اور زیر بحث آنے والی نظم کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

ظفر سیّد: : جنابِ صدر، میں حاشیہ کے اس کامیاب اور بھرپور اجلاس کے لیے آپ اور تمام شرکا کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ اس لڑی میں نہ صرف آنند صاحب کی نظم پر بھرپور گفتگو ہوئی ہے، بلکہ حسن کوزہ گر پر بھی جس طرح جم کر بات کی گئی ہے، وہ اس سے پہلے کہیں نہیں کی گئی تھی۔ مجھے امید ہے کہ یہ مباحثہ راشد فہمی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید